پوسٹ تلاش کریں

لا؟ اور کوثر بشارقتل

عراق کی15سالہ کوثر بشار اپنے کزن کیساتھ شادی کرنے سے انکار پر اجتماعی قتل کی گئی اور پھر اس پر خوشی کا جشن منایا اور قاتلوں نے خوشی میں رقص کیا۔عراق کی میڈیا میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور اس عزت وشرف کے نام پر قتل کو کچھ نے بہت افسوسناک قرار دیا اور پولیس تماشائی بن کر دیکھتی رہ گئی۔

جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی تو اسلام نے روشنی کا چراغ جلایا اور لوگ اسلام کے پروانے بن گئے۔لیکن پھر وقت بدل گیا اور اسلام مسلمانوں کے ہاتھوں اجنبیت کا شکار ہوگیا۔ موجودہ دور میں چراغ تلے اندھیر ے کی طرح مسلمان مظلوم ہیں اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ مذہب کے غلط تصور کا ہے۔

عبدالملک اور حجاج بن یوسف نے اسلام کو اجنبی بنادیا۔ حضرت عمر نے کم عمربچیوں سے متعہ اور اپنی اولاد سے انکار کے سبب متعہ پر پابندی لگائی ۔ جیسے وائٹ ٹیرن کو عمران خان نے سیتاوائٹ سے پیدا کیا اور پھر باپ ہونے سے انکار کردیا۔ قرآن نے عورت کو جو حقو ق دئیے تھے تو سب بحق جاہلیت آمریت اور ملائیت نے غصب کردئیے۔

حجاج بن یوسف نے ایک لڑکی ہند سے اس کی رضامندی کے بغیر شادی کی تو حجاج نے سنا کہ وہ شعر پڑھ رہی تھی۔
و ما ھند الا مھرة عربیة
سلیلة افراس تجللھا بغل
فان ولدت فحلا فللہ درھا
وان ولدت بغل فجاء البغل
”اور ہند تو خالص عربی نسل کی گھوڑی ہے۔مگر اس پر ایک خچر سوار ہوگیاہے۔اگر وہ بہترین نسل پیدا کرے تو کمال اصل کا ہے اور اگر خچر پیدا ہوا تو خچر خچر ہی لاتا ہے”۔

پھر عبدالملک نے اس سے چھین لی اور کہا کہ خود ہی میرے پاس لاؤ۔ وہ راستے میں طعنے دیکر ذلیل کرتی رہی ۔ پہنچی توکہا کہ کتنی قیمتی چیز تجھے سستے میں بیچ دیا۔ عبدالملک سن کر مسکرایا۔

سندھ جیکب آباد میں ایک لڑکی نے مرضی سے شادی کی تو لڑکی والوں نے لڑکے کاپورا گاؤں جلادیا جس میں6سو گھر تھے۔ جس سندھ میں اتنی غیرت ہے تو وہاں فحاشی کے اڈوں کو کیسے چلایا جاتا ہے؟۔ قرآنی آیت کا غلط ترجمہ اور تفسیر ہو کہ زبردستی سے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو تو معاشرے پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہو گا کہ نابالغ بچی کا باپ زبردستی سے نکاح کراسکتا ہے اور والد کی مرضی کے بغیر بھی اغواء شدہ لڑکی کا نکاح معتبر ہے تو کیا نتائج نکلیں گے؟۔

نکاح ایک مقدس قانون ہے اور اس کے قرآن میں بڑے حقوق ہیں۔ ہاتھ لگائے بغیر بھی آدھا حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق طلاق پر فرض بن جاتا ہے۔ عورت کو نہ صرف خلع کا حق ہے بلکہ طلاق کی طرح خلع میں بھی شوہر کی دی ہوئی اشیاء کو ساتھ لے جانے کا حق ہے۔ جاندار کی تصویر کو ناجائز سمجھا تو کھلاکردار ادا کیا۔ جلسہ وزیرستان میںمولانا نورمحمدMNAشہید اور مولانا اکرم اعوان کی موجودگی میں کیمرے ہٹائے پھر تصویرکو جائز سمجھ کر اپنی تصویر چھاپ دی تو مولوی نے ساتھی سے کہا کہ یہ تصویر کو دیکھ کر ہماری بیویاں ہمیں چھوڑ دیں گی۔

نکاح نہیں لونڈی اور متعہ ومسیار والا معاملہ ہے۔ عورت شادی پر راضی نہیں تو زبردستی جائز نہیں مگر عورت کیلئے یہ رعایت ہے کہ اگر وہ رہنے پر مجبور ہے تو اللہ غفور رحیم ہے۔ بنوامیہ اور بنوعباس کے ظالموں حکمرانوں نے ایفسٹین فائل سے زیادہ جاہلانہ مذہبی مسائل کی بنیاد رکھ دی ۔

وجعلوا القرآن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینO(سورہ الحجر)

”اور انہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا۔ تیرے رب کی قسم کہ ہم ضرور بضرور ان سے پوچھیں گے”۔

سعد بن وقاص نے کہا کہ نبیۖ نے فرمایا” اہل غرب قیامت تک حق پر قائم رہیں گے”(صحیح مسلم)صرف مغرب کو دین کی صحیح حالت پہنچائیں مگر وہاں بھی حلالہ سینٹر مذہبی طبقات کی بدولت بن گئے ہیں۔

قرآن میں بالکل واضح ہے کہ باہمی رضامندی کے ساتھ عدت کے اندر اور عدت کے بعد معروف رجوع ہوسکتا ہے اور عورت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ نبیۖ کی سنت اور حضرت عمر اور حضرت علی کے فیصلے قرآن کے عین مطابق ہیں۔ جس قرآن نے پوری دنیا کو بدل دیا آج مذہبی طبقات حلالہ کی وجہ سے یہود کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ نصاریٰ کے ہاں تو مذہبی طلاق نہیں لیکن3سوسال پہلے وہ قرآن کو مان گئے ہیں۔
ــــــــــ

قاصرات کم عمر بچیاں۔ متشابہ آیت کی درست تفسیر سمجھو!

بچی یاسمین مسجد پڑھنے نکلی تو لاہور سے دلال نے اغواء کیا، سندھ میں بیچ دیا، بازیاب ہوگئی۔ پختون بچی کو سندھ اغواء کیا گیا۔ غلط سماجی اقدار اور مذہب کی غلط تشریح نے ملک و ملت کو بے حس کردیا۔اسلئے درست اسلام کو سمجھنا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شاہ عنایت شہید سندھ کا عظیم سپوت

7جنوری کو شاہ عنایت کی308ویں برسی منائی گئی، ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈائریکٹر ناصر منصور کیساتھ ہیں پروفیسر ساجدہ چنا صوفی حضور بخش اور گل حسن منگی بھی ساتھ تھے۔ سندھ کے عظیم سپوت شاہ عنایت شہید کے جو بوئے وہی کھائے کا نعرے سندھ کی فضاؤں سے بلند کر کے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پہنچانا ہوگا، اسوقت پاکستان کی زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ دوسری طرف پوری دنیا عالمی سرمایہ داروں کے روپ میں ایک جدید جاگیرداری نظام کا جال بچھا چکی ہے اسوقت دنیا کی تقریبا آدھی دولت بل گیٹس جیسے صرف100افراد کے قبضے میں جا چکی سسکتی عالم انسانیت کو ان عالمی ساہوکاروں کے چنگل سے شاہ عنایت شہید کے جو بوئے وہی کھائے ،جیسی انقلابی سوچ سے ہی نجات دلوائی جا سکتی ہے۔

تبصرہ : نوشتۂ دیوار : فاروق شیخ
جب سود کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے زمین کو مزارعت پر دینا بھی سود قرار دیا جس پر چاروں ائمہ کا اتفاق بھی ہے اور مدینہ کی ریاست نے اس کی وجہ سے بہت سارے اہداف حاصل کئے۔ پہلا ہدف : اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشنودی۔ دوسرا ہدف: محنت کشوں کو اپنی محنت کا پورا پورا منافع جس کی بنیاد پر کارل مارکس نے قدر زائد کا نظریہ ایجاد کرکے دنیا میں ایک بڑا انقلاب برپا کردیا۔ شاہ عنایت شہیدنے اس فکر کو اسلام سے اخذ کیا تھا۔تیسرا: ہدف : جب مزارعین کو اپنی محنت کا پورا پورا صلہ مل گیا تو وہ ریاست کو بھی10فیصد اور5%ٹیکس دینے لگے۔ عوام خوشحال اور حکومت بھی خوش حال۔ چند افراد کی وجہ سے عوام پر گدھوں اور گھوڑوں سے بھی زیادہ بوجھ لادا جائے گا تو ریاست اور عوام دونوں ناکارہ ہوجائیں گے۔ چوتھا:ہدف: آج اگر مزارعین کو مفت زمینیں مل جائیں تو پھر بے روزگاری کا بہت بڑا مسئلہ بھی حل ہوگا اور کھانے پینے کی چیزیں بھی دسترس کے مطابق دستیاب ہوں گی۔اگر عوام خوش حال ہوں تو ملک و حکمران بھی خوشحال ورنہ پھر بدحالی ہوگی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق
بلکہ ہم حق کو باطل پر مارتے ہیںجو اس کاسر کچلے تومٹ گیا

حضرت آدم و حواء کا قصہ ادب کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس درخت کے قریب دونوں نہ جاؤ۔ تو دونوں نے کھایا۔ جس سے وہ ننگے ہوکر جنت کے پتوں سے خود کو چھپانے لگے۔اللہ نے فرمایا کہ” اے بنی آدم شیطان تمہیں ننگا نہ کردے جیسے تمہارے والدین کو ننگا کیا تو ان کو جنت سے نکلوادیا”۔ شیطان نے شجرہ خلد کی لالچ سے ورغلایا۔ شجرہ خلد شجرہ نسب ہے۔ عربی وسیع زبان ہے۔ اکل کھانے کو بھی کہتے ہیں اور کھجانے کو بھی۔ جماع ،مباشرت جمع اور براہ راست لیکن جنسی تعلق ادب کیلئے آتاہے ۔ لامستم النساء چھونے سے جنسی استعارہ لیا ۔ اکل سے کھجانا، کلیہ ، جامعہ یونیورسٹی بھی ہے۔

قرآن ادب کاشاہکارہے

” وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جنس سے پیدا کیا اور اس میں سے اس کاجوڑا بنایا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ پس جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا اور اس کو ہلکا سا حمل ٹھہرگیا اور پھر وہ اسے لئے پھرتی رہی ، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تب دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ آپ ہمیں بالکل تندرست بچہ عطا فرما۔ تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اللہ نے تندرست اولاد دی تو اللہ کے دیے ہوئے میں دوسروں کو شریک بنانے لگے ،اللہ بلند ہے جن کو شریک کرتے ہیں”۔ (سورہ الاعراف:آیت189،190)

بے مثال کمال ادب سے جنسی تعلق اور بچے کی پیدائش کو بیان کیا ۔ سورہ النساء آیت25میں اللہ نے فرمایا:
”اور جس کو بیگمات نکاح کیلئے میسر نہیں تو متعہ والی مومنات لڑکیوں سے نکاح کرو ۔

اللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض

ٍ” اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے اور تم بعض میں بعض ایک جنس سے ہو”۔ (شادی کے بعد کمتر نہ سمجھو اور تمہارا دل اللہ جانتاہے)

سورہ النساء آیت23:

وربائکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

محرمات کو واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ ”اور تمہاری وہ لے پالک بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں تمہاری ان بیویوں سے جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے ان میں نہیں ڈالا ہے تو پھر تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں ہے”۔یہاں برہنہ الفاظ میں جنسی تعلقات کو جس انداز میں دہرایا گیا ہے تو ایسا ڈائجسٹ اور عشقیہ کہانیوں کی کتابوں میں بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟۔

جب ضرورت پڑتی ہے تو الفاظ سے زیادہ اس کام سے منع کرنے کا اہتمام ضروری بن جاتا ہے جس میں لوگوں کے مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو۔ سوتیلی بیٹی جوان بن جائے اور اس پر دل آجائے تو شادی کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے جاسکتے تھے مگر اللہ نے بہت زور دار الفاظ میں حقیقت انسان کے دل و دماغ میں ایسی اتار دی کہ اگر وہ کوئی ضمیر رکھتا ہے تو اس غلطی کا پھر سوچے گا بھی نہیں ۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ اللہ علام الغیوب ہے اور اس کو پتہ تھا کہ حنفی شافعی اختلافات کی بنیاد پر فقہاء کمینہ پن کی انتہاء کو کہاں تک پار کریں گے؟۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ علی کے پاس ایک شخص آیا کہ میری بیوی مر گئی ہے ۔ علی نے کہا کہ تمہاری بیوی سے کوئی بیٹی ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ پوچھا کہ تیری اپنی بیٹی ہے یا سوتیلی؟۔اس نے کہا کہ سوتیلی۔ پوچھا کہ تیرے حجرے میں پلی ہے یا باہر؟۔ اس نے کہا کہ باہر۔ علی نے کہا کہ اس سے شادی کرلو۔ بخاری میں ہے کہ ام حبیبہ نے نبیۖ کو اپنی بیٹیوں کی پیشکش کردی اور نبیۖ نے فرمایا کہ یہ مجھ پر حرام ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اپنی بہن کی پیشکش کردی ۔ گویا قرآن کی واضح آیت میں امہات المؤمنین کو بھی محرمات کا پتہ نہیں تھا؟۔ پھر علامہ ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ امام ابوحنیفہ17احادیث کو مانتے تھے۔ ابواؤد نے5لاکھ میں48سو احادیث کو قابل اعتماد سمجھا ہے اور پھر ان میں بھی ضعیف ہونیکی نشاندہی کردی تو امام ابوحنیفہنے اپنی توجہ قرآن پر مرکوز کرنے کو ترجیح دی ۔ مصنف عبدالرزاق بھی تضاد کا شکار ہے۔

پھر حنفی مسلک والے نے جس طرح غلو کی حد کردی ہے تو اس سے بچنے کیلئے سورہ النساء آیت23کے یہ الفاظ بالکل ہی سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس میں حرمت مصاہرت کیلئے دو چیزیں واضح ہیں ۔ ایک نکاح اور دوسرا عورت کیساتھ جماع ۔

من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

” تمہاری عورتیں جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے نہیں ڈالا ہے توپھر تم پر اس کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیںہے”۔

شرعی حکم بالکل واضح ہے کہ مسئلہ بیوی کے رشتے کا ہے اور اس میں ڈال دیا ہے یا نہیں ڈالا ہے؟۔ آسمان پھاڑ کر فرشتوں نے دلے کے بچوں کو نہیں سمجھانا ہے۔ سود کو ماں کیساتھ زنا بھی قرار دیا اور جواز بھی بخشا تو یہ دجال اکبر سے بڑے نہیںہیں؟۔

جھلسادینے والے جملے بھرپور طریقے سے نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ مسلک حنفی کے نام پر گدھے کا بچہ فتویٰ دے رہاہوگا کہ اگر جوان بیٹی، بہو اور ساس پر ہاتھ لگ گیا تو اگر شہوت کا احساس ہوگیا تو پکڑ کے رکھو جب تک خارج نہیں ہو ، چھوڑ مت اور اگر چھوڑی تو تمہاری بیوی پر تمہاری بیٹی کا حکم لگے گا اور تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کیلئے حرام ہوجائے گی۔ اتنے بکواسات ہیں کہ خدا کی پناہ۔

قرآن کا یہ بہت بڑا اعجاز ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کہ14سو سال قبل ایسے جملے استعمال کردئیے کہ جیسا بعد کے دور کا پہلے سے مشاہدہ ہو۔ اور یہ بھی اصول فقہ کی کتاب ”نورلانوار” میں پڑھاتے ہیں کہ اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے دیکھا اور شہوت آگئی تو عذر کی وجہ سے معاف ہے اور اگر اندور نی حصہ پر شہوت کی نظر پڑگئی تو یہ نکاح ہے اور اس کی وجہ سے ساس بیوی بن جائے گی اور بیوی حرام ہوجائے گی۔ بریلوی مکتب والے فقہ حنفی کے مطابق نکاح کا بہت وسیع معنی لیتے تھے کہ حرام کاری اور حلال طریقے سے جماع نکاح ہے تو حلالہ کیلئے صرف ہمبستری کافی ہے۔

دیوبندی مکتب نے جب اسلام کی نشاة ثانیہ کرنی تھی تو فقہ حنفی کے خلاف حلالہ میں سب کچھ لازم کردیا۔ نکاح ، گواہ اور عدت جس کی و جہ سے لوگوں کو حلالہ کی لعنت کا پتہ چل گیا ۔ پھر تبلیغی جماعت نے اس کھیل کو بہت زندہ کردیا۔ حلالہ کیساتھ ساتھ مونچھ منڈوانے کا ماحول بھی پیدا کردیا اور ایک جذبہ پھر مونچھ والوں نے ہی یہ بھی پیدا کردیا کہ ” جان پر آئے تو مال کو قربان کردو، عزت پر آئے تو جان کو قربان کردو اور اگرایمان پر آئے تو عزت کو قربان کردو”۔ پھر حلالہ پریکٹس میں آگیا ۔

یہ بہت بڑا اتفاق تھا کہ مجھے مدارس میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ عوام میں علماء جو دین پھیلاتے ہیں وہ اس سے بالکل الگ ہے جو پڑھاتے ہیں لیکن پڑھانے والے زیادہ تر خود بھی نہیں جانتے کہ کیا پڑھا رہے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی تعریف ہی علماء مدارس میں وہ پڑھاتے ہیں جن کا للو کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے مطالب اور نتائج کیا ہیں؟۔جس قرآن کو بے و ضو ہاتھ لگانا جائز نہیں سمجھتے تووہی لوگ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ الحمدللہ ہم نے اس پر ایک عرصہ سے علماء کرام کے سامنے یہ باتیں رکھی ہیں اور وہ سمجھ بھی گئے لیکن آزاد نہیں ہیں ۔ مذہبی طبقات کے ماحول نے بری طرح جکڑ رکھا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا فضل الرحمن کا وحدت کانفرنس سے خطاب اور عتیق گیلانی کا تبصرہ

الحمد لِلہِ نحمدہ ونستعِینہ ونستغفِرہ

وعد اللہ الذِین اٰمنوا مِنکم وعمِلوا الصالِحاتِ لیستخلِفنہم فِی الارضِ کما استخلف الذِین مِن قبلِہِم ولیمکِنن لہم دِینہم الذِی ارتضی لہم ولیبدِلنہم مِن بعدِ خوفِہِم امنا یعبدوننِی لا یشرِکون بِی شیئا ومن کفر بعد ذلکِ فاولئکِ ہم الفاسِقون صدق اللہ العظِیم۔

جنابِ صدر ، اکابر علماء کرام، مشائخ… کراچی یہ فقید المثال اجتماع آپ کی بیداری، جمعیت کے نصب العین سے گہری وابستگی اور پاکستان کی ترقی کیلئے پرعزم ہونے کی دلیل ہے۔

محترم دوستو! اُمت مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی بربریت اور ظلم کا شکار ہے۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انکے بارود کی بارش امت مسلمہ پہ ہو رہی ہے۔ اپنی طاقت افغانستان ، عراق، لیبیا میں آزمائی ۔فلسطین اور غزہ پر جو بیتی ساری دنیایہ منظر دیکھتی رہی اور مجھے افسوس ہے کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، ان کا ضمیر سویا رہا، وہ اس احساس سے محروم نظر آئے کہ ہمارے بھائیوں پہ صیہونیوں کے ہاتھوں کیا بیت رہی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المومنین فی توادہم وتعاطفہم وتراحمہم کمثل جسد واحد اذا اشتکی عینہ اشتکی کلہ واذا اشتکی راسہ اشتکی کلہ واذا اشتکی عضو تداع لہ سائر الجسد بالسہر والحم

”تمام ایمان والوں کے آپس کے بھائی چارے، دوستی اور باہم مہربان ہونے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کہ اگر اسکے سر میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، اگر اس کی آنکھ میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، جسم کے کسی حصے میں اگر درد مچل رہا ہو تو ساری رات جاگ کر گزرتی ہے، بخار کی حالت میں گزرتی ہے”۔ آج میں امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے دلوں کو ٹٹولیے، کیا اپنے مسلمان بھائی پر جب ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے آپ کو کچھ بھی تکلیف کا احساس ہوا؟

ذراسوچنا پڑے گا۔ جمعیت علمائے اسلام ایک آواز، ایک نظریہ ، ایک تاریخ ہے ،جس کی پشت پر200سال فرنگی کیخلاف جہاد، آزادی کیلئے قربانیوں کی تاریخ ہو۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کہنا چاہتا ہوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی کہ جمعیت کو سیاست مت سکھا ؤ!جمعیت سے سیاست سیکھو!۔( اللہ اکبر! جمعیت علماء اسلام زندہ باد!جمعیت سے ٹکراؤ گے، پاش پاش ہو جاؤ گے)۔

جمعیت علمائے اسلام کا منشور ہے کہ اسلامی بلاک وجود میں آئے۔ مشترکہ سیاسی حکمت عملی، اقتصادی نظام، دفاعی معاہدہ امت کو ایک جسم بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہم نے حکمرانوں سے اختلاف کو بھلا دیا اور اس کی حمایت کی۔ آگے بڑھانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اب بیت المقدس ،قبلہ اول، فلسطین تک محدود نہیں ،یہ عرب دنیا سے آگے بڑھتے ہوئے ایران تک پہنچ گیا، اگر ہم نے سمجھا کہ یہ صرف ایران کا معاملہ ہے، ایران جانے اور مسئلہ جانے تومیں اپنے حکمرانوں اور عوام کو بیدار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایران کو اسرائیل سر کر لیتا ہے تو اسرائیل پاکستان کے دروازے پر کھڑا ہے۔ذرا سمجھو اس بات کو۔ بین الاقوامی قوتیں کس منافقت، کن ناجائز حربوں کے ساتھ امت مسلمہ کا خاتمہ ، بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، حرمینِ شریفین نشانے پر ہے اور میں عرب دنیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپس کے جھگڑوں کا نہیں، امت کی وحدت کا وقت ہے۔ اپنا دفاع ایک کرو، اپنا اقتصاد ایک کرو، اپنی سیاست ایک کرو، ہم آہنگی پیدا کرو، کوئی تمہارا دفاع نہیں کرے گا۔ آئیں! ایک دفاعی قوت بن کرہم اسلامی دنیا کو مضبوط بلاک بنائیں اور اکٹھے ہو کر امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کریں۔

محترم دوستو! لیکن کون کرے؟ پاکستان کے یہ حکمران؟ کس کس بات کو روؤں؟ ”اے پختونہ ورورہ، پڑدوگ دے سوڑے سوڑے را وڑو، چہ سو ڑے گنڈم ماتہ جڑا رازی ”۔
(ترجمہ: اے پختون بھائی ! تم اپنی شلوار سوراخ سوراخ لائے ہو، جب میں اس کو سیتا ہوں تو مجھے رونا آتا ہے)

سنجیدہ ہو جائیں ذرا ۔ پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے۔ جمعیت علمائے اسلام قومی یکجہتی کی علمبردار جماعت ہے۔ ہم مسلمان ایک عقیدہ ہے، تعصب اور نفرتوں کے قائل نہیں۔ آئیں ہم اپنے اختلاف پہ بات کریں لیکن سلیقے ، شائستگی کے ساتھ۔ نفرتوں کی سیاست ہم اٹھاتے نہیں ہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کر رہے، ہم پاکستان میں اصولوں کی اور محبت کی سیاست کرتے ہیں۔

پاکستان آئین، قانون رکھتا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر آئین پر حلف اٹھایا۔ ہم اس کے وفادار ہیں لیکن جو لوگ ملک، سرحدات، ملکی سیاست، معیشت کے محافظ ہیں، اگر وہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہیں، قانون کو موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں جیسے چاہیں موڑ دیں تو پھر ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے کے ذمہ دار آپ ہیں۔ میں دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، نظم و نسق چلانے والے اداروں اور اصولی سیاست کا احترام کرتا ہوں لیکن اپنے حدود سے تجاوز کرو گے تو ہم سامنے کھڑے ہوں گے، مقابلہ بھی ہم کریں گے اور انشااللہ

تم مجرموں کیساتھ مقابلہ کر رہے ہو ،جو مقابلہ نہیں کر سکتے، جمعیت علمائے اسلام پاک، صاف، شفاف اور عقیدے پر پختہ اور پرعزم جماعت اگر اس کو تم نے مد مقابل میں لانے کی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کرو گے اور کوئی راستہ تمہارے پاس نہیں۔ (نعرے:اللہ اکبر!یہ آواز، یہ قوت، جمعیت جمعیت! امت کی وحدت، ملت کی وحدت، ملکوں کی وحدت، انسانوں کی وحدت، تیری قوت میری قوت، جمعیت جمعیت)

میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جمعیت موثر قوت ہے، اگر آج پاکستان باقی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسکے فضل و کرم کو گواہ بناتے ہوئے کہتا ہوں کہ جمعیت کی برکت سے پاکستان باقی ہے۔ ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن، کتنے عہدیدار، جید علماء کرام نشانہ بنے کس گناہ پر؟ کونسا گناہ کیا تھا ؟ اگر کسی دوسری جماعت کیساتھ ظلم ہوتا ہے ہم وہاں بھی ظلم کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں لیکن جمعیت علماء کا گناہ بتائیے، ان کے علماء کو کیوں شہید کیا جا رہا ہے؟ اسلئے کہ جو ہمیں قتل کر رہے ہیں ان کو پتہ ہے کہ جس ملک کو ہم توڑنا چاہتے ہیں جمعیت توڑنے نہیں دے رہی۔ ہم تو پگڈنڈی پہ سفر کر رہے ہیں ایک طرف سے دباؤ آتا ہے، کبھی دوسری طرف سے دباؤ آتا ہے۔ ہم الیکشن لڑتے ہیں، ہم پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ دھاندلیاں کر کے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھتی ہے۔ ایک طرف کچھ جاہل قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں اور ایک طرف پاکستان کے وفادار ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کیلئے انتخابات میں دھاندلیاں کرتے ہیں، تو ہم کدھر جائیں؟۔

زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

اس پگڈنڈی پر ایک طرف بھی ہم پر گولیاں برس رہی ہیں اور باجوڑ سے کراچی تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں۔ باجوڑ میں80جنازے ایک ہی اجتماع سے اٹھائے۔ وزیرستان کے تمام اضلاع کے امراء دہشتگردوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ مہمند، کرم ، وزیرستان جائیں، علماء ہی نشانے پہ کیوں؟ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان حربوں سے جمعیت علماء اسلام کے پایہ استقامت کو متزلزل کر سکیں گے، یاد رکھیں ہم نے اپنی تاریخ سے سر اٹھا کے چلنا سیکھا، کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا ہے۔
(نعرے: نعرہ تکبیر، اللہ اکبر! زندہ ہے جمعیت، زندہ ہے جمعیت! یہ تیری جمعیت، قائد کی صورت میں جمعیت)

لیکن میری جان، مال ،عزت و آبرو کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ میں ریاست کو اس اجتماع کی وساطت و تائید کیساتھ واضح پیغام دینا چاہتا ہوںکہ مجھے جو بھی قتل کرے میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا میں اسٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا۔ اطلاع بھیجتے ہیں تھریٹ لیٹر، فون آتا ہے آپ فلاں علاقے میں نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے میں نے کہا جاؤں گا! (نعرہ تکبیر، اللہ اکبر!قائد تیری جرأت کو سلام!پھر یہ بھی بتا دیں کہ قائد کے اگر ایک بال کو بھی کسی نے بیکا کیا، خدا کی قسم یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، قائدِ محترم کے جانثار ہم یہاں موجود ہیں، کسی مائی کے لال کو قائد کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے انشااللہ! قائد تیرے جانثار، بے شمار بے شمار!)

پہلے ہمارے حکمران خارجہ پالیسی ٹھیک کریں۔ پاکستان کی دو سرحد ہیں۔ مشرقی سرحد پر ہندوستان وہ سرحد بھی بند، مغربی سرحد پر ڈھائی ہزار کلومیٹر تک افغانستان ہے یہ سرحد بھی بند۔ چین پاکستان پر اعتماد کھو رہا ہے، وہاں سے بڑی خیر کی توقع نہیں ۔ ایران کے حالات کہ اب نہ وہ اچھے کا ہے نہ برے کا، تو ملک محصور ہو گیا۔ پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال ہے اور کہتے ہو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، تم خود بھی پھنس چکے ہو، قوم بھی محصور ہے اور پاکستان کے عوام آج رل رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہوا ہمارے حکمرانوں کے آبنائے ہرمز بند ہو گئے۔ انڈیا میں ایک روپے پٹرولیم مصنوعات مہنگی نہیں ہوئیں، بنگلہ دیش میں صرف16فیصد قیمتیں بڑھی ہیں اور ہم ہیں کہ یہاں61فیصد ہم نے قیمتیں بڑھا دیں۔ جبکہ ایران کا تیل اسی مقدار سے آ رہا ہے جتنا آبنائے ہرمز بند ہونے سے پہلے آ رہا تھا، تو سیدھی بات ہے ایران کیساتھ معاہدہ کرو جائز طریقے سے تیل برآمد کرو ۔IMFامریکہ ناراض ہو گا اور کمیشنیں نہیں ملیں گی پھر۔ پورے سمگلنگ کی نگرانی یہ لوگ خود کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا ہ میں45سال سے خون بہہ رہا ہے آج کی بات نہیں۔1979سے ابھی طالب علم تھا، یہاں جنگ شروع ہوئی ہمارے سرحد پر اور آج میں73سال میں داخل ہو گیا۔ مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے جی۔ بلوچستان خون میں نہا رہا ہے۔ سندھ تو ویسے ڈاکوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ (کچھ ڈاکو کچے کے کچھ پکے کے) یار سمجھا کرو نا خدا را۔ سارے اختیارات کہتے ہیں ہم مستثنیٰ ہیں۔ صدر مستثنیٰ ، زندگی بھر اسکے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا۔ ایسا پاک صاف شفاف، یہ تو اسٹیبلشمنٹ بڑی بیوقوف اور احمق ہے جس کو پتہ نہیں کس کس جرم میں آٹھ دس سال جیل میں رکھا۔ کبھی اتنا بڑا مجرم کہ جیل میں اور کبھی اتنا پاک ، شفاف شخصیت کہ کوئی کیس نہیں ہو سکے گا اور تاحیات؟ یہ میرا موضوع نہیں۔ جناب رسول ۖنے خود کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ دعوت دی کوئی ہے کہ جس کا میرے اوپر حق ہو تو وصول کر لے۔ ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ میرا آپ کے اوپر ایک حق ہے، میں وصول کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا حق ہے آپ کا ہمارے اوپر؟ کہا: آپ نے مجھے ایک چھڑی ماری تھی، میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا آؤ۔ کہا: نہیں آپ نے مجھے پیٹھ پہ مارا تھا، میں نے بھی آپ کو پیٹھ پہ مارنا ہے۔ آپ نے پیٹھ کر دی، کہا میری پیٹھ ننگی تھی، مجھے بدلہ لینا ہے۔ رسول ۖ نے پیٹھ ننگی کر دی۔ وہ صحابی تھا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، لپٹ گیا اور آپ کی پیٹھ مبارک کو چومتا رہایہاں تک کہ مہر نبوت کو چوما۔ آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ میں پیغمبر مستثنیٰ ہوں۔

حضرت عمر خود قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئے، یہ تو نہیں کہا کہ میں امیر المومنین ہوں اور مدعی کو حق نہیں کہ میرے خلاف کیس درج کر سکے۔ حضرت علی کی عدالت میں تو کوئی مستثنیٰ نہیں تھا وہ خود بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ یہ کیا قانون سازیاں ہو رہی ہیں۔18سال سے کم عمر شادی نہیں کر سکتے اور اگر شادی کر لی تو اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا لیکن اگر بچہ پیدا ہو گیا تو بچہ حلالی ہو گا۔ یہ ہماری قانون سازی ہے۔

ملک ان سے نہیں چل رہا۔ بینک ،PIA، تمام سرکاری ادارے یہاں تک کہ کالج اور یونیورسٹیاں ، سکول تک بیچے جا رہے ہیں پرائیویٹ سیکٹر میں لیکن دینی مدرسہ پرائیویٹ سیکٹر پر قبضہ ہو رہا ہے۔ یہ عقل ہے؟ اس عقل والوں سے ہماری جنگ ہے۔ مجھے پتہ ہے امریکہ کا مدرسے کیساتھ دشمنی کون کر رہا ہے، کس کی کس کیلئے وہ مشکل بنا ہوا ہے۔ قانون پاس ہو چکا ہے، جس طرح ہم نے کہا تھا اسی طرح پاس ہوا۔ اب عملدرآمد نہیں ہو رہا، صوبوں میں قانون سازیاں نہیں ہو رہی اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس طرح مدرسوں کو غیر موثر بنا دیں گے، تمہارا باپ بھی دینی مدرسے کو ختم نہیں کر سکے گا انشا اللہ العزیز۔

یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے، تحریک اٹھانی ہے، ملک میں ہمیں امن چاہیے، انسانی حقوق کا تحفظ اور خوشحال معیشت چاہیے۔ ہم نے مہنگائی کیخلاف مظاہروں کا اعلان کیامگر انہی دنوں میں ایران امریکہ کے درمیان پاکستان نے ثالثی کا عمل شروع کیا۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی قیادت اتر رہی تھی تو ہم نے سوچا کہ ہمیں ملک کیلئے مشکل پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے وہ مظاہرے موخر کیے، منسوخ نہیں کیے۔ اب انشا اللہ العزیز22مئی کو جمعے کے روز ملک بھر کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ ہم عوام کیساتھ دکھ درد میں کھڑے ہیں جہاں بدامنی ہے وہاں بھی عوام کیساتھ ہیں، اپنا خون دے رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ آج جب میں گفتگو کر رہا ہوں تو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کی جھیل میں کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں۔

شیخ ادریس کو تم نے کیوں قتل کیا؟ جرم کیا تھا؟۔ روزانہ2800طلبا کو پڑھاتا تھا،1300طلبہ ایک مدرسے ،1500طلبہ دوسرے مدرسے میں۔ جمعیت کی مرکزی شوری کا رکن ، صوبائی اسمبلی میں ہمارا ممبر رہا ہے۔ امن کی بات کرتا تھا۔ اگر دنیا میں قیامِ امن کیلئے پاکستان حرکت میں آتا ہے تو سب سے پہلے ہم تائید کرتے ہیں۔ اگر انڈیا کیخلاف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کرتے ہیں تو ہم شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی سیاست میں اگر علماء کرام جاتے بھی ہیں تو ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کر کے پارلیمانی کردار سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ تم پارلیمنٹ کے کردار سے ہمیں محروم کر سکتے ہو لیکن میدان کے کردار سے محروم نہیں کر سکتے۔ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔ انشااللہ۔

محترم دوستو! ہمارا نصب العین بڑا واضح ہے، ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیںجو معاشی دفاعی لحاظ سے طاقتور ہو، عام آدمی کے حقوق محفوظ ہوں۔ جدوجہد کو انشااللہ جاری و ساری رکھا جائے گا۔ آپ عزم کریں کہ انشااللہ یہ جدوجہد آگے بڑھتی رہے گی۔ ہم انشااللہ4جون کو بلوچستان میں جلسہ کریں گے اور بہت بڑا اجتماع ہو گا،4جون کو پشین میں انشااللہ اجتماعات ہوں گے انشااللہ۔ بہت شکر گزار ہوں آپ کا، اللہ تعالی آپ کے عزم کو اور مضبوط کرے اور انشااللہ جس طرح اس اجتماع میں آپ نے ایک صف ہو کر، ایک قوم ہو کر ثابت کرنے کی کوشش کی، انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں بھی قوم ایک رہے گی اور اس وحدت کے ساتھ ہم کامیابیاں حاصل کریں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ

”اور گھروں میں سکون حاصل کرو اور اپنی چھاتیاں پہلی والی جاہلیت کی طرح مت دکھاتی پھرو”۔ آیت کا ترجمہ و تفسیر ،شرعی حکم اور فتویٰ جو علماء وفقہاء نے اخذ کیاوہ ہو نہیں سکتا ۔آپ کے اجداد خانہ بدوش تھے۔ عورت مارچ کیخلاف جماعت اسلامی پشاور کی خواتین نے حیا مارچ کا اعلان کیا تو جمعیت علماء اسلام نے حمایت اور اپنی خواتین کو شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ حضرت سعد بن عبادہ بڑے جلیل القدر صحابی نے نبیۖ کے بعد مسند خلافت پر بیٹھنے کو اپنا حق قرار دیا تھالیکن رسم اور سماجی اقدار کی آڑ میں کہا کہ ” لعان کے حکم پر میں عمل نہیں کروں گااور بیوی کو جس شخص کیساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا تو قتل کروں گا”۔ نبیۖ نے انصار سے کہا کہ تمہارا صاحب کیا کہتا ہے؟۔ تو انہوں نے کہا کہ اس سے درگزر کیجئے۔اس نے کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی اور جس کو طلاق دی ہے تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی ہے بہت غیرت والا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ (صحیح بخاری)

نتیجہ کیا نکلا؟۔ مولانا یوسف کاندہلوی نے رائیونڈ میںوفات سے3دن پہلے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ ” سعد بن عبادہ نے امت میں توڑ پیدا کی تو اس کو جنات کے ذریعے اللہ نے قتل کروایا”۔ مدینہ چھوڑ کر شام دمشق کے قریب گاؤں میں وہ آباد ہوئے۔ پتہ نہیں جنات نے قتل کیا؟ یا پھر ان بیگمات نے جن کو طلاق کے بعد شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا؟۔ لیکن قرآن میں حلالہ کی لعنت کا حکم نہیں ہے اور اس غیرت کے خلاف حکم ہے کہ کوئی طلاق کے بعد بھی عورت کو شادی نہیں کرنے دیتا تھا اور اگر عوام کوپتہ چلا کہ مدارس نے حلالہ کے نام عزتوں کو لوٹا تو پھر؟…

اگرمولانا الیاس طلاق کا مسئلہ سمجھتے، تبلیغ والے حلالے نہ کرواتے تو بستی نظام الدین و رائیونڈ میں نہ بٹتے، امت کو بھی متحد کرتے مگر یہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر شرمائے یہود؟ اور معاش سودی بیاج، حلالہ کی لعنت سماج، اسلام بھی تاراج ہوتو تمہارے سر پر کونسا تاج ہو؟ ۔کیا معلوم یہ ترقی استدراج ہو؟۔

20سال پہلےMMAحکومت میں ہم پر قاتلانہ حملہ ہوا، پولیس افسر عتیق اللہ کو کہا کہFIRنہیں درج کروں گا۔ذمہ دار تھانہ ہے۔آج مولانا فضل الرحمن نے یہی بات کی لیکن وہ حالات اور تھے اور آج اور۔ معروف صحافی حامدمیر اور انصار عباسی نے جیو نیوز کے پروگرام میں علامہ راشد محمود سومرو کے سامنےGHQسے مولانا فضل الرحمن پر زمینیں لینے کا ثبوت دکھایا اور صوبائی حکومت سے6ہزار کنال زمین لی لیکن کینسل کردی گئی۔ کیا راشد محمود سومرو صحابہ کرام کی سیرت سے یہ نمونہ دکھائے گا کہ مولانا فضل الرحمن سے جلسہ عام میں وضاحت ہی پوچھ لے؟۔ اگر ان زمینوں پر وزیرستان کے بے دخل ہونے والے غریب محسود کیلئے پلاٹننگ کی جاتی اور جھونپڑیاں بنادیتے اور بجلی اور واش روم کی سہولت دیتے تو آج پختونخواہ اس آگ میں نہیں جل رہا ہوتا؟۔ جمعیت علماء اسلام کے علماء کا قصور میں بتاتا ہوں کہ باخبر دلے ہیں۔ مفاد کی وجہ قائد کو پوچھ نہیں سکتے۔

میں اعتراف جرم کرتاہوں، دوست نے فلیٹ دیامگر وہ خود قابل رحم تھا کچھ خرچہ کرکے کہا کہ کرایہ پر دو یا اپنے لئے بیچ دو۔ پھر محسود کے کچھ لوگوں پر برے حالات آئے جس پر لکھا بھی مگر دوست نے پیسے بھیجے تو میں نے گھر کی کنسٹریکشن پر لگادئیے۔ وہ چندلاکھ متاثرین کو دیتا تو دہشتگردی کا شکار نہیں بنتا۔ ٹانک جاتے ہوئے بوڑھے باباکو گاڑی میں اٹھایا تو پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پہلے آٹا لینے ڈبرہ گیا مگر رشتہ دار نہیں ملے۔ کچھ دئیے تو رونے لگا اور فوج اور طالبان دونوں کو بدعائیں دیں کہ ہمیں بھکاری بنادیا۔اگرصوبائی حکومت متاثرین کا معقول بندوبست کردیتی تو لوگ دربدر نہیں ہوتے۔

دوسری اشرافیہ کو غربت کی مشکلات کا پتہ نہیں لیکن مولانا لینڈ لارڈ تو نہیں تھے۔ بھوک ختم نہیں ہورہی ہے۔ دربدر لوگ کس سے انتقام لیںگے؟۔آج مولانا پھر مفادات کے تحفظ کا جھانسہ دے رہاہے۔ مفادات تو جنس فروش عورتیں، خواجہ سرا اور لونڈے بھی جانتے ہیں۔ تمہارا یہ کام نہیں کہ سودی حیلہ و حلالہ کی لعنت سے معیشت اور سماج کا بیڑہ غرق کرو ۔ اسلام مضبوط نظام کھڑا کرتا ہے۔ وارثین انبیاء کا کام حق بتاناہے۔ عروج کے دور میں بھی مذہبی طبقات نے جھوٹے اجماع اور حلالہ کی لعنت سے امت کا بیڑہ غرق کردیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندوستان کے عالم کی تقریر

اس ویڈیو میںہندوستان کا ایک عالم اپنی تقریر میں کہ رہا ہے کہ ابھی ایک مولانا صاحب کا میں واقعہ پڑھ رہا تھا،

مفتی تقی عثمانی صاحب یا کوئی اور بڑے عالم ہیں

انہوں نے شاید ”تراشے” یا کسی اور کتاب میں، مجھے نام یاد نہیں آ رہا، لکھتے ہیں کہ میں روز سوچتا تھا کہ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا۔ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا، کاش میں بھی نبی علیہ السلام کے ساتھ ہوتا، ہمیں بھی یہ موقع ملتا۔ کہتے ہیں میں روز یہی سوچتا رہتا تھا، دعا بھی کرتا تھا یا اللہ کاش ہم بھی اس دور میں پیدا ہوتے۔ ایک رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ نبی علیہ الصلو والسلام ایک گاڑی میں تشریف فرما ہیں اور تمام صحابہ ہیں۔ ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)چلا رہے ہیں، میں سب سے پیچھے بیٹھا ہوں، تو ایک چڑھائی چڑھ رہے ہیں تو اچانک کیا ہوا گاڑی خراب ہوئی تو بریک نہیں لگ رہے، گاڑی پیچھے کو جا رہی ہے۔ تو سب سے پچھلا دروازہ کھول کر کہتے ہیں کہ میں بھاگا، میں جوان آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ دس بیس کلو کا کوئی پتھر اٹھا کر لاتا ہوں، گاڑی کے ٹائر کے نیچے دوں گا تاکہ گاڑی رک جائے، نبی علیہ السلام کی حفاظت ہو۔

کہنے لگے میں گیا، جب پتھر اٹھایاخواب بتا رہا اپناکہ جب پتھر اٹھایا، دوڑ کے جب واپس پہنچا، دیکھا گاڑی تو پیچھے آ ہی نہیں رہی، گاڑی تو اپنی جگہ ہی کھڑی ہے۔ تو میں بڑا حیران ہوا کیا گاڑی کو بریک لگ گئے؟ تو جب میں نے دیکھا اندر بھی کوئی نہیں، تو کہتے ہیں جب میں نیچے دیکھتا ہوں، تو جتنے صحابہ گاڑی میں تھے انہوں نے اپنے سر گاڑی کے ٹائروں کے نیچے رکھے ہوئے تھے کہ مبادا یہ گاڑی پیچھے نہیں جانی چاہیے۔تو وہ مولانا فرماتے ہیں میں نے اٹھ کر دو نفل توبہ پڑھے، استغفار کی کہ عشق کے جس مقام پر جن کو رضی اللہ عنہم کا لقب دیا گیا، وہ جس مقام پر ہیں عشق کے، جس انداز سے عشق کرتے تھے، وہ جس انداز سے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ چلتے تھے، سوچتے تھے، ہم تو ابھی اس کا ایک رتی کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتے۔

تبصرہ:امین اللہ کوئٹہ

سید عتیق الرحمن گیلانی نے بھی ایک خواب دیکھا تھا اور اس میں ایسی جدید قسم کی گاڑی تھی جو پہاڑوں میں چڑھ رہی تھی اور سڑک میں بہت بڑے بڑے گیپ تھے۔اللہ کی قدرت سے وہ گیپ بھی بھر رہی تھی،اس کو پریس بھی کررہی تھی ،اس پر سڑک کی تعمیر کے سارے کام یہاں تک کارپٹ بھی کررہی تھی۔

ہمارے ساتھیوں نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح کا کام کیا ہے تو اس پر اللہ کا شکرہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دوریٔ منزل میں ہے
شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہاہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے دل میں ہے
مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے
مانع اظہار تم کو ہے حیا ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسمل میں ہے

صحابہ کرام صدیقین کی جماعت تھے اور واقعی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ علماء کرام کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مکذبین نہیں ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال

کراچی پریس کلب:18مئی کو میٹ دا پریس پروگرام کے بعد چائے کی ٹیبل پر ایڈیٹر نوشتہ دیوار نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا کہ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ اکٹھی 3 طلاق واقع نہیں ہو تیں۔ آپ اس پرکیا کہتے ہیں؟۔ مولانا نے پہلے ٹالتے ہوئے کہا کہ یہی پاکستان میں چل رہا ہے اور خوب قہقہ لگایااور ساتھ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ہنسں پڑے لیکن پیچھے سے ایک دو آدمیوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر بات کریں تو پھر مولانانے کہا کہ یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت ہے۔کچھ لوگ اپنی ذات میںاہلحدیث ہوتے ہیں۔ مولانا نے ایک سابق چیف جسٹس کا قصہ سنایا کہ وہ کس طرح شریعت سے ناواقف تھاانہوںنے کہاکہ چیف جسٹس کو اس حوالے سے علما سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نے کہا کہ سورہ طلاق کی آیات ہی دیکھیں تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیق کر رہی ہیں تو مولانا نے کہا کہ اس ملک میں اکثریت حنفیوں کی ہے لہٰذاآپ یہ دیکھیں کہ حنفی مسلک کیا کہتاہے اورآ پ احادیث کو دیکھیں۔

تبصرہ : نوشتۂ دیوار: فیروز علمدار

مولانا فضل الرحمن کے لگائے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے3سالہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور6سالہ قبلہ ایاز صاحب نے بالمشافہہ ملاقاتوں میں حنفی مسلک کا مؤقف سمجھ لیا اور قبلہ ایاز صاحب نے تو لیٹر بھی لکھ دیا تھا اور ایک بڑی تعداد میں حنفی علماء کے تائیدی بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جان بوجھ کر حق سے پہلو تہی برت رہے ہیں لیکن اللہ سب دیکھ رہاہے۔ عائلی قوانین1964ء مفتی محمود کی تائید سے آئین کا حصہ بن گئے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے الزام لگایا ہے کہ مفتی محمود پہلا سیاستدان تھا جس نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ حالانکہ عائلی قوانین میں قرآن وسنت کے مطابق عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع کا حق دیا گیا ہے۔ زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل قرار دینے والے نے سودی نظام کو ہی اسلامی قرار دیا ہے اور اس کے بعد مزید اسلام کیساتھ اور کیا ہوگا؟۔ حنفی مسلک تو قرآن و سنت کے مطابق ہے لیکن حنفی مسلک ہی بگاڑ دیا گیا ۔ یہی حال سودی نظام کیساتھ اب چند سالوں میں ہوا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بنوری ٹاؤن کا فتویٰ مفتی شفیع کے احکام القرآن کا حوالہ:ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ، مسلمان خواتین، اورمفتی تقی عثمانی کا گھرانہ زد میں۔دوسرے فتوے کی زد میں مدارس کے بے ریش طلبہ بھی آتے ہیں

پردہ اور مسئلہ طلاق غلط پیش کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کو مذہبی طبقہ مجروح کردیتا ہے

بنوری ٹاؤن کراچی کافتویٰ

کیا فلسطین میں ظلم کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں،جلوسوں میں خواتین کی شرکت جائز ہے؟
سوال : فلسطین کیلئے جو احتجاجی جلوس ہورہے ہیں ،ان میں عورتوں کا جانا جائز ہے اگر پردے کی پابندی کیساتھ جائیں تو؟
جواب : فلسطین کے مسلمانوں پر جو مظالم ہورہے ہیں ،اس پر یقینا ہر مسلمان کا دل غمگین اور افسردہ ہے …
تاہم اس مقصد کیلئے جو احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں ، وہ خواتین کیلئے شرعی یا طبعی ضروریات میں سے نہیں، اسلئے ان میں مسلمان خواتین کا شریک ہونا (خواہ پردے کیساتھ ہی کیوں نہ ہو ) جائز نہیں ہے، خواتین کو چاہیے کہ وہ گھر …

قرآن کریم میں ہے:وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی واقمن الصلاة واتین الزکاة واطعن اللہ و رسولہ (الاحزاب:33)
ترجمہ:اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہواور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیا کرو اوراللہ اور اسکے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو۔بیان القرآن

احکام القرآن للفقیہ المفسرالعلامہ محمد شفیع میں ہے:

”:قولہ تعالی: }وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی{۔ فدلت لآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت و القرار بھا ولکن یستثنی منہ مواضع الضرورة فیکتفی فیھا الحجاب بالبراقع …فعلم أن الحکم الآیة قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورة الدینیة کا لحج والعمرة بالنص أو الدنیویة… فلا یجوز لھن الخروج من بیوتھن الا عند الضرورة بقدر ضرورة مع اہتمام التستر والاحتجاب کا لاھتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع ”

حدیث شریف میں ہے:

” النبی ، قال: المرأة عورة ، فاذا خرجت استتشرفھا الشیطان ۔ھذا حدیث صحیح غریب ۔”

فتاوی شامی میں ہے:

و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة فی الکل و تغیر الھئة الی ما لا یکون داعیة الی نظر الرجال استمالتھم ( کتاب النکاح ، باب المھر ) فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر:144504100616
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

تبصرہ : سید عتیق گیلانی

اس فتویٰ میں عورت کو گھر سے نہ نکلنے کیلئے جو دلائل دئیے ہیں تو اس سے زیادہ دلائل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے بے ریش لڑکوں کیلئے دئیے ہیں:

” ابوہرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا: کسی امرد پر نظر مت جماؤ۔ حضرت عمر نے فرمایا ”میں کسی عالم پر درندے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا امرد سے ڈرتاہوں”۔ حضرت ابوسہل نے فرمایا : عنقریب امت میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو (بدفعلی کی وجہ سے) لوطی کہا جائے گا اور وہ تین قسم کے ہوں گے۔ ایک جو صرف امرد کو دیکھیںگے۔ دوسری :جو باقاعدہ ہاتھ ملائیںگے۔اور تیسری: جو (العیاذ باللہ)اس کام کو کریں گے۔ اور علامہ شامی فرماتے ہیں کہ عورت کی طرف بد نظری شدید گناہ ہے لیکن امرد کی طرف نظر شہوت اشد گناہ ہے اور ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ امرد کی طرف دیکھنا حرام ہے ، خواہ فتنے سے مامون اور محفوظ ہی کیوں نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

الغلام اذا بلغ الرجال و لم یکن صبیحا فحکمہ حکم الرجال وان کان صبیحا فحکمہ حکم النساء و ھو عورة من فوقہ الی قدمہ .. أقول:وھذا شامل لم من نبت عذارہ،بل بعض الفسقة یفضلہ علی الأمرد خالی العذار…أ حرمة النظر الیہ بشہوة أعظم اثما لأن خشیة الفتنة بہ أعظم منھا ولأنہ لایحل بحال ،بخلاف المرأة کما قالوا فی الزنی و اللواطة ، و لذا بالغ السلف فی الننفیر منھم و سموھم الأنتان لاستقدارھم شرعا

فتویٰ:144501101254دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن

ڈاکٹر فیض احمد چشتی بریلوی مکتب نے بہت لکھا:

کسی نوجوان لڑکی یا بے ریش لڑکے کو شہوت کیساتھ دیکھنا یا ہاتھ ملانا ناجائز و حرام ہے بلکہ اگر شہوت کا گمان یا شک ہو تو بھی دیکھنا جائز نہیں اور احتیاط یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل نہ دیکھا جائے۔ ہاتھ ملانا اور چھونا تو بہر حال نا جائز ہے۔ وہ حضرات جو بے ریش خوبصورت بچوں کے نام پر تکتے اور نوٹ نچاور کرتے ہیں یا پھر کسی کا گدی نشین بناکر بٹھاتے اور چوما چاٹی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ ” مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ”۔( النور:30)

عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : ایک دفعہ سفیان ثوری حمام میںداخل ہوئے تو ساتھ میں خوبصورت لڑکا داخل ہوا حضرت سفیان نے فرمایا : اسے نکالو! میں ہر عورت کیساتھ ایک شیطان اورہر لڑکے کیساتھ10سے زیادہ شیاطین کودیکھتا ہوں۔ (شعب الایمان:5014ذم الہویٰ لابن جوزی)

بہت واقعات اور احکام نقل کئے مگر یہ بھی نقل کیا کہ … الا من اجنبیة فلایحل مس وجہا و کفہا وان امن الشہوة لانہ اغلظ و لذا ثبت بہ حرمة المصاہرة وھذا فی شابة…اھ۔
”مگر یہ اجنبی عورت سے تو حلال نہیں اس کا چہرہ چھونا اور ہاتھ چھونا ،اگر چہ شہوت سے مامون ہو بیشک وہ زیادہ سخت ہے اسلئے کہ اس سے حرمة مصاہرت ہوتی ہے مگر جوان لڑکی ہو”۔(چشتی)

بنوری ٹاؤن نے فتاویٰ شامی سے لڑکے کو لڑکی سے زیادہ خطرناک قرار دیا مگر چشتی نے جوان لڑکی کو حرمت مصاہرت کی وجہ سے زیادہ خطرناک قرار دیاکیونکہ بچی کیساتھ شہوت پر حرمت مصاہرت قائم نہیں اور نہ حد جاری ہوتی مگر نکاح ہوجاتا ہے۔ مصاہرت کے مسائل سے ہوش اڑ جائیں مگر علماء ومفتیان کو فرق نہیں پڑتا ۔ جب لڑکوں کا حکم عورتوں کا ہے تو پھر ان کے درمیان فرق کیوں ہے؟۔ اللہ نے عورتوں کو حکم دیا ہے اور لڑکوں کو نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟۔مولانا احمد رضا خان1856ء کو پید ا،1869ء کو13سال کی عمر میںعالم بن گئے اور والد نے فتویٰ نویسی کا کام سپرد کیا۔ انکے ابتداء شباب میں والد کا انتقال ہوگیا ۔ فتاویٰ کی کتب میں لڑکے کی عمر بلوغت کیلئے کم ازکم12سال ہے جس میں عورتوں سے پردہ نہیں اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے بچپن کا مشہور واقعہ ہے کہ عورتیں نظر آئیں تو شلوار نہیں پہنی ہوئی تھی اور قمیص سے اپنا منہ چھپالیا جس سے نیچے کے اوزار دکھ گئے اور عورتیں یہ دیکھ بہت ہنسیں تھیں۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کے سارے گھر کی خواتین نے دنیا بھر کی سیر کی ہے تو مفتی شفیع کے احکام القرآن کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟۔ دین کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا ہے؟۔

وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیة الاولی و اقمن الصلوٰة و اٰتین الزکوٰة…الاحزاب33

”اورگھروں میں سکون سے رہو اور اپنے سینے کی نمائش نہ کرو پہلی جاہلیت کی طرح۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو”۔

رسول اللہ ۖ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ادوار میں اور بعد میں بھی اس وقت خواتین مسجدوں میں نماز باجماعت ادا کرتی تھیں۔ آج بھی مسلمانوں کے سب سے بڑے مرکز مکہ میں خواتین پنج وقتہ نماز ، طواف اور صفا و مروہ کی سعی ایک ساتھ مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ ادا کرتے ہیں۔ جس سے یہ مراد لینا کہ عورتیں گھروں میں رہیں ایک بڑی جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جبکہ دوسری آیت میں مخصوص عورتوں کیلئے کپڑے اتارنے کے ساتھ غیر متبرجات بزینة سے کوئی ابہام بھی نہیں رہتا کہ جاہلیت کے تبرج سے قرآن میں کیا مراد ہے۔

مدارس میں بے ریش طلبہ کی کثرت ہے۔ ابن جوزی نے اسلاف کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کو نیٹ پر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کی تحریر میں مکمل طور پر دیکھ لیں۔ لڑکوں کے زیادہ خطرناک ہونے کے باوجود مدارس میں کیوں رکھتے ہیں؟۔

فتاوی شامی میں ہے:

” و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة ” اور نے عورت کو اجازت دی ہے عدم زینت کے اظہار کی شرط پر”۔ حالانکہ مفتی محمد شفیع نے تو اسکے برعکس لکھا: فدلت الآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت والقرار بھا ” پس آیت دلالت کرتی ہے عورتوں کے حق میں کہ اصل گھر کے اندر حجاب اورقرار پکڑنا ہے”۔

جس آیت سے علامہ شامی نے استدلال لیا ہے تو اس میں عدم زینت کی قید

فلیس علھین جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ

” توان پر کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اتاریں زینت کی نمائش کے بغیر”۔ جس سے حسن النساء مراد ہیں۔ اور جس سے مفتی شفیع نے استدلال لیا ہے تو اس میں تو واضح طورپر حسن النساء کی نمائش کو منع کیا گیا ہے۔

قال شامی ابحنالہا و قلت لقد نبحتم

” شامی کہتا ہے کہ ہم نے اس کیلئے مباح کردیا ہے اور میں کہتاہوں کہ بیشک تم نے بھونکا ہے”۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں واضح طور پر واضح کرتا ہے کہ عدت کے اندر بھی معروف کی شرط پر طلاق سے رجوع کی اجازت ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی اور اسلام کا ستیاناس کرکے یہ بکواس کرتے ہیں کہ اگر آدھے سے زیادہ بچے مولوی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی پھدی سے نکل گیا تو پھررجوع جائز نہیں اور آدھے سے کم نکلا ہو تو پھر جائز ہے اور آدھے آدھ ہو تو پھر ایک اور علامہ شامی اور قاضی خان بناؤ جو مسئلہ حل کردے۔ فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے کہ

٧٩١٢:و فی الخانیة قال رجل لامرتہ : ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق ، وقالت المرأة: وان لم یکن فرج احسن من فرجک فجاریتی حرة ، قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن فضل: ان کانا قائمین عندالمقالة برت المرأة و حنث الزوج ، ولون کان قائدین برالزوج و حنث المرأة لان فرجھا احسن من فرج زوج ، والامر علیالعکس فی حالة القعود ، وان کان رجل قائما والمرأة قاعدة قال الفقیہ ابوجعفر : لا اعلم ماھذا…

فتاویٰ خانیہ میں ہے کہ۔۔۔۔

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ہے۔اور عورت نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے کہا کہ اگر دونوں بات کرتے وقت کھڑے ہوں تو پھر مرد حانث ہوگیا اور طلاق پڑگئی۔ اور اگر دونوں بیٹھے ہوں تو مرد بری ہوا طلاق نہیں پڑی اور عورت حانث ہوگئی اس کی لونڈی آزاد ہوگئی۔ اسلئے کہ کھڑے ہونے کی صورت میں عورت کی دہلی زیادہ خوبصورت ہے مرد کے کابل خان سے۔ اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کا الٹا بانس بریلوی زیادہ خوبصورت ہے عورت کی دیوبند سے۔ اور اگر مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہوئی ہو تو فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ پھر کیا ہوگا؟۔

الفتاوی تاتارخانیہ : شائع کردہ : مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ

دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی نے کراچی اور حیدر آباد کے کوؤں کو حلال قرار دیا ۔ پنجاب میں کچھ دیوبندی علماء کو پتہ چلا کہ کوا حلال ہے تو سرعام کھانے لگے اور طالبان مجاہد بن گئے ۔اگر شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود قرار دیا تھا اور70سے زائد گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زناکے برابر قرار دیا تھا اور پھر اس نے عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ اگر اسی جذبہ ایمانی کے تحت آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف مفتی تقی عثمانی اور اس کی بیگم سے کہیں کہ کھڑے ہونے اور بیٹھنے کی حالت میں اپنی ٹانگوں کے درمیان عالم برزخ کا نظارہ دکھائیں تو اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ فتاویٰ میں ان فقہاء نے بکواس لکھ دیا ہے یا واقعی خوبصورتی پر فرق پڑتا ہے؟۔

ایران ، امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب جنگ میں بہت محنت کرنی پڑی اور کامیابی بھی مل گئی لیکن افغانستان سے جنگ بندی میں بہت صبر آزما مشکلات کے باوجود بھی کامیابی نہیں ملی اور اگر اس طرح کے مسائل کو اجاگر کیا گیا تو افغان طالبان کی ہوا بھی خارج ہوجائے گی اور قیامت تک افغانی قوم پاکستان کے بھی شکر گزار ہوں گے اور فتنہ ہندوستان بریلوی دیوبندی کو بھارت میں بھی ہدایت مل جائے گی اور فرقہ واریت سے باز آجائیں گے۔ جب عمران خان لاڈلہ تھا اور اس وقت اس کی بیوی ریحام خان تھی تو ہم نے کتاب میں دونوں کی تصویر کے ساتھ یہ مسئلہ واضح کیا تھا اور سوچا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان جرأت کرکے اس کو ہائی لائٹ کرے لیکن یہ مفتی تقی عثمانی کے ذریعے دنیا تک پہنچے تو شاید امت مسلمہ کی جان چھوٹے۔

اگر مسلمان کو یہ پتہ چل جائے گا کہ قرآن میں آیات سے مراد یہ نہیں ہے جو سعودی عرب، ایران اور افغانستان نے لیا تھا تو پوری دنیا کے مسلمانوں ہی میں نہیں غیر مسلموں میں بھی بڑی خوشی کی لہر دوڑے گی۔
ــــــــــ

سعودیہ نار مع یمنی حار کلام یجعلک نفقد شعورک تانجو لایف موضہ
یوتیوب :(@DID4848RI)

سعودیہ، دوبئی عرب برقعہ پوش برہنہ چھاتی پھرتی ہیں، یوٹیوب پراپنیDNAکے مطابق تبرج الجاہلیة اولیٰ کی لت میںپڑیں۔ آیت سے کیا مرادہے ؟۔ جاہلیت میں10شوہر اور بیشمار سے جنسی تعلق والی تھیں اسلئے قیصر روم نے ابوسفیان سے نبیۖ کی خاندانی شرافت کا پوچھا۔ دشمن کافر نے جھوٹ نہیں بولا تو ہدایت ملی۔ جھوٹ اور حلالہ کا اسلام نے خاتمہ کیا۔ حنفی اصول فقہ میں حلالہ کا جواز نہیں ۔ میری وضاحتوں کے بعد حنفی مفتی مان گئے مگرکچھ مفاد پرست ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”مفتی محمود کی خواہش پر عالم نہیں بن سکا”۔اسلام کو چھوڑ کر تبرج الجاہلیہ اور حلالہ کی لت کو پھر زندہ کردیا ۔العیاذ باللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟

جاویداحمد یافثی قرآن کے نام پر امت مسلمہ میں ایک ناامیدی کی کیفیت پھیلا رہاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قیامت تک حکمران رہے گی ۔

ونبئھم عن ضیف ابراہیمOاذ دخلوا علیہ فقالواسلامًا قال انا منکم وجلونOقالوا لاتوجل نا نبشرک بغلامٍ علیمٍOقال ابشرتمونی علٰی ان مسنی الکبر فبم تبشرونOقالوا بشرناک بالحق فلا تکن من القانطینOقال و من یقنط من رحمة ربہ الاالضالونO

”اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔ جب اس پر داخل ہوئے تو کہاسلام کہا بیشک ہمیں تم سے ڈرلگا، کہاکہ ڈرو مت ہم آپ کو بڑے عالم لڑکے کی بشارت سنارہے ہیں۔کہا کیا بڑھاپے میں خوشخبری دیتے ہو تو کیسی خوشخبری ؟۔ کہا کہ ہم حق کیساتھ خوشخبری دیتے ہیں اللہ کی رحمت سے امید ختم کرنے والوں میں سے مت بنو۔ کہا کہ کون اللہ کی رحمت سے امید ختم کرتا ہے مگر گمراہ لوگ”۔ (سورہ الحجر51تا56)

اسحق واسماعیل، بنی اسرائیل ، خاتم الانبیائۖ تاقیامت آخری امیرامت محمداور عیسیٰ امید کو ختم کرنے والے گمراہ ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم…
”اور اللہ میںجد وجہد کا حق ادا کرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا،پہلے اور اس میں تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو، تونماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ اللہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمہارا مولیٰ ہے ،اچھا مولیٰ اوراچھا مددگار”۔ (سورہ الحج آیت:78) غامدی آئینہ دیکھ لے قرآن کریم ایک آئینہ ہے جس میں ہردور کے اندر لوگ اپنا اپنا کردار، چہرہ اور ماضی حال مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ فرمایاکہ

قل انی علی بیننةٍ من ربی و کذبتم بہ، ما عندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا للہ، یقص الحق و ھو خیرالفاصلینOقل لو عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامر بینی و بینکم اللہ اعلم بالظالمینOو عندہ مفتاتیح الغیب، لا یعملھا الا ھو، ویعلم ما فی البر و البحر ، و ما تسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ، و لا حبةٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینٍO(سورہ الانعام)

”کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس نہیں جس کے جلدی کا تم مطالبہ کرتے ہو۔حکم نہیں ہے مگر اللہ کیلئے۔وہ حق کا قصہ بیان کرتا ہے اور بہترین فاصلہ قائم کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم جلدی مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کوزیادہ جانتا ہے اور اسکے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔اور وہ جانتا ہے جوخشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّہ نہیں گرتا ہے مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک مگر کھلی کتاب میں”۔

پاکستان دنیا میں خشکی پر سمندر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جس میں قومی ترانہ بچے اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

پاک سرزمین شاد وباد…کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالیشانارض پاکستان
مرکز یقین شاد و باد
پاک سرزمین کا نظام…قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت…پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ وہلال…رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال… جان استقبال
سایۂ خدائے ذولجلال

کتاب کے آئینہ میں پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ، قومی ترانہ اور جاوید غامدی کا نظریہ سمجھنے کیلئے سورہ ابراہیم سے آیات پیش کی تھیں۔غامدی مایوسی کیلئے جھوٹ نہ بکے۔ ابراہیم کا عالم بیٹا بارہ خلفاء قریش کا سلسلہ قیامت تک قرآن اور بخاری، مسلم ، ابوداؤد، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ نواب قطب الدین خان، پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی واضح کئے ہیں۔

جاویداحمد غامدی کی خدمت میں چند گزارشات یہ ہیں:

تیرا حرم ہے کوفہ ماتم حسین کا بیعت یزید کرو
مروان کے بیٹوں سے اسلام کی مٹی پلید کرو
اقتدار کو قید کردیا قیامت تک بنویافث میں
بنوہاشم کی اہانت کرو بنوامیہ کی تمجید کرو
خدا کے نام پر خلق خدا کو تم پوجتے ہو
شرک و نفاق میں ڈالو دعویٰ توحید کرو
فقہ اسلاف کو پہناؤ ملمع سازی کے چغے
آیات ہوں قصہ پارینہ اعتزال کی تجدید کرو
کلام الٰہی کا ہر جملہ ہر سورہ انقلاب ہے
زندگی ضائع کردی تو کچھ تحقیق مزید کرو
گند کے ڈھیر کا ٹھیہ لگا دیا تو کون خریدے
کھل کر توبہ کرو باطل کو حق سے مستفید کرو
بڈھی بڈھیوں کیساتھ تسبیح کیلئے خانقاہ چشتیہ آؤ
پہلے تجدید ایماں پھر مطالعہ سورہ حدید کرو
شیطان کا گروندہ بن گیا تیرا دل و دماغ
اجتہاد تیرے بس کا نہیں مردان خدا کی تقلید کرو
نکل جاؤ اختراع کے دنگل کی الجھن سے
اک اہل ساتھی کو منصب پر رجل رشید کرو
آیات بینات کو تم نے قدغن آلود کیا
خدا کیلئے نہیں تو اپنے لئے حق کی تمہید کرو
گدھے کے گوشت کا مسلماں روسٹ کھاتا نہیں
یہ سواری ذبح مت کرو خود ساختہ شہید کرو
خدا نے کہہ دیا یہ ہے زینت کی چیز بھی
اپنے سامنے باندھ کر خود کو خود سے سعید کرو
آفاقی کلام کو بند کیا خود ساختہ ابواب میں
گمراہی تلف کردو درست ترجمہ قرآن مجید کرو

طلوع اسلام: علامہ اقبال
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی

والفجرO…واللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرO

”فجر(طلوع انقلاب )کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے (کوئی نوید یا وعید) کچھ ہے”۔ (سورة الفجر)

عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

ولقدکذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتیناھم آیاتنا فکانوا عنھا معروضینO

”اور تحقیق کہ عقل والوں نے رسولوں کا جھٹلایا۔اور ہم نے ان کو آیات دیں تو وہ ان سے روگردانی کرتے تھے”۔ (الحجر:80،81)

مسلمان کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
سرشک چشم مسلم میں نیستاں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترک شیرازی دل تبریز کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے نظر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
تیرے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلمان سے حدیث سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہینِ قہستانی
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا تھا اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیںتصویریں
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیںفطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال وپر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبارِ راہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہوجا
گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہے
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
بیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد
کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمد
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
بہ مشتاقان حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہائے پہنا نش بچشمم آشکار آمد
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گردد
ببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
بیا تا گل بفیشانیم و مے ور ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم

جاوید احمد غامدی اورمفتی تقی عثمانی مغرب کی سرمایہ داری کا دین بیچ رہے ہیں۔علماء و مشائخ کو چاہیے تھا کہ روحانی علاج کا پنڈال لگانے کے بجائے قرآن کی عام فہم آیات کو عوام کے سامنے لاتے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن اور علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں توبہ کرکے اچھا کیا ۔قاری مفتاح اللہ صاحب نے تین باتوں پر زور دیا۔ ہزار کتابیںاور ہزار ورق کو جلادو اور خود کو اللہ والے کے قدموں میں روند ڈالو۔ انکے شاگردوں میں مرشد حاجی محمد عثمان کیلئے قربانی دینے والا بندہ ناچیز تھا۔ انہوں نے درمیانہ زمانہ کے مہدی کا حوالہ دیا جو ہماری تحریک کی تائید ہے اور انہوں نے فرمایا کہ عجم لوگوں کے ہاتھوں علم دوبارہ زندہ ہوگا چاہے ثریا پر پہنچ جائے۔ کوئی اس سے امام ابوحنیفہ اور کوئی امام بخاری مراد لیتا ہے لیکن جو بھی عجم لوگ ثریا سے علم کی واپسی کا ذریعہ بن جائیں وہ سب لوگ مراد ہیں۔

مجھے ڈاکٹر احمد جمال نے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان کے سلام کو پہنچایا اور پھر میں نے ان کی زندگی کی آخری بیماری میں حاضری دی اور اپنا تعارف نہیں کرایا لیکن انہوں نے پہنچان لیا تھااور اپنے خاص شاگرد سے میری تعریف کی تھی۔ مجھے گمان تھا کہ قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کی وجہ سے مفتی صاحب کی رائے میرے بارے میں مثبت بنی تھی۔قرآن کی تعلیمات بہت سادہ اور آسان ہیں ۔ہزار کتاب ، اوراق جلانے اور اللہ والے کے قدموں میں روندنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور قرآن کی سادہ تعلیمات سمجھ میں آجائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے

فرزانہ علی بہت اچھے پروگرام کرتی ہیں

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے اس سے پہلے جنرل طارق خان کا انٹرویو کیا۔ جنر ل احسان الحق کا بیان ۔ مذہبی طبقے کا مخصوص ذہن مذہبی بیانیہ سے بدلے گا۔ تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی، شیعہ اور سبھی مذہبی طبقات کا اپنا اپنا ماحول ہے ۔ خلافت و جہاد والوں کوصحیح تصور دینا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک دن خلافت بھی قائم ہوگی۔ گل احمد مروت

پاکستان گروپ آف جرنلسٹ کے صوبائی صدر، چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پیغامات” پشاور گل احمد مروت نے نمائندہ نوشتہ دیوار سے گفتگو کرتے ہوئے حلالہ کیخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی خوش آئند قرار دیا اورمزید کہا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی جہد مسلسل کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں گو کہ وہ پس پردہ ہیں مگر ان کی تحقیقات ہیں جو فطرت اور قرآن کی واضح تعلیمات کے مطابق اُجاگر ہورہی ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو بڑا فیصلہ دیا ہے اسکے پیچھے گیلانی صاحب کی طویل جدوجہد اور لا تعداد علمی دلائل ہیں جو بالآخر عوام الناس، علماء و مفتیان کرام، دانشور حضرات اور اسلامی اسکالرز نے قبول کئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ اس کی واضح دلیل ہے۔ بعینہ اسی طرح آپ مسلمانوں کے عروج اور عالم اسلام کی سربلندی کیلئے قیام خلافت کی جو بات امت مسلمہ کو سمجھارہے ہیں ایک دن سب اس پر بھی انشاء اللہ متحد و متفق ہوں گے۔ یہی مسلمانوں کے مسائل کا حل اور وقت کا تقاضہ ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv