پوسٹ تلاش کریں

عبرت آموزتاریخی اور معروضی حقائق کو نظرا نداز نہ کریں

صلح حدیبیہ کے معاہدے پر صحابہ کرامؓ جذباتی ہورہے تھے لیکن رسول اللہﷺ نے اپنی صوابدید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے عالم انسانیت کو حوصلے کا زبردست سبق سکھایا، فتح مکہ کے موقع پر دشمن زیردست تھے مگر رسول اللہﷺ نے دشمن سردار ابوسفیانؓ کو عزت بخشی، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کاش ! نبی ﷺ کے پاس پہنچنے سے پہلے میرے ہاتھ لگ جاتا تو اسکی گردن اڑا دیتا، جب حضرت ابوبکرؓ کی خلافت قائم ہوئی تو حضرت ابوسفیانؓ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ ’’ ابوبکرؓ ایک کمزور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اسکو مل کرہٹاتے ہیں، آپ خلیفہ بن جائیں، میں تمہاری مدد کرتا ہوں‘‘۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’ابھی تک تمہارے دل سے اسلام کی دشمنی نہیں نکلی ہے؟‘‘۔ حضرت عمرؓ نے امیرمعاویہؓ کی صلاحیت کی وجہ سے وہ ذمہ داری سپرد کردی ،جس پر پہلے سے ایک مکی صحابیؓ مأمور تھے، جن کو رسول اللہﷺ نے مقرر کیا تھا۔
حضرت عکرمہؓ بن ابوجہل نے اسلام قبول کیا تو دل میں بھی باپ کی شکست پر خفا نہ ہوئے اور نہ اپنی اولاد میں دشمنی کا کوئی خواب چھوڑا، اسلئے کہ ابوجہل مردانہ وار لڑا اور بدر میں قتل ہوا، لڑنے میں کوئی مارا جائے یا دوسرے کو مار دے، اس میں عزت کی خرابی کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے، اسکے برعکس ابوسفیانؓ کے قصے روایات کا حصہ ہیں، یزید نے بھی ضرور سنے ہونگے، اسلئے کربلا کے واقعہ کے باوجود اس کا دل ٹھنڈا نہ ہوا، اس کے علاوہ روایات میں اہلبیت کے مقابلے میں بھی سفیانی کا ذکر ہے ایک روایت میں تین سفیانی کے مقابلے میں تین مہدیوں کا ذکرہے۔
جنرل ایوب نے میر جعفر کے پوتے سکندر مرزاکو صدارت سے ہٹاکر بنگال کو علیحدہ کرنے کی بنیاد ڈالی، ذوالفقار علی بھٹو نے لسانیت کو ہوا دینے کی بنیاد رکھ دی ۔ جنرل ضیاء نے فرقہ واریت و لسانیت کی آبیاری کی، پرویزمشرف نے تناور درختوں کے پھل کھائے، دنیا نیوز کے اینکرکامران شاہدنے ایک پروگرام میں دکھایا کہ ISI ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر اس کے ختنہ کی تصویر لے رہے تھے تاکہ اس کو ہندو اور کافر ثابت کیا جاسکے۔ یہ بھونڈی حرکت اس قائد عوام سے روا رکھی گئی جس نے بڑی تعداد میں انڈیا سے گرفتار فوج کو آزادی دلائی تھی اور کراچی میں ہتھیار ڈالنے والے جنرل نیازی کا شاندار استقبال کروایا تھا۔ جنرل ضیاء کے سیاسی فرزند اور پاک فوج کے خود ساختہ رہبر صحافی ہارون الرشید میں قربانی کااتنا جذبہ تھا کہ کامران شاہد کو کہہ سکتے تھے کہ کیمرہ مین نے اصل میں انکے دماغ کا ایکسرے کیا ہے ، یہ ا سکے سر کی تصویر تھی، ہارون الرشید تو اب بھی کہے گا کہ’’ ختنہ سے کیا ہوتا ہے ،بھٹو تو ہندو تھا‘‘۔
کامران شاہد کے پروگرام میں جوابدہ کے افتخاراحمد نے جنرل راحیل شریف کی تعریف شروع کی تو ہارون الرشید کا فق چہرہ دیکھنے کے قابل تھا، عجیب قسم کی آہ بھی نکلی مگر جب افتخاراحمد نے کہا کہ جنرل راحیل کو توسیع نہیں لینی چاہیے تو ہارون کی جان میں جان آئی۔ شہبازشریف کامران کیانی کے ساتھ کرپشن کرپشن کھیلتا تھالیکن ہارون الرشید اور شریف برادران کو صرف زرداری کی کرپشن کا وایلا مچانا آتاتھا۔ اگر عوام کو شعور نہیں دیا گیا تو کینسر کی حیثیت رکھنے والے سیاستدان اور چاپلوس صحافی پاکستان کو ہر محاذ پرکافی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ جو صحافی ہیجڑوں کی طرح حرکات کرتے ہیں ان کی وجہ سے عوام میں کبھی شعور بیدار نہ ہوگا۔
جب جنرل نیازی مرحوم نے ہتھیار ڈال کرانڈیا کے سامنے پاکستان کی ناک کاٹ دی تو حکومت اور ریاست اس کو اپنے ملک میں لانے کی بجائے بھارت سے سیدھا کسی دوسرے ملک میں بھیج دیتے، کراچی میں استقبال کی بجائے چند ٹماٹر کے وار بچوں سے بھی کروادئیے جاتے تو عوام کا شعور اجاگر ہوتا۔جنرل نیازی کے استقبال کیلئے کراچی کے جو بے شعور عوام نکلے تھے ،یہی تو الطاف حسین کے مرید ہیں؟۔ آدھا ملک ڈبونے سے زیادہ کیا نشہ کے نعروں کا حساب ہوسکتا ہے؟۔جب ریاست شعور بڑھانے کا اہتمام کریگی پھر پیروں، فقیروں اور لیڈروں کے جھانسے میں بھی لوگ نہیں آئیں گے۔ صحافیوں نے پیسہ نہیں کھایا ہے تو کچھ اس طرح کا سوالنامہ مرتب کریں کہ ایم کیوایم کے لوگوں کو عدل واعتدال نظر آئے۔
طالبان نے پورے پاکستان میں قتل وغارتگری کا بازار گرم کرکے جی ایچ کیو، آئی ایس آئی ملتان، مہران کراچی سے لیکر کیا کچھ نہیں کیا؟۔ اس وقت پاکستان کا درد رکھنے والے وہ رہنما کہاں تھے جو ہاتھ میں تسبیح لیکراداکارہ کی طرح میک اپ کرکے سج دھج کر ٹاک شوز میں بیٹھتے ہیں؟۔ ڈاکٹر عامر لیاقت پر رحم آرہا تھاجب یہ منظر دکھایا جاتا تھا کہ صحافی اس کا چھلکا اتار رہے ہیں، اسی سے مجبور ہوکر اعلان کردیا کہ ’’میں نے سیاست چھوڑ دی ہے‘‘۔ اگر وہ اتنی بات کرتا کہ میں فوج اور ایم کیوایم کے درمیان دوریاں ختم کرنا چاہتا تھا لیکن یہ میرے بس میں نہیں،یہ میری اوقات نہیں کہ کردار ادا کرسکوں تو بہتر ہوتا۔ اس نے ایک آنکھ ایم کیوایم کے کارکنوں کو ماری کہ ’’ میں غدار ہوں، اپنی اوقات دیکھ لی، تمہارے لئے کام نہیں کرسکتا‘‘تو دوسری اسٹیبلشمنٹ کو ماری کہ ’’بول نہیں سکتا لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، ایم کیوایم الطاف کے بغیر چل نہیں سکتی اور رابطہ نہ رکھنا بس میں نہیں‘‘۔
اب تو لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت پر دباؤ پڑجائے کہ تم مذہب کا نام کیوں لیتے ہو؟۔ عالم آن لائن پروگرام کیوں کیا؟۔ تو بیگم نواز ش علی کی طرح خاتون کا کردار ادا کر کے بہترین ڈانس بھی دکھائے گا اور کہے گا کہ میں تو مذہب کو بھی اسی پیشے کی طرف ہی لارہا تھا۔ اگر صحافی اسکے پیچھے نہ پڑتے تو ایم کیوایم میں رہ کر اچھا کردار ادا کرسکتا تھا۔ خواجہ اظہار سے ترجمانی کی اس میں زیادہ صلاحیت ہے مگر صحافیوں نے اس کو نہ ادھر کا چھوڑا نہ ادھرکا، حالانکہ دونوں کو ضرورت تھی۔
نوازشریف نے بھارت میں جاکر کھلے عام اپنے فوج کی مخالفت کی تھی، کیا یہ رویہ الطاف حسین کی طرف سے اپنے کارکنوں میں نشہ سے دھت ہوکر بکواس کرنے سے کم ہے؟۔ عمران خان نے اسوقت جب ضرب عضب آپریشن ابتدائی مرحلہ میں تھا، دھرنے کے دوران کہا کہ ’’پنجاب پولیس کو ہم طالبان کے حوالہ کردینگے‘‘۔ حکیم اللہ محسود کی ویڈیو کلپ ’’سلیم صافی‘‘ نے جرگہ میں دکھائی تھی جب وہ قاضی حسین کو مسلمان نہیں قوم پرست قرار دے رہا تھا، اسلئے کہ امریکہ کے اتحادی افغان فوج اور پاک فوج میں تفریق کرنا اسلام نہیں قوم پرستی ہے لیکن طالبان قیادت سے شہباز اور چوہدری نثار کی ہمدردیاں کسی تعارف کی محتاج نہ تھیں۔ چوہدری نثار نے بار بار میڈیا پر اس بات کو دہرایا کہ پرویزمشرف چیف آف آرمی سٹاف تھے تو لندن میں الطاف بھائی کو مروانے کا منصوبہ بنارہے تھے مگر میں نے روکا کہ ریاست بدنام ہوگی۔
کراچی میں پولیس اور میڈیا پر ایم کیوایم کے کارکنوں نے حملہ کیا اور اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پولیس کے افسر اور پی ٹی وی پر بھی حملہ کروایا گیا لیکن عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں۔ الطاف حسین کا دماغ بہت خراب ہے اسلئے اپنوں نے بھی اس سے دستبرداری کا اعلان کیا لیکن وہ سیاست میں نوازشریف ، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرح نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کو دیکھ لیں ، جس کا شمار ایم کیوایم کے بانیوں میں ہوتا ہے، مشکل حالات میں متوازن فیصلے کرکے پاکستان میں سیاست کی نئی بنیاد رکھ دی ہے۔
اگر جنرل راحیل شریف الطاف حسین کو پیار سے پاکستان لائیں تو اس کو ایسا ہی ماحول مل جائیگا جس سے نہ صرف سندھ کے شہری علاقوں بلکہ پاکستان میں بھی نئے انداز کی سیاست کا آغاز ہوجائیگا۔ جب طالبان کو موقع دیا گیا تو ایم کیوایم کے قائد کو بھی ضرور یہ موقع ملنا چاہیے۔ امید ہے کہ مثبت تبدیلیاں اسکے ذریعہ آئیں گی۔عتیق گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار کا اظہار لاتعلقی ایم کیوایم کا سقوطِ ڈھاکہ

میری اس سقوطِ ڈھاکہ سے 2،3 دن پہلے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات ہوئی اور ان کو مشورہ دیاکہ اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت کا فائدہ نہیں، بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کرکے بڑے جلسے میں اعلان کریں کہ’’ جتنے ہمارے کارکنوں کو پکڑ لیا ہے، اتنے اور بھی گرفتار کرلیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں البتہ پورے ملک میں یہ تأثر ہے کہ پنجاب کا مخصوص علاقہ ،ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہے جس میں دوسروں کی نسبت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔یوسف رضا گیلانی کا تعلق پیپلز پارٹی اور سرائیکی مرکز ملتان سے تھا تو اس کو صدر کیخلاف خط نہ لکھنے پر عدالت کی طرف سے سزا ہوئی اور نااہل قرار دئیے گئے مگر اصغر خان کیس میں نواز شریف مجرم ہے لیکن عدالت اس کو باقاعدہ سزا نہیں سناتی ہے کیا یہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ، لاہور اور ملتان میں تفریق نہیں؟۔ سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرینگے کہ نوازشریف اگر لاڈلہ نہیں اور تختِ لاہور امتیاز نہیں رکھتا ہے تو دونوں میں اتنا بڑا اور واضح فرق کیسا؟‘‘۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس ایم کیوایم جتنی طاقت نہیں، اس احتجاج سے بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، سرائیکی بیلٹ کی ہمدردی ساتھ ہونگی۔ ایم کیوایم کی سیاست، کارکنوں اور ہمدردوں کا رُخ پلٹے گا، اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت کا ماحول بھی نہ رہیگا، کراچی کی عوام میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت ہے ، لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ نوازشریف تسلی کراچکے ہیں کہ ہم آپ کیخلاف نہیں، فوج تمہیں نہیں چھوڑرہی ۔ 12مئی کے واقعہ میں پرویز مشرف کی ہم نے حمایت کی لیکن پتہ نہیں پھر قتل وغارت کا بازار گرم ہوا، ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہوا؟۔ پھر ساری سیاسی جماعتوں نے ہمارے خلاف متفقہ فیصلہ کیا کہ ہم سے وہ اتحاد نہیں کریں گے۔ اب پھر ہم استعمال ہوجائیں تو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن جائیں۔ فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں ہمارے حق میں آواز اُٹھائی، شاہ زیب خان زادہ نے بھی اس پر پروگرام کیا، نوازشریف میڈیا پر بھی خرچہ کررہا ہے اور فوج کی اکثریت کو بھی ہمنوا بنالیا ۔ ہماری بھی تسلی کرائی ہے تو ہم کیوں استعمال ہوں؟۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک مرتبہ جنرل احسان کو الطاف بھائی کے پاس بھیج دیا جائے تو وہ بالکل بدل جائیں گے، پوری قوم نے دیکھا کہ وہ بار بار بدل جاتے ہیں، بس ذرا سی عزت اور پیار سے ہاتھ پھیرنے کی دیر ہے، میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ الطاف بھائی سب کچھ بھول جائیں گے، جو کریمنل ہیں انکی ہم خود بھی حمایت نہیں کررہے ہیں ، پرامن کراچی ہماری بھی چاہت ہے، جو بے گناہ ہیں انکے ساتھ زیادتی نہ ہو، ایسے مجرم جنہوں نے وہ جرم نہ بھی کیا جس میں سزا ہوئی لیکن دوسرے جرائم کئے ہوں تو بھی انکی سزا پر ہم احتجاج نہیں کررہے ہیں ہم صرف بے قصور لوگوں کیلئے آواز بلند کررہے ہیں، جن کو پہلے مارا جاچکا ہے پتہ ہے کہ میرے کواڈینیٹر کے قاتل کو سزا نہیں ہوسکتی، ہم آئندہ بے گناہوں کو بچانے کی فکر کررہے ہیں۔ یہ لڑائی ہماری خواہش پر نہیں ہے اور نہ ہمارے حق میں ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہمارے مفاد میں نہیں اور دوسرے اس کا فائدہ اٹھارہے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر فاروق ستار اچھے ہیں یا بُرے؟ ، وہ تو اسکے اعمال لکھنے والے فرشتوں کو معلوم ہوگا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس نے بہت دباؤ کے باوجود خود کوبڑی شخصیت ثابت کیاہے، بہتوں کواس دباؤکا سامنا کرنا پڑتاجسکا ڈاکٹر فاروق ستار نے سامنا کیا تو ان کی شلوار یں ایک لیٹر پیشاب،ایک کلو پوٹی اور ایک کلو گیس کی بدبو سے ٹاک شوز کی محفلوں کو کشت زعفران بنا دیتیں، مہاجرقوم اور ایم کیوایم کے حقیقی قائد ، رہبر اور رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے خود کو ثابت کیا۔ ایک مشکل ترین وقت کے کٹھن لمحات میں جس جرأت، بہادری، ثابت قدمی، تحمل وبربادی کا مظاہرہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کیا ہے، انکے حوصلے پر رشک آتا ہے، اگر دنیا کا بڑا انعام ’’نوبل‘‘ ہے جو ملالہ یوسف زئی کو آدھا ملا ہے تو ڈاکٹر فاروق ستار پورے انعام کے مستحق ہیں ۔
طالبان دہشت گردوں کا دور تھا تو میاں افتخار حسین نے اس سے زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا مگراسوقت کی اسٹیبلشمنٹ اور اسکے ہیجڑے چہیتے وطن وقوم سے محبت رکھنے والوں پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگارہے تھے، جیوٹی وی چینل پر کیا کیا الزامات لگتے تھے، ہاتھ میں تسبیح لیکر صلواتین سناکرغلیل سے خواتین صحافیوں کو کنچے مارتے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وزیراعظم نوازشریف، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین ، میڈیا کے صحافیوں کو چاہیے کہ وہ سب مل کر ڈاکٹر فاروق ستار کیلئے نوبل انعام کا مطالبہ کریں۔ اس شخصیت نے ایک ساتھ ایم کیوایم کے کارکنوں کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر الطاف حسین سے جو اعلانِ لاتعلقی کیا، الطاف حسین کی ناراضگی مول لی، کارکنوں کے اشتعال کو بالائے طاق رکھا، مغلظات بک کر بھونڈے پن سے اپنی جان کی امان نہ لی، بدترین میڈیا ٹرائیل کا بہترین انداز میں اپنے اعصاب پر قابو رکھ کرعدل وتوازن سے سامنا کیا، یہ قدرت کی بہت بڑی عطاء اور نوازش ہے۔اس موقع پر میں ڈاکٹر فاروق ستار کو دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان لوگوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جو گیدڑ اور گدھ کی طرح موقع کا فائدہ اٹھاکر بزدلی سے اپنا شکار کھیلتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : الدین النصیحۃ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘ ۔
دینِ اسلام انسانیت کا علمبردار ہے، جب حضرت سیدا لشہداء امیرحمزہؓ کو شہید کرکے کلیجا نکال کرچبایا گیا تو سرکارِ دوعالمﷺ نے فرمایا کہ ’’ میں انکے 70 افراد سے یہی سلوک کروں گا‘‘۔صحابہؓ انتقام کے جذبے سے سرشار تھے ،اللہ نے فرمایا کہ ’’ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ تم اعتدال سے ہٹ جاؤ‘‘ اور فرمایا کہ ’’ جتنا انہوں نے کیا ہے، اتنا تم بھی کرو،اور اگر معاف کردو، تویہ تمہارے لئے بہتر ہے، اور معاف ہی کردو، اور ان کو معاف کرنا بھی تمہارے بس میں نہیں، ہماری توفیق سے یہ ممکن ہے‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ حضرت امیرحمزہؓ کو شہید کرنے والے وحشیؓ کو ہدایت سے نوازا، کلیجہ چبانے والی ہندؓ کو بھی ہدایت کا تمغہ دیا، اس نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ پہلے مجھے دنیا میں آپ سے زیادہ کسی سے نفرت نہ تھی اور آج آپ سے بڑھ کر محبوب چہرہ کسی کا بھی نہیں ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ سامنے کی طرف مت بیٹھو، تجھے دیکھ کر اپنے چچا امیر حمزہؓ شہید کا چہرہ یاد آتا ہے اور مجھے اذیت ملتی ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی سیرت کو اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔
پیار اور انتقام کے جذبات کے پیچھے کار فرما عوامل کچھ بھی ہوسکتے ہیں، وحی کے نزول کا امکان نہیں، ہم نے قرآن و سنت کو مشعلِ راہ بناکر پاکستان سے مسلم اُمہ اور عالمِ انسانیت کی رہنمائی کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے، باصلاحیت قائدین، عوام ، فوج اور وسائل کی ہمارے پاس بالکل بھی کمی نہیں ۔الطاف بھائی کی باتوں کونظر انداز کریں، کل وہ پھر رو رو کر کشمیریوں کے حق میں دعائیں، بھارتی فوج کو بد دعائیں دیگا، پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے میں دیر نہ لگے گی۔ پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑکر کشمیر کی آزادی اور دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے خود بنفسِ نفیس پاکستان آجائیگا۔ایم کیوایم سے لاتعلقی کا اعلان کرنیوالی ارم عظیم فاروقی نے خوب کہا کہ ’’ مجھے مصطفی کمال کو بھائی کہنے پر ایم کیوایم نے معطل کیا مگر میں ایک سیدزادی ہوں، خاندانی بیک گراؤنڈ رکھتی ہوں، بدتمیزی سے بات کرنے کی میری تربیت نہیں ہوئی ہے، میں ایم کیوایم چھوڑ چکی ہوں، دوبارہ واپس نہ آؤں گی، الطاف کو بھی بھائی ہی کہونگی، دوسری پارٹی میں شامل ہوکر خودکو پارٹیاں بدلنے والوں کی فہرست میں شا مل نہ کروں گی،میرے لئے پاکستان سب پر مقدم ہے‘‘۔ عتیق گیلانی

ایم کیوایم کو بحران سے نکالنے میں مدد کی ضرورت

ایک بہت بڑا طبقہ اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیوایم کی مخاصمت سے فائدہ اٹھاکر بہت بڑی سازش میں مصروف ہے، پاکستان برطانیہ سے الطاف حسین کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو برطانیہ کے کرتا دھرتا حکام کو ہنسی آتی ہوگی کہ جب ایم کیوایم کے کارکن کراچی میں خون کی ہولی کھیلتے تھے، اس وقت تو تمہاری اسٹیبلشمنٹ، حکمرانوں اور صحافیوں نے کچھ دباؤ ڈالنے کی بات نہیں کی، اب خالی مردہ باد کے نعرے لگانے پر اتنا طیش آگیاہے؟ اگر بالفرض برطانیہ نے الطاف حسین کو ملک بدر کرکے امریکہ بھیج دیا اور وہ امریکی شہری بن گئے تو جس طرح ریمنڈ ڈیوس نے عدلیہ ، اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی ومرکزی حکومتوں کے چہرے پر کالک مَل دی اور قتل کرکے امریکہ جانے میں کامیاب ہوا، اسی طرح امریکہ الطاف حسین کو کراچی میں کھڑا کردے ،چیلنج سے کہہ دے کہ یہ میرا شہری ہے اور اس کیساتھ زیادتی ہوئی تو میں فوجی اور USایڈ بند کردوں گا ، تو لوگ دیکھیں گے کہ ہمارا وہ غیرتمند طبقہ جو آج اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کل یہی لوگ دُم اٹھا اُٹھاکر کہیں گے کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں الطاف بھائی آپ بہت اچھے ہیں، یہاں اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں اور صحافیوں کو رویہ بدلنے کا زبردست تجربہ ہے۔ ایم کیوایم کے منحرف رہنماایک زندہ اور تابندہ مثال ہیں۔
جنرل راحیل شریف اور اسکی موجودہ ٹیم نے پاکستان کو بدلنے میں بڑی قربانی دی۔ طالبان، بلوچ قوم پرست، پنجابی فرقہ پرست اور کراچی لسانیت پرست دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اور یقینااوندھی پڑی ریاست کی ٹوٹی ریڑھ کی ہڈی کو جوڑ کر کھڑا کیا ہے۔ پختونخواہ میں لوگ طالبان کے خلاف،بلوچستان میں قوم پرستوں، پنجاب میں فرقہ پرستوں اور کراچی میں الطاف حسین کے خلاف بول نہیں سکتے تھے۔ اپنے کرپٹ فوجی افسران کے خلاف بھی کاروائی کی ہے اسلئے کہ وہ خود کرپٹ نہیں ہیں۔ نواز شریف اور زرداری خود کرپٹ ہیں اور عمران خان بھی اپنے کرپٹ ساتھیوں کی بدولت وہ اسٹیٹس کو بنارہا ہے جس کو توڑنے کا دعویٰ کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی اُٹھان نوازشریف کی بغل میں ہوئی اور پاک سر زمین پارٹی کی قیادت جس کی پروردہ ہے اسی کو گالیاں دے رہے ہیں۔
جنرل راحیل شریف سیاسی ذہنیت نہیں رکھتے ، وہ خالص پیشہ وارانہ خدمات پر توجہ دیکر قوم کی کشتی کو پار لگانے کی مخلصانہ کوشش کررہے ہیں، ان کو سیاسی حکمت عملی کا بھی مظاہرہ کرنا ہوگا، نوازشریف نے بے تحاشہ قرضے لیکر میڈیا کو اشتہارات کے ذریعہ رام کیا ہوا ہے، جب کوئی تابعدار جرنیل آئیگا تو میڈیا کو پیسہ نہیں طاقت کے ذریعہ رام کریگا۔ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں شروع سے طالبان اور ایجنسیوں کیخلاف یہی بات کررہا ہے جو اس نے وکلاء کے سانحہ پر کی ، مولانا محمد خان شیرانی کا بھی شروع سے جو مؤقف تھا اس کود ہرایا ہے، جیواور جنگ نے اپنا مفاد سمجھ کر اس خبر کی ایسی تشہیر کی جیسے حامد میر کے زخمی کیے جانے پر ڈی جی ISI ظہیر الاسلام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ایبٹ آباد میں اسامہ کیخلاف امریکی آپریشن کے بعد جیو نیوز اور باقی چینلوں پر امریکہ کے سوال کو بہت اچھالا گیا کہ ’’پاکستان کی ایجنسیاں جرم میں ملوث ہیں یا نااہل ہیں؟۔‘‘ جسکے جواب میں ہم نے جیو سمیت تمام ٹی وی چینلوں کو مسیج کردیا کہ ’’ 9/11کاواقعہ امریکہ کے ملوث ہونے کی وجہ سے تھا، یا اس کی نااہلی تھی؟۔‘‘ جو بیشتر چینلوں نے اٹھایا اور اس کی وجہ سے امریکہ کا توپخانہ بند ہوا، دیکھا جائے کہ کس نے پاکستان کے دفاع کو کیوں ترجیح نہ دی تھی؟۔
ایم کیوایم نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اس بات کا ثبوت دیا کہ واقعی نوازشریف نے ان کو کھڈے لائن لگانے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ میں نے ڈاکٹر فاروق ستار سے یہ بھی کہا کہ’’ سیاسی جماعتیں آپکی ہمدرد نہیں‘‘ لیکن انہوں نے مجھے فوج کا نمائندہ سمجھ کر اپنے کام کو جاری رکھنے کو ترجیح دی، پھر وہ ہوا، جس کی میں نے پیش گوئی کردی تھی، اے آر وائی کے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا کہ ’’پانی نکالنے سے کنواں صاف نہ ہوگا جب تک کتا نہیں نکالا جائے‘‘۔ پھر پیمرا کے ذریعے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہی 45دن کی پابندی لگاکر نکالا گیا۔ ایم کیوایم نے بھی حکومت کی طرح اے آر وائی کو ہی نشانہ بنایا۔ پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر کو اپنے بھائی نصیراللہ بابر کی طرف سے کاروائیاں کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں لگ رہی تھی اور اب انسانی حقوق پر آواز اٹھاکر ایم کیوایم کو کھڈے لائن لگایا۔
ایم کیوایم کیساتھ 1992ء کے آپریشن کے مقابلہ میں رینجرز کا رویہ کافی بہتر ہے،آج ایم کیوایم میں پہلے جیسی صلاحیت نہ رہی، اس کا بڑا کریڈٹ زرداری کو بھی جاتا ہے جس نے ایم کیوایم کو حکومت میں بار بار شامل کرکے اسکی ساکھ کوزبردست نقصان پہنچایا، جانثاروں میں وہ جان نہ رہی جو ایم کیو ایم کے کارکنوں اور رہنماؤں کا خاصہ تھا۔ جیوو جنگ کا نامور صحافی حسن نثارکہتا تھا کہ ’’ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین واحد سیاسی قائد ہیں جو اپنے کارکنوں کو ٹیچر کی طرح تربیت دیتے ہیں، باقی تو ساری سیاسی قیادت اور کارکن کچرہ ہیں‘‘۔ کیا حسن نثار مؤقف بدلے تو ایم کیوایم کے کارکن عظیم دانشور قرار دیکر یقین کرینگے کہ حسن نثار زبردست تجزیہ نگارہیں؟۔ اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر فاروق ستار اور اسکی ٹیم کو موقع دیکر بہت اچھا کیا ہے، صحافیوں اور سیاستدانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ رینجرز کے جذبات کو ابھار کر ایم کیوایم کیخلاف اپنا ذاتی عناد نکال لیں، فوج کو بھڑکانے کی بجائے ایم کیوایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی اصلاح کریں۔ ایم کیوایم کے بانی کو دھکیلنے کی بجائے علم ودانش کی نکیل ڈالیں۔
کراچی کے نومنتخب ناظم وسیم اختر نے بالکل درست کہا کہ ’’ مرد کے بچے ہو توپھر 12مئی کا مقدمہ پرویز مشرف پر چلاؤ‘‘۔ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر کو بڑھکانے کیلئے میڈیا پر یہ بیان بار بار چلایا گیا، پرویزمشرف پر مقدمہ ہو یا نہ ہو لیکن ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردئیے گئے۔ وسیم اختر نے طعنہ اور طیش دلانے سے کام نہ لیا ہوتا تو وہ خود کو کیسے مرد کا بچہ سمجھتا؟۔ وسیم اختر کی بات درست ہے کہ یہ لوگ مرد کے بچے نہیں جو پرویز مشرف پر مقدمہ نہیں چلاتے۔ یہ حقیقت ہے کہ فوج کے جرنیل مرد نہیں ریاست کے بچے ہوتے ہیں ، ریاست مرد یا باپ نہیں ماں ہوتی ہے۔اس میں بھی شک نہیں کہ ایم کیوایم کے علاوہ کسی نے یہ نعرہ نہیں لگایا کہ ’’جس نے قائد کو بدلا ، اس نے باپ کو بدلا‘‘۔ اسلئے کوئی ایسی جماعت نہیں جسکے رہنما اور کارکن ویسے باپ اور مرد کے بچے ہوں مگر باپ کام سے ریٹارڈ ہوسکتا ہے۔
البتہ سوال یہ ہے کہ کیا مرد کا بچہ ایسا ہوتا ہے کہ پرویزمشرف اور لندن میں بیٹھے اپنے قائد کے کہنے پر12مئی کے واقعہ میں کردار ادا کرے اور پھر کہہ دے کہ مجھ پر سیاسی مقدمہ ہے؟ کیا ایسے مرد کے بچے سے ریاست ماں کا بچہ ہونا بہتر نہیں ہے؟۔ کیا مرد ایسا ہوتا ہے کہ خود لندن میں بیٹھ کر اپنے چاہنے والوں کی جان ، مال، عزت، سیاست اور سب کچھ کو داؤ پر لگادے؟۔ ایم کیوایم کے جذباتی کارکنوں کو میں تہہ دل سے سلام پیش کرتا ہوں جو یہ بات سوچنے پر بھی اس وقت تیار نہیں کہ الطاف بھائی کو بُرا کہیں۔یہ بڑے بے غیرت قسم کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے جو کسی پر برا وقت آنے پر گرگٹ کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ ویسے تو قرآن میں زبردستی سے کلمہ کفر کہنے پر بھی اللہ نے معافی کی گنجائش کا ذکر کیا ہے لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی جان پر کھیل کر الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے ، کیونکہ جو جذباتی کارکن ہوتے ہیں ان میں سمجھ نہیں ہوتی ، اس کا کچھ بھی ردِ عمل آ سکتاتھا۔ اسلئے جذباتی کارکن ، ریاست اور صحافی ڈاکٹر فاروق ستار کو بہت رعایت دیں۔اتنا ان کو الطاف حسین کیخلاف مجبور کرنے سے ان کی اپنی بھی کوئی حیثیت نہ رہے گی۔ عتیق گیلانی

مہاجر کیا سوچ رہا، کیاسوچنا چاہیے؟:ایڈیٹراجمل ملک

اپنی مٹی پر دیوانہ بنا پھرتا ہوں لوگ کہتے ہیں مہاجر مجھ کو

Ajmal_Malik_Sep2016

کراچی، حیدر آباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی نمائندہ جمہوری جماعت متحدہ قومی موومنٹ ایم کیوایم پر بحران آیاتو مہاجر کیا سوچتے ہیں؟۔ اس کی تصویر سید شہزاد نقوی نے کارٹون کی صورت میں اپنے ذہنی تخلیق سے اتاری ہے، سید شہزاد نقوی کا تعلق ایم کیوایم سے بالکل بھی نہیں ، اس نے شکوہ کیا ہے کہ اپنی مٹی پر رہتا ہوں تو لوگ مجھ کو مہاجرکیوں کہتے ہیں؟۔جب ایک غیرسیاسی مہاجر یہ دیکھتا ہے کہ ایم کیوایم کے دفاتر اچانک مسمارکردئیے، وہ لوگ جو اپنے قائد کے خلاف معمولی بات پر جذباتی ہوجاتے تھے، اسی قائد کیخلاف عجیب الزامات، ہر قسم کی مغلظات اور پھرپور طریقے سے سرگرم ہیں، اب ایم کیوایم پاکستان نے بھی لندن سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے، مہاجر کہاں کھڑے ہیں؟، لوگ انکے بارے سوچ کیا رکھتے ہیں؟، یہاں پلے بڑھے، پاکستان اور کراچی کی گلیوں کے سوا کچھ دیکھا نہیں، پھر کیوں بے وطن مہاجر سمجھا جارہا ہے۔ کس قیمت پر یہ وطن اپنا ہی بن سکتا ہے؟، طالبان نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی لیکن ان کو پرائے ہونے کا احساس نہیں دلایا گیا۔
جے سندھ، بلوچ قوم پرست اور پاکستان کے گناہ میں شرکت نہ کرنے پر فخر کرنے والا مولانا فضل الرحمن، متحدہ ہندوستان کے حامیوں کی اولاد اسفندیارخان، محمود خان اچکزئی ، قائداعظم کو کافر کہنے والا مولانا مودودی اور مولانا احمدرضاخان بریلوی کی روحانی اولادآج سب پاکستانی مگر جنہوں نے ’’بن کے رہیگا پاکستان، بٹ کے رہیگا ہندوستان ‘‘ کے نعرے لگاکرقربانیاں دیں، ان کی اولاد کی محب وطن ثابت کرنے کیلئے کس طرح سے ناک رگڑوائی جاری ہے؟۔ شاہ زیب خانزادہ نے واسع جلیل سے کہاکہ ’’تم نے رضاحیدر کے قتل کا الزام اے این پی پر لگایاتو100پٹھان ماردئیے گئے، بعد میں پتہ چلا کہ لشکرِ جھنگوی نے ماراتھا‘‘ مگراس وقت تو ریاست نے کوئی کاروائی نہ کی ،حالانکہ الطاف حسین رو رو کے کہہ رہا تھا کہ ان بیچاروں کا کیا قصور تھا جن کو مارا گیا؟۔ 12مئی کا واقعہ بڑا تھا یا 22اگست کا؟۔طالبان نے کیا کچھ نہیں ، وہ خود قبول کرتے تھے کہ ہم کررہے ہیں ، ان کے ہمدرد کہتے تھے کہ نہیں یہ طالبان نہیں امریکہ کروا رہاہے؟، شہباز شریف طالبان سے کہتا تھا کہ ’’پنجاب کو نشانہ مت بناؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ’’را کاملازم کلبھوشن نوازشریف کے مِل ملازموں سے رابطے کی وجہ سے پکڑا گیا‘‘۔ کوئٹہ دھماکہ پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’بھارت کی را ملوث ہے‘‘تو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی روزمانہ جنگ میں سرخی لگی کہ ’’تم جھوٹ مت بولو یہ گھر کا معاملہ ہے، تم نے جو مسلح بردار تنظیمیں پال رکھی ہیں ، کیا یہ کرائے کے قاتل نہیں؟‘‘۔محمود خان اچکزئی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ’’میں پاکستان زندہ باد نہیں کہوں گا‘‘۔کسی نے بھی اپنے بیان سے توبہ نہیں کیالیکن الطاف حسین نے اپنا بیان واپس لیا، کسی کی جماعت نے اپنے قائد اور رہنما سے لاتعلقی کے اعلان کی زحمت محسوس نہ کی لیکن ایم کیوایم نے کھل کر اظہار لاتعلقی کیا۔کسی کاسرکاری عہدہ نہیں چھینا گیا مگر ایم کیوایم کے دفاتر بھی مسمار کردئیے گئے کیوں؟۔
مہاجر بے وطن خوار ہے، غدار ہے، بیکار ہے، ناہموار ہے، بیچار ہے، عبرت کا جھنکارہے؟ ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا لے کر شہر کی آبادیوں میں بھی اپنی آواز کو صدا بسحرا سمجھ رہاہے اور ہر روز ہر ٹی چینل پر نئے ایک سے ایک نیا شوشہ کھڑا کرکے ڈاکٹر فاروق ستار مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، الزامات کی برکھا برسائی جاتی ہے، روز نئے بادل اُمڈ تے اور چھٹتے ہیں، ژالہ باری کرکے مہاجروں کی نمائندہ منتخب قیادت کی بے توقیری کی جاتی ہے لگتا ہے کہ مہاجر آزاد نہیں مجبور ہیں، محب وطن نہیں غدار ہیں، پاکستانی نہیں بھارتی ایجنٹ ہیں۔ انکا جمہوری حق چھینا جارہاہے، نتائج بدلنے میں سرِ عام کوئی شرمندگی بھی نہیں ہورہی ہے۔ سارے اینکروں، ٹاک شوز، ملمع سازی کرنے والے ٹاؤٹ قسم کے مخصوص نام نہاد رہنماہم پر چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ ساری توپوں کارخ مہاجروں کی جانب موڑ دیا گیا ہے، بے یقینی کی کیفیت ہے، ایک زمانہ میں جیو اور جنگ کا جو حال کیا گیا تھا،اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے ایجنٹ، اہلبیت کے گستاخ، ملک کے دشمن اور ڈھیر سارے مقدمات کا نشانہ بن گئے۔ آج ایم کیوایم کی باری ہے تو کل مسلم لیگ (ن) کی بھی آئے گی۔ جمہوریت کی علمبرداری کیا صرف اسٹیبلشمنٹ کی وفاداری سے مشروط ہے؟۔ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہو، تو 100خون معاف،12مئی کیا بستیوں کے بستیوں کو آگ لگادے لیکن جب وہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نہ ہو تو پوری قوم اسکے ناکردہ جرائم کی سزا کھائے، الزامات بھگتے؟۔
مصطفی کمال نے کمال کیا کہ سب سن لیں، ایم کیوایم کے ووٹر خود کو لاوارث نہ سمجھیں ہم موجود ہیں انکے حقوق کیلئے لڑینگے؟۔فاروق ستار میں شروع سے شرافت کا ایک معیار ہے، مصطفی کمال جذباتی ہے کیا مہاجروں کو پھر جذبات کی رو میں بہائے جانے کاسلسلہ جاری رہے گا۔ آج وہ مصطفی کمال جو الطاف حسین کے خلاف ایک ذوی معنیٰ لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا، ایک ہیجان میں مبتلاء ہے، قاتل، لٹیرے، جن پر بھارت میں تربیت لینے کا الزام ہے وہاں پناہ لے رہے ہیں، آڑے تڑے کی زباں استعمال کی جارہی ہے، جس کاضمیر ہی قتل اور بہت سے الزامات کے اقرارِ جرم اور اعترافِ بد دیانتی میں پل بڑھ کر جوان ہوا ہو، کیااس کی غیرت جاگ گئی ہے تو اس کو مہاجر قوم کی قیادت سپرد کی جائے؟۔ مصطفی کمال تو چھوٹا الطاف ہی لگتا ہے، وہی تعلیم وہی تربیت، وہی ذہنیت، وہی معیار، وہی لہجہ، وہی درشتی، وہی الزام کا قرینہ اور وہی شخصیت بس ہوا کا رخ بدلا۔ مخلص ،معصوم،نڈر، جری، مثالی بہادر، جذباتی رونے دھونے والااور آسمان سے تارے لانے کا وہی طریقۂ واردات ، اگر ڈاکٹر فاروق ستار گستاخی ، لعن طعن اور 24گھنٹہ الطاف حسین سے رابطے کے باوجود خطرات سے دوچار ہے تو مصطفی کمال نے کس سے سلامتی کا تعویذ لیکر مہاجروں کی کشتی پار لگانے کیلئے ملاح کا کردار ادا کرنے کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے؟۔
خدارا! ڈاکٹر فاروق ستار کی زندگی داؤ پر لگانے کیلئے ٹی وی اسکرین پر اس کو ایسے الفاظ کہلوانا چھوڑ دو، جس سے اس کی زندگی خطرے میں پڑ جائے، جینا مشکل بنے، مار دیا جائے یا ڈاکٹر عامر لیاقت کی طرح ہتھیار پھینک دے، آخر عزت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے، شرم بھی نہیں آتی کہ ایک لا چار شخص کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑے ہو۔ عام لوگ ان سے کیا توقع رکھیں؟،جو ایم کیوایم کے دورِ عروج میں دم دبا کر بیٹھے رہے، طالبان کی پشت پناہی کرتے رہے اور پھر یکایک رخِ زیبا ایسا موڑا کہ گویا کبھی شناسائی ہی نہ تھی۔ ایم کیوایم کے قائد سے ایک طلاق اور تین طلاق کی باتیں منظر پر آرہی ہیں، حالانکہ پاک سرزمین پارٹی تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر ہی پاک ہوگئی ہے۔کیا نوازشریف کے ساتھی دانیال عزیز، طارق عظیم، طلال چوہدری اور عطاء مانیکا وغیرہ نے (ق) لیگ سے حلالہ کروایا تھا کہ دوبارہ نکاح میں آگئے ہیں؟۔تحریک انصاف میں کتنے لوٹے حلالہ پر حلالہ کرواکے شاہ محمود قریشی وغیرہ عزت سے بیٹھے ہیں لیکن مہاجروں کیساتھ آخر کار ایسا کیوں؟۔
اب نہ تو ملک چھوڑ کر جاسکتے ہیں، کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، چپ رہ بھی نہیں سکتے۔ باغی ہیں کیا اور غدار ہیں کیا؟۔ مہاجر نام نہ لیتے تو بے شناخت تھے سندھی مکھڑ، بلوچ پناہ گیر، پٹھان ہندوستانی کہتے تھے۔ نام لیا تو مجرم بن گئے، مہاجر قومی موومنٹ کو تحریک چلانے والوں نے نام بدل کر متحدہ کردیا، پھر حقیقی مہاجر قومی موومنٹ کو ریاست نے سپورٹ فراہم کی اور متحدہ بھی مجرم بن گئی، ایک نسخہ ناکام ہوتا ہے تو سنیاسی باوا نے دوسرا ٹریلر چلا کرقوم کی تباہی کا سامان تیار کر رکھا ہوتا ہے۔ اگر یہی روش ہے تو قانون بنایا جائے کہ پاکستان یا مہاجروں کی اپنی نمائندہ جماعت نہیں بن سکتی ہے اور جس نے سیاست کرنی ہو وہ اسٹیبلشمنٹ کے پیرول ، خواہشات اور طے کردہ منزل پر گامزن رہ کر ہی سیاست کرسکتا ہے، ہر نئے فوجی سربراہ کی طرف سے ایک نیا سرکلر جاری ہوگا جس میں ایک وضاحت ہوگی کہ اسٹیٹ کی پالیسی یہ ہے، طالبان کو سپورٹ کرنا ہے، ایم کیوایم کو سپورٹ ہے یا نہیں، بلاول بھٹو زرداری کب بلو رانی اور کب شہزادہ کہلائے، شیخ رشید کی زبانی معلوم ہوگی کہانی۔ جنرل ضیاء الحق کشمیر پر پالیسی بنائے تو مسلح تنظیمیں پالی جائیں، پرویز مشرف اپنے اقتدار کیلئے سہی لیکن کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹے تو جس پر مجاہدین کے کیمپ چلانے کا الزام تھا،وہ شیخ رشیدTV سکرین پر یہ وظیفہ باربار دہرائے کہ ’’مقبوضہ کشمیر کے لوگ مجاہدین سے بہت سخت تنگ تھے‘‘۔ مگر جنرل راحیل شریف کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ قرار دیکر اہمیت دے تو پھر پاکستان کیلئے یہ سب سے بڑا اہم مسئلہ بن جائے۔ مہاجر تو باعزت لوگ ہیں رنڈوے رشید کو کراچی میں اپنی تربیت کیلئے بھی نہیں بلا سکتے ہیں، کہتے ہیں کہ عمران کی بھی اس نے ریحام خان سے طلاق کرادی،نوازشریف پرویزمشرف سے ناراض ہوتے ہیں تو بلوچستان کیساتھ زیادتی کے حوالہ سے پیش پیش ہوتے ہیں اور حکومت میں ہوتے ہیں تو ان کو مولی گاجر کی طرح کاٹنے پر بھی آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔
مہاجر کس سے کیسی سیاست سیکھیں، جماعتِ اسلامی جنرل ضیاء الحق کے دور میں ٹاؤٹ کا کردار ادا کررہی تھی تو ہڑتال کیلئے رات کو گاڑیاں جلاکر شہر کو بند کردیا جاتا ، مخالفین کو تعلیمی اداروں میں تشدد کا نشانہ بایا جاتا تھا، اسلام کے نام پر جنرل ضیاء نے ریفرینڈم کرایا تو جماعتِ اسلامی اور تمام مذہبی فرقوں کے بڑے مدارس جنرل ضیاء الحق کو سراپا مجسمۂ اسلام قرار دے رہے تھے، تحریکِ انصاف کے عارف علوی نے اکیلے کراچی پولیس کا مقابلہ کرکے پیہ جام کروایا حالانکہ پولیس اس کی سپورٹ نہ کرتی تو کیا پھدی کیا چھدی کا شوربہ۔ ایسے ماحول میں مہاجر کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بھارت کی ایجنٹ ایم کیوایم نے آخر کونسے جہاز استعمال کرکے ایبٹ آباد کے امریکی کمانڈوز سے زیادہ کمال دکھایا کہ اتنے آفس بنالئے جو اچانک مسمار کر دینے کا فیصلہ ہوا، مہاجر کیا سوچے؟۔
مہاجرکو یہ سوچنا چاہیے کہ جو گلے شکوے اسکے دماغ میں بیٹھ گئے ہیں، ان کو نکال دے۔ کیا نوازشریف کی حکومت کے ہوتے ہوئے مارشل لاء نہیں لگا؟۔ نوازشریف نہیں روتا رہا کہ مجھے بھی ہتھکڑیاں لگاکر جہاز کی کرسی کیساتھ بھی باندھ دیا گیا؟۔ کیا اس پر کوئی گلہ شکوہ کرتا ہے کہ مہاجر بڑا سخت گیراور بے توقیری کرتا ہے؟۔ پرویزمشرف مہاجر تھا مگر انکی وجہ سے الزام مہاجروں کے سر نہ آیا ۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ، پنجاب میں ن لیگ کی صوبائی حکومتیں ختم کی گئیں، محمد خان جونیجو کی حکومت ختم کی گئی، بلوچستان میں نیپ کی حکومت ختم کرکے اکبر بگٹی کے ذریعہ گورنر رائج قائم کیا گیا، اپوزیشن کی ساری قیادت کو ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں ڈالا، بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ یہ تو جنرل ضیاء نے جمہوری حکومت قید کرکے جمہوری لوگوں پر غداری کے مقدمات ختم کیے ورنہ اپوزیشن کی ساری جمہوری جماعتیں قائد عوام بھٹو کے زمانے میں غداری کے مقدمہ میں تختۂ دار کو پہنچتیں۔ جب کراچی کے سیاہ وسفید کی مالک مہاجروں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم تھی تو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں اعلیٰ درجے کی تعلیم، تربیت، امن وامان ،روشن خیالی اور مذہب شناسی کے نمونے اور مثالیں قائم کرکے مہاجر پاکستان کے دوسرے لسانی کائیوں کے قابلِ تقلید بن سکتے تھے۔پاکستان میں بہت زبانیں ہیں جن کی تاریخ بڑی قدیم ہے، اردو کو پاکستان میں قومی زبان کا درجہ دیکر اردو بولنے والوں میں احساس پیدا کیا گیا کہ ’’تم حکمران ہو‘‘۔ ہجرت کرنے والے تو پنجاب ، پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی بہت ہیں، کراچی میں بڑی تعداد ان کی بھی ہے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں جوگھروں میں اردو کی بجائے دوسری زبانیں بولتے ہیں۔اردو اسپکنگ دوسروں کی طرح خود کو مہاجر نہ بھی کہلواتے تو میمن، چھیپا، مارواڑی، صدیقی، فاروقی ، عثمانی ، علوی ، سید اور اپنے اپنے پیشے اور قومیت سے اپنا تعارف رکھ سکتے تھے۔
مہاجر کہلانے میں بھی کوئی عیب نہیں، صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد مہاجروں کی تھی ،نبیﷺ بھی مہاجرین میں سے تھے۔ حضرت آدمؑ بھی جنت سے زمین پر مہاجر بن کے آئے۔ حضرت اسماعیلؑ بھی مہاجر تھے، قبائل تعارف کیلئے ہوتے ہیں، سب ایک آدم کی اولاد ہیں،زبان رابطے کا ذریعہ ہے۔آج کوئی برطانیہ، امریکہ، مغرب کے دیگر ممالک یا آسٹریلیا کی قومیت اختیار کرکے فخر کرتا ہے تو پاکستان بنا ہی مسلمانوں کیلئے تھا۔خاص طور سے ہندوستان سے آنے والوں کیلئے۔ وہاں وہ اقلیت میں تھے، نظریۂ پاکستان کی وجہ سے پڑوسیوں سے تصادم کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ پاکستان ایک خطۂ زمین ہے اس پر اسلامی نظام کے نفاذ کی ذمہ داری حکمران طبقہ اور علماء کرام پر تھی۔اردو اسپکنگ اپنی مادری زباں کی وجہ سے سب سے بڑھ کر کردار ادا کرسکتے تھے۔لوگوں نے نظام پر توجہ نہ دی اور نوکریوں باگ ڈور سنبھالنے اور مراعات کے چکر میں لگ گئے۔
پہلی مرتبہ آزادانہ انتخاب کا نتیجہ ادھر ہم ادھر تم نکلا، بنگلہ دیش الگ ہوا، فوج کو بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑگئے۔ بھٹو نے اقتدار سنبھالا ،تو170قابل ترین بیوروکریٹوں کو فارغ کیا اورکوٹہ سسٹم قائم کرکے پنجابیوں اور مہاجروں کا گٹھ جوڑ ختم کرکے سندھیوں کو پنجابیوں سے ملادیا۔ پھر جنرل ضیاء الحق نے ہتھوڑے گروپ سے لیکر کراچی کے لسانی فسادات تک پیپلزپارٹی کو مٹانے کا منصوبہ بنایا، جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا نورالہدی کو سات ماہ تک جیل رکھا، اسلئے کہ وہ پیپلزپارٹی کے جیالے شیخ نورالہدی مرحوم کو قید کرنا چاہتے تھے مگر بیوروکریٹ کمشنر نے اپنی جان فوجی دماغ سے چھڑانے کیلئے مولوی کو پکڑ کر بتایا یہ کہ ’’جیالا پکڑ لیا ہے‘‘۔ جب شیخ نورالہدیٰ پکڑ لیے گئے تو مولانا نورالہدیٰ کی جان چھوٹ گئی، ان کو چھوڑدیا گیا۔ اوریا مقبول جان خود بھی کمشنر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ سول بیوروکریسی ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مغالطہ دیتی ہے،اسلئے ملک کی حالت بہتر نہیں ہورہی ہے۔بیروکریسی کو سدھارنے کیلئے کون کام کرے گا؟۔
اچھی تعلیم کیلئے ایک زبرست ماحول کی ضرورت ہوتی ہے،پہلے طلبہ تنظیموں نے پھر یہ معیار کراچی میں ایم کیوایم کے عروج کی وجہ سے گرگیا، اب تو کوٹہ سسٹم کی ضرورت ہی نہ رہی ہے اور تعلیم کے علاوہ تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کے بغیر تعلیم سے کوئی معیاری معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا، تربیت کے بعد پھر تزکیہ بھی ضرورت ہوتی ہے، قوموں اور قیادت پراونچ نیچ کے ادوار آنے سے انسانوں کا تزکیہ ہوتا ہے۔ ایم کیوایم کے رہنما ؤں کو جب وقت ملا تھا تو عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آتے۔عاجزی ، انکساری، رواداری ، اخلاق ، مروت اور اچھا انداز اپناتے تو آج تیز وتند ، تلخ و ترش اور گھن گرج کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آزمائش اللہ تعالیٰ بڑے لوگوں پر ہی ڈال دیتا ہے لیکن یہ عذاب نہیں بلکہ گناہوں کی معافی اور تزکیہ ہے۔مہاجر کا شریف طبقہ ایک طرح سے یرغمال بناہوا تھا اس پر عام مہاجر کو پریشان نہیں خوش ہونا چاہیے۔ اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

معراج محمد خانؒ کی شخصیت سے سیاست بے نقاب ہوتی ہے ذوالفقار علی بھٹوؒ ، جنرل ضیاءؒ اور عمران خان کا پتہ چلتا ہے

معراج محمد خان بائیں بازو کے ،جاویدہاشمی دائیں بازوکے اچھے کردار وں کی علامت ہیں، تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دونوں کی فکر ونظر میں اختلاف ہوسکتا تھا لیکن خلوص وکردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ معراج محمد خان خود کو علماء حق کے پاؤں کی خاک کہنے پرفخر محسوس کرتے تھے اور جاوید ہاشمی نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی سے معذرت کرلی تھی کہ میں جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی جماعت نہیں مسلم لیگ جیسی سیکولر جماعت کے ساتھ ہی چل سکتا ہوں۔ معراج محمد خان کمیونسٹ مسلمان تھے اور جاویدہاشمی سیکولر مسلمان ہیں، ایک کادائیں اور دوسرے کا بائیں باز وسے تعلق اس بات کا ثبوت نہیں کہ انہوں نے اسلام سے رو گردانی کا ارتکاب کیا۔
یہ معراج محمد خان کا قصور نہ تھا جو کیمونسٹوں کی صفوں میں کھڑا ہوا، بلکہ یہ علماء سوء کا قصور تھا جنہوں نے مذہب کو پیشہ بنالیا۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور قائم کرلیاگیا اور اس پر عمل کیا گیا تو کمیونسٹ اور سیکولر لوگ اسلام کی آغوش میں ہی پناہ لیں گے۔ اسلام خلوص کا نام ہے، اسلام پیشہ نہیں دین ہے اور اسلام نے ہی دین میں جبر کومنع کیا ہے۔ جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر ختم کردیا کہ اسلام کوئی پیشہ ہے تو دنیا کی ساری کمیونسٹ پارٹیاں اسلام کے دامن میں پناہ لیں گی اور جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر قائم کرلیا کہ دین میں جبر نہیں تو دنیا کی ساری سیکولر قوتیں اسلام کی آغوش میں پناہ لیں گی۔ معراج محمد خان ؒ کے نام پر آرٹ کونسل میں ایک پروگرام رکھا گیاجو تقریروں اور اچھے جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینٹر کامریڈ تاج حیدر نے کہا کہ ’’معراج محمد خان کے حوالہ سے میں نے جومضمون لکھا ، کسی بھی نامور اخبار نے اس کو شائع کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ جب کسی کا نام آجائے تو ادارہ اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتا ہے‘‘۔
سنیٹر تاج حیدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جوگٹھ جوڑ تھا اس کا خاتمہ ہوا ہے ، اس صورتحال سے کمیونسٹ نظریات رکھنے والوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو نے ایک بڑا اچھا شعر بھی سنادیا کہ ’’حسینؓ کی عزاداری کاعشرہ ضرور مناؤ مگر وقت کے یزید کی طرفداری بھی مت کرو‘‘ اور سب مقررین نے اپنے خیالات اور جذبات کا اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ معراج محمد خان ؒ کے نام کیساتھ ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے لفظ کا اشارہ نا مانوس لگتاہے لیکن اللہ کی رحمت کی دعا کی اجاراداری ان لوگوں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے جو صرف مذہبی ماحول سے تعلق رکھتے ہوں۔ مذہبی طبقات صرف اپنے اپنے اکابر کے ساتھ یہ علامت لگاتے ہیں، ان کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مخالفین کیساتھ زحمت اللہ علیہ (زح) نہیں لگاتے۔ عوام کو ان مذہبی جہالتوں سے نکالنا بھی بہت بڑی جدوجہد اور جہاد ہے جن میں نامعقول مذہبی طبقات کی وجہ سے جاہل عوام مبتلا ہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولاناشاہ احمدنورانیؒ بڑے اور اچھے لوگ تھے لیکن معراج محمد خانؒ بھی کسی سے کم تر نہ تھے۔ جنرل ایوب خانؒ کے دور میں ذوالفقار علی بھٹوؒ جب جنرل صاحب کیساتھ تھے تو معراج محمد خانؒ نے ان کا مقابلہ کیا، جب بھٹو نے جنرل ایوب کا ساتھ چھوڑدیا تو اپنے سخت ترین مخالف بھٹو کا استقبال کیا اور اپنے کارکن بھٹو کے حوالہ کردئیے کہ اب ہمارا اختلاف نہ رہا ، راستہ درست چن لیا ہے تو ہم آپکے ساتھی ہیں۔ بھٹو کے دورِ حکومت میں معراج محمد خان کو وزارت ملی لیکن حکومت اور اپنی وزارت کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ جو راہ ورسم بنالی تھی اس کو نباہ رہے تھے مگر معراج محمد خان نے اپنے اصولوں سے وفا کی۔ پھر جب بھٹو نے سیاسی قائدین پر جیلوں میں بغاوت کے مقدمات چلائے تو معراج محمد خان بھی حکومت کی صف میں نہ تھا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کیساتھ جیل میں بندتھے۔
جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو معراج محمد خان نے بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد بھٹو کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا۔ معراج محمد خان کو جعلی سیاستدان بننے کی پیشکش ہوئی مگر معراج محمد خان نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگر معراج جنرل ضیاء کی پیشکش کو قبول کرلیتا تو جنرل ضیاء کو مذہبی طبقے اور اسلام کاسہارہ لینے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ جب ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو معراج محمد خان بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے بلکہ ساری جماعتوں نے معراج محمد خان کا نظریہ قبول کرکے ہی ایک مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھاجس میں جنرل ضیاء اتفاقی حادثے کا شکار نہ ہوتے توزیادہ عرصہ تک صرف تحریک ہی چلانی پڑتی۔ بھٹو نے بھی ایک آمر جنرل ایوب کی صحبت اُٹھائی تھی اسلئے آمرانہ سیاست ان کے دل ودماغ پر چھائی تھی جس کا ساتھ معراج محمد خان نہیں دے سکتے تھے، نوازشریف اصغرخان کی تحریک استقلال کا فائدہ اٹھاکر سیاست میں ڈالے گئے اور امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کے سپاہی بن گئے، جنرل ضیاء کی برسیوں پر بھی جنرل ضیاء کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے حلف اٹھایا کرتے تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعہ سے برسرِ اقتدار آنے والا نوازشریف اصغر خان کیس میں ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے، جس طرح کالا کوٹ پہن کر سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کیخلاف جنرل اشفاق کیانی کے ہمراہ کورٹ میں گئے، اسکے بعد وزیراعظم ایک ناکردہ گناہ کی وجہ سے مجرم بن کر نااہل قرار دئیے گئے یہ ہمارے اصحاب حل وعقد ، ریاستی اداروں، عدالتوں اور جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ ہے کہ نوازشریف کو سزا کیوں نہیں سنائی جارہی ہے۔
معراج محمد خان کو پہلی مرتبہ ایم آر ڈی کے جلسہ میں ’’نشتر پارک کراچی‘‘ میں دیکھا تھا، مدرسہ جامعہ بنوری ٹاؤن کا طالب علم تھا، مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے ہم نے جمعہ کی نماز بھی نشتر پارک میں قبضہ کی نیت سے پڑھی، زیادہ تر مقررین کو بولنے تک نہ دیا، شاید معراج محمد خان کو مولانا فضل الرحمن سے کہنا پڑا، کہ اپنے ورکروں کو خاموش کردو۔ جب کسی کا بولنا گوارہ نہ ہو تو اس کا سننا بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمن پر کفر کے فتوے لگانے والے مخلص نہ تھے اسلئے انکے فتوؤں کو کبھی اہمیت نہ دی، پیپلزپارٹی سے اتحاد پر جو مذہبی طبقات مولانا فضل الرحمن سے ناراض تھے ،انہوں نے پیپلزپارٹی کی طرف سے ایم آر ڈی کی قیادت کرنے والے غلام مصطفی جتوئی کو پھر اسلامی اتحاد کا سربراہ بنایا۔ چونکہ مذہبی طبقے اور موسم لیگیوں کا اتنا بڑا دم نہ تھا کہ وہ جنرل ضیاء کے باقیات کا حق ادا کرلیتے، اسلئے عوام کو دھوکہ دینا ناگزیر سمجھا گیا اور غلام مصطفی جتوئی کو قیادت سونپ دی گئی مگر جتوئی مرحوم پرا عتماد نہ تھا اسلئے اسٹیبلشمنٹ نے ان کو ناکام بناکرہٹایا اور نوازشریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔
نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے خلاف صدر غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھااور پھر اسی صدر کی وجہ سے خود بھی جانا پڑا،محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ نے صدارتی امیدوار کیلئے ایم آر ڈی (تحریک بحالئ جمہوریت) کے دیرینہ ساتھی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خانؒ کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھا۔ فضل الرحمن کو ایک اصولی سیاست کا امین سمجھا جاتا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلئے نوازشریف کی اوٹ میں پناہ لینا شاید ایک مجبوری ہو ، بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں، معراج محمد خان تنہائی کے شکار تھے اور تحریک انصاف کو ایک جماعت بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ میری پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان؟، یہ جوڑ بنتا نہیں ہے۔ معراج محمد خان نے اعتراف کیا کہ واقعی یہ اتفاق وقت کا بہت بڑا جبر ہے۔ عمران خان جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کا ساتھ دے رہا تھا تو معراج محمد خان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہونے کے باوجود مخالفت کررہے تھے۔ عمران خان نے معراج محمد خان کو برطرف کیا اور پھر قوم سے معافی مانگ لی کہ ریفرینڈم کی حمایت میری غلطی ہے۔
جس طرح عمران خان نے کھل کر قوم سے معافی مانگی لیکن معراج محمد خان سے راستہ الگ کرنے پر اپنے کارکنوں کو آگاہ نہ کیا کہ اتنی بڑی غلطی میں نے کی تھی اور سزا شریف انسان کو دی تھی اور یہ بڑی خیانت ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی اگر اپنے غلطیوں کا اعتراف کرکے معراج محمد خان کو منالیتی توپھر پیپلزپارٹی کی قیادت معراج محمد خان کے ہاتھ میں ہوتی اور قائدین کی وفات کے بعد پیپلزپارٹی کے نظریاتی بڑے قدآور رہنماؤں کا اجلاس ہوتا کہ کون سا نیا قائد منتخب کیا جائے؟۔ آج عمران خان کے چاہنے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ بھٹو کے بعد عمران خان عوامی قیادت کا حق اداکررہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ معراج محمد خان بھٹو اور عمران خان سے بذاتِ خود بڑے اور حقیقی قائد تھے، جب اہل قائد کو کارکن اور نااہل کوقائد بنایا جائے تو ایسی پارٹی کبھی اعتماد کے قابل نہیں ہوتی ۔ معراج قائدتھے مگر ان کوقائد کا درجہ نہ دیا گیا۔
معراج محمد خان کی یاد میں ہونیوالے پروگرام میں کامریڈوں کا غلبہ تھا،جناب میرحاصل بزنجو اور دیگر رہنماؤں نے معراج محمد خان کو خراج تحسین پیش کیا مگر اتنی بات وہ بھول گئے کہ روس کے نظام کی تعریف کرنے اور امریکہ کی مزاحمت کرنے والے معراج محمد خان نے طالبان کو سراہا تھا جنہوں نے ایک واحد قوت کے طور پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو چیلنج کیا۔ جماعتِ اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن پہلے کمیونسٹ کی بیج بونے والی تنظیم این ایس ایف میں تھے، جب سلیم صافی کو انٹریو دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی اگر طالبان کے خلاف لڑنے پر شہید نہیں ہوتے تو ان کے اتحادی پاکستانی فوج کو کیسے شہید کہا جاسکتا ہے؟‘‘۔ جس پر انکو جماعتِ اسلامی کی امارت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ اگر معراج محمد خان نے طالبان کی حمایت کی تھی تو جماعتِ اسلامی کے امیر نے ایک ہاتھ بڑھ کر حمایت کی تھی۔
سید منور حسن اور معراج پرانے ساتھی اور پھر حریف رہے لیکن اس بات پر متفق ہوگئے کہ طالبان نے سامراج کو چیلنج کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ۔ جماعتِ اسلامی سے میرحاصل بزنجو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل مکھن کا بناہوا نہیں ہوسکتا، یہ درست ہے لیکن غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے تو حقوقِ انسانی کے حوالہ سے متضاد و متفرق قوتوں کے درمیان مفاہمت کی راہ بنائی جائے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ مولوی اور طالب سرمایہ دار کا مکھن کھاکر کمیونسٹوں پر فتوے لگارہے ہیں ، اب تو پتہ چلا ہے کہ مکھن کھانے کی وجہ سے نمک حلال کرنے کا الزام غلط ہے، سرمایہ دارانہ نظام پر لرزہ طاری ہے، مرنے مارنے سے سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ یورپ و امریکہ اور مغرب ومشرق میں ایک خوف کی فضا ء گنتی کے چند افراد نے طاری کر رکھی ہے۔
روس کے خاتمہ سے کمیونسٹوں میں وہ دم خم نہیں رہا ہے اور یہ بات درست ہے کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان غیرفطری اتحاد ختم ہوگیا ہے، کہاوت ہے پشتو کی کہ ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے میری رات ہوگئی‘‘۔ معراج محمد خان اگر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑنے میں پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے بجائے جماعتِ اسلامی یا جمعیت علماء اسلام میں جاتے تو شاید وہ بھی ان جماعتوں کا قائد بنتے اور خلوص وکردار کے مرقع معراج محمد خان کے جنازے میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی طرح تمام فرقوں اور جماعتوں کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی۔ کمیونسٹوں سے معذرت کیساتھ وہ مذہب کو نشہ قرار دیتے ہیں لیکن چرس کا نشہ کرنے والے پھر بھی کچھ کام کاج کے قابل رہتے ہیں کمیونسٹ تو ہیروئن پینے والوں کی طرح بالکل ہی ناکارہ بن جاتے ہیں اور کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری یورپ و مغربی ممالک کے انصاف کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ لعنت تو مغرب سے ہی آئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ ہونے دی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دی۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، سوڈان اور کتنے سارے مسلم ممالک تباہ کردئیے گئے اور پھر صرف اعتراف جرم کیا حالانکہ سزا بھی ہونی چاہیے۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت پر معذرت کافی نہ تھی، برطانیہ کی طرح عراق کے معاملہ پر اعترافِ جرم کوکافی نہ سمجھنا چاہیے تھا بلکہ معراج محمد خان کو قیادت سونپ دینی چاہیے تھی۔ برطانیہ کو بھی چاہیے کہ اپنے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو باقاعدہ سزا بھی دے، ورنہ عراق میں تباہ ہونیوالے خاندان نسل درنسل اپنا انتقام لینے کیلئے برطانیہ کی عوام کو نہ چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جس طرح اسلام آباد میں ایک پولیس افسرایس ایس پی کو پٹوایا تھا ،اسی طرح دھرنے کے دوران خود کو سزا کیلئے پیش کردیں اور اسلام آبادایئرپورٹ پر جس طرح کارکنوں نے پولیس والوں کی ناک وغیرہ توڑ کر پٹائی لگائی تھی، اسی طرح ان کے رہنماؤں سے بھی ان زخموں کا بدلہ لینے کیلئے پیش کیا جائے تو شاید انکے برگشتہ مرید شریف برادران کا ضمیر بھی جاگ جائے اور وہ خود کو قصاص کیلئے پیش کریں۔
قوم طبقاتی تقسیم کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے، کراچی میں اگر معراج محمد خان کیخلاف مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ مل کر میدان نہ مارتے تو آج قوم پرستی کی بنیاد پر کراچی میں خون خرابے کے بعد شریف لوگوں کی بجائے گھٹیا قسم کا ماحول نہ بنتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن، پنجابی سٹوڈنٹ فیدریشن، سندھی سٹودنٹ فیڈریشن اور بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن ایک تعصب کے ماحول میں نہ پلتے تو مہاجر سٹوڈنٹ فیڈریشن کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔قوم پرستی کی سیاست نے انسانیت اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچایا، آرٹ کونسل میں ایک مقرر نے کہا کہ ’’ معراج محمدخان کی وجہ سے قوم پرستی کی طلبہ تنظیمیں بنی تھیں، وہ ہر قوم سے محبت رکھتے تھے، جئے سندھ، پختون،بلوچ اور پنجابی طلبہ تنظیموں کیلئے NSFبنیاد تھی‘‘۔ ترقی پسند تحریکوں کے رہنما کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ موجودہ نوجوان طبقہ بڑا اچھا ہے لیکن ہمارے اندر ایسی صلاحیت نہیں جو ان کو پیغام پہنچاسکیں۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے روس اور امریکہ سے فنڈز آتے تھے، باصلاحیت لوگ اپنا حصہ وصول کرکے سادہ لوح لوگوں کو قربانیوں کا بکرا بنادیتے تھے، اب وہ فنڈز تو بند ہوگئے ہیں،ایک سوکھا سا نظریہ رہ گیا ہے، وہ سویت یونین جو ان لوگوں کو ترنوالہ دیتا تھا،اب خود اپنا وجود بھی کھو گیا ہے۔ اگر وہ ایندھن ملنا شروع ہوجائے تو پھر سے افراد، قربانی کے بکرے اور بہت کچھ مل جائیگا،خان عبدالغفار خان ؒ اور عبدالصمدخان شہید اچکزئیؒ پاکستان بننے سے پہلے کے قوم پرست تھے، عاصم جمال مرحوم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ،ایک مخلص کمیونسٹ تھے، آخری عمر میں نماز پڑھنے پر بھی آگئے۔ ولی خان ؒ کی پارٹی میں رہ چکے تھے، حبیب جالبؒ کے ساتھی تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ ’’غوث بخش بزنجوؒ کے پاس پیسہ نہیں تھا اسلئے ان کو قیادت نہیں کرنے دی جاتی تھی، جبکہ ولی خانؒ کے پاس پیسہ تھا اگر وہ یہ قربانی دیدیتے کہ مہمانوں پر پیسہ خرچ کرتے اور قیادت غوث بخش بزنجوؒ کو سونپ دیتے، تو مشرقی پاکستان بھی نہ ٹوٹتا‘‘۔
قوم پرستی کا شوشہ تو معراج محمد خان سے پہلے کا تھا، متحدہ ہندوستان کی قومیت کا علمبردار طبقہ قوم پرست تھا۔ مولانا آزادؒ اور مولانا مدنیؒ نے اسلئے گالیوں اور اسلام سے خارج ہونے کا سامنا کیا کہ وہ مسلمان ہندی قوم پرست تھے، علامہ اقبالؒ نے بھی ہندی قومیت پر نظمیں لکھیں، خود کو سومناتی کہاہے۔ صحابہؓ کے انصارؓ و مہاجرینؓ ، قریش وغیرقریش، اہلبیت وقریش،کالا گورا، عرب وعجم، عرب وموالی اور اسرائیلی واسماعیلی کا شوشہ پرانا ہے۔ معراج کمیونسٹ اچھے انسان، پاکستانی اور مسلمان تھے۔ اچھا نظریہ اور حب الوطنی مختلف العقائد مسلمانوں کو آج بھی ایک کرسکتا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

کیا کمی ہے انمیں، کیا شکایت ہے ان سے؟ راحیل شریف کے چاہنے والے…. وہ کرپٹ نہیں ہے اور وہ خوشامدی نہیں ہے، نواز شریف کے چاہنے والے

8th_Coloumn_August2016

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف زیادہ حقدار ہیں کہ اشفاق کیانی کیطرح مزید 3سال ایکسٹینشن ملے ۔ اور بعض لوگ نواز شریف کی خواہش کیمطابق نہیں چاہتے کہ انکو مزید وقت ملے۔ دونوں کا مکالمہ دیکھ لیجئے

نواز شریف نے چوہدری سرور کو امپورٹ کیا اور پھر عدالت کے حکم پر مجبور ہوکر رفیق رجوانہ کو گورنر بنایا کیسی جمہوریت ہے پنجاب کے بارہ کروڑ عوام میں ن لیگ کیلئے ایک بے ضرر تابعدار سا گورنر مشکل ؟ پرویز مشرف کو بھی تو تم نے ہی نامزد کیا تھا اور آخر کار جس پر اعتماد کرو گے وہ بھی تو بستر گول کرسکتاہے۔ جیو کے خبرناک میں ترکی کی فوج کو عبرتناک بناکر اپنی فوج کی بڑی توہین کردی ہے میڈیا پر خرچہ کیا ہے

فوج کیلئے باہر سے سربراہ لانے کیلئے قانون سازی ہوسکتی ہے اور رفیق رجوانڑاں جیسا کوئی مل سکتا ہے رفیق تارڑکے ہم نام رفیق رجوانہ پر بہ مشکل اعتماد کیا ، چوہدری سرور کے بعد کس پر کیسے اعتماد کرتے؟ یار تم نے مشکل میں ڈالا ، تمہارے خلاف ہی قانون سازی کرنی پڑ رہی ہے نہیں تو وزیر اعظم لندن جائیگا جنرل راحیل نے بھی تو سعودیہ کی حمایت یافتہ اور مصر کی فاتح فوج سے ملکر دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا

جنرل کیانی کا اپنے بھائی کامران کیانی ، نوازشریف کا اپنے بچوں سے کیاتعلق؟۔ حالانکہ یہ قیامت میں ہوگا: یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبہ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں،اپنے باپ ، اپنی بیوی سے‘‘(القرآن)۔
خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ بذاتِ خود بہت مالدار تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان پر اقرباء پروری کے الزام لگے اور بات مسندِ خلافت پر شہادت تک پہنچی، داڑھی میں پہلا ہاتھ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے ڈالا ۔نبیﷺ زکوٰۃاسلئے قبول نہ کرنا چاہتے تھے کہ انسان انہ لحب الخیر لشدید’’مال کی محبت میں سخت ہے‘‘۔ اللہ نے حکم دیا تونبیﷺ نے اپنے اقارب پر زکوٰ ۃ حرام کردی۔ حضرت عثمانؓ اللہ کا حکم سمجھ کر اقارب پر احسان کرتے ۔ سیاستدان ، جرنیل اور بیوروکریٹ یہ اعتراف کرلیں کہ وہ مال چاہتے ہیں اور اقرباء کے نوازنے کی بات فطری ہے، اللہ نے فرمایا: لاتزکوا انفسکم ’’ اپنی پاکی بیان نہ کرو‘‘۔
چھوڑدیں کہ کس سیاستدان، جرنیل اوربیوروکریٹ نے کیا کیا؟۔ہرن مملکت بچے دیتی ہے۔ شیر، چیتے اوربھیڑئیے اسی پر پل رہے ہیں،قرآن میں سدھائے ہوئے جانور کا شکارحلال ہے مگر افسوس ہے کہ تعلیم وتربیت کا معیار نہیں اسلئے سب ہی بے سدھ ہیں۔ تربیت یافتہ کتے اور باز کا شکارحلال مگر آوارہ کتے اور گدھ کاراج ہوتو پاکستان کا کیا ہوگا؟، بڑے لوگوں کے بچے باہر اور ویزہ لگنے میں دیر بھی نہیں لگتی، عوام کی کمزوری پر حکمرانی ہے۔ قرضہ بے تحاشہ بڑھتا جارہا ہے، غریب کا بچہ باہر سے کماکربھیج رہا ہے، کرپٹ مافیہ دولت منتقل کررہاہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے جو سہارا ملا، اسکا فائدہ نہیں اٹھایا غیرملکی بینک موجودہیں، پیسہ باہر منتقل کرنا مسئلہ نہیں رہا۔سرکاری اثاثے بیچ کر اور اندرونی بے تحاشہ اور بھاری سود پر قرضہ لیکر آئی ائم ایف سے وقتی طور پر جان چھڑانا مسئلہ کا حل نہیں بحران کھڑا ہواتو مشکل پڑیگی بلکہ دیوالیہ ملک کو قرضہ بھی نہ مل سکے گا۔ سید عتیق گیلانی

ایم کیو ایم کی طرح کسی سیاسی جماعت سے رویہ رکھا گیا تو نظر نہیں آئیگی، اجمل ملک

Ajmal_Malik_August2016

مسلم لیگ (ن)سے یہ رویہ رکھا گیا تو اس مرتبہ شہباز شریف کا وہی کردار ہوگا جو سید مصطفی کمال کا ہے، 12مئی کے واقعہ پر پرویز مشرف نے مکا دکھایا اگر ہاتھ مروڑا ..

پاکستان میں ریاستی اداروں کی نظر کرم ہوجائے یا نظر بد لگ جائے تو اس کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے سوات کے طالبان سے لیکر کراچی کے ایم کیو ایم تک …

چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کی بازیابی بہت خوش آئند لیکن گدا گری کے پیشے کیلئے اغواء کئے جانے والے غریب کے بچے اور بچیاں بھی انسان ہیں کتے کے بچے نہیں ہیں

ایم کیو ایم نے اپنے خلاف لوگوں سے بولنے کا حق نہ چھینا ہوتا اور کراچی میں قانون کے ذریعے سے سزا دلانے کی روایت کو فروغ ملتا تو آج یہ دن انکو دیکھنے نہ پڑتے

کراچی (نمائندہ خصوصی) ماہنامہ ضرب حق کراچی ، کتاب جوہری دھماکہ اور ابر رحمت کے پبلشر اجمل ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی پالیسی ، نظرئیے اور رویوں سے سب کو اختلاف ہوسکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آجکل جس عتاب کی ایم کیو ایم شکار ہے اگر کسی اور جماعت سے یہ رویہ رکھا گیا تو اسکے آثار قدیمہ بھی نظر نہیں آئینگے۔ رینجرز کی نگرانی میں میڈیا کی پرزور مخالفت کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا نوزایدہ امیدوار ایم کیو ایم میں شامل ہوگیا، ن لیگ کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو نواز شریف معاہدہ کرکے بھاگا۔ واپسی پر کارکنوں نے استقبال میں نعرے لگائے تو برا مان گئے اور کہا کہ ’’چپ کرو ! جب مجھے ہتھکڑی پہنا کر لیجایا جارہا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی ایک بھی نہیں تھا‘‘۔ چوہدری شجاعت ، شیخ رشید ، دانیال عزیز سے لیکر عطا ء مانیکا تک کتنے بدل گئے؟۔ جبکہ اسحٰق ڈار نے عدالت کے سامنے بیان دیا ’’میں نے نواز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کی ہے‘‘۔
میڈیا میں اس بحث اور بکواس کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کی یا نہیں؟ ، یہ ایسا ہے جیسے کوئی سورج یا چاند تاروں پر بحث کرے کہ ہیں یا نہیں؟۔ کوئی حقیقی انقلاب آئے تو سب سے پہلے بکواس کرنے والوں کو میڈیا کے اوپر ہی عوام کے سامنے مرغا بنایا جائے۔ ایم کیو ایم کی طرح اگر مسلم لیگ (ن) سے برتاؤ کیا گیا تو مصطفی کمال کیطرح شہباز شریف بھی کردار ادا کریگا۔ 12مئی کو پرویز مشرف نے مکا دکھایا تھا اسکا بازو مروڑ دیا جاتا تو بھی انصاف نظر آتا تھا، ایم کیو ایم اپنے اعمال اور روئیے کی خود جوابدہ ہے، اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے انبیاء ؑ کی رہنمائی کرتا ہے تو کسی بھی عام انسان کو جو خود کو مسلمان کہتاہو یہ قطعاً نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ غلطی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ مثلاً کراچی کے سابق ناظم پاکستان سر زمین پارٹی کے قائد سید مصطفی کمال کو ہی لے لیجئے ۔ پہلے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیلئے جن جذبات کا اظہار کرتے تھے اب اس کا بالکل ہی برعکس رویہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سید ضعیم قادری جسکی سرکاری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی بولے تو یہ بھی بکنا شروع کردے تاکہ دوسرے کی بات کوئی سن نہ سکے۔ جب اس نے ایم کیو ایم کے قائد کیخلاف کچھ بولا تو سید مصطفی کمال نے کہا کہ تمہیں لاہور میں بھی گھر سے نہیں نکلنے دینگے۔ سید مصطفی کمال پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے فتویٰ لگایا کہ وہ تجدید ایمان کرلے ، اس لئے کہ مصطفی کمال نے اقرار کیا ہے کہ ہم الطاف حسین کو خدا مانتے تھے۔ حالانکہ فرشتوں نے بھی جنت میں اللہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پر سوال اٹھادیا مگر مصطفی کمال اپنے قائد کیلئے سوال اٹھانے کو بھی برداشت نہ کرتے تھے، اسلئے خدا کا لفظ بھی کم تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار جو بہت معتدل مزاج سمجھے جاتے ہیں جب مولانا فضل الرحمن نے اجمل پہاڑی کا صرف نام لیا تو ڈاکٹر صاحب نے مولانا ڈیزل سے لیکر اسکی ایسی کم تیسی کرکے وہ حال کردیا کہ اللہ کی پناہ۔ یہ تو مولانا کا دل گردہ تھا کہ پھر بھی نائن زیرو گئے ورنہ تو کوئی چھوٹے دل والا کبھی وہاں جانے نہ پاتا۔
کوئی عتاب میں ہو تو مرے پر سو دُرے لگانا انتہائی بے غیرتی اور بے ضمیری ہے۔ تاہم اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کے محرکات کیا ہیں؟۔ بلدیاتی انتخاب میں جمہوریت کی بنیاد کا پتہ چلتا ہے ، پاکستان کی ساری برسر اقتدار سیاسی جماعتیں بلدیاتی الیکشن کی علمبردار نہیں ، اسلئے کہ وزیر اعلیٰ بننے میں بھی قائدین کو دلچسپی نہیں ہوتی، وہ تو صرف وزیر اعظم کا خواب ہی دیکھتے ہیں البتہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اپنا بیس بنانے کیلئے مستقل قبضہ جما رکھا ہے۔ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات کے علاوہ پاکستان میں ساری قومیتوں کو متحد کرکے انقلاب کی صلاحیت رکھتی تھی جو لوگ ایم کیو ایم کے مظالم پر سینہ کوبی کررہے ہیں انکی اکثریت دہشت گردی پھیلانے والے طالبان کی حامی تھی جیسے مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام وغیرہ۔ طالبان ریاستی اداروں کے اہل کاروں کو بھی حصہ دیتے تھے مگر ایم کیو ایم کا بھتے میں کوئی حصہ دار نہیں تھا۔
ریاستی ادارے بیورو کریسی انتظامیہ ، عدلیہ ، پولیس اور فوج کی نظرکرم ہوجائے تو اُلو بھی تیتر اور چکور بن جائے اور کائیں کائیں کرنے والے کوے شاہین بن جائیں اور نظر بد ہوجائے تو ہیرو بھی زیرو بن جائیں۔ سوات کے طالبان سے کراچی کے ایم کیو ایم اور گوادر سے لاہور تک ایک ایک معاملہ دیکھا جائے تو متضاد پالیسیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ایسے میں ریاستی اہلکاروں کا کوئی بھروسہ اور اعتبار نہیں ہوتا کہ کب کیا سے کیا ہوجائے؟۔ وزیر اعظم کبھی لندن سے واپس ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور کبھی لاہور سے اسلام آباد جانے میں خدشات کے انبار لگتے ہیں۔ ایسے ملک کا وزیر اعظم بننا بھی بہت بڑے درجے کی رسوائی سے کم نہیں۔ نواز شریف نے تو انتہائی نااہلی کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کی اوقات بدلے ہیں اسلئے بار بار وزیر اعظم بننے کی قربانی بھی دیتے ہیں۔ اسکے باپ کا نام شریف تھا ورنہ شرافت رکھنے والا کوئی شریف اتنی ذلت کے بعد کاروبار کیلئے یہ قربانی کب دے سکتا تھا؟۔ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جس نے مہاجر قوم اور پاکستان کی تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ اسی نعرے کی گونج میں پاک سر زمین پارٹی کے رہنماؤں کی پرورش ہوئی۔ مصطفی کمال یہ کہہ دیتے کہ’’ ایک مرتبہ مجھے سرزنش ہوئی تو آسمان کے تارے نظر آنے لگے۔ سوچا کہ دوسروں پر مظالم، ذلت، رسوائی کے پہاڑتوڑ دیتے تھے، قتل وغارتگری کے مرتکب ہوجاتے تھے، زبردستی کی بنیاد پر جلسوں میں لے جاتے تھے، 12مئی کو ساری پارٹیوں کے برعکس چیف جسٹس کو ائرپورٹ سے نہ نکلنے دیا،معمولی گستاخانہ لہجہ برداشت نہیں کرتے تھے۔ ساری قوموں سے بھڑے ، اپنوں سے لڑے اور مہاجر سے متحدہ تک کا طویل سفر بچپن سے جوانی تک جس طرح سے طے کیا اور پھر ایک محفل میں بپھرے ہوئے کارکنوں کے روئیے سے نالاں ہوکر بھاگے ، یہ ہم پر قرض تھا کہ اپنی قوم سے معافی مانگتے ، ریاستی اداروں سے بھی معافی مانگتے اور دوسروں سے بھی معافی مانگتے تاکہ دنیا تو جو برباد ہونا تھی سو ہوئی مگر آخرت میں مغفرت کی کوئی سبیل نکلے‘‘ ۔اس طرح کے بیانات کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی نکلتے۔ یہ کونسی بات ہے کہ الطاف حسین اور اس کی جماعت را کی ایجنٹ ہے ، کہنے والا سابقہ راکا ایجنٹ۔ اگر ایم کیو ایم اور اسکی متاثرین کی اصلاح کرنی ہو تو اسکا یہ طریقہ نہیں کہ دوسرے ذرائع سے ان پر الزام لگایا جائے اور کل ماحول بدل جائے تو عامر خان کی طرح ایم کیو ایم کے زانوں میں اپنا سر دیدے۔ ایم کیو ایم کی اصل غلطی یہی تھی کہ مخالفین کو بولنے بھی نہ دیتے تھے۔ مخالفین کے بولنے سے کچھ بگڑتا نہیں بلکہ قیادت اور جماعت کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ آج بھی مکا چوک کے قریب لٹنے والوں کو ایم کیو ایم سے ہی گلہ ہے ، کراچی میں ایک کرائم سے پاک معاشرہ وجود میں آتا تو اسکا سارا کریڈٹ ایم کیو ایم کو جاتا۔ زبردستی سے تبدیلی کی ذلت میں کوئی اچھا پہلو ہوتا تو کراچی سے وزیرستان تک لوگ خوشیاں بانٹنے کیلئے جوق درجوق آتے۔

جانِ استقبال ارضِ پاکستان ہے مگر کیسے؟

یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز، پوری دنیا میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام یہاں سے ہوگا۔

اسلام کو اجنبیت کے گرد وغبار سے نکالنے کی دیر ہے، عوام کو یکجان ہونے میں دیر نہ لگے گی

دنیا کے سامنے اسلام کا اصل ماڈل پیش کیا جائیگا تو روس وامریکہ نہیں اسرائیل بھی قبول کریگا

اس خلافت کی خوشخبری نبیﷺ نے دی ہے جس سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے

اسلام دینِ فطرت ہے، روس وامریکہ، یورپ واسرائیل کے یہود ونصاریٰ کے دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سودی نظام سے دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی، دنیا سود کو کم سے کم کرنے پر عمل پیرا ہے ، ہمارے حکمران طبقے بھاری بھرکم سودی قرضے اور علماء و مفتیان سودی نظام کو اسلامی قرار دینے میں مگن ہیں، یہ اس وقت سجدے میں گرے ہیں جب بقول علامہ اقبال کے وقتِ قیام آیا۔ دین میں زبردستی نہیں ہے اور نظام باہمی رضا مندی اور مشاورت سے حکومت تشکیل دینے کا نام ہے۔ روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، نکاح و طلاق، شرعی حدوداور پورا اسلامی ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو جس طرح حبشہ کے بادشاہ نے سورۂ مریم کی تلاوت سننے کے بعد کہا تھا کہ ’’ ہمارا اعتقاد تنکے کے برابر بھی قرآن سے ادھر ادھر نہیں‘‘۔ اسی طرح دنیا بھر کے حکمران بھارت سمیت اسلامی نظام کو اسلام قبول کئے بغیر بھی اپنے ہاں نافذ کرنے پر برضا ورغبت راضی ہونگے۔ اچھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’مشرکوں سے نکاح مت کرو، ان سے مؤمن غلام اور لونڈیاں بہتر ہیں اگرچہ وہ تمہیں بھلے لگیں‘‘۔ جس کی وجہ سے بھارت کے ہندؤں سے رشتہ ناطہ کرنے سے دور ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی نہ ہوتا تو ہم انکے ساتھ پھر بھی شیروشکر ہوجاتے، جنرل راحیل شریف نے درست کہا کہ ’’کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے‘‘۔
یہ یاد رہے کہ معرکۂ ہند بھارت کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں فتح مکہ کی طرح ہوگااور مشرکینِ مکہ کی طرح شکست سے پہلے ان کو روحانی و اعصابی شکست ہوگی، اسرائیل کسی مزاحمت کے بغیر بیت المقدس پر جھنڈے کو نصب کرنے دیگا۔ ہندو مشرکین مکہ کی طرح اسلام میں داخل ہونگے اور ہندو مذہب اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے ختم ہوجائیگا۔ اسلام زمین میں جڑ پکڑلے گا اور دنیا میں آنے والے بارہ قریش و اہلبیت کے خلفاء وقفہ وقفہ سے دنیا کی تاریخ پر نمودار ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ آخری امیر مہدی تک سلسلہ جاری رہیگا۔ جن دیوبندی اکابرینؒ نے لکھا ہے کہ ’’ چھوٹے بڑے مجدد سے کام نہ چلے گا، اب امت کی اصلاح امام مہدی کے ذریعہ سے ہوگی، جس کی روحانی قوت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ پوری دنیا کے حالات کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہوگا‘‘۔ روحانی مشاہدہ کے اعتبار سے اس طرح کی باتیں بڑے بڑے بزرگوں نے بھی لکھی ہیں لیکن یہ سوچ اپنی جگہ پر بہت گمراہانہ تھی اسلئے کہ ایساعقیدہ روحانی قوت کی بنیاد پر ہو تومہدی کی حیثیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بڑھ جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں ہوسکتی، مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب ’’تجدید واحیائے دین‘‘ میں اس گمراہانہ سوچ کی نفی کی تھی جس میں عوام و خواص مبتلا تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بھی مہدئ برحق، امامِ زمانہ ، مہدی اور آخرزمانی کے مؤقف کو زبردست طریقہ سے اجاگر کیا ہے۔
قرآن، اسلام ،نبی کریمﷺ کی سیرت اور خلافت کے نظام کیلئے دہشت گردانہ کاروائیوں کی نہیں اس فکر سے پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے جسکی وجہ سے اسلام دین فطرت ہونے کے باوجود مذہبی طبقات کی کجروی کا شکار ہوچکا ہے۔ فرقہ واریت کی بجائے اتحاد واتفاق اور وحدت کا راستہ اس وقت سجھائی دیگا جب لوگوں کو راہ دکھائی جائیگی، اہل تشیع سمجھتے ہیں بارہ خلفاء قریش واہلبیت کا ذکر احادیث میں موجود ہے لیکن اہلسنت کے پاس کوئی معقول جواب نہیں، اسلئے اپنے لب ولہجہ میں درشتی اختیار کرلیتے ہیں حالانکہ ان کے ہاں بارہ امام کا جو تصور ہے، عقیدہ اور اصول کے اعتبار سے کلمہ و آذان بھی وقت کے امام کیساتھ بدلتے رہنا چاہیے تھامگر ان کے پاس اس کا معقول جواب نہیں، علاوہ ازیں بارہ اماموں پر امت کے اکٹھا ہونے کی خوشخبری ہے جبکہ اہل تشیع اپنے بارہ امام پر بھی متفق نہیں ہیں۔ اس معقول نقشِ انقلاب سے امت مسلمہ کا مستقبل روش نظر آتا ہے، قرآن وسنت کا راستہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔قرآن اتنا بلیغ ہے کہ صحابہ کرامؓ ان پڑھ تھے مگر پھر بھی ہدایت پاکر دنیا پر چھاگئے تھے اگر موجودہ ترقی یافتہ دور میں قرآن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی اہلبیت ذریعہ بن جائے تو قباحت کیاہے؟۔

قرون اولیٰ کی تاریخ دہرانے کا یہ دور ہے

شاہ اسماعیل شہیدؒ ، مولاناآزادؒ ، مولانا مودودیؒ ،ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوانؒ وغیرہ کا اتفاق تھا

موجودہ دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی، حدیث کی روشنی میں پاکستان مرکز!

دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اتنی مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں جتنی پاک سرزمین شاد باد میں!

قوم ملک سلطنت ،پائندہ تابندہ باد،مرکزیقین ،نشانِ عزم عالیشان،سایہ خدائے ذوالجلال

یہ ارض پاکستان ہے، جو لیلۃ القدر کی رات کو آزاد ہوا، رات کی تاریکی میں اس کاپرچم ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال قرار دیا گیا۔ 14اگست کی انتہاء اور 15اگست کی ابتداء اپنی جگہ مگر 27رمضان المبارک کولیلۃ القدر میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ برصغیر پاک وہند کی آزادی کے وقت معنوی اعتبار سے بھی گھپ اندھیرے والی رات تھی، مذہب کے نام وجود میں آنے والی سیاسی جماعت ’’جمعیت علماء ہند ‘‘ متحدہ ہندوستان سیکولر ملک کی تشکیل کے حق میں تھی، سیکولر ذہنیت رکھنے والے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال مذہب کے نام پاکستان کو وجود بخشنے کے حامی تھے جن پر کفر کے فتوے بھی لگادئیے گئے تھے۔یہ اختلاف بڑا رحمت تھا، اگر مذہبی طبقات کی بالادستی میں یہ پاکستان بنتا تو ہمارے تعلیمی اداروں سمیت ترقی یافتہ دور میں بھی یہاں تصویر پر پابندی ہوتی اور ترقی کی ساری راہیں رُک جاتیں، ریاست نے اللہ کی توفیق سے بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کرنسی پر لگادی۔ کرنسی کے آگے ملاصاحبان کا اسلام زیرو بن جاتا ہے۔ غریب بچوں کیلئے مفت کی دوائی پر تصویر کا خاکہ بھی ہو تو طالبان پابندی لگادیتے تھے مگر کرنسی میں جناح کی تصویر کیا ڈالر پر بھی تصویر قابل قبول تھی اور یہ کوئی طعنہ نہیں بلکہ اصل حقائق کی طرف علماء و طلبہ اور مذہبی طبقات کی توجہ مبذول کرانا مقصدہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اسلام اور اقتدار دو جڑواں بھائی ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتے، اسلام بنیاد ہے اور اقتدار اس کی عمارت، اسلام اصول کا درجہ رکھتا ہے اور اقتدار محافظ و نگران کا ‘‘۔ جب نبیﷺ کو مکہ میں اقتدار حاصل نہ تھا تو اللہ نے ریاست کے قیام کیلئے سچائی کیساتھ داخل ہونے کا (مدینہ میں) اورسچائی کیساتھ (مکہ سے) نکلنے اور اقتدار کو اپنا مددگار بنانے کا حکم دیا۔ مدینہ کی ریاست سے اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا، پاکستان دنیا میں واحد ریاست ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وجود میں آئی ہے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے حدیث لکھی ہے ’’ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ مگر درمیانہ زمانہ میں کج رو جماعت ہوگی، میں اسکے راستے پر نہیں وہ میرے راستے پر نہیں‘‘ اور حدیث کا جزء بھی لکھاہے ’’ پھر میرے اہلبیت میں سے ایک نیک شخص نکلے گا جو اس امت کا آخری امیر ہوگا‘‘ یہی جزء ڈاکٹرطاہرالقادری نے بھی نقل کیا، حالانکہ پوری حدیث یہ ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ مہدی کے بعد قحطانی امیر ہوگا، جس کے دونوں کان سوراخدار ہوں گے، وہ چالیس سال تک رہیگا، پھر امت کے آخری امیر کا ذکرہے، مفتی رفیع عثمانی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ ’’ دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور رہنما ہونگے‘‘۔ علاماتِ قیامت اور نزول مسیحؑ ۔ ’’عصرِ حاضر حدیثِ نبویﷺ کے آئینہ میں: مولانا یوسف لدھیانوی‘‘ کو دیکھ لیجئے، جس میں حکمرانوں، رہنماؤں اور علماء ومفتیان کے حالات کا تذکرہ ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں مہدی، امام، شاخ ہاشمی کے برگ وبار، فطرت کے مقاصد کا ترجمان مردِ کوہستانی، شکوہ ترکمانی،ذہن ہندی،نطق اعرابی اور طلوعِ اسلام کے خدوخال بیان کئے ہیں۔ جنرل راحیل کو اگر پاکستان ، امت مسلمہ اور عالمِ انسانیت میں اچھے کردار ادا کرنے کی نعمت کا موقع مل رہا ہے تو سودی قرضہ پر نوازشریف کی دہشت گردی کا نوٹس لیں، مدارس کے کفریہ اور گمرانہ نصاب کو میڈیا پر پیش کریں اور علماء ومفتیان کو صفائی اور دفاع کا موقع دیں۔ مفتی رفیع عثمانی نے مجیب الرحمن شامی کے پروگرام میں بتایا :’’ باہر کا فنڈدوفیصد بلکہ ایک فیصد بلکہ آدھا فیصد ہے‘‘۔ فنڈز کے اعداد وشمار بتانے کی بجائے کہا کہ ’’جب بھی طلبہ اور اساتذہ کی تنخواہ اور سہولت میں اضافہ کیا، اللہ نے مجھے اور نوازا، اور زیادہ دیا‘‘۔ کیا مدرسہ کسی کے باپ کی فیکٹری ہے کہ جو چندہ بڑھ جائے، اس کو اپنی ذات کو نوازنے سے تعبیر کیا جائے؟۔ حکمرانوں نے حکومتوں کو اور علماء نے مدارس کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے ، ان کے احتساب سے پاکستان کی عوام اور غریب غرباء کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

قرون اولیٰ کے ادوار کی زبردست تاریخ

سورۂ واقعہ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمداور دیگر سورتوں میں صحابہ کرامؓ اور آخری جماعت کا ذکر ہے۔

السٰبقون السٰبقون اولئک المقربون.. ثلۃ من الاوّلین و قلیل من الآخرین

سبقت لے جانے والے…مقرب ہیں…پہلوں میں سے بڑی جماعت ، آخر میں تھوڑے

سبقت لے جانے میں اولین مہاجر و انصار میں سے اور جو ان کی اتباع احسان کیساتھ کریں

نبی کریم ﷺ نے تعلیم وتربیت اور تزکیہ و حکمت سکھاتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی جو جماعت تیار کی، اس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے، دنیا کی تاریخی شہادت بھی رد کرنا ممکن نہیں ہے، سورۂ جمعہ میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ جو آخر میں ہیں اور پہلے والوں سے مل جائیں گے۔ احادیث میں وضاحت ہے کہ اس سے فارس کے لوگ مراد ہیں، بعض نے امام ابوحنیفہؒ اورآپ کی جماعت کوقرار دیا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے پارہ عم کی تفسیر میں سورۃ القدر کے ذیل میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیراورافغانستان کے خطہ میں جس قدر قومیں ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ یہیں سے ہوگی، اگر ہندو پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلہ میں لائیں تو اس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، یہاں حنفی مسلک رائج ہے، اہل تشیع بھی اس کو قبول کریں گے‘‘۔ مولانا سندھیؒ قرآنی انقلاب کے داعی تھے، انہوں نے وضاحت کی ہے کہ قرآن کا اصل معجزہ اللہ کی آیات کا وہ مفہوم ہے جس کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اس کے ذریعہ سے کوئی بھی پستی اور زوال کی شکار قوم عروج وترقی کی منزل پائے، عربوں کو اسی معجزے نے عروج وکمال تک پہنچایا تھا، اسکے اولین مخاطب بھی عرب ہی تھے لیکن قرآن کا ایک خطاب عالمگیر انقلاب اور پوری انسانیت کیلئے بھی ہے، جب اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو عربوں کی اچھائیوں کو برقرار رکھا گیا اور ان کے اندر موجود برائیوں کا خاتمہ کیا گیا، پھر نشاۃ ثانیہ ہوگی تو قرآن کا خطاب پوری انسانیت سے ہوگا، پھر دنیا بھر کے انسانوں کی اچھائی برقرار اور برائی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ مولانا سندھیؒ نے حنفی مسلک کو قرآن کی بنیادپر قانون سازی کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔
جب تک صحابہ کرامؓ سے حسنِ عقیدت نہ رکھی جائے تو قرآن کی بنیاد پر انقلاب کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ جب ہم خو د ہی اس بات کی نفی کریں گے کہ صحابہؓ کی بڑی جما عت ثلۃ من اولینکی کوئی حیثیت نہ تھی تو قلیل من الاٰخرین کی جماعت کیسے بن سکیں گے؟۔ جب ہم السابقون اولون من المہاجرین و الانصار ہی کو نہیں مانیں گے تو والذین اتبعوھم باحسان کے مصداق بننے کی کوشش کیسے کریں گے؟۔جب تک عربوں نے اسلام کی خدمت کی ، نبوت، خلافت، امارت کے ادوار میں دنیا پر چھائے رہے، ترک کی خلافت عثمانیہ کے بادشاہ غیر عرب تھے، وہ اگر اسلام قبول نہ کرتے تو ان کی حکومت چل بھی نہیں سکتی تھی۔ پھر ترکی خلافت کے خلاف بغاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ، اور امت مسلمہ برطانوی سامراج کے زیرنگیں ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔ اقوام متحدہ میں قطرہ قطرہ دریا بنا مگر ہم سمندر ہوکر بھی چلو چلو بن گئے ہیں۔
سورۂ محمد میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ عربوں کے موجودہ افرادکو مخاطب کرکے کہا گیاہے کہ اگر تم نے اسلام کا کام نہ کیا تو کوئی اور قوم اُٹھے گی جو ثم لایکون امثالکم ’’پھر تم جیسی نہ ہوگی‘‘۔اس کا مطلب یہی ہے کہ نشاۃ ثانیہ کے وقت دوسری قوم کی کنڈیشن عربوں سے بہتر ہوگی۔ ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی اگر اپنے ساتھیوں کو صحابہؓ سے بہتر بلکہ صحابہ کرامؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناتے اور امامیہ کے فقہی مسلک کی بجائے قرآن کو بنیاد قرار دیتے تو آج امت مسلمہ کی حالت بہتر ہوتی۔ اہل تشیع ہونے کے ناطے ایرانی انقلاب کے بانیوں کو صحابہ کرامؓ اور قرآن سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، افغانستان کے طالبان سنی ہونے کے ناطے صحابہؓ سے عقیدت رکھتے تھے مگر محض عقیدت بھی کافی نہ تھی، قرآن کو سمجھ کر اسکے مطابق قوانین بنائے جاتے تو دنیا کیلئے افغانستان کے طالبان کا انقلاب بھی بڑی تبدیلی کا باعث بنتا۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے ادوار میں بتدریج کمال سے زوال کا سفر شروع ہوا، پہلی، دوسری، تیسری صدی ہجری میں شخصی تقلید کا کوئی نام ونشان نہ تھا،محدثینؒ اور فقہاء میں بھی فرضی مسائل گھڑنے پر اختلاف تھا، پھر چوتھی صدی ہجری میں شخصی تقلید کا تصور وجود میں آیا، ساتویں صدی ہجری علم وعرفاں کے زوال کا سال تھا، ہمارے درسِ نظامی میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ زوال کے دور کی یادگار ہیں،اس نصاب سے فارغ التحصیل ہونے والا طبقہ بہت کوڑھ دماغ ہوتاہے، مفتی محمد شفیعؒ نے مدارس کو بانجھ قرار دیا تھا،مولاناسندھیؒ ،مولاناآزادؒ ،علامہ انورشاہ کشمیریؒ اوراستاذالاساتذہ شیخ الہندؒ کی آخرمیں یہی رائے تھی۔