پوسٹ تلاش کریں

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری

ترمذی کی شرح معارف السنن علامہ سیدیوسف بنوری نے لکھی ۔بخاری استاذ اور ترمذی شاگرد ہیں،ترمذی کی قرآن سے متعلق حدیث علماء دیوبند میں سب سے زیادہ اچھی فکر کے عالم دین مولانا سید محمد میاں نے خطبات مسنونہ میں نقل کی ہے۔

طلاق سے متعلق اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر قرآن سے رہنمائی لے گا تو منٹوں میں اس کا دماغ کھلے گا۔احادیث میں جتنا الجھاؤ ہے اور قرآن میں جتنی صفائی ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب ممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو ساتھ میں من گھڑت اور ضعیف اور الجھے ہوئے واقعات کی ایسی بھر مار کردی گئی کہ لوگ فرقہ فرقہ بن گئے ۔

طلاق پرقرآن کی سب واضح آیات البقرہ228ہے جس میں عدت کے تین ادوار کا تصور واضح ہے اور حمل کا بھی ذکر۔ پھر اس روڈ میپ کے اندر باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر وں کو اپنی عورتیں لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیاہے اور ساتھ میں واضح کیاہے کہ عورتوں کے مردوں کی طرح وہی معروف حقوق ہیں۔

سورہ الطلاق آیت4میں واضح ہے کہ جو عورتیں حیض سے ناامید ہوں اور عدت میں الجھن ہو یا حیض نہ آتا ہو تو3ماہ ہے اور حمل والوں کی عدت جب بچہ جننے تک ہے۔ بچے کی پیدائش بھی واضح ہے اور3مہینے کی عدت بھی واضح ہے۔ عورت دعویٰ کرے کہ حیض مہینے تین یا دو مہینے میں ایک تو یہ فضو ل ہے۔

پاکستان کے آئین ترمیمی بل1964میں طلاق کا معاملہ بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ جس میں حلالہ کی لعنت کو ختم کیا۔ باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش دے دی گئی ہے۔ یہ چیز پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ النساء آیت35میں ہے۔

قرآن میں کوئی چیزبالکل متصادم اور غیر واضح نہیں ہے مگر احادیث نے بہت غلط انداز میں وضاحتوں کو الجھا دیا ہے۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ البقرہ آیت229

یہ آیت228کی بہت واضح تفسیر ہے ۔پہلی صورت وہی ہے کہ معروف یعنی باہمی اصلاح کی شرط پر صلح ہوسکتی ہے جس میں نہ جبر کا کوئی تصور ہے اور نہ قرآن کی واضح کردہ عدت کی۔ بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب التفسیر ہر جگہ رسول اللہ ۖ کی عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل کے ساتھ ہے ۔ معروف رجوع کا معنی منکر رجوع نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں نیت نہیں تھی اور شہوت آگئی تو بھی رجوع ہے اور شافعی کے نزدیک نیت نہ تھی تو جماع بھی رجوع نہیں ہے۔

جیسے انکے باپ کے مال کی شریعت ہو؟۔ عورت راضی ہو تو یہ معروف رجوع ہے اور باہمی صلح کے بغیر رجوع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بغیر عورت کی رضامندی کے طلاق رجعی کا تصور ہی آیت228البقرہ کے حدود کو پاش پاش کردیتا ہے۔ عدت بھی بڑھ سکتی ہے اور عورت کی رضامندی بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔ اکٹھی3طلاق کے بعدباہمی صلح کی رجوع پر پابندی بنوامیہ اور بنوعباس کے دلوں اوردلالوں کی عدالتیں نہیں رجواڑے تھے۔

قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی معروف شرط واضح کی ہے۔

اسے منکر میں بدلنا غلیظ ذہنیت کی انتہائی غلاظت ہے جس کے گند کیلئے احترام کا لفظ استعمال کرنا کفر ہے اور مجھے کسی سے عقیدت ہو مگر کفر کا ارتکاب بالکل نہیں کرسکتاہوں۔

لوگوں کی ماؤں ، بہنوں، بیویوں ، بیٹیوں ، بہوؤں اور دیگر خواتین کی عزتیں قرآن، اسلام، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین اور علماء ومشائخ کے نام سے قرآن وسنت کے خلاف لٹ جائیں؟ اور ہم اس کو خندہ پیشانی سے احترام کے ساتھ برداشت کریں؟ یہ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کو برداشت نہیںہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے100فیصد درست فیصلہ کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر وہ کوئی فتویٰ نہیں فیصلہ تھا۔ فتویٰ اور فیصلے میں فرق ہے۔ فیصلہ تنازعہ میں ہوتا ہے اور فتویٰ مسئلے کی وضاحت کیلئے ہوتا ہے۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو البقرہ آیت228اور229کے اندر بالکل واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اکٹھی3طلاق ہی نہیں بلکہ ایک طلاق کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ رجوع کو باہمی رضامندی ،اصلاح اور معروف کیساتھ مشروط کردیاہے۔

حضرت عمر سے سب سے پہلا اختلاف عبداللہ بن عمر نے کیا تھا اسلئے کہ وہ تین طلاق دے چکا تھا اور نبیۖ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پھر عدت و طلاق کو ایکدوسرے سے لازم وملزوم قرار دینے کا تصور دیا تھا ۔ جیسے عدت ظرف ہے اور طلاق مظروف ہے۔ تین روزے تین دن کیساتھ ظرف اور مظروف کا تعلق رکھتے ہیں۔ دن ظرف اور روزہ مظروف ہے اور جس طرح رمضان کے مہینے میں دنوں کیساتھ روزوں کا تعلق ہے ویسے تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل کے ساتھ ہے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ عدت کے بھی تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی اللہ نے فتویٰ کے اعتبار سے باہمی رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ ڈالنے کے اوپر پابندی لگائی ہے جیسے سورہ البقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ عورت کسی اور سے عدت میں نکاح نہ کرنے کی پابند ہے۔ اگر اس کی ترجیحات خاور مانیکا کی جگہ عدت میں بھی عمران خان بن جائے تو خاور مانیکا عدت میں شوہر ہوکر بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ نے بعد میں جیسے کیسے بھی مگر ٹھیک دیا ہے اور جس نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ خاور مانیکا کا حق مجروح ہواہے وہ غلط تھا۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا شوہر کو حق ہے لیکن جب عورت راضی ہو تو بھی اسلئے شوہر کو رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو ضرر پہنچائے ۔ آیت231البقرہ میں وضاحت دیکھ لیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ قرآن کے تراجم تک میں تحریف کر ڈالتے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آخری حد کردی کہ جب کافی عرصہ گزر چکا ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح سے مت روکو ، جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے کیلئے آپس میں باہمی رضامندی سے معروف طر یقے سے راضی ہوں۔ البقرہ232۔ بہت بہترین وضاحت ہے۔

آیت229میں دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ جب شوہر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس میں طلاق شدہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ جس کا واضح مطلب عدت کے تیسرے مرحلہ میں عورت کے اپنے حقوق سے بھی احسان کرکے زیادہ حقوق دینے ہیں۔ سورہ النساء آیت19خلع کا عورت کاحق اور حقوق ہیں۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ اور سورہ النساء آیت20میں طلاق اور عورت کے طلاق کے اندر خلع سے زیادہ حقوق ہیں۔ البقرہ آیت229میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح ہے کہ کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے اور پھر اس صورت میں استثناء رکھا ہے کہ جب آپس میں رابطے اور حدود کے توڑنے یعنی جنسی بے راہ روی کا خدشہ ہو تو وہ چیز عورت قربان کرسکتی ہے اور اس میں بنیادی شرط فیصلہ کرنے والے کے کردار کا بھی ہے۔ جب وہ بھی یہی سمجھیں۔ پھر جب عورت وہ چیز واپس کردے تو کنفرم ہوجاتا ہے کہ اس نے اب رجوع نہیں کرناہے اور جب یہ کنفرم ہو کہ اس نے رجوع نہیں کرنا ہے تو آیت230کا حکم ہے جس کا مقصد حلالہ کی کوئی سزا نہیں بلکہ عورت کو مکمل آزادی دینی ہے جو بالکل واضح ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن و حدیث کے آئینہ میںپاکستان کے روشن مستقبل اور دنیا میں انقلاب عظیم کی خبر ؟

سنن ترمذی حدیث:2906

باب:قرآن کی فضلیت ۔کتاب: فضائل القرآن عن نبیۖ

حدثنا عبد بن حمید، حدثنا حسین بن علی الجعفی،قال سمعت حمزة الزیات ، عن ابی المختار الطائی ،عن ابی اخی الحارث الاعوار ،عن الحارث قال:مررت فی المسجد فاذاالناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علی فقلت: یا امیر المؤمنین،الا تری ان الناس قدخاضوا فی الاحادیث ؟ قال: وقد فعلوہا، قلت: نعم، قال: اماانی قد سمعت رسول اللہ ۖ یقول: الاانھا ستکون فتنة فقلت: مالمخرج منھا یا رسول اللہ ؟ ،قال : کتاب اللہ فیہ نبأ ماکان قبکم وخبر مابعدکم وحکم ما بینکم وھو الفصل لیس بالھزل ،من ترکہ من جبارٍ قصمہ اللہ ومن ابتتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ و ھو حبل اللہ المتین وھوالکذکر الحکیم،وھوالصراط المستقیم ،وھو الذی لایزیع بہ الاھواء ولاتلبس بہ الالسنة ولا یشبع منہ العلماء ولا یخلق علی کثرالردولا تنقضی عجابہ ،وھو الذی لم تنتہ الجن اذسمعتہ حتی قالوا: انا سمعنا قرء انًا عجبًا ھدی الی الرشد سورة الجن آیة1،2من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل و من دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیمٍ خذھا یا اعور

ترجمہ: حارث اعور نے کہا کہ میں مسجد میں گیا توکیا دیکھتا ہوں کہ لوگ احادیث میں مشغول تھے میں حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین !کیا آپ نہیں دیکھتے (آپ کی کیا رائے ہے) کہ لوگ احادیث میں غور وخوض کررہے ہیں؟۔ فرمایاکہ کیا وہ اسکے مرتکب ہوچکے ہیں؟۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: بیشک میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے : آپ ۖفرماتے ہیں: خبردار ! عنقریب فتنہ ہوگا، میں نے عرض کیا: ”اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ یارسول اللہ ؟۔ آپ ۖ نے فرمایا: اللہ کی کتاب، اس میں خبریں جو تم سے پہلے لوگ گزر گئے اور اس میں پیش گوئیاں ہیں جو تم سے بعد آنے والے ہیں اور حکم ہے جو تمہارے درمیان میں ہے اور وہ ایک فیصلہ کن معاملہ ہے حق اور باطل کے درمیان کوئی مذاق نہیں ہے۔ کسی جابر حکمران کی طرف سے اس کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ اس کو توڑ کر رکھ دے گا،اور جس نے اسکے علاوہ کہیں دوسری چیز میں ہدایت کو تلاش کیا تو اللہ اس کو گمراہ کردے گا۔اور وہ اللہ کی رسی ہے مضبوط۔وہ حکمت سے بھرپور نصیحت ہے اور وہ سیدھی راہ ہے۔ اور وہ وہ ہے جس کو لوگوں کی خواہشات ادھر ادھر موڑنے کی صلاحیت قطعاً بھی نہیں رکھتی ہیں۔ باطل اس کے الفاظ کو اپنے رنگ میں نہیں ڈھال سکتا ہے۔ اور نہ اس میں زبانوں کا بس چلتا ہے کہ کوئی اشکال پیدا کریں۔ اوراس کی علمی وسعت سے علماء کبھی بھر نہیں سکتے۔ اور اس کی تردید میں کتنی کثرت کیساتھ ایڑی چوٹی کا زورلگایا جائے لیکن اس سے اس کی تخلیق میںاپنی مرضی کا کلام مرتب کرنے کی کوئی ساز ش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور اسکے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتے ہیں یعنی زمانوں کے عروج سے اس کا آئینہ مزید وسعتوں کے ساتھ سمجھ میں آتا رہے گا لیکن اس پر تعجب والی کیفیات کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اس کو سنایہاں تک کہا کہ ”ہم نے عجب قرآن سنا جو بھلائی کا رستہ دکھاتاہے”۔ سورہ جن آیت1،2۔ جس نے اس کے ذریعے کہا اس نے سچ بولا۔ جس نے اس پر عمل کیا اس کو اجر مل گیا۔ جس نے اس پر فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔اس کو مضبوط پکڑو یا اعور!

( خطبات مسنونہ :مولانا سیدمحمد میاں برائے جمعہ)
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3باتین یاد رکھو!

1:بنوامیہ کاکردارایک سا نہیں

الف:سیدنا عثمان غنی خلیفہ راشد سوم ذوالنورین۔
ب:ابوسفیان ، امیر معاویہ ، یزیداور معایہ بن یزید۔ ج: مروان بن حکم ،عبدالملک بن مروان اینڈ کمپنی!

بدتمیز ضحاک نے کہا:حج و عمرہ کا احرام باندھنے والا جاہل ہے۔سعد بن ابی وقاص نے کہا : ”یہ نہ کہو نبیۖ کو میں نے باندھتے دیکھا ہے”۔

عمران بن حصین نے52ھ میں بصرہ کے اندر انتقال فرمایا، صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں۔ بعض نبیۖ کی حرمت ، صحابہ کی عظمت ، احادیث کی کا احساس نہیں رکھتے ۔ حلالہ کی لعنت سے پھڑکتی رگوں کی پیدوارہیں لیکن ہم انشاء اللہ ان کی دکانیں بند کریں گے ۔ صحابہ کرام ہادی فاتح عالم تھے ۔

بنو زرقاء بنومروان نے حجاج جیسوں کو مسلط کیا، جبراً حلالہ عمر کے سر پر ڈالا اور علی کے جہنمی کہنے کی سعید بن جبیر جیسے پر کوشش کی اور شہید کردیا۔ مگر حضرت عمربن عبدالعزیز نے عمدہ کردار ادا کیا تھا۔

2:ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
امام ابوحنیفہ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے اصول وضع کیا تھا کہ خبر واحد کی حدیث کو قرآن کے واضح حکم کے خلاف رد کرو مگر ملا جیون جیسے علماء نے میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں نزلہ ولی کی بغیر اجازت والی احادیث پر گرا دیا ہے۔

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے

مجنون نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

3:حرمت مصاہرت کے مسائل

من نساء کم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

”اورتمہا ری بیویوں سے جن میں تم نے ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ”۔

حرمت مصاہرت کیلئے منکوحہ میں دخول کی شرط سے غلیظ ترین مسائل کوچھڑا ؤ۔ بچہ پیدا ہونے پر بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے اصولی طور پر حرام اور ضرورتاً جائز قرار دیا ۔ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے کو عذر اور اندورونی پر نظر پڑگئی توبیوی پھر حرام ہوگئی۔بیٹی ، بہو، ماں ، بہن اور بھانجی بھتیجی کسی محرم کو ہاتھ لگا اور شہوت آگئی تو پھر اگر خارج کردیا تو حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اور نہیں کیا تو ہوگی؟۔

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ــــــــــ

قتل کا ذمہ دارکون؟ الٹی گنگا بہانے سےمسائل حل ہونگے؟

کراچی دعا زہرا کیس پہلے بڑا مشہورہواتھا اور پاکستان کی سطح پر ہلچل تھی۔ سندھی فاطمہ زہرا قتل اور اکبر علی انصاری کورٹ میرج واقعہ گلشن حدید کراچی میں پیش آیا۔ قتل قبائلی معاملہ ہے تو قرآن کی تفسیر ، حدیث کی تشریح کا بھی عمل دخل ہے اوراگرعوام کو معقول طریقے سے آگاہی مل جائے تو مسائل کا زبردست حل نکلے گا۔

وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO

”اور جو تم میں طلاق شدہ وبیوہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور اپنے درست غلاموں کے اور اپنی لونڈیوں کے اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے امیر کردے گا اور بہت وسعت والا علم والا ہے”۔ (سورہ نور:آیت32)

عربی میں ایامٰی بیوہ وطلاق شدہ کو کہتے ہیںاور حدیث میںآیا ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ سے اجازت کا باقاعدہ اظہار کرنے کے بعد اس کا نکاح کراؤ۔ کنواری کی خاموشی لیکن رضامندی ضروری ہے ۔

من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل

”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔(حدیث :اصول فقہ)

جمہور کے ہاں عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ و بیوہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ حنفی مسلک میں عورت آزاد ہے اور قرآن نے اس کواپنے نکاح میں خود مختار بنایا ہے۔

آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ (البقرہ:230) میں عورت کو نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ مسلک حنفی میں جو حدیث خبرواحد قرآن سے ٹکرائے تو وہ ناقابل عمل ہے۔

قرآن و حدیث کی تطبیق ہے۔ آیت سے مراد طلاق شدہ ہے ۔ جبکہ حدیث سے کنواری ہے۔

ولاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھھن غفور رحیمO

”اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرواگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔تاکہ تم اس کے ذریعے اپنی دنیاوی زندگی کی وجاہت چاہو۔ اور جو لڑکی مجبور کی گئی تو اللہ اس کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (النور:33)

اس آیت سے لونڈی مراد لی گئی کہ جبراً بدکاری پر مجبور مت کروجب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہو۔

حالانکہ کنواری لڑکیوں کے حوالے سے رہنمائی ہے جومستقبل اور سب کچھ بالکل داؤ پر لگاتی ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مفتی عزیزالرحمن عثمانی ، مولانا برساتی کا غلط فتویٰ اور اس پر گرفت۔

فتاویٰ رشیدیہ: اختلافی مسئلہ

غیر کفو میں نکاح ہو تو فسخ کا مسئلہ
سوال:زید ایک شخص اجنبی کے مکان پر رہتا تھا عمرو نے وارثانِ ہندہ کو بہکا کر اور دھوکہ دیکر زید کو نسب سید بتلایا اور نکاح کرا دیا بعد چند مدت کے معلوم ہوا کہ زید سید نہیں ہے نورباف ہے اب وارثانِ ہندہ کو شرم و حیا معلوم ہوتی ہے کہ بہت اہانت ہے کیونکہ سید اور نورباف کا نکاح نہایت عار کی بات ہے لہٰذا شرع کے مطابق وارثانِ ہندہ کو فسخ کرنا فی زمانہ جائز ہے یا نہیں دیگر زید بعدِ ظاہر ہونے کفو کے وہاں سے چلا گیا وقتِ رخصت زوجہ سے کہا کہ میں اس گھر میں ونیز قریہ میں تا حیات نہیں آؤں گا اور قسم بھی کھائی اور بعد کو ایک خط بھی اسی مضمون سے لکھا اب اس کا کیا حکم ہے۔

جواب: صورِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیاء ہندہ کو اختیارِ فسخ ہے۔ کما فی العالمکیریة ولو انتسب الزوج لہا…
(٢)زید کا قسم کھانا مستلزمِ ایلاء نہیں ہے ۔ کمافی االدر…
(٣) اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے جبھی شہر کے مفتی سے حکم لیکر فسخ کر سکتا ہے کیونکہ قائم مقامِ قاضی کا مفتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن برسانی تعقبہ بعضہم وہو مندرج فی الذیل
(٤)ایضا صورتِ مستفسرہ میں وہ سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کیلئے کفائت شرطِ نکاح ہے یا ولیِ اقرب پیش از عقد عدمِ کفائت پر اپنی رضا ظاہر کر دے بعدِ عقد راضی ہونا بھی نفع نہیں دیتا والمختار…
(١)یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا تو نکاح باطل محض رہا بعدِ ظہورِ حال زید کے قسم و تحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کیلئے کوئی مرتب نہیں ہو سکتا واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفے النبی الامی ۖ

فتنازعوا بینہم فرجعوا الی علمائنا خصوصا الی شیخنا الاجل امام الفقہا فی عصرہ المولانا رشید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ فاجاب باحسن التفصیل وہو ہذا

(٢)صورتِ مندرجہ ذیل مسئلہ ہذا میں اولیا کو حقِ فسخِ نکاح ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے واللہ تعالی اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ الجواب صحیح۔الٰہی عاقبت محمود گرداء محمود عفی عنہ ۔ الجواب صحیح ۔محمد منفعت علی۔بندہ مدرسِ اول مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند و توکل علی العزیز الرحمن ،جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے اولیا ء کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔ فقط۔ واللہ تعالی اعلم۔ عزیز الرحمن عفی عنہ دیوبند

فتویٰ غلط اور جواب یہ کہ

البقرہ آیت226:ایلاء میں4ماہ کی عدت۔ نبیۖ کے29دن میں ایلاء سے رجوع پر اللہ نے ازواج پر علیحدگی کا اختیار واضح کرنے کافرمایا ۔ (صحیح بخاری) نکاح نہ ہو تو بدکاری ؟۔ نکاح ہوا ۔ ہاتھ لگایا تو پورا حق مہر قرآن واضح کرتا ہے۔ عورت بیچنے والا پٹھان اور عرب قرآن نہیں سمجھتااور نہ جہیز وصول کرنے والا ہندو نسل ،عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے ۔ مہربانی کرکے فیکٹریوں پراپنا رزق کمائیں۔
قرآن وسنت کیخلاف متضاد اور غلط فتوؤںنے مسلمان قوم کا ستیاناس کردیاہے ۔

نمبر1:سورہ النساء آیت19میں خلع کا حق عورت کو ملا اور مالی حقوق کا تحفظ بھی اورسورہ النساء آیت20میں مرد کو طلاق کا حق اور اس میں عورت کے خلع کے مقابلے میں زیادہ حقوق ۔

قرآن چھوڑ کر عورت سے خلع کا حق چھینا۔ حدیث صحیح میں اسکی عدت ایک ماہ ہے تو انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی کہ شوہر گم ہے اور80سال تک انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر علماء مفتیان نے فقہ حنفی سے فقہی مالکی میں چھلانگ لگائی اور انتظار کی مدت4سال کردی۔ یہ کاکروچ80سے4سال کی کھائی میں ڈوب مرنے کے بجائے زندہ ہیں ،کمال کا پڑتال ہے؟۔

دیوبندی بریلوی دلے بغیر ولی کی اجازت احادیث صحیحہ کو قرآن سے متصام قرار دیکر نہیں مانتے ہیں تو کفوء کا مسئلہ ان کی پچھاڑیوں کی پھڑک کا نتیجہ ہے؟یاپھر کہاں سے برآمد ہوا؟۔ یہ طالب صابر شاہ ، حافظ حاشراور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ضمیرنہیں رکھتے یا آخر بے ایمان سمجھتے کچھ نہیں ہیں ؟۔

ہندوستان میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو گالیاں دیکر حیلہ ناجزہ شرمناک کتاب لکھ ڈالی اور موجودہ دور میں بہت بڑے پیمانے پر جوان طبقے کا بھی ارتداد جاری ہے اور یہ خود کو بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی بہت کھل کر ترید کی ضرورت ہے۔

پھر لکھ دیا کہ شوہر نے تین طلاق دی اور پھر مکر گیا تو عورت خلع لے اور نہیں ملے تو حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں لے ورنہ گناہ گار ہوگی؟۔ یہ اپنی ماؤں نے دلوں کو بتایا ہوگا کہ تین طلاق ہوگئی ہے لیکن باپ کی لذتیں نہیں اٹھارہی ہیں؟۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی ماں کو گالی مت دو۔ عرض ہوا کہ اپنی ماں کو کون گالی دے گا یارسول اللہ (ۖ) فرمایا : دوسروں کی ماں کو گالی دوگے تو تمہاری ماں کو گالیاں پڑیںگی۔ علماء فتویٰ اور کتابوں میں حرام کاری اور اولادلزنا کے شرعی فتوے لگارہے ہیں؟۔ رسول اللہۖ نے حضرت علی کی بہن ام ہانی کے اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہنے پر حرام کاری اور اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگایا ۔ کن چوڑوں چماروں نے دین پر قبضہ جما دیا؟۔

اگر طاقتور کمزور سے بیوی چھین لے تو امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ حلال ہے لیکن جب عورت سے خلع کا حق چھین لیا جائے تو اس کا بھاگ جانا کیوں حرام ہے؟۔ جب ولی خاندانی تفوق کی وجہ سے لڑکی کو اپنی مرضی سے بغاوت پر مجبور کرتا ہے اور اس کو اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر حرامکاری کے فتوے کیوں؟۔ حال ہی میں کھوکھر برادری کی19سالہ مہوش نے شادی میں رکاوٹ پر55سالہ عاشق خالد چوہاں کیساتھ مل کر ٹارگٹ کلر سے اپنے والد کو قتل کروادیا ہے۔ مذہبی طبقات قرآن کو سمجھتے نہیں تو تبلیغ کیسے پھر مؤثر ہوگی؟۔ قرآن کا درس کوئی صوفیانہ ریاضت نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک سکھ سندھی مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بھی انقلابی بننے پر فتوؤں کا نشانہ بنادیتے ہیں۔

ہمارے ہاں مزارع جٹ خاندان کے عبداللہ جان کیساتھ ایک مولوی کی بچے دار بیوی کمترہ (کبوتری)بھاگ کر آئی تھی، مولوی شاید اس سے قتل کی دھمکی پر پیسہ وصول کرنا چاہتا ہوگا۔

علی شاطئی الوادی نظرت حمامة
اطالت علیّ حسرتی و تندمی

”میں نے وادی کے کنارے پر ایک کبوتری دیکھی جس نے مجھ پر میری حسرت اور ندامت کی زندگی طویل کردی ”۔

یہ عربی اشعار یزید بن معاویہ کے مشہور قصیدہ کے ہیں جس نے عراق کے گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی ارینب بنت اسحاق کو دیکھا اور اس کے شوہر سے طلاق دلوائی لیکن اس نے امام حسین سے شادی کی اور امام حسین نے پھر دونوں کی آپس میں محبت دیکھ کر طلاق دی اور عبداللہ بن سلام نے پھر شادی کی اور یزید کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی اوریہ قصیدہ مشہورہے۔

اصابک عشق ام رمیت باسھم
فما ھذہ الاسجیة مغرم
خذوا بدمی منھافانی قتیلھا
ولا مقصدی لا تجود و تنعمی
ولا تقتلوھا ان ظفرتم بقتلھا
ولکن سلوھا کیف حل لھا دمی
وقولولھا یامنیة النفس اننی
قتیل الھوٰی والعشق ولو کنت تعلمی
ولا تحسبوا انی قتلت بصارم
ولکن رمتنی من رباھا باسھم
لھا حکم لقمان و صورة یوسفٍ
ونغمة داؤد ٍ و عفت مریم
ولی حزن یعقوبٍ و وحشة یونسٍ
و الاٰم أیوبٍ و حسرة آدم

”تجھے عشق کی تکلیف پہنچی یا تیر کا شکار ہوگیا؟یہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ محبت کے دلدادہ کو پہنچتا ہے۔ اس کو پکڑو میرے خون سے میں اس کا مقتول ہوں۔ میرا مقصد نہ ہی کوئی جواب ہے اور نعمتیں حاصل کرنا اور نہ آسائش پانا ہے بلکہ محبوبہ کی ذات حاصل کرنا مقصدہے۔ اور اس کو قتل مت کرو اگر تم اسکے قتل کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ اس سے پوچھ لو کہ میرا خون کیسے اس کیلئے حلال ہوگیا؟۔ اور تم سب اسے کہو کہ اے میری جان تمنا، میں تو محبت وعشق کا مارا ہوا ہوں اگر توسمجھے تو۔ اور یہ مت سمجھو کہ اس نے مجھے تلوار سے قتل کیا ہے بلکہ اپنی بلندی سے نظروں کے تیر چلاکر مجھے قتل کیا ہے۔ اس کے پاس لقمان کی حکمت، یوسف کی صورت ہے اور داؤد کا نغمہ ہے اور مریم کی پاکدامنی ہے۔ اور میرے لئے یعقوب کا غم ہے اور یونس کی( مچھلی کے پیٹ میں) وحشت ہے۔ایوب کے درد ہیں اور آدم کی حسرت ہے”۔

یزید بن معاویہ نے اقتدار کیلئے امام حسین کی شہادت میں کامیابی حاصل کرلی مگر اپنے ماتحت گورنر کی بیوی سے طلاق لینے کے باوجود بھی اسکے ساتھ اپنی شادی کرنے کی حسرت پوری کرنے کی تمنا دل میں رہ گئی ۔

یزید کیلئے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق اور امام حسین سے اس کا نکاح اور اس کو طلاق ایک اتفاق تھامگر شیطان نے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جال بچھادیا اور کسی نہ کسی صورت کو آیت سے حلالہ قرار دینے کا جواز فراہم کیا ۔ حالانکہ اللہ نے تو حلالہ کی کسی صورت کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں رکھا تھا اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی۔ عربی لڑکی کی عجم سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا معاملہ تاریخ کے ایک جبر نے پیدا کیاتو پھر؟

یہ اتفاق تھا لیکن اس کو حلالہ پر محمول کرنے کی غلطی فرقہ زیدیہ کے امام زیدبن باقر بن زین العابدین بن امام حسین نے پہلی مرتبہ کی تھی۔ ظالم عرب کو عجم اپنے کفوء نہیں لگے تو چمچہ گیروں نے فتویٰ دیا کہ عرب کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ امام زید نے اس پر سوالات اٹھائے کہ لڑکی سے نکاح کیا اور ہاتھ نہیں لگایا تو قرآن آدھے حق مہر کو فرض قرار دیتا ہے اور ہاتھ لگایا ہے تو پورا حق مہر فرض ؟ اوراگر اس نے تین طلاقیں دیں تو پھر حلالہ کے بغیر جائز ہوگایا نہیںہوگی؟۔ کتاب المجموع : امام زید ،زیدیہ کے امام ۔

زید کا استنباط تھاکہ تیسری طلاق کا تعلق حلالہ کی لعنت ہے۔ حالانکہ عدی بن حاتم نے پوچھاتھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ تو رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”البقرہ229میں دومرتبہ طلاق کے بعد او تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ جبکہ اسی تیسری طلاق کے بعدہی تحکیم کا ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توقرآن نے حلال نہ ہونے کا حکم لگاکر طاقتور کا ہاتھ روکا ہے مگر الو کے پٹھے ہیں۔

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکمومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خودبدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق

حدیث میں بھی توازن ہے کہ لڑکی اور اس کے ولی کو نکاح میں باہمی رضامندی ہے اور جبر کا خاتمہ ہے اور لڑکی جب کشتی جلادیتی ہے تو اپنے خاندان کی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے اسلئے ولی کو راضی کرنے کی ترغیب ہے اور دوسری طرف جمہور نے بیوہ وطلاق شدہ کو بھی حدیث کی بنیاد پر ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا ہے ۔قرآن و حدیث کی افہام وتفہیم کی جگہ مسالک کی جنگ میں عربی اور حقائق سے ناوقف ذہن بھٹکتا ہے۔

فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO

” پس جب وہ (بیوہ عورتیں) اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو تم پر کوئی حرج نہیں جو بھی وہ اپنی جانوں کے بارے میں فیصلہ کریںمعروف طریقے سے۔ جو تم کرتے ہو اللہ کو خبر ہے”۔

البقرہ:آیت237میں بیوہ کو اجازت دی گئی لیکن فقہاء نے مسالک کے چکر میں قرآن دیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ

الذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسألنھم اجمعینO

”وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیں گے”۔ (سورہ الحجر:91،92)
قرآن کی طرف توجہ اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تقاضہ پورا کریں تو بیڑہ پار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ

رنجیت سنگھ کی مسلم بیوی کا محل سرکاری ورثہ بنا مگر جانشین دلیب سنگھ کو وطن نہیں آنے دیاتھا۔ راجہ مہندر پرناب سنگھ(1886تا1972) جنگ1914 میں آزادی کیلئے سوئیزرلینڈ، جرمنی ،ترکی1915کابل پہنچا، مولانا عبیداللہ سندھی کو آزاد کیا، عبوری حکومت کا تاحیات صدر،مولانا سندھی وزیر داخلہ۔1918میں ترکی وجرمنی شکست کھاگئے ۔1919میں افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ قتل ہوا۔ امیر امان اللہ خان کی انگریز کیخلاف جنگ ،راولپنڈی معاہدہ اورافغانستان کی آزاد حیثیت تسلیم مگرپھر انگریزنے سازش سے1929میں امان اللہ خان کو بھگایا۔ سکندر مرزا نے1930میں میرے نانا سید سلطان اکبر سے جٹہ قلعہ افغان پیر کیلئے کرائے پر مانگا توکہا: ” افغان بھائی کاخون گرانے کیلئے نہیں دیتا”۔ پھر انگریز دوسروں کو زمینیں دیں تو نانا نے کہا کہ مجھے بھی توپنجاب دائرہ دین پناہ کوٹ ادو میں زمین دیدی۔ میرجعفر کا پڑپوتاسکندر مرزا پہلا صدر پاکستان بنا جو جنرل ایواب نے ہٹادیا۔ جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر1970کا الیکشن کرایاتو جمعیت علماء اسلام پر مفتی شفیع نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ ”خطرے میں اسلام نہیں” سے جالب مشہوراہوا۔1977میں ڈالری نظام مصطفی تحریک چلائی گئی۔1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کے ہمراہ محسود اور انکے بھائی سیداحمد شاہ کے ہمراہ بیٹنی وفد امیر شیرعلی سے ملنے کابل گیا۔1878میں انگریز نے افغانستان پر حملہ کیا، شیر علی کا بیٹا یعقوب بیٹھادیا۔ پھر1880میں اسکے چچا زاد امیر عبدالرحمن کو کابل تخت پر بٹھا یا۔ امیر حبیب اللہ انقلابیوں کا سپورٹر مگر خود انگریز کا پالتو ۔1920میں فتویٰ پر مولانا احمد علی لاہوری ،باچا خان50ہزارافراد افغانستان گئے۔
ــــــــــ

حکیم عبد الرحمن جعفر، فیس بک

مولانا عبید اللہ سندھی کی ریسرچ علماء مان لیتے، تو ہندوستان نہیں اسکے اثرات دنیا میں ہوتے۔ آج کل یونیورسٹیاں اپنے بڑے سینئر پروفیسر کو بھیجتی ہیں، این جی اوز اور گورنمنٹ پیسے دیتے ہیں کہ فلاں مسئلہ ہے، کوئی تھیسس لکھو۔تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اسیرِ مالٹا، انکے یہ شاگرد مولانا سندھی، مولانا تھانوی کو تصوف سونپا۔ مولانا الیاسنے تبلیغی جماعت بنائی۔ مولانا حسین احمد مدنی کے ذمے سیاست لگائی۔ مدرسہ بھی ذمے لگایا، مفتی کفایت اللہ بانی جمعیت علما ہند تھے، جبکہ مولانا عبید اللہ سندھی کو انہوں نے باہر سروے کیلئے تحریکِ ریشمی رومال شروع کرائی تھی کہ جا ؤ افغانستان، روس، جرمنی۔ اس وقت مولانا سندھی کی بات پہ عمل ہو جاتا تو آج دنیا کا اور مسلمانوں کا نقشہ بھی اور ہوتا۔ آج پاکستان میں مولانا سندھی کی سیاست کی تعریف صرف حضرت مولانا مسعود گدی نشین دین پور کرتے ہیں ۔باقی علما ء کو تو پتہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ کی تحریک کیا تھی، مولانا عبید اللہ سندھی کیا تھا، وہ اکابر کیا تھے، وہ بیچارے آج بس صرف جو ریڈیو ٹی وی یا جس کا انبوہ بڑا دیکھتے ہیں، جس کا جلسہ بڑا دیکھتے ہیں وہ اس طرف جاتے ہیں، اپنے اکابر کی تاریخ اور قربانیوں کا ان کو پتہ ہی نہیں۔
ــــــــــ

تاریخ کومسخ مت کرو

مولانا سندھی کی قبرپر انقلاب کی دعا1987میں مانگی۔ان کی عظمت انکی تعلیم لیکن جھوٹی کہانیاں مت گھڑو۔شاہ ولی اللہ سے دیوبند تک مقصد اسلام کی نشاة ثانیہ مگر حلالہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکاہے۔
بھارتی وزیراعظم مرار جی دیسائی کو ڈاکٹر قدیر کی طرح” نشان پاکستان ”بڑی مثالی انسانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت

واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO

”اور جب نے ہم نے آپ سے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کو گھیرا ہے اور آپ کا خواب نہ بنایا مگر لوگوں کی آزمائش اور قرآن میں شجرہ ملعونہ اور انہیں ڈراتے تو ان کو نہیں بڑھاتا مگر بڑی طغیانی میں”۔ (بنی اسرائیل:60) شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت ہے۔

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہO(المائدہ آیت:48)

”اور ہم نے تیری طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی جو اسکے ہاتھ میں کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پر محافظ ہے”۔

یہود نوح کی بیوی بدکار، عیسائی پاکدامن کافرہ اور ابن عباس ، جمہور کے نزدیک پاکدامن، حسن بصری اور مجاہد کے نزدیک بدکار ۔ (تفسیر قرطبی) قرآن تصدیق بھی کرتا ہے اور غلطی کی درستگی بھی؟۔

امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتًا فی الجنة ونجنی من فرعون و عملہ و نجنی من القوم الظالمینO

”فرعون کی بیوی نے جب کہا کہ اے میرے رب ! میرے لئے جنت میں گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ”۔ (سورہ التحریم آیت:11)

3 طلاق اور حرمت پر جبری حلالہ کیا جاتا تھا اور اسلئے فرعون کی بیوی نے حلالہ سے پناہ مانگی تھی۔

نوح نے بتایا کہ حلالہ نہیں ،3طلاق دی مگر اس نے مجنون کہا۔ چھپاکر حلالہ کیا تو پھروہ لڑکا جم گیا ۔

قال یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالحٍ فلا تسألن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجاھلینO(سورہ ھود:آیت:46)

” فرمایا: اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ یہ نادرست عمل ہے۔ پس مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں ،میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنو! ”۔

یہ نہیں کہا:
ان عملہ غیر صالح
اس کا عمل صالح نہیں بلکہ
انہ عمل غیر صالح
”بیشک وہ غیر صالح عمل ہے”۔
غیر صالح ”حلالہ کی پیدوار” اور حلالہ زنا تو نہیں لیکن جب نوح نے واضح کیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع ہے ۔ اس نے نہیں مانا تو کافرہ ہوگئی اور شوہر سے خیانت کرکے چھپا کرحلالہ کیا ۔

امرات نوحٍ و امرات لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا ھما

”نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو میرے صالح بندوں کے نیچے تھیں اور پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ”۔ (سورہ تحریم:10)

قال النبیۖ لولا بنوا سرائیل لم یخنز اللحلم و لولا حواء لم تخن انثی زوجھا صحیح بخاری نمبر 3330۔

”نبی ۖ نے فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ”۔

اہرام مصر کی ترقی میں پیش رفت بنی اسرائیل نے نافرمانی سے روکی ،ورنہ گوشت نہیں سڑسکتا تھا۔ اگر حوا حضرت آدم کے ساتھ شریک نہ ہوتی توکوئی عورت اپنے شوہر سے چھپ کر حلالہ نہ کرتی۔

اناجیل میں ہے کہ حضرت مریم یوسف نجار کی منگیتر تھی لیکن جبرائیل نے یوسف نجار کی شکل میں خدا کی روح پھونک دی ۔یوسف نجار نے توراة کے مطابق سزا سے بچانے کیلئے مریم کو تحفظ دیا۔

مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمات ربھا و کتبہ

”مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اسمیں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اوراسکی کتابوں کی تصدیق کردی”۔ (سورہ التحریم:12)

عیسائی3سوسال پہلے طلاق کے قائل ہوگئے۔ یہود حلالہ چھوڑیں گے ۔ سورہ نور میں لعان کا حکم اور زنا پرسوکوڑوں کی سزا ہے۔ شوہررنگے ہاتھ پکڑلے اور عورت جھوٹ بولے توبھی کوئی سزانہیں ہے ۔

قرآن سے توراة وانجیل کو سمجھاتو عیسائی مذہبی طلاق کومانیںاور یہود حلالہ چھوڑدیں۔نبیۖ کی نرینہ اولاد کو اللہ نے بچپن میں اٹھایا۔ عیسیٰ کی آمد تو نبیۖ کا مقدمہ تھادادا نہیںنانا کے وارث تھے۔ میرے اجداد نے یتیم نواسوں کو ذاتی و قومی جائیداد میں حصہ دیا۔ ”میراث آدھا علم ہے”۔نبیۖ۔ داؤود کا وارث سلیمان ذاتی و قومی جائیداد، خاندانی املاک ، حجرات اور باغ فدک میں فرق ۔ ازواج مطہرات کے اخراجات تھے مگر اولاد نہ تھی تواولاد فاطمہ کو ملنا تھا۔ طلاق اور مسائل کا فضول حجم ختم تو میراث اور باقی علم کا توازن برابر !۔ مفتی تقی عثمانی وارث تومولانا ولی رازی کیوں نہیں؟۔ زکی کیفی کے یتیم بچوں کو داداکی میراث کا حق کتنا مل سکا؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا

جاویداحمد غامدی نے کہا کہ”3طلاق کہہ دیا تو قرآن واضح نہیں۔نبی ہۖ نے اجتہاد سے رکانہ کی 3طلاق پر قسم اٹھوائی تو ایک قرار دی۔ ابوداؤد کی حدیث ضعیف مگرایسے معاملے میں ٹھیک ۔سیدنا عمر نے اجہتاد سے3قرار دیا، یہ بھی درست تھا۔جیسے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی تو فیصلہ خود نہیں کرسکتے ویسے ہی مفتی عذر قبول کرے یا سزا دے۔

مثلاً جاویداحمد غامدی کے والد نے3طلاق دی اور اسکے حلف پر ایک قرار دی مگر بیوی نے اعتبار نہ کیا اور چھپ کر حلالہ کیا اور جاوید غامدی کو جنم دیا ۔

جاوید غامدی کے داماد حسن الیاس نے3طلاق دی تو بیٹی کوحلالہ کی سزا دیدی۔ یہ کونسا اسلام اپنے نواسیوں اور مسلمانوں کیلئے پھیلا رہاہے دلا؟۔

ابوداؤد میں رکانہ کے والدین سے سورہ طلاق کی تفسیر دیکھتا اور سیدنا عمر و علی کا فیصلہ دیکھتا تو پھر گانڈ میںجماہوا ناصبی ڈانبر بلبلے کی طرح اُڑجاتا۔

حلالہ فحاشی کا لنڈابازارلگانے والے بنو زرقاء کو گالی وادی مہران کے اصحاب صفہ کے صحابی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے تخلیق کی تھی جو جاوید غامدی کا کلچر تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے پدو مارنے والی جاٹ قوم کاحدیث میں واضح تذکرہ کیاہے ۔

برصغیر پاک وہند اور ایران میں حلالہ ومتعہ کلچر نہیں تھا۔حلالہ بنوزقاء کا تحفہ ہے ۔ عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے توحضرت علی نے کہا: ”تم بھی متعہ ہی کی پیدوار ہو”۔ جدید ایران کا بانی اسماعیل صفوی سنی تھا مگر اس کا پوتا اسماعیل صفوی شیعہ بن گیا کہ حلالہ کی دلاگیری سے مرضی کا متعہ اچھاہے۔

رسولۖ نے ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی توسورہ تحریم دنیا بھر کیلئے ہدایت کا سبب بن گئی

لقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم

” بیشک اللہ نے تمہاری طلاق کی مغلظات کو حلال کردیا”۔

سورہ مجادلہ میں ظہار کی سخت ترین طلاق کابالکل جڑ سے خاتمہ کردیا کہ ”یہ قول منکر اور جھوٹ ہے”۔ سورہ تحریم میں نہ صرف یہ کہ لفظ حرام کو لغو اور بالکل بے معنی اور بے وقعت قرار دیا بلکہ جتنے بھی الفاظ وہ تھے جو میاں بیوی کے درمیان مذہبی رکاوٹ بننے کی کچھ بھی صلاحیت رکھتے تھے سب کا خاتمہ کردیا اور ہرقسم کی طلاق کے ایمان کو حلال قرار دینے کا اعلان کردیا۔ حجاج بن یوسف اگر جان بوجھ کر حرامی پن کا مظاہر ہ نہیں کرتا تھا تو علی کو جہنمی قرار دینے پر زور ڈال کر حضرت سعید بن جبیر کی شہادت پر بھی بہت بڑا اجر مل گیا ہوگا۔ اسلئے کہ حضرت عمر کی تین طلاق ہی کیا کم تھے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کی فحاشی کیلئے نیا میلہ بھی لگ جاتا۔ اور جن لوگوں نے حلالہ کروائے تھے اور انہوں نے اس کو شرعی مجبوری سمجھ لیا تھا تو ان کو بھی توبہ واصلاح کرنے پربہت بڑا اجر ملے گا۔

والذین لایدعون مع اللہ الھًا اٰخر ولایقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق و یزنون ومن یفعل ذٰلک یلق اثامًاOیضاعف لہ العذاب یوم القیامة و یخلد فیہ مھانًاOالا من تاب واٰمن و عمل عملاً صالحًا فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات وکان اللہ غفورًا رحیمًاO

”اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی او ر آقا کو نہیں پکارتے اور نہ قتل کرتے ہیں کوئی جان مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے تو بڑے گناہ میں پڑگیا اور اس کیلئے قیامت کے دن ڈبل عذاب ہوگا اور اس میں ہمیشہ ذلیل رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو انکے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ بدلے گااور اللہ غفور رحیم ہے”۔ فرقان:68تا70

اللہ کے بندوںکی صفات کو آگے پیچھے واضح کیا

والذین لایشھدون الزور واذا مروا با للغو مروا کرامًاOوالذین اذا ذکروا باٰیٰت ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًاO وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیتوں سے سمجھایا جائے تو ان پر اندھے بہرے نہیں گرپڑتے”۔ فرقان:72،73

یہ نہیں کہ آیت230البقرہ کا حوالہ دیا اور حلالہ کی لعنت سے لوگوں کی عزتیں خراب کرنے کیلئے وہ اندھے بہرے ہوکر نفسانی لذات کیلئے گر پڑیں۔

سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کی وضاحتوں کے بعد سورہ البقرہ224سے دیکھ لیں تو پتہ چلے کہ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ تو چھوڑ دیں لوگوں کے درمیان بھی صلح میں رکاوٹ بننے کا تصور ہی اللہ نے بالکل ختم کردیا ہے۔ یہ طلاق کا مقدمہ ہے۔پھر البقرہ225میں واضح کردیاکہ لغو ایمان یعنی طلاق کے صریح و کنایہ کے لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا ہے البتہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ پھر آیت226میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے منع کردیا کہ پہلے عورتوں پر واضح کردو کہ اب بال کی ان کی کورٹ میں ہے جس پرحضرت عمر کے کانوں سے سنسنی خیز دھواں نکلنا شروع ہوگیا کہ یہ ماجرا آخر کیا ہے؟۔ کیونکہ جب سورہ تحریم نازل ہوئی تھی تو امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے بڑی ڈانٹ کھائی تھی۔ ماریہ قبطیہ سے حرام کا سخت ترین لفظ استعمال کیا لیکن اللہ نے واضح کردیا کہ یہ کچھ نہیں ہے ،اللہ نے اَیمان(طلاقوں) کو حلال کردیا ہے۔

اب نبی اکرم ۖ نے ایک لفظ حرام، طلاق اور کچھ بھی منہ مبارک سے ادا نہیں کیا ہے تو ساری ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کردیا؟۔ یہ ساتوں آسمانوں کی حدود میں رہنے والی مخلوقات کا آرڈر قطعاً نہیں ہوسکتا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ نے صدیق اکبر کی بیٹی کا ثبوت فراہم کردیا کہ مجھے کسی طرح والدین سے مشاورت نہیں کرنی ہے۔ مجھے نبیۖ کیساتھ ہی رہنا ہے۔ حضرت حفصہ فاروق اعظم کی بیٹی سے خدا نے کچھ اور کام لینا تھا۔ ورنہ بات وضاحتوں کے ساتھ پھر سامنے نہیں آسکتی تھی۔ حضرت عمرفاروق اعظم کی روح میں قرآنی آیات کی تاثیر مسیحائی کچھ اس طرح سے اتر گئی کہ رہتی دنیا کیلئے فاروق اعظم بین الحق و الباطل ایک امتیاز بن گئے۔ ایک طرف قرآن نے طلاق کے الفاظ سے رکاوٹوں کی دھجیاں بکھیر دیں تو دوسری جانب ایلاء میں بھی عورت کے اس اختیار کا ایک اعلیٰ ترین اسوۂ حسنہ کا قانون بنادیا کہ طلاق کے اظہار کے بغیر بھی عورت سے کوئی شوہر ناراض ہوجائے تو پھر بال عورت کی کورٹ میں جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شوہر ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ، انتقام لیتے اور اس کو تکلیف پہنچاکر مزے کرتے؟۔

یہی وہ چیز تھی جس نے حضرت عمر کے ذریعے پہلی مرتبہ اللہ نے عورت کے حق کو زبردست تحفظ دے دیا۔

حضرت عمر کے دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور قرآن کی آیات عرب پر زبان کی وجہ سے اور عجم پر سادہ سے مفہوم کی وجہ سے بالکل واضح تھیں۔ ایک شخص نے تین طلاق دی اور اس کی بیوی نے رجوع سے انکار کردیا۔ آیات میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ عورت راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن حضرت عمر فاروق اعظم کی روح کا تو معاملہ ہی بالکل جدا تھا۔ چنانچہ قرآن وسنت کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ دیا اور لوگوں نے اسلئے ٹھیک سمجھا کہ قرآن میں ابہام نہیں تھا۔

لیکن دراڑ عبداللہ بن عمر کے اختلاف نے ڈال دی کیونکہ وہ بھی فاروق اعظم ہی کا بیٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ یہ مرد کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ مجھے رسول اللہۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر کے سامنے بیٹی حفصہ نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا اور حضرت عمر کے سامنے بہو نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا ۔ بیٹی کے قصہ سے عورت کے حق کی وضاحت تھی اور بہو نے اپنا رونا دھونا مچایا ہوا تھااسلئے کہ وہ رہنا چاہتی تھی۔حضرت عمر نے بہو کا قصہ نبی ۖ کو سنایا تو رجوع کا حکم فرمایا۔ لیکن بیٹی کا قصہ واضح کرتا تھا کہ عورت راضی نہیں ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

حضرت عمر نے طلاق میں عورت کا حق نہ سمجھنے کے پیش نظر عبداللہ بن عمر کے خلاف خلافت کی نااہلی کی ڈگری جاری کی۔

حضرت عبداللہ بن عمر نے باپ کی بات پر نبیۖ کی رہنمائی کو ترجیح دینے کا معاملہ زندگی کی آخری سانس تک برقرار رکھا تھا۔ کوئی کہتا کہ اپنے باپ کو نہیں مانتے؟ تو جواب دیتے تھے کہ میں نبیۖ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں اپنے باپ پر نہیں !۔

حضرت حسین کی ایرانی بیوہ حضرت زین العابدین کی والدہ ماجدہ حضرت عبداللہ بن عمر کی سالی تھیں۔ زین العابدین نے حضرت عمر کے خلاف انکے بیٹے عبداللہ بن عمر کی گواہی کو سچ جانا کہ قرآن وسنت کے خلاف ایک بدعت کو رائج کردیا۔ پھر حسینی سادات کی عقیدت ومحبت نے روافض کو جنم دیا ۔ حضرت عمر پر گولہ باری کرنے کو ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور غلطی بھی نہیں کہ ایک بدعت جاری کرنے کی بدظنی دل میں بیٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے حلالہ کے نام پر بے حیائی اور گھر ٹوٹ رہے ہیں۔

لیکن حسن کے بیٹے حسن مثنی جانتے تھے کہ حضرت عمر نے تو بالکل ٹھیک کیا ہے

اور حضرت علی نے حرام کے الفاظ عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ایک طرف حضرت عمر کے دشمن بن گئے اور دوسری طرف حضرت علی کے دشمن بن گئے لیکن حق یہ ہے کہ دونوں نے بالکل ہی اعتدال سے ہٹ کر کردار ادکیا۔ امام حسن مثنی کی کسی نے سنی نہیں۔ عبداللہ محض کو قید میں شہید کیا۔

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنا القی الشیطٰن فی امنیتہ…

”اور ہم نے کسی رسول اور نبی کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا۔(سورہ حج:آیت52)

جب عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے کہ قرآن کی وضاحتوں کے باوجود کیوں اس طرح کی حرکت کردی اور رجوع کا حکم فرمایا تو شیطان نے اس میں القا کردیا کہ غضبناک ہونے کا مطلب ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتاہے؟۔ حالانکہ معروف رجوع اور باہمی رضا مندی کی بنیاد پر رجوع بالکل واضح کیا ہے قرآن نے ۔

لیجعل ما یلقی الشیطٰن فتنة للذین فی…

”تاکہ شیطانی القا کو ہم آزمائش بنادیں جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں”۔ (سورہ الحج آیت53)

جب مسجد کے امام کا پتہ چل جاتا ہے کہ بچیوں کیساتھ فحاشی کا مرتکب ہے توپھر برداشت نہیں کیا جاتا۔ جب عوام الناس کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے نام پر ان کی عزتیں مفت میں لوٹی جا رہی تھیں تو ایسے مذہبی پیشواؤں کے خلاف انقلاب آتا ہے۔

ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الی صراط مستقیمO(سورہ الحج:آیت54)

”اور تاکہ وہ لوگ جان لیں جن کو علم دیا گیا کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ سو وہ اس پر ایمان لائیں۔ اور انکے دل اس حق کیلئے جھک جائیں۔بیشک اللہ ایمان والے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت فرمانے والا ہے”۔

جس دن شیعہ سنی فرقہ واریت سے ہٹ کر قرآن، ایمان، علم و حق کی طرف رجوع کرینگے تو دنیا میں بھی اسلامی انقلاب آجائے گا اور افغانستان ، ایران، پاکستان اور عرب کے علاوہ عالم انسانیت پر قرآن کے انسانی اخلاقیات کا بہت عظیم اثر ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ وقت بدلنے میں زیادہ دیر نہیں۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv