پوسٹ تلاش کریں

جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی

پچھلے شمارے میں اتفاق سے ہم نے ملک میں صدارتی نظام کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا میں صدارتی نظام کی بحث چھڑ گئی اور اب اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی کردیتے ہیں۔ جب تک اسلام کا معاشرتی اور معاشی نظام رائج نہیں ہوجاتا تو پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہوگا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کے نام پر جمہوریت سے بنا۔ مملکت کانام اور آئین بھی اسلامی جمہوری ہے ۔ جمہوریت سکہ رائج الوقت ہے۔ لیکن آج تک ملک کو جمہوری اسلامی پاکستان ہمارے اصحاب حل وعقد نہیں بناسکے ۔ قائداعظم نے منتخب صدر کی جگہ نامزد گورنر اور قائدملت لیاقت علی خان نے غیرمنتخب وزیراعظم بننا قبول کیا۔ مسلم لیگ کے نظریاتی رہنماؤں نے چاہا کہ پارٹی صدارت اور سرکاری عہدے جدا جدا ہوں لیکن لیاقت علی خان کا کوئی حلقہ انتخاب بھی نہیں تھا اسلئے وہ مسلم لیگ کی صدارت اور وزیراعظم کا عہدہ دونوں اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کا قائدملت سے یہ پھڈہ تھا کہ وہ کیوں اپنا حلقہ انتخاب بنانے کیلئے ہندوستان کے مخصوص مہاجرین کو کراچی میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ لسانی پھڈہ اسلئے شروع ہوا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے لوگ بنگالی کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے لیکن بابائے قوم قائداعظم نے خود ارود نہ بولنے کے باوجود اردو کو مسلط کردیا۔ ہندوستان کی ہندی اور اردو زبان میں معمولی فرق ہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کوایک قومی رابطے کی زبان پر متحدکرنے کیلئے اردو کے علاوہ دوسرا چارہ نہ تھا۔ پاکستان کی بنیاد بنگال اور سندھ سے پڑی اور سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص،سکھر اور نوب شاہ وغیرہ میں ہندوستان سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجرین دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن سندھی زبان لکھائی اور پڑھائی میں مضبوط ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک واحد زبان ہے جواردو کے مقابلے میں مضبوط چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ پنجابی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی کے مقابلے میںاردو نے اپنا زیادہ اثر اسلئے دکھایا کہ مقامی زبان میں لکھائی پڑھائی کا سلسلہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جتنے بھی لکھے پڑھے لوگ تھے وہ مقامی زبان سے زیادہ دوسری زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی مہارت رکھتے تھے۔ خان عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید کے خاندان اردو اور انگریزی زبانوں میں زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ اردو زبان کو پختونخواہ، پنجاب، اور بلوچستان سے بہت زیادہ ادیب اور شاعر بھی مل گئے ۔سندھی زبان کا یہ اعزاز تھا کہ فارسی واردو سے پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ اگرشاہ عنایت شہید کا مشن کامیاب ہوجاتا جو اس نے اسلامی نظام کیلئے شروع کیا تھا کہ ”جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا” تو کارل مارکس اور اس کے نظرئیے کیمونزم اور سوشلزم کی پوری دنیا میں پذیرائی نہیں ہوسکتی تھی۔ اسلئے کہ سندھ سے اُٹھنے والے اسلامی نظام نے پوری دنیا میں عدل واعتدال کا جھنڈا بلند کرنا تھا۔ یہ وہی شاہ عنایت شہید کی روح اوراس کے ہزاروںساتھیوں کی قربانی تھی جس نے آنے والی نسل کوپاکستان بنانے میں پہل پر آمادہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کو اسلامی آئین دیا، مرزائیوں کو کافر قراردیا اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا لیکن جب اس کوپھانسی دی گئی تو اس کو ہندو ثابت کرنے کیلئے اس کے ختنے کی تصویرلی گئی۔
جنرل ایوب خان نے فوجی وردی میں الیکشن لڑا تو مقابلے میں مادر ملت فاطمہ جناح تھی۔ جوقائداعظم کی بہن تھی لیکن اگر قائداعظم کی غیرمسلم بیگم رتن بائی زندہ ہوتی یا اس کی بیٹی دینا جناح اپنے غیرمسلم کزن سے شادی نہ کرتی تو قائداعظم کے ولی وارث بیوی اور بیٹی بنتے۔ ایک طرف فوجی ڈکٹیٹر الیکشن لڑرہاتھا تو دوسری طرف مادر ملت نے پاکستان مخالف جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی وغیرہ کی قیادت کرتے ہوئے الیکشن لڑا۔ مخالفین الیکشن میں الزام لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسلئے فاطمہ جناح پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا ۔
پاکستان کاایک بہت بڑا نمایاں سانحہ یہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرینڈم سے منتخب ہونے کیلئے لوگوں سے پوچھا تھا کہ ”تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟”۔ اسلام چاہنے کا مطلب اسلام نہیں بلکہ جنرل ضیاء کا وردی میں صدر منتخب ہونا تھا اور اسلام نہ چاہنے کا مطلب کافر بن جانا تھا۔گویا امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کوسراپا مجسمۂ اسلام ماننا تھا۔ جماعت اسلامی اور کراچی کے اکابر مفتیان نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کو اسلام اور کفر کا محاذ قرار دیا۔ جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے لیکن اس کا اپنا طرزِ عمل ڈکٹیٹر شپ اور ڈکٹیٹروں کی لونڈی والارہاہے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد میں غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں آئی ایس آئی کی مدد سے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو جماعت کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفوراحمد کوبہت بعدمیںخبر ہوئی کہ جماعت اسلامی استعمال ہوگئی ۔ کیا اسلامی اور جمہوری پارٹی کا یہ کردار ہوسکتا ہے؟۔ مدارس کے علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی کی اپنی سب سے بڑی کمزوری اسلام اور جمہوریت دونوں سے جہالت ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان دونوں نے ریفرینڈم اور اس کے حق میں دئیے جانے والے فتوؤں کی مخالفت کی تھی اور پاکستان بھر سے علماء نے پہلا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگایا تھا جس کے خلاف بائیس بہترین اشعار لکھ کر میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا اور پھرکراچی کے اکابرنے حاجی محمد عثمان پربھی بھونڈے فتوے لگائے اس کو بھی میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا۔
میں عربی کی درجہ ثانیہ میں تھا تو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم پر طلبہ میں تقریر کی کہ عربی میں اعراب کی16اقسام ہیں۔ زیدُ’،زیداً،زیدٍ۔ ابو، ابا، ابی اور موسیٰ، موسیٰ ، موسیٰ…….۔ضیاء الحق کے ریفرینڈم کیلئے اعراب کی نئی17ویں قسم ایجاد کرنی پڑے گی۔ جو اس کی مدت کوکھینچنے پر دلالت کرے۔ اعراب ضیاء پر آتا ہے ۔ جب ضیاء کے ہمزہ کو کھینچ لیا جائے تو ضیاء الحق سے ضیاع الحق بن جائے گا۔ مدارس کے مفتیوں کا کام سیاسی فتوے نہیں۔ سیاسی میدان کا آدمی مولانا فضل الرحمن ہے ، ہرفن کا اپنا آدمی ہوتاہے۔ شریعت، تصوف اور سیاست کااپنا اپنا میدان ہے۔ فتوے کا کام فقہ کے مسائل کا حل ہے۔ علماء ومفتیان نے اس وقت سیاست اور تصوف دونوں اعتبار سے انتہائی غلط فتوے دئیے۔پھر پتہ چلا کہ یہ فقہی میدان کے گدھے ہیں۔ قرآن نے عقل وسمجھ کے اعتبار سے بعض کو گدھا قرار دیا لیکن لالچ کے لحاظ سے (عالم باعورائ) کو کتا قرار دیا، جس نے دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھکاؤ اختیارکرلیا تھا۔مفتی ولی حسن سیدھے سادے تھے اورمفتی تقی عثمانی چالاک ہیں۔
پنجاب کے پانچ دریا سندھ کی شاخیں ہیں۔پانی سے پاکی ہے۔ پاک دریا کو ناپاک کرنے کیلئے فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کے علاوہ گٹر کے گند سے دریا کے پانی کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ زیرِ زمین ذخائر بھی آلودگی سے بھر دئیے گئے ۔ پاکستان کا ظاہر اور باطن دونوں گندے کردئیے گئے تو اس کو پاکستان کی جگہ ناپاکستان کہا جاسکتا ہے۔ کیا فوج، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف نے کبھی پاکستان کو اس گند سے پاک رکھنے کی کوشش کی؟۔ علماء ومفتیان نے فتویٰ جاری کیاہے کہ دریا میں گند ڈالنا جائز نہیں؟۔ فوج تو ادارہ ہے جسکے سربراہ بدلتے رہتے ہیں لیکن پارٹیوں میں کیا جمہوریت کا تصور ہے؟ جہاں قیادت کی تبدیلی ممکن ہو؟۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ زمین ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا۔ بلاول بھٹوزرداری، نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن ، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور سب چھوٹی بڑی پارٹیوں کے سربراہ اپنی پارٹیوں کے گل محمد ہیں۔ جماعت اسلامی کوحقیقی جمہوری پارٹی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ بد چلن رہی ہے ۔ جب سید منور حسن سے سلیم صافی نے بیان اگلوایا تھا کہ ”طالبان کے مقابلے میں امریکی فوجی شہید نہیں ہیں تو پاک آرمی بھی شہید نہیں ”۔ جسکے بعد امیر جماعت سیدمنور حسن کو جانا پڑا تھا اورچالاک سراج الحق کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا پڑا تھا ۔
جمہوری پارٹیاںاپنا بااختیار صدر چاہتی ہیں لیکن پارلیمانی نظام کیلئے صدارتی نظام کے بجائے کٹھ پتلی وزیراعظم کا نظام اسلئے چاہتی ہیں کہ اس میں ان کو ہر حکومت میں حصہ بقدر جثہ ملتا ہے۔وہ ہمہ وقت اقتدار میں رہتی ہیں۔ مسلم لیگ ق کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکاری محکموں کے آفیسر کی تعیناتی مولانا کے اختیار میں ہوتی تھی اور انکے بھائی پیسوں کے لین دین پر تبادلے کرتے تھے۔ لوگ اگر علماء کو چندے دیتے تو دوسرے علماء کرام مولانا کے مقابلے میں زیادہ دولتمند نظر آتے۔ سیاست مفادات کا ایک پیشہ بن چکا ہے۔اگر نوازشریف اور شہباز شریف سیاسی مصروفیت کے باوجود اتنے کا میاب موروثی طور پر کاروباری بن سکتے ہیں تو دوسرے بھائی اور کزنوں کو زیادہ امیر ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ وہ خالص کاروبار کررہے تھے۔ کیپٹن صفدر کو اپنی چہیتی بیٹی مریم نواز دینے والے اور جنرل ضیاء الحق کو شہید اور امیرالمؤمنین کہنے والے نوازشریف کیابدل گئے ؟۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
پنجاب، پاک فوج اور کٹھ پتلی جمہوریت میں چولی دامن کا ساتھ تھا لیکن نواز شریف کے بعد عمران خان کی صورت میں نیا مہرہ تلاش کیا گیا تو نوازشریف نے پنجاب میں فوج کے خلاف آگ لگائی۔ پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی نے اقلیت ہونے کے ناطے نظریۂ ضرورت کے تحت اپنا ذاتی مفادحاصل کرنا ہوتاہے اورپیپلز پارٹی سندھ میں واحد وفاق کی حامی پارٹی ہے جس کی پنجاب و دیگر صوبوں میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں۔ پہلے مشرقی پاکستان کی کہانی ختم ہوگئی اور اب سندھ، پختونخواہ، بلوچستان ، کراچی اور پنجاب تعصبات کی زد میں ہیں۔ عمران خان کی بھڑکیوں نے باشعور، پڑھے لکھے طبقے اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کیساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی متأثر کیا لیکن اب اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں نکل کھڑا ہوا تو عوام کسی بھی اشارے کے بغیر وہ خالی کرسیاں اسکے سرپر ماریں گی جو میڈیا اس کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات دکھاتا رہتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہے اور سیاسی پارٹیوں میں بھی دَم نہیں رہا بلکہ گھوڑوں، لوٹوں اور گدھوں سے بات آگے نکل چکی ہے۔ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی حکومت اور ریاست بھی نہیں چل سکتی ہے۔اگر ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر مسند سے اتار دئیے جاتے اور علی کو بٹھادیا جاتا تو خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں فتنے کھڑے ہوجاتے اور حدیث قرطاس لکھوائی جاتی تو مدارس اور مساجد سے لیکر پارٹیوں ، جماعتوں اور اقتدار کے ایوانوں تک وصیت پر کام چلتا۔
اسلام کے قلعے مدارس گمراہی کے مراکز بن گئے ۔ ان گمراہیوں کے قلعوں کا حدیث میں ذکرہے۔ معیشت کی اہمیت کا اندازہ قرآن کی سورۂ جمعہ سے لگائیں۔ عبادا ت میں اہم ترین نماز اورنمازِ جمعہ کی سب زیادہ اہمیت ہے لیکن جمعہ کی آذان پر تجارت چھوڑ نے اور نماز پوری ہونے کے بعد اللہ کے فضل کیلئے نکلنے کے حکم سے معیشت کی اہمیت کا زبردست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علماء ومفتیان دنیا کی بے رغبتی دلاکر چندہ مانگتے ہیں تو ان کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف راغب ہونگے؟۔
قرآن وسنت کے تحفظ میں علماء کرام کی خدمات سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں بھی سب سے بڑا گھناؤنا کردار انہی کا ہے۔ جب حامدمیر کو افغانستان میں طالبان کارکنوں نے پکڑلیا کہ تمہاری داڑھی نہیں اور کیمرہ ساتھ ہے تو اپنے بڑوں کے کہنے پر چھوڑدیا تھا۔ اُسامہ بن لادن اورالجزیرہ ٹی وی کو اس وقت بھی افغانستان میں تصاویر کی اجازت تھی ۔ اگر حامد میر جیو ٹی وی پر اس وقت ان تضادات کو اجاگر کرتا تو افغانستان اور پاکستان کی عوام کو شعور ملتا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی دور میں طالبان کی مخالفت کا بیڑہ اٹھایا تو حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ” طالبان امریکہ نے بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنوائے تھے”۔ صحافت کا مشن قوم کو بروقت دیانتدارانہ شعور دینا ہے۔
پاکستان میں اسلامی جمہوری بنیاد پر انقلاب برپا ہو تو ملک وقوم میں خوشحالی کا طوفان آجائے،مایوسی کے شکار عوام اور مملکت کے ریاستی اداروں میں نئی روح پیدا ہوجائے۔ زن، زمین ،زر فتنہ اور آزمائش ہیں اور خوشحالی یا بدحالی کا اہم ذریعہ بھی۔ عورت کے اسلامی حقوق بحال ہوں تو اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ اسلامی مزارعت سے پاکستان دنیا میںبہت بڑا زرعی ملک بن جائیگا۔ سود کا مکمل خاتمہ ہو تو معیشت کی ترقی میں اتنی تیزی آئے گی کہ پوری دنیا سود کے خاتمے پر متحد ومتفق ہوجائے گی۔
پاکستان کو جنت بنانے میں بالکل دیر نہیں لگے گی۔ جن لوگوں میں ڈاکٹر اور انجینئربننے کی صلاحیت ہو ،ان کو تعلیم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کیلئے تیار کیا جائے اورجن لوگوں کے دماغ موٹے ہوں ان سے محنت مزدوری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت اور طبیعت دونوں ٹھیک رہیں گے۔ دریاکے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ،ایک کھانے پینے اوردوسرے کھیتی باڑی کیلئے ۔ گٹر لائن سے جنگلات آباد کئے جاسکتے ہیں۔ گومل ڈیم کے نیچے پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقوں کو بڑے پائپوں کے ذریعے پینے کا شفاف ، تازہ اور صحت بخش پانی پہنچایا جاسکتا ہے۔اسی طرح دریائے کرم، دریائے کابل، تربیلہ ڈیم، دریائے جہلم وچناب اور دریائے راوی کو نہ صرف آلودگی سے پاک رکھا جاسکتا ہے بلکہ کھانے پینے اور کھیتی باڑی کیلئے الگ الگ معیاری پانی کا بھی بندوبست ہوسکتا ہے ۔ پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے ملک وقوم کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے اور کارخانوں، فیکٹریوں ، ملوں کو پابند بنایا جاسکتا ہے کہ آلودگی صاف کرنے والی مشینریاں بھی لگانی ہوںگی۔
ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر انتخابات جیت کر ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پرویز مشرف کوعدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی۔ ریاستی اداروں کا کسی سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرنا مجرمانہ فعل ہے مگرحق کی آواز بلند کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا آئینی فریضہ ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں غنڈہ گردی سے ہرکسی کا جینا دوبھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم نے حلالہ کا مسئلہ اٹھایا، علماء نے حمایت شروع کی، پھر اخبار بندکرنے کا سرکاری حکم جاری ہوا اور دہشتگردوں نے گھر پر حملہ کرکے13شہداء کی سوغات دی۔صحافی محمد مالک نے ہم ٹی وی پر اس مسئلے پر پروگرام کاوعدہ کیا لیکن بہادری کا ایسا مظاہرہ نہیں کرسکاجس کا ہمارے سامنے اظہار کیا تھا۔اسلئے ریاست تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان74سالوں میں پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام،مارشل لاء اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذریعے چہرے بدلتا رہاہے لیکن برطانیہ کی کالونی سے تاحال نکل نہیں سکے ہیں۔ خلیفہ المسلین کیلئے صدارتی نظام کا تجربہ ناگزیر ہے تاکہ دنیا کے دل سے اسلام کا خوف جمہوری انداز میں نکلے اور بادشاہت بھی قائم نہ ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان احیائے اسلام کا مرکز ہے اور یہاں بسنے والی قومیں قیادت کی حقدار ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی

اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز اور یہاں بسنے والی قومیں امامت کی حقدار
مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود کی سورة القدر کی تفسیرمیں بہت بڑاانکشاف کردیا تھا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا عبیداللہ سندھی نے کراچی کو اسلامی تحریک کا مرکز بنانے کا مشورہ دیا اور اگر کراچی میں یہ ممکن نہ ہو تو شکارپور سندھ کو مرکز بنانے کی تجویز رکھی تھی۔ آپ کا مشن اپنے استاذ اسیرمالٹا شیخ الہندمحمود الحسن کی تلقین پر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ تھا۔ قرآن کے آخری پارہ عم کی تفسیر المقام المحمود میں سورة القدر کی تفسیر میں مولانا عبیداللہ سندھی نے زبردست انکشاف کیا ہے کہ
”سندھ، بلوچستان، کشمیر، پنجاب، فرنٹیئراور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب کی سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ یہیں سے ہوگی ۔ اگر پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلے پر ہندو لے آئیں تو اس خطے سے ہم دستبردار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اب اسلام کی نشاة ثانیہ عرب نہیں عجم سے ہوگی اور عجم کا مرکزی حصہ یہی ہے۔ سندھ کا احادیث میں ذکر ہے اور پنجاب کے پانچوں دریا اور دریائے کابل وغیرہ اس کا حصہ ہیں۔ حنفی مسلک کی بنیاد قرآنی تعلیمات ہیں اور امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اسلئے ایران بھی یہاں کی قیادت کو قبول کرلے گا”۔(المقام المحمود)
مولانا عبیداللہ سندھی نے جلاوطنی کی زندگی گزاری ،تحریک ریشمی رومال کا آپ حصہ تھے جس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور آپ کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عزیر گل مالٹا جیل پہنچائے گئے تھے۔1920میں شیخ الہند مالٹا جیل سے رہاہوکر ہندوستان واپس آگئے اور جیل میں قرآن کی طرف رجوع کا احساس پیدا ہوا تھا۔ دارالعلوم دیوبند اور مدارس نے آپ کی نصیحت اور وصیت کو نظرانداز کردیا کہ درسِ نظامی کو چھوڑ کر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جائے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ الہند کے مشن کیلئے سکول وکالج کے طلبہ پر توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔ شیخ الہند نے1920میں حکیم اجمل خان کی یونیورسٹی کا افتتاح کیا، اسی سن میں وفات پاگئے۔ جمعیت علماء ہند سیاسی ڈگر پر کانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کیساتھ ہوگئی اور مولانا انور شاہ کشمیری نے دارالعلوم دیوبند کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔مولانا الیاسنے تبلیغ شروع کردی۔ مدارس اور تبلیغی جماعت کے کارکنوں نے اپنے اپنے حساب سے دین کی خدمت اور فرقہ واریت کے بیج بونے میں بھی زبردست کردار ادا کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی تحریک دھری کی دھری رہ گئی۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے عمرکے آخری حصہ میں مولانا سندھی سے معافی مانگ لی اور یہ بھی واضح فرمایا کہ”میں نے مدرسے کی تدریس میں ساری عمر ضائع کردی، کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی فضول وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔
مولانا محمدالیاس نے عوام کے اندر دین کے فضائل کے ذریعے زبردست تحریک چلائی لیکن مدارس اور خانقاہوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے رجوع کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ اسلئے نہیں نکل سکا کہ قرآن کی طرف رجوع کے بجائے مولانا انور شاہ کشمیری کے طرز پر زندگی ضائع کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ علامہ سید محمدیوسف بنوری نے اپنے مدرسے کی بنیاد تقوے پر رکھی لیکن نصاب کی تبدیلی کا انقلاب برپا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حضرت حاجی محمد عثمان نے فرقہ وارنہ تشخص کے خاتمے کیلئے مسجد کانام الٰہیہ رکھا۔ مدرسے کانام محمدیہ رکھا، خانقاہ کانام چشتیہ ، یتیم خانہ کا نام سیدنا اصغر بن حسین رکھا اور خدمت گاہ کا نام قادریہ رکھا۔ ہزاروں مکاشفے دیکھنے والوں میں علماء کرام، تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگانے والے اور اہلحدیث حضرات بھی شامل تھے۔
ایک مکاشفہ یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت شیخ الہندمحمود الحسن نے مولاناالیاس کے ہاتھ سے حاجی محمد عثمان کی تاج پوشی کردی۔ مولاناسید محمد یوسف بنوری کی حاجی محمد عثمان سے دوستی تھی۔ مفتی احمدالرحمن ، مفتی ولی حسن ٹونکیحاجی عثمان کے ہاں آتے تھے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر اور میرے استاذمولاناشیرمحمد کہتے تھے کہ ”مفتی ولی حسن میرے استاذہیں لیکن اپنے دشمن مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی اور مفتی رشید لدھیانوی کے ہاتھوں اپنے دوست حاجی محمد عثمان کے خلاف استعمال ہوگئے”۔ بڑے معروف مدارس کے علماء و مفتیان حاجی محمدعثمان سے بیعت تھے اور8بریگڈئیر،ایک کور کمانڈر نصیر اختر اورمیجر جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ بھی بیعت تھے۔ جس کو پھر بھاگنے کے بعد پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف بننے پرانتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگر دارالعلوم کراچی1970میں جمعیت علماء اسلام کے خلاف سازش نہ کرتی تو جمعیت علماء پاکستان کیساتھ مل کر اقتدار میں بھی آسکتی تھی۔ اس فتوے کا اثر آج بھی جمعیت علماء اسلام کے خلاف مذہبی حلقوں میں موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اسلامی سوشلزم کے مقابلے میں مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبیداللہ انور اور مولانا عبداللہ درخواستی کی جماعت امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں پاکستان کو اسلامی نظام دے سکتی تھی۔کیونکہ یہ لوگ مولانا عبیداللہ سندھی سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ جماعت اسلامی نے امریکہ ہی کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ آخر کار مذہبی سیاسی قیادت سے بدظن مدارس نے جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ امریکی جہاد کا بیڑہ بھی اٹھالیا ۔ جماعت اسلامی کرائے کے مجاہد کی ماں اور جنرل ضیاء الحق اس کا باپ تھا اور امریکہ اس کا دادا تھا۔ جب امریکہ نے عاق کردیا ۔ جنرل ضیاء فوت ہوگیاتو مولانا فضل الرحمن سوتیلا باپ بن گیا۔ جماعت اسلامی کچھ عرصہ متحدہ مجلس عمل میں جمعیت علماء اسلام کیساتھ رہی اورپھر اپنے سارے ڈھانچے کے باوجود ایک کونے میں سمٹ گئی۔ ابMQMکے ساتھ ملکر کراچی میں بلدیاتی نظام کے نام پر توانائی حاصل کرنے میں لگی ہے۔
ملی یکجہتی کونسل میں اسکے پارٹنر جمعیت علماء اسلام س کا وجود محدود ہوگیا ہے اور اسلامی جمہوری اتحادمیں اسکے پارٹنر مسلم لیگ ن پر جمعیت علماء اسلام نے اپنا اثر جمالیا ہے۔متحدہ مجلس عمل کو چھوڑ کر تحریک انصاف کیلئے بھی جماعت اسلامی نے بیساکھی کا کردار ادا کیا تھا لیکن اب وہ آخری حربے کے طور پر الطاف حسین کے دریتیم کوکسی اشارے پر استعمال کرنا چا ہے گی۔ پہلے احتجاجی دھرنے کے بڑے بڑے بینروں پر جماعت اسلامی نے نام تک بھی نیک نامی کی وجہ سے درج نہیں کیا تھا لیکن جب پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے بڑا طعنہ دیا تو پھر جماعت اسلامی لکھ دیا گیا۔ بہروپ بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا ،اصلیت اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ مشعال خان کے بہیمانہ قتل پر سراج الحق کا اسلام کچھ اور تھا اور سری لنکن شہری کے قتل پر کچھ اور تھا۔ سلیم صافی جیو گروپ کے ناطے نوازشریف سے تعلق اور مولانا فضل الرحمن سے ہمدردی کے باوجود سخت سوالات کرلیتا ہے لیکن جب سراج الحق نے سری لنکن شہری پر اپنا مؤقف دیا تو سلیم صافی نے صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے مشعال خان کے بارے میں رویہ کا سوال نہیں اٹھایا۔ جو صحافت، اسلام اور پشتو غیرت کا کوئی تقاضہ نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی سے پرانی یاری کا حق ادا ہورہاہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دار العلوم دیوبند کے ماننے والوں نے جب سود کو جائز قرار دیا ہے تو پھر لڑائی کس بات پر ہے؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت
قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

نبی اکرم شفیع اعظم ۖدُکھے دِلوں کا پیام لے لو!
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو!
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا، نظر سے روپوش ہے کنارہ
نہیں کوئی نا خدا ہمارا ، خبر تو عالی مقامۖ لے لو!
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا ۖ تمام اپنے غلام لے لو!
عجب مشکل میں کارواں ہے نہ کوئی جأ نہ پاسباں ہے
بہ شکل رہبر چھپے ہیں رہزن ، اٹھو ذرا انتقام لے لو!
کبھی تقاضہ وفا کا ہم سے کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے تمہی محبت سے کام لے لو!
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن خبر تو خیرالانام لے لو!
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزار اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کو میں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو!

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جنوبی وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنما سردار نجیب محسودکی شہادت اوروزیرستان محسود ایریامیں امن کی ضرورت

جنوبی وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنما سردار نجیب محسودکی شہادت اوروزیرستان محسود ایریامیں امن کی ضرورت

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب مسلسل پروپیگنڈہ ہوتا ہے تو سچ کی خبرپہنچنے سے پہلے جھوٹ گاؤں کے گاؤں بہالے جاچکا ہوتا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” جب کوئی فاسق خبر لیکر آئے تو پہلے اس کی وضاحت طلب کرو اور اس کو اپنے میں سے اولی الامر کی طرف لے جاؤ تاکہ نقصان نہ اُٹھاؤ”۔ آج کل الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کا خطرناک ہتھیار فاسقوں کے ہاتھ میں آیاہے لیکن اس سے یہ فائدہ بھی ہے کہ باطل کے مقابلے میں حق کی وضاحت بھی ہوسکتی ہے۔
جس کے پاس طاقت اور اختیار ہوتا ہے وہ اپنے خلاف کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے لیکن سوشل میڈیا نے طاقتور لوگوں کا اختیار ختم کردیا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے پاک فوج کے خلاف بڑاپروپیگنڈہ کیا گیا۔ ایک بنگالی حسینہ کی پاکستانی فوجی عاشق کیلئے اپنے خاندان کی قربانی کا عنوان دیکر بھارت میں قید رہنے والے پاکستانی فوجی بریگڈئیر کاا نٹرویو لیا گیا ہے جس نے اپنی داستان پر کتاب لکھی ہے۔ ایک عیاش جرنیل جنرل یحییٰ خان کی کہانیاں دیکھ کر یہ بعید ازقیاس نہیں کہ کسی بنگالی حسینہ سے ایک فوجی جوان کو عشق ہوگیا ہو۔ جبکہ اس نے بھارت میں تشدد کے حوالے سے یہ بات کہی کہ” میرے چاروں ناخن ٹوٹے ہوئے ہیںاور متعصب ہندو سے جتنا بھی ہوسکا ،انہوں نے ہماری تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔باقی اس حوالے سے میں نے اپنی کتاب میں بھی کوئی بات نہیں لکھی اور میڈیا پر بھی کوئی بات نہیں کرتا ہوں لیکن یہ تأثر غلط ہے کہ پاک فوج کی بزدلی تھی اورسب اسی کی غلطی تھی۔لاوا پہلے سے تیار تھا”۔
جب ایک طرف یہ پروپیگنڈہ ہو کہ بھارت نے پاک فوجی قیدیوں کے چوتڑ پر ”جئے ہند” کی مہریں لگائی تھیں اور دوسری طرف اس پر بات کرنے کیلئے بھی ہمارا فوجی دانشور اور سپاہی تیار نہ ہو تو لوگوں میں اس غلط فہمی نے جنم لیا تھا کہ چوتڑ پر مہر لگانے کی داستان میں حقیقت تھی۔ حالانکہ ایسی پینٹ پہنائی گئی تھی جس کی پشت پر جئے ہند کی چھاپ تھی۔ یہ تذلیل کا انداز تھا اور اس پر بھی تبصرے کرنا بھی توہین آمیز بات تھی۔ جب ایک سیدھے سادے فوجی کو کہا گیا کہ سفید پینٹ کے چوتڑ پر سیاہ رنگ سے جئے ہند لکھاہواتھا تو اس نے غصہ ہوکرکہا کہ نہیں پینٹ سیاہ تھی اور اس پر لکھائی سفید رنگ کی تھی۔
اب یہاں تک بات پہنچی ہے کہ عام لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ93ہزار فوجی تو بہت بڑی بات ہے ۔اتنی برائلر مرغیوں کو پکڑنا بھی مشکل کام ہے۔ ہم نے بھی کبھی ذہنوں میں نہ صرف پروپیگنڈے پالے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کیا تھا لیکن اس مرتبہBBCکی وہ رپورٹ اردو ترجمہ کیساتھ دیکھ لی کہ جو اسی وقت بنائی گئی تھی۔ جنرل نیازی اور دوسرے فوجی افسران کے علاوہ انڈیا کے افسران کے بھی اس میں تأثرات ہیں اور صحافیوں کے بھی اسی وقت کے تأثرات ہیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے جذبات کا تناور درخت تیار ہوچکا تھا۔ جب ان کو جیتنے کے باوجود بھی اقتدار منتقل نہیں کیا گیا، جنرل نیازی کی بدتمیزی وبہادری میں بہت توازن تھا، اس وقت موقع پر اپنے اعصاب پر اس طرح قابو رکھنا بہت کمال، بہادری اور حوصلے کی بات تھی۔ اگر ہتھیار نہ ڈالے جاتے تو اپنے شہری علاقوں کو مزید بہت بڑی تباہی اور نقصان کا سامنا ہوسکتا تھا اور اس وقت ایک صحافی نے موقع پراس بات کا اظہار کیا تھا۔ ایک طرف باغی اور متعصب باغیوں کا سامنا تھا اوردوسری طرف بمباردشمنوں کاسامنا تھا ، اس کی ذمہ داری صرف اس وقت پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ حکومت و ریاست کی طویل پالیسی کا یہ نتیجہ تھا۔
مغربی پاکستان کے گلگت و بلتستان کے کئی گاؤں پر بھی1971ء میں قبضہ کیا گیا تھا جس کے خاندان کے کچھ افراد ادھر اور کچھ ادھر رہ گئے تھے۔ جرمنی کا چینل50سال بعد اس قبضے کا انکشاف پہلی مرتبہ عوام کے سامنے لارہاہے۔ یہ پشتو کے مشہور مقولے کے مطابق اہمیت کے قابل اسلئے نہیں تھا کہ جب پاکستان کا بڑا حصہ ہم سے جدا ہوگیا تو گائے کیساتھ اس کے بچھڑے کے جانے کی بھی خیر ہے لیکن سچائی سے ایک اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ ایک لعنت ہے۔
بنگلہ دیش میں سقوطِ ڈھاکہ کا بچہ آخر کار ایک دن پیدا ہونا ہی تھا اور قوم کے وسیع تر مفاد میں حقائق چھپانے کا بچہ بھی اپنی ولادت کے قریب ہے۔ جب ہم بچے تھے تو اندراگاندھی سے نفرت اور یحییٰ خان سے محبت ایک فطری بات تھی مگر جب شعور بڑھ گیا تو میڈیا کے ترانے ایک فراڈ لگے اور اب یہ فکر لگی ہے کہ ہماری دانست سے قوم میں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنمانجیب محسود اور ڈیرہ اسماعیل خان میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ژوب کے شیرانی کا قتل ہوا۔ محسود قوم ماشاء اللہ سمجھدار اور بہادر ہے ۔ جب نقیب محسود کے قتل پر اسلام آباد میں دھرنا ہوا تھا تو یہ ایک حقیقت تھی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد قبائلی لوگ عمائدین سے زیادہ شیرپاؤ محسود ایڈوکیٹ کے کہنے پر واپس چلے گئے تھے۔ جبکہ بہت کم تعداد میں منظور پشتین کی قیادت میں چندا فراد نے فیصلہ کیا تھا کہ دھرنا جاری رہے گااور اس میں بڑی تعداد منتشر ہونے سے بے خبر رہنے والے سلمان خیل قبیلے کی تھی جو الیکشن لڑنے کی خواہش پر دھرنے میں لائے گئے تھے۔
منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں کا اسلئے دھرنے کو ختم کرنے پر اعتراض تھا کہ جو لوگ تائید کیلئے آئے ہیں ان کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ مجھے اس میں مختصرتقریر کا موقع ملا تو میں نے کہا تھا کہ” اصل دھرنا اب شروع ہوا ہے۔یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ” لیکن ساتھ ساتھ یہ روڈ میپ دینے کی بھی کوشش کی تھی کہ ریاست اور حکومت کو تعصبات اور گلے شکوے کے ذریعے نہیں بلکہ اپنا سمجھ کر اس منصب کو خود سنبھال لو۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف لاڈلی دُختر ہیں جنہوں نے کورٹ میرج کے ذریعے بغاوت کی ہے اور تم نرینہ بچے ہو اور تمہیں اس ریاست کا ولی وارث بنناہے جسکے آگے تم نے کبھی اُف نہیں کیا۔
آج شیرپاؤ محسود نے وزیرستان میںوہی بات کی، جو منظور پشتین کا بیانیہ تھا لیکن اس میں پھر وہی غلطی دہرائی ہے کہ قصور صرف اور صرف فوج کا ہے۔ جب وانا میں کانیگرم کے شریف النفس انسان تحصیلدار مطیع اللہ برکی اور اسکے ایک ساتھی ملازئی کے باشندے تحصیلدار کو انتہائی سفاکانہ انداز میں شہید کرکے ان کی لاشوں کو مسخ کیا گیا تو جیو ٹی وی کے نمائندے نے ڈاکٹر عبدالوہاب برکی سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں کس نے یہ کاروائی کی ہے؟۔اس نے جواب دیا کہ ہندوستان نے اتنے فوجی قید کئے تھے لیکن کسی کیساتھ یہ سلوک نہیں ہوا۔ امریکہ نے گوانتا موبے کے قیدی آزاد کئے تو کسی کیساتھ ایسا نہیں ہوا۔ ہندوستان اور امریکہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں ، کسی مسلمان کا بھی یہ کام نہیں ہوسکتا ہے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کس نے کیا ہے؟لیکن جیو نے اس کو نشر نہیں کیاتھا۔
پھر علی وزیر کے پورے خاندان اور کوٹ کئی محسود ایریا سے خاندان ملک اور اس کی پوری فیملی کو شہید کیا گیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے گلشاہ عالم برکی کو غائب کیا گیا جس کا بھائی آئی ایس آئی میں بریگیڈئیر کے عہدے پر تھا۔ فوج کی کانوائیوں پر حملے ہوتے تھے اور بڑی تعداد میں فوجی مار کر ایک شعبان نامی فوجی کو قید کیا گیا تھا جو اپنے ماموں کو بتارہاتھا کہ میری ماں کو پتہ نہ چلے ۔اگر اس وقت قبائل نے درست ایکشن لیا ہوتا تو بعد میں اتنے مسائل کا سامنا نہ ہوتا۔ شیرپاؤ محسود نے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان جیت گئے، ہماراGHQجیت گیا ، تحریک طالبان پاکستان جیت گئی لیکن ہم قبائل کی عورتوں کو پھلا دیا۔ اگرGHQچاہے تومفتی نورولی محسوداور طالبان رہنما ہیلی کاپٹر میں لاسکتے ہیں۔ ہم بندوق نہیں اٹھائیں گے۔ ہم باغی نہیں، آئی ایس آئی کے مخالف بھی نہیں ہیں۔ نور سعید نے کہا کہ ہم طالبان اور فوجیوں سے پوچھیں گے کہ کس جرم کی پاداش میں نجیب محسود کو قتل کیا گیا ہے؟۔ لیکن ہم نے بالکل بھی نہیں پوچھنا ہے۔ بندوق بھی ہم نہیں اٹھائیںگے۔ اگر ہم یونہی رہے تو ایک ایک کا جنازہ اٹھائیں گے۔ نجیب محسود کے قتل پر میرا خون جل رہاہے ۔ فوج کے پاس بیٹھے ہوئے طالبان ہمارے بچے، بھانجے اور بھتیجے ہیں۔ ہم نے علماء کے کہنے پر ہی ان کو بھیجا تھااور اس وقت ایک بڑے بالوں والا پنجابی اس کی تربیت کرتا تھا۔ ہماری قوم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل فوج نکال سکتی ہے اور ہم نہیں نکالیں گے۔شیرپاؤ کے بیان میں تذبذب کا ہونا ایک مجبوری لگتی ہے۔
جب پشتون کلچر فنکشن کے موقع پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منظور پشتین پہنچا تو اس کو تقریر کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور اسٹیج پر جانے سے روکا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مروت اور دوسری قوموں سے تعلق رکھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پہلے طالبان کے نام پر اپنی قوم کی عزت تار تار کردی اور اب قوم پرستی کے نام پر پھر اپنے محسود قبیلے اور پشتون قوم کا بیڑہ غرق کرنے سے شرم نہیں آتی ہے۔
رسول اللہ ۖ نے وحی کی رہنمائی سے تیرہ سال تک اپنی قوم کو مکی دور میں اپنا کردار ادا کیا اور دس سال مدنی دور میں لیکن پھر ایک انقلاب برپاکردیا ۔ جس کے بعد مسلمان عرب قوم نے مشرق ومغرب کی دونوں سپر طاقتوں ایران و روم کو شکست سے دوچار کردیا تھا۔ آج دنیا کو پھر سے مسلمانوں اور اسلام نے خوفزدہ کردیا ہے۔ فرانس کے واقعات سے پاکستان کے تحریک لبیک سے مذاکرات تک کا اختتام سری لنکن شہری کے بہیمانہ طریقے سے قتل پر ہوگیا۔ایک ضعیف حدیث ہے کہ من سبّ نبےًا من الانبیاء فقتلوہ ”جس نے انبیاء میں کسی نبی کی توہین کردی تو اس کو قتل کردو”۔ حالانکہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت بڑی گالی دیتے تھے اور قرآن نے ان کی خواتین کیساتھ نکاح کو جائز قرار دیا ہے۔
حنفی مسلک قرآن کے مقابلے میں ضعیف حدیث نہیں صحیح حدیث کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگانے کا معاملہ گالی سے بھی زیادہ سنگین تھا لیکن بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی گئی جو کسی عام عورت پر بہتان لگانے کی80کوڑے ہے۔ جبکہ زنا کی سزا100کوڑے ہے۔ اگر سورہ نور کی آیات کی تشہیر کی جائے تو پوری دنیا اس سے روشن ہوسکتی ہے۔ سیالکوٹ کا واقعہ ایک غیرملکی شہری کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا اور اس سے پہلے مشعال خان کا واقعہ بھی بہت سنگین تھا لیکن اس وقت جماعت اسلامی کے سراج الحق اور دوسرے لوگوں کو نبی رحمت ۖ کا دین اوراسلامی تعلیمات کا آئینہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ وزیرستان میں جو فضاء بنائی گئی تھی وہ وہی تھی جو سیالکوٹ میں بنی تھی لیکن اپنے قصور کو صرف دوسرے کے سر رکھنا بھی کوئی سمجھداری کی بات نہیں ہے۔
خان زمان کاکڑ ایک تعلیم یافتہ اورباصلاحیت جوان ہے جو پہلےPTMاورANPکی کشمکش میں لٹک رہاتھا اور پھر ایک عہدہ ملنے پر اپنا وزن مستقل عوامی نیشنل پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی ایسی متعصبانہ پالیسی نہیںلیکن خان زمان کاکڑ منفرد مقام رکھتا ہے۔ قوم کو باشعور شخصیات کی سخت ضرورت ہے اور خان زمان کاکڑ جیسے لوگ ایک بہت بڑا اثاثہ ہیں۔
قرآن وسنت نے آزادی کی آخری حد تک گنجائش دی ہے۔ خیبر امن کمیٹی کا سربراہ انتخابات میں قوم کو دھمکی دے رہاتھا کہ ” جس نے ووٹ ڈالا ،تو اس کی کھال ایسی اتاردیں گے جیسے مرغ کی اتاری جاتی ہے”۔ جبMQMنے ایک مرتبہ بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا تو بھی لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ ووٹ کا حق استعمال کیا تو انگلیاں کاٹ دیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے لاڑکانہ سے ایک مخالف امیدوار کو کمشنر کے ذریعے اٹھالیا تھا۔ سیاسی پارٹیوں نے بدمعاش رکھے ہوتے ہیں۔ تحریک طالبان کے عروج کا دور سب نے دیکھ لیا تھا کہ جب سرکار کے لوگ بھی ڈرتے تھے اور مسلم لیگ ن نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمن بھی امریکہ کا ایجنٹ بن گیا ہے ،اسلئے کہ ریاست وحکومت کو خبردار کررہاہے کہ مارگلہ تک طالبان پہنچ گئے ہیں۔پاک فوج میں سپاہی تو دور کی بات ، اصحاب ثروت کیپٹن بھرتی ہونے کیلئے بھی تیارنہیں ہوتے ہیں ۔ کیپٹن صفدر کا بیٹا جنید صفدر بھی اب کیپٹن بننے کوتیار نہیں ہے۔ سنگلاخ جنگلات اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقہ میں جان پر کھیل کر ڈیوٹی دینا خالہ جی کا گھر نہیں۔ غریب فوجیوں کے بیٹوں کا کوئی کاروبار نہیں ہوتا اسلئے وہ کم تنخواہ اور مراعات کے چکر میں جاتے ہیں۔
ایک ایسی فضاء بنائی جارہی ہے کہ نوازشریف کو اقتدار منتقل کرنے کیلئے ہرقسم کا حربہ استعمال کیا جائے۔ حالانکہ واپڈا کے بلوں کو فوج کے حوالے کرنے سے لیکر دہشتگردی کے ہر محاذ پر نوازشریف نے فوجی پالیسی کا ساتھ دیااسلئے کہ اس کا جنم بھی مارشل لاء میں ہوا تھا۔ جب اے این پی اور پیپلزپارٹی طالبان کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں تو وہ نشانہ بنیں گے اور اس کو کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک فوج مجبور ہوگی تو وہ اس وقت تک اپنی حفاظت کیلئے دہشت گردوں کے روپ میں اپنے لوگوں کو پالنے کی پالیسی پر بھی گامزن رہے گی لیکن جب قوم اپنے میں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرے گی تو فوج بھی اپنی جان کی امان پائے گی اور کسی سرنڈر کو تحفظ نہیں دے گی۔
عالمی ایجنڈے کے تحت پہلے پشتون قوم کو طالبان کے نام پر تباہ کیا گیا اور پھر قوم پرستی کے نام پر اس کی تباہی کے منصوبے بن رہے ہیں۔ بات کا جواب اورگولی کا جواب گولی سے دئیے بغیر پوری قوم کی اصلاح کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جب ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے تو لوگوں کے ذہن بدل سکتے ہیں اور اس میں ریاست کا اہم کردار ہوسکتا ہے۔ البتہ ہماری ریاست میں سب سے زیادہ کردار پاک فوج کا ہے اور سیاستدان بھی اس کے بنائے ہوئے گملوں میں پلے ہیں۔ ولی خان سے مولانا فضل الرحمن تک اسٹیلشمنٹ کی مخالفت کرتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار مسلم لیگ ن کا ساتھ دیتے ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کو اگر امریکہ کے کہنے پر ضم کیا گیا تو ن لیگ کا دور تھا اور مولانا فضل الرحمن حکومت کا حصہ بقدر جثہ تھے۔سی پیک کا مغربی روٹ مسلم لیگ ن کے دور میں تبدیل ہوا۔ کرک کے گیس کو اٹک منتقل کرنے کی کوشش مسلم لیگ کے دور میں ہوئی اور اس کا نام کرک کی جگہ اٹک رکھا گیا۔پارٹیاں نظریات اور قومی مفادات کی نہیں اپنے ذاتی معاملات کا تحفظ کرتی ہیں۔اللہ سب کو اب ہدایت بھی دیدے۔
وزیرستان میں امن کی بحالی کو قبائلی عمائدین، سرنڈر مجاہدین اور سول و ملٹری حکام، سیاستدان اور نوجوان قیادت مل کرممکن بنائیں تاکہ پھر سے ٹارگٹ کلنگ اور قیمتی شخصیات کے قتل کا سلسلہ جاری نہ ہو۔سردارنجیب محسود کہتا تھا کہ” یہاں امن کی بات کرنا منع ہے تاکہ ترقیاتی کام کے نام پر پیسہ ہڑپ کیا جائے”۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جمہوریت ایک بہترین نظام ہے قرآن و سنت میں شوریٰ کا تصور جمہوریت کی بنیاد ہے لیکن ہمارے ہاں کی جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے بھی زیادہ اخلاقیات کی تباہی کا ذریعہ ہے پاکستان میں جمہوریت سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

جمہوریت ایک بہترین نظام ہے قرآن و سنت میں شوریٰ کا تصور جمہوریت کی بنیاد ہے لیکن ہمارے ہاں کی جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے بھی زیادہ اخلاقیات کی تباہی کا ذریعہ ہے پاکستان میں جمہوریت سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والوں نے پتھروں سے استقبال، مرغے کی طرح کھال اتارنے کی دھمکی اور قتل کرنے تک بات پہنچائی ہے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور نے جلسہ عام میں کہا کہ اگر دوسرے الیکشن جیت بھی جائیں تو حکومت ہماری ہے، ہم بلدیات کے دفتروں میں ان کو گھسنے بھی نہیں دیںگے،صوبائی وزیر بلدیات بھی میرا بھائی ہے۔ اس کے علاوہ علی امین گنڈہ پور نے یہ بھی کہا ہے کہ مریم نواز کو مولانا نے اپنوں کیلئے حلال کیا ہے تو ہمارے لئے بھی اس کو حلال کرلے۔ جمعیت علماء اسلام کے ایک سخت مخالف نے علی امین کی زبان پر بہت سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف علماء کے ایک حامی نے کہا کہ ایک مولوی تقریر کررہاتھا کہ ہم نے علی امین گنڈہ پور سے پوچھا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہو؟۔ اس نے کہا کہ ہاں میں اس کو نبی مانتا ہوں۔ پھر ہم نے کہا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے تواس نے کہا کہ ہاں اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ گاؤں دیہاتوں کے لوگ ان گمراہیوں سے بچ گئے ہیں لیکن شہروں میں یہ بہت فتنے ہیں۔
ہماری حکومت،ریاست، سیاسی ومذہبی رہنماؤں اورکارکنوں کا یہ حال رہا تو لوگ کبھی اچھے دن نہیں دیکھ سکیں گے۔ جمہوریت میں ایکدوسرے کیخلاف غلیظ پروپیگنڈے کے بجائے شائستگی سے اپنی خوبیاں اور دوسروں کی خامیاں بھی بتائی جاتیں تو بھی مناسب نہیں تھا بلکہ جمہوریت کا اصلی تقاضہ یہ ہے کہ اپنی خامی اور دوسروں کی خوبیا ں بتائی جاتیں تو انتخابات کے ثمرات سے استفادہ ملتا۔ جب حضرت عمرنے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کیلئے پہل کی تھی تو حضرت ابوبکر کیلئے یہ ناگوار تھا اور جب حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا تو حضرت عمر کیلئے یہ بات ناگوار تھی۔ لوگوں کا ایک مزاج ہے کہ کوئی چڑھتے سورج کا پجاری ہوتا ہے اور کوئی قرابتداری کی محبت میں پاگل بنتا ہے اور کوئی خاندانی بنیاد پر ترجیحات میں پہلوان ہوتا ہے۔ کوئی اپنے استحقاق کیلئے زنجیریں توڑتا ہے۔
پیغمبر انقلاب خاتم الانبیاء والمرسلینۖ نے صحابہ کرام کا ہرقسم کی آلائشوں سے تزکیہ فرمایا تھا۔ تاہم انسان پھر بھی اپنی اپنی خصلت کی طرف رحجانات رکھنے سے باز نہیں آتا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو مان لینا لیکن انسان اپنی فطرت سے ہٹ جائے تو نہیں ماننا”۔انسان ایک طرف ” احسن تقویم ” تو دوسری طرف ”خلق الانسان ضعیفا ”ہے۔ ایک طرف انسان مٹی سے پیدا کیا گیا اوردوسری طرف اس میں اللہ نے خود روح پھونک دی ہے۔ اعلیٰ علیین اور اسفل السافلین دونوں مقام انسان مکلف ہونے سے حاصل کرسکتا ہے ۔ لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا ”اللہ مکلف نہیں بناتا ہے کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ مکلف ہونے کا مطلب انسان کی استعداد ہے ، اگر انسان میں بہت اچھا کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ اس کیلئے جدوجہد نہیں کرتا ہے تو یہ اپنے مکلف ہونے کا حق ادا نہیں کرتا ہے ۔ ایک آدمی میں چوکیدار بننے کی اور دوسرے میں دنیا کو بدلنے کی صلاحیت ہے تو دونوں سے اسکی پوچھ گچھ ہوگی۔
سورۂ بقرہ کی آخری آیت میں ترجمہ کرنے والوں نے اردو کی تکلیف مراد لیا ہے کہ ” اللہ انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تُک نہیں بنتا ہے اسلئے کہ اللہ نے اس آیت میں ولاتحملنا مالا طاقة لنا کی دعا بھی سکھائی ہے کہ ” ہم پر ایسا بوجھ نہ لاد یں جس کی ہمیں طاقت نہیں”۔ اگر اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھر ایسی دعا کیوں سکھاتا ہے؟۔ بوجھ تلے کوئی مرتا ہے، کوئی ذلیل اور خوار ہوتا ہے اور کوئی انتہائی مشقت اٹھاتا ہے۔ پہلی قومیں بھی عذاب کے بوجھ تلے تباہ ہوئیں اور اہل حق پربھی باطل نے بوجھ ڈالاتھا اور میری اماں محترمہ نے میرے بارے میں کہا تھا کہ ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے گدھے نے اُونٹ کا بوجھ اٹھایا ہو”۔ وزیرستان اور گومل میں اونٹ اور گدھا بوجھ اُٹھانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ انگریز نے پانی کی موٹروں کو ہارس پاور کانام دیا ہے اور قرآن میں گدھے اور گھوڑے کو سواری اور زینت کیلئے تخلیق کی بات ہے۔ حدیث میں شہروں کے اندر اتنی کھلی گلی چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا کہ جن میں دومال بردار اونٹ آسانی کیساتھ گزر سکیں۔ ہم آج کی دنیا میں بھی بہت پیچھے ہیں۔
جب نبی کریم ۖ پر قرآن نازل ہوا تو آپ ۖ کا کیا حال ہوا ہوگا اسلئے کہ اللہ نے فرمایا کہ ” اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو اس کوآپ دیکھتے کہ ریزہ ریزہ ہوکر اس میں ہل چل مچ جاتی،اللہ کے خوف سے”۔ بعض لوگ اپنی کم عقلی کے باعث غلام احمد پرویز کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر احادیث صحیحہ کا انکار کررہے ہیں۔ جن میں معروف اور بہت اچھے اہل حدیث عالم دین مولانا اسحاق فیصل آباد والے بھی شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ الم نشرح لک صدر ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک ”کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا اور آپ سے وہ بوجھ نہیں اٹھایا؟ جس نے آپ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی”۔ رحمت للعالمینی کا جتنا بڑا منصب تھا، اتنا زیادہ بوجھ تھا اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف جاہل مشرکینِ مکہ کاتعصب تھا تو دوسری طرف یہوداور منافقین کی ریشہ دوانیاں تھیںاور تیسری طرف اعراب کا دیہاتی ، جاہل پن اور مفاد پرستی تھی اور چوتھی طرف اپنے مہاجرین وانصار کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور تعلیم وتربیت ، تزکیہ اور حکمت سکھانے کا مسئلہ تھا۔
جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تو اللہ نے فرمایا کہ انا فتحنا لک فتحًامبینًا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتأخر ” ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کردی ہے تاکہ آپ سے وہ بوجھ ہٹ جائے جو آپ کو پہلے اور بعد کے حوالے سے دامن گیر تھا”۔ اردو میں ”معاف کرنا” اور انگلش میں ایکسکیوز کے الفاظ بہت معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ جب کوئی اردو اور انگریزی نہیں سمجھتا ہوتو محاوروں کے ترجمے میں بہت غلطی کرے گا۔ ایک آدمی بھکاری سے کہتا ہے کہ ”مجھے معاف کرنا”۔ اب کوئی کم عقل اس کی توجیہ یہ پیش کرے کہ اس نے کوئی جرم کیا تھا اسلئے بھکاری سے میرے سامنے کھلے الفاظ میں معافی مانگ لی تو یہ اس کی زبان کو نہ سمجھنے کی غلطی ہوگی۔ مغفرت اور ذنب کے الفاظ عربی میں مختلف معانی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ سیاق وسباق کو دیکھ کر معانی کا تعین ہوتا ہے۔
اللہ نے قرآن میں واضح کیا ہے کہ انا عرضنا الامانة …….. ” بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں پراور زمین پر اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا کہ اس کا بوجھ اٹھائیں تو انسان نے اس کابوجھ اٹھالیا، بیشک وہ بہت اندھیرے اوربہت جہالت میں تھا”۔انسان کو اللہ نے مکلف ہونے کا بوجھ اٹھانے پر نادان قرار دیا ہے۔ مکلف ہونے کو ہی امانت قرار دیا ہے۔ انسان مکلف ہے۔ انسان اپنی فطرت سے ہٹنے والا نہیں ہے، اس کی چاہت ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کو اختیارات مل جائیں۔ کسی بھی انسان سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ اس کی خواہش یہ ہو کہ پوری دنیا کے اختیارات اس کو مل جائیں لیکن وہ یہ پرواہ نہیں کرتا ہے کہ ایک معمولی ذمہ داری کا حق ادا نہ کرنے پر بھی اس کی نااہلی ثابت ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ اختیارات کے ملنے کے بعد وہ اپنی نااہلیت سے جان چھڑاسکے گا؟۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جو اپنی چاہت سے کوئی عہدہ ومنصب مانگ لیتا ہے تواللہ اس کی مدد نہیں کرتا ہے لیکن اگر اس کو عہدہ ومنصب دیدیا جائے تو پھر اللہ بھی اس کی مدد کرتا ہے”۔ نبیۖ نے انسانی جبلت کو دیکھ کر اسکی اصلاح کیلئے فرمان جاری کیا تاکہ انسان زیادہ اختیارات اور منصب مانگنے کے چکر میں نہ پڑے لیکن جب اس پر کوئی ذمہ داری ڈالی جائے تو اس کو قبول کرنے سے انکار بھی نہ کرے۔ اس نظام زندگی کو اسی طرح سے بہت ہی اچھے انداز میں چلا یاجا سکتا ہے۔
نبیۖ کے وصال کے بعد اختیارات اور منصبِ خلافت کیلئے انصار نے اپنا اجلاس طلب کرلیااور اس طبقاتی تقسیم اور اختیارات کے حوالے سے خطرناک رحجان کو بھانپ کر مہاجرین کے کچھ سرکردہ لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ہنگامی اجلاس جس مقصد کیلئے منعقد ہوا تھا تو اس رحجان کا خاتمہ کردیا گیا اور حضرت ابوبکر سے بیعت کیلئے حضرت عمر نے ہاتھ بڑھائے اور پھر انصارومہاجرین نے آپ پر ہی اتفاق کرلیا۔ اہل بیت کے کچھ لوگوں کو اس ہنگامی فیصلے پر تشویش تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر حضرت ابوبکر نے انصار سے بازی اسلئے جیتی کہ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ”ائمہ قریش میں سے ہوں گے” تو نبیۖ نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علی کیلئے فرمایاتھا کہ” جس کامیں مولا ہوں تو یہ علی اس کا مولا ہے”۔اور فرمایا تھا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت”۔ صحیح مسلم میں یہ واضح ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات نہیں ہیں بلکہ نبیۖ کے دادا کے خاندان والے مراد ہیں۔
صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت اور تزکیہ کرنے اور حکمت سکھانے کی وضاحت قرآن میں ہے وہ ایکدوسرے کی تکریم کرنا جانتے تھے اور حسن ظن رکھتے تھے مگر وقت کیساتھ ساتھ مختلف طرح کے رحجانات رکھنے والوں نے ان کے اختلافات کو اپنے اپنے مزاج کے مطابق مختلف رنگ میں پیش کرنے کی جسارت بھی کی ہے۔ نبی ۖ نے ان نفوس قدسیہ کا یہ نقشہ پیش فرمایا ہے کہ ” ایک زیادہ وجاہت رکھنے والے صحابی کے بیٹے کا دانت کم حیثیت رکھنے والے صحابی کے بیٹے نے توڑ دیاتو اس نے قسم کھائی کہ اس کے بدلے میں اپنے بیٹے کے دانت توڑنے نہیں دوں گا اور پھر دوسرے صحابی نے اس کو معاف بھی کردیا”۔ جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ ”بعض لوگ اللہ کو اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ اگر وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم بھی پوری کردیتا ہے”۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک زبردستی سے اس کو بدلہ لینے کی حد تک مجبور نہیں کیا جاتا ہے وہ قانون کے ذریعے اپنے اوپر حد جاری کرنے کا بھی روادار نہیں ہوتا ہے اور حیثیتوں کے فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے اور اس سے صحت مند رحجان بھی پیدا ہوتا ہے کہ قصاص اور حدود کے نفاذ سے دوسرے کا قتل یا اس کے اعضاء کو کاٹنے اور توڑنے سے زیادہ اچھی بات معافی ہے۔ غزوہ اُحدپر نبیۖ اور صحابہ نے زیادہ انتقام لینے کا کہا تو اللہ نے معافی کرنے کا حکم دیا۔
نبیۖ نے دانت توڑنے کی سزا سے بھی پرہیز نہیں کرنا تھا بلکہ دوسرے کو زبردستی سے بھی مجبور کرنا تھا لیکن جب معاف کردیا گیا تو انتہائی حسن ظن کا سبق بھی دیا گیا۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی کہا تھا کہ میں قرآن کے حکم لعان پر عمل نہیں کروں گا بلکہ ایسی فحاشی کی حالت میں دیکھ کر قتل کروں گا۔ اس جذبے کی وجہ سے ان کو کافر ومرتد نہیں قرار دیا گیابلکہ اس کو اپنی رائے رکھنے کی آزادی دی گئی مگر اگر وہ قتل کرتا تو قانون کے مطابق اس کو سزا بھی دی جاتی۔ نبیۖ کی ریاست کا نظام بالکل سرتاپا رحمت تھا۔ کسی نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تو اس کے خلاف بھی جہادوقتال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ریاست کی طاقت کو منوانا تھا اسلئے مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کیا گیا۔ حضرت عمر پہلے بھی متفق نہ تھے جبکہ حضرت عمرنے آخر میں بھی اس بات کا اظہار کیا کہ ” کاش ! نبی ۖ سے ہم تین باتوں کاپوچھتے ۔ ایک یہ کہ زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال ہے، دوسرا کہ آپ کے بعد کس کس کو خلیفہ بنایا جائے اور تیسرا کلالہ کی میراث کی مزیدتفصیل ”۔
حضرت عثمان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ حضرت علی نے دارالخلافہ کوفہ منتقل کیا مگر وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا گیا۔ حضرت حسن امہ کے مفاد میں خلافت سے دستبردارہوئے جس کیلئے نبیۖ نے خوشخبری دی تھی۔ تیس سالہ خلافت کے بعد امارت قائم ہوئی اور آج پاکستان میں74سال بعد بھی اپنی اپنی پارسائی کے دعویدار سب ہیں لیکن ہمیں حقائق اور اپنی کمزوری کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں۔
جمہوریت کے نام پر مفادپرستی، گری ہوئی اخلاقیات ، نظریہ ضرورت اور قسم قسم کے ہتھکنڈے معاشرے ، حکومت اور ریاست کی مشکلات میں دن بہ دن اضافے کا موجب ہیں۔انسان ہونے کے ناطے ، ایک ملک سے تعلق رکھنے کے ناطے ، مسلمان ہونے کے ناطے، پڑوسی اور ایک خطے سے تعلق رکھنے کے ناطے ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ قرون اولیٰ کی تاریخ کو پھر سے دُہرادیں۔ قرآن اور سنت کی تعلیمات آج کے دور میں سمجھنے کی زیادہ آسانی ہے اسلئے کہ دنیا نے اب انسانیت کا سبق سیکھ لیا ہے اور ہمارے اپنے لوگ وحشیانہ پن کے شکار ہوگئے ہیں اور اس کے نتائج دنیا سے زیادہ ہم خود بھگت رہے ہیں۔ فرقہ پرستی، لسانی تعصبات اور گروہی مفادات نے انسانیت ، مسلمانوںاور اسلام کا دنیا میں تماشا بنادیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کا سوشل میڈیا پر مختصربیان ہے کہ جب عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ نے اپنے بینک کو عالمی بینک کے تابع کردیا جب سلطنت عثمانیہ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو عالمی قوتوں نے اپنے بینکوں سے بھی پیسہ نہیں لینے دیا جس کی وجہ سے ایک عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ جس کی حکومت عرب سے افریقہ تک پھیلی تھی۔ اتنی بڑی سلطنت بینکوں کے نظام کی وجہ سے گرگئی تو پاکستان کی کیا حیثیت ہے؟۔ پچھلے عرصے میں جب میں نے کہا تھا کہ پاکستان جب عالمی اداروں کا مقروض ہوگا تو پھر عالمی قوتوں کی کالونی کے علاوہ پاکستان اور کچھ نہیں ہوگا۔ جس پر ایک صحافی اینکر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اتنا بے خبر ہے؟۔ پاکستان تو عالمی قوتوں کی کالونی بن چکا ہے اور اس کی خبر مولانا فضل الرحمن کو کیا نہیں ہے؟۔

تبصرہ: نوشتۂ دیوار …عبدالقدوس بلوچ
وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے پٹرول سستا کیا تھامگر مولانا فضل الرحمن کو بلدیاتی انتخابات کی واضح جیت مبارک ہو۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا تو مولانا کہتے تھے کہ فوج آنکھوں کی پلکیں ہیں جو ملک کی زینت اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ پلکوں کا بال آنکھ میں گھسے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب تو تمام پلکیں گھس گئیں۔ یہ دلیل نہیں کہ ملک کی حفاظت فوج کرتی ہے تو حکمرانی کا حق بھی اسی کو ہے۔ چوکیدار کو تنخواہ اور اسلحہ دیا جائے اور وہ قابض ہوجائے تو یہ بدمعاشی ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعدMRDمیں شمولیت کو علماء ومفتیان نے کفر قرار دیا، اسلئے کہ اس میں پیپلزپارٹی شامل تھی۔1985ء نشتر پارک کراچی میںMRDکے جلسے کاBBCنے کہا تھا کہ ”یہ جمعیت علماء اسلام کا جلسہ لگ رہا تھا”۔88ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے غلام اسحاق خان کو صدارت کیلئے ووٹ دیا اور جمعیت علماء نے نوابزادہ نصراللہ خان کو۔ پھر جب نوازشریف کو تحریک عدم اعتماد کیلئے اسامہ بن لادن کی طرف سے رقم مل گئی تو چھانگا مانگا میں منڈی لگائی، پیپلزپارٹی نے ارکان کو سوات کے ہوٹل میں رکھاتھا ۔ جے یو آئی ف کے ارکان اسمبلی کھلے عام اسلام آباد میں گھوم رہے تھے ،ان کو خریدنے کا تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ بشریٰ بیگم کا سسر غلام محمد مانیکا وغیرہ نے مسلم لیگ کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو لیبیا کے صدر قذافی نے اسلامی یونیورسٹی جامعہ معارف الشرعیہ کیلئے رقم دینی تھی اور دھمکی دی کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا تو رقم نہیں ملے گی۔ مولانا کو اپنوں نے مشورہ دیا کہ یونیورسٹی بنانا زیادہ بہتر ہے لیکن مولانا نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اور تحریک عدم اعتماد میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے آج تک یونیورسٹی کی بلڈنگ ادھوری ہے جس میں ایک چھوٹا مدرسہ چل رہاہے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو نوازشریف کو لایا گیا اور اصغر خان کیس کا 16سال بعد فیصلہ ہونا تھا مگر اس کی فائل بند کردی گئی۔ پرویزمشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتاتھا مگر متحدہ مجلس عمل سے معاہدے کے تحت وردی اترگئی۔ اگر پیپلزپارٹی نہ ٹوٹتی تو مولانا فضل الرحمن کئی ووٹوں سے وزیراعظم بنتے۔ ق لیگ نے ایک ووٹ سے ظفراللہ جمالی ، چوہدری شجاعت اور شوکت عزیزکو وزیراعظم بنادیا تھا۔ پیپلزپارٹی میں جمہوری غیرت ہوتی توق لیگ کے مقابلے میں مولانا کو ووٹ دیتی۔ ایک سیٹ جیتنے والا کم عقل انسان عمران خان وزیراعظم بن گیا تو مولانا فضل الرحمن کیوں نہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرح آخری وقت میں مسلم اُمہ کو قرآن سے استفادہ اور فرقہ پرستی سے کنارہ کشی کا واضح پروگرام دینا چاہیے شاہ ولی اللہ سے مولانا عبیداللہ سندھی تک کی روح قرآن و سنت سے زندہ کرسکتے ہیں۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان کو حق کیلئے ایک پلیٹ فارم پر لانا اور بڑے پیمانے پر ووٹ لیکر نظام بدلنااور وزیراعظم بنناکوئی مشکل نہیں ہے ۔
خیبر پختونخواہ تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہے لیکن اس سیاست میں عوام حصہ دار نہیں ،یہ پارٹیوں کا مسئلہ ہے۔ نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میںIMFسے ڈبل قرضہ لیکر دفاعی بجٹ سے سودڈیڑھ گنا زیادہ کیا ،جس کی ہم نے نشاندہی کی تھی۔ عمران خان نے سودی رقم نوازشریف سے بھی دگنی کرکے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تین گنا کردی ۔ جب ٹیکسوں کے تمام محصولات کے قریب سود ہو تو ملک کا نظام کیسے چلے گا؟۔ جن جرنیلوں ، سیاسی قائدین ورہنماؤں ، ججوں، سول بیوروکریسی کے افسران اور صحافیوں نے یہاں سے بے تحاشا پیسہ کماکر بیرون ملک انویسٹ کردیا، وہ اپنی آدھی رقم سودی قرضہ چکانے میں دیں اور آدھی پاکستان کی تعلیم وترقی میں لگائیں جس کی بنیاد پر یہاں امن امان کی فضاء قائم ہوگی اور ہماری ترقی بھی مثالی ہوگی۔ اگرIMFکے سودی قرضے کو اسلامی بینکاری کے اصولوں سے حیلہ کرکے نام نہاد اسلامی بنایا جائے تو کیا قوم و ملک کو ریلیف ملے گا؟۔ ہرگز نہیں! تو پھر اسلام کو کیوں بدنام کیا جا رہاہے؟۔ سودی نظام سے زکوٰة کی کٹوتی کو مفتی محمود سود اور مولانافضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے۔ نام نہاد اسلامی بینکاری کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کم ازکم وفاق المدارس اور تنظیم المدارس کے سربراہ کے اہل نہ تھے۔ مدارس کو ڈکٹیٹرنہیںجمہوری اندازمیں چلانا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی حیلے کی اسکے استاذ مولانا سلیم اللہ خان سابق صدر وفاق المدارس اورعتیق گیلانی کے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سابق صدر وفاق المدارس پاکستان سمیت شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان اور تقریباً سب دیوبندی مکتب کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتے تھے کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ ” خورے قیامت شو”۔ بہن قیامت ہوگئی۔ دوسری نے کہا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ ” ابا میں ملک شو” کہ میرا باپ ملک بن گیا۔ یعنی قحط الرجال آگیا کہ گاؤں والوں کو دوسرا چوہدری نہیں ملا تو میرا باپ چوہدری بنادیا گیا اور یہ قیامت کی نشانی ہے۔ مفتی محمود کے دور میں مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا تو دونوں کی حیثیت نہ تھی۔ پھر سودکو جواز بخشا تو سب مخالف تھے۔ اگر مذہبی حیلہ سازوں کو آگے لایا جائے اور سیاسی اعتبار سے دوسری سیاسی جماعتوں جیسی روش اپنائی جائے تو پھر اسلام کے نام پر علماء ومفتیان سے لوگ نفرت کریں گے۔
موجودہ مذہبی،ریاستی اور سیاسی نظام ناکام ہے اور پاکستان سے انقلاب کیلئے ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے کہ اگر حکومت نہ بھی ملے تو معاشرے میں مذہبی و معاشی بنیادپر انقلاب برپا ہوجائے لیکن جب سود اسلامی ہوجائے تو پھرکیا چیز غیر اسلامی ہوگی؟۔ جمعیت علماء ہند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ضخیم کتاب لکھ کر سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا۔ اندرون سندھ جمعیت علماء اسلام کے مراکز ہالیجی شریف، امروٹ شریف اور بیرشریف میں اسی بدعت پر عمل ہے۔ راشد محمود سومرو کے باپ دادا تذبذب کا شکار تھے کہ کیا سنت اور کیا بدعت ہے؟۔ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان میں بھی دیوبندی اس بنیاد پر ایکدوسرے پر بدعتی اور قادیانی کے فتوے لگاتے تھے اور افغانستان میں بھی اس بدعت کا فتویٰ قبول نہیں کیا گیا تھا۔ تبلیغی جماعت والے رائیونڈ اور بستی نظام الدین میں ایسے تقسیم ہیں کہ ایکدوسرے کو اپنے مراکزمیں نہیںچھوڑتے اور دیگر ملکوں کی مساجد میں بھی ایکدوسرے کو نہیں چھوڑ تے ۔ فرقہ وارانہ جماعت بندی اور گروہ سازی کا راستہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے سے رُک سکتا ہے۔
سود کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ جاگیر دار اپنی زمینوں کو خود کاشت کریں تو حرام خوروں کی صحت ٹھیک ہو گی اور کاشتکاروں کو مفت زمین ملے تو غربت وبیروزگاری بھی ختم ہو گی۔ قرآنی آیات سے ہماری دنیا روشن ہوسکتی ہے۔ سودی نظام کے خلاف آگ چھوئے بغیر بھی قرآنی آیات کا چراغ بھڑک کر جل اٹھ سکتا ہے۔ ندیم احمدقاسمی کا شعر ہے کہ
رات جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
تاریخ کا تاریک ترین اندھیرا ہے۔ مذہبی روایات ، تعلیمات،معاشیات، ریاستی معاملات، سیاسیات اور اخلاقیات سب کچھ انتہائی درجہ تباہ ہیں۔مفتی تقی عثمانی کے اکابر مولانا درخواستی اورجمعیت علماء اسلام کے رہنما کہتے تھے کہ انگریز نے تنخواہ دیکر اپنے جاسوس مولانا احتشام الحق تھانوی کو پڑھایاکہ معلوم کریں کہ دارالعلوم دیوبند میں بغاوت کی تعلیم دی جاتی ہے؟اس جاسوس نے لکھا کہ مجھے نااہل سمجھو یہاں بغاوت کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ پھریہ مشن ملا کہ دارالعلوم دیوبند کی ہر تحریک کی مخالفت کریں۔
حضرت مولانا مفتی محمود فرماتے تھے کہ دنیا کی امامت کیلئے دنیاوی اور دینی تعلیم دونوں ضروری ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم یافتہ طبقہ دین اور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ اپنی فنی تعلیم سے بھی جاہل ہے اور اب جہالت کا غلبہ بڑھتا جارہاہے اسلئے کہ پہلے قابلیت پر ڈگری ملتی تھی اور اب پیسوں سے ڈگریاں لی جاتی ہیں۔ قومی اسمبلی کے کئی مرتبہ ممبر رہنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پاس ڈاکٹر کی ڈگری نہیں لیکن ڈاکٹر اسکے نام کیساتھ اس کی شناخت ہے۔
تین طلاق اور حلالہ کے حوالے سے عتیق گیلانی نے دھیان نہیں دیاتھا تو کئی واقعات پیش آئے مگر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہ دیا، ایک ساتھی عیسائی سے مسلمان ہوا تھا اور اسکے چھوٹے بچے تھے۔ ایک نے اہلحدیث سے رجوع کا فتویٰ لیا تھا تو تنقید نہ کی لیکن کراہت تھی کہ اس نے اچھا نہیں کیا۔ ایک نے حلالے پر اصرار کیا تو اس کو منع کردیا لیکن اس نے پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لے لیا اس فتوے میں لکھا تھاکہ ” طلاق کا حق عورت اپنے پاس رکھے تاکہ جب طلاق لینا چاہے تو اس شوہر کو چھوڑ سکے”۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوے میں طلاق کا اختیار حلالہ کرنے والے لعنتی مولوی کے پاس رہتا ہے جس سے عورت کوجتنا مرضی وہ بلیک میل کرسکتا ہے اور خواتین اور حلالے کروانے والے اسکے شوہر اس کی بدمعاشی کا شکار ہونے کے بعد کسی سے اس کا تذکرہ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی مخالفت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھاری نے کی تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے نمازکی سنتوں کے بعد دعا بھی بدعت قرار دی گئی تو مولانا احمدرضاخان نے اس تحریک کو اکابر کیخلاف زہرقرار دیا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ”بدعت کی حقیقت”میں فقہی تقلید کو بدعت قرار دیا۔ اس وقت حجاز پر وہابیوں کی حکومت نہیں تھی اسلئے مولانا احمدرضا خان بھی حرمین کے علماء سے فتویٰ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ دیوبند کے اکابر نے اس فتوے کے خوف سے اپنی دُم ایسی گھسیڑدی کہ آج تک نہ نکال سکے۔ بریلوی سے مفتی تقی عثمانی کا باپ اور استاذ دیوبند کیلئے زیادہ خطرناک تھے ۔70ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید دراصل دارالعلوم دیوبند کا مدِمقابل اور ضد ہیں۔اسلامی شعار کی حفاظت کیلئے دارالعلوم دیوبند کا وجود ناگزیز تھا لیکن اب سودتک بھی حلال کردیا گیاہے۔
جب نوازشریف کے دور میں دفاع کے بجٹ سے ڈیڑھ گنا صرف سودی رقم بڑھ گئی تھی تو فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ لینا بھی چھوڑ دیا۔ پھر فوج نے ٹول ٹیکس وغیرہ کے ٹھیکے لینا شروع کردئیے۔ اگر نوازشریف سی پیک کے مغربی روٹ کو نہ بدلتا جو مولانا فضل الرحمن نے زرداری کیساتھ مل کر چین کیلئے طے کیا تھا تو آج اس پر گوادر سے چین کیلئے ٹریفک ہوتی۔ جس سے بڑی تعداد میں ٹول ٹیکس کی مدمیں بھی پیسہ آنا شروع ہوجاتا۔ اور ایران کیساتھ جو گیس پائپ لائن کا معاہدہ زرداری نے کیا تھا، اگر اس پر نوازشریف کے دور میں عمل درآمد ہوجاتا تو پاکستان کو بھی قطر سے مہنگی اور وقتی گیس لینے کی ضرورت نہ پڑتی اورہندوستان کوبھی گیس پاکستان کے راستے سے جاتی ۔ ایرانی گیس و تیل سے ہندوستان کو بھی امریکہ کے مقابلے میں اپنے قریب کیا جاسکتا تھا۔ آج روس سے بھارت نے دفاعی سسٹم خرید لیا ہے جس سے ہمارے میزائل کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
چیف ایڈیٹر: اخبار نوشتہ دیوار کراچی

سعودی عرب نے تبلیغی جماعت اور دوسری تنظیموں پر کھلم کھلا اعلان کرکے نہ صرف پابندی لگائی ہے بلکہ جمعہ کے خطبات میں تبلیغی جماعت پر شدید الزام تراشی بھی کی ہے۔ شرکیہ عقائد کی تشہیر ، قبرپرستی، قرآن وسنت اور علماء حق سے دوری کے علاوہ ضعیف احادیث اور جھوٹے قصے کہانیاں سے عقائد بگاڑنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ تبلیغی جماعت کے نصاب میں پہلے فضائل درود شریف شامل تھا جس کا مولانا زکریا نے اپنی ”آپ بیتی” میں لکھا ہے کہ ” رسول اللہ ۖ نے خواب میں فرمایا کہ زکریا اپنے معاصرین میں فضائل درود کی وجہ سے سبقت لے گیا ہے”۔
تبلیغی جماعت نے سب سے پہلے سعودی عرب کے علماء اور حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے نصاب سے فضائل درود کو نکال دیا اور تبلیغی نصاب کی جگہ اس کا نام بھی ” فضائل اعمال ” رکھ دیا۔ مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت کے ایک بہت اہم ساتھی مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے تبلیغی جماعت میں نہ صرف بہت ساتھ دیا تھا بلکہ ان کی کتاب ” موجودہ پستی کا واحد علاج ” بھی نصاب کا حصہ تھا ۔ جب مولانا الیاس کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کاندھلوی کو تبلیغی جماعت کا امیر بنایا گیا تو صاحبزادہ حضرت جی مولانا یوسف نے جماعت میں کوئی وقت نہیں لگایا تھا لیکن اچھے عالم دین تھے اور جب وہ مولانااحمد علی لاہوری کے پاس گئے تو مولانا لاہوری نے ان سے فرمایا تھا کہ ” جس دن اس جماعت نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ دین کا بس صرف یہی کام ہے ۔ مدارس، خانقاہوں اور دوسری مذہبی وسیاسی جماعتوں کو اہمیت دینی چھوڑ دی تو اس کا زوال شروع ہوجائے گا”۔
حضرت جی مولانا محمد یوسف کے دور میں تبلیغی جماعت اپنی روح پر کاربند تھی لیکن جب مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا تو تبلیغی جماعت نے اپنے اصل کام سے انحراف شروع کردیا۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے سب سے پہلے مخالفت شروع کردی اور یہ لکھ دیا کہ ” پہلے بہت ساری چیزوں کی پابندی کیساتھ جماعت کو اس کام کی شریعت میں اجازت تھی لیکن اب بہت ساری خرابیاں کی وجہ سے تبلیغی جماعت اس بات کی اہل نہیں رہی ہے کہ شریعت میں اس ترتیب کیساتھ اس کو کام کرنے کی اجازت ہو”۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی مولانا الیاس کے ساتھی اور خلیفہ تھے۔علماء دیوبند کے اکابر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید وخلفاء تھے اور بریلوی دیوبندی اختلافات میں 7اہم اور بنیادی مسائل پر انہوں نے کتاب بھی لکھی تھی جو دیوبندی وبریلوی دونوں مکتبۂ فکر کیلئے قابل قبول تھی۔ دیوبندی فکر کے لوگ ان سات مسائل کو بدعت اسلئے سمجھتے تھے کہ ” شریعت میں ان کا جواز تھا لیکن بہت سارے لوگوں نے ان کو فرض وسنت کا درجہ دے رکھا تھا”۔ جب تبلیغی جماعت کا بھی وہی حال ہوا تو مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے اس جماعت کے خلاف بھی شریعت کا تقاضہ سمجھ کر آواز اُٹھائی تھی لیکن تبلیغی جماعت نے اس آواز کو دبا دیا۔ اگر دیانتداری سے یہ آواز تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکن حضرتات عوام تک پہنچادیتے تو شاید تبلیغی جماعت بے اعتدالی سے ہٹ کر اعتدال پر آجاتی۔
جب تبلیغی جماعت اپنے ہٹ پر قائم رہی تو شیخ الحدیث مولانا زکریا اور آپ خلفاء نے تبلیغی جماعت کی اصلاح کیلئے کوشش شروع کردی۔ مولانا محمدالیاس کے اس قول کی تشہیر ایک خط کے ذریعے سے شروع کردی کہ ” اس جماعت کے دو پَر ہیں،ایک علم اور دوسرا ذکر۔ اگر جماعت میںعلماء ومشائخ کے کام کی اہمیت نہ رہے تو پھر اس کا مٹانے والے مولانا الیاس کے اصل نمائندے ہوں گے”۔ آج مولانا زکریا کے خلفاء اور مریدوں کی اکثریت تبلیغی جماعت کی سخت خلاف ہے۔
تبلیغی جماعت کے ایک اکابر مولانا جمیل احمد صاحب نے ایک مسجد کے امام کو اس پر بات پر اپنے فون پر بہت ڈانٹا ہے کہ” تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کا نہیں ہے اسلئے کہ علماء دیوبند اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں اس دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور آپ برزخی حیات کے قائل ہیں اسلئے تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کے خلاف ہے اور علماء دیوبند کے لبادے میں چھپ کر تمہیں مسجد کے انتظامیہ کو ہٹادینا چاہیے۔ تمہارے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ہے”۔
مولانا منظور مینگل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ” حاجی عبدالوہاب کے سامنے ایک تبلیغی عالم نے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کی روح عزائیل نے نکال دی توحاجی صاحب سے فرشتوں نے سوال کیا کہ تمہارا رب کون ہے؟، رسول کون ہے؟ اور تمہارا دین کیا ہے؟۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مجھے مولانا الیاس، مولانا یوسف اور مولانا انعام الحسن کے پاس بستی نظام الدین پہنچادو۔ جس پر فرشتے بھی لاجواب ہوگئے اورحاجی صاحب کو انہوں نے دوبارہ زندہ کردیا”۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” المر ء مع من احب :آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اس کی محبت ہوتی ہے”۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ قبر میں نبیۖ کی زیارت کرائی جائے گی اور پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھٰذا الرجل ” اور اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو؟”۔ مسلمان اس نبیۖ کو پہچان کر گواہی دے گا کہ خاتم النبین رحمة للعالمینۖ ہیںاور غیرمسلم کہے گا کہ” لاادری : میں نہیں جانتا ہوں” ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاجی عبدالوہاب پر ایک کیفیت یہی طاری کردی ہو کہ موت کے بعد رب، نبی اور دین کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس کو بستی نظام الدین بھارت کے اکابر کے علاوہ کچھ بھی سوجھائی نہیں دیتا ہو تاکہ وہ زندگی میں اپنا قبلہ درست کرلے اور تبلیغی جماعت کے اکابر اور اسکے کارکن اس سے عبرت پکڑ لیں۔ جب مولانا منظور مینگل نے بھی تبلیغی جماعت کے اہم ترین اکابر حاجی عبدالوہاب اور انکے اردگرد کے ماحول کے بارے میں یہ نشاندہی کی تھی تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے تھی کہ موت کے بعد دنیاوی حیات نہیں برزخی حیات شروع ہوتی ہے۔ اگر دنیاوی حیات ہوتی تو پھر نماز ، وضو، پوٹی پیشاب اور کھانا کھانے کی گنجائش بھی قبر میں چھوڑدی جاتی اور تعففن سے شاید عقیدہ بھی درست ہوجاتا ۔
سعودی عرب کے وہابی علماء کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں دنیاوی حیات نہیں بلکہ برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں تو تبلیغی جماعت اپنا عقیدہ سعودی عرب میں کیوں چھپاتی ہے؟۔ پہلے تبلیغی جماعت نے فضائل درود کی وجہ سے بہت سارے بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگوں کو اپنا شکار بنایا لیکن جب سعودیہ سے خوف کھانے کی وجہ سے اپنے نصاب سے ” فضائل درود ” کو نکال دیا تو مسلمانوں کی مشترکہ جماعت کی جگہ اس پر دیوبندی فرقے کا لیبل لگ گیا۔ بریلوی نے پھر اپنی دعوت اسلامی بنائی اور اہلحدیث نے بھی اپنی نئی تبلیغی جماعت بنائی۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر ہے جس میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا، ابرص کے مریضوں اور مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کرنا بھی شامل تھالیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ قرآن شرک کی تعلیم دیتا ہے اور اگر یہ قرآنی آیات نہ ہوتی تو محمد بن عبدالوہاب کے جاہل پیروکار اس کو بھی شرکیہ اعتقادات سمجھ کر قرآن کے واقعات پر پابندی لگوانے سے دریغ نہ کرتے۔ دیوبند کے اکابرین نے پہلے محمد بن عبدالوہاب کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جب سعودیہ کی حکومت قائم ہوگئی تو ان کے علم ، کشف اور شرح صدر کا محور بدل گیا تھا۔ اگر اسلام میں قبر کی مخالفت ہوتی تو نبیۖ اور پہلے دو خلفاء حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی قبر کا حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں ہونا ہی اسلامی احکام کی بیخ کنی ہوتی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جس طرح انسان کی پیدائش، تخلیق اور اس کیلئے راستہ آسان ہونے کو احسان کے طور پر جتلایا ہے ، اسی طرح فاماتہ و اقبرہ اور اس کو پھر موت دیدی اور قبر دیدی کو بھی احسان کے طور پر شمار کیا ہے۔
تبلیغی جماعت کتنی پرامن اور غیر مضر ہے؟ ۔تو اس کا حال تبلیغی جماعت کے اندر ہی سے لیا جائے۔ ہندوستان میں اس کا عالمی مرکزبستی نظام الدین میں ہے۔ پاکستان میں اس کا مرکز رائیونڈ میں ہے۔ افریقہ میں بھی رائیونڈ کی جماعت والے بستی نظام الدین مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کی جماعت والوں وہاں کام نہیں کرنے دیتے ہیں جہاں ان کا بس چلتا ہے۔ جب یہ ایکدوسرے کے مراکز میں خود ایکدوسرے کو نہیں چھوڑتے ہیں اور جس مسجد میں ان کا غلبہ ہوتا ہے وہاں پر قرآن کا درس بھی نہیں ہونے دیتے ہیں تو دوسروں سے گلہ کرنے کے بجائے پہلے اپنے طرزِ عمل پر بھی غور کریں۔ بستی نظام الدین اور رائیونڈ کے مراکز میں اختلاف کے باوجود جس تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکنوں کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو یہ سچ قرآن میں اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ” اصل اندھا وہ ہے جو دل کا اندھا ہے”۔
سعودی عرب کے نمک خوار سعودیہ کی حمایت اپنے مفادات کی وجہ سے کرتے ہیں ، اگر دین کی بنیاد پر حمایت ہوتی تو حکومتی سطح پرفحاشی پھیلانے کے اقدامات کی سخت مخالفت کی جاتی ۔ اگر دین کی سمجھ ہوتی تو سعودی عرب میں جس طرح انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے غیرملکی مزدوروں کیساتھ بہت ناروارویہ رکھا جاتا ہے اور پاکستانیوں کیساتھ بہت زیادتیاں ہوتی ہیں تو پاکستان کی دینی جماعتیں اعلان کرتیں کہ مغرب اور مشرق میں سب سے بدتر ین لوگ یہی ہیں جو مسافرمجبور عوام کے حقوق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں بلکہ قانونی طور پر اجنبی لوگوں کو اپنے انسانی حقوق سے محروم کررکھا ہے اور ان کا پیسہ بھی غلط طور پر کھاتے ہیں۔
جب سعودی عرب اہلحدیث والوں کو پیسہ دیتے تھے اور مساجد ومدارس بھی بناکر دیتے تھے تو بہت سارے حنفی دیوبندی خاص طور پر اور بریلوی عام طور پر اپنے مسلک اور عقیدے کو بدل رہے تھے۔ مولانا انورشاہ کشمیری کے پوتے نے بھی اپنا مسلک تبدیل کرکے اہلحدیث کا مسلک اختیار کرلیا۔ جب ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ سنی اختلافات کو ہوا مل گئی تو جمعیت علماء اسلام ف کے نائب صوبائی امیر مولانا حق نواز جھنگوی نے انجمن سپاہ صحابہ کے نام سے ایک نئی جماعت بناڈالی۔ سعودیہ نے ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے علماء سے شیعہ کے کافر ہونے کا فتویٰ بھی لگوادیا اور پھر جب سپاہ صحابہ کی مرکزی قیادت مولانا حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمن فاروقی اور دوسرے رہنما ہاتھ میں نہیں آرہے تھے تو مرکزی قیادت کو راستے سے ہٹادیا گیا اورپھر بات نہیں بن رہی تھی تو لشکر جھنگوی تشکیل دی گئی۔ جس رفتارسے لشکر جھنگوی نے ترقی پائی تھی ،اگر ہماری ایجنسیاں ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے توشاید دہشت گردی اس رفتار سے نہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ عمران خان نے جب ایران کا دورہ کیا تھا تو اپنی ریاست کے اس کرتوت کا ذکر بھی افسوس کیساتھ کیا تھا۔
ایک آدمی نے شکایت کی تھی کہ میرا گدھا بہت سست چل رہاہے، اس کو تیزی کا کوئی نسخہ کھلا دو۔ حکیم صاحب نے گدھے کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو گدھا بہت تیز بھاگنے لگا تھا۔ گدھے کے مالک نے شکایت کی کہ اب گدھا بہت تیز بھاگ رہا ہے لیکن میں پہنچ نہیں پاتا ہوں۔ میرا بھی علاج کردو۔ حکیم صاحب نے اس کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو وہ بھی تیز بھاگنے لگا تھا۔ پھر ان کو پتہ چل گیا کہ یہ نسخہ کارآمد نہیں بلکہ بہت بیکار تھا۔ پہلے ہمارے ملک میں سعودی عرب کے خلاف بولنے کی بھی اجازت نہیں تھی لیکن اب حکیم صاحب کے نسخے کی کھل کر بہت مخالفت ہورہی ہے۔ چلو در آید درست آید۔ پاکستان کو فتنوں سے بچانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
شیعہ، سنی، حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی کے علاوہ تحریک طالبان ، داعش اور تحریک لبیک کی شکل میں مذہبی انتہاء پسندی کا دروازہ کبھی بھی ملک وقوم میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سختی اور پابندی مسائل کا حل نہیں ہے۔ ڈالی ہوئی مرچیں بھی نکالنا ضروری ہیں اوراس پر مکھن لگانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ ہمارا صحافی طبقہ صرف پیسہ کھاکر اپنے ملک اور اغیار کیلئے کام کرنا جانتا ہے اور کچھ نہیں۔
پرویزمشرف اور فوج کے خلاف جتنی باتیں کی جائیں کم ہیں لیکن کیا کوئی ایک بھی ایسا کلپ ہے کہ نوازشریف سے کسی نے پوچھا ہو کہ پارلیمنٹ میں لندن کی پراپر ٹی کے حوالے سے تحریری بیان جاری کیا تھا تو وہ کس کے کہنے پر کیا تھا؟۔ پھر اس کی تردید کیلئے جھوٹا قطری خط اور پھر اس سے دستبرداری کیسے اختیار کی تھی؟۔ جیو نیوز کا نوازشریف سے بہت اچھا تعلق ہے ، شاہ زیب خانزادہ نوازشریف کی صفائی میں اپنی صحافت کھپاتا ہے تو کم ازکم ایک سوال تو نوازشریف سے بھی بنتا تھا؟۔
ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب اور دیگر لوگ سوشل میڈیا پر پاک فوج کا دفاع نہیں کرتے ہیں بلکہ اُلٹا باشعور لوگوں میں نفرت کو بڑھاتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن اور جنرل یحییٰ خان تھے تو پھر پاک فوج زندہ باد کا نعرہ نہیں بنتا ہے۔ اگر کسی کاقتل ہونا ہی اس کا برے انجام کو پہنچنا ہے توپھر جنرل ضیاء الحق کا حادثہ اور جنرل پرویزمشرف کا اپنے ملک میں نہ آسکنا کیا ہے؟ ۔ یزید کو پھر کہنے کا حق تھا کہ نبیۖ کے خانودے حضرت علی اور حسن و حسین اور کربلا کے لوگوں کا کیا انجام ہوا تھا۔ یہ کتنی کم عقلی کی بات ہے کہ ایک طرف ایک جنرل کو اسلئے سزا دی جاری ہے کہ اس نے امریکہ کو غلط معلومات فراہم کرکے بے گناہ قائلیوں کا خون کیا تھا اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد امریکہ کا ایجنٹ بن گیا اور دوسری طرف ایک جنرل پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کو خفیہ معلومات فراہم کیں ؟۔ حالانکہ عدالت میں اس نے جنرل بلال اکبر کے واٹ سیپ پیش کئے کہ اعتماد میں لیاتھا اورجس کا الزام ہے وہ پہلے سے سب میڈیا پر موجود تھا اسلئے خفیہ معلومات پہنچانے کی بات بالکل غلط ہے۔ ایک باعتماد قیادت کی بہت ضرورت ہے۔ ہمارے سارے سیاسی قائدین بشمول وزیراعظم عمران خان آج کل عوام کو نوسر باز لگتے ہیں۔ اگر فوج اور ریاست سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو ریاست میںافراتفری کی فضاء سے عوام کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ریاست کو اپنا کردار کو درست کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
امجدشعیب نے اچھا کیا کہ بتادیا کہ ہندوستان نے بنگلہ دیش سے93ہزار صرف فوجی نہیں پکڑے تھے بلکہ31ہزار فوجی اور62ہزار سیولین تھے جن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی اداروں کے پاکستانی ہندوستان کے حوالے کئے گئے تھے۔ پہلے بہت سے باشعور لوگوں سے ہم سنتے تھے کہ فوج نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا۔ اللہ ہندوستانی فوج اور طالبان سے پاکستانی فوج کو سخت ترین شکست سے دوچار کرے۔ اب طالبان کے حامی پھر یہ کہتے ہیں کہ طالبان کی حمایت ہم فوج کی وجہ سے کررہے تھے۔ اللہ کرے کہ افغانی طالبان اور ہندوستان کے فوجیوں کے ہاتھ سے ہمارے فوجی چٹنی بن جائیں اور ان کی بیگمات ہمارے لئے رہ جائیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی زندگیاں مسلم لیگ اور ملا کی حمایت میں گزری ہے اور ب پیپلزپارٹی کے حامی بن گئے ہیں۔
امجد شعیب کی باتوں سے فضاء بدلنے والی نہیں ہے کیونکہ بنگلہ دیش آج اتنا مقروض نہیں ہے، جتنا پاکستان مقروض ہے۔ ہم سے پسماندہ بنگلہ دیش بھی آگے نکل گیا ہے۔ اگر ہماری ریاست نے ٹھان لی ہے کہ پنجاب کو مشرقی پنجاب سے ملا دینا ہے ، آدھے بلوچستان اور پختونواہ کو افغانستان کے حوالے کرنا ہے اور سندھ کو آزاد کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی قرضوں سے اس کی جان چھوٹ جائے تو عوام کو اعتماد میں لیکر شائستگی سے یہ کام کریں لیکن اگر پاکستان کو باقی رکھنا ہے تو اپنا رویہ بھی بدلیں۔ عوام پر قرضوں اور قبضوں کا بوجھ لادنے کے بجائے ان کوخوشحال بنائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سری لنکن شہری کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ مشال خان کی شہادت پر مذہبی جماعتوں کا رویہ کیا تھا؟

 

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
چیف ایڈیٹر: اخبار نوشتہ دیوار کراچی

سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل پرآرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا پہلا ردِ عمل خوش آئندتھا اور کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ بھی خوش آئندہے ورنہ یہ دلّے اور دلّال کیپٹن صفدر اور سراج الحق پھر اپنی سیاست چمکانے کیلئے نیچ حرکت کرتے؟

ایک وقت وہ تھا کہ جب مردان میں انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ طریقے سے ایک غریب کے قابل ترین بیٹے کو محض حسد وکینے اور جرمِ ضعیفی کی سزا دیکر شہیدکیا گیا تھا۔ جیونیوز اورARYنیوز سب میڈیا نے اس کی مذمت کی تھی اور مفتی محمد نعیم نے اس کو شہید بھی قرار دیا تھالیکن مسلمان، پختون اور مذہبی وسیاسی طبقات کی بزدلی نے مشعال خان کے جنازے اور تعزیت کے معاملے کو بھی بہت زیادہ شرمناک حدتک قابلِ مذمت بنایا ۔ عام لوگوں نے اُٹھ کر جب کلاشنکوف اٹھائی اور بندوق کی نوک پر جنازہ اور تدفین کردی تو پولیس اس کی قبر کی حفاظت کیلئے بھی تعینات کردی گئی۔ آج جس طرح سری لنکن شہری کے قتل پر فضاء بدل گئی تو اس کاکریڈٹ کس کو جاتا ہے؟۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت مشعال خان کی بہیمانہ شہادت پر اسی طرح یہ کردار ادا کرتے تو مذہبی بہروپئے جنازے کیلئے نہیں تو تعزیت کیلئے ضرور مشعال خان کے گھر پہنچ جاتے اور وقت کا حکمران اس وقت بہادری کی تصویر بننے والے فرد کے کردار پر اس کو تمغے سے بھی نوازتے۔
اس وقت جب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مہم چل رہی تھی کہ قادیانی ہے اور اس کا باپ قادیانیوں کے قبرستان میں دفن ہے تو اوریا مقبول جان نے ایک شخص کا خواب بیان کیا کہ رسول اللہ ۖ نے جنرل باجوہ کو اس وقت ایک تحفہ سپرد کردیا جب آرمی چیف بننے کا کوئی چانس بھی دکھائی نہیں دیتا تھااور جنرل باجوہ نے وہ تحفہ پہلے بائیں ہاتھ سے لیا اور پھر حضرت عمر کی رہنمائی سے جنرل باجوہ نے اس تحفے کو دائیں ہاتھ میں لیا تھا۔
خواب کی اصل تعبیر تو تعبیر کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں لیکن آرمی چیف بننے کیلئے نوازشریف نے اس وقت منتخب کیا تھا جب نوازشریف کے سامنے اس پر قادیانیت کا الزام بھی تھا لیکن پھر دوسری مرتبہ عمران خان ، نوازشریف اور بڑی تعداد میں جمہوریت کے دعویداروں نے جنرل باجوہ کو دوبارہ ایکس ٹینشن دی۔ پہلی مرتبہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اس تحفے کو بائیں ہاتھ میں لینے کے بجائے قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے عرض کردیتے کہ مجھ سے زیادہ اہلیت رکھنے والے دوسرے جنرل زیادہ حقدار ہیں تو یہی جنرل باجوہ کیلئے بہتر تھا اسلئے کہ جنرل راحیل شریف کے دور میں جس طرح فوج نے دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف بہت زبردست مؤقف اپنایا تھا اگر دہشت گردی کیساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف بھی مہم جاری رہتی تو آج پاکستان سودی نظام کے بھاری بھرکم گردشی سودی قرضوں کے تحت اتنا زیادہ مصیبت میں گرفتار نہیں ہوسکتا تھا۔
تین دفعہ ملک کا وزیراعظم بننے والے ٹاؤٹ نوازشریف نے کہا کہ” سری لنکن شہر ی کا قتل فیض آباد دھرنے میں ایک ایک ہزار روپیہ بانٹنے والے جنرلوں کے کھاتے میں جاتا ہے”۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس وقت شیخ رشید کی بات پارلیمنٹ میں سن لی جاتی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے ہی اس بل کے خلاف پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مؤقف سامنے آتا تو فیض آباد دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ پھر اگر نوازشریف کے چہیتے داماد کیپٹن صفدر جیسے لوگ تقریریں نہ کرتے کہ جنرل ضیاء الحق نے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ختم نبوت کیلئے کردار ادا کرنے پر سزا دی ہے تو فیض آباد دھرنے میں جان نہیں پڑ سکتی تھی۔ جب فیض آباد دھرنے کے وقت حکومت ن لیگ کی تھی اور پاک فوج کو کردار کیلئے آمادہ کرنا بھی اسی کا کام تھا تو دھرنے کے شرکاء کو واپسی کا کرایہ دینے میں کتنا خرچہ ہوا ہوگا؟۔ اور پھر اسکے ذمہ دار کون تھے؟۔ اگر نوازشریف کے دور میں پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ واقعی بقول نوازشریف کے ٹاؤٹ راشد مراد کھریاں کھریاںMRٹی وی برطانوی فوج نے خود کروایا تو پھر نوازشریف اس وقت خوشی سے نہال کیوں تھا؟۔ فیض آباد دھرنے اور آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعہ کے وقت گدھے کی کھال پہنے ہوئے گیدڑ نوازشریف کی حکومت تھی جو ببر شیر بننے کا دعویدار ہے۔
اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب پیپلزپارٹی کی مرکز میں حکومت تھی اورپنجاب میں شہبازشریف کی حکومت تھی۔ بقول انتہائی جھوٹا اور مکار شخص پرویزمشرف دور کے وزیراطلاعات ق لیگ محمد علی درانی ”انصار عباسی واحد ایک ایماندار صحافی ہیں”۔ شہبازشریف نے انصار عباسی کے گھر تک مری میں سڑک بناکر اس پر کروڑوں کا خرچہ کیا تھا۔ انصار عباسی کہتا تھا کہ ” ہمارا آئین اسلامی ہے اور اسلام میں صدر آصف علی زرداری کے استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی مثال خلفاء راشدین کے طرزِ عمل کی ہے”۔ جب اس سے کہا جاتا تھا کہ پاک فوج پر تنقید ہوسکتی ہے تو انصار عباسی کا اسلام بدل جاتا تھا اور کہتا تھا کہ ”آئین نے فوج کو استثناء دیا ہے اسلئے ان پر تنقید کرنا غلط ہے”۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب چوہدری نثار اور شہبازشریف چپکے چپکے رات کی تاریکی میں ہی آرمی چیف جنرل پرویز کیانی سے ملاقات کرنے جاتے تھے۔ اس وقت خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف قتل کی سازش کا انصار عباسی نے انکشاف کیا تھا جس میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر ، آصف علی زرداری وغیرہ کو ملوث قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ سارا پلان ناکام ہواتھا۔ اگر اس وقت انصار عباسی کو کٹہرے میں لاکر قرارِ واقعی سزا دی جاتی تو اب دوبارہ انصار عباسی کو اس قسم کی نئی نئی باتوں پر کورٹ میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ نذیر ناجی نے اس وقت کہا تھا کہ ”یہ سب کتے کا بچہ انصار عباسی ہے”۔ حالانکہ دونوں کا ایک ہی جنگ گروپ اور جیونیوز سے تعلق تھا۔ جب گورنر سلمان تاثیر کو خواجہ شریف کے قتل میں ملوث کرنے کی سازش ناکام ہوگئی جس پر رؤف کلاسرا نے ایک کتاب بھی لکھی ہے کہ ” ایک قتل جو ہونہ سکا”۔پھر سلمان تاثیر کے قتل، اسکے بیٹے شہبازتاثیر کے اغواء سے موجودہ دور کے سفر تک مسلم لیگی رہنما ؤں اور قیادت کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
تحریک لبیک اور وزیراعظم عمران خان کا بھی چولی دامن کا ساتھ تھا۔ جب تک قوم کا اجتماعی کردار درست نہیں ہو توپھر مذہبی وسیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ قوم کے اجتماعی شعور کی بیداری کا اثر پاک فوج کی قیادت اور مذہبی وسیاسی رہنماؤں اور قائدین پر بھی پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بات کا آغاز کرتے ہوئے یہ کریڈٹ بھی دیا کہ سب سے پہلے سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل کی مذمت اسی نے کی ہے۔ سراج الحق نے بتایا کہ وہ عیسائی جوڑے اور دوسرے افراد کی بھی پہلے تعزیت کرچکے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دین ہمیں ایسا کرنے کاحکم دیتا ہے۔ کسی بھی انسان کو اس طرح وحشیانہ انداز میں قتل کی اجازت رحمت للعالمینۖ کا دین ہمیں نہیں دیتا ہے۔ کاش سلیم صافی سراج الحق سے یہ بھی پوچھنے کی جسارت کرتا کہ مشعال خان کیساتھ جو وحشیانہ اور بہیمانہ بربر یت کی گئی تھی اورتم لوگ اس وقت قاتلوں کے حق میں پشاور شہر میں جلسہ کررہے تھے تو تم اس کردار پر شرمندہ ہو یا نہیں؟۔ یا اس وقت رحمت للعالمین ۖ کی جگہ زحمت اسلامی کا دین جدا تھا؟۔ جب تک اس کردار سے جماعت اسلامی کھل کر توبہ نہیں کرتی ہے لوگوں کے دل ودماغ میں اس کے ڈھانچے پر منافقت کے نقوش قائم رہیں گے۔ پہلے جماعت اسلامی ن لیگ کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور اب مولانا فضل الرحمن پر بھی ن لیگ کے منافقانہ تضادات کے کردار کا اثر پڑاہے۔
فیض آباد دھرنے میں ہزار ہزار روپے واپسی کا کرایہ بانٹنااتنی بڑی بات نہیں تھی جتنا اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کے حوالے سےISIنے لاکھوں روپے اس وقت نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کیلئے دئیے تھے۔ اگر نوازشریف نے سعودیہ کی جلاوطنی کے بعد سے اب تک اپنا دو رخی اور متضاد کردار ترک کیا ہوتا تو بھی کوئی بات ہوتی لیکن ن لیگ اور ش لیگ کی نورا کشتی سے قوم کو دھوکہ دینے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔مولانا فضل الرحمن اس جرم میں ملوث ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کورکمانڈرز ایک مرتبہ حلالہ کے خلاف بھی اپنا بیانیہ واضح کردیں تو علماء حق خواتین کی عزتیں بچانے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے اور ان مذہبی بہروپیوں سے اسلام اور عوام کی جان بھی چھوٹ جائے گی جو اسلام کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بحالی افغانستان کے طالبان نے اسلامی بنیاد پر شروع کردی ہے لیکن یہاں پاکستان کے نام نہاد علماء ومفتیان اور مذہبی سیاسی قیادت اب تک کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں، جب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور کورکمانڈرز اپنی طرف سے حلالہ کی لعنت کے خلاف اور خواتین کے حقوق پر اپنی پالیسی واضح کریںتو غیر اسلامی مذہبی انتہاء پسندی کے خاتمے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔آج راست اقدام سے جنرل باجوہ دائیں طرف والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔
سری لنکن شہری کو بہیمانہ اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے والوں کو سری لنکا کی حکومت کے حوالے کیا جائے اور وہی سزا دی جائے جو کچھ انہوں نے کیا ہے۔ جب مشعال خان کو شہید کیا گیا تھا تو ہم نے لکھا تھا کہ سزاؤں سے بچنے کیلئے یہ نام نہاد عاشقانِ رسول اب اپنی پشت میں اپنی دُم گھسیڑنے کے بجائے کھل کر اعترافِ جرم کریں۔ نبی رحمت ۖ کے نام پر کسی کو قربان کرنا عشق رسول نہیں ہے بلکہ خود کو قربانی کیلئے پیش کرنا اصل عشق رسول ہے۔
تحریک لبیک کا جو جتھہ تیار ہے جس کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کی قبر پر مولانا طارق جمیل نے گل دستے پیش کئے اور اہلحدیث نے بھی ان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ یہ یاد رکھا جائے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت کا تعلق اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی سے ہے جو دیوبندی اور اہلحدیث کو گستاخان رسول اور قادیانیوں کی طرح کافر سمجھتے تھے۔ اگر تشدد کی فضاء بن گئی تو پھر سری لنکن شہری کی طرح دیوبندی ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی کے لوگ بھی عتاب میں آسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو خوف تھا کہ احسن اقبال کی طرح وہ بھی تحریک لبیک کے کارکنوں اور جذباتی عوام کا نشانہ نہ بن جائے اسلئے پہلے سری لنکن کے قتل کی ذمہ داری میں ریاست کو شامل کیا اور پھر احسن اقبال کی طرف سے کھراپیغام آنے کے بعد اپنے روئیے کو بدل دیا۔
افسوس، مذمت اور کیفر کردار تک پہنچانے کے بیانات کچھ نہیں۔ جب تک اسٹیج سے من سبّ نبےًا فقتلوہ ” جس نے نبیۖ کو گالی دی تو اس کو قتل کردو” کا نعرہ ایسے لوگوں کے ہاں سے بلند ہوگا جو دوسروں کو گستاخ بھی سمجھتے ہیں تو پاکستان میں بڑے پیمانے پر شدت پسندی کی بنیاد پر قتل وغارت کا خدشہ باقی رہے گا۔ علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے نے اسکا فیصلہ کردیا تھا۔ دوسری طرف جب تحریک طالبان پاکستان کو موقع مل گیا تو بریلوی لوگوں کو نہ صرف قتل کیاگیا بلکہ سوات جیسے پرامن اور شریف لوگوں کی فضاء میں مینگورہ شہر میںایک پیر کی لاش قبر سے نکال کر کئی دنوں تک چوک پر لٹکائی گئی تھی۔اس وقت امن کی نام نہاد فاختہ مولانا طارق جمیل کہتا تھا کہ ” ہماری اور طالبان کی منزل ایک ہے ، صرف طریقہ واردات جداجدا ہے”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے دہشتگردی کے خلاف فتویٰ دینے سے انکار کیا تھا۔جماعت اسلامی کے رہنما ؤں نے خاص طور پر اور جمعیت علماء اسلام کے بعض رہنماؤں نے عام طور پر دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کا ٹھیکہ اٹھارکھا تھا اور پھر آخر میںعلماء نے دہشتگردی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مسلم لیگ ، دیوبند اور بریلوی کی تحریکیں ہندوستان سے آئی ہیں۔ سول ملٹری بیورو کریسی پہلے متحدہ ہندوستان کا حصہ اور انگریز کی غلام تھی۔
انگریزہندو مسلم فسادات کے ذریعے ہندوستان کی عوام کو کنٹرول کرتا تھا۔ ہماری سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی سنی وہابی ، شیعہ سنی تفریق و انتشارایک غنیمت سے کم نہیں کیونکہ مختلف گروہوں کو ایکدوسرے سے خطرات ہوں گے تو نااہل ریاست کیلئے عوام پر اپنا ناجائز اقتدار مسلط کرنے میں مشکل نہ ہو گی۔ بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ میں بہت ٹاؤٹ قسم کی مخلوق ملے گی۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ٹاؤٹ کا کردار ادا کیا ۔ مسلم لیگ ن، ق، جونیجو، ضیاء اور وہ کونسی سیاسی جماعت ہے جس نے بقول شیخ رشید کے فوجی گملے میں پرورش نہ پائی ہویا پھر اس کیGHQکے گیٹ نمبر چار سے رسم وراہ نہیں ہو؟۔
محمود خان اچکزئی نے درست کہا کہ ” کم بختو! قائد پیدا ہوتے ہیں بنائے نہیں جاتے ”۔ لیکن کیا نوازشریف قائد پیدا ہوا تھایا بنایا گیا ؟۔ ایک وہ قیادت ہے جو مصنوعی طریقے سے بنائی گئی اور دوسری وہ ہے جنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قیادت کوئی خانوادہ ہوتا ہے۔ نبیۖ نے تحریک چلائی تو حضرت ابوبکر،عمر، عثمان ،علی ،معاویہ ، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، خالد بن ولید قیادت کیلئے ایک جماعت تیار ہوئی۔ یزید قائد نہ تھا بلکہ باپ کی وجہ سے امارت پر قابض ہوا تھا۔ بنوامیہ اور بنوعباس نے موروثی خا نوادے کی بنیاد پر قیادت سنبھال لی تھی ۔
میرے مرشد حضرت حاجی محمد عثمان نے تبلیغی جماعت میں بہت وقت لگایا تھا اور وہ جب اسٹیج پر تقریر کرتے تو اکابرین میں ہوتے تھے اور جب سامعین میں ہوتے تھے تو عوام کے پنڈال میں بیٹھتے تھے۔ کھانا پینا ، نشست وبرخاست اور جماعت کے نظم کے مطابق ہفتے میں دوگشت، مہینے میں سہ روزہ،سال میں چلہ اور زندگی میں چار مہینے کے نصاب پر عمل پیرا تھے۔35سالوںتک جماعت کے نظم کی پابندی اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھاہوا تھاتو ان کی مقبولیت سے گھبرا کر بعض مفادپرستوں نے اندرونِ خانہ انکے خلاف پروپیگنڈہ کیا جو جماعت کے نصاب کی دعوت دیتے تھے لیکن خود خواص بن کر نصاب کے مطابق نہیںچلتے تھے ۔ قول وفعل کے تضاد نے اکابرکو متکبر اور رذائل کی آماجگاہ بنادیا۔ حاجی عثمان پر یہ الزام تھا کہ ” ان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے”۔
ایک دن حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کے مرکز میں یہ اعلان کروایا کہ اس اتوار کی نشست میں تبلیغی جماعت کے لوگ شریک ہوسکتے ہیں۔حاجی عثمان نے بیان کا موضوع یہ رکھا کہ جماعت شخصیت سازی کی بنیاد ہے اور اگر جماعت شخصیات پیدا نہ کرے توپھر یہ جماعت نہیں بھیڑ ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کو کیسٹ بھیجی گئی اور شیخ الحدیث نے تبلیغی اکابرین کو بیان سنادیا اور فرمایا کہ ” ان کی بات سو فیصد درست ہے”۔ آج مرکز بستی نظام الدین بھارت میں مولانا الیاس کا پڑپوتا مولانا سعد اور دوسری طرف رائیونڈکی نام نہادشوریٰ ہے۔ جماعت دو حصوں میں اسلئے بٹ گئی ہے کہ ایک متفقہ امیر کے چناؤ پر اتفاق نہیں ہورہا تھا۔ حالانکہ کیا تبلیغی جماعت اور کیا اس کی امارت کے مفادات؟۔
ہماری ریاست اور سیاسی پارٹیوں نے انقلابی پیدا نہیں کئے بلکہ مصنوعی اور موروثی لیڈر شپ سے عوام نے دھوکہ کھایا۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی وشیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی سے زیادہ اہلیت ڈاکٹراقبال اوروکیل قائداعظم محمد علی جناح میں تھی۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ایوب خان فیلڈمارشل ، ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام، جنرل ضیاء الحق امیر المؤمنین اور محمد خان جونیجو قائدجمہوریت ، نوازشریف اینٹی اسٹیبلیشمنٹ اور علامہ شبیراحمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع سے لیکر موجودہ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کاوجود بھی نہ ہوتا۔ موروثی اور مذہبی قیادت نے جنرل ایوب خان یا فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ اگر پاکستان نہ ہوتا تو نہ مسٹرجناح قائداعظم اورنہ نوابزادہ لیاقت قائد ملت بنتے اور پھر ان کی باقیات فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت بھی نہ ہوتیں۔ سول وملٹری اسٹیبلیشمنٹ کے پنجے بھی مضبوط نہ ہوتے اور نہ ہی مصنوعی اور موروثی قیادتوں سے یہ ملک وقوم اور سلطنت شادآباد کے بجائے یوں تباہ وبرباد ہوتے۔
علماء ومشائخ ، سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ادارے اور سیاسی قیادتیں پاکیزہ اور قابلِ احترام ہیں مگر جب یہ اپنے مقصد سے ہٹ کر دوسرے کاموں پر لگ جائیں تو پھر ادارے، سیاسی جماعتیں اورقیادتیں بھی کرپٹ بنتی ہیں اور ملک و قوم اور سلطنت کو بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ جب علماء ومشائخ دین سے ہٹ کر اپنا ذاتی ایجنڈا اپنے عقیدت مندوں پر مسلط کرتے ہیں تو یہ فرقہ واریت کی چھتری کے نیچے تعصبات کی سانسیں لیکر ہی جی سکتے ہیں۔
لسانیت ، غیرانسانیت اور جاہلیت کے نام پر بہت زیادہ معاشرے میں ظلم و زیادتیاں ہوتی ہیں مگرمذہبی لوگ بارود کے ڈھیرپر بیٹھتے ہیں۔ توہین رسالت و توہین مذہب کے نام پر کسی وقت بھی یہ بارود پھٹ کر نہ صرف کسی انسان کا وہ حال کرسکتا ہے جو مشعال خان کا ہوا، ایک بینک منیجر کا ہوا اور کئی مثالوں کے علاوہ اب سری لنکن شہری کا ہوا۔ اس انجام سے ہماری سول،ملٹری ،مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادتیں بہت خوف کھاتی ہیں۔ درود والے بھی بارود کے ڈھیر پر بیٹھے رہتے ہیں اور بارود والے بھی درود والوں کو نہیں چھوڑتے ہیں۔اہل بیت وصحابہ کے نام پر بھی غلیظ ترین کردار کے مالک اپنی غلاظت کو چھپاتے ہیں۔
سورۂ نور کی روشنی خود چمک کراُٹھ سکتی ہے۔ قرآن کی لوگ دنیا کے چپے چپے پر تلاوت کرتے ہیں، ان کا ضمیرکسی وقت جاگ سکتا ہے کہ رسول اللہ ۖ کی حرم ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو قرآن و سنت نے قتل کی اجازت نہیں دی اور بہتان پر وہ سزا دی گئی جو کسی بھی محترمہ پربہتان لگانے کی ہے۔ حضرت حسان،مسطح اور حمنہ بنت جحش نے اماں عائشہ پر بدکاری کا بہتان لگایا ۔ حسان ایک نعت خواں تھے۔ مسطح حضرت ابوبکر کے قریبی رشتہ دار تھے اور حمنا حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کی بہن تھیں۔ رسول اللہ ۖ کو اس واقعہ سے بڑی اذیت کسی بھی واقعہ اور بات سے نہیں پہنچ سکتی تھی۔
نبیۖ نے صحابہ کی بارود کے ڈھیر پر بٹھانے کی تربیت نہیں کی۔ وحی کے ذریعے سے رہنمائی ہوتی تھی ،جب افک عظیم کا واقعہ پیش آیا تو یہ وحی نازل نہیں ہوئی کہ ان بہتان طرازوں کی بوٹیاں کرکے ہڈیاں توڑ دو اور پھر ان کو جلادو۔ نبیۖ کو اس سے بڑی گالی اور کیا ہوسکتی تھی؟۔ اللہ نے صحابہ سے فرمایا کہ” تم اگر کہہ دیتے کہ یہ بہتان عظیم ہے”۔ ابوبکر نے عہدوپیمان کیا کہ اپنے رشتہ دار مسطح پر آئندہ کوئی مالی احسان نہ کروں گا تو اللہ نے فرمایا کہ ” تم سے جو مالدار ہیں ان کیلئے مناسب نہیں کہ اپنے عزیزوں کیساتھ احسان نہ کرنے کا عہد کریں ”۔ مذہبی تنظیمیں ، سیاسی جماعتیں اور ہماری میڈیا کے صحافی سورۂ نور کی آیات کو بھی چھپاتے ہیں اسلئے کہ یہ سب لوگ غلام احمد پرویز کی گمراہانہ فکر سے متأثر ہیں۔ غلام احمد پرویز سورۂ نور کی احادیث صحیحہ کی تفسیر کا منکر تھا۔وہ کہتا تھا کہ صحیح بخاری و مسلم میں یہ واقعہ اہل تشیع نے حضرت عائشہ کے خلاف گھڑ ا ہے۔ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں پرویزی فکر کی وجہ سے شیعہ کے خلاف زیادہ غم وغصہ اسلئے ہے کہ وہ اماںعائشہ پر حملہ آور ہیں ۔ علماء ومشائخ نے قرآن کی تفسیر اور احادیث صحیحہ کو دیکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ جاہلیت کے روپ دھارے جبے قبے پہننے سے کوئی عالم اور شیخ طریقت نہیں بن سکتا ہے۔ تحریک لبیک کے علماء ومشائخ سورۂ نور کی آیات کا اپنی گرم محافل میں صرف حوالہ دیں تو جاہلیت کی اندھیر نگری سے ان کی اپنی جماعت اور پوری قوم نکل آئے گی۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” جن لوگوں پرعلم وسمجھ کی زیادتی ہے لیکن اس پرعمل نہیں کرتے ہیں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور یہود کی طرح ہیں اور جن میں عمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے لیکن علم وسمجھ نہیں ہوتی ہے وہ گمراہ ہوتے ہیں اوروہ عیسائیوں کی طرح ہیں۔ یہود ونصاریٰ کی طرح ہمارے فرقوں کا بھی وہی حال ہے ”۔ دیوبندیوں پر یہود کی طرح خدا کا غضب ہے اور بریلوی کا طبقہ عیسائیوں کی طرح گمراہ ہے۔ عربی میں ضال کے معانی گمراہی کے بڑے درجے سے لیکرآخری درجے میں حق کی راہ میں سرگردان کے آتے ہیں اسلئے قرآن میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ووجدک ضال فھدیٰ ”ہم نے آپ کو سرگرداں پایا تو راہ ہدایت کی رہنمائی کردی”۔ عیسائیوں میں ایسے ایمان رکھنے والے بھی بہت تھے جنہوں نے حق کی آواز سنی تو کہنے لگے کہ ” ہم تو پہلے ہی سے مسلمین ( حق کو ماننے والے)تھے”۔ جس طرح سونے والا مؤمن جب آذان کی آواز سنتا ہے اور نیند سے بیدار ہوتا ہے تو نماز کی طرف لپکتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں میں ایمان پر قائم طبقے نے جب قرآن کی آواز سن لی تو حق تسلیم کرلیا۔ نیند میں مگن شخص کو نیند سے اٹھایا جاسکتا ہے لیکن جب اپنے اوپر زبردستی کوئی نیند طاری کرلے تو اس کو نیند سے اٹھانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
یہود وہ تھے جن پر اللہ کا غضب تھا اور ان کی اکثریت جانتے بوجھتے حق کے مخالف تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے دیوبندیوں کی اکثریت کو بھی یہود ہی کی طرح قرار دیا ہے جو سب کچھ سمجھنے کے باوجود بھی حق کی مخالفت کرتے ہیں۔
اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سری لنکن شہری کے قتل پر یہ بیان جاری کرتا کہ ” فرانس تک ہماری پہنچ نہیں ہے لیکن پاکستان میں کسی مسلم اور غیر مسلم کو توہین مذہب پر جوکوئی سزا دے گا تو اس کو ہم بچا نہیں سکیں گے ”توساری مذہبی و سیاسی جماعتیں سیالکوٹ کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتیں اور جس کو تمغۂ جرات سے نوازا گیا ہے وہ کسی غیر ملک میں بھاگ کر پناہ لینے پر مجبور ہوجاتا۔ باجوہ کو بھی سب خراج عقیدت پیش کرتے اور سیاسی ومذہبی جماعتیں توہین مذہب پر اپنے اپنے حصے کا ووٹ پانے کیلئے پنجاب میں بڑے بڑے جلسے کرتیں۔ عمران خان بھی کہتا کہ ” سری لنکن شہری کے قتل سے دنیا کو ایک اچھا پیغام گیا ہے”۔
جنرل قمر جاویدباجوہ اور کور کمانڈرز کانفرنس نے جونہی اپنے رویے کا اظہار کردیا تو سب کے سب میں جرأت وبہادری کی روح دوڑ گئی ہے۔ قومی ایکشن پلان کیلئے قرآن وسنت کے اصل کردار کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے اسلئے کہ حیلے کے نام پر سود کو حلال کرنے سے قومی معیشت کو کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے اور جن شیخ الاسلاموں اور مفتی اعظموں پاکستان نے حیلے کے نام سے سودی نظام اور حلالہ کے نام سے عورتوں کی عزتیں لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے یہ بدمعاش ہماری میڈیااور ہماری ریاست وحکومتوں نے مسلط کئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا کہ الکاسب حبیب اللہ ” محنت کرکے کمانے والا اللہ کا دوست ہے”۔ موچی، لوہار، نائی اور تمام کسب والے مزدور ہمارے سروں کے تاج ہیں اسلئے کہ نبیۖ نے ان کو اللہ کا حبیب قرار دیا ہے اور اس سے بڑی عزت کرپٹ سیاستدان ،دین فروش مولوی، جرنیل ، بیوروکریٹ ، خان ونواب کی نہیں ہوسکتی ہے لیکن عوامی اصطلاحات کی وجہ سے دورِ جاہلیت کی ایک مثال سے سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی دوسرے بادشاہ کے بیٹے کو بیاہ دی۔ بادشاہ کی بیٹی نے اپنے باپ سے کہا کہ ویسے تو بہت اچھے لوگ ہیں اور دنیا کی ہرسہولت وہاں موجود ہے لیکن مجھے یہ شکایت ہے کہ جس سے شادی کروائی ہے وہ اصل بادشاہ نہیں بلکہ ذات کے موچی ہیں۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ اس کی فکر نہ کرو اور ہاتھ کے اشارے سے استرا چلاتے ہوئے کان میں بتایا کہ میں بھی ذات کانائی ہوں۔ سیاسی جماعتیں ایکدوسرے پر الزام لگاتی ہیں کہ کون کس کی ممی ڈیڈی ہے اور کس کو کس نے پالا ہے مگر سب ایک جیسے ہیں۔
جب اسلام کی حقیقت سامنے آگئی تو انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ یکے وتنہاء رہ گئے اور قریش کے ایک کمزور ترین قبیلے بنوتمیم کے حضرت ابوبکر مسندِ خلافت پر بیٹھ گئے۔ حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علیو حسن، حضرت معاویہ سب کو اپنی اپنی باریاں مل گئیں لیکن پھر خلافت راشدہ ملوکیت میں بدل گئی، جس نے ادیبوں سے عوام کو ورغلانے کیلئے لیلیٰ مجنون کی کہانی لکھوا ئی ،تاکہ عوام عشق ومحبت کے سانچوں میں ڈھل کر اقتدار سے بے نیاز بن جائیں اور دوسری طرف اپنا مذہبی طبقہ بھی پیدا کیا جو اقتدار کے کاروبار میں انکے ساتھ شریک تھا۔ اسلام نے نام نہاد شیوخ پیدا نہیں کئے بلکہ حکمرانوں نے شیخ الاسلام اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے بنا ڈالے۔ اسلام کا شیخ کون ہوسکتا ہے؟مگر جنہوں نے اسلام کی بیخ کنی شروع کی تھی وہ اہل اقتدار کی طرف سے شیخ الاسلام کے منصب پر فائز کردئیے گئے۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے اپنے حکمرانوں سے سزائیں کھائیں اور شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں نے اسلام بیچ کر شیخ الاسلامی کا منصب حاصل کرلیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ”تذکرہ” میں تاریخ کے اوراق سے کچھ اسباق کا ذکر کیا ہے۔
آج اگر سورۂ نور کی آیات سامنے لائی جائیں تو عوام اور حکمرانوں کی عزتوں کافاصلہ اور جمود ٹوٹ جائے گا۔ ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ کی طرح لیڈروں کے بچے لیڈر بننے کے بجائے اچھے مجاہد بن جائیں گے۔ یزیدیت کا شاخسانہ بھی ختم ہوجائے گا اور حضرت حسین کی طرح لوگوں کو قربان کرنے کے بجائے قیادت اور اقتدار کی منزل تک نیچے سے اوپر تک ہر جگہ پہنچایا جائے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

نواز شریف کو بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر لانا پارٹ ون اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا آڈیو اور ویڈیو سکینڈل پارٹ ٹو ہے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

جب برطانیہ نے نوازشریف سے کہا کہ صحت کی بنیاد پر ویزے میں مزید توسیع نہیں دے سکتے تومردہPDMمیں دوبارہ جان ڈال دی گئی ، مفاہمت اور مزاحمت کا فیصلہ نوازشریف کی آمد اور مفاد کیلئے کیا جائیگا، پیپلز پارٹی کو اسلئے باہر کردیا گیا کہ پھرنوازشریف اپنے مفاد کی سیاست کھل کر نہیں کھیل سکتا تھا۔ بیماری کا جھانسہ دیکر باہر جانا پارٹ ون اور ویڈیوز اسکینڈل پارٹ ٹو ہے۔ریاست اور سیاست کی منافقت نے اب عوام کے اعتماد کو ہر چیز سے اٹھادیاہے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت، فوج، سیاست، سول بیوروکریسی، پولیس، انتظامیہ،مذہبی لوگ، سوشلسٹ اور پاکستان کی تما م عوام میں عظیم لوگوں کی کوئی کمی پہلے بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے لیکن حالات کچھ اس طرح سے ہیں کہ عظیم نہیں بن پارہے ہیں۔ پاکستان کا قومی ترانہ ”ترجمانِ ماضی، شانِ حال اور جانِ استقبال ” کو سوچے سمجھے بغیر ہمارے بچے ، جوان اور بوڑھے پڑھتے ہیں۔
مسلمانوں کا شاندار ماضی وہی تھا جس میں اسلام کی بنیاد پر نبی رحمت ۖ کے دور کی بھی خلافت علی طرز نبوت نے دنیا کی دو سپر طاقتوں مشرق میںایران اور مغرب میں روم کو شکست سے دوچار کردیا تھا۔ جب قومی ترانے کے الفاظ میں” ترجمانِ ماضی ” پڑھا جاتا ہے تو ہمارا ذہن اپنے شاندار ماضی کی طرف نہیں جاتا ہے۔ اگر ترجمانِ ماضی کی طرف ذہن نہیں جاتا ہے تو پھر ”شانِ حال ” کا بھی پتہ نہیں چل سکتا ہے اور ” جانِ استقبال” کا بھی پتہ نہیں چل سکتا ہے۔
جب پاکستان سے دوبارہ طرز نبوت کی خلافت کا آغاز کیا جائے تو پھر اس کو ”شانِ حال ” کہہ سکتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کا یہ کہنا خوش آئند ہے کہ عمران خان ریاستِ مدینہ کی بات کرتا ہے تو بھی بہت اچھا ہے۔ حدیث میں جہاد ہند سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ایک نظام کی نشاندہی ہے۔ جس میں شانِ حال اور جانِ استقبال کا پورا پورا نقشہ موجودہے۔ اگر پاکستان میں ریاستِ مدینہ قائم ہوگئی تو نہ صرف مشرقی پاکستان دوبارہ مل جائیگا بلکہ پورے کا پورا ہندوستان بھی اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے اسلام قبول کرلے گا اور جو متعصب ہندو پھر بھی ہندو بن کر رہنا چاہتے ہوں تو ان پر کوئی زور وزبردستی اور جبر نہیں ہوگا مگر اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام ان کیلئے بھی مسلمانوں کی طرح قابلِ قبول ہوگا۔ سکھ بھی ہمارے ساتھ مل جائیں گے اور کشمیری بھی مظالم سے بچ جائیں گے۔
عدالت، ریاست ، اپوزیشن ،سیاسی اورمذہبی جماعتوں کا حال یہ ہے کہ نواز شریف کا اسلامی جمہوری اتحاد دراصل انتقامی جرنیلی انتشار تھا۔1988ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کو پہلی مرتبہIMFکا مقروض بنایا اور نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو صدر بنادیا۔جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی دو لخت ہوگئی۔ میرمرتضیٰ بھٹو شہید نے موجودہ پیپلزپارٹی کو اس وقت زرداری لیگ قرار دیا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کابانی جنرل حمید گل تھا اور تحریک انصاف کا اصل بانی بھی جنرل حمیدگل تھا۔
جنرل حمید گل نے اپنی وفات سے چند دن پہلے ہمیں بتایا کہ دوشخصیات سے وہ متأثر ہیں۔ ایک قائداعظم محمد علی جناح اور دوسرے امیرالمؤمنین ملا عمر۔بس جب وہ اپنے مشن کیلئے کھڑے ہوگئے تو پھر اس کی تکمیل کرکے ہی چھوڑا تھا۔
علامہ اقبال نے کہا کہ” مجموعۂ اضداد ہوں اقبال نہیں ہوں”۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا: ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارے تضادات وہ (مخالف) پاتے ”۔ انسان وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا ہے اور اس کے کردار میں بہت سارے تغیرات اور تضادات نمایاں طور پر موجود ہیں اور ہم پاکستان کو مملکتِ خداداد کہتے ہیں لیکن اس کی تشکیل اور وجود میں بھی بڑے تضادات ہیں۔ دوقومی نظرئیے کے تحت پاکستان بن گیا لیکن بنگالی اور سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچ پھر مشرقی اور مغربی پاکستان کی ایک قوم کی جگہ دو الگ الگ قومیں بن گئیں۔ ایک بنگلہ دیشی قومیت اور دوسری پاکستانی قومیت۔ کیاوجہ تھی کہ پاکستان و ایران کے بلوچ، پاکستا ن وافغانستان کے پختون، پاکستان و ہندوستان کے پنجابی الگ الگ قومیت اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کشمیری اب بھی ایک قوم ہیں؟۔ بنگلہ دیش و پاکستان کے لوگ ایک قوم تھے لیکن ایران و افغانستان اور عرب ممالک کے ساتھ پوری دنیا سمیت پاکستان کے لوگ ایک مسلم قوم نہیں تھے؟۔ متحدہ ہندوستان کی قومیت کا نعرہ لگانے والے کانگریس اور جمیعت علماء ہند کے علماء کرام پر علامہ اقبال سے لیکر جاہل مسلم لیگی کارکنوں تک نے ابولہب اور کافر کے فتوے لگائے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان اچکزئی نے متحدہ ہندوستان کی ایک قومیت کا نعرہ لگایا تھا لیکن وہ افغانستان کیساتھ اکٹھا ہونے کیلئے تیار نہیں تھے؟۔ آج لر وبر یوافغان کا نعرہ جو لوگ لگارہے ہیں وہ اپنے قائدین سے انحراف کررہے ہیں۔
الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مریم نواز کی طرف سے ویڈیوز کے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھنے کا معاملہ موضوعِ بحث ہے جس کی بنیاد پر کیسوں اور سزاؤں کو جھوٹا اور انتقامی قرار دیا جارہاہے لیکن میڈیا یہ کام کیوں نہیں کرتا کہ نوازشریف کی پارلیمنٹ کی تقریر جس میں2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006ء میں لندن کے ایون فیلڈ لندن کے فیلٹ خریدنے کا نیا انکشاف تھا ۔ حالانکہ بینظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت میں اس پر اٹل ثبوتوں کیساتھ کیس چلے تھے اور غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو اسی کرپشن کی وجہ سے ختم کیا تھااورنوازشریف کوISIنے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پرپیسے بھی دئیے تھے اور یہ سب چیزیں عدالت، ریاست ، میڈیا اور عوام کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
یہ کس قدر ناکام نظام کی بات ہے کہ اگر اتنے واضح ثبوتوں کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کو زور لگانا پڑجائے کہ نوازشریف کو سزا دی جائے؟۔ یہ بھی پتہ نہیں چلتا ہے کہ جسٹس قیوم اورملک ارشد کی طرح جسٹس ثاقب نثار بھی نوازشریف کیساتھ اندورن خانہ ملے ہوں اور ایک ویڈیو بھی بنادی ہو۔ جب انکار کرنے کے بعد پوری قوم ثاقب نثار کی پشت پر کھڑی ہوجائے اور پھر وہ پیسے کھاکر اسکا اعتراف کریں کہ مجھ پر نوازشریف کو نکالنے اور عمران خان کو لانے کیلئے دباؤ تھا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عدلیہ اور فوجی اسٹییبلشمنٹ دونوں کو ایک ساتھ رگڑا دینے کیلئے ثاقب نثار کی ویڈیوز کو استعمال کیا جائے۔ جیسے حامد میر نے امریکی اخبار کیلئے ایک کالم میں نیا انکشاف کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایجنسیوں نے عمران کی چھٹی کرانے کا فیصلہ کیا ہو ۔ گوگلی نیوز میں یہی خبریں دی جارہی ہیں۔
جس طرح ایک وکیل پیسے کھاکر اپنی قانونی پوزیشن مجرم کی حمایت یا مخالفت میں بدلنے کیلئے کوئی شرم نہیں کھاتا ہے ،اسی طرح بڑی رقم ملنے کے بعدآن ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جج بھی اپنی اخلاقیات بیچ کر امیروں میں شامل ہونے کیلئے وہ سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے جو ایک عام انسان کا خاصا ہوتا ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس ختم ہونے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کے نام پر لندن میں پراپرٹی برآمد ہونے کاکیا نتیجہ نکل سکا تھا؟۔ جب جج، جرنیل اور سیاستدان اپنی اپنی جائزاولادوں اور بیگمات کو بھی اپنے سے الگ کرکے ترقی یافتہ ممالک کے آزاد شہری قرار دیتے ہوں اور بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر منی لانڈرنگ کا معاملہ جاری ہو تو کون کس سے کیا پوچھے گا؟۔ مجرم قانون سے بچنے کے تمام طریقے جانتے ہیں اور عوام پر سودی قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جارہاہے۔
عمران خان اور نوازشریف کے تضادات اور ڈھیٹ پن کا نام سیاست رکھ دیا گیاہے۔ اگر نوازشریف کے خلاف لندن ایون فیلڈ کیس کا تاریخی جائزہ بھی لیا جائے اور ملک ارشد اور ثاقب نثار کی ویڈیوز پر اس کو معصوم اور بے گناہ قرار دینے کی تحریک کا بھی جائزہ لیا جائے تو عوام و خواص سب اس نظام سے مایوس ہوں گے اور عمران خان کی تمام ویڈیوز اور موجودہ کردارکو دیکھا جائے تو بھی سبھی اس نظام سے مایوس ہوں گے۔ جس نظام نے نوازشریف کا کچھ نہیں بگاڑا اور جس نظام کے ذریعے اتنے وعدوں کے باوجود عمران خان ، اس کی پشت پناہی والے کچھ نہیں کرسکے بلکہ اس مدت میں سودی گردشی قرضے ڈبل کردئیے ۔ زرداری سے پہلے پرویزمشرف نے قرضہ اتارنے کے بعد پھر قرضہ لیا۔ پھر زرداری اور نوازشریف اور عمران خان نے اس سلسلے کو جاری رکھا اور اب بات یہاں تک ہی پہنچ گئی ہے کہ جتنا گردشی قرضے کے عوض ہم سود دیتے ہیں ،وہ ہمارے ٹیکس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ نوازشریف کے دور میں دفاعی بجٹ سے سود زیادہ ہوگیا تھا اور اب سود اسکے ڈبل تک پہنچ کر ہمارے ٹیکس کی کل مقدار تک پہنچ گیا ہے۔
اسلامی انقلاب کے ذریعے سب سے پہلے ہم اپنی اصلاح کرسکیں گے اور جس طرح امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں اسلامی جذبے نے شکست دی تھی اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی ظالم فوج کو بھی ہم شکست دے سکتے تھے۔ ہماری ریاست غریب کو انصاف دینے میں مکمل ناکام ہے ۔ بڑے لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچانا ممکن نہیں ہے ۔ چور ہیں سب چور ہیں کا شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا ، اپنے نظام انصاف کو درست کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ اور جمہوری ذرائع سے انتخابات بھی تجارت ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میںکروڑوں کے اندر ایک ایک ووٹ کی قیمت لگنے سے پتہ چلتا ہے۔ پیسوں کیساتھ کھیلنے والے اس نظام کے کرتے دھرتے اور کرتوت ہیں۔ نظریاتی سیاست کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔
سندھ ، پنجاب، مہاجر ، بلوچ اور پختون کارڈ کھیلنا کوئی نظریہ نہیں ۔ پنجاب میں برادری ازم کارڈ کھیلا جاتا ہے اور جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو تعصبات اور پیسوں کی جیت ہوتی ہے۔ ایسا ملک اور ایسی قوم کبھی بھی کوئی اچھا وقت نہیں دیکھ سکتی ہے۔ طاقتور طبقات لینڈ مافیا اور بدمعاشوں کی سرپرستی کررہے ہوں اور مظلوم اور کمزور طبقات کو خدا کے سہارے پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فلسطین ومقبوضہ کشمیر کے حالات ہمارے ہاں بھی کم عقل لوگوں کی بیوقوفیوں سے بنتے جا رہے ہیں۔ عمران خان اداروں کو مضبوط کرنے نکلے تھے لیکن ادارے اپنے مضبوط کردار کی بدولت ہی مضبوط بن سکتے ہیں۔ نوازشریف پر بہت زبردست اور سچے کیس بن گئے تھے اور عمران خان بھی پشاورBRTسمیت کئی کیسوں کی نذر ہوسکتے ہیں۔ زرداری اینڈ کمپنی پر ہمارے ناقص نظام کی وجہ سے کوئی چیز ثابت کرنا مشکل ہے اور جو بے قاعدگیاں ہمارے ریاستی اداروں اور اہلکاروں کی طرف سے کی جاتی ہیں تو بڑے بڑے مجرم بھی معصوم لگنے لگتے ہیں کہ یہ توآوے کا آوا بگڑا ہواہے اور سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ قانون کی بالادستی کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کراچی میں نسلہ ٹاور کے علاوہ بہت سارے غیرقانونی قبضے چھڑائے گئے لیکن شاہراہ فیصل اور اس کی ملحقہ سڑکوں پر سروس روڈوں پر بھی قبضے کئے ہوئے ہیں اور ائرپورٹ کے سامنے شاہراہ فیصل پر ریلوے کی زمین پر ناجائز بلڈنگ سمیت پوری شاہراہ فیصل پر کہاں کہاں قبضے ہوئے ہیں ان سب کا جائزہ لیکر اس اہم شاہراہ کی توسیع کردی جاتی تو سبھی لوگ خوش ہوتے کہ قانون کی واقعی اس ملک میں بالادستی ہے۔ کراچی کا پانی مافیا بیچ رہاہے۔ کراچی کے تھانے بکتے ہیں اور کراچی بلڈنگ مافیا کھلے عام ندی نالوں پر قبضہ کرکے فلیٹ بیچ رہے ہیں اور کراچی میں لیز کی تیس سالہ زمینوں پر بلڈنگ مافیا غریب کو دھوکہ دے رہاہے۔ ہماری حکومت اور ریاست کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔ لوگوں کو حکمران طبقے سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ کسی حکمران طبقے کی شکل بھی کسی کو اچھی نہیں لگ رہی ہے لیکن مجبوری اور مظلومیت کی فریاد عرش تک بھی نہیں پہنچائی جارہی ہے اسلئے کہ مخلوق اور خالق کے تعلقات بھی بہت خراب نظر آتے ہیں۔ امیر طبقے سے بھی زیادہ غریب ظالم بنتا جارہاہے، دو ٹکوں کیلئے کسی کی جان لینا بھی بڑی بات نہیں سمجھتے ہیں۔ پوری قوم کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کرپشن پر بڑے بڑے ہاتھ مارتے ہیں اگر یہ سیدھے ہوگئے تو لوگوں کو جائز روزگار ملے گا اور پھر ڈکیتی اور چوریوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ یہ ملک کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔
مذہبی طبقات کا حال یہ ہے کہ مفتی عزیزالرحمن نے اپنے باریش طالب علم صابرشاہ کو امتحان میں پاس کرنے کی لالچ پر جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور پہلے یہ ظالم کا طرۂ امتیاز ہوتا تھا کہ وہ مظلوم کی ویڈیو بناکر ڈراتا تھا کہ تمہارا جنسی معاملہ آشکار کرکے لوگوں میں بدنام کرکے رکھ دوں گا لیکن اب مظلوم نے بھی اپنی ہی ویڈیو بناکر یہ تماشا دنیا کو دکھا دیا کہ یہ ہو کیا رہاہے؟۔جب پاس کرنے کی لالچ میں صابرشاہ جیسے لوگ یہ کام کرسکتے ہوں تو پھر دہشت گردی، مفادپرستی اور دیگر معاملات میں کہاں سے کہاں اور کیا سے کیا لوگ نہیں کرتے ہوں گے؟۔
امام حسن کو زہر دے کر شہید کیا گیا تھا اور امام حسین کو کربلا میں شہید کیا گیا تھا لیکن اب کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نوازجھنگوی شہید کے بیٹے مولانا اظہار الحق جھنگوی کی لاش پہلے ہوٹل میں مردہ حالت میں ملی تھی جس کا کوئی بھی سراغ نہیں لگ سکا تھا اور اب دوسرے صاحبزادے مولانا مسرورجھنگوی کوبھی باغی قرار دیا جارہاہے۔ کہیں سانحہ کربلا پیش نہ آجائے۔ مولانا حق نواز جھنگوی کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا اور انہوں نے1988ء میں جمعیت ف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور جمعیت ف کے صوبائی نائب امیر بھی تھے لیکن جب ان کو شہید کیاگیا تو مولانا ایثارالحق قاسمی نے بیگم عابدہ حسین شیعہ کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے اتحاد کرکے جھنگ کی سیٹ شیعوں کے ووٹوں سے جیتی تھی۔ مولانا حق نوازجھنگوی کے بچے اس وقت بہت چھوٹے تھے لیکن آج مولانا حق نواز جھنگوی کا بیٹا اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چل کر مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دے رہاہے تو اس کو کالعدم سپاہ صحابہ کا نہیں صحابہ کرام کا بھی باغی قرار دیا جارہاہے۔ مولانا سید محمد بنوری شہید نے بھی مولانا فضل الرحمن کیلئے اپنی جان کی قربانی دیدی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس کا پھر ساتھ نہیں دیا تھا۔
مذہبی اور سیاسی انتشار اور بے اعتمادی سے پہلے ایسی فضاء کی ضرورت ہے کہ جب بنوامیہ اور بنوعباس کی طرح ناجائز لوگ خاندانی بنیاد پر قبضہ کرکے اہل بیت پر مظالم کے پہاڑ اسلئے توڑیں کہ ان کی حیثیت چیلنج ہورہی ہو تو ایسے مظالم کی فضاء نہ بننے دی جائے۔ آج تبلیغی جماعت والے اپنے بانی مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد اور اپنے مرکز بستی نظام الدین کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کا مستقبل روشن ہے یا تاریک یہ وقت کا فیصلہ ہے۔ لیکن ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

آج ہندوستان کے شہروں سے کوہ ہندوکش تک اور بھارت کی ہندی زباں سے پختونخواہ کے شہر ٹانک ،اس کے مضافات اور پشاور تک ہندکو زباںوالے ایک تہذیب وتمدن ، ایک وطن اور ایک جیسے ملتے جلتے لوگ تھے۔مسلمان اور ہندوکے درمیان سکھ مذہب اور رنجیت سنگھ کی پنجابی حکومت تاریخ کا روشن یا سیاہ باب ہے؟، روشن مستقبل یاتاریک سے تاریک تر حالات ہونگے؟،یہ فیصلہ وقت نے کرنا ہے لیکن ہم نے اپنا فرض منصبی ضروراداکرنا ہے !

یہاں انگریز آیا، تقسیم بنگال ، تقسیم ہند،مسئلہ کشمیر، ڈیورنڈ لائن اور انگریزکی سیاسی، انتظامی، انتقامی، تعلیمی، نوابی، فوجی اور عدالتی باقیات اس قوم کی اندھیر نگری میں ایک مؤثر کردار کا سبب آج تک ہیں اور اندھیرنگری ہے میرے آگے

انگریز نے ایسٹ انڈین کمپنی سے مضبوط تجارتی مراکز بناکر ہندوستان کے طول وعرض پر قبضہ کیااور پھر اپنی باقیات کے ذریعے یہاں کی عوام کو مکمل غلامانہ نظام کے سپرد کردیا۔ مزاحمت کرنے والوں کو آپس میں اُلجھا دیا۔ہندو اور مسلم کے درمیان تفریق ڈالنے کیلئے بنگال کو بنیادبنا دیا۔ ہندوؤں نے انتظامی بنیاد پر مشرقی بنگال کو علیحدہ صوبہ بنانے کی مخالفت کی تو مسلمان اس کی حمایت میں کمربستہ ہوگئے۔ یوں انگریز کی یہ چال کامیاب ہوگئی کہ ہندو اور مسلمان کو آپس میں دشمن بنادیا۔ انگریز مخالف ہندو اور مسلمانوں کی ایک مشترکہ تحریک آل انڈیا کانگریس کی بنیاد پڑگئی اور اس کے مقابلے میں انگریز سے راز ونیاز رکھنے والے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ نواب وقار الملک ، سر آغا خان اور دیگر اسلام ناآشنا لوگوں نے ایک مسلم قومیت اور دوسری ہندو قومیت کی بنیاد پر ایک تحریک کا آغاز کردیا۔ ایک قومی نظریہ اور دو قومی نظریہ کے میدانِ جنگ کیلئے زمین ہموار ہوئی۔ کانگریس کے قائداور رہنما ہندوستان کے ایک قومی نظریے اور مسلم لیگ کے قائدین اور رہنما دوقومی نظریے پر زور دیتے تھے۔قائداعظم محمد علی جناح کی ابتداء کانگریس سے ہوئی اور وہ وکیل کی حیثیت سے چاہتے تھے کہ ہندوستان کی غلام عوام کوبھی ویسے شہری حقوق مل جائیں جو برطانیہ اور یورپ کے آزاد شہریوں کو اپنے وطن میں حاصل ہیں۔یورپ کا مذہب عیسائی تھا لیکن انتظامی اعتبار سے وہ مختلف ممالک برطانیہ، جرمنی، فرانس ، اٹلی، سوئٹزر لینڈ، اسپین، ناروے ، سویڈن اور دیگر چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم تھا۔مذہب کی بنیاد پر ملکوں کی تقسیم کاکوئی ماحول دنیا میں موجود نہ تھا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ” بہترین نظم بھی لکھی لیکن جب ہند و مسلم کے درمیان نفرت کی فضاء بن گئی تو تقسیم ہند کی ناگزیری پر شاعرِ مشرق اقبال اور قائداعظم بھی مفکر پاکستان اور بانی پاکستان بن گئے۔ دونوں کی قابلیت، خلوص اور انسانیت پر شک نہ تھا لیکن اپنی یوٹرن سے اپنی اپنی پوزیشن کو ایسا بدل ڈالا کہ اس سے اس خطے کی تاریخ میں بھی نمایاں تبدیلی آگئی۔
ہندو،مسلم، سکھ، بدھ مت اور عیسائی سے تعلق رکھنے والے سب ہندوستانی لوگ ایک طرح کی ملتی جلتی صوفیت کے نظام سے وابستہ تھے۔عیسائیت نے بھی رہبانیت کی بدعت خود ایجاد کرکے اس کی ابتداء کی لیکن پھر وہ اس کی پاسداری نہ کرسکے۔ ہندو اور بدھ مت بھی بہت قدیم مذاہب تھے اور انکا تاریخی پسِ منظر صوفیت کی یاد گار تھا۔ اسلام اور مسلمانوں پر بھی ہندوستان میں تصوف کی چھاپ تھی۔ سکھ مذہب نے بھی صوفیت کے دامن سے جنم لیا۔اس مزاج کی وجہ سے تاریخ کے اندر تمام خونخواروں نے جب بھی برصغیرپاک وہندکا رُخ کیا تویہاں کے پُر امن صوفی مذہب لوگوں نے کوئی مزاحمت نہیںکی۔ جس طرح نیم حکیم خطرۂ جان نیم ملا خطرۂ ایمان مشہور ہے اسی طرح نیم صوفی خطرہ ٔ امن اور امان بھی ہوتاہے۔ انگریز نے ایسٹ انڈین کمپنی سے ہندوستان پر قبضے کی جو ابتداء کی تھی تو وہ جاتے جاتے ہندوستان کو بہت سے مسائل کی آماجگاہ بناکر چھوڑ گیا تھا اور اب باتIMFکی غلامی تک پہنچ گئی ہے۔ علماء کی اکثریت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور صوفیوں کی اکثریت نے حمایت کی تھی لیکن پنجاب کے پانچ دریاؤں کے علاوہ تقسیم ِ ہند کے وقت ایک چھٹا دریا انسا نیت کے خون سے بھی بہہ گیا تھا، جس کا مولانا ابوالکلام آزاد کہتے تھے کہ ” آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن اتنا خون بہنے کی قیمت پر آزادی بھی قبول نہیں ہے”۔
دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان اور پاکستان ایک ہی تاریخ، وقت اور لمحے میں ایک ہی اعلان کیساتھ آزاد اور دولخت ہوگئے لیکن مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر یہ دونوں ممالک دو جڑواں بہنوں کی جگہ دو سوکن بن گئیں۔ مقبوضہ کشمیر سے قبضہ تو نہیں چھڑایا جاسکا ،البتہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش سے ہم نے ضرورہاتھ دھو لئے اور 74سال بعد بھی اپنے غلامانہ نظام سے جان چھڑانے کا رونا رو رہے ہیں۔ انڈوں پر بیٹھنے کی وجہ سے کڑک مرغی کا سینہ پروں سے گنجا ہوجاتا ہے لیکن آخری عمرتک دیسی مرغیوں کے سرکے بال نہیں گرتے ۔جبکہ فارمی مرغیوں کے سر بھی آخر میں گنجے ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں برسراقتدار آنے والے سیاسی حکمران فارمی مرغیوں کی طرح مصنوعی طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف اپنے اپنے وقت کی زندہ مثالیں ہیں۔PPP،PMLNاورPTIایک دوسرے سے اس بات پر اُلجھ رہی ہیںکہ کس پارٹی کو کس کس جنرل نے جنم دیا ہے۔جب تقسیم ہند کے وقت ہندو پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان چلے گئے تو ان کی جگہ بھارت سے آنے والے مسلمانوں نے لے لی۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں تمام کے تمام پوش علاقوں، تجارتی مراکز اور بڑی بڑی زمینوں کے مالک ہندو تھے ، جب وہ یہاں سے رخصت ہوئے تو جائز اور ناجائز کی تمیز کئے بغیر ان املاک کے مالک ہندوستان سے آنے والے مہاجر بن گئے۔ علاقائی اور مقامی مسلمان اسلئے خوش تھے کہ انگریزوں اور ہندوؤں کی جگہ مقامی حکمرانوں اور مہاجر مسلمانوں نے لی ، جو خوش آئند تھی لیکن جب خوشحال طبقہ مفاد پرست بن جائے تو علاقے کی عوام کبھی خوشحالی نہیں پاسکتے ہیں۔سول وملٹری بیوروکریسی میں میٹرک کرنے والے جن کی حیثیت متحدہ ہندوستان میں کلاس فور کی نوکری سے زیادہ نہیں تھی وہ یہاں آکر بڑے بڑے افسر بن گئے۔ جو درمیانے درجے کا طبقہ تھا اس نے میرٹ کی بنیاد پر ملک وقوم کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ جو جنرل اور سیکٹری لیول کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے تو وہ بڑے بن گئے۔ فوج اور سول اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کا اقتدار سنبھال لیا تو گورنر جنرل قائداعظم اوروزیراعظم لیاقت علی خان کی لڑائی کا شاخسانہ یہ تھا کہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی نہیں بنتی تھی اور قائد اعظم اسلئے لیاقت علی خان سے ناراض تھے کہ بھوپالی مہاجرین کو کراچی میں آباد کرکے اپنا حلقہ انتخاب بنانا چاہتے تھے۔ جب نووارد جمہوری لیڈروں کے پاس انتخابی حلقے تک بھی نہیں تھے تو وہاں سے اس میں جمہوریت کی بحالی کیلئے کوئی کام کرسکتے تھے اسلئے ہمارے ہاں جمہوریت کے بانی جنرل ایوب خان بن گئے ۔ جس کی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام نے جنم لیا تھا۔
انورمقصود نے بہت اچھا نقشہ کھینچاہے کہ مہاجر کو پتہ چل گیا کہ سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور پختونخواہ کے لوگ سید سے محبت کرتے ہیں تو انہوں نے اپنے شجرے بھی تبدیل کر ڈالے۔ جب لوگ نسلوں کی تبدیلی پر آگئے تو قصائی سید کا درجہ نہیں حاصل کرسکتے تھے لیکن قریشی بننے تک پہنچ گئے۔ جولاہے انصاری، تیلی عثمانی بن گئے۔ کوئی صدیقی،فاروقی اور علوی بن گیا۔ معروف اسلامی اسکالر جاویداحمد غامدی نے اسی روش میں غامدی کہلانے کا شوق پال لیا لیکن جب اس کو توجہ دلائی گئی کہ جب ایک صحابیہ غامدیہ پر سنگسار کرنے کا حکم جاری کیا گیا تو اس کا بچہ دودھ روٹی کھانے کے لائق بن گیا تھا اور اس بچے کی نسل سے غامدی کی نسبت ہوسکتی ہے تو جاوید احمدغامدی نے واضح کردیا کہ ”میرا عرب قبیلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے محض شوق کیلئے غامدی نسبت اختیار کرلی ہے”۔
جاوید احمد غامدی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ”عرب میں داماد کو اہل بیت قرار نہیں دیا جاتا ہے اور حضرت علی نبیۖ کے داماد تھے”۔ نبیۖ ابوسفیان کے بھی داماد تھے اور حضرت ابوبکر وعمر کے بھی داماد تھے۔ سسرالی رشتے کا کسی قوم کی تاریخ میں بھی اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یہودونصاریٰ کی خواتین کی بھی مسلمانوں میں شادیاں ہوئی ہیں اور نبیۖ کی چھ ازواج مطہرات کا تعلق قریش سے تھا اور چار کا دیگر قوموں سے تھا اور ایک کنیز ماریہ قبطیہ کا تعلق عرب سے بھی نہیں تھا۔ عرب نہیں عجم میں بھی داماد اور سسر ایک دوسرے کے اہل بیت نہیں ہوتے ہیں۔حضرت علی نبیۖ کے چچازاد بھائی تھے، جب بنی امیہ سے خلافت کی مسند چھڑائی گئی تو بنوعباس نے خلافت پر اسلئے قبضہ کیا کہ وہ نبیۖ کے چچا کی اولاد ہیں۔ بنو امیہ کا طاقت اوربنوعباس کا نبیۖ سے قرابتداری کی بنیاد پر مسندِ خلافت کرنے کی تاریخ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے اور ان ادوار میں نبیۖ کے اہل بیت حسنی اور حسینی سادات پر مظالم کے پہاڑ ڈھانے کی وجہ بھی صرف یہی تھی کہ یہ لوگ اقتدار تک نہ پہنچ پائیں۔ بنی فاطمہ نے بھی اقتدار کا قبضہ سنبھالا تھا جو آغاخانی اور بوہری کی شکل میں آج موجود ہیں۔ امامیہ شیعہ نے پہلی مرتبہ ایران میں امام خمینی کی قیادت میں اقتدار حاصل کیا ہے اور اس سے پہلے ان کے ائمہ کہتے تھے کہ ”ہم میں سے جو خروج کریگا وہ ایسے طائر کا بچہ ہوگا جس کو اغیار نے پالا ہوگا”۔ امام حسن نے خون کے دریا کو روکنے کیلئے امیر معاویہ کی امارت کو تسلیم کرلیا لیکن پھر اقتدار ظالم بادشاہت میں تبدیل ہوگیا۔ اسلام اور پاکستان کی کہانی بھی ایک دوسرے سے بالکل ملتی جلتی ہے۔اللہ خیر کرے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv