پوسٹ تلاش کریں

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

جماعت اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظام ، امریکہ اور جنرل ضیاء الحق کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا تھا۔ مولانا مودودی مزدوروں کے یوم یکم مئی کے مقابلے میں شہدائے بدر کا دن منانے کا کھیل کھیلتے تھے۔ جب سراج الحق نے پہلی مرتبہ سرخ ٹوپی پہن کر یومِ مزدور میں ریلوے کے ملازمین کے ساتھ شرکت کی تھی تو ہم نے ٹوپی ڈرامے کو علامات قیامت کی ایک نشانی قرار دیا تھا۔ آج جماعت اسلامی شکا گو کے شہیدو کو سلام پیش کررہی ہے۔
اب اشارہ مل جائے تو جماعت اسلامی سقوط افغانستان اور یوم فتح افغانستان منانا شروع کردے لیکن انجینئرگلبدین حکمت یاراپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکاتھا۔ جماعت اسلامی افغانستان میں بالکل دفن ہوگئی ہے۔ جہادِ کشمیر، جہاد افغانستان، جہاد فلسطین اور جہاد اسلام سب کچھ بھول بھال کر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اب قوم پرستی کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ محسن داوڑپر ایک مہمان کی حیثیت سے جوکرسیاں چلائی گئی تھیں ،اس پر پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان نے بہت شرمندگی سے معافی مانگی تھی اور ساری جماعتوں کی طرف سے جماعت اسلامی کے معافی مانگنے تک بائیکاٹ اور اپنے اتحاد سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ صاحبزادہ ہارون الرشید آج بھی جماعت اسلامی کا اثاثہ ہیں جس نے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔
جب پرویزمشرف کے دور میں وکلاء تحریک نے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی کیلئے قربانی دینا شروع کی تھی تو سیاستدان بھی میدان میں نکلے تھے۔ عمران خان کو وکلاء تحریک کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ نے یرغمال بنایا تھا اور جماعت اسلامی لاہور کے امیرالعظیم کی طرف سے اپیلیں کرنے اور انتہائی شرمندگی کے اظہار کے باوجود بھی جمعیت کے طلبہ عمران خان کو نہیں چھوڑ رہے تھے، جماعت اسلامی کا سب سے بڑا کمال بھی یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ان کو قیادت مل رہی ہے لیکن سب سے بڑا زوال بھی یہ ہے کہ طلبہ تنظیم کے وقت سے جو تشدد ، فریب، ڈکٹیٹر شپ اور غیر جمہوری رویہ دل ودماغ میں بیٹھا ہوتا ہے تو وہ سیاست کے میدان میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔ جاوید ہاشمی ایک اچھی طبیعت کی قابلِ قدر شخصیت ہیں مگر جن ڈرامہ بازیوںکو طلبہ کے وقت میں جماعت اسلامی سے سیکھا تھا وہ بڑھاپے میں ان میں لوٹ رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں جانے سے بہت روکا تھا لیکن پھر بھی وہ گئے تھے۔ پھر تحریک انصاف سے یہ کہہ کر جاوید ہاشمی نکلا تھا کہ ” اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کی توقع پر عمران خان کو نہیں رہنا چاہیے۔ مجھے ان کے مزاج کا پتہ ہے وہ کوئی مدد نہیں کریںگے۔ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن کوئی دوسرا استعفیٰ نہیں دے گا۔ میری بات یاد رکھیں”۔ پھر جاوید ہاشمی کہتا تھا کہ جو میں نے کہا تھا ، عمران خان کے ساتھ آخر وہی ہوا ہے۔ آج جاوید ہاشمی کہتا ہے کہ ” عمران خان کو میں نے روکا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کا سہارا مت لینا ، یہ بہت نقصان دہ ہے”۔ حالانکہ ہوا یہی تھا کہ جب عمران خان کو توقع تھی تو اسٹیبلشمنٹ نے مدد نہیں کی اور اس کی وجہ سے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف چھوڑ دی۔ جب تحریک انصاف کو مقبولیت مل گئی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی ساتھ دیا لیکن پھر جاوید ہاشمی ساتھ نہیں رہے تھے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کی اصلاح کے بغیر جماعت اسلامی کے کسی قول ، فعل، جمہوریت، اسلام، جہاد اور قوم پرستی پر یقین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں بہت باصلاحیت لوگ اپنی زندگی کا اصل مقصد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں۔ ابن الوقتی ، بدمعاشی، منافقت اور درجن بھر ایسی صفات جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے پیدا ہوجاتی ہیں جن کو اسلام اور جمہوری سیاست کا نام دیا جاتا ہے لیکن وہ اسلام اور جمہوریت سے بالکل عاری ہوتی ہیں۔ مولانا مودودی نے تعلیم وتربیت کیلئے مدارس اور خانقاہوں کو ایک اضافی چیز قرار دیا تھا لیکن مدارس اور خانقاہیں اسلام کیلئے زبردست تربیت گاہیں تھیں اور اپنی جماعت اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت کو پھر بدعت نہیں سنت قرار دیا تھا لیکن ان میں علم وعمل ، اخلاص وتربیت اور ایمان واسلام کی جگہ دوسری چیزیں ڈالی جاتی ہیںجن میں ایک سیاسی قوت کا حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ جب غلط طریقے سے قوت حاصل کی جائے تو اسلام وایمان کے علاوہ اس کو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سرشست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور قوم پرستوں کی سخت مخالفت ہے لیکن فضاؤں کا رُخ دیکھ کرجماعت اسلامی بھی اپنا مذہب تبدیل کررہی ہے۔
مدارس کے علماء کرام اور خانقاہوں کے مشائخ عظام نے ہمیشہ عوام و خواص کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا ہے۔ جو دیوبندی بریلوی مدارس میں بہت احترام کیساتھ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک پڑھاتے ہیں اب ان میں فرقہ واریت میں مبتلاء جاہل طبقہ آپس کے معمولی معمولی اختلافات کو بھی پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان جس طرح اختلافات سے دونوں میں تفریق ہوئی تھی تو اس سے زیادہ علماء ومشائخ میں بھی نہیں ہے اور دیوبندی بریلوی ایکدوسرے کو اعتدال پر لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں اطراف میں جہالت کے باعث شدت پسندی بھی ہے اور دونوں اطراف میں اعتدال پسند بھی ہیں۔ اگر دونوں اسلام کی نشاة ثانیہ کی طرف متوجہ ہوں اور اہل حدیث واہل تشیع کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں تو بہت سارے معاملات میں ایک پرامن جمہوری انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اختلافات اور اجتہادی غلطیاں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان نے اسلامی جمہوری محاذ کے نام سے اتحاد کیا تھا جس میں مولانا فضل الرحمن اور علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں خاطر خواہ نتائج اسلئے برآمد نہیں ہوسکے کہ ان کے پیچھے علمی اور عملی طاقت نہیں تھی۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ان اغلاط کو سلیس انداز میں ”تفہیم القرآن” کے ترجمہ وتفسیر میں پیش کیا ہے جو علماء ومشائخ سے اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں۔ علماء ومشائخ کیلئے اجتہادی غلطیوں سے اعلانیہ توبہ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی اجتہادی غلط تفسیر اور ترجمہ سے بھی توبہ نہیں کرنا ہے اسلئے کہ جماعت اسلامی کے علماء کی حیثیت ملازمین کی ہے اور باقی جماعت اسلامی مولانا مودودی کی پوجا کرتی ہے۔ جس شخصیت مولانا مودودی نے یہ سکھایا تھا کہ قرآن اور سنت کے مقابلے میں کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اس کی اپنی جماعت کا اس طرح شخصیت پرستی کا شکار ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام پر1970میں فتوے لگے تھے تو اس میں جماعت اسلامی ، دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مسلم لیگی قیادت سرِ فہرست تھی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کی طرح ان قوتوںکے آلۂ کار بن گئے ہیں۔ مفتی محمود نے توبہ کرکے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت شروع کردی تھی لیکن زکوٰة کے مسئلہ پر مفتی تقی عثمانی کے جبری پان اور مفتی رفیع عثمانی کی طرف سے لائی ہوئی دورۂ قلب کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والا مولانا فضل الرحمن اب اس کی سودی بینکاری کو بھی مشرف بہ اسلام قرار دے رہاہے۔ جب اسلام دین اکبری والا ہو اورنواز شریف کی مغل سلطنت کیلئے مولانا فضل الرحمن اپنا سیاسی کردار ادا کررہے ہوں تو انصار الاسلام کے نام سے جھنڈے اٹھانے والوں کو خبردار ہونا چاہیے۔ میں نے کبھی جمعیت علماء اسلام و طلباء اسلام کی رکن سازی کا فارم نہیں بھرا ہے مگر جب مولانا پر فتوے لگ رہے تھے تو انکا دفاع کیا ہے اور جمعیت کا زیبرائی جھنڈا لے کر ایک مرتبہ تمام انصار الاسلام کا کردار بھی ادا کیا ، جب مولانا لیبیا سے آئے تھے اور مدارس کے علماء و طلبہ نے استقبال کیا تھا۔ مولانا نے مجھے رات کو اپنے ہاں عبدالخیل میں رُکنے کا کہا تھا کہ ” ذکر اور مراقبہ کراؤ”۔ میں نے کہا تھا کہ ”صوفی نہیں سیاسی مراقبے کراؤں گا”۔ پیر ذوالفقار اچھا مگر کم عقل آدمی ہے اسلئے سیاست اور فرقہ واریت کی تبلیغ کرتا پھر رہاہے اور یہ تصوف کا بہت بڑازوال ہے جو روحانیت نہیں دولت کی چمک ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں لوگ کرکٹ میچ کے اندر چوکے چھکے کی وجہ سے تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر کبھی ریپ ، قتل و غارت ، دنگا فساد اور باقی کرتوت سے نہیں مرتے

چلو کسی بھی بہانے سے ملک و قوم میں ایک سیاسی بیداری کی فضاء پیدا ہوئی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے عوام چاول کی پلیٹوں پر ووٹ دیتے ہیں۔

شہباز شریف اور تمام سیاستدان غریبوں کو ورغلانے کیلئے حبیب جالب کے اشعار پڑھتے اور ذوالفقار علی بھٹو کی نقلیں اتارتے تھے۔ الیکشن کے دوران چاول کی پلیٹوں پر غریبوں کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ اب لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ اتنی مہنگائی ہماری اشرافیہ کی وجہ سے ہے جو باہر سے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر عوام پر اس کا سارا بوجھ ڈالتے ہیں۔ شہباز شریف بھی زرداری کا پیٹ چاک کرنے ، بازاروں میں گھمانے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریریں کرتا تھا۔ اب وہ سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں تو عوام کو حقائق کا پتہ چل رہا ہے۔ عمران خان ایک ایسے موقع پر عوام کے دکھ درد کا فائدہ اٹھارہا ہے کہ جب حکمران اور مقتدر طبقات ناکامی کے آخری کنارے پر کھڑے ہیں۔ اگر سازش کے تحت یہ کھیل کھیلا گیا کہ اگلی باری بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی تو نظام کے ساتھ عوام کا بھی ستیاناس ہوسکتا ہے۔ مریم نواز کو ایک جمہوری سیاستدان کا کردار ادا کرنا ہے تو عمران خان کی راہ میں کسی رکاوٹ اور سازش کا حصہ نہ بنے۔ جمہوریت میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ آج عمران خان کیلئے بچے ، نوجوان اور بچیاں انقلابی گیت گارہے ہیں تو آنے والے کل اسی عمران خان پر تھو تھو کریں گے اور مریم نواز کے گن گائیں گے۔ جمہوریت میں جب تک قوم کی آنکھ نہ کھلے سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہماری قوم فی الحال کرکٹ کی عاشق ہے۔ چوکے اور چھکوں سے عوام کو دل کے دورے پڑتے ہیں۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ہے اور آج تک قوم کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔10کلو آٹے کیلئے لوگ شہید ہوئے۔ بچیوں کے ساتھ ریپ ہوئے۔ ملک میں ڈرون حملوں سے آبادیوں کو برباد کیا گیا۔ افغانستان ، عراق، شام، فلسطین، سوڈان اور لیبیا میں بڑے مظالم کا عوام کو سامنا کرنا پڑا لیکن کسی پر دل کا دورہ نہیں پڑا۔ جب قوم کا مزاج بدلے گا تو امریکی صدر بل کلنٹن اسلام آباد میں بچوں کیساتھ کرکٹ کھیلنے کے بجائے ان غریبوں کا دورہ کرے گا جن کی موت10کلو آٹے کی طلب کیلئے ہوئی اور شاید اسلامی بینکاری والے تو رحم نہ کریں مگر دیگر بینک سود کو بھی معاف کردیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

ابھی84ارب روپے آٹے کی تقسیم ہوئی ہے۔ میں معذرت سے کہوں گا کہ اس میں20ارب سے زیادہ چوری ہوئی ہے۔ آپ کسی طرح سے بھی دیکھ لیں۔ کیا ملا ہے اس غریب کو جس کیلئے آپ نے84ارب روپیہ خرچ کیا ہے؟۔ آپ اس نظام کے اندر ڈیلوری نہیں کرسکتے آپ کو اس کو پوری طرح ری ڈیفائن کرنا ہوگا ۔ اتنا کرپٹ ہوچکا ہے اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ یہ آج ڈیلور نہیں کرسکتا۔ چاہے وفاق میں ہو چاہے صوبے میں۔ یہ بات سمجھ لیں کہ اس نظام میں نہ پالیٹیشن کے پاس کپیسٹی ہے اور نہ بیوروکریسی کے پاس۔
پھر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر کسی کو میرے اس بیان سے تکلیف پہنچی ہو تو میں اس پر معذرت کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے نیک نیتی سے غریب کیلئے فنڈ جاری کیا لیکن اس میں چوری ہوئی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا صوبائی۔ میں نے نظام کا کہا ہے کہ یہ نظام کرپٹ ہوچکا ہے۔
تبصرہ نوشتہ دیوار: سیاستدان سچ بولنا شروع کریں تو ملک کے مسائل حل ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اگر دوسروں پر تنقید کے نشتر برسانے کے بجائے اپنی اصلاح اور نظام کی اصلاح کی طرف آئیں تو بہتر ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟

کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ
کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پاکستان لاالہ الااللہ کے نام پر بنا لیکن یہاں جھوٹ، بہتان، جبر، ظلم، فسق اور کفرکا راج ہے

جن سیاستدانوں کے سروں پر حکمرانی، عدالتوں پر عدل اور فوجیوں پر طاقت کا تاج ہے وہ عوام کی لاج نہیں رکھ سکے ۔دنیا بھر میں پاکستان آج اناج کی بھیک مانگ رہاہے؟

متحدہ ہندوستان میں ہندو بن کر رہتے اور گائے ماتا کا پیشاب پیتے تو بھی اس رسوائی سے بہتر تھا جو آج ہم دنیا کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کراپنی مراعات کیلئے کشکول لے کر گھومتے ہیں

اسماعیل نے ایڑیاں رگڑیں تو آب زم زم نکلا، کربلا میں یزیدکے لشکر نے حسین پر پانی بند کیا تو سپہ سالار حر نے کمزور حق کا ساتھ دیا یہاں تو ولایزید الظالمین الا خسارا کا مظاہرہ ہے

قرآن اللہ کی نعمت ہے ۔پاکستان بھی اللہ کی نعمت ہے۔ دونوں نعمتوں کے ساتھ سیاستدانوں، عدالتوں، سول وملٹری بیوروکریسی اور ہمارے مذہبی طبقات نے جو سلوک کیا اور عوام نے ان کے بہکاؤے پر جس طرح لبیک کہا ۔ہم اسی عذاب ، لعنت ، ظلم ، جبر ، تنگدستی اور بے بسی کے مستحق ہیں جہاں کھڑے ہیں۔
نام حسین کا لیتے ہیں اور کردار یزید کا ادا کرتے ہیں،نام آزادی کا لیتے ہیں اور کردار جبر کا ادا کرتے ہیں ، نام عدل کا لیتے ہیں اور کردار ظلم کا ادا کرتے ہیں۔ نام قرآن کا لیتے ہیں اور کردار فرعون، قارون اور ہامان کا ادا کرتے ہیں۔
ہندو بتوں کی پوجا کر رہے ہیںاور ہمIMFاور دنیا کے آگے ایڑیاں رگڑ کر بھیک مانگتے ہیں۔ عمران خان نے ٹھیک کہا تھا کہ سولی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFمیں نہیں جاؤں گااور پھر مجبوری میں جانا پڑا تھا۔ طالبان خان بننے کیلئے ایاک نعبد وایاک نستعینکا نعرہ لگایا اور پھر پیرنی کا زن مرید بن کر پاکپتن کی راہداری پر سجدہ ریز ہوا تھا۔حالانکہ مولانا شاہ احمد نورانی نے فرمایا کہ ”قبر کے سامنے سجدہ کرنا، جھکنا اور اس کو چومنا جائز نہیں حرام ہے اور عبادت کی نیت سے سجدہ کفر ہے”۔ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر نے بھارت کے مقابلے میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ ” کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے”۔ بے شک بدر میں مسلمانوں نے کم تعداد کے باوجود فتح پائی اور اُحد میں شکست کھائی ۔ حدیبیہ میں صلح کی اور مکہ میں فتح پائی ۔ کم تعداد اور زیادہ تعداد معیار نہیں، فتح وشکست اہل حق ہوتی رہتی ہے لیکن اپنے کردار پر نظر کرنی چاہیے۔ منافقت، ظلم، جبر، جھوٹ ، خیانت، مفاد پرستی ، فریب، دھوکہ دہی بری صفات کا وہ کونساکالا، لال، سفید ، لاہوری ، سمندری، سندھی پنجابی پختون نمک ہے جو ہمارے آٹے ، سالن اور تمام اشیاء خور د ونوش میں شامل نہیں؟۔
سندھ میں پہلی مرتبہ اسلام آیا تو اہل بیت نے بنی امیہ سے ہجرت کی تھی۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی تو حجاج بن یوسف جیسے فرعون کا دور تھا۔ پھر بھارت میں اسلام تین سوسال بعد داخل ہوا جب اسلام کا فرقہ واریت اور مسلکوں میں بٹوارہ ہوچکا تھا۔پاک وہند سے رسول اللہ ۖ کو جس اسلام کی خوشبو آئی تھی اس اسلام کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ آئیے ہم اس کا آغاز کردیتے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان نہ صرف عالم اسلام کیلئے بلکہ پوری دنیا کیلئے اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ بنے گا لیکن ریاست کو بھی ساتھ دینا پڑے گا سب سے پہلے علماء کرام ، مفتیان عظام اور مذہبی طبقات کی چھوٹی بڑی غلطیوں کو قرآن و سنت کے مطابق درست کرنا ہوگا۔ آج تک سیاسی پلیٹ فارموں سے لیکر مساجد کے ممبر و محراب تک اور مذہبی اسٹیجوں سے پارلیمنٹ کے ایوانوں تک کسی نے یہ نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں کیا کیا احکام نازل کئے؟۔
جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگا جو اُمت مسلمہ کی ماں ، رسول اللہ ۖ کی زوجہ محترمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی دختر نیک اختر تھیں تو قرآن میں بہتان لگانے والوں پر80،80کوڑوں کی سزا کا حکم ہوا۔ بہتان لگانے والوں میں حضرت ابوبکر کے قریبی عزیز حضرت مسطح ، حضرت حمنہ نبی ۖ کی سالی اور مشہور نعت خوان حضرت حسان شامل تھے۔ اگر ایک غریب اور کمزور خاتون پر بہتان لگایا جائے تو بھی قرآن میں اس کی یہی سزا ہے۔ دنیا کو اگر معلوم ہوجائے کہ اسلام میں اتنی مساوات ہے تو اسلام قبول کرلے۔
آج جمہوریت کے دور میں بھی ہم اسلام کا پیغام گلی کوچوں سے لیکر بین الاقوامی دنیا تک عام نہیں کرسکے ہیں۔ دنیا میں اسٹیٹس کو کے خاتمے کیلئے اسلام ایک واحد ذریعہ ہے۔ غریب کی بیٹی بھوک سے مرسکتی ہے لیکن کروڑوں روپے کے عوض مردوں کے سامنے اسٹیج پر چڑھ کر نخروں سے تقریر نہیں کرسکتی۔ غریب کی ہتک عزت پر عدالت میں اتنا پیسہ بھی نہیں مل سکتا جس سے وکیل اور عدالت کی فیس بھری جاسکے۔ امیر کی ہتک عزت اربوں میں ہوتی ہے۔ پھر غریب کیلئے یہ بھی بڑی سزا ہے کہ وہ چند ہزار کا جرمانہ بھرے۔ اور امیر کیلئے لاکھوں کی فیس بھی کوئی سزا نہیں ہے۔ کوڑوں کی سزا امیر غریب سب کیلئے یکساں ہے۔
اللہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم قرآن میں سے نازل کرتے ہیں جو لوگوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں”۔ پاکستان خسارے کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ظلم سے رک نہیں رہا ہے۔ پہلی مرتبہ آرمی چیف حافظ بھی ہیں اور سید بھی۔ کرپشن کے بھی ان پر کوئی الزامات نہیں۔ لیکن ملکی حالات سیاسی اور عدالتی حساب سے انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ پاک فوج ایک بڑا ادارہ ہے جس میں کور کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد ہے اور بہت بڑے پیمانے پر اس میں جفاکش سپاہی اور افسران ہیں۔ اگر مشاورتی عمل سے اپنے اندر پہلے اصلاح کا کام شروع کریں اور پھر اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلائیں تو یہ صورت ملک و قوم کو اس مخدوش حالات سے نکالنے کا سبب بن سکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

سیاست میں اعتدال نہیں رہاہے تو مذہبی بے اعتدالی کا راستہ کون روکے گا؟ اللہ نے قرآن میں ہمیں امت وسط معتدل مزاج امت قرار دیا ہے

جس دن صحافیوں نے مذہب کی طرف توجہ کی تو پاکستانی قوم میں بہت بڑا فطری، نظریاتی اور انسانی انقلاب برپاہوجائیگا ذرا توجہ کریں تو سہی!

شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور جماعت اسلامی وتبلیغی مرکز میں اختلافات ہیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی کا تعلق پہلے جماعت اسلامی سے تھا اور پھر مولانا مودودی کے خلاف کتاب لکھ کر تبلیغی جماعت کے اکابر بن گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی ”فتنہ مودودیت” کتاب لکھ ڈالی تھی۔ مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف استفتاء لکھ کر پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علماء ومفتیان سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگوایا تھا، جن کے فرزند مولانا سجاد نعمانی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد کے بہت بڑے داعی اور علمبردار بن گئے ہیں۔
علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی نے جماعت اسلامی انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر عبارات کے حوالہ جات دئیے بغیر دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ انہو ں نے مولانا مودودی وغیرہ کی عبارات سمجھ کر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے تھے۔حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی کتابوں سے عبارات لئے گئے تھے۔جس پر شیخ الحدیث مولانا زکریا نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی کہ ہم اپنے اکابرین اور دوسرے کے درمیان کیوں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں؟۔ جس کا صاف الفاظ میں خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ”اپنے کریں تو چمت کار اور دوسرے کریں تو بلت کار ”۔ دوسروں کو مطمئن کرنے کی جگہ اپنوں کو اطمینان دلاتے ہیںتو ہمارا مذہب صرف کمزور لوگوں میں خوش فہمی کا باعث بنتاہے۔
اللہ نے فرمایا: کل حزب بمالدیھم فرحون ” ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ”۔ دیوبندی بریلوی اپنی کتابوں میں اپنے بزرگوں کے کرامات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا کمالات حاصل کئے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک ماموں کا قصہ بڑا عجیب ہے ۔ ملامتی صوفی اور بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ماموں نے سب کو ماموں بنادیا تھا۔ جب بات غلو تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو بیان کیا جائے تو ناقابل یقین بن جاتا ہے۔
مدارس اور مساجد میں ظلم وتشدد اور جبر واکراہ کا وہ سسٹم نہیں ہوتا ہے جس کو جماعت اسلامی نے کالج اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھایا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ نے جس انداز میں مشعال خان کو شہید کیا تھا تو اس کاسارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے بانی ومہتم مفتی محمد نعیم نے مشعال خان کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پشاور میںطلبہ کو شاباش دینے کیلئے جلسہ رکھا تھا۔ مدارس کی تعلیم میںشافعی حنفی مالکی حنبلی مسالک پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں علم وشعور اور اختلاف برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے مگر جماعتی بہت جاہل اور ظالم ہوتے ہیں۔وہ اس تشدد پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ کسی عالم دین کو اپنا امیر بناکر جاہلوں سے تشدد کا عنصر بالکل نکال دیں۔
مظہر عباس ، وسعت اللہ خان اینڈ کمپنی،محمد مالک، روف کلاسرا ، سلیم صافی اور حامد میر وغیرہ کبھی مدارس ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھاکر کچھ مسائل پر افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ مثلاً دعوت اسلامی کے مفتیوں نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ ” روزے کی حالت میں ٹٹی کرنے کے بعد اپنے پاخانہ کی جگہ دھویں تو اس کو فوراً کپڑے سے سکھالیں، اگر ایسا نہیں کیا تو آنت کا ٹکڑا واپس اندر چلاجائے گااور روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
آنت کا نکلنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن گئے ہوں گے۔ جب یہ مسئلہ الیکٹرانک میڈیا پر اکابر ین کے سامنے زیر بحث لایا جائے گا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اکابر کی بات درست ہوگی تو بہت لوگوں کے روزے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور اگر ان کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اس مسئلے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسلئے کہ آنت بہت لمبی ہوتی ہے اور اس میں مقعد کے راستے سے معدے تک پانی کا اس طرح سے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی دور میں پچکاری کے حوالے سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہوگی کہ پریشر سے پانی معدے تک نہ پہنچ جائے لیکن الٹراساونڈ کی ایجاد سے مسئلہ سمجھنے میں مشکل نہیں اور بہت اکابر بھی اس بے جا مشقت سے بچ جائیں گے۔
مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ ” غسل کے تین فرائض ہیں۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا”۔ یہ حنفی کے نزدیک ہیں اور شافعی کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں وضو کی طرح سنت ہے۔ مالکی کے نزدیک جب تک جسم کو مَل مَل کر نہ دھویا جائے توفرض پورا نہیں ہوگا۔ گویا ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں وضو کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وان کنتم جنبًا فطھّروا ” اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ حنفی کہتا ہے کہ وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں ہے لیکن اس آیت میں پاکی کے اندر مبالغہ ہے اسلئے جنابت سے نکلنے کیلئے یہ فرض ہے۔ مالکی کہتا ہے کہ مَل مَل کر دھونا بھی مبالغہ کی وجہ سے فرض ہے۔ یہ فرائض اور ان پر اختلافات قرآن وحدیث ، خلفاء راشدین ، صحابہ اور تابعین کے 7فقہاء مدینہ کے ہاں بھی نہیں تھے لیکن پھر وجود میں آگئے۔
اس مشکل سے نکلنے کیلئے قرآن میں ہے کہ جنابت سے نکلنے کیلئے غسل یعنی نہانا ہے۔ بس وضو کے مقابلے میں نہانے کے اندر جو مبالغہ ہے وہی کافی ہے۔ نہانا یہود، نصاریٰ ، مشرکین مکہ ، ہندو اور سبھی کو آتا ہے۔ حتی کہ جانور اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاورمیں پوزیشن ہولڈر میرا ایک کزن اس کی وجہ سے کہ غسل ہوا یا نہیں ہوا ؟ اپنی زندگی کی خوشیوں سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

جیواورحامد میر نے سفید جھوٹ کہا کہ فوج نے عدلیہ کیخلاف فیصلہ دیا ۔ اتوار کا پورا دن گزار دیا اور کوئی فیصلہ اس خوف سے نہیں کیا کہ عدلیہ نا اہل کردے گی۔ یہ ثبوت ہے کہ فوج نے یقین نہیں دلایا

جسٹس اطہر کے اختلافی نوٹ میں سیاست سے دور رہنے کی بات تھی لیکن اس کا ساتھی جسٹس فائز عیسیٰ حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ پہنچ گیا۔ یہ اس نظام کے خاتمے کی نوید لگتی ہے۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ نے آئین کو توڑنے کی گولڈن جوبلی منائی ہے۔ پاک فوج کو سیاست سے دور رہ کر اپنے معاملات درست کرنے چاہئیںتاکہ وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد عوام میں بحال کرسکیں

پاک فوج واحد ادارہ ہے جس سے پاکستانی ریاست کا استحکام وابستہ ہے۔ اس کے جوان بے لوث قربانی دیکر شہادت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسکے قابل ترین افسروں نے ملک کو مذہبی ، لسانی ، سیاسی اور نظریاتی جنگ وجدل سے محفوظ رکھنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافی ، سیاستدان ، حکومت ، اپوزیشن اور سبھی ان کو دعوت دیکر اپنے مخالف کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ آج چیف جسٹس عمرعطابندیال سے پارلیمنٹ ٹکرانے کی ناجائز کوشش کرتی ہے تو قانون کی بالادستی کیلئے طاقت کا استعمال بہت ضروری ہے۔پہلے بھی ایک مرتبہ نوازشریف نے سپریم کورٹ پر اپنے ججوں اور پھر کارکنوں کے ذریعے سے ہلہ بول دیا تھا۔ اگر اس وقت مارشل لاء بھی لگادیا جاتا تو لوگ اس کو احسن قدم کہتے ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ نے جن صحافیوں کو لفافوں کی قیمت پر لگایا ہے ،ان کو کٹہرے میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر نے عدالت کے خلاف گرین سگنل دے دیا ہے ، دوسرا اپنی طرف سے ریڈ سگنل کی بات کرتا ہے۔ان کا مقصد آرمی چیف کی حمایت اور مخالفت سے پاک فوج کی مٹی پلید کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
پہلی فرصت میں پنجاب کی45ہزار ایکڑ اراضی پنجاب کی حکومت کو نہیں غریب مزارعین کسانوں میں بانٹ دیں۔ ایسا نہ ہوکہ مزارعین کے لبادے میں جاگیردار اور سیاستدان بھی اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے پہنچ جائیں۔ جب اکرم خان درانی اور مولانا فضل الرحمنGHQسے زمین لیتے ہیں تو شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور ملک بھر کے دوسرے جاگیردار اور سرمایہ دار بھی ان سے زیادہ بھوکے ہیں۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر قرآن کے حفظ اور سادات کی لاج رکھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ملک میں کمزور طبقے میں عزت بڑھ جائے۔ ان سیاسی جماعتوں کے زر خرید میڈیا ٹولز سے ہرگز نہیں گھبرائیں۔ انہوں نے عزت نہیں دینی ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اللہ نے عزت دینی ہے۔ عمران خانیوں کا جوش جنون واقعی خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن اس کا مقابلہ طاقت نہیں شعور سے کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے لوگوں میں شعور کی بہت کمی ہے اور جن لوگوں میں تھوڑا بہت شعور ہے وہی عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں۔ اس باشعور طبقے کو مزید شعور دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب پاک فوج اعلان کرے گی کہ ملک کی خاطر ہم اپنے پر تعیش علاقوں کو اپنے ہم وطنوں پر بیچ رہے ہیں اور خود جنگل میں منگل بنارہے ہیں تو پاکستانی ہی اپنا پرائیوٹ پیسہ باہر سے لاکر انویسٹ کردیںگے۔ ملک کے قرضے بھی تمہاری اس قربانی کی وجہ سے اتر جائیںگے اور قوم میں ایسی عزت بحال ہوگی کہ اللہ تمہیں امر کردے گا۔ سیاستدانوں ، کرپٹ ججوں ، جرنیلوں اور صحافیوں نے مل بیٹھ کر پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ معاشی استحکام کی جنگ جب تک فوج خود ہمت نہیں کرے گی تو سیاستدانوں نے کچھ بھی نہیں کرنا اور نہ ان کو کچھ کرنا آتا ہے۔ انہوں نے مال کمانے کے طریقے سیکھ لئے ہیں۔ جرنیلوں اور ججوں میں گنتی کے چند افراد کرپٹ ہوں گے ،انہوں نے تو ٹبر کے ٹبر تیار کر رکھے ہیں۔
زرداری جب الطاف حسین سے بات کرتاہے تو اپنی بیٹی آصفہ اور الطاف کی بیٹی فضا اور ان کی نسلوں تک سلسلہ جاری رکھنے کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کو جمہوری ملک بنانے کے بجائے مغل سلطنت کے دور میں راجے مہا راجے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ عوام بیچاروں کو اقتدار اور اس کے فوائد کی معلومات تک نہیں ہوتی ہیں لیکن سیاستدان فوج کیساتھ مال منڈی کے دلالوں کی طرح انگلیوں کے اشاروں سے عوام اور مال بیچنے والوں کے درمیان سودا طے کرکے اپنے مالی فوائد اٹھاتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان حکومت دلالی کرنے کے بجائے اپنے اصل کردار کو ادا کرے گی تو یہاں سیاستدان کے کپڑے اتریں گے اور نہ فوج کے کوئی کپڑے اتار سکے گا۔ پاکستان سب کا مشترکہ گھر ہے اور یہ قیامت تک اس وقت باقی رہ سکتا ہے کہ جب اس کے مکین عوام ہوں اور عوام ہی سے اُٹھ کر لوگ سیاست اور ریاست کی خدمت کررہے ہوں۔ عوام مرگئے ہیں یا مارے گئے ہیں؟۔اسلئے کہ یہاں کوئی اہل قیادت نہیں ہے۔ فوج میں آرمی چیف تو چند افسران میں سے قسمت پر سلیکٹ ہوجاتا ہے اور اس کی ساری زندگی اس ملازمت میں گزری ہوتی ہے جس میں اپنے افسران بالا کے حکم کی بجا آوری میں اس کے دماغ کی رگیں بہت کمزور ہوجاتی ہیں۔ جب اس کو اچانک بہت بڑا اختیار مل جاتا ہے تو رہی سہی عقل بھی کام نہیں کرتی ہے اسلئے کہ ادارے نے اپنا پریشر ڈالنا ہوتا ہے۔ بیرون واندرون ملک کے مسائل اپنی جگہ ہوتے ہیں اور سیاسی ومذہبی دباؤ کا سامنا الگ ہوتا ہے ۔اس عاشقی میں لیلائے سیاست کی کئی دلہنیں سج دھج کر کھڑی ہوتی ہیں اور بندہ ناچیز کو بھگوان سمجھ کر دیوی کا کردار کی پیشکش کرتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ شطرنج کے مہرے کی طرح اس کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور بھگوان سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح ڈائن کے مقام ومرتبہ پر کھڑا کرکے کھایا پیا سب ہضم لیکن بلغم اس کے منہ پر پھینکا جاتا ہے اور ساری برائیوں کی جڑ ریٹائرڈ آرمی افسر بن جاتا ہے اور مغویہ حاملہ اور جبری زیادتی کا شکار نئے الیکشن کی تیاری کرنے والی لیلائے سیاست بن جاتی ہے۔
پاکستانی دو چیزوں کو پسند کرتے ہیں ۔ایک بہادری اور دوسری مظلومیت۔ مولانا عبدالغفور حیدری بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنے کیلئے کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جنرل باجوہ نے گھر پر بلواکر بہت فحش گالیاں بکیں اور آخر کار میرا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو جنرل باجوہ کو شٹ اپ کی کال دی۔ اکرم شیخ ، ابصار عالم اور سارے صحافی اور سیاستدان اپنی کہانیاں بتاتے ہوئے بہادری اور مظلومیت کی داستانیں بتاتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی کہ شہباز گل کو ننگا کرکے مارا گیا لیکن احمد نورانی نے اس خبر کو جھوٹ قرار دے دیا۔ حامد میر نے کپڑے اتارنے کے بعد اپنی چڈی تک بات پہنچادی تھی لیکن یہ ایک واقعہ ہوگا اور اس میدان کا وسیع تجربہ ہوگا یا مظلومیت اور بہادری کے قصوں کا محض شوق؟۔فوجی سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹی بہادری بھی ایک کمال تو ہے؟۔ اگر قرآن وسنت کے ٹھوس احکام کو عوام میں عام نہیں کریںگے تو پاکستان ہاتھ سے ایسا نکل جائیگا جیسا کہ جنگلی درندہ!۔ جو نکلتے وقت زخمی بھی کرسکتا ہے اور جان سے مار بھی سکتا ہے۔
اگر پاکستانی قوم کی حالت دیکھ لی جائے تو ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے ؟، کس کی شامت ہے ؟، کس کی تذلیل ہے؟، کون اچھا ہے؟، کون برا ہے؟، حکومت جائے یا اپوزیشن آئے عوام کی اکثریت اس سے بالکل لا تعلق ہے اور یہ لاتعلقی بہت خطرناک ہے۔ یہ بھی بڑی غنیمت ہے کہ عمران خان کو کچھ چاہنے والے مل گئے ہیں۔ جو میڈیا کو سیاسی سرگرمیاں فراہم کررہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ شہباز شریف نے جتنی نفرت آصف زرداری سے قوم کو دلائی ہے وہ اتنی آسانی سے نکلنے والی نہیں ہے۔ ہر برائی کی جڑ آصف زرداری کو سمجھا جاتا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ کھمبوں سے لٹکانے کی دھمکی دینے والے شہباز شریف کو جاتا ہے۔ اب ان کی دوستی پر دنیا پریشان ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کیس بھی کئے، عدالتوں سے فیصلے بھی لئے اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خود کو معصوم سمجھنے کی اُمید بھی عوام سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو عقل کریں۔ عمران خان بڑا دبنگ انسان ہے لیکن جب وزیر اعظم بن گیا تو اس کی ساری دھمکیاں اس وقت ڈھبر ڈوس ہوئیں جب عبوری حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا نواز شریف اس کی اجازت سے نکل گیا۔ مریم نواز تیمارداری کے غرض سے ضمانت پر رہا ہوئی تھی لیکن بیمار لندن پہنچ گیا اور تیمار دار مریم نواز عمران خان کو ترکی بہ ترکی زبردست جواب دیتی رہتی تھی۔ میلا اب صرف ایک عمران خان نے گرم کرکے رکھا ہے اور دوسری مریم نواز ہے۔ دونوں کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔ لیکن ایک دوسرے پر جملے زبردست کس کر مارسکتے ہیں۔
عوام بھوکی ہے، ننگی ہے ، بیروزگار ہے، جملوں سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے اور مریم نواز اور عمران خان جملے بازیوں سے میاں مٹھو کی طرح بولنے والے غریب عوام کو کچھ نہیں دے سکتے تو اب ان کی آواز بھی نہیں نکل رہی ہے۔ میدان ہے اور اس میں عمران خان اور مریم نواز ایک دوسرے کیخلاف میچ کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی جیتے یا ہارے لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔
عوام کو جگانے کیلئے ایک ہی طریقہ کار باقی رہ گیا ہے کہ قرآن کی طرف ان کو راغب کیا جائے۔ اور علماء و مفتیان نے دین کا جس طرح سے کباڑہ کرکے رکھا ہے اس سے ہٹ کر واقعی پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کیا جائے اور فرقوں ، جماعتوں ، گروہوں، تنظیموں اور پارٹیوں سے ہٹ کر موٹے موٹے احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرکے زندگی کے نئے رخ پر انکو ڈالا جائے۔ پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا اور آئین پاکستان میں بھی قرآن و سنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے ہاں مذہب کا استعمال بھی بلیک میلنگ کیلئے کیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی آج کل اپنے ماضی کے دشمن قوم پرستوں کو خوش کرنے میں لگی ہے۔ جب جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے آرمی کے خلاف کچھ کہا تھا تو جماعت اسلامی نے اسے ہٹا کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔ جو بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار رہی ہو یا اس کی پیداوار ہو جب تک ان پر پابندی نہ لگائی جائے پاکستان کا ماحول درست نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ سینیٹر مشتاق احمد خان کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ اشرافیہ کا تعلق جس جماعت ، جس پارٹی اور جس تنظیم سے ہو اس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بل بھی انگریزی زباں میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب ، قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں اتنی بڑی بڑی غلطیاں ہیں۔ حلالے کے نام پر عزت دار خواتین کی عزتیں لٹ رہی ہیں لیکن نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ جب کل اس پر کوئی بازار گرم ہوگا تو خطابت کے جوش دکھانے والے میدان میں اتریں گے اور لوگوں کو سمجھ میں آئے گا کہ یہ بیچارہ پتہ نہیں کب سے اس ایشو کیلئے مرا جا رہا تھا؟۔ تقریریں ان کے دل کی گہرائیوں سے نہیں نکلتیں بلکہ یہ انہوں نے اس طرح سے مشق کی ہوئی ہوتی ہے جیسے سکول کی بچیاں تقریریں کرتی ہیں اور کسی اُستاد کی لکھی ہوئی تقریر سے آسمان اور زمین کی قلابیں ملائی جاتی ہیں۔
سنجیدہ بات یہ ہے کہ جب ختم نبوت کے خلاف پارلیمنٹ میں بل پاس ہورہا تھا تو ایک ظفر اللہ جمالی تھا جس نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا کہ میں ایسی اسمبلی کا رکن نہیں رہ سکتا جس میں خاتم الانبیاء رحمت للعالمین ۖ کے خلاف یہ سازش ہو۔ اس ظفر اللہ جمالی پر پوری جماعت اسلامی ، پوری جمعیت علماء اسلام اور پوری مسلم لیگ و پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی پارٹیوں کے قائدین ، رہنما اور کارکن قربان ہوں۔ یہ سارے بکواسیہ موقع ملنے پر بک بک کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی ناموس رسالت کیلئے اسمبلی اور اپنی جماعت سے استعفیٰ دینے کی جرأت نہیں کی ہے۔ ظفر اللہ جمالی آزاد حیثیت سے رکن پارلیمنٹ بنے تھے اور پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور جب ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی تو وہ اسمبلی سے مستعفی ہوگئے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے گھرائیں تھے وہ بتائیں گے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر استعفیٰ دیا تھا یا اپنے ضمیر کے مطابق ایمان کا مظاہرہ کیا تھا؟۔ حافظ سعد حسین رضوی بھی اپنے باپ کی عزت و ناموس کیلئے عدالت میں پیش ہوں اور جسٹس فائز عیسیٰ سے معلومات حاصل کریں کہ کس طرح اس کے باپ نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر لوگوں کو قربانی دینے پر اکسایا تھا؟ ۔ اگر وہ ثابت کردیں تو تحریک لبیک کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنے فیصلے کی جوابداری کرنی چاہیے۔ نواز شریف نے بڑے بڑوں کو شیشوں میں اتارا ہے ۔ اللہ خیر کرے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور فوج کی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

اسٹیبلیشمنٹ کے دو چیلوں کی لڑائی کو سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ تک لیجانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ پنجاب کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے اسلئے اپنا دائرہ کارپنجاب تک آپ ضرور بڑھائیں !

عمران خان کے زندہ دلانِ لاہور کی حوصلہ شکنی نہ کریں،صحت مند سیاست میں جان جذبے اور جنون سے آتی ہے مگر لڑائی بھڑائی سے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے!

پہلے مرکز کی سیاست کبھی پنجاب اور کبھی سندھ میں پیپلزپارٹی کی وجہ سے منتقل ہوتی رہتی تھی۔ مسلم لیگ ف، ج، ق ، ن ، ع سبھی اسٹیبلشمنٹ کی سگی ہیں۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کوئی مسلم لیگ پنپ نہیں سکتی ہے ۔ پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے بانی کو قتل کیا گیا تھا اسلئے پیپلزپارٹی کااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کمزور ہوگیا تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے چاہا کہ اپنے گھر کے اندر ہی دو بٹیر پالے جائیں اور باریاں بھی پنجاب میں اپنوں میں رہ جائیں۔ مسلم لیگ ن اور عمران خان دونوں کو پنجاب سے ہمیشہ کیلئے بڑی جماعتوں کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ دونوں نے ان کے کہنے پر اپنی ٹائی ، شرٹ، قمیص، شلوار اور چڈی اتارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔ دوسرے لوگ گناہ بے لذت میں خوامخواہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی اور اس کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو اتنا بھوکا رکھا گیا ہے کہ20کلو زکوٰة کے آٹے کیلئے بھی مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سیلاب سندھ میں آیا تھا اور حامد میر سے پنجاب کے کسان اسلام آباد میں کہہ رہے تھے کہ سندھ کی وجہ سے بحران آیا ہے۔ جس پر حامد میر نے ہنس کر کہہ دیاتھا کہ تمہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔
آخر میں عمران خان اور نوازشریف نے بھائی بھائی بن جاناہے۔ زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے کاندھوں پر گند کی ٹوکری لادی جائے گی۔ پنجاب میں شعور لانے کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کیلئے لاہوریوں کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ماڈل ٹاؤن اور زمان پارک لاہور کی لڑائی لاہور ، جی ٹی روڈ ، گجرانوالہ، گجرات، جہلم ، گوجرہ ، پنڈی اور اسلام آباد تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا مگر کبھی اس نے بارود اپنے جسم کیساتھ باندھ کر دھماکے کی ترغیب نہیں دی۔ پختون اور بلوچ انتہاپسند ہیں۔ اپنی قوموں کو بھی ریاست کیساتھ بارود سے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں تشدد نہیں نظریاتی جذبہ ہوتا ہے۔ نظریاتی جذبہ صحت مند سیاست ہے۔ پنجاب میں بھٹو کے بعد عمران خان نے زندہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری میں صلاحیت تھی ۔ماڈل ٹاؤن میں اس کے کارکن شہیدکئے گئے ۔ قمرزمان کائرہ نے مذاق اور نقل اتارنے سے اس کا جذبہ ختم کیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کے بندے مارکر عمران خان کی سیاست کو زندہ کردیا۔ نوازشریف نے تو کاندھے پر اٹھاکر طاہرالقادری کوغارِ حراء پر چڑھایا تھا، حالانکہ لنگڑے اور اندھے ایسا کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ پنجاب کی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اورنگزیب جیسے قابل لوگ اس میں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے جن کی پرورش بطخوں کے ساتھ ہوئی ہو۔ بطخوں کا کام کویک کویک کرنا ہوتا ہے جبکہ شاہین خاموش رہتا ہے۔ جب شاہین کا بچہ بطخوں کے ساتھ پلا بڑھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی اڑان نہیں بھرسکتا اوران بطخوں کے ساتھ گھومتا رہتا تھا۔ جن کا سارا دن صرف یہی کویک کویک کرنا ہوتا تھا۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے سارے قائدین اور رہنما بطخوں کی طرح سارا دن کویک کویک کرتے رہتے ہیں۔ شاہین صفت بچے ان کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں اور انکے ساتھ گھوم پھر کر خود کو بطخ سمجھتے ہیں۔ جب شاہین نے اپنا بچہ بطخوں کے ساتھ دیکھا تو اس کو اٹھا کر پہاڑ پر لے گیا اور اوپر سے چھوڑ دیا۔ شاہین کے بچے نے پر کھولے اور اڑان بھرنی شروع کی تو اس کو پتہ چلا کہ وہ بطخ کا نہیں شاہین کا بچہ ہے۔ قدرت پاکستانیوں کی دستگیری کررہی ہے اور بطخوں کی کویک کویک سے اس کی جان چھڑا کر اس کو پہاڑ سے گرا نہیں رہا ہے بلکہ اڑان سکھا رہا ہے۔ اب اچھے دن آنے کو ہیں۔
پاکستانیو! غم مت کھاؤ۔ یہ نظام جو ٹوٹ رہا ہے اس میں بھلائی ہے۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا لیکن تمہیں بھی اُڑان بھرنی ہوگی۔ قرآن کی طرف جس دن تم نے توجہ کی تو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کو بھی تم نے سود سے نجات دلانی ہے۔ سُودی بینکاری اسلامی نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام بھی علماء کے ہاتھ تباہ ہے۔
پاکستان ، افغانستان، ایران ، سعودی عرب کیساتھ ہندوستان ، یورپ ، امریکہ ، روس اور چین میں بھی اسلام کا درست پیغام پہنچانا بہت ضروری ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام تمام دنیا کے سارے مسائل کا حل ہے

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے ” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

پاکستان شاہین کی طرح اب اپنے پَر، ناخن اور چونچ توڑ کرایک نئی زندگی کا آغاز کر رہاہے؟

1973کی50سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ کی طرف سے بھی آئین شکنی کی قرارداد منظور ہوئی ہے جو آئین کے مطابق90دن میں الیکشن سے فرارکا راستہ ہے

کبھی جنرل ضیاء الحق نے آئین کو ایک کتاب قرار دیکر جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی عدالت نے3سال تک جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی،اب پارلیمنٹ نے…

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے اسلامی دفعات کے نفاذ کی توقع رکھوں؟۔ یہ تو عوام کا قصور ہے کہ ہمارے چندافراد اسمبلی بھیجتے ہیں”

اب سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے
اہل کشتی ناخداؤں کے طوفانوں سے مر گئے
پاکستان میں عوام الناس اور باشعور طبقات کو یہ شکایت بجا رہتی تھی کہ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے ، پہلے اس کی لگام انگریز کی باقیات سول بیروکریسی اور ان کے نامزد گورنر جنرل اور وزیراعظم کے ہاتھوں میں تھی پھر سول اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کے ہاتھوں یہ ملک دو لخت ہوا۔ معجزے میںچاند دو ٹکڑے ہونے کے بعدجڑ گیا مگر پاکستان پھر نہیں جڑ سکا۔1947کے25سال بعد سرزمین بے آئین کو1973میں متفقہ آئین مل گیا، جو دس سال میں اسلامی سانچے میں ڈھل جانا تھا۔1974میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا،پھر الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیۖ چلی۔ پھر11سال تک مارشل لاء نے ڈیرے ڈال دئیے۔ جس کے خلافMRDتحریک بحالی جمہوریت چلی ۔دوسری طرف جنرل ضیاء کی تخلیق کردہ مسلم لیگ جونیجو سندھی اور نوازشریف پنجابی اور جماعت اسلامی نے غیر جماعتی جمہوریت اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کو فتوؤں سے سپورٹ کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے جونیجو لیگ کی حکومت کو ختم کردیا تو نوازشریف نے پھر جونیجو سے بے وفائی کردی۔MRDکے اتحاد سے پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے۔سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے۔ جتوئی کی ناکامی پر نوازشریف کو سمیع الحق نے سائیکل تھما دی۔ عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اپیل کردی۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل بنادیا۔ نوازشریف کاافیئر طاہرہ سید سے تھا۔ میڈیا نے رنگیلا وزیراعظم کتاب سے کچھ بھی عوام کو نہیں بتایا۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصویریں جہاز سے گرانے والے شریفوں سے قدرت کیا انتقام لیتی ہے؟۔ کیپٹن صفدر نے کہاکہ ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”۔ مشرف کو عدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو آئین کی پاسداری پر سزا دی جارہی ہے؟۔ قدرت نے سب کا چہرہ دکھایا۔ریاست خلافت کا اعلان کردے اسلئے کہ الیکشن سے جمہوریت کے اپنے پاسدار بھاگ رہے ہیں۔اسلام کا چہرہ جس دن میڈیا پر دکھادیا تو پاکستان میں اسلام کو ووٹ ملے گااور ملک سے مشکلات ختم ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے صحافی نے پوچھ لیا کہ ”مسلم لیگ ن نے آپ سے اسلامی دفعات کو نافذ کرنے کا وعدہ پورا کیا؟”۔ جس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ” مجھے آپ نے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے یہ توقع رکھوں کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گی؟۔1973کے آئین میں یہ شامل ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی ہوگی ۔عوام جب تک ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں نہیں بھیجے گی تو اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوسکے گا۔ چندافراد سے اسمبلی میں اسلامی قانون سازی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ جب عوام ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں بھیج دیں گے اور ہمارے اپنے ہاتھ میں اقتدارآجائے گا تو پھر اسلام کا نفاذ ہوسکے گا”۔
ایک طرف تحریک انصاف کے زمان پارک میں کارکنوں پر الزامات لگتے ہیں کہ رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں اور دوسری طرف عمران خان پر بیٹی چھپانے اور عدت میں نکاح کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں۔تیسری طرف سوشل میڈیا پر ننگ دھڑنگ ویڈیوز کی بھرمار چل رہی ہے اور چوتھی طرف مریم نواز کا حمزہ شہباز سے سینہ سے سینہ ملاکر معانقہ کا چرچا ہے۔ پس دیوار کیا کیا چل رہاہے؟۔ لیکن نوشتۂ دیوار علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہے۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہوجائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز وساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہوجائے گی
دیکھ لوگے سطوت رفتار دریا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہوجائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
مولانا فضل الرحمن خود بھی اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔افغانستان میں ملا عمر نے جب امارت اسلامی قائم کردی تو لوگوں کو زبردستی سے داڑھی بھی رکھوانا شروع کردی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کررہے ہیں۔ جب پختونخواہ میں بھاری اکثریت سے علماء کرام و مفتیان عظام، شیخ الحدیث و شیخ القرآن ، مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ اسمبلی میں پہنچے تو اکرم خان درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنادیا اسلئے کہ جماعت اسلامی کو اس وقت داڑھی منڈا قابلِ قبول نہیں تھا۔ حالانکہ مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی بھی پہلے خود ڈاڑھی منڈے تھے، پھر چھوٹی داڑھی رکھ لی اور پھر علماء کے مطالبے اور اصرار پر ریش دراز رکھ لی لیکن جماعت اسلامی نے کبھی عالم دین کو اپنا امیر نہیں بنایا ہے۔
اگر مدارس اور مساجد کے علماء ومفتیان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجائیں تو پاکستان میں اس سے زیادہ مضبوط مذہبی اور سیاسی پارٹی نہیں ہوگی۔ عوام سب سے زیادہ ووٹ بھی اسی پارٹی کو دیںگے۔ پاکستان میں حنفی مسلک کے بریلوی اور دیوبندی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا کمال یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو بھی اپنی تعلیمات کے ذریعے بالکل رد کردیتا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے اللہ نے یہی تربیت صحابہ کرام اور خلفاء راشدینکے دلوں میں بھی اتاری تھی۔ حدیث قرطاس اور فضائل اہل بیت کی احادیث صحیحہ کے مقابلے میںقرآنی آیات وشاورھم فی الامراور وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان سے خاص امر میں مشورہ کریں۔ اور ان کا امر آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے” پر خلفاء راشدین نے عمل کر کے خلافت راشدہ قائم کی تھی۔
رسول اللہ ۖ نے حدیث قرطاس کے ذریعے قرآن کے مقابلے میں کوئی اپنی منشاء مسلط نہیں کی تھی۔ نبی ۖ نے بدری قیدیوں کا فیصلہ صحابہ کے مشورے سے کیا تھا۔ حضرت عمر اور حضرت سعد کی رائے تھی کہ ”جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے ،وہ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے”۔ نبیۖ کے جانثار صحابہ نے مشورہ دیا کہ ” یہ اپنے لوگ ہیں۔ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ کل یہ مسلمان بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر دوبارہ مقابلہ میں آئے تو اُن کو نمٹ سکتے ہیں”۔ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور حضرت علی و دیگر صحابہ کرام کی رائے یہی تھی۔جس کی نمائندگی حضرت ابوبکر نے کی تھی۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” عمر کی رائے کافروں کیلئے حضرت نوح کی دعا ہے کہ کوئی کافر دنیا میں عذاب سے نہ بچے اور ابوبکر کی رائے ابراہیم کی دعا سے ملتی ہے جس میں اللہ سے رحم کی اپیل تھی، مجھے حضرت ابراہیم کی دعا بہتر لگتی ہے اسلئے حضرت ابوبکر کی رائے پر فیصلہ کردیتاہوں۔
اللہ نے فرمایا: وماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الآخرة ….
ترجمہ :” اور نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خون بہادیتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔
اللہ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ” اگر اللہ پہلے سے نہ لکھ چکا ہوتا تو تمہیں بہت سخت عذاب دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا اور اس سے عمر وسعد کے علاوہ آج کوئی نہ بچتا۔ صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے اسلئے کہ عام مؤمنین سے بھی حسنِ ظن رکھنے کا حکم ہے۔ علی، عثماناور ابوبکر پر کیسے یہ بدگمانی کی جاسکتی ہے کہ اکابر صحابہ دنیا کے طلبگارتھے؟ ، لیکن اللہ نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ بھی فرشتوں سے نہیں صحابہ کے بارے میں فرمایا۔ نبی ۖ نے پھر حضرت عمر وسعد کے علاوہ باقی صحابہ کرام کے بارے میں قرآن کی تفسیر بھی کردی۔ اگر یہاں علی وعمار کے بارے میں استثناء ہوتا تو اہل تشیع پھر ان قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کو خوب اُچھالتے مگریہاں سانپ سونگھتا ہے۔
بدری قیدیوں میں نبی ۖ کے چچا عباس اور داماد بھی تھے اسلئے صحابہ نے اپنے رشتہ داروں کا نہیں مگر نبی ۖ کے رشتہ داروں کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا کہ ان سے فدیہ لیکر درگزر کیا جائے، اللہ نے اس کو بھی دنیا کی چاہت قرار دیا اور نبی کے فیصلے کو بھی واضح الفاظ میں نامناسب قرار دیدیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ آیات اور احادیث صحیحہ کا سہارا لیکر گستاخانہ لہجوں سے فرقہ پرستی کا بازار گرم کرکے تعصبات کی ہواؤں سے مخالفین کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
اہل سنت والجماعت قرآن وسنت اور عظمت صحابہ کرام کے قائل ہیںلیکن جس قرآن میں اللہ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کے ذریعے رہنمائی کی ہے اس میں نبی ۖ کی تضحیک وتوہین مقصد نہیں ہے کہ عورت نے جھگڑا کیا تھا اور اسی کے حق میں فیصلہ آیا تھا اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا: وتخشی الناس و اللہ احق ان تخشٰہ ”آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈریں” (سورۂ الاحزاب ) ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اگر اللہ کے نبی ۖ قرآن کی کسی آیت کو چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے” (صحیح بخاری )۔
یہ قرآن امت مسلمہ کیلئے رہنمائی کا سبب ہے کہ اسلام میں ڈکٹیٹر شپ کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اللہ نے قرآن میں سچ فرمایا ہے کہ ” انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے”۔ تکبر وغرور شیطان کا وظیفہ ہے اور جو لوگ اپنی پارسائی بیان کرتے ہیں تو اللہ نے قرآن میں واضح تنبیہ کردی کہ فلا تزکوا انفسکم ” پس اپنی پارسائی بیان مت کرو”۔ جب قرآن وسنت کی سمجھ آجائے گی تو ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے اور اپنی پارسائی بیان کرنے کے بجائے اللہ اور خلق خدا سے اپنے گناہوں اور حق تلفیوں کی معافی تلافی میں لگ جائیں گے۔ اقتدار کی خاطر لڑنے کے بجائے ”پہلے آپ پہلے آپ” کی دل وجان سے پیشکش کریں گے۔
جب آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اقتدار حاصل کیا تو نوازشریف کو پیشکش کردی کہ ” پہلے آپ” ۔ زرداری نے پنجاب کی حکومت ق لیگ اور پرویز الٰہی کی پیشکش کو مسترد کردیا اور شہباز شریف کو پنجاب کا اقتدار سپرد کردیا۔ شہباز شریف اور نوازشریف نے پھر بھی ق لیگ کا فارورڈ بلاک بنایا اور سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے نااہل قرار دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ حالانکہ یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ ” آئین میں صدر کو استثناء حاصل ہے اور میں نے آئین کا حلف اٹھایا ہے تو کس طرح خلاف ورزی کرسکتا ہوں”۔ لیکن عین غین کی طرح عدلیہ کے ترازو میں فرق رکھنے والے چوہدری افتخار نے اس کو نااہل قرار دیدیا اور شریف برادران نے اس بھنگڑے ڈال کر ناچنا شروع کیا۔
شہباز شریف نے زرداری کو چور، ڈاکو اور دنیا بھر کی گالیوں سے نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی حلف برداریاں عوامی جلسوں اور میڈیا میں روز کا معمول تھیں۔ ایک دن زرداری نے کہہ دیا کہ نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک سیاستدان نہیں لوہار کا دماغ ہے تو مسلم لیگیوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ”ہم اس حد تک نہیں گرسکتے جس حد تک زرداری گرگیا”۔
نوازشریف اور شہباز شریف کے دل گوشت نہیں زنگ آلود لوہے سے بنے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور انگریز وںکے کتے نہلانے کے الزامات لگاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف نے اپنے نئے گھر رائیونڈ میں ایک میٹنگ کی ہے کہ ”20سال تک ملک کی سیاسی اور معاشی قوت کوسوہارتو کی طرح اپنے پاس رکھنا ہے”۔ سوہارتو کے خاندان نے اپنے ملک کو کس طرح سے لوٹ کر اپنے خاندان کو نوازاتھا۔ اس نے جنرل ضیاء الحق کی طرح11سال تک قبضہ کرنے کی بات نہیں کی۔ اس نے کہا کہ ہمارے راستے میں پانچ رکاوٹیں آسکتی ہیں ، ان کو پہلے دور کرنا ہے۔
نمبر1:اپوزیشن پیپلزپارٹی کو ختم کرنا ہے جو مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے۔
نمبر2:ہمیں خطرہ صدر سے ہوسکتا ہے اسلئے کہ اس دور میں آٹھویں ترمیم تھی۔
نمبر3:فوج کو راستے سے ہٹانا ہے،اسلئے کہ اس کا مختلف دور میں کرداررہا ہے۔
نمبر4:عدلیہ کو راستے سے ہٹاناہے اسلئے کہ یہ راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نمبر5:پریس ۔انہوں یہ پانچ نکاتی ایجنڈہ بنایا تاکہ قائداعظم کاخواب دفن ہو۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم نوازشریف کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کتنے کیس بنائے۔ الیکشن کمیشن سے کہا کہ صرف وہی کیس قبول کرنا ہے جو سیف الرحمن نے پیش کیا ہو۔ مجھ پر اور میری ماں پر، زارداری صاحب پر، اس کے باپ پر ، اس کی بہن پر ، اس کے برادر ان لاء پر، ہمارے تمام سیکرٹریوں پر، چوکیداروں پر سب پر اس نے کیس بنائے ہیں”۔
پھر جب بینظیر اقتدار میں آئی تو اس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے فاروق خان لغاری کو بھی استعمال کیا۔ اس کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ اس کی حکومت ختم کرکے آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے خاندانی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیا۔ زرداری پر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی لگا ہے۔ مرتضی بھٹو کا بیٹا بھی بلاول بھٹو سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے لیکن زرداریوں نے وراثت پر قبضہ کرلیا ہے اور اصل بھٹو ذوالفقار علی جونیئر کی جگہ بلاول زرداری نے لے لی ہے۔
قرآن نے یہ سبق دیا ہے کہ اقلیت اور اکثریت سے بلاخوف وخطر حق کیلئے آواز اٹھانی ہے۔ اگر صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ کیا تو بھی ان کی سرزنش ہوئی تھی۔ دوسری طرف اللہ نے اپنی حکمت بالغہ سے مشرکین مکہ کے دلوں میں یہ رعب بٹھانا تھا کہ اس دفعہ رحمت للعالمین ۖ نے مشاورت سے چھوڑ دیا ہے لیکن اللہ نے نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا اور اکثریت کے مشورے کو بھی قابل ستائش قرار نہیں دیا بلکہ اس پر گرفت فرمائی ہے۔ قرآن نے ایک طرف دشمن کے دل میں رعب ڈالا کہ آئندہ فدیہ کی توقع پر گرفتاری دینے کی غلطی نہ کرنا ، اگر میدان میں آؤگے تو مارے جاؤگے اور دوسری طرف مسلمانوں کو تنبیہ کردی کہ اکثریت اور نبیۖ کے فیصلے کا بھی اللہ نے لحاظ نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کی اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعدامیرالمؤمنین حضرت علی اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ کے درمیان بھی تلوار اٹھانے تک بات پہنچ گئی تھی جہاںدونوں طرف عشرہ مبشرہ کے صحابہزبیرو طلحہ اور علی برسرپیکار تھے۔ ایک طرف قرآن میں حضرت عثمان کی شہادت کے حوالہ سے بیعت رضوان کا معاملہ تھاتو دوسری طرف نبی ۖ کی احادیث تھیں ۔
حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بدلے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن مجبوری تھی۔ دوسری طرف بہت ساری احادیث حضرت علی کی تائید اور مخالفین کا راستہ روکنے کیلئے موجود تھیں۔ حضرت عمار کی شہادت تو بعد میں ہوئی تھی اور اس سے پہلے نبیۖ نے ازواج مطہرات سے فرمایا تھا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ اور حضرت عائشہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا کہ جب حواہب کے کتے آپ پر بھونکیںگے۔ حضرت عائشہ نے کتوں کی آواز سن کر لوٹنا بھی چاہا مگر مشورہ دینے والوں نے خیر کے کام کیلئے اس کو مفید قرار دیا۔ نبی ۖ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ” وہ لشکر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے جس کی قیادت عورت کررہی ہو”۔صحیح بخاری کی اس روایت میں حضرت عائشہ کے لشکر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت ابوبکرہ نے اس موقع پر اس کو بیان کیا تھا۔
اگر صحابہ کرام اور خاص طور پر عشرہ مبشرہ کے درمیان جنگ وجدل ہوسکتا تھا تو موجودہ دور کے مسلمانوں میں کیوں نہیں؟۔ اکثریت اور اقلیت معیارِ حق نہیں ہے۔ موجودہ دور میں چیف جسٹس اور اس سے اختلاف کرنے والے جج اور سیاستدانوں میں حق پر کون ہے؟۔ ایک طرف آئین کی پاسداری ہے لیکن دوسری طرف ٹیکنیکل بنیادپر آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش محض بہانہ ہے۔جو لوگ چیف جسٹس کا آئینی فیصلہ نہیں مانتے وہ ازخود اختلافی نوٹ کو فیصلہ قرار دینے کی جسارت کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ اکابر صحابہ کرام کی موجودگی میں یزید کی مسند نشینی کا کوئی جواز نہیں تھا اور امام حسین نے حق کا علم بلند کیا تھا مگر حسینیت اور یزیدیت کی تقدیر لکھی جاچکی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی یزید کے طرف دار ہیں اور وہ بھی اپنے حس کی وجہ سے معذور ہیں۔ جب تک باغ کے پھولوں میں خوشبو کی مہک کا پتہ نہ چلے تو گٹر کی بدبو میں عادی لوگوں کو کس طرح خوشبو کا ادراک ہوسکتا ہے؟۔ تاریخ کے ادوار مظالم اور جبر سے بھرے پڑے ہیں۔ جن میں یزید تو بہت آئے ہیں لیکن حسین کی یاد اگرچہ اس کے اپنے پوتے زید بن علی بن حسین نے بھی شہادت کی مہک سے یاد تازہ کردی ۔ البتہ حسین کے ماننے والا طبقہ کوفی جس طرح غدار نکلے، اس طرح ان کے بڑے بھائی امام باقرنے بھی ساتھ دینے کے بجائے معذوری سے کام لیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کی سخت نگرانی نہیں تھی اسلئے امام ابوحنیفہ نے امام زید کی شہادت کو بڑا اُونچا رتبہ دیا تھا۔امام باقر و امام جعفر کی سخت نگرانی جاری تھی اسلئے امام زید کے حق میں وہ آواز نہیں اٹھاسکتے تھے۔ جب تحریک طالبان پاکستان نے جبر وتشدد اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا تو ان کے خلاف نصیحت وخیر خواہی سے آواز اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں تھی ۔ البتہ پارہ چنار کے اہل تشیع نے ان کا ایسا حال کردیا تھا کہ بھنگ کا نشہ پی کر بھی اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ اعتزاز حسین شہید نے خود کش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر بڑی خلق خدا کو بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔
ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے دور میں خبردار کیا تھا کہ طالبا ن مارگلہ کے پہاڑ کے قریب اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ اس دور میں ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں طالبان کی آنکھوں کے تارے تھے۔ کلثوم نواز مرحومہ کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے تھا اس نے پہلی بار طالبان کے خلاف زبان کھولی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا تھا کہ طالبان کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے کہ بعض سیاستدانوں کو قتل کریں اور بعض کو دوست بنائیں۔ عرفان صدیقی کا تعلق لال کرتی سے ہے۔ حافظ سیدعاصم منیرپر اس کا جھوٹ اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان سے زیادہ عرفان صدیقی خود طالبان کا حامی رہاہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل کے بعد ”پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے” عنوان کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

دوسری آیت میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر ظالم کہا گیا ہے اور اس سے مراد حکمران ہیں!

تیسری آیت میں اہل انجیل عوام الناس کا ذکر ہے۔ عوام اللہ کے حکم پرفیصلہ نہ کریں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ جتنی جس کی ذمہ داری اور کارکردگی ہے تو اسکے مطابق فتویٰ بھی لگایا ہے ۔

___پہلا طبقہ علماء و مشائخ کا ہے____
سورۂ مائدہ کی آیات میں واضح طور پر تین طبقات کا ذکر اور وضاحت ہے۔ پہلا طبقہ علما ء مشائخ کا ہے جس کی ذمہ داری قرآنی احکام کا تحفظ ہے اور ان کو تلقین ہے کہ وہ اپنے دل سے عوام وخواص کا خوف نکال کر اللہ سے ڈریں اور تھوڑے سے فائدے کیلئے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنا فیصلہ نہیں کیا تو ان پر بالکل واضح انداز میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ یہ وضاحت ہم اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ” میں کرچکے ہیں ، جس کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے1994میں بھی تائیدات کی تھیں۔ ہمارا مقصد مذہبی طبقات کا تسلط نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے البقرہ آیت224میں تینوں چیزوں کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ نیکی کرنا،تقویٰ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ آج مولوی میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ ہے۔ فرقوں کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ ممالک اور قوم کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم ۖ نے بیت اللہ خانہ کعبہ میں360بت رکھنے والوں سے بھی10سالوں تک صلح کا معاہدہ کیا جس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش تھی۔ نبیۖ نے اس کے بعد دنیا میں چار سال تک رہنا تھا۔ گویا یہ تادم حیات معاہدہ تھا۔ اگر مشرک اس کو نہ توڑتے تو قائم رہتا۔ حضرت ابوبکر کا پورا دور اور حضرت عمر کا آدھا دور بھی اسی میں گزر جاتا۔ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے۔ تلوار بھی نیام سے نہ نکالتے۔ اگر مشرک کا کوئی فرد مسلمان بن جاتا تو اس کو مسلمان واپس کرنے کے پابند تھے اور کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر جاتا تو مشرک اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے کی آزادی تھی۔
آج مسلمانوں کو سعودی عرب میں زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمرہ اور حج کا خرچہ زیادہ ہے۔ شکرہے ایران سے سعودی عرب کی صلح ہوگئی تو جامعة الرشید میں ایرانی وفد بھی آگیا۔ جس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم اور اس کے مرشد نے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ایران کیلئے پڑوسی کا خیال رکھنے کی حدیث سے دلیل دے رہاہے کہ نبی ۖ نے تکرار کرکے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔ پڑوسی تو ہمارا بھارت بھی ہے ؟۔ یہ مفتی عبدالرحیم کسی سے پوچھ کر بتائے گا کہ وہ پڑوسی ہے یا نہیں؟۔ اس نے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نانی اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں سگی بہنیں تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے طالبانائزیشن کی شدت کو ختم کرنے کیلئےPTM(پشتون تحفظ موومنٹ)کو بھی مکمل آزادی دے دی۔جنرل آصف غفور جبDGISPRتھے تو ازراہ تفننPTMپر انڈیا کی فنڈنگ کا الزام لگادیا تھا۔ جب فوج کسی کی مخالفت کا ٹھان لیتی ہے تو اعظم سواتی اور شہباز گل الزام لگاتے ہیں کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ شہباز گل کہتا ہے کہ اب میں اور اعظم سواتی شلوار پہن لیں۔ پھر کہتا ہے کہ میں اپنے اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ جنسی زیادتی کی خبر غلط ہے اور حامد میر نے جنسی زیادتی کی خبر دی تھی۔ دونوں میں زیادہ بااعتماد صحافی احمد نورانی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اثاثے بھی احمد نورانی نے لیک کردئیے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ بلجیم میں اس کی جائیداد اور اشفاق پرویز کیانی کی آسٹریلیا میں جزیرے کی خبر غلط ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان کے باپ کا سسر ، جنگ کے میر شکیل الرحمن اور جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا سسر جنرل رحیم الدین قادیانی تھا۔ ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا تھا۔ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کا شوہر مشرک تھا۔ نبیۖ کا سسر ابوسفیان پہلے مشرک تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سسر پارسی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسر ہندو تھا۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مریدوں و عقیدتمندوں پر مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ لگایا تھا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟ ، عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جب ہماری طاقت ہوگی تو مفتی عبدالرحیم کو اعزازات بھی بخش دیں گے کہ یہ بھی نبیۖ کی سنت ہے کہ اپنے دشمن ابوسفیان کو عزت سے نواز دیا تھا۔ البتہ غلط سلط فتوؤں سے نکلنا وقت کی ضرورت ہوگی۔ فلیضحکوا قلیلًا ولیبکوا کثیرًا ”پس ہنسو کم اور رؤو زیادہ”۔

___دوسرا طبقہ حکمرانوں کا ہے___
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۂ مائدہ میں دوسرا طبقہ حکمرانوں کا بیان کیا ہے ،اسلئے جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کا فیصلہ حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ ایک آدمی کو قتل کردیا، یا کسی کی ناک کاٹ دی، یا پھر کان، دانت اور ہاتھ کو ضائع کردیا تو اس کا بدلہ حکومت اور عدالت نے لینا ہے۔ حکومت اور عدالت سب کو انصاف دیتی ہے لیکن جن جن کو انصاف نہیں ملتا ہے تو ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ پہلے ٹیکس بھی امیر دیتا تھا اور اقتدار بھی ان کیلئے ہوتا تھا۔ اب ٹیکس مہنگائی کی شکل میں عوام پر پڑ رہاہے اور چوری حکمران طبقہ کرتا ہے اسلئے عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے نیب کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر جن افراد نے پارلیمنٹ لاجز میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کرنی تھی تو ان کو پولیس نے اٹھایا تو پورے پاکستان میں اہم شاہراؤں کو بند کردیا اور بندے چھڑالئے تھے۔ مریم نواز نے بھی نیب پر سنگِ باری کرنے کیلئے اپنی گاڑیاں پتھر سے بھر دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن ہمارے وزیرستان کا انقلابی بادشاہ ملا پیوندہ ہے۔ جو ایک طرف انگریز ریاست سے مراعات لیتا تھا اور دوسری طرف تحریک آزادی کی قیادت بھی کررہاتھا۔ مریم نواز بھی گوجرانوالہ کے پہلوان خاندان کی نواسی ہے۔ ن لیگ میں یہ پہلی خاتون ہے جس نے واقعی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے۔ نوازشریف اور شہبازشریف تو بہت زیادہ ہی شریف لوگ تھے جن کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں سے بھیڑ کی طرح اٹھاکر لے گئے اور یہ چپ چاپ ساتھ ہولئے۔ رانا ثناء اللہ کی حیثیت بھی ایک پہاڑی بکرے سے زیادہ اسلئے نہیں ہے کہ ایک دفعہ بیچارے کو اٹھاکر لے گئے تو مونچھ ، سرکے بال اور بھنویں تک مونڈ دئیے گئے۔ دوسری مرتبہ20کلو ہیروئن رنگے ہاتھ پکڑا دی گئی ۔ فوجی وردی میں ملبوس اینٹی نارکوٹیکس افسر کے ساتھ بیٹھ کر شہریار آفریدی قرآن اٹھاکر اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ، رانا ثناء اللہ کے پاس ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اگر ہیروئن کے دھندے کی سمگلنگ میں کوئی پٹھان وزیر ملوث ہوسکتا ہے تو پنجابی وزیرداخلہ بھی ہوسکتا تھا اسلئے کہ لاہور سے کئی مرتبہ ڈرگز پکڑی گئی۔ حنیف عباسی پر بھی کیس تھا۔ لاہور میں ڈرگز پہنچتی ہیں اور ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب رانا ثناء اللہ کو ریکی کرکے پکڑا گیا تو موقع کی ویڈیو بھی ہونی چاہیے تھی۔حقائق تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عمران خان نیازی نے کمال کردیا کہ بھیڑ بکری کی طرح خود کو حکمرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا۔ جب پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا تب بھی دہشت گردی کی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی کچھ کم نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں اس سے بڑھ کر ہے اور عمران خان آواز بھی اٹھا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف حکومت پر بلکہ ریاست پر بھی بہت بری طرح پڑ رہے ہیں۔
ہندوستان کی ایک ہندو اینکر نے مولانا علیم الدین اور مذہبی اسکالر فیروز بخت کو ٹی وی پر بٹھا کر کتے کے بارے میں پوچھا کہ مسلمان اس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟۔ دونوں حضرات پسپائی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ قرآن میں اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے اور شکاری کتے کے ذریعے سے شکار کی گنجائش بھی ہے۔ عالم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور اپنے علم کے ذریعے رفعت کی جگہ پستی اختیار کرلی تو اس کو کتے سے تشبیہ بھی دی۔ ایک مرتد نے کہا کہ قرآن میں مشرکوں کو نجس کہا ہے انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھٰذا اس آیت میں مشرکوں کو عقیدے کی وجہ سے نجس نہیں کہا گیا ہے۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عیسائی عورت سے شادی اور اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانا جائز ہے۔ لتا حیاء نے مساجد کے خلاف تحریک چلانے پر ہندوؤں کو کہا تھا کہ تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو۔ جو مسلمان نہاتے نہیں ان کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جنابت اور حیض کی حالت میں مسلمانوں کو نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک نچلی ذات والوں کا لعاب دہن نجس ہوتا ہے مسلمانوں کے نزدیک بنی آدم کا لعاب پاک ہے۔ اللہ نے تمام بنی آدم کو قرآن میں عزت و تکریم سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آٹے کو ذخیرہ کرکے غریبوں میں بانٹنے کا تماشہ کرکے دجال کا کردار ادا کررہی ہے۔ مہدی کا کام مال کی مساوی تقسیم ہوگی۔ جس دن اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہوجائیں تو عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔

___تیسرے طبقے سے عوام الناس مراد ہیں___
تیسرا طبقہ قرآن کی سورہ مائدہ میں اہل الانجیل کا بیان کیا گیا ہے جس سے عوام الناس مراد ہیں ۔ جن کا فیصلہ نہ علماء ومشائخ کی طرح دین کو بدلتا ہے اور نہ حکمرانوں کے عدل وظلم کے پیمانے کو بدلتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ فاسق ہیں”۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے آج کسی بھی عام شخص کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسی پارٹی ”اسلامی انسانی انقلاب” کے نام سے تشکیل دیدی ہے جس میں نظریات اور منشور کی بنیاد پر عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے اور پھر منتخب نمائندوں میں جسے بھی اکثریت سے منتخب کیا جائے وہی وزیراعظم بنے گا۔ پارٹی کی سینٹرل کمان کسی کو وزیراعظم نامزد نہ کرے گی۔ مثلاً عوام نے313افراد کو منتخب کرلیا۔ پہلے ان313افراد کو اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔ پھر جن دو افراد کی پوزیشن پہلے اور دوسرے نمبر پر ہوگی تو ان میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سے ایک وزیراعظم اور دوسرا سینئر وزیر منتخب ہوگا۔ وزارتوں کیلئے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور جن جن سیاسی اور فوجی قیادت پر الزامات ہوں تو ان کو صفائی کا قوم کے سامنے لائیو ٹی وی چینلوں پر موقع دیا جائے گا۔ جس کیساتھ بھی ناجائز اور زیادتی ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اس سے درخواست کی جائے گی کہ اپنے حق حلال کی کمائی میں سے ملک کے سودی قرضوں کا خاتمہ کریں۔ انور مقصود نے ٹھیک کہا ہے کہ ” اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو سب کو معاف کردیںگے اسلئے کہ20کروڑ میں سے19کروڑ انسانوں کے ہاتھ کاٹنے پڑیںگے۔ عدلیہ اور ججوں پر بھی کیسوں کا دباؤ کم ہوجائے گا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ بارش کے پانی میں عدالت کاغذ کی کشتی ہوتی ہے جو طوفان میں بہہ جاتی ہے۔ جب شعور کی روشنی پھیل جائے گی تو اندھیروں میں ٹکریں کھانے کی مجبوریاں بھی نہیں ہوں گی۔
جب حضرت عمر کے دور میں دولت کی فراوانی ہوئی تو اصحاب بدر، فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں وظائف کے اندر فرق رکھا گیا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے گورنر تھے تو ان کے خلاف چار افراد نے ام جمیل سے بدکاری کی گواہی دیدی۔ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ پر سنگساری کی حد جاری کرنے کے بجائے تین افرادکو80،80کوڑے لگائے، جن میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ تھے۔ اگر سورہ نور کے عین مطابق بدکاری کی سزا100کوڑے ہوتے تو عوام کو سزا دینے کے بجائے گورنر کو سزا دی جاتی۔ یہ واقعہ بڑا عجیب ہے اور اس پر صحیح بخاری وغیرہ میں احناف اور جمہور کی قانون سازی اس سے بھی بڑی عجیب ہے۔
تین افراد کی گواہی مکمل ہوگئی تو حضرت عمر نے چوتھے گواہ زیاد کو آتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اللہ ایک صحابی کو اس ذلت سے بچائے گا اور پھر زور سے دھاڑ ماری کہ تیرے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا کہ یہ اس قدر زور کی دھاڑ تھی کہ قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ زیاد نے کہا کہ مغیرہ کے کاندھے پر ام جمیل کے پیر ایسے پڑے تھے جیسے گدھے کے کان ۔ میں نے ان کی سرین دیکھ لی اور ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینا سن لیا۔ عوام کو خلفاء راشدین کے دور میں بھی جنگیں لڑنی پڑی ہیں اسلئے اب عوام میں سے ایک حکمران بنانا چاہیے۔ بہادروں، قابل اورقربانی دینے والوں سب کی مہربانی۔ اس دفعہ عوام کو اپنی باری کی حکومت کرنے دیں۔
غریبوں تک اپنی زکوٰة ، خیرات اور صدقات پہنچائیں۔ غیرمسلم اقلیتوں پر بھی رحم کریں۔ حکومت پہلے بینکوں سے زکوٰة نہیں کاٹتی تھی تو لوگ فرض سمجھ کر غریبوں کا احساس کرتے تھے۔ علماء نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا فتویٰ جاری کرکے حکومت اور مالداروں میں بے حسی کو پروان چڑھادیا۔ مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ”یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے جس کو دوسرا کوئی منسوخ نہیںکرسکتا ہے”۔ اگر زکوٰة صحیح جگہوں پر پہنچ جائے تو بھی اس امت کے عوام وخواص پر رحمت اور انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سودی قرضوں کی سزا عوام کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی کمائی خاکستر ہوگئی ہے اور یہ لوگ پھر بھی عوام اور غریبوں کا خیال رکھنے کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں موج مستیاں کررہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے اس وقت تبدیلی لاسکتے ہیں جب انقلابی پروگرام عوام کو دیں۔ باتوں سے تبدیلی یا انقلاب کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںاپنے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv