پوسٹ تلاش کریں

نوشتہ دیوار کی طرف سے جنرل باجوہ ، عمران خان اور منظور پشتین کے نام اہم پیغام جس سے مثبت انقلاب کا آغاز ہوسکتا ہے

جب طالبان ریاست پر حملے کررہے تھے،مساجد، مدارس اور بازاروں، مہران ائربیس کراچی، جی ایچ کیو پنڈی اور آئی ایس آئی ملتان کے دفتر پر حملے اور ہرچند روز بعد بڑا دھماکہ ہوتا تو اس وقت پختون کیلئے طالبان قابلِ فخر تھے ۔ طالبان کی حمایت پر متحدہ مجلس عمل کو بڑے پیمانے پر پختونوں نے جتوایا۔ یہ الگ بات تھی کہ پختونخواہ کا وزیراعلیٰ بننے کے لائق کوئی مولوی نہ تھااسلئے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھ کر وزیراعلیٰ بنوایا گیا۔ ہنگو میں خود کش حملہ ہوا تو وزیراعلیٰ درانی نے الزام لگایا کہ ’’یہ امریکہ نے کروایا ہے‘‘۔ بس پھر کیا تھا ؟۔ اکرم خان درانی کے چچا و فیملی کے دیگر افراد پر طالبان نے حملہ کرکے شہید کردیا ۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ میں اس میڈیا پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا جو یہ کہے کہ ان کو طالبان نے ہلاک کیا، اسلئے کہ مزید نقصان کا خدشہ تھا۔ پختون قوم طالبان کے سامنے اسلئے لیٹی ہوئی تھی کہ ہرقوم ، ہرقبیلے، ہر خاندان اور ہرجگہ سے یہ نعرہ لگتا تھا کہ ’’ ہر گھر سے طالب نکلے گا اور کوئی نہ بچے گا ہر ایک کو ماریگا‘‘۔ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں جن کو ختم نہیں کرسکے اور پاک فوج نے امن کی فضاء بنائی ہے تو اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ گودیں بھی اجاڑ دی ہیں جہاں سے طالبان کی پرورش ہورہی تھی۔ طالبان کا خوف نکل گیا تو یہ نعرہ لگانا شروع کردیا ہے کہ
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
پختون طالبان نے جس طرح ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پختون طالبان کی بہادری پر فخر کرتے تھے ۔ خاص طور پران مسنگ پرسن کے لواحقین جنہوں نے پی ٹی ایم کی محفلوں کو رونقیں بخشی ہیں۔ کل یہ فوج پر خود کش کرتے تھے اور آج نعروں کی شکل میں اپنا بغض نکال رہے ہیں۔کل مذہبی لبادے انکی پشت پناہی کررہے تھے آج لسانی تعصبات والوں کے وارے نیارے ہیں۔ کل امریکہ مذہب کے نام پر پختونوں اور فوج کو لڑا رہا تھا اور آج لسانیت کے نام پر پشت پناہی ہے۔کل بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے تھے اور آج بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے ہیں۔ کل کم عقل نوجوان طالبان تھے اور آج کم عقل پی ٹی ایم کے کارکنان ہیں جن کو تھوڑی سی خوشگوار فضاء بھی ہضم نہیں ہورہی ہے۔
کل طالبان کے جنازے میں مائیں بہنیں اعلان کرتی تھیں کہ مجھے بھی خود کش کرنا ہے ، آج پی ٹی ایم کی ریلیوں میں مائیں بہنیں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے رونق افروز ہوتی ہیں۔ پختونوں نے طالبان کی شکل اپنائی تو وہ امریکہ سے پاکستان تک سب کچھ ہلاکے رہ گئے۔ پاکستانی ریاست کو یہ اسوقت بھی پیارے تھے جب ملک کا چپہ چپہ دھماکوں سے لرزتا تھا اور آج بھی ان لاڈلوں کو وہ نعرہ لگانے کی اجازت ہے جو کسی اور کو نہیں ہے۔
بلوچوں نے لسانیت کے نام پر زیادہ سے زیادہ کبھی ویران بلوچستان میں کوئی ریلوے کی ٹریک اڑادی یا کوئی اکا دکا واقعات کرلئے تو ریاست نے ان پر جبرومظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ مسخ شدہ لاشوں سے مسنگ پرسن کی کہانیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ عرصہ سے چل رہاہے۔ فرقہ پرست اور جہادی تنظیموں نے بلوچوں کو لپیٹ میں لیاہوا ہے۔ اگر پختونوں کیساتھ یہ شروع ہوا تو طالبان دور کو بھول جائیں گے۔ بلوچ، پنجابی اور سند ھیوں کو ایسی رعایت حاصل نہیں ہے جو پختونوں کو پاک فوج دیتی ہے۔ دوسری قوم کے لوگ دھرنے میں کھلے عام آزادی اور فوج کے خلاف نعرے لگائیں گے تو ان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا مگر یہ پختون لاڈلے ہیں لاڈلے۔
بلوچ سرما چار آزادی کیلئے جانوں کی قربانیوں کے علاوہ پردہ دار خواتین کو روڈوں پر لانگ مارچ سے بازاروں میں دھرنوں تک کیلئے نکالنے پر بھی غیرت نہیں کھا رہے ہیں۔ حالانکہ بلوچ دوسری قوموں کی فلم کو اپنی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی ہنگامے کرتے اور سینماؤں کو جلادیتے تھے۔ اگر بلوچی روایات کی حفاظت نہ ہوسکے تو بلوچستان آزاد ہوجائے تو اس بلوچستان کو بلوچوں نے کیا کرنا ہے؟۔ پ بلوچوں اور پختونوں سے گزارش ہے کہ ریاست سے گلے شکوے کا انداز بدل دو، خود کو ایسا مت قرار دو جیسے منکوحہ بیگم شوہر سے یا اغواء شدہ عورت اغواء کار سے شکایت کرتی ہے۔ عالمی قوتیں تمہیں استعمال کرکے پاکستان کو بخرے کرنے میں کامیاب ہوں تو تمہاری بھی خیر نہیں ہوگی۔
گھر میں بچوں کو ماں باپ سے اور بیگم کو شوہر سے شکایت ہوتی ہے لیکن گھر کا ماحول خوش اسلوبی سے درست کیا جاتا ہے تو اسکے اچھے نتائج نکلتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے گھر کو برباد کرتے ہیں تووہ کبھی سکون کی زندگی نہیں پاتے۔
پی ٹی ایم نے نعرہ لگایا کہ ’’ہمیں زندگی چاہیے۔ ہمارے گھر ویران، جوان قتل ہورہے ہیں یہ کیسی آزادی ہے‘‘۔ جی ایچ کیو سے کہا گیا کہ شکایات کا ازالہ ہونا چاہیے۔ منظور پشتین نے کہا کہ کافی ریلیف مل گئی لیکن راؤ انوار کی گرفتاری اور سزا باقی ہے۔ منظور پشتین نے کہا کہ ’’ کافی مسنگ پرسن رہاہوئے مگر ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ گناہگار ہو یا بے گناہ عدالت کے سامنے پیش کرو‘‘۔ فوج نے یہ جواب نہ دیا کہ جو عدالت راؤ انوار کو سزا نہیں دے سکتی وہ تمہارے گناہگاروں کو بھی سزا نہیں دیگی۔ راؤ انوار کیلئے جوعدالت قبول نہیں تو اپنے گناہگاروں کیلئے کیسے ہے؟ ۔ اسلئے کہ فوج کے پاس چھڑی ہے دلیل نہیں۔ اگر عدالت نے دہشتگردوں کو سزائیں دیتیں تو فوجی عدالت کی کیا ضرورت تھی؟۔ احسان اللہ احسان کو عدالت میں پیش کیا جائے تو بھی وہ عدم ثبوت سے رہا ہوجائیگا۔ جو لوگ احسان اللہ احسان کی طرح ہیں مگر ان کی شہرت نہیں ہے انہیں ہم تمہارے مطالبے پر رہا کررہے ہیں نا؟۔
پی ٹی ایم دلیل کیساتھ اپنے تضادات بھی ختم کرے۔ راؤ انوار نے طالبان سے پہلے مہاجروں کی دہشت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ، ملک اسحاق کے علاوہ پنجاب پولیس نے اب بے گناہ کو ساہیوال میں قتل کیا تو پنجابی ریاست کیخلاف تحریک نہیں چلارہے ہیں۔ رحیم شاہ نے سندھی کو قتل کیا تو سندھ میں پختونوں کیخلاف نفرت پھیل گئی۔ پنجابیوں کیخلاف نفرت انگیز نعرے لگانے سے پختونوں کا چہرہ خوشنما نہیں بنے گا۔ فوج کیخلاف نعرہ لگانا ہے تو ان شہداء کو بھی دماغ میں رکھو ، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پختون قوم کو دہشت کی بدترین فضاء سے نکالا۔ افغانی پختون طالبان ہیں اور پی ٹی ایم والوں کی اکثریت لسان پرست کمیونسٹ ہیں، اگردونوں ساتھ ہوگئے تو پنجابی فوج دوبارہ بچانے بھی نہ آئے گی اور عالمی طاقتوں کو خوشی ہوگی کہ پختون آپس میں مرکھپ کر ختم ہورہے ہیں۔ یورپ میں بیٹھے پختون آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے پختون بھائیوں کو پھر سے مشکلات کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو قربان نہ کریں۔
ریاستِ پاکستان پختونوں پر اعتماد کرکے اچھا کرتی ہے۔ سخت نعروں کے باوجود برداشت کرتی ہے تو جانتی ہے کہ یہ قوم ہر مشکل میں ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اتنی قربانی کسی نے پاکستان کیلئے نہیں دی جو پختونوں کی طرف سے دی گئی ۔حیات کی والدہ پر پختونوں کا گرینڈ جرگہ ہوا تو اس میں پہلی تقریر ملک جلال وزیر نے کی تھی۔ جذبات کے ماحول میں بھی کہا کہ ’’ہم پہلے تحقیقات کرینگے، پھر اگر فوج کا افسر یا سپاہی مجرم ثابت ہوئے تو ان کو سرِ عام قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ ہم آج بھی فوج کیساتھ کھڑے ہیں اور ہندوستانی فوج سے انکے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے‘‘۔
بقول صحافی حسن نثار کے ’’لونڈے لپاڑوں نے جمہوریت کے نام پر حکومت میں آکر اودھم مچایا ہوا ہے۔ ان کی شکلیں دیکھ لو۔ فیاض الحسن چوہانا، شیخ رشیدا، مراد سعیدا، چوہدری فوادا، یہ تبدیلی لائیں گے؟۔خاک تبدیلی آئیگی ، میں نے زندگی میں پہلی غلطی کی کہ ان کو سپورٹ کیا ہے، مجھے کیا پتہ تھا کہ عمران خان بھی لونڈے لپاڑوں کا امام تھا لیکن فوج نے اچھا کہ ان لونڈے لپاڑوں سے وزیراعظم اور وزیروں کے منصب کو اپنے گھٹیا مقام تک پہنچایا ہے۔
حسن نثار کے چھوکرے ارشاد بھٹی اپنی لکھی ہوئی یا کہیں سے لکھوائی ہوئی تحریر پڑھ کر واضح کرسکتا ہے کہ ’’ ریاست ، اس شیخ رشید پر کوئی اعتماد کریگی جو غیرت مند برملا کہتا ہے کہ ایٹم بم کے دھماکے ہم نے کروائے۔ نواز شریف بھی ڈر رہا تھا، فوج بھی ڈررہی تھی، بس میں تھا، راجہ ظفرالحق اور گوہر ایوب تھے۔ ہم تینوں نے ہمت تھی اور یہ کریڈٹ کسی اور کو نہیں جاتا۔ تمہیں کیا پتہ ہے کہ جب دھماکے کا وقت آیا تو میں نے دستر خوان پر رکھا ہوا کھانا چھوڑ دیا اور فلائٹ پکڑ لی تو پہلا کام یہ کیا، بیرون ملک میڈیا دیکھا کہ خیریت ہے؟۔ کیونکہ ایٹم بم سے خطرہ تھا کہ کہیں بھی اسکے ریزے بکھر سکتے ہیں، کہیں پٹاخے پھٹے تو میری بھی پھٹ جائے گی‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیخ رشید کو جان اتنی پیاری ہے کہ پورے پاکستان کی تباہی کیلئے ایٹمی دھماکے کردئیے لیکن جان بچا کر گئے۔ افواج پاکستان کی سلامتی کا بھی خیال نہیں رکھا؟۔ شیخ رشید منہ پھٹ ہے لیکن شیخ رشید سے پختون باغی زیادہ بھروسہ کے قابل ہیں!!! سننیے جناب سننیے!۔ فواد چوہدری کو دیکھ لیجئے، جس نے بچکانہ سیاست کا آغاز پرویز مشرف کی گودمیں چھاتیوں سے لگ کر دودھ پینے سے کیااور پرویز مشرف نے اس کی انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا۔ پرویزمشرف کا سایہ اُٹھ گیا تو لڑکپن زرداری کے گود میں گزاردی اور جوان ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوا اور اب میرے استاذ محترم اس کو لنڈا لپاڑا کہہ رہاہے ، خدا کا بھی کچھ خوف کرو۔
یہ سنہرے ادوار تو استاذ محترم حسن نثار نے بھی گزارے ۔ زیادہ دور نہیں جائیے۔ جب الطاف حسین کا طوطی بول رہا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر فوج کے کور کمانڈروں کو دعوت دیتا تھا کہ اللہ ، رسول کا واسطہ ٹیک اور کرلو، ان سیاستدانوں سے ہماری جان چھڑا دو، تو حسن نثار کہتا تھا کہ الطاف حسین ٹیچر ہے، لیڈر ایسا ہونا چاہیے جو کراچی کی عوام کواپنی تقاریر کے سحر کی گرفت میں رکھے۔ حالانکہ کراچی والے الطاف حسین کی تقریر کو سن کر مارے شرم کے پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے۔ ریاست نے حسن نثار کی آواز میں وزن دیکھا اور الطاف حسین کے لیکچرز پر پابندی لگادی۔ جب آصف علی زرداری کو اقتدار مل گیا تو حسن نثار کہتا تھا کہ ’’ یہ بلوچ ہے، بینظیر بھٹو سادہ سندھی تھی یہ بلوچ بڑا سخت جان ہے ،سب کو چنے چبوادے گا‘‘۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ استاذ محترم نے عمران خان پر اعتماد کرکے قلابازی کھائی بلکہ حسن نثار اسلئے تو علامہ اقبال کو بھی گالیاں دیتا ہے کہ حسن نثار ، لقمان ، حامد میر اور لاہوریوں کا پول کھول دیا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ، یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد‘‘۔
ٹھہرئیے ابھی مزید کچھ سنیے اور حوصلہ رکھیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جو جعلی ڈاکٹر بھی نہیں، اس نے الطاف کا ساتھ دیا لیکن مشکل پڑی تو سیاست سے توبہ کرلی۔ پھر تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے مکمل پر تول لئے۔ عمران خان نے مجبوری کے تحت لفٹ نہ دی تو اس پر عدت میں شادی کے الزام سے لیکر کیا الزام تھا جو نہیں لگایا؟۔ تاہم پھر فضاء بدلی اور عمران خان نے قبول کیا اور عامر لیاقت نے اس سیاسی سفر کو آخری قرار دیدیا۔ جب ٹکٹ کیلئے خطرہ پیدا ہوا تو ڈاکٹر عامر کے ضمیر نے عمران خان کیخلاف محاذ کھولنے کی انگڑائی لے لی لیکن ٹکٹ سے طبل جنگ بجنے سے بچت ہوگئی۔ اس ڈاکٹر عامر لیاقت پر بھروسہ کرنے کیلئے پاک فوج کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کیا؟۔ یہ تو دیسی کارتوس ہے جو شکار سے زیادہ شکاری کی آنکھ پھوڑ سکتاہے۔
چلیں چھوڑئیے ، اب آئیے ذرا، پی ٹی ایم کے نعرے کی طرف کہ جو دہشت گردی ہے ، اسکے پیچھے وردی ہے، اس میں بھی لاجک ہے اور میں بتاتاہوں کہ کیا لاجک ہے؟۔ پرویزمشرف کی حکومت ، ق لیگ اور اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن سب کے سب ایک پیج پر تھے تو یہ طالبان کے حامی تھے،اسلئے یہ نعرہ لگانا درست ہے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے۔کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف و شوکت عزیز پر بھی حملے ہوئے مگر یہ حقیقت ہے کہ پورے ملک میں وردی والوں کی حمایت سے طالبان کھلے عام دندناتے پھرتے تھے، سرِ عام بھتہ وصول کرتے اور یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے افغانستان اغواء کیا تھا تو یہ نعرے لگانا اس وجہ سے بنتے ہیں اور برداشت کئے جاتے ہیں۔انکے نشانات مٹانے کے خوف سے ساہیوال کا واقعہ ہواہے۔ جن کے ثبوت منظرِ عام پر کوئی نہیں لاسکتا ہے۔
حوصلہ کرو،ابھی مزید سنو۔ نصیراللہ بابر اور رحمن ملک نے امریکہ کے کہنے پر طالبان بناے۔بینظیر بھٹو تو طالبان کا شکار ہوگئی لیکن پیپلزپارٹی کی عظیم خدمات کے صلے میں پہلا حق ان کا بنتا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کے بعد اس کو حکومت بھی دی جاتی۔ پھر نوازشریف ، شہازشریف اور عمران خان پر طالبان سب سے زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔ اسٹیبلیشمنٹ نے شہباز کو حکومت دی جو کہتے تھے کہ ہم طالبان کے ساتھی ہیں، طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا صفایا ہواتھا اور عمران خان کو اگلی صوبائی حکومت انعام میں دی گئی تھی۔ پھر عمران خان کو پتہ چلا کہ مرکز میں بھی مجھے حکومت مل سکتی تھی اور نواز حکومت کیخلاف دھرنے شروع کردئیے۔خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی عمران خاں دھمکیاں دیتا۔ پھر طالبان کی حمایت کرنے والے عمران خان کو ہی میڈیا چینلوں اور خلائی مخلوق کے ذریعے کھلے عام اقتدار میں لایا گیا۔ حقائق واضح ہیں کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے اسلئے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو باری باری اقتدار میں لایا گیا ہے۔
ُپی ٹی ایم والے کہہ سکتے ہیں کہ ارشاد بھٹی نے یہ سارا نقشہ درست پیش کیا مگر دنیا جانتی ہے کہ اگر طالبان کے آگے یہ ہماری باصلاحیت ریاست بے بس بھی تھی، مل جل کر بھتے وصول کرنے پر مجبور سہی لیکن پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے والے اور پی ٹی وی پر قبضہ کرنے والے طاہرالقادری اور عمران خان کے پیچھے کونسی طاقت تھی؟۔ بجلی کے بل جلانے اور سول نافرمانی کا اعلان کرنیوالے عمران خان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ لوگ پشاور سے پنجاب پولیس کے تشدد کو برداشت کرتے کرتے شہد کی بوتل سمیت بنی گالہ پہنچ گئے لیکن عمران خان شیخ رشید کی کوشش سے بھی اپنے گھر سے نیچے نہیں اترسکا۔ ریاست عمران اور اس کی ٹیم پر کیا اعتماد کریگی؟۔ وہ چوہان جس پر ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا تو قرآن کھول کر ویڈیو بنائی اور شیخ رشید سمیت پوری ٹیم کو غیرت ، حمیت سے عاری اور گندی ذہنیت کا حامل قرار دیکر دنیا بھر کی مروجہ گالیوں سے نوازا۔ اگر فیاض الحسن چوہان میں غیرت ہوتی تو اس ٹیم کا حصہ نہ بنتا۔ مراد سعید سے لیکر فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت تک نہ صرف خود لونڈے لپاڑے ہیں بلکہ اپنے جیسے بڑے بڑے کھیپ کی قیادت بھی کررہے ہیں۔ ہم نے جو نعرہ لگایا ہے تو اس کی گواہی اس پاک دھرتی کا بوٹا بوٹا، پتہ پتہ دے رہاہے، فیض آباد دھرنے پر تو عدالت نے وہی نعرہ اپنی دبی زبان میں لگایا ہے جس کا ہم سخت لہجے میں اظہار کررہے ہیں۔
خاتون اول کا ویڈیو پیغام قوم نے سن لیا ہوگاکہ
’’میرا پہلا شوہر شریعت کا بہت پابند ہے۔ طلاق دیتے ہوئے عدت بھی گھر پر گزارنے کا کہا تھا، جب گھر چھوڑ دیا تو میری عدت پوری ہوگئی۔ عمران خان کی زندگی میں آنے کے بعد میرے اندر تبدیلی آئی اور عمران خان میں بھی تبدیلی۔ عمران خان نے ریحام کو لندن جاتے ہوئے مسیج پر شریعت کیخلاف طلاق دی تھی۔ عمران کی روح سعید تھی اور اس نے جمائما کو شریعت کے مطابق طلاق دی اور پھر اس کی روح بھٹک گئی ۔میری طرف غلط منسوب کیا گیا کہ خواب میں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ عمران خان سے شادی کرلوں۔ اگر چاہتی تو عدت کے فوراً بعد بھی شادی کرتی مگر میں نے سات مہینے تک مزید صبر کیا۔ تبدیلی عمران خان کے ذریعے سے آئیگی لیکن اس میں دیر لگ سکتی ہے‘‘۔ خاتون اول کے بیان سے پتہ چلتاہے کہ ریاست مدینہ بننے والی ہے، یہ شادی لو میرج ہو یا ارینج میرج دونوں کی تقدیر میں شریعت تھی۔ عمران خان میں یہ تبدیلی آگئی ہے کہ پردہ دار خاتون سے شادی کرلی، اس سے زیادہ تبدیلی کیا ہوگی؟ اور خاتون اول میں یہ تبدیلی آئی کہ باشرع شوہر کے باوجودعمران سے شادی کیلئے بات طے ہوگئی، شریعت کے مطابق پردے کا اہتمام شروع ہوگیا، دونوں کی تبدیلی حیرت انگیز تبدیلی ہے۔
البتہ اگر یہ لوگ قرآن کریم کی آیات نکاح، طلاق اور خلع کے حوالہ سے سمجھ لیں اور معاشرے کو حلالہ کی لعنت سے نجات دلادیں تو مدینہ کی ریاست کا بڑا زبردست آغاز ہوسکتا ہے۔ روز روز مدارس کے فتوؤں سے لوگوں کی عزتیں برباد ہورہی ہیں۔ گھر برباد ہورہے ہیں۔ اگر ریاست اور پی ٹی ایم کے لوگ گھروں کو تباہی اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو قرآن کریم کی طرف علماء کو متوجہ کرکے حلالہ سے بچانے کیلئے ایک زبردست کردار ادا کریں۔
اے شام بتا تو کتنی دُور ہے
آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنا دور ہے

پی ٹی ایم حقائق کو سامنے رکھ کر قوم کی خدمت کیا کرے!

پختون تحفظ موومنٹ ان نوجوانوں کی تحریک ہے جنکے اندر انسانیت کا درد ہے۔ ریاست اور فوج کیخلاف اس ماحول میں اٹھنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ حبیب جالب جیسے لوگ کھونے سے پہلے ریاست حکمران طبقہ اور ادارے بیدار ہوجاتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ PTMکی صدا کو سکرات الموت لاحق ہوچکی تھی لیکن حیات کی توتلی زبان نے اس میں حیات پیدا کردی۔ رہی سہی ساکھ عالم زیب محسود کی گرفتاری نے پوری کرلی۔ عالم زیب کو پی ٹی ایم کا روح رواں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ دنیا کی کوئی طاقت اب اس مشن کو روک نہیں سکتی ہے۔ جان ومال کے نقصانات ہوئے تھے تو قوم اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اسکا خمیازہ بھگتنے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھی مگر عزت وغیرت کے مسئلہ پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔ بے غیرتی کی بنیادیں طالبان نے ڈال دی تھیں۔ وزیرستان کی سرزمین پر مقامی اورغیرملکی دہشت گردوں نے روایات واخلاقیات کو پہلے سے تباہ کردیا تھا اور بہتی گنگا میں پاک فوج نے بھی اس بدترین نجاست میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔
اللہ کے دربار میں عوام، فوج اور طالبان مجرم ہیں۔ہرکوئی اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرے تو معاملہ الجھتا رہے گا۔ پہلا بڑا مجرم میں ہوں اسلئے کہ میرا موقف درست یا غلط تھا مگر عوام سمجھنے سے قاصر تھے اور میں نے عوام کے سامنے کماحقہ حقائق پیش نہ کئے۔ جسکے نتیجے میں میرے خلاف اشتعال تھا۔ طالبان نے خلوص کیساتھ جو کرنا تھا وہ کیا۔ پہلی بار مجھ پر فائرنگ ہوئی تو میرے بہادر بھائی ، عزیز اور پڑوسی نے موقع پر پہنچ کر مجھ پر احسان عظیم کیا ،انکی جان بھی جاسکتی تھی پھر فائرنگ کے بعد طالبان کی نقل وحرکت میرے گھر اور عزیزوں میں موجود رہی اور یہ انکے دینی جذبے کا نتیجہ تھا۔ قبائلی روایات کے مطابق مجھ پر فائرنگ کے بعد ان کو آنے کا موقع دینے کا کوئی شرعی، قانونی، اخلاقی اور قبائلی جواز نہ تھا مگر خلعت افغانیت سے عاری میرے گھر، عزیز و اقارب نے دین سمجھ کروہ کیا جو انتہائی ناروا تھا۔ غلطی تھی بھائی کی وفات پر گیا۔ طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کرکے 13 افراد شہید کئے۔ گھر کے افراد ، عزیز اور مہمان خواتین وحضرات شامل تھے۔ عوام میں طالبان سے نفرت کی فضاء پھیلی مگر اس کے باوجود قریبی عزیزوں کے گھروں میں طالبان کا آنا جانا رہا۔ یہ دینی جذبہ تھایا خلعتِ افغانیت سے عاری تھے؟۔ جب فوج نے چھاپہ مارا اور طالبان کی پک اپ کو بارود سے اڑادیا تو طالبان کی آمدورفت ختم ہوئی۔ اگر اسکے باوجود وہ طالبان کی مدد کرتے تواس غیرت پر مجھے بھی فخر ہوتالیکن بھینسوں کے باڑے کو شیروں کے پنجرے کا نام نہیں دیاجاسکتا ۔
پھر طالبان وہاں دھماکہ کرتے اور فوجی ہمارے پڑوسیوں کو چھوڑ کر ہمارے رشتہ داروں کو پکڑ تے تو لگتا یہ تھا کہ فوج زیادتی کررہی ہے لیکن یہ کوئی نہ کہتا کہ ہم بھی بے غیرتی کی انتہاء کو پہنچے ہیں۔ محسود اور وزیر ہم سے زیادہ طالبان کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ دوسروں کی بے غیرتی کو سمجھنے کیلئے اپنوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالوں سے جو سلوک پاک فوج نے روا رکھا، صحیح بات یہ ہے کہ کوئی اور ہوتا تو بہت برا سلوک کرتا۔ بی بی سی کے مطابق امریکی فوج نے ایک افغانی مرد سے جنسی تشدد تک کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ پاک فوج نے ایک بدمعاش عطاء اللہ کو سپورٹ کیا جس نے طالبان کو علاقہ گومل سے ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا لیکن جب پاک فوج نے پکڑ لیا کہ چوری ڈکیتی میں ملوث ہے تو اس کوپکڑ کر مار دیا تھا۔ اس پر طالبان نے بھی حملے کئے تھے لیکن وہ بہادری سے طالبان کے خلاف لڑتا رہا تھا۔یہ مثال ہے کہ عطاء اللہ کو طالبان نہ مارسکے مگر بہتوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
PTMکے منظور پشتین کا یہ نعرہ بہت اچھا ہے کہ جو ظلم کرے ہم انکے خلاف ہیں۔ طالبان نے کوٹکئی سپین کئی رغزئی کے مقام پر خاندان ملک کو شہید کیا اور پھر انکے بیٹے اور گھر کے افراد پر حملہ کرکے 7افراد کو شہید کیا جن میں حافظ قرآن بچی بھی شامل تھی۔ مرزاعالم خان کے بیٹے کو شہید کیا، پھر انکو اور ان کی فیملی کے کافی افراد شہید کردئیے۔ خلعت افغانیت سے عاری وزیر و محسود تماشہ دیکھتے رہے۔ جو حال ہمارے بے غیرتوں کا تھا وہی انکا تھا۔ گلشاہ عالم برکی کو طالبان نے اغواء کیا تو کانیگرم کے برکی بیت اللہ محسود کے پاس شیروں کی طرح پہنچے، اس نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ۔ اگر کانیگرم شہر سے طالبان کے عمل دخل کو ختم کیا جاتا تو غیرت کا تقاضہ پورا ہوتا مگر برکی قوم بھی خلعت افغانیت سے بالکل عاری تھی۔
محسود کے مشران طالبان کیساتھ معافی اور فیصلہ کرنے آئے لیکن جس تاریخ کو کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزا سنانے کا وعدہ کیاتھا، اس دن محسود قوم کو طالبان نے کانیگرم آنے سے روکا، اسلئے کہ خلعتِ افغانیت سے عاری تھے۔ بے غیرتوں کیساتھ پاک فوج نے جو سلوک روا رکھا وہ درست تھا، جب شریف شرفاء کہلانے والے بھی پاک فوج کے تشدد کا نشانہ بن گئے اور غریب غرباء طالبان سے بالکل مناسب سلوک کیا تو اس پر پاک فوج انعام واکرام کی مستحق ہے۔ جب قبائل کے پاس اسلحہ تھا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت انہوں نے نہیں کی بلکہ ظالمان طالبان کومختلف طرح سے ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر بھی ساتھ دیتے رہے ،جن کی کاروائیوں سے پاکستان کا چپہ چپہ لرزتا رہاہے۔ راؤ انوار نے ایم کیوایم کے کارکنوں اور طالبان کو قابو نہ کیا ہوتا تو کراچی کا امن بحال نہیں ہوسکتا تھا ، پاک فوج نے وزیرستان کی گھاٹیوں اور سنگلاخ پہاڑوں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہ کئے ہوتے تو دہشتگردوں نے قبائل کی ماں بہنوں کو لونڈیاں بنانا تھا۔ پاک فوج نے قبائل کیلئے مسیحا کا کام کیا۔
ایک وزیر نوجوان نے جس طرح سے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’ میری مائیں بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں،اگر تم کہو تو میں ان کو تمہارے سامنے لاتا ہوں، جنکا پردہ ہفتے میں چار بار ٹوٹتا ہے اور عزتیں نیلام ہوتی ہیں،پرائے زبان والے یہ سب کرتے ہیں ،تم سے بھی یہ پردہ اور شرم نہیں کریں گی…..‘‘یہ بھی خلعتِ افغانیت کے اتر جانے کی دلیل ہے۔ ورنہ غیرتمند پہلے گولی کی زبان میں جواب دینے سے کم کوبے غیرتی سمجھتے تھے۔نہتے بچوں و خواتین کیساتھ یہ بڑی زیادتی ہے۔
قبائلی عوام کی طرح طالبان میں بھی اچھے برے موجود تھے اور اب بھی ہیں، پاک فوج بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ، اچھے فوجی افسران اورسپاہیوں کے ساتھ ساتھ برے لوگوں کی بھی ان میں کمی نہیں۔ کراچی کے آپریشن میں جن پولیس والوں نے کاروائیاں کی تھیں ان کو چن چن کر قتل کیا گیا لیکن ایک فوجی نے بے اعتدالی کی تھی تو پاک فوج نے اس کو خود ہی سزا دیکر پھانسی پر لٹکادیا تھا۔ آج اگر وزیرستان سے کسی کو نامزد کرکے سزا کا مطالبہ کیا جارہاہے تو پاک فوج اسے بھی قرارِ واقعی سزا دے۔ آپریشن میں بہت بے گناہ لوگوں کیساتھ بھی زیادتیاں ہوئی ہیں اور اس کا ازالہ کرنے کیلئے کسی ایک دو کو سزا دی جائے تو اس سے پشتون قوم اور پاک فوج کے درمیان اعتماد اور عزت کا رشتہ بڑھے گا۔ پنجاب میں ایک واقعہ پر لوگ آپے سے باہر آسکتے ہیں۔ اگر پختونوں میں لاوا پکتا رہا تواسکا نتیجہ بہت برا نکل سکتا ہے۔ ریاستیں قوم کے اعتماد کے بغیربالکل نہیں چل سکتی ہیں۔
یہ خیال رہے کہ میجر دریا خان پختون ہو اور جب اس کو سزا دی جائے تو پھر پختون ہی تحریک چلائیں کہ پنجابیوں کو سزا نہیں دی جاتی ہے ، پختون کیساتھ یہ زیادتی ہے۔ جب کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزاکی بات کی تھی تو انہوں نے غلط جاسوسی کے الزام میں ہمارے بعض عزیزوں کو نامزد کیا اور وہ کہہ رہے تھے کہ 13افراد کے بدلے 2تم مارچکے ہو،11کا شمار ہم پورا کرینگے لیکن ہم نے سوچا کہ غریب اور کمزور لوگوں کو سزا کا فائدہ نہ ہوگا اور غلط جاسوسی کے نام پر ہمارے عزیزوں کومارینگے تو کل باتیں ہونگی کہ انہی کو بدلے میں بھی ماردیا۔ پہلے طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کا عزم تھا کہ قاری حسین ، حکیم اللہ محسود اور تمام ذمہ دار افراد کو قصاص میں قتل کیا جائیگا اور پھر قاری حسین نے کہا کہ تمہارے کہنے پر میں نے اپنے بے گناہ پڑوسی خاندان ملک اور اسکے گھر والوں کو مارا تھا تو تم بھی قصاص میں قتل کئے جاؤگے۔ جس پر طالبان نے اپنا مؤقف ہی بدل ڈالا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل نوازشریف اور شہبازشریف ہیں مگر اقتدار ملا تو خاموش ہوا ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی خاموشی اختیار کرلی ۔

پاکستان میں اسلامی تعلیم کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی!

طالبان اسلام کے نام پر اٹھے تھے ۔ معروف صحافی حامد میرنے بہت دیر کی یہ کہتے کہتے کہ ’’ طالبان امریکہ کا منصوبہ تھا، بینظیر بھٹو کو امریکن رابن رافیل نے قائل کیا کہ وہ امیرالمؤمنین ملاعمرمجاہد کی تائید کریں۔ رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کی ایماء پر ملاعمر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ آپ نے میرے خلاف کالم لکھا؟۔ میں نے کہا کہ رابن رافیل آپ کی حمایت کرتی ہے تو آپ کو امریکی جاسوس کیسے نہ سمجھوں؟، ملاعمر نے کہا کہ وہ عورت ہے یا مرد؟۔ میں نے کہا کہ عورت تو ملا عمر نے یوں پیشانی پر ہاتھ مارا اورکہاکہ ایک عورت میری حمایت کرتی ہے؟۔ پھر کہا کہ میں آپ کی امریکہ کے سب سے بڑے دشمن سے ملاقات کرادوں تو یہ وعدہ کرتے ہو کہ آپ لکھیں گے کہ میں امریکی ایجنٹ نہیں۔ میں نے کہا کہ کون ہے وہ؟۔ تو ملاعمر نے کہا کہ اسامہ بن لادن!۔ میں نے اس کیساتھ پھروعدہ کیا ۔ پھر پاکستان آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجھے اسامہ بن لادن سے ملا دیا۔ یوں یہ انٹرویوآئی ایس آئی کی وجہ سے نہیں بینظیر بھٹو کی مہربانی سے ہوا تھا۔ طالبان کے ایشو کو آئی ایس آئی نے بعد میں اپنے حق میں استعمال کیا۔ اسامہ بڑا سادہ بندہ تھا۔ اسکے جتنے فوٹو چل رہے ہیں وہ سب میرے کہنے اور ہدایات پرہی بنائے گئے تھے، میں کہتا کہ اس طرح اسلحہ لگاکر تصویر نکالو، کبھی اسکے پیچھے کتابیں رکھ دیتا تھا۔ انٹرویو کرنیوالی پی ٹی وی کے چینل Aٹی وی کی اینکرپرسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اسامہ تیرے اشارے پر ناچتا رہا؟۔ حامد میرنے کہا کہ ناچنا تو میں نہ کہوں گا لیکن وہ ایک بہت سادہ بندہ تھا، دنیا میں جو اس کا امیج بناہواہے یہ انہی تصویروں کی وجہ سے ہے۔ اینکرپرسن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صحافی جس کو جس انداز میں پیش کرتے ہیں وہ ویسے نظر آتا ہے‘‘۔
حامد میر کسی دور میں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملاعمر کے خلاف کالم لکھنااور پھر رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کے ذریعے ملاعمر اور پھر اسامہ سے ملاقات سی آئی اے کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا، میں نے تو ملازم کا کردار اداکیا۔جنگ نے مفتی محمدحسام اللہ شریفی کو بھی نکال دیا ہے، میری تنخواہ بھی امریکی سی آئی اے دے رہی ہے۔ پاکستان کی فوج اتنی کمزور تو نہیں کہ مجھے مارنا چاہے اور مجھے نہ مارسکے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی کوئی اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اسامہ اور ملاعمر کے نام پر امریکہ نے پوری مسلم دنیا کو تباہ کردیا اور حامد میر اب پیپلزپارٹی کا گراف گرانے کیلئے انٹرویو دے رہاہے؟۔ واہ پنجابی واہ !۔ اللہ تجھے پوچھے گا۔یہ الفاظ اس پٹھان کے لبوں پر اس وقت جاری ہونگے کہ جب عالمی سازشیں ایک نیا کھیل کھیلنے کی تیاری میں لگ چکی ہیں۔ پختون قوم اور پاک فوج کے اندر موجود مخلص جاہل لوگ یا عالمی دلال ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری میں لگ چکے ہیں۔ہم نے طالبان کے نام پرسازش سے پہلے بھی خبرادر کیا تھا مگر جذباتی ماحول میں میرے خاندان نے بھی میری مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آج پھر اپنے پختون اور مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ سازشوں کے جال میں پھنس جانے سے پہلے ہوش کے ناخن لو۔ ایک دفعہ فتنہ برپا ہوگا تو رہی سہی امن کی زندگی بھی ہاتھ سے نکلے گی۔
اگر پاکستان کی فوج نے پختون علاقہ سے نکلنے کا اعلان کردیا یا پختون قوم کو اٹھ کر پنجاب سے اپنا الگ وطن بنانے کا اعلان کرنا پڑا تو نہتے پختونوں کو داعش و طالبان کے مسلح دہشتگرد وحشی جانوروں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائیگا۔ ٹارگٹ کلنگ سے پھر پشتون قوم ایسی دبک جائے گی کہ اس مرتبہ آواز اٹھانے کے قابل بھی نہ رہے گی۔ بھری محفلوں میں بہادری کی بھڑکیاں مارنے والوں کی غیرت و ایمان کو طالبان نے اچھی طرح سے جانچ لیا ہے۔ امریکہ قطر میں ہمیشہ طالبان سے رابطے میں رہاہے۔ وہ شکست کا اعلان کرکے کہے گا کہ طالبان سے ہم نہ لڑسکے، طالبان کو انعام میں افغانستان اور پختونخواہ وبلوچستان کا پختون ایریا دیدے گا۔ سرائیکی، پنجابی اور بلوچ اور سندھی اپنے اپنے الگ ممالک بنالیں گے اور کسی کو بھی پاکستان ٹوٹنے کا دکھ بھی نہیں ہوگا۔ سیاستدان اور اسٹیبلیشمنٹ یہ کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کرینگے کہ مقروض پاکستان سے جان چھڑانے میں ہمارا کمال تھا۔
پھر پانی سر سے گزرنے کے بعد حامدمیر جیسے دیگر صحافی انکشافات کرینگے کہ عمران خان کا ورلڈ کپ جیتنا، طالبان کی حمایت اور پاکپتن کے مزار پر سجدہ سب کچھ پلانٹڈ اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سے لکھا ہوا اسکرپٹ چل رہاتھا۔ اسلامی بلاک کا آغاز کرنے پر بھٹو کو نشان عبرت بنانا بھی کھیل کا حصہ شمار ہوگا اور جنرل ضیاء الحق نے لسانی تعصبات سے پیپلزپارٹی کو اس قدر دھچکا نہیں پہنچایا جتنا آصف زرداری سے بھٹو خاندان کو زرداریوں میں بدلنے کے پلان سے پہنچایا۔ ایک ایک بات کا انکشاف ہوگا تو اسلامی مدارس کے نصاب کو بھی سازش کے تحت جاری اور ساری کرنے کے انکشافات سامنے آئیں گے۔ پھر قوم سنبھل نہ سکے گی اور جس اسلام سے دنیا ڈرتی تھی اس کا دنیا سے ابلیسی نظام کے ذریعے مکمل خاتمہ کرے گی۔علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے لکھاہے کہ ابلیس کو اصل خوف امت کی بیداری اور اسلام کے آئین سے ہے۔
اگر پختون گرینڈ جرگہ وزیرستان اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ واقعی اسلام اور غیرت کیلئے مخلص ہیں توخواتین کے حقوق اور حلالے کی لعنت اور بے غیرتی کے مسائل حل کریں۔ پاکستان کی فوج امریکی امداد پر دلالی کرتی ہو اور پختونستان کا نعرہ لگانے والے حق مہر کے نام پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بیچیں تو پھردونوں سے کوئی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔ جعلی اسلام، جعلی پاکستانیت اورجعلی پشتو غیرت ایک گھناؤنا کاروبارِ سیاست ہے جسکے اچھے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز صاحب نے طلاق سے رجوع اور حلالہ کی لعنت ختم کرنے کے دلائل پر سنجیدگی کا اظہار کیا تھا مگر اب تک خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔ پختون گرینڈ جرگہ قرآن وسنت کے قوی دلائل سمجھ لیں تو حلالہ کی بے غیرتی سے نہ صرف پختونوں کی بلکہ عالمِ انسانیت کی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ شدت پسند طالبان اور دہشت گرد بھی درست اور اعتدال کے راستے پر آسکتے ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات کی گردن مروڑی گئی ہے تو اسلام کا کوئی قصور نہ تھا بلکہ ہردور کے بے غیرت شیخ الاسلاموں نے ریاست میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار خود کو ثابت کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ احادیث صحیحہ میں قرآن کی تعلیم پر معاوضے کی اجازت نہ تھی اور پہلے ادوار میں سلف صالحین کا اس پر اجماع تھاکہ قرآن کی تعلیم پر معاوضہ نہیں لیا جاسکتا۔ بعد والوں نے اس کو پیشہ کاروبار بنادیا۔ احادیث صحیحہ کا پورا ذخیرہ مولاناسیدمحمد یوسف بنوریؒ کے داماد مولانا طاسین ؒ نے نقل کیا کہ زمین کو مزارعت، بٹائی اور کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا۔ امام ابوحنیفہؒ ،امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں لیکن مولانا طاسین ؒ نے گوشہ گم نامی میں زندگی گزار دی۔ دینی مدارس نے ان کی کتابوں کو عوام میں ہوا بھی لگنے نہیں دی۔ آج طلاق کے مسئلہ پر مدارس نے چپ کی سادھ لی ہے۔ علماء ومفتیان جلد ازجلد حقائق کی طرف رجوع کریں ورنہ مشکلات آئیں گی۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہ ﷺ نے پختون قیسؓ عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیا

مؤلف کتاب کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد کراچی نے تاریخی حوالہ جات سے لکھا ہے کہ ’’ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق بخت نصر نے انہیں حکم دیا کہ ملک شام سے نکل جائیں بلکہ جس جس علاقے پر میری حکومت ہے وہاں نہ رہیں۔ جو لوگ ان کی نگرانی پر مامور تھے انہوں نے اس قافلہ کو بخت نصر کی بادشاہت سے نکال کر غور ، غزنی ، کابل، کوہ فیروزہ اور قندھار کے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا جو اقلیم پنجم و ششم میں شمار ہوتے ہیں اور خراسان و کوہستان کے صوبے میں شامل ہیں۔ اس طرح افغنہ کی اولادوں نے (موجودہ) ایران و افغانستان کے علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں کے ہورہے۔ان کی آل اولاد بڑھتی گئی اور اپنی کثرت کی وجہ سے ان لوگوں نے کافر قبیلوں کے خلاف متواتر جنگیں لڑیں اور اکثر و بیشتر پر فتح حاصل کرکے کوہستان کا سارا علاقہ اپنے زیر نگیں کرلیا۔ یہ علاقہ ولید بن عبد الملک بن مروان کے سپاہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے بھانجوں عماد الدین محمد قاسم اور محمد ہارون کے آنے تک ان کے قبضہ میں رہا۔ ہارون اور عمادالدین نے سنہ 88ہجری میں (یعنی آٹھویں صدی عیسوی) کیج اور مکران کا علاقہ فتح کیا اور سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کے آنے تک یہ لوگ اسی علاقے میں سکونت پذیر تھے۔ یہاں چونکہ افغنہ کا ذکر پھر آگیا اسلئے مناسب ہے کہ اس کو مکمل کرلیا جائے۔ چنانچہ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق: ’’اہل دانش و بینش سے پوشیدہ نہ رہے کہ تاریخ نویسوں خصوصاً صاحب ’’مجمع الانساب‘‘ و ’’اصناف المخلوقات‘‘ (تاریخی کتابیں، محمد بن علی شہانکارہ ئی نے 743ھ /1342ء میں اور نصیر الدین طوسی متوفی 672ھ میں تصنیف کی تھیں)نے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بنی اسرائیل اور آصف و افغنہ کی اولادوں کو جن کی تعداد سارے قبیلوں سے زیادہ تھی ، ملک شام سے نکال دیا تو ان میں سے ایک گروہ ملک عرب میں آبسا۔ انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اگر حضرت داؤد ؑ و سلیمانؑ کے بنائے ہوئے خانہ خدا یعنی بیت المقدس کی زیارت اور اس میں خدا کی عبادت سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سعادت ہم سے چھن گئی ہے تو کم از کم حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سعادت کو تو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیونکہ یہ پاک گھر نبی آخرزماں کی جائے پیدائش بھی ہوگا۔ اگر ہمیں سرور انبیاء ﷺ کی زیارت نصیب نہ بھی ہوئی تو ممکن ہے کہ ہماری اولادوں کا بخت یاوری کرے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور زیارت و صحبت سے شرف یاب ہوں۔ اسلئے انہوں نے مکہ معظمہ میں بلکہ حرم پاک میں سکونت اختیار کی۔ انہیں عرب کے لوگ بنی اسرائیل اور بنی افغان کہتے تھے۔ (حضرت خالد بن ولیدؓ اسی قبیلے میں سے تھے )۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایران کی تسخیر کی ۔ ان دو خوش نصیب و نیک بخت جوانمردوں کی ہمت سے نوشیرواں کی نسل کا آخری بادشاہ یزد جرد بمقام یزد قتل ہوا اور چار ہزار سات سو سال کے بعد عجم کی وسیع سلطنت اسلام کو منتقل ہوئی۔ خواجہ نعمت اللہ ہرطی لکھتے ہیں ’’جوینی نے ’’تاریخ جہانکشا‘‘ میں حمد اللہ مستوفی نے ’’تاریخ گزیدہ‘‘ میں ، محمد بن علی شبانکارہ ئی نے ’’مجمع الانساب‘‘ میں اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے ’’تاریخ اصناف المخلوقات ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے کہ جب جمال محمدی ﷺ کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں اور دنیا کی تاریکی کے بادل چھٹنے لگے اور عرب گروہ در گروہ مدینہ منورہ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو خالد نے بھی اسلام قبول کیا اور اس سعادت سے مشرف ہوکر بنی اسرائیل ، بنی افغان اور بنی اعمام کو جو غور کے نواحی پہاڑوں میں بستے تھے ایک خط لکھا جس میں خالد نے ان قبیلوں کو پیغمبر آخر الزماں کی تشریف آوری ، اسلام کی حقیقت اور اپنے ایمان کی خبر دی۔ خالد بن ولیدؓ کا یہ خط جب اس قوم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا بنی افغان کا سب سے بڑا سردار قیس نامی ایک شخص تھا جسکا شجرہ نسب 37واسطوں سے ملک طالوت اور 45واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک پہنچتا تھا۔۔۔ الغرض جب افغانوں کی یہ جماعت مدینہ پہنچی تو حضرت خالدؓ کی وساطت سے حضور سر ور کائناتﷺ کی خدمت میں شرف یاب ہوئی اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئی۔ نبی ﷺ نے اس جماعت کیساتھ ہر طرح سے شفقت فرمائی، انمیں ہر ایک کانام پوچھا اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیس عبرانی نام ہے اور ہم عرب ہیں پھر کمال شفقت سے قیس کا نام بدل کر عبد الرشید رکھا اور فرمایا چونکہ تم لوگ ملک طالوت کی اولاد ہو جسے حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’ملک‘‘ کے خطاب سے یاد کرکے عزت بخشی اسلئے بہتر ہے کہ تمہیں لوگ ملک کہا کریں۔ آپ ﷺ فتح مکہ کیلئے روانہ ہوئے تو خالدؓ اور عبد الرشیدؓ دونوں کو آپ ﷺ کے ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی جماع کو حکم دیا کہ وہ عبد الرشیدؓ کے زیر کمان جہاد میں شریک ہوں۔ اس جماعت کے سب لوگوں نے جانثاری کا ثبوت دیکر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قریش مکہ کے 70 کافر خالدؓ اور اس جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح کے بعد خالدؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ملک عبد الرشیدؓ کی بہادری اور جوانمردی کے واقعات بتائے یہ سن کر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر برملا یہ الفاظ جاری ہوئے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس مرد کی آل و اولاد کو بہت فروغ بخشے گا۔ اس حد تک کہ اس کے قبیلے کی طاقت باقی قبیلوں سے زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے وحی کے ذریعے سے آگاہ کیا گیا کہ اسلام کی خدمت کیلئے اس قبیلے کی کثرت و استحکام کو وہ بنیادی حیثیت حاصل ہوگی جو کشتی اور جہاز کے نیچے والی اس لکڑی کو حاصل ہوتی ہے جس پر کشتی یا جہاز کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ اس لکڑی کو سمندروں کے رہنے والے لوگ ’’بتھان‘‘ کہتے ہیں۔ اسلئے عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیتا ہوں‘‘۔ کثرت استعمال سے یہ لقب بتان یا بتھان سے فارسی کے اثر سے پتھان پھر پٹھان ہوگیا اور آج افغان و پاکستانی سرحدی قبائل اپنے آپ کو پٹھان کہنے پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ انکے رویوں میں وہی بنی اسرائیل یا یہودیوں والی جھلک پائی جاتی ہے اور دینی عقائد میں بھی وہ سوچنے و سمجھنے اور تفکر و تحریر سے عاری ہیں، اور باپ دادا کی پیروی یا تقلید پر ہی اڑے رہتے ہیں۔
بنی اسرائیل یا یہود کے پٹھان بننے کے بعد اب ہم پھر تاریخ کے اس باب کی طرف پلٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہود کی سرکشیاں شام کے علاقے میں بہت بڑھ جاتی ہیں حتیٰ کے وہ جلیل القدر رسول عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنی منافقانہ بد اعمالیوں سے سولی پر لٹکا کر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر 70عیسوی میں رومن عیسائی کی افواج عذاب بنا کر مسلط کر دیتا ہے وہ نہ صرف یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں بلکہ انکی مرکزی عبادتگاہ جو تقریباً پانچ سو سال پہلے پارس کی مدد سے دوبارہ تعمیر کی گئی تھی کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کے بعد آج تک کوئی بھی اس عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کو دوبارہ یا سہ بارہ تعمیر نہ کرسکا۔ وہاں اب کچھ عرصہ قبل کھدائیوں کے نتیجہ میں کسی دیوار یا نبو کے کے آثار ملے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر یہودی وہاں کھڑے ہوکر روتے ہیں۔ (چنانچہ اس آثار کا نام ہی ’’دیوار گریہ‘‘ پڑ گیا ہے Wailing Wall) اور ایک اور نبی یا مہدی کے آنے کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔ جس طرح انہی کے پروردہ ایک فرقہ کے لوگ’’ ادرکنی یا صاحب الزماں‘‘کی نہ صرف دعائیں کرتے ہیں بلکہ یہ دعا لکھ لکھ کر آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا یا سمندر میں بہاتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں کہ عراق کے غار میں تقریباً 12سو سال سے چھپا ہوا مہدی نیلا عمامہ پہنے ہاتھ میں دو دھاری اور دو شاخہ تلوار لئے ظاہر ہورہا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی کے دو ہزار سال سے تباہی کے باوجود بیوقوف مسلمان اور انکے ملا اس کو مسجد اقصیٰ کا نام دیتے ہوئے اسے قبلہ اول قرار دیتے ہیں جبکہ اس عبادتگاہ کا اپنا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قبلہ اول بنایا ہوا تھا (اول بیتٍ 96/3)۔ القرآن الحکیم قراء تی تحریف، مؤلف کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد
تبصرہ سید ارشاد نقوی
کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد نے اپنی کتاب پر اپنا پتہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف قرأتوں کا انکار کیا گیا ہے اور اس کو قرآن کیخلاف ایک سوچی سمجھی مگر ناکام سازش قرار دیا گیاہے۔
الفاظ کی ادائیگی اور لہجوں کا اختلاف مختلف زبانوں میں ہوتا ہے۔ عرب امارات کے اس معروف ملک کو شارقہ اور شارجہ کہا اور لکھا جاتا ہے۔ مصری حاجی جنت مانگنے کی دعا میں اللہ سے گنا مانگتے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ قاری عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ مصری حرم میں دعا مانگتے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ جنت مانگو، گنا نہیں مانگو، جو اسطرح کھایا جاتا ہے۔ بعض افریقی لیلۃ القدر کو لیلۃ الغدر تلاوت کرتے ہیں۔ اکثربنگالی جنت کو زنت کہتے ہیں،ولاالضالیں کی ادائیگی پر پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مسجد محراب سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ عربی میں لفظ لفظ کلمہ پڑھنے کے بھی چار اقسام کی ادائیگی ہے۔فوج کو پوج، فوز اور پاکستان کو فاکستان کہنے والے بھی کثرت سے موجود ہیں۔
کیپٹن صاحب کی تصنیف اچھی کاوش ہے اور قرآن کی وجہ سے حدیث کا انکار درست ہے۔اہلحدیث اور دیوبندیوں کے حوالہ سے اگر واقعی کسی سازش کا ادراک ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ جب شیعہ گمراہ ہیں اور سنی احادیث بھی غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟۔ اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ تاریخی غلط بات کو درست ماننا اور صحیح احادیث کا انکار کرنا کوئی منطق ہے؟۔ قیس عربی نام تھا، جاہلیت کے مشہور عربی شاعر امرء القیس تھا، عربی قصہ مجنوں لیلہ میں مجنوں کا نام بھی قیس تھا ۔ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ نے اس قوم کو رشید بنانے کیلئے قیس کا نام عبدالرشید رکھا ہو۔ اگر خطاب یہ ہو توبھی ممکن ہے۔ آج کوہ سلمان پر تختِ سلمان اور قیسے غر( قیس کا پہاڑ) اور عبدالرشید کانام اور قبر موجود ہے۔ کیپٹن صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث کی وجہ سے غلط پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں بھی پیش گوئی موجود ہے۔
ملیر کینٹ کراچی سے ریٹائرڈ فوجی صوبیدار بشیر احمدکے بیان نوشتۂ دیوار میں شائع ہوئے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اخباری تراشے بھیجے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ ہمیں جمہوری پاکستان چاہیے، جہادی پاکستان نہیں چاہیے۔ حالانکہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور جمہوری نظام شرک ہے مگرجب اس سے ہم نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا نام اسلامیہ جمہوریہ ہے اور یہاں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام ہے ،کیا آپ مجاہدین کو پاکستان کیخلاف جہاد کرنے کا کہتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے تو بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔اس کی بولتی بند ہوگئی اور پھر اس کو بتایا کہ نبیﷺ نے حدیث قرطاس لکھوانے کی بات فرمائی لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ’’ ہمارے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ غدیر خم کے موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جسکا مولی ہوں ، علی اس کا مولی ہے لیکن مسلمانوں نے جمہوری بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ (صحیح مسلم)حدیث سے جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے ۔ بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اسلام اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے اور جہاد کو نظرا نداز کردیا۔
ایک فوجی حدیث کا منکر ہے اور تاریخ سے متاثر ہے اور دوسرا حدیث کو مانتا ہے لیکن خود جہاد نہیں کرتا اور جمہوریت کو شرک قرار دیتا تھا لیکن جب جہاد کا سوال پوچھا تو گونگا شیطان بننے کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑی کم عقلی ہے کہ جو لوگ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کاتحفظ کرنے والے اداروں کو جہاد کے نام پر تحفظ بھی دیتے ہیں۔ ملک میں بہت افراتفری ، منافقت اور نااہلیت کی وجہ جاہلیت اور ذاتی مفادپرستی کے شاخسانے ہیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوجی مہم جوئی کے دوران قتل کئے تو نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ ’’اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔ابنِ نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے دورِابوبکرؓ میں شادی رچائی تو عمرؓ کایہ مشورہ تھا کہ سنگسار کیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ کو کافی قرار دیا کہ ’’خالدؓبن ولید کی اب ضرورت ہے‘‘۔

منظور پشتین، عمران خان،نواز شریف، محمود اچکزئی اور الطاف حسین سے گزارش: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے اشرف میمن نے کہا کہ سائیکل چوری پر پولیس اتنا تشدد کرتی ہے کہ مجرم نہ ہو توبھی اعترافِ جرم کرلیتا ہے کہ بہت سائیکلیں چوری کیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ سیاسی قبلہ بدلنے، مذہبی مسئلہ اگلنے اور کرپشن کی بات پر میڈیا کے سامنے وضاحت کا موقع دیا جائے، عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو تازہ درخت کے ڈنڈے کاٹ کر اس پر برسائے جائیں ۔ نوازشریف کو موقع دیا جائے کہ پارلیمنٹ میں تحریری بیان اور پھر اس سے مکرنے کی معقول وجہ بتائے، اگر نہ بتاسکے تو ڈنڈے سے میڈیا پر اُگلوایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بولنے پر بھی ہو اور فرائض منصبی کے بجائے جرائم پیشہ ریاستی عناصر کو بھی عوام کے سامنے کیا جائے۔فواد چوہدری کو بھی پارٹیاں بدلنے کی سزاہو اور الطاف حسین جو فوج کو اقتدار کی دعوت دیا کرتا تھا اس پر بھی سزا ہو۔ اس سے انقلابی سیاست کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگے گی۔

ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیا گیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟ اگر پی ٹی ایم ان کیلئے کھڑی ہوتی تو…..


منظور پشتین نے قائداعظم یونیورسٹی میں فیس بک پر کہاکہ ’’وٹس ایپ کھولوں تو بہت پیغامات ہیں کہ خواتین سے زیادتی اور لڑکوں کو بھی نہ چھوڑاگیا‘‘۔ چوتڑ تک بال کس کام کیلئے رکھے؟۔ٹانک سے پختون لیڈی ڈاکٹر رضیہ کو اغواء کیا۔ ماردھاڑ لوٹ مار اور ظلم پر فخرتھا۔ ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیاگیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟، اگرPTMان کیلئے کھڑی ہوتی تو اپنی عزت کا طبلہ بجانے یا اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے کی قیمت پرکم ازکم آج چپہ چپہ سے پوری قوم انکے ساتھ کھڑی ہوتی۔

پی ٹی ایم کیلئے کامیابی کا زینہ ایم ٹی ایم ہے

PTM کی بنیاد مظلومیت ہے،یہ MTMہو تو جان آئے۔ چند افراد ہر شہر میں پہنچتے ہیں مگر عوام ساتھ نہیں دیتی ۔ پنجابی تعصب کی بدبو شامل ہو تو انسانیت و اسلام کی مٹھاس نکل جاتی ہے۔ بلوچ تعصب نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف قربانی دیتے تو پاکستان پر انکا راج ہوتا۔ غیرتمند قبائل پر جبری زیادتی ہو تی تو کلہاڑی کاوار ہوتا۔ طالبان کی آڑ میں وہ غلطیاں فوج نے کیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے ۔ڈی آئی خان وبنوں جیل کوتوڑا گیاتو فوج سے عوام ہتھیار چھین لیتی کہ ملک وقوم کی حفاظت بے غیرت تم نہیں ہم کرسکتے ہیں۔قصور میں جبری زیادتی کا ریکارڈ میڈیا سامنے لایا مگر ریاست کو کوئی غیرت نہ آئی۔ بے غیرت جرنیل اور سیاستدانوں نے قوم کا بیڑہ غرق کیاہے۔

پی ٹی ایم کے عالم زیب اور مردان کے قیدی

عالم زیب محسوداور مردان میں قید ہونیوالے پروفیسراختر وزیر وغیرہ نے نظریاتی سیاست کو زندہ کردیا ،حقیقی جمہوری سیاست کا زندہ ہونا ملک وقوم کیلئے خوش آئند ہے۔ طالبان اور فوجی آپریشن کے متأثرین کیلئے خونِ جگر سے انسانی حقوق کیلئے کھڑے ہونیوالوں کا بڑا کمال ہے کہ حقیقی دردِ دل رکھتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہردورِ حکومت کے درباری اور اتحادی سیاستدانوں نے سیاست کو بدنام کردیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو چا ہیے کہ اس قیادت کو قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے بہت بڑی سطح پر اُبھرنے کا موقع دیں۔ فوج اور اس کی کٹھ پتلی سیاسی قیادت ملک وقوم کو کسی مصیبت سے نہیں بچا سکتی ہے۔لسانی تعصبات مظلومیت کیساتھ کھڑے ہوگئے تو پاکستان بخرے ہوگا۔

پیپلزپارٹی ، ن لیگ اورعمران خانی حکومت؟

کوئی اقتدار میں آیا تو استبدادی جبر کی رضاو ایماء پر آیا۔ عمران خان نے پرویز مشرف کے ریفرینڈم سے منہ کی کالک دھونے کیلئے ابھی ندی میں پیرصحیح گیلے نہ کئے کہ نیازی نے ہتھیار ڈالااوراداروں کو مضبوط کرنے کی بانسری بجائی۔سیاسی جدوجہد اداروں کے استبداد سے گلو خلاصی ،حقوق اور عوام کو اختیارات منتقل کرنے کیلئے ہوئی ۔ دوسرے اسلئے تو کرپٹ تھے کہ اسٹیبلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا۔ عوام نہیں کرپٹ جرنیلوں اور ججوں نے سیاستدانوں سے مل کرملک وقوم کو لوٹا ۔ نیازی اورہردور میں قبلے کارُخ بدلنے والے نام نہاد لیڈرقوم اور اداروں کا بیڑہ غرق کرنے لئے چت پڑے ہیں۔یہ ایک ساہیوال کا واقعہ ان سے نہیں سنبھل رہا،اگر پختون قوم اٹھی تو نئی تاریخ رقم ہوگی۔

خلافت قائم ہو توعریاں لباس لونڈیوں کی بھرمار ہوگی؟ اداریہ شمارہ جنوری2019

یہ تأثر ہے کہ اسلامی خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر کے کفار کو دعوت دی جائے گی کہ اسلام قبول کرو، نہیں توجزیہ دو، ورنہ جہاد کیلئے تیار ہوجاؤ۔ پھر انکے مردوں کو غلام اور خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ لونڈی کا لباس مختصر ہوگا۔ ایک طرف خواتین کیلئے پردے کی پابندی ہوگی۔ سعودیہ وایران اور افغانستان کے طالبان دور میں خواتین کیلئے جو پردہ رائج تھا، یہ اسلامی ماڈل ہے تو دوسری طرف حسین لونڈیوں کی نیم وعریاں لباس میں چہل پہل، ریل پیل اور دھوم دھام نئی دنیا کا منظر پیش کررہاہوگا۔ دنیامیں جنت نظیر حوروں کی بہتات اور واہیات سے کیا نظارے ہوں گے۔ کیا یہی مصور پاکستان شاعرمشرق اقبال کے خواب کی تعبیر ہوگی کہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
جب لونڈی کامختصر لباس ہوگا۔ بسوں، ریل گاڑیوں اور پبلک مقامات کے ہر منظر وگوشے پر مخلوط حضرات ولونڈیوں کا سماں ہوگا، یہ قانون ہوگا کہ شادی شدہ لونڈی کی سزا نصف ، 100 نہیں 50 کوڑے ہونگے اور اگر لونڈی شادی شدہ نہ ہوگی تو اس کی سزا کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ اگر لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہیں تو زناپر مجبورنہ کیا جائیگا۔ ولاتکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا ’’اوراپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں‘‘۔
بڑی تعداد میں حسین وجمیل لونڈیوں کی اسلامی خلافت میں آمد کے بعد آدمی کیلئے تعداد کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ جب سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جواں سال لونڈیوں کی جھرمٹیں سرمایہ دار اور بااثر طبقات کی ملکیت ہونگی تو فیکٹریوں ، ملوں ، مارکیٹوں اور دفاتر میں ان سے کام لیا جائیگا اور سب کی جنسی خواہشات پوری کرنا بھی انکے بس کی بات نہ ہوگی۔ مالکان کی اجازت سے نکاح کیا جاسکے گا لیکن اس نکاح کی ثانوی حیثیت ہوگی ، اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو ہی ان سے نکاح ہوگا۔ جب انکے ساتھ ان کی خواہش پر بدکاری کی جائے تووہ سزا کی مستحق نہ ہونگی اور گواہی کیلئے چار افراد کی ایسی شہادت ممکن نہ ہوگی جس کا اسلامی مروجہ قانون میں تقاضہ ہے۔ یہ تو اس صورت میں ممکن ہوگا کہ جس طرح مولانا طارق جمیل نے حوروں کی تعریف کی ہے کہ ستر لباس میں بھی وہ عریاں نظر آئیں گی اور جنت کی شراب طہور پیتے ہوئے اسکے حلق میں اترتی نظر آئیگی اور اسکے بے قرار دل میں محبت کی تڑپ سے ہلتی جلتی ہوئی شریانیں بھی نظر آئیں گی۔ اس طرح سے اگر دنیا کی زمین میں انسانی جسم شفاف مادے کی طرح ہوجائیں تو سرمہ دانی اورکنویں میں سلائی اور ڈول کی رسی نظرآنی ممکن ہوسکے گی اور کسی ایک نے گواہی کا حق اس طرح سے پورا نہ کیا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والے 3 افراد کی طرح الٹی ماربھی ان گواہوں کو ہی پڑے گی۔
بہت سارے دانشور ،ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مذہبی منطق لڑانے والے اس طرح کے اقدامات اورماحول کو جواز بخشنے کیلئے ایران ،سعودیہ اور افغانستان سے مشابہ قوانین کیلئے زیادہ بہتر عقلی اور نقلی دلائل بھی پیش کرینگے۔ روس و امریکہ اور برطانیہ بھی دوسروں کو کچل کر غلام بنادیتے تھے تو انکے خلاف اپنے کبھی بغاوت نہیں کرتے ۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کردیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یمن اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہے۔ آنے والا وقت بتائیگا کہ ایران ، سعودیہ اور پاکستان کی باری کب لگتی ہے۔ اس جنگی مہم جوئی کے جواز کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ طاقتور ہیں جو چاہیں کرنے کا حق ہے، البتہ یہ مہربانی ہے کہ ہماری خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا گیا۔ ورنہ تو افغانستان وعراق اور لیبیا کی مسلم خواتین اسرائیل وامریکہ، برطانیہ و یورپ میں لونڈیوں کی صورت میں دنیا بھر کی میڈیا پر دکھائی جاتیں اور ہماری کچھ این جی اوز کی خواتین یہ دعوت دیتیں پھرتیں کہ یہاں کی آزادی سے وہاں کی لونڈی بننا بدرجہا بہتر ہے۔
جب طاقت کیساتھ مذہبی جذبہ مل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا توڑ نہیں نکال سکتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی طاقت مذہب کے مقابلے میں اس طرح سے ناکام ہوئی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ افغانیوں کو رام کرنے میں طاقت، پیسہ ، وسائل اور سازشوں کے تانے بانے استعمال کرنے کے بعد بھی اس طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ایک طرف نیٹو نے بے تحاشا ظلم و جبر دکھانے کے باوجود مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کا کام نہ کیااور دوسری طرف سعودیہ نے مغرب کی آزادی خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی جذبوں اور جہادی قوتوں کے پیچھے ہمیشہ سے ریاست کارفرما رہی ہے ۔ ریاست قادیانیوں کیساتھ تھی تو عدالتوں نے قادیانی مخالف علماء کو فسادی اور قادیانیوں کو صحیح مسلمان کہا تھااور ختم نبوت کی تحریک چلانے والوں کو پھانسیوں کی سزا اور معافی مانگنے سے لیکر علماء اور عاشقانِ رسول ﷺ کو داڑھی تک منڈوانا پڑ گئی تھی۔ حکومت اسلامیہ کالج کراچی کی جگہ پر شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی کا یادگار بنانے کیلئے علامہ یوسف بنوری ؒ کو مدرسہ بنانے کیلئے دے رہی تھی مگر قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی اس میں رکاوٹ بن گئے۔ پھر ریاست کا موڈ بدل گیا تو ایک ایسی تحریک ختم نبوت جو مجلس احرار اسلام کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظیم قربانیوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی مگر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی۔ اگر ریاست نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے ذریعے خلافت قائم کردی اور امریکہ وبرطانیہ اور یورپ و اسرائیل کو اپنا حلیف قرار دیا تو روس وچین ،بھارت، جاپان وکوریا اور کئی دیگر ممالک سے خواتین کو لونڈیاں بناکر ایک نئی مہم جوئی کا آغازبھی کرسکتے ہیں۔
ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ کیساتھ میثاق اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ تھا۔ پاکستان کیساتھ اسرائیل میثاق مدینہ کا بڑا فریق ہوگا اور بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگا تو بعض مسلمان مشرک بنیں گے۔پھر جب امریکی CIA مجاہدین کی طرح سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد پھینکے گی بلکہ مخالف کاروائیاں شروع ہونگی تو اقتدار مرزائیوں کو سونپ دیا جائیگا۔ جن کا نظریہ جہاد کی منسوخی ہوگا۔ مسلم اکثریت تھک ہار کر علماء ومفتیان کے اسلام سے بیزار ہوچکی ہوگی۔انگریز کے خود کاشتہ پودے کاتناآور درخت مرزا قادیانی کا پھل مسلم و غیرمسلم کھائیں گے اور اصلی اسلام کی جگہ جعلی اسلام لے گا توسارا قصہ ختم ہوگا ۔جہاد کے خاتمہ میں قادیانی نبوت ناکام ہوگئی مگر تبلیغی جماعت نے جہاد سے عملی طور پر لوگوں کو دور کردیا۔ مولانا مسعود اظہر نے اسلئے انہی سے گلہ کیا تھا،کرایہ کے جہاد نے جہاد کو بدنام کرکے اسکی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔