پوسٹ تلاش کریں

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

ہم نے جہادکے نام پر بہت بڑے طبقے کو انتہا پسند بنادیا، انہیں اسلحہ اورسیاسی طاقت دیکر مضبوط کیا،انہیں ہم ایسے نہیں چھوڑ سکتے، ہم نے 40سال میں جو بویااب کاٹ رہے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل قمر جاوید باجوہ کو انتہاپسندی کیخلاف جنگ لڑنے پر دنیا میں اعزازی تمغوں سے نوازا جارہاہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف،عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی انتہاپسندی کے خاتمے میں برابر کی شریک ہیں۔APSپشاور واقعہ کے بعد ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں نے مل کر قومی ایکشن پلان بنایا۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ نے دہشتگردانہ ماحول کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن خلافت کی روک تھام پر جنرل باجوہ کو بیان دینا اسکے اپنے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ایک فوجی کی تعلیم و تربیت کا مخصوص ماحول ہوتا ہے وہ اپنے ماحول کے مطابق بات کرنے میں مخلص ہے لیکن جہالت قوم کی کشتی کو ڈبوسکتی ہے۔40سال تک امریکہ کے کہنے پر دہشت گردی کی فصل تیار کرنا غلط تھا اور 40سال تک اسکے کہنے پر فصل کاٹنا بھی غلط ہے۔ آزادی ہند کی تقدیر کا فیصلہ خدا نے کیا اور تدبیر کا فیصلہ سیاسی قائدین نے۔ فوج کا اس میں کوئی کردار نہ تھا۔ وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ بھیک مانگنے والا ملنگ کہتا ہے کہ ” تمہاری خیرات سے ہماری توبہ ہے لیکن اپنے کتوں کو روک لو”۔ جنرل باجوہ اپنے پالے ہوئے دہشتگردوں کو روک لے جو ان کیساتھ مل کر بھتہ خوری اور فکری آزادی کو دبانے پر لگے ہیں۔ یہ پالیسی بہت ہی خطرناک ہے عوام اور سیاستدانوں کیلئے ہر گز قابلِ قبول نہیں۔
پشاور سے مشہور صحافی وادیب خالد خان کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر آیا کہ اسکے پاس میجررستم بٹ کے نام پرایک کروڑ روپیہ بھتہ کیلئے فون آیا اور اس نے اس کو جوک سمجھا۔ پھر ٹھیک ٹائم پر کالی گاڑی میں لوگ آئے۔ جس میں ایک وہی میجر اور دوسرا ایک پٹھان تھا۔ جس کا مخصوص حلیہ تھا۔ اسکے پاس30بور کی پسٹل تھی اور مجھے تھپڑ مارے کہ اگر یہ رقم نہیں دی تو بال بچوں سمیت مار دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے پاس اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟۔ ایک قلم کار ہوں اور مشکل سے گزارہ ہوتاہے۔ میرے ساتھ پولیس اور ملٹری انٹیلی جینس نے بہت خوش اسلوبی کیساتھ تعاون کیا اور یہ پیشکش بھی ہوئی کہ حفاظت کیلئے پولیس دیدیتے ہیں۔ یہ تلقین بھی ہوئی کہ اپنے گھر کی چاردیواری بلند کرکے اس پر خار دار تار لگادو۔ مگر میں اپنی حفاظت کیلئے اتنے خرچے نہیں کرسکتا اور ایک شریف آدمی ہوں ،اسلئے اپنے ساتھ گارڈز بھی نہیں گھماسکتا ہوں۔ اور نہ ا نکے کھانے پینے کے خرچے اٹھاسکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا کہ آفتاب خان شیرپاؤ اور شیخ الحدیث مولاناادریس کو بھی بھتے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ مجھے دشمن کا پتہ نہیں بتایا گیا ہے ، حالانکہ ٹیلی فون نمبر اور گاڑی کی تصاویر بھیCCTVکیمروں کی مدد سے پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ خالد خان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے دشمن نہیں بتائے گئے جو بہت افسوسناک بات ہے۔
جب عمران ریاض خان کہتا ہے کہ ” میری ماہانہ آمدن کروڑوں میں ہے تو پھر بھتہ خور صحافیوں کا تعاقب کریں گے”۔ جب مولویوں نے زکوٰة خیرات کے علاوہ سودی بینکاری سے بھی کمانا شروع کردیا ہے تو بھتہ خور بھی اپنا حصہ وصول کریں گے۔ بھتہ خور کس کس سے بھتہ وصول کریںگے؟۔ اور وہ کن کن طاقتور لوگوں کے مرہون منت ہوں گے ؟۔ یہ بھی ایک مشترکہ کاروبار ہوسکتا ہے؟۔ اگر ان کو40سال تک اپنا پٹھو بناکر ہتھیار اور طاقت سے نوازا گیا اور اب ان کو40سال تک کسی دوسرے دھندے پر لگاکر بدنام کیا گیا کہ بھتہ خور معاشرے میں اخلاقی طاقت کھو بیٹھیں تو یہ ان کو تنہا نہ چھوڑنے اور اپنے انجام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوسکتا ہے اور یہ وسائل پر قبضہ کرنے کی اچھی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے مگرکیا قوم یہ بوجھ برداشت کرسکتی ہے؟۔ یہ بھی ایک سوال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھتہ خوروں کو کھلم کھلی آزادی ملنے اور شکایت لگانے کی جگہ عوام ٹھکانے بھی لگانا شروع کردیں۔ جب ایک مرتبہ قومی سطح پر لوگ اُٹھ جائیں تو مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بھی بالکل صلاحیت سے محروم ہے۔ قومی ایکشن پلان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اتنا تعمیری کام بھی نہیں کیا جتنا پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے چندنوجوانوں نے قیام امن کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کیا۔ لیکن اس کا کوئی زیادہ فائدہ اسلئے نہیں ہوا کہ تعصبات کے رنگ میں نعرے لگائے گئے۔ پشتون قوم پرست اور مذہب پرست کے نام سے آج آمنے سامنے ہیںاگر پھر ان میں قتل وغارتگری کا سلسلہ جاری ہوا جس کے شدید خطرات ہیں تو بھی قوم وملک کا نقصان ہے اوراگر متحد ہوکر ریاست کے خلاف کھڑے ہوگئے تو بھی ملک وقوم کا نقصان ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جس کو آئین کے تحت توسیع مل گئی اور پونے دو سال تک مزید توسیع کی بھی گنجائش ہے۔ ملک جس سیاسی دہرائے پر کھڑا ہے ،اس کو کٹھ پتلی سیاستدانوں کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور کسی نئے نظام کا نیا تجربہ بھاری پڑنے کا اندیشہ ہے۔ پرانے نظام کو چلانا بھی ممکن نہیں رہاہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ حکومت واپوزیشن جنرل قمر باجوہ کو ایک مزیدتوسیع دینے کا فیصلہ کریں تو بھی برا نہیں۔ اوریا مقبول جان نے یہ خواب بیان کیا تھا کہ پہلے نبیۖ کی طرف سے تحفہ ملتا ہے تو جنرل قمر باجوہ اس کو بائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور پھر حضرت عمر کے سمجھانے پر دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی احکام کو معاشرے تک پہنچایا جائے تو ہمارے ملک وقوم کا بھلا ہوسکتاہے۔خلافت کی تشریح جنرل باجوہ اور دہشتگردوں کو سمجھ میں آئے تو دنیا میں خلافت کے نفاذ کا راستہ بھی ہموار کرینگے اور لوگ بھی خوش ہونگے۔

www.zarbehaq.comا
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tvCaliphate has no place in society anymore. General Qamar Javed Bajwa

خلافت یا امامت

خلافت یا امامت

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی شیعہ شدید اختلاف کو کم کرنیکی ادنیٰ کوشش علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کی۔ اے کہ نشناسی خفی را ازجلی ہشیار باش اے گرفتار ابوبکر وعلی ہوشیار!

مملکت خدادادپاکستان اگرواقعی اغیار کی سازش تھی تب بھی یہ اللہ کا منصوبہ ہی تھا۔ انہم یکیدون کیدًا واکید کیدًا”وہ اپنا جال بچھاتے ہیں اور میں اپناجال بچھاتا ہوں”۔فرقوں اور مفاد پرستی سے بالاتر ہوکر اسلام کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت کرنا ہوگی!

فرقہ پرستی سے بالاتر اسلام کا آئینہ دکھائیں جس سے دنیا پرہمارا غلبہ تھا۔ سنی کے نزدیک خلیفہ کاا نتخاب عوام پر فرض ہے، شیعہ کے نزدیک امام کو اللہ منتخب کرتا ہے۔ سنی کے نزدیک ابوبکر، عمر، عثمان ، علی اور حسن کو عوام نے منتخب کیا۔30سال خلافت راشدہ رہی۔ شیعہ کے ہاں پہلا امام نبیۖ کا خلیفہ بلا فصل علی، دوسرا حسن، تیسرا حسین ، چوتھا زین العابدین اور…… بارواں مہدی ٔغائب محمد بن حسن عسکریموجودہ دور تک امامت کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیوں کے ہاں خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ و بنوعباس کی امارت اور سلطنت عثمانیہ کی باشاہت تک خلافت کا سلسلہ جاری رہا۔1924میں سقوطِ.خلافت کے بعد مسلمانوں نے تحریک سے خلافت کا احیاء کرنا چاہا لیکن اس میں ناکام رہے۔ پاکستان تحریک.خلافت کا تسلسل ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوشخبریاں سناؤ، آپس میں نفرت پیدا مت کرو”۔ (صحیح بخاری) پاکستان کو مملکتِ خداداد کہنا ٹھیک ہے یا یہ کفر وگمراہی ہے؟۔ پاکستان کی نعمت پاکستان کے مسلمانوں کو مل گئی لیکن اس نعمت کا شکر ہم نے ادا کیاہے یا نہیں؟۔
75سالہ سرکاری تقریب میں قوم کی بچیوں کو بیہودہ ڈانس سے وزیراعظم اور حکومت کے وزیرومشیر محظوظ ہوئے تو کچھ نے خاصا اعتراض کیا اور صفِ ماتم بچھادیا۔ مریم نواز اور مولانا طارق جمیل جن شادیوں میں شرکت کرتے ہیں تو ان میں کیا یہ سب کچھ نہیں ہوتا؟۔ گزارش ہے کہ دوسرے کی بچیوں کو نچوانے کی جگہ اپنی بیگمات ، بہو اور بیٹیوں کیساتھ ہی شرکت کرتے۔ غم اور خوشی منانے کا جب ایک کلچر کسی معاشرے میں انسانی جبلت کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر وہ اپنی عادت سے مجبور ہوجاتا ہے۔ تیسری جنس خواجہ سراؤں کو جب تالی بجانے کی عادت پڑتی ہے تو حج میں ٹھوکر لگنے پر بھی تالی بجادیتے ہیں۔
اگر مہدی غائب کی حکومت ہواور عاشورہ کے جلوس سے منع کریں تو خطرہ ہے کہ شیعہ امامت سے انکار کردیںگے۔اسلئے کہ امام کی بات ماننے سے زیادہ اب ان بیچاروں کو عاشورہ ماتم منانا دین کی پہلی حداور آخری سرحد لگتی ہے۔
جن صحافیوں اور علماء ومفتیان میں تقویٰ نہیں بلکہ تقوے کا حیض ہے وہ بھی سرکاری تقریب میں ناچ گانے پراسلئے ناپسندیگی کا اظہارنہیں کرتے کہ وہ متقی و پرہیزگارہیں، ورنہ خانہ کعبہ کے طواف میں حجر اسود پر جس طرح جنونی مرد اور غیر محرم عورتیںآپس میں رگڑ کھاتے ہیں وہ سرکاری تقریب میں ناچ گانے سے کئی درجے زیادہ بدتر ہے جس پر انہوں نے کبھی بھی آواز نہیں اٹھائی ہے اور سود کو اسلام کے نام پر جواز بخشنا زیادہ خطرناک اور تقویٰ کے انتہائی منافی ہے۔
جب پبلک سروس کمیشن کا امتحان ہوتا ہے تو پاکستان میں بہت سے غریب اور بے سہارا ملازمین کو قابلیت کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ کوئی بچپن ، لڑکپن اور جوانی میں تعلیمی جدوجہد کا حق ادا کرتاہے تو پاکستان کی سطح پر منتخب ہوکر اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچتا ہے اور بعض لوگ اعلیٰ عہدوں پر منتخب ہونے کے بعد اپنی نااہلی اور خود غرضی کی وجہ سے معزول کردئیے جاتے ہیں۔ دنیا کے نظام سے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں بھی انتخاب کیلئے جدوجہد کا حق ادا کرنا پڑتا ہے اور پھر نااہلی کے سبب لوگ اپنے منصب سے معزول ہوتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملت ابیکم ابراہیم ھو سمٰکم المسلمین من قبل وفی ھٰذا لیکون الرسول شہیدًا علیکم وتکونوا شہداء علی الناس ” اور اللہ کے احکام میں جدوجہد کا حق ادا کرو، اس نے تمہیں منتخب کرلیا اور تمہارے لئے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور اس میں بھی۔ تاکہ تمہارے اوپر رسول خدا گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ”۔
صحابہ کرام نے رسول اللہ ۖ کی قیادت میں جدوجہد کا حق ادا کردیا۔ اپنے وطن سے ہجرت کی۔ کلمة الحق بلند کرنے میں قربانیاں دیں۔ مالی اور جانی قربانیوں کے علاوہ کوئی ایسی قربانی نہیں تھی جن کا ان کو سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور انہوں نے اس قربانی سے دریغ کیا ہو۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلسل ہر چیز میں مکمل رہنمائی وحی کے ذریعے سے فراہم کررہا تھا۔
فرمایا: قل ان کان اٰبآء کم وابناء کم واخوانکم و ازواجکم وعشیرتکم واموالکم اقترفتموھا وتجارة تخشونہ کسادہا ومساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجہاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یأتی اللہ بامرہ ان اللہ لا یھدالقوم الفاسقین ”فرمادیجئے کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان ، تمہاراوہ مال جو تم نے اکٹھا کررکھا ہے، تمہاری وہ تجارت جس کے خسارے سے تم ڈرتے ہو اور وہ ٹھکانے جن میں رہنا تم پسند کرتے ہو۔ تمہارے لئے زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ اور اسکے رسول اور اس کی راہ میں جدوجہد کرنے سے تو پھر تم انتظار کرو ،یہاں تک کہ اللہ اپنے حکم کے ساتھ آجائے اور بیشک اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے”۔ (القرآن)۔
صحابہ معیار پر پورا اترے تو لوگوں کے دلوں میں کھٹک پیدا ہوئی کہ ساری دنیا کے لوگ ان کو عزت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرینگے۔ اس خوف سے ان کے خلاف افواہیں پھیلا نے اور ہرطرح کی مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ یہ لوگ زمین میں کمزور پڑجائیں لیکن اللہ نے ان کو منصب امامت کے عہدے پر فائز کیا اور دشمن کی خواہش اور مزاحمت کی تمام کوششیں بالکل رائیگاں گئیں۔
ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجلھم الائمہ ونجلعلھم الوارثین ”ہمارا ارادہ ہے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنایاجارہا ہے کہ ان کو امام بنائیں اور انہیں زمین کا مالک بنائیں”۔ (القرآن) صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعیناور مسلمان پوری دنیا میں سپر طاقتوں کو شکست دیکرصدیوں منصبِ امامت اور زمین کی وراثت کے مالک رہے ہیں۔
حجاز کے باسی یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایسے خطوں پر ہماری حکمرانی ہوگی کہ جہاں دنیا میں جنت کے وعدے پورے ہونگے۔عربی میں جنت باغ کی جمع جنات ہے اور ایسے باغات جنکے نیچے نہریں بہہ رہی تھیںاسکا وعدہ اللہ نے دنیا کی دوسپر طاقتوں کو شکست دیکر پورا کیا تھا۔
شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب”منصبِ امامت ” میں امام کیلئے اللہ کے انتخاب کی وضاحت کی۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو باطن میں اولیاء کرام کے دو گروہوں میں کشمکش دیکھنے والے مولانا حسین احمدمدنی نے فرمایا کہ ” حامی گروپ غالب آگیا اسلئے پاکستان بنے گا لیکن میری بصیرت ہے کہ تقسیم ہند پر خون ریزی اور عزت دریوں کی مخالفت جاری رکھی جائے”۔ اگر پاکستان کا مخالف طبقہ پاکستان کو اولیاء کرام کی تائید قرار دیتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ شیاطین الانس والجن نے یہ منصوبہ تیار کیا تھا تو بھی اس کو مملکتِ خداداد کہنے میں کوئی حرج اسلئے نہیں کہ اللہ نے فرمایا : انھم یکیدون کیدًا واکید کیدًا ”بیشک وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں”۔ (القرآن) شاہ اسماعیل شہید نے” منصب امامت” میں قرآنی آیت کے حوالے سے ملاء اعلیٰ کے فرشتوں میں جھگڑے کی بات لکھ دی کہ ”اللہ کبھی ایک گروہ کے حق میں فیصلہ کرتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں”۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ہیں”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ میرا اہل بیت ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ حضرت محمد بن عبداللہ ۖکے بعددرمیانے زمانے کا مہدی پہلا شخص ہوگا جو نبیۖ کے بعد پہلی مرتبہ طرز نبوت کی خلافت قائم کریگا جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہوں گے۔ یواطئی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی ”اس کا نام میرے نام کیساتھ اور اسکے باپ کا نام میرے باپ کے نام کیساتھ جڑے گا”۔ اور مطلب یہ نہیں کہ اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔دنیا میں پہلے نمبر پر نبیۖ کا نام ہوگا اور جب وہ عدل وانصاف قائم کریگا تو دنیا میں دوسرانام اسکا نام ہوگا۔
اگر مرزاغلام احمد قادیانی دجال نبوت کا دعویٰ نہ کرتا تو علماء دیوبند اس کا پیچھا کرنے کی جگہ فقہی مسائل اور تصوف کی اصلاح کرتے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے ماموں کا قصہ لکھا کہ وہ کہتا تھا کہ میں ننگا ہوکر مجمع عام میں ایک ہاتھ سے اپنا آلہ تناسل پکڑ لوں گا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اپنے مقعد میں ڈالوں گا اور تم لوگ مجھے بھڑوے بھڑوے کہہ پکارو۔ یہ نیٹ پر بھی مل جائے گا لیکن اس کی زیادہ ضرورت اسلئے نہیں ہے کہ حیلہ ناجزہ میں عورت کو جس طرح حرامکاری پر مجبور ہونے کا فتویٰ جاری کیا گیا وہ اس بھڑوے سے ہزار گنازیادہ بدتر ہے۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی اگر علماء دیوبند کو اپنے فتوے ” حسام الحرمین” سے نہ ڈراتے تو اکابر دیوبند نے فقہ چھوڑ کر قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہونا تھا۔ مولانا مودودی اسلئے فتنہ تھا کہ فقہی احکام کو سدھارنے کی جگہ قرآن وسنت کے گمراہانہ مفہوم سے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کردیا۔ ڈاڑھی منڈھے صحافی نے داڑھی رکھ کر مولویوں کو اپنے پیچھے لگایا اور غلط گمراہانہ اسلام کو سلیس انداز دیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس گمراہانہ اسلام سے متحدہ ہندوستان کا سیکولر نظام بہتر تھا تو جمعیت علماء ہند کے اکابر نے اس کو سپورٹ کیا اور قائداعظم کا اسلام بہتر تھا ،اس وجہ سے جمعیت علماء اسلام کے علامہ شبیراحمد عثمانی نے اس کو سپورٹ کیا۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے کہاکہ” اپنی ساری زندگی فقہ کی وکالت سے ضائع کردی”۔ جب دارالعلوم کا شیخ الحدیث اور مفتی محمد شفیع ، مولانا سید یوسف بنوری ، مولانا عبدالحقا کوڑہ خٹک اور مفتی محمود کے استاذ مولانا انورشاہ کشمیری نے زندگی ضائع کرنے کی بات کردی تو پھر شاگردوں نے اسی تعلیم وتعلم سے طلبہ کی زندگی کیوں تباہ وبرباد کردی؟۔ ظاہر ہے کہ مدرسہ دین کی خدمت سے زیادہ روزگار کا مسئلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا یوسف بنوری نے تقویٰ پر مدرسے کی بنیاد رکھی اور ختم نبوت کا مسئلہ جب ریاست پاکستان نے حل کرنا چاہا تو علامہ بنوری کی قیادت میں حل بھی ہوگیا لیکن جس سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ختم نبوت پر اپنا سب کچھ قربان کیا وہ ان سے زیادہ اہلیت اور قربانی کا جذبہ رکھتاتھا۔جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کا یونیورسٹی میں ایک قادیانی لڑکی سے معاشقہ ہوا تو اس نے مفتی ولی حسن ٹونکی سے فتویٰ مانگا کہ قادیانی لڑکی سے مسلمان کا نکاح ہوسکتا ہے؟۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ قطعی طور پر نہیں۔ اگر مفتی محمدتقی عثمانی ہوتا تو جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق سے قادیانی مبلغ جنرل رحیم الدین کی بیٹی کا نکاح پڑھانے کی طرح میرشکیل الرحمن کا نکاح پڑھانے سے دریغ نہ کرتا۔
میر شکیل الرحمن کی عاشقہ ومعشوقہ قادیانی لڑکی مرزا غلام قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کی نسل سے تھی اور اس نے کہا کہ مجھے قائل کرو، میں قادیانیت چھوڑ نے کوتیار ہوں۔ مولانا یوسف بنوری، مفتی ولی حسن ٹونکی ، مولانا عبدالرشید نعمانی تینوں نے بہت زور لگایا لیکن ایک قادیانی لڑکی کو قائل نہ کرسکے اور پھر ملتان سے مناظر ختم نبوت مولانا لعل حسین اختر کو بلوایا اور اس نے منٹوں میں قائل کردیا۔پھر وہ قادیانیت چھوڑ کر مسلمان ہوگئی۔ قادیانی ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں اور دوسرے ان کے باپ کے بھی قائل ہیں۔ قادیانیوں کا سخت مخالف طبقہ غلام احمد پرویز اور اسکے پیروکار بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ جنگ اخبار میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا جواب چھپ گیا کہ ” عیسیٰ علیہ السلام کے چچا نہیں تھے لیکن دو پھوپھیاں تھیں”۔ جس پر بڑا شور مچ گیا تو مولانا یوسف لدھیانوی نے لکھاکہ ” یہ میں نے نہیں لکھاہے”۔
لوگ قادیانی اسلئے بن رہے ہیں کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ مفتی محمد شفیع نے لکھا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہ تھا، مزرا غلام احمد قادیانی کا باپ تھا۔ حضرت عیسیٰ کی ماں کا نام مریم اور قادیانی کی ماں فلانہ تھی” اور پھر قادیانی کہتے ہیں کہ ہم جب عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت کے قائل ہیں تو کیسے عیسیٰ علیہ السلام کا خود دعویٰ کرسکتے ہیں؟۔ یہاں مسلمان متزلزل ہوتے ہیں۔ پھر جب بڑے معتبر ناموں کو دیکھتے کہ ابن خلدون اور جمال الدین افغانی ، مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر حیات عیسیٰ کے قائل نہ تھے ۔ احادیث کی کتابوں میں اسرائیلیات سے یہ روایات آئی ہیں تو ان کو بڑا جھٹکا لگتا ہے۔ پھر جب قادیانی کہتے ہیں کہ تم بھی عیسیٰ کی آمد کے قائل ہواور ہم بھی ہیں۔ لیکن ہم قرآنی آیات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب عیسیٰ سے خدا پوچھے گا کہ کیا آپ نے اپنے پیروکاروں کو گمراہ کیا تھا کہ آپ کو اور آپ کی ماں کو دومعبود بنالیں؟۔ تو عیسیٰ جواب دیں گے کہ جب تک میں انکے درمیان رہا تو میں نے یہ نہیں کہا اور جب آپ نے مجھے وفات دی تو میں نگران نہیں تھا۔ قادیانی جب قرآن میں حضرت عیسیٰ کے اٹھالینے کو موت سے تعبیر کرتے ہیں تو بھی اس میں وہ اکیلے نہیں ۔ بڑے بڑے لوگوں نے یہ باتیں لکھ دی ہیں اور جب نظر آتا ہے کہ ختم نبوت کے مفہوم پر اتفاق رائے موجود ہے لیکن ایک عیسیٰ کی ذات سے دوبارہ آنے کی امید رکھتے ہیں اور دوسرے یہ عقیدہ بتاتے ہیں کہ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون کیلئے موسی ہوتا ہے تو اس کا معنی یہ نہیں ہوتا کہ دوبارہ فرعون اور حضرت موسیٰ کی آمد متوقع ہے بلکہ یہ عام محاورے کی زبان ہے تو لوگ قائل ہوجاتے ہیں اور قادیانیوں کی طرف سے ان کو مراعات ملتی ہیں تو مولوی بھی اپنی مراعات کو دیکھ کرچلتا ہے۔
جس دن قرآن وسنت کے مقابلے میں فقہ کے گمراہانہ مسائل کا خاتمہ ہوا تو قادیانی بالکل ملیامیٹ ہوجائیںگے اسلئے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں دوسروں کی تحقیقات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہودی اسی وجہ سے ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ بنوری ٹاؤن سے چھپنے والی کتاب میں شیعہ کو قادیانیوں سے تین وجوہات کی بنیاد پر بدتر کا.فر قرار دیا گیا تھا۔ قرآن میں تحریف، صحابہ کی تکفیر اور عقیدۂ امامت۔ لیکن پھر شیعہ کیساتھ متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیمات المدارس کی سطح پر سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اکٹھے بیٹھ گئے۔
مولانا حق نواز جھنگوی نے کہا تھا کہ شیعوں سے ہمارا اختلاف قرآن اور صحابہ پر نہیں بلکہ عقیدۂ امامت پر ہے۔ ماموں کے جس تصوف کی مولانا اشرف علی تھانوی نے بات کی ہے اور جس طرح کے فقہی مسائل لکھ دئیے ہیں وہ قرآن وسنت اور صحابہ کے بالکل منافی ہیں۔ دیوبند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے سنت نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا تھا لیکن افغانستان، پختونخواہ ، بلوچستان اور اندرون سندھ کے دیوبندی مراکز نے یہ فتویٰ قبول نہیں کیا تھا۔ علماء دیوبند، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع نہ صرف ایک دوسرے سے بلکہ آپس میں بھی بدترین فرقہ واریت کے شکار ہیں۔ سب اپنی اصلاح، اسلام کی حقیقت اور ہدایت کی طرف آجائیں۔ عورت کے حقوق ہونگے تو جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علماء پاکستان مذہبی جماعتوں کو ووٹ ملیں گے لیکن جب اپنے چوتڑ پر پوٹی کی پپڑیاں جمی ہوں اور دوسروں کے ریح خارج ہونے پر اعتراض کریںتو امت کی اصلاح نہیں ہوسکے گی۔
عمران خان نے کہا کہ ”جب ایک سردار نے ایک غلام کو تھپڑ مارا تو نبیۖ نے بدلہ لینے کا حکم دیا”۔ مفتی سعید خان نے عمران خان کے نئے استاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حضرت عمر کے دور کا واقعہ ہے۔ جب وہ سردار مرتد ہوگیا تو حضرت عمر نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کو بدلے میں تھپڑ نہ مارتے اور جب حسان بن ثابت نے کہا کہ اچھا ہوا کہ اس کو تھپڑ مارا ہے تو حضرت عمر نے حضرت حسان ہی کو درہ مارا ”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ حضرت عمر کے دور میں امت طبقاتی تقسیم کا شکار کی گئی۔ نبیۖ سے صحابی نے کہا تھا کہ مجھے آپ سے انتقام لینا ہے اور پھر مہر نبوت کو چوم لیا تھا۔ نبیۖ کے بعد خلافت راشدہ میں بھی جبری ماحول مسلط ہوگیا تھا۔ اگر آزاد عدلیہ ہوتی تو حضرت عمر کو بھی حضرت حسان کے بدلے میں درہ مارا جاتا۔ صحابہ کرام کے مجموعی تقدس کے عقیدے کو معمولی معمولی واقعات کی وجہ سے پامال نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ایک رسول ۖ کی ذات ایسی تھی کہ درہ مارنا تو بہت دور کی بات تھی جب عبداللہ ابن مکتوم کی آمد پر پیشانی پر ناگوار ی کے اثرات مرتب ہوئے تو اللہ نے سورہ عبس نازل فرمائی۔ حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان وعلی پر وحی بھی نازل نہیں ہوسکتی تھی اور ان کی شخصیتوں کو نبیۖ سے بالاتر بھی نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔
شیخ الہند نے مالٹا سے رہائی کے بعد قرآن کی طرف توجہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہیں کی۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنے استاذ کی بات مان کر قرآن کی طرف توجہ کی لیکن اپنے علماء نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اب قرآن کی عام فہم آیات اور پڑھے لکھے دور سے انقلاب آسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نا اہل حکومت و ریاست

influencer social media, government of pakistan, government of pakistan, government of pakistan, qamar javed bajwa, sindh government, pakistan army, pakistan army, pakistan army

نا اہل حکومت و ریاست

بہت سے لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی sindh governmentکردار میں انتہائی خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ہیں جن پرفرداً فرداً سوشل میڈیا میں تجزئیے بھی ہیں

عدلیہ ، سولand و ملٹری بیوروکریسیsindh government اور سیاسی قیادت جیسے عام influencer social media لوگوں کو انصاف دینے اور ظلم و ستم سے بچانے میں ناکام ہیں مشکل وقت میں بہت سی جانیں بچ سکتی تھیںمگر نااہلی چھاگئی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ نےand فرمایا : ”جس نے ایک جان کو بغیر کسی جان یا فساد کےinfluencer social media قتل کیا تو گویا اس نے Qamar javed bajwaتمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نےsindh government ایک کوزندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں Qamar javed bajwaکو زندہ کردیا”۔ حکمران کیلئے موقع تھا کہ Pakistani Politiciansمشینری کو متحرک کرکے غریبوںand کی جانوں کو .بچانےPakistani Politicians میں بھرپور کردار ادا کرتےpakistan army تو گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہوجاتا۔


حکمرانوں کی شہ خرچیاں قرضوں pakistan armyپر چلتیand ہیں ۔ قرضوںso Qamar javed bajwaکا سود عوام پر مہنگائی کی شکل میں پڑتا ہے۔ جب عوامPakistani Politicians کو ضرورتinfluencer social media ہوتو ان کو بے. حسی soکا دورہ پڑجاتا ہے۔ نظام کو بدلنےsindh government کی جتنیso ضرورت اب ہے اس سے پہلے اتنی sindh governmentشدت soسےPakistani Politicians عوام میں کبھی احساسQamar javed bajwa پیدا نہ .ہوا تھا۔ جو سیاسی andقیادت شکایتand کرتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹso ان کی sindh governmentراہ میں رکاوٹ ہےso تو یہ بھی معلوم influencer social mediaہے sindh governmentکہ یہ سیاسیPakistani Politiciansso قیادتand اسٹیبلشمنٹand ہی Qamar javed bajwaکی پیداوار ہے۔ ان کا آپس soمیں تعلق مرغی اور انڈےPakistani Politicians کا ہے۔

government of pakistan

جو قائد sindh governmentاسٹیبلشمنٹ pakistan armyکے سانچے Pakistani Politiciansمیںso بن کر یا ڈھل Qamar javed bajwaکر نکلا ہواور پھر اسٹیبلشمنٹ پر اجارہPakistani Politicians داری قائم Qamar javed bajwaکرنے کی. کوشش کرتا ہوsindh government اس کی Pakistani Politiciansمثال مرغی کے بالغ چوزے کیPakistani Politicians ہے andجو اپنی. ماں کا خیال نہ Pakistani Politicians رکھے۔ پیپلز پارٹی، ن soلیگsindh government اورPTIسب andآزمائی ہوئیso وہ مرغیاں ہیں جن میں انقلابinfluencer social media Qamar javed bajwa اور آذان soسحر کیPakistani Politicians صلاحیت نہیں۔ بارش سے پہلے اطلاعات sindh governmentملتی ہیں ، سیلابیso sindh government ریلہ جب آتا ہے تو پہلے پتہ چلتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ذریعے Pakistani Politiciansمتاثرین کو .بروقت منتقل کیاand جاسکتا ہے۔

TEST

بے حسی کا یہ عالم ہے توinfluencer social media بیرونی دنیا کی طرف سے so اچانک حملوں کا دفاعinfluencer social media کیسےsindh government کیا جائیگا؟۔حکمرانوں Qamar javed bajwa کو. شرمand سے ڈوب soمرنا چاہیے۔مالی گوشوارےinfluencer social media چیک کرکے. اشرافیہ سے Pakistani Politiciansلوٹی ہوئی دولت چھینQamar javed bajwa کر متاثرین. کیPakistani Politicians بحالی کا کام .ہوسکتا ہے۔ متاثرینinfluencer social media کے اکاونٹsindh government کھول کر براہِ راست ان کوامدادیsindh government رقوم منتقل کی جائیں۔ اشرافیہ .کا پیٹ soبھرنے andکا نام نہیں لیتا ہے۔.

TEST

بے حسی کا یہ عالم ہے توinfluencer social media بیرونی دنیا کیsindh government طرف سے. soاچانک حملوں andکا دفاع کیسےsindh government کیا جائیگا؟۔حکمرانوں Qamar javed bajwa کو. شرم .سے ڈوبso مرنا چاہیے۔مالیand گوشوارےinfluencer social media چیک کرکے اشرافیہ سے Pakistani Politiciansلوٹی andہوئی دولت چھینQamar javed bajwa کر متاثرین .کیPakistani Politicians بحالی influencer social mediaکا کام ہوسکتا ہے۔ andمتاثرین کے اکاونٹ کھولsindh government کر براہِ راستso ان کوامدادیsindh government رقوم منتقل کی جائیں۔ اشرافیہ کاinfluencer social media پیٹ بھرنے کا نام نہیں لیتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

zarbehaq.com/blogs

جمہوریت یا خلافت

جمہوریت یا خلافت
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکیCIAہیروئن کی ا سمگلراورIMFسودکا دونمبرہے۔پاکستان اورافغا.نستان کو بلیک میل کرکے لڑائے گا اوربیش بہا خزانوں پر قبضہ کریگا؟
خلافت بیعت کے ذریعے جمہوریت ووٹ کے ذریعے آسکتی ہے۔خلیفہ ایک ہی ہوسکتا ہے اور جمہوری اقتدار مختلف لوگوں کے ذریعے مختلف ممالک اورصوبے میں ہوسکتا ہے!

پاکستان و افغا.نستان کے خزانوں سے لوگوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ پوری دنیا میں اس خطے کی قوم بہت عظیم ہے ۔ سندھی، بلوچ،پنجابی، پشتون، افغانی اور کشمیری دنیا کی امامت کے قابل لوگ ہیں۔ پشتونوں کی غیرت بہت مثالی ہے اور پشتون قوم میں بہت قبائل ہیں۔ محسود قوم نے بہت ہی تکالیف اُٹھائے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں محسود اور وزیر دونوں قبائل اپنی الگ الگ روایات اور اقدار کے حامل ہیں۔تحریک طا.لبان پاکستان میں بیت اللہ محسود سے مفتی نور ولی محسود تک طا.لبان لیڈر شپ کا نمایاں کردارتھا۔ اگرچہ نیک محمد وزیرسے مولوی نذیر یا موجودہ قیادت کا بھی نمایاں حصہ تھا۔ محسود طا.لبان نے ہمیشہ پاک فوج سے بھی ٹکرلی ہے اور وزیر طا.لبان کے تعلقات پاک فوج سے اچھے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے وزیر ایریا میں کبھی آپریشن کیلئے نقل مکانی کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ محسود قوم نے طا.لبان اور پاک فوج دونوں کے ہاتھوں تاریخی مار کھائی ہے۔ بے عزتی برداشت کی ہے۔ تکالیف اٹھائی ہیں لیکن جنگ نے ان کو خالص سونا اور کندن بنادیا ہے۔حکومت نے بارہا پیش کش کی ہے کہ تم اسلحہ اُٹھاؤ اور اپنی حفاظت کرو مگرمحسود قوم نے اجتماعی طور پر اس کو مسترد کیاہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں بھلے ماردیا جائے لیکن ہم اپنے علاقے اور قوم کی فضاء میں جنگ کا ماحول نہیں بنائیں گے۔ اگر پاکستان اور افغا.نستان نے محسود قوم کی عظیم فطرت اوروسیع تجربات سے کچھ سیکھ لیا تو بیرونی قوتیں ہمیںلڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔ نبی کریم ۖ نے ہجرت کرلی لیکن اپنی قوم سے مکہ میں لڑائی کی فضاء نہیں بنائی۔ حالانکہ امیر حمزہ، عمرفاروق اعظم، علی، ابوبکر اور ابوطالب ایک سے ایک بہادر طاقتور شخصیت وبنوہاشم کی قوت تھی۔

محسود قوم نے اپنے وسیع تجربے اور بہت نقصانات اٹھانے کے بعد فطرت کے تقاضوں سے جو کچھ سیکھا ہے وہ عرب کے ابتدائی مسلمانوں نے اللہ کی وحی اور پیغمبر اسلام ۖ کی حکمت سے شروع میں حاصل کرلیا تھا۔ اگر اسلام کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ آپس میں لڑمر کر کھپ جاتے تو پھر اسلام کا چراغ پوری دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست سے دوچار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب حضرت بلال اسلام کی وجہ سے مصائب جھیل رہے تھے۔ حضرت سمیہ کو دواونٹوں سے باندھ کر مشرکینِ مکہ نے دو ٹکڑے کردئیے تھے ۔ صحابہ مشکلات کی وجہ سے پہلے بھی حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پہنچ کر شکایت کردی تھی۔ جب رسول اللہ ۖ کا اجتماعی سوشل بائیکاٹ کرکے شعب ابی طالب میں تین سالوں تک مسلمان سخت ترین مشکلات کا شکار بنائے گئے۔جب رسول اللہ ۖ کو ابوجہل نے برا بھلا کہا تو امیرحمزہ نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ سیدھا کعبے پہنچے اور ابوجہل کو کمان مار کر کہا کہ ” اے چوتڑ پر خوشبو لگانے والے! میدان میں آجاؤ، میں نے اسلام قبول کیا ہے اور دیکھتا ہوں کہ تمہارے اندر کیا ہمت ہے کہ اسلام قبول کرنے پر کسی کو کچھ بول سکو!”۔ یہ کاروائی کرکے نبیۖ کو بتایا تو آپۖ نے فرمایا کہ مجھے اس پر کوئی خوشی نہیں ہے۔ مجھے اس وقت خوشی ہوگی کہ جب تم اسلام قبول کرلو۔ پھر امیر حمزہ نے اسلام قبول کرلیا۔ دوسری طرف ابوجہل سے ساتھ والوں نے کہا کہ ” امیر حمزہ نے اتنی غلیظ گالی بکی اور تم نے جواب تک نہیں دیا”۔ ابوجہل (جو ابولحکم کہلاتا تھا) نے کہا کہ ” اس وقت وہ اسلام کی وجہ سے نہیں آیا تھا بلکہ میں نے اس کے بھتیجے کی سخت بے عزتی کی تھی وہ اپنے بھتیجے محمد(ۖ) کا بدلہ لینے آیا تھا، اگر میں بحث وتکرار میں لگتا تو پھر یہ لڑائی عقیدے کی نہیں قبائل کے درمیان بن جاتی اور محمد مضبوط ہوجاتا”۔

مشرکینِ مکہ دشمن تھے لیکن اہل مدینہ اور اعرابیوں کی طرح ان میں منافقت نہیں تھی۔ نبیۖ نے ان کیساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا۔ بنوبکر مشرکینِ مکہ کا حلیف قبیلہ تھااور بنوخزاع مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا، بنوخزاع مسلمان نہیں تھا۔ معاہدے میں یہ طے تھا کہ حلیف قبائل کے درمیان جنگ ہوگی توان کی مدد نہیں کریںگے لیکن پھر مشرکینِ مکہ کے بعض لوگوں نے بنوخزاع کے خلاف بنو بکر کی مدد کی تھی،جس پر ان کو یہ توقع نہ تھی کہ مسلمان کا.فر حلیف قبیلے کی وجہ سے معاہدہ توڑ دیں گے۔ نبی ۖ نے کا.فر قبیلے بنوخزاع کیساتھ زیادتی پر بھی معاہدہ توڑ دیا تو مشرکین مکہ کے سردارابوسفیان نے مدینہ جاکر معاہدے کو قائم رکھنے کی بڑی منت سماجت کی۔ ابوبکر، عمر ، علی اور فاطمہسے بھی سفارش کی درخواست کی لیکن نبیۖ نے بات نہ مانی ۔ یہ بنوخزاع کا.فر کے حق کی خلاف ورزی کا معاملہ تھا۔

مضبوط اور اچھے اقدار معاشرے کے ماضی ،حال اور مستقبل کی عکاس ہوتی ہیں۔ نبیۖ کی بعثت سے پہلے اہل مکہ نے حلف الفضول میں غریبوں اور مظلوموں کی مدد کا معاہدہ کیا تھا اسلئے کہ جب حالات بگڑتے جا رہے تھے تو ان میں اپنے ماضی کے اقدار کو باقی رکھنے کا زبردست احساس پیدا ہوا تھا۔ جب اسلام کی شکل میں نئے دین نے کعبہ سے بھرے ہوئے بتوں کے خلاف آواز بلند کی تو مشرکینِ مکہ کو انتہائی ناگوار لگاتھا لیکن مضبوط اقدار کی وجہ سے مسلمانوں پر ایک دَم ہلہ بول دینے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ نبیۖ سے سخت نفرت ہوگئی تھی ۔اللہ نے فرمایا: قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ”کہہ دیجئے! میں تم سے اپنے مشن کا معاوضہ نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت”۔یہ قرابتداری،ایک قوم، ایک زبان، ایک شہر اور آپس کی رشتہ داریوں کی محبت کے بارے میں تلقین تھی کہ اور کچھ نہیں مانگتا لیکن اس فطری محبت کا خیال رکھ لو۔ اگر مشرکینِ مکہ میں کچھ شرپسند عناصر نہ ہوتے تو نبیۖ مکہ سے ہجرت نہ کرتے۔ ان شرپسندوں اور دہشت گردوں نے نبیۖ کی ذات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ہجرت کی رات جب علی نے نبیۖ کے بستر پر رات گزاری تو نبیۖ کو پتہ تھا کہ علی سے ان کی کوئی غرض نہیں ہے۔ جب فاروق اعظم نے ان بزدلوں کو چیلنج کیا کہ میں اعلانیہ ہجرت کررہاہوں، ہے کوئی جو اپنے بچوں کو یتیم اور بیگم کو بیوہ بنائے؟۔ ابوجہل جیسوں کے دروازوں تک پر دستک دی تھی۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ وماقدروا اللہ حق قدرہ ” اورا نہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق تھا”۔ بنی اسرائیل پر بیشمار نعمتیں اللہ کی طرف سے کی گئیں لیکن وہ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرسکے۔ انبیاء کرام کی بعثت سے فرعونوں کے ظلم سے بچایا۔ معاشرے میں امن وامان کی نعمت سب سے بڑی دولت ہے۔ مشرکینِ مکہ میں جب اپنی فطری اقدار کا توازن بگڑ گیا تو سب سے پہلے حلف الفضول کے ذریعے ان کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ پھر نبیۖ کے ذریعے پہلے آزمائش کا شکار کیا اور پھر خوف کے بعد امن کا تحفہ دے دیا تھا۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ظلم کی حکومت میں اللہ نے حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے ذریعے نمرود اور فرعون کا مقابلہ کیا۔اور حضرت یوسف کے ذریعے مصر کے بادشاہ اور عزیز مصر کی اصلاح فرمائی۔رسول اللہۖ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔

ہماری ریاست پہلے بھی امریکہ کی بادل ناخواستہ حمایت اور دہشتگردی کے ماحول کا سامنا کرچکی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے پرویزمشرف کی طرف سےIMFسے جان چھڑانے کے بعد پھر اس دلدل میں خود کو آہستہ آہستہ پھنسادیا۔ پرویزمشرف نے6ارب ڈالر کا سودی قرضہ لیا تھا۔ زرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ نوازشریف نے چین کے سی پیک کی مد میں اتنا پیسہ لیا تھا کہ اگر وہ چاہتا توIMFکا قرضہ مزید بڑھنے نہیں دیتا لیکن چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ شہبازشریف اور میاں نوازشریف نے پنجاب حکومت اور پاکستان کی مرکزی حکومت کو سودی قرضوں میں غرق کردیا۔IMFکے قرضے کو بھی30ارب ڈالرتک پہنچایا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ مرجاؤنگامگرIMFسے قرضہ نہیں لوں گا۔ پھر موت کے کنویں میںموٹر سائیکل پر چکر لگاکر ساڑھے تین سالوں میں قرضہ48ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ اتنی بڑی دلدل میں پھنسنے کے بعدیہ کہنا کہ ”ہمیں غلامی قبول نہیں ہے” اس سے بڑی حماقت کیا ہوسکتی ہے؟۔
امریکہ نے افغا.نستان اُسامہ کی تلاش میں تباہ کیا تھا، پھر عراق پر جھوٹے الزامات لگاکر حملہ کیا اور عراق کی مقامی عدالت کے مقامی جج سے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا۔ لیبیا پر بھی اٹیک کیا اور عراق ولیبیا کا تیل لوٹ کر لے گیا۔ خیبر پختونخواہ کی زمین میں بہت ذخائر ہیں۔ اگر پختونخواہ ہی میں ایسے مل لگ جائیں کہ چین خام مال منتقل نہیں کرنا پڑے تو پورا پاکستان اس کے ذریعے خوشحال ہوسکتا ہے اور خیبر پختونخواہ بھی جنت کی نظیر بن سکتا ہے۔ مولوی اور فوجی طبقہ جتنی زیادہ مشقت بھی اٹھاتا ہے لیکن ان کی قربانیاں ان کی کم عقلی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہی رائیگاں جاتی ہیں۔

افغا.نستان کے طا.لبان اور پاکستان کے حکمران مشترکہ طور پر ایک خلیفہ کی بیعت اور نامزدگی کا اعلان کردیں جو کھلے عام خلافت کا فریضہ اور شریعت کے نفاذ کیلئے لوگوں میں تبلیغ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس سے معاشرے کی فضاء اسلامی حوالے سے بہت بہتر ہوجائے گی۔ اگر امریکہ ڈرون سے اس کو نشانہ بھی بنالے تو مسئلہ نہیں دوسرا نامزد کردیں۔ اس طرح بیس افراد کی قربانی ہوجائے تو اکیسواں فرد خلافت کے قیام اور فریضے میں کامیاب بھی ہوسکتا ہے۔ بیعت کیلئے بہت لوگ بھی تیار ہوجائیں گے۔ جب میدان جنگ میں سپہ سالار جھنڈے بھی گرنے نہیں دیتے تھے تو مسلمان خلیفہ کی نامزدگی کے فریضے کیلئے قربانی کیوں نہ دیںگے؟۔ خلیفہ اعلان کرے کہ ہم مکی دور میں ہیں، ہم نے مزاحمت نہیں کرنی ہے توامریکہ کتنے ڈرون مار کر کتنوں کو شہادت کے منصب پر سرفراز کرے گا؟۔
شہادت ہے مطلوب ومقصود مؤمن
اقتدار کی خرمستیاں اور نہ کشورکشائی

پاک فوج کے اعلیٰ افسران شہید ہوگئے لیکن قوم کو کچھ نہیں ہوا۔ غم میں برابر کی شرکت ضروری تھی،اگر مریم نواز کو حادثہ پیش آتا تو قوم میں بھونچال پیدا کیا جاتا؟۔ بینظیر بھٹو کی شہادت پر سندھ کھپے کا نعرہ لگانا واقعی بہت ضروری تھا۔ ہم تو کرایہ کے بھاڑے سے اب لیڈر شپ پیدا کرنے اور ختم کرنے کے چکر میں ہی رہتے ہیں، پنجاب میں میت پر بین بجانے کیلئے کرائے کی عورتیں دستیاب ہوا کرتی تھیں اور اب ہماری بعض سیاسی پارٹیوں نے بھاڑے کے صحافیوں کو کردار سونپ دیا ہے۔ بدمعاشی اور زبردستی مسلط ہونے کے جذبات الگ ہیں۔

خلیفہ کی بیعت کے بعد خلیفہ قوم میں حقیقی جمہوری اقدار کیلئے راستہ ہموار کرے۔ کوئی بھی مسجد کا امام یا کوئی اچھے لوگ اپنی بیٹھک سے ابتداء کریں اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں کہ ہم جھوٹ نہیں بولیںگے۔ اقتدار کیلئے اپناعہدہ طلب نہیں کریںگے۔ طاقت اور مال کمانے کے چکر میں اس بیعت سے نہیں پھریںگے۔ کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے۔ گالیاں نہیں دیں گے۔ حرام خوری نہیں کریںگے۔ اچھائی پر تعاون اور برائی سے عدم تعاون کے پابند ہوں گے۔ اسی کی باتوں پر بیعت لینے کے بعد کثرت رائے اور ووٹ سے کسی کو امیر مقرر کریں گے۔ پھر یہ سلسلہ یونین کونسل، ڈسٹرکٹ کونسل ، صوبائی اور قومی اسمبلی کی حدوں تک بڑھائیں اور عوام کے اندر سے قیادتوں کو ابھار کر مضبوط بنائیںگے تو حقیقی جمہوریت کا راستہ بھی ہموار ہوجائے گا اور اقتدار کے مروجہ طریقے پر بھی کوئی اثر نہیں آئے گا لیکن عوام کی حقیقی رائے سے نہ صرف اصل قیادت سامنے آئے گی بلکہ لیڈر شپ کی غلط وکالت اور اخلاق باختہ رویوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔

آسمان سے اصلاح کیلئے فرشتہ نہیں آئے گا۔ قوم کے اچھے لوگوں نے ہی اس سیلاب کا راستہ روکنا ہے جسکے عوام وخواص ، غریب وامیر اور کمزوروطاقتور سبھی شکار ہورہے ہیں۔ ورنہCIAاورIMFخطے کو جنگ وجدل کا میدان پھر سے بنادیں گے اور اس مرتبہ پنجاب اور سندھ کے علاوہ ریاست اور حکمرانوں کا بھی پتہ صاف ہوجائے گا۔ حضرت یوسف نے انتہائی حکمت عملی کیساتھ مصر کی حکومت کو قحط سالی اور غریبوں کو ظلم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آج ہم ریاست اور امریکہ سے لڑے بغیر اس خطے کو معاشی مشکلات سے نکال لیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ محسود جیسی عظیم قوم پوری دنیا میں کہیں بھی آج نہیں ہے اسکے اقدار کو طا.لبان اور ہماری ریاست نے تباہ کردیا لیکن اس میں ان کی اپنی غلطیوں کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ ان غلطیوں کو نہ دوہرانے کا عزم ہی انقلاب اور ہمارے معاشرے کی اصلاح کیلئے عظمت کی بہترین بنیادیں فراہم کرتا ہے۔

ایک طرف خلیفہ کی بیعت اور دوسری طرف دنیا کے جمہوری نظام سے وابستگی اور جمہوری طریقے سے اقتدار کا قیام امت مسلمہ کے ممکنہ مفادات میں سب سے بڑا مفاد نظر آتا ہے۔ شرعی خلیفہ کی تقرری کے بعد دہشت .گردی کی بنیاد پر انقلاب کا راستہ نہیں اپنایا جائے گااور جمہوریت سے مطلق العنان بادشاہت کا تصور ختم ہوگا۔ خلافت عثمانیہ بھی خاندانی لیڈر شپ تھی اور اس کے زیر سایہ مغلیہ سلطنت بھی خونی ڈکٹیٹر شپ تھی۔ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کیا اور فتاویٰ عالمگیری میں یہ دستور لکھوادیا تھاکہ ”بادشاہ پر قتل، چوری ، زنا وغیرہ کی حد نہیں لگے گی”۔جبری حکومتیں خلافت کیلئے مقدمہ ہیں ۔ خلافت راشدہ کے بعد امارت وبادشاہت کے ادوار تھے۔ جبابرہ عربی میں ہڈی جوڑنے کی پٹی کو کہتے ہیں۔ جمہوریت اور جبری حکومتوں میں بھی عدالت کے ذریعہ انصاف نہیں ملتا ہے لیکن مرہم پٹی کردی جاتی ہے۔ احادیث میں جبری حکومتوں کے آخر میں ایک خلیفہ کو جابر کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور یہ اس کا لقب بھی ہوسکتا ہے اور اس لقب کی وجہ جبری طرز عمل کی جگہ مرہم پٹی کے کام والا لگتا ہے۔ جس کے بعد دوسرے کئی ناموں کا ذکر ہے۔ عربی میں ایک سوشل میڈیا کا چینل اسلام ایچ ڈی (ISLAM HD)کے نام سے ہے اس میں مہدی آخری امیر سے قبل کئی خلفاء اور ادوار اور درمیان میں مختلف فتنوں کا ذکر ہے۔

آخر میں محسود قوم کیلئے وزیرستان کی پشتو زبان میں کچھ اشعار ہدیہ ہیں۔
اوال خالقے ویل چے ماسید قوم ڈیر لابا غڑائی دائی
ویس ویائی چے نن ماسید قوم ڈیر بے غڑائی دائی
پہ ژواندی کشے دائی ژوان دائی او پہ مڑکشے دائی مڑائی دائی
پارین پہ دنیا کشے لاکا غاٹ مانگور او نن دائی پڑائی دائی
ڈیر ہشیور دی دے غیرت نہ ڈاک یونیم سرغنڑائی دائی
شہ خلق او عالمون یے مڑہ کڑل چہ بے غیریاتا چھنڑائی دائی
1: پہلے لوگ کہتے تھے کہ محسود قوم بہت جلد باز اور ایمرجنسی والی ہے۔
2: اب لوگ کہتے ہیں کہ محسود قوم کے اعصاب بہت ڈھیلے ہوگئے ہیں۔
3: زندوں میں اب یہ زندہ ہیں اور مردوں میں اب یہ مرے ہوئے ہیں۔
4: کل دنیا میں ان کی حیثیت بڑے سانپ کی اور آج یہ رسی بنے ہیں۔
5: بہت ہوشیار ہیں اور غیرت سے بھرپور لیکن ایک آدھ بے ننگ ہے۔
6: اچھے لوگوں کو اور علماء کو قتل کردیا یہ کیسے بے غیرت طا.لبان ہیں۔
امریکہ نے ایک نمبر القا.عدہ اور دو نمبر القا.عدہ ، گڈ طا.لبان اور بیڈ طا.لبان کے درمیان اپنی پالیسیاں چلائیں۔ پاکستان میں سرنڈر طا.لبان اور باغی طا.لبان کا بڑا کردار رہا۔ جب لوگوں کو دبانے کیلئے سرنڈر طا.لبان نے بھی اپنا کردار ادا کیا تو باغی طا.لبان کا ان پر کتنا خوف ہوگا؟۔ مٹہ سوات میں بھی طا.لبان کی رٹ قائم ہونے کی خبریں ہیں اوراب وزیرستان میں بھی مہمان طا.لبان کو ٹھہرانے کی اجازت ملنے کی اطلاعات ہیں۔طا.لبان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہوںنے بہت خلوص کے ساتھ امریکہ کے خلاف جہا.د کرکے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے طا.لبان کے لبادے میں جرائم پیشہ عناصر کا بڑا کردار ادا کیا ہے۔ عوام کو دونوں کے درمیان فرق و امتیاز کا کوئی پتہ نہیں ۔ اسلئے بہتر ہے کہ اچھے اور باکردار طا.لبان اپنے سے بیکار اور بدکردار طا.لبان کو الگ کردیں۔ جب خشک لکڑیوں کو آگ لگتی ہے تو گیلے درخت بھی اس کے ساتھ جل جاتے ہیں۔ موت تک اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ جو لوگ مظالم کے مرتکب رہ چکے ہیں وہ خود ہی اپنے جرموں کی سزا کیلئے قوم و ملک کے سامنے خود کو پیش کریں۔ پاکستانی قوم اور پاکستانی ریاست ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے جدا اور الگ تھلگ نہیں ہیں۔ جب اسلامی احکام کی اصلاحات قوم و ملک کے سامنے پیش ہوں گی تو نہ صرف پاکستان کی ریاست بلکہ پوری دنیا کے تمام ممالک اس کا استقبال کریں گے۔ شیطانی قوتوں کی سب سے بڑی چاہت یہ تھی کہ اس خطے میں رہنے والی تمام قوموں کو اس حال پر پہنچایا جائے کہ کسی میں سر اٹھاکر جینے کی ہمت نہ ہو اور اس کیلئے سب سے زیادہ جانے یا انجانے میں طا.لبان دہشت گرد استعمال ہوئے ہیں۔ آج لوگوں کو ان سے کئی طرح کی نفرتیں ہیں لیکن اچھے کردار سے یہ محبت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

 

آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے جاؤ لیتے جاؤ اور ملک و قوم کو ڈبوتے جاؤ ڈبوتے جاؤ!

آئی ایم ایف (IMF) سے قرضہ لیتے جاؤ لیتے جاؤ اور ملک و قوم کو ڈبوتے جاؤ ڈبوتے جاؤ!

سعودیہ و عرب امارات میں دریا نہیں، سمندر کے پانی کو میٹھا اور جدید سائنسی طریقے استعمال کرکے بڑے پیمانے پر ہریالی اور گندم اگائی گئی ،اپنی ڈفر ریاست نے تباہی مچادی!

ایک روپیہ پٹرول بڑھتاہے تو نوازشریف کے دل میں درد اٹھتاہے۔ مریم نواز۔ جب شہباز شریف نے پٹرول84روپے بڑھایا تو نواز شریف کو2014کے جنرل کا دورہ پڑا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہماری معیشت پر سودی نظام کے ذریعے قبضہ کیا گیا ۔1989میں پہلی باربینظیر بھٹو دور میںIMFسے قرضہ لیا گیا۔ پھر نام نہاداسلامی جمہوری اتحاد کے نوازشریف نے مزید قرضہ لیا۔ باری باری دونوں جماعتوں نےIMFسے نہ صرف قرضے لئے بلکہ کرپشن میں ایک دوسرے سے آگے نکل گئے۔ مشرف کی حکومت آئی تو2004سے2007تکIMFسے جان چھڑائی گئی۔ مگر پھر2008میں جنرل مشرف نے6ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ زرداری نے اس کو16ارب ڈالر تک پہنچایا اور نوازشریف نے30ارب ڈالر تک پہنچایا۔ عمران خان نے48ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ اب مفتاح اسماعیل سب کے ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے۔ عوام پرمہنگائی کا بوجھ اسلئے پڑ رہاہے کہ سودکی مد میں دی جانے والی رقم اب دفاعی بجٹ سے دگنی ہوچکی ہے۔ عوام دفاعی بجٹ کا رونا روتے تھے اور سودی رقم دفاعی بجٹ کے دگنی سے بھی بڑھ جائے تو ہمارا دفاع کن کے ہاتھ میں ہوگا؟۔ جب قومی اثاثے گروی رکھے جائیں گے تو ایسٹ انڈین کمپنی کی طرح ایک دن ہماری قوم، ملک اور سلطنت پھر اغیار کے ہاتھوں میں ہوگی۔

اب 20سال بعد پھر شریعت کورٹ نے سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں بدلنے کا جو فراڈ فیصلہ کیا ہے وہ بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ وفاق المدارس عربیہ پاکستان کے سابق صدرشیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان استاذ مفتی محمد تقی عثمانی اورسابق صدر ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے بہت کھل کر اسلامی بینکاری کے نام پر خالص سودی نظام کی شدید الفاظ میں مذمت اور دلائل سے تردید کی ہے لیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ پورے پاکستان کے تمام مدارس کے علماء کرام و مفتیانِ عظام نے سودی بینکاری کو اسلام کے نام پر جواز بخشنے کی مخالفت کی تھی لیکن دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید کراچی نے سودی نظام کو حیلے کے ذریعے اسلام کے نام پر جواز بخشا تھا اور اب وفاق المدارس پاکستان سے الگ بورڈ بھی بن گیا ہے تو ایک کا سربراہ مفتی محمد تقی عثمانی اور دوسرے کی سربراہی جامعة الرشید والے کر رہے ہیں ۔ گویا چت بھی حیلہ بازوں کی اور پٹ بھی حیلہ سازوں کی۔اسلامی سودی بینکاری کے ساز باز میں اب شریعت کورٹ بھی شامل ہوگئی ہے۔

سعودیہ اور عرب امارات میں کوئی دریا، نہر،ندی اور نالہ نہیں لیکن وہاں پر سمندر سے کھارا پانی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیتوں کو آباد اور بڑی مقدار میں گندم اگائی گئی ہے۔ہمارے ہاںقدرت کے عظیم نظام سے دریاؤں اور نالوں کا سلسلہ موجود ہے ۔ انگریز دور سے نہروں کا بھی سلسلہ ہے لیکن بہت طریقے سے جنگلات کو کاٹا گیا ہے۔ وزیرستان کے صحافی شفت علی محسود نے جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر آواز اٹھائی لیکن ہماری ڈفر ریاست اور حکمران طبقے نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس کی وجہ سے ایسا حال ہوگیا کہ کانیگرم بدر کی ندی تک میں پانی ناپید ہوگیا تھا جس کے خشک ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہم نے تصاویر شائع کی تھیں کہ کس طرح لکڑیاں جلانے کیلئے بٹے بنائے گئے ہیں جس کا کوئلہ بناکر ا.فغا.نستان کے راستے روس سے نوآزاد ممالک میں سمگلنگ کیا جارہاہے؟۔

حال میں تخت سلیمان پختونخواہ سے بلوچستان تک بڑے پیمانے پر جنگل کو آگ لگنا ،بونیر، سوات اور کشمیر کے جنگلات میں آگ لگنا اسی ہوس پرستی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اب ہمارے مقتدر طبقات کوئلے کی اسمگلنگ کرکے چلغوزے اور دیگر جنگلات پر اپنی ذاتی جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جب اس ملک سے ہریالی و جنگلات کا خاتمہ ہوگا تو قدرتی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سازش میں کوئی اور نہیں ملک کے محافظ حکمران طبقات کی ہوس اور نااہلی کی قیمت ہماری نسلیں چکائیں گی۔ جب جنرل ظہیرالاسلام سابقDGISIریٹائرڈ ہوگئے ہیں تو مریم نواز کا پاپا میاں نوازشریف کہتا ہے کہ مجھے2014کے دھرنے میں آدھی رات کو اس نے فون کیا تھا کہ اقتدار چھوڑ کر استعفیٰ دیدو۔ میں نوازشریف کسی کی غلامی نہیں مان سکتا۔ حالانکہ جب وزیراعظم بن کر تمہارا یہ حال تھا تو کیا غلام نیلے پیلے رنگ رنگیلے انڈے دیدتے ہیں؟۔ یہ سیاسی مرغیاں ہمیشہ کڑک رہتی ہیں جب بھی ان کو انڈوں پر بٹھاؤ تو خوش رہتی ہیں لیکن ان کو قومی مفادات سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے۔ چین نے پاکستان کو اہم کانفرنس میں اسلئے نہیں بلایا کہ زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے سی پیک کے مغربی روڈ کا افتتاح کیا تھا اور پھر کوئٹہ وپشاور کے مختصر راستے کو چھوڑ کر تحتِ لاہور کو نوازنے کیلئے سی پیک سے شیطان کی آنت بناڈالی۔19ارب ڈالر کی پہلی قسط میں10ارب ڈالربندر بانٹ کی نذر ہوئے اور9ارب ڈالر لگے تھے۔ سی پیک سے ہمIMFسے بھی جان چھڑاسکتے تھے۔ اب اگر دریاؤں میں جگہ جگہ بند بناکر پانی کو ذخیرہ کرنے کا کام کیا جائے اور پھر کالاباغ اور دیگر ڈیم بنائے جائیں جس کے فائدے متعلقہ و متاثرہ عوام کو دئیے جائیں اور اسلامی مزارعت شروع کی جائے تو بعید نہیں ہے کہ سستی بجلی اور سستی اناج سے ملک وقوم کی غربت ختم ہوجائے۔

بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے ”میزان عمر عائشہ ” کتاب لکھ کر اُمت کے علماء کا کفارہ ادا کیا۔ مولانا قاضی یونس انور ۔ خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور۔

بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے ”میزان عمر عائشہ ” کتاب لکھ کر اُمت کے علماء کا کفارہ ادا کیا۔ مولانا قاضی یونس انور ۔ خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور۔

بخاری کی روایت رسول اللہ ۖ کی ناموس، حضرت عائشہ ، حضرت ابوبکر کے گھرانے اور اسلام پر حملہ ہے،جو کھلے حقائق کے بھی منافی ہے

بخاری کی احادیث رفع یدین کو گائے کی دُم اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دینے کے منکرینِ حدیث کا منہ توڑ جواب بھی نوشتۂ دیوار کے تبصرے میں پیش کیا گیا

قاضی محمد یونس انور خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہورنے ”سیدہ عائشہ کی نکاح کے وقت عمر”کے موضوع پر نماز جمعہ کے خطاب میں کہا کہ نبی کریم ۖ کی زوجیت میں حضرت عائشہ صدیقہ کتنی عمر میں آئیں ؟یہ ہے اصل سوال۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ جب کوئی بڑا آدمی غلطی کر بیٹھتا ہے یا اس کی طرف سے کوئی منسوب چیز آجاتی ہے تو ہم تقلیدی ذہنیت رکھتے ہوئے اتنا جمود اختیار کرلیتے ہیں کہ اس سے باہر نکل نہیں سکتے۔ بدقسمتی سے حضرت عائشہ صدیقہ کی6سال میں نکاح کرنے والی روایت بخاری اور مسلم میں آگئی اور یہ دونوں ہی درجہ اول کی کتابیں ہیں۔ پوری اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ بخاری و مسلم دونوں کو صحیحین کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ اس میں ایک بات بھی کمزور نہیں لیکن بالکل غلط بات ہے۔ صحیحین کا معنی تغلیباً ہے کہ غالب اکثریت ان روایات کی صحیح ہے لیکن یہ کہ ہر ہر بات ان کی سو فیصد صحیح ہے قرآن کی طرح، بالکل غلط بات ہے یہ۔اللہ تعالیٰ علامہ جلال الدین سیوطی کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے انہوں نے کتاب ”تدریب الراوی” حدیث کے اصولوں پر لکھی ہے اس میں لکھا ہے کہ” مسلم شیعت سے بھری پڑی ہے”۔ بخاری میں تلسانی کتاب التوحید کے اندر ایک راوی ہے عباد بن یعقوب الرواجنی جو بڑے محدث ہیں۔ حدیث پڑھانے والے زیادہ جانتے ہیں لیکن میرے جیسا طالب علم بھی تھوڑی سی کوشش کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی بات مل جاتی ہے۔ اسکے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ”صدوق رافضی حدیث فی البخاری” وہ رافضی ہے بخاری میں اس کی روایت موجود ہے۔ فلے بن سلیمان ایک راوی ہے عبد الملک اس کا اصل نام ہے لیکن اس کی کنیت فلے بن سلیمان ہے۔ بخاری کے ہر دوسرے تیسرے صفحے پر موجود ہے نہایت کمزور راوی ہے۔ اس سے بھی قطع نظر پچھلے جمعے عرض کرچکا ہوں اس روایت کا راوی ہے ہشام۔ محدثین جانتے ہیں کہ شروع زمانے میں بڑا معتبر راوی تھا۔ وہ بات کررہا ہوں جو عام آدمی کے ذہن میں آسکے۔ سارے محدثین نے اس سے روایتیں لی ہیں۔ بدقسمتی سے آخیر زمانے میں ان کا حافظہ بہت خراب ہوگیا تھا۔ اور یہ روایت6اور9سال والی اسی زمانے کی ہے۔ ان سے نقل کرنے والے جتنے مدنی شاگرد ہیں کوئی ایک مدینے والا شاگرد اس روایت کو نقل نہیں کرتا۔ جتنے بھی شاگرد اس کو نقل کرنے والے ہیں وہ سب کے سب عراقی ہیں۔ جس آدمی نے اس پر ایک ایک چیز تحقیق کی چونکہ رسول اللہ ۖ کی آبرو، عائشہ صدیقہ کی ناموس کا مسئلہ تھا ۔ دنیائے کفر نے اس روایت کو لے کر بڑا طوفان بد تمیزی کیا ہے۔ مغرب میں جو خاکے شائع ہوئے وہ اسی روایت کی بناء پر ہوئے۔ مثال کے طور پر نقل کفر کفر نہ باشد یہ لفظ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ مسلمانوں کا پیغمبر اتنا ہوس پرست تھا معاذ اللہ معاذ اللہ کہ اپنے ایک مرید کو اقتدار کا لالچ دیکر اسکے ساتھ اقتدار کا وعدہ کرکے کہ میرے بعد آپ نے ہی اقتدار لینا ہے اس کی چھوٹی سی نابالغ6برس کی بچی کو نکاح میں لے لیا۔ میں اور آپ جتنی تاویلیں بھی کریں میرے دوستو! جتنا بھی بچائیں بخاری کی روایت کو ۔ یا بخاری کی روایت کو بچالیں یا رسول اللہ ۖ کی ناموس کو بچالیں۔ بخاری کی روایت کے مجروح ہونے سے ہمارا کفر لازم نہیں آتا۔ لیکن نبی ۖ کی ذات مجروح ہوجائے تو ہمارا ایمان باقی نہیں رہتا۔ یہ راوی کا بیان ہے رسول اللہ ۖ کافرمان نہیںہے۔ اس روایت کے ذریعے سے دشمن نے کئی شکار کئے ۔ نبی کی ذات پر بھی حملہ کیا عائشہ صدیقہ کی شخصیت کو مجروح کیا۔ ابوبکر صدیق کے گھرانے کو مجروح کیا بلکہ پورے اسلام کو مجروح کیا ہے۔ جبکہ حقائق اسکے برعکس ہیں۔ اس کا منفی اثر یہ نکلا کہ جتنے بھی خاکے رسول اللہ ۖ کے خلاف یورپ کے اندر مغربی دنیا میں شائع ہوئے ہیں ان روایات کا سہارہ لیکر انہوں نے رسول اللہ ۖ کی ذات پر کیچڑ اچھالا ہے۔ اس کے بعد پھر ہنگامے ہوئے مظاہرے ہوئے مردہ باد کہیں یا کچھ بھی کہیں لیکن دشمن کو جب ہم ہتھیار خود دیں گے تو اس ہتھیار کو وہ ہمارے خلاف استعمال کرے گا تو کیسے ہم اس کا توڑ کرسکتے ہیں؟۔ قرآن کی آیت کا انکار کرنا کفر ہے کسی راوی کی روایت کا انکار کرنا کفر نہیں ہے۔

اس روایت کو ایک طرف رکھئے اب میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ پچھلے جمعے میں عرض کرچکا ہوں طبری قدیم مورخ ہے۔ کتابیں میرے پاس ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ بات کررہا ہوں۔ اس نے کہا کہ صدیق اکبر نے زمانہ جاہلیت میں یعنی اسلام آنے سے پہلے دو عورتوں کے ساتھ نکاح کیا تھا ایک کا نام قتیلہ، ایک کا اُم رومان تھا۔ قتیلہ سے صدیق اکبر کے دو بچے تھے، بیٹی کا نام اسمائ تھا۔ بیٹے کا نام عبد اللہ تھا۔ دوسری خاتون اُم رومان سے بھی دو بچے ہوئے۔ ایک کانام عبد الرحمن تھا اور بیٹی کا نام عائشہ تھا۔ یہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوچکے تھے۔ یعنی ابھی اسلام آیا نہیں تھا اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ پیدا ہوچکی تھیں۔ اب اسلام جب آیا تو پیغمبر اسلام ۖ کی عمر کتنی تھی؟40سال۔ آپ ۖ نے مکہ معظمہ میں کتنے عرصے زندگی گزاری؟۔13سال۔ اس سے پہلے جو بچی پیدا ہوگئی ہے اس کو2سال کی3سال کی بھی تسلیم کرلیں تب بھی حضرت عائشہ صدیقہ14،15،16سال کی بوقت نکاح ہر صورت میں ثابت ہیں۔ دوسری بات، حضور ۖ نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ پر ایمان لانے والے ابتدائی40آدمی ان میں عائشہ صدیقہ کا نام بھی ہے۔ آپ سیرت ابن ہشام پڑھ کر دیکھ لیں اسکے ترجمے میں لکھا ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بچہ جب ایمان لاتا ہے تو ایمانیات کے اصولوں کو سمجھنے کیلئے اس کا ہوش مند ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟۔ اور1،2سال کے بچے کے ایمان کا کوئی اعتبار ہوتا ہے؟۔ کم از کم6،7سال کا بچہ ہو تب وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو عائشہ صدیقہ اس فہرست میں شامل ہیں جو ابتداء میں رسول اللہ ۖ پر ایمان لانے والے لوگ تھے۔ کم از کم5،6سال کی عائشہ صدیقہ کو تسلیم کریں تو تب ان کے ایمان کا اعتبار ہوتا ہے۔ اگر وہ5سال کو پہنچ چکی تھیں تو ایمان لائیں تو13سالہ مکی زندگی ہے پھر رخصتی کا زمانہ کتنا بنتا ہے؟ میں پچھلے جمعے ایک بات عرض کرچکا ہوں حساب کتاب کے ماہرین فوراً سمجھیں گے اس کو ان کی بڑی ہمشیرہ دوسری ماں سے جن کا نام حضرت اسمائ بنت ابی بکر ہے مشہور صحابیہ ہیں۔ان کا تذکرہ سب نے لکھا ہے۔ حتیٰ کہ صاحب مشکوٰة نے ، مشکوٰة ہماری احادیث کی کتابوں میں سب سے پہلے پڑھائی جاتی ہے اس کے آخر میں راویوں کی ایک لمبی فہرست ہے اس کا نام ہے ”الاکمال فی اسماء الرجال”۔ اس میں حضرت اسمائ کا تذکرہ ہے۔ اس میں لکھا ہے وہ100سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ کب فوت ہوئیں؟۔ سن73ہجری میں ۔ سب نے لکھا ہے یہ مسلمات میں سے ہیں اختلاف کسی کا نہیں۔ یہ اپنی چھوٹی بہن عائشہ سے10سال عمر میں بڑی تھیں۔ ان تینوں چیزوں کو سامنے رکھ کر ذرا حساب لگائیں۔ اس بات کو محدثین نے بھی لکھا ہے مورخین نے بھی لکھا ہے۔ اسماء بنت ابی بکر اپنی چھوٹی بہن سے کتنی بڑی تھیں؟10سال۔ فوت کب ہوئیں؟۔73ہجری میں۔ کتنی عمر میں فوت ہوئیں؟۔100سال کی عمر میں ۔ جو خاتون100سال کی تھیں73ہجری میں وہ یکم ہجری کو کتنے سال کی ہوںگی؟27سال کی۔ اور یکم ہجری کو27سال کی تھیں تو ان سے10سال عمر میں جو چھوٹی ہمشیرہ وہ یکم ہجری کو کتنے سال کی ہوئیں؟۔ کوئی بھی پہلو لے لیں یا کسی صورت کے اندر حضرت عائشہ صدیقہ6سال کی عمر کی نہیں تھیں بوقت نکاح۔ یہ تو میں نے سمپل دو چار باتیں کی ہیں۔ آپ کو دسیوں دلائل اور دئیے جاسکتے ہیں۔بخاری شریف کی پہلی حدیث کتاب الایمان میں نزول وحی والی۔ اس کا عنوان ”سب سے پہلے رسول اللہ ۖپر جو وحی نازل ہوئی اس کی کیفیت ”اس کی راوی حضرت عائشہ ہیں حضرت خدیجة الکبریٰ نہیں۔40کی عمر میں رسول اللہ ۖ پر وحی آئی تو وحی کی کیفیت کون بیان کر رہا ہے؟ ۔حضرت عائشہ بیان کررہی ہیں۔ دوسری زوجہ حتیٰ کہ حضرت خدیجہ بھی بیان نہیں فرمارہیں۔27ویں پارے میں ایک سورت ہے سورہ قمر یہ قرآنی ترتیب کے حساب سے54نمبر کی سورت ہے اورنزولی ترتیب سے37ویں نمبر کی ہے۔ اس کی46ویںنمبر کی آیت ہے والساعة ادھٰی و امر قیامت کا منظر پیش کیا گیا ہے قیامت بڑی خوفناک ہوگی بڑی تلخ حقیقت ہوگی۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں جب یہ سورہ مبارک نازل ہوئی تو ہمارے گھروں کے اندر تلاوت ہوتی تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ سورہ مبارکہ سن4نبوی میں نازل ہوئی۔ نبوت کا چوتھا سال تھا۔ تو جو بچی یہ کہتی ہیں کہ میں بڑی ہوشیار تھی کھیلتی کودتی تھی اور یہ سورت نازل ہوئی اور اس کی آیت مجھے اچھی طرح یاد ہے تو کب پیدا ہوچکی تھیں؟۔ رسول اللہ ۖ کی ابتدائے نبوت سے پہلے پیدا ہوچکی تھیں۔ جو پہلو بھی لے لیا جائے میرے دوستو! سوائے بخاری اور مسلم کی ان دو روایتوں کو چھوڑ کر جتنے بھی حقائق ہیں وہ سب کے سب ثابت کررہے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ جب رسول اللہ ۖ کے نکاح میں آئیں تو وہ بالغ ہوچکی تھیں۔ یہاں ایک اور بات۔ جب صدیق اکبر کو یہ پیغام پہنچایا اس خاتون نے کہ رسول اللہ ۖ کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کردیں۔ اور انہوں نے یہ فرمایا کہ حضور تو میرے بھائی ہیں۔ جو اشکال ظاہر کیا وہ بھائی ہونے کاکیا۔ اگر عائشہ صدیقہ6سال کی ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ کیونکر ممکن ہے وہ تو بچی ہیں ابھی۔ اگر کسی چھوٹی سی بچی کے ساتھ نکاح کا پیغام دیں تو ہر ماں باپ کہتا ہے کہ وہ تو ابھی بچی ہے۔ صدیق اکبر نے اور حضرت اُم رومان نے یہ اشکال پیدا نہیں کیا کہ وہ ابھی بچی ہے بلکہ یہ کہا کہ حضور ۖ صدیق اکبر کو بھائی قرار دے چکے ہیں۔ اچھا کہا جاتا ہے کہ6سال کی عمر میں حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور ۖ کیساتھ ہوگیا۔ مولویوں کی تاویلیں۔ عرب معاشرہ بڑا گرم تھا۔ گرم معاشرے میں لڑکیاں جلدی جوان ہوجاتی ہیں۔ ان خرافات کی بھی حد ہوگئی خدا کی قسم۔ بس اس گرم معاشرے میں ایک عائشہ صدیقہ جوان ہوئیں، ہزاروں لاکھوں انسانوں میں سے کوئی اور بچی جوان نہیں ہوئی؟۔ انہوں نے عقیدت میں یہ بات تو کہہ دی لیکن میں پوچھتا ہوں ان مولوی صاحبان سے جو اس روایت کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ تم اپنے کسی پیر و مرشد کو جو50سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، تمہارے پیر و مرشد تمہارے استادکو6سال کی بچی اسکے نکاح میں دے دو۔ تیار ہو؟۔ آپ دوستوں سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ کا کوئی پیر ومرشد ہو جس کیساتھ آپ کو بے انتہا محبت ہے وہ اگر آپ کی6سال کی بچی کی پیشکش کرے کہ میرے نکاح میں دیدو تو آپ کو تعجب نہیں ہوگا کہ ہمارے حضرت صاحب اتنے نیک انسان ہیں اللہ کے ولی بزرگ ہیں کیسی باتیں کررہے ہیں؟۔ عقل مانتی ہے اس بات کو؟۔ میرے دوستو! اس روایت کو بچاتے بچاتے صرف اتنی تاویل کی جاسکتی ہے کہ راوی سے غلطی ہوگئی16سال کہنا تھا وہ6سال کہہ گیا19سال کہنا تھا وہ9سال کہہ گیا۔ بس اتنی سی بات ہے۔ بریگیڈئیر حامد سعید اختر اللہ انہیں سلامت رکھے انہوں نے ایک بڑا خوبصورت شعر اور ایک مضمون لکھا جو ایک کتاب کی شکل میں چھپ گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں اس نے لکھا ہے دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ بہت خوبصورت شعر کہا ہے شاعر بھی ہیں وہ انہوں نے مجھے وہ شاعرانہ کلام دکھایا جو انہوں نے لندن میں ہائڈ پارک کے کنارے پر بیٹھ کر لکھا تھا بڑا زبردست ہے ان کی کمال کی شاعری دلیل ہے۔ یہ دنیوی پڑھے لکھے لوگ سارے ڈفر نہیں ہوتے، بڑے سلیم الفطرت بھی ہوتے ہیں ۔ بریگیڈئیر حامد سعید کے گھر میں گیا ہوں ایک سے زائد مرتبہ بہت اچھے انسان ہیں ۔ ڈیفنس میں رہتے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کے جذبات کو قبول فرمائے۔ انہوں نے یہ کتاب کمال کی لکھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا کے مسلمان علماء کا کفارہ ادا کیا انہوں نے۔ کہتے ہیں کہ دن رات6مہینے تک میں سویا نہیں۔ اس قدر تکلیف ہوئی مجھے ان خاکوں سے۔ اور پھر میں نے پورا تجسس کرنے کے بعد اس روایت کا پورا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد وہ کتاب لکھی۔ بہت شاندار کتاب ہے ”میزان عمر عائشہ”۔ اور لکھا ہے کہ

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
ان سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کے بعد

رسول اللہ ۖ کی ذات سب سے پہلے ہے۔ دنیا کی کوئی کتاب کوئی روایت جس سے رسول اللہ ۖ کی شخصیت مجروح ہوتی ہو ، آپ کی ذات مجروح ہوتی ہو، آپ کی بے ادبی نکلتی ہو آپ کا گھرانہ مجروح ہوتا ہو ۔ سب کو ہم دیوار پر دے ماریں گے نبی کی ذات کو نہیں چھوڑیں گے۔ آخر میں ایک بات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، قرآن کی تو روزانہ تلاوت کرتے ہوں گے نا آپ لوگ؟۔ کرتے ہیں نا؟ ۔ کمزور سر نہ ہلائیں مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ میں یہ بات اسلئے کررہا ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے توفیق دی ہے کہ صبح کی اذان سے پہلے میں تلاوت کرچکا ہوتا ہوں۔ ہم عہد کریں کہ ہم قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرینگے۔ انشاء اللہ ، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور میں کوشش کررہا ہوں کہ جو قرآن کریم میں شائع کروں آپ کو ایک ایک نسخہ دوں اس شرط کے ساتھ کہ آپ تلاوت کریں۔ انشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ قرآن کریم سورہ نساء اس کے چھٹے نمبر کی آیت ہے توجہ کریں۔ وابتلو الیتامٰی حتیٰ اذا بلغو النکاح کہ کسی کی بچیاں بچہ یتیم رہ جائیں تو ان کے مال کی حفاظت کرو وہ مال تمہارا نہیں ان بچوں ہی کا ہے، ان کو وقتاً فوقتاً آزماتے رہو کہ وہ مال کا تحفظ کرسکیں گے کہ نہیں کرسکیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ سب مفسرین میں نے دیکھا اذا بلغو حد البلوغ نکاح کا معنی کیا حد البلوغ بلوغت کو پہنچ جائیں۔ قرآن کریم میں اللہ کیلئے مشکل نہیں تھا کہ یوں فرماتا کہ حتیٰ اذا بلغو حد النکاح اس کے بجائے اللہ نے فرمایا حتیٰ اذا بلغو النکاح تو لفظ نکاح بول کر بلوغت مراد لی ہے۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ منشائے الٰہی یہ ہے نکاح کی عمر وہی ہے جو بلوغت والی ہے۔ حتیٰ اذا بلغو النکاح ۔ اچھا یہ بتائیں گرمی پہلے تھی اب نہیں ہے؟۔ آپ کے لاہور پنجاب میں گرمی نہیں ہوتی؟۔ سبی اور جیکب آباد کا علاقہ سب سے زیادہ گرم ہے پاکستان میں۔ عرب ممالک میں گرمی ہوتی ہے آج سے14سو سال پہلے عرب ممالک کی گرمی اور اب گرمی میں کوئی فرق پڑا ہے؟۔ کوئی فرق نہیں پڑا۔ بلکہ اب کچھ زیادہ ہے۔ الیکٹرانک آلات زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے گرمی زیادہ ہے۔ اچھا یہ بتائیں کہ اس زمانے میں لوگوں کی معیشت والی حالت زیادہ اعلیٰ تھی یا اب اعلیٰ ہے؟۔ تو اب جو بچیاں وہاں رہتی ہیں وہ کھانے پینے کی اشیاء اعلیٰ سے اعلیٰ اس زمانے کے مقابلے میں استعمال نہیں کرتیں؟۔ کرتی ہیں۔ تو اس زمانے میں کتنی6سال کی بچیاں بالغ ہوتی ہیں جو نکاح ہوتے ہیں۔ عجیب تماشہ ہے خدا کی قسم کہ د.شمنان اسلام نے حملہ بھی کیاتو پیغمبر کی ذات پر۔ نبی کے گھرانے کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس میں ہمارا کردار ہے ہم مولویوں کا کہ ہم نے سوچے سمجھے بغیر ان روایات کو سہارا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ اس سے نبی کی ذات مجروح ہورہی ہے۔ بھئی اگر ترمذی ، ابن ماجہ، حدیث کی دوسری کتابوں کی بہت ساری روایات کو تم چھوڑ دیتے ہو ضعیف اور موضوع ہونے کی بناء پر اس کے باوجود بھی امام ترمذی کا ادب و احترام بدستور قائم ہے ابن ماجہ کا احترام موجود ہے دیگر محدثین کا، امام احمد کی مسند کا احترام موجود ہے، باوجود یہ کہ بے شمار روایتیں اس کے اندر کمزور ہیں۔ اگر بخاری و مسلم کی کسی ایک روایت کو کمزور کہہ دیا گیا تو اس سے امام بخاری کی نہ شخصیت مجروح ہوتی ہے نا ان کی توہین ہوتی ہے نا اسلام کا کوئی ستون گرتا ہے۔ البتہ یہ کہ ان روایتوں کے انکار کرنے کے سبب سے رسول اللہ ۖ کی ذات بچتی ہے عائشہ صدیقہ کی شخصیت بچتی ہے صدیق اکبر کا گھرانہ بچتا ہے۔ ہمارے لئے روایتوں کو بچانے کے بجائے نبی کا احترام اور اس کو قائم رکھا جائے زیادہ اہم ہے۔ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ رسول اللہ ۖ کی ذات کا ادب و احترام یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اگر نبی کی ذات مجروح ہوتی ہے اور ہم اس کوبرداشت کرلیتے ہیں تو ہمارے اندر ایمان باقی نہیں رہتا۔

تبصرۂ نوشتۂ دیوار اللہ نے حقائق کو چھپانے کی تعلیم نہیں دی۔ جب نبیۖ نے خواہش رکھی کہ ”اگر زیدنے کسی صورت بھی اپنی بیوی کو اپنے پاس نہیں رکھا تو اس کی دل جوئی کیلئے نبیۖ شادی کریں اور خوف تھا کہ لوگ کہیں گے کہ لے پالک بیٹے کی بیوی سے نکاح کا۔ وحی نازل ہوئی وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ ”اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے اور اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرو”۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عائشہ نے کہا کہ ” اگر نبیۖ کسی بات کو چھپانا چاہتے تو وحی کی ان آیات کو چھپاتے”۔ (صحیح بخاری)

یہ غیرمسلموں کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں کہ کسی بات کا انکار اسلئے ہو کہ اس سے نبیۖ کی ناموس پر اثر پڑتا ہے۔ البتہ یہ واضح حقیقت ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال اور رخصتی کے وقت19سال تھی اور مسلمانوں کا فرض بنتاہے کہ لوگوں کے سامنے حقائق لائے جائیں۔ قرآن کی جس آیت میں ایسی عورتوں کا ذکر ہے جن کو حیض نہیں آتا ہے تو اس سے مراد عمر کی زیادتی، بیماری اور بانجھ ہونا ہے۔ بچیاں مراد نہیں ہیں۔ بچیوں پر نساء کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ بچی کو حیض آتا ہے اور نہ اس کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ قرآن میں یتیم بچوں کیلئے نکاح کی عمر تک پہنچنے کی بات ہے اور اس سے جنسی بالغ ہونا مراد نہیں کیونکہ انسانوں میں صلاحیت مختلف ہوتی ہے جس عمر میں یتیم مال سنبھالنے کے قابل بن جائیں وہ عمر مراد ہے ۔ بسا اوقات بالغ ہونے کے باوجود کوئی کاروبار کے قابل بھی نہیں ہوتاہے بلکہ اس کو زیادہ عمر تک تجربہ درکار ہوتا ہے۔

صحیح بخاری میں ابنة الجون کے بارے میں مختصر ذکر ہے کہ نبی ۖ کے پاس لایا گیا۔ نبی ۖ نے اس کو دعوت دی کہ خود کو مجھے ہبہ کردو۔ اس نے کہا کہ کیا ملکہ خود کو بازارو کے حوالے کرسکتی ہے؟۔ نبیۖ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا کہ اعوذباللہ منک میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔نبی ۖ نے فرمایا فقد عذت بمعاذ ”جس کی پناہ مانگی جاتی ہے اس کی آپ نے پناہ مانگ لی اور اس کو دوچادریں دیکر اسکے گھر پہنچانے کا حکم دے دیا۔(صحیح بخاری)

صحیح بخاری کی اس روایت کی تشریح میں علامہ غلام رسول سعیدی اور مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں علامہ ابن حجر کی وضاحت نقل کی ہے کہ ” سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبیۖ کا اس سے نکاح نہیں ہواتھا تو اسے خلوت میں کیسے لیا؟، ہبہ ہونے کی دعوت دی؟ اور ہاتھ کیسے بڑھایا؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبیۖ کا صرف اس کو طلب کرنا نکاح کیلئے کافی تھا ،چاہے وہ خود راضی ہو یا نہیں ہو اور اس کا ولی راضی ہو یا نہیں ہو۔ نبیۖ نے محض تطیب خاطر کیلئے پوچھا ورنہ تو اس کی ضرورت نہیں تھی”۔(کشف الباری ، نعم الباری)

جس نبی ۖ نے فرمایا کہ جس عورت کا نکاح ولی اس کی اجازت کے بغیر کردے تو اس کا نکاح نہیں ہوا۔ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اس نبیۖ پر اتنا بڑا بہتان لگانا کتنا گھناؤنا جرم ہے؟۔ جب اس کی پوری تفصیل بھی موجود ہے کہ الجون نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا اور اپنی بیٹی کا عرض کیا کہ عرب کی خوبصورت ترین عورت سے آپ کا نکاح کردوں؟ اور نبیۖ نے حامی بھرلی۔ حق مہر طے ہوا۔ ازواج مطہرات نے بناؤ سنگھار کیا اور اس کو سمجھایا کہ اس طرح کا رویہ رکھو اور یہ جواب دو۔ ان کو معلوم تھا کہ نبیۖ پہلے حسب معمول پوچھتے ہیں تاکہ عورت کی رضامندی معلوم ہو جائے ۔ اس عورت ابنت الجون نے سادگی سے ازواج مطہرات کی باتیں مان لیں اور جب گھر لوٹ گئی تو گھر والوں نے کہا کہ آپ بدنصیب ہیں کہ اس شرف سے محروم ہوگئیں اور جب نبیۖ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ ”سوکنوں نے سوکناہٹ کا معاملہ دکھا دیا”۔

اس واقعہ کی تمام تفصیلات سامنے آجائیں تو سورۂ یوسف کے احسن القصص سے بھی نبی ۖ کی اعلیٰ سیرت قابل اتباع بنتی ہے اور یہ ازل سے ابدتک معاشرتی مسائل کا بڑا حل ہے لیکن بخاری کی حدیث کی مختصر روایت پر کتنا بے تکا تبصرہ کیا گیاہے اور اس کو کتنی بے شرمی سے نقل کیا گیا ہے؟۔

بخاری کی کتنی احادیث میں نمازوں کے اندر رفع یدین کا ذکر ہے لیکن مولوی کہتے ہیں کہ ”یہ العیاذ باللہ گائے کی دُم کو ہلانے کی طرح ہے۔ حالانکہ عیدین میں تین تین بار ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں لیکن ان کو گائے کی دُم نہیں کہا جاتاہے۔ اور جب نبیۖ نے ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے نکاح کو باطل قرار دیا تو کتنی ڈھٹائی کیساتھ اس حدیث کو رد کردیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں بخاری کے اندر تضادات موجود ہیںمگر ان تضادات کی طرف علماء میں متوجہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ بیوی کو حرام کہنے سے تیسری طلاق واقع ہوجاتی ہے اور ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ہے کہ حرام کہنے سے کچھ بھی واقع نہیں ہوتا کیونکہ یہ نبی ۖ کی ا سوہ ٔ حسنہ (سورہ تحریم) سے ثابت ہے۔

مفتی منیر شاکر نے بھی پشتو زبان میں اپنی تقریر میں یہ کہا کہ لوگ ہندو عورت کے پیچھے پڑگئے لیکن6سال اور9سال والی روایت تو بخاری میں ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے تو اسکا کچھ کرو”۔ اس پر پشتو میں شیخ ابو حسان اسحق السواتی نے کہا کہ” اس حدیث کا انکار قرآن کا انکار ہے اسلئے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ رسول ۖ کی اطاعت کرو۔ مفتی منیر شاکر قرآن کی بات کرتا ہے ،وہ اس حدیث کا انکار کرکے قرآن کا منکر ہے”۔

حکیم نیاز احمد فاضل دیوبند نے ایک بڑی ضخیم کتاب کشف الغمة عن عمر ام الامة یعنی تحقیق عمر عائشہ صدیقہبہت پہلے لکھی ہے اور اس موضوع پر کئی دوسری کتابیں بھی آچکی ہیں۔ فن حدیث ،مختلف روایتوںاور راویوںکوتحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ اہل علم کو چاہیے کہ تحقیقی انداز کو اپنائیں اور اپنی عاقبت خراب ہونے سے بچاہیں۔ فقہ حنفی میں بہت ساری احادیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا جاتا ہیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ لیکن حنفی فقہ اس کی مخالف ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نکاح کیلئے دوصالح گواہ ضروری ہیں۔ حنفی کہتے ہیں کہ دو فاسق بھی کافی ہیں۔ اور نبی ۖ نے فرمایا کہ دف بجاکر نکاح کا عام اعلان کرو، مگر حنفی کہتے ہیں کہ دوفاسق گواہ کا خفیہ نکاح اعلان ہے۔اگر حدیث کا انکار قرآن کا انکار ہے تو پھر شیعہ ٹھیک کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے حدیث قرطاس کا انکار کیا تو قرآن کا بھی انکار کردیا؟۔ علماء ومفتیان سے گزارش ہے کہ تعصبات کی جگہ علم سیکھ اور سمجھ کر قرآن واحادیث کی درست خدمت کریں۔حنفی مسلک کا کمال ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث کو رد کیا لیکن قرآن میں پہلے شوہر سے آزادی دلانے کیلئے طلاق کے بعد عورت کونکاح ثانی کا حکم ہے۔ حدیث میں ولی کی اجازت سے مراد کنواری ہے اور قرآن نے بیوہ کو بھی عدت کے بعد آزاد قرار دیا۔ لیکن جمہور حدیث کے خلاف آیت کی تصریح بھی نہیں مانتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا عبدالواحد قریشی نے کہا کہ ”قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں اسلئے علماء کی نگرانی میں قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے”۔ جواب میں مولانا سراج الدین نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ ” شاہ ولی اللہ اور انکے بیٹوں نے قرآن کا ترجمہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کیا؟۔دیوبند کے اکابر شیخ الہند محمود الحسن، مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ شبیر احمد عثمانی اور دیگر اکابر نے کیا عوام کو گمراہ کرنے کیلئے قرآن کا ترجمہ کیا تھا؟۔ یہ کیسی جہالت کی باتیں ہورہی ہیں”۔

ان دونوں علماء کرام کا تعلق علماء دیوبند اور فقہ حنفی سے ہے اور اتنے بنیادی اختلاف میں بھی دونوں کی باتوں میں بڑا وزن ہے۔ میں نے مدارس کی خاک چھانی تھی اور ایک قابل طالب علم سمجھاجاتا تھا لیکن مدارس کی سرپرستی میں قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے طلاق کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ پھر طلاق کا مسئلہ سمجھنے کیلئے قرآن کی طرف رجوع کیا تو میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ آج کی دنیا میں صرف اسرا.ئیل کو چھوڑ کر کوئی ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں کی عوام نے حلالے کے خلاف ہم سے فتویٰ نہیں لیا ہو۔ اگر قریشی قرآن سے عوام کو منع کرتاہے تو اس میں وزن ہے اور مولانا سراج الدین کی بات میں بھی وزن ہے۔

بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے متعہ کے حوالے سے فرمایا لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبٰت ”جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اس کوحرام مت کرو”۔ اور بخاری میں ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پرنبیۖ نے متعہ اور گھریلو گدھوں کو حرام کیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب میں گدھے کھانے کا رواج تھا؟۔ پہلے کھایا بھی جاتا تھا ؟۔ اس کا جواب نفی میں ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے خیل یعنی گھوڑے، خچر اور گدھے کو زینت اور سواری کی چیز بتایا ہے اور اگر لوگ ان کو کھاتے تو سواری کی جگہ کھانے کا ذکر ہوتا۔ اگر نبی ۖ نے متعہ کو فتح خیبر کے موقع پر حرام کردیا تھا تو پھر فتح مکہ کے موقع پر دوبارہ کیسے حلال کردیتے؟۔ علماء ومفتیان کا فرض بنتا ہے کہ تحقیقات کرکے اسلام کا روشن چہرہ واضح کریں اور صرف کھانے پینے اور عیش اڑانے تک محدود نہ ہوں۔

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اگر غیرملکی ایجنسی کے آلہ کار اہم شخصیات کو قتل کررہے ہیں تونوٹس کیوں نہیں لیا جاتا ہے؟
اگر حامد میر عمران خان کو ڈرانے کیلئے ڈرامہ کررہے ہیں تو اس جھوٹ کا نوٹس لیا جائے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حامد میر نے کہا تھا کہ جنرل رانی اور کس فوجی کی بیگم نے کسے گولی ماری ؟۔ باصلاحیت انسان قوم کا قیمتی اثاثہ ہے ۔ اختلاف رائے پر دشمنی ریاست کو زیب نہیں دیتی ۔ مخالفت سے حکومت وریاست کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ صحافی اگر ریاست وحکومت کی ڈھال بنے تو وہ کسی نکڑ پر فضول بھونکنے والا فالتو کتاہے جس پر کوئی توجہ نہیں دیتا مگر جب سخت ترین ناقدصحافی کرائسس میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو رکھ کرساتھ دیتا ہے تو اس کا اعتماد قوم میں اعتبار دلاتا ہے۔ تنقید سے خامیاں بروقت نظر آتی ہیں اور ازالے کی کامیاب کوشش ہوسکتی ہے۔جبپانی سر سے گزر جائے تو پھرتنقید کا کوئی فائدہ بھی نہیں ۔
حامد میر نے کہا کہ” ان کو غیر ملکی ایجنسی نیٹ ورک کا شخص مارنا چاہتا تھا مسجد میں نماز پڑھتے وقت جوتے میں کیمیکل لگاکر۔ پتہ نہیں چلتا، بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے اور اٹیک سے بندہ مرجاتا ہے۔ طبی رپورٹ طبعی موت کی آتی ہے ۔ دوسال میں عدلیہ وغیرہ کی جتنی اہم شخصیات کی اچانک موت واقع ہوئی ہے، تفصیل بتانا خطرناک ہے ”۔سوال یہ ہے کہ اپنی ایجنسیاں قاتلوں کو کیوں نہیں پکڑتی ہیں؟۔ کیا اس میں نیشنل انٹرسٹ ہے؟۔ اور اگر حامد میر نے عمران خان کے شر سے بچنے کیلئے کسی کے کہنے پر افواہ چھوڑی تو وضاحت کریں اسلئے کہ ملک وقوم میں ویسے بھی اعتماد کا فقدان ہے۔ افواہ سازی کے ذرائع کم نہیں کہ اور اضافہ ہو۔ جیونیوز رپورٹ کارڈ میں ، وسعت اللہ خان ذرا ہٹ کے میں اور پارلیمنٹ میں بھی اس پر بحث ہونی چاہیے اور سینٹ میں بھی اور کور کمانڈر کانفرنس میں بھی۔
اتنی ساری اہم شخصیات کے اچانک بے گناہ قتل پر خاموشی بڑاالمیہ ہے۔ حامدمیر بتائیں کہ کس جرم میں قتل کرنا چاہتے تھے اور کس خوبی کی وجہ سے چھوڑ دیا؟۔ یہ بڑی دہشتگردی نہیں ؟۔ اسرائیل کے آلۂ کاروں کا کھیل ہوسکتاہے لیکن حامدمیر فلسطین گئے ۔اگراس دہشتگردی کے پیچھے غیرملکی گردی یا افواہ گردی ہے تو کھلی بات کی جائے۔ حامد میر اور میجرجنرل R شاہدعزیز چیئرمین نیب کی ویڈیو کلپ ہے کہ” امریکہ میں دودفعہ دورانِ ٹریننگ یہ پیشکش ہوئی کہ ہماری نوکری کرو، پاک فوج میں رہ کر فری میسن کیلئے کام کرو۔ برطانیہ وامریکہ میں فری میسن مضبوط ہے وہیں سے ڈیل کیا جاتاہے”۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان اور انکے حامیوں پر یہود کے آلۂ کار اور عمران خان نے نوزشریف پر غیرملکی ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ Xسروس فوجی افسران نے حاضر سروس پرلگادیا ۔قبائلی علاقوں میں کھل کر دہشتگردی کا کھیل جاری ہے ۔پاکستان میں اعتمادکی بحالی، کردار سازی اورایثاروقربانی کی سخت ضرورت ہے۔انسانیت کابڑا ولولہ ہمیں بچاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

مولانا اجمل قادری کا دورۂ اسرائیل
مفتی محمود کی وفات کے بعد مولانا اجمل قادری اور مولانا فضل الرحمن کا راستہ جداہوگیا تھا
مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
مین سٹریم وسوشل پر میڈیا سید علی حیدر اوردیگر افواہ پھیلارہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اعلیٰ کا دورۂ اسرائیل منافقت ہے۔ایک طرف اسرائیل کیخلاف جلوس اور دوسری طرف درپردہ تسلیم کرنے کی کوشش۔ مولانا اجمل کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہے اور مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے اور مولانا عبیداللہ انور کے بیٹے ہیں۔ مفتی محمود وفات پاگئے توپھر جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری پر اختلاف ہوا۔امیر درخواستی صاحب نے مولانا عبیداللہ انورکی تجویز پیش کی اور جماعت کی شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کو مفتی محمود کے بعد جنرل سیکرٹری منتخب کرلیا۔ جس کے بعد جماعت تقسیم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن MRDکیساتھ کھڑے ہوگئے اور مولانا اجمل قادری ضیاء الحق کیساتھ تھے۔ نوازشریف کیساتھ اسلامی جمہوری اتحاد میں تھے۔ 1988ء میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو جمعیت علماء اسلام ف ن لیگ کے ہی خلاف تھی۔ پھرآئی جے آئی کی حکومت آئی تو بھی مولانا فضل الرحمن انکے خلاف تھے۔ پھر دوبارہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی کے اتحادی بن گئے اور جب ن لیگ کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن اسمبلی میں بھی نہیں تھے لیکن ن لیگ کے سخت خلاف تھے۔ مولانا اجمل قادری نے سب کچھ بتادیا ہے، البتہ تضاد بیانی بھی کی ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن کو موردِ الزام ٹھہرانا انتہائی حماقت ہے۔ علی حیدر کو چاہیے کہ اتنا تو دیکھ لیتا کہ ایک بالکل غیرمعروف شخصیت جمعیت علماء اسلام کی سرپرست اعلیٰ کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرکزی جمعیت علماء اسلام کا کہیں نہ کہیں کوئی لنک بنتا ہے تو بھی یہ غلط ہے۔ شیعہ سنی روایتی فرقہ واریت کی ٹچ اس میں داخل کرنا صحافت اور شیعہ دونوں کیلئے نیک شگون نہیں ہوسکتے ہیں۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی نے ببانگِ دہل اسرائیل سے تعلقات کی بات کی اور اگر مولانا فضل الرحمن کی سمجھ میں بات آگئی تو وہ بھی مولانا اجمل قادری اور شیرانی کی طرح بلکہ ان سے زیادہ کھل کر بات کرنا چاہیںگے۔ مصر، ترکی ، عرب امارات، بحرین اور اردن وغیرہ ہمارے لئے کوئی ناقابلِ نفرت نہیں ہیں تو نوازشریف کی نیت پر بھی شک نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ بتاناضروری ہے کہ اس وقت نوازشریف پر بینظیر بھٹو نے بھی اسرائیلی ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور نوازشریف اسٹیبلیشمنٹ کا متفقہ نمائندہ اور کارندہ تھا۔ اپنے ضمیر کے مطابق تما م ایشوز پر جذبات اور بلیک میلنگ کی جگہ حقائق پر بات کرنا یقینا سب کے مفاد میں ہے۔بلوچ اور قبائل میں بھی فلسطین جیسے حالات سے گزرے ۔اب حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے خلاف فلسطینیوں اور یہودیوں کی طرح محاذ جنگ کھول دیا جس میں سیاسی پارٹیوں کا بڑا عمل دخل ہے اور مذہبی طبقے کا کردار زیادہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کبھی 100بچوں کو قتل کرکے کیمیکل میں سڑانے کی خبر آتی ہے، کبھی قصور بچوں اور بچیوں کے ریپ کی کہانی میڈیا پر آتی ہے ،اچھے خاصے غیرتمند پنجاب کو کیا ہوا ہے؟۔یالیڈروں کا قصور ہے؟
پشتون، بلوچ ،سندھی اور مہاجروں کی تبلیغی جماعت ودعوت اسلامی کی طرز پرمگر ذرا ہٹ کے ٹیمیں تشکیل دیکر مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں تو بے غیرتی کے وبائی مرض سے بچیں!
دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ اور سندھ حکومت نے بڑا کچھ کیا ، ریاست نے کام دکھایامگر آخر میں والدین کو ملاقات کیلئے زیادہ وقت اور موقع ملنا چاہیے تھا وہ ابھی تک شکوہ کررہے ہیں۔
مئی کے آخر میں BBCاردو کی رپورٹ کہ پنجاب سے40 ہزار بیٹیاں 2017ء سے2022ء تک اغواء ہوئیں، 37ہزار بازیاب اور ساڑھے تین ہزار ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایک بیٹی کے والدین کاانٹرویو دیا ۔ ماں باپ نے دو سال سے لاپتہ بیٹی کو بازیاب کرانے کی کوشش میں گھر بیچ دیا اور کنگال ہوگئے۔ ملزمان معلوم ہیں لیکن بااثر ہیں ۔پولیس اور عدالتوں کے چکر لگائے لیکن بیٹی نہ ملی۔ کھانا پینا ، سونا اور دن رات کا سکون غارت ہے۔ والدین نے BBCکے نمائندے سے کہا کہ زندہ یا مردہ حالت میں مل جائے، جینامشکل ہوا۔ یہ ایک بیٹی کے والدین کی کہانی نہیں اسی طرح ساڑھے تین ہزار بیٹیاں تاحال لاپتہ ہیں ۔ اگر پنجاب میں ہزاروں بیٹیوں کی داستانیں ہیں تو پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کو اپنے مسنگ پرسن کا غم ایک طرف رکھ کر گوادر و تربت سے ڈیرہ بگٹی تک، حب چوکی سے کوئٹہ تک بلوچوں کی جماعتیںاور کراچی سے کشمور تک سندھی اور مہاجروں کی جماعتیں اور کوئٹہ سے سوات تک پشتون جوانوں کی جماعتیں تشکیل دینی ہوں گی جو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے طرزپر مگر ذرا ہٹ کے اپنے مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں اور ان کو برہمن واچھوت جیسے بدترین کلچر سے نکالیں۔ بے غیرتی وبائی مرض سے زیادہ خطرناک ہے جس پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ہمارا پنجابی بھائی اپنی غیرت میں کسی سے پیچھے نہیں تھا لیکن جب سیاسی قیادت نے بدمعاشوں کی سرپرستی کرکے ظلم کی آبیاری کی تو بے غیرتی کی بیماری نے گھر کرلیا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ کبھی سو بچے کو قتل کرکے کیمیکل میں گلانے کی کہانی سامنے آتی ہے ، کبھی قصور میں ان گنت بچے اور بچیوں کے ریپ کی میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے اور اب 40ہزار سے زائد بیٹیوں کے اغواء کی خبر نے دنیا کو حیران کیا۔ پنجاب میں ہندوستان کی طرح خواتین پر بہت مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کا تدارک کرنا حکومت، ریاست اور دانشوروں کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ بسا اوقات جھوٹی کہانیاں بھی گھڑی جاتی ہیں جو بہت خطرناک ہیں۔ چیچہ وطنی میں ایک مرتبہ ن لیگ کے رہنما کے مشورے پر جھوٹی کہانی میڈیا پر آئی اور افسوس کہ ہم نے بھی چھاپ دی ۔ جھوٹے قصے کہانیوں کے افواہ سازسوشل میڈیا سینٹرز سیاستدانوں کے نیٹ ورک ہیں۔ ان کو مین اسٹریم میڈیا پر پکڑکر سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
اگر دعا زہرہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے تب بھی اس کے والدین کے حقوق سلب نہیں ہوتے ہیں۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ بچی ان کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئی تھی لیکن ایک مونچھوں والے سادہ کپڑے میں ملبوس پولیس اہلکار نے بچی کا بازو پکڑا اور یہ کہہ کر لے گیا کہ میں اس کا باپ ہوں۔ پھر جج کے پاس گئے تو جج نے منع کیاکہ بار بار اسٹیٹ منٹ نہیں لی جاتی۔ ہمارے ملک میں عورت کواسلامی حقوق حاصل نہیں ہیں اور اگر ان کو اس طرح اپنے والدین کے آسرے سے دور رکھا گیا تو ان کا مستقبل بھیانک ہوسکتا ہے۔ اگر بچی نے مرضی سے شادی کی ہے تو بھی والدین سے رابطہ نہ کاٹا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یتیم عورتوں کا اسپیشل خیال رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر اس کے والدین زندہ ہوں اور پھر اس کو عدالتی حکم کے ذریعے سے والدین کے سائے سے محروم کیا جائے تو یہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ سندھ میں 16سال سے کم عمر کی لڑکی کیلئے قانون بہت پہلے بدل چکا تھا۔ جس میں عمر کی کم از کم حد 18سال کی گئی اور پھر پورے پاکستان میں بھی 18سال کی عمر لازمی کرنے کا قانون میڈیا میں آیاجو غالباً پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔ یہ ان لڑکیوں کیلئے ہونا چاہیے جن کے والدین راضی ہوں۔ لیکن جب والدین راضی نہ ہوں تو حدیث میں آتا ہے کہ جس نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کی فقہ میں جمہور فقہاء مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ اور اہل حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح ناجائز اور حرامکاری ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر میری کوئی بات صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو۔ امام ابو حنیفہ نے چیف جسٹس بننے کی پیشکش مسترد کردی تو ان کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ 85فی صد فقہی مسائل امام ابو حنیفہ کی مخالفت میں ان کے فقہ کے نام پر دئیے جاتے ہیں۔ تاہم فقہ حنفی کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر لڑکی کا خاندان لڑکے کے خاندان سے دنیاوی وجاہت میں اعلیٰ درجے کا ہو تو پھر ولی کے مسترد کرنے سے نکاح شرعاً مسترد ہوجائے گا۔ امریکہ اور مغرب میں نکاح کے بعد عورت آدھی جائیداد کی مالک بن جاتی ہے اور جب چاہے شوہر سے اپنی جان بھی چھڑاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں بچے جنوانے کے بعد بھی جب چاہیں تو لڑکی کو گھر سے نکال سکتے ہیں اور وہ خلع لینا چاہے تو مولوی کی شریعت میں خلع کا تصور نہیں۔ الا یہ کہ عورت کو بلیک میل کرکے اس کی تمام آباء و اجداد کی جائیداد کو اپنے نام کرواکر خلع دینے پر شوہر راضی ہوجائے۔ یہ جہالت ابو الاعلیٰ مودودی اور جاوید غامدی تک نے بھی قرآن کے من گھڑت ترجموں میں لکھی ہے۔ ججوں سے اتنی استدعا ہے کہ شریف والدین کے دل کی بدعاؤں سے بچیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر مطالبہ کیا ہوتا کہ پیٹرول اور بجلی مہنگاکرو اور ملک بچاؤ توآج وہ بالکل سرخرو ہوتے مگر مہنگائی کیخلاف نعرے لگانے والوں نے مہنگائی کردی ؟

پوری قوم اور دنیا کے سامنے اللہ نے منافق سیاسی ٹولے اور اسکے زرخرید صحافیوںکوننگا کرکے رکھنا تھااسلئے کہ بے انتہاء مہنگائی کرکے ثابت کردیا کہ اصل مقصد اقتدار میں آنا تھا

وزیراعظم شہبازنے کہا ” میں اس بات پر قائم ہوں کہ اگر پختونخواہ کی حکومت نے آٹا سستا نہ کیا تو کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا”۔ پہلے اپنے کپڑوں کا کہا اور پھر بات بدلی۔مرد آہن کو کپڑے کا نہیں لوہے کا تجربہ ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کریں۔ہزاروں کا روزگار اور اربوں منافع سے معیشت بحال ہوگی۔ اسٹیل ملز کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسٹیل کے پراسیس میں ایک عنصر بلوچستان سے نکلتا ہے جوچین خریدتا ہے پھر مہنگے دام امپورٹ کیا جاتاہے اگر اسکا کارخانہ لگ جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کماسکتا ہے۔چین نے انڈسٹریوں سے ترقی کی اور ہمارے انڈسٹریلسٹ سیاستدان قرضے لیکر خودکو دیوالیہ شو کرکے قرضہ معاف کرانے میں ایکسپرٹ ہیں۔ چین سے سی پیک کی مد میں پہلی قسط 19ارب ڈالر ملی تھی پھر کتنے پیسے ہتھیا لئے تھے؟۔ IMF کاقرضہ اُتارتے مگر لزرداری نے6سے16تک IMFکا قرضہ پہنچایا، نوازشریف نے 14 ارب ڈالر لیکر30تک پہنچادیا۔ بے دریغ سودی قرضہ ملک کو ڈبونے کیلئے کافی تھا ۔ ہم نے اسی وقت نشاندہی کی تھی کہ دفاعی بجٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم سود کی مد میں رقم دی جاتی ہے۔ سود ی قرضوں سے نکلنا چیلنج تھا ۔ قوم گرداب میں پہلے پھنسا دی ۔ زرداری کو روڈ پر گھسیٹنے، پیٹ چاک کرکے پیسے نکالنے اور چوکوں پر لٹکانے کی باتیں لندن بیماری کا علاج کرنے گئیں؟۔ جب پختونخواہ کی بجلی، تیل اور گیس پنجاب وپاکستان میں برابر کی قیمت پر جارہی ہے تو پنجاب کا آٹا اسی قیمت پرآنا چاہیے۔ اگر شوبازی کرنی ہے تو اپنا انگریزی ہیٹ امیر مقام کو دو،وہ سلیمانی ٹوپی پہن کر پنجاب سے پختونخواہ آٹااسمگلنگ کریگا اور سستا ہوجائیگا؟۔ قوم مسخروں کی متحمل نہیں۔ پہلے مہنگائی مکاؤ کا شور مچایا اور جعلی کی جگہ اصلی الیکشن کا مطالبہ تھا۔ ملک کو بچاؤ، پیٹرول وبجلی بڑھاؤ مطالبہ ہوتا تو آج سرخرو ہوتے۔ نعرہ لگایا مہنگائی کیخلاف اورمہنگائی آسمانوں تک پہنچادی۔ نعرہ لگایا الیکشن کا؟ ملکربھی الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔ منافق ٹولے کیساتھ لفافہ مافیا صحافی ننگے تھے تو تڑنگے بھی بن گئے۔ اللہ نے جھوٹی شرافت و اصول پسندی کا نقاب اُتارنا تھا۔ عمران خان صوبوں وغیرہ سے کٹوتی کرکے پیٹرول کی قیمت کو کنٹرول کررہاتھا۔ کھاؤ پیو عیش اُڑاؤمافیا نے اقتدارلیکر مہنگائی کی جگہ غریب عوام مکاؤ کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر لال خان کہتاتھا: مجموعی ٹیکس کا85 فیصد بالواسطہ عوام سے لیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے کمیشن اور ٹھیکوںاور سامراجی سود کی ادائیگی میںاُڑادیا جاتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022