پوسٹ تلاش کریں

تھرکی کرشنا کماری کا سینٹ میں انتخاب سیاسی جماعت کیلئے قابل تحسین ہے. اجمل ملک

Krishna-Kumari-Kolhi-moinuddin-qureshi-prime-minister-tribal-voting-rights-dictator-pervez-musharraf

ایڈیٹر نوشتہ دیوار محمد اجمل ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اقدام بہت ہی قابل تحسین ہے جس نے سندھ کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون کو سینیٹر بنادیا ہے جو ایک سوشل ورکر بھی ہیں۔ حکومت ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ مذہبی جماعتیں بھی ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی طرف سے اسمبلی میں خواتین کے کوٹے کو سراہتے ہیں۔ اگر یہ سب ملکر کرشنا کماری کو متفقہ طور پر سینٹ کی چیئر پرسن بنادیتیں تو کوئی اچھا کام ان کے کھاتے میں بھی آتا۔ قبائل میں بالغ رائے دہی کا حق کسی سیاسی جماعت نے نہیں دیا تھا۔ چند ملکان اپنے ووٹوں کے ذریعے سے اسمبلی کا ممبر منتخب کرتے تھے۔ جبکہ عبوری وزیر اعظم معین قریشی نے چند ماہ کیلئے اقتدار سنبھالا تھا تو قبائل کو بالغ رائے دہی کا حق دیدیا۔ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے خاندانوں کے علاوہ کسی کا نہیں سوچتیں۔ بھٹو کے اصل جانشین مرتضیٰ بھٹو کے فرزند ذوالفقار جونیئر کے ناچ گانے کی ویڈیوز دیکھنے سے عبرت پکڑنا چاہیے۔

جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی وہ نشانی ہے جس کا انکار ممکن نہیں. فاروق شیخ

jamaat-e-islami-pakistan-establishment-muttahida-majlis-e-amal-sirajul-haq-labbaik-ya-rasool-allah-mumtaz-qadri-sheikh-rasheed-raja-zafar-ul-haq-article-62-and-63

مدیر مسؤل نوشتہ دیوار فاروق شیخ نے کہا: اللہ کی مہربانی سے جماعت اسلامی نے بالکل آخری وقت میں راجہ ظفرالحق کی تائید کردی۔ اسٹیبلشمنٹ کا موڈ معلوم کرنے کیلئے جماعت اسلامی کا ترازو بہت اچھا پیمانہ ہے۔ جس کا انکار وہ خود بھی نہیں کرتے ہیں اور اچھی بات بھی یہی ہے کہ حقائق کا اعتراف کیا جائے۔ خواجہ آصف نے انکشاف کیا تھا کہ سراج الحق نے مجھ سے کہا کہ ’’فوج تو آپکے ساتھ ہے ‘‘، اگر اسٹیبلشمنٹ کی چاہت ہوتی تب بھی اس بات کا امکان نہیں تھا کہ جماعت اسلامی اپنی حمایت حکومت کے پلڑے میں ڈالتی۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار تھی تو سراج الحق نے ن لیگ کو ووٹ دینا اسلئے مناسب سمجھا تھا کہ وہ ضمنی الیکشن میں دیکھ چکے تھے کہ ن لیگ کی حمایت نہ ہونے کے بعد کی پوزیشن کا کیا حال تھا؟۔ جماعت اسلامی نے ممتاز قادری کی شہادت کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا لیکن تحریک لبیک یارسولﷺوالوں نے اپنی سیاست شروع کردی ۔
جمعیت علماء اسلام س اور جماعت اسلامی نے مذہب کوزندہ رکھنے کیلئے ممتازقادری کی شہادت کو سیاسی حربے طور پر اسلئے استعمال کیا کہ عوام کے پاس جانے کیلئے ان کو دوسرا کوئی ایشو نہیں مل رہا تھا۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی بات اسلئے کی تھی کہ کوئی بے گناہ سزا کی زد میں آنے سے بچ جائے۔ تبدیلی کی تجویز رکھنے اور تبدیلی کیلئے اقدامات اٹھانے میں بھی بڑا فرق ہے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم ایک مذہبی مسئلہ تھا تو پالیمنٹ میں شیخ رشید واحد آدمی تھا جو اس مسئلے کو اجاگر کررہا تھا۔ سینٹ میں جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمد اللہ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایاتھا۔ پھر لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنا اور ملک گیر سطح پر احتجاج ہوا تو حکومتی وزیر زاہد حامد کوسازش میں ملوث ہونے کے جرم پر برطرف کیا گیا۔ حکومت اور اسکے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ جو لوگ بھی اس سازش میں ملوث قرار پائے ان کو قرار واقعی سزا دی جائیگی لیکن تاحال وہ وعدہ جمہوری حکومت نے پورا نہیں کیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ترمیم کی گئی تھی اس کو راجہ ظفر الحق نے باہوش و حواس ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ لیکن کمیٹی کی رپورٹ راجہ صاحب نے نواز شریف کو دے دی۔ عدالت میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ نواز شریف سے اس رپورٹ کو طلب کرسکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے کے علاوہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے دیگر حلف نامے بھی تبدیل کردئیے ہیں۔ پہلے ضروری تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والا حلف نامہ تحریر کرتا کہ اس نے کوئی قرض نہیں لیا ہے جو معاف کرایا ہو۔ بیرونی و اندرونی ممالک میں اس کی یہ جائیداد ہے ۔ اسکے پاس دوہری شہریت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔
نواز شریف کو بھی وزارت عظمیٰ سے اسلئے نااہل قرار دیا گیا تھا کہ اس نے اپنے اقامے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اپنے اقامے کا ذکر نہ کرنا آئین کی دفعہ 62، 63کی اتنی خلاف ورزی نہیں ہے جتنی دوہری شہریت دفعہ 62،63کی خلاف ورزی ہے۔ نواز شریف کو اقامہ چھپانے پر نا اہل قرار دیا گیا تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن اور دیگر سینٹ کے ممبران کو دوہری شہریت چھپانے پر زیادہ نا اہل قرار دینا چاہیے تھا۔ صادق اور امین کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ عوامی بیت الخلاء میں کوئی بندہ پدو مارے اور جھوٹ بولے کہ ساتھ والے نے مارا ہے۔ بلکہ اس کا تعلق حلف نامے کے ساتھ درج کئے جانے والے حلف نامے کے ساتھ ہے۔ جب حلف نامہ نہیں رہا تو آئین کی یہ دفعات بھی خود بخود غیر مؤثر ہوگئی ہیں۔ چیف جسٹس بابا رحمتے اگر ریٹائرڈ ہوگئے تو اپنے بال بچوں کی روزی کیلئے پھر وکالت کرنے لگیں اور نواز شریف نے ان کو وکیل کرلیا تو یقیناًعدالت میں اس کیس کی وکالت کریں گے کہ اب حلف نامے سے تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر قانون پاس کردیا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کے پاس اقامہ ہے یا نہیں ، اسی طرح کوئی جائیداد ہے یا نہیں اور سچ جھوٹ کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا جس بنیاد پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا تھا اب وہ بنیاد ہی ختم کردی گئی ہے لہٰذا اس کی نااہلی بھی ختم کی جائے۔ پچھلی مرتبہ محترم عبد القدوس بلوچ نے بھی اس نکتے کو اٹھایا تھا جس کی شہ سرخی شاید میڈیا کی نظروں میں نہ آئی ہو اور بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ یہ دفعات ختم نہیں ہوئیں ہیں۔

سینٹ الیکشن میں‌جمہوری نظام کی زبردست اور عالیشان فتح ہوئی ہے. اشرف میمن

horse-trading-raza-rabbani-jamiat-ulama-islam-establishment-balochistan-assembly--mehmood-khan-achakzai--saleem-bukhari--javed-hashmi-baghi-

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہاکہ سینٹ الیکشن میں جمہوریت کی زبردست اور عالیشان فتح ہوئی ہے۔ رضا ربانی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ’’ ارکان کے بیلٹ پیپر پر اسکا نام لکھ دیا جائے۔ پھر اگر جماعت کے سربراہ کو اپنے کسی رکن پر شک ہو کہ اس نے جماعت کے خلاف ووٹ دیا ہے تو اس پر ضابطہ کے مطابق کاروائی کی جائے، ہارس ٹریڈنگ اس طرح سے روکی جا سکتی ہے‘‘۔ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر محترم رضا ربانی کی تجویز مسترد کردی کہ ’’ اس طرح رکن کی رازداری قائم نہ رہے گی اور اس کی آزادی پرحرج آئیگا‘‘۔کیا سینٹ الیکشن میں جمہوریت کا بھرپور تقاضہ پورا نہیں ہوا؟۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت بلوچستان میں اپوزشن میں تھی اور بلوچستان کی حکومت کو جمعیت علماء اسلام بچانا چاہتی تو وہ بچاسکتی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالہ سے واویلا کرنیوالے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جسکا بنیادی کردار ہے وہ مولانافضل الرحمن تو نوازشریف کے بغل میں بیٹھا اتحادی ہے۔
نااہل نوازشریف اور اسکے بگڑے ہوئے بے غیرت ٹولے میں کوئی غیرت ہوتی تو دوسروں کو گالی گلوچ سے نوازنے کے بجائے مولانا فضل الرحمن کو بھگادیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل تم ہی نے کامیاب بنایا ہے۔ اگر بلوچستان میں آپ ہمارا ساتھ دیتے تو یہ کھیل کامیاب نہ ہوتا اور عین موقع پر تمہارے ارکان احتجاج نوٹ کرانے کیلئے باہر نہ جاتے تو ہمارے اپنے ارکان کے دل بھی نہ بیٹھتے ۔ پچھلی مرتبہ بھی تمہارا کوئی حق نہیں تھا لیکن بلوچستان کیلئے زکوٰۃ کے طور پر ڈپٹی چیئرمین کا قرعہ تمہارے نام نکلا تھا۔ اس دفعہ اگر محمود خان اچکزئی کی پارٹی کو زکوٰہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ مضبوط اتحادی تھے۔ تمہاری طرح دگرگوں نہیں تھے کہ فیصلہ بھی نہ کریں پائیں کہ جانا کس کیساتھ ہے؟۔
ن یا ش لیگ کی حکومت اور اسکے اتحادی جو لڑائی دوسروں کی بساط پر لڑ رہے ہیں ،پہلے اپنے اندرونی معاملات پر تو حقائق پر فیصلہ کرلیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور اسکے پاس ہر ایک کا معروضی حقیقت کے وسیع تر تناظر میں ایک معقول جواب ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کی ہر حکومت میں ہم حصہ دار رہے ہیں حتیٰ کہ پرویزمشرف کے دور میں اپوزیش لیڈری بھی میرے حصہ میں آئی تھی پھر بھی سینئر وزیر مولانا عبدالواسع تھا۔ جب ہمیں تم نے مرکزی حکومت اور کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رکھا لیکن بلوچستان میں تمہاری ضد تھی کہ ہمیں اپوزیشن کا مزہ پہلی مرتبہ چکھایا۔ اس میں محمود خان اچکزئی کی بہت بڑی خواہش ہوسکتی تھی لیکن ہمارا خیال تم نے نہیں رکھا۔ جب ن لیگ کے اپنے ارکان باغی بنے تو جمعیت علماء اسلام کی اپوزیشن سے بلوچستان کی حکومت کیلئے سہارا بننا غیرت و حمیت کے بھی منافی تھا۔ اگر ہم اپنے ارکان کو بھی مجبور کرتے تو پھر ہمارے ارکان بھی تمہارے ارکان جیسے باغی بنتے۔ جاوید ہاشمی ایک شریف آدمی تھا لیکن تمہاری روش نے باغی اور داغی کے مختلف مراحل سے گزار کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے؟۔اپنی دُم کا بوجھ اپنی پیٹھ پر رکھ کر اس بڑھاپے میں بھی وہ مسلم نواز کو دوبارہ شمولیت کی دعوتِ گناہ دے رہاہے لیکن پھر بھی ن لیگ دوبارہ رسک لینے کی ہمت نہیں کررہی ہے
یہی تو جمہوریت کی روح ہے کہ مرکز، صوبے، سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے لیکر اقتداراپنے مطلق العنان قائد کی دستر س سے باہر رہنے کیلئے خفیہ رائے شماری تک آزادی سے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنیکا اختیار ہر ایک کو حاصل ہو۔ بلوچستان میں اگر اسٹیبلمشنٹ کا ہاتھ تھا تو صوبائی سطح کی تبدیلی سے لیکر مرکز میں سینٹ کے الیکشن کے آخری لمحات تک مولانافضل الرحمن کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن ان کیساتھ کھڑے ہیں جو تبدیلی کیلئے زرداری پر بھی بھاری قوت کا نعرہ لگارہے ہیں۔ شکر ہے کہ ن لیگ کے یعقوب ناصر پزائیڈنگ افسر تھے ورنہ تو سینٹ میں بھی خفیہ والوں پر دھاندلی کا الزام لگنا تھا۔ن لیگ کے وزیروں اور رہنماؤں نے الیکشن کے موقع پر ووٹ پول کرنے کے وقت بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اگر وہ اپنی فتح یقینی سمجھتے تو بہت پہلے کسی کو نامزد کردیتے۔ جمہوریت کو ن لیگ ایک ایسا کھلواڑ سمجھتی ہے کہ اس میں بھڑوی عورت کی طرح سب کچھ جائز قرار دیتی ہے ۔صحافی سلیم بخاری نے کہا تھا کہ ’’ پارلیمنٹ بھڑوں سے بھری ہوئی ہے‘‘۔ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کے خلاف سازش ہورہی ہ

منظور پشتون کی قیادت میں سب پختون متحدمگر

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-4

امریکہ نے گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور پیش کیا تھا۔ تاپی گیس پائپ لائن پر پاکستان ، افغانستان ، طالبان اور بھارت کا امریکہ کی قیادت میں مشترکہ معاہدہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ جب تک پختون قوم کی قیادت باشعور لوگوں میں نہیں آئے گی اس خطے کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری قیادت کو گھوڑے سے خچر بنادیا اور جن گدھیڑوں کو قیادت کیلئے میدان میں اُتارا تھا وہ جب باغی بن گئے تو زیادہ سے زیادہ گھوڑوں کے ملاپ سے وہ بھی خچر بن گئے۔ خچروں میں وزن اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے مگر قیادت کی نہیں۔ قیادت کی صلاحیت اللہ کی طرف سے فضل اور مہربانی کے نتیجے میں ملے تو حقیقی قیادت ہوتی ہے۔ اگر کسی اور کی طرف سے مداخلت ہو تو اپنی فطری صلاحیت بھی کھودی جاتی ہے۔ صحافت کیلئے بنیادی قانون غیر جانبدارانہ تجزئے ہیں ۔ سردار امان الدین خان کی قیادت میں شمن خیل قوم نے چھوٹے پیمانے پر ایک تحریک اٹھائی تو پختونخواہ کے مقبول ترین اخبار روزنامہ مشرق پشاور میں ہردلعزیز کالم میں مریم گیلانی نے اس تحریک کو پاکستان میں تبدیلی کی نوید کا نام دیا تھا۔ ایک مرتبہ اس کے زیر اہتمام مولانا اکرم اعوان ، مولانا نور محمد وزیر ایم این اے جنوبی وزیرستان اور مجھے (سید عتیق الرحمن گیلانی) کو بھی ایک جلسے میں مدعو کیا تھا۔
مولانا اکرم اعوان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’’میں ایک کسان ہوں اور کاشتکاری کے فن کو جانتا ہوں ، جب ہم فصل اٹھاتے ہیں تو کچھ فصل زمیندار بیچ دیتا ہے ، کچھ اپنی گزر بسر کیلئے رکھتا ہے اور کچھ آئندہ فصل کیلئے محفوظ رکھتا ہے۔ جو سب سے بہترین گندم ہوتی ہے اس کو بیج کیلئے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس خطہ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قیادت کیلئے بیج کی طرح محفوظ رکھ دیا ہے‘‘۔ جب محسود قوم گو خان ، گلسا خان اور علماء و قبائلی عمائدین کی قیادت قبول کرسکتی ہے تو منظور کی قیادت بصد چشم اسلئے قبول ہونی چاہئے کہ پوری پختون قوم نے بھی منظور پشتون کو اپنا قائد تسلیم کرلیا ہے۔ محمود خان اچکزئی ، اسفندیار ولی ، مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ بھی اس قیادت کو نہ صرف اپنے لئے بلکہ پشتون قوم اور پاکستان کیلئے دل کی گہرائیوں سے قبول کرلیں۔ اکرم خان درانی کو اس وقت وزیر اعلیٰ بنایا گیا جب علماء سے پختونخواہ اسمبلی بھری پڑی تھی۔ مال ٹال بنانے میں جن کو مہارت حاصل ہو اگر یہی قیادت کا معیار ہے تو ایسے جاہلوں کو سلام کرنا چاہئے۔ جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے نام پر نواز شریف کاساتھ دے رہے ہیں ان میں ذرا بھی غیرت کی رمق ہو تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کو کبھی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے نام پر سپورٹ نہ کریں۔ اسلئے سیاست کو منافقت کہاجاتا ہے۔
جب پختون قوم نہ صرف منظور کی قیادت پر متحد ہوگی بلکہ پورے پختونخواہ اور بلوچستان کے پختون علاقے سے غریب اور پڑھے لکھے تعلیم یافتہ طبقے کو ہی اسمبلی میں کامیاب کروائے گی تو نہ صرف پختون کی تقدیر بدلے گی بلکہ دوسری قوموں کے اندر بھی شعور پیدا ہوگا اور پاکستان کی سطح پر ایک بڑی تبدیلی آجائے گی۔ بلوچ ، سرائیکی ، پنجابی ، سندھی، مہاجر ، کشمیری، گلگت و بلتستانی ، چترالی اور ہزاروی سب کے سب باشعور تعلیم یافتہ قیادت کو میدان میں لائینگے تو ہمارے سیاسی میدان سے منافقت و تجارت اور بد اخلاقی و بدکرداری کا صفایا ہوگا۔
پاکستان کو تعصب نہیں انتظامی اعتبار سے متوازن بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاز کا سر ، دُم، پیٹ ، پر اور کچھ بھی توازن کے خلاف ہو تو وہ پرواز نہیں کرسکتا ہے اور پاکستان میں انتظامی اعتبار سے کوئی توازن نہیں۔ پنجاب کا وزیر اعلیٰ پورے ملک کے وزیر اعظم سے اس وقت زیادہ طاقتور ہوتا ہے جب وزیر اعظم کا تعلق دیگر صوبوں سے ہو۔ کیونکہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ 60%کا حکمران ہوتا ہے اور وزیر اعظم 40%کا حکمران ہوتا ہے۔ پورے ملک سے 40%کے 75سینیٹر منتخب ہوتے ہیں اور پنجاب کے 60%سے صرف 25سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، پنجاب میں سرائیکی علاقہ کے لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے ہندوؤں میں اچھوت، یہی صوتحال اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی طرف سے دیگر صوبوں کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کو الگ صوبے کا صرف نام دینا مسئلے کا حل نہیں تھا۔ سینما کے ٹکٹوں کو بلیک سے بیچنے والوں کو ملک چلانا نہیں آتا۔ نہ لوہے کی بھٹیوں سے کسی میں ملک چلانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور نہ کرکٹ کھیلنے سے۔
ملتان کو نہ صرف الگ صوبے کی حیثیت دینا ضروری ہے بلکہ سرائیکیوں کو یہ حق دینا بھی ضروری ہے کہ 25سینیٹر وہ بھی اپنی مرضی سے منتخب کرسکیں۔ علاوہ ازیں پہلے کراچی پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور پھر جنرل ایوب خان اسکو اسلام آباد منتقل کرگیا۔ میرٹ کا تقاضہ یہ ہے کہ ملتان کو دنیا کا جدید ترین شہر اور پاکستان کا دار الخلافہ بنانے سے پاکستان کی ترقی کا آغاز کیا جائے۔ GHQکو راولپنڈی سے ڈیرہ غازیخان کے کوہ سلیمان میں منتقل کیا جائے۔ جو لاہور، کوئٹہ، کراچی اور پشاور کے درمیان سب کیلئے مرکزی مقام ہے۔ پھر پورے پاکستان کے تمام ہی شہروں کو بالکل دنیا کے جدید سے جدید ترین طرز پر بنایا جائے۔ ایک شخص ملک ریاض اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں جدید شہر بحریہ ٹاؤن آباد کرسکتا ہے تو ہماری ریاست میں اتنی صلاحیت بھی نہیں؟۔ ریاست اپنی سرپرستی میں بڑی بلڈنگوں کی تعمیر کرواتی ہے اور پھر آباد ہونے کے بعد مسماری کا حکم دیتی ہے۔ کوئی بنانے پر پیسے بناتا ہے اور کوئی گرانے میں بلیک میل کرتا ہے شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں نقیب اللہ محسود کے کزن آفتاب محسود کے قتل پر آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے‘‘۔ بعض لوگ جھوٹی افواہوں کے ذریعے سے اس کو ISIکے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ اس طرح کی افواہوں سے شیطان اور ابلیسی ٹولے کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن یہ پختون قوم ، ریاست اور پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ طالبان سے وابستگی ملک اور دنیا کی سطح پر ایک منافقانہ کھیل تھا۔ جسکے نتائج سب نے بھگتے ہیں لیکن منظور پختون کے زیر قیادت تعلیم یافتہ باشعور نوجوانوں کی تحریک بہت مثبت ہے۔ جب پاک فوج اور پاکستان کی عوام کو حقائق کی بنیاد پر مظلوم قوموں کا صحیح احساس اور ادراک ہوجائے تو یہ ملک و قوم اور ریاست کی بڑی خدمت ہے۔ بڑا عرصہ ہوا کہ پاک فوج کے جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتحال ہوتی ہے تو فوج کو بلایا جاتا ہے اگر مستقل تعیناتی مسائل کا حل ہوتی تو پولیس کو بھی فوجی تربیت دی جاتی۔ گلے شکوے کا اظہار ہوگا تو اس کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔ اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہوگا۔ سید عتیق گیلانی

وزیرستان تاریخی آئینہ میں ایک بڑے مقام پر

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-3

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی    یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
علامہ اقبال نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وزیرستان کے محسود اور وزیر قبائل کا نام لیکر پیشگوئی کی ہے کہ کوئی ایک شخص بھی ان میں ایسا پیدا ہوسکتا ہے جو دنیا کے حالات کو بدل کر رکھ دے۔ علامہ اقبال نے بندۂ صحرائی سے رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کیا ہے اور مرد کہستانی سے آنیوالی شخصیت کا نقشہ پیش کیا ہے۔
پیر روشان بایزید انصاری کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے تھا۔ مغل اعظم اکبر بادشاہ کے دور میں شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے سجدۂ تعظیمی سے انکار کیا تھا اور پیر روشان نے عملی جہاد کیا تھا۔ بیربل اور مُلا دوپیازہ بھی اس معرکے میں مارے گئے تھے جس پر اکبر بادشاہ نے چند وقت کھانا تک نہ کھایا۔ مغل سلطنت کے بعد جب پنجاب پر سکھ رہنما راجا رنجیت سنگھ نے حکومت کی تھی تو بھی قبائل ان کی دسترس سے باہر رہے۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں انگریز کو اتنی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا وزیرستان کی سرزمین پر کرنا پڑا۔ امریکہ کی دشمنی سب کی خواہش تھی اور خواہش تک رہی مگر وزیرستان نے اپنی خواہش کو عملی جامہ بھی پہنایا۔ راؤ انوار نے ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن کیساتھ بدتمیزی کی اور پیپلز پارٹی نے بھی ایم کیو ایم کا ساتھ دیا لیکن راؤ انوار کو کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکا۔ محسود قوم نے اس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
محسود قوم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جھگڑے میں پہلے زباں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہی اسلام ، شریعت اور فطرت کا تقاضہ بھی ہے۔ قرآن میں ایک قانون یہ بھی ہے کہ مرد کے بدلے مرد ، عورت کے بدلے عورت اور غلام کے بدلے غلام کو قتل کیا جائے گا۔ اس قانون کو صرف قبائل کے لوگ ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اگر قتل پر صرف مجرم ہی سے بدلہ لیا جائے تو لوگ اپنے بیکار افراد سے دوسروں کے کار آمد افراد کو قتل کروائیں گے اور یوں زمین میں فساد کا سلسلہ ایک دوسرے سے بدلہ چکانے کیلئے جاری رہے گا ، لیکن جب قبائل اس قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہیں تو زمین فسادات سے بچی رہتی ہے۔ ہر ایک پر یہ خوف طاری رہتا ہے کہ کسی قبیلے کا کوئی فرد قتل ہوجائے تو مجرم کو نہیں پکڑا جائے گا بلکہ کسی ذمہ دار فرد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قبائل کو امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر ماڈل ٹاؤن کے واقعے پر شہباز شریف کی پکڑ ہوتی تو پولیس والوں میں اتنی جرأت کبھی نہ ہوتی کہ کھلے عام بندوں کو مارا جاتا۔
محسود قبائل نے پیر آف وانہ کی سرکردگی میں کشمیر کا جہاد بھی کیا ہے۔ گو خان بدمعاش کی قیادت میں جمع ہوکر قومی تحریک بھی چلائی ہے۔ گل سا خان کی قیادت میں جمع ہوکر بھی بڑی مہم جوئی کی ہے۔ اگر منظور پشتون کی قیادت میں محسود قبائل اکھٹے ہوجائیں تو اس میں کوئی نام نہاد ملک اور قبائلی عمائدین ٹانگ نہیں اڑا سکتے ہیں۔ جب طالبان کا ٹائم تھا تو بہلول زئی اور منزئی نے جو تیر مارنا تھا وہ مارلیا۔ اب سیاست کا ٹائم ہے تو منظور پشتون کو ہی قیادت سونپ دینی چاہئے۔ کچھ افراد منظور پشتون کی جرأتمندانہ اور دانشمندانہ قیادت سے خوفزدہ نہ ہوں۔ جب محسود قوم منظور پشتون کو قومی اسمبلی میں بھیجنے کا متفقہ کرے گی تو پاکستان بھر سے پڑھا لکھا طبقہ قیادت کیلئے منتخب ہوکر آئے گا اور اس کا سہرا محسود کے سربندھے گا۔
جب برصغیر پاک و ہند آزاد ہواتھا تو افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس جیل سے دوسرے قیدیوں کے ساتھ آزاد ہوا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے شیخ اتار ڈبرہ گومل ٹانک کے رہنے والے عبد الرزاق بھٹی نے بتایا کہ میں اس کو فقیر آف بٹنی کے پاس لیکر گیا ، فقیر صاحب نے کہا کہ ہماری یہ اوقات نہیں کہ اس کو پناہ دے سکیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں کیلئے امیر امان اللہ خان کا بیٹا مطلوب ہے۔ یہ صرف محسود قوم کے پاس کریڈٹ ہے کہ اس کو پناہ دے اور افغانستان و پاکستان کی حکومتوں کو حوالے نہ کرے۔ یہ ذہن بننے کے بعد وہ شمن خیل قبیلے کے سردار رمضان خان کے پاس لیکر گئے تو وہ پناہ دینے پر بخوشی اور اعزاز سمجھ کر راضی ہوئے۔ تاریخ کے دوراہے میں بڑے واقعات ہیں لیکن 1991ء کا واقعہ ہے کہ جب تحریک انصاف کے موجودہ ایم این اے داور خان کنڈی کے والد امان اللہ کنڈی کو کراچی میں ہیروئن کیس پر پکڑ لیا تھا تو وہ ڈی آئی خان جیل سے ہسپتال اور ہسپتال سے وزیرستان فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ جب سیکورٹی فورسز نے اس گاؤں کا گھیراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ امان اللہ کنڈی کو حوالے کردو ورنہ سارے گاؤں کو مسمار کردیں گے۔
محسود قبائل کے جوان ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے لگے اور امان اللہ کنڈی کو دوسری جگہ منتقل کردیا۔ وزیر قبائل کے افراد تبصرے کررہے تھے کہ محسود قوم کی بہادری میں کوئی شبہ اسلئے نہیں ہے کہ مسلح دستوں کی موجودگی میں اپنے مہمان کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں سے کہا گیا کہ دن میں آپ ہمارے مہمان ہو لیکن رات کو مہمان اور چور کاپتہ نہیں چلتا۔ اسلئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ اپنی راہ لو۔ سیکورٹی فورسز کے جوان بھی محسود قبائل کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے کہ جہاں ہمیں ایکشن کرتے ہوئے کوئی دیکھتے ہیں تو ان کی شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں اور یہ جواں مرد ڈھول کی تھاپ پر رقص کررہے ہیں۔
حکومت پاکستان سے قبائلی عمائدین نے تاریخی مذاکرات کئے اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ اخبارات میں سرخیاں لگیں کہ ’’رشدی ہمارے حوالے کردو اور کنڈی تمہارے حوالے کردیں گے‘‘جس پر حکومت نے بی بی سی کے نمائندے سیلاب محسود کو رپورٹنگ پر ڈی آئی خان جیل بھیج دیا۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے ایک بیان میں ایک عالمی منصوبے کا انکشاف کیا ہے کہ محسود قوم کو تباہ و برباد کرکے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے اور پھر وہاں عالمی دہشتگردوں کو آباد کرکے اس خطے میں عظیم جنگیں برپا کی جائیں۔ وزیرستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ پاک فوج محسود قبائل کو اعتماد میں لیکر ساری بارودی سرنگوں سے وزیرستان کو صاف کردے اور قدیم طرز پر ان کو آباد کرنیکا موقع فراہم کرے۔
اس قوم کے ہوتے ہوئے کوئی عالمی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک ریاست پاکستان کیساتھ ایک اعتماد والی فضا موجود ہو۔ اب بہت ہوچکا اور اس میں شک نہیں کہ فوج سے زیادہ محسود قوم کی اپنی غلطیاں ہیں ، چور ، ڈکیت اور بیکار لوگوں کو طالبان کمانڈر کی حیثیت سے بزدلی کے ساتھ برداشت کیا اور اس کے نتائج بھگت لئے۔ یہ قوم نہ صرف اپنے علاقے ، ملک ، قوم اور خطے سے لا قانونیت ختم کرسکتی ہے بلکہ عالم اسلام و انسانیت کی امامت بھی کرسکتی ہے۔

محسود قوم میں امامت کی صلاحیت پیدا ہوگئی مگر

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-2

محسود ایک دانشور، محنت کش، بہادر، انسانیت کی علمبردار، فطرت کی شاہکار، اسلام سے محبت رکھنے والی، وطن سے پیار کرنے والی اور زبردست صفات سے مزین آزاد منش قوم ہے۔ بے پناہ خوبیوں کیساتھ ساتھ انتہائی پستی والی صفات بھی اس قوم میں موجود تھیں۔ سب سے بری اور بدترین صفت اس میں بے پناہ کی فرعونیت تھی۔ روئے زمین پر محسود خود کو گویا دوسرا امریکہ سمجھتے تھے۔ ہر خاندان اور ہر فرد اپنی اپنی جگہ فرعون بناہوتا تھا۔ طالبان اور فوج نے سب سے بڑا کمال یہ کرکے دکھایا کہ اسکی فرعونیت کو شکست سے دوچار کردیا، یہ اس قوم کی فرعونیت کا جنازہ تھا جو بڑی دھوم سے نکلا کہ ’’ایک ماڈل بننے کے خواہشمند نقیب اللہ محسود کی شہادت پر تاریخی احتجاج کیا، ورنہ یہ وہ قوم تھی کہ اس قسم کے حلیہ اور کردار کو اپنے لئے باعثِ شرم تصور کرتی تھی‘‘۔ جیوکی پٹھان صحافی رابعہ انعم جو اپنی ثقافت سے کسی طرح پختون نہیں لگتی ہے لیکن جب وہ نقیب اللہ محسود کے تعزیتی جرگے میں گئی توپتہ چلا کہ وہ خود بھی ایک پختون ہے۔ پشتو زبان میں انٹرویو لیتے ہوئے نقیب کے والد سے پوچھا کہ ایک پختون معاشرے میں اپنے لڑکے کو اسطرح کاحلیہ بنانیکی اجازت نہیں دی جاتی تو آپ اس حلیہ کی وجہ سے نقیب سے ناراض نہیں تھے؟ نقیب کے والد نے پریس کانفرسوں میں بھی بتایا کہ میرا بیٹا ماڈل تھا۔
جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری کو کاندھے پر غارِ حراء چڑھانے والے نواز کا یہ حال ہواہے کہ مریم نواز کو شوہر سے چھڑا کر عوامی جلسوں کو پرکشش بنانے کی مہم جوئی میں مصروف ہیں جو کسی دور میں بینظیر بھٹو پر بے پردگی اور بے غیرتی کا الزام لگاتے تھے اور وہ خود کو اب آخری حد تک گرا رہے ہیں، اسی طرح طالبان کو اپنااثاثہ سمجھنے والے محسود قبائل نقیب اللہ کی تصاویر اٹھانے پر بھی نہیں شرمارتے۔ اگر نواز شریف کی فیملی دبے الفاظ میں شکریہ ادا کرتی کہ وقت نے اسٹیبلشمنٹ کی چاکری سے ان کی جان چھڑادی ہے تو ممکن تھا کہ یہ لوگ آئندہ نسل میں قائدانہ کردار ادا کرتے۔ شہباز شریف گیارہ برس قید کاٹنے والے زرداری پر گرج برس رہا تھا کہ چوکوں پر لٹکائیں گے، سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور نشان عبرت بنائیں گے، لیکن جب نواز شریف کی پانامہ لیکس کا معاملہ آیا، جمہوریت کی سب سے بڑی مسند پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے غلط بیانی کی اور پھر عدالتوں پر تہمت لگادی کہ فوج نے ہمارے خلاف فیصلے پر مجبور کیا ہے تو یہ نہ صرف شریف برادری کیلئے انتہائی گراوٹ کا مقام تھا بلکہ پاکستان کی بھی ناک کٹ گئی ہے۔
اس کے برعکس محسود قوم نے افغانستان میں امریکہ کو شکست دینے کیلئے قدم اٹھایا اور وہ طالبان جس کی حمایت سب ہی کررہے تھے ، امریکہ کیخلاف سب سے زیادہ اور بڑی قربانی محسود قوم نے اپنی غیرت ، فطرت اور انسانیت کیلئے دی جو اسلام اور ایمان کا عین تقاضہ تھا۔ ان کو پتہ تھاکہ جس قوت سے مضبوط افواج کو بھی ٹکر لینے کی ہمت نہیں وہ ہماری نسلوں کو تباہ کرسکتی ہے۔ پاک فوج پر امریکہ نے جو خرچہ کیا ہے اس کا واویلا اب بھی امریکہ مچارہا ہے۔ افغان حکومت پر بھی امریکہ نے خرچہ کیا لیکن محسود قوم نے صرف قربانی ہی قربانی دی ہے۔ اپنے لئے نہیں عالم اسلام ، پاکستان اور اس خطے کو امریکہ کی دسترس سے بچانے کیلئے دی ہے۔ اس کے صلے میں محسود قوم کو کیا ملا؟ ۔ باہر سے آئے ہوئے دہشتگردوں کے ساتھ ملکر طالبان نے محسود قوم کا بیڑا غرق کیا ، فوج نے ان کی تذلیل میں تمام تر حدوں کو پار کرلیا اور جان مال، عزت و آبرو اور گھر بار ، وطن اور ایمان سب کچھ کا بیڑا غرق ہوگیا۔ قربانی کے بدلے میں جو ثمرات ملے وہ سب کے سامنے ہیں۔
کمال کی بات یہ ہے کہ محسود قوم نے اس قربانی اور اس کے نتائج کو منفی انداز میں لینے کے بجائے بہت مثبت انداز میں لیا۔ محسود قوم کہتی ہے کہ پہلے ہم بڑی مشکل سے کما کر لاتے تھے ، تھوڑے سے پیسے مل جاتے تھے تو اڑوس پڑوس اور رشتہ داروں کیساتھ اس کے بدلے میں دشمنیاں مول لیتے تھے ، پیسے بھی جاتے تھے ، جانیں بھی ضائع ہوجاتی تھیں اور نصیب میں جہالتیں بھی ختم نہ ہوتی تھیں ۔ جب سے ہم مصائب کا شکار ہوگئے ، ہم نے تہذیب و تمدن ، تعلیم و تربیت اور وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو کسی قوم کی ترقی و عروج کیلئے معیار ہوتا ہے۔ جاپان نے بادشاہت کے خاتمے کو مثبت انداز میں لیا تو جاپانی قوم نے دوبارہ دنیا میں ترقی کرلی۔ محسود قوم اس آزمائش کے نتیجے میں دنیا میں امامت کے قابل ہوگئی مگر
اب کچھ معروضی حقائق کی طرف آنا ہوگا ۔ اس میں شک نہیں کہ محسودوں کی تین برادریوں میں بہادری اور جرأت کے لحاظ سے بہلول زئی اور منزئی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور اب اس میں بھی شک نہیں کہ طالبان اور فوج کی چکی میں جو پس کر رہ گئے ہیں ان کے ذہنوں سے فرعونیت کا خمیر نکل گیا ہے۔ ترقی و عروج کا تقاضہ یہی تھا کہ ان میں جاہلانہ تکبر اور رعونت کا خاتمہ ہوجائے۔ شمن خیل محسود کو سیاسی سمجھا جاتا ہے اور طالبان میں انہوں نے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ جب بندوق اور بارود کا دور تھا تو محسودوں کی دو شاخوں بہلول زئی اور منزئی نے بہت نام کمایا ۔ پوری دنیا کی سطح پر وزیرستان کا نام متعارف کرادیا۔ اگر پاک فوج ان کو اپنی ڈگر پر چلنے دیتی تو امریکہ کی رہی سہی افواج بھی افغانستان میں نہیں ٹک سکتی تھیں۔ اگرمحسود قوم کو پاک فوج کی طرف سے حوصلہ ملے تو امریکہ و دہشتگردوں کو کبھی وزیرستان میں پاؤں جمانے کا موقع نہ ملے۔ فوج نے یکے بعد دیگرے جو کھدڑی سیاسی قیادت پاکستان پر مسلط کی ہے اس کا فطرت میں کوئی جواز نہ تھا۔
وزیرستان میں طالبان کی وبا آنے سے قبل امریکہ کے آزاد شہریوں کی طرح انواع و اقسام کا اسلحہ موجود تھا، لیکن امریکہ میں جس طرح پے درپے روز روز دہشتگردیاں ہوتی ہیں وزیرستان اور قبائلی علاقہ جات میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کی ریاست کی ناک کے نیچے جس طرح کے جرائم پیشہ لوگ رہتے ہیں ان کا بھی قبائلی علاقہ جات میں کوئی تصور نہیں تھا۔ قبائل نے بلا معاوضہ ایک ایک انچ کی حفاظت کی ہے، عدالتوں اور پٹواریوں کے چکر میں جس طرح شہروں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں اور طاقتور لینڈ مافیا ظلم و جبر کی داستانیں رقم کررہی ہے اسکا کوئی تصور قبائلی علاقہ جات میں نہیں تھا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجر قوم کو ایک عرصے تک سیاسی نمائندگی مل گئی لیکن بجائے فائدہ اٹھانے کے الٹا یہ تصور اجاگر کیا گیا کہ حکیم سعید جیسی محسن انسانیت شخصیات کی جگہ دوسروں نے لے لی یا ہتھیالی ۔ پیر پگارا اور پیپلز پارٹی نے سندھ کی غریب عوام کی تقدیر کو نہیں بدلا۔ مسلم لیگ کے مختلف روپ نے پنجاب کی غیرت کو بھی بگاڑ کر رکھ دیا۔ بلوچستان کے بلوچ قوم پرستوں نے اپنی قوم کو باہر بیٹھ کر مشکلات میں ڈال دیا۔

پاکستان کا وجود اسلام کیلئے لیکن سازش کا جال

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri

جب دنیا میں برطانوی اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتا، برصغیر پاک وہند پر بھی انگریز کی حکومت تھی۔ روس بھی یورپ میں واقع ہے اور ایک دور میں روس کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے کہا کہ’’ ماسکو سے آذان کی آواز آئے گی‘‘۔ علامہ اقبال نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ابلیس کو خطرہ کمیونزم نہیں اسلام سے ہے ۔ ’’مزدوکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے‘‘۔ایک بڑے اعلیٰ سطح ابلیسی دماغ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: انھم یکیدون کیدا واکیدکیدا ’’ بیشک وہ اپنا منصوبہ بناتے ہیں اور میں اپنا منصوبہ تشکیل دیتا ہوں‘‘۔ برصغیر پاک وہند میں گانگریس سے پہلے خلافت کی بحالی کیلئے تحریک چلی تو ہندو اور مسلمان شانہ بشانہ تھے، پھر آزادی کیلئے گانکریس نے تحریک شروع کردی تو ہندوپیش پیش تھے اور مسلمان بھی شانہ بشانہ تھے۔
مولانا محمد علی جوہر کا اخبار کامریڈ ہو، یا مولانا ظفر علی خان کا اخبارزمیندار ہو، علامہ اقبال کی طرف سے فرشتوں کا گیت ہو’’ جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی ، اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘‘ یا قائد اعظم محمد علی جناح کی گانگریس سے سیاست کا آغاز ہو، یا مولانا حسرت موہانی جیسے مسلم کمیونسٹ ہوں، سب ہی کی ہمدرددیاں اورتعلق کپٹل ازم کے مخالف سیاسی نظام کے مالک روس سے تھیں انگریز نے ہندو مسلم اتحاد میں منافرت کا بیج بونے کیلئے مشرقی بنگال کو علیحدہ صوبہ بنادیا تو ہندوؤں نے اسکا برامنایا، اگر ہندو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے تو مسلمان ایک الگ جماعت مسلم لیگ نہ بناتے۔ انگریز کے وفادار سر آغا خان اور نواب وقارالملک نے 1906ء مسلم لیگ( مسلم تحفظ موومنٹ)کی بنیاد رکھ دی اور پھر یہی تحریک پاکستان اور تقسیم ہند کا فارمولہ بن گیا۔ ابلیس کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ جو برصغیرہندوپاک کے سیاسی زعماء اور علماء دنیا میں ابھرتی ہوئی دو سپر طاقتوں کے درمیان روس سے تعلق رکھتے ہیں وہ آپس میں تقسیم ہوں۔ ایک ٹولہ ایسا ہو جو اس برِ صغیر پاک وہند کو روس کے بلاک میں شامل ہونے سے روک لے۔
اگر اسوقت پاکستان ایک آزاد مملکت نہ بنتا تو برصغرپاک وہند پورے کا پورا روسی بلاک کا حصہ ہوتا۔ یوں امریکہ اور دائیں بازو میں شامل بلاک کیلئے ممکن نہ ہوتا کہ افغانستان کی سر زمین پر روس کو ایسی شکست دیتے کہ وہ سپرطاقت بننے کا خواب بھول کر سمٹنے پر مجبور ہوتا۔ جو اسلام اسلام اور جہاد جہاد کھیل رہے تھے ان کا نمائندہ پاکستان کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میونخ جرمنی میں برملا کہہ رہا ہے کہ’’ 40سال پہلے روس کیخلاف جہاد کے نام پر جو کچھ ہم نے بویاتھا، اسی کو کاٹ رہے ہیں‘‘۔یہی نہیں بلکہ شروع سے ابلیس کی منصوبہ بندی پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک پاکستان کاآغازاصل میں مشرقی پاکستان کے صوبہ بنگال سے ہوا تھا اور ہندوستان کی ان آبادیوں سے یہ آواز اٹھی تھی جہاں پر مسلمانوں کی اقلیت اور ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ اگربنگال پاکستان نہ بنتا تو بھی ابلیس کو فرق نہ پڑتا تھا اسلئے کہ مغربی پاکستان کی پٹی ہی برصغرپاک وہنداور روس کے درمیان اصل رکاوٹ تھی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بناتو روس کو امریکہ نے مغربی پاکستان کے ذریعے سے شکست سے دوچار کردیا ۔ ابلیس اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچنے میں بظاہر کامیاب نظر آتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو ہندوستان کے ذریعے تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہماری مدد روس کرے بھی تو کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلام کے نام پر قربانیاں دینے والے مجاہدین کو بھی پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں رہی ہے۔ پاکستان اپنے بال وپر کاٹ چکا ہے۔
ابلیس کی منصوبہ بندی پر ایک تفصیلی بحث ہوسکتی ہے لیکن کچھ ذکر اسکا بھی ہو، جو اللہ نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا،وہ پاکستان بننے سے پہلے وفات پاگئے ، وہ تفسیر’’ المقام المحمود‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ سندھ، بلوچستان، پنجاب، فرنٹےئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں، یہ سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ اس علاقے سے ہوگی۔ یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہے، اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلہ میں لے آئیں تو ہم اس خطے سے تب بھی دستبردار نہ ہونگے‘‘۔ سورہ القدر کے ضمن میں یہ تفسیر لکھ دی ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے آنے والے اردو اسپیکنگ مہاجر یہاں کے رولر کلاس تھے۔ قبائل نے مغل بادشاہ اکبر، راجہ رنجیت سنگھ اورانگریزکی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن جب پاکستان بن گیا تو قائداعظم کے حکم پر 1948ء میں کشمیر کے اندر بھی جہاد کیا اور مظفر نگر تک فتح کے جھنڈے بھی گاڑھ دئیے تھے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ایک بااختیار فوجی افسر کا اعزاز حاصل تھا اور اس کی ہندوانہ ذہنیت نے ہندوستان سے سازباز کرکے اقوام متحدہ کے بہانے قبائل کو کشمیر سے نکالنے کی چال چلی تھی۔
قبائل پاکستان کے بہت وفادار شہری ہیں۔ طالبان کی حمایت کرنیوالی تمام سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ سمجھا جاتا تھا۔ نوازشریف، شہباز شریف، جماعت اسلامی ، عمران خان وغیرہ وغیرہ کھل کر طالبان کی حمایت کرتے تھے اور قبائل سمجھتے تھے کہ طالبان کو پاکستان کی ریاست کی اشیرباد حاصل ہے۔ طالبان کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان قبائل اور خاص طور پر محسود قبائل نے اٹھایاہے لیکن محسود قبائل نے کبھی اُف تک نہیں کیا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ فوج کے سپاہی نے ایک محسود کو پکڑ کر کہا کہ سچ بتاؤ کہ تمہاری ہمدردی فوج کیساتھ ہے یاطالبان کیساتھ؟۔ محسود نے کہا کہ سچ بتاؤں گا تو آپ مجھے پیٹھ ڈالوگے، فوجی نے کہا کہ میرا وعدہ کہ بالکل بھی کچھ نہیں کہوں گا۔ محسود نے کہا : ’’صاحب! سچی بات پوچھتے ہو تو اس کا جواب سن لو۔ تم فوجی انبیاء کرام ہو اور طالبان صحابہ کرام ہیں، بس کافر ہم عوام ہیں، جن کو دونوں طرف سے مارپڑ رہی ہے‘‘۔
محسود دقوم میں تین قبیلے بہلول زئی، منزئی اور شمل خیل ہیں۔ بہلول زئی و منزئی بہادر، جرأتمند ، بے باک جبکہ شمن خیل سیاسی تصور ہوتے ہیں۔ طالبان میں بہلول زئی ومنزئی نے بڑا حصہ لیا جبکہ شمن خیل پیچھے رہے۔ طالبان کے عروج میں شمن خیلوں کو لدھا طلب کرکے کہاگیا کہ ’’تم محسود نہیں ہو، تمہارے اندر غیرت اور ایڈونچر کا جذبہ نہیں، سب نے طالبان میں اپنا حصہ ڈالا،اور تم پیچھے رہ گئے، تم پختون بھی نہیں ہو‘‘۔ ایک شمن خیل نے جواب دیا کہ’’ یہ تم غلط کہہ رہے ہو، ہم پختون بھی ہیں محسود بھی ہیں، غیرتمند اور جرأتمند بھی ہیں۔ البتہ ہمارے اندر کوئی چور نہیں ہے‘‘۔مقصد یہ تھا کہ طالبان چوروں کا ایک ٹولہ ہے۔

ختم نبوت کیخلاف سازش پر جسٹس شوکت صدیقی نے کیا کارنامہ انجام دیا؟ ارشاد نقوی

khatam-e-nabuwat-justice-shaukat-siddiqui-raja-zafar-ul-haq-ghq

نوشتۂ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سیدارشاد نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے کہا تھا کہ ختم نبوت کیلئے احتجاج کرنیوالوں نے GHQ کے سامنے دھرنا کیوں نہیں دیا؟۔ اگر سازش فوج کی طرف ہوتی تو ریمارکس ٹھیک ہوتے۔
کمیٹی کا سربراہ راجہ ظفر الحق کہے کہ بہت ہوشیاری سے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کیخلاف سازش ہوئی۔ اور اس کی رپورٹ بناکر نواز شریف کو دیدی مگر سوال فوج کے کردار پر اٹھایا جائے تو مناسب نہیں ہے۔
جسٹس شوکت صدیقی اگر صدیق اکبر حضرت ابوبکرؓ کی اولاد ہیں تو صداقت سے نواز شریف یا راجہ ظفر الحق کو طلب کرکے فوراً رپورٹ لیں اور ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا دے دیں تاکہ دوبارہ مسئلہ نہ اٹھے۔
ختم نبوت پر حقائق کو نظر اندازکیا گیا ، اگر اچھے ماحول میں ذمہ دار عناصر کے چہرے سے نقاب کھیچ لیا جائے تو عوام احتجاج نہ کریں مگر حکومت کو احساس نہیں۔
پارلیمنٹ میں 20ترامیم کا تعلق بھی عوامی مفاد کے خلاف تھا۔ 19ترامیم میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں کیلئے یہ ترامیم کی گئیں کہ الیکشن کے فارم سے ممبروں کے بارے میں تمام ضروری معلومات کا خاتمہ کردیا گیا۔عوام اور عدالت کو ان کی کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی ۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر مذہب کی وجہ سے شور ہوا تو باقی تمام جماعتوں نے اپنی بے خبری ظاہر کردی مگر اصل گھناؤنے جرم میں سب ہی شریک تھے۔ میڈیا میں پیپلزپارٹی کی رہنما سسی پلیجو نے حلف نامے کے حوالہ سے جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمداللہ کی قرارداد پر اختلافِ رائے کو بڑا کریڈٹ قرار دیا تھا،مگر اس کو یہ رنگ دیدیا تھا کہ غیرمسلم کس طرح قرآن پر حلف لیں گے؟۔ ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کی کوئی بات بھی ذکر نہیں کی گئی تھی۔
جب پارلیمنٹ ہی سازش کی آماجگاہ بن جائے اور عوام سے حقائق کو چھپایا جائے تو پھر کس پر اعتماد کیا جائے؟۔ ختم نبوت کا مسئلہ حل ہوگیا لیکن سازش کرنے والوں کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں دی جارہی ہے؟۔ اور سازش نہیں کی گئی تھی تو راجہ ظفر الحق نے جھوٹ بولا تھا؟۔ سچ ٹی وی کے نصرت مرزا صاحب کو بھی راجہ ظفر الحق نے فون پر ختم نبوت کیخلاف سازش کا انکشا ف کیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، اہلحدیث، اہل تشیع اور جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ختم نبوت کیخلاف سازش کو بے نقاب کریں اور خادم حسین رضوی اور پیر حمیدالدین سیالوی کو بھی ساتھ لیکر چلیں تو روز روز سازشوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے فرزند فاروق حیدر مودودی نے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھایا ، جماعت اسلامی کے ادنیٰ کارکن پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کا والد قادیانی تھا ،جنازہ پڑھانے والے کو اصل رشتہ داری کا پتہ ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن کا سورج مکھی رومال چڑھتے سورج کا پجاری ہے. فیروز چھیپا

moulana-fazl-ur-rehman-feroz-chhipa-ptcl-dmg-commissioner-sargodha-corruption

نوشتۂ دیوار ڈئریکٹر فنانس فیروز چھیپانے کہاہے کہ قصور مولانا فضل الرحمن کا نہیں اس پیلے رومال ہے جوسورج مکھی کی طرح اپنے سر پر لپیٹا ہواہے، دماغ کو گھیرا ہواہے اور اس کوہر چڑھتے سورج کا پجاری بنادیا ہے۔ اب مولانافضل الرحمن مہربانی کرکے اس مخصوص شناخت سے اپنی جان چھڑائیں ۔اب مولانا الیاس قادری جیسے تنگ نظر جماعت کے بانی نے بھی اپنی محدود شناخت کا قصہ ختم کردیاہے جو دوسروں کو اس شناخت کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے، یہاں تک کہ سنی تحریک کو بھی ہری پگڑی پہنے سے منع کردیا تھا۔ میڈیا نے عوام کے شعور میں بہت اضافہ کردیا اور علماء کو چاہیے کہ اپنے عقیدتمندوں کو باشعور بنائیں۔ سیاست اور فرقوں کی بہت خدمت ہوچکی ہے اب دین کی بھی خدمت ہو۔
علماء کرام ، مفتیانِ عظام،مذہبی جماعتوں اور مشائخ عظام کا امت پر بڑا احسان ہے۔ دین اسلام کی جو شکل وصورت محفوظ ہے یہ انہی حضرات کا کرشمہ ہے۔ عوام میں ان کی قدرومنزلت کابڑا مقام ہے۔اپنے مقام کا ان کو خیال رکھنا چاہیے۔ کردار کا ایک اثر ہے جس کی وجہ سے قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔
جب بیوروکریٹ احد چیمہ کونیب نے گرفتار کیا تو پنجاب میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیا نیب نے یہ پہلی مرتبہ کیا ہے؟۔ یا دوسرے صوبوں میں اس کا یہی معمول رہاہے؟۔ جو بلوچستان میں کروڑوں روپے بار بار دکھائے گئے تو احد چیمہ کی جائیداد کم گناہ ہے؟۔ باقاعدہ بینک ٹرانزکشن کیساتھ معاملہ تھا تو نیب کا ہاتھ ڈالنا قانون کی خلاف ورزی تھی؟۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ ہوتا رہاہے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت کچھ ہوا۔
مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام ف اورمتحدہ مجلس عمل کا امیر ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر کرپشن کے الزامات سے اس کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں اور اتحاد کیلئے یہ راہ ہموار ہورہی ہے لیکن بیوروکریٹ کی پکڑ پر پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھا؟۔ سوشل میڈیا پر معلومات ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا ایک بھائی سرگودا پنجاب کا کمشنر ہے جو PTCLمیں ملازم بھرتی ہوا تھا، یہ قصہ سامنے لایا جائے کہ ٹیلیفون کے محکمہ میں جو لوئر گریڈ کا ملازم تھا وہDMGگروپ میں کیسے چلا گیا؟۔ اس طرح دوسرے بااثر سیاستدانوں اور افسروں کے رشتہ داروں کی بھی کوئی فہرست ہے یا یہ پیلے رومال اور سورج مکھی کا کمال ہے؟۔ غریب باصلاحیت تعلیم یافتہ طبقے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ان بے ضمیر لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے ، میرٹ کیلئے اٹھنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن پرویز مشرف کے بلدیاتی انتخابات کو ہی ملک توڑنے کی سازش قرار دے رہا تھا، بائیکاٹ کے باوجود وہ الیکشن میں گروپ تشکیل دینے میں ملوث تھا۔ پھر اسکے ماموں کو ناظم کی حیثیت سے کھلے عام بڑی کرپشن پر پکڑا گیا اوراقتدار کا فائدہ اٹھاکر کیس کو ختم کروادیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن پہلے اپنی سیاست کو پیغمبروں کی امانت قرار دیتا تھا اور دوسروں کو فرعون کہا کرتا تھا مگر اب ہرحکومت کے ساتھ ہوتاہے اور قصور اسکانہیں بلکہ سورج مکھی جیسے رومال کی اسکے سر پر گرفت ہے۔ قرآن کی آیات میں پیغمبروں کے مقابلے میں جن ملاء القوم کا ذکر ہے ان سے مراد قوم کے سردار اور مذہبی مشیرملاء ہیں۔ جب تک یہ لوگ درست راستے پر نہیں آتے ہیں قوم کی تقدیر نہ بدلے گی۔
اگر سیاستدان کہے کہ بیوروکریسی نے ملک کو کھالیا تو ہم کھا جائیں، فوج کہے کہ سیاستدان نے کھالیا تو ہم کھا جائیں، اور علماء ومذہبی طبقہ کہے کہ دوسروں نے کھالیا تو ہم کھا جائیں پھر ملک کا بنے گا کیا؟، غریب عوام اور بے بس طبقہ کہاں جائیگا؟۔ ملک میں چوری ہے اور سینہ زوری ہے جو جتنا بڑا چور ہے اتناہی اس میں زور ہے۔ نوازشریف کہتاہے کہ مجھے چور کہا گیا تو کیا تم بھول گئے کہ صدر زرداری کو کیا کیا نہیں کہا جاتاتھا؟۔ ایوان کے مہمان خانے میں جاؤ اور پارلیمنٹ میں جو تقریر کی تھی اسی کو واضح کرو، کوئی چور نہ کہے گا، عدالت کا مقدمہ بھی ختم ہوجائیگا۔
مولانا فضل الرحمن ہی دلائل کیساتھ حقائق کے تناظر میں جیو ٹی وی چینل پر شاہ زیب خانزدہ یا طلعت حسین کیساتھ اعداد اور شمار کیساتھ واضح کردے۔ صحافت، سیاست کیساتھ ملائیت بھی مل جائے تو نوازشریف کی صفائی نہیں دی جاسکتی ہے۔