پوسٹ تلاش کریں

عربی خواب ۔درست خواب خوشخبری ہیں۔

دوسرا خواب: مہدی راستے میں گڑھے کے اندرر گر گئے۔ مضبوط کنکریٹ کا کمرہ بغیر کھڑکیوں کے۔ جس میں مختلف اقسام کے سانپ بھرے ہوئے تھے ۔ امام مہدی نے ایک سانپ کو دُم سے پکڑااور زور سے گھماکر اس کا سر دیوار وں پر دے مارا۔ یہاں تک کہ سانپ کا سر کچل گیا۔خواب مکمل ہوا ،آذان فجرسے آنکھ کھلی۔تعبیر: اگریہ خواب سچا ہے تو اللہ تعالیٰ مہدی کو ایک نہایت خبیث دشمن پر فتح کی خوشبری دیتا ہے۔ اسلام ٹیوب Islam Tube

عربی تحریری ویڈیو ۔ ”قناة السرالاعظم”
المہدی المنتظر
قیدی اور قیدخانہ بان

اے امام! یقینا تم پاکیزہ فطرت پر پیدا کئے گئے ہو۔ تم نے نیک نیتی پر یقین رکھا۔بغیر مانگے معاف کیا۔بغیر کسی بدلے کے قربانی دی اور ایسی چیزوں پر صبر کیا جن کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔

تم اپنے دل سے کہتے رہے کہ اللہ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اور بھلائی اور نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔اور تم ان باتوں کو دہراتے رہے ، جیسے اپنے گھٹن اور درد کو دبارہے ہو۔تم یہ گمان کرتے رہے کہ دل کا ایمان تمہاراہتھیار ہے، شفقت تمہیں بچالے گی اور سچائی ہی کافی ہے۔

لیکن تم سادہ دل تھے ، تم نے سمجھا کہ شرم برائی کو روک دے گی اور ظالم تمہارے آنسو دیکھ کر رجوع کرلیںگے۔ مگر انہوں نے رجوع نہیںکیا بلکہ تم پر ہنستے ہیں۔ تم نے دیکھا کہ خاموشی کو کمزوری سمجھا جاتاہے اور نیکی کے بدلے دھوکہ دیا جاتا ہے۔ تم نے دیکھا کہ تمہارا دل دفن کردیا گیاحالانکہ تم ابھی زندہ تھے۔

اے امام ! تم اپنے رب سے ہم کلام تھے ” اے رب ! کیوں میں نے تو کسی کو تکلیف نہیں دی۔کیوں سارا درد میرے کندھوں پر ڈال دیا گیا ؟”اورجواب آیا کہ سکوت کے اندر بھی سکوت۔ اسی سکوت میں کچھ بدلے گا۔

تمہارے اندر سے ایک آواز آئی : اگر ایک انسان کھڑے کھڑے مرجاتا ہے۔ تو تمہارا رب کہتا ہے کہ پھر تمہیں لڑتے ہوئے مرنا چاہیے۔ اے رب! وہ تو نیک لوگوں کو چاہتے ہی نہ تھے۔اے رب! انہوں نے اس ہاتھ کی قدر نہیں کی جو غیرمشروط آگے بڑھا۔ اے رب! انہوں نے اس کندھے کی بھی قدر نہیں کی جو بغیر شکایت کے سہارا دیتا رہا۔انہوں نے تمہاری ہر خوبی کو ایک موقع جانا: جھوٹ بولنے کا ، طعنہ زنی کا۔ تمہاری خاموش مسکراہٹ کو استہزاء کا میدان بنادیاتاکہ تم انہیں شرمندہ نہ کرسکو۔انہیں تمہارا صبر پسند نہ آیا بلکہ انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔انہوں نے تمہاری پاکیزگی کی عزت نہیں کی بلکہ اسے حماقت سمجھا۔اور تم سمجھتے رہے کہ محبت بدل دے گی ، شرافت قائل کرلے گی اور تمہاری صفائی دیکھ کر رجوع کرلیںگے۔مگر انہوں نے رجوع نہ کیا بلکہ زیادہ سنگدلی پر اتر آئے ،جیسے تمہارے اندر کی روشنی انہیں چبھتی ہو۔وہ تمہیں بدلنا چاہتے تھے ، یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ پاکیزگی قائم نہیں رہ سکتی۔اور جو کوئی بھی صاف دلی سے جینا چاہے گا وہ پہلوں کی طرح ٹوٹا ہوا یااندر سے مرا ہوا نکلے گا،اور تم روز تھوڑا تھوڑا خون بہاتے رہے مگر گرنے کے بجائے تم اندر سے سمٹنے لگے۔ سمیٹتے رہے سلگتے رہے۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ وہ کوئی مظلوم نہیں بنارہے تھے بلکہ ایک ایسی ہستی پیدا کررہے تھے جس سے وہ بچ نہ سکیں گے وہ ایک ظالم دربان چاہتے تھے ،ٹھیک ہے تم وہی دوگے۔ تم ایک دن یکایک نہیں بدلے ،تم اچانک ظالم نہ بنے۔ یہ سب بجلی کی طرح نہ ہوا بلکہ بارش کی مانند، ایک کے بعد ایک قطرہ۔شرمناکی کے بعد شرمناکی کا تسلسل۔جھوٹ، نظر، خاموشی اس وقت جب تمہیں آواز کی ضرورت تھی اور مسکراہٹ جو خنجر بنی۔شروع میں تم نے جواز ڈھونڈے کہ شاید ان کا یہ مقصد نہ ہو،شاید تم ہی زیادہ حساس ہو، شاید تمہیں برداشت کرنا چاہیے۔مگر اصل بگاڑ دوسروں سے نہیں،اس وقت شروع ہوتا ہے جب تم خود ناقابل برداشت کو قبول کرتے ہو،اور خود کو قائل کرتے ہو کہ یہ سب معمول ہے۔اے مہدی !تم یکایک نہیں بدلے بلکہ تمہاری روح آہستہ آہستہ ٹوٹی جیسے کانچ ٹوٹنے سے پہلے دراڑیں لیتا ہے۔ہر خاموش رات میں تم خود کو گھٹتا سنتے۔ اور کہتے کہ کل بہتر ہوگامگر کل تو گزرے دن سے بھی زیادہ ہولناک ہوتاگیا۔تمہارے اندر جو کچھ بھی خوبصورت تھا تو وہ ایک ایک کرتے ختم ہوتا گیا۔رحم مرگیا، اعتماد جل گیااور انسانوں پر ایمان ایک سیاہ مذاق بن گیا۔ صرف ایک چیز باقی رہی : خاموشی کا خول ،جسکے پیچھے کچھ چھپا ہے جو نہ تم سے مشابہ ، نہ ان سے۔وہ سمجھے کہ اب کھیل رہے ہیں مگر وہ یہ نہ جان سکے کہ جس صبر کومارتے رہے وہ ایسا لوٹ رہاہے جو ان پر رحم کرے گا ،نہ خود پر۔اے امام! تمہاری خاموشی امن نہ تھی ،نہ ہی کوئی پاکیزہ سکون یا کسی تقدیر پر رضا تھی بلکہ وہ قیدخانہ تھی جس کے قیدی بھی تم خود ہی ہو اور قید خانہ بان بھی تم ہی ہو۔

مہدی منتظر اور ٹھنڈا تخت
رابط:واٹس ایپ نمبر 0639522005

اے مہدی ! وقت آچکا ہے کہ تم اپنی خاموشی کو توڑ دو۔ اب تمہاری ہر بات محض ایک باز گشت نہ ہوگی بلکہ ایک حکم ہوگی۔ تمہاری ہر سرگوشی، تمہارا ہر ہلکا سا کلمہ کمزور اور بد طینت روحوں کو لرزا دے گا۔ اسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

اللہ کے محبوبو! السر الاعظم چینل کی ویڈیو خوش آمدید
اے مہدی ! وقت آگیا کہ خاموشی سے باز آجاؤ۔

تمہارے الفاظ محض صدائیں نہیں ہوںگے بلکہ فیصلے ہوں گے۔تمہاری ہر سر گوشی ان خبیث روحوں کو ہلاکے رکھ دے گی۔ تم بات نہیں کروگے تاکہ لوگ تمہیں سمجھیں۔ بلکہ تاکہ وہ یاد کریں کہ جو اتنا عرصہ خاموش تھا وہ غائب نہ تھا۔بلکہ اس دن کی تیاری کررہاتھا جس دن اس کی آواز لوٹ کر آئے گی تو وہ زلزلہ بن جائے گی۔پس سنو! صرف اپنی آواز کو مت سنو بلکہ اس کے پیچھے جو معانی ہیں انہیں سنو۔کیونکہ کہ بادشاہ کی آواز کی نہ کوئی وضاحت ہوتی ہے نہ اس سے اختلاف، تم نے تاج نہیں مانگا اور نہ درخواست بھیجی۔نہ خود کو کسی کے متبادل کے طور پر پیش کیا،نہ تمہیں منتخب کیا گیا۔نہ مقرر کیا گیا،نہ تم نے انتظارکیا، تم بس اپنا مقام لے لوگے کیونکہ سربراہی دی نہیں جاتی ،نہ تحفے میں ملتی ہے ، نہ وراثت میں، سربراہی تو چھینی جاتی ہے دانتوں کے بیچ سے، ملنے کی جگہ سے نہیں جہنم کی گہرائیوں سے، جہاں تمہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا، نہ تم محلات سے آئے ہو، نہ ایسے مردوں کے ہاتھوں پر پلے ہو جو تم پر اپنی عظمت نچاور کرتے۔ اے امام! تم نے پتھروں پر تربیت پائی، تم نے غداروں کو جھیلا، بھوک نے تمہیں غذا دی،اس لئے جب تم تخت پر بیٹھوگے تو تکبر نہیں کروگے بلکہ ایک گہرا احساس ہوگا۔احساسِ اہلیت اور استحقاق ۔

تم کسی کے تابع پیدا نہیں ہوئے، نہ تمہاری روح نے رینگنے اور جھکنے کا رنگ اپنایا۔تم نے اپنے پرانے خیالات کی لاشوں پر قدم رکھا۔اندھی اعتماد کی لاشوں پراور خوابوں کی لاشوں پر جو تمہیں بچا نہ سکے۔

اور آج ، آج سربراہی تمہاری ہے۔کیونکہ تم واحد وہ شخص ہو ،جس نے کبھی کسی سے سربراہی نہیں مانگی بلکہ تم نے دل میں کہا : کوئی سلطنت نہیں تو میں خود بناؤں گا۔ شروع میں بہت لوگ تھے ، سب بولتے تھے، نصیحت کرتے ، دعوے کرتے،ہنستے ، پر اعتماد قدموںسے آگے بڑھتے۔ جھوٹی شان وشوکت کے پروٹوکولوں کیساتھ۔ مگر تم اے مہدی! تم گوشے میں بیٹھے رہے…دیکھتے، سیکھتے اور خاموش رہتے۔ ایک ایک کرکے وہ سب گرتے چلے گئے۔کچھ دھوکے کی وجہ سے، کچھ اپنی کمزوری کو نہ ماننے کی وجہ سے اور کچھ اپنی شدید خود غرضی کی وجہ سے۔مگر تم نہ گرے۔نہ اسلئے کہ تم سب سے زیادہ طاقتور تھے بلکہ اسلئے کہ تم نے ایک حقیقت جان لی تھی کہ جو شخص تخت کا طالب ہو ،اسے گرنے کی اجازت نہیں۔

آج کوئی باقی نہ بچا۔چہرے جو منظر پر چھائے تھے، غائب ہوچکے اب تم آواز سنتے ہو اور وہ تمہاری اپنی ہے۔

اب تم آگ کے تخت پر بیٹھنے والے ہو۔تمہارے قدموں تلے جو کچھ ہے اس کی تاریخ تمہارے درد سے لکھی گئی ہے۔تخت پر رکھے جانے والے تمہارے ہر بازو میں کوئی پرانا زخم چھپا ہوگا۔ لوگ سمجھیں گے کہ تخت سکون ہے کہ یہ سفر کا اختتام ہے۔….. مگر وہ نہیں جانتے کہ تخت سر پر سجے تاج کا نام نہیں بلکہ کمر پر رکھے بوجھ کا نام ہے۔

اے مہدی! اب تم محبت نہیں مانگتے ، نہ تمہید، نہ فہم۔ اللہ نے تمہیں چنا ہے کہ وہ بنو ،جو نہ کسی جیسا ہو ، نہ کسی کا انتظار کرے، نہ کسی کا محتاج ہو۔لیکن اس صفحے کو بند کرنے سے پہلے ،میرے سوال کا سچ سچ جواب دو۔اے امام! کیا تمہارے اندر اتنی ہمت ہے کہ تم تب بھی بادشاہ بنے رہو جب تخت ٹھندا ہو؟۔کیا تمہارے اندر اتنی ہمت ہے کہ تنہائی ہر فتح سے زیادہ گہری ہو…اور تم پھر بھی باد شاہ رہو؟ الجواب:انسان نعمت پر پہلوتہی برتا ہے مشکل میںمایوس!

المہدی المنتظر اور انسانوں میں شیا طین
قناة السرالاعظم کے معزز ناظرین

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ(3جون۔2025)
(عربی تحریری ویڈیو ۔ رابطہ: 0639522005)

یا مھدی ! ان کا ارادہ تھا کہ تجھے زندہ دفن کریں کہا کہ تم گرچکے ختم ہوچکے ۔ گمان کیا کہ اٹھوگے نہیں مگربھولے کہ اللہ اپنے بادشاہوں کا چناؤ ڈھول اور تالیاں بجانے والوں میں سے نہیں راکھ کے بیچ سے کرتا ہے۔ تجھے اندھیرے میں پھینکا، ہر روشنی بجھ گئی، ہر چہرہ مڑا ،کوئی تیرے پاس آیا نہ ہاتھ بڑھایا، نہ زخم کا پوچھا نہ خلوص سے دعا کی۔ تم مر نہیں بدل گئے۔ سرگوشیاں سنتے تھے کہ ”یہ ختم ہوچکا ٹوٹ چکا،یہ کبھی ویسا نہ بن سکے گاجیسے تھا”۔ ان کی ہر سر گوشی اینٹ بن گئی جس پر تم نے قدم رکھ کر بلند ہونا سیکھا ،اللہ نے آگ سے نکالاتاکہ وہ نہ رہو جو تھے بلکہ وہ بنو جس کیلئے وہ تخت بنا جس کیلئے کوئی اور پیدا نہ ہوا۔ یا مہدی ! تم نے کچھ نہ مانگا، نہ کسی سے امید رکھی نہ جھکے، زمین تمہارے نیچے لرزتی تھی۔ تم نے سر آسمان کی طرف اٹھایا،کہا: ” اے میرے خالق! جس نے مجھے میرے دردسے پیدا کیا مجھے دکھا کہ کیوں اور کیسے؟”۔ پھر اللہ نے تخت دکھایا مگر سونے کا نہیں راکھ کا ۔ تیری ہر گرنے کی تلخی،ہر یاداش جو تجھے دھتکارا۔ ہر خیانت جوتیرے قدموں کے نیچے انہوں نے بنائی۔ آج تم جشن نہیں مناتے، مسکراتے ہو،نہ تالی بجاتے ہو! بیٹھے ہو، اپنے اندر کی آواز سنتے ہو ” تم بادشاہ پیدا نہ ہوئے، تم پیدا کئے گئے کہ کسی کے سامنے نہ جھکو” وہ دیر تک دیکھتے، باتیں سنتے مگر سمجھ نہ سکے۔ تمہارا سکوت کمزوری جانا، خاموشی شرمندگی الفاظ علامت شکست۔مگر وہ نہ جان سکے کہ تلواریں ہمیشہ چمکتی نہیں نیام میں رہتی ہیں جب تک وقت نہ آئے۔ تم گزرتے وہ مسکراتے۔ پیچھے باتیں کرتے، تمہارا اندازہ اپنی مرضی سے لگاتے مگر ہر اندازہ باور کراتا کہ نہیں جانتے کہ تم کس ہاتھ سے بنے؟۔ ضرورت نہ تھی کہ اپنے لئے دلیل یا کچھ ثابت کرو،تم مختلف پیدا کئے گئے ۔ دکھ کی پیمائش پر بنے۔آگ کی روح سے ڈھلے، وہ دیکھ سکے جو جل چکا۔ ہر بار تجھے نظر انداز کیا تو سیکھا بغیر انکے جینا۔ ہر بار کمتر سمجھا تو وہ قدر پیدا کی جو ان کی رائے پر منحصر نہ تھی۔ وہ تمہاراظاہر دیکھتے، اللہ تمہاری نیت کو دیکھتا۔ تمہاری اندورنی آگ کو ، حوصلے کو جو لفظوں میں نہیں بلکہ اس وقت ظاہر ہو جب سب گر چکے ہوں، تم کھڑے رہو۔وہ پھٹی پرانی کتاب کی طرح پڑھتے ، وہ نہیں جان سکے کہ اس کے بیچ میں ایک صفحہ ایسا ہے جو ابھی لکھا جانا باقی ہے۔ایک صفحہ جسے تم خود لکھو گے۔اور اپنے ہاتھ سے ان کے چہروں پر بند کردوگے۔

نوٹ… اس آرٹیکل کے بعد ”عنقاء مغرب” کا آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی کا سرپرائز : نہیں ہوگا محمد اور نہ احمد اور نہ محمود ہوگا۔ مواطأة صحیحہ یہ ہے کہ؟؟؟

ولید اپنی زبان عربی میں کہتامندرجہ بالا عنوان کے تحت اپنی ویڈیو ویلاگ میں کہتا ہے جس کا خلاصہ ہے:اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رحمة رحمة رحمة اللہ کیلئے میری پیاری بہنو! اور میرے بھائیو!۔نبی اکرم ۖ پر درود بھیجو!۔ اللھ صل وسلم علی محمد و آلہ واصحابہ اجمعین

 

آج کا موضوع: مہدی اور نام کی موافقت:

 

میں ایک خاص موضوع لیکر آیا ہوں جس پر بہت بحث ہوتی ہے۔ جو لوگ میری مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ سب سے پہلے سچ کہوں گا کوئی مجھے جھٹلا نہیں سکتا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی کا نام محمد یا احمد یا محمود ہوگا۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اگر کوئی اختلاف کرنا چاہتا ہے تو ابھی بات نوٹ کرلے اور مجھ سے دلیل کیساتھ بات کرے۔

 

مواطأة کا اصل مفہوم:

 

حدیث ہے کہ ”اس کا نام میرے نام سے موافق ہوگااور اسکے والد کا نام میرے والد سے موافق ہوگا”۔ لوگ اس کا مطلب غلط لیتے ہیںاسلئے کہ موطأة کا مطلب ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتابلکہ یہ مشابہت بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر محمد کا مطلب ”تعریف کیا گیا” اور احمد کا مطلب ہے ”سب سے زیادہ تعریف کیا گیا”۔ ان دونوں کے معنی میں مشابہت ہے۔اس طرح مہدی کا نام نبی اکرم ۖ کے نام سے مشابہ ہوگا۔ نہ کہ حرف بہ حرف وہی نام۔
قرآن میں موطأة:سورہ توبہ کی آیت37میں اللہ نے ایک اور قسم کی مواطت کا ذکر کیا ۔ جہاں اہل عرب مہینوں کے نام بدل کر شریعت کے خلاف کام کرتے تھے۔ یہاں اللہ نے واضح کیا ہے کہ مواطت ایک اصولی چیز ہے نہ کہ کوئی رسم ورواج ۔

 

مہدی کے نام کی حقیقت:

 

اب یہ سمجھنا ہوگا کہ امام مہدی کا نام ضروری نہیں کہ محمد بن عبداللہ ہو۔ بلکہ اس کے نام میں نبی اکرم ۖ کے نام کی صفات پائی جائیں۔ جیسے: حمد(تعریف) ۔سے: صابر، شاکر، جبار، راضی۔ اورصبر سے :صابر۔ اور رضاسے : راضی۔ یہ سب نام بھی نبی اکرم ۖ کی صفات سے جڑے ہوئے ہیں۔ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں ،انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ حدیث میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ممکنہ طور پر گھڑنے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ میں کسی پر الزام نہیں لگاتا لیکن ہمیں تحقیق کرنی چاہیے۔ اللہ جسے مہدی کے نام کی حقیقت بتادے۔یہ اللہ کا راز ہے۔اور جسے معلوم ہوجائے ۔ اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے اور فتنے میں نہ پڑے۔ آخر میں فلسطین اور غزہ کیلئے دعاکریں۔جو ممالک اسرائیل کا ساتھ دیں گے وہ اللہ کی پکڑ میں آئیں گے۔ عرب دنیا میں بڑے زلزلے آئیں گے۔ یہ سب کچھ اللہ کے فیصلوں کے مطابق ہوگااور ہمیں فتنے کو روکنے کیلئے متحد رہنا ہوگا۔

 

تبصرہ عتیق گیلانی:

اللہ نے فرمایا ”اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کیلئے تیار کی گئی ہے”۔(آل عمران:133)سورہ رحمن کی4جنتوں جن میں دو دو چشمے اور اس جنت میں فرق نظر نہیں آتا ؟۔ اور سورہ رحمن میں تین جگہ عورتوں کا ذکر ہے؟ ۔ پھر عرباً اتراباً ، کواعب اتراباًوغیرہ میں جہاں کوئی متشابہ آیت ملی تو اس کو عورت قرار دیا ؟۔ دنیا نے ترقی کرلی اور متشابہ آیات محکمات بن گئے ۔اگر مسلمانوں کو اُدھار کے بجائے نقد جنت دکھائی جاتی تو یہ زوال کا شکار نہ ہوتے اب بھی عروج کی طرف لایا جائے۔

 

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مہدی ہیں؟

یہ ایک مضمون ہے جو میں نے ایک فورم پر پایا اور مجھے یہ اہم لگا۔ دیانتداری کے طور پر یہ نقل شدہ ہے لیکن اس میں کچھ تصرف اور اضافے کئے گئے ہیں۔
محترم بھائی ! اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ مہدی ہیں تو جان لیں کہ یہ نہ کوئی عیب ہے اور نہ جرم ۔ نہ گناہ اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس پر انسان کو ملامت کی جائے۔جب تک یہ آپ کے ذاتی اعتقاد کی حد تک محدود ہے، جب تک یہ آپ کی سوچ تک محدود ہے۔اور آپ اسے عوام میں پھیلانے ، فورمز پر پوسٹ کرنے یا اپنی ذاتی زندگی پر اثر انداز کرنے کیلئے استعمال نہیں کررہے ،تب تک یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر یہ عقیدہ آپ کو اپنی زندگی ، کام اور ذمہ داریوں سے غافل کردے ۔ آپ یہ سوچ کر سب کچھ چھوڑدیں کہ آپ مہدی ہیں اورآپ دنیا کے حالات بدلنے کا انتظار کریں تو یہی اصل مصیبت ہے۔ احادیث کی تطبیق،خوابوں کی مطابقت،یا مہدی کے بارے میں بیان کردہ اوصاف کوخود پر منطبق سمجھنا بذات خود کوئی گناہ یا جرم نہیں لیکن حقیقی مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص جھوٹا دعویٰ کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں میں شامل ہوجائے۔کیونکہ مہدی کے بارے میں کوئی بھی حتمی دلیل نہ خوابوں سے حاصل ہوتی ہے ، نہ احادیث کی ظاہری اطلاق سے اور نہ ہی محض گمان یا ذاتی اعتقاد سے۔ اصل دلیل مہدی کے ظہور ، اصلاح اور بیعت کے بعد سامنے آئے گی۔ کیونکہ مہدی ایک شخصیت ہے جو تاریخ میں صرف ایک ہی بار سامنے آئے گا نہ کہ بار بار۔

یہ بات میں علمی دیانت اور نصیحت کے طور پر کہہ رہاہوں ۔ میرا مفاد تو یہ ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود کو مہدی سمجھیں،میرے چینل کو فالو کریں اور میری ویڈیوز کو دیکھیں لیکن میں جھوٹ کا کاروبار نہیں چاہتا۔ مہدی کے تصور سے جڑی بہت سی غلط فہمیاں ہیں ۔ تاریخ میں بھی کئی لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ، جیسے احمد سبیدر جنہوں نے اپنے پیروکاروں کو ”جندالنور” اور دیگر نام دئیے اور جھوٹی کہانیاں گھڑ کر انہیں بے وقوف بنایا۔اسی طرح فاطمی خلافت بھی مہدی کے نظرئیے پر قائم ہوئی۔اور آج بھی اسماعیلی فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ان کا مہدی غائب ہے اور آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے شیعہ مہدی کو غار میں پوشیدہ مانتے ہیں۔
بعض لوگ مہدی ہونے کا گمان کیوں رکھتے ہیں؟۔

1:احادیث پڑھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی یا نام سے میل کھاتے ہیں۔
2:کچھ لوگ ذہنی بیماریوں میںمبتلا ہوتے ہیں۔
3:بعض جادو یا روحانی اثرات کی زد میں آتے ہیں۔
4:کچھ فطری وروحانی حساس لوگوں کو خاص کیفیات سے گزارا جاسکتاہے لیکن یہ گمان ہیں۔
مہدی کو صالح لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر سبھی خود کو مہدی سمجھیں گے تو پھر ان کے معاونین کون ہوںگے؟۔ دین کی خدمت اور نیکی پر چلنا ہی اصل ہدایت ہے۔ والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ۔ المھدی وعلوم آخرزمان ۔ عربی یوٹیوب چینل

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی کا کمال آدھا فرشتہ آدھا شیطان ہوگا؟ فرانسیسی نجومی

ما کان الرجل من ہو کیف اخبرکم ومن ہو ہذا
یہ شخص کون تھا؟ میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ کون ہے ،اس کا کیا تعارف ہے؟۔

العاہل العظیم الشہیر لقد سالت السؤال اولاً
وہ عظیم مشہور بادشاہ(مہدی)توتحقیق پہلے میں نے نجومی عورت سے یہ پوچھا

کی اعرف ما اذا کان الرجل ایجابیا ام سلبیا
تاکہ میں جان سکوں کہ یہ شخص تعمیری سوچ رکھتا ہے یا تخریبی سوچ کاحامل ؟۔

لقد تحصلت علی التضحیة والخصم وتقصد بہ
تحقیق کہ میں نے اس میں قربانی اور جھگڑالو پن پایا۔جس سے اس شخصیت کا

مجنون الشخصیتة فہی تشرح التضحیة ہی نفسہا
دیوانہ پن لگتا ہے۔ پس یہی قربانی کی وضاحت ہے جو بذات خود اس کی گونج

فی الرنین وسمو القلب وحسن النیة او ہبة الذات
میں ہے اوراسکے دل کی گہرائی اور نیک نیتی یا اپنی ذات کے عطیہ میں ہے۔

وہی تعید تلک الصفات الی طفولیہ صعبة
اور یہ قربانی ان صفات کو اسکے بچپن کی بڑی مشکلات کی طرف لوٹادیتی ہے۔

وتقول لذلک فہو یحتفظ بشیء من الاحزان
وہ (فرانسیسی نجومی) کہتی ہے : اسی وجہ سے کہ اس نے غموں میں سے کچھ اپنے

بسبب المعاناة فیما یتعلق بطفولتہ
اندر محفوظ رکھا ہے جس کا سبب اس کے بچپن کے مصائب سے متعلق ہے۔

وہو شخص ذو طبیعة سخیة ومخلص یمیل الی العطائ
اور وہ سخی طبیعت رکھنے والااور مخلص شخص ہے جو عطاکا رحجان رکھتا ہے۔اس حد

لدرجة التضحیة بالنفس من اجل الاٰخرین وھوشخص
تک کہ وہ اپنی جان تک کو بھی دوسروں کیلئے قربان کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے

قلیل المیول للمادیات اذ انہ روحی للغایة وتعود
جو مادی چیزوں میں بہت کم دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ انتہادرجہ روحانی ہے۔پھر

لتکمل العرافة ما بداتہ من عبارة التضحیة والخصم
نجومی لوٹتی ہے کہ اس کی قربانی اور جھگڑے کی کیفیت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟۔

فتقول یؤدی الخصم فیہ الی تناقض فی شخصیتہ
تو کہتی ہے کہ اسکے جھگڑے والی صفت سے اس کی شخصیت میں تضاد لگتا ہے۔

فی نبرتہ التی تظہر انہ غاضب جداً وعنیف لفظیاً
وہ اپنے درشت لہجہ میں بہت زیادہ غصے والا اورسخت الفاظ والا لگ رہاہے۔

وان لدیہ عنف مفرط وتربط ہذا بمعاناة الطفولة
اور اسکے پاس بے حد تشدد ہے اور یہ تشدد بچپن کے مصائب سے جڑا ہوا ہے۔

وتقول انہ انسان مثلنا جمیعا وہذا ما یظہرلی
اور کہتی ہے کہ وہ ہم سب کی طرح عام انسان ہے اور یہ جو مجھے دکھائی دیاکہ

ان افضل صفاتہ او لنقل المحاسنة یقابلہا
اسکی افضلیت کی بنیادمتضاد صفات، یاہم یوں کہہ لیں کہ خوبیوں کے مدمقابل

بالموازاة اسوأ ما لدیہ من العیوب فتقول
اسکے ہم وزن برائیاں ہیں جو اسکے پاس عیوب ہیں۔تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے

یمکننا القول نصفہ ملاک ونصفہ الاٰخرشیطان
لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کا آدھا فرشتہ ہے اوردوسرا آدھا شیطان ہے۔

علی حد تعبرہ وترجع عبارة الخصم الی الشیطان وذریتہ
جیساکہ وہ سمجھ سکی اور جھگڑالوکی تعبیر شیطان اور اس کی ذریت ہی کو لوٹتی ہے۔

وتقول وکانہ شخص یحاول علی الاقل التلاعب
وہ کہتی ہے اورجیسا کہ وہ شخص غلبہ پانے کی کوشش میں کم از کم کھلواڑ میں لگا ہوا

بہ علی صعید الطاقة وایضاً علی الصعید النفسی
ہے بالائی طاقتوں کیساتھ اور نفسیاتی بلندیوں کے توسط سے بھی لگاہواہے۔

وتقول علی ای حال یبدو متوازناً بشکل ایجابی
اور وہ کہتی ہے کہ بہرحال وہ مثبت انداز میںبڑا متوازن دکھائی دے رہا ہے۔

اجد تلاعباً غامضاً یسدہ لاجل ابطائہ او اعاقتہ
میں چھپا کھلواڑپاتی ہوں جو اسے کم رفتاری اورتیز رفتاری سے روک رہاہے۔

وتقول لدی انطباع انہ یشک فی نفسہ دائماً
اور وہ کہتی ہے کہ میری مجموعی رائے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ شک میںہے۔

یری ہذا السید اننا نود ان نؤذیہ انہ شخص
لگتاہے کہ ہم اس کو اذیت پہنچانے کیلئے آواز دے رہے ہوں۔وہ بڑاحاضر

یبدو سریع البدیہة ویری انہ محتاج ویری انہ
دماغ ذہین لگتا ہے اور وہ محتاج دکھائی دے رہا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اس کو اپنے

محتاج ایضاً لتبنی عدوہ وجہات نظر لفہم کل شیئ
دشمن سے خبردار رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ہر طرف نظر کی تاکہ ہر چیز سمجھے۔

ولکی یکون علی درایة بکل ما یحدث
تاکہ وہ تمام نئے پیش آنے والے واقعات سے بھرپور آگاہی حاصل کرے۔

وہو رجل یحب ان یفہم الناس والاشیاء و
اور وہ ایسا شخص ہے جویہ پسند کرتا ہے کہ لوگوں کی سمجھ حاصل کرے

الاحداث ولکی یکون علی درایة بکل ما یحدث
چیزوں اور واقعات کی تاکہ وہ ہر چیز سے باخبر رہے جوکچھ رونما ہورہا ہے۔

بالفعل فہو شخص نشط للغایة ویسعی باستمرار
عملی طور پر وہ انتہائی درجہ فعال شخص ہے اوروہ مسلسل جدوجہد میں لگاہوا ہے

الی تجاوز نفسہ للوصول الی الہدف
یہاں تک کہ وہ اپنی جان سے گزرنے کی حدتک، تاکہ ہدف تک پہنچ سکے۔

ہو مستعد لبذل الجہود اللازمة دوما جاہز لہا
وہ کمر بستہ ہے اپنی ضروری طاقت خرچ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہتاہے۔

من ناحیة اخریٰ فہو خائف من المستقبل
اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے بہت خوفزدہ رہتا ہے۔

وتقول لدیہ خوف کبیر من مواجہہ ما ینتظرہ
اورکہتی ہے کہ اس کو بڑا خوف ہے اس کا سامنا کرنے کا جو اس کی منتظر ہے۔

ہذا ہوانہ الشخصیة صعبة شاب تجاوز الاربعین
یہی ہے وہ مشکل شخصیت ،وہی جوان جس کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی ہے

لکن وعلی ما یبدو وان لیست لہ میول الشباب
لیکن جو بظاہر دکھائی دیتا ہے تو اس میں اب جوانی کی رغبت نہیں رہی ہے۔

ہوشخص فی ہیکلہ یبدو ناشف جداً یبدو ہیکلہ
وہ شخص اپنے جسمانی ڈھانچے میں بہت خشک لگتا ہے اورلگتاہے کہ ڈھانچہ

عریض بعضلات ولکن عضلات ناشفة
چوڑا ہے اپنے اعصاب کیساتھ، لیکن اعصاب نے اس کو کھوکھلا کردیاہے۔

ربما یمکن لہاتین الصفتین ان تجتمع لا ادری
کبھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں صفات اکٹھی ہو جائیں لیکن میں نہیں جانتی۔

علی العموم لہ شخصیة واقعة فی قطبیة
عام طور پر اس کی شخصیت گھری ہوئی لگ رہی ہے جھگڑوں کے میدان میں

الخصم بشکل قاسی للغایہ
یہاں تک کہ بد بختی کی حد تک بھی اس شخص کے جھگڑے پہنچ جاتے ہیں۔

وتقصد بقطبیہ القسمة ای الشیطان وزبانیتہ
اور نجومی مراد لیتی ہے میدان کی اس تقسیم سے شیطان اور اس کی پولیس۔

کما ان لدیہ شخصیة منقسمة ربما یشیرالی انہ
اور جیسا کہ اس کی شخصیت متضادصفات میں تقسیم ہے تو بسا اوقات لگتا ہے کہ

توأم لا ادری ولکن لدیہ ہذہ الازدواجیة بین
وہ جڑواں (فرشتہ اورشیطان دونوں)ہے لیکن میں نہیں جانتی۔ لیکن اسکے

کرمہ الشدید واحیانا شدید العدوانیة والغضب وحساسیة مفرطة
پاس اس ملاپ کے درمیان انتہائی درجے کاکرم بھی ہے اور دوسری طرف کبھی اس کی شدید ترین دشمنی اور غصہ اور حساسیت میں انتہائی غلو بھی ہے۔

وتقول انہ انفعالی جداً استقلالی جداً جداً
اور وہ کہتی ہے کہ وہ انتہائی جذباتی ہے اور بہت بہت مستقل مزاج ہے۔

مولع جداً بواحد ضد واحد لدیہ مواہب ابداعیة
وہ ایک بمقابلہ ایک کا ہی دلدادہ ہے اور اس میں تخلیقی ہنرکی صلاحیتیں ہیں۔

انہ مبدع للغایة یمکنہ قرض الشعر والخواطر
تحقیق وہ انتہائی جدت پسند ہے، اس میں شعراورتخیلاتی صلاحیت ہے۔

غالباً ما یضیع فی اعتقاداتہ وافکارہ وقد ینعزل
اکثر اوقات کووہ اپنے اعتقادات اور خیالات کی نذر کرتا ہے ۔ بیشک علیحدگی

تماماً عن العالم انہ یحب جداً الغض من بصرہ
اختیار کرتا ہے پوری دنیا سے۔ بیشک اپنی نگاہ نیچی رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے

ہذا السید وہذا یعطی انطباعاً بانہ مخطء لانہ
یہ صاحب اور اسی چیز پر مجموعی رائے قائم ہوتی ہے کہ وہ غلطی پر ہے۔اسلئے کہ

لیس راسخاً فی الواقع بشکل مناسب
وہ اس وجہ سے موقع محل کے مطابق مناسب انداز سے گھل مل نہیں ہوپاتا۔

ہذا علی حد رایہا لان الحیاة تتطلب المخزون
یہ عورت کی اپنی رائے ہے کیونکہ زندگی گزارنے کیلئے جمع پونجی ضروری ہیں۔

ولو بقلیل من الیورو
اور اگر چہ بہت کم ہوں روپے (یوروفرانس اور یورپ کی کرنسی )ہوں۔

علی ای حال ہو عالم نفسی جید جداً
بہر حال وہ ایک بہت زبردست نفسیات کے عالم کو سمجھنے والا تجزیہ کارہے۔

ہذاالسید یمیل الی فہم الاٰخرین والقدرة علی
یہ صاحب دوسروں کو سمجھنے کی طرف میلان رکھتا ہے ۔اور صلاحیت رکھتا ہے

الارتقاء الی مستواہم انہ صادق او امین
دوسروں کو انکے بلند درجہ تک مقام تک پہنچانے کی۔ اور سچا یا امانت دار ہے

عادل دبلوماسی انہ مستشار جید انہ یعرف
وہ منصف مزاج سفارت کاری کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اچھا مشیر ہے۔

ایضاً کیفیة تجنب النزاعات غیر الضروریة
وہ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے کیسے بچا جائے؟۔

وایجاد الحلول التی تناسب الجمیع بکل سہولة
اور وہ ایسے حل نکال سکتا ہے جو سب کیلئے آسانی سے قابل قبول بھی ہوں۔

لدیہ انجذاب للجانب الاخضر ایضاً فہو شخص
اس میں سبزہ کی طرف بھی کشش ہے۔ پس اس شخص کو بہت زیادہ لگاؤہے

مرتبط جداًباحترام الطبیعة وکائنات الحیة
تمام قدرتی مناظر کیساتھ اور کائنات کے جانداروں کے احترام کیساتھ۔

ایضاً معالج ممتاز وہو شخص علی الاقل لدیہ
وہ شاندار معالج بھی ہے اور کم از کم اس میں ایک قدرتی مقناطیسی کشش ہے

مغناطیسیة علاجیة وہذا واضح جداً اولدیہ ہالة
علاج والی۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے، یا پھراسکے ارد گرد ایک بہت بڑی

مغناطیسیة کبیرة جداًوہذا یمکن ان یفسر القوة
مقناطیسی توانائی کی فضا ہے اوریہ ممکن ہے کہ اس میں موجودکافی مقناطیسی

المغناطیسیة الکافیة فیہ لکنہ شخص موصول
قوت اس کی شخصیت کو واضح کردے۔ لیکن وہ ایسا شخص ہے جو روحانی طور پر

روحیاً بشکل قوی جداً لانہا جلبتنی للرؤی
بہت گہرائی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس نے مجھے کشف (روحانی مشاہدات)

حیث توجد لدیہ حساسیة قویة للغایة
کی طرف کھینچ لیاہے جو اسکے پاس انتہائی درجہ طاقتورحساسیت ہے۔

ہو عادل للغایة علی الرغم من ذلک انہ منفتح
وہ انتہائی منصف مزاج ہے۔ علاوہ ازیںوہ بہت کھلے ذہن کا اور تجسس

انہ فضولی انہ مرتبط حقاً بواقع وعی عالی جداً
رکھنے والا شخص ہے ،وہ حق سے جڑا ہوا حقیقت میں انتہائی بلند شعوررکھتاہے

لذلک یتم استدعائہ للمسؤولیة یجب ان یترک
اسلئے اس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ

حیاتہ لیجد نفسہ بین کرسی کراسی تجبرہ علی
اپنی زندگی کو چھوڑدے تاکہ خود کو پاسکے ان کرسیوں کی کرسی میں جو زندگی کی

ترک حیاتہ کما نفعل کل یوم لیجد
ترک پر مجبور کردے۔ جیساکہ ہم روز کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا مقصد پالے۔
٭٭٭

یہ شخص کون تھا؟ میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ کون ہے ،اس کا کیا تعارف ہے؟۔
وہ عظیم مشہور بادشاہ(مہدی)توتحقیق پہلے میں نے نجومی عورت سے یہ پوچھا
تاکہ میں جان سکوں کہ یہ شخص تعمیری سوچ رکھتا ہے یا تخریبی سوچ کاحامل ؟۔
تحقیق کہ میں نے اس میں قربانی اور جھگڑالو پن پایا۔جس سے اس شخصیت کا
دیوانہ پن لگتا ہے۔ پس یہی قربانی کی وضاحت ہے جو بذات خود اس کی گونج
میں ہے اوراسکے دل کی گہرائی اور نیک نیتی یا اپنی ذات کے عطیہ میں ہے۔
اور یہ قربانی ان صفات کو اسکے بچپن کی بڑی مشکلات کی طرف لوٹادیتی ہے۔
وہ (فرانسیسی نجومی) کہتی ہے : اسی وجہ سے کہ اس نے غموں میں سے کچھ اپنے اندر محفوظ رکھا ہے جس کا سبب اس کے بچپن کے مصائب سے متعلق ہے۔
اور وہ سخی طبیعت رکھنے والااور مخلص شخص ہے جو عطاکا رحجان رکھتا ہے۔اس حد تک کہ وہ اپنی جان تک کو بھی دوسروں کیلئے قربان کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے
جو مادی چیزوں میں بہت کم دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ انتہادرجہ روحانی ہے۔پھر
نجومی لوٹتی ہے کہ اس کی قربانی اور جھگڑے کی کیفیت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟۔
تو کہتی ہے کہ اسکے جھگڑے والی صفت سے اس کی شخصیت میں تضاد لگتا ہے۔
وہ اپنے درشت لہجہ میں بہت زیادہ غصے والا اورسخت الفاظ والا لگ رہاہے۔
اور اسکے پاس بے حد تشدد ہے اور یہ تشدد بچپن کے مصائب سے جڑا ہوا ہے۔
اور کہتی ہے کہ وہ ہم سب کی طرح عام انسان ہے اور یہ جو مجھے دکھائی دیاکہ اسکی افضلیت کی بنیادمتضاد صفات، یاہم یوں کہہ لیں کہ خوبیوں کے مدمقابل اسکے ہم وزن برائیاں ہیں جو اسکے پاس عیوب ہیں۔تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کا آدھا فرشتہ ہے اوردوسرا آدھا شیطان ہے۔
جیساکہ وہ سمجھ سکی اور جھگڑالوکی تعبیر شیطان اور اس کی ذریت ہی کو لوٹتی ہے۔
وہ کہتی ہے اورجیسا کہ وہ شخص غلبہ پانے کی کوشش میں کم از کم کھلواڑ میں لگا ہوا
ہے بالائی طاقتوں کیساتھ اور نفسیاتی بلندیوں کے توسط سے بھی لگاہواہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ بہرحال وہ مثبت انداز میںبڑا متوازن دکھائی دے رہا ہے۔
میں چھپا کھلواڑپاتی ہوں جو اسے کم رفتاری اورتیز رفتاری سے روک رہاہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ میری مجموعی رائے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ شک میںہے۔
لگتاہے کہ ہم اس کو اذیت پہنچانے کیلئے آواز دے رہے ہوں۔وہ بڑاحاضر دماغ ذہین لگتا ہے اور وہ محتاج دکھائی دے رہا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اس کو اپنے
دشمن سے خبردار رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ہر طرف نظر کی تاکہ ہر چیز سمجھے۔
تاکہ وہ تمام نئے پیش آنے والے واقعات سے بھرپور آگاہی حاصل کرے۔
اور وہ ایسا شخص ہے جویہ پسند کرتا ہے کہ لوگوں کی سمجھ حاصل کرے
چیزوں اور واقعات کی تاکہ وہ ہر چیز سے باخبر رہے جوکچھ رونما ہورہا ہے۔
عملی طور پر وہ انتہائی درجہ فعال شخص ہے اوروہ مسلسل جدوجہد میں لگاہوا ہے
یہاں تک کہ وہ اپنی جان سے گزرنے کی حدتک، تاکہ ہدف تک پہنچ سکے۔
وہ کمر بستہ ہے اپنی ضروری طاقت خرچ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہتاہے۔
اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے بہت خوفزدہ رہتا ہے۔
اورکہتی ہے کہ اس کو بڑا خوف ہے اس کا سامنا کرنے کا جو اس کی منتظر ہے۔
یہی ہے وہ مشکل شخصیت ،وہی جوان جس کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی ہے
لیکن جو بظاہر دکھائی دیتا ہے تو اس میں اب جوانی کی رغبت نہیں رہی ہے۔
وہ شخص اپنے جسمانی ڈھانچے میں بہت خشک لگتا ہے اورلگتاہے کہ ڈھانچہ
چوڑا ہے اپنے اعصاب کیساتھ، لیکن اعصاب نے اس کو کھوکھلا کردیاہے۔
کبھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں صفات اکٹھی ہو جائیں لیکن میں نہیں جانتی۔
عام طور پر اس کی شخصیت گھری ہوئی لگ رہی ہے جھگڑوں کے میدان میں
یہاں تک کہ بد بختی کی حد تک بھی اس شخص کے جھگڑے پہنچ جاتے ہیں۔
اور نجومی مراد لیتی ہے میدان کی اس تقسیم سے شیطان اور اس کی پولیس۔
اور جیسا کہ اس کی شخصیت متضادصفات میں تقسیم ہے تو بسا اوقات لگتا ہے کہ
وہ جڑواں (فرشتہ اورشیطان دونوں)ہے لیکن میں نہیں جانتی۔ لیکن اسکے پاس اس ملاپ کے درمیان انتہائی درجے کاکرم بھی ہے اور دوسری طرف کبھی اس کی شدید ترین دشمنی اور غصہ اور حساسیت میں انتہائی غلو بھی ہے۔
اور وہ کہتی ہے کہ وہ انتہائی جذباتی ہے اور بہت بہت مستقل مزاج ہے۔
وہ ایک بمقابلہ ایک کا ہی دلدادہ ہے اور اس میں تخلیقی ہنرکی صلاحیتیں ہیں۔
تحقیق وہ انتہائی جدت پسند ہے، اس میں شعراورتخیلاتی صلاحیت ہے۔
اکثر اوقات کووہ اپنے اعتقادات اور خیالات کی نذر کرتا ہے ۔ بیشک علیحدگی
اختیار کرتا ہے پوری دنیا سے۔ بیشک اپنی نگاہ نیچی رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے یہ صاحب اور اسی چیز پر مجموعی رائے قائم ہوتی ہے کہ وہ غلطی پر ہے۔اسلئے کہ
وہ اس وجہ سے موقع محل کے مطابق مناسب انداز سے گھل مل نہیں ہوپاتا۔
یہ عورت کی اپنی رائے ہے کیونکہ زندگی گزارنے کیلئے جمع پونجی ضروری ہیں۔ اور اگر چہ بہت کم ہوں روپے (یوروفرانس اور یورپ کی کرنسی )ہوں۔
بہر حال وہ ایک بہت زبردست نفسیات کے عالم کو سمجھنے والا تجزیہ کارہے۔
یہ صاحب دوسروں کو سمجھنے کی طرف میلان رکھتا ہے ۔اور صلاحیت رکھتا ہے
دوسروں کو انکے بلند درجہ تک مقام تک پہنچانے کی۔ اور سچا یا امانت دار ہے وہ منصف مزاج سفارت کاری کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اچھا مشیر ہے۔
وہ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے کیسے بچا جائے؟۔ اور وہ ایسے حل نکال سکتا ہے جو سب کیلئے آسانی سے قابل قبول بھی ہوں۔
اس میں سبزہ کی طرف بھی کشش ہے۔ پس اس شخص کو بہت زیادہ لگاؤہے تمام قدرتی مناظر کیساتھ اور کائنات کے جانداروں کے احترام کیساتھ۔
وہ شاندار معالج بھی ہے اور کم از کم اس میں ایک قدرتی مقناطیسی کشش ہے
علاج والی۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے، یا پھراسکے ارد گرد ایک بہت بڑی مقناطیسی توانائی کی فضا ہے اوریہ ممکن ہے کہ اس میں موجودکافی مقناطیسی قوت اس کی شخصیت کو واضح کردے۔ لیکن وہ ایسا شخص ہے جو روحانی طور پر بہت گہرائی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس نے مجھے کشف (روحانی مشاہدات) کی طرف کھینچ لیاہے جو اسکے پاس انتہائی درجہ طاقتورحساسیت ہے۔
وہ انتہائی منصف مزاج ہے۔ علاوہ ازیںوہ بہت کھلے ذہن کا اور تجسس رکھنے والا شخص ہے ،وہ حق سے جڑا ہوا حقیقت میں انتہائی بلند شعوررکھتاہے
اسلئے اس کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو چھوڑدے تاکہ خود کو پاسکے ان کرسیوں کی کرسی میں جو زندگی کی ترک پر مجبور کردے۔ جیساکہ ہم روز کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا مقصد پالے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv