پوسٹ تلاش کریں

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”نصاریٰ ایمان والوں سے موودت میں سب سے زیادہ اشد ہیں”۔ آج نصاریٰ کی دنیا میں بہت بڑی حیثیت ہے لیکن آج مسلمان اس حقیقت کو استعمال نہیں کررہے ہیں۔

قرآن پاک کی اس آیت کی سب سے بڑی تصدیق آج نصاریٰ کا وہ عمل ہے کہ جس قبلہ کو وہ اپنا مقدس مقام اورقبلہ مانتے ہیں اوران کے اندر قبضہ کی صلاحیت بھی ہے لیکن وہ مسلمانوں سے نہیں لے رہے ہیں

مسلمان دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع۔ اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ73فرقوں میں سے ایک جنتی ہوگا اور باقی سب جہنمی ہیں ۔جنتی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ سنت سے رسول اللہ ۖ اور جماعت سے صحابہ کرام مرادہیں۔ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی خود کو اہل سنت سمجھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق دور میں مشہوربریلوی عالم دین علامہ عطاء محمد بندیالوی نے تفصیل سے فتویٰ دیا کہ عالم اسلام پر فرض ہے کہ امام کا تقرر کریں۔ نہیں تو ان کی موت جاہلیت کی ہوگی۔ امام لازمی قریش ہو۔ جنرل ضیاء الحق کی موت بھی جاہلیت کی موت ہوگی۔
دیوبندی مدارس نے استفتاء کاجواب نہیں دیا۔مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے ” عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰہ والسلام کے آئینہ میں” مساجد کے ائمہ ، مدارس کے مفتی ، سیاسی مذہبی جماعتوں کے علماء ، حکمران اور تمام فرقے اور مذہبی جماعتیں ایک ایک اور اجتماعی طور پر سب کوزبردست نشانے پر لے لیا تھا۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ خیر کا نبی ۖ سے پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں رہنمائی لیتا تھا تاکہ میں اس سے بچ سکوں۔ حذیفہ نے پوچھا:ہمیں یہ خیر (اسلام ) پہنچی تو کیا اسکے بعد کوئی شرپہنچے گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں! ( خلافت راشدہ میںجو جنگیں ہوئیں۔ جمل ، صفین ، نہروان ۔ عثمان کی شہادت سے علی کی شہادت تک )۔ حذیفہ:کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی ؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : ہاں مگر اس میں دھواں ہوگا۔ان میں اچھے لوگ بھی ہوں گے اور برے بھی ۔ (30سالہ خلافت راشدہ کے بعدبنوامیہ وبنو عباس کی امارت اور خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کادور۔ حسن کے بعد امیرمعاویہ سے عثمانی آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید سن1924،جبری حکومتوں کے دور سے طرز نبوت پرخلافت کے دوبارہ قیام تک کے موجودہ دور تک سب پراس خیر کا اطلاق ہوتا ہے جس میں خیر وشر دونوں ہوں گے۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو جائز قرار دیا تھا تو سب علماء ومفتیان نے مخالفت کی۔ دارالعلوم دیوبند کے دو ٹکڑے ہوگئے، جمعیت علماء اسلام ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی رہی، تبلیغی جماعت دو حصوںمرکز بستی نظام الدین اور رائیونڈمیں تقسیم ہوگئی،دیوبندیوں کے ٹکڑے، بریلویوں کے ٹکڑے ، اہل حدیث کے ٹکڑے، جماعت المسلمین کے ٹکڑے اور حزب اللہ کے ٹکڑے ۔اس طرح اہل تشیع میں آپس کی منافرت اورکئی ٹکڑے ) حضرت حذیفہ نے پھر سوال کیا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں!۔ داعی ہوں گے جو جہنم کے دروازے پر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ جس پر حذیفہ نے پوچھا:یارسول اللہ ! ان کی نشانی کیا ہوگی؟۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: وہ ہمارے لبادے (مذہبی ) میں ہوں گے اور ہماری زبان (مذہبی اصطلاحات ) بولیں گے ۔حذیفہ:اگر میں اس وقت ہوا۔ تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔رسول اللہ ۖ: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ!۔ حضرت حذیفہ : اگر اس وقت نہ مسلمانوں کا کوئی امام ہو اور نہ جماعت توپھر؟۔ رسول اللہ ۖ : پھران تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ، چاہیے تمہیں کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے۔
(صحیح بخاری ۔ عصر حاضر : مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید)
اہل سنت الجماعت اور اہل تشیع نے دیکھا کہ جب ایران میں آیت اللہ خمینی کو قائدانقلاب اورامام بنایا گیا تو ایران کی بادشاہت ختم ہوگئی۔ جب ملا عمر کو امیر المؤمنین نامزد کیا گیا تو افغانستان میں بدمعاش جہادی کلچر کا خاتمہ ہوگیا اور آج افغانستان میں افغانستان کے حدود کیلئے امیر المؤمنین کا تقرر ہے۔ داعش (دولت اسلامیہ عراق وشام) نے بھی امیر المؤمنین بنائے لیکن عراق وشام میں بھی کامیابی نہیں ۔ سن1990کی دہائی میں ایک عرب نے بھی امیرالمؤمنین بننے کا دعویٰ کیا تھا جس نے اپنا ٹھکانہ خیبر ایجنسی میں بنایا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے وزیرستان سے پاکستان اور دنیا بھر کیلئے امیر المؤمنین کے تقرر اور خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ وہ عرب امیرالمؤمنین پھر بیمار ہوکر امریکہ چلا گیا تھا اور اس کے پشاوری نمائندے نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ آپ اپنے مشن سے دستبردار ہوجائیںاسلئے کہ اس عرب میں بہت صلاحیت ہے۔ آپ کی طرف سے پہل کی گئی ہے آپ کے ہوتے ہوئے وہ خلیفہ نہیں بن سکتا ہے۔
مفتی کامران شہزاد نے حال میں امام مہدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے جس میں قوم کی تبدیلی کو قرآنی انقلاب قرار دیا۔قوم کو اب تبدیلی کیلئے اٹھنا ہی ہوگا۔ انہوں نے یہ زبردست بات کی ہے کہ جب تک قوم خود کو نہیں بدلے اس وقت تک اللہ بھی قوم کی حالت نہیں بدلے گا اور جب قوم اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کرے گی تو ایک نہیں کئی امام مہدی بھی قوم کو مل جائیں گے، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ”اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جن کو کمزور بنایا جارہاہے کہ ان کو ائمہ بنائیں اور ان کو وارث بنائیں”۔( سورہ القصص آیت5)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا” اور جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی اِلٰہ کو نہیں پکارتے۔اور نہ کسی نفس کو قتل کرتے ہیں جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کیساتھ۔ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا توسزا کو پہنچے گا ۔ اللہ ان کے عذاب میں قیامت کے دن دو چند اضافہ کرے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلت کیساتھ رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور صالح عمل کئے تو ان لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ تبدیل کردے گا۔ اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جو توبہ کرے اور عمل صالح کرے تو بیشک وہ اللہ کی طرف توبہ کرتا ہے متوجہ ہوکر۔ اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو بات سے گزرتے ہیں تو گزر جاتے ہیں عزت کیساتھ۔ اور جن کے سامنے اللہ کی آیات کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس پر بہرے اور اندھے ہوکر گر نہیں پڑتے۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی ازواج میں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا ء فرمااور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسکے بدلے میں کمرہ دیا جائے گا جو انہوں نے صبر کیا اسکے سبب جس میں ان کو سپاس نامہ اورسلام پیش کیا جائے گا۔یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جو بہترین ٹھکانا اور منصب ہے۔(الفرقان)
ان آیات میں توبة النصوح سے قاتلوں اور زناکاروں کیلئے بھی نہ صرف معافی کی گنجائش ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا” ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں گے”۔ جس طرح اسلام قبول کرنے سے پہلے صحابہ کرام کافر و مشرک تھے اور بعد میں قرآن نے ان کی شان بیان کی ہے۔ ان میں بھی فتح مکہ سے قبل اور بعد والوں کے درمیان فرق ہے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد والوں کو بھی درجات کی خوشخبری ہے۔ کسی کی توہین کرنے سے فائدہ ہوتا تو اللہ مشرکوں کے خداؤں کو برا کہنے سے منع نہ فرماتا۔ لوگوں کے جذبات کو جس سے ٹھیس پہنچتی ہو اس سے ہم اجتناب کریں گے تو لوگ قرآن و سنت اور تاریخی حقائق تک پہنچ جائیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ جس طرح مہاجرین وانصار میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف تھا ،اسی طرح اہل بیت اور صحابہ کے درمیان بھی استحقاق خلافت پر یہی اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کو ائمہ اہل بیت اور ان کے صحیح پیروکاروں نے اپنی حد میں رکھا تھا، جب معاملہ اعتدال سے ہٹ جائے تو خونریزی تک پہنچتا ہے۔ جب انصاراسلئے خلافت سے محروم کردئیے گئے کہ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے تو قریش میں حضرت ابوبکر سے زیادہ اہل تشیع ہی نہیں حضرت ابوسفیان نے بھی حضرت علی ہی کو حقدار قرار دیا تھا۔ حدیث میں قریش کے بارہ خلفاء قریش کا ذکر ہے اور شیعہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت کے پاس معقول جواب نہیں۔ حالانکہ اہل سنت کی کتابوں میں آخری دور میں ان کا ذکر ہے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کے والد مولانا محمد منظور نعمانی نے شیعوں پر کفر کا فتویٰ لگانے کیلئے بڑا استفتاء لکھا تھا۔ جواب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن نے تین وجوہات کی بنیاد پر شیعوں کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا تھا۔ تحریف قرآن ۔ صحابہ کی توہین۔ عقیدہ امامت۔ جو کتابی صورت میں مارکیٹ میں بکتی ہے۔ پھر شیعوں کو متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل اور اتحاد تنظیمات المدارس میں شامل کیا گیا۔
اگر ہمارے علماء احناف دیوبندی بریلوی اور علماء اہلحدیث و اہل تشیع اپنی جگہ پر قرآن و سنت کے مطابق درست لائحہ عمل بنالیں تو سب کی گمراہیاں نہیں رہیں گی اور مرزا غلام احمد قادیانی دجال کذاب معلون کے پیروکار بھی اپنے غلط عقیدوں اور سازشوں سے توبہ تائب ہوکر سچے اور پکے مسلمان بن جائیں گے۔
قرآن میں اللہ نے رسول اللہ ۖ سے فرمایا کہ مشرکوں سے قرابتداری کی محبت کا مطالبہ کرو۔ مشرکوں نے انتہائی دشمنی کا ثبوت دیا جس کی قرآن میں مکمل نشاندہی بھی کی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے قرابتداری کی محبت کا مظاہرہ کیا اور فتح مکہ کے حسن سلوک سے تقریباً سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ نبی ۖ نے اہل بیت کے بارے میں بھی موودت کا مطالبہ کیا تھا لیکن خاندانی بنیادوں پر جب اقتدار قائم ہوا تو اس محبت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے شیعہ صحابہ کرام سے بھی بدظن ہوگئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کنفرم کیا ہے کہ نصاریٰ کو اہل ایمان سے سب سے زیادہ شدت کی موودت ہے۔ جب مسلمان آپس میں بھی ایک دوسرے سے شدید بغض رکھتے ہیں تو نصاریٰ کس طرح سے محبت کے تقاضوں پر عمل کرسکیں گے؟۔ فلسطین اور بیت المقدس کے معاملے میں نصاریٰ کی ساری ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوتیں تو یہود کب کا تسلط جماچکے ہوتے۔ مسلمانوں کی طرف سے اگر تھوڑی سی حقیقت پسندی کا مظاہرہ ہو تو پھر دیکھنا کہ امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور سارے عیسائی ممالک پکا معاہدہ کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد تک بیت المقدس کے متولی مسلمان رہیں گے اور یہود پھر دجال اکبر کا انتظار کریں گے۔ ان لوگوں کو یہ خطرات ہیں کہ مسلمان ہماری خواتین کو لونڈیاں بنادیں گے اور ہم اس بات پر بار بار زور دے رہے ہیں کہ اسلام نے لونڈی اور غلام کو نکاح و طلاق سمیت تمام حقوق دے دئیے۔ اور لونڈی و غلام بنانے کے سودی اور جاگیردارانہ نظام کا اسلام نے خاتمہ کردیا تھا۔ قیدیوں کیلئے صرف دو باتیں رکھی تھیں کہ ان کو احسان کرکے چھوڑیں یا فدیہ لیکر۔ جس سے قیدیوں کو قتل کرنے اور عمر بھرقید رکھنے کی گنجائش بھی نہیں رہتی ہے تو پھر ان کو لونڈی اور غلام بنانے کی بات تو کسی طرح سے قابل قبول نہیں۔ جب اللہ نے واضح کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو لونڈی بنانا اہل فرعون کا وظیفہ تھا پھر کس طرح سے اسلام اہل فرعون کی نیابت کرسکتا ہے؟۔ جہاں تک قرآن میں بار بار ایک چیز کا ذکر ہے ما ملکت ایمانکم ”جس کے مالک تمہارے معاہدے ہوں” اس سے لونڈی و غلام بھی مراد ہیں جس کی وجہ سے ان کی حیثیت جانور کی طرح ملکیت سے نکل کر گروی کی ہوگئی ہے۔ جس طرح آج بھٹہ خشت اور مزارعت میں خاندان کے خاندان گروی ہوتے ہیں۔ گروی کو جب بھی مطلوبہ مال دے دیا جائے تو اس کی گردن آزاد ہوجاتی ہے۔ جہاں تک ان سے نکاح کے بغیر جنسی تعلق کی بات ہے تو اس میں لونڈی اور آزاد میں فرق نہیں۔ اس میں صرف نکاح کے وہ حقوق نہیں ہوتے جس کا قرآن نے ایسا ذکر کیا ہے کہ اگر مغرب کو پتہ چل جائے تو وہ اپنے خود ساختہ قوانین کو ختم کرکے اسلامی قوانین کو معاشرے میں رائج کریں گے۔ سعودی عرب نے مسیار اور شیعہ نے متعہ کے نام سے جس ایگریمنٹ کی اجازت دی ہے اگر قرآن میں اس کو تلاش کیا جائے اور حدیث سے تصدیق لی جائے تو شیعہ سنی تفسیروں کی فرقہ واریت ختم ہوجائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

لاکھوں افغان مہاجرکی واپسی غلطی یا صحیح فیصلہ ہے؟

لاکھوں افغان مہاجرکی واپسی غلطی یا صحیح فیصلہ ہے؟

انگریز نے تقسیم ہندسے روس ، چین، ایران، عرب، جاپان، جرمنی، کوریا…متبادل قوت کا راستہ روک لیا

سیدامیرشاہ کی قیادت میں محسود قوم نے افغان بادشاہ شیرعلی سے انگریز کیخلاف باہمی تعاون کا معاہدہ کیا

یورپی یونین جرمنی، اٹلی، فرانس، سوئیڈن، اسپین، ناروے، ڈنمارک و دیگر میں کسی ایک ملک کا ویزہ سب کیلئے ہوتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں بھی یہی ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر ایسا گھر بھی ہے جس کا ایک دروازہ افغانستان اور دوسرا پاکستان میں کھلتا ہے۔ دونوںطرف ایک ہی خاندان کے گھر اور جائیدادیں موجود ہیں۔
نوازشریف یا عمران خان کیخلاف فیصلے پراپنا مقتدر طبقہ شرماتا گھبراتا نہیں تو طالبان مہاجرین کو خوش دلی سے قبول کریں۔ تنقید نہیںاپنا محاسبہ کریں۔ پشاور انگریز نے اسلئے آسانی سے فتح کیا کہ پنجاب کی سکھ حکومت نے بڑا ظلم کیا تھا۔ انگریز کے بعد مسلم لیگی شیر قیوم خان اورحکومت نے باچا خان سے وہ دشمنی کی جو انگریز بھی روا نہیں سمجھتا تھا۔ وزیرستان بالخصوص محسود نے مزاحمت کی مگر ملا پیوندہ انگریز سے100روپیہ لیتا تھا۔ قبائل کا نام نہاد مشران ملکان طبقہ تنخواہ دار تھا۔
اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ” پاکستانی وہ قوم ہے جو نہ خود ترقی کرتی ہے اور نہ ہمیں کرنے دیتی ہے”۔ لیکن برصغیر پاک وہندمیںہمارا چھوٹا ملک ہے۔ مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی نسل درنسل تعصبات کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کانگریس کی جگہ مودی آیا۔ آدھے ادھورے پاکستان کا سایہ دیوہیکل ہندوستان ہے یادیو کاسایہ ہم پر ہے؟۔ مفتی کفایت اللہ نے لکھا کہ ” انگریز نے جمعیت علماء اسلام کو جمعیت علماء ہند کے مقابلے میں بنایا”۔ مسلم لیگ انگریز نے بنائی تو ہندوتعصب بھی تھا۔ قائداعظم ، مادرملت، قائدملت اوربیگم لیاقت مبلغ قیادت، لاکھوں مہاجر ،لاؤ لشکر ،ریاستی مشینری پاک سرزمین کو جہیز میں ملے۔ جہیز کی بڑی مقدار کے سیلاب نے ہمیںکہیں کا نہ چھوڑا،آزادی ملی اور نہ اسلام آسکا۔ علامہ شبیراحمد عثمانی و مفتی شفیع کی جمعیت علماء اسلام نے سن1970میں مفتی محمود کی جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا، جو خود کو جمعیت علماء ہند کی نمائندہ کہتی ہے۔ پچھلے شمارہ میں علامہ شبیراحمد عثمانی کو غلطی سے شیخ الہند کا بیٹا لکھا۔ مولانا لاہوری کی والدہ کو فیس بک میں سکھ اور گوگل پر حافظہ قرآن لکھاہے۔مولانا طارق جمیل کا بیٹا کہتاہے کہ بھائی نے خود کشی کی اور بھائی کہتا ہے کہ غلطی سے گولی چل گئی ؟۔
ہم اپنا محاسبہ کرکے اپنی اصلاح کریں، افغانی اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کریں۔ طالبان اپنی عوام کو زراعت اور باغات کیلئے مفت زمینیں دیں تو ریاست مدینہ کی یاد بھی تازہ ہوگی ۔بھوک وبے روزگاری بھی ختم ہوگی ، حکومت کو بھی اچھا ٹیکس ملے گا۔ وانا وزیرستان کے وزیر افغان مہاجر کی محنت سے بن گئے اور اگر افغانستان میں محنت کا میدان مل گیا تو دہشت گردی نہیں ہوسکے گی۔ خوشحال خطہ ضرورت ہے۔ دہشت گردی سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے آئی ہے۔ ایک طبقہ خوشحال ،دوسرا بد حال ہو تو لامحالہ ماحول میں دہشتگرد ی آ سکتی ہے۔
سن1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کی قیادت میں محسودقبائل کا نمائندہ وفد افغان بادشاہ شیر علی خان سے انگریز کیخلاف باہمی تعاون کا معاہدہ کرنے گیا۔ پھر انکے بھائی سیداحمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کا وفد گیا۔ حوالہ درج بالا کتاب میں ہے۔ سن1878میں امیر شیر علی نے روس کے وفد کو دعوت دی۔ ہند کی انگریز سرکار ناراض ہوگئی اور افغانستان پر حملہ کیا پھر امیر عبدالرحمان اقتدار میں آیا ۔سن1893میں ڈیورنڈ لائن کامعاہدہ سالانہ18لاکھ روپیہ کے عوض کیا۔ علامہ اقبال نے وزیرستان کے محسود اور وزیر کو ”محراب گل افغان” کا تخیل دیا۔
سن1919افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ خان قتل ہوا ۔پھرامیر امان اللہ خان سن1928تک بادشاہ رہا۔اسکی بیگم ثریا شام میں پیداہوئی جو خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ ثریا نے خواتین کی تعلیم کا افغانستان میں اہتمام کیا۔ کچھ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کیلئے ترکی بھیج دیں۔ لوگ بھی جدت کیخلاف مگر اصل سازش انگریز نے کی تھی۔ امیرامان اللہ خان کے خلاف شورش برپا کرکے بھاگنے پر مجبور کیا۔ برطانیہ کو ترقی یافتہ افغانستان اسلئے پسند نہ تھا کہ روس کا خطرہ تھا۔ جیسے آج امریکہ کو چین اچھا نہیں لگتا ۔ طالبان کو مہاجرین سے زیادہ بڑا مسئلہ داعش کا ہے۔ انگریز پاکستان کو نہ بناتا تو برطانیہ، امریکہ ، فرانس اجارہ دار نہیں بنتے ۔روس ،جرمنی ، ہندوستان ، برما،جاپان ، کوریا،چین، ترکی ،ایران، عرب مضبوط بلاک بنتے اور اسرائیل کبھی فلسطین پر مسلط نہ ہوتا۔امریکی گماشتوں نے فلسطین میں جہاد نہیں کرنے دیا۔
سکندر مرزانے نانا سید سلطان اکبر شاہ سے جٹہ قلعہ گومل کرایہ پر مانگا تو نانا نے کہا: ”میں افغان بھائیوں کے قتل کیلئے یہ کرایا پر نہیں دیتا”۔ بلیک لسٹ ہوا تو انگریز پولیٹیکل ایجنٹ سے کہا کہ جو تمہیں مارتے ہیں ان کو زمینیںدیں ہیں اور ہم نے قتل نہیںکیا تو نہیں دیتے؟۔ جس پر انگریز نے پنجاب میں زمین دی۔ امیر امان اللہ خان کی حکومت بحال ہوئی تو چچازاد نادر خان نے قبضہ کیا۔ سید ایوب شاہ آغا ولد سیداحمد شاہنے کابل سے اخبار نکالا۔ نادر خان نے غلط فہمی کی بنیاد پر پہلے توپ سے اڑانے پھرتاحیات جلاوطنی کی سزادی تھی۔ ظاہر شاہ ، سردار داؤد، نور محمد ترکئی، ببرک کارمل ، فضل امین، ڈاکٹر نجیب،مجاہدین حکومت، ملاعمر ، کرزئی ، اشرف غنی اور موجودہ دورتک سارے افغان اپنامحاسبہ اوراصلاح ضرور کریں۔
جو پیسہ افغان جہاد میں جرنیل، مذہبی اور سیاسی طبقات نے کمایا، وہ افغان مہاجرین کو آباد کاری کیلئے دیں! ۔ کم قیمت میں زندگی کا سرمایہ بیچنے والے امداد اور تحفظ کے مستحق ہیں ۔چندہ خور مافیا فلسطین کے نام پر اپنی تجوریاں بھرتا ہے۔ مہاجرین کو بھیجنے پر تعصب پھیل رہا ہے۔ ہمارے والد پیرمقیم شاہ ہندودوست سے جاتے وقت جائیداد قبول کرنا بھی اپنے روشن ضمیرکیخلاف سمجھتے تھے۔الحمدللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسرائیل سے صلح کیلئے پشاور اور قتال کیلئے کراچی سے لشکر تشکیل دیں تو غزہ آزادہوجائیگا

اسرائیل سے صلح کیلئے پشاور اور قتال کیلئے کراچی سے لشکر تشکیل دیں تو غزہ آزادہوجائیگا

قال رسول ۖ فعلیکم بالجہاد و افضل الجہاد الرباط و خیر رباطکم عسقلان
رسول ۖ نے فرمایا: پس تم پر جہاد فرض ہے اور افضل جہاد الرباط ہے اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہے۔
رسول اللہۖ نے فرمایا :” پہلا اس امر کا نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہے پھر بادشاہت و رحمت ہے پھر امارت و رحمت ہے پھریہ لو گ ایک دوسرے کو کاٹیں گے گدھوں کا کاٹنا۔پس تم پر جہاد فرض ہے اور بہترین جہاد ”الرباط” ہے اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہے”۔آ ج عسقلان کا دنیابھرمیں بڑاچرچاہوگیا

____نمبر1:صلح ____
حدیث میں نبوة سے امارة تک رحمت ہے پھرگدھوں کی طرح آپس کا کاٹنا اور جہاد فرض ہے اور افضل جہاد رباط اور ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق ہے ۔رباط آپس میں مربوط ہونا ۔ عسقلان سے مربوط صلح سے غزہ کو آزاد کریں توبھی غنیمت ہے۔جنگ بندی میں عالمی طاقتوںروس، چین اور سبھی کو امریکہ ناکام کرچکا ہے۔
اللہ نے فرمایا: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم” اللہ (کے احکام) میںاس کے جہاد کا حق ادا کرو ، اس نے تمہیں منتخب کرلیا ہے”۔
ےٰایھاالذین اٰمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقواللہ لعلکم تفلحون ”اے ایمان والو! صبر کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کیساتھ باہمی مربوط ہوجاؤاور اللہ سے ڈرو ۔ شاید تم فلاح پاجاؤ ”۔
فمالھم عن التذکرة معرضینOکانھم حمرمستنفرةOفرت من قسورةٍO”پھرانہیں کیا ہوا ہے کہ تذکرے سے اعراض کررہے ہیں؟۔ گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیںجو شیر سے بھاگے ہوں”۔ (المدثر:50..)
علماء اورسیاستدانوں کی قیادت میں غزہ کی مکمل آزادی کیلئے وفد بھیج دیں۔

____ نمبر2:قتال____
افغانستان میں روس پھر امریکہ کیخلاف جہاد کو فرض قرار دیا مگر پاک فوج اور کسی اسلامی ملک نے روس اور امریکہ کیخلاف جہاز، میزائل، ایٹم بم اور ریاستی طاقت کو استعمال نہیں کیا۔ دنیا بھر کے مجاہدین نے روس امریکہ کیخلاف جہاد کیا۔ اسرائیل جاناہوتو ایران، عراق اور شام تک شیعہ قافلے زیارتوں کیلئے جاتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی اور ادارہ کلمة الحق کے سیکرٹری جنرل اجمل ملک کی قیادت میں اسرائیل کیخلاف قتال کیلئے اپنے8بیٹے اور3پوتے خود کش کیلئے ساتھ بھیجوں گا۔ فلسطین کے عبداللہ عزام نے مدینہ یونیورسٹی اور اسلاملک یونیورسٹی اسلام آباد کو چھوڑ کر اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور عربوںکو جہاد پر لگایا، روس کا انخلاء ہوا توپشاور میں بیٹوں سمیت دہشتگردی کا نشانہ بنا ۔بیگم نے الزام شاگرد پر لگایا۔ یہودی کمپنیوں کا بائیکاٹ ؟وہ سودی بینکاری اسلامی جس کی وجہ سے فرنگ کی رگ جان پنجہ یہود میں ہے اور دنیا میں اسلحے کا کاروبارچلتا ہے؟۔ مگر خیر بسم اللہ کیجئے گا!
اسرائیل کیخلاف قتال ہوتا توفلسطین کب کا آزاد ہوجاتا؟ نیٹو شکست کھاگئی! پاک فوج نے کشمیر میںجہاد نہ کیا ، امریکہ ونیٹو کا ساتھ دیاتو اسرائیل جائے گی؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

مفتی فضل ہمدرد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مجھے اس سوال کا جواب آج تک کسی سنی عالم نے نہیں دیا

مفتی فضل ہمدرد کی یہ خواہش بفضل تعالیٰ ہم پوری کردیتے ہیں لیکن وہ پھر اس کا تذکرہ ضرور بالضرور کریں

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت جب تک ان کو مضبوطی سے تھامو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار میں اتنی مرتبہ اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ شاید اہل تشیع نے بھی اس کو اتنا ہائی لائٹ نہیں کیا ہوگا لیکن اہل تشیع کی طرف سے بھی اس کا کوئی جواب نہیں ملتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ، لیکن درمیانے زمانے میں ایک کج رو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں اور میں اس کے طریقے پر نہیں۔ اس حدیث کو شیعہ سنی دونوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اہل تشیع نے اس سے مہدی عباسی بھی مراد لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہ ۖ درمیانہ زمانے تک خود نبی ۖ اُمت کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ ہیں اور درمیانہ زمانے سے آخر تک درمیانے زمانے کا مہدی ہے تو پھر اگر اس سے مہدی غائب بھی مراد لیا جائے تو اُمت کا کیا قصور ہے؟۔ اہل تشیع کے ہاں اس کا بہت ذکر ہوتا ہے لیکن ان کو کونسی ہدایت ملی ہے؟۔ جب انصار ، مہاجرین، بنو اُمیہ، بنو عباس اور اہل بیت اپنے اپنے دور میں سب سے زیادہ خلافت کی اہلیت اور اس پر براجمان ہونے کی توقع کررہے تھے تو خاندانی اعتبار سے اہل بیت واقعی زیادہ مستحق تھے۔ لیکن وہ اس دوڑ میں ہی شریک نہ تھے۔ البتہ بعض لوگوں کی طرف سے ان کو اس استحقاق کی لڑائی میں گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اسلئے رسول اللہ ۖ نے اہل بیت پر ظلم و ستم کرنے سے اُمت کو ڈرایا تھا۔ جب ابوبکر کا انتخاب ہوا تو ابوسفیان نے علی کو پیشکش کی کہ اگر آپ کہیں تو مدینہ کو پیادوں اور سواروں سے بھردوں؟۔ حضرت علی نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔ حضرت علی نے اس وقت مسند خلافت کو قبول کیا جب شوریٰ نے ان کا پہلے تین خلفاء کی طرح انتخاب کیا۔ پھر حسن وحسین نے معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ اگر یزید کا لشکر حضرت حسین کو61ہجری میں کربلا سے واپس مدینہ کی طرف جانے دیتا یا یزید کے پاس جانے دیتا یا پھر سرحد کی جانب جانے دیتا تو سانحہ کربلا پیش نہ آتا۔ مدینہ سے کوفہ پہلے آتا ہے اور پھر شام کے راستے میں کربلا بعد میں آتا ہے جو کوفہ سے دمشق کی جانب کافی فاصلے پر ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل بیت کا یہ قافلہ کوفہ سے بہت آگے شام کی طرف کربلا کیسے پہنچا؟۔ کربلا کی زمین کو کوئی اِدھر سے اُدھر تو نہیں کرسکتا اور مفتی فضل ہمدرد نے وہاں ماشاء اللہ زائرین کے ساتھ سفر بھی کیا ہے۔
نہج البلاغہ میں حضرت عمر کے وصال پر حضرت علی نے جس طرح کی بڑی زبردست تعریف کی ہے اس میں تو کسی سنی کی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یزید کے پاس پہنچنے کے بعد امام زین العابدین نے جمعہ کا فصیح و بلیغ خطبہ بھی دیا تھا۔ شیعہ جن کو ائمہ اہل بیت مانتے ہیں انہوں نے کبھی اُمت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ مفتی فضل ہمدرد کس چکر میں پڑ گئے ہیں۔ کیا علامہ سید جواد حسین نقوی نے اتحاد اُمت کیلئے جس طرح کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے کسی سنی عالم کو شیعوں کی طرف سے چندے وغیرہ نہیں مل سکتے ؟۔ مولویوں کا تو کام یہ ہے کہ جہاں سے اچھا بھاڑہ ملے اس کیلئے بولتے ہیں۔
نبی کریم ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح کی مانند قرار دیا ہے۔ جب اُمت کی ہلاکت کا درمیانہ زمانہ آئے گا تو اہل بیت نے نمودار ہوکر کشتی نوح کا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے سیدھے سادے لوگوں کا دور تھا اسلئے اہل بیت نے یہ کردار ادا کیا کہ اچھی طرح سے سمجھادیا کہ حلالہ نہیں کرنا۔ چونکہ حلالہ ایک ساتھ تین طلاق کی وجہ سے ہوتا تھا تو اپنے متبعین پر لازم کردیا کہ الگ الگ مراحل میں ہی طلاق دینا ہے تاکہ وہ حلالہ کی لعنت والوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں۔
اب پڑھی لکھی عوام بہت ہے اور شیعہ سنی دونوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے اور اگر کوئی اہل بیت اٹھے اور قرآن کی طرف دعوت دے تو بہت جلد سارے فقہی اور مسلکی اختلافات کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو حلالہ سے بچانے کیلئے قرآن میں بہت ساری آیات نازل کی گئی ہیںمگر سنی علماء نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں۔ ایک انسان کو مارنا تمام انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا تمام انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ مفتی فضل ہمدرد صاحب اچھے خاصے سمجھدار ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ کا یہ شکوہ لکھا ہے کہ ”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”(سورة الفرقان)۔ رسول اللہ ۖ کا یہ گلہ قرآن میں نہیں ہے کہ میرے اہل بیت کو میری اُمت نے چھوڑا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ ”جب رسول اللہ ۖ نے سورہ نجم پڑھی تو شیطان نے آپ ۖ کی زبان سے لات منات اور عزیٰ کے بارے میں بھی کچھ کلمات کہلوائے”۔ اس حدیث کی بنیاد پر اہل سنت کی معتبر تفاسیر میں ہے : وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنٰی القی الشیطٰن فی اُمنیتہ… ”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول کو نہیں بھیجا اور نہ کسی نبی کو مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی بات ڈال دی”۔ (سورة الحج: آیت52)۔
سورہ نجم بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا۔ ہوا یہ تھا کہ جب پہلی مرتبہ سورہ نجم میں آیت سجدہ نازل ہوئی اور اچانک نبی ۖ کو مشرکین نے سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ اور پھر اپنی خفت مٹانے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ نبی ۖ نے شیطانی آیات پڑھی تھیں۔ حضرت ابن عباس کے والد بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے۔ جب ان کو بدر میں قید کیا گیا تھا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن اُبی کا لباس پہنایا گیا تھا ۔ جس طرح معاویہ کیلئے نبی ۖ نے دعا کی کہ اللہ اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ اسی طرح حضرت ابن عباس کیلئے بھی تفسیر کی دعا کی تھی لیکن نبی ۖ کی ہر دعا قبول ہوتی تو ابوجہل بھی اسلام قبول کرلیتا۔ روایات کو قرآن پر ترجیح دینا غلط ہے۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

ایک اسرائیلی یہودن کو جب ننگا کیا گیا تھا اور اس کے خاص حصے پر ٹانگیں رکھ کر حماس کا سپاہی بیٹھ گیا تھا

مولانا فضل الرحمن نے حماس کے حق میں پوری تقریر کی اتنا بول دیا کہ حماس انسانی حقوق کا خیال رکھے

مولانا فضل الرحمن کا ایک جملہ پکڑ کر جس طرح کا طوفان بدتمیزی برپا کردیا یہ موجودہ دور کے جھوٹ کی لعنت کا بہت بڑا شاخسانہ ہے۔ ہمارا سیاسی کلچر بالکل تباہ تھا اور اب صحافت اس سے زیادہ تباہ ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو چھوڑیں بھارت کی کانگریس پارٹی بھی حماس وفلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کررہی ہے۔ فلسطین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی دہائیوں سے چل رہاہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل ، معمر قذافی اور عالم اسلام کے اندر جاندار قیادت موجود تھی اور اسرائیل بھی اتنا مضبوط نہیں تھا تب بھی مسلمانوں نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کیلئے اتنی سنجیدگی سے بھی کام نہیں لیا جتنا افغان مجاہدین نے روس اور پھر افغان طالبان نے نیٹو جیسی طاقت کو نکالنے کیلئے ہمت وعزم سے کام لیا۔ ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں اورصحافت کو بیچنے والے صحافی یہ عہد کرلیں کہ کچھ بھی ہوجائے وہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اپنے آپ پراللہ کی لعنت کی پھٹکار نہیں برسائیں گے اور نہ عوام کو ورغلائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کا ایک مذہبی لبادہ ہے اور وہ اپنے کاز کے ساتھ چل سکتا ہے۔ جب کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تھا تو اپنی نوکری کیلئے پاکستان کے کاز کو تقویت دیتا تھا۔ پہلے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہورہی تھی تو میاں افتخار حسین کے ساتھ پریس کانفرنس میں عرب امارات کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہم کسی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن عمران ریاض خان نے پھر بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔ عمران خان کو پتہ تھا کہ کون اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتا ہے لیکن عمران ریاض خان کو بتانے سے انکار کردیا تھا۔ عمران ریاض نے جس کو بچانے کیلئے مولانا کو قربانی کا دنبہ بنایا تھا پھر انہی کے ہاتھوں تکلیف اٹھائی۔
تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت بن گئی ہے لیکن بیہودہ لوگوں کی وجہ سے عمران خان کی شخصیت کو بھی غلط ٹریک پر چڑھادیں گے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن سے غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نازیبا قسم کے الزامات اور گفتگو ہوسکتی ہے لیکن کارکنوں کو چاہیے کہ ایسا ماحول بنائیں کہ حالات نارمل ہوں ۔ عوام تک درست بات پہنچے۔ پارٹی کے کارکن کم ہوتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی رحجانات کے رُخ سے جیتنا ہوتا ہے۔
میڈیا میں تشہیر ہورہی تھی کہ اسرائیل پر حماس نے 5ہزار اور7ہزار میزائل داغ دئیے ہیں۔ اگرچہ ایک میزائل سے8سے10افراد بھی مرسکتے ہیں لیکن اگر ایک میزائل سے ایک اسرائیلی کی موت واقع ہوئی ہو تو کم ازکم 5ہزار افراد تو مرجاتے؟۔ ایسا نہ ہو کہ میڈیا نے معمولی بات کو ہوا بناکر کھڑا کیا ہو تاکہ اسرائیل کو کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے؟۔ ایک طرف اسرائیل کو بزدل اور پٹتا ہوا پیش کیا جائے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا جینا حرام کیا ہوا ہو؟۔
فلسطین عرب مسلمانوں کی اپنی سرزمین ہے اور اس کے ایک ایک اینچ کا قبضہ بھی واپس اپنے اصل مالکوں کو ملنا چاہیے۔ اگر اسرائیل نے سب کچھ واپس کیا تو اس میں اسرائیل اور یہود کا بھی بہت فائدہ ہے اسلئے کہ مسلمانوں کیساتھ دوسرے مسلم ممالک کی طرح اچھے تعلقات بن جائیں گے۔ ان کے اصل دشمن مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔ جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ساتھ مظالم میں بھی عیسائیوں کے نزدیک ملوث ہیں اور عیسائیوں کو جب بھی موقع ملا ہے تو انہوں نے یہود کی خوب درگت بنائی ہے۔
مسلمان ایک ایسی عالمی خلافت کا خواب دیکھ رہے ہیں جس سے آسمان و زمیں والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔ رسول اللہ ۖ نے میثاق مدینہ یہود کے ساتھ کیا تھا اور فلسطین نے یہودیوں کو اس وقت پناہ دی تھی جب کوئی بھی ان کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عرب اور یہود کو آپس میں ہی دست وگریبان رکھنے کیلئے ایسی پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں میں نفرت کبھی ختم نہ ہو۔ اسلام مسلمانوں کو نفرت نہیں سکھاتا ہے۔ عمران خان نے جمائما خان سے شادی کی ۔ سارا سسرال یہودی ہیں۔ قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی فارسی تھی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسرال ہندو تھا۔ بیوی سے زیادہ اور کس سے اعتماد کا رشتہ ہوسکتا ہے؟۔ پشتون قوم کو اسرائیل کا گم شدہ قبیلہ کہا جاتا ہے۔ سوات بھی کبھی یہود کا مرکز تھا۔ یہود مذہب سے زیادہ نسل کو فوقیت دیتے ہیں۔ پختون قوم عالم اسلام اور عالم انسانیت کی قیادت کرے گی تو یہود بڑے خوش ہوں گے۔ یہودی بننے کی تو گنجائش نہیں ہے لیکن پختون قوم پوری دنیا کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو مرزاغلام احمد قیادیانی سے بڑی نفرت ہے ،اس طرح یہود کو عیسائیوں سے سخت نفرت ہے۔ مسلمانوں اور یہود کا تو آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ جب یہود بننے کی گنجائش نہیں تو پھریہودی صرف ایک خواب ہی دیکھ سکتے ہیں جیسے ہمارے ہاں اہل تشیع کا مہدی غائب ، اہل سنت کا امام مہدی ، ہندوؤں کا کالکی اوتار ، بدھ مت ، عیسائی اور دیگر مذاہب نے اپنی اپنی شخصیات کے حوالہ سے تخیلات اور عقائد پرانے دور سے رکھے ہیں اور قرآن کہتا ہے عما یتساء لونOعن النباء العظیمOالذی ھم فیہ مختلفونOکلا سیعلمونOثم کلا سیعلمونO”کس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کرتے ہیں؟۔ ایک بڑے انقلاب کی خبر کے بارے میں، جس میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے”۔ (سورہ النبائ)
ایک دفعہ پہلی بار دنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں نے دنیا کی سپر طاقتوں کو بڑی شکست دے کر خلافت کا ایسا نظام قائم کیا جو سن1924تک موجود رہا۔ اور اب انشاء اللہ پھر دوسری مرتبہ اللہ کی مدد سے دنیا جان لے گی کہ یہ بڑا انقلاب اسلام اور مسلمانوں کے ذریعے سے آئیگا۔ جس سے یہودو ہنود سمیت پوری دنیا خوش ہوگی۔ برہمن مشرکین مکہ سے زیادہ خوشی سے اسلام قبول کرلیں گے۔ انشاء اللہ

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں

جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں

ہماری پاک فوج نے افغانستان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور افغان سفیر کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کیا تو کیایہ فلسطین کیلئے امریکہ اوراسرائیل کے خلاف لڑسکتی ہے؟

جماعت اسلامی نے زندگی کشمیر اور روس کیخلاف سببیلنا سببیلنا الجہاد الجہاد کرتے گزاری مگر جب امریکہ یہاںآیا تو مولانا فضل الرحمن کی ٹانگوں میں اپنا سر دیدیا تھا

پاکستان میں بریلوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی ووٹ مانگنے سے پہلے اسلام کا درست پیغام سادہ لوح عوام تک پہنچائیں۔ یہاں ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کی مساجد کو فتح کرنے میں لگتے ہیں تو پھر تم مسجد اقصیٰ کو یہود سے فتح کروگے؟۔شیعہ اکثریت کو القدس سے زیادہ حرمین کے مقبوضہ ہونے کا غم ہے۔ علامہ سید جواد نقوی کے ہاں دیوبندی، بریلوی ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی والے سب جاتے ہیں ۔ مسجد اقصیٰ سے زندہ دلانِ لاہور میں علامہ جواد نقوی کی مسجد العتیق اور جامعہ عروة الوثقیٰ زیادہ محصور ہے اور وہ واحد اتحاد کا داعی بھی شیعہ کے ہاتھوں کہیں قربانی کا بکرا نہ بن جائے۔
جمعیت علماء اسلام ، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کا تعلق سنی حنفی مسلک سے ہے۔ اہل حدیث اور اہل تشیع اقلیت میں ہیں۔ اہل تشیع کی اکثریت عقیدۂ امامت کی وجہ سے ایران کی شیعہ جمہوری حکومت کو بھی ناجائز سمجھ رہی ہے اسلئے کہ ان کے نزدیک اقتدار کا حق صرف بارہ اماموں کا ہے۔ان کے نزدیک خلیفہ اول حضرت ابوبکر، خلیفہ دوم حضرت عمر اور خلیفہ سوم حضرت عثمان کی حکومت بھی ناجائز تھی۔ امیر معاویہ سے لیکر بنوامیہ، بنوعباس، خلافت عثمانیہ، مغلیہ سلطنت ، فاطمی خلافت سب حکمرانوں نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا ۔ شاہ ایران کے بعد ایرانی انقلاب نے دنیا میں شیعہ اقتدار کا خواب دیکھامگرعراق، سعودی عرب، عرب امارات ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علماء نے ان کا راستہ روکا۔ فرانس اور عالمی قوتوں کو شیعہ سنی تنازع کا پتہ تھا اسلئے ایرانی انقلاب کیلئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ امام خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ اور انعام رکھا تو دنیا بھر میں شدت پسندی کو مزید تقویت مل گئی۔ اس شمارے میں ہم بتائیں گے کہ شیطانی آیات کیا ہیں ؟۔ اور مسلمانوں کو حقائق سے آگاہ کرنے کی کیوں ضرورت ہے؟۔ یہود کا مذہبی طبقہ بھی اسرائیل کو شیطانی حکومت سمجھتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی شیعہ کی طرح ان کی نجات دہندہ شخصیت سے پہلے یہود کیلئے اقتدار کا قیام ناجائز ہے۔اہل تشیع نے اپنے ائمہ کا قول لکھا ہے کہ قیام قائم سے پہلے ہمارے اہل بیت میں سے جو خروج کرے گا تو وہ طائر کا بچہ ہوگا جو غیر وں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہوگا۔ یہ روایت امام خمینی پر فٹ بیٹھتی ہے۔
شیطانی قوتیں دنیا کو ایسی جنگ میں دھکیل رہی ہیں کہ مہدی و دجال سے پہلے بڑے پیمانے پر شدت پسند مسلمان موت کے گھاٹ اتاردئیے جائیں۔ داعش اور تحریک طالبان پاکستان کو اگر واقعی شہید بنناہے تو ایران سے لبنان اور پھر اسرائیل وفلسطین پہنچیں۔ یہود عیسائی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے مسلمان قادیانیوں کو سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر اسلئے کہ عیسائیوں نے یہود پر تاریخی مظالم بھی ڈھائے ہیںاور عیسائی یہود کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے قادیانی مسلمانوں کو سمجھتے ہیں۔
یہود ونصاریٰ سمجھتے ہیںکہ اگر خلافت قائم ہوئی تو ان کی خواتین کو لونڈی بنایا جائیگا۔ جوانوں میں گوری لڑکیوں کا جذبہ حوروں سے زیادہ ہے۔ اقبال نے شکوہ میں کہا کہ ”کافر کیلئے دنیا میں حور و قصور اور مسلما ن کیلئے فقط وعدہ حور؟”۔ حماس اسرائیل کو پہنچے گا یا نہیں؟ ۔مگر ایران و افغانستان کے بعدپاکستان و سعودی عرب میں مذہبی شدت پسند اقتدارتک پہنچ سکتے ہیں۔ اگرہم اسلام کا واضح پیغام سمجھنے ، عمل کرنے اور پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تو ابلیسی منصوبے کا خاتمہ ہوجائیگا ۔

****************
نوٹ: اس آرٹیکل کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟ ” ضرور پڑھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟

یہود اورنصاریٰ کو مسجد اقصیٰ سے دلچسپی نہیں بلکہ پروگرام مسلمانوںکا خاتمہ ہے؟

ہماری پاک فوج نے افغانستان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور افغان سفیر کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کیا تو کیایہ فلسطین کیلئے امریکہ اوراسرائیل کے خلاف لڑسکتی ہے؟

جماعت اسلامی نے زندگی کشمیر اور روس کیخلاف سببیلنا سببیلنا الجہاد الجہاد کرتے گزاری مگر جب امریکہ یہاںآیا تو مولانا فضل الرحمن کی ٹانگوں میں اپنا سر دیدیا تھا

مسلمان یہ ذہن نشین اور دلنشیں کرلیں کہ یہوداورنصاریٰ کوبیت المقدس سے دلچسپی نہیں بلکہ ان کا مقصد اور پروگرام شدت پسند مسلمانوں کے وجودکا دنیا سے خاتمہ ہے۔9/11امریکی ٹاور میں ایک یہودی بھی نہیں مرا تھا مگر چند ہزار عیسائیوں کے بدلے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا گیا۔ افغانستان میں فقط ڈھائی ہزار امریکی مرے اور چارلاکھ افغانی اور80ہزار پاکستانی شہید ہوگئے۔
عراق وشام میں شیعہ سنی فرقہ واریت اور شدت پسندی سے کتنے مسلمان مرگئے؟۔ داعش(دولت اسلامیہ عراق وشام) نے جب شیعہ اور ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا تو اس جہاد میں شامل ہونے کیلئے دنیا بھر سے اور پنجاب سے بھی جواں اور خوبرو لڑکیوں نے خود کو مجاہدین کے نکاح بالجہاد کیلئے پیش کیا۔ شیعہ بھی بڑے پیمانے پر پاکستان اور ایران سے عراق وشام پہنچ گئے۔ مجاہدین ، دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں نے اسلام کے نام پر خواتین کو لونڈیاں بناکر ایکدوسرے کو فروخت کرنا شروع کیا جوBBCنے بھی رپورٹ کیا۔ یہود و نصاریٰ کے تھنک ٹینکوں نے دنیا کو یہ بتادیا کہ حوروں کی خواہش میں خود کش حملہ کرنے والوں کے ہاتھ میں اگر دنیا آگئی تو ان کی خوبرو لڑکیوں کو جنسی تسکین کیلئے استعمال کیا جائے گا اور عورتوں کو لونڈیاں بناکر گھریلو کام لیا جائے گا۔
کم عمربچیوں سے نکاح اور لونڈیوں سے انتفاع کو اسلام کا تقاضا اور نبیۖ کی سنت سمجھا جاتا ہے۔ غیرمسلم سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی خلافت دنیا میں قائم ہوگی تو یہودونصاریٰ اور دنیا بھر کی خوبصورت خواتین کو چھین کر لونڈیاں بنایا جائے گا۔ اگراسلام پسند مسلمانوں کو طاقت مل جائے تو یہ کام انہوں نے ضرور کرنا ہے۔
سادہ مسلمان یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ آخر کار مذہبی طبقوں سے مغرب ومشرق کی غیر مسلم طاقتوں کو یہ خوف کیوں ہے کہ ان لوگوںکو اقتدار میں نہیں آنا چاہیے؟۔ جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی جماعت سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق شہید اگر مولانا جھنگوی کی روح کو خوش کرنے کیلئے اسکے قائد کو اپنا ایک ووٹ دیتا تو مولانا فضل الرحمن وزیراعظم بن جاتے اور اگر بینظیر بھٹو گاڑی سے جذباتی ہوکر نہ نکلتی تو شہید ہونے سے بچ جاتی۔اگر نوازشریف بھٹو کی طرح جیل میں پھانسی پر چڑھ جاتا تو اس کی نسل کا نام چلتا۔ اگر عمران خان پاک فوج اور امریکہ کو مخالف نہ بناتا تو اقتدار میں آنے کا راستہ کھلا ہوتا۔ اگر داعش اور تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں ایک دوسرے سے لڑتے تو جنگجو ختم ہوجاتے۔حماس نے کتنا بڑا حملہ کیا ؟ اور اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ اسرائیل ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے اور فلسطین اس کے حصار میں ہے۔ اگر افغان طالبان کو پاکستان سے لڑادیا گیا اور دنیا کی طاقتیں اس طرح سے پاکستان کے خلاف افغانستان میں اتریں جیسے پاکستان نے اپنے ہاں اتارا تھا تو کیا ہوگا؟۔ ہندوستان سندھ پر قبضے کی بات کرتا ہے اور سکھ خالصتان گریٹ پنجاب کی بات بھی کرسکتے ہیں۔ آزاد کشمیر پر چین قبضہ کرسکتا ہے۔ بلوچستان کی عوام بلوچ قوم پرستوں اور فوج کے درمیان پس رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جو حال ہوا تھا ،اس سے زیادہ باقی ماندہ پاکستان کے بخرے ہوسکتے ہیں۔ ہماری فوج کے خلاف سیاستدانوں اور صحافیوں نے بھی مستقل محاذ کھول رکھاہے لیکن عالمی قوتیں اس خطے میں مذہبی شدت پسندوں کو کچلنے کے مشن پر گامزن ہیں۔

****************
نوٹ: اس آرٹیکل کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے اس کے ساتھ متصل آرٹیکل ”جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک اسلام کا درست پیغام دیں ” ضرور پڑھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

کفر متفق ہے کہ دہشتگرد اسلام اور وحشی درندے مسلمان کو ختم نہ کیا جائے تو امن نہیں آسکتا

دنیا پر اصل حکمرانی پانچ ممالک امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ کی ہے۔ جو دوسروں کو اپنے مفاد کیلئے جنگوں کے ماحول میں جھونکتے ہیں۔ جیسے علاقائی بدمعاش خود سامنے نہیں آتے دوسروں کو لڑاتے ہیں

نام ہوگا طالبان کا اور اسکی پشت پناہی روس اور چین کریں گے نام ہوگا داعش کا اور اس کی پشت پناہی امریکہ اور برطانیہ کریں گے۔ اس لڑائی میں مسلمان مریں گے اور نقصان صرف اور صرف اُمت مسلمہ کا ہوگا

شیعہ سنی ، عرب و عجم کو لڑایا جائیگا پھر گیس اور تیل کے ذخائر پر قبضہ ہوجائیگا۔ صد سالہ جمعیت علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ سے مولانا محمد خان شیرانی کا خطاب۔ سراج الحق امیر جماعت اسلامی وغیرہ موجود تھے

آج کی دنیا کو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آج کس قسم کی دنیا ہے؟۔ ہمارے ذہن پر جو سوار دنیا ہے وہ کچھ اور تھی۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ کچھ اور دنیا ہے۔ ہمارے زہن میں جونقشہ دنیا کا ہے وہ نبی ۖ کے زمانے کا ہے اس زمانے میں بعض علاقوں میں منظم حکومتیں سرے سے نہیں ہوا کرتی تھیں۔ نواب ہوتے تھے یا سردار ہوتے تھے یا خان ہوتے تھے۔ اگر کہیں کوئی منظم حکومت ہوتی تھی تو صرف شہروں میں ہوتی تھی۔ جن لوگوں کو یونان کی تاریخ کا علم ہے ان کو پتہ ہے کہ آتن میں الگ حکومت تھی ، آسینیا میں الگ حکومت تھی اور ہر ایک شہر میں الگ الگ حکومتیں تھیں اور ہر حکومت اپنے طور پر آزاد اور خود مختار حکومت ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا اس دنیا کو شہروں کی دنیا کا نام دیا جاتا تھا یعنی وہ دنیا جو مختلف شہروں کی آزاد اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل ہے۔ آج کی دنیا وہ دنیا نہیں ہے۔ آج پوری دنیا ایک شہر ہے۔ اور آپ نے سنا ہے کہ گلوبل ولیج ہے۔ اور ایک شہر میں سارے چوہدری نہیں ہوتے سارے نواب اور خان بھی نہیں ہوتے سارے زمیندار بھی نہیں ہوتے ہیں۔ معدودِ چند لوگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا آج کی اس دنیا کے شہر میں حکومتی نظم کے وہی دو ادارے ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہیں۔ پاکستان کا ایک ادارہ ہے قومی اسمبلی۔ اس ادارے میں مردم شماری کے حوالے سے افراد کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اور دوسرا ادارہ سینیٹ ہے۔ سینیٹ میں مختلف خطوں یعنی صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے اسی طرح بین الاقوامی دنیا کا جو شہر ہے اس کے بھی دو ادارے ہیں۔ ایک جنرل اسمبلی ہے جس میں تمام دنیا کے انتظامی یونٹوں کی نمائندگی ہے پاکستان افغانستان، ایران، ہندوستان، چین، روس وغیرہ۔ دوسرا ادارہ سلامتی کونسل ہے۔ سلامتی کونسل میں صرف پانچ ارکان ہیں جو مستقل ارکان ہیں۔ اور یہ پانچ ارکان دنیا بھر کے بحر و بر اور فضاء کے اپنے مملوک اور محکوم خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کوئی بھی فیصلہ صادر کرے کوئی بھی قرار داد پاس کرے اگر سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں سے کوئی ایک بھی اس قرار داد پر فیصلے کو اپنے محکوم اور مملوک خطے میں مداخلت سمجھتا ہے اور اس کو مسترد کردے تو جنرل اسمبلی کا فیصلہ فیصلہ نہیں ہوگا اور قرار داد، قرارداد نہیں ہوگی۔ لہٰذا آج کی دنیا ان پانچ ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور ان پانچ کی مملوک اور محکوم ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس۔ اور ظاہر بات ہے کہ آپ حضرات نے سرداروں اور نوابوں کا تجربہ کیا ہوگا اگر کوئی ہو تو ناراض نہ ہوں۔ نواب اور سردار اپنا لا ؤلشکر کو لیکر ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کرتے ہیں اس زمانے میں ، اس کے گھر کے اندر لوگوں کو اٹھاتے ہیں تھپکی دیتے ہیں اور ان کیلئے گلے کا طوق بناتے ہیں تاکہ وہ مجبور ہوجائے اور فیصلے پر آجائے۔ لہٰذا آج کی اس دنیا میں جنگ نہ اسلام کے فائدے میں ہے اور اُمت مسلمہ کے فائدے میں ہے نہ عرب کے فائدے میں نہ عجم کے فائدے میں ہے، نہ پٹھان کے فائدے میں ہے نہ بلوچ کے فائدے میں ہے۔ اس دنیا میں جنگ ان پانچ ممالک میں سے کسی ایک کو فائدہ پہنچائیگی۔ لہٰذا وہ پشتو میں ایک کہاوت مشہور ہے ”تو ر تو پکہ مہ دہ خولہ سہ مہ دہ کونہ سہ”۔ لہٰذا بندوق سے جمعیت اسلام کا رکن اور جمعیت طلباء اسلام کا رکن مدارس کے طلبائ، علمائ، مفتی بچے رہا کریں۔ کبھی بھی جنگ کی نہ بات کریں نہ جنگ کے قریب جائیں۔ ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی اس دنیا میں۔ اور دونوں طرف سے لبادہ پہنایا جائے گا مذہب کا۔ ایک طرف سے لبادہ مذہب کا! عنوان طالبان کا ہوگا۔ پشت پر روس اور چین ہوں گے۔ دوسری طرف سے لبادہ ہوگا مذہب کا! عنوان داعش کا ہوگا ! اور پیٹھ پیچھے امریکہ اور مغرب ہوگا۔ اور قتل عام مسلمانوں کا ہوگا۔ لہٰذا مغرب اور مشرق یعنی چین، روس، امریکہ ، برطانیہ اور فرانس الکفر ملت واحدة۔ اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں وہ ایک ہی رائے پر ہیں کہ اسلام دہشت گرد مذہب ہے اور مسلمان دہشتگرد وحشی درندے ہیں جب تک ان کا صفایہ نہ ہو دنیا میں امن نہیں آسکتا۔ پہلے شیعہ اور سنی کو لڑایا جائے گا اور جب اس لڑائی سے اپنے مفاد حاصل کریں گے پھر اس کے بعد شیعوں کو آپس میں لڑوایا جائے گا اور عجم اور عرب کے نام پر، تاکہ جو ہلالی پٹی ہے جہاں پر تیل اور گیس ہے وہاں پر ان کا قبضہ ہوجائے۔ پھر اس کے بعد سنیوں کو فرقوں کی بنیاد پر اور قوموں کی بنیاد پر لڑایا جائے گا اور یہ چوتھی عالمی جنگ ہے۔ نہ قوموں کی ہے نہ ملکوں کی ہے یہ دو تہذیبوں کی ہے ایک مذہب پرست خدا پرست اور دوسرا ہوا پرست جو مغرب ہے۔ لہٰذا تین باتوں کے بارے میں میں آپ حضرات کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ ہم اگر گذشتہ جرائم کے اعتراف کے بجائے آئندہ حالات کے بارے میں رہنمائی دیں کہ جنگ کے قریب نہ جاؤ، ہمارے اکابر کا جو آخری تجربہ ہے وہ یہی ہے، جو نبی ۖ کی ہدایات جو فتنے کے زمانے کیلئے وہ یہی ہے، جو آج کی دنیا کی حالت ہے وہ یہی تقاضہ کرتی ہے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عسکری وسیاسی گٹھ جوڑ کیخلاف وکلاء آپ نکلو

عسکری وسیاسی گٹھ جوڑ کیخلاف وکلاء آپ نکلو

حسین شہید سہروردی، ولی خان، باچا اور بھٹو ہر عوامی لیڈر کو انہوں نے غدار قرار دیدیاہر جگہ انکا قبضہ ہے

عمران خان نے اسٹیٹس کو کی مخالفت کی تو اب اس کو غدار قرار دیا۔PDMسے جمہوریت بھی شرمندہ ہے

ایڈوکیٹ رابعہ باجوہ کا اسلام آباد وکلاء کنونشن سے خطاب
ہماری سپریم کورٹ بار ایسوس ایشن پاکستان کے عوامی وفاق کی علامت ہے یہ پاکستان کا عوامی وفاق ہے کہ جس نے پاکستان کے پورے وکلاء اور پاکستان کی عوام کو جوڑ رکھا ہے۔ محترم ساتھیو! اس وقت جب پورا نظام کیپچرڈ ہے۔ ملک کے اندر آئین اور قانون لاپتہ ہیں۔ جہاں عدالتیں غیر فعال ہیں۔ جہاں پر ہر طرف گمنام پہرے ہیں۔ آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ (وکلاء کے نعرے … زندہ ہیں وکلاء زندہ ہیں آئین کی خاطر زندہ ہیں ) ہم یہ سلسلہ کب سے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیر اعظم اور مایہ ناز سیاستدان کو ان جرنیلوں نے غدار کہا انہوں نے ہمارے … آج یہ عمران خان سابق وزیر اعظم پاکستان جس نے اسٹیٹس کو کو چیلنج کیا آج اس کو غدار کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ولی خان، باچاخان ، بھٹو جو بھی عوامی امنگوں کا ترجمان تھا اس کو یہ غدار کہتے رہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ پاکستان کی فضاؤں کو دیکھ لیں، میں بہاولپور گئی وہاں پر ریگستانوں کو دیکھا، یہاں کی زمینوں کو دیکھ لیں، فضاؤں کو دیکھ لیں، بلوچستان کے پہاڑوں کو دیکھ لیں، کسی بھی ادارے کو دیکھ لیں، ہر جگہ توآپ کا قبضہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور پاکستان کی عسکری اشرافیہ کے اس گٹھ جوڑ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کو عسکری نظام اور عسکری ریاست میں تبدیل کردیا جو پاکستان جمہوری ریاست تھی۔ کل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کس نے اختیار دیا؟، آئین میں کونسا اختیار ہے کہ آپ کاروباری حضرات سے ملاقات کریں۔ آپ پاکستان کیلئے روڈ میپ دیں کہ ادھر سے فنڈز آرہے ہیں۔ آپ فائنانس منسٹر ، لاء منسٹر، فارن منسٹر بھی ہیں۔ آپ نے ہر ادارے سیاستدانوں میں اور بار کے غداروں کو بھی جنہوں نے وکلاء تحریک کو بیچا جو آج وکلاء کو تقسیم کررہے ہیں ان کو اکھٹا کیا۔ پھرPDMکی جماعتوں نے بہت قانون سازی کی کہ آج جمہوریت بھی شرمندہ ہے۔ آپ نے ان سب کو اکھٹا کرکے سیاسی عمل کو روک کر متوازی نظام ِ بے آئین قائم کیا ۔میں اپنے وکلاء برادری، غیور وکلاء ساتھیوں اور بہنوں کو بھی جن کا بہت کردار ہے پاکستان کی جمہوریت بچانے میں۔ درخواست کروں گی کہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو تلاش کریں کبھی ان پر اعتماد نہ کرنا۔ یہ یاد رکھنا ہے ، پلیز میری درخواست ہے کہ پاکستان کا صرف ایک ادارہ بچا ہے جو مزاحمت کرسکتا ہے صرف ایک ادارہ ہے جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو چیلنج کرسکتا ہے وہ لوگ آپ ہیں۔ آپ لوگ کبھی ان بدکردار ان کالی بھیڑوں کو نہ بھولئے گا کہ جنہوں نے آپ کے مفادات کا ہمیشہ سودا کیا۔ جو حکمرانوں کیساتھ ملتے ہیں۔ جو فوجیوں کے گرد نوکری کرتے ہیں۔ آپ لوگوں نے ان کو پہچان کر اور ،، دیکھئے ہمیں فخر ہے کہ ہمارے قائد عابد زبیری صاحب جو فخرہیں پاکستان کی عوام کا کہ جن پر نہ صرف وکلاء کمیونٹی بلکہ پورا پاکستان اعتماد کرتا ہے۔ اس ریاست نے جو جبر کیا9مئی کے مشکوک واقعہ کو بنیاد بناکر مجھے یہ بتائیے کہ ہمارا ایک کلچر ہے خواتین کی رسپیکٹ کا انہوں نے اس کو پامال کیا۔ جس طرح9مئی کے واقعے نے آپ کا پورا جوڈیشنل سسٹم ایکسپوز کردیا۔ یہ جو بزدل ججز بیٹھے ہیں ان میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ ان فیصلوں کو کردیں کہ ان بیلز کا فیصلہ کردیں۔ آخر میں صرف یہی گزارش کروں گی کہ اگر ریاست نے عوام سے بغاوت کی ہے تو اس جبر کے خلاف بغاوت ہم پر بھی لازم ہے۔ میں اب گزارش کروں گی اپنے اس ہاؤس سے ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے کہ اب آپ لوگ باہر نکلنے کیلئے لائحہ عمل دیں۔ میں آپ سے گزارش کروں گی کہ ہر جمعرات کا دن جس میں ہم نے (قریب سے آواز آئی ”دیکھیں سیاسی نہیں”) اچھا سیاسی نہیں ہم لوگ تو سارے ہی جمہوریت کی بات کرتے ہیں ہماری جنگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو بار کا رول ہمیشہ اپوزیشن کا رول رہا ہے اور میں یہی توقع کرتی ہوں کہ پوری پاکستان کی عوام آپ کے منتظر ہیں۔ اگلی جمعرات کو آپ لوگ کال دیں ملک گیر احتجاج کی۔ ہر بار اپنی جگہ پر احتجاج کرے۔ ہر بار احتجاج کرے۔ ہر جگہ پر ہاؤس ہو اور پھر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے۔ اور آخرمیں آپ کی نظرمیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پہ موت کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتی ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی

جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی

میرا ذاتی تجربہ ہے ۔ بلوچستان کے لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس ملک میں پولیٹیکل لیڈرشپ کو ڈویلپ نہیں ہونے دیا۔ بلوچستان میں لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں چپ کرکے بیٹھو، قتل کردئیے جاؤ گے۔ جس طرح جعلی ٹریڈ یونین بنائے گئے پاکستان کی انڈسٹریل ٹریڈ یونیز کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسی طرح جعلی سیاستدان پیدا کئے گئے جو ریاست کی تنخواہ پر ہیں۔ یہ کہنا کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ کی کوالٹی بڑی خراب ہے یہ کوالٹی خراب جان بوجھ کر کی گئی۔ یہاں دس ججوں میں سے دو جج اچھے باقی وہ جن کی فائل بہت خراب ہے تاکہ ان کے ہاتھ مروڑے جائیں ۔ سیاست میں یہی ہے۔ بلوچستان میں میں نے ذاتی تجربہ کیا کہ کس طرح ریاستی سیاستدان عوامی سیاستدان پر کمپرومائز کرتے ہیں؟ ، پاکستان میں پبلک وپرائیویٹ سیکٹر کی بحث بیکار ہے۔ یہ ریاست ایک طبقہ چلاتا ہے اس میں شوگر بیرلز ، آٹو موبائل ، پیپر والے ہیں، ریئل اسٹیٹ، اسٹاک مارکیٹ ، فوج ہے۔ یہ پاکستان کے وسائل کو اپنے لئے استعمال کرتے ہیں ۔یہ پرائیویٹ سیکٹر نہیں بلکہ ایک ٹولہ ہے، ٹولے میں کچھ حصہ پبلک سیکٹر اپنے آپ کوپیش کرتا ہے اور کچھ ٹولہ ہے جو پرائیویٹ سیکٹر پیش کرتا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ دولت جمع کرتا ہے اپنے لئے عوام کو لوٹ کر۔ بلوچستان کا گیس پانی سے کم قیمت پر لیا جارہا ہے ۔ فرٹیلائز کمپنیDominated by فوجی فاؤنڈیشن کو جو گیس دیا جاتا ہےIs a 13% of the economic valueگیس اب گھروں میں بھی نہیں ہے اور سیکٹرز میں نہیں ہے لیکن فرٹیلائز کو گیس دیا جائے گا
As a 13% of the economic value
یہ ٹولہ ہے جو کہ خون چوس رہا ہے عوام اور ملک کے وسائل کا، پرائیویٹ سیکٹر پبلک سیکٹر خواہ مخواہ بحث کررہے ہیں۔ ایک
Academic intellectual debate
کررہے ہیں اسکے کوئی معنی نہیں ۔ یہ ٹولہ ہے، اس ٹولے کو توڑنا ہے۔ اس کو توڑنے کیلئے ہمیں بغاوت کرنی پڑے گی۔ سڑک پر آنا پڑے گا اور لڑنا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv