پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین شدت پسندی کے تدارک کیلئے کام کریں

manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameel

طالبان تبلیغی جماعت میں ایمان ویقین کی باتیں اور حوروں کے احوال سن کر خود کُش کیلئے تیار ہوتے تھے۔دہشتگردی کے عروج کے دور میں تبلیغی جماعت اور دہشتگردوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ اب شاید تعلقات وہ نہیں رہے ہیں۔ منظور پشین بھی تبلیغی جماعت کا کارکن اور شاگرد معلوم ہوتا ہے، پشتو کی ایک تقریر میں کہتا ہے کہ ’’ آرمی اور اسکے اداروں نے ہماری دنیا تباہ کی اور عقیدہ بھی خراب کرکے آخرت برباد کی ہے۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کی ذات دیتی ہے مگر اب ہمارے لوگوں کا عقیدہ خراب ہوگیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ آرمی اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں میں ہماری زندگی اور موت ہے‘‘۔
منظور پشتین جاہل دیندار ہے، یہ سبق تبلیغی اساتذہ سے سیکھا ۔ قرآن وسنت میںیہ عقیدہ و ایمان نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا کہ ’’میرا اللہ زندگی اور موت دیتا ہے‘‘ تو نمرود نے ایک بے گناہ کوقتل کیا اور گناہگار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ پھر ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا ربّ سورج کو مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب کرتا ہے تو کفر والا مبہوت ہوگیا۔ جادو گر موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر ایمان لائے تو فرعون نے دھمکی دی کہ میں تمہیں سولی پر چڑھاؤں گا، ہاتھ پیر کاٹوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ تم ہماری اس زندگی کا فیصلہ کرسکتے ہو، آخرت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم نے آخرت خراب نہیں کرنی ہے‘‘۔ تبلیغی اکابر دہشتگردوں کے سامنے بھی حق بات نہ کرسکے تھے ۔
موسیٰ علیہ السلام کا ایمان نبوت و معجزات سے وہ نہ بن سکا جو تبلیغی جماعت کے پنجابی حاجی عبدالوہاب عوام کا بنانا چاہتا ہے جسے قابلِ اعتماد محسود دوست نے دھوکہ دیا۔ نبیﷺ نے چھپ کر ہجرت فرمائی،قرآن وسنت کا ایمان وعقیدہ یہ نہیں۔ منظور پشتین میری بات نہ مانیں لیکن مکین وزیرستان کے مولانا حفیظ اللہ صاحب مرحوم پہلے پکے تبلیغی تھے اور پھر ایک پختون پیر کے مرید بن گئے اور غلط عقیدہ وایمان پر تبلیغی جماعت کو کافرکہا۔ مسلمان کا عقیدہ وایمان قرآن وسنت کی تعلیمات میں موجود ہے۔اللہ کے احکام قرآن میں ہیں کسی کے فرمودات نہیں۔
منظور پشتین کو غلط عقیدے وایمان سے اعلانیہ توبہ کرنے کیساتھ اپنی خواتین کی عزتیں بچانے کیلئے حلالہ کے مسئلہ پر بھی قرآن وسنت کے مطابق باہمی صلح پر رجوع کیلئے اپنی پشتون قوم کو آگاہ کرنا چاہیے۔ مولانا گل نصیب خان سینیٹرJUI نے کہا کہ ’’ فوجی ہماری خواتین کی عزتوں کو لوٹنے کیلئے اغواء کرتے ہیں‘‘۔ اگر یہ سچ ہے تو اس میں ملوث لوگوں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے لیکن جب تم نے لوگوں کو حلالہ کا عادی بناکر بے غیرت اور لعنتی بنادیا ہے تو اپنے قصور پر بھی ضرور غور کرو۔ خان عبدالغار خان عرف باچا خان کے دور میں پختون خواتین کی منڈی لگتی تھی ۔ گائے بھینس کی طرح خریدی گئی خواتین وزیرستان کے شہر کانیگرم میں بھی تھیں۔ باچا خان نے اسکے خلاف کبھی آواز اٹھائی ہو، مہم چلائی ہو، تحریک اُٹھائی تو لا الہ الا اللہ کے بعد تم محمد رسول اللہ کے بجائے باچا خان رسول اللہ کہتے، اسلامستان کے بجائے پختونستان بناتے اسلئے کہ کلمہ گو ایکدوسرے کو کافر، مشرک اور گستاخان کہتے ہیں اور پشتوفلسفہ میں حلالہ کی بے غیرتی بھی ختم ہوتی مگر باچا خان نے تو یہ معمولی کام بھی نہ کیا، جرمنی کے فنڈز سے کانگریس کی تحریک میں مالی مفادات تھے اور اس کی وجہ سے عبدالصمد اچکزئی اور غفار خان کے خاندان عروج پر تھے۔ عوام پیٹ بھرنے کی فکر سے آزاد نہ تھی اور یہ لوگ لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ عوام کے سامنے سارے حقائق کھول کر لائے بغیر کام نہیں چلے گا۔
اجتہادات کا تعلق شرعی مسائل سے نہیں بلکہ عدالتی احکام سے ہے۔ قاضی یا جج دو فریق کے درمیان فیصلہ کرنے میں قرآن وسنت کی رہنمائی نہیں پاتا اور اپنی ذہنی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے انصاف فراہم کرے تو یہ اجتہاد ہے۔ 14 اگست کو ایک غیرملکی خاتون سیاح نے اپنے انداز میں پاکستان کی یومِ آزادی کی مناسبت سے ہری قمیص اور سفید شلوار پہن کر جھنڈے کے ساتھ رقص کیا تونیب کے چےئرمین جسٹس ریٹائرڈ نے توہین جھنڈے کی کرپشن کا نوٹس لے لیا۔ لوگ حیران تھے کہ نیب کے چےئرمین کو ہوا کیا ہے؟۔ جس بات پر پاکستانیوں کو خوشی ہو اس پر ناراضگی کا کیاتُک بنتا ہے۔سابق چیف جسٹس کی ذہنی کیفیت اتنی گھٹیا ہوتو تھانے کی پولیس اور فوجی سپاہیوں کی ذہنی حالت کیا ہوگی جو اس قوم کو روزانہ کی بنیاد پر ڈیل کرتے ہیں؟ الیکشن کمشنر سردار رضا اور چےئرمین ہلال مفتی منیب کا کردار سوالیہ نشان ہیں۔ الیکشن کی وجہ سے پوری قوم ڈسٹرب رہی لیکن دوسرے اور تیسرے دن بھی نتائج کا نہیں گنتی کا عمل بھی جاری رہا ۔ ایسے میں سردار رضا کو اپنا استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ پوری دنیا میں حج ایک ہی ہوتا ہے لیکن ہماری قربانی کی عید بھی دنیا سے الگ ہوتی ہے۔ عالمِ اسلام کی امامت کرنے کے قابل پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں نے طوفانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔
منظور پشتین نے بی بی سی پشتو سروس کو انٹرویو سے اپنا گراف گرایا، نہ یہ کہہ سکا کہ میری اجازت سے الیکشن میں حصہ لیا، نہ یہ کہہ سکا کہ میری نافرمانی کرکے الیکشن میں شرکت کی۔ گومگوں سے بہتر تھا کہ کھلے الفاظ میں کہتا کہ ’’ علی وزیرنے پہلے بھی الیکشن لڑا، PTMکو یہ حق نہ تھا کہ اس کو منع کرتی۔ محسن داوڑ کی پوزیشن ایسی تھی کہ جیت سکتے تھے اسلئے انکا فیصلہ درست تھا، الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ اسلئے نہ کیا تھا کہ دوسری پارٹیوں کے ووٹ تقسیم کرکے مخالفت کی فضاء اپنے لئے نہیں بنانا چاہتے تھے، میں ذاتی طور پر الیکشن میں حصہ لیتا تو کامیاب نہ ہوتا‘‘ ۔ منظور پشتین ساتھیوں کی عزت بڑھاتا، اب سینیٹر بن کر غلطی کا ازالہ کرنا چاہیے۔ انسان غلطی کا پتلا اور غلطی سے سیکھتاہے۔ہم معلوم و نامعلوم، مذہبی وسیاسی، تمام پرانی اور نومولودتحریکوں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
محسن داوڑ نے میرانشاہ کے بڑے اجتماع میں احتجاج کی پاداشت میں شہید ہونے والے کانام لیکر کہا کہ ’’ اس نے اپنی قوم ، اپنی مٹی اور اپنے وطن کیلئے قربانی دی اور اس کی قربانی کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آج ہمارے دھرنے کو اتنا وقت ہوا ہے لیکن اس پُر امن احتجاج میں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا ‘‘ ۔ محسن داوڑ کی تقریر میں کھلا تضاد تھا۔ احتجاج کے دوران یہ سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین توڑ پھوڑ کررہے تھے اور پھر فوجی سپاہیوں کی چوکی پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کی۔ اگر وہ گولی نہ مارتے تو مظاہرین کے ہاتھوں مارے جاتے۔ محسن داوڑ اپنے لئے پُرامن احتجاج اور عوام کیلئے چوکی پر چڑھنے کو سراہتے ہیں تو یہ کھلا تضاد ہے۔ یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ تم لوگوں نے مجھے منتخب کیا، جب میں اپنے لئے چوکیوں پر چڑھ دوڑنا پسند نہیں کرتا توتمہاری حوصلہ افزائی نہیں کرسکتا۔ یہ کونسی شہادت ہے کہ چوکیوں پر چڑ ھ دوڑو اور گولیاں لگ جائیں تو واپس لوٹ کر سمجھو کہ ہم کامیاب ہیں، فوجیوں کو اشتعال دلایا ،وہ بدنام اور تم نیک نام ہو۔یہ گھٹیا حرکت ہے، ایسی مزاحمت کرتے کہ خاتون پر ہاتھ ڈالاگیا یا ناحق کسی پر ظلم کیا تو جر أتمندی کا مظاہرہ کرکے شہید ہوگئے!کیا قوم خلعت افغانیت سے عاری ؟

خلافت،اسلام ، جمہوریت، اقدار اور شدت پسندیاں

such-tv-tehreek-e-khilafat-maulana-abul-kalam-azad-liaquat-ali-khan-shaykh-ul-islam-ptm-ahle-bait-fatawa-alamgiri-khilafat-e-usmania-ameer-muawiya-maulana-fazal-ur-rehman-fatawa-alamgiri

ایک مذہبی شدت پسندی ہے اور دوسری لسانی شدت پسندی ہے۔پختون خواہ میں مذہبی اور بلوچستان میں لسانی شدت پسندی کا بیج کس نے بویا؟۔ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ بے اصولی اور محرومی شدت پسندانہ جذبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ مفتی محمود ؒ اگر سرحد کے وزیراعلیٰ بننے کے بجائے ولی خان کو ہی وزیراعلیٰ بننے دیتے توپختون خواہ میں باچا خان کا نظریہ عوام پر غالب رہتا۔ اس طرح بلوچستان کا وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کے بجائے کوئی عالم دین ہوتا تو اب بلوچستان میں پختون اور بلوچ دونوں بیلٹوں میں مذہبی طبقہ حکمرانی کرتا۔ ایک طرف ناجائز حکومت دینے سے بلوچوں کے اندر شدت پسند پیدا ہوگئے ،دوسری طرف پختونوں میں طالب دہشت گرد پیدا ہوگئے۔ خاندانوں کو فائدہ پہنچالیکن عوام شدت پسندوں کے ناجائز نرغوں اور پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے۔ علماء کرام بلوچستان میں اپنے مینڈیٹ کیساتھ حکومت کرتے اور سرحد میں قوم پرست اپنے مینڈیٹ کیساتھ حکومت کرتے تو ذوالفقار علی بھٹو کو عوامی حکومت کیساتھ کھیلنے کی اجازت بھی کوئی نہ دیتا۔ اصولوں کی دعویدار بے اصول لوگوں کی اولادیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہا تو حدیث قرطاس کی وجہ سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جمہوریت کے ذریعہ انسانیت پر رحم کرنا تھا اسلئے رسول اللہ ﷺ کو مردوں میں سے کسی کا باپ نہ بنایا۔ نرینہ اولاد کو بچپن میں اٹھالیا ۔پہلی خلافت کیلئے انصارؓ و مہاجرینؓ کے درمیان چپقلش ہوئی ۔جمہور انصارؓ پھر قریشؓ کے حق میں دستبردارہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ کیلئے پہل ہوئی تو جمہور نے تائید کی تھی اور اہلبیتؓ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ جب نامزد ہوئے تو جمہور صحابہؓ نے تائید کردی، چاہتے تو حدیث قرطاس کیطرح راستہ روکا جاسکتا تھا اور حضرت عمرؓ نے چھ افراد کی شوریٰ مقرر کردی۔ دو تین دن تک نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ مجھے اختیار دیدو تو مسئلہ حل کردونگا، سب نے اتفاق کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ تین افراد اپنے ساتھیوں کیلئے دستبردار ہوجاؤ تو مسئلہ آسان ہوگا۔ ایک فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے حق میں دستبردار ہوا، دوسرا حضرت علیؓ ،تیسرا حضرت عثمانؓ کے حق میں دستبردار ہوا۔ حضرت ابن عوفؓ خود حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ دونوں میں انتخاب ہوا تو حضرت عثمانؓ کے حق میں زیادہ ووٹ پڑے ،اسلئے منتخب ہوگئے۔
جمہوری نظام ہوتا تو اکثریت کی بنیاد پر منتخب ہونیوالے حضرت عثمانؓمطالبہ پر الیکشن کراتے اور شہید نہ ہوتے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگیں ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓنے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مجھے غیرجانبدار ہونے کے بجائے حضرت علیؓ کا ساتھ دینا چاہیے تھا، جبکہ حضرت عمرؓکے ایک بیٹے حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھے۔ حضرت امام حسنؓ نے صلح کرکے معاہدہ کیا کہ جانشین مجھے بنایا جائیگا۔ حضرت حسنؓ کی وفات ہوئی ۔ حضرت معاویہؓ نے یزید کو جانشین نامزد کردیا۔ حکومت مضبوط تھی ۔حکومت کے زور پر یزید نے خود کو مستحکم کیا۔ حضرت حسینؓ نے کوفہ والوں کے اعتماد پرکربلا کا سفر کیا جس کو آج بھی ماتم زنی کے ذریعے سے یادگار بنایا جارہا ہے۔
یزیدکی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ تخت پر بیٹھامگرضمیر نے گورا نہیں کیا۔ چالیس دن کے اندر استعفیٰ دیدیا۔ جماعتیں عوام کی امانت ہوتی ہیں لیکن موروثی جماعتوں کی حیثیت یزید کے بیٹے حضرت معاویہؒ کے مقابلے میں کتنی خستہ حال دکھائی دیتی ہیں؟۔ خانقاہوں کے سجادہ نشین ، مدارس کے ارباب اہتمام ، مذہبی جماعتوں کے خانوادے یزید کے بیٹے معاویہؒ کے سامنے آخرت میں شرمندہ اپنا سر اٹھانے کے قابل نہ ہونگے،سیاست ومذہب کو منافع بخش تجارت بنالیاہے۔
بنی امیہ، بنی عباس کے بعد خلافت عثمانیہ نے بھی خاندانی اقتدار کو قائم رکھا۔ اسلام کو بھکشو قسم کے لوگوں کے حوالے کیا گیا۔ قرآن میں حکومت سے متعلق بہت واضح احکام ہیں۔ فتاویٰ عالمگیریہ کو 5 سو علماء کرام نے مرتب کیا تھا، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد شاہ عبدالرحیمؒ بھی ان میں شریک تھے۔ فتویٰ عالمگیریہ میں بادشاہ کیلئے چوری، قتل، زنا، ڈکیتی اور کسی بھی طرح کی کوئی حد نہیں ہے اسلئے کہ بادشاہ تو خود یہ کام کرتا ہے کوئی دوسرا یہ حد اس پر کیسے جاری کریگا؟۔ خلافت راشدہؓ میں حضرت علیؓ نے یہودی کیخلاف عدالت کے دروازے پر دستک دی ۔ فیصلہ آپؓ کیخلاف آگیا تھا۔ دہشت گردوں نے حضرت علیؓ کوپھر بھی شہید کردیا تھا۔
ایک ایسی بنیادی جمہوری جماعت کی ضرورت ہے جو دنیا میں اسلامی نظام کو بحال کردے، اسرائیل اور کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظالم کو روک دے۔ اس کیلئے تین تین افراد اور چھ چھ افراد کے گروپ تشکیل دئیے جائیں۔ صوبائی اسمبلی کیلئے تین تین اور قومی اسمبلی کیلئے چھ چھ افراد سے رکن سازی کی جائے۔مثلاً صوبائی میں 3افراد کا ایک امیر ہوگا اور پھر9افراد کا ایک امیر ہوگا، پھر27افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر81افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر 243کا ایک امیر ہوگا۔ ہر عدد کو 3سے ضرب دیتے ہوئے ایک صوبائی اسمبلی میں کامیابی کیلئے زیادہ سے زیادہ افراد کی رکن سازی، تنظیم سازی اور تربیت پر بھرپور توجہ دے جائے۔ قومی اسمبلی کی نشست کیلئے 6افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر36افراد کا ایک امیر ہوگا۔216 افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر1296کا ایک امیر ہوگا۔ ہر گروپ کو3اور6سے ایک ایک مرتبہ ضرب دے کر مطلوبہ تعداد تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
بنیادی افراد سے استصوابِ رائے کے بعد قیادت آئیگی توبھی وزیراعظم کی حیثیت ایک وزیر کی ہوگی اور براہِ راست عوام کے ووٹوں سے صدر کا انتخاب ہوگااور اختیارات کا آخری منبع بھی وہی ہوگا۔ مقصد عالمی سطح پرنظام خلافت ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ممالک میں قانون وآئین کا احترام کرتے ہوئے دنیا کو ایکدوسرے قریب لانے میں اپنا خوشگوار کردار ادا کرینگے۔ شدت پسندوں کو بھی یہ سمجھا دینگے کہ اسلام قانون سازی کا سبق دیتا ہے، قانون شکنی نہیں سکھاتا ہے۔اولی الامر سے مراد بھی قانون شناس ، قانون دان اور قانون کے پاسدار ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کو کامیابی اسلئے ملی کہ وہ قانون دان تھے۔ قانون شناسوں نے ساتھ دیا اور قانون کے پاسدار وں نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔اسلام کا مستقبل روشن ہے ،قانون کی حکمرانی سے دنیاکو فتح کرینگے۔
منشور کے نکات واضح اور دو ٹوک ہونگے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم سے قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ مرتب کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بھرپور کوشش ہوگی اور فرقہ وارانہ منافرت، شدت پسندی، قوم پرستی، علاقہ پرستی ، لسان پرستی اور ہر قسم کے تعصبات سے عوام کو نکالا جائیگا۔ آئین میں رہ کر وہ قانون سازی کی جائے گی کہ موجودہ ریاست کایہ بوسیدہ ڈھانچہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ پانی،بجلی، تعلیم، صحت، بیروزگاری ، غربت اورتمام بنیادی اور ضروری مسائل کے حل کیلئے عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے ایک مفید معاشرہ تشکیل دیا جائیگا۔ جس کی روشنی پاکستان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلے گی۔ انشاء اللہ العزیز عتیق گیلانی

پی ٹی ایم اگر مظلوم تحفظ موومنٹ ہوتی تو اقتدار میں آتی

general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment-ptm

بانی پیپلزپارٹی ذوالفقار بھٹو نے جنرل ایوب کے ہاں سیاسی پرورش پائی ۔ آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا۔ مجیب الرحمن کو اقتدار نہ دیا گیا تو بنگلہ دیش میں بغاوت پیدا ہوئی یا پھر اقتدار مل جاتا تو بنگلہ دیش کو الگ کرنا تھا؟ یہ الگ بحث ہے۔ کہا یہ جارہاہے کہ فوج اور سیاستدان خود ہی بنگلہ دیش سے جان چھڑانے کیلئے کوشاں تھے۔ مجیب کے چھ نکات بھی خود بناکردئیے تھے۔ 65ء کی جنگ میں بھی اپنوں کی سازش پر بھارت چڑھائی کرکے آیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم اتحاد کیلئے آغاز کیا مگر سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنایا اور اپنا اقتدار قائم کرنے کیلئے دھاندلی کا سہارا لیا، جنرل ضیاء نے جمہوریت کو بھٹو سمیت کچلا، نوازشریف کاطویل المدت تجربہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے باری باری اقتدار سنبھالا اور تحریک انصاف کو اقتدار مل گیا یا اقتدار میں لایا گیا ؟۔ دونوں باتوں کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ جس مسلم لیگ کیخلاف ولی خان لڑائی لڑ رہے تھے، ولی خان مرحوم نے لیگ سے اتحاد کیا تو ان کی نظریاتی سیاست ختم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے ن لیگ کیساتھ اتحاد کرکے نظریہ دفن کیا۔ جن کیخلاف کھڑے تھے ان کی گود میں بیٹھنے کے بعدکہنے کیلئے کچھ نہ رہا۔
عمران خان نظریاتی نہیں، کھلاڑی نے میدان اسلئے مار دیا کہ ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر جو بیانیہ زرداری کیخلاف تیار کیا، اسکے دلدل میں خود بھی پھنس گئی ۔ ایم کیوایم نے قائد الطاف سے مجبوری میں بغاوت کی ،جن رہنماؤں نے کٹھن حالات میں الطاف حسین کو نہ چھوڑا ، دیواروں پر نعرے لکھے کہ جس نے قائد کو بدلا اس نے باپ کو بدلا، برطانوی پولیس نے الطاف سے بڑی غیر قانونی رقوم برآمد کرلی، لیکن پھر بھی رہنماؤں کو بدعنوانی پر کارکنوں سے پٹوادیا۔ایم کیوایم نے قوم کو جس حال میں رکھا ، اگر فوج کا سخت گیر رویہ نہ ہوتا تو یہ آپس میں ایکدوسرے کی جان عذاب میں ڈالتے۔الیکشن میں کچھ تو نئے چہرے آتے۔
پاکستان میں متعدد لسانی اکائیاں ہیں، مذہبی افرادنے ایکدوسرے کیخلاف فرقہ وارانہ فصیلیں کھڑی کرکے مذہبی جماعتوں کو محدود کردیا ۔ اسلام کمزور اور فرقہ واریت طاقتور ہے۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا، فرقوں نے نظریات کی طرف دھکیل دیا۔ جمعیت علماء ہند گانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کی دم چھلہ جماعتیں تھیں۔ مجلس احرار نے انگریز کیخلاف قربانیاں دیں اور پاکستان بنا توکشمیر جہاد کے حق میں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جدوجہد کی۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری علماء ومشائخ نے انکا ساتھ نہ دیا ۔ جن لوگوں نے ساتھ دیا ،ان کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کی قوم پرستی سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ایجنٹ کا الزام لگانے سے پرہیز کیا جائے۔ اگر وہ مظلوم تحفظ موومنٹ سے اپنی تحریک کا آغاز کرتے تو پاکستان بھر میں انکے مشن کو پذیرائی حاصل ہوسکتی تھی۔ فاطمہ جناح پر بھی غداری کا الزام لگا اور مادرملت فاطمہ جناح کے فرزندوں کو اس ماں کے دوپٹے میں چھپ کر کسی پر غداری کا الزام لگانے میں شرم کرنی چاہیے جس پر فوجیوں نے غداری کا الزام لگایا تھا۔ تحریک انصاف کے علاوہ عوام کے پاس کوئی دوسری چوائس نہ تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھی پوری ہمدردیاں پی ٹی آئی کیساتھ تھیں۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی متبادل ملٹی نیشنل کمپنی اب صرف تحریک انصاف ہے۔ اشتہارات سے ملٹی نیشنل کمپنی جس طرح اپنی مارکیٹنگ سے دھاک بٹھا دیتی ہے وہ دیسی کمپنیوں کی اوقات نہیں ہوتی ،اسی طرح ملٹی نیشنل سیاسی جماعت بھی اپنا مقام پیدا کرتی ہے۔ یہ قوم کی ضرورت و مجبوری بھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو جب دوسروں کی وفاداری پر یقین نہ ہوگا اور تحریک انصاف شفاف انداز میں واحد قومی سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائے گی تو اسٹیبلشمنٹ اسی کو سپورٹ کریگی۔الزامات لگیں نہ لگیں مگر فضاء ایک ہی ہے۔
بے خودی کو کر بلند اپنا کہ ہر الیکشن سے پہلے
تیری اوقات سے زیادہ سیٹوں کی بھرمار مل جائے
جسطرح نسوار، سگریٹ، چرس، کوکین، ہیروئن، حقہ،بھنگ، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کی علت ماحول سے پڑ جاتی ہے ،اسی طرح اشتہارات کا ماحول ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیزوں کو معاشرے میں مقبول کردیتا ہے۔ تحریک انصاف نے اشہارات، ٹی وی چینلوں اور مقابلے میں کسی دوسری اچھی جماعت نہ ہونیکی بنیاد پر صرف اپنے بل بوتے پر کامیابی اسلئے حاصل نہ کی کہ پرانے چورن کووہ نئی پیکنگ میں بیچ رہی تھی۔ سمجھ دار لوگ اپنے پرانے اسٹاک پر گزارہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا نظریہ بھی اسکے نام کی طرح مکس تھا۔ جیل میں بند نوازشریف کے بارے میں لوگوں کو یقین تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی نظریاتی جنگ پر نہیں بلکہ اپنے کرپشن کے مقدمات میں محصور ہوگیا ہے۔
ایک آواز بہت واضح تھی جس کو میڈیا نے بالکل نظر انداز کیا لیکن سوشل میڈیا نے اس کو کچھ نہ کچھ پذیرائی ضرور بخشی۔شمالی اور جنوبی وزیرستان سے PTM کے محسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنی قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لی ہیں۔ بعض چینل پر بیٹھ کر صحافی کہتے ہیں کہ پشتونوں نے غداروں کی سیاست ختم کردی ۔ محمود خان اچکزئی ، اسفندیارولی، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق سب کو شکست دیکر تحریکِ انصاف کو بھاری اکثریت سے جتوادیا ۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں اگر وہ بھی PTMکی طرح کھل کر آواز بلند کرتے تو وہ بھی کامیاب ہوجاتے؟۔ ایسے کم عقل صحافی دانشور نہیں بلکہ گویے،بک بک ،چرب زبانی اور کرایے کے پالشی و مالشی ہیں جنکا مال مسالہ نہیں بکتا اور ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چند چینل، صحافی اور فوج کے ریٹائرڈ افسران کھل کر تحریک انصاف و دھاندلی کی حمایت نہ کرتے تو فوج الزامات کی اس طرح سے لپیٹ میں بھی نہ آتی۔ اس سے ملک وقوم کا زبردست نقصان ہے کہ یہ تأثر عام کیا جائے کہ فوج کسی سیاسی جماعت کا ساتھ دے رہی ہے۔ سندھ کے ڈی جی اے، مصطفی کمال اور تحریک لبیک کے الزامات نے PTMکے نعروں سے زیادہ پاک فوج کو نقصان پہنچایا۔
فافن نے50قومی اسمبلی اورغالباً127 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بڑی بے قاعدگیوں کی رپوٹ دی ہے۔ ہنگ پارلیمنٹ کو بے قاعدگیوں سے دھکا نہ ملتا تو ہینگ ہوجاتا۔اور پھر بھی الزام خلائی مخلوق کے کھاتے میں جانا تھا۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ بیگم اور خواتین مزاج مردوں سے مشاورت کے بجائے واضح کہہ دے کہ پنجاب اور مرکز میں مجھے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں۔ سینٹ کی طرح قومی اسمبلی میں بھی آزاد علی وزیریا محسن دواڑ کو وزیراعظم بنالیتے ہیں جبکہ پنجاب میں آزاد محسن جگنو کو وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سپورٹ بھی حاصل کی جائے تو یہ قومی حکومت جمہوری انداز میں قانون اور اصول کو بالادست رکھ کر قومی مجرموں کو بلاامتیاز کٹہرے میں لاسکتی ہے۔ عسکری پارک کراچی کا جھولا چین سے خریدا کس نے تھا؟۔ جس نے ایک جان لی ۔ مجرم کو سزا ملنی چاہیے۔

اسٹیبلشمنٹ مخالف اور اسٹیبلشمنٹ سے ہمدردانہ بیانیہ

such-tv-tehreek-e-khilafat-maulana-abul-kalam-azad-liaquat-ali-khan-shaykh-ul-islam-ptm-ahle-bait-fatawa-alamgiri-khilafat-e-usmania-ameer-muawiya-maulana-fazal-ur-rehman-mustafa-kamal

برصغیر پاک وہند کا قبضہ انگریز اسٹیبلشمنٹ نے چھوڑا ۔ ووٹ کی طاقت سے اس کو تقسیم کیا ۔ MQM کے خالد مقبول صدیقی نے الیکشن مہم کی آخری تقریر میں کہا کہ ’’ قربانیاں مہاجروں مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی،سر سید احمد ۔۔۔ نے دی اور فوائد انگریز کے بہترین غلاموں نے اٹھائے۔ بہترین غلام ہی بدترین حاکم ہوتا ہے۔ انگریز کے غلام ہم پر اقتدار کیلئے مسلط ہوگئے ہیں‘‘۔
سچ ٹی وی کے نصرت مرزا نے لکھاکہ ’’ برطانوی سامراج نے ملک کی تقسیم کو اپنے مفاد میں اسلئے سمجھا کہ مغربی پاکستان کے ذریعے روس کا رستہ روکناتھا‘‘۔ تحریک آزادی چل رہی تھی تو کانگریس و مسلم لیگ میدان میں تھے۔ اسفندیار ولی کے دادا باچا خان سرحدی گاندھی اور محمود اچکزئی کے والد عبد الصمد خان شہید بلوچستان کے گاندھی کہلاتے تھے۔ جمعیت علماء ہند کانگریس کی حامی جماعت تھی اور مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کا نظریہ بھی جمعیت علماء ہند والا تھا ، بقول انکے پاکستان بنانے اور ہند کو تقسیم کرنے کے گناہ میں وہ شریک نہ تھے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی کا نظریہ نہیں بلکہ ملک کی خدمت اور استحکام انکا فرض ہوتا ہے ۔ آزادی سے پہلے پاک وہند کی فوج ایک جان اور ایک قالب تھے۔ ہماری فوج انگریز کی غلام نہیں بلکہ انگریز حکمران تھا اور فوج اس کی ملازم تھی البتہ برصغیر پاک وہند پر انگریز کا قبضہ تھا اور اس میں مقامی فوج اور گورے ملازم ہوا کرتے تھے۔ پاکستان آزاد ہوا تو پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے۔انگریز کیخلاف جن لوگوں نے قربانی دی، ان میں گانگریس ، جمعیت علماء ہند، تحریک خلافت، احرار،حر، خاکسار اور مرزا علی خان فقیر اے پی،وزیر محسودقبائل اور بلوچ وپنجابی قبائل شامل تھے۔
آزادی کیلئے برطانیہ نے جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کو شرط قرار دیا تو برصغیر کے مذہبی و سیاسی رہنماؤں کا اس پر اپنا اپنا مؤقف تھا۔ انگریز مخالف اور آزادی کیلئے قربانی دینے والے کھل کر جرمنی کیخلاف انگریز کی مدد کرنے میں کیا کردار ادا کرتے؟ جبکہ ان کو انگریز کیخلاف مالی سپورٹ بھی جرمنی کی طرف سے ملتی تھی؟۔جو انگریز کیخلاف عدمِ تشدد کی جنگ لڑرہے تھے وہ جرمنی کیخلاف جہاد کرنے کا اعلان نہیں کرسکتے تھے۔ برصغیر کی فوج آزادی کے جذبے سے گئی یا یہ ملازمت کی مجبوری تھی یاانعام واکرام کی طمع تھی جو غرض تھی سوتھی ۔ فوجیوں کا فلسفیانہ نہیں شارٹ کٹ دماغ ہوتا ہے، جرمنی کو شکست ہوئی تو انگریز نے برصغیر پاک وہند کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدمِ تشدد کی تحریک انگریز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اسلئے کہ پردیسی حکمران کہہ سکتے تھے کہ ’’جب تم مقبوضہ ہوکر نہیں شرماتے تو ہم قابض ہوکر کس بات سے شرم کھائیں؟‘‘۔ ہمارے عزیز پیرکرم حیدر شاہ مرحوم فوج میں جرمنی سے لڑنے گئے تھے ۔ نیک ،سادہ اور پاکستان سے انتہائی محبت رکھتے تھے۔یورپ سے ٹیپ ریکارڈر لائے اور مولوی صاحب سے پوچھا کہ یہ ممکن ہے کہ آواز ٹیپ ہوسکے تو مولوی نے اس کو کفرکا فکرکہا۔ مولوی نے مشاہدہ کرلیا تو اس کو جادو قرار دیدیا۔ سائنس کی ترقی سے اسلام پر اثر نہیں پڑتا بلکہ مزید مضبوط ہوتاہے مگر مولوی کا خود ساختہ اسلام سائنسی علوم سے دباؤ میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے سلیم صافی نے پوچھ لیا کہ ’’ تصویر جائز نہیں تو آپ کی محفل میں تصاویر ہیں؟‘‘۔ مولانا نے کہا کہ ’’ تصویر حرام ہے اور قطعی حرام ہے مگر بعض علماء نے کیمرے کی تصویر کے جواز کی گنجائش نکالی اور ہم اسکا فائدہ اُٹھاتے ہیں‘‘ مولانا فضل الرحمن اور شرکاء مجلس نے اس برجستہ جواب پر خوب قہقہہ بھی لگایا۔
مولانا ابوالکلام آزاد اور علامہ سید سلیمان ندویؒ نے پہلے کیمرے کی تصویر کو جائز قرار دیا اور پھر رجوع کرلیا۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے ہاتھ سے پیر کرم حیدر شاہ مرحوم کو اپنی تفسیر ’’ترجمان القرآن ‘‘ کا نسخہ دستخط کرکے دیاتھا، بھارت میں کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو وائس رائے ، سول و ملٹری بیوروکریسی کی بھاگ دوڑ میں ہاتھ نہ ڈالا۔ جمہوری لیڈرشپ کی وجہ سے آج تک جمہوری نظام وہاں مضبوط ہے۔ جبکہ پاکستان کی برسراقتدارسیاسی قیادت پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے اپنی بیگم رعنا لیاقت علی خان کو اعزازی طور پر درجہ اول کے فوجی جرنیلوں میں شامل کردیا ، سیاسی قیادت جمہوری نظام کی پوزیشن میں نہ تھی۔ جرمنی کی شکست اور آزادی کے بعد جن سیاسی جماعتوں کا نظریہ متحدہ ہندوستان تھا، ان کو غدار کہا جانے لگا۔ جرمنی کی مدد بند ہوچکی تھی، کانگریس وجمعیت علماء ہند کی قیادت بھارت تک محدود تھی، تقسیم کے بعد فوج پاک وہند میں میں بٹ گئی۔ مسلم لیگی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے سہارے قائم تھی، وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا جنکا باقی مسلم لیگیوں سے یہ جھگڑا تھا کہ سرکاری عہدے کیساتھ مسلم لیگ کی صدارت کا عہدہ مت رکھو۔ جمہوریت کا دور دور بھی کوئی نام ونشان نہ تھا، پہلے سول بیوروکریسی کا قبضہ تھا پھر جنرل ایوب خان نے بنگال کے معروف غدار نواب میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کو صدارت سے ہٹایا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ فوج براہِ راست اقتدار کررہی تھی تو وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو بنایا۔ جنرل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کیلئے AD اور BDکے ممبر بنائے تھے۔ فاطمہ جناح نے بھی صدارتی امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھالیکن مادرملت پر غداری اور غیرملکی آقاؤں کی ایجنٹ کے الزامات لگائے گئے تھے۔
آخر میں ایوب خان کو جمہوری قیادت کے ہاتھوں صدارت چھوڑ نا پڑی ۔ مولانا مودودیؒ نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا، مفتی محمودؒ غیر جانبدارتھے مگر مشہور تھا کہ مفتی محمود عائلی قوانین کے حق میں ووٹ ایک لاکھ روپے میں بیچا ، پھر بھٹو سے مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما نے اسلام آباد میں پلاٹ کو قبول نہیں کیا۔ سرحد میں نیپ کی اکثریت تھی اور بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت تھی۔ بے اصول سیاسی قیادت نے اقلیت کا وزیراعلیٰ مفتی محمودؒ اور سردار عطاء اللہ مینگل کو بنایا۔ بھٹو نے جمہوریت پر شبِ خون مارا، بلوچستان حکومت کو چلتا کردیا اور مفتی محمود کو جانا پڑگیا۔ سیاست اور مذہب کو مفادات کیلئے استعمال کرنے کا کھیل یزید اور پہلے شیخ الاسلام قاضی القضاۃ امام ابویوسف ؒ سے شروع ہوا تھا، رسول اللہﷺخودکو اسلام کا پیغمبر، نبی، رسول اور اللہ کا بندہ کہتے تھے، حلال حرام، فرض اور کسی چیز کی تخلیق میں کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن درباری علماء نے شیخ الاسلام کے القاب بھی اپنانے شروع کیے۔ مزارعت سے لیکر سودی نظام تک اسلام کو مسخ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے تویہ شیخ الاسلامی ہے۔ نبیﷺ نے اسلام کے اجنبی ہونے کی پیش گوئی فرمائی تھی۔
مرحومین علماء ومفتیان کیساتھ رح کانشان اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسکے بغیر پتہ نہیں چلتا کہ کون صاحب ہیں ،دوسرا یہ کہ ان کیلئے مغفرت ورحمت کی دعا بہت ضروری ہے، اسلام کیلئے انکا زبردست کردار ہوسکتا تھا مگر توجہ نہ دے سکے۔ ایصالِ ثواب کیلئے ان کی اولاد اور لواحقین غفلت برتنے کے بجائے قرآنی احکام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے معاشرے میں اپنا زبردست کردار ادا کریں۔ ہمارا اپنا گھرانہ بھی سیاست، مسجد اور خانقاہ کا محور تھا اور عوام تک حقائق پہچانا ہونگے۔

جمہوریت اور پاکستان میں جمہوری اقدار کا پسِ منظر

general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بعد تحریک انصاف نے پارٹی کی حیثیت سے اپنا مقام بنالیا۔ ایک وقت تھا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں قومی اتحاد کے نام پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوگئیں پھر جنرل ضیاء نے 11سال اقتدار پر قبضہ کیا۔ 1985ء میں غیرجماعتی الیکشن کا سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تو بڑے پیمانے پر عام لوگ بھی اسمبلی کی زنیت بن گئے۔ قائداعظم کے بعد قائد عوام کا خطاب ذوالفقار علی بھٹو کو ملا، غیرجماعتی الیکشن نے محمد خان جونیجو کو قائد جمہوریت بنادیا۔جبکہ MRDکے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چل رہی تھی۔ جنرل ضیاء نے جونیجو کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوگئے توفوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے جمہوریت بحال کردی۔ 1980ء میں عام انتخابات میں عوام نے پاکستان کی پہلی مسلمان وزیراعظم بینظیر بھٹو کومنتخب کیا تھا جبکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی تھی۔
بدقسمت عوام کی نمائندہ وزیراعظم بینظیر بھٹو نے لالچ میں بحالی جمہوریت کے ساتھی نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں جنرل ضیاء کے ساتھی غلام اسحاق خان کو صدر بنانے میں کردار ادا کیا، بینظیر بھٹو کی اس روش نے مرتضیٰ بھٹوشہید کو علیحدہ پارٹی بنانے پر مجبور کیا۔ بینظیر بھٹو نے بیرون ملک سے آمد کے بعد اپنے دیرینہ ساتھی غلام مصطفی جتوئی کو چھوڑ دیااور جنرل ضیاء کے ساتھی سید یوسف رضا گیلانی سے دوستی اپنالی۔حالانکہ بحالی جمہوریت کے مشکل ترین دور میں جب بینظیر بھٹو بیرونِ ملک ایک آزادانہ اور پر آسائش زندگی گزار رہی تھی توغلام مصطفی جتوئی نے پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔ مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء نے ایم آرڈی میں شمولیت کی وجہ سے گمراہی وکفر کا فتویٰ لگایا، ایم آرڈی میں وہی قومی اتحاد کی جماعتیں تھیں جس کی قیادت نظام مصطفی کے قائد مفتی محمودنے کی تھی مگر ایک پیپلزپارٹی کا اضافہ ہوا تھا اور جماعتِ اسلامی کی اس میں کمی تھی۔
مولانا فضل الرحمن کیلئے یہ فتویٰ نیا نہ تھا بلکہ 1970ء میں جماعت اسلامی سے مل کر بڑے دیوبندی علماء ومفتیان نے جمعیت علماء اسلام کے اکابر پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ قومی اتحاد میں جماعتِ اسلامی کی شرکت سے ناراض ہوکر مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنا دھڑا بناکر پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد کرلیا۔ ایرانی نژاد نصرت بھٹو نے دم تعویذ اور جھاڑ پھونک کے بہانے غلام غوث ہزاروی کو قریب کرلیا تھا۔ ایم آر ڈی کے دور میں جب جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کیساتھ تھی تو مولانا فضل الرحمن کہتے تھے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی رائے درست تھی ، قومی اتحاد میں جماعت اسلامی کو شریک کرنا مفتی محمود کا فیصلہ بالکل غلط تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے 1981ء جمن شاہ لیہ پنجاب میں تقریر کی ’’ پاکستان میں فوج کی حیثیت آنکھوں کیلئے پلکوں کی طرح ہے۔ پلکوں کے بغیرآنکھیں بدنما اور غیرمحفوظ ہیں۔فوج نہ ہو تو ملک کی خوبصورتی اور حفاظت نہ ہو اگر پلکوں کا ایک بال بھی آنکھ میں گھسے تو ناقابلِ برداشت ہے۔ اب تو ساری پلکیں آنکھوں میں گھسی ہیں۔ یہ دلیل غلط ہے کہ پاک فوج اس ملک کی حفاظت کرتی ہے اسلئے کہ وہ اس ملک پر حکمرانی کی حقدار ہے۔ لوگ تنخواہوں سے چوکیدار رکھ لیتے ہیں تو کیا اپنے تھمائے ہوئے بندوق سے چوکیدار گھر کے مالک کو پرغمال بنانے کا حق رکھتا ہے؟۔ ہرگز نہیں!۔ چوکیدار کا کام اپنی ڈیوٹی انجام دینا ہوتا ہے اور بس‘‘۔
جنرل ضیاء نے شرعی بل نافذاوراسلامی ریفرینڈم کیاتو مولانا فضل الرحمن نے بھرپور مخالفت کی۔ مولانا سمیع الحق کا جنگ میں انٹریو شائع ہوا ، جس میں مولانا سمیع الحق نے کہا کہ شریعت بل میں کچھ منافق روڑے اٹکا رہے ہیں، پوچھا گیا کہ انکے خلاف آپ کیا کرینگے؟۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ انکے خلاف جہاد کرینگے۔ پوچھا گیا کہ یہ منافق کون ہیں؟ تو مولانا سمیع الحق نے کہا کہ موجودہ دور میں منافق کا پتہ نہیں چلتا ، نبیﷺ کے دور میں منافق تھے۔
بینظیر بھٹو حکومت کاتختہ الٹنے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا ، صدر غلام مصطفی جتوئی اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے، نواز شریف پنجاب کے صوبائی صدر تھے۔بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی اور دونوں طرف سے خریدوفروخت جاری تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے ارکان بھی تحریک عدم اعتماد کا حصہ تھے لیکن وہ آزاد گھوم رہے تھے۔ چانگا مانگا میں مسلم لیگ نے منڈی لگار کھی تھی اور سوات میں بینظیر بھٹو نے اپنے ارکان کو محصور رکھا تھا۔ خاتونِ اوّ ل بشریٰ پنکی مانیکا کے سسر غلام محمد مانیکا نے نوازشریف کی جماعت سے نکل کر تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنایا تھا اور پیپلزپارٹی نے اس کو ایک اور ساتھی سمیت خرید لیا تھا۔پھر صدرغلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی اور اسلامی جمہوری اتحاد کا صدر الیکشن میں ناکام ہوا۔ مولانا سمیع الحق نے اپنا حق نواز شریف کو دیا، نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں زیادہ اہم کردار جماعت اسلامی کا تھا، جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمد نے بعد میں میڈیا پر بتادیا کہ وہ بالکل خفیہ کردار اور سازش سے لاعلم تھے۔ یہ جماعت اسلامی کا کمال تھا کہ اپنے جنرل سیکرٹری کو بھی لاعلم رکھا گیا تھا۔ مشرف کا ریفرینڈم ہوا تو تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالف تھے، عمران خان نے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی مگر پارٹی سے معراج محمد خان کو چلتا کر دیا، تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے عمران خان کے کہنے پر پارلیمنٹ سے استعفیٰ دیدیا مگرعمران خان سمیت تحریک انصاف کا کوئی ممبراستعفیٰ نہ دے سکا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب خان نے بنایا اور فوج کی طرف سے فری ہینڈ ملنے کے بعد پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریر بن گئے۔ پاکستان کو اتفاق رائے سے ایک آئین دیا جس میں اپوزیشن اور فوج کا اتنا کردار تھا جتنا بھٹو کا تھا لیکن بھٹو نے سول بیوروکریسی کو اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے اعلیٰ افسران کو نکال دیا، فوج میں قادیانیوں کی بڑی طاقت تھی ، پارلیمنٹ کے ذریعے قادیانیوں کو کافر قرار دیکر فوج کو بھی ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، دھاندلی کے ذریعے الیکشن کے نتائج بدل دئیے اور تمام سیاسی قائدین کو بغاوت کے مقدمے میں بند کردیا۔پھر جنرل ضیاء الحق نے تختہ الٹ دیا تو عوام اور سیاسی رہنماؤں نے سمجھا کہ ایک فرعون سے دنیا نے نجات حاصل کرلی۔جنرل ضیاء نے اقتدار کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کئے تو عوام جو پاک فوج کو دل وجان سے چاہتی تھی، 1965 ء کے شہداء کی توقیر، 1971ء کے قیدیوں سے ہمدردی کا جذبہ بھی بہت متأثر ہوا ۔
جنرل ایوب خان نے کہا کہ ’’ ایک فوجی اچھا سپاہی بن سکتاہے مگر اچھا لیڈر نہیں ہوسکتا‘‘۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان نیجو، میاں نوازشریف اور موجودہ عمران خان سبھی بنائے ہوئے لیڈر ہیں۔ان کی پارٹیاں سیاسی چورن ہیں جوعوام کیلئے اقتدار کی صورت میں ٹیسٹ بدلنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ باقی سیاسی جماعتوں کا حال ان سے بھی زیادہ برا ہے جن کا دُم چھلہ بن کر رہنا ایک مجبوری کا عمل ہے۔ حقیقی جمہوریت کیلئے جمہوری مزاج کے حامل لیڈرکی ضرورت ہے۔

عمران خان کہہ رہا ہے کہ دلوں اور بے غیرتوں مجھے نا اہل کرکے دکھاؤ

پانامہ کے اندر عمران خان کا نام آیا تو جمائما نے اس بینک کی اسٹیٹمنٹ تیار کی جس کا کافی عرصے سے وجود ہی نہیں تھا لیکن عدالت نے اس کو قبول کرکے کہا کہ عمران خان صادق اور امین ہے۔ پھر عمران خان نے بنی گالہ کی تعمیرات پر کیس کیا کہ یہ غیر قانونی ہیں تو عدالت نے لوگوں کی تعمیرات پر پابندی لگادی اور انکوائری شروع کی۔ جب عدالت نے عمران خان کے مکان کا پوچھا تو اس کے پاس بھی قانونی کاغذات نہیں تھے ۔ پھر اس نے جعلی کاغذات بنوائے اور ایسی تاریخ میں کاغذات بنوائے جس تاریخ میں کاغذات بن ہی نہیں سکتے تھے لیکن عدلیہ نے اس کو نااہل قرار نہیں دیا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن پر حکمران عیاشی کرتے ہیں لیکن جب عمران خان کے پر سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا کیس بنا تو ججوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ عمران خان نے کہا تھا وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاس کو تعلیمی ادارے بنائیں گے پھر نتھیا گلی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس خود استعمال کیا اور اس کا کرایہ بھی نہیں دیا۔ پھر عمران خان نے الیکشن کے بعد پہلی تقریر میں کہا کہ جو حلقہ کھلوانا چاہو میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ جب عدالت نے خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ دوبارہ گنتی کروائی جائے تو عمران خان نے اس حکم کیخلاف اسٹے آرڈ لینے کا فیصلہ کیا اور بزبان حال کہا کہ دلوں اور بے غیرتوں مجھے نا اہل کرکے دکھاؤ۔

پی ٹی ایم کے علی وزیر اور محسن داوڑ جیت گئے، مصطفی کمال ہار گئے کیوں؟: عبد القدوس بلوچ کا تبصرہ

ali-wazir-ptm-mohsin-dawar-mqm-syed-mustafa-kamal-establishment-bacha-khan-mian-iftikhar-hussain-hafiz-saeed-justice-shaukat

ادارہ اعلاء کلۃ الحق کے امیر عبدالقدوس بلوچ نے کہا: شمالی و جنوبی وزیرستان سے قائد PTM منظور پشتین کے دست وبازو محسن داوڑ و علی وزیر جیت گئے، PSP کے مصطفی کمال ہار گئے۔ آخر یہ کیوں ہوا؟۔ بعض باتوں میں لوگ شر سمجھتے ہیں مگر اللہ نے خیر رکھی ہوگی۔ اگر مینڈیٹ چوری ہواتو ٹینشن اقتدار سے محروم سیاسی طبقہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ لے۔ بلوچوں میں قومی پرستی اور پختونواہ میں دہشتی گردی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے اور اب پورے ملک کو اس کی طرف دھکیل دیا ۔ بیچ بویا جائے تو فصل تیار ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں عدمِ استحکام کے کھیل میں برابر کی حصہ دار ہیں۔عدالتیں کام کی نہیں۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’ سعودیہ کی وسیع اراضی و دبئی کی مل کو بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدے جسے میں بلاخوفِ تردید ہر فورم ، ہر عدالت میں ثابت کرسکتا ہوں۔دستاویزی ثبوت موجود ہیں‘‘۔ جس طرح جج اپنی توہین پر ویڈیو ریکارڈ ملزم کے سامنے چلادیتاہے، اسی طرح قوم وملک کا پیسہ کھانے پر ویڈیو کو چلادیتے تو مجھے کیوں نکالا؟ کی تحریک نہ چلتی۔ کوئی کارکن یا رہنما کہہ دیتا کہ جس نے پالا اس نے نکالا۔ ووٹ کو عزت جھوٹ کا منہ کالا۔ اگر نوازشریف کانام نظریہ ہے تو مریم نواز بھی اس بنیاد پر نہیں چل سکتی ۔ موروثی سیاست والو! خدا کا خوف کرو، ٹبر نظریہ نہیں خاندان ہے۔ باچا خان نظریہ تھا مگر اسکا پوتا ، پڑ پوتا معذور ، منحوس اور بیکار ہو تب بھی پارٹی کی صدارت کریگا؟۔ کیا میاں افتخار حسین کو پارٹی کا سربرا ہنہیں بناسکتے اور جب اسفندیارولی کہے کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے گدھے پر سوار ہوکر اقتدار تک رسائی حاصل کی تو کہاجائیگا کہ تم نے گدھے کی دُم پکڑی تھی تو پھر لات ہی پڑناتھی۔بلوچستان میں اے این پی اسی کیساتھ کھڑی ہے جس کی شکایت ہے کہ گدھے پر سوار ہے۔ مصطفی کمال نے ایم کیوایم کے دورِ عروج میں پرورش پائی، علی وزیر اور محسن داوڑ نے مشکل پہاڑ سر کئے۔ بچیوں کیساتھ زیادتوں کا معاملہ جاری ہے اور معاشرہ غفلت کا شکارہے، بڑا عذاب نہ آئے! جسٹس شوکت نے ISI پر الزام لگایا۔ ISI عمران خان کی پشت پر تھی تو نااہل قرار دیدتا۔ مذہبی قومی شدت پسندوں کو سیاست میں لانے پرکسی کے ووٹ کٹ جائیں تو ناک بھی کٹ جائے۔ حافظ سعید سے کہلوایا جائے کہ سعودی بادشاہت کی طرح جمہوری نظام بھی کفر نہیں ۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے لوگ تنگ تھے تحریک انصاف کا حکومت میں‌آنا قدرت کا کرشمہ ہے: اجمل ملک

tehreek-e-insaf-hamid-mir-mma-mullah-military-alliance-imran-khan-maulana-fazal-ur-rehman-election-1985-boycott-taliban-nawaz-sharif-zardari-bailout-prime-minister-house

ایڈیٹر نوشتۂ دیوارمحمد اجمل ملک نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھے کی امید رکھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت اثرو رسوخ اور بھاری بھرکم پیسوں سے نتائج برآمد کرے یا مقتدر قوت مرضی کا نتیجہ۔ بہر حال ڈگری ڈگری ہے جعلی ہو یااصلی کی طرح جمہوری نظام بھی جمہوری نظام ہے۔ بدمعاشی ہویا پیسوں سے یا مقتدر قوت کے اشاروں پر، عوام بڑی مشکل سے ووٹ کیلئے نکلتے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔1985ء کاالیکشن ہوا تو سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالا، تاکہ سیاسی جماعتوں سے جان چھوٹ جائے۔ محمد خان جونیجو کو قائدجمہوریت کہا گیا، پھر جنرل ضیاء کو جلن ہوئی، حکومت ختم کردی، جنرل ضیاء کے پرخچے اُڑ گئے تو جمہوریت بحال ہوگئی ۔ 1988سے 2018 تک پیپلزپارٹی، ن لیگ نے باریاں لگائیں۔ عوام نے MMA کو ووٹ دیا۔ پیپلز پارٹی دو لخت تھی، مولانا فضل الرحمن کو ظفر جمالی نے ایک ووٹ سے ہرایا۔ ن لیگ ، عمران خان نے MMAکو ووٹ دیا مگر ملٹری ملا الائنس مشہورہوا۔حامد میربھولا مگر بھارتی صحافی کویادہے ۔ MMA ٹوٹ گئی ، مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد پر خود کش حملے ہوئے۔ عمران خان پھر بھی طالبان کیساتھ رہا۔ حامد میر بھارتی صحافی کو بتاتا کہ عمران خان اکیلا طالبان کا حامی نہ تھا، نواز شریف بھی شامل تھا۔ زرداری کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن نے ڈولفن کی طرح اس میں چھلانگ لگائی۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو دہشتگردوں نے 2013کے الیکشن میں کھلی چھوٹ دی ۔ ن لیگ حکومت میں مولانا فضل الرحمن نے پھر چھلانگ لگا دی ۔ حکومتوں کا مزا لیا،جمہوریت کو چلنے دیں، جمہوری نظام کے نام پر خاندانی بادشاہت کو انجام تک پہنچے پراللہ کی قدرت خوش ہوگی۔ عمران خان کے اصول بے نقاب ہوگئے ۔پہلی تقریر کرتا کہ’’ اکثریت نہیں،اپوزیشن کرونگا، دوبارہ الیکشن کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ تو عزت بچتی۔ نواز شریف کی طرح قرضہ لیا تو جمہوریت کی آخری اُمید بھی عالمی سازش کا حصہ ہوگی۔خبریہ ہے کہ بڑا قرضہ ملے گا اور امریکہ نے اب بیل آؤٹ کا طعنہ بھی پاکستان کو دیا ہے ۔ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ کا عہدہ اہمیت نہیں رکھتابلکہ قومی خدمت ضروری ہے۔اگر تانگے مانگے سے سادہ اکثریت حاصل ہو جائے تو کوئی ترمیم نہ لائی جاسکے گی۔ محسن جگنو کا وزیراعلیٰ پنجاب اور محسن داوڑ کا وزیراعظم بننے کے بعد یہ معمہ حل ہوجائیگا کہ سرائیکی صوبہ بن جائے۔ گورنرہاؤس، وزیراعلیٰ ہاوس، وزیر اعظم ہاوس اور باقی تمام اداروں کے بڑوں کے اخراجات کو کم کیا جائے۔زرعی زمینین کاشت کرنیوالوں کو محنت اور کمائی کیلئے دی جائیں تو روس و چین بھی اسلامی نظام کے قریب آ جائیں گے۔

دو گھنٹے میں شاہ محمود قریشی کا نتیجہ آیا جبکہ دوسرے اور تیسرے دن بھی گنتی کا سلسلہ جاری رہا. اشرف میمن

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہا پچھلی بار ہوا کارُخ ن لیگ کا تھا موسمی پرندوں نے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کو چھوڑ ا، ن لیگ میں شامل ہوگئے۔ زرداری کیخلاف میڈیا نے ہوا بنائی ۔ مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب ’’دی پارٹی از اوار‘‘ میں کہا کہ ’’الیکشن سے پہلے دھاندلی میں فضا ایسی بنائی جاتی ہے کہ رُخ کسی کی طرف ہو، جیو اور باقی چینلوں میں یہ فرق ہے کہ ہم سچ یا جھوٹ کہنے پر مجبور نہیں، ہم دیکھ لیتے ہیں تب اپنی مرضی سے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہتے ہیں۔ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، ابھی بڑاسفر باقی ہے، یہ جمہوریت کی جیت ہے کہ الیکشن کے ذریعے مقتدر طبقہ کسی کو اقتدار دینے پر مجبور ہوا، کتاب کے نام سے کہانی کا پتہ چلتاہے، نوازشریف کو ناقابل برداشت سمجھا گیا، کل عمران خان بھی ناقابلِ برداشت ہوسکتے ہیں‘‘۔ ڈان نیوز پر ’’ ذرا ہٹ کے‘‘ میں بتایا ’’ ظفراللہ جمالی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کو ایک ووٹ سے ہرایا گیا۔ پانچ آزادمزید ارکان آئے تو اُن سے کہاگیا کہ بس آپ کی ضرورت نہیں، جمالی کو زیادہ ووٹ مل گئے تو ہاتھ سے نکل جائیگا‘‘۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی صحافت میں بڑے معتبر نام ہیں۔جیو، ڈان و دیگر چینل اور صحافیوں کو اللہ سلامت رکھے۔ یہ بڑی نعمت ، احسان اور غنیمت ہیں عوام کا شعور بڑھا رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے سب سے بڑی سرخی لگائی ’’حامد سعید کاظمی نے کرپشن کا اعتراف کرلیا‘‘ کرپشن کا اعتراف کیا تھا؟ ۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جن دستاویزی ثبوتوں کا دعویٰ کیا،درست تھے؟۔ ایک ایسا پروگرام صحافی حضرات پوری قوم کے سامنے رکھیں کہ عوام کا شعور بڑھے اور عوام کا صحافت ریاست ، عدالت اور سیاست پر اعتماد بحال ہو ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں جو لکیرکے ایک طرف ہیں، ڈاکٹر عامر لیاقت دوسری طرف ہیں۔ عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں،جھوٹ کا کریڈٹ جیو کو جاتا ہے۔ عامر لیاقت نے اعتراف کیا کہ ’’ بول نیوز نے جھوٹ کہلوایا ، دل آزاری پر معذرت چاہتا ہوں‘‘۔ حامد سعید کاظمی پر اعتراف جرم کو جس انداز میں پھیلایا گیا تھا،کیا یہ جیو، جنگ کی غلط فہمی ہوسکتی تھی؟ ، نوازشریف کی طرف سے پارلیمنٹ کے بیان کو جیو، جنگ نے اس انداز میں پیش کیا جو اسکا حق تھا؟۔ صحافت کا یہ طریقہ واردات قوم کے مفاد میں ہے؟۔ یہ قابلِ فخر ہے؟۔ یہ غلط فہمی کا ہی نتیجہ ہے؟۔ ذاتی ، مالی اور دوستانہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی مہم جوئی قوم، ملک ، سلطنت اور صحافت کا مفاد نہیں ہوسکتا ۔ جیو دونوں قسم کی مہم جوئی پر عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی بتائیں کہ جو معیار آپ لوگ دوسروں کے بارے میں رکھتے ہیں ،کیا اپنے بارے میں بھی سوچا ہے؟۔ قومی اسمبلی کے ممبر وں کا غائب ہونا نظر کیوں نہ آیا؟۔ جمالی ایک ووٹ سے جیتا اور مولانا فضل الرحمن ایک ووٹ سے ہارا تھا ،یہ 5 ارکان کون تھے؟، کہاں گئے اور کس کو ووٹ ڈالا؟۔ایک ووٹ سے ہار جیت کا مسئلہ تھا اور 5آزاد ارکان پارلیمنٹ ایسے بے وقعت ہوئے تو ان کا نام گینزا بک ریکارڈ میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ خلائی مخلوق تو نظر نہیں آتی مگر یہ تو آج بھی دریافت ہوسکتے ہیں، سوشل میڈیا اور بے پر کی باتیں اُڑانیوالے اعترافِ جرم کے مرتکب ڈاکٹر عامر، سزایافتہ ڈاکٹر شاہد مسعود بیڈ صحافیوں کی فہرست میں لکیر کی دوسری جانب ہیں مگر وسعت اللہ خان ، مظہر عباس تو گڈ صحافیوں میں سرِ فہرست ہیں۔اعتراف جرم یا سزا ہونی چاہیے؟۔ جیوکی مہم جوئی سے اسٹیبلشمنٹ کے ہمدردوں کا رخ بھی ری ایکشن میں بدل گیا۔ صحافت میں وکالت کا کریڈت جیو جنگ کو جاتا ہے۔ ری ایکشن میں ARY نیوز اچھا ہوا کہ ن لیگ کی اپوزیشن میں آئی۔ جیو جنگ مہم جوئی کرتے کہ نوازشریف پارلیمنٹ میں جھوٹ پر مجبور نہ تھا اور قطری خط کھلا فراڈ ہے تو کوئی ن لیگ کیخلاف کھڑا نہ ہوتا۔جنگ جیو جھوٹی مہم جوئی نہ کرتے کہ حامد کاظمی نے اعتراف کیا تو دوسروں کو مہم جوئی کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ پاؤں کی انگلی کانوں کو لگاکر معافی مانگی جاسکتی تو بھی دریغ نہ کریں۔ن لیگ کی مخالفت اور پی ٹی آئی کی حمایت میں فضا کے رُخ بدلنے میں جیو جنگ کی بے شرمی سے مہم جوئی کا وطیرہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔ صحافت کپڑے اتارکر شیشے میں شفاف طریقے سے بے شرمی کا مظاہرہ نہ کرتی تو صحافت کا ماحول ردِ عمل میں اتنا گھٹیا اور گھناؤنا نہ ہوتا۔ ن لیگ کی حکومت تھی۔ صحافت نے حکمرانوں کی غلطیوں کو اجاگر کرنا ہے ، حکمرانوں کے حق میں مہم جوئی کرنا بہت ہی غلط ہے۔جیو اور جنگ نے پیپلزپارٹی کیخلاف غلط مہم جوئی کی اور جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا، ن لیگ کے حق میں جب غلط مہم جوئی کی تو جمہوریت کو اور زیادہ نقصان پہنچا یاہے۔ اسکے شاگرد اس روش پر چل کر مزید کیا گل کھلائیں گے؟۔اسٹیبلشمنٹ جبر ہے مگر عوام کی مجبوری بھی ہے۔ عوام طالبان،ایم اکیوایم اوردیگر سیاسی پارٹیوں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف ، جماعت اسلامی اور جس کسی کو تھوڑا اختیار دیتے ہیں توانکے آمرانہ شکنجوں میں پھنستے ہیں، پھر اسٹیبلشمنٹ ہی عوام کی جان کو عذاب سے چھڑا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد معقول انسان لگتے ہیں، ہر سوال کا جواب خوش اسلوبی سے دیا، ہمارا بھی ایک سوال ہے جو شاید کسی نے نہ کیا کہ ٹھیک ہے سسٹم نے کام نہیں کیا جس کی وجہ سے نتائج کا اعلان بعد میں کرنا پڑا۔ یہ بتادیں کہ گنتی تسلسل سے جاری تھی؟۔ گنتی تو ہوچکی تھی اور پولِنگ ایجنٹوں کو نتیجہ دیا گیا تھا، جس سے کامیاب اور ناکام افراد کو اپنا پتہ چلتا۔ کامیاب امیدواروں نے خرچہ کیا، اہتمام کیا مگران کو اپنی کامیابی کی خبر کچھ انداز سے ملی کہ مسلسل گنتی جاری رہی اور ڈیلیوری کا آپریشن دیر تک چلتا رہا، اتنی دیر میں مرغی شطرمرغ کا انڈہ دے سکتی تھی، اگر الیکشن کمیشن کا قصور نہیں تو سوال کا جواب دے۔ مارشل لاء دور میں ریفرینڈ م پر بھی سوالات اٹھتے تھے۔

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed-2

مولانا فضل الرحمن کا بیٹا ممبر قومی اسمبلی، ایک بھائی سینیٹر، دوسرا ممبر صوبائی اسمبلی، تیسرا بھائی الیکشن کا کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار ہے

muttahida-majlis-e-amal-maulana-fazal-ur-rehman-sirajul-haq-allama-sajid-mir-sajid-naqvi-owais-noorani-siddiqui-kulachi-khan-muhammad-sherani-mehmood-khan-achakzai

ٹانک ( شاہ وزیر سرحدی)جمعیت علماء اسلام کے سابق سرگرم کارکن، مرکزی شوریٰ کے رکن اور ضلعی عہدیدار پیر نثار احمد شاہ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل قائدین کو اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کا موقع دیا ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ فرقہ واریت ہے، بریلوی، دیوبندی، شیعہ اہلحدیث اور جماعت اسلامی سب اتحاد کا حصہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد میر، علامہ ساجد نقوی، مولانا اویس نورانی اور سراج الحق کو چاہیے کہ ایک ملک گیر تبلیغی دورے کا آغاز کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کی بہت خدمت کرلی لیکن دین کی خدمت کیلئے اب تک فراغت اور موقع نہیں مل سکاہے اور دیگر جماعتوں نے بھی اسمبلیوں کے اندر اور اسمبلیوں کے باہر کردار ادا کرلیا۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پتہ ہے کہ دوبارہ الیکشن میں وہ زیادہ خسارے میں ہونگے، وہ صرف جمہوریت ہی کیلئے آواز اٹھارہے ہیں مگر جمہوریت ، سیاست اور اقتدار کا کھیل چلتاہی رہے گا۔ ملتے جلتے منشور، کردار، ذہنیت، خواہشات اور عزائم رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ہردور میں دُم چھلہ بن کر رہنا بھی کوئی زندگی ہے؟۔ کیا اس سے دنیاو آخرت کو ٹھیک کرنے میں پیش رفت ہوسکتی ہے؟۔ بہت کچھ کرکے دیکھ لیا۔ صرف آخرت کی فکر باقی رہ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی عمر بھی اب بہت ہوگئی ہے، بیٹا بھی قومی اسمبلی میں پہنچ گیا ہے، ایک بھائی سینٹر، دوسرا صوبائی اسمبلی کا ممبر اور تیسرا بھائی بھی امیدوار تھامگر اکرام اللہ خان گنڈہ پور کی شہادت سے الیکشن ملتوی ہوگئے۔سیاست میں خاندان کے اتنے سارے افراد کا کردار بہت ہے، جانشینی کیلئے بیٹا بھی سیاسی فرض ادا کرتا رہے گا۔ بھائیوں نے بھی ہرسطح پر ایک جگہ پائی ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن نے اب خود کو اسلام کی تبلیغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے وقف کیا تو ایک زبردست اسلامی انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ مولانامحمد خان شیرانی نے پہلے جمہوری سیاست کو خیرباد کہنے پر راضی کیا تھا اور اس مرتبہ الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیاہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹانے کیلئے ہی اسکے صاحبزادے کو بھی جتوایا گیا ہو۔ باشعور لوگوں میں مولوی کا کردار بادشاہوں اور نوابوں والا بھی بہت معیوب ہے ۔محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں جمعیت والوں کو دھاندلی سے جتوایا ہے تو سیٹ سے دستبردار ہوکر محمود اچکزئی کو جمہوریت کی بحالی کیلئے قیادت سونپ دیں۔ انکے بھائی اور رشتہ داروں نے بھی بہت سیاسی فائدے جمہوری نظام سے اٹھائے ہیں۔ مجید اچکزئی کبھی ناکام نہیں ہوا مگر غریب پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے بعد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اسکی رہائی پر پھول نچھاور کرنا یتیموں کے زخم پر نمک پاشی تھی۔ نوازشریف کے قافلے میں جس ڈرائیور نے بچے کو قتل کیا جس کو ن لیگ اپنا پہلا شہید کہہ رہے تھے،اسکے ڈرائیور کا ریاست نے پتہ نہ چلایا۔مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ ساجد میر ، علامہ ساجد نقوی اور مولانا اویس مشترکہ تبلیغی دورہ تشکیل دیتے ہوئے اس قوم کی وہ خدمت کرسکتے ہیں جو پارلیمنٹ، اقتدار، پولیس اور فوج کی طاقت سے ممکن نہیں۔ لوگوں کو صرف اپنی شکلوں کی زیارت نہ کروائے بلکہ فرقہ واریت کے اہم مسائل کو اجاگر کرکے ان کا حل بھی پیش کریں۔ جہری نمازوں میں کسی وقت بسم اللہ کو جہر سے پڑھنے پر پابندی تھی لیکن اب کوئی ایسی بات نہیں ، درسِ نظامی کا تعلیمی نصاب بھی درست کریں اور نمازوں میں بسم اللہ بھی جہر سے پڑھنا شروع کریں۔ قومی ایکشن پلان پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔اہل تشیع واہلحدیث سے زیادہ حنفی مسلک میں طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے حلالہ کے بغیر رجوع کا مسئلہ واضح ہے اور اسکے ڈھیر سارے دلائل قرآنی آیات میں موجود ہیں۔آخری پیغمبرحضرت محمدﷺ پر نازل قرآن مسائل کا بہترین حل ہے۔ سورۂ مجادلہ میں نبیﷺ نے ظہار کا مسئلہ ایک خاتون کو بتایا مگروحی خاتون کے حق میں نازل ہوئی ۔ کیا مفتیان کرام کیلئے یہ مشعل راہ نہیں کہ اپنی رائے پر قرآن کو ترجیح دیں اورکیا کوئی امام نبیﷺ سے خود کو بڑا کہہ سکتا ہے؟۔ بدری قیدیوں پر فدیہ کے مسئلے پر بظاہر آیت نبیﷺ اور اکثریت کی رائے کے خلاف نازل ہوئی تو کیا جمہور اور اسکے قائدین بھی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ بھی غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ ایک نابینا صحابی عبداللہ بن مکتومؓ کی آمد نبی کریمﷺ پر ناگوار گزری تو قرآن نازل ہوا۔ کیا ہم بھی اپنے رویوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور قرآنی آیات کے عملی نمونے برداشت کرنے کو تیار ہوسکتے ہیں؟۔
اہلسنت کے چھ کلمے کس نے بنائے؟ ۔ علماء کو پتہ نہیں اور عوام کو رٹانے میں الجھائے رکھا۔غسل، وضواور نمازکے فرائض اور واجبا ت بعد کی ایجاد اور ان پر اختلافات ہیں جنکا صحابہؓ کے دورمیں وجود نہ تھا۔ شیعہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے حوالے سے اضافہ کرتے ہیں یہ انکے اپنے اصولوں کے منافی ہے۔ ایک ایسا متعصب طبقہ بھی ہے جسکے سامنے کہا جائے کہ اللہ کا وجود تو محض ایک افواہ ہے اصل میں تو حضرت علیؓ ہی خدا اور عرش پر بیٹھا ہے تو بھی ان کی تمنا ہوگی کہ اس سے بڑا مقام دینا چاہیے، سب شیعہ ایسے نہیں، اگر انکے سامنے بات رکھی جائے کہ شیعہ اصولوں کا تقاضہ ہے کہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے بعد امام حسنؓ کا نام لیا جاتا، پھر امام حسینؓ کا ، اسی طرح بارہ امام کا اپنے اپنے دور میں کلمہ پڑھا جاتا اور آذان میں نام لیا جاتا تو درست ہوتا لیکن موجودہ دور کے امام کو چھوڑ کر حضرت علیؓ کا نام لینا شیعہ اصولوں کے منافی ہے۔ حقائق تک رسائی کی تعلیم دی جائے تو پھر شیعہ سنی کی مرضی ہے کہ نماز میں جہری بسم اللہ اور کلمہ وآذان میں اسلامی تعلیمات کے مطابق چلتے ہیں یا نہیں لیکن تعصبات کے غبارے سے ہوا بالکل ہی نکل جائے گی۔