پوسٹ تلاش کریں

امریکہ و اسرائیل کیخلاف بھارت کی حمایت اور کلبھوشن کی فیملی سے ملاقات زبردست اقدام ہے. اشرف میمن

america-israel-ke-khilaf-india-ki-himayat-aur-kalbhoshan-ki-family-se-mulaqat-zabardast-iqdaam-hei-Ashraf-Memon

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہاہے کہ ایک طرف بھارت نے امریکہ واسرائیل کی مخالفت کرتے ہوئے کمال کردیا کہ ہماری قرارداد کی اقوام متحدہ میں حمایت کی تو دوسری طرف پاکستان نے جاسوس دہشتگرد کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے انسانی ہمدردی کے تحت ملاقات کرواکر مثالی کردار ادا کیا، ٹاؤٹ قسم کی میڈیا نے ان قدامات کووقعت نہیں دی بلکہ بے وقعت بنانے کی کوشش کی جو افسوفسناک ہے۔ انسانیت کی خیر خواہی، عالمی امن سے جڑی ہوئی ہے، علاقائی امن بھی بنیادی بات ہے۔ پاک بھارت تناؤ کم کرنے اور دشمنی کو دوستی میں بدلنے کیلئے ہمیں حدیبیہ پیپرملزنہیں صلح حدیبیہ جیسے معاہدوں کی ضرورت ہے۔ سیدعتیق گیلانی کے بیانات ویڈیو کے ذریعے سے تمام اسٹیک ہولڈر دیکھ سکتے ہیں جس میں قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کو امامت کے مقام پر فائز کرنے کی بھیفکر اجاگر ہوتی ہے۔ سازشوں میں گرفتار سیاسی قائدین کاقومی بیانیہ ہی درست نہیں ۔ ریاست پاکستان اور حکومت نے اچھا کیا کہ انسانی بنیاد پر کلبھوشن کووالدہ اور بیگم سے ملاقات کا موقع دیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ریاستوں کے اصولوں کے خلاف ہو، دنیا میں کہیں ایسانہ ہوتا ہو،اس کو اے آروائی کے سمیع ابراہیم و دیگر صحافی سازش کا نام دیں۔ کلبھوشن کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی و امریکی ایجنسی ایم آئی 6اور سی آئی اے ودیگر ممالک کے ایجنٹ کا نام دیں اور ملاقات کو دباؤ قبول کرنے کا نتیجہ قرار دیں لیکن پاکستان کو ایک دو نہیں100قدم آگے بڑھ کر اسلام کاروشن چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا۔ اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر کی نمائندگی سے پاکستان کو عالم انسانیت کی امامت کا شرف مل گیا ہے۔ دنیانے اس کی حمایت کی ہے، بھارت بھی اس میں شامل ہے۔ جس کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت تھی لیکن ہماری میڈیا نے اس کو اجاگر کرنے کا حق ادا نہیں کیا، یہ ہمارے قومی بیانیہ کا حصہ تھا مگر ہم چوک گئے۔ عتیق گیلانی نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے ضرورت تھی کہ اسکے بدلے میں کلبھوشن کو رہا کردیا جائے۔ یہ وہی عتیق گیلانی ہے کہ جس نے لکھاتھا کہ ’’کلبھوشن کو مارنے کی ہمت نہیں تو بھارت کے بارڈر پر باندھ دو،تاکہ روز روز سرحدات کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کا اپنا گولہ اسی کو لگ جائے۔
کلبھوشن ایک دہشت گردہے لیکن اگر ایک ہفتہ تک اس کی ملاقات کیلئے اسکی بیگم ،ماں اور بچوں کو پاکستان بلایا جائے تو اس سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں امامت کے قابل بن جائیگا اور دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی، ریاستوں میں تناؤ اور کھچاؤ کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا۔ بھارت میں کلبھوشن کا پورا خاندان بھی پاکستان کی بہترین سفارت کاری کریگا۔ پھر کلبھوشن کو پاکستان میں آزادانہ نقل وحمل کی اجازت دی جائے ، جلسے جلوس میں وہ پاکستان کی تعریف اور بھارت کی مذمت پر بھی مجبور نہ کیا جائے اور پھر اس کو ایران ، عرب امارات اور برطانیہ کا آزادانہ دورہ بھی کرایا جائے۔ پھر عالمی عدالت انصاف میں وہ اپنے جرم کا اعتراف کرے اور پاکستان اس کو معاف کردے۔ دنیا کوپیغام دیا جائے کہ دہشتگرد جاسوس کیساتھ بھی اسلام اچھے رویے کی اجازت دیتا ہے۔ دہشت گرد کے انسانی حقوق کو اسلام نے یہ تحفظ دیا ہے، دہشت گرد کی بیوی کے حقوق بھی بحال کرنا ایک اچھا اقدام ہے، دہشت گرد کی ماں اور بچوں سے اچھا سلوک روا رکھنے میں کوئی عیب نہیں بلکہ شرفِ انسانیت ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گردوں،قیدیوں اور جرائم پیشہ افراد کو اچھے سلوک کی بنیادپر راہِ راست پر لانا بہت آسان ہے۔ کلبھوشن سے یہ رویّہ اختیار کیا گیا تو دنیا بھر پر اسکے بہترین اثرات مرتب ہوں گے، اور پاکستان کی سلامتی کے علاوہ پورے خطے اور عالم انسانیت پر اسکے اچھے اثرات سے اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آئیگا۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے پاکستان کے شانہ بشانہ ہونگے اور دہشتگردوں کو ذہنی شکست کا زبردست سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کا شکریہ جس نے تھوڑی دیر کیلئے ہمیں جگادیا. ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف کا سینٹ میں خطاب

MQM-Leader-Sanator-Barrister-Saif-speech-in-Senate-on-Jerusalem-issue

اسلام آباد (انٹرنیٹ ویڈیو ریکارڑنگ) پاکستان کے ایوان بالا قانون سازسینٹ سے ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے چیئر مین سینٹ رضا ربانی کی اجازت سے جو خطاب کیا ، اس نے رضا ربانی ، ارکان سینٹ ، پوری پاکستانی قوم اور اُمت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سورہ بقرہ کی آیت کا حوالہ دیکر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُمت وسط کا کردار اُمت مسلمہ کو دیا ہے ، جسکی تفسیر میں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا انفرادی و قومی اپنا کردار ہوگا تو وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کا فریضہ ادا کرسکے گی۔ پہلے یہ کردار بنی اسرائیل کے پاس تھا، اب اُمت مسلمہ نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے ، میں جرأت کرکے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے تھوڑی دیر کیلئے ہمیں جگا دیا مگر ہم سوائے شور شرابہ کے کچھ نہیں کرسکتے، جذباتی تقریریں کرلیں گے لیکن یہ جوش و خروش کسی کام کا نہیں ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ پر لعن طعن کرنیکے بجائے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ڈینمارک ضلع پنڈی جتنا ملک ہے۔ کارٹون کے مسئلے پر ہم اس کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ فیض آباد چوک پر چند مولوی کا دھرنا ہم منتشر نہ کر سکے انکو پیسے بھی دئیے۔ تو امریکہ کا ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے؟۔ میرے پاس امریکہ کے دو سال کا ویزا ہے ، میں اس کو ختم نہیں کرسکتا تو اور کیا کرلوں گا؟۔ سینٹ میں جن لوگوں کے پاس امریکہ کے ویزے لگے ہوئے ہیں وہ ان کو پھاڑ کر ضائع کردیں پھر تقریر کریں۔ بندروں نے ڈگڈگی بجانے والوں کیخلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا تو کسی نے بتایا کہ تم ان کی ڈگڈگی پرناچنا پہلے بند کردو ، پھر انکے خلاف جو کچھ کہنا ہو کہو۔ صلاح الدین ایوبی کی تاریخ پڑھو ، مکہ مدینہ کے حکمرانوں اور عربوں نے انکی مدد اسلئے نہیں کی کہ وہ کرد تھا، پاکستان کے علاوہ سارے اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات کیلئے ترس رہے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے جو کچھ کہا نیٹ پر ان کی ویڈیو دیکھنے کے قابل ہے ضرور دیکھئے۔

خراسان قبائل سے بیت المقدس تک امن مارچ میں دنیا کی نجات ہے. عبد القدوس بلوچ

khurasan-qabail-se-bait-ul-muqaddas-tk-amn-march-mein-dunya-ki-nijaat-hei

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہاہے کہ سیاست تجارت نہیں حکمت کا نام ہے۔ دنیا میں پاکستان ،امریکہ، بھارت، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر بہت سے ممالک نے سیاست کو خدمت کے بجائے تجارت بنالیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے گماشتہ سیاستدانوں نے امن و امان کے بجائے دہشت گردی سے امن عالم کو خطرات سے دوچار کردیاہے۔ نیٹو کی فورس بالعموم، امریکی فوج بالخصوص ہیروئن کی تجارت کرتی ہے۔ دہشتگردی اس کاروبار کا صرف ماسک ہے۔ پاکستان کی پوری قوم کا المیہ تھا کہ اس مکروہ کاروبار کو سمجھ نہ سکی۔ تاہم پھر بھی پاکستانی ریاست اور عوام نے بھرپور انداز میں دہشتگردی کاخاتمہ کردیا۔پاکستان کو ملک خداداد بجا طور پر کہا جاتا ہے ۔ امریکہ کا مکروہ چہرہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ خراسان سے بیت المقدس تک احادیث صحیحہ میں اس لشکر کا ذکر ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی یہانتک کہ وہ بیت المقدس میں فتح کا جھنڈانصب کردینگے، امریکہ کو گلہ ہے کہ ڈبل گیم ہوا مگر ا الزام صرف پاکستان پر لگانا درست نہیں ۔ہم نے تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کردئیے ۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیا کررہے ہیں؟۔ روس کیخلاف جہادی امریکہ نے پالے اور پاکستان کو استعمال کیا، پھر امریکہ نے پاکستان سے لڑائے اور ختم کرائے اور کہا کہ’’ پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں‘‘۔ داتا کی نگری میں ہم ہیرہ منڈی بن گئے تھے تو لعن طعن بھی بجا تھی۔ اب پاکستان کی ریاست بدل گئی تو یہ ان کو برداشت نہیں۔ ہم اپنی غلطیوں کے سبب اپنا معاوضہ بھی نہیں مانگ سکتے۔ استعمال ہونے کا جو طے شدہ معاوضہ تھا وہ بھی نہیں مل رہاہے۔ چلو متعہ کے پیسے نہیں دینے تو مت دومگر دھمکیاں دینے اور سبق سکھانے کی باتیں مت کرو۔ اب کرنے کا کام کیا رہ گیاہے؟۔ اگر امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان میں ڈبل گیم کر رہی ہیں یا ناکام ہیں تو اس کا ذمہ دار پاکستان کیوں ہے؟۔ صرف اس سوال کا ہمیں بھی اور پوری دنیا کو جواب چاہیے۔ دہشتگردی کی آڑ میں ہیروئن کا مکروہ کاروبار ہورہاہے تو ذمہ دار کون ہے؟۔کیا امریکہ ،اس کی افواج اور تاجر گماشتے اس سے لاعلم ہیں؟۔دنیا بھر میں بدامنی کے پیچھے اسلحہ اور ہیروئن کا ناجائز کاروبار ہے۔
دنیا میں سب سے بڑی سپر طاقت امریکہ اور اس کا بغل بچہ اسرائیل ہے۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے پاکستان کے قبائل یا افغانستان سے ایک لشکر تشکیل دیا جائے، جس میں دنیا بھر سے ہر طرح کے لوگوں کی نمائندگی ہو۔ یہ لشکر دنیا میں امن کی خاطر ایک امن مارچ کرے۔ قرآن میں مجوس، یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کی حفاظت کا پیغام ہے۔ بیت المقدس پر دنیا تقسیم ہے۔ تمام جہادی طبقات قرآن کے مطابق بیت المقدس کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اس امن مارچ کا حصہ بنیں۔ بیت المقدس کا تقدس سب ہی کو عزیز ہے، خاص طور سے اہل کتاب مسلمانوں اور یہودونصاریٰ کیلئے اس کی اہمیت ہے۔ جمعہ کے دن مسلمانوں ہی کو عبادت کرنے دی جائے، ہفتہ کو یہود اور اتوار کو عیسائیوں کو موقع فراہم کیا جائے۔ جب دنیا کے تمام لوگوں کیلئے بیت المقدس کے حوالہ سے دلچسپی ہے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم ناکام ہے اور دنیا کو دہشت گردی کے خون آشام سے دوچار کردیا گیاہے تو اس مشکل سے نکلنے کیلئے دنیا نے کوئی امن مارچ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
اگر بیت المقدس کے شہر میں اسرائیل کی پارلیمنٹ ہے جس کو امریکہ نے اسرائیل کا داراخلافہ تسلیم کیا ہے اور اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تو پھر امریکہ کا ساتھ دینے والے گمنام ممالک بھی چوہدری بن سکتے ہیں جس طرح پہلے پاکستان و دیگر ممالک بن گئے تھے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما امیرمقام، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی طرح نئے نئے لوگ پرانی پارٹیوں پر قبضہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جس طرح پیپلز پارٹی تحریک انصاف ودیگر جماعتوں کے اصل کارکنوں ورہنماؤں کی جگہ نئے اور مفاد پرست لوگ لیتے رہے ہیں۔ خراسان سے ایک لشکر بیت المقدس تک تشکیل دیا جائے اور اس کے مقاصد بھی واضح ہوں۔ اقوام متحدہ، نیٹو، دنیا بھر کے ممالک اور جہادی قوتوں کی اعلانیہ حمایت اس کو حاصل ہو تو ابلیس لعین کہے گا کہ انسان آج میرے ہاتھوں سے پھسل گیا ہے۔ برہمن نے اچھوت کی قدر نہیں کی تو اسلام نے ان کوقبول کرکے اپنے اندر اعلیٰ مقام دیا، امریکہ کا بارک حسین اوبامہ کا انتخاب حضرت بلال حبشیؓ کی قدر دانی تھی۔

جب قرآن کو قرآن نہ مانا جائے تو اسلام کے خلاف اس سے بڑی سازش کیا ہوسکتی ہے؟

dars-e-nizami-me-hei-keh-quran-se-murad-quran-ke-nuskhe-nahi-yeh-nuqoosh-hein-jo-na-lafz-hein-na-maani-hukumat-or-riasat-notice-le

جمہوری نظام کا تعلق اقتدار سے ہے، آئین میں طے تھا کہ 15سال تک انگریزی چھوڑ کراردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائیگا اور تمام قوانین اسلام کے مطابق ہونگے۔ پارلیمنٹ کی اکثریت کو آج بھی انگریزی نہیں آتی مگر پھر بھی 44سال سے تمام سرکاری دستاویزات کو اردو میں نہ بدلا گیا اور نہ بدلنے کا کوئی پروگرام ہے۔ حافظ حمداللہ نے بتایا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی ساز ش ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت کوئی دوسری جماعت اس کیلئے کھڑی نہ تھی۔ جمعیت علماء اسلام نے خود بھی اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ عمران خان نے اقتدار کیلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین سے بھی ملاقات کی تھی اور پارلیمنٹ میں ان کیلئے وعدہ بھی کیا تھا۔ اس وعدے کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پارلیمنت میں اس ترمیم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی، شیرین مزاری و عمران خان نے بھی اس ترمیم کے علاوہ دوسری چیزوں پر اعتراضات اٹھائے۔ ان سب کے خیال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قادیانی تھے اور ان کی ناراضگی مول نہ لے سکتے تھے۔ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کے خلاف آواز اٹھ گئی مگر کسی کی کان پر جوں نہ رینگی، جب پاک فوج کے ترجمان نے یہ وضاحت کردی کہ ’’آرمی ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریگی‘‘ توحکومت نے یوٹرن لیامگر بات دھرنے تک جاپہنچی۔
میڈیا ،پاک فوج، سیاستدانوں اور علماء ومفتیان کی توجہ ہم اپنے اخبار اور کتابوں کے ذریعے سے مسلسل اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرتے رہے ہیں کہ اسلامی مدارس میں قرآن کی تعریف میں تحریف کا ارتکاب کیا گیاہے لیکن جس طرح ختم نبوت کی ترمیم کے مسئلہ پر جلاؤ گھیراؤ ہوا، اس طرح جلاؤ گھیراؤ سے پہلے مخلص شخصیات اور اداروں کواپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔ سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، تحریک طالبان اور مختلف دھڑوں کی افزائش کے بعداب تحریک لبیک یارسول اللہ نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ طالبان بریلوی مکتبۂ فکر والوں کو مشرک قرار دیکر قرآن کا حکم سمجھ کر قتل کرتے تھے، بریلوی دیوبندیوں کو گستاخ قرار دیکر ان کو قتل کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ کے قتل پر بریلوی مکتبۂ فکر نے خوشی میں میٹھائیاں بانٹیں تھیں۔
بریلوی دیوبندی کے علاوہ حنفی اہلحدیث کے نام پر بھی فرقہ وارانہ شدت موجود ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا عسکری ونگوں سے بھی گٹھ جوڑ ہے۔ تحریک طالبان مجھ پر بریلوی کا ٹائٹل لگارہی تھی اسلئے میرا گھر تباہ کیا گیا، اگرچہ جمعیت علماء اسلام ف و س اور ختم نبوت کی ضلعی قیادت اور ٹانک کے تمام دیوبندی علماء تحریری اور تقریری حمایت بھی کرتے تھے۔ مذہبی جنونیت علم نہیں جہالت کی وجہ سے ہی پروان چڑھتی ہے، علم کو عام کرنے کیلئے نصاب کو درست کرنا ضروری ہے۔ مدارس کی مقبولیت بھی اسی میں ہے۔
جب مدارس میں قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ کتاب وہ قرآن ہے جو مصاحف میں لکھاگیاہے مگر اس سے مراد کتابت کی شکل میں موجود قرآن نہیں ، یہ نقش ہے جو نہ الفاظ ہے اور نہ معنیٰ ہے۔ تو سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ انوکھی تعریف کہاں سے لائی گئی ہے۔ کتاب تو وہی ہوتی ہے جو کتابت کی صورت میں موجود ہو۔ کوئی ان پڑھ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے؟، بچہ اور بچی بھی سمجھ رکھتے ہیں کہ کتاب کیا ہے؟ اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔
کتاب کی یہ تعریف قرآن مجید سے نہیں بلکہ علم الکلام سے لی گئی ہے۔ علم الکلام وہ علم ہے جس کو گمراہی قرار دیکر امام ابوحنیفہ ؒ نے تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ فرمائی تھی۔ یہ کس قدر ڈھیٹ پن ہے جس میں آنکھ بینائی، کان سننے ، دماغ سوچنے اور دل سمجھنے سے محروم ہیں کہ یہی کہاجاہے کہ کتاب سے مراد قرآن المکتوب فی المصاحف ’’ جومصاحف میں لکھا گیاہے‘‘ ہے مگر قرآنی نسخوں میں لکھاگیا مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو محض نقوش ہیں۔ چناچہ فقہ کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف کا کفارہ دینا پڑیگا مگر قرآن کے مصحف پرہاتھ رکھنے سے حلف منعقدنہیں ہوتا کیونکہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ بات بھی ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتب میں لکھا گیاہے کہ سورۂ فاتحہ یا دیگر آیات کو علاج کیلئے بول یعنی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کتابوں ’’ تکملہ فتح الملہم ‘‘ اور ’’ فقہی مقالات‘‘ میں لکھ دیا تھا کہ’’ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں لکھاہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا تو سورۂ فاتحہ کو بھی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ میں نے کوشش کے باجود امام ابویوسفؒ کی کتابوں میں یقین کی شرط نہیں پائی‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے دعوتِ اسلامی کی مہم جوئی سے گھبرا کر روزنامہ اسلام اخبار میں مضمون لکھ کر اپنی کتابوں سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ مگرفتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان میں تاحال یہ عبارات موجود ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی شرح صحیح مسلم میں اتنا لکھاکہ ’’علامہ شامیؒ سے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ ان کے دل میں قرآن کا بڑا تقدس تھا‘‘۔ تو بریلوی مکتب کے علماء نے ہی علامہ سعیدیؒ کا گریبان پکڑا تھاکہ تم نے علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کیسے کردی۔
تحریک انصاف کے ایک مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کیس میں ریمانڈ پر ہیں تو دوسرے مفتی سعید خان نے بھی اپنی کتاب’’ ریزہ الماس‘‘ میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب لکھنا نہ صرف جائز قرار دینے کا دفاع کیا ہے بلکہ یہانتک لکھ دیا ہے کہ قرآن میں خنزیر کا گوشت بوقت ضرورت جائز ہے تو وہ جسم کا حصہ بھی بنتاہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ نہیں بنتاہے۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی ۔ مفتی سعید خان سے بالمشافہ علماء کی مخالفت بھی کی۔
قرآن میں ہے :الذین یکتبون الکتاب بایدیہم ’’جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب وہ ہے جو ہاتھ سے لکھی جاتی ہے۔ وقلم ومایسطرون ’’قسم قلم کی اور جو کچھ سطروں میں لکھاہے اس کی قسم ‘‘۔ اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں قرآن وسنت کیخلاف واضح مواد نے علماء ومفتیان کو گمراہی میں ڈال دیاہے۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے موجودہ دور میں مساجد کے علماء کو احادیث کی بنیاد پر بدترین مخلوق اور مدارس کے مفتیوں کو جاہل قرار دیاہے جبکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں علماء کے اٹھ جانے سے علم کے اٹھنے و جاہلوں کا رئیس بننے کی اس حدیث کو چار امام کے بعدہی تمام آنیوالے علماء پر فٹ کیاہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ٹھیک بات کہی ہے گو اسکا ارادہ باطل ہے۔ جیسے حضرت علیؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’ ان کی بات درست ہے مگر وہ اس ٹھیک بات سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔
اپنی کتابوں’’ ابررحمت ،تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوارحل‘‘ میں پیچیدہ مسائل کے آسان حل کی کوشش کی ہے جسکی تمام مکاتبِ فکر نے تائید بھی کردی ہے۔ بڑے بڑوں نے گدھوں کی طرح آنکھ بند کرکے سمجھ رکھاہے کہ مذہب کی تجارت چل رہی ہے مگر ڈریں اسوقت سے جب مکافات عمل شروع ہوگا اور پھر ہمارے بچانے سے بھی یہ سب بچ نہ پائیں گے۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جس علم الکلام کو گمراہی قرار دیا تھا وہ اصول فقہ میں قرآن کے خلاف سازش یا غلطی سے شامل ہواہے تو اس کو نصاب سے خارج کردینا چاہیے تھا، جس کی ہم نے بار بار زبردست طریقے سے نشاندہی کی۔ جب قرآن میں بسم اللہ کے وجود کو صحیح قرار دینے کے باوجود مشکوک کہا جائے تو قرآن پر ایمان باقی نہیں رہتا، جہری نمازوں میں جہر سے بسم اللہ پڑھنے پر امام شافعیؒ کو رافضی قرار دیاگیا اور منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا تو آج خطرہ ہے کہ جہری بسم اللہ پر خود کش نہ ہوجائے۔ افراتفری کی فضاء سے علماء اور حکمرانوں کو سخت نقصان پہنچے گا جو آرام سے کھا پی رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی اتنی مہربانی کریں کہ اپنی اپنی کتابوں میں حدیث کے ادھورے حوالہ کی عوام کے سامنے صرف وضاحت کردیں تاکہ گونگا شیطان یا علم چھپانے کی وعید سے بچ جائیں اور 12امام کادرست نقشہ بھی سب کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی اپنی کتاب ’’تصفیہ مابین شیعہ و سنی‘‘ میں لکھا کہ’’ بارہ امام آئندہ آئینگے‘‘۔ جس حدیث میں آخری امیر کو واضح کیا گیا ہے اسی میں قحطانی امیر سے قبل والے مہدی کی بھی وضاحت ہے۔ اجنبی کیلئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اس پر قرآن اپنی عظمت کے ساتھ روشن ہوگا‘‘۔ آج ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔

الطاف حسین نے مشکل میں ایم کیو ایم کو چھوڑا جبکہ فاروق ستار نے ہر دور میں‌مقابلہ کیا. ارشاد نقوی

dr-farooq-sattar-or-mqm-ne-surah-fatiha-ko-peshab-se-likhne-ke-khilaf-awaz-uthai-aaj-halala-ke-masle-per-bhi-hum-awaz-hun

نوشتہ دایوار کے خصوصی ایڈیٹر ارشاد نقوی نے مشترکہ پریس کانفرنس کو اہل کراچی کیلئے خوش آئند قرار دیکر کہا کہ نکاح ابھی ٹوٹا نہیں ۔ اس میں تضاد نہ تھا کہ اتحاد کا نام ایم کیو ایم نہ ہوگا اور ایم کیوایم کی شناخت قائم رہے گی۔ قائدین چہرے بدلیں تو شناخت چھوٹے گی، ایم کیوایم کی مصنوعات قائدین کے چہرے بدلنے کے بغیر ممکن نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی ایم کیوایم میں بھی ہمیشہ اپنی شناخت رہی ہے اور ایم کیوایم پاکستان اب سیاسی پارٹی بن گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سایہ میں ہی کوئی مافیا بن سکتاہے۔ جماعتِ اسلامی پر سایہ رہا تو کالج و یونیورسٹی میں جمعیت ایک مافیا تھی۔ طالبان یا جہادی و فرقہ وارانہ قائدین اسٹیبلشمنٹ کے بغیر مافیا نہیں بن سکتے تھے۔ ذوالفقارمرزا کی قیادت میں عذیربلوچ اور امن کمیٹی مافیا بن گئی لیکن عمران خان اسکے خلاف منہ نہیں کھول سکتا البتہ بندر کی طرح دم اٹھاسکتاہے۔ الطاف کی تعریف اسلئے نہیں کی جاسکتی کہ اسٹیبلشمنٹ کی چاکری کی لیکن مصطفی کمال جب تک پٹا نہ تھا الطاف بھائی پر جان نچھاور کرتاتھا، یہ بھی اسکا احسان ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کو پٹوادیا تھا تو یہ نیک بن گئے، اب ایک بننے میں بھی دیر نہ لگائیں اور کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں۔

عمران خان ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا گھمانے پر کہتا ہوگا کہ جمائما بھی ننگی گھومتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے

imran-khan-ne-larki-ko-nanga-ghumane-per-muzzamat-is-lie-nahi-ki-keh-wo-kehta-hoga-keh-jemima-bhi-nangi-ghoomti-hei-is-me-haraj-kia-hei-ashraf-memon

پبلشرماہنامہ نوشتۂ دیوارمحمد اشرف میمن سابق سینئر نائب صدر تحریک انصاف سندھ نے کہا کہ مغربی کلچر کے انسانی حقوق و اسلام سے عوام کو مغالطہ دیا جا تا ہے، عمران کے بچوں کی ماں پرجو گزرتی ہے، جسکی سزا اسکے بچے بھگت رہے ہیں۔ ہمیں نسلی کتیا کیلئے بھی یہ حقوق و آزادی نہیں چاہیے۔ مغرب میں زنا کی آزادی ہے، جمائما سے نکاح کے بچے نیازی مسلمان مشرقی باپ و گولڈ سمتھ یہودن مغربی ماں کے بچے عظیم رشتہ میں جڑگئے۔ نانا ،نانی ،ماموں، خالہ اور دادا، دادی، پھوپھی چچااور کزنوں کا رشتہ ختم نہیں ہوسکتا۔ سیتا وائٹ کی بچی زنا کی وجہ سے باپ کی شفقت، نان نفقہ، تعلیم وتربیت، موروثی جائیداد اور شناخت تک سے بھی محروم ہے ،دونوں کا فرق واضح ہے۔اگر جمائما کے بیٹے نے سیتاوائٹ کی بچی سے رشتہ یا جنسی تعلق رکھا تو مغرب میں پابندی نہیں مگراسلام ایک مضبوط، بااعتماد اور قابل فخر رشتہ سے اصلاح اور پائیدار امن کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ المیہ ہے کہ پختونخواہ میں پہلی مرتبہ کسی لڑکی کو ننگا گھمایا گیامگر سوشل میڈیا نے معاملہ اٹھایا۔ عمران خان تو کہتاہوگا کہ عورت کو ننگا گھمانے میں حرج کیا ہے؟ بچوں کی ماں جمائما بھی تو ننگی گھومتی ہے ۔

نواز شریف خود کو کھیرا سمجھ کر ڈھینچو ڈھینچو کررہا ہے. اجمل ملک

nawaz-sharif-khud-ko-kheera-samjh-kr-dhanchoon-dhanchoon-kr-raha-he-ajmal-malik

ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا: نوازشریف جنرل جیلانی وجنرل ضیاء کی پیداوار تھا جسٹس نسیم ، قیوم ،افتخار چوہدری کی عدالتوں کا دودھ پیا۔ مگر اب یہ گلہ ہے کہ عدلیہ فوج کے حکم سے دودھ نہیں پینے دیتی۔
ٰٓایک شخص بچہ تھا تو اغوا ہوا ، پھر 10سال کی عمر میں خرکار کے کیمپ میں پہنچا ، 40سال بعد خرکار کی قید سے آزاد ہوا، جب کافی عرصہ بعد اسکے دانت بڑھاپے سے گرگئے تو مذاق میں کسی نے کہا تو دانتوں کیلئے گرائپ واٹر اور نونہال خرید کر پی لینا، اس نے کئی بوتل خرید کر پی لئے اور پھر پتہ چلا کہ اسکے ساتھ ہاتھ ہوا ۔ جانور کا دودھ پیتابچہ کھیرا ہوتا ہے، پھر 2، 4، 6دانت اور بوڑھا ہوجاتاہے۔ نوازشریف کو کوئی سمجھادے کہ زرداری6 دانت کا ہوگا مگر تم بھی کھیرے نہیں ہو۔ تم پرانی یادیں تازہ کرکے سمجھتے ہو کہ عدلیہ گدھی ہے اور دودھ نہیں دیتی اور جنرل گدھا ہے اور دولتی مارتا ہے تو لگتا ہے کہ بڈھا ڈھینچو ڈھینچو کر رہاہے۔ فوج اور عدلیہ کا کوئی قصور ہے نہ ملی بھگت ، اگر پیار سے پکاروگے تب بھی یہی جواب ملے گا، بھٹو نے جنرل ایوب خان کو اس وقت ڈیڈی بنایا جب 2دانت کا تھا مگر4دانت کا ہوا توعوام کو قیادت فراہم کی۔محمد خان جونیجو کے وقت نواز شریف 2دانت کا تھا، ISIسے پیسہ لیکر IJI کی حکومت کی تو4دانت کا تھا، زرداری نے حکومت بنائی تو 6دانت کا تھا، اب صحافی نواز شریف کو نونہال و گرائپ واٹر پلاکر بتاتے ہیں کہ کھیرے ہو۔ وسعت اللہ خان اپنے ’’بات سے بات ‘‘ میں اس کو اپنے الفاظ میں بیان کردینگے تو خوب لگے گا۔ باقی اسٹبلیشمنٹ کی پیداوار جمہوری نہیں ہوسکتی۔

پاکستان میں فوج اور جمہوریت کی لڑائی. سید عتیق الرحمن گیلانی

pakistan-me-fauj-aur-jamhuriat-ki-larai

پاکستان میں فوج اور جمہوریت کی لڑائی

پاکستان کی فوج انبیاء اور جمہوریت کے علمبردار صحابہ نہیں ۔ جنرل ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ اورمارشل لاء سے موجودہ جمہوریت کی مارشل آرٹ نواز شریف کی ن لیگ نے جنم لیا ہے۔ اللہ نے انبیاء ؑ و صحابہ کرامؓ سے مخصوص واقعات اسلئے سرزد نہیں کرائے کہ لوگ ان کی توہین کرتے ہوئے ان کی ارواح مقدسہ کو اذیت پہنچائیں بلکہ اس امر تک رسائی مقصود تھی کہ آنیوالے لوگ قیامت تک فرعون کی طرح خدائی کے دعویدار بننے سے گریز کریں۔
جب روس نے افغانستان میں قدم جمائے تو بھارت روس کا ساتھی تھا اور پاکستان کی دوستی امریکہ سے تھی۔ روس کی مخالفت میں امریکہ، یورپ، ایران، چین اور دنیا کے بہت ممالک عرب یہاں تک کہ اسرائیل بھی اس صف میں شامل تھا۔ پھر طالبان کی حکومت تک امریکہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت شانہ بشانہ تھے۔ افغانوں کے محبوب رہنما ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کو ٹانگ کر کئی دنوں تک مسخ کرنے کی روش اپنا ئی گئی۔ امریکہ اور پاکستان کے گماشتہ طالبان رہنماؤں کے باقیات کو اس سنگین غلط اقدام پر معافی مانگ لینی چاہیے۔ بینظیر بھٹو کا قتل اور نوازشریف کی نااہلی سے بڑی بات ڈاکٹر نجیب اللہ سے زیادتی تھی۔ جسکا خمیازہ پاکستانی قوم ، طالبان اور ملا عمر کو گمنامی کی موت سے مل گیا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ دوسروں کو آسانی سے توپ مارنے والا آدمی اپنے چوتڑ میں ہلکا سا کانٹا چبھنا بھی برادشت نہیں کرتاہے۔ پاک رزق کو کھاکر ناپاکی بنانیوالی مشین انسان کو تکبرنہ کرنا چاہیے۔
اُسامہ کے بہانے امریکہ آیا تو القاعدہ قائدین پاکستان میں پکڑے اور مارے گئے۔ پاکستان نے صفایا کردیا اور افغانستان میں جہادیوں کی بھرمار ہے ۔گارڈ فادر ٹرمپ ایک بدمعاش ملک کا بدمعاش صدر ہے ۔ افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر بھی بدمعاشی جمانے کی بات کررہاہے۔ باکردار ، بزرگ اور بااصول چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے درست کہا ’’امریکہ پاکستان کو اپنا قبرستان بنانا چاہتا ہے تو ویلکم‘‘۔ مگر یہ کام لوٹاکریسی اور طبلہ بجاکر سیاستدان نہیں کرسکتے ۔ یہ اسلام اور پاکستان کیلئے جہاد کا جذبہ رکھنے والے مجاہد کرسکتے ہیں۔ فوج کو حکم دیا جائے تو افغانستان میں بیٹھی نیٹو اور بھارت کو تباہ کرسکتی ہے مگر پھر اپنی جان بچانا بھی مشکل ہوگا۔ کراچی کے دل پر راج کرنیوالا الطاف حسین بھی کھلے عام قوم پرست بلوچوں کی طرح پاکستان توڑنے کی بات کررہاہے اور نوازشریف بھی عدالتی حکم ، ریاستی رویہ اور 70سالہ کینسر کی بات کرتاہے۔ دلوں کو حقائق بدلتے ہیں۔گالی دینے والا الطاف بھائی دُم اٹھاکر فوج کو دعوت دیتا تھا اور اب وہی دُم اپنے اندر گھسادی۔
امریکہ اور بھارت کو کھلا پیغام دیا جائے کہ پاک فوج کے جذبات ابھارکر ان کو شدت پسندی اور انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنے کی سازشوں سے باز رہا جائے ورنہ خیر کسی کیلئے بھی نہیں ہوگی۔ جو کہتے ہیں کہ’’ پاکستان کا ایٹمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے‘‘ وہی سازش کررہے ہیں کہ پاک فوج کے جرنیلوں کو بھی انہی کے صفوں میں دھکیلا جائے۔ صحتمند صحافت بھارت اور امریکہ کے خلاف ’’جیو اورجینے دو‘‘ کی آواز بلندکرتی تو کافی حد تک عوام میں شعور آتا۔ اختلافِ رائے رحمت ہے مگر تعصبات ، جھوٹ اور غلط پروپیگنڈے سے بڑی لعنت کوئی نہیں ۔ جیو ٹی وی نے آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے پر معافی بھی مانگ لی اور سزا بھی بھگت لی۔ بول ٹی وی چینل پرانی یادوں سے پاک فوج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔اگر حامد میر پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ شائع کرکے بتادیا جاتا کہ اصل مجرم وہ تھے تو پھر بھی پروپیگنڈے کا کوئی فائدہ ہوتا۔ پرویزمشرف پر لال مسجد کے شہداء اور بینظیر بھٹو کا کیس عدلیہ میں چل رہاہے تو یہ فوج کی بدنامی نہیں ، پھر آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام کیوں ادارے اور فوج کی بدنامی تھی؟۔ امریکی سی آئی اے پر کس قسم کا الزام نہ لگا؟۔ خفیہ ایجنسیوں پر دنیا بھر میں الزام لگتے ہیں اور انکے سربراہ بھی الزامات کی زدمیں رہتے ہیں ۔
آرمی چیف جنرل باجوہ ٹھنڈے مزاج اور اچھے آدمی ہیں، ممکن ہے کہ اشفاق کیانی کی طرح ان کو بھی کرکٹ کا ٹک ٹک مصباح الحق کہا جائے۔ شاہد آفریدی کی طرح کیپٹن بعض اوقات ٹیم جتانے اور ہرانے میں اپنا کام دکھاتا ہے، کھیلوں کی طرح جنگوں اور لڑائی میں بھی مختلف مواقع پر مختلف طبیعتوں اور مزاج کے لوگ اپنی اپنی جگہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ کو ایک تھیلا کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا مگر یہ وہ تھیلا ہے جو دودھ بچانے کیلئے بکری کے تھنوں پر باندھا جاتا ہے۔حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر ریاستی لیلے ہیں۔ بکری سینگوں کو دشمن کیخلاف استعمال کرسکتی ہے، اپنے بچوں کے خلاف نہیں۔ڈان لیکس کی کہانی کو بہت غلط رنگ دیا گیا تھا ورنہ تو حقیقت یہ تھی کہ ’’فوج نے کہا کہ حکومت اپنے پالے ہوئے بچوں کو کاٹنا چاہتی ہے تو ہم رکاوٹ نہیں اور ہمیں حکم دے تو بھی اسکے پابند ہیں‘‘۔ حکومت کا یہی موقف ہوسکتا تھا کہ ’’تمہارے بچوں کو کاٹنے کا حکم ہم سے نہ لو ، ہم یہ حکم کیوں دیں؟۔ تمہارا کام ہے ، تم نے پالا اور تمہی ختم کرو، ہمارا نام لینے کی ضرورت نہیں ، یہ ہمارے ووٹر ہیں‘‘۔
پاکستان کی سرحدوں پر دشمن کے کانٹوں کی یلغار ہے اور جنرل باجوہ بہت کچھ سہنے کی صلاحیت رکھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ قوم کی دعائیں، جذبات اور جان ومال کی قربانیاں ساتھ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مشکل اوقات میں تمام اندورنی و بیرونی دشمنوں کا راستہ روکنے کی سب کو توفیق عطا فرمائے۔نوازشریف کیساتھ عدلیہ، فوج اور میڈیا کی روش بہت اچھی ہے۔ سب کھلا سچ بولنا شروع کردیں تو عوام کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اگر پاکستان میں فوج کی حیثیت نہیں رہی تو افراتفری کی فضاء میں پاکستان کے تھنوں سے دودھ رسنا بند ہوجائیگا۔ عدالتی نظام کو درست کرنے کی واقعی ضرورت ہے لیکن دھمکی اور بدمعاشی سے نہیں شرافت ، سیاست، حکمت اور قانونی طریقے سے نظام کو ٹھیک کرناہوگا۔
سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود نوازشریف کی نااہلی پر جماعت کی سربراہی کا راستہ ہموار ہوا، جب سینٹ میں مارچ کو اکثریت حاصل ہوگی تو قانون ساز ادارہ مزید قوانین پاس کریگا اور 2018ء کے الیکشن پر بھاری خرچہ کرکے 2 تہائی اکثریت حاصل کی گئی تو یہ قانون بھی بن سکتا ہے کہ ن لیگ اور نوازشریف کیلئے نااہلی کی سند جاری کرنے والے جج نااہل ہونگے۔ کرپٹ لیڈر اور صاحبزادی کی خواہشات قانون بنتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ اپنی پاکٹ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اپوزیشن لیڈر بن کر عبوری حکومت نہ بننے دی جائے اور اگر اپوزشن لیڈر کا عہدہ نہ ملا تو جلسے جلوس اور دھرنے سے اسوقت تک انتخابات کا راستہ روکا جائے جب تک اسٹیبلشمنٹ کی ڈوریں ہلتی رہیں۔ گدھ منتظر تھا کہ گدھا مرے تو کھائے، گدھے کی سانس نکلتی تھی نہ گدھ کی لالچ ختم ہورہی تھی۔عوام کیلئے ایک طرح کی سیاسی پارٹیوں میں دلچسپی لینے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔
اگر نوازشریف کو ’’مجھے کیوں نکالا ؟‘‘۔ کا جواب ملے کہ قیادت قوم کی ماں ہے مگرتم ضیاء الحق کی داشتہ رہی اورمحمد خان جونیجو جائز منکوحہ کیخلاف سازش میں حصہ لیا۔ ضیاء الحق کی موت پر بھٹو کو انگریز وں کے کتے نہلانے والا قرار دینے پر تعلق جائزنہیں بن سکتا تھا۔ بینظیر بھٹو نے جائزالیکشن جیت لیاتو پاکستان کو میزائل سے مالامال کرنیوالی محترمہ کیخلاف سازشوں میں شریک تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق جائز نہیں بن سکتا تھا۔سلمان اکرم راجا وکیل ہے، نکاح خواں نہیں۔جس نے اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے پیسہ لینے کا الزام تم پر عدالت میں ثابت کردیا۔ لندن فلیٹوں پر پارلیمنٹ سے تحریری خطاب میں اعتراف کرلیا اسکے بعد ’’میاں مٹھو‘‘ کے وکیل فیس کھری کرسکتے تھے لیکن عدالت میں جھوٹا ہونے سے نہیں بچاسکتے اور نہ قوم اور دنیاکے سامنے کالے کوٹ سرخرو کرسکتے ہیں۔
نوازشریف نے جس طرح احتساب عدالت میں اسلحہ کی بھرمار کے رعب ودبدبہ میں پیشی بھگتادی۔ کیا آصف زرداری، محمود خان اچکزئی ، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن اور دیگر لیڈروں کیلئے اس کی گنجائش ہے؟۔ آرمی چیف جنرل باجوہ اور فوج کے کور کمانڈروں کو اس معاملہ پر ریاست کی پاسداری کیلئے سامنے آنا چاہیے تھا۔ اس سے تمام قانون شکن ، ریاست بیزار اور ملک توڑنے والوں ہی کی بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ الطاف حسین نوازشریف اور مریم نواز کونذرانۂ عقیدت پیش کررہاہے۔ اور ٹھیک کررہاہے کہ ایک طرف الطاف حسین کی تصویر وتقریر کیلئے پابندی ہے تو دوسری طرف نوازشریف کو کھلے عام ملک توڑنے کی دھمکی اور عدالتی قوانین کی دھجیاں اُڑانے کی اجازت ہے۔ بلاول بھٹوزرداری کھدڑے کیطرح ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘ کا نعرہ صرف اسلئے لگاتا تھا کہ آصف علی زرداری کی طرف سے اینٹ سے اینٹ بجانے کی تقریر کا تدارک ہوجائے ۔
عمران نے طالبان کو خوش کرنے کیلئے 7محرم کو ریحام خان سے خفیہ نکاح کیا تھا ۔اب بریلوی اور شیعہ کو خوش کرنے بابوں کے مزارات پر چادریں چڑھا رہاہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا ورد کرنیوالے اب درود پڑھ رہے ہیں۔عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی منکوحہ ہے، گرل فرینڈ ہے، داشتہ ہے، چہیتی ہے ، لاڈلی ہے یا متعہ کررکھاہے؟۔ ضرب عضب آپریشن دہشتگردوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی تھا اور عمران خان اس دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکی دے رہاتھا۔ پختون خوا میں پولیس نہیں ٹوٹل اختیارات فوج کے پاس ہیں۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑنے پر فوجی افسروں کیخلاف تادیبی کاروائی بھی ہوئی؟ اور جب کہیں دھماکہ ، دہشت گردی اور مسلح نقل و حمل ہو تو اسکی ذمہ داری ایجنسیوں پر کیوں نہیں ڈالی جاتی ؟۔ چوہدری نثار نے کہا: ’’واہ کینٹ میں خود کش جیکٹ کیسے پہنچے ؟ میں ذمہ دار پوسٹ پر نہ ہوتا تو سازشوں کا بھانڈہ پھوڑ دیتا‘‘۔ اب چوہدری صاحب وزیرداخلہ نہ رہے تو فوج اور حکومت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے کچھ تو بولیں۔ منافقانہ ریاستی نظام اور منافق سیاستدانوں سے شعور کی بنیاد پر جان چھڑانی ہوگی۔

خانہ کعبہ بیت اللہ کی تعمیر، ہجرت اور صلح حدیبیہ کا معاملہ

khana-e-kaba-bait-ullah-ki-tameer-hijrat-aur-sulah-hudaibiya-ka-mammlah

سنی شیعہ علماء اپنے اپنے مسلکوں کو کاروبار بنانے کے بجائے راہِ حق کیلئے میدان میں کام کریں تو ملت اسلامیہ کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ صحیح بخاری کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین قرار دینے والے شیعہ کی طرح ائمہ اہلبیت کیساتھ علیہ السلام بھی پڑھا کریں یا واضح کریں کہ وہ بخاری میں غلط لکھ دیا گیاہے۔ منافقانہ رویہ کو چھوڑنے کیلئے کھلی کھلی باتیں کرنا ہوں گی۔
درسِ نظامی میں بسم اللہ کو مشکوک بتایاجاتا ہے جس کی وجہ سے قرآن کے بلاشبہ ہونے کا عقیدہ نہیں رہتا۔ مساجد میں بنی امیہ کے دور سے پابندی لگائی گئی تھی کہ جہری قرأت میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔ امام ابوحنیفہؒ کو تشدد کا نشانہ بناکر جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا ، انکے شاگرد ابویوسف قاضی القضاۃ چیف جسٹس اور شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے۔ ایسا تو موجودہ دور کے لوٹے سیاستدان وزیرکریں تو بھی شرمندہ ہوں۔ مساجد میں جہری نمازمیں جہری بسم اللہ سے انقلاب کا آغاز ہوگا تو مذہبی طبقے کے بند ذہنوں کی بندشریانے کھل جائینگی، آغاز اچھا ہو تو انجام بھی بہترین ہوگا۔
بنوامیہ کے بعد بنوعباس کاامارت پر قبضہ ہوگیا اور نبیﷺ سے نسبت قریب ہونے کا دعویٰ کرنے کیلئے ابوطالبؓ سے متعلق کفر پر مرنے کی روایت گھڑ ی۔ تاتاری بغداد کو تار تار کرگئے تو اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اقتدار قائم رہے۔ حرم سراؤں میں خوبصورت ترین لڑکیوں کو قیدرکھنے والے سلاطین اچھے تھے؟۔ انہیں لونڈیوں کی پیداوار بادشاہوں کی اولاد ہونے کے ناطے پھر تختِ خلافت پر بیٹھتے تھے۔ جنکے درباری ملا کے ہاتھوں میں اہل حق کی گردن زدنی کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ تیز رفتار مواصلاتی نظام، کمپیوٹر اور چھپائی کے موقع نہ ہوتے اور اللہ کی حفاظت کا معاملہ نہ ہوتا تو ہم بھی کربلا کے شہیدوں میں شمار ہوتے۔ پشاور میں عمران خان کی جمہوری حکومت نے سول سوسائٹی آرمی پبلک سکول کے شہداء پر جلوس بھی نکلنے نہیں دیا تھا۔
یزید کے بیٹے معاویہ میں اتنی غیرت تھی کہ تخت خلافت سے 40 دنوں میں الگ ہوا کہ ظالمانہ نظام کا میں حصہ نہیں بنوں گا۔ ہمارا یہ حال ہے کہ یزید وابوجہل کو برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ابوجہل کے بیٹے مخلص صحابیؓ بن گئے ۔ ہماری قیادتوں کے خمیر اس سے بھی عاری ہیں۔ رئیس المنافقین ابن ابی کے بیٹے بھی مخلص صحابہؓ تھے۔ ہم نے جاہلانہ عصبیتوں کو اسلام ، جہاد اور فرقوں کا رنگ دیدیا ہے۔
امیر حمزہؓو علیؓ جیسے شیر، فاروق اعظمؓ جیسے دلیراورابوبکرؓو عثمانؓ جیسے اہل خیر موجود تھے جو ابولہب وابوجہل کی طبیعت صاف کردیتے مگر اللہ نے مسلمانوں کو دہشتگردی کی راہ پر نہیں لگانا تھا۔ مدینہ ہجرت کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا، حضرت ابوجندلؓ نے زنجیریں توڑ ڈالی تھیں ، نبیﷺ نے معاہدے کے مطابق واپس کردیا۔خواتین بھاگ آئیں تو نبیﷺ نے ان کو حوالہ کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ یہ اللہ کی چاہت بھی تھی فرمایا کہ ’’ خواتین سابقہ مشرک شوہروں کو نہ لوٹائی جائیں یہ ان کیلئے حلال نہیں اور وہ بھی ان کیلئے حلال نہیں‘‘۔ حضرت علیؓ نے سمجھاکہ ’’ شرعی حلال مرادہے‘‘ اور حد سے تجاوز کرکے فتح مکہ کے بعد مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا۔ نبیﷺ نے اس کو امان دیدی۔ علماء کرام ومفتیان عظام نے حلالہ کی نوعیت پر بہت بڑا مغالطہ کھایا ، لوگوں کے گھر تباہ ہوئے، عصمتیں لٹ رہی ہیں اور اس سلسلے میں بعض فقہاء نے حلالہ کی لعنت کو کارِ ثواب قرار دیکر بہت غلط کیاہے۔ علماء کو چاہیے کہ رجوع کریں۔مجاہد قائدین کہہ دیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے ہمیں قید کرلیجئے گا۔
ہم نے چند مرتبہ وضاحت کی کہ ’’بخاری کی روایت میں قریش خواتین کو دنیا کی دیگر خواتین پراُ ونٹ کی سواری کی وجہ سے فضیلت دینے کا ذکر ہے اور سعودیہ میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی غلط ہے‘‘، اب سعودیہ نے پابندی اٹھادی توبہت اچھا ہوا اور اصلاح کا طریقہ یہ نہ تھا کہ دہشت گرد اپنی خواتین کو حکومتی احکام کی خلاف ورزی پر مجبور کرتے۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کیلئے مکہ میں تیر اٹھانے کی اجازت بھی نہ تھی۔ اسلام نے ہی دنیا کوریاست کے آداب سکھادئیے تھے مگر ہم اسلام بھی بھول گئے اور قرآن وسنت کا سلیقہ بھی یاد نہیں رہاہے۔ آج حرمین شریفین میں صلح حدیبیہ کے مقابلہ میں زیادہ پابندی ہے۔

قبلہ اول بیت المقدس مسجد اقصی پر یہودی قبضے کا معاملہ

qibla-e-awwal-bait-ul-muqaddas-masjid-e-aqsa-per-yahoodi-qabze-ka-maamlah

حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ بنی اسرائیل کا تعلق حضرت اسحاق ؑ سے ہے ، بیت المقدس ان ہی کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل ؑ نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کیلئے خانہ کعبہ بنایا تھا۔ جب غارِ حراء میں وحی نازل ہوئی اور مشکلات بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ہجرت کیلئے باقاعدہ دعا سکھائی اور بعثت کے اس مرکز سے ہجرت کرنے کا حکم دیدیا۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد شروع میں مسلمانوں نے اہل کتاب کی پیروی میں بیت المقدس کو قبلہ بنایا۔ جب نبیﷺ کی خواہش پر اللہ نے کعبہ کو قبلہ بنالیاتو بیوقوف لوگوں نے اعتراضات اٹھادئیے کہ کس چیز نے ان کو قبلہ بدلنے پر مجبور کیا؟۔ یہ تفصیل دوسرے پارہ کے شروع میں ہے۔
جب بیت المقدس ہمارا قبلہ نہیں تھا، تب بھی ہمارے قبضہ میں نہیں تھا۔ مسلمانوں نے اپنا رخ پھیر لیا تو اس پر قبضہ کرنا بھی غلط تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کہا جاتاہے کہ حضرت عمرؓ کو چابیوں کے مالک نے خود چابیاں پیش کردیں اور ان کی کتابوں میں موجود 17 پیوند والے کپڑے اور غلام کی سواری تھامنے والے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظمؓ ان نشانیوں پر پورے اُترے تھے۔ ایسی صورت اگر محمود غزنوی کیلئے بھی سومنات کا مندر فتح کرتے وقت سامنے آتی تو بھارت کے ہندو بھی اس پر اعتراض نہ کرتے۔ حدیث میں بیت المقد س فتح ہونے کی بشارت میں مزاحمت نہ ہونے کی پیشگوئی موجود ہے۔ فتح مکہ کے وقت جب کعبہ فتح ہوا تو بھی مشرکینِ مکہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اور اگر وہ معاہدہ نہ توڑتے تو 10سال تک یہ گارنٹی موجود تھی کہ کعبہ بتوں سے بھرا ہوتا اور مسلمان نیام میں تلوار رکھنے کے علاوہ کوئی بھی ہتھیار ساتھ نہ لاتے۔ نبیﷺ نے زندگی بھر کیلئے یہ معاہدہ کیا تھا کیونکہ 6ہجری میں صلح ہوئی اور 10ہجری میں آپﷺ کا وصال ہوا،حضرت ابوبکرؓ کا پورا دور، حضرت عمرؓ کا آدھا دورِ خلافت بھی اسی میں آجاتا۔ مگر دشمنوں کی زیادتی تھی کہ پہلے ہجرت پر مجبور کیا اور پھر وہ معاہدہ بھی خود ہی توڑنے میں پہل کردی تھی۔
اسلام وہ دین ہے جس نے دین میں بھی زبردستی کی تعلیم نہیں دی اور نظام میں بھی جبر کا سبق نہیں سکھایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دین کی دعوت نرمی سے دی ، نظام کیلئے بھی خود کش حملے نہیں کئے بلکہ ایک مرتبہ غلطی سے کوئی شخص قتل ہوا تو دوسری جگہ چلے گئے اور جب فرعون کو حق کی دعوت دیکر حجت تمام کردی ، تب بھی اپنے لشکر کو لیکر فرعون سے نجات حاصل کرنے کیلئے دریا عبور کیا۔ فرعون کو اللہ نے خود ہی اسکے لشکر سمیت غرق کردیا۔
اسلام دینِ فطرت ہے اور اس کی فطری شکل معاشرے میں بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ یزید نے ایک طرف قسطنطنیہ فتح کیا اور دوسری طرف کربلا میں امام حسینؓ کو ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کا عقیدہ ہے کہ یزید صحابی نہ ہونے کے باوجود بھی رضی اللہ عنہ کا حقدار اسلئے ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح پر حدیث میں جنت کی بشارت ہے۔ مفتی سید عدنان کاکا خیل نے بجافرمایا کہ مجھے اس طبقے کا علم نہیں۔ شاہ بلیغ الدین اور انکے علماء ومفتیان ساتھی ، محمود عباسی کے ساتھی علماء و مفتیان اور وفاق المدارس کی ا نتظامہ چلانے والوں میں بہت معتبر ہستیاں تقیہ کی پوزیشن پر فائز تھیں۔ دوسری طرف غلو کے مرتکب شیعہ واقعہ ایسا پیش کرتے ہیں،لگتاہے کہ اثناعشری امام حسین ؑ سے پہلے 2 اور بعد میں آنیوالے9 اماموں پر بھی طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ یہ رویہ ان کومحرم کے10دنوں تک محدود کردیتاہے۔
بکھرے تاریخی صفحات میںیزید و حسینؓ کی کئی داستانیں بھری پڑی ہیں، بنی اسرائیل نے مشکل سے گائے ذبح کی، تو ہندوؤں نے مقدس کی پرستش شروع کردی اور گائے کی وجہ سے خود کو گاؤ ماتا کے نام پر بھگوانوں تک محدود کرلیا۔ بدر کی فتح پر مشاورت کے بعد نبیﷺ و صحابہؓ کو اللہ نے وحی بھیج کر رلادیا تھا تو محرم کا غم صرف شیعہ نہیں سنی بھی ملکر منائیں تو مجھے بڑی خوشی ہوگی اور خون بہانے سے مزاحمت، جہاد، دنیا کے سامنے خانہ کعبہ میں رمل کی طرح ایک طاقت کا اظہار ہوگا اور خون بہانے سے سنگینی کی سنت عمل ہوگا، حلوہ کھاناسنت نہیں۔ بخاری میں بھی اہلبیت کیساتھ علیہ السلام ہے، زندوں و قبروں پر السلام علیکم، ’’ و علیہ السلام‘‘ اور نماز میں ’’السلام علیک ایھاالنبی، السلام علینا وعلی عبادللہ ‘‘ ہے نا؟۔