پوسٹ تلاش کریں

نواز شریف نے آئی ایم ایف سے اتنا قرضہ لیا کہ سود کی مد میں ادا کی جانی والی رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ دسمبر2021۔ سوشل میڈیا پوسٹ
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے اسلامی اسکالرکو انٹرویو میں کہا ہے کہ ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کا ماڈل بنانے کیلئے میں نے سیاست میں قدم رکھا۔آج امت مسلمہ کے قائدین میں طاقت و دولت کی دوڑ لگی ہوئی ہے، ان میں آزادی اور غیرت کا فقدان ہے، ہم نے جو جدوجہد کی ہے اس کے اثرات ہزاروں سال بعدتک مرتب ہوںگے، میرے سامنے مافیاز تھے،جنہوں نے میری20سال تک کردار کشی کی مگر آخر کار وہ ناکام ہوگئے !

وزیراعظم عمران خان ! اگر ایک طرف گردشی قرضوں کے سود کی رقم ہمارے ٹیکس کے محصولات سے بھی زیاہ ہو جس کا سارا بوجھ عوام پر مہنگائی کی صورت میں پڑے اور دوسری طرف لنگر خانے کھولے جائیں تو یہ ریاستِ مدینہ ہے؟

وزیراعظم عمران خان ! پاکستان کو مدینہ کی ریاست کا ماڈل بنانے کیلئے جس طرح بیٹنگ اور بالنگ آپ کررہے ہیں، اس پرذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔
جب نوازشریف نےIMFسے اتنے قرضے لے لئے کہ ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ سود میں دی جانے والی رقم تھی تو ہم نے جلی حروف سے نشاندہی کردی تھی کہ نوازشریف بڑے سودی قرضے لیکر ملک میں خوشحالی نہیں بدحالی کے مرتکب بن رہے ہیںلیکن ہماری بات کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ جب رونا رویا جارہاتھا کہ دفاعی بجٹ نے پاکستان کو غریب اور بدحال بنادیا ہے تو ہم نے بتادیا کہ اصل تباہی گردشی سودی رقم کی ہے جس کا ہمیں بہت جلد خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دفاعی بجٹ کا تعلق اپنے دشمن کا سامنا کرنے کیلئے ہوتا ہے اور گھر میں بھی جس طرح کے حالات ہوتے ہیں ،اسی طرح سے اسلحہ وغیرہ کا اہتمام بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی کو اپنے دشمن سے اپنی جان اور اپنی عزت کے خطرات کا سامنا ہو اور دوسری طرف وہ اسلحہ رکھنے کے بجائے قیام وطعام اور حلوے مانڈے کھانے پر بہت سارا مال خرچ کرے اور اپنے پاس بندوق پِسٹل نہیں رکھے۔ یہ غیرفطری بات ہوگی۔ جب مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان کے اہل اقتدار نے ایٹم بم بنانے کا ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔
اگر ایک گھر کا سربراہ یا تجارتی کمپنی کا چیف اپنے اثاثے پر سود لینے کا سودا کرے اور وہ نقصان ہی نقصان میں جارہا ہو تو ایک دن اپنے سارے اثاثوں سے بھی ہاتھ دھو لے گا۔ یہ بہت خسارے ، شرمندگی اور بوجھ کی تجارت ہوگی۔ ہمارے اصحابِ اقتدار اپنے ملک میں یہی تجارت کررہے ہیں۔پہلے اپنے ملک کو چلانے کیلئے سودی قرضے لینے پڑتے تھے کیونکہ ٹیکس چوری کی وجہ سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا تھا۔ کسٹم اور انکم ٹیکس کے محکموں میں نوکریاں سب سے زیادہ فائدہ مند اسلئے سمجھی جاتی تھیں کہ ان میں چوری کا پیسہ بہت زیادہ ہوتاتھا۔ سیاسی خاندان بھی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بڑے تاجروں نے بھی ٹیکس چوری کرنے کے طریقۂ واردات کا پورا پورا فائدہ اٹھانا سیکھ لیا تھا۔ ٹیکسوں پر مملکت کا نظام چلتا تھا۔ ریاست چلانے کیلئے ٹیکس ناکافی تھا تو سودی قرضہ مجبوری تھا۔
جب سودی قرضے لینا شروع ہوئے تو پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بڑی بڑی رقم کی منتقلی اور جائیدادوں کی خریداری بھی سامنے آگئی۔ بہت بڑے پیمانے پر سیاستدانوں ،سول وملٹری بیوروکریسی کے اہم اہلکاروں اور ان کے آلۂ کار تاجروں نے بلیک منی سے اپنے منہ کالے کرلئے تو اچھائی اور برائی کی تمیز بھی ختم ہوگئی۔ اشرافیہ کو قرآن میں مترفین کہا گیا ہے جن کو خوشحال لوگ سمجھا جاتا ہے۔ ہردور میں اہل حق کی مخالفت اور اہل باطل کی حمایت ان لوگوں کا محبوب مشغلہ رہاہے۔ جب ہم نے مولانا فضل الرحمن، کراچی کے اکابر علماء اور بہت سارے لوگوں کو دیکھا تھا تو خوشحالوں کی فہرست میں شامل نہ تھے۔ مولانا فضل الرحمن ، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا عبداللہ درخواستی،مفتی محمد نعیم، مفتی رشیداحمد لدھیانوی، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا اسفندیار خان،مفتی زرولی خان،مولانا حق نواز جھنگوی ،مولانا مسعود اظہر، مولانا اعظم طارق اور بہت سارے مذہبی لوگ غریبوں کی فہرست کا حصہ تھے لیکن آج یہ لوگ اور ان کی اولاد اور جماعتوں کے رہنما خوشحال ہیں۔ خوشحال سے مراد روحانی اور ذہنی خوشحالی نہیں ہے بلکہ مال واسباب کی خوشحالی ہے ۔
ججوں، بیوروکریٹوں، جرنیلوں ، سیاستدانوں اور تاجروں اور مذہبی طبقات کی غربت کم ہوگئی ہے اور یہ خوش آئند ہے لیکن ملک وقوم کی بدحالی کے ذمہ دار کون ہیں؟۔سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیںاور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے غریب عوام بدحال ہیں اور یہ لوگ خوشحال ہیں یا معاملہ کچھ دوسرا بھی ہے؟۔ کسی نے کسی کے منہ سے روٹی کا نوالہ نہیں چھینا ہے مگرپھر بھی مڈل کلاس ختم ہوگئی ہے ۔ایک طرف امیر طبقات ہیں جو ساتویں آسمان تک پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف غریب غرباء ہیں جو زمین کے ساتویں طبق میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ جب مڈل کلاس کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے تو غریب کس حال پر پہنچے ہوں گے؟۔ آنے والے حالات زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔
اس سے پہلے پہلے کہ عدالت، فوج، سیاستدانوں، سول انتظامیہ، پولیس، بدمعاشوں اور غنڈوں کے ہاتھوں سے تمام حالات نکل جائیں اور غریب بہت بڑا طوفان برپا کردیں جس سے ایسی افراتفری پھیل جائے کہ سب کا سکون بھی غارت ہوجائے ،کوئی ایسا فارمولہ قوم وملک اور سلطنت کو دیا جائے جس سے ہم ایک اچھے نتیجے پر پہنچنے کی امید کرسکیں۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ہمارا تمام ٹیکس تقریباً سود کے مد میں جاتا ہے اور ریاست وحکومت کو چلانے کیلئے مزید سودی قرضے بھی لینے پڑتے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی طرف سے ایک کروڑ نوکری کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو بے روگاز کیا جائے گا۔
کامریڈ لعل خان نے کہا تھا کہ ” ہماری فوج میں اب یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کیلئے لڑسکے۔ اس میں مارشل لاء لگانے کی صلاحیت بھی ختم ہوچکی ہے اسلئے کہ اس کا کردار پٹواری، آڑھتی اور دلالوں کی طرح ہے۔ یہ انتہائی کرپٹ ہوچکی ہے۔ کرپٹ لوگوں میں عزت کی خاطر لڑنے مرنے کا کوئی جذبہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اب یہ پیسے بنانے میں لگ چکی ہے”۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اسلامی سکالر کے سامنے علامہ اقبال کے شاہین کا ذکر کیاہے ۔ ہمارے وزیرستان میں ایک طرف ہماری فوج اور طالبان کے لوگ سرکاری کاموں میں بھتے وصول کرنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف چیک پوسٹوں پر فوجی جوان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان بہت بڑا سانحہ تھا لیکن اس وقت بھی غیرت کا مظاہرہ ہماری فوج نے اسلئے نہیں کیا تھا کہ اپنے بنگالی بھائیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی اور سیاسی جماعتوں کو غیر مؤثر بنانے کیلئے لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کیلئے راہ ہموار کردی اور کٹھ پتلی سیاستدان متعارف کرائے تھے۔ جنرل حمیدگل نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر انتقامی جرنیلی انتشار تشکیل دیا تھا اور عمران خان کی تحریک انصاف کے بانی بھی وہی تھے۔
نوازشریف اور عمران خان ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ دونوں نے پاک فوج کا بیڑہ غرق کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس ”خشکی وسمندر میں فساد برپا ہوگیا بسبب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے”۔یہ سب کرتوت ہماری ایجنسیوں کے ہی اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کھو دیا۔ کشمیر کو آزاد نہیں کراسکے مگر روس اور امریکہ کو شکست دینے سے لوگوں کو ورغلارہے ہیں۔ ایک طرف میڈیا کا ایک مافیا نوازشریف کو سپورٹ کرنے کیلئے جھوٹ کے طوفان کھڑے کرتا ہے اور دوسری طرف کا میڈیا مافیا پاک فوج کے سر پر جھوٹ کے ہما بٹھا رہاہے۔
لعنت اللہ علی الکاذبین ” جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو” کا جملہ قرآن کی تلاوت میں مسلمان بڑے پیمانے پر پڑھتے ہیں اور اللہ کے فرشتے دن رات جھوٹوں پر لعنت بھیج کر ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کا انتظار کررہے ہیں۔
پاکستان کے ہر طبقے میں اچھے لوگوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ جنہوں نے ملک وقوم کا بیڑہ غرق کیا ہے اس میں کوئی خاص طبقہ سول وملٹری بیوروکریسی اور سیاستدان ملوث نہیں ہے بلکہ سب کو اللہ تعالیٰ نے مواقع دئیے ہیں اور سب میں اچھے اور برے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔سب کو اپنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ عمران خان ایک کرکٹر ہے اسلئے فلسفے جھاڑنا اس کی فیلڈ نہیں ہے۔
قوم کو سودی قرضے بڑھانے اور لنگر خانے کھولنے سے غیرتمند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔جاوید ہاشمی سینئر سیاستدان ہیں ۔ جماعت اسلامی سے مسلم لیگ اور پھر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے۔ ہاشمی صاحب کہتے تھے کہ ہم اپنے سیاسی قائدین کے مزارع نہیں ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایک مزدور ، نوکر اور مزارع میں کیا فرق ہوتا ہے۔ افغانی ایک دوسرے کو طعنہ دیتے ہیں کہ” تم پنجاب کے مزدور ہو”۔ ” امریکہ کے نوکر ہو”۔ اپنے ملک وقوم کی مزدوری اور نوکری میں ہر کوئی فخر محسوس کرتا ہے لیکن اغیار کی مزدوری ونوکری میں عار محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کے بعض مردہ ضمیر لوگوں کی بات میں نہیں کرتا ہوں جو ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم نے نیٹو کو شکست دی ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے نیٹو کیلئے صف اول کی خدمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن میں منافقوں کیلئے فرمایا ہے کہ ” نہ یہ ادھر کے ہیں ،نہ ادھر کے۔ بس درمیاں میںتذبذب کا شکار ہیں”۔ لیکن مزارعت گھناؤنا فعل ہے جو بہت زیادہ مجبور نہ ہو تو وہ کسی کا مزارع نہیں بن سکتا ہے۔ اسلام نے مزارعت کو ختم کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ درس نظامی پر کوئی ایسی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اس خاندان میں عتیق جیسے علماء موجود ہیں۔

مولانا قریشی کو بہت وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ مولانا سمیع الحق شہیدکا بیان تھا” درسِ نظامی کوئی وحی نہیں کہ تبدیلی نہ ہوسکے” ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ” اس خاندان میں عتیق جیسے اہل علم ہیں”

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ نومبر۔ صفحہ نمبر1
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

درسِ نظامی کا بہت بڑا فائدہ ہے کہ قرآن ناظرہ تجوید،قرآت اور اسکا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔ درسِ نظامی کا پہلا اصول قرآن ہے۔ مسئلہ قرآن میں موجود ہو تو احادیث کو تلاش کرنے کی ضرور ت نہیں اور اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اس کو ناقابلِ عمل سمجھا جائے گا۔ درسِ نظامی کے اس بنیادی اصول نے آج تک امت مسلمہ کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔
مگرافسوس کہ علماء اور گمراہ مذہبی طبقے نے یہ اصول کماحقہ امت کے سامنے پیش نہیں کیا۔ جاہلوں نے اپنے اصول بنالئے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ جاویداحمد غامدی تک نے بھی اپنی طرف سے اصول بناڈالے اور میڈیا پر اس کی مسلسل تشہیر کررہاہے لیکن قرآن کی طرف امت کو متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور یہی حال غلام احمد پرویز اور دوسرے جدید جاہل مفکرین اسلام کا رہا ہے۔
مثلاً قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے حوالے سے تفصیلات واضح ہیں۔ اگر ان پڑھ لوگوں کے سامنے اس کا سادہ ترجمہ بھی رکھا جائے تو اس میں ایسی رہنمائی ہے کہ پڑھا لکھا، ان پڑھ ، عالم ، جدید دانشور اور مسلم وغیرمسلم اور عرب وعجم ہر ایک اس کے بہت سادہ اور واضح احکامات کو سمجھ سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانوں میںاور مختلف زمانوں میں انبیاء کرام کے بھیجنے کی نشاندہی قرآن میں فرمائی ہے تو مذہبی طبقات اور قوم کے سرداروںنے کس طرح انبیاء کرام کی مخالفت کی تھی؟۔ سب ادیان کا بیڑہ انکے علماء ومشائخ نے غرق کیا ہے لیکن رسول اللہ ۖ آخری نبی ہیں اور قرآن آخری کتاب ہے اسلئے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے لیا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کی لفظی تحریف مذہبی طبقات کیلئے ممکن نہیں تھی لیکن پھر بھی بعض مذہبی طبقات نے اپنا عقیدہ بگاڑ دیا کہ قرآن میں لفظی تحریف بھی ہے اور معنوی تحریف کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ تو سلامت ہیں لیکن اس کے معانی بگاڑ دئیے گئے ہیں۔ فتویٰ دیوبند پاکستان میں ڈیرہ اسماعیل خان کلاچی کے قاضی عبداالکریم کا ایک سوال چھپ گیا جس کا جواب مفتی اعظم پاکستان مفتی فریدحقانیہ اکوڑہ خٹک نے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ” مولانا سیدانور شاہ کشمیری کی شرح فیض الباری میں یہ عبارت دیکھ کر پاؤں سے زمین نکل گئی کہ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت کی ہے لیکن لفظی تحریف بھی کی ہے یا تو مغالطے سے یا عمداً کی ہے۔ کیونکہ کفار کی طرف اس بات کی نسبت نہیں ہوسکتی ہے اور صحابہ کرام پر یہ تہمت لگتی ہے”۔ جس کا جواب مفتی فرید نے غیر تسلی بخش دیا ہے کہ ”فیض الباری مولانا انورشاہ کشمیری کی تحریر نہیں ہے، کسی نے ان کی تقریروں کو لکھ کر ان کی طرف منسوب کیا ہے”۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ” مولانا انورشاہ کشمیری نے عمر کے آخری حصے میں فرمایا کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کردی کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اُلجھ کر ساری زندگی ضائع کی”۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں لکھ دیا ہے کہ ” مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ترجمہ وتفسیر لکھی ہے۔ بعض احباب کے اصرار پر شاہ عبدالقادر کے ترجمہ وتفسیر میں مغلق الفاظ کی تسہیل کی کوشش کررہاہوں”۔ پھر اس کی تفسیر علامہ شبیراحمد عثمانی نے مکمل کی ہے جس کو تفسیر شیخ الہند کے بجائے بجا طور پر تفسیر عثمانی ہی کہا جاتا ہے۔
تفسیر عثمانی علماء دیوبند کی سب سے زیادہ سہل، بہترین اور مستند تفسیرہے لیکن پھر بھی اردو زبان کی تبدیلی کی وجہ سے اس میں مزید گنجائش پیدا ہوگئی ہے ۔ جبکہ مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی کے ترجمے وتفسیر کو زیادہ آسان فہم سمجھا جاتا ہے۔
علماء نے قرآن کے ترجمے اور تفاسیر میں فقہی مسالک کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا تھا اسلئے ان کی تفاسیر عوام کی سمجھ سے بالاتر رہیں اور مولانا سیدمودودی نے عوام کا بھی خیال رکھا ہے اورعلماء کے ترجمہ وتفسیر کو زیادہ سے زیادہ عام فہم بنایا ہے۔
سورۂ طلاق میں ہے کہ اذاطلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن ”جب تم عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو” ۔عربی میں طلاق عورتوں کے چھوڑنے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ بالکل سادہ زبان میں اس کا ترجمہ ہے لیکن جب اس کو فقہی مسالک میں ڈھالنے کی کوشش کریںگے تو پھر ہر فقہ کا اپنا ترجمہ ہوگا۔
فقہ میں پہلا اختلاف یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک عورتوں کی عدت سے مراد ان کے پاکی کے ایام ہیں اور احناف کے نزدیک ان کے حیض کے ایام ہیں۔
فقہ کا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعت ہے۔اور اہل تشیع کے نزدیک ضروری ہے کہ ہرطہر یعنی پاکی کے ایام میں ایک بار طلاق دی جائے اور اسکے الفاظ شریعت کے مطابق ہوں اور اس پر دوگواہ مقرر ہوں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے بخاری کی اپنی شرح ”کشف الباری ” میں لکھا ہے کہ ” عدت کی دو قسمیں ہیں ایک عدت الرجال یعنی مردوں کی عدت، جس میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورت کی پاکی کا زمانہ ہے اور دوسری قسم عدت النساء ۔یعنی عورتوں کی عدت۔ جس میں عورتوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور وہ عورتوں کے حیض کا زمانہ ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے حنفی فقہاء کی بات نقل کی ہے جو لوگوں کو زیادہ قابل فہم لگتی ہے کہ شوہر عورت کو ایسے پاکی کے دنوں میں طلاق دیں کہ جس میں جماع نہیں کیا ہو اور عورتیں حیض تک انتظار کریں تو معاملہ لوگوں کو ناقابلِ فہم نہیں لگتا۔
لیکن جب علما ء اپنی فقہ کے مطابق قرآن کا ترجمہ کرتے ہیں تو عوام کو قرآن نہیں سمجھا سکتے ہیں اسلئے انہوں نے ایک طرف اپنے دانتوں میں اپنی فقہ کو بھی مضبوط پکڑا ہوا ہوتا ہے اور دوسری طرف قرآن کا ترجمہ بھی عوام کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ جب قرآن اور فقہ دونوں میں کوئی جوڑ نہیں دیکھتے تو ایک تماشا بنتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تھا تو آپ کو دوسال تک روپوش ہونا پڑا اسلئے کہ سمجھدار علماء نے محسوس کیاتھا کہ ہم اس کی وجہ سے بہت مصیبت میں پڑسکتے ہیں۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ رفیع الدین نے لفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاورہ ترجمہ کیا۔ پھر دیوبندی مکتب کے مولانا اشرف علی تھانوی اور بریلوی مکتب کے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنے اپنے ترجمے کردئیے تھے لیکن سمجھدار علماء نے پھر بھی اپنی اور عوام کی تشفی کیلئے قرآن کے ترجموں کا سلسلہ جاری رکھاہے۔
قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ” جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو ان کی عدت تل کیلئے طلاق دو”۔ جب طلاق کا ایک مخصوص قسم کا فقہی مذہب کے مطابق کوئی تصور آتا ہے تو بندہ قرآن کے ایک ایک لفظ پر خوب غور کرتا ہے کہ کس طرح سے کوئی ایسا معنی کشید کرے کہ جو اس کے فقہی مسلک سے متضاد بھی نہ ہو اور قرآن کی بھی بالکل غلط وکالت نہ کرے۔ جہاں تک قرآن اور فقہی مسلک کے مطابق قرآن کے ترجمے کا تعلق ہے تو اس میں بہت بڑا تضاد ہے اسلئے کہ قرآن میں عورتوں کی عدت کے مطابق طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے اور اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں عورتوں کی عدت کا زمانہ ان کے حیض کا دور ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق ترجمہ کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ”جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو حیض کے دور میں طلاق دو”۔ مسلک حنفی میں یہ ترجمہ بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ہے اسلئے کہ ” مسلک حنفی میں یہ واضح ہے کہ مردوں نے طہر یعنی پاکی کے ایام میں طلاق دینی ہے”۔
قرآن کے الفاظ میں مردوں نے عورتوں کی عدت میں طلاق دینی ہے توپھر عدت الرجال اور عدت النساء کے الگ الگ تصور کا فقہی مسلک بھی بالکل ہی غلط ثابت ہوگا۔ ایک طرف قرآن اور دوسری طرف فقہی مسالک کی حفاظت کا معاملہ سامنے آئے گا تو دونوں کام نہیں ہوسکیں گے اسلئے علامہ سید انورشاہ کشمیری نے ٹھیک کہا کہ” میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی” ۔ یہ اللہ والے ہوسکتے تھے مگر عالم نہیں۔
شیخ الہند مولانا محمودالحسن یوبندی کے ترجمے کی تفسیر عثمانی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے لکھا کہ” عورتوں کی عدت کا زمانہ انکے حیض کا زمانہ ہے اور قرآن کے الفاظ کا معنی یہ ہے کہ ”عورتوں کے حیض سے تھوڑ ا پہلے طلاق دو ”۔ حالانکہ قرآن کے الفاظ کے یہ معانی قطعی طور پر نہیں بن سکتے ہیں۔
جب طلاق کاایک مسلکی اور شرعی تصور آئیگا تو پھر فرقہ ومسلک کی ترجمانی بھی کرنی پڑے گی اور جب فقہ ومسلک اور قرآن میں کسی ایک ہی کا انتخاب کرنا پڑے تو انسان کی مرضی ہے کہ قرآن سے استفادہ کرے یا پھر مسلک کی پیروی کرے۔ مسلک کی پیروی نے اگر قرآن سے دور کردیا تو پھر مسلک دین میں معنوی تحریف کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور مولانا سید محمدانور شاہ کشمیری نے اس بات کی نشاندہی کردی کہ قرآن میں معنوی تحریف کا بہت ارتکاب ہواہے۔
اکثرپڑھے لکھے لوگ اسلئے علماء کے تراجم اور تفاسیر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں اور جدید مذہبی اسکالرز اوردینی مفکرین سے استفادہ کرتے ہیں۔حالانکہ یہ لوگ بھی انہی مذہبی مسلک اور تراجم سے تھوڑے بہت اختلاف کیساتھ وہی کچھ لکھتے ہیں جو قرآن کے تراجم اور تفاسیر میں پہلے سے لکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے پیارے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو چھوڑ و تو ان کو ان کی عدت کیلئے چھوڑ دو۔ اور عدت کا شمار رکھ کر اس کا پورا پورااحاطہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو،جو تمہارا رب ہے۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے گزر جائے تو تحقیق کہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی راہ پیدا کرلے”۔ (سورہ الطلا ق آیت1)
آیت میں فقہی مسائل ومذاہب سے بے خبر اس وقت سادہ لوح عوام کو یہ حکم دیا گیا کہ جب مدارس وجامعات اور سکول وکالج اور یونیورسٹیوں کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ایک آدمی قرآن کے اس پیغام کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔
قرآن اور عام زبان میں عورت کی عدت کا مفہوم بالکل واضح ہے اور عدت تک چھوڑنے اور عدت کو شمار کرکے اس کا پورا پورا احاطہ کرنے تک کی بات بھی بالکل واضح ہے اور اس کو اسکے گھر سے نہ نکالنے اور نہ خود نکلنے کی بات بھی بالکل واضح ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اس سے نہ نکلنے کا پیغام بھی واضح ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو اس واضح پیغام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر اس کا نقصان کیا ہے؟۔ اللہ نے اس کو بھی واضح کیا ہے کہ اگر یک دم اس کو چھوڑ دیا اور گھر سے نکال دیا تو یہ اپنے ساتھ ظلم ہے اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ پھر اس کے بعد اللہ کوئی دوسری صورت نکال دے۔یعنی آپس میں صلح ہوجائے ۔ اسلئے قرآن کے واضح پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے میں کوئی مسئلہ کسی کیلئے بھی نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لکھا ہے کہ ” ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی نیا حکم نازل ہوجائے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تک نہیں بنتاہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر ایک ساتھ تین طلاق دے دی تھیں یا پھر عورت کو گھر سے نکال دیا تھا، یا پھر عدت کے تین مراحل میں الگ الگ تین مرتبہ طلاق دی تھی اور پھر اس پر اہل تشیع کی طرح تمام مراحل میں گواہ بھی بنالئے تھے تو پھر حنفی، اہلحدیث اور شیعہ کا کیا فتویٰ ہے اور قرآن کا کیا حکم ہے؟۔ اپنے اپنے مسلک کا جواب سب فرقوں اور مسالک نے خود دینا ہے لیکن قرآن نے مسلمانوں کیلئے پہلے سے سب کیلئے بہترین راستہ تجویز کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ
” جب وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے الگ کرلو۔ اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی اس پر مقرر کرلو۔ اور اللہ کیلئے گواہی کو قائم کرو۔ یہ وہ قرآن ہے جس کے ذریعے سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کیلئے راہ بنادیتا ہے”۔ (الطلاق :2)
قرآن کی اس آیت میں یہ بات بھی واضح ہے کہ عدت مکمل ہونے کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند نہیں کیا ہے۔ جب عورتوں کی عدت مکمل ہوجائے تو پھر معروف طریقے سے رجوع کی بہت واضح وضاحت کے بعد یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر معروف طریقے سے عورت کو الگ کردیا تو پھر دو عادل گواہ بھی مقرر کرلو۔ اور گواہی بھی اللہ کیلئے قائم کرو۔ اب اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد عدت کی تکمیل کے بعد عورت سے معروف طریقے سے رجوع کا فیصلہ کرنے کے بجائے معروف طریقے سے اس کو الگ کردیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ بلکہ جس نے اللہ کا خوف کھایا اور اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں عورت کے تمام حقوق ادا کرتے ہوئے طلاق یا جدائی کا فیصلہ کیا توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس مشکل صورتحال سے نکلنے اور رجوع کا راستہ کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جن مذہبی طبقات کے نرغے سے قرآن کریم نے عوام کو نکال دیا تھا افسوس کہ انکو پھر ان گدھوں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور منکوحہ عورتوں کو گدھی سمجھ کر گدھے حلال کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنیکی زحمت اور ہمت نہیں کرتے ۔ اگر فقہ کی ایک ایک بات کی درست اور سب کیلئے قابلِ قبول وضاحت نہ کروں تو اپنا مشن چھوڑدوں گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

معاونت حضرت مولانا قاری محمد طیب قریشی خطیب تاریخی مسجد مہابت خان پشاور اور پاکستان کا سیاسی و مذہبی منظر نامہ

حضرت مولانا محمد طیب قریشی خطیب مسجد مہابت خان کی خدمت میں بھی وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ یہ شمارہ محکمہ اوقاف کے چیف خطیب کے توسط سے تمام ائمہ مساجد اور خطباء کے نام ہے اور سب کو سلام

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سول بیوروکریسی کی حکومت تھی۔ پاک فوج کا اس میں کردار بالکل ضمنی تھا ۔ جنرل ایوب خان نےADاورBDکے انتخابات کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ جنرل ایوب خان کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے بعد پاکستان میں جمہوریت اور پاک فوج کی قیادت میں کشمکش شروع ہوگئی ۔جنرل ایوب خان کے جانے کے بعدشفاف الیکشن ہوگئے تو مشرقی پاکستان کے مجیب الرحمن کو واضح اکثریت مل گئی لیکن سول اور فوجی قیادت نے سمجھا تھا کہ اگر اقتدار مجیب الرحمن کے حوالے کیا گیا تو مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پارلیمنٹ مغربی پاکستان میں تھا لیکن جمہوریت کی جگہ منافقت کا عمل جاری تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش بن گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے پاکستان سے صوبہ پنجاب نوازشریف کی وجہ سے بھارت کی مدد سے الگ ہوجائے۔ بنگلہ دیش میں93ہزار کے ہتھیار ڈالنے کے ذمہ دارجنرل نیازی اور ذوالفقارعلی بھٹو تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اتوار کی جگہ جمعہ کی چھٹی دی، اسلامی جمہوری آئین دیا اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔ بھٹو ایک عرب بادشاہ کے طرز پر ایک سویلین ڈکٹیٹر حکمران بننے کا زبردست خواہاں تھا۔
قادیانی تعداد میں کم لیکن فوج میںسب سے زیادہ طاقتور تھے۔پھر بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کے طرز پرمگرفوجی امیر المؤمنین بننے کی کوشش کی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے کراچی میں جلسۂ عام سے خطاب میں جب جنرل ضیاء الحق کی مرزائی نوازی کے دلائل دیناشروع کردئیے ،تو قاری شیرافضل خان نے نعرہ لگایا کہ ” مرزائی نواز مردہ باد”۔ مفتی محمود صاحب نے کہا کہ ”مرزائی نواز نہیں مرزائی بولو”۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیرمولانا عبدالکریم بیرشریف نے زندگی بھر جنرل ضیاء الحق کو قادیانی قرار دیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی کو بینک کے سودسے زکوٰة کی کٹوتی پر بحث کی دعوت دی۔ دونوں بھائیوں نے مفتی محمود کی طرف سے چائے کے کپ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ہم دن میں ایک بار چائے پیتے ہیں پھر دن بھر نہیں پیتے۔ مفتی محمود نے کہا کہ میں چائے خود زیادہ ہی پیتا ہوں لیکن اگر کوئی کم پیتا ہے تو مجھے یہ پسند ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے پان کا بٹوا دکھادیا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلادیا ۔ تھوڑی دیر بعد مفتی محمود پر غشی طاری ہوگئی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے دورۂ قلب کی خاص گولی حلق میں ڈال دی ۔ پھر مفتی صاحب ہسپتال پہنچنے سے پہلے شہید ہوگئے۔
مفتی محمود کی وفات کے بعد مفتی تقی عثمانی نے ماہنامہ البلاغ دارالعلوم کراچی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نے ماہنامہ البینات جامعہ بنوری ٹاؤن میں جو مضامین لکھے تھے ، ان کو ایک ساتھ اقراء ڈائجسٹ کراچی نے شائع کیاتھا۔ مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے مضامین میں صرف یہ فرق تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کیساتھ پان کھلانے اور مفتی رفیع عثمانی نے جو گولی حلق میں ڈالی تھی ،اس کا ذکر نہیں کیا۔ وفاق المدارس پاکستان اور جمعیت علماء اسلام ان دونوں تحریرات کو شائع کرکے مساجد ومدارس میں تقسیم کریں۔
مثلاًایک شخص نے10لاکھ بینک میں رکھے ہیں۔ اس کو سالانہ ایک لاکھ سود اس پر ملتا ہے۔ اس کی کل رقم11لاکھ بن گئی اور اس میں سے27ہزار پانچ سو زکوٰة کے نام پر کٹ گئے۔ جس کے بعد اس کی بینک میں10لاکھ72ہزار پانچ سو روپے بچ گئے۔ پہلے اس کی کل رقم10لاکھ تھی اور اب اس میں ایک لاکھ سود کی جگہ72ہزار پانچ سو کا اضافہ بھی ہوگیا تو پھر زکوٰة کی رقم کیسے ادا ہوگئی؟۔ زکوٰة کے نام پر یہ رقم تو بالکل سود کی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودنے کہا تھا کہ” اس سودی رقم سے زکوٰة ادانہیں ہوسکتی ہے۔ زکوٰة ایک فرض ہے اور اس کا ادا کرنا انتہائی اہم ہے۔ عوام کو اس اہم فرض کی ادائیگی سے روکنا بہت بڑا جرم ہے۔ سرکار کی اس حرکت سے سر سجدے میں ہے اور چوتڑ دغا بازی میں ہے”۔
مولانا فضل الرحمن اپنے جلسے جلوسوں میں کہتے تھے کہ ” مدارس زکوٰة کے نام پر سود کھارہے ہیں۔ یہ شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے”۔ پہلے مدارس کی طرف سے یہ حیلہ کیا گیا تھا کہ زکوٰة کے نام پر اس سودی رقم سے لیٹرین بنائے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر انہوں نے پینترا بدل دیا کہ روزی روٹی بھی تو آخر کار معدے میں جاکر لیٹرین میں بدل جاتی ہے۔ حکومت کی سودی زکوٰة کی نحوست سے لوگوں کی زکوٰة کھانے اور اس سے تجارت کرنے کی طرف بھی پھر یہ لوگ بہت زبردست طریقے سے مائل ہوگئے۔ پھر تو جس کا بس چلتا گیا اس نے اپنے پاؤں میں حلال وحرام زکوٰة کے ذریعے اپنے پاؤں میں زنجیر یں ڈالنا شروع کردیں۔ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں کی جگہ پھر تو ہم تو مائل بہ جرم ہیں کوئی پائل ہی نہیں نے لے لی ۔
جب قوم سے کہا جائے کہ تمہارے پاس ایسا فتویٰ آیا ہے کہ سود کی رقم کا بھی اضافہ ہوگیا اور زکوٰة بھی ادا ہوگئی اور عوام کو زکوٰة کے نام پر سود کھلایا جائے تو پھر دونوں کا اپنا اپنا فائدہ نظر آئے گا۔ سرمایہ دار کہے گا کہ سود بھی ملا اور زکوٰة بھی ادا ہوگئی تو اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ اس سود خور کو ویسے بھی زکوٰة سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟۔ جو سود لیتا ہے وہ زکوٰة کیا دے گا؟۔ دوسری طرف لالچ کی وجہ سے جس کو زکوٰة کے نام پر سود ملتا ہے اس کو بھی اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کیا حلال ہے ؟ اور کیا حرام ہے؟۔ بس اس کو مفت میں پیسہ ملتا ہے تو یہ زیادہ سے زیادہ اپنے مفاد ہی کی بات ہے۔ اور اپنا فائدہ کون چھوڑ تا ہے۔
پہلی بلا پاکستان پر یہ نازل ہوئی کہ زکوٰة کا فریضہ ساکت ہوگیا اور سود خور کو شرف مل گیا کہ سود بھی مل رہاہے اور زکوٰة بھی ادا ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سود کو انسانوں کا اللہ اور اس کے رسول ۖ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ جب ہم نے اللہ کیساتھ جنگ کو بھی زکوٰة کی ادائیگی کا فرض اور اپنی ضرورت کیلئے جائز کہا تو شیطان نے علماء ومشائخ کو لوریاں دیکرخواب غفلت کی بڑی نیند سلانا شروع کردیا۔ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک لبیک نے اسلام کے نام پر دہشتگردی اور شدت پسندی کو زبردست فروغ دینا شروع کردیا۔ اللہ اور اسکے رسولۖ سے جنگ کے نتائج ہم مختلف عذاب کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی جلسے جلوسوں میں جتنا تاجروں اور عوام کا نقصان ہوتا ہے اور جو ان پر خرچے ہوتے ہیں ، یہ سب سودی منافع سے زیادہ قوم کے نقصانات ہیں ۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی اب قوم کے دونوں بھائی یاجوج ماجوج بن گئے ہیں۔ پہلے سودی زکوٰة کے نام پر مدارس کا بیڑہ غرق کردیااور اخلاق وکردار کی بلندیوں سے مذہبی طبقات کو پستیوں کی جانب دھکیل دیا۔ جمعیت علماء اسلام کے بلند کردار کے مالک اس کے سامنے مضبوط بند ثابت ہونے کے بجائے خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے۔ پھر دونوں بھائی یاجوج ماجوج نے بینکوں کے سودکو بھی اسلامی قرار دے دیا۔ مدارس کے بلند کردار کے مالکان مولانا سلیم اللہ خان ، مفتی زر ولی خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سمیت سارے مدارس کے سارے علماء ومفتیان دونوں بھائیوں یاجوج ماجوج کے سامنے کھڑے ہوگئے لیکن آخر کار مفتی محمد تقی عثمانی نے سب کو شکست دیدی اور پھروفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر بھی بن گئے ہیں۔
پاکستان1947ء سے1988ء تک آئی ایم ایف کے سود کی قید سے آزاد تھا۔ کراچی اور ملک بھر کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام حضرت حاجی محمد عثمان کے مرید یا دوست تھے۔ بڑے پیمانے پر فوجی افسران بھی حاجی محمد عثمان کے مرید تھے۔ پھر الائنس موٹرز کے نام پر مضاربة کا کاروبار سود میں بدل گیا تو اپنے مرید و خلفاء کی بغاوت اور معروف علماء ومفتیان کے فتوؤں نے ایک اللہ والے کو نشانہ بنایا۔نبی ۖ نے فرمایا کہ” اللہ کہتاہے کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی تو میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہوں”۔ ایک طرف جنرل ضیاء الحق کا جہاز تباہ ہوا تو دوسری طرف معروف علماء ومفتیان نے حاجی محمد عثمان سے مغالطہ کھاکر شیخ عبدالقادر جیلانی ، شاہ ولی اللہ ، مولانا محمدیوسف بنوریاور شیخ الحدیث مولانا زکریا پر بھی فتوے لگادیئے۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی نے پہلے لکھا تھا کہ اس طرح کے عقائد رکھنے والے پیر کی خانقاہ پر حکومت کو پابندی لگانی چاہیے جو سید عتیق الرحمن گیلانی نے ایک مخلص مریدکی حیثیت سے لئے ہیں لیکن جب حقائق کا پتہ چل گیا تو سال بعد ہفت روزہ تکبیر کراچی نے لکھ دیا کہ اگر علماء ومفتیان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اپنی غلطی کا کھل کر اعتراف کریں اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن غلط بیانی سے ان کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔
پھر وہ وقت آیا کہ بینظیربھٹو کی حکومت آئی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر مسلم لیگ کے میاں نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔دو دو باریاں دونوں نے لے لیں لیکن1989ء سے2004ء تک پاکستان کوIMFکے شکنجے میں پھنسادیا۔آصف علی زرداری کے گھوڑوں کو مربے کھلانے ،اسکے سرے محل اور نوازشریف کے ایون فیلڈلندن کے فلیٹ اسی ادوار کی یادگاریں ہیں۔ کرپشن کی زیادہ ابتداء سیاسی قیادتوں نے آئی ایم ایف کے سودی قرضوں سے کی ہے لیکن پرویزمشرف کے دور میں2004ء سے2008ء تک پاکستان نے پھرIMFکے چنگل سے آزادی حاصل کرلی تھی۔پھر کرپٹ آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف نے باری باری حکومتیں کرکے پاکستان کو زیادہ سے زیادہIMFکے چنگل میں دیدیا اور جب نوازشریف کے دور میں ہم نے اپنے اخبار میں پورے فیگر لکھ دئیے تھے کہ گردشی سودی قرضہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دفاعی فنڈز سے سود کی رقم زیادہ ہے لیکن ہماری بات پر کسی ذمہ دار طبقے نے کان نہیں دھرے۔ پھر عمران خان نے اس سے بھی زیادہ سودی قرضے لئے۔ پاکستان میںIMFکی حکومت ہے۔ یہ ہم اللہ اوراسکے رسولۖ سے جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
یاجوج ماجوج کا لشکر جامعة الرشیدکراچی کی طرف سے مدارس کے نئے بورڈ مجمع علوم اسلامی میں بھی تیار ہورہاہے اور وفاق المدارس العربیہ کی چوٹی پر بھی گدھ کی طرح مفتی تقی عثمانی بٹھادئیے گئے ہیں۔ اب یہ ہربلندی سے پستی کی طرف سفر کرکے سب چیزوں کو چٹ کر جائیں گے۔ سود، زکوٰة ، صدقہ، خیرات اور چندے غریبوں سے بھی چھین لینے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے جونہی وفاق المدارس پاکستان کی صدارت کا منصب سنبھال لیا تو دارالعلوم کراچی میں بجلی پیدا کرنے کی مشینری کیلئے کروڑوں اور اربوں کے چندے کا اعلان کردیا ہے۔ یاجوج ماجوج نے سب کچھ چٹ کئے بغیر بلندوادیوں سے پھسلتے ہوئے گہری گھاٹیوں میں بہتے ہوئے اپناسفر کرنا ہے اور ہرقسم کا دانہ بھی انہوں نے چگنا ہے اور یہ مظاہرہ انسانوں نے دیکھنا ہے۔ وفاق المدارس پاکستان کے سابق صدر مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے جس طرح یاجوج اور ماجوج کے سودی نظام کو اسلامی قرار دینے کی تردید کردی ہے وہ قابل تحسین ہے لیکن مچھلی کی چوکیداری کیلئے بلی کو مقرر کرنا بھی بہت ہی بڑی زیادتی ہے۔
جس دن مساجد کے ائمہ اور خطیب حضرات نے قرآنی آیات اور سنت سے عوام کی رہنمائی کرنا شروع کردی تو بہت زبردست انقلاب میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ بس ہمت وجرأت ، علم وتقویٰ اور ایمان وکردار کی سخت ضرورت ہے۔ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور مدارس کے نئے بورڈمجمع علوم اسلامی کی سربراہی ان علماء ومفتیان کو دی جائے جو اپنی قدامت پسندی، حق پرستی اور سود کے عدم جواز کی روش پر قائم ہیں۔ جنہوں نے اللہ ، اسکے رسول ۖ ، اپنے اکابرو اسلاف سے بغاوت اور انحراف کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے ان کو ذمہ عہدوں سے سبکدوش کردیا جائے۔ وفاق المدارس کے اجلاس مدعو کرنے کی بات تو بہت دُور کی ہے حق کی آواز اٹھانے والی بہت بڑی اکثریت کو اجلاس میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ مدارس کی سطح پربھی مجلس شوریٰ کے نام پرایک استحصالی طبقہ مسلط ہوگیا ہے اور مخلص لوگوں کو اجلاس میں برداشت کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا ہے۔ مفتی عزیزالرحمن اور صابر شاہ کا اسیکنڈل منظر عام پر نہ آتا تو اس قسم کے لوگ ایکدوسرے کے وارث بنتے ہیں اور اس سے پہلے جامعہ امدایہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذراحمد کے حوالے سے بھی بڑا بھیانک اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔
یہی دہشت گرد بنتے ہیں تو مساجد ومدارس پربھی خود کش حملے کرنے کروانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ جن کی نظر میں نام نہاد مقدس شخصیات کی فی الواقع کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی ہے ۔مذہبی سیاسی جماعتوں میں ان کو کردار کی وجہ سے نہیں بلکہ بے ضمیری کی وجہ سے کوئی بڑا مقام بھی مل جاتا ہے۔ اسلام انسانیت کے کردار کو درست کرنے کا زبردست ذریعہ ہے لیکن اسلام کی حقیقت کو مفاد پرست ٹولوں نے مختلف ادوار میں ایسا بدل کر رکھ دیا ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے فارسی اشعار میں کہا ہے کہ ” علماء ومشائخ کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا۔ اگر اللہ، رسول اللہۖ اور جبریل اس اسلام کو دیکھ لیں گے تو حیران ہوں گے کہ کیا یہ وہی اسلام ہے”۔ علماء ومشائخ کو کھویا ہوا مقام پانا ہے تو اسلام کو واپس لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور علم کو زندہ کرنے پر لگانا ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تحریک لبیک اور حکومت میں لڑائی، مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی منافقت کا علاج

تحریک لبیک اور حکومت کی لڑائی؟__

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

آج اوریامقبول جان کہتا ہے کہ تحریک لبیک کے مطالبات میں فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ شامل نہیں ہے۔ وزیرداخلہ شیخ رشید کہتا پھرتا ہے کہ فرانس کے سفارت خانے کو ہم بند نہیں کرسکتے ہیں اور یہ کہ فرانس کا سفیر پاکستان میںموجود نہیں ہے۔ اوریا مقبول جان کہتا ہے کہ ان کے تین مطالبات ہیں۔ سعد رضوی اور دیگر ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔ کالعدم کا لیبل ہٹایا جائے اور عدالتوں میں قائم مقدمات واپس لئے جائیں۔
حکومت اور اپوزشن کی نااہلی اور مفاد پرستی نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پہنچادیا ہے۔ حکومت کی طرف سے فرانس کے سفیر کو نکالنے کی قرارداد پیش ہونا تھی تو ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن تحریک لبیک کیساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔ اور ان کا مقصد تحریک انصاف سے اپنا بدلہ چکانا تھا۔ جب دونوں نے اپنی مشترکہ حکومت میں قادیانیوں کے حق میں ترمیمی بل پاس کیا تھا تو تحریک انصاف نے تحریک لبیک کا ساتھ دیا اور شیخ رشید گھیراؤ جلاؤ کی باتوں میں شریک تھا۔ اب ان کی سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ تحریک لبیک کیساتھ کیا کیا جائے؟۔حالانکہ معاملہ بہت ہی آسان ، سادہ اور قابلِ حل ہے۔
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ” گرفتار ملزموں کو رہا کیا جائے”۔ موجودہ حکومت مجرم نوازشریف اور مریم نواز کو رہائی دے سکتی ہے تو تحریک لبیک کے ملزموں کو رہا کرنا کونسا مشکل کام ہے؟۔ پہلا مطالبہ حکومت مان سکتی ہے کہ جب طاقتور طبقہ پشت پر ہو تو ضمانت پر رہائی ملنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ دوسرا مطالبہ دونوں کے درمیان50،50فیصدکا معاملہ ہے۔ جب تک حکومت سپریم کورٹ میں کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر نہیں کرتی ہے تو حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دینے کا معاملہ ویسے بھی ادھورا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اسلئے تحریک لبیک کو کراچی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا تھا۔موجودہ حکومت نے جمعیت علماء اسلام کی ڈنڈا بردار فورس انصار الاسلام پر پابندی کا علان کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا۔ ریاست نے تحریک لبیک کو تحریک طالبان اور انصار الاسلام جیسی تنظیموں کے مقابلے میں زندہ رکھنا ہے۔ اسلئے آدھا مطالبہ خود حکومت نے پہلے سے تسلیم کیا ہے اور باقی آدھے پر بھی عمل کرے تاکہ حکومت اپنے دوغلے پن سے باہر نکل آئے۔ تیسرا مطالبہ عدالتوںسے کیس واپس لینے کا ہے تو اس سے تحریک لبیک دست بردار ہوسکتی ہے اسلئے کہ عدالت کرپشن اور ریپ کے کیسوں میں شواہد نہ ملنے کا رونا روکر ملزموں کو باعزت رہا کروارہی ہے تو مقدمات چلنے میں کیا حرج ہے؟۔ لیکن حکومت وریاست نااہل ہے یا اس کی نیت درست ہے یا غلط ہے مگر ہے کچھ اور۔ اسلئے کہ مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان سے بہت زیادہ تحریک لبیک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اسلئے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے دیوبندی، اہلحدیث، جماعت اسلامی ، شیعہ اور دیگر فرقوں اور غیرمسلم قادیانیوں کو برابر سب کو گستاخ بھی قرار دیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے ان تین چھوٹے مطالبات کیلئے پولیس والوں کو جان سے مار سکتے ہیں تو پھر عشق رسول ۖ کے نام پر گستاخوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتے ہیں؟۔ اوریامقبول جان اسلام کی روح اور سیاست کو سمجھنے کے بجائے ریاستی پالیسی کی روح رواں کو سمجھنے کیلئے اپنی ذہنیت بوسیدہ کرچکا ہے۔

_ مذہبی شدت و ریاستی نفاق کا علاج! _
جب حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو ایک عرصہ تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ افواہوں کی گردش نے نبیۖ اور صحابہ کو بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ جب وحی نازل ہوئی تو افواہ پھیلانے والوں کی سرزنش کی گئی اور افواہوں سے متأثر ہونے والوں سے کہا گیا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ بہتان عظیم ہے؟۔ اور بہتان لگانے والوں کو اسی اسی کوڑے مارنے کی سزا دی گئی۔
جب تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں کا خون بہایا جارہاتھا ، جارحیت کے ارتکاب میں زیادہ تر ہندو اور سکھ ملوث تھے اسلئے کہ وہ گائے ماتا کی طرح وطن کی تقسیم کو بھی ناقابلِ قبول سمجھتے تھے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت نے ان سے چھٹکارا پانے کیلئے تقسیم ہند کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ جب قائداعظم نے دیکھا کہ مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں تو فرمایا کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے ”۔ ہندو شدت پسندوں نے مہاتماگاندھی کو بھی اسلئے قتل کیا کہ گاندھی نے مسلمانوں کے حق میں ہندو قوم کی شدت پسندی کے خلاف بھوک ہڑتال کا اعلان کررکھا تھا۔
ہندوؤں کے پاس اپنا کوئی نظام نہیں تھا اسلئے وہ حکومت برطانیہ کے نظام کو قائم رکھنے پر مجبور تھے لیکن پاکستان میں مسلمانوں کے پاس اسلام کانظام قرآن وسنت کی شکل میں موجود تھا۔ خاتون اول ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان کی سزا قرآن میں 80کوڑے کا حکم نازل ہوا تھا اور اس میں ایک غریب عورت کیلئے بھی وہی سزا تھی جو ام المؤمنین کے خلاف بہتان لگانے کی تھی۔ غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کا انکار کردیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ام المؤمنین پر بہتان لگانے کی سزا صرف80کوڑے ہو۔ اس کی سزا تو قتل ہونا چاہیے تھا، یہ کوئی عام عورت تھی جس پر بہتان لگایا گیا تھا اور یہ اس کی سزا تھی۔ آج پنجاب میں پرویز کی فکر نے شدت پسندی میں نہلے پر دہلا کردیا ہے۔ اگر قرآن وسنت کی درست تعبیر دنیا کے سامنے پیش کی جائے تو نہ صرف شدت پسندی کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس سے دنیا میں غریب وامیر کے درمیان تفریق کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔
ایک20اور22گریڈ کے افسر اور غریب کی آدمی کی بیگمات میں بہتان لگانے کے حوالے سے اسلامی قانون کے مطابق کوئی فرق نہیں ہے ، اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں اور غریب پارٹی کارکنوں کے درمیان عزت اور قتل کے حوالے سے اسلام نے کوئی فرق نہیں رکھا ہے لیکن ہمارا سارا ماحول بدل گیا ہے۔ ہمارا مذہبی اور سیاسی طبقہ بھی اپنے آپ کو کرپٹ نظام کے ذریعے ترقی اور عروج کے نام پر ایک الگ ماحول بنارہاہے۔80کوڑے کی سزا امیر وغریب کیلئے یکساں ہے لیکن ہتک عزت کے دعوے میں اربوں روپے اور کوڑیوں کے دام کا فرق ہے۔ غریب کی عزت کوڑیوں کی نہیں ہوتی اور کرپٹ لوگوں کی عزت اربوں میں ہوتی ہے۔ غریب کیلئے چند ہزار بڑی سزا ہے اور امیر کیلئے لاکھوں اور کروڑوں کی سزا میں بھی مشکل نہیں ہے۔
المیہ یہ ہے کہ سول وملٹری بیوروکریسی، کرپٹ سیاستدان اور آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونے والے مذہبی لوگوں میں سے کسی کو بھی طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ قرآن وحدیث سے بھی کوئی غرض نہیں ہے اور امن وسلامتی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔ بس صرف اپنی نوکری پکے کرنے اور زیادہ سے زیادہ مفادات اٹھانے کے چکر میں زمانے کے بدترین گرداب کے شکار نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے پہلے کہ کوئی حادثہ پورے معاشرتی اور ریاستی نظام کا خاتمہ کرکے رکھ دے۔ ہم سنجیدگی سے اپنی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ہمارے بدلنے سے پوری دنیا کے تبدیل ہونے میں بھی دیر نہ لگے گی۔ ہم صرف خیرخواہی میں مفت کے مشورے دے سکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تحریک لبیک کے پیچھے کون ہے؟ اس کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟

تحریک لبیک کے پیچھے کون ہے؟ اور اس کی مقبولیت کاراز کیا ہے؟، جب ن لیگ کے دور میں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی سازش ہوئی تو کس کس کو اس سازش کا پتہ تھا؟لیکن اس کھیل کو کیا رنگ دیا جارہاہے اور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے؟۔وزیراعظم اور آرمی چیف کی طرف سے آپس کے اختلاف میں صحیح اور غلط کون ہے؟اور اس رسہ کشی کے نتیجے میںPDMکی ن لیگ اور جے یو آئی کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟۔آئیے کچھ حقائق سمجھ لیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

آج کا وزیراعظم عمران خان اور شیخ رشید وہی ہیں جو2017ء میں تحریک لبیک کی حمایت کرتے تھے یا بدلے ہیں؟
عمران خان نے کنٹینرپر چڑھ کر اپنی ریاست بنارکھی تھی،18گریڈ کے پولیس افسر کی پٹائی بھی لگائی ۔حافظ حمد اللہ

حافظ حمداللہ کی طرف کئی اہم سوالات
بول نیوز پر اینکرامیر عباس کے پروگرام میں جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ صاحب نے تحریک لبیک کی موجودہ صورتحال پر کئی زبردست سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ میں پوچھتا ہوں کہ یہ وہی عمران خان ہے جو2017ء میںتحریک لبیک کی حمایت کررہاتھا؟ یا پھر بدل گیا ہے؟۔عمران خان نے اس وقت اپنے کارکنوں سے تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے میں شرکت کا کہا تھا اور شیخ رشید وحدہ لاشریک اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ون مین شو ہے، اس وقت خود دھرنے میں بیٹھا تھا، آج وہی عمران خان اور وہی شیخ رشید ہیں یا بدل گئے؟۔
میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ تحریک لبیک ٹھیک ہے یا غلط ہے ،یہ میرا کام نہیں۔ اس وقت جو صورتحال پیدا ہوئی ، اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر پڑتی ہے۔ اگر چہ میں اس حکومت کو حکومت بھی نہیں مانتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ جب نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت تھی تو تحریک لبیک کی حمایت عمران خان اور شیخ رشید نے کی تھی، اس وقت دھرنے کے شرکاء میں پیسے بھی بانٹے گئے تھے، (شرکاء کو واپس جانے کیلئے کرایہ دیا گیا تھا۔اینکرپرسن امیر عباس کی وضاحت) لیکن دہشت گردوں میں پیسے نہیں بانٹے جاتے ہیں۔ نیک محمد اور بیت اللہ محسود کو مارا گیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک لبیک والوں کو مارو، یہ مسلمان ہیں اور جو پولیس والے مارے جاتے ہیں وہ بھی شہید ہیں اور تحریک لبیک کے کچھ لوگ بھی شہید ہوئے ہیں۔ ان سب کی ذمہ داری عمران خان اور اس کو لانے والوں پر ہی پڑتی ہے۔ عمران خان نے کنٹینر پر عدالت کے سامنے اپنی ریاست بنا رکھی تھی۔18گریڈ کے پولیس افسر کی پٹائی لگائی۔اس نے کیا نہیں کیا؟۔ لیکن لاڈلے کو حکومت میں لایا گیا۔ آج اس کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں اور اپنے اعمال نامے کی جزا وسزا کیلئے اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں۔ کل تحریک لبیک ،عمران خان اور شیخ رشید ایک پیج پر تھے تو آج کیوں بدل گئے ہیں؟ کیا یہ ہے تبدیلی سرکار؟۔

حافظ حمد اللہ کو حقائق کا کراراجواب
ایک معروف شخصیت نے کہا تھا کہ میں بیل سے ڈرتاہوں۔ دوستوں نے کہا کہ شیر، چیتے اور لگڑبگڑ سے ڈرنے کا کیوں نہیں کہتے؟۔ اس نے جواب دیا: جنگلی جانور سے ڈرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے،ان سے تو سبھی ڈرتے ہیںمگر بیل سے ڈرنے کی بات اسلئے کرتاہوں کہ بیل کے سر پر سینگ ہوتے ہیں لیکن دماغ نہیں ہوتا۔ معروف شیعہ عالم علامہ سید جواد حسین نقوی نے کہا کہ مذہبی طبقہ بھی دماغ نہیں رکھتا ہے اسلئے ان سے مجھے ڈرلگتا ہے۔ آج شیعہ مذہبی طبقہ علامہ سید جواد کے پیچھے پڑگیا ہے۔ تحریک لبیک کی قیادت سے کوئی اتنا پوچھے کہ فرانس کا سفیر جب نہیں نکالا گیا تو پہلے اس پر آپ حضرات نے اتنے عرصے خاموشی کیوں اختیار کررکھی تھی؟۔ ناموس رسالتۖ کسی خاص گروہ کے مفادات نہیں تو پھر اتنے عرصے تک منظر سے غائب ہونے کا کیا جواب ہے تمہارے پاس؟۔
جب نواز شریف نے طاہرالقادری کے مرکز میں گولیاں برساکر14افراد کو قتل کردیا تھا تو اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ڈی چوک کے دھرنے میں پولیس افسر کی پٹائی کا معاملہ اٹھاسکے۔ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو قادیانی سمجھ کر منتخب کیا تھا اسلئے قومی اسمبلی میں قادیانیت کے حق میں ترمیمی بل لایا گیا۔ اس حکومت میں حافظ حمداللہ کی جماعت اور اس کی قیادت بھی شریک تھی۔ جب شیخ رشید نے اسمبلی میں آواز اٹھائی تو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے نام پر بھی حافظ حمد اللہ کی جماعت اپنے کولہے ہلانے کیلئے تیار نہیں تھے،البتہ جماعت اسلامی کو غیرت آگئی تھی۔ قومی اسمبلی سے وہ بل پاس ہوکر پھر سینٹ سے پاس نہیں ہوسکا تھا جس پر مولانا عبدالغفور حیدی نے کہا تھا کہ ”مجھے خوف تھا کہ اگر یہ بل سینٹ سے پاس ہوا تو مجھے قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑیں گے”۔
علامہ خادم حسین رضوی نے استقامت دکھاکر بل کے محرک کو ذمہ داری سے ہٹانے پر حکومت کو مجبور کیا ، جنرل فیض حمید نے صلح میں اپناکردار ادا کیا تھا۔

طاقت کو غلط استعمال کرنا چھوڑدو
جب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں بل پاس کرنے کا انکشاف ہوگیا تو پنجاب بھر میں تحریک لبیک نے علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں بڑازور پکڑ لیاتھا۔ عمران خان بھی اس میں کود پڑا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ” علامہ خادم حسین رضوی کو چاہیے تھا کہ ہمیں بھی اعتماد میں لیتے،یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ختم نبوت کے خلاف ہم کسی کو سازش نہیں کرنے دیں گے”۔
جب شیخ رشید اکیلا اسمبلی میں سب کو چیخ کر للکار رہاتھا تو جمعیت علماء اسلام حکومت میں شریک تھی اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی بت بن کر خاموشی کا لطف اٹھارہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان بھی سکوت اختیار کئے ہوئے تھے مگر جب پنجاب میدانِ جنگ بن گیا تو سب نے ختم نبوت کیلئے جان دینے تک کی بات کرنا شروع کردی تھی۔ ہماری سیاست ایک منافقت سے تعبیر ہوسکتی ہے۔ جب طالبان اور تحریک لبیک والے جذبات اور اشتعال کا ماحول بناتے ہیں تو یہ لوگ مذہبی بن جاتے ہیں اور جب ان کی دُم کے نیچے کوئی انگل ہوتی ہے توپھر ان کا رُخ کسی دوسری طرف ہوجاتا ہے۔ باشعورپاکستانیوں نے اگر اُٹھ کر کوئی کردار ادا نہیں کیا تو افغانستان کا عالمی قوتوں اور ان کی پروردہ قوتوں نے جو حال کیا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کی سیاسی ومذہبی قیادت اپنے کرتوت کے باعث اس انجام کو پہنچ سکتے ہیں کہ جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ہیں۔
یہاں مہاتماگاندھی کو قتل کرنے والے ہندؤوں سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان آپس کی فرقہ واریت اور نفرت ہے۔ یہاں لسانی تعصبات ہیں۔ یہاں سیاسی قائدین کی بھڑکائی ہوئی نفرتیں ہیں۔ اپوزیشن لیڈرشہباز شریف بھول رہا ہے کہ کل وہ کس قسم کی گفتگو کرتا تھا لیکن عمران خان کو یاد دلاتا ہے۔یہاں صرف اور صرف مفادات ہیں۔ صحافی ملک وقوم اور عوام کیلئے نہیں کسی مفادپرست لیڈر اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور راستہ ہموار کرتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کی سیاسی قیادت کی مثال دودھ کی کریم جیسی ہے لیکن یہ حرام جانوروں کے دودھ کی کریمیں ہیں۔

گیدڑ شیر کی کھال پہنے سے شیر نہیں بن جاتا، عمران خان نوازشریف بننے کی کوشش نہ کرے،مریم نواز۔ کہنا یہ چاہیے تھا کہ گدھا گیدڑ کی کھال نہیں پہن سکتا ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف نے پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی قیادت کا کریم معاشرے کو دیامگر بدقسمت اسٹیبلشمنٹ نے یہ سب مکھن قیادت حلال دودھ سے نہیں بلکہ کتیا،گیدڑ اور گدھی کے دودھ کو مشکیزے میں ڈال کر نکالا ہے جس نے قوم کو تباہ کردیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام اور جمہوریت برائے نام ہے اور اس کا نظام اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کی وجہ سے پیدا گیری ہے ۔جب تک پیداگیری سے اس کو پاک نہیں کیا جائے یہ اسم بامسمّیٰ پاکستان نہیں بلکہ پلیدستان رہے گا۔ خان، وڈیروں ، نوابوں اور انگریز کے پیداکردہ ملا شوربازاراور پیران شیر آغا نے عوام کو تباہ کیا، سیاستدانوں اور سول وملٹری بیوروکریسی نے آخری حدپارکردی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا ماضی ،حال اور مستقبل سب ڈھینچو ڈھینچو کے سواء کچھ نہیں ہے۔ پہلے خودکار ناکارہ نظام کی وجہ سے آرمی چیف کی مدت توسیع میں جو جگ ہنسائی ہوئی تھی وہ سمجھ میں آتی تھی کہ اس سے پہلے جتنے ڈکیٹیٹر مسلط ہوئے تھے ،وہ سب اس فوجی ایکٹ کے تحت ہوئے تھے کہ ” جب کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد مجرم ثابت ہوتا تو اس کو بحال کرکے سزا دی جاتی تھی” لیکن جب کوئی ڈکٹیٹر قبضہ کرتا تھا تو ہمارے سیاستدان اور عدلیہ مل بانٹ کر کہتے تھے کہ ” اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا”۔ کبھی کسی نے قانون کا جائزہ تک لینے کی زحمت نہ کی۔
اب وزیراعظم عمران خان کہتا ہے کہ” مجھ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت سے کسی کے اچھے تعلقات نہیں ہیں ۔کسی تیکنیکی خرابی کی وجہ سے آئی ایس آئی چیف کی تقرری میں توسیع ہورہی ہے”۔ گدھے کو یہ پتہ نہیں کہ یہ جہانگیر ترین کا جہاز یا پاکستان ریلوے کا انجن تو نہیں ہے کہ اس میں تیکنیکی خرابی کی وجہ سے کوئی تاخیر ہوجائے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سول سپرمیسی کی آواز اٹھانے والیPDMکی قیادت کو بہت بڑی خارش شروع ہوگئی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی بدنامی کا باعث عمران خان بن رہاہے۔ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کو اصل مسئلے کا بھی پتہ نہیں کہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے یا عمران خان سے چپقلش ہے؟۔ حکومت کے ترجمان بک رہے ہیں کہ اپوزیشن قومی اداروں کے تقدس کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ حالانکہ کونسی ہتھنی کی ڈیلوری کس آپریشن سے ہورہی ہے؟۔ ابھی تویہ بھی معلوم نہیں کہ نوراکشتی ہے یا واقعی کوئی مسئلے مسائل ہیں؟۔
جب بھوک اور اقتدار کی جنگ شروع ہوجائے تو پھر ملک وقوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ مقتدر طبقات طاقت اور بھوک کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جنرل ایوب خان کو طاقت کا شوق تھا تو اس نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے طاقت کا کھیل اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے سب کچھ کیا لیکن پھر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں شکار ہوگیا۔ جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف کو جنم دیا۔ نوازشریف تجارت پیشہ انسان تھا ، اس نے آئی ایس آئی ، اسامہ بن لادن اور جہاں جہاں سے بن پڑا تو اپنی تجارت بڑھائی۔ ملک وقوم میں کرپشن کرپشن کی رٹ لگی تو گہماگہمی میں پیپلزپارٹی اور نوازشریف کی باری باری حکومتوں کا بتدریج خاتمہ کرکے خان صاحب کو لایا گیا۔ بہت ہی معذرت کیساتھ لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو کتوں اور گدھوں سے بھی تشبیہ دی ہے۔ کتا بڑا کارآمد اور وفادار جانور ہے لیکن اس میں لالچ اور اپنی چوہدراہٹ جمانے کی کمزوری ہوتی ہے۔ گیڈر سے تشبیہ عام طور پربزدلی کی وجہ سے دی جاتی ہے اور گیدڑ کا کام یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت ہنر مندی سے ڈرپوک ہونے کے باوجودبڑی صفائی سے چوری کرتا ہے اورایک ساتھ جمع ہوکرعجیب و غریب آواز نکالنے کی مہارت رکھتا ہے جس کو گیڈر بھپکی کہتے ہیں۔ گدھا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی آواز سب سے بدترین ہوتی ہے اور کوئی عقل اور عزت بھی نہیں رکھتا ہے۔
جب مشرقی پاکستان میں مجیب نے اکثریت حاصل کرلی اور ذوالفقار علی بھٹو کے پاس مغربی پاکستان میں اکثریت تھی تو بھٹو نے اسٹیلشمنٹ کیساتھ مل کر ہی اس ملک کو دولخت کردیا۔ جب93ہزار فوجی بھارت نے قید کرلئے تو بھٹو نے وفاداری دکھائی اور ان کو چھڑانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جنرل ضیاء الحق کو اپنا وفادار ،بزدل اور کمزور سمجھ کر آرمی چیف بنایا لیکن جب اپنی چوہدراہٹ کے چکر میں پڑگیا تو اپنے انجام کو جائز یا ناجائز بہرحال پہنچادیا گیا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ”کتے میں10صفات ایسی ہیں جو ہر مؤمن میں ہونی چاہئیں” اور ذوالفقار علی بھٹو میں بہت سی خوبیاں تھیں لیکن انسانیت کا کوئی معیار نہیں تھا ۔ جنرل ضیاء الحق نے گیڈر نوازشریف کو پالا ۔ گیدڑ میں انسان بننے کی صلاحیت تو دور کی بات ہے کتا بننے کی صفات بھی نہیں ہے۔جب بینظیر بھٹو نے جمہوریت کیلئے مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کرMRDمیں جدوجہد شروع کی تو نوازشریف جنرل ضیاء الحق کی برسی پر گیڈر کی طرح آوازیں نکالتا تھا کہ ”تم شہید ضیاء الحق سے انگریز کے کتے نہلانے والے بھٹو کا مقابلہ کرتے ہو؟ اور پاک فوج زندہ باد اور جمہوریت مردہ باد ”۔ پھر جب اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر آئی ایس آئی نے پیسہ دیکر اس کو اقتدار میں لایا تو کرپشن کی بنیاد پر ہی صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کردیا۔ رحمن ملک نے اس وقتFIAکے ذریعے تمام ثبوت اکٹھے کرکے ایون فیلڈ لندن کے فلیٹ کا پتہ لگایا تھا۔ پھر جب مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے اس کی بہن بینظیر بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا تو آصف علی زرداری کو جیل میں ڈال کر دوبارہ مرکز میں نوازشریف کو لایا گیا۔ بینظیر بھٹو پر بھی کرپشن کے کیس بنائے گئے اور نوازشریف کی گیدڑ بھبکیاں جاری رہیں۔ پھر نوازشریف نے گیڈر کی طرح اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے پرویزمشرف کو ہٹادیا لیکن اس کی چال ناکام ہوگئی۔ پھر گیدڑ سعودیہ کی جلاوطنی پر دستخط کرکے گیا تھا تو اس نے معاہدے کا انکار کیا۔ جب معاہدہ اس کے مطالبے پر سامنے لایا گیا تو اس نے کہا کہ10سال نہیں5سال کا معاہدہ کیا تھا۔ ایون فیلڈ کے کیس دوبارہ اس کے خلاف کھول کر بند کئے گئے۔ سزائیں بھی سنائی گئیں تھیں اور گیدڑ کی بچی مریم نواز نے گیدڑ بھبکی ماری تھی کہ ”میرے پاس بیرون ملک تو کیا ملک کے اندر بھی کوئی جائیداد نہیں ہے اور کچھ بھی میرے پاس نہیں، باپ پال رہا ہے”۔
جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گیا تو شہباز شریف رات کی تاریکیوں میں گیدڑ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کرتا تھا اور گیڈروں نے پھر جمہوریت پر یلغار کردی۔ بجلی کے کھمبوں، چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی بھپکیاں جاری رہتی تھیں۔ پھر جب اقتدار میں آگئے تو اسمبلی میں گیدڑ بھپکیوں سے پرہیز نہیں کیا۔ ایون فیلڈ کے فلیٹوں کا تحریری بیان جاری کیا کہ اللہ کے فضل وکرم سے الحمد للہ2005ء میں سعودیہ کی مل اور وسیع اراضی اور دوبئی کے مل کو بیچ کر اس رقم سے2006ء میں یہ فلیٹ لئے۔ جس کے تمام دستاویزی ثبوت الحمد للہ میرے پاس ہیں جو عدالت کو عند الطلب دکھا سکتا ہوں”۔ پھر جب عدالت میں پیش کرنے کا وقت آیا تو قطری خط سے سب حقائق کو جھٹلادیا تھا اور پھر اس قطری خط سے بھی انکار کردیا تھا۔ یہ سب گیدڑ بھپکیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نوازشریف شیر نہیں گیدڑ ہے ۔ ووٹ کو عزت دو کے نام پر فوج ہی کو مودرد الزام ٹھہرایا کہ ”مجھے کیوں نکالا” لیکن جب عمران خان کے دور میں بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن کی ضرورت پڑی اور آئینی ترمیم بھی ضروری تھی تو گیدڑ نوازشریف نے لندن سے ترمیم کی حمایت کردی اور پھر آرمی چیف کا نام لیکر بک بک بھی شروع کردی اور پھر خاموشی بھی اختیار کرکے نام لینا بھی چھوڑ دیا۔ اسلئے مریم نوازشریف کو چاہیے کہ عمران خان سے کہے کہ گدھا گیدڑ کی کھال نہیں پہن سکتا ہے۔ شیر کو بدنام کرنا بند کردیا جائے۔
حضرت علی اور حضرت امیر حمزہ جیسے مقدس صحابہ کرام کو شیر کہنا مناسب ہے مگر نوازشریف کی وہ کونسی ادا ہے جس پر اس کو شیر کہا جائے؟۔ اگر پارلیمنٹ میں اس کو زبردستی سے کسی نے ایون فیلڈ کا جھوٹا بیان پڑھنے پر مجبور کیا ہے تو پھر وہ بتائے لیکن اس کی پوری زندگی جھوٹ اور کرپشن سے عبارت ہے۔ ہمارے مولانا فضل الرحمن کوPDMکی قیادت کے نام پر ن لیگ کے دُم چھلے کا کردار ادا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جس طرح آرمی چیف کی مدت توسیع کیلئے پتہ چل گیا کہ جس قانون کے تحت ڈکٹیٹر شپ پر قبضہ کرکے اپنی مدت بڑھاتے تھے تو یہ قانون ہی غلط تھا، اسی طرح سے فقہ کے نام پر جومسلکانہ مسائل بنائے گئے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ غلط ہیں۔ روزنامہ جنگ میں ” آپ کے مسائل اور ان کا حل” میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس دارالافتاء نے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا کہ ” میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اسلئے دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن جاتے ہیں”۔ جس طرح عدلیہ کا قانون فوج کے جرنیلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کیلئے الگ ہے اور غریب عوام کیلئے الگ ہے۔ اسی طرح علماء کی شریعت بھی طاقتور اور کمزوروں کیلئے الگ الگ تھی۔ معاشرے میں کمزور اور طاقتور کیلئے قانون الگ الگ ہے لیکن اسلام نے کمزوروں اور طاقتوروں کیلئے یکساں قانون بنائے تھے۔ ہماری جمہوریت اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے کہ جب ہم اسلام کے مطابق کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی قانون بنائیں۔ مذہبی جماعتیں پاکستان کے آئین سے بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتی ہیں اسلئے کہ انہوں نے خودہی اسلام کو مسخ کردیا ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلام میں پردے کے تین اقسام کے احکام بتائے۔نمبر1یہ ہے کہ گھر کی چاردیواری سے باہر نہ نکلا جائے اور حجاب کے پیچھے بات کی جائے۔ نمبر2یہ کہ چہرے اوراندر کے کپڑوں سمیت پورے جسم کا نقاب کیا جائے اور نمبر3یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھ کر باقی جسم کا پردہ کیا جائے۔( فقہی مقالات :جلد چہارم )
اسلام میں کوئی ابہام نہیں ہے لیکن نالائق نام نہاد علماء نے ابہام پیدا کیا ہے اور اگر یہ بات کوئی نہیں مانتا ہے تو علماء سے پوچھا جائے کہ تم خود اور تمہارے گھر کی خواتین کس قسم کا پردہ کرتے ہو؟۔ ٹی وی کے اسکرین، جہازوں اور بیرون ملک سفر کرنے والے کی اکثریت نے اپنے گھر والوں کو بھی سیر کروائی ہے۔ ان کے عمل وکردار سے ان کے شرعی پردے کا تصور بھی واضح ہوجائے گا۔ جب ان کی خواتین مساجد اور مدارس کی چاردیواری میں فل پیک ہوکر نکلتی ہیں اور بازار ، مارکیٹ ، شاپنگ مال اور پارک میں جانے سے پہلے اپنا برقعہ اتار دیتی ہیں تووہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ جس طرح سعودیہ اور ایران کی خواتین جہازوں میں بیٹھتے ہی اپنا برقعہ اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال دیتی ہیں اسی طرح مدارس کے ماحول سے نکل کر ان علماء کی خواتین بھی وہی کردار ادا کررہی ہیں۔
جب اسلام آباد میں ایک پختون بچے کو اغواء کرکے قتل کیا گیا تھا اور تھانے کا عملہ رپورٹ درج کرنے کی بجائے بچے کے والدین سے جھاڑو لگوارہا تھا تواس وقت معروف فیمنسٹ ہدیٰ بھرگڑی بھی وہاں مجمع اکٹھا ہونے پر پہنچی تھی اور دوپٹہ بھی اوڑھ لیا تھا۔ یہ اسلئے کہ اس ماحول کا تقاضہ تھا۔ اگر وہ مدارس میں داخل ہوتو ہوسکتا ہے کہ اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کر آجائے اسلئے کہ وہاں ماحول کا بھی یہ تقاضہ ہوگا۔ عورت جہاں ماحول کو دیکھتی ہے تو اپنے تحفظ کیلئے اس طرح کا قدم بھی خود اٹھالیتی ہے۔ قرآن میں عورتوں کو جہاں جہاں پردے کا جس طرح سے بھی حکم دیا گیا ہے تو وہاں ماحول کے لحاظ کو سامنے رکھ کر حکم دیا گیا ہے۔
پاکستان میں بہت بھکاری عورتیں بھی پھرتی ہیں لیکن کسی نے نہیں دیکھا ہوگا کہ سرعام کسی عورت نے اپنے بچے کو دودھ پلایا ہو۔ حرم کعبہ کے پاس بھکاری عورتیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کیلئے اپنی چھاتیوں کو گریبان کے اوپر سے ہی نکال کر دودھ پلادیتی ہیں۔ دبئی کے کتب خانوں میں بسا اوقات برقعہ پوشوں کا منہ چھپا ہوا ہوتا ہے لیکن سینہ کھلا ہوا ہوتا ہے۔ پردہ کے شرعی اور رواجی تصورات میں بہت فرق ہے۔ پختون، بلوچ، پنجابی ، مہاجراور سندھی اپنے اپنے کلچر کے مطابق ہی پردہ کرتے ہیں۔شریعت کی غلط تشریحات کو بہت ٹھیک طریقے سے درست کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” بیوہ کو چار ماہ دس دن کی عدت سے بھی پہلے اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی پکا عہدو پیمان نہیں کرسکتے”۔(سورۂ البقرہ ) سورہ ٔ طلاق میں عورتوں کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش ہے۔ اس پر اختلاف ہے کہ اگر حمل کی عدت چار ماہ دس دن سے کم ہو تو پھر بھی بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے یا نہیں؟۔ حضرت علی کی طرف یہ منسوب ہے کہ وہ کم ازکم چارماہ دس دن اور حمل کی صورت میں اس مدت ہی کو عدت کیلئے ضروری قرار دیتے تھے۔ جبکہ حدیث میں عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد چند روز کے بعد بھی نکاح کی گنجائش دی گئی ہے اور اس پر فقہاء نے فتویٰ بھی دیا ہے۔ اگر چارماہ دس دن کے بعد حمل والی کو بھی نکاح کرنے کی ضرورت پڑتی تو نبیۖ اس کی بھی اجازت دے سکتے تھے۔ خلع کی عدت ایک حیض حدیث صحیحہ میں ہے لیکن بعض فقہاء نے اس کو اسلئے مسترد کیا ہے کہ قرآن میں طلاق کی عدت تین حیض کے یہ منافی ہے، حالانکہ حمل کی صورت میں عدت کی مدت چند لمحات بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن میں عدت کے حوالے سے اعداد و شمار اور احادیث کی رہنمائی پر فقہاء متفق بھی ہوسکتے ہیں۔
اللہ نے بیوہ کو چار ماہ دس دن کی عدت پوری ہونے کے بعد اپنی مرضی کا مالک بنایا ہے۔وہ اپنے مردہ شوہر سے نکاح برقرار رکھ کرقیامت کے دن تک اس کی بیگم رہ سکتی ہے اور عدت کے بعد وہ کسی اور سے بھی نکاح کرسکتی ہے۔ فقہاء نے جس طرح انتقال کے فوراً بعد نکاح ٹوٹنے کا تصور بنایا یہ قرآن وسنت کیخلاف ہے۔ حضرت عائشہ سے نبیۖ نے فرمایا کہ آپ مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو میں غسل دوں گا، حضرت ابوبکر کو ان کی بیگم نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کوحضرت علی نے غسل دیا۔ مفتی طارق مسعوداور علماء کے دل ودماغ سے جہالت نکالنے کی سخت ضرورت ہے۔اگر علماء ومفتیان کی مائیں اپنے شوہروں سے پہلے فوت ہوگئیں یا بعد میں تو نکاح ٹوٹنے کے بعد ان کی قبروں میں فلاں کی زوجہ بھی نہیںلکھنا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر شیعہ اعتراضات اور باغ فدک کا مسئلہ اور عتیق گیلانی کے تسلی بخش جوابات

Shia object to Hazrat Abu Bakar and Hazrat Umar and the issue of Bagh-e-Fadik and satisfactory answers from Atiq Gilani

منگوپیر ہسپتال کراچی کے شیعہ سٹاف نرس جنس مرد فرمان علی کے سوالات کے تسلی بخش جوابات کی ایک ادنیٰ کوشش۔

قرآنی آیات کے درست ترجمے اور
تفسیر اُمت مسلمہ کے سامنے لائی جائے تو سارے مسلمان مخمصے سے نکل کر دنیا میں ترقی وعروج کی سب سے بڑی منزل پاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اتنا بھی
کمزور نہیں کہ امریکہ ونیٹو افواج کے ہوتے ہوئے طالبان سے قندھار ، کابل اور مزار شریف فتح نہیں کراسکتا تھا جونہی امریکہ گیا تو اللہ میدان میں کود گیا

محترم جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب! السلام علیکم
میرے مندرجہ ذیل سوالات کے تسلی بخش جوابات عنایت فرمادیجئے۔ جزاک اللہ خیر۔ از طرف ایک شیعہ فرمان علی
سوال نمبر1:_ ر سول اللہ ۖ کی تدفین میں حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان شامل نہیں تھے ان لوگوں کو حکومت پر قبضہ کی فکر تھی۔ جواب
وعلیکم السلام ۔میرا پروگرام تھا کہ سنی بھائیوں کو یہ سمجھادوں گا کہ اہل تشیع کو کافر، مشرک ، گمراہ اور غلط کہنے کے بجائے ان کو ان کے عقائد اور نظرئیے سمیت اپنے سے زیادہ اچھا مسلمان سمجھنے کی کوشش کرو اور ہیں لیکن ان سوالات نے مجبور کردیا کہ پہلے اہل تشیع کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش بڑی ضروری ہے۔ افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد شیعہ کی آذان کو گستاخی قرار دیا گیا ہے اور کالعدم سپاہ صحابہ کے علامة الجہل اورنگ زیب فاروقی نے شیعوں سے کہا کہ تمہارے شناختی کارڈ پر بھی عمر لکھا ہوتا ہے، تمہارے باپ ، تمہاری ماں اور تمہاری بہن کے نام پر جب تک عمر نہ لکھا جائے تو شناختی کارڈ نہیں بن سکتا ہے۔
حضرت عمرفاروق اعظم سے مجھے محبت ہے ۔ میرے پہلے اور دوسرے بیٹے کا نام ابوبکر اور عمر ہیں۔ ہمارے قبرستان میں ہمارے بڑے شاہ محمد کبیر الاولیاء کے بیٹے کا نام بھی محمد ابوبکر ذاکرتھا۔ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمرفاروق اعظم نبی کریم ۖ کے دنیا ، قبر اور آخرت کے رفقاء اور صحابہ ہیں۔عراق اور سعودی عرب سے بھاڑہ لیکر ان کا دفاع کرنے والوں نے جس طرح صحابہ کے نام پر اپنا کاروبار شروع کردیا ہے ، اسی طرح سے شیعان علی نے حضرت علی اور اہل بیت کے ائمہ کو اپنے کاروبارکی وجہ سے بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔
حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے کم محبت حضرت علی سے اسلئے نہیں کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی کے علاوہ میرے جدامجد بھی ہیں اور ماحول سے متأثر ہونے کی ضرورت مجھے اسلئے نہیں کہ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے باپ کو قید اور بھائیوں کو قتل کردیا اور تخت پر قبضہ کرلیا۔ 500علماء نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کرکے یہ آئین لکھ دیا کہ ”بادشاہ قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور کوئی بھی مجرمانہ کردار ادا کرے تو اس پر کوئی حد اور سزا جاری نہیں ہوسکتی ہے”۔
فتاویٰ عالمگیریہ پر حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے بھی دستخط ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے اور اپنے والد صاحب کے بارے میں جو مبشرات لکھی ہیں اور اسی طرح مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے مشاہدات ملاحظہ کئے جائیں تو لوگ شیعہ ذاکروں کے ائمہ اہل بیت کے حوالے سے سارے ہی مبالغوں کو بھول جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں اور ان کے صاحبزادوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا ہوتا تو ہم بھی قرآن کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے اسلام کو عاشورہ محرم کے جلوس اور علامتی ماتم تک ہی محدود رکھتے۔ کیونکہ زنجیر زنی کا ماتم اہل تشیع کے اشرافیہ اور علامہ صاحبان نے بھی جاہل اور جٹوں تک ہی محدود رکھا ہے۔ جبکہ ہم جاہل اور گنوار نہیں ہیں۔ جس طرح اہل تشیع کے جٹ اور گنوار جذبات میں ماتم کرکے اپنا جسم چھلنی کردیتے ہیں لیکن اشرافیہ ذاکرین کو اپنے ساتھ ماتم اورخون بہاتے ہوئے نہیں دیکھتے بلکہ صرف ذاکرین پر پیسہ لٹانے اور معاوضہ دینے کی طرف توجہ دیتے ہوئے داد دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ اسی طرح کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن یہ نہیں دیکھتے کہ علامہ اورنگزیب فاروقی جو بات کرتا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟۔ بس داد ہی دئیے چلے جاتے ہیں۔ شناختی کارڈ میں عمر لکھا نہیں ہوتا بلکہ عمر لکھی ہوتی ہے۔ جب کراچی میں اردو والے اس کو نہیں ٹوکتے کہ الو کے پٹھے تم نے حضرت عمر مذکر بھی عمر مؤنث میں بدل دیا۔ اگر یہ بات شیعہ کرتا کہ عمر ہوتی ہے تو تم لوگ اس پر حضرت عمر کی توہین کا الزام لگادیتے۔ مفتی ڈاکٹر شیخ التفسیر، شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل نے اورنگزیب فاروقی کی کتاب پر تقریظ لکھی جو مجھے کالعدم سپاہ صحابہ کے علامہ رب نواز حنفی کی طرف سے بطورِ تحفہ بھیجی گئی ہے۔ اس میں مولانا منظور مینگل نے لکھا ہے کہ اورنگزیب فاروقی کا نام تین لفظوں سے مل کر بناہے۔ اور، رنگ، زیب۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زیب کا تو رنگ ہی اور ہے ۔ حالانکہ یہ جہالت کی انتہاء ہے۔ پھر تو ” اور، نگ ، زیب بنتا ہے”۔ یہ وہ گدھے ہیں جنہوں نے کتابیں لاد رکھی ہیں ۔ اُلٹی سیدھی حرکتوں سے علم کو بدنام کردیا۔
اگر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے نبیۖ کی وفات کے بعد انصار سے خلافت کے مسئلے پر سیر حاصل بحث نہ کی ہوتی تو انصار ومہاجرین الجھ جاتے۔ قرآن وسنت نے صحابہ کرام کی ایسی تربیت نہیں کی تھی کہ مسلمانوں پر جو فرض کفایہ تھا کہ چند افراد بھی غسل اور تدفین کا فرض ادا کرسکیں لیکن پوری کی پوری امت اسی کام پر لگ جاتی۔ حضرت علی کی قبر کا بھی آج تک اسی لئے کوئی پتہ نہیں ہے کہ اس وقت قبروں کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی جتنی آج بنائی گئی ہے۔ اہل تشیع یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہۖ کے جن صحابہ کرام سے وہ اسلئے بہت زیادہ بغض رکھتے ہیں کہ نبیۖ کے غسل کو چھوڑ کر خلافت کے مسئلے میں لگ گئے تو شیعان علی نے تو حضرت علی کی قبر کا بھی خیال نہیں رکھا تھا؟۔ جنازے پر توخبریں مختلف ہوسکتی ہیں۔ شیعہ سنی کا نبیۖ کی وفات کے مہینے پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ سنیوں کے نزدیک بارہ ربیع الاول ہے اورشیعوں کے نزدیک صفر ہے۔ اسی طرح نبی ۖ کی ولادت کے مہینے پر بھی دونوں کا اتفاق نہیں ہے۔
اگر قرآن وسنت میں قبروں اور ایام کی اتنی اہمیت ہوتی تو سب سے پہلے تو لاکھ سے زیادہ انبیاء کرام کی قبروں اور پیدائش ویوم وفات کو دریافت کیا جاتا ۔ پھر آج سب کی قبروں کی زیارات اور دن منانے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہ ہوتا۔ جس طرح ایک ہندو کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اللہ نے قرآن میں گائے کو ذبح کرنے پر اصرار کیوں فرمایا؟۔ اور گائے ذبح کرنے میں حیل و حجت سے بنی اسرائیل نے اپنی مشکلات میں اضافہ کیوںکیا تھا؟۔ اسی طرح بہت معاملے اہل تشیع کو اپنے ماحول کے حساب سے سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔
سوال نمبر2:__

حضرت علی علیہ السلام کو مقرر کردیا گیا تھا پھر حدیث قرطاس کی کوئی ضرورت نہ تھی اور حضرت عمر کی آواز ہمارے نبی ۖ سے بلند ہوگئی تھی۔

جواب_
اگر حضرت علی نامزد ہوچکے تھے تو پھر حدیث قرطاس کی ضرورت نہیں تھی؟۔ یہ تو اہل تشیع کے ہی خلاف بات جاتی ہے اسلئے کہ اگر حضرت علی کو نامزد کردیا ہوتا تو پھر حدیث قرطاس کی کیا ضرورت ہوتی؟۔ قرآن کے سورۂ حجرات میں جاہل لوگوں سے کہا گیا ہے کہ نبیۖ کوحجرات سے دور مت پکارو لیکن اس کا مطلب مطلق آواز بلند کرنا نہیں ورنہ تو پھر لاؤڈاسپیکر کے ذریعے تقریر اور آذان کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ سورۂ مجادلہ میں ایک شرعی مسئلے پر نبیۖ سے ایک خاتون نے جھگڑا کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی ۔ اس سے اہل تشیع کا یہ عقیدہ باطل ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ سے کسی بات پر صحابہ نے اختلاف کیا تو وہ ناجائز تھا۔ قرآن میں متعدد امور کا ذکر ہے جن میں غزوۂ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے کا بھی ذکر ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی و دیگر صحابہ کرام نے دنیا کو ترجیح دیدی اور اللہ نے فرمایا کہ” تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔ بس بنیۖ اور صحابہ کرام نے دنیا کو طلب کیا اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ؟۔ شیعہ جس منطق سے صحابہ کے خلاف نتائج نکالتے ہیں اگر وہی منطق استعمال کی جائے تو پھر سارا دین تباہ ہوگا۔ قرآن میں حضرت آدم ، حضرت یونس اور حضرت موسیٰ کی طرف ظلم کی نسبت ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ شکر ہے کہ اہل تشیع انبیاء کے پیچھے نہیں پڑے ہیں ورنہ انبیاء کو بھی قرآنی آیات اور اپنی منطق سے ہدایت کے قابل نہ سمجھتے ۔
اہل سنت نے ایمان مجمل اور ایمان مفصل میں انبیاء کو شامل کیا مگر صحابہ کو شامل نہیں کیا ۔ جب وحی کا سلسلہ جاری تھا تب بھی انبیاء کرام کی رہنمائی کا سلسلہ اللہ نے جاری رکھا لیکن اہل تشیع کے نزدیک وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد بھی ائمہ اہلبیت سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اگر اللہ ان کو اقتدار کے منصب پر فائز کردیتا تو مسلمان دنیا میں جمہوری روایات کی جگہ عجیب وغریب قسم کے نظام کا سامنا کرتے۔ جب نبیۖ نے امیر حمزہ کی شہادت کے بعد زیادہ انتقام کی بات فرمائی تو اللہ نے منع فرمایا۔ شیعہ کے ہاں خود ساختہ اقتدار کی صورت میں بدترین طرح کے انتقام لینے کی خواہش اسی لئے پائی جاتی ہے کہ وہ وحی پر زیادہ یقین کرنے کو بھی تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ ایسے گنجوں کو کبھی اقتدار ملنا بھی نہیں۔ اولی الامر ایسا ہی ہونا چاہیے کہ جس پر تنقید کی گنجائش ہو اور اس سے اختلاف بھی کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو اور یہی قرآن وسنت کا خلاصہ ہے اور آج ایران میں بھی اس پر عمل ہورہاہے۔ نبیۖ کے ذریعے اللہ نے قیامت تک یہی رہنمائی بھی کردی ہے۔ اب مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں۔

سوال نمبر3:_
جب ہمارے نبی ۖ علی کو جانشین بنائیں اور وہ قابل قبول نہ ہو تو ابوبکر نے عمر کو نامزد کردیا وہ کس طرح صحیح ہے؟

جواب_
یہ عوام کا کام ہے۔ عوام نے حضرت امام حسن ہی کو خلیفہ بنایا تھا لیکن جب امام حسن نے معاہدے کے تحت امیر معاویہ سے صلح کرلی اور یہ کہہ کر صلح کرلی تھی کہ میرے دشمن سے میرے شیعہ بدتر ہیں تو پھر عوام نے امیر معاویہ کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اگر حضرت علی چاہتے تو ابوسفیان کی بات مان لیتے اور حضرت ابوبکر سے خلافت چھین لیتے۔ حضرت علی ، حسن اور اہلبیت سے زیادہ شیعہ ذاکرین اور علماء کو اپنی تقریروں کی فیسوں کی لت لگی ہو تو اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟۔ مدعی سست گواہ چست اسی کو تو کہتے ہیں؟۔ حضرت علی نے ابوسفیان کی پیشکش کو نہ ٹھکرایا ہوتا تو حضرت ابوبکر سے خلافت حضرت علی کو منتقل ہوسکتی تھی اور امام حسن نے امیر معاویہ سے صلح نہ کی ہوتی تو بنوامیہ کا مسند پر قبضہ ناکام ہوسکتا تھا لیکن جب امام حسن اور آپ کے شیعہ بروقت کسی دوسرے فیصلے پر مجبور ہوں اور پھر چودہ سو سال بعد آپ پٹ کر کوئی اور بات کریں تو اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟۔ اگر ائمہ اہلبیت اپنا بڑا بیٹا اپنا جانشین بنادے اور پھر وہ امام کی وفات سے پہلے فوت ہوجائے اور پھر امام اپنا دوسرا بیٹا امام مقرر کردے اور پہلے بیٹے کی اولاد اپنے حق کو برقرار ٍرکھ کر اپنا فرقہ بناسکتے تھے تو اقتدار ہاتھ میں ہوتا تو تلواریں بھی نکل سکتی تھیں اور مار کٹائی کا بازار بھی گرم ہوسکتا تھا۔ اللہ نے اہل بیت کوآزمائش میں ڈال کر اس گند سے محفوظ کردیا اور شیعہ غم کھاتے ہیں کہ اقتدار کی خاطر اورنگزیب کی طرح بھائیوں کو قتل کرنے والے ان میں پیدا کیوں نہیں ہوئے؟۔

سوال نمبر4:_
باغ فدک کیلئے حضرت فاطمہ علیہا السلام حضرت ابوبکر کے دربار میں جاتی ہیں تو ان سے گواہ مانگے گئے اور گواہوں کے طور پر اپنے شوہر حضرت علی اور حسنین کریمین کو پیش کیا مگر ابوبکر نے کہا کہ شوہر اور بیٹوں کی گواہیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

جواب_
باغ فدک مال فئی تھا اور اس کے مصارف قرآن میں ہیں۔ زیب ِ داستان کیلئے بڑی کہانیاں بنائی گئی ہیں۔ کیا رسول اللہ ۖ قرآن کے منافی مال فئی اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے؟۔ میں نے پہلی مرتبہ پڑھا کہ حضرت فاطمہ نے حضرت علی اور اپنے صاحبزادوں کو گواہی کیلئے پیش کیا تھا۔ ملکوک اور انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنے بیٹے ، بٹیوں اور دامادوں کو نوازتے ہیں جبکہ رسول ۖ نے اپنی بیٹی کو تسبیح فاطمہ عطاء کرکے امت مسلمہ کو قیامت تک اذکار سے نوازا تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ باغِ فدک کوئی موروثی جائیداد نہیں تھی ، اس مالِ فئی میں فقراء ومساکین ، عامة المسلمین مہاجرین وانصار کا بھی حصہ تھا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی ۖ نے اتنی بڑی جائیداد اپنی بیٹی کو تحفے میں عطاء کی ہو اور وہ بھی غریب اور مساکین کا مال؟۔ اگر بالفرض ایسا ہوجاتا تو کیا دنیا میں اس کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جاتا؟ نبی ۖ نے صدقات کو بھی اپنے اقرباء پر حرام کردیا تھا۔ شیعہ حضرات صرف اور صرف اس بات کا بتنگڑ بنانے پر تل جاتے ہیں جس میں صحابہ کی طرف سے اہل بیت کی حق تلفی کا پہلو نظر آتا ہو اور اس میں تمام حقائق کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں۔ اہل بیت کو اللہ نے دنیا نہیں آخرت کیلئے چن لیا تھا۔

سوال نمبر5:_
سورہ تحریم میں آیت نمبر 5میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ۖ سے فرمایا کہ ازواج مطہرات سے بہتر زوجہ دے سکتا ہوں اور سورہ تحریم آیت نمبر 10میں حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کی مثال بھی دی ہے۔ آیت نمبر10اور 11حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے لئے آئی ہیں۔

جواب_
بطور تنبیہ بہت معاملات انبیاء اور نبیۖ کیلئے آئے ہیں۔سورہ ٔ عبس میں کیانبیۖ کیلئے تنبیہ کے منطقی نتائج یہ نکالے جائیں کہ نعوذ باللہ آپ ۖ نے یہ معمول بنایا تھا کہ سرداروں کی بے رغبتی کے باوجود انکی طرف توجہ فرماتے تھے اور غریب غرباء اور نابینا کی طرف سے دلچسپی رکھنے کے باوجود انکی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے؟۔ کسی واقعہ سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنے من چاہے مقاصد حاصل کرنا کوئی اخلاقی اور شرعی تقاضہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کرتے ہوئے توبہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ اگربدر کے قیدیوں پر میدان جہاد سے فدیہ لینے تک کا سارا معاملہ واضح ہو اور اس پر گرفت نہ کی جائے تو سورۂ تحریم کے واقعہ پر کیوں کر گرفت کی جاسکتی ہے؟۔ بدر کے میدان میں مسلمان اسلئے نہیں اترے تھے کہ جہاد کریں بلکہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش کا مال بردار قافلہ مقصد تھا۔ پھر اس قافلے کے تحفظ کیلئے آنے والوں سے اللہ نے سابقہ ڈال دیا۔ اللہ نے پورا پسِ منظر بیان کیا کہ کیسے اللہ نے دونوں لشکروں کو لڑادیا۔ پہلے دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کو کم کرکے دکھایا ۔ اگر اللہ ایسا نہ کرتا توبقیہ صفحہ نمبر3نمبر1پر

بقیہ شیعہ فرمان علی کے سوالات اور جواب
دونوں لڑنے سے گریز کرتے۔ پھر جب اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کو جیت عطاء کردی تو فدیہ لیکر اپنے اقارب کو چھوڑنے کا فیصلہ کیاگیا۔ جن کا مشورہ نبیۖ نے مان لیا۔ اسی پر وحی نازل ہوئی کہ ماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدین عرض الدنیا واللہ یریدالاٰخرة ” نبی کیلئے مناسب نہیں تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرة چاہتا ہے”۔ اگر یہ آیات نہ اترتیں تو مسلمان لوٹ مار اوراغواء برائے تاوان کو اسلامی احکام کا تقاضہ سمجھتے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ الزام لگادیا جائے کہ ان کا کام لوٹ مار اور اغواء برائے تاوان تھا۔ اسلام دشمن عناصرکے الزامات کا جواب ہم پرلازم ہے۔
جب مشرکینِ مکہ دشنمانِ اسلام نے مسلمانوںکے اموال اور جائیدادوں پر قبضہ کیاتھا ، خا نہ کعبہ کی زیارت حج وعمرے سے روکا تھا تو مسلمانوں کا یہ اقدام بھی معمول کے مطابق درست تھا۔ کئی گنا بڑے لشکر سے جنگ کے مقابلے میں مالدار قافلے کو لوٹنا یقینا زیادہ آسان ہدف اور ترجیح تھا۔اللہ تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ قافلہ لوٹا جائے،ان کا سامنادشمن کے بڑے لشکر سے کرادیا۔ پھر جب فتح دیدی اورمسلمانوں نے مشاورت سے فدیہ لیکرچھوڑنے کا فیصلہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ کے فیصلے کونامناسب اورمسلمانوں کے مشورے کو دنیا چاہنے سے تعبیر کرکے واضح کردیاکہ اللہ تم سے آخرت چاہتاہے۔ اگراللہ پہلے سے لکھ نہیںچکا ہوتا توتمہیںدردناک عذاب کامزہ چکھا دیتا۔
نبی ۖ نے فرمایاکہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھایا اور اگر یہ نازل ہوجاتا تو عمر اور سعد کے سواء سب کو لپیٹ میں لے لیتا۔حضرت عمرنے مشورہ دیا تھا کہ جوجس کا قریبی رشتہ دارہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کو قتل کردے۔حضرت سعد نے ان کی تائید کی تھی ۔ حضرت علیاپنے چچا عباس کو گرفتارکرنے کے بجائے قتل بھی کرسکتے تھے۔ اسی طرح دیگر صحابہ کے بھی اپنے قریبی رشتہ داران دشمنوں میں موجود تھے۔ اور یہ فطری بات ہے کہ قریبی رشتہ داروںکو قتل کردیناآسان کام نہیںہوسکتاہے۔مہاجرین نے اپنے وطن اور عزیز واقارب کوچھوڑ دیا تھا۔
حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی اولین مسلمانوںمیںسے تھیں ۔ نبوت سے قبل نبیۖ نے آپکا رشتہ بھی حضرت ابوطالب سے مانگا تھا۔لیکن ان کا رشتہ ایک مشرک سے حضرت ابوطالب نے طے کیا تھا۔معراج کا واقعہ ام ہانی کے گھرمیں پیش آیا تھا۔حضرت ام ہانی نے مشورہ دیا تھا کہ اس کو لوگوں میں عام کرنے سے گریزکریں ورنہ ساتھیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔حضرت ابوبکر نے زبردست انداز میںنہ صرف واقعہ معراج کی تصدیق کی تھی بلکہ تمام معاملات میںآگے آگے تھے۔ ابوطالب کواندیشہ تھا کہ نبیۖ کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں اسلئے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ نہیںدیا لیکن مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوگئے تو ابوبکرصدیق نے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ دے دیا تھا۔ام ہانی نے اپنے شوہر اور بچوں کی خاطرہجرت کرنے کے حکم پربھی عمل نہیں کیااور ابوبکرنے اپنی بیوی بچوںکو چھوڑکر نبیۖ کیساتھ ہجرت کی تھی۔
دنیا کی چاہت صرف مال وولت نہیں ہے۔عزیز واقارب اور اپنے وطن کی بھی قربانی دینا بڑی بات ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کے ان نفوس قدسیہ کا تزکیہ جس طرح کیا گیا تھاہم اپنے ماحول میں یہ سوچ صرف اس وقت رکھ سکتے ہیں جب فرقہ واریت کے ماحول سے دور ہم پرکچھ اس طرح کے مراحل سے گزریں۔اللہ نے وحی کے ذریعے انکا جس ماحول میںجس طرح کا تزکیہ فرمایا تھا وہ کمال کی بات تھی اور ہم اسکے غلط منطقی نتائج نکال کراپنی تباہی کے علاوہ کچھ اورنہیں کرسکتے ہیں اور ان سے حسن ظن رکھنا ہی ہمارے ایمان کی سلامتی کیلئے ضروری ہے۔
ہمارا گمان یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ نبیۖ کے اقارب کاخیال رکھ کر معاف کرنے کا مشورہ دیا اور اللہ نے اسی کو دنیا کی طلب قرار دیا ۔ اگر اس وقت حضرت عباسقتل کردیے جاتے تو بنی امیہ کے بعد ان کی اولادکواسلئے اقتدار سپرد نہیں کیا جاتا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیںکیا تھا اور عباسنے اسلام قبول کیا تھااسلئے علی کی اولاداہل بیت سادات سے زیادہ عباس کی اولاداقتدارکی مستحق ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن نبیۖ نے روک دیا۔ حالانکہ اس میں بہنوئی کا کوئی بھی قصورنہیں تھا۔کیا اس واقعہ کی بنیاد پرحضرت علی کے خلاف مہم جوئی کیجائے؟۔
حضرت ابوبکر نے اپنے لئے کتنا وظیفہ مقرر کیا پھر اس میںبھی کٹوتی کی؟۔ حضرت عمرنے اپنے بیٹے کوزناکی حد میںکوڑوں سے مروادیااور مرنے کے بعد بھی کوڑے پورے کروادئیے۔اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے کوخلافت کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔ حضرت عثمان نے ہمیشہ اپنا مال اسلام اورمسلمانوں پر قربان کیا اسلئے بھونڈے الزامات اور بدظنی کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے۔ آیت میں حضرت عمر اورحضرت سعد کے علاوہ تمام صحابہشامل تھے اور نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا گیا ہے۔جس کی درست تفسیر کی ضرورت ہے۔
قرآن نے ایک طرف صحابہ کرام کا تزکیہ کرنا تھا، دوسری طرف جمہور کے فیصلے کی توثیق کرکے یہ واضح کرنا تھاکہ اقلیت کی رائے کی بھی تحقیر نہیں تعظیم ہونی چاہیے اور تیسری طرف یہ رہنمائی مقصودتھی کہ اولی الامر کی حیثیت سے نبیۖ باہمی مشاورت اور اکثریت سے فیصلہ کریں تو بھی اس پر مثبت تنقید کرنے کی بھی گنجائش ہے اور قیامت تک جب وحی کا سلسلہ بند رہے گا توکسی کو مطلق العنان ڈکٹیٹر اورمعصوم عن الخطا ء والاصلاح امام بنانے کی گنجائش ہر گز نہیں ہے۔
بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کامعاملہ برقرار کھا گیا، تاکہ اولی الامرکے کسی بھی فیصلے کونامناسب سجھنے کے باوجوداس میں خلل ڈالنے کا راستہ بھی قطعی طور پر رُک جائے،ورنہ نظام مملکت نہیںچل سکے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میںجہاں تزکیہ کے راستے کھولے، وہاں حکمت ودانائی کاسبق بھی سکھادیا۔ مشرکینِ مکہ نبیۖ کی رحمت للعالمین ذات کو سمجھتے تھے اور اللہ نے ان کو یہ بتانا تھاکہ فدیہ سے حوصلہ پانے کا معاملہ غلط ہے۔ ان آیات کے بعد دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کی اس اُمید کیساتھ ہمت نہ کرناکہ پھر فدیہ سے جان چھوٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کومخاطب کرکے جاہل دشمن کے دماغ کوٹھیک کرناچاہتاتھا۔قرآن کی بہت ساری آیات اس پر واضح دلیل ہیں۔
اگر ان آیات سے نبیۖ اور اکابرصحابہ کرامکی تنقیص شروع کی جائے تو اس کے نتائج ناانصافی اورگمراہی کے سواء اورکیانکلیں گے؟۔جب اہل تشیع تھوڑا مثبت سوچنا شروع کریں گے تودنیا اور آخرت میں بہت اچھے نتائج پائیںگے۔ حضرت علیکی حیثیت کسی سے کم نہ تھی۔قرآن وسنت کے مطابق بہت سے معالات پر آپ کے درست تحفظات تھے لیکن آپ نے اہل اقتدارکا ساتھ دیا۔ منافقت اورمجبوری نہیںبلکہ دل وجان سے خلافت کا ساتھ دیا تھا لیکن کچھ یارلوگوں نے ایسی داستانیں گھڑ دیں کہ ائمہ اہلبیت کی شخصیتوں کو بھی مسخ کرکے رکھ دیا گیا ۔ حضرت علی کی سیرت مشعل راہ ہے جس نے اپنی جگہ بڑا اہم کردار اداکیا۔ کیاکوئی کہہ سکتا ہے کہ مغل دورمیںاونگزیب عالمگیر سے کوئی اچھا آدمی نہ تھا؟۔ ایران، پاکستان، افغانستان،سعودی عرب اوردنیا بھرکے ممالک میںکوئی حکمران اپنے تمام رعایاسے اچھا ہے؟۔حضرت یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے بادشاہ سے افضل ، زیادہ باصلاحیت اور ہر اعتبار سے اچھے تھے لیکن خزانے کی وزارت سے اس ملک اور قوم کی تقدیر بدل دی۔ علامہ سید جواد نقوی ایک کٹر شیعہ عالمِ دین ہیں اور ان کی بہت زبردست مثبت سوچ سے انقلاب آسکتا ہے۔

سوال نمبر6:_
حضرت محمد ۖ کی ایک ہی بیٹی تھی حضرت فاطمہ علیہ السلام ورنہ مباہلہ میں باقی 3بیٹیوں کو بھی لاتے۔

جواب_
کیا حضرت علی اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے؟۔ عقیل اورجعفر پھرعلی کے بھائی نہیںتھے؟اسلئے کہ مباہلے میںان کو شامل نہیںکیا گیا۔ قرآن میں واضح ہے کہ قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین لیکن آیت مباہلہ میں ابنائنا ونسائنا وانفسنا کا ذکر ہے ، بنتک ایک بیٹی کا ذکر نہیں۔ مباہلے میں قربانی کا چیلنج ہے اور ابراہیم کی اسماعیل کے علاوہ بھی اولاد تھی ۔بنواسرائیل کے مقابلے میں بنو اسماعیل کوآزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ان کے علاوہ بھی کسی کو پیش کیا جاتا تو عیسائیوں ہی کی ہار ہوتی اور مسلمان بہر صورت جیت جاتے۔

سوال نمبر7:_
حضرت عثمان نے مروان کو چیف ایڈوائزر بنادیا تھا اور اس کو باغ فدک بھی دے دیا تھا۔ اور جتنی زکوٰة اور خمس جمع ہوتا تھا وہ بھی وہ لے جاتا تھا اور نبی ۖ نے اس کو اس کے باپ کو مکہ اور مدینہ سے باہر نکال دیا تھا۔

جواب_
ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ایک سچا پکا صحابی بن گیاتھا تواس کا راستہ نبیۖ نے روکاتھا؟ ۔ وحشی نے امیرحمزہ کو شہید اورہندنے ان کاکلیجہ چباڈالاتھاتوان پر کوئی پابندی لگادی گئی تھی کہ اسلام قبول نہیں کرنا ؟۔اپنی سوچ ٹھیک کرلیتے۔ حضرت عمربن عبدالعزیزاسی مروان کے پوتے تھے جن کی اہل تشیع اوراہل سنت تعریف کرتے ہیں۔اگرموجودہ دورکے شیعہ ماتمی جلوس سے دست بردارنہیںہوسکتے ہیں جن میںعوام کیلئے زنجیر زنی اور ذاکرین کیلئے کمائی کے علاوہ کچھ نہیںہے تو وہ حضرت علی،حضرت حسن اور حضرت حسین کی موجودگی میں دین کی پامالی پرکیسے یقین کرلیتے ہیں؟۔حالانکہ حضرت عثمان نامعلوم افرادکے ہاتھوں یرغمال بناکر شہیدبھی کئے گئے؟۔کیا نعوذ باللہ اہل بیت صرف فتوحات کی مراعات کھانے کیلئے بیٹھے تھے؟۔ دشمنوں کے کھلے حملوں سے زیادہ دوستوں کے رقیق حملے خطرناک ہوتے ہیں۔اہل تشیع مسخ شدہ تاریخی روایات کا یقین کرکے اہل بیت کی کردار کشی کرنے والوں کو انکے دشمنوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

سوال نمبر8:_
قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ آپ ۖ اپنے کام مشورہ سے کیا کریں تو کیا نبی ۖ کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحابہ کے مشورہ پر عمل بھی کریں۔

جواب_
نہیں بالکل بھی نہیں۔ صلح حدیبیہ میں صحابہ کے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا اور اس میں حضرت علی کی طرف سے رسول اللہ کے لفظ کو کاٹنے کاانکار بھی شامل تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قراردے دیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو حضرت علی نے طلاق دینے کا مشورہ دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی اس کے برعکس نازل ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ ”اگر تم اچھا گمان رکھتے اور کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے”۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضرت علی پر العیاذ باللہ بہتان لگانا شروع کردیں کہ اس مشکل وقت میں منشاء الٰہی کے خلاف مشورہ دیکر صحابیت سے خارج ہوگئے۔غلطیوں کی اصلاح بنی آدم کی کمزوری نہیں ان کی طاقت ہے۔ جس بات سے اللہ نے جنت میں منع کیا تھا تو اس کی خلاف ورزی ہوئی لیکن حضرت آدم کی عزت وشرف میں اضافہ ہوگیا۔ جب نبی کریمۖ نے صحابہ کی مشاورت پر بدری قیدیوں سے فدیہ لینے پر فیصلہ فرمایا تو اس کو نامناسب قرار دیکر اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو تقلیدکے دنگل سے نکالا تھا۔البتہ اس کا منطقی نتیجہ نکال کر رسولۖپرالزام تراشی بھی جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر9:_
صحابہ جنگ اُحد میں نبی ۖ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور جگہ بھی چھوڑ دی اور اپنے سر منڈوانے سے بھی انکار کیا یہ کیسے صحابہ تھے۔

جواب_
اگر جنت سے نکالے جانے سے لیکر ہجرت کرنے تک ایک ایک چیز کو منفی انداز میں دیکھیں اور یہ کہنا شروع کریں کہ رسول اللہ ۖ اپنے نام سے رسول اللہ کے لفظ کوکاٹنے کا حکم دے رہے تھے اورعلی نے انکار پر اصرار کیا اور اس تضاد سے اسلام کو باطل کہنا شروع کریں تو کیا نتائج نکلیں گے؟۔ مثبت سوچیں۔

سوال نمبر10:_
حضرت عائشہ حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے پر آگئیں۔

جواب_
حضرت عثمان کی شہادت پر قرآن میں بیعت رضوان بہت پہلے سے لی گئی تھی اور اس کی پاسداری کا حکم بھی دیا گیا تھا۔جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تھا تو اس میں بھی قرآن نے حضرت عائشہ کی برأت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی پر بہتان طرازی کی جائے۔ جس طرح حالات کے گھمبیر ہونے کی وجہ سے حضرت عائشہ کے خلاف محاذ کھڑا کرنے پر منافقین اور مخلصین کے درمیان فرق وامتیاز ضروری ہے ، حالانکہ مخلص لوگ بھی بہت غلط استعمال ہوگئے تھے تو بعد کے ادوار کی لڑائی پر بھی اپنی حدود سے نکل کر سوچنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام ، قرآن وسنت کے مزاج کوسمجھنا چاہیے۔جبکہ قرآن نے آپس میں لڑائی پر صلح کاحکم فرمایا اور واقعہ افک کی مذمت کی۔

سوال نمبر11:_
حضرت حسین علیہ السلام کا ساتھ کسی صحابی نے کیوں نہیں دیا؟۔

جواب_
لڑائی کا میدان اس معیار کانہیں تھا۔اکابر صحابہ جانتے تھے کہ جن لوگوں نے کوفہ میں حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ شیعان علی خوارج بن گئے۔ جوصرف اور صرف اسلئے بگڑ گئے کہ حضرت علی نے ایک شخص کو اختیار کیوں دیا۔ حضرت حسن نے اختیار سے بڑھ کر اپنے شیعوں سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے حکومت بھی سپرد کردی تھی۔ پھرشیعان حسین پرکوفہ میں کیسے اعتماد کیا جاسکتا تھا؟۔ اکابر صحابہ نے حضرت حسین کو ٹھیک مشورہ دیا تھا اورجب حضرت حسین گھیرے میں آگئے تو پھر کوفہ کی طرف جانے کا خیال بھی دل سے نکال دیا تھا۔ یزید نے خوف سے مکہ اور مدینہ کے اندر صحابہ کیساتھ بھی کوئی رعایت نہیں رکھی تھی۔ اہل تشیع کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جب حضرت علی، حسن اور حضرت حسین کیساتھ کوفی شیعوں کا برتاؤ درست نہیں تھا تو نبیۖ کے صحابہ پر بھی بدگمانی کرنے لگے۔ آدمی جیسے خود ہوتا ہے وہ دوسروں پروہی گمان رکھتا ہے۔

سوال نمبر12:_
معاویہ کو آپ رضی اللہ کہتے ہیں اس نے مولا علی سے جنگ کی اور یزید کو مسلط کیا اور اہل بیت کو گالیاں دلوائیں۔

جواب_
ہم تو حضرت سعد بن عبادہ کو بھی ایک جلیل القدر صحابی مانتے ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور مہاجرین کے خلاف مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور وہ ان کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت معاویہ کو حضرت حسن نے مسلط کیا تھا اور نبیۖ نے صلح حدیبیہ کیا تھا تو کہاں کہاں تک بات پہنچے گی؟۔

سوال نمبر13:_
حدیث میں آتا ہے کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت۔ اب ہم 11اماموں سے ہدایت نہیں لیتے ان کے بغیر قرآن سمجھ نہیں آسکتا۔ ان کی تعلیمات ہی ہم کو قرآن سمجھا سکتی ہیں مگر اس پر بالکل عمل نہیں ہورہا۔

جواب_
بارہویں امام ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ غائب ہیں؟ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںپھر قرآن پر عمل نہ کرنیکی ذمہ داری کس کے سر ہے؟

سوال نمبر14:_
حضرت عمر نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کے گھر کو آگ لگادی تھی حدیث میں ہے یہ حکم حضرت ابوبکر نے دیا تھا وہ کہتے ہیں کاش میں یہ کام نہ کرتا یہ سنی کتابوں میں موجود ہے۔

جواب_
کیا حضرت علی نے نبیۖ کی ایک بیٹی کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا تھا؟۔ میں ایسی بزدلی پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ اگر ابوسفیان جیسے لوگ حضرت ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے کیلئے وہاں آتے جاتے ہوں اور حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی ہو تو یہ الگ بات ہے۔آج کے دور میں ویڈیو کے بھی ہوتے ہوئے کتنے غلط پروپیگنڈے چلتے رہتے ہیں۔ شیعہ کے خلاف کیا نہیں ہے؟۔

سوال نمبر15:_
حضرت حسن علیہ السلام کو معاویہ نے زہر دے کر شہید کروادیا اور حضرت عائشہ نے حضرت حسن علیہ السلام کو نبی ۖ کے پہلو میں دفن ہونے نہ دیا اور حضرت عائشہ کے حکم سے مروان ابن حکم نے جنازے پر تیروں کی بارش کروادی۔ جس کی وجہ سے وہ وہاں دفن نہیں ہوسکے۔

جواب_
کہانیاں چھوڑدیں،آئیں انقلاب لائیںاورپھر مجھے وہاں دفن کردیں۔ یہ منفی سوچ ائمہ اہلبیت کے شیعوں نے رکھی تو آخری امام کو حضرت خضر کی طرح منظر عام سے غائب ہونا پڑا اور ایرانی انقلاب کے بعد بھی منظرِ عام پر نہ آئے۔ آنے والے بارہ اماموں کا تصور شیعہ سنی دونوں کی روایات میں موجود ہے جن کو اقتدار بھی ملے گا۔ یہ سلسلہ درمیانہ زمانے کے مہدی سے شروع ہونا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

بولTvپر ڈاکٹر فضانے حلالہ و متعہ کے موضوع پرشیعہ سنی علماء کا پروگرام کیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی دیوبندی بریلوی علماء کے نزدیک حلالہ کا تصور ہے اور متعہ حرام ہے۔ شیعہ کے نزدیک متعہ کا تصور ہے اور حلالہ کامروجہ تصور نہیں ہے۔شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی نے کہا کہ حلالہ اور متعہ کو مکس نہیں کریں،یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ متعہ ایک وقتی نکاح ہے جس میں نکاح کے تمام شرائط ہیں ، بس یہ فرق ہے کہ مستقل نکاح عمر بھر کیلئے ہوتا ہے اور متعہ ایک مخصوص وقت کیلئے ہوتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں مسیار کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔
مفتی ولی مظفر نے کہا کہ سعودی عرب میں مسیار اس نکاح کو کہتے ہیں جس میں عورت کو شوہر کے گھر میں جانا نہیں پڑتا ہے ، بعض عورتیں خود کفیل رہنا چاہتی ہیں اور وہ شوہر سے اپنے گھر میں تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں، شوہر کے گھر نہیں جانا چاہتی ہیں،باقی وہ عام نکاح سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ متعہ ایک الگ چیز ہے۔
ایک دوسرے عالمِ دین نے کہا کہ ” اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس ہمارے نزدیک متعہ پہلے جائز تھا، پھر فتح خیبر کے موقع پر اس کو حرام کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں یہ روایت ہے ۔یہ ہماری دلیل ہے۔
حلالہ متعہ نہیں بلکہ مستقل نکاح ہے ، جب تک شوہر اپنی مرضی سے بیوی کو چھوڑ نہیں دیتا ہے یا وہ فوت نہیں ہوجاتا ہے تو یہ اس کی بیوی رہتی ہے۔
حلالہ اور متعہ دونوں ایسے موضوع ہیں جن پر اینکر پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ نکاح، خلع،طلاق، رجوع، حلالہ اور متعہ کے الگ الگ تصورات کو پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ان موضوعات پرٹی وی اینکر پرسن کو پروگرام کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام سے پہلے علماء کرام کو بھی مکمل تیاری کیساتھ آنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اگر تیاری نہ ہو تو پھر جھوٹ اور حقائق کے منافی بات کرنے پر مجبور ہونگے اور تیاری کرنے کے بعد شاید وہ اپنا مؤقف بھی بدل ڈالیں اسلئے کہ جن گھمبیر مسائل کا ذکر کتابوں میں رائج ہے،اگر اسکے بھیانک نتائج سے آگاہ ہونگے تو کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرنے پر مجبور ہونگے۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط موجود ہے لیکن بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام بھی اس کے بھیانک نتائج سے قطعی طورپر آگاہ نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ سے پہلے مجھے اتفاق سے دارالعلوم کراچی میں داخلہ ملا تھا۔میں نے اسٹیل مل کراچی ایشین کمپنی میں ایک ویلڈر مستقیم کیساتھ ہیلپری کا کام کیا۔ مستقیم نے مجھے دارالعلوم کراچی میں پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جہاں نوکری اور دینی تعلیم دونوں ساتھ ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے دارالعلوم کراچی حفظِ قرآن کی کلاس میں داخلہ مل گیااور چار گھنٹے کی آدھی دیہاڑی پر ماچس فیکٹری میں کام بھی مل گیا۔ اسٹیل مل میں19روپے دیہاڑی تھی اور ماچس فیکٹری میں26روپے دیہاڑی تھی۔ چار گھنٹے میں13روپے پر مجھے بہت آسانی اور خوشی تھی۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ نے کہا کہ جب سب کچھ قیام وطعام مدرسے کی طرف سے ملتا ہے تو مشقت اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میںنے عرض کیا کہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اپنی کمائی کرکے اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو میرا اپنا خرچہ اٹھانے میں کیا حرج ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہاںمفت میں سب کچھ ملتا ہے اور وہاں نہیں ملتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں سید ہوں ، میرے لئے زکوٰة جائز نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس میں اتنے سارے سادات گزرے ہیں انہوں نے تو کبھی زکوٰة کی وجہ سے مدرسے کا کھانا نہیں چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا ان کی وجہ سے میرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ،زکوٰة تو آپ کیلئے جائز نہیں۔ پھران کے تعجب کومزید بڑھانے کیلئے میں نے حدیث دکھائی کہ نبیۖ نے ایک صحابی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ قرآن سکھانے کے بعد اس کی طرف سے ڈھال کو کیوں قبول کیا ہے، یہ جہنم کی آگ کا طوق بنے گا۔ انبیاء کرام میں کسی نے بھی تبلیغ پر اجرت نہیں لی اور نہ یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں قرآن اور نمازپڑھاؤں گا لیکن اس پر اجرت نہیں لوں گا۔ میری رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو پہنچادی گئی تومجھے بلاکر مدرسہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا کہ آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے۔
پھر جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی گیا لیکن وہاں معلوم ہوا کہ داخلے بندہیں۔ وہاں سے واٹرپمپ دارالعلوم الاسلامیہ فیڈرل بی ایریا بھیج دیا گیا۔ جہاں میں نے عبوری دور میں کچھ حفظ وناظرہ اور قرأت وتجوید کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے رمضان میںدرسِ قرآن کے دوران یہ سنا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ” قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا ہے کیونکہ قرآن تحریری شکل میں اللہ کا کلام نہیں ہے، البتہ اگر زبان سے یہ کہہ دیا کہ قرآن یا اللہ کی کتاب کی قسم تو پھر اس حلف کا کفارہ دینا پڑے گا”۔ پھر شوال میں جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ مل گیا تو سرِ راہ ہمارے استاذ جو اس وقت میرے استاذ نہ تھے مفتی عبدالسمیع نے ایک صیغہ پوچھا، پہلا سال تھا، ہم علم الصرف پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ماضی کا ایک صیغہ ہے ضربتما،اس کو دومرتبہ کیوں لکھا گیا ہے؟۔ وہ جواب دیتا تھا اور میں اس کوغلط قرار دیتا۔ آخر کار اس نے قرآن کا مصحف منگواکر پوچھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یہ نقشِ کلام ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے،اسلئے کہ قرآن کی قرآنیت کا انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ پھر تو مولانا یوسف لدھیانوی بھی کافر ہوگئے اسلئے کہ ان سے میں نے سنا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں نقش کلام ہے اور اس پر حلف بھی نہیں ہوتا۔ پھر مفتی عبدالسمیع نے مجھے خوب برا بھلا بول دیا کہ تم افغانی سب کچھ پڑھ کرآتے ہو اور تمہارا مقصد ہی ہمیں ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب دادو کے سندھی تھے۔ پھر جب میں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب میں یہ دیکھا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے توجامعہ بنوری نیوٹاؤن سے اسکے خلاف فتویٰ لیکردونوں کو شائع کردیا تھا۔
اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے دباؤ میں آکر وضاحت کرلی کہ میں نے اپنی کتابوں ”فقہی مقالات جلد چہارم اور تکملہ فتح الملہم” سے اس مسئلے کو نکال دیا ہے۔ روزنامہ اسلام میں پہلے پورا مضمون شائع کیا اور پھر اشتہار دیا کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔ پھر ضرب مؤمن کے ایک ہی شمارے میں دونوں باتیں وضاحتی بیان جس میں شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا کہ مجھے اس طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے صرف نقل کیا ہے مگرمیرایہ مسلک و عقیدہ نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔
ان دنوں میں مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآن وسنت کی تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ کی رکنیت سے بھی اس خوف کے مارے استعفیٰ دیدیا تھا کہ کہیں عرب علماء پوچھ گچھ نہ کرلیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر والے ان کے پیچھے پڑگئے تھے لیکن پھر ہم نے بریلوی علماء کے فتوے بھی شائع کردئیے جس سے مفتی محمد تقی عثمانی نے اس عذاب سے چھٹکارا پالیا تھا۔ ضرب حق کے پبلشر اجمل ملک نے مفتی محمدتقی عثمانی کو اخبار کیلئے انٹرویو کا کہا تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ” مجھے کم گالیاں کھلائی ہیں، جس پر تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک صاحب نے کہا کہ ہم نے تو تمہاری جان بریلوی مکتب سے چھڑائی ہے، جس پر اس نے سکوت اختیار کیا۔
فتاویٰ شامیہ، فتاویٰ قاضی خان اوروزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس ” میں سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کے مسئلے کو ٹھیک قرار دیا ہے اور مولانا الیاس گھمن کا ایک کلپ بھی موجود ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ علماء ومفتیان اپنی جہالت کو سمجھ بھی نہیں رہے ہیں کہ وہ کونسی جہالت ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے فقہاء نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا۔ جب اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے کہ” المکتوب فی المصاحف (جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے) لیکن لکھے ہوئے سے لکھا ہوا مراد نہیں ہے کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو اللہ کا کلام نہیں ہے”۔ تو پھر جب لکھائی کی شکل میں قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانا جاتا ہے تو اس پر حلف بھی نہیں ہوگا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو پھر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
علماء ومفتیان کو اصول فقہ اور فقہ کے مسائل میں باہمی ربط کا بھی پتہ نہیں تھا اسلئے مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا اور پھر اپنی کتابوں سے اس کو نکال دیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا پہلا اختلاف مفتی رشید احمد لدھیانوی سے وقف شدہ مدرسہ میں ذاتی مکان خریدنے پر ہوا۔ پھر اس کا دوسرا اختلاف مفتی محمود سے جنرل ضیاء الحق کے دورمیں زکوٰة کی کٹوتی پر ہوا۔ پھر تیسرا اختلاف سود ی نظام کو اسلامی بینکاری قرار دینے پر مدارس بشمول مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے ہوا۔یہ بڑے زمینی حقائق ہیں۔
ڈاکٹر فضا نے بول ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام ” ایسا نہیں چلے گا” میں جن علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو دعوت دی تھی تو انہوں نے صفائی کیساتھ حقائق عوام کے سامنے لانے میں بڑے بخل سے کام لیا ۔جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا اصل مسئلہ بڑے علماء ومفتیان کو اصولِ فقہ اور فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط کیساتھ معلوم نہیں ہے اور نہ اس کے بھیانک نتائج سے آگاہ ہیں ،اسی طرح وہ نکاح، طلاق، خلع،رجوع، حلالہ اور متعہ کے موضوعات اور ان کے بھیانک نتائج سے بالکل آگاہ نہیں ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے کہا تھا کہ ” آپ مدارس کیلئے ایک نصابِ تعلیم تشکیل دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہی نصاب ہم مدارس میں پڑھائیںگے ”۔ لیکن جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق سے رجوع اور حلالہ کے خاتمے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کی طرف سے تحریری خط کے باوجود بھی آخر کار معذرت خواہی کا نتیجہ نکل آیا اور چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ” آپ علمی صلاحیت رکھتے ہیں اور علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں یہ مجھے مشکل سے اس منصب پر برداشت کررہے ہیں”۔
حلالہ اور متعہ کے موضوع پر ڈاکٹر فضا کے پروگرام میں علمی حقائق کا حق ادا نہیں ہوا ہے۔ محمد مالک نے ہم نیوز میں حلالہ کے موضوع پر قبلہ ایاز، علامہ طاہر اشرفی ، علامہ راغب نعیمی ، علامہ امین شہیدی اور ڈاکٹر ظہیر کو بات کرنے کا موقع دیا تھا لیکن جب تک فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود فقہی مواد اور مسائل کے بھیانک نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے جائیں گے اس وقت تک حقائق سے پردہ نہیں اُٹھ سکے گا۔ اس شمارے میں نکاح، طلاق، خلع، رجوع ، حلالہ اور متعہ کے حوالے سے بنیادی علمی حقائق اور اسکے نتائج ہمارے مدارس کے علماء اور طلباء کے سامنے بھی پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور ٹی وی چینل کے اینکر پرسنوں کو بھی یہ مواد پہنچاتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے رہنماؤں کو ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اسلام پر چلنے میں اور اپنا نظام تشکیل دینے میں بہت آسانی ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلام کا حال مسالک اور فرقہ واریت کے نام پر علماء ومفتیان اور علامہ صاحبان نے اس سے بھی بدتر بنایا ہے کہ جو مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنے بیانیہ کیلئے وکیلوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے ذریعے سے پوری ریاست، حکومت، عدالت، سیاست اور قوم کا بنار کھا ہے۔جب مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں اپنا حال سدھار لیںگی تو الیکشن میں ان کو ووٹ بھی ملیںگے اور نوٹ بھی۔اسلام اور مسلمان جیتے گا۔ امریکہ کوان کے چھوڑے ہوئے خراب جہازوں سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔

نکاح پر علماء کے عجب مسائل_
عقدِ نکاح کے بارے میں سادہ لوح عوام ، نام نہاددانشوراور علماء و مفتیان بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں جانتے ہیں اور اس میںمدارس کے علماء سے لیکر جماعت اسلامی کے مولانا سید مودودی اور ان کی باقیات تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار اور جاوید احمد غامدی سب شامل ہیں۔
جن علماء کا تعلق دارالافتاء سے فتوے دینے کا ہوتا ہے وہ فقہی کتب کی تفصیل پر نظر رکھتے ہیں مگر جن کا تعلق قرآن یا احادیث یا عربی ادب، یا صرف ونحو سے ہوتا ہے وہ فقہی مسائل کی تفصیلات کو نہیں جانتے اور نہ ان سے کام رکھتے ہیں۔
قائدجمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے ایک بار میری دعوت پر علماء کے اجلاس میں آنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ” مجلس فقہی کے مولانا انور شاہ صاحب کے ذمے اس مسئلے کو رکھیںگے اور اگرانہوں نے ٹھیک قرار دیا تو پھر ہم سیاسی اعتبار سے اس پر غور کریںگے کہ مصلحت کس میں ہے؟”۔ پھر مولانافضل الرحمن نے میرے اصرار پر مولانا عطاء شاہ صاحب کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علماء کو بھی ٹانک سفید مسجد میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سرپرست اعلیٰ مولانا فتح خان کے ہاں آنے سے روک دیا تھا۔ اگر اس وقت عالمی اسلامی خلافت کے مسئلے پر علماء کرام کے درمیان بحث ہوتی تو آج برصغیر پاک وہند ، عراق وشام اور افغانستان کو داعش کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور جذباتی نوجوان اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دینے اور اپنی ریاستوں کو مشکلات میں ڈالنے کے مراحل میں نہ ہوتے۔ داعش اور خلافت کیلئے کام کرنیوالے طبقات پہلے اسلام کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دیں تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن۔
جب عورت کا اپنے شوہر سے نکاح ہوجاتا ہے تو اپنے اپنے رسم ورواج اور مسالک کے مطابق حقوق، معاملات اور مسائل چلتے رہتے ہیں لیکن جب کچھ معاملات پیش آتے ہیں اور میاں بیوی مدارس کے فتوؤں کا رخ کرتے ہیں تو یہ مسئلہ بڑا گھمبیر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک عورت کو اس کے شوہر نے کہا کہ3طلاق، اور پھر مکر گیا تو عورت اس پر حرام ہوگی اور حلالہ کے بغیر ان کا دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا ۔ اگر شوہر نے انکار کیا تب بھی شرعی اعتبار سے عورت اس پر حرام ہوگی لیکن شوہر سے عورت کو اپنی جان چھڑانے کیلئے دو گواہ لانے پڑیںگے۔ اگر اس کے پاس دو مردگواہ نہیں ہوئے اور نہ ایک مرد اور دو خواتین گواہ ہوئے تو شوہر کو عدالت میں قسم اٹھانی پڑے گی۔ اگر اس نے جھوٹی قسم کھالی تو عورت بدستوراس کے نکاح میں رہے گی۔ عورت کو اس حرامکاری سے بچنے کیلئے ہرقیمت پر خلع لینا ہوگا اور اگر شوہر کسی صورت بھی خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو وہ عورت شوہر کے نکاح میں رہے گی اور عورت کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ س اسے حرامکاری نہ ہو لیکن اگر شوہر اس کے ساتھ حرامکاری کرے تو عورت اس سے لذت نہ اٹھائے ورنہ پھر گناہگار ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ مسئلہ اپنی کتاب ” حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے اور دارالعلوم کراچی نے مزید حواشی وتزئین کیساتھ اس کو شائع کیا۔
اب بھی بریلوی دیوبندی مدارس میں اسی فقہی مسئلے پر میاں بیوی میں جھگڑا ہونے کی صورت میں یہی فتویٰ دیا جارہاہے۔ نکاح میں دوسرا گھمبیر مسئلہ حرمتِ مصاہرت کا ہے ، جس کی تفصیلات سے ہوش اُڑ جائیںگے، اصولِ فقہ کی کتب میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر شہوت کی نگاہ میں عذر ہے لیکن اگراندرونی حصے پر نظر پڑگئی اور اس میں شہوت آگئی تو شوہرپر بیوی حرام ہوجائے گی۔ درسِ نظامی کے نصاب میں پڑھائے جانیوالے ان مسائل کا اسلام سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ فقہاء کی اپنی ذاتی اختراعات ہیں۔

خلع پرعلماء کے عجیب مسائل_
ٹی وی کی اسکرینوں پر علماء و مفتیان اور نام نہاد جاہل دانشور جھوٹ بولتے ہیں کہ عورت کو اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک مرتبہ عدالتوں کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جہاں عورتوں کو خلع ملتا ہے اور کہا تھا کہ ”عورت اور عدالت کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے کہ عورت کو خلع دیا جائے۔ جب تک شوہر اپنی طرف سے راضی نہیں ہوتا ہے ،عورت کو اسلام میں خلع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب میں حد درجہ حماقت کی گئی ہے کہ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا ذکر جملہ معترضہ ہے یا پھر تیسری طلاق سے متصل ہے؟۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ جملہ معترضہ ہے اسلئے کہ خلع بھی ایک مستقل طلاق ہے اور پھر تیسری طلاق کی گنجائش نہیں رہے گی ۔اور دوسرا مؤقف یہ ہے کہ عربی قواعد کے لحاظ سے فدیہ کی صورت سے تیسری طلاق کو متصل ماننا ضروری ہے اسلئے خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ حنفی مؤقف کی وجہ سے علامہ تمنا عمادی نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھ دی تھی ، جس میں حنفی مسلک ، قرآن اور عربی قواعد سے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ طلاق صرف دو مرتبہ ہے اور حلالہ کا تعلق صرف خلع کیساتھ ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے احادیث کا انکار بھی کردیا تھا۔ لیکن یہ بنیاد ان کو حنفی مؤقف کے اصولِ فقہ اور درسِ نظامی سے ہی فراہم ہوئی تھی۔
علماء و مفتیان کے نصابِ تعلیم میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت229کا خلع سے کوئی تعلق نہیں بن سکتا ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق کے بعد اگر عدت میں رجوع کا فیصلہ باہمی رضامندی، اصلاح و معروف طریقے سے کرنے کے بجائے عورت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کو قرآن نے او تسریح باحسان اور حدیث نے تیسری طلاق قرار دیا ہے تو پھر مسئلہ طلاق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” پھر تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے”۔ قرآن میں طلاق سے پہلے وضاحت ہے کہ دئیے ہوئے میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں اور پھر حدود پر قائم نہیں رہ سکنے کے خوف پر اس چیز کو واپس فدیہ کرنے کی بات ہے۔
خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت19میں ہے۔ جس کے ناجائز ٹکڑے بناکر علماء ومفتیان نے قرآن کی اس خبرکو سچ ثابت کیا ہے کہ ”ان سے پوچھا جائے گا کہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیوں کیا تھا؟”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے جانے سے روکو، کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے،اس میں بعض واپس لے لو مگر یہ جب کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور ان سے اچھا سلوک کرو اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں بری لگتی ہوں اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے”۔ (سورہ النساء آیت19)
علماء ترجمے میں تحریف نہیں کرسکے لیکن تفاسیر میں لکھ ڈالا کہ پہلے جملے میں عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھنے کے حکم سے مراد فوت شدگان کی وراثت سے ملنے والی خواتین ہیں اور دوسرے جملے میں اپنی بیگمات مراد ہیں۔ حالانکہ یہ ترجمہ وتفسیر کسی صورت میں ممکن بھی نہیں ہے۔ اللہ نے اس میں خلع کا حکم بیان کیا ہے اور پھر اگلی آیات20،21النساء میں طلاق کے احکام واضح کئے ہیں۔

خلع وطلاق پر علماء چت ہیں _
قرآن وسنت میں خلع وطلاق کا بالکل الگ الگ تصور ہے لیکن علماء نے اس کو بالکل مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ قرآن وسنت میں سورۂ بقرہ آیت229کا تعلق صرف طلاق ہی کیساتھ ہے۔ رسول اللہ ۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ آپۖ نے فرمایا کہ آیت229میں الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان (تیسری بار احسان کیساتھ چھوڑنا)تیسری طلاق ہے۔
مولانا سیدمودودی نے تفہیم القرآن میں آیت229کے ترجمے میں انتہائی غلطی کرکے عورت کی طرف سے فدیہ کو خلع میں معاوضہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنے بانی کی غلطی کا کھل کر اعتراف کرکے خلوص کا ثبوت دیدے۔
علماء ومفتیان اپنے نصابِ تعلیم میںغلطی کا کھلے عام اعتراف کرکے قرآن کو ترجیح دیں اور امت مسلمہ کیلئے گمراہی کی جگہ ہدایت کا راستہ ہموار کریں۔ ناسمجھی اور جہالت کی وجہ سے اللہ نے غلطیوں کو معاف قرار دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب مسئلہ یہاں تک پہنچے کہ عورت شوہر کیلئے حرام ہو لیکن شوہر خلع دینے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر بھی عورت حرامکاری پر مجبور ہو۔ کیا یہ بے حیائی اور بے غیرتی اسلام کا حکم ہوسکتاہے ؟ اور دنیا اس کو کس نظر سے دیکھے گی؟۔ عورت کی اس میں کس قدر حق تلفی ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیںتو کہتے ہیںکہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اس کو کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کے کام کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔بھلا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو، جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ (سورة الاعراف آیت:28)
اللہ تعالیٰ نے طلاق کے احکام یہ بیان کئے ہیں کہ عدت میں بھی باہمی رضا مندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور باہمی رضامندی کیساتھ عدت کی تکمیل پر بھی رجوع ہوسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان نے سارا معاملہ تلچھٹ کردیا ہے۔ اور حلالہ کی لعنت کیلئے قرآنی آیات اور احکام سے کھلم کھلا انحراف کا راستہ اپنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہ صرف خلع کا حق دیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے تمام منقولہ دی ہوئی چیزیں ساتھ لے جانے کی اجازت بھی دیدی ہے۔ البتہ عورت کو دی ہوئی غیر منقولہ اشیاء گھر، پلاٹ اورباغ وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ کپڑے،زیورات، نقدی، گاڑی اور تمام دی ہوئی منقولہ اشیاء میں سے بعض کو خلع کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا ہے لیکن اگر عورت کھلی فحاشی کی مرتکب ہو جائے تو پھر سب نہیں لیکن بعض چیزیں واپس لی جاسکتی ہیں۔ایک صحابیہ نے اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ” اسکادیاباغ واپس کرسکتی ہو؟”۔ اس نے عرض کیا کہ ” اور بھی بہت کچھ واپس کرسکتی ہوں”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اور کچھ نہیں”۔ وہ باغ واپس کیا گیا اور صحابی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔
قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ ” خلع کی صورت میں زبردستی سے مالک بن بیٹھنا غلط ہے اور اس کو جانے سے اسلئے مت روکو کہ اپنی طرف سے دی ہوئی بعض چیزیں ان سے واپس لے لو مگر یہ کہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوجائیں”۔ قرآن کے قانون میں زبردست توازن ہے ۔ صحیح حدیث ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ سعودی عرب میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت کے مطابق بنانے پر اتفاق ہے لیکن مدارس کے علماء کا قرآن وسنت پر اتفاق نہیں ہے۔ جاہل دانشور اسلام کے نام پر عوام کو مزید گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جب چھوڑرہی ہو تو پھر بھی اللہ نے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ بری لگتی ہوں تو بھی اس میں خیرکثیر کی نوید سنادی ہے۔ عورت واپس بھی آسکتی ہے لیکن زبردستی سے ساتھ رکھنے کے نقصانات سے بچت میں بھی خیر کثیر ہی ہے۔

میڈیا کوخلع کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھا! _ ایک ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ” اسلام میں عورت کے حقوق پر” ایک بڑی کتاب لکھی ہے۔ جس میں زمینی حقائق اور کتابی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ایک شخص نے40ہزار میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ اس شخص کو لواطت کی علت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ اس نے خلع دینے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے50ہزار میں خلع لینے کی بات رکھی تو اس شخص نے طلاق دیدی تھی”۔ اگر خلع کے اسلامی تصور کو ملیامیٹ کرکے علماء کے تصور کو اسلام قرار دیدیا جائے تو اس کو مرد حضرات اپنا کاروبار بھی بناسکتے ہیں اسلئے کہ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور وہ حق مہر سے زیادہ رقم وصول کرنے کا مطالبہ کریںگے جس میں عورتیں مجبور ہوکر ان کے مطالبات خلع میں بھی پوری کریں گی۔ عورت مارچ والوں نے اگر اسلام کی درست تعلیمات کو سمجھ لیا تو پوری دنیا کی خواتین ہمارے دین کو اپنے لئے سب سے بڑا ہتھیار قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گی۔ این جی اوز کیلئے کام کرکے پیسے بٹورنے والی خواتین نہیں چاہتی ہیں کہ یہ استحصالی نظام ختم ہو اسلئے کہ ان کا دانہ پانی بھی پھر بالکل ختم ہوجائیگا۔ مخلص علماء کرام اور مفتیان عظام اپنے مدارس اور مساجد سے اسلام کی درست تبلیغ شروع کریں تو تمام مذہبی، ریاستی، سیاسی ، قومی، علاقی، لسانی اور عالمی استحصالی طبقات سے چھٹکارا ملنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ یہ کوئی جیت نہیں ہے کہ نیٹو اور امریکہ مل کر افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کو ملیامیٹ کرکے چلے جائیں اور پھر کہیں کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے لیکن افغانیوں کو افغانیوں سے ہی لڑانے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس میں ہم ناکام ہوگئے ہیں اور افغانستان کے بہت سارے مالی اثاثے بھی منجمد کردیں کہ ہمارا حق ہے اور تم نااہل ہوگئے ہو۔ پاکستان کے مخلص علماء کرام ومفتیان عظام کو سب سے پہلے علمی بنیادوں پر ایک عالمگیر انقلاب کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور پھر افغانستان میں اس کو عملی جامہ بھی پہنانا ہوگا۔ طالبان زبردستی سے دین کے نفاذ کی جگہ ان مسائل کو اجاگر کرنا شروع کردیں جن سے خواتین کو ان کے حقوق مل جائیں تو مغرب میں بھی آواز اٹھے گی کہ خواتین کو افغانستان کی طرح حقوق دینے ہوں گے۔ جب میاں بیوی اکٹھے رہتے ہیں تو ایک قالب دو جان ہوتے ہیں مگر جب جدائی کا مسئلہ آتا ہے تو بیشمار طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر عورت کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کا حق مل جائے تو پھر شوہر بیگم پر مظالم کا تصور بھی چھوڑ دے گا۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شوہرو بیوی دونوں کو طلاق کا حق ہوتا ہے اور دونوں کی جائیداد بھی جدائی کے بعد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے لیکن اسلام نے حق مہر صرف مرد پر فرض کیا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو پھر آدھا حق مہر دینا فرض ہے۔ اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر فرض ہے اور جو کچھ بھی دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حرام ہے، چاہے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی اشیاء عورت سے واپس لینا حرام ہیں۔ رہائشی گھر بھی عورت ہی کا حق ہے لیکن خلع کی صورت میں عورت کو گھر اور غیرمنقولہ جائیداد سے دستبردار ہونے کی قرآن وسنت میں وضاحت ہے۔ اگر مغرب کو پتہ چل گیا کہ علماء ومفتیان ہی نے اسلام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اصل اسلام اس کے سامنے آجائے تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی نظام کی مخالفت کریں بلکہ مغرب بھی اسلام کے اصلی معاشرتی نظام اور خواتین کے حقوق پر افغانستان وپاکستان سے نہ صرف اتفاق کریگا بلکہ اس کو اپنائے گا بھی ۔ انشاء اللہ العزیز۔دیکھئے… بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ کالر دہشت گرد سر امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان، عراق، لیبیا، شام، پاکستان میں لاکھوں افراد کو قتل کیا

وائٹ کالر دہشتگرد امریکہ سر نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر لاکھوں کو لقمۂ اجل بنانے کے بعد وزیراعظم نیازی سے نیاز لینا ہے اور آرمی چیف جنرل باجوہ سے باجا بجوانا ہے، علتِ غلامی سے سرشارمیاں مٹھو شاہ محمود قریشی نے بتاناہے کہ ”یہ ہماری خدمات کا اعتراف ہے اسلئے امریکہ سلامی لینے ایک ماہ شرپسندوں کو رکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ انگریزکے ٹرینڈ وفادار غلام کتوں کی دُم ہلتی رہے گی!”

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کی دھمکی اور ہماری زبوں حالی
قل ھو القادر علیٰ ان یبعث علیکم عذابًا من فوقکم او من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعًا و یذیق بعضکم بأس بعض…
ترجمہ: ”کہہ دیجئے کہ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں بھڑادے مختلف گروہ کرکے اور چکھا دے لڑائی ایک دوسرے کی۔ دیکھ لو کہ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے جھٹلایا جس کو ، اور وہ حق ہے ، کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں ۔ ہر ایک غیبی خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے اور جب آپ دیکھیں ان لوگوں کو کہ ہماری آیات میں موشگافیاں کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تویاد آنے پر مت بیٹھو اس ظالم قوم کیساتھ۔ اور ان لوگوں پر ان کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو یاد دہانی کرانی ہے تاکہ وہ پرہیز کریں۔ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے دین کو لہو ولعب بنایا ہوا ہے اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالا ہے اور آپ نصیحت کریں قرآن کے ذریعے کہ کوئی اپنے کئے کی وجہ سے گرفتار نہ ہوجائے۔ نہ ہوگا ان کیلئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا۔ اگر بدلے میں دیں سارا کچھ تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے کے سبب ۔ ان کیلئے گرم پانی ہے اور دردناک عذاب جو وہ کفر کرتے تھے”۔
سورہ انعام :65سے70تک میں اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے لوگوں کیلئے بڑی سخت دھمکی لگائی ہے۔ خاص طور پر پیغمبروں اور نبی کریم ۖ کے دور والوں کیلئے۔ آج ہمیں بھی افغانستان ، عراق، شام، لیبیا اور دیگر ان ممالک کی طرح مشکلات کا سامنا نظر آرہا ہے کہ جب اپنے اندر استحکام سمجھنے والے مختلف طرح کے عذاب کا شکار ہوئے۔ تورا بورا پر خطرناک بم برسائے گئے اور عراق و لیبیا کا برا حال کیا گیا۔ آپس میں بھی گروہ در گروہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔
ان آیات میں قرآن کے مقابلے میں جن موشگافیوں کا ذکر ہے ہمارے علماء و مفتیان ، مدارس و مسالک اور فرقے اسی مرض کے بدترین شکار نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنادیا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں مبتلا کیا ہے۔ اہل کتاب کی طرح اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں بہت ساری فضول کی موشگافیوں میں مبتلا ہیں۔
اس شمارے میں قرآن کی واضح آیات کی زبردست نشاندہی کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ خطرناک حالات پیدا ہونے سے پہلے پہلے ہم قرآنی آیات اور احکام کے بارے میں فضول کی موشگافیاں چھوڑدیں گے اور حقائق کو دیکھ کر صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں گے۔ قرآن و احادیث میں ایک بڑے انقلاب کی زبردست خبر ہے ۔ جب ہم قرآن کی واضح آیات پر عمل پیرا ہوں گے تو نہ صرف ہماری مشکلات حل ہوں گی بلکہ قرآن کے ذریعے ہم مردہ قوم میں زندگی کی نئی روح دوڑجائے گی۔انشاء اللہ العزیز

_ طالبان کی جیت کابہت خیرمقدم_
طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی اور پھر امریکہ نے حملہ کرکے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں بہت بڑا جانی نقصان دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر کیا۔ تیل کے ذخائر قبضہ کئے اور اپنا مشن مکمل کرنے کیلئے افغان حکومت اور طالبان کو لڑنے کیلئے چھوڑ دیا تھامگر بقول امریکہ کے اس کو یہ توقع نہیں تھی کہ افغان حکومت خون خرابہ کئے بغیر اتنی جلدی افغانستان کو طالبان کے حوالے کردے گی۔ اشرف غنی کا لڑائی کے بغیر حکومت چھوڑنا اور طالبان کا افغان حکومت کیلئے معافی عام کا اعلان خوش آئند اور بہت زیادہ مبارک بادی کے لائق ہے۔ افغانوں کا اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنا طالبان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ جو کچھ ہوچکاہے وہ ہوچکا ہے ،اب تعمیر نو کی فکر سب کو مل بیٹھ کر کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
طالبان نے پہلے کہا کہ جہاں حکومت کی فوج خود ہتھیار ڈال رہی ہے اس جگہ کا ہم کنٹرول حاصل کررہے ہیں۔ پھر صوبائی دارالحکومتوں کو چھوڑ کر علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کردیا تھا۔ پھر ایک دم سے صوبائی دارالحکومتوں کے قبضے سے گھبراکر اشرف غنی نے اقتدار چھوڑ دیا۔ قندھار ، مزارشریف پر مزاحمت کا بھی اشرف غنی نے حق ادا کیا تھا لیکن طالبان کے طوفان کے آگے افغانستان کی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پرائی تنخواہ پر پلنے والی فوج اور نظریاتی لشکر میں جو فرق وامتیاز ہونا چاہیے وہی افغان فوج اور طالبان میں تھا۔
قیاس آرائیوں کا سب کو حق ہے لیکن افواہیں اُڑانے سے ملک وقوم کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ امریکہ اپنی سرزمین پر ہمارے آرمی چیف، وزیراعظم ، صدر، وزیرخارجہ اور کسی بھی سیاسی رہنما کو ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور ہم نے مہربانی کرکے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں کو انکے حوالے کیا ہے۔ البتہ اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ بڑی تعداد میں پاکستانی اور مسلمان امریکہ میں سچی اور جھوٹی سیاسی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ایف سولہ طیارے امریکہ سے خریدے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو زور آزمائی کا جواب دیا تھا۔
پہلے امریکہ 9/11کی وجہ سے پاگل ہوگیا تھا لیکن پھر بھی امریکہ میں بش کے بعد مسلمان حسین اوبامہ کا بیٹا بارک دومرتبہ امریکہ کا صدر بنا تھا۔ بڑابننے کیساتھ اللہ تعالیٰ دل بھی بڑا دیتا ہے۔ امریکہ نے انتہائی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بارک حسین اوبامہ کو دومرتبہ صدر بنایا لیکن ہم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ کسی پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے بیٹے کو قبول کرلیں۔ امریکہ نے بڑی بڑی وارداتیں کرکے دنیا میں اپنی امامت کا مقام کھو دیا ہے۔ پاکستان، ایران اور افغانستان کو بڑا مقام پانے کیلئے اپنا دل بھی بہت بڑا کرنا پڑے گا۔ قرآن میں عورتوں کو ستانے والوں اور افواہیں اڑانے والوں کو بہت بڑا مجرم قرار دیکر واضح کیا گیا ہے کہ پہلے بھی لوگوں کی سنت یہ رہی ہے کہ جہاں یہ پائے گئے بے دریغ قتل کئے گئے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر جھوٹ کی مشینوں اور عورتوں کو ستانے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔

طالبان بھی اپنی غلطیاں تسلیم کریں
جب وحی کی رہنمائی کا سلسلہ موجود تھا تو اللہ نے نبیۖ اور صحابہ کرام کی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی فرمائی۔ تائید اور تنبیہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایک نابینا عبداللہ بن مکتوم کی آمد پر نبیۖ چیں بہ جبیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ عبس وتولیٰ نازل فرمائی۔ نبی ۖ فرماتے تھے کہ اس صحابی کی وجہ سے اللہ نے مجھے ڈانٹا ہے ۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے نبیۖ سے ظہار( طلاق )کے مسئلے پر مجادلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذیعے نبیۖ کے فتوے کے خلاف حضرت خولہ کی تائید فرمائی اور سورۂ مجادلہ میں مذہبی ذہنیت کے فتوے کی تردید فرمائی ۔ حضرت عمر حضرت خولہ کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ غزوہ ٔبدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مشورہ حضرت عمر اور حضرت سعد کے علاوہ باقی سب اکابر صحابہ نے دیا تھا لیکن وحی اقلیت والوں کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ پھر غزوۂ بدر میں سب نے انتقام لینے کی بات کی تھی تو اللہ نے معاف کرنے کا حکم دیدیا تھا۔
جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا تو صحابہ کرام اس معاہدے کے خلاف بھی برداشت کی حد سے نکل چکے تھے لیکن نبیۖ کے احترام میں مجبوراً قبول کیاتھا اور پھر اللہ نے اسی کو فتح مبین قرار دیدیا۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کوئی بھی کسی گھمنڈ میں نہ رہے۔ قرآن کی تعلیمات کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے نامۂ اعمال پر غرور وتکبر کی جگہ اپنی غلطیوں اور محاسبے کا خیال رکھیں۔ اللہ سے بہت اچھے کی اُمیدبھی رکھیں اور شامتِ اعمال کا خمیازہ بھگتنے کا خوف بھی رکھیں۔ حالات بہت نزاکت خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بہت زیادہ اچھے دن بھی آسکتے ہیں۔ اُمید و خوف کے بیچ میں مؤمن کا ایمان رہتا ہے۔ طالبان کیلئے مذہبی طبقات اور پوری دنیا کو مطمئن کرنے کا چیلنج جوئے شیر لانے سے بھی بہت زیادہ مشکل کام ہے۔
جب طالبان نے داڑھی، تصویر، پردہ، نماز، موسیقی اور بہت ساری چیزوں پر اپنا انتہائی سخت مؤقف رکھا تھا تو وہ اپنے جذبے میں مخلص تھے لیکن آج جس طرح فکروشعور کی منزل پر پہنچے ہیں تو یہ زیادہ خوش آئند ہے۔ جب مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کی جگہ بیت اللہ حرم کعبہ بن گیا تو بہت لوگوں کو اعتراض تھا مگر اللہ نے واضح کردیا کہ ” نیکی یہ نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے”۔ جب طالبان نے پہلے شریعتِ اسلامی کو اس طرح سے سمجھا تھا تو ویسا عمل کیا اور آج جس طرح سے شریعت سمجھ میں آئی ہے تو اس پر عمل کررہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح سے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مسلمانوں نے بادلِ نخواستہ قبول کیا تھا تو طالبان بھی مجبوری میں ساری دنیا کے طاقتور ممالک کو خوش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
اگر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ طالبان اپنے اندر جو گلٹی محسوس کررہے ہیں وہ بھی در حقیقت کوئی گلٹی نہیں ۔ صحابہ نے پہلے سمجھا تھا کہ روزوں کی رات میں اپنی بیگمات سے جماع کرنا درست نہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ ” اللہ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہو ۔روزوں کی رات کو اپنی عورتوں کیساتھ بے حجاب ہونا تمہارے لئے حلال ہے”۔

اپنا حکمران طبقہ راہِ راست پرآئے!
ہماری سیاست، ہمارا مذہب اور ہمارے کلچر کا معیار نااہلوں کے ہاتھوں میں ذلت ورسوائی کی آخری منزل تک پہنچ گیا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت بھی امریکہ کے سہارے کھڑی تھی لیکن خان عبدالغفار خان کے پڑپوتے ایمل ولی کو لمحہ بھر کیلئے بھی امریکہ کی شرارت اس میں دکھائی نہیں دی لیکن جونہی طالبان کی جیت سامنے آئی اور پاکستان نے ایک ماہ کیلئے امریکہ کو سہولتکاری فراہم کردی تو ایمل ولی کے پیٹ میں درد اُٹھ گیا۔ بیس سال سے امریکہ کو پاکستان نے اڈے فراہم کئے تھے اور افغان حکومتیں امریکہ کے سہارے چل رہی تھیں اور طالبان قطر میں اپنے معاملات امریکیوں سے طے کررہے تھے تو یہ سب یکساں طور پر ایک ہی طرح کی بات تھی اور کسی کو بھی خراج عقیدت پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ ونیٹو نے اسلامی ممالک کا تیل چوری کرنے کیلئے افغانستان ، عراق، لیبیا اور شام کے لاکھوں لوگوں کو لقمۂ اجل بنایا۔ پاکستان نے سہولت کاری فراہم کی اور طالبان نے دہشت گردی، اغواء برائے تاوان اور جو ممکن ہوسکا وہ خراب دھندہ کیا جس کی وجہ سے مسلمان اور اسلام مزید بدنام ہوگئے۔ امریکہ و نیٹو کے اقدامات کو تقویت پہنچی اور مسلمانوں کو خود بھی بہت تکلیف کا سامناکرنا پڑگیا۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو پاکستان میں دہشت گردی کرنے والا طبقہ نظریاتی طور پر روس کا حامی ہوتا تھا۔ جو بھی اپنے استحکام کیلئے جس طرح کی پوزیشن لے سکتا ہے وہ اس سے دریغ نہیں کرتا ہے۔افغان حکومت اور بھارت ایک پیج پر تھے اسلئے پاکستان کا فطری جھکاؤ طالبان کی طرف تھا، پاکستان نے طالبان کیساتھ اپنی مجبوری میں زیادتی کی تھی ،طالبان سے حکومت چھن گئی تھی ، طالبان کی وجہ سے افغانستان میں خانہ جنگی کی فضاء ختم ہوسکتی تھی کیونکہ جب نیٹو کے ہوتے ہوئے طالبان کو ختم نہیں کیا جاسکا توافغان حکومت اکیلے صرف اور صرف بھارت کی مدد سے افغانستان امن کی جگہ بدامنی کی شرارت کرسکتا تھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقے کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ فوج کی مخالفت یا حمایت کی بنیاد پر اپنے پتے کھیلتے ہیں لیکن اپنے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں کسی کی حمایت یا مخالفت کا تعلق محض طبقاتی بنیاد پر ہو تو اس سے افغانستان کے اپنے حالات کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی بھی درگت بنے گی۔ جب ہم اپنے حالات کو درست نہیں کرسکتے تو کسی اور کے بل بوتے پر آپس میں نظریات کی جنگ بھی نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی ننگ وشرم کا مقام ہوناچاہیے لیکن ہم یہ مقام پار کرچکے ہیں۔ PDMنے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ چھیڑ دی مگر ن اورش لیگ نے کھلم کھلا دونوں طرف کھیلا ۔ ن فوج پر دباؤ اور ش مصالحت پر گامزن تھا۔ مرکزی اور پنجاب حکومت کو گرنے کا خطرہ تھا تو یہ ن لیگ نے اپنے مفاد میں پینترا بدل دیا۔ زرداری نے ٹھیک کہا کہ نوازشریف میدان میں آئے مگر ن لیگ نے بہت برا منالیا۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور افغانستان میں امارت اسلامیہ قائم ہوئی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کا اصل نظریہ اور عمل پیش کردیں۔

طالبان پر شک وشبہ کی بڑی گنجائش
” میں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے میں ملا ہوں غازی ”۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی طرح اگر بہت سارے لوگ طالبان کی فتح کو بڑی سازش سمجھتے ہوں تو ان کی اس ذہنیت کا مذہبی طبقے کو بالکل بھی برا نہیں منانا چاہیے۔
ملا اور طالبان نے حقیقی اسلام کی جگہ اپنے روایتی اسلام پر عمل کیا تھا۔ ہیروئن کی کاشت، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان ، غیرملکی ایجنسیوں سے رابطہ،گٹھ جوڑ ، دہشت گردی ، فرقہ واریت ، نسل پرستی اور دنیا کی وہ کونسی برائی ہے جس کا فقدان طالبان میںدکھائی دیتا ہو؟۔ لیکن یہ تمام خرابیاں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہی تھیں۔ اگر ان کو اچھا ماحول میسر آجائے تو پھر نہ صرف حقیقی اسلام کو نافذ کرینگے بلکہ عالمِ انسانیت بھی ان کو تہہ دل سے عقیدت وسلام پیش کرے گی۔
ایک تأثر یہ ہے کہ پہلے جو طالبان زبردستی سے نماز پڑھنے پر مجبور کرتے تھے تو اب اپنے مؤقف سے کیوں ہٹ گئے؟۔ کیا اسکے پیچھے امریکی ایجنڈا ہے؟۔
فقہاء نے لکھا، جس کا بریلوی مکتب کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن نے پچھلے سال کرونا کے مسئلے پر ذکر کیا کہ” عین لڑائی میں بھی نماز باجماعت فرض ہے۔ آدھے لوگ نماز پڑھیں گے اور آدھے لوگ اسلحہ لیکر دفاع کریںگے ”۔ عشرہ فاروق وشہیدحسینمنانے والے تقریر کرتے ہیں کہ حضرت عمر باجماعت نماز کی امامت کرتے وقت شہید کئے گئے اور اپنا دوسرا نائب بناکر نماز مکمل کی گئی اور حضرت عمر بہت زخمی حالت میں تڑپتے رہے۔ شیعہ عالم ایس ایم حیدر نے کہا تھا کہ ” حسین نماز میں نہ ہوتے تو دشمن شہید نہیں کرسکتے تھے”۔ اقبال نے کہا کہ
آیاجب عین لڑائی میں وقت نماز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودو ایاز
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جنگ لڑی تو نماز باجماعت چھوڑ دی اور عین لڑائی میں نماز پڑھنا بھی ممکن نہ تھا ۔مولانا طارق جمیل ، فقہاء اور شعراء کے مطابق نماز کی بہت زیادہ اہمیت کے باجود اس سے طالبان بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کسی نے اقبال کو پڑھا تو سمجھا کہ ٹھیک کہا تھاکہ” نہ تونمازی نہ میں نمازی”۔
طالبان نے جہاد میں نماز اور باجماعت نماز کو چھوڑ دیا تو ان کا دوسروں کے بارے میں رویہ نرم پڑگیا۔ ملاعمر کے نظام سے انحراف کرنے پر طالبان کو اپنوں کی طرف سے خود کش حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ موسیقی کیخلاف ذبیح اللہ مجاہد کا بیان عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کو اپنوںسے مزاحمت کا خطرہ ہے۔ اگر یہ آپس میں الجھ گئے تو اس کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔اگر آنکھیں بند کرکے اسلام کے بعض احکام پر عمل کیا گیا اور بعض کو نظر انداز کیا گیا تو پھر قرآن کی اس آیت کے مصداق ہوںگے أفتکفرون ببعض الکتٰب وتکفرون ببعض الکتٰب ” کیا تم کتاب کے بعض احکام کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟”۔
طالبان شوق سے تصاویر کھینچواتے ہیں اور اس کو اسلام کے خلاف بھی سمجھتے ہیں اور موسیقی نہیں سنتے ہیں اور پھر عوام پر بھی اس کی پابندی لگاتے ہیں؟۔ ان کا یہ رویہ قابلِ تعریف یا قابلِ تردید ہوگا؟۔ طالبان سے اتنی گزارش ہے کہ موسیقی پر صرف مغرب کی طرح پابندی لگائیں ۔ عوام کے گانے ہوں یا طالبان کے لیکن عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے دوسروں کو اذیت پہنچانے کے بجائے اپنے کانوں تک اس کو محدود رکھیں اور اس کو اسلام کا نام نہیں دیں بلکہ انسانیت کا دَم بھرنے کیلئے لوگوں کوایک پرسکون فضاء مہیا کریں۔

بہت بڑی غلط فہمی کا بہترین ازالہ
اللہ نے واضح فرمایا :وان خفتم فررجالًا او رکبانًا ”اور اگر تمہیں خوف ہو تو چلتے چلتے یا سوار ہوکر بھی نماز پڑھو”۔ ظاہر ہے کہ چلتے چلتے اور سوار ہوکر رکوع وسجود اور قیام پر عمل نہیں ہوسکتا۔پھر امن کی حالت آئے تو معمول کی نماز جس طرح سکھائی گئی ہے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نمازِ خوف کی وضاحت کے بعد سفر کی نماز کا حکم یہ ہے کہ” سفر میں نماز کے قصر کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے”۔ یعنی اگر پوری نماز پڑھ لیں تو حرج نہیں۔ مثلاً امام مسافر اور مقتدی مقیم ہیں تو مسافر امام پوری نماز پڑھ لے تو بھی حرج نہیں لیکن جب مقتدی مسافر امام کے پیچھے اپنی آدھی نماز پڑھیں تو فقہی مشکلات کا شکار ہوںگے۔ ایک طبقہ کہے گا کہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور دوسرا طبقہ کہے گا کہ فاتحہ پڑھی جائے گی۔ اللہ کے احکام کو موشگافیوں کا شکار کرنے والے مجرموں کی قطار میں شامل ہونگے۔
سفر میںنمازِ قصر کے بعد فرمایا کہ ” اگر تمہیں خوف ہو کہ دشمن تم پر کسی وقت بھی انجانے میں حملہ کرسکتا ہے اور نبی ۖ تمہارے اندر موجود ہوں اور وہ باجماعت نماز پڑھانا چاہیں تو پھر تمہیں چاہیے کہ ایک گروہ پہرہ دے اور دوسرا گروہ نماز پڑھتے ہوئے اپنے اسلحے کو تھامے رکھے اور اپناہوش ٹھکانے رکھے۔ پھرجب یہ گروہ سجدہ کرلے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا گروہ نماز میں شامل ہوجائے اور اپنا اسلحہ تھامے رکھے ۔ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہیں غفلت میں پاکر ایک دم حملہ کردیں اورکام تمام کردیں۔ جب بارش یا بیماری کی حالت میں تم اپنا اسلحہ رکھ دو تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور ایسی حالت میں کھڑے ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کی صورت میں اللہ کا ذکر کرو اور جب اطمینان کی کیفیت میں آجاؤ تو پھر نماز کومعمول کے مطابق قائم کرو اور بیشک اللہ نے اوقات کے مطابق تم پر نماز فرض کی ہے”۔
اس نماز کا جنگ سے تعلق نہیں بلکہ یہ سفر میں خوف کے وقت رہنمائی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اگر نبیۖ نماز باجماعت چاہیں تو یہ حکم ہے۔ ضروری نہیں کہ سفر میں باجماعت نماز ہو اور بارش و مرض میں بھی اسلحہ رکھنے کی گنجائش واضح ہے۔ اگر قرآن سمجھ لیا جاتا تو طالبان رہنماؤں کو خوف کی حالت میں نماز باجماعت نہ پڑھنے کی گنجائش نظر آتی اور جذبہ جہاد سے سرشار لوگ میدان جنگ میں نماز نہ پڑھتے تو اپنے آپ کو ملامت کے قابل نہ سمجھتے۔ جب ایک طرف وہ مجبوری میں نماز ترک کریں اور دوسری طرف مولانا طارق جمیل جیسے لوگوں کو اپنا پیشواء سمجھیں جنکے نزدیک قتل، زنا بالجبر، ڈکیتی، شرک اور ہرچیز سے نماز چھوڑنابرا ہو تو پھر اسکے مذہبی خمیر کے آٹے سے عجیب لوگوں کی پکی پکائی روٹی تیار ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تک جب وہ سمجھیں جو کہہ رہے ہیں اور حالت جنابت میں بھی مگرکوئی مسافر ہو، یہاں تک کہ تم نہالو۔ آیت میں نماز پڑھنے سے جنابت میں روکا گیا ہے اور مسافر کیلئے غسل کئے بغیر بھی اجازت ہے یعنی تیمم سے۔ حضرت عمر نے سفر میں جنابت کی وجہ سے نماز کو ترک کیا اور حضرت عمار نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نمازیں پڑھ لیں۔ نبیۖ نے قرآن کے مطابق دونوں کی تائید فرمائی اسلئے کہ ایک نے گنجائش کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی۔ دوسرے نے گنجائش کی وجہ سے نماز پڑھ لی۔قرآن وسنت میں دونوں کیلئے گنجائش تھی لیکن بعد میں اس پر مسالک کی بنیاد رکھی گئی کہ کس کا مؤقف درست اور کس کا غلط ہے؟۔

طالبان کامیاب کیسے ہوسکتے ہیں؟
حنفی مسلک کا بالخصوص اور باقی مسالک کا بالعموم پہلا اصل اصول ہے کہ ”قرآن میں مسئلے کا حل موجود ہو تو قرآن سے حل کیا جائے ۔اگر حدیث قرآن سے ٹکرائے تو حدیث کو ترک کرکے قرآن پر عمل کیا جائے ”۔ پھر دوسرے نمبر پر حدیث ہے ، تیسرے نمبر پر اجماع اور چوتھے نمبر پر قیاس ہے۔ قیاس شریعت کی مستقل دلیل نہیں بلکہ کسی معاملے کو قرآن، حدیث یا اجماع پرقیا س کیا جائے تو یہ قابلِ قبول ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” میری اُمت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی”۔
یہ جہالت ہے کہ ”بنیادی دلیل اجماع ہے، قرآن پر حضرت عثمان کے دور میں اجماع ہوا لیکن حضرت ابن مسعود نے اختلاف کیا تھا۔ جب تک قرآن پر اجماع نہ تھا تو کسی آیت یا سورة کا انکار کرنا کفر نہ تھا لیکن جب اُمت کا اجماع ہوگیا تو اب کسی سورة یا آیت کا انکار کفر ہے”۔(علامہ غلام رسول سعیدی)
صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ” رسول اللہۖ نے ہمارے پاس دوگتوں کے درمیان (قرآن) کے علاوہ کچھ نہ چھوڑا تھا”۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ”ابن عباس نے حضرت علی کا یہ قول محض شیعوں کو رد کرنے کیلئے نقل کیا تھا ،ورنہ اصل بات یہ تھی کہ قرآن کے نقل پر صحابہ کا اجماع نہیں تھا”۔(کشف الباری)
مسلک حنفی میں خبر واحد یا مشہور کی آیات قرآن ہیں جو اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے تو پھراحادیث اور اجماع کی اپنی کونسی حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟۔ حنفی خبرواحد کی آیت سے دلیل لیتے ہیں لیکن شافعی اس کو نہیں مانتے اور جمہور حدیث کو دلیل بناتے ہیں مگر حنفی اس کو قرآن سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اجماع کا اصولِ فقہ کی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ” اہل مدینہ، خلفاء راشدین اور ائمہ اہل بیت کا اپنا اپنا اجماع بھی حجت ہے”۔جس سے اجماع کی اپنی حیثیت بھی متنازع بنادی گئی ہے کیونکہ ان اجماعوں کا آپس میں بھی تصادم ہے۔
ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ مسالک کی بنیاد پر پہلے نمبرپر قیاس کو رکھتے ہیں، دوسرے نمبر پر الٹے سیدھے اجماع کا تصور پیش کرتے ہیں ، تیسرے نمبر پر احادیث کو موضوع بحث بناتے ہیں اور قرآن کو آخری چوتھے نمبر پر رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں آیات کا اضافہ نہیں تھا بلکہ جلالین کی طرح تفسیرلکھی۔ جب عرصہ بعد ابن مسعود کے مصحف کو کسی نے دیکھا تو اس کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا اسلئے راوی نے کہا کہ میں نے ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کی لیکن اس میں سورة فاتحہ اور آخری دو سورتیں موجود نہیں تھیں۔ راوی کی بات کا بتنگڑ بنانے والوں نے قیاس آرائیوں سے ملمع سازی کا بازار گرم کردیا اور ابن مسعود کو قرآن کی آخری دوسورتوں کا منکر بنادیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے رحم کردیا اور واضح کیا کہ ابن مسعود کے وقت میں قرآن پر اجماع نہیں تھا اسلئے وہ کافر نہ تھے مگر اب اجماع ہوگیا ہے اسلئے کوئی اس کا انکار کردے تو کافر ہوگا۔مگریہ نہیں سوچا کہ اجماع کو قرآن اور صحابہ پر مقدم کردیا۔
جمہور اور اجماع میں فرق ہے۔ اجماع کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایک فرد یا گروہ بھی اس کا مخالف نہ ہو۔ امت مسلمہ کا کمال یہی ہے کہ اختلافات ہی اختلافات ہیں لیکن گمراہی کی کسی بات پر بھی الحمدللہ آج تک کسی دورمیں اجماع نہیں ہوا۔

جاگیرداری وسودی نظام اصل مسئلہ
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات ہٹ دھرمی اور بے ایمانی کو چھوڑ کر مدارس کا نصاب درست کریں۔ پاکستان ، افغانستان ، سعودیہ، ایران اور دنیا بھر سے علماء و مفتیان کو دعوت دی جائے تاکہ ایک سلیس نصاب کیلئے دین کو اجنبیت سے ہم باہر نکالنے میں اپنا زبردست کردار ادا کریں۔ جب سود کی حرمت کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ کاشتکاروں کو کاشت کیلئے مفت میں زمین دینے کا حکم فرمایا۔ غلام ولونڈی کا نظام جاگیرداری کی وجہ سے ہی دنیا میں آیاتھا۔ جنگوں میں ابوسفیان اور اس کی بیگم ہند سے کلبھوشن یادیواور ابھی نندن تک کسی کو گھر کا غلام اور لونڈی بناکر خدمت لینا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے۔ نبیۖ نے جاگیردارانہ نظام کو سود قرار دیا تو مزارعین کی غلامی کا دروازہ بند ہوگیا۔ فقہ کے چاروں امام نے احادیث کے مطابق مزارعت کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن حیلہ سازوں نے پھر قرآن وسنت اور فقہ کے ائمہ کرام سے انحراف کیا اورجاگیرداری کو جواز بخش دیا۔ پہلے جاگیرداری نظام واحد وجہ تھی جس سے لوگ لونڈی اور غلام بنانے کے دھندے کو تقویت دیتے تھے اور آج بینکنگ کا نظام وہ ناسور ہے جس سے پورے کے پورے ملکوں کو عالمی طاقتیں اپنا غلام بنارہی ہیں اور اس کو بھی آج نہ صرف اسلامی قرار دیا گیا بلکہ پاکستان کے ائیرپورٹ اورموٹر وے کو بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہمارے پاس سودی قرض اتارنے کیلئے کچھ نہیں ہوگا تو عالمی طاقتیں ائیرپورٹ اور موٹر وے پر قابض ہوجائیں گی اور جس طرح صدام حسین کو عراق کے ججوں نے پھانسی کے پھندے پر چڑھایا اور عراق کا ڈھانچہ امریکہ کیلئے استعمال ہوا ، اس سے بڑھ کر عالمی طاقتیں پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کے باجود اونٹ کی طرح ناک میں نکیل ڈال دیں گی۔ اور ہماری عدالتوں ، پولیس اور فوج کی طرف سے غلامی کو بصد خوشی قبول کیا جائیگا۔
طالبان افغانستان کو اپنی حکمت عملی سے امن وامان کا گہوارہ بنائیں اور سود کی لعنت سے حلالہ کی لعنت تک اپنی جان چھڑائیں۔ جب عورتوں کو اسلام کے مطابق آزادی اور تحفظ ملے گا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کی اپنی معیشت بہت مضبوط ہوجائے گی۔ افغانستان اور وزیرستان میں غیرملکی سیاح اسلئے نہیں آتے تھے کہ خواتین اور فیملی والوں کے دلوں میں ایک خوف تھا جس کو اسلامی احکام کے ذریعے تحفظ دیکر دنیا بھر سے نکالا جاسکتا ہے۔
جس دن طالبان نے عورت کے اسلامی حقوق کا نمبر وار اعلان کرکے اپنے آئین کو دنیا کے سامنے پیش کردیا تو پاکستان کی خواتین بھی اپنا ووٹ اسلام کے حق میں استعمال کریں گی۔ بندوق اور بارود کی جگہ گھروں میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ شروع ہوجائے گا۔ اسلامی حدود کے اجراء کو دنیا بھر میں بہترین اور قابلِ عمل قرار دیا جائے گا ۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام ، لیبیا اور دنیا بھر کی عوام جنگ وجدل سے تنگ آچکے ہیں۔ دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنانے کیلئے افغانستان کے طالبان کا کردار سب سے اہم ہوسکتا ہے۔ حلالہ واحد سزا ہے جس کی لعنت کو علماء کرام نے زندہ کر رکھا ہے مگر یہ بھی قطعی طورپراسلام نہیں ہے۔
جب تک لعان کے حکم پر عمل، حلالہ کے بغیر رجوع کی آیات اور عورت کے جملہ حقوق کا معاملہ زندہ نہیں ہوتا تو اسلام کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچانا ممکن نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔خواب میں نبیۖ کے ستر کا کھلا ہونا اور پاکستان کے. علماء کا ستر کو چھپانے کی کوشش اور شہزادہ محمد بن سلمان کا نبیۖ کے پاؤں کی انگلیوں اورعمران خان کا .ہاتھوں کیand انگلیوں کو کاٹنا اور نبیۖ کا رُخ مشرق کی طرف ہونا اور اس کی تعبیر کہ عرب سے حیاء نکل گئی اور پاکستانی علماء نے دین کی مدد کرنی ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امام ابن سیرین نے اپنی کتاب ”تعبیر الرویائ” میںand لکھا ہے کہ خواب میں برے شخص کے ستر کھلنے کی تعبیریہ ہے کہ اس کی برائی ظاہر ہوگی اور نیک شخص. کی تعبیر یہand ہے کہ اس کی اچھائی ظاہر ہوگی۔ یوم تبلیMaulana Fazal Ghafoor السرائر ” اس دن پوشیدہ راز ظاہر ہونگے”۔

_ مولانا فضل غفور پر گستاخی کے فتوے_

ایک دیوبندی عالم دین نے کہا. کہ جمعیت علماءand اسلام بونیر کے مولانا فضل غفور نے نبیۖ کی شان میں جو گستاخی کی ہے اس کا دوہرانا بھی مناسب نہیں ۔ اس کو گولی مار کر اس کی لاش کو چوک پر لٹکایا جائے۔
اگر کوئی جذباتی مسلمان اُٹھ کر. اس کو قتل کردے اور عوام میں ایسی فضاء بن جائے کہ مشعال خان کی طرح اس کی لاش کو بھی دفن کے بعد خطرہ ہو تو اپنے بھی مولانا فضل غفور کے فعل سے برأت کا اعلان کریں گے۔ جب جنید جمشیدپر ایک گستاخی کا الزام لگا تھا تو اس کے دیرینہ دلدادہ مولانا طارق جمیل نے بھی پھر جنید جمشید کی حمایت اور ہمدردی میں نہیں مخالفت میں بیان دیا تھا۔

جنید جمشید کی قسمت اسلئےso اچھی تھی کہ اس نے ” دل دل جان جان پاکستان” پڑھا تھا۔ ورنہ دوبارہ اس کے منظر عام پر آنے کا کوئی چانس نہیں بن سکتا تھا اور وہso کسی. حادثے کا بھی شکار ہوسکتا تھا۔ مذہبی جنونیوں کی طرف سے جو فضاء تیار کی جاتی ہے اس کو خاص سیاسی مقاصد کی خاطر زبردست طریقے سے پذیرائی ملتی ہے۔


مولانا فضل غفور کا تعلق ایک مضبوط سیاسیand جماعت جمعیت علماء اسلام سے ہے لیکن مذہبی جنون کے سامنے طاقتور سے طاقتور انسانوں کو بھی بڑے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جب andذوالفقارMaulana Fazal Ghafoor علی بھٹو نے قادیانیتso کے کفر پر. دستخط کئے تو کہا کہ ” میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کررہا ہوں”۔

پھربھٹو نے .جس andکیس میں پھانسی کی سزا کھائی توso قاتل قادیانی تھا اور وہ وعدہ معاف گواہ بن کر چھوٹ گیا لیکن بھٹو کے خلاف عدالت نے پھانسیand کافیصلہ کیا۔پارلیمنٹ نے قادیانیت کے خلاف فیصلہ کیا۔ پھر قومی اتحاد بھٹو کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگا رہا تھا۔


جنرل ضیاء الحق نے اپنے بیٹے ڈاکٹر انوارالحقand کا نکاح جنرل رحیم الدین کی. بیٹی سے کردیا لیکن جب عوامی جذبات کا خدشہ ہوا تو امتناع قادیانیت آرڈنینس جاری کردیا اور پھرجہاز کے حادثے میں شکار ہونے پر قوم نے مٹھائیاں بانٹیں۔

_ علماء کاایکدوسرے کیخلاف فتویٰ_


مولانا محمد یوسف لدھیانویso شہید کی کتاب ” عصر. حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” اس دور میںایک زبردست رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ عربی کی متعدد غلطیوںso اور کچھ احادیث .کا غلط ترجمہ اور تشریحMaulana Fazal Ghafoor بیان کرنے کے باوجود اس کتابچہ کی بہت زیادہ افادیت ہے۔

ایک حدیث یہ ہے کہ رسولso اللہۖ نے .فرمایاکہ ” گمان ہے. کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیںso گے ، ان. کی مساجد آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی اور ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ فتنہ انہی سے نکلے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا”۔

test


مولانا فضل غفور نے اپنے وضاحتی بیان میں andدو احادیث بیان. کی ہیں ،ایک یہ کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ ” نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بچا مگر مبشرات۔ اور مبشرات سے مراد رویائے andصالحہ ہیں”۔ دوسری حدیث یہso بیان کی. کہ ” نبوت کا 46واں حصہ رہ گیا ہے اور وہ رویائے صالحہ ہیں”۔

test

دونوں احادیث صحیح ہیں لیکنand اس کے ترجمے غلط کئے جاتے ہیں۔ عربی .میں نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔ یہاں نبوت سے مراد غیب کی خبریں ہیں۔ اگرand نبوت کا چھیالیسواں حصہ رہ گیاso تو پھر. ختم نبوت پر ایمان کیسے ہوسکتا ہے؟۔ رویائے صالحہso سے مراد نیک .خواب نہیںso بلکہ وہ خواب ہیں جو شیطان کی دسترس سے محفوظ ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ کوئی نیک آدمی خواب دیکھے تو اس کا خواب شیطان کی دسترس سے محفوظ بھی ہو۔

test

علماء ایک دوسرے کے خلاف عوام کو اشتعالand دلانے میں مصروف. ہیں اورso اسلام کے ظاہری الفاظso .اور تعبیرات کو درست کرنے کیلئے کھلی آنکھوں سے تیار نہیں ہیںso تو خوابوں کی تعبیرso کو اپنے. مقاصد کیلئے استعمال کرنے. کا کیا جواز ہے؟۔ کہیں خواب کی تعبیر یہ تو نہیں ہے کہ حکمرانso اسلام کا بھلا کرنا. چاہتے ہیں مگر علماء اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟۔ خواب کی تعبیر ایک بالکل الگ علم ہے۔

علماء جب حکمرانوں سے مل جائیں


مولانا یوسف لدھیانویso کی کتاب ” عصر حاضر” .میں ایک حدیث یہ ہے کہ ” علماء دین کے محافظ اور نگران ہیں لیکن جب یہ اہل اقتدار سے مل جائیں اور دنیا میں گھس جائیں تو پھر ان سے الگ ہوجاؤ”۔
جمعیت علماء اسلام نے جبso تک اپوزیشن کی سیاست. کی تو وہ دین کی محافظ تھی لیکن جب باری باری اقتدار کے مزے اڑانے لگی تو اس نے دنیا میں گھس. کر دین کی حفاظت اور. نگرانی چھوڑ دی۔

جنرل ضیاء الحق ، بینظیر بھٹو کے پہلے دور اور اسلامی جمہور ی اتحاد کے دور 1981ء سے1992ء تکso مولانا فضل الرحمن .عوامی جلسوں میںMaulana Fazal Ghafoor بینک سے زکوٰة کے نام پر سود کی کٹوتی کو ”شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ”قرارso دیتا تھا۔

پھر. جب. 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری بار اقتدار میں آئی اور مولانا فضل الرحمن کو اقتدار میں شریک کرلیا تو مفادات اٹھانےso کے نتیجے میں. اپنی جماعت کے لوگوں کو زکوٰة کمیٹی کا چیئرمین بنانا شروع کیا۔ پھر شریعت کا حکم سیاست، دنیا اور اپنے مفادات کی نذر کر کے غرقاب کردیا تھا۔

test


حکمران جب علماء کو اقتدار میں شریک کرتے. ہیں تو اپنےand تابع بنانے کیلئے ان کی soعزت افزائی نہیں. کرتے بلکہ تذلیل کرتے ہیں۔ وزیرستان کے MNA مولانا نور محمد نے اسلامی جمہوری اتحاد.. میں شمولیتand اختیار کی تھی تو اس کوso .فلموں کی سنسر شپ کا نوازشریف نے وفاقی وزیر بنایا تھا۔ جس پر روزنامہ اوصاف اخبار میں andزبردست کارٹون سے تصویر soکشی کی گئی تھی۔

بھٹو. کے دور میں ختم نبوت کے حق میں قرار داد پر بقول مفتی .منیب الرandحمن کے مولانا غلام غوث. ہزاروی اور مولانا عبد الحکیم نے جمعیت علماء اسلام کے MNAہونے کے باجوandد بھی اسلئے soدستخط نہیں. کئے کہ وہ پیپلزپارٹی کی Maulana Fazal Ghafoorصف میں شامل ہوگئے تھے۔
علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو چاہیے کہ پاکستانand اور افغانستان میں درست اسلامیso احکام کا نقشہ پیش کرکے. اس کو نافذ کریں تاکہ دنیا میں انقلاب آجائے۔

قادیانی اور نوازشریف دور کا وہ بل


نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ. کو آرمی چیف بنایا تو سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ آرمی چیف قادیانی ہے۔ شاید نوازشریف کی بھی ناک. میں بھنک. تھی تو اسلئے آرمی چیف بنایا تھا۔اوریا مقبول جان نے آکر آرمی چیف کے حق میں ایک خواب بھی بتادیا تھا۔ بہرحال نوازشریف. نے اپنے دور میں قادیانیوں پر ایک احسان کرنا چاہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ بھٹو اور جنرل ضیاء نے بھی اس طاقتور گروپ سے آخر کارمار کھائی. تھی۔ پارلیمنٹ سے بل پاس ہواتھا تو جمعیت علماء اسلام ن لیگ کی اتحادی تھی۔ جب مولانا فضل الرحمن ق لیگ کےso قریب تھے تو چوہدری شجاعت حسین نے قادیانی امریکن ڈاکٹر مبشر سے مولانا کو دل کے وال لگوائے تھے۔

test

مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاق المدارس کے ایک پروگرامand میں اپنی اہمیت جتاتے ہوئے soبتایا تھا کہ ” جب قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تو مجھے دل میں ڈر تھا کہ اگر. سینٹ سے یہ پاس ہوگیاand تو پھر مجھے چیئرمین کیso .غیر موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑیں گے لیکن. شکر ہے کہ بل سینٹ andمیں ناکام. ہوا۔ پھرMaulana Fazal Ghafoor جب بلso کو پاس کرانے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو شیخ رشید. نے جمعیت علماء اسلامand کی بھیگی. بلیوں کوso بھی سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور علماء دیوبند کے اکابرین کی قربانیاں یاد دلائیںتھیں مگرand اقتدار کے نشے میں soدھت علماء ومفتیان ٹس سے. مس نہیں ہورہے تھے۔

test


اگر علماء کرام نے بروقت ہوش کے ناخن. نہیں. لئے اور اقتدار کے چکر میں اسلام کے حق کو ادا کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی تو پھر عوام کا جمِ غفیر اُٹھے گا۔ علامہ خادم. حسین. رضوی نے ختم نبوت کیلئے جو قربانی دی وہ ایک تحریک تھی جس پر اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کا الزام بھی لگا۔ چلو اورand کچھ نہیں. تو جنرل باجوہ سے قادیانی ہونے کا داغ تو دھل. گیا لیکن جب عوام کا شعور اٹھے گا تو علماء ومفتیان کا کیا حال بنے گا؟۔ شریف اور اللہ والے اٹھیں اور اسلام کیلئے کھل کر آواز اٹھائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv