پوسٹ تلاش کریں

جنوبی وزیرستان محسود قوم کے صدر مقام مکین میں کے قائد مولانا فضل الرحمن اور کے کامیاب جلسے شعور کی بیداری کیلئے مبارکباد کے مستحق ہیں

جنوبی وزیرستان محسود قوم کے صدر مقام مکین میں کے قائد مولانا فضل الرحمن اور کے کامیاب جلسے شعور کی بیداری کیلئے مبارکباد کے مستحق ہیں،انسان میں شر کا مادہ کم اور خیر کا زیادہ ہے مگر شر کے ماحول سے نکلنے کیلئے خیر کی فضاء پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی اسلام ہے!کشمیر اور ڈیورنڈ لائن سے زیادہ اندرونی معاملات و مسائل سے خطرہ ہے

جنوبی وزیرستان کی محسود قوم بہادر، آزاد منش، انسانیت کے اعلیٰ اقدارکے علاوہ انتہائی درجے کی مالی لالچ بھی رکھتی ہے۔ نقیب شہید کو محسود، پختون ، آرمی چیف اور پاکستان کی جملہ سیاسی قائدین ، حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جس طرح کا پروٹوکول مل گیا وہ قوموں کی تاریخ بدلنے کا انقلابی حصہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی نقیب شہید کے والد نے مراعات کی لالچ سے سب کچھ پر پانی پھیر دیا تھا۔
امریکہ کی مخالفت میں تحریک طالبان پاکستان کو بیت اللہ محسود کی قیادت میں جس طرح کی مقبولیت مل گئی تو اس سے وزیرستان کے محسودپوری دنیا کے بڑے امام بھی بن سکتے تھے مگر لالچ اور بدکرداری نے نہ صرف ریاست کی نظر میں (TTP) کو گرادیا بلکہ اتفاقِ رائے سے قومی قیادت نے قومی ایکشن پلان کے ذریعے سے قبائل اور ملک بھر سے اس کو دہشت گرد قرار دیکر اس کے خاتمے کا لائحۂ عمل بھی تشکیل دیا تھا۔ پھر پختون نوجوانوں نے منظور پشتین کی قیادت میں (PTM) کی تحریک سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو بھی ہلا ڈالا تھا مگر اب رفتہ رفتہ( PTM) بھی اپنے منطقی انجام کی طرف پہنچ رہی ہے۔ کامیاب اجتماع اور جلسہ تحریکوں اور جماعتوں کی کامیابی کا معیار ہوتا تو تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، عورت آزادی مارچ اورتماشوں میں ناچنے والی لڑکیوںکے گرد جمع ہونیوالے اجتماعات بھی کامیابی کا معیار قرار پاتے۔ سیاسی جلسوں میں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی کہانی بھی ہوتی ہے۔ مریم نواز نے اپنی اداؤں سے کشمیریوں کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی تھی مگر کشمیریوں نے پاکستان مردہ باد اور آزاد وخود مختار کشمیرکے نعرے بھی لگادئیے۔
ایک بڑے ذمہ دار فوجی افسر کو آزادکشمیر کا وزیراعظم بننے کیلئے ایک ارب دیا گیااور اس کو برطرف بھی کردیا گیا جس پر نوازشریف کے حامی سوشل میڈیاکے صحافی سید عمران شفقت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی نہ صرف تعریف کی بلکہ یہ بھی کہا کہ ”مجھ پر خوامخواہ کا الزام ہے کہ میں جنرل باجوہ اور فوج کی مخالفت کرتا ہوں، یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور جوانسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتاہے وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتاہے”۔قرآن میں منافق اعرابیوں کی یہ مثال دی گئی ہے کہ جب ان کو خیر پہنچتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو پھر دوسری زبان میں بات کرتے ہیں۔ یہی انسانی فطرت کا اصل مزاج بھی قرآن نے ہر جگہ بیان کیا ہے لیکن تعلیم وتربیت اور ایمان واسلام کی بدولت اس پر کنٹرول کرنا بھی اچھے انسانوں اور اچھے مسلمانوں کا زبردست فرض بنتا ہے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے جس میں انسان کی عزت بڑھ جاتی ہے یا اس کی بے عزتی ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور مریم نواز کو اپنے بیانیہ میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز سے اختلاف ہو یا منصوبہ بندی کیساتھ سب کچھ ہورہاہو لیکن دونوں ہی اصل الاصل میںایک ہی ماں باپ کے روحانی اور جسمانی اولادیں ہیں۔ 3 بار وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کا منصب بار بار ملنے کے بعد کونسا انقلاب برپا کیا ہے جو اب ان سے بڑے انقلاب کی زبردست توقع رکھی جائے؟۔
وزیراعظم عمران خان کہا کرتا تھا کہ ”مجھے اللہ نے سب کچھ دیا ہے ۔ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتا ہوں”۔ پاکستان کا وزیراعظم بننا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ معین قریشی،ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز سے پہلے بھی بہت وزیراعظم بن گئے اور بعد میں بھی بنتے رہے ہیں اور شاید پھر بھی بنتے رہیںگے لیکن عمران خان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اب وزیراعظم کی دولاکھ روپے اور مراعات پر مشکل سے گزارا ہورہاہے تو پہلے کونسی دکان چل رہی تھی جو اب وزیراعظم بننے کے بعد بند ہوگئی ہے۔ جب بنی گالہ کا گھر تک بھی یہودن جمائما خان نے گفٹ کردیا تھا اور وہ متاع عزیز عورت بھی جب ہاتھوں سے نکل گئی ہے تو پھر جہانگیر ترین کے ٹکڑوں پر گزارا کیا اور اب اس متاع عزیز کو بھی کھو دیا ہے تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ ” وہ جو کہتا تھا کہ اللہ نے سب کچھ دیا ہے وہ امپائر کی انگلی کی طرح اینویں سیاسی بکواس ہی کا معاملہ تھا؟”۔
پاکستان کی ایک سرحد پر کشمیر اور دوسری سرحد پر ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہے اور اس کو بیرونی خطرات سے زیادہ اپنے اندر کے ناکام سیاسی، ریاستی ، معاشی اور معاشرتی نظام سے خطرات لاحق ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور (PTM)کے منظور پشتین کے جنوبی وزیرستان میں ایکدوسرے سے تضادات اور خلفشار عوام کے سامنے کھل کر سامنے آئے لیکن دونوں نے بڑے مہذب انداز میں سیاسی شعور کا ثبوت دیکر عوام کے جذبات کو مشتعل نہیں کیابلکہ دلائل سے اپنا اپنا مؤقف پیش کردیا۔ محسود قوم بہت سیاسی اور فطری شعور سے مالامال ہے، اگر کوئی اشتعال انگیزی کی کوشش کرتا تو عوام کی نظروں میں اسی نے گرجانا تھا۔
محسود قوم کی تاریخ میں یہ پہلے قومی سیاست کے تاریخی جلسے تھے۔ عوام کے شعور میں خاطر خوا اضافہ بھی ہوا ہوگا۔جب پہلی مرتبہ ہمارے گاؤں جٹہ قلعہ گومل میں میرے بھائی پیرنثار نے جمعیت علماء کا جلسہ کروایا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے پرتکلف دعوت کو دیکھ کر مجھ سے کہا تھا کہ” اس کو آپ ناشتہ کہتے ہیں؟”۔ ایک محسود حاجی نے میرے بھائی سے کہا تھا کہ ”پیر صاحب ! اس دعوت کے یہ لوگ مستحق نہیں ہیں، ان کیلئے ایسا شوربہ ایسے برتن میں رکھا جائے کہ کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو اس میں ڈبودیں”۔ میرے بھائی کو غصہ تو بہت آیا مگر گھر بلائے ہوئے مہمان کی عزت کا مسئلہ سمجھ کر بات رفع دفع کردی۔ میرے ایک مجذوب قسم کے بھتیجے نے اس وقت کہا تھا کہ جب بینظیر بھٹو کے دوسری مرتبہ دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمن نے شرکت اختیار کی تھی کہ ” اپنے چچا سے ڈر لگتا ہے ،ورنہ دل چاہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے چوتڑ کے نیچے بم رکھ دوں جو اس کے چھیتڑے اُڑائے اور پھر اس کے جوتے، رومال اور واسکٹ بھی بینظیر بھٹو کو بھیج دوں کہ یہ سنبھالو اور اپنے پاس تبرک کیلئے اب رکھ لو”۔
اب مولانا فضل الرحمن نے اونچی اُڑان بھر لی اور وہ وقت گیا جب کوئی محسود حاجی اس طرح کی بات کرتا تھا لیکن گئے وقت کی یادوں سے شعور اور کسی بھی طبقے اور قوم میں شدت پسندی کے رحجانات کا پتہ چلتا ہے۔ جب روس کے دور میں افغانستان کے اندر لڑائی تھی تب بھی پختونخواہ میںعوام دھماکوں کا شکار بنتی تھی اور جب امریکہ آیا تب بھی عوام دھماکوں کا شکار بنتی تھی۔ پہلے قوم پرست اور بعد میں مذہب پرست دھماکوں کی نظریاتی حمایت کرتے تھے اور مجذوبوں کو ہی پیسے دیکر دھماکوں میں استعمال کیا جارہاتھا اوراصل غلطی ہماری اپنی ہی تھی۔
مولانا فضل الرحمن، منظور پشتین، محسن داوڑ اور دیگر اپنی بات کو بڑی شائستہ انداز میں پیش کرتے ہیں لیکن پھر مجذوب ، نیم پاگل اور جنونی قسم کے لوگ پیسہ لیکر دھماکوں کیلئے استعمال بھی ہوتے ہیں۔ دوسری قوموں کی عورتیں اور لڑکیاں ناچ گانوں کیلئے استعمال ہوتی ہیں اور پشتونوں میں لڑکوں کو ناچ گانے میں اسی طرح استعمال کرنے کا رواج تھا جس کو ناٹوائی کہاجاتا تھا۔ جس قوم میں ناٹوائی ملتے ہوں تو اس میں دوسرے کاموں کیلئے کیا کیا کس کس کام کیلئے لوگ نہیں ملتے ہونگے؟۔ دوسروں کو براکہنے سے پہلے اپنے گریبانوں بھی میں جھانکنے کی سخت ضرورت ہے۔جو قوم اپنا احتساب نہیں کرسکتی ہے وہ انقلاب نہیں لاسکتی ہے۔
جب شیعہ نے ایرانی انقلاب برپا کردیا تو سب سے پہلے احتساب کے عمل سے گزرنا پڑا۔ شیعہ مسجد کے امام کو پیش نماز کہتے تھے لیکن پھر پہلی مرتبہ آیت اللہ خمینی کو اپنا ” امام ” بنانے کا اعلان کردیا تھا۔ ورنہ شیعہ کسی کو بھی حضرت علی سے مہدی ٔ غائب تک بارہ اماموں کے علاوہ 13واںامام کہنا شرعاً غلط سمجھتے تھے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے طالبان اگر اپنی پوری پود ختم کرکے تاریخ کا ایک ورق بننے کی بجائے اپنے آپ کو تاریخ میں زندہ وتابندہ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ حکومت کے حصول کیلئے لڑنے مرنے کے بجائے اپنی زبردست اصلاحات کا اعلان کردیں۔ مولانا فضل الرحمن نے خراسان کے دجال کی حدیث نکال کر ان پر فٹ کردی تھی لیکن وہ اب خراسان کے مہدی کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ حدیث ہے کہ ” اسلام اور اقتدار دوجڑواں بھائی ہیں، جو ایکدوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسلام بنیاد ہے اور اقتدار اس کا محافظ ہے”۔ اسلام وہ دین ہے جس میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں ۔ زبردستی کا اقتدار اسلامی نہیں۔ اسلام دین ہے اور دین کا تعلق اللہ کی وحی اور رسول اللہۖ کی سنت سے ہے۔ اقتدار باہمی مشاورت اور انسانوں کی مرضی سے نظام ِ حکومت تشکیل دینے کا نام بھی ہے اور فرعونیت اور ظالمانہ نظام کو بھی اقتدار کہتے ہیں۔ مکی دور میں اقتدار نہیں تھا اور مدنی دور میں مسلمانوں کو عوام کی مرضی سے اقتدار ملا۔ اگر انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت طاقت کے زور پراقتدار حاصل کرتے تو یہ خلافتِ راشدہ کا نظام نہیں ہوتا۔ بعد کے ادوار نے خاندانی بنیادوں پر زبردستی سے ایکدوسرے کو قتل کرکے اقتدار پر قبضے کئے تو وہ طرزِ نبوت کی خلافت کا منہاج نہیں کہلایا۔
اگر داڑھی، پردے ، نماز اور دوسری چیزوں میں زبردستی کے اسلام سے اب افغان طالبان ہٹ گئے ہیں تو زبردستی سے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیں۔ یہ ہماری طرف سے خیرخواہی کا مشورہ ہے۔ افغان حکومت سے جنگوں میں بہت سارا اپنا جانی نقصان کرنے کے بعد پھر وہ جمہوری بنیادوں پر جنگ جیتنے کے قابل نہیں رہیںگے۔ امریکہ کے نکل جانے کے بعد دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے کابل میں ڈاکٹراشرف غنی جیسے دلیر افغان، پٹھان اورمسلمان کیساتھ مل بیٹھ کر مہذب اپوزیشن کا کردار بھی ادا کریں جو توپ اور میزائل کے گھن گرج میں جلسہ چھوڑ کر نہیں بھاگتا ہے اور نہ ہی نماز میں اس پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے صدارتی محل میں حملوں پر خوشی کا اظہار بھی غلط ہے اور فیصل مسجد میں صدر عارف علوی کا عید کی نماز میں غلطی سے امام سے پہلے اپنے ساتھیوں سمیت رکوع میں جانے پر مذاق اُڑانا بھی غلط ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین کا پشتو ن قوم، افغانستان وپاکستان اور دنیا کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ذاتی نوک جھونک کی بجائے وہ نظریہ اور عقیدہ ضروری ہے جو نہ صرف اپنے علاقے، ملک اور خطے کو بلکہ پوری انسانیت کو نجات کے راستے پر ڈال دے اور یہ اصلی اسلام ہے۔ ہر گھر میں کوئی مذہبی ،کوئی سیکولر، کوئی سیاسی ، کوئی غیرسیاسی اور کوئی تحریکی ، کوئی سرد مہری والاہوتا ہے۔ پھولوں کے اختلاف رنگ وبو سے ہی گلشن کی زینت ہے۔ اگر طالبان معروف افغان کامیڈین کو قتل کرنے کے بجائے اپنے اسٹیج سے کامیڈی کرواتے تو عوام کو افغان طالبان کی فکر میں انقلابی اور خوشگوار تبدیلی دکھائی دیتی۔ ایک صحابی جو لوگوں کو ہنساتے تھے ، نبیۖ نے اس کا نام حمار رکھا تھا لیکن اس کو برا بھلا کہنے سے بھی نبیۖ نے روک دیا تھا کہ مسلمانوں سے اور نبیۖ سے محبت رکھتا تھا۔ منظور پشین کی ٹیم میں شامل طالبان کامیڈین کی فیک ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین ومحسن داوڑ کا اختلاف سنجیدہ بات نہیں۔ جب امریکہ آیا تو علماء وطلباء سے زیادہ عوام نے بھڑکیاں مار یں۔ علماء وطلباء نے چندے زیادہ کھائے اور جہاد کم کیا لیکن عوام نے بڑے پیمانے پر طالبان کا ایسا ساتھ دیا کہ ریاست سمیت پوری قوم اور سیاسی قیادت بھی ان کی حمایت پر مجبور تھی ،یہ حمایت بھی دل وجان ہی سے تھی اور پھر رفتہ رفتہ فضاء بدل گئی اور طالبان کو ISI کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جانے لگا۔ اپنی پوٹی پر دوسرے کے بڑوں کو بچوں کی طرح پدو مارنے کیلئے نہیں بٹھایا جاسکتا۔ پختون طالبان ایکدوسرے سے انتقام لے رہے تھے۔ پھر سارا الزام فوج پر لگادیا کہ ”یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے”۔ آج مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین سرینڈر طالبان کے سامنے سرنڈر ہیں اور امریکہ کے نکل جانے کے بعد افغانی لڑرہے ہیں۔
جب خڑ کمر میں( PTM)کے کارکن یا عوام مارے گئے تو محسن داوڑ نے جہاد کا بھی اعلان کردیا مگر پھر رضا کارانہ طور پر اپنی گرفتاری دیدی۔ عبداللہ نگیال بیٹنی اور بنوں کے حاجی عبدالصمد خان کے بیانات سوشل میڈیا پر آگئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (PTM)کی مرکزی قیادت میں کتنا تناؤ ہے جو پوری پشتون قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں؟۔ اگر محسن داوڑ نے واقعی دتہ خیل کے جلسے میں منظور پشتین کی تقریر سے پہلے کہا تھا کہ جلسہ ختم ہواہے اور نہ صرف خود چلے گئے بلکہ دوسروں کو بھی جانے کا کہا تھا اور پھر مکین کے جلسے میں بھی زبردستی سے بن بلائے مہمان بن کر نہ صرف شرکت کی بلکہ تقریر بھی کرلی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ یہ پشتون قوم کو کس طرح متحد کریںگے؟۔
عبداللہ نگیال نے(PTM)پر آپس کی قوم پرستی کے شدید الزامات لگائے اور عبدالصمد خان نے کھلی بدمعاشی اور گالی گلوچ کے الزامات لگائے۔ منظور پشتین ایک شریف انسان ہیں لیکن انقلابی تحریکیں تبلیغی جماعت کی طرز پر نہیں چلائی جاسکتی ہیں۔ انقلاب کیلئے اپنی خامیوں کو اصول کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جاتی ہے بلکہ اپنی خامیوں پر قابو پاکر ہی قوم کو ایک مثبت انقلاب کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ چل گیا کہ اپنی وکالت اور مخالف کی اچھائیوں کو بھی برائیوں میں بدل دیں۔ اسلام نے سب سے پہلے عرب قوم کو جاہلیت سے نکالا تھا۔ آج اگر اصلاح کی جگہ پر مفادات کی بنیاد پر لڑائیاں شروع ہوں گی تو جس طرح طالبان اپنے وقت کی پیداوار تھے اور پھر وہ اپنے لئے بڑی مصیبت بن گئے ، اپنی قوم کیلئے مصیبت بن گئے اور جس امریکہ سے لڑائی تھی اس سے صلح ہوگئی۔ محسن داوڑ نے عوامی نیشنل پارٹی کے بعد (PTM)اور پھر اپنی نئی پارٹی میں پشتون اور پنجابی سب کو شامل کیا ہے۔ جو خوش آئند بھی ہے لیکن پھر وہ کم ازکم زبردستی (PTM)کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے سے تو دریغ کرتے مگر وہ پھر بھی ایک پختون ہے اور پشتونوں کی جنگ اس انداز سے لڑرہاہے؟۔
فرقہ واریت، جہاد،قبیلہ پرستی ، کمیونزم ، اسٹیبلیشمنٹ مخالف نظریاتی رہنما وکارکن اور پدر شاہی نظام کے خلاف آواز اُٹھانے والوں سے پنجاب اور سندھ بھرا پڑا ہے لیکن پختون اور بلوچ نہ صرف ہتھیار اُٹھالیتے ہیں بلکہ آپس کی دھڑے بندیوں میں تقسیم ہوکر ایکدوسرے کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن کچے پودوں کی طرح چبانے اور(PTM)آپس کی چپقلش میں مبتلاء ہو تو الزام کس کے سر آئے گا؟۔ کامریڈلعل خان اورعاصمہ جہانگیرکی طرح نظریاتی لوگوںاور اسلامی جمعیت طلبہ،لشکر طیبہ، جیش محمد، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد جیسی تنظیموں سے پنجاب بھرا پڑا ہے لیکن کرائے کے قاتل اور جنونی ہم ہی کیوں؟۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اگر بھارت نے افغان حکومت کی حمایت کی اور پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی تو دونوں ملک اپنے پیروں پر ضرب لگائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے، مولانا معراج الدین قریشی اور مولانا نور محمد کو شہید کرنے کی وجہ نظرئیے و عمل کا اختلاف تھا جو خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کی تھی یا مفتی عزیزالرحمن اورصابرشاہ کے کردار کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا تھا؟، بتادیا جائے!

آج پوری دُنیا میں عالمی قوانین، اخلاقیات، مذاہب اور انسانیت کی تباہی اور بربادی سے انسانوں، حیوانوں، جنگلات اورنباتات کے ذخائر کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ نے 1990ء میںصدام حسین کو کویت پر قبضے کا اشارہ دیا اور پھر تیل کے ذخائر میں شراکت داری کی قیمت پر کویت سے عراق کو نکال باہرکیا تھا۔پشتو کا مشہور خطیب جمعیت علماء اسلام ف کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتا تھا کہ” روس اسلئے تباہ ہوا کہ افغانستان میں صحابہ کرام کی قبروں پر اس نے بمباری کی تھی اور امریکہ اسلئے تباہ ہوگا کہ عراق میں اس نے اہلبیت کی قبروں پر بمباری کی ہے۔ عراق کو شکست نہیں ہو سکتی ہے اسلئے کہ عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑرہا ہے”۔
مساجد میں علماء کرام، اللہ والوں اور قلندروں نے امریکہ کے خلاف فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنی شروع کردی تھی جس میں امریکہ کے شہری آبادیوں کو بد دعاؤں سے تباہ وبرباد کرنے کے رقت آمیز مناظر ہوتے تھے اور مسلمانوں کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتوں کے اُترنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ جب امریکہ نے کویت سے معاہدہ کرکے تیل کے کئی قیمتی ذخائر پر قبضہ کرلیا تو عراق سے نکل گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ صدام حسین نے امریکہ کو شکست دی۔ دجالی میڈیا نے یہ اُجاگر نہیں کیا کہ امریکہ اپنے مقصد کویت میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ لوگ اپنے بیٹوں کا نام صدام رکھ رہے تھے۔ امریکہ نے پھر اسامہ بن لادن کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا اور ساتھ میں عراق، لیبیا اور شام کو کچلتے ہوئے تیل کے قیمتی ذخائر کو اپنے ہاں منتقل کردیا۔ جب کرونا کی وجہ سے پہیہ جام ہوگیا تو امریکہ میں تیل کی قیمت اسلئے منفی سے بھی نچلی سطح تک پہنچ گئی یعنی تیل کیساتھ ساتھ ڈالر بھی ملتے تھے۔ آج امریکہ افغانستان اور عراق سے نکل رہاہے اور ہمارے مذہبی بہروپئے دانشور کہتے ہیں کہ ایمان کی طاقت نے امریکہ کو شکست دیدی ۔ یہ کونسی شکست ہے کہ طالبان اتنے کنارے لگے کہ آج وہ اپنے اس ایجنڈے سے ہی دستبردار ہوگئے، جس کی بنیاد پر انہوں نے پوری افغان قوم کو یرغمال بنایا ہوا تھا؟۔ جب داڑھی، نماز، پردہ، تصویر اور ان سب معاملات سے دستبردار ہوگئے تو پھر حکومت کے حصول کیلئے افغان مسلمان بھائیوں کے مرنے اور مارنے کا جواز کس لئے ہے؟۔ جس پاکستان نے امریکہ کے پٹھو کا کردار ادا کیا اس کو اپنا باپ بناکر کس سے دشمنی کی جارہی ہے؟۔ ایک طالبان خطیب کہہ رہا تھا کہ ”امریکہ نے قرآن کی توہین کی ہے اسلئے امریکہ سے دشمنی طالبان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے”۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ” اس امریکہ کیساتھ تو تمہاری صلح ہوئی اور اس کیساتھ عرصہ سے تمہارے اکابرین قطر میں بیٹھ کر پلاننگ کر رہے ہیں”۔ کچھ طالبان پاکستان کو دھمکارہے ہیں کہ ” تم کافرستان کیلئے ہمیں فارغ ہونے دو، پھر تمہارے ساتھ بھی دیکھ لیںگے”۔ یہ سارے متضاد معاملات تاریک مستقبل کا پیشہ خیمہ ہیں۔
قبائل تحفظ موومنٹ کے ملک حسین آفریدی نے سوشل میڈیا ٹی وی کو جنرل حمید گل کے بیٹے عبداللہ گل سے پہلے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ” افغان جنگ میں دو فیصد بھی پنجابی اور سندھی نہیں مرے ہیں ،سب کے سب پشتون مرے ہیں۔ اگر افغان حکومت اورطالبان کے درمیان صلح کیلئے قبائل کو ذمہ داری سونپ دی گئی تو ایک ہفتے میں صلح کی گارنٹی دے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دوسرے لوگ اُنگلی بازی اور مداخلت سے رُک جائیں”۔ جبکہ عبداللہ گل نے کہا کہ ”حکومت کو چاہیے کہ قبائل کو بھی اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح معیاری زندگی کا حق دے۔ پہاڑوں اور جنگلات کی خوبصورتی اللہ نے دی ہے حکومت نے نہیں دی، حکومت نے جنگلات بھی کاٹ ڈالے ہیں۔جب افغانستان میں طالبان تھوڑے سے خون خرابے کے بدلے اسلامی امارت قائم کرلیں تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیںگے۔ یہاں کا مغربی جمہوری نظام بھی طاقت کے زور سے پھر بدلا جائیگا”۔ ایک سوال کے جواب میں عبداللہ گل نے کہا کہ” یہاں لوگ خون خرابہ چھوڑ کر حقو ق کیلئے جمہوری جدوجہد کریں”۔ ابوسفیان محسود قبائل تحفظ موومنٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ”پشاور میں پشت خرے ، متنی وغیرہ کے ایک ایک تھانے میں جتنے جرائم ہیں ،تمام قبائل میں مجموعی طور پر بھی اتنے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم پاگل ہیں کہ اس نظام کو اپنے ہاں لائیں ؟”۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”قوم پرستوں کے باپ دادا کا کرداربھی مجھے معلوم ہے ۔ ببرک کارمل، نور محمدترکی، حفیظ الامین اور ڈاکٹر نجیب اللہ نے کابل میں ایکدوسرے کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو یہ ہر قاتل کا سرخ جھنڈوں سے استقبال کرتے تھے۔ یہ افغانستان میں کونسے امن کے خواہاں ہیں؟۔ مجھ پر 25 سالوں سے قبائل میں آنے پر پابندی تھی اور اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ قبائل کے دل سے فضل الرحمن کو نکال سکیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مدارس اور علماء کے دشمن اور مذہب سے بیزار ہیں لیکن یہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ افغانستان کے طالبان کل بھی مجاہد تھے جب وہ روس کیخلاف لڑرہے تھے ، آج بھی مجاہد ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین سے امریکہ کوشکست دیکر نکالا ہے۔ البتہ میں ہمیشہ افغانستان کے داخلی معاملات میں صلح کا خواہاں رہا ہوں۔ جب بھی کسی وفد نے مجھ سے رابطہ کیا ہے تو افغانیوں کے درمیان صلح کی بات کی ہے۔ طالبان کو فوجی ترجیح حاصل ہے لیکن وہ قوت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بجائے صلح کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آج جو لوگ اشرف غنی کی حمایت کررہے ہیں کل یہ لوگ اس کو افغانستان کا بھگوڑا اور امریکہ کا ایجنٹ کہتے تھے۔ اور یہ جو نئے نئے پودے اُگے ہیں ان کو لوگ پکاتے بھی نہیں بالکل کچا چباجاتے ہیں”۔
اگر افغان حکومت کی بھارت اور طالبان کی پاکستان نے مدد کا سلسلہ جاری رکھا تو دونوں ممالک اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارینگے۔ امریکہ کی منصوبہ بندی یہی لگتی ہے کہ خوشحال عراق ، لیبیا اور شام کے ممالک کو تباہی کے کنارے پہنچانے کے بعد تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا گیا اور اب برصغیر پاک وہنداور چین میں جنگ کا ماحول برپا کرکے اپنے اسلحے کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جارہاہے۔ جس طرح میڈیسن کی گولیاں اور دوائیاں ایکسپائر ہوجاتی ہیں،اسی طرح بارود کی گولیاں اور گولے بھی ایکسپائر ہوتے ہیں۔ دولتمند ممالک انسانیت اور اخلاقیات کو تباہ کرکے بھی اپنے مفادات اٹھاتے ہیں۔ہمارے حکمران وسیاسی لیڈر ہوش کے ناخن لیںاور عوام کو اپنے مفادات اور تضادات کی چکیوں میں پیسنے کی بجائے شعور کی دولت سے نوازیں۔ جنوبی وزیرستان محسود علاقہ کے صدر مقام مکین میں مولانا فضل الرحمن کایہ پہلا جلسہ تھا۔ پہلے وہ الزام لگاتے تھے کہ”( PTM) اسٹیبلشمنٹ کی ایجنٹ ہے، اسلئے وہ جلسے کرتی ہے” اور اب شاید اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا گیا کہ” کل کے اُگنے والے پودوں کو ہم کچا چباڈالیں گے”۔
وزیرستان کی سر زمین پر مولانا فضل الرحمن کی آمد سے پہلے (PTM)کے رہنما حیات پریغال نے تقریر میں کہا کہ ” آنکھیں بند کرکے (PTM)پر بھی اعتماد مت کرو۔ جو لوگ بھی یہاں امن، کاروباراور زندگی کی بحالی لیکر آئیں وہ وزیرستان اور ہمارے علاقہ کے خیر خواہ ہیں۔ وہ فوجی ہوں یا کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمارے لئے قابل قبول ہیں لیکن جو پھر تباہی اور بربادی کی باتیں کریں تو ان پر نظر رکھیں۔ جن لوگوں کو قوم نے نمائندگی کیلئے چن لیا تھا تو ان سے سوال کرنا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہمارے لئے تم نے کیا کیا تھا؟”۔
متحدہ قبائل تحفظ موومنٹ کے شیرپاؤ محسودایڈوکیٹ نے کہا کہ ” جب یہاں مسلح طالبان لوگوں سے زبردستی کھانے لیکر جاتے ہیں اور فوج بھی مسلح ہے لیکن نہتے عوام اس جنگ میں دونوں طرف سے نشانہ بنتے ہیں تو ہماری چاہت یہ ہے کہ طالبان اور فوج میں صلح ہونی چاہیے”۔ سابق سینیٹر مولانا صالح شاہ نے کہا کہ ”پاکستانی طالبان کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی صلح میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی ادا کریںگے لیکن جب آرمی چیف اور افسران مل بیٹھ کر بات کرنے پر رضامندی ظاہر کردیں”۔جتنے منہ اتنی باتیں ہیں مگر مسائل کا یہ حل نہیں ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کی ویڈیوز سب نے دیکھ لی ہیں اور اب اگر کل یہ لوگ مدارس کے مسائل حل کرنے پر بات کرینگے تو انکے آگے ہاتھ جوڑ کرکہا جاسکتا ہے کہ تم بذاتِ خود مسائل ہو ،مسائل حل نہیں کرسکتے ۔ متحدہ مجلس کی حکومت میں مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو دجال کا لشکر قرار دیا تھا مگر حکومت میں ہونے کے باوجود کوئی مسائل حل نہیں کئے ،البتہ کرپشن کی ہے۔
محسود اور پختون کسی اور نہیں اپنے ہاتھوں سے خود تباہ اور برباد ہوگئے تھے۔ اگر خوف یا لالچ سے اپنے چھوٹے بچوں کو بڑے سجن کے ہاتھ میں نہ دیتے تو نہ ان کی اولاد بے ضمیری کا شکار بنتی ہے اور نہ ہی سجن لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی جگہ بے راہروی کا شکار بنتے۔ لاہور و ملتان سے گورنر سلمان تاثیر و وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے بیٹوں کو اغواء برائے تاوان کیلئے افغانستان لیجانے والے اسلئے اچھے نہیں بن سکتے کہ برطانوی خاتون صحافی نے انکے سلوک کو سلام پیش کیا۔ افغان طالبان کے علاوہ پاکستانی طالبان نے ایک پشتون لیڈی ڈاکٹر کو اغواء برائے تاوان سے بھی گریز نہ کیا۔ امریکہ کے خلاف جنہوں نے جنگ لڑی ان کو ہم سلام پیش کرتے ہیں لیکن اسامہ گھر میں مارا گیا اورملاعمر گھر میں مراتھا۔ ملا برادر پاکستانی جیل میں تھااور طالبان قائدین قطر میں اورلڑائی کل بھی افغانوں اور آج بھی افغانوں میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا کباڑا ہوگیا اور امریکہ اور نیٹو کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ نیٹو میں شامل ترکی کا طیب اردگان افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیساتھ افغان طالبان کیخلاف شانہ بشانہ تھا تب بھی وہ عالم اسلام کا عظیم مجاہد تھا۔ منافقت اور سیاست سے نکل کر ہمیں سچائی کی ڈگر پر آنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو حدیث کے مطابق خراسان کے دجال کا لشکر کہا تھا تو پاکستان کے میڈیا نے اس کو شائع نہیں کیا۔ اکرم خان درانی، مولانا نور محمد وزیر شہید ، مولانا معراج الدین قریشی شہید اور مولانا فضل الرحمن پر حملے کرنے والے طالبان اسلئے حملہ نہیں کررہے تھے کہ انکا کردار مفتی عزیزالرحمن کا تھا اور دہشت گردوں کا کردار صابرشاہ کا تھا بلکہ نظرئیے اور عمل کا اختلاف تھا اور کل اور آج کے مولانا فضل الرحمن میںکو ئی تضاد ہے تو یہ وہ سیاست وشریعت ہوسکتی ہے جو مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی سے کہا تھا کہ” تصویر حرام ہے اور قطعی حرام ہے لیکن کیمرے کی تصویر میں علماء کااختلاف ہے اوراس کا ہم فائدہ اٹھالیتے ہیں”۔جب یہ اختلاف نہ تھا تب بھی تم نے اور تمہارے باپ اوراکابر نے اس کا فائدہ اٹھایا تھا۔ یہ کھسیانی بلی کھمبہ نوچے والی بات ہے۔
جب نبیۖ سے عورت نے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی تو اللہ نے قرآن میں سورۂ مجادلہ کے عنوان سے اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ بناکر پیش کردیا۔ اپنی غلطیوں پر شیطان ڈٹ جاتا ہے۔ انسان کو شیطان بن کر ڈٹنے کی بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرکے آدم و حواء کی صحیح اولادکا ثبوت دینا چاہیے۔ قابیل اور ہابیل نبی حضرت آدم کے بیٹے تھے۔ قابیل کا کردار کوئی بھی ملک، طبقہ اور فردادا کرے تووہ قابلِ فخر نہیں اس کو توبہ کی دعوت دینی چاہیے۔
اوریا مقبول جان اور سوشل میڈیا کے جو ایکٹوسٹ امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان کے ایمان کو مثالی قرار دے رہے تھے وہ خود اللہ پر بھروسہ کرکے افغان طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار نہیں۔ آج بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبر آرہی ہے اور دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے لگ رہے ہیں۔ جب پیر پگارا کی پتنگ کو ایک لڑکی نے کاٹا تھا تو یہ شاید پیرپگاراکی حکمت عملی تھی اور وہ اپنی بوڑھی بیگم کو طلاق دے کر نئی شادی کرنا چاہتا تھا۔ اللہ کی مدد کشمیر ، فلسطین اور پاکستان میں لڑنے والے ٹی ٹی پی کو کیوں نہیں ملی؟۔ جب تک مسلمان اپنے علم و عمل کو درست نہیں کریں گے تو اللہ کی مدد کہاں سے آئے گی؟۔ پہلے ہمیں اپنا علم و عمل درست کرنا ہوگا اور حق بات اور صبر کی تلقین کرنی ہوگی پھر مدد آئے گی۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے گرینڈ مفتی مفتی محمد رفیع عثمانی نے لکھا کہ "خدا کے رسول نے فرمایا کہ حکمران اور رہنما دجال سے بھی بدتر ہوں گے۔”

مذہب، ریاست اور سیاست کے اشرافیہ کا گٹھ جوڑ اور عوام کے استحصال کابدترین نظام مگر سدھار کیلئے کوششیں جاری ہیں؟

آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا تو مسلم لیگ ، جمعیت علماء اسلام (س) ، جماعت اسلامی، سپاہ صحابہ اور نیشنل پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئی وغیرہ اس میں شامل تھے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور( MRD)میں پیپلزپارٹی کے نمائندے جس نے پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر اپنی پیپلزپارٹی بنائی تھی۔ حیرت انگیز طور پر غلام مصطفی جتوئی اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر اور مولانا سمیع الحق سینئر نائب صدر تھے اور نوازشریف کی حیثیت پنجاب تک تھی۔ غلام مصطفی جتوئی نے الیکشن ہارا اور مولانا سمیع الحق نے نوازشریف کے حق میں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑدیا۔ جماعت اسلامی اور نوازشریف کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل اخبارات کی زینت بن گیا۔
یہ شریعت ، ریاست اور سیاست کا کمال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے مکتبۂ فکر کے اکابرین نے اسلئے کافر قرار دیا کہ ایم آر ڈی میں پیپلزپارٹی کے شامل ہونے کے باوجود شمولیت کیوں اختیار کی ہے؟۔ جس طرح افغانستان میں خلق پارٹی کیمونسٹ ہے ، اسی طرح پیپلز کا مطلب بھی خلق ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع والد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے مشاہیر علماء نے بھی 1970ء میں فتویٰ لگایا تھا۔مولانا سمیع الحق میڈم طاہرہ اسکینڈل کی وجہ سے اپنا منہ دھونے کے قابل نہ تھے لیکن نوازشریف طاہرہ سید اسکینڈل کے باوجود شریف رہے۔ جس پر بعد میں رنگیلا وزیراعظم باقاعدہ کتاب بھی چھپ گئی ۔
جب بینظیر بھٹو کی فیک ننگی تصاویر سے لیکر بلاول بھٹو تک کو نہیں چھوڑاگیا تھا لیکن مذہبی ٹھیکیداروں کے سپر وائزرنوازشریف اپنے تمام کرتوتوں کے باوجود اسلامی ریاست کا سب سے بڑا قائد ، بادشاہ، خلیفہ اور امیرالمؤمنین بننے کا خواب دیکھ رہاتھا۔ تاریخ میں محمدشاہ رنگیلا اور خلیفہ سلطان عبدالحمید جیسے لوگ بھی بڑے منصبوں پر فائز رہے ہیں جن کے مشاغل حرم سراؤں کو سینکڑوں اور ہزاروں داشتاؤں اور لونڈیوں سے بھرکر انتہائی عیاشیوں اورفحاشیوں سے بھرپور تھے۔ ایسے میں نوازشریف کے کرتوت سے بھی ہاتھی کے دکھانے والے دانتوں پر جوں رینگنے سے فرق نہیں پڑسکتا ہے۔ البتہ ایک خاص انکشاف کی بات یہ ہے کہ مریم نواز اپنے کزن حمزہ شہباز سے میڈیا کے سامنے بغلگیر ہوتی ہے لیکن ن لیگ کے کارکن کے چھوٹے دماغ اس کو محض پروپیگنڈہ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کی جو اصل اور نقل قائد مریم نوازہے وہ اپنے شوہر کیپٹن صفدر اعوان سے فاصلہ رکھتی ہے تو اپنے کزن سے کیسے اس طرح بغل گیر ہوسکتی ہے؟۔
بعض مسلم لیگی رہنماؤں اور صحافیوں نے اس کو پنجاب کا عام کلچر بھی قرار دیا ہے۔ اصل معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تویہ خبر درسگاہ میں ملی تھی کہ بعض خواتین دارالافتاء سے رجوع کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے دامادوں کیساتھ جنسی مراسم رکھے اور اب پتہ چلا ہے کہ ” اپنی بیوی اس کے داماد پر حرام ہوچکی ہے اور اس کیلئے فتویٰ سے رہنمائی لینا چاہتی ہے”۔ فقہ حنفی کا فتویٰ یہ ہے کہ واقعی اس طرح اسکے داماد پر اس کی بیٹی یعنی داماد کی بیوی حرام ہوچکی ہے۔ تین طلاق کے بعد حلالہ سے بیوی حلال ہوسکتی ہے لیکن حرمت مصاہرت کی وجہ سے شوہر کیلئے اس کی بیوی کبھی حلال نہیں ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری پر پہلے نوازشریف کو اعتماد تھا اور پھر مولانا سمیع الحق سے اچھے مراسم بن گئے اور اب مولانا فضل الرحمن کیساتھ شریف فیملی کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان سب کا مشترکہ اور متفقہ طور پر یہ فتویٰ ہے کہ حرمت مصاہرت کے بعد عورت اپنے شوہر کیلئے کسی طرح حلال نہیں۔
حرمت مصاہرت کے جو مسائل درسِ نظامی اور فقہ کی کتابوں میں ہیں اور ان پر فتویٰ دیا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ اور عوام کو پیش کئے جائیں تو ان کو مدارس اور علماء ومفتیان سے شدید نفرت ہوجائے گی۔ یہ تک بھی ہے کہ ” ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر نظر پڑجائے اور نظر میں شہوت آجائے تو اس میں عذر ہے لیکن اگر شرمگاہ کے اندر پر نظر پڑگئی اور نظر میں شہوت آگئی توپھر حرمت مصاہرت ہوگی”۔ (نورالانوار۔ دیوبندی بریلوی مکاتب فکر نصابی بورڈ کا حصہ ہے)
بعض کو اعتراض ہے کہ ان باتوں کو اخبار کی زینت کیوں بنایا جاتاہے ؟۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بڑے مدارس قرآن وسنت کی واضح تعلیمات اور فطرت کے برعکس لوگوں کو فتویٰ دیتے ہیں کہ تمہارے منہ سے تین طلاق کے الفاظ نکل گئے ہیں اور تمہاری بیگم تم پر اس وقت تک حرام ہوچکی ہے کہ جب تک کوئی دوسرا مرد اسکے ساتھ دوسرانکاح کرکے اس کی شلوار اتار کر اس میں شہوت کیساتھ ڈال کر حلالہ کی لعنت کرے”۔
قرآن نے جن واضح الفاظ میں بار بار باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے طلاق کے بعد رجوع کا تعلق باہمی رضامندی اور عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد سے جوڑا اور باہمی رضاکے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کو حرام قرار دیا ہے اور حضرت عمر کا فیصلہ اور حضرات ائمہ اربعہ کا فتویٰ بالکل قرآن وسنت کے مطابق تھا لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ قرآن وسنت کے برعکس باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کو بھی یہ یہودونصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلنے والے علماء ومشائخ حلالہ کی لعنت سے مشروط کردیں گے۔
اصول فقہ میں بنیادی اصولوں کے نام پر جو خرافات پڑھائے جاتے ہیں وہ مسلمانوں کیلئے انتہائی تباہ کن ہیں اور پھر جن متضاد قسم کے مسائل کا ذکر کیا ہے تو فرشتے بھی اس پر حیران ہونگے۔ مولانا سلیم اللہ خان لکھتے ہیں کہ ” اس اثرکا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے کسی بچے کیساتھ بدفعلی کا ارتکاب کیا تو اس کی ماں اس پر حرام ہوجائے گی ۔ سفیان ثوری، امام اوزاعی اور امام احمد بن حنبل اس کے قائل ہیں لیکن جمہور علماء کے نزدیک لواطت سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ اسلئے کسی بچے سے بدفعلی کے ارتکاب کے بعد بھی وہ شخص اس کی ماں کیساتھ شادی کرسکتا ہے۔ (ارشاد الساری ۔ کشف الباری )یہ بھی لکھا کہ ” وربائبکم اللاتی فی حجورکم من نساء کم اللاتی دخلتم بھن ” تمہاری وہ رضاعی بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں ان تمہاری عورتوں سے جن میں تم نے داخل کیا ہے”۔ ………. امام عبدالرزاق نے مالک بن اوس سے روایت نقل کی ہے ،اس میں ہے کانت لی امرأة قد ولدت لی فماتت فلقیت علی بن ابی طالب فقال لی : مالک ؟ فاخبرتہ فقال: ألہا بنة؟ یعنی من غیرک قلت نعم،قال: فی حجرک ؟،قلت: لا،ہی من الطائف،قال: فانکحھا قلت: فأین قولہ تعالیٰ”وربابکم” قال: قال انھا لم تکن من حجرک (فتح الباری 197/9 ۔ کشف الباری صفحہ 209 )
ایک طرف ایسی روایات کو مضبوط قرار دینا جس سے اپنی سوتیلی بیٹی کیساتھ شادی کی باقاعدہ مضبوط ذرائع سے ترغیب ملتی ہو اور دوسری طرف حرمت مصاہرت کے ان عجیب وغریب مسائل کی ترویج کرنا کتنا بڑا افراط وتفریط ہے؟۔ علماء کرام نے اسلام کی اس طرح سے حفاظت کی ہے کہ قرآن وسنت کے خدوخال عوام کے سمجھادئیے ہیں باقی ان کے علم وعمل اور عقل وسوچ کادائرۂ کار امت کی نجات کیلئے کوئی کشتی نوح نہیں ہے بلکہ تفریق وانتشار اور گمراہی کا ذریعہ ہے۔
مولانافضل الرحمن نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ” دیوبند ایک مسلک کا نام نہیں بلکہ ایک مدرسے کا نام ہے اور جن لوگوں کی علمی اسناد مدرسہ دیوبند کی طرف جاتی ہیں وہ دیوبندی کہلاتے ہیں۔ جیسے ندوة العلماء کے علماء کو ندوی کہا جاتا ہے۔ دیوبند اصل میں اسلام کی اجتماعی سوچ وفکر کا نام ہے۔ جمعیت علماء اسلام دیوبند الجماعت ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ دوسری جماعتیں بھی دیوبند سے ہی تعلق رکھتی ہیں تو اس میں وحدت نہیں ہر جائی ہے۔ دین کا حکم یہ ہے کہ لیس دین الا بالجماعة ، لیس جماعة الا بالامارة ، لیس الامارة الا بالطاعة، علیکم بالجماعة ” دین نہیں ہے مگر جماعت کیساتھ، جماعت نہیں مگر امیر کیساتھ، امیر نہیں ہے مگر اطاعت کیساتھ اور تم پر جماعت کی اطاعت فرض ہے”۔ جمعیت علماء اسلام کے علاوہ دیگر جتنی دیوبند کے نام سے جماعتیں اور تنظیمیں بنی ہیں ان کی تائید کرنا دین سے بغاوت اور ہرجائی ہے”۔
مولانا فضل الرحمن نے جب میرے سکول کبیر پبلک اکیڈمی کا افتتاح کیا تھا تو مجھے دعوت دی گئی کہ میں ان کا شکریہ ادا کروں۔ مجھے پتہ چلا کہ بعض علماء نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ میرے سکول کا افتتاح کیوں کررہے ہو؟۔ میں نے شکریہ ادا کرنے کیساتھ یہ عرض کیا تھا کہ جب علماء ومفتیان مولانا فضل الرحمن پر فتوے لگارہے تھے تب سے میرا مولانا فضل الرحمن کیساتھ ایک تعلق ہے ۔ لیکن مولانا فضل الرحمن نے جب ہمارے خاندان کی مذہبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عتیق جیسے اہل علم بھی ہیں لیکن میں علماء کیساتھ ہوں، جماعت سے جو الگ ہوا ،من شذ شُذ ( جو پھسل گیا وہ آگ میں پھسل گیا)”۔ مہمان کی حیثیت سے اسٹیج پر ان کی بے عزتی انسانی فطرت اور مذہب کے خلاف تھی مگر مولانا فضل الرحمن نے پہلے بھی اپنی جماعت کی شوریٰ میں ان احادیث کو اپنی جماعت پر ہی فٹ کیا تھا جو خلافت کے بارے میں ہیں اور جس کی وجہ سے وعیدیں بھی ہیں۔
میں نے اپنی کتاب ” اسلام اور اقتدار” میں احادیث کے مفہوم اور مقاصد کو واضح کیا اور آخر میں مولانا فضل الرحمن کا نام لکھ کر واضح کیا کہ عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔ پھر جمعیت علماء اسلام کے ضلعی رہنماؤں اور ٹانک شہر کے اکابرعلماء کرام ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر وغیرہ نے ہماری تحریری تائید کی ۔ یہاں تک کہ جمعیت علماء اسلام کو چھوڑ کر میرے ساتھ خلافت کیلئے کام کرنے پر بھی آمادہ ہوئے تو مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے خلاف کچھ لوگوں کو استعمال کیا۔ مارپٹائی ، لڑائی جھگڑے اور پولیس وجیل اور پابندی تک بھی بات پہنچ گئی لیکن جب سارے حربے ناکام ہوگئے توپھر ہمارے گھر تشریف لائے اور واضح کردیا کہ میں اسکے پیچھے نہیں تھا۔ ہم نے اس سے پہلے JUI پر احادیث کو غلط طور پر فٹ کرنے کی اخبار میں وضاحت بھی کی تھی۔
اب پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنے پرانے مؤقف کو دہرایا ہے۔ ہم طالبان اور سپاہ صحابہ کیساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود بھی خیر خواہی رکھتے ہیں اور دین کا یہ تقاضہ ہے کہ سب سے خیر خواہی رکھی جائے۔ داعش بھی اپنے اوپر خلافت ہی کی احادیث فٹ بٹھاتی ہے۔ حزب التحریر ،جماعت المسلمین اور دوسری تنظیمیں بھی یہ کام کرتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت علماء ہند کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام بنی تھی تو ایک جماعت سے دوسری جماعت میں کس نے چھلانگ لگائی؟۔ دوسری بات یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے امیرمولانا عبداللہ درخواستی کا مقابلہ کس نے کیا تھا؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ مولانا حق نواز جھنگوی ایک طرف سپاہ صحابہ کے امیر شریعت تو دوسری طرف جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر کیسے تھے؟۔ جبکہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری احرار کے امیر شریعت تھے اور جمعیت علماء ہند اور جمعیت علماء اسلام سے تعلق نہ ہونے کے باجود ان پر باغی اور آگ میں پھسلنے کا فتویٰ کسی نے نہیں لگایا تھا؟۔
مولانا فضل الرحمن پہلے بینظیر زدہ، پھر زرداری زدہ اور مریم نواز زدہ ہوگئے ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں؟۔ اگر کسی قادیانی ڈاکٹر مبشر سے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کی دوستی میں اپنے دل کے وال بدل سکتے ہیں تو پھر کسی اچھے ماہر امراض مسلمان ڈاکٹر سے اپنے دماغ کا علاج کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ نفسیات کے ایک مسلمان ڈاکٹر منیر داوڑ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں۔ ایک چھوٹے بھائی کی طرح ان کو تشخص کرانے کا مشورہ ہے۔
میرے ایک قابل قدر دوست مولانا غلام اللہ حقانی نے مجھے فون کیا کہ محسود قوم کے ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کے پول میں خلفاء راشدین کے حوالے سے یہ لکھنا عوام کو تشویش میں ڈال دے گا کہ ” وحی کے باوجود خلفاء راشدین کی طرف سے بامعنیٰ مشاورت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے خلافت راشدہ کے دور میں ہی فسادات ہوئے جبکہ وزیرستان میں وحی کی رہنمائی کے بغیر بھی مشاورت کا نظام تھا جس کی وجہ سے محسود ایریا تاریخ میں امن وامان کا گہوارہ تھا”۔ حالانکہ میں 1992,93سے اپنے کتابچہ ”دعوتِ فکر” میں یہ لکھتا رہا ہوں کہ حضرت ابوبکر کی خلافت حادثاتی طور پر قائم ہوئی ، جس کا ذکر بالکل عام طور پر کتابوں میں بھی موجود ہے۔ حضرت علی چھ ماہ تک ناراض رہے۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر و عمر کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھی اور پتہ نہیں کس قسم کے جنات نے ان کو قتل کردیا تھا؟۔ نبیۖ سے حدیث قرطاس میں وصیت لکھنے پر اختلاف کیا گیا اور حضرت عمر کی نامزدگی مشاورت کے بغیر ہوئی ۔ جبکہ حضرت عثمان کی مشاورت بھی وسیع البنیاد شوریٰ کی حیثیت سے نہیں ہوئی تھی۔ یہی حال حضرت علی کی نامزدگی کا بھی تھا جس سے حضرت حسن نے اختلاف بھی کیا تھا۔ محسود قوم کیساتھ بیٹنی بھی پشتون قوم ہے مگر اس میں حق کیلئے گواہی پر بھی پابندی ہے اور قرآن کی قسم اٹھانے کی بھی ایک قیمت مقرر ہے۔ محسود قوم کی تعریف کسی تعصب ، مفاد یا احسان کے بدلے کی وجہ سے نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ وزیر اوربیٹنی کے مقابلے میںمحسود قوم کے طالبان سے اس وقت میری مخاصمت رہی ہے جب محسود قوم کی اکثریت طالبان کیساتھ کھڑی تھی ۔
بیت اللہ محسود نے پہلے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود سے ہمارے واقعہ پر بھی بدلہ لینا چاہا تھا لیکن جب بیت اللہ محسود سے کہا گیا کہ ہمیں قصاص میں قتل کردو لیکن تمہارے حکم پر اپنے گاؤں کوٹ کائی کے خاندان ملک اور اس کی فیملی کے افراد کو بھی قتل کیا ہے تو بیت اللہ محسود اپنی بات سے پیچھے ہٹا۔ میری مولانا فضل الرحمن سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں ہے لیکن اس کو اپنے کردار کو ٹھیک کرنا ہوگا اور متضاد علمی فتوؤں کے اجراء سے پرہیز کرنا ہوگا۔ میرے لئے تو کسی بڑے سے بڑے پر تنقید کرنے میں ایک صحافی کی حیثیت سے زبردست پذیرائی ملتی ہے لیکن میں اس کا اپنا دینی فرض اور انسانی فطرت کا تقاضہ بھی سمجھتا ہوں۔ باقی مولانا فضل الرحمن اور طالبان سب کیلئے خلوص وہمدردی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ او ردانت کے بدلے دانت کا حکم دیا ہے۔ نور مقدم کے قتل پر کوئی ابہام نہیں لیکن دیواروں کے پاس زبان نہیں اور بند کمرے میں کوئی چشم دید گواہ نہیں اسلئے عدالت شک کا فائدہ دے کر ملزم کو رہا کرسکتی ہے۔ یہ عدالت نہیں ڈھکوسلہ ہے اور اس کی وجہ سے انصاف کا ملنا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے اور اگر ملزم کو جج صرف دباؤ کے بغیر اپنے اوپر لگنے والے الزام کو قبول کرنے کی بنیاد پر سزا دے یا گواہی ضروری ہو تو پھر اتنے مہنگے وکیلوں کو پکڑنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ اکثر ججوں نے وکیل کی ٹریننگ کی ہوئی ہوتی ہے اور اپنی مہارت کا بہت بڑا ثبوت دے کر آپس میں ایکدوسرے کے مخالف 180ڈگری پر فیصلہ دیتے ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے لکھا ” رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ حکمران اور لیڈر دجال سے بدتر ہوں گے ”۔ علامات قیامت اور نزول مسیح۔ افغان حکومت اور طالبان بھی افغان عوام کو تکلیف دینے کے بڑے مجرم ہیں۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Maulana Fazlur Rehman and Mahmood Khan Achakzai should have played a leading role in reconciling the Taliban and nationalists in Afghanistan.

دنیا کے چیلنج اور اپنے اندورنی مسائل پر قابو پانے کیلئے مذہبی اور سیکولر طبقات اپنے علم و عمل کو ٹھیک اور حق و صبر کی تلقین کریں

آج پاکستان کے مذہبی اور قوم پرست مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ کے نکلنے پر جس طرح کے قتل وغارت کا بازار گرم ہے اور جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں تو یہ بہت شرم ، غیرت اورانسانیت کا مسئلہ ہے کہ امریکہ کی موجودگی میں برسوں سے قطر میں طالبان اور امریکہ کے مذاکرات تھے اور مذاکرات کی کامیابی کا کریڈٹ ہم لے رہے ہیں لیکن افغانوں کے درمیان جنگ میں پھر کسی فریق کی حمایت کا کھلم کھلا اظہار ہورہاہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ان افغانی باشندوں نے افغان حکومت کی حمایت کرنے پر قوم پرستوں کی طرف سے پاکستان میں حمایت کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس سے افغان حکومت کی مشکلات میں مزیداضافہ ہورہاہے۔
امریکہ کے خلاف جنگ میں طالبان کی اتنی لاشیں نہیں گری ہیں جتنی کی خبر اب سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہورہی ہے۔ امریکہ اور نیٹو کی موجودگی میں جن کو جہاد اور جنت میں جانے کا شوق نہیں تھا اور اب پیدا ہوا ہے تو یہ قدرت نے زمین کو ان سے پاک کرنے کا اچھا انتظام کیا ہے تاکہ فسادی جلدختم ہوجائیں۔ جو لوگ ان کو ابھار رہے ہیں اور اُکسارہے ہیں یہ ان کی اچھی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن یتیم بچوں اور بیواؤں کیلئے بھی کوئی اچھے انتظامات نہیں ۔ شدت پسندتو عراق وشام لڑنے کیلئے بھی پہنچے تھے اور بہت ساروں کا بخار بھی وہاں اتراتھامگر اب شاید اسلام کے نام پر شدت پسندوں سے زمین کو پاک کرنیکی یہ آخری کوشش ثابت ہو، ایران بھی بڑے طالبان کمانڈورں کو مالی مراعات سے امداد کر رہاہے اور افغانستان میں بھی ایسی قومیں ہیں جو دونوں طرف کی پالیسی چلتے ہیں اور پاکستان وافغانستان کے مشترکہ قبائل میں اچکزئی قبیلہ دونوں طرف سے لڑ رہاہے اور اس کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ نورزئی قبیلہ طالبان کی سائڈ پر کھڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو چاہیے تھا کہ وہ طالبان اور قوم پرستوں کی صلح میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے۔ ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح میں منافقانہ کردار ہوسکتا ہے مگر افغانوں کے مؤمنانہ کردار پر دونوں رہنماؤں کو بھروسہ ہے۔ پھر یہ اپنامثبت کردار (PDM)کی لاش پر ناچنے کے بجائے یہاں کیوں نہیں ادا کررہے ہیں؟۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن دونوں بڑے بھائیوں کی طرح محترم ہیں اور ان کا احترام اسی وقت سب میں بحال ہوسکتا ہے کہ جب وہ بروقت مثبت کردار ادا کریں۔
ہمارا افغان حکومت اور طالبان سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ کوئی فکری یا نظریاتی لگاؤ ہے لیکن پھر بھی کھلم کھلا ان دونوں کی ہمدردی میں اپنی طرف سے جو ممکن ہوتا ہے ،قلم کے ذریعے کردار ادا کرتے ہیں۔کوئٹہ میں ایک بااثر افغان آغا نے مجھ سے کہا کہ ”اگر آپ طالبان کو سمجھائیںگے تو امید ہے کہ امن وامان پر آمادہ ہوجائیںگے”۔ وہ شخص یتیموں اور بیواؤں کا اپنی وسعت کے مطابق خیال رکھ رہاہے اور طالبان سے اچھے مراسم ہیں۔ اگر میری کوئی مقبول حیثیت ہوتی تو پھر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان صلح کرنے میں لمحہ بھر کی تأخیر بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ میری فطرت اور طبیعت کے منافی ہے لیکن میں اپنی اوقات کو سمجھتا ہوں اور اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلانے کے خطرات مول نہیں لے سکتا۔
میں نے آغا صاحب سے عرض کیا کہ ہمارے علاقہ گومل میں ایک بدقسمت قسم کااسکول ٹیچرہے جس کی اپنے باپ سے بھی نہیں بنتی ہے اور وہ سکول کی اپنی ڈیوٹی بھی کرتا ہے لیکن شاگردوں سے کہتا ہے کہ ” تم اپنی زمینداری کرو، زمینوں میں ہل چلاؤ، بکریاں چراؤ، ہاتھ پیر کی مزدوری کرو اور کھیل تماشے دیکھو۔ سکول پڑھنا چھوڑ دو۔ جدید تعلیم میں سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ بننا انگریز اور گوروں کا کام ہے۔ یہ تمہارا کام نہیں ہے”۔ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ قوم کیساتھ جو کام کررہاہے تو سکول ٹیچر کی بات کوئی زیادہ غلط نہیں ہے۔ حال میں سلیم صافی نے شہباز شریف سے انٹرویو لیا ہے اور جیو ٹی وی کے مشن کی یہ مجبوری ہوگی لیکن سلیم صافی نے شہبازشریف کو خوامخواہ کی زحمت دے کر تھکایا۔ صاف الفاظ میں یہ کہنا چاہیے کہ لوہے کی سوداگری اور اتفاق فاؤنڈری کے کام کو چھڑا کر اسٹیبلشمنٹ نے غلط کیا تھا کہ نوازشریف اور تمہارے جیسے لوگوں کے ذریعے سیاست کو بہت گندا کیا گیا ہے۔ تمہیں اپنے کام اور کاروبار کی طرف واپس جانا چاہیے۔ملک اور قوم کی سیاست کرنا تمہارے جیسے کاروباریوں اور نہ عمران خان جیسے کھلاڑیوں کا کام ہے۔ نوابزداہ نصراللہ خان نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے سیاست سیکھ لی تھی لیکن دونوں کے ٹبروں نے پھر سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ آج سیاست پر ٹبروں کو مسلط کرنے والے سب نااہل لوگ ہیں۔
جب حضرت ابوبکرصدیق اکبرنے خلافت کا منصب سنبھال لیا تو ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا کہ قریش کے ایک کمزور خاندان کافرد خلیفہ بن گیا ہے اور اگر آپ اجازت دیں تو جوانوں سے مدینہ شہر کو بھردوں اور اس کو خلافت سے ہٹا دیں لیکن حضرت علی نے فرمایا کہ کفر کے وقت اسلام سے کم دشمنی کی تھی کہ اب اسلام میں داخل ہونے کے بعد اسلام سے تمہارا بغض وعناد نہیں جاتا ہے؟۔
جب حضرت عمر نے تلوار اٹھاکر نبیۖ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا توحضرت امیر حمزہ نے فرمایا کہ ” اس کو آنے دو، اگر اچھی نیت سے آیا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا سر اس کی اپنی تلوار سے اتاردوں گا”۔ جب ابوجہل نے نبیۖ کیساتھ بڑا گستاخانہ اور بہیمانہ سلوک کیا تو اس وقت حضرت امیر حمزہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن ابوجہل کو حرم میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ” او چوتڑ کو خوشبو لگانے والا ابوجہل! اگر تمہارے اندر ہمت ہے تو میرا مقابلہ کرو”۔ ابوجہل نے ہمت نہیں کی اور ابوسفیان اس وقت مکہ کا سردار بن گیا تھا جب دوسرے سردار قتل ہوئے تھے۔ جب حضرت عثمان کو مدینہ میں شہید کیا جارہاتھا تو امیرمعاویہ نے حضرت عثمان کی کوئی حمایت بھی نہیں کی تھی۔ جب حضرت علی اور حضرت عائشہ کی لڑائی ہوئی تو حضرت عمار نے حضرت علی کی طرف سے شہادت پائی۔ رسول اللہۖ نے بشارت دی کہ” باغی گروہ عمار کو قتل کر ے گا”۔ امیر معاویہ نے الزام لگایا کہ ”حضرت عمار حضرت علی کے لشکر کے ہاتھوں قتل ہوئے اور پھر اس کا الزام ہم پر لگادیا”۔ حضرت علی نے جواب دیا کہ ” یہ توا یسا الزام ہے کہ جیسے کہا جائے کہ امیرحمزہ کو اپنوں کے ہاتھوں شہید کرکے الزام دشمنوں پر لگادیا تھا” ۔
جس طرح صحابہ کی عزت واحترام کا اہتمام لڑائیوں اور الزامات کے باوجود ہم سب پر فرض ہے،اسی طرح افغانوں کی عزت واحترام کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا تھا کہ کاش میں حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان غیرجانبدار رہنے کی بجائے حضرت علی کا ساتھ دیتا۔ حضرت عمر کے ایک صاحبزادے حضرت عبیداللہ حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ میں لڑائی ہو تو اپنے بھائیوں میں صلح کراؤ ۔ اور اگر ایک دوسرے کیخلاف بغاوت کرے تو بغاوت کرنے والوں کے خلاف جنگ کرو،یہاں تک کہ وہ صلح پرآمادہ ہوجائے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اگر اسلامی ممالک صلح نہیں کراسکتے ہیں اور نہ کسی ایک کا ساتھ دے سکتے ہیں تو جنگ میں تباہی کا سلسلہ جاری رہیگا اور آخر پھر کسی تیسرے گروہ کو سازش کے تحت افغانستان پر مسلط کیا جائیگا جس سے شیطانی قوتوں کو اپنا اسلحہ بیچنے کے مواقع میسر رہیں گے ،ہم اپنے قلم کی طاقت سے صلح ہی کے خواہشمند رہ سکتے ہیں۔
کوئٹہ میں آغا سے میں نے کہا تھا کہ ایک محسود خاتون اپنا جوان بچہ میرے پاس دم کیلئے لیکر آئی۔ میں نے کہا کہ میں یہ کام نہیں کرتاہوں مگر ایک ساتھی کو کہا کہ مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ” اعمال قرآنی” سے کوئی چیز دیکھ کر دم کرنا اور پھر جب اس نے دم کیا تو پاگل جوان نے کہا کہ ”یہ کونسی کتاب ہے؟”۔ میں نے کہا کہ یہ آپ اپنے ساتھ لے جائیں۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ مجھے ڈر ہے کہ خود کشی نہ کرلے تو جوان نے کہا کہ خود کشی تو مجھے ہر حال میں کرنی ہے۔ میں نے آغا سے کہا کہ جو طالبان ابھی گرم جوشی میں افغانستان شہید ہونے کیلئے جانا چاہتے ہیں تو ان کو روکنا اس جوان کی طرح بہت مشکل ہے ۔ جب تک بڑوں کی طرف سے ماحول کو بدلنے کی مؤثر کوشش نہ ہوجائے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جب جوش ٹھنڈا ہوگا اور بات سننے پر آمادہ ہوجائیں تو سب اچھا ہوگا۔
جو لوگ حضرت امیرمعاویہ کی تائید اسلئے کررہے ہیں کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی تھے تو ان کی بات دوسوفیصد درست ہے لیکن جو لوگ اپنی خاندانی حکومت، جاگیرادارنہ نظام کی طرح خاندانی سیاست کی حمایت کیلئے حضرت امیرمعاویہ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان خوارج سے بھی بدتر ہیں جو کہتے تھے کہ للہ الامر ۔ حضرت علی نے فرمایا تھا کہ ان کی بات درست مگر وہ اس سے غلط مراد لیتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کا مرکز بستی نظام الدین بھارت میں بانی مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کی وجہ سے تبلیغی جماعت سے کٹ کر رہ گیا۔ جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت امیر کے بغیر سرکٹی لاش بن کر دنیا میں گھوم رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو صاحبزادگان نے دولخت کردیا اور جمعیت علماء اسلام کے ٹکڑے بھی ان صاحبزادگان کے اختلاف کا نتیجہ تھا۔ بنو امیہ اور بنوعباس نے خلافت اور اسلام کا بیڑہ غرق کیا تھا اور مدارس اور خانقاہوں کا بیڑہ بھی صاحبزادوں کی وجہ سے غرق ہوا ہے۔ ائمہ اہلبیت نے حضرت ابوبکرو حضرت عمر و حضرت عثمان سے لیکر تمام بنوامیہ و عباس تک اختلاف کاسلسلہ بھی جاری رکھا لیکن امت کے اتحاد کو بھی کبھی پارہ پارہ نہیں ہونے دیا۔ آج بھی ہم کسی سے اقتدار اور اسکے منصب اور عہدے چھین لینے کے بھوکے نہیں ہیں۔ صرف مسلمانوں کے نہیں غیر مسلم کے نااہلوں کو بھی اسلام اور انسانیت کیلئے زہرِ قاتل سمجھتے ہیں اور اتنی استدعا کرتے ہیں کہ جو عہدہ اور منصب تمہیں ملا ہے اس کا فرض صحیح طریقے سے ادا کرو۔ حضرت حسن نے بھی امیر معاویہ کے حق میں اسی لئے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور یہ اسلام کے اس بنیادی فطرت کا نتیجہ ہے جو وہ مسلمانوں اور انسانوں میں ابھارتا ہے۔
اہل تشیع اسلام کی اس بنیادی فطرت سے واقف ہوتے تو ان کی نظروں میں حضرت علی اور حضرت حسین کے درمیان حضرت حسن کی اہمیت کم نہ ہوتی۔ اثنا عشریہ والے توپھر بھی امام حسن کی امامت مانتے ہیں لیکن آغا خانی اور بوہری شیعہ تو حضرت حسن کی امامت کے بھی قائل نہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ دیکھا جائے تو وہ عزیز مصر کا عہدہ سنبھالنے اور اس پر قبضہ کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے تھے لیکن آپ نے مصر کی گورنری کی جگہ وزیرخزانہ بننے کوہی اہمیت دی اور وہ خزانہ لوٹنے کیلئے نہیں بلکہ غریبوں اور مستحقین تک حق پہنچانے کیلئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے حضرت زلیخا سے انتقام نہیں لیا بلکہ انکے اسلئے شکر گزار رہے کہ اس نے ایک غلام کی حیثیت سے عزت دیکر پالا تھا۔
صحافیوں اور سوشل میڈیا کے بھونکروں سے گزارش ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! اللہ کیلئے انصاف کی گواہی دینے کیلئے کھڑے ہوجایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس بات پر تمہیں نہ آمادہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو اور یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ شک نہیں کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ (سورہ ٔ المائدہ آیت5)
میں نے اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز” میں سورۂ مائدہ کے تین معاملات کا حوالہ دیا تھا جس کی تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء نے بھی تائید کی تھی۔ اللہ نے جہاں یہ فرمایا ہے کہ ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا وہی لوگ کافر ہیں” تو اس کے پس منظر میں یہودکے علماء مشائخ کا ذکر ہے اور انہی پر فتویٰ لگایا گیا ہے اور جو مسلمان علماء ومشائخ بھی اپنا فتویٰ بدلیں گے تو ان پر بھی یہی حکم لگے گا اسلئے کہ ان کے فتوؤں سے دین بدلتا ہے۔ جبکہ دوسری مرتبہ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں”۔ اس کا تعلق قصاص اور برسراقتدار طبقے سے ہے اسلئے ان پر کافر کا نہیں ظالم کا فتویٰ لگتا ہے۔ تیسری مرتبہ اللہ نے فرمایا ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو بیشک وہ لوگ فاسق ہیں” اور اس کے پسِ منظر میں اہل انجیل یعنی عوام مراد ہیں جن کے پاس فتوے اور اقتدار کی قوت نہیں تھی اور مسلمانوں میں بھی اگر عوام الناس اسلام کے احکام پر نہیں چلتے تو ان پر کافر اور ظالم کا نہیں فاسق کا فتویٰ لگتا ہے۔ مسلمان عوام مشکل میں اسلئے ہیں کہ علمائاور حکمرانوںکے درمیان چکی کے دوپاٹوں میں پس رہے ہیں ۔
حضرت علی اورحضرت عائشہ نے آپس کی جنگ میں قیادت کا فریضہ خود ہی ادا کیا تھا۔ طالبان قائدین اور اشرف غنی جنگوں کی قیادت نہیں کرتے بلکہ عوام ہی دونوں طرف سے لڑ اور مر رہے ہیں۔سیاسی میدان اور الیکشن میں بھی عوام کو لڑائیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔( PTM)کا جلسہ اگر جنوبی وزیرستان کے محسود ایریا میں نہ ہوتا تو قیادت اور کارکنوں کے درمیان لڑائی سے پشتون قوم بھی بہت بدنام ہوجاتی۔( PTM)نے محسود کارکنوں اور رہنماؤں کو مکین کے جلسے میں سب سے زیادہ بے اختیار رکھا تھا اسلئے بنوں کے حاجی عبدالصمد خان اور عبداللہ نگیال کی وجہ سے بدمزگی شروع ہوئی اور دونوں طرف کے کارکنوں تک معاملہ پہنچ گیا لیکن یہ تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے پشتون قوم پرستوں کے باپ دادا اور ان کی اجتماعی غیرت کو اپنے ناخن سے بھی کم تر قرار دیا۔ محسن داوڑ نے کہا کہ امریکہ کے جانے کے بعد اب جہاد کا اعلان کیا ہے اور پھر (TTP)کا بھی عوام کو بتادیں کہ وہ مجاہد یا دہشت گرد ہیں؟۔ منظور پشتین نے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو سلام پیش کیا گیا تو افغانستان میں کمیونزم کے نام پر پشتونوں کو 40سالوں سے کیوں مروایا جارہاہے؟۔ کیا اسلام پاکستان کیلئے جمہوری اور افغانستان کیلئے جہادی نازل ہوا ہے؟۔ جب طالبان کی حکومت تھی تو بھی پاکستان نے ڈالر لیکر امریکہ کا ساتھ دیا اور طالبان کی حکومت کو گرادیا۔ یہ ڈالروں کے حامی ہیں تمہارے نہیں ہیں۔
پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ علماء ومشائخ نے یہودونصاریٰ کے احبار ورھبان کے نقشِ قدم پر اسلام کا حلیہ تو نہیں بگاڑا ہے؟ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ حکمرانوںنے اسلام کے مطابق عدل وانصاف کا نظام نافذ کیا ہے یانہیں؟ پھر عوام بھی فسق سے نکل کر اللہ کے احکام کے مطابق چلیں گے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی عوام پر محنت کررہی ہیں لیکن علماء اور حکمرانوں کا قبلہ درست کرنا بہت ضروری ہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

It is not only difficult but also impossible to bring to light the facts behind the Noor Muqaddam murder case. In the battle between the elephant and the ant, the ant dies. Apparently, Jafar’s gang is an elephant.

ہم کوئی بندوق کی گولی یا راکٹ لانچر کا گولہ نہیں مارتے بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سب کی خیرخواہی چاہتے ہیں۔دنیا میں فساد کی جڑ امریکہ اور اس کی آلۂ کار شیطانی قوتیں ہیں مگر ہماری خواہش ہے کہ وہ بھی شیطانیت کا روپ چھوڑ کر انسانیت کی اعلیٰ قدروں کی طرف آجائیں۔دنیا میں کمزور مظلوم ہیں، سب سے بڑی مظلوم جبری ریپ کا شکار ہونے والی وہ عورتیںاور بچیاں ہیں جن کو موت کے گھاٹ اتارکر پھر انکی عزت بھی اُچھالی جاتی ہے!

نور مقدم وہ بدقسمت عورت ذات ہے جس کوبدمعاشوں کے گینگ نے اپنے مقاصد کیلئے ہدف کا عنوان بناکرنہ صرف بڑے بہیمانہ طریقے سے قتل کیا بلکہ اس کی عزت پر حملہ کرکے انکے عزتدار خاندان کو بھی انتہائی اذیت دیکر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے

َََََََََََََََََََََََََََََِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِاسلام آباد میں سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کو بہت اذیتناک طریقے سے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔ کورنگی ساڑھے 5نمبر کراچی میں ایک 6 سالہ بچی کو جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گردن توڑ کر شہیدکردیااور اس کی لاش کچرے میں پھینک دی اور یہ اس علاقے کا پہلا نہیں بلکہ چوتھا پانچواں واقعہ ہے۔ پولیس نے قاتل رکشہ ڈرائیورکو گرفتار کرلیامگر یہ ظلم کب ختم ہوگا؟۔ کیا ان مظالم کے اپنے گھروں تک پہنچنے کا انتظار کریں؟۔ ہمارا ناکارہ معاشرتی، مذہبی ، ریاستی، عدالتی ، حکومتی ، جمہوری اور ڈکٹیٹری نظام بالکل ناکام ہوچکا ہے۔
اگرہمارا معاشرتی نظام اچھا ہوتا تو ایسانہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں کیوں یہ وحشی درندوں سے بدتر انسان کی شکل میں شیطان بستے ہیں؟۔ جب پاکستان میں ”عورت آزادی مارچ” منانا شروع کیا گیا تو بعض لوگوں نے ان پر بہت سخت تنقید شروع کردی۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابواعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے عورتوں کو مارنے پر پابندی لگائی تھی ۔ جب صحابہ نے شکایت کی صحابیات بہت زیادہ منہ پھٹ ہوگئی ہیں تو نبیۖ نے انکے مطالبے پر مارنے کی اجازت دیدی۔ دوسرے دن 70،80خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا اور نبیۖ سے مردوں کے مارنے کی شکایت کردی۔ جس پر نبیۖ نے مرد صحابہ کرام کی ڈانٹ ڈپٹ کردی کہ ان کے ساتھ غلط ہوا ہے۔
اللہ نے قرآن میںغیرت کی بنیاد پر عورت کے قتل کی جگہ لعان کا قانون نافذ کردیا۔ سورۂ نور میں اللہ نے واضح کیا کہ ” اللہ کے نور کی مثال اس چراغ کی ہے جس پر شرق وغرب کا اثر نہیں پڑتا ”۔ پہلے مشرق ومغرب کی ہواؤں میں بڑا فرق تھا، جب عزیز مصر نے دیکھا کہ اس کی بیگم زلیخا نے حضرت یوسف پر غلط ہاتھ ڈالا اور حضرت یوسف بالکل معصوم و بے گناہ ہیں تو اپنی بیگم کو نہیں مارا۔ حضرت یوسف بے گناہ مجرم بناکر قید ہوئے۔ مگر رسول اللہۖ کو پتہ چل گیا کہ ” آپ کی لونڈی حضرت ماریہ قبطیہسے ایک قبطی ملتا ہے تو حضرت علی کو اسکے قتل کا حکم دیا مگر حضرت علی نے دیکھا کہ وہ مقطوع الذکر ہے تو اس کو چھوڑ دیا”۔ یہ حدیث قرآن کی آیت نہیں لیکن مشرق ومغرب کی غیرت کا معاملہ بہت مختلف تھا۔ عرب سے زیادہ برصغیر خراسان کے پشتونوں، ہندکے راجپوتوں، سندھ کے سندھیوں، بلوچستان کے بلوچوں اور پنجاب کے پنجابیوں کا پردہ تھا جو اللہ کو پسند تھا توننگا طواف کرنے والے حجازکے عربوں کو بھی گونگھٹ لٹکانے اور اپنے سینوں پر چادریں لپیٹنے کا حکم دیدیا اور اس میں زور وجبر کا مسئلہ نہیں تھا ۔ لونڈیوں کا بہت مختصر ترین لباس بھی اسلام اور مسلمانوں کیلئے قابلِ قبول تھا۔
درسِ نظامی کی احادیث میں پڑھایا جاتا ہے کہ مدینہ میں ایک خوبرو عورت ناچ اور گاناگارہی تھی، حضرت امیر حمزہ نے شراب پی تھی۔جب گلوکارہ نے شعر گایا ،جس کا مفہوم یہ ہے کہ ” لوگوں کیا ہے کہ موٹی موٹی فربہ اونٹنیوں کے پیر نہیں کاٹتے؟” تو حضرت امیر حمزہ نے حضرت علی کی اونٹنی کے پیر کاٹ ڈالے۔ حضرت علی نے نبیۖ سے شکایت کی اور نبیۖ نے اسکا نوٹس لیکر امیر حمزہ سے کہا کہ یہ کیا کیا ہے؟۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ جاؤ، تمہارا باپ میرے باپ کے اونٹ چراتا تھا۔ نبیۖ سمجھ گئے کہ نشے میں ہیں اور واپس چلے گئے۔
اسلام نے وحی کے قانون، خلافت اور بہترین معاشرتی اقدار سے ماحول کو درست کیا تھا۔ آج کاا سلام ہوتا تو کوئی شدت پسند خود کش حملہ کردیتا اور کوئی حضرت حمزہ پر نبیۖ کی توہین اور اذیت کی تہمت لگاکر قتل کردیتا۔ علماء کرام اپنے منبر ومحراب سے قرآن وسنت کی درست آواز اُٹھائیں تو بات بن جائے۔
نور مقدم کے قتل کے وقت ظاہر جعفر کی بہن آمرہ اسی گھر میں موجود تھی لیکن وہ کیسے لندن پہنچ گئی ؟،یہ رپورٹ پولیس اور عدالت نے کیوںطلب نہیں کی؟۔ ظاہر جعفر کا سات لاکھ روپے طلب کرنا،نور مقدم کے ڈرائیور سے والدین سے چھپاکر 3 لاکھ دینا اورنور مقدم کا یہ آخری پیغام دینا کہ مجھے تلاش نہ کرنا قتل کردی جاؤں گی ۔ ظاہر جعفر کے دو ساتھی مراد جمالی اور ماہر کانور کو لانے میںکردار یہ سب واضح کرتے ہیں کہ ظاہر جعفر منظم گینگ کا حصہ تھا اور نور مقدم کو منصوبہ بندی سے عبرتناک انجام تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ پیسے بٹورنے، بلیک میلنگ اور عیاشی کیلئے قائم نام نہادکاؤنسلنگ سکول کے مرکزی کردار ظاہرجعفر، ماہر اور مرادجمالی بھی ہیں اور ان کو کوگرفتار کرکے منطقی انجام تک پہنچایاجائے۔
عورت آزادی مارچ میں دو خواجہ سراؤں نے پوسٹر اٹھائے تھے جن کیساتھ جبری جنسی زیادتی کی جاتی تھی۔ جس کی ہدی بھرگڑی اور عصمت رضا شاہجہان وغیرہ نے بھرپور وضاحت بھی کی تھی لیکن پھر بھی عورت مارچ کے خلاف مہم جوئی کی گئی کہ ”ان کا مشن ،اپنا جسم اپنی مرضی ہے”۔ حالانکہ مغرب میں عورتیں مکمل آزاد ہیں تو پھر وہ جنسی آزادی کیلئے ”عورت مارچ” کیوں کریںگی؟۔ وہ بھی جبری جنسی استحصال اور اپنے حقوق کیلئے عورت آزادی مارچ مناتی ہیں۔ جب میڈیا نے اشتعال دلایا تو پاکستان میں عورت مارچ میں ردِ عمل کے طور پر پوسٹر اٹھائے گئے ۔ ہمارے ہاں سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کرنے کی پالیسی غلط ہے۔
نور مقدم قتل کیس کے پیچھے پسِ پردہ حقائق کو منظر عام پر لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے۔ ہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی میں چیونٹی مرتی ہے۔ اس کیس میں ایک بائیس گریڈ کے افسر اور معروف کاروباری شخصیت کا واردات کے وقت اس قاتل سے رابطے میں رہنا اور انکے نام کو صیغۂ راز میں رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظاہر جعفر کا گینگ ایک ہاتھی ہے۔ کم لکھے پڑھے لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ کاؤنسلنگ اور اس کے سکول سے کیا مراد ہے؟۔ ظاہر جعفر کی والدہ نے اسلام آباد میں یہ سکول کھولا ہے اور اس میں ٹیچر پیسے لیکر ذہنی امراض کے شکار لوگوں کا بات چیت اور مسلسل ٹریننگ کے ذریعے سے علاج کرتے ہیں۔
ظاہر جعفر کا پہلا رابطہ نور مقدم سے اس سکول میں ہوا۔ اشرافیہ کو شریف سمجھ کر نور مقدم کے والدین نے ظاہر جعفر سے نور مقدم کا علاج کرانا شروع کردیا۔ نور مقدم کے والدین اور نور مقدم مذہبی رحجانات کے حامل تھے لیکن جب ایک اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے اور معالج اور مریضہ کا معاملہ ہوتا ہے تو بات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ظاہر جعفر کی بہن بھی نور مقدم کی دوست تھی۔ اردو میں سہیلی کی جگہ پر اب عورتوں اور لڑکیوں نے بھی دوست کا لفظ عام طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ نورمقدم کے والدین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سکول کے نام پر اسلام آباد میں کیا گینگ چل رہاہے؟ اوریہ بات کہاں تک پہنچے گی؟۔ پسِ پردہ ذہنی امراض کے علاج کے نام پر جو ادارہ چل رہا تھا اس میں امیر زادہ لوگوںکی لڑکیوں کو اپنا ہدف بناکر لوٹ مار ، ریپ ، بلیک میلنگ ، قتل اور ہر طرح کے جرائم کے عادی مجرم اپنی عیاشی بھی کرتے تھے اور پیسہ بھی بناتے تھے۔ اگر کسی ذہنی مریضہ سے کہا جائے کہ کاؤنسلینگ کیلئے سیرو تفریح ، ہوٹل اور گھروں میں کھیل کود وغیرہ ضروری ہیں اور پھر ان کو خفیہ طور پر مشروبات میں نشہ آور اشیاء کا عادی بھی بنادیا جائے اور عورت ذات کی ویڈیوز بناکر ان کو بلیک میل بھی کیا جائے تو اشرافیہ کے جال میں کتنے شریف لوگ پھنس گئے ہوں گے؟۔ ایک واقعہ کی خبر آئی ہے جس میں چارلڑکیاں ظاہر جعفر کی کاؤنسلنگ کے بعد نشے میں حادثے کا شکار ہوگئی تھیں۔ نورمقدم کے خلاف ناجائز تعلقات اور فحاشی کے پیچھے گینگ کا پیسہ چل رہا ہے۔
عورت آزادی مارچ میں جو نعرہ خواتین سے غیرانسانی،غیر اسلامی سلوک اور جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اُٹھ رہاتھا،ان کو قابو کرنے کیلئے اسلام آباد میں ریاست گردی ، حکومت گردی اور ملا گردی کوناکامی کاسامنا کرنا پڑا تھا۔عورت مارچ کے منتظمین نے جان پر کھیل کر اپنا مارچ کامیاب بنایا تھا۔ اب ظاہر جعفر گینگ نے اس مافیا کی خدمات مستعار لی ہیں یا پھر اس مافیا نے ظاہر جعفر گینگ کو ہدف دیا ہے کہ عورت آزادی مارچ کو بدنام کرنے کیلئے یہ کھیل کھیلا جائے؟۔ سوشل میڈیا پر بے ضمیر اور بے غیرت قسم کا طبقہ روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے گھناؤنے جرائم کاجو کھل کر اظہار کررہا ہے یہ قیامت کی نشانی ہے۔ حسان ہاشمی اور عکاشہ گل وغیرہ سوشل میڈیا میںجس طرح بے شرمی سے اس کیس کو غلط رپورٹ کررہے ہیں ،یہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ سے بڑھ کر سنگین معاملہ ہے۔ عورت آزادی مارچ کاپدر شاہی کے خلاف آواز اُٹھانا ان کا سب سے بڑا جرم سمجھا جارہاہے ورنہ فوج میں اس کی ترقی بھی نہیں ہوسکتی ہے جس کی آل واولاد میں مذہبی رحجانات پائے جاتے ہوں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کرتے دھرتے کے ہاں کونسے ملاعمر اور طالبان کی طرح پردہ ہے؟۔
نامور مصنف اور شخصیت طارق اسماعیل ساگر ہرموضوع پر جو بہتر سمجھتے ہیں، وہی بول لیتے ہیں۔نور مقدم کے قتل پر ساگر نے بھی دل کی خوب بھڑاس نکالی اور معاشرے پر ماتم اور سوزِ دل کا اظہار بھی کردیا ہے۔ بقیہ صفحہ 3 نمبر 1

بقیہ… نور مقدم کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا
طارق اسماعیل ساگر کے رحجانات بظاہر مذہبی اور فوجی نوعیت کے ہیں۔ اس نے نور مقدم پر الزام لگایا ہے کہ اس کا تعلق ”میرا جسم اور میری مرضی ” والیوں سے تھا اور اس کے والدین نے جو آزادی اس کو دی تھی تو اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ نور مقدم نے تشدد سے بچنے کیلئے آخر کار کھڑکی یا روشندان سے چھلانگ بھی لگادی تھی اور پھر اس کے ملازموں نے اس کیلئے زخمی حالت میں بھی دروازہ نہیں کھولا تھا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی تھی۔ ظاہر جعفر نے پھر اس کو بالوں سے پکڑا اور سیڑیوں سے گھسیٹ کر اسی کمرے میں لے گیا۔ نور مقدم کے سر کو تن سے جدا کیا گیا تھا اور اس کے جسم پر پستول سے کئی فائر بھی کئے گئے تھے۔ یہ افغانستان اور عراق کی کسی جنگ کامنظر نہیں بلکہ ہمارے دارالخلافہ اسلام آباد کا پوش ایریا تھا جس سے ہماری یہ اُمید ہے کہ اس کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔
طارق اسماعیل ساگر نے اپنی غیرت، اپنے ایمان ، اپنے علم اور اپنی سمجھ کے مطابق اس کو میرا جسم میری مرضی کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ہمدردی کا بھی خوب اظہار کردیا اور یہ ماحول کا حصہ ہوتا ہے۔ جب امریکہ کے بلیک واٹر نے محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل کیا تو طارق اسماعیل ساگر کو معلوم تھا کہ راوالپنڈی روات میں بلیک واٹر کا مرکز ہے ۔ جہاں جرائم پیشہ پولیس اور کورٹ مارشل میں سزایافتہ برطرف کئے گئے جرائم پیشہ فوجیوں کو بڑے معاوضوں پربھرتی کیا جاتا ہے جو اس خطے کو دہشتگردی اور جرائم کا گہوارہ بنائے ہوئے ہیں تو ساگرصاحب نے اس پر کوئی زبان نہیں کھولی تھی ۔ اگر وہ بقول اسکے جان کیلئے لاحق خطرات کی وجہ سے زباں نہیں کھول سکتے تھے تو کم ازکم ایک بے نام مراسلہ لکھ دیتے کہ یہ کاروائی بلیک واٹر کی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بینظیر بھٹو نے پشاور میں طالبان کو فی کس دو سو ڈالر ماہانہ تنخواہ دینے کا کھل کر ذکر بھی کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے قتل پر سندھ کی علیحدگی کا خطرہ پیدا ہوا تھا۔صوبہ سرحد اور بلوچستان جل رہے تھے۔ طارق اسماعیل ساگرکی یہ بڑی خدمت ہوتی کہ اپنی اسٹبیبلشمنٹ سے اس الزام کا خاتمہ کرکے پاکستان کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے۔ مجاہدین کے سر سے بھی بدنامی کا الزام ہٹ جاتا اور پاک فوج بھی صاف ستھری قرار پاتی۔
پھرطارق اسماعیل ساگراپنی کتاب میں اسکا ذکر کرتے تو یہ جاسوسی کی تاریخ میں سب سے زیادہ مضبوط ، اہم ترین اور قابلِ عزت واحترام کارنامہ ہوتا لیکن افسوس کہ اس وقت طارق اسماعیل ساگرنے کچھ نہیں کیا۔ ایک بینظیر بھٹو نے جو کچھ کیا تھا اس کی قیمت بھی گولی کھاکر شہادت اور بم دھماکوں سے چکادی تھی۔ آج ہمارا پیارا وطن اور سب کا سہارا وطن خطرات کی دہلیز میں گھرا ہوا ہے اور اگر اللہ نے رحم نہ فرمایا تو ہمارے حالات سانحۂ مشرقی پاکستان، عراق ، لیبیا اور شام سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں۔ مجرمانہ کردار نہ صرف عوام ، ریاست اور حکومتوں کا ہے بلکہ خواص بھی اس مجرمانہ غفلت میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔
نور مقدم کے والد، والدہ اور خاندان والے ڈبل صدمے کا شکار ہیں ۔ایک تو بیٹی کا بہت بہیمانہ قتل اور دوسرا پھر میرا جسم میری مرضی کے دلخراش طعنے۔ طارق اسماعیل ساگر نے پتہ نہیں کہ افسانوی کتابیں لکھی ہیں یا تحقیقی ؟۔ لیکن اس کیس میں ایک ذمہ دار شخص کی طرح تحقیق کے تقاضے پورے کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ نور مقدم نفسیاتی مریضہ تھی اور ظاہر جعفر نے اس کو علاج کے بہانے بلیک میلنگ کا شکار کردیا تھا۔ ظاہر جعفر کا یہ جرم تھا کہ وہ جس ادارے میں بیٹھ کر نفسیاتی علاج کرتا تھا ،اس کی سند نہیں رکھتا تھا۔ اس جرم کے اصل کردار اسکے والدین اور وہ تمام بااثر اشرافیہ ہے جو یہ گینگ چلارہاہے۔ اگر ڈاکٹر خالد محمودسومرو کا کیس فوج اپنی عدالت میں چلاسکتی ہے تو اس کیس کو بھی فوجی عدالت میں چلایا جائے۔
نور مقدم کے والدکو اس پدرِ شاہی نظام سے انصاف کی کیا امید ہوسکتی ہے جو نور مقدم کو تازیانہ عبرت بنانے کیلئے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہاہے؟۔ نورمقدم کے وکیل شاہ خاور نے جس طرح پولیس کی تفتیش مکمل ہونے اور پوری نہ ہونے پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ تک بھی بارہ دنوں کے بعد بھی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے کہ موقع واردات پر موجود ملزم کی بہن کہاں ہے؟ اور وہ کس طرح لندن پہنچ گئی ہے؟۔ مجرم کے جعلی ٹکٹ جاری کئے گئے تھے لیکن مجرمہ بہن کے اصل ٹکٹوں کا بھی پتہ نہیں لگایا گیا۔ مصطفی کانجونے ایک بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو شہید کرنے کے بعد بھی اس کی بیٹیوں کی عزت دری کی دھمکی پر کیس واپس لینے پر مجبور کیا تھا تو مصطفی کانجو ایک فرد تھا اور ظاہر جعفر کے پیچھے بہت بڑا مافیا کھڑا ہے۔ صحافیوں اور نورمقدم کے والدین پر کتنا بڑا پریشر ہوگا؟۔
ایک طرف پیسہ بٹورنے والے گینگ کے کٹھ پتلی ظاہر جعفر کو ذہنی مریض اور دوسری طرف ایک ذہنی مریضہ نور مقدم کو بے حیا ء مجرمہ ثابت کرنیکی کوششوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گینگ کتنا مضبوط ہے؟ اسلامی حکومت ہوتی تو نورمقدم پر بہتان لگانے والوں کو80،80کوڑے لگاکر انکی ویڈیوز الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلائی جاتیں اور اس گینگ کے ایک ایک جرم اور ایک ایک مجرم کا معلوم کرکے سب کو قرار واقعی سزا بھی دی جاتی۔ کوئی غریب مجرم ہوتا تو پولیس و عدلیہ کا یہ رویہ بھی نہ ہوتا۔ شائستہ کنڈی پہلی خاتون جج ہیں جس نے ملزم سے سوال کیا۔ہرفورم پر پتہ چل رہاہے کہ ملزم مجرم اور مکار ہے لیکن بااثر مجرم کو پروٹوکول کا ملنا بھی انصاف کا خون کرنے سے کم نہیں ہے۔یہ ہے اسلامی پاکستان؟۔
وزیرستان میں ایک شخص دوبئی سے آیا تو ایک خاندان نے دھوکے سے اس کو خاندان سمیت قتل کردیا۔ جب علاقے والوں کو پتہ چل گیا تو قاتل خاندان کو نہ صرف ماردیا بلکہ ان کی لاشوں کو بھی کئی دنوں تک ایک سڑک کے پل پر لٹکائے رکھا اور ان کے جنازے اور قبرستان میں دفن کرنے پر بھی پابندی لگادی لیکن ان میں ایک بوڑھے شخص کو عبرت کیلئے زندہ چھوڑ دیا۔ اگر انصاف کی حکومت ہوتی تو نور مقدم کے قاتل کے خاندان، گھر کے نوکر چاکراور جعلی ذہنی امراض کے ذمہ داروں کو اجتماعی پھانسی دیکر ان کی لاشیں عبرت کیلئے اسلام آباد کے کسی برج پر لٹکا دی جاتیں اور کسی ایک مجرم کو عبرت کیلئے زندہ چھوڑ دیا جاتا۔
طارق اسماعیل ساگر نے جس انداز سے نورمقدم میں بدکاری کے الزامات لگائے ہیں ،اگر اسلامی حکومت ہوتی تو اس پر 80کوڑے سرِ عام لوگوں کے سامنے برسائے جاتے۔ فرض کریں کہ ایک کچرہ کنڈی والے بچے سے طارق اسماعیل ساگر اپنے جسم کی مالش کراتا ہو اور پھر وہ اسکے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو نور مقدم کیساتھ کیا گیا ۔ پھر الزام یہ لگایا جائے کہ طارق اسماعیل ساگر جنس پرستی کی موذی مرض میں مبتلاء تھا، اسکے چوتڑوں کی مالش کرتے ہوئے رنگ رلیاں مناتے ہوئے پھر اس کا یہ حشر کیا گیا تو طارق اسماعیل ساگر کی مردہ لاش اور اس کے لواحقین پر کیا بیتے گی؟۔ جب امریکہ کا بلیک واٹر پوری قوم کی ایسی کی تیسی کر رہا تھا تو یہ بے غیرت، بے شرم ، بے ایمان ،بدنسل اور کم ذات اس وقت خاموش تھا اور کسی شریف کی بیٹی کیساتھ زیادتی ہوگئی تو اس پر الزامات کی بارش کرنے میں ذرا بھی شرم ، حیاء ، غیرت، شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے؟۔
ہماری پاک فوج اور اسلام کو ایسے ہی بدذاتوں نے بدنام کرکے رکھا ہے اور سب سے پہلے انہی کے خلاف بڑے انقلاب کی سخت ضرورت ہے۔ شیخ رشید نے ٹھیک کہا کہ عدالتوں کا معاملہ ہے ورنہ میں قاتل کو بیس گولیاں مارتا۔ وسعت اللہ خان اور ضرار کھوڑو نے ڈان کے ذراہٹ کے میں ایک خاتون کو بلواکر بہت اچھا پروگرام کیا جس میں خاتون نے ”امت اخبار ” کی رپورٹنگ کی بھی تائید کی۔ جہاں نور مقدم کے معاملہ پر اچھی رپورٹنگ کی توقع نہیں تھی کیونکہ اس کا ٹریک ریکارڈ ایسا نہیں۔اللہ نورمقدم کوجلد انصاف اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
ہم ذاتی ذرائع سے جانتے ہیں کہ شوکت علی مقدم بہت شریف مذہبی رحجان رکھنے والی شخصیت ہیں لیکن اس کی عزت کو تارتار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Mullah Zaeef dreamed after 9/11 that his elder brother wanted to slaughter him. He did not understand why he wanted to slaughter him.

اختر خان کا روحانی اور قوم پرستانہ انکشاف!
ملا ضعیف نے 9/11کے بعد خواب دیکھا کہ بڑا بھائی ان کو ذبح کرنا چاہتا ہے یہ سمجھ نہیں آیا کہ کیوں ذبح کرنا چاہتا ہے؟

اگر افغان طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی سوانح عمری پڑھی ہو تو پاکستان اور افغان طالبان میں تعلقات کی گہرائیوں اور پیچیدگیوں کا صحیح اندازہ ہو سکے گا ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں خواب کا حوالہ دیاکہ بڑا بھائی ان کو ذبح کرنا چاہتا ہے جبکہ یہ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کیوں ذبح کرنا چاہتا ہے۔خواب 9/11کے بعد دیکھا۔ چند دن بعد پاکستان نے امریکی دبا پر ملا ضعیف کو انتہائی ذلت سے امریکہ کے حوالے کیااور گونتانامو جیل میں چند سال رکھا گیا۔ ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں خواب کی تعبیر یہ نکالی کہ ذبح کرنیوالا اسکا بڑا بھائی پاکستان تھا،جو ملا ضعیف و طالبان کو اپنے قومی تزویراتی مفادات کیلئے قربان کر رہا تھا۔ ملا ضعیف گوانتانامو سے رہا ہوئے تو جنوبی وزیرستان کے صحافی ابوبکر کو انٹرویو میں کہا کہ انہیں یعنی افغان طالبان کو سمجھ نہیں تھی کہ امریکہ اسامہ بن لادن کے پیچھے کیوں پڑ گیا ؟۔رحیم اللہ یوسفزئی سے میں نے خود سنا کہ انہیں ملا عمر نے کہا کہ اگر چیچنیا تک افغانستان سے کوئی راستہ جاتا ہے تو ہم طالبان انہیں وہاں بھیج دیں گے۔
ملا ضعیف خواب میںافغان طالبان کو پاکستان کا چھوٹا بھائی سمجھتا ہے اوریہ چھوٹا بھائی تاریخ، سیاست ،سائنس، سماجی ارتقا اور جغرافیائی علوم سے کس قدر غافل ہے جبکہ بڑا بھائی پاکستان ان علوم میں کس قدر ماہر ہے؟۔ اندازہ مثالوں سے لگائیں۔ جنرل مشرف نے2000میں صحافیوں سے کہا کہ افغان طالبان ان کی ریزرو فوج ہے، پاکستان کیلئے فسٹ لائن آف افنس کا کردار ہیں۔ وہ جب اورجہاں چاہیں ان کو استعمال کر سکتے ہیں 9/11کے پچیس دن بعد 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ حملے سے ایک دن قبل میرے استاد ڈاکٹر وسیم نے ڈان اخبار میں کالم لکھا جسکا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا بھی افغانستان پر حملہ آور ہو تو بھی افغانستان میں پاکستان کی مرضی کے بغیر حکومت قائم نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر وسیم نے لکھا کہ امریکی حملے کے بعد افغانستان میں مرنے مارنے کا غضبناک سلسلہ شروع ہو گا، پاکستان میں طالبان کے حامی شریک ، پاکستان میں کافی خونریزی ہو گی ،پاکستان طالبان کے حامی جنگجوں کو آخرمیں کنٹرول کر لے گا۔ڈاکٹر وسیم کے مطابق پاکستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے جو ریاستی ڈھانچہ وراثت میں ملا ،وہ طالبان اور انکے حامیوں کی کاروائیوں کیخلاف ڈھال کا کردار ادا کرے گا۔یاد رہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، کسٹم، انکم ٹیکس کیلئے جو ادارے اور قوانین بنائے ،اس کولارڈ میکالے نے 1835میں سٹیل فریم کا نام دیاجن کو توڑنا یا انکے خلاف لڑنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان کے ریاستی ادارے اسی سٹیل فریم کے پرزے ہیں۔جو ان تینوں کی عوام کو ایک نظم میں پروئے ہوئے ہیں۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد 1949 میں لارڈ میکالے کے اس سٹیل فریم کو ہم نے قرارداد مقاصد کا تڑکا لگایا اور اسکے بعد سے ہم ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے اس ادارہ جاتی نظم کو اسلام کا قلعہ کہنے لگے۔
انگریز جب ہندوستان میں قبضہ جما رہاتھا تو اسکے خلاف شاہ ولی اللہ کے خاندان اور پیروکاروں نے سید احمد شہید اورشاہ اسمعیل شہید کی سربراہی میں 1820کی دہائی میں جنگ لڑی لیکن وہ انگریزکی تزویراتی فوجی چال، نظم، آپسی ربط، رسد و ترسیل کے نظام، فوجی قوت جیسے اسلحہ اور بندوقیں اور جغرافیائی عوامل کے بارے میں قدرے بہتر واقفیت کے سامنے ناکام ہوئے۔گو کہ شاہ ولی اللہ کے پیروکار 1857کی جنگ آزادی تک مختلف علاقوں طریقوں سے انگریز کیخلاف لڑتے رہے مگر بالآخر انہوں نے دیوبند میں مدرسہ قائم کیا اور روایتی دینی علوم کے درس و تدریس پر توجہ مرکوز کی۔پہلی جنگ عظیم سے پہلے اور جنگ کے دوران دیوبند سے فارغ یا منسلک طلبا نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی رہنمائی میں سیاسی اور جنگی مزاحمت تحریک ریشمی رومال شروع کی لیکن یہ بھی ناکام ہوگئی۔اسکے بعد علما دیوبند کسی سیاسی لائحہ عمل پر متفق نہ ہو سکے ۔1930کی دہائی کے اواخر تک دو دھڑے بن چکے تھے۔ایک دھڑا مولانا حسین احمد مدنی کی رہنمائی میں متحدہ ہندوستان کیلئے سیاسی جدوجہد کر رہا تھا،دوسرا دھڑا مولانا اشرف علی تھانوی کے خیالات افکار سے متاثر تھا جوقائداعظم کی مسلم لیگ کی سیاسی حکمت عملی کو درست سمجھنے لگاتھا۔ مسلم لیگ دراصل سر سید احمد خان کے پیروکاروں کی تنظیم تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے جس انتظامی ڈھانچے کیخلاف شاہ ولی اللہ کے پیروکار لڑنا چاہتے تھے ،سر سید نے اس انتظامی ڈھانچے کو اللہ کی رحمت کہا اور اسکے قوانین کی پاسداری کو عین اسلام کے مطابق کہاسر سید احمد نے روایتی دینی علوم کیساتھ ساتھ جدید سائنسی اور مغربی علوم کو سیکھنا اور سمجھنا ضروری سمجھا، سر سید کے مطابق مسلمان وقت کا دھارا نہ سمجھ سکے ۔ وقت کے تقاضوں کو اس وقت سمجھا جا سکتا ہے کہ جب مسلمان جدید سائنسی اور مغربی علوم حاصل کر لیں۔
قیامِ پاکستان سے لیکر عمران خان کو وزیراعظم بنانے تک مولانا اشرف علی تھانوی کے ہم خیال علما، مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں سے وراثت میں ملے انتظامی ڈھانچے کے درمیان ملک کو چلانے کے اصولوں پر اگر مکمل ہم آہنگی نہیں رکھتے تو کھلم کھلا اختلاف بھی نہیں رکھتے۔ مولانا تھانوی سے نسبت رکھنے والے علما اور صوفیا مسلم لیگی ذہنیت اور ریاستی اداروں کیخلاف سیاسی طور پر خود کو منظم اور متبادل نظم متعارف کرانے میں لگ جاتے ہیں جبکہ خود کو مولانا حسین احمد مدنی کی جدوجہد کا تسلسل سمجھنے والے دیوبندی علما پچھلے پینتیس سال سے مولانا فضل الرحمان کی رہنمائی میں سیاست کر رہے ہیںاور ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے اس انتظامی ڈھانچے جس کو لارڈ میکالے سٹیل فریم کہتا تھا کو مزید اسلامی بنانا چاہتے ہیںمگراس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ شاہ ولی اللہ کے پیروکار علما کے سیاسی اختلافات ہیں۔مولانا فضل الرحمان جنرل ضیا الحق کیخلاف مزاحمت اور مفتی تقی عثمانی جنرل ضیا الحق کا ہم خیال تھا۔علما اور اسلام کی حالت یہ ہے کہ فلموں میں آدھی ننگی ہو کر ڈانس کرنیوالی مہوش حیات کو اسی دن حسن کارکردگی پر تمغہ امتیاز دیاگیا، جس دن ملک کے سب سے مشہور عالم مولانا طارق جمیل کو مہوش حیات کے ڈانس سے پھیلنے والی بے حیائی کیخلاف وعظ و نصیحت کرنے پر تمغہ امتیاز سے نوازا جاتا ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے کہا کہ شاہ ولی اللہ کے جتنے پیروکار ہندوستان میں تھے اتنے ہی پشتون علاقوں میں تھے جن پر آج پاکستان اور افغانستان بنے ہیں۔ پاکستان کے پشتون علاقوں میں نظم ایسٹ انڈیا کمپنی کے انتظامی ڈھانچہ اور قوانین کا مرہون منت ہے۔ افغانستان ایسے انتظامی ڈھانچے اور قوانین کے بنانے کے ارتقائی عمل سے محروم رہا ہے۔ 40سال قبل افغانستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقے نے انتظامی ڈھانچے اور قوانین متعارف کرانے کی جو کوشش کی وہ غیر محتاط ہونے کے باعث خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔اس خانہ جنگی کے بطن سے افغان طالبان نے جنم لیا۔9/11کے بعد ملا عبدالسلام ضعیف کے خواب کے مطابق پاکستان نے اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے قربان کیا۔امریکہ بیس سال تک پاکستان کے چھوٹے بھائیوں کیساتھ لڑتا رہا اور اب نکل رہا ہے جبکہ ملا عبدالسلام ضعیف اور اسکے بھائی افغان طالبان ایک مرتبہ پھر افغانستان میں بزور قوت اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں،کیا پاکستان کے یہ چھوٹے بھائی افغان طالبان افغانستان میں اجتماعی نظم اور نظام کو چلانے کیلئے بڑے بھائی پاکستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں سے وراثت میں ملے انتظامی ڈھانچے اور قوانین سے رہنمائی لیں گے یا وہی کچھ کرینگے جو 9/11 سے پہلے کر رہے تھے،اسکا پاکستان پر کیا اثر ہو گا، پاکستان میں افغان طالبان کی حمایت کرینگے اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتیں اس سے کس طرح نمٹیں گی؟۔ یہ سوالات آنے والے دنوں اور مہینوں میں ہم سب کی بحث کا مرکز رہیں گے۔
تبصرہ نوشتہ دیوار: بھارت پرقابض انگریزکامدمقابل رنجیت سنگھ تھا۔ اسماعیل شہید نے رنجیت سنگھ کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر فدا کے پیر مولانا اشرف کے پیرسلیمان ندوی کے استاذ شمس العما شبلی نعمانی تھے، پھر تھانوی کا مریدہوا ۔ سودجائز بن جائے تو نظام پر کیا لڑائی ہوگی؟۔ اختر خان اورعلی وزیر کاروحانی وسیاسی شجرہ الگ الگ ہے۔ سرڈاکٹراقبال نے خود کو مجموعہ اضداد کہا۔ رنجیت سنگھ سے پاکستان مضبوط یاکمزو رہے؟

Dr Tahir-ul-Qadri called the Taliban Kharijites but when he came to Pakistan hoping for the success of his movement, he declared the Taliban as his brother.

افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مصالحت ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے طالبان کو خوارج قرار دیا لیکن جب اپنی تحریک کی کامیابی کی امید پر پاکستان آئے تو طالبان کو اپنا بھائی قرار دے دیا۔

طالبان کی امارت اسلامیہ اور افغانستان کی جمہوری حکومت اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں پاکستان، پوری دنیا کے مسلمانوں اور افغانیوں کو مصالحت کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ کون حق پر ہے کون حق پر نہیں؟ توکسی تیسرے فریق کی طرف سے یہ کہنا نہیں بنتا ہے ۔جو یہ ڈھول بجاتا ہے کہ ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل ہے تو وہ لڑائی کو جواز بخشنے ، قتل وغارت گری کو بڑھاوا دینے اور افغانی مسلمان بھائیوں کی تباہی وبربادی کا باعث بنتا ہے۔ صحابہ کرام کی آپس میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے نبی بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا تھا۔اب موقع پر موجود کوئی صلح صفائی کروانے کے بجائے ایک کو غلط قرار دیتا اور حضرت ہارون بھی بدلے میں ہاتھا پائی شروع کرتے تو لڑائی طول پکڑلیتی۔ بات مزید آگے نکل جاتی۔ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ امریکہ نے افغان طالبان کو جان بوجھ کر افغان حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے چھوڑ دیا ہے اور یہ ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا ۔ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افغان مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی ہوجائے۔ اگر اشرف غنی حکومت یا افغان طالبان میں سے کسی ایک کیساتھ سوفیصد ہمدردی اور دوسرے کیساتھ ایک فیصد بھی اتفاق نہ ہو تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جن سے اتفاق نہیں ہے انکے قتل وغارت پر دل کوخوش ہونا چاہیے۔ اسلام اور انسانیت دونوں کا یہ تقاضہ ہے کہ کسی طرح قتل وغارت گری رک جائے۔
جب امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے تھے تو ساری دنیا نے اس پر مذمت کے الفاظ ادا کئے ہوں یا نہیں لیکن دل سے بہت برا تصور کیا ہوگا۔ دنیا میں اکثر انسان چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور جہاں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ غالب اور خوشحال ہیں تو اس کی غلطیوں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ہاں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ چاہتا تو ایک جاپانی کو بھی زندہ نہ چھوڑتا۔ جب کسی پیغمبر علیہ السلام کو غصہ آگیا تو فرمایا کہ ” کسی بھی کافر کوزمین کے دیار میں زندہ نہ چھوڑنا”۔ رسول اللہۖ نے طائف والوں کی طرف سے انتہائی برا سلوک کے باوجود بھی فرشتوں کو عذاب کی اجازت نہیں دی۔ ہدایت کی دعا فرمائی ۔فرمایاکہ اگر ان کے مقدر میں ہدایت نہیں تو ان کی تقدیر بدل کر ہدایت عطا فرمااور اگر تجھے قطعی طور پر ان کو ہدایت دینامنظور نہیں ہے تو ان کی اولاد میں ہدایت والے آسکتے ہیں اسلئے مجھے اذیت پہنچانے والوں کی تباہی کا عذاب نہیں چاہتا۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا توصرف افغانی نہیں پاکستانی اور دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردیاں افغان طالبان کیساتھ تھیں۔ البتہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ شمالی اتحاد والے اور مزار شریف کے ہزارہ شیعہ ہی طالبان کی مخالفت کی وجہ سے امریکہ کے حامی بن گئے۔ سقوطِ طالبان کے بعد پاکستان کی تمام قومیتیں، سیاسی جماعتیں، مذہبی تنظیمیں اور کیمونسٹ قوتیں سبھی مظلوم طالبان کے حامی اور امریکہ کے خلاف تھیں۔ البتہ بعض لوگ مسلکی بنیاد پر طالبان کی مخالفت اسلئے کررہے تھے کہ وہ بریلوی مکتبہ فکریا شیعہ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ 2004 میں جیوٹی وی چینل پر انیق احمد کی میزبانی میں ایک پروگرام میں ڈاکٹر اسرار احمد، ایک اہل تشیع اور ایک بریلوی علامہ آصف گیلانی اور مجھے دیوبندکے نمائندے کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پروگرام میں سیدآصف گیلانی نے اپنے خرقہ اور امریکہ تک کینسر کے علاج پر بات کی تو میں نے کہا کہ ایک دم کی پھونک امریکہ کو تباہ کرنے کیلئے بھی ماردو۔ پروگرام کے خاتمے کے بعد چائے کیلئے بیٹھ گئے تو علامہ آصف گیلانی نے کہا کہ طالبان امریکہ سے بھی زیادہ بدتر اور ہمارے دشمن ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے طالبان کو خوارج قرار دیامگر جب اپنی تحریک کی کامیابی کی امید پر پاکستان آئے تو طالبان کو اپنا بھائی قرار دے دیا اسکی پارٹی کے رہنما خرم نواز گنڈہ پور (فوجی ریٹائرڈ) نے مجھ سے اس تضاد بیانی پر کہا کہ” طالبان میں شیطان بھی ہیں اور فرشتہ صفت بھی ہیں”۔
متحدہ مجلس عمل کی حکومت طالبان کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے آئی تھی۔ جب سارے پختون طالبان کے سپوٹر تھے تو پاکستان کی فوج امریکہ کی وجہ سے سب کو تو نہیں مار سکتے تھے اور جب سب کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں تو پاک فوج بھی کوئی ایسے جنگلی جانور نہیںکہ جن کے جذبات عام لوگوں سے مختلف ہوں۔ جب امریکہ القاعدہ کے پیچھے آیا تھا تو طالبان سے اس کی دشمنی صرف اسلئے تھی کہ اسامہ بن لادن کو کیوں پناہ دی ہے۔ اسامہ بن لادن کو طالبان زمینی راستے سے چیچنیا بھیجنے کیلئے بھی آمادہ تھے لیکن جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا تو طالبان نے حکومت چھوڑ دی اور وزیرستان سے مولانا معراج الدین شہید نے جس لشکر کی قیادت کی تھی اس کو بھی واپس کردیا۔ صوفی محمد لشکر لیکر گیا تو بہت دیر ہوگئی تھی اور جب وہ پاکستان واپس آیا تو حکومت نے گرفتار کرلیا۔ جس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج طالبان کی حمایت کی وجہ سے سارے پختونوں کو نہیں مارسکتی تھی،اسی طرح امریکہ بھی سب افغان طالبان کو مارنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانوں کی تباہی وبربادی کا حامی کوئی انسان کا بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر اسرائیل چاہے تو ایک دن میں ہی فلسطینیوں کو ٹھکانے لگاسکتا ہے لیکن بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کا حامی انسان کا کوئی بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ دو لڑنے والے فریق کے درمیان کسی ایک طرف زیادہ ہمدردی کا جذبہ ہو اور دوسری طرف کم لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں میں سے کسی ایک کی مکمل تباہی وبربادی پر کوئی بھی خوش ہوجائے۔
پہلے جب افغان طالبان نے جہادی ٹولوں سے جنگ کرکے افغانستان میں حکومت قائم کردی تھی اور پھر اپنی سمجھ کے مطابق اسلامی احکام نافذ کئے تھے تو وہ وقت مختلف تھا۔ افغان عوام ان جہادی گروپوں سے تنگ تھے مگر افغانستان میں ووٹ کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا طریقہ کار اچھا لگا ہے اور طالبان نے پہلے جسطرح کا اسلام نافذ کیا تھا تو طالبان بھی بہت بدل چکے ہیں۔ یہ پتہ چلا ہے کہ جہاں طالبان نے فتح حاصل کرلی تو ایک شخص کے سوا سب کو نہ صرف معاف کردیا بلکہ 30،30ہزار دیکر ملازم فوجیوں سے کہا ہے بقیہ صفحہ 2نمبر1
بقیہ ……….افغان طالبان اور افغان حکومت
کہ” اپنے بچوں کیلئے روزی ر وٹی کما”۔ طالبان کے اس روئیے سے ان کے مخالفین کے دلوں میں بھی ان کیلئے جگہ پیدا ہوگی۔ جب قرآن کے نظام کیلئے وحی کا نزول ہورہاتھا تو اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو معاف کرنے اور غزوہ احد کی شکست کا دشمنوں سے سخت ترین بدلہ لینے پر ڈانٹ پلائی اور رہنمائی فرمائی۔ اللہ نے پھر وہ بھی دکھادیا کہ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ،قریشِ مکہ کا بڑاسردار ابوسفیان اور بہت سے دشمن فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے ۔ اگر کوئی گروہ یہ سمجھتا ہے کہ نبیۖ اور صحابہ کرام کی مشاورت کے باوجود قرآن میں غزوہ بدر کے روئیے اور مشاورت کے بعد فیصلے پر سخت تنبیہ اور ڈانٹ کیساتھ وحی نازل ہوئی تھی لیکن ہم تنقید اور اصلاح سے بالکل بالاتر ہیں تو یہ خام خیالی کے علاوہ کسی بھی اسلام کے دعویدار مسلمان کیلئے بہت بدترین قسم کی گمراہی بھی ہے۔
افغان طالبان کو شاید بعض لوگ بہت منصوبہ بندی کیساتھ کچلنے کا پروگرام بناچکے ہیں۔ بگرام ائیربیس کے علاوہ امریکہ کی یہی چاہت ہوسکتی ہے کہ افغان آپس میں لڑتے اور مرتے رہیں۔ یہ خواہش چین ، روس ، ایران اور پاکستان کی بعض مافیاز کی بھی ہوسکتی ہے ۔اسلئے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے درد سر بن سکتے ہیں تو ان کی چاہت ہوگی کہ طالبان کا بخار افغانستان ہی میں نکل جائے اور بعض لوگ صرف مذہب اور جمہوریت کی بنیاد پر افغانیوں کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن ان کی اس سپورٹ سے قتل وغارتگری کی آگ کو مزید بھڑکایا جارہاہے۔ ہماری خواہش ہے کہ بڑے پیمانے پر کسی طرح بھی قتل وغارتگری کا ما حول نہیں ہونا چاہیے۔ وقت کیساتھ ساتھ ماحول اور مقف میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔
قرآن میں اللہ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور اس پر نبیۖ نے عمل کرکے دکھایا تھا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سے زیادہ کسی نے نبیۖ کو اذیت نہیں دی لیکن وہ نبیۖ کے ہاتھوں دفن ہوا تھا۔ اور جنازہ بھی پڑھ لیا تھا۔ اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ایسے کا جنازہ نہ پڑھیں اور ان کیلئے استغفار نہ کریں اور اگر70مرتبہ بھی استغفار کریں تو اللہ نے اس کو معاف نہیں کرنا ہے اور اس کی قبر پر بھی کھڑے ہوکر دعا نہ کریں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز جنازہ دعا ہے اور اس کے بعد قبر پر دعا بدعت ہے۔ حالانکہ قرآن میں عبداللہ بن ابی کی قبر پر دعا سے منع کیا گیا ہے تو دوسروں کو جن توحید پرست علما نے بدعتی قرار دیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ انسے کہا جاسکتا ہے کہ رئیس المنافقین کی قبر پر دعا سے منع کیا گیا ہے ، اپنوں کو اس زمرے میں نہ ڈالو۔
نبیۖ کے دور میں مکہ مکرمہ صلح حدیبیہ کے ذریعے فتح ہوا تھا۔ افغانستان کے مسلمان کافر، مرتد ، مشرک اور اسلام دشمن نہیں ہیں۔ طالبان جنگ بندی اور افغان حکومت صلح کا اعلان کریں۔ افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ قرآن میں ہے کہ ”صلح خیر ہے”۔ ہر معاملے میں صلح کے اندر خیر ہی خیر ہے۔ جب افغانیوں میں دشمنی کے بجائے دوستی کا ماحول قائم ہوجائے اور ایک دوسرے سے بالکل آزادانہ اور بھائی چارے کی بنیاد پر میل ملاپ کا آغاز ہوجائے تو اسکے اثرات پورے خطے پر بہت اچھے انداز میں پڑیں گے۔ نوازشریف کا چیلہ راشدمراد بھی RMtvلندن سے کھریاں کھریاں کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ جس نوازشریف کا گوشت، پوست، ناخن ،بال، ہڈیاں یہاں تک کہ گودا بھی اسٹیبلشمنٹ کے کارخانوں کی مارکیٹ میں بناہے ،اس کی اور فوج کے بیچ میں جس قسم کا بغض وعناد ہے ،اس کی ہلکی سی جھلک راشد مراد کی کھریاں میں دیکھ سکتے ہیں۔ افغانستان سے زیادہ پاکستانیوں کی حالت خراب ہے لیکن یہاں زبانی جمع خرچ کی لڑائی ہے اور وہاں بندوق سے خون بہایا جارہا ہے۔
افغان طالبان نے پہلے مرحلے میں دیسی ملاں کا دیسی اسلام رائج کیا تھا اور اب اپنے زیرکنٹرول علاقے میں اسلام کی نشا ثانیہ والا اسلام نافذ کرکے بھی دیکھ لیں۔ افغان حکومت ہی نہیں پاکستان ، ایران سمیت پوری دنیا بھی ان کے قدموں میں گرجائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے جس طرح دجال کا لشکر کہا تھا وہ اسی سے بڑھ کر خراسان کے مہدی کا لشکر قرار دینے میں دیر نہیں لگائے گا۔

Akhtar Khan’s Manzoor Pashtun’s main role in PTM? But then the line was cut. The picture shows some of the documents on which I wrote the five demands with my own hands, which were agreed upon by the twenty-two young men who marched with Manzoor Pashtun after a long discussion.

اختر خان کاپی ٹی ایم (PTM) میں بنیادی کردار ؟ مگرپھر لائن کٹ گئی!
تصویر میںکچھ غذات نظر آ رہے ہیںجن پر میں نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ پانچ مطالبات لکھے جن پر منظور پشتین کیساتھ لانگ مارچ کرنے والے بیس بائیس نوجوانوںنے طویل بحث کے بعد اتفاق کیاتھا۔

یہ تصویر 30جنوری 2018کی ہے۔اس میں سب سے اوپر عتیق عالم وزیر بیٹھے ہیں۔ انکے بائیں طرف کچھ کاغذات نظر آ رہے ہیںان کاغذات پر میں نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ پانچ مطالبات لکھے جن پر منظور پشتین کیساتھ لانگ مارچ کرنے والے بیس بائیس نوجوانوںنے طویل بحث کے بعد اتفاق کیاتھا۔عتیق عالم وزیر سے ہم نے درخواست کی کہ وہ یہ مطالبات سب کو سنائے۔ڈاکٹر سیدعالم محسود اور ڈاکٹر مشتاق بھی موجود تھے۔ڈاکٹر سید عالم محسود نے ذمہ داری لی کہ وہ ان مطالبات کی ایک ہزار پرنٹ کاپیاں نکال لے گااور یہ ہم اسلام آباد دھرنہ کی جگہ پر آنے والے شرکا میں تقسیم کرینگے اور ارادہ کیا کہ ان مطالبات کیلئے نہ صرف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے بلکہ تحریک چلائیں گے۔اس رات ہم نے طویل بحث کی۔میں نے منظور پشتین کو اپنے رشتہ دار علی خان محسود کے پشتون قوم پرست نظریات سے بہت متاثر پایالیکن ہم نے اس پہلو پر اتفاق کیا کہ کسی بھی طرح ہم کسی سیاسی جماعت کے کندھے یا سیاسی نظرئیے کو استعمال نہیں کرینگے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو یہ اجازت دینگے کہ وہ تحریک کے پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی نظریات کے پرچار کیلئے استعمال کریںبلکہ جو نوجوان ہماری آواز کو حق سمجھے گا ہم اس کو اپنا دوست سمجھیں گے اور ان نئے نوجوانوں کا ایسا گروہ بنائیں گے جو ریاستی اداروں، پشتون قوم پرست جماعتوں اور پشتون کے مذہبی طبقات کے درمیان پل کا کردار ادا کریں تاآنکہ وہ کسی مصلحت اور نئی اجتماعی ترکیب پر پہنچ جائیں۔
ہم جب اسلام آباد گئے تو وہاں پرہی تحریک کے اغراض و مقاصد سمت اور بیانئے پر رسہ کشی شروع ہوئی۔وزیرستان کے ملکان اور مولوی اس میں پیش پیش تھے لیکن جن نوجوانوں نے پشاور میں ریٹائرڈ پولیس افسر رحمت خان محسود کے گھر پر جو مطالبات لکھے تھے انہوں نے ان ملکان اور مولویوں کو سائڈ لائن کیالیکن اسکے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پی میپ کے کارکنان نے حتی الوسع کوشش کی کہ منظور پشتین اور اسکے ساتھ آئے ہوئے سکول کالج کے طلبا کو ان مطالبات پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے سو سالہ پرانی لر او بر یو افغان اور لوئی افغانستان اور آزاد پشتونستان کے جذباتی فریبی جگاڑ کی طرف مائل کر لیں۔ پشاور یونیورسٹی گومل یونیورسٹی اور ڈگری کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے سابقہ اور موجودہ جتنے صدر صاحبان وہاں آئے تھے انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ کسی طرح منظور پشتین کو اختر اور عتیق عالم وزیر سے دور رکھا جائے۔
اسلام آباد دھرنہ کے تیرہ دن بعد23 فروری2018کو منظور مردان میرے گھر آیا ۔ مجھے اپنے ساتھ اٹک لے گیا۔وہاں جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے ایک امیر محسود تاجر نے منظور کیلئے سابق وزیراعلی اکرم خان درانی کے فارم ہاوس میں بنے ریسٹ ہاوس میں مقامی گلوکاروں کو بلا کر میوزک پروگرام ارینج کیا تھا۔ڈھول کی تھاپ پر منظور پشتین اور ہم اتنڑ کرتے رہے۔رات کو میں اور منظور اور اس کا دوست گفتگو کرنے لگے۔سیاست سے لیکر ذاتی زندگی کے ہر پہلو پر ہم نے تفصیلی گفتگو کی۔منظور پشتین کے پاس تحریک کو آگے لیجانے کیلئے نہ کوئی منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی کوئی فکر۔ 30جنوری 2018 کو ہمارے درمیان پانچ مطالبات پر جو فکری ہم آہنگی بنی تھی منظور اس سے کوسوں دور جا چکا تھا۔منظور پشتین لوئی افغانستان اور آزاد پشتونستان بنانے کے بارے میں اتنی لمبی لمبی چھوڑ رہا تھا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ میرے استاد ڈاکٹر فدا کے پاس جائیں۔ عشا کی نماز کے بعد خانقاہ پہنچے۔ ڈاکٹر فدا نے بات سنی اور منظور پشتین سے کہا کہ آپ اور اختر دو دن بعد آئیں، مشورہ کر لیں گے۔ آپ کی آواز ملک کے نظام کو بدلنے سے جڑی ہے۔ اسکے بعد ہم پشاور یونیورسٹی گئے جہاں سوات کے پروفیسر الطاف اور پروفیسر درویش آفریدی نے پشاور یونیورسٹی کے چند پروفیسروں کو اکٹھا کیا تھا۔اس ملاقات میں صمد خان کے پیروکار پروفیسر درویش آفریدی نے مجھے لوئی افغانستان کا دشمن کہا۔ملاقات کے خاتمے پر میں نے منظور پشتین سے کہا کہ درویش آفریدی کی گفتگو سے آپ نے کیا اخذ کیا؟ تو منظور پشتین نے مجھے کہا کہ درویش آفریدی نے جو کچھ کہا اس کا سادہ الفاظ میں خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ اختر کو اپنے آپ سے دور نہیں کرتے تو ہم تمام لوئی افغانستانی اور آزاد پشتونستانی آپ سے دور رہیں گے۔
اسکے بعد منظور پشتین نے تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل اور خط حرکت کو پی میپ اور عوامی نیشنل پارٹی کے سابقہ اور موجودہ پارلیمانی غیر پارلیمانی کارکنوں اور بھگوڑوں جیسے ڈاکٹر سید عالم محسود، علی وزیر، محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال، گل مرجان وزیر ،پروفیسر درویش آفریدی، رضا وزیر وغیرہ وغیرہ کے حوالے کیا. 2018 کے پشاور جلسے میں ڈاکٹر سید عالم محسود نے ان کو دوئم احمد شاہ ابدالی کا خطاب دیا۔ سب نے منظور پشتین میں ایک ایسا غبار بھروا دیا جس سے منظور پشتین کو یہ احساس دلایا گیا کہ پانچ مطالبات کو چھوڑو، تم اتنے بڑے لیڈر ہو کہ جس لوئی افغانستان کو احمد شاہ ابدالی نے بنایا اور جس کو حاصل کرنے میں باچاخان اور صمد خان جیسے پشتون رہنماوں نے زندگیاں برباد کیں لیکن حاصل نہ کر سکے۔ تم اس لوئی افغانستان کو بنانے میں کامیاب ہو جاو گے…….
جولائی2018 کے الیکشن کے بعد منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ پانچ مطالبات کو بھول گئے ۔پاکستان میں بیٹھ کر موجودہ امریکہ نواز قوم پرست افغانستان اور افغان رہنماوں اشرف غنی، کمیونسٹ رہنما جبار قہرمان، قندہار کے را انوار اچکزئی کے ترجمان بنے۔منظور محسن امریکہ نواز افغانستان اور افغان رہنماوں کے حق میں ٹویٹس اور پوسٹ کرنے لگے۔پی ٹی ایم کے جلسوں میں افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ ڈاکٹر نجیب کے پوسٹر آویزاں کئے گئے۔ یورپ اور امریکہ میں پناہ گزین افغانوں کو پی ٹی ایم کے حق میں ریلیاں اور جلوس نکالنے پر لگایااوروہاں ریلیوں میں افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ افغانستان کے باشندے ریلیوں سے خطاب کرنے لگے۔پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔یورپ اور امریکہ سے لاکھوں کروڑوں روپے چندے کی مد میں وصول کیے گئے لیکن اسکا کوئی شفاف طریقہ کار نہ تھا اور نہ اب ہے۔پی ٹی ایم کے اندر جو جتنا طاقتور ہے اس نے اس میں اپنی نظریات والی دوکان کھول لی،پی ٹی ایم کے اسٹیج سے ایسا بیانیہ جاری ہوا جہاں پشتون قوم کے اندر جمعیت علما اسلام، تحریک انصاف اور مسلم لیگی ذہنیت والے پشتونوں کی تضحیک کی گئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے مرکزی کرداروں منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ نے حالات کی غلط تشخیص کی اور غلط راہ پر چلنے لگے۔
تینوں کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے قبائلی علاقوں کے عوام کو تحریک کے مطالبات کے اردگرد منظم کرتے، پشتون قوم پرست جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے، پھر تحریک انصافی اور مسلم لیگی اور جمیعتی پشتونوں کو قائل کرتے اور پاکستان کی باقی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے فعال اراکین سے رابطے بناتے اور اپنی آواز مستحکم کرتے اور پشتونوں کیساتھ ساتھ ملک کے باقی عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بنتے لیکن منظور علی اور محسن اپنے پشتون قوم پرستانہ تعصبات، کم علمی اور کم عمری کے باعث ایک ایسے راستے پر چل نکلے جہاں وہ نہ صرف آپس میں تینوں گتھم گتھاہیں بلکہ انہوں نے جمعیت علما اسلام، تحریک انصاف اور مسلم لیگی ذہنیت والے پشتونوں کو تو چھوڑیں، پی میپ اور عوامی نیشنل پارٹی سے جڑے پشتونوں کو بھی متنفر کرنا شروع کر دیا۔ایسے میں پنجاب یا سندھ کا کوئی بندہ منظور علی محسن یا پی ٹی ایم کے ساتھ کیوں ہمدردی رکھے۔

Drum of Mehsud nation of Waziristan and pool of Maulana Fazlur Rehman in Saleem Safi’s program, Maulana Fazlur Rehman admitted that Maulana had signed permission for drone strikes on tribes under Pervez Musharraf.

وزیرستان کی محسود قوم کا ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کا پول

سلیم صافی کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمن نے اعتراف کیا کہ پرویزمشرف دور میں قبائل پر ڈرون حملوں کی اجازت پر مولانا نے دستخط کئے ۔

دی پٹھان (The Pathan Book)نامی انگریزی کتاب میں ہے کہ” وزیرستان ایسا علاقہ ہے جہاں کسی نے بھی صحیح معنوں میں حکومت نہیں کی ”۔ اقتدار میں لوگ محکوم بنتے ہیں، حکمران ٹیکس وصول کرتے ہیں ، نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنی مرضی کا پابند بنایا جاتا ہے لیکن تاریخ میں ایسا کوئی حکمران نہیں آیا جس نے وزیرستان میں ایسے احکام نافذ کئے ہوں جو حاکم اور محکوم کے لوازمات ہیں۔ بیش بہا مراعات کے بدلے آزاد منش کسی علاقہ کی عوام کو کچھ معاہدوں کا پابند بنانا حکومت قائم کرنے کا تصور نہیں ہوتا ہے۔ وزیرستان کے سرکاری ملکان کو عوام جاسوس کہتے تھے۔ سرکار ی نمائندوں کی کوئی عوامی اوقات نہیں تھی۔
جب میں نے کانیگرم وزیرستان سے خلافت کے آغاز کیلئے ڈیرہ ڈال دیا تو ماموں چیف آف کانیگرم نے میرے بھائی سے کہا کہ (40FCR)کے تحت جیل بھیجتے ہیںتاکہ عوام ڈھول کی تھاپ پر چڑھائی نہ کردیں۔ محسود قوم ڈھول اٹھالے توبڑے بڑوں کی ہمت ختم ہوجاتی ہے ۔ رسول اللہۖ کی بعثت سے قبل اہل مکہ نے ”حلف الفضول” کا معاہدہ کیا ۔اس میں ظالم کیخلاف مظلوم کی مدد اہم بات تھی۔ نبیۖ نے آخری خطبہ میں بھی فرمایا کہ ”مجھے سرخ اونٹوں سے عزیز حلف الفضول ہے”۔ اگرچہ معاہدے پر عمل نہ ہوسکا۔ورنہ تو نبیۖ کے حامی خاندان کو شعب ابی طالب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور نہ نبیۖ اور مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑتی۔ عرب اسلام سے پہلے کسی کے محکوم تھے نہ وہاں کوئی باقاعدہ آئین تھا۔ وزیرستان کی محسود قوم کا یہ بڑا کمال تھا کہ حکمران کا تصور نہیں تھا لیکن ایک دستور کے وہ بالکل پابند تھے اور وہ دستور حلف الفضول کے عہدنامہ کی طرح عظیم الشان روایات واقدار کی شکل میں تھا۔باہمی مشورہ کے بعد فیصلہ ہوتاتھا تو اس پر عمل درآمد ڈھول کی تھاپ پر کرایا جاتا تھا۔
محسود قوم کا دنیا میں ایک بالکل منفرد کردار تھا۔ سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آزادانہ مشاورت کے بعد فیصلہ ہوتا تھا اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد ہوتی تھی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی خلفا راشیدین تھے لیکن مشاورت کی وہ روح وہاں بھی ناپید تھی جو وزیرستان کی مقدس سرزمین پر وحی کی رہنمائی نہ ہونے کے باوجود موجود تھی۔اسی لئے خلفاء راشدین کے ادوار میں فسادات ہوئے لیکن محسود اجتماعی فتنوں سے محفوظ تھے۔
پاکستان (1947) میں بن گیا لیکن اب تک( 1973) کے آئین پر عمل در آمد نہ کرنے کا رونا رویا جاتا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب کے افسر ڈاکٹر نعیم باجوہ نے غلطی سے ن لیگ کے (MNA)پرویز خان کوبورڈ کے امتحان میں اپنی جگہ دوسرے بندے کو بٹھانے پر پکڑلیا تو نوازشریف کے بدمعاش بھانجے عابد شیر علی نے میڈیا کی اسکرین پر اس بیچارے کو ایسا ذلیل کیا تھا کہ الحفیظ الامان ۔
اگر مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ سمیت (PDM)کا اتفاق ہے کہ آئندہ فوج کو سرحداور بیرکوں میں بھیجنا ہے تو خوش آئند ہے لیکن عوام پر واضح کیا جائے کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف کے لندن فلیٹ کاتحریری بیان اور قطری خط کیا تھا؟ اگر نوازشریف نے اپنا درست بیانیہ ثابت کیا تو محسود قوم ڈھول کی تھاپ پرمخالف کے خلاف راست قدم اٹھائے ۔یہ وہی قوم ہے جس نے آزادکشمیر فتح کیاتھا۔ اگر نوازشریف درست وضاحت نہ کرسکے تو محسود قوم ڈھول کی تھاپ پر رائیونڈ کے محل کو مسمار کرنے پہنچے۔ یہاںزیادتیاں کرنے والوں نے تماشہ لگا رکھا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کرائے کے مکان میں تھا اوراب لائن سے بنگلے اور بڑی جائیدادیں ہیں۔اللہ تعالی موصوف کے اقبال میں مزید اضافہ کرے۔ مفتی محمود کے چھپر اور ٹین کے دروازے پر دھوکہ کھانے کی طرح معاملہ ٹھیک نہ تھا۔جب حرام خوری کا معاملہ آتا ہے تو اس بھیڑ میں بہت ہیں،اگر مولانا شامل ہوجائے تو مضائقہ نہیں لیکن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بہت بری بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو اصولی سیاست اور جمہوریت کیلئے فوج کی مخالفت کا بڑا کریڈٹ جاتا ہے۔ کچھ معاملات کی نشاندی اور وضاحت کرنا انتہائی ضروری ہے۔
حامد میر نے پوچھا کہ مولانافضل الرحمن نے جنرل مشرف سے مراعات لی ہیں؟۔ مولانا راشد سومرو نے مولانا کیلئے ایمان کی قسم کھائی ۔ انصار عباسی نے کہا کہ جنرل مشرف نے (GHQ)سے مولانا فضل الرحمن کو ساتھیوں کے نام پر اتنی اتنی زمینیں الاٹ کی ہیں۔ جسکے دستاویزی ثبوت ہیں۔ اگرانصار عباسی نے غلط بیانی کی ہو تو وزیرستان کے محسود جمعیت علما اسلام کے( MNA)مولانا جمال الدین محسود اور (MPA )مولانا عصام الدین قریشی کی قیادت میں ڈھول کی تھاپ پر انصار عباسی کا گھر گرانے کیلئے پہنچ جائیں اوراگر انصار عباسی کی بات درست ہو تو پھر مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لیں کہ کونسی خدمات کے عوض یہ زمین (GHQ )نے دی ؟۔ یہ کونسی ڈرامہ بازی ہے کہ ایک طرف قوم کو جمہوریت کی بالادستی اور فوج کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے اور دوسری طرف ناجائز مراعات بھی لی جائیں؟۔ سلیم صافی کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمن نے اعتراف کیا کہ پرویزمشرف دور میں قبائل پر ڈرون حملوں کی اجازت پر مولانا نے دستخط کئے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلئے (GHQ)نے زمین الاٹ کی تھی؟۔
وزیرستان کے سینٹر دوست محمد محسودکا رونا کسی کام کا نہیں کہ” کاش میں فلسطینی یا کشمیری ہوتا تو میرے لئے کوئی دو آنسو بہاتا۔ پنجاب میں آئل چوری کرنے پر ڈھائی سو افراد مرتے ہیں تو ان کو چالیس چالیس لاکھ معاوضہ مل جاتا ہے جبکہ ہم تباہ وبرباد ہوگئے اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ”۔ (PTM)کے نعروںمیں گلہ تھا کہ ”یہ کیسی آزادی ہے کہ ہمارے گھراجڑ رہے ہیں، ہمارے جوان قتل ہورہے ہیں”۔یہ محسود قوم کی خلعتِ افغانیت کے اعلی اقدار کے منافی ہے۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یابندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
جو فقر ہوا تلخی دوران کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
نام رہ گیا ہے ابھی وزیری ومحسود یہ خلعتِ افغانیت سے ہیں عاری
احادیث صحیحہ اور امام بوحنیفہ کے نزدیک زمین کو مزارعت ، ٹھیکہ اور کرائے پر دینا سود اور حرام ہے ۔ مولانا فضل الرحمن الاٹ کی گئی زمین وزیرستان کے غریب متاثرین کو دیں تاکہ اسلام کی نشا ثانیہ کا آغاز ہو۔ اگر محسود قوم مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لے کہ پارلیمنٹ میں تمہارے نمائندوںکو اسلئے بھیجاہے کہ ہماری تباہی وبربادی پر تم مراعات لو، زمینیں نام کرا، صوبائی حکومت لو؟۔ احتجاج سے حکومتیں ہل جاتی ہیں لیکن احتجاج کرنا محکوم قوم کا کام ہے۔جب دنیا میں طالبان مظلوم تھے تو محسود قوم نے امریکہ کو شکست یا فتح کرنے کے چکر میں ساتھ دیا لیکن اب تو طالبان امریکہ سے صلح کرچکے ہیں۔ محسود قوم آخری حد تک تذلیل کی پاتال میں پہنچادی گئی اور یہ اپنے اعمالنامے کا نتیجہ تھا۔ چھڑی بڑی طالبان اور انتہائی سخت گیر جاہل و مفاد پرست فوج نے انکا کباڑہ کرکے رکھ دیا۔ محسود قوم پر طالبان نے حکومت کی اوراب آدابِ محکومی سکھائے جارہے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پرمولانا فضل الرحمن سے GHQکی زمین چھین لیں تو بیت المقدس کی فتح بھی یقینی بن سکتی ہے۔ پرامن انقلاب کیلئے محسود قوم کو اپنے اندراور باہر سے فساد کا خاتمہ کرنا ہوگا۔قومی مشاورت سے مجھے بھی طلب کریں تو میں خیرمقدم کروں گا۔ محسود قوم کی یہ سب سے بڑی خوبی تھی کہ آپس کی دشمنیوں کا بھی تیسرے فریق کے دائرے کار میں بدلہ نہیں اتار تے تھے بقیہ صفحہ2نمبر2 بقیہ ………محسود قوم کا ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کا پول
مجھ سے یہ غلطی ہوگئی تھی کہ حاجی قریب خان کی پیشکش کو نہیں مانا کہ یہ علما کا کام ہے۔ علما نے بندکمرے کا حال نہیں بتایا۔ریکارڈنگ بھی نہیںکرنے دی تھی۔ اختلافات بڑا مسئلہ نہیں۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”منصبِ امامت ” میں لکھ دیا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالی نے ملا اعلی کے فرشتوں کا ذکر کیا ہے کہ ایک گروہ ایک طرف کی حمایت کرتا ہے اور دوسرا گروہ دوسری طرف کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان بن رہاتھا تو جمعیت علما ہند اور جمعیت علما اسلام کے علما آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے تھے اور دونوں طرف کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی متحدہ ہندوستان اور پاکستان کے مقف پر اپنے اپنے دلائل دے رہے تھے اور ایکدوسرے کو ہندں اور انگریزوں کا ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔
جب مولانا فضل الرحمن پہلی مرتبہ ہمارے گھر تشریف لائے توجٹہ قلعہ علاقہ گومل کی تاریخ کا یہ پہلا سیاسی جلسہ تھا۔ مولانا قاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ بھی اس میں شریک تھے۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت نہیں آئی تھی لیکن کلاچی کے قاضیوں نے پروپیگنڈہ کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے نبوت کا دعوی اور مہدی کا دعوی کرنے والے کی صدارت میں جلسہ کیا ۔ عثمان دوتانی کا تعلق جمعیت س سے تھا ، اس نے بتایا کہ قاضی عبدالکریم اور قاضی عبد اللطیف سے میں نے کہا کہ جیل میں اس شخص کو میں جانتا ہوں، یہ سیاسی جماعتوں سے بالاتر ذہن رکھتا ہے۔ قاضی فضل اللہ سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی ، مولانا نیاز محمد قریشی وغیرہ سے کہا تھا کہ اگر سید عتیق الرحمن گیلانی ہماری پارٹی میں شامل ہوجائے تو جمعیت میں بھی انقلاب آجائیگا۔ قاضی فضل اللہ کے کان میں ہمارے رشتہ دار مولانا سید آصف گیلانی نے کچھ کہا تھا تو مولانا فضل الرحمن سے قاضی فضل اللہ نے میرا تعارف پوچھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”یہ ہم سے بڑا انقلابی ہے مگر تھوڑا جذباتی ہے”۔ ٹانک کے سب اکابر علما کرام ہماری تائید کرتے تھے اور پاکستان کی سطح پر بھی تمام مکاتبِ فکر کے علما کرام نے ہماری زبردست تائیدکی تھی۔
طالبا ن کی حکومت سے پہلے افغاستان میں قندھار کے لوگ قوم لوط کے عمل سے مشہور تھے۔ ہمارے ہاں بنوں، لکی مروت، گومل اور دوسرے پختونوں میں قوم لوط کا عمل مشہور تھا لیکن محسود اور وزیر میں یہ خطرناک بیماری نہیں تھی لیکن جب کنڈیکٹری اور طالب گردی کی زد میں یہ قومیں آگئیں تو اس بیماری نے بھی وزیرستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مولانا گل نواز محسود نے کہا تھا کہ طالبان کے بہت گروپ ہیں لیکن دو زیادہ مشہور ہیں ۔ایک اپنے لبوں کو لال کرتے ہیںاور دوسرے اپنے ہاتھوں کو مہندی لگاتے ہیں۔ آئی ایس آئی تو بہت اچھی ہے لیکن یہ دونوں گروپ قوم لوط کی بیماری میں بھی مفعولیت کا کردار ادا کررہے ہیں۔
جب انسان کی غیرت مرجاتی ہے تو اس سے کوئی بھی توقع رکھی جاسکتی ہے اور اس بات پر بہت خوشی ہے کہ گودام مسجد ٹانک کے امام مولانا قاری حسن شکوی شہید مجھ سے صرف محبت نہیں بلکہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ پہلے انہوں نے جب القاعدہ والوں کو اپنے پاس رکھا تو مجھ سے کہا کہ وہ فرشتے اور صحابہ کرام کی طرح لگتے ہیں لیکن جب میں نے عرض کیا کہ ازبکستان سے جہاد کی غرض سے آنے والے یہاں کیوں آگئے ہیں؟۔ مجھے لگتا ہے کہ امریکہ کی گہری سازش ہے اور یہ ان لوگوں کو بھی پتہ نہیں ہوگا۔ پھر انہوں نے تحفظات رکھنا شروع کردئیے تو ان کو شہید کردیا گیا۔ پھر ان کی شہادت کے بعد تعزیت پر گیا تو ایک وزیرصحافی کے چچا کہہ رہے تھے کہ ”وزیر تو پہلے سے بے غیرت ہیں لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ غیرتمندمحسود قوم کو کیا ہوا ہے ؟۔ پہلے تو یہ ماں اور بیوی کی گالی پر قتل کردیتے تھے اور اب کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ فلاں طالب نے یہ کیا مگر کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہے”۔ جن بے غیرت بدکرداروں نے محسود اور وزیرقوم کے اچھے لوگوں کو قتل کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی وہ علتی ہیں۔ جب تک ماحول نہیں بدلے گا تو یہ بھی نہیں بدلیں گے لیکن محسود قوم کو اپنی پرانی یادیں تازہ کرکے بڑا زبردست کردار ادا کرنا ہوگا۔ مجھے اچھے کی توقع ہے باقی اللہ جانے کہ کیا ہوگا؟۔

Chozo (Maulana Fazlur Rehman, Maulana Owais Noorani, Shahbaz Sharif, Mahmood Khan Achakzai put your hands on your chest and tell (Maryam Nawaz did not teach politics by holding a finger

چوزو(مولانا فضل الرحمن، مولانا اویس نورانی، شہباز شریف، محمود خان اچکزئی)! اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ ،مریم نواز نے انگلی پکڑکر سیاست نہیںسکھائی!۔

نازک پری کو بھوتوںسے بچاؤ چاچوشعبدہ باز، جلدی قابو پاؤ!
چوزو! کان کھول کر سن لو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ ،مریم نواز نے انگلی پکڑکر سیاست نہیںسکھائی!۔ میں فوج نال نئیں لڑسگدی! وڈے وڈے بال نئیں پھڑ سگدی!۔مریم اک گل دَس گئی، شوباز’باپو’بنڑا چس گئی!۔ راجکماری فھر برس گئی ،پڈم دیدار نو ترس گئی۔کھتے ہونڑ پھنس گئی؟ ساڈی بھونڈگھس گئی !۔ کشمیرچھڈ کے سانو ٹھگ بنارس گئی، کتیا ریلا چھڈ کے نس گئی ۔ رسی نالے کس گئی،چھلکے رہ گئے رس گئی۔پڈم شرم میں دھنس گئی، قیادت پردنیا ساری ہنس گئی۔ مفتی عزیزکی لیلائے سرکس گئی، جمعیت کی نکل اب بھرکس گئی۔ انقلاب کی ہوس گئی۔ تمنا تک جھلس گئی۔
منفی شخصیات رہ گئیں کہ پلس گئی
تیلیاں جلتی نہیں کہ ماچس گئی
PDM اپ ڈیٹ