پوسٹ تلاش کریں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین: تحریر محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

arm-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi

انسان ماحول سے بہت متأثر ہوتا ہے۔ بدر واُحد اور صلح حدیبیہ کا ذکر قرآن وسنت میں جلی عنوانات کیساتھ موجود ہے۔ قرآن وسنت مسلمانوں کیلئے عمومی طور پر اور پاکستانیوں کیلئے خصوصی طور پر مشعلِ راہ ہونے چاہیے۔ گھر بار چھوڑ کربے سر وسامانی کی حالت میں ہجرت کرنیوالے صحابہؓ نے نبیﷺ کی قیادت میں تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ حال میں سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں قرآن کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیاہے اور 100 بااثر شخصیات پر معروف مصنف کی معروف کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جب تک درست پسِ منظر پیش نہ ہو بات سمجھ نہیں آسکتی ہے، کسی چیز کے ادراک کیلئے ماحول سمجھنا ضروری ہے۔
امتحان اگر معلوم ہو تو امتحان نہیں ہوتا۔ ساری زندگی جس طرح اداروں کے احترام میں نوازشریف نے کھپائی ہے، اس کا منظر روز مختلف چینلوں پر عوام دیکھتے ہیں۔ جب افتخار احمد کی طرف مریم نواز کے حوصلے، جرأت اور شاطربیانی کو داد دی گئی تو ارشاد بھٹی نے ماروی میمن کے پروگرام میں کہا کہ میں خود بھی پنجابی ہوں مگر اس ڈھٹائی پر مجھے شرم آتی ہے، یہ کونسا طرزِ عمل ہے کہ دن رات جھوٹ بولو، اداروں کو کرپشن پر قربان کردو۔
ایک دوسرے ٹی وی چینل پر حسن نثار نے سرائیکی صوبے کے حوالہ سے کہا کہ ’’ ایم کیوایم کے عبدالحسیب نے صوبوں پر کتاب لکھی تھی جس کو پڑھنے کے بعد میں نے کئی کالم بھی لکھے اور میں نجیب الطرفین پنجابی ہوں ، میری والدہ اور والد دونوں پنجابی ہیں لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم نے سبق نہیں سیکھا‘‘۔ پنجاب کے ان باسیوں کے علاوہ وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور ضرار کھوڑو جیسے لوگ ایک مخصوص نظام اور مخصوص ذہنیت سے بہت مایوس ہیں لیکن اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو سلامت رکھے۔
سرائیکی صوبے کی ڈیمانڈ اسلئے درست نہیں کہ وہ پسماندہ ہیں ، پسماندگی پر سندھ کے تھر اوربلوچستان کے پسماندہ بہت سے علاقوں کو صوبہ بنانے کی تجویز آسکتی ہے بلکہ پنجاب ملک کا 60 سے 65 فیصد ہے۔ باقی صوبوں یا علاقوں سے وزیراعظم منتخب ہوتا ہے تو وہ 35سے 40فیصد کا حکمران ہوتا ہے پنجاب کا وزیراعلیٰ 60 سے 65فیصد پر حکومت کرتاہے۔ پاکستان کا توازن برقرار رکھنے کیلئے صرف یہ ضروری نہیں کہ پنجاب کے کم ازکم 2 صوبے بنائے جائیں بلکہ اٹک سے بھکر تک پختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ ڈیرہ غازی خان کاکچھ علاقہ اور آبادی کو بلوچستان میں شامل کیا جائے۔ کچھ علاقے کو سندھ کا حصہ بنایا جائے اور اسلام آباد سے دارالخلافہ اور پنڈی سے GHQ بھی پاکستان کے مرکز میں میں منتقل کیا جائے۔ تاکہ کوئٹہ لاہور اور پشاور کراچی کیلئے درمیانی اور مرکزی جگہ ہو۔ قائداعظم کے وقت میں ملتان کو دارالخلافہ بنایا جاتا تو جنرل ایوب خان اس کو ہزارہ کے قریب اسلام آباد منتقل کرنے کی زحمت نہ کرتے۔
پاکستان میں تمام دریاؤں کو ڈیم بنایا جاسکتا ہے اور سیورج کے گٹرکو بھی پینے کے پانی سے الگ کیا جاسکتاہے۔ سستی بجلی بھی پیداکی جاسکتی ہے اور آئندہ سب سے بڑی ترجیح یہی ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کی مشاورت سے مشرکین کا شام سے آنیوالے قافلے کو لوٹنے کا پروگرام بنایا۔بہت کم تعداد میں معمولی اسلحہ کیساتھ جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو قافلہ نکل چکا تھا اور کئی گنا بڑا لشکر مقابلے کیلئے موجود تھا۔ اس امتحان میں صحابہؓ اور نبیﷺ نے اللہ سے خوب دعائیں مانگیں۔ اللہ نے فرمایا کہ لڑانے کیلئے میں نے دونوں کو ایکدوسرے سے کم دکھایااور ایسا نہ کرتا تو تم لڑنے سے گریز کرتے۔ تلواروں کے سامنے جانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔ ہمارے ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ نگار بن کر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں مگران کی ٹرینگ فوجی ہوتی ہے،ان کو نیٹو اور طالبان کے درمیان پیرا شوٹ سے اتار دیا جائے تو پتہ چل جائیگا کہ یہ کس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٹی وی پر پھسکڑیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، میدان میں پتہ چلتاہے۔
بدر کے میدان میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد کی اورموسمی حالات بھی مسلمانوں کے موافق کردئیے۔ 313 مجاہدین نے ہزار کو بدترین شکست دیدی۔70مار دئیے اور 70کو قیدی بنالیا۔ مدینہ میں مشاورت ہوئی کہ قیدیوں سے کیا سلوک کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو قتل کردے۔ باقیوں نے یہ مشورہ دیا کہ اپنی قوم کے افراد ہیں، کل ان کو ہدایت بھی مل سکتی ہے۔ ہمیں مال کی ضرورت بھی ہے، فدیہ لیکر چھوڑ دیتے ہیں۔
نبیﷺ کو فدیہ کا مشورہ پسند آیا۔ پھر اللہ نے وحی اتاری کہ ’’نبی (ﷺ) کیلئے یہ مناسب نہیں کہ آپکے پاس قیدی ہوں، یہانتک کہ زمین میں خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے سے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تو بہت سخت عذاب نازل کردیتا۔ جن لوگوں سے فدیہ لیکر چھوڑ دیاہے اگر انکے دل میں خیر ہے تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دیگا اور اگر انکے دلوں میں خیانت ہے تو اللہ ان سے پھر نمٹ لے گا‘‘۔
نبیﷺ زار وقطار رورہے تھے کہ مجھے نازل ہونے والے عذاب کا نقشہ بھی اللہ نے دکھا دیا ، اگر عذاب نازل ہوتا تو عمرؓ اور سعدؓ کے علاوہ کوئی نہیں بچتا۔ کہاں وہ بدر کا غزوہ اور کہاں یہ نوازشریف، اسکی صاحبزادی اور حواریوں کی جنگ؟۔ اللہ کی طرف سے ٹھیک فیصلہ آیا کہ پہلے شام کے قافلے سے جو جنگ شروع کی تھی ،اب اسکو فدیہ لینے پر ختم کررہے ہو؟ ن لیگ نے تو لندن کے فلیٹ ، پانامہ کی دولت اور نہ جانے کیا کیا 22 کروڑ عوام کیلئے بنایا ہے ۔ اب بھی عوام کی جنگ لڑرہے ہیں۔
قرآن وسنت کی تعلیمات اسلئے ہیں کہ جب صحابہؓ نے شام کے قافلے کا قصد کیا، فدیہ لینے کا مشورہ دیا اور اللہ نے کہا کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتاہے تو کسی اور کیلئے اس بات کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ مجھے ذات کیلئے نہیں عوام کیلئے جنگ لڑنی ہے۔ ارے تمہارے رائیونڈ کے محل، پانامہ کی دولت اور لندن کے فلیٹ وغیرہ سے بہترین ہسپتال، تعلیمی ادارے ، بجلی بنانے اور دیگر اشیاء کے کارآمد کارکانے بن سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنا خیال رکھا۔ ساری زندگی جن سازشوں میں گزاری اس کی بیماری ہوگئی ہے ، سازش کوئی بھی نہیں کررہا ہے۔
نبیﷺ اور صحابہؓ نے وحی کے بعد محسوس کیا کہ اس دفعہ وہ ہاتھ آگئے تو نہیں چھوڑنا ہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ غزوۂ احد کی باری آگئی اور مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچنے کا سامنا ہوا، صحابہؓ میں بعض بھاگے۔ اللہ نے فرمایا:ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل أفان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’ اور محمد کیا ہیں مگر ایک رسول، آپ سے پہلے رسول گزرچکے ہیں ،اگر آپ فوت ہوجائیں یا قتل کردئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ نبیﷺ اور صحابہؓ نے کہا کہ ہم سخت انتقام لیں گے، حضرت امیر حمزہؓ کے بدلے 70کے ساتھ ایسا برتاؤ کرینگے۔ اللہ نے فرمایا: اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے ان کو بھی پہنچا ہے۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ۔ اگر ان کو معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بلکہ معاف ہی کردو اور معاف کرنا بھی تمہارے لئے اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
شریف برادری کی اصلاح اس وقت ہوگی جب کوئی ان کا فرد کہہ دے کہ آصف علی زرداری نے بھی تو 11سال جیل میں گزاردئیے۔ سعودیہ میں سہیل وڑائچ سے کہا کہ ISIکے کہنے پر غلطی کی تھی اور پھر پیٹ پھاڑ کر، سڑکوں پر گھسیٹ کر اور چوکوں پر لٹکاکر سزائیں دینے کے اعلان کئے تھے۔ جب وہی زبان عمران خان نے استعمال کی تو تمہیں اخلاقیات یاد آگئے۔ فیصلہ چوکوں کے بجائے عدلیہ لے جانے کی تجویز بھی خود پیش کی تھی حالانکہ عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ عدالت کے دلدل میں نہیں پھنسنا چاہیے تھا۔ پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟، جن سوالات کے جوابات مانگے گئے تھے وہ اب بھی دیدینا تو اگر سچے ہو تو عوام کی عدالت میں سرخرو ہوجاؤ گے۔
یہ بات عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بدر کے فدیہ پر اسلئے ڈانٹ پڑی تھی کہ صحابہؓ کو کتاب کی تعلیم دینی تھی، انکا تزکیہ کرنا تھا اور حکمت کی تعلیم دینی تھی۔ حکمت یہی تھی کہ اللہ نے فدیہ کو رد نہیں کرنا تھا بلکہ مشرکوں کے دل میں خوف بٹھانا تھا کہ آئندہ نبیﷺ نے بھی معاف نہیں کرنا ہے۔ غزوہ احد میں اللہ نے پھر صبر وتحمل کی تعلیم دی۔ پھر اللہ نے خواب میں دکھایا کہ مکہ میں عمرہ کیلئے جاتے ہیں۔ نبیﷺ کے خواب پر ایمان رکھ کر صحابہؓ نے عمرے کیلئے احرام باندھے۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے توکچھ اور معاملے کا سامنا ہوا۔ جنگ کی خواب و خیال میں بھی تیاری نہ تھی ۔ عبادت کی غرض سے آئے تھے لیکن ان کو خبر دی گئی کہ ان کا سفیر حضرت عثمانؓ شہید کردئیے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں جنگ کیلئے مجبور ہونا کس قدر آزمائش تھی؟۔ نبیﷺ نے ایک درخت کے نیچے بدلہ لینے کی بیعت لی۔ اللہ نے وحی اتاری کہ جن لوگوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت کی ہے انکے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ جھوٹی نکلی۔ صلح حدیبیہ کا معاملہ ہوا، جس کو اللہ نے فتح مبین قرار دیا، حالانکہ صحابہ کرامؓ کے جذبات بالکل مختلف تھے۔ پھر وہ دن بھی دیکھنے کو مل گئے کہ حضرت عثمانؓ کو مدینہ میں تختِ خلافت پر شہید کیا گیا۔
انسان ماحول سے متأثر ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کو درست معلومات بھی مل جائیں اور فیصلہ بھی درست کرلے۔ یہ معلومات مقدمہ کے طور پر بیان کررہا ہوں تاکہ آرمی چیف اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان کسی غلط فہمی کے نتیجے میں قوم کا نقصان نہ ہو۔ نوازشریف اور عمران خان کی شخصیات ہرگز اس قابل نہیں کہ ملک وقوم کو درست طرف لے جائیں۔یہ بڈھے بڈھے اب سیاست کی بجائے کوئی ریٹائرمنٹ والا کام کریں۔ سیاست میں جوان دماغ اور قابلیت کی ضرورت ہے۔ سیاست ایک تجارت بن گئی ہے۔ ڈراینگ روم سے باتھ روم کے لوٹوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ کوئی شریف آدمی یہ ڈرامہ بازی نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔اور بہروپئے یہ کام کررہے ہیں۔ جسکے پاس جتنے شرمناک لوٹوں کی تعداد ہوتی ہے وہ اتنے اسٹار کالیڈر ہوتا ہے اسکے پیٹ اورپیٹھ پر اتنے لوٹوں کے نشان بنانے ہونگے ۔
روزوں میں بنوں والوں کا دماغ کام نہیں کرتا اور لوگ قتل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ مسلح بدمعاش گروپ آیااور اعلان کیا کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ نہیں کرتا تو ان کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ وہ گروپ گیا تو تھوڑی دیر میں دوسرامسلح جتھہ آیا اور اسی چوک پر اعلان کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ کرتاہے تو اس کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ بنوں والوں کی مثال اب ہمارے فوجی بھائیوں پر پوری اترتی ہے۔ ایک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’ جنرل اشفاق کیانی انتہائی بے غیرت وبے ضمیر انسان تھا، حامد میر بھی CIA کا ایجنٹ ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو امریکہ کے کہنے پر تیار کیا گیا۔ فوج میں بھی ایسے بے غیرت اور بے ضمیر عناصر تھے جنہوں نے جنرل اشفاق کیانی کا ساتھ دیا، اور ایک بڑے منصوبے کے تحت ملالہ یوسفزئی کو تیار کرکے بھیجا گیا لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے اس پرتحفظات تھے، انہوں نے اس ڈرامہ کی مخالفت کی تھی‘‘۔ اس بیان کے بعد میجر عامر پنچ پیر صوابی کا ایک بیان آیا’’ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے گورنری ٹھکرادی۔ اغیار کے ایجنڈے پر جنرل راحیل شریف نے پٹھانوں کو قتل کیا، 4ہفتے میں جنگ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن اب چار سال ہوگئے ہیں وہ خود سعودیہ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ میں نے امریکہ کی سازش پر پٹھانوں کو قتل کرنے سے انکار کیا ، سب سے بڑا ظالم اور قاتل راحیل شریف تھا‘‘۔ دونوں طرف سے فوج ہی کو برا بھلا کہا گیاہے۔
پاکستان تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک بریگڈئیر کا بیٹا یہ الٹی سیدھی تقریر کررہاتھا کہ جس کا کوئی ربط اور ضبط نہیں تھا لیکن ایک بات واضح تھی کہ ’’میں پشاور میں کھڑے ہوکر کہہ رہا ہوں کہ قوم کی بیٹی ملالہ نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے‘‘۔ ٹھیک ہے لیکن اس میں فوج کے تحفظ اور بدظنی دور کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اگر ملالہ ایجنٹ ہے تو بھی اشفاق کیانی اور فوج کو کریڈت جاتا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیرو ہے تو بھی پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف نے اس کو امریکہ کے حوالہ کرکے اپنا منہ کالا کیا تھا۔ اس سے فوج کے بارے میں اچھا تأثر قائم نہیں ہوتاہے۔
جس طرح سیاستدان بے سُر کے ڈھول بجاتے ہیں اسی طرح فوجیوں کی تعریف کرنیوالے بھی بے پر کی اڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ریاست اور سیاست دونوں کمزور ہوتے ہیں مگر جوان کے بچوں کو کوئی پرواہی نہیں ہے۔ پرتعیش کھانوں اور آرام دہ جگہوں سے اٹھ کر بحفاظت تقریریں کرنے والوں کی عقل بھی ماری گئی ہے ۔ قوم کو بنانے کیلئے قرآن وسنت سے ہی استفادہ کرنا پڑے گا۔ فوجی کیپٹن بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچنے سے پہلے صرف آرڈر ہی کو سمجھتا ہے۔ کوئی وردی ہی کو اپنی کھال قرار دیکرپرویزمشرف کی طرح بیٹھ جاتا ہے تو اس کو اپنے حق کیلئے بھی سالوں سال تک اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے۔ جب آرمی چیف بن جاتا ہے تو آدھی آزاد نوکری سکتے میں گرزرتی ہے اور بقیہ ایک آدھ سال رہ جاتا ہے تو اسکے ریٹائرڈمنٹ کا وقت پورا ہونے لگتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادت کا بحران آیا ہواہے۔ PTM کی اتنی بڑی حیثیت نہیں کہ ا سے ملک کو خطرہ لاحق ہو۔ اس سے اعتدال پر لانے کیلئے وہاں کے عوام بھی اپنا کردار ادا کریں گے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جو سیاستدان بہت پیسہ خرچ کرکے بھی باشعور عوام کو جلسے جلوس میں نہیں لاسکتے ہیں، یہاں کا ماحول دیکھنے کے بعد قوم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا۔ فوج کی طرف سے انکے کندھے پر بزرگوں کو ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تو جن کو ساری زندگی شعور نہیں مل سکا ہے وہ بھی سمجھ بوجھ لے لیں گے۔ درد مند وں کو پختون تحفظ موومنٹ کے ذریعے ڈھارس مل گئی تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی عوامی تحریکوں سے لوگوں میں مایوسی کی فضا ختم ہوگی۔ کسی کے خلاف نفرتوں سے اسکے جذبے کارخ غلط راستے کی طرف مڑ سکتا ہے۔ اگردلوں میں بغض رہ جائے تو بھی یہ پوری قوم کا نقصان ہے۔
منظور پشتین کو محسودوں کی اجتماعیت بھی قبول نہیں کرسکتی۔ اگر محسودوں نے قبول کیا تو وزیر کہاں قبول کرینگے؟۔ وزیر بھی قبول کرلیں تو بیٹنی کہتے ہیں کہ محسود پیغمبر بھی بن جائے تو اس کو قبول نہیں کرینگے۔ وہ اعتماد بھی نہیں کرتے کہ یہ بک جاتے ہیں اور اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی خان، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ کہاں قبول کرینگے؟۔ منصوبہ انکے خلاف سیاسی جماعتوں کا تھا مگر فوج استعمال ہوگئی۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ پاک فوج انکے بارے میں اپنا رویہ بالکل بدل دے۔ یہ ایک فکروشعور کی تحریک ہے اور اسکے دل و دماغ کو بھی شعور وآگہی سے درست کیا جاسکتا ہے۔
بندوق کا مقابلہ بندوق اور فکر کا مقابلہ فکر سے کیا جاسکتاہے اور اگر کسی غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلے تو کوئی مسئلہ نہیں ان سے وہ فنڈ چھینا جائے، ہماری ریاست کا قرضہ اس سے چکایا جائے ۔ اُوچھے ہتکنڈوں سے یہ ملک اس تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کیساتھ پٹھان اورمحسود ہی خاص طور پر ملوث تھے۔ منظور پشتیں کے گرد وہی لوگ دکھ، درد لیکر پہنچ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی غلط سر گرمیوں میں ملوث تھے۔ عام عدالتوں سے سزائیں مل سکتی تھیں تو فوجی عدالتوں کا جواز نہیں ہوتا۔ یہ فوج ہی کمال ہے کہ پختونوں کو طالبان سے اب نجات دلانے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے ہیں، بلوچستان اور کراچی کا امن لوٹانے میں بھی پاک فوج نے تاریخ ساز کام کیا ہے۔ پختونوں، بلوچوں اور کراچی کے مہاجر عوام کو فوج کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے۔آج بھی پاکستان کے شہری علاقوں سے پاک فوج کا رعب ودبدبہ اور دہشت ہٹ جائے تو اپنے معاشرے کی تباہی کیلئے بیرونی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کی ریاست میں پاک فوج واحد ادارہ جسے اللہ قیامت تک سلامت رکھے جس نے ریاست کے نظام کو سہارا دیاہے، طاقت کے بغیر کوئی ریاست ریاست کہلانے کے قابل نہیں۔
ہاں ریاست کو صرف طاقت کے بل بوتے پر کنٹرول کرنا بھی انتہائی غلط ہے، پھر آزادی نہیں غلامی کا تصور پیدا ہوتاہے اور جب پیپلزپارٹی ، ایم کیوایم اور اے این پی پر طالبان نے امریکہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگادیا اور دہشت گردانہ حملے شروع کردئیے تو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف طالبان سے عقیدت ومحبت اور یکجہتی کا اظہار کررہے تھے لیکن جب دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع ہوا توبہت افسوس کیساتھ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین پر سہولت کار کے الزامات لگائے گئے۔ جن مریضوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا تھا تو میڈیا نے سروے میں بتایا کہ وہ بھی بالکل عام لوگ تھے جن کو پتہ بھی نہیں تھا کہ انہی پر دہشت گردی کاالزام لگاکر ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ کیلئے رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے۔
بندے کے پاس مال شال ہو تو وہ ریمانڈ میں بھی مار نہیں پیار کھاتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے بھی کہہ دیا کہ ہسپتال میں جو آتا ہے اس کا علاج کرنا ہمارا کام ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟۔ البتہ قصور کے ایک بے قصور شخص نے پولیس تشدد سے چھوٹی بچی کیساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تو اس کو پولیس ہی نے قتل بھی کردیا اور اسکے بھائیوں رشتہ داروں پر مقدمات قائم کرکے خاموش بھی کردیا گیا۔ عوام کیلئے عدالت بھی کسی کام کی نہیں ۔ اداروں کی طرف سے زیادتی پر ایکشن تو بہت دور کی بات ہے، مظلوم کو پیشیاں بھگتنے میں بھی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں اسلئے کہ ہمارا معاشرتی نظام بھی بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہے۔ مشال خان کے والد جس طرح سے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں اگر آرمی چیف ان کے سرپر ہاتھ پھیرنے چلے جاتے تو بہت سی جماعتیں کتیا کی طرح اقبال خان کے پاس دُم ہلاتی نظر آتیں۔ اب بھی پاک فوج کا ہی دبدبہ ہے ورنہ دوپولیس اہلکار ان کی کیا حفاظت کرتے؟۔
پختون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین بذاتِ خود ایک اچھا انسان ہے ، اس کے اردگرد جمع ہونے والوں کی اکثریت اچھے لوگوں کی ہے۔ ان میں محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ اور پھر مظلوم تحفظ موومنٹ میں بدلنے کی صلاحیت بھی ہے،کچھ ہی سڑیل، بدبوداراور متعصب لوگوں کا گھیرا اس تحریک کو نقصان پہنچارہاہے مگرخیر کی روشنی برائی کے اندھیرے پر غالب آسکتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے برخودار سارا دن فوج کی برائی کریں جس میں انکی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ پرویزمشرف ہی کا پروردہ عمران خان فوج کی تعریف کرے تو فوج کی بھی آنکھ نہیں کھل سکتی ہے اور قوم بھی بتدریج خرابیوں کا شکار بنے گی۔
ماحول میں مشاورت اور مخالف رائے کو برداشت کرنے پر معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ امریکہ کردار سے سپرطاقت بنا ہے۔ بھارت نے من موہن سنگھ کے دور میں کھربوں ڈالر سے ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا اور ہم US AEDکے زکوٰۃ کی رقم کیلئے ترستے ہیں۔ فوج سے محبت رکھنے والا میڈیا یہی راگ الاپتا رہتا ہے کہ جمہوری حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور ہمارا ڈی جی آئی ایس پی آر بیان دیتا ہے کہ ’’ امریکہ کو ہم نے مثبت انداز میں سپر طاقت بنایا‘‘۔ارے ! اتنی قربانی پر تو کشمیر آزاد ہوجاتامگر تمہارا دماغ نہیں ۔ قوم کی آزادی کیلئے آزاد عوام سے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ ادارے فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی وغیرہ موجود تھے، پہلے انگریز کے ملازم تھے اور ملک آزاد ہوا تووہ بھی اس کی برکت سے آزاد ہوگئے۔ چیف جسٹس کسی بھی مثبت کام سے قابلِ تعریف بن سکتے ہیں لیکن نظام کو نہیں بدل سکتے۔ عراق کی عدلیہ صدام حسین کیساتھ کام کررہی تھی، جب امریکہ نے قبضہ کیا تو اسی عراقی عدالت نے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔ امریکہ کو مجاہدین اپنے جذبے سے نانی اماں کی یاد نہ دلاتے تو افغانستان، پاکستان اور اسلامی ممالک کو بڑی مشکل سے دوچار کرتے، قوم جذبہ جہاد سے زندہ رہ سکتی ہے، اداروں کا احترام بھی خوف نہیں بلکہ معروضی حقائق کی بنیاد پر لازم ہے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی سب سے بڑا جہاد ہے۔ قوم کی بیداری کیلئے مظلوم پنجاب کا اٹھنا بھی بہت ضروری ہے۔ بعض طالبان نما افراد سے منظور پشتون کو شکایت ہے لیکن جبتک قوم کے اپنے افراد فوج کیساتھ نہیں ہونگے تو دہشتگروں سے وہ مقابلہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کیلئے پہچان ممکن نہیں ہے۔

امریکی اتاشی کو عتیق کے مارنے پر سزا مل سکتی ہے مگر محمود خان اچکزئی اور نا اہل نواز شریف اگر تیار ہوں

americi-atashi-atiq-gilani-punishment-mehmood-khan-achakzai-na-ahl-nawaz-sharif-majeed-achakzai-murder-bewa-widow-son-nadir-shah-karnal-josef-colonal-shah-rukh-jatoe

مدیر منتظم نوشتۂ دیوار نادر شاہ نے کہا کہ امریکی اتاشی کرنل جوسف نے سگنل توڑ کر ایک جوان عتیق کو قتل کیا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو امریکی اتاشی خود کو قانون سے بالاتر قرار نہ دیتا۔ پچھلے رمضان میں محمود اچکزئی کے کزن مجید اچکزئی نے دن دہاڑے پولیس کے سپاہی کو اپنی گاڑی سے اڑادیا تھا۔ اس کی رہائی پرسیاسی کارکنوں نے اس طرح پھولوں کی بارش کردی جیسا کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ مجید اچکزئی اور امریکن اتاشی دونوں میں موازنہ کیا جائے تو اچکزئی زیادہ مجرم لگتا ہے۔ کیا امریکن اتاشی پر پھول برسائے جائینگے ؟ نااہل نواز شریف کے قافلے نے ایک بچے کو کچل ڈالا ، مریم نواز کے پتی کیپٹن صفدر نے اس کو شہید قرار دیا مگر آج تک ڈرائیور سامنے نہیں آسکا، ڈونلڈ ٹرمپ کہہ سکتا ہے کہ اچکزئی اور نواز شریف میرے پتر ہیں جب ان کا بال بیکا نہیں ہوسکا تو ہمارا کوئی کیا کریگا؟۔ شاہ رُخ جتوئی پر دہشتگردی کا مقدمہ اورمصطفی کانجو کو بری کیا ۔ بیوہ کہے گی کہ خواجہ آصف تو اچھوت ہوگا اسلئے منہ کالا کرنے کی پرواہ نہیں کی مگر میرا بیٹا اچھوت نہیں تھا نواز شریف کو جوتا مارنے پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم ہوا مگر مصطفی کانجو پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم نہ ہوا۔ تم پر تُف ہے۔

بہت فرسودہ درس نظامی والے علماء کیا کردار ادا کریں گے؟ ہیڈ ماسٹر الطاف الرحمن دو آبہ ہنگو

head-master-altafurr-ehman-do-aaba-hangu-pakhtoon-tahaffuz-movement-manzoor-pashteen-m-m-a-nizame-khilafat

ہنگو(نادرشاہ، جاوید صدیقی ) ہیڈ ما سٹر سیکنڈری اسکول دوآبہ کے الطاف الرحمن نے نمائندہ نوشتۂ دیوار سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ میں تقریباً1997 سے ضرب حق کا باقاعدہ قاری ہوں آپ لوگ اتحادامت اورنظام کی جو بات کرتے ہیں یہ عین قرآن وسنت کی دعوت ہے ۔ آجکل پختون تحفظ موومنٹ منظورپشتین کے حوالے سے ایک خبرہے اچانک سے تحریک چلتی ہے کیاپس پردہ محرکات ہوتے ہیں پتہ نہیں چلتاہے ۔ ماضی میں ایم ایم اے وجودمیں آئی اور پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ نام نہاد طالبان کے ہاتھوں گیلانی صاحب کا بہت بڑا نقصان ہواہے ، مجھے تھوڑی بہت معلومات ہیں گیلانی صاحب بہت بڑے دل گردے والے ہیں کہ حق پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ علما کیا کردار ادا کریں گے ان کا تو درس نظامی بہت فرسودہ ہے ۔ ایسی تعلیم لوگوں کو دلائی جائے توبالکل بے کارہے ، زیادہ تر چیزیں توہم فکری طورپرآپ کے اخبارسیکھتے ہیں ۔ مجھے اخبارمل جائے تومیں دوستوں کوبھی پڑھاتاہوں یہاں لوگ تعلیم یافتہ کم ہیں ، طالبان کا خوف ابھی تک لوگوں میں ہے ، میں بھی خطرے میں تھااب اللہ کا فضل ہے ۔ نظام خلافت ہی ہماری بنیادی ضرورت اورمسائل کا حل ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا گھر دوبار نشانہ بنا:محمد حنیف عباسی

justice-aijaz-ul-hassan-hanif-abbasi-dgispr-dr-tahir-ul-qadri-dhool-dawn-news-wusat-ullah-khan-hussain-nawaz

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کوایک نہیں دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا مگرنوازشریف و مریم نواز نے کوئی مذمت بھی جاری نہیں کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے تأثر ابھر کر سامنے آیا کہ’’ فریقین حکومت اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا یہ نتیجہ ہے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ جب کسی جج کے قتل کا سانحہ پیش آئے اور حالات بے قابو ہوں تو مارشل لاء لگانے کی نوبت آجائے۔ اس حقیقت کاریکارڈ موجود ہے کہ دھرنے کے دوران طاہرالقادری نے جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا تو مشاہداللہ خان بار بار یہ مؤقف دہراہا رہاتھا کہ ’’ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں خفیہ ہاتھ ملوث تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو ٹرینڈ لوگ دئیے گئے ۔وغیرہ‘‘۔
ایک فوجی دماغ سیاسی حکمت عملی نہیں سمجھتا ہے۔ جنرل باجوہ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’’ بلوچستان کی سیاست میں کوئی ملوث ہو تو اس اہلکار یا افسر کا نام بتادو، ہم خبر لے لیں گے۔سیاستدان کسی سے بھی رابطہ نہ کریں ‘‘۔ مگر پھر بھی کہا گیا کہ ’’جنرل باجوہ ڈارکٹرائن کوئی نہ کوئی بات ہے‘‘۔ آخر کار ڈی جی آئی یس پی آر کو وضاحت کرنی پڑ ی کہ جنرل باجوہ کے کوئی عزائم نہیں ہیں‘‘۔ پھر نوازشریف کا بیان آیا کہ ’’ ہم تمام اداروں سے بات کرنے کو تیار ہیں‘‘۔ میاں رضاربانی نے بھی اس کی حمایت کردی تھی اور بعض نادان صحافی بھی یہ ڈھول پیٹ رہے تھے۔ اگر فوجی سمجھ کر بیان دینے کی صلاحیت رکھتا تو وضاحت کردیتا کہ ’’بھئی ہم نے واضح کیا ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں گے۔ پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف صدر مملکت تھا، نوازشریف جیل میں تھے اور معاہدہ ہوگیا تو مسلسل جھوٹ الاپتے رہے کہ معاہدہ نہیں ہوا، پھر 5 سال کا مان لیا اور 10 سال کا انکار کیا۔اب تو تمہاری ہی حکومت ہے ، مذاکرات کس سے کیوں کرنے ہیں؟۔ پارلیمنٹ کی تقریر کسی نے زبردستی نہیں کروائی۔ عدالت میں خود جانے کا فیصلہ کیا، عدالت کو دھمکیاں دیں تو ہم اس پر شاباش نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت نے نظریۂ ضرورت دفن کیا ہے تو اس پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ ایکدوسرے پر الزام تراشی کے بجائے عدالت کے فیصلوں سے حقائق کی جانچھ پڑتال ہوسکے گی‘‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیک نیتی سے صلح کی کوشش کرنے کا سوچا ہوگا مگر یہ اس غلط ماحول کا نتیجہ ہے کہ میڈیا میں بار بار کہا جارہاہے کہ نوازشریف کو اداروں سے ٹکراؤ مہنگا پڑگیاہے‘‘۔ یہ انتہائی غلط مؤقف ہے۔ نوازشریف اداروں کیخلاف بیانبا زی کر رہاہے مگر اداروں نے اس کو ابھی تک سنجیدہ اس کو نہیں لیا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ اداروں کوئی ٹکراؤ ہے۔ عدالت نے بہت ہی محتاط انداز میں صرف اقامہ پر فیصلہ دیا اگر پارلیمنٹ کی تقریر کو قطری خط سے جھوٹا قرار دیا جاتا تو سارا قصہ ختم ہوتا۔ ڈان نیوز اور معروف صحافی ، اچھی صحافت کیلئے سکہ کی حیثیت رکھنے والے وسعت اللہ خان نے بھی کہا کہ ’’ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ٹکراؤ کا نتیجہ ہے‘‘۔ حامد میر نے کہا کہ ’’ حسین نواز کو روکتارہا کہ انٹریونہ دینا اور پھر سوال کچھ کرتا، جواب میں لندن کے فلیٹ کاذکر کریتا تھا۔

منظور پشتین مظلوم پنجابیوں کیلئے تحریک اٹھاتا تو کامیاب ہوجاتا: امین اللہ کوئٹہ

shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-talaq-londi-jibri-zina-muttahida-majlis-e-amal-mufti-taqi-usmani-saudi-arab-cenima-halala-muta

جنوبی وزیرستان کے منظور پشتین میں انسانیت کا درد ہے مگر تعصب نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محسود قبائل نے یہ درد محسوس کیااور ساتھ دیا، دوسروں سے زیادتی کا پتہ چلا تو محسود تحفظ موومنٹ کوپختون تحفظ موومنٹ میں بدل دیا۔ سوات سے کوئٹہ تک دُکھے دلوں کی آواز منظور پشتین کہتا ہے کہ طالبان ظلم کریں یا ریاستی ادارے، میں ہر ظالم پر لعنت بھیجتاہوں۔ قبائل تاریخی مظالم میں پس چکے۔ اگر اس تکلیف، مصیبت، درد، ظلم، جبر، بے عزتی،جان، مال اور عزتوں کی لوٹ مار سے کوئی دوسری قوم دوچار ہوتی تو اس کی نسلیں بھی نہیں اُٹھ سکتی تھیں۔ اسلام کی نشاۃ اول کے وقت پہلی ہجرت حبشہ اور دوسری مدینہ ہوئی تھی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کی خوب عزت افزائی کی۔ انصار مدینہ نے مہاجرین کیلئے بھائی چارے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنیوالے انگریز کی جگہ اقتدار کا مالک بنے، مہاجر افغان کی دنیا بھر نے خوب مدد کی لیکن وزیرستان سے ہجرت پر مجبور ہونیوالوں سے انتہائی بدسلوک روا رکھا گیا۔
سید عتیق الرحمن گیلانی کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ ایک گھر والی سندھی اور دوسری بلوچ ہیں۔ اکثر بچوں کی پیدائش شکار پور اور کراچی میں ہوئی۔ معروف ماہنامہ ضرب حق کراچی کے 10سال تک چیف ایڈیٹر رہے، کئی کتابوں کی تصنیف کے علاوہ ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی تائید، سندھ پولیس و بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران کی تحریری و شائع شدہ تائید رہی۔ چین کیلئے پولیس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی تھا ۔ ڈان اخبار میں تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ عتیق گیلانی پر ٹانک سے جاتے ہوئے قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور اسکے بعد کراچی مستقل رہائش اختیار کرلی تھی،تمام اخبارات میں خبر لگی تھی کہ پیر عتیق گیلانی کے گھر پر طالبان نے حملہ کیا اور 13افراد شہید کردئیے۔ ٹی وی چینل، اخبارات کے علاوہ دنیا بھر کی میڈیا میں خبر رپورٹ ہوئی لیکن اسکے باوجود جس طرح طالبان نے رات کی تاریکی میں شبِ خون مارا۔ پاکستان کے لائق انٹیلی جنس اداروں نے اپنے لاؤ ولشکرکے ساتھ عتیق گیلانی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پورا علاقہ گھیرے میں لیا اور بلڈنگ کی دونوں لفٹوں کو بھی قبضہ میں لے لیا تھا۔
گھروالوں کے دل ودماغ سے طالبان کا خوفناک حملہ نہیں مٹا تھا کہ ’’ یہ بہادر گھر میں گھس گئے اور سید حمزہ کو ایک قدآور پولیس انٹیلی جنس افسر یا سپاہی نے زور دار تھپڑ رسید کیا اور پوچھا کہ’’ تمہارا باپ کہاں ہے‘‘ ۔یہ ظلم و جبر کی تاریخ رقم کرنے والی بزدل ریاست کے ظالم اہلکار کاوہ ہاتھ تھا جس نے انگریز کے بعد غلامانہ ذہنیت کا طوق اپنی گردن سے نہیں اتارا ہے، جسکے وزیراعظم کوآج ننگا کیا جاتاہے تو قانون کی پاسداری قرار دیتاہے۔ جسکے جوان عتیق کوامریکی اتاشی اسلام آباد میں سگنل توڑ کر اڑادیتا ہے لیکن پولیس اس کو چھوڑ دیتی ہے اور ہمارا دفتر خارجہ صرف احتجاج ہی کرتا ہے۔
عتیق گیلانی نے اپنے صاحبزادے کا نام حمزہ رکھاہے اور جب ان کو زور دار تھپڑ مارا گیا تو وہ حواس باختہ نہیں ہوا۔ بلکہ تھپڑ مارنے والے ظالم سے ڈٹ کر کہا کہ جب تک تم نہیں بتاؤ کہ مجھے تھپڑکیوں مارا ہے ،اس وقت تک تم نے جو کچھ بھی کرنا ہے کرلو، میں کچھ بھی نہیں بتاؤں گا۔
یہ قصہ اسلئے لکھ دیا کہ منظور پشتین غیرملکی ایجنڈے پر کام نہیں کررہا بلکہ بے گناہ لوگوں کیساتھ جو زیادتیاں ہوگئی ہیں اسکا سلسلہ روکا جائے۔ عتیق گیلانی کیساتھ یہ معاملہ ہواتھا تو دوسروں کیساتھ کیا نہ ہوا ہوگا؟۔ البتہ ریاستی اہلکار اخلاقیات سے عاری ہیں ، ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں ۔ نااہل نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اقرار کیا کہ اثاثوں کا اللہ کے فضل وکرم سے میرے پاس تمام ثبوت ہیں، فیصلے چوکوں پر نہیں عدالتوں میں ہوتے ہیں اور حسین نواز نے بھی میڈیا پر کہا تھا کہ ’’میں عدالت میں اپنا ثبوت پیش کروں گا‘‘۔ ڈکٹیٹر شپ میں میڈیا پر پابندی لگتی ہے اور ملزم اپنا ثبوت و ریکارڈ میڈیا پر بھی پیش نہیں کرسکتا۔ ن لیگ کی حکومت ہے اور میڈیاکو حکومتی اشتہارات سے خرید اہے اور صحافی صحافت کے بجائے وکالت کرتے ہیں۔ذہنی پستی کا شکار جمہوریت کا نام لیکرقیادت کرپشن کی لڑائی میں کہہ رہا ہو کہ’’ پارلیمنٹ کی تقریر اور قطری شہزادے کے خط سے جو کالک اپنے منہ پر ملی تھی واجد ضیاء اس کو صاف کررہاہے‘‘ لیکن پھر بھی اپنے حواری اور مشرف کے لوٹے ہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن، حاصل بزنجو، اسفندیار ولی ، اچکزئی بھی اس بیانیہ کو سپورٹ کررہے ہوں۔ متحدہ مجلس عمل کو بھی زکوٰۃ و خیرات سے اپنا ٹاؤٹ بنالیا تو قوم کہاں جائے گی؟۔ باقی سیاسی قیادتوں اور برساتی مینڈکوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ عمران خان کے دور میں واقعی تبدیلی آ نہیں رہی ہے بلکہ تبدیلی آگئی ہے۔ پہلے سینٹ کیلئے ارکان بکتے تھے ۔ عمران خان نے اپنے ارکان کو اسلئے پیسے دینے شروع کئے کہ دوسرے خریدلیں تو ہم اپنے ارکان کو خود ہی خرید لیں۔ اس دلالی میں اپنا اُلو بھی سیدھا کرلیا لیکن بعض ارکان نے شاید پھر بھی دھوکا دیدیا۔
آصف زرداری نے محسوس کیا کہ ن لیگ کو سہارا نہیں دیا جارہاہے تو اعلان کردیا کہ’’ میں اسے گراکر دکھاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری کے اسٹیج کیلئے اس بے غیرتی کو بھی برداشت کرلیا کہ عمران خان سے پہلے اپنا منحوس چہرہ اسٹیج سے غائب کردونگا۔ اگر لاہوری باربار طاہرالقادری کو اینویں (پنجابی میں ایسے ہی) ڈگڈی بجاتے ، بندر ناچ گاتے نہ دیکھ چکے ہوتے تو اس ڈرامہ کو کامیابی مل سکتی تھی۔ ڈرامہ کامیاب ہوتا تو زرداری نے کہتا کہ ’’ میں نے حکومت گراکر دکھائی ہے‘‘ جب سیاستدان اس قدر گھٹیا بن جائیں بلکہ گھٹیالوگوں کے ہاتھوں میں قیادت آئے تو یہ قیامت کی علامات ہیں اور اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سیاستدانوں کی بہت گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے سیاست کا بہترین شعبہ بدنام ہوا ہے۔
پنجاب میں اصولوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار ، بہترین روایات اور انسانیت کے اعلیٰ معیار کی کمی نہیں۔ ناکارہ اور لاوارث گدھا بھی کوئی غلطی سے مار دے توپٹھان قیمت وصول کرتا ہے۔ 80سال کی بوڑھی ماری جائے جسکا شوہر 20سال پہلے مرچکا ہو تو وارث یہ دعویٰ کرنے سے نہیں شرماتے کہ ایکسیڈنٹ پر غریب ڈرائیور دو افراد کی دیت دے، بڑھیا کے پیٹ میں بچہ بھی تھا۔ پنجاب میں اکلوتا بیٹا غلطی سے ماردیا جائے تو غریب باپ ایک پیسہ لئے بغیر معاف کردیتا ہے اور معاف کرنے میں احسان کا احساس بھی نہیں رکھتا، اس کو اللہ کی مرضی اور مقتول کا مقدر قرار دیتا ہے۔ آصف زرداری بے غیرت سیاسی قیادت کا ایک بے غیرت کھلاڑی ہے لیکن پرویزمشرف کو چلتا کرنے میں پنجاب کی حکومت کا موقع گنوادیا، شہبازشریف کی گالی برداشت کی، نوازشریف سے کہا تھا پہلے آپ کی باری ہے، کابینہ کا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بنایا۔ رات کی تاریکی میں شہبازاورجنرل کیانی کی ملاقاتوں سے تنگ آکر کئی بار کہا کہ صدارتی محل سے میری لاش ایمبولینس میں جائیگی۔ ن لیگ کیلئے پھر ان کی مشکلات کے دور میں پنجاب کے وفادار ساتھیوں کی ناراضگی مول لیکر سہارا بننے سے دریغ نہ کیا۔ نوازشریف کی بے وفائی کو خاطر میں نہ لایا ۔ 18ویں ترمیم میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کردئیے۔ دوتہائی نہیں 75فیصد ووٹ حاصل کرکے تین تہائی ووٹوں سے صدر مملکت بن گئے۔ ووٹ کو عزت دینے کی ڈگڈگی بجانے والا نوازشریف غیرت، حمیت، اقدار ، رسم وروایت سے اتنا عاری ہے کہ سندھی صدر مملکت جب نوازشریف کے بھائی عباس شریف کی تعزیت کیلئے جانا چاہ رہاتھا تو نوازشریف نے تعزیت کیلئے بھی آنے سے منع کیا۔واہ واہ۔
اسٹیبلشمنٹ نے چن چن کر بے غیرتوں کا انتخاب سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے مفاد کیلئے کیا تاکہ ذلت ورسوائی کی آخری حدوں کو پار کرسکیں۔ منظور پشتین نام مظلوم تحفظ موومنٹ رکھ دیں اور پنجاب کے غیور عوام کی عزتوں کو بے غیرت نسل کے بدمعاشوں سے تحفظ فراہم کریں۔ جن کا پیشہ یہ ہے کہ اقتدار ، اختیار، کرپشن اور شہرت حاصل کرلو، عزت کی بات نہیں، عزت تو شوہر کے ہوتے ہوئے لٹ جانا معمول ہے جبکہ طاہرہ سید اور بشری بی بی کی کہانیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ نوازشریف کی قیادت نے عوام میں یہ جذبہ پیدا کردیا کہ لاہور میں ڈاکٹر نے ایک عیسائی خاتون کو تھپڑ مارا۔ احتجاج پر ڈنڈوں سے ایک عیسائی کو مار ڈالا، اس سے پہلے بھی میاں بیوی عیسائی جوڑے کو آگ کی بٹی میں جلا ڈالا گیا تھا۔ گوجرانوالہ میں ایک شخص نے کھانا میں دیر کرنے پر اپنی دادی اور بہن کو ڈنڈے مار مار کر قتل کیا اور دوسری بہن کو زخمی کردیا۔ سندھ کے شاہ رخ جتوئی کا قصہ بھی موجود تھا کہ دوسرے جتوئی نے گانیوالی کو ناچنے کا حکم دیکر مار ڈالا۔ یہ ذولفقار علی بھٹو کا شہر ہے جہاں حبیب جالب کی آواز گونجتی ہے کہ ’’ لاڑکانہ چلو، ورنہ تھانہ چلو‘‘۔ پختون قوم سردار اور کسی لیڈر کو نہیں مانتی ۔ قوم کا اجتماعی شعور فیصلہ کرلے تو کوئی قائد بن سکتا ہے۔ قیادت کی اہمیت بالکل بھی نہیں ہوتی ہے۔
منظور پشتین سے معذرت کیساتھ PTMکی مثال کتیا کے پیچھے جمع ہونے ہونیوالے ریلے سے مختلف نہیں، جو کوئی خطرہ بن سکے۔ پنجاب کے مظلوموں کیلئے اٹھتے تو نظریاتی لوگ مل سکتے تھے۔ شک نہیں کہ تعصبات کی آگ خطرہ ہوتی ہے لیکن پٹھانوں کو تعصبات کی آگ میں جھونکا گیا تو آپس میں ہی ہڈی ڈالنے پر لڑپڑینگے۔ پختون قوم خیر کاکام کرے تو اس کو بہت راست آئیگا۔ طالبان کے بعد لسانی تعصب کو ہوا دینا بہت غلط ہے۔ محمود اچکزئی اور اسفندیار ولی نے آخر اسوقت نوازشریف کی گود میں پناہ لی جب کشتی ڈوب گئی۔

منظور پشتون کی تحریک سے عوام کو ریلیف مل گیا مگر سیاسی جماعتیں خوفزدہ ہیں: امین اللہ کوئٹہ

ptm-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-imran-khan-pervaiz-bushra-manika-iddat-period-shah-naimatullah-wali-

نوشتۂ دیوار کے نمائندہ خصوصی امین اللہ کوئٹہ نے کہا کہ منظور پشتون مظلوموں کا قائد بن کر ابھرا ۔ محسود قوم کی حالت کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ قبائل بدترین غلامی کا سامنا کررہے تھے۔ بہت لوگ غلط و بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے منظور پشتون کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔عوام نے فوجی آپریشن کی مشکلات کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا لیکن جب ظلم اس حد تک بڑھ گیا کہ مٹنے پر تل گیا تو منظور پشتون کو توفیق مل گئی۔ سیاسی جماعتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں اور عوام میں کسی مقبول قیادت کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل، اے این پی و پیپلزپارٹی کے بعد پنجاب کے عمران خان کو بھی حکومت مل گئی۔
تحریک انصاف میں شمولیت سے محض دوہفتے قبل ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ ’’ عمران خان نے عدت میں شادی کی ہے، قرآن اس نکاح کی اجازت نہیں دیتا، یہ حرامکاری اور گناہ ہے۔ عمران خان قیادت کے لائق نہیں ہے‘‘۔ پھر علامہ اقبالؒ کے بقول’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘۔
پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز بھی ہے اور مردم خیز بھی مگر اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف اور عمران خان جیسے لوگوں کی پشت پناہی کرکے پنجاب اور ملک وقوم کا بیڑہ غرق کیا ۔ قائداعظم کی زبان بھی قوم نہیں سمجھ سکتی تھی مگرقوم کے اجتماعی ضمیر کا فیصلہ پاکستان بنانے کے حق میں تھا تو قراردادِ مقاصدکوکامیابی ملی۔ 23مارچ 1940 ؁ء میں برصغیر پاک وہند کی فوج ایک تھی لیکن قائدکی کامیاب سیاسی حکمت نے پاکستان کو وجود بخش دیا تھا۔
علماء ومفتیان کا حال یہ ہے کہ اگر عمران خان عدت میں شادی کا اعتراف بھی کرلیں تو ایک گروپ حرامکاری کہے گا اور دوسرا اس کو 100فیصد جائز قرار دیگا۔ ڈاکٹر عامر سے تو بعید نہیں کہ ’’ کہے کہ میرے ماں باپ عمران خان پر قربان ہوں ، انکا نکاح بھی عدت میں ہوا تھا، میں خود بھی عدت کی توپیداوار ہوں‘‘۔ پنجاب کی اس قیادت سے عوام کا بیڑہ پار ہوگا کہ ایک طرف عمران خان جعلی و اصلی علماء ومفتیان کیساتھ نمودار ہوکر الیکشن مہم چلائیں ۔ دوسری طرف مریم نواز اپنا شوہر کیپٹن صفدر کو قریب نہیں آنے دیگی اور کزن کیساتھ ساتھ گھومتی نظر آئے گی ۔ آخر ماجراء یہ ہے کیا؟۔ زمین و آسمان کی مخلوق پریشان ہے۔ کیپٹن صفدر کا حرمت مصاہرت کا مسئلہ بھی ہوسکتاہے جسکے بعد حلالہ پر بھی بیوی جائز نہیں بنتی ۔ علماء نے اسلام کو بگاڑ دیا۔
محترم رضا ربانی کی پونی پر قربان ہونا چاہیے اسلئے کہ ہر خاص وعام کی زبان پر آپ کی تعریف ہے۔ جناب رضا ربانی نے آنسو بہاتے ہوئے فوجی عدالتوں کو ووٹ دیا کہ ’’ یہ میری پارٹی کی امانت ہے‘‘ تو عوام نے پسندکیا۔ جب پارلیمنٹ سے ختم نبوت، الیکشن فارم سے جائیداد کی معلومات اور سب چیزیں غائب کردی گئیں اور پھر نااہلی کے خلاف سینٹ کی اکثریت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بل منظور کیا گیا تو سینٹ کی نااہلی ثابت ہوگی ،رضاربانی اسکے بڑے ذمہ دار تھے۔ ن لیگ کی سینٹ میں اقلیت تھی تو بھی رضا ربانی نے خاصی رعایت دی یا مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ تو جب ن لیگ والوں کو نسبتاًزیادہ تعداد مل گئی ہے پھر رضا ربانی کو چیئرمین بنادیا جاتا تو اسکے مزید بھیانک نتائج نکلتے۔ خفیہ رائے شماری کے فارم پر نام کا اندراج ہوا تو ضمیر وں کو مزید زنجیروں سے جکڑ دیا جائیگا۔ یہ قانون فوج نے نہیں بنایا بلکہ جمہوری تقاضہ ہے تاکہ روتے ہوئے وہ ووٹ پول کرنے پر مجبور ہونے کے بجائے اپنے ضمیر کیمطابق فیصلہ کرے۔ سیاسی جماعتوں کی مت ماری گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور نوازشریف بے ضمیری سے ضمیر والے ان ارکان کا فیصلہ کردیں جن کی سیاست اور نظرئیے کیلئے قربانی پر کوئی اختلاف نہیں جیسے رضاربانی صاحب وغیرہ تب بھی ضمیر والے مجبور ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی سپرٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور قائدین سے مفقود ہے۔ نوازشریف خود اداروں کے بوٹ چاٹنے کے چکر میں ہے مگر جمہوریت کے علمبردارمحمود اچکزئی، حاصل بزنجو، مولانا فضل الرحمن وغیرہ ان کی دھوتی میں چھپ رہے ہیں۔
قوم کا اجتماعی ضمیر مروجہ سیاستدانوں سے نفرت کرتاہے اور منظور پشتون جیسے نوجوان ہرقوم ، ہر صوبے ، ہر علاقے اور ہر حلقے سے اٹھیں اور یکجہتی سے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں کہ ہماری ریاست اور سیاست دونوں بچ جائیں۔ اب ریاست کی فکر نہیں لیکن سیاست بچانے کی فکر سیاستدان ضرور کریں۔
ہماری تجویز سے منظور پشتون وزیراعظم نہیں بن سکتالیکن پنجابی اکثریت سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں چاہے گدھا ہو ، خچر ہو یا گھوڑا۔ پہلے پنجاب میں جسے بدنام کردیا جاتا تھا وہ وزیراعظم نہ بن سکتا تھا۔ عمران اور نوازشریف نے ایکدوسرے کو جتنا بدنام کیا ، عدالت اور میڈیا پر جس طرح ایکدوسرے کے کپڑے اتارے گئے تو قوم کا اجتماعی ضمیر کسی بھی سیاستدان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان کی سیاست تو کانگریس، جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار کے ہاتھوں میں تھی ۔ قائداعظم تو سرآغا خان کے منشی تھے ۔ علامہ اقبال کبھی ایک دن ملک کی خاطر جیل نہ گئے تھے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی عوام کیلئے قائداعظم کی شکل ، زبان اور لباس کچھ بھی مانوس نہیں تھا لیکن قوم کے اجتماعی ضمیر نے سب نامانوسی کے باوجود ایک گونگی آواز کو قبول کیا۔ مولانا فضل الرحمن نری بکواس کرے کہ جمعیت علماء اسلام نے پاکستان کیلئے قربانی دی تو اس کی مرضی ہے لیکن اس جھوٹ کی حیثیت اتنی ہے کہ’’ جیسے عمران خان اعتراف کرلے کہ اس نے بشریٰ بی بی سے نہ صرف عدت میں شادی کی بلکہ نکاح سے پہلے محترمہ کو حمل بھی تھا۔ پھر اس بچے کو حرامی قرار دیتا رہے لیکن جب یہ بچہ بڑا ہوکر پاکستان کا تاجدار بادشاہ بن جائے تو مولانا فضل الرحمن کی آنے والی نسلیں کہیں کہ اس بچے کے جواز کے فتوے ہم نے دئیے تھے، ڈاکٹر عامر لیاقت کو توعمران خان ایم کیوایم سے کھینچ کر لائے ہیں، عمران خا ن کا نکاح پڑھانے والے تو ہمارے مفتی سعید خان ہیں‘‘۔ جمعیت علماء اسلام کا وجود اتنا تھا جتنا عمران خان کا مفتی سعید خان سے تعلق ہے مگر جمعیت علماء اسلام تو یہودی سازش سے لیکر الزام کی بوچھاڑ کرنے میں پیش پیش ہے۔ حقائق کو مسخ کرنا بد دیانتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سودی نظام سے زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کی لیبل قرار دیتا تھا اور پھر اپنوں کیلئے اس کو جنت کی شراب کو طہور کا نام دیکر پاک کردیاہے۔ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ اسلام کیلئے کرو اسلام آباد کیلئے نہیں۔
ریاست سے عوام کو تکلیف پہنچے یا ریلف نہ ملے تو ظلم و جبر کیخلاف آواز اٹھانا جرأت و بہادری ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف تو ہجڑے بھی آواز اٹھاسکتے ہیں لیکن فوج اور طالبان کیخلاف آواز اٹھانا بہت بہادری تھی۔ عمران خان نے طالبان اور فوج کیخلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ پرویز مشرف کے دور میں پٹھانوں کے خون بہا پر جو ڈالر کمائے۔ ان پر کراچی کی تعمیر وترقی ہوئی ۔ پختون کو گلہ نہیں، کراچی پختونوں کا بھی شہر ہے۔ پٹھان درختوں پر لٹک کر فوج کی سلیکشن کیلئے اپناقد لمبا کرنے کی کوشش کرتے تھے اسلئے پاک فوج میں زیادہ پٹھان فوج میں بھرتی ہیں۔ بلوچ قدآور سردار فوج میں جانا نہیں چاہتے تھے اور پست قد فٹ نہ ہوتے تھے۔ پنجاب کے لوگ محنت مزدوری کیلئے بلوچستان پہنچ جاتے ہیں مگر مقامی لوگ ٹف مزدوری پر آمادہ نہیں۔ ریاست سے جائز گلے شکوے سب کا حق ہے۔ مشرکین مکہ کی باقاعدہ فوج نہیں تھی، حضرت عمر فاروق اعظمؓ، حضرت امیر حمزہؓاور علی المرتضیٰؓ جیسے بہادر سپوت اسلام قبول کرچکے تھے۔ اللہ نے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیالیکن جہاد کی اجازت نہ دی۔ سیاستدان ہتھیار نہیں دماغ رکھتا ہے ۔ فوجی کے پاس ہتھیار ہوتا ہے مگر دماغ نہیں ہوتا ۔ امریکہ کے تاجرحکمران اسلحہ کی تجارت سے دنیا اور امریکہ کو تباہ کررہے ہیں۔ صدیق اکبرؓ پہلے خلیفۂ راشد بن گئے تو تجارت کو چھوڑ دیا۔ حکمران اپنی تجارت کیلئے حکومت کرتے ہیں۔ دنیا میں خلافت کیلئے جمہوری بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کرنا ہوگا۔
پنجاب کے جس حصہ کو سب سے زیادہ ظالم اور غاصب کہا جاتاہے جو سرائیکی، پختون، سندھی، بلوچ، کشمیری ، گلگت و بلتستان اور کراچی پر حکمران تصور ہوتے ہیں انکا حال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اپنی تسکین کیلئے 100بچوں کو مارکر تیزاب میں گلا دینے والا بھی لاہوری تھا۔ قصور کے بچوں اور بچیوں کیساتھ بھی یہاں زیادتی ہوئی اور انہیں مزید ٹارچر کیا جا رہاہے جس کی تفصیل میڈیا نے عوام کو دکھادی ۔ ریاست نے قانون کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدمعاش بہت قتل کرتاہے لیکن راؤ انوار کو ایک نقیب اللہ محسود پر کتنے مشکلات کا سامنا ہوا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کے گھر پر حملہ کرنے والے قاتلوں کو مجلس عمل کی حکومت اور فوج کے افسران نے کھلی چھوٹ دی تھی۔جو مسلح آمد ورفت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ لیکن عتیق گیلانی تو سب کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور یہ اسلام کا کمال ہے، اسلام نام ہی خیرخواہی کا ہے۔ محسود،وزیر لشکری قوم ہیں،ا نکا رخ درست طرف مڑجائے تو پنجاب کے وہ ظالم لوگ جو بچوں اور بچیوں کیساتھ زیادتی کے باوجود مظلوم کو دھمکیاں دیتے ہیں اگر منظور پشتون کے احتجاج سے فوج کی آنکھیں کھل سکتی ہیں اور عوام سے رویہ درست ہوسکتاہے تو مینار پاکستان پر مظلوموں کیلئے ایک زبردست آواز اٹھانے پر بھی قصور کے قصور وار ظالم اپنی حرکتوں سے باز آسکتے ہیں۔محسود قوم کی سب سے بڑی اور زبردست خوبی یہی تھی کہ کسی برائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا خاتمہ قومی لشکر کے ذریعے سے کرتے تھے۔ ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کیلئے صرف وزیرستان، قبائل ، پختونخواہ، پاکستان اور افغانستان کی سطح پر نہیں بلکہ مظلوم کشمیری عوام اور فلسطینی عوام کیلئے بھی قومی لشکر میں محسود قبائل کا طرزِ عمل دنیا کو نجات دلا سکتا ہے۔احادیث صحیحہ اور شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئی بھی ایسی ہیں۔پنجاب کی عوام بھی پشتونوں کے لشکر کا زبردست استقبال کرے گی۔

دومختلف، متضاد، متفرق کردار، ملا فضل اللہ اور ملالہ یوسفزئی: تحریر سید عتیق الرحمن گیلانی

talibanization-asma-jahangir-jmaat-e-islami-abdul-sattar-khan-niazi-mulla-fazal-ullah-malala-yousafzai

سوات پختونخواہ کے دو متضاد کردار ملافضل اللہ ، ملالہ یوسفزئی ہیں۔ ملافضل اللہ کی شریعت کے سامنے ہماری ریاست اور سیاست دونوں سجدہ ریز تھیں۔ مینگورہ میں مسلکی اختلاف کے سبب ایک مذہبی شخصیت کو قتل کیا گیا اور پھر قبر سے نکال کر کئی روز تک اس کی لاش کو چوک پر لٹکادیا گیا، یہ ایک واقعہ نہ تھا بلکہ اس واقعہ سے صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسے لوگ اس ذہنیت اور ریاست کو اسکے آگے لیٹ جانے کی مخالفت کرتے تھے تو ان کو امریکی ایجنٹ کہا جاتا تھا۔ اے این پی کی حکومت آئی تو میاں افتخار حسین جیسے بہادروں نے بھی طالبانِ سوات سے شریعت کے نفاذ پر معاہدہ کیا تھا اور جب سوات کے طالبان کے بارے میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی توجہ دلائی کہ طالبان اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے مقبول ترین رہنما سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن امریکہ کا ایجنٹ ہے اور طالبان کیخلاف بول رہاہے‘‘۔ آپریشن کا آغاز ہوا تو کلثوم نواز واحد مسلم لیگی رہنما تھی جس نے کھل کر کہا کہ ’’ یہ وہ طالبان نہیں جس کی ہم نے حمایت کی تھی‘‘، آپریشن کے بعد حالات بہتر ہوئے تو ملالہ کے سر میں سکول جاتے ہوئے گولی ماری گئی۔ فوج نے اس کو ہیلی کاپٹر سے پشاور پہنچادیا اور اس کو زندگی مل گئی پھر فوج نے معذوری سے بچانے کیلئے بیرون ملک بھیجا۔
کسی اور کی بات نہیں کرتا، میرا اپنا ایک بیٹا شاہین ائر میں کام کرتا ہے، وہ پہلے میرے دوست کے آفس میں تھا۔ ایک دن مجھے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں مہاجر پٹھانوں کے ناک کاٹ رہے ہیں، لانڈھی میں پٹھان مہاجروں کے ناک کان کاٹ رہے ہیں۔ میں نے بہت ڈانٹا کہ ’’اس طرح کی افواہوں پر موبائل فون اور تیز رفتار میڈیا کے دور میں بہت بری بات ہے، آئندہ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا‘‘۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا واقعہ ہوا تو میرے بیٹے نے کہا کہ ’’ اس کو گولی نہیں لگی ،یہ بہت بڑی سازش ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’پہلے تجھے ڈانٹا تھا۔ اب پھر وہی بکواس کررہے ہو؟‘‘۔ اس نے کہا کہ میڈیا پر بات چل رہی ہے۔ میں نے غصہ میں کہا کہ میڈیا بھی بکواس کرتا ہے۔ پھر جب ملالہ یوسف زئی کا زخمی چہرہ میڈیا پر نظر آتا تھا تو میں اس سے کہتا تھا کہ اب یقین آیا ہے کہ گولی لگی ہے؟‘‘، جب واقعہ ہوا تھا تو میرے بھائی نے بھی کہا کہ ’’سازش سے ایک چھوٹی سی گولی ماری گئی ہے تاکہ اس کو آئندہ استعمال کیا جاسکے‘‘۔ میں نے اس سے بھی عرض کیا کہ یہاں بدگمانی کی ایک فضاء ہے جو ماحول میں پروان چڑھ گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ جرم تھا۔ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے داڑھی اس تحریک میں شمولیت کی وجہ سے ہی مونڈھ ڈالی تھی۔ بریلوی مکتبۂ فکر کا جو رہنما حصہ لیتا تھا اس کو اپنے مکتب کی طرف سے بھی ملامت کا نشانہ ہی بنایا جاتا تھا کہ دیوبندی گستاخان رسول قادیانیوں سے بدتر ہیں انکے ساتھ مل کر تم گمراہوں کے خلاف تحریک کیوں چلارہے ہو؟۔ جب فوج نے طالبان سوات پر تشدد کیا، ان کو ہیلی کاپٹروں سے گرانے کی خبریں آئیں تو عاصمہ جہانگیر نے طالبان کیساتھ غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی۔ جب عاصمہ جہانگیر سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنی بہادری سے حق کہتی ہیں تو ملالہ کو آپ کیوں مشورہ نہیں دیتیں کہ وہ خدمت کیلئے آئے؟ جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ’’ میں اپنی عمر گزار چکی ، مجھے گولی لگے بھی تو مسئلہ نہیں لیکن ملالہ کو نہیں آناچاہیے اس کو زندگی گزارنی ہے اور یہاں اس کو مخصوص ذہنیت کی طرف سے خطرہ ہے‘‘۔ ایک طرف وسعت اللہ خان، مبشر زیدی، ضرار کھوڑو، ماریہ میمن جیسے دیانتدار صحافی تو دوسری طرف طارق پیرزادہ جیسے لوگ میڈیا کے ٹاکشوز میں اپناخیال پیش کرتے ہیں بلکہ مسلط ہوجاتے ہیں۔
وہ لوگ بھی ہیں جو نوازشریف کی طرح زندگی بھر خود اسٹیبلیشمنٹ کے گھٹنوں نے نیچے سر کے تمام بال گراتے ہیں اور انڈے جیسے سر سے یہ بات نکلتی ہے کہ ریاست نے 70سال سے سازش کی ہے۔ پاکستان بن رہا تھا تو کچھ لوگ ہندوستان کی محبت میں تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ ہندو بھی وطن کو ماتا سمجھ کر پوجتے ہیں، وہ بھی ہندو سے متأثر تھے بلکہ وطن سے محبت کا جذبہ فطری ہوتاہے لیکن ان پر ہندوؤں کے ایجنٹ کا الزام لگایا گیا۔ علامہ اقبال نے جمعیت علماء ہند ، دارالعلوم دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی کی سوچ کو ابولہب کا دین قرار دیا۔ آج یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ وطن دشمنی کا سہرا بانیان پاکستان کے سر نہ باندھا جائے۔ فوج اپنا کوئی دماغ نہیں رکھتی۔ 1940میں پاکستان کے قرار داد مقاصد پیش نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا۔ ایک ٹھوس لائحہ عمل کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم اُمہ کو ایک کرنیکی ضرورت ہے

ڈان لیکس پر ملعون نواز شریف یا جنرل راحیل شریف: قوم کو حقائق سے جلد از جلد آگاہ کیا جائے: اشرف میمن

dawn-leaks-supreme-court-ispr-GHQ-pml-panama-leaks-raheel-sharif-maloon-nawaz-sharif

نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے آخری وقت میں ڈان لیکس کا معاملہ خبروں کی زینت بنا ۔ نواز شریف نے ایک بہت نازک وقت میں یہ الزام لگایا کہ فوج نے ہمارے خلاف ڈان لیکس کی سازش کی ہے۔ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سازش کرنیوالے نواز شریف تھے یا جنرل راحیل شریف؟ ۔ جو بھی اس سازش کی لعنت میں ملوث تھا اس کو منظر عام پر لاکر قوم کے سامنے ننگا کیا جائے۔ تاکہ پھر کسی کو اس طرح سازش کرنے کی جرأت نہ ہو۔ لوگوں میں بھوک ، افلاس ، عزتوں کے تار تار ہونے ، جان و مال کے خطرات ، ظلم و جبر اور ستم کا سارا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے لیکن وہ یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ بڑوں میں کون ملعون ہے اور کون نہیں ؟ اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بنانا بند کیا جائے اور جلد سے جلد ان تمام رازوں سے پردہ چاک کیا جائے جن کو سازشوں کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر نواز شریف نے پاک فوج کیخلاف کوئی گھناؤنی سازش کی ہے تو عوام کے سامنے اس کو بے نقاب کیا جائے اور اگر فوج نے نواز شریف کے خلاف کوئی سازش کی ہے تو اس کو بھی بے نقاب کیا جائے ۔ الیکٹرانک میڈیا کے چینل تقسیم ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈوں پر لوگوں کو چلاتے ہیں۔نواز شریف اور سیاسی قیادتوں کا جمہوری نظام صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہے جس سے عوام الناس کو فائدہ نہیں۔

خادم حسین رضوی نے اربوں کے املاک کو تباہ کیا تو اسکا ذریعہ معاش کیا ہے: جسٹس فائز عیسیٰ

justice-faiz-essa-allama-khadim-hussain-rizvi-shaftaloolyari-gang-war-lashkar-e-jhangvi-imamia-asghar-khan-case-muh-kala-karna

نوشتہ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے بڑا اچھا کیا ہے کہ ایک قومی مسئلے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر حکمرانوں نے اپنا اعتراف جرم نہ کیا ہوتا تو ملک میں کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوسکتا تھا۔ بدقسمتی سے اس جرم میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پوری قومی قیادت بھی شریک تھی ۔ حکومت کی طرف سے راجہ ظفر الحق کو تحقیقاتی کمیٹی کا چیئر مین بھی بنایا گیا تھا اور راجہ ظفر الحق نے میڈیا پر بتایا کہ بہت ہوشیاری کے ساتھ ختم نبوت کیخلاف یہ سازش کی گئی تھی جس کو دھر لیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے بھی عدالت میں رپورٹ طلب کی تھی لیکن عدالت کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکالنے کی پوزیشن میں نہیں لگتی۔ اب یہ خبر کہ علامہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنیکا عدالت نے حکم دیا ہے۔ واضح کیا جائے کہ عدالتیں یہی شف شف کی رٹ لگائیں گی یا کبھی شفتالو بھی بولیں گی؟۔ پہلے ڈاکٹر فاروق ستار ، عمران خان اور جانے کون کون اشتہاری رہا لیکن عدالتوں نے ان کو گرفتار نہیں کیا۔ عوام کو اب یہ مذاق لگتا ہے کہ اشتہاری چھوٹو گینگ ، لیاری گینگ ، لشکر جھنگوی ،امامیہ والے ہیں یا کھلم کھلا جلسے جلوس کے سیاسی قائدین بھی اسی طرح کے اشتہاری ہوتے ہیں؟۔ جج ٹریفک پولیس کی طرح توہین عدالت کا پرچہ درج دیتی ہیں لیکن کیا سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اشتہاری قرار دینا ان کی توہین نہیں ؟۔ وضاحت کی جائے کہ اشتہاری کے الگ الگ اقسام ہیں یا یہ کوئی مذاق؟۔کیا سیاسی جماعتوں کیلئے امیر ترین ہونا بہت ضروری ہے تاکہ عدالتوں کے وکیلوں اور ججوں کے کام آئیں؟ ۔ اس پر تو قانون موجود ہے کہ مخصوص مقدار سے زیادہ الیکشن مہم میں پیسہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی قائدین خلاف ورزی کرتے ہیں اور ججوں نے کبھی بھولے سے ان کا نوٹس بھی نہ لیا ۔ اسپیکر ایاز صادق اور علیم خان کے مقابلے میں پچاس پچاس کروڑ سے زیادہ کا خرچہ کیا گیا اور جہانگیر ترین نے ایک ارب تک کا خرچہ کیا، مگرعدالتوں نے کوئی نوٹس نہ لیاغریب سیاست نہیں کرسکتا تو براہ مہربانی آئین کے آرٹیکل کا بھی ضرور حوالہ دیا جائے تاکہ غریب غرباء سیاست میں حصہ لیکر شرمندہ نہ ہوں۔
عمران خان اور طاہر القادری نے کونسے ذرائع سے پیسہ کمایا ہے اور کیا کاروبار کیا ہے جو علامہ خادم حسین رضوی پر تنقید ہورہی ہے؟۔ ایک نواز شریف کے پاس سیاست کی سند ہے تو اس کو ISIنے رقم دی تھی جس کا فیصلہ اصغر خان کیس میں بمشکل 16سال بعد ہماری تیز رفتار عدالتوں نے کیا۔ ماشاء اللہ چشم بددور۔ اس کا بھی تاحال شرمناک عدالتوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ افتخار چوہدری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلٹ پروف گاڑی واپس کرنے سے بھی انکاری ہے۔ کیا مسجدوں کے امام اور خطیبوں پر انگشت نمائی اچھی روایت ہے؟۔ مسجد اور خطابت سے تو پھر بھی پیسہ مل جاتا ہے لیکن عوام کے ٹیکس پر جج عوام کو انصاف نہیں دیتے ہیں انکے منہ پر کسی دن ضرور کالک ملی جائے گی۔قرآن میں جھوٹی گواہی پر کہا گیا کہ ’’ اسکا دل گناہگار ہے‘‘۔ عدالت میں جان بوجھ کر غلط فیصلے کرنیوالوں کے چوتڑوں کو داغنے کا قانون بناناہوگا۔ عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جہاں ججوں کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور غریب کو بھی داد رسی کیلئے دروازے کھلے ہوتے ہیں مگر بہت بدلنا ہوگا۔