پوسٹ تلاش کریں

معاشی نظام کیلئے قومی حکومت بنائی جائے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ

معاشی نظام کیلئے قومی حکومت بنائی جائے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ

ڈیرہ اسماعیل خان سینئر ایڈوکیٹ جہانگیر خان سے عتیق گیلانی نے یہ استفسار کیا کہ موجودہ مشکل صورتحال میں پاکستان بچانے کیلئے آپ کیا تجویز پیش کریں گے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ سینئر ایڈوکیٹ کے علاوہ مذہب، تاریخ، سیاست اورریاست کے حوالے سے زبردست بصیرت کے مالک ہیں ۔پاکستان کی تحریکوں اور شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،جن کی فکرو بصیرت سے رہنمائی ملتی رہتی ہے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا شخص، پارٹی یا ادارہ نظر نہیں آتا ، جو موجودہ حالات پر ملک وقوم کو بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہی کی وجہ سے تو یہ حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ چند خسرے، لونڈے ، لونڈیاں اور بھانڈ ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے کیلئے دن رات ٹی وی اور سوشل میڈیا پر پھلجھڑیاں چھوڑنے میں مصروف ہیں۔ مریم نواز ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟۔ بلاول بھٹو قوم کی تقدیر بدلے گا؟۔ عمران خان کی ذاتی ایمانداری مسئلے کا حل نہیں ہے اس کی ٹیم نے بھی اس ملک کو ویسا ہی لوٹ لیا جس طرح دوسروں نے لوٹا ہے۔ سیاست چلتی رہے گی لیکن معاشی صورتحال کو بہتر بنانا سب سے زیادہ ضروری ہے اور اب اس ملک کاایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے مضبوط معیشت کا۔ اگر پاک فوج سیاسی پارٹیوں کی ایک قومی حکومت بنانے میں کامیاب بقیہ صفحہ 2نمبر2پر

بقیہ نمبر2 … جہانگیر خان ایڈوکیٹ
ہوجاتی ہے جس کی معاشی ٹیم ملک کی معیشت کو سہارا دیدے اور معاشی حالت ٹھیک ہوجاتی ہے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ مذہب، غیرت اور مختلف نعروں کو آزمایا جاچکا ہے اور اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام اور جمہوریت کے نام پرتحریک چلانے اور جذبات ابھارنے سے اب لوگ بیزار ہیں اور معیشت اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جمہوریت اسلئے ہوتی ہے کہ عوام کے حقوق ، مالی خوشحالی اور ان کی آزادی کاتحفظ کیا جاسکے۔ یہاں جمہوریت کے نام پرعوام کو قید ، حقوق سے محروم اور مالی طور بدحال کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں ٹاؤٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جھگڑا عوام کے مفادات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پارٹیوں کے مفادات کا مسئلہ ہے۔ مال خرچ کرکے اور عوام کے جذبات بھڑکاکر پارٹیوں سے پارٹیاں کھیل رہی ہوتی ہیں۔ اگر قومی حکومت کی تشکیل میں ہمارے اصحاب حل وعقد کا میاب ہوگئے اور معاشی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا گیا اور ملک کی معیشت بچالی گئی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور پھر سیاست اور جمہوریت بھی چلے گی اور اختلافات بھی چلتے رہیں گے لیکن اب ہم نے ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیا ہے۔ پاکستان میں محب وطن اور وطن کی دشمن دوقسم کی قوتیں سرگرم عمل ہیں۔ کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جہاں پر اس طرح کی قوتیں کھل کر اور چھپ کر کام کرتی ہوں۔ بیرون ملک ہماری دشمن قوتوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ کوئی ایسا ماحول بن جائے اور ملک نیست ونابود ہوجائے۔ ریاست نے اپنی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں دشمنوں کو تقویت پہنچائی ہے اور جن کو پالا ہے انہوں نے دشمن سے بھی زیادہ ملک کو خطرے کی حالت تک پہنچادیا ہے۔ کوئی سیاسی لیڈر بنتا ہے تو وہ تین سوکتابیں پڑھتا ہے، ملک اور قوم کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور بین الاقوامی حالات کو سمجھتا ہے لیکن ہم کھلاڑیوں اور کاروباریوں کو اپنے ملک پر مسلط کرکے مسیحا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔باہمی مشاورت سے ماہرین کی چندسالوں تک حکومت مسائل کا حل ہے اور یہ بات دنیا جانتی ہے کہ ریاستیں اور حکومتیں چلانے کیلئے مختلف شعبوں کے تھنک ٹینک ہوتے ہیں۔ غل غپاڑے،ڈرامے،مفادپرستی اور مداری تماشے سے ملک نہیںچلتے۔ ریاست وحکومت کی بنیادی ضروریات کو ماہرین کے تھنک ٹینک کی مشاورت سے چلایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں سیاسی اُفق پر جتنی پارٹیاں نمودار ہوتی ہیں وہ دوست یار اور اپنے وفادار کو نوازنے کیلئے ہوتی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

افغانستان، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام تباہ کرنے والا اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکہ دوست لیکن اسرائیل بلیک میلنگ کا ذریعہ؟۔

افغانستان، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام تباہ کرنے والا اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکہ دوست لیکن اسرائیل بلیک میلنگ کا ذریعہ؟۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریک انصاف کی رہنما سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے پاک فوج کو اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے جب اپنا بیان جاری کیا تو میڈیا پر اس سے بھونچال آیا اور تہلکہ مچ گیا۔

جیو نیوز ”آپس کی بات” کے میزبان منیب فاروق نے پاکستانی نژاد امریکنNGOکے وفد اور صحافی احمد قریشی سے پوچھا کہ اسرائیل جانے اور اسرائیلی صدر وغیرہ سے ملاقات کے کیا مقاصد تھے؟

ARYنیوزٹائپ کے صحافی احمد قریشی نے بتایا کہ75سالہ تاریخ میں پاکستان میں پہلی بار کسی یہودی کو پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے جس کا کریڈٹ ریاست اور تحریک انصاف کو جاتا ہے

تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسرائیل کے حوالے سےISPRپاک فوج کے ترجمان کو دھمکی دی تو عدالت نے باغی ارکان کے ووٹ کاؤنٹ نہ کرنے کا فیصلہ دیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف ریاست کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جیو نیوز اور صحافیوں کے ایک ٹولے کی طرف سے عمران خان کی حکومت اور پاک فوج پرایک دباؤ اور ن لیگ کو ریلیف اور وکالت کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب پانسہ پلٹ گیا ہے تو پاک فوج کو عمران خان کے دباؤ سے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اگر شیریں مزاری یہ اعلان کردیتی کہ پاک فوج نے درپردہ اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا جس کے پیچھے امریکہ تھا اور ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت امریکہ کی ایماء پر ختم کردی گئی تو پاک فوج سے محبت کرنے والے جلاؤ گھیراؤ پر اتر آتے جو کسی طاقت سے پھر سنبھالے نہیں جاسکتے تھے۔ عمران خان نے خوف کے مارے یہ رسک لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج پر عمران خان بھی قربان ہو۔
اسرائیل جانے والے پاکستانی نژاد امریکن وفد میںARYنیوز کے صابر شاکر ٹائپ کے صحافی احمد قریشی نے انکشاف کیا کہ75سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک یہودی کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا جسکا کریڈٹ ریاست اور عمران خان کی حکومت کو جاتا ہے۔ وفد کا مقصد پاکستان کی نمائندگی کرنا نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی تھا۔ اسرائیلی حکومت کے نمائندوں نے بتایا کہ جس طرح ہم اپنے سخت گیر لوگوں کو سامنا کررہے ہیں جو مسلمانوں اور فلسطینیوں سے تعلق کی بحالی نہیں چاہتے۔ اسی طرح تم لوگوں کو بھی ان شدت پسندوں کا سامنا ہے۔ جب آپ کی طرف سے پیش رفت ہوگی تو ہم بھی اپنے لوگوں کو مطمئن کرسکیں گے۔ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے بعد سب سے زیادہ تعداد ترکیوں کی تھی جن کا50سال سے اسرائیل سے دوستانہ تعلق ہے۔ مصر، عرب امارات، بحرین اور دوسرے مسلم ممالک نے اسرائیل سے تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ منیب فاروق نے پوچھا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری جو تاثر دے رہی ہے کہ ہماری حکومت کی رخصتی کے بعد امریکہ سے پاکستانیوں کا وفد اسرائیل گیا تو کیا اس کے پیچھے عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت قائم ہونے کا کوئی تعلق ہے؟۔ جس کے جواب میں احمد قریشی نے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں اورصحافت کا تعلق خبر سے ہوتا ہے۔پرویز مشرف کے دور میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بھی اسرائیلی سفیر سے خفیہ ملاقاتوں کی خبریں میڈیا پر آئی تھیں۔ عمران خان کے دور میں اسرائیلی جہاز کی آمد کے حوالے سے بھی مذہبی و سیاسی رہنماؤں میں خبر گردش کررہی تھی ۔پاکستان کی ریاست اور عوام کے درمیان گیس بھرے غبارے کا تعلق ہے۔ فضاؤں میں اڑنے والا غبارہ کب پھٹ جائے یا پھر کب گیس خارج ہوجائے؟ یہ ریاست ، سیاست اور صحافت کی بساط پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے بائیں ہاتھ کا ایک کھیل ہے۔ جب مقتدر طبقات، سیاستدانوں اور صحافیوں میں شعور نام کی کوئی چیز نہ ہو تو بے خبر عوام سے کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟ ذرا سوچئے تو سہی3بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کا بھائی کئی بار کا تجربہ کار وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کررہا ہے؟۔
عوام الناس کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کے مخصوص طبقے کو بھی شعور دینا بہت ضروری ہے۔ پنجاب کی عوام کا حال بھارت کے پسماندہ طبقات سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ جن کو گلی، محلے، علاقے اور سیاسی بدمعاشوں کے علاوہ پولیس، عدالت کچہری اور معاشرتی چوہدریوں کی چودھراہٹ کا سامنا ہے۔ پختونخواہ، سندھ، بلوچستان اور کراچی کے غریب عوام کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تھوڑا سا خوشحال طبقہ برگر کلاس فارمی اور فینسی مرغیاں اور پرندے ہیں۔ بقیہ صفحہ2نمبر3

بقیہ نمبر3…اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بلیک میلنگ
جن کا سیاست ، نظرئیے اور انسانی ہمدردیوں سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ عمران خان جتنے لوگوں کو نظرئیے کے نام پر اکھٹا کرتے ہیں اگر وہ اپنی بیٹی ٹیرن وائٹ کو میدان میں لائیں تو ان سے زیادہ بڑا اجتماع ہوگا۔ جب قوم کو شعور نہیں ملتا تونظریاتی بننے کے بجائے لوگ اُلو بنتے ہیں۔ جمہوریت نے باشعور لوگوں کو عمران خان اور سب جماعتوں کی کارکردگی زبردست طریقے سے دکھادی ہے۔
امریکہ نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی تباہ کردیا اور پھر عراق، لیبیا اور شام کو بھی تباہ کردیا اور یوکرین روس کے ہاتھوں امریکہ نے ہی تباہ کیا۔ عمران خان کہتا ہے کہ میں غیرت پر جیتا اور مرتا ہوں لیکن جب اس کو خوف تھا کہ اپوزیشن حکومت کیلئے مشکلات پیدا کریگی اور قرار داد لانے پر فرانس کے سفیر کو باہر نکالے گی تو پھر وعدے کے باوجود توہین رسالت کے مرتکب فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا۔ عوام نے نہ صرف پولیس والوں اور عوام کو قتل اور زدوکوب کیا بلکہ سری لنکن شہری کو سرِ عام بہیمانہ تشدد سے قتل کرکے جلا ڈالا۔ یہ وہی جذبہ تھا جو عمران خان نے ن لیگ کی حکومت کیخلاف مشکلات کھڑی کرنے کیلئے عوام میں پیدا کیا تھا۔ جس کی پھر عمران حکومت شکار ہوئی۔ اگر امریکہ نے عمران خان کو حکومت سے نکالا اور عمران خان امریکی سفیر کو نہیں نکال سکا تو ایسی بہادری پر پوری قوم نے عمران خان کو مسیحا ماننا ہے کیا؟۔
ہماری ریاست اور متحدہ حکومت کو اصل ڈر عوام کی اس جہالت سے ہے جو انہوں نے اسرائیل وامریکہ کیخلاف اور مذہب کے نام پر خود کاشت کی ہے۔ عمران خان کی ایک خاتونMNAنے اپنے دورِ حکومت میں مرکزی خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ تبلیغ بھی شروع کردی تھی کہ ہم نماز میں یہودیوں پر درود بھیجتے ہیں۔ اسلئے کہ یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ، چور مچائے شور کی بہت ساری کہاوتیں مشہور ہیں۔
جب صدر مملکت عارف علوی نے عدالت کو ریفرنس بھیجا کہ باغی ارکان کی پوزیشن واضح کی جائے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں بھی مخمصے کا شکار ہوگئی تھیں کہ اگر اتنے ارکان کی بغاوت ہے تو حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔ لیکن عدالت نے اتنی دیر کردی کہ تحریک انصاف کے اتحادیوں نے راہیں جدا کرلیں۔ جب منظر نامہ بدل گیا تو عدالت کا فیصلہ آگیا۔ اگر عمران خان نے راتوں رات عدالت لگانے پر درست اعتراض کیا تھا تو اس کو چاہیے تھا کہ اعلان کرتا کہ جج صاحبان اس کو رول کرکے اپنی کرسی کے اوپر رکھ لیں ہوسکتا ہے کہ انکے کام آجائے۔ بزدار سے تو ویسے استعفیٰ لیا تھا اور پرویز الٰہی کی بھی مٹی پلید ہوچکی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کا بیٹا وفاقی وزیر ہے۔ پنجاب کی حکومت کا دانہ چگنا ممکن نہیں ۔علیم خان اور جہانگیر ترین بھی مخالف جانب ہیں تو اس گناہ بے لذت حکومت کی بحالی پر عدالت کو خوش آمدید کہنا عقل کی بات نہیں۔
ہندوستان سے علیحدگی کی بنیاد مسلمانوں کا الگ وطن پاکستان تھا۔ اسلام کا نظام اتنا بہترین ہے کہ غریب، امیر اور متوسط طبقات کے علاوہ مسلم اور غیر مسلم سب کیلئے قابل قبول ہے۔ لیکن مذہبی طبقات نے اسلام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر اسلامی مزارعت کی بنیاد پر سُودی نظام کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے اور محنت کشوں کو اپنی محنت کا پورا پورا صلہ ملے تو دنیا بھر کے کامریڈ اسلامی نظام کیلئے کھڑے ہوجائیں گے اور روس وغیرہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
14سالہ چھوٹی بچی دعا زہرا کو والدین سے الگ کرکے شریعت کے نام پر نکاح کرنے کی گنجائش مولوی کے خود ساختہ مذہب میں ہے۔ قرآن و سنت میں نہیں ہے۔ میاں بیوی کی ناراضگی کے بعد باہمی صلح کیلئے حلالے اور بے غیرتی کی بنیاد قرآن و سنت نے نہیں ملاؤں نے رکھی ہے۔ جب لوگوں میں غلط فرسودہ حلالے کی روایت کو توڑنے کی غیرت نہیں ہے تو ان سے اور کیا غیرت کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟۔ قرآن نے سورۂ نساء آیت19میں عورت کو خلع اور شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے۔ آج اگر ڈاکٹر عامر لیاقت اعلان کردے کہ میں نے دانیہ سمیت کسی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے تو مولوی کے مذہب کے مطابق عدالت کو خلع دینے کا حق نہیں۔ حالانکہ جس طرح شوہر کو طلاق کا حق ہے اسی طرح سے بیوی کو قرآن و سنت نے خلع کا حق دیا ہے۔ جس کیلئے عدالت میں جانے کی بھی ضرورت نہیںہے ۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے شوہر بیوی کو طلاق دے تو پھر بھی مالدار اور غریب کو اپنی وسعت کے مطابق آدھا حق مہر دینا فرض ہے لیکن جب خواتین سے کئی بچے جنوائے جائیں اور پھر ان کو طلاق دے کر نہ صرف گھروں سے باہر بھگایا جائے بلکہ ان کے بچے بھی چھین لئے جائیں تو ایسا ظلم اسرائیل و امریکہ اور کسی بھی غیر مسلم ملک میں نہیں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ملاؤں کا بگڑا ہوا اسلام درست کرنا ہوگا پھر معاشرہ خود بخود مثالی بنے گا اور ترقی کرے گا۔
قرآن میں معاشرتی مسائل کی زبردست وضاحت ہے جس کی طرف ملاؤں کا دھیان نہیں گیا۔ قرآن میں تسخیر کائنات ہے۔ مسلمان سائنسدانوں نے مختلف شعبوں میں سائنسی ترقی کے حوالے سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اگر اس روش پر مسلمان قائم رہتے تو آج سائنسی ترقی میں مسلمانوں کا بہت بڑا حصہ ہوتا۔ قرآن نے بادلوں اور بجلی کی تسخیر کابتایا۔غیر مسلموں نے الیکٹرک اور الیکٹرانک سے دنیا کو روشن کردیا لیکن فقہاء غسل کے فرائض کی تسخیر میں لگے ہوئے تھے۔ مولانا شاہ تراب الحق قادری اور دعوت اسلامی کے مفتیوں نے عوام کو ان فقہی مسائل سے آگاہ کیا کہ ”روزے کی حالت میں پاخانہ کرنے کے بعد زور دے کر اپنے مقعد سے نکلنے والی آنت کو باہر رہنے پر مجبور کرو اور دھو کر اس کو کپڑے سے سکھادو نہیں تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور استنجا کرتے وقت اپنی سانس کو بند رکھیں اسلئے کہ مقعد میں پانی چڑھ جائے گا اور روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
اللہ تعالیٰ مذہبی طبقات سمیت ہمیں اور سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین ہمیں معلوم ہے کہ بعض قادیانیوں نے شیعوں کے خلاف آگ بھڑکانے میں بڑا کردار ادا کیا اور قادیانی جتنے قابلِ نفرت ہیں تو ان کی اپنی روش اس میں شامل ہے۔ تاہم قادیانی کو صرف اسلئے کہ وہ قادیانی ہے قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔ جو اس کو جائز سمجھتا ہے تو بڑے علماء ومفتیان بسم اللہ کریں۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کے وال بھی قادیانی ڈاکٹر مبشر نے بدلے تھے۔ اوکاڑہ میں ایک قادیانی کو قتل اور اسکے تین سالہ بچے کو زخمی کرنا ایک مدرسے کے نئے فاضل علی رضا کی طرف سے بہت قابلِ غور معاملہ ہے۔ زندیق کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اور قادیانیوں کو زندیق قرار دیا گیا ہے۔ پھر جنگ گروپ کے مالک نے قادیانی لڑکی کو توبہ کرواکر کیسے شادی کی ؟۔ نبی ۖ نے نبوت کے دعویدار ابن صائد دجال کو قتل نہیں کیا اور نہ اکابر علماء نے مرزاغلام احمد قادیانی کو قتل کیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

پاکستان میں مخدوش سیاسی صورتحال کا تجزیہ اور اس کے حل کیلئے کچھ بنیادی تجاویز

پاکستان میں مخدوش سیاسی صورتحال کا تجزیہ اور اس کے حل کیلئے کچھ بنیادی تجاویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” فساد ظاہر ہوگیا بحروبر میں بسبب اس کے جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے”۔ سورہ ٔ نور میں اللہ تعالیٰ نے افواہ کی بہت سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جب صحابہ کرام اور نبی رحمتۖ کے دور میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے خلاف بہتان کی افواہ اُڑی تھی تو اللہ نے اچھے اچھے عقلمندوں اور نیکوکاروں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم یہ کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین اینکر، سیاستدانوں کی بیٹیوں اور عورتوں کے خلاف کیا سے کیا بیہودہ بہتان طرازیاں نہیں ہورہی ہیں لیکن ہماری ریاستی مشنری کبھی میدان میں نہیں اتری ہے اسلئے کہ وہ پاک فوج زندہ باد کا نعرہ بھی لگا دیتے ہیں۔ اگر ان پر بروقت گرفت کی جاتی تو آج پاک فوج کے خلاف بھی یہ افواہیں پھیلانے کا سلسلہ کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ اگر یہ قانون بنایا جاتا کہ سورۂ نور کے مطابق غریب وامیر اور طاقتور اور کمزور کیلئے ایک قانون ہے تو بھی یہ بد سے بدترین سلسلہ رُک سکتا تھا۔ آج بھی اگر پارلیمنٹ میں برابری کا قانون لایا جائے تو پارلیمنٹ کے نظام کو لاحق خطرات ٹل سکتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے نام پر اقتدار کرنے والے عمران خان اس قانون کو لاتا تو لوگ تبدیلی سرکار کو سلام پیش کرتے۔مولانا فضل الرحمن حکومت کے روح رواں ہیں۔ مذہبی امور کے وزیرمفتی عبدالشکور بیٹنی قرآن وسنت کا واضح خاکہ پارلیمنٹ میں پیش کریںگے تو کام بنے گا۔ جمہوری انداز میں مشاورت کا بہترین موقع ملتا ہے۔ قرآن کے ہتک عزت کے قانون کی حمایت پارلیمنٹ، اشرافیہ، جرنیلوں ، ججوں اور تمام عوام کی طرف سے ہوگی اور یہ جمود کو توڑنے میں ہوا کاپہلا جھونکا ہوگا۔
کسی کی عزت اربوں میں اور کسی کی عزت اتنی بھی نہ ہو کہ وہ عدالت میں وکیل کی فیس کا خرچہ ادا کرنے کے قابل ہو۔ امیر کیلئے10کروڑبھی کوئی سزا نہیں اور غریب کیلئے10لاکھ بھی بڑی سزا ہے لیکن80،80کوڑوں کی سزا سب کیلئے برابر ہے۔ انگریز نے نوابوں ،پیروں، خانوں کو جائیدادیںدی تھیں اور کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ بحق سرکار سب زمینیں ضبط کی جائیں گی لیکن مسلم لیگ کو خانوں، نوابوں اور پیروں نے اپنے باطل مقاصد جائیداد کو ضبط ہونے سے بچانے کیلئے سپورٹ کیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلمانوں کی خیر نہ ہوگی اور پاکستان میں اسلام کی خیر نہ ہوگی ” اور ان کی بات بالکل سچ ثابت ہوئی ہے۔ اسلام کا پہلے بھی بہت کباڑہ کیا گیا اور اسلام کی نشاة ثانیہ والوں کو حکومت، عوام اور خواص نے سپورٹ نہیں کیا تھا ۔
نبی ۖ کے زمانے میں یہود ونصاریٰ کے علماء ومفتیان کی اجارہ داری تھی۔ انہوں نے اپنے احبار ورھبان کو اللہ کے علاوہ اپنا ارباب بنالیا تھا۔ اہل کتاب کے مذہبی طبقات نے دین میں تحریف کر ڈالی تھی اور عوام ان کے حلال وحرام کو حلال وحرام سمجھتے تھے اور یہی ارباب بنانا تھا۔ اللہ نے نبیۖ سے فرمایا تھا کہ لن ترضی عنک الیہود والنصاریٰ حتی تتبع ملتھم ”یہود ونصاریٰ آپ(ۖ)سے کبھی راضی نہیں ہونگے یہاں تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ دینِ خالص کے مقابلے میں تحریف شدہ دین کو یہودونصاریٰ کے مذہبی طبقات بھی قائم رکھنا چاہتے تھے۔ فارس وروم دو بڑی سپر طاقتیں تھیں اور مسلمانوں کی ہمدردیاں فارس کے مقابلے میں روم سے تھیں اسلئے کہ آگ کی پوجا کرنے والے ایرانیوں کے مقابلے میں روم کے اہل کتاب عیسائی زیادہ مسلمانوں کے قریب تھے۔ خلافت راشدہ نے دونوں سپر طاقتوں کو شکست دی اور ایرانی سب مسلمان ہوگئے لیکن اٹلی سے اسپین تک مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے باوجود گورے عیسائی من حیث القوم مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
ہندوستان کی قوم حضرت نوح علیہ السلام کے امتی تھے۔ اہل کتاب و شرک کے درمیان کھڑے ہندوستانیوں میں کافی تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر بھی بڑی تعداد نے اسلام قبول نہیں کیا کیونکہ ان پر بھی اہل کتاب کے کچھ نہ کچھ اثرات تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کے دور میں تمام ہندو وسکھ قوم نے اسلام کو قبول کرنا ہے۔ اسلام کی بگڑی ہوئی شکل کی وجہ سے گرونانک نے ہندو و مسلمان کے درمیان ایک تیسرے مذہب کی بنیاد رکھ دی تھی۔ اگر اسلام کی صحیح شکل پیش کی جائے تو ہندوستان پورے کا پورا ہندوانہ رسم ورواج کو چھوڑ کر مسلمان بنے گا اور اس کی خوشخبری ہندؤوں کی اپنی کتابوں میں موجود ہے۔
ڈاکٹر شہناز خان اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر لکھتی ہیں کہ ”حکومت مہنگائی کے جن پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس جن کو قابو کرنے کیلئے پہلے کچھ اور جنوں کو جنہوں نے 70سال سے عوام کو مختلف طریقوں سے قابو کیا ہے بند کرنا پڑے گا۔ لیکن کسی میں ہمت ہے کہ یہ بات بھی کرے۔ یہ وہی کرسکتا ہے جس کا ان جنوں سے کوئی رشتہ نہ ہو”۔ سوشلسٹ پاکستان کے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ”شخصیت پرست قوموں کا زوال ان میں عدم برداشت کے عروج پر پہنچنے سے ہوتا ہے”۔ مزید لکھا ہے کہ ”فسادی ایجنڈہ ؟ عوام کو جذبانی بناؤ ، حقیقی مسائل سے انکی توجہ ہٹاؤ ، انہیں تعمیری کے بجائے تخریبی سرگرمیوں میں الجھاؤ”۔ مزید لکھتے ہیں ”ہر وہ شخص بوڑھا ہوچکا ہے جس کے پاس زندگی کا کوئی مقصد نہیں اس کی عمر چاہے20سال ہے اور چاہے70اور80۔ لیکن جس کے پاس مقصد موجود ہے وہ جوان ہے اگر مقصد بڑا ہو تو جوانی بھی اتنی تروتازہ ہوگی”۔ پاکستان انقلابی پارٹی۔ مزید لکھتے ہیں ”اگر فسادی نے 4سالہ دورِ حکومت میں فساد کے بجائے درخت ہی لگائے ہوتے تو اس سال گرمیوں نے یوں شعلے نہ بھڑکائے ہوتے”۔ شفیق خنباطی نے فیس بک پر لکھا ہے ”میں نے پوچھا سنی ہو یا شیعہ؟ ۔ بھیانک ترین جواب ملا ، صاحب بھوکا ہوں۔ اگر آپ کا پڑوسی دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ یا کچھ اور ہے تو اس کا حساب وہ خود دے گا لیکن اگر وہ بھوکا مرگیا تو حساب آپ کو دینا ہوگا”۔ ”واجب القتل” کے عنوان سے فیاض صالح حسین لکھتے ہیں کہ ”دیکھو اس کند ذہن دنیا میں آنکھوں پر پٹی باندھ لو اور کولہو کے بیل کی مانند بس ایک ہی دائرے میں چلتے رہو کیونکہ تم اگر سوچو گے تو صاحب عقل ہوجاؤ گے اور واجب القتل ہوجاؤ گے”۔ فوجی وردی میں ملبوس خاتون کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے ”اگر بلوچ ماؤں بیٹیوں نے بلوچ جہد آزادی کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھالی تو بلوچ سرزمینوں پر دشمنوں کے نشان تک ڈھونڈنے سے نہیں ملیں گے”۔ فدائی شاری بلوچ۔
فیصل آباد کے علامہ حامد رضا کی تقریر ہے کہ ”فوج ہمیں بتاتی رہی کہ رانا ثناء اللہ بیشمار لوگوں کا قاتل ہے تو آج اس کو قوم پر مسلط کردیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسی کے اہلکار ہمیں یہ بتاتے تھے کہ ماڈل ٹاؤن میں رانا ثناء اللہ نے شہباز شریف کے کہنے پر14بندوں کو شہید کیا ہے۔ داتا دربار اور دیگر بم دھماکوں میں جو بینڈ آرگنائزیشن ہیں اس کا پروموٹر رانا ثناء اللہ ہے۔ آپ ہمیں یہ بھی بتاتے تھے کہ کوئٹہ میں بم دھماکوں میں ملوث کونسے لوگ افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ہمیں ڈاکو منٹس دیتے ہیں۔ میرے والد پرویز مشرف کے خلاف اور نواز شریف کے حامی تھے تو نواز شریف نے حرم کے سامنے بیٹھ کر قرآن کا حلف لیا کہ میں نے کوئی ایگریمنٹ نہیں کیا ہے۔ مجھے وہ ایگریمنٹ آپ نے دے دیا۔ توپھر میرا یہ سوال نہیں بنتا کہ جن لشکرنواز لوگوں کیخلاف جن طالبان کے حامیوں کیخلاف، جن کالعدم تنظیموں کے سرپرستوں کے خلاف ، جن ریاست دشمن عناصر کیخلاف ہمیں ثبوت دئیے گئے آج ان کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ آپ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ یہ پاکستان کے غدار ہیں۔ اگر یہ پاکستان آگئے تو مودی کا ایجنڈا لیکر آئیں گے۔ تو آج جب وہ یہاں پر آگئے ہیں تو آپ ان کو سیلوٹ کس منہ سے کررہے ہیں؟۔ پھر اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے اندر غیر ملکی طاقتوں اور سامراج کا ایجنٹ بن کر آپ اپنی عزت بھی کرواسکتے ہیں آپ ایوان اقتدار میں بھی پہنچ سکتے ہیں………۔
جنرلز آف پاکستان آرمی کے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ
وردی میں بہتا خون ہی ہے
اس وردی میں پشتون بھی ہے
ہے قوم و ملک کی رکھوالی
وردی میں جوش و جنون بھی ہے
اقبال کا شاہیں وردی میں
سر سید کا مضمون بھی ہے
پنجابی ، سندھی، بلوچی جواں
اس وردی میں مدفون بھی ہے
اس وردی کو گالی نہ دو
اس پر شہداء کا خون بھی ہے
وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ پر اسلام آباد میں دھرنے والے افغان مہاجرین کا احتجاج ”ہمیں ماردو ” جاری ہے۔ عبد الستار ایدھی نے کہا تھا کہ حمید گل اور عمران خان میرے پاس آئے تھے اور میرے کندھے پر بینظیر بھٹو کی حکومت گرانا چاہتے تھے جس کا میں نے انکار کیا اور لندن راتوں رات منتقل ہوگیا تھا۔ سوشل میڈیا پر ”انصاف اور اُصول کی جنگ لڑنے والی اُم رباب کے قصے اور عزائم کا اظہار ہے”۔ فضل اکبر نے فیسبک اکاؤنٹ پر ”اپیل ” کے نام سے لکھا ہے کہ ”اگرIMFسے قرض لینا مجبوری ہے اور ملکی مفاد میں ہے تو ضرور لیں لیکن کیوں نہ اس بار اس قرض کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکس لگانے کے بجائے یہ کیا جائے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینٹ کے تمام ممبران اور صوبائی و وفاقی وزراء اور وزیر اعظم و صدر ، آرمی چیف اور تمام جج صاحبان اور تمام افسر شاہی سے سوائے اپنی تنخواہ کے علاوہ تمام تر مراعات واپس لے لی جائیں۔ ان کا ہاؤس رینٹ ، بجلی و گیس بل ، ڈیزل و پٹرول خرچ ، ماہانہ لاکھوں الاؤنس اور ریفریشمنٹ خرچ ، گاڑیاں، پروٹوکول، سب کچھ اپنی جیب سے برداشت کریں۔ پھر دیکھتے ہیں مہنگائی کم ہوتی ہے یا بڑھتی ہے۔ ملکی خسارہ کم ہوتا ہے یا بڑھتا ہے۔ ملک پر قرض کا بوجھ کب تک رہتا ہے؟؟؟؟ ”۔
ماہنامہ نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا کہ جب تنگی کا زمانہ آتا ہے تو سب سے پہلے ہم اپنے اضافی خرچوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور دال روٹی پر گزارہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ملک میں بڑے بڑے خرچوں کو چھوڑ کر چند سال فیصلہ کرلیں کہ اپنی ضروریات سے زیادہ عوامی اور حکومتی سطح پر خرچوں کو چھوڑ کر ملک کے قرضوں کو چکائیں گے تو بہت جلد سُودی قرضوں سے نجات ملے گی۔
یکم مئی یوم مزدور پر یاور عظیم کا علامہ اقبال کی نظم ”خضر راہ ” سے اقتباس
بندۂ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ہے یہ پیغام کائنات
اے کہ تجھ کو کھاگیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تک تیری برات
دست دولت آفریں کو مزدیوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰة
ساحر الموط نے تجھ کو گیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات
نسل ، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات
کٹ مرا نادان خیالی دیوتاؤں کے لئے
سکر کی لذت میں تو لٹواگیا نقد حیات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھاگیا مزدور مات
سید محمد علی ایڈوکیٹ فیس بک اکاؤنٹ پر لکھتے ہیں ”عمران خان صاحب اور شہباز شریف صاحب جلسوں پر اربوں روپیہ خرچ نہ کریں بلکہIMFکا قرضہ اتارنے کیلئے اپنے اپنے بینکوں سے پیسہ نکالیں اور جو کم پڑے اپنے اپنے ووٹروں سے فی کس1000روپیہ جمع کریں اورIMFکے منہ پر مار کر قوم کو آزاد کرائیں دونوں حضرات کے 2کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں۔ دیکھتے ہیں دونوں میں سے کونIMFکا قرضہ اتار کر عوام کا دل جیت لیتا ہے۔ میں اس سلسلے میں10ہزار روپے دینے کیلئے تیار ہوں۔ صرف اسلئے کہ ہمارے ملک کا قرضہ اترے۔ اور ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں”۔
نواز شریف نے کلچر و تہذیب کو بدلنے کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیا ہے مگر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور ان کی وفات کے بعد جو گالی گلوچ ذو الفقار علی بھٹو کو نواز شریف دیتا تھا اور پھر سعودیہ سے جلاوطنی کے بعد شہباز شریف نے جو کلچر بنایا تھا اور اس کے درمیان جو کچھ بھی شریف برادران کا کردار رہا ہے وہ کسی طرح سے بھی عمران خان سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ حیران ہوگی کہ کونسے پتر کے کرتوت پر فخر کرسکتی ہوں؟۔ دونوں نے اسلامی جمہوری اتحاد سے لے کر ریاست مدینہ تک خوب گل کھلائے ہیں۔ ایک نے مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کے اسکینڈل کا الزام اسلئے لگایا کہ سودی نظام کیخلاف مولانا نے اپنا مطالبہ رکھا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے انقلابی شاعر سید امین گیلانی نے عابدہ حسین اور تہمینہ کے خلاف جس دور میں اشعار گائے تھے اس تہذیب کی ادنیٰ جھلک بھی تحریک انصاف میں نظر نہیں آتی۔ عمران خان نے بلاول بھٹو سے لے کر ن لیگ اور اے این پی کے رہنماؤں تک مولانا ڈیزل کہہ کر جرم کیا ؟۔
شیخ رشید کو جس طرح پارلیمنٹ جاتے ہوئے گریبان سے پکڑا جاتا تھا اور جو الفاظ حنیف عباسی شیخ رشید کیخلاف استعمال کرتا ہے کہ50ہزار انعام دوں گا جو اس کی وگ اتار کر لائے۔ گھسیٹنے ، پیٹ چاک کرنے اور چوکوں پر لٹکانے کی بات شہباز شریف کرتا تھا۔ ماڈل ٹاؤن میں پر امن لوگوں کو جس طرح پولیس کے ذریعے شوٹ کیا گیا اتنا تو پاک فوج نے قبائل میں دہشت گردوں کیخلاف کسی آپریشن میں بھی نہیں کیا ہے۔ پنجاب میں جس طرح کی بدمعاشی کا کلچر ہے اور اس کی سرپرستی ن لیگ کرتی ہے اس کی ادنیٰ مثالISIکے ایک افسر کو پیٹ ڈالنا ہے۔ گاؤں دیہاتوں سے لیکر شہروں تک بدمعاشی کا سلسلہ ہے۔
ڈکیٹیٹر شپ کی پیداوار اور تربیت یافتہ سے جمہوری طرز کی اُمید لگانا اندھے کو کسی آئینے میں منہ دکھانے کی طرح جھوٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ پاکستان کے اصحاب حل و عقد کو فی الفور اسلامی قوانین کی طرف توجہ کرکے اپنے معاشرے کا رُخ درست سمت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بلا ٹل گئی تو پھر اس سے زیادہ بھیانک صورت میں دوبارہ سر اٹھائے گی اور پھر اس پر قابو پانے میں بھی کامیابی کی کوئی گارنٹی مشکل سے دی جاسکے گی۔
ہمارے مرحوم محمد حنیف عباسی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں7نومبر2021کولکھا تھا ” مغربی ممالک میں امیروں کے ٹیکس سے غریبوں کی کفالت ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں غریبوں کے ٹیکس سے امیروں کی کفالت ہوتی ہے”۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف

اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مریم نوازشریف کو چاہیے کہ چچا کو کپڑے اتارکر بیچنے کے بعد اپنا دوپٹہ لپیٹ دے!

رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ شہبازشریف نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھنے کے باوجود بھی اپنی شوبازیاں نہ چھوڑیں!

پنجاب میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں لیکن جنرل جیلانی، جنرل ضیاء الحق ، جنرل حمید گل، جنرل پاشا…… کوشریف برداران اور عمران خان کے علاوہ کوئی نہیںمل سکا؟تاحال یہ سلسلہ جاری ہے اور آئندہ جلد انشاء اللہ بند ہوگا اور اچھے لوگ آئیںگے، آنے دئیے جائیں گے اور لائے جائیں گے۔ اسلئے کہ وقت کیساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے ہیں اور شعور بھی بدلتا ہے۔نوازشریف اور شہباز شریف کا کردار کھلی کتاب کی طرح ہے۔ آصف علی زرداری نے مغربی کوری ڈور کا افتتاح کردیا تھا جسے کم خرچ اور کم مدت میں مکمل کرکے کوئٹہ اور پشاور کی تقدیر بدل سکتی تھی لیکن گوادر کے سی پیک کو بھی تختِ لاہور کیلئے شریف برادران نے چھین لیا۔ ایران کی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھ چکی تھی لیکن اس پر عمل روکا گیااور قطر سے مہنگی گیس خریدی گئی۔ سی پیک سے ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگایا گیا جوساہیوال کیلئے بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث تھا اور گوادر میں ایران سے بجلی سپلائی ہوتی ہے۔ سی پیک سے نہیں۔ کرک سے تیل کو چھین لینے کی بھرپور کوشش کی اور اس کا نام بھی اٹک رکھ دیا۔ سوات میں محمود خان اچکزئی کے بقول بہت سستی اور وافر مقدار میں اتنی بجلی پیدا ہوسکتی ہے کہ پورے پاکستان کو روشن کیا جاسکتا ہے لیکن وزیراعظم شہبازشریف پختون عوام کو بیوقوف سمجھ کر دھائی دے رہاہے کہ اگر پختونخواہ کی حکومت نے آٹا سستا نہیں کیا تومیں اپنے کپڑے بیچ کر تمہارے لئے آٹا سستا کروں گا۔ اگر مراد سعید، مولانا فضل الرحمن،ANPاور منظور پشتین نے قوم کو شعور دیا ہوتا اور ان میں غیرت اجاگر کی ہوتی تو عوام شہباز شریف کی شوبازی پر نعرے بازی کرنے کے بجائے احتجاج کرتے کہ ہمارے ہاں تمہیں کپڑے اتارنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے اور اگر پنجاب میں اتارکر بیچ دئیے تو مریم نوازشریف سے گزارش کریںگے کہ اپنے دوپٹے سے اپنے چچا چھوٹے میاں سبحان اللہ کو لپیٹ دینا۔ دوسری طرف عمران خان کا بھی وہی حال ہے۔ پشتوکہاوت ہے کہ گدھے کی سانس نہیں نکل رہی تھی اور کتے کی لالچ نہیں جارہی تھی تاکہ گدھا مرجائے اور اس کو کھا جائے۔ بڑے عرصہ سے شاہ محمود قریشی انتظار میں تھا کہ عمران خان کو نااہل قرار دیکر ہٹایاجائے اور وہ خود وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ لیکن نہ رہی بھینس اور نہ بجی بانسری۔ عوام اور مقتدر طبقات کو چاہیے کہ ان دونوں کے بیچ میں فٹ بال نہ بنے اور ایک ایسا انقلاب برپا کردیں جو صحیح معنوں میں اس قوم اور ملک کی تقدیر بدل دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

وزیر اعظم قوم کا باپ ہوتا ہے۔ عمران خان

وزیر اعظم قوم کا باپ ہوتا ہے۔ عمران خان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کیا عمران خان نے خودبھی کسی وزیراعظم کو اپنے باپ کا درجہ کبھی دیا ہے؟

دو انتہاؤں کے بیچ میںکھڑے عمران خان کو ایک طبقہ عالم اسلام کا واحد ہیرو اور دوسرا طبقہ یہودی ایجنٹ سمجھتا ہے

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں سرگرم کرائے کے صحافیوں کیلئے واشروم کے ٹب میں چھپ کر ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ پاک فوج میں تعینات افسروں کی نوکری ، عزت اور زندگی کو خوامخواہ امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جب مدتِ ملازمت ختم ہورہی تھی تو آئین میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے عمران خان، مسلم لیگ ن کے نوازشریف اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری کے علاوہ ڈھیر سارے سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے آئین میں تبدیلی کرکے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ توسیع کیوں دی تھی؟۔ آرمی چیف کی قیادت میں جنرل فیض حمیدDGISIنے فیض آباد دھرنے کا اہتمام کیا تھا؟۔ کھل کر سیاسی مداخلت کی تھی ؟ اور نوازشریف کے کیسوں کو عدالت میں مداخلت کرکے سزا دلوائی تھی؟۔ عمران خان کو ملک وقوم پر مسلط کیا تھا؟۔ پاکستان کو سیاست اور اخلاقیات کے بدترین ادوار میں لاکھڑا کیا تھا؟۔ اس نالائق آرمی چیف کے دور میں تحریک لبیک،PTM، بلوچ دہشتگرد اور پتہ نہیں کیا کیا ہوا تھا ، جسٹس شوکت عزیز، جسٹس ملک، جسٹس فائز عیسیٰ اور بہت سارے معاملات میں فوج نے مداخلت کرکے ن لیگ کیساتھ برا کیا تھا؟۔ نوازشریف کو دباؤ ڈال کر باہر بھجوادیا تھااور عمران خان کے مشن کہ میںNROنہیں دوں گا، پر بھی پانی پھیر دیا تھا۔ امریکہ کو اڈے دینے سے انکار پر قوم کے سیاسی بھگوان عمران خان کو بہت پہلے سے پتہ چل چکا تھا کہ امریکہ کا یہ غلام اب امریکہ کے حکم پر الشیطان الرجیم چینج کرے گا۔ ایسے میں ہزاروں لعنتیں ایسی کہ ہر لعنت پر دَم نکلے کے مستحق آرمی چیف کو عمران خان نے برطرف کیوں نہیں کیا تھا؟۔ نوازشریف نے لندن میں بیٹھ کر توسیع دینے کی حمایت کیوں کی تھی؟۔
مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی وکالت کرنے والے بے شرم صحافیوں میں تھوڑی سی بھی حیاء ، غیرت، ضمیر ، اخلاقی قدر اور عزت ہوتی تو ان جماعتوں کی وکالت کبھی نہ کرتے۔ جب آرمی چیف کی مدت ملازمت ختم ہورہی تھی تو یہ لوگ اپنی دُم اٹھاکر توسیع کررہے تھے اور جب مدت ملازمت باقی ہے تو اس پر تنقید کے نشتر برسارہے ہیں۔ عمران خان نے کبھی اپوزیشن کو اپنا نہیں سمجھا لیکن جب رخصت ہوگئے تو وزیراعظم کو قوم کا باپ قرار دیدیا۔ پہلے یا بعد والوں کواپنا باپ یا اپوزیشن کو بچہ سمجھا ہو تو کوئی بات ہوتی۔سیتاوائٹ، جمائما، ریحام خان اور بشریٰ بی بی کیطرح اولاد بنناپی ٹی آئی کے کارکنوں کیلئے بھی قابل قبول نہ ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

کراچی یونیورسٹی میں چینی خواتین اساتذہ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ کا خود کش حملہ

کراچی یونیورسٹی میں چینی خواتین اساتذہ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ کا خود کش حملہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پہلی مثبت با ت یہ ہے کہ افراتفری کی سیاست میں یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے ایماء پر پاک فوج نے خودکش بمبار شاری بلوچ کے ذریعے سے پاک چین دوستی کو نشانہ بنایا ہے!

دوسری مثبت بات یہ ہے کہ جہاں دنیا میں عورت کا کردار جنسی جذبات بھڑکانے کیلئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال ہورہا ہے وہاں شاری بلوچ نے اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کیلئے قربان کیا!

تیسری مثبت بات یہ ہے کہ ہماری فوج اور اشرافیہ کی خواتین میں بھی شاری بلوچ کے جذبے سے اپنے ملک ، دین اور ایمان کیلئے مشکل وقت آنے پر خودکش بمبار بننے کا جذبہ پیدا ہوجائیگا

دہشت گردی ، انتہا پسندی اور خودکش حملوں کی اگر اسلام میں اجازت ہوتی تو رسول اللہ ۖ ، شیر خدا علی، اسد اللہ و اسد رسولہ سید الشہداء امیر حمزہ ، فاروق اعظم عمر اور تمام بہادر اور جلیل القدر صحابہ کرام مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بجائے مشرکین مکہ پر دہشتگردانہ حملے کرتے۔ جان و مال اور عزت کے تحفظ سے زیادہ بڑی بات کچھ بھی نہیں ہوسکتی۔ بلوچستان اور وزیرستان کے حالات ملتے جلتے ہیں۔ وزیرستان کے کچھ لوگوں نے مذہبی دہشتگردی کا ارتکاب کیا تو لوگ اپنی عظیم روایات اور اقدار سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ نوجوان خود کش بمبار سے متاثر ہوگئے تو گھروں ، بازاروں اور مساجد تک بے گناہ لوگوں کو اڑانے سے دریغ نہ کیا۔ جب فوج نے آپریشن کیے تو بھی زیادہ تر اسکے جیٹ طیاروں کی بمباری کا نشانہ عوام بنے۔پھر ریاست کیخلاف نفرت کی فضاء بن گئی۔ آج بھی افغانستان میں موجودTTPاور پاک فوج کی لڑائی میں عام لوگ زبردست خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اسی صورتحال کا بلوچستان میں بلوچوں کو سامنا ہے ۔
شاری بلوچ پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے علاوہ بلوچستان اسمبلی میں بھی اچھی خاصی بحثیں ہوچکی ہیں اور اس اقدام سے انتہاء پسندوں اور دہشت گردوں میں نئی روح شاری بلوچ نے پھونک دی ہے ۔ عید سے پہلے جو خاتون غربت کی وجہ سے اپنے تین بچوں سمیت کراچی کے سمندر میں چھلانگ لگا کر خود کشی کررہی تھی جس کو بچالیا گیا مگر اس خبر کو اہمیت نہیں ملی لیکن شاری بلوچ نے مہمان بے گناہ چینی خواتین کی بھی جان لے کر پوری دنیا میں دھوم مچادی اسلئے اسکے پیچھے ایک قوم کی کہانی ہے۔
ہاجرہ یامین نے اپنی ویڈیو جاری کی ہے کہ کراچی کی بربادی کی وجہ بہت ہی خاندانی اور معصومانہ ہے، گھر میں بن بلائے مہمان آجاتے ہیں اور جانے کا نام نہیں لیتے تو آپ کیا کرتے ہیں؟۔خالہ آپ کے وزن پر کمنٹ کرتی ہیں تو آپ چپ رہتے ہیں۔ تو یہ ناانصافی کیخلاف چپ رہنے کا جو کلچر ہے وہ لائف اسٹائل بن گیا ہے ہمارا۔ سڑک ایک طرف سے ٹوٹ گئی چپ کرکے راستہ بدلو ، فون چھن گیا چپ کرکے نیا فون لے لو، پولیس والے نے رشوت مانگی چپ کرکے پیسے دیدو۔ چینی مہنگی ہوگئی چپ کرکے پھیکی چائے پی لو۔ اب کراچی والوں کا چپ رہنے کا جو رویہ ہے نا یہ دیکھ کر کسی عقلمند کو بہت شاندار آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا ایک ایسا علاقہ بناتے ہیں جس میں جتنے بھی امیر لوگ ہیں ان کو اکھٹا کرتے ہیں اور ان سے ان کا سب کچھ چھین لیتے ہیں یہ زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے ؟ چپ رہیں گے۔ تو یہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا جو آئیڈیا تھا یہ بہت سکسس فل رہا۔ لوگوں سے بجلی چھین لی تو انہوں نے جنریٹر لگوالئے، پانی بند کردیا تو انہوں نے ٹینکر ڈلوالئے، پانی بند کردیا لیکن پانی کا بل بھیج دیا تو انہوں نے بل ادا کردیا۔ چوری اور ڈکیتی بڑھ گئی تو لوگوں نے پرائیویٹ گارڈ ہائر کرلئے۔ تو ظلم کے خلاف کوئی کچھ نہ بولا اور سب لوگ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ تم نے چپ رہنا کب سیکھا ؟۔ تب جب بچپن میں تمہیں سوال کرنے سے روکا گیا یا شاید تب جب تمہیں احساس ہوا کہ دیواروں پر پان کی پیکوں کے بیچ معصوم خون بھی ہے۔ یا شاید تب جب تمہارے سر پر کسی نے پستول رکھ دی
بقیہ صفحہ3نمبر2

بقیہ … شاری بلوچ خودکش بمبار
اورتمہاری جان اور مال کے بیچ میں سے ایک چننا پڑا۔ میں نہیں جانتی کہ آپ نے کب چپ رہنے کا فیصلہ کیا لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اب وہ لمحہ ہے وہ موقع ہے جب آپ کو بولنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ آپ کے بولنے سے کتنا فرق پڑیگا؟ لیکن اتنا تو اب آپ بھی جانتے ہیں کہ ایک قطرے میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ قطرہ قطرہ ملا کر دریا بن ہی جاتا ہے۔
خود کش بمبارشاری بلوچ نے اپنے وطن اور اپنی قوم کے نام پر جو قربانی دی ہے ،اس کی مذمت تو اسکے شوہر کے خاندان نے بھی کردی ہے۔ اپنے خاندان نے بھی اس پر حیرت کا جس طرح اظہار کیا ہے اس کو ڈان نیوز نے شاری بلوچ کے پڑھے لکھے چچا سے انٹرویو لیکر قابلِ قبول نہیںقرار دیا ہے کیونکہ صحافی وسعت اللہ خان نے پوچھا کہ آج سے20سال پہلے ہم نے تربت میں آپ سے پوچھا تو آپ نے نشاندہی کی کہ ارباب اختیار جانتے بوجھتے ہوئے جذبوں کے تلاطم خیزموجوں سے آنکھ بند کئے ہوئے ہیں۔ کیا یہ اس کی ایک شکل نہیںہے ؟۔
بلوچ ہمارے بہت معزز بھائی ہیں اورخود کش بمبار شاری بلوچ ہماری بہن تھیں۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ” اپنی والدہ کے انتقال سے زیادہ دُکھ بلوچ مسنگ پرسن کی تکلیف کو دیکھ کر پہنچا ہے”۔ میری ایک گھر والی تربت کی بلوچ ہے اورپہلے اس کو بھی شدت پسندوں سے دلی ہمدردی تھی۔ اس کے کئی رشتہ دار بھی مارے گئے اور جنہوں نے جہاز اغواء کیاتھا اور پھانسی لگی تھی۔ شبیراور شاہ سوار ۔ شبیر چاچی کا سگا بھائی تھا۔ پھر شدت پسندوں سے بہت سخت نفرت ہوگئی۔ بہت قریبی رشتہ داروں نے خوف سےBLAکو چھوڑ دیا۔ جبPCہوٹل گوادر پر حملہ کیا گیا تو اس کو سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر دُکھ تھا اسلئے کہ اپنی روٹی روزی اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے نوکری کررہے تھے اور شدت پسند تو گئے ہی مرنے کیلئے تھے۔ یہ اس کی ذہنیت تھی۔ گوادر میں دہشتگردوں سے اسلئے نفرت پھیل گئی کہ خودکش نے چینیوں کو اڑایا تو کئی بہنوںاور والدین کا اکلوتہ بھی شہید ہوا۔ایک انسان کے بے گناہ قتل کو قرآن نے پوری انسانیت کا قتل قراردیا۔ شاری بلوچ نے خود کش کردیا تو میری بلوچ گھر والی نے کہا کہ اس کو کسی طرح بلیک میل کیا ہوگا۔ ایک عورت اپنے بچوں کو چھوڑ کرایسا کیسے کرسکتی ہے؟۔ اور بے گناہ چینی خواتین اساتذہ کے قتل پر سخت غصہ بھی آگیا۔
جب میں نے یوٹیوب یا فیس بک سے مسنگ پرسن کیلئے آواز اٹھانے والی ایک لڑکی کی تقریر سنائی جو یہ کہہ رہی تھی کہ ہم گھروں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں عرصہ سے نکلے ہیں اور لوگوں کی نظریں جب ہم پر پڑتی ہیں تو بہت چھبتی ہیں۔ پھر شاری بلوچ کی جاری کردہ بلوچی زبان میں ویڈیو دیکھ لی جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ دشمن کو ہماری عزتوں پر ہاتھ ڈالنے کی بھی پرواہ نہیںہے اسلئے میں نے یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر میری گھر والی نے سمجھ لیا کہ اس میں بلیک میل ہونے کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مشن کیلئے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایجنسی والے اب اس کو چھوڑیں گے نہیں،آخری حد تک سراغ لگاکر ایک ایک کردار کا بہت برا حشر کریںگے۔ پھر میں نے بتادیا کہBBCکی ویب سائٹ پر شاری کے شوہر کے گھر والوں نے اس کی سخت مذمت کردی ہے۔ یہ ڈرنے کی وجہ سے کی ہوگی۔ تو اس نے کہا کہ نہیں ، وہ اپنی ایک لڑکی کے اس طرح نمایاں ہونے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور غیرت کے خلاف لگتا ہے کہ ایک عورت اس طرح سے نمایاں ہو۔
سوشل اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑے پیمانے پر آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ بلوچوں کیساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔ ان کے مسنگ پرسن کو آزاد کیا جائے اور یہ سلسلہ بڑے عرصے سے چل رہاہے۔ قومی اسمبلی میں تین ماہ پہلے سرداراختر مینگل نے کہا تھا کہ پہلے ہمارے نوجوانوں کو اٹھایا جارہاتھا، پھر بوڑھوں کو بھی اٹھایا جانے لگا اور اب خواتین اور بچوں کو بھی اٹھایا جارہاہے۔ آپ نے ہمیں غدار قرار دیا۔ ہماری نسلوں کو ختم کردیا اورہماری خواتین کی عزتوں کو بھی نہیں چھوڑا لیکن ہم نے ہمیشہ تمیز کی حد میں رہ کر آواز بلند کی ہے اور کبھی گالی تک بھی نہیں دی ہے۔ کس کس کو غدار نہیں کہا؟۔ فاطمہ جناح، ولی خان، نوازشریف اور الطاف حسین سمیت جو بھی اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھا وہ غدار کہلایا اور کل تحریک انصاف والے اپوزیشن بینچ پر ہوںگے اور ہم اس طرف بیٹھے ہوں تو پھر وہ غدار کہلائیںگے۔ جب میں وزیراعلیٰ تھا تو چاغی میں ایٹمی دھماکوں پر مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور جب مجھے پتہ چلا تو احتجاج کرنے پر مجھے برطرف کردیا گیا تھا۔ جس کی غلطی کا اعتراف نوازشریف نے بھی کیا ہے۔
نوازشریف نے سوئی گیس سے بلوچستان کی محرومی کا ذکر بھی کیا تھا لیکن جب حکومت مل گئی توسی پیک کے مغربی روڈ کا رُخ کوئٹہ اور پشاور سے موڑ کر لاہور کی جانب کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے بلوچوں کے گاؤں مسمار کردئیے گئے اور محرومیوں کا احساس مزید بڑھادیا گیا۔ خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی شاری بلوچ کے خود کش حملے کو جس طرح کی پذیرائی ملی ہے وہ خطرناک صورتحال تک معاملات کو پہنچاسکتی ہے۔ طالبان کی دہشت گردی کو اہمیت نہیں دی گئی لیکن پھرGHQپر قبضے سے لیکر ہماری ریاست ، حکومت، مذہبی طبقات او ر پوری اشرافیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ بلوچ قوم کو عزت دینے کے نام پر رام کرنا بہت آسان ہے ، پٹھانوں کو غیرت کے نام سے رام کرنا آسان ہے اور سندھیوں کو محبت کے نام سے رام کرنا بہت آسان ہے اور پنجاب کو شعور کے نام سے رام کرنا بڑا آسان ہے۔ بھانڈوں ، جوکروں، مسخروں اور بدتمیزوں وبد تہذیبوں کے رحم وکرم پر پاکستان کو چھوڑدیا گیا ہے۔
منظور پشتین نے وزیرستان میں یہ بہت کام کی بات کہہ دی ہے کہ ” پختون غیرتمند قوم ہے۔اگر دشمنی ہو تو پھر چوک اور چوراہے پر للکارتے ہوئے اپنے دشمن کو ماردیتے ہیں ، کسی کی آڑ لیکر چھپ کر وارکرنا غیرت وحمیت کے خلاف ہے”۔
اگر وزیرستان میں فوجیوں کے قتل کیلئے بھی اسی غیرت ہی کا پیمانہ رکھا جائے اور عوام اور طالبان کیلئے بھی اسی غیرت کے ترازو سے کام لیا جائے تو امن وامان قائم ہونے میں دیر نہیں لگے گی لیکن اگر فوجیوں کا قتل اس بنیاد پر جاری رہے کہ پاک فوج جانے اور شہداء جانیں تو پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا اور طاقت کے استعمال کے اس کھیل میں فساد اورقتل وغارتگری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بلوچ ہیومن رائٹ کے معروف رہنما وہاب بلوچ نے بتایا کہ ”بلوچوں سے سب سے زیادہ ہمدردیوں اور عملی تعاون کا مظاہرہ پنجابی کرتے ہیں”۔ سندھی قوم پرست جب منظور پشتین کے کسی بیان سے ناراض تھے تو وہاب بلوچ نے ان میں صلح صفائی کروائی تھی۔ وہاب بلوچ نے کہا کہ سب سے زیادہ مؤثر کردار مذہب کی بنیاد پر ادا ہوسکتا ہے لیکن مذہبی لوگوں نے اس کو غلط استعمال کرکے کارگر نہیں بنایا ہے۔
پاکستان میں جس طرح مذہبی لوگوں نے مذہب کے نام پر تباہی مچائی ہوئی تھی ۔ مولانا نورمحمدسابق ایم این اے اور معراج الدین ایم این اے کو بھی شہید کردیا گیا تھا۔مساجد میں خود کش حملوں سے لیکر بازاروں ، سکولوں ، گھروں اور سرکاری ، سیاسی اور مذہبی لوگوں پر اٹیک تک بہت کچھ کیا گیا۔ خاتون ڈاکٹر بھی اغواء برائے تاوان کیلئے لے گئے تھے۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ دوغلی پالیسی کھیل کر اس حلیے اور لبادے میں اپنے اپنے طالبان اور دہشت گرد پالنے کی غلطی نہ کرتے تو عوام ہی نے ان کا قلع قمع کردینا تھا۔ اسماعیل ساگر نے بتایا تھا کہ اس وقت ہمارے اندر اتنی جرأت نہیں تھی کہ کھل کر آواز اٹھاتے مگر امریکہ کے بلیک واٹر نے اربوں روپے سے قبائل میں لوگ پیدا کئے تھے۔ راولپنڈی کے قریب روات میں ان کا ٹریننگ سینٹر تھا۔جہاں کورٹ مارشل اور جرائم پیشہ فوجی اہلکاروں اور پولیس کو بھاری رقوم دے کر بھرتی کیا جاتا تھا۔
خود کش حملہ آور کرائے پر ملتے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ”200ڈالر ماہانہ تنخواہ پر افراد بھرتی کئے جاتے ہیں”۔ ایسا کھیل کھیلا گیا کہ فیض احمد فیض اور احمد فراز کی شاعری زندہ کی گئی تھی۔ شریف ، شرافت اور اشرافیہ سب کا جنازہ نکل گیا تھا۔ جہاں غربت تہذیب کے آداب بدل دیتی تھی وہاں خود کش اور ٹارگٹ کلنگ کی دہشتگردی نے تہذیب کے آداب بدل ڈالے تھے۔ مونچھوں والا بدمعاش یونہی دلّا اور بے غیرت لگتا تھا اور چوتڑ تک بال رکھنے والے کی دہشت چھا گئی تھی۔
ریاست پاکستان ، مذہبی طبقات کے فتوؤں ، سیاسی قائد کے بیانات بالکل غیرمؤثر تھے۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اکرم خان درانی نے ہنگو میں شیعوں کے جلوس میں دھماکہ کرنے پر کہا تھا کہ ”یہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں ”، تو ان کے قریبی لوگوں پر حملہ کرکے شہید کردیا گیا تھا اور پھر اکرم خان درانی کو یہ بیان دینا پڑا تھا کہ ” اگر کسی نے کہا کہ ہم پر طالبان نے حملہ کیا تو اس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا”۔ جب قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریر میں حضرت ابوبکر صدیق اکبر سے منقول ابن ماجہ کی حدیث کا حوالہ دیا کہ” طالبان خراسان کے دجال کا لشکر ہیں اوران میں حدیث میںموجود تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں ” تو میڈیا نے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو شائع نہیں کیا۔
قوم کا یہ حال تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ وزیرستان کے غریب عوام کی عزتیں اس جنگ میں خراب اور پامال ہونگی ۔ کرائے کے لوگ اسلام کیلئے نہیں مفادات کیلئے لڑرہے ہیں اور جذباتی طبقہ اور عوام غلط استعمال ہورہے ہیں۔ تو ایک بھائی نے کہا تھا کہ ”مجھے ان کے خلاف اُٹھ کر جہاد کرنا چاہیے” ۔ جس پر میں نے عرض کیا تھا کہ ”پھر سب سے پہلے اپنے بھائیوں کے خلاف جہاد کرنا پڑے گا اسلئے کہ وہ دل سے اس جہاد کے حامی ہیں”۔ جس طرح آج عمران خان کیلئے لڑنا بعض لوگ امریکہ کے خلاف جہاد سمجھتے ہیں اسی طرح سے دہشتگرد بلیک واٹر کے ایجنٹوں کی دل سے ، ڈر سے اور ایمان کے جذبے سے لوگ تائید کرتے تھے۔ منصوبہ بندی کے تحت ہمارے ریاستی ادارے اور عوام پیسے اور جذبے میں استعمال ہورہے تھے۔
پھر ایک موقع آیا کہ ” پہلے طالبان نے میرے بھائی کا پیچھا کیا تھا اور پیسوں والے افراد کو لوٹنا اور دہشت گردی سے ڈرانا ان جرائم پیشہ افراد کا وطیرہ بن چکا تھا”۔ پھر مجھ پر حملے کا بہانہ مل گیا اور اس واردات میں اصل ہدف میں تھا اور گھر کے اسلحے اور مال وزیورات کو لوٹنا تھا تو13افراد شہید کردئیے گئے اور اپنے بھی کچھ مردے اٹھا کر لے گئے اور چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح رات کی تاریکی میں دفن کردیا۔ حالانکہ نعرہ تکبیر لگاکر حملے کرنیوالے اپنے مردوں کو شہید سمجھ کر دھوم سے دفن کرتے تھے ، مردار جانوروں کی طرح چھپ کر نہیں دفناتے تھے۔
مجھ سے کہا گیا کہ اب موقع ہے کہ ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے کیونکہ اب تو عوام میں بھی ان کے خلاف بڑی نفرت پھیل گئی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ علی کا پوتا ہوں، جس نے کافر دشمن کو لٹادیا تھا اور تلوار کے وار سے ختم کرنا تھا مگر جب اس نے علی کے چہرے پر تھوک دیا تو علی نے معاف کردیا ،اس نے کہا کہ غصہ زیادہ بڑھ جانا چاہیے تھا تو علی نے فرمایا کہ جب ذاتی رنجش اس میں شامل ہوگئی تو پھر یہ اللہ کی راہ میں جہاد نہیں رہاہے۔ اب ذاتی رنجش کے بعد جہاد کرنا اسلام نہیں ہے۔
پھر ایک وقت آیا کہ وزیرستان سے طالبان کااثر ورسوخ اتنا بڑھ گیا کہ سوات سے کراچی تک محسود قوم کے افراد بہت دندناتے گھوم رہے ہوتے تھے۔ کراچی میں بھی طالبان نے باقاعدہ فیصلے کرانے اور بھتے لینے شروع کئے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ وزیرستان سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کچھ پیسے مل جائیں تو حکیم اللہ محسود، قاری حسین وغیرہ کو ہم نشانہ بنالیں گے۔ میں نے کہا کہ پیسے ضرور دیں گے لیکن وہ ہمیں اپنے ہدف تک پہنچا دیں۔ میری سندھی گھر والی اور اپنے بچوں سے خود کش کرانے کا میں نے فیصلہ کرلیا اور مشاورت بھی ہوگئی اور میں نے طے کرلیا کہ اب مجرم کی تلاش کو چھوڑ کر محسود قوم کو پنجاب، سندھ ، کراچی ، کوئٹہ اور پختونخواہ میں گوریلا طرز پر نشانہ بنایا جائے۔ جب وہ محفوظ ہیں اور دہشت گرد بھائی ، بیٹوں اور رشتہ داروں کو محفوظ پناہ گاہیں دیتے ہیں اور رائیونڈ کا مرکز انکا سہولت کار ہے تو پھر قرآن نے من حیث القوم لڑنے کیلئے افراد کے مقابلے میں افراد کے قتل کی اجازت دی ہے جن میں آزادمرد اور عورت اور غلام سب شامل ہیں۔ ایم کیوایم ، شیعہ، بریلوی اور سب کو ان کے خلاف منظم کرنے کا فیصلہ کرلیا لیکن بھائیوں نے اس کی مخالفت کی کہ بے گناہوں کا خون بہہ جائے گا۔
اگر اس وقت راست اقدامات اٹھائے جاتے تو دہشت گردوں کا خاتمہ محسود قوم نے اپنے مفاد اور نقصان سے بچنے کیلئے بھی کرنا تھا لیکن جب فوج نے آپریشن کرکے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو بہت بے گناہ بھی مارے گئے اور ان کی عزتوں کی بھی تذلیل ہوگئی اورآج تک ان کا رونا نہیں جاتا ہے۔ جب آگ جلتی ہے تو خشک لکڑیوں کیساتھ گیلی بھی جل جاتی ہیں۔
شاری بلوچ اور عمران خان کے جذبات میں کیا فرق ہے اور دونوں ریاست کی غلامی سے جان چھڑانے کی بات کررہے ہیں ۔ عمران خان الفاظ کیساتھ کھیلتا ہے کہ میر جعفر اور میر صادق کون ہیں ؟۔ لیکن شاری بلوچ نے خود کش بمبار بن کر فیصلہ کیا کہ آزادی کی تحریک افغانستان کے طالبان کی طرح اس طرح سے چلائی جاسکتی ہے۔ جو فوجی اہلکار دل وجان سے عمران خان کی حمایت کررہے ہیں ،ان کیلئے شاری بلوچ شان و عظمت کی نشانی ہے۔ اگر جنرل حمیدگل کے بیٹے، بیٹیاں اور بیوی خود کش حملہ کرنے والوں میں شامل ہوتیں اور اسطرح ہمارے اشرافیہ کے تمام جرنیل، سیاستدان اور سول بیروکریسی اور علماء ومفتیان میں طالبان کے حامی اور انکی خواتین خود کش کی قربانیاں دیتیں تو جنگ بھی جلد جیت جاتے اور نقصان بھی نہیں اٹھانا پڑتا۔
بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن میں شامل ہوگئے ہیں اور کسی کے حکم سے شامل ہوئے ہیں تو شاید مفتی محمد تقی عثمانی کو بھی دعوت ملی ہوگی کہ اب عمران خان کے خلاف جہاد کرنے کیلئے آپ بھی جمعیت علماء اسلام کا ساتھ دیں۔ شاید اسلئے اس نے مولانا مفتی محمود کی وفات کے بارے میں اپنا جھوٹا بیان بھی ریکارڈ کروادیا لیکن جب اسلام آباد میںجہاد کے عمل کی بات سامنے آئی ہوگی تو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے کہا ہوگا کہ بھیا ! میں نے اپنے بدنمادانت اکھڑوا دئیے ہیں اسلئے مجھ پر قربانی نہیں ہوتی ہے، اسلئے پھر عید پرصلح صفائی کیلئے بیان بھی دیدیا۔
سلمان تاثیر کو ممتاز قادری سے قتل کروانے سے پہلے جنگ گروپ کے صحافی انصار الاسلام عباسی نے جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی گھڑی تھی جس پر رؤف کلاسرا نے ایک کتاب ”وہ قتل جو ہو نہ سکا”لکھ دی تھی۔اب یہ سلسلہ چل رہاہے کہ نوازشریف نے ممتاز قادری کو پھانسی سے نہیں بچایا اور عمران خان نے آسیہ کو فرار کروایا۔ جنہوںنے سازش کے جال بن لئے تھے وہ خود اپنے دام میں پھنس رہے ہیںمگر وقت انکے انتظار میں ذلت کا ہار پہنانے کیلئے بے تاب کھڑا ہے ۔
جب1965ء میں لوگ ہندوستان کے ٹینکوں کے آگے اپنے جسم پربم باندھ کر لیٹ جاتے تھے تو وہ خود کش حملہ ہی ہوتا تھا۔ افغانستان میں نیٹو کے خلاف جہاد کیلئے خود کش کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ کرائے کے خود کش نے جہاد کو بدنام کردیا ہے لیکن شاری بلوچ کو کرائے پر استعمال کرنے کا بھی کوئی نہیں سوچ سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ریاست بھی نہیں ہوسکتی ہے اور اس کو جنت کے حور وقصور کی لالچ بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس میں ظالم ومظلوم اور اپنی قوم اور وطن سے محبت کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن اس راستے سے بلوچ قوم پرست کی قیمتی جانیں ضائع ہوں گی اور اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں پرامن زندگی کی خواہش رکھنے والوں کی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ قربانی کے پیچھے تالی بجانے سے بات نہیں بنتی بلکہ اپنی خواتین کو بھی اس مقصد کیلئے قربان کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا اور جب اپنے لئے اس کو پسند نہ کیا جائے تو دوسروں کو اس کی تبلیغ اخلاقی طور پر کوئی اچھی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ شاری بلوچ کے شوہر کو شاری کے خاندان کے سامنے جانے سے بھی ہچکچاہٹ ہوگی۔ عورت نے قربانی دی ہو اور شوہر زندہ ہو تو یہ ایک عار کی بات ہے۔ البتہ شاری بلوچ نے اپنے دل ودماغ سے جو فیصلہ کیا وہ دوسروں کیلئے مشعل راہ بھی بن سکتا ہے، حسن وحسین دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور جنت میں کوئی بوڑھا ہوگا بھی نہیں اور حسن و حسین کے درمیان فرق اسلئے تھا کہ حسن کے مقابلے میں معاویہ اور حسین کے مقابلے میں یزید تھا۔ یزیدی کردار پر حسینیت کی قربانی بنتی ہے اور سب میں اتنا بڑا دل نہیں ہوتا۔
شاری بلوچ کی عقل وفکر اور فطرت وعمل سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان، مذہبی وسیاسی طبقات اور تمام قوم پرستوں کیلئے اس کی قربانی سے مثبت نتائج نکالے جاسکتے ہیں اور اس کی قربانی سب کیلئے مشعل راہ بن سکتی ہے۔ جان کی اگر قربانی نہیں دے سکتے ہیں تو حق بات کیلئے زبان کی قربانی دیں اور حاجرہ یامین کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ظلم اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی قربانی دیں۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کی ریاست ، حکومت، علماء ومفتیان ، مذہبی طبقات اور عوام الناس اب اپنے مفادات کو چھوڑ کر قربانی دینے کی پوزیشن پر آگئے ہیں۔ کیونکہ اگر اب نہیں بدلے تو بہت برے حالات کا شکار ہوجائیں گے اور اس خوف کا تقاضا ہے کہ ہم سدھر جائیں۔
قیادت کی پیاس اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ عمران خان جیسے آزمودہ اور نالائق انسان پر بھی لوگ اعتماد کرکے کہتے ہیں کہ آزادی کیلئے ہر قربانی دینی ہے۔ جب پیاس لگتی ہے توآدمی کو سراب بھی پانی نظر آتا ہے۔ عمران خان کا سراب بھی متأثر کن بن گیا ہے۔ عمران خان گھڑی گھڑی اپنے بیانات بدلتا رہتا ہے۔ پہلے اس نے امپائر کی انگلی اٹھنے کی بات کہی تھی اور پھر کہا تھا کہ امپائر سے مراد میں نے اللہ لیا تھا۔ پھر جانور سے بھی مشکل لگنے پر کچھ اور مراد لیا اور میرجعفر اور میر صادق سے بھی کچھ اور مراد لیا۔ حضرت حسین نے کربلا کا راستہ چن لیا تھا تو پھر شہادت کی منزل تک کوئی بیان تبدیل نہیں کیا۔ پہلے سے یہ تجاویز رکھ دی تھیں کہ واپس جانے دیا جائے۔ سرحد پار جانے دیا جائے ۔ یزید سے براہِ راست بات کرنے دی جائے لیکن یزید کی بیعت پر آخری وقت تک راضی نہیں تھے۔
عمران خان ایا ک نعبد وایا ک نستعین سے پہلے اور بعد کی آیات کو بھی سمجھ کر تلاوت کرتا تو نرگسی اور خود پسندی کا شکار نہ ہوتا بلکہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے قرار دیتا اپنے لئے نہیں اور رحمن و رحیم کی صفات سے مخالفین کیلئے بھی رحم دلی کاجذبہ رکھتا اور مالک یوم الدین کے بعد خود کو انقلاب کے دن کا بھی بادشاہ سمجھنے کی غلطی نہ کرتا۔ پھر اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت بھی مانگتا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے جن پر نہ غضب ہوا اور نہ گمراہ ہوئے۔ عمران خان کبھی طالبان بن جاتا تھا اور کبھی پاک پتن کے مزار کی راہداری کو چومتا تھااور کبھی مدینہ میں جوتے اتارنے کا ڈرامہ کرتا۔PDMکی بانی جماعتوں کی نالائقی سے عمران خان پروان چڑھ گیا اور عمران خان کی نالائقی نےPDMکی قیادت کو پھر زندہ کردیاہے حالانکہ ان کی فاتحہ بھی لوگ پڑھ چکے تھے اور اب پھر وہ زندگی کی طرف لوٹ گئے تو انکی وجہ سے عمران خان پھر زندہ ہوگیا۔
شاری بلوچ کی قربانی کو ہلکا نہ لیا جائے، مسنگ پرسن کے لواحقین اور ان کی خواتین نے خود کش دھماکے شروع کردئیے تو عمران خان اور نوازشریف کی باتوں سے ڈرنے والوں کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ باتوں کا جواب باتوں سے دیا جاسکتا ہے لیکن خود کش بمبار کا کوئی علاج معالجہ نہیں ہے۔
جب گوادر کے مولانا عنایت الرحمن کا بیان میری بلوچ گھر والی نے سنا تو اس نے شدید غصے کا اظہار کیا کہ اب اس کو دیکھو کہ اپنے معمولی مفاد کیلئے اس شاری بلوچ کی قربانی کا ذکر کررہاہے۔ مٹھی بھر بلوچ اپنی قوم اور اپنے وطن کی آزادی کیلئے اٹھے ہیں اور اب ان کو ناراض بلوچ کہنے کی بات بھی گالی لگتی ہے لیکن ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان سے دل وجان سے محبت کریں۔ عمران خان کو بندر کی طرح کاندھے پر چڑھا کر اقتدار میں لایا گیا اور جب اپنی نالائقی سے اتر گیا تو ملک میں بدتمیزی کا طوفان برپا کرکے حقیقی آزادی کے نام پر بھونچال برپا کردیاہے۔ اگر غوث بخش بزنجو سے لیکر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ تک کسی قوم پرست بلوچ کو پاکستان حوالے کیا جاتا تو مشرقی پاکستان کے بنگالی بھی ہم سے جدا نہ ہوتے۔ بلوچ دوسروں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ غلامی قبول نہیں کرتے ہیں۔ جب نوازشریف نے جنرل کاکڑ کو آرمی چیف بنایا تو غلام اسحاق خان اور نوازشریف دونوں کو فارغ کردیا گیا۔ آج عمران خان اور شہبازشریف کی جگہ پر مرکز میں منظور پشتین، علی وزیر، محسن داوڑ ، اختر مینگل، سرفراز بگٹی ، شاہ زین بگٹی ، خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار سیاست کررہے ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان کی ریاست و سیاست میں خطرہ440وولٹ کے خدشات پیدا ہوگئے ۔

پاکستان کی ریاست و سیاست میں خطرہ440وولٹ کے خدشات پیدا ہوگئے ۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریک انصاف بمقابلہ امریکہ ، شہبازحکومت یا اسٹیبلشمنٹ؟ ۔ عمران خان کو سیاسی شہید بناکر زندہ کرنیوالے کون ، کون اور کون ہیں؟
جو صحافی حضرات عمران ریاض خان گوگی اور سمیع ابراہیم وغیرہ کل تک تحریک انصاف اور پاک فوج کی حمایت کررہے تھے آج وہ ان کو لڑانے کے زبردست کرتب دکھارہے ہیں

پاکستان انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ جب اسرائیلی وزیرنے دوبئی کا دورہ کیا اور باچاخان مرکز پشاور میںANPکے نمائندے اور مولانا فضل الرحمن نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے روایتی سخت مؤقف کا اظہار کرکے دوبئی کے حکمران کو بے حیثیت کٹھ پتلی قرار دیا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کے مؤقف کو امت مسلمہ کی نمائندگی قرار دیا تھالیکن صحافی عمران خان عرف گیلا تیتر بلکہ گوگی خان نے مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دوبئی میں چندہ بند ہونے کے خدشے پر اتنا دروغ گوئی سے کام لیا تھا کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی اتنا جھوٹ بھی بول سکتا ہے؟ سوشل میڈیا پروقارملک بھی کھلم کھلا بہت کچھ کہتا ہے اور اس نے یہ جھوٹی خبر دی کہ کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمت ہزارروپے فی کلو ہے، عمران ریاض خان نے ایک مرتبہ آرمی چیف جنرل باجوہ پرکسی مافیا کی پشت پناہی کا بتایا اور پھر معافی مانگ لی لیکن بشری بی بی کی فرنٹ مین فرح گوگی پر کوئی رپورٹ نہیں دی۔ کٹھ پتلی صحافیوں اور سیاستدانوں نے ہمیشہ جھوٹ اور بدتمیزی سے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں بڑا کردار ادا کیا اورآج پوری قوم اور وہ پاک فوج اس کی سزا بھگت رہی ہے۔جو پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاکراپنے مخالفین کو ہرقسم کی تنقید،تضحیک اور جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بناتے تھے اور سستی شہرت کماتے اور مفادات اُٹھاتے تھے۔اس میں شک نہیں کہ یہ جمہوریت کا تحفہ ہے کہ ملک وقوم پر ایسی حکومت مسلط ہوگئی ہے جس طرح جنگلی جانورپہلے کوئی شکار کرکے کھالیتے ہیں۔ پھر باقی ماندہ پر لگڑ بگڑ جھپٹتے ہیں اور آخرکار گدھ کا نصیب جاگ جاتاہے اور یہ لگڑبگڑ اور گدھ شرم بھی نہیں کھاتے ہیں۔ بقیہ صفحہ3نمبر1

بقیہ… خطرہ440کے خدشات
صحافی عمران خان، سمیع ابراہیم اور صابر شاکروغیرہ نے ہمیشہ پاک فوج اور عمران خان کی تائید میں صحافت کی بجائے کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے۔ سمیع ابراہیم نے فواد چوہدری سے ایک بڑا زبردست مکا بھی کھایا تھا جس کی وجہ سے اس کے چشمے بھی بدل گئے تھے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کم ازکم فواد چوہدری سے معافی طلب کرنے کی بات کرتا تو بھی مناسب ہوتا لیکن جب سمیع ابراہیم کو اپنے چہرے پرمکا کھانے کی پرواہ نہیں ہے تووہ دوسروں کی عزت اور ان کو نقصان پہنچنے کا کیا غم کھا سکتا ہے؟۔
عمران احمد خان نیازی نے میانوالی سے حقیقی آزادی کے نام سے تحریک شروع کردی لیکن کیا وزیراعظم بننے کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کا غلام تھا؟۔ عوام کی عرصہ دراز سے یہ خواہش رہی ہے کہ عالمی ومقامی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی سے حقیقی آزادی ملنی چاہیے اسلئے عمران خان کی بھرپور تائید ہورہی ہے۔ شدت پسندی ، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں امریکہ مخالف پالیسی کا بڑا ہاتھ رہاہے جس میں لوگوں کیساتھ ڈبل پارٹ ہوتا تھا۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواری خود امریکہ سرکار کی پالیسیوں پر عمل در آمد کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے تھے کہ یہ امریکی ایجنٹ ہیں۔
محمود خان اچکزئی،مولانا فضل الرحمن ،محسن داوڑ، منظور پشتین،سردار اختر مینگل اور عمران خان کے بیانیہ میں اب کوئی فرق نہیں رہا کہ ہماری ریاست نے ڈالروں کی خاطر افغان جنگ لڑی اور اس خطے کے امن کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف نے اپنی مدتِ ملازمت میں امریکہ اور اپنی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل جل کر وہی کیا جس کی توقع ایک تابعدار ملازم سے ہونی چاہیے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کی نام نہاد جمہوریت کو دھچکا پہنچایا۔ عمران خان نے پاکستان کی نام نہاد جمہوریت کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور مودی سرکار بھارت کی جمہوریت کا بیڑہ غرق کرنے میںلگی ہوئی ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ 75سالوں سے عوام کی خواہش تھی کہ فوج نیوٹرل ہوجائے تو اب دوسال سے ہم نیوٹرل ہیں۔ عمران خان قصائی نیوٹرل فوج کو جانور کہتا ہے اور بکرے کو چھرا نظر آتا ہے تو اپنی خیر مناتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کو نیوٹرل رہنا چاہیے تھا اور اگر پہلے نہیں تھی تو اس کی ذمہ داری موجودہ فوج پر نہیں ڈالنی چاہیے۔ عمران خان کہتا ہے کہ جب امریکہ نے سمجھ لیا کہ میں پاکستان کو نیوٹرل رکھنا چاہتا ہوں تو مجھے ہٹادیا گیا۔ اگر عالمی سطح پر نیوٹرل رہنے سے عمران خان جانور نہیں بنتا تو نیوٹرل فوج کو بھی جانور کہنا درست نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اورسابقہDGISIجنرل فیض حمید کو نوازشریف نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ن لیگ کے وکلاء وغیرہ نے” یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” کے نعرے لگائے تھے۔ حالانکہ ان کا نعرہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ”یہ جو سیاست گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے”۔ نوازشریف لندن میں بیٹھا تھا اسلئے کھل کر بات کی ۔ عمران خان نے اشارہ دیا تھا کہ اگر مجھے باہر کردیا گیا تو زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا لیکن وہ میر جعفر اور میر صادق نوازشریف اور زرداری کو کہتا تھا اور اس سے مراد وہ لیتا تھا جس کازبان پر نام نہیں لے سکتا تھا۔ اسلئے کہ کٹھ پتلی صحافی مارکہ غنڈوں کے بیچ میں رضیہ پھنس گئی تھی۔
بجلی میں خطرہ440وولٹ یہ ہے کہ جب220،220وولٹ دو تاروں کے ٹچ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تو اس سے بڑی تباہی مچ جاتی ہے۔ انسان کے بچنے کے امکانات نہیں رہتے۔ گھروں میں فریج، پنکھے، بلب وغیرہ سب کچھ جل جاتے ہیں لیکن جب ایک220وولٹ کا مثبت تار اور دوسرا منفی تار ہو تو پھر بجلی کا نظام بہترین چلتاہے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کا کردار بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو کا ہو توبہترین چلتا ہے ۔جب اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف میںدراڑ پیدا ہوگئی اور دونوں کی حمایت کرنے والے صحافیوں نے دونوں طرف کی سپلائی جاری رکھی تو اس سے خطرہ440کا خدشہ پیداہوگیا۔
امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں افغان جہاد کیلئے بنیاد رکھ دی تھی لیکن بھٹو نے روس کے ذریعے اسٹیل مل کی بھی بنیاد رکھی اور اسلامی سوشل ازم کا نعرہ بھی لگایا۔ پھر جنرل ضیاء الحق اورISIچیف اختر عبدالرحمن نے اس کی تکمیل کردی۔ کرائے کے مجاہدین کا داد اامریکہ تھا اور نانیCIAتھی۔ کرائے کاباپ جنرل ضیاء الحق اور ماں جماعت اسلامی تھی۔ پھر بے نظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان لائے گئے۔ پھر اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف امریکہ آنے لگا تو کرائے کے مجاہدین کا سوتیلا باپ مولانا فضل الرحمن بن گیا۔ غیرجماعتی انتخابات سے اسلامی جمہوری اتحاد اور پیپلزپارٹی ومسلم لیگ کے درمیان اپنی اپنی باری کا سلسلہ پرویزمشرف کے دور سے پہلے بھی تھا اور پھر بعد میں بھی بن گیا اور پھر تحریک انصاف کو لایا گیا اور اب پھر باریوں کا چرچاہے۔ عمران خان کباب میں ہڈی ہے۔ جس طرح ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی تیسری بیگم کی علیحدگی کا چرچہ ہے اسی طرح وسعت اللہ خان کے بقول دو بیویوں کے بعد تیسری سے اسٹبیلشمنٹ کی لڑائی کا سلسلہ اب عروج پر پہنچ رہاہے۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ خاندانی قسم کے مسائل میں عوام کو الجھایا جارہاہے۔ خوفناک تصاد م کا بھی خطرہ ہے اور عزت سادات بھی گئی کا مسئلہ نظر آتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

ہمارا ریاستی اور سیاسی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان

ہمارا ریاستی اور سیاسی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مغرب کا مقابلہ حقیقی اسلام سے کرنا ہوگا۔ افغانستان، سعودی عرب اور ایران نے جو اسلام سرکاری سطح پر پیش کیا وہ اسلام کی بگڑی ہوئی شکل ہے لیکن پاکستان میں اسلام کی شکل سرکار نے نہیں مولوی نے بگاڑ ی ہے ۔ پاکستان کے آئین میں اقتدار اعلیٰ اللہ کیلئے اور قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کی وضاحت ہے۔ ہم نے75سال میں آزاد خارجہ پالیسی نہیں اپنائی۔ اگر قرآن کے مطابق چور کی سزا ہاتھ کاٹنا قرار دیتے تو بڑے بڑوں کے ہاتھ کٹ جاتے اور وہ اپنی انگلیاں لہرالہرا کر عوام کو ورغلانے کیلئے تقریریں پھر نہیں کرسکتے تھے اوراگردنیا سعودی عرب کو اجازت دیتی ہے توہمیں کیوں نہیں دیتی؟۔اپنا مقتدر طبقہ چور ہے اسلئے پارلیمنٹ میں اسلامی قانون سازی نہیں کرتا۔ جب اسلام دنیا میں نازل ہوا توعیسائی مشرکانہ عقیدہ رکھتے تھے کہ تین خدا ہیں۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے توہین آمیز نظریہ رکھتے تھے۔ اسلام نے اہل کتاب کی خواتین کیساتھ نکاح کی اجازت دی لیکن آج ہماری جہالتوں کا حال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میںالجامعة الاسلامیہ الفلاح للبنات کی19سالہ معلمہ کو توہین مذہب، بھونڈے خواب اور مفادات کی بھینٹ چڑھا کر چند خواتین نے چھریاں مارمارکر ذبح کرکے شہید کردیا۔ وفاق المدارس سے ملحق مدرسے کے مہتمم مولانا شفیع اللہ کے بیان کو دیکھ لیا جائے تو وہ معلمہ کا دفاع بھی جرأتمدانہ انداز میں کرنے سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ وفاق المدارس ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے چندوں کے تحفظ کی خاطر جو بیان دیا، وہ بھی شرمناک ہے۔ مولانا سیدمحمد بنوری جب گھر میں شہید کئے گئے تھے تو مولانا فضل الرحمن سے استدعا کی تھی کہ مجھے قتل کردیا جائیگا۔مولانا فضل الرحمن مفتی جمیل خان کو ساتھ لئے گھوم رہے تھے جس نے روزنامہ جنگ میں خود کشی کرنے کی جھوٹی خبر چلائی تھی۔ مدارس کے علماء کو چوڑیاں پہنادیں اور خواتین عالمات اپنی کسی رہنما کی قیادت میں اس معلمہ کے بہیمانہ قتل پر ملک گیر احتجاج کا حق ادا کریں۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کا قتل ہے۔ اگر یہ فتنہ نہیںروکا گیا تو مولانا فضل الرحمن، عمران خان، شہبازشریف، بلاول بھٹو، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، علامہ حافظ سعد رضوی ، اسفندیار ولی ، جنرل قمر باجوہ ، چیف جسٹس عطاء محمد بندیال اور بہت مرد اورخواتین کو بھی خوابوں کی بنیاد پر قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ان خواتین کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی دوسرے کو ایسے خواب نظر نہ آئیں۔ اشرافیہ کو غریبوں پر ظلم دکھائی نہیں دیتا ہے۔
قرآن میں توراةکے حوالے سے اللہ نے جان کے بدلے جان، دانت، آنکھ، ناک، کان اور ہاتھ وغیرہ کے بدلے میں دانت ،آنکھ، ناک، کان اور ہاتھ وغیرہ کا حکم دیا ہے۔ اگر پاکستان میں اس پر عمل کرنا شروع کریںگے تو دنیا بھر کے مذہبی جنونی یہودی بھی ہمارا ساتھ دیں گے جن کے پنجے میں فرنگیوں کی شہہ رگ ہے۔ عیسائیوں کے انجیل میں شرعی حدود کا ذکر نہیں لیکن وہ تورات کے احکام کو تسلیم کرتے ہیں اسلئے عیسائی بھرپور ساتھ دیں گے۔ جرائم پرقابو پانے اور چوری کا خاتمہ کرنے کیلئے دنیا بھر کے مالیاتی ادارے پاکستان کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیںگے۔ جب ہماری عدالتیں چور کو سزائیں دیتی ہیں تو چور قید سے نکل کر اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے میں شرم محسوس نہیں کرتا ہے۔ پارلیمنٹ چوروں کیلئے قرآن کے مطابق ہاتھ کاٹنے کی سزا کو قانونی شکل دیتی تو کتنااچھا ہوتا؟ لیکن بلی کو مچھلی کی چوکیداری سونپ دی گئی ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ زخموں کا قصاص یعنی بدلہ ہے۔ اگر قتل اور اعضاء کاٹنے اور تیزاب پھینکنے کی سزاؤں پر تین دن کے اندر اندر عمل ہو تو جرائم کی شرح زیرو ہوسکتی ہے۔ سالوں سال بعد مظلوم اپنی جان، مال اور عزت پر کھیل کر انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے۔ انصاف میں دیر بھی انصاف کا قتل ہے۔ ظالموں کو موقع دینے کیلئے جتنے تاخیری حربوں کو قانون کا حصہ بنایا گیا ہے وہ سب ایک خود مختار پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کئے جائیں۔ ہندوؤں کے پاس اپنا کوئی قانونی نظام نہیں ۔ قرآن وسنت کے ٹھوس قوانین کی شکل بگاڑ دی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کیلئے فوج، صوبائی اور مرکزی حکومت نے اسلام کو سہولت کاری کیلئے استعمال کیا تھا۔ بیوہ عورت نے اکلوتے بیٹے کا خون عدالت کی دہلیز پر اسلئے معاف کیا کہ اس کو خطرہ تھا کہ جوان بیٹیوں کی عزت لٹ جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو اور شارخ جتوئی کے کیس میں فرق و امتیاز نہ ہونے کے باوجود عدالت نے الگ الگ انصاف دیا تھا۔
فائز عیسیٰ کی بیگم کی بیرون ملک جائیداد پر اپنے پیٹی بند جج بھائیوں کو دھمکی ملتی ہے کہ تمہارا بھی بھانڈہ پھوڑ دیں گے تو اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کو اس کی بے دریغ حمایت کرنے والے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ڈبودیا ہے اور مسلم لیگ ن کا بیڑہ اس کی حمایت کرنے والا میڈیا غرق کررہاہے۔ قطری خط اور دھمکی خط میں دونوں طرف کی میڈیا نے جس طرح کی شرمناک مہم جوئی کی، ان کو صحافت کی جگہ کوئی اورپیشہ اپنانا چاہیے۔ معتدل، سچے اور غیرجانبدار میڈیاہاؤس اور صحافیوں کو بڑا کریڈیٹ جاتا ہے لیکن کرائے پر مہم جوئی کرنے والوں کابھی فائدہ ہے۔ معتدل اس طرح سے جرأتمندی کا مظاہرہ نہیں کرسکتے جس طرح فواد چوہدری کے سامنے مطیع اللہ جان کھڑے ہوگئے ۔حالانکہ فواد نے مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم کو تھپڑ تک رسید کردئیے۔
قراردادمقاصد اور آئین پاکستان میں اقتدارِ اعلیٰ کا حق اللہ اور خلافت کا حق حکمران کاہے۔ آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا تھا۔ جس شجر سے اللہ نے روکا ۔ شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ کیا میں ہمیشہ والا شجر بتادوں اور ایسی بادشاہت جونہ ختم ہونیوالی ہو؟۔ حضرت آدم کو شیطان نے ورغلایا۔اقتدار حقیقت میں اللہ کیلئے ہے اور جب کوئی اس کو اپنے لئے دائمی اور خاندانی سمجھنے لگتاہے اور اس کی حرص میں مبتلا ء ہوجاتا ہے تو یہ وہ شیطانی کھیل ہے جس کی وجہ سے آدم وحواء ننگے ہوگئے تھے ۔ قرآن میں اللہ نے بنی آدم سے کہا کہ تمہیں شیطان ننگا نہ کردے کہ جیسے تمہارے آباء کو ننگا کردیا تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کو زبردستی قیامت تک اپنی دائمی بادشاہت قائم رکھنی تھی ۔پھر عوام نے ان کو ایسے عبرتاک انجام سے دوچارکردیا تھا کہ کربلا کے مظالم بھی لوگ بھول گئے تھے۔ تین سفیانوں کے مقابلے میں تین مہدیوں کا ذکر ہے اوراچھے برے شجرے کی حقیقت آخر کار پھر عوام کے سامنے ضرور آئے گی۔مولانا الیاس گھمن کے ساتھی مفتی رضوان کا نیٹ پر انٹرویو دیکھا ۔اس نے کہا کہ” حضرت حسن و حضرت حسین ہمارے ایمان کا حصہ ہیں اور یزید تاریخ کا حصہ ہے۔ تاریخ کو ہم ایمان پر مقدم نہیں رکھ سکتے۔ یزید واقعہ کربلا میں خود ملوث تھا یا نہیں ؟۔ اس پر ہمارے اکابر نے سکوت اختیار کیا”۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”ا گر دریائے فرات کے کنارے کتا پیاس سے مرے تو ذمہ دار عمر ہوگا”۔یزید کی حکمرانی میں واقعہ کربلا ، اہلبیت کے بچے ، بیمار اور خواتین کو زنجیروں میں باندھ کر اور امام حسین کے کٹے ہوئے سر کو یزید کے دربار میں پیش کیا اور یزیدنے دانت مبارک اپنی تلوار سے کٹکٹائے کہ مقابل نہ آتا تو یہ انجام نہ ہوتا۔ اور اس پر سکوت اختیار کیا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت راشدہ کا عدل وانصاف نہیں چاہیے بلکہ جن کو شیطان نے اپنے دائمی حکومت کی خوہش سے ننگاکیا تھاوہی اقتدار چاہیے۔ بقیہ صفحہ 2نمبر2

بقیہ : ہمارا سیاسی وریاستی نظام اور محمد علی جناح کا دیا ہوا پاکستان
قرآن میں کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال شجرہ خبیثہ سے دی گئی اور بنوامیہ، بنوعباس، خلافت عثمانیہ، مغل سلطنت، فاطمی خلافت، خاندانِ غلاماں اور ایران، سعودی عرب اور افغانستان کے علاوہ تمام خاندانی بادشاہتیں در اصل شجرہ خبیثہ کی طرح تھیں، ہیں اور رہیں گی جو بھی ان کے نقش قدم پر چلتا رہے گا۔ حضرت علی کے بیٹے حسن نے مسنداقتدار کو چھوڑ کر شجرہ طیبہ کی مثال قائم کردی۔ آدم کے بیٹے قابیل نے شجرہ خبیثہ کی بنیاد رکھ دی اور ہابیل نے شجرہ طیبہ کا نقشہ بتادیا کہ قدرت رکھنے کے باوجود ظالم بننے کی جگہ مظلومیت کو ترجیح دے دی۔ نوازشریف، شہبازشریف سے لوگ اسلئے نالاں تھے کہ ایک بھائی وزیراعظم اور دوسرا پنجاب کا وزیراعلی بنتا تھا اور اب حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب اور شہباز شریف کی وزیراعظم کی خواہش نے پھر شجرہ خبیثہ کی یاد تازہ کردی۔ کوئی عقلمند شجرہ خبیثہ سے تعلق رکھتا تو بھی مسلم لیگ ن میں نئی شامل ہونے والی منتخب آزادرکن اسمبلی محسن جگنو کووزیراعلیٰ بناتا مگر حمزہ شہباز کو بنانے سے گریز کرتا۔ اسلئے کہ کسی بھی عوامی جماعت پر خاندان کی اجارہ داری شرمناک ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنے بیٹے کی جگہ جماعت کے کسی سینئر رکن پارلیمنٹ کو آگے نہیں لاسکتا تھا تو سگے بھائی مولانا عطاء الرحمن کوہی آگے لاتا۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں خاندانی اقتدار کا دوام کھلی غلط خواہش ہے جس کی وجہ سے حضرت آدم کو بھی شیطان نے وسوسہ ڈال کر جنت سے نکلوادیا تھا۔ محمود خان اچکزئی کی بات سوفیصد درست تھی کہ ”کم بختو! قیادتیں بنائی نہیں جاتی ہیں بلکہ پیدا ہوتی ہیں”۔ بھٹو، نوازشریف اور عمران خان ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویزمشرف کے کالبوت میں رکھ کرہی بنائے گئے تھے اور قیادتوں کیلئے خاندانی کاشت فرعون کی شجرہ خبیثہ ہوسکتی ہے۔ خلافت راشدہ کا معیار خاندانی امتیاز نہیں بلکہ کردار اور عوامی رائے کا معاملہ تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے بجائے قریش سے نبیۖ کی بعثت ہوئی تو اس میں خاندانی اجارہ داری کی جگہ نبوت کا شجرہ طیبہ کا معاملہ تھا اور نبیۖ کے بعد بنوہاشم کی جگہ بنوتمیم سے حضرت ابوبکر صدیق اکبر کی خلافت بھی شجرہ طیبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ حضرت علی بنادئیے جاتے تو قیامت تک خاندانوں کی فرعونیت کا معاملہ اسلام کے گردن میں فٹ کرنے کی کوشش کی جاتی۔
مولانا فضل الرحمن حدیث سناتاہے کہ ”جس حکمران نے عوامی رائے کے بغیر خود کو زبردستی سے مسلط کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہو”۔ ایک حدیث جمعہ کے خطبات میں پڑھی جاتی ہے کہ ” سلطان زمین پر خدا کا سایہ ہے اور جس نے سلطان کی توہین کی اس نے اللہ کی توہین کی ”۔ اس حدیث کو بھی جمعہ کے خطبے کا حصہ بنادیا جاتا کہ زبردستی سے اقتدار پر قابض ہونے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ جہاں بھی سازشوں، خاندانی قبضہ مافیا اور ڈکٹیٹر شپ سے کسی کو اقتدار ملتا ہے تو مولوی حسنِ قرأت سے آیت پڑھتا ہے کہ ” اللہ ملک کا مالک ہے وہ جس کو چاہتا ہے ملک عطاء کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتاہے اور جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے”۔ اگر فرعون کے زمانے میں حضرت موسیٰ کو بھاگتے اورہمارامولوی موجودہوتا تب یہ آیت پڑھتا۔
قائداعظم محمد علی جناح اور انکے ساتھیوں نے اپنی مادر وطن ہندوستان سے وفاداری نہیں کی تھی بلکہ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر مادروطن ہندوستان کو تقسیم کرکے قربان کیا تھا اور مولانا حسین احمد مدنی کو وطن پرست ہونے کی بنیاد پر علامہ اقبال نے ابولہب قرار دیا تھا۔ نبیۖ نے مکہ مکرمہ سے یثرب ہجرت کرنے پر ترجیح دی تھی اور حضرت اسماعیل کوبھی حضرت ابراہیم نے بچپن میں ہجرت کی راہ پر ڈالا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے بھاگ کر جان بچائی تھی ۔پھر اپنی قوم کو دریا پار لے گئے تھے۔ پاکستان بنا تو مہاجرین اور قائدین نے ہجرت کی تھی اور جن علاقوں نے پاکستان اور نظرئیے کو ووٹ دیایہاں تشریف لائے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن علاقوں نے پاکستان کو ووٹ دیا تھا اور جس میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بھی شامل تھا۔ جب وہاں کی پارٹی جیت گئی تو اس کو ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں نے اقتدار سپرد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کئے۔ جس کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا تھا۔
آج بنگلہ دیش کی کرنسی ہماری کرنسی سے زیادہ حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری تمام حکومتوں نے ڈالر کی قیمت کے سامنے اپنے روپیہ کو بے وقعت بناتے بناتے آخر یہاں تک پہنچادیا ہے کہ بنگالی ٹکے نے بھی روپیہ سے سبقت لے لی ہے۔ تیس سال سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی ذمہ دار تھے اور اب پونے چارسال سے تحریک انصاف نے اسی پگڈنڈی پر چل کر تنزلی کا سفر جاری رکھا ۔ صحافی نے شہباز شریف سے پوچھا کہ آپ کیا بہتری لائیں گے تو اس کا جواب یہ تھاکہ عمران خان سے پوچھ لو جو کہتا تھا کہ ہرچیز کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے۔
ہماری حکومت اور ریاست واقعی اللہ کا سایہ ہے اور اللہ باقی رکھے کیونکہ جس طرح دہشتگردی کا مقابلہ ہماری پاک فوج اور پاک پولیس نے کیا عوام مقابلے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ البتہ گڈ طالبان اور بدمعاش بھی ریاست اور حکومت پالتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تمام قسم کے جرائم بھی بڑی ڈھڑلے سے ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ جبری جنسی زیادتی اور اغواء برائے تاوان سے لیکر ہیروئن ، چرس ،افیون ،چائے، ایرانی تیل،کپڑے،ادویات اورصاف شفاف پانی تک کی سمگلنگ ہورہی ہے اور ان کے پیچھے کس کس کا ہاتھ ہے؟۔ یہ کسی بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے اور جام عبدالکریم کے ہاں غریبوں کا قتل اور مجبوری میں معافی میڈیا میں بھی زیادہ نہیں اچھالا جاتا ہے اور جب میڈیا مجید اچکزئیMPAکے قتل کو اچھالتی ہے تب بھی ایک غریب ٹریفک پولیس کے اہلکار شہید کو انصاف نہیں ملتا ہے۔
جب بلاول بھٹو زرداری کے والدین کی شادی نہیں ہوئی تھی اور بینظیر بھٹو آنسہ کہلاتی تھی تو میں نے1984میں جمعیة اعلاء کلمة الحق کے نام پر جماعت بنائی تھی اور کوشش کی تھی کہ جماعت کا امیر کسی دوسرے کو بنایا جائے مگر اس میں کامیاب نہیں ہوسکا تھااور جب عمران خان کرکٹ کھیلتا تھا اور ورلڈ کپ بھی نہیں جیتا تھا تو میں نظام کی تبدیلی کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان1991میں ایک سال بامشقت جیل کی سزا کاٹ رہا تھا۔ جب نواز شریف جنرل ضیاء الحق کا کٹھ پتلی تھا تو بھی نام نہاد اسلامی جمہوری اتحاد کی جگہ میں نے مولانا فضل الرحمن کو باقاعدہ اپنا شاختی کارڈ بنواکر ووٹ دیا تھا۔ حالانکہ میں نے اپنا شناختی کارڈ تصویر کو جائز نہ سمجھنے کی وجہ سے ضائع بھی کردیا تھا۔ مولانا عبدالکریم بیرشریف نے بھی شناختی کارڈ کیلئے اپنی تصویر نہیں کھچوائی تھی جو جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر تھے اور اس سے پہلے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سراج الدین دین پوری نے جمعیت چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن جمعیت میں حیثیت عہدے کی نہیں شخصیت کی ہے اوریہ فطری بات ہے لیکن شخصیت کو اپنے خاندانی تسلط قائم کرکے یزید سے بدتر کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ۔یزید کے بیٹے معاویہ نے خاندانی قبضہ کرنے کے بجائے اقتدار کو چھوڑ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے کارکن جن لوگوں سے مولانا کیلئے لڑرہے تھے انہی کو مولانا نے کارکنوں پر مسلط کر دیا ہے۔ بہتر ہے کہ جمعیت علماء اسلام عوام سے کھلواڑ کرنے کے بجائے مریم نواز کی جماعت میں باقاعدہ ضم ہوجائے۔ مولانا نے حافظ حسین احمد کے مدِ مقابل مولانا غفور حیدری کو سپورٹ کرکے کٹھ پتلی جنرل سیکرٹری بنادیا تھا اور ابھی تک اپنی نااہلی کے باوجود اسی کی پشت پناہی سے مسلسل منتخب ہورہاہے۔
جب عمران خان کے کارکنوں کی طرف سے ہلڑبازی کا خدشہ تھا تو مریم نواز نےPDMکے پلیٹ فارم کو چھوڑ کر ن لیگ کے کارکنوں کو لاہور میں روک دیا تھا اور مارکٹائی کرنے اور کھانے کیلئے جمعیت علماء اسلام کے کارکن پہنچائے گئے تھے۔ جب ایک جماعت ہوگی تو کم ازکم فرنٹ لائن کا کردار تو ادا نہیں کریںگے اور جب مار کھانی اور کھلانی ہوگی تو سب ایک جگہ جینے مرنے کا دم بھریں گے۔ جب قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی شقوں کے خلاف ن لیگ کی حکومت نے بڑی سازش کی تھی تو مولانا فضل الرحمن بھی اس کے اتحادی تھے۔ قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تھا اور سینٹ میں حافظ حمداللہ نے اس کی نشاندہی بھی کی تھی لیکن جب اتفاق سے سینٹ میں بل پاس نہ ہوسکا تو سینٹ وقومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کیا گیا۔ شیخ رشید چیخ چیخ کرجمعیت علماء اسلام کو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی قربانیاں یاد دلاتے رہے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہاتھا۔ پھر علامہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد دھرنہ دیا تھا۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور دوسری چھوٹی بڑی پارٹیاں بھی خاموش تھیں۔ صرف اور صرف جماعت اسلامی نے شیخ رشید کی دھائی سن لی تھی اور آواز اٹھائی تھی۔
جمعیت علماء اسلام کی تو سیاست ہی ختم نبوت کا دفاع ہے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری اتنا کم عقل ہے کہ جلسے میں قاری محمد حنیف جالندھری کی موجودگی میں کہہ رہاتھا کہ ”میرا دل بیٹھا ہوا تھا کہ اگر سینٹ سے یہ بل پاس ہوجاتا تو مجھے چیئرمین سینٹ کی غیرموجودگی میں چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑتے لیکن شکر ہے کہ بل پاس نہیں ہوسکا تھا”۔ شاید نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو قادیانی سمجھ رکھا تھا اور اس کی خوشنودی کیلئے یہ ترمیم کی جارہی تھی۔ اللہ اور اسکے رسول ۖ کیلئے تو یہ خدمت نہیں ہوسکتی تھی۔یہ بات کرتے ہوئے سادہ لوح ، کم عقل اور بیوقوف انسان اتنا بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ رنگے ہاتھوں اعتراف جرم کررہاہوںاور ساتھ ساتھ یہ کہنے پر نہیں شرمارہاتھا کہ” ہم اسمبلیوں میں دین کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں”۔ تقریب میں قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ ”کورٹ سے خلع لینے کا تصور غلط ہے اور اسکے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائیں گے”۔ کہا جاتا تھاکہ مفتی محمود نے جنرل ایوب خان سے ایک لاکھ روپیہ لیکر عائلی قوانین کے خلاف مزاحمت نہیں کی تھی جن میں عدالت سے عورت کو خلع مل گیا ۔ مفتی محمود نے فقہ کے غلط مسائل دیکھ کر عدالتی خلع کی مزاحمت نہیں کی ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی جس اسلام کیلئے تقسیم ہند کی حمایت کررہے تھے تو اس کی وجہ خلع کے غیرفطری مسائل فقہ کا حصہ تھے لیکن مولانا حسین احمد مدنی نے ان فقہی مسائل کی تقلید کے مقابلہ میں متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں اور سکھوں کیساتھ مل کر سیکولر ریاست بنانے کو ترجیح دی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو اسلامی دنیا نے اسلئے ترجیح دی تھی کہ وہ پاکستان جیسے ملک کا وزیراعظم تھا، بھٹو کی شخصیت سے ملک کابڑا عمل دخل تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی بھی اسلامی دنیا میں بڑی حیثیت تھی۔ عمران خان کو ترکی ، ایران، ملائشیا اور دیگر ممالک نے اہمیت دی لیکن سعودی عرب نے اشارہ کیا تو بیٹھ گیا تھا۔ یہ اسلامی ممالک کو دوبلاکوں میں تقسیم کرنے کاا یجنڈہ تھا۔
اسلام نے پنجاب کے بھانڈ اور سندھ کے مداری پیدا کرکے دنیاکی قیادت نہیں کی تھی بلکہ عملی طور پر مساوات کا راسخ عقیدہ دیا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو بہتان لگانے والوں کیلئے اسی اسی کوڑوں کی سزا کا حکم دیا گیا اوریہ حکم امہات المؤمنین کیساتھ خاص نہیں ہے بلکہ عام درجے کی خاتون پر کوئی بہتان لگائے تو اس کیلئے بھی وہی سزا ہے جو نظریہ ٔ ضرورت کے تحت بدل نہیں سکتاہے۔ جب قیصرو کسریٰ کے شاہی تختوں اور درباروں میں اس انصاف ، قانون اور عقیدے کی گونج پہنچ گئی تو بادشاہ، ملکہ اور درباری ہل کررہ گئے۔
آج مریم نوازجمعیت علماء اسلام کے جن کارکنوں میں اسٹیج کی رونق بنتی ہے وہ کارکن اپنی بیگمات اور ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو کسی قیمت پر اس طرح اسٹیج پر نہیں لائیں گے لیکن عدالت میں معزز خواتین کی ہتک عزت کی کیا قیمت ہے ؟ اور مریم نواز کی ہتک عزت ہوجائے تو اس کی کیا قیمت ہے؟۔ مریم نواز اربوں میں دعویٰ کرے گی اور ان غریب اور عزت دار خواتین کو عدالتوں سے اتنا بھی معاوضہ نہیں ملے گا جتنے معاوضے پر وہ عدالت اور وکیل کی فیس بھر سکیں۔ اگر مریم نواز پر کروڑوں کی ہتک عزت کا دعویٰ ہوجائے تو وہ پل بھر میں ادا کردے گی۔ کیونکہ اس کا شوہر عام کیپٹن نہیں ہے بلکہ شریف خاندان کا داماد ہے جس نے ملک لوٹ لیا ہے لیکن اگر کبھی جمعیت کے غریب کارکنوں کوایک لاکھ کے جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑے تو انکے پاس یہ رقم نہیں ہوگی۔ موجودہ غیر اسلامی اور غیر عوامی ہتک عزت کے قوانین میں انصاف کہاں ہے؟۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کو آئین میں اسلام کی فکر نہیں بلکہ اپنے مفادات کی فکر ہے۔ اگر عوام اور اسلام کا خیال ہوتا تو ہتک عزت میں80،80کوڑوں کی سزاؤں کو نافذ کیا جاتا جو سب کیلئے یکساں ہے اور پاکستان میں اس پر عمل ہوجاتا تو عرب بادشاہوں کی شلواریں بھی گیلی ہوجاتیں۔ اس قانون کے نفاذ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کا ڈنکا بجے گا۔ عزت جان اور مال پر بھی مقدم چیز ہے۔
قرآن میں توراة کے حوالے سے جان کے بدلے جان کی بات ہے لیکن پھر یہودیوں نے توراة سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے یہود کے بدلے میں کسی غیر یہودی کو قتل کرنا ٹھیک قرار دیا لیکن یہودی کو غیر یہودی کے بدلے میں قتل کرنا غلط قرار دیا۔ آج اسرائیل میں اللہ نے ان کا اصل چہرہ عوام کو دکھانا تھا اور امریکہ نے گوانتاناموبے میں جو مظالم مسلمانوں کیساتھ روا رکھے وہ بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔ مسلک حنفی نے کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے کا اسلام باقی رکھا لیکن باقی تین مشہورفقہی مسالک مالکی، شافعی اورحنبلی کے ہاں کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کرنے کی یہودی تحریف اسلام میں داخل ہوئی۔ پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے اور اپنے بگڑے ہوئے مذہبی مسائل کو درست کرکے پاکستان کو عالم انسانیت کی قیادت پر پہنچایا جاسکتا ہے۔عربوں اور امریکہ میں تکبر ورعونت کے باعث ابلیس کی صفات داخل ہوگئی ہیں اور ہمارا پاکستانی معاشرہ تکبر ورعونت کی صفات سے پاک ہے اسلئے پاک فوج کا موجودہ سپاہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ بھی تواضع وانکساری کی ایک تصویر نظر آتا ہے۔ البتہ اوریا مقبول جان جیسے لوگوں سے بچ کے رہنا چاہیے۔ غلط اعداد وشمار سے قوم کو دھوکے میں رکھنے سے زیادہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اصل اسلام کے احیاء سے پاکستان میں ایک انسانیت کا انقلاب آسکتا ہے جو بحرانوں سے نکال دے گا۔
رضاربانی نے روتے ہوئے ووٹ کو پارٹی کی امانت قرار دیکر ضمیر کے خلاف دیا توان کی دیانتداری مانی گئی لیکن حلف میں کہا جاتاہے کہ ”میں ملک اور اسلام کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اپنے ذاتی ، گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر استعمال کروں گا”۔ آئین وحلف اورقول وفعل میں بلا کے تضادات ہیں۔
عمار علی جان اور عروج اورنگزیب با صلاحیت شخصیات ہیں اور ان کے ساتھی بھی جذبات سے بھرپور ہیں۔ اسلام نے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کا مکمل خاتمہ کیا تھا۔ عورت کو زبردست آزادی اور تحفظ فراہم کیا تھالیکن سب کچھ مذہبی طبقات نے اپنے موٹے موٹے پیٹ میں تباہ کردیا۔صحیح احادیث میں ہے کہ جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے پھر زمین کی مزارعت کو بھی سود قرار دیکر پابندی لگادی تھی۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سب متفق تھے کہ زمین مزارعت پر دینا سود ہے لیکن جس طرح آج کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی بینکاری کو حیلے سے جواز بخشا ہے ،اسی طرح پہلوں والوں نے مزارعت کو جواز بخش دیا تھا۔ ججوں، سیاستدانوں، جرنیلوں ، علماء ومفتیان ، صحافیوںاور معاشرے کے کسی بھی طبقے اور شخصیات کو برا بھلا کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سب ایک ماحول کا حصہ ہیں اورمثبت اسلامی اور انسانی معاشرے کو ہرکوئی پسند کرے گا۔ جب گڑ سے اس باطل نظام کی روح ماری جاسکتی ہے تو زہر کھلانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ کسی ایک طبقے کو بر ابھلا کہہ کر اپنے نمبر بنانے کی کوشش کا رواج اور رحجان بھی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہوا میں تیر چلانے کا کیا فائدہ ہے؟۔ معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں جسکا بڑا نقصان ہے۔وقت پر تیر نشانے پر مارا جائے تو بات بن جائیگی۔ انشاء اللہ ۔عتیق گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مفتی محمد تقی عثمانی چالاک پرندے کی طرح دونوں پیروں سے پھنس گئے

مفتی محمود کی وفات کا واقعہ
بٹوہ لیتے تھے کہ لاؤ بھئی پان کھائیں گے تمہارا!پھرایکدم یہاں ہاتھ رکھا اور ختم؟
مفتی محمد تقی عثمانی چالاک پرندے کی طرح دونوں پیروں سے پھنس گئے

مفتی تقی عثمانی نے اپنی سابقہ تحریر اور مولانا یوسف لدھیانوی کی تحریر کے برعکس جھوٹ بولا۔زکوٰة کا مسئلہ اسلام کو بدلنا اور غریبوں کا بڑا قتل تھا

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے یوٹیوب کے تازہ آڈیو بیان میں کہا ہے کہ
حضرت مولانا مفتی محمود جوبہت مشہور عالم ہیں اور بڑی شہرت اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اور بڑا کام کیا انہوںنے، تو ایک مرتبہ زکوٰة کا ایک مسئلہ تھا جس میں ہماری طرف سے جو فتویٰ جاری کیا گیا تھا اس میں اور حضرت مفتی محمود نے جو فتویٰ جاری کیا تھا اس میں کچھ اختلاف ہوگیا کہ ہمارا فتویٰ کچھ اور تھا ان کا کچھ اور تھا۔ حضرت مفتی صاحب سفر کرکے عمرے کیلئے تشریف لے جارہے تھے۔ اور یہاں بنوری ٹاؤن کے مدرسے میں تشریف فرما تھے ، اگلے دن عمرے کو جانا تھا۔ تو انہوں نے اپنی شفقت سے ہمیں بلایا کہ بھئی آکر ذرا اس موضوع پر بات کرلیں آپس میں۔ اور جو تمہارا مؤقف ہے تم بیان کردو جو ہمارا ہے ہم بیان کردیں پھر دیکھیں کوئی راستہ اتباع کرنے کے لائق۔ تو بھائی صاحب حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب اور میں ہم دونوں گئے بنوری ٹاؤن۔ حضرت مفتی صاحب کا معاملہ بڑا شفقت کا تھا۔ اور اتنا پیار تھا یعنی گفتگو میں اور ہر چیز میں تو انہوں نے، وہ بھی پان کھاتے تھے۔ ہم بھی پان کھاتے تھے۔ اور مفتی صاحب بعض اوقات اپنی بے تکلفی میں میرے پاس پان کا وہ ہوتا تھا نا ڈبہ بٹوہ، چھوٹا سا ہوتا تھا ، اب تو وہ کم ہوگیا ہے معاملہ۔ پہلے تو بہت کھاتا تھا میں تو اس وجہ سے اس میں رکھ کر لے جاتا تھا کہیں جانا ہوتا تھا تو۔ تو حضرت مفتی صاحب کی عادت تھی یعنی شفقت کی وجہ سے کہ خود ہی ہاتھ بڑھا کر وہ بٹوہ لے لیتے تھے۔ لاؤ بھئی پان کھائیں گے تمہارا۔ اس طرح بالکل یعنی خوش بخوش اور بہت ہی نشاط طبع کوئی طبیعت میں ادنیٰ بھی کوئی کمزوری نہیں تھی۔ اور پان بھی لیا اور اس کے بعد پھر بات چیت بھی شروع کی۔ اور بات چیت شروع کرتے کرتے ایک دم سے یہاں ہاتھ رکھا اور ختم۔ ایک دم سے یہاں ہاتھ رکھا اور گر گئے۔ ہم لوگ اٹھا کر لے کر گئے ہسپتال تو ہسپتال میں کہا گیا کہ یہ تو ختم ہوچکے ہیں۔ بیٹھے بیٹھے بات کرتے ہوئے ، عمرے کا سفر تیار اور یعنی آدمی اگر بیمار ہو تو عمرے کا سفر تو نہیں کرے گا نا۔ لیکن کوئی بیماری نہیں تھی کوئی پریشانی نہیں تھی اور بیٹھے بیٹھے ختم ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اب ہم دیکھتے ہی رہ گئے کہ بات کرتے کرتے کرتے اچانک ، ہاتھ یہاں رکھا سر پر بس اور گر گئے۔
مفتی محمود کی وفات پر مشہور تھا کہ مفتی محمود کو علماء نے پان میں زہر دیکر شہید کردیا ۔کراچی جلسۂ عام میں مفتی محمود نے جنرل ضیاء الحق کو رئیس المنافقین قرار دیا تھا۔ قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ مرزائی نواز مردہ باد۔ تو مفتی محمود نے کہا کہ ”مرزائی نواز مت کہو ،مرزائی کہو”۔ مولانا انس نورانی نے اسلام آبادPDMکے جلسے میں جنرل ضیاء الحق کو رئیس المنافقین قرار دیا ۔جنرل ضیاء الحق نے مفتی تقی عثمانی کو لائبریری کیلئے خطیر رقم اور دارالعلوم کراچی کے مغرب کے سائیڈ کا بہت بڑا پلاٹ دیا ۔ جنرل ضیاء نے بینکوں کے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو مفتی محمود سمیت پاکستان بھر کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ رئیس المنافقین اور مرزائی قرار دیا لیکن سرکاری مرغوں مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا۔اس وقت ان دونوں بھائیوں کی حیثیت مفتی محمود کے سامنے بچوں کی طرح تھی۔ مفتی محمودنے زکوٰة کے مسئلے پر ان کو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی بلایا اور مسئلے میں کوئی ابہام بھی نہیں تھا۔ اگر دس لاکھ پر سالانہ ایک لاکھ سود ملے ۔ دس لاکھ محفوظ اور75ہزار سود ملے اور25ہزار زکوٰة کے نام پر کٹ جائیں تو زکوٰة کی ادائیگی کہاں سے ہوگی؟۔ مولانا فضل الرحمن جلسوں میںمدارس کیلئے اس زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا۔ختم نبوت کے نام پر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور ملک بھر کے علماء کرام نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلائی تو جنرل ضیاء کو” امتناع قادیانیت آڈرنینس ”نافذ کرنا پڑا تھا۔جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا شیر محمد دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا مفتی تقی عثمانی پر برہم رہتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالحی سے قادیانی جنرل رحیم الدین کی لڑکی کا جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح پڑھوایا اور مفتی محمود کو پان میں زہر دیکر قتل کردیا تھا۔ جب البلاغ دارالعلوم کراچی میں مفتی تقی عثمانی کی وہ تحریر پڑھی تھی جو اس نے مفتی محمود کی وفات پر لکھی تھی تو مجھے اپنے استاذ مولانا شیرمحمد سمیت سب لوگوں پر بہت غصہ آیا تھا کہ اتنا بڑا جھوٹ کیسے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی پر لگادیا ہے اسلئے کہ اس تحریر سے پان کھلانے کا شائبہ تک بھی ختم ہوجاتا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ” جب ہم دونوں بھائی مفتی محمود کے ہاں بنوری ٹاؤن پہنچے تو ہمیں چائے پیش کی گئی ۔ میںنے کہا کہ ہم دونوں بھائی دن بھر میں ایک مرتبہ چائے پیتے ہیں ، پھر سارا دن نہیں پیتے۔ مفتی محمود نے کہا کہ میں خود زیادہ چائے پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم چائے پیتا ہو تو میں اس کو پسند کرتاہوں۔ میں نے پان کا بٹوہ دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بہت بدتر ہے۔ پھر مفتی محمود نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا تو تھوڑی دیر بعد ان پر غشی طاری ہوگئی۔ فلاں نے ہاتھ اور فلاں نے پیر ملے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا تھا”۔ مفتی تقی عثمانی کی اس تحریر کے پڑھنے کے بعد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا ہوگا۔ میزبان کی چائے کی دعوت ٹھکرانے ،پان کو علت اور بدتر قرار دینے کے بعد ایک برخودار جیسی حیثیت رکھنے والا مفتی تقی عثمانی کس طرح مفتی محمود جیسے بزرگوار کوپان کھلانے کی پیشکش کرسکتا تھا؟۔ اسلئے پان کھلانے کی ساری کہانی بہت بھونڈی حرکت لگی تھی۔ پہلے یقین اسلئے کیا تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بھی پان میں زہر کھلایاگیا تھا۔ البتہ جب اقراء ڈائجسٹ مفتی محمود وبنوری نمبر میں نہ صرف مفتی تقی عثمانی کی یہ تحریر چھپ گئی بلکہ مولانا یوسف لدھیانوی کی بھی وہ تحریر شائع ہوئی جو مفتی محمود کی وفات پر انہوں نے لکھی تھی۔ جس کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ اس میں مفتی تقی عثمانی کا پھر اصرار کرکے پان کھلانے کا بھی لکھ دیا تھا اور ساتھ میں دوسرے بھائی مفتی رفیع عثمانی کادورۂ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈالنے کا بھی لکھ دیا تھا۔ جب ہم نے اپنی تحریرمیں یہ معلومات شائع کردیں تو مولانا یوسف لدھیانوی نے فرمایا تھا کہ ” مفتی تقی عثمانی سے مجھے ڈانٹ پلوادی ہے کہ کیا ضرورت تھی پان کھلانے اور گولی حلق میں ڈالنے کی بات لکھنے کی ؟۔ مجھے پھنسا دیا ہے”۔ مولانا یوسف لدھیانوی خوش تھے اسلئے کہ حاجی محمد عثمان پر فتویٰ لگانے سے بھی وہ سخت ناراض تھے اور ان کی طرف جھوٹا فتویٰ لکھ کر منسوب کیا گیا تھا۔ حاجی عثمان کے وکیل نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا تو مفتی تقی عثمانی نے سارا جھوٹ اپنے سر لیا تھاکہ ” ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا ہے”۔ اب تو اپنے بیان سے بالکل رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔
سودی نظام کو حیلے سے اسلامی قرار دینے پر مدارس کے علماء و مفتیان نے مفتی تقی عثمانی کو انفرادی فتویٰ جاری کرنے سے روکنے کیلئے اپنا اجتماعی کردار ادا کیا لیکن بینکوں سے معاوضے لینے والوں نے اپنے مفاد کی خاطر اپنے اساتذہ اور بڑوں کی سنی ان سنی کردی۔بڑی غلط بیانی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے یہ کی کہ ”مفتی محمود پان کھاتے تھے اور مجھ سے پان کا بٹوہ لیتے تھے کہ لاؤ بھئی ہم تمہارا پان کھائیںگے”۔حالانکہ پان اور نسوار میں بڑا فرق ہے۔ پان چھپا کر کھانے کی گنجائش نہیں جبکہ نسوار کی گنجائش ہے۔ باپ بیٹا ، استاذ شاگرد اور بڑا چھوٹااکٹھے پان کھائیں تو ان میں شرم و حیاء اور ایکدوسرے سے تکلف نہیں ہوتا۔ نسوار میں ایکدوسرے سے چھپ چھپاکر حیاء وشرم اور لحاظ رکھاجاسکتا ہے۔
پہلے رمضان کے مہینے میں لوگ نماز، روزہ کی طرح زکوٰة کو فرض سمجھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے تھے۔ بڑے پیمانے پر امیر لوگ غریب ومستحق لوگوں میں زکوٰة کی رقم تقسیم کردیتے تھے۔ جبکہ بعض لوگ سود کی رقم کو بھی بینک سے نکال کر غریبوں میںتقسیم کردیتے تھے اور مولوی حضرات اس سے مساجدو مدارس کے غسلخانے اور لیٹرین بناتے تھے۔ حکومت کے کارندے زکوٰة کی رقم بھی بڑے پیمانے پر کھا جاتے ہیں اور اس کی ذمہ دار ی مفتی تقی عثمانی پر عائد ہوتی ہے۔مفتی تقی عثمانی کے فتوے نے پہلے غریبوں پر زکوٰة کی رقم کا راستہ بند کردیا۔ پھر سودی رقم کیلئے اسلامی منافع کا نام دیکررہی سہی کسر بھی پوری کردی۔جس کی وجہ سے لوگوں میں زکوٰة کی ادائیگی اور سود کی حرمت کا تصور بھی ختم ہوگیا۔ اسلام کو بدل ڈالااور غریبوں کو بھوک کی طرف دھکیل کرانکا معاشی قتل عام کیا۔ پھر لوگوں نے مدارس، فلاحی اداروں ، تنظیموں اور مختلف ذرائع سے زکوٰة، خیرات اور صدقات کے نام سے اپنے لئے منافع بخش کاروبار شروع کردیا۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے پہلے علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف سے کیمرے کی تصویر کو جائز قرار دینے کے خلاف فتویٰ دیاپھر پاکستان بننے کے بعد ریاست، تجارت اور دیگر معاملات کیلئے جائز قرار دیدیا۔مولانا شیرمحمد دار العلوم کراچی میں پڑھتے تھے تو مفتی شفیع نے مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی کیلئے دارالعلوم کراچی کی وقف شدہ زمین میں مکان خریدے تھے اور مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اسکے خلاف فتویٰ دیا تواسکی زبردست پٹائی لگوا دی تھی۔
٭٭٭

مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا بیان
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے تازہ بیان میں مفتی محمود کی وفات پر تبصرے کے علاوہ مدارس کے نصاب کی تبدیلی کی ضرورت پربھی زور دیکر کہا ہے کہ وفاق المدارس پاکستان کے پہلے صدر مولانا شمس الحق افغانی نے تقریباً50یا60سال پہلے کہا تھا کہ مدارس کا موجودہ نصاب مغربیت کا مقابلہ نہیں کرسکتاہے ۔
فاضل دارالعلوم دیوبند پیر مبارک شاہ نے کانیگرم جنوبی وزیرستان میں سکول کھولا۔ اکوڑہ خٹک کا دینی مدرسہ بعد میں بنا۔مولانا عبدالحق نے پہلے سکول کھولا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے1920میں مالٹا کی رہائی کے بعد اپنی وفات سے پہلے حکیم اجمل خان کی یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ جب مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے تو ملک بھر سے علماء کی میٹنگ بلائی تھی کہ مدارس کے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنا ضرور ی ہے ،جس سے علمی استعداد نہیں بنتی، اس نصابِ تعلیم کی وجہ سے ذہین لوگ کوڑھ دماغ بنتے ہیں۔1983میںجو طلبہ فاروق اعظم مسجد ناظم آباد مولانا قمر قاسمی کے ہاں جمعہ کے دن میٹرک پڑھنے جاتے تھے تو دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن اورجامعہ فاروقیہ شاہ فیصل نے ان کو خارج کردیا تھا۔ دارالعلوم کراچی میں ایک کمر شل سکول بھی موجودہے۔ جامعة الرشید نے یونیورسٹی کے طرز پر بینکاری وغیرہ کی تعلیم شروع کردی ہے اور مفتی تقی عثمانی کے بیٹے بھی میزان بینک کے اسلامی ڈائریکٹر بنے ہوئے ہیں۔
٭٭٭

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی درس نظامی کے نصاب میں تبدیلی کیوں چاہتے ہیں؟

شاہ ولی اللہ نے قرآن وسنت کی طرف امت کو متوجہ کیااور ناجائز تقلیدکی مخالفت کی اور شاہ اسماعیل شہید نے تقلید کو بدعت قرار دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھاکہ ” اصولِ فقہ کی کتابوں میں ایسے نقا ئص ہیں کہ جس دن کسی عقلمند کی اس پر نظر پڑگئی تو سب کچھ ملیا میٹ ہوجائیگا”۔ (تذکرہ : مولانا آزاد)شیخ الہند اورمولانا سندھی نے قرآن پر زور دیا اور آخر میں مولانا کشمیری نے بھی کہا کہ ”میں نے اپنی زندگی فقہی مسالک کی وکالت میں ضائع کردی۔قرآن و سنت کی خدمت نہیں کی”۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے نصاب کی تبدیلی نہیں تسہیل پر زوردیا۔ بہشتی زیور ، حیلہ ناجزہ اور بہت سارے مواعظ اور کتابیں دلیل ہیں۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ اجتہاد اچھا لیکن تمہارے اجتہاد میں تقلیدِ فرنگی کا جذبہ نظرآتا ہے۔مفتی محمد تقی عثمانی نے اکابرین کے برعکس بینک کے سودی نظام کو اسلامی بنانے کا حیلہ ایجاد کرلیا تو کیا یہ مغربیت کا مقابلہ ہے؟۔ مغربیت کے بڑے فتنے میں تو امت مسلمہ کو ڈبودیا اور اب اس کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ مغرب کا دینی مدارس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کا ذکر مولانا فضل الرحمن نے کیا اور مولانا فضل الرحمن کو وفاق المدارس کا صدر بنایا جارہاتھا پھر مفتی تقی عثمانی کو بنایا گیا۔ ٹھیک ٹھاک پیسوں سے علماء ومفتیان کو خریدلیا گیا۔جامعة الرشید اور دارالعلوم کراچی کی تلاشی لی جائے ۔ جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کے اکاونٹ میں5ارب ساڑھے34کروڑ روپے تھے۔ صحافی حامد میر نے مفتی نظام الدین شہید سے امریکہ کی طرف سے علماء کو خریدنے کی خبر نقل کی تھی۔ پھر جہاد کے نام پر80ہزار پاکستانی شہید کئے گئے۔ مولانا فضل الرحمن نے نصاب کی تبدیلی پر مثبت بیان دیا لیکن ڈھیٹ علماء ومفتیان اس میںرکاوٹ ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے بیان پر

محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے بیان پر
تبصرہ تلخ و شیریں : فاروق شیخ

لیاقت باغ پنڈی میں پشتون شہید کروائے گئے تو اس میں فوج کا ہاتھ نہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجابی پشتون فسادات کرانے کیلئے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔ نہ جانے پھرجدی پشتی مسلم لیگی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیوں خوش تھا؟۔ البتہ جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف طالبان سے کہہ رہا تھا کہ پنجاب میں دھماکے نہ کرو۔ امریکہ کیخلاف ہم اور آپ ایک ہیںتو پشتون قوم پرستوں کو اُڑانے پر شاہد خاقان کو خوش ہونا چاہیے تھا۔ن لیگ کو مولانا فضل الرحمن اسلئے امریکہ کا ایجنٹ لگتا تھا کہ اس نے کہا تھا کہ مارگلہ تک طالبان پہنچ چکے ہیں۔ نوازشریف اور عمران خان کو طالبان نے اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا توPPP،ANPاورJUIپر خودکش حملے ہواکرتے تھے۔
بلوچستان کو سوئی گیس سے محروم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والا نوازشریف تختِ لاہور کیلئے سی پیک کا مغربی روٹ بدل دے اور شاہد خاقان کرک پیٹرول کو اٹک منتقل کرے تو پختون اور بلوچ قوم پرست ن لیگ پر اعتماد کریں؟۔ جج فائز عیسیٰ کی بیوی کی طرح مالامال ہو تو تب علی وزیر کو رہا کرینگے ؟۔جسکے خاندان کے18افرادشہید کئے۔ قومی اسمبلی توڑنے پرافراتفری کاکوئی خطرہ نہ تھالیکن آرمی چیف کی برطرفی پر آسمان وزمین دھماکے سے پھٹ بھی سکتے تھے؟ قطری خط پر رونے والو!سچ کا پتہ نہیں ؟ نوازشریف ڈکارلینے لندن پہنچے۔ماڈل ٹاؤن لاہور میں طاہر القادری کے14افراد شہیدکردئیے، ذمہ داری وزیر اعظم عباسی نے کسی پر ڈالی!آنکھوں میں دھول تونہ جھونکو! ،سچ بول نہیں سکتے تو بھونکو!چپ رہ بھی نہیں سکتے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے!
٭٭٭

پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ہمارے پاس ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ محمود خان اچکزئی
دواسٹنڈر نہیں چلیںگے کہ ایک آدمی کو اسلئے ستاؤ کہ وہ اصولوں کی خاطر کھڑا ہے اور دوسرے کو کرپٹ کرو
اسے کروڑوں روپے دو،اس کو وزیراعلیٰ بناؤ، وزیراعظم بناؤ، فلانا بناؤ، اس ملک سے کھلواڑ بند ہونا چاہیے
محمودخان اچکزئی،اسلام آباد: عبدالصمد خان کی کتاب ”My Life & Times”کی تقریب رونمائی سے خطاب
پاکستان واقعی مشکل میں ہے۔ میں گنوار آدمی سیاسی کارکن ہوں۔ پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ٹائم بہت تھوڑا ہے۔ اور ہم ایک بڑی خطرناک ظالم دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عراق تباہ ہوا۔ لیبیا فارغ ہوا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ بہانے جو بھی تھے مگر اصل مسئلہ ریسورسز کا تھا۔ خوش قسمتی اور بد قسمتی سے ایسی نشانیاں ہیں کہ ہمارے ملک میں دنیا جہاں کی نعمتیں ہیں۔ مثلاً اٹک میں گیس اور پیٹرول، ہمارا پانی، افغانستان اور اسکے ریسورسز، ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے خطے کے گلے پڑیں۔ تو ہم لازماً اپنے ملک کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ جب سے ملک بنا ہے اس میں آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے وکیل بیٹھے ہیں، رضا ربانی ، حامدخان ،بار کے پریزیڈنٹ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں انسان صرف144کی خلاف ورزی پر مارے گئے ملک کیسے چلے گا کہ بنیادی ہیومن رائٹس پر بات کرنے والے لوگوں پر گولیاں چلائیں گے144کی خلاف ورزی میں۔ اور آئین کو پھاڑنے اور اسکے ساتھ کھلواڑ کرنے پر آپ کسی سے نہیں پوچھیں گے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا کہ افواج پاکستان کیلئے ہے یا پاکستان افواج کیلئے ہے؟۔ یہ بنیادی سوال ہے۔ اگر افواج پاکستان کیلئے ہے مشاہد بھائی ہم گارنٹی دیتے ہیں192ملک ہیں،ہم گھاس کھاکرگزارہ کرینگے بہترین افواج بنانے میںاور اگر آپ نے پاکستان افواج کیلئے بنایا ہے تو بابا میں اور یہ بلوچ غریب سندھی یہ غریب پنجابی یہ (feudal lord )کے مارے ہوئے چوہدری ہم یہ کبھی برداشت نہیں کرینگے۔ خاقان عباسی بھائی، قاضی صاحب اور حامد خان سے میں یہ درخواست کروں گا کہ کون یہ کارِ خیر کریگا کہ ہمارے ملک کے دانشوروں، عالموں، سیاستدانوں، فوجیوں ، ججوں پر مشتمل گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ جس میں سپریم جوڈیشری کے جج ، جرنیل ، پریس والے ہوں، ہم جیسے غریب غرباء سیاسی کارکن ہوں۔ ہم مل بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ اس ملک کو کس طرح چلانا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا اور یہ لڑائی غریبوں کو سڑکوں پر لڑنی پڑی جس طرح ترکوں نے کیا پھر ملک کا تیاپانچا ہوجائیگا۔ لوگوں کو اس طرف مت دھکیلو۔ میں اتنا بڑا آدمی نہیں ہوں۔ یہاں سندھی ، بلوچ ، پنجابی دوست بیٹھے ہیں، ذاتی طور پر کسی انسان سے فاصلے اس بنیاد پر ناپنا کہ اس کی زبان کیا ہے؟، وہ کس مذہب کا ہے؟ ، وہ کس علاقے کا ہے؟، وہ کس براعظم کا ہے؟، ہم اس کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے، پنجابی، پشتون، سندھی ، سرائیکی ، بلوچ اپنی اپنی زمینوں پر رہ رہے ہیں۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ ہم اس بقیہ صفحہ 3نمبر2

بقیہ … محمود خان اچکزئی
ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے کم سے کم اتنا تو کردیجئے کہ اللہ پاک نے جو نعمتیں سندھی ماڑوں کی زمین پر پیدا کی ہیں ، بلوچوں ، سرائیکی اور پنجابیوں کی زمینوں پر پیدا کی ہیں کم سے کم اتنے بنیادی حقوق تسلیم کرلیں کہ وہ دنیا جہان کی مزدوریاں چھوڑ کر اس ملک میں رہ سکیں۔ ان کی زبانوں کا احترام کیجئے، قرآن کریم کو ماننے والے لوگ ہیں آپ۔ قرآن کریم میں محمد ۖ سے اللہ پاک مخاطب ہیں کہ محمد ! میں نے قرآن کریم بہت سادہ کتاب آپ کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے تاکہ آپ لوگوں کو سمجھا سکیں۔ اللہ جس جس قوم سے مخاطب تھا اسی قوم کی زبان میں کتابیں بھیجیں۔ آپ21ویں صدی میں لوگوں کی زبان پر تالے لگارہے ہیں، کراچی اور لاہور کے تھانے دیکھے، سینکڑوں پشتون اس بنیاد پر لاہور کے تھانے میں ہونگے کہ اسے اردو نہیں آتی۔ کہاں کے رہنے والے ہو؟ ، کاکڑ ہوں۔ کہاں کے کاکڑ ہو؟، فلانے علاقے کا۔ نام کیا ہے؟ اسے اردو نہیں آتی۔ تم افغانستان سے ہو۔ ملک کے بچانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ یہاں بالادستی منتخب پارلیمنٹ کی ہوگی، آئین کی ہوگی یا بعض لوگوں کی ہوگی؟۔ دنیا جس طرح چلاتی ہے یہ ملک چل سکتا ہے بہترین ملک ہے۔ دنیا جہان کے مسائل ہیں۔ ہم یہ کرسکتے ہیں ، بلوچ، پشتون، سندھی آپ نے جتنا مارا ہے زندہ باد۔ جتنی جیلیں دی ہیں زندہ باد، معاف آپ کو۔ آئیں ملک کو انسانوں کی طرح سیدھا سادہ ڈیموکریٹک، اسلامک فیڈریشن آف پاکستان بنائیں۔ میں گارنٹی دیتا ہوں، میں سندھیوں ، بلوچوں اور سرائیکیوں کا ماما ہوں، ہم لکھ کر دینے کو تیار ہیں۔ لیکن خدا کو مانیں اسکے غلط معنی نہ نکالیں ، ہم غلاموں کی طرح رہنا نہیں چاہیں گے۔ آپ لکھے پڑھے لوگ ہیں یہ ہمارے جسٹس ہیں، محمد خان بیٹھاہوا ہے، سوئی گیس60کی دہائی میں بلوچ علاقے سے نکلی تھی بگٹی سے۔ آج تک مری بگٹی عورتیں روٹی خس و خاشاک پر پکاتی ہیں، انکے ریسورسز دس سال بعد ختم ہوجائیں گے۔ جب بلوچوں کی سوئی گیس کا یہ حشر کرینگے تو کوئی بلوچ پاگل ہے کہ آپ کو اپنے علاقے میں ڈرل کیلئے چھوڑے گا، کوئی پشتون پاگل ہے کہ آپ کو اپنے علاقے میں نکالنے کیلئے چھوڑے گا، کوئی خٹک پاگل ہے کہ آپ کو اپنے تیل و گیس حوالے کرے گا۔ رحم کریں اس ملک پر ہم پر نہ کریں ملک پر رحم کریں۔945میں لیگ آف نیشن بنی مشاہد بھائی آپ سے بہتر کون جانتا ہے۔ آزاد ملکوں کی تعداد صرف60تھی۔100سال پورے نہیں75سال ہوئے۔ وہ60ملک ٹوٹتے ٹوٹتے193بن گئے۔ ان بے انصافیوں نے ملکوں کو توڑا ہے اور یہ بے انصافیاں ایک دفعہ ہمارے ملک کو توڑ چکی ۔ اللہ کیلئے اس ملک پر رحم کریں۔ فوجیوں کو ہماری باتیں نقصان نہیں پہنچاتیں۔ جو نقصان ایوب خان کی مارشل لاء نے پہنچایا دس سال وہ بیٹھا رہا درجنوں نہیں سینکڑوں جرنیل فارغ ہوگئے۔ بریگیڈئر رینک کے جنہیں آگے آنا تھا وہ فارغ ہوئے۔12سال دوسرا بیٹھا رہا11سال تیسرا بیٹھا رہا ۔33سال کے نتیجے میں یہ پاکستان ملا۔ اسکے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے۔ ربانی صاحب آپ آتھر ہیں (18th Amendment کے bicameral) پارلیمنٹ ہے پاکستان میں۔ مہربانی کریں سینٹ کو وہ اختیار دیں جو قومی اسمبلی کو دیے گئے ہیں۔ جہاں قومیتوں کی برابری ہے۔ یہ ملک آسانی سے چل جائیگا ۔ میں بلوچوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کی طرف سے کہتا ہوں کہ ہمیں انسان سمجھو۔ ہمارے وسائل پر اتنا ہمارا حق سمجھو کہ ہمارے بچے بھوکوں نہ مریں۔ ہم پاکستان اچھا چلائیں گے۔ اگر کسی پاگل کا خیال ہے کہ بندوق کے سائے میں ملک چلایا جاسکتا ہے ۔ آپ نے سوویت یونین کا حشر دیکھا جسکے اسلحہ خانوں میں اتنے خطرناک بم ہیں کہ اس براعظم کو تباہ کرسکتا ہے۔12،16ملک فارغ ہوجائیں گے خدا حافظ۔ چھوٹا سا ملک میں نام نہیں لیتا، حساس حالات ہیں40دن ہوگئے لڑائی کو مگر بندوق کے زور پر اس پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ مشاہد بھائی ! یہ بندوق ہماری ہیں، یہ توپ ہماری ہیں ، جہاز ہمارے ہیں، اس فوج میں آبادی کی بنیاد پر ہمیں حصہ دو۔ بلوچ کو دو، سندھی کو دو، پٹھان کو دو، آپ کو دو، اوریہاں جج صاحب بیٹھے ہیں جس طرح آئین کہتا ہے کہ جو آدمی فوجی ہوگا وہ سیاست میں حصہ دار نہ ہوگا۔ اس پر آئیں۔ دعا کرتے ہیں یہ ملک بہترین ہے ۔ ہم درخواست کرتے ہیں اگر یہ کام آپ نہیں کرسکتے ہیں تو آنے والی پارلیمنٹ بادشاہی چلانے سے پہلے مہربانی کرلے کہ فوجیوں، ججوں اور سب پر مشتمل ایک کانفرنس بلائے ، ہمیں نہ بلائے اس میں ، شریف لوگ وہاں بیٹھ کر کوئی آئینی حکمرانی کی بنیاد رکھ سکیں گے۔ ورنہ آپکے پاس ٹائم نہیں، ہمارے پاس ٹائم نہیں۔ مفت میں ہمارا یہ بہترین ملک خدانخواستہ خدانخواستہ مشکلات میں پھنس جائیگا۔ میں آپ لوگوں کا بہت مشکور ہوں۔ پی ڈی ایم ہم نے بنائی تھی۔ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہورہا ہے ، میں اس پارلیمنٹ میں ہوں یا نہ ہوں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آئندہ والی پارلیمنٹ کم سے کم تین چار باتیں کرلے۔ ایک یہ کہ جن جج صاحبان نے مختلف ادوار میں اصولوں کی خاطر فوجیوں کیلئے حلف نہیں اٹھایا نوکریاں چھوڑیں اور گمنامی میں فارغ ہوئے اگر وہ مرگئے تو انکے بچوں کو انعام دیدیں کہ ڈیموکریسی کے جج یا ایمانداری کے جج، اس پارلیمنٹ میں کم سے کم یہ کام کردیں۔ سینکڑوں لوگMRDاورARDمیں سندھیوں نے کوڑے کھائے، شہید ہوئے ان کیلئے پارلیمنٹ کچھ کرلے۔ انہیں شہدائے جمہوریت ڈکلیئر کردے۔ لوگ بیٹھے ہیں کوئی ناراض ہوجائیگاPCOکے تحت حلف اٹھانے والے پھر کیا کرینگے ہمارے جج؟۔ بار بار حلف لیا جاتا ہے کہ ہم آئین کی حفاظت کرینگے۔ ہم نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔ کس طرح ہم دفاع کریں؟۔ ربانی صاحب میری رہنمائی کریں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ گلیوں میں لڑنا ہے پشتونخواہ پارٹی آپکے ساتھ ہے، بلوچ آپکے ساتھ ہیں سندھی آپکے ساتھ ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں لڑنا ہے یا کوئی گول میز کانفرنس بلانی ہے کہ اس ملک کو آئین کے تحت چلایا جائے پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو۔ وہی داخلی اور خارجہ پالیسی کا سرچشمہ ہو۔ ہمارا فوجیوں سے نہ کوئی بغض ہے نہ فوجیوں سے ہماری کوئی لڑائی ہے۔ اگر وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں بسم اللہ کریں۔ وردیاں اتار لیں پھر دیکھیں کہ سیاست میں الیکشن کیسے جیتا جاتا ہے۔ کیسے ممبر بنایا جاتا ہے۔ یہ دو اسٹینڈرڈ نہیں چلیں گے۔ ایک آدمی کو اسلئے ستاؤ کہ وہ اصولوں کی خاطر کھڑا ہے اور دوسرے کو اپنی طرف سے کرپٹ کرو کروڑوں روپیہ دو اسے وزیر اعلیٰ بناؤ ، وزیر اعظم بناؤ فلانا بناؤ یہ نہیں چلے گا۔ اس ملک سے یہ کھلواڑ بند ہونا چاہیے۔ آپ سب کی بڑی مہربانی۔ آپ سب کو خدا لمبی عمر دے۔ آپ نے ہم پر احسان کیا خدا آپ کو خوش رکھے۔ شکریہ
٭٭٭

پنڈی میں پشتون شہید ہوئے تو سمجھا کہ غداروں پر فتح حاصل کرلی ہے۔ شاہد خاقان عباسی

ملک کی تاریخ مسخ کی گئی،جن کو ہم محب وطن سمجھتے تھے وہ دشمن نکلے اورجو دشمن تھے وہ محب وطن نکل نکلے

محمود خان سے میرے دوست، بزرگ اور محسن ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اصولوں پر سیاست اور آئین کی بالادستی سیکھی

میں محمود خان اچکزئی کا بہت مشکور ہوں ان کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا ترجمہ کی۔ میں دسویں جماعت میں پشاور میں پڑھتا تھا جب عبد الصمد خان کی شہادت ہوئی۔ اس وقت ہم سمجھتے تھے کہ یہ ملک کے غدار ہیں۔ عبد الولی خان غدار، عبد الصمد خان اچکزئی بھی غدار اور مجھے کچھ یاد آرہا ہے تو اس سے کچھ عرصہ پہلے یا اسی عرصے میں لیاقت باغ پنڈی میں بہت سے ہمارے پشتون بھائی افراسیاب صاحب کو یاد ہوگا شہید ہوئے اور ہم نے اس وقت یہ سمجھا کہ ہم نے غداروں پر کوئی فتح حاصل کی ۔ اسی زمانے میں اگر میری میموری درست ہو تو اکبر بگٹی صاحب شاید گورنر تھے بلوچستان کے اور تقریباً23سال بعد ان کو بھی اسی طرح شہید کیا گیا جس طرح ماضی میں ہم کرتے رہے اور آج بھی ہم اس ملک کے تاریخی حقائق سے واقف نہیں جو کسی نے بتایا نہیں ۔ ہم وہ واحد ملک ہیں جس کی تاریخ ہی مسخ کردی گئی ۔ یہ پتہ ہی نہیں کہ کس نے کیا کیا؟، کون محب وطن تھا؟، کون وطن کا دشمن تھا؟۔ جن کو ہم محب وطن سمجھتے ہیں وہ وطن کے دشمن نکلے ،جو دشمن تھے وہ محب وطن نکلے۔ میں محموداچکزئی کا بہت مشکور ہوں ہمیشہ یہ سیاست میں میرے دوست ہیں، محسن ہیں، بزرگ ہیں اور بہت کچھ میں نے ان سے سیکھا ۔ دو باتیں سیکھی ہیں ۔ اُصولوں پر سیاست سیکھی اور آئین کی بالادستی سیکھی ہے۔ عبد الصمد خان صاحب کا میں نے مقدمہ ابھی دیکھا ہے جو حامد صاحب نے دیا تھا تو یہی باتیں اس میں بھی لکھی ہوئی ہیں تو میں سب کو کہتا ہوں کہ یہ جوPDMبنی جو مقصد حاصل کرے جو اس کا مطلب تھا لیکن ایک بات اس میں کم از کم جو مجھ پر واضح ہوئی کہ وہ لوگ جن کو ہم غدار کہتے تھے ہم نے سولی پر بھی لٹکایا وہ آج آئین کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے یہی ایک قدم ہے آئین کی بالادستی کیلئے۔ جس کیلئے ہم سب کوشش کرتے رہے۔ کسی نے کم کی کسی نے زیادہ کی۔ آج سے تقریباً ساڑھے تین چار سال پہلے ہم نے ایک غیر آئینی تجربہ کیا۔ ایک حکومت کو لیکر آئے۔ اس نے جو ملک کا حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ آج وہ تجربہ ناکام ہوگیا اور یقین کریں ملک کے حالات اتنے تشویشناک تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے۔ تو آج پھر سے ملک کے معاملات کو درست کرنا پڑے گا۔ ری بلڈ کرنا پڑے گا اور سب نے ملکر کرنا ہے اور اس کی ہدایت بنیادی اصول آئین ہے۔اگر آئین سے انحراف کرینگے ، ملک آگے نہیں چل پائیگا۔ یہ حقیقت کم از کم مجھ پر عیاں ہے ۔ آج ہر پاکستانی پر عیاں ہونی چا ہیے کہ اگر آئین درست نہیں بدل لیں۔ جو تبدیل کرنا ہے کہ ہمیں یہ تبدیلی چاہیے مگر ملک میں دو نظام نہیں ہوسکتے۔ ملک اس طرح نہیں چلتے۔ ابھی افراسیاب بقیہ صفحہ 3نمبر3

بقیہ… شاہد خاقان عباسی
نے بات کی تھی کہ ایک امریکن پروفیسر نے مجھے یہ بات کی تھی کہ میںنے چالیس سال ہسٹری پڑھی اور پڑھائی ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا ملک نہیں جس کی اکثریت اس کو چھوڑ کر گئی ہو۔ ہمیشہ اقلیت علیحدہ ہوتی ہے۔ یہاں بنگالی جو اکثریت میں تھے اس ملک کو چھوڑ کر چلے گئے اپنا نام بھی ہمیں دیکر گئے ملک کا نام بھی نہیں لیا انہوں نے۔ یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے تھا مگر ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ آج ہماری مشکلات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں تاریخ کا علم نہیں ۔ میں بار بار یہ بات کرتا ہوں کہ(truth commission )ہونا چاہیے کسی کو سزا نہیں دینی حقائق تو سامنے آئیں ہوا کیا ملک کیساتھ؟۔ افراسیاب صاحب کو میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں یہ پشاور میں یونیورسٹی کے صدر تھے میرے خیال میں73میں، بہت سے لوگ جب چلے جائیں گے تو پتہ نہ ہوگا کہ حقیقت ہے کیا؟۔ یہاں پر کیا ہوتا رہا ہے؟ آپ یقین کریں کہ جس دن ملک کے سیاستدان یہtruth commissionبنانے کے قابل ہوئے وہ دن اس ملک کی سیاسی ترقی میں بہت بڑا دن ہوگا۔ بد نصیبی ہے کہ اتنے کمزور ہیں(truth commission) ہم نہیں بناسکتے۔ عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ وہ اس کی بات نہیں کرسکتی۔یہ صرف سیاستدانوں کا کام نہیں۔ صرف سیاستدان اس ملک کو درست نہیں کرسکتے ، صرف فوج نہیں کرسکتی، عدلیہ نہیں کرسکتی، بیوروکریسی صرف نہیں کرسکتی، سب کو ملکر بیٹھنا پڑیگا اور راستہ بنانا پڑیگا کہ ہم نے کیسے وہاں جانا ہے اور کیسے پہنچنا ہے۔ عبد الصمد خان کی جو تھوڑی بہت کتاب پڑھی ہے بات قربانیوںسے بنتی ہے اگر ایک شخص نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ جیلوں میں د یا ہو ، پھر بھی اصولوں پر قائم رہا ہو یہ ہم سب کیلئے سبق ہے۔ اس کتاب کا یہی سبق ہے اور یہی بات ہمیں یہاں سے حاصل کرنی چاہیے۔ یہاں پر مجھے عثمان کاکڑ صاحب کی یاد ضرور آتی ہے۔ وہ نوجوان ان اصولوں پر قائم رہے جو عبد الصمد خان صاحب نے سکھائے تھے۔ میں آپ سب کا بہت مشکور ہوں اور امید ہے کہ ہم سب یہاں سے کچھ سبق حاصل کرینگے۔ اور کم از کم اصولوں پر رہ کر اس ملک کو آئین کے مطابق چلانے کی کوشش کرینگے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv