پوسٹ تلاش کریں

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

پاکستانی آئین سن1973میں مذہبی وسیکولر جماعتوں نے بنایا

لسانی، سیکولراور سیاسی جمہوری رہنما قرآن کے احکام کو سمجھ کر اسکے نفاذ کا مطالبہ کریں تو انقلاب آجائے!

اسلام میں آزادیٔ رائے مثالی تھی۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، میں جہانوں کا رسول ہوں،میری نبوت کی گواہی دیں۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ جو اللہ کے رسول ہیں وہی اللہ کے رسول ہیں”۔ یہ تھا عظیم اخلاق کا نمونہ جو سیرت طیبہ میں ہی مل سکتاہے۔
خولہ بنت ثعلبہ کے شوہر نے ظہار کیا ۔ رسول اللہ ۖ نے مروجہ فتویٰ دیا کہ آپ شوہر پر حرام ہوچکی ہو،وہ مجادلہ کرنے لگی کہ اسلام میں یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ نے سورۂ مجادلہ نازل کی کہ ”بیوی کو ماں کہنے سے وہ حرا م نہیں ہوتی ۔ ان کی مائیں نہیں ہیں مگر جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ قلم اور کاغذ لاؤ۔میں تمہیں ایسی تحریر لکھوادیتا ہوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ (صحیح بخاری)
ذوالخویصرہ نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ انصاف نہیں کرتے۔ انصار کے نوجوانوں نے شکایت کی کہ قربانیاں ہم نے دیں اور قریش مکہ کو نواز اجارہاہے اور حضرت عائشہ پر بہتان عظیم لگایا گیا تو بہتان کی وہی سزا دی گئی جو عام خاتون پر بہتان لگانے کی80کوڑے ہے۔ حضرت ابوبکر نے عہد کیا کہ بہتان طراز پر آئندہ احسان نہیں کروں گا تو اللہ نے وحی میں فرمایا کہ مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ احسان نہ کرنے کا عہد کریں۔ قرآن وسنت کا آئینہ جاہل مذہبی طبقہ نے عوام اور دنیا کے سامنے بگاڑدیا۔ اللہ نے اُم المؤمنین اور عام خاتون پر ہتک عزت کی ایک سزا رکھی۔ ہماری اور دنیا کی عدالتوں میں ہتک عزت کا معیار الگ الگ ہے۔ غریب کی عزت پھوٹی کوڑی نہیں اور امیر کی عزت عدالت میں کیس کرنے پر اربوں کی بنتی ہے۔ غریب کیلئے کم پیسے کی سزا بھی بڑی ہے اور امیر کیلئے زیادہ پیسوں کی سزا بھی کم ہے جبکہ کوڑوں کی سزاسبھی کیلئے برابر ہے۔
عدالتوں کا انصاف پیسوں سے اور دیرسے ملتا ہے ۔ نوازشریف کو سزا دینی ہویا عمران خان کو تو عدالتیں ہوا کے رخ پر چلتی ہیں اور عام لوگوں کا نظام انصاف سے اعتماد اُٹھ چکاہے۔ایک بلوچ لڑکی کو بے حرمتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کی لاش وارثوں نے نہیں ایدھی نے لاوارث دفن کردی مگر کل مظلوم بلوچ کیساتھ مریم نواز بلوچی لباس میں آنسو بہارہی تھی۔ اب اس عبدالرحمن کھیتران کو مسلم لیگ ن بلوچستان سونپ دی گئی جس پراس لڑکی کو قتل کرنے کا بڑا الزام تھا۔ان تضادات کی وجہ سے لوگ سیاستدانوں سے نفرت کرتے ہیں۔
قرآن کے معروف کو مذہبی طبقہ نے منکر اور منکر کو معروف بنادیا ، جس کی وجہ سے اسلام اجنبی بن گیا ۔اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اس کے بہترین حقوق اور معاملات کی وجہ سے ہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں فارس وروم کو شکست دی تھی۔ اسلام نے بیوی کو فحاشی پر قتل کرنے کی جگہ گھر سے نکالنے اور حلالہ کی لعنت کا خاتمہ کردیا تھا۔ مسلمان غیرت پر بیوی کو قتل اور بے غیرتی سے حلالہ کرواکر دنیا کے سامنے اسلام کو مسخ کررہے ہیں۔
پنجابی، پشتون ، بلوچ ، سندھی اور مہاجر ایک پلیٹ فارم پر اگلا الیکشن لڑیں! اور پاکستان کو اس غضب کی سیاست سے نکال لیں۔ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے تھے لیکن عورت کو اسلام کے نام پر بدترین مظالم کا شکار بنایا گیا ۔ جس دن سیاسی جماعتوں نے عورت کے حقوق کو چارٹر یا منشور کی شکل میں پیش کیا اس دن پاکستان میں ایسا انقلاب آئیگا جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔انشاء اللہ
پاکستان کے تمام مذہبی اور سیاسی قائدین پورے ملک اور دنیا کی سطح پر میڈیا میں چند اعلانات کردیں تو لوگوں کے اندر شعور اور افہام وتفہیم کا مادہ بیدار ہوگا۔
نمبر1:مفتی تقی عثمانی نے اسلام کے نام پر سود کو جائز قرار دیا ہے ۔ سود کے نظام کو علماء حق کی اکثریت اور مفتی تقی عثمانی کے پیشرو صدر وفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مسترد کیا تھا ،ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جو اتنی بڑی گالی دیتا ہے کہ سودکا کم ازکم گناہ خانہ کعبہ میں36مرتبہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے اور عوام میں نفرت پھیلا رہاہے ،اس کو یہ موقع نہیں ملے گا۔ پھر عوام کہے گی کہ تم نے اتنے بڑے گناہ کو جائز اور اسلام کا نام دیا ہے اور کعبہ کا خیال نہیں ہے اور بیت المقدس کے نام پر چندہ کرتے ہو؟۔ کشمیر کو کونسا آزاد کردایا ہے؟۔
نمبر2:سیاسی قائدین اور رہنماؤں کو ایک دوسرا اہم اعلان یہ کرنا ہوگا کہ مفتی تقی عثمانی کی کتاب ” فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں لکھاہے کہ باپ اپنی نابالغ بچی کا نکاح زبردستی سے کسی مسلمان سے کرسکتا ہے۔ ان مولوی اور مجاہدین کے اسلام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے اور اپنے بچوں کیلئے ان کی بچیوں سے ہی نکاح کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم وتربیت خود کش حملہ آوروں کی کریں گے اور پھر ان کو فلسطین کی آزادی کیلئے جہاد میں استعمال کریں گے۔ اس اعلان کی برکت سے علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو اسلام کی حقیقت یاد آجائے گی۔
نمبر3:ہم یہود ونصاریٰ سے فلسطین کی آزادی کیلئے ان سے رشتہ داریاں کریں گے جس کی قرآن نے اجازت دی ہے اور علماء ومفتیان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھ کر ان کواللہ کے علاوہ اپنے ارباب نہیں بنائیں گے اور جس قرآن نے ان پڑھ صحابہ کرام کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا ہم اسی اسلام کو اسلام سمجھیں گے۔ ایران کو اگر اسرائیل پر حملہ کرنے میں کوئی دقت ہے تو ہم وہ دقت دور کرسکتے ہیں لیکن کسی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ صرف اور صرف زبانی جمع خرچ یا دوسروں کی مدد کرکے کوئی کارنامہ انجام دیدے۔ اس کے نتائج پہلے بھی مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں نکلے ہیں جو ہم دیکھ چکے ہیں۔
ایرانی نژاد امریکی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کے اندر خواتین کے حقوق کا جو نقشہ پیش کیا ہے ،اس میں شیعہ سنی نے اسلام کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ یہودونصاریٰ کی حکمرانی میں بھی مسلمان خواتین پر ایسے مظالم نہیں ہوسکتے جو مسلمان حکومتوں ایران و سعودی عرب تک میں اسلام کے نام پر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں فوج اور علماء کی طاقت کو اگر درست استعمال کیا گیا تو پوری دنیا میں ہماری امامت قائم ہوگی۔ نبی ۖ نے اپنے دور کو بہترین قرار دیا تو بڑا دشمن ابوجہل تھا جس نے چھپ کر وار نہیں کیا۔ جبکہ حضرت علی کے ایک ساتھی ابن ملجم نے ایک عورت قطامہ کی لالچ میں حضرت علی کو شہید کیا۔ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ مفتی تقی عثمانی اپنی عاقبت کیلئے حاجی عثمان کی قبر پر حاضری دیتا تو بہتر ہوتا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آرمی چیف کایہ کردار؟

آرمی چیف کایہ کردار؟
آرمی چیف سید عاصم منیر کی ویڈیو وائرل۔ بچی کہہ رہی ہے کہ وڈیرہ سیلاب کا پانی ہماری طرف چھوڑ تاہے۔ آرمی چیف نے کہا :” یہ اب نہیں چھوڑے گا”۔
مزارع وڈیروں کا غلام۔ سیاستدان وڈیرے کو خوش رکھتا ہے تو وڈیروں اور مزارعوں کا ووٹ ملتا ہے۔ سیاستدان فوج کا غلام ۔چاہا2تہائی اکثریت دلائی اورچاہا ٹنگاٹولی کرکے پھینک دیا۔ مزارعوں کا بادشاہ وڈیرہ ، وڈیروں کا بادشاہ سیاستدان ، سیاستدانوں کا شہنشاہ معظم آرمی چیف اسلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ”بول دیا اب پانی نہیں آئے گا”۔پورے سندھ میں مزارعین پر پانی چھوڑا گیا تھامگرکون کس کس کو بچائے گا؟۔ آرمی چیف اشفاق پرویزکیانی نے زرداری سے ایکسٹینشن لی تو نوازشریف کہہ رہاتھا کہ میں کبھی نہ دیتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ضرورت پڑی تو سب غلاموں نے آقا کو ایکسٹینشن دی ۔20منٹ میں قانون بنادیا اور مزید ایکسٹینشن کھاتہ بھی کھول دیا ۔ عمران خان نے میر صادق، میر جعفر کہا تو واضح کیا کہPDMکو کہا۔DGISIنے کہا کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو آئندہ کی پیشکش بھی کی تھی تو عمران خان نے تصدیق بھی کردی۔
اللہ نے سود کو حرام قرار دیاتونبی ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا ۔مزارع آزاد ہوا تو اسلام کو فتوحات ملیں۔ کراچی کے علماء ومفتیان نے حاجی محمد عثمان پر فتوے لگائے ۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق ،میرے استاذ مولانا فضل محمد، جنرل ضیاء الدین بٹ ، کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت کئی علماء اور فوجی افسر حاجی عثمان سے بیعت تھے مگر آزمائش کی کچھ ہوائیں چل گئیں تو فوجی افسر اور علماء سرپٹ گھوڑوں کی طرح بھاگ گئے۔ ملک اجمل نے محترمہ صبیحہ اخلاق کی کتاب ”عالمگیریت” کے افتتاح کے موقع پر بابا فرید کا یہ شعر سنایا کہ
پنج رکن اسلام دے چھٹا رکن ٹک جے نہ لبے چھیواں تے پنجے جاندے مک
پنجابی میں ٹک روٹی کو کہتے ہیں اگر روٹی نہ ملے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

دشمن سے دوستی اور کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد اور سختی

ادفع بالتی ھی احسن فاذالذی بینک و بینہ عداوة کانہ ولی حمیم
دفع کرو اس کیساتھ جو بہترین ہے تو پھروہ شخص آپکے اورجس کے درمیان دشمنی ہے گویا کہ وہ گرمجوش دوست تھا

الدنیا ثلاث ایام الأمس عشناہ ولن یعود والیوم نعشہ ولن یدوم الغد لا ندری أین سنکون فصافح و سامح ودع الخلق للخالق فأنا و أنت و ھم راحلون لا تحاول أن تبحث عن الوجہ الثانی من أی شخص حتی لو کنت متأکد أنہ سییء یکفی أنہ احترمک و أظھر لک الجانب الأفضل منہ جمال العقل بالفکر و جمال اللسان بالصمت و جمال الوجہ بالأبتسامة وجمال الفؤاد بالنقاء و جمال الکلام بالصدق و جمال الحال فی الأستقامة علمتنی الحیاة ان العقل لا یقاس بالعمر فکم من صغیر اِذا تکلم أنصت لہ الکبار وکم من کبیر أذا تکلم ضحک علیہ الصغار
اِذا مات القلب ذھبت الرحمة واِذا مات العقل ذھبت الحکمة
و اِذا مات الضمیر ذھب کل شیئ
دنیا تین دن ہے۔ کل جو ہم نے جیاوہ کبھی واپس نہیں آئیگااور آج ہم جیتے ہیںمگر اس میں دوام نہیں۔کل نہیں معلوم کہ ہم کہاں ہونگے۔پس درگزر سے کام لواور مخلوق کو خالق کیلئے چھوڑ دو۔ پس میں ، آپ اور وہ سب مرینگے۔ کوشش نہ کرو کہ کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرواگرچہ آپ کو یقین ہوکہ وہ برا ہے ، کافی ہے کہ آپ کی عزت کرتا ہے اپنا اچھا دکھاتا ہے، عقل کی خوبصورتی فکر کیساتھ ہے زبان کی خوبصورتی خاموشی ، چہرے کی خوبصورتی مسکراہٹ، دل کی خوبصورتی صفائی، کلام کی خوبصورتی سچائی ہے، حال کی خوبصورتی استقامت کیساتھ ہے۔ مجھے زندگی نے یہ سکھایا کہ عقل کو عمر پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ پس کتنے چھوٹے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو بڑے خاموش ہوجاتے ہیں اور کتنے بڑے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو چھوٹے ان پر ہنستے ہیں۔ جب دل مرتا ہے تو رحمت جاتی ہے۔ جب عقل مرتی ہے تو حکمت جاتی ہے۔ جب ضمیر مرتا ہے تو ہر چیز چلی جاتی ہے۔
٭٭

بھیڑیاپنجے سے اُٹھائے وہ باز بھی پرندہ،آذان گائے مرغی زبان دراز بھی پرندہ
تلوار اٹھائے وہ بھی آدمی..سود جائز..

جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم
لڑو کافروں کیساتھ اور منافقوں کیساتھ اور ان پر سختی کرو۔

لیس کل من یطلق علیھم رجال ھم رجال فکلمة ”الطیر” تجمع الصقر والدجاجة النقاش مع الجہلاء مثل الرسم علی الماء فمھما أبدعت فلن یحدث شیء اِذا رأیت صدیقک مع عدوک فاِعلم أن الاِ ثنین أعدائک أحدھم جھرا والأخر سرا اِذا فشلت فی تحقیق أحلامک فغیر أسالیبک لا مبادئک فالأشجار تغیرأوراقھا ولیس جذورھا علمتنی الحیاة أن لا أسأل الکاذب لماذا کذبت؟ لانہ حتما سیجیبنی بکذبة أخری لا تعامل کل الناس بأسلوب واحد فلیس کل المرضیٰ یأخذون نفس الدواء اِذا فضحھم اللہ أمامک وأسقط أقنعتھم واحدا تلوی الأخر فاِعلم أن اللہ یحبک لأنہ أراک حقیقتھم
نہیں ہے تمام وہ لوگ مرد جن پر مردوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ پس پرندے کا لفظ شاہین اور مرغی دونوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ جاہلوں کیساتھ مناقشہ پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے۔پس کبھی کوئی چیز ظاہر ہو تو بھی اس کا کچھ نہیں بنے گا۔ جب تم اپنے دوست کو اپنے دشمن کے ساتھ دیکھ لو تو جان لو کہ دونوں تمہارے دشمن ہیں۔ ایک ظاہر میں اور دوسرا چھپا ہوا۔ جب تم اپنے خوابوں تک رسائی میں ڈگمگاؤ تو اپنے طریقہ کار کو بدل دو۔ نہ کہ اپنے اُصولوں کو۔ پس درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں نہ کہ اپنی جڑوں کو۔مجھے زندگی نے یہ سکھایا ہے کہ جھوٹے سے نہیں پوچھوں کہ تم نے کیوں جھوٹ بولا؟۔ اسلئے کہ وہ حتمی طور پر ایک اور جھوٹ بول دے گا۔ سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ مت کرو۔ پس ہر مریض کیلئے ایک طرح کی دوا نہیں ہوتی ہے۔ جب اللہ ان کو تمہارے سامنے رسوا کردے اور ان کے چہروں سے ایک کے بعد دوسرے نقاب اتریں ۔پس جان لو کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے اسلئے کہ اللہ نے ان کی حقیقت دکھائی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

فلسطین کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان مار کھائیں اور ہم چندے کھائیں۔بلکہ ایک مؤثر رابطے کے ذریعے سے فلسطینیوں کو مشکلات سے نکالنا عالم اسلام اور عالم انسانیت کا فریضہ ہے۔

خدائی امریکہ کی نہیں ۔ خدائی اللہ کے پاس ہے۔ سپر پاور نہیں ۔ سپریم پاور اللہ ہے۔ پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، جفاکشی کے اقدامات کرنے پڑے تو کرینگے۔ ہم گولیوں، بموں کا سامنا کرینگے۔ نہ امریکہ نہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست دے سکتی ہے۔ ہمارا جہاد چندہ بھیجنا ہے،اسرائیل کے ختم ہونے تک جاری رہیگا۔مفتی تقی عثمانی کی تقریر
آپ صرف اور صرف عالمی سُودی نظام کا بائیکاٹ کریں،بس!
یہ تقریر میں بھی آذانیں پڑھ رہے ہیں۔ آذان بھی مجاہد والی نہیں جو دوسروں کو ڈرائے ۔ مُلا والی جو خود کو ڈرا تا ہے یا چندے کا بہانہ ہے؟

عربی شاعرہ پکار کر کہہ رہی ہے کہ عرب کی غیرت، غضب شرافت، قہر کہاں ہے؟۔ عربی لڑکیوں نے اسرائیل کو بددعا اور فلسطین کو دعائیں دیں۔ یہودی اسرائیل کیخلاف نکلے۔ سردار محمد اکمل سینئرایڈوکیٹ ہائیکورٹ خانپور نے کہا عتیق گیلانی مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر لکھے۔ افغانستان، عراق کا بیڑہ غرق کیاگیا تو پاکستان وایران نے کونسا تیر مارا؟۔ حکمران سفارتی تعلق ختم اورطبل جنگ بجاتا ہے۔عیسائی و کمیونسٹ ممالک نے مسلم ممالک سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔
حماس نے عسقلان پرحملہ کیا،اسرائیل نے مظالم کی آخری حد کی۔ امریکی جنگ میں4لاکھ افغانی ،80ہزارپاکستانی ہلاک ہوگئے۔میڈیا کو کوریج اور شہید لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ملاعمرو ملا ضعیف بے گناہ تھے مگر طالبان کا خاتمہ کیا۔ امریکہ نے عراق کو تباہ کیا۔ لیبیا کی عوام سے قذافی کا خاتمہ کرایا۔ افغانی اور پاکستانی نے ایکدوسرے کومارا۔ عراق، لیبیا اور شام میں ایکدوسرے کا قتل ہوا۔اس بچی کا پورا خاندان اسرائیل نے شہید کیا تو اس نے رو روکر کہا کہ ”کا ش میں بھی اپنی ماں کیساتھ مرجاتی”۔
ایک عرب خاتون نے کہا کہ ” دنیا میں5%عرب دنیا کا50فیصد اسلحہ خریدتے ہیں دنیا کے60%وسائل رکھتے ہیں۔ آپس میں لڑیں تو خطرناک اسلحہ استعمال کرتے ہیں مگر اسرائیل کیخلاف صرف بددعا دیتے ہیں”۔
ابوعبیدہ نے خالد بن ولیدکا حوالہ دیا کہ اسلام قبول کرو ، یا جزیہ دو یا پھر لڑائی۔ تمہارا واسطہ ان سے پڑا ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔عربی علماء کا مذاق بنا کہ:”عرب لڑکیاں ابوعبیدہ کے فتنہ میں مبتلا ہو رہی ہیںمگر یہ مجبوری ہے”۔ن لیگی صحافی نے کہا ” خواتین فتنہ عمرانی میں مبتلاء ہیں”۔ بداخلاقی کا طوفان برپا ہے، جاویدچوہدری نے فلسطین کو شیعہ مسئلہ قرار دیا۔ خطرہ ہے کہ شیعہ کو یہود اور پاکستان کو اسرائیل سے بدتر قرار دیکر خانہ خرابی شروع کرنے کا معاملہ نہ ہو؟۔
سعودی عرب میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر مذہبی طبقہ گرفتار ہور ہاہے وہ سمجھتے ہیں کہ جوانوں کا تو اسرائیل تک ہاتھ نہیں پہنچے گا مگر حکمرانوں کیخلاف بھڑکانے کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ حکمران اپنی عوام سے ڈرتے ہیں۔ایران میں آگ مشکل سے بجھ گئی تھی۔
فوج نے کارگل قبضہ کیا کرنل شیر خان شہید نشان حیدر پاگیا۔نواز شریف سے امریکہ وبرطانیہ نے قبضہ چھڑا دیا۔ندیم ملک کو سن لیں۔دفاعی قوت سے بھارت نے ردعمل کی جرأت نہ کی۔ جارحیت کی تو منہ کی کھانی پڑ گئی ورنہ ہمارا حشر فلسطین جیسا ہوتا۔ فوج کو گالیاں بکی جارہی ہیں۔ فوجی کردار کا آئینہ جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہے۔ان داشتاؤں نے ہی اپنے آقا کی ساکھ کونقصان پہنچایا۔ اپنے لئے تو جنرل اچھا لگتا ہے مگر اوروں کے حق میں فوجی کردار سے داشتائیں بلبلا اُٹھتی ہیں۔ عسقلان کا ذکر توراة میںہے۔73سال میں پہلی بار حماس نے بڑا حملہ کیا ۔ اسرائیل نے ہمیشہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ عیسائی القدس پر یہودی قبضہ کیخلاف ہیں ۔ یہودی اکثریت بھی اسرائیل سے نفرت کرتی ہے۔فلسطین کا مقدمہ اسلام کی حقیقی تعلیم اور اخلاقیات کے اعلیٰ نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا،پھر مسئلہ حل ہو جائے گا۔
حدیث میں عسقلان کے ذریعے رابطے کی اہمیت واضح ہے۔ اگر اسرائیل نے عسقلان پر جبری قبضہ کیا ہے تو اسرائیل اور یہودیوں کو اس سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اگر مسلمانوں نے خود بیچ کر غزہ پٹی کی پتلی گلی پکڑی ہے تو پھر عسقلان اور کسی بھی شہر پر زبردستی سے مسلمانوں کو بھی قبضے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بیت المقدس یہودونصاریٰ کا قبلہ ہے ہمارا نہیں ۔ ہمارا قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا۔ جب اپنارخ پھیر لیا تو قبضے کی ضرورت نہ تھی جب قبضہ کرلیا تو طاقت نہیں بنائی۔ رسول اللہ ۖ کے پاس طاقت نہ تھی تو مکہ سے مسلمانوں سمیت ہجرت کی۔
حضرت عمر کو بیت المقدس عیسائیوں نے حوالہ کیا، یہود پرالقدس کی پابندی ختم کی ۔یہ ایسا تھا جیسا کہ اللہ نہ کرے خاکم بدہن دجال مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیں اور مسلمانوں پر حج و عمرہ اور مکہ آمد کی پابندی لگائیں ۔ پھرسکھ مسلمانوں سے پابندی ہٹادیں۔ یہود اسلام کے شکر گزار ہیں۔ عیسائی مسلمان پر غصہ ہیں کہ یہود کو اجازت کیوں دی ؟۔ مسلمانوں نے یہود کو زمینیں اور مکانات بیچے۔ حقائق سمجھ لیںتو پھرمسلمان فاتح بن سکتے ہیں۔
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال و النسآء والولدان الذین یقولون ربنآ اخرجنا من ھٰذہ القریة الظالم اھلھا… ” اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے اور مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال دے اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں…”۔ (النسائ:75)
مفتی تقی عثمانی نے آیت کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی ڈنڈی ماری ہے۔ اگر یہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے ہے تو فلسطینیوں کو اسرائیل نکالنا چاہتا ہے۔ پہلے جو قریب و دور کا معاملہ تھا تو اب حکمرانوں کیلئے دور مار میزائل کے ذریعے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مسلم حکمران چاہیں تو منٹوں میں اسرائیل کو مار بھگاسکتے ہیں لیکن یہود کے عالمی سُودی نظام نے حکمرانوں کیساتھ اب علماء کو بھی پھنسایا ہوا ہے۔ حماس کی اخبار میں سرخی لگائی گئی کہ اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ بند ہوگی لیکن مفتی تقی عثمانی نے جنگ جاری رکھنے کا ترانہ سنایا اسلئے کہ خود نہیں کرنا۔
افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کی تباہی کے بعد کوئی مسلم ملک رسک نہیں لے سکتا کہ مغرب سے ٹکرائے۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ابوعبیدہ کہتا ہے کہ خالد بن ولید کی طرح ہم غیر مسلموں سے کہیں گے کہ اسلام قبول کرو یا جزیہ دو یا پھر لڑائی ہے۔ تمہارا ایسی قوم سے واسطہ ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ حماس کے کسی مجاہد نے خود کش نہیں کیا۔ افغانستان میں نیٹوافواج کے خلاف خود کشوں کا بڑا سلسلہ تھا۔ لاکھوں افراد موت کی گھاٹی میں پہنچ گئے لیکن کسی کی” چیں چاں پیں پاں” کسی نے نہیں سنی۔ وہ بھی یہی انسان تھے۔ ان کو بھی مشکلات سے گزرنا پڑاتھا۔ ان کو مظلوم سمجھنے کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہم نے ان سارے مراحل سے خود گزر کر بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
قرآن میںمذہبی تعصبات نہیں۔ ان الذین اٰمنواوالذین ہادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولا ھم یحزنوںO(البقرہ آیت62)
ترجمہ ” بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی ہیں اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں جو اللہ پرایمان رکھے اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کرے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ لوگ غمگین ہوں گے”۔
مشرکینِ مکہ جاہلانہ مذہبی تعصبات رکھتے تھے تو نام ونشان مٹ گیا اور اب ہندؤوں کی من حیث القوم مسلمان ہونے کی باری ہے ۔دجال سے بڑا فتنہ نہیں، ابن صائد یہودی نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں جہانوں کا نبی ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس کا سر قلم نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو آپ کواس کے قتل پر قدرت نہیں ۔ اور اگر وہ دجال نہیں تو اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رحمت للعالمین ۖ نے دجالوں کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ابن صائد نے رسول اللہ ۖ کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ کیا مگرفرمایا: اس کے قتل میں خیر نہیں ؟۔ دجال اور یہود کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدیر سے وابستہ کردیا۔ ابن صائد دجال نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے لیکن صحابہ نے قتل نہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دیوبندی اکابرین، بریلوی اکابرین اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود قتل نہ کیا۔ آج بڑی تعداد میں قادیانی ہیں مگر شدت پسند جماعتی، دیوبندی اور بریلوی سے پوچھا جائے کہ تمہارے اکابر مرزا قادیانی کو اور تم قادیانیوں کو قتل کرنا اسلام سمجھتے ہو تو کیوں نہ کیا؟۔ تو یہ اپنی پچھاڑیوں سے قمیض اٹھاکر کہیںگے کہ ہم سب نسل در نسل بے غیرت ہیں۔ ڈاکٹرا سرار احمدMBBSڈاکٹر تھا کوئی عالم دین نہ تھااس نے کہا تھا کہ” قادیانیوں کو قتل کرنا باقی ہے”۔ آج اس کی جماعت کا بے غیرت امیر شجاع الدین شیخ قادیانیوں کو قتل کرنا تو در کنار سود کو جائز کہتا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کی کھلے عام ذہنی آپریشن کی ضرورت ہے۔ اسلئے نہیں کہ یہ خطرناک ہیں بلکہ یہ دوسروں میں شدت کے جراثیم بھرتے ہیں۔ ایک طرف اقامت دین کے نام پر چندہ لیتے ہیں اور دوسری طرف طاقتور حلقوں کی آشیر باد رکھتے ہیں۔ حالانکہ اصل چیز قرآن کے فطری احکام میں جہاد کا حق ادا کرنا ہے، جب عوام کے سامنے فطری احکام آئیں گے توپھر اسلام نافذ ہو جائے گا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت خطرناک اسلئے تھی کہ مسلمان کچے دھاگے کی عقیدتوں سے بندھے ہوئے جاہل تھے جن میں علماء کی بڑی تعداد شامل تھی۔
فلسطین کا مسئلہ گیدڑ سنگھی چھوڑنے سے حل نہ ہوگا بلکہ اس کیلئے ایک عالمی سطح کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔ جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو اور اس میں عیسائی اور یہودکے نمائندے شامل ہوں۔یہود اور عیسائی مسیحا تک بیت المقدس مسلمانوں کو حوالے ہوگا ۔ القدس میں سب کیلئے آزادی کی خوشخبری ہوگی اور سیکورٹی مسلمان کے پاس ہوگی اور یہود ونصاری بھی آزاد ہوں گے۔
خراسان سے نکلنے والا قافلہ اسلامی تعلیم و انسانیت کا بہترین نمونہ ہوگا اور امن وسلامتی کے جھنڈوں کو القدس میں نصب کرنے سے کوئی نہ روک سکے گا۔
قرآن میں بنی اسرائیل کے بارے میں دومرتبہ فساد کی پیشین گوئی ہے۔
وقضینآالی بنی اسراء یل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین و لتعلن علوًا کبیرًاOفاذا جآء وعد اولٰھما بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باسٍ شدید فجاسوا خلٰل الدیار وکان وعدًا کان مفعولًاO ثم رددنا لکم الکرة علیھم و امددنٰکم باموالٍ وبنین و جعلنٰکم اکثرنفیرًاO ان حسنتم احسنتم لانفسکم وان اسأتم فلھا فاذا جاء وعدالاٰخرة لیسو ء ا وجوھکم ولید خلوا المسجدکما دخلوہ اول مرةٍ ولییتبرواماعلوا تتبیرًاO عسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجلعنا جھنم للکٰفرین حصیرًاO
ان آیات میں بنی اسرائیل کی طرف سے دومرتبہ فساد کرنے کی نسبت ہے۔ پہلی بار بنی اسرائیل عیسائیوں نے یہود کیساتھ مظالم کی انتہاء کردی تھی اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو ان پر فتح ونصرت عطا فرمائی۔ اس کے بعد قرآن میں ان کے پاس گیند دوبارہ جانے کی خوشخبری ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی مدد ہوگی اموال اور اولاد کے ذریعے ۔ اگر وہ اچھائی کریں تو ان کے اپنے لئے ہے اور اگر برائی کریں تو بھی ان کا سامنا خود ہی کرنا پڑے گا۔ جب دوسری مرتبہ کا وعدہ آئے گا تاکہ ان کے چہرے اُداس ہوں۔ ان آیات میں دوسری مرتبہ ان پر رحم کی امید ہے لیکن ان کو تنبیہ کردی گئی ہے کہ اگر تم اپنی حرکت کروگے تو ہم بھی واپس اسی طرح سے تمہیں سبق سکھائیں گے۔ سورہ الحدید میں بھی اسی طرح کی پیشگوئی ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد اللہ مسلمانوں کو ہی عروج بخشے گا۔

ارکان طغیان خمس
1:تقدیم الذیل علی الرأس
2: تخذیر الحاضر بالأمس
3: توزیع الخوف مع الیأس
4: تقدیس الشرطة والعسّ
5:بقاء الجحش علی الکرسی
طاغوت کی بنیاد 5ارکان پر ہے
1: دُم کا آگے سے ہونا سر کے اوپر
2: حاضر کو آنیوالے کل سے ڈرانا
3: ہڑتالیں خوف کی امید کیساتھ
4:سپاہی اور چوکیدار کو مقدس ماننا
5: گدھے کے بچے کا کرسی پر رہنا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

عمران کا نکاح عدت میں نہیں مگر علماء و مفتیان عدت میں نکاح تڑوا کر عورتوںکی
عزتیں لوٹتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور علماء کرام فیصلہ کریں!

یتیم بچیوں کو ہراساں…جنسی استعمال…بنی گالہ میں کالے جادو میں ذبح کی بدلتی ہوئی کہا نی :افشاء لطیف کی زبانی

واذ انجینٰکم من اٰل فرعون یسومونکم سو ء العذاب یذ بحون ابنآء کم و یستحیون نساء کم و ذالکم بلآء من ربکم عظیم O اور جب ہم نے آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں برا عذاب دیتے۔ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ۔(البقرہ:49) قارئین کچھ سمجھے!۔ بنی اسرائیل کوعذاب آل فرعون دیتا تھا مگر آزمائش ربّ کی طرف سے کیوں تھی؟۔
بنی اسرائیل کایوسف سے کردار؟ جو بچہ فرعون سے بچتا تو خضر قتل کرتا کہ اپنے مؤمن والدین کو کفر وسرکشی میں نہ ڈالے۔ جس کی وجہ سے موسیٰ نے قبطی کو قتل کیا وہی غلط نکلا۔ دشمن قوم کا شخص اچھا نکلا۔ موسیٰ سے کہاگیا :”آپ اور آپ کا رب لڑو، ہم یہاںبیٹھے ہیں”۔نجأت مل گئی توہارون ساتھ تھا لیکن بچھڑا معبود بنادیا۔
امریکیCIA،جنرل اختر عبدالرحمن، حمیدگل ، مشرف نے فرعونی قتل کیامگر کوٹکئی وزیرستان کے شریف انسان خاندان ملک کا کیا گناہ تھا کہ قاری حسین و حکیم اللہ محسود نے انکی فیملی کے7افراد کو شہید کیا ؟۔PTMکے غیرتمندنوجوان اپنی قوم کو حلالہ کی بے غیرتی سے بچانے میں آج ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟۔
صدرجمعیت علماء ہند مولاناحسین احمد مدنی نے کہاکہ” روحانی فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوچکا مگر ہندوکیساتھ اپنا وطن بنائیں گے”۔جس پر علامہ اقبال نے ابولہب قرار دیا۔ بشریٰ بی بی نے قرآنی عدت ایلائ4ماہ ،حدیث کی عدت خلع حیض گزاردی۔ توروحانی حکم پر اسکے نکاح سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور علماء کرام فیصلہ کرسکتے ہیں۔
علماء نے لکھا کہ ”اولیاء میں مجدد الف ثانی کو خلافت دینے پر جھگڑاہواتو نبی ۖ نے فیصلہ فرمایا کہ سبھی خلافت دیں۔ابوبکر کے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوگی مگر چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کی خلافت بھی ہو گی۔ جن کا سلسلہ علی سے رسول ۖ تک پہنچتا ہے”۔( جمعیت علماء ہند کا شاندار ماضی: مصنف مولانا سید محمدمیاں)
شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے اپنی مکتوبات میں لکھ دیاہے کہ ”روحانیت کا اصل منبع ومرکز علی اورفاطمہ ہیں ۔ حسنو حسین ساتھ ہیں ۔ روحانی معاملہ علی و حسین کی رہنمائی میں چلتا ہے، وہ اولیاء کی مدد کرتے ہیں”۔ مجدد کے اس مکتوب کا حوالہ” اتحاد امت” کتاب کے سید خورشید علی وارثی نے دیا ۔ جس کی تائید مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ علماء نے کی۔ پیر صابر شاہ پختونخواہ کے وزیراعلیٰ تھے تو خورشید وارثی کیساتھ ہماری ملاقات ہوئی۔ پیر صابر شاہ اتحاد امت ہزارہ کے سیکرٹری نشرواشاعت رہے ۔ انجینئر محمد علی مرزا نے علماء کو قادیانیوں کی صف میں کھڑا کیا۔ مرزا سمجھتاہے کہ مرزا قادیانی جس روحانی حکم پردعویٰ نبوت سے کافر ٹھہرا۔ مجدد مکتوب اور علماء دیوبند اپنی کتابوں میں کفر کے مرتکب بن گئے۔ پرویزبھی علماء وصوفیاء اور قادیانیوں کو ایک سمجھتا تھا۔ پرویز حدیث کا منکر تھا مگر قرآن میں خضر کی تأویل کرتا تھا۔ انجینئر احادیث کو مانتا ہے۔ دیوبندی مسعود عثمانی، حزب اللہ ، طاہر پنج پیری، مفتی منیرشاکر اور اہلحدیث سے الگ جماعت المسلمین کا تقریباً ملتا جلتا حال ہے۔
شیخ سرہندی و شاہ ولی اللہ شریعت و تصوف مانتے تھے۔ بریلوی ، دیوبندی اور اہلحدیث ان شخصیات کو مانتے ہیں۔ عون چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کیساتھ روحانی حکم پر عدت میں نکاح ہوا تھا۔ شیعوں نے روحانی حکم پر سمندر میں چھلانگ لگائی تھی۔ علامہ جواد نقوی شیعوں کونصیری و مشرک کہتا ہے ۔ شیعہ ان کو یزید سے بدترکہتے ہیں۔ عمران خان کی تائید میں انجینئر مرزا، مفتی منیر شاکر اور علامہ کوکب نورانی وغیرہ شیعہ ، سنی ، دیوبندی ، بریلوی ،اہلحدیث ایک تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کے روحانی احکام کا چرچا ہوا۔ مولانا احمد رضا بریلوی کی وجہ سے اکابر دیوبند نے تقلید کو بدعت کہنا چھوڑا ۔ حالانکہ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”بدعت کی حقیقت ” میں تقلید کو چوتھی صدی ہجری کی بدعت قرار دیا تھا اور اسکے اردو ترجمہ پر علامہ سید یوسف بنوری نے تائیدی تقریظ لکھی ۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے سنت نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا مگر علماء دیوبند خیبرپختونخواہ، اندورن سندھ، بلوچستان اور افغانستان میں سنت کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت کہنے والے پنج پیری دیوبندی پر قادیانیت کا فتویٰ لگاتے۔
علامہ طاہرالقادری نے بریلوی سے نفرت نکالی۔ اگر مولانا احمد رضا کا فتویٰ مانا جاتا کہ دیوبندی ، قادیانی، شیعہ ، وہابی کافر ہیں تو بریلوی قادیانیوں کی طرح تنہاء رہ جاتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ڈاکٹر اسرار احمد کے پروگرام میں منہاج القرآن وزٹ کی دعوت دی اور بتایاکہ ”میں نے اتحاد کیلئے200افراد کولندن آنے جانے کا ٹکٹ اور خرچہ دیا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ آپ محنت کریں لیکن میں مایوس ہوں”۔ طاہرالقادری نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ” طوفان سب کو بہاتا ہے اور مجھے بھی بہالیتا ہے مگر ایک شخص کھڑا رہتا ہے اور نہیں جانتا ہوں کہ کون ہے؟ ”۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر نے مجھ سے کہا کہ ” آپ جوان ہو، جوانی کا خون جوش کرتا ہے۔ کوشش کرومگر مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کو متحد نہیں کرسکتے ہیں”۔ مولانا بجلی گھر نے جلسہ عام میں یہ بھی کہا تھا کہ ” عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑ رہاہے جس کا مقابلہ امریکہ نہیں کرسکتا ہے ”۔
یتیم خانہ کاشانہ لاہور کی سپرنٹنڈٹ افشاء لطیف کے مختلف ادوار کی ویڈیوز ہیں۔ ایک یتیم بچی اقراء کائنات نے الزام لگایا کہ افشاء نے زبردستی شادی کرائی اور بعد میں اس کی موت واقع ہوئی۔ افشاء لطیف نے بتایا کہ اقراء کی مرضی سے شادی کرائی تھی۔ اس سے پہلے25لڑکیوں کا نکاح ہواتھا جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک گارڈ پر یتیم خانہ کی بچیوں کو ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایاتھا ، جس کی بقول افشاء کےCCٹی وی ویڈیو بھی ہے۔ افشاء کی طرف سے3ماہ پہلے جو وڈیو بنائی گئی تو اس میں یتیم بچیوں کوباقاعدہ جنسی طور پر استعمال کرنے کیلئے تیار کرنے کابڑا الزام تھا ۔جو پہلے کے بیان اور باڈی لینگویج سے مختلف تھا۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچا یا کہ شہباز شریف نے جھوٹ بولا تھا کہ بنی گالہ میں منوںمرغیوں کا گوشت ڈالا گیا۔ یتیم بچیوں کا گوشت جادو میں استعمال ہوا ۔صحافی احمد نورانی نے ٹھیک تجویز دی کہ چیف جسٹس فائزعیسیٰ سزا دیدے۔
عمران خان کے حمایتی طبقے کا حال یہ ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ واقعی اس طرح بچیوں کو ذبح کیا گیا ہے تو بھی کہیں گے کہ فوج کی باتوں میں آگئے تھے اور صحابہ کرام نے بھی بچیوں کو زندہ دفن کیا تھا اور ہندہ نے امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ دوسری طرف نوازشریف سے بھاڑہ ملتا ہے تووہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک گھناؤنا الزام ثابت ہونے کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ جن کا نقصان بہرحال فوج کو ہورہاہے کہ اگر ایسی برائی تھی تو پیچھے کون تھا اور ہے تو پیچھے کون ہے؟۔ مریم نواز نے کہا کہ” میرے پاس آن ڈیوٹی لوگوں کی خطرناک ویڈیوز ہیں”۔ عورت کی پیشکش سے حضرت یوسف بھی اللہ کی مدد سے ہی بچ سکے تھے۔کیپٹن صفدر نے بھی ویڈیوز کا چیلنج دیاتھا۔تحریک انصاف کے ایک رہنماکی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی۔ خدا جانے قوم کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے؟۔
محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن، نوازشریف اور علماء ومفتیان بشریٰ کے روحانی حکم پر نکاح کا جائزہ لیں۔اگر اسکی وجہ سے قرآن کی عدتِ ایلاء اور حدیث کی عدتِ خلع کی سنت زندہ ہوتی ہے تویہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ ہوگا اور الیکشن سے پہلے عوام اور اداروں کیلئے افہام وتفہیم کی بہترین فضاء پیدا ہوگی۔
اقبالنے کہا: علماء کا بڑااحسان کہ دین پہنچادیا مگر اللہ ، جبریل اور نبیۖ حیران ہیں کہ کیا یہ وہی دین ہے؟۔ عدت میں نکاح قائم رہتا ہے ۔ قرآن میں بار بار رجوع کی اجازت واضح ہے مگر فتویٰ دیاجاتاہے کہ نکاح قائم نہیں رہا اور حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزت لٹواکر اسلام اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کردیا۔

نوٹ: مکمل تفصیلات جاننے کیلئے اس کے بعد عنوان ” بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں ”
اور ”خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟”کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مغرب اورعالمِ اسلام کی جنگ یہودکا عالمی منصوبہ

مغرب اورعالمِ اسلام کی جنگ یہودکا عالمی منصوبہ

یہود کا شیطانی نظام سودی معیشت ہے ۔کمیونزم کے بعد اسلامی معیشت سے اس کو زبردست خطرہ ہے

مفتی تقی عثمانی ، جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام وغیرہ یہودی سودی نظام کے آگے بالکل ڈھیر ہوچکے

جب امریکہ کا9/11ہوگیا تو افغانستان پر حملہ آور امریکہ نے اسامہ کے بہانے افغانستان میں لاکھوں افراد کو مارڈالا۔ اسامہ بن لادن کی تلاش میں سارا وطن چھان مارا۔ کافی عرصہ بعد جب افغانستان اور پاکستان کی بربادی ہوچکی تھی تو پاکستان کے ایبٹ آباد میں مارا گیا یا لے گئے؟۔ اس کا انحصار امریکہ اور میڈیا پر ہے۔طالبان کے کچھ لوگ گوانتا ناموبے لے جائے گئے۔ جن میں افغان سفیر ملاعبدالسلام ضعیف بھی شامل تھے جبکہ اس کے نائب حبیب اللہ فوزی نے طالبان کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔ جس کا مطلب طالبان میں بھی اقسام وانواع کے افراد تھے۔ کچھ پاکستان کے مہمان تھے۔ کچھ پاکستان سے جہاد کی سرپرستی کررہے تھے اور افغانستان میں لڑرہے تھے اور کچھ قطر میں بیٹھ کر امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کررہے تھے۔ اس انڈسٹری کے مختلف شعبہ جات اپنا اپنا کام کررہے تھے۔20سال میں چار لاکھ افغان،80ہزار پاکستانی مارے گئے جبکہ صرف ڈھائی ہزار امریکی فوج مر گئے یا مارے گئے؟۔
اب اگر20سالوں تک غزہ میں اسرائیل کی کاروائی جاری رہی تو اس کے نتیجے میں فلسطین کے مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ شمالی فلسطین سے جنوبی نقل مکانی کرنے والوں کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ گدھا گاڑی میں جگہ ملے نہیں تو پیدل میلوں کا سفر اپنے مختصر سامان کیساتھ کرنا پڑرہاہے۔ سب کی جامع تلاشی بھی لی جاتی ہے اور جوان مردوں کو سب کے سامنے الف ننگا کیا جاتا ہے۔ لاشیں بکھری پڑی ہیں اور عمارتوں تلے دبنے والی لاشوں کا کچھ اتہ پہ نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے سراج الحق خوش ہیں کہ حماس نے فتح حاصل کرلی ہے لیکن فلسطین کے بے گناہ مسلمانوں کیساتھ جو ہورہاہے اس کو فتح کا نام دینا بڑی سفاکی ہے۔ کشمیر اور افغانستان میں ہندوستان، روس اور امریکہ کے خلاف جہاد میں بچ جانے والے سراج الحق اور سینیٹر مشتاق خان کا بس نہیں چلتا ہے کہ شہید ہونے کیلئے کس اڑن طشتری پر بیٹھ کر اسرائیل پہنچ جائیں؟۔ تاکہ کچھ یہودیوں کو قتل کر ڈالے اور خود بھی قتل ہوں۔پتہ نہیں کتنے ہندو، روسی اور امریکن ان کے ہاتھوں سے واصل جہنم ہوئے ہیں جو اب یہودیوں کو ماریں گے؟۔
جب روس کے خلاف جہاد تھا تو قاضی حسین احمدامیر جماعت اسلامی نے بڑے ذوق سے کراچی میں اپنی قیام گاہ کانام بھی وائٹ ہاؤس رکھا تھا۔ہماری تنبیہ پر اس نام کی تشہیر ختم ہوگئی ،نہیں تو امریکہ جب افغانستان میں لڑرہاتھا تب بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ ڈرامہ بازی ختم کرکے فلسطین کے لوگوں کی مشکلات کوختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرناچاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے سن2007میںطالبان کو خراسان کے دجال کالشکر قرار دیا تھالیکن میڈیا نے اس بیان کو کوریج نہیں دی ۔حالانکہ مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریرمیں خراسان سے نکلنے والے دجال کی حدیث پڑھ کر سنائی تھی اور طالبان پراس کے لشکر کی نشانیوں کی نشاندہی کی تھی۔یہ دیکھناہوگاکہ ملا عمر پر خراسان کے دجال یا خراسان کے مہدی کی نشانیاں صادق آتی ہیں۔بعض علماء نے ان پر خراسان کے مہدی کی روایت بھی فٹ کی ہے۔مہدی بھی ایک کردار کا نام ہے اور دجال بھی ایک کردار کا نام ہے۔آخری خطبہ کی حدیث صحیح بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایاکہ مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے انہوں نے دجال کے فتنے سے اپنی امت کو ڈرایا۔ وہ تم میں سے ہی ہوگا۔اگر تم اس کو نہ پہچان سکو تو اللہ ضروراس کو جانتا ہے۔اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی اوردوسری انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔مسلمانوںکی جان ،مال اورعزت کی حرمت تم پر ایسی ہے جیسے آج کے دن (یوم عرفہ) کی حرمت اس مہینے (ذوالحجہ) اور اس شہر(مکہ مکرمہ) میں ہے۔خبردارمیرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔
اس حدیث میں دجال کی ایک نشانی ایک آنکھ کا اندھا ہونا اور دوسری کا انگور کے دانے کی طرح ابھرا ہونا بھی اہم نشانی ہے لیکن اصل چیز یہ ہے کہ شاید اس کو خود بھی پتہ نہ ہو کہ وہ دجال کا کردار ادا کررہاہے اور مسلمان بھی نہیں جانتے ہوں کہ وہ دجال ہے ۔البتہ اس کا اصل کردار مسلمانوں کا آپس میں قتل وغارت ہے۔افغانستان میں افغانی افغانی کو قتل کررہے تھے اورپاکستان میں پاکستانی مسلمان پاکستانیوں کو قتل کررہے تھے۔لال مسجداسلام آبادکے آپریشن سے پھرطالبان کی مردہ روح میں جان ڈالی گئی۔جاویدچوہدری ،عرفان صدیقی اور انصار عباسی طرح کے لوگ دہشت گردوں کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے اور رؤف کلاسرا جیسے لوگوں کو سچ لکھنے پر جان کے لالے پڑے رہتے تھے۔
علماء دیوبند میں کچھ لوگ سرمایہ دارانہ سودی نظام کے مقابلے میں کمیونزم کو اسلام کے قریب سمجھتے تھے۔سن1970میں اسلئے مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا عبداللہ درخواستی ،مفتی محمود اور جمعیت علماء اسلام پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع، مولانا رشیداحمد لدھیانوی ، مولانا سلیم اللہ خان اور مفتی تقی عثمانی سے لیکر دارالعلوم کراچی کے چوکیداروں نے بھی مفتی کے نام پر دستخط کئے تھے اور اس کی اصل محرک اور پروپیگنڈہ مہم جماعت اسلامی تھی۔جبکہ مولانا یوسف بنوری اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اس فتوے کا حصہ نہیں تھے۔
کمیونزم کوشکست دینے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام معیشت بہت بڑا چیلنج تھا۔جہاد اور دہشت گردی کی لہر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے علماء ومفتیان کی پوری ٹیم اڑادی گئی۔مولانا سیدمحمد بنوری شہید اپنے گھر میں قتل ہوئے اور خودکشی کا الزام بھی جنگ اخبار میں لگایا گیا تھا۔مفتی تقی عثمانی نے یہودی نظام کے سود کو اسلامی قرار دیا اور سب علماء نے متفقہ فتویٰ کے عنوان سے مخالفت کی لیکن جب عالمی قوت کا سہاراتھاتو پھروہ سب ملکر بھی کچھ نہیں بگاڑسکے۔اسلام نے سودکو حرام اور اللہ اور اسکے رسول ۖ سے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔اس کو حیلے کے ذریعے حلال کرنے کی چارہ جوئی کا حکم نہیں دیا ہے۔سود کی حرمت کے بعد رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔مولانا سیدمحمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے مزارعت پر اپنی مکمل تحقیقات بھی شائع کی ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے ان کی حمایت میں اپنے تأثرات بھی قلم بند کئے ہیں۔کرائے کے جہادی کلچر کے ذریعے ان علماء حق کو مارنے کا پروگرام ہے جو اسلامی نظام معیشت کا نام لیتے ہیں۔
اسرائیل کی پوری کوشش یہی ہے کہ مغرب اورعالم اسلام کی جنگ چھڑ ے اورچین وعرب اورہندوستان ہمارا کے ترانے گانے والے علامہ اقبال کی امید پر پانی پھر جائے۔معیشت پر مکمل کنٹرول کے بعد مسلمانوں کو مغربی تہذیب اور تمدن سے ٹکرانے کی خواہش رکھنے والے امریکہ واسرائیل کو ناکام کیا جائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طالبان پر استاذان کو اعتمادکافقدان یامکافاتِ عمل کا بحران؟

طالبان پر استاذان کو اعتمادکافقدان یامکافاتِ عمل کا بحران؟

پاکستان اور افغانستان میں کیا ایک گھمسان کی جنگ ہونے جارہی ہے اس کا فائدہ اور نقصان کیا ہوگا؟

پہلے نوازشریف پھر عمران خان کے صحافیوں نے بداعتمادی کی وہ فضا بنادی جس کا مداوا آسان نہیں ہے!

ظاہر شاہ بیرون ملک دورے پر گیاتو سردار داؤد نے حکومت پر قبضہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے وقت احمدشاہ مسعود، گلبدین حکمت یار پاکستان آئے اور امریکیCIAکو پشاور میں اڈہ دیا گیا۔ روس سے افغانی بڑے پیمانے پرمہاجر بن گئے۔پاکستانی باغیوں کو افغانستان اور افغانی باغیوں کو پاکستان پناہ دیتا تھا۔ اجمل خٹک ، ولی خان ، خیربخش مری ، مرتضیٰ بھٹو کی الذوالفقارنے افغانستان میں پناہ لی تھی۔ قائد ملت لیاقت علی خان کے قاتل سیداکبر افغانی کے ساتھی افغانستان سے کشمیر جہاد کیلئے500مجاہدین لائے۔ افغانستان نے اسکی زمین ضبط کرلی ۔پاکستان نے بڑی زمین گومل ٹانک دی تھی مگرپیپلز پارٹی کے گلزار احمد خان نے خرید ی تھی ۔ میرے والد پیر مقیم شاہ نے ان کی صلح کرائی کہ گلزارحمد خان کیس کا خرچہ اٹھائے گا ۔ پھر عدالت سے اس کو زمین مل گئی تو مفتی محمود وزیراعلیٰ تھے اور انہوں یہ زمین سندھ کی سرحد میں منتقل کی اورجو آخر کار گم بھی ہوگئی۔
بیگم راعنا کابرہمن خاندان ہندو سے عیسائی بناتھا۔ پڑوسی ہندو دال سبزی پکاتے اوربیگم کے گھرمیں گوشت کی خوشبوایک فتنہ تھا۔حکمران انگریز کے لباس میں سکول کالج جاتی تو مشرق میں سورج مغرب سے طلوع ہوتاتھا۔ مشہور تھا کہ بیگم کی وجہ سے لیاقت علی خان نے کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کیا۔ شاید اسلئے اس کا قتل افغانی سے کروایا گیا۔ اقبال نے پنجابی اور افغانی کردار کی عکاسی کی ۔
مذہب میں بہت تازہ پسند اسکی طبیعت
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
وہ مس بولی ارادہ خود کشی کا جب کیا میں نے
مہذب ہے تو عاشق ! قدم باہر نہ دھر حد سے
نہ جرأت ہے نہ خنجر ہے تو قصدِ خود کشی کیسا؟
یہ مانا دردِ ناکامی گیا تیرا گذر حد سے
کہا میں نے کہ ” اے جانِ جہاں کچھ نقد دِلوا دے
کرائے پر منگالوں گا کوئی افغان سرحد سے”
بیگم راعنا بہت ایڈوانس تھی ، یونیورسٹی میں اکلوتی لڑکی تھی ۔ سیلاب زدگان کیلئے شو کے ٹکٹ بیچ رہی تھی تو لیاقت علی خان نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹکٹ لیا۔ اس نے کہا: کم ازکم دو ٹکٹ تو لیں، لیاقت علی خان نے کہا: میرا ساتھی نہیں، اس نے کہا کہ میں تیرے ساتھ آؤں گی اور پھر شادی ہوئی۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد گمان تھا کہ وہ واپس ہندوستان چلی جائیں گی ۔ خاتون اول مادرِ ملت پاک فوج میں برگیڈئیر جنرل بھی تھی اور یہ عہدہ فوج میں صف اول کاہوتا تھا۔
جنرل ایوب نے فاطمہ جناح کے خلاف میدان میں اترنے کیلئے کہا تھا مگر اس نے کہا: سفیر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ۔بھٹو نے بیگم کوگورنر سندھ بنایا۔ جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین اورامتناع قادیانی آرڈنیس کی مخالفت کی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی ولی حسن ٹونکی نے کہا کہ ” بیگم راعنا لیاقت کی رگ پھڑک رہی ہے”۔ یہ بیان روزنامہ جنگ میں لگا تو بیگم نے ہتک عزت کا کیس کیا۔ جج نے مفتی ولی حسن سے کہا کہ معافی مانگو۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ میرا تعلق علماء دیوبند سے ہے ، معافی نہیں مانگ سکتا۔ جس پر جمعیت علماء اسلام سندھ کے قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ ”مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن زندہ باد” اور اس دن سے مفتی اعظم پاکستان کے لقب سے شہرت ہوئی۔
افغانستان کی بدلتی حالت میں افغان عوام و ریاست کا مؤقف الگ تھا اور پاکستان،ISIکی سپورٹ مجاہدین و طالبان کو تھی۔ پاکستان نے مجبوری میں طالبان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا ،تب بھی ایک پیج پر تھے۔ جب طالبان نے کابل فتح کیا تو کورکمانڈر پشاور فیض حمید اور عمران خان نے خوشیاں منائیں۔TTPبھی دوبارہ سوات ، وزیرستان اور پاکستان میں لائی گئی۔ صحافی ہارون الرشید نے کہا کہTTPسیاست کرے گی بنٹے تو نہیں کھیلے گی؟ مگر فوج کیخلاف کچھ کیا تو اس کے خلاف زمین گرم کردی جائے گی۔ سلیم صافی نے بھی رپورٹ کیا کہTTPکے امیرنور ولی محسود میں سابقہ امیروں کے مقابلے میں زیادہ صلاحیت ہے۔ پھر فوج کی کمانڈ تبدیل ہوگئی تو صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
افغانی مسلمان ، پٹھان، انسان بھائی ہیں۔ اگر یہود، سکھ ، ہندو، پنجابی اور اسرائیلی کیساتھ ایسا ہو بلکہ لگڑ بگڑ، بھڑئیے کوسخت سردی میں دھکیلنے پر بھی دکھ ہوگا۔ بڑی تعداد میں چھوٹے بچوں ، جوان لڑکیوں اور بوڑھوں کو بے سروسامانی میں اس طرح دھکیلنا ؟۔ لیکن ہمارا دکھ پنجابی افغانی، فلسطینی یہودی اور شیعہ سنی لڑائی میں کسی کام کا نہیں۔ چڑیا چونچ کے پانی سے نمرود کی آگ نہیں بجھا سکتی ۔ اللہ پھر سب کچھ کرسکتا ہے اور قرآنی تعلیمات سے انسان بھی حالات بدل سکتے ہیں۔
نوازشریف کے حامی اسد علی طور(جس کی پٹائی لگنے پر حامد میر نے جنرل رانی کا طعنہ فوج کو دیا ) نے بتایاکہGHQمیں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ طالبان نے ردِ عمل میں کاروائیاں کی ، فوج کی بھی غلطیاں تھیں۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کوسردی میں بھیجنا، پالیساں بدلتی ہیں پھر رد عمل آتاہے؟۔ آرمی چیف نے کہا کہ یہ ریاست کا فیصلہ ہے جو نہیں بدلے گا۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ الیکشن بھی نہ کراؤ۔ چیف تیرے جانثار بیشمار بیشمار کے نعرے لگائے۔ جہاں تم پسینہ گراؤ وہاں ہماراخون گرے گا۔ چھرے قصائی تیز کرتے ہیں،جان بکروں کی نکلتی ہے۔ فوجی سپاہی،پاکستانی عوام اور پختونوں کا پھر کیا بنے گا؟۔ فضاؤں کا رُخ بدلنے کیلئے قرآن کے عالمگیر انقلاب کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خطے میں لڑائی کا انجام معدنی ذخائر پراغیار کا قبضہ؟

خطے میں لڑائی کا انجام معدنی ذخائر پراغیار کا قبضہ؟

لاکھوں افغان مہاجر کوشدید سردی میں40سال بعد بے سروسامانی کیساتھ بھیج دینا جس میں کچرہ چن چن کر کمائی کرنیوالوں کی محنت بھی ڈوب جائے؟۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
باجوڑ جمعیت علماء اسلام کے جلسہ میں خود کش سے بڑی تعداد کی شہادت ، چترال حملہ ، میانوالی ائربیس، پختونخواہ، بلوچستان اوردیگر حملوں کا ردعمل کہاں تک پہنچے گا؟۔جنگ کا فائدہ کس نے اٹھایا؟۔ نقصان کا سامنا کس کو کرنا پڑا؟۔ جنرل ضیاء ، اختر عبدالرحمن، پرویزمشرف کے بچوں کوکیا تکلیف ؟۔ اگر لاکھوں افغان مراور بے گھر ہوگئے ۔ جرنیلوں و سیاستدانوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنالیں؟۔ لیکن افغانیوں نے ایک دوسرے کیساتھ بھی بہت برا کیا اور ان کی وجہ سے پاکستان بھی متأثر ہوا ۔پھر لڑائی چھڑ گئی تو طالبان حکومت بھی جائے گی لیکن شاہ نعمت اللہ کی پیشگوئی دریائے سندھ خون سے بھر جائیگا اور پنجاب کے دل سے دوزخی خارج ہوجائیں گے؟۔ کشمیر کوفتح کرنے والے قبائل اپنے زخموں سے فارغ نہیں اور پنجاب وسندھ کی عوام کو سیاست کے قابل نہیں چھوڑاہے۔
20لاکھ افغان مہاجرین سردی میں افغانستان جائیں تو اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے لوگ سہارا دیں لیکن یہ خود کش کی صورت میں پنجاب کا رُخ کریں گے۔ ہندوستان کی مداخلت کا خطرہ ہوگا جو روس سے ایٹمی میزائل گرانے کی صلاحیت حاصل کرچکا۔اس نے میزائل پھینکا تھا مگر ہم نے جوابی کاروائی سے ہوشیاری کرکے گریزکیا۔حقائق سے صرف نظر ہوتوسوشل میڈیا میں کچھ چھپتا نہیںہے۔
افغان طالبان سے چین نے سرمایہ کاری سے پہلے یہ اطمینان حاصل کیا کہ وہ امریکہ کا ٹاؤٹ بن کر دھوکہ تو نہیں کرے گا۔ پھر چین نے سرمایہ کاری کی۔ یہ خیال ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر چین سے دھوکہ کیا اور افغانستان میں بھی چین کا پیچھا امریکہ کے حکم پر کر رہا ہے تو ایک طرف ہندی اور دوسری طرف افغانی پاکستان کی وحدت کی واحد علامت اوراکلوتہ ذریعہ پاک فوج کے خون سے دریائے سندھ کو بھر دیں گے؟۔ یہ ہے دشمن کا اصل منصوبہ اور اسی کو عملی جامہ پہنایا جائیگا؟۔ یا پھر قادیانیوں کو پنجاب کے دل سے بھگاد یا جائیگا؟۔
پاک فوج کے جوانوں نے امریکی جنگ میں جن مشکلات، خوف وہراس اور شہادتوں کا سامنا کیا تو دل د ہل جاتا ہے لیکن پارلیمنٹ سے فیض آباد دھرنے تک قادیانی اور انکے سہولت کاروں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑاہے۔
فوجی کا دل ہوتا ہے دماغ نہیں۔ تابعداری اور جنگ کی تربیت ہوتی ہے۔ مغرب کی پشت پناہی سے روس کو شکست دی تھی اگر لڑائی میں طالبان وچین بھی پاکستان کیخلاف ہوں اور ہندوستان بھی؟۔ خود کش مساجد، بازار اور عدالت کو نشانہ بناتا تھا، فوج کے ٹاؤٹ نوازشریف اور عمران خان پر حملہ نہیں کیا اوراب تنہا نوازشریف اور فوج حملوں کیلئے رہ جائیں گے؟۔ذرا سوچئے تو سہی؟۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ طالبان نے چین کیخلاف امریکہ سے ڈکٹیشن قبول نہیں کی اور پاکستان کی اسٹبلیشمنٹ سے امریکہ زیادہ اطمینان محسوس کرتا ہے اسلئے کہ پہلے اکٹھے کام کرچکے ہیں۔ اگر نہیں کیا تو وہ اپنی پراکسی اپوزیشن یا مسلح جدوجہد کرنے والوں کو بناتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین سے افغان مہاجرین کیساتھ زیادتی سے پاکستانیوں کا رُخ مڑ گیا۔ تو دوسری طرف واحد ایٹمی قوت سے عقیدت کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا۔ سیاسی ،عدالتی اور ریاستی کھوکھلے پن کا اندازہ مرکز و پنجاب کی عبوری حکومتوں کے اقدامات سے لگتا ہے۔ جس عمران خان اور طالبان کو سرپر چڑھایا تھا اور نوازشریف کو پٹخ دیا تھا تو کیا اب الٹی گنگا بہانے سے معروضی حالات تبدیل ہوںگے؟۔کہیں منزل کھو تو نہیں رہے ہو؟،سیاسی تدبر چاہیے!۔
افغانستان امن وامان اور خوشحالی کا گہوارہ بن گیا تو افغانی روکنے سے بھی نہیں رکیں گے، جو ہندوستانی مہاجرکی طرح مادر وطن سے دشمنی کی بنیاد پر ہجرت کرکے نہیں آئے ۔ یہ ماحول تشکیل دیا جائے کہ ہندوستانی مہاجر بھی اپنے آبائی وطن کی زیارت کیلئے آسانی سے آجاسکیں اور اپنے عزیز واقارب سے مل سکیں۔ آبائی وطن سے محبت فطرت ہے۔ ان پر راء ایجنٹ کا جھوٹاالزام نہ لگایا جائے۔ یہ غلط ہے کہ جب چاہو تو12مئی میںMQMکو استعمال کرو اورپھر ایکTVچینلARYپرحملے کی پاداش میں ان پر پابندی لگاؤ؟۔ حالانکہ دوسرےTVچینلGEOپر روزانہ تحریک انصاف کے کارکن حملہ آور ہوتے تھے۔
سپریم کورٹ اورپھر پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپرقبضہ کرنے والوں پر بھی ایسی پابندی نہیں لگی جو ایک چینل پر حملہ کرنے کی وجہ سے الطاف حسین پر لگائی گئی؟۔ یہ وہی قائد تحریک الطاف حسین تھا جو ہر روز کور کمانڈروں کو جمہوریت پر چڑھ دوڑنے کی دعوت دیتا رہتا تھا۔ زمین نے چہرہ دکھایا آسمان کو کیسا کیسا؟۔
پاکستان افغانستان امن وامان کی بحالی اور اسلام کی اعلیٰ ترین تعلیم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اکٹھے ہوں تو جنت نظیر بنیں گے، نہیں تو تباہی وبربادی ہوگی۔ پاک فوج اور طالبان کی دوعظیم طاقتیں ٹکرائیں گی تو امریکہ معدنی ذخائر پر قبضہ کرلے گا۔ اگر لڑنا ہے تو پھر بھی اللہ شر سے خیر نکالنے پر قادر ہے۔ پاکستانی اپنی فوج سے اور افغانی بھی طالبان سے بہت بیزار ہیں ،یہ قدرت کا انتظام ہوگا؟۔
سوات سے وزیرستان تک فوج کے چہیتے طالبان نے سکو ل تباہ کئے، ملالہ کو ایوارڈ ملا۔پنجاب مری اور ہیرا منڈی محفوظ تھے۔انصار عباسی، لال کرتی کے عرفان صدیقی ،جاوید چوہدری ، علامہ طاہر اشرفی طالبان کی تسبیح پڑھتے تھے۔ افغانی اپنے طالبان کی شریعت ، پاکستانی اپنی فوج کی سیاست سے بیزار ہیں۔ قدرت کے انتقام وانقلاب سے ڈریںاور اپنی اصلاح کریں تو بہت اچھا ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین،افغان مہاجرین، چمن لغڑیان کے مسائل کا حل مکس مصالحہ نہیں افہام وتفہیم ہے

فلسطین،افغان مہاجرین، چمن لغڑیان کے مسائل کا حل مکس مصالحہ نہیں افہام وتفہیم ہے

امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی سورة القدر کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :
”قرآن مجید کی پہلی سورت ”اقراء باسم ربک الذی خلق” لیلة القدر میں نازل ہوئی اور لیلة القدر کا اگر آج کی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو کہا جائیگا کہ بجٹ کی میٹنگ خطیرة القدس میں ایک کام پیش ہوتا ہے اور پھر اس پر فیصلہ ہوتا ہے۔….. یوں سمجھئے کہ سن86ہجری میں یہ100برس پورے ہوتے ہیں۔ اسی سال ولید نے عمر بن عبد العزیز کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا اور انہوں نے مدینہ کے علماء کو جمع کرکے سنت (حدیث) کے لکھنے کی بنیاد ڈالی۔ …عمر بن عبد العزیز نے انٹرنیشنل روح قائم کرنے کیلئے آیت ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان آیت کا خطبہ جمعہ میں داخل کردیا۔ جو خطبہ میں آج تک ہے۔ عمر بن عبد العزیز کی تجدید کے متعلق ہمیں خوشی ہے کہ اسی زمانے میں سندھ فتح ہوا۔ آپ کی خلافت میں سندھ کا اکثر حصہ اسلام میں داخل ہوا۔ ہندوستان میں اسلام کا یہ اول بیج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے سندھ کے ساتھ پنجاب، کشمیر، سندھ، فرنٹیئر اور افغانستان وغیرہ میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ مسلمانوں کی مرکزی جماعتیں ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں۔ دریائے سیحون درحقیقت دریائے سندھ ہے جس کا حدیث میں ذکر آتا ہے۔……. پنجاب کے پانچوں دریا اور کابل کا دریا درحقیقت دریائے سندھ کا احاطہ ہے۔ تمام ہندوستان ہندوؤں کیلئے چھوڑ سکتے ہیں مگر پنجاب، کشمیر، سندھ، فرنٹیئر ، بلوچستان اور افغانستان سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے۔ خواہ وہ تمام دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئیں۔ غرض مسلمانوں کا مرکزی حصہ یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمر بن عبد العزیز نے قرآن کے ماتحت عربی ذہنیت کو مہذب کردیا ۔ ہمارا خیال ہے کہ عجمی ذہنیت کو امام ابو حنیفہ نے زندہ اور مہذب کردیا۔ …… (تفسیر المقام المحمود، آخری پارہ۔سورة القدر)
آج بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کو سمجھا نہیں جاتا ۔ فلسطین اسرائیل کا مسئلہ الگ اور یہود مسلمان کا مسئلہ الگ ہے۔ دونوں کو مکس کرکے فلسطین کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط بنارہے ہیں۔ فلسطین ایک آزاد ریاست چاہتا ہے اور جو عرب و مسلم ممالک اس کی آزاد ی چاہتے ہیں وہ دو ریاستی حل چاہتے ہیں کیونکہ فلسطین برائے نام آزاد ہے اور ہماری افواج پاکستان، ریاست اور حکومت کا بھی مؤقف یہی ہے۔ عمران خان نے بھی کہا کہ اگر فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا تو اسرائیل کو مان لیںگے۔سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن قوم کو یہ بتادیتے کہ حماس رہنماؤں نے کونسامؤقف اپنایا ہواہے؟۔
افغان مہاجرین کے جانے کا فائدہ طالبان کو ہے، پورا افغانستان آباد ہوگااور پاکستان کو نقصان سے بچنے کی فکر ہے۔چمن لغڑیاں کا مسئلہ الگ ہے اور پاکستانی اور افغانی پاسپورٹ کا مسئلہ الگ ہے اور دونوں کو مکس مصالحہ بنانے سے معاملہ خراب ہوگا۔ افغانستان میں پختون، تاجک، ازبک اور ہزارہ ہیں۔ پاکستان میں پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ اور کشمیری وغیرہ ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے دہلی اور جالندھرکا پنجابی الگ اور لاہور وملتان کا الگ ہے ،اسی طرح افغانستان کے کابل وقندھار کا پختون الگ ہے اور کوئٹہ ،وزیرستان و سوات کا الگ ہے۔ دشمنی کی ضرورت دہلی واسلام آباد کو ہے اور نہ کابل ولاہور کو۔ پاکستان نے ملاعبدالضعیف کو امریکہ کے حوالے کرکے بہت غلط کیا اور طالبان نے صدر نجیب کو لٹکاکر ۔ افغانی ایکدوسرے کو معاف کریں اور افغانی پاکستانی بھی۔ چمن میں لغڑیان جائز دیہاڑی کماتے ہیں۔زیادہ تر پاکستانیوں کی دکانیں افغانستان میں ہیں۔ اچکزئی اشرف غنی حکومت میں تھے ۔ نورزئی طالبان حکومت میں ہیں۔ حافظ حمداللہ نورزئی ہے اور جان اچکزئی نگران حکومت میں ہے۔ افغانستان کے پھل وسبزیوں پرکسٹم ڈیوٹی نہیں ۔ چمن کے زیادہ تر اچکزئی کی دکانیں افغانستان میں ہیں۔ باہمی افہام وتفہیم سے مسائل حل ہوں تو نقصان نہیں ہوگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

معاذ بن جبل حاکم یمن بنا، رسول اللہۖنے پوچھا: فیصلہ کیسے کرو گے؟۔ معاذ : قرآن سے!۔ رسول اللہ ۖ : قرآن میں نہ ملے ؟۔ معاذ: سنت سے!۔ رسول اللہ ۖ: سنت میں نہ ملے؟۔ معاذ: اجتھدخود کوشش کروں گا۔ اجتھاد کوشش۔تلمیذ مجتہد ۔ محنتی شاگرد۔ رسول اللہۖ نے فرمایا :” اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول کے رسول کو اس بات کی توفیق عطاء کردی جو اللہ اور اسکے رسول کو پسند ہے”۔ رسول داروغہ ، نمائندے اور ڈاکیہ کو بھی کہتے ہیں۔
یہ فقہی مسائل کا استنباط اور مروجہ اجتہاد نہیں بلکہ حاکم کا اپنی ذہنی صلاحیت سے انصاف دینا ہے۔ حضرت عمر کے پاس ایک تنازعہ آیا۔ شوہر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور کہہ رہا تھا کہ مجھے تین طلاق کے باوجود رجوع کا حق ہے لیکن اس کی بیوی رجوع کیلئے تیار نہیں تھی۔ اب حضرت عمر نے پہلے اس کا فیصلہ قرآن کے مطابق کرنا تھا اور جب قرآن میں نہ ملتا تو سنت کے مطابق کرنا تھا اور جب سنت رسول ۖ میں بھی نہ ملتا تو پھر اپنی کوشش ”اجتہاد”سے مسئلہ حل کرنا تھا۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرآن وسنت اور اہل بیت کے مقابلے میں ایک نئی گمراہی ”طلاق بدعت” امت میں پیدا کردی ، جس کی سزا آج تک مفتی مسلمان عورتوں کو ایک ساتھ تین طلاق دینے پر حلالہ کی شکل میں دیتے ہیں۔
اہلحدیث سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر کی اجتہادی غلطی سے سنت کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ ۖ، ابوبکر اور عمر کے پہلے3سال تک اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے3طلاق کو3قرار دینے کا حکم جاری کردیا۔ اس اجتہاد کو رسول اللہ ۖ کی سنت کے مقابلے میں جاری کرنا بالکل غلط ہے۔
چار فقہی امام کے مقلد سمجھتے ہیں کہ حضرت عمرنے اجتہاد نہیں کیابلکہ حدیث میں اکٹھی تین طلاق ہیں۔امام شافعی کے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت اور مباح ہیں اسلئے کہ عویمر عجلانی نے لعان کے بعد بیوی سے کہا تھا کہ تجھے تین طلاق۔ یہی صحیح حدیث ہے،محمود بن لبید کی حدیث ناقابلِ اعتماد ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ وامام مالک کے ہاں فحاشی پر اکٹھی 3طلاق میں حرج نہیں مگر اکٹھی3 طلاق دینا گناہ وبدعت ہے۔ محمود بن لبید نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کو ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔
امام احمد بن حنبل سے دو اقوال نقل ہیں۔ ایک قول کے مطابق امام شافعی کی تائید کی ہے اور دوسرے قول میں حنفی ومالکی مسالک کی تائید کی ہے۔
امام اسماعیل بخاری نے صحیح بخاری میں فقہ حنفی کو شکست دینے کیلئے حدیث کا غلط اندراج کرکے امت مسلمہ کابیڑہ غرق کرنے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ”من اجاز الطلاق ثلاث” (جس نے تین طلاق کی اجازت دی) عنوان کے تحت اسماعیل بخاری نے امام شافعی کے مسلک کو ثابت اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کو رد کرنے کیلئے ایسی حدیث درج کی جس کی سزا آج تک بہت سارے لوگوں کو اکٹھی تین طلاق دینے کے بعد حلالہ کی لعنت سے ملتی ہے کیونکہ امام بخاری نے یہ حدیث بھی اکٹھی تین طلاق کے جواز میں نقل کی کہ رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر عدت کے بعد اس کی بیوی نے ایک اور شخص عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے شادی کی۔ اس نے رسول اللہ ۖ سے شکایت کی کہ اس کے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :کیا آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟۔ پس نہیں! یہاں تک آپ اس کا ذائقہ چکھ لواور وہ تیرا ذائقہ چکھ لے ۔من اجاز طلاق ثلاث( صحیح بخاری )
یہ حدیث مختلف جگہوں پر احادیث کی کتابوں میںہے مگر اکٹھی تین طلاق کے جواز میں یہ نقل کرکے امت مسلمہ کا حلالہ کی لعنت سے بیڑہ غرق کیا ہے۔ اس سے مغالطہ ہوا کہ رسول اللہ ۖ نے بھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ جاری فرمایا۔ صحیح حدیث پر لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں۔ بخاری نے ”کتاب الادب” میں یہ وضاحت کی کہ” رفاعة القرظی نے مرحلہ وار تین طلاقیں دی ہیں ”اور یہ بھی ایک اور حدیث میں واضح کیا کہ” اسکے شوہر عبدالرحمن بن زبیرالقرظی نے تردید کی کہ وہ نامرد ہے ۔ وہ اس کی چمڑی اپنی مردانگی سے ادھیڑ کے رکھ دیتا ہے”۔ بخاری اس واقعہ کی تمام روایات کو ایک جگہ نقل کرتا تو نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا حکم نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا کہ نبی کریم ۖ نے اس عورت کو اپنے نامرد شوہر سے حلالہ کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا اور احادیث کے واقعات کو غلط نقل کرکے احادیث کے خلاف بھی محاذ کھول دیاگیا ہے۔
آیت الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے روکنا یااحسان سے چھوڑنا ہے”کو بخاری نے اکٹھی تین طلاق کے جواز میں پیش کیا۔ حالانکہ امام ابوبکر جصاص رازی نے یہ آیت اپنی کتاب ”احکام القرآن” میں مسلک حنفی کی طلاق سنت کیلئے زبردست دلیل کے طور پر پیش کی۔ بخاری کے معروف شارحیں نے اپنی اپنی شرح ” عمدة القاری ” اور ” فتح الباری” میں ایسی مضحکہ خیز شرح ان آیات کی لکھ دی ہے کہ ایک عام انسان بھی حیران ہوگا کہ یہ کیا کیاہے؟۔ فقہاء ومحدثین کا مسئلہ یہ ہے کہ حقائق تک پہنچنے کا سادہ طریقہ اپنانے کے بجائے معاملہ مزید الجھا دیتے ہیں۔ حالانکہ عام فہم زبان اور صحیح بخاری کی احادیث سے دو مرتبہ طلاق کی بات سمجھنا بہت آسان ہے لیکن بخاری نے ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کے عنوان کے تحت آیت لکھ دی ہے تو پھر بہرصورت باب سے مناسبت پیدا کرنے کی الٹی سیدھی کوشش کی ہے جس کو دیکھ کر چھوٹے مگر سمجھدار بچے بھی ہنسیں۔
نبی ۖ محمود بن لبید کی مجہول حدیث میں غضبناک ہوئے تو اس سے شبہ پیدا کیا گیا ہے کہ اگر رجوع ہوسکتا تھا تو نبیۖ غضبناک نہ ہوتے۔ حالانکہ اس سے زیادہ مضبوط حدیث صحیح بخاری کی ہے جس میں نبی ۖ حضرت عمر کی خبر پر کہ عبداللہ بن عمر نے حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے غضبناک ہونے کا ذکر ہے۔ جو بخاری کی کتاب التفسیر سورہ طلاق میں ہے۔ اس سے طلاق مرتان کی بھی واضح تفسیر ہوجاتی ہے اور غضبناک ہونے کے باوجود بھی رجوع ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ اسلئے غضبناک نہیں ہوئے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں روایات میں یہ بھی ثابت ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جس نے خبر دی تھی اور قتل کی پیشکش کی تھی وہ حضرت عمر تھے اور جس نے طلاق دی تھی وہ عبداللہ بن عمر تھے۔ محمود بن لبید تابعی تھے اور ان سے مضبوط روایت صحیح مسلم کی ہے جس کو حسن بصری نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور20سال تک کوئی دوسرا شخص نہیں ملا جس نے اسکی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور مستند شخص ملا جس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ حضرت علی سے منسوب ہے کہ حرام کہنے کو ایک ساتھ تین طلاق سمجھتے تھے۔ بخاری میں بعض علماء کے اس اجتہاد کو حسن بصری نے روایت بھی کیا ہے۔ جب حرام کا لفظ تین طلاق ہو تو پھر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ حضرت ابن عمرنے تین طلاقیں دیں اور نبیۖ نے لوٹنے کا حکم دیا؟۔ حالانکہ حضرت علی نے اس صورت میں رجوع نہ کرنے کا حکم دیا تھا جب عورت راضی نہ ہو۔ اور جب عورت راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔نبیۖ کو اللہ نے قرآن میں واضح حکم دیا مگر حقائق دیکھے نہیں؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv