پوسٹ تلاش کریں

امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔

ڈائریکٹرفنانس نوشتہ دیوار فیروز چھیپا نے کہا کہ ایک طرف منظور پشتین کیساتھ ایس پی طاہر داوڑ شہید کے بیٹے نے سنگین الزام لگایا ہے تو دوسری طرف سوشل میڈیا نے منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں پر اغواء کا الزام لگایا ۔ امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔ امریکی سی آئی اے اور دہشتگردوں کے علاوہ کسی کے مفاد میں ان کی شہادت نہیں تھی۔ میڈیا پرحکومت و ریاست کی غفلت و لاپرواہی کو اجاگر کرنا وقت کا تقاضہ تھا لیکن سازش کا نام دینا غلط ہے۔ بہت بڑی کوتاہی تھی لیکن اس کو سازش کا نام دینا پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ پختون قوم کے مفاد میں ہے۔ الزام لگانا اپنے کو نقصان اور دشمن کو فائدہ دینا ہے۔ امریکہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر لڑاتاہے، اب پاکستانی ریاست کو پختون قوم کیساتھ لڑانے کی تیاری ہے، امریکہ سے بھلے کی امید تب ہوتی جب وہ افغانستان میں امن قائم کرتا۔ ملک اور پختون کو پھرفتنہ میں ڈالا جارہاہے۔

کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے

ایڈیٹر نوشتۂ دیوار اجمل نے کہا کہ صحافیوں کی مہم جوئی پرگرفت قانون اور اخلاق کا تقاضہ ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے نوازشریف کی پارلیمنٹ میں تقریر کو نظر انداز اور قطری خط میں جان ڈالنے کی مہم جوئی کی لیکن اب نوازشریف نے اپنی تقریر سے استثنیٰ مانگ لیا، قطری خط سے لاتعلقی کا اعلان کردیا،کیا شاہزیب خانزادہ مہم جوئی پر قوم سے معافی مانگیں گے؟، یا پھر یہ بتانا پسند کرینگے کہ جیو کے مالکان نے نوازشریف کیلئے مہم جوئی پر کتنا معاوضہ لیا؟۔کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کرپٹ عناصر کی مہم جوئی کیلئے میڈیا استعمال ہوجائے؟ سیاسی لیڈر وں کی کرپشن چھپانے کیلئے میڈیا اشتہارات کے نام پر رشوت لیکر مہم جوئی کرے تو اس سے قوم وملک کی اخلاقی اور قانونی حیثیت تباہ نہ ہوگی؟۔ حق نہیں باطل کیلئے مہم جوئی والوں پر بھی سوال بنتا ہو تو کیا سوال کا جواب دینگے؟ اور اپنے کئے پر ناظرین سے کھلے دل و دماغ سے معافی مانگنا پسند کریں گے؟۔ کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے۔

آج اگر امریکہ کہے کہ اسامہ کو زندہ برمودائے مثلث میں رکھاہےتو سب کو یقین آجائیگا

سیکرٹری جنرل ادارہ اعلاء کلمۃ الحق فاروق شیخ نے کہا کہ ’’قانون رسالہ میں لیاقت بنوری نے اسامہ بن لادن کی تصویر لیڈیز لباس میں شائع کی،امریکی ہوٹل میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو تھا، خواب اخبار ضرب حق کی زینت بنا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی نے رپورٹ کارڈ میں علیمہ خان کی دبئی جائیداد کا جواب نہ دیا مگر واضح کیا کہ’’ ایبٹ آباد کمیشن و نیب کے چیئرمین نے کہا تھاکہ اگر بتادیا کہ اسامہ زندہ ہے یا نہیں تو کوئی راز بھی راز نہ رہیگا۔حقیقی کہانی پر پردہ ڈالا گیا۔ ایبٹ آباد میں اسپیشل رہائشگاہ کی تعمیر کوئی عام مسئلہ نہیں۔ کوئی بھی سچ نہیں بول رہا ہے، سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘‘۔
آج اگر امریکہ کہہ دے کہ اسامہ کو زندہ برمودائے مثلث میں رکھاگیا ہے جو سی آئی اے اور دجالی قوت کا مرکز ہے تو سب کو یقین آجائیگا۔ اُمت مسلمہ اس سے محبت کرتی ہے جسکو میڈیا ہیرو بنا کر پیش کرتاہے اور اس سے نفرت کرتی ہے جس کو میڈیا ویلن بناکے پیش کرتاہے۔ کوئی کسی کا چاچا ماما نہیں بلکہ طوفانوں کا مقابلہ تخیلاتی کہانیوں سے کیا جاتاہے۔

ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے، انجام گلستان کیا ہوگا؟؟؟۔

ایک طرف حکومت نے انتہائی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیاکہ طاہر داوڑ کو اغواء ہوئے 16روز گزرے لیکن کوئی قدم نہ اُٹھایا تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ریاست دشمن عناصر نے شوشہ چھوڑ ا کہ سرحد کے قریب فوجی چوکی نے طاہر داوڑ کی لاش افغانستان کی حدود میں پھینکی۔ پھر میڈیا نے پاکستان و افغانستان کی فضا میں اپنافرض بھی ادا کردیا اور جلتی پر تیل ڈالنے کی بھی کوشش کی۔ جیو نیوز کے شاہ زیب خانزادہ اور7ٹی وی نیوز کا ایک ایک پروگرام ہی اس سلسلے میں کافی ہے۔
آل فرعون بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ مردوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھنے کا سلسلہ جاری تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش، ان کی بہن کو زندہ رہنے دیا ۔ یہ بنی اسرائیل کیلئے اللہ کی طرف سے سخت آزمائش تھی، نجات دہندہ آنے سے پہلے انکے بچوں کا قتل چھوٹی بات نہ تھی ۔ آج عالمی قوتوں نے پاکستان و افغانستان کا جو حال کیا ہے وہ یہاں سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ اورنجات دہندہ کی آمد کے خوف سے ایسا کررہے ہیں۔ افغانستان میں حکمران وطالبان دونوں امریکہ کے ہاتھوں میں پالتو بٹیر کی طرح لڑرہے ہیں۔ دونوں کو پتہ ہے کہ امریکہ نے ان کو یرغمال بنایا ہے، جس دن انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے نہیں لڑنا تو امریکہ کیلئے خطے میں رکنے کا جواز نہ رہیگا۔ امن میں ہی امریکی فوج نہتے افغانوں سے خوف کھاتی ہے جبکہ مسلح طالبان اور افغانوں کی بدحالی کا فائدہ اُٹھایا جارہاہے۔ بدامنی امریکہ کی خواہش اور اس کی پالیسوں کا نتیجہ ہے۔
اگرPTM والے یہ سمجھتے ہیں کہ لسانی منافرت پاکستان یا پختون قوم کی خدمت ہے تو اس بات کو یاد رکھے کہ جب مہاجرصحابہؓ کیخلاف السابقون الاولون انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے منافرت کی اجتماعی نہیں انفرادی کوشش کی تب بھی جنات یا خفیہ والوں نے قتل کیا۔ یہ صحابہؓ کے دور کا واقعہ تھا جب سی آئی اے، آئی ایس آئی اور دنیا کے کسی بھی خفیہ ادارے کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ قرآن نے دو گروہوں میں ایک کے دشمن اور دوسرے کے اپنے کا ذکرہے۔ اگر PTM کا کردار یہ ہو کہ پختون کو ریاستِ پاکستان کے دشمنوں میں کھڑا کردے تو یہ ملک کے علاوہ اپنی قوم کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔ دشمنی دوستی کے لبادے یا کھدڑے سے مشابہ کی جائے تو زیادہ نقصان کا خدشہ ہے۔ امریکہ کا منافقانہ کردار اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا اپنوں کی منافقت سے خطرات لاحق ہیں۔
زیدحامد بیچارہ ایک تو پیر کذاب کا چیلہ، دوسرا اسکے مزاج میں عسکریت اور تیسرا اسکا تعلق ہمارے پنجابی بھائیوں سے ہے بقول اقبال تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا، ہوکھیل مریدی کا توہرتا ہے بہت جلد۔ آج پاکستان کا نقشہ نیٹ پر ادھورا ہے،اگر مقبوضہ کشمیر کو شامل نہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے چوتڑ پر قبضہ کیاہے۔ بھارت مسلسل بندے مار مار کر ہماری ریاست کو انگل دیتا رہتا ہے لیکن زید حامد نہیں کہتا کہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیلئے ہماری فوج ایک جست لگائے، کیونکہ بھارت طاقتور ہے اور زید حامد سمجھتا ہے کہ ہم بھلے پدو ہی مار کر ڈرانے دھمکانے اور شرافت کو کمزوری نہ سمجھنے کی رٹ لگائیں مگر افغانستان پر چڑھ دوڑیں اسلئے کہ بھارت ہندو جبکہ افغانستان ایک مسلم ملک ہے جس نے روس اور امریکہ کی سینہ زوری کاایک عرصہ سے تجربہ کررکھا ہے۔ PTMکی غلط سوچ کا خاتمہ زید حامد کی ترکیبوں سے نہیں سنجیدہ کوششوں سے ہوسکتا ہے۔
وزیرستان کابادشاہ ملاپاوندہ انگریز کیخلاف لڑامگر100روپیہ ماہانہ وظیفہ لیا، کیابعید کہ منظور پشتین جسکے خلاف لڑرہاہو ، انہی کا اپنا ہو،داعش کیخلاف پختونوں کو اب مذہب نہیں قوم کی بنیاد پر لڑایا جاسکتا ہے۔بڑی مشکلوں سے محسود قوم نے طالبان سے جان چھڑائی ، تصویرکا رُخ واضح نہ ہو تو وہ کھیل کا حصہ نہ بنیں گے۔ زید حامد کا کردار PTMکیلئے مضبوطی کا ذریعہ ہے مگر فوج کو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایم کیوایم اور تحریک طالبان کی وجہ سے اس قوم نے جو نقصان اٹھایا ہے،اب مزید عسکری ذہنیت سے پاکستان کے لوگ پستیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ اگر یرغمال شدہ اسلام کو بازیاب کیا تو مسائل حل ہونگے ۔
آئی ایس آئی کے بریگیڈئر کا بھائی گلشاہ عالم برکی طالبان نے غائب کردیا، جسکا سراغ آج تک نہ ملا، برکی قوم نے بیت اللہ محسود سے اجتماعی پوچھا ،اس نے انکار کیا کہ کچھ پتہ نہیں۔ہم پر حملے کے بعد طالبان معافی کیلئے آئے تومحسود عمائدین ساتھ تھے مگر کانیگرم کے جرگہ میں غائب تھے، طالبان کے خوف سے وہ اپنے بے گناہوں کیلئے کھڑے نہ ہوئے تو ہمارے لئے کھڑے کیوں ہوتے؟۔ امریکی ایماء پر یاپھر نااہلی سے ریاست نے قوم پر طالبان کو مسلط کیا۔ کھڑا ہونے کی جرأت ریاست میں نہ تھی کیونکہ پوری قوم ساتھ تھی۔ پھر جب قوم نے پہچانا تو بعض ریاست کی ضرورت اسلئے تھے کہ انکے بغیر اچھے برے کی تمیز ناممکن تھی۔
اقتدار صحیح قیادت کے ہاتھ میں ہو توسول وعسکری سمیت پاکستان کے تمام سرکاری اداروں کا کردار درست کیا جاسکتا ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ جس طرح عوام انکے غلام ہوں اور حکومت وریاست کے لوگ تاج برطانیہ کے وائسرائے ہند کے اہلکار ونمائندے نہیں بلکہ گماشتے ہوں۔ نمائندہ قانون کی حکمرانی قائم کرتا ہے اور گماشتہ بدمعاشی سے اپنی دہشت بٹھاتا ہے۔ لوٹ مار کرتا ہے اور ذاتیات کی جنگ لڑتا ہے۔ غلط فہمیاں بد اعتمادی کو جنم دیتی ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو سر اور داڑھی سے پکڑ لیتے ہیں اور صحابہ کرامؓ میں بھی جنگوں کیلئے صف بندی ہوتی ہے۔ پاکستان نازک موڑ پر کھڑاہے، جس طرح کرپٹ سول وملٹری اور سیاسی قیادت ملک وقوم کو سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہے اس سے بڑھ کر کھلاڑی کے ہاتھوں میں ملکی باگ ڈور سے حالات بہتر کی بجائے بد سے بدترین کی طرف جائیں گے۔ بے روزگاری کو ختم کرنے کیلئے ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ کو گھر دینے کا وعدہ کرنیوالا وزیراعظم یوٹرن کو قابلِ فخر قرار دیتا ہے۔ قدوس بلوچ نے کیا خوب کہا کہ لوگ یوٹرن روڈ کے مخالف سمت پر لیتے ہیں جبکہ عمران خان رانگ سمت پر دوڑنا شروع کردیتا ہے۔ بے روزگار و بے گھر کرنے کیلئے حکومت عوام پر چڑھ دوڑی ہے۔ سندھ حکومت نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضہ دیا نہ متبادل جگہ دی تو سعید غنی وزیر بلدیات موجودہ متاثرین کو خاک متبادل جگہ دے سکے گا؟۔
عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور متاثرین بناکر ایسے احتجاج کیلئے تیار کیا جارہاہے کہ مذہبی وسیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کو سب بھول جائیں گے۔ کھلاڑی کہے گا کہ میدان میں ہار جیت تو ہوتی ہے اور پھر اپنا بوجھ ریاست کے سر ہی تھوپ دیگا کہ میں آیا نہیں تھا بلکہ لایا گیا تھا تو میں کیا کرتا؟ ۔ جب آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ ہوا تھا، تب بھی پختونخواہ کے حکمران نے اپنی ناہلی کو فوجیوں کے سرتھوپ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے آج تک بعض لوگوں کے دل و دماغ سے شکوک وشبہات ختم نہیں ہوسکے ہیں بدقسمتی سے بنگال میں جرنل نیازیؒ نے ہتھیار ڈالے اور ختم نبوت کی تحریک میں مولانا نیازیؒ نے داڑھی مونڈڈالی۔

ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی امریکی لیکن دجالی کردار بالکل واضح

امریکہ نے ہر دور میں منافقت، چالبازی، ڈکٹیٹر شپ ، دوغلہ پن اور دجال کا کردار ادا کیا۔ اسرائیل کو اپنا ازلی دشمن سمجھنے والے عرب اور پاکستان نے بھی اسرائیل کے سرپرست بلکہ گماشتہ امریکہ کو سرپرست بنایا۔ جہادِ افغان کے وقت سوشلسٹ شعراء ، ادیب ، دانشور، اور سیاستدان اسرائیل کیخلاف جہاد کا روتے روتے ذکر کرکے مرگئے لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔ امریکی صدر اور جرنیلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہادری کا مظاہرہ کرنیوالا گلبدین حکمتیار نے حکمتِ عملی کو تبدیل کرکے شاید پھر افغانستان میں بہادری کے جوہر دکھائے مگر وہ کل بھی امریکہ کیساتھ تھا اور آج بھی ہے۔ اب سوشلسٹ لیڈر حبیب جالب، فیض وغیرہ بھی آج کے ہیرو بن گئے ، جوکل کے زیرو تھے اورآج گلبدین زیرو ہے۔
امریکہ نے بار بار ایران وسعودیہ کو ڈبونے اور بچانے کا ڈرامہ رچاکر مقاصد حاصل کئے، پاکستان کیساتھ یہی کرتا ہے، منافقت کا ہار گلے میں ڈالنے کی دہائی دیتا ہے پھر ہمارے خلوص، وفاداری، بہادری کا جواب سن کرچپکے سے مسکراکر اطمینان کی سانس لیتا ہے کہ ابھی تک وفا برقرار ہے۔ کوئی یہ جسارت نہیں کرتا کہ ہم پر الزام لگاتے ہو، افغانستان میں حامد کرزئی امریکہ کو دہشتگردی کامنبع کہتا ہے اوراسامہ بن لادن کا پتہ نہیں کہ دوشیزہ کا لباس پہن کرٹیرن سیتا وائٹ کیساتھ امریکی ہوٹلوں میں گھوم رہا ہواور اسرائیلی طیارے میں یہاں ملکر بھی گیا ہو۔
یہ نہیں کہ فوج میں کوئی دانشور نہیں، سب زید حامد ہیں۔ فیض بھی فوجی تھامگر عسکری طبع دانشمندی کے تقاضے سے عاری ہے اسلئے سیاسی قیادت انکے ہاتھوں میں نہیں دی جاتی اوریہی حال صوفیوں کا ہے اسلئے خضر کو ویرانے کی عادت تھی۔ صحابہؓ کے صوفی ابوذر غفاریؓ تھے۔ ابوذرؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ مجھے حاکم بنادیجئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ جو اقتدار مانگے اسے ہم نہیں دیتے‘‘۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ جیسی اہلیت والے کو آپﷺ اقتدار دیتے۔ ابوذر غفاریؓ نے ویرانے میں ہی آخری زندگی گزار دی۔ خالد بن ولیدؓ بہترین سپاہ سالار تھے لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو عہدے سے اس انداز میں برطرف کیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ خالد بن ولیدؓ جمعہ کے دن خطبہ کیلئے منبر پر چڑھ گئے تو حضرت عمرؓ کے نمائندے نے طے شدہ پروگرام کے تحت اٹھ کر پوچھا کہ شاعر کو آپ نے انعام جیب یا حکومت کے فنڈز سے دیا؟، دونوں صورتوں میں آپ برطرف ہیں۔ اگر حکومت کا فنڈز استعمال کیا تو تم کون ہودینے والے؟ اگر جیب سے دیا تو فضول خرچی کی بنیاد پر اس قابل نہیں ہو کہ مزید اقتدار کی کرسی پر بیٹھ سکو۔ خالد بن ولیدؓ نے بلا چوں چرا حکم کی تعمیل کی، منبر سے اترکر عام سپاہی بنکے لڑنے کوترجیح دی۔ ہماری فوج کا یہ شعار تھا کہ جونئیر کو آرمی چیف بنایا جاتا تو سینئر استعفیٰ دیتا۔ پہلی مرتبہ ایک جنرل نے سینئر ہونے کے باوجودجوائنٹ چیف کا عہدہ اسلئے قبول نہ کیا کہ خالد بن ولیدؓ کی روایت کو دھراناتھا بلکہ انکے دو بھائی بڑے فوجی افسر تھے ہمارا نظام منافقانہ ہے۔ بری، بحری اور فضائیہ کے مشترکہ چیف کو ہی طاقت کامنبع ہونا چاہیے تھامگر ہمارے ہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے۔ وزیراعظم کی بجائے صدرکی طاقت زیادہ ہونی چاہیے تھی مگر اس قوم کااپنا کوئی دماغ نہیں، انقلابی اقدام کیلئے آرمی چیف کی جگہ جوائنٹ چیف اور وزیراعظم کی جگہ صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم ایک وزیر اور صدراصل امیر ہوتاہے۔
سوشل میڈیا پر خبر ہے کہ سینیٹر علامہ ساجد میرنے کہا کہ جنرل جاوید قمر باجوہ قادیانی ہے تو علامہ زاہدالراشدی نے کہا کہ آرمی چیف ہمارا پڑوسی ہے ۔ پورا خاندان قادیانی نہیں، یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے ۔ پھر تحریک لبیک کے رہنما پیر افضل قادری نے علامہ خادم حسین رضوی کی موجودگی میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو کافر کہا تو اوریا مقبول جان نے کہا کہ میرے پڑوسی پیر افضل قادری نے غلط بہتان لگایا، میں قیامت کے دن گواہی نہ دینے کے جرم سے بچنے کیلئے حقیقت بتارہا ہوں۔ جب جنرل باجوہ کیلئے آرمی چیف کا کوئی چانس نہ تھا تب کراچی کے پروفیسر نے خواب دیکھا کہ حضور ﷺ نے جنرل باجوہ کو ایک تحفہ دیا،یہ تحفہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے لینا چاہ رہا تھا مگرمیں نے کہا کہ بائیں نہیں دائیں ہاتھ سے لو۔ پھر وہ شخص جنرل باجوہ کے پاس آیا توشکل سے پہچان لیا۔ جنرل باجوہ کو اس کی تعبیر یہ بتادی کہ آرمی چیف بنوگے۔ انکا جواب تھا کہ یہ ممکن نہیں، مجھ سے کافی سینئر ہیں، جنکا اثر رسوخ اور صلاحیت بھی زیادہ ہے لیکن پھر اس خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔
یہ خواب سچا ہوتو اللہ کرے کہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے جو تحفہ لے رہا تھا وہ اب دائیں ہاتھ سے لے۔ طالبان کے مقابلے میں صوفی ازم کے حامیوں علامہ خادم حسین رضوی اوربشریٰ مانیکا کے چیلے عمران خان کو پاکپتن کے مزار پر یوٹرن کی عظیم تقریب کے بعد وزیراعظم کی کرسی پر براجمان کرنے کی حرکت تحفہ بائیں ہاتھ سے لینے کے مترادف تھا۔ساجد میر کے قائد نوازشریف نے جنرل باجوہ کو اسی لئے آرمی چیف بنایا ہوگا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نوید مختار اسکے رشتہ دار تھے اور آئی ایس آئی ذرائع نے بتایا ہوگا کہ جنرل باجوہ پرقادیانی کا داغ تھا ۔ پہلے فوج پر قادیانیوں کا اثر ورسوخ تھا اور جو قادیانی نہ تھے تو بھی خود کو احمدی بنا کر نااہل ہونے کے باجود بھرتی ہوتے ۔ اللہ کرے کہ جنرل باجوہ سیدھے ہاتھ سے فرقہ واریت ، ملک دشمنوں اور نااہل سیاستدانوں کو سہارا دینے کے بجائے خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ساجد میر کو بتاناچاہیے کہ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے ہی ختم نبوت کیخلاف حرکت کی تھی جوبہت مہنگی پڑ گئی۔
داؤد علیہ السلام کے دور میں اوریا مجاہد تھا جسکی بیگم بادشاہ داؤد ؑ لیتے توبھی وہ حق کی آواز نہ اٹھاتا مگر اللہ نے ’’میرے پاس ایک دنبی ہے اور اسکے پاس 99 دنبیاں ہیں‘‘ کی بات سے وہ بچالی، ورنہ مجاہد وفاداری کا ثبوت دیتا تو اوریا جیسے بیوروکریٹ تائید کرتے۔ حق کی گواہی پرجن مشکلات کاسامنا ہوتاہے انکا اوریا مقبول جان نے کبھی خواب تک بھی نہ دیکھا۔ایسے خواب تو بریلوی دیوبندی اور قادیانی بھی دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟۔ گیارہویں خلیفہ کا دعویدار خواب سے پھر کیوں پکڑا؟۔ یوسف رضاگیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کے علاوہ کتنے اغوا ہوکر افغانستان پہنچے مگر اس کو لسانی تعصبات کا نام دینا درست نہیں۔ منظور پشتین کا دادا بھی کشمیر کا مجاہد تھا اور کشمیرکے ایک مجاہد سے قیادت کرنیوالے پیر آف وانا نے اپنی مقبوضہ بیوی چھین لی تھی۔ نہیں پتہ کہ وہ منظور پشتین کے دادا تھے یا اس کا کوئی اور ہم قبیلہ۔ فوج، پیر وں اور مجاہدین کو تثلیث سے نکل کر حقائق کی طرف آنا ہوگا۔ جس دن علماء نے اپنا کردار درست کیا تو سب کچھ درست ہوجائیگا ورنہ کھلاڑی اور شکاری بھیس بدل بدل کرآئیں گے ۔عوام کو بے روزگار، بے گھر کیاجارہاہے ۔پانی کیلئے ترسایا جارہاہے جسکا حل ضروری ہے۔اسلام تمام قسم کے معاشی ، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا حل ہے۔ اسلام کے خول میں رہ کر اپنے بنیادی مسائل حل کرنے ہونگے اور پاکستان کے خول میں رہ کر ملکی و بین الاقوامی مسائل کے حل کیلئے سرکاری اور سماجی سطح پر عمدگی سے چلنا ہوگا۔ سیدعتیق گیلانی

طالبان فوج پر خودکش کر رہے تھے تو عمران خان اور فیصل واوڈا نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی

خصوصی مدیر ارشاد نقوی نے کہا کہ یہ بڑا عجیب تماشہ ہے کہ پولیس خاتون افسر بے خوف و خطر موقع پر پہنچ گئیں اور اس کا کہنا تھا یہ ہماری ٹریننگ ہے۔ کوئی پولیس والا بھی مشکوک افراد کی مشکوک اشیاء کو چیک کرتے ہوئے جان پر کھیلنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا نے سستی شہرت کیلئے باڈی گارڈ کیساتھ پہنچ کر کوئی عزت نہیں کمائی ۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ اب تو جیکٹ اتار دے جس پر کمانڈو نے جیکٹ اتاری، طالبان فوج پر خودکش کر رہے تھے تو عمران خان اور فیصل واوڈا نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی۔ بینظیر بھٹو شہید نے کہا تھا کہ طالبان کو ماہانہ دو سو ڈالر ملتے ہیں اور پھر ان کو شہید کردیا۔ مخدوش فضاء ختم ہوئی تو عمران خان اور فیصل واوڈا کی طرف سے ماشاء اللہ چشم بد دور بہادری کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ملک لوٹنے والوں نے ڈیم کیلئے چندہ نہیں دیا۔ ہم ان سے پیسہ واپس لیکر ڈیم بنائیں گے‘‘۔ حضور والا ! آپ نے نواز شریف کو نیب کے حوالے کیا اور نیب نے سزا دی ، آپ نے چھوڑ دیا اگر پکڑ کر لوٹی دولت واپس لیتے تو اپنا کام کرتے، چندوں کی ضرورت نہ پڑتی۔ جب چندہ لے رہے ہو تو مشکل ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزا وار… کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟

پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر علماء کرام اسلام کی روح ہی نکال چکے تھے۔ علامہ اقبال کی دعوت اسلام کی نشاۃ ثانیہ بیت اللہ محسود نے ’’وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو ہو جس کی رگ وپے میں فقط مستئ کردار‘‘ زندہ کردی۔پاکستان کی سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جہادِ افغانستان سے روس کے مقابلہ کیلئے جو کھایاپیا، اسکی ایک سبیل پھر اس وقت نکل آئی جب امریکہ نے 9/11کے بعد افغانستان میں اپنے مجاہدین کو مار بھگانے کا پروگرام بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر ڈومور کا مطالبہ کیا تو آرمی چیف باجوہ نے ’’نومور‘‘ کی صدا بلند کردی ۔
اسلام کی بیخ کنی کیلئے فرقہ واریت ،ملک کی بیخ کنی کیلئے لسانیت کافی ہے۔ قائداعظم کی بڑی خوبی لسانیت و فرقہ واریت سے ماوراء ہونے کی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم،صدر مملکت ،آرمی چیف، چیف جسٹس تمام ذمہ دار عہدوں پر تعینات شخصیات میں یہی قدرِ مشترک ہی معیار ہے۔پاکستان کی تمام لسانی اکائیاں قدر ومنزلت کے لائق ہیں، سب پھولوں کا الگ الگ رنگ اور جدا جدا خوشبو ہیں۔ قادیانیوں کو فرقہ واریت نے نگلا ،شیعہ فرقہ واریت کا خمیازہ بھگت چکے۔ سپاہِ صحابہ کو فرقہ واریت نے ختم کرڈالا۔ سنی تحریک کو فرقہ واریت نے انجام کو پہنچایا ۔ تحریک طالبان فرقہ واریت سے نابودہوئی۔ ولی خان اور محمود اچکزئی لسانیت کی وجہ سے وہ مقام حاصل نہ کرسکے جسکے وہ مستحق تھے۔ بلوچوں کی قیادت لسانیت کی وجہ سے ناپید ہوگئی۔ کراچی سے راولپنڈی تک ریاست کو ہلا ڈالنے والے وزیرستانی مشکلات سے نکلے مگر بلوچ خواتین اور معصوم بچے تاایں دَم مشکلات کے گرداب میں ہیں۔ کبھی پختون و بلوچ کا پلیٹ فارم ایک تھا، اب بلوچ الگ ہیں پھر وہ وقت بھی آئیگا کہ بلوچ اور بروہی بھی بالکل الگ الگ ہونگے۔
اپنی قوم وزبان سے محبت ایمان اور تعصب کفر ہے، جن میں فرق باریک مگر بہت واضح ہے۔ جس طرح کان کے پردے آواز سے بھی پھٹتے ہیں پھر انسان موٹی اور باریک آواز سننے سے عاری ہوتا ہے ،اسی طرح اپنی قوم سے محبت و تعصب کے درمیان پردے کو نعروں سے پھاڑا جاسکتا ہے۔ جسکے بعد بہری قوم کو کچھ سجھائی نہیں دیتا، جس طرح زور دار تھپڑوں سے بہرے کا علاج ممکن نہیں، اسی طرح کسی قوم کو تعصب کی پٹری سے اتارنا مشکل ہے۔ کون بہروں کو سمجھائے کہ اگر طالبان اور بلوچ قوم لڑنے میں قانون کا سہارا لیتے تو مجرموں سے قانونی برتاؤ کیا جاتا۔اگر وہ اپنا راستہ طاقت سے ڈھونڈیں تو طاقت سے ہی انکا قلع قمع کیا جانا ہے۔ طاقتور طاقت استعمال کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے اور کمزور اس کو یہ موقع فراہم کردے تو اس میں کمزور ہی کا نقصان ہوتا ہے۔ فاروق اعظمؓ وامیر حمزہؓ کی طاقت ابوجہل وابولہب سے کم نہیں تھی لیکن مسلمانوں کی حالت کمزور تھی تو اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں اپنے دفاع کیلئے بھی جہاد کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں نے کفار سے جہاد کا کوئی پروگرام نہیں بنایا تھا بلکہ یہ تو شام کامال بردار قافلہ لوٹنے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے قتال میں بدل ڈالا۔ غزوات کی قیادت رسول اللہ ﷺ نے بنفس نفیس کی تھی ۔ غزوۂ اُحد میں صحابہ کرامؓ کے پیر میدان سے اُکھڑ گئے تو نبی ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا تھا کہ
انا نبی لا کذب انا ابن ابن عبدالمطلب
’’میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں اور ابن عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں‘‘۔ اللہ نے فرمایا تھا کہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اور محمد (ﷺ) کیا ہیں؟ مگر رسول ، بیشک آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے تو کیا اگر آپ فوت ہوں یا قتل کردئیے جائیں تو آپ لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ بہترین نمونہ ہے جو قرآن کی رہنمائی سے بھرپور ہے۔ صحابہؓ کے قدم میدان سے اکھڑ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے نبوت اور حضرت عبدالمطلبؓ کی اولاد ہونے پر فخر کا اظہار فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے پیرائے سے رہنمائی کا حق ادا کردیا۔ انبیاءؓ کی ایک بڑی فہرست تاریخ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں لیکن ان کے فوت ہوجانے یا قتل ہوجانے سے کیا تم اُلٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوگے؟۔ اللہ تعالیٰ نے سیرت طیبہ کو اعلیٰ ترین رہنمائی کا ذریعہ اسلئے قرار دیا ہے کہ قدم قدم اور لمحہ بہ لمحہ رہنمائی کا سلسلہ موجود رہتا تھا۔غزوہ بدر میں عبدالمطلب کا ایک بیٹا ابولہب قتل اور دوسرا عباس گرفتار ہوا۔ خاندانی عصبیت و فوقیت کی اللہ نے تائید نہ کی۔
ہماری قوم پاکستانیوں کیلئے بہترین جمہوری روایات ،لکھنے بولنے کی آزادی کے مواقع ہیں لیکن ہمارے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی حیثیت دولہوں کی طرح، سیاسی رہنماؤں کا برتاؤ میراثیوں اور سیاسی کارکنوں کی حیثیت باراتیوں کی طرح ہوتی ہے۔ قائد وزیراعظم بنتا ہے تو ریاست کواپنی دلہن سمجھنے لگتاہے۔ نوازشریف اور بینظیر بھٹو کے بعد آج عمران خان وزیراعظم بن گئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ایک کھدڑے کی ریاست سے بے لذت شادی ہوئی ہے۔ جس کا نہ کوئی تول ہے اور نہ کوئی بول۔ قانون کی پاسداری تو دور کی بات ہے اخلاقیات بھی تباہ کردئیے۔
نابینا صحابی ابن مکتومؓ کی آمد نبیﷺ پر ناگوارگذری تو وحی نازل ہوئی۔نبی ﷺفرما تے کہ اس صحابی کی وجہ سے مجھے اللہ نے ڈانٹا ۔ نبیﷺ ظاہری و باطنی خلافت کے سزاوار تھے لیکن جب تک سیرت کے ان پوشیدہ گوشوں کو نمایاں نہ کیا جائے جن سے یہ مسلم قوم ظاہروباطن کی خلافت کا سزاوار بنی، ہم من حیث القوم خلافت کے حقدار نہیں بن سکتے ۔ پھر ہم خود خس وخاشاک کی طرح اپنے شعلہ کی نذر ہونگے۔تحریک طالبان پاکستان نے GHQپر قبضہ، مہران ایربیس اور آئی ایس آئی ملتان کے ہیڈ کواٹر سمیت شعلہ بن کر بازاروں عبادت گاہوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ڈالروں کو پرویزمشرف نے انفراسٹرکچر پر خرچ کیا اور بعض مفاد پرست عناصر کو بیرون ملک اپنے اثاثے بنانے کا موقع ملا ،فوجی جرنیلوں کی سیاستدانوں کے اثاثہ جات پر نظر پڑگئی تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جنرل راحیل شریف نے بنیادی کام یہ کیا کہ فوجیوں کوبھی کرپشن پر لگام دی تھی۔
فوج ایم کیوایم اور طالبان کی پشت پناہی یا نرم گوشے کا مظاہرہ کررہی تھی تو سیاستدانوں کے ذریعے قابو کرنے میں مدد ملی اور اب عمران خان کو فوج کھلم کھلا استعمال کررہی ہے اور اس بیماری کا علاج ناممکن نہیں ہو تو مشکل ضرور ہوگا۔ملک و قوم کو چندوں سے زندہ نہیں رکھا جاسکتا، اپنا اشرافیہ چندوں میں لگ گیا۔ امریکہ پہلے مذہبی چینل کو افراتفری کیلئے استعمال کرتا تھا، اب لسانی قوتوں کو کررہاہے مگر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاست وحکومت اس بیماری کو پروموٹ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے طاہر داوڑ کی شہادت کی مذمت سوئم گزرنے کے بعد کی۔ اگر اس آگ نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کسی کیلئے بھی خیر نہیں ہوگی۔ پاکستان مسلم قومیت سے بناتھا اور اسی میں بچت ہے۔

عمران خان نے خود چھپ کر عدلیہ اور فوج کو مذہبی طبقے کے آگے کردیا: اشرف میمن


کراچی ( نمائندہ خصوصی) اشرف میمن پبلشر نوشتۂ دیوار نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی بہادری کو لوگ داد دیتے ہیں۔ طالبان کی دہشت تھی تو عمران خان نیازی اداروں کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ساتھی بن گئے تھے۔ نوازشریف کے خلاف تحریک لبیک کی تحریک چلی تو تحریک لبیک کیساتھ کھڑے ہوگئے۔ تحریک لبیک اور مولانا سمیع الحق نے عمران خان کا پول بھی کھولا، گالیاں بھی دیں لیکن وہ اداروں کے پیچھے چھپ گئے۔ یہ کوئی سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی تو نہیں کہ گستاخانہ خاکوں کی تقریب ختم کرنیوالے وزیراعظم عمران نیازی کے دورِ اقتدار میں یہ المیہ پیش آیا کہ ذیلی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والی گستاخ کو سپریم کورٹ سے بری کروایا گیا۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ممتاز قادری کی طرح عمران نیازی کو بھی اپنا گارڈ بن کر سلمان تاثیر کی طرح قتل کرڈالے اور پھر عمران خان کے بیٹوں کو اقتدار سونپ دیا جائے۔ جس طرح ملک کا زبردست پرائیوٹ ادارہ شاہین ائر لائن بیٹھ گیا اور بحران کا شکار ہوا ہے۔ ہماری قوم سازش کو سمجھنے میں دیر لگادیتی ہے۔

پاکستان کی بقاء ، خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا راستہ


معروف صحافی مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’ جنگ و جیو اور دیگر میڈیا چینلوں میں یہ فرق ہے کہ جنگ اور جیو کسی بات کو سچ اور جھوٹ اسلئے نہیں کہتا کہ کوئی اسے کہلواتا ہے بلکہ خود جس کو جھوٹ اور سچ سمجھتا ہے، اپنی بنیاد پر کہتا ہے‘‘۔ سیاست کی طرح مذہبی جذبہ بسا اوقات کوئی کسی کے کہنے پر استعمال کرتا ہے اور اپنے طور پر بھی مذہبی جذبہ استعمال ہوتا ہے، بالفاظِ دیگر جو بات مظہر عباس کہہ رہا تھا،وہی بات مولانا فضل الرحمن بھی علامہ خادم رضوی کیلئے کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جنگ وجیو اپنے مفادات کیلئے مہم جوئی کا کردار ادا کرنے کے بجائے حق اور حقیقت کیلئے کام کرتے تو بھی تھوڑے دنوں میں ایک مثبت انقلاب آسکتا تھا۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن اسلام کے معاشرتی، سیاسی اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیتے اور اسکا برملا اظہار کرتے تو خواہ مخواہ میں سیاسی ومذہبی قوتوں اور قائدین کے درمیاں نکاح خواں سے گرکر اب میراثی کا کردار ادا نہ کرنا پڑتا۔ حقیقی اسلام کے ذریعے زر،زن اور زمین کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر غیرشرعی جاگیردارانہ اور غیر اسلامی بینکاری نظام ہو اور معاشرے پر غیر اسلامی معاشرتی نظام ہو تو پاکستان کی بقاء ممکن ہے اور نہ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا قیام ممکن ہے۔ یرغمال شریعت مدارس اور اسٹیبلشمنٹ سے آزاد کرنے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔ صرف ہمت مرداں کی ضرورت ہے تو مدد خدا بھی ہو گی۔
لوگ تہائی،چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کراتے تھے، پس نبیﷺ نے فرمایاکہ جس کی زمین ہو،وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دیدے،اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین اپنے پاس یونہی رکھ لے۔ (صحیح بخاری) جابرؓ سے نقل ہے کہ جب تحریم ربوٰ کی حرمت نازل ہوئی الذین ےأکلون الربوٰ لایقومن الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس لآیہ (جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہونگے مگر جسطرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو جنات نے اپنی گرفت میں لیکر پاگل بنایا ہو) جو شخص مزارعت کو نہ چھوڑے اس سے آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور اسکے رسولؐ کیساتھ جنگ میں مصروف ہے‘‘۔ المستدرک۔ اسلامی اقتصاد کے پوشدہ گوشے
نمونہ کے طور پر دو احادیث پیش کردی ہیں ، تفصیلات کیلئے علامہ طاسینؒ کی کتاب میں مواد موجود ہے۔ ان احادیث کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان کی سرزمین میں استحکام آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں بھی ایک ایسا انقلاب آسکتا ہے جو پوری دنیا کے تیور کو بدل ڈالے۔ عرب ممالک کے پاس تیل کی طاقت تھی لیکن انہوں نے خود کو اسرائیل اور امریکہ کی گرفت میں دیدیا ہے۔عرب کی بقاء بھی برصغیرپاک وہند، ایران وافغانستان، روس وچین اور ترکی کے علاوہ مشرقی ممالک کے اتحاد میں ہے۔ مغرب نے امامت کے مقام سے انصاف نہیں کیا۔ علامہ طاسینؒ سے ایک سہو ہوگئی کہ ایک طرف قطعی طور پر حرام ہونے کی بات کہی اور پھر مشتبہ قرار دیا، اسی طرح مضاربہ کو بھی سود قرار دینے کی کوشش فرمائی ہے۔

گستاخ آسیہ مسیح اور مذہبی وسیاسی قیادت کا شاخسانہ


پاکستان میں یہ قانون آئین کا حصہ ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی شان میں اگر کوئی گستاخی کریگا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ریمنڈ ڈیوس نے اپنا نام مولانا تاج محمد ظاہر کرکے سی آئی اے کیلئے اپنی خدمات انجام دیں، جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو قتل کے بدلے قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ سزا سے بچنے کیلئے دیت کے اسلامی قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آسیہ مسیح کو سیشن اور ہائیکورٹ سے سزائے موت سنائی گئی۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا کہ اس پر یہ کیس بنتا ہی نہیں ، جس کو قومی اخبارات میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا گیا۔ وجہ اس کی یہی ہوسکتی تھی کہ اس کیلئے عالمی دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد دیت کا کوئی قانون بھی لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا، اگر سپریم کورٹ عمر قید کی سزا دیتی تو بھی اس پر زیادہ سخت ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ تحریک لبیک کے قائدین نے عدالت کیساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا سمیع الحق نے عدلیہ کے جج حضرات پر توہین رسالت کا مقدمہ چلانے اور ان کو لٹکانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے پہلے حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اپوزیشن کی جماعتوں نے ساتھ نہیں دیا۔ پھر صدارتی امیدوار کے طور پر ایک کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اب حکومت کے خلاف آسیہ مسیح کیس کو آخری حربہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اس میں بھی کامیابی مشکل ہے۔ جب شخ رشید نے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے خلاف سازش کا انکشاف کیا تھا تو وہ اس میں تنہاء تھے، پھر قافلے ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ آخر کار اسلام آباد دھرنے کے ذریعے اور ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کا حربہ کامیاب ہوا۔ اس وقت تو اے آر وائی کے سمیع ابراہیم، صابر شاکر اور حمید بھٹی اور شیخ رشیدو عمران خان اس جذبے کو اسلام کی تعلیمات قرار دے رہے تھے لیکن اس دفعہ جب حکومت نہیں اسٹیبلیشمنٹ نشانہ بن گئی تو پھر معاملے کو دوسرا رنگ دیا جانے لگا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے زرداری کے بعد نوازشریف کی بھی خوب خدمت کی لیکن جمہوری میدان میں اپنے ساتھ اس بارجماعت اسلامی کو بھی لے ڈوبے۔ خلافِ معمول جماعت اسلامی کی بدقسمتی تھی کہ تحریک انصاف کی صفوں سے نکل کر مولانا فضل الرحمن کے بغل میں بیٹھ گئی۔ اب دونوں کی سیاست کیساتھ ساتھ مذہب کی ٹھیکہ داری کا بھی سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ بن کر دھوکہ کیا۔ نوازشریف نے ایک میڈ اِن پاکستانی اسلام کے نام پر عوام کو دھوکے میں رکھا اور اب عمران خان نے ریاست مدینہ کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کے تیسرے ایجنٹ کے طورپر عوامی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے،پاکستان کی بقاء اسلامی نظام میں ہے اور جھوٹ کے اسلامی نظام سے کفر کا عادلانہ نظام بہتر ہے۔ کمیونزم اور کیپٹل ازم کے درمیان اسلام کا نظام ہی حقیقی اعتدال اور درست معنوں میں عدل ونصاف کا نظام ہے۔ دھوکے بازی کا سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہ سکتا ہے ، حقیقی انقلاب ناگزیر ہے۔