پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین، عمران خان،نواز شریف، محمود اچکزئی اور الطاف حسین سے گزارش: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے اشرف میمن نے کہا کہ سائیکل چوری پر پولیس اتنا تشدد کرتی ہے کہ مجرم نہ ہو توبھی اعترافِ جرم کرلیتا ہے کہ بہت سائیکلیں چوری کیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ سیاسی قبلہ بدلنے، مذہبی مسئلہ اگلنے اور کرپشن کی بات پر میڈیا کے سامنے وضاحت کا موقع دیا جائے، عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو تازہ درخت کے ڈنڈے کاٹ کر اس پر برسائے جائیں ۔ نوازشریف کو موقع دیا جائے کہ پارلیمنٹ میں تحریری بیان اور پھر اس سے مکرنے کی معقول وجہ بتائے، اگر نہ بتاسکے تو ڈنڈے سے میڈیا پر اُگلوایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بولنے پر بھی ہو اور فرائض منصبی کے بجائے جرائم پیشہ ریاستی عناصر کو بھی عوام کے سامنے کیا جائے۔فواد چوہدری کو بھی پارٹیاں بدلنے کی سزاہو اور الطاف حسین جو فوج کو اقتدار کی دعوت دیا کرتا تھا اس پر بھی سزا ہو۔ اس سے انقلابی سیاست کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگے گی۔

ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیا گیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟ اگر پی ٹی ایم ان کیلئے کھڑی ہوتی تو…..


منظور پشتین نے قائداعظم یونیورسٹی میں فیس بک پر کہاکہ ’’وٹس ایپ کھولوں تو بہت پیغامات ہیں کہ خواتین سے زیادتی اور لڑکوں کو بھی نہ چھوڑاگیا‘‘۔ چوتڑ تک بال کس کام کیلئے رکھے؟۔ٹانک سے پختون لیڈی ڈاکٹر رضیہ کو اغواء کیا۔ ماردھاڑ لوٹ مار اور ظلم پر فخرتھا۔ ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیاگیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟، اگرPTMان کیلئے کھڑی ہوتی تو اپنی عزت کا طبلہ بجانے یا اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے کی قیمت پرکم ازکم آج چپہ چپہ سے پوری قوم انکے ساتھ کھڑی ہوتی۔

پی ٹی ایم کیلئے کامیابی کا زینہ ایم ٹی ایم ہے

PTM کی بنیاد مظلومیت ہے،یہ MTMہو تو جان آئے۔ چند افراد ہر شہر میں پہنچتے ہیں مگر عوام ساتھ نہیں دیتی ۔ پنجابی تعصب کی بدبو شامل ہو تو انسانیت و اسلام کی مٹھاس نکل جاتی ہے۔ بلوچ تعصب نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف قربانی دیتے تو پاکستان پر انکا راج ہوتا۔ غیرتمند قبائل پر جبری زیادتی ہو تی تو کلہاڑی کاوار ہوتا۔ طالبان کی آڑ میں وہ غلطیاں فوج نے کیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے ۔ڈی آئی خان وبنوں جیل کوتوڑا گیاتو فوج سے عوام ہتھیار چھین لیتی کہ ملک وقوم کی حفاظت بے غیرت تم نہیں ہم کرسکتے ہیں۔قصور میں جبری زیادتی کا ریکارڈ میڈیا سامنے لایا مگر ریاست کو کوئی غیرت نہ آئی۔ بے غیرت جرنیل اور سیاستدانوں نے قوم کا بیڑہ غرق کیاہے۔

پی ٹی ایم کے عالم زیب اور مردان کے قیدی

عالم زیب محسوداور مردان میں قید ہونیوالے پروفیسراختر وزیر وغیرہ نے نظریاتی سیاست کو زندہ کردیا ،حقیقی جمہوری سیاست کا زندہ ہونا ملک وقوم کیلئے خوش آئند ہے۔ طالبان اور فوجی آپریشن کے متأثرین کیلئے خونِ جگر سے انسانی حقوق کیلئے کھڑے ہونیوالوں کا بڑا کمال ہے کہ حقیقی دردِ دل رکھتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہردورِ حکومت کے درباری اور اتحادی سیاستدانوں نے سیاست کو بدنام کردیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو چا ہیے کہ اس قیادت کو قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے بہت بڑی سطح پر اُبھرنے کا موقع دیں۔ فوج اور اس کی کٹھ پتلی سیاسی قیادت ملک وقوم کو کسی مصیبت سے نہیں بچا سکتی ہے۔لسانی تعصبات مظلومیت کیساتھ کھڑے ہوگئے تو پاکستان بخرے ہوگا۔

پیپلزپارٹی ، ن لیگ اورعمران خانی حکومت؟

کوئی اقتدار میں آیا تو استبدادی جبر کی رضاو ایماء پر آیا۔ عمران خان نے پرویز مشرف کے ریفرینڈم سے منہ کی کالک دھونے کیلئے ابھی ندی میں پیرصحیح گیلے نہ کئے کہ نیازی نے ہتھیار ڈالااوراداروں کو مضبوط کرنے کی بانسری بجائی۔سیاسی جدوجہد اداروں کے استبداد سے گلو خلاصی ،حقوق اور عوام کو اختیارات منتقل کرنے کیلئے ہوئی ۔ دوسرے اسلئے تو کرپٹ تھے کہ اسٹیبلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا۔ عوام نہیں کرپٹ جرنیلوں اور ججوں نے سیاستدانوں سے مل کرملک وقوم کو لوٹا ۔ نیازی اورہردور میں قبلے کارُخ بدلنے والے نام نہاد لیڈرقوم اور اداروں کا بیڑہ غرق کرنے لئے چت پڑے ہیں۔یہ ایک ساہیوال کا واقعہ ان سے نہیں سنبھل رہا،اگر پختون قوم اٹھی تو نئی تاریخ رقم ہوگی۔

خلافت قائم ہو توعریاں لباس لونڈیوں کی بھرمار ہوگی؟ اداریہ شمارہ جنوری2019

یہ تأثر ہے کہ اسلامی خلافت قائم ہوگی تو دنیا بھر کے کفار کو دعوت دی جائے گی کہ اسلام قبول کرو، نہیں توجزیہ دو، ورنہ جہاد کیلئے تیار ہوجاؤ۔ پھر انکے مردوں کو غلام اور خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ لونڈی کا لباس مختصر ہوگا۔ ایک طرف خواتین کیلئے پردے کی پابندی ہوگی۔ سعودیہ وایران اور افغانستان کے طالبان دور میں خواتین کیلئے جو پردہ رائج تھا، یہ اسلامی ماڈل ہے تو دوسری طرف حسین لونڈیوں کی نیم وعریاں لباس میں چہل پہل، ریل پیل اور دھوم دھام نئی دنیا کا منظر پیش کررہاہوگا۔ دنیامیں جنت نظیر حوروں کی بہتات اور واہیات سے کیا نظارے ہوں گے۔ کیا یہی مصور پاکستان شاعرمشرق اقبال کے خواب کی تعبیر ہوگی کہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
جب لونڈی کامختصر لباس ہوگا۔ بسوں، ریل گاڑیوں اور پبلک مقامات کے ہر منظر وگوشے پر مخلوط حضرات ولونڈیوں کا سماں ہوگا، یہ قانون ہوگا کہ شادی شدہ لونڈی کی سزا نصف ، 100 نہیں 50 کوڑے ہونگے اور اگر لونڈی شادی شدہ نہ ہوگی تو اس کی سزا کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ اگر لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہیں تو زناپر مجبورنہ کیا جائیگا۔ ولاتکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا ’’اوراپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں‘‘۔
بڑی تعداد میں حسین وجمیل لونڈیوں کی اسلامی خلافت میں آمد کے بعد آدمی کیلئے تعداد کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ جب سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جواں سال لونڈیوں کی جھرمٹیں سرمایہ دار اور بااثر طبقات کی ملکیت ہونگی تو فیکٹریوں ، ملوں ، مارکیٹوں اور دفاتر میں ان سے کام لیا جائیگا اور سب کی جنسی خواہشات پوری کرنا بھی انکے بس کی بات نہ ہوگی۔ مالکان کی اجازت سے نکاح کیا جاسکے گا لیکن اس نکاح کی ثانوی حیثیت ہوگی ، اگر آزاد عورت میسر نہ ہو تو ہی ان سے نکاح ہوگا۔ جب انکے ساتھ ان کی خواہش پر بدکاری کی جائے تووہ سزا کی مستحق نہ ہونگی اور گواہی کیلئے چار افراد کی ایسی شہادت ممکن نہ ہوگی جس کا اسلامی مروجہ قانون میں تقاضہ ہے۔ یہ تو اس صورت میں ممکن ہوگا کہ جس طرح مولانا طارق جمیل نے حوروں کی تعریف کی ہے کہ ستر لباس میں بھی وہ عریاں نظر آئیں گی اور جنت کی شراب طہور پیتے ہوئے اسکے حلق میں اترتی نظر آئیگی اور اسکے بے قرار دل میں محبت کی تڑپ سے ہلتی جلتی ہوئی شریانیں بھی نظر آئیں گی۔ اس طرح سے اگر دنیا کی زمین میں انسانی جسم شفاف مادے کی طرح ہوجائیں تو سرمہ دانی اورکنویں میں سلائی اور ڈول کی رسی نظرآنی ممکن ہوسکے گی اور کسی ایک نے گواہی کا حق اس طرح سے پورا نہ کیا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف گواہی دینے والے 3 افراد کی طرح الٹی ماربھی ان گواہوں کو ہی پڑے گی۔
بہت سارے دانشور ،ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مذہبی منطق لڑانے والے اس طرح کے اقدامات اورماحول کو جواز بخشنے کیلئے ایران ،سعودیہ اور افغانستان سے مشابہ قوانین کیلئے زیادہ بہتر عقلی اور نقلی دلائل بھی پیش کرینگے۔ روس و امریکہ اور برطانیہ بھی دوسروں کو کچل کر غلام بنادیتے تھے تو انکے خلاف اپنے کبھی بغاوت نہیں کرتے ۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کردیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یمن اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہے۔ آنے والا وقت بتائیگا کہ ایران ، سعودیہ اور پاکستان کی باری کب لگتی ہے۔ اس جنگی مہم جوئی کے جواز کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ طاقتور ہیں جو چاہیں کرنے کا حق ہے، البتہ یہ مہربانی ہے کہ ہماری خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا گیا۔ ورنہ تو افغانستان وعراق اور لیبیا کی مسلم خواتین اسرائیل وامریکہ، برطانیہ و یورپ میں لونڈیوں کی صورت میں دنیا بھر کی میڈیا پر دکھائی جاتیں اور ہماری کچھ این جی اوز کی خواتین یہ دعوت دیتیں پھرتیں کہ یہاں کی آزادی سے وہاں کی لونڈی بننا بدرجہا بہتر ہے۔
جب طاقت کیساتھ مذہبی جذبہ مل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا توڑ نہیں نکال سکتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی طاقت مذہب کے مقابلے میں اس طرح سے ناکام ہوئی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ افغانیوں کو رام کرنے میں طاقت، پیسہ ، وسائل اور سازشوں کے تانے بانے استعمال کرنے کے بعد بھی اس طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ایک طرف نیٹو نے بے تحاشا ظلم و جبر دکھانے کے باوجود مسلم خواتین کو لونڈی بنانے کا کام نہ کیااور دوسری طرف سعودیہ نے مغرب کی آزادی خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلامی جذبوں اور جہادی قوتوں کے پیچھے ہمیشہ سے ریاست کارفرما رہی ہے ۔ ریاست قادیانیوں کیساتھ تھی تو عدالتوں نے قادیانی مخالف علماء کو فسادی اور قادیانیوں کو صحیح مسلمان کہا تھااور ختم نبوت کی تحریک چلانے والوں کو پھانسیوں کی سزا اور معافی مانگنے سے لیکر علماء اور عاشقانِ رسول ﷺ کو داڑھی تک منڈوانا پڑ گئی تھی۔ حکومت اسلامیہ کالج کراچی کی جگہ پر شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی کا یادگار بنانے کیلئے علامہ یوسف بنوری ؒ کو مدرسہ بنانے کیلئے دے رہی تھی مگر قادیانیوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مولانا احتشام الحق تھانوی اس میں رکاوٹ بن گئے۔ پھر ریاست کا موڈ بدل گیا تو ایک ایسی تحریک ختم نبوت جو مجلس احرار اسلام کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظیم قربانیوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی مگر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی۔ اگر ریاست نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے ذریعے خلافت قائم کردی اور امریکہ وبرطانیہ اور یورپ و اسرائیل کو اپنا حلیف قرار دیا تو روس وچین ،بھارت، جاپان وکوریا اور کئی دیگر ممالک سے خواتین کو لونڈیاں بناکر ایک نئی مہم جوئی کا آغازبھی کرسکتے ہیں۔
ریاست مدینہ میں یہودونصاریٰ کیساتھ میثاق اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ تھا۔ پاکستان کیساتھ اسرائیل میثاق مدینہ کا بڑا فریق ہوگا اور بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگا تو بعض مسلمان مشرک بنیں گے۔پھر جب امریکی CIA مجاہدین کی طرح سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد پھینکے گی بلکہ مخالف کاروائیاں شروع ہونگی تو اقتدار مرزائیوں کو سونپ دیا جائیگا۔ جن کا نظریہ جہاد کی منسوخی ہوگا۔ مسلم اکثریت تھک ہار کر علماء ومفتیان کے اسلام سے بیزار ہوچکی ہوگی۔انگریز کے خود کاشتہ پودے کاتناآور درخت مرزا قادیانی کا پھل مسلم و غیرمسلم کھائیں گے اور اصلی اسلام کی جگہ جعلی اسلام لے گا توسارا قصہ ختم ہوگا ۔جہاد کے خاتمہ میں قادیانی نبوت ناکام ہوگئی مگر تبلیغی جماعت نے جہاد سے عملی طور پر لوگوں کو دور کردیا۔ مولانا مسعود اظہر نے اسلئے انہی سے گلہ کیا تھا،کرایہ کے جہاد نے جہاد کو بدنام کرکے اسکی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔

امریکہ و اسرائیل نے پاکستانی خلافت سے چینیوں کو لونڈی بنایا تو یہ مثاق مدینہ کی ریاست ہوگی؟

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا کہ علامہ اقبالؒ ایک جہاندیدہ اور الہامی شاعر تھے، شیطان کی مجلس شوریٰ پر اشعار ہمارے اہل اقتدار پڑھ کر دیکھ لیں اورقبلے کا رخ درست کریں،جہاد کے نام پر سپر طاقت روس کو تباہ کیا، پھر امریکہ نے اپنی سازش اور نااہلی کی سزا مسلم ممالک کو دی۔ جہاد کو دہشتگردی سے بدنام کیا، اب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ، اگرپاکستان و افغانستان نے داعش وطالبان کی خلافت قائم کردی اور پھر چین کوتہس نہس کرکے چینی خواتین کو لونڈی بنادیا اور فقہ کی کتابوں میں مذکور نیم وعریاں لباس کا ماحول دنیا کو دکھادیا ۔ پھر نام نہادمجاہدین کی طرح خلافت کا بھی گلہ گھونٹ دیا اور اصلی اسلام کی جگہ قادیانی اسلام کو رائج کردیا تو اسلام کا نام ونشان بھی مٹ جائیگا۔ پیش گوئی پھیلائی گئی ہے کہ 2019ء تک پاکستان دنیا کے نقشے پر نہیں ہوگا لیکن پاکستان انشاء اللہ قیامت تک باقی رہیگا۔ یہاں جعلی نہیں مدینے کی اصلی ریاست قائم ہوگی۔ دنیا کی سازشیں ناکام ہونگی۔ وزیراعظم کو اگر دولت نہیں عزت کی طلب ہو تو حقوقِ نسواں کیلئے اسلام کی صحیح تعبیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بیگم سے کئی بچے جنوادئیے جائیں اور پھر بچوں اور حق مہر سے محروم کیا جائے تو اس سے بڑی زیادتی کا کیاتصور ہوسکتا ہے؟۔ دنیابھی مسلم حکمرانوں کو استعمال کرتی ہے اور پھینک دیتی ہے، جب ہم اپنی خواتین سے زیادتی کرینگے تو عذاب کے بھی مستحق ہونگے۔ حقائق جاننے کیلئے اداریہ پڑھئے

مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر خان داوڑ کی شہادت

فرعون کی قبطی قوم نے حضرت موسیٰؑ کی قوم کو غلام بنایا۔ حضرت موسیٰؑ کا قوم کیلئے ہمدردی اور محبت کا جذبہ فطری تھا مگر اپنی قوم کے جھگڑالو کا ناجائز ساتھ اور مخالف کو قتل کردیا تواس سانحہ سے نبوت اور معجزات ملنے کے بعدبھی وہ خوف کو دل سے نہ نکال سکے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ میرے رسولوں میں سے کوئی نہیں ڈرتا مگر جوظلم کا مرتکب ہوا ہو‘‘۔ حضرت موسیٰؑ علم لدنی کی تلاش میں حضرت خضر کے پاس اللہ کی رہنمائی سے پہنچے ۔ حضرت خضر نے اپنی صحبت کیلئے شرط رکھ دی کہ وہ کسی معاملے پر سوال نہیں اٹھائیں گے جو حضرت موسیٰ نے قبول کرلی۔ پھر یکے بعد دیگرے واقعات ہوئے اور جب ایک معصوم کی جان لے لی تو اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے جدائی کے یقین کے باوجود سوال اٹھادیا۔ جسکے بعد ظاہری وباطنی خلافت کی راہیں جدا جدا ہوگئیں اور قرآن کے یہ واقعات ہمارے لئے بڑے سبق آموز ہیں۔اقبال نے کہا کہ
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیارباش
ابوبکرؓ و علیؓ میں مسئلہ خلافت پر اختلاف تھا۔علامہ اقبالؒ نے اُمت کو خبردار کیا کہ تم ظاہری وباطنی خلافت کا راز نہیں سمجھتے، اکابرصحابہؓ کے نام پر فرقہ واریت کا شکار ہونے کے بجائے حقائق سمجھو، ابوبکرؓ اور علیؓ دونوں ظاہری وباطنی خلیفہ تھے۔
عثمانؓ ظاہری وباطنی خلافت، ذی النورین 2نوروں والے تھے جو فتنہ وفساد میں شہیدہوگئے ۔ انصارؓ کے سردارسعدبن عبادہؓ کا خلافت کے مسئلے پر مہاجر صحابہؓ سے شدید اختلاف تھا،یہانتک کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھتے۔ جنات کے ہاتھوں قتل ہوئے، عدم اعتماد نے فساد کی آگ پکڑلی، جنگ صفین و جمل میں ہزاروں موت کے گھاٹ اُترگئے۔ عشرہ مبشرہ میں شامل طلحہؓ و زبیرؓ نے بھی ان جنگوں میں حصہ لیا ۔نبیﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ سے نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’ ’ مجھ سے پہلے تمام انبیاءؓ نے دجال کے فتنے سے اپنی قوموں کو ڈرایا، اسکی ایک آنکھ کانی اور دوسری انگور کے دانے کی طرح ہوگی، اگر تم اسے نہ پہچان سکو تو اللہ تعالیٰ اس دجال کو جانتا ہے۔ خبردار!، مسلمانوں کا خون ، مسلمانوں کی عزتیں اور مسلمانوں کا مال ایک دوسرے کیلئے ایسی حرمت والے ہیں ،جیسے حج کے اس مہینے میں اس شہر مکہ کے اندر اس دن ’’یومِ عرفہ‘‘ کی حرمت ہے۔ خبردار میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔ (بخاری)
ایک قتل ناحق کا ارتکاب اس وقت کے خفیہ والوں یا جنات نے کیا ، بہرحال پھر تختِ خلافت پر حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ شہید کردئیے گئے۔ تربیت یافتہ صحابہؓ نے آخری خطبے کا پاس نہ رکھا اور ایکدوسرے سے فتنہ وفساد میں مبتلا ہوگئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ خراسان سے دجال نکلے گا، اسکا اتباع وہ اقوام کرینگی جنکے چہرے ڈھال کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے‘‘۔ طالبان کی شکل میں پٹھان و ازبک نے دجالی لشکر کا کردار ادا کیا۔ جس طرح ہتھوڑے جیسے لمبوترے اور ڈھال جیسے گول چہرے بطور مذمت بیان ہوئے ہیں اسی طرح سے انگور جیسے ابھری ہوئی آنکھ بھی بطور مذمت ہی بیان ہوئی ہے۔ حدیث میں سب سے بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ لوگ دجال کے اس واضح کردار کے باوجود کہ مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کی حرمتوں کو ختم کردیا گیا لیکن مسلمان قوم دجال سے بالکل بے خبر اور لاعلم رہے گی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کا جہاد امریکی سی آئی اے کا کرشمہ تھا۔ طالبان بھی ملاعمرمجاہدؒ کی قیادت میں امریکہ نے بنائے، طالبان کی قیادت جنگ کے بعد سے آج تک امریکہ کیساتھ رابطے میں ہے۔امریکہ نے اسامہ اور ملاعمر کے نام پر مسلم دنیا کو تباہ کیا، ہرملک وقوم اور فرقے کے نام پر مسلمانوں نے مسلمانوں کی جانوں کی حرمت ختم کردی لیکن اللہ تعالیٰ ہی دجال کو جانتاہے ، ہم بے خبر رہے۔
ظاہری وباطنی خلافت کے سزاوار ہم ہیں؟۔ روز روز قتلِ ناحق پر قوم کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے عرصہ تک قتل وغارتگری کا تماشا دیکھا اور اب بھی ضروری نہیں کہ حالات پر قابو پاسکے۔ لسانیت کے بھڑکتے شعلوں نے کراچی کو تباہ کیا، طالبان کی دہشتگردی نے ناکامی کا ٹھپہ لگایا، ڈرون حملوں نے ریاست کی ناک کاٹی۔ تباہی وبربادی اورقتل و غارتگری کے گرم بازار میں ریاستی عناصر کو بری الذمہ کہنا غلط ہے لیکن اللہ کے فضل اور جنرل راحیل کی جرأت سے ممکن ہوسکا کہ عوام بالعموم اور قبائلی بالخصوص چین وسکون سے زندگی گزارنے کے قابل بنے۔ مولانا سمیع الحق اور ایس پی داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء کے بعد شہادت نے ایک نیا واویلہ کھڑا کیا ،جس پر مختلف رنگ وروغن چڑھائے جارہے ہیں۔
ایس پی طاہر خان داوڑ پر پہلے بھی خود کش حملے ہوچکے ۔دارالخلافہ اسلام آباد سے اغواء کے بعد حکومت اور ریاست کی بے حسی،غفلت اور نااہلی کو سازش کانام دینا غلط ہے تو اسکی ذمہ داری افغانستان و PTMپر ڈالنے کی کوشش بھی بھونڈی حرکت ہے۔ افغانستان نے لاش سپرد کرنے میں دیر اسلئے لگادی کہ پوسٹ مارٹم اور شناخت اس کی ذمہ داری تھی مگر حکومت کے بجائے اس کی لاش کو پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کے حوالے کرنے کے پیچھے امریکی مشاورت کا شاخسانہ ہوسکتا ہے لیکن چلو شمالی وزیرستان سے محسن داوڑ نہ صرف عوام کا نمائندہ تھا بلکہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پارلیمنٹ کا بھی نمائندہ تھا۔سازش ناکام بنائی جائے۔
عمران خان نے طاہر داوڑکے اغواء کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اسلئے اگر وزیرداخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دیتا تو اچھا تھا۔ وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی نے انتہائی بے حسی اور غیر ذمہ داری کی مثال قائم کی۔ اغواء کے بعد وائس آف امریکہ سے کہا کہ میں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ اغواء کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ، محسن داوڑ پشاور میں بحفاظت موجود ہیں۔ جس کی شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں خوب خبر لی۔ لیکن اس بے حس مخلوق کی بے حسی کا یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں کہ اسکے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ تاہم جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ اس قتل کے پاکستان اور افغانستان میں سہولت کار موجود ہیں۔ امجد شعیب نے اسکا تعلق امریکہ اور پی ٹی ایم کیساتھ جوڑ دیا۔ جبکہ زید حامد نے جذباتی انداز میں کہا کہ’’ اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر اور افغانستان کو سبق سکھایا جائے لیکن چین سے ہم نے بھیک مانگنا ہے اسلئے چین کو اسکے مظالم کا بدلہ نہ دیاجائے‘‘۔ گویا میڈیاکے خلوص یا کم عقلی نے پختون قوم اور پاکستانی ریاست کے درمیان طبلِ جنگ کا پورا اہتمام کرنے کی کوشش کی اور افغانستان کی طرح پاکستان کا حال خراب کرنا چاہا، جو امریکی خواہش ہے۔
اگر PTMکی قیادت ہماری بات مان لیتی اور اس کو مظلوم تحفظ موومنٹ کا نام دیتی تو جعلی مینڈیٹ کے ذریعے تحریک انصاف نہیں اصلی مینڈیٹ سے منظور پشتین اقتدار میں آتا۔ بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور ہزارے وال سب ہی قومی دھارے میں ایک نئی روح پھونکنے کیلئے اس تحریک کا حصہ بنتے مگر……۔

امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔

ڈائریکٹرفنانس نوشتہ دیوار فیروز چھیپا نے کہا کہ ایک طرف منظور پشتین کیساتھ ایس پی طاہر داوڑ شہید کے بیٹے نے سنگین الزام لگایا ہے تو دوسری طرف سوشل میڈیا نے منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں پر اغواء کا الزام لگایا ۔ امریکہ ایک باقاعدہ مہم کے تحت پختونوں کو پاکستان سے لڑا رہاہے۔ طاہر داوڑ ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔ امریکی سی آئی اے اور دہشتگردوں کے علاوہ کسی کے مفاد میں ان کی شہادت نہیں تھی۔ میڈیا پرحکومت و ریاست کی غفلت و لاپرواہی کو اجاگر کرنا وقت کا تقاضہ تھا لیکن سازش کا نام دینا غلط ہے۔ بہت بڑی کوتاہی تھی لیکن اس کو سازش کا نام دینا پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ پختون قوم کے مفاد میں ہے۔ الزام لگانا اپنے کو نقصان اور دشمن کو فائدہ دینا ہے۔ امریکہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر لڑاتاہے، اب پاکستانی ریاست کو پختون قوم کیساتھ لڑانے کی تیاری ہے، امریکہ سے بھلے کی امید تب ہوتی جب وہ افغانستان میں امن قائم کرتا۔ ملک اور پختون کو پھرفتنہ میں ڈالا جارہاہے۔

کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے

ایڈیٹر نوشتۂ دیوار اجمل نے کہا کہ صحافیوں کی مہم جوئی پرگرفت قانون اور اخلاق کا تقاضہ ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے نوازشریف کی پارلیمنٹ میں تقریر کو نظر انداز اور قطری خط میں جان ڈالنے کی مہم جوئی کی لیکن اب نوازشریف نے اپنی تقریر سے استثنیٰ مانگ لیا، قطری خط سے لاتعلقی کا اعلان کردیا،کیا شاہزیب خانزادہ مہم جوئی پر قوم سے معافی مانگیں گے؟، یا پھر یہ بتانا پسند کرینگے کہ جیو کے مالکان نے نوازشریف کیلئے مہم جوئی پر کتنا معاوضہ لیا؟۔کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کرپٹ عناصر کی مہم جوئی کیلئے میڈیا استعمال ہوجائے؟ سیاسی لیڈر وں کی کرپشن چھپانے کیلئے میڈیا اشتہارات کے نام پر رشوت لیکر مہم جوئی کرے تو اس سے قوم وملک کی اخلاقی اور قانونی حیثیت تباہ نہ ہوگی؟۔ حق نہیں باطل کیلئے مہم جوئی والوں پر بھی سوال بنتا ہو تو کیا سوال کا جواب دینگے؟ اور اپنے کئے پر ناظرین سے کھلے دل و دماغ سے معافی مانگنا پسند کریں گے؟۔ کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہو تو اخبار رجسٹرڈ نہیں ہوتامگر چینل مافیابن گئے۔