پوسٹ تلاش کریں

ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ

علامہ شامی، مفتی شفیع نے غلط فقہ و تفسیر لکھ دی اور مدارس پھلاتے ہیں تو درست پیغام کیسے پہنچے گا؟۔ پاکستانی آئین کے مطابق اعلیٰ عدلیہ جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ دیا اور2007ء سے2026ء تک میں نے چار کتابوں ، کئی سارے اخباری مضامین ، ویڈیوز اور بالمشافہہ ملاقاتوں کے ذریعے طلاق کے واضح مسائل کو بہت وضاحتوں کیساتھ سمجھایا لیکن پھر بھی حلالہ کی لعنت سے باز نہیں آتے ہیں۔

معاشرے میں اسلام کو اتنا اجنبی بنادیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث اور مسلک حنفی کے اصول فقہ کے مطابق دلائل اور اکابر علماء کی حمایت کے باوجود بھی لوگ حلالہ کے نام پر عزتیں لٹوائے جارہے ہیں۔

ایک جگہ فرمایا:

وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی

اور سکون سے رہو اپنے گھروں میں اور جاہلیت اولیٰ کی طرح اپنے حسن النسا ء کی نمائش کرتے ہوئے مت پھرو۔

دوسری جگہ فرمایا:

فلیس علیھن ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ

پس ان کیلئے کوئی گناہ نہیںکہ اپنے کپڑے اتاردیں بغیر دکھائے زینت کے۔

دورجاہلیت میں ایک عورت کے دس دس شوہر بھی ہوتے تھے اور بیشمار لوگوں سے جنسی تعلقات کو بھی جائز سمجھا جاتا تھااور اعلیٰ خاندانوں سے حمل کی تلاش میں بھی کم نسل رہتے تھے اسلئے عورتیں اپنی حسن النساء کی نمائش کرتی تھیں۔جب بازاروں، پارکوںاور مختلف مقامات پر نکلنے والی عورتوں کیلئے تصور ہوگا کہ قرآن کی خلاف ورزی کررہی ہیں تو لوگ اسلام کے نفاذ نہیں قیامت کا انتظار کریںگے اور کہا جائے گا کہ قرآن میں اجتہاد کا راستہ کھلا ہے اور یہ احکام بدل کر اجتہاد کے نام پر تحریف کر ڈالو اور پتھر کے زمانے میں عوام کو مت دھکیلو۔ لیکن یہ پتہ نہیں کہ پتھروں کا زمانہ موجودہ دور سے بہت بدتر تھا۔ آج یہ ایڈوانس دور کہلاتا ہے لیکن جب اس ویڈیو میںلڑکی کا شرٹ کاٹا تو اس کو خدشہ ہوا کہ حسن النساء ننگے ہوجائیں گے تو اس نے پریشان ہوکر ہاتھ رکھ لیا۔یہ قرآن کے حکم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے لیکن علماء نے قرآن کے حکم کا مطلب بدل دیا۔

امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غیر فطری جنسی عمل کے سخت خلاف ہے۔ جب امریکہ میں جرائم پیشہ عورتوں کو ننگے لباس میں پولیس پکڑتی تھی تو پھر ان سے بعض پولیس والوں نے زیادتی بھی کی اور شکایت پر عدالت میں ان کو سزائیں بھی دی گئیں ۔ عورت مارچ والے جبری جنسی زیادتیوں کیخلاف امریکہ میں بہت انوکھا فحش احتجاج کرتی ہیں۔ اسلام نے عورتوں کیلئے دو اقسام کے لباس واضح کئے ہیں۔ ایک کو تو غیرمسلم اور مغرب آسانی سے قبول کرلیںگے اور ان پر جبر نہیں ہے اور دوسرے سے معاشرے میں شرافت کا توازن قائم ہوتا ہے۔ جبر و زبردستی سے نہیں۔ عورت اپنی عزت کا احساس کرتی ہے۔ اگر ایک خوشحال معاشرہ ہوگا تو پھر کسی غریب کی بچی کی عزت برائے فروخت نہیں ہوگی۔ اب تو جبری اڈے چلانے کا انکشاف ہواہے۔

عورتوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی نہیں تھی بلکہ حسن النساء جاہلیت کی طرح دکھاتی پھرنے سے منع کیا گیا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے جنگ کی قیادت کی ۔ حضرت زینب بنت علی نے کربلا کے بعد قافلے کی قیادت کی۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کیلئے ابوسفیان حضرت فاطمہ کے پاس گئے۔

مدارس کے طلبہ لڑکوں کے پاس حسن النساء ہیں اور نہ ان کا پردہ ہے ۔ شہوت سے تومفتی عزیز کو بھی دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے ۔ اگرعلماء قرآن کی صحیح تفسیر کو نہ مانیں توپھر حکومت کریک ڈاؤن بھی کرسکتی ہے۔خاتون نے مجادلہ کیا تو سوہ مجادلہ نازل ہوئی اور جب عورت مفتی سے کہے گی کہ میرا حلالہ کردو توکیا بدکردار اور گمراہ لوگ چھوڑدیں گے؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال ھٰولآء بناتی ان کنتم فاعلین سورہ الحجر71

(لوط )کہا: یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرنے والے ہو!

اللہ نے فرمایا:
” اور شہر والے ایکدوسرے کو خوش خبری دیتے ہوئے آئے… (حضرت لوط ) نے کہا… یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھے ذلیل نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو… انہوں نے کہا کہ ہم نے کیا تجھے پہلے پوری دنیا کا ٹھیکہ لینے سے منع نہیں کیا تھا؟ کہا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کرنے والے ہو! (اے نبی ۖ)تیری جان کی قسم کے وہ اپنی مستی میں اندھے ہورہے تھے… پھر دن نکلتے ہی انہیں چیخ نے آلیا پھر ہم نے بستیوں کو زیر و زبر کردیا اور ان پر لکھے پتھر برسائے… بیشک اس میں نشانیاں ہیں بصیرت رکھنے والوں کیلئے اور بیشک یہ سیدھی راہ پر واقع ہیں… بیشک اس میں نشانی ہے مؤمنوں کیلئے اور اصحاب الایکہ بھی ظالم تھے پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اوروہ بستیاں کھلے راستے پر واقع ہیں اور بیشک عقل والوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں نشانیاں دیں اور وہ اس سے روگردانی کررہے تھے اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کرگھر بناتے تھے… پھر انہیں صبح کے وقت چیخ نے پکڑلیا پھر انہوں نے جو کمایا تھا وہ انکے کام نہیں آیا اور ہم نے آسمانوں اور زمین کواور ان کی درمیانی چیزوں کو نہیں بنایا مگر حق کیساتھ بیشک انقلابی گھڑی آئے گی تو بہت ہی اچھے درگزر سے کام لو”۔( الحجر:67تا85)

بچہ باز بے ضمیر سفاک بناتا ہے۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن و صابر شاہ سے بڑا سکینڈل جامعہ امداد العلوم فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد کا تھا۔ بعدنمازفجر کئی طلبہ نے جنسی زیادتی کا بتایا ۔ مفتی تقی عثمانی کا دوست تھااور بیٹوں نے اس سے کہاتھا کہ” لڑکیوں سے شادی کرلو”مگرشیخ نے کہا ”لڑکوں کا مزہ لڑکیوں میں نہیں ہے ”۔ شیخ کو لڑکے خود پر بھی چڑھاتے ہوں گے جو لڑکیاں نہیں کرسکتیں۔ حیات پریغال کا خواتین نے شکریہ ادا کیا کہ” ان کا حق مار جارہاہے”۔ جبکہ قرآن کے تراجم میں ڈکیتی مراد لی گئی ہے اور جب ترجمہ غلط ہوگا تو ہدایت کہاں سے ملے گی؟۔

قوم بدفعلی کرنے بیویوں سمیت آئی حضرت لوط نے کہا:”یہ( تمہاری بیویاں) میری بیٹیاں ہیں، ان سے حاجت پوری کرو اگر تم نے کرنا ہے”۔لیکن عورتیں وہی چیز تھیں

یقطعون السبیل

یہی ہے۔ پچھواڑہ اکھاڑہ بنے تومعاشرتی اقدار ختم ہوں گی۔

بے ضمیرنے جاپان پر ایٹم بم گرادئیے۔علماء نے لڑکوں کو عورت کی طرح سرتا پیر عورة قرار دیاہے تو مدارس میںکیوں رکھے؟۔ اور لڑکیوں سے زیادہ خطرناک ہیں تو بچیوں پر پابندی اور بچوں کو اپنے پاس رکھنے کا نتیجہ کیا ہوسکتاہے ؟۔ جنکے بچے اپنی جنس بیچتے ہیں تویہ کام اپنی بچیوں سے کروائیں۔

ایرانی نژاد امریکن نے عورت کے اسلامی حقوق پر کتاب میں واقعہ لکھاکہ”شوہر کو لواطت کی لت تھی توبیوی کو خلع کیلئے حق مہر سے زیادہ رقم دینی پڑی”۔ علی وابوحنیفہ نے بیوی سے لواط حرام اور ابن عمر و مالک نے جائزقراردیا ۔ لوط کی پیشکش کو مسلکی ٹچ نہ دیں اسلئے کہ قوم لوط تباہ ہوگئی ۔ غیر فطری جنسی عمل کا مخالف ٹرمپ ملوثی ہوتا تو پھرحرمین شریفین پر بھی بمباری کردیتا ۔جبری لوطی مرد سے نجات کیلئے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ صحیح ہے۔ توازن قائم کریں۔

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ وبر پیدا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رحمت کے دو حصوں پر ایمان

یاایھاالذین اٰمنوا اتقوااللہ واٰمنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ

”اے ایمان والو! اللہ سے خوف کھاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،اس نے اپنی رحمت سے تمہیں دو حصے عطا کردئیے ہیں”۔ (سورہ الحدیدآیت:29)

علامامت قیامت کا پہلا حصہ اول سے درمیان تک اور دوسرا حصہ درمیان سے آخر تک واضح ہے:

پہلا:رسول اللہ ۖ کا ظہور، شق قمر، پتھروں کا کلمہ پڑھنا، قرآن کا نزول ، صحابہ کرام کی فتوحات ، بنوامیہ و بنوعباس، خاندان غلاماں کا اقتدار ،چنگیز کی اولادکاقبول اسلام اورعرب کی جگہ اقتدار قائم کرنا یہ ساری قیامت کی چھوٹی علامات تھیں۔ نبیۖ کی بعثت، خلافت راشدہ کا سپر طاقتوں کو شکست، بنوامیہ وبنو عباس اور غلاموں کا اقتدار بڑی بات تھی اوررضیہ سلطانہ کا ہندوستان میں اقتدار بڑی بات تھی لیکن دور ہونے کی وجہ سے چھوٹی علامت ہیں۔

چھوٹی علامت کے بعد درمیانہ علامات ہیں۔ استاذمولانا محمد جامعہ بنوری ٹاؤن سے کوئی وہ سوال پوچھتا جو کتاب میں آرہا ہوتا تو کہتے ”کیماڑی ابھی آئی نہیں اور تین ہٹی پر شلوار اتار دی”۔ درمیانہ علامات پوری نہیں مگر دجال ، مہدی آخرزمان اور عیسیٰ کی پیشگوئی والے علماء ومشائخ، ستارہ شناش کیماڑی سے پہلے تین ہٹی پر شلواراتار رہے ہیں۔

امام احمد بن حنبل کو بنوعباس نے کوڑے مارے اور امام رضا مامون الرشید کے داماد و جانشین تھے۔
تاریخی کتب چھوڑ دو، پنکی کھلاڑ یوں کی فٹ بال ہے۔اگرسعد بن عبادہ پہلے خلیفہ بنتے توکئی نمبر1کہہ دیتے۔ علامہ شہر یار رضاعابدی اتحاد کی بات پر علامہ جواد نقوی کو گالیاں دیتا ہے لیکن اتحاد کی بنیاد تو امام خمینی نے رکھی تو انکے آگے دم اٹھاتاہے؟۔

مہدی غائب کا نائب عثمان عمری اور دوسرا محمد بن عثمان عمری تھا۔ فاطمی خلافت پر ائمہ اہلبیت نے سنی خلفاء کو ترجیح دی۔ فاطمی رافضی نہیں سنی کے پیچھے نماز پڑھتے۔ امامت پر ان کا اختلاف مسلمانوں اور قادیانیوں جیساتھا لیکن سنی ان میں برج تھے۔ جو نہ اسماعیلی کے دشمن تھے اور نہ اثنا عشریہ کے لیکن جب امام خمینی نے امام کا لفظ استعمال کیا تو اختلاف بالکل ختم ہونا چاہیے مگرپھر بھی کیوں نہیں ہوا؟۔

پنجاب بڑا صوبہ اور لاہور تبدیلیوں کا مرکز ہے۔ علماء کرام مینار پاکستان منٹو پارک میں بڑے فخر سے خطاب کرتے ہوئے سریلی آواز میں کہتے ہیں کہ ”لاہور عروس البلاد ہے”۔ مسند احمد میں ہے کہ

” عن انس بن مالک: قال رسول اللہ ۖ عسقلان احد العروسین ، یبعث منھا یوم القیامة سبعون الفا، لاحساب علیھم،و یبعث منھا خمسون الفا شہداء ،وفود الی اللہ ،وبہا صفوف الشہداء رؤوسھم مقطة فی ایدیھم تئج أوداجھم دمایقولون : ربنا آتنا ما وعدتنا علی رسلک انک لا تخلف المیعاد ، فیقول: صدق عبیدی اغسلوھم بنھر البیض ،فیخروجون منہ نقاء بیضا، فیسرحون فی الجنة حیث شاء وا ”۔

نبیۖ نے عسقلان کو عروس البلاد میں ایک قرار دیا۔ ۔ ۔ ۔

جس میں70ہزار کا حساب نہیں ہوگا۔50ہزار شہداء ہونگے اوراللہ کی طرف آئیں گے۔ شہداء نے اپنے سروں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوگا اور جسموں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ کہیں گے اے اللہ جو رسولوں کیساتھ وعدہ کیا تھا یعنی شہداء جنت میں جائیں گے تو ہمارے ساتھ وعدہ پورا کریں بیشک آپ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ پس کہے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ،اس کو سفید نہر میں غسل دو تو وہ وہاں سے بالکل صاف ستھرے نکل آئیں گے پھر جنت میں گھومیں گے جیسے چاہیں” ۔

غزہ کے غازی اور شہداء اسرائیل نے مارے۔ وزیرستان میں مسلمان مسلمان، پختون پختون اور جان سے عزیز مہمان کو مارہاہے۔لوگ متنفر ہیں۔ کراچی میں لسانی جنگ تھی لیکن قبائل اور پختونخواہ میں تو نہ روسی ہے، نہ امریکی، نہ یہودی، نہ ہندو ۔

ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس

”لوگوں میں فساد برپا ہوگیا خشکی اور پانی میں بسبب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے”۔نبی اکرم ۖ نے فرمایاکہ
” اس الامر کا پہلا معاملہ نبوت و رحمت ہے۔ پھر خلافت و رحمت ہے۔ پھر بادشاہت و رحمت ہے ۔ پھر امارت و رحمت ہے۔ پھر چال چلیں گے گدھوں کی چال۔ پس تم پر جہاد فرض ہے اور افضل جہاد الرباط ہے اور تمہارا افضل رباط عسقلان ہے”۔

اس حدیث سے مختلف ادوار کیساتھ رحمت کا ذکر ہے اور آخر میں گدھوں کی چال کا ذکر ہے اور ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہے”۔ حکمرانوں اور باثرطبقات کے اقدامات اگر خلوص پر مبنی ہوتے ہیں تب بھی نقصان پہنچتا ہے اور گدھوں کے اقدام سے بالکل معاملہ واضح ہے۔
دوسرا: اول سے درمیان تک قیامت کا سلسلہ نبیۖ سے موجودہ دور تک خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار ہیں اور پھر طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی اور اس کا تعلق درمیانہ زمانے سے ہوگا۔ پھر اسکے بعد قیامت تک یہ سلسلہ چلے گا اور بالکل آخر میں امت محمدیہ کا آخری امیرہوگا اور حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اوردجال اکبر کو قتل کریں گے۔ اور یاجوج ماجوج نکل آئیں گے۔ جب ہم کسی کے کہنے پر خلائی مخلوق کو اترتے ہوئے مان سکتے ہیں تو یاجوج ماجوج کی خبر میں کیا حرج ہے؟۔

جاویداحمد غامدی نے قرآن و احادیث کی واضح پیشگوئیوں کو رد کرتے ہوئے قرآن کے نام پر نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے کہ مسلمان پھر قیامت تک اقتدار میں نہیں آسکتے۔ امریکہ ، چین ، یورپ اور ہندوستان کے کچھ حضرت نوح کی وہ اولاد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو اقتدار تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ حالانکہ نسل اور دین الگ الگ چیزیں ہیں۔ عرب مسلمان تھے اور نسل میں ترک چنگیز و ہلاکو خان نے شکست دی اور پھر اللہ نے چنگیز کی اولاد کو مسلمان کردیا تھا۔ جاوید احمد غامدی کو اصل مسئلہ اسلام سے ہے۔ مثلاً اگر حضرت غامدیہ کا ناجائز بچہ یزید کا ساتھ دیتا اور کہتا کہ ہماری ماں نبیۖ نے اسلام کی بنیاد پر سنگسار کردی ہے تو اپنی ماں کا انتقام نبیۖ کی اولاد سے لینا ہے تو کوئی بات ہوتی مگر غامدی شیطان کی طرح اسلام سے انتقام لینے میں لگاہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ بیچارے پر رحم فرمائے۔

مفتی رفیع عثمانی نے اپنی کتاب ”علامات قیامت اور نزول مسیح” میں تین قسم کی علامات کا ذکر کیااور لکھا نبیۖ نے فرمایا کہ ” دجال سے زیادہ بدتر حکمران اور لیڈر ہوں گے”۔ ظاہر ہے کہ دجال درمیانہ زمانے میں نہیں آخرمیں ہوگا۔ طالبان کو حکمران اور لیڈرکیخلاف خود کش حملوں کے فتوے دئیے گئے۔ جس کی وجہ سے فساد اور قتل وغارت کا سلسلہ ا بھی جاری ہے۔ لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا پہلے ملاؤں کے فتوے پر جہاد شروع کیا گیا اور پھر یوٹرن لیا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” کے اندر علماء ،ائمہ مساجد اور دنیا اور حکمرانوں کیساتھ ملنے والے علماء کی نشاندہی ہے۔ شیعہ امام مہدی غائب کے انتظار میں ہیں۔ امریکہ ایران کو ملیامیٹ کرتا لیکن حافظ سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ سے بچانے میں کردار ادا کیا جس پر ایرانی قوم نے پاکستان کا دل سے شکریہ ادا کیا۔

محسن داوڑ سابقMNAشمالی وزیرستان قائدPTMکہتا ہے کہ حافظ گل بہادر اور حافظ عاصم منیر ایک ہیں؟۔حالانکہ اگر موقع ملے تو ایک دوسرے کو قتل کریں۔پہلے طالبان نے شمالی وزیرستان سے ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا تو دوبئی میں بھی شوق سے وہ ویڈیوز دیکھے جارہے تھے۔ اگر بدر وحنین کے صحابہ کرام میں بھی جنگ ہوسکتی ہے توموجودہ دور کے لوگوں کی کیاحیثیت ہے؟۔

نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جسکے اول میں میں ہوں ، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیان میں کج رو لوگ ہونگے۔ مہدی کے بعد11مہدی ہیں جن میں پہلے5افراد امام حسن کی اولاد سے ہونگے پھر5افراد امام حسین کی اولاد سے ہونگے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ (مظاہر حق شرح مشکوٰة ) سنی شیعہ کتب میں ان بارہ کا ذکر ہے لیکن عوام کے سامنے نہیں لایا جارہاہے۔

اللہ نے امت کے دونوں حصوں میں رحمت کا ذکر واضح فرمایا:

” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ جس نے تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دئیے ہیں اور اس نے تمہارے لئے نور بنایا جسکے ذریعے تم چلتے ہو اور تمہاری مغفرت کردے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔ اور فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دیدے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔

سورہ الحدید کی یہ آخری آیات جاوید غامدی کے منہ پر تھپڑ ہیں۔ الحدید آیت10میں صحابہ فتح مکہ سے پہلے و بعد والے۔ پہلوں کا زیادہ بڑا درجہ اور دونوں کیساتھ نیک جزا کا وعدہ ہے۔ تاکہ غلیظ لوگ فرقہ پرستی نہ کریں ۔ ۔ ۔

پھردرمیانہ زمانہ مخاطب کیاکہ

”کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں کہ انکے دل اللہ کے ذکر اور جو اللہ نے حق نازل کیا کیلئے جھکیں؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو کتاب دی گئی اور پھر ان پر بہت سارا وقت گزر گیا۔تو انکے دل سخت ہوگئے اور ان میں اکثریت فاسقوں کی تھی اور جان لو کہ بیشک اللہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے تمہارے لئے اپنی آیات کو واضح کردیا تاکہ تم عقل سے کام لو۔اوربیشک جو تصدیق کرنے والے مردہیں اورتصدیق کرنے والی عورتیں ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا تو اللہ دگنا کرے گا ان کیلئے اور عزت والا بدلہ ہے اور جولوگ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائے تو یہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اور ان کیلئے اپنے رب کے پاس ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو تو یہ جحیم والے ہیں۔ (سورہ الحدید:آیت16تا19)

شیخ الہندنے فرمایا

” زوال امت کے دو اسباب: قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی”۔قرآن کی طرف متوجہ کرنے میں ان کے اصل جانشین مولانا عبیداللہ سندھیاور اتحادامت میں اصل جانشین مولانا محمدالیاس بانی تبلیغ اور حاجی محمد عثمان تھے۔ مولانا سیدمحمد یوسف بنوری، مفتی محمود اور دیگر مکاتب فکر کے علماء حق کے انتقال سے علم ، اخلاص اورجرأت کی بیخ کنی ہوگئی۔ حاجی عثمان کے بعد اکابرعلماء ومفتیان کی بدلتی ہوئی حالت دیکھی۔
ــــــــــ

تنبؤات ابن مسعود

عربی چینل :ا بن مسعود سے مہدی کی منقول پیشگوئیاں:
” عبداللہ بن مسعود اولین صحابہ میں جن سے ظہور مہدی سے متعلق معرفت میں گہری دلچسپی ثابت ہے۔ احادیث مہدی اور اشراطِ الساعةکی کتب میں آپ معتبر حوالہ ہیں۔فرمایا کہ مہدی (نبی ۖ) کی ذریت سے ہوں گے، ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب فتنے کثرت سے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق ضائع ہو چکا ہوگا۔ مہدی تب تک ظاہر نہ ہوں گے جب تک افراتفری عام نہ ہو اور ذاتی مفادات معاشرتی مفادات پر غالب نہ آ جائیں۔ وہ ابتدا ء میں مظلوم اورممکن ہے کہ لوگ ان کی دعوت کا انکار کریں اور ان کی شخصیت پر شک و شبہ کا اظہار کریں یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ مہدی کسی ایسے زمانے میں ظاہر نہ ہوں گے جہاں امن و انصاف ہو، بلکہ تب آئیں گے جب حق (پر چلنا) بوجھ ہو گا اور دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی آغاز تنہا کریں گے اور ابتدا میں حامیوں کی تعداد بہت کم ہوگی یہاں تک کہ حق خود کو ثابت کر دے گا اور دھیرے دھیرے لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لے گا۔ حامیوں کی کم تعداد اور انکے اثر و رسوخ کی وسعت کے درمیان یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مہدی کی اصل قوت تعداد میں نہیںبلکہ اس ”حق” میں ہے جو وہ تھامے ہوئے ہوں گے۔

ابن مسعود نے بیان کیا کہ مہدی عادل، کسی کو قانون سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے، چاہے اس کا مرتبہ بلندیا قوت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ عدل انکے دورِ حکومت کا پیمانہ ہوگا، حقداروں کو حقوق واپس دلائیں گے اور طویل راستے پر صبر کرنے والوں کو نوازیں گے، مہدی کو ہر طرف سے دشمنوں کا سامناہو گا، جو دشمنی کا اعلان کریں گے اور پوشیدہ دشمن جو اندھیروں میں سازشیں کریں گے۔ مہدی اللہ کی پناہ میں ایمان کے مالک اور دنیا سے بے رغبت (زاہد) ہوں گے۔ وہ دنیا کو اپنی طرف مائل نہیں کریں گے بلکہ حق کو ہی اپنا واحد مرجع (Reference)بنائیں گے۔ ان کا ظہور ذاتی مفادات یا اقتدار کیلئے نہیں ہوگا بلکہ جامع اصلاحی منصوبہ ہوگا جو دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ فتنوں سے بھرا زمانہ ہوگا۔ جنگیں، تصادم، امت کی کمزوری ، قیادتوں میں بگاڑ ہوگا۔ لوگ عدل سے غافل حقیقت پر مفاد کو ترجیح دیں گے۔ اس تاریکی میں مہدی لوگوں کیلئے راستے کو روشن کریں گے ،ان کا کردار کھوئی ہوئی اقدار کی بحالی اور مظلوم سے ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔

یہ بھی ذکر کیا کہ انسانیت کی مجموعی عمر کے مقابلے میں مہدی کی حکومت کا دورانیہ نسبتاً مختصر ہوگا، لیکن وہ دنیا پر دائمی اثرات چھوڑیں گے جو اقدار بوئیں گے وہ باقی رہیں گی اور جو عدل وہ قائم کریں گے وہ انسانی تاریخ کا ناقابلِ فراموش معیار بن جائے گا۔ ان کا ظہور فساد کے دور کے خاتمے اور ایک نئے عہد کی ابتدا کی علامت ہوگا جس میں حق کا بول بالا ہوگا۔

یہ بھی واضح کیا کہ لوگ ابتدا میں انکے ظہور کی اہمیت کو نہیں سمجھ پائیں گے، کچھ شک ، کچھ مسترد اور کچھ مذاق اڑائیں گے۔ یہ اس آزمائش کا حصہ ہے جس سے مہدی اوروہ لوگ یکساں طور پر گزریں گے۔ آزمائش اور رد کیا جانا ”تمکین” (اقتدار و غلبہ) کی راہ کا حصہ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو حق کے علمبردار کے راستے کو آسان اور آرام دہ راستوں سے ممتاز کرتی ہے اور مہدی مافوق الفطرت (Supernatural)ہیر و نہیں ہوں گے اور نہ بہت بڑی مادی قوت کے مالک ، بلکہ ان کی اصل طاقت عدل، ثبات اور ایمان میں ہوگی۔ ان کی طاقت بکھرے ہوئے معاشرے میں توازن پیدا کرنے اور وقت کیساتھ مٹ جانے والی اقدار کو بحال کرنے میں ہوگی۔ یہ اللہ کی حکمت کی عکاسی ہے کہ اس نے مہدی کو مناسب وقت اور حالات میں بھیجنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شروع میں حامیوں کی کمی کے باوجود حق ایسی قوت بن جائے جس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔

ابن مسعود نے کہا: مہدی صابر ، تکلیفیں برداشت کرنے اور سختیوں کے سامنے ڈٹنے والے ہوں گے۔ چیلنجز اور دباؤ کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے، حق سے انحراف نہیں کریں گے۔ یہ صبر نصرت کی کنجی اور دعوت کے تسلسل کا سبب ہوگا، جو ثابت کرے گا کہ حق کو باقی رہنے کیلئے انسانی سہارے کی ضرورت نہیں بلکہ حق کیساتھ سچے دلوں کی ثابت قدمی درکار ہے۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت کریں گے اور کسی فیصلے میں اللہ کی شریعت سے انحراف نہیں کریں گے، خواہ حالات کتنے کٹھن اور دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔ یہی ظالموں کی مخالفت میں اضافے کا سبب ہوگا کیونکہ مہدی سمجھوتہ کریں گے اور نہ باطل پر راضی ہوں گے۔ اسی سے مہدی کا لوگوں پر گہرا روحانی اثر ہوگا، وہ دلوں کو حق کی طرف موڑ دیں گے اور سخت خطرات کے وقت بھی نفوس میں اطمینان اور عدل کی روح پھونک دیں گے۔ یہ روحانی تاثیر حامیوں کی قلت کے باوجود حق کو استحکام بخشے گی اور حق کی قوت کے سامنے فساد اور کج روی زیادہ دیر نہیں ٹھہر پائے گی۔ اوریہ بھی واضح کیا کہ مہدی اصلاحی اقدامات کا آغاز چھوٹی چیزوں سے کریں گے پھر بڑی چیزوں تک لے جائیں گے۔ ہر حقدار کو اس کا حق دیں گے، تاکہ عدل کا تسلسل اور معاشرے کا استحکام یقینی ہو۔

انکے پاس اصلاح اور اقدار کی نئی ترتیب کا واضح وژن ہوگا، یہی چیز ان کی قیادت کو ماضی کی تمام قیادتوں سے ممتاز کرے گی۔ مہدی طاقت نہیں بلکہ حکمت کے ذریعے حکومت کرنے آئیں گے۔ وہ اپنی مرضی جبر سے نہیں بلکہ عدل اور اچھی نصیحت سے نافذ کریں گے اور دباؤ کے بغیر لوگوں کو حق پر قائل کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ یہ عکاسی ہے کہ مہدی کی طاقت خود حق اور ان کی دعوت کی سچائی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اسلحے یا تعداد میں۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی کا ظہور فساد و ظلم کے خاتمے اور عدل و مستحکم اقدار کی ابتدا کی علامت ہوگامگر یہ راستہ آسان نہیں بلکہ چیلنجز اور آزمائشوںکا ہوگااور انکے دور میں رہنے والے کیلئے نفسیاتی و روحانی تیاری ضروری ہے۔ مہدی صالح قائد کا نمونہ ،ہر عمل عدل واصلاح کا ہوگا۔ لوگوں کو اقتدار اور قیادت کا وہ تصور لوٹائیں گے جیسا اللہ چاہتا ہے۔

مہدیِ محض تاریخی یا افسانوی نہیں ،حقیقی اصلاحی منصوبہ ہیں جو حق، صبر اور عدل سے دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ انکے بارے میں وہی فہم رکھنا چاہیے جو صحابہ سے مروی ہے۔ نصوص سے ہٹ کر اضافہ یا مفروضہ شامل نہیں کرنا چاہیے ۔ابن مسعود نے تاکید کی کہ مہدی انبیاء کی طرح معصوم نہیں لیکن وہ حق میں سچے، دباؤ کے سامنے ثابت قدم اور اللہ کے احکامات کے پابند ہوں گے۔ شروع میں انہیں شک اور انکار کا سامناہو گاکیونکہ حق اکثر ان کیلئے اجنبی ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کے عادی ہو ں۔ آپ نے یہ کہا کہ مہدی عدل کو ایسا معیار بنا دیں گے جس سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور وہ حق کے قیام اور ظلم کے خاتمے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کریں گے، چاہے قربانیاں اور نقصانات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کیونکہ حتمی مقصد زمین پر اللہ کا ترازو (انصاف)قائم کرنا ہے”۔
ــــــــــ

اُمہ الشریفة

مہدی کی ماں شریفہ اور ان کا عزم کمزور ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ نبی کریم ۖ سے آثارہیں کہ مہدی حسن بن علی بن ابی طالب کی نسل سے ہونگے اور ان کی والدہ حسین کی نسل سے ہوں گی۔ ہم یہ معاملہ دو جہتوں پر محمول کر سکتے ہیں۔

پہلی جہت:

شاید عبداللہ محض کی نسل سے ہو، جن کی زوجہ فاطمہ بنت الحسین ۔اسی وجہ سے شاید کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ ادریس بن عبداللہ المحض بن حسن المثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب نے مراکش کا سفر کیا اور خروج المغرب سے ہوگا۔

دوسرا احتمال:

اپنی سگی والدہ جنہوں نے انہیں جنم دیا بطن میں اٹھایا، وہ سادات اشراف میں سے ہوں، چاہے اس بات کو جانتے ہوں یا نہیںکہ حسین بن علی بن ابی طالب کی نسل سے شریف خاتون ہیں۔کچھ وجوہات سے بعض سادات نے اپنے شجرے بدل دئیے اسلئے کہ کہیں سادات کو عزت ملتی تھی تو کہیں ان کیلئے یہ نسبت موت کا ذریعہ بنتی تھی۔والسلام علیکم

تبصرہ:

اقبال شاہ نے بتایاتھا کہ خاتون کو شجرہ یاد تھا ۔ ممکنہ حسینی سادات ہیں۔ شجرہ بدلنے کی2وجوہات تھیں۔ ایک انگریز کیلئے7افراد کا کرائے پر شہید کرنا جس میں2خاص شامل تھے۔ پھر بدلے میں اپنے دو بھائی اور ایک سسر کوشہید کروانا مجرمانہ فعل تھا جس کے بعد دشمنی جاری رہنے کا ڈر تھا۔ دوسرا وزیرستان کے ڈومیسائل کے بغیر خان کی نوکری پر ناجائز قبضہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسلئے بادین زئی محسود یوسف خیل کے کزن سفیان خیل بننے کی ساز باز کی۔کرائے کے قاتل اور کسی اپنے کو قتل کیلئے آگے کرنا کل بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے اور آئندہ بھی غلط ہوگا۔

فقال ربنا بٰعد اسفارنا و ظلموا انفسھم فجعلنٰھم احادیث ومزّقنٰھم کل ممزقٍ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لکل صبارٍ شکورٍO

”پس کہا کہ ہمارے رب ہماری دستاویز میں دوری ڈال اور خودپر ظلم کیا تو ہم نے ان کو قصے بنا دیا اور انہیں پھاڑدیا ہرطرح سے اور اس میں ہر زیادہ صابر شاکر کیلئے بڑی نشانیاں ہیں”۔ (سورہ سبا:19)

سورہ سبا کے متشابہات کی نظیر ملی۔ اسفار کی دوری متشابہ اورشجرہ یا ڈومیسائل کی تبدیلی نظیر ۔خالد بن ولید کے والد ولید بن مغیرہ قریش نہ تھا ، تبدیلی نسل پر سورہ قلم میں ”زنیم” کہا گیا۔ انگریز کیلئےUSEسیدکرائے پرقتل چھپی سازش قبائلی غیرت نہیںہے ۔ اوچھے ہتھکنڈے اورمجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب ہونگی۔ انشاء اللہ ۔DNAکی وجہ سےUSELESSمافیا کو حس نہیں؟۔ سوال اٹھانے پر کہا کہ ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا۔

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
زبان چلنے لگی لب کشائی کرنے لگے
نصیب بگڑا تو گونگے برائی کرنے لگے
ہمارے قد کے برابر نہ آسکے جو لوگ
ہمارے پاؤں کے نیچے کھدائی کرنے لگے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندوستان اور خلیجی ممالک پر برطانوی راج تھا

و ما قدراللہ حق قدرہ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیساکہ قدر کا حق تھا”۔

روپیہ اور سماجی اقدار کی ویلیو ہے ۔ سورہ نور میں غیرت پر قتل نہیں ، اللہ نے حلالہ کو ختم کیا، مگر اللہ کی قدر نہ کئی گئی۔علماء بچی کو ڈانس نہ کروائیں اور شیخ بیوی کو حلالہ ۔ اگرحلالہ کروادیاتو غیرتمند اور نہیں توپھربے دین ؟۔

وماھو بقول شیطٰن الرجیمOفائن تذہبونO

”اوروہ شیطان کا قول نہیں تو تم کدھر جارہے ہو؟”۔ قرآن کی طرف تمام مسائل کا حل ہے

عورت مارچ پر نعمان ولاگ نے بتایا:1963ء میں امریکی عورت نے کتاب میں مردسے مزاحمت کا درس دیاپھر8عورت مارچ2016ء میں تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی۔برطانوی ہند میں اپنے اہل خانہ سے دور رہنے والے فوجیوں کیلئے پہلی بار مقامی لوگوں کے جنس فروشی کے اڈے بنائے گئے۔

ایک عربی نے ولاگ میں کہاکہ60سال پہلے عورت کے مختصر لباس اور فحاشی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مذہب اوراقدار تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لوگ مرگئے اور عورتیں بے سہارا ہوئیں تو ماحول بدل گیا اوربیوہ عورتوں نے کاروبار کیلئے1925میں بازار کا رخ کیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد عورتیں جنسی تسکین اور جنس فروشی کیلئے نکلیں، لباس مختصر اور فحاشی کے اڈے کھلے۔ پھر برائی کو برائی نہیں سمجھتے تھے۔

بیگم ثریاکا جدیدلباس افغانی لڑکیوںپرپاکستانی ماحول کو بدلنے میں1980ء کے اندر نمایاں تھا۔1978ء میں چیچہ وطنی کا ایک واپڈا اہلکار جو سعودی عرب میںمیٹر ریڈر بھرتی ہوکر آیا تھا تو اس نے سعودی گھروں میں فحش لباس کاانکشاف کیا تھا۔

https://zarbehaq.com/hindustan-aur-khaleej-mamalik-par-bartanvi-raj-tha

 

 

 

 

 

 

جبکہ1991رزمک وزیرستان پبلک ٹرانسپورٹ کے اندر ایک معمر شخص کو شکوہ کرتے ہوئے سنا کہ ہم پر کیا زمانہ آیا ہے کہ روایتی لباس چھوڑ کر عورتیں ڈنڈا بن کر گھروں میں گھومتی ہیں ،روک ٹوک نہیں ہے۔

وزیرستان سوشل میڈیا ”دلگاری غوڑہ” میں بچہ بازی سے متعلق بتایا کہ مروت و بنوں میں تو یہ بہت پہلے تھا اور اب وزیرستان میں بھی کم نہیں جو معیوب بھی نہیں رہا۔ چھوٹے بچوں سے زیادتی قانوناً جرم ہے اور اسلام نے بہت پہلے اسکے خلاف تعلیم دی۔PTMکے عالم زیب خان نے پوسٹ لگائی کہTTPیہ عمل کو ختم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

سورہ عنکبوت28تا30میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” اور لوط کو(بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی فحاشی کے مرتکب ہو کہ تم سے پہلے کسی نے بھی جہانوں میں یہ نہیں کیا۔ بیشک تم مردوں سے برائی کرتے ہو اور تم راستے کو منقطع کررہے ہو؟اور منکر فحاشی کیلئے اعلانیہ بلاتے ہو۔ پس قوم کے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ توہم پراللہ کاعذاب لاؤ، اگرآپ سچوں میں سے ہو۔ کہا: اے میرے رب ! میری مدد فرما ، فسادی قوم پر”۔

روس کے خلاف جہاد میں امریکہ نے پیسہ لگایا تھا اور مجاہدین قوم لوط کے عمل میں ملوث تھے۔ روس کو شکست کے بعد افغانستان قوم لوط کا مرکز بنا اور پھر طالبان آئے اور پھر بھی یہ عمل نہیں رکا تو نیٹو کے عذاب نے آلیا اب پختونخواہ میں قوم لوط کی اعلانیہ رپوٹنگ ہورہی ہے مگرقوم کو کوئی پروا نہیں ہے؟۔
حضرت لوط و حضرت ابراہیم حالات کی وجہ سے فرشتوں سے ڈر رہے تھے۔فرمایا: ” اور ابراہیم کے فرشتوں نے داخل ہوکر سلام کیا تو کہا کہ بیشک ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ ڈرو مت بیشک ہم تمہیں عالم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ کہا کہ مجھے بشارت دیتے ہو بڑھاپے میں تو کس چیز کی بشارت دیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم حق کی بشارت دیتے ہیں، پس ناامید نہ ہونا۔ کہا کہ اپنے رب کی رحمت سے کون مایوس ہوتا ہے مگر گمراہ لوگ ! کہا کہ اے بھیجے ہوئے تو تمہارا کیا مقصد ہے؟۔ کہا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں مگر لوط کی آل ان سب کو نجات دیں گے مگر اس کی بیوی کو۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔ جب آل لوط کے پاس فرشتے آئے ۔ کہا کہ تم منکر قوم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیرے پاس وہ لائے ہیں جس میں یہ جھگڑتے ہیں اور ہم تیرے پاس حق لیکر آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں پس اپنے گھر والوں کو رات کے کسی پہر لیکر نکلواور آپ ان کے پیچھے چلو اور کو ئی بھی تم سے پیچھے متوجہ نہ ہو اور چلے جاؤ جیسے کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے فیصلہ کردیا اس کی طرف کہ صبح ہوتے ہی ان کی چوتڑ کاٹ دی جائے گی”۔(سورہ الحجر آیات:52تا66)

ولاینال عہدی الظالمین

دو فرزنداسحاق و اسماعیل سورہ حجر میں غلام علیم کون؟۔قوم لوط کا عمل اور مایوسی بڑھ جائے تویہ بشارت بہت مفید ہے۔

برصغیر پاک وہند ، وزیرستان کے کلچر اور اسلام کو مربوط کریں تو جانوروں سے بدتر حالات ٹھیک ہوں۔ قرآن کی واضح تعلیم کو عام فہم بنانا لازم ہے۔ موٹی موٹی باتیں ذہن نشین ہوں توپھر جلد اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی ۔انشاء اللہ العزیز ۔

اسلام کی نشاة ثانیہ کا واضح خاکہ پہلے بھی مختلف سورتوں سے واضح کیا ہے۔مکمل سورہ ”ص” کو سمجھ کرچودہ طبق روشن کریں:

”ص اور قرآن نصیحت والا،بلکہ منکر عزت اور کم بختی میں ہیں… ہم نے ان سے پہلے زمانے میںکتنوں کو ہلاک کیاپھر اس وقت انہوں نے پکارا جب خلاصی کا وقت گزر چکا تھا… اور انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں کوئی ڈرانے والا آیااور کافروں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے… کیا اس نے معبودوں کو ایک کردیا ہے بیشک یہ بہت عجیب بات ہے۔ پس ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے الگ ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بیشک اس کے پس پردہ کوئی ایجنڈا ہے… ہم نے پچھلوں سے یہ نہیں سنا اور بیشک یہ کوئی بنائی ہوئی بات ہے… کیا ہم میں سے اس پر نصیحت اتاری گئی بلکہ ان کو تو میری نصیحت میں بھی شک ہے۔ بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا… یا انکے پاس تیرے زبردست دینے والے رب کی رحمت کے خزانے ہیں۔ یا انکے پاس آسمانوں ، زمین اور انکے درمیان کی حکومت ہے…تو اسباب کے ذریعے چڑھ جائیں گے… وہاں پرلشکرہے جس سے سارے گروہ شکست خوردہ ہیں… اس سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور عاد اور بساط دنیا پر لنگر انداز فرعون نے… اور ثمود اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ اور یہ وہ گروہ ہیں… ان میں ہرایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور عذاب تک جاپہنچے… یہ لوگ نہیں انتظار میں مگر ایک چیخ کے جس سے دیر نہیں لگے گی… اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں کاٹ ڈال یوم حساب سے پہلے انکی باتوں پر صبر کراور یاد کرو ہمارے بندے داؤد کو بیشک وہ ہاتھ والا تھا اور رجوع کرنے والا تھا… بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کیا جو صبح و شام تسبیح کرتے تھے اور پرندے جمع ہوتے اور ہر ایک اس سے رجوع کرتااور ہم نے اسکے ملک کو مضبوط کیا اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن تقریر کی صلاحیت دی… تو کیا تمہیں خبر ہے جھگڑے والے کی جب محراب کو پھاند آئے… جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو ان سے گھبرا یا…انہوں نے کہا کہ ڈرو مت ، ہم دوجھگڑنے والے ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی …پس ہمارے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کر اور التواء مت ڈالو اور ہمیں سیدھی راہ کی رہنمائی کیجئے … یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس99دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہے تو اس نے کہا کہ یہ بھی مجھے دیںاور وہ مجھ سے گفتگو میں تگڑا ہے… کہا کہ تحقیق اس نے آپ پر ظلم کیا تمہاری دنبی کو اپنے دنبیوں کے ساتھ ملانے کا سوال کرکے …اور بیشک بہت سارے مشترک مالکان ایک دوسرے کیساتھ زیادتی کرتے ہیں بجز جوایمان اور درست اعمال والے ہیں اور وہ بہت کم ہیں… بس داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اس کو فتنے میں ڈالا اور اپنے رب سے معافی مانگ لی اور جھک کر گرپڑا اور توبہ کرلی…پس ہم نے اس کو وہ چیز معاف کردی اور اس کیلئے ہمارے پاس مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ،پس لوگوں میں حق کیساتھ فیصلہ کرو…پس خواہش کے پیچھے مت چلو تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردے گی… بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے گمراہ ہوئے تو ان کیلئے سخت عذاب ہے جو حساب کے دن کو بھول گئے… اور ہم نے آسمان و زمین اور انکے درمیان میں جو پیدا کیا، باطل نہیں ہے… یہ کافر لوگوں کا گمان ہے تو ہلاکت ہے کافروں کیلئے آگ سے…کیا ہم نے ایمان اوردرست اعمال والے زمین میں فسادیوں کی طرح بنائے یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح بنایا… کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی مبارک تاکہ اس کی آیات پر غور کریں اور تاکہ عقلمند نصیحت لیں اور ہم نے داؤد کو سلمان عطا کیا ، اچھا بندہ تھا…بیشک وہ رجوع کرنے والا تھا… جب اسکے سامنے تیزرو گھوڑے پیش کئے گئے تواس نے کہا کہ بیشک میں نے مال کی محبت کو میرے رب کے ذکر پر ترجیح دی یہاں تک کہ حجاب کا شکار ہوگیا…ان کو میرے پاس لوٹاؤ اور اس کی ٹانگوں اور گردن کو چھوتا رہا…اور ہم نے سلیمان کو فتنے میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا… کہا کہ میرے رب مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کو نہیں ملے…بیشک تو بہت دینے والا ہے… پھر نے اس کیلئے ہوا کو مسخر کیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی نرم جہاں بھی پہنچنا ہوتا تھااور شیاطین کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے…اور دوسروں کو بڑی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا…پس یہ ہماری عطا ہے پس احسان کرو یا اپنے پاس رکھو حساب کے بغیر… اور ان کا ہمارے پاس بڑا مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اور ایوب کویاد کرو جب اس نے رب کو پکارا کہ شیطان نے چھوکر لگایا اور عذاب میں ڈالا…اپنے پاؤں مار اور یہ ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کا ہے… اور ہم نے ان کے اہل کو دیا اور ان جیسے اور بھی ساتھ کردئیے… ہماری طرف سے رحمت اور عقلمندوں کیلئے نشاندہی ہے… اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے پس اس کو مار اور قسم کو مت توڑ … بیشک ہم نے اس کو صابر پایا… بہت اچھاوہ بندہ…وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا تھااور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو یاد کروجوہاتھ اور آنکھوں والے تھے… بیشک ہم نے انہیں گھر کی یاد کیلئے خالص کردیا تھا… اور بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے… اور یاد کرو اسماعیل، یسع اور ذی الکفل کو وہ سب اچھے لوگ تھے… یہ قرآن یادہانی ہے اور بیشک پرہیز گاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے…دائمی باغات ہوں گے…سینسر سے ان کیلئے دروازے کھلیں گے… تکیہ لگائے بیٹھے طلب کریں گے بہت سارے پھل اور مشروبات… اور انکے پاس چھوٹے طیارے ہوں گے پیک قد کے برابر… یہ ہے وہ جس کا حساب کے دن کیلئے تمہارے ساتھ وعدہ ہے… بیشک یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے… یہی ہے اور بیشک سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے… جہنم ہے جس میں وہ پہنچیں گے… پس وہ برا جھولا ہے… یہی ہے پس اس کو چکھو سخت گرمی اور گھپ اندھیرے اور اس کی دیگر قسم کی مشکلات بھی ہوں گی … یہ لشکر ہے جس کو تمہارے ساتھ ٹھونس دیا گیا…ان کی خوش آمدید نہیں ہے وہ بھی دوزخ میں آرہے ہیں… وہ کہیں گے کہ تمیں خوش آمدید نہیں…تم نے یہ بلا ہم پر مسلط کردی ہے… جو بہت برا ٹھکانہ ہے… وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے تو اس کیلئے عذاب کو دوزخ میںڈبل کر… اور کہیں گے کہ ہمیں کیا ہوا ہے کہ جن کوہم سزا دیتے تھے جو اشرار میں سے تھے کہ ان کو نہیں دیکھتے…ہم نے انہیں تمسخر کے ساتھ پکڑا تھا یا ان سے ہم نے آنکھیں پھیر لی تھیں… بیشک یہ دوزخیوں کے آپس کا جھگڑا حق ہے… کہہ دو کہ بیشک میں ایک ڈرانے والا ہوں…اور اللہ کے سواکوئی معبود نہیں جو ایک قہار ہے… رب ہے آسمانوں اور زمین اور جواس کے درمیان میں ہے زبردست مغفرت والا… کہہ دو کہ یہ عظیم انقلاب کی خبر ہے، تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو… مجھے ملاء اعلیٰ کے بارے میں علم نہیں تھاجب وہ جھگڑ رہے تھے مگر جو مجھے وحی کیا گیا مگر میں کھلا ڈرانے والا ہوں… جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں…پس جب اس کو برابر کردوںاور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کیلئے سجدے میں گر پڑو… تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں… اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا… کہا کہ اے ابلیس کس چیز نے تمہیں سجدہ سے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایاتو نے تکبر کیا یا تو بڑوں میں سے تھا… کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں… مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا کہا کہ نکل تم بیشک مردود ہو… تم پر لعنت ہو جزا ء کے دن تک… کہاکہ مجھے بعثت کے دن تک مہلت دے… کہا کہ تمہیں ایک معلوم وقت تک مہلت ہے…کہا کہ تمہاری عزت کی قسم کہ ان سب کو بہکادوں گامگر تمہارے مخلص بندوں کے… کہا کہ حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں … میں جہنم کو بھردوں گا تجھ سے اور جس نے تمہاری پیروی کی سب سے… کہہ دو کہ میں تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں… یہ قرآن نہیں ہے مگر تمہام جہاں والوں کیلئے نشاندہی… اور تم ضرور جان لوگے کچھ مدت کے بعد کہ اس نے جو بڑے انقلاب کی خبر دی ہے”۔

سورہ ص پر تبصرہ : عتیق گیلانی

انبیاء کے کچھ معاملات کا ذکر تاکہ معصوم اور مافوق الفطرت افرادکے انتظار میں مسلمان نہ بیٹھ جائیں، اللہ نے واضح کیا کہ یہ لوگ انبیاء کے منکر ہی نہیں ہیں بلکہ اللہ کی وحی کے منکر تھے۔ نبوت کا دروازہ بند اور قرآن محفوظ ہے بقول مولانا انور شاہ کشمیری اس میں معنوی تحریفات ہیں ۔ مفتی زرولی خان نے کہا ” مولانا انور شاہ کشمیری سید نہیں وزیرستان کے پٹھان تھے”۔ جس نے دیوبند میں پڑھا ، پڑھایا اور آخر میں کہا کہ” میں نے زندگی ضائع کردی”۔ کانیگرم اور دنیا بھر کے بے گناہوں کو سزا دی گئی اور دنیا کے یوم حساب میں جزا مل جائے گی۔ انشاء اللہ

جن کا تمسخر اڑایا گیااور اشرار سمجھا گیا تو مجرم ان کو اپنے ہاں نہ پائیںگے۔کچھ کے خلوص کا غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے جوخود ایک عذاب اور آزمائش سے گزرتے ہیں۔ دنیا میں اصل مجرم الگ کردئیے جائیں گے اورتوبہ نہیںکی تو آخرت الگ ہے۔

سورہ ص میں یوم الدین اور یوم البعث الگ الگ ہیں۔

قاصرات الطرف اتراب

کا تعلق بھی یوم الدین یوم حساب یعنی دنیا سے ہے۔ دائمی باغات کا معنی یہ ہے کہ لیز پر نہیں ہوں گی۔ متشابہ آیات اپنی نظیر وںسے سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کھلی ہوئی عربی زبان میں ہے۔ گاڑی ، جہاز، دروازہ کھلنے کا جدید نظام نہیں تھا تو ہرچیز سے حورمراد لی گئی اور مولوی خود گمراہ ہوگیاتھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لا؟ اور کوثر بشارقتل

عراق کی15سالہ کوثر بشار اپنے کزن کیساتھ شادی کرنے سے انکار پر اجتماعی قتل کی گئی اور پھر اس پر خوشی کا جشن منایا اور قاتلوں نے خوشی میں رقص کیا۔عراق کی میڈیا میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور اس عزت وشرف کے نام پر قتل کو کچھ نے بہت افسوسناک قرار دیا اور پولیس تماشائی بن کر دیکھتی رہ گئی۔

جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی تو اسلام نے روشنی کا چراغ جلایا اور لوگ اسلام کے پروانے بن گئے۔لیکن پھر وقت بدل گیا اور اسلام مسلمانوں کے ہاتھوں اجنبیت کا شکار ہوگیا۔ موجودہ دور میں چراغ تلے اندھیر ے کی طرح مسلمان مظلوم ہیں اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ مذہب کے غلط تصور کا ہے۔

عبدالملک اور حجاج بن یوسف نے اسلام کو اجنبی بنادیا۔ حضرت عمر نے کم عمربچیوں سے متعہ اور اپنی اولاد سے انکار کے سبب متعہ پر پابندی لگائی ۔ جیسے وائٹ ٹیرن کو عمران خان نے سیتاوائٹ سے پیدا کیا اور پھر باپ ہونے سے انکار کردیا۔ قرآن نے عورت کو جو حقو ق دئیے تھے تو سب بحق جاہلیت آمریت اور ملائیت نے غصب کردئیے۔

حجاج بن یوسف نے ایک لڑکی ہند سے اس کی رضامندی کے بغیر شادی کی تو حجاج نے سنا کہ وہ شعر پڑھ رہی تھی۔
و ما ھند الا مھرة عربیة
سلیلة افراس تجللھا بغل
فان ولدت فحلا فللہ درھا
وان ولدت بغل فجاء البغل
”اور ہند تو خالص عربی نسل کی گھوڑی ہے۔مگر اس پر ایک خچر سوار ہوگیاہے۔اگر وہ بہترین نسل پیدا کرے تو کمال اصل کا ہے اور اگر خچر پیدا ہوا تو خچر خچر ہی لاتا ہے”۔

پھر عبدالملک نے اس سے چھین لی اور کہا کہ خود ہی میرے پاس لاؤ۔ وہ راستے میں طعنے دیکر ذلیل کرتی رہی ۔ پہنچی توکہا کہ کتنی قیمتی چیز تجھے سستے میں بیچ دیا۔ عبدالملک سن کر مسکرایا۔

سندھ جیکب آباد میں ایک لڑکی نے مرضی سے شادی کی تو لڑکی والوں نے لڑکے کاپورا گاؤں جلادیا جس میں6سو گھر تھے۔ جس سندھ میں اتنی غیرت ہے تو وہاں فحاشی کے اڈوں کو کیسے چلایا جاتا ہے؟۔ قرآنی آیت کا غلط ترجمہ اور تفسیر ہو کہ زبردستی سے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو تو معاشرے پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہو گا کہ نابالغ بچی کا باپ زبردستی سے نکاح کراسکتا ہے اور والد کی مرضی کے بغیر بھی اغواء شدہ لڑکی کا نکاح معتبر ہے تو کیا نتائج نکلیں گے؟۔

نکاح ایک مقدس قانون ہے اور اس کے قرآن میں بڑے حقوق ہیں۔ ہاتھ لگائے بغیر بھی آدھا حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق طلاق پر فرض بن جاتا ہے۔ عورت کو نہ صرف خلع کا حق ہے بلکہ طلاق کی طرح خلع میں بھی شوہر کی دی ہوئی اشیاء کو ساتھ لے جانے کا حق ہے۔ جاندار کی تصویر کو ناجائز سمجھا تو کھلاکردار ادا کیا۔ جلسہ وزیرستان میںمولانا نورمحمدMNAشہید اور مولانا اکرم اعوان کی موجودگی میں کیمرے ہٹائے پھر تصویرکو جائز سمجھ کر اپنی تصویر چھاپ دی تو مولوی نے ساتھی سے کہا کہ یہ تصویر کو دیکھ کر ہماری بیویاں ہمیں چھوڑ دیں گی۔

نکاح نہیں لونڈی اور متعہ ومسیار والا معاملہ ہے۔ عورت شادی پر راضی نہیں تو زبردستی جائز نہیں مگر عورت کیلئے یہ رعایت ہے کہ اگر وہ رہنے پر مجبور ہے تو اللہ غفور رحیم ہے۔ بنوامیہ اور بنوعباس کے ظالموں حکمرانوں نے ایفسٹین فائل سے زیادہ جاہلانہ مذہبی مسائل کی بنیاد رکھ دی ۔

وجعلوا القرآن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینO(سورہ الحجر)

”اور انہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا۔ تیرے رب کی قسم کہ ہم ضرور بضرور ان سے پوچھیں گے”۔

سعد بن وقاص نے کہا کہ نبیۖ نے فرمایا” اہل غرب قیامت تک حق پر قائم رہیں گے”(صحیح مسلم)صرف مغرب کو دین کی صحیح حالت پہنچائیں مگر وہاں بھی حلالہ سینٹر مذہبی طبقات کی بدولت بن گئے ہیں۔

قرآن میں بالکل واضح ہے کہ باہمی رضامندی کے ساتھ عدت کے اندر اور عدت کے بعد معروف رجوع ہوسکتا ہے اور عورت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ نبیۖ کی سنت اور حضرت عمر اور حضرت علی کے فیصلے قرآن کے عین مطابق ہیں۔ جس قرآن نے پوری دنیا کو بدل دیا آج مذہبی طبقات حلالہ کی وجہ سے یہود کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ نصاریٰ کے ہاں تو مذہبی طلاق نہیں لیکن3سوسال پہلے وہ قرآن کو مان گئے ہیں۔
ــــــــــ

قاصرات کم عمر بچیاں۔ متشابہ آیت کی درست تفسیر سمجھو!

بچی یاسمین مسجد پڑھنے نکلی تو لاہور سے دلال نے اغواء کیا، سندھ میں بیچ دیا، بازیاب ہوگئی۔ پختون بچی کو سندھ اغواء کیا گیا۔ غلط سماجی اقدار اور مذہب کی غلط تشریح نے ملک و ملت کو بے حس کردیا۔اسلئے درست اسلام کو سمجھنا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شاہ عنایت شہید سندھ کا عظیم سپوت

7جنوری کو شاہ عنایت کی308ویں برسی منائی گئی، ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈائریکٹر ناصر منصور کیساتھ ہیں پروفیسر ساجدہ چنا صوفی حضور بخش اور گل حسن منگی بھی ساتھ تھے۔ سندھ کے عظیم سپوت شاہ عنایت شہید کے جو بوئے وہی کھائے کا نعرے سندھ کی فضاؤں سے بلند کر کے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پہنچانا ہوگا، اسوقت پاکستان کی زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ دوسری طرف پوری دنیا عالمی سرمایہ داروں کے روپ میں ایک جدید جاگیرداری نظام کا جال بچھا چکی ہے اسوقت دنیا کی تقریبا آدھی دولت بل گیٹس جیسے صرف100افراد کے قبضے میں جا چکی سسکتی عالم انسانیت کو ان عالمی ساہوکاروں کے چنگل سے شاہ عنایت شہید کے جو بوئے وہی کھائے ،جیسی انقلابی سوچ سے ہی نجات دلوائی جا سکتی ہے۔

تبصرہ : نوشتۂ دیوار : فاروق شیخ
جب سود کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے زمین کو مزارعت پر دینا بھی سود قرار دیا جس پر چاروں ائمہ کا اتفاق بھی ہے اور مدینہ کی ریاست نے اس کی وجہ سے بہت سارے اہداف حاصل کئے۔ پہلا ہدف : اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشنودی۔ دوسرا ہدف: محنت کشوں کو اپنی محنت کا پورا پورا منافع جس کی بنیاد پر کارل مارکس نے قدر زائد کا نظریہ ایجاد کرکے دنیا میں ایک بڑا انقلاب برپا کردیا۔ شاہ عنایت شہیدنے اس فکر کو اسلام سے اخذ کیا تھا۔تیسرا: ہدف : جب مزارعین کو اپنی محنت کا پورا پورا صلہ مل گیا تو وہ ریاست کو بھی10فیصد اور5%ٹیکس دینے لگے۔ عوام خوشحال اور حکومت بھی خوش حال۔ چند افراد کی وجہ سے عوام پر گدھوں اور گھوڑوں سے بھی زیادہ بوجھ لادا جائے گا تو ریاست اور عوام دونوں ناکارہ ہوجائیں گے۔ چوتھا:ہدف: آج اگر مزارعین کو مفت زمینیں مل جائیں تو پھر بے روزگاری کا بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا اور کھانے پینے کی چیزیں بھی دسترس کے مطابق دستیاب ہوں گی۔اگر عوام خوش حال ہوں تو ملک و حکمران بھی خوشحال ورنہ پھر بدحالی ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق
بلکہ ہم حق کو باطل پر مارتے ہیںجو اس کاسر کچلے تومٹ گیا

حضرت آدم و حواء کا قصہ ادب کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس درخت کے قریب دونوں نہ جاؤ۔ تو دونوں نے کھایا۔ جس سے وہ ننگے ہوکر جنت کے پتوں سے خود کو چھپانے لگے۔اللہ نے فرمایا کہ” اے بنی آدم شیطان تمہیں ننگا نہ کردے جیسے تمہارے والدین کو ننگا کیا تو ان کو جنت سے نکلوادیا”۔ شیطان نے شجرہ خلد کی لالچ سے ورغلایا۔ شجرہ خلد شجرہ نسب ہے۔ عربی وسیع زبان ہے۔ اکل کھانے کو بھی کہتے ہیں اور کھجانے کو بھی۔ جماع ،مباشرت جمع اور براہ راست لیکن جنسی تعلق ادب کیلئے آتاہے ۔ لامستم النساء چھونے سے جنسی استعارہ لیا ۔ اکل سے کھجانا، کلیہ ، جامعہ یونیورسٹی بھی ہے۔

قرآن ادب کاشاہکارہے

” وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جنس سے پیدا کیا اور اس میں سے اس کاجوڑا بنایا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ پس جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا اور اس کو ہلکا سا حمل ٹھہرگیا اور پھر وہ اسے لئے پھرتی رہی ، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تب دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ آپ ہمیں بالکل تندرست بچہ عطا فرما۔ تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اللہ نے تندرست اولاد دی تو اللہ کے دیے ہوئے میں دوسروں کو شریک بنانے لگے ،اللہ بلند ہے جن کو شریک کرتے ہیں”۔ (سورہ الاعراف:آیت189،190)

بے مثال کمال ادب سے جنسی تعلق اور بچے کی پیدائش کو بیان کیا ۔ سورہ النساء آیت25میں اللہ نے فرمایا:
”اور جس کو بیگمات نکاح کیلئے میسر نہیں تو متعہ والی مومنات لڑکیوں سے نکاح کرو ۔

اللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض

ٍ” اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے اور تم بعض میں بعض ایک جنس سے ہو”۔ (شادی کے بعد کمتر نہ سمجھو اور تمہارا دل اللہ جانتاہے)

سورہ النساء آیت23:

وربائکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

محرمات کو واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ ”اور تمہاری وہ لے پالک بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں تمہاری ان بیویوں سے جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے ان میں نہیں ڈالا ہے تو پھر تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں ہے”۔یہاں برہنہ الفاظ میں جنسی تعلقات کو جس انداز میں دہرایا گیا ہے تو ایسا ڈائجسٹ اور عشقیہ کہانیوں کی کتابوں میں بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟۔

جب ضرورت پڑتی ہے تو الفاظ سے زیادہ اس کام سے منع کرنے کا اہتمام ضروری بن جاتا ہے جس میں لوگوں کے مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو۔ سوتیلی بیٹی جوان بن جائے اور اس پر دل آجائے تو شادی کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے جاسکتے تھے مگر اللہ نے بہت زور دار الفاظ میں حقیقت انسان کے دل و دماغ میں ایسی اتار دی کہ اگر وہ کوئی ضمیر رکھتا ہے تو اس غلطی کا پھر سوچے گا بھی نہیں ۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ اللہ علام الغیوب ہے اور اس کو پتہ تھا کہ حنفی شافعی اختلافات کی بنیاد پر فقہاء کمینہ پن کی انتہاء کو کہاں تک پار کریں گے؟۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ علی کے پاس ایک شخص آیا کہ میری بیوی مر گئی ہے ۔ علی نے کہا کہ تمہاری بیوی سے کوئی بیٹی ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ پوچھا کہ تیری اپنی بیٹی ہے یا سوتیلی؟۔اس نے کہا کہ سوتیلی۔ پوچھا کہ تیرے حجرے میں پلی ہے یا باہر؟۔ اس نے کہا کہ باہر۔ علی نے کہا کہ اس سے شادی کرلو۔ بخاری میں ہے کہ ام حبیبہ نے نبیۖ کو اپنی بیٹیوں کی پیشکش کردی اور نبیۖ نے فرمایا کہ یہ مجھ پر حرام ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اپنی بہن کی پیشکش کردی ۔ گویا قرآن کی واضح آیت میں امہات المؤمنین کو بھی محرمات کا پتہ نہیں تھا؟۔ پھر علامہ ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ امام ابوحنیفہ17احادیث کو مانتے تھے۔ ابواؤد نے5لاکھ میں48سو احادیث کو قابل اعتماد سمجھا ہے اور پھر ان میں بھی ضعیف ہونیکی نشاندہی کردی تو امام ابوحنیفہنے اپنی توجہ قرآن پر مرکوز کرنے کو ترجیح دی ۔ مصنف عبدالرزاق بھی تضاد کا شکار ہے۔

پھر حنفی مسلک والے نے جس طرح غلو کی حد کردی ہے تو اس سے بچنے کیلئے سورہ النساء آیت23کے یہ الفاظ بالکل ہی سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس میں حرمت مصاہرت کیلئے دو چیزیں واضح ہیں ۔ ایک نکاح اور دوسرا عورت کیساتھ جماع ۔

من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

” تمہاری عورتیں جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے نہیں ڈالا ہے توپھر تم پر اس کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیںہے”۔

شرعی حکم بالکل واضح ہے کہ مسئلہ بیوی کے رشتے کا ہے اور اس میں ڈال دیا ہے یا نہیں ڈالا ہے؟۔ آسمان پھاڑ کر فرشتوں نے دلے کے بچوں کو نہیں سمجھانا ہے۔ سود کو ماں کیساتھ زنا بھی قرار دیا اور جواز بھی بخشا تو یہ دجال اکبر سے بڑے نہیںہیں؟۔

جھلسادینے والے جملے بھرپور طریقے سے نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ مسلک حنفی کے نام پر گدھے کا بچہ فتویٰ دے رہاہوگا کہ اگر جوان بیٹی، بہو اور ساس پر ہاتھ لگ گیا تو اگر شہوت کا احساس ہوگیا تو پکڑ کے رکھو جب تک خارج نہیں ہو ، چھوڑ مت اور اگر چھوڑی تو تمہاری بیوی پر تمہاری بیٹی کا حکم لگے گا اور تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کیلئے حرام ہوجائے گی۔ اتنے بکواسات ہیں کہ خدا کی پناہ۔

قرآن کا یہ بہت بڑا اعجاز ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کہ14سو سال قبل ایسے جملے استعمال کردئیے کہ جیسا بعد کے دور کا پہلے سے مشاہدہ ہو۔ اور یہ بھی اصول فقہ کی کتاب ”نورلانوار” میں پڑھاتے ہیں کہ اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے دیکھا اور شہوت آگئی تو عذر کی وجہ سے معاف ہے اور اگر اندور نی حصہ پر شہوت کی نظر پڑگئی تو یہ نکاح ہے اور اس کی وجہ سے ساس بیوی بن جائے گی اور بیوی حرام ہوجائے گی۔ بریلوی مکتب والے فقہ حنفی کے مطابق نکاح کا بہت وسیع معنی لیتے تھے کہ حرام کاری اور حلال طریقے سے جماع نکاح ہے تو حلالہ کیلئے صرف ہمبستری کافی ہے۔

دیوبندی مکتب نے جب اسلام کی نشاة ثانیہ کرنی تھی تو فقہ حنفی کے خلاف حلالہ میں سب کچھ لازم کردیا۔ نکاح ، گواہ اور عدت جس کی و جہ سے لوگوں کو حلالہ کی لعنت کا پتہ چل گیا ۔ پھر تبلیغی جماعت نے اس کھیل کو بہت زندہ کردیا۔ حلالہ کیساتھ ساتھ مونچھ منڈوانے کا ماحول بھی پیدا کردیا اور ایک جذبہ پھر مونچھ والوں نے ہی یہ بھی پیدا کردیا کہ ” جان پر آئے تو مال کو قربان کردو، عزت پر آئے تو جان کو قربان کردو اور اگرایمان پر آئے تو عزت کو قربان کردو”۔ پھر حلالہ پریکٹس میں آگیا ۔

یہ بہت بڑا اتفاق تھا کہ مجھے مدارس میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ عوام میں علماء جو دین پھیلاتے ہیں وہ اس سے بالکل الگ ہے جو پڑھاتے ہیں لیکن پڑھانے والے زیادہ تر خود بھی نہیں جانتے کہ کیا پڑھا رہے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی تعریف ہی علماء مدارس میں وہ پڑھاتے ہیں جن کا للو کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے مطالب اور نتائج کیا ہیں؟۔جس قرآن کو بے و ضو ہاتھ لگانا جائز نہیں سمجھتے تووہی لوگ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ الحمدللہ ہم نے اس پر ایک عرصہ سے علماء کرام کے سامنے یہ باتیں رکھی ہیں اور وہ سمجھ بھی گئے لیکن آزاد نہیں ہیں ۔ مذہبی طبقات کے ماحول نے بری طرح جکڑ رکھا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا فضل الرحمن کا وحدت کانفرنس سے خطاب اور عتیق گیلانی کا تبصرہ

الحمد لِلہِ نحمدہ ونستعِینہ ونستغفِرہ

وعد اللہ الذِین اٰمنوا مِنکم وعمِلوا الصالِحاتِ لیستخلِفنہم فِی الارضِ کما استخلف الذِین مِن قبلِہِم ولیمکِنن لہم دِینہم الذِی ارتضی لہم ولیبدِلنہم مِن بعدِ خوفِہِم امنا یعبدوننِی لا یشرِکون بِی شیئا ومن کفر بعد ذلکِ فاولئکِ ہم الفاسِقون صدق اللہ العظِیم۔

جنابِ صدر ، اکابر علماء کرام، مشائخ… کراچی یہ فقید المثال اجتماع آپ کی بیداری، جمعیت کے نصب العین سے گہری وابستگی اور پاکستان کی ترقی کیلئے پرعزم ہونے کی دلیل ہے۔

محترم دوستو! اُمت مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی بربریت اور ظلم کا شکار ہے۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انکے بارود کی بارش امت مسلمہ پہ ہو رہی ہے۔ اپنی طاقت افغانستان ، عراق، لیبیا میں آزمائی ۔فلسطین اور غزہ پر جو بیتی ساری دنیایہ منظر دیکھتی رہی اور مجھے افسوس ہے کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، ان کا ضمیر سویا رہا، وہ اس احساس سے محروم نظر آئے کہ ہمارے بھائیوں پہ صیہونیوں کے ہاتھوں کیا بیت رہی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المومنین فی توادہم وتعاطفہم وتراحمہم کمثل جسد واحد اذا اشتکی عینہ اشتکی کلہ واذا اشتکی راسہ اشتکی کلہ واذا اشتکی عضو تداع لہ سائر الجسد بالسہر والحم

”تمام ایمان والوں کے آپس کے بھائی چارے، دوستی اور باہم مہربان ہونے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کہ اگر اسکے سر میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، اگر اس کی آنکھ میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، جسم کے کسی حصے میں اگر درد مچل رہا ہو تو ساری رات جاگ کر گزرتی ہے، بخار کی حالت میں گزرتی ہے”۔ آج میں امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے دلوں کو ٹٹولیے، کیا اپنے مسلمان بھائی پر جب ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے آپ کو کچھ بھی تکلیف کا احساس ہوا؟

ذراسوچنا پڑے گا۔ جمعیت علمائے اسلام ایک آواز، ایک نظریہ ، ایک تاریخ ہے ،جس کی پشت پر200سال فرنگی کیخلاف جہاد، آزادی کیلئے قربانیوں کی تاریخ ہو۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کہنا چاہتا ہوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی کہ جمعیت کو سیاست مت سکھا ؤ!جمعیت سے سیاست سیکھو!۔( اللہ اکبر! جمعیت علماء اسلام زندہ باد!جمعیت سے ٹکراؤ گے، پاش پاش ہو جاؤ گے)۔

جمعیت علمائے اسلام کا منشور ہے کہ اسلامی بلاک وجود میں آئے۔ مشترکہ سیاسی حکمت عملی، اقتصادی نظام، دفاعی معاہدہ امت کو ایک جسم بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہم نے حکمرانوں سے اختلاف کو بھلا دیا اور اس کی حمایت کی۔ آگے بڑھانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اب بیت المقدس ،قبلہ اول، فلسطین تک محدود نہیں ،یہ عرب دنیا سے آگے بڑھتے ہوئے ایران تک پہنچ گیا، اگر ہم نے سمجھا کہ یہ صرف ایران کا معاملہ ہے، ایران جانے اور مسئلہ جانے تومیں اپنے حکمرانوں اور عوام کو بیدار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایران کو اسرائیل سر کر لیتا ہے تو اسرائیل پاکستان کے دروازے پر کھڑا ہے۔ذرا سمجھو اس بات کو۔ بین الاقوامی قوتیں کس منافقت، کن ناجائز حربوں کے ساتھ امت مسلمہ کا خاتمہ ، بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، حرمینِ شریفین نشانے پر ہے اور میں عرب دنیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپس کے جھگڑوں کا نہیں، امت کی وحدت کا وقت ہے۔ اپنا دفاع ایک کرو، اپنا اقتصاد ایک کرو، اپنی سیاست ایک کرو، ہم آہنگی پیدا کرو، کوئی تمہارا دفاع نہیں کرے گا۔ آئیں! ایک دفاعی قوت بن کرہم اسلامی دنیا کو مضبوط بلاک بنائیں اور اکٹھے ہو کر امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کریں۔

محترم دوستو! لیکن کون کرے؟ پاکستان کے یہ حکمران؟ کس کس بات کو روؤں؟ ”اے پختونہ ورورہ، پڑدوگ دے سوڑے سوڑے را وڑو، چہ سو ڑے گنڈم ماتہ جڑا رازی ”۔
(ترجمہ: اے پختون بھائی ! تم اپنی شلوار سوراخ سوراخ لائے ہو، جب میں اس کو سیتا ہوں تو مجھے رونا آتا ہے)

سنجیدہ ہو جائیں ذرا ۔ پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے۔ جمعیت علمائے اسلام قومی یکجہتی کی علمبردار جماعت ہے۔ ہم مسلمان ایک عقیدہ ہے، تعصب اور نفرتوں کے قائل نہیں۔ آئیں ہم اپنے اختلاف پہ بات کریں لیکن سلیقے ، شائستگی کے ساتھ۔ نفرتوں کی سیاست ہم اٹھاتے نہیں ہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کر رہے، ہم پاکستان میں اصولوں کی اور محبت کی سیاست کرتے ہیں۔

پاکستان آئین، قانون رکھتا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر آئین پر حلف اٹھایا۔ ہم اس کے وفادار ہیں لیکن جو لوگ ملک، سرحدات، ملکی سیاست، معیشت کے محافظ ہیں، اگر وہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہیں، قانون کو موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں جیسے چاہیں موڑ دیں تو پھر ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے کے ذمہ دار آپ ہیں۔ میں دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، نظم و نسق چلانے والے اداروں اور اصولی سیاست کا احترام کرتا ہوں لیکن اپنے حدود سے تجاوز کرو گے تو ہم سامنے کھڑے ہوں گے، مقابلہ بھی ہم کریں گے اور انشااللہ

تم مجرموں کیساتھ مقابلہ کر رہے ہو ،جو مقابلہ نہیں کر سکتے، جمعیت علمائے اسلام پاک، صاف، شفاف اور عقیدے پر پختہ اور پرعزم جماعت اگر اس کو تم نے مد مقابل میں لانے کی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کرو گے اور کوئی راستہ تمہارے پاس نہیں۔ (نعرے:اللہ اکبر!یہ آواز، یہ قوت، جمعیت جمعیت! امت کی وحدت، ملت کی وحدت، ملکوں کی وحدت، انسانوں کی وحدت، تیری قوت میری قوت، جمعیت جمعیت)

میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جمعیت موثر قوت ہے، اگر آج پاکستان باقی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسکے فضل و کرم کو گواہ بناتے ہوئے کہتا ہوں کہ جمعیت کی برکت سے پاکستان باقی ہے۔ ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن، کتنے عہدیدار، جید علماء کرام نشانہ بنے کس گناہ پر؟ کونسا گناہ کیا تھا ؟ اگر کسی دوسری جماعت کیساتھ ظلم ہوتا ہے ہم وہاں بھی ظلم کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں لیکن جمعیت علماء کا گناہ بتائیے، ان کے علماء کو کیوں شہید کیا جا رہا ہے؟ اسلئے کہ جو ہمیں قتل کر رہے ہیں ان کو پتہ ہے کہ جس ملک کو ہم توڑنا چاہتے ہیں جمعیت توڑنے نہیں دے رہی۔ ہم تو پگڈنڈی پہ سفر کر رہے ہیں ایک طرف سے دباؤ آتا ہے، کبھی دوسری طرف سے دباؤ آتا ہے۔ ہم الیکشن لڑتے ہیں، ہم پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ دھاندلیاں کر کے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھتی ہے۔ ایک طرف کچھ جاہل قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں اور ایک طرف پاکستان کے وفادار ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کیلئے انتخابات میں دھاندلیاں کرتے ہیں، تو ہم کدھر جائیں؟۔

زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

اس پگڈنڈی پر ایک طرف بھی ہم پر گولیاں برس رہی ہیں اور باجوڑ سے کراچی تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں۔ باجوڑ میں80جنازے ایک ہی اجتماع سے اٹھائے۔ وزیرستان کے تمام اضلاع کے امراء دہشتگردوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ مہمند، کرم ، وزیرستان جائیں، علماء ہی نشانے پہ کیوں؟ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان حربوں سے جمعیت علماء اسلام کے پایہ استقامت کو متزلزل کر سکیں گے، یاد رکھیں ہم نے اپنی تاریخ سے سر اٹھا کے چلنا سیکھا، کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا ہے۔
(نعرے: نعرہ تکبیر، اللہ اکبر! زندہ ہے جمعیت، زندہ ہے جمعیت! یہ تیری جمعیت، قائد کی صورت میں جمعیت)

لیکن میری جان، مال ،عزت و آبرو کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ میں ریاست کو اس اجتماع کی وساطت و تائید کیساتھ واضح پیغام دینا چاہتا ہوںکہ مجھے جو بھی قتل کرے میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا میں اسٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا۔ اطلاع بھیجتے ہیں تھریٹ لیٹر، فون آتا ہے آپ فلاں علاقے میں نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے میں نے کہا جاؤں گا! (نعرہ تکبیر، اللہ اکبر!قائد تیری جرأت کو سلام!پھر یہ بھی بتا دیں کہ قائد کے اگر ایک بال کو بھی کسی نے بیکا کیا، خدا کی قسم یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، قائدِ محترم کے جانثار ہم یہاں موجود ہیں، کسی مائی کے لال کو قائد کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے انشااللہ! قائد تیرے جانثار، بے شمار بے شمار!)

پہلے ہمارے حکمران خارجہ پالیسی ٹھیک کریں۔ پاکستان کی دو سرحد ہیں۔ مشرقی سرحد پر ہندوستان وہ سرحد بھی بند، مغربی سرحد پر ڈھائی ہزار کلومیٹر تک افغانستان ہے یہ سرحد بھی بند۔ چین پاکستان پر اعتماد کھو رہا ہے، وہاں سے بڑی خیر کی توقع نہیں ۔ ایران کے حالات کہ اب نہ وہ اچھے کا ہے نہ برے کا، تو ملک محصور ہو گیا۔ پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال ہے اور کہتے ہو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، تم خود بھی پھنس چکے ہو، قوم بھی محصور ہے اور پاکستان کے عوام آج رل رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہوا ہمارے حکمرانوں کے آبنائے ہرمز بند ہو گئے۔ انڈیا میں ایک روپے پٹرولیم مصنوعات مہنگی نہیں ہوئیں، بنگلہ دیش میں صرف16فیصد قیمتیں بڑھی ہیں اور ہم ہیں کہ یہاں61فیصد ہم نے قیمتیں بڑھا دیں۔ جبکہ ایران کا تیل اسی مقدار سے آ رہا ہے جتنا آبنائے ہرمز بند ہونے سے پہلے آ رہا تھا، تو سیدھی بات ہے ایران کیساتھ معاہدہ کرو جائز طریقے سے تیل برآمد کرو ۔IMFامریکہ ناراض ہو گا اور کمیشنیں نہیں ملیں گی پھر۔ پورے سمگلنگ کی نگرانی یہ لوگ خود کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا ہ میں45سال سے خون بہہ رہا ہے آج کی بات نہیں۔1979سے ابھی طالب علم تھا، یہاں جنگ شروع ہوئی ہمارے سرحد پر اور آج میں73سال میں داخل ہو گیا۔ مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے جی۔ بلوچستان خون میں نہا رہا ہے۔ سندھ تو ویسے ڈاکوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ (کچھ ڈاکو کچے کے کچھ پکے کے) یار سمجھا کرو نا خدا را۔ سارے اختیارات کہتے ہیں ہم مستثنیٰ ہیں۔ صدر مستثنیٰ ، زندگی بھر اسکے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا۔ ایسا پاک صاف شفاف، یہ تو اسٹیبلشمنٹ بڑی بیوقوف اور احمق ہے جس کو پتہ نہیں کس کس جرم میں آٹھ دس سال جیل میں رکھا۔ کبھی اتنا بڑا مجرم کہ جیل میں اور کبھی اتنا پاک ، شفاف شخصیت کہ کوئی کیس نہیں ہو سکے گا اور تاحیات؟ یہ میرا موضوع نہیں۔ جناب رسول ۖنے خود کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ دعوت دی کوئی ہے کہ جس کا میرے اوپر حق ہو تو وصول کر لے۔ ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ میرا آپ کے اوپر ایک حق ہے، میں وصول کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا حق ہے آپ کا ہمارے اوپر؟ کہا: آپ نے مجھے ایک چھڑی ماری تھی، میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا آؤ۔ کہا: نہیں آپ نے مجھے پیٹھ پہ مارا تھا، میں نے بھی آپ کو پیٹھ پہ مارنا ہے۔ آپ نے پیٹھ کر دی، کہا میری پیٹھ ننگی تھی، مجھے بدلہ لینا ہے۔ رسول ۖ نے پیٹھ ننگی کر دی۔ وہ صحابی تھا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، لپٹ گیا اور آپ کی پیٹھ مبارک کو چومتا رہایہاں تک کہ مہر نبوت کو چوما۔ آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ میں پیغمبر مستثنیٰ ہوں۔

حضرت عمر خود قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئے، یہ تو نہیں کہا کہ میں امیر المومنین ہوں اور مدعی کو حق نہیں کہ میرے خلاف کیس درج کر سکے۔ حضرت علی کی عدالت میں تو کوئی مستثنیٰ نہیں تھا وہ خود بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ یہ کیا قانون سازیاں ہو رہی ہیں۔18سال سے کم عمر شادی نہیں کر سکتے اور اگر شادی کر لی تو اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا لیکن اگر بچہ پیدا ہو گیا تو بچہ حلالی ہو گا۔ یہ ہماری قانون سازی ہے۔

ملک ان سے نہیں چل رہا۔ بینک ،PIA، تمام سرکاری ادارے یہاں تک کہ کالج اور یونیورسٹیاں ، سکول تک بیچے جا رہے ہیں پرائیویٹ سیکٹر میں لیکن دینی مدرسہ پرائیویٹ سیکٹر پر قبضہ ہو رہا ہے۔ یہ عقل ہے؟ اس عقل والوں سے ہماری جنگ ہے۔ مجھے پتہ ہے امریکہ کا مدرسے کیساتھ دشمنی کون کر رہا ہے، کس کی کس کیلئے وہ مشکل بنا ہوا ہے۔ قانون پاس ہو چکا ہے، جس طرح ہم نے کہا تھا اسی طرح پاس ہوا۔ اب عملدرآمد نہیں ہو رہا، صوبوں میں قانون سازیاں نہیں ہو رہی اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس طرح مدرسوں کو غیر موثر بنا دیں گے، تمہارا باپ بھی دینی مدرسے کو ختم نہیں کر سکے گا انشا اللہ العزیز۔

یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے، تحریک اٹھانی ہے، ملک میں ہمیں امن چاہیے، انسانی حقوق کا تحفظ اور خوشحال معیشت چاہیے۔ ہم نے مہنگائی کیخلاف مظاہروں کا اعلان کیامگر انہی دنوں میں ایران امریکہ کے درمیان پاکستان نے ثالثی کا عمل شروع کیا۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی قیادت اتر رہی تھی تو ہم نے سوچا کہ ہمیں ملک کیلئے مشکل پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے وہ مظاہرے موخر کیے، منسوخ نہیں کیے۔ اب انشا اللہ العزیز22مئی کو جمعے کے روز ملک بھر کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ ہم عوام کیساتھ دکھ درد میں کھڑے ہیں جہاں بدامنی ہے وہاں بھی عوام کیساتھ ہیں، اپنا خون دے رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ آج جب میں گفتگو کر رہا ہوں تو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کی جھیل میں کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں۔

شیخ ادریس کو تم نے کیوں قتل کیا؟ جرم کیا تھا؟۔ روزانہ2800طلبا کو پڑھاتا تھا،1300طلبہ ایک مدرسے ،1500طلبہ دوسرے مدرسے میں۔ جمعیت کی مرکزی شوری کا رکن ، صوبائی اسمبلی میں ہمارا ممبر رہا ہے۔ امن کی بات کرتا تھا۔ اگر دنیا میں قیامِ امن کیلئے پاکستان حرکت میں آتا ہے تو سب سے پہلے ہم تائید کرتے ہیں۔ اگر انڈیا کیخلاف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کرتے ہیں تو ہم شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی سیاست میں اگر علماء کرام جاتے بھی ہیں تو ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کر کے پارلیمانی کردار سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ تم پارلیمنٹ کے کردار سے ہمیں محروم کر سکتے ہو لیکن میدان کے کردار سے محروم نہیں کر سکتے۔ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔ انشااللہ۔

محترم دوستو! ہمارا نصب العین بڑا واضح ہے، ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیںجو معاشی دفاعی لحاظ سے طاقتور ہو، عام آدمی کے حقوق محفوظ ہوں۔ جدوجہد کو انشااللہ جاری و ساری رکھا جائے گا۔ آپ عزم کریں کہ انشااللہ یہ جدوجہد آگے بڑھتی رہے گی۔ ہم انشااللہ4جون کو بلوچستان میں جلسہ کریں گے اور بہت بڑا اجتماع ہو گا،4جون کو پشین میں انشااللہ اجتماعات ہوں گے انشااللہ۔ بہت شکر گزار ہوں آپ کا، اللہ تعالی آپ کے عزم کو اور مضبوط کرے اور انشااللہ جس طرح اس اجتماع میں آپ نے ایک صف ہو کر، ایک قوم ہو کر ثابت کرنے کی کوشش کی، انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں بھی قوم ایک رہے گی اور اس وحدت کے ساتھ ہم کامیابیاں حاصل کریں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ

”اور گھروں میں سکون حاصل کرو اور اپنی چھاتیاں پہلی والی جاہلیت کی طرح مت دکھاتی پھرو”۔ آیت کا ترجمہ و تفسیر ،شرعی حکم اور فتویٰ جو علماء وفقہاء نے اخذ کیاوہ ہو نہیں سکتا ۔آپ کے اجداد خانہ بدوش تھے۔ عورت مارچ کیخلاف جماعت اسلامی پشاور کی خواتین نے حیا مارچ کا اعلان کیا تو جمعیت علماء اسلام نے حمایت اور اپنی خواتین کو شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ حضرت سعد بن عبادہ بڑے جلیل القدر صحابی نے نبیۖ کے بعد مسند خلافت پر بیٹھنے کو اپنا حق قرار دیا تھالیکن رسم اور سماجی اقدار کی آڑ میں کہا کہ ” لعان کے حکم پر میں عمل نہیں کروں گااور بیوی کو جس شخص کیساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا تو قتل کروں گا”۔ نبیۖ نے انصار سے کہا کہ تمہارا صاحب کیا کہتا ہے؟۔ تو انہوں نے کہا کہ اس سے درگزر کیجئے۔اس نے کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی اور جس کو طلاق دی ہے تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی ہے بہت غیرت والا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ (صحیح بخاری)

نتیجہ کیا نکلا؟۔ مولانا یوسف کاندہلوی نے رائیونڈ میںوفات سے3دن پہلے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ ” سعد بن عبادہ نے امت میں توڑ پیدا کی تو اس کو جنات کے ذریعے اللہ نے قتل کروایا”۔ مدینہ چھوڑ کر شام دمشق کے قریب گاؤں میں وہ آباد ہوئے۔ پتہ نہیں جنات نے قتل کیا؟ یا پھر ان بیگمات نے جن کو طلاق کے بعد شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا؟۔ لیکن قرآن میں حلالہ کی لعنت کا حکم نہیں ہے اور اس غیرت کے خلاف حکم ہے کہ کوئی طلاق کے بعد بھی عورت کو شادی نہیں کرنے دیتا تھا اور اگر عوام کوپتہ چلا کہ مدارس نے حلالہ کے نام عزتوں کو لوٹا تو پھر؟…

اگرمولانا الیاس طلاق کا مسئلہ سمجھتے، تبلیغ والے حلالے نہ کرواتے تو بستی نظام الدین و رائیونڈ میں نہ بٹتے، امت کو بھی متحد کرتے مگر یہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر شرمائے یہود؟ اور معاش سودی بیاج، حلالہ کی لعنت سماج، اسلام بھی تاراج ہوتو تمہارے سر پر کونسا تاج ہو؟ ۔کیا معلوم یہ ترقی استدراج ہو؟۔

20سال پہلےMMAحکومت میں ہم پر قاتلانہ حملہ ہوا، پولیس افسر عتیق اللہ کو کہا کہFIRنہیں درج کروں گا۔ذمہ دار تھانہ ہے۔آج مولانا فضل الرحمن نے یہی بات کی لیکن وہ حالات اور تھے اور آج اور۔ معروف صحافی حامدمیر اور انصار عباسی نے جیو نیوز کے پروگرام میں علامہ راشد محمود سومرو کے سامنےGHQسے مولانا فضل الرحمن پر زمینیں لینے کا ثبوت دکھایا اور صوبائی حکومت سے6ہزار کنال زمین لی لیکن کینسل کردی گئی۔ کیا راشد محمود سومرو صحابہ کرام کی سیرت سے یہ نمونہ دکھائے گا کہ مولانا فضل الرحمن سے جلسہ عام میں وضاحت ہی پوچھ لے؟۔ اگر ان زمینوں پر وزیرستان کے بے دخل ہونے والے غریب محسود کیلئے پلاٹننگ کی جاتی اور جھونپڑیاں بنادیتے اور بجلی اور واش روم کی سہولت دیتے تو آج پختونخواہ اس آگ میں نہیں جل رہا ہوتا؟۔ جمعیت علماء اسلام کے علماء کا قصور میں بتاتا ہوں کہ باخبر دلے ہیں۔ مفاد کی وجہ قائد کو پوچھ نہیں سکتے۔

میں اعتراف جرم کرتاہوں، دوست نے فلیٹ دیامگر وہ خود قابل رحم تھا کچھ خرچہ کرکے کہا کہ کرایہ پر دو یا اپنے لئے بیچ دو۔ پھر محسود کے کچھ لوگوں پر برے حالات آئے جس پر لکھا بھی مگر دوست نے پیسے بھیجے تو میں نے گھر کی کنسٹریکشن پر لگادئیے۔ وہ چندلاکھ متاثرین کو دیتا تو دہشتگردی کا شکار نہیں بنتا۔ ٹانک جاتے ہوئے بوڑھے باباکو گاڑی میں اٹھایا تو پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پہلے آٹا لینے ڈبرہ گیا مگر رشتہ دار نہیں ملے۔ کچھ دئیے تو رونے لگا اور فوج اور طالبان دونوں کو بدعائیں دیں کہ ہمیں بھکاری بنادیا۔اگرصوبائی حکومت متاثرین کا معقول بندوبست کردیتی تو لوگ دربدر نہیں ہوتے۔

دوسری اشرافیہ کو غربت کی مشکلات کا پتہ نہیں لیکن مولانا لینڈ لارڈ تو نہیں تھے۔ بھوک ختم نہیں ہورہی ہے۔ دربدر لوگ کس سے انتقام لیںگے؟۔آج مولانا پھر مفادات کے تحفظ کا جھانسہ دے رہاہے۔ مفادات تو جنس فروش عورتیں، خواجہ سرا اور لونڈے بھی جانتے ہیں۔ تمہارا یہ کام نہیں کہ سودی حیلہ و حلالہ کی لعنت سے معیشت اور سماج کا بیڑہ غرق کرو ۔ اسلام مضبوط نظام کھڑا کرتا ہے۔ وارثین انبیاء کا کام حق بتاناہے۔ عروج کے دور میں بھی مذہبی طبقات نے جھوٹے اجماع اور حلالہ کی لعنت سے امت کا بیڑہ غرق کردیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندوستان کے عالم کی تقریر

اس ویڈیو میںہندوستان کا ایک عالم اپنی تقریر میں کہ رہا ہے کہ ابھی ایک مولانا صاحب کا میں واقعہ پڑھ رہا تھا،

مفتی تقی عثمانی صاحب یا کوئی اور بڑے عالم ہیں

انہوں نے شاید ”تراشے” یا کسی اور کتاب میں، مجھے نام یاد نہیں آ رہا، لکھتے ہیں کہ میں روز سوچتا تھا کہ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا۔ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا، کاش میں بھی نبی علیہ السلام کے ساتھ ہوتا، ہمیں بھی یہ موقع ملتا۔ کہتے ہیں میں روز یہی سوچتا رہتا تھا، دعا بھی کرتا تھا یا اللہ کاش ہم بھی اس دور میں پیدا ہوتے۔ ایک رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ نبی علیہ الصلو والسلام ایک گاڑی میں تشریف فرما ہیں اور تمام صحابہ ہیں۔ ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)چلا رہے ہیں، میں سب سے پیچھے بیٹھا ہوں، تو ایک چڑھائی چڑھ رہے ہیں تو اچانک کیا ہوا گاڑی خراب ہوئی تو بریک نہیں لگ رہے، گاڑی پیچھے کو جا رہی ہے۔ تو سب سے پچھلا دروازہ کھول کر کہتے ہیں کہ میں بھاگا، میں جوان آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ دس بیس کلو کا کوئی پتھر اٹھا کر لاتا ہوں، گاڑی کے ٹائر کے نیچے دوں گا تاکہ گاڑی رک جائے، نبی علیہ السلام کی حفاظت ہو۔

کہنے لگے میں گیا، جب پتھر اٹھایاخواب بتا رہا اپناکہ جب پتھر اٹھایا، دوڑ کے جب واپس پہنچا، دیکھا گاڑی تو پیچھے آ ہی نہیں رہی، گاڑی تو اپنی جگہ ہی کھڑی ہے۔ تو میں بڑا حیران ہوا کیا گاڑی کو بریک لگ گئے؟ تو جب میں نے دیکھا اندر بھی کوئی نہیں، تو کہتے ہیں جب میں نیچے دیکھتا ہوں، تو جتنے صحابہ گاڑی میں تھے انہوں نے اپنے سر گاڑی کے ٹائروں کے نیچے رکھے ہوئے تھے کہ مبادا یہ گاڑی پیچھے نہیں جانی چاہیے۔تو وہ مولانا فرماتے ہیں میں نے اٹھ کر دو نفل توبہ پڑھے، استغفار کی کہ عشق کے جس مقام پر جن کو رضی اللہ عنہم کا لقب دیا گیا، وہ جس مقام پر ہیں عشق کے، جس انداز سے عشق کرتے تھے، وہ جس انداز سے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ چلتے تھے، سوچتے تھے، ہم تو ابھی اس کا ایک رتی کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتے۔

تبصرہ:امین اللہ کوئٹہ

سید عتیق الرحمن گیلانی نے بھی ایک خواب دیکھا تھا اور اس میں ایسی جدید قسم کی گاڑی تھی جو پہاڑوں میں چڑھ رہی تھی اور سڑک میں بہت بڑے بڑے گیپ تھے۔اللہ کی قدرت سے وہ گیپ بھی بھر رہی تھی،اس کو پریس بھی کررہی تھی ،اس پر سڑک کی تعمیر کے سارے کام یہاں تک کارپٹ بھی کررہی تھی۔

ہمارے ساتھیوں نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح کا کام کیا ہے تو اس پر اللہ کا شکرہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دوریٔ منزل میں ہے
شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہاہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے دل میں ہے
مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے
مانع اظہار تم کو ہے حیا ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسمل میں ہے

صحابہ کرام صدیقین کی جماعت تھے اور واقعی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ علماء کرام کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مکذبین نہیں ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال

کراچی پریس کلب:18مئی کو میٹ دا پریس پروگرام کے بعد چائے کی ٹیبل پر ایڈیٹر نوشتہ دیوار نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا کہ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ اکٹھی 3 طلاق واقع نہیں ہو تیں۔ آپ اس پرکیا کہتے ہیں؟۔ مولانا نے پہلے ٹالتے ہوئے کہا کہ یہی پاکستان میں چل رہا ہے اور خوب قہقہ لگایااور ساتھ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ہنسں پڑے لیکن پیچھے سے ایک دو آدمیوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر بات کریں تو پھر مولانانے کہا کہ یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت ہے۔کچھ لوگ اپنی ذات میںاہلحدیث ہوتے ہیں۔ مولانا نے ایک سابق چیف جسٹس کا قصہ سنایا کہ وہ کس طرح شریعت سے ناواقف تھاانہوںنے کہاکہ چیف جسٹس کو اس حوالے سے علما سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نے کہا کہ سورہ طلاق کی آیات ہی دیکھیں تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیق کر رہی ہیں تو مولانا نے کہا کہ اس ملک میں اکثریت حنفیوں کی ہے لہٰذاآپ یہ دیکھیں کہ حنفی مسلک کیا کہتاہے اورآ پ احادیث کو دیکھیں۔

تبصرہ : نوشتۂ دیوار: فیروز علمدار

مولانا فضل الرحمن کے لگائے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے3سالہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور6سالہ قبلہ ایاز صاحب نے بالمشافہہ ملاقاتوں میں حنفی مسلک کا مؤقف سمجھ لیا اور قبلہ ایاز صاحب نے تو لیٹر بھی لکھ دیا تھا اور ایک بڑی تعداد میں حنفی علماء کے تائیدی بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جان بوجھ کر حق سے پہلو تہی برت رہے ہیں لیکن اللہ سب دیکھ رہاہے۔ عائلی قوانین1964ء مفتی محمود کی تائید سے آئین کا حصہ بن گئے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے الزام لگایا ہے کہ مفتی محمود پہلا سیاستدان تھا جس نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ حالانکہ عائلی قوانین میں قرآن وسنت کے مطابق عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع کا حق دیا گیا ہے۔ زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل قرار دینے والے نے سودی نظام کو ہی اسلامی قرار دیا ہے اور اس کے بعد مزید اسلام کیساتھ اور کیا ہوگا؟۔ حنفی مسلک تو قرآن و سنت کے مطابق ہے لیکن حنفی مسلک ہی بگاڑ دیا گیا ۔ یہی حال سودی نظام کیساتھ اب چند سالوں میں ہوا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv