پوسٹ تلاش کریں

آپ کی بچی خود اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی: رانا ثناء اللہ

aap-ki-bachi-khud-us-ke-peeche-bhag-rahi-thi-Rana-Sanaullah

yeh-maluoon-hein-jahan-paye-jayen-pakar-kr-qatal-krdia-jaye-surah-ahzab-Rabia-Anam-Program-Geo-Tv

نوشتۂ دیوار کے چیف ایڈیٹرمحمد اجمل ملک نے کہاہے کہ میڈیا پر دکھایا جانے والے منظر بڑا ہی افسوسناک تھا جس میں رانا ثناء اللہ نے ننھی معصوم مظلوم شہیدبچی زینب کے والدہی کو غصہ میں ڈکٹیشن دی کہ ’’ تیری بچی ویڈیومیں خود ہی اسکے پیچے بھاگ رہی تھی‘‘۔کوئی جواں لڑکی ہوتی اور معاملہ قتل کا نہ ہوتا تو راناثناء اللہ کا حق بنتاتھاکہ تیری بچی شریک مجرم تھی ،ہونا تویہ چاہیے تھاکہ زینب کا والد راناثناء اللہ کے منہ پر زور دار طمانچہ مارتا کہ یہ بکواس کرنے کی ضرورت کیاہے؟، ثابت کرناچاہ رہے ہو؟۔ لیکن شاید شہباز شریف نے زینب کے والد کو کچھ زیادہ ہی رقم تھما ئی ہوگی۔ مظلوم کیلئے پہلے تو کوئی آواز اُٹھتی ہی نہیں اور جہاں لوگ کچھ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں تومظلوم چند ٹکے لیکرخاموش ہوجاتا ہے ، شاہ زیب قتل کیس پر جو کچھ ہوا قوم نے دیکھ لیا۔ زینب کی معصومیت پردو افراد شہید ہوئے ہیں۔
قصور کی ایک زینب کا مسئلہ نہیں ، قرآن کہتاہے کہ جو ایک انسان کوبے گناہ قتل کرتاہے جیسے وہ تمام انسانوں کو قتل کردے۔ پاکستان کے تمام بچے اور بچیوں کی عزتوں کا مسئلہ ہے۔ غریب اور بے بس کے پاس آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہیں ہوتی ہے۔ زینب کا قاتل پکڑا گیااور قصور کی دہرتی میں رہنے والے بہت سے بے قصوروں کیساتھ جبری زیادتیوں کی داستانیں میڈیا کی زینت بن گئیں۔ جنسی روحجانات میں اضافہ ہوا؟ یا میڈیا نے یہ واقعات اٹھانے شروع کردئیے؟۔ بہرحال مردان، مظفر گڑھ اور اٹک وغیرہ میں بھی واقعات ہوئے۔ کوئی بااثر شخص اپنی بیٹی کو جیل کی قیمت پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے دے گا؟۔
رانا ثناء اللہ نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے بالکل ٹھیک لہجہ سے کہا کہ اگر الزام ثابت نہ کرسکو تو یہ تمہارا آخری الزام ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بینظیر بھٹو پر کارساز میں حملے کو پیپلزپارٹی کی اپنی سازش قرار دینے کی کوشش کی تھی، اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس کی ذمہ داری زرداری ہی پر ڈال رہاتھا مگر پی ٹی وی کا چیئرمین بننے کے بعد خود زرداری کا خادم اور پیپلزپارٹی کا پرانا جیالا بتانا شروع کردیا۔ گندی اور بلیک میلنگ کی صحافت کرنیوالوں کو کھلے عام قرار واقعی سزا دی جائے تو زرد صحافت کا خاتمہ ہوگا۔ روزنامہ جنگ کراچی میں یہ شہہ سرخی لگی کہ ’’وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے خود کرپشن کا اعتراف کرلیاہے‘‘۔ حامد سعید کاظمی اسی دن کی ٹاک شوز میں یہ حلفیہ بیان دے رہاتھا کہ اس نے پائی کی کرپشن بھی نہیں کی مگر حامد سعید کاظمی نے کئی برس جیل بھی کاٹی اور جرم بھی ثابت نہیں ہوا۔ اسکے برعکس نوازشریف نے پارلیمنٹ کے اندردستاویزی ثبوت لہرا کر دکھائے اور پڑھ کر سنائے مگر عدالت میں قطری خط آگیا، جیو اور جنگ نے نوازشریف کی صفائی میں سب نظر انداز کرکے یہ تأثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ فوج اور عدلیہ ہی نواز شریف کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ ریاست کے پاس اگر واقعی عدل کا پیمانہ ہوتا تو زرد صحافت اور حکومت سے اشتہارات کا حساب بھی لیا جاتا، قوم کا پیسہ اسلئے نہیں کہ حکمران اپنی کرپشن چھپانے کیلئے صحافیوں اور میڈیا چینلوں کو بھی خریدیں۔
چیف جسٹسوں کو چاہیے کہ قوم کو گمراہ کرنے والے صحافی و میڈیا چینلوں کا بھی ازخود نوٹس لیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے جو صلاحیت نوزشریف و شہبازشریف کی حمایت میں لگائی، اس کی بنیاد پر وہ گدھے سے بھی کئی بالٹی دودھ نچوڑ لیتا۔ وہ نوازشریف اور شہباز شریف سے اتنا پوچھ لیتا کہ پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھایا قطری خط کیلئے معقول مقدمہ تھا تو مجھے کیوں نکالا کا جواب بھی مل جاتا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے لندن فلیٹ کی ساری کلپوں کو چلا کر ایک صحافتی عدالت لگادیتے تب بھی یہ پتہ چل جاتا کہ نوازشریف کو کیوں نکالا گیا۔ جب میڈیا چینل کی طرف سے صحافت نہیں وکالت شروع کردی جائے تو یہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے علاوہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسا صحافتی کاروبار بھی قانون کے اندر جائز نہیں بنتاہے اور قوم کی اخلاقی حالت ایسی زرد صحافت سے بالکل تباہ ہوجاتی ہے۔ سنسنی پھیلانے والے شاہد مسعود، جھوٹی مہم جوئی جیو کرنے والا جیو چینل ، پارلیمنٹ میں دروغ گوئی کرنے والا نوازشریف اور سفاکانہ انداز میں جبری جنسی زیادتی اور قتل کے مرتکب افراد کو قرارِ واقعی و کھلے عام سزا دی جائے تو قوم کی تقدیر بدل جائے۔

قائد اعظم نے ٹیکنوکریٹ کی حکومت بنائی تھی، ہندو وزیر قانون اور قادیانی وزیر خارجہ تھا. عبد القدوس بلوچ

quaid-e-azam-ne-technocrats-ki-hukumat-banai-thi-Abdul_Quddus-Baloch

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہاہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نے کوئی دوسرا قصور نہیں کیا ، سول و ملٹری بیوروکریسی نے جنگ کی تو جنرل ایوب خان نے سول بیوروکریسی سے اقتدار چھین لیا۔ پھر پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا۔بھٹو کو ختم کرنے کیلئے محمد خان جونیجو اور نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق نے جنم دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا، اپنی کابینہ میں ہندو وزیرقانون و قادیانی سر ظفر اللہ کو وزیرخارجہ بنا دیا تھا۔یہ لوگ فوجی قیادت کی پیدوار نہ تھے۔ نوازشریف و شہباز شریف جنرل ضیاء الحق کی پیدوار ہیں۔ اب جمہوریت و ڈکٹیٹرشپ کے درمیان میں ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان میں ہجڑہ ہوتاہے، ہجڑے کو تالی بجانے کے علاوہ کچھ نہ آتا ہو تو حج میں ٹھوکر لگنے پر بھی وہ تالی بجاتاہے۔ منافقوں کیلئے فرمایاکہ وہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے، درمیان میں متذبذب رہتے ہیں۔زینب کے قاتل پرBetven شہباز شریف کا تالی بجانا عادت سے مجبوری تھی،محترم غوث بخش بزنجو بابائے جمہوریت کہلاتے تھے، فوج کا گودی بچہ بننے اور ناجائز رقم بٹورنے کے بعد سیاسی کھدڑا لیڈر بنے تو یہ قوم کی بہت بڑی بدقسمتی ہے۔
بلوچستان میں نواب ثناء اللہ زہری کی ناکامی تھی، جمہوری نظام چلانا سیاسی کارکنوں کا کام ہے نوابوں کا نہیں۔ عبدالمالک بلوچ ایک سیاسی کارکن تھے اسلئے کامیابی سے حکومت کی۔ محمد خان اچکزئی کے پیچھے بھی محمود خان اچکزئی کا ہاتھ ہے، ان کے والد عبدالصمد خان شہید بلوچستان کے گاندھی اور سیاسی کارکن و رہنما اور قائدتھے۔ اب یہ سیاسی خانوادہ خانزادہ بن چکاہے مگر سیاسی کارکن نہیں رہاہے۔ ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے کس طرح رمضان کی شام کو کھلے عام پولیس اہلکار کو شراب میں ٹن مار دیا اور پھر فرار ہوگیا۔ کیمرے کی آنکھ نہ پکڑتی تو پولیس کے ہاتھ بھی نہ آتا۔ غلطی پر انسان کا شرمندہ ہونا ایک فطری بات تھی لیکن عبدالمجید اچکزئی پر ضمانت ملنے کے بعد جس بے شرمی اور بے غیرتی کیساتھ پھولوں کی بارش برسائی گئی کوئی سیاسی کارکن تو بہت دور کی بات ہے کسی انسان کا غیرتمند بچہ یہ نہیں کرسکتاتھا محمود خان اچکزئی سے قومی اسمبلی میں پوچھ لیا جائے کہ پٹھانوں کی یہ روایت ہوسکتی ہے؟۔ ڈیوٹی پر شہید اہلکار کی بیوہ اور بچوں پر پھول نچاور کرنے سے کیا گزری ہوگی؟۔ اس نے کیا فتح کیا تھا جس کی خوشی میں اس پر پھول برسائے جارہے تھے؟۔ اگر خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر ایک سید کا خون ہے تو جس طرح سے شہبازشریف کی طرف سے تالی بجانے کے عمل پر اسمبلی میں وہ مذمت کررہا تھا،یہی مذمت پھول نچاور کرنے کے عمل پر بھی وہ ضرور کرکے دکھائے۔ محمود خان اچکزئی سے معافی منگوائے۔
سیاسی خانوادے اور پارٹیاں بدل بدل کر سیاسی لوٹے تو بہت بدنام ہوچکے ہیں۔ نگران سیٹ اپ کیلئے پنجاب میں خیبر پختونخواہ سے کوئی شخصیات گورنر اور وزیراعلیٰ کے عہدوں پر فائز کی جائیں ، اس طرح بلوچستان، سندھ اور پختوخواہ میں دیگر صوبوں سے ماہر ، باضمیر اور باغیرت افراد کے ہاتھوں میں کچھ دنوں کیلئے حکومتوں کو سپرد کیا جائے تاکہ عوام کو دکھایا جائے کہ حکومت کس طرح سے ہوتی ہے۔ رعایت اور انتقام نہیں بھرپور عدل وانصاف سے عوام کی عزت نفس کو بحال کیا جائے۔ جہاں جہاں بدمعاش و بدکار طبقات خواتین کیساتھ زیادتی کے مرتکب ہوں ، ظلم وزیادتی مسلط کی گئی ہو اورشریف لوگوں کا جینا دوبھر ہو وہاں قانون کے شکنجے سے ان کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ عوام کو احساس ہوجائے کہ حکمران مسیحا ہوتا ہے طاقتور قوتوں کا دلال نہیں ہوتا۔ جب سب سے بڑی سیاسی جماعت اور برسر اقتدار ن لیگ کا یہ حال ہو کہ ٹی وی کے ٹاک شوز سے لیکر پارلیمنٹ اور قطری خط تک جھوٹ ہی جھوٹ بولتے ہوں ، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کو بھی اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوں تو یہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی نہیں بلکہ بدترین قسم کی انارکی کا ماحول ہے۔ جمہوریت ایک آزاد ماحول میں آزادی سے رائے دہی کا نام ہے، یہاں تو گدھے کو بھی کھڑا کردیا جائے تو بھوکے بھوک مٹانے کیلئے پیسوں اور مفادات کیلئے بک جاتے ہیں۔
میڈیا ہاوس اور صحافی بھی کرایہ پر دستیاب ہیں۔سیاست خدمت نہیں ایک منافع بخش کاروبار ہے۔عوام بڑے عذاب میں مبتلا ء ہیں، لوگوں کی جان، مال اور عزتیں محفوظ نہیں ہیں اور سیاستدانوں کو اپنے کاروبار کی پڑی ہوئی ہے۔ جمہوریت سے عوام کو غلامی سے نکالا جاتاہے اور یہاں جمہوریت کے نام پر مافیا کا کردار ادا کرنے اور عوام کو غلام بنانیوالے جمہوریت کے چمپئین بنے ہوئے ہیں ۔ اب قوم کو بچانے کا وقت آگیا ہے۔

پولیس پر اعتماد کریں ریاست مارتی نہیں: چیف جسٹس ثاقب نثار

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar

نوشتہ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ عوام کو تمام ریاستی اداروں پر تہہ دل کیساتھ اعتماد کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاک فوج ، عدلیہ ، پولیس ، سول انتظامیہ کے علاوہ پارلیمنٹ سب ہی قابل احترام ہیں لیکن ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات۔ عوام ہی کی جان، مال اور عزت و آبرو ٹکے کی نہیں اور جب تک مخصوص مقاصد کی خاطر انکے حال پر رحم نہ کیا جائے تو ان کی فریاد عرش الٰہی کو سنائی دیتی ہے اور بس۔ محترم چیف جسٹس صاحب ! آپ ٹھیک فرماتے ہیں کہ راؤ انوار کو چھپانے والے بہت ہیں لیکن اگر ماڈل ٹاؤن پولیس کو استعمال کرنے والوں کی خبر لی جاتی تو ان چھپے ہوئے پھنے خانوں کو نکالنا بھی مشکل نہ ہوتا۔ لواحقین کو طفل تسلیاں مبارک ہوں۔ معروف صحافی مظہر عباس نے ایک پروگرام میں بتایا کہ ’’جنرل نصیر اللہ بابر کی قیادت میں ایک اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں ، ان کو پولیس مقابلے میں ماردیا جائے۔ اس اجلاس میں سول اور ملٹری کے تمام اداروں نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا لیکن آئی جی پولیس افضل شگری واحد انسان تھا جس نے اس سے اختلاف کیا جس کی وجہ سے ان کا تبادلہ بھی کردیا گیا۔ پھر راؤ انوار ، چوہدری اسلم اور دیگر دہشت والے تھانیداروں کی خدمات لی گئیں اور ماورائے عدالت خوب قتل و غارت گری ہوئی ۔ اس قتل و غارت میں ایک فوجی افسرکا نام آیا اور اسے پھر فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی اور پھانسی دے بھی دی‘‘۔
راؤ انوار نے ایم کیو ایم کے بعد طالبان دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں بھی زبردست اور اہم کردار ادا کیا۔ راؤ انوار جیسے بہادر پولیس افسر نہ ہوتے تو امن کی فضاء ہوتی ،نہ طالبان سے کراچی چھٹکارا پاتا۔ طالبان کیوجہ سے محسود قوم کیساتھ جو سلوک فوج نے روا رکھا اس پر محسود قوم بجا طور سے کوئی شکوہ نہیں کرتی ہے۔ پولیس نے دہشت گردوں کے علاوہ شریف لوگوں کو بھی بہت ستایا اور اللہ کرے کہ اب محسودوں کا گناہ معاف ہو ، آئندہ کسی اور طوفان سے گزرنا نہ پڑے۔ پٹھانوں نے طالبان اور بلوچوں نے قوم پرستوں ، مہاجروں نے ایم کیو ایم کی وجہ سے جو دکھ درد سہے ہیں اللہ نہ کرے کہ ہمارے پنجابی بھائی ان سے گزریں۔ قصور کے بے قصور بچوں اور بچیوں کیساتھ جو کچھ ہوا ، اس طرح توبلوچ قوم پرستوں ، ایم کیو ایم کے دہشتگردوں اور طالبان دہشتگردوں کے خواب و خیال میں بھی نہ گزرا ہوگا۔ یہ ریاست کا بہت بڑا احسان ہوگا کہ قرآن و سنت کیمطابق جبری جنسی تشدد کیخلاف پارلیمنٹ کھلے عام سنگساری کے احکام نافذ کردے۔ پارلیمنٹ قانون پاس کرے عدالت چند دنوں میں ان کیسوں کو نمٹائے اور حکومت اس پر عمل درآمد کرائے۔
عدالت عالیہ نے چاہا تو وقت گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف ان کیسوں میں بری کردیا جن میں عدالت نے سزا دی تھی۔ عدالت عالیہ نے چاہا تو حدیبیہ پیپر ملز کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہونے اور باقاعدہ فیصلہ نہ ہونے کے باوجود کیس کو دفن کردیا۔ عدالت عالیہ نے چاہا توپارلیمنٹ میں اثاثہ جات کے اقرار کے تحریری بیان اور قطری خط میں کھلا تضاد تھا تو بھی اپنا فیصلہ اقامہ پر سنایا۔ جس سے چیف جسٹس کے سابق مؤکل محترم نااہل نواز شریف کوسپریم کورٹ کے لارجر بنچ کو خوب تر صلواتیں سنانے کا موقع فراہم کیا۔ نقیب اللہ محسود بے گناہ تھا تو قرآن میں ایک بیگناہ کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں تو بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی کئی داستانیں ہیں جو کسی شمار و قطار میں نہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی نیت پر انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی شک نہیں مگر نصیر اللہ بابر ہی نے جمہوری دور میں طالبان پیدا کئے اور پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت عام شہریوں کو قتل کی اجازت دی۔ ہمارا مقصد تنقید برائے تنقید اور مخصوص لوگوں کی طرفداری نہیں لیکن قرآن و سنت کے احکامات سے ہمارے مردہ معاشرے میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے۔ قتل کے بدلے قتل اور زنا بالجبر پر سر عام سنگساری کی سزا جمہوری بنیادوں پربھی عالم انسانیت کیلئے قابل قبول ہوگی اور دنیا کے تمام کمزور لوگ اس کو سپورٹ کرینگے۔

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar-2

police-per-aitemad-karen-riasat-marti-nahi-chief-justice-saqib-nisar-3

عمران خان وزیر اعظم کا خواب پورا نہ کرسکا تو پنجاب کا صوفی بن سکتا ہے. محمد حنیف عباسی

imran-khan-wazir-e-azam-ka-khuwab-pura-na-kar-saka-to-panjab-ka-sufi-ban-sakta-hei-Haneef-Abbasi

پنجابی مسلمان : علامہ اقبال

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو توشرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
زیرو پوائنٹ کے کالم نگار معروف صحافی جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں عمران خان، بشریٰ مانیکا،اسکے سابق شوہر خاور مانیکاکے بارے میں کچھ حقائق لکھ دئیے ہیں۔ خاور مانیکا ایک بُری شہرت کا افسر لیکن روحانی شخصیت کا مالک بھی تھا،ماڈرن بشریٰ مانیکا پابند صوم وصلوٰۃ،روحانیت اور علم نجوم کی ماہر ہے۔1988ء میں بینظیربھٹو وزیراعظم بن گئیں،پھر تحریک عدمِ اعتماد میں چانگا مانگا کے اندر ن لیگ کی منڈی لگائی، پیپلزپارٹی کی بچت ہوئی اور خاور مانیکا کے والد غلام محمد مانیکا نے تحریکِ عدم اعتماد کے دوران مسلم لیگ کو چھوڑکر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ جاویدچوہدری نے لکھ دیاہے کہ غلام محمد مانیکا خاندان بہت عرصہ سے سیاست میں ہے اور پاکپتن کے شاہ فریدشکر گنج ؒ کے یہ مرید بھی ہیں۔ عمران خان انکا مرید ہے۔ اب عرصہ ہوایہ خاندان پی ٹی آئی میں ہے۔ عائشہ گلالئی کی آفت آئی تو بشریٰ مانیکا عمران خان بابا فریدؒ کے مزار پر لے گئی۔ بشریٰ نے خواب میں رسول اللہﷺ کے حکم پر سرور مانیکا سے خلع لے لیاجو اب بشریٰ وٹو بن چکی ہیں۔ شادی ہوچکی ہے یا ہونے والی ہے اس کا اعلان کسی ایسی گھڑی میں کیاجائیگا کہ جو علوم نجوم کے حوالہ سے مناسب بھی ہو۔
جاوید چوہدری نے لکھ دیا ہے کہ ’’پاکستان کیلئے جس خوشخبری کا ذکر ہے اس کا آغاز بھی آئندہ بشریٰ اور عمران خان کی شادی اور وزیراعظم بن جانے کے بعد ہوجائیگا‘‘۔پنجاب کی مٹی میں خاص طور سے پیری مریدی کا کھیل کامیاب رہتاہے ۔ ڈبل شاہ کی کامیابی بھی اس وجہ سے ممکن ہوسکی تھی۔ قائداعظم اور فاطمہ جناح پیری کی شکل میں آتے توپنجاب ان کی عقیدتوں، کرامات اور بڑی روحانی قوت کا معترف رہتا۔ جنرل ایوب خان کی طاقت بھی نہ ہوتی کہ وہ فاطمہ جناح کو پنجاب میں شکست دیتے۔ تحریک طالبان پوری قوم کیلئے امریکہ کیخلاف بہت بڑا سرمایہ تھا،امریکہ آج تک نیٹو کیساتھ مل کر بھی شدت پسندقوتوں کو شکست نہیں دے سکا لیکن پاک فوج نے دہشت گردوں پر قابو پالیاہے۔ مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف فوج کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے مگر ن لیگ کو لگادم دینے کیلئے پی ٹی آئی سے کام لیا جارہاہے۔ اگر بشریٰ کی روحانی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو پاک فوج کی سیاسی مداخلت کا رستہ بھی مکمل طور سے رُک جائیگا۔ جس طرح عمران خان روحانی بنیادوں پر اپنے مسائل کے حل کیلئے بشریٰ کے دروازے پر پہنچ گئے اسی طرح سے پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر میں مسائل کے شکار عوام اس آستانے پر سجدہ تعظیمی بجا لاسکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو جس کی روحانی قوت ، مشوروں اور سعادت کی گھڑیوں میں کامیابی کے راز بتانے سے وزیراعظم کے منصب پر فائز کیا ہو یا پھرسیاست سے کنارہ کشی کرکے صوفیت کی گدی پر بٹھادیا ہو تو اس کی کرامت پر کس کو یقین نہ آئیگا؟۔ اگر عمران خان شادی کرکے بھی وزیراعظم کے منصب پر نہ پہنچ سکے تو پھر آخری کھیل یہ ہوگا کہ سیاست کو حقارت کی ٹھوکر مار کر پنجاب میں آستانہ عالیہ سجادیں گے۔ جہاں لوگوں کے دینی ،روحانی،مالی،نفسانی اور ہر قسم کے مسائل حل کرنے کیلئے ٹھکانہ بن جائیگا۔بینظیر بھٹو اور وزیراعظم نوازشریف بھی تنکے والے ننگے بابا کے پاس عقیدت سے پہنچتے تھے اور جتنی تعداد میں ڈنڈیاں ماری جاتی تھیں اتنے اتنے سال حکومت کرنے کیلئے ملتے تھے۔جب ہندو اور مسلمان پنجاب کے پیروں کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو سکھ مذہب کے روحانی بانی بابا گرونانک نے ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ برصغیر پاک وہند راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار انگریز کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مضبوط تھا۔ اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے پاس ایک بہروپیہ آیا اور شاہی دربار میں بھرتی ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے کہا کہ پہلی شرط آزمائش ہے۔ بہروپیہ نے مختلف لبادے بدل بدل کر قسمت آزمائی کی لیکن بادشاہ ہر بار اس کو پہچان کر شرمندہ کردیتا تھا۔ آخر کار بادشاہ ایک مشکل مہم پر جارہاتھا،پتہ چلا کہ کوئی درویش عرصہ سے گوشہ نشین ہے، اورنگزیب بادشاہ نے بھی دعاکی غرض سے خدمت میں حاضری کا فیصلہ کیا، قریب جاکر پتہ چلا کہ درویش غنودگی کے عالم میں ہے جب تک ہوش میں نہ آئے بادشاہ بھی حاضری نہیں دے سکتا۔ اورنگزیب بادشاہ کی عقیدت میں اضافہ ہوا کہ واقعی کوئی بڑی بزرگ شخصیت ہے، اس ویرانے میں بادشاہ کی بھی پروا نہیں ہے۔ پھر جب پیرصاحب ہوش میں آگئے تو اورنگزیب بادشاہ نے اپنے ساتھ بڑا سرمایہ لیکر خدمت میں حاضر ہوا، درویش سے دست بستہ دعا کی درخواست کی اورنذرانہ بھی پیش کردیا، اس نے کہا کہ میں تمہاری دولت کو پائے حقارت سے ٹھوکر مارتا ہوں لیکن آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟، میں وہی بہروپیہ ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ آپ نے اپنے فن کا کمال ثابت کیا ہے اور اس رقم کو بطور انعام لے لو، مگر درویش نے کہا کہ میں تمہاری نوکری پر لعنت بھیجتا ہوں، جب درویشی کی نقل میں اتنی عزت ہے کہ میری داڑھی سے دھوکہ کھاکر میرے پاؤں کو بھی چھو رہے ہو، عاجزی ونکساری بھی کررہے ہو تو اصلی درویشی کیوں اختیار نہ کرلوں؟۔
اگر پنجاب کی عوام کو ن لیگ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا تو عمران خان درویشی کی راہ پر چل سکتے ہیں اور عمران خان کو حکومت دیدی گئی تو طالبان سے زیادہ یہ رنگ وروپ خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ انقلاب نہیں آسکتا جس کیلئے قوم کو اُمید ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر پر ضروری نوٹ: فاروق شیخ

dr-shahid-masood-ki-khabar-per-zaruri-note-Farooq-Shaikh

ڈاکٹر شاہد مسعود نے آرمی چیف ، چیف جسٹس اور دیگر ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ مجھے اپنے پاس بلالو ، میں انتہائی اہم خبر دے رہا ہوں کہ عمران علی کا تعلق عالمی گینگ سے ہے ، اس کے 37بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں لاکھوں ڈالر ، یورو اور پونڈز وغیرہ موجود ہیں۔ اگر خبر غلط ثابت ہو تو مجھے پھانسی دیدو ! کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جس قوم کو اُلو کے پٹھے نے اُلو بنانے کی کوشش کی تو یہ قوم کے ساتھ ہوتا رہتا ہے مگر ایسی خبر اپنے پیٹ میں چھپاکر رکھنے کا کیا جواز ہے۔ کیا خبر کو بھی چیونٹی کی طرح پر لگ جاتے ہیں اور برسات میں اڑنے سے مرنے کا اندیشہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں ضرور اپنی ڈگی میں چھپا کر مخصوص شخصیات کے ہاں پیش کرکے بحفاظت لیجانا ضروری تھا۔ خبر دینا ہو تو میڈیا میں اپنی پوری تفصیل کیساتھ عام کی جاتی ہے۔ کسی کو بلیک میل کرنا ہو تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ میں تمہاری خبر مخصوص افراد تک پہنچادوں گا، دعوے کرنیکی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف کی جھوٹی تقریر سمجھ میں آسکتی ہے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود کاافواہ چھوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔جیل میں ہیروئنی پیشی کے بعد دوبارہ داخل ہوتے ہیں تو بعض پاخانے کی جگہ میں ہیروئن رکھ کر جاتے ہیں۔ پولیس والے کہتے ہیں کہ ان کی ڈگی چیک کرو۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جس طرح کی سنسنی ایک خبر سے پھیلائی ہے اور اس کو جس انداز سے پیش کیا ہے ، کہیں آئندہ اس کو بھی چیک نہیں کیا جائے کہ کہیں خاص خبر تو لیکر نہیں جارہا۔ الیکٹرانک میڈیا میں جھوٹ تو دوسرے بھی بولتے ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود نے جھوٹ کیلئے جو انوکھا انداز اختیار کیا ہے اس پر تمام میڈیا چینلوں کو مل کر ایک خصوصی پروگرام کرنا چاہیے ۔ جو اس روش کو روکنے میں آئندہ مددگار ثابت ہو۔

عمران علی کے اکاؤنٹ کی خبر نکال رہا ہوں:‌ڈاکٹر شاہد مسعود

imran-ali-ke-account-ki-khabar-nikal-raha-hun-dr-shahid-masood

سائل :ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب !بیچ چوراہے یہ آپ کیا کررہے ہیں؟
ڈاکٹر شاہد مسعود کا نرالہ جواب: عمران علی کے اکاؤنٹ کی خبر نکال رہا ہوں
سائل: اگر تحقیق کرنا میرا کام ہو اور تلاش بسیار کے باوجود اس میں کوئی خبر نہیں مل سکی تو جناب کیا ہوگا؟
ڈاکٹر شاہد: میں اپنی خبر پر قائم ہوں ، مجھے اپنے پیٹ کے کیڑوں کی خبر ہے اگر آج نہیں ملی تو 6ماہ بعد سہی
سائل: آپ اپنے اس بدبودار خبر کے ذریعے سے صحافت کو بدنام کررہے ہیں ، جیو پر واویلا مچا ہوا ہے۔
ڈاکٹر شاہد: اسی گارڈ فادر سے تو میں نے یہ سیکھا ہے ، حامد سعید کاظمی کے اقرار جرم کی خبر اسی نے لگائی تھی
سائل: مہم جوئی کیلئے آپکے مزاج سے جیو ٹی وی چینل جوڑ کھارہا تھا تو بھاگ کر پی ٹی وی کیوں گئے؟
ڈاکٹر شاہد: بینظیر بھٹو پر کارساز دھماکے اور زرداری پر بینظیر کو قتل کرنے کا الزام لگایا تھا وہی کام آیا تھا۔
سائل: آپ نے من گھڑت خبر پھیلا کر سوشل میڈیا کے جھوٹوں کو بھی مات دی تو حاصل کیا ہوا؟
ڈاکٹر شاہد: میں ان سب کا امام بن گیا ، اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر قافلے ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔
سائل: آپکی عزت ، وقار ، توقیر ، احترام ، برد باری ۔۔۔شرم ، حیاء ۔۔۔ اعتماد ۔۔۔ پر کوئی اثر نہ پڑا؟
ڈاکٹر شاہد: نہیں نہیں میں اس جنگل میں منگل اور منگل میں جنگل تھا۔ پہلے سے کسی شمار و قطار میں نہ تھا ۔
سائل: اگر خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو آپ کو کیا سزا ملنی چاہئے؟ ۔ اپنے لئے خود ہی کوئی سزا تجویز کرلیجئے۔
ڈاکٹر شاہد: جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ پھانسی دیجئے گا مگر نواز شریف کو پارلیمنٹ کی غلط بیانی پر سزا ملی؟
سائل: ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب! معاف کیجئے گا ، آپ جیو ٹی وی چینل اور نواز شریف کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟
ڈاکٹر شاہد: تاکہ مجھے دوبارہ جیو میں ملازمت ملے یا پی ٹی وی کا چیئر مین بنادیا جائے ورنہ چھوڑونگا نہیں
سائل: آخری اور بے لاگ سوال یہ ہے کہ جناب آپ کی دُم کو کس نے قابو میں رکھ کر یہ خبر لیک کی ہے؟
ڈاکٹر شاہد: کوئی اتنا پاگل نہیں ، یہ میرے اپنے اندر کا کیڑا ہے اور کیڑوں کی بیماری کافی لوگوں کو ہے۔

سینٹ انتخابات کے بعد نااہل نواز شریف کو اسمبلیوں سے اہل قرار دیا جائیگا. اجمل ملک

sanet-intikhabat-ke-baad-na-ehal-nawaz-sharif-ko-assembly-se-ehal-qarar-dia-jae-ga-ajmal-malik

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے اپنا تجزیہ پیش کیا کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کون لڑ رہا ہے ؟ ۔ جیو رپورٹ کارڈ میں صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ ’’شہباز شریف کو ن لیگ نے وزیر اعظم بنا کر غلطی کی ، یہ اب ٹوڈی بن گئی ‘‘۔ مظہر عباس نے کہا کہ ’’مسلم لیگ میں وہ جینز نہیں جسکی آپ توقع رکھ رہے ہیں‘‘۔
جب حدیبیہ مل کافیصلہ ہوا اور عمران خان کو اہل، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا : ہم بابے ہیں ،ہمیں بُرا نہ کہو، ہم پر دباؤ ہوتا توپھر حدیبیہ مل کا فیصلہ تمہارے حق میں نہ کرتے۔ دوسرے جج نے اپنے ریمارکس میں یہ لکھا کہ ’’نواز شریف و عمران خان کے کیس میں فرق تھا‘‘۔ نوازشریف نے کہا کہ وہی ہوا،جس کی شکایت ہم کررہے تھے کہ صرف نوازشریف کو ہٹانے کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام ہورہا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ججوں کواپنی صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تجزیہ نگار مزاحمت کی سیاست کی توقع کررہے تھے لیکن شہبازشریف کو وزیراعظم نامزد کرنے ، سینٹ سے الیکشن کیلئے بل پاس اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی طرف سے جمہوریت کی حمایت پر فضاء بہت بدلنے پر اتفاق رائے نظر آرہی تھی لیکن ابھی بڑا کھیل باقی ہے۔ عمران خان کی سیاسی بصیرت اور تجربہ زیرو ہے۔ پہلے کہتا رہا کہ این آر او نہیں کرنے دینگے لیکن حدیبیہ پیپر ملز کا سپریم کورٹ میں کھل جانا ہی NRO تھا۔وہ بیوقوف خوشی منارہاتھا کہ اب شہباز شریف بھی جائیگا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے بہت اچھا کیا کہ نیب سے کہا کہ رجسٹرار نے غلطی سے مجھے اس بینچ میں شامل کیا، میں فیصلہ دے چکا ہوں۔ سپریم کورٹ کیس کھولتا توبھی یہ این آر اوتھا کیونکہ پانچ ججوں نے فیصلہ دیاتھا کہ نیب یہ کیس دوبارہ کھول دے۔ نیب لاہورہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے چکر لگاگر توہین عدالت کررہاتھا۔ نیب میں اتنی تپڑ ہوتی تو یہ کریمنل کیس سپریم کورٹ میں سننے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ ن لیگ کی قیادت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ نیب کو مردہ لاش قرار دینے والی سپریم کورٹ اب اسی کو تحقیقات کا حکم دے رہی ہے، لاش کیا تحقیق کرے گی؟۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے سماعت شروع کی تو عدالت نے حیران کن پابندی لگائی کہ ’’میڈیا میں یہ کیس زیرِ بحث نہ لایا جائے‘‘ پھر نیب سے کہا کہ مدت گزرگئی یہ کیس نہیں کھولا جاسکتاہے۔ اور اسکا قصہ ختم ہے، بار بار عدالتوں میں گھسیٹنا شریف برادران کیساتھ زیادتی ہے۔ شہازشریف نے اس کو ویلکم کیا اور عدل و انصاف کی جیت قرار دی۔ نوازشریف کومائنس ون ہی لگا۔ عمران خان نے کہا کہ اچھا ہوا،میرا مقابلہ وزیراعظم کے ایک مضبوط امیدوار شہبازشریف سے ہوگا مجھے کمزور کپتان کیساتھ کھیلنے میں مزا نہیںآتا۔ NROقبول نہ کرنیوالے عمران خان کو NRO میں مزہ آنے لگا ۔ دوسری طرف لگتایہ ہے کہ میاں نوازشریف کو باور کرایا گیا کہ ساری زندگی آپ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر گزاری، عدلیہ پر پریشر برقرار رکھو۔ فوج کے سپہ سالار اچھے آدمی ہیں۔ فوج کو برا بھلامت کہو، مارچ میں سینٹ کے انتخابات ہونگے تو سینٹ میں اکثریت ہوگی۔ پھر بل پاس کردینگے کہ عدالت کا نااہل پارٹی صدارت کی طرح قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبرز اور وزیراعظم ، وزراء اور وزیراعلیٰ کیلئے نااہل نہیں۔ بھارتی پھولن دیوی نے ڈکیٹی کی تاریخ رقم کر کے جیل سے الیکشن جیتا۔ آمروں نے اپنی بے ایمانی کو چھپانے کیلئے سیاستدانوں پر صادق وامین کی شرط لاگو کی اور عدالتوں سے جس کو چاہا نااہل اوراہل قرار دینے کی سازش کی راہ کھولی۔
جہانگیرترین اہل ہوگاتو عمران خان کوبے انتہا خوشی ہوگی کہ چمک والے لوگ آئے تو میرے ستاروں میں روشنی آ گئی۔ یہ لوگ عدالت سے نااہل ہونگے تو مکھیاں بھی نہ مار سکوں گا۔ پیپلزپارٹی اورباقی سیاسی جماعتیں ترمیم کیخلاف نہ جائیں گی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار افتخار چوہدری نہیں کہ خود کو بے نقاب کرکے کسی کھیل کا حصہ بنے۔ اسکے بعد جمہوریت کے خلاف سازش ہوئی تو تمام سیاسی کارکن جمہوریت کیلئے کھڑے ہونگے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اشارہ دیا کہ پارلیمنٹ اصلاحات کرے تو عدلیہ سیاست کے چکر میں نہیں پھنسے گی۔
کھیل یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں شہباز شریف اور مرکزی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جائے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں 14افراد کی ہلاکت کا مسئلہ اور ختم نبوت کا معاملہ اہم اہداف ہیں۔ زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ایک ایسے وقت میں ملاتات کی تھی جب ن لیگ کو ہٹانے کیلئے یہ اہم ذریعہ سمجھا جارہاتھا۔ زرداری کا یہ کہنا بڑا معنی خیز تھا کہ ’’پہلے تو ہماری کوشش ہوگی کہ یہ لوگ الیکشن کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہار مان جائیں‘‘۔ جسکا یہی مقصد ہوسکتا تھا کہ جو قوتیں ن لیگ کی حکومت کو گرانا چاہتی ہیں اب زرداری ان کیساتھ مل گئے ہیں۔ زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا کہ ’’اب حکومت کو میں گرا کر دکھاتا ہوں۔ کیسے گراتا ہوں ، یہ مجھ پر چھوڑ دو‘‘۔ سیاست نام دورنگی کا ہے۔ زرداری نے سوچا ہوگا کہ جو قوتیں ن لیگ کو گرانا چاہتی ہیں اگر انہوں نے گرانے کا فیصلہ کرلیا تو ن لیگ کی حکومت کو گرانے کاکریڈٹ اسی کو جائیگا، اوراگر حکومت کو گرانے کا پلان نہ رہا تو زرداری نے اپنے بیان کو سیاسی دغا بازی قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ میری سیاست کو سمجھنے کیلئے PHDکی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے ختم نبوت کے مسئلہ پر دھرنے والوں سے جو معاہدہ کیا گیا،اس میں سازش کرنیوالوں بے نقاب کرنے کا وعدہ تھا جس کی مدت پوری ہوگئی۔ اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے ایک طرف دھرنے کا الزام فوج پر لگادیاتو دوسری طرف یہ ریمارکس دئیے کہ انوشہ رحمان کو بچاکر وزیر قانون زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ حکومت کی طرف سے ن لیگ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاکہ ’’بہت ہوشیاری سے سازش کی گئی جس کو پکڑلیاگیا، اور یہ رپوٹ سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپرد کردی گئی‘‘۔ حکومت میں شامل مولانا فضل الرحمن نے میڈیا پر بتایاکہ ’’ ہم نے اس سازش کو ناکام بنایا، امریکہ کو سازش کرنے والوں نے اس کی کامیابی کی اطلاع بھی دی تھی‘‘۔ اس کیس کے اہم کردار سینٹرحافظ حمداللہ نے کہا کہ ’’ ہم خود کو بری الذمہ اسلئے نہیں سمجھتے کہ حکومت کا حصہ ہیں مگرحکومت کیساتھ اپوزیشن نے بھی آواز اٹھانے پر ختم نبوت کے مسئلہ پر میرا ساتھ نہیں دیا، راجہ ظفر الحق کے کہنے پر زاہد حامد ختم نبوت کے مسئلہ پر مجھ سے متفق ہوگئے‘‘ حکومت اور اپوزیشن نے جان بوجھ کر یا غفلت کا ارتکاب کیا؟، قومی اسمبلی میں شیخ رشید نے ختم نبوت کیلئے آواز اٹھائی جو تحریکِ انصاف اور پیپلزپارٹی کیلئے بالکل بھی توجہ کے قابل نہ تھی۔ جماعت اسلامی کے طارق اللہ نے ساتھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی اسلئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کو گھاس ڈالی گئی تو تحریک کا حصہ بنیں گی اور کہیں گی کہ تحریک نظام مصطفی میں قادیانی اصغر خان سے مل کر بابائے جمہوریت ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کو چلتا کردیا تو بابائے اسٹیبلشمنٹ نوازشریف کی حکومت کو چلتا کرنے میں کیا حرج ہے؟۔ مہروں کے علاوہ اور یہ کچھ کرنہیں سکتے ہیں۔

آزاد قبائل گلگت اٹک میانوالی کو پختونخواہ میں شامل کیا جائے. فاروق شیخ

azad-qabail-gilgit-atak-mianwali-ko-pakhtunkhwa-me-shamil-kia-jae-farooq-shaikh

نوشتۂ دیوار کے نمائندہ خصوصی فاروق شیخ نے کہا کہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے ،اب عوام تک گیلانی صاحب کا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست پہنچے گا۔ نوازشریف کیلئے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن بیربل اور ملادوپیازہ کا کردار ادا کرنے سے گریز کریں۔پنجاب کی بہت بڑی آبادی اور علاقے کے باوجود صرف 25سینٹروں کا حق اور پختونخواہ کے چھوٹے سے علاقہ اور معمولی تعداد کے لوگوں کیلئے بھی 25سینٹروں کا کوٹہ غلط بات ہے۔ قبائلی علاقوں کے علاوہ گلگت بلتستان، اٹک ، میانوالی اور بھکر تک کا علاقہ بھی خیبر پختونخواہ کا حصہ بنایا جائے۔ شمالی علاقہ جات کو الگ صوبہ بنایا گیا تو گلگت بلتستان کے لوگ ٹیکسوں پر احتجاج کررہے ہیں، پختونخواہ کا حصہ بنتے تو ٹھیک ہوتا۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ کرپشن میں مبتلا ء افراد صوبوں کے نام پر کھانچوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ آزاد قبائل پہلے سے تقریباً پختونخواہ کا حصہ ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ،پشاور اور سیٹل علاقوں میں کمشنری نظام کے تحت مرج ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا تعلق کمشنر اور صوبائی گورنر سے ہوتاہے۔ پاکستان کی آزادی کیلئے آزاد قبائل نے افغانستان کیلئے قربانیاں نہیں دی تھیں۔ پیرسوہاگہ اسلام آباد سے تھوڑی دور آگے پختونخواہ ہی شروع ہوتاہے۔ گلگت بلتستان بھی چترال کی طرح پختونخواہ ہی کا حصہ ہیں۔ اٹک ، میانوالی کو بھی پنجاب میں غلط طریقے سے شامل کیا گیاہے، یہ سارے علاقے انتظامی طور پر پختونخواہ ہی کا حصہ بنائے جائیں۔ جب کالاباغ ڈیم پختونخواہ کا حصہ بن جائیگا تو کم لوگ اسکے بنانے پر اعتراض کرنا بھی بند کردینگے۔
انتظامی اعتبار سے پنجاب کا حجم کم ہونے سے پنجاب پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ فائدہ ہی پہنچے گا۔ پاکستان کیخلاف سازش کرنے والوں کو پتہ چل جائیگا کہ قبائلی علاقوں میں شورش برپا کرنے کے ذریعے سے علیحدگی کے جو خواب دکھائے گئے وہ بالکل ملیامیٹ ہوگئے تو 100سال پہلے سازشی سوچ رکھنے والوں کو بھی سازش کرنے سے ہاتھ اٹھانے پڑیں گے۔ ہمارا یہ خطہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہے۔ پاکستان ایک ہی ملک ہے اور اس میں صوبائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے علاوہ جن سیاسی منافرتوں کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے ان کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر سے سستی بجلی کے علاوہ صاف شفاف پینے کا پانی اور ٹیوب ویلوں کے بغیر زرعی زمینوں کا پانی بھی میسر آئیگا۔ زیرزمین پانی کے ذخائر میں بھی بے حد اضافہ ہوگا۔ کراچی کو نہروں کے ذریعے سے پانی سے مالا مال کیا جاسکتاہے۔غریب آبادی کیا ڈیفینس میں بھی پانی نہیں ہے۔ وقتی مفادات کے بجائے قوم وملک اور ملت کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کو عالم اسلام و عالم انسانیت کیلئے عظیم تر بنانا ہوگا۔ برمی بنگالیوں کو فوری طور سے پاکستان کی شہریت دی جائے اور افغانستان کے حالات کو بہتر بنانے میں مدد کریں تاکہ افغانی زبردستی سے بد دل ہوکر نہیں اپنی خوشی سے اپنے ملک میں آباد ہوجائیں ۔ پاکستان کے تمام شہروں کو ازسرِ نوتعمیر کرنے کے جدید نقشے بنائیں جائیں، جس میں وسیع روڈ، گلیاں اور جدید سے جدید تر تمام انتظامات ہوسکیں۔ایک شخص ملک ریاض نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی نئی نئی دنیا آباد کر رکھی ہے تو ہماری ریاست اور حکومت میں اتنی طاقت کیوں نہیں؟۔ بس قیادت اور خلوص کا فقدان ہے۔

سندھ حکومت سے گزارش از محمد حنیف عباسی

riasat-awam-ki-maa-hoti-hei-riasat-k-moot-se-hum-preshan-hein-Haneef-Abbasi

ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے اور ماں کا احترام بہت ضروری ہے، آج کل کراچی کی سڑکوں پر جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں جس سے عوام کو بڑی اذیت ہے۔
محترم وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صاحب! آپ کی خدمات کا اعتراف ہے ، کراچی کی سڑکوں پر آپکی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ تعمیراتی کام ہوئے ہیں۔ جو قابل ستائش ہیں۔ وزیرستان کے ایک محسود عالمگیر خان نے گٹر کے ڈھکنوں پر سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی تصاویر بنا کر بہت توہین آمیز سلوک کیا تھا۔ میں اس کا قائل ہرگز نہیں ہوں مگرعوام کہہ رہی ہے کہ ریاست کی مُوت (پیشاب) سے ہم پریشان ہیں۔ خدارا مہربانی کرکے بلدیاتی اداروں کو فعال بنائیں تاکہ ریاست کی بے ادبی سے عوام کی زبانیں محفوظ رہیں۔ گستاخی معاف اور توجہ کرنے کا شکریہ۔

بیت المقدس کو یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کا مشترکہ مرکز بنایا جائے. فیروز چھیپا

baitul-muqaddas-ko-yahoodi-o-nasara-aur-muslims-ka-mushtarka-markaz-banaya-jae-Feroz-chhipa

نوشتۂ دیوار کے مالیاتی امور کے منتظم اعلیٰ محمد فیروز چھیپا نے اپنے بیان میں کہاہے کہ یہ موقع ہے کہ عالم اسلام اور عالم انسانیت اپنے اندر امن وسلامتی کی فضاء قائم کرے، امریکہ نے ایک طرف اسرائیل کی حمایت میں دنیا کا امن خطرے میں ڈالاہے تو دوسری طرف وہ افغانستان میں منشیات اور دہشتگردی کی فضاء قائم کرکے پاکستان ، ایران اور بھارت کو تباہ کرنے کے درپے ہے،اسلام کا نام لینے والا جہادی طبقہ افغانستان یا وزیرستان سے بیت المقدس تک امن مارچ کا علان کرے۔ مسجدِ اقصیٰ کو گرانے و ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ عتیق گیلانی کی تقایر ویڈیو کے ذریعے عام ہونگی تو دنیا کا نقشہ بدلے گا۔ جمعہ کو مسلمان،ہفتہ کو یہودی اور اتوار کو عیسائی ہی بیت المقدس میں عبادت کریں تو سب سازش ناکام ہوگی۔ فلسطین کی حمایت کرنیوالا طبقہ بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے کھول دے اور مسلمانوں کے امن مارچ کا حصہ بن جائے تو امن بحال ہوجائیگاجامع مسجد نور جوبلی میں بریلوی مکتبۂ فکر کے مولانا شفیع اکاڑوی ؒ خطیب وامام ہوتے تھے۔ حاجی محمد عثمانؒ کے بیان کی وجہ سے وہاں دیوبندی بریلوی اتحاد کی فضا تھی۔ پھر دونوں میں پھڈہ شروع ہوا، حکومت کی مداخلت سے اب دیوبندی جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں اور بریلوی جمعہ کے بعد صلواۃ وسلام پڑھتے ہیں۔ مولانا اکاڑوی گلزارِ حبیب سولجزبازار منتقل ہوگئے تھے جو دعوتِ اسلامی کا پہلا مرکز تھا، پھر فیضانِ مدینہ کے نام سے مرکز پرانی سبزی منڈی کراچی منتقل ہوا۔ پاکستان میں ایسی فضاء کی ضرورت ہے کہ عبادتگاہوں پر قبضے کرنے کی مہم جوئی ختم ہو، اور دنیا بھر میں بھی عبادتگاہوں کا تصور تجارتگاہوں و سیاسی مقاصد کیلئے نہ ہو۔ مساجد کو دوسرے مکاتبِ فکر والے رونق بخشنے کیلئے آزاد ہوں۔ قرآن وسنت اور شریعت وطریقت کے سلسلے آباد رہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی امریکہ کی طرح ایک اسٹیج سے عوام کو دعوتِ خطاب دینے کا اہتمام کیا جائے تو سیاست نکھر ے گی اور دین کو بھی تفرقوں سے پاک کرنے کی راہ ڈھونڈی جائے۔
مذہب اور جہاد کاروبار بن جائے تو دنیا میں کبھی امن نہیں آسکتاہے۔ بیت المقدس تمام انسانیت کیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان، یہود اور نصاریٰ اس میں عبادت کا آغاز کرینگے اور دنیا بھر سے لوگ زیارت کیلئے آئیں تومذہبی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔پھر دنیا بھر میں ریاستوں پر بیٹھے قصائی نما ظالم اور جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے بھی کھیل خود بخود نکلے گا۔ یہ کونسی بات ہے کہ اسرائیل نے اپنا پارلیمنٹ تل ابیب میں نہیں بیت المقدس میں بنایا ہے، امریکہ نے وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا ہے تو ایک دن ترکی بھی اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کردیگا۔ ترکی کو امریکہ سے پہلے اپنا سفارت خانہ وہاں اسلئے منتقل کرنا چاہیے تھا کہ فلسطینیوں کی مدد ہوسکتی تھی،وہ اسرائیل کو تسلیم کرچکا ہے تو فلسطین کی مددکیا صرف قراردادوں سے ہوسکتی ہے؟۔ جب ہم عیسائیوں کو اپنے ساتھ شریک کرینگے تو فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔ یورپ یونین، برطانیہ اور عیسائی دنیا کے پاس طاقت ہونے کے باوجود اپنے مرکز بیت المقدس کیلئے وہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر مسلمانوں کو استعمال کررہے ہیں مگر مسلمانوں کے پاس حکمت عملی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔