پوسٹ تلاش کریں

وزیرستان کو ڈویژن بنادو اور کانیگرم جنوبی وزیرستان کو اس کا مرکز

وزیرستان کو ڈویژن بنادو اور کانیگرم جنوبی وزیرستان کو اس کا مرکز

ملک ربنواز نے چھڑی لہرا کر کہا کہ ہم اسکے ساتھ لڑ نہیں سکتے ہیں خود کو قتل کیلئے پیش کریں گے،30ہزار مریں تو ختم نہیں ہونگے!
بیٹے کو20لاکھ میں خودکش کیلئے بیچ دینا اتنی بڑی بے غیرتی نہیں جتنی اپنی بیٹی پر نکاح کے نام پر لینا مگر عرب اور پشتون نہیں سمجھتے

ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ کو امید ہے کہ دنیا اُٹھے گی اور بلوچ پر ہونے والے مظالم کو روکنے کا اقدام اٹھائے گی لیکن ہمارے حکام انہی کے تو پروردہ ہیں۔ شمالی وزیرستان اتمانزئی وزیر کے قبائلی ملک حاجی ربنواز نے جو گفتگو کی ہے وہ بھی جان پر کھیلنے کی مجبوری کی یہ بات کررہے ہیں کہ ”ہمارے ساتھ دھوکہ مت کرو، ہم نے تمہاری بادشاہی مان لی ، تمہیں مسلمان سمجھا ، ہم تمہیں برا بھی نہیں کہتے لیکن ہمارے ساتھ مسلمان بن کر چلو، دھوکہ نہ دو، جتنے وعدے تم نے کئے کوئی پورا نہیں کیا۔ لاٹھی کے سوا لڑنے کیلئے ہمارے پاس کچھ نہیں لیکن ہم جانوں کو قربانی کیلئے پیش کرسکتے ہیں۔30ہزار مرینگے تو کم نہیں ہوں گے”۔طالبا ن ایک حقیقت ہیں تو علاج کیا ہے؟۔
وزیرستان کا امن اتنا مثالی تھا کہ پاکستان کے عام علاقے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ بدامنی آئی جس کی مثال بلوچستان سمیت کہیں پر نہیں۔ وزیرستان کا مسئلہ طالبان اور فوج حل نہیں کرسکتے۔ کانیگرم کی سب سے قیمتی زمین کچھ لوگوں سے دستخط کرا کر پاک فوج کو دی۔ اب فوج نے مقامی باشندوں کو عارضی نقل مکانی کراکے اپنے قلعے تعمیر کرنا شروع کردئیے ہیں ۔ اگر پاک فوج مہربانی کرے اور دی ہوئی زمین بھی واپس کردے اور اس پر ایک زبردست ائیر پورٹ بنایا جائے ۔ پھر کانیگرم سے لدھا تک کی زمین سرکاری عمارات کمشنر آفس،گھر اور دیگر اداروں کے افسروں کے دفاتراور گھر تعمیرکئے جائیں تو کلاس فور کی نوکریوں سے بھی بے روزگار طالبان باروزگار بن جائیں گے۔ میرانشاہ کے گیس کو بھی عوام اور سرکاری لوگوں کی خوشحالی کیلئے انگور اڈہ تک پہنچایا جائے۔ امریکہ اور نیٹو کو شکست دینے سے لیکر اپنے علاقے اور خاندانوں تک کوتباہ کرنے میں لوگوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ وزیرستان کو ڈویژن کا درجہ دلائیں ۔شرعی مسائل کو معاشرتی سطح پر اجاگر کریں۔اپنے بیٹے کو20لاکھ میں خود کش کیلئے بیچنے سے زیادہ بڑی بے غیرتی اپنی بیٹی کو نکاح کے نام پر بیچنا ہے مگرافسوس ہے کہ عرب اور پشتون نہیں سمجھتے ہیں۔حقائق کی طرف لوگوں کو توجہ دلائیں۔

گوادر و تربت میں ایسا لگتا ہے کہ کسی اور ملک نے قبضہ کیا ہو، ہودبائی

فوج ہی فوج ،چیک پوسٹ ہی چیک پوسٹ،ہر پہاڑی پر مشین گنیں لگائی ہیں، مورچے بنائے ہیں!
گوادر میں جو میں نے دیکھا تربت میں دیکھا ۔ فوج ہی فوج چیک پوسٹ ہی چیک پوسٹ۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی اور ملک نے آکر قبضہ کیا ہوا ہے اس پر۔ تو ہر پہاڑی کے اوپر مشین گنیں لگائی ہیں ، مورچے اور قلعے بنائے ہیں اور ہر سڑک پر آپ ادھر سے اُدھر جائیں پوچھ کر روکتے ہیں کون ہیں آپ؟، کہاں سے ہیں ؟۔ ٹھیک ہے، وہ مجھے نہیں روکتے کیونکہ میں باہر کا ہوں ناں۔ باہر کے لوگوں کیلئے ٹھیک ہے لیکن ادھر کے جو مقامی لوگ ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان پر قبضہ ہوا ہے کسی باہر کی …۔ گوادر کے اطراف میں دیکھیں ، زمینوں پر جو قبضہ کیا ہے یہاں فوج، یہاں کسٹمز ، یہاں نیوی، یہاں کوسٹ گارڈ، یہاں پیراملٹری، سب نے اتنی زمین وہاں پر گھیری ہوئی ہے اور اُدھر یہ بنائیں گےDHAاور اسی طرح کی چیز۔ آخر لینڈ مافیا تو ہر طرف ہے۔ اب جو اُدھر کے گوادری ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو اِدھر سے دھکیلا جارہا ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ وہاں مچھیرے ہیں ۔ صدیوں سے یہی کام کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب ادھر جو انہوں نے بندرگاہ بنائی ہے اس بندرگاہ سے تو ان کو ایک طرف کردیا۔ ادھر جو سڑک جاتی ہے تو سڑک کے ایک طرف یہ کشتیاں بناتے ہیں اب اس سڑک کو وہ استعمال کرنے نہیں دیتے اور دھمکی دی ہے کہ یہاں سے ہم ایک اور سڑک نکالیں گے جو ٹھیک بندرگاہ کی طرف جائے گی تو اب آپ لوگ یہ استعمال نہیں کرسکیں گے۔ تو وہ پھر کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی کشتیاں کیسے بنائیں؟۔ یعنی ادھر جو ہم صدیوں سے کرتے آئے ہیں۔ کہتے ہیں جاؤ تمہیں جدھر بھی جانا ہے جاؤ۔ یہ بے حسی جو ہے ناں یہ مارڈالتی ہے۔ اب یہ کیسا پاکستان ہے جو صرف پنجاب کیلئے بنا ہے؟۔ یہ نہیں چلے گا، نہیں چلے گا۔

ٹیپو سلطان لتا حیائ

ہمارے جو ہیرو ہیں چونکہ وہ مسلمان تھے اسلئے ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نام بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بڑے دم خم کے ساتھ جب یہ فیشن چلا ہوا ہے کہ ٹیپو سلطان کو بدنام کیا جائے تو لتا حیاء اسٹیج سے ٹیپو سلطان پر نظم کہتی ہے آپ سب کے سامنے سنئے گا۔ کہنے کی کوشش کی ہے سنئے۔ جب میں میسور گئی اور ٹیپو سلطان کے مزار پر گئی تو مجھ پر یہ نظم ہوئی اجازت ہے سنئے گا اور آخری مصرعے پر غور کیجئے گا۔
جس کا ہے اتحاس سنہرا یہ وہ ہندوستان ہے
سمے سے کب ہے کوئی جیتا سمے بڑا بلوان ہے
لیکن جس کے نام سے سہمے بڑے بڑے بلوان کئی
تھرائیں بندوقیں جس سے سہمے تیرکمان کئی
کرناٹک کی دھرتی پر ایک شیر دہاڑا کرتا تھا
دشمن کے سینوں کو اپنی تیغ سے پھاڑا کرتا تھا
جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے بندوقیں تھراتی تھیں
اس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پربت تک ہل جاتے تھے
دانتوں تلے فرنگی اپنی انگلی سنا چباتے تھے
کوئی کچھ بھی بولے سچ کہنا میری پہچان ہے
وہ شیر میسور ہے بھارت کا ٹیپو سلطان ہے
صدیوں میں پیدا ہوتا ہے اک ٹیپو جیسا راجہ
جو نہ کیول ہمت والے تھے عالم فاضل بھی تھے
جس نے کرناٹک کی شیروں کی طرح رکھوالی کی
پر اس کے لوگوں نے اس کے ساتھ حیاء غداری کی
اس کی یوں بے خوف شہادت تاریخی بلدان ہے
وہ شیر میسور ہے بھارت کا ٹیپو سلطان ہے
ٹیپو کی درگاہ پہ آکر آج عجب احساس ہوا
مرے رونگٹے کھڑے ہوگئے دل میں بھی کچھ خاص ہوا
دفن نہیں ہے فقط یہاں پر جسم کسی سلطان کا
دفن ہے اک اتحاس یہاں پر پورے ہندوستان کا
جس کی دو تلوار دیکھ کے دشمن کی جان نکلتی تھی
جس کی لاش بھی چھونے سے انگریزی سینا ڈرتی تھی
راکٹ سے لے کر ماڈرن کلینڈر کے موجد ٹیپو
کم پڑ جائے گا ان کے بارے میں جتنا بھی لکھو
نظم ہے میری بالکل چھوٹی ٹیپو بڑا مہان ہے
وہ شیر میسور ہے بھارت کا ٹیپو سلطان ہے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا بلوچستان میں آتش فشاں کا لاوا پھٹ سکتا ہے؟

کیا بلوچستان میں آتش فشاں کا لاوا پھٹ سکتا ہے؟

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طلباء و طالبات سے بانو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی فکر انگیز تقریر
پڑھی لکھی یوتھ کوجدوجہد کی دعوت 

ہماری تحریک کو60 دن کا عرصہ مکمل ہونے والا ہے اگرآپ سب جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور اس کی اسٹیٹ فورسز بلوچستان میں کیا کر رہی ہیں آپ شروع دن سے اس تحریک کو پڑھیں کہ کس طرح ایک پرامن تحریک جس کی تعداد ہم عورتیں ہیں اور اس میں بچے بھی شامل ہیں اس کو کیسے ایکTerrorisedNarrativeکے ذریعے ہم سب کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور پوری اسٹیٹ کی مشینری جوInvestigativeJournalistتھے جن کو انویسٹی گیٹ کرنا چاہیے تھا وہ بھی ریاست کا بیانیہ لے کر جا رہے ہیں آگے ۔ہم اسی پر اپنے فورتھ فیس کو آگے لے جا رہے ہیں اور اس میں ہمیں آپ کے ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ہم ایجوکیٹ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی یوتھ کو کیونکہ میں اس یونیورسٹی میں کھڑی ہوں جہاں پہ پاکستان کے ہر طبقے کا کوئی نہ کوئی بندہ موجود ہے تو آپ اپنے طبقے کو یہاں پر اون کر رہے ہیں اس موومنٹ کوآگے لے جانے کے لیے ہمیں آپ سب کے ساتھ کی ضرورت ہے۔اس مقام پر اسٹیٹ ایک ایساNarrativeہمارے سامنے لے کرآئی ہے جس کے تحت اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ہمارا جو دھرناہے اس کو خدشات لاحق ہیں ۔ہم نے10دن پہلے کہا تھا کہ ا سٹیٹ ہم پر اٹیک کرنے والی ہے اور وہ خدشہ اب بھی ظاہر ہے۔اس کے تحت سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں پرFIRکیے گئے ہیںجو پرامن تحریک کا حصہ بنے رہے ہیں۔لیکن پھر بھی ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور پھر بھی ہم اس موومنٹ کو لے کر جا رہے ہیں اس میں بلوچ خواتین کا سب سے بڑا کردار رہا ہے۔آپ سب سے یہی گزارش ہوگی ہماری فورتھ فیز میں آپ سب نے ہمارا ساتھ دینا ہے موبلائز کرنا ہے ایجوکیٹ ہونا ہے پڑھنا ہے اور سمجھنا ہے کہ اسٹیٹ وائلنس کیسے استعمال ہوئی ہے دہائیوں سے۔ اسٹیٹ نے وائلنس کے ذریعے کیسے ایک خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔ اسٹیٹ نے وائلنس کے ذریعے کیسےJustifyکیا ہے جبری گمشدگی کو؟۔ اسٹیٹ نے تشدد کے ذریعے کیسےJustifyکیا ہے ماورائے عدالت قتل کو اور اسی اسٹیٹ کے چلتے ہوئے بلوچ ہو، پشتون ہو، سندھی ہو، گلگتی ہو، وہاں پر عام جوPeacefulMovementsہیں ان کو بھی خدشات لاحق ہیں۔اور آپ کے لیے ہمارا پیغام یہی ہے کہ ہم نے ایکPetitionدرج کیا ہے اس کوآپ جتنا فارورڈ کریں گے اتنا ہی ہمارے لئے آسانی ہوگی کیونکہ ان60دنوں کے دوران اسٹیٹ کی کوشش یہی رہی ہے کہ ہم اپنی موومنٹ کو ختم کر دیںاور ہم پر ہراسگی کی ،ہمیں مارا بھی گیا ٹارچر بھی کیا گیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چیز پر کوئی کمیشن نہیں بنائی گئی کوئی انکوائری نہیں ہوئی کہ عورتوں کو مارنے والی قوتیں کون تھیں؟۔اور ان کو ہراساں کرنے والی قوتیں کون تھیں؟ اور آج مجھ سمیت میری تحریک کی ہر خواتین کارکن کو ہراساں کیا جارہا ہے اور ہمارے خلافFIRلگائے گئے ہیں۔ ہم یہاں رکنے والے نہیں ہیں۔ میں سمجھتی ہوں اگر اس تحریک میں ہمیں کچھ بھی نقصان پہنچا تو آپ ہمارے ہم آواز ضروری بنیں گے اور آگے بھی اس موومنٹ کا اسی طرح ساتھ دیں گے جس طرح آپ نے ساتھ دیا ہے۔ ہماری تحریک موبلائزیشن کیلئے ہے، ہماری تحریک سیاسی بنانے کیلئے ہے۔ ہم یوتھ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسٹیٹ مشینری کے ذریعے بینکنگ ایجوکیشن کے ذریعے ہمیں جو پڑھایا جاتا ہے جس کے ذریعے ہر یوتھ کو یہی پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ انفرادی زندگی کی طرف جاؤ۔ سوسائٹی سے ہمیں کٹ آف کیا گیا ہے۔ یہ حل نہیں ہے، سب سے بڑا کردار ہمیں اور آپ کو ادا کرنا ہے۔ جب تک ہم آگے نہیں بڑھیں گے جب تک ان قوتوں کے خلاف آگے نہیں بڑھیں گے جن کی وجہ سے عام لوگوں کی کلنگ کوJustifyکیا جاتا ہے ، سویلین کی کلنگ کوJustifyکیا جاتا ہے ، بچوں کو مارا جاتا ہے۔ تو کسی بھی انسان کا سب سے پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ اپنی سوسائٹی میں انصاف لاسکے۔ ہماری ایجوکیشن کسی بھی کام نہیں آئے گی جب تک ہم اس کو یوٹیلائز کرنے کا طریقہ نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہماری ہے۔ بلوچستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگ جو تعلیمافتہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ اس تحریک کا حصہ ہیں۔ پھر بھی وہ عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج بھی جب میں کیمپ سے آرہی تھی تو کچھ ایسے خاندان تھے جن کو باقاعدہ ڈیتھ اسکواڈ نے دھمکی دی ہے اور انکے گھر میں ان کے بچوں کو مارنے کیلئے بھی ان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ بیٹھے ہوئے ہیں پھر بھی وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ تو یہ تحریک آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کسی بھی سماج میں تعلیمافتہ یوتھ تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ اگر آج ہم نے اس تحریک اور جتنی بھی پاکستان میں تحریکیں ہیں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا تو آج اور آنے والے وقتوں میں ہماری سوسائٹی اور زوال پذیر ہوجائے گی۔ اور اس زوال پذیری کی ذمہ دار تعلیمافتہ یوتھ ہوگی۔ کیونکہ ان میں سوچنے سمجھنے کی سکت تھی۔ ایجوکیشن عملی زندگی میں ایک پریکٹس کرنے کا کام ہے جو ہم سمجھتے ہیں جو تھیوری ہم لے کر آئے ہیں انسانیت کیلئے اور ہمارے لوگوں کیلئے۔ اس چیز کا آپ نے حصہ بننا ہے۔ خاص کر جو خواتین ہیں میں ان سے بھی مخاطب ہوتی ہوں کیونکہ کوئی بھی قوم دو حصوں سے بنتی ہے جس میں مرد اور خواتین دونوں برابر ہیں۔ یہاں پر اسٹیٹ کی جو مشینری ہے انہوں نے خواتین کو یکسر طور پر الگ کیا ہوا ہے جہاں پر شدت پسندی پھیلائی گئی ہے۔ یہ پیغام بھی ہم انہی کیلئے لے کر آئے ہیں کیونکہ بلوچ خواتین پچھلے60دنوں سے سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے پیاروں کے لیے آپ اگر ان کی موومنٹ کو دیکھیں گے20سالوں سے یہ لوگ ،آج1خاندان آیا ہے جو کہتا ہے کہ18سال سے میرے بیٹے کو اغوا کیا گیا ہے اور اس کی ماں کہیں بھی نہیں گئی ہے اپنے بیٹے کیلئے۔ تو یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے ان خواتین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آئیں اور اس تحریک کا حصہ بنیں اورآپ سب لوگوں کے پاس آنے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ آپ وٹنس کر سکیں کہ بلوچستان کے کونے کونے میں کیا ہو رہا ہے بلوچستان میں کس طرح عام لوگوں کو مارا جاتا ہے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ۔ بلوچستان میں کس طرح بچوں کے مارنے پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں کس طرح سویلینزInnocentلوگوں کو مارا جا رہا ہےInnocentلوگوں کے مارنے پر ہم سب کو آپ لوگوں کے ساتھ کی زیادہ ضرورت ہے اور میں آپ سب کو یہی پیغام دینا چاہتی ہوں اس موومنٹ کے بعد بھی آپ سب لوگ اپنی اپنی کونسلز میں جہاں جہاں آپ کیGatheringہوتی ہے وہاں وہاں یوتھ کوPoliticizedکرنا ہے ۔یوتھ کو وہ تبدیلی لانی ہے جو ان کرپٹ سیاست دانوں نے ہمیں لانے نہیں دی ہے جس کے تحت یوتھ کو ہمیشہ جو جتنی سٹوڈنٹس یونینز ہیں ان کو اپنا پاکٹ آرگنائزیشن بنا کے رکھا ہے جو صرف اور صرف ان کی ووٹنگ مہم ہے اس میں اس کا ساتھ دیتے ہیں اس کے علاوہ ان کوSkillfilledنہیں کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان کو پولیٹیکل ایجوکیشن ہے اس سے بہت دور رکھا گیا ہے جس کے تحت یوتھ اتنی کرپشن کا شکار ہو جاتی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو سوشل سوسائٹی سے الگ کر کے انفرادیت کی طرف لے کر جاتی ہے۔ تو ہمارا پیغام آپ سب لوگوں کے لیے ہے۔ آپ سب لوگوں نے اس مہم میں، یہ موومنٹ ہے باقاعدہ طور پر اور اس موومنٹ میں ہر وہ شخص جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے ہر وہ شخص جس کے پیارے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے باپ کو18سال تک4×4کی کوٹھری میں بغیر کسی عدالت میں پیش کرنے کے اسے رکھنا نہیں چاہیے ۔جو بلوچNarrativeکے ساتھ ہے بلوچNarrativeجو یہ کہتا ہے کہ میرے معصوم بچوں اور عورتوں کو نہ مارا جائے اپنے قانون کے لیے ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تو اس میںآپ ہمارا ساتھ دیں گے ہمارے پٹیشن کو سائن کریں۔21تاریخ کو اوپی سی (OppresedPeoplesOfAsia)کے نام پر ہماری کانفرنس چل رہی ہے جس میں ہم باقاعدہ طور پر ہم ریاست اور اس کی مشینری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ڈسپلن موومنٹ چلا رہے ہیں اس میں ہر طبقے کی آواز بنیں گے جو اس وقت تک ریاستی جبر کا شکار رہا ہے اس وقت تک جو قانون اور عدالتیں بنی ہیں کس طرح متعصب بن کر صرف اسٹیٹ وائلنس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ وائلنس کے لیے یہ قانون بنائے گئے ہیں ان سب کے خلاف ہم ڈیبیٹ کریں گے ڈسکشن کریں گے ہم ایجوکیٹ کرنا چاہتے ہیں بنیادی طور پر ۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ سب جو جس کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے علاقے میں ہونے والے سیاسی تحریک کا حصہ بنے۔ سوچیں سمجھیں ہماری ایجوکیشن صرف کورس کی تعلیم حاصل کرنا نہیں ہے آپ جب تک سوسائٹی میں ہونے والے سب سے بڑی تبدیلی جو آرہی ہے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے تو یہ تمام ایجوکیشن میرے خیال سے فالتو ایجوکیشن ہوگی۔تعلیم یافتہ یوتھ پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تو آپ سب کا بہت شکریہ ۔ اور ہماریOPCکے جو وینیو ہے وہ اسلام آباد سٹنگ ہوگا ۔ اس موقع پرمیں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ایک بہت بڑی پروپیگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے ہمارے خلاف جس کے تحت جوپہلے دن سے ہم نے کہا تھا کہ اسٹیٹ پیس فل موومنٹ کوبرداشت نہیں کرتی ہے ۔ آج تک وہ لوگ جنہوں نے اسٹیٹ انسٹیٹیوشنز کے جو غیر قانونی طریقے ہیں ان پر جب بات کی تو اس کو بھی کرش کیا گیا۔ یہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ہم عورتیں سردی میں وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور شروع سے لے کر اب تک ہمیں دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ شروع سے لے کر اب تک صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ جو وزراء ہیں، اور ابھی تو حدیہ ہوگئی ہے کہ جرنلسٹ بھی مسنگ پرسنز کو جبری گمشدگی کو جواز بخش رہے ہیں تو یہ آپ سب کی ذمہ داریاں ہم آپ سب کے پاس یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ اس موومنٹ کو آپ کی عملی شمولیت کی ضرورت ہے ہم ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہیں۔ کوئی بھی تشدد ہو ہم اس کے خلاف ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سب سے بڑا وائلنس جو پیدا گیا ہے اس خطے میں پاکستان میں وہ ریاستی تشدد ہے۔ اس کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ میں بولتی ہوں سب سے پہلا جو گند مچایا ہوا ہے وہ ریاستی تشدد نے مچایا ہوا ہے اور کسی بھی اسٹیٹ میں جب تک اس کی جو پاور ہے اس کو ایکسرسائز کرنے کے لیے احتساب کا طریقہ کار نہیں ہوگا مانیٹرنگ کا پروسیس نہیں ہوگا تو سوسائٹی میں اسی طرح ایک نا انصافی پر مبنی معاشرہ تخلیق ہوگا جس کے تحت ایک وہ قانون ہے جو طاقتوروں کا ساتھ دیتا ہے اور ایک وہ قانون ہے جو مظلوم کی نسل کشی کوJustifyکرتا ہے اور اس کو اور زیادہ بڑھاتا ہے۔ آپ سب سے یہی گزارش ہے ہماری مہم کا ساتھ دیں اور ہماری تحریک میں اپنا پریکٹیکل حصہ بنیں۔ اور جو ہمارے خلاف ایک فیکnarrativeکی سوشل میڈیا میں ایک جنگ چل رہی ہے اس میں بھی آپ اپنا پوائنٹ آف ویو لے کر آئیں۔ ہم اپنے ہر پوائنٹ پر ہر ڈیمانڈ پر بیٹھنے کے لیے ڈیبیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہUNبلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے۔کم از کم پاکستان سمیت انٹرنیشنل دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟۔ بلوچستان میں کیوں لوگ محفوظ نہیں ہیں ؟۔آپ سب کے کلاس رومز میں بلوچ سٹوڈنٹس بھی پڑھتے ہیں، آپ ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو دیکھیں کہ کس طرح بلوچ کو اس کی شناخت کی بنیاد پر یہاں اس پاکستان کے سب سے بڑے انسٹیٹیوٹ پر بھی پروفائلنگ کی جاتی ہے۔ گرفتار کیا جاتا ہے اورآج اس سطح پر جب یہ موومنٹ پہنچی ہے تو اسلام آباد میں موجود جتنے بھی بلوچ سٹوڈنٹس ہیں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ جیسے ہی یہ موومنٹ یہاں سے ختم ہوگی ان کو پکڑا بھی جا سکتا ہے اغوا بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو اس کے بعد یہ ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے کہ آپ ان کے ہم آواز بنیں۔ اور جو بلوچ نسل کشی کاایک سلسلہ جاری رہا ہے اس کے خلاف مؤثر آواز کے طور پر ہمارا ساتھ دیں بہت بہت شکریہ انشااللہ۔

تبصرہ نوشتہ دیوار

جب1991میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل کے اندرمجھے قید با مشقت کا سامنا تھا اور قبائل کے40FCRکے کالے قانون کو کسی عدالت میں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا تو جیل میں بھی اپنے مشن کو جاری رکھا۔ وہاں پر135سال کے سزا یافتہ محمد حنیف شلاؤزان پاڑا چنار اور اس کے3ساتھی بھی موجود تھے۔ جس نے72دن بھوک ہڑتال کرکے زندہ لوگوں میں عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ایک سکھ نے73دن بھوک ہڑتال کی تھی مگر وہ چل بسا تھا۔ جبکہ کئی کئی سالوں تک قید کی سزائیں کاٹنے والے بہت لوگ تھے۔ وہاں پر میں نے اسلامی نکتہ نظر پیش کیا کہ قتل کے بدلے میں قتل یا دیت ہو تو مقتول کی بیوہ اور بچوں کو ایک لمبے عرصے تک انتظار نہیں کرنا پڑتا ہے۔ یہ سزائیں اسلام اور انسانیت کے منافی ہیں۔ جبری گمشدگی پر مفتی تقی عثمانی نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ لیکن اس کے اپنے فتوے میں انسانیت و اسلام کے خلاف اتنا مواد ہے کہ ریاست بھی اس کا تصور نہیں کرسکتی ہے۔ جس دن ریاست پر بلوچ ، پشتون، سرائیکی اور سندھی کے علاوہ مہاجر اور دوسرے طبقات یلغار کریں گے تو یہ مفتیان حضرات اور جماعت اسلامی ریاست کیخلاف فتوے دینے میں پیش پیش ہوں گے۔ سینیٹر مشتاق اور مولانا ہدایت الرحمن نے قوم پرستوں کی مقبولیت کو دیکھ کر جمپ لگائی ہے اور سراج الحق سُود کے خلاف محض ڈھونگ رچارہا ہے۔ اسلئے کہ اسلامی بینکاری کے نام سے عام بینکاری میں سُود کم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل میں2.5%سُود ہے جبکہ ہم پاکستان اور اسلام کے نام پر22%سے بھی معاملہ آگے لے گئے ہیں تو کیا قرآن میں جس سُود کے خلاف اعلان جنگ ہے اس کا اطلاق اسلامی بینکاری پر ہوتا ہے یا اسرائیلی بینکاری پر؟ اور اسرائیل جس درندگی کا ثبوت دے کر فلسطینیوں کو شہید کررہا ہے اور وہاں کے فلسطینی بچے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں امن دو ، قتل مت کرو، پڑھنے دو، کھانے پینے کی سہولیات فراہم کرو، آزادی سے جینے دو مگر مفتی تقی عثمانی جس نے20سال روس کیخلاف اور20سال امریکہ کے خلاف کبھی جہاد میں حصہ نہیں لیا اور اب یہ کہہ رہا ہے کہ میری خواہش ہے لیکن وہاں جا نہیں سکتا کہ فلسطین میں جان دوں۔ جب جانے کا وسیلہ بن جائے تو کہتا ہے کہ میری اور میرے ٹبر کی ٹریننگ نہیں ہے۔ ہم نیٹو و امریکہ کے بھی خلاف تھے۔ اسرائیل کے بھی خلاف ہیں۔ پاکستان کی ریاست اگر اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم و جبر روا رکھتی ہے تو اسکے بھی خلاف ہیں لیکن یہ نہیں کرسکتے کہ خود اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں اور دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی دعوت دیں۔
جب طاقتور اور کمزور کا مقابلہ ہوتا ہے تو فطری طور پر کمزور کا ساتھ دینا انسانیت کا تقاضہ ہوتا ہے۔ بلوچ کمزور ہیں ریاست طاقتور ہے۔ اس لڑائی میں بلوچوں کو کافی عرصہ سے بہت زیادہ نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچ دھرنے میں شریک سید صبغت اللہ شاہ جی نے کہا کہ اب ریاست اور بلوچ قوم کے درمیان دشمنی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ بلوچ جب فوج پر وار کرتے ہیں تو فوج اس کا بدلہ عام بلوچ سے لیتی ہے اور یہ صورتحال اس وقت درست ہوسکتی ہے کہ جب فوج اپنی بیرکوں میں جائے اور تمام ادارے اپنی اپنی جگہ پر درست کام کریں۔ شاہ جیMAپولیٹکل سائنس ہے ۔ ہماری استدعا یہ ہے کہ پاکستان گمشدہ افراد کی صحیح صورتحال سے بلوچ کمیونٹی کو آگاہ کردے یہ اسلام اور انسانیت کا تقاضہ ہے۔ اور ڈاکٹر ماہ رنگ کو سیاسی جدوجہد کرنے دے تاکہ حالات ٹھیک ہوں۔
بلوچستان میں ایک آزادی کی فضاء قائم کی جائے جس میں ماحول کو بہتر بنانے کیلئے کام کرنے والے اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ ریاست اور شدت پسند تنظیموں کی طرف سے کسی کو کام کا موقع نہیں ملے گا تو اسکا سارا خمیازہ بلوچ قوم بھگتے گی۔ انڈے کی غلطی ہے کہ چوزہ پیدا ہوا یا پھر مرغی کی غلطی ہے کہ انڈہ دے دیا۔ یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پر امن فضاء سے یہ مائیں ،بہنیں اور بیٹیاںعزت و سکون کی زندگی گزاریں گی۔

1
انعام کھیتران ولد عبدالرحمن کھیتران نے انکشاف کیا کہ مری خاندان کی نشاندہی کرنے والی یہ کھیتران لڑکی شہید کی گئی

جس بلوچ عظیم لڑکی نے اپنے ظالم سردار کے خلاف ویڈیو وائرل کرکے غریب مری خاندان کو موت سے بچایا تھا وہ خود شہید کردی گئی اور پولیس نے اس کی لاش کنویں سے برآمد کرکے کوئٹہ پہنچایا تھا۔ سندھ اور کراچی سمیت بڑی تعداد میں مظاہرہ کرنے والے مری قبائل کوسب لوگوں نے بھرپور سپورٹ کیا۔ سینیٹر مشتاق خان بھی پہنچا تھا مگر ویڈیو کی وجہ سے مری قیدی رہاہوگئے تواس شہید لڑکی کو ایدھی نے لاوارث دفن کردیا۔بانوماہ رنگ بلوچ، بانو ھدیٰ بھرگڑی، فرزانہ باری، طاہرہ عبداللہ اور افراسیاب خٹک ، فرحت اللہ بابر، سینیٹرمشتاق اس لاوارث لاش کو ورثاء تک پہنچادیں تو اچھا ہوگا۔

2
دوستو! دنیا کے تمام مذاہب ایک نجات دہندہ کا انتظار کررہے ہیں۔ماجد ملک

دوستو! دنیا کے تمام مذاہب ایک نجات دہندہ کا انتظار کررہے ہیں۔ ہندو37سو سال سے کالکا کا انتظار کررہے ہیں۔ کنفیوشس (چین کا مقامی مذہب) اور تا ؤ25سو سال سے کسی نجات دہندہ کا انتظار کررہے ہیں۔ پارسی26سو سال سے زرتشت ثانی کا انتظار کررہے ہیں۔ بدھ مت25سو سال سے متریا کا انتظار کررہے ہیں۔ یہودی34سو سال سے مسیحا کا انتظار کررہے ہیں۔ عیسائی2ہزار سالوں سے مسیحا کا انتظار کررہے ہیں۔ سنی مسلم14سو سال سے حضرت عیسیٰ کا انتظار کررہے ہیں۔ شیعہ مسلم1ہزار80سال سے مہدی کا انتظار کررہے ہیں۔ بہائی مسلم 1ہزار سال سے حمزہ ابن علی کا انتظار کررہے ہیں۔ دروس3ہزار5سو سال سے شعیب علیہ السلام کا انتظار کررہے ہیں۔ یعنی بیشتر مذاہب ایک نجات دہندہ کے خیال کو قبول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا برائی سے بھری رہے گی جب تک وہ نجات دہندہ آکر اسے اچھائی اور انصاف سے نہ بھردے۔ اس کرہ ارض پر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہمارے مسائل حل کردے۔ ہم اپنے مسئلے خود کبھی حل نہیں کرسکتے۔

انصاف کے بغیر تو ایک گھر نہیں چل سکتا۔پھرآپ ریاست کیسے چلا سکتے ہیں ؟۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

45 سالہ عربی خاتون تحیات فیدال عمدہ لکھتی تھی اسکا گما ن تھا کہ” دابة الارض عام انسان ہے جو عورت مہدی ہوسکتی ہے ۔ مردانگی بہادری کی صفت ہے ”۔ قاسم بن عبدالکریم کے مہدی سے بہترہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کولاہوری اپنا مسیحا بنادیں۔

3
پولیس کی تحویل میں بلوچ بچی کی فریاد

نہ ہمیں گیس دیا جائے نہ ہمیں بجلی دیا جائے نہ ہمیں سیندک کا سونا چاہیے نہ ہمیں گوادر کے وسائل چاہئیں۔ نہ ہمیں کوئلے چاہئے نہ ہمیں فیسی لیٹیز چاہئے۔ ہمیں ہمارے بھائی چاہئیں۔ ہمیں جینے کا حق چاہئے اور ہم کچھ نہیں چاہتے اور ہم کچھ …

ہمارادشمن خدا کی قسم اسرائیل سے بدتر

بلوچ خاتون رہنماکی تقریر۔خدا کی قسم فلسطین وہ خوش قسمت قوم ہے جنہیں ایسا دشمن ملا جو کھلے عام ان کی نسل کشی کررہا ہے۔ ان کیساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ آپ کتنے سالوں سے بلوچ قوم کی نسل کشی کررہے ہیں۔ آج ہم آپ کو بے غیرت اور بے ضمیر کہنا بھی گوارہ نہیں کرینگے۔ آپ وہ دشمن ہیں ہمارے۔ آئیں آپ اپنے اور اپنے تعلق کا اظہار کریں کھلے عام اور کہہ دیں کہ آپ جو بلوچ قوم کی نسل کشی کررہے ہیں اس کے بعد ہم بھی دیکھیں گے کہ باقی آپ رہتے ہیں یا پھرہم رہتے ہیں؟۔

ارمان شہید کی بہن وڑانگہ کا خطاب

چمن لغڑیان دھرنے سے ارمان لونی شہید کی بہن وڑانگہ نے تقریرکرتے ہوئے کہا کہ قوموں کے درمیان جنگ وسائل کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پنجاب کے فوجی جرنیلوں اور سیاستدانوں نے بیرون ملک بڑی دولت بنائی ہے۔ ہم سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جارہا ہے۔ ان کو ہماری شکل اچھی نہیں لگتی پشتون وطن کے وسائل اچھے لگتے ہیں۔ اگر دہشت گردی وغیرہ سے بچنے کا کوئی مسئلہ ہے تو مل بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں۔ دنیا میں ریاست و عوام کے درمیان مسائل اور وسائل قوانین سے طے ہوتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہ الیکشن8فروری جمہوریت کی تاریخ میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے پرعزم تو نہیں؟

یہ الیکشن8فروری جمہوریت کی تاریخ میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے پرعزم تو نہیں؟

وزیرستان کچہری میں ووٹوں کا دھاندلا
جنوبی وزیرستان کے الیکشن8فروری2024کیلئے بڑا فراڈ پکڑ لیا گیا۔ جب بڑے پیمانے پر بیلٹ پیپر ز لانے کی عالم زیب خان محسود کو اطلاع ملی تو اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے خبر کو عام کردیا۔ رنگے ہاتھوں کھلی دھاندلی پکڑی گئی تو حاجی سعید انور محسود آزاد امیدوار قومی و صوبائی جنوبی وزیرستان نے جلسہ عام میں کہاکہ جمعیت علماء اسلام پہلے بھی دھاندلی سے یہ الیکشن جیتی تھی اور یہ حربے اب ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ بغیر نمبر پلیٹ ٹویوٹا فیلڈر گاڑی میں بیلٹ پیپرز لائے گئے جو پھر ٹانک ڈاکخانے میں پہنچائے گئے ۔ ملکی سطح پر کیا دھاندلی ہوگی؟

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
تاریخ کے پتوں پہ ہم کو تم مردم بولانی لکھنا
گمنام ہماری قبروں پہ تم چکیں بلوچانی لکھنا
صدرجمعےة علماء ہند مولانا حسین احمد مدنی نے انگریز فوج میں بھرتی کے خلاف فتویٰ دیا ،انگریز جج نے عدالت میںپوچھا کہ آپ نے یہ فتویٰ دیا ؟۔ مولانا نے کہا : ہاں، اب بھی دیتا ہوں، آئندہ بھی دیتا رہوں گا۔ مولانا محمد علی جوہر پاؤں میں پڑگئے کہ اپنا فتویٰ واپس لو۔ جج نے کہا کہ پتہ ہے کہ اس کی سزا کیا ہے؟، بغاوت میں موت کی سزا دے سکتا ہوں۔ مولانا حسین احمد مدنی نے کہا کہ مجھے پتہ ہے ۔اگر تم مجھے لٹکادوتو میں دیوبند سے نکلتے ہوئے کفن ساتھ لایا ہوں۔ مولانا جوہر نے کہا
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
مولانا حسین احمد مدنی اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کیساتھ1920میں مالٹا کی جیل سے رہا ہوکر آئے تھے۔ وہ مقدمہ میں مطلوب نہ تھے ،اپنی خوشی سے استاذ کیساتھ گئے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ قوم وطن سے بنتی ہے تو اقبال نے کہا کہ ” یہ دیوبند کا حسین احمد ا بولہب ہے”۔نبی ۖ عربی تھے ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
انگریز ”لڑاؤ اور حکومت کرو” پر عمل پیرا تھا۔مشرقی بنگال کو الگ انتظامی صوبہ بنایا توہندو نے برا منایا۔ نواب وقار الملک نے1906میں آل انڈیا مسلم لیگ بنائی ۔ سر آغا خان کو صدر بنادیا۔ قائداعظم نے ہندیوں کو برطانیہ کی طرح انسانی حقوق دلانے کیلئے کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور سقوطِ خلافت کے بعد بحالی خلافت کیلئے ہندؤں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد1930میں انگریز سے مطالبہ کیا کہ” مسلمانوں کو خود مختار صوبے دو”۔1947میں مشرقی بنگال کا صوبہ پاکستان اور موجودہ پاکستان معروضِ وجود میں آیا تو ہندوستان کے تین ٹکڑے ہوگئے۔ سندھ میں5قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔GMسید نے قراردادِ پاکستان پیش کی جو 2 کے مقابلے میں3سے پاس ہوگئی۔ صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت تھی اور مکران کے ممبر میرغوث بخش بزنجو کمیونسٹ پارٹی کے تھے۔جو بلوچستان کا الحاق ہندوستان سے چاہتے تھے۔ جبکہ خیر بخش مری کے دادا خیر بخش مری نے1916میں بلوچ قوم کی انگریز کی فوج میں بھرتی کی مخالفت کی تو انگریز سے مل کر خان آف قلات نے ان بلوچوں کے خلاف سخت اقدام کیا۔
قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان نے پاکستان بنایا مگر اپنا وطن ہندوستان قربان کرکے۔ پاکستانی قومیت بنائی مگر ہندوستانی قومیت کو ذبح کرکے۔ انگریز برصغیر پاک و ہند کی مٹی اور قوموں کا دشمن تھا۔ انگریز گیا تو ریاستی ڈھانچہ وہی رہا اور ہندوستان کی سیاسی قیادت نے وطن اور قوم سے محبت کی۔ مگرہماری سیاسی قیادت نے مٹی اور قوم سے محبت کرنے والوں کو انگریز کی طرح غدار قرار دیا۔ پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کو جیلوں میں بند رکھا اور بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حبیب جالب نے بہت انقلابی اشعار گائے مگرریاست کے ملازمین کو اپنی ڈیوٹی اور تنخواہ سے کام تھااور پنجابی عوام کو نہیں جگاسکے۔
قائداعظم و قائدملت سے سکندر مرزا تک جتنے گورنر جنرل اور وزیراعظم گزرے ، جمہوریت ڈھونگ تھی۔پھر جنرل ایوب نے قبضہ کیا تویہ پہلا باوردی عوامی الیکشن تھا۔ باچا خان، غوث بخش بزنجو،مولانامودودی سب نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا ۔1970الیکشن میں اکثریت کو حکومت دینے سے انکار ہوا، جس سے ملک ٹوٹا۔بیگم راعنا لیاقت علی کو تحفے میں پیرس کے اندر مکان ملا تو پاکستان کو دیا۔اب ریاست جذبہ حب الوطنی، قوم پرستی ، جمہوریت، دیانتداری سے عاری چاروں شانوں چت ہونے کے بجائے حقائق کو دیکھے۔سارا ملبہ سیاستدانوں اور فوج پر ڈالنے کے بجائے قوم اپنے اجتماعی ضمیر کو جگائے۔
نہرو کو امریکہ نے بلایااورامریکی بلاک میں شمولیت کی دعوت دی جو نہرو نے مسترد کردی اور غیر جانبدار ی کا فیصلہ کیا۔ لیاقت علی خان کو دعوت نہیں ملی تو روس کو چٹھی بھیجی کہ مجھے بلاؤ۔ روس نے بلایا تو امریکہ نے بھی دعوت دی، قائدملت نے روس کو چھوڑ کر امریکہ کی دعوت قبول کی اور بلاک کا حصہ بن گئے۔
نوازشریف نے کوئٹہ سے سی پیک کا روٹ چھین لیا۔ آرمی چیف کی ملازمت اسکی رہین منت ہے مگر پنجاب کا اعتماد کھو دیا۔ بلوچ کی مٹی سے وفاکووہ فوجی و سیاسی قیادت نہیں سمجھ سکتی جو اپنی مٹی چھوڑ آئی ۔جنرل عاصم منیر اور نواز شریف دونوں کی جو پاکستان سے محبت ہوسکتی ہے وہ وطن اور قومیت کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی۔ اسلئے کہ دونوں کا تعلق بھارتی پنجاب سے ہے۔ جب ان کے آباو اجداد نے پنجاب اور ہندوستان کو تقسیم کردیا تو پھر کس طرح پاکستان کی مٹی اور قومیت سے فطری طور پر محبت رکھ سکتے ہیں؟۔ یہ نہیں سمجھتے کہ سندھ ، بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر اور پنجاب کے جن لوگوں نے اپنے وطن ، مٹی اور قومیت کی کوئی قربانی نہیں دی ہے ان کے جذبات کیا ہیں؟۔ ایک ہجڑے کو ماں باپ کی بچوں سے محبت کا جس طرح سے ادراک نہیں ہوتا اسی طرح یہ لوگ بھی وطن اور مٹی کی محبت کے احساسات سے محروم ہیں۔ یہی حال قائد اعظم محمد علی جناح، قائد ملت لیاقت علی خان اور انگریز کی ریاست میں ملازمت کرنے والے فوجی اور سول ملازمین کا شروع سے ہے۔ اس لئے انہوں نے ہمیشہ آزادی کے مجاہدین غفار خان ، میر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل ، خیر بخش مری ، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کا جذبہ کبھی نہیں سمجھا۔ جب ان لوگوں نے مادر ملت فاطمہ جناح کی حمایت کی تو جنرل ایوب خان نے اس کو بھی غدار قرار دیا تھا۔
جس لا الہ الا اللہ کے نام پر ملک بنا تھا اس لا الہ الا اللہ کے نام لیوا مذہبی طبقات نے قرآن و سنت کا بیڑہ غرق کیا ہے تو پھر فوجی و سول بیروکریسی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا بھی کیا قصور تھا؟۔ جب نواز شریف کیخلاف خلائی مخلوق استعمال ہوئی تو ہم نے غلط قرار دیا تھا اور نواز شریف کیلئے سارا نظام استعمال ہورہا ہے تو بھی یہ انتہائی قابل مذمت اور خطرناک ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک ایران جنگ اور اس کا خاتمہ ہوا؟

پاک ایران جنگ اور اس کا خاتمہ ہوا؟

ایران نے پاکستان پر حملہ کیا، پاکستان نے جوابی حملہ کیا۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے میڈیا پرواضح بتادیا کہ ”ایران نے کافی عرصہ سے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہوا تھا، آخر میں مجبور ہوکر یہ قدم اٹھایا اسلئے کہ امریکہ و اسرائیل نے ایران کیخلاف پاکستان میں اپنے ایجنٹ پال رکھے ہیں۔ جو دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ ایران نے پاکستان، عراق اور شام پر حملہ کرکے امریکہ واسرائیل کو پیغام دیدیا کہ ایران کس حد تک جاسکتا ہے؟”۔ عمران خان کیساتھDGISIحافظ سید عاصم منیر ایران کے دورے پر گیا تھا تو وہاں عمران خان نے کھلی بات کی کہ ”ہماریISIنے تمہارے خلاف اور تم نے ہمارے خلاف دہشت گردیاں کی ہیں اور یہ آئندہ نہیں ہونا چاہیے”۔ عمران خان نےARYنیوز پر کاشف عباسی کو بتایاتھا کہ ”سپاہ صحابہ کے لوگوں نے کہا کہ شیعوں سے ہماری دوستی کراؤ۔ISIنے ہمیں انکے خلاف استعمال کرکے ہماری دشمنی بنارکھی ہے”۔
اسلام آباد میں مولانا مسعود الرحمن عثمانی کے قاتل پکڑے گئے اور ایران میں دھماکے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کا بدلہ شام ، عراق اور پاکستان سے لیاگیا۔ پاکستان نے جواب میں بلوچ سرمچاروں کو نشانہ بنایا؟۔ تعجب ہے کہ دہشت گرودں کے خلاف کاروائی کی جگہ تک میڈیا کو رسائی نہیں دی جاتی ۔ پہلے پشتونوں کو دہشت گردی کے نام پر تباہ کیا گیا اور اب بلوچ بھی دو طرفہ کاروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں؟۔ پاکستان اور ایران تیل ، گیس ، تجارت اور راہداری کیلئے اچھا ماحول نہیں بناسکتے مگر بھارت ، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ یہاں لڑی جارہی ہے؟۔
کچھ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اسرائیل نے بھارت کو اکسایا اور مقصد پاکستان وایران جنگ تھا۔ ہمارے ٹانک شہر میں ایک پاگل تھا جس کو ”لیوان ” کہتے تھے ۔ اس کو کوئی پیچھے سے چھیڑتا تووہ سامنے والے پر حملہ کردیتا تھا”۔ مسلم ریاستوں کے نااہل حکمرانوں کا بھی حال لیوان والا بن گیا۔ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان کو اسلئے ہٹادیا گیا کہ امریکہ پاکستان کو ایران اور افغانستان سے لڑانا چاہتاہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ یہ آگ تمہارے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے جس میں بلوچ اور پشتون کو عرصہ تک تباہ وبرباد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

بانوہدیٰ بھرگڑی نے کہا: ماہ رنگ اور اسکے ساتھ آئی ہوئی خواتین نے یہ جواب دیا کہ اگر ہمیں پتہ ہو تا کہ ہمارے مرد کہاں ہیںتو ہم ادھر اسلام آباد میںاس ٹھٹھرتی سردی میں اپنے گھر چھوڑ کے اپنے معصوم بچوں کو گودوں میں لیکریہاں کیوں آتے؟۔ یہی تو وہ سوال ہے جو ہم ریاست سے پوچھنے آئے ہیںکہ بلوچ عورتوں کے گھروں کے مرد کہاں ہیں؟۔ دوسرا سوال آج ہمیں نظر آیا اسلام آباد پاکستان کے سیاسی منظر نامے پہ ۔وہ یہ تھا کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں۔SHOشفقت صاحب آئے تھے انہوں نے کہا کہ کیا عورت اس طرح بات کرتی ہے؟۔ تو میں ان سے ،ان کی ریاست سے اور اپنی ریاست سے یہ سوال پوچھنا چاہوں گی آپ انکے بیٹوں کو اٹھائیں،آپ ان کے بھائیوں کو اٹھائیں ،آپ انکے صوبے کے اندر موجودہ سوئی گیس کا استعمال کریں، آپ انکے ذخائر بیچیں سی پیک کے نام پر، آپ انکی زمینیں گروی رکھ دیں چائنا کے ہاتھ میں، آپ انکے بچے، آپ ان کے انٹیلی جینسیا، آپ انکے وکیل ،آپ ان کی مائیں ، معصوم بچے، آپ ان سب کو اٹھاتے جائیں انہیں قتل کرتے جائیں ان کی لاشوں کو کئی کئی سالوں کے بعد پھینک دیں اور اسکے بعد یہ کہیں کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں،عورتیں اس طرح سے سوال نہیں اٹھاتیں؟۔ توآپ پر، آپ کی ریاست، آپ کے اس قانون کے تحت جس قانون کے تحت آپ ادھر بیٹھے ہیں اور ہمیں ہمارا احتجاج نہیں کرنے دیتے سب پر لعنت ہے۔ لعنت ہے ایسے قانون کے اوپر، لعنت ایسی ریاست کے اوپر جو کہ عوام کے ساتھ نہیں کھڑی لعنت، لعنت ہے ایسے چیف جسٹس کے اوپر، ایسے پرائم منسٹر کے اوپر، ایسی فوج کے اوپر جو کہ مظلوم کا استحصال کر کے مظلوم کا خون بہا کے پھر مظلوم سے یہ تقاضا بھی کرے کہ تم نے اُف نہیں کرنی۔ تم نے آواز نہیں اُٹھانی، تم نے سڑک پہ نہیں نکلنا اور اگر تم سڑک پہ نکلو گے اگر اپنے گھروں کو چھوڑ کے اگر اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر کے کیمپوں میں آکے بیٹھو گے تو تم پہ ٹھنڈا پانی برسایا جائے گا، تمہیں جیلوں میںبھیجا جائے گا ،تمہیںاس سردی کے اندر ہر طرح کا وہ ٹارچر دیا جائے گا۔ جس ٹارچر کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ وہ میسج ہے جو کہ ہمیں انہوں نے دیا ہے میرا تعلق سندھ سے ہے۔ میں یہاں پر اپنی سندھی دھرتی اور اپنے سندھ کے ان لوگوں کی آواز بن کے آئی ہوں کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسی لیے فیصلہ کیا تھا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ سندھ ایک خود مختار صوبہ ہوگا۔ بلوچستان نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسلئے اسٹیٹمنٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک خودمختار فیڈریشن کے حق میں تھے ۔ہم اس ون یونٹ کے حق میں نہیں تھے۔ یہ جو پورے کا پورا نظام ہے جسکے اندر صرف جبر ہے جسکے اندر صرف ظلم ہے جسکے اندر صرف وحشت ہے جسکے اندر صرف دہشت ہے ہم ایسے نظام کو ہم ایسے قانون کو ہم ایسی ریاست کو نہیں مانتے۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ پاکستانیت کا جو تصور ہے اس پاکستانیت کے تصور کو ری ڈیفائن ہونا ہوگا، یہ پاکستانیت کیا ہے کیا پاکستانیت یہ ہے کہ بلوچ کا قتل کرو، بلتیوں کو نکال دو، گلگستان پر قبضہ کرو کشمیریوں کے حقوق پہ قبضہ کرو، سندھیوں کو بند کرتے جا ؤ ، ان کی آوازیں بھی ختم کرتے جاؤ، بلوچوں کی تو مسخ شدہ لاشیں پھینکتے جا ؤ۔ تو کیا یہ پاکستان صرف پنجاب اور پنجاب کے اوپر مبنی آرمی کا پاکستان ہے اگر یہ ان کا پاکستان ہے تو بتائیں یہ ہم سے ٹیکس لینا چھوڑ دیں، ہم سے یہ پیسے لینا چھوڑ دیں۔ یہاں پہ جتنے یہ میرے بھائی کھڑے ہوئے ہیں وردیوں کے اندر ہم یہ سب اپنی اپنی تنخواہوں سے ٹیکس دیتے ہیں جن سے آپ لوگوں کے گھر چلتے ہیں آج آپ لوگوں کے پاس بھی ایک موقع تھا۔ آپ اپنے فرض کے ساتھ تو کھڑے رہے لیکن کل کو جب مریں گے تو دیں گے تو خدا کو جواب۔ بتائیے مجھے کہ ان عورتوں نے آخر کیا قصور کیا ہے کہ جن کو یہ نہیں پتہ کہ وہ اب تک بیوائیں ہیں یا سہاگنیں ہیں؟۔ مجھے بتائیے ان معصوم بچوں کا کیا قصور کہ آپ کے بچے تو اسکول جائیں وہ اس سردی میں یہاں پہ کیوں بیٹھے ہیں؟۔یہ بچہ یہ بلوچ بچہ جب بڑا ہوگا تو کیا یہ پاکستان کو مانے گا؟۔ یہ جو سندھ کا بچہ ہے جو بڑا ہوگا کیا وہ پاکستان کو مانے گا؟۔ کیا وہ پاکستانیت کو مانے گا ؟۔آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس ملک کو بچائیں،اس کو ٹوٹنے سے روکیں، اپنے اندر کے انسان کو جگائیں اور ہماری اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہم کسی فارن فنڈنگ ایجنڈے کے ذریعے یہاں پر نہیں آئے ہیں۔ ہم پر یہ الزام لگا لگا کے آپ لوگوں نے بڑے اپنے بنالئے ہیں سوشل میڈیا پر آپ نے پیج بھی چلالئے ہیں کہ فارن فنڈنگ فارن فنڈنگ۔ چلتا تو آپ کا ملک ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتی تو آپ کی فوج ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتے تو آپ کے مولوی ہیں فارن فنڈنگ کے اوپر۔ ہم یہاں پہ انسانیت کی خاطر کھڑے ہیں اور ہمارے پاس ہارنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہاں پر بول رہے ہیں اسکے اوپر بھی قدغن لگا دو۔ زیادہ سے زیادہ آزادی سے سانس لے رہے ہیں یہ بھی ہم سے چھین لو۔ لیکن تم یہ سوچ نہیں توڑ سکو گے۔ اس سوچ نے جس نے یہ تھوڑے بہت بھی لوگ اکٹھے کیے ہیں، یا وہ جو مائیں بیٹیاں وہ بلوچوں کی عزتیں جو کبھی گھروں سے نہیں نکلتی تھی اگر آج بھی وہ نکلنے کیلئے آگئی ہیں تو آپ سوچ لیں کہ وہ کس قدر مجبور ہیں؟۔ اور اس قدر مجبور کرنے میں صرف اور صرف ریاست کا اور ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے۔
میں بحیثیت عورت، بحیثیت ایک سندھی عورت اور بحیثیت ممبر آف عورت مارچ اسلام آباد میں اپنی بلوچ بہنوں کے ساتھ کھڑی ہوں اور اس طرح کے ہر جبر کے خلاف ہم اور ہماری پوری کی پوری تحریک ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہے گی۔ ہم سے یہ توقع نہ کی جائے کہ ہم کسی فوجی ،کسی ٹینک، کسی کالی ویگو کے ڈر کے خوف سے اپنے گھروں میں جا کے چھپ کے بیٹھ جائیں گے۔ ہم یہاں پہ مزاحمت کرنے آئے ہیں۔ اور ہم اپنی آواز یہاں پہ سب کو سناکے جائیں گے ۔بے شک آپ کتنی بھی قدغن لگائیں۔ بے شک آپ خار دار تاروں سے یہ پوری کی پوری شاہراہ ہی بھردیں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟۔ ایک پروٹیسٹ روک پائیں گے۔ آواز اس عوام کی اب نعرہ علی الحق بن چکی ہے اور وہ اب آپ کو سننی پڑے گی۔ یہ آپ کو ماننا پڑے گا کہ اب آپ لوگوں کی جو رٹ ہے جس کا نام آپ لیتے ہیں یہ رٹ اب کسی کام کی نہیں ہے کیونکہ اب یہ عوام کے خلاف ہو چکی ہے۔ یہ اس مظلوم طبقے کے خلاف ہو چکی ہے۔ اور جو ریاست مظلوم طبقے کے ساتھ نہیں کھڑی وہ ریاست کسی کام کی نہیں اس ریاست کو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بہت بہت شکریہ

تبصرہ : نوشتۂ دیوار

جب یہ بیان بلوچ قوم کے پاس پہنچ جائے گا تو اس کے بعد ہدیٰ بھڑگڑی کا نام بانو ہدیٰ بھرگڑی یا بانوک ہدیٰ بھڑگڑی رکھ دیں گے۔ جب عورت مارچ کے خلاف ریاستی مشینری نے جامعہ حفصہ، لال مسجد اور تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو لگایا تھا تو وہ دن بہت مشکل تھا۔ ہم نے مظلوم خواتین کا ساتھ دیا تھا لیکن جب تک یہ سارے انقلابی قرآن و سنت کے ٹھوس احکام کی طرف نہیں آئیں گے ان کے وقتی اُبال سے کچھ بننے والا نہیں ہے۔ انسانیت کیلئے قرآن کے ٹھوس احکام میں سب کچھ موجود ہے اور جو اگر مولوی نے مسخ کیاتو ہم نے علاج کردیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ماہ رنگ بلوچ کو پرواہ نہیں شہادت کی
اس کی جدوجہد میں خوشبو ریاضت کی
بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال دیا
بلوچوں کو غلامی سے نکالنے کی عبادت کی
مظلوم کمزوروں کو لے کر شہر اقتدار پہنچی
اس نے بے بسوں کی خوب قیادت کی
بلوچوں نے مارا بھی اور مار کھائی بھی
76 سالوں میں داد نہ پائی سیادت کی
ماہ رنگ کی چادر سے دنیا میں دھوم مچی
مبارک ہو مبارک نئی مقبول ولادت کی
بدقسمت قوم ریاست کی مار کھار ہی تھی
تصویر دکھا دی شقاوت کی عداوت کی
وہ مارچ پہ مارچ کئے جارہی تھی آخر
منزل پالی ہے راحت کی سعادت کی
اب کوئی بھی ظلم کی جرأت کرے گا نہیں
شرارت ختم ہوئی لگڑ بگڑ کی خباثت کی
ہر قوم نے پیش کردیا ہے خراج تحسین
بلوچ شیرنی زینت بن گئی ریاست کی
پولیس کی روش کسی کے لئے بھی ٹھیک نہیں
وہ مظلوم ماری ہوئی تھی دور کی مسافت کی
اگر ان پر ظلم نہ ہوتا تو ہمدردی نہ ملتی
ظالم جابروں کا شکریہ اچھی ضیافت کی
ایک شرمائے دوسرا ٹانگ اٹھا کے پدو مارے
بلوچ پنجابی پیداوار الگ الگ ثقافت کی
دو لتی اُٹھاکے مارنا گدھے منحوس کی فطرت
کتابیں لاد کے رکھنا نشانی ہے جہالت کی
گدھے رہیں گے گدھے یا آدمی بنیں گے؟
ظلم قائم رہے گا یا باری آئے گی عدالت کی
اگرحافظ آرمی چیف واقعی ہے سید واجہ
توپھر رکھ لے گا لاج فوجی بسالت کی
سب قوموں کے لئے قابل فخر ہے یہ بات
بلوچ رانی نے پائی ہے داد شجاعت کی
نہ گالی نہ گلوچ کیا طرزِ عمل ہے واہ بلوچ
ادا تجھ سے کوئی سیکھ لے بڑی بغاوت کی
میرا ایک دوست تھا عبدالقدوس بلوچ
مثالی یادیں چھوڑیں جس نے رفاقت کی
بالاچ کے باپ نے فواد حسن کی ٹھوڑی پر
ہاتھ رکھ کر بڑی عزت سے منت سماجت کی
بلوچ روایت میں معزز کے لئے یہی دستور
ماہ رنگ سے برداشت نہ ہوئی ادا لجاجت کی
حکومتی وفد کے سامنے کہہ دیا کہ تم بیٹھ جاؤ
دکھادی اپنی اوقات بلوچی شانِ وجاہت کی
قوم بھوک افلاس اور بیروزگاری سے مری
سیاسی پارٹیوں میں جنگ ہے رقابت کی
دشمنی، بداخلاقی، افواہیں اور بہت کچھ
لیاقت ضائع ہے فصاحت کی بلاغت کی
مسائل کا حل قرآن میں منہاجِ نبوت
لوگ منتظر ہیں آئے گی ندا خلافت کی
جب تک حقیقی اسلام کی سمجھ نہ آئے گی
کربلا سے کشتی پار نہ لگے گی صداقت کی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ حامد میر

بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ حامد میر

جو سن1916سے اب تک جاری ہے اور ختم نہیں ہورہا ہے۔
رانا ثناء اللہ اور عطا تارڑ نے مجھ سے بلوچ لاپتہ افراد کی لسٹ منگوائی اس کے بعد اس لسٹ سے بلوچوں کو نکال نکال کر مارنا شروع کردیا

حامد میر نے کہا کہ ایک واقعہ کا میں عینی شاہد ہوں، پروسیس میں شامل تھا۔ مجھے کہا گیا کہ جن کو آپ چاہتے ہیں کہ رہا کردیا جائے یا کورٹ میں پیش کردیا جائے۔ تو میں نے ادھر اُدھر سے پوچھ پاچھ کے صرف50لوگوں کی لسٹ دی، پولیٹکل ورکر یا اسٹوڈنٹ تھے یا کوئی شاعر تھا یا ادیب تھا۔ پچھلی حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ، وزیر قانون عطا ء تارڑ اور کچھ دیگر حکام۔ تو انہوںنے نام نکال نکال کر مارنا شروع کیا۔ آپ پر اعتبار کون کرے؟ اسلئے عورتیں اور بچے کدھر جائیں؟۔ یا تو علیحدگی پسندوں کیساتھ شامل ہوجائیں۔ یہ آتے ہیں اسلام آباد، آپ ان کو دھتکار دیتے ہیں۔ تو بلوچستان کا مسئلہ جنرل ڈائیر ہے۔ اس نے سن1916میں بلوچستان میں جو خانہ جنگی، مارپیٹ شروع کی جو بلوچ کو تقسیم کرو اورحکومت کرو کی پالیسی کے تحت مرواناشروع کیا آپس میں دشمنیاں پیدا کیں شیعہ سنی فساد کروائے۔ وہ کام ہوتا جارہا ہے ہوتا جارہا ہے۔ خان آف قلات ،اکبر بگٹی ، خیر بخش مری سب نے کوشش کی پاکستان کیساتھ چلیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی ۔ ایوب خان ، یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف آجاتا ہے پھر یہ لوگ بلوچستان میں اپنے فیورٹ تلاش کرلیتے ہیں اور انکے ذریعے بلوچستان کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اگر آپ اپنے منتخب شدہ لوگوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کریں گے تو بلوچستان تو نہیں چلے گا۔ تو بلوچستان کو حقیقی جمہوریت دینی ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں الیکشن نہیں فراڈ ہوتا ہے۔ ابھی بھی الیکشن نہیں ہوگا ایک فراڈ ہوگا۔ اور کوشش کی جائے گی اس فراڈ میں بھی کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرو اور ماورائے عدالت قتل بند کرو۔ کوشش کی جائے گی کہ وہ لوگ اسمبلیوں میں نہ پہنچیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پنجاب سب سے زیادہ مظلوم ہے:قاری حنیف ڈار

پنجاب سب سے زیادہ مظلوم ہے:قاری حنیف ڈار

ہر وہ ظلم جو غیر پنجابیوں کیساتھ ہوتا ہے وہ پنجابیوں کیساتھ بھی ہوتا ہے۔مگر دوسروں کو غم ہلکا کرنے کیلئے پنجابیوں کو گالی دینے کا ہاجمولا دستیاب ہے، پنجابی لاشیں اٹھاکر کسی کو گالی نہیں دے سکتا ۔ غزوہ احد میںرسول اللہ ۖ نے حضرت حمزہ کا غم یوں منایا کہ70شہداء کے ہر جنازے کیساتھ حمزہ کا جسد خاکی ساتھ رکھ کر جنازہ پڑھایا۔ اُحد سے واپسی پر مدینہ کے ہر گھر سے شہداء کے ماتم کی آہ و بکا سن کر رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اما الحمزة فلا بواکی لہ ” ہائے حمزہ تیری تو کوئی رونے والی بھی نہیں ”۔اس پر صحابہ کرام نے اپنے گھر والیوں سے کہہ دیا کہ جاکر نبی ۖ کے حجرے کے باہر حمزہ کا ماتم کرو۔رسول اللہ ۖ نے شور سنا تو باہر نکل کر پوچھا کہ کیا ماجراء ہے؟۔ خواتین نے عرض کیا کہ ہم حمزہ کا ماتم کرنے آئی ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے ماتم سے روک دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ماتم کو حرام قرار دیا ہے۔ پنجابیوں کے خلاف بدبودار مہم پڑھتا ہوں تو رسول ۖ کا وہ جملہ یاد آتا ہے اور بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے کہ پنجابیوں تمہیں کوئی رونے والا نہیں ۔ پنجابیوں کا کوئی نصاب نہیں۔ پنجابیوں کا کوئی رسم الخط نہیں ۔ پنجابی طلبہ کیلئے مادری زبان کا کوئی پیپر نہیں۔ پنجابیوں کی مادری زبان کے کوئی مارکس نہیں۔ جتنے غیر پنجابی گمشدہ ہوتے ہیں اس سے زیادہ تو پنجابی شناختی کارڈ دیکھ کرگاڑی سے اُتارکر مار دئیے جاتے ہیں مگر کوئی لاش رکھ کر ٹریفک جام نہیں کرتا۔ وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کا مطالبہ نہیں کرتا۔ گویا پنجابی نے معاملہ رب کی عدالت پر چھوڑ دیا۔ پی ٹی آئی کے خلاف مہم میں سب سے زیادہ پنجابی خواتین قید وبندو استحصال سے گزری ہیں مگر کوئی ملک توڑنے اور پاکستان کے خاتمے کی بات نہیں کرتا۔پنجابی پاکستان کی سب سے شاکر قوم ہے۔
تبصرہ :فرعون: محمداجمل ملک
قاری محمد حنیف ڈار کا بیان ”پیج فرعون” پر آیا ہے اور اس نے لکھا کہ ” پنجابی پاکستان کی سب سے شاکر قوم ہے”۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا تو بنی اسرائیل میں بھی برائیاں تھیں۔ اسلئے جو فرعون سے بچ جاتا تھا اس کو خضر مار دیتا تھا۔ فرعون کو جب تک اللہ نے غرق نہیں کیا تو وہ صابر شاکر ہی تھا۔ زرداری نے مولانا فضل الرحمن کیساتھ سی پیک کی مغربی سڑک کا افتتاح کیا لیکن نوازشریف نے پھر کوئٹہ اور پشاور سے چھین کر لاہور کی طرف موڑ دیا۔ اگر وہ روٹ ہوتا تو چین کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہوتا اور قرضہ بھی اتاردیتے۔ حکمرانوں کے کرتوت پر شکر کرتے کرتے کہیں بنگال کی طرح غرق نہ ہوں!

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد ارکان کی تعداد پارٹیوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی۔ عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کا حامی اور تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان ریفرینڈم کا مخالف تھا۔ یہ جمہورت کا وہ گھناؤنا چہرہ تھا جس کا عوام کو آج تک شعور نہ مل سکا ہے پھر انتخابات ہوئے تو عمران خان صرف اپنی سیٹ پر جیت سکا۔ پرویزمشرف اس کو وزیراعظم بناسکتا تھا لیکن عمران خان نے اچھا کیا کہ نہیں بنا تھا اور پھر بلوچستان سے مرحوم ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا۔
ظفر اللہ جمالی میں جمہوریت، اسلام اور انسانیت تینوں چیزیں واضح مقدار میں تھیں لیکن مولانا فضل الرحمن کے مقابلہ میں ایک ووٹ سے وزیراعظم بن گیا تھا۔ اس وقت اس ایک ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔جس کے ذریعے سے ظفراللہ جمالی وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ عمران خان نے اپنا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا اور کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا۔ درست و صحیح صحافت کا ایک پروگرام ڈان نیوز میں وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی کا ” ذرا ہٹ کے” تھا۔ جس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ظفراللہ جمالی کو زیادہ ووٹوں سے بھی منتخب کروایا جاسکتا تھا لیکن فوج نے جمہوریت کو طاقتور نہیں ہونے دینا تھا اسلئے کچھ ووٹ چھپا ئے تھے۔ ظفراللہ جمالی ایک ووٹ سے کمزور وزیراعظم بنادیا گیا تاکہ جب فوج کو ضرورت ہو تو ایک ووٹ کو ادھر سے ادھر کرکے جمالی کو اتاردیا جائے۔ حالانکہ یہ بات اس وقت کی جاتی کہ اگر جمالی کے پاس اپنے علاوہ کوئی دوسرا ووٹ بھی ہوتا۔
اگر درست جمہوری تصور ہو تو طاقتور کے مقابلے میں کمزور لوگ بھی اقتدار میں آسکتے ہیں۔افغانستان میں طالبان طاقت کے ذریعے سے اقتدار تک پہنچے اگر جمہوریت نہیں آتی توپھر وہاں تبدیلی طاقت کے بغیر نہیں آسکتی ہے لیکن پاکستان میں یہ نہیں ہے کہ بندوق اٹھائی جائے تو تبدیلی آسکتی ہے۔
رسول اللہ ۖ نے اقتدار کیلئے جنگ نہیں کی تھی مکہ والوں نے مجبور کیا تو ہجرت کی اور مدینہ میں جمہوری اقتدار کی بنیاد رکھ دی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” قلم اور کاغذ لاؤ۔ میں ایسی چیز لکھ کر دیتا ہوں کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ نبیۖ نے اپنا ایجنڈہ زبردستی نہیں منوایا اور یہ جمہوریت کی بنیاد تھی۔
قوم پرست انصار نے کہا کہ ہم خلافت کے حقدار ہیں۔ نبی ۖ کے عزیز واقارب بھی تھے۔ اگرچہ ووٹ کا نظام نہیں تھا لیکن جمہورکی بنیاد پر حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ منتخب ہوگئے۔ پہلا خلیفہ انصار بنتا تو قوم پرستی کی بنیاد مضبوط ہوجاتی۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی جمہوری بنیاد پر کی تھی ورنہ ایک احتجاج کی صورت پیش آتی۔ حضرت عثمان کا انتخاب بھی شوریٰ نے جمہوری اور اکثریت کی بنیاد پر کیا تھا اور اس کی وجہ سے سب نے سرتسلیم خم کیا۔پھر حضرت علی خلیفہ بن گئے تو حضرت عائشہ کی قیادت میں مسلح جنگ ہوئی اور وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کا بدلہ لیا جائے۔ پھر حضرت علی کے بعد امام حسن نے امیرمعاویہ سے معاہدہ کیا اور30سالہ خلافت راشدہ کے بعد امارت کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بعد ایک غیر صحابی یزید سے خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوگیا اور یزید ہی باطل نظام کا ایک استعارہ بن گیا۔آج ہم آزاد ا رکان کا اقتدار قائم کرکے پاکستان میں خلافت راشدہ لاسکتے ہیں۔ حضرت علی نے مدینہ کی جگہ کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور ہم اسلام آباد کی جگہ ڈیرہ غازی خان کو دارالخلافہ بنائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
پنجاب ، سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے آزاد ارکان اپنا ایک مختصر منشور شائع کریں۔ پھر کامیاب ارکان آپس میں ہی اتحاد کرکے ایک شخص پر ووٹنگ کرکے اتفاق کرلیں۔ پہلے سب میں جن جن کوبھی ووٹ مل جائیں اورپھر زیادہ ووٹ لینے والا منتخب نہ ہو بلکہ کم ووٹ لینے والوں کو درمیان سے نکال کر زیادہ ووٹ لینے والوں کے درمیان ایک ہی مجلس میںمقابلہ ہو اور پھر پہلے تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے درمیان ووٹنگ کرائی جائے۔ پھر پہلی دو پوزیشن میں ووٹنگ کرائی جائے۔
پھر جس کے زیادہ ہوں اس پر سب متفق ہوں۔ جمہوریت کا ایک نیا طریقہ کار رائج کرنے کی ضرورت ہے جس میں پیسہ خرچ اور ایکدوسرے کے خلاف غلط پروپیگنڈے کا موقع بھی نہ دیا جائے۔ اگر آزاد ارکان خود جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اپنے منشور کے تحت کسی اور پارٹی کو جتوائے لیکن قرآن وسنت کے بنیادی معاشرتی ڈھانچے کو نافذ کرنے کیلئے اپناکردار ادا کرے۔خلع وطلاق کے مسائل ۔ خلع وطلاق کے حق اور نکاح اور حق مہر کے معاملات قرآن میں بالکل واضح ہیں لیکن علماء و مفتیان نے مسخ کرکے رکھ دئیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اسلام کی طرف نہیں جارہاہے۔ جمہوریت کے دور میں سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ ہم غلطیوں کو ٹھیک کرکے اس پر مرہم و پٹی رکھ سکتے ہیں۔ شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کے متفق ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اسلام روشنی ہے جو اندھیروں کو کسی طاقت کے بغیر بھی بالکل اڑادیتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سینیٹر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان

اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سینیٹر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے دھرنے میں پہنچ کر کہاکہ اپنی بیٹی اور بلوچ بیٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں سچی بات یہ ہے کہ جس بہادری، جرأت کیساتھ اس نہتی بچی ماہ رنگ بلوچ نے ریاستی جبر، پولیس دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے اس نے تمام جمہوریت پسند انسانی حقوق کے علمبرداروں کے سر فخر سے بلند کر دیے، حوصلہ بڑھا دیا تو بیٹے میںآپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، شاباش دیتا ہوں، آپ کیساتھ ہوں اورفرحت اللہ بابر آپ کیساتھ ہیں ،تمام جمہوریت پسند انسانی حقوق کے علمبردار وہ آپ کیساتھ ہیں۔ پریس، سٹریٹس اور پارلیمنٹ میں انشااللہ میں آپکی آواز بنوں گا۔ لانگ مارچ اسلئے ہے کہ ڈیتھ اسکواڈ ختم کیا جائے، ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ بالاچ بلوچ جیسے واقعات ہماری سرزمین پر نہ ہوں، ہماری مٹی کو ہمارے خون سے رنگین نہ کرو، ہمارے نوجوانوں کو قتل نہ کرو اور جبری گمشدگی لوگوں کو غائب کرنا۔ یہ اپنے درد کی وجہ سے آئی ہے پانچ بہنیں ایک بھائی کیلئے جو عشروں سے لاپتہ ہے یہ ریاستی دہشتگردی ہے۔ آئین قانون پارلیمنٹ دستور کی موجودگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ دستور کی خلاف ورزی پاکستان سے غداری ماہ رنگ نہیں کر رہی وہ لوگ کر رہے ہیں جو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ جو جبری گمشدگی کر رہے ہیں،آرٹیکل16،17،19،9،10میں وہ ساری باتیں ہیں جوماہ رنگ بلوچ کرتی ہے۔ پولیس ،نگران اورریاستی اداروں، اسلام آباد انتظامیہ کو شرم آنی چاہیے رات ایک بجے ٹھنڈے پانی واٹر کینن سے ان پر پھینکتے ہیں ۔ سادہ کپڑوں میں ڈنڈوں سے بچوں بچیوں کو مار رہے ہیں شرم نہیں آتی یہ دہشتگردی ہے میں سینٹ آف پاکستان میں ان کو بے نقاب کروں گا اسلئے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ معافی مانگے وفاقی حکومت اس بچی سے اس لانگ مارچ کے شرکا سے اسلام آباد انتظامیہ معافی مانگے جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے ان کوقرارواقعی سزا ملنی چاہیے اس حکومت نے اس انتظامیہ سے عدالتوں کے اندر جھوٹ بولا انہوں نے رہائی بھی نہیں دی ،تذلیل بھی کی، بدترین قسم کا وائلنس بھی کیا ہے۔ تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔اور جو مطالبات انہوں نے اٹھائے ہیں میں حکومت سے ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ جائز ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے کہتا ہوں کیا انصاف صرف اشرافیہ، بالادست طبقے کیلئے ہے مظلوموں، بلوچوں، جبری گمشدہ ،ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کے شکار کیلئے نہیں ہے ؟ میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس لانگ مارچ پر تشدد کا بھی نوٹس لیں لانگ مارچ کو انصاف دو لانگ مارچ کے مطالبات پورے کرو بلوچستان میں50ہزار لوگوں کو بیروزگار کیا، خیبر پختونخوامیں بدامنی کی لہر ہے ۔ منظور پشتین آواز اٹھاتا ہے تو اس کو جیل میں بند کر دیا یعنی جو بندہ امن، اپنی مٹی، عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ، جبری گمشدی کے خلاف بات کرتا ہے ریاست کے بے لگام کو لگام دینا چاہتے ہیں ان کو جیل ،تشدد، ریاستی اداروں کوانکے خلاف استعمال کرتے ہیں تو یہ نہیں چلے گا۔ اب عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ میں نے ابھی ایک پارٹی کنونشن میں آپ کی بات کی تو لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں ہر محلے، ہر شہر سے آپکی حمایت ہے بلا تفریق کراچی سے چترال تک ماہ رنگ بلوچ آپنے لوگوں کو جگا دیا، مظلوم آپ کیساتھ ہے آپ مظلوموں دردمندوںاور تکلیف کے ماروں کی آواز ہیں۔ ڈٹی رہو، بہادری اور ہمت کے ساتھ اپنی اس جدوجہد کو جاری رکھو ہم آپ کے ساتھ ہیں فتح آپ کی ہے انسانی حقوق، جمہوریت کی ہے بشری حقوق کی ہے امن کی ہے اور شکست دہشت گردی کی ہوگی انشااللہ میں اور فرحت اللہ بابر صاحب تو سپریم کورٹ کے اندر بھی اکٹھے گئے ہیں اور ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ کے اندر بھی جائیں گے ہم انشااللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv