پوسٹ تلاش کریں

پاکستان میں اسلامی تعلیم کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی!

طالبان اسلام کے نام پر اٹھے تھے ۔ معروف صحافی حامد میرنے بہت دیر کی یہ کہتے کہتے کہ ’’ طالبان امریکہ کا منصوبہ تھا، بینظیر بھٹو کو امریکن رابن رافیل نے قائل کیا کہ وہ امیرالمؤمنین ملاعمرمجاہد کی تائید کریں۔ رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کی ایماء پر ملاعمر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ آپ نے میرے خلاف کالم لکھا؟۔ میں نے کہا کہ رابن رافیل آپ کی حمایت کرتی ہے تو آپ کو امریکی جاسوس کیسے نہ سمجھوں؟، ملاعمر نے کہا کہ وہ عورت ہے یا مرد؟۔ میں نے کہا کہ عورت تو ملا عمر نے یوں پیشانی پر ہاتھ مارا اورکہاکہ ایک عورت میری حمایت کرتی ہے؟۔ پھر کہا کہ میں آپ کی امریکہ کے سب سے بڑے دشمن سے ملاقات کرادوں تو یہ وعدہ کرتے ہو کہ آپ لکھیں گے کہ میں امریکی ایجنٹ نہیں۔ میں نے کہا کہ کون ہے وہ؟۔ تو ملاعمر نے کہا کہ اسامہ بن لادن!۔ میں نے اس کیساتھ پھروعدہ کیا ۔ پھر پاکستان آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجھے اسامہ بن لادن سے ملا دیا۔ یوں یہ انٹرویوآئی ایس آئی کی وجہ سے نہیں بینظیر بھٹو کی مہربانی سے ہوا تھا۔ طالبان کے ایشو کو آئی ایس آئی نے بعد میں اپنے حق میں استعمال کیا۔ اسامہ بڑا سادہ بندہ تھا۔ اسکے جتنے فوٹو چل رہے ہیں وہ سب میرے کہنے اور ہدایات پرہی بنائے گئے تھے، میں کہتا کہ اس طرح اسلحہ لگاکر تصویر نکالو، کبھی اسکے پیچھے کتابیں رکھ دیتا تھا۔ انٹرویو کرنیوالی پی ٹی وی کے چینل Aٹی وی کی اینکرپرسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اسامہ تیرے اشارے پر ناچتا رہا؟۔ حامد میرنے کہا کہ ناچنا تو میں نہ کہوں گا لیکن وہ ایک بہت سادہ بندہ تھا، دنیا میں جو اس کا امیج بناہواہے یہ انہی تصویروں کی وجہ سے ہے۔ اینکرپرسن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صحافی جس کو جس انداز میں پیش کرتے ہیں وہ ویسے نظر آتا ہے‘‘۔
حامد میر کسی دور میں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملاعمر کے خلاف کالم لکھنااور پھر رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کے ذریعے ملاعمر اور پھر اسامہ سے ملاقات سی آئی اے کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا، میں نے تو ملازم کا کردار اداکیا۔جنگ نے مفتی محمدحسام اللہ شریفی کو بھی نکال دیا ہے، میری تنخواہ بھی امریکی سی آئی اے دے رہی ہے۔ پاکستان کی فوج اتنی کمزور تو نہیں کہ مجھے مارنا چاہے اور مجھے نہ مارسکے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی کوئی اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اسامہ اور ملاعمر کے نام پر امریکہ نے پوری مسلم دنیا کو تباہ کردیا اور حامد میر اب پیپلزپارٹی کا گراف گرانے کیلئے انٹرویو دے رہاہے؟۔ واہ پنجابی واہ !۔ اللہ تجھے پوچھے گا۔یہ الفاظ اس پٹھان کے لبوں پر اس وقت جاری ہونگے کہ جب عالمی سازشیں ایک نیا کھیل کھیلنے کی تیاری میں لگ چکی ہیں۔ پختون قوم اور پاک فوج کے اندر موجود مخلص جاہل لوگ یا عالمی دلال ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری میں لگ چکے ہیں۔ہم نے طالبان کے نام پرسازش سے پہلے بھی خبرادر کیا تھا مگر جذباتی ماحول میں میرے خاندان نے بھی میری مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آج پھر اپنے پختون اور مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ سازشوں کے جال میں پھنس جانے سے پہلے ہوش کے ناخن لو۔ ایک دفعہ فتنہ برپا ہوگا تو رہی سہی امن کی زندگی بھی ہاتھ سے نکلے گی۔
اگر پاکستان کی فوج نے پختون علاقہ سے نکلنے کا اعلان کردیا یا پختون قوم کو اٹھ کر پنجاب سے اپنا الگ وطن بنانے کا اعلان کرنا پڑا تو نہتے پختونوں کو داعش و طالبان کے مسلح دہشتگرد وحشی جانوروں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائیگا۔ ٹارگٹ کلنگ سے پھر پشتون قوم ایسی دبک جائے گی کہ اس مرتبہ آواز اٹھانے کے قابل بھی نہ رہے گی۔ بھری محفلوں میں بہادری کی بھڑکیاں مارنے والوں کی غیرت و ایمان کو طالبان نے اچھی طرح سے جانچ لیا ہے۔ امریکہ قطر میں ہمیشہ طالبان سے رابطے میں رہاہے۔ وہ شکست کا اعلان کرکے کہے گا کہ طالبان سے ہم نہ لڑسکے، طالبان کو انعام میں افغانستان اور پختونخواہ وبلوچستان کا پختون ایریا دیدے گا۔ سرائیکی، پنجابی اور بلوچ اور سندھی اپنے اپنے الگ ممالک بنالیں گے اور کسی کو بھی پاکستان ٹوٹنے کا دکھ بھی نہیں ہوگا۔ سیاستدان اور اسٹیبلیشمنٹ یہ کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کرینگے کہ مقروض پاکستان سے جان چھڑانے میں ہمارا کمال تھا۔
پھر پانی سر سے گزرنے کے بعد حامدمیر جیسے دیگر صحافی انکشافات کرینگے کہ عمران خان کا ورلڈ کپ جیتنا، طالبان کی حمایت اور پاکپتن کے مزار پر سجدہ سب کچھ پلانٹڈ اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سے لکھا ہوا اسکرپٹ چل رہاتھا۔ اسلامی بلاک کا آغاز کرنے پر بھٹو کو نشان عبرت بنانا بھی کھیل کا حصہ شمار ہوگا اور جنرل ضیاء الحق نے لسانی تعصبات سے پیپلزپارٹی کو اس قدر دھچکا نہیں پہنچایا جتنا آصف زرداری سے بھٹو خاندان کو زرداریوں میں بدلنے کے پلان سے پہنچایا۔ ایک ایک بات کا انکشاف ہوگا تو اسلامی مدارس کے نصاب کو بھی سازش کے تحت جاری اور ساری کرنے کے انکشافات سامنے آئیں گے۔ پھر قوم سنبھل نہ سکے گی اور جس اسلام سے دنیا ڈرتی تھی اس کا دنیا سے ابلیسی نظام کے ذریعے مکمل خاتمہ کرے گی۔علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے لکھاہے کہ ابلیس کو اصل خوف امت کی بیداری اور اسلام کے آئین سے ہے۔
اگر پختون گرینڈ جرگہ وزیرستان اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ واقعی اسلام اور غیرت کیلئے مخلص ہیں توخواتین کے حقوق اور حلالے کی لعنت اور بے غیرتی کے مسائل حل کریں۔ پاکستان کی فوج امریکی امداد پر دلالی کرتی ہو اور پختونستان کا نعرہ لگانے والے حق مہر کے نام پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بیچیں تو پھردونوں سے کوئی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔ جعلی اسلام، جعلی پاکستانیت اورجعلی پشتو غیرت ایک گھناؤنا کاروبارِ سیاست ہے جسکے اچھے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز صاحب نے طلاق سے رجوع اور حلالہ کی لعنت ختم کرنے کے دلائل پر سنجیدگی کا اظہار کیا تھا مگر اب تک خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔ پختون گرینڈ جرگہ قرآن وسنت کے قوی دلائل سمجھ لیں تو حلالہ کی بے غیرتی سے نہ صرف پختونوں کی بلکہ عالمِ انسانیت کی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ شدت پسند طالبان اور دہشت گرد بھی درست اور اعتدال کے راستے پر آسکتے ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات کی گردن مروڑی گئی ہے تو اسلام کا کوئی قصور نہ تھا بلکہ ہردور کے بے غیرت شیخ الاسلاموں نے ریاست میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار خود کو ثابت کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ احادیث صحیحہ میں قرآن کی تعلیم پر معاوضے کی اجازت نہ تھی اور پہلے ادوار میں سلف صالحین کا اس پر اجماع تھاکہ قرآن کی تعلیم پر معاوضہ نہیں لیا جاسکتا۔ بعد والوں نے اس کو پیشہ کاروبار بنادیا۔ احادیث صحیحہ کا پورا ذخیرہ مولاناسیدمحمد یوسف بنوریؒ کے داماد مولانا طاسین ؒ نے نقل کیا کہ زمین کو مزارعت، بٹائی اور کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا۔ امام ابوحنیفہؒ ،امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں لیکن مولانا طاسین ؒ نے گوشہ گم نامی میں زندگی گزار دی۔ دینی مدارس نے ان کی کتابوں کو عوام میں ہوا بھی لگنے نہیں دی۔ آج طلاق کے مسئلہ پر مدارس نے چپ کی سادھ لی ہے۔ علماء ومفتیان جلد ازجلد حقائق کی طرف رجوع کریں ورنہ مشکلات آئیں گی۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہ ﷺ نے پختون قیسؓ عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیا

مؤلف کتاب کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد کراچی نے تاریخی حوالہ جات سے لکھا ہے کہ ’’ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق بخت نصر نے انہیں حکم دیا کہ ملک شام سے نکل جائیں بلکہ جس جس علاقے پر میری حکومت ہے وہاں نہ رہیں۔ جو لوگ ان کی نگرانی پر مامور تھے انہوں نے اس قافلہ کو بخت نصر کی بادشاہت سے نکال کر غور ، غزنی ، کابل، کوہ فیروزہ اور قندھار کے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا جو اقلیم پنجم و ششم میں شمار ہوتے ہیں اور خراسان و کوہستان کے صوبے میں شامل ہیں۔ اس طرح افغنہ کی اولادوں نے (موجودہ) ایران و افغانستان کے علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں کے ہورہے۔ان کی آل اولاد بڑھتی گئی اور اپنی کثرت کی وجہ سے ان لوگوں نے کافر قبیلوں کے خلاف متواتر جنگیں لڑیں اور اکثر و بیشتر پر فتح حاصل کرکے کوہستان کا سارا علاقہ اپنے زیر نگیں کرلیا۔ یہ علاقہ ولید بن عبد الملک بن مروان کے سپاہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے بھانجوں عماد الدین محمد قاسم اور محمد ہارون کے آنے تک ان کے قبضہ میں رہا۔ ہارون اور عمادالدین نے سنہ 88ہجری میں (یعنی آٹھویں صدی عیسوی) کیج اور مکران کا علاقہ فتح کیا اور سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کے آنے تک یہ لوگ اسی علاقے میں سکونت پذیر تھے۔ یہاں چونکہ افغنہ کا ذکر پھر آگیا اسلئے مناسب ہے کہ اس کو مکمل کرلیا جائے۔ چنانچہ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق: ’’اہل دانش و بینش سے پوشیدہ نہ رہے کہ تاریخ نویسوں خصوصاً صاحب ’’مجمع الانساب‘‘ و ’’اصناف المخلوقات‘‘ (تاریخی کتابیں، محمد بن علی شہانکارہ ئی نے 743ھ /1342ء میں اور نصیر الدین طوسی متوفی 672ھ میں تصنیف کی تھیں)نے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بنی اسرائیل اور آصف و افغنہ کی اولادوں کو جن کی تعداد سارے قبیلوں سے زیادہ تھی ، ملک شام سے نکال دیا تو ان میں سے ایک گروہ ملک عرب میں آبسا۔ انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اگر حضرت داؤد ؑ و سلیمانؑ کے بنائے ہوئے خانہ خدا یعنی بیت المقدس کی زیارت اور اس میں خدا کی عبادت سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سعادت ہم سے چھن گئی ہے تو کم از کم حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سعادت کو تو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیونکہ یہ پاک گھر نبی آخرزماں کی جائے پیدائش بھی ہوگا۔ اگر ہمیں سرور انبیاء ﷺ کی زیارت نصیب نہ بھی ہوئی تو ممکن ہے کہ ہماری اولادوں کا بخت یاوری کرے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور زیارت و صحبت سے شرف یاب ہوں۔ اسلئے انہوں نے مکہ معظمہ میں بلکہ حرم پاک میں سکونت اختیار کی۔ انہیں عرب کے لوگ بنی اسرائیل اور بنی افغان کہتے تھے۔ (حضرت خالد بن ولیدؓ اسی قبیلے میں سے تھے )۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایران کی تسخیر کی ۔ ان دو خوش نصیب و نیک بخت جوانمردوں کی ہمت سے نوشیرواں کی نسل کا آخری بادشاہ یزد جرد بمقام یزد قتل ہوا اور چار ہزار سات سو سال کے بعد عجم کی وسیع سلطنت اسلام کو منتقل ہوئی۔ خواجہ نعمت اللہ ہرطی لکھتے ہیں ’’جوینی نے ’’تاریخ جہانکشا‘‘ میں حمد اللہ مستوفی نے ’’تاریخ گزیدہ‘‘ میں ، محمد بن علی شبانکارہ ئی نے ’’مجمع الانساب‘‘ میں اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے ’’تاریخ اصناف المخلوقات ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے کہ جب جمال محمدی ﷺ کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں اور دنیا کی تاریکی کے بادل چھٹنے لگے اور عرب گروہ در گروہ مدینہ منورہ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو خالد نے بھی اسلام قبول کیا اور اس سعادت سے مشرف ہوکر بنی اسرائیل ، بنی افغان اور بنی اعمام کو جو غور کے نواحی پہاڑوں میں بستے تھے ایک خط لکھا جس میں خالد نے ان قبیلوں کو پیغمبر آخر الزماں کی تشریف آوری ، اسلام کی حقیقت اور اپنے ایمان کی خبر دی۔ خالد بن ولیدؓ کا یہ خط جب اس قوم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا بنی افغان کا سب سے بڑا سردار قیس نامی ایک شخص تھا جسکا شجرہ نسب 37واسطوں سے ملک طالوت اور 45واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک پہنچتا تھا۔۔۔ الغرض جب افغانوں کی یہ جماعت مدینہ پہنچی تو حضرت خالدؓ کی وساطت سے حضور سر ور کائناتﷺ کی خدمت میں شرف یاب ہوئی اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئی۔ نبی ﷺ نے اس جماعت کیساتھ ہر طرح سے شفقت فرمائی، انمیں ہر ایک کانام پوچھا اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیس عبرانی نام ہے اور ہم عرب ہیں پھر کمال شفقت سے قیس کا نام بدل کر عبد الرشید رکھا اور فرمایا چونکہ تم لوگ ملک طالوت کی اولاد ہو جسے حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’ملک‘‘ کے خطاب سے یاد کرکے عزت بخشی اسلئے بہتر ہے کہ تمہیں لوگ ملک کہا کریں۔ آپ ﷺ فتح مکہ کیلئے روانہ ہوئے تو خالدؓ اور عبد الرشیدؓ دونوں کو آپ ﷺ کے ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی جماع کو حکم دیا کہ وہ عبد الرشیدؓ کے زیر کمان جہاد میں شریک ہوں۔ اس جماعت کے سب لوگوں نے جانثاری کا ثبوت دیکر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قریش مکہ کے 70 کافر خالدؓ اور اس جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح کے بعد خالدؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ملک عبد الرشیدؓ کی بہادری اور جوانمردی کے واقعات بتائے یہ سن کر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر برملا یہ الفاظ جاری ہوئے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس مرد کی آل و اولاد کو بہت فروغ بخشے گا۔ اس حد تک کہ اس کے قبیلے کی طاقت باقی قبیلوں سے زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے وحی کے ذریعے سے آگاہ کیا گیا کہ اسلام کی خدمت کیلئے اس قبیلے کی کثرت و استحکام کو وہ بنیادی حیثیت حاصل ہوگی جو کشتی اور جہاز کے نیچے والی اس لکڑی کو حاصل ہوتی ہے جس پر کشتی یا جہاز کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ اس لکڑی کو سمندروں کے رہنے والے لوگ ’’بتھان‘‘ کہتے ہیں۔ اسلئے عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیتا ہوں‘‘۔ کثرت استعمال سے یہ لقب بتان یا بتھان سے فارسی کے اثر سے پتھان پھر پٹھان ہوگیا اور آج افغان و پاکستانی سرحدی قبائل اپنے آپ کو پٹھان کہنے پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ انکے رویوں میں وہی بنی اسرائیل یا یہودیوں والی جھلک پائی جاتی ہے اور دینی عقائد میں بھی وہ سوچنے و سمجھنے اور تفکر و تحریر سے عاری ہیں، اور باپ دادا کی پیروی یا تقلید پر ہی اڑے رہتے ہیں۔
بنی اسرائیل یا یہود کے پٹھان بننے کے بعد اب ہم پھر تاریخ کے اس باب کی طرف پلٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہود کی سرکشیاں شام کے علاقے میں بہت بڑھ جاتی ہیں حتیٰ کے وہ جلیل القدر رسول عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنی منافقانہ بد اعمالیوں سے سولی پر لٹکا کر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر 70عیسوی میں رومن عیسائی کی افواج عذاب بنا کر مسلط کر دیتا ہے وہ نہ صرف یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں بلکہ انکی مرکزی عبادتگاہ جو تقریباً پانچ سو سال پہلے پارس کی مدد سے دوبارہ تعمیر کی گئی تھی کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کے بعد آج تک کوئی بھی اس عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کو دوبارہ یا سہ بارہ تعمیر نہ کرسکا۔ وہاں اب کچھ عرصہ قبل کھدائیوں کے نتیجہ میں کسی دیوار یا نبو کے کے آثار ملے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر یہودی وہاں کھڑے ہوکر روتے ہیں۔ (چنانچہ اس آثار کا نام ہی ’’دیوار گریہ‘‘ پڑ گیا ہے Wailing Wall) اور ایک اور نبی یا مہدی کے آنے کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔ جس طرح انہی کے پروردہ ایک فرقہ کے لوگ’’ ادرکنی یا صاحب الزماں‘‘کی نہ صرف دعائیں کرتے ہیں بلکہ یہ دعا لکھ لکھ کر آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا یا سمندر میں بہاتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں کہ عراق کے غار میں تقریباً 12سو سال سے چھپا ہوا مہدی نیلا عمامہ پہنے ہاتھ میں دو دھاری اور دو شاخہ تلوار لئے ظاہر ہورہا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی کے دو ہزار سال سے تباہی کے باوجود بیوقوف مسلمان اور انکے ملا اس کو مسجد اقصیٰ کا نام دیتے ہوئے اسے قبلہ اول قرار دیتے ہیں جبکہ اس عبادتگاہ کا اپنا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قبلہ اول بنایا ہوا تھا (اول بیتٍ 96/3)۔ القرآن الحکیم قراء تی تحریف، مؤلف کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد
تبصرہ سید ارشاد نقوی
کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد نے اپنی کتاب پر اپنا پتہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف قرأتوں کا انکار کیا گیا ہے اور اس کو قرآن کیخلاف ایک سوچی سمجھی مگر ناکام سازش قرار دیا گیاہے۔
الفاظ کی ادائیگی اور لہجوں کا اختلاف مختلف زبانوں میں ہوتا ہے۔ عرب امارات کے اس معروف ملک کو شارقہ اور شارجہ کہا اور لکھا جاتا ہے۔ مصری حاجی جنت مانگنے کی دعا میں اللہ سے گنا مانگتے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ قاری عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ مصری حرم میں دعا مانگتے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ جنت مانگو، گنا نہیں مانگو، جو اسطرح کھایا جاتا ہے۔ بعض افریقی لیلۃ القدر کو لیلۃ الغدر تلاوت کرتے ہیں۔ اکثربنگالی جنت کو زنت کہتے ہیں،ولاالضالیں کی ادائیگی پر پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مسجد محراب سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ عربی میں لفظ لفظ کلمہ پڑھنے کے بھی چار اقسام کی ادائیگی ہے۔فوج کو پوج، فوز اور پاکستان کو فاکستان کہنے والے بھی کثرت سے موجود ہیں۔
کیپٹن صاحب کی تصنیف اچھی کاوش ہے اور قرآن کی وجہ سے حدیث کا انکار درست ہے۔اہلحدیث اور دیوبندیوں کے حوالہ سے اگر واقعی کسی سازش کا ادراک ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ جب شیعہ گمراہ ہیں اور سنی احادیث بھی غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟۔ اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ تاریخی غلط بات کو درست ماننا اور صحیح احادیث کا انکار کرنا کوئی منطق ہے؟۔ قیس عربی نام تھا، جاہلیت کے مشہور عربی شاعر امرء القیس تھا، عربی قصہ مجنوں لیلہ میں مجنوں کا نام بھی قیس تھا ۔ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ نے اس قوم کو رشید بنانے کیلئے قیس کا نام عبدالرشید رکھا ہو۔ اگر خطاب یہ ہو توبھی ممکن ہے۔ آج کوہ سلمان پر تختِ سلمان اور قیسے غر( قیس کا پہاڑ) اور عبدالرشید کانام اور قبر موجود ہے۔ کیپٹن صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث کی وجہ سے غلط پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں بھی پیش گوئی موجود ہے۔
ملیر کینٹ کراچی سے ریٹائرڈ فوجی صوبیدار بشیر احمدکے بیان نوشتۂ دیوار میں شائع ہوئے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اخباری تراشے بھیجے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ ہمیں جمہوری پاکستان چاہیے، جہادی پاکستان نہیں چاہیے۔ حالانکہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور جمہوری نظام شرک ہے مگرجب اس سے ہم نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا نام اسلامیہ جمہوریہ ہے اور یہاں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام ہے ،کیا آپ مجاہدین کو پاکستان کیخلاف جہاد کرنے کا کہتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے تو بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔اس کی بولتی بند ہوگئی اور پھر اس کو بتایا کہ نبیﷺ نے حدیث قرطاس لکھوانے کی بات فرمائی لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ’’ ہمارے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ غدیر خم کے موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جسکا مولی ہوں ، علی اس کا مولی ہے لیکن مسلمانوں نے جمہوری بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ (صحیح مسلم)حدیث سے جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے ۔ بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اسلام اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے اور جہاد کو نظرا نداز کردیا۔
ایک فوجی حدیث کا منکر ہے اور تاریخ سے متاثر ہے اور دوسرا حدیث کو مانتا ہے لیکن خود جہاد نہیں کرتا اور جمہوریت کو شرک قرار دیتا تھا لیکن جب جہاد کا سوال پوچھا تو گونگا شیطان بننے کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑی کم عقلی ہے کہ جو لوگ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کاتحفظ کرنے والے اداروں کو جہاد کے نام پر تحفظ بھی دیتے ہیں۔ ملک میں بہت افراتفری ، منافقت اور نااہلیت کی وجہ جاہلیت اور ذاتی مفادپرستی کے شاخسانے ہیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوجی مہم جوئی کے دوران قتل کئے تو نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ ’’اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔ابنِ نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے دورِابوبکرؓ میں شادی رچائی تو عمرؓ کایہ مشورہ تھا کہ سنگسار کیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ کو کافی قرار دیا کہ ’’خالدؓبن ولید کی اب ضرورت ہے‘‘۔

منظور پشتین، عمران خان،نواز شریف، محمود اچکزئی اور الطاف حسین سے گزارش: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے اشرف میمن نے کہا کہ سائیکل چوری پر پولیس اتنا تشدد کرتی ہے کہ مجرم نہ ہو توبھی اعترافِ جرم کرلیتا ہے کہ بہت سائیکلیں چوری کیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ سیاسی قبلہ بدلنے، مذہبی مسئلہ اگلنے اور کرپشن کی بات پر میڈیا کے سامنے وضاحت کا موقع دیا جائے، عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو تازہ درخت کے ڈنڈے کاٹ کر اس پر برسائے جائیں ۔ نوازشریف کو موقع دیا جائے کہ پارلیمنٹ میں تحریری بیان اور پھر اس سے مکرنے کی معقول وجہ بتائے، اگر نہ بتاسکے تو ڈنڈے سے میڈیا پر اُگلوایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بولنے پر بھی ہو اور فرائض منصبی کے بجائے جرائم پیشہ ریاستی عناصر کو بھی عوام کے سامنے کیا جائے۔فواد چوہدری کو بھی پارٹیاں بدلنے کی سزاہو اور الطاف حسین جو فوج کو اقتدار کی دعوت دیا کرتا تھا اس پر بھی سزا ہو۔ اس سے انقلابی سیاست کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگے گی۔

ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیا گیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟ اگر پی ٹی ایم ان کیلئے کھڑی ہوتی تو…..


منظور پشتین نے قائداعظم یونیورسٹی میں فیس بک پر کہاکہ ’’وٹس ایپ کھولوں تو بہت پیغامات ہیں کہ خواتین سے زیادتی اور لڑکوں کو بھی نہ چھوڑاگیا‘‘۔ چوتڑ تک بال کس کام کیلئے رکھے؟۔ٹانک سے پختون لیڈی ڈاکٹر رضیہ کو اغواء کیا۔ ماردھاڑ لوٹ مار اور ظلم پر فخرتھا۔ ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیاگیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟، اگرPTMان کیلئے کھڑی ہوتی تو اپنی عزت کا طبلہ بجانے یا اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے کی قیمت پرکم ازکم آج چپہ چپہ سے پوری قوم انکے ساتھ کھڑی ہوتی۔

پی ٹی ایم کیلئے کامیابی کا زینہ ایم ٹی ایم ہے

PTM کی بنیاد مظلومیت ہے،یہ MTMہو تو جان آئے۔ چند افراد ہر شہر میں پہنچتے ہیں مگر عوام ساتھ نہیں دیتی ۔ پنجابی تعصب کی بدبو شامل ہو تو انسانیت و اسلام کی مٹھاس نکل جاتی ہے۔ بلوچ تعصب نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف قربانی دیتے تو پاکستان پر انکا راج ہوتا۔ غیرتمند قبائل پر جبری زیادتی ہو تی تو کلہاڑی کاوار ہوتا۔ طالبان کی آڑ میں وہ غلطیاں فوج نے کیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے ۔ڈی آئی خان وبنوں جیل کوتوڑا گیاتو فوج سے عوام ہتھیار چھین لیتی کہ ملک وقوم کی حفاظت بے غیرت تم نہیں ہم کرسکتے ہیں۔قصور میں جبری زیادتی کا ریکارڈ میڈیا سامنے لایا مگر ریاست کو کوئی غیرت نہ آئی۔ بے غیرت جرنیل اور سیاستدانوں نے قوم کا بیڑہ غرق کیاہے۔

پی ٹی ایم کے عالم زیب اور مردان کے قیدی

عالم زیب محسوداور مردان میں قید ہونیوالے پروفیسراختر وزیر وغیرہ نے نظریاتی سیاست کو زندہ کردیا ،حقیقی جمہوری سیاست کا زندہ ہونا ملک وقوم کیلئے خوش آئند ہے۔ طالبان اور فوجی آپریشن کے متأثرین کیلئے خونِ جگر سے انسانی حقوق کیلئے کھڑے ہونیوالوں کا بڑا کمال ہے کہ حقیقی دردِ دل رکھتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہردورِ حکومت کے درباری اور اتحادی سیاستدانوں نے سیاست کو بدنام کردیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو چا ہیے کہ اس قیادت کو قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے بہت بڑی سطح پر اُبھرنے کا موقع دیں۔ فوج اور اس کی کٹھ پتلی سیاسی قیادت ملک وقوم کو کسی مصیبت سے نہیں بچا سکتی ہے۔لسانی تعصبات مظلومیت کیساتھ کھڑے ہوگئے تو پاکستان بخرے ہوگا۔

پیپلزپارٹی ، ن لیگ اورعمران خانی حکومت؟

کوئی اقتدار میں آیا تو استبدادی جبر کی رضاو ایماء پر آیا۔ عمران خان نے پرویز مشرف کے ریفرینڈم سے منہ کی کالک دھونے کیلئے ابھی ندی میں پیرصحیح گیلے نہ کئے کہ نیازی نے ہتھیار ڈالااوراداروں کو مضبوط کرنے کی بانسری بجائی۔سیاسی جدوجہد اداروں کے استبداد سے گلو خلاصی ،حقوق اور عوام کو اختیارات منتقل کرنے کیلئے ہوئی ۔ دوسرے اسلئے تو کرپٹ تھے کہ اسٹیبلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا۔ عوام نہیں کرپٹ جرنیلوں اور ججوں نے سیاستدانوں سے مل کرملک وقوم کو لوٹا ۔ نیازی اورہردور میں قبلے کارُخ بدلنے والے نام نہاد لیڈرقوم اور اداروں کا بیڑہ غرق کرنے لئے چت پڑے ہیں۔یہ ایک ساہیوال کا واقعہ ان سے نہیں سنبھل رہا،اگر پختون قوم اٹھی تو نئی تاریخ رقم ہوگی۔

خلافت قائم ہو توعریاں لباس لونڈیوں کی بھرمار ہوگی؟ اداریہ شمارہ جنوری2019

یہ تأثر ہے کہ اسلامی خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر کے کفار کو دعوت دی جائے گی کہ اسلام قبول کرو، نہیں توجزیہ دو، ورنہ جہاد کیلئے تیار ہوجاؤ۔ پھر انکے مردوں کو غلام اور خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ لونڈی کا لباس مختصر ہوگا۔ ایک طرف خواتین کیلئے پردے کی پابندی ہوگی۔ سعودیہ وایران اور افغانستان کے طالبان دور میں خواتین کیلئے جو پردہ رائج تھا، یہ اسلامی ماڈل ہے تو دوسری طرف حسین لونڈیوں کی نیم وعریاں لباس میں چہل پہل، ریل پیل اور دھوم دھام نئی دنیا کا منظر پیش کررہاہوگا۔ دنیامیں جنت نظیر حوروں کی بہتات اور واہیات سے کیا نظارے ہوں گے۔ کیا یہی مصور پاکستان شاعرمشرق اقبال کے خواب کی تعبیر ہوگی کہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
جب لونڈی کامختصر لباس ہوگا۔ بسوں، ریل گاڑیوں اور پبلک مقامات کے ہر منظر وگوشے پر مخلوط حضرات ولونڈیوں کا سماں ہوگا، یہ قانون ہوگا کہ شادی شدہ لونڈی کی سزا نصف ، 100 نہیں 50 کوڑے ہونگے اور اگر لونڈی شادی شدہ نہ ہوگی تو اس کی سزا کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ اگر لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہیں تو زناپر مجبورنہ کیا جائیگا۔ ولاتکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا ’’اوراپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں‘‘۔
بڑی تعداد میں حسین وجمیل لونڈیوں کی اسلامی خلافت میں آمد کے بعد آدمی کیلئے تعداد کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ جب سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جواں سال لونڈیوں کی جھرمٹیں سرمایہ دار اور بااثر طبقات کی ملکیت ہونگی تو فیکٹریوں ، ملوں ، مارکیٹوں اور دفاتر میں ان سے کام لیا جائیگا اور سب کی جنسی خواہشات پوری کرنا بھی انکے بس کی بات نہ ہوگی۔ مالکان کی اجازت سے نکاح کیا جاسکے گا لیکن اس نکاح کی ثانوی حیثیت ہوگی ، اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو ہی ان سے نکاح ہوگا۔ جب انکے ساتھ ان کی خواہش پر بدکاری کی جائے تووہ سزا کی مستحق نہ ہونگی اور گواہی کیلئے چار افراد کی ایسی شہادت ممکن نہ ہوگی جس کا اسلامی مروجہ قانون میں تقاضہ ہے۔ یہ تو اس صورت میں ممکن ہوگا کہ جس طرح مولانا طارق جمیل نے حوروں کی تعریف کی ہے کہ ستر لباس میں بھی وہ عریاں نظر آئیں گی اور جنت کی شراب طہور پیتے ہوئے اسکے حلق میں اترتی نظر آئیگی اور اسکے بے قرار دل میں محبت کی تڑپ سے ہلتی جلتی ہوئی شریانیں بھی نظر آئیں گی۔ اس طرح سے اگر دنیا کی زمین میں انسانی جسم شفاف مادے کی طرح ہوجائیں تو سرمہ دانی اورکنویں میں سلائی اور ڈول کی رسی نظرآنی ممکن ہوسکے گی اور کسی ایک نے گواہی کا حق اس طرح سے پورا نہ کیا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والے 3 افراد کی طرح الٹی ماربھی ان گواہوں کو ہی پڑے گی۔
بہت سارے دانشور ،ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مذہبی منطق لڑانے والے اس طرح کے اقدامات اورماحول کو جواز بخشنے کیلئے ایران ،سعودیہ اور افغانستان سے مشابہ قوانین کیلئے زیادہ بہتر عقلی اور نقلی دلائل بھی پیش کرینگے۔ روس و امریکہ اور برطانیہ بھی دوسروں کو کچل کر غلام بنادیتے تھے تو انکے خلاف اپنے کبھی بغاوت نہیں کرتے ۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کردیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یمن اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہے۔ آنے والا وقت بتائیگا کہ ایران ، سعودیہ اور پاکستان کی باری کب لگتی ہے۔ اس جنگی مہم جوئی کے جواز کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ طاقتور ہیں جو چاہیں کرنے کا حق ہے، البتہ یہ مہربانی ہے کہ ہماری خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا گیا۔ ورنہ تو افغانستان وعراق اور لیبیا کی مسلم خواتین اسرائیل وامریکہ، برطانیہ و یورپ میں لونڈیوں کی صورت میں دنیا بھر کی میڈیا پر دکھائی جاتیں اور ہماری کچھ این جی اوز کی خواتین یہ دعوت دیتیں پھرتیں کہ یہاں کی آزادی سے وہاں کی لونڈی بننا بدرجہا بہتر ہے۔
جب طاقت کیساتھ مذہبی جذبہ مل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا توڑ نہیں نکال سکتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی طاقت مذہب کے مقابلے میں اس طرح سے ناکام ہوئی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ افغانیوں کو رام کرنے میں طاقت، پیسہ ، وسائل اور سازشوں کے تانے بانے استعمال کرنے کے بعد بھی اس طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ایک طرف نیٹو نے بے تحاشا ظلم و جبر دکھانے کے باوجود مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کا کام نہ کیااور دوسری طرف سعودیہ نے مغرب کی آزادی خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی جذبوں اور جہادی قوتوں کے پیچھے ہمیشہ سے ریاست کارفرما رہی ہے ۔ ریاست قادیانیوں کیساتھ تھی تو عدالتوں نے قادیانی مخالف علماء کو فسادی اور قادیانیوں کو صحیح مسلمان کہا تھااور ختم نبوت کی تحریک چلانے والوں کو پھانسیوں کی سزا اور معافی مانگنے سے لیکر علماء اور عاشقانِ رسول ﷺ کو داڑھی تک منڈوانا پڑ گئی تھی۔ حکومت اسلامیہ کالج کراچی کی جگہ پر شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی کا یادگار بنانے کیلئے علامہ یوسف بنوری ؒ کو مدرسہ بنانے کیلئے دے رہی تھی مگر قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی اس میں رکاوٹ بن گئے۔ پھر ریاست کا موڈ بدل گیا تو ایک ایسی تحریک ختم نبوت جو مجلس احرار اسلام کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظیم قربانیوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی مگر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی۔ اگر ریاست نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے ذریعے خلافت قائم کردی اور امریکہ وبرطانیہ اور یورپ و اسرائیل کو اپنا حلیف قرار دیا تو روس وچین ،بھارت، جاپان وکوریا اور کئی دیگر ممالک سے خواتین کو لونڈیاں بناکر ایک نئی مہم جوئی کا آغازبھی کرسکتے ہیں۔
ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ کیساتھ میثاق اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ تھا۔ پاکستان کیساتھ اسرائیل میثاق مدینہ کا بڑا فریق ہوگا اور بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگا تو بعض مسلمان مشرک بنیں گے۔پھر جب امریکی CIA مجاہدین کی طرح سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد پھینکے گی بلکہ مخالف کاروائیاں شروع ہونگی تو اقتدار مرزائیوں کو سونپ دیا جائیگا۔ جن کا نظریہ جہاد کی منسوخی ہوگا۔ مسلم اکثریت تھک ہار کر علماء ومفتیان کے اسلام سے بیزار ہوچکی ہوگی۔انگریز کے خود کاشتہ پودے کاتناآور درخت مرزا قادیانی کا پھل مسلم و غیرمسلم کھائیں گے اور اصلی اسلام کی جگہ جعلی اسلام لے گا توسارا قصہ ختم ہوگا ۔جہاد کے خاتمہ میں قادیانی نبوت ناکام ہوگئی مگر تبلیغی جماعت نے جہاد سے عملی طور پر لوگوں کو دور کردیا۔ مولانا مسعود اظہر نے اسلئے انہی سے گلہ کیا تھا،کرایہ کے جہاد نے جہاد کو بدنام کرکے اسکی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔

امریکہ و اسرائیل نے پاکستانی خلافت سے چینیوں کو لونڈی بنایا تو یہ مثاق مدینہ کی ریاست ہوگی؟

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا کہ علامہ اقبالؒ ایک جہاندیدہ اور الہامی شاعر تھے، شیطان کی مجلس شوریٰ پر اشعار ہمارے اہل اقتدار پڑھ کر دیکھ لیں اورقبلے کا رخ درست کریں،جہاد کے نام پر سپر طاقت روس کو تباہ کیا، پھر امریکہ نے اپنی سازش اور نااہلی کی سزا مسلم ممالک کو دی۔ جہاد کو دہشتگردی سے بدنام کیا، اب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ، اگرپاکستان و افغانستان نے داعش وطالبان کی خلافت قائم کردی اور پھر چین کوتہس نہس کرکے چینی خواتین کو لونڈی بنادیا اور فقہ کی کتابوں میں مذکور نیم وعریاں لباس کا ماحول دنیا کو دکھادیا ۔ پھر نام نہادمجاہدین کی طرح خلافت کا بھی گلہ گھونٹ دیا اور اصلی اسلام کی جگہ قادیانی اسلام کو رائج کردیا تو اسلام کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔ پیش گوئی پھیلائی گئی ہے کہ 2019ء تک پاکستان دنیا کے نقشے پر نہیں ہوگا لیکن پاکستان انشاء اللہ قیامت تک باقی رہیگا۔ یہاں جعلی نہیں مدینے کی اصلی ریاست قائم ہوگی۔ دنیا کی سازشیں ناکام ہونگی۔ وزیراعظم کو اگر دولت نہیں عزت کی طلب ہو تو حقوقِ نسواں کیلئے اسلام کی صحیح تعبیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بیگم سے کئی بچے جنوادئیے جائیں اور پھر بچوں اور حق مہر سے محروم کیا جائے تو اس سے بڑی زیادتی کا کیاتصور ہوسکتا ہے؟۔ دنیابھی مسلم حکمرانوں کو استعمال کرتی ہے اور پھینک دیتی ہے، جب ہم اپنی خواتین سے زیادتی کرینگے تو عذاب کے بھی مستحق ہونگے۔ حقائق جاننے کیلئے اداریہ پڑھئے

مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر خان داوڑ کی شہادت

فرعون کی قبطی قوم نے حضرت موسیٰؑ کی قوم کو غلام بنایا۔ حضرت موسیٰؑ کا قوم کیلئے ہمدردی اور محبت کا جذبہ فطری تھا مگر اپنی قوم کے جھگڑالو کا ناجائز ساتھ اور مخالف کو قتل کردیا تواس سانحہ سے نبوت اور معجزات ملنے کے بعدبھی وہ خوف کو دل سے نہ نکال سکے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ میرے رسولوں میں سے کوئی نہیں ڈرتا مگر جوظلم کا مرتکب ہوا ہو‘‘۔ حضرت موسیٰؑ علم لدنی کی تلاش میں حضرت خضر کے پاس اللہ کی رہنمائی سے پہنچے ۔ حضرت خضر نے اپنی صحبت کیلئے شرط رکھ دی کہ وہ کسی معاملے پر سوال نہیں اٹھائیں گے جو حضرت موسیٰ نے قبول کرلی۔ پھر یکے بعد دیگرے واقعات ہوئے اور جب ایک معصوم کی جان لے لی تو اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے جدائی کے یقین کے باوجود سوال اٹھادیا۔ جسکے بعد ظاہری وباطنی خلافت کی راہیں جدا جدا ہوگئیں اور قرآن کے یہ واقعات ہمارے لئے بڑے سبق آموز ہیں۔اقبال نے کہا کہ
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش
ابوبکرؓ و علیؓ میں مسئلہ خلافت پر اختلاف تھا۔علامہ اقبالؒ نے اُمت کو خبردار کیا کہ تم ظاہری وباطنی خلافت کا راز نہیں سمجھتے، اکابرصحابہؓ کے نام پر فرقہ واریت کا شکار ہونے کے بجائے حقائق سمجھو، ابوبکرؓ اور علیؓ دونوں ظاہری وباطنی خلیفہ تھے۔
عثمانؓ ظاہری وباطنی خلافت، ذی النورین 2نوروں والے تھے جو فتنہ وفساد میں شہیدہوگئے ۔ انصارؓ کے سردارسعدبن عبادہؓ کا خلافت کے مسئلے پر مہاجر صحابہؓ سے شدید اختلاف تھا،یہانتک کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتے۔ جنات کے ہاتھوں قتل ہوئے، عدم اعتماد نے فساد کی آگ پکڑلی، جنگ صفین و جمل میں ہزاروں موت کے گھاٹ اُترگئے۔ عشرہ مبشرہ میں شامل طلحہؓ و زبیرؓ نے بھی ان جنگوں میں حصہ لیا ۔نبیﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ سے نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’ ’ مجھ سے پہلے تمام انبیاءؓ نے دجال کے فتنے سے اپنی قوموں کو ڈرایا، اسکی ایک آنکھ کانی اور دوسری انگور کے دانے کی طرح ہوگی، اگر تم اسے نہ پہچان سکو تو اللہ تعالیٰ اس دجال کو جانتا ہے۔ خبردار!، مسلمانوں کا خون ، مسلمانوں کی عزتیں اور مسلمانوں کا مال ایک دوسرے کیلئے ایسی حرمت والے ہیں ،جیسے حج کے اس مہینے میں اس شہر مکہ کے اندر اس دن ’’یومِ عرفہ‘‘ کی حرمت ہے۔ خبردار میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔ (بخاری)
ایک قتل ناحق کا ارتکاب اس وقت کے خفیہ والوں یا جنات نے کیا ، بہرحال پھر تختِ خلافت پر حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ شہید کردئیے گئے۔ تربیت یافتہ صحابہؓ نے آخری خطبے کا پاس نہ رکھا اور ایکدوسرے سے فتنہ وفساد میں مبتلا ہوگئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ خراسان سے دجال نکلے گا، اسکا اتباع وہ اقوام کرینگی جنکے چہرے ڈھال کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے‘‘۔ طالبان کی شکل میں پٹھان و ازبک نے دجالی لشکر کا کردار ادا کیا۔ جس طرح ہتھوڑے جیسے لمبوترے اور ڈھال جیسے گول چہرے بطور مذمت بیان ہوئے ہیں اسی طرح سے انگور جیسے ابھری ہوئی آنکھ بھی بطور مذمت ہی بیان ہوئی ہے۔ حدیث میں سب سے بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ لوگ دجال کے اس واضح کردار کے باوجود کہ مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کی حرمتوں کو ختم کردیا گیا لیکن مسلمان قوم دجال سے بالکل بے خبر اور لاعلم رہے گی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کا جہاد امریکی سی آئی اے کا کرشمہ تھا۔ طالبان بھی ملاعمرمجاہدؒ کی قیادت میں امریکہ نے بنائے، طالبان کی قیادت جنگ کے بعد سے آج تک امریکہ کیساتھ رابطے میں ہے۔امریکہ نے اسامہ اور ملاعمر کے نام پر مسلم دنیا کو تباہ کیا، ہرملک وقوم اور فرقے کے نام پر مسلمانوں نے مسلمانوں کی جانوں کی حرمت ختم کردی لیکن اللہ تعالیٰ ہی دجال کو جانتاہے ، ہم بے خبر رہے۔
ظاہری وباطنی خلافت کے سزاوار ہم ہیں؟۔ روز روز قتلِ ناحق پر قوم کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے عرصہ تک قتل وغارتگری کا تماشا دیکھا اور اب بھی ضروری نہیں کہ حالات پر قابو پاسکے۔ لسانیت کے بھڑکتے شعلوں نے کراچی کو تباہ کیا، طالبان کی دہشتگردی نے ناکامی کا ٹھپہ لگایا، ڈرون حملوں نے ریاست کی ناک کاٹی۔ تباہی وبربادی اورقتل و غارتگری کے گرم بازار میں ریاستی عناصر کو بری الذمہ کہنا غلط ہے لیکن اللہ کے فضل اور جنرل راحیل کی جرأت سے ممکن ہوسکا کہ عوام بالعموم اور قبائلی بالخصوص چین وسکون سے زندگی گزارنے کے قابل بنے۔ مولانا سمیع الحق اور ایس پی داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء کے بعد شہادت نے ایک نیا واویلہ کھڑا کیا ،جس پر مختلف رنگ وروغن چڑھائے جارہے ہیں۔
ایس پی طاہر خان داوڑ پر پہلے بھی خود کش حملے ہوچکے ۔دارالخلافہ اسلام آباد سے اغواء کے بعد حکومت اور ریاست کی بے حسی،غفلت اور نااہلی کو سازش کانام دینا غلط ہے تو اسکی ذمہ داری افغانستان و PTMپر ڈالنے کی کوشش بھی بھونڈی حرکت ہے۔ افغانستان نے لاش سپرد کرنے میں دیر اسلئے لگادی کہ پوسٹ مارٹم اور شناخت اس کی ذمہ داری تھی مگر حکومت کے بجائے اس کی لاش کو پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کے حوالے کرنے کے پیچھے امریکی مشاورت کا شاخسانہ ہوسکتا ہے لیکن چلو شمالی وزیرستان سے محسن داوڑ نہ صرف عوام کا نمائندہ تھا بلکہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پارلیمنٹ کا بھی نمائندہ تھا۔سازش ناکام بنائی جائے۔
عمران خان نے طاہر داوڑکے اغواء کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اسلئے اگر وزیرداخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دیتا تو اچھا تھا۔ وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی نے انتہائی بے حسی اور غیر ذمہ داری کی مثال قائم کی۔ اغواء کے بعد وائس آف امریکہ سے کہا کہ میں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ اغواء کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ، محسن داوڑ پشاور میں بحفاظت موجود ہیں۔ جس کی شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں خوب خبر لی۔ لیکن اس بے حس مخلوق کی بے حسی کا یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں کہ اسکے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ تاہم جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ اس قتل کے پاکستان اور افغانستان میں سہولت کار موجود ہیں۔ امجد شعیب نے اسکا تعلق امریکہ اور پی ٹی ایم کیساتھ جوڑ دیا۔ جبکہ زید حامد نے جذباتی انداز میں کہا کہ’’ اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر اور افغانستان کو سبق سکھایا جائے لیکن چین سے ہم نے بھیک مانگنا ہے اسلئے چین کو اسکے مظالم کا بدلہ نہ دیاجائے‘‘۔ گویا میڈیاکے خلوص یا کم عقلی نے پختون قوم اور پاکستانی ریاست کے درمیان طبلِ جنگ کا پورا اہتمام کرنے کی کوشش کی اور افغانستان کی طرح پاکستان کا حال خراب کرنا چاہا، جو امریکی خواہش ہے۔
اگر PTMکی قیادت ہماری بات مان لیتی اور اس کو مظلوم تحفظ موومنٹ کا نام دیتی تو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے تحریک انصاف نہیں اصلی مینڈیٹ سے منظور پشتین اقتدار میں آتا۔ بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور ہزارے وال سب ہی قومی دھارے میں ایک نئی روح پھونکنے کیلئے اس تحریک کا حصہ بنتے مگر……۔