پوسٹ تلاش کریں

جنرل راحیل شریف ایک زبردست جرنیل؟

میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ تأثر مل رہاہے کہ جنرل راحیل کے جانے کا وقت بالکل قریب میں ٹھہرگیاہے لیکن پاک فوج نے ان کی قیادت میں جو مثالی کردار اداکیا ہے، پوری قوم پر احسان کا فرض چکانے کا وقت آگیاہے،جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو نوازشریف کیا عمران خان کے وزیراعظم کی باری لگتی تب بھی دہشت گردی سیچھٹکارا نہ ملتا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت محترمہ بے نظیربھٹو شہید اور اے این پی کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین نہ پیش کرنا بڑی زیادتی ہے، ایم کیوایم نے بھی طالبان کیخلاف جو جاندارآواز اٹھائی تھی وہ بھی قابلِ ستائش تھی مگر کراچی میں ایم کیوایم کا ٹارگٹ کلر ونگ اور پیپلز پارٹی کی امن کمیٹی نے طالبان سے زیادہ بدامنی پھیلانے کا ارتکاب کیا، کورٹ نے سارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگ اور بھتہ خور مافیہ کی ٹھیک نشاندہی کی ۔
بلوچستان میں دہشت گردی کو عالمی اور بھارتی سپورٹ کے علاوہ مسلم لیگ ن سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوساٹیز کے نام پر این جی اوز کی حمایت بھی حاصل رہی، حالانکہ وہاں آزادی کے نام پر سیاسی جدوجہدکے بجائے بدترین قسم کی دہشت گردی ہورہی تھی۔ پورے ملک میں ہرقسم کی دہشت گردی کو پاک فوج نے جنرل راحیل کی قیادت میں بہت جرأت، بہادری اور حکمت کیساتھ سے ختم کرکے سیاستدانوں کیلئے ایک بہترین فضاء بنائی ہے لیکن دہشت گردوں نے وقتی طور سے چپ کی سادھ لی ہے، فوج کی طرف سے باگ ڈھیلی ہونے کی دیر ہے، یہ پھر اسی زور وشور سے پاکستان کو دیمک زدہ بناکر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چکر میں ہیں، نوازشریف اور مودی عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان اور بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ آج اعلان ہوجائے کہ کشمیر الگ ملک ہے، پختون ، بلوچ ، سندھ، کراچی اور پنجاب الگ الگ ممالک ہیں تو نوازشریف کو اور نوازشریف کے کھلم کھلا اور درپردہ یاروں کو بڑی خوشی ہوگی۔ مودی بھارتی پنجاب کے سکھوں سے عالمی ایجنڈے کے تحت جان چھڑانے کی کوشش میں ہے اور نوازشریف نے مغل بادشاہوں اور راجہ رنجیت سنگھ کے طرز پر گریٹر پنجاب کا خوب دیکھ رکھا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سیاستدانوں نے پاک فوج کو بھی کرپشن کا شہد چٹا دیاہے ، سیاستدانوں کی طرح فوج بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن فوج کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے، فوج کی تربیت پاکستانی سرحدات کی حفاظت اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر کی گئی ہے، پنجاب کے لوگوں میں سب سے بڑی خوبی جمود کا شکار نہ ہوناہے مگر ان کی سب سے بڑی خامی پیسیوں کی ریل پیل کا انکے سر پر سوار ہوناہے۔ ہر وقت ایک ہی دھن کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟۔ یہ لالچ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کو ایک کرکے عالمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مودی انتہاپسند ہندو ہے وہ پنجاب کے کم عقل سکھوں اور پاکستانی فوج سے جان چھڑانے کیلئے یہ قربانی دینے کا جذبہ رکھتاہے۔ محب وطن بھارتی رہنما لالوپرشادیو نے بیان دیا کہ ’’ کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے‘‘۔ تو میڈیا پر ایک جھلک کے بعد یہ خبر غائب کردی گئی۔ میڈیا زرخرید لونڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے جس کی کھائے اس کی گائے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات اب نہ رہی۔ میڈیا کا مالک سودابازی یا اپنے عزائم کی تکمیل کی پالیسی بنالیتاہے، ملازمین کو اس کی خواہش کے مطابق چلنا پڑتاہے۔ سیاسی جماعتیں بھی سیاست نہیں تجارت کرتی ہیں۔
جب پاک فوج کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی تھی، تب بھی ہم نے بفضل تعالیٰ اپنا فرض پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اخبار کے ادارئیے ، بڑی شہ سرخیاں اورآرٹیکل اسکے گواہ ہیں، طاقت کے حصول کیلئے دم ہلانے والے سیاستدان کتوں سے زیادہ برے لگتے ہیں لیکن اب حب الوطنی کا یہ تقاضہ ہے کہ کرپٹ، تاجر، ضمیر فروش ، اخلاقی دیوالیہ پن کے شکار اور اسلام و ملک سے بے وفائی کرنے والے حکمرانوں کو بے نقاب کیا جائے۔ عمران خان نے جو الفاظ شیخ رشید کیلئے استعمال کئے تھے ، اس سے زیادہ عمران خان خود بھی برے ہیں مگر اس وقت ان کی آواز سب سیاستدانوں کے مقابلہ زبردست ہے، کراچی وسندھ سے ایم کیوایم و پیپلزپارٹی ، بلوچستان سے بلوچ رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کی صوبائی جمعیت اور پختونخواہ سے مولانا فضل الرحمن و اے این پی کے رہنما قومی سطح کے معاملات کرپشن اور بے انصافی پراگر اس اہم وقت میں نوازشریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے اٹھ جاتے تو دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کو بھی غنڈہ گردی سے پاک کردیا جاتا، اصغر خان کیس کے جرم میں مجرموں کو سزا ہوجاتی، جنرل پرویز اشفاق کیانی کی طرح جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوتی تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجاتی ۔ نوازشریف نے پہلے بھی دھوکے دئیے ہیں اور مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کیلئے بھی جنرل راحیل ایک بہترین جرنیل ہیں جو حکومت کیخلاف سازش نہیں کرتے لیکن نوازشریف کو اپنے لئے ایک تابعدار جنرل کی ضرورت ہے گر یہ خواہش پوری ہوئی تو بہت برا ہوگا۔

قومی ایکشن پلان سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے تشکیل دیا گیا

مال ودولت ، اسٹیبلشمنٹ ، موروثیت کی پیداوار کی قیادت میں قومی ایکشن پلان کے ان نکات پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت ہی نہ نہیں جو حکومت سے متعلق ہیں اسلئے وقت ختم ہوگیا مگر سنجیدہ کوشش پرصرف غورہی کیا جارہاہے

قومی ایکشن پلان سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے تشکیل دیا گیا لیکن آخری وقت تک اسکے ان کو نکات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا جن کا تعلق سیاسی حکو مت سے تھا، کیونکہ دہشت گردی کیخلاف ذہن سازی کی مطلوبہ صلاحیت حکمرانوں میں موجودنہ تھی اور اپوزیشن رہنما بھی یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں، اسلئے فوج کی تشویش کاخاطر خواہ جواب کسی سے نہیں بن پڑا، کور کمانڈرکے اجلاس میں جب بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تو حکومت اپنی غلطی مان لینے کی بجائے سیخ پا ہوجاتی رہی ہے۔ حکومت، جمہوریت اور نوازشریف کے زبردست وکیل جیوکے معروف صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ ’’ طالبان، جہادی تنظیمیں، سپاہ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی وغیرہ کی قوت 10فیصد سے بھی کم اور مدارس ،مذہبی سیاسی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کی طاقت90فیصد سے زیادہ ہے، اسلئے ان پر قومی ایکشن پلان کے تحت ہاتھ ڈالنے سے اسٹیبلشمنٹ،حکومت اور عدلیہ سب ہی ڈرتے ہیں۔قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق اسلئے عمل نہیں ہوسکتاہے‘‘۔
معاشرے کے ہر طبقہ میں شریف اور بدمعاش ہوتے ہیں، محلہ کے دو، تین بدمعاش سینکڑوں شریفوں پر حاوی رہتے ہیں ، ریاست کا کام یہی ہوتا ہے کہ بدمعاشی کے کردار کا خاتمہ کرکے انسانیت، شرافت اور اخلاقی اقدار کی حکمرانی قائم کی جائے۔ پاک فوج نے کراچی میں ایم کیوایم ، پختونخواہ میں طالبان اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی دہشت کا خاتمہ کرکے پاکستان کے کونے کونے میں ریاست کی رٹ بحال کردی لیکن پنجاب میں روایتی بدمعاشی بحال ہے۔ طالبان ، ایم کیوایم کے کارکن اور بلوچ قوم پرست ن لیگ اور تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی طرح کلہاڑی اور ڈنڈے لیکر اپنی قوت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ۔ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو بہت سے لیگی اور تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن روایتی لب ولہجے اور دہشت پسندی کے باعث پنجاب رینجرز کے حوالے ہوجاتے، پھر وہ بھی ایم کیوایم کی طرح ریاست کی رٹ مان کر عاجزانہ گفتگو پر مجبور ہوجاتے۔ جنرل راحیل شریف میں جرأت وبہادری ہے وہ پنجاب کے گلوبٹوں سے بھی طالبان، ایم کیوایم اور بلوچ قوم پرستوں کی طرح نمٹ سکتے ہیں مگر بھاری بھرکم پیسہ، جمہوریت سے زیادہ نوازشریف کی ذاتی فکر اور پاک فوج سے بدظنی کا یہ نتیجہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت قانون، اخلاق اور کردار کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی ہے۔
ماڈل گرل ایان علی کے مقابلہ میں مریم نواز شریف زیادہ تفتیش کے قابل ہے، ڈاکٹر عاصم کے مقابلہ میں اسحاق ڈار نے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا ہے اور یوسف رضاگیلانی کا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کو عدالت نے نااہل قرار دیا ، جتنا نوازشریف کاہے اصغر خان کیس میں جمہوریت کے خلاف سازش اور پانامہ لیکس سے راہِ فرار اختیار کرنے میں۔ 16سال بعد اصغر خان کیس میں شریک ملزموں کو باقاعدہ مجرم قرار دیا مگر اس سے رقوم کی واپسی اور نااہل ہونے کی سزا نہیں دی گئی۔ جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس اپنے وقت پر رخصت ہوجائیں اور پاکستان کی ریاست میں نوازشریف کیساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو دوسروں کیساتھ ہوا ہے تو چوہدری افتخار کی طرح تعریف کرنے والے تنقید کرتے پھریں گے اور ان کی زبانوں کو روکنے کیلئے ہتک عزت کے دعوے کام نہ آئینگے۔
قوم کا اجتماعی ضمیر یہ تقاضہ کرتا ہے کہ طاقتوروں اور کمزوروں کو یکساں انصاف کے فراہم کرنے میں سب سے بڑا کردار جمہوری حکومت کا ہونا چاہیے لیکن جب جمہوریت کا اپنا سیٹ اپ غیر جمہوری ہوگا، مشاہداللہ خان، سعد رفیق، خواجہ آصف اور دیگر رہنما ؤں کو بی بی مریم نواز کے سامنے وہ اہمیت حاصل نہ ہو ، جسکے وہ مستحق ہیں اور وہ وزارتوں اور اپنے مفادات کے چکر میں اس پر راضی ہوں۔ بلاول زردای کے سامنے چودھری اعتزاز حسن، قمرزمان کائرہ، افضل چن وغیرہ سر نگوں ہوں تو عوام کو کونسی جمہوریت کا پیغام دینگے؟۔ کیا گھوڑے، گدھے اور کتے کو جعلی ڈگری کی طرح بھاری بھرکم پیسے دیکر موجودہ انتخابی نظام میں نہیں جتوایا جاسکتاہے؟، اس کا تجربہ کرکے دیکھ لیا جائے تو ضرور کامیاب ہوگا۔یقینی طورسے مارشل لاء مسائل کا حل نہیں لیکن جمہوری قوتیں عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ماضی میں بھی مارشل لاء کو روکنے کیلئے عوام نے اسلئے کوئی قربانی نہ دی کہ جمہوری حکومتیں جن جمہوری جماعتوں کی وجہ سے برسرِ اقتدار تھیں، ان میں بذات خود جمہوریت کی روح نہیں تھی۔ اب دن بدن مزید معاملہ تنزلی کی طرف ہی جارہا ہے۔
اگر جمہوری قوتوں نے قانون کی حکمرانی قائم نہ کی اور مارشل لاء کے ذریعہ سے بھی اس ملک کو سیدھی راہ پر لگانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو کراچی، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پھر دہشت پسند بھی آزاد ہوکر اپنے لئے ان جمہوری جماعتوں سے انصاف مانگ لیں گے جن کے ساتھ مل کر پاک فوج نے ان کو کنارے لگایا تھا، پھر اس ملک کی بدحالی کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ ن لیگ نے سوئس اکاونٹ پر جس طرح تقریریں کیں، اب پانامہ لیکس پر دوسروں کو دھمکانے اور الزام لگانے کی بجائے کھلے دل سے جرم کی سزا کھانی چاہیے۔

اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

ہندو کے بارے میں مشہور تھا کہ ’’ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘، مودی سرکار نے اس کا بالکل الٹا نقشہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسے موقع پر جب وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر میں مظالم اور بھارتی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی تھی، اس عین موقع پر مودی نے سر پر دوپٹہ باندھ کر دھوتی سے باہر آنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ جب پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابر پاکستان سے بھارت پیسہ منتقل ہورہا ہے تو افواج پاکستان کے برابر مودی سرکار کو نوازحکومت کی فکر ضرور ہوگی اور جو کبوتر نوازشریف کی طرف سے مودی سرکار کے پاس پیغام لے کر گیا ہے یہ وہ منافقت کا کبوتر ہوسکتا ہے جو مودی سرکار نوازشریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر ہی چھوڑ کر گیاہو، کچھ دن پہلے دبئی سے پاکستان لائے جانے والے جن کبوتروں کی خبر میڈیا کی زینت بنی تھی ان بھی بھارتی کبوتروں کی اسمگلنگ کا معاملہ ہوسکتاہے۔

Molana_Fazluپچھلے دنوں سندھ میں جمعیت علماء اسلام نے ڈاکٹر خالد سومرو شہید کے قاتلوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے کیلئے کراچی میں مظاہرہ کیا تو اس میں پچاس بسیں تھرپارکر جیسے قحط زدہ علاقے سے لانے کی بات جے یوآئی ف کورنگی کے ذمہ داروں مولانا سیدعالم انصاری وغیرہ نے دارالعلوم کراچی کے پاس اجلاس میں کیا، یہ سب نوازشریف ہی کی طرف سے خرچے کا اہتمام لگتاہے،یہ تو ہوسکتاہے کہ بلوچستان کے وزراء اپنی حرام کی کمائی سے جمعیت علماء اسلام ف کے جلسوں کو کامیاب کریں لیکن سندھ والوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ یہ فوج کو اپنی قوت دکھانے کا مظاہرہ ہے، مفتی تقی عثمانی نے ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کاساتھ دیا مگر اب اسحاق ڈار کیساتھ روابط کے نتیجے میں ترکی میں فوج کی ناکامی پر یکجہتی کا پیغام دیا گیا، مولانا فضل الرحمن نے دیر میں جلسہ کیا تو سعودیہ کی رقم کھا جانے اور قبائلی عوام کوان کی مرضی کے مطابق نظام دینے کی بات کی۔ جس نوازشریف سے پیسہ لیکر جلسہ کیا گیا اسی کیخلاف غلطی سے ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے لگے تو جیو ٹی وی چینل نے دکھائے لیکن صحافیوں نے مولانا فضل الرحمن سے یہ سوال نہیں کیا کہ
قبائلی علاقوں کے کسی نمائندے کو حکومت نے اپنی کمیٹی میں شامل نہیں کیاہے تو اس سے بڑھ کر حکومت کا قبائل کیساتھ ظلم کیا ہوسکتاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اس کا یہی جواب دیتا کہ یہ سوال قبائلیوں کا حق بنتا ہے کہ اٹھائیں، میں تو قبائلی نہیں ہوں، سلیم صافی قبائلی ہیں وہ یہ سوال اٹھارہے ہیں یہ ان کا حق بنتاہے، البتہ یہ صحافیوں کا کام نہیں سیاستدانوں کا کام ہے، مسلم لیگ کے قبائلی رہنما تو یہ سوال اٹھانہیں رہے اور ہم ان کے اتحادی ہیں اسلئے ہم بھی نہیں اٹھارہے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کو بات کرنے کاحق ہے لیکن حکومت سنے یا نہ سنے یہ حکومت کا حق ہے۔ میراکام تواپنی جیب بھرنا ہے ، باقی قبائلی بھاڑ میں جائیں، میں صرف شرارت کرکے اپنا پیسہ حلال کرسکتاہوں جو نوازشریف نے عنایت فرمایا ہے، اسکے بدلہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فوج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن نہیں کیا ہے بلکہ قبائلی عوام کیخلاف کیا ہے، جس سے قبائل اور نوازشریف دونوں خوش ہونگے اور فوج پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
مولانافضل الرحمن سے سوال کیا جاتا کہ وزیراعظم نوازشریف نے عیدالفطر کو لندن میں پاکستان سے ایک دن پہلے سعودی عرب کیساتھ منایا اور عیدالاضحی کو اسکے بالکل برعکس امریکہ میں سعودیہ کے ایک دن پاکستان کیساتھ منایا، اس کی وجہ کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمن فی البدیہ کہہ دیگا کہ مجھے نوازشریف کی وکالت کرنی ہے، اسلئے یہ راستے بنانے کیلئے مدلل شرعی مسائل بتانے پڑیں گے۔ جاویداحمد غامدی سے بھی یہ پوچھ لیا جائے تو وہ کہہ دینگے کہ یہ عوام اور علماء کی صوابدید کا مسئلہ نہیں ہے، یہ فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہوتا ہے، لندن اور امریکہ میں جن کی حکمرانی ہے، اوباما وغیرہ ، عید کا فیصلہ وہاں انہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے، لہٰذا نوازشریف نے عیدالفطر پاکستان سے ایک دن پہلے سعودیہ اور عیدالاضحی ایک دن بعد سعودیہ کے بعد پاکستان کیساتھ ٹھیک منائی۔ مفتی اعظم پاکستان بریلوی اور چیئرمین ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان دیوبندی مفتی رفیع عثمانی بھی یہ فتویٰ دیں گے کہ مسئلہ یہی ہے اور پھر کسی اور کا فتویٰ نہیں چلے گا۔ اگر عمران خان بک بک کرے تو اس نے بھی اپنی صوبائی رویت کے مسئلہ میں حکومت کا جبر قبول کرلیا، پاکستان میں اتحاد سے عیدیں منائی گئیں۔ جب تک اقوام متحدہ کسی ملک کو تسلیم نہ کرے ، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اقوام متحدہ میں مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ کا بنیادی کردار ہے، ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ و برطانیہ نے ہماری عیدوں میں بھی دلچسپی لینی شروع کردی ہے، سودی نظام کو اسلامی بنانے میں بھی انہی کی مہربانی ہے اور اسلامی خلافت کے قیام کی کوشش بھی انہی کی مرہونِ منت ہوگی۔
پاکستان کے سابق صدرپرویزمشرف نے کہا کہ ’’ امریکہ نے ہمیں استعمال کیا اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے‘‘۔ یہ غلط بات ہے، پاکستان نے اپنی مجبوری اور مفاد کی خاطر امریکہ کا ساتھ دیاتھا، اب امریکہ کا مفاد بھارت کیساتھ ہے تو بھارت ہی کا ساتھ دے گا۔ ہمارے حکمرانوں میں سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے، کل توشریف براداران کو زرداری کے سوئس اکاونٹ کیخلاف آواز اٹھانے میں کوئی جمہوریت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تھی مگر آج پانامہ لیکس میں نوازشریف کی کمپنیوں پر سازش نظر آتی ہے۔ عدالت نے تو زرداری کو بھی گیارہ سال تک قید میں رکھنے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی تھی۔ اگر شریف برادری کو پاکستان سے محبت ہے تو دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے اپنے بچوں کو دولت سمیت پاکستان لائیں۔
پاکستان کی میڈیا کو اگر جمہوریت کی حمایت ،اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور قانون کی حکمرانی کا خیال ہو تو 16سال بعد سپریم کورٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کا جرم عدالت میں ثابت کردیا، یوسف رضاگیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہلی کی سزا دی جائے۔ عدلیہ بحالی تحریک سے زیادہ قانون کی حکمرانی کیلئے اس تحریک کی جان ہوگی،اسلئے افتخار چوہدری نے پہلے خود بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ عدالت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر لاہور سے جی ٹی روڈ اور ساہیوال سے فیصل آبادکے راستے موٹروے، کوئٹہ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے کراچی سے ملتان کے راستے اورپشاور سے اسلام آباد کیطرف ہلکا پھلکا مارچ کریں تو حکومت قانون کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ لوڈشیڈنگ کاوعدہ حکومت نے پورانہ کیا۔ عمران خان کی تقریرپر کیبل آپریٹر کی کارستانیاں بھی رہیں۔

اشرف میمن پبلشر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

شیعہ سنی فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں تحریکِ جعفریہ و سپاہ صحابہ ،سپاہِ محمداور لشکرِ جھنگوی، جہادی اور دہشت گرد تنظیموں نے پنجاب ہی سے جنم لیا تھا،
پورے پاکستان میں فوج نے دہشت گردی کیخلاف بھرپور اقدامات کئے لیکن پنجاب کوضربِ عضب (نبیﷺ کی تلوار) کی ضرورت پر بحث مباحثہ رہا
پنجاب کو قدرت نے مذہبی آزادی کی بھرپور انسانی و اسلامی فطرت ودیعت فرمائی، پنجاب کے برعکس پاکستان کے دیگر صوبے اس نعمت سے محروم ہیں،
اقبالؒ نے پنجابی مسلمان کوکہا مذہبی جدت پسند، یہ شاخ نشیمن سے اترتا بہت جلد، تحقیق کی بازی ہوتو شرکت نہیں کرتا، ہوکھیل مریدی کا توہرتابہت جلد

article_panjab

تقسیم ہند کے وقت زیادہ مظالم پنجاب کے سکھوں نے مسلمانوں پر ڈھائے۔ والدین اور اساتذہ سے مار کھانے والے کی سخت مزاجی فطری ہوتی ہے

پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان اپنی بیتی کے نتیجہ میں نظریاتی مخالفین اور اقلیتی صوبوں سے وہ سلوک نہ کریں،جو سکھوں نے انکی امی اور ابو کیساتھ کیاتھا

women-force-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

پاکستان کے دیگر صوبوں اور علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کی آبادی زیادہ ہے۔ پنجاب کی عوام محنت کش، ذہین، جذباتی، سیاسی شعوراور مذہبی لحاظ سے پاکستان میں ’پہلے نمبر‘ کی حقدار ہے۔ علامہ اقبالؒ ، پیر مہر علی شاہ ؒ گولڑہ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،فیض احمد فیضؒ ، حبیب جالبؒ ،نوابزادہ نصراللہ خانؒ ،شاکر شجاع آبادی اور دیگر شخصیات نے جنم لیا۔ میرا مقصد ایسے بنیادی نکات کو سامنے لانا ہے جن سے پنجاب میں خاص طورسے اور پاکستان میں عام طورسے مذہبی اور سیاسی شعور بیدار ہو۔ علامہ اقبالؒ کولوگ سیاسی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو مذہبی سمجھتے ہیں ، حالانکہ علامہ اقبالؒ سیاست سے زیادہ مذہب کے علمبردار تھے اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مذہب سے زیادہ سیاست کے علمبردار تھے، یہ حقیقت سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جب برطانیہ کی سلطنت پر دنیا میں سورج غروب نہ ہوتا تھااور دنیا بھر میں بالعموم اور برصغیر پاکستان میں برٹش امپائر کی غلامی کیخلاف جد وجہد جاری تھی تو علامہ اقبالؒ نے دس سال، دس مہینے، دس ہفتے، دس دن ، دس گھنٹے، دس منٹ کیا دس سیکنڈ بھی برطانیہ کیخلاف جدوجہد میں برطانیہ کی قید میں نہ گزارے مگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے دس سال جیل میں گزاردئیے۔ بخاریؒ نے چیخ چیخ قائداعظم ؒ محمد علی جناح کو مشرقی اور مغربی پاکستان کا نقشہ جلسۂ عام میں کلہاڑی کی مدد سے سمجھایا کہ دونوں کے درمیان بھارت حائل ہوگا، ہماری بری بحری اور فضائی افواج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گی، بنگال پر بھارت قبضہ نہیں کرسکتا، اسے الگ آزاد ملک بننے دو، پورا پنجاب لے لو، بمبئی تک سندھ لے لواور کشمیر کا مسئلہ سب سے پہلے حل کرو، یہ برطانیہ کی سازش ہے، ’’لڑاو اور حکومت کرو‘‘ کی جس پالیسی کے تحت انگریز نے قبضہ کیا، وہ پھر دوہرایا جائیگا اور ان کی بات آج سوفیصد درست نکلی۔ ان کی بات مان لی جاتی تو آج ہمارے حالات بھی بہت مختلف ہوتے، جنرل ایوب خانؒ کے زمانہ میں پاکستان نے جرمنی کو قرضہ دیا تھا، اس ملک کو بھٹو نے دولخت کیا، جنرل ضیاء الحق نے باقی ماندہ کو بھی ذبح کردیا۔نوازشریف اور زرداری کمپنیوں نے اس کی کھال اتاری، عمران اور طاہر القادری اس کوتکہ بوٹی کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاست کو بنیاد سے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بہت بڑا المیہ تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے سیاسی نظریات کو پنجاب میں دفن کیا گیا اور انکے مذہبی کردارکا روپ قوم کے سامنے رہا، نوابزادہ نصراللہ خانؒ نے بھی اپنی سیاست کا آغاز ’’مجلسِ احرار‘‘ سے کیا تھا، اسی کے تربیت یافتہ تھے،جب وہ جنرل ضیاء کی زندگی میں ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) میں بیش بہا قربانیاں دینے کے باجود پہلی مرتبہ جنرل ضیاء کے جانشین غلام اسحاق خان کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تو سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعتوں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے علاوہ اصول پسندی کی علمبردار جماعت ’’پیپلزپارٹی ‘‘ کی بے مثال قائدآنسہ بینظیر بھٹو نے بھی نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کو ووٹ دئیے۔ مولانا فضل الرحمن کی ضرورت نہ ہوگی ورنہ اس کو بھی شہد چٹا دیا جاتا تو اپنے اصول بھول جاتا، یہ الگ بات ہے کہ غلام اسحاق خان نے پھر نوازشریف کی کرپشن بھی برداشت نہ کی اور اس وقت دونوں کی کرپشن کو بھانپ کر دونوں کی حکومتوں کو چلتا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وضاحت فرمائی ہے کہ’’ دین میں جبروزبردستی نہیں ہے‘‘۔ پنجاب کا یہ بہت بڑا کمال ہے کہ اللہ نے اس کو یہ حسین فطرت ودیعت کی ہے کہ دین میں زبردستی والے معاملہ کا تصور نہیں سمجھتے۔علامہ عنایت اللہ مشرقی، غلام احمد قادیانی، غلام احمد پرویز، مولانامودوی اورلاتعداد قسم کے مولوی ، پیرفقیر اور مذہب کے روپ میں رہنے والوں کو پنجاب کے وسیع دامن میں پناہ ملی۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی سیاست اور عدم تشدد کے علمبردار تھے ،اسلئے ان کا صرف نام ہی باقی رہا۔ غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کی ذہنیت خالص مذہبی تھی اسلئے ان کو پنپنے کا خوب موقع ملا۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی غیرسیاسی خالص مذہبی ہیں اسلئے یاجوج ماجوج کی طرح بڑھ رہے ہیں اور انتہاپسند انہ اور احمقانہ نظریات کی ترویج کررہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے اپنے مذہبی روپ کو سیاست میں بدل ڈالا، تو اس کادائرہ سکڑگیا اور مخصوص حلقوں اور افراد تک محدود ہوگئی، رہی سہی جو ساکھ تھی اور قاضی حسین احمدمرحوم نے طبلے بجاکر تباہ کی۔ جن کو روس کے گورباچوف سے جماعتِ اسلامی کو تباہ کرنے کیلئے تشبیہ دی جاتی ہے۔
مذہب کیلئے پنجاب کی زمین زرخیز اور سیاست کیلئے سخت اور بنجر اسلئے ہے کہ سیاست میں مذہب کی طرح رواداری کی فضاء نہیں ،مذہبی جماعتِ اسلامی سیاسی بن گئی تو پنجاب کے کالجوں ا ور یونیورسٹیوں سے ملک بھر میں بدترین تشدد کی روایت ڈال دی۔ تحریک انصاف کے عمران خان کیساتھ ایم کیوایم اور طالبان نے کوئی ذاتی زیادتی نہیں کی لیکن کراچی یونیورسٹی میں عمران خان کیساتھ اسلامی جمعیت طلبہ نے جو کچھ کیا ، اس کا میں چشم دید گواہ ہوں، میں اپنی گاڑی میں عمران خان کو لیکر گیا تھا، وہاں سے جس طرح الٹے پاؤں بھاگنا پڑا، میری گاڑی کا شیشہ بھی توڑدیا گیا۔ پنجاب کے اندر تو عمران خان کو سنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ والوں نے الف ننگا کردیا تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنما امیرالعظیم کی اپیل پر بھی نہیں چھوڑا جارہا تھا جس پر انہوں نے شرمندگی کا بھی اظہار کیاتھا۔

force-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

عمران خان نے رائیونڈ جلسہ میں مذہب کا ہتھیار استعمال کیا کہ’’ میں نے ایمان سیکھ لیا، پہلے میرے اندر ایمان نہ تھا ، ایمان آنے کے بعد اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا‘‘۔ پنجاب میں تحقیق کا مادہ نہیں ورنہ اسی محفل میں کہہ دیتا کہ’’ جس پرویز مشرف کو کرسی اور پیسہ کیلئے امریکہ کی غلامی کا نام دیکر گالی دی، جب امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاکر افغانستان میں امریکہ کی حمایت کی تھی تو اس وقت تم نے پرویزمشرف کی بھرپور حمایت کی تھی، جہاں تک وزیرستان میں فوج بھیجنے کی بات ہے تو وزیرستان پاکستان ہی ہے جہاں سے معصوم بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتاتھا، اگر شمالی سے پہلے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہِ نجات کو سیاستدانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوجاتی تو شرپسند عناصر کا صفایا ہونے میں اتنی دیر نہ لگتی، عمران خان نے تو ضربِ عضب کے بعد قبائلی پناہ گزینوں کو سہارا دینے کے بجائے مہینوں دھرنے کے مجرے میں بھنگڑے ڈالے۔اور پنجاب کے گلوبٹوں اور پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ آرمی پبلک ا سکول کے واقعہ کے بعد دھرنے سے باعزت جان چھڑانے کیلئے ضرب عضب کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ احمقانہ بات ہے کہ بے ایمان پاک فوج امریکہ سے ڈرتی ہے باایمان عمران خان نہیں ڈرتا۔ اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مخلوق کے ظلم سے نہ ڈرا جائے۔ نبی کریم ﷺ شبِ ہجرت اسلئے چھپ کر نکلے کہ ظالم مشرکوں کا خوف تھا۔ اگر عمران خان نے یہودی جمائما خان سے نئے طرز کا ایمان سیکھا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت اور معجزات دئیے ، اسکے باوجود اپنی قوم کو لیکر فرعون کا ایسا مقابلہ نہیں کیا کہ اللہ کے علاوہ ظالم کا ڈر نہیں تھا بلکہ فرعون سے بھاگے اور فرعون پیچھا کررہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسکو ڈبودیا۔ قرآن کی تعلیمات کیخلاف عوام کو بیوقوف بنانا چھوڑ دیا جائے ۔ رائیونڈ کی تبلیغی جماعت 80 سال سے محنت کررہی ہے کہ ایسے لوگ پیدا کئے جائیں جن کا اللہ پر انبیاء کرام ؑ سے بھی بڑھ کر ایمان ہو مگرآج تک وہ خود بھی ایسا ایمان پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی اپنے رنگ میں دعوت اسلامی بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔
مولانا مودودیؒ نے مذہبی معاملات سے دامن چھڑا کر سیاسی میدان کا رُخ کیا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے مذہب کی طرف توجہ دی، مولانا مودودی نے مسئلہ لکھا کہ دوبہنیں آپس میں جڑی ہیں تو قرآن کی آیت کے منافی اس کا ایک ہی آدمی سے نکاح کردیا جائے ، بخاریؒ نے اس کو قرآن کے خلاف سازش اور من گھڑت جھوٹ قرار دیا تھا۔ ختم نبوت کی تحریک میں گرفتاری دینے پنجاب سے کراچی کارکن آتے تھے، مساجد کے آئمہ تو پولیس کو اطلاع دینے کی دھمکی دیکر بھتہ مانگتے تھے، سرکاری ٹانگے مفتی اعظم مفتی شفیع ؒ و مولانا احتشام تھانوی ؒ تحریک کے درپردہ مخالف تھے۔

force2-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

پنجاب کی زرخیز سرزمین سے قرآن و سنت کی تفہیم کا معاملہ شروع ہو تو کوئی جماعت بنانے کی ضرورت نہیں پڑیگی بلکہ عوام الناس ، تمام فرقے اور جماعتیں اپنی گروہ بندیوں کو بھول کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر آمادہ ہونگی اور ایک بہترین فکر کو عملی شکل دینے میں پنجاب کی طرف سے پہل ہوگی تو تمام صوبے بھی اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ سیاسی لوگوں نے ایک دوسرے کیخلاف ڈنڈے اسلئے اٹھا رکھے ہیں اور کلہاڑیوں کی نمائش اس لئے ہورہی ہے کہ انکا ضمیر ، پارٹیاں اور قیادت ایکدوسرے سے مختلف نہیں۔ سب کو چند ٹکے بھی ملتے ہیں اور قیادت کیلئے وفاداری کے اظہار سے سیاسی موسم بھی گرما دیا جاتا ہے۔ دوسرے صوبے والے خوفزدہ نہ ہوں فرقہ واریت ، جہادی تنظیموں ، مذہبی انتہا پسندی ، شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرح سیاسی شدت پسندی کی وبا نہیں پھیلے گی۔ پنجاب کی مشہور کہاوت ہے کہ ’’جنہاں دے کاردانڑے،انہاں دے کملے وی سیانڑے‘‘ یعنی امیروں کے بیوقوفوں کو سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان کیساتھ معراج محمد خان تھے تو عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اب جہانگیر ترین اور علیم خان کی وجہ سے عمران خان بھی ہوشیار ہوگیا ہے،ایسی سیاست اور اسکی سوچ پر لعنت بھیجنی ہوگی اور یہ بات یاد رکھی جائے کہ میرا اپنا تعلق بھی تحریک انصاف سے رہا ہے۔ میں نے قومی اسمبلی کیلئے الیکشن بھی کراچی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر لڑا ہے ، بہت قریب سے معاملات دیکھے ہیں۔
پنجاب میں خواتین کیخلاف تشدد کا بل پیش کرکے مولانا فضل الرحمن کے احتجاج پر غائب کردیا گیا ، حالانکہ قرآن میں خواتین کے نام پرایک سورت کا نام ’’النساء‘‘ ہے، جس کی آیت 19 اور 20 کو دیکھا جائے تو کسی بل کی ضرورت بھی پیش نہیں آئیگی۔ اللہ نے پہلے عورت کو شوہر کی مملوکہ بننے کی نفی کی ہے اور اسکو شوہر کا گھر چھوڑ کر الگ ہونے کی اجازت دی ہے اور پھر مرد کو ایک بیوی چھوڑ کر دوسری سے شادی کرنے کی اجازت دی ہے جس میں خواتین کے حقوق کی بھرپور وضاحت کی گئی ہے، سید عتیق الرحمن گیلانی نے عمران خان کے رہبر مولانا مفتی سعید خان صاحب کے سامنے ان آیات کی وضاحت بھی کی جن کے بارے میں غلط تفاسیر لکھ کر معاملہ بگاڑا گیا ہے۔ قرآن کا ترجمہ بالکل واضح ہے اورجو تفسیریں لکھی گئی ہیں ان میں ترجمے کو مسخ کرکے اسلام کو اجنبی بنادیا گیا ہے۔
اگر عورت شوہر کی مملوکہ نہ ہو اور اس کو شریعت نے شوہر کو چھوڑنے کی اجازت دی ہو تو کوئی شوہر اس پر بے تحاشہ مظالم تو بہت دور کی بات ہے کوئی ایسا رویہ بھی نہیں رکھے گا جو علیحدگی کا سبب بن سکے۔ پنجاب ، پاکستان اور ہندوستان و افغانستان ایران و عربستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قرآن کی اس آیت کے ذریعے سے خواتین کو تحفظ حاصل ہوگا اور انقلاب کیلئے بہت بڑی بنیاد بنے گا۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تمام فرقوں کے مراکز ہی بھارت میں ہیں ، جہاں سے فرقوں اور جماعتوں کی ڈوریں بندھی ہوئی ہیں ان بیچاروں کو خود بھی معلوم نہیں کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں وہاں بندھا رہنا بالکل فضول ہے۔
مفتی شاہ حسین گردیزی نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف ؒ کا واحد مرید قرار دیا ہے جس کا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ انہوں نے مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’ مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ نبی اور مہدی نہیں لیکن صالح مسلمان ہے‘‘ جس پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بنیادی کردار سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تھا جن کے ہاتھ پر دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیریؒ سمیت سب نے امیر شریعت کے نام سے بیعت کی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں بہت ساری عبارات بھی یکساں ہیں، جنکے حوالے بھی مفتی سید شاہ حسین گردیزی نے دئیے ہیں۔ ویسے یہ بات درست ہے کہ علماء دیوبند نے بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت کی طرح کفر کے فتوؤں کی فیکٹریاں نہیں کھول رکھی تھیں اور اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ یہ کردار ادا نہ کرتے تو شاید مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار آج خود بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و مہدویت کے دعویٰ سے دستبردار ہوکر مسلمانوں میں شامل ہوتے۔ قائد اعظم کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی شیخ الاسلام نے پڑھایا لیکن بریلوی اور قادیانی اس سے گریزاں رہے سیاسی و مذہبی شعور وقت کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب کے ایما پر بھارت کے مولانا منظور نعمانی کے استفتاء کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کی طرف سے اہل تشیع کیخلاف ایک تفصیلی فتویٰ لکھا گیا جسمیں قرآن کریم کی تحریف ، صحابہ کرام کو کافر اور عقیدہ امامت سے ختم نبوت کا منکر قادیانیوں سے بدترکافر قرار دینے کی وضاحت کی گئی۔ مفتی ولی حسن ؒ ایک مجذوب ٹائپ کے انسان تھے ، مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بھی فرمایا تھا کہ حاجی عثمان صاحبؒ کیخلاف میری طرف فتویٰ منسوب کرکے لکھا گیا ہے۔ اب سعودی عرب کے علماء کی شوریٰ نے اس قسم کے فتوؤں کی مذمت کردی ہے اور اس سے پہلے ’’اتحاد تنظیمات المدارس‘‘ کے نام سے شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، اہلحدیث کے مدارس اسلام کے نام پر اکھٹے ہوئے تھے۔
پنجاب کی عوام کو فرقہ واریت کیخلاف ٹھوس ثبوت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے اور اسلامی احکامات کے حوالے سے پنجاب کے لوگ بالکل بھی دوسروں کی طرح سے گدھے پن اور کتے پن کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔ عتیق گیلانی کے استاد مولانا بدیع الزمان ؒ کا تعلق رائیونڈ سے تھا اور انکے صاحبزادگان نے تین طلاق کی درست تعبیر کو سراہا ہے، بہت بڑی بات یہ ہے کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی حمایت اسکے باوجود تمام مکتبۂ فکر والے سر عام کررہے ہیں کہ سب کی جڑوں اور بنیادوں کو ہلا دیا ہے، یہ قرآن وسنت ہی کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے پیرحاجی عثمانؒ کو اپنے خلفاء اور مرید وں سمیت اپنے مکتب کے دوست علماء ومفتیان نے نشانہ بنایا اور ٹانک کے تمام دیوبندی سرگردہ علماء کی طرف سے کھلی حمایت کے باوجود طالبان نے بریلوی سمجھ کر ان کے گھر تباہ کو کیا۔
عمران خان جب کرکٹ کھیل رہا تھا تو عتیق گیلانی نے تحریک شروع کی تھی، سال با مشقت سزا کالے قانون 40ایف سی آر کے تحت ہوئی چارماہ کی قید 1991ء میں کاٹی۔ عتیق گیلانی نے 1979 سے چیچہ وطنی،لیہ ، کوٹ ادو میں سکول کے دوران ہی ساتویں سے دسویں تک مذہبی فرقوں کے خدوخال اور سیاست کے داو پیج کی شدوبد حاصل کرلی ۔ بھٹواور مفتی محمودکے متوالے و مخالف دو بڑے بھائی تھے۔ 82ء میں میٹرک کے امتحان سے پہلے کوٹ ادو سے لیہ اور پھر رائیونڈکی بودوباش کاتجربہ کرکے چیچہ وطنی کے دوست سے ملتے ہوئے کراچی میں مذہبی تعلیم و حاجی عثمان سے تصوف کی تربیت شروع کی، اور84ء میں طالبِ علمی کے دوران سہراب گوٹھ میں وزیراور محسود طلبہ کی ذہن سازی کیلئے جمیعۃ اعلاء کلمۃ الحق کے نام سے وزیرستان سے رسوم و رواج کی جگہ اسلامی قانون سازی پر فیصلوں کیلئے تحریک کا آغاز کیا۔ قید میں اور92ء میں قید سے رہائی کے بعد کتابوں کا سلسلہ جاری رکھا، شکارپور اور ملتان سے مشکلات کے دور میں تحریک جاری رکھی۔ پھر اپنے علاقہ میں پبلک سکول اور کراچی سے اخبار ضرب حق کا اجراء کیا، پھر کچھ عرصہ تک خاموش رہنے پر مجبوری کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ یہ محنت پنجاب میں ہوتی تو تناور درخت کی صورت اپنالیتی۔ کافی عرصہ سے پنجاب میں دفتر قائم کرنے کا ارادہ تھا، ہم کسی روایتی مخصوص جماعت بنانے کی بجائے قومی سظح کی تحریک چاہتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے مولانا فتح ..

جنرل راحیل شریف نے ستار ایدھی کو کراچی میں عزت دی۔ ٹانک کے بے لوث مولانا ، امن وامان کے ضامن کو بھی زبردست عزت دینی چاہیے ۔
میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے تحریک انصاف کے ایوب بیٹنی سے کہا ’’ یہودی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے؟‘‘ ہم نے بتایا مولانا فتح خان کی مسجد دفتر تھا
جب خانہ کعبہ پر مہدی کے نام سے قبضہ ہوا، تو ٹانک شہر میں علماء، لیڈر اور رہنما مشن ہسپتال ٹانک کو لوٹنے کیلئے بپھرے تھے، مولانا فتح خان ؒ نے روکا

جنرل راحیل نے ستار ایدھی کو انسانیت کی بلاامتیاز خدمت پر قومی اعزاز سے دفنانے کی عزت بخشی ، عمران خان کو کراچی کے ڈیفنس میں پلاٹ دیا تو ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حضرت مولانا فتح خان صاحبؒ کا انتقال ہوا ، جنوبی وزیرستان اور ضلع کیلئے ٹانک شہر مرکزی حیثیت کا حامل ہے اگر مولانا فتح خان صاحبؒ نہ ہوتے تو ٹانک روز روز بلوؤں کا شکار ہوتا، مختلف ادوار میں مختلف مواقع پر بلوائی آتے اور شہر کے امن ومان کو خراب کردیتے، اقلیتوں کا فرقہ واریت، مذہب اور قوم قبیلہ کے نام پر جینا دوبھر کردیا جاتا، لوٹ مار ہوتی اور لوگوں کو دہشتگردی کا عام نشانہ بنایا جاتا لیکن سب تخریبی قوتوں کے سامنے مولانا فتح خان کی شخصیت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حائل رہی ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کے دور سے مولانا فضل الرحمن تک ٹانک میں جمعیت کے ووٹوں کی اکثریت رہی۔ مگر جمعیت کی مرکزی قیادت نے کبھی تومولانا فتح خانؒ کو ایک مرتبہ جیتوانے اپنا کردار ادا کیا ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی اشیرباد حاصل کی تو سرکاری سطح پر ڈسٹریکٹ خطیب کا عہدہ مولانا فتح خان سے چھین کر غیرمعروف ملا کو دینے میں بھی شرم وحیاء اور غیرت و حمیت سے کام نہ لیا، اپنے باپ کی دوستی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا۔اپنی اخلاقی حیثیت کھونے کے بعد مولانا فتح خانؒ کو سامنے لایا۔
مولانا فتح خان ؒ نے مولانا فضل الرحمن کی منافقانہ چال چلن کو بھرپور طریقہ سے سمجھا مگر حدیث کے مصداق کہ المؤمن غر کریم ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنے والا ہوتا ہے‘‘ ہمیشہ عفو و درگزر ، چشم پوشی اور غلطیوں پر گرفت کرنے کے بجائے صرف نظر سے کام لیا۔ ٹانک میں بریلوی، اہل تشیع ، اہلحدیث اقلیت اور دیوبندی مکتبۂ فکر والے اکثریت میں ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ اگر مولانا فتح خان تخریب کاری والی ذہنیت رکھتے یا تخریب کارانہ ذہنیت کیخلاف ایک مضبوط بند کی طرح سے زبردست رکاوٹ نہ ہوتے تو ٹانک میں اقلیتوں کیساتھ وہ سلوک ہوتا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شیعہ اور پنجاب میں عیسائیوں کی بستیاں جلانے کو دنیا بھول جاتی۔ شرو خیر کا مادہ ماحول میں گھٹتا اور بڑھتا ر ہتا ہے، ہرجگہ خیرکے نمائندے اور شر کے عناصر موجود ہیں مگر جب قیادت خیر کے نمائندوں کو نہیں شر کے عناصر کو مل جاتی ہے تو ماحول میں دنگا وفساد اور شرو فتنے کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔
ڈیڑھ سوسال پہلے اپرکانیگرم جنوبی وزیرستان میں شرپسند قیادت نے ہلا بول کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے تمام افراد کو مرد، خواتین، بوڑھے، جون اور بچے سب کو قتل کردیا تھا اور اتفاق سے ایکا دکا شیر خوار بچے رہ گئے تھے جن کی وجہ سے آج انکے ایک دو گھرانے موجود ہیں۔ لوگ سمجھتے ہونگے کہ ماتمی جلوس اور کالے کپڑوں کی وجہ سے کانیگرم کے باشندوں نے ایسا کیا ہوگا، لیکن یہ بات بالکل بھی نہ تھی، اسلئے کہ مارنے والوں نے کافی عرصہ بعد تک ماتم اور کالی قمیصوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ یہ صرف ایک برادری کو لوٹ مار کے بہانے قتل کرنے کا جذبہ تھا ۔ عوام سمجھے گی کہ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے لوگوں نے کیا اپنا اجتماعی ضمیر کھو دیا تھا؟۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں، میرے والد پیرمقیم شاہؒ نے تقسیم ہند کے وقت بھی بنوں تک سے آنے والے ہندو خاندانوں کو لوئرکانیگرم شہر جنوبی وزیرستان میں کافی عرصہ تک پناہ دی تھی۔ جب حالات ٹھیک ہوگئے تو وہ لوگ بحفاظت گئے اور ابھی قریب کے دور میں کوئی غریب ہندو بسوں میں سفر کرکے میرے والد صاحبؒ سے ملنے آیا، جس کی ملاقات بڑے بھائی پیر جلال شاہ مرحوم سے ہوئی، دور کے مسافر کی دوسرے بھائیوں کو پتہ نہ چلنے کی وجہ سے خاطر خواہی مہمان نوازی نہیں ہوسکی جس کا سب کو بہت افسوس ہوا۔ بھارت جاکر بھی معذرت کرلیں تو سکون نہ ملے گا، اللہ یہ موقع پھر فراہم کردے تاکہ اس کا گلہ دور کردیں۔
وزیرستان اور ٹانک بڑی معتبر شخصیات اور ان کی عمدہ روایات کی وجہ سے امن وامان ، سکون و خوشحالی اور بھائی چارے و رواداری کی آماجگاہ رہے ہیں۔ ٹانک کے ڈگری کالج میں کسی پروفیسر کا پتہ چلا کہ وہ مرزائی ہے تو بڑی مشکل سے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوا، ٹانک کے جذباتی عوام کی رہنمائی کیلئے بڑی شخصیات نہ ہوتیں تو پاکستان بھر میں اس کی شہرت فتنہ وفساد، جنگ وجدل اور ہنگامی آرائی کے حوالہ سے پہلے نمبر پر ہوتی۔ مولانا فتح خان ؒ ایک عرصۂ دراز سے ایک بلند مینار ، تناور اور پھلدار درخت کی طرح تھے۔ علمی اعتبار سے میں نے کوئٹہ سے لاہور، سوات سے کراچی تک سفر کرکے بڑے نامی گرامی علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے ، مدینہ یونیورسٹی میں تخصص( اسپشلائزیشن) پڑھانے والوں کی علمی حیثیت کو ملاقات کرکے بھی دیکھا ہے مگر مولانا فتح خان نوراللہ مرقدہ کی طرح کسی میں علمی قابلیت، معلومات کا وسیع ذخیرہ اور سمجھ بوجھ نہیں دیکھی۔ انکی وفات کے دن نمائندہ نوشتۂ دیوار خیبر پختونخواہ شاہ وزیرخان کافی عرصہ بعد خوش قسمتی سے وہاں تھے اور جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔ اسکے فون پر صاحبزادے سے تعزیت بھی کرلی ، نیٹ پر ان کا کوئی نام اور تصویر نہ تھی۔مولانا فضل الرحمن پر رقم قربان کرنے کا اعلان نوازشریف نے کیا تھا جس کا افتتاح کرتے وقت مولانا فتح خانؒ کو بھی اپنی ساکھ کیلئے ساتھ لیا ہوگا، بہرحال قارئین کے ساتھ اخبار کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا مرحومؒ کی ایک تصویر مل گئی جو مولاناؒ کی شخصیت کی ایک جھلک ہے۔
مولانا فتح خانؒ سے بہت یادیں وابستہ ہیں، راز ونیاز کی گفتگو ہے، جس سے بہت گوشوں کی نقاب کشائی ہوتی ہے، حوصلہ افزاء ہیں، مولاناؒ کے توسط سے علماء حقانی سے عقیدت ومحبت بڑھتی اور علم وسمجھ کے ابواب کھلتے ہیں۔ مولاناؒ کا دور ایک طویل عرصہ پر محیط ہے، مولاناؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کئی مرتبہ کیا کہ ’’بہت عرصہ ہوا، میں ٹانک سے کانیگرم گیاتھا، والد صاحب مرحوم پیر مقیم شاہ نے کہا کہ ہم یہ دوست بیٹھے ہیں، دعوتوں میں یہ موجودافراد سب شریک ہونگے، سات دنوں کایہ شیڈول ہے، میں نے کہا کہ کل مجھے واپس جانا ہے، تو پیرصاحب نے فی البدیہہ کہا کہ اللہ آپ کو زندگی بھر نہ ٹھہرائے، ہمارے شغل کو خراب کردیا۔ وہ دن تھا اور آج کے دن تک کہ پھر کانیگرم میں رات نہیں گزاری ہے‘‘۔

pir_muqeem_shahنیٹ پرہمارے پڑوسی فہیم محسودولد خیربادشاہ مرحوم نے اپنے دادا اور ہمارے والد کی بہت پرانے دور کی تصویر لگائی ۔ بیچ میں دائیں سے بائیں جانب ان کی اور بائیں سے دائیں عصا ء اور گھڑی والی والد مرحوم کی تصویر ہے۔یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے علاقے کی عزت اور امن قائم رہنے کا سکہ چلتا تھا، مولانا فتح خان کی مسجد متحدہ مجلس عمل کے وقت تحریک انصاف کا بھی آفس رہاتھا جب لوگ یہودی کہاکرتے تھے۔ وزیراعلیٰ خٹک ٹانک کا نام ’’فتح آباد‘‘ رکھ دے تو بہتر ہوگا۔

ڈاکٹر طاہر القادری پر تبصرہ

قرآن میں مشاورت کے بعد اللہ پر توکل کرنے کا حکم ہے،طاہرالقادری نے کہا کہ راحیل سے بھیک نہ مانگونگا

پھر یورپ سے بھیگ مانگنے نکلا، عمران خان سے پہلے رائیونڈ کا اعلان کیا پھر شریعت و جمہوریت کیخلاف قراردیا

پھر کہا عمران نے مشاورت نہ کی تھی،پھر کہا کہ ہم شرکت کرسکتے ہیں، پھر کہا علامتی شرکت بھی نہ کرینگے۔ واہ واہ

عقل ہوتی تو کہتا کہ ’’ عمرہ جاتی میں چائے کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کرکے ہمارے حوصلے کوشکست دیدی‘‘

’’ رائیونڈ طالبان کا نظریاتی قبلہ رہاوہاں ہم نہیں جاسکتے‘‘۔ اتنی گلاٹیاں تو پاکستانی سرکس میں چینی بھی نہ کھا تا ۔

 

ڈاکٹر طاہرالقادری نے دنیا دیکھی ، ایک منظم جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ اور تحریک منہاج القرآن کے بانی ہیں اور بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں، اس کے باوجود انقلاب کو بدنام کرنے کیلئے جو تماشہ طالبان نے لگا رکھا تھا، آخر کار وہ تو شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ و سیدا حمدبریلوی شہیدؒ کے پیروکار تھے اس لئے قربانی بھی دی لیکن اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے بھی بدنام کردیا، اب ڈاکٹر طاہرالقادری اسلامی انقلاب کے نظریہ کو بھی داؤ پر لگانے کیلئے میدان میں اتراتھا، ہربات میں قلابازی کھانے کو انقلاب کہنا عوام میں سلگتی ہوئی چنگاری کو بھجانے کے مترادف تھا۔ طلاق کے مسئلہ پر میڈیا میں تحریک منہاج القرآن والے عوام کو آگاہ کریں تو بھی لوگوں میں بڑی تبدیلی آئے اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے سچے یا جھوٹے خوابوں کی تعبیر عمل میں آسکتی ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری یہ قضیہ بیان کرتا کہ تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا جاتی عمرہ کے بجائے رائیونڈجانے اور پھر نوازشریف کے گھرچائے پینے کی دعوت کا اعلان ہمیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کرگیا۔ اگر نوازشریف کے گھر نہیں جانا تھا اور نواز شریف چائے کی دعوت دیتاتو پھر ہم کہاں کھڑے ہوتے؟۔ رائیونڈ تو طالبان کے اکابرین کا مرکز ہے، عمران خان کیلئے کوئی خطرہ نہیں لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسی تبلیغی جماعت کی وجہ سے طالبان پر بھی یہ فتویٰ لگادیا کہ ’’ جہنم کے کتے ہیں انکومارنا انسانیت اور شریعت کی خدمت ہے‘‘ ۔
ہماری ریاست، حکومت اور عوام کی قیادت جبتک اچھے ہاتھوں میں منتقل نہ ہو، ہر مداری اورجوکرقائدبالکل بازاروں میں منجن فروش،سنیاسی باوا اور بنگالی باباوغیرہ کے روپ میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کی پریکٹس جاری رکھے گا۔ تاہم جسطرح بھٹو نے فیکٹریوں اور ملوں کو بحقِ سرکار ضبط کیا، جس سے قوم وملک کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس طرح سیاسی مداریوں پر پابندی لگانے سے قوم وملک کو نقصان پہنچ جائیگا۔ تاہم ریاستی اداروں کو کرپشن وغیرہ میں ڈاکٹر عاصم حسین و اسحاق ڈار اور نواز شریف و زرداری میں تفریق چھوڑنی ہوگی اور جس دن بڑے بڑوں پر یکساں گرفت کی گئی تو پوری قوم ساتھ ہوگی، فوج کو نواز شریف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے

عمران خان کی رائیونڈ مارچ پر تبصرہ

گوجرانوالہ میں لیگی غنڈوں نے گھیرا تو جاوید ہاشمی کی بہادری کام آئی، یہ شیخ رشید کو جگہ پر چھوڑکر بھاگ نکلا تھا

شیخ رشید اسلئے ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکے ساتھیوں کی تعریف کرتا تھا، عمران کا امپائر سے بھی اعتماد اُٹھ گیا

جنرل راحیل شریف نے اپنا موڈ نہ دیکر بڑا اچھا کیا ہے،جس کتیا کوا قتدار کا جھانسہ دیاگیا ریلہ پیچھے لگتاہے

قائدین کو ماحول کی برائی نے لیڈر بنادیا ہے، تخریب کار پیسوں پر اورماحول کا فائدہ اٹھاکر اپنا رنگ بدلتے ہیں

عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی گردن اور دُم امپائر کی انگلی اُٹھنے کی خواہش میں بڑی ہلتی رہیں مگرجنرل راحیل نے ان کو اپنا موڈ نہیں دیا اور بہت اچھا کیا۔ اس کی وجہ سے پہلے بھی معاشرے میں خرابیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ پنجاب کے سمجھداروغیرتمند و بہادر لوگوں میں یہ شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ عوامی جذبے کا فائدہ اٹھاکر فرقہ واریت، طالبان کو کھلے عام سپورٹ کیا گیا لیکن پھر منہ موڑا گیا، خیر یہ قائدین میں شعور کا فقدان ہوسکتا ہے، وہ بھی عوام ہی تو ہیں، ماحول کی برائیوں نے ان کو لیڈر بنادیا تو یہ الگ بات ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جس کو حکومت دینے کا جھانسہ دیا، وہ بے نسل کتیا کی طرح کتوں کے ریلوں کی قیادت کرنے لگی، یہی قائدین کی قیادت کا اصلی راز ہے کم عقلوں میں اورکوئی صلاحیت نہیں ہے۔
کیا نواز اورشہبازنے زرداری کے سوئس اکاؤنٹ میں60کروڑ ڈالرکیخلاف آواز ISIکے کہنے سے اٹھائی؟۔ جیو جنگ کے صحافی سہیل وڑائچ سے یہی کہا تھا، اپنے بچوں کا پتہ بھی نہیں کہ پانامہ لیکس میں کتنی رقم ہے؟۔ سیاستدانوں کے چہرے پر شرم و حیاء کے کوئی آثار نہیں ہیں، دولت مابدولت کے کھیل سے عوام کا بیڑہ غرق کردیں۔ پورا ملک انتہاپسندی ، شدت پسندی ، دہشتگردی کی زد میں تھانوازشریف ،عمران خان اسکی حمایت میں پیش پیش تھے، پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کے متأثرین سے کہا تھا کہ ’’ آنسو پونجھنے کیلئے ٹشو پیپر کے ٹرک بھیج دوں؟‘‘۔ سیاستدان اپنا چہرہ اور تخریب کار اپنا رویہ بدلتے رہتے ہیں۔
افغانستان میں روس آیا تو تخریب کار خاد کے ایجنٹ بن کر دھماکے کرتے رہے ۔ جنوبی وزریرستان کے مرکزی شہر کانیگرم کو عمران خان اپنا ننھیال قرار دیتا ہے، جہاں برکی قبیلہ رہتا ہے،جہاں کسی ملکی وغیرملکی کا کردار نہ تھا، تخریب کار پھر بھی رات کو بارود نصب کردیتے، صبح نماز کیلئے اٹھنے والے اور پانی لانے والی خواتین وحضرات کو خوامخواہ میں دھماکوں کا شکار کرنا چاہتے تھے۔ پھر شہر کی ٹینکی بن گئی تو اس میں ڈی ٹی ٹی ڈال دی اور پھر چوریاں بڑھ گئیں، پھر ڈکیتی اور اغواء کی واردتیں شروع ہوئیں۔ پھر طالبان کے دور میں تخریب کاروں، چوروں ، ڈکیتوں کا روپ بدلا اور طالبان بن گئے۔ کرایہ کے یہ ٹٹو اب اسکے ہیں جو انکو پیسہ دے، کتیا کتوں کا کھیل ختم کرکے انسانیت ہونی چاہیے۔

ایڈیٹر اجمل ملک کی تحریر

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت اپنی کتاب ’’ قرآن مجید‘‘ اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے رسول اللہ ﷺ کی اسوۂ حسنہ ’’سنت‘‘ کا تحفہ دیا ہے۔ علماء کرام اور مذہبی طبقات کی یہ بہت بڑی مہربانی ہے کہ مختلف ادوار میں آندھی آئے یا طوفان انہوں نے بڑا زبردست کارنامہ انجام دیا ہے کہ’’ہر دور میں ایمان کے ٹمٹاتے ہوئے دیا کو جلائے رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے‘‘۔ جس طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ عرب سے تین وجوہات کی وجہ سے محبت رکھو، ایک یہ کہ قرآن عربی میں ہے، دوسرا یہ کہ میں عربی ہوں اور تیسرا یہ کہ جنت کی زبان عربی میں ہے‘‘۔ نبیﷺ کی وجہ سے صحابہؓ اوراہلبیت سے محبت بھی احادیث میں ایمان کا تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مذہبی طبقات سے انسیت اور محبت رکھنا بھی ایمان کا اولین تقاضہ ہے۔ خواہ یہ مذہبی طبقات ایک دوسرے سے تعصب، نفرت، عداوت اور انسانیت و اسلام کے منافی کتنے ہی جذبات واحساسات رکھتے ہوں۔ ان کی اپنے مسلک و فرقہ سے محبت ایمان اور دوسرے سے عداوت رکھنا اپنے ماحول میں تو ایمان واسلام ہی کا تقاضہ ہوتا ہے۔ یہی تو ان کی اصل ،بنیادی اور جوہری خوبی ہے۔ اللہ ہی کیلئے محبت وعداوت ہو تو اس سے بڑا ایمان کیا ہوسکتا ہے؟۔ صحابہ کرامؓ میں بھی اختلاف رہا ہے، جنگیں برپا ہوئی ہیں، ہزاروں لوگ ان میں قتل ہوئے ،رسول اللہﷺ نے فرمایاتھا کہ ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو‘‘۔ جن عظیم لوگوںؓ نے اپنے کانوں سے حجۃ الوداع کی یہ نصیحت سنی ، وہ بھی ایک ماحول کی وجہ سے خود پر قابو نہ پاسکے۔ جن دس صحابہؓ نے جنت کی بشارت پائی تھی، حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی جنگوں میں ایک دوسرے کیخلاف حصہ لیا۔ حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ نے اسی میں شہادت پائی۔

cartoon-nawaz-sharif-Octob2016
ہمارے ہاں انتہا پسند اور شدت پسند مذہبی طبقات کو حقائق کی طرف متوجہ کیا جائے توپھر یہی لوگ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنیں گے۔ مذہبی طبقات کو عوام میں پذیرائی بھی اسلئے نہیں ملتی کہ ان لوگوں میں مثبت سوچ کا فقدان اور منفی سوچ کا رحجان ہے۔ جبکہ سیاستدان عوام کو شعور دینے کی بجائے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ سیاسی لیڈر شپ مذہبی جذبہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے۔افغانستان نیٹو کی افواج نے قبضہ کرلیا، طالبان اور عوام کو دربدر کردیا، خاندان تباہ ہوئے۔ بچوں، خواتین، بوڑھوں اور سب ہی بموں، دھماکوں اور بمباری کا نشانہ بنے یا بارود کی گن گرج سے لرزے، ترسے اور بدحال ہوئے۔ بے شعور اور عقل سے عاری عوام نے جانوں اور عزتوں کی تباہی اور بربادی کا احساس کرکے کبھی تواپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایاہوتا مگر نہیں لیکن کسی افغانی کے مرتد ہونے کی خبر سے تمام افغان نے زبردست احتجاج کیا۔ اگر پاکستان کے علماء اور مذہبی طبقات عمران خان کی سابقہ بیگم جمائماخان کیخلاف ارتداد یا غیرمسلم سے شادی کے نام پر تحریک چلاتے تو تحریک انصاف کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ملتا۔ افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی دینے والی کمپنیوں کو 75% کی رعایت پر مال ملتا تھا اور بعض کمپنیاں نیٹو کو سپلائی دینے کی بجائے مارکیٹ میں بڑا منافع رکھ کر وہ مال فروخت کردیتی تھی اور انکے کارندے نہیں چاہتے تھے کہ جن کمپنیوں سے مال لیا ہے اس کی معائنہ ٹیم افغانستان جاکر صورتحال کا پتہ لگائے، اسلئے عوام کو اکسانے کیلئے یہ ڈرامہ بھی رچایا جاسکتا تھا کہ کوئی مرتد ہوگیا ہے یا قرآن جلایا گیا ہے، یا گستاخی کی گئی ہے۔
مذہبی جذبے اور سیاست کو اپنے مالی اور تجارتی مفادات کیلئے استعمال کرنا بہت بڑا المیہ ہے۔ قرآن کریم نے اس کی جڑیں کاٹی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بدترین جانور کتااور گدھا قرار دیا ہے۔ نوازشریف نے مذہبی جذبے سے ڈاکٹر طاہرالقادری کو غارِ حرا تک کندھے پر اٹھایا اور شہبازشریف نے طاہرالقادری کے جوتوں کے تسمے باندھنے اور کھولنے تک امریکہ کے سفر میں خدمت انجام دی تھی، یہ مذہبی جذبے اور خوبیوں کی بہترین دلیل ہے۔ اگرچہ شعور بیدار ہونے کے بعد اس جذبے کو بے شعوری ، جہالت اور اندھیر نگری کا اب نتیجہ کہا جائے، مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاست کی شروعات اپوزیشن سے کی تھی اور اب سوشل میڈیا پر اس کی تصویر کیساتھ یہ مذاق چل رہا ہے کہ ’’ ہر حکومت اپنے ورثہ میں دوسری حکومت کیلئے غربت، بے روگاری اور مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ کر جاتی ہے‘‘۔یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ’’ہماری سیاست سے متأثر ہوکر امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی امیدوار ی سے ثبوت دیا ہے کہ سیاست کے ذریعہ سے بہترین تجارت بھی ہوسکتی ہے‘‘۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان ؒ نے کہا کہ ’’پاکستان میں نظریاتی سیاست کو تجارت میں بدلنے کا اصل بانی نوازشریف ہے‘‘۔ اب توماشاء اللہ مولانا فضل الرحمن بھی شانہ بشانہ ہیں جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں ہوتے تھے تو ان کو امت میں شعور بیدار کرنے کے سوا ملتا کیا تھا؟۔ آخر ان کی بھی ماشاء اللہ جان ہے، کسی کریانہ سٹور میں کھانے ، پینے کی اشیاء و اجناس ملتی ہیں۔ بطور مثال چوہا اگر دکان میں ایک معزز مقام رکھتا ہو، اور اس کیلئے کھانے کے تمام راستے بند ہوں اور صرف ترازو میں وزن ڈالنے کی اس کو اجازت ہو تو اپوزشن میں جانے کی مثال ایسی ہو ، جیسے لوہے کے وٹے میں چوہا اپناوزن ڈالے،حکومت کے پلڑے میں جان ڈالنے کی مثال اشیاء خورد ونوش کے پلڑے میں جانے کی طرح ہو تو چوہا بلکہ کوئی بھی جاندار، جانور اور انسان کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالے گا؟۔ اگر لوہے کے وٹے کے پلڑے میں جانے سے دکاندار کا نقصان ہو اور کھانے پینے کی اشیاء میں وزن ڈالنے سے حکومت اور موصوف دونوں کا فائدہ ہو تو باڑ میں جائے عوام کی ایسی کی تیسی، انکے مفاد کا کیا ہے اور کس نے خیال رکھنا ہے؟۔ حکومت اپنے مفاد کی خاطر تگڑے قسم کے لوگوں اور بڑی ہستیوں کو اپنے ساتھ رکھے تو یہ مذہب اور سیاست کی سوداگری ہوگی جو ہوتی رہی ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ علماء امت میں دین کی حفاظت کے امین اور محافظ ہیں جو دین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں جبتک یہ دنیا گھس نہ جائیں اور حکمرانوں سے خلط ملط نہ ہوجائیں، جب یہ دنیا میں گھس گئے اور حکمرانوں سے مل گئے تو انہوں نے اللہ سے خیانت کی۔ (عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں : مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ )
سید عتیق الرحمن گیلانی نے جس طرح سے درسِ نظامی کے نصاب میں قرآن کی تعریف اور طلاق کے مسئلہ میں حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ، اگر عتیق گیلانی کے پاس حکومت، مدرسہ یا دنیاوی کوئی بڑا منصب ہوتا تو بڑے بڑے لوگ یقیناًاسلام ، قرآن و سنت، شریعت وفطرت اور وقت کے تقاضوں اور دنیا کے ماحول کو سمجھ کر پاکستان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنا ایک مذہبی فرض قرار دیتے۔ عتیق گیلانی کے خاندان نے اپنے دور میں کربلا کی قربانی دی۔ عتیق گیلانی نے فرقہ وارانہ تصورات کی کامیابی سے بیخ کنی کرکے قرآن وسنت کو جس انداز میں اجاگر کیا ، مدارس عربیہ، بنوری ٹاؤن ،مکتبِ دیوبند اور فقہ حنفیہ کے اکابراور اصاغرکیلئے یہ باعثِ فخر ہونا چاہیے تھا کہ ہماری فضائیں اس عظیم شخصیت کی گزر گائیں رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریمؒ بیرشریف لاڑکانہ سے لیکر جمعیت علماء اسلام ٹانک تک کے بہت سے اکابر واصاغر نے سید گیلانی کی تائید کی تھی، جمعیت علماء پاکستان کے پروفیسر شاہ فریدالحقؒ سے لیکر بہت سے بریلوی مکتب کے اکابر واصاغر نے سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری تک نے تائید کی ہے۔پروفیسر غفور احمدؒ ، مولانا عبدالرؤف اتحادالعلماء کے صدر ، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا عبدالحق بلوچؒ سے مفتی علی زمان تک بہت لوگوں کی تائید حاصل رہی ہے۔ پروفیسر غفور احمدؒ کا بیان ضربِ حق کی زینت بنا تھا کہ سید عتیق گیلانی نے فرقہ پرستی کا مسئلہ حل کردیا، اب فرقہ پرست گدھ کی طرح پہاڑوں کی چوٹی پر بیٹھ کر اس کی مردار لاش کو نوچتے رہیں۔
اہلحدیث کے بہت سے اکابرین مولانا عبدالرحمن سلفی، مفتی عبدالرشیدؒ ، مولانا ارشد وزیر آبادی اور مولانا محمد سلفی سمیت بڑی تعدادمیں تائید کرتے ہیں۔ اہل تشیع کے علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ حسن ترابیؒ ، ڈاکٹر حسن رضوی، علامہ کرار نقوی وغیرہ بڑی تعداد میں اکابر واصاغر تائید کررہے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کے مرکز جامع مسجد صدیق اکبر کے خطیب اور کراچی کے امیر علامہ ربنوازحنفی اور پشاور کے رہنماؤں تک کی تائیدات شائع ہوئی ہیں اور ہوتی رہی ہیں۔
اصل مسئلہ عتیق گیلانی کی تائید یا تردید کا نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے مطابق عائلی اور معاشرتی قوانین سے لیکر ملکی و بین الاقوامی میں اسلام اور فطرت کے مطابق روح پھونکنے کا ہے۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات، حقوق، نکاح اور خلع و طلاق کے حوالہ سے قرآن و سنت کے واضح احکامات سے روگردانی ہے ، خاندانوں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں سے قرآن وسنت کے مطابق علماء ومفتیان اور دانشور و سیاستدان اور جج و ریاستدان اپنی عوام کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں تو ان سے کیا خیر کی توقع رکھی جائے گی؟۔ عمران خان نے جیسے باہوش و حواس قانونی پراسس سے جمائما خان کو طلاق دی ، ویسے ریحام خان کا معاملہ ہوتا تو عوام کو رہنمائی ملتی، ریحام خان نے کہا کہ ’’میری طلاق شرعی نہیں ‘‘ ، مسیج پر لندن میں اترتے وقت طلاق طلاق طلاق کے الفاظ کو شہرت ملی۔ مریم نواز کے حوالہ سے افواہوں کی گردش ہے ،یہ مسئلہ مفتیان کی وجہ سے بگڑا یا حکمران قانون اور شریعت کی پاسداری نہیں کرتے؟، اسے گھر کا مسئلہ کہنا غلط ہے۔ طلاق کے گھمبیر مسئلہ کی قرآن و سنت سے وضاحت بڑا کارنامہ ہے۔

سید عتیق الرحمن گیلانی کی ایک تحریر

یہ اقوام متحدہ اوردنیا کے سامنے وزیراعظم نوازشریف کو کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے پر دبانے،اپنی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے اور پاک فوج کو دنیا اوراپنی کرپٹ جمہوریت کے سامنے جھکانے کا بے دھوتی ننگا ڈرامہ ہے
ڈاکٹر بابراعوان نے ٹی وی چینل پر پاکستان سے بھارت میں ڈالروں کا پرنالہ کہہ کر بتایا کہ سن 20سو15,14,13کے تین سال میں پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابررقم بینک کے ذریعہ بھارت 14ارب ڈالرمنتقل ہوئے
اعوان نے چوہدری نثار کی ماتحت FIAسے 14ارب ڈالرکی وضاحت مانگی۔ وزیراعظم قوم کی امانت سوئس اکاونٹ میں 60کروڑڈالر اور پانامہ لیکس کی رقم لوٹادے۔ سرجیکل سٹرائیک کی گالی سے بھارت نے پدو مارا ہے

8th_coloumn_heading_pic_Octob2016

 

مزید تفصیل کیلئے اس لنک پر کلک کریں۔

تیز و تند عبد القدوس بلوچ

یوسف رضا گیلانی کو صدر مملکت کیخلاف خط نہ بھیجنے پر نااہل قرار دیا، اصغر خان کیس جرم میں نوازشریف اور شریک دیگر تمام افراد اور جماعتوں کوبھی نااہل قرار دیا جائے
پاکستان میں کرپشن، سیاسی ناہمواری اور فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ کرکے نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت کے 20کروڑ مسلمانوں کے ذریعہ غزوہ ہند برپا کیا جاسکتاہے
شریف برادارن پنجاب کو مضبوط نہیں بنارہے پاکستان کو توڑنے کا بیج بورہے ہیں، فوج کمزور اور لوگ بدظن ہونگے تو پاکستان کوبھی خطرہ ہوگا ، عبدالقدوس بلوچ صفحہ:3

پاکستان میں ایک ڈرامہ شروع ہوتا ہے اور وہ ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ عدالت نے 16سال بعد اصغر خان کیس کا فیصلہ جاری کیا لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک طرف پیپلزپارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو محض اس بات پر نااہل قرار دیا تھا کہ ’’وہ صدرکیخلاف آئینی طور پر تحفظ سمجھ کر خط بھیجنے کا عذر پیش کررہاتھا‘‘، دوسری طرف اصغر خان کیس کے مجرموں کی سزا کو لٹکائے رکھا تاکہ شاید نوازشریف اقتدار میں آکر آخر نوکری میں توسیع دیدیں۔ شریف بردران نے حضرت علیؓ کی طرف منسوب سچا یا جھوٹا قول اپنے پلے باندھ دیا ہے کہ ’’کسی پر احسان کے بعد اسکے شر سے بھی بچو‘‘۔ یہی وجہ تھی کہ جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی نے باغی بن کر سزائیں کاٹیں، ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی کاحامد میر کے پروگرام میں جسطرح سے مذاق اڑایا گیا، اس خاندانی عورت ذات کی بے بسی کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا مگر نوازشریف نے یہ خوف کھایا کہ جاویدہاشمی کیساتھ احسان کے بدلے میں بھی کوئی اچھائی کا برتاؤ کیا تو گلے پڑسکے گا، اسلئے اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کی بجائے برطانیہ سے چوہدری سرور کو لیکر آیا۔ چوہدری سرور نے بھی پنجاب کی گورنری کو لات ماری، اسلئے کہ کوئی انسانیت کا کام کرنے ہی نہیں دیتا تھا۔ تو شکریہ ادا کرنے کے بجائے ازخود گورنری سے علیحدہ ہونے پر احسان فراموشی کے طعنے شروع کردئیے۔
جنرل پرویز مشرف پر نوازشریف نے کوئی احسان نہیں کیا تھا بلکہ اپنی اہلیت کے مطابق مگر اپنے مقاصد کیلئے اپنی ترجیحات میں شامل کرکے چیف آف آرمی سٹاف کیلئے نامزد کیا، پھر مدتِ ملازمت سے پہلے ان کی غیرموجودگی میں برطرف کیا، جس پر پاک فوج نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ آج بھی عدالت میں درست کیس چلے تو نوازشریف کو قصوروار قرار دیا جائیگا۔ نوازشریف نے سبق نہ سیکھاہوتا تو جنرل راحیل شریف ہی نہیں جنرنیلوں کو لات لگاگر نکالنے کی لائن لگی ہوتی، جو جہانگیر کرامت کیساتھ ہوا، سنا ہے وہ شیخ برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی بزدل جرنیل تھا جس کوڈرا دھمکاکر فارغ کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ ’’ اللہ گنجے کو ناخن نہ دے‘‘۔ نوازشریف کو ناخن مل گئے تو دور کی کہانی چھوڑیں، ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کو ڈرانے کیلئے وہ کیا جو کشمیر میں انڈیا کی فوج کررہی ہے۔ سندھ سے واحد قومی اسمبلی کے ممبر عبدالحکیم بلوچ نے وزارت، قومی اسمبلی ، ن لیگ کو کیوں چھوڑا۔ شریف برادران نے اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے علاوہ کسی کو اختیارات دئیے ہی نہیں ہیں۔ جو لوگ اسٹیبلیشمنٹ سے تنگ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف اچھا ہے یا برا مگر یہ واحد راستہ ہے کہ پنجاب کے اس جمہوری حکومت کو مستحکم کرکے فوج کو سیاسی مداخلت سے روکنا ممکن ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری تجربوں سے قوم میں شعور بیدار ہوگا اور ووٹ کے ذریعہ سے ہی تبدیلی لانے کی روایت کو مستحکم کیا جائے، ورنہ ہر طالع آزما لٹھ کر میدان میں اترے گا اور کٹھ پتلی قسم کے لوگوں کو لیڈر بناکر ایک تماشہ جاری رہے گا۔
اس میں شک نہیں ہے کہ پاک فوج کی تربیت حکومت کیلئے نہیں ہوئی ہے، اور جب عوام کیلئے ان کو کردار دیا جائیگا تو بہت ساری غلطیاں سرزد ہوں گی، ظلم و زیادتی اور بربریت کا مظاہرہ ہوگااور اس کی وجہ سے عوام سیاسی حکومتوں کو زیادہ قابل ترجیح سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج کے بارے میں عوام مثبت یا منفی جیسے پروپیگنڈہ کرنا چاہیں تو انکے خلاف پروپیگنڈہ بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ’’یہ مذموم پروپیگنڈہ بھی کامیاب تھا کہ وہ اپنی خواتین کے ذریعہ ترقی کا راستہ ڈھوندتے ہیں اور بے غیرتی ، اغیار سے منظوری کے بغیر ان کی ترقی ممکن نہیں ہوتی ہے‘‘۔ یہ سب بکواسات کسی کی طرف سے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ جو غیرت فوجی جرنیلوں میں ہوتی ہے وہ سیاسی قائدین میں بھی نظر نہیں آتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹوؒ ، زرداری، نواشریف اور عمران خان کے مقابلے میں جنرل ایوب ؒ ، جنرل ضیاء الحقؒ ، پرویزمشرف اور جنرل احیل شریف زیادہ غیرتمند نظر آتے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف نے تربت بلوچستان میں ڈیم اور روڈ بنائے، گوادر کو چین کے حوالہ کرنے کا اقدام کیا، ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک میں گومل ڈیم اور سڑکوں کی تعمیر کا سلسلہ جنوبی وشمالی وزیرستان تک پھیلایا، اشفاق کیانی کو بھی بڑا کریڈت جاتا ہے ۔ شریف برادارن اپنی تجارت کیلئے پنجاب کو مضبوط نہیں پاکستان کو توڑ رہے ہیں۔
گومل ڈیم کا سب سے قریبی شہر ٹانک اور اس ضلع کے علاقہ گومل، عمر اڈا، ملازئی وغیرہ ہیں، ڈیم سے 17میگاواٹ بجلی کی سپلائی بڑی مشکل سے خدا خدا کرکے اب شروع ہوئی ہے مگر ٹانک شہر اور اسکے ملحقہ علاقوں کو وہاں سے بجلی پیدا ہونے کی سخت سزا دی جاری ہے۔ ملازئی فیڈر، گومل کوٹ اعظم،عمراڈا سمیت بجلی کے تمام فیڈر ناکارہ ہیں، ٹانک شہر میں بھی بجلی کا بہت برا حال ہے، مولانا فضل الرحمن نوازشریف سے ملکرداورکنڈی کوجتوانے کی سزا دے رہا ہے۔ فیڈر کے افتتاح کے مسئلہ پرجمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی صدر مولانا عبدالرؤف ؒ گل امام نے ٹانک آنے پر دھمکی دے کر روکا تھا۔ عتیق گیلانی نے مولانا عبدالرؤفؒ کو نہ روکا ہوتا تو مولانا فضل الرحمن کیساتھ بہت برا ہوتا۔ ایک خاندانی اور اچھے آدمی کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے دوسروں کو اکسایا، ڈیرہ اسماعیل خان میں خلیفہ عبدالقیوم نے لڑائی کے دن ہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھی کسی کے ورغلانے میں آگئے ہیں۔ مولانافضل الرحمن نے بھرپور مشن چلانے کے بعد جب ناکامی ہوئی اور ہمارا مشن جاری رہا تو عتیق گیلانی کے گھر پر آکر کہا کہ ’’میں ہمیشہ حمایت کرتا ہوں‘‘۔
یہ کہانیاں عوام کے سامنے آئیں تو جمہوریت کے علمبرداروں کے چہروں سے نقاب اٹھے گا۔ سید عتیق گیلانی نے کبھی نیٹو اور امریکی افواج کی حمایت نہ کی بلکہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنوں کے روپ میں ہمارے امن وامان کو خراب نہ کریں، مولانا معراج الدین شہیدؒ ایم این اے کے پرسنل سیکرٹری اختر گل محسود کے سامنے طالبان کے ترجمان مولوی محمد امیر گلشئی شمن خیل محسود سے کہا تھا کہ ’’ ہماری اپنی عوام امریکہ کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، ان سے اسلحہ اکٹھاکرکے تم کس کی خدمت کررہے ہو؟۔ اس نے کہا کہ ہم آئی ایس آئی والے نہیں ہیں، عتیق گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ہونا مسئلہ نہیں ، میں بھی تمہارا ساتھ دوں گا لیکن جو تم کررہے ہو، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے مقاصد پورے ہورہے ہیں،پھر طالبان کے امیر بیت اللہ محسود سے ملاقات کی بات طے ہوئی مگر چند دن بعد عتیق گیلانی پر فائرنگ کی گئی،پھر جب دوبارہ کچھ عرصہ بعد بھائی کی وفات پر جانا ہوا ، تو گھر سے نکلنے کے چند گھنٹے بعد حملہ کرکے طالبان نے کئی افراد کو شہید کیا۔
کافی عرصہ بعد مولانا فضل الرحمن نے تعزیت کیلئے گئے تو ٹانک کی مسجد میں صحاح ستہ کی وہ حدیث سنائی جسکے راوی حضرت ابوبکرؓ ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ خراسان کی طرف سے ایک دجال کا لشکر آئے گا، جس میں ڈھال کی طرح گول چہرے والے اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے چہرے والے اقوام کے افراد ہونگے‘‘۔( جیسے ازبک اور پٹھان ہیں)۔ مولانا فضل الرحمن نے یہ روایت طالبان پر فٹ کردی، پھر عتیق گیلانی کے بھائی سے بھی اس روایت کا ذکر کیا، عتیق گیلانی کے بھائی پیرنثار نے کہا کہ ’’تم لوگوں کے پاس متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے، یہ تمہاری ذمہ داری بنتی ہے کہ لوگوں کی حفاظت کرو، اگر یہ نہیں کرسکتے تو حکومت چھوڑ دو‘‘۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’’مجھے پتہ ہے میں نے آنے میں دیر لگادی ، اس وجہ سے آپ ناراض ہیں‘‘۔ پیرنثار نے کہا کہ ناراضگی کا بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مولانا عطاء الرحمن صاحب آپ کے بھائی ہیں، جنازہ بھی انہوں نے پڑھایا، پھر مسلسل کئی دنوں تک تشریف لاتے رہے، اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا تھا یہ بھی اپنے حق اور حدود سے زیادہ کیا۔ کسی نے پیرنثار سے کہا کہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اب اس موقع پر یہ بات نہ کرتے تو اچھا تھا، مولانا فضل الرحمن کے مدرسہ کے مہتمم مولانا سید عطاء اللہ شاہ نے کہا کہ ’’بالکل صحیح وقت پر اور صحیح موقع پر ٹھیک بات کی ہے‘‘۔ آخرسید توپھر سید ہوتاہے۔
زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمن کا وہ بیان صحافیوں نے شائع نہ کیا تو دوسری طرف یہ خبر مولانا عطاء الرحمن کی طرف سے شائع ہوئی کہ ’’ سیکیورٹی فورسس کا شرعی اور حکومتی فرض ہے کہ دہشت گردوں کو قتل کریں‘‘۔ اس سے زیادہ تعجب اس بات پر تھا کہ طالبان اس واقعہ کی وجہ سے اختلافات کا شکار تھے، آپس میں لڑنے مرنے اور مارنے تک بات پہنچی ہوئی تھی، تو مولانا فضل الرحمن نے ان دونوں کو متحد کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ سب سے بڑی تعجب کی بات یہ تھی کہ مولانا عطاء الرحمن بھی اپنے بھائی کے مشن سے بے خبر رہے ورنہ وہ کیوں جوشیلا بیان جاری کرتے۔ قوم مذہبی رہنماؤں اور سیاسی قائدین کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی دیکھ رہی ہے۔
فرقہ واریت ، شدت پسندی، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی مقبولیت کے دور میں ہم نے اللہ کے فضل وکرم سے آندھی اور طوفان میں عدل واعتدال، میانہ روی اور صراطِ مستقیم پر گامزنی کا راستہ چن کر قوم میں علم وکردار کی روشنی دوسروں کو بھی مہیا کی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام نہیں کرپشن کا پیسہ ایک دوسرے سے لڑارہے ہیں ، قومی اسمبلی کیلئے قانونی طور پر پندرہ لاکھ سے زیادہ رقم خرچ کرنا غلط ہے مگر علیم خان و ایاز صادق اور صدیق بلوچ و جہانگیر ترین کے درمیان مقابلے میں میڈیا پرکروڑوں و اربوں کا تخمینہ لگایا گیا، گری قیادت پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں کیا اخلاقیات کا کوئی معیار قائم کرسکے گی؟ ۔اگراسلام کو معاشرتی طور سے اپنایا گیا ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مسئلہ حل کیا گیا اور سیاست میں کرپشن اور ناہمواری کی فضاء ختم کی گئی تو پاکستان ناقابلِ تسخیر ہوسکتا ہے بلکہ بھارت کے مسلمانوں کی نظر میں بھی پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کا وقار اتنا بڑھ جائیگا کہ نہ صرف کشمیر کی آزادہوگا بلکہ حدیث کیمطابق بھارتی حکمران کو قید کر نے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔