پوسٹ تلاش کریں

قاضی شریح کا بڑاکردار؟10مئی ماؤں کادن عورت مارچ شیما کرمانی

شیما کرمانی کو پولیس نے گرفتار چند گھنٹے بعد رہا کیا۔ کراچی پریس کلب میںسندھ حکومت کوذمہ دار قرار دیا جومائیں بچوں سے محروم کی گئیں اگر خواجہ سراؤں کی جگہ ان کو بلایا جاتا تو یہ نمائش نہیں تحریک کو سندھ اور پاکستان سے زبردست پذیرائی ملتی۔اصل ذمہ دار قاضی شریح تھا

قاضی شریح نبیۖ کی حیات میں مشہور تھا مگر آیا نہیں پھر حضرت عمر کے دور سے عبدالملک بن مروان تک عدالت میں اپنی موت80ھ سے ایک سال پہلے تک قاضی القضاة رہا۔

ساس اور بہو کے درمیان قاضی شریح کا ایک فیصلہ یہ ہے:
پہلے ساس اپنا مقدمہ اشعار میں پیش کرکے کہتی ہے کہ

أبا امیة أتیناک وانت المرء نأتیہ
أتاک ابنی واماہ و کلتانا نفدیہ
ثم تزوجت فھاتیہ و لایذہب بک التیہ
فلو کنت تأیمت لما نازعتکم فیہ
الا ایھا القاضی فھذہ قصتی فیہ
ابوامیہ! ہم تیرے پا س لائے ،آپ آدمی ہو ہم لاتے ہیں میرا لڑکا(پوتا) اور اسکی ماں تیرے پاس آئے ۔ ہم دونوں اس پر فداء ہیں۔ (بہوسے ) پھر جب تم نے دوسری شادی کرلی تو لڑکا مجھے دیدو۔ زبردستی مت کرو بیوہ ہوجانے کے بعد ،تم اس کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑا کرتی ہو۔(قاضی سے ) قاضی صاحب لڑکے کے بارے میں دونوں کا قصہ یہ ہے”۔

پھر بہو نے اپنا مقدمہ جواب میں یوں پیش کیا۔

یا ایھا القاضی قد قالت لک الجدہ
مقالًا فاستمع منی ولا تنظر فی ردہ
أعزی النفس عن ابنی وکبدی حملت کبدہ
فلما کان فی حجری یتیمًا ضائعًًا وحدہ
تزوجت رجاء الخیر من یکفینی فقدہ
ومن یکفل لی رفدہ ومن یظھر لی وحدہ
اے قاضی !دادی نے جو کہاوہ آپ نے سنا ،اب آپ مجھ سے سن لو،اسے ٹھکراؤ نہیں۔ میں تسلی دیتی ہوں دل کو اپنے بیٹے سے۔میں نے اسے ہمیشہ اپنے کلیجے سے لگائے رکھا پھر مجھے تنہائی کی وجہ سے یتیم کو ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔اسلئے میں نے اس کی بھلائی اور نگہداشت کی خاطر ایسے شخص سے شادی کی جو اس کو ضائع نہیں ہونے دے اور اس کی کفالت کرسکے”۔

قاضی شریح نے بھی نظم میں اس کا فیصلہ دیا۔

قد فھم القاضی ما قلتما وقضا ثم فصل
بقضاء بین بینکما وعلی القاضی جھدًا ان عقل
قال للجدہ بینی بالصبی وخذ ی ابنک من ذات العلل
انھا لو صبت کان لہاقبل دعواھا تبغیھا البدل
ترجمہ:” تم دونوں نے جو کہا ،قاضی نے وہ سمجھا اور دونوں میں ایک واضح فیصلہ کر دیا، اگر قاضی سمجھدار ہے تو اس پر کوشش کرنا فرض ہے پھر دادی سے کہا کہ لڑکے کو اس حیلہ ساز سے لیکر الگ ہوجا،اگروہ نکاح نہ کرتی تو پھربچہ اسکے پاس رہتا” ۔

پھول بچے چھن کر کلی کھلنے سے پہلے ماؤں کے گود اجڑ تے ہیں۔ ممتا اور بچے کے درمیان برزخ کا جہنم کھڑا کردیا جاتا ہے ان ساری معاشرتی محرومیوں کا گناہ قاضی شریح کے سر ہے۔ خطبۂ جمعہ: تم پر میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے۔ ابوبکر کی وفات پر علی نے بیوہ سے شادی کرلی اور چھوٹا بچہ محمد بن ابی بکر خاتون نے اپنے ساتھ رکھا اور علی نے پرورش کردی۔

قرآن نے غلام کا اسٹیٹس تبدیل کیا اور انسان کو اللہ کا عبد (غلام) قرار دیا، جانور کی سی ملکیت ختم کردی اور یہ واضح کیا:

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن ارادان یتم الرضاعة وعلی المولودلہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف لا تکلف نفس الا وسعھا لاتضار والدة بولدہا ولا مولود لہ بولدہ و علی الوارث مثل ذٰلک فان ارادافصالًا عن تراضٍ منھما و تشاورٍ فلا جناح علیھما و ان اردتم ان تسترضعوااولادکم فلا جناح علیکم اذا سلّمتم ما اتیتم بالمعروف واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیرO (سورہ البقرة:آیت:233)

ترجمہ:” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔یہ حکم اس کیلئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑے معروف طریقے سے بچے کے باپ پر فرض ہے۔ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔نہ ماں کو اسکے بچے کی بنیاد پر ضرر پہنچائی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب۔ اور ان کے وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوتا ہے۔ پھر اگر آپس کی مرضی سے دونوں اور مشاورت سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر اگر تم اپنی اولاد کو کسی رضائت کا دودھ پلانا چاہتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم معروف طریقے سے جو معاوضہ دینا چاہو وہ طے کرلو۔ اور اللہ سے ڈرو اور بیشک جان لو کہ جو تم کرتے ہو ،اللہ تمہیں دیکھتا ہے”۔

ابوامیہ قاضی شریح نے معاشرتی، عدالتی اوراخلاقیات کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ امت کو سامری کے سازو سوز کے پیچھے لگادیا۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO(سورہ البقرہ:آیت:228)

” اورطلاق والی عورتیں تین ادوارتک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔ اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہیں۔اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں معروف طریقے سے جیسا کہ ان پر ان کے شوہروں کے ہیں۔ مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غلبے والا بہت حکمت والا ہے”۔

آج پاکستان ، امریکہ، روس، چین، بھارت اور دنیا بھر کی عدالتوں کا قانون ہے کہ میاں بیوی میں جدائی کیلئے ایک مدت تک صلح و صفائی کا موقع دینا ضروری ہے لیکن قاضی شریح نے یہودیت اور جاہلیت کی کوکھ سے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے مذہبی اصطلاحات نکال کر قرآن و سنت کے بالکل منافی صلح کی گنجائش ختم کردی اور آج تک یہودکی طرح ہمارا معاشرتی نظام تباہ اور عورتیں حلالہ کے نام پر چدھ رہی ہیں۔اللہ معذور بچہ اور ذہنی مریض نہیں کہ ایک آیت میں کچھ دوسری میں کچھ بکے!۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیمتوھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاو لٰئک ھم الظالمونO(سورہ البقرہ:آیت:229)

ترجمہ: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لوجو کچھ بھی ان کو دیا ہے مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی گناہ نہیںہے عورت کی طرف سے وہ چیز فدا کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

آیت228البقرہ عدت کے تین ادوار اور معروف کی شرط پر صلح واضح ہے۔ اس آیت میں دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری میں معروف کی شرط یعنی دونوں کی رضامندی سے صلح کا فیصلہ ہوگا تو بھی ٹھیک ہے اور اگر جدائی کا فیصلہ کیا تو اس کی پوری تفصیل ہے ۔ جس میں عورت کے مالی حقوق کا تحفظ ہے ۔اور شوہر کی طرف دی ہوئی چیز واپس کرنے کا جواز اس وقت ہے کہ جب وہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے سمجھیں کہ دونوں حدود کو توڑ سکتے ہیں تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں ان دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو آیت230کا حکم ہے جس کا اطلاق بہر صورت ہوتا ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو لیکن اگر عورت رجوع پر راضی ہو تو معروف رجوع کی اجازت تو آیت231اور232البقرہ اور سورہ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے۔

قاضح شریح نے عورت کے حقوق کابیڑہ غرق کیا۔ پاکستان میں عائلی عدالت ایکٹ1964ء نافذ ہے۔ مگر پہلی بار جسٹس عائشہ ملک نے تاریخ ساز فیصلہ دیااور حلالہ کی لعنت کو خلاف قانون و خلاف شریعت قرار دیا۔ ہندوستان احمد آباد میں مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی زیر صدارت1972ء میں آل انڈیامسلم مجلس مشاروت کے زیر اہتمام سیمنار میں دیوبندی ، جماعت اسلامی ، بریلوی اور اہل حدیث کے علماء نے حلالہ کی لعنت ختم کرنے کیلئے مقالے پیش کئے۔ جو لاہور سے کتابی صورت میں شائع بھی ہے اور اس میں پیر کرم شاہ الازہری کا رسالہ دعوت فکر بھی شامل کیا گیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے بندہ قتل کیا۔ شادی کی، وحی ، معجزہ، خضر اورفرعون کا معاملہ دیکھا اور اعتدال آیا۔ غزالی علم کے بعد صوفی بنا اوراعتدال کھوبیٹھا۔ ابن تیمیہ فاطر العقل تھا۔شیخ الہندگنگوہی سے علم اور ناناتوی سے تصوف میں بیعت ہوتا تو یہ احساس نہ ہوتا کہ فرقہ پرستی اور قرآن سے دوری ہے۔ میں نے جوانی صحیح کھپائی ہے قرآن ، حدیث، فقہ ، اصول فقہ ، تصوف ، عربی میں:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن وا حصوا العدة و اتقواللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشةٍ مبینةٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بعروفٍ واشھدوا ذوی عدلٍ منکم واقیموا الشہادة للہ ذٰلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًاO

ترجمہ ” اے نبی! جب تم لوگ عورت کو طلاق دو تو پھر ان کی عدت تک کیلئے طلاق دو۔ اور عدت کو شمار کرکے پورا کرو۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور ان سے تجاوز مت کرو اور جس نے اس کی حدود سے تجاوز کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ آپ کو خبر نہیں کہ اللہ ان میں کوئی نئی بات پیدا کردے۔ پس جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی بنادو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کرو۔یہ تمہیں اس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔اور جو اللہ سے ڈرا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ بنادے گا”۔ (سورہ الطلاق )

رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ عدت کے اختتام پر رجوع کے بجائے معروف کیساتھ الگ کردیا ۔ دو عادل گواہ بھی بنادئیے۔ پھر دوسری عورت سے شادی کرلی۔ دوسری نے کہا کہ نامرد ہے جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ اس کے بچے کس قدر اسکے مشابہ ہیں؟۔ اور اس عورت کیلئے طلاق کا فیصلہ کیا۔پھر فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرلیتا؟۔ انہوں نے کہاکہ وہ تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اورسورہ طلاق کی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)

ابوداؤد کی اس حدیث میں سورہ طلاق کی ان آیات کی بہت بہترین تفسیر ہے۔ ابوداؤد اور بخاری دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل کے مسلک کو بھی قبول کیا تھا اور امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والاحکمران معتزلی تھا۔ پھر اس کے بعد والا بنوعباس کا حکمران معتزلی کے خلاف ہوا اور امام شافعی کے مسلک کو سرکاری سطح پر نافذ کردیا۔

اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب میں باب من اجاز الطلاق الثلاث میں اکٹھی تین طلاق کے مسئلے میں نہ صرف یہ کہ امام شافعی کے مسلک کو سپورٹ کیا ہے بلکہ مدعی سست گواہ چست اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے اور قرآن کی آیت بھی ایک معذور بچے اور عقل سے پیدل شخص کی طرح سیاق وسباق کے بالکل منافی نقل کردیا ہے۔

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے ایک ہی حدیث ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی اور اس کے علاوہ نہ کوئی آیت ہے اور نہ ہی کوئی حدیث ہے۔ محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری اور مفسر العصر علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری میں بالکل واضح ہے۔

سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں لعان کے بعد عویمر عجلانی کا تین طلاق دینا متوقع تھا اور اس کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق کو مباح، جائز اور سنت قرار دینا حنفی اور شافعی مسلک میں بنتا نہیں لیکن رافضیت کے فتویٰ سے بچنے کیلئے شاید امام شافعی نے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ کشمیری نے فیض الباری میں لکھا کہ شاید یہ طلاق بھی الگ الگ مرتبہ میں دی ہو ۔

جبکہ بخاری میں اکٹھی تین طلاق کے ضمن میں رفاعة القرظی کی بیوی والی روایت بخاری کی اپنی روایات کے خلاف ہے۔ اور اس میں اتنی جان نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فتویٰ دیا جائے کہ قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر جو گنجائش ہے وہ سب ختم ہوجاتی ہیں۔ بلکہ یہ شافعی مسلک کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی ہے اور جو عویمر عجلانی کے لعان والی روایت پوری اترتی ہے تو اس سے قرآن کی آیات پر بلڈوزر پھیرنا بہت بڑی حماقت ہے۔

جہاں تک حضرت عمر کی طرف تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے یا پھر حضرت علی کی طرف سے لفظ حرام پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے تو وہ قرآن کے عین مطابق ہے اسلئے کہ عورت طلاق یا طلاق کے کسی لفظ کے بعد رجوع پر راضی نہ ہو تو قرآن نے معروف کی شرط پر ہی شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو رجوع کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔ حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظ قرار دینا اور حضرت علی کے فیصلے کو طلاق بائن قرار دینا یہودیت کے نقش قدم پر چلنا ہے جو قاضی شریح جیسے لوگوں نے کردار ادا کیا اور آج تک امت مسلمہ اس کی سخت ترین سزا بھگت رہی ہے۔

جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر ایلاء سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمام ازواج مطہرات پر واضح کردو کہ اگر وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں تو ان کی مرضی ہے۔ یہ سارا واقعہ صحیح بخاری اور قرآن کی آیت میں موجود ہے تاکہ عورت کا ناراضگی کے بعد اختیار واضح ہوجائے۔ افسوس یہ ہے کہ طلاق کی آیات میں معروف اور اصلاح کی شرط کے باوجود بھی مذہبی طبقات نے قاضی شریح جیسے یہودیت کے پروردہ لوگوں کے بہکاوے میں عورت کا اختیار چھین لیا ہے جس سے قرآن کی ساری آیات کی بوٹیاں بن جاتی ہیں اور تضادات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حضرت عمر اور حضرت علی میں طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی تفریق ڈال کر بڑی باریک واردات کی ہے۔

قاضی شریح جیسے لوگوں نے اپنی شیطانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرکے حضرت عمر کے نام پر حضرت علی کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا کہ حضرت عمر کے موقف کو نہیں مانتا۔ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے۔ حالانکہ حضر ت عمر اور حضرت علی کے موقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔ شیعہ اس بنیاد پر قرآن سے ہٹ گئے کہ عورت کا اختیار بہت وضاحتوں پر بھی قبول نہیں کیا کہ یہ حضرت عمر کا مؤقف ہے اور سنی اسلئے قرآن سے دور ہوگئے کہ صلح کے باوجود بھی صلح کے منکر بن گئے ہیں۔

حجاج بن یوسف دجال نے سعید بن جبیر کی شہادت سے پہلے جو مکالمہ کیا ہے وہ دیکھ لیں۔95ھ میں شہید کردیا۔ جب99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹادی تو حضرت علی کے شاگرد حسن بصری نے سچ بول دیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی ، جو مسائل کا حل تھا۔ لیکن پھر یزید اور ہشام اقتدار میں آگئے تو معاملہ بگڑ گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولی رحمانی انسانیت کا ہیرو

ولی رحمانی عمر27سال ہے۔ اسٹینڈر کا سکول ہندوستان کے بنگالی مسلمان غریب بچوں کیلئے بنایا ہے۔جس میں700طلبہ وطالبات ہیں۔ ولی کامل کا سنا ہوگا تو مسلمان کامل کو اگر سننا ہے تو ارفع خانم خاکوانی کے چینل پر ولی رحمانی کو سن لیں۔ اقلیتی برادری مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیساتھ ہندو کیلئے بھی مثبت انسانی سوچ بہت ہی اعلیٰ درجے کمال کی بات ہے۔ ان کی باتیں پیرکامل کی طرح سن لیں ۔پھریہ سوچ ہندوستان ، پاکستان، افغانستان ، ایران، عرب، عالم اسلام ،عالم انسانیت میں پھیلائیں۔ ولی بھائی نے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی شکل میں جانور ہیں ۔ مسلمانوں کو قرآن وسنت اور غیر مسلموں کو قرآن کے بغیر اچھا انسان بنانا ضرورت ہے۔ غریبوں سے غریبوں کیلئے10دن میں10کروڑکا چندہ کیا۔ ٹرمپ، مودی اور غامدی میں جانور وںکی جھلکیاں نظرآتی ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سجدہ جائز ہوتا توخلافت کا حق ادا کرنے والی یہ ہندو عزت کی دیوی بنتی

سومیا نے انسانیت کیلئے جو کیا اگر یہی چیز مسلمانوں اور انسانوں میں آگئی توپھر زمین پر خدا کا کلام ،خدا کا نظام ہوگا

سومیا ہندو نے ایک مسلمان عورت کی عزت بچائی

ہنگامہ پھرBBCانٹرویو

سومیا چلاتے ہوئے:رات گھڑ اور یہاں پہ لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ شراب پی کے سوال پوچھ رہا ہے، ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہے۔
I m just asking who’re you to ask buddy you have no right.

سومیا:نہیں!تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟ یہاں آس پاس لڑکے لڑکیاں ہیں تم ان سے تو نہیں پوچھ رہے؟۔یہ لڑکا سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ مسلم ہے اور انکو جاننا ہے اس کی شناخت۔یہ یہاں کھڑے ہو کر بیئر پی رہا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو بیئر؟ اور یہ یہاں کھڑا ہے۔
شرابی آدمی:مجھے میرے حال پر رہنے دو۔ تمہیں مطلب کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ جب وہ برقعے میں ہے ناں…

سومیا:تمہارا کوئی حق نہیں!گور سٹی 2میں سب کر رہے ہیں یہ لوگ۔ ذات پات، مذہب ، یہ سب کر رہے ہیں یہاں پہ۔ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں اور یہ بندہ شراب پیتے ہوئے سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہیں اور اس کی جسارت دیکھو، بولا رہا ہے کہ ”میں تو بس پوچھ رہا ہوں”۔ تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟، ہاں، تم ایک مرد ہو۔ ٹھیک ہے۔ تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔

سومیا مسلم جوڑے سے:دونوں پرسکون رہو۔
سومیا شرابی سے:تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں حق کس نے دیا؟ کون سی حکومت، کون سا پولیس اسٹیشن تمہیں حق دے رہا ہے؟،تمہاری جپسی (پولیس گاڑی) کہاں ہے جو دو منٹ میں آ رہی تھی؟ کہاں ہے تمہاری جپسی؟ مجھے اپنی جپسی یہیں دکھا۔ کب آئے گی؟ جب کوئی حادثہ ہو جائے گا؟

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ ان کو ان کی اوقات دکھاتے ہیں، ہم دکھائیں گے۔
شرابی آدمی سومیا سے:میں تو پوچھوں گا نا میڈم، آپ کیوں پریشان ہو رہی ہو؟
سومیا:تم باقی لڑکیوں اور لڑکوں سے کیوں نہیں پوچھ رہے؟ میری بیوی وہاں کھڑی ہے… ارے بیوی بولو، گرل فرینڈ بولو، اس سے کیا مطلب ؟ اس سے اس شخص کوکیا مطلب ہے؟

سومیا:یہ پاگل آدمی بیئر پی رہا ہے اور دنگا کر رہا ہے، پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں پہ۔ پوچھ رہا ہے نام…ان کا نام مسکان ہے۔ اس نے بولا تمہارا نام تمہاری شکل سے لگ نہیں رہا۔شوہر کہتا ہے میں میاں بیوی ہونے کا ثبوت دوں گا۔

سومیا:میں سمجھ گئی۔ سمجھ میں آ رہا ہے۔ ثبوت کیوں دو گے؟ آپ ثبوت دے کر کمزور مت بنو۔ آپ کوئی بھی ہو، بھائی بہن یا کوئی بھی، اس سے نہیں ڈرنا ہے۔ ڈرنا نہیں ہے بالکل۔ ایسے لوگوں سے نہیں ڈرنا ہے۔ یہ ملک میں دنگا کراتے ہیں۔

سومیا شرابی آدمی سے:15منٹ ہو گئے…
شرابی آدمی:میں انہیں تب تک نہیں جانے دوں گا جب تک جپسی نہیں آ جاتی۔ سومیا: تم کون ہو؟ یہ ابھی میری آنکھوں کے سامنے جائیں گے میں دیکھتی ہوں کہ تم انکا کیا کر سکتے ہو۔

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ یہ دھمکی دے رہا ہے کہ آپ نہیں جا سکتے۔ آپ جاؤ۔ جاؤ۔ جاؤ۔ گاڑی نکالو اپنی۔ گاڑی نکالو اپنی۔ جاؤ اب گاڑی نکالو۔ چلو۔ اس کی مرمت کرتے ہیں۔ اس کو دھوئیں گے آج تو۔
سومیا:پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!تم کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!۔

سومیا:ذات پات، دھرم اور یہ سب کر رہے ہیں یہاں پر، لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ بیئر پیتے ہوئے کویسچن (سوال)پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعہ میں ہے۔ اور اس کی آڈیسٹی (جسارت)دیکھو! میں بس یہ پوچھ رہی ہوں کہ تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے؟ تمہارا کوئی حق نہیں۔تمہارا کوئی حق نہیں ، پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں کس نے حق دیا؟ کونسی گورنمنٹ نے رائٹ دیا ہے؟ کون سے کانسٹی ٹیوشن (آئین)نے رائٹ دیا ہے؟۔

BBCنے ہنگامے کی یہ ویڈیو چلانے کے بعد انٹرویو کیا

رپورٹر:بتائیں اصل میں16اپریل کی رات کو کیا ہوا تھا؟
سومیا:میں رات کے ساڑھے دس بجے کھانا کھانے نکلی تھی ۔ اپنے گھر کے سامنے مارکیٹ میں۔ مجھے دور سے ہی دکھا کہ کافی لوگ بھیڑ لگا کر کھڑے ہیں اور کچھ لڑائی سا ہو رکھا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی بھی تھی اور وہ چلا رہی تھی، تو میں نے چیکنگ کیلئے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک لیڈیزنے بتایا کہ اس لڑکی سے سوال کیا جا رہا ہے اس کی شناخت کا، اور اس نے وہ جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ کیوں پہن رکھے ہیں۔ پھر مجھے تھوڑی گڑبڑ تو لگی کہ کچھ تو ہے۔

پھر میں اس جوڑے کے پاس گئی کہ آپ کو کوئی دقت ہے؟ آپ ان کو جانتے ہو؟ یہ آپ کو کیا بول رہے ہیں؟ تو لڑکی نے بتایا کہ وہ میراIDکارڈ ، میرا ایڈریس مانگ رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟ اس نے حجاب پہن رکھا تھا پھر میں بنا سوچے سمجھے اس انسان کے پاس گئی اور بولا آپ کو کوئی پرابلم ہے؟ اس نے صاف صاف یہی بولا کہ مجھے کوئی پرابلم نہیں، مجھے بس جاننا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں ۔ یہ یہاں پر مطلب کیوں ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ ۔یہ مجھے بالکل صحیح نہیں لگا کیونکہ رات ساڑھے دس بجے کسی لڑکی کو کسی آدمی کے تھرو جاننا کہ وہ کیوں ہے وہاں پر۔

میں نے بولا آپ کون ہو؟ اس نے بتایا: پولیس والا۔ میں نے ان سے بیج ،آئی ڈی پروف مانگا، جو اس نے تھوڑی ایکٹنگ کی نکالنے کی ۔ انکے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جو وہ پی رہے تھے پھر کال لگایا اور بولا کہ جپسی لیکر آ، بولا جپسی دو منٹ میں آ رہی ہے۔ پھر بھی میں نے بولا کہ یہ کوئی پروٹوکول نہیں ہے، اگر کسی کو رات کے دس بجے روک رہے ہو، اسپیشلی لڑکیوں کو، تو آپ کے پاس لیڈی کانسٹیبل ہونی چاہیے لاء کے مطابق حق ہے۔ پھر تھوڑی میں چلائی، چیخ و پکار ہوئی، بات چیت ہوئی بہت لمبی، اس نے بالکل جانے سے منع کردیا، بول رہا ہے میں جانے نہیں دوں گا جب تک یہ لڑکی مجھے دکھاتی نہیں یہ کون ہے۔ جیسے ہی اسکے پتی اپنی گاڑی پر چابی لگاتے، وہ آدمی پیچھے سے آ کر بالکل گندے طریقے سے لڑکی کو ٹچ کرتا ہے اور اسکے پتی سے چابی نکال لیتا ہے اور بولتا ہے کہ جب تک یہ بتاتی نہیں کہ یہ کیوں پہن رکھا ہے نہیں جانے دوں گا۔

رپورٹر:تو آپ وہاں سے نکل سکتی تھیں مگر فیصلہ کیا وہاں رک کر ان کیلئے آواز اٹھائی، آپ کو لگا کہ آپ کو بولنا چاہیے؟۔
سومیا:اگر نکل جاتی یا دوسروں کی طرح چپ ہو کر دیکھتی تو میں بھی اس پرابلم کا حصہ بن جاتی، کیونکہ نہ بولنا ہمیشہ جواب ہی ہوتا ہے کہ تم اس چیز کے خلاف ہو۔ بہت ساری ویڈیوز دیکھی ہیں جہاں پر لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں، ہم بطور انسان سوچتے ہیں کہ کاش ہم ہوتے اس کی مدد کر پاتے۔ تو مجھے لگا کہ نہیں اگر کوئی نہیں کر رہا ہے تو میرا کرنا تو بنتا ہے، خاص کر کہ وہ ایک عورت تھی اور میں بطور عورت جانتی ہوں کہ کتنا حساس ہوتا ہے یہ ہمارے لیے یہ ماحول، رات کے ٹائم پہ اسپیشلی ہمارے دیش میں کہ ہم محفوظ نہیں ہیں۔ تو مجھے لگا ایک لڑکی کی مدد کرنا بہت ضروری تھا اور میں نے وہی کیا۔

رپورٹر:رات کا وقت تھا۔ وہ نشے میں تھا، تو آپ کو اس سب کے باوجود، عورت ہونے کے باوجود اپنی سیفٹی کیلئے ڈر نہیں لگا؟ اور آپ کو ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا کہ اگر کچھ ہو جائے گا تو؟۔
سومیا:بالکل ڈر تو لگا، اس ماحول میں اس کیلئے بھی ڈر لگا جتنا اپنے لیے لگا۔ لیکن جیسے ہی میں نے آواز اٹھائی کیونکہ میرا گھر آس پاس تھا تو میرے لیے زیادہ آسان تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوتا بھی ہے تو میں اپنے گھر والوں کو بلا سکوں گی، اپنے دوستوں کو بلا سکوں گی۔ لیکن وہ تھوڑی باہر کی تھی، وہ میرے علاقہ کی نہیں تھی، اس کیلئے مجھے زیادہ لگا کہ میں اس کی مدد کروں، اس کو اس ماحول سے نکال سکوں اور اس پرابلم سے نکال سکوں۔ ڈر تو ہر چیز میں لگتا ہے لیکن مددکرنا وہ بڑی چیز ہے جو کرنی چاہیے۔

رپورٹر:آپ کے آس پاس جو لوگ وہاں پہلے سے موجود تھے جب وہاں اتنا ہنگامہ ہو رہا تھا، انہوں نے کیا کیا؟۔
سومیا:سچ کہوں توپہلے جب میں نہیں گئی تھی تب تک مجھے کچھ ایسا پکچر دکھ رہا تھا کہ ایک آدمی کھڑا ہے، ایک جوڑا کھڑا ہے اور لوگ ایسے گول بنا کر کھڑے ہیں، کوئی پوچھ نہیں رہا تھا، بالکل اس طرح جیسے شو دیکھ رہے تھے لوگ کھڑے ہو کر۔ میرے پوچھنے پہ بھی جس سے میں نے پوچھا اس نے مجھے بہت ہنس کر بہت عام سا جواب دیا کہ ”اس نے حجاب پہن رکھا ہے اس لیے اس کو پریشان”… بہت عام سا جواب تھا، مجھے لگا بھی کہ یہ ہنس کیوں رہی ہے؟ تو لوگ بس تماشہ دیکھ رہے تھے جو زیادہ تر لوگ کرتے ہیں، تماشہ دیکھتے ہیں۔

رپورٹر:انہوں نے کہا کہ اس نے حجاب پہنا ہے اسلئے یہ سب ہو رہا ہے، وہ سن کر آپ کو کیسا محسوس ہوا؟۔
سومیا:بہت بیکار لگا کہ کوئی، مطلب ہیومن رائٹ ہے، آپ کچھ بھی پہن سکتے ہو، کہیں بھی جا سکتے ہو، کسی کیساتھ بھی جا سکتے ہو اور کسی کے کپڑے پہ اعتراض کرنا میرے خیال میںیہ شو کرتا ہے کہ وہ بندہ ڈیپلی کتنا پریشان ہے کسی چیز سے یا کسی کے کپڑے سے کتنا پریشان ہو رہا ہے۔ تو یہ تو بہت برا لگا اور سب سے بڑا پرابلم یہی تھا آئی گیس، اس کے کپڑے اس کیلئے پرابلم تھے کہ وہ ٹرگر ہو گیا کہ اسے سوال پوچھنا پڑ گیا۔

رپورٹر:آپ نے ویڈیو بنائی، وہ بنانے کے بعد کیا ہوا؟۔
سومیا:ویڈیومیں نے پوسٹ کیلئے تو نہیں بنایا تھا جیسا لوگ کمنٹ میں بول رہے ہیں۔ ویڈیو بنایا پولیس کیلئے کہ فور سیفٹی، تاکہ پولیس جان سکے اصل میں کیا ہوا تھا، جو لاسٹ میں ہوا۔ جب پولیس آئی تو جو بندہ پی رہا تھا اس نے پولیس کو بتایا کہ یہ پبلکلی کچھ غلط کام کر رہے تھے دونوں کپل، جو کہ نہیں تھا۔ ویڈیوز میں صاف صاف دکھ رہا تھا کہ کچھ ایسا نہیں تھا، اس کو آئی ڈی جاننی تھی۔

ویڈیو میں نے پوسٹ کی، شروع میں تو مجھے کافی زیادہ لوگوں نے بولا، تعریف کی کہ آپ نے اچھا کام کیا، مدد کی کسی کی۔ پھر تھوڑا ویڈیو وائرل ہو گیا، پھر مجھے ایک طرح کے لوگ ملے جو مجھے گالیاںدے رہے تھے، جنسی طور پر ہراساںکر رہے تھے آن لائن۔ میرے باڈی شیم کرنا، ایک عورت کیلئے یہ ہوتا ہے،عام ہے ہمارے دیش میں۔ گالی دینا، میرے مذہب پر سوال کرنا کہ کنورٹڈ ہے یا غلط الفاظ استعمال کرنا، گالی تو بہت پڑی۔ دھمکیاں بھی ملیں کہ میرے گھر تک آئیں گے، مجھے ریپ تھریٹس ملے ہیں، میرے دوستوں کو میسج گئے کہ سومیا کا ایڈریس دیدے تجھے پیسے ملیں گے۔ تو یہ بہت بڑا ہو گیا ہے یہ پرابلم اور جتنی تعریف ملی تھی وہ نیگیٹو کافی زیادہ بڑھ گیا کیونکہ لوگوں نے بہت گندے کام کیے۔ میری فیملی پکچرز پہ بھدے بھدے کمنٹس، میری ممی کے، میرے خود کے کریکٹر پہ سوال کرنا۔ مجھے لگاکسی کی ہیلپ میں نے کی، کسی کو ہراس ہونے سے بچایا تاکہ میں آگے چل کر خود ہراس ہوسکوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے۔

رپورٹر:آپ کو دھمکیاں اور ٹرولنگ بھی بہت زیادہ ہوئی ہے جو آپ نے مینشن کیا، پر اس کے ساتھ ساتھ سپورٹ ملا؟۔
سومیا:سپورٹ تو بہت اچھا ملا، کوئی شک نہیں مجھے90%سپورٹ ہی ہے نو ڈاؤٹ۔ لوگوں نے میسجز کر کے، کمنٹس کر کے، میرے اوپر ویڈیوز بنائے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب تمہیں ایسے گندی دھمکیاں آتی ہیں ریپ تھریٹس، مارنے کے، مرڈر کے، تو وہ ساری چیزیں پھیکی پڑ جاتی ہیں، سائیڈ پر ہوجاتی ہیں اور یہ ڈر لگنے لگتا ہے کہ اچانک سے ایسا کیا ہو گیا کہ لوگوں کو غلط لگ رہا ہے کہ میں نے کسی کی مدد کر دی۔

رپورٹر:اب جب ایسے حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ معاشرے میں کچھ امید باقی ہے یا پھر ایسے دھیرے دھیرے عام ہوتے جا رہے ہیں یہ حادثات؟۔
سومیا:جواب دینا مشکل ہے لیکن ہاں، اگر یہ انسیڈنٹ ہوا ہے، میں نے مدد کی تو میرے جیسے اور بھی لاکھ انسان ہوں گے جو آگے بڑھ کر مدد کریں گے۔ لیکن آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید بہت کم ہے اور جیسے یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں، ڈویژن چل رہے ہیں لوگوں کے بیچ میں، بہت کم امید ہے کہ ایسے ماحول میں لوگ آگے آ کر مدد کرتے ہیں، سو میں سے ایک ہی آتے ہیں مجھے لگتا ہے جہاں تک۔

رپورٹر:ان لوگوں کیلئے جو ایسے انسیڈنٹس سے گزرتے ہیں جن کیساتھ یہ ہوتا ہے، اور ایسے لوگوں کیلئے جو وہاں رہ کے اس کیخلاف آواز نہیں اٹھاتے، آپ کا کیا پیغام رہے گا ان کیلئے؟
سومیا:میرا یہی مؤقف ہے کہ ہمیں بطور انسان ہمیشہ انسانیت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کسی کی مدد یہ سوچ کر نہیں ہوکہ اسکی ذات اوردھرم کیا ہے، جس کو ضرورت ہے اس کی مدد کرنی چاہیے۔ انسانیت بہت اہم ہے جو ہمیں ہر حال میں باقی رکھنا ہے اور جو لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کیلئے یہی میسج ہے کہ مدد ، کیونکہ آج ہم کسی کی مدد کریں کل ہمارا کوئی مدد کرے گا ضرور، یہ تو لکھا ہے۔ تو بس یہی بولنا چاہوں گی کہ یہ سوچ کے مدد کر لو کہ کل تم پرابلم میں ہو گے تو تمہیں کوئی مدد کرنے آئے گا۔

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی پہلا شہیدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا۔ دورِ حاضر میں ہندو کی پہلی شہیدہ حضرت سومیا ،اللہ ان سے راضی ہو۔ یہ یاد رکھیں کہ اللہ کے راضی ہونے کی دعا جائز ہے اور شہید صرف مقتول نہیں بلکہ گواہ بھی شہید ۔مولانا فضل الرحمن غریدہ فاروقی اور عاصمہ شیرازی کو بھی حضرت کہتے ہیں تو سومیا نے کمال کیا۔

مکافات عمل کا دنیا میں سامنا کرنا پڑے یا موت کے بعد۔ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ہوگا کہ آپ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ جو اب کا آخر

وانت علی کل شی ئٍ شہیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیمO

”اور آپ ہر چیز پر گواہ ہو۔اگر انہیں عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور انہیں معاف کردے تو بیشک آپ زبردست حکمت والے ہو”۔

سورہ مائدہ کی یہ آیات شہید اور اللہ کے راضی ہونے کی دعا کا ثبوت ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام مشرکوں کیلئے نرم گوشہ رکھیں۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولًا ” اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک رسول مبعوث نہ کردیں”۔ ہندو کے ہاں رسول کی بعثت نہیں ہوئی۔ اسلام بھی مسخ صورت میں پہنچا ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ عورت جبری جنسی زیادتی کا نشانہ بنے تو تین گواہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے۔ حضرت آدم و یوسف کے سامنے فرشتوں اور انسانوں کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر قرآن میں ہے۔ اسلام نے ممنوع قرار دیا تو مسلمانوں کیلئے منع ہے۔ اکبر بادشاہ کیلئے تو علماء سو نے جائز قرار دیا تھا۔ خداکی خلافت نہیں عبادت تو جن اور فرشتے بھی کرتے ہیں ۔

خلافت اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری ہے۔ سومیا نے مسلمان لڑکی کو تحفظ دیا جس میں محمد بن قاسم کی طرح جھوٹ کا عنصر بھی نہیں۔ جہاں سجدے کی گنجائش ہو تو خدا کی یہ خلیفہ ہے جس کو سجدہ کیا جاتا تو قرآن کی روشنی میں لمبی تاریخ کے تناظر میں بنتا تھا۔ عقیدے کی آڑ میں شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ جیسے لوگ کسی اور کو عزت و احترام کے قابل نہ سمجھیں تو یہ بدکردار لوگوں کی مجبوری ہے۔عمران خان پاکپتن کی راہداری پر مرغا بنا تو اس سے زیادہ مستحق باضمیر لوگوں کیلئے ہندوستان کی زر خیز مٹی سے اگنے والی انسانیت کیلئے سومیا کی ہستی ہے۔

اگر ہندوستان اور دنیا بھر کے حکمران خود ظالم جابر نہ ہوتے تو اس لڑکی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بڑے اعزازسے نواز دیتے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے مظالم کی روک تھام میں انسانیت اور اس کی ذمہ داری خلافت الارض کو زندہ کرتے مگر مجبوری ہے۔ صدر تباہ کاری ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامز د کیا جائے لیکن ہندوستان کی عوام میں بڑھتے ہوئے مظالم کے سامنے انسانیت کی روح پھونکنے والی دیوی سومیا کیلئے دولفظ شاباش کے نہیں ہیں۔ سورہ فاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں اور اس میں یوم الدین کے مالک کا معنی مکافات عمل ہے۔

بڑی قیامت تو ضرور آئے گی لیکن پہلے دنیا میں چھوٹی بڑی قیامتیں برپا ہوں گی۔ عیسیٰ قیامت سے پہلے نازل ہوں تو قرآن میں لکھے یہ الفاظ ضرور اللہ کے سامنے دھرائیں گے۔ یہودی پیش گوئی میں یہ ہے کہ ” آنے والا خلیفہ مسلم یہودی ” کہلائے گا ۔ قرآن کی محکم آیات سے مسلمان ویہودی کو حلالہ سے چھٹکارا ملے گا۔ عمران خان کا بیٹا خلیفہ بن گیا تو یہود ماں کو اہم سمجھتے ہیں، اسلئے اسماعیل سے اسحاق کو قابل سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل ماؤں سے بہت پھیل گئے ہیں۔یہودی عیسیٰ و مریم سے تنگ دل نہ ہوں۔ ہماری نانی بھی محسود تھی جو بنی اسرائیل مشہور ہیں۔ایک بڑا پرامن انقلاب آئے گا۔ انشاء اللہ العزیز

سورہ الزمر میں روئے زمین پر قیامت سے پہلے جس بہت بڑے انقلاب اور چھوٹی قیامت برپا ہونے کا ذکر ہے اس کو ہندو اپنی روحانی استعداد کیمطابق اپنے حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل میں یہود ونصاریٰ کیلئے بڑی خوشخبری ہے کہ تم نے دو مرتبہ تکبر کیا اور دوسری مرتبہ میں ہوسکتا ہے کہ تم پر رحم کیا جائے ،اسلئے کہ اصل جزا وسزا تو اللہ نے دینی ہے اور خوشحالی لانیوالا انقلاب فتح مکہ کی طرح انتقامی نہ ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv