پوسٹ تلاش کریں

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

جامعہ حفصہ کی خواتین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے دھرنے میں آکر یکجہتی کا اظہار کیا
یہ صحافی نہیں میراثی ہیں یہ پیسے کے پتر اور پجاری ہیں۔ جو پیسہ دے اس کی خبر لگاتے ہیں

السلام علیکم ورحمة اللہ، میں جامعہ حفصہ سے اُم حسان ہوں اصل میں جس دن ان پر رات کے وقت انہوں نے ظلم کیا، زیادتی کی اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ لگ سکا بعد میں میں نے اس ساری جگہ چکر لگایا تو ان کی جگہ پولیس بیٹھی ہوئی تھی۔ ماشاء اللہ دونوں گراؤنڈ بھرے تھے ہمارے جوانوں سے ،جن کی جوانیاں شاید اسی لئے وقف ہیں کہ مظلوموں پر ڈنڈے برسائے جائیں اور ان پر ظلم کیا جائے ،زیادتی کی جائے۔ تو انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں اور ہم نے انہیں کہا کہ جب کوئی پولیس یا انتظامیہ آپ کو دھمکی دے ہمیں کال کریں ہم آپکے شانہ بشانہ کھڑیں ہوں گے اور دیکھتے ہیں کون آتا ہے اور انہیں ہاتھ لگاتا ہے۔ کسی کو انہیں ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ یہ اس ملک کا وطیرہ بن گیا کہ جو ظالم ہے وہ ظلم کرتا چلا جاتا ہے ، اس کا کوئی ہاتھ نہیں روکتا۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ ہاتھ روکیں گے بھی اور توڑیں گے بھی۔صحافی آواز اٹھائیں گے، پہلے مظلوم کا ساتھ دیا؟۔ جامعہ حفصہ آپریشن میں یہ سب اور اکبر بگٹی کو بھی مروانے میں پیش پیش تھے۔ یہ لاشوں پر دھمال ڈالنے والے پیسے کے پتر پجاری ہیں۔ جو پیسہ دیتا ہے اس کی ڈفلی بجاتے، راگ گاتے ہیں۔ تو ان بیچاروں کے پاس پیسہ تو نہیں تو میڈیا والے بات کریں گے۔ پاکستانی میڈیا کوئی میڈیا ہے؟۔ یہ مراثیوں کا گڑھ ہے۔ سارے مراثی بیٹھے ہیں جس مراثی کو پیسے مل جاتے ہیں اسی کے حساب سے زبان چلتی ہے اسی کے حساب سے اس کے ٹھمکے لگتے ہیں بات ختم۔
سوال: آپ کب تک اظہار یکجہتی کریں گے؟۔
اُم حسان: جب تک یہ یہاں پر ہیں۔ جب یہ چلے جائیں گے تب بھی۔ پاکستان میں، دنیا بھر میں کہیں پر بھی کوئی مظلوم ہے اسکے لئے ہم آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ ہم نے ظلم خود برداشت کیا ہے اور آج تک کررہے ہیںلیکن اب بہت ہوچکا۔ جیسے اسلام آباد پولیس نے ان کو مارا ہے وہ بہت ہی شرمناک عمل ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اکثریت کو اقلیت دباکر بیٹھی ہے ہدیٰ بھرگڑی

اکثریت کو اقلیت دباکر بیٹھی ہے ہدیٰ بھرگڑی

کیا یہ ملک فوج اورمسلح افراد کیلئے بناہے؟اس میںبلوچ، سندھی ، پشتون کے حقوق ہیں یا نہیں ؟

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی حمایت عورت مارچ کی خواتین اسلام آباد پریس کلب میں پہنچ گئیں۔ ہدی بھرگڑی نے کہا:یہ جو دو قومی سلسلہ رہا ہے، تمام کے تمام عوام جو کہ میجورٹی آف پاکستان ہے اس میجورٹی کو ایک مائنورٹی کئی عرصے سے کئی سالوں سے دبا کے رکھ کے بیٹھی ہوئی ہے تو یہ سوال ہم پہ بطور پاکستانی بنتا ہے آواز اٹھائیں کہ پاکستان آخر بنا کس کیلئے ہے کیا یہ فوجیوں کیلئے بنا ہے کیا یہ مسلح افراد کیلئے بنا ہے کیا یہ صرف ایک طبقے کیلئے بنا ہے کیا یہ بلوچوں کا سندھیوں کا خیبر پختونخواہ میں پشتون کیا انکے حقوق ہیں کہ نہیں ہیں تو پاکستان کا مطلب کیا ہے؟ہمیں دوبارہ سے واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے؟، کیا پاکستان بلوچ عوام کیلئے ہے یا نہیں؟ پاکستان کا اب مطلب کیا ہے؟۔نعرے ہر جبر سے لیں گے آزادی ، ہر قہر سے لیں گے آزادی،زنجیر سے لیں گے آزادی، زندان سے لیں گے آزادی، جینے کی لیں گے آزادی، احتجاج کی لیں گے آزادی ، سی ٹی ڈی سے لیں گے آزادی ، آمر ریاست سے آزادی، فوجیوں سے آزادی ، ٹینکوں والوں سے آزادی، بوٹوں والوں سے آزادی، بندوق سے آزادی، ظالم سے لیں گے آزادی، جابر سے لیں گے آزادی، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، عورت کا نعرہ آزادی، ہے حق ہمارا آزادی ، نہیں بھیک میںلیں گے آزادی، نہیں جھک کرلیں گے آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، للکار کے لیں گے آزادی، جو تم نہ دو گے آزادی، سی ٹی ڈی تو سن لے آزادی، ڈی سی تو سن لے آزادی، پولیس تو سن لے آزادی، کاکڑ توسن لے آزادی، وردی والے توبھی سن لے آزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، للکار کے لیں گے آزادی، ہم لیکر رہیں گے آزادی، بلوچستان سے جاگی عورت جاگی، جی پی سے جاگی عورت جاگی، کے پی سے جاگی عورت جاگی، اسلام آباد سے جاگی عورت جاگی، جاگی جاگی عورت جاگی، ظلم کے نظام کو ہم نہیں مانتے، ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد تیز ہو، پولیس گردی کیخلاف جدوجہد تیز ہو، ظالمو! جواب دو خون کا حساب دو۔ بلوچ کو جواب دو خون کا حساب دو، ماہ رنگ کو جواب دو ظلم کا حساب دو، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، ہر جبر سے لیں گے آزادی، ہر ظلم سے لیں گے آزادی، ہر تیر سے لیں گے آزادی، تلوار سے لیں گے آزادی، بندوق سے لیں گے آزادی، ٹینکر سے لیں گے آزادی، بلوچ کا نعرہ آزادی، ماہ رنگ کا نعرہ آزادی، عورت کا نعرہ آزادی، لال سلام لال سلام ،ماہ رنگ کو لال سلام۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میں بولتی ہوں کہ اگر اس قوم کیلئے لاکھوں بچیاں بھی یتیم ہوجائیں تو کم ہے۔ماہ رنگ بلوچ

میں بولتی ہوں کہ اگر اس قوم کیلئے لاکھوں بچیاں بھی یتیم ہوجائیں تو کم ہے۔ماہ رنگ بلوچ

ایک ماں کا وہ پہلا خیال جس نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنے وطن کیلئے قربان ہوگی ناں۔ وہ خیال ہی اس قوم کو ہزار سال حوصلہ دینے کیلئے کافی ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
بلوچ قوم کی اس عظیم قومی تحریک کے قریب بھی کسی دوسری قوم کی تحریک نہیں پہنچی ہے، ہمارے علماء اور مدارس کے طلبہ بھی کھاد کی مشین نہیں انقلابی بنیں۔عتیق گیلانی
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اس تقریب سے یہ تحریر پڑھ کر خطاب کیا تھاجس کی کچھ جھلکیوں سے ان کے فکر وعمل کو سمجھنے میں قارئین کو آسانی ہوگی کہ اتنے حوصلے اور جرأت کے پیچھے کیا اصل عوامل کارفرماہیں۔ یہ حوصلے کی ایک چٹان کیوں ہیں؟۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے8مہینے پہلے اپنے خطاب میں کہا تھا: صباح اسلئے صباح تھا کہ اپنے آپ کو اجتماع سے جوڑ دیا۔ صباح نے وہ جو روایتی دانشور کی تعریف سے خود کو نکال کر وہ اپنی عوام کے ساتھ رہا۔ اس نے کہا کہ اگر میری کلاس کا ایک اسٹوڈنٹ اغوا ہورہا ہے تو میں اپنی کلاس میں بیٹھوں گا ہی نہیں جب تک کہ وہ رہا نہیں ہوجائے۔ جب بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ صباح نعرے نہ لگاتا تو صباح صباح نہ ہوتا۔ تو آپ بتائیں کہ اگر آپ نے ایکٹیو ازم کو محدود کردیا ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ قوم کیلئے کام تو ناکارہ شخص ہی کرے گا تو پھر قومی تحریک چلائے گا کون؟۔ ایک ڈاکٹر ڈاکٹری کرے، ایک وکیل وکالت کرے، ایک استاد اپنی استادی کرے تو پھر قومی تحریک چلائے گا کون؟۔ کیا یہ کوئی آسان کام ہے؟۔ یہ سب سے مشکل کام ہے۔ سب سے ذہین اور سب سے جرأتمند لوگ قومی تحریکیں چلاتے ہیں۔ یہ کسی عام کسی ڈرپوک شخص کا کام ہے ہی نہیں کہ اتنے بڑے کلیم کو لے کر آگے چلے اور اپنی زندگی اور سب کچھ قربان کردے۔ میں کہتی ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قربانیاں تو اتنی ہیں کہ اس تحریک کا کوئی ادارہ اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ شہداء کی لسٹ بناسکے۔ تعلیم ہی اپنی کوکھ سے علم کو جنم دیکر کردار میں عملی نکات پیدا کرے تو وہ شعور اور تبدیلی کہلائی جاسکتی ہے۔ صرف تعلیم حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے سے کوئی بھی طالب علم نوکری اور کاروبار تو کرسکتا ہے مگر اپنے سماج میں تحریک پیدا نہیں کرسکتا اور نا ہی انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ کوئی بھی تحریک جسکے مقاصد متعین نا ہوں تو جدوجہد علمی ہو، نظریاتی ہو، تعلیمی ہو، فکری ہو وہ وقتی جدوجہد تو بن سکتی ہے مگر اسے مستقل جدوجہد نہیں کہا جاسکتا۔ جیسا کہ البرٹ کامیوس نے کہا کہ حقیقی مایوسی طاقتور دشمن کا سامنا کرنے سے پیدا نہیں ہوتی اور نا ہی جدوجہد میں ناکامی تھکاوٹ سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ مایوسی اس وقت ہوتی ہے جب ہمیں اپنی جدوجہد کا ادراک نہیں ہوتا ہے۔ ہم یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ یہ جدوجہد کس لئے شروع کی گئی تھی۔ یہ جدوجہد قومی شناخت کی جدوجہد ہے۔ قومی بقاء کی جدوجہد ہے۔ یہ کچھ آسامیوں، نوکریوں، وسائل اور صوبائی حق خود داریت کی جدوجہد ہے ہی نہیں۔ قومی تحریکیں اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کے بجائے عام لوگوں کی جدوجہد سے بنتی ہیں۔ وہ لوگ جن کی ہر سوچ اجتماعی ہے اور وہ اجتماعی سوچ کی بنیاد پر بولتے ہیں اور اپنے قول کو عمل میں تبدیل کرنے کی جرأت رکھتے ہیں جیسا کہ گرامسچی نے کہا: ”قبضہ گیر ریاستیں تشدد اور معاشی استحصال کیساتھ اپنے اداروں کے ذریعے ریاستی نظرئیے کو محکوم اقوام پر مسلط کرتی ہیں اور ایسے سماج میں انقلاب لانا مشکل ہوجاتا ہے جہاں محکوم حاکم کو حکمرانی کرنے کا حقدار سمجھتا ہو”۔ مگر سوال یہ ہے، آج کل ایسی سازش میں بلوچ طلبہ کو ڈالا جارہا ہے ،کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل تعلیم ہے۔ کونسی تعلیم اور تعلیم کس کیلئے ؟۔ کیا پروفیشنل ازم قومی خدمات کے برابر ہوسکتی ہے؟۔ ہماری جد و جہد کے اہم مقاصد کیا ہیں؟۔ قومی جدوجہد پر کمپرومائز کرنے والی قوتیں کون سی ہیں؟۔ جو نام نہاد قوم پرست پارٹیاں بناچکے ہیں وہ نام نہاد قوم پرست تو کہلائے جاسکتے ہیں، لیکن انہوں نے اصل مقصد اور قومی شناخت کے بجائے کچھ وسائل کو ہی جدوجہد کا نام دے رکھا ہے۔ بلوچ قوم کو ہر اس دھوکے کو پہچاننا ہوگا، سوال کرنا ہوگا کہ وہ کونسے مقاصد ہیں کہ جس کی وجہ سے ہم یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ ہماری قومی شناخت کی جنگ ہے اور ہمارے آباء و اجداد اور ہزاروں شہیدوں نے اپنی جان کی قربانی صوبائی خود مختاری ، چند اسامیوں اور تعلیم کیلئے نہیں دی ہے ۔ ہمارے نوجوان اسلئے پڑھتے ہیں کہ کل وہ اچھے ڈاکٹر بن جائیں ایک اچھے وکیل بن جائیں ؟ ،کسی پروفیشن میں ان کا نام ہو؟، ایک اچھے استاد اور لیکچرار بن جائیں؟ اور کل کواگر انہیں ایک پروٹوکول چاہیے تو وہ جاکر سول سروس میں،PCSاورCSSکرکے اپنے آپ کو علاقے کا سب سے معتبر اور سب سے تعلیمی، شعوری انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچو! قومی جدوجہد کی راہ انتہائی کٹھن ہے اس میں بے پناہ قربانیاں دینی پڑیں گی۔ اور یہ کسی بھی انسان کی قوت کا کام نہیں کہ وہ اکیلے انقلاب لا سکے۔ انقلاب کیلئے ہمیشہ عوام کی ضرورت ہوتی ہے، قوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب پوری قوم ایک تبدیلی کیلئے اپنی صبح شام لگاتی ہے ،اپنی جانوں کی قربانیاں دیتی ہے تبھی وہ کام آسان ہوسکتا ہے ایک فرد انقلاب نہیں لاسکتا۔ بھگت سنگھ کی ایک تحریر میں نے پڑھی تھی وہ انہوں نے اپنی پھانسی سے چند دن پہلے لکھی تھی انقلابیوں کے نام۔ کچھ ایسے الفاظ تھے جو مجھے سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں ہم سب کو کیونکہ ہم سب جو سطحی سیاست کا حصہ ہیں یا جہاں ہم سیاست کر رہے ہیں اس میں میں بذات خود بھی شامل ہوں اس میں میں اپنے آپ کو بورژوا نیشنلسٹ سمجھتی ہوں۔ کیونکہ میں قوم پرستی کے اس قول کو تو مانتی ہوں لیکن عملی طور پر میں ابھی تک اس میں شامل ہی نہیں ہوئی یا ہم سب اس میں شامل ہی نہیں ہوئے تو بھگت سنگھ نے کہا کہ اگر آپ ایک بزنس مین اور ایک اچھے ڈاکٹر ہیں اور اپنی زندگی کے کچھ گھنٹے جدوجہد پر بے بنیاد تنقید اور تقریروں میں صرف کرتے ہیں اور صبح ریاستی مشینری کو مستحکم کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ برائے مہربانی آگ سے مت کھیلیں۔ ایک انقلابی ورکر کے طور پر آپ کسی بھی تحریک کیلئے کار آمد نہیں ہوسکتے۔ انقلاب کیلئے ہمیں پیشہ ورانہ انقلابیوں کی ضرورت ہے۔ تحریک کے وہ کارکن جن کی زندگی کا مقصد تحریک کو آگے بڑھانے کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو ، تحریک کیلئے جذبات قابل قدر ہوسکتے ہیں مگر تحریکیں مستقل مزاج کارکنوں کی مسلسل جدوجہد، مصیبتوں کا سامنا کرنے اور بے پناہ قربانیوں سے کامیاب ہوتی ہیں۔ راستے کی کوئی تکلیف آپ کی جدوجہد کو کم نہیں کرسکتی۔ اور اگر دشمن آپ پر وار کرتا ہے تو اس پر آپ اپنا سر پکڑ کر نہیں بیٹھیں گے کہ اُف یہ کیا ہوگیا؟ یہ تو ہم برباد ہوگئے، اب تو یہ ہماری عورتوں تک آپہنچا ہے۔ سب سے پہلے تم اپنے کلیم کو تو دیکھو کہ تم کیا مانگ رہے ہو؟۔….. میں کہتی ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔………..
ایک ماں کا وہ پہلا خیال جس نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنے وطن کیلئے قربان ہوگی ناں۔ وہ خیال ہی اس قوم کو ہزار سال حوصلہ دینے کیلئے کافی ہے۔ اس کی قربانی تو بہت دور کی بات ہے۔ اس قوم کی شناخت کی بقاء ہی اس میں ہے اس قوم کی جو جدوجہد ہے جس مقصد کیلئے شروع ہوئی تھی اس کو وہاں تک پہنچایا جائے۔ کوئی بھی ڈائیورژن ان قربانیوں کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی۔….تبصرہ: مولانا عبید اللہ سندھی نے کہا کہ عرب کے بعد عجم قرآن کو سمجھ کر انقلاب لائیں گے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ!

پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ!

دنیا کی محفلوں سے اکتاگیا ہوں یارب !
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سُرخی لئے سنہری ہر پھول کی قباء ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
اُمید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھادے
جب آسماں پر ہر سُو بادل گھرا ہوا ہو
پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہمنوا ہوں وہ میرا ہمنوا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلوں کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند کو رونا مرا رلا دے
بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ ۔ اقبال سے آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر تک عوام کے کانوں نے یہ گونج سنی ہے لیکن اس پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی قابلیت میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ریاست کے بیانیہ کو اسنے صحافیوں کے سامنے پیش کردیا ہے اور دوسری طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی پہلی مرتبہ اپنا بیانیہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے میں بھرپور طریقے سے کامیاب ہوئی ہے۔ اگر ہماری ریاست اب تک اپنا عدالتی نظام درست نہیں کرسکی ہے تو اس سے ریاست کا بیانیہ کمزور ثابت ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہرطرح کے تشدد کی مذمت کرتی ہیں اور معصوم لوگوں کو مارنے کا رونا روتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میڈیا پر وہ خبریں بھی نہیں آتی ہیں جن میں معصوم عورتوں ، بچوں اور طالب علموں کو شہید کیا جاتا ہے تو ان کا گلہ بجا ہے۔ اگر کوئٹہ اور بلوچستان سے معصوم لوگوں کے قتل کی خبریں شائع نہ ہوں اور اسلام آباد میں آتے وقت بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو یہ ریاست پر سوالیہ نشان بنتے ہیں۔ اگر نگران وزیراعظم کا کام نہیں ہے کہ عدالتی نظام کو اس نے ٹھیک کرنا ہے اور عدالتی نظام قابل اعتماد نہیں ہے تو پھر قصور کس کا ہے؟۔ کیا طالبان یاBLAکے لوگ قانون سازی کرکے دیںگے؟۔ پاکستان کی معروف تین قومی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ آصف علی زرداری کہتا ہے کہ جیل میں دن رات دونوں شمار ہوتے ہیں اور مجھے محض الزام پر11سال جیل میں رکھا جو22سال بنتے ہیں لیکن عدالتوں نے باعزت بری کردیا۔ نوازشریف کو دو بار عدالتوں نے سزا دینے کے باوجود بری کردیا اور اب عمران خان کیساتھ جو کچھ ہورہاہے اس سے پہلے کبھی کسی کیساتھ ایسا نہیں ہوا ہے اور اگر ہوا ہے توبھی شرمناک ہے۔
اگر جمہوریت والے، مذہبی پارٹیاں، جہادی تنظیمیں اور قوم پرست پارٹیاں سب کی سب پاک فوج کے خلاف ہوں اور عدالتی نظام بھی درست نہ ہو تو پھر کیا اس ملک کے بقاء کی امید ہوسکتی ہے؟۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو مقدمہ لڑرہی ہے وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے لیکن جب مسلم لیگ ن کے راشد مرادMRTVلندن یہ پنجابی اور اردو میں کہتا ہے کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے بچوں کو فوج نے خود ہی مارا ہے تو اس کا بیانیہ زیادہ خطرناک ہے جس کو اقتدار میں لانے کیلئے سہولت کار بن گئے ہیں ؟یا ڈاکٹر ماہ رنگ کا یہ مطالبہ زیادہ خطرناک ہے کہ بالاچ بلوچ کو جج نے ریمانڈ کیلئےCTDپولیس کے حوالے کیا۔ جس نے جعلی مقابلے میں قتل کیا اور تربت میں7دنوں تک اس کی لاش کو احتجاجاً رکھا گیا اور پھر جس دن عدالت میں بالاچ بلوچ کوCTDپولیس نے پیش کرنا تھا تو اس دن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ماما قدیر وغیرہ نے اس کی لاش کو جج کے سامنے پیش کیا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ درست کہتی ہیں کہ ہمیں اسلام آباد تک لانگ مارچ کے بجائے اس عمارت کے باہرہڑتال کرنا تھی جسے آپ عدالت کہتے ہیں ،جس نے ریمانڈ کیلئے پولیس کو ملزم حوالے کیا اور پولیس نے اس کو جعلی مقابلے میں ماردیا۔ اگر وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کہتا ہے کہ ریاست کو اپنی عدالت پر اعتماد نہیں ہے ملزموں کو چھوڑ دیتی ہے تو پھر قصور نگران وزیراعظم کا نہیں ، ریاست کا بھی نہیں تو پھرکس کا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ درست کہتی ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ریاست طاقت کا استعمال نہ کرے۔ ریاست طاقت کا استعمال ضرور کرے لیکن اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے اور اگر وہ طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے تو اس کی گرفت بھی ہو۔ اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ ۔ طوطے کی طرح رٹ اور زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک پہاڑ ہے جس سے جو بھی سر ٹکراتا ہے تو اپنا سر توڑتا ہے۔ فوجی آمر، عدالت کا جج، طالبان، قوم پرست اورسیاستدان کسی کے پاس اس لاعلاج کینسر کی کوئی دوا نہیں ہے۔ بنگلہ دیش بن گیا تو وہ یتیم اور بے سہارا نہیں ہوا بلکہ ہم سے زیادہ خوشحال ہے۔ سندھی، بلوچ اور پشتون میں بھی یہ سوچ پختہ ہوگئی ہے کہ اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے تو ہوسکتا ہے کہ خوشحالی آجائے۔ قرضوں اور کرپشن کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈیٹا لیک کرنے پر صحافی شاہد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی صحافی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ارشد شریف کو آواز اٹھانے پر شہید کیاگیا اور عمران ریاض خان کو لاپتہ کرکے اس کی زبان خراب کردی گئی ہے۔ قرآن تو ایک انسان کے بیگناہ قتل کو ایسا قرار دیتا ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کیا ہو۔
ریاست بھی ظالم ہے اور مذہبی وقوم پرست تنظیمیں بھی ظالم ہیں ۔ فرعون کا ظلم قرآن میں ہے اور بنی اسرائیل کے کرتوت بھی قرآن میں ہیں۔ فرعون کے ہاتھ سے جو بچتا تو قرآن میں ہے کہ خضر علیہ السلام نے بھی بچے کو قتل کیاتھا۔ ان معصوم لوگوں کے قتل اور آپس کی لڑائی میں بھی بسا اوقات خیر ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑلیا تو اسکے پیچھے ایک بڑے فلسفے کا سبق قرآن میں قیامت تک عوام کو مل گیا۔ حضرت موسیٰ شرک کے خلاف تھے اور حضرت ہارون نے تفریق کو شرک سے بڑا جرم سمجھ لیا۔
اگر ہماری قوم پر سختیاں نہ آتیں تو ہم بھی یورپ اور ترقی یافتہ دنیا کی طرح فحاشی کے سیلاب میں غرق ہوجاتے اور پھر اس سے نکلنا زیادہ مشکل ہوتا۔ تھوڑی بہت آزمائش سے ہماری قومیں بڑی مصیبت سے بچ گئی ہیں۔
اگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو آزمائش کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو اس کی صلاحیتوں میں کبھی ایسا نکھار نہیں آسکتا تھا۔ باپ پر تشدد اور مسخ شدہ لاش نے دل چھنی کردیا لیکن رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اللہ کو ٹوٹے ہوئے دلوں میں تلاش کرو”۔ ماہ رنگ بلوچ کی وجہ سے لاکھوں خواتین اور بچیوں کے رحجانات ، جذبات اور کردار کا رُخ زندگی میں مقصد اور انقلاب کی طرف مڑ گیا ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، مدارس اور جماعت اسلامی بہت زیادہ عملی صلاحیتوں اور خیرات ،زکوٰة، صدقات اور چندوں کی رقم خرچ کرکے بھی ایک ماحول تو دے سکے ہیںلیکن ان کو مقصدیت کی طرف نہیں لاسکے ہیں۔ ایک نظریہ انسان کو مقصدیت دیتا ہے۔ جب عورت مارچ کے خلاف پوری ریاست کھڑی تھی۔ سیاسی جماعتیں، جامعہ حفصہ و لال مسجد والے اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کو حکومت نے سڑک کی ایک طرف اشتعال انگیز جلسے کی اجازت دی تھی اور دوسری طرف عورت مارچ نے وہاں سے گزرنا تھا تو بیچ میں کنٹینر بھی کھڑے ہوتے تو پاک فوج کے جرنیلوں کی بھی اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہاں سے گزرتے لیکن پولیس کوچھوٹی اسٹک دے کر ٹینٹ کے کپڑے کی دیوار کیساتھ کھڑا کیا گیا تھا۔ تاکہ آسانی سے عورت مارچ کی خواتین کو ہدف بنائیں۔ جب خواتین پر حملہ کیا گیا تو ٹرک میں وہ اپنے تحفظ کی خاطر اپنے سروں کو بھی کپڑوں سے بچانے کی کوشش کررہی تھیں اور ہنس بھی رہی تھیں۔ جس خوف پر انہوں نے کنٹرول کیا تھا وہ ان کی نظریاتی پختگی کا کمال تھا۔ ان کے خلاف جس طرح کا غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا وہ بھی شرمناک تھا۔
اگر ہدی بھرگڑی ، فرزانہ باری ، عصمت شاہ جہان اور دوسری بہادر خواتین اس مارچ کی قیادت کرکے کامیاب نہ بناتیں تو شاید بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت بھی آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جگہ کسی جوانمرد کے ہاتھ میں ہی ہوتی۔ میرے خیال میں آصف علی زرداری کی خواہش پرPDMکی حکومت بننے کیلئے سب سے بڑی ڈیمانڈ یہ رکھی گئی تھی کہ بلاول بھٹو8مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہوگا اور عورت مارچ کی کہانی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اسلئے کہ باقی پارٹیاں تحریک انصاف، ن لیگ، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی اور سب جماعتوں کے قائدین نے عورت مارچ کی بہت کھل کر مخالفت کی تھی لیکن بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی نے اس کو زبان کی حد تک سپورٹ کیا تھا اور اس کا پھر پیپلزپارٹی نے جب کفارہ ادا کیا توPDMکے دورمیں وزیرخارجہ بن گئے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پتہ نہیں کہ پختون بے غیرت اپنی بہن بیٹی کا حق مہر بھی کھا جاتا ہے۔سندھی وراثت کے ڈر سے اس کی قرآن سے شادی کراتاہے اور پنجابی بے غیرت حق مہر تو دور کی بات جہیز بھی مانگتا ہے۔ بلوچی سماج الحمدللہ ان برائیوں سے پاک ہے اسلئے انگریز نے اس کو سب سے زیادہ عزتدار قرار دیا ہے۔ جب اپنی بہن بیٹی اور بیوی کے معاملات میں عزت نہ ہو تو پھرکہاں سے عزت آئے گی؟۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ریاست سے پہلے سماج کی جنگ لڑے۔ سماج سے زیادہ مذہبی طبقات نے عورت کو اپنے حقوق سے محروم کیا ہے۔ اگرچہ ریاست نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے لیکن مولوی اس حق کو شرعی نہیں مانتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ قوم پاکستان سے آزادی چاہتی ہے؟۔ یہ بہت بڑا سوال ہے اور اس پر بلوچ قوم تقسیم ہوسکتی ہے اور متفق بھی ہوسکتی ہے ۔ لیکن کیا عورت اپنے شوہر سے خلع لے سکتی ہے؟۔ بالکل لے سکتی ہے۔ ریاست نے بھی اس کو خلع کا حق دیا ہے اور شریعت نے بھی دیا ہے لیکن مولوی اس حق کو نہیں مانتا ہے۔ اگر عورت عدالت سے خلع لے لیتی ہے تو مولوی کا فتویٰ ہے کہ یہ خلع معتبر نہیں ہے۔ جب تک شوہر راضی نہ ہو تو عورت کو عدالت خلع نہیں دے سکتی ہے۔ بالفرض ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ریاست شوہر ہے اور عوام اس کی بیوی ہے اور بیوی کو عدالت پورا پورا حق دیتی ہے کہ وہ جدا ہوجائے ۔ لیکن ریاست نہیں مانتی ہے تو اس کو اپنا حق حاصل کرنے کیلئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی اورBLAوغیرہ مذہبی لوگ نہیں مگر بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی تو مذہبی طبقات ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیاہے؟ لاالہ الا اللہ ! ۔ آرمی چیف سید عاصم منیر آج بھی یہی کہتا ہے لیکن یہ ایک فرد سے تو معاملہ نہیں بن سکتا ہے۔ آرمی چیف بدل جائے لیکن باقی ساری مشینری کھڑی ہو تو جس طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بدل جانے سے بھی بلوچ نہیں بدلے گا اسی طرح ریاست کے ایک دوافراد کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
جس دن بلوچ قوم نے قرآن کی بنیاد پر مولوی کو بدل دیا تو نہ صرف اپنے پاکستان میں بلکہ ایران وافغانستان میں بھی بلوچ کو حقیقی آزادی مل جائے گی۔ جس کے اثرات پوری دنیا کے مسلمانوں اور عالم انسانیت پر بھی پڑیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گولی اور گالی سے زیادہ افہام وتفہیم سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اور دنیا کی سطح پر ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مرید جن میں کورکمانڈر سندھ جنرل نصیراختر اور آرمی چیف جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ کے علاوہ بہت سارے فوجی افسران شامل تھے ۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ ، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء اور بڑے مدارس کے اساتذہ اور ائمہ مساجد کے علاوہ تبلیغی اور بہت بڑی تعداد میں مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے۔ پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچ اور مہاجر سب قومیتوں کے لوگ بھی تھے۔ لیکن آزمائش کے وقت سب کی اوقات کا پتہ چل گیامگر کچھ لوگ تمام قوموں میں ایسے نکلے جنہوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔ فوجی ٹرکوں میں ہمارے ساتھیوں کو پکڑ کر پولیس تھانے لے جاتی تھی پھر تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک انقلاب برپا کیا ہے۔
جب ایک مسجد پر قبضہ ہورہاتھا تو جن لوگوں نے ہم پر فتوے لگائے تھے اس مسجد کے امام سے ہمارا کہا گیا کہ ”اگر یہ لوگ ساتھ دیں تو یہ مسجد بچ سکتی ہے”۔ جب وہ ہمارے پاس آیا تو ہم نے نہیں کہا کہ جنہوں نے بیہودہ فتوے دئیے ہیں اب مدد مانگنے کیلئے آگئے؟۔ البتہ ان کو جماعت کی بنیاد پر نہیں ذاتی طور سے مد د کا وعدہ دیا۔ وہاں پہنچے تو مسجد میں تقریر کی اور لوگوں سے کہا کہ کچھ غیرت کرو۔ مسجد کے امام اور اپنی مسجد کو بچاؤ۔ اس دوران ایک فوجی کیپٹن اور اس کے ساتھ سنی تحریک کے معروف کردار وحید قادری آگئے۔ کیپٹن نے بھی ہری پگڑی پہن رکھی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ میں کیپٹن ہوں اور ہمیں اپنے ساتھ لے گیا۔ جب ان سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ ” یہ سار ا فساد ہماری ریاست اورحکومت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک مسلک کے لوگ مسجد بنالیتے ہیں اور پھر دوسرے مسلک کے لوگ حکومت وریاست کی طاقت سے یا اپنی اکثریت اور طاقت سے قبضہ کرلیتے ہیں۔ جس میں فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے اور حقدار بھی اپنے حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اگر ریاست کی یہ پالیسی ہو کہ جہاں جس مسلک کی اقلیت ہو تو وہاں پر اس کو مسجد کی تعمیر کی اجازت نہ ہو یا پھر اس کی رجسٹریش ہو اور دوسرے اس پر قبضہ نہ کرسکیں تو یہ معاملات نہیں بگڑیں گے”۔ اس دوران فولڈنگ والی کرسی میرے نیچے بیٹھ گئی اور میری ایک ہاتھ کی انگلی بھی کچل گئی۔ فوجی نے مرہم پٹی کی اور ہمیں عزت کیساتھ چھوڑدیا اور پھر کراچی میںمساجد کی رجسٹریشن بھی ہونے لگی اور فسادات کا مسئلہ حل ہوگیا۔ اگر لاٹھیوں اور گولی کا سلسلہ چلتا رہتا تو کراچی کی مساجد میں ایک نہ رکنے والے فساد کی وجہ سے نقصان جاری رہتا۔
ہم مسلک ، قوم اور ملک کی بنیاد پر کسی کا ساتھ دینے کے قائل نہیں ہیں بلکہ حق اور باطل ، ظالم اور مظلوم ، طاقتور اور کمزور کو دیکھ کر اپنی فطرت کے مطابق ہی ساتھ دیتے ہیں۔ باطل ، ظالم اور طاقتور کا ساتھ دینا بہت فضول سی بات ہے۔
جب عورت مارچ کی سبھی مخالفت کررہے تھے تو بھی ہم نے اپنی اوقات کے مطابق ساتھ دیا۔MNAعلی وزیر کی طرح تقریر کرکے رفو چکر نہیں ہوئے بلکہ میڈیا اور میدان میں بھرپور ساتھ دینے کیلئے آخری وقت تک ساتھ دیا۔ ان پر پریس کلب سےDچوک جاتے ہوئے حملہ ہوا تو بھی ہمارے ساتھی ساتھ تھے اور جب واپسی گاڑی اٹھانے کیلئے جارہے تھے تو بھی ان کے ساتھ رہے۔
اپنے اخبار اور کتاب میں بھی ان کو بھرپور کوریج دی۔ اگر وہ ہمارا مشن لیتے تو عورت کے حقوق کی حقیقی جنگ بھی جیت چکے ہوتے مگر انکے شاید این جی اوز کے بھی کچھ اپنے مسائل ہیں۔ ان کوسنجیدہ حقوق سے زیادہ کچھ اور آزادی چاہیے لیکن وہ کمزور اور مظلوم تھیں اسلئے ہم نے بھرپور ساتھ دیا تھا۔PTMکے مشکل وقت میں بھی ہم نے میدان میں اخبار میں بھرپور ساتھ دیا مگر تعصبات کو ہوا دینا اچھا نہیں لگتا ہے۔ لوگوں کو اپنی قوم ، اپنے علاقہ اور اپنی زبان سے محبت ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور اسلام بھی اس کی ترویج کرنے کاحکم دیتا ہے مگر اپنی قوم سے محبت اور دوسرے سے نفرت غلط ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان چلنا دنیا میں پل صراط اور کان کے پردے سے زیادہ باریک ہے۔
میرا بھائی ذوالفقار علی بھٹو سے بڑی محبت رکھتا تھا ،لیہ پنجاب میںSDOواپڈا اور پھر ایکسین کے عہدے پر ترقی ہوئی تو اپنے آفس میں تین نوکریوں پر وہاں محسود قوم کے افرادواپڈا دفتر لیہ پنجاب میں لگائے۔باپ عبدالرحیم (ادرامی)چوکیدار،ایک بیٹا جلات خان چپڑاسی، دوسرا سٹور چوکیدارلگادیاتھا۔ لیکن جب ٹانک شہر میں تبادلہ ہو ا تھا تو ایک سرائیکی بھی بہت مشکل سے لگایا تھا جس کی اوپر سے سفارش تھی مگرسفارش کا لحاظ نہیں رکھنا تھا بلکہ حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے چپڑاسی لگادیا۔ وہMSCکیمسٹری تھا اور اس کا دوسرا بھائیMSCفزکس تھا جو میرے سکول میں ٹیچر تھا ۔حالانکہ ٹانک شہر اور اس کے آس پاس کا علاقہ بھی اصل میں سرائیکیوں کا ہے۔ میرے بھائی نے کہا کہ کالے سرائیکی کی جگہ سرخ وسفید پشتون کو لگاتا لیکن حافظ تھا اسلئے اس کو نوکری دے دی۔ ہمارے خاندان کا تعلق قوم پرست جماعتوں سے بھی نہیں رہاہے لیکن پھر بھی یہ ہوگیا۔
قرآن میں انصار ومہاجرین کی تعریف ہے لیکن خلافت کے مسئلے پر انکے اختلاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انصار میں اوس و خزرج اور قریش میں بنوامیہ اور بنی ہاشم میں ٹھن گئی تھی۔ بنوامیہ و بنوعباس کی خلافت کا سلسلہ تعصبات کا نتیجہ تھا۔ شیعہ اور سنی فرقوں کے مستقل اپنے اپنے عقائد اور نظریات ہیں۔
حامد میر کو اللہ خوش رکھے۔ بلوچ خواتین کیلئے بہت بڑا سہارا بن گئے ۔جس کی وجہ سے لسانی نفرتوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ بلوچ کی نفسیات کو سمجھے بغیر اس کی سپورٹ اچھی بات ہے لیکن اس کی نفسیات کو سمجھ کر پھر سپورٹ کرنے کا مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔ حامد میر نے کہا کہ جب مجھے گولیاں ماری گئیں تو میرا گارڈ بلوچ تھا اور ڈرائیور پٹھان تھا۔ پٹھان نے کہا کہ لیاقت ہسپتال لے جاتے ہیں وہ قریب ہے اور بلوچ نے کہا کہ یہ وہاں بھی پیچھا کریںگے۔ میں نے کہا کہ پھر آغا خان لے جاؤ۔ جب میری گاڑی یوٹرن لے رہی تھی تو مجھے ٹوٹے ہوئے شیشہ کی وجہ سے قریب سے پیٹ میں گولی ماری گئی ”۔ حامد میر کو معلوم نہیں کہ لیاقت نیشنل بھی آغا خان کیساتھ بالکل لگاہوا ہے۔ پٹھانوں اور بلوچوں کو خوش کرنا اچھا ہے۔
حامد میر نے کہا ”خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سکیورٹی گارڈ تھے” اور اس خیر بخش مری کو ہی ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ اپنا آئیڈل سمجھ رہی ہے۔ خیر بخش مری ایک نواب تھا ۔ سردارسے بڑا درجہ نواب کا ہوتا ہے اور نواب سے بڑا درجہ خان کا ہوتا ہے۔ رحمن ڈکیٹ بینظیر بھٹو کا چیف سکیورٹی گارڈ تھا اورپیپلزپارٹی نے اس کو ”سردار عبدالرحمان بلوچ” کا سٹیٹس دیا تھا۔ بلوچ اس کو سردار تو نہیں سمجھتے تھے مگر بینظیر بھٹو کو سکیورٹی فراہم کرنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ڈکیت اورنواب میں بڑا فرق ہے۔ نواب خیر بخش مری کا دادا بھی نواب خیر بخش مری اول تھا اور اس نے انگریزکی فوج کے خلاف تحریک اٹھائی تھی کہ بلوچ بھرتی نہیں ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ خان آف قلات نے اس کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کئے۔ انگریز اور خان آف قلات کی قربتیں تھیں۔ نواب خیر بخش مری کے دادا خیربخش مری انگریز کے باغی تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کو نواب آف قلات نے اپنا ملازم لیگل ایڈوائزر رکھا تھا۔ جنرل ایوب خان وردی میں فاطمہ جناح کیخلاف الیکشن لڑرہاتھا تو بلوچ ،پشتون، پنجابی، سندھی اور بنگالیوں کی مشترکہ پارٹی نیشنل عوامی پارٹی نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور نواب خیربخش مری پارٹی کے بڑے اہم رہنما تھے اور فاطمہ جناح کو فوج سے تحفظ دیا تھا ۔ اس کو چیف سکیورٹی گارڈ کا نام دینا ان کی توہین ہے۔ ایک دوسرے بلوچ اہم رہنما غوث بخش بزنجو بابائے جمہوریت کہلاتے تھے۔ عبدالقدوس بلوچ کے رشتہ دار یوسف نسکندی ان سے کہتے تھے کہ جمہوریت چھوڑ دو اور بندوق اٹھاؤ۔ شیر محمد مری بندوق اٹھانے سے مایوس ہوکر بیٹھ گئے تھے جس کا سن 1980میںBBCپر انٹرویو موجود ہے۔ اور اس نے کہا تھا کہ ایک دن پوری بلوچ قوم پاکستان کے خلاف اٹھے گی۔
ہمارے اخبار اور کتابوں میں پروفیسر غفور احمد، ڈاکٹر اسرار، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف ، صوبائی امیر مولانا امان اللہ ، جمعیت علماء پاکستان شاہ فرید الحق ، علامہ طالب جوہری سے لے کر بڑے چھوٹے مدارس ، ضلع ٹانک کے اکابر علماء ، چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی پولیس ، ڈی آئی جی اور تمام مکاتب فکر اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا بیان چھپتا تھا لیکن جب یوسف نسکندی کا بیان چھپ گیا تو میرے بھائی پیرنثار نے کہا کہ صرف اسی شخص نے تمہاری تحریک کو سمجھ لیا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ بلوچ کو سادہ مت سمجھو ۔ ان کی تحریک بہت مضبوط اور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی ہے اور یہ چیف سکیورٹی گارڈ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ پاکستان کی ریاست نے جبری غلام بنایا ہے اور جان چھڑانی ہے۔
ہمارے قریب میں جو شیرانی قبیلہ ہے وہ کان کو ہاتھ لگانے کو برا سمجھتا ہے۔ پنجابی کھلے عام پدو مارنے کو برا نہیں سمجھتے اور دوسرے سمجھتے ہیں لیکن ان چیزوں کو تعصبات کا رنگ بھی نہیں دینا چاہیے اور ایک دوسرے کی نفسیات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو یتیم کی طرح رل نہیں گیا بلکہ خوشحال ہوگیا۔ بلوچ اور سندھی انگریز کی فوج میں بھرتی کے خلاف تھے۔ یوسف مستی خان سندھی بلوچ اتحاد کے حامی اور خیربخش مری کے ساتھی تھے۔تربت و بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پنجابی اور پشتون اسلئے مارے گئے کہ قوم پرست سمجھتے تھے کہ یہ جاسوس کا کام کرتے ہیں۔ پٹھان اور پنجابی انگریز کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اگر اسلام کی بنیاد پر کچھ معاشرتی مسائل حل ہوجائیں تو پھر قوموں اور ریاست کی تمام مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔ کسی کو شوق نہیں ہے کہ حلالہ کی لعنت سے اپنی بیگم کی عزت خراب کرے لیکن جب مذہب مجبور کرتا ہے توپھر پٹھان، بلوچ، پنجابی ، سندھی اور مہاجر سب بے غیرتی پر مجبور ہوتے ہیں۔
قرآن وسنت میں عورت کو خلع کا حق دیا گیا ہے ۔ گھر کا ماحول ایک چھوٹی ریاست کا ہوتا ہے اور جب صنف نازک عورت کو تحفظ قرآن نے دیا ہے مگر ہمارا مولوی اور ہمارامعاشرہ عورت کے حق کو نہیں مانتا۔ شوہر عورت کو چھوڑنے کے بعد ماں کا لخت جگر چھین لیتا ہے۔ جب تک سماج کو مردوں کی غلط بالادستی سے عورتوں کو تحفظ نہیں ملتا ہے تو قرآن کے مطابق معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔
عورت صنف نازک ہے مگر مضبوط اعصاب کی مالک بھی ہے اور اس سے مردوں کے مقابلے نرمی اور عزت سے پیش آنے کا معاملہ بھی فطری ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قومی تحریک کا رخ بدل دیا ہے۔ اگر حضرت عائشہ نے حضرت علی کے خلاف حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ نہیں کیا ہوتا تو لوگ حضرت عثمان کی مظلومیت کے بجائے اس کے فسادی ہونے پر یقین کرتے اور اگر کربلا کے بعد حضرت زینب حسین کی مظلومیت پر آواز نہ اٹھاتیں تو امام حسین پر بھی فسادی کے الزام لگتے ،اسلئے کہ حضرت علی ، حسن اور بعد کے ائمہ اہل بیت نے وہ اقدام نہیں اٹھایا جو حسین نے اٹھایا۔ علماء نے باغی قرار دینا تھا۔
اہل سنت کے امام ابوحنیفہ ، مالک، شافعی اور ابن حنبل نے مقتدر طبقے سے مار کھائی لیکن شاگردوں نے اسلام کو بگاڑ دیا۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا تو قربانیاں تاریخ کا حصہ بن سکتی ہیں لیکن معاشرے کو ظلم وجبر سے نکالنا مشکل ہے اور جب نظام کو بنیاد سے ٹھیک کیا جائے تو پوری دنیا میں انقلاب آسکتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان میں دہشت گرد مسلح تنظیمیں مسئلہ ہیں۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

بلوچستان میں دہشت گرد مسلح تنظیمیں مسئلہ ہیں۔ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

(اسلام آباد) وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پریس بریفنگ کے دوران جواب دیتے ہوئے بہت کچھ کہا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں بلوچستان سے آئے ہوئے احتجاجی بلوچوں سے ہماری بھی ہمدردیاں ہیں۔ بلوچستان میں ؒٓBLAوغیرہ کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ان دہشت گردوں کے لواحقین اور بچے بھی ہوتے ہیں اور اپنے دہشت گرد باپ، بیٹے، بھائی اور رشتہ داروں سے محبت ہمدردی ہوتی ہے۔ ہمیں اس چیز کا بھی احساس ہے۔ جو لوگ مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں اور ان کے حق میں کالم لکھ رہے ہیں۔ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کھل کر پھر بندوق اٹھائیں اور دہشت گردوں کیساتھ مل کر ریاست کے خلاف لڑیں۔سن1970میں کالم نگار (نجم سیٹھی) ان کیساتھ لڑنے کو پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے جن کا میں نام نہیں لوں گا۔
ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے کہ ہزاروں افراد کے قاتلوں کو سزا نہیں دے سکا۔ نگران وزیراعظم کا یہ کام نہیں کہ نظام کو درست کرے۔ دہشتگردوں نے بلوچوں کو بھی مارا۔یہ مجھے بھی ماردیں گے۔ دو فیصد بیرونی فنڈز سے دہشتگردی کرتے ہیں۔98فیصد بلوچ ریاست کیساتھ ہیں۔ریاست نمٹ سکتی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

70سالوں میں پاکستانی ریاست بلوچوں کے ساتھ جو کررہی ہے30دنوں میں جو کچھ ہوا یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
(اسلام آباد) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آپ جو اتنے بڑے بڑے کیمرے لاتے ہو،وہاں (بلوچستان، کوئٹہ) پرکوئی نہیں آتا۔بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جب آپ کیFCعورتوں کو مارتی ہے۔جبFCنے خوشاب میں دو بچوں پر گولہ بارود پھینکی وہ نیوز آپ لوگوں نے کبھی نہیں دی۔ آپ لوگوں میں سے کسی بھی میڈیا چینل کو میں چیلنج کرتی ہوں کہ آئے بلوچستان میں، آپ لوگوں میں کس نے تربت، خوشاب اور آواران دیکھا ہے؟۔ آواران میں آپ لوگوں کو ویزہ لگاکر جانا پڑے گا۔ یہ ہے وہ بلوچستان جس کو آپ نے دیکھا نہیں ہے جس کو صرف اورصرف واٹس ایپ کے پیسٹ بیانئے سے ملاکر میچ کیا ہوا ہے۔ اس بلوچستان کو دیکھنے کی آپ میں جرأت نہیں ہے۔ اگر آپ دیکھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کے اندر انسانیت ہے تو آپ کی آنکھیں شرم سے ڈوب مرنی چاہئیں۔ شرم کریں آپ لوگوں نے ایک قوم کی70سالوں سے خونریزی کی ہے۔70سالوں میں آپ نے ان کی عورتوں کو نہیں بخشا، ان کے مردوں کو نہیں بخشا۔آپ ہم سے مذمت کرواکر اپنے ریاستی جبر کو نہیں چھپا سکتے۔ آپ ہم سے مذمت کروانے سے پہلے سب سے پہلے یحییٰ کی مذمت کروائیں، سب سے پہلے اپنے ہیرو پرویز مشرف کی مذمت کروائیں جس نے ایک80سالہ بزرگ اکبر بگٹی پر بھی گولہ بارود مارے، اس نے اس کو بھی مارا، ٹھیک ہے ناں جائیں! اپنی ریاستی مشینری سے مذمت کروائیں کہ اس نے بلوچوں کی نسل کشی کیوں کی۔آج بھی وہ نسل کشی کیوں کررہاہے؟۔ یہ ہے آپ کی ریاست کی حقیقت کہ رات کو ساڑھے تین بجے آپ کے ویگو میں جو نامعلوم افراد ہیں جن کو آج میں بزدل کہتی ہوں۔ تم سے زیادہ بزدل تو کوئی ہے نہیں۔یہ ہے ریاست جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کی یہ بچکانہ سوچ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو مارنے کے بعد جب یہ عورتیں آئی ہیں اپنے گھروں میں خوشیاں لانے کیلئے آپ پھر ان پر حملہ آور ہو رہے ہیں؟۔ کب تک آپ حملہ آورہوں گے بلوچ پر؟۔ دیکھیں پوری ہماری قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم اپنی نسل کشی کے خلاف کھڑے ہیں۔ہم اپنی زمین پر ابھی ایک قدم بھی برداشت نہیں کرینگے۔ وہ قدم وہ بندوق جو صرف اور صرف معصوم بلوچ لوگوں کو مارتی ہے۔ ہم اس بندوق کے خلاف نکلے ہیں،آپ ہمیں سخت کہیں آپ کا مکروہ چہرہ ہم دنیا کو دکھائیں گے۔ میں کشمیری سے کہتی ہوں کہ پاکستان بلوچ کی نسل کشی کرتا ہے تو وہ آپ کا بھی ہمنوا نہیں۔ آج تک عملی طور پر کچھ بھی کیا۔ آج پورا بلوچستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔سن1948سے آج2023تک بلوچ نے پرامن طریقے سے معصوم لوگوں کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

فلسطین واتحاد امت کاایک فقیدالمثال اسلام آباد کانفرنس؟

اتحاد امت اجتماع نہیں بلکہ نظریاتی اتحاد سے ہوسکتا ہے ۔ ہم اپنی تاریخ سے سبق سیکھ کر توبہ کرینگے؟
جب تک خواتین کو لونڈیاں بنانے کی خواہش انگڑائی لے گی تو دنیا چوہے پر رحم کھاسکتی ہے لیکن ہم پر نہیں

علامہ زاہد الرشدی نے اسلام آباد علماء کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ
1: قائداعظم محمد علی جناح رحمة علیہ نے فرمایا کہ اسرائیل برطانیہ کا ناجائز بچہ ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف یہ تھا کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا ہے۔ کب سے یہ تبدیلی آئی ہے کہ اسرائیل وفلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے؟۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو بھی ایک مستقل ریاست تسلیم کیا جائے۔
2: عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولہ ہے۔ دو ریاستی فارمولے پر کب عالمی طاقتوں نے عمل کیاہے؟۔ یہ تو در حقیقت ڈیڑھ ریاستی حل پر عمل ہورہاہے ۔یہ منافقانہ پالیسی کیسے کب تک جاری رہے گی؟۔ کیونکہ فلسطین کو مکمل آزادی نہیں دی جارہی ہے بلکہ نیم آزادی دی گئی ہے۔
جمعیت علماء اسلام مفتی محمود پر ایک فتویٰ1970میں لگا تھا جس کی بنیاد یہ تھی کہ کمیونزم کیلئے نرم گوشہ رکھا جارہاہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو کافر کیوں نہیں کہا جاتا ہے جو سوشلزم کا نعرہ لگارہاہے۔ پھر1977میں قومی اتحاد کے نام سے مفتی محمود صدر اور جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور جنرل سیکرٹری بن گئے۔ اس تبدیلی کے محرکات کیا تھے؟۔ جس میں بھٹو کو پھانسی پر چڑھادیا گیا تھا؟۔
پھر جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن پر ایک فتویٰ1984میں لگا کہ وہMRDمیں شامل ہے جس میں پیپلزپارٹی ہے۔ پیپلزپارٹی کا منشور کفر ہے۔ علماء کے اس متفقہ فتوے کے روح رواں بھی علامہ زاہدالرشدی تھے۔ پھر اسلامی جمہور ی اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئی کی صدارت میں بن گیا۔
پیپلزپارٹی کے منشور کی وجہ سےMRDمیں شمولیت پر مولانا فضل الرحمن کو کافر قرار دیا ،اسی منشور کے غلام مصطفی جتوئی اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر بن گئے؟۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں تھا؟۔ برطانیہ اور امریکہ نے پاکستان اور اسرائیل کو بنایا۔ پاکستان کو اسلام اور اسرائیل کو یہودیت کے نام پر اور پاکستان کے مخالف جمعیت علماء ہند اور مذہبی سیاسی طبقات تھے اور اسرائیل کے مخالف یہودی مذہبی طبقات ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے وزیر قانون ہندو، آرمی چیف انگریز اور وزیرخارجہ سرظفر اللہ قادیانی کو بنادیا تھا۔قائداعظم کا آدھا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ آدھا پاکستان ٹوٹنے کے بعد باقی ماندہ پاکستان نے1973کا آئین بنایا۔1974میں مرزائیوں کو کافر قرار دیا گیا پھر نوازشریف کے دورِ حکومت میں( جس میں مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے) مرزائیوں کے حق میں ترمیم پیش کی گئی۔ جو علامہ خادم حسین رضوی کے احتجاج کا کرشمہ تھا کہ واپس لی گئی اور وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑگیا تھا۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دور میں نواز شریف نے علامہ زاہدالراشدی کے ساتھی مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے مولانا اجمل قادری کو اسرائیل بھیج دیا تھا اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے علماء ومفتیان کو پوچھنا ہوگا کہ شیعہ پر متفقہ کفر کا فتویٰ کیوں لگایا، پھر واپس کیوں لیا؟۔مفتی تقی عثمانی نے اسلامی بینکاری کے نام سے جواز کا فتویٰ دیا تو علماء ومفتیان نے متفقہ فتویٰ کے عنوان سے مخالفت کی ۔ پھر علماء ساتھ ہوگئے کیوں ؟۔اسلام کو بازیچہ اطفال بنانے پرکو ئی شرم نہیں آتی ؟ ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فلسطین کے مسلمان خود کیا چاہتے ہیں؟۔ وقت بدلنے کے ساتھ معاملات بدلتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے مکہ سے ہجرت بھی کی۔ پھرصلح حدیبیہ بھی کیا اور مکہ فتح بھی کیا۔ بدلتے حالات کے تقاضے بدلتے ہیں۔ اگر مشرکینِ مکہ مظالم کے پہاڑ نہ توڑتے تو نبی ۖ مکہ سے ہجرت کیوں کرتے؟ اور اگر مشرکین مکہ اپنی شرائط نہ رکھتے تو نبی ۖ صلح حدیبیہ کیوں کرتے؟۔ لیکن جب مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو فتح مکہ کا موقع اللہ نے دیا۔ فلسطین میں غزہ پٹی کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ اگر پاکستان دباؤ ڈالے تو اسرائیل جنگ بند کرسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کرنا غلط ہے ، ہمارا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نہ مارو، لیکن یہ جنگ اسرائیل کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ سوشل میڈیا پر صحیح یا غلط یہ پروپیگنڈہ ہورہاہے کہ اقوام متحدہ میں120ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور20نے جنگ بندی کی مخالفت کی اور45ممالک نے حصہ نہیں لیا ۔ ان20ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی کابھی وہی مؤقف ہے کہ جنگ بندی نہیں ہونی چاہیے اور اگر کل اقوام متحدہ اور سفارتی تعلقات سے فلسطین کو آزادی بھی ملتی ہے تو علماء نے اس کی مخالفت کرنی ہے؟۔
علامہ جواد حسین نقوی نے گلہ شکوہ کیا کہ دیوبندی مکتب نے کسی شیعہ کو بھی اپنے پاس نہیں بلایا؟۔ علامہ عارف کاظمی نے کہا کہ عمر نے یہودی سازش سے بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کیاتھا۔ علامہ انور نجفی نے کہا کہ صلاح الدین ایوبی نے یہود کو فلسطین میں آباد کیا۔ مصر کی فاطمی حکومت ختم کرکے لاکھوں شیعہ قتل کئے ۔ اور حکومت کو بھائی اور بیٹوں میں بانٹ کر خلافت کے ٹکڑے کئے۔
جب شیعہ سنی بھی انتشار کا شکار ہیں اور شیعہ شیعہ اور سنی سنی بھی انتشار کے شکار ہیں۔ ایک فکر ، نظریہ اور عقیدہ رکھنے والوں کا آپس میں ایک دوسرے پر بھی اعتماد نہیں ہے تو فلسطین کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟۔ حالانکہ فلسطین کے مسئلے کا حل بڑا آسان ہے۔ پہلے مسلمانوں نے کافروں پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو آپ کی بیٹیوں، بہنوں ، بیگمات اور ماؤں کو ہم لونڈیاں نہیں بنائیں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کرنا ہے تو پھر وہ چوہے اور نیولے پر رحم کھا سکتے ہیں لیکن مسلمانوں پر نہیں۔ پھر ان کی انسانیت کا رونا مت رؤوبلکہ اپنی روش پر نظرثانی کرلو۔ ہمارے خیال میں قرآن وسنت اسکے بالکل برعکس ہے مگر مذہبی طبقات کی اپنے ائمہ سے عقیدت اور ماحولیاتی آلودگی کا بہت ہی بڑا مسئلہ ہے ۔
علامہ جار اللہ زمحشری نے لکھ دیا ہے کہ ”ایران کو سعد بن ابی وقاص نے فتح کیاتو شہنشاہ ایران کی تین صاحبزادیوں کو عمر نے نیلام کرنے کا حکم دیا۔ علی نے مشورہ دیا کہ ایک کی عبداللہ بن عمر، دوسری کی محمد بن ابی بکر ، تیسری کی حسین سے شادی کرادیتے ہیں، اسلئے ان تینوں افراد کی اولاد آپس میں خالہ زاد تھے”۔
اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت میں سے امام موسیٰ کاظم کی ماں بھی لونڈی تھیں۔ حضرت اسماعیل کی ماں بھی لونڈی تھیں۔اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کی کتابوں میں آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے احکام ، مسائل اور لباس میں فرق ہے اور لونڈی وغلاموں پر پہلے ابراہم لنکن نے امریکہ میں پابندی لگائی اور پھر اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں پابندی لگائی۔ بلوچ قوم میں آزاد اور غلام قوم کا تصور ہے اور ہمارے ہاں بھی غلام نسل کا تصور ہے۔خاندانِ غلاماں کا اقتداربھی تھا۔ پنجاب،سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ میں انگریزوں کے تنخواہ دار خاندانوں کی بات ہوتی ہے لیکن ہمارے تمام ادارے فوج، عدلیہ ، پولیس ، سول انتظامیہ سب کے سب انگریز کے نوکر اور باقیات ہیں ۔1947میں برصغیر پاک وہند نے غلامی سے تو آزادی حاصل کی تھی۔اس سے پہلے30لاکھ سکھوں نے7کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقوام ہندو، بدھ مت ،پارسی اور عیسائیوں پر حکومت کی تھی۔
حالانکہ سکھ مذہب نے اسلام اور ہندومت کے بیچ سے نکل کر نئے دھرم کی شکل اختیار کرلی تھی۔ سندھ کی مساجد میں خلافت عثمانیہ یا فاطمی خلافت کے خلفاء کا نام جمعہ کے خطبوں میں لیا جاتا تھا۔ شیعہ سنی تفریق کا زیادہ عمل دخل نہیں تھا اور خلافت عثمانیہ کے خلفاء سنی تھے اور فاطمی خلفاء اسماعیلی شیعہ تھے جو بعد میں آغا خانی اور بوہرہ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ امامیہ یا اثنا عشریہ شیعہ فاطمی خلفاء پر سنی خلافت عثمانیہ کو ترجیح دیتے تھے۔ خلافت عثمانیہ نے مدینہ منورہ مسجد نبوی ۖ پر خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ کی ائمہ اہل بیت کے بارہ اماموں کے نام لکھے۔ اثنا عشریہ شیعہ اسماعیلی شیعہ کو ایسا سمجھتے تھے جیسے ہم مرزائیوں کو سمجھتے ہیں۔ اب بھی آغا خانیوں کو یہ حکم ہے کہ اپنی مساجد بنانے کی جگہ سنی مساجد میں سنی اماموں کے پیچھے نماز پڑھو۔فرقہ واریت اور دہشت گردی نے معاملہ خراب کردیا ہے۔
بوہری فرقہ تو بالکل صوفی ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا آئینہ لگتے ہیں۔ ہم نے شرعی پردے کی آواز لگائی تو بوہری فرقہ نے عمل کرنا شروع کیا۔ ان کی خواتین بھی مساجد میں نماز پڑھتی ہیں۔ فقہی کتابوں میں مساجد کے اندر باجماعت نماز کامسئلہ پڑھایا جاتا ہے کہ پہلے مردوں کی صف، پھر بچوں، پھر بچیوں اور پھر خواتین کی صف بنائی جائیںلیکن اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔ جب مساجد میں اسلام وفقہ پر عمل نہ ہو تو چوکوں اور عدالتوں میں کہاں ہوگا؟۔ لونڈیوں کا مختصر لباس جبے والے مولوی بھی پہن کر شرمندہ ہوجائیں گے لیکن ہمارے مدارس کے نصاب اور علماء کے عمل میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
جب خلافت قائم ہوگی تو مساجد میں مردوں کیساتھ بچے، خواتین اور بچیاں بھی پنج وقتہ نماز پڑھیں گی۔ کعبة اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی بھی اس خاص ترتیب سے ہوگی کہ حجر اسود چومتے ہوئے اجنبی مرد اور خواتین ایکدوسرے کو چٹنی نہیں بنائیںگے۔ عزت واحترام اور فاصلہ برقرار رکھنے کا معاملہ ہوگا۔ اب تو غیرت مند غریب حج وعمرے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور امیروں میں غیرت کا فقدان ہے اسلئے حجراسود میں عورتوں کو غیرمردوں سے کشتی کرنے دیتے ہیں اور ان کے ایمان ، غیرت اور ضمیر پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور ماحولیاتی آلودگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیا بیت المقدس کی آزادی کے بعد یہود ونصاریٰ کیساتھ مل کر مسجد اقصیٰ کی زیارت کریں گے تو ان سے آداب انسانیت سیکھ لیںگے یا ان کی خواتین کو لونڈیاں بناکر نیم برہنہ کرکے مزیدہم بگڑجائیںگے؟۔
آج دنیا سمجھ رہی ہے کہ مسلمانوں میں بہت خوبیاں ہیں لیکن اگر ان کے ہاتھوں میں دنیا کی خلافت آگئی تو اسلام کے نام پر ہمارا کباڑ خانہ بنارکر رکھ دیں گے اور ان کی اس ذہنیت میں بہت وزن بھی ہے۔ جب حامد میر ہمارے حکمران طبقے کی عیاشیاں اور عوام پر مظالم کی داستان بیان کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کس طرح ہیرہ منڈی کی ایک لڑکی سے مصطفی کھر نے شادی کرکے گورنر ہاؤس کی زنیت بنادی اور اس کی خوشی کا دن بھی ہیرہ منڈی میں منایا گیا۔ جنرل رانی کا کیا کردار تھا؟۔ نواب آف کا لا باغ کے کیا کرتوت تھے؟۔ حبیب جالب نے اداکارہ ممتاز پر کیسی شاعری کی تھی کہ بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کا اہتمام کرایا تھا۔ لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانہ چلو۔
بنوامیہ، بنوعباس ، خلافت عثمانیہ ، مغل اور خاندانِ غلاماں سمیت ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگوں کی عیاشیاں اور مظالم کی ایک بڑی تاریخ ہے۔پھر شیعہ حضرات تو خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی تاریخ کا بھی منفی پہلو پیش کرتے ہیں ۔ اس میں بھی شک وشبہ نہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو آپس کے جنگ وجدل اور قتل وغارت سے بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ امام حسن کی قربانی کے بعد صلح ہوگئی اور امیرمعاویہ کی قیادت میں حسن وحسینسب نے اسلامی فتوحات کا شاندار دور دیکھا لیکن پھر یزید کے ہاتھوں کربلا، مکہ اور مدینہ پر چڑھائی اور پھر اس کے مرنے کے بعد عبداللہ بن زبیر کی مکہ میں شہادت کا المناک واقعہ تاریخ بن گیا۔ حقائق کو دیکھا جائے تو بنوامیہ کا خاتمہ بنوعباس نے بھی بہت ظالمانہ طریقے سے کیا لیکن ذاتی ظلم یا عدل اس دور کی بات تھی۔ حضرت عمربن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ اور مہدی کی یاد تازہ کردی تھی۔
پشتو فلموں اور گانوں میں ناچتی ہوئی لڑکی گاتی ہے کہ ” اے دلبر آجاؤ، مجھے ظالم رلارہے ہیں اور میدان میں نچارہے ہیں”۔ اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی فلموں اور ڈارموں میں سماج کا نقشہ پیش ہوتا تھا مگر بلوچوں نے فلم پر سینما کو بھی آگ لگائی تھی کہ ہمارے کلچر کی بڑی توہین ہے،حالانکہ اداکار بلوچ نہیں تھے۔ تربت میں بالاچ بلوچ شہید کی بڑی عمر والی بہن نے اپنے پڑوسی کونسلر سے کہا کہ آج تک آپ نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا، میں بھی غیرتمند بلوچ ہوں لیکن بھائی کی بے گناہ شہادت نے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ تربت میں عورتوں کا بہت بڑا جلوس جہاں بلوچ کے کلچر کو بدل رہاہے وہاں ریاست پر بھی اثر انداز ہے۔
جب ایک کھیتران بلوچ لڑکی نے فون سے ویڈیو وائرل کردی تاکہ مظلوم مری خاندان مظالم سے بچ جائے تو وہ جنسی زیادتی کے بعدکنویں میں ڈال دی گئی۔ مری قبائل نے بلوچستان اور سندھ سے بڑی تعداد میں کوئٹہ کے اندر دھرنا دیا تو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دوسری جماعتوں اور قوموں کے لوگ بھی وہاں پہنچتے رہے اسلئے کہ تیار جھمگٹے سے خطاب کرنے کا مزہ ہے۔ پھر مری قبائل کے افراد بازیاب ہوگئے اور جو ناقابلِ شناخت لاش کی لڑکی لیکر مری بیٹھ گئے تھے۔ پھر وہ لڑکی کھیتران نکلی اور ایدھی نے لاوارث دفن کردیا۔
(کالعدم سپاہِ صحابہ) کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری جماعت نے پاکستان میں ناموس صحابہ کے تحفظ کیلئے12ہزار کارکنوں کی شہادت پیش کی۔ فلسطین کیلئے ایک لاکھ کارکن ہماری جماعت کی طرف سے قربانی و جہاد کیلئے حاضر ہیں۔ الحمد للہ کہ یہ دوسری بات ”اتحاد امت” کی قیادت اس حال میں جمع ہے۔ اس سے پہلے یہی اکابرین ”تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت بل” کیلئے اکھٹے ہوگئے تھے۔
علامہ احمد لدھیانوی سے ایک عرض یہ ہے کہ شیعہ پر کفر کے فتوے میں مفتی تقی عثمانی نے پہلے بھی دستخط نہیں کئے تھے اسلئے کہ دار العلوم کراچی متفق نہیں تھا۔ جماعت اسلامی بھی شیعہ کیساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل، اتحاد تنظیمات المدارس میں شیعہ شامل ہیں اسلئے جنہوں نے فتوے دئیے وہ بھی الٹے پاؤں پھر گئے۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے کھل کر کہا تھا کہ مجھے شیعہ ووٹ نہ دیں ۔ وہ عابدہ حسین سے1988میں جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سیٹ ہار گئے تھے۔1990کے الیکشن میں سپاہ صحابہ کے مولانا ایثار الحق قاسمی اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر بیگم عابدہ حسین کے اتحادی تھے اسلئے شیعہ ووٹ کی وجہ سے سیٹ جیت گئے۔ پھر سپاہ صحابہ نے نعرہ لگایا کہ ”کافر کافر شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر”۔ حرمین میں کافروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ شیعہ کو مسلمان سمجھ کر داخلہ سعودی عرب کے حکمران اجازت دیتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کے نعروں کا نشانہ سعودی عرب نہیں مولانا فضل الرحمن ہوتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کو عمران خان اور نواز شریف نے وزیر اعظم کا ووٹ دیا مگر مولانا اعظم طارق کے ایک ووٹ سے مولانا فضل الرحمن ہار گئے اور ظفر اللہ جمالی (ق لیگ) جیت گئے۔ مولانا اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں تقریر میں کہا تھا کہ” بیشمار نوجوان میری جذباتی تقاریر کی وجہ سے جذبہ جہاد سے اس جنگ میں مارے گئے، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا”۔کاشف عباسی سے عمران خان نے کہا کہ ” سپاہ صحابہ والوں نے مجھ سے کہا کہ شیعہ سے صلح کراؤ”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

ہمارا مسلسل مطالبہ تھا کہ ریاستِ مدینہ کی طرح مزارعین کو مفت زمین دی جائے۔ الحمد للہ یہ خبر بڑی حوصلہ افزا ہے کہ حکومت پنجاب نے صحرائے چولستان کے رہائشی27ہزار خاندانوں کوزمین فراہم کردی ۔ آخری مرتبہ1978میں صحرائے چولستان کے لوگوں کو لیز پر زمین دی گئی تھی۔ ہر آنے والا حکمران زمین دینے کے دعوے کرتا رہا مگر ان بیچاروں کو زمین نہیں دے سکا۔ شہباز شریف نے10سال بہت کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کام نہیں ہوسکا۔PTIنے اپنی ساڑھے3سالہ دور میں 6مرتبہ کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ پرویز الٰہی نے اپنے7مہینے کی مدت میں کمیٹیاں بنائیں اس سے بھی کام نہیں ہوسکا۔ بالآخر وہ تمام کام نگران حکومت کے ہتھے چڑھا انہوں نے تھوڑا ساکام تیز کیا اور41ہزار میں سے27ہزار خاندانوں کی درخواستوں کو قبول کیا گیا وہ لوگ جن کے شناختی کارڈ چولستان کے مقامی ہیں۔ فی خاندان ساڑھے12ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ کل ملا کر3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ5سال کیلئے لیز پر دیا گیا ہے۔ یہ وہاں کاشتکاری کرسکیں گے اور5سال بعد پھر اوپن آپشن ہوگا۔ اگر مناسب سمجھاگیا تو میرٹ پر اگلے5سال کیلئے بھی انہی کو یہ زمین دے دی جائے گی۔ اکثر لوگ لیز پر زمین لیکر اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ زمین ریاست کی ہوتی ہے۔ صحرائے چولستان64لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔20لاکھ رقبہ ہموار ہے جہاں ریت کے ٹیلے نہیں۔ ہریالی سے بھی بارشیں برستی ہیں۔ اب انشاء اللہ پاکستان کے صحراؤں ، جنگلات اور پہاڑوں کوبھی آباد کیا جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

احتجاجی قافلہ تربت، کوئٹہ ، بارکھان سے ڈیرہ غازیخان تک اسلام آباد کیلئے پر عزم

اگر ان ماؤں کو گرفتار کرنا ہے تو14سال سے لاپتہ بیٹوں کے پاس لے جائیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ1:تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے۔2:بلوچوں کو قتل نہ کیا جائے،3:بالاچ کے قاتلوں کو سزا دی جائے4:ڈیتھ اسکواڈ کو ختم کیا جائے5:نجی جیلوں کو ختم کیا جائے ۔ بارکھان خطاب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
GHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے پر گرفتاری کاردِ عمل کیا ہے؟۔ اور برسوں سے مسنگ پرسن پربلوچ قوم کس قدر مہذب انداز میں بغیر گالی گلوچ کے تحریک چلارہے ہیں۔ واہ بلوچ واہ بلوچ

ریاست ماں ہے۔ پاگل کتا کاٹے تو بھی ماںنہیں مارتی۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا کہ ریاست ہماری سگی نہیں سوتیلی ماں ہے۔ ان کا بھائی سراج رئیسانی بم دھماکے میں200افراد کیساتھ شہید ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ تھا۔ بڑے لوگوں کی قربانیاں بڑی ہوتی ہیں۔ نوابوں کا حوصلہ بڑا ہے۔ لشکری رئیسانی پاکستان کی ریاست کیلئے بڑا فکر مند رہتا ہے۔ بیشک اپنی بلوچ قوم کی لاشوں کیساتھ ان کا دل دھڑکتا ہے۔لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
شہید کربلا امام حسین کیلئے صدیوں سے نوحہ جاری ہے ۔ بلوچ قوم پرستوں کے احتجاج ، دھرنے ، لانگ مارچ ، نوحہ خوانی ، ماتم اور مطالبات جاری ہیں۔ کسی مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے۔ دل دکھی انسانیت کیساتھ دھڑکتا ہے ۔ بلوچوں کے دکھ درد میں اپنی استطاعت کے مطابق ہمیشہ حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ وہ دن بہت جلد لائے کہ جب کوئی بھی دکھی نہ ہو اور ایک خوشحالی والا ایسا ماحول بن جائے کہ کوئی ماں بہن اور بیٹی دکھی نظر نہ آئے اور جو دکھ سہہ چکے ہیں وہ بھی اس کا بہترین نعم البدل اور غموں کو خوشیوں میں بدلنے کے دن دیکھ لیں۔ صرف بلوچ نہیں، پختون ، سندھی ، پنجابی ، مہاجر غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ہمارے حکومتی ادارے ، خان ، نواب سب غلام ہیں۔ آزادی میں انسانوں کیساتھ فارمی مرغیوں کی طرح سلوک روا نہیں رکھا جاتا ہے کہ خون سے ہر وقت زمین رنگین ہو۔ غلامی سے آزادی کا رونا کس نے نہیں رویا ہے؟۔ نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری، الطاف حسین، ولی خان، محمود خان اچکزئی اور سبھی مذہبی وسیاسی جماعتیں مگر بلوچ نے بندوق اٹھالی اور بندوق اٹھانا مشکل کام ہے۔76سالوں میں کسی نے آزادی کی خوشحالی نہیں دیکھی ہے اور نہ تو اس ملک میں عدل وانصاف کا نظام قائم ہوا ہے اور نہ ہی اسلام آیا ہے تو پھر وہ لوگ ضرور ناراض ہوں گے جو عدل وانصاف اور اسلام چاہتے ہیں۔
بلوچ ماؤں بہنوں کی طرح دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے مسنگ پرسن کا بھی یہی حال ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے اپنے شوہر کی تلاش میں عمر گزاردی اور اب اس کی بیٹی عائشہ باپ کیلئے آواز اٹھارہی ہے۔ گم شدگی کا غم کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جب تحریک انصاف اورPDMدست وگریباں تھے تو ہم نے استدعا کی تھی کہ یہGTروڈ کی لڑائی لاہور اور اسلام آباد کے درمیان ہے۔ اس میں سندھ ، کراچی، بلوچستان ، پختونخواہ حصہ نہ لیں ۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ بلوچستان و پختونخواہ میں کافی لوگ گولیوں سے مار دئیے گئے لیکنGHQمیں داخل اور جناح ہاؤس لاہورجلانے والوں کو خراش بھی نہیں آئی ۔ ہماری بات مان لی جاتی تو کوئٹہ ، پشاور ،باجوڑ کو جانی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ البتہ یہ دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ جناح ہاؤس لاہور نذر آتش کردیا لیکن کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ کسی کو خراش تک نہ آئی۔ اگر یہ پنجابیوں کی جگہ سندھی، پشتوں ، بلوچ اور مہاجر ہوتے تو کور کمانڈر کے گھروالے مشکل سے زندہ بچ پاتے۔ پختون مذہبی لوگ جنت کی لالچ میں خود کش حملہ کرتے تھے۔ بلوچ خواتین نے بھی خود کش کئے ۔ ریاستی اداروں کے اہلکار ظالم تو ظالم بزدل بھی ہیں۔ جب خواتین تک خود کش حملہ آوروں کا خوف بھی ہوتو اس کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کا قتل بالکل جائز نہیں بنتا ۔ بے گناہوں کے قاتلوں کو سزا ملے گی تو ریاست کے خلاف آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ گناہگار کیلئے لوگ نہیں نکلتے ،بے گناہ کیلئے نکلتے ہیں۔ ذکری کا جنازہ پڑھنے سے کچھ ملاؤں نے روکنے کا اعلان کیا مگر اسکے باوجود بھی تربت کی تاریخ کا یہ بڑا اجتماع تھا۔ ذکریوں اور نمازیوں نے شرکت کی۔ ذکری جنازہ دعا ہے۔ رسول ۖ کا جنازہ کس نے پڑھایا؟۔ذکری عاشقان رسول ۖ ہیں اور دعا سے جنازہ کی سنت کو زندہ کیا۔ جنازہ اصل میں نماز نہیں دعا ہے۔نبیۖ کی دعا سے ابوطالب نچلے جہنم سے اُوپر آگئے(صحیح بخاری) نبیۖ نے فرمایا: ” کوئی نماز سورہ فاتحہ کے بغیر نہیں”۔عربی ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی عربی کتاب ”مسلمان نوجوان” کا ترجمہ ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے کیا جس میں لکھا کہ ”ایک جماعت کہتی ہے کہ ہم ابھی مکی دور میں ہیں ،مدنی مرحلہ میں حکومتی احکام اور جہاد کریںگے توان پر مکی نہیں مرتد ہونے کے مرحلے کا اطلاق ہوتا ہے”۔ ذکری نے نماز چھوڑ دی۔ مولوی نے سال سے ایک دن پہلے مال بیوی کو ہبہ کرکے زکوٰة چھوڑ دی ۔مفتی نے معاوضہ لیکر سود کو اسلامی قرار دیا۔ حاجی عثمان پر 35سال تبلیغی جماعت کی خدمت اور علماء ومفتیان کے مرشد ہوکر بھی نہ صرف بد عقیدہ واہل کفارکا فتویٰ لگاتھا بلکہ ان کے حلقہ ارادت والوں کے نکاح کا انجام بھی عمر بھر کی حرام کاری اور اولادالزنا قرار دیا گیا۔
نبی ۖ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا تھا۔ بابائے جمہوریت غوث بخش بزنجو کا تعلق تربت سے تھا۔ کمیونسٹ کافر بنادیا گیا۔ فاطمہ جناح پر تہمت لگائی گئی ، حالانکہ قائداعظم کا خاندان آغا خانی مسلمان تھا۔ علامہ شبیراحمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھایا۔ حال میں پارسی مذہب کی معتبر شخصیت نے یہ جھوٹ قرار دیا کہ” پارسی مذہب میں بہن بھائی کی شادی جائز ہے”۔ اور تعجب کی بات ہے کہ پارسی نے کہا کہ” ہمارا پیغمبر تھا اور ہم اللہ کی پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ مسلمان مغرب یا مشرق میں ہوتے ہیں تو قبلہ رو ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں قبلے کا رخ سورج کیساتھ ہوتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے تھے اسلئے ہندو راجہ نے ہماری تبلیغ پر پابندی لگائی تھی۔ ہمارے مذہب کے تین بنیادی اصول:
1:اچھے نظریات پیش کرو۔
2:بھلائی کی فکر رکھو۔
3:بھلائی کے کام کرو”۔
قرآن نے اہل کتاب کیساتھ مشترکہ باتوں پر متحد ہونے کا حکم دیا ۔ جھوٹے پروپیگنڈوں نے ماحول بڑا آلودہ کررکھا ہے۔مذہب ، سیاست اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ انصاف کا نظام لانے سے ہوگا۔ کراچی میں رینجرز اہلکار نے غلطی سے گولی چلنے کی وجہ سے ایک ڈکیٹ کو قتل کیا تھا تو اس کو سپریم کورٹ سے سزائے موت ہوئی۔ بالاچ مولانا بخش بلوچ شہید کے قاتلوں کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ لواحقین اور عوام الناس کا اس ریاست سے عدالتی انصاف مانگنا مثبت اقدام ہے ۔دوسرا راستہ خطرناک ہے۔ ایک انسان کا ناحق قتل تمام انسانیت کا قتل ہے ۔ اسلام آباد سے حق کا مطالبہ نہ صرف بلوچ بلکہ ریاست کیلئے بھی مثبت نتائج کا حامل ہے۔ ریاست ظلم کرے یا مولوی حلالہ کی لعنت کرے یا سود کو جائز قرار دے تو حقائق کو اجاگر کرنا بنتا ہے۔اکرم زہری نے کہا کہ ذکریوں کے پیشوا نے بلوچوں کو سست سمجھ کر نماز کی جگہ ذکر پر لگادیا یہ لوگ مہدی جونپوری کے پیروہیں جس کی مولانا آزاد نے تعریف کی ہے۔قائد اعظم کے مسلک آغاخانی کے ہاں جماعت خانہ ہوتا ہے ۔ وہ جماعت خانہ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے اور مسجد میں تو آتے نہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

بھٹو نے کہا تھا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔عمران خان بھی فائز عیسیٰ سے کہے گا کہ نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس

وکیل رہنما ربیعہ باجوہ نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور تمام عدلیہ کے ججوں کو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جب بھٹو اس ہائیکورٹ میں اپنی پروسیڈنگ سے نکلے تھے تو انہوں نے کہا تھا نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو جمی کارٹر۔ ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے، مجھے آج بھٹو یادآرہا ہے تو کیا جوڈیشری آج یہ چاہتی ہے کہ کل عمران خان کہے نو کورٹ نو جسٹس تھینک یو چیف جسٹس۔
جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر اخبار میں لگی تھی تو ایک شخص نے ساہیوال میں پیپلز پارٹی کے کارکن کو یہ خبر سنائی اور اس نے دوکان سے پسٹل اٹھا کر خبر دینے والے کو قتل کردیا۔ لوگوں نے خود کو آگ تک لگائی تھی۔ وکیل رہنما ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے مظالم کی انتہاء کی تھی لیکن وہ بھی کسی خاتون کی تذلیل نہیں کرتا تھا۔ آج خواتین کی تذلیل کی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کا کارکن کہہ رہا تھا کہ بلوچستان سے قتل اور مسنگ پرسن کا معاملہ شروع ہوا اور وزیرستان تک پہنچ گیا اور اب پنجاب میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جذباتی باتوں کے نتائج سمندر کے جھاگ کی طرح آخر کار بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو سزا ملتی کہ پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا اورPTVپر قبضہ کیا تھا توGHQمیں گھسنے اور جناح ہاؤس لاہور کو جلانے تک معاملہ نہ پہنچتا لیکن کل نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن پاک فوج کو برا بھلا کہہ رہے تھے عمران خان دفاع کررہا تھا اور آج معاملہ الٹ ہے۔
خاور مانیکا کے نوکر نے عدالت میں بشریٰ بی بی کیخلاف چشم دید گواہی دی ہے اور عدالت نے دوسرا گواہ طلب کیا تو ملزم کی طرف سے خاور مانیکا کو دوسرا گواہ بتایا گیا ۔سزا کیلئے دو افراد کی گواہی کا جج نے مطالبہ کیا ہے۔ اخلاقی طور پر گواہ اس وقت ہی سامنے آنا چاہیے تھا کہ جبDNAٹیسٹ ہوسکتا تھا۔ اب تو حضرت عمر کے دور میں بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ پر3گواہوں کے بعد چوتھے گواہ زیاد کی عجیب ناقص گواہی کی وجہ سے3گواہوں کو80،80کوڑے لگائے گئے۔ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق ، مفتی تقی عثمانی اور دیگر مذہبی رہنما شریعت کا حکم جاری کرنے کیلئے ایک مطالبہ کریں گے تو ماحول میں بڑی زبردست تبدیلی آئے گی۔ وکیل رہنماؤں کو چاہیے کہ عدت کی قرآن و سنت کی مدت اور گواہوں پر شریعت کے مطابق سزا کا مطالبہ کریں تو ملک میں ایک انقلاب عظیم رونما ہوجائے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv