پوسٹ تلاش کریں

خلائی مخلوق بیت الخلائی لوٹوں کے ذریعے نجاست اسمبلی میں لارہی ہے

khalai-makhlooq-bait-ul-khala-lota-tarian-imran-khan-daughter-bagal-baccha-nawaz-sharif-iqama-issue-

نوشتۂ دیوار کے پبلیشر اشرف میمن نے کہا امریکہ وبرطانیہ کا کھیل ٹی وی چینلوں پر نظر آتاہے، خلائی مخلوق کرشمے دکھارہی ہے۔ مستقبل میں عمران خان روتا نظر آئیگا کہ میں صادق و امین نہیں،میری امریکن بچی ٹیرن سیتا اور برطانوی بچے سلیمان و قاسم صادق وامین ہیں۔ ان کو اقتدار دیا جائے۔ ریحام CIA کی سازش کا نتیجہ تھی توآنیوالی جمہوریت میں مریم نواز کا مقابلہ ٹیرن عمران سے ہوگا ۔ سیاستدانوں نے قومی اخلاقیات کا جنازہ نکالا۔ آئین کو بدلا جائے یاان سیاسی قائدین، رہنماؤں اور الیکٹ یبل کو جو آئین کے دفعات پر بالکل بھی پورے نہیں اترتے ہیں۔ بیت الخلاء کے لوٹوں کے پاس زبان نہیں اور موجودہ دور میں شیخ سعدی جیسا دانشور بھی نہیں جو لوٹوں کو زبان دیکر بات کرے۔ ورنہ لوٹے بھی کہتے کہ ہم ناچیز ضرور ہیں لیکن کام کتنا عمدہ انجام دیتے ہیں؟۔ قدرتی طور پر انسان سے نکلنے والی نجاست کو ہم صاف نہ کریں تو مقتدی کی نماز ہو اور نہ امام امامت کے قابل ہو۔ اب تو دنیا مسلم شاور کا نام دیتی ہے۔ یہ جو سیاستدان ہیں یہ تو ڈسٹ بین اور کچرا کنڈی سے بھی بدتر ہیں اسلئے کہ معاشرہ ان کی ضرورت سمجھتا ہے۔ عمران خان رسول اللہ ﷺ کا نام لیتا ہے مگر کام سب الٹے کرتا ہے۔ یتیموں نے مسجد نبوی کیلئے اپنی زمین دی تو نبی ﷺ نے نہیں لی۔ شوکت خاتم کیلئے ڈیفنس فیز 9کراچی میں جنرل راحیل نے جو زمین دی ہے وہ فوج کے شہدا کے بچوں کو لوٹادیں ۔ ڈیفنس کے پلاٹ سب سے پہلے افواج پاکستان کو منتقل ہوتے ہیں پھر اسکی فائل دوسرے خرید سکتے ہیں ، ڈیفنس کے پورے فیز 9کو شہدا کے بچوں کو دینا چاہیے تھا۔

imran-khan-cartoon

ہمارے علاقہ ٹانک کے عتیق گیلانی حق گوئی میں اپنی مثال آپ ہیں. مولانا مفتی گل حلیم شاہ

district-tank-jui-mufti-gul-haleem-shah-makkah-madina-akora-khattak-nowshera-allama-iqbal-mashriq

نوشہرہ(نادرشاہ،جاویدصدیقی) سابقہ ممبر صوبائی جنرل کونسل J.U.I وجنرل سیکریٹری J.U.I نوشہرہ، مہتمم دارالعلوم ذکریا گنڈیری رسالپور مفتی گل حلیم شاہ نے نمائندہ نوشتہ دیوار سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کا اخبار ضرب حق اور نوشتہ دیوار عرصہ دراز سے پڑھ رہاہوں ۔ آپ لوگ بہت اچھے انداز میں حق کی آواز بلندکررہے ہیں ۔ گیلانی صاحب کے حوالے سے میں یہی کہوں گا کہ دارالعلوم اکوڑہ خٹک کے مفتی محمد فریدنے کتاب سلسلہ نقشبندیہ کی ساتویں فصل میں لکھاہے کہ ایسے لوگ اقتدارکے لائق ہیں جوکسی بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ کیاکہیں گے، ملامت کریں گے یا مشکلات سے دوچارہوں گے بس وہ اپنی بات پورے زوراور سچائی کے ساتھ بیان کردیتے ہیں اوریہی بات مجھے اورمیرے رفقاء کوضرب حق کی بہت پسندتھی کہ گیلانی صاحب حق بات ببانگ دہل بیان کردیتے ہیں ۔ ہم اپنی مجالس میں یہ بات کہتے تھے کہ ہمارے علاقے ٹانک کے مولاناعتیق گیلانی حق گوئی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ میں نے تیرہ سال جمعیت علماء اسلام (ف) میں خدمات دیں ہیں اسکے علاوہ تحریری میدان میں نجات کے نام سے پرچہ نکالتے تھے ، مولانا عبدالوہاب فاروقی کی زیرادارت ، ہمارامقصدبھی تمام استحصالی نظاموں سے نجات تھا۔ J.U.I نے صدسالہ جشن دیوبندکا پروگرام کیاتوہم نے اپنے حوالے سے ایک کتاب تیارکی ، مولانا فضل الرحمن کو دکھایا کہ یہ ہم چھاپناچاہتے ہیں ، مولانا نے وہ مسودہ ہم سے لیکراپنے نام سے شائع کردیا، اس پر ہم لوگوں نے جمعیت کو چھوڑدیا کیوں کہ یہ مفادپرستوں کا ٹولہ ہے جو جمہوریت کے نام پر اسلام دشمنی کررہاہے ۔ موجودہ جمہوریت بہترین طرزکا کاروباربن چکاہے۔ مفتی صاحب نے ایک سوال پرکہاکہ خلافت اسلامیہ کاقیام ہی مسلمانوں کیلئے نجات کا ذریعہ ہے ۔ احادیث مبارکہ میں سیاہ جھنڈوں والے لشکرکا ذکرہے توسیاہ جھنڈے والاوقت قریب آگیاہے ۔ میں2011 ؁ میں حرمین شریفین گیا، میں نے مکہ ، مدینہ کے پہاڑ ، گھاس پھوس، فصلیں ، مٹی دیکھی ، میں بالکل وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ رہاہوں کہ بعینی یہ علاقے ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک ، قرب وجوار کے علاقے مکہ ومدینہ جیسے ہیں ، یہاں کے پہاڑ، گھاس، مٹی وغیرہ بالکل ویسے ہی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کو مشرق کے انہی علاقوں سے ٹھنڈی ہوا اور انقلاب کی خوشبو آئی ہے جسکا ذکراقبال نے اپنے اشعارمیں کیاہے ۔ آخر میں درس نظامی کے حوالے سے کہاکہ صرف ونحو وغیرہ رہنے چاہیے لیکن لایعنی سوالات جواٹھاتے ہیں اورفضول بحث ہیں ان کو یکسرختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے طالب علم کا ذہن منتشر ہوتا ہے اوروہ اصل یعنی قرآن و حدیث سے رہ جاتاہے۔ بحرحال درس نظامی کونئے سرے سے درستگی کی ضرورت ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کے گلے شکوے

manzoor-pashteen-establishment-ansar-sahaba-muhajir-sahaba-zainab-case-check-post-in-tribal-areas-naseem-suicide-attacker-

ایک مرتبہ انصار کے جوان طبقے نے گلے شکووں کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ نے بہت برا سلوک کیا ، ہجرت پر مجبور کیا گیا اور ہم نے مہاجر بھائیوں کو قربانیاں دیکر عزت دی ۔ آج اسلام نے ترقی کی ہے اور مال غنیمت باٹنے کا وقت آیا تو انصار کے مقابلے میں مکہ کے مہاجر ین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو شکایت پہنچی تو انصار کے بزرگوں کو طلب کیا اور پوچھا کہ اس میں کوئی حقیقت ہے؟ ۔بزرگ انصار نے کہا کہ ہمیں شکایت نہیں لیکن جوان طبقے میں تشویش کی اطلاع ملی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معاملہ سنجیدہ لیا اور سارے انصار کو طلب فرمایا۔ مہاجرین کے آنے سے قبل حالات بھی دریافت کئے اور موجودہ حالات کا بھی پوچھا۔ انصار نے کہا کہ ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے ، پہلے اوس و خزرج لڑتے تھے ، مدینہ کے یہود ہم پر حاوی تھے ، حالات ہمارے بد سے بدتر تھے لیکن اب تمام گھروں میں امن و سکون اور خوشحالی ہے۔ پھر شکایت کے بارے میں مطمئن کیا کہ جو لوگ گھر بار چھوڑ کر مکہ سے آئے ہیں پہلے تم لوگ ان کی مدد کرتے تھے اور اب مال غنیمت سے ان کی مدد کی جاتی ہے۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ نئے مسلمان ہونے والوں کو ان کی ضروریات کے مطابق مال غنیمت سے کچھ مال ملے اور میں تمہارا بن جاؤں؟۔ جس پر انصار کی طرف سے آہ و بکا ، چیخ و پکار اور زار و قطار رونے کی آواز بلند ہونا شروع ہوئی اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ رضینا باللہ رباً و بالاسلام دیناً و بمحمد نبیاً ’’ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں ، ہم اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں‘‘۔ سارے گلے شکووں کا ماحول ختم ہوا۔
منظور پشتین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اسٹیج پر انتظامیہ کے محسود جوان کی آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسو ؤں کو میں نے خود دیکھا جس کو میں اس وقت بھی نہیں پہنچانتا تھا اور اب بھی مجھے نہیں پتہ کہ وہ کون تھا لیکن وہ کہہ رہا تھا کہ ’’پیر صاحب ! آپ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے لیکن ہم نے اپنے بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کی جو دردناک اور نہ ختم ہونے والی کہانیاں دیکھی ہیں وہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہیں‘‘۔ پچھلے دنوں قصور کی زینب کا واقعہ بڑا دردناک تھا ، اس سے پہلے سندھ کی غریب دوشیزہ کا وڈیرے کے ہاتھوں قتل کا واقعہ ہوا۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو ننگا کرکے گھمانے کا واقعہ پیش آیا۔ پھر کوہاٹ کی طالبہ کو شادی سے انکار پر قتل کیا گیا ، پھر فیصل آباد میں واقعہ پیش آیا ۔ اس سے پہلے بھی خواتین کیساتھ زیادتیوں کی داستانیں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ البتہ چیچہ وطنی میں کسی مجذوب بچی نے پٹاخے خریدے تھے اور اس کو آگ لگی تھی جس میں زیادتی یا جلانے کا کوئی قصہ نہیں تھا ۔ سیاسی رہنما ان غریب والدین کو معاوضہ دلانے کے چکر میں ڈرامہ رچانے کا کہہ گئے تھے۔ میڈیا نے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بجائے بہت غلط رپورٹنگ کی تھی۔
منظور پشتین نے کہا ہے کہ ہم نے وزیرستان سے چیک پوسٹوں کو ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ پاک فوج کے سپاہی چیک پوسٹوں کو مزید بڑھادیں ۔ ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ عوام سے اچھا سلوک کیا جائے اور اگر چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے۔ جو لوگ ہم پر تنقید کررہے ہیں ہم ان کو ویلکم کہتے ہیں۔ تنقید ہمارے لئے اصلاح کا ذریعہ ہے۔ مشاورت سے ایک درست سوچ پروان چڑھتی ہے اور ہم اس کے خواہاں ہیں۔ میڈیا میں ہم پر تنقید کے بجائے بہت غلط سلط الزامات لگائے گئے ہیں اور ہمیں چند ایک کے سوا کوئی بھی سپورٹ نہیں کررہا ہے۔ میڈیا کو اپنے عمل پر بہت سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ہم ملک دشمن نہیں بلکہ اپنے حقوق کی بات دستور کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ فاٹا میں پاکستانی دستور کا نفاذ چاہتے ہیں۔ منظور پشتون نے کہا ہے کہ قاری محسن کو میرا بھائی بتایا جارہا ہے حالانکہ اس کا تعلق میری تحصیل سے بھی نہیں ہے۔ میرا تعلق طالبان سے ثابت ہوجائے تو جو سزا دیں وہ قبول ہے۔ ایک اور الزام لگایا جاتا ہے کہ نسیم میرا بھائی ہے جو 2007ء میں خود کش حملوں کا ماسٹر مائنڈڈ تھا۔ یہ بات درست ہے کہ نسیم میرا بھائی ہے لیکن اس کی پیدائش 2011ء کو ہوئی ہے اور اب وہ 7 سال کا ہے اور تیسری جماعت کا طالب علم ہے۔منظور پشتین ایک معتدل مزاج اور اچھے انسان ہیں۔ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کرنے والے پاکستان اور اسلام کے خیر خواہ ہوں تب بھی بیوقوف ملک قوم سلطنت اور مسلمانوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
ہماری منظور پشتین سے اتنی استدعا ہے کہ اپنی قوم سے محبت اسلام کا تقاضا ہے اور اپنی قوم کیلئے تعصب نہ صرف کفر و جہالت بلکہ اپنی قوم سے دشمنی کے بھی مترادف ہے۔ جو پشتون ہوکر پشتونوں سے محبت نہیں کرتا وہ دوسری زبان والوں سے محبت کے دعوے میں بھی جھوٹا اور مکار ہے۔ اسی طرح بلوچ ، پنجابی ، سرائیکی اور سندھی و مہاجر بھی اپنوں سے محبت رکھے تو وہ دوسروں کیلئے اثاثہ ہے اور اپنوں سے نفرت والے دوسروں سے بھی محبت نہیں رکھ سکتے ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ بن گئی تو آخر کار متحدہ قومی موومنٹ میں بدل گئی۔ سوات کے پختون سینیٹر سیف کو متحدہ نے سینٹ میں بھیجا ، میاں عتیق کا تعلق پنجاب سے ہے اس کو بھی متحدہ نے سینٹ میں بھیجا۔ نبیل گبول بلوچ ہے متحدہ قومی موومنٹ نے اس کو عزیز آباد کے حلقے سے قومی اسمبلی کا ممبر بنوایا۔ جب ریاستی ادارے بھرپور طریقے سے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونے دے رہے تھے تب بھی عزیز آباد سے متحدہ کے کنور جمیل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ الطاف حسین نے پاک فوج کے جرنیلوں کو سیاستدانوں کیخلاف دہائیاں بھی دیں اور مسلم اُمہ میں ایک خلیفہ مقرر کرنے پر زور بھی دیا۔ البتہ یہ بہت برا کیا کہ ایک مہذب قوم کے مہذب افراد کو تہذیب کے دائرے سے نیچے اتارا۔ جس کے نتیجے میں کارکنوں نے سر عام پھر رہنماؤں کی پٹائی بھی لگادی۔ اب جب متحدہ قومی موومنٹ کا جلسہ ہورہا تھا تو پھر ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کے دوران مہاجروں کا ترانہ جاری رکھا۔ کوئی مہذب قوم کسی مہمان کے ساتھ بھی ایسا سلوک روا رکھے تو اقتدار کے لائق نہیں رہتی۔
پختون تحفظ موومنٹ کی یہ ابتدا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے کارندوں کی طرف سے پاک فوج کے ترجمان اور پنجابیوں کیلئے غلیظ زبان کا استعمال نہ روکا گیا تو یہ تحریک سر اٹھانے سے پہلے مغلظات بکتے ہوئے اوندھے منہ الٹی پڑی دکھائی دے گی۔ جن تھوڑے بہت لوگوں کی ہمدردیاں انہیں حاصل ہیں وہ بھی نہ رہیں گی۔ کراچی میں مہاجر پشتون فسادات کے بدبودار نعرے سے انسانیت نے دم توڑ دیا تھا۔ پختون مہاجروں کے مقابلے میں زیادہ مہذب نہیں لیکن آج وہی الطاف حسین منظور پشتین کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مہاجروں کو حکم دیتا ہے ، یہ نہ ہو کہ کل منظور پشتین پنجابیوں سے معافی تلافی کیلئے ان کی ٹانگیں پکڑ رہا ہو۔ PTMکے تعلیمیافتہ کارکن اسلام کی بنیاد پر پختون اور ملاؤں کی اصلاح کریں تو ہماری ریاست اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔ عتیق

اسلام کی نشاۃ ثانیہ سندھ پنجاب فرنٹیئر بلوچستان کشمیر سے ہوگی: مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ

ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daish

محمد فیروز چھیپا ڈائریکٹر فنانس نوشتۂ دیوار اور ادارہ اعلاء کلمۃ الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں لیلۃ القدر ایک ہی دن میں منائی جائے گی۔ اللہ کرے کہ ہمیشہ کیلئے رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی پوری دنیا میں ایک ہی دن منائی جائے۔ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا تھا ، اب 70سال ہونے کو ہیں مگر غلامی سے آزادی نہیں مل سکی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا یہ اتفاق تھا کہ قائد کا مزار مغربی پاکستان میں تھا۔ مشرقی پاکستان ہم نے کھودیا لیکن مقبوضہ کشمیر کا قبضہ نہیں چھڑا سکے۔ پاکستان میں پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے اور پھر پہلا پاکستانی مسلمان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان تھا۔ جس نے میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کو صدارت سے الگ کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر ذو الفقار علی بھٹو قائد جمہوریت کو جنم دیا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ باضابطہ انتخابات ہوئے تو اسکا سارا کریڈٹ جنرل ایوب کو جاتا ہے۔
پاکستان میں سیاست کی علمبردار پارٹیاں جمہوریت سے بالکل بے خبر تھیں۔ اے ڈی اور بی ڈی ممبروں کے ذریعے وہ بنیادی جمہوریت جنرل ایوب خان نے مہیا کی جس میں قوم کے اندر جمہور ی شعور کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں لوگ خانوں و نوابوں کو جانتے تھے یا منجمد سیاسی قیادتوں کو جانتے تھے۔ جب 1971ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات ہوئے تو جمہوری قوتوں نے پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جنرل ایوب کی باقیات ذو الفقار علی بھٹو پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ صحافیوں اور سیاستدانوں کیخلاف بڑے سخت اقدامات اٹھائے۔ ذو الفقار علی بھٹو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر تھے۔ فوج کے تربیت یافتہ اور عوامی نمائندے تھے۔ 1973ء میں پہلی مرتبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عوامی آئین مرتب ہوا۔ قادیانی بھی اس کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دئیے گئے۔ قائد کے پاکستان میں پہلے بے قاعدگیاں تھیں یا بعد میں بغاوت کی گئی ہے ؟ ۔
احرار کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے اپنی زندگی کھپادی کہ انگریز ہندوستان سے نکل جائے اور قادیانی کافر قرار دئیے جائیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے بار بار اپنے خطبات میں تنبیہ کی تھی کہ انگریز اس خطے میں لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اسلئے کشمیر کا مسئلہ تقسیم ہند کیساتھ حل ہونا چاہیے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے کافی عرصہ بعد ختم نبوت کا مسئلہ عوامی طاقت سے یا ریاست کی رعایت سے حل ہوگیا لیکن کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ جس پاکستان میں ختم نبوت کیلئے جگہ نہیں تھی اور جو لوگ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے پر بھی قید و بند ، بغاوت اور دیگر مقدمات کا سامنا کرتے تھے اس پاکستان میں قرآن ، اسلام اور مسلمانوں کیلئے کتنی گنجائش ہوسکتی تھی؟۔ عرصہ ہوا کہ قومی زبان اردو کو ہم سرکاری زبان انگریزی کی جگہ پر نہیں لاسکے۔ جیوے جیوے پاکستان ۔ یہ فوج ہی کی سازش تھی یا سیاستدانوں کی نالائقی تھی ؟۔ جتنی حکومت فوج کی رہی ہے اتنی جمہوری حکومت بھی اقتدار میں رہی ہے۔
ذو الفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے لگ رہے تھے اور اس نے جمعہ کی چھٹی بحال کی ، اسلامی کانفرنس میں مسلم اُمہ کی قیادتوں کو پاکستان میں اکھٹا کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ امیر المؤمنین جنرل ضیاء الحق کے لے پالک نواز شریف نے جمعہ کی چھٹی ختم کی ، الیکشن کے فارم میں ختم نبوت کے خلاف سازش کی اور جب کرپشن میں سزا ہونے کا خوف دامن گیر ہوا تو فوج اور عدلیہ کے خلاف بے پر کی اڑانے لگے۔ شاباش !۔
پاک فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو دُم سے اٹھاکر قوم پر مسلط کردیا۔ جس کی وجہ سے عوام تو عوام ساری سیاسی قیادتوں کو بھی بغاوت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق نجات دہندہ کی طرح آئے اور سیاسی قائدین کو بھٹو کی قید سے رہائی دلائی۔ پھر جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوئے اور نواز شریف کو فوج نے تیار کرلیا۔ نواز شریف کو یہ بھی پتہ نہیں کہ 70 سالوں کی بات درست نہیں ۔ 1970ء سے 1977ء تک بھٹو نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا ۔ اسکے بعد جنرل ضیاء کا رونا درست نہیں اسلئے کہ جنرل ضیاء الحق کا سب سے بڑا لے پالک نواز شریف خود تھا۔ جنرل ضیاء کے بعد 1988ء سے 1998ء تک یہی نواز شریف لے پالک مہرے کا کردار ادا کررہا تھا۔ حقیقت پسند ی کا تقاضہ یہ ہے کہ نواز شریف دوسروں کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ سینہ کوبی کرکے خود ماتم کرتے کہ میں اُلو کا پٹھا تو استعمال ہوگیا اب عمران خان کو اُلو کا پٹھا نہیں بننا چاہیے تھا۔
نواز شریف اور عمران خان کے علاوہ زرداری اور دیگر اہل سیاست سے عوام بہت بد ظن ہیں ۔ جب عوام اٹھے گی تو لوٹوں کی بساط لپیٹے گی۔ لوٹوں کے امام نواز شریف اور عمران خان ہی ہونگے اور باقی سیاستدانوں کے حالات بھی مخفی نہیں ہیں۔
علماء کرام اور مفتیان عظام کے حالات بھی بد سے بدتر ہیں اور قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے اور اس کی نشاندہی بہت تفصیل کے ساتھ گاہے بگاہے ہم کر رہے ہیں۔ شرعی حدود کا مسئلہ ہو ، نکاح کا مسئلہ ہو ، ایگریمنٹ کا مسئلہ ہو ، طلاق کا مسئلہ ہو ، قرابتداروں اور ہمسایہ کے حقوق کا مسئلہ ہو اور درس نظامی کی خامی کا مسئلہ ہو ، فرقہ واریت کا مسئلہ ہو اور سیاسی و جہادی مسائل ہوں سب کا حل ہم وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کی طرف سے کھل کر ہماری تائید بھی ہورہی ہے۔ اگر مساجد کی سطح پر سید عتیق الرحمن گیلانی کو دعوت دی جائے اور پیچیدہ مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہاں ہم اسلامی نظام کے نفاذ میں کامیابی حاصل کرلیں۔ ایک دفعہ بھٹو کو آزمایا گیا ، جسکے نتائج عوام نے دیکھ لئے تھے پھر نواز شریف کو آزمایا گیا اور اسکے بھی نتائج سامنے آگئے ۔ اب عمران خان کو آزمانے کی ضرورت نہیں ہے ، مساجد و مدارس ایک بہت بڑی طاقت ہیں ، قرآن و سنت طاقت کا سرچشمہ ہے جس نے پہلے دور میں مشرکین مکہ کو جہالت سے نکال کر عروج عطا کیا۔ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اس وقت شکست دی جب وہ سپر طاقت تھے۔ خلافت راشدہ ، بنو اُمیہ ، بنو عباس ، خلافت عثمانیہ کا طویل دورانیہ اسلام کی نشاۃ اول کا کارنامہ تھا۔ اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز انشاء اللہ مملکت خداداد پاکستان سے ہوگا۔ اسکے لئے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندہ کرنا ہوگا۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا۔ اس نے قرآن کے احکام کو زندہ کرنے کیلئے اپنی سی کوشش کی تھی اور یہ پیشنگوئی کی تھی کہ اسلام کا آغاز عرب سے ہوا تھا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ قرآن و سنت کی پیشن گوئیوں کے مطابق عجم سے ہوگا اور اس کیلئے سندھ ، پنجاب، بلوچستان، فرنٹیئر، افغانستان اور کشمیر میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کے حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تو بھی ہم اس خطے سے دستبردار نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان کی یہ فکر مختلف کتابوں میں درج ہے اور خاص طور پر ان کی تفسیر المقام محمود کی سورۃ القدر میں یہ سب کچھ اتفاق سے لکھا گیا ہے جبکہ پاکستان بھی لیلہ القدر کی رات کو معرض وجود میں آیا تھا اور مولانا سندھیؒ پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت معلوم ہوتی ہے۔ سورہ جمعہ ، سورہ محمد، سورہ واقعہ اور دیگر آیات کے علاوہ بخاری و مسلم وغیرہ کے روایات میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔
پاک فوج ، عدلیہ ، سیاستدان ، صحافی ، عوام ، دانشور ، علماء اور تمام طبقات اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواہاں ہیں ۔داعش نے بھی اپنا ٹھکانہ افغانستان میں بنالیا ہے۔ داعش مخفف ہے اس کے نام دولت اسلامیہ عراق و شام کا مگر یہاں تو عراق و شام نہیں افغانستان اور پاکستان ہیں۔ جس دن اسلام کا حقیقی چہرہ عوام کو دکھایا گیا تو جنگجو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ امریکہ بھی اس خطے سے اپنی بے بسی اور پسپائی کا اعتراف کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ ہندوستان کے ناپاک عزائم بھی خاک میں ملیں گے اور اسرائیل بھی حق کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ سعودی عرب اور ایران بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کیلئے تیار ہونگے۔
بکری اور شیر ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اور دعوت اسلامی و تبلیغی جماعت ایک ساتھ جماعتیں نکالیں گی۔ مجاہدین دشمنی کو چھوڑ کر آپس میں شیر و شکر ہوں گے ۔ جماعت اہل سنت کے قائدین ، رہنما اور کارکن امامیہ اور تحریک جعفریہ کے ساتھ باہم دوستیاں رچائیں گے۔ مشرق و مغرب ، شمال و جنوب اور تمام بر اعظموں سے اسلام کا ماڈل دیکھنے کیلئے انشاء اللہ لوگ یہاں آئیں گے ۔ علامہ اقبال کے خواب پورے ہونگے۔
دلیل صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
عروق مردۂ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی
اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کمیابی
تڑپ صحنِ چمن میں آشیاں میں شاخساروں میں
جدا پارے سے ہوسکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاک بھی کیوں زینتِ برگرستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
چمن کے ذرے ذرے کو شہیدِ جستجو کردے
سرِ شکِ چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

عمران خان پاک فوج کے منہ پر کالک مل رہا ہے، اشرف میمن

imran-khan-lotaism-pak-fouj-pervez-musharraf-referendum-imran-molvi-nawaz-shareef-molvi-shahbaz-shareef-molvi-talban-mma-ptm-namaz-e-janaza

پبلشر نوشتۂ دیوار تحریک انصاف کے سینئر صوبائی سابق صدر اورامیدوار قومی اسمبلی محمد اشرف میمن نے کہا ہے کہ عمران خان میں شرم اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایک طرف وہ پرویزمشرف کی بدنامِ زمانہ ریفرنڈم کا حامی تھا اور دوسری طرف امریکہ کے آگے فوج کے جھکنے کی مخالفت اور طالبان کی طرف سے فوج اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کھل کرحمایت کررہا تھا۔ جب فوج پر قومی ، اخلاقی اوربین الاقوامی دباؤ تھا تو عمران خان اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی طرح پاک فوج کا مورال گرانا چاہتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے جب مشرکین کی جہالت اور طاقت کا پلڑہ بھاری تھا اور امیر حمزہؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ جیسی بہادر شخصیات نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ نے قتال کا حکم نہیں دیا اور اولی العزم صحابہؓ نے طعنہ زنی نہیں کی کہ اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں جو بزدلی اور مشرکین کے آگے سر جھکانا ہے بلکہ صلح حدیبیہ کے معاہدے پر کوئی بھی راضی نہ تھامگر صحابہؓ نے اپنی سیاست نہیں چمکائی تھی۔
یہ بہادری نہیں منافقت تھی کہ دہشتگردی کا دور دورہ تھا تو عمران خان ، نوازشریف اور شہباز شریف مولوی اور۔
تف ہے ایسی سیاست اور حماقت پر۔ تحریک انصاف آج کل پاک فوج کی عائشہ گلالی بنی ہوئی ہے۔ وہ تو پھر تحریک انصاف کا اپنا چہرہ تھا اور ایک پُر کشش خاتون تھی ، سیاست کے میدان میں فواد چوہدری اور دیگر ان سے کئی درجہ پارٹی بدلنے والے وہ کردار ہیں جو وقت اور حالات کیساتھ بدلتے بدلتے بے شرم و بے غیرت بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان پہلے زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا اور اب عمران خان کی کھاتا ہے لیکن وہ ایک پروفیشنل وکیل بھی ہے۔ وکیل ، صحافی اور سیاستدان سب ہی شرم وحیاء کے پہاڑ کو عبور کرکے غیرت کا جنازہ نکالتے ہیں اور عظیم اخلاقیات اور قومی اقدار کو تعفن کی فضاء میں دفن کرتے ہیں تو قوم کا انجام کیا ہوگا؟۔ جب قوم کی اخلاقی قدریں بحال نہیں رہتیں تو ایک بہت بڑا انقلاب قوموں کو سدھار سکتا ہے۔
نوازشریف پارلیمنٹ میں تحریری بیان پڑھ کر سناتا ہے کہ یہ ہیں اللہ کے فضل و کرم سے وہ اثاثے جن سے لندن کے فلیٹ خرید لئے۔ کورٹ میں قطری شہزادے کا عجیب خط آجاتاہے ۔ لیگی رہنما کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں استثنی حاصل ہے کہ جھوٹ پر اس کی پکڑ نہ ہوگی۔ جس پارلیمنٹ نے صادق و امین کو ضروری قرار دیا ہو وہاں جھوٹ کا استثنیٰ کیسے ہوسکتا تھا؟۔ آئین میں کردار اور کریکٹر کو بھی ضروری قرار دیا گیاہے لیکن یہ سمجھا جارہاہے کہ کریکٹر سے مراد کرکٹر ہے؟۔عمران خان واقعی کرکٹر تو ہے۔ بہادری کی بات کرتاہے توکراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے جس طرح بھاگنے پر مجبور کیا تھا اسکا میں چشم دید گواہ ہوں۔ طالبان دہشتگردوں نے نہ صرف فوج بلکہ پختون قوم اور تمام ریاستی اداروں کو جتنے بڑے پیمانے پر بہت بڑا نقصان پہنچایا، جس کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ عمران خان نے ہمیشہ ان غنڈوں کی حمایت جاری رکھی۔ آج بھی طالبان کا غلبہ ہوجائے تو یہ فوج کیخلاف کھڑا ہوگا اور طالبان پسپا ہوجائیں تو فوج کیساتھ کھڑا ہے، منظور پشتین نے PTMکے پلیٹ فارم آواز اٹھائی تو پاک فوج نے چیک پوسٹوں پر نرمی کا مظاہرہ کیا، پھر عمران خان منظور پشتین کی حمایت کررہاتھا اور جب فضانے رخ بدلا تو آل راؤنڈر نے بیٹنگ کے بجائے بالنگ شروع کی، یہ وقت ایسا نہیں کہ پاکستان کی قیادت انتہائی نااہل اورناقابل اعتبار افراد کے سپرد کرنے کی حماقت کی جائے۔ جو عمران خان طالبان کے وقت میں فوج کے دفاع میں ایک لفظ بولنے سے بھی خوف کھاتا تھا، خدانخواستہ اگر بین الاقوامی سازش کا بحران آگیا تو عمران خان اور لوٹا سیاسی قیادت کوئی قربانی نہیں دینگے بلکہ جہاں طاقت ہوگی وہاں عمران خان کھڑا ہوگا۔نوازشریف اور شہباز شریف کے علاوہ زرداری بھی پاکستان کی سیاست ہی کو اپنی تجارت سمجھ رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے کو ن لیگ کیلئے خفیہ طور پر پراکسی بنالیا ہے، سراج الحق نے بھی اپنے مفاد میں اسکو قبول کرلیا ہے۔ مینار پاکستان میں لاہوری اتنی بڑی تعداد میں پہنچ گئے تو یہ مذہبی جماعتوں کے ووٹر نہ تھے بلکہ نوازشریف کے چاہنے والوں کا جمع غفیر تھا۔ مولوی نکاح ، نمازِ جنازہ بھی پیسوں کی خاطر پڑھاتے ہیں ۔کالج ویونیورسٹی کے طلبہ کے ذریعے عوام میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرنیکی سخت ضرورت ہے۔ سیاسی سر گرمیوں کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی محنت کی جائے تو عوام میں ایک شعور والے انقلاب کی تحریک اٹھ سکتی ہے، کھولی سیاست کا دور خود بخود ختم ہوگیاہے۔

فوج کیخلاف نواز شریف کا بیانیہ درست مگر ساتھیوں سمیت اپنی سیاست اور کرپشن کا حساب دیں.

nawaz-sharif-corruption-accountability-army-journal-isi-akhrar-abd-ur-rehman-khwaja-asif

اعلاء کلمۃ الحق AKHکے نومنتخب سیکرٹری جنرل محمدفاروق شیخ نے کہاہے کہ نوازشریف کا بیانیہ درست ہے کہ فوج کا سیاست میں مداخلت کا بالکل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا سائیکل، پھر شیرپر چڑھنے والا جنرل جیلانی و ضیاء کا روحانی بیٹاتھا،جب کورٹ سے کرپشن کی سزا مل رہی ہو تو یہ توبہ ملک الموت کے نظر آنے کی صورت میں قبول نہیں ہوسکتا۔ جنرل ضیاء نے مالی کرپشن نہ کی تو اعجازالحق کے پاس پیسہ نہیں ۔ نوازشریف اور اسکا خاندان کرپشن کیلئے سیاست میں آیااور نظرئیے کا خاتمہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی فوج سیاست میں لائی مگر وہ نظریاتی تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ نے کہا تھا کہ ’’ نوازشریف نے سیاست کو تجارت میں بدل دیا‘‘۔ نظریات کی تجارت نہیں ہوتی ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ اختر عبدالرحمن نے پیسہ بنایا تو فرزندانِ اختر نواز شریف کیساتھ ہیں۔ کرپٹ لوگوں کا کونسا نظریہ ہے؟۔کالوخان امیر مقام جماعت اسلامی،پرویز مشرف اور اب نوازشریف کیساتھ ہے۔مریم نواز کو شرم بھی نہیں آتی کہ فارمی بیل کیساتھ کھڑی ہوکر نظرئیے کی بات کرے مگر بات امیر مقام کی نہیں ابا حضور سے لیکر نئے پرانے ساتھی تمام فہرست ہی ماشاء اللہ ہے۔
لوٹاکریسی، خلائی مخلوق اور غیرنظریاتی سیاست کا خاتمہ ممکن ہے لیکن اپنی ذات، خاندان اور پارٹی سے آغاز کرنا ہوگا۔ آج نوازشریف کہہ دے کہ سیاست میں میرا اپناوجودہی خلائی مخلوق کا مرہون منت ہے ، میں نے جو کرپشن کی ، میرے خاندان اور ساتھیوں نے جو کرپشن کی ہے۔ اللہ کے حضور بھی معافی مانگتے ہیں اور عوام و سرکاری ادارے بھی معاف کردیں۔ سارا کرپشن کا پیسہ ہم اس ملک وقوم کو واپس کرنے کا اعلان کرتے ہیں پھر یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ مارشل لاء کی تیار کردہ یہ سیاسی قیادت اب کبھی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ہے۔ ہماری جگہ دوسری کٹھ پتلی سیاسی قیادت عمران خان کا راستہ عوام روک دے۔ یہ حقیقی نظریاتی سیاست کا آغاز ہوگا۔ نوازشریف دھمکیاں دینے کے بجائے ان کرپٹ جرنیلوں کا نام لے جنہوں نے بڑا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرڈمنٹ سے پہلے جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو آسٹریلیا سے انٹرپول کے ذریعے لانے کی الیکٹرانک میڈیا پر سلائیڈ چلی تھی مگر اس پر عمل در آمد نہ ہوسکا۔ سیاستدان اور سول وملٹری بیوروکریسی کے افسران نے اپنا جائز وناجائز سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ہو تو ان کو واپسی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوازشریف نے بری طرح سے ملک کو قرضوں میں پھانس دیا ہے۔جو لوگ قوم اور وطن کیلئے بیرون ملک سرمایہ کو لانے کی قربانی نہیں دے سکیں تو ان کو پھانسی پر لٹکانے کی نہیں کرش مشین میں ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ نشانِ عبرت بن جائیں۔ ایک چھوٹے سے طبقے نے عوام کو بدحال کرکے رکھ دیا۔ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے فارم سے جائیداد کی تفصیل کے کوائف بھی نکال دئیے ہیں جن کو اصلاحات کا نام دیا جارہاہے۔ نوازشریف، جہانگیر ترین ، خواجہ آصف جس بنیاد پر نااہل ہیں اب کوئی نااہل نہ ہوسکے گا۔
عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے حکمران کی ساحری کا انداز بدل رہاہے۔ پانچ سال میں جتنا قرضہ لیا گیا، تاریخ میں مجموعی طور پر بھی اتنا قرضہ نہیں لیا گیا تھا۔ نوازشریف ڈراونے خواب کے مناظر دکھا رہاہے کہ مجھے قرضہ دیا گیا، 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی اور میں ہی اس ملک میں بے انتہا کرپشن کیلئے سب سے بڑی بنیاد ہوں۔ ساری نادیدہ قوتیں مجھ سے فائدہ اٹھائیں ورنہ میں بھی ان کی کرپشن کے پردے چاک کردوں گا اور اس بیانیہ کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے۔ نوازشریف نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں تمام اداروں سے بات کیلئے تیار ہوں۔ اس کو کسی نے جواب نہیں دیا کہ مابدولت! جب فوج کی حکومت تھی پرویزمشرف سے معاہدہ کرکے باہر گئے، اسوقت تیری حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا اب تو تیری حکومت بحال ہے۔اب کسطرح اور کس سے مذاکرات کرنے ہیں؟۔ اب خلائی مخلوق کا دور نہیں تو مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟۔ بس چلتا ہے تو گریبان میں ہاتھ ڈالتا ہے اوربس نہیں چلتا تو بہت کچھ پکڑتا ہے کہ نہیں؟۔
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’جس پر احسان کرو، تو اسکے شر سے بچنے کی تدبیر بھی کرو‘‘۔ یہ کمینے لوگوں کے حوالہ سے ہوسکتا ہے۔ پاک فوج نے نوازشریف پر احسانات کی بھرمار کی تھی اور اب تو اسکے شر سے بچنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ جن فوجیوں نے کرپشن کی تھی یا جو آج بھی کررہے ہیں ان کا بھانڈہ پھوڑنے میں کوئی دیر نہیں لگانی چاہیے لیکن فوج کا ادارہ وطن کا محافظ ہے اور اسکی اکثریت عوام کی طرح مظلومیت کی چکی میں پِس رہی ہے۔

ممبئی حملہ امریکہ سی آئی اے اسرائیلی موساد اور بھارتی را کی سازش تھی. عبد القدوس بلوچ

mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azhar

جمعیت اعلاء کلمۃ الحق پاکستان AKHکے نومنتخب امیر عبدالقدوس بلوچ نے اپنے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جب ممبئی حملہ امریکی CIA، اسرائیلی موساد اور بھارتی را نے کروایا تھا تو اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا بڑی گھناؤنی سازش ہے۔ یہ بڑا عجیب ڈرامہ ہے کہ نوازشریف اپنے مؤقف پر ڈٹا ہواہے اور ن لیگ کہتی ہے کہ ہمارا کم عقل قائد درست کہتا ہے لیکن اسکا مؤقف پیش کرنیوالا میڈیا بڑا مجرم ہے۔ یہ انوکھاتضاد حکمران پارٹی کا مؤقف ہے۔جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟اور یہ قومی راز ہے تو حقائق پر ڈالنے والوں کو استعال کیا جارہا ہے اورجب باؤ لا ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر حملہ آور ہوگا تو افغانستان، عراق، لیبیا کے بعد یہ سب سے بڑا ہدف ہوگا۔ قرضوں کے انبار نے اپنی معیشت کا ستیاناس کردیا ہے۔ سیاستدان بھی لوٹوں سے مسلم شاور بنتے جارہے ہیں۔ پاک فوج بھی جال میں پھنس رہی ہے۔ عوام نے بھی 70سالوں میں دھوکے ہی دھوکے دیکھے ہیں ۔ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے ،انجام گلستان کیا ہوگا؟، پاکستان کیلئے افراد کی قربانی دینی ہوگی اورحقائق سے پردے اٹھانے ہونگے۔ ورنہ خدانخواستہ کچھ بھی نہ بچے گا۔
ڈان لیکس کے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے آجاتے تو آج مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کا تعلق کس سے ہے؟۔ مولانا مسعود ازہر نے کہا تھا کہ انڈیا ایک بزرگ کے کہنے سے گیا تھا جو سعودیہ میں ملا تھا۔ تہاڑ جیل سے جو آزادی مولانا مسعود ازہر کو ملی تھی ، اتنی آزادی پاکستان میں بھی اسکوحاصل نہیں۔ ہفت روزہ ضرب مؤمن میں تازہ احوال پر لمبے لمبے خطبات شائع ہوتے تھے۔ 12سرنگیں جیل میں ہی کھودی گئیں تھیں جن میں مولانا کے سائز کی بھی ایک سرنگ تھی اور مولانا ازہر نے نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو اسامہ بن لادن نے انکے 40 کارکن اپنے ذاتی بارڈی گارڈ کے طورپر قبول کئے تھے جو تقاریر اور میڈیا کی زینت بن گئے۔ پرویز مشرف جب مولانا مسعود ازہر کو ٹھیک بھی نہیں سمجھ رہا تھا تو کیا وجہ تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے مانگا لیکن مولانا ازہر اور حافظ سعید کو نہیں مانگا تھا؟۔ پرویزمشرف کے دور میں مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایاگیا تھا اور شیخ رشید میڈیا پربرملا کہتا تھا کہ ’’ کشمیری مجاہدین سے مقبوضہ کشمیر کے عوام بیزار ہیں اسلئے ان پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں‘‘۔ گارگل میں پہلی مرتبہ پاک فوج نے بھارت سے سیاچن و بنگلہ دیش کا بدلہ اتارنے کی کوشش کی ۔ کرنل شیر خان کو نشانِ حیدر بھی دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں ہم اپنے بدن کا لازمی جزؤ سمجھتے ہیں۔ پرویزمشرف پر بھی قاتلانہ حملوں میں کالعدم تنظیموں کے کارکن اور فوج کے آن ڈیوٹی سپاہی ملوث تھے۔
امریکی سی آئی اے نے اپنے تیار کردہ پود کے ذریعے سے جو ممبئی حملہ کروایا تھا، اس میں اسرائیلی موساد اور بھارتی را شامل تھے۔ جرمن اور بھارتی صحافیوں کی تیار کردہ رپورٹوں میں اس کا بھرپور انکشاف ہے لیکن ہمارے حکمران ، سیاستدان حقائق بتانے سے ڈرتے ہیں۔ حامد میرنے ایڈیٹرروزنامہ اوصاف کی حیثیت سے انکشاف کیا تھا کہ مفتی نظام الدین شامزئی نے یہ کہا کہ’’ کچھ جہادی تنظیمیں واشنگٹن سے رابطہ عالم اسلامہ مکہ کے ذریعے پیسہ لاکر علماء کرام کو خرید رہی ہیں اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ان کا بھانڈہ بیچ چوہرائے پھوڑ دوں گا‘‘۔
نوازشریف نے اسامہ بن لادن سے بھی پیسے لئے تھے اور ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے بھی 5ارب ڈالر کی پیشکش برائے فروخت نوازشریف کو ہوئی تھی مگر قوم کو بے خبر رکھا گیا تھا۔ ڈان لیکس میں خبر کو غلط رنگ دینے پر پاک فوج ناراض تھی۔ شہباز شریف نے غصہ کرنے اور ڈانٹنے کی جھوٹی ہمت نہیں کی تھی مگر اس بات پر تبادلۂ خیال ہوا تھا کہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی بیخ کنی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ فوج نے کہا تھا کہ ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، یہ سول حکومت کا کام ہے۔جھوٹی بھڑک بازی کی خبر ڈان لیکس میں شائع ہونے پر فوج ناراض ہوگئی تھی اور نوشتۂ دیوار میں اس وقت پورے حقائق سامنے آئے تھے۔
ممبئی حملے کے دہشتگردوں کومودی نے ٹھکانہ دیا،سعودی عرب سے اہتمام کیا گیا۔ پاکستان مکمل تعاون کیلئے تیار تھا مگر بھارت نے کوئی تعاون نہ کیا۔ امریکی CIAکا نام لینا مشکل تھا، ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی سازش ہے۔ جیو، جنگ اور دیگر میڈیا چینل و اخبارات حقائق کو سامنے لانے سے ڈرتے ہیں یا اس سازش کا حصہ ہیں؟۔حافظ سعید اور مولانا ازہر ڈاکٹر عافیہ کی قربانی سے نہیں شرمائے تو ملک کی خاطر قربانی دے دیں۔

نوشتۂ دیوار کی طرف سے جوابی بیانیہ

ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal-nato-mujahideen-iblees-russia

ڈبل مائنڈ یادوہری ذہنیت سے جو منافقانہ کردار پاک فوج نے ادا کیاوہی حالت محسوداور پختون کی تھی۔ ورنہ اتنی ذلت، خواری، مصیبت اور مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ منظور پاشتین اپنی قوم کو استعمال ہونے کے حوالہ سے جو رعایت دیتا ہے وہی رعایت وہ فوج کو بھی دے۔ یہ کسی بے ضمیر سیاستدان اور جعلی ادا کار کی بات نہیں کہ ’’ایسا نہیں چلے گا‘‘ بلکہ حق کیلئے ہر قسم کی قربانیوں کی تاریخ کرنیوالوں کا مدعا ہے۔ ہم منظور پاشتین کی بہادری، صلاحیت اورجوانمردی کو تہہ دل سے سلام پیش کرتے ہیں، انکے اردگرد لوگ مخلص اور قوم کا درد رکھتے ہیں۔ ایک ایسی قیادت کی پختون بلکہ پاکستان، مسلمانوں اورانسانیت کو ضرورت ہے جو حق اور انسانیت کیلئے ہر ظالم ، جابر، ڈکٹیٹر اور وحشی جانوروں کیخلاف آواز اٹھائے۔ ہمارا معاشرہ جانوروں سے بدتر ہوچکا ہے ۔ بچیوں سے زیادتی کرکے انتہائی بے دردی کیساتھ ماردیا جائے تو مشرکین مکہ کی جاہلیت ہم پر لعنت بھیجتی ہوگی ۔ کیا اسکے پیچھے بھی کوئی وردی ہے؟۔ ایک وقت تھا کہ کہا جاتا تھا کہ ’’سمندر میں دومچھلی بھی لڑ پڑیں تو امریکہ اس میں ملوث ہوگا‘‘۔ مذہب کے نام پر تعصبات پھیلانے میں اس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہ تھا مگر لسانیت ، قومیت اور وطن کے نام پر تعصبات کے پیچھے روس اور کمیونزم کا ہاتھ ہوتا تھا۔ شیطان نے دیکھ لیا کہ مذہب کے نام پر ہتھیار وں کا سکہ اب چلنے والا نہیں تو قوم پرستی کا بیانیہ شروع کردیاہے ۔ علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان پر ان حقائق کو لکھا تھا کہ ’’الحذر آئین پیغمبر سے سوبار الحذر ۔ حافظ ناموس زن، مرد آزما ، مرد آفرین ‘‘ابلیس نے کہا : ’’ مزدوکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے‘‘۔ وہ اسلام نہیں جو امریکہ نے جہاد کے نام پر روس کیخلاف استعمال کیا اور جو’’سودی نظام کو مشرف بہ اسلام کیا جارہاہے‘‘ وہ اسلام بھی نہیں جو نیٹو کی آغوش میں مجاہدین ہیں۔پاک فوج نے اگران کو آج کھلی چھوٹ دی تو منظور پاشتین ریلے سمیت یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں میں چھپتے پھرینگے۔ جنونی تو افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی سے بیٹھے ہیں۔ سرغنہ گلبدین حکمتیار امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا ۔ جس کی بہادری پر حلف اٹھایا جاتا تھا۔ الزام اورتہمت کا بازار ختم کرکے سنجیدہ کوشش سے پختون پوری دنیا کو امن دے سکتی ہے۔ پاک فوج کی طرح محسودقوم نے بھی بڑا مغالطہ کھایا اور آزمائش کی چکی میں پس کر صلح حدیبیہ کے شرائط ماننے کیلئے آمادہ ہوگئے ۔ یہ پتہ نہیں کہ منظور پاشتین فوج کیخلاف ہے یا اسکے پیچھے بھی وردی ہے؟۔ کیونکہ فوج سے لڑنیوالے طالبان کے پیچھے وردی تھی تو آواز اٹھانے والے پر بھروسہ کرنا مشکل ہے،البتہ یہ حقیقت ہے کہ منظورپشتین نے فوج کی خامی پر ایسے وقت میں آواز اٹھائی جب سب نے مظلوم عوام کو نظر انداز کیاتھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ عمران خان جنکے خلاف بات کرتا ہے انکے خلاف ہجڑہ بولنے کی جرأت رکھتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ریاست پر مشکل گھڑی آگئی تو یہ ہتھیار ڈالنے والوں کا ساتھی ہوگا۔ پرویز خٹک نے نشہ کرکے پنجاب کی پولیس کا رات بھر سامنا کیا اور عمران خان نے نشہ کرکے بھی بنی گالہ کے گھر سے نیچے اترنے کی جرأت نہیں کی ۔ حالانکہ شیخ رشید نے بڑی دھائی دی مگر مسلم لیگی کی گیدڑ بھبکی سے عمران خان ڈر گیا ۔ منظور پاشتین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے دستور کے عین مطابق ہمیں انصاف دیا جائے۔ دلیل سے زمینی حقائق کو سمجھ کر بات کرنی ہوگی۔
پاکستان کے سیٹل ایریا میں عدالتی قوانین انگریز نے زبردستی سے عوام اور اداروں پر مسلط کئے تھے۔ گرمیوں میں کورٹ کی بچوں کی طرح چھٹیاں بڑی مثال ہیں جبکہ آزاد قبائل نے 40FCR اپنی مرضی سے قبول کیا تھا۔قبائلی قانون کے تحت عتیق گیلانی نے 1991ء میں جیل کاٹی تھی ۔ پھر عتیق گیلانی کے گھر پر حملہ ہوا تو طالبان نے کانیگرم جنوبی وزیرستان کے جرگہ میں کہا کہ ’’13 افراد ہم نے شہید کئے ہیں، 2 افراد ہمارے مارے گئے ۔11افراد کا حساب رہتا ہے تو 11افراد ہم چن کر دینگے تم ان کوبدلہ میں ماردینا‘‘۔محسود طالبان پشتو اور اسلامی قانون دونوں کی بنیاد پر یہ عدالت لگائے بیٹھے تھے۔
جب جنگ ہوتی ہے تو میدانِ جنگ میں عدالت نہیں لگائی جاتی ہے البتہ جنگ بندی کے بعد فیصلے ہوتے ہیں۔ قرآن میں ایک قانون یہ ہے کہ مجرم کو سزا دی جائیگی اور مجرم کے بدلے میں کسی اور کو قتل نہ کیا جائیگا۔ دوسرا یہ ہے کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ، مرد کے بدلے مرد، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائیگا۔ قبائل میں قرآن کا دوسرا قانون نافذ تھا اور اگر یہ قانون نہ ہوتا تو لوگ بیکار افراد سے دوسروں کے اچھے قتل کرواتے اور بدلہ کیلئے اس کو حاضر کردیتے۔ قبائل میں اسی لئے امن بھی قائم تھااور بھول کر بھی حتی الامکان قتل سے پرہیز کیا جاتا تھا۔ ٹانک اورمیرانشاہ وغیرہ میں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا تو طالبان جنگ بندی کا اعلان کردیتے اور پھر سرکاری عمارات، بازاروں ، گھروں اور مساجد ومدارس کو خودکش دھماکوں سے نشانہ بناتے تھے۔ بچے ، خواتین، بزرگوں اور کسی بھی طبقے کا کوئی لحاظ نہ کرتے۔ ایسے ہتھیار ابھی ایجاد نہیں ہوئے کہ مجرم نشانہ بن جائے اور بے گناہ افراد کو بچایا جاسکے۔جب بہادر فوجیں میدان میں اتر کر لڑاکرتی تھیں تو اس وقت عوام کو بچانا ممکن ہوتا تھا۔ جب گھروں میں گھسے ہوئے دہشتگرد عوام کو نشانہ بناکر چھپ جائیں تو فوجی کاروائیوں پر عدالتیں نہیں لگا کرتی ہیں۔

منظور پاشتین کا فوج کے خلاف بیانیہ

ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal

منظور پاشتین کی تقاریر ، سوشل میڈیا پر پختون تحفظ موومٹ کا پروگرام اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پر گہماگہمی مچی ہے۔ کراچی سے سوات اور کوئٹہ سے لاہور تک ایک بھونچال ہے۔اسلام آباد سے اٹھنے والا نعرہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘دنیا میں سنا جارہا ہے۔ منظور پاشتین کے ساتھیوں کے دل ودماغ میں صرف فوج نہیں بلکہ یہ نعرہ بھی ہے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے ملا گردی ہے‘‘۔ لیکن اتنا حوصلہ نہیں کہ کھل کر اسکا اظہار کریں۔ امریکہ نے وردی اور وردی نے مجاہدین ور طالبان کو استعمال کیا ۔امریکہ نے یوٹرن لیا توپاک فوج کو بھی مجبوراً اپنا رخ بدلنا پڑا۔ فوج کا ذہن تقسیم ہوا۔ اس منتشر ذہنیت سے بڑا نقصان اٹھایا۔ طالبان کو مارتے تو قوم ناراض ہوتی اور پالتے تو امریکہ ناراض ہوتا۔ منافقانہ ذہنیت نے فوج کرپٹ بنادیا، جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کی وسیع جائیداد سے سپاہیوں کاکھلے عام ڈیزل وپیٹرول بیچنے کاتماشہ دنیا نے دیکھ لیا۔ جنرل راحیل شریف نے کرپشن کیخلاف اقدامات اٹھائے، دہشتگردی کادونوں ہاتھوں سے کھیلے جانے والے کھیل کاخاتمہ کردیا۔ جنرل قمر باجوہ نے رہی سہی کسر بھی نکالی، حالات معمول پر آگئے ،شریف الطبع بہادر آرمی چیف جنرل باجوہ نے دہشت گردوں کے دور دراز کے ٹھکانوں کابھی خاتمہ کیا تو منظور پاشتین نے فوج کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ اس میں شک نہیں کہ فوج کا دماغ سیاسی نہیں ہوتا اور جب وہ سیاست میں حصہ لیتی ہے تو سیاست کا بیڑہ غرق کردیتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا تو بھٹو نے قائدِ عوام بن کر بدترین ڈکٹیٹرشپ کی انتہا کردی تھی۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو لاڑکانہ میں الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرنے پر بھی گرفتار کیا تھا اور بلوچستان کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے ساری سیاسی قیادت ہی باغی قرار دیکر جیل میں قید کرلیا۔ بھٹو لیڈر نہیں سیاسی مہرہ تھا۔ فوج نے خودلایا تھا ، خودہی قوم کی جان چھڑائی، کیفر کردار تک پہنچادیا۔ فوج نے پھرایک مہرہ محمد خان جونیجوکی شکل میں تلاش کیا اور پھر اسکی بساط لپیٹ دی ۔اتفاق اسٹیل میں نوازشریف کے آہنی اعصاب تیار ہوئے، جو لمبے عرصہ تک چلے، زنگ آلود نہ ہوسکے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں یہ مہرہ کام آیا ، پھر تمام سیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر کرکے دوتہائی اکثریت مل گئی اور پھر سعودی عرب کی جلاوطنی کے دوران بھی اس لوہے کے چنے کو زنگ نہ لگا اور واپسی پر پیپلزپارٹی کے خلاف استعمال ہوا۔ پھر اس کو انتخابات کی آڑ میں حکومت دلائی گئی لیکن جس فوج نے اپنے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ اٹھایا تو اس کیلئے وہ کیسے سہارا بن سکتی تھی؟۔ نوازشریف کو دکھ ہے کہ مہرہ تبدیل کرکے عمران خان کو کیوں لایا جارہاہے۔ شہبازشریف بہتر خدمت کرسکتا ہے۔ مریم نواز سدھی ہوئی نہ تھی اسلئے پارٹی صدارت کیلئے انتخاب نہ کیا۔فوج کو امریکہ واسرائیل اور یورپی ممالک نے استعمال کرکے پھینکا۔ اپنے پالتو سیاسی مہروں اور مجاہدین کی طرف سے مشکل کا سامنا ہے تو منظور پاشتین نے پشتون قوم کا نعرہ بلند کرکے ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ مشکل گھڑی میں ایک طرف امریکہ کے بجائے روس سے دوستی کے متمنی فوج کو یہ توقع نہ تھی کہ قوم پرست اور کمیونسٹ عناصر اسکے خلاف کھڑے ہونگے بلکہ وہ منظور پاشتین اور انکے دوستوں سے اچھی توقعات رکھتے لیکن قسمت کا کھیل ہے کہ مذہبی طبقے اور سیاسی مہروں سے فوج کا تعلق ختم ہوگیا تو اسرائیل و امریکہ بھارت کیساتھ کھڑے ہیں اور کمیونسٹ بھی مخالف ہیں، مذہبی جنون IJI کے نام پر نواز شریف کو استعمال کیاگیاجواپنی حیثیت کھوبیٹھا اور اب عمران خان نئے مہرے کا کردار ادا کررہاہے۔ فوج کو پتہ چل رہا کہ ہرشاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ منظور پاشتین نے ایسے وقت پر آواز اٹھائی ہے جب ہر طرف سے فوج کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ عمران خان اپنی بیگمات سے وفا نہ کرسکا تو اس پر کون بھروسہ کریگا؟۔ منظور پاشتین کیخلاف گلی کے جانے پہچانے کتوں نے بھونکنا شروع کیا مگر ان کی سنتا کوئی نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی دلیری سے مشکلات کھڑی کی گئی ہیں۔ گولی لاٹھی کی سرکار کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ کرائے کے لوگ نہیں بلکہ ضمیر کی آواز پر اپنا ہدف سوفیصد نشانہ پر لے رہے ہیں۔ مشکل گھڑی میں حق کی وکالت کرنا بہت دشوار ہے مگر ضروری ہے۔ منظور پشتین نے پاکستان کی بہت طاقتور فوج کیخلاف آواز اٹھائی ہے تو یہ بہادری ہے۔ فوج کو اس کی غلطی پر غریب عوام کیلئے متنبہ کرنا ایسا نہیں جیساکہ اب نوازشریف اپنے مفادات کیلئے ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کی رٹ اپنے مفاد کیلئے لگارہاہے۔ قوم کو تکلیف ہو تو فوج کو اس تنبیہ پر احسان مند ہونا چاہیے اور ضرور ہوگی مگر!