پوسٹ تلاش کریں

خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ

( اس چینل پر دو افراد ایک مرد اور لڑکی کازبردست مکالمہ)
مرد:عموماً کہتے ہیں کہ آزمائش مومن کو نکھارتی ہے ،درجات بلند کرتی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلا اور آزمائش میں سب سے سخت وقت انبیاء کا ہوتا ہے، پھر ان کا جو ان کے بعد (مرتبے میں)سب سے بہتر ہوں، اور پھر اسی ترتیب سے۔
لڑکی:جی بالکل درست۔
مرد:آج ہم ان مصادرکی گہرائی میں اتریں گے جو اسلامی مستقبل کی انتہائی مرکزی شخصیت یعنی ”مہدی منتظر” کے ذاتی سفر کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لڑکی:مہدی منتظر، جی ہاں۔
مرد:ہم خاص توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں ان کی ”اصلاح کی رات”سے پہلے کے حالات پر ہی۔
لڑکی:آہ، وہ فیصلہ کن رات۔
مرد:جی ہاں۔ اور یہ وہ دور ہے جو ان مصادر کے مطابق گہری آزمائشوں اور منفرد چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ تو ہمارا آج کا مقصد انکے سفر کے اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے جو شاید عام طور پر اتنا معروف نہیں۔
لڑکی:بالکل اور یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ عام تصور سے تھوڑا مختلف ہے۔ لوگ مہدی کو ایسی شخصیت سمجھتے ہیں جو پیدائش ہی سے تمام صفات میں کامل اور مکمل طور پر پاک و صاف ہوں اور عام انسانوں سے وہ مختلف ہوں۔
مرد:بالکل۔
لڑکی:لیکن ہمارے پاس موجود مصادر ایک مختلف راستے کا اشارہ کرتے ہیں، کم از کم الٰہی اصلاح کے لمحے سے پہلے کے بارے میں۔ یہ مصادر ان کے ایسے حالات سے گزرنے کا ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم نشیب و فراز، تجربات اور آزمائشیں کہہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ انہیں ظاہری طور پر لغزشیں یا گناہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
مرد:ہاں، لیکن یہاں فکر اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
لڑکی:کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام کا حصہ ہے جسے ”قانونِ اصطفا”(چن لیے جانے کا قانون) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس میں کبھی کبھی منتخب شخصیت کو زندگی میں توڑ پھوڑ اور پھر تعمیر نو جیسے عمل سے گرزنا پڑتاہے۔
مرد:آہ، توڑ پھوڑ اور دوبارہ تعمیر تاکہ وہ ”اللہ کی نگرانی میں تیار کیے جائیں” (تصنع علی عین اللہ) کہا جاتا ہے۔
لڑکی:بالکل تاکہ اللہ کی خاص نگرانی میں ان کی نشوونما ہو !
مرد:اچھا، یہاں موضوع بہت حساس ہو جاتا ہے اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔یہ لغزشیں کیاہیں جنہیں ”نزول”یا ”ہبوط” (گراوٹ) سے تعبیر کیا جاتا ہے؟۔ مصادرمیں تاکید ہے کہ یہ عام انسانوں کے گناہوں جیسی نہیں ، کیا یہ درست ہے؟۔
مرد:جی نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ منجانب اللہ تقدیر کے تجربات ہیں جو ان کی پاکیزگی اور تیاری کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی دھات کو پگھلانے اور ڈھالنے کا عمل ہو۔
لڑکی:پگھلانا اور ڈھالنا؟۔
مردا:جی ہاں تاکہ خود پسندی یا اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کی کسی بھی ممکنہ باقیات کو توڑ دیا جائے اور قلب کو مکمل طور پر خالی کردیا جائے تاکہ عظیم ترین خلافت کی امانت کو اٹھانے کا اہل ہو سکے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔
مرد:چنانچہ مصادر زندگی کی سخت آزمائشوں اور ظاہری طور پر بار بار گرنے کا ذکر کرتے ہیں اور ہاں!یہاں اہم بات یہ ہے اس تاکید کیساتھ کہ ان کے دل میں ایک فطری نور ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک روشن نقطہ جو کبھی نہیں بجھتا۔
لڑکی:اس نورانی نقطے کی طرح۔
مرد:جی ہاں گویا وہ آگ جو انہیں ظاہری طور پر جلا رہی ہے، وہ حقیقت میں انہیں ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے اور اندر سے پاک کر رہی ہے۔
لڑکی:ہوں! یعنی ایک طرح سے آگ کے ذریعے تطہیر۔
مرد:ایک معنی میں جی ہاں پاکیزگی اور تیاری۔
لڑکی:اورجو چیز اس معاملے کو مزید گہرا بناتی ہے وہ ”اخفا”یا ”الٰہی پردہ پوشی” ہے۔ یہ بدلا ہوا حال ایک طرح کے مموہیCamouflage/(بھیس بدلنے)کے طور پر کام کرتا ہے؟۔
مرد:آہ، یہ ایک اور انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یہ بدلا ہوا حال، ان کا بیرونی مظہر (ظاہری روپ)جو شاید بھٹکنے یا دنیاوی امور میں مشغولیت جیسا نظر آئے، یہ ”الٰہی حجاب”کا کام کرتا ہے۔
لڑکی:حجاب؟۔
مرد:جی ہاں، ایسا حجاب جو حقیقت اور بلند روحانی مقام کو چھپائے رکھتا ہے۔ پس یہ اتار چڑھا ؤ، آزمائش انہیں شیاطین اور ان کے کارندوں کی نظروں سے بچاتی ہے جو روحانی قوت والوں کی تاک میں رہتے ہیں۔
لڑکی:وہ انہیں تلاش کر تے ہیں۔
مرد:بالکل، وہ اس موعود شخصیت کو تلاش کرتے ہیں تاکہ شروع ہی میں نشانہ بنا سکیں۔ چنانچہ جب وہ یہ ظاہری بدلا ہوا حال دیکھتے ہیں، تو وہ شاید یہ سمجھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ یہ وہ مطلوبہ شخصیت نہیں۔
لڑکی:یعنی ایک شعوری الٰہی حفاظت۔
مرد:شعوری الٰہی حفاظت، جی ہاں۔ یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ اصلاح کے عمل سے پہلے مکمل حقیقت کو نہیں پا سکتے۔ یہ ایک الٰہی راز ہے جو (پردہ غیب میں) ودیعت کر دیا گیا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔ تو یہ سخت تیاری اور یہ محکم پردہ پوشی، یہ سب ایک عظیم مقصد کیلئے ہے۔ اس کا تعلق انکے مستقبل کے عظیم کردار سے ہے، کیا ایسا ہی ہے؟۔
مرد:یقینا۔ یہ سخت مصائب اور آزمائشیں اس قائد کی تخلیق کیلئے ضروری ہیں جو امت کی ہمہ گیر اصلاح اور زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا بوجھ اٹھائے گا اسکے بعد جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
لڑکی:ہوں گویا یہ آزمائشیں ان کی سابقہ شناخت کو مٹا دیتی ہیں، عام انسان کی شناخت جو انہوں نے خود بنائی تھی اور انہیں ہر چیز، اللہ کے سوا ہر سہارے سے آزاد کر دیتی ہیں۔
مرد:مکمل تجرید (سب سے کٹ جانا)جی ہاں تاکہ وہ ایک صاف شفاف برتن بن جائیں جو الٰہی خلافت کو مکمل اور خالص طور پر قبول کر سکے۔ چنانچہ ظاہری کمزوری اور بلا سے چھپی ہوئی قوت اور انتخاب (اصطفیٰ)تک کا یہ سفر، انکے عظیم مشن کیلئے ان کی ربانی تیاری کا جوہر ہے۔
لڑکی:یہ تو نقطہ نظر کو بالکل ہی بدل دیتا ہے۔
مرد:مکمل طور پر۔
لڑکی:اچھا، اگر ہم ان مصادر سے نتائج کا خلاصہ کرنا چاہیں تو؟۔
مرد:خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصلاح کی رات سے پہلے مہدی کا سفر انتہائی گہری پیچیدہ تیاری کا راستہ ہے، جو ظاہری آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے جو حیران کن لگ سکتی ہیں ، جو نشیب و فراز اور ایک شعوری الٰہی پردے پر مشتمل ہے اور ان باتوں کو، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ ان کے حق میں کبھی بھی نقص یا عیب نہیں سمجھنا چاہیے۔
لڑکی:ہرگز نہیں۔
مرد:بلکہ یہ اس الٰہی تیاری کے عمل کا اٹوٹ حصہ ہیں جسے معاملات کی سطحی ظاہر بینی سے نہیں بلکہ باطنی حکمت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لڑکی:بلکہ اسکی عمیق باطنی حکمت سے جی ہاں۔
مرد:پس اصلاح سے پہلے ان کی حالت اپنی تمام تر شدت اور ظاہری اجنبیت کے باوجود روحانی شخصیت کی تکمیل ، عظیم مقام، اہلیت کیلئے بہت ضروری ہے جو ان کا منتظر ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ کمال کبھی کبھی آزمائش کی بھٹی سے گزر کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ اور اختتام پر یہ ہم سب کو اللہ کی اپنے بندوں کی تقدیر میں چھپی کامل حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیسے باطن، ظاہر کے بالکل برعکس ہو سکتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے، یہ عظیم کاموں کیلئے تیاری کے راستے بالکل غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
مرد:درست۔
لڑکی:ہم اللہ سے اپنے اور سب کیلئے صبر، ثابت قدمی اور بصیرت کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اس شخصیت کے ظہور اور فرج (کشائش) میں تعجیل فرمائے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیگا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
مرد:اللہم آمین۔
لڑکی:ہم یہ سوال معزز سامعین کے غور و فکر کیلئے چھوڑتے ہیںکہ واقعات اور اشخاص کے پسِ پردہ حقائق کو پڑھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ اور ہم ان گہری حقیقتوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں جو ہماری زندگی اور دنیا میں ظاہری سطروں کے پیچھے چھپی ہو سکتی ہیں؟۔
ــــــــــ

المہدی المنتظر

لا یعلم السری الکمین بداخلہ

نہیں پتہ کس راز کو چھپائے گھات میں بیٹھاہے

بخوف سکت عن الکلام لریبتہ

اپنے اندیشوں سے خوف میں خاموش ہے

بحزن ذرفت الدمع لأمتہ

امت کے غم میں اس نے آنسو بہائے

حارب الظلم بکا مل قوتہ

اور اپنی پوری قوت کیساتھ ظلم کا مقابلہ کیا

رآی الاسلام بضعف فرقتہ

اس نے اسلام کو فرقہ بندی سے کمزوردیکھا

یشاہد موت الأطفال بأعینہ

اور اپنی آنکھوں سے بچوں کی موت کامشاہدہ دیکھا

متی نصر اللہ لنصرتہ

اس کی مدد کیلئے اللہ کی نصرت کب آئے گی؟

تنتظرہ الناس لبیعتہ

لوگ اس کی بیعت کے انتظار میں ہیں۔

یہزم الأعداء یرقی فی السمائ

وہ دشمنوں کو شکست دے گا اور آسمان (بلندی)پر فائز ہوگا۔

ینصر الفقراء یعاقب الأمرائ

وہ فقرا کی مدد کرے گا اور (ظالم)حکمرانوں کو سزا دے گا۔

ثم ابتدی وقت الشقائ

پھر سختی کا دور شروع ہوا

ان العطاء بعد العنائ

بے شک مشقت کے بعد ہی عطاہے

یطلب رضاء رب السماء بین البشر لکن فی خفائ

وہ عوام میں رہ کر ربِ آسمانی کی رضا چاہتا ہے مگر پوشیدہ طور پر

ذہب وحیداً یزرع الصحراء سیہدینا اللہ درب العلمائ

وہ تنہا صحرا میں بیج بونے نکل پڑا، اللہ ہمیں علما ء کی راہ دکھائے گا

لن یظہر المہدی فی أ رض شعبہا جہلائ

مہدی ایسی سرزمین پر ظاہر نہیں ہوگا جس کے لوگ جاہل ہوں

یا ربی انک النور فی من ہدی ارسل سراجک یحکم لنا

اے میرے رب!تو ہی ہدایت پانے والوں کیلئے نور ہے۔ اپنا
وہ روشن چراغ بھیج جو ہمارے درمیان فیصلے کیا کرے۔

یا رب کثر اللئام بأرضنالن یظہر المہدی الاأ ن یشاء ربنا

اے رب!ہماری زمین پر کم ظرف اور کمینے لوگ بہت بڑھ گئے ۔ مہدی تب ہی ظاہر ہوں گے جب ہمارا رب چاہے گا۔

فاذا بہ کالنور یظہر فجأہ اضاء العالم وکاد یہلک ظلمة

پھر اچانک وہ ایک نور کی طرح نمودار ہوگا۔وہ دنیا کو روشن کر دے گا اور تاریکی کو مٹانے کے قریب ہوگا۔

یکسر اللہ بہ شوکہ وتکون الامة فی عہدہ وحدہ

اللہ اس کے ذریعے (دشمن کی) شان و شوکت توڑ دے گا اور اس کے عہد میں امت ایک ہو جائے گی۔
وحدہ مکمل وحدت
ــــــــــ

شیعہ سنی کاتفرقہ سمجھ

ہل تعلم کیف اشتعل الحریق شیعی وسنی بمساجد تفریق
کیاجانتے ہو آگ کیسے لگی؟ مساجدکی شیعہ و سنی کی تفریق سے

کافر ان خرجت من البئر السحیق طائفتک یا بنی الاصل العریق

کافر قرار دے گااگر آپ اس گہری کھائی تفرقہ سے نکلے تیرا گروہ اے اصل اعلیٰ نسب والے!۔

نحن الاصح وہم ضلوا الطریق نسالک لمحنتنا زوال

(ہر گروہ کہتا ہے کہ )ہم ہی درست ہیں اور وہ راستہ بھٹک گئے اے اللہ ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کو دوبارہ باہمی ملاپ عطا کر، انہوں نے فتنہ بھڑکایا ہے اور وہ گمراہی چاہتے ہیں۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

وہ ظاہر میں شیخ ہے مگر باطن میں دجال ہے، اے میرے رب! تیرے ہی ذریعے ہم متحد ہو سکتے ہیں اور تیرے سوا یہ ناممکن ہے۔

یا رب المسجد بالفتنہ ملیء والشعب من فتنتہ بریء امتلأت کلاما عربیا ردیء الہی امتنا لوجہک تفیء ننتظرک ربی المساجد لتضیئ

اے رب!مسجدیں فتنوں سے بھر گئی ہیںاورقوم فتنے سے بیزارہے،(مساجد)گھٹیا عربی کلام سے بھر گئی ہیں۔میرے معبود! ہماری امت تیری طرف لوٹتی ہے، اے رب!ہم تیرا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مساجد روشنی دیں۔

نسالک لمحنتنا زوال رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہم تجھ سے اپنی مصیبت کا زوال مانگتے ہیں، امت کا اتحاد واپس مانگتے ہیں، انہوں نے گمراہی کیلئے فتنہ بپا کیا۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال

ظاہرشیخ کا اور حقیقت دجال کی، اے اللہ!ہم تیرے سہارے متحد ہونگے تیرے بغیر ممکن نہیں۔

نجاہد رب فخارت قوانا ترکناہم یشعلوہا واتبعنا ہوانا

اے رب!ہم جدوجہد کرتے کرتے تھکے ہماری ہمت ختم ہوگئی، انہوں نے آگ لگائی اورہم اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔

رب ارحمنا وزدنا ایمانا ۔ نطلب منک ربی غفرانا

اے رب!ہم پر رحم فرما اور ہمارے ایمان میں اضافہ کر، اے میرے مالک!ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں

لیکون العدل لأولادنا زمانا نسالک لمحنتنا زوال

تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے عدل و انصاف کا دور ہو، ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ مانگتے ہیں۔

رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال

ہماری امت کے بچھڑے ہوؤں کو ملا دے، انہوں نے گمراہی کی خاطر فتنہ بھڑکایا ہے۔

ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی ناتلف وبغیر محال

وہ ظاہر میں پارسا اور باطن میں فریبی ہے، اے رب!تیرے ہی فضل سے ہم ایک ہونگے تیرے سوا راستہ نہیں

مکن یا رب لأولیائک الصالحین

اے رب!اپنے نیک بندوں کو غلبہ و تمکین عطا فرما۔

من ہم لعبادتک مخلصین و بفضلک اجعلنا مؤمنین نقف بوجہ المعتدین

وہ جو تیری عبادت میں مخلص ہیں اور اپنے فضل سے ہمیں وہ مومن بنا دے جو ظالموں کے سامنے ڈٹ جائیں۔

باللہ ابدا لن نکون مساکین

اللہ کی قسم!ہم کبھی بے بس اور لاچار نہیں رہیں گے۔

لن نکون مساکین

ہم ہرگز لاچار نہیں رہیں گے۔
ــــــــــ

یخفون المہدی

بالحق ھم کافرون

وہ لوگ حق کے کافر ہیں

بالتفرقة ھم بارعون

تفرقہ بازی کے بڑے ماہر ہیں

باللہ ھم ملحدون

قسم خدا کی یہی لوگ تو ملحدین ہیں

عن سبیل اللہ یصدون

اللہ کی راہ سے وہی روکتے ہیں

ھم بالمھدی عالمون

مہدی کووہ جانتے ہیں

عن شعبنا ھم یخفون

ہماری قوم سے اس کو چھپاتے ہیں

یظنون انہم قادرون

وہ سمجھ رہے ہیں کہ بچنے پر قادر ہیں

واللہ مخرج ما یحذرون

اللہ انہیں نکالنے والا ہے، جس کا انہیں ایک دھڑکا لگا ہوا ہے۔

سیأتی بالعدل والمال

وہ امام عدل و مال لیکر آئیں گے

سیکون خیر شلال

خیر و بھلائی میں ان کی حیثیت ایک آبشار کی ہوگی

سھدینا للمتعال

وہ ہمیں خدائے برتر کی طرف ہدایت دیں گے

لظالمین مطر الوبال

اور ظالموں کیلئے ہلاکت کی بارش ہیں

کالاسد یفترالصباع

وہ شیر کی طرح ان بزدل لگڑبھگوں کا شکار کریں گے

یظنون وحدتھم قلاع

وہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ان کا اتحاد ایک مضبوط قلعہ ہے

فیھجم وحدہ شجاع

وہ بہادر اکیلا ہی ان پر حملہ کرے گا

لقوتہ الضباع تنصاع

جس کی قوت کے سامنے یہ لگڑبھگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جعلونا نصدق اساطیر

انہوں نے ہمیں یقین دلایاکہ من گھڑت قصوں کی تصدیق کریں

خذعونا لمسکن اعاصیر

ہمیں دھوکہ دیا تاکہ ہم فتنوں میں گھرے رہیں

ولوا علینا اباطیر

انہوں نے ہم پر باطل پرستوں کو مسلط کر دیا

ولکن بالخیر مطیر

لیکن ہمارا رب خیر و برکت برسانے والا ہے

الخیر فینا موجود

بھلائی ہم میں اب بھی موجود ہے

ینبت المھدی من الصمود

مہدی کی نشو ونمابہت استقامت اور ثابت قدمی کیساتھ رواں دواں رہے گی

وسیعلم انہ مورود

اور عنقریب سب جان لیں گے کہ ان کا آنا طے ہے

عندما سنجنی الورود

تب ہم کامیابی کیساتھ گلاب کے پھول چنیں گے

یکادون ینتصرون

انہیں لگا کہ بس کامیاب ہوگئے

فرحین بالحصون

خوش ہیں اپنے قلعوں میں

یأتی المھدی لیکون

مہدی کو تو بہر حال ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے آنا ہے

اسوأ مایحذرون

اور بہت برا ہے جسکے خوف میں مبتلا ہیں

یأتھیم نورالزمان

انکے پاس زمانے کا نور آئیگا

ینتصر بعز الرحمٰن

جو رحمان کی دی ہوئی عزت سے فتح پاجائے گا

یاتھیم قائد فنان

انکے پاس ایک بے مثال قائد آئے گا

مؤمن غضبہ طوفان

وہ ایسا سچا مومن ہے جس کا غصہ باطل کیلئے ایک طوفان ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا

اوروہ (باطل )کوئی مثال تیرے سامنے پیش نہیں کرسکتے ہیں مگرہم تیرے پاس حق لے کر آئیں گے اور بہترین تفسیر ۔(سورہ الفرقان آیت:33)

والمرسلات عرفًاO

قسم ہے منکر فضاؤں میں معروف دین فطرت اسلام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے کی۔
یہود ،نصاریٰ اورمشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو منکربنادیا۔ دین اجنبیت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا، خوشخبری اجنبیوں کیلئے ہے۔ (حدیث)

اصل طلاق مغلظ ”ظہار” اور”حرام ” کے الفاظ تھے۔جہاں حلالہ سے کام نہیں چل سکتا تھا۔اللہ نے جھوٹ اور منکر قرار دیا۔ سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم واضح ہیں ۔ انبیاء کرام کے بعد ناخلف جانشین دین کو خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے تھے۔ بدھ مت حضرت ابراہیم کے دور سے ہے۔ اسماعیل کے بعد اسحاق اور یعقوب کی نسل سے ہزراوں انبیاء کرام آئے ،عرب اپنے دین ابراہیم پر قائم رہے۔ اسلئے کہ حضرت یوسف کیساتھ بھائیوں نے کیا کیا جو باپ یعقوب ، دادا اسحاق اور پردادا ابراہیم کی اولاد اور نبی یوسف کے بھائی تھے؟۔ بنی اسرائیل نے ہارون کے سامنے بچھڑے کو معبود بنایااور موسیٰ سے کہا تھا کہ” تم خود اور تمہارا رب دونوں ان سے لڑو ، بیشک ہم یہاں بیٹھے ہیں”۔

دورابراہیم میں قوم لوط پر عذاب آیا۔حضرت ہود و صالح کی قوموں اور کئی انبیاء کا ذکر قرآن میں ہے اور کئی کا نہیں ہے۔
دورنبویۖ سے پہلے مسخ شدہ ادیان سے لوگ بیزار تھے۔ ایک طرف کہتے کہ یہودونصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گامگر پھر بنیادوں کو ہلانے تک ایکدوسرے سے دشمنی تھی اور حضرت عیسیٰ کی انتہائی توہین اور انتہائی عقیدت میں غلو کا شکار تھے۔ جیسے شیعہ سنی یا بریلوی دیوبندی یا حنفی اور اہل حدیث ہیں۔ اسلام نے یہود ونصاریٰ کی خواتین سے مسلمانوں ہی کی طرح نکاح کی اجازت دی اور کٹرمذہبی پن کی چوتڑ کا خاتمہ کیا۔

جاہل سوتیلی ماں کو بیوی اور لے پالک کی بیوی سے نکاح جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اندازہ کریں کہ سورہ احزاب میں فرمایا: ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں ومنافقوں کے پیچھے نہ چل۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اس کی اتباع کر و جو تیرے رب نے تیری طرف بھیجا ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو اور اللہ پر توکل کرو اور اللہ کی وکالت کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ محض تمہاری اڑائی ہوئی باتیں ہیں۔ اللہ حق کہتا ہے اور راستہ بتایا ہے”۔

یہ کس قدر نزاکت خیز معاملہ تھا؟۔ رسول اللہۖ پر کفاراور منافقین کی اتباع نہ کرنے کی وحی نازل ہوئی تویہ ملحدیا سیکولر طبقہ نہیں تھا بلکہ مذہبی طبقات ہی تھے۔ آج کے مذہبی طبقات نے پھر دورِجاہلیت سے بھی زیادہ جاہلانہ مذہبی حساسیت بنائی ہے۔

سورہ مرسلات میں ہواؤں نہیں بلکہ دین کی نشر و اشاعت کے ذریعے میں دنیا میں طوفان برپاہونے کا معاملہ تھا لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے نہیں سمجھا کہ یہ انقلاب انکے خلاف تھا۔

”جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف سے چڑھ آئے اور تمہاری آنکھیں پتھراگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آئے۔ اس موقع پر اللہ نے مؤمنوں کو آزمائش میں ڈال دیا۔ وزلزلزلوا زلزالًا شدیدًا اور سخت ہلا دئیے گئے اور جب منافقوں نے کہا اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہ ہمارے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ نہیں کیا مگر دھوکہ ۔ (احزاب:11)
شدید زلزلوں سے مراد زلزلہ نہیں بلکہ دشمنوں نے انہیں گھیر لیا تھاتو منہ کو کلیجہ آیا۔منافقین اور جنکے دلوں میں بیماری تھی وہ اللہ اور رسولۖ کے خلاف موقع پاکر بکنے میں مشغول ہوگئے۔

سورہ مرسلات میں ہوائیں مراد نہیں ہوسکتی ہیں بلکہ دین حق کے پیغامات سے طوفان آیا۔ قیصر روم نے ابوسفیان سے مکالمہ کیا تو وزراء سے کہا کہ ہمارا تخت انکے قدموں کے نیچے ہوگا۔ نجاشی نے اسلام کی تائید کی۔ مذہبی طبقات اپنے مفادات کی وجہ سے باطل مذہبی مسائل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔

والمرسلات عرفًاOفالعاصفات عصفًاOالناشرات نشرًاOفالفارقات فرقًاOفالمقیات ذکرًاOعذرًا او نذرًاOانما توعدون لواقعO

مروجہ ترجمہ”ان ہواؤں کی قسم جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں ۔ جو تندی سے چلتی ہیں۔ جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔جو بادلوں کو متفرق کرتی ہیں۔ جو اللہ کی یاد کا القا کرتی ہیںالزام اتارنے یا ڈرانے کیلئے، جن کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور لانے والی ہیں”۔

حالانکہ منکر کے مدمقابل معروف:درست ترجمہ ۔ ”قسم ہے اسلامی معروف پیغامات کی ۔پھر ان سے طوفان مچ گیا۔پھر اس کی نشریات نشر ہوئیں۔پھر حق اور باطل میں فرق واضح ہوا۔پھر قرآن کیلئے ملنا جلنا ہوا، جس نے عذر داری ختم کی اور آخرت سے ڈرایا۔ بیشک جس کا تم سے وعدہ ہے واقع ہوگا”۔ معروف و منکر میں تمیز نہ ہو تو اجنبی ہے۔ آج پھروہی صورتحال بن گئی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بدترہے۔ فتح مکہ، قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنے کی خبر سچ ثابت ہوگئی۔ پھر اس سے بڑے انقلاب کی خبر ہے۔مجھے2018ء میں شاباتی ملک نے کہا کہ آپ کی وجہ سے طلاق کا مسئلہ عوام سمجھ گئے ۔ پھر جنجال گوٹھ کراچی سے ایک بندے نے فقط5منٹ میں طلاق کا مسئلہ سمجھ لیا۔ گومل میں ہمارے محسود پڑوسی کے خاندان کا ہے۔ سبزی منڈی کے پاس بلایا اور مسئلہ فوراً سمجھ گیا لیکن قائداعظم یونیورسٹی کے ماسٹر محسود کا بھائی مذہبی تبلیغی تھاتو دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا میں گھنٹوں سمجھایا اورنہیں سمجھ رہا تھا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ”85فیصد مسائل فقہ حنفی میں امام اعظم ابوحنیفہ کے خلاف ہیںاور جب تک امام مہدی علیہ السلام نہیں آتے تو مولوی شک وشبہ اور تخمین و ظن سے فتویٰ دیںگے اور جب امام مہدی آئیں گے تو ان کی بات حق اور مخالفین کی باطل ہوگی اور ہم مدارس میں امام مہدی کیلئے لشکروں کو تیار کررہے ہیں”۔

امام مہدی پر کوئی وحی تو نہیں اترے گی بلکہ ہر مسلک قرآن و سنت کا فطری دین سمجھے گا جس کو کیا یہ سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں؟۔

مولانا سندھی نے مفتی رفیع عثمانی کے والد کے اساتذہ کرام سے کہا تھا کہ ” تم مہدی کے انتظار میں ہو مگر وہ آئیںگے تو تم مخالفین کی صف میںہوگے اسلئے کہ تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو امام مہدی کی بھی نہیں مانوگے”۔ شیخ الہند کے شاگرد ہزارہ کے پیر صابر شاہ سابق وزیراعلیٰ پختونخواہ کے والد مولانا سیداحمد شاہ بھی تھے ،جو کٹر بریلوی بن گئے کہ یہ ٹریک سے ہٹ گئے ہیں۔ جبکہ شیخ الہند نے آخر میں فرمایا کہ ”امت کے زوال کے اسباب دو ہیں قرآن سے دوری ، فرقہ پرستی”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھ دیا کہ ”حقیقت میں فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے ”۔

مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت نے1926ء میں ایک اصلاح کا طریقہ کار وضع کیا۔ مقصد اللہ کے احکام اور نبیۖ کے طریقوں کو زندہ کرنا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے علامہ شبیراحمد عثمانی کو خط لکھاکہ مسلم لیگ کی انگریز حمایت کرتا ہے تو علامہ شبیراحمد عثمانی نے جواب میں لکھا کہ انگریز ہمارے اچھے مقصد کی حمایت کرے تو اس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا مقصد نہیں چھوڑ سکتے۔ تبلیغی جماعت کیساتھ بھی انگریز نے تعاون کیا لیکن اس کی وجہ سے تبلیغی کام کو نہیں چھوڑ سکتے”۔ اردو ڈائجسٹ میں یہ دونوں خطوط تفصیل کے ساتھ شائع کئے گئے تھے۔

1933ء میں مولانا انور شاہ کشمیری کا انتقال ہوا تھا فرمایا:”میں نے قرآن و حدیث کی خدمت نہیں کی اور فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔ قاری شیر افضل خان کے خواب کو ان کی زندگی میں چھاپا ”رسول اللہۖ قرآن کا درس دے رہے تھے اور مولانا سید محمد یوسف بنوری اس میں شریک تھے لیکن مفتی محمود کو شرکت کی اجازت نہیں ملی”۔ مفتی محمود نے فرمایا کہ ”بنوری صاحب بڑے آدمی ہیں، ہم اسکے مقام کو نہیں پہنچتے”۔ بھائی پیر نثار شاہ مفتی محمود کی زندگی میںولی خان کی پارٹی میں تھے لیکن پھر جمعیت میں شامل ہوگئے۔ مفتی محمود کو اس نے بھی خواب میں پوچھا تھا کہ ”میری لائبریری میں سب سے اچھی کتاب کونسی ہے؟ مفتی محمود نے قرآن اٹھایا کہ یہ سب سے اچھی کتاب ہے”۔
ایک تبلیغی نے اسٹیج پر خواب سنایا کہ ”مفتی محمود نے بتایا کہ مجھے زندگی میں پتہ ہوتا تو سیاست کی جگہ تبلیغی کام کرتا” تو حاجی محمد عثمان نے اسٹیج پر جاکر اعلانیہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ ” مفتی محمود نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کیا،ہم سارے تبلیغی بھی اس کے پیروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ جھوٹے خوابوں سے لوگوں کو گمراہ مت کرو”۔
حاجی عثمان پر فتوے لگنے کے بعد میں نے خواب میں حاجی امداداللہ مہاجر مکی کو دیکھا جو مجھے دیکھنے کیلئے تشریف لائے تھے مگر مجھے دلچسپی نہ تھی لیکن ایک اور خواب بڑا عجیب لگا کہ” ایک جدید ترین نئی گاڑی ہے۔70،80کے قریب افراد ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ بہت بڑے بڑے کٹ تھے ۔ پہاڑ میں گاڑی چلتے ہوئے بھرائی سے روڈ کے کارپٹ تک سب کام آٹومیٹک کررہی تھی۔ حاجی عثمان نے پوچھا کہ خواب میں مجھے ساتھ دیکھا تو میں نے افسوس کیساتھ کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پھر فرمایا کہ ”تیرے لئے یہ70،80بھی کافی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تیری وجہ سے صدیقین کی جماعت پیدا کردے گا اور سورہ الحدید میںمصدقین کا ذکر ہے جس سے مذہبی طبقے نے صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔حالانکہ مکذبین کی ضد ہی مصدقین اور صدقین ہیں۔ سورہ مرسلات میں بار بار ہلاکت کا ذکر ہے مکذبین کیلئے۔ جس میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔

تکاد السماوات یتفطرن من فوقھن والملائکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھو الغفور الرحیمO(سورہ شوری آیت5)

”قریب ہے کہ آسمان ان کے اوپر سے پھٹ جائیں۔ اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کیساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کیلئے استغفار کرتے ہیں۔ خبردار! بیشک اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔
فرشتے نافرمانی کو دیکھ کر اجازت مانگتے ہیں تو اللہ مقرر وقت سے پہلے اجازت نہیں دیتا تو پھر بدلتے ہیں۔ اس کی تفسیر میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا: ”فرشتے اتنی بڑی تعداد میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے”۔ معین اختر اور انور مقصود کی کلپ میں پاکستان آزاد ہوا، سرپھٹ گیا کو دیکھو۔لطیفے سے تفسیر سمجھ لیں۔

وماتفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلة سبقت من ربک الی اجلٍ مسمی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعدھم لفی شکٍ منہ مریبٍO(سورہ شوری آیت14)

”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر علم آنے کے بعد باہمی بغاوت کی وجہ سے اوراگر تیرے رب کی طرف سے ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا تو وہ کتاب سے شکوک وشبہات میں مبتلا ء رہے”۔

قدقامت الصلوٰة نماز کی اقامت اور بڑی قیامت سے پہلے قرآن میں مہدی کی قیامت ہے۔ قوم پر عذاب آتا ہے تو یہ بھی الساعة ،قیامت اور یوم الدین ہے۔ مکافات عمل سے قوم میں تبدیلی آتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق مہر کے اندر شوہر کی آدھی جائیداد کی تجویز رکھی ہے لیکن پہلے مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ جلد دوم میں فتوؤں کی جہالتوں پر نوٹس لیا جائے۔ نابالغ بچیوں کیساتھ نکاح، خلع اور نکاح کے بعد جس طرح کے مظالم کئے گئے ہیں کوئی عقلمند شخص سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ مفتی عصمت اللہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں طلاق کے مسائل کا جواب دینے سے دستبردار ہوگئے تو ایک شخص نے وہاں مفتی عصمت اللہ کا فتویٰ مانگا تو کسی اور طالب علم عصمت اللہ کے نام پر فتویٰ دیا لیکن یہ جھوٹ اور خیانت کب تک چلے گی؟۔

سورہ مرسلات میں ستاروں اور پہاڑوں کا ذکر ہے، میرے استاذ مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے میرا کہا کہ مدارس پہاڑ ہیں اور یہ پہاڑوں سے ٹکراگیا۔ قرآن پہاڑ کو بھی اوتاد یعنی میخیں کہتاہے اور فرعون کو بھی اوتاد والا کہا گیا ہے۔ پہاڑ کے لنگر انداز ہونے سے زمین کو استحکام ملا ہے اور فرعونی حکومتیں دنیا میں مضبوط اقتدار کی وجہ سے پہاڑکی مانند ہیں۔ شخصیات ستارے سٹار کہلاتے ہیں۔ انقلاب کا وقت آتا ہے تو پہاڑوں جیسی حکومتوں کا تیا پانچہ ہوجاتا ہے اور ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان جیسے ستارے غروب ہوکر حضرت بلال حبشی، صیب رومی ، ابوبکر وعمر جیسے لوگ نمایاں ہوتے ہیں۔
سورہ طارق میں نجم ثاقب کا ذکر ہے ۔ طارق کا مطلب دستک دینے والا اور ثاقب کا معنی سوراخ کرنے والا۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ ”ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تاکہ اس کا بیجا نکالے تووہ دفعتاً مٹ جاتاہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مسلسل ضربیں مارتا رہے گا یہاں تک کہ لوگ حق کی طرف رجوع کرلیں” ۔اور یہ بھی فرمایا کہ ” حسن وحسین کی والدہ فاطمہ کی اولاد سے ایک شخص نکلے گا جو گمراہی کے قلعوں کو اور زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا”۔
ایک خواب میں مہدی کا شجرہ حضرت حسن کی اولاد سے بتایا ہے۔جس میں حسن وحسین سے دھدیال اور ننھیال کا رشتہ بتایا گیا ہے اور اس میں اوپر کی پشت میں یوسف کی طرف نسبت کا ذکر ہے اور تعبیر والے نے کہا کہ ممکن ہے کہ مختلف پشتوں میں حسن و حسین دونوں کا اشتراک ہو مگر پہلا اشتراک حسن کے بیٹے اور حسین کی بیٹی کا موجود ہے۔

کانیگرم میں ہمارا سلسلہ نسب کا جدامجدشاہ محمد کبیرالاولیائ کی اولاد میں سید یوسف شاہ کی طرف منسوب ”یوسف خیل” ہے۔ محسود میں ”یوسف خیل” بھی اپنا جدامجد کانیگرم میں یوسف شاہ بتاتے ہیں۔ بنوں میں بھی سادات ہمارے شجرہ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی بہت ہوں گے۔ میری اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن حاجی محمد عثمان نے وصیت کی تھی تو اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تحقیق کی۔ اصل چیز قرآن وسنت کا احیا کرنا ہے۔ سب آدم کی اولاد اور فضیلت تقویٰ کی ہے مگر حلالہ اور سود کی لعنت کیساتھ داڑھی یاآنسو شیطانی فریب ہے۔

سورہ مرسلات میں اللہ نے فرمایا کہ ” قصر اور زرد اونٹوں کی طرح چیزیں ان پر پھینکی جائیں گی”۔ اگر چہ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی بھی اونٹ اور محل کی طرح ہیں لیکن معروف کی تبلیغ اور نشر واشاعت منکرات کے مقابلے میں ڈرون اور میزائل سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سورہ مرسلات میں سورہ واقعہ کی طرح تین طرح کے لوگ ہیں۔ اللہ نے بالکل ہر چیز واضح فرمائی ہے۔

فاذا النجوم طمستOفاذا السماء فرجتOو اذا الجبال نسفتOواذا لرسل اقتتOلای یومٍ اجلتOلیوم الفصلOو ما ادراک ما یوم الفصلOویل یومئذٍ للمکذبینOالم نہلک الاولینOثم نبعھم الاٰخرینOکذٰلک نفعل بالمجرمینO

” پس جب ستارے مٹادئیے جائیں گے اور جب آسمان خوشیوں اور شادمانی سے مالا مال ہوگا اور جب پہاڑ اڑادئیے جائیںگے۔ جب فرشتوں کے مقرر کرنے کا وقت آجائے گا۔ وہ کس دن کی جلدی کرتے ہیں؟۔ فصل کے دن کی اور تمہیں کیا خبر ہے کہ یوم الفصل کیا ہے؟۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا اور پھر ان کے پیچھے دوسروں کو کریں گے۔ اسی طرح مجرموں کیساتھ ہم سلوک کرتے ہیں”۔ (المرسلات:8سے18)

اللہ نے فرعون، نمرود اور نافرمان قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوچکا بعد والوں کیساتھ وہی ہوگا۔ جبکہ بڑی قیامت ابھی تک نہیںآئی۔ شیعہ مہدی کا کہتے ہیں کہ عجل اللہ فرجہ الشریف اسکے ظہور کو خوشحالی اور شادمانی سے تعبیر کیا۔ فرج کا عام معنی یہی ہے اور حدیث میں آسمان کا کھل کر رحمت برسانے کا ذکر ہے۔ پہلوں پر قیامت نہیں آئی اور اب بھی نہیں آئے گی ۔ پہاڑ اور ستارے یونہی رہیںگے لیکن اقتدار اور سٹار پر قیامت ٹوٹے گی۔ مولوی مکافات عمل کی جگہ مٰلک یوم الدین کو قیامت پر ڈالے تو نمازوں میں صراط مستقیم کی بھی دل سے دعا نہیں نکلتی اور اگر درست تصور آئے تو نماز سے بھی انسان کو ہدایت ملے مگر مانگے کچھ کرے کچھ تو؟۔

ان المتقین فی ظلالٍ و عیونٍOوفواکہ مما یشتھونOکلوا واشربوا ھنیئًا بما کنتم تعملوںOانا کذٰلک نجزی المحسنینOویل یومئذٍ للمکذبینOکلواوتمتعوا قلیلًا انکم مجرمونOویل یومئذٍ للمکذبینOواذا قیل لھم ارکعوا لایرکعونOویل یومئذٍ لکمکذبینOفای حدیثٍ بعدہ یؤمنوںO

”بیشک متقی سائے و چشموں میں ہونگے اور اور پھلوں میں جو وہ چاہیں۔ مزے سے کھاؤ پیو جو تم عمل کرتے تھے ۔ بیشک ہم اس طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ کھاؤ ! چند روزہ فائدہ اٹھاؤ بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ تو نہیں جھکتے تھے۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ (سورہ مرسلات آیت41سے50)

فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے کے بعد بھی یہی ہوا تھا اور آج فرعونی قابض قوتوں کا دنیا سے قبضہ ختم ہو تو یہ دنیا قرآنی آیات کیمطابق جنت ہے اور ظالمو سے بھی کہا کہ کچھ دیر زندگی میں فائدہ اٹھاؤ۔ جس کا آخرت سے تعلق نہیں ہوسکتا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا تو چھوٹی سطح سے بڑی سطح تک ظالم بھی مطمئن ہوں گے اور ان کیلئے آخرت کو سدھارنے کا بھی موقع ہوگا۔

عالمی خلافت میں ہندو، یہود،نصاریٰ ، مجوسی، بدھ مت اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ گھر، محلہ، علاقہ ، شہر اور تحصیل، ضلع ، صوبہ اور ملکوںکی تباہی کا سلسلہ رکے گا۔ انسانیت کی تکمیل کیلئے جو قیامت دنیا میں قائم ہوگی، تفصیلات قرآن میں مختلف جگہوں پر بہت وضاحتوں کیساتھ موجود ہیں۔ پاکستان لیلة القدر کو آزاد ہوا۔ حاجی محمد عثمان کی خلافت لیلة القدرسے متعلق تھی اور میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ بابا سے پوچھا تو لیلة القدر کابتایا: وامتازوا الیوم ایھا المجرمون ” آج اے مجرمو! الگ ہوجاؤ”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی سورہ القدر کی تفسیر میں اس خطے کی قوموں کو امامت کی بشارت دی۔

مجھ پر2006ء میں قاتلانہ حملہ اور2007میں13افراد شہیدکردئیے تھے۔پھرحاجی عثمان کے معقتدین کیخلاف فتویٰ شائع ہوا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا”۔ مجھ پر1991ء میں عرفان رکشہ والے حاجی عثمان کے مریدموٹر سائیکل سے فائرنگ کررہاتھا۔ میں اس کو پکڑنے کیلئے بھاگ رہاتھا۔ اس کا بیٹا ہمارے پاس تھامگر میں نے باعزت اور باحفاظت پہنچادیا۔ بعد میں اس نے مجھ سے معافی مانگی تو میں نے اس کی بہادری پر اس کو داد بھی دی۔

انبیاء کرام کا سلسلہ ختم نبوت کی وجہ سے بند ہے لیکن اب تو قیامت کے ذریعے قرآن کے آئینہ سے انسانیت پر حجت کے اتمام کا بندوبست ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی تو بہت کمزور ہیں لیکن اللہ ،اس کی کتاب اور اس کے رسول ۖ کی سنت میں وہ طاقت ہے جس کے ذریعے جہنم بننے والی دنیا جنت بنے گی۔

اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت برپا کرے گا ۔
وما قدراللہ حق قدرہ والارض جمیعًا قبضتہ یوم القیامة و السماوات مطویات بیمینہ سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکونOو نفخ فی الصور فصعق من فی السماوات ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذاھم قیام ینظروںOواشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجی ء بالنییین والشہداء وقضی بینھم بالحق و ھم لایظلمون O

”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق ہے اور زمین کو قیامت کے دن میں قابومیں لوں گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹ لوں گا۔ وہ پاک و اعلیٰ ہے جسے وہ شریک ٹھراتے ہیںاور صور پھونکا جائے گا تو بجلی کا جھٹکا ملے گا جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے لیکن جس کو اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ بجلی کا جھٹکا ہو گا تو سب قیام کئے دیکھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور انکے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔(الزمر67تا69)

دنیا میں تمام مذاہب والے کے کردار کو ان کی اپنی کتابوں کو گواہ بناکر اچھے اور بروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کو دنیا میں جزا اور سزا اپنے ماحول اور مذاہب کی بنیاد پر ہی دی جائے گی۔

وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ وارثنا الارض نتبوامن الجنة حیث نشاء فنعم اجر العاملینO

”اور وہ کہیں گے کہ تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے اپنا وعدہ ہمارے ساتھ سچا کر دکھایااور ہمیں زمین کا وارث بنادیا ہم باغ میں جہاں بھی اپنا گھر بنالیں۔پس اللہ بہتر اجر دیتا ہے عمل کرنے والوں کو”۔ (سورہ الزمر:آیت74)

دنیا میں قبضہ مافیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کو بھی مافیا بتایا جاتا ہے۔ اگر قبضہ مافیاز کو دنیا سے ختم کردیا جائے تو پھر یہ زمین ہی دنیا میں جنت ہے اور سودی قرضوں اور کسی کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے اور نظریں گاڑھنا بند ہوجائے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔

مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ عورت کا فرض ”ستر ” پورا جسم ہے مگر محرموں کو اپنا چہرہ دکھاسکتی ہیں اور نماز میں بال نظر آئیں تو نماز نہ ہوگی۔مردوں کا گھٹنوں سے ناف تک فرض ”ستر” ہے۔ ستر کی دوقسم ہیں ۔ شرمگاہ مغلظ اور گھٹنا مخفف ہے۔جو بدریج ایک دوسرے تک لائٹ شیڈ سے ڈارک شیڈ کی طرح جاتاہے۔

والقواعد من النساء التی لایرجون نکاحًافلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

قرآن میں جن عورتوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے سنگار چمکائے بغیر تو اس سے کیا مراد ہے؟۔ فرض ستر کہاں گیا؟ اور زینت کا تبرج کیا ہے؟۔دوبئی میں برقعہ پوش عورتوں کا جسم ڈھکا ہوا مگر سینوں کی جھلک نمایاں دیکھی اور یہی تبرج ہے۔ مغرب کا ماحول بھی شرمگاہوں کیساتھ سینوں کو چھپاتا ہے۔ اگر چہرہ زینت اور فرض ہوتا پھر حج و عمرے میں اس کا کھلا رکھنا کیوں ضروری تھا؟۔ کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔
مولانا طیب طاہری شیخ پنج پیر کی یہ تصویر وائرل ہے اور لوگ پشتون کلچر کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔ دفاع نہ مخالفت مگر موقع غنیمت ہے۔ مذہبی طبقے کی جہالتوں کا خاتمہ کرنا ہے جنہوں نے اسلام کی غلط تصویر عوام پر مسلط کردی ہے۔میں خود بھی علماء حضرات کا ایک ادنیٰ شاگرد ہوں اور جو انہوں نے بتایا تو اس کو درست سمجھا اور عمل کیا لیکن جب عربی سمجھنے لگا اور قرآن وحدیث کو دیکھا تو یہ شرم محسوس نہیں کی کہ کل کیا کہتا تھا ؟۔ اصل خدا کی اطاعت ہے اور علماء ومفتیان خود عمل نہ کریں تو ان کی فقہ وتفہیم بھی رہنمائی کا وسیلہ ہے۔ لیکن جب یہ شیعہ پر قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگائیں اور اپنی کتابوں کا پتہ چلے تو چوتڑکو کھجائیں ؟۔پھر شیوخ نہیں شیاطین اور دجالین ہیں۔ فنڈز ملتا ہے تو بزرگ علماء ومفتیان شیعہ کوکافرقرار دیں ، پھر فنڈملنا بندتو مسلمان؟۔ انکے فتوؤں کو ان کی پچھاڑیوں ہی میں ڈالنا ہوگا۔
ــــــــــ

علامہ سید محمد یوسف بنوری کی
ایمان افروز کوشش کے نتائج

علامہ یوسف بنوری کا انتقال1977ء میں ہوا۔ دورۂ مصر کی یہ ویڈیو ہے۔ بنورینے شاہ فیصل سے کہاکہ” حرمین فحش مناظر پر پابندی لگائیں” تو سعودیہ نے عورتوں کو حجاب کا پابند بنایا۔1979ء کا ایرانی انقلاب حجاب لایا۔ ملا عمر کی نسبت موجودہ طالبان بدل گئے۔ کابل بازاروں سے ویڈیو زآئی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنا رویہ بدل دیا اورایران بھی تقریباً کافی بدل چکا، برطانیہ اور فرانس نے کالونیوں کو آزاد کیا تو کابل، عراق، ترکی، الجزائر اور برصغرپاک وہند پر خواتین کے پردہ داری پر گہرا اثر چھوڑا گیا پھر حکومتوں اور علماء ومذہبی جماعتوں نے ماحول کو بدل دیا تو اسلام کے احکام بھول گئے ۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ شرعی پردہ کیا ہے؟۔
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی نے لکھا کہ ”شرعی پردہ کوئی بھی نہیں کرتا ہے ۔ جہاں پردہ ہے یہ اشرافیہ کا پردہ ہے اور اس سے بہتر ہے کہ پردہ نہیں کیا جائے اسلئے کہ جن قوموں میں پردہ ہوتا ہے وہاں قوم لوط کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے جو زنا کاری سے زیادہ بدتر ہے”۔

صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا:” عورت کا نکاح سے پہلے کتنا جسم دیکھنا جائز ہے؟۔ جمہور کے ہاں ہاتھ و چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی نے شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھنا جائز قراردیا۔ علامہ ابن حزم کے نزدیک پورا جسم دیکھنا جائز ہے۔(کشف الباری شرح بخاری)

امام اوزاعی بنوامیہ کے دور کا تھا اور علامہ ابن حزم نے بھی قرطبہ یورپ میں صدیوں بعد بنوامیہ کے حکمرانی کے دور میں مذہبی مسائل بیان کئے تھے۔ لونڈیوں کی منڈیاں لگتی تھیں اور ان کے پردہ وغیرہ تو دور کی بات ہے جسمانی اعضاء کے ناپ تول کے ماہرین جنسی خواہشات کیلئے ہر غیر انسانی بے حیائی کا منظر پیش کرتے تھے۔ لیکن آزاد عورتوں کا کباڑہ مسلمانوں کے غلط مذہبی مسائل نے کیا۔ الجزائر کے مسلمان غنڈہ گردی سے گوروں کو پکڑ کر ترکی، ایران اور برصغیر پاک وہند میں غلام اور لونڈیاں بناکر بیچتے تھے۔ جاویداحمد غامدی نے امریکہ کو بالکل غلط مہذب فاتح قرار دیا اسلئے کہ جاپان پر ایٹم بم گرانے کے اکلوتے مجرم نے افغانستان ، عراق ، لیبیا، شام اور جہاں اپنے مفادات دیکھے بہت بدتمیزی اور ظالمانہ طریقے سے مخالفین کی تذلیل کی ہے لیکن تاریخ کے اوراق جایدغامدی کے چہرے اور سیاہ دل سے بھی زیادہ سیاہ ہیں۔ انسان زبان کے نیچے ہے۔

قرآن کا سادہ اور درست ترجمہ
آج تک نہیں ہوسکا ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO(سورہ النورآیت:60)

”اور قانونی وہ عورتیں جن کو نکاح کی امید نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتاریں اپنی زینت کو دکھائے بغیر۔ اور اگر پاکدامنی اختیار کرلیں تو ان کیلئے یہ بہتر ہے۔ اور اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

ایران متعہ اور سعودی عرب میں مسیار والی عورتوں کو نکاح کی امید نہیں ہوتی ہے تو ان کیلئے قانون کیا ہے؟۔ ایران میں ایک طرف جبری حجاب تھا اور دوسری طرف متعہ کے اڈے۔ سعودی عرب نے مسیار کی اجازت دی تو حجاب پر وہ پابندی بھی برقرار نہیں رکھی۔ آیت میں قواعد سے مراد بوڑھی عورتیں نہیں اور پھر زینت سے مراد کیا ہے؟۔ جہاں بہت ہی گرا ہوا ماحول ہے تو وہاں بھی شرمگاہ کیساتھ عورتیں اپنے سینے کو ڈھانپ لیتی ہیں۔

اگلی آیت النور:61میں جن افراد کے گھروں میں کھانے کی اجازت ہے تو یہی پردہ پوری دنیا میں رائج ہے نہ کم نہ زیادہ اور ہرچیز میزان میں ہے اور اچھی لگتی ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا:
” نہیں ہے حرج نابینا پراور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر کہ تم کھاؤ اپنے باپوں کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروںمیں، یا بھائیوں کے گھروںمیں،یا بہنوں کے گھروں میں،یا چچوں کے گھروںمیں، یا پھوپھیوں کے گھروں میں،یا ماموں کے گھروں میں،یا خالاؤں کے گھروں میں، یا جن کے گھروں کی چابیوں کا تمہیں اختیار ہے یا دوست کے گھر میں ۔ کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ”۔ (النور:61)

شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے پہلا اردو ترجمہ اور حواشی لکھے اور لکھ دیا کہ ”اندھا، نابینا اور لنگڑا میں حرج نہ ہونے سے مراد یہی ہے کہ جمعہ کی نمازاور جہاد سے وہ معذورہیں”۔ بات کیا ہے؟ اور مفہوم کیا نکالا؟۔ باقی مذہبی طبقات تو برائلر کی طرح ہیں۔

امام اوزاعی اور ابن حزم نے نکاح کیلئے لوگوں کو بے لباس کرنے کا بڑا گھناؤنا شرعی حکم جاری کیا۔ پھر جن کو نکاح کی امید نہ ہو تو متعہ و مسیار والوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یورپ کے لوگ دھوپ کھانے کی غرض سے بے لباس ہوتے ہیں اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں اوران کو اس حال تک پہنچانے میں مذہبی فقہ کا کردار تھا؟۔ افہام وتفہیم کیلئے وسیع میدان سجانا پڑے گا۔
ــــــــــ

فاطمہ نسومر خولة الجزائر

الجزائر پر فرانس کا1830ء میں قبضہ ہوا۔ فاطمہ نسومر مذہبی گھرانہ سید احمد کے گھر پیدا ہوئی۔ قرآن حفظ کیا۔ شادی کے بعد علیحدگی مگرخلع نہ ملا۔ سلطنت عثمانیہ کے ولی عہدکا رشتہ نہ لیا۔ فرانس کیخلاف جہاد کیا۔1863میں جیل میں فوت ہوئیں۔ الجزائری طاہر بن عاشور1879پیدا اور آزادی بعد1973میں فوت ہوا۔مختصر خطبۂ جمعہ سے بڑی شہرت مل گئی کہ” تمہاری عورتیں بازاروں میں ننگی ہیں ، تمہاری نماز میں کوئی خیر نہیں”۔

الجزائر کے مسلمان کبھی جہازوں میں لوٹ مار کرتے تھے ۔ عورتوں، بچوں کو غلام بناکر مختلف جگہ بیچتے تھے۔ آج ہمارا علم و کردار درست ہوگا تو تاریخ کا خوف غیرمسلموں کے دلوں سے نکلے گا۔ قرآن وحدیث کی درست تعلیمات دنیا کو پہنچے تو سعودی عرب ، ایران اور افغانستان سے زیادہ بہتر اسلام کا نفاذ جمہوری انداز میں دنیا بھر کے غیر مسلم کریں گے۔ اسلام کو مسخ کیا گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر

حسن الہیاری: السلام علیکم سسٹر کیا حال ہے ،ٹھیک ہیں؟
مریم: الحمدللہ سر جو ٹاپک چل رہا ہے اس کے لحاظ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب یہ کیا کہتے ہیں آپ کہ یہ اب ان کا فراڈ سامنے آ جائے گا کہ ان کے بعد کن کی تقلید ہو گی؟۔
الہیاری: وہ یہ تو ان کا رہبر تو ہے ، مجتبی صاحب رہبر ہیں۔
مریم: نہیں تو مجتبی صاحب کیسے رہبر بن سکتے ہیں؟ مطلب یہ کیا اتنے ان کا وہ لیول ہے کہ جس حد تک وہ تھے۔
الہیاری : خامنہ کا بھی کوئی لیول نہیں تھا۔
مریم : فراڈ سامنے آئیگا کون خمس دے گا اور بغیر خمس کے؟۔
الہیاری:فراڈ سامنے تھے ۔ یہ جھوٹ کے ماہر فراڈ سامنے آتا ہے تو کہتے ہیں یہ امریکہ کی سازش ہے پروپیگینڈا ہے ۔
مریم: بس تھوڑا کلیئر کرنا ہے جیسے میرے پیرنٹس اور بہت سے لوگ ہم آپ کو سنتے ہیں نا تو بہت سی چیزیں پتہ چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ٹریک سے اتر گئے ۔ جس طرح خامنہ ای کے بعد اللہ معاف کرے کہ مولا علی علیہ السلام کے جلوس میں انکے شبیہ، تابوت نکالے لوگوں نے اور ان فیکٹ ان کی تصویریں ہیں۔ یہ سب مطلب آگے کتنا زیادہ ہو گا ؟۔
الہیاری:دیکھیں ایرانی حکومت سر وائیو کرتی ہے یا نہیں۔ یہ نظام سروائیو کرنے والا نہیں۔ امریکہ کے پاس سٹریٹیجک پیشنز ہیں۔ یہ اپنے منصوبے طویل عرصے تک فالو کرتے ہیں پھر اس کو اپلائی کرتے ہیں۔ مثلا جیسے شام میں10،15سال جنگ تھی۔ آخر میں بشارالاسد کو نکالا گیا۔ تو ایران شام بننے کی طرف جا رہا ہے۔ اسی راؤنڈ یا نیکسٹ راؤنڈ میں چلا جائے گا لیکن ایک ولایت فقہیہ اور ایک نظام مرجیعت ہے۔ ایرانی حکومت سے نظام ولایت فقیہ بنی ہے۔ حکومت کیساتھ ولایت فقیہ بھی جائے گا ۔مرجیعت تو پہلے تھی جس کوخمینی نے کمزور کیا۔ مراجع کوکتے کی حیثیت سے دیکھتا، بڑا ذلیل کیا ،یہ لمبی داستان ہے کہ خمینی کا مراجع جیسے وحید خراسانی، صادق شیرازی، سید صادق روحانی ، آیت اللہ علی سیستانی سے رویہ کیسا تھا۔ کنٹرول تھا۔ غلام اور نوکر کی حیثیت سے تھی جو وہ کہے یہ وہی فتوی دیں گے۔ اپنا کام نکلواتا تھا اور اب بھی نکلواتا ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایسا نہ تھا۔ مراجع کی بڑی بڑی پاور تھی۔ ایران سقوط کر جاتا ہے تو ایرانی شیعوں کی دین داری کو بڑا نقصان پہنچے گاکیونکہ ایرانی عوام کاعلماء سے بہت کینہ دل میں ہے ۔ وہاں ملحداور دین دشمن افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ خامنائی کی پالیسی ہے۔ بہت سارے لوگ دین سے پھر گئے۔ اگر یہ نظام ٹوٹا تو ان کو کھلی چھٹی ملے گی کہ دین سے دشمنی ظاہر کریں۔ دین داری ایران میں پریکٹیکلی بہت کم ہے پاکستان کے مقابلے میں لیکن لانگ ٹرم میں دین کیلئے بہت بہتر ہے۔ یہ لوگ دین کو بدنام کر رہے تھے ۔اہلبیت علیہ السلام کے نام پر لوگوں پر ظلم، نوجوانوں کو یہ پھانسی دیتے تھے، یہ سلسلہ رکے تو دین کی بدنامی کا ٹرینڈ رکے گا تو لوگ دین کی طرف واپس آئیں گے۔ یہ حکومت گر جائے تو مراجع اور مذہب تشیع مزید کمزور ہو گا۔ لیکن ایران سے باہر پاکستان، ہند،عراق، دیگر ملکوں میں مرجیعت کو تقویت ملے گی۔ کیونکہ فی الحال مرجیعت بالکل ایرانی انٹیلیجنس کے قبضے میں ہے۔ اگر حکومت گر جائے تو مرجیعت کس کا کس سے شادی کر لے گی یعنی کس کی بیوی بنے گی مجھے نہیں معلوم کیونکہ مرجیعت کو ہمیشہ سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب کس کی سرپرستی قبول کریں گے مجھے نہیں معلوم۔ جو علما کہتے ہیں کہ مراجع ہمیشہ انڈیپنڈنٹ رہے ایسا بھی نہیں ۔
مریم: یہ ثواب کی مجالس جگہ جگہ۔ سارا ثواب پہنچتا ہے ؟۔
الہیاری: بدعتی انسان ، چاہے زندہ ہو یامردہ ۔ اس کی تعظیم، تعریف کرنا یہ شدت کیساتھ حرام ہے اور جو بدعتی کیلئے دعا یا تعریف کرتا ہے تووہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑتاہے۔ معاویہ اور یزید کیلئے ایصال ثواب لوگوں نے کیا، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنی بدبختی ہے جو منافق، ظالم اور بدعتیوں کیلئے کرے جنہوں نے دین کے عقائد کو فاسد کر کے اپنے آپ کو امام بنایا۔ ان کیلئے ایصال ثواب پر اللہ تعالی پوچھ گچھ کرے گا۔ فی الحال یہ فری ہیں جو مرضی کریں لیکن قیامت بھی حق ہے مرنا ہے۔
ــــــــــ

اسلام میں عورت کے حقوق پر خامنائی کی تقریر خواتین سے
سب سے اہم حق گھر کی خاتون بیوی کامحبت ہے۔ سب سے اہم ضرورت اور حق ان سے محبت کا ہے ۔ روایت ہے کہ مردوںکو بیویوں سے کہنا چاہئے: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ واضح اظہار کریں ۔وہ جانتی ہے پہلا اور بڑا حق گھر میں خواتین کا عدم تشدد ہے۔ پسماندہ مغربی ثقافت میں مردوں کے ہاتھوں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت ہیں۔ شوہروں کے ہاتھوں خواتین کا قتل ، بیویوں کی پٹائی مغرب میں ہے۔ یہ اہم ترین انحرافات میں سے ہے۔ اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو خوب مارتا ہے۔ یہ ثقافت رائج ہوجائے تو ایسی ہی ہوتی ہے ، وہ ایسے کام کرتی ہے ایسی ضد کرتی ہے، ایسے چڑاتی ہے کہ شاید شوہر کو غصہ آجائے اور وہ مارے، لیکن وہ مارتا نہیں ۔ جب یہ ثقافت رائج ہوجاتی ہے تو یہ اس شکل میں سامنے آتی ہے ۔ گھر کی منیجراور سربراہ خواتین ہیں۔ شوہر کا بچوں کی پیدائش کے اثرات سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں مدد کرنا ، گھر کے کام کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالنا چاہئے، مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ قدر دانی اس بات کی کہ ناکافی آمدنی کے باوجود، خواتین گھر کو چلاتی ہیں۔ اس نکتے پر غور کریں۔ کم لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ مرد کی آمدنی مثال کے طور پرایک مقررہ دفتری آمدنی ہے ۔ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں مگر گھر چلتا رہتا ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار ہوتا ہے ۔ یہ کون کرتا ہے؟ وہ کونسا ہنر ہے جو گھر کو چلاتا ہے؟۔

تبصرۂ نوشتہ دیوار
خامنائی کو حسن الہیاری بدعتی کہتا ہے تو طلاق بدعت وحلالہ پر کیا سمجھتا ہوگا؟۔ ایرانی شیعہ عورت کو سورہ النساء آیت19کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ الجزائری حافظہ فاطمہ کو خلع کا اسلامی حق نہیں ملا تو مجاہدہ بن گئی۔ اخلاق کا مسئلہ الگ ہے حقوق کا الگ۔ شرعی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نے دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلاف

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا پہلا قومی ترانہ اور تصوف کیخلاف امریکہ کی سازش

جگن ناتھ آزاد کی صاحبزادی مکتا لال
ہمارا پہلا قومی ترانہ

اے سرزمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمین پاک!

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند
اپنا وطن ہے آج زمانے میں سر بلند
پہنچا سکے گا اسکو نہ کوئی بھی اب گزند
اپنا علم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند
اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمین پاک!

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب
اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب
دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب
ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب
مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمین پاک!

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام
اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام
آزا…

نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو
آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے
اللہ عذاب کو ٹال دے گا

قال رسول اللہِ ۖ فی وصِیتِہِ لِابِی ہریرة:علیک اباہریرہ،بِطرِیقِ أقوامٍ:اِذا فزِع الناس لم یفزعوا و اذا طلب الناس الامان مِن النارِ لم یخافوا۔قال أبو ہریرة من ہم یا رسول اللہِ؟ حِلّہم وصِفہم لی حتّی أعرفہم؟ قال: قوم مِن أمتِی فِی آخِرِ الزمانِ یحشرون یوم القِیامة محشر الانبِیائِ، اِذا نظر اِلیہِم الناس ظنوہم أنبِیائ، ممّا یرِون مِن حالِہِم، حتّی أعرِفہم أنا، فأقول: أُمتِی أُمتِی، فتعرِف الخلائِق أنہم لیسوا أنبِیائ،فیمرّون مِثل البرقِ والرِیحِ،تعشی أبصار أہلِ الجمعِ مِن أنوارِہِم، فقلت: یا رسول اللہِ مرنِی بِمِثلِ عملِہِم لعلِی ألحق بہم فقال:یا أبا ہریرة رکِب القوم طرِیقاً صعباً؛ لحقوا بِدرجةِ الانبیائِ آثروا الجوع بعد ما أشبعہم اللہ،والعری بعد ما کساہم، والعطش بعد ما أرواہم،ترکوا ذلِک رجاء ما عِند اللہِ،ترکوا الحلال مخافة حِسابِہِ،صحِبوا الدُّنیا بأِبدانِہِم، ولم یشتغِلوا بِشیئٍ مِنہا، عجِبتِ الملائکةُ والأنبِیائُ مِن طاعتِہِم لِربِہِم،طوبی لہم، طوبی لہم،ودِدت أن اللہ جمع بینِی وبینہم۔ثمّ بکی رسول اللہِ ۖ شوقاًا ِلیہِم،ثم قال: اِذا أراد اللہ بِأہلِ الأرضِ عذاباً؛فنظر اِلیہِم؛ صرَف العذاب عنہم۔ فعلیک یا أبا ہریرة بِطرِیقتِہِم؛فمن خالف طرِیقتہم تعِب فِی شِدِة الحِسابِ۔

وصِیة: کتبتُ الیٰ بعضِ معارِفِنا بِوصِیّةٍ ضمّنتہا أبیاتاً أحرِّضہ فِیہا علیٰ تکمِلةِ اِنسانِیّتِہ ِ وہِی:

اِن تکن روحاً وریحانا
کنت بین النّاسِ ِانسانا
اِنّما أعطاک صُورتہُ
لِتکُون فِی الخلقِ رحمانَا
فالّذِی قد حاز صُورتہُ
حاز ما یأتِی وما کانا
والّذِی فِی الغیبِ مِن عجبٍ
والّذِی قد جآئَ ہُ الآنا
والّذِی یَدعُوہُ خالِقُہُ
اِنّما یدعُوہُ مِحسانَا

وأوصی بعضُ الصّالِحِین اِنساناً، فقال:أکثِر مُسائَ لةَ الحُکمائِ،ولیکن أول شَیئٍ تسألُ عنہُ:
العَقلِ:لأَنّ جمِیعَ الأشیائِ لا تدرک اِلّا بِالعقلِ ومتی أردتَ الخِدمة لِلہِ فاعقِل لِمَن تخدُم ثمّ اخدِم.
الوصِیّةُ بِخطِ الشیخ مُحیِی الدِّینِ مُحمدِ ابنِ العربِی
وصیة نبویة86الفتوحات المکیة : ابن العربی
رابط تحمیل نسخة مصورہ من الکتاب
https:|t.me|ibalarb……….

وصیة نبویہ کا اردو ترجمہ

رسول اللہ ۖ نے ایک وصیة میں حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے اوپر ان اقوام کے طریقے پر چلنا ہے کہ ”جب لوگ پریشان ہوں گے تو وہ پر یشان نہ ہوں گے۔ اور جب لوگ آگ سے پناہ مانگ رہے ہوں گے تووہ پریشان نہیں ہوں گے”۔ابوہریرہ نے کہا کہ ” ان کے حلیہ اور صفات کو واضح فرمائیں میرے یہاں تک میں ان کو پہچان لوں”۔فرمایا: ”میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جس کا قیامت کے دن حشر ہوگا انبیاء کے ساتھ۔ جب لوگ ان کی طرف دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ یہ انبیاء ہیں۔ جوان کی حالت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں تک میں خود ان کو پہچان لوں گا۔اور کہوں گا : ”میری امت میری ۔ تو مخلوقات کو پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ انبیاء نہیں ہیں۔ پس وہ بجلی اور ہوا کی طرح گزریں گے۔ وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی آنکھیں چندیا جائیں گی انکے انوار کی وجہ سے۔ تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے ان کی طرح کا عمل دکھائیے تاکہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں۔ فرمایا:

” اے ابوہریرہ ! ایک قوم بہت مشکل راستے پر سوار ہوگئی تو وہ انبیاء کے درجہ کیساتھ مل گئے۔ انہوں نے بھوک کا راستہ لیا اس کے بعد اللہ نے ان کا پیٹ بھرنے کا راستہ دیا تھا۔ اور ننگ کا جب اللہ نے ان کو کپڑے دئیے۔ پیاس کا جب اللہ نے ان کی پاس کو بجھادیا تھا۔ یہ سب انہوں نے اللہ سے امید باندھ کر ہی چھوڑدیا۔ انہوں نے چھوڑ دیا حلال کو حساب کے خوف سے۔
انہوں نے دنیا میں اپنے جسم کیساتھ صحبت اختیار کی اور کوئی بھی چیز ان میںسے مشغولیت کی نہیں رکھی۔ ملائکہ اور انبیاء کو بھی تعجب ہوا ان کی اپنے رب کیلئے اطاعت سے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے ۔ پس ان کیلئے خوشخبری ہے۔
میری چاہت کہ اللہ ان کو اور مجھے ایک ساتھ جمع کردے”۔

پھر رسول اللہ ۖ ان کی طرف اپنے شوق کی وجہ سے رونا شروع ہوگئے، ان سے ملنے کے شوق کی وجہ سے۔ پھر فرمایا:
”جب اللہ زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرے گا تو ان کی طرف دیکھے گا۔ پھر عذاب کو ان سے موڑ دے گا”۔
پس اے ابوہریرہ ! ”تمہارے اوپر ان کے طریقے سے چلناہے۔ جو ان کے طریقے کی مخالفت کرے گا تو وہ سخت حساب کی وجہ سے بہت تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا”۔

وصیت:میں نے ہمارے بعض معارف کو اشعار صورت میں لکھا جس میں اس کو انسان کی تکمیل کے وقت ابھارا ہے

ا گر تم روح وریحان کے درجہ پر فائز ہوجاؤ ۔تو لوگوں کے درمیان انسان بن کے رہو۔
تجھے اللہ نے انسان کی صورت عطا کردی ہے تاکہ خلق خدا پر رحمان کی طرح مہربان بن جاؤ۔
جس نے اس کی صورت کو تشکیل دیا ہے تو یہ وہی ہے جس کی دنیا میں آئندآمد ہے اور یہی ہے جو عالم ارواح میں تھا۔
اور وہی ہے جب لوگوں سے حالت غیب میں تھا تو تعجب تھا اور یہ وہی ہے جو اب لوگوں کے درمیان اس حال میں ہے۔
اور وہی ہے جس کو اس کا خالق پکارتا ہے اور اس کو دعوت دیتا ہے ایسی حالت میں جس میں اس پر احسان کیا ہوا ہے۔

اور مجھے بعض نیک لوگوں نے انسانیت کی وصیت کی کہا کہ اکثر حکیم سے اس کیلئے یہ ملا :

ا ور تم ذمہ دار بن جاؤ کہ پہلا سوال جس کا ہوگا: وہ عقل ہے اسلئے کہ تمام چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے مگر عقل سے۔ پس جب تم اللہ کیلئے خدمت کا ارادہ کروتو پہلے عقل کے ذریعے جانچ لو جو خدمت کرنا چاہو اور پھر خدمت کرو۔

اے سرزمین پاک کے لوگو!
پاکستان ، افغانستان اور ایران !
خوش خبری میں شرکت کا موقع

اسلام کی نشاة اول عرب صحابہ نے کی جن میں بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی وغیرہ انفرادی طور پر شامل تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ عرب سے مشرق ہندوستان، افغانستان، ایران اور پاکستان حجاز سے ہوگی۔ خراسان کا معنی بھی مشرق۔ افغانستان، ایران ، پاکستان کے بعض علاقے خراسان تھے۔ ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کا تختہ الٹنے میں بنوعباس کی مدد کی۔ مسئلہ شخص،علاقہ ،قوم کا نہیں نشاة ثانیہ کا ہے۔ صوفیاء و علماء نے مختلف ادوار میں دنیا کو آخرت کی خاطر چھوڑ دیا۔ موجودہ دور کے مذہبی لوگوں نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں لیکن یہ انسانیت کی تکمیل کا دور ہے۔پاکستان کی اہمیت کو ہندوستان کا متعصب طبقہ بھی مان چکا ہے لیکن یہ یونہی نہیں ہے بلکہ اسکے پیچھے ایک بہت بڑی عالم ارواح کی کہانی ہے۔ قرآن کی واضح آیات سے قرآن کے محکم احکام دنیا کے سامنے آجائیں تو پھر انسانیت کی تکمیل ہوگی۔ پاکستان نے مشرق میں چین ، مغرب میں امریکہ اور افریقہ میں الجزائر سے بھرپور دوستی رکھی ہے۔

الجزائر والے آج بھی پاکستان کے دل سے شکر گزار ہیں ۔ چیچنیا، بوسنیا اور افغانستان جہاں بھی مسلمانوں کو ضرورت پڑی ہے تو پاکستانیوں نے انکے ساتھ اسلام کی خاطر اچھے جذبات کی بنیاد پر ساتھ دیا۔ اگر قرآن کے احکام کی تکذیب کی جائے تو پھر ان لوگوں کو تھکادینے والے حساب کا دنیا اور آخرت میں وہ سامنا کرنا پڑے گا جس کی حدیث میں بڑی وضاحت ہے۔

ایک عربی چینل پر امام مہدی کی10اجتہادی غلطیوں کے تذکرے پر میں نے لکھا کہ ١س سے بھی زیادہ لکھو مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام اجنبی بن چکا ہے پھر طلاق کا مسئلہ سمجھایا کہ قرآن میں اتنا واضح ہے لیکن اس کا کیا حشر ہواہے؟۔ اگر تم اس کیلئے کھڑے ہوجاؤ تو تم مہدی ہو۔ لیکن یہ جرأت نہیں۔ چینل نے اپنا جواب نہیں دیا مگر کسی عربی نے لکھا کہ اس میں بہت وزن ہے اور مجھے پوری بات سمجھ نہیںآئی، دنیا مخالفت کررہی ہوگی ۔

پاکستان طاقتور وں اور کمزوروں کا توازن قائم کررہاہے جو مسائل کا حل ہے۔معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام میں اسلام اعتدال کا توازن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کے واضح احکام سے بدنما مذہبی چہرے کی جگہ روشن چہرہ لانا ہوگااور جب اسلام کا فطری نظام دنیا کے سامنے آجائے تو سب لوگ اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

طویل انتظار کے بعد خلافت

السلام علیکم ۔ عنوان ”حتمی نتیجے کا حصول، سندِ فراغت کی وصولی اور صابرین کیلئے اللہ کے وعدے کی تکمیل”ہے۔28مارچ2026۔ ایسی خوشخبری پر مبنی رویا دیکھی جو اپنے امید کے معانی اور طویل صبر کے بعد الٰہی وعدے کی سچائی کے آثار لیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا گویا میں عالمِ غیب سے ایک بشارت وصول کر رہا ہوں جو ایک واضح پیغام کی صورت میں مجھ تک پہنچی، جس میں ”سندِ فراغت”کی طرح حتمی نتیجہ درج تھا اور اس پر ایک عظیم نعرہ مرقوم تھا کہ ”یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے”۔اس پیغام میںخلافتِ مہدیہ کی طرف بھی اشارہ تھا جبکہ پسِ منظر میں یہ آیتِ کریمہ دہرائی جا رہی تھی کہ وجعلنامنھم ائمة یھدون بامرنا لما صبرواوکانو باٰیٰتنا یوقنون ”اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے”۔(السجدہ)

میں نے دیکھا کہ جو ہستی یہ پیغام لیکر آئی وہ عالمِ غیب و شہود کی ایسی روح تھی جو اللہ کے برحق وعدے کی نوید تھامے ہوئے تھی۔ اور نہایت واضح آواز میں مجھ سے کہا کہ آپ کو یہ نتیجہ مبارک ہو جو آپ کے17سالہ صبر کا ثمر ہے، جس کے بعد اس نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی کہ ان ھٰذا کان لکم جزائً و کان سعیکم مشکوراً ”بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی گئی”۔(سورة الدھر) وہ نتیجہ ایسی فہرست پر مشتمل تھا جس میں چند اہل افراد کے نام تھے، جہاں غالب گمان پہلے دو نام تھے پھر ایک تیسرے نام کا اضافہ کیا گیا جو تائید اور استحکام کی علامت تھا۔ رویا طویل صبر کے بعد عظیم بشارت حتمی نتیجے کی صورت میں اختتام کو پہنچ گئی۔

قابلِ ذکر یہ ہے کہ پکارنے والے کو17سالہ صبر کا تذکرہ کرتے سنا تو دل میں سوچا کہ کیا اس مدت سے مراد انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے داخلے کے آغاز سے اب تک کا وقت ہے؟ کیونکہ خوابوں کے اس سفر کی کل مدت تو30سال بنتی ہے۔ اسی اثنا میں منظر بدلا اور میں نے حجاب کے پیچھے سے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے اللہ کے خاص دنوں کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج دسواں دن ہے۔ واللہ اعلم۔

رویا کی تعبیر طویل آزمائش برسوں پر محیط انتظار کے خاتمے کی علامت ہے ،اب بڑی کامیابی اور خوشخبری ملنے والی ہے۔ سندِ فراغت مشکل مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی نشاندہی ہے جبکہ حتمی نتیجہ کسی دیرینہ معاملے کے طے پا جانے کی دلیل ہے۔ ”جزائً بما صبرتم”کا عنوان واضح کرتا ہے کہ آنے والی راحت صبر اور ثابت قدمی کا انعام ہے۔17سال کی مدت طویل انتظار اور کسی اہم کام کے اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ناموں کی تعداد مشترکہ مہم میں افراد کی شرکت یا کسی اہم واقعے کیلئے بتدریج ہونے والی الٰہی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ خواب طویل صبر کے دور کے خاتمے، مقصد کے حصول کے قرب اور ایک نئے مبارک مرحلے میں داخلے کی نوید ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

انقلاب کی تشکیل کے کردار

اس خواب میں17سال کے صبر کا خاص ذکر ، ثمرہ نتیجہ ہے۔1990سے2007ء تک ساتھیوں نے جد و جہد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ سورہ سجدہ کی آیت24کا حوالہ قبولیت کی بشارت ہے پھر واقعہ کے بعد17سال تک واقعہ پر سوال نہیں اٹھایا اور اٹھایا بھی تو الحمدللہ ایک فرض ادا کیا ہے۔ خواب میں سورہ دھر کی آیت کا ذکر بھی ہے اور اللہ سے اچھا گمان حق ہے۔

ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں تو حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ”اپنی امت کو میرا سلام دینا”۔ وعلی ابراہیم الصلوٰة والسلام و علی رسولنا خاتم الانبیاء والمرسلین ۔ حضرت ابراہیم پر صلوٰة والسلام ہو اور ہمارے رسول خاتم الانبیاء المرسلین پر بھی ہو۔

سورہ واقعہ میں السابقون کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ”روح اور ریحان ہیں”۔ شیخ ابن عربی نے اشعار میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہیں اللہ یہ مقام دے تو پھر انسان اور رحمان بن جاؤ” اور سورہ واقعہ میں نبی ۖ سے فرمایاہے ” اصحاب الیمین کی طرف سے آپ کو سلام ہو”۔ اصحاب الیمین بہت زیادہ ہیں۔ جب پاکستان اور دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا تو دنیا کی ہرقوم کی طر ف سے نبیۖ کو سلام بھیجا جائے گا اور مقام محمود کا مقام دنیا میں یہی ہوگا۔ رسول اللہ ۖ کے رحمت للعالمین کی تصدیق زمین و آسمان کی ہر مخلوق کرے گی۔ نبی ۖ نے فرمایا ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ الرحمن ”بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت رحمن پر بنایا”۔ عالم ارواح میں جس نے جو ایکٹر بننا پسند کیا ہے وہ اپنی شکل پر طے شدہ منصوبے کے تحت اپنا کام کرے گا۔ اصل امتحان دل کی کیفیات کا ہوگا۔

وننزل من القراٰن ماھوا شفاء و رحمة للمؤمنین ولا یزید الظالمین الا خسارًاOواذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰبجانبہ واذا مسہ الشر کان یؤسًاOقل کل یعمل علیٰ شاکلتہ فربکم اعلم بمن ھو اھدیٰ سبیلاًO(سورة الاسرائ82تا84)
اور ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں۔ اور جب ہم نے انسان پر احسان کیا تو اس نے منہ پھیرلیا اور پہلو تہی کی اور جب کوئی تکلیف پہنچی تو نااُمید ہوا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی اداکاری کی شکل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔

مختلف شخصیات ، قبائل ، ماحول اور گروہوں کا انتخاب بھی عالم ارواح میں ہم نے خود کیا ہے۔ اور اس کیلئے دل کی کسوٹی بھی ہمارا امتحان ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”الاخلاص” ۔ انسان اللہ رحمان کا خلیفہ رحمان ہے۔ حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اور اللہ نے قرآن میں قاتلوں کو بھی توبہ کے بعد گناہ کے بدلے ثواب لکھ دیا یہ رحمانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن

اللہ نور السماواتِ والارضِ مثل نورِہ کمِشکاةٍ فِیہا مِصباح المِصباح فیِ زجاجةٍ الزجاجة کانہا کوکب دریِ یوقد مِن شجرةٍ مبارکةٍ زیتونةٍ لا شرقِیةٍ ولا غربِیةٍ یکاد زیتہا یضِیء ولو لم تمسسہ نار نور علی نورٍ یہدِ ی اللہ لِنورِہ من یشآء ویضرِب اللہ الامثال لِلناسِ واللہ بِکلِ شی ئٍ علِیم
(سورة النور آیت:35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، نور پہ نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کیلئے ہدادیت دے دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔

اِنّا عرضنا الامانة علی السموتِ و الارض و الجِبالِ فابین ان یحمِلنہا و اشفقن مِنہا و حملہا الاِنسان-اِنہ کان ظلومًا جہولاً (سور الاحزاب آیت72)

بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پرامانت کوپیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس کو اٹھالیا بیشک بڑا ظالم (اندھیرنگری میں) بڑا جاہل(انتہائی درجے کی جہالت میں) تھا ۔

اس کوہ گرنی کے دامن جٹہ قلعہ علاقہ گومل ٹانک میں میری پیدائش ہوئی
اور پھر قرآن و سنت کی بھی پوری سمجھ بوجھ نہیں تھی
مگر دنیا میں خلافت قائم کرنے کا عزم کیا تو میں بڑا ظالم جاہل تھا۔

سید عتیق الرحمن گیلانی

ــــــــــ
اے سر زمین پاک!

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندی حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
پاکستان کاپہلا قومی ترانہ… جگن ناتھ آزاد… عیسیٰ خیلوی
ــــــــــ

آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
واِذ اخذ ربک مِن بنیِ ادم مِن ظہورِہِم ذرِیتہم واشہدہم علی انفسِہِم الست بِربِکم قالوا بلٰی شہِدنا ان تقولوا یوم القِیامةِ اِنا کنا عن ہذا غافِلِینOاو تقولوا اِنمآ اشرک ابآؤنا مِن قبل وکنا ذرِیةً مِن بعدِہِم افتہلِکنا بِما فعل المبطِلون (سورہ اعراف:172،173)

اور جب عہد لیاتیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں ان کی اولادسے اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ ۔ کہا:ہاں، ہم گواہ ہیں، یہ نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی یا کہو کہ ہمارے اجداد نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم انکے بعد انکی اولاد تھے، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا۔
ــــــــــ

یہی تھی زمین یہی تھا گویا آسمان
یہی تھا انسان یہی عتیق الرحمان
عہد الست یہی ملک کبیرپاکستان
لاالہ الا اللہ محمدرسولۖ آخر زمان
جٹہ قلعہ گومل دامن کوہ وزیرستان
احادیث صحیحہ ہیںسبھی تفسیر قرآن
ــــــــــ

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبیۖ یقول:الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف وما تناکرمنھااختلف ( صحیح البخاری حدیث:3336 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی ۖ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روحیں لشکروں کے لشکرکی شکل میں عالم ارواح میں ایک دوسرے سے اپنائیت رکھتی ہیں تو یہاں محبت کرتیں ہیں اور نفرت کرتی ہیں تو یہاں اختلاف کرتی ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کے ذریعے اسلام کی نشاة اول ہوچکی ۔ اب اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہے۔ عبداللہ بن مسعود ایک رات رسول اللہ ۖ کیساتھ گئے اور زمین کی ایک جگہ پر پہنچنے کے بعد زط یعنی جٹ قوم کی ارواح کو کچھ تہنیتی کلمات کہے تو وہ حاضر ہوگئے۔یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے مرکز پاکستان کی ا قوام متحدہ ہے۔ سندھی ، بلوچ ،مہاجر، پنجابی، سرائیکی، پختون اور کشمیری مولانا سندھی کی تفسیر مقام محمود (پارہ عم )میں واضح کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میری چاہت ہے کہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کروں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا نہیں ! آپ میرے بھائی نہیں ہو بلکہ میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ جب وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے تو مجھے ان سے مل کر انتہائی خوشی اور مسرت ہوگی۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
ــــــــــ

مآ اصاب مِن مصِیبةٍ فِی الارضِ ولا فِی انفسِم اِلا فِی کِتاب مِن قبلِ ان نبراہا اِن ذٰ لکِ علی اللہِ یسِیرOلِکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بِمآ اتاکم واللہ لا یحِب کل مختالٍ فخورٍO(الحدید آیت22،23)

نہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے (عالم ارواح میں یہ فلم پہلے چلا دی جسے آجAiکی وجہ سے سمجھنا بہت آسان ہے) دنیا میں معاملات رونما کرنے سے پہلے ۔بیشک یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔ تاکہ تم افسوس نہ کرو جو تم سے فوت ہوجائے اور جو اللہ نے دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔بیشک اللہ شیخی بگھارنے والے بد دماغ فخر کرنے والے کو پسند نہیںکرتا۔
ــــــــــ

ان آیات کی تفسیر و احادیث کی تشریح

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہ کا مطلب سبھی کرشمے اسی سے ہیں ۔ یہ حدیث قدسی زبان زد عام ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اگر آپ نہ ہوتے تو آسمانوں کو بھی میں پیدا نہ کرتا”۔ محدثین کے ہاں الفاظ نہیں ملا علی قاری نے مفہوم کے اعتبار سے درست قرار دیا ۔ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔ابلیس لعین اور حضرت آدم سے نبی رحمت خاتم الانبیاء ۖ تک ایک آئینہ ہے۔
مولانا تھانوی نے ”نشر الطیب فی ذکر حبیب ۖ” میں پہلا باب نبی ۖ کے نورپر لکھا کہ سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیااور حدیث ہے کہ ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم مٹی میں تھے”۔ نبیۖ کو اللہ نے رحمت للعالمین قرار دیا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ کے دونوں صفات میں رحمت ہے اور قرآن میں نبی ۖ کو مؤمنوں پر الرؤف الرحیم بھی قرار دیا ۔ قرآن مشرقی نہ مغربی ہے، لعان کی آیات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ناجائز حلالہ کی لعنت مدارس میں جاری ہو اور لعان کی آیت منبر ومحراب سے عوام کے سامنے نہیں آتی ہے تو یہ زیتون کے تیل سے چراغ جلانا تو دور کی بات ہے مٹی کے تیل سے بھی نہیں بلکہ نور نہیں مذہبی طبقہ ظلمت پھیلا رہاہے اور سود کو اسلام کے نام پر اضافہ کیساتھ جائز قرار دیا تو نور نہیں بڑا اندھیرا پھیل رہاہے۔ معاشی، معاشرتی ، روحانی اور سیاسی نظام سے قرآن کو بے دخل کردیا تو اللہ کا نور دنیا میں کیسے پھیلے گا؟۔

یہ نورتیلی جلائے بغیر بھڑکنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ البتہ سورہ احزاب میں واضح ہے کہ ایک ظالم جاہل انسان پوری دنیا میں یہ نور کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لے گا تو اللہ رحم کرکے دنیا بھر میں عدل کا نظام قائم کرے گا تویہ اس کا ذاتی کمال نہ ہوگا ۔ معصوم انبیاء علیہم السلام کیلئے قرآن یہ سخت گستاخانہ الفاظ کیوں کرتا؟۔ نبیۖ نے محنت و مشقت کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپۖ کی وجہ سے دنیانے نظام عدل ،آزادی اور انسانیت کو سمجھ لیاہے۔

انبیاء کرام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ طرف سے ان کا چناؤ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس قرآن اور اس کو ماننے والوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ہزاروی نے عالم ارواح میں اپنا موجودہ کردار خود چنا ہے ۔ ایک دن میں حلالہ کی لعنت کے خلاف قرآن ، حدیث اور فقہ حنفی کی درست تعلیم پیش کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان دلوں اور دلالوں نے قرآن وحدیث کا نور نہیں سود کو جواز فراہم کرنے کا کردار عالم ارواح میں چن لیا تھا اور اس پر عمل کررہے ہیں۔ میں نے الحمد للہ کہ یہی کردار چن لیا تھا جس پر میں بھی خوش ہوں اور یہ بھی خوش ہیں۔ کل حزب بما لدیھم فرحون ”ہر گروہ اس پر خوش ہے جو عقیدہ ،ماحول اور فرقہ اس نے اپنا رکھا ہے”۔ یہ انتخاب اس کی مرضی کا ہے۔

پہلے رائٹر ایک کہانی لکھتا ہے پھر فلم اور ڈرامہ بنانے والے اداکار اس میں اپنے لئے ایک معاوضہ کے تحت اداکاری کا عہد سائن کرتے ہیں کہ اس نے یہ کردار ادا کرنا ہے۔ عہدالست کی قرآنی آیت کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس شکل، گروہ اور نسل ونسب کے اندر اللہ کی ربوبیت کو ماننے کا اقرار کیا تھا اور اپنی اپنی جانوں کو گواہ بھی بنایا تھا۔ اللہ نے سورہ اعراف میں یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ ”ایسا نہیں ہو کہ قیامت کے دن تم کہو کہ ہمیں عہدالست یاد نہیں۔ یا یہ کہو کہ ہمارے پہلے والے اجداد نے جو ہمارے لئے ماحول بنایا تھا تو کیا ان کی وجہ سے تم ہمیں ہلاک کروگے جو باطل لوگوں نے ہمارے لئے بنایا؟”۔

قرآن میں اہل کتاب کو عہدالست کی دعوت ہے۔

قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا و لایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(ال عمران:64)

” کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس بات کی طرف جو ہم اور تم میں برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کریںگے مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور ہم اپنے میں سے بعض کو بعض اللہ کے علاوہ رب نہیں بنائیںگے۔اگر پھر گئے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔

عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی تو آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بناتے تھے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تمہارے علماء ومشائخ اپنی طرف سے حرام وحلال کے فیصلے کرتے تھے تواس کو آپ نہیں مانتے تھے؟۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ سارے دیوبندی مدارس نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی مخالفت کی لیکن پھر اس کو وفاق المدارس کا صدر بنایا۔ کیا یہ رب بنانا نہیں ہے؟۔ یہ شرک نہیں ہے؟۔

قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السماوات والارض ابصر بہ و اسمع مالھم من دونہ من ولیٍ ولایشرک فی حکمہ احدًا(سورہ کہف:26)
” کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا غیب ہے ۔اسکے ذریعہ دیکھ اور سن اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا”۔

اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ ”یہود پر ہم نے کسی چیز کو بھی حرام نہیں کیامگر خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کیا” مثلا ہفتہ کے دن مچھلیوں کاشکار تھا لیکن پھر نافرمانی کی توعذاب میں پڑگئے اور چھٹی کے دن مچھلی کے شکار کیلئے حیلہ زیادہ برا ہے یا سودی نظام کو اسلامی قرار دینا؟۔ یہود سے بڑھ کر تو مفتی اعظم لوگوں کا کردار ہے لیکن انہوں عالم ارواح میں اپنے لئے یہ کردار خود چنا ہے اور ان کے ماننے والے مذہبی اور دنیاوی طبقہ نے بھی۔

سورہ الحدید کی آیت میں ہے کہ زمین میں کوئی مصیبت آتی ہے یا تمہاری جانوں میں تو یہ پہلے سے لکھی جاچکی ۔تاکہ اس پر افسوس نہیں ہو ۔لیکن دنیا کا ایک دستور ہے۔ واقعہ ہوتا ہے تو اسکے شرعی، قانونی، روایتی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں۔

عبیدہ بن جراح نے پوچھا یا رسول اللہ ۖ ! ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ہم نے اسلام قبول کیا، آپ کیساتھ جہاد کیا؟۔ فرمایا ہاں ۔ ایک قوم ہے جو تمہارے بعد آئے گی وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ شیخ البانی نے کہا کہ دارمی ، احمد، حاکم وغیرہ نے نقل کیا اور صحیح قرار دیا ۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کن لوگوں کا ایمان عجیب ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: انبیاء ،فرمایا: ان کا کیوں؟ ان پر وحی نازل ہوتی ہے،عرض: فرشتوں کا!۔ فرمایا: وہ تو سب کچھ دیکھتے ہیں۔ عرض : پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ فرمایا : میں تمہارے اندر موجود ہوں اور وحی تمہارے سامنے آتی ہے۔ عرض : ہمیں نہیں معلوم۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: عجیب ایمان ان لوگ کا ہے جنکے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں اور تمہاری طرح ایمان ہوگا۔ ایک کو50افراد کی طرح ثواب ملے گا۔ عرض ہوا۔ ہم سے50یا ان میں سے؟۔ فرمایا: تم میں سے50کے برابر۔

من احیاھا فکانما احیا الناس جمیعًا۔

ایک کا بدلہ تمام انسانوں کے برابر تو ایک کی عزت حلالہ سے بچانے پر؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv