پوسٹ تلاش کریں

پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔

پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔ جب امریکہ نے مسلم ممالک افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام وغیرہ پر حملہ کرنے کی ابتداء کی تو بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؂ نادان گرگیا سجدے میں جب وقت قیام آیا۔ اسلام شاعرانہ جذبے کانام نہیں ، لیلۃ القدر کی رات میں پیدا ہونے والے مغربی پاکستان کانقشہ ایسا ہے جیسے سجدہ کی حالت میں ہو،گوادر اس کا سر ہے ، کراچی شہ رگ ہے ، سندھ بایاں بازو،جگر اور دل ہے، بلوچستان دایاں بازو اور جگر ہے ، پختونخواہ دائیں پسلیاں ہیں ، پنجاب پیٹ ہے اورمقبوضہ کشمیر و آزاد کشمیر گلگت و بلتستان پاؤں و چوتڑہیں۔ بائیں ٹانگ وچوتڑ پر بھارت کا قبضہ ہے جسکی آزادی تک کوئی غیرتمند پاکستانی چین و سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔گوادر کے راستہ سے منہ کی طرح غذا آئیگی اور آنتوں سے ہوتی ہوئی چین پہنچے گی تو جسم توانا بن جائیگا۔ کھلے دل سے پالیسی تشکیل دیں تاکہ غیرتمند بلوچ کے دماغ سے بغاوت کا جذبہ نکلے، کرپٹ لوگوں کے بجائے باکردار لوگ صرف پاکستان نہیں بلکہ عالم اسلام کی خاطر ریاستی اداروں کیساتھ روح و جسم کی طرح ایک و نیک بن جائیں۔ کراچی و سندھ کے شہری علاقوں کے اردو اسپیکنگ پاکستان میں شہ رگ کی طرح کردار ادا کریں۔ سندھیوں کے دل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیساتھ دھڑکیں اورٹوٹی پسلی پختونخواہ کو صحت مند بنایا جائے جو جسم کو تکیہ دینے کے قابل بن جائے۔ پنجاب پھٹے ہوئے پیٹ کی طرح نہ ہو جسکے شہزادوں کی آف شور کمپنیاں پانامہ میں لیک ہوں، شریف فیملی سمیت سب اپنی حق حلال کی کمائی ملک لاکر سرمایہ کاری کریں، عوام غربت سے بدحال اورعوامی نمائندوں کے بچے باہر مالامال ہیں۔اگر انکے بچے واقعی قابل ہیں تو زیادہ شادیاں کریں اور زیادہ بچے جنوائیں اور بیرون ملک سے زرِ مبادلہ کماکر پاکستان منتقل کریں تاکہ اعتمادقائم ہو۔

پاک آرمی نے خود احتسابی شروع کی تو یہ آئین کے عین مطابق ہے ، عدلیہ و فوج کیلئے یہی قانون ہے ۔ اگر جسٹس(ر) افتخار چوہدری کے وقت عدلیہ کی تطہیر ہوجاتی تو اعتزاز احسن ، عاصمہ جہانگیر ، علی احمد کرد اور وکلاء رہنماؤں کا سر فخر سے بلند ہوتا، عدلیہ کیلئے فوج کا احتساب ممکن بھی نہ تھا، ملک کی قسمت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمے کیلئے بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔ لائق احترام چیئر مین سینٹ رضا ربانی اگر کہتے کہ’’ ہمارا سر شرم سے جھکا، جمہوری حکومت اور سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کے عمل سے خود کو قوم کے سامنے رول ماڈل پیش کرنا تھا مگر ہمارے بجائے یہ کام فوج نے خود ہی شروع کردیا‘‘۔ جنرل راحیل شریف آن ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو معاف نہیں کرتے لیکن سیاستدانوں نے جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور کرپشن کی بے تاج بادشاہی کا کاروبار بنا رکھا ہے۔ کارکن رہنماؤں کا ،رہنما اپنے قائدین کا گریبان پکڑتے تو سیاسی قبلہ درست ہوتا، کرایہ کے ٹٹو کارکن اور ضمیرفروش سیاسی ر ہنما جمہوریت کاتحفظ نہیں کرسکتے ہیں۔ پانامہ لیکس نے اس حمام میں احرام پہنے والے جاتی عمرہ کے حاجی نواز شریف اور الحاج شہبازشریف کا احرام بھی کھول دیاہے،اب قربانی دینا ہوگی،علماء درست اسلام کا جھنڈا بلند کریں توپاکستان روحانی، اخلاقی اور انسانی بنیاد پربدلے گا۔
جنرل راحیل شریف نے ریاست کی رٹ پاکستان بھر میں بحال کردی تو اسمیں بہادری کے علاوہ کرپشن سے پاک پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ کیا برا ہوتا کہ ہماری سیاسی قیادت باہر سے اپنا پیسہ واپس پاکستان منتقل کردیتی تو ملٹری اور سول بیوروکریسی کے لوگ بھی اپنے حق حلال یا نا حق حرام کی کمائیاں لوٹادیتے۔ جس طرح ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی کا پیسہ ضبط ہوا ، منی لانڈرنگ کے کیس بن گئے اور ایجنٹ کے الزام بھی لگے ۔یہی دوسرے پاکستانیوں کیساتھ بھی ہوگا،اسلئے برضا و رغبت اور خوشی خوشی اپنی رقوم پاکستان منتقل کردیں ، یہاں بھی بڑے شہروں میں ڈیفنس کی شکل میں آف شور کی سہولیات موجود ہیں،اگر ڈیفنس کی یہ سہولت ختم کردی تو ڈیفنس کے بجٹ میں یہ رقم آئیگی۔
اعتزازاحسن نے کہا :’’ بلوچستان کاسیکرٹری خزانہ بلوچ تھا، ہتھکڑی لگ گئی اس نے کروڑوں روپیہ گھر میں رکھا لیکن پنجابی شہزادوں کو سزا نہ ہوگی جنہوں نے اربوں کھربوں آف شور کمپنی میں رکھے ،دونوں کی کرپشن میں فرق کیا ‘‘۔پاکستان ٹھوس اقدامات سے اسلامی برادری اور دنیا میں آج بھی کھڑا ہوسکتا ہے مگر فطری اسلام ضروری۔

برصغیر پاک و ہند پر 8سو سالہ حکمرانی کے بعد انگریز نے قبضہ کیا اور آزادی و تقسیم ہند کے بعد پاکستان دو لخت ہوا اور اب تک کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے

وزیراعظم کو لندن میں آرام کرنے کا صلہ اسلئے ملاکہ جیو ٹی وی چینل اور کچھ صحافیوں کے منہ میں کچھ ڈال کر خاموش کرادیا ،ورنہ تو ان کی بک بک چلتی تھی کہ صج پاکستان گیا یا شام تک نہ رہیگا،عوام کو حکومت جانے کا فرق بھی نہ پڑتا

نوازشریف زرداری کیطرح ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کا چیئرمین بنادے تاکہ پھر اے آروائی سے بھاگ جائے۔ عرفان صدیقی کی بات کااچھا صلہ دیاکہ صدرتارڑ نے پانچ جنرلوں کے سامنے گن پوائنٹ پر استفعیٰ نہ دیا۔

پانامہ لیکس سے شریف فیملی کی ساکھ متأثر ہوئی، بین الاقوامی سطح اور خطے میں پاکستان تنہائی کا شکار ہوگیا، اندرون و بیرون خطرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر پائیدار تبدیلی ضروری ہے قومی حکومت بنانا بہت بہتر رہے گا۔

ایران سے امریکی پاپندی ختم ہوئی، ایران سے چین براستہ افغانستان راہداری کامنصوبہ بھارت کیلئے خطے میں اثر ورسوخ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کو نظریاتی ، معاشی اور معاشرتی معاملات کے ذریعہ پائیداری درکارہوگی

مدارس، مساجد، مذہبی جماعتوں اور عوام نے اگرتبدیلی کا فیصلہ کرلیا تو جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس سمیت ملک کے تمام ریاستی اداروں کے سربراہ خوش ہونگے

پاکستان اب زیادہ آزمائشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، ہمیں روح اور اپنے اخلاقیات بدلنے کی ضرورت ہے، گوادر ہمارا سر ہے،بلوچ پاکستان کی عزت کے دستار ہیں، ہمارے رویے، غفلت اور ظلم وجبر کے باعث صرف بلوچ، پختون، سندھی ، مہاجر نہیں بلکہ پنجاب کی عوام سب سے زیادہ مظلوم ہیں، جہاں بدمعاش کلچر میں بیٹیوں کی عزت کو بھی سرِ عام تحفظ حاصل نہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر اور تمام بلوچ رہنما ملت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی معاملہ کو سمجھ لیں، پوری اسلامی دنیا کے مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین ہوگئی ، غیروں سے زیادہ اپنا عمل اور اپنی کمزوریاں ہاتھ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں کی بیڑیاں بنتی ہیں۔
جس دن غیرتمند بلوچوں کو احساس ہوا کہ ہم غلام نہیں پاکستان کے سر کی دستار ہیں تووہ اعلان کریں گے کہ اکبر بگٹی کو فوج نے گھر میں نہیں مورچہ میں مارا ہے، لڑائی میں ایسا نہ ہو تو کیا ہوگا؟۔ ہم پاکستانی فوج کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں جتنا ان سے ہوسکتا تھا اتنا وہ ہمارے ساتھ نہیں کرتے تھے، جنگ میں کوئی فائدہ نہیں، ہم خود ہی دوستی کا ہاتھ بڑھادیتے ہیں، ہم سارے بھائی بھائی ہیں۔ اپنی قوم اور اپنے ملک کیلئے آج کے بعد ہم کوئی مشکل نہ کھڑی کریں گے تودنیا دیکھے گی کہ بہادر بلوچ ملتِ اسلامیہ کی امامت کررہے ہیں۔
طالبان نے نیٹو کیخلاف جانوں کے نذرانے پیش کئے، اب بندگلی کی طرف جانے اور مزید اپنا اور اپنی قوم و ملت کا نقصان کرنے کی بجائے اپنی خدمات طاقت کی بجائے علم کی شمع جلاکر پیش کریں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اسوقت ہوگی جب دنیا کو احسا س ہوگا کہ مسلم امہ میں دنیا کی بہترین انسانیت، زبردست اخلاقی اقدار اورسب سے اعلیٰ عدل و انصاف کا نظام ہے۔ دنیا کے پاس صرف قانون، زورزبردستی اور چیک اینڈ بیلنس کاہی سسٹم ہے مگر ہمارے پاس روحانی اور عقیدے کی بنیاد پر ایسا نظام ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
مساجدومدارس،خانقاہوں وامام بارگاہوں، جماعت خانوں ومذہبی جماعتوں اور مسلم سکالروں کو اکٹھا کرکے قرآن وسنت کی بنیاد پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کیا جائے تو ایک انقلاب آجائیگا، کراچی اور پاکستان بھر اردو اسپکینگ کمیونٹی بہترین تعلیمی نظام قائم کرکے پاکستان کے گھر گھر ، گلی گلی، محلہ محلہ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، شہر شہربلا امتیاز و نسل ،فرقہ وقوم سب کو تعلیم و شعور کے زیور سے آشنا کریگی۔ سندھیوں سے دل کی دھڑکنوں کی طرح پیار و محبت میں خون کے سرخ وسفید جرثومے پورے پاکستان کو پہنچیں گی،مہاجر قوم شہ رگ اور اور سندھی دل دل پاکستان جان جان پاکستان ہیں۔ شہ رگ کٹنے اور دل کی دھڑکن بند ہو تو جسم لاش بن کرموت واقع ہوجاتی ہے۔پھر سندھی جلوس نکالیں گے کہ کالاباغ ڈیم بناؤ اور ازبکستان سے بجلی لانے کی بجائے دریائے سندھ کو پورے کا پورا ڈیم کی طرح بناؤ، جو نہ صرف بجلی بلکہ سطح زمین پر پانی کی قحط نہ رہے، پاکستان سرسبز وشاداب اور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی مالامال ہوں، پانی کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے مگر حکمرانوں کو دلچسپی نہیں۔
اللہ نے فرمایا: ’’گدھے، خچر اورگھوڑے میں نے پیدا کئے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو اور خوبصورتی کیلئے پیدا کئے ہیں‘‘۔ یہ جانور کام کے بھی ہیں اور ان کی وجہ سے رونق بھی ۔ مسلمانوں کے پاس وہ نصابِ تعلیم، معاشرتی احکام،تہذیب وتمدن اور اخلاقی اقدار نہیں تھے جو انگریز کو برصغیرِ پاک وہند سے روک سکتے۔ سکھ ایک نیا مذہب تھا لیکن پنجاب، کشمیر اور قبائلی علاقہ جات کے دامانی علاقوں تک ان کی حکومت تھی۔ انگریز نے اپنے دور میں جو فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کا نظام بنایا، ان کے مقاصد، خدمات اور معاشرتی رونق کے سوا کیا تھے؟۔ 70سال ہوگئے ہیں کہ برصغیرپاک وہند سے انگریز گیا، بھارت اور پاکستان میں آج بھی یہ ادارے اپنے اپنے خدمات انجام دینے اور معاشرے کو رونق بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیرپر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن اقوام متحدہ نے رائے حق دہی کیلئے اس کو پاکستان سے خالی کروایا اور پھر بھی بھارت نے قبضہ کرلیا۔ ہم بھارت سے تو قبضہ نہ چھڑاسکے البتہ مشرقی پاکستان بھی کھو دیا ہے۔ ہم نے اپنی بہت تعریف کرلی، اب اپنی ان کوتاہیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے باقی ماندہ پاکستان بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ٹی وی اسکرین پر بیٹھ کر امریکہ کو بھونکنے اور ڈھینچوڈھینچوکی ورد چھوڑیں۔
اپنے اندر اتنا دم پیدا کریں کہ امریکی امدادشکریہ کیساتھ قبول کرنے کی بجائے ان کے اپنے پڑوسی غریب ممالک کو دینے کی تجویز پیش کریں۔ F.16طیارے کی ہمیں ضرورت بھی پیش نہ آتی ،اگر اسٹیل مل میں کرپشن کی بجائے جنگی سازوسامان ، مسافر طیارے اور دیگراشیاء بناکر اس کو بہترین ادارہ بنادیتے۔ ہمارے ریاستی اداروں کی تشکیل وتعمیر جنہوں جن مقاصد کی خاطر کی تھی ان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی توقع رکھنا بھی بعض بدبودار قسم کی ذہنیت کا شاخسانہ تھا، جن لوگوں نے اسلام کو اوڑھنا، بچھونا، کھانا پینا اور رہنا سہنا بنانا رکھا ہے وہ خوداسلام سے بہت دور ہیں جن کی نسلیں دارلعلوم میں پیدا، پھل بڑھ کر دفن ہوجاتی ہیں توپاک فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی کے جوانوں اور افسروں سے کس قسم کے اسلام کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟ اصلاح کیلئے گمراہی کے قلعوں مدارس کو فتح کرنا ہوگا۔
مجھے مدارس سے نفرت نہیں محبت،بد اعتقادی نہیں عقیدت،بغض وعناد نہیں عشق وپیار ، بدظنی وبدگمانی نہیں حسنِ ظن وخوش گمانی اور بدخواہی نہیں خیرخواہی ہے، وقت آئے تو ادب وتمیز،اکرام واحترام، عجز وانکساری،تواضع اور ایسے خاطر مدارات کا مظاہرہ کروں گا، جیسے ایک فرمانبردار بیٹا اپنے والدین کا کرتا ہے، ماں کی ممتا سے ملنے والے دودھ کی میٹھاس کو یاد نہیں رکھا جاسکتا مگر مدارس کی ممتا سے ملنے والے علم کی میٹھاس دل ودماغ کیلئے فرحت بخش ہوتے ہیں۔ دودھ کی یہ نہریں بزرگوں سے ہوتی ہوئی رسول اللہﷺ تک اور اللہ کی وحی تک پہنچتی ہیں، سب اپنے نصیب کے مطابق سیراب ہوتے ہیں،اساتذہ کرام کی تعلیم وتربیت ہے کہ قرآن و سنت کی روح سے روگردانی نہیں کی، ورنہ میں بالکل بھٹک جاتا۔
اہم اور بنیادی تجاویز اور ان کا مختصر خلاصہ
1:مدارس کے نصاب کی وسیع تر مشاورت سے تبدیلی، جن احکام میں معروف کی جگہ منکرات نے لے لی ہے، اس کو قرآن و سنت کے مطابق معروفات میں تبدیل کرنا۔
(ا): نکاح و طلاق میں معروف کی جگہ منکر نے لے لی ہے ،دلائل وبراہین کے ذریعہ ایک نئے نصاب کی تشکیل اور اس پر معاشرتی نظام کو کاربند کرنے کے نتیجے میں زبردست خوشحالی آئے گی۔ پسند کی شادی کی مخالفت نہیں ناپسند کی شادی کی حوصلہ شکنی کی ضرورت کا احسا س کرنا چاہیے تھا، نبیﷺ نے فرمایا:جس لڑکی کے باپ نے اسکی مرضی کے بغیرنکاح کیا تو وہ نکاح منعقد نہیں(بخاری)۔نصاب اور معاشرے میں اس حدیث کی ترویج ہوتی تو کوئی لڑکی بھاگ کر شادی نہ کرتی۔ طلاق واقع ہونے نہ ہونے کی چیز نہیں بلکہ علیحدگی کا طریقۂ کار ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، جسکی کچھ تفصیل اداریہ میں موجود ہے۔رجوع کا تعلق باہمی صلح سے مشروط اور معروف طریقہ سے ہے، حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق پر شوہر کے یکطرفہ رجوع کے حق کو معطل کیا تھا ۔ تین طلاق نہیں ایک طلاق کے لفظ پر بھی عورت راضی نہ ہو تو شوہر یکطرفہ رجوع کا حق کھو دیتا ہے حضرت عمرؓ کا فیصلہ درست تھا لیکن اس کو حلالہ کیلئے غلط رنگ دیا گیا ہے، صلح کی شرط پر رجوع کی قرآن وسنت میں عدت کے دوران اور عدت کے بعد وضاحت ہے۔ بخاری وابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابورکانہؓ و امّ رکانہؓ کے واقعات موجود ہیں۔ بیوقوفی اور کم عقلی کی انتہاء ہے کہ احناف نے ’’نورانوار‘‘اور ابن قیم ؒ نے ’’زادالمعاد‘‘ میں اس طلاق کو قرآن کے مطابق فدیہ سے ہی مشروط کیا ہے اور پھر یہ بحث کی ہے کہ فدیہ کوئی الگ چیز ہے یا طلاق کا ضمنی معاملہ ہے؟۔ عدد کی گنتی پوری کرنے کا چکر نہ ہوتا تو اس بحث کی ضرورت بھی نہ پڑتی لیکن علامہ ابن قیمؒ کی سمجھ پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ احناف کی ضد میں لکھ دیا کہ ’’ طلاق الگ چیز ہے اور خلع الگ، اسکا نام اللہ نے طلاق نہیں فدیہ رکھا ہے‘‘ حالانکہ آیت میں خلع کا ذکر نہیں بلکہ اس طلاق کا مقدمہ ہے جس کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے۔ خلع کے بارے میں سورۂ النساء کی آیت ہے ، احادیث اسی ضمن میں لکھے جاتے تو معاشرے میں خواتین کے حقوق اجاگر ہوتے ہم بہت سی برائیوں سے بچتے، طلاق کے تضاد اور اختلافات بھی کالعدم نہیں بلکہ معدوم ہی ہوجائیں گے۔
جس طرح اللہ اور اسکے رسولﷺ نے مرحلہ وار دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ کی وضاحت فرمائی ہے،اس سے طرح ہاتھ چھوڑ شوہر کی پٹائی سے صنفِ نازک کو بچانے کیلئے مارنے سے پہلے دومرحلے رکھے ہیں، پہلے مرحلہ میں افہام وتفہیم سے سمجھانا، دوسرا مرحلہ بستر الگ کرنا اور تیسرے مرحلہ میں مارنا۔ کوئی بیوی کو دشمنی اورمنصوبہ بندی سے نہیں مارتالیکن چھوڑنے اور الگ ہونے سے بیوی کو ہلکی پلکی مار خود بھی بہتر لگتی ہے۔جب اتنی برداشت شوہر میں پیدا ہوجائے کہ سمجھانے اور بستر کو الگ کرنے کے مراحل سے گزرے تو مارپیٹ اور تشدد کی عادت بھی نرمی اور شائستگی میں بدل جاتی ہے۔جس طرح طلاق کے بارے میں مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے مرحلوں کو ترک کیا گیا اسیطرح سے مارپیٹ کے دو مراحل کو بھی نظرانداز کرکے اسلام کے نام پر معروف کو منکر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
2: دنیائے اسلام کا سب سے بڑا مرکز خانہ کعبہ ہے اور حجر اسود ایک ہجوم کا محور رہتا ہے کوئی بھی شریف معاشرہ اس طرح اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مخلوط ماحول میں اجنبی خواتین و مرد حضرات ہڈی پسلی ایک کرکے ایک دوسرے کے گوشت پوست میں پیوست ہوجائیں۔ یہ انسانی شرافت ، فطرت اور اسلام کے بنیادی تعلیمات کے بالکل منافی ہے، یہ شکر ہے کہ اس کی تصویریں دنیا کو دکھاکر یہ باور نہیں کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو ہم روشن خیال ہیں۔ مہذب دنیا سے ہم نے لائنوں میں ہی نہیں سیکھا ہے بلکہ اپنے ہرمفاد کیلئے ان کی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگرحاجی اور عمرہ والوں کو حجراسود کا نمبر ایشوکیا جاتا، بھلے سعودی حکومت اس کاانتظام کرکے فیس بھی وصول کرتی توسب کیلئے بہتر ہوتا۔
3: خواتین کو خلع کا حق عدالتوں کی بجائے معاشرتی بنیادوں پر دیا جاتا تو اس میں تشدد کے عنصر کو ختم کرنے میں مدد ملتی۔ جب شوہر کو یہ پتہ ہوتا کہ عورت چھوڑ کر جانے کا حق بھی رکھتی ہے تو اس کے ساتھ غلامی کی بجائے ایک معاشرتی ساتھی کی طرح سلوک رو ا رکھا جاتا اور اگر عورت پابند نہ ہونے کے باوجود اس کی بد سلوکی پر صبر کا مظاہرہ کرتی تو یہ اصلاح کا ذریعہ بھی بنتا۔ جب عورت سے نکاح نہ ہوا ہو اور پھر بھی اس پر استحقاق جمائی جاتی ہو تو پھر نکاح کے بعد اس کو غلام سمجھنے میں کیوں مرد کو حق بجانب نہ سمجھے گا لیکن اگر قانون سے واضح کیا جائے کہ منکوحہ عورت بھی غلام نہیں تو غیر منکوحہ سے رویہ کبھی غلط نہ ہوسکتا تھا۔
4: طالبان نے ایک کام زبردست کیا جو ہماری ریاست ، سول سوسائٹی اور عوامی دباؤ سے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ سے لوگ طالبان سے زیادہ نفرت کرنے لگے تھے، مگر خوف کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ کسی جگہ لڑکی اور اسکے والدین قریبی رشتہ دار سے رشتہ کیلئے راضی نہیں ہوتے تھے تو بھی رسم و رواج کی مجبوری سے شادی کرانی پڑتی تھی۔ طالبان نے لڑکی اور والدین کی مرضی سے کئی شادیاں کرواکر بہترین کردار ادا کیا۔ اگر قرآن و سنت کی تعلیمات عوام کے سامنے ہوتیں تو یہ غلط رسم و رواج بہت پہلے ختم ہوچکے ہوتے۔
5: جس طرح سود کو موجودہ دور میں عام لوگ سمجھتے ہیں اسی طرح سے دور جاہلیت میں بھی سمجھتے تھے۔ قرآن نے منع کیا ، اب پھر معروف کی جگہ منکر اور منکر کی جگہ معروف نے لی ہے، چنانچہ بینک کے سود کو جائز اور کاروبار قرار دیا گیا ، شادی بیاہ کے لفافہ کو سود قرار دیا گیا۔ ہر دور میں وقت کے شیخ الاسلاموں نے اسلام کو اجنبی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ان سب کا جائز لے کر عوام کو معروف اور منکر بتانے کی ضرورت ہے۔ عتیق گیلانی

پانامہ لیکس چھوڑئیے اسحاق ڈار کے ذریعہ ملک کو تباہ کیا گیا…

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بناہے، اسلام پاکستان کا مستقبل ہے، پاکستان اسلام کی بنیاد پر ہی ترقی کرسکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد کے مطابق 2009,2010ء میں اندرونی قرضے کا سود576.77ارب روپیہ تھا، جو صرف 5سال بعد 2015,2016میں یہ سود دگنے سے بڑھ کر.676. 1168رب روپیہ ہوا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی 63سالہ تاریخ میں مجموعی طور سے جتنے قرضہ پر جو سود دیا جارہا تھا ، صرف پانچ سالہ دور میں اس سے وہ قرض کتنا بڑھ گیا ہے جس میں اسکے دگنا سے بھی زیادہ سود دیا جارہا ہے۔ یہ وہ سود ہے جو اندرونِ ملک قرضہ پردیا جارہا ہے، بیرونی قرضہ اور اس پر سود اسکے علاوہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اندورنِ ملک سے اتنا بڑا قرضہ کیسے لیا ہے؟، اس کا اثر قوم، ملک، سلطنت زندہ بادپائندہ باد پر کیا پڑیگا؟۔ اگر عوام کو یہ بات سمجھ میں آگئی تو قومی ترانہ میں زندہ باد پائندہ باد کی بجائے قوم ملک سلطنت کامرثیہ گاگا کروزیراعظم کو مارآستین سمجھ کر کہیں گے کہ’’ گزندہ باد،شرمندہ باد‘‘۔ پرویزمشرف نے مفت میں حبیب بینک کو بیچا تھاتو بھی ہمارے اخبار کی شہ سرخی تھی، پھر اسٹیل مل کو بیچا جارہا تھا، تب بھی ہم نے شہ سرخی لگائی تھی، اسوقت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سب سے بڑی نیکی اور کارنامہ یہی تھا کہ پرویزمشرف کو سپریم کورٹ نے روک دیا تھا۔ جس پی آئی اے کو نوازشریف کھڑا کرنے کی بات کررہے تھے اس کو پرائیویٹ کردیا گیا، بندے بھی مارے گئے اور پی آئی اے بھی نہ بچ سکی۔
ایک انتہائی اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں نوازشریف کا نہیں، انکے بچوں کا نام تھا، وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’’ میرا بچوں سے کیا تعلق ہے؟، وہ بالغ اور خود جوابدہ ہیں، جو چور ہوتا ہے ، وہ اپنا نام کھل کر ظاہرنہیں کرتا‘‘۔ پھر ایک ڈرامہ رچایا گیا کہ وزیراعظم کا نام بھی ہے، نہیں ہے، پانامہ نے معافی مانگ لی، نہیں مانگی، اپوزیشن اور حکومت کی مداری پارٹی قیادت نے جھاگ کی طرح شور اٹھایا، پھر یہ ختم ہوجائیگا، سرکاری پیسہ جو عوام کی ٹیکس سے بنتا ہے، وزیراعظم کے بچوں کی صفائی کیلئے خرچ کیا گیا۔ تحریک انصاف اس پر آواز اُٹھاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ تم غریبوں کی زکوٰۃ ، خیرات، صدقات کے پیسوں سے کاروبار کرتے ہو، اپنی ماں شوکت خانم کی بجائے ہسپتال غریبوں کے نام پررکھتے، عمران خان نے شوکت خانم میں دو دفعہ علاج کیا تو بھی غلط تھا، اربوں روپے کے مالک پر تو زکوٰۃ نہیں ہوتی اور زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں کیسے استعمال کی؟۔ بنی گالا بھی بیوی نے آف شور کمپنی سے خرید کردیا تھا تو عوام حکومت اور اپوزیشن کے ایکدوسرے پرالزامات میں خود کوبھول جاتی ہے۔
پہلے امیروں کو انکم ٹیکس دینا پڑتا تھا، جس کی کم آمدنی ہوتی تھی، وہ قانونی طور پر ٹیکس سے آزاد ہوتا تھا،پھر پرویزمشرف کے دور میں سیل ٹیکس کا آغاز کردیا گیا، جو امیر غریب سب کیلئے برابر ہے کیونکہ ضروریات کی چیزیں سب کو خریدنی پڑتی ہیں، پرویزمشرف نے پروگرام بنایا تھا کہ 15%سے اس کو5%پر لائیں گے مگر اب تو مختلف اشیاء پر بہت زیادہ بڑھادیا گیا ہے، پیٹرول پر45%ہے، پرویزمشرف کی نسبت3گنا بڑھا کر نوازشریف تقریر میں کہتا ہے کہ ’’مہنگائی کی کمر توڑ دی ہے‘‘ تو ڈھورڈنگر عوام تالیاں بجاتے ہیں،سیاسی مشیروں، وزراء اور ممبران اسمبلی میں اپوزیشن والے بھی حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔ پانامہ لیکس سے بڑی خبریں ملک ہی میں دیگر ہیں مگر سیاستدانوں کو خبر نہیں تو عوام بیچاروں کا کیا قصور ہوسکتا ہے؟۔
عوام کو پتہ چلتا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل وغیرہ کی طرح ائرپورٹ اور سڑک بیچے جارہے ہیں تو حکمرانوں کو عوامی جلسوں میں جانے کی جرأت بھی نہ ہوتی۔ہمارا بے شعور معاشرہ شاہی سیاسی خانوادوں اور شخصیات کے رحم وکرم پر ہی آسرے میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے اڑا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا پرائیویٹ سیکٹر اسلامی بینکاری کے نام سے کراچی ائرپورٹ کو 300ارب میں گروی رکھ چکا ہے، حکومت اور اسلامی بینکوں کے درمیان M-2لاہور تااسلام آبادموٹروے اور کراچی ائرپورٹ میں سے ایک کو گروی رکھ اس رقم کو سودی قرضہ کی مد میں لینے پر بحث کی گئی، اسلامی بینکوں کے ڈائریکٹروں نے کراچی ائرپورٹ لینے پر اتفاق کیا۔ جب حکومت بھاری بھرکم سود کی ادائیگی سے عاجز آجائیگی تو شور شرابے کی نوبت بھی نہ ہوگی اور کراچی ائرپورٹ اسلام کے نام پرسودی کاروبار کرنے والوں کے خود بخود حوالہ ہوجائیگا۔ پھر وہ اسکو مہنگے داموں ٹکڑوں میں بیچ بیچ کر سود خوری کا پیسہ پورا کریں گے۔ چیف آف آرمی جنرل راحیل شریف کورکمانڈزکانفرنس بلاکر تمام معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں ورنہ پھر سیاستدان حکمران کہیں گے کہ دفاع کیلئے ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑاتھا،جب ملک ہی نہ رہیگا تو دفاع کس چیز کا کریں گے؟۔
جس طرح نوازشریف اپنے بچوں کی بیرون ملک دولت سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے، اسی طرح سے عوام اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی بے خبر ہوگی اور پورا ملک ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ شریف خاندان بڑا ’’وار داتیہ‘‘ ہے، دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے چھپے رستم نکلے۔ اگر رینجرز اور فوج نے امتیازی سلوک یا اپنا الو سیدھا کرکے کرپشن کے خلاف ڈرامہ ہی کرنا ہے، ڈاکٹر عاصم حسین کو اندرونِ خانہ جیب کترے کی طرح لوٹ کر نظام کی ناکامی کو بنیاد قرار دینا ہے تو سوبسم اللہ۔ وقت کیساتھ ساتھ عوامی شعور بڑھے گا، پھر مخلص افسر اور سپاہی بھی قابو میں نہ رہیں گے اور باشعور طبقہ اٹھے گا اور حکمرانوں، سیاستدانوں کے علاوہ کرپٹ ریاستی عناصرکو بھی کوئی بچا نہ سکے گا۔ سپاہی جان ان کیلئے دیتے ہیں جن کے پاس اعلیٰ اخلاقی، اسلامی یا وطن پرستی کے جذبات ہوں ، بے حسی میں کوئی بھی اچھا جذبہ پنپ نہیں سکتا ہے۔
معصوم، فرشتہ اور بے گناہ تو کوئی بھی نہ ہوگامگر وزیراعظم کے شریف خاندان کو جس شرافت کیساتھ کرپشن اور چوری سینہ زوری کی سوجھی ہے، لگتا یہ ہے کہ ان سے تو قوم کو چھٹکارا مل ہی جائیگا مگر فوج میں اپنی عوام کیساتھ سیاست تو دور کی بات ہے، اچھے طریقہ سے جنگ کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی، کیونکہ ان کی تربیت دشمن سے نمٹنا ہوتا ہے اپنوں سے نہیں۔کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں بڑی قربانیوں کے باوجود وہ نتائج نہ مل سکے جس کی توقع تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگ بولتے نہیں بھونکتے ہیں، نوازشریف پر 36کروڑ روپے کی گھڑی کے خریدنے کا الزام لگایاگیا، جبکہ اس کی قیمت36لاکھ ہے۔دنیا کی وکالت کا موجودہ نظام بے گناہی بھی ثابت کردیگا کہ ایک صفر بڑھانا کوئی اضافہ نہیں اور سیاستدان بجا طور سے کہہ سکتا ہے کہ صفر صفر ہوتا ہے چاہے آگے سے اضافہ ہو یا پیچھے سے۔
ایک دوسرے پر الزام تراشی، کرپشن، بداخلاقی اور بد تہذیبی کا سفر جاری رکھنے کی بجائے حقائق کی طرف آنا ہوگا۔ نوازشریف نے پاکستان کو کیا دیا؟ مگر پاکستان نے نوازشریف کو بہت کچھ دیا ۔ سیاست کی قیمت اپنے خاندان اور دوستوں کو بنانا ہو تو پیپلزپارٹی کے بھٹو خاندان نے جو قربانیاں دی ہیں ، اسکے مقابلہ میں نوازشریف کو خالی چٹکی نوچی گئی ہے۔ عمران خان نیازی شاید اتنا بھی نہ برداشت کرسکے بلکہ جنرل نیازی کی طرح اپنا ہتھیار بڑے اہتمام کیساتھ دشمن کے آگے ڈال دے، آدھا ملک گنوانے کے علاوہ فوج کو بھی تاریخی بے عزتی سے دو چار کردے۔ عزت کردار سے آتی ہے، اسلام کردار کا دین ہے اور کردار ہی سے دنیا میں عزت ملتی ہے۔ سیاستدانوں کو اپنے کردار سے اپنی قوم اور اداروں کو عزت دلانی ہوگی۔ دنیا اور ہمارے اردگرد ماحول کے تیور بدل رہے ہیں، کردار نہ ہو تو خود کا خود بھی ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ ہمارے پاس وقت کم رہ گیا ہے ، پاکستان کا استحکام اچھے کردار کیساتھ اتحاد واتفاق اور یگانگت کا متقاضی ہے، ہمارا حال قابلِ رحم ہے۔

پاکستان نے اپنی عزت خود کرانی ہوگی مگر کیسے؟

ڈرائیور لوگ گدھے کو تھانیدار کہتے ہیں اسلئے کہ گدھا دوسرے جانوروں کی طرح سڑک چھوڑ کر راستہ نہیں دیتا بلکہ سر جھکا کر ، کان لٹکاکر ، دُم ہلاکر راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تورات کے متعلق یہودی علماء کے رویہ کو گدھے سے تعبیر کیا جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کردی،نبیﷺ نے فرمایا :یہ امت یہود اور نصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی، یہود نے حکومتی امور میں توراۃ کے احکام بدل ڈالے اور نصاریٰ نے اپنی کتاب میں تصوف کے احکام بدل ڈالے۔احبار و رہبان حلال و حرام کا جو فیصلہ کرتے تھے اس کو ان کی عوام مان لیتی تھی اسلئے اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے احبار ورہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا تھا۔
آج ہماری قوم بت پرستی کے کئی شعبہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ جس بت پرپیسہ زیادہ لگے وہ بڑا بن جاتا ہے،سول اور فوجی بیوروکریسی میں اچھے برے لوگ ہوسکتے ہیں مگر انکا کام مشین کے پُرزوں کی طرح ہوتا ہے، اصل کام سیاستدان کا ہوتاہے جو سماجی معاشرے میں پروان چڑھ کر قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیاستدان کا کام عوام کو نظریاتی شعوراور قوم کوبلند معیار دینا ہوتا ہے۔ ہمارا مستقبل بلاول بھٹو زرداری ، مریم نواز کے علاوہ تحریک انصاف کے سلیمان عمران سے وابستہ ہے، اسلئے کہ پارٹی میں نظریہ سے زیادہ شخصیت کی اہمیت ہے ، پہلے پارٹی میں قائد اہم ہوتاہے پھر اسکے فرزند کی اہمیت ہوتی ہے، پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
نبی کریمﷺ کی واحد نرینہ اولاد اللہ نے بچپن میں اُٹھالی، اپنے غلام کواپنا منہ بولا بیٹا بنایا تواللہ نے فرمایاکہ ماکان محمد آباء احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین’’ اور محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول اور انبیاء کے سلسلہ کے آخری مہر،نگینہ یا نبی۔ جسکے بعد وحی اور نبوت کا سلسلہ نہیں‘‘ ۔ اسلام کی تاریخ کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ مقرر ہوئے اور دوسرے حضرت عمرؓ نامزد ہوئے، حضرت عثمانؓ کو چندا فرادکی نامزد شوریٰ نے چن لیا اور حضرت علیؓ بھی ہنگامی حالات میں خلافت کی مسند پر بیٹھے ۔سب کا تعلق الگ الگ خاندانوں اور قبیلوں سے تھا۔ پھر خاندانوں نے مسند پر قبضہ کرنا شروع کیا۔
قائداعظم کی اکلوتی بیٹی تواپنی مرضی سے بھاگ گئی تھی اسلئے نواسوں کو اہمیت نہ مل سکی، اکلوتی بہن فاطمہ جناح کو جنرل ایوب خان نے فوجی مضبوط بیگ گراؤنڈ کی وجہ سے سیاست میں ابھرنے کا موقع نہ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کی سیاسی کوکھ سے نکل کر سیاست شروع کی تو ڈکٹیٹر شپ کے مزاج سے بھی جان نہ چھوٹ سکی اور آخرکار اسی کی نذر بھی ہوئے۔ میاں شریف مرحوم برادران7بھائی تھے جو اتفاق مل کے مالک تھے، بھٹو نے سارے پاکستان میں سوشلزم کے زیراثر فیکٹریوں اور ملوں کو ضبط کرکے قومی تحویل میں لیا تو اس کی زد میں یہ لوگ بھی آئے۔ نواز شریف نے پہلے اصغر خان اور پھر جنرل ضیاء الحق کیساتھ مل کر سیاست شروع کی تو پیپلزپارٹی سے اقتدار کی رقابت اپنی جگہ مگر سیاست کاروبار میں بدل گئی۔
پاک فوج نے جو سیاسی تحفے قیادت کی شکل میں قوم کو دئیے ہیں، کسی سے محبت اور کسی سے نفرت کی تفریق کے بغیر پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس آنی چاہیے۔ اگر پاکستانی قوم کا مستقبل قائداعظم کے نواسوں کے ہاتھ میں نہیں تو بھٹو اور پھر نواز شریف یا گولڈسمتھ کے نواسوں کے پاس کیوں جائے؟۔رسول اللہﷺ کے نواسے حضرت حسنؓ نے قوم کو متحد کرکے اقتدار کی قربانی دی ۔ حضرت حسینؓ نے یزیدیت اورموروثیت کے خلاف کربلا میں قربانی دی۔ زرداری، نوازشریف اورعمران خان کا اقتدار کے سوا کیا نظریہ ہوسکتا ہے؟۔ لوٹا کریسی، کرپشن، میڈیا کی سیاسی قدآوری نہ ہو تو گلی محلہ کے لوگ ان لوگوں کے کسی نظریہ سے متأثر نہ ہوں۔ طوطا مینا کی طرح کچھ بولنے کی رٹ لگاتے ہیں جو اپنے دل ودماغ نہیں بلکہ ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں الیکشن کے ذریعہ آزاد امیدواروں کوعوام جتوائیں ، سیاسی پارٹیوں سے پہلے نجأت پائیں ، پھر کوئی عوامی جمہوری سسٹم بن سکتا ہے، امریکہ میں جمہوری سسٹم کے ذریعہ بارک حسین اوبامہ منتخب ہوسکتا ہے مگر ہمارے ہاں معین قریشی سے شوکت عزیز اور ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نوازشریف تک مختلف رنگ روپ، نسل قوم سے تعلق رکھنے والے ملک کے وزیراعظم بننے کے باوجود پاکستان کے لوگوں کو ایسا سیاسی شعور نہ دے سکے جہاں علامہ اقبال ؒ کے افکار کی ذرا بھی جھلک دکھائے، یہ ایک ہنگامہ تھا جو طالبان نے ریاست اورعوام کی بھرپور حمایت سے برپا کردیا تھاجو اسلامی و سیاسی شعور دینے کی بجائے وقت کی بے رحم موجوں کی نذر بھی ہوگیاہے۔
بے تحاشا رقم خرچ کرکے سیاسی ریلیوں اور دھرنوں سے کوئی انقلاب آتا توبڑی بات ہوتی مگر یہ تماشے عوام بہت دیکھ چکے ، فوجی انقلاب سے بھی عوام بدظن ہیں لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے کرپٹ عناصر کو بلاامتیاز پکڑا جائے تو عوام خوش ہوں گے۔ جن لوگوں کے دل ودماغ میں عہدوں کی ہوس صرف اسلئے ہو کہ اسکی اوقات بدل جائے تو عوام ان کو بالکل مسترد کرسکتے ہیں، جو لوگ فوج کے سہارے سے خود کو آگے بڑھانے کی امید رکھتے ہوں ان کو بھی بلاامتیاز مسترد کردیا جائے۔ مایوسی کی طرف جانے سے قبل ریاست کو مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ زرداری کے جگری یار ذوالفقار مرزا، الطاف بھائی کے لے پالک مصطفی کمال، نوازشریف کا دوست ذوالفقارکھوسہ اور دوست محمد کھوسہ وغیرہ کیا تبدیلی لائیں گے؟۔
عمران خان گالیاں دیتا تھا کہ بے غیرت لوٹے جماعتیں بدل بدل کر آجاتے ہیں مگر اپنی جماعت کے جگ، گلاس کو ہٹاکر دوسروں کی لیٹرینوں سے لوٹے اٹھاکر سجالئے ہیں۔ دوسروں کو رشتہ داری کے طعنے دینے والے نے اپنی طلاق شدہ بیوی کی لندن میں بھی سیاسی رشتہ داری کا خیال رکھا۔ لوگوں کے ذہن میں ایکدوسرے سے نفرت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے اس کے نتائج بہت خطرناک ثابت ہوں گے۔ نوجوانوں اور قوم کے جذبات سے کھیلنا کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔قوم کوایسا نظریہ چاہیے جس میں کرپٹ سیاسی سسٹم اور فوج کی پشت پناہی سے آگے آنے کی بجائے لوگوں کو اپنے عمل وکردار سے قوم کی خدمت کا موقع مل جائے۔
اوبامہ انتظامیہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینا چاہتی تھی مگر امریکی گانگریس نے پاکستان کی فوجی امداد روک دی جس کی وجہ سے ایف سولہ نہیں خرید سکتے ہیں اور ہماری معیشت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پاس گروی اور دفاع امریکہ پر منحصر ہوتوکشکول توڑنے والے بین الاقوامی شاہی ملنگ پاکستان کو پتہ نہیں کس ترقی کے سفرپر لے گئے ہیں؟۔مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ ’’ افغانستان کی طالبان قیادت پاکستان میں ہے‘‘۔ بھارتی لابی نے امریکی کانگرس کو قائل کیا کہ پاکستان کو فوجی مدد نہ دی جائے، امریکی کانگرس نے اعلان کردیا کہ پاکستان ہمارے ساتھ ڈبل سٹنڈر گیم کھیل رہا ہے، اسلئے دفاعی امداد روک دی۔
پاکستان دنیا کا واحد وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں قدرتی طور پر ضرورت سے زیادہ پانی میسر ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے ہم خشک سالی میں کربلا کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور سیلابوں کے دور میں طوفان نوح کا سامنا کرتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر دریا کو چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی طرح رکھا جائے تو زیر زمین پانی بھی میٹھا ہوگا زرخیز پاکستان کا منظر بھی دیکھنے کو ملے گا کربلا اور طوفان نوح کے عذاب سے بھی بچیں گے ماحولیاتی آلودگی کا بھی یہ قوم زبردست مقابلہ کر سکے گی۔ کراچی سے لاہور پائپ لائن بچھانے کے بجائے ایران سے سوئی تک ہنگامی بنیادوں پر گیس لائی جائے اور انڈیا کو بھی گیس اور پاکستان سے راہداری دی جائے تو اس کی گردن ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور کشمیر کو آزاد کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ کاش کوئی کچھ تو سمجھے خدا کرے۔