پوسٹ تلاش کریں

عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ کی کتاب پر بعنوان عرض ناشر مولانا جلال پوری لکھتے ہیں’’ رسالہ ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں ‘‘ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی اسی افادیت کے پیشِ نظر اُسے ۱۴۰۵ھ میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا ، جسے اللہ تعالیٰ نے بے حد مقبولیت سے نوازا، اور بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوا۔اب جبکہ کمپیوٹر کمپوزنگ کا دور ہے تو احباب کا اصرار ہواکہ۔۔۔
*عربی متن پر اعراب لگاکر ۔۔۔* اب ترجمہ کا لفظ بڑھایا گیا۔ ۔۔۔*سابقہ ایڈیشنوں میں جہاں کہیں عربی یا اردو کی کتابت کی اغلاط تھیں۔۔۔ * احادیث کے متن کو اصل سے ملاکر اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔۔۔ *احادیث کے نمبرات کو واضح کرنے کیلئے ان کو چوکٹے میں واضح کردیا گیا ہے۔
اگرچہ ناقص کا ہر کام ناقص ہوتاہے ، تاہم بہتر سے بہتر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو امت کی راہ نمائی اور ہماری اصلاح کا ذریعہ بنائے آمین ۔خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوری ۲۰/۲/۱۴۲۵ ھ
’’پیش لفظ‘‘ کے عنوان سے مولانا یوسف لدھیانویؒ کا مقدمہ قابلِ غور ہے۔
دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجئے لیکن اخلاقی اقدار روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودنائت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینۂ انسانیت کیلئے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔ خلیفۂ ارضی (بنی نوع انسان) کی فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر ، جبل و دشت اور وحوش و طیور ’’ الامان والحفیظ!‘‘ کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، یہ دیکھ کر اہلِ بصیرت کایہ احساس قوی ہوتا جارہاہے کہ شاید اس عالم کی بساط لپیٹ دینے کا وقت زیادہ دور نہیں۔ ذیل میں احادیث نبویہ ( علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) سے ایک آئینہ پیش کیا جارہا ہے جس میں دورِ حاضر کے تمام خدو خال نظر آتے ہیں اور علماء ، خطباء ، حکام اور عوام سبھی کے قابلِ اصلاح اُمور کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، اس کی جمع وترتیب سے مقصود کسی خاص طبقہ کی تنقیص نہیں، لالچ صرف یہ ہے کہ ہم اس شفاف آئینہ میں اپنا رخِ کرداردیکھ کر اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔
یہ سلسلہ ماہنامہ بینات میں شروع کیاگیاتھا، اورمندرجہ بالا ابتدائیہ بھی اس کی قسطِ اوّل میں آیاتھا۔ ۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ اسے قبول فرمائے اور تمام فتنوں سے امت کی حفاظت فرمائے ۔ واللہ ولی التوفیق محمدیوسف لدھیانوی۱۵/۱۰/۱۴۰۵ھ
1: ہلاکت کا خطرہ کب؟۔ عن زینب بنت جحشؓ قالت۔۔۔ قیل : انھلک و فینا الصالحون ؟، قال : نعم اذا کثر الخبث ’’ حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا : کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں؟۔ فرمایا: ہاں جب خباثت کی کثرت ہوجائے ۔ بخاری ج۲، ۱۰۴۶۔ مسلم ج۲، ۳۸۸
عصر حاضر کی یہ پہلی حدیث ہے۔ جب جمعیت علماء اسلام کے اکابرین پر مفتی رشید احمد لدھیانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ نے کفر والحاد کا فتوی لگایا تھا تو علامہ یوسف بنوریؒ نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہ1970ء کی بات تھی۔ پھر حاجی عثمانؒ پر علماء ومفتیان نے جب فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ حاجی عثمان کوئی اچھے انسان ہونگے ، پیسہ کھاکر یہ فتویٰ لگایا ہوگا جیسے70میں کیا تھا۔ جب میں نے علماء ومفتیان سے ایسا فتویٰ لیا ہے جس میں وہ حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ، علامہ یوسف بنوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ پر کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگاکر پھنس رہے تھے تومولانا فضل محمد نے کہا کہ مفتی رشید نے علامہ یوسف بنوریؒ کو بہت ستایا تھا، حدیث قدسی ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی ، میرا اس کیساتھ اعلانِ جنگ ہے۔اب مفتی رشید احمد لدھیانوی اس کی سزا بھگت رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہا تھا کہ’’ دنبے کو آپ نے لٹادیا، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس کو ذبح کردینا، اگر ٹانگیں ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے‘‘علماء ومفتیان جمعیت کے رہنماؤں سے بھیک مانگ رہے تھے کہ ’’ ہم پھنسے ہیں ، کسی طرح سے ہمیں بچاؤ‘‘۔مفتی رشید لدھیانوی کے جانشین مفتی عبدالرحیم کی وہ تحریراور فتویٰ ان لوگوں کیلئے وبال جان اور عذاب بن کر رہ گیا تھا۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی کو انہوں نے خود مہیا کیا تھا جس پر ثروت جمال اصمعی نے لکھاکہ ’’یہ فتویٰ حاجی عثمان کے خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے لیا، جنکے اس قسم کے عقائد ہوں تو حکومت کو اس پرپابندی لگانی چاہیے‘‘۔ مگر علماء اپنے دام میں صیاد کی طرح پھنس گئے تو مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذمہ معاملہ لیا، مفتی تقی عثمانی نے حاجی عثمانؒ کے وکیل کی طرف سے نوٹس کے جواب میں لکھا کہ ’’ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ پھر تکبیر کراچی نے لکھا کہ ’’ اگرعلماء کی طرف سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اعتراف میں عزت ہے‘‘۔ ہم چاہتے تو عوام میں ان کو بہت خراب کرسکتے تھے لیکن ہمارا طرزِ عمل پھر بھی ادب واحترام اور بہت پردہ پوشی والا ہی رہا ۔ حاجی عثمانؒ نے ثبوت دیا کہ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ورنہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی چاہت بھی تھی کہ انکی عزت خراب ہوجائے۔
پھر ایک شخص نے مختلف الفاظ میں مفتیان سے الگ الگ فتویٰ لیا ، جس میں وہ حاجی عثمانؒ کے مریداور ہونے والے داماد کو شریعت کا پابند بتاتے ہوئے نکاح کے جواز اور منعقد ہونے کا فتویٰ پوچھ رہا تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ’’نکاح بہرحال جائز ہے، جو فتویٰ منسوب ہے، وہ درست نہیں تو فتویٰ نہیں لگتا‘‘۔ اسرار، مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی ولی حسن ٹونکی کے دستخط تھے۔ دارالعلوم کراچی سے نکاح منعقد ہونے کا لفظ پوچھا گیا تو فتویٰ لکھ دیا کہ ’’نکاح منعقد ہوجائیگامگر بہتر یہ ہے کہ علماء نے جو فتویٰ لگایا ہے، انکے حالات سے آگاہ کیا جائے‘‘۔ مفتی رشید لدھیانوی کی دارالافتاء نے نکاح کے ناجائز ہونے کا فتویٰ لگادیا۔ پھر تینوں فتوؤں کے بعد مفتی رشید لدھیانوی کے شاگرد نے ایک ہی قلم سے سوال وجواب فتویٰ لکھا کہ ’’ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟، عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا‘‘۔ پھر مجذوب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے بھی دستخط کردئیے، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا کہ ’’نکاح جائز نہیں، گومنعقد ہوجائے‘‘۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ میں تھے تو حاجی عثمانؒ کے حق میں فتویٰ دیا اوربنوری ٹاؤن آئے تو دارالعلوم دیوبند انڈیا کی طرف سے ہمارے حق میں اور علماء ومفتیان کی مخالفت آئی تو مفتی شامزئی نے کہا کہ ’’ابھی میں نیا نیا آیا ہوں اسلئے رسک نہیں لے سکتا ہوں‘‘۔ مفتی رشید کی خباثت کا طوطی بول رہا تھاتو امت کے اکابر اور پھر عوام کی ہلاکت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اسے عصر حاضر کی پہلی حدیث کی روشنی میں دیکھ لیجئے۔ قیوم آباد کے قریب محمودآباد کے ایک مولانا نے بتایا کہ ’’امریکی کونصلیٹ کا ملازم اور مفتی رشید کا مرید کہتاہے کہ مفتی رشید کیلئے جو گناہ کئے، اللہ مجھے معاف نہیں کریگا‘‘۔

پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

turabul-haq-yousuf-ludhyanvi-shujaat-ali-qadri-janaza(2)

(مدرسہ نعیمیہ میں علامہ سید سعادت علی قادری اپنے بھائی سید شجاعت علی قادری کی میت کے انتظار میں (فروری 1993): بائیں سے مولانا ابرار احمد رحمانی ،علامہ شاہ تراب الحق قادری اور مولانا یوسف لدھیانوی ، علامہ سید سعادت علی قادری کے ساتھ۔ )

(نوٹ : یہ تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے جو آپ مندرجہ ذیل لنک پر چیک کرسکتے ہیں۔ )

https://en.wikipedia.org/wiki/File:Ulema_Janaza_Procession_Syed_Shujaat_Ali_Qadri.jpg

http://en.academic.ru/dic.nsf/enwiki/11775228
مولانا یوسف لدھیانویؒ اور علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کی تصویر حکومت اور عوام کی طرف سے شاہراہوں پر آویزاں کرنے کے لائق ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ نہ تو مولانا لدھیانویؒ بریلوی مکتب کو مشرک سمجھ کر ’’جہاں پالو قتل کردو‘‘ کا فتویٰ دیتے تھے اور نہ ہی علامہ تراب الحق قادریؒ دیوبندی کو گستاخ سمجھ کر انکے قتل کا فتویٰ دیتے تھے۔ کہاوت ہے کہ ہاتھی زندہ ہوتا ہے تو لاکھ کا ہوتاہے اور مرتاہے تو سوا لاکھ کا بن جاتاہے۔خوبی خامیاں سب میں ہوتی ہیں لیکن ان خفیہ گوشوں سے نقاب اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے قوم کا شعور بڑھ جائے۔

Attaur_Rehman_SissiPaleejo(2)

( بین الاصوبائی وزراء سیاحت اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر سیاحت مولانا عطاء الرحمن ، وزیر سیاحت آزاد کشمیر طاہر کھوکھر، وزیر سیاحت سندھ سسی پلیجو )

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان ؒ کا تعلق ملاعمرؒ کے شہر قندھار سے تھا۔ کسی سے نظرئیے اور عمل کا اختلاف نہ ہوتا تو عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے بھی ایک دوسرے کو قتل نہ کیا ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے سیاسی اور جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ آج مولانا الیاسؓ کی دعوت وتبلیغ نے مساجد کو رونق بخشی ہے اور مولانا الیاس قادری کی دعوت اسلامی نے مساجد کو نمازیوں سے بھرنے کی خدمت انجام دی۔ اللہ کرے کہ یہی لوگ مکہ مکرمہ کی طرح ساری عوام کو روزانہ مساجد میں لانے کے سنت طریقے کو اپنائیں ،خواتین اور بچے بھی باجماعت نماز میں آئیں۔

bukhari-ahmad-raza-molana-ilyaas(دائیں سے بائیں: اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ ، بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )

بھرچونڈی شریف دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کے اکابرین ؒ کا مشترکہ مرکز تھا۔جس طرح سے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ مسجد نبویﷺ وکعبہ میں کون بیٹھا ہے، صلح حدیبیہ کے شرائط پر بھی زیارت کیلئے جاتے ہیں اس طرح تاریخی انقلابی مراکز کی اہمیت کو برقرار رکھناتھا، اگرعلامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ بھرچونڈی شریف، امروٹ شریف، ہالیجی شریف اور خانپور شریف اکٹھے جایا کرتے تو دونوں فرقوں میں انتشارو افتراق کی کیفیت کے بجائے اتحادو اتفاق اور وحدت کا راستہ ہموار ہوجاتااور یہ آج کے دور میں ہوسکتاہے۔

Pir-Saien-Abdul-Khaliq-Bharchundi-sharif(پیر سائیں عبد الخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، ڈھرکی سندھ۔ ہماری جماعت پہلے گئی تھی ،سائیں نے خوشی کا اظہار فرماکر تعاون کا یقین دلایاتھا۔)

ہم نے پاکستان میں بہت علماء ومشائخ سے ملاقات کرکے اتحاد واتفاق اور وحدت کے جذبے کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد کندیاں شریف نے فرمایا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کو ساتھ کردیا تو بہت جلد کامیابی مل جائے گی مگر ہم نے کہا کہ نہیں وہ ملنا بھی چاہیں تو ہم نہیں ملائیں گے جس پر وہ زیادہ خوش ہوکر داد اور دعائیں دینے لگے۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی پیشکش تھی کہ ہمارے مدرسے کو اپنا مرکز بنالو، ہم نے معذرت کرلی کہ اپنی اجنبیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، جس پر بہت خوش ہوئے فرمایا کہ تمہاری پیشانی میں خلافت کی کامیابی کی جھلک دیکھ رہا ہوں۔ بیرشریف لاڑکانہ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ امیر اور مولانا مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر بھی بہت تائید کرتے تھے۔ دیوبندی،بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ علماء کرام نے بڑے پیمانے پر ہماری تائیدکی لیکن ہم مشکل کا شکار ہوکر اس طرح سے چل نہ سکے۔ آج ہماری ریاست بھی فرقہ واریت ختم کرنا چاہتی ہے ۔ پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

Nawaz-Sharif-with-Afghan-War-Lords-hikmat-yaar(گلبدین حکمت یار اور نوازشریف کے درمیان کون صاحب ہیں؟۔ تاریخ کا ایک منظر، اب حالات بدل گئے ہیں یا کچھ نہیں بدلا ہے؟۔)

ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان بنایا، اسلام کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی اور اسلام کے نام پر فرقہ واریت کو پروان چڑھایا، اسلام کے نام پر ایک مخصوص کاز کی وکالت کرکے ہماری مذہبی جماعتوں کو بہت زبردست پذیرائی مل گئی۔ اب اپنے مفادات کے خول سے نکل کریہ قربانی دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے اسلامی نظام کے قیام کا عمل آئے۔ اسلام کی ایسی امامت کرنے سے گریز کرنا ہوگا کہ استنجاء بھی نہیں کیا ہو۔ سب سے پہلے خود احتسابی کرکے اپنی کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس پر نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ کفر کی دنیا بھی متفق ہوسکتی ہے۔ پاکستان میثاق مدینہ کے طرز پر وجود میں آیا تھا۔ نبیﷺ نے یہود، نصاریٰ، مشرکین اور منافقین سے معاہدہ کیا تھا کہ شہر اور علاقے کے تمام باشندوں کی جانوں اور عزتوں کی حفاظت مشترکہ ذمہ دار ی ہے۔ اس معاہدے کو دنیا کی کوئی طاقت بھی ایک وقتی سازش نہیں قرار دے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا وجود تو بہت بعد میں آیا ہے۔ نبیﷺ نے نبوت سے قبل مکہ میں جس حلف الفضول کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا، اس میں اسلام سے پہلے ہر مظلوم کی داد رسی تھی۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت سے عرب میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہورہاہے ، اگر ہم نے فرصت کے ان لمحات سے فائدہ اٹھایا تو ناراض طالبان ، بلوچ ، مہاجر، سندھی، پٹھان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی قریب آجائیں گے اور بنگلہ دیش بھی الحاق کا اعلان کردیگا۔ کشمیروفلسطین کو بھی ظلم سے نجات مل جائے گی۔

پاک فوج اور صحافت کے درمیان سرد جنگ اور اسکے نتائج کا متوازن جائزہ

پی ٹی وی کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی بڑے لاہوری ہیں، لاہور کو عروس البلاد کہا جاتاتھااور اب تختِ لاہورکی شہرت ہے، جہاں دربار ہوتاہے وہاں درباری بھی ہوتے ہیں، خصائل کیساتھ رذائل بھی ہوتے ہیں، پنجاب سے پاکستان میں سورج طلوع ہوتا ہے ، نمازکاقبلہ مغرب مگر سیاسی قبلہ ہمارامشرق میں واقع ہے، ہندوستان میں ایک بریلوی شہروہ تھاجو علم ودانش اور فکر وانقلاب کا مرکز تھا تو دوسرا الٹا بانس بریلی تھا، شاہ ولی اللہ ؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید ؒ کے مرشد سید بریلویؒ کا تعلق معروف شہر بریلی سے تھا جہاں کے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی کتابیں عربی ممالک کی عربی نصاب میں داخل ہیں۔ الٹے بانس بریلی سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاں بریلویؒ کا تعلق تھا۔
ہندوستان کے مشہور مذہبی دریا کے بارے میں الٹا گنگا بہنے کی کہاوت ہے، علامہ اقبالؒ نے ’’پنجابی مسلمان‘‘ کے عنوان سے لکھا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا۔ یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد، ہو کھیل مریدی کا تو ہرتاہے بہت جلد۔ کافی عرصہ ہوا کہ پنجاب کی زمین بانجھ ہوگئی ، عطاء الحق قاسمی کیساتھ صحافی حامد میر جس انداز میں گفتگو کررہے تھے کہ کیا تحقیق کا واقعی کوئی مسئلہ نہیں جو بھونک دیا، سو بھونک دیا۔ حقائق کو ردی کی ٹوکری کی طرح آگ کے شعلے میں جھونک دیا، بس سردی میں گرمی حاصل کرنے کی جو رِیت چلی ہے کوئی نہیں پوچھتا کہ حقیقت میں کیا بیت چلی ہے؟۔میر شکیل الرحمٰن نے کہا کہ ’’ حامد میر حکومت گراسکتاہے‘‘یہ بول مہنگا پڑا۔
حامد میر نے مہمان کی حیثیت سے لاہورمیں عطاء الحق قاسمی کی میزبانی میں محفل جمائی تھی۔ عقیدت ومحبت کے سارے رنگوں کو لٹیرے کی طرح تاریخ پر نقب لگاکر لوٹا جارہاتھا۔ حامد میر نے فوج کیخلاف قربانیوں کے تمغے گنوانا شروع کئے۔ پہلا کارنامہ یہ بتایا کہ ’’سندھ میں فوج کے تشدد پر ڈرامے کیلئے مجھے فوجی کا کردار دیا گیا، طالب علم تھا، میں نے فوجی کا کردار پر سچ مچ میں زور دار طریقے سے ڈنڈا برسانا شروع کیا تو خاتون چیخ پڑی کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ میں نے جواب دیا کہ اس طرح سے لوگوں کو پتہ چل جائیگا کہ فوج عوام پر کتنا تشدد کرتی ہے‘‘۔ حامد میر کی رام کہانی سن کر مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو یاد آیا ہوگا کہ نوازشریف معافی مانگ کر سعودیہ سے پہلے فوج کا تشدد برداشت کررہے تھے تو واقعی حامد میر نے ڈرامے میں اچھا کیاکہ فوجی تشدد کو اس ادا سے اجاگر کیا کہ اس کو سن کو مریم نواز کی طرف سے شاباش کی ٹویٹ بھی ضرورآئی ہوگی۔
دانیال عزیز ، طلال چوہدری اور پریزمشرف کے دور کے بعد لیگ کا شرف حاصل کرنیوالے رہنما ؤں اور کارکنوں میں بھی ذہنی پختگی آئی ہوگی کہ اب کے بار ظالم فوج کا ساتھ نہیں دیناہے اور اگر کوئی طعنے پر اتر آیا کہ مشرف کا ساتھ دیاتھا تو غم کی بات نہیں ضیاء سے لیکر اشفاق کیانی تک ن لیگ کی قیادت روح کی طرح ڈھانچے میں رہی ہے بس غلطی ہوئی تھی جو خواب کی طرح سعودیہ کی طرف رختِ سفر باندھا ،پھر وہ دور گزر گیا۔ حامد میر یہ کہتے تو ٹھیک ہوتا کہ پہلے میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھتا تھا، فوج کو بدنام کرنیوالے سندھی ڈرامے بازوں کو میں نے سچ مچ انتقام کا نشانہ بنایا۔ فوج کے بڑے باغی مولانا فضل الرحمن کو بھی GHQکی دہلیز پر لانے کے کارنامے میرے نامہ اعمال میں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کا ایڈیٹر تھا تو ریکارڈ پر بھی لایا، پھر روزنامہ جنگ میں بھرتی ہوا تو ہندوستان سے ’’ایک آنٹی‘‘ کی کہانی لایا، جو اخبار کی زینت بنی، آنٹی نے اللہ کا واسطہ دیکر کہا کہ میری کوکھ سے ہندوؤں نے اپنے بچے جنوالئے، اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ مجاہدین کے ذریعے میرا انتقام ضرور لینا۔ روزنامہ جنگ میں یہ کہانی چھپنے سے پہلے میں نے مفتی شامزئی کے حوالہ سے روزنامہ اوصاف کے اداریہ میں لکھا تھا کہ مجاہد تنظیمیں واشنگٹن سے رابطۂ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے رقم تقسیم کرکے علماء کو خرید تی ہیں، پھر منظرنامہ بدلا ۔ اجمل قصاب نے ’’آنٹی‘‘ کا بدلہ لینے کیلئے بھارت کے اوپر زبردست حملہ کردیا۔ جیو ٹی چینل کو بھارت سے امن کی آشا کے نام پر خطیر رقم مل گئی۔ کیمرے کی آنکھ نے پنجاب کی سرزمین سے جیو کی اسکرین پردکھا دیا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے تھا اور باقاعدہ یہ بھی دکھا دیا کہ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ عوام کو روک رہے تھے اور صحافت کی نمائندگی کرنیوالے بہت بہادری سے اسکرین پر نشاندہی بھی کررہے تھے۔
کسی پر ایجنٹ کے الزامات لگانے کیلئے عدالت میں ثبوت دینا پڑتاہے، زرداری کی کرپشن کو ٹی وی چینلوں نے بہت اجاگر کیا لیکن 11سال جیل کاٹنے کے باوجود ثابت نہیں کرسکے، نواز شریف کی پانامہ لیکس من وسلویٰ کی طرح قوم پر نازل ہوئی لیکن ملکہ سبا کے تخت کی طرح قطر سے شہزادے کا خط بھی بڑی تیزی سے سامنے آگیا۔ اے آر وائی کو لندن میں نشریات بند کرنی پڑگئی۔ الزامات لگانے سے کام نہیں بنتا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والوں کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔طاقتوروں پر الزام تراشی کی حوصلہ شکنی ہر دور میں ہوتی رہی ہے لیکن اس دور کا یہ اعزاز ہے کہ سچ نام کی کوئی چیز جھوٹ کی بہتات میں نظر نہیں آتی ہے، جمہوریت اور صحافت نے قوم کی اُمنگ بن کر قوم کے اچھے عزائم کو بھی شکست خوردہ بنادیاہے۔ پہلے حبیب جالب کی طرح کے لوگ ہردور میں عتاب کا نشانہ بنتے تھے ،اب رقم سے خدمات دستیاب ہیں۔ ہر ایک اُلو عقاب بنا پھرتا ہے۔اگر علامہ اقبال کا شاہین نایاب ہے تو اس منصب کیلئے اُلو کیوں بے تاب ہے؟۔
جب حامد میر کو گولیاں لگی تھیں تو بہت افسوس ہوا،اور کیوں نہ ہوتا کہ کسی درخت سے کوئی ہری بھری شاخ کٹے ، نبیﷺ نے حرم کیلئے حکم جاری فرمایا کہ کوئی درخت اور جنگلی گھاس بھی نہ کاٹے۔ آکسیجن زندگی کیلئے ضروری اور زندگی حلقہ احباب کی زینت ہے، زندگی اجڑے تو ماحول اجڑجاتا ہے ، قرآن نے ایک جان کے قتل کو کسی جان یا فساد کے بغیر پوری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ جب فرقہ واریت کو پروان چڑھایا جارہاتھا تو میں نے اگست2003ء کو جنگ فورم میں آواز اٹھائی تھی جسکو سپرٹ کیساتھ جگہ نہ ملی سکی ، رضا ربانی کی طرف سے یاد ماضی کے عذاب کو اجاگر کرنا حماقت ہے ، اگر دستخط سے انکارکرتے تو اسکی گردن کی چٹیہ سرکی چوٹی کا تاج بن کر ابھرتا۔فوج ملک کیلئے امید کی کرن ہے ، ڈان نیوز میں بھی مظلوم کی داد رسی نہ ہوسکی ۔ لوہا لوہے کو کاٹتاہے۔ کہا جاتاہے کہ ’’کلہاڑی میں درخت کا دستہ نہ ہوتا تو درخت نہ کٹتا‘‘،سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ہمارا گھر طالبان نے اجاڑ دیا ،اگر ہمارے گھر سے انکو ایندھن نہ ملتا تو ہمارا گھر نہ جلتا۔فوج نے ماضی میں جو کیااس کی سزابھی خود بھگت لی لیکن اب جب فوج بدل گئی ہے تو اس پر رکیک حملے کرنے میں ملک وقوم کی تباہی ہے۔ حکومت اور صحافت کا فوج کیخلاف ایک گٹھ جوڑ نظر آتاہے۔

جمہوریت کی ناک چیئر مین سینٹ رضا ربانی

پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کا پارلیمنٹ سے توثیق کا معاملہ آیا تو پیپلزپارٹی رہنما سینٹر رضاربانی کی بھرائی ہوئی آواز کو بہت مقبولیت کا درجہ حاصل ہوا۔یہ مگر مچھ کے آنسو نہ تھے کہ رضا ربانی نے روتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارٹی کی امانت سمجھ کر فوجی عدالت کے قیام کو ووٹ دے رہا ہوں‘‘۔ سینٹر رضا ربانی اپنی مقبول آواز کے ذریعے سے ہماری لولی لنگڑی، بہری اندھی اور موروثی گندی جمہوریت کی ناک بن گئے۔ قوم کو رضا ربانی پر بہت پیار آیا، ان کی عزت دوبالا ہوگئی۔ چیئرمین سینٹ کیلئے انکے نام کو ہی تقریباً بلامقابلہ پذیرائی مل گئی۔ جنرل راحیل شریف نے دفاعی تقریب کی رونمائی میں اپنے ساتھ بٹھاکر نمایاں حیثیت سے نوازنے میں بالکل بخل سے کام نہیں لیا۔
سینٹر رضاربانی ایک باکرداراور ایماندار شخصیت ہیں، نواز شریف نے سعیدالزمان صدیقی کو زرداری کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار نامزد کیا ، اگر نوازشریف رفیق تارڑ کے بعد ممنون حسین کو صدر بنوانے کے بجائے محترم رضا ربانی کو صدر بنانے کیلئے نامزد کردیتے تو پاکستان میں جمہوری قدروں کو بہت تقویت مل جاتی۔ اگر پیپلزپارٹی پرویزمشرف کے دور میں جمالی اور شوکت عزیز کو موقع دینے کے بجائے متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کرتی تو بھی جمہوریت کو استحکام ملتا، اسلئے کہ مولانا فضل الرحمن مشرف کے مقابلے میں پھر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کا بھی وزیراعظم بنتا ، جس نے دونوں پارٹی کے قائدین کو جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ جب ن لیگ وعمران خان نے پیپلزپارٹی اورپرویز مشرف کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو کتنا اچھا ہوتا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن بھی نوازلیگ اور عمران خان کا ہی ساتھ دیتے؟۔کیا سیاسی کردار ہر دور میں جمہوریت کی ناک کٹوانے ہی کانام نہیں رہاہے؟۔
سینٹر رضاربانی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میری بزدلی تھی یا کوئی لالچ مگر فوجی عدالت کیلئے میرا ووٹ دینا میری غلطی تھی ، اب اس غلطی کو نہیں دہراؤں گا۔ اگر چیئرمین سینٹ رضا ربانی اعتراف کرلیں کہ بزدلی کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ہے اور یہ کنفرم ہے کہ مجھے پہلے بھی اور آج بھی عہدے کی لالچ نے مجبور کیا کہ میں فوجی عدالت کے حق میں اپنا کردار اداکروں۔ تو بہت ہی بہتر ہوگا۔ جب پہلے رضاربانی ایک ووٹ نہ بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا تھا، جاوید ہاشمی نے بھی پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ ہاشمی کی قیادت ضیاء نواز تھی ، رضا ربانی جمہوریت کی ناک مگر کٹ گئی ۔ مولانا فضل الرحمٰن اقتدار کیلئے زرداری کاساتھ نہ دیتے ،نوازشریف و عمران خان کے احسان کا بدلہ اتارتے تو اقتدار کی جوتی نہیں جمہوریت کے تاجدار بنتے،شرم و حیاء کھوگئی ہے،اب پنجاب کے شیروں سے پختونخواہ کے چوہوں کی بات میں جوش اور ہوش سے بات آگئے نکل گئی۔

یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟

یاجوج نے کہا : یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟۔
ماجوج نے جواب دیا: ابے ! بتادیا تو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی کہیں توہین نہ ہوجائے!
یاجوج : اس مرغی صاحبہ کے سر کی قسم اگر توہین عدالت کا خوف ہو تو بلا جھجک کہیو کہ جیو ٹی وی چینل کی ہوسٹ ہے جوکبھی ’’ہم سب اُمید سے ہیں‘‘ کا پروگرام کرتی تھی نہ جانے اب کیا مسخرے کرتی ہے
ماجوج: جیو کے پروگرام کی اب کسی اور سے یاری ہوگئی ہے، اب نواز لیگ ، عدالت اور جمہوریت کی تثلیث کی دیوانی ہے۔ ایک دفعہ ماڈل ایان علی کی طرح جیو بھی پھنس گئی تو جان نہیں چھوٹ رہی
یاجوج: یار اصل بات کا جواب دو اگر پانامہ انڈے پر بیٹھی مرغی عدالت نہیں تو کیا پھر مرغا بنچ ہے ؟
ماجوج: اپنی عدالت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ مجرم کو پکڑنا اس کیلئے آسان نہیں، اگر بنچ نے مرغا بن کر اذان سحر شروع کردی تو پھر یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا جو مجاہد کی اذاں اور شاہین کا جہاں ہوگا۔
یاجوج: ابے! تمہیں کرگس کے جہاں میں ملاں کی اذاں سے اس قدر نا اُمیدی کیوں ہے؟ ۔جب روٹین کا معاملہ چل رہا ہے تو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ وکالت کی مشق کرنے والے سے بھی کبھی مشک کی خوشبو آسکتی ہے؟۔
ماجوج: علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مجذوب فرنگی مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی کے تخیل کو بدنام کیا مگر جہاں ہرنیں رہتی ہیں وہاں سے تمہیں نا اُمید نہیں ہونا چاہیے۔ نوشتۂ دیوار سے ایسی فضاء بن رہی ہے کہ مُلاؤں کی ان طاقتوں سے جن سے ریاستیں ڈرتی ہیں اب یرغمال اسلام کو بازیاب کیا گیا تو مرغے کیا کبوتر سے تن نازک میں بھی شاہیں کا جگر پیدا ہوگا۔

اسلامی تہذیب و تمدن اورہمارے اقتدار کا ایک آئینہ

افغانستان کے مشہور بادشاہ امیر امان اللہ خان 1919ء تا1929ء اپنی بیگم ثریا کے ساتھ جرمنی1928ء میں مندرجہ بالا تصویر میں نمایاں ہیں۔ وزیرستان کے لوگوں کا اس وقت لباس سے بہت مختلف تھا۔ عام لباس کو ایسا سمجھا جاتا جیسے شلوارقمیص کے مقابلے میں پینٹ شرٹ کا تصور ہے۔ وزیرستان میں روایتی پردہ و برقعہ نہ تھا مگر سفید شٹل کاک کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا ،کالا برقعہ فیشنی برقعہ کہلاتا تھا۔ طالبان شدت پسند قائدین حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کے گاؤں کوٹ کئی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا زین العابدین جس نے ایم اے بھی کیا تھا اور پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ طالبان کا قاضی بھی رہا ۔ اس نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن کے گھر کی خواتین فیشنی برقعہ پہنتے ہیں‘‘۔ جس پر میں نے جواب دیا تھا کہ ’’ یہ غیر اسلامی نہیں ہے‘‘۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ کہتے تھے کہ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین بھی دارالعلوم سے باہر نکلتے ہی برقعہ اتار دیتی ہیں۔مولانا سندھیؒ روایتی پردے کو غیر شرعی کہتے تھے۔
کچھ عرصہ قبل برقعوں کا تصور بھی نہ تھا۔ خواتین روایتی پردہ بھی نہ کرتی تھیں، معاشرہ کی اشرافیہ میں چوٹی کے لوگوں کا پردہ ہوتا تھا ، جن میں نواب، پیر اور بڑے لوگ تصور کئے جانے والے پردہ کرتے تھے مگر وہ بھی شرعی پردہ نہ تھا بلکہ ہندوستانی روایات کی پاسداری تھی، بہت قریب کے دور میں شرعی پردے کا تصور بھی اجاگر ہوا، ایسے شرعی پردے کا وجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قدیم اسلامی معاشرے میں بھی نہیں تھا۔ نبی ﷺ کی ازواجؓ کو خاص طور سے مخالب کرکے پردے کا حکم اللہ نے اسلئے دیا کہ آپﷺ کے دروازے پر ہر قسم کا دوست، دشمن، منافق، کافر ، جان پہچان والا اور اجنبی دستک دیتا تھا۔ آج جس کسی کی بھی ایسی حالت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین احتیاط برت رہی ہوتی ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی طرف سے ایک جہادی و سیاسی لشکر کی قیادت اور حضرت زینبؓ نے جس طرح واقعہ کربلا پر احتجاج کا مظاہرہ کیا، یہ سنی اور شیعہ کیلئے لازوال مثالیں ہیں۔ جب حج کے موقع پر طواف اور کعبہ میں ایک ساتھ خاندان سمیت نماز پڑھی جاتی ہے تو اپنا روایتی اسلام سب بھول جاتے ہیں۔ اگراسلامی شدت پسند مغربی خواتین کو روایتی پردے پر مجبور کریں اور خلافت کے قیام کے بعد انہیں لونڈیاں اور اپنی بیبیاں بناکر نیم برہنہ لباس پہنے کا مظاہرہ کروائیں تو دنیا ہماری اس حرکت پر حیرانی سے کہیں مر نہ جائے۔نبیﷺ کے دور میں تو شلوار یہود کا لباس تھا لیکن نبیﷺ خود نہیں پہنتے تھے البتہ پہلے سرکے بال مشرکین مکہ کے طرز پر مانگ نکال کر پیچھے کی طرف گنگی کرتے تھے اور بعد میں یہود کی طرح آگے کی جانب گنگی کرنے لگے، پھر آخر میں پہلے کی طرح پیچھے کی جانب گنگی کرنے لگے (بخاری) ۔ بلوچوں میں گھیر والی شلوار قومی لباس ہے اور پنجابیوں کا تہبند قومی لباس ہے، اس طرح کسی کی شلوار قمیص اور کسی کی پینٹ شرٹ قومی لباس ہے۔ مذہبی لوگ اگر سنت پر عمل پیرا ہوں تو انکے لئے مخصوص پہچان کے بجائے عوامی لباس پہننا ہی سنت ہے۔ مولانا مودودیؒ پہلے کلین شیو تھے ، پھر چھوٹی داڑھی اورپھر علماء کے اصرار پر لمبی داڑھی رکھ لی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعلق پنجاب سے تھا ساری زندگی شلوار پہنی اور آخر بڑھاپے میں سنت زندہ کرنے کیلئے دھوتی پہننا شروع کی۔ حدیث میں کچی اینٹوں کے تکلف کی مخالفت تھی اور شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ نے سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے کچی اینٹوں سے تکلف کرکے اپنا مکان بنوایا۔ سبز عمامے پیلے رومال رنگ رنگیلے لباس نبیﷺاور صحابہؓ کے طرزِ عمل کی نفی اور فرقوں کی خاص شناخت ہے۔اسی طرح مونچھ اور داڑھی مخصوص تراش خراش کا معاملہ بھی ہے۔علماء و مفتیان کی اکثریت ہمیشہ بادشاہوں کی درباری رہی ہے اور بادشاہوں کا حال مختلف ادوار میں کسی سے مخفی نہیں رہا ہے۔
پاکستان کا قانون یہ ہے کہ ریاستی اداروں کے ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سیاست نہیں کرسکتے۔ جنرل ایوب ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے ملازم ہوکر بھی سیاست کی اور سیاستدانوں کی اکثریت انکی پیداوار ہے۔ جنرل راحیل کیلئے کسی این او سی کی قانونی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن جب پاکستان کے اندر باہر سے ملازم معین قریشی لاکر وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو ہمارا جنرل راحیل باہر ملازمت کیوں نہیں کرسکتا؟۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پر حکومت کی تذلیل اس لئے تو نہیں ہورہی ہے کہ عوام سے راجا داہر کا بدلہ اتارنے جیسا سلوک ہورہا ہے؟۔