پوسٹ تلاش کریں

جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی! جب دو بیویاں آپ کی خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ وسعت اللہ خان

Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Wusatullah Khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Imran khan, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Pakistan Army, Pakistan Army, Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army,Pakistan Army, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI, PTI,

جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی! جب دو بیویاں آپ کی خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ وسعت اللہ خان

صحافی مطیع اللہ جان ایک زبردست اور اچھے صحافی ہیں لیکن مسلم لیگ کی جس طرح حمایت کرتے ہیں اور نوازشریف کو ذوالفقار علی بھٹو بنانے پر جس طرح سے ناجائز انداز میں تلے ہیں اسکا منہ بولتا ثبوت حسین نواز اور سلمان شہباز کیساتھ یاد گار تصویر ہے جس میں کیمرے کی آنکھ سے منہ چھپانے کی عجیب وغریب طرح کی بے ساختہ کوشش ہورہی ہے۔
وسعت اللہ خان صاحب وزیر اعظم عمران خان سے متعلق مطیع اللہ جان کے ساتھ MJTV

test

سوال: وزیر اعظم عمران خان بطور وزیر اعظم ، بطور سیاستدان اس وقت کس قسم کی ذہنی صورتحال سے دوچار ہوں گے ؟۔
جواب: اس سے پہلے میں آپ کو بتادوں جب بی بی Wusatullah Khan شہید تھیں اس زمانے میں پھر نواز شریف وزیر اعظم بنے پھر عمران خان وزیر اعظم بنے تو کسی سے کسی نے کہا کہ تینوں وزرائے اعظم کو ایک لائن میں ڈسکرائب کریں۔ تو انہوں نے کہا کہ بی بی جو ہیں وہ سمجھتی تھیں لیکن سنتی نہیں تھیں۔ نواز شریف سنتا تھا سمجھتا نہیں تھا، یہ بھائی صاحب جو ہیں ان کا ایک ایڈوائزر ہے۔ اور اس ایڈوائزر سے یہ روزانہ صبح میں ملتے ہیں جب یہ شیشے کے سامنے بال بنانے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ جو کہتا ہے سارا دن اسی پر عمل کرتے ہیں۔

test

ہمارے وزرائے اعظم کے کرائسس کی جڑ یہ نہیں کہ اتحادی الگ ہوگئے یا اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ رکھ دیا ہے یا اٹھالیا ۔ ان کا جو( span of attention)ہے کسی بھی معاملے میں وہ مجھے لگتا ہے کہ پانچ دس سال کا جو بچہ ہے اسکے برابر ہے۔ مثلاً اگر کوئی میٹنگ ہورہی ہے فرض کریں تو پرائم منسٹر کا کام یہ ہے وہ ایک ایک چیز دھیان سے سنے اسلئے کہ بالآخر اسکے سائن یا اس کی حتمی رائے سے پالیسی بنے گی یا فیصلہ ہوگا یا معاہدہ ہوگا۔ یہاں یہ ہوتا ہے کہ جو انہوں نے پیلی روشنائی سے حاشئے کھینچ دیے وہ پڑھا۔

آخری پرائم منسٹر جسکے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ جو اخبار پڑھتا تھا اور اس کی نیند ہی تین چار گھنٹے کی تھی وہ تھا ذو الفقار علی بھٹو۔ آخری پرائم منسٹر جو ڈائریکٹ Wusatullah Khan عوام میں جاتا تھا نورا کچہریاں نہیں لگاتا تھا،اوریجنل کھلی کچہری لگاتا تاکہ یہ جو ایڈوائزروں کا آسیبی گھیرا ہے اس. سے ہٹ کر بھی عوام کی بات سننے کی کوشش کرے وہ تھا ذو الفقار علی بھٹو۔ لیکن وہ روایتیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔ گھیرا غیر محسوس طریقے پر تنگ ہوتا رہتا ہے۔ اس فضاء میں عمران خان کچھ نہیں آئن اسٹائن بھی بیٹھا ہو تو اس کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آئیگا۔ یہ گھیرا آدمی کا گلا گھونٹ کر اس کی سیاست کو مار ڈالتا ہے ۔

test

سوال: آسیبی گھیرے سے بھی بڑے بڑے آسیب اور جن ہیں ، تو آپ نہیں سمجھتے کہ آج کل وہ جن نیوٹرل ہوگئے ہیں؟۔
جواب: یہ بات سننے میں آتی ہے کہ وہ. نیوٹرل ہوگئے ہیں یا پہلے انہوں نے سسٹم کو نیوٹرالائز کیا ہوا تھا اور ایک لفظ ہوتا ہے نیوٹل وہ بھی ہے۔ سیاستدان پر کسی طرح کی. مصیبت اور پریشر آسکتا ہے۔ گھمبیر مسئلے میں پھنس سکتا ہے۔ اس کا امتحان ہی تب ہے جب سارے پریشرز ہیں. اوپر نیچے دائیں بائیں ، نارتھ ساؤتھ سب سے۔ اس میں اپنا کام جتنا کرسکتا ہے کرکے دکھادے۔

test

اگر سارا کچھ پلیٹ میں رکھ کر دینا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی نیوٹرل ہوجائے اپوزیشن فاصلے پر رہے ایڈوائزر بھی اسکے ذہین ہوں تو پھر بھائی صاحب جس ویٹر نے یہ چکن تکہ ابھی Wusatullah Khan پیش کیا ہے وہ بھی بہت اچھا پرائم منسٹر بن سکتا ہے۔ پھر آپ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ لے کر چلنا چاہ رہے ہیں مثلاً کسی نے کہا کہ میں اس کو ایک نیا پاکستان بنانا چاہ رہا ہوں۔

یہ پچھلے75سالوں میں تیسرا نیا .پاکستان بن رہا ہے۔ تو اس کیلئے آپ کے پاس کوئی بلیو پرنٹ ہے یا ایڈوائزر نہیں ہے ، وہ جو کہتے ہیں نا کہ عمران خان تو چنگا ہے یا. نواز شریف تے چنگا سی، ہر ایڈوائزر تو چنگا نئی ساں … تا یا ر ان کو ایڈوائزر کس نے رکھا؟ ان کو قریب کس نے آنے دیا؟۔یا وہ خود بخود Wusatullah Khan آگئے .تو یہ جو بہانے ہوتے ہیں ۔ شوق بہت ہوتا ہے بچپن سے مثلاً مجھے بھی شوق ہے کہ میں اس ملک کا پرائم منسٹر بنوں لیکن پھر؟ اچھا. میں بیٹھ گیا کرسی پر آگے؟ تو یہ جو تیاریاں ہوتی ہیں یہ اگر نا ہوں اور آپ بیساکھیوں کے محتاج ہوں ، آپ الیکٹیبلز کے محتاج ہوں۔ آپ کسی مامے کی انگلی پکڑنے کے بقیہ صفحہ 3نمبر 1

test

بقیہ … وسعت اللہ خان
عادی ہوں ، آپ ہر وقت یہی دیکھتے رہے ہیں کہ قالین ابھی آپ کے پاؤں کے نیچے ہے یا نہیں؟ اور آپ کی دو آنکھیں تو سامنے دیکھ رہی ہوں اور ایک آنکھ آپ کو. پیچھے Wusatullah Khan بھی چاہیے ہو کہ پشت سے تو کوئی وار نہیں کررہا ہے۔ تو ساڑھے تین چار یا پانچ سال جو آپ کے ہیں وہ تو اسی میں گزر جائیں گے نا۔ اسی میں اپنے آپ کو بچاتے ہوئے کہ کھاؤں کدھر کی چوٹ، بچاؤں کدھر کی چوٹ میں اگر گزر گئے پھر تو آپ گزر. گئے۔ تو ہمارے ساتھ یہی ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ اس ملک کے75سال میں چوتھا سال بڑا منحوس ہوتا ہے۔

اول تو اس ملک میں تین مہینے کے بھی Wusatullah Khan وزیر اعظم رہے ہیں۔ ساڑھے تین سال اور پونے چار سال کے بھی۔ چوتھے سے پانچویں میں جمپ نہیں لگاپایاآج تک ذوالفقار علی Wusatullah Khan بھٹو سمیت۔ تو یہ چوتھے سال کی نحوست ہے یہ کیسے پیدا ہوتی ہے یا تو وہ اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنا شروع کردیتا ہے ۔ یا اسے یاد نہیں. رہتا ہے کہ اصل میں وہ ایک کمپنی کے سی ای او کے طور پرمنتخب کیا گیا ہے جسکا مالک کوئی اور ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ. جتنی پاور مالک کے پاس ہے سی ای او کے پاس اتنی ہونی چاہیے۔ یا اس کرسی میں نحوست ہے کہ چوتھے سال وہ اس کیلئے اجنبی ہوجاتی ہے۔ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ چوتھا سال پاکستان میں کراس کیوں نہیں ہوسکتاہے؟۔

Wusatullah Khan

سوال: یہ شخص جیسا تھا وہ ہوگا اسکے بعد Wusatullah Khan کی جو قیادت ہے اس کو آپ کیسے دیکھ رہے ہیں؟۔ اور اس وقت جو اپوزیشن کا کردار ہے، شہباز شریف صاحب قومی حکومت کی. بات کررہے ہیں۔ اور بلاول بھٹو کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کا ہوگا۔ تو کیسے دیکھ رہے ہیں اپوزیشن کے کردار کو تمام معاملات میں؟۔


جواب: پرانی60،70کی دہائی کی انڈین. فلمیں دیکھی ہیں؟ جس میں ایک مل کا مالک ہوتا تھا اور ایک مزدور لیڈر ہوتا تھا اور ایک پاکٹ یونین بھی ہوتی تھی۔ اب تو یونین .نہیں تو پاکٹ یونین بھی نہیں۔ ایک تو مجھے وہ سلسلہ یاد آتا ہے ، دوسرا یہ جھگڑا اس وقت سیاسی جھگڑا نہیں میرے حساب سے۔ جھگڑا یہ ہے کہ سرکار عالی ! جب دو بیویاں آپ کی اچھی طرح سے خدمت کررہی تھیں تو پھر تیسری بیوی لانے کی کیا ضرورت. تھی؟۔ چھوٹی بیگم لانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ ہم کیا مرگئے؟ ہم سے ایسی کیا غلطی ہوگئی۔ تو ڈیموکریسی بچانے کایا جمہوریت مضبوط کرنے کا، یا پارٹی سسٹم یا الیکٹرال ریفارم ،یہ ہیں مارکیٹنگ کی چالیں۔

اصل جھگڑا یہ ہے کہ اسی مرگئی سی، ہم Wusatullah Khan تھے نا۔ تو یہ کیوں لے آئے ؟ اور اب کسی حد تک ان کی یہ بات شاید صحیح لگ رہی ہے جو حالات ہیں اس میں کہ یار یہ دو .جو ہیں ان کو پتہ تھا اچھے برے کا۔ تیسری شوق میں شادی کرتو لی گئی لیکن یہ چل نہیں پارہی۔ تو دوبارہ ظاہر ہے ان بیویوں سے رجوع کیا جائے گا۔

test

مطیع اللہ جان: لیکن یہ بالکل وہی بیویویاں ہیں بھی یا نہیں؟۔
وسعت اللہ خان: میاں بھی تو وہ نہیں ۔ کبھی کبھی Wusatullah Khan اس پس منظر میں میں دیکھتا ہوں سیاست میرے ذہن سے مائنس ہوجاتی ہے کہ یہ ایک طرح کا گھریلو قسم کا. جھگڑا ہے۔ اس میں ووٹر کہیں دور دور تک نہیں۔ عام آدمی کہیں دور دور تک نہیں۔ مہنگائی کسی بھی زمانے میں منتخب Wusatullah Khan حکومت. ہو یا غیر منتخب ایشو رہا ہی نہیں۔ اصل ایشو یہ ہے کہ جو طاقت موجود ہے اس کو ہر قیمت پر چاہے اس کیلئے لیٹنا بھی پڑے چنڈ مار کے پیری بیپیڑاں پوے۔

Wusatullah Khan

ہمارے ہاں باسی کڑی میں کبھی. کبھی اُبال آتا ہے۔ اچانک سے ایک لیڈر جسکے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے اچانک سے لگتا ہے یہ. تو لینن اور ماؤزے تنگ کے لیول پر جانے کی کوشش کررہاہے۔ دو منٹ کا انقلابی ہوتا ہے وہ۔ تیسرے منٹ میں. وہ پھر سیٹ ہوجاتا ہے لیکن اب ہم اسے دیکھ دیکھ کر اتنے اکتاچکے کہ اسکی ریٹنگ بھی نہیں آرہی۔

Wusatullah Khan

سوال: آپ کہتے ہیں کہ یہ ووٹروں. کا معاملہ Wusatullah Khan نہیں،یہ سارا گھریلو ازدواجی قسم کا جھگڑا ہے طاقتوروں کے درمیان تو پھر ہم جیسے دانشور جو ضمانتوں کے چکر میں اندر ہوگئے کیلئے کیا حکم ہے؟۔
جواب: یہ تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ. دانشور ہیں۔ باقی لوگ کیا آپ کو دانشور یا صحافی سمجھتے ہیں؟۔….. آپ یہ سمجھتے ہیں وزیر اعظموں کی طرح کہ یار ہمارے. پاس بھی Wusatullah Khan کوئی طاقت ہے۔ بلکہ بنیادی طور پر انکے اصل کاروبار کی شیلڈ ہیں آپ۔ وہ آپ کو سامنے رکھ کر جو انکے اوریجنل کاروبار. ہیں اوریجنل سودے بازی ہے اور اوریجنل انہیں جو اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ہے مزید سودے بازی کیلئے کہ Wusatullah Khan سانو وی پچھاڑن لیا جائے یہ بنیادی سلسلہ ہوتا ہے میڈیا کا۔ اور میڈیا اب کوئی ایشو نہیں ۔

میڈیا اب ایک فیکٹری کی طرح. ہے Wusatullah Khan جس میں نپے تلے سانچے انہوں نے بنادیے ہیں۔ اور انہی سانچوں میں وہی را مٹیریل ڈلے گا جو ڈلنا ہے۔ اس کی مکسنگ وہی ہوگی .جو ہونی ہے۔ اسکے ڈبے پر وہی لکھا جائیگا جو لکھا جائیگا۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ انڈیا میں ہوتا ہے یا نہیں Wusatullah Khan حالانکہ انڈیا کا حال. میڈیا کے حساب سے ہم سے بھی بہت برا ہے۔ لیکن اب تو مجھے حیرانی ہوئی کہ ٹکر بھی Wusatullah Khan امپورٹنٹ ہے کہ ایک ایشو پر بارہ چینلوں پر ایک. طرح کا ٹکر چل رہا ہے تو میں چونک گیا۔ خود کو صحافی سمجھنا چھوڑ دیں ۔ فیکٹری ہے اس میں 9سے 5 تک نوکری کرنی ہے ایک مشین پر کھڑ ا ہوکر صابن پر مہر لگانی ہے اور اس کی پیکنگ کرنی ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: جو کہا جارہا .ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، بڑی معروف یونیورسٹی ”لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز”LUMSوہاں پر سات گھنٹے نیوٹریلیٹی پر ایک کورس. کروایا ہے نوجوان نسل کو۔ اس کورس کے جو لیڈ کنسلٹنٹ تھے ہماری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، تو اس کورس کا کیا فیوچر ہے؟۔

Wusatullah Khan


جواب: جب تبصرہ کرسکتا ہوں کہ Wusatullah Khan سات گھنٹے میں کیا کیا باتیں ہوئیں ؟، کیا سوال جواب ہوئے؟ ، کیا انہوں نے بریفنگ دی؟ ، اور اس کا ان پٹ اور آؤٹ پٹ کیا ہے؟ ۔ وہ ابھی. تک ہمارے سامنے نہیں، صرف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ہے۔ لیکن میں اس ٹرینڈ کو اچھا سمجھتا Wusatullah Khan ہوں۔ کیونکہ جو ریاست کے انتہائی. ذمہ دار لوگ ہیں جنکے پاس وہ انفارمیشن ہے جو ہمارے پاس ممکن ہی نہیں کہ ہو اور ان میں دو یا تین فیصد بھی شیئر کرتے ہیں. تو میرے حساب سے بڑی بات ہے۔ یونیورسٹیاں بنیادی طور پر کالج اور Wusatullah Khan اسکول سے مختلف ہوتی ہیں کالج اور اسکول میں منظور شدہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں علم سازی ہوتی ہے۔

کھلا پن ہوتا ہے بحث ہوتی. ہے کریٹی ویٹی Wusatullah Khan کا راج ہوتا ہے۔ تھیوریز ضائع بھی ہوتی ہیں اور نئی تھیوریز بھی بنتی ہیں۔ آئیڈئل یونیورسٹی کی میں بات کررہا .ہوں اور اس میں آپ یہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی آکر طلباء سے گفتگو کرسکے تو پھر ایسا ہی کریں کہ کوئی Wusatullah Khan .بھی آکر گفتگو کرسکے۔ جنرل صاحب موسٹ ویلکم، عمران خان موسٹ ویلکم، لیکن اگر ماما قدیر کو بھی طلباء Wusatullah Khan سننا چاہیں تو اسے. بھی اتنا ہی موقع ملنا چاہیے اور کسی نیشنلسٹ کو بھی اتنا ہی موقع ملنا چاہیے اور کوئی سیاستدان جو باہر ہے یا اندر ہے لیکن وہ. کوئی اسکالرلی کام کررہا ہے یا ملک کیلئے کنٹری بیوٹ کررہا ہے تو اس کو بھی اتنا موقع ملنا چاہیے۔ اس میں پھر ہر ایک کو ویلکم کرنا چاہیے۔……

test

سوال: بچوں سے سنا جارہا ہے. اور میڈیا سے رپورٹ ہوا ہے کہ فلٹریشن ہوئی ہے باقاعدہ سیکورٹی کلیئرنس ہوئی ہے اور مخصوص بچوں کو صرف لیکچر اٹینڈ کرنے. کا موقع Wusatullah Khan دیا گیا۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے؟ اور اس کی تردید نہیں ہوئی اب تک۔
جواب: کیا پہلے فوج. کے سربراہ گئے کسی یونیورسٹی میں؟ انہوں نے وقت گزارہ ہے اس طرح سے کیا آپ کے علم میں ہے؟۔(NUSTمیں جاتے رہتے ہیں: مطیع اللہ جان) نہیںNUSTتو ان کا اپنا ادارہ ہے نا: وسعت. اللہ خان۔ (لیکن ہر یونیورسٹی میں Wusatullah Khan تو نہیں جاسکتے: مطیع اللہ جان)۔ لیکن اگر یہ کسی نئے ٹرینڈ کا نکتہ آغاز ہے تو اچھا ہے۔

شروع میں ظاہر ہے. کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے فلٹریشن بھی ہوئی ہوگی ۔ سب کچھ ہوا ہوگالیکن اب میں امید کروں گا کہ جنرل صاحب کراچی. یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، خیرپور Wusatullah Khan یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی بھی جائیں ۔ اور نہ صرف خود جائیں بلکہ باقی جو لوگ ہیں. انہیں بھی Wusatullah Khan اجازت ہو کہ یونیورسٹی جس کو چاہے مدعو کرسکے تاکہ طلباء کو ہر طرف کا شعور یا ہر طرف کا مؤقف مل سکے۔ جب ان. کی تجزیہ کرنے کی استعداد بڑھے گی تب کوئی نئی ایسی چیز کھل کر Wusatullah Khan سامنے آئیگی جو ہمارے لئے بھی اور ملک کیلئے بھی فائدہ مند ہو۔ اگر یہ معاملہselectiveہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Wusatullah Khan

سوال: عدم اعتماد کی تحریک سے. پہلے بہت کچھ ہوچکا ہے اسلام آباد میں۔ عمران خان اور انکے وزراء کہہ رہے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک میں انکے منحرف اراکین. کووٹنگ Wusatullah Khan کو اجازت نہیں دی جائے گی یا ان کا ووٹ کاؤنٹ نہیں کیا جائے گا۔ یا پھر سپریم کورٹ سے پوچھا جارہا ہے کہ ان Wusatullah Khan کی .نا اہلی تا حیات ہوگی یا ایک دفعہ کی ہوگی؟۔ اس صورتحال میں اگر آپ ایک وزیر اعظم ہوتے یا ایک سیاستدان ہوتے تو آپ کیا کرتے؟۔


جواب: پہلی بات یہ ہے کہ میں. پان کھاتا، اسلئے کہ پان کھانے سے منہ بند رہتا ہے۔ دوسری بات میں یہ کہتا کہ میری پوری کابینہ ترجمان نہیں ۔ کابینہ میں. فلاں کی بات Wusatullah Khan ترجمان کے طور پر تسلیم کی جائے۔ تیسری بات میں یہ کرتا کہ ضروری نہیں کہ میں جس عہدے پر بیٹھا ہوں Wusatullah Khan تو میں .قانون دان بھی ہوں۔ یہ جن کا کام ہے انہیں ہی کرنا چاہیے۔ آپ کے پاس پوری لاء منسٹری ہے۔ پورا نیشنل اسمبلی کا سیکریٹیریٹ ہے۔ الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتیں ہیں۔

Wusatullah Khan

جو مسئلہ ہے متعلقہ ادارے کو بلا کر کہیں Wusatullah Khan کہ یہ جو شقیں ہیں آئین کی ان کا کیا مطلب ہے؟۔ اور یہ کس طرح لاگو ہوتی ہیں۔ جب وہ بریفنگ دیدیں Wusatullah Khan جو ٹیکنکل. اور پروفیشنل بریفنگ ہو اسکے بعد آپ اپنا منہ کھولیں۔ اور آپ کی جو بھی خواہش ہے بیان کرسکتے ہیں۔ یہاں ہوتا یہ ہے کہ پہلے آپ. نظریہ اضافیت پیش کردیتے ہیں اور اسکے بعد آپ کہتے ہیں کہ چونکہ میں نے یہ با ت کہہ دی ہے Wusatullah Khan لہٰذا اس کی وجہ سے یہ جو متعلقہ. شقیں ہیں ان کو سیدھا یا الٹا کیا جائے۔ اس طرح کام نہیں چلتا۔ مثلاً میں جتنا بھی طاقتور ہوں آج کی دنیا میں مگر آئین کو میں اپنی مرضی سے توڑ مروڑ تو نہیں کرسکتا۔

میری خواہش تو ہے کہ Wusatullah Khan میں بارہ صفحے. کی کتاب کہہ کر اسے پھاڑ دوں لیکن ایسا کر نہیں سکتا۔ اچھا جب میں کر نہیں سکتا تو متعلقہ Wusatullah Khan لوگوں سے پوچھ لوں کہ اس ایشو .پر آپ کی ٹیکنیکل رائے کیا ہے؟ اور پھر اس رائے کے حساب سے آپ عوام سے مخاطب Wusatullah Khan ہوں اور اپنے خیالات کو واضح کریں۔ اس وجہ .سے اس طرح کی فالتو کی الجھنیں ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن بھی بھڑکتی ہے خود حکمران پارٹی بھی کنفیوژ ہوتی ہے۔ اور تماشائی دم سادھے کھڑے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: آپ کے خیال میں27مارچ کو کیا ہونے والا ہے؟۔
جواب: مجھے نہیں معلوم۔ مجھے. لگتا ہے Wusatullah Khan اور شاید یہ میری خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ عین وقت پر یہ اجتماعات واپس ہوجائیں۔ کوئی راستہ نکل آئے، عدالت. ، اسٹیبلشمنٹ، بیچ کے لوگوں کی مدد سے، ورنہ تو شاید نابینا بھی جانتا ہے کہ کیا ہوسکتا ہے۔ تو میرا نہیں خیال کہ Wusatullah Khan اگر ایک بھی .عاقل آدمی موجود ہے خصوصاً حکومتی کیمپ میں وہ یہ چاہے گا کہ اس طرح کی نوبت آئے۔ اس Wusatullah Khan طرح کی نوبت آنے کا مطلب یہ ہے. کہ ساری کرسیاں الٹیں گی ، میزیں الٹ جائیں گی اور اسکے بعد آپ پھر روتے پھریں۔ پہلے اپنے سر پر آپ ڈنڈا مارتے ہیں اور پھر آپ. چیختے ہوئے گھومتے ہیں کہ یار میرے سر پر یہ گومڑا کس ڈنڈے سے نکلا ہے۔ حالانکہ ڈنڈا آپ نے ہی چلانے کی کوشش کی ہے۔

test

سوال: شیخ رشید کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے؟
جواب: شیخ رشید اپنی Wusatullah Khan باتوں کو خود سنجیدگی سے نہیں لیتے توہم کون ہوتے ہیں ان کی باتوں پر تبصرہ کرنے والے۔

سوال: یہ جو .ممبران نے پارٹی کی وفاداریاں تبدیل کی ہیں تو ان کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟۔
جواب: یہ کوئی نئی بات ہے کیا؟ Wusatullah Khan حیرت. کیوں ہے ؟ کیا پاکستان میں پہلی بار ایسا ہوا ۔ کیا50کی دہائی میں ایسٹ پاکستان میں وفاداریاں. تبدیل نہیں ہوئی تھیں۔کیا ری پبلکن پارٹی مسلم لیگ کے پیٹ سے نہیں نکلی تھی۔

test

کیا کنونشن مسلم لیگ نہیں Wusatullah Khan بنی تھی .اور اس میں کون کون لوگ آگئے تھے۔ پھر جب کنونشن مسلم لیگ فوت ہوئی تو کوئی جماعت اسلامی میں چلا گیا کوئی .پیپلز پارٹی میں چلا گیا۔ کیا جو ضیاء الحق کے زمانے کی غیر جماعتی اسمبلی تھی اس میں مسلم لیگ نہیں پیدا ہوئی Wusatullah Khan تھی؟۔ اس .میں کون کون آیا اور کون کون نہیں گیا تھا۔ کیا پھر اسی مسلم لیگ نے تین یا چار بچے نہیں دئیے۔ کیا90کی دہائی میں آپریشن مڈ نائٹ. جیکال اور مہران گیٹ وغیرہ نہیں ہوا ۔ کیا2002میں مسلم لیگ ق نہیں بنی ۔ مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں ، سب اچھی طرح معلوم ہے۔

سوال: کیا وزیر اعظم Wusatullah Khan عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ تک مقابلہ کرنا چاہیے یا ایک دن پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے؟۔
جواب: خان صاحب کی جو نیچرہے وہ میرے خیال میں آخر تک فائٹ کریں گے۔ اور آخر تک فائٹ کا ایک فائدہ ہے اگر وہ شہید ہوتے ہیں تو پھر اس میں بھی فائدہ ہے۔

Wusatullah Khan

سوال: ان اسپورٹ مین اسپرٹ ہے شہید ہونے کے بعد؟۔
جواب: شہید ہونے کے بعد پھر تو. وہ کھل کھلا کر آجائیں گے لیکن یہاں مجھے حضرت علی کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ کوئی فیصلہ تم غصے کی حالت میں نہ کرو۔ اسلئے. کہ غصہ کا اختتام پشیمانی پر ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، اور بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ، پانی وانی پیو۔ جب اعصاب بالکل نارمل ہوجائیں تو فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آؤ۔ غصہ بہت بڑا دشمن ہے۔ خان صاحب اگر کسی. طرح اس کا کوئی حل دیکھ لیں کہ کس طرح اس پر قابو پایا جاسکتا ہے یا اس کو پاور کی شکل میں فریز کرکے ٹکڑوں. ٹکڑوں میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے تو یہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے اچھا رہے گا۔

Wusatullah Khan

سوال: سیاستدان اس وقت صحیح .معنوں میں سیاستدان بنتے ہیں جب وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لیتے ہیں۔ تو کیا عمران خان بھی اب صحیح معنوں میں سیاستدان بننے جارہے ہیں؟۔
جواب مثالیں دیں پچھلے. 75سال میں جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی ہو۔ پھر سوال کا جواب دوں گا۔ کوئی دو نام بتادیں۔
مطیع اللہ جان: بھٹو نے فیلڈ مارشل کے دورمیں پارٹی قائم کی سڑکوں پر آکر ۔ (half-heartedکوشش کی۔ نتیجہ آپ نے. دیکھ لیا۔ وسعت اللہ )۔پھر99کے بعد نواز شریف نے بھیhalf-heartedکوشش کی ۔ کیاعمران خان کم. از کم نواز شریف کے لیول پر آجائیں گے اگر بھٹو نہ بھی سہی۔


جواب: نہیں معلوم کہ وہ آئیں. گے یا نہیں لیکن خان صاحب خان صاحب ہیں۔ ان کا اپنا اسٹائل ہے اور اپنے نمونے سے چیزوں کو ڈیل کرنے کی کرینگے اور اب اس میں. کتنے کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں ابتدائی طور پر انہیں بیابان میں گھومنا پڑے گا۔ اسلئے کہ جو آدمی ساڑھے تین سال میں لیڈر آف. اپوزیشن سے پارلیمنٹ کے فلور پر ہاتھ ملانے کو تیار نہ ہو علیک سلیک کرنے پر تیار نہ ہو ، جو کہ منتقم مزاج ہو ، جو ایک گول جب .سیٹ کرلے تو ادھر اُدھر نہ دیکھے کہ باقی جو گول ہیں وہ اگنور ہورہے ہیں یا نہیں ہورہے تو یہ فراق بڑا مشکل گزرے گا۔.

test

سوال: جو کچھ2018کے الیکشن میں ہوا اس سب کا قومی مجرم کون ہے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا وہ قدرتی جمہوری عمل تھا؟۔
جواب: پہلے تو میں یہ طے کروں کہ. یہ جرم ہے۔ قدرتی جمہوری عمل اس ملک میں کب ہوا ؟۔ پھر تم سے یہی سوال پوچھوں گا۔70کی مثال دیتے ہیں نا۔70میں بھی کونسا. قدرتی جمہوری عمل ہوا۔ (اس وقت کے بھی کوئی مجرم تھے ، اِس وقت کے کون مجرم ہیں آپ کے خیال میں: مطیع اللہ جان)۔ یہ فوری طور پر طے نہیں ہوسکتا۔ جب پوراepisodeمکمل ہوجائیگا70کی طرح اسکے بعد. جو جواب ہوگا وہ آپ کو بھی شرمندگی سے بچائے گا اور. مجھے بھی۔ ابھی تو پارٹی چل رہی ہے بیچ پارٹی میں ہم کیسے کہہ دیں کہ اینڈ میں کون لُڑھکے گا اور کون اپنے پیروں پر کھڑا رہے گا۔ اتنی بے صبری اچھی نہیں ہوتی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

امریکہ کی مخالفت کے نام پر جہاد سے جتنے افغانی. اور پاکستانی مارے گئے کیا اب سیاست کے نام پر یہی ہوگا؟

Jihad, Jihad, Jihad, Jihad, USA, USA, USA, Politics of Pakistan, Politics of Pakistan,, imported government, imported government, Pakistan Army, Pakistan Army

امریکہ کی مخالفت کے نام پر جہاد سے جتنے افغانی. اور پاکستانی مارے گئے کیا اب سیاست کے نام پر یہی ہوگا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی تائید سے افغانستان پر حملہ کیا تو پرویز مشرف Jihad کے صدارتی ریفرنڈم میں عمران خان پیش پیش تھا عدالت نے پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی

Jihad

روس نے. یوکرین پر حملہ کرکے بہت سے لوگوں کو Jihad افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کی طرح دربدر کردیا، امریکہ کے مظالم کیساتھ کھڑا ہونا. غلط تھا اورروس کے مظالم کیساتھ کھڑا ہونا بھی غلط ہی ہے

Jihad

سفید ہاتھی امریکہ اپنے مفادات کی خاطر دوغلی پالیسیاں اختیار کرتا ہے اور مسلمانوں. اور دوسرے انسانوں کو آپس میںوحشی جانوروں کی طرح لڑاتا ہے، اچھے انسان اور مسلمان بن جائیں!

اسلام کا چہرہ. مذہبی طبقات نے خود مسخ کرکے Jihad رکھ دیا ہے اگر اسلام کے درست نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو ہندوستان، امریکہ ، اسرائیل ، یورپی یونین اور دنیا کیلئے قابل قبول ہوگا

Jihad

Test

پیپلزپارٹی دورِحکومت میں میموگیٹ. پرسپریم کورٹ نوازشریف آرمی چیف کیساتھ کالا کوٹ پہن کر گیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز منتخب صدر زرداری کو. سڑکوں پر گھسیٹنے، پیٹ چاک اور چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا. تھا اور اب تحریک انصاف کے وزیر غلام سرور اور شہر یارآفریدی نے پارلیمنٹ پر خود. کش، مراد سعید نے غداروں کو ڈی چوک پر لٹکانے کی بات کردی۔

پہلے نوازشریف اور بینظیر بھٹو ایکدوسرے کوامریکہ واسرائیل. کا ایجنٹ کہ, تے تھے اور اب عمران خان اور. متحدہ اپوزیشن ایکدوسرے کو امریکہ و اسرائیل کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ امریکی نام پر مذہبی ماراماری کے بعد سیاسی ماراماری ہوگی۔ قطری Jihad خط کے بعد مجھے کیوں نکالا؟ اور دھمکی خط کے بعد مجھے کیوں نکالا؟۔ قوم پرستانہ .جذبے میں لڑائی کی جان نہ تھی تو سیاسی نظریات اور مفادات کے نام پر ایکدوسرے کیخلاف. لہو گرمایاجارہا ہے۔ عمران خان نے سوشل میڈیا کے خلاف جو ذہن بنایا تھااب اسکے خود شکار ہیں۔
٭٭

Test

ہرکٹھ پتلی صحافی ماحول بناتا رہا کہ” آرمی چیف کو برطرف نہ کردیا جائے”۔ صابر شاکرنے کہاکہ ”بزدار کی برطرفی سے معاملات ٹھیک ہوگئے ”۔ شف شف کرتا عمران شفتالونہیں بول سکا۔ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا تو اعلانیہ کہتے تھے کہ سینیٹرز ضمیر کے مطابق. فیصلہ کرینگے۔ عمران خان کے ہاتھ کے طوطے اُڑ ے تو فوج کو جانور کہہ دیا۔ اگر سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا دانہ عمران خان نہ چگتے اور Jihad جانبدار وں کو فارغ کیا ہوتا تو اپنی. حکومت کو اوچھے ہتھکنڈے سے ہٹانے اور اقتدار سے ہاتھ نہ دھلتے ۔

ایرانی گیس و پٹرول سے عوام کیلئے امریکہ کو ناراض کیا ہوتا تو قوم ساتھ کھڑی ہوتی۔ بھارت اور چین بھی ساتھ دیتے ۔جمعیت کے کارکن Jihad اسلام آباد نہ پہنچتے تو عمران خان نے ہنگامہ کھڑا کرتا تھا۔طوطا حمزہ شہباز ، مینا مریم نوازنے حالات کی نزاکت کو دیکھ کرPDMکو چھوڑ کر لاہور میں رُکنے. کا فیصلہ کردیا اوریہ مولانافضل الرحمن کیساتھ دھوکہ تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

قطری خط کے بعد دھمکی خط : ہاہاہاہاہاہا

Imran Khan, Threatening khat Imran Khan, Threatening khat Imran Khan,Threatening khat Imran Khan,,Threatening khat Imran Khan,,Threatening khat Imran Khan, PTI, PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI,PTI, PTI, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, Shahbaz Shareef, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM, PDM

قطری خط کے بعد دھمکی خط : ہاہاہاہاہاہا Imran Khan
جمہوری شکنجوں کے نام پر ہیں بدترین ہتھکنڈے Imran Khan

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شہبازشریف پہلے وزیراعظم بنتا Imran Khan ، مریم نواز نے کہا تھا کہ عمران خان کو شہید نہ ہونے دینگے ،PDMنے استعفیٰ نہ دیااورPTIنے دیدیا

زرداری کو باپ پارٹی کا بیٹا کہنے والی مریم نواز بھگوڑے باپ کی جگہ باپ کو باپ بنانے پر خوش ہے اسلئے ایاز صادق نے کہا: ”باپ کے کردارکادعویدار خالدمگسی عمر میں مجھ سے3 سال چھوٹا ہے”۔

Test

قطری خط کے بعد دھمکی خط آیا ۔مجھے کیوں نکالا کی رٹ اور چھانگا مانگا کی سیاست جاری ہے۔ عدالت پر حملہ اور سیاست پر آئی ایس آئی کے تحت قبضہ کرنیوالا آئینے میں اپنی شکل نہیں دیکھتا۔ ناظم جوکھیو کی بہیمانہ تشدد سے شہادت جیسے مسائل سے سرکاری اور سیاسی اشرافیہ کاکوئی سروکار نہیں ۔عمران خان نے فسٹ کزن طاہر القادری کیساتھ پارلیمنٹ پر حملہ،PTVپر قبضہ کیا۔27مارچ کو انصار الاسلام کے تیل میں بھگوئے ڈنڈوں .سے ڈرایا نہ ہوتاتو ہلچل مچادیتا۔ طاہرالقادری جہاز سے نہیں اُتر رہاتھا۔ عمران خان اقتدار کے کیکر پرچڑھ کر اُترنہیں رہاتھا۔ صحافی عارف حمید بھٹی نے پوچھا کہ عمران خان نے کس طرح جانے کا فیصلہ کیا؟۔

Test

خبروں میں کچھ صداقت تھی؟۔ توفواد چوہدری کا کہنا تھا کہBBCنے جھوٹ پھیلایا۔ عارف حمید نے پوچھا کہ یہ Imran Khan فیصلہ عمران خان نے کیا یا میرے جیسے کسی. دوست نے مشورہ دیا؟۔ فوادچوہدری کے لمبے آنوں اور زبانی اقرار نے اس کی تصدیق کردی کہ جبرہوا ہے اوراس کوقبول بھی کیا ہے۔ جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیاء الحق، نوازشریف، جنرل پرویز مشرف ، عمران خان کے بعد اب متحدہ اپوزیشن نے دائمی .حکومت کا خواب دیکھنا شروع کردیا مگراپنے ماضی سے کچھ بھی سبق نہیں سیکھا۔ تحریک انصاف اور دوسروں.کو عوام کی فکر ہے اور نہ عوام ان کی سیاسی لڑائیوں پرمررہی ہے۔ بقیہ صفحہ 3 نمبر4

Test

بقیہ… قطری خط کے بعد دھمکی خط ہاہا ہاہا……
اسلام اس ملک کی بنیاد ہے اور Imran Khan اسلام کو جتنا غیرفطری بنادیا گیا ہے. وہ ہمارے معاشرے کا ایک روگ ہے۔ مذہب کارڈ کواسی لئے سیاست میں گالی. سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد سے لیکر آج تک عوام کیساتھ کھلواڑ ہوتا رہاہے۔ بڑی تعداد میں عوام کاگھر بار، کاروبار ، رشتہ. داروں، قبیلوں ، جانوں اور عزتوں کی قربانی دیکر ہجرت کرنا مذاق نہ تھا لیکن اسلام کے نام پر عاشق نامراد کی طرح صرف ایمانی. جذبوں کی خاک چھانتے رہے۔ جب تک ان بنیادی ایشوز کی طرف قوم کو متوجہ نہیں کیا جائے جن کی وجہ سے مسائل کا شکارہیں تو بات نہیں بنے گی۔


دھمکی خط کسی سیکرٹ ایکٹ کے. تحت لوگوں کو دکھانے کا نہیں لیکن تحریک لبیک کا معاہدہ قوم کو نہیں دکھایا گیا۔ قطری خط کی جگہ عدالت نے اقامہ پر فیصلہ دیدیا. تو بھی نوازشریف روتا پھر رہا تھا؟۔ پارلیمنٹ میں جو تحریری دستاویزات پڑھ کر سنائی تھی وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں سنائیں ۔ قطری. خط اور اس کی حقیقت کو دیکھ لیں اگر پھر ثابت ہوجائے کہ نوازشریف کیساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے لیکن سچ کا پتہ چلناچاہیے۔

Threatening khat Imran Khan

_ وزیراعظم کا بہت بڑا حلف نامہ_
صدر عارف علوی کے بارے میں میڈیا پر اطلاعات تھیں. کہ وہ اپنے ضمیر اور منصوبے کے مطابق نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف نہیں لیں گے۔سابق وزیراعظم عمران خان کا ذاتی اور جماعتی Imran Khan احسان تھا کہ عارف علوی کو صدر .مملکت بنایا گیا تھا۔ جب صدر مملکت عارف علوی. نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسمبلی توڑنے کی تجویز میں حلف کی پاسداری کی تھی؟۔ شہباز شریف سے Imran Khan حلف لینے کے بجائے بیماری کا بہانہ کیا تو کیا یہ اپنے حلف کی پاسداری ہے؟۔ ایسے حلف اٹھانے کا کوئی فائدہ ہے؟۔


حلف نامہ کے الفاظ اتنے گہرے. اور مشکل ہوتے ہیں کہ بسا اوقات حلف لینے والا اور جس سے حلف لیا جاتا ہے دونوں اس کا درست تلفظ پڑھنے سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حلف سے زیادہ شیروانی اور اچکن پر توجہ دی جاتی ہے۔ حلف کے اندر جو عہدلیا جاتا ہے ،اس میں آئین، قانون، دستور اور اسلام کی بار بار تکرار ہوتی. ہے اور اپنے ذاتی، گروہی اور ہر قسم کے انتقامی جذبے سے بالاتر ہوکر اپنے فرائض کے انجام دینے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں .کو بروئے کار لانے کے جو جملے ادا کئے جاتے ہیں ،ان پر عمل در آمد تو بہت ہی دور کی بات ہے۔ ان کا تصور اور خیال بھی دل ودما غ سے بہت. مشکل سے گزرتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ آئین وقانون اور اسلام کی آپس میں بھی کوئی مطابقت نہیں ہے۔.

Threatening khat Imran Khan

کیا آئین اسلامی جمہوری ہے؟
آئین پاکستان1973کو جماعتوں نے اکثریت سے بناڈالا تھا۔ لیکن اس آئین کو اسلام کے مطابق بنانے کی کوشش کس نے کی اور کب کی ہے؟ اور جب قرآن نے چور کی سزا ہاتھ کاٹنے کی رکھی ہے تو ہماریImran Khan اعلیٰ عدالتوں میں اس کیلئے کوئی گنجائش بھی ہے؟۔ عدالتیں چور کو جیل بھیج دیتی ہیں لیکن قرآن میںچور کے ہاتھ کاٹنے کاحکم ہے۔ تمام ارکان پارلیمنٹ، صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ ، سپیکر، چیف جسٹس،آرمی چیف جب آئین کی پاسداری کا. حلف آئین ، قانون اور اسلام کے مطابق لیتے ہیں تو کیا انہیں قانون اور اسلام میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ہے؟۔ جاہل ہوتے ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر جاہلیت، ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں؟۔


اگر ہمارا عدالتی نظام اسلام کے مطابق ہے تو سپریم کورٹ اور شریعت کورٹ جدا جدا کیوں ہیں؟۔ جب قانون اور اسلام میں تضادات ہیں تو آئین کو ٹھیک کرنے کی کوشش کس کی ذمہ داری ہے؟۔ پارلیمنٹ کے ممبروں میں اسلام اور قانون کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ہے تو وہ اسلام کے مطابق قانون. سازی کس طرح سے کرسکتے ہیں؟۔ کفر اور اسلام کے درمیان ایک بیچ کی چیز منافقت ہے جو کفر سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ ہمارا پورانظامImran Khan منافقانہ ہے اور اس کوکفرو نفاق سے نکال کراسلامی آئین اورقرآن وسنت کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے۔

Threatening khat Imran Khan

اسلامی اور عام قوانین میں فرق
قرآن وسنت میں قتل، اعضاء کاٹنے، چوری، زنا، زنابالجبر، فسادفی الارض ، خواتین پر بہتان اور جن چیزوں کی سزائیں واضح ہیں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ تھا کہ ان پر جوں کے. توں قانون سازی کرکے عمل کیا جاتاتاکہ ریاست مدینہ کا ماڈل پاکستان کے ذریعے پوری دنیا کے بھی سامنے آجاتا اور ہمارا اشرافیہ اور حکمران طبقہ عوام کی دہلیز پر عدل وانصاف پہنچانے کا پابند ہوتا اور عوامی جذبات سے کھیلنے کے روز روز ڈرامے نہ ہوتے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور سول بیوروکریسی اپنے اپنے حدود میں اپنے اپنے فرائض انجام دیتے۔ طبلے بجابجا کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد اور مخالفت کی کوئی ضرورت بھی نہ پڑتی۔Imran Khan
جن چیزوں کا تعلق قانو

ن سے ہے تو جس طرح صلح حدیبیہ کا معاہدہ قانون تھا، یہود کیساتھ میثاق مدینہ قانون تھا۔ اسلام سے پہلے حلف الفضول اہل مکہ کا قانون تھا۔ آج بین الاقوامی ممالک. کیساتھ ہمارے روابط کے قوانین ہیں اور ہمارے مختلف ادارے اپنے سرکاری قوانین کے مطابق چل رہے ہیں اور دنیا میں جتنے سڑک کے. ٹول ٹیکس، ایکسپورٹ ایمپورٹ کے قوائد وضوابط اور قوانین ہیں وہ ہم بھی اسلام کے آئینے میں اپنے لئے بناسکتے ہیں اور جو داخلی. اور خارجہ پالیسی ریاست مدینہ نے بنائی تھی تو اس نے دنیا کی دو سپرطاقتوں ایران وروم کو شکست سے دوچار کیا تھا تو اس کے اصول عوامی تھے۔

Threatening khat Imran Khan

جیسے عوام ہیں ویسے ان پر حکمران ہیں
جس طرح چور، ڈاکو، سود خور، دھوکے باز اور حرام خور اپنے بال بچوں کے پالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں اسی طرح سے ہماری حکومت وریاست نے پاکستان کی عوام پر احسانات. کرکے ان کی زندگی میں بہت زیادہ آسانیاں پیدا کی ہیں۔خود ہر قسم کی مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرکے پاکستان کو ایک .ترقی یافتہ ملک سے بھی زیادہ اوج ثریا پر پہنچا دیا ہے۔ اشرافیہ نے بڑی کرپشن کی لیکن نچلے طبقے غریب غرباء تک جس کا جہاں تک بس چلا ہے اس نے اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق بہت مشکل سے اس ملک کو بخشا ہے۔ اسلئے حلف ناموں اور شخصیت کے کردار میں تضادات کا بھی پتہ نہیں چلتا ہے۔ Imran Khan


ہر آنے والی حکومت کے دور میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوئی ہے اور ہر آنے والے نے پہلے سے بہت زیادہ سودی قرضہ لے کر ملک اور قوم کا بیڑہ غرق کرنے میں بہت زیادہ کردار. بھی ادا کیا ہے۔ سیدھے طریقے سے تلاشی دینے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا ہے لیکن ڈرامے اور ڈھکوسلے سے دوسروں کی تلاشی. لینے میں ہر حکمران اور اپوزیشن قائدخوامخواہ میںپیش پیش ہوتا ہے۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بھانڈ اور. مداری کا کردار ادا کرنے میں بھی سیاسی قیادت کو ذرا بھی شرم نہیں آتی ہے۔ جو ہواہے سو ہواہے لیکن آئندہ کیلئے بہت زبردست انقلابی اقدامات کی اب ضرورت ہے۔ Imran Khan

Threatening khat Imran Khan


دنیا کو اسلامی قانون قابلِ قبول ہوگا؟Imran Khan
سورۂ نور میں اللہ نے عورت پر بہتان لگانے کی سزا80کوڑے مقرر کی ۔ کیا اس سزا کو دنیا وحشیانہ اور جنگل کا قانون قرار دے سکتی ہے؟۔ اسکے اثرات دنیا پر کیا مرتب ہونگے؟ اور ا سکے ردِ عمل میں کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟۔کیا اس کی وجہ سے ہم معاشرہ پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے؟۔

حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تھا تو سورۂ نور کی یہ آیات. نازل ہوئی تھیں اور نبی کریم ۖ سے مسلمانوں کا جذباتی لگاؤ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بھی .تھا اور آج بھی ہے۔ اس بہتان کے ردِ عمل میں جذبات کا سمندر اتنابھی موجزن ہوسکتا تھا کہ بہتان لگانے والے افراد کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلادیا .جاتا اور تاریخ میں ان لوگوں کو بدترین سزا دے کر عبرت کا نشان بنادیا جاتالیکن اللہ تعالیٰ نے ایک طرف عورتوں کو تحفظ فراہم کیا اور دوسری طرف بہتان لگانے والے کمزور لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کیا۔ جبکہ ہماری عدالتوں میں طاقتور اور کمزورکو انصاف دینے کا معیار جدا جدا ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا اور پاکستانی مسلمانوں میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کردے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ اپریل 2022
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

معراج محمد خان مرحوم تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری تھے تو عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت اور معراج محمد خان مخالفت کررہے تھے اور اس دوران یا اس سے پہلے یا بعد میں میری ان سے ایک نشست ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان ؟۔ یہ عجیب اتفاق نہیں ؟۔ جس پر انہوں نے گردش دوران کی اس مجبوری پر اپنا سر سرور سے دھنا تھا۔ پھر وہ تحریک انصاف چھوڑ چکے تھے تو ایک بار پھر ان سے ملاقات کا شرف ملا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری اماں پٹھان تھیں اور میں علماء حق کے پیروں کا غبار اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں لیکن علماء سو سے میری نہیں بنتی ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں آپ کی پارٹی کیلئے ایک دستور (آئین) لکھ دیتا ہوں۔ تحریک انصاف کا دستور بھی میں نے لکھا ہے اور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کو میں نے بہت کارکن اور رہنما دئیے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی مہربانی لیکن عمران خان نے بھی شاید اس دستور کو پڑھا اور سمجھا تک بھی نہ ہو۔ میرے پاس قرآن وسنت ہی کے ایسے آئینی نکات ہیں جس کو پڑھ اور سمجھ کر بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔
جب لوگوں اور لوٹوںکو پیسوں سے خریدا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر چلنا دشوار ہو تو پھر پنجہ آزمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کافی عرصہ سے میرے ذہن میں تمام پارٹیوں کیلئے قرآن وسنت کے مشترکہ نکات اٹھانے پر اتفاق رائے کی خواہش تھی لیکن کسی پارٹی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔
عمران خان نے پارٹی اور ادارے بنانے کی بات کی تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ واقعی وہ پاکستان کو پولیس اسٹیٹ اور ایجنسی اسٹیٹس سے نکال کر ایک بہت بڑا صاف شفاف نظام بنائیں گے۔ لیکن پہلے اس نے معراج محمد خان ، جاویدہاشمی، بڑے وکیل رہنما اورجسٹس وجیہہ الدین وغیرہ کو کھودیا اور پھر اپنی نئی ٹیم سے بھی محروم ہوتے گئے۔ اب فوج کو نیوٹرل ہونے کے بعد خصی جانور کہنے کے چرچے ہیں۔ اتحادیوں سے بے نیاز اب اتنے نیاز مند ہوگئے ہیں کہ اتحادیوں کی خاک چاٹ رہے ہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام کیساتھ ساتھ تزکیہ نفس کابھی بہت بڑا چارہ بن گیا ہے۔ اسلئے جمہوریت زندہ باد اور اسے برباد کرنے والے مردہ باد۔
جب مولانا فضل الرحمن نے جنرل سیکریٹری کی جگہ جمعیت علماء اسلام کا امیر بننا چاہا تو پہلے امیر کی جماعت میں کوئی زیادہ حیثیت نہیں تھی۔اسلئے کہ جماعت کاقائد جنرل سیکریٹری کہلاتا تھا۔ جیسے پاکستان میں وزیراعظم کی حیثیت ہے اور صدر کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور جب صدر مضبوط ہوتا تھا تو پھر وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔ جیسے پرویزمشرف اور جنرل ضیاء الحق دور میں۔
قرآن وسنت اور سیرت وتاریخ کی کتابوں کا معالعہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے نبیۖ کے حوالے سے کئی باتوں میں اپوزیشن جیسا کردار ادا کیا اور نبیۖ نے ان کی حوصلہ شکنی نہیں حوصلہ افزائی فرمائی تھی اور اللہ نے بھی قرآن میں حوصلہ افزائی کی آیات نازل کیں۔ نبیۖ اگر اپنے باصلاحیت ساتھیوں کو کنارے لگادیتے تو قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ جب قائد اپنا بیٹا، بیٹی، بھائی ، بہن اور اپنے قریبی عزیز کوکھڑا کردے یا پھر اپنا وزن کسی ایک کٹھ پتلی کے پلڑے میں ڈال دے تو کارکنوں کا برین واش کرنا بھی جمہوریت کی نفی ہے۔ مشاورت کا وسیع میدان ہو اور جس کی اکثریت ثابت ہو، اس میں خفیہ رائے شماری بھی اسلئے ہوتی ہے تاکہ کوئی کسی کا لحاظ رکھنے کے بجائے اپنی مخلصانہ رائے سے کسی کا انتخاب کرے۔
مختلف پارٹیوں میں بہت مخلص سیاسی رہنما اور کارکن ہیں لیکن ان کی کوئی بات چلتی نہیں ہے۔ اگر ایک ایسی پارٹی تشکیل دی جائے جس میں انتخابات کی روح کے مطابق کارکنوں میں الیکشن ہوجائے اور پھر مختلف سطح پر قیادتیں ابھر کر آجائیں تو ایک مضبوط پارٹی وجود میں آسکتی ہے اور اس کے مقابلے میں مختلف پارٹیاں بھی اپنے رویوں کو درست کرکے میدان میں کھیل سکتی ہیں۔ عوام کو کس قسم کی تکالیف کا سامنا ہے؟۔ روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ لگانے اور اسٹیبلشمنٹ کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور حمایت کرنے سے بات ابھی کافی آگے نکل چکی ہے اور عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے ان کے ضمیر خریدکر تسلیاں دینے سے کام بالکل بھی نہیں چلے گا۔ پارٹی بنانے کا طریقۂ کار اور ایک ایسے منشور کی ضرورت ہے کہ جس سے عوام کو حکومت میں آنے سے پہلے بھی بہت زیادہ ریلیف مل جائے۔
حضرت عمر نے جب یہ قانون بنایا کہ عورت کا حق مہر کم ہوگا تو ایک عورت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تم کون ہوتے ہو۔ ہمارے لئے قانون بنانے والے؟۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ حسن نثار معروف صحافی نے کہا کہ” الماس بوبی ( لاہور میںہجڑوں کی معروف شخصیت) کے پیٹ میں رسولی ہوسکتی ہے لیکن بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد کیا ہوگا؟۔ اگر کامیاب ہوجائے تو اپوزیشن کے آزمائے ہوئے قائدین سے کیا انقلاب کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ سب ایک چیز ہیں۔ جب امریکہ سے واشروم کی سینٹری کا سامان آیا تھا تو بنگال مشرقی پاکستان نے کہا کہ کچھ ہمیں بھی دینا ۔ جس پر ہمارے والے ہنستے تھے کہ تم نے واشروم کی سینٹری کو کیا کرنا ہے؟۔ باتھ روم کی ضرورت صرف ہمیں ہے۔ تمہارے ہاں کھیتی اور جنگلات ہیں وہاں فارغ ہونے کیلئے چلے جایا کرو۔ آج وہ کہاں کھڑے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟۔ بہت زیادہ وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے پاس ایک فوج کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ہماری فوج کو دنیا میں نمبر ایک مانا جاتا ہے۔ باقی ہر چیز میں تنزلی ہورہی ہے۔ فوج کو بالکل بھی غیرجانبدار نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ابھی ہم اس قابل نہیں ہیں۔ جب ہم اس قابل بن جائیں گے تو پھر اس کو غیرجانبدار بننا چاہیے”۔
حسن نثار ایک جذباتی اور فلاسفر ٹائپ کے اچھے صحافی ہیں۔ کسی دور میں وہ الطاف حسین، آصف علی زردای کی بھی تعریف کرتے تھے۔ پیپلزپارٹی کیلئے اس نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیل بھی کاٹی ہے۔ عمران خان کی بہت تعریف اور بڑی مذمت بھی کرچکے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی جان اس فوج سے چھڑائی ہے تبھی تو اس نے ترقی کی ہے۔ اگر وہ اپنی کمزور فوج سے ترقی کرسکتے ہیں تو ہم ایک مضبوط فوج کے سائے میں محرومیاں کیوں دیکھتے رہ جائیں۔ بلوچستان، پختونخواہ اور سندھ میں پہلے بھی شعور تھا اور اب تو پنجا ب بھی جاگ چکاہے۔ ایسے صحافیوں کے بارے میں اب لوگوں کی رائے یہ بن رہی ہے کہ الماس بوبی بچہ نہیں جن سکتی ہے لیکن بعض لوگوں کو ان کی ماؤں نے پیچھے کے راستے سے جن لیا ہے۔ یکطرفہ بولنے پر وہ صحافی نہیں رہتا ۔مظہر عباس معروف صحافی نے کہا کہ ” صحافی نظر آنا چاہیے کہ وہ غیرجانبدار ہے”۔
نبیۖ نے سود کے حرام ہونے کی آیات کے نزول کے بعد کاشتکاروں کو بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر زمین دینے کو سود قرار دے دیا۔ فرمایا کہ مفت زمین دو، یا پھر اپنے پاس فارغ رکھ لو۔ اس سے مدینہ میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوگیا ،جس نے مشرق ومغرب کی سپرطاقتوں ایران وروم کو فتح کرنے میں بھرپور کردارا دا کیا تھا۔ مدینہ کے محنت کش غریب لوگوں میں قوت خرید پیدا ہوگئی تو مدینہ کے بازار عالمی منڈی کا سماں پیش کررہے تھے۔ تاجر کہتے تھے کہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو سونا بن جاتا ہے۔ غزوہ بدر میں 70دشمن قیدی بنائے گئے لیکن کسی نے بھی ان کو غلام بنانے کی تجویز پیش نہیں کی۔ اور نہ ہی دشمنوں سے غلام کا کام لیا جاسکتا تھا۔ کلبھوشن اور ابھی نندن کو کون اپنے گھرمیں غلام کی طرح رکھ سکتا تھا؟۔
مزارعت ہی غلام اور لونڈیاں بنانے کا واحد نظام تھا۔ جس کی جڑ ہی اسلام نے کاٹ دی تھی۔ چاروں فقہ کے امام حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل اس بات پر متفق تھے کہ مزارعت سود اور حرام ہے لیکن اپنے اپنے دور کے بعض مفتی اعظم اور شیخ الاسلام نے جس طرح آج سودی نظام کو جائز قرار دیا ہے جس سے کارخانے، فیکٹریاں، ملیں اور کمپنیاں غلام بنائے جاتے ہیں بلکہ پورے پورے ملک بھی غلام بنائے جاتے ہیں اور قرآنی آیات اور دوسرے علماء ومفتیان کے فتوؤں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے وقت کیساتھ ساتھ مزارعت کو بھی جوازفراہم کیا گیا تھا۔ اگر قرآن واحادیث اور ائمہ کے متفقہ فتوؤں سے انحراف نہ برتا جاتا تو غلامی کے نظام کو ختم کرنے کاکریڈٹ اسلام کو جاتا۔ آج روس اس پر ہمارے ساتھ کھڑا ہوجائے گا۔جاگیردار اگر کاشتکاروں اور مزارعین کو مفت زمین نہیں دیں تو ان کا ووٹ بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ مجبور اور غلام کی اپنی کوئی رائے بھی نہیں ہوتی ہے۔ جب لوگ خوشحال ہوکر زمینوں کی کاشت کو چھوڑ رہے تھے تو یہ المیہ بن رہاتھا کہ پھر اناج کا کیا بنے گا۔ آخر کار غیر مسلموں کو یہ کام سپرد کردیا گیا تھا۔ مسلمان زکوٰة وعشر کے نام پر حکومت کو کچھ حصہ دیتے تھے اور غیرمسلم ٹیکس وجزیہ کے نام سے وہی کچھ دیتے تھے۔ جاگیردار آج اپنی زمینیں خود کاشت کرنا شروع کریں تو اللہ کے ولی اور حبیب بن جائیں گے۔ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ الکاسب حبیب اللہ ”محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے”۔بہت لوگوں کیلئے کاشتکاری کے ذریعے سے نہ صرف روزی کے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ دنیا کی تقدیر بھی بدلی جاسکتی ہے۔ امیر اور سرمایہ دار تو کام کریں گے نہیں۔
حضرت عمر نے اپنے دور میں پابندی لگائی تھی کہ کوئی اپنا پیشہ نہیں چھوڑے گا تاکہ معاشرے میں کسی چیز کی کمی نہ ہو اور ترقی کا سفر جاری رہے۔ حضرت داؤد بھی زرے بنانے کی صنعت سے وابستہ تھے۔ اگر نوازشریف اور شہبازشریف کو جرنیل سیاست میں لانے کے بجائے اتفاق ٹریکٹر بنانے دیتے تو آج وہ ترقی کرکے پورے ملک میں ریل گاڑی اور جہاز بنانے کے کارخانے بھی بناتے اور ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں زبردست کردار ادا کرتے۔ اسی طرح آصف زرداری ، عمران خان اور مختلف محکموں سے ریٹائرڈ ہونے والے حضرات بھی سیاست میں آنے کی جگہ اپنی اپنی فیلڈ میں کام کرتے۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنے باصلاحیت کارکنوں کو کنارے لگاکر نالائقوں کیلئے دروازہ کھولنے میں اپنا کردار اداکیا اور طلبہ تنظیموں کی سیاست پر پابندی لگائی گئی۔
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخِ امراء کے درو دیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
مفت میں زمینیں کاشت کیلئے مل جائیں گی تو بڑے بڑے جاگیرداروں کی ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ پانی پر اپنا ناجائز قبضہ جمائیں۔ عدل وانصاف سے پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوگا۔ پھر اتنے باغات اُگائے جائیں گے کہ پاکستان کی تمام زمینیں باغ ہی باغ اور جنت کا منظر پیش کریں گی اور اس میں محنت مزدوری کرنے والوں کو بھی روز گار ملے گا۔ جب کھیت میں پوری پوری محنت کا پوراپورا صلہ مل جائے گا تو مزدور کی دیہاڑی بھی خود بخود دگنی ہوجائے گی۔ پھر سب سے پہلے سودی قرضوں کا خاتمہ ضروری ہوگا کیونکہ ہماری ریاست کی آمدن سے بھی زیادہ پیسے سودکی ادائیگی میں جارہے ہیں۔ جب محنت کشوں کو درست معاوضہ ملے گا تو وہ تعلیم وتربیت کیلئے اپنے بچے بھیجنا شروع کریں گے جن سے بہت ہی لائق قسم کے ڈاکٹر، فوجی، سائنسدان اور ہر شعبے میں مہارت رکھنے والے پیدا ہوںگے۔ نالائق سیاستدانوں ، ججوں، جرنیلوں اور افسروں کے نالائق بچوں کو کھیتی باڑی اور محنت مزدوری میں مزہ بھی آئے گا اور صحت بھی اچھی رہے گی۔
سفارش کی جگہ میرٹ اور افراتفری کی جگہ ڈسپلن اس قوم کا پھر شعار بن سکتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ ” جو قومیں اپنے ان افراد کو محنت مزدروی کے کام پر لگاتی ہیں جن میں ذہنی صلاحیت ہوتی ہے اور جن میں ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی ہے ان کو دماغی کام پر لگادیتی ہیں تو وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور جو لوگ ذہنی صلاحیتوں سے مالامال لوگوں کو ذہنی صلاحیتوں کی ذمہ داریوں پر لگادیتی ہیں اور ہاتھ پیر کی صلاحیت رکھنے والوں کو مزدوری اور ہاتھ پیروں کے کام پرلگایا جائے تو وہ قوم بہت ترقی کرتی ہے”۔ جب تک قوم کو مواقع فراہم نہ کئے جائیں تو ایسا کرنا اگرچہ ناممکن نہیں ہے مگر بہت ہی مشکل ضرور ہے۔ جب زمینداری کے مسئلے میں اسلام کے اصل حکم کو عملی جامہ پہنایا جائے تو پھر بہت ہی تیزی کیساتھ معاشرے میں محنت کشوں کی کایا پلٹ جائے گی۔ معیشت کیلئے یہ ایک بہت بڑا بنیادی فلسفہ ہے اور پاکستان میں اس پر عمل کرنابڑا آسان ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عربی میں عبد غلام کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوکسی دوسرے کی غلامی کیلئے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے۔ زمین میں انسانوں کی خلافت کیا ہے؟۔ بیوی بچوں ، جانور، پرندے اور درخت کھیتی وغیرہ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھاناروئے زمین میںاسلامی خلافت کا ایک چھوٹا ساآئینہ ہے۔ حضرت عمرفاروق اعظم نے فرمایا کہ ” اگر دریا کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مرجائے تو اس گناہ کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے”۔ حضرت ابوبکر صدیق اکبر نے ایک چڑیا کو دیکھ کر فرمایا کہ ” یہ کتنی خوش قسمت ہے کہ جوابدہی کے غم سے آزاد ایک جگہ سے دوسری جگہ اُڑتی پھرتی ہے”۔ اپنے بال بچوں کی ذمہ داری اٹھانا کتنا مشکل ہے لیکن پورے ملک وقوم کی ذمہ داری اٹھانا پھر کتنا مشکل کام ہے؟۔
اگر موجودہ جمہوری سیاست میں اسلام کی روح ہوتی تو کیا اقتدار کے حصول کیلئے قائدین اس طرح اپنی الٹی سیدھی حرکتیں کرکے مررہے ہوتے؟۔ حضرت سعد بن عبادہ انصار کے سردارنے خلیفہ بننا چاہا تو حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے بہت خطرناک رحجان کو دیکھ کرثقیفہ بنی سعدمیں یہ اقدام اٹھانے سے روک دیاتھا اورہنگامی بنیاد پر حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر حضرت عمر نے بیعت کرلی۔ جس کے بعد انصار و مہاجرین کی اکثریت بھی ان کی خلافت پر متفق ہوگئی۔ حضرت سعد بن عبادہ نے آخری عمر تک نہیں مانا اور حضرت علی وابن عباس اور اہل بیت کے افراد کو بھی اس اقدام پرایک عرصہ تک بہت سخت قسم کے تحفظات تھے۔
پھر حضرت عمر نامزدہوئے اور حضرت عثمان کا انتخاب چند برگزیدہ ہستیوں نے کثرت رائے سے کردیا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علیکا فیصلہ بھی ہنگامی صورتحال میں کیاگیا تھا۔ چاروں خلفاء راشدین کی نامزدگی جمہوری نظام کے تحت نہیں ہوئی تھی لیکن ان کے فیصلے مشاورت سے ہواکرتے تھے۔پھر اس کے بعد خلافت کا نظام خاندانی اقتدار میں بدل گیا۔ پھربنوامیہ کی حکومت جبر سے ختم کی گئی اور ان کے افراد کو عبرتناک انجام تک پہنچایا گیا۔ پھر بنوعباس کا بھی کافی عرصہ بعد حشر نشر کیا گیا اور پھرسلطنت عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا اور پھر اس کا بھی خاتمہ 1924ء میں کردیا گیا۔ برطانیہ وامریکہ اور مغرب نے جمہوری نظام کا آغاز کیا جس میں خون خرابے کے بغیر انتقالِ اقتدار کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
کیا جمہوری نظام غیراسلامی ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے ، یہاں تک کہ قیامت آجائے”۔ (صحیح مسلم )
مغرب نے دنیا کو جس طرح کا جمہوری نظام دیا ،اگرجمہوری روح کے مطابق اسلامی دنیا میں اس پر عمل ہوجائے تو یہی اسلام کا تقاضہ ہے۔ جب دنیا میں پرامن انتقال اقتدار کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا تو انقلابی جدوجہد میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوجاتی تھی۔ ایرانی بادشاہت خونریزی سے ختم ہوئی اور عرب و دیگر بادشاہتوں کو تصادم اور خونریزی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں انتقال اقتدار کیلئے جمہوریت ہے اور ڈکٹیٹروں نے ریفرینڈم بھی کرائے ہیں۔ مکہ خونی تصادم کے بغیرفتح ہوا تھا اور اس سے پہلے صلح حدیبیہ کا زبردست معاہدہ ہوا تھا۔
خلافت راشدہ کے دور میں جمہوری نظام نہیں تھا لیکن جمہوریت کی روح موجود تھی ۔ حضرت عثمان اورحضرت علی کی شہادت کے بعدآخری خلیفۂ راشد امام حسن نے حضرت امیرمعاویہ کے حق میں دستبردار ی اختیار کرلی اور پھر امارت کا دور شروع ہوا۔ جس کے بعد جب تک خاندانوں کو نیست ونابود کرکے نہیں رکھ دیا جاتا تھا اس وقت تک خاندانی بادشاہتوں کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تھا۔
آج پاکستان میں جمہوریت ہے مگر جماعتوں میں جمہوریت کی روح نہیں ہے۔ ڈکٹیٹروں کی پیداوار قیادتوں سے جمہوری مزاج اور جمہوری نظام کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟۔ خاندانوں اور خانوادوں کی سیاست ہے اور اس سے بدتر حالت قائدین اور قیادتوں کی ہے۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم گورنر جنرل بن گئے اور قائدملت وزیراعظم بن گئے اور اپنی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو اعزازی فوجی جرنیل کا عہدہ دے دیا۔ پھر کون کون اور کس طرح وزیراعظم بن گیا؟۔ اس کی ایک بہت بھیانک اور مخدوش تاریخ ہے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی کا اقتدار پر قبضہ تھا۔ آخر کار جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ عوام پہلے انگریز کے جس نظام اور جن لوگوں کی غلام تھی تو انگریز سرکار کے تشریف لے جانے کے بعد اس کی باقیات کا قبضہ جوں کا توں تھا۔
جنرل ایوب خان کے مقابلے میں مادرملت فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا تھا تو مشرقی ومغربی پاکستان کی زیادہ تر سیاسی و قومی جماعتوں نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کو دھاندلی سے شکست دے دی گئی تھی۔ جنرل ایوب خان کی کوکھ سے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا تھا۔ پھر جب جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کرایا تو مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی لیکن بھٹو نے جرنیلوں کیساتھ مل کر مجیب الرحمن کو جمہوری بنیاد پر قتدارسپرد نہیں کیا جس کی وجہ سے سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کا سانحہ پیش آیا تھا۔ پھر بھٹو نے پاکستان میں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھال لیا ۔ بنگلہ دیش میں پاک فوج سے ہتھیار ڈالوانے سے پہلے اقوام متحدہ کی فوج بھی تعینات ہوسکتی تھی لیکن بھٹو نے پاک فوج کو ذلیل کرکے اقتدار پر اکیلا مسلط ہونے کیلئے اقوام متحدہ کی اسمبلی میںاس قراردادکے کاغذ پھاڑ دئیے تھے۔ جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جگہ بھارت نے بنگلہ دیش پر قبضہ کرکے پاک فوج اور سول بیوروکریسی کے 93ہزار قیدی بنالئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تمام پارٹیوں کی مدد سے ایک اسلامی جمہوری آئین تشکیل دیا تھا لیکن اس کوخود معطل کرکے بھی رکھ دیا تھا۔ لاڑکانہ سے کوئی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ بھٹو کے مقابلے میںاپنے کاغذات بھی کوئی داخل کراتا۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی نے انتخابی دنگل میں لاڑکانہ سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس کو بھٹو نے کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کیا تھا۔ یہ وہ خالد کھرل تھا جس کے دادا نے برصغیر پاک وہند کے سب سے بڑے انگریز مخالف انقلابی قائد احمد خان کھرل کی مخبری کرکے نقدی اور سرکاری اراضی کا انعام کمایا تھا۔
بھٹو نے پنجاب وسندھ کو قابو کیا ۔ پہلے پنجاب اور ہندوستان کے مہاجروں کا عوام پر راج ہوتا تھا۔ بھٹو نے ہندوستانی مہاجروں کی سول بیوروکریسی کی ایک بڑی تعداد کو جبری ریٹائرڈ کرکے سندھ اور پنجاب کے اقتدار کی بنیاد رکھ دی تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے صوبوں میں اپنااقتدار حاصل کیا تھا۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام نے زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرلی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ جس میں خان عبدالولی خان، محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی ، بلوچ قیادت نواب خیربخش مری، سردارعطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجوتمام قوم پرست تھے۔ لیکن قوم پرستوں نے جمہوریت کے سر کے بال اور جمعیت علماء اسلام نے اسلام کی داڑھی مونڈھ دی تھی اسلئے کہ جہاں بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کو اسلام کے نام پر عوام نے بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے سردار عطاء اللہ مینگل کو وزیرااعلیٰ بنادیا گیا تھا اور جہاں سرحد(خیبرپختونخواہ )میں نیشنل عوامی پارٹی کو قوم پرستی کے نام پر بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے مولانا مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا تھا۔جس سے اسلام اور جمہوریت دونوں کی بیخ کنی کی گئی تھی۔اگر وزیراعلیٰ بلوچستان جمعیت علماء اسلام سے بنادیا جاتا تو بلوچستان ہمیشہ کیلئے اسلام اور جمعیت علماء کا قلعہ بن جاتالیکن جعل سازی اور سودابازی کے ذریعے بلوچ قوم پرست سردارعطاء اللہ مینگل کو بنایا گیا تو آج تک بلوچستان کی سیاست ، حکومت اور بلوچ عوام اس کے مضراثرات کے متأثرین ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ سرحد(خیبر پختونخواہ) اس وقت مفتی محمود کی جگہ کسی قوم پرست کو بنادیا جاتا تو خیبر پختونخواہ سازشی علماء اور دہشت گردوں کی جگہ قوم پرستوں کا مرکز بن جاتا۔
پنجاب مسلم لیگ بلکہ موسم لیگ اور سندھ پیپلزپارٹی کا قلعہ ہوسکتا ہے تو پھر بلوچستان اسلام اور جمعیت علماء اسلام اور خیبر پختونخواہ قوم پرستوں کا مرکز کیوں نہیں بن سکتا تھا؟۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ اپوزیشن کی سیاست کا مرکز تھے ۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی نام نہاد جھوٹی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو قوم پرستوں کے سہارے کھڑے وزیراعلیٰ مفتی محمود کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ پھر بھٹو کے مقابلے میں قومی اتحاد کے نو ستاروں کی تحریک چلی تھی جس میں جعلی قوم پرست اورجعلی اسلام پرست شامل تھے اور اس کوتحریکِ نظام مصطفی کا نام دیا گیاتھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی پہلے جمعیت علماء اسلام کے قائد کی حیثیت سے ایک مودودی سو یہودی کے نعرے لگواتے تھے لیکن پھر اس کی توپوں کا رُخ مفتی محمود کی طرف ہوگیا تھااور ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دے رہے تھے۔بعض علماء اس 9قومی ستاروں کے اتحادکو ان 9افراد کا ٹولہ قرار دے رہے تھے جن کا قرآن میں ذکر ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلارہے تھے۔
پھر جب اس قومی تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء لگا تو کچھ عرصے تک جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا گیا لیکن پھر جماعت اسلامی مارشل لائی بن گئی اور کچھ دیگر جماعتوں نےMRDکے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی ۔ جمعیت علماء اسلام کا فضل الرحمن گروپ اسکا حصہ بن گیا اور درخواستی گروپ مخالف بن گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا غلام غوث ہزاروی کی قبر پر اپنے باپ کے رویے پر معافی مانگی تھی کہ بھٹو کیخلاف جماعت اسلامی کیساتھ ہم غلط استعمال ہوگئے تھے۔ پھر جب جنرل ضیاء الحق حادثے کا شکار ہوگئے تو MRD میں شامل جماعتوں نے1988ء کے الیکشن میں فیصلہ کیا کہ قائدین کو اسمبلی تک پہنچانے کیلئے کسی کو بھی کھڑا نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن ، ولی خان وغیرہ کوسب نے مل کر جتوایا تھا لیکن بینظیر بھٹو کیخلاف ڈاکٹر خالد محمود سومرونے جمہوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الیکشن لڑا تھا،جس سے مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹ گئی تھی۔ ڈاکٹر خالد سومرو ایک طرف جے یوآئی کا نمائندہ تھا تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی اشیرباد پر پیپلزپارٹی کیخلاف قوم پرستوں کا مہرہ تھا۔ مفتی محمود اور ولی خان بھائی بھائی تھے تو ڈاکٹر خالد سومرو اور سندھی قوم پرست بھائی بھائی کیوں نہیں بن سکتے تھے؟۔پھر بینظیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو مسلم لیگ سے وزیراعظم عمران خان کے موجودہ سسر کے باپ غلام محمد مانیکا وغیر ہ بک گئے تھے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نیشنل پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور جمعیت علماء اسلام درخواستی گروپ وسپاہ صحابہ وغیرہ نے حصہ لیا اور جب اگلی باری پھر پیپلزپارٹی کی آئی تو مولانا فضل الرحمن بھی حکومت کا حصہ بن گئے تھے۔
PDMمیں پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام ساتھ تھے تو بھی گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں مریم نواز سمیت PDMکے تمام قائدین نے شرکت کی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے علامہ راشد محمود سومرو کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ایک طرف جمعیت کے سومرو برادران لاڑکانہ میں تحریک انصاف کے اتحادی تھے تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں باپ کی اتحادی تھی۔ پیپلزپارٹی کی چاہت تھی کہ شہبازشریف کو وزیراعظم اور پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے لیکن ن لیگ نے اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کیلئے اسمبلیوں سے استعفیٰ اوراسلام آباد لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے کا بہانہ بناکرپیپلزپارٹی اور اے این پی کو PDMسے آوٹ کردیا تھا۔
پھر جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ نے اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنے کی ایک لمبی مدت کے بعد23مارچ کی تاریخ دیدی۔ جس میں PDM نے لانگ مارچ کیساتھ دھرنا بھی دینا تھا اور اسمبلیوں سے استعفے بھی دینے تھے۔ جب مارچ آگیا تو پھرPDMنے اپنے وعدوں سے مکر جانے کیلئے جھوٹا شوشہ چھوڑ دیا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے ہمارے نمبر پورے ہیں۔پیپلزپارٹی سے بھی رابطہ کرلیااور چوہدری برادران سے بھی رابطے کرلئے لیکن اصل مقصد لانگ مارچ، اسلام آباد دھرنے اور استعفیٰ دینے کے وعدوں سے توجہ ہٹانی تھی۔ مسلم لیگ ن نے میڈیا ٹیم کے ذریعے سے یہ افواہیں چھوڑ دیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو 3طلاق دیدئیے ہیں اور ن لیگ سے درپردہ حلالہ بھی ہوگیا ہے اسلئے مریم نواز خاموشی سے اپنی حکومت آنے کا انتظار کررہی ہیں۔دوسری طرف تحریک عدم اعتماد سے گھبرا کر عمران خان نے اول فول بکنا شروع کردیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کی بات پر حسن نثار جیسے صحافیوں نے کہا کہ فوج بالکل غیرجا نبدار نہ رہے، ہماری جمہوریت اس کی متحمل نہیں یہاں خریدوفروخت کی چھانگا مانگا میں منڈیاں لگتی ہیں۔ وزیراعظم عمران نے کہا کہ ”غیر جانبدار تو جانور ہوتا ہے”۔ پہلے کہاتھا کہ ایمپائر کی انگلی اٹھے گی ، پھر کہا کہ ایمپائر سے مراد اللہ تھا۔ اب کہہ سکتے ہیں کہ ”غیر جانبدار جانور سے آرمی چیف نہیں ڈائنوسار مراد تھا”۔
قائداعظم گورنر جنرل تو آرمی چیف انگریز ، وزیرقانون ہندو اوروزیر خارجہ قادیانی اور پاکستان کا آئین اسلامی اور جمہوری نہیں تھا۔ پھر جنرل ایوبی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام اور محمد خان جونیجو قائدِ جمہوریت کہلایا ۔ جنرل ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لینے والا نوازشریف جمہوری قائد بن گیا ۔عمران خان کو ٹی وی کے اسکرین پر مرغا بن کر اعلان کرنا چاہیے کہ اپنے بچوں کی ماں جمائما خان کو چھوڑ کر پرائے بچوں کی ماں بشریٰ بی بی کو اپنی بیگم بنایااور یہ جائز تھا لیکن اپنے ٹائیگروں کو چھوڑ کر دوسرے کے بھگوڑوں کو ٹکٹ دینا بہت بڑی غلطی تھی۔ معافی مانگتا ہوں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

شیخ رشید وزیر داخلہ ، عمران خان وزیر اعظم ہو تو پھر ملک کا یہ حال ہوگا۔ آرمی چیف کو مولانا فضل الرحمن کا فون

شیخ رشید وزیر داخلہ ، عمران خان وزیر اعظم ہو تو پھر ملک کا یہ حال ہوگا۔ آرمی چیف کو مولانا فضل الرحمن کا فون

پارلیمنٹ ، PTVپر حملہ کرنے والوں کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا کردیا ہے جن میں صدر مملکت بھی شامل تھے اوراب کیا سندھ ہاؤس پر دھاوا بولنے والوں نے بھی ہمت پکڑ لی ؟

مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں اہم کردار ادا کررہے ہیں جس کے فوائد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور کیایہ اس خواب کی تعبیربھی ہوسکتی ہے؟

رسول اللہ ۖ کا خواب مولانا فضل الرحمن کی شکل وصورت میں آمد اور بیٹھ کرروئی سے گند صاف کرنے کی کیا تعبیر ہے؟۔ پچھلی بار مولانا فضل غفور نے کسی عالم دین کا خواب بیان کیا، جس پر موافق ومخالف علماء نے کہرام برپا کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے حضرت آدم علیہ السلام سے ٹیلی فونک گفتگو کا خواب بھی بیان کیا۔ آدم نے پوچھا کہ چاہتے کیا ہو؟۔ مولانا نے جواب دیا کہ ”امن ”۔
وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن نے تیل میں ڈنڈے بھگو کر رکھے ہیں، ایک عالم دین ہیں، ماؤزے تنگ نہیں۔ مولا جٹ نہ بنیں”۔ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے اور پتھر کا جواب پتھر سے دینے پر قرآن نے کہا ہے کہ ”جتنی انتقامی کاروائی کا نشانہ تمہیں مخالف بنائیں تم بھی اتنا کرسکتے ہو”۔
مولانا فضل الرحمن حلیہ وزبان سے نبی کریم ۖ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُمت پر موت کی کیفیت ہے اور میت کا گند روئی سے صاف کیا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے مخالفین کہتے ہیں کہ ملا کا کام میت کو غسل دینا اور عبادات ہیں تو سیاست میں یہ کیوں آئے ہیں؟۔ مولانا کے حامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا سہرا مولانا فضل الرحمن کے سر پر سج گیا ہے۔ میرے بھائی پیر نثار احمد شاہ پہلے مولانا فضل الرحمن کے عقیدتمند اور کارکن تھے اور اب عمران خان سے خیر کی اُمید رکھتے ہیں۔ کسی کا اپنے مفاد کیلئے ساتھ دیا اور نہ کسی کے کہنے پر چلتے ہیں۔
اگر اس وقت عمران خان کا میں کارکن ہوتا تو مولانا فضل الرحمن کیلئے مجھے گریبان سے پکڑتے کیونکہ جب عمران خان سیاست میں نہیں تھے تو اخبار میں اسلام کے حوالے عمران خان کے اچھے مضامین دیکھ کراس نے پیشگوئی کی تھی کہ ”یہودی لابی اس کو سیاست میں لاکر اقتدار پر مسلط کرے گی”۔ لیکن آج اگر عمران خان کیخلاف مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو ممکن ہے کہ میرے گریبان میں ہاتھ ڈال دے۔ جلیل القدر پیغمبر موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو داڑھی اور سرکے بالوں سے پکڑاتھا تو ہماری کیا اوقات ہے؟۔ نبی کریم ۖ نے انصار کے اوس وخزرج اور انصار ومہاجرین کو بھائی بھائی بنادیا۔ مؤمنین ومنافقین کو بھی لڑنے نہ دیا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے مخلص صحابہ تھے۔ تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے مشرک عیسائی اور حضرت عیسیٰ و مریم کیخلاف گستاخانہ عقائد رکھنے والے یہود کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی۔ تزکیہ ،کتاب و حکمت کی تعلیم، بدرو احد، حنین وخیبر ، صلح حدیبیہ وفتح مکہ اور میثاق مدینہ سے دنیا کو وہ پیغام پہنچایا کہ مشرق ومغرب کی سپر طاقتیں اس قوم کے سامنے سر نگوں ہوگئیں جو پہلے ان پڑھ اور جہالتوں سے مالامال تھی۔آج ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ پڑھے لکھے طبقے کو بھی جہالت وہٹ دھرمی کی طرف دھکیل کر اپنی مشکلات کا خیال رکھے بغیر اپنے تھوڑے سے وقتی اور غیر یقینی مفادات کی بھینٹ چڑھارہے ہیں۔
خان حکومت اتحادیوں اور لوٹوں سے بنی تھی۔ پارلیمنٹ کے اندر، باہرندیم افضل چن اور ترین گروپ کے علاوہ حفیظ شیخ کا سینیٹ الیکشن ہارنا بھی حکومت کا اخلاقی جواز ختم کرنے کیلئے کافی تھا۔ اپنوں کی وفاداری بدلیں اور اتحادیوں کے پاس جانے کی سبکی بھی اٹھانی پڑی۔ اگر عمران خان نے پھر بھی ہتھکنڈے استعمال کرنا نہیں چھوڑے تو ٹائیگروں میں اس کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوجائے گی۔ دودھ کے دھلے دوسرے سیاستدان بھی نہیں البتہ اس حکومت کی مخالفت پر کمر کس لینا جس کی پشت پناہی ہو۔ مولانا فضل الرحمن کو بڑا کریڈٹ جاتا ہے۔
نیوٹرل کوجانور کہنا بزدلی اور بدمعاشی سے اقتدارپر جمے رہنا حماقت ہے۔ مولانا کیوجہ سے خانی توپوں کا نشانہ اسٹیبلشمنت کے بجائے سیاستدان بن گئے۔ استحکامِ پاکستان نبیۖ کا فیضان اور فیضان کے مظہرمولانا فضل الرحمن ہیں؟۔

عقیدت مندعلماء کی طرف سے ویڈیوپیغام
خواب دیکھا کہ نبی کریم ۖ مولانا فضل الرحمن کی شکل میں موجود ہیں
میں تو اس کو چھپارہا تھا لیکن ساتھیوں کے اصرارپر بیان کررہا ہوںتاکہ دوسرے بھی مطلع ہوں۔ دودن پہلے رات ساڑھے چار بجے کے وقت یہ خواب دیکھا کہ نبی کریم ۖ مولانا فضل الرحمن قائدJUIکی شکل و صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ میں یہ محسوس کررہا ہوں کہ آپ ۖ کھڑے ہیں لیکن شکل و صورت کپڑے لباس سب مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ پھر وہ نیچے بیٹھ جاتے ہیں انکے ہاتھ میں بہت ساری روئی ہے اور نیچے زمین پر کوئی گند پڑا ہوا ہے اس روئی سے اس گند کو صاف کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں اس گند کو صاف کرونگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

Imran Khan and his allies are wives of Nika’s father and we have now got three divorces from Nika’s father, PDM

اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

خانہ بدوش ایک پارٹی چھوڑکر دوسری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں، موسم کی تبدیلی سے سیاستدان اپنے ٹھکانے بدل لیتے ہیں۔ عوام کے اندر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی عزت خاکستر ہوگئی مگر یہ اپنی دنیا میں خوش ہیں کہ عزت، شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے سیاسی منافقت آسان اور بہترین راستہ ہے۔ پارٹیاں جن سیاسی رہنماؤں کی بیساکھیوں پر اقتدار میں آتی ہیں وہ بیساکھیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ حلالہ کے سانڈوں کے اعضاء مخصوصہ ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، جمعیت علماء اسلام اور تمام پارٹیاں اپنے نئے نئے سانڈوں کوبہت بد دلی کیساتھ قبول کرتی ہیں کیونکہ حلالہ والوں کا کرائے کے سانڈوں سے حقیقی رشتہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تین طلاقیں لینے کے بعداپنے اپنے حلقۂ احباب میں حیلے کی سزا کھا تی ہیں۔
نوازشریف، زرداری ،مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، محمود اچکزئی ، اویس نورانی، علامہ ساجد میر اورPDMمیں شامل جماعتوں نے برملا کہاتھا کہ عمران خان اور اسکے اتحادی نکا کے اباکی بیگمات ہیں اور ہم نے اب نکاکے ابا سے تین طلاق لی ہیں لیکن پھر ایسی فضاء کرائے کے بھڑوے صحافی بنارہے ہیں کہ منکوحات کو طلاق دی جارہی ہے اور جنہوں نے تین طلاق کا شور مچایا ہوا تھا وہ پارٹیاں پسِ پردہ حلالے کروانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔لوگ اب ہالی ووڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کے ان اداکاروں کا کردار دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں لیکن نرگسی مزاج کے سیاستدان، جج، جرنیل، صحافی اور علماء اپنی اپنی ذات کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ اسلام میں شخصیت سازی اور شخصیت سوزی نہیںبلکہ انسانوں کو مشکلات سے نکالنے کا فارمولہ ہے۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کابیٹا اور خدا بنادیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہالسلام کو گالیوں اور توہین سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی شخصیت سازی اور شخصیت سوزی کا مرہون منت ہے اور اس کے علاوہ ان کا کوئی اپنا ایجنڈہ نہیں۔
ایک شیعہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جنگ میں شہ سرخی لگی کہ”میں دس ہزار طالبان لیکر اسلام آباد پر چڑھائی کروںگا”۔ میں نے کہا کہ” یہ سراسرجھوٹ ہے ”۔ جھوٹوں پر لعنت ہے، ایسا جھوٹ فساد فی الارض ہے ۔ غیبت ہماری خوراک ہے جس کو قرآن نے اپنے مردے بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا۔ جن شیعہ سنی افراد نے شخصیت سوزی اور شخصیت سازی کو اپناہدف بنایا وہی دہشتگردی کی بنیاد ہیں۔ سنی بھی شیعہ کے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں اور بعض شیعہ بھی لگے رہتے ہیں جس کی پھر بہت بھاری قیمت ہی چکاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی اور انگریز کیلئے بڑا دردِ سر رنجیت سنگھ تھا۔ خیبر پختونخواہ پنجاب کا حصہ تھا۔ سیداحمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے خلافت کا خواب دیکھا تو انگریز نے اس کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ اسلئے کہ خراسان کے مہدی کی خلافت قائم کرنے میںوہ کامیاب ہوتے یا نہیں لیکن راجہ رنجیت سنگھ کو نقصان پہنچاسکتے تھے۔ رنجیت سنگھ نے یہ خواہش بالاکوٹ کی سرزمین میں دفن کردی اور یہ نظریہ ٔپاکستان کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ ہندوستان سے خلافت کیلئے ہجرت کرنے والوں نے اپنی بیگمات و بچے سندھ میں چھوڑے تھے اور کیا پتہ کہ کراچی رنچھوڑ لائن کا علاقہ اسی لئے مشہور ہو کہ لوگ اپنی رن یعنی بیگم چھوڑ کر اطمینان سے جہاد پر جاتے ہوں۔ ایم کیوایم کی تحریک زوروں پر تھی تو رنچھوڑ لائن والوں نے کافی عرصے تک اپنے علاقے میں گھسنے نہیں دیا تھا۔
پختون قوم پرستوں میں غفار خان اور عبدالصمد خان نمایاں ہیں، دونوںکا تعلق کانگریس سے تھا۔ تحریک بالاکوٹ سے تعمیر پاکستان اورروس سے امریکہ تک کے مجاہدین کے خلاف رہے۔ انگریز دور میں علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور جو ہجرت نہ کرے گا ،اس پر بیوی حرام ہوجائے گی تو غفار خان نے کہا کہ اس فتوے کی وجہ نہ صرف ہم نے افغانستان ہجرت کی بلکہ ہماری بیویاں بھی ہم سے آگے آگے بھاگ رہی تھیں۔ افغانستان کی ہجرت ناکام ہوگئی تو علماء کے فتوے بھی ناکام ہوگئے۔ ملاعمر کے اسلام سے آج طالبان منحرف ہیں لیکن ملاعمر کا اسلام پہلے بھی متضاد تھا اور آج بھی قابلِ عمل نہیں ۔
پاک فوج راجہ رنجیت سنگھ کی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔ طالبان کا یہ گھمنڈ ہے کہ نیٹو جیسی طاقت کو شکست دی تو پاکستان کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔ انگریز نے دی پٹھان میں لکھا ہے کہ” وزیرستان پر کبھی بھی کسی نے حکومت نہیں کی ہے اسلئے کہ حکومت کا کام ٹیکس وصول کرنا ہوتا ہے اور وزیرستان کے لوگوں نے کبھی کسی حکومت کو ٹیکس نہیں دیا ہے”۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیرستان میں اتنے بڑے پیمانے پر اناج اور وسائل نہیں تھے کہ کوئی حکومت قبضہ کرکے ٹیکس کا حصول یقینی بنانے کی تگ ودو میں اپنا وقت اور فوجیوں کو ضائع کردیتی۔
ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان بعد میں ہواتھا۔ پہلے ایک طرف قبائل نے انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور دوسری طرف وہ خود کو افغانستان کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ افغانستان کی حکومت نے قبائل سے مدد ضرور لی ہے لیکن قبائل کو افغانستان کا باقاعدہ حصہ کبھی نہیں سمجھا ہے۔ انگریزی سرکاری رپورٹ اور ہمارے خاندانی ذرائع سے یہ معلومات کہ ”میرے دادا سیدامیرشاہ اوردومحسود قومی نمائندے گئے اور افغانستان کے بادشاہ امیر شیرعلی سے انگریز کے خلاف ایکدوسرے کیساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا اور افغانستان کے بادشاہ نے کانیگرم میں آسمانہ منجہ کے مقام پردفاعی قلعہ کی بھی اجازت مانگی تھی”۔ کسی ایک ملک کے افراد میں اس طرح باہمی تعاون کا معاہدہ نہیں ہوتا۔ پھر میرے دادا کے بڑے بھائی سیداحمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کاوفد بھی افغانستان گیا اور وہاں سے تحائف، نقدی بھی دئیے گئے۔ جب امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت ہوگئی اور بچہ سقہ نے حکومت پر قبضہ کیا اور پھر وزیرستان کے قبائل نے بچہ سقہ کے خلاف لشکر بھیجا جس پر انگریز نے بمباری بھی کی اور1937کے زمیندار اخبار میں اس پر تبصرے ہوئے۔ امیرامان اللہ خان کی جگہ اس کے کزن نادر خان نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور حکومت پر قبضہ کرلیا جو ظاہرشاہ کا باپ تھا۔ جب امیر امان اللہ خان کے بھائیوں کی طرف سے نادرشاہ خان کاتختہ الٹنے کی سازش کا انکشاف ہواتو سیدایوب شاہ عرف آغا ولد سیداحمد شاہ کو توپ سے اُڑانے کاحکم سنایاگیا اور بعد از آں افغانستان سے ہمیشہ کیلئے جلاوطن کردیا گیا،جو افغانستان میں پہلے اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے۔
سرحدکے گاندھی اور بلوچستان کے گاندھی متحدہ ہندوستان کا حصہ رہنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو پھر افغانستان سے ملنے کی دھمکی ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ ناراض بلوچوں سے ناراض پختونوں کے قائدین بھی پہلے سے موجود تھے لیکن بلوچ بندوق اٹھانے میں جلد بازی کا مظاہرہ روایتی طور پر کرتے ہیں۔ پختون طالبان بھی بنتے ہیں تو ایک طرف قطر میں مذاکرات اور دوسری طرف نیٹو سے افغانستان میں لڑائی کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ کوہِ سلیمان میں سلمان تخت کے قریب قیس عبدالرشید کی قبر ہے اور اس پہاڑ کا نام بھی ”قیسے غر” یعنی قیس کا پہاڑ ہے۔ فتح مکہ میں پختون قبائل نے اہم کردار ادا کیاتھا ۔ خالد بن ولید کا تعلق در اصل بنی اسرائیل سے تھا اور پختون بھی بنی اسرائیل تھے۔ سلیمان تحت کے ارد گرد شیرانی قبیلہ آباد ہے اور مولانا محمد خان شیرانی اورشیرانی قبیلے نے تحریک طالبان کو اپنے ہاں گھسنے نہ دیا ۔ مولانا شیرانی کہتے تھے کہ اغیار کی اس جنگ کا مقصد مسلمانوں ، پشتون اور خطے کا کباڑہ ہے۔ پاکستان کرائے کا وہ چوک ہے جس میں سیاستدان بھی کرائے پر ملتا ہے، مجاہد اور صحافی اور مفتی بھی کرائے پر ملتا ہے اور فوج اور حکومت بھی کرائے پر ملتی ہے۔ جیسے مزدور اپنے اوزار لیکر چوک پر موجود ہوتے ہیں۔
جب امریکہ افغانستان میں اترنے کیلئے شمالی اتحاد سے مدد لے رہاتھا تو مولانا معراج الدین قریشی محسود قبائلی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے افغانستان پہنچا تھا۔ وہاں سے واپسی پر وہ طالبان اور افغانیوں سے سخت ناراض تھے اور اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ یہ بڑی گیم ہے جس کا طالبان بھی حصہ ہیں۔ جب مجھ پر فائرنگ ہوئی تو اس سے پہلے بھی مولانا معراج الدینMNAاور مولانا صالح شاہ سینیٹر نے طالبان کو سازش قراردیا اور پھر مولانا معراج الدین نے مجھ پر فائرنگ کے بعد کہا تھا کہ مولانا شیرانی صاحب نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا تھا کہ ”یہ معلوم کیا جائے کہ امریکہ کی آخری منزل کیا ہے؟”۔ آج صورتحال تبدیل ہوگئی ہے ۔ امریکہ اور طالبان کی ڈیل ہوگئی ہے۔ جب قبائل خود مختار تھے توپھر افغانستان تو بہت دور کی بات ہے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کی حدود پر قبضہ اور جرائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن اب عوام بھی بے اختیار ہوگئے ہیںاور حکومت بھی اپنی رٹ وہاں قائم نہیں کرسکی ہے۔ نیازی نسلاً پٹھان اور سرائیکی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے سب کیلئے درمیانی حیثیت رکھتے ہیں۔ عمران خان نیازی اپنے والد سے زیادہ اپنی والدہ شوکت خانم برکی پر نازکرتا ہے لیکن اس کی والدہ جالندھر بھارتی پنجاب سے تعلق رکھتی تھی اسلئے عمران خان کبھی خود کو قبائل کانیگرم جنوبی وزیرستان کے برکی قبیلے کا بھانجا کہتا تھا اور کبھی خود کو ماں کی وجہ سے آدھا مہاجر کہتا تھا۔ کرکٹ میں بینٹنگ اور بالنگ کے علاوہ آوارہ گردی اور شوکت خانم کے نام پر چندوں کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ سیتاوائٹ، جمائماخان، ریحام خان کے ناکام تجربات کے بعد بی بی بشریٰ سے شادی رچائی ہے۔ عوام نے اس کی شہرت اوربونگی مارنے پر اعتماد کرکے ووٹ دئیے لیکن جسٹس وجیہ الدین، جاوید ہاشمی، جہانگیر ترین، افضل چن سے لیکر حفیظ شیخ اور شہزاد اکبر تک پتہ نہیںکہ لباس مکمل ہے یا اس حمام میںچڈی اُترچکی ہے؟۔ پیرنی کا گھر اُجاڑ دیا اورمدینہ کی ریاست کے نام پر ملک کو تباہ کردیا۔
میاں نوازشریف کا پارلیمنٹ میں بیان اور قطری خط تک کی داستان سامنے ہے۔ پیپلزپارٹی بھی حقیقی بھٹوز اور نظریاتی لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر زرداری آپاؤں کی چنگل میں ہے۔ میڈیا کاروباری ہے۔ اگر منظور پشتین محسن داوڑ اور علی وزیر کو الیکشن میں حصہ لیتے ہی پارٹی قیادت سے ہٹادیتے اور خان زمان کاکڑ کو متوازی حیثیت دیدیتے تو پھر خیبر پختونخواہ اور بولان میںPTMایک مضبوط قوت بن کر ابھرتی۔ اب کالے تیتر کی طرح دوسروں کا شکار ہونے کیلئے ”سبحان تیری قدرت” کہہ سکتے ہیں لیکن کالے عقاب کی طرح کالی چٹانوں پر بیٹھ کر شکار نہیںکھیل سکتے ۔ ہماری حکومت وریاست کوTTPسے خطرہ لگتا ہے لیکن ابPTMسے خطرہ نہیں۔ جب لوگ طالبان کوانبیاء کی طرح مقدس اور فرعون کی طرح طاقتور سمجھتے تھے تو بھی ہم نے ان کے غلط تقدس اور غلط خوف کو بڑے اچھے انداز میں پامال کرکے رکھ دیا تھا۔ آج تو انقلاب آچکاہے کہ وہی لوگ ان سے خوف بھی نہیں رکھتے اور تقدس کا درجہ بھی نہیں دیتے ۔ اگر پاکستان کاقومی ترانہ زبردستی سے گانے اور مخصوص لباس پہننے پر انہیں سرنڈر کرکے مجبور کیا جائے تو ان کا دل ودماغ جبر سے نہیں بدل سکتا ہے لیکن جب اسلام کی حقیقت اور پشتو روایت کی حقیقت سمجھائی جائے تو ان کا ذہن بدل سکتا ہے۔PTMنے بہت کام اس طرح سے کیا کہ عوام کو اپنی رسم وروایت کی طرف راغب کرکے تشدد سے نکال دیا لیکن تعصبات پھیلانے والے خود شکار ہوگئے اور اب محسن داوڑ اور عبداللہ ننگیال مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایسی تحریک کی ضرورت ہے جہاںعوام کے دل ودماغ میں مذہب کا غلط بھوسہ یاغلط فہمی پیداکی گئی ہے اس کی جگہ اسلام کی لہلہاتی ہوئی کھیتی سامنے لائی جائے۔ جس سے پاکستان بلکہ افغانستان وایران میں بھی پھلوں اور پھولوں کی بہار آئے۔ پھر عرب بھی اس بہار سے فائدہ اٹھائیں گے، پوری دنیا بھی اسلامی بہار سے استفادہ کرے گی۔ اسلامی خلافت کسی سے اختیار چھین لینے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنا اختیار درست استعمال کرنااور اپنا فریضہ پورا کرنا حقیقی خلافت ہے۔ رسول اللہ ۖ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھے تھے تو ان میں دھمکی نہیں دعوت تھی۔ اگر حق کو قبول کرکے ظالمانہ نظام کو ختم کرتے تو نبیۖ نے ان سے اقتدار چھین کر اپنے ساتھیوں کے حوالے نہیں کرنا تھا۔
آج دنیا میں حقیقی جمہوریت نہیں بلکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے اقتدار میں لوگ اپنے مفاد کیلئے آتے ہیں۔ عمران خان اتنا کم عقل تھا کہ جب فوج ضرب عضب کے نام سے طالبان کے خلاف آپریشن کررہی تھی تو وہ پنجاب پولیس کو اسلام آباد دھرنے سے طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری دی تو راہ گیروں کے پیروں کی جگہ راہداری کو بوسہ دے دیا۔ کھلاڑی کو تصوف، سیاست، جہاد اور کسی چیز کا بھی کبھی ڈھنگ نہیں آیا۔ البتہ لوگ پھر بھی خوش اسلئے ہیں کہ سیاسی ڈھونگ رچانے والی جماعتوں کا پول کھول دیا۔ اللہ نے کوئی مکھی بھی بے فائدہ پیدا نہیں کی ہے تو ایک اہم ملک پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے قائد اور وزیراعظم سے کوئی نہ کوئی خدمت تو ضرور لینی تھی۔ بے شرموں کا مقابلہ بے شرمی سے کیا جاسکتا تھا۔
پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہندوستان، اسرائیل، امریکہ، ایران اور افغانستان سے اسکے خلاف محاذ کھڑا ہوجائے تو نیست ونابود ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یمن میں حوثی باغیوں کے پیچھے ایران ہے اور اسلامی ممالک کے نیٹو کا سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں۔ یمن میں عوام تباہ ہیں۔ یوکرین پر روس قبضہ کے چکر میں ہے۔ دوسری طرف امریکہ و نیٹو روس کے خلاف کھڑے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی علامات پوری ہیں۔کردوں اور داعش کے درمیان پھرقتل وغارت کیلئے بین الاقوامی ایکٹرز سرگرم ہیں ۔ پاکستان کے خلاف بھی اندرونی اور بیرونی سازشیں اپنا کام دکھا سکتی ہیں۔ اپنی تباہی کیلئے ہمارا اپنا ہوم ورک بھی کافی ہے۔ دنیا میں قتل وغارتگری شروع ہونے سے پہلے پاکستانی ریاست کو بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب کی طرح مدارس ومساجد، فوجی بیرکوں، قلعوں اور کینٹ ایریاز میںپھر بے بسی کے عالم میں اس قسم کی نعت پڑھنے کی محفلیں سجانے لگ جائیں اور پھر اس کا کوئی فائدہ بھی دکھائی نہیں دے۔
باچا خان سے گاندھی جی نے کہا تھاکہ اپنی پختون قوم پر محنت کریں ۔جس کے جواب میں باچا خان نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بازار چلیںاور ایک ہندو موچی کے کیلوں کا برتن ٹھوکر سے بکھیر دیں۔ گاندھی نے ٹھوکر ماری تو ہندو غصہ ہوا لیکن جب اس کو تعارف کرایا کہ گاندھی جی ہے تو ہاتھ جوڑ کر گستاخی پر معافی بھی مانگ لی۔ پھر آگے چل کر باچا خان نے پختون موچی کے کیلوں کوٹھوکر مار کر گرایا تو پختون موچی نے کہا کہ ایسا کیوں کیا؟۔ باچا خان نے کہا فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کیلئے ہے ،آپ کے ٹھئے لگانے کیلئے نہیں۔ غلطی سے پیر لگ گیا تو کیا ہوا؟۔ میںپختونوں کا اتنا بڑا لیڈر باچا خان ہوں۔ پٹھان موچی نے کہا کہ فٹ پاتھ پر سب ٹھئے لگاتے ہیں اور آپ جو بھی ہیں، اپنی غلطی کا ازالہ کریں اور کیلیں اکٹھی کرکے دیدیں۔ باچا خان نے گاندھی سے کہا کہ یہ ہماری قوم کا حال ہے۔ باچا خان اور گاندھی دونوں نے قوم کے جوہر آزادی کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ ایسی قوم اور اس کے جذبات سے دنیا کو فتح کیا جاسکتا ہے لیکن غلامی کے خوگر ہندو اور آزادی کے پاسبان پختون قوم کے جوہر کو سمجھا نہیں گیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پٹھان موچی معروف شاعر حبیب جالب کے والد ہوںجو میانی پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے گومل میں میانی قوم کے افراد بھی سفید نہیں سانولے رنگ کے ہیں اور شکلیں بھی حبیب جالب سے ملتی ہیں۔ ہمارے ایک پڑوسی شاعر حبیب آباد نے بھی پشتو میں آزادی کی بڑی زبردست غزلیں گائی ہیں۔ اس کے کچھ اشعارارود ترجمہ کیساتھ ہم نے شائع بھی کئے تھے۔
جالب نے جنرل ایوب ، جنرل ضیاء الحق سب کیخلاف آواز اٹھائی اور آخر میں نوازشریف، شہباز شریف اور بینظیر بھٹو کو بھی نہیں چھوڑا لیکن اعتزاز احسن نے جھوٹی وکالت کرکے روایتی پنجابی ہونیکا ثبوت دیا کہ ”بی بی جالب نے آپ کی تعریف کی ہے”۔ قابل خوشامدی ٹولہ ہمیشہ قومی قیادت کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔ پختونوں سے اس وقت دھوکہ ہوا تھا جب بلوچستان میں سردار مینگل اور سرحد میں مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ جو اسلام ، جمہوریت اور پشتو کے لحاظ سے غلط تھا۔ قائداعظم اور قائدملت کی طرح باچاخان و اچکزئی خاندان کا بھی غریب عوام سے فاصلہ تھااور مولانا فضل الرحمن نے بھی اڑان بھری ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے طبقاتی تقسیم کے بجائے نظام کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر 2001 میں شائع اشعار

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر2001میں شائع اشعار

کب تلک شکم کی آگ بجھاؤ گے؟
چھوڑ دو مفادات تو فلاح پاؤ گے
اختلاف بھڑکانا ڈیوٹی نہیں للہ
خفیہ اشارے پر ہمیں لڑاؤ گے
قرآں میں ممنوع آپس کی لڑائی
طاغوتی جال میں سادے پھنساؤ گے
مساجد میں غارت گری کے مقاصد
دین داغدار ، جنازے بھی اٹھاؤ گے
آستیں چڑھائے رکھنا دسترخواں پر
قربانی کے بکرے کارکن مکاؤ گے
فرقہ وارانہ ہڈی کتوں کا راشن
مالک چھیڑے تو بھی غراؤ گے
اغیار تھامے ہیں گلے کی رسی
بغاوت سے دار چڑھ جاؤ گے
ذلت کی زندگی سے مرگ بہتر
شہادت سے ملت کو بچاؤ گے
مفاد پرستی میں سرمست ، عمل میں بدمست
دائم خرمست ! اُمت کو ستاؤ گے
اظہار حق سے بڑوں کو خوف
انہیں موت کی نیند سلاؤ گے
پیارے باز آؤ جانب منزل ورنہ
معاشرے میں رہی ساکھ گھٹاؤ گے
ادھر کے رہو گے نہ اُدھر کے
بیچ رہبر و سپاہ لٹک جاؤ گے
انتشار راس نہ آیا تو ہوا ڈر
راہِ حق میں بھی بھٹک جاؤ گے
کرلو توبہ دروازہ بند نہیں ہوا
جہنم میں کیا راکھ اڑاؤ گے
لا تفرقوا فرض ، نہیں مروڑِ پیٹ
وحدت کی راہ سے سدھر جاؤ گے
ضرب حق سے ہوجائے شرح صدر
میری غزل گا گا کے سناؤ گے
نعرہ بدلے ہوا کے ساتھ ساتھ
”عتیق ہے ہمارا” کبھی جتلاؤ گے
بہر صورت کسی قیادت پر کرو اتفاق
ورنہ جہالت کی موت مرجاؤ گے
اتفاق سے قائم کرو نظام خلافت
بفضل ربی تقدیرِ قوم جگاؤ گے
دیوبندی رہے نہ پھندے میں بند
سی آئی اے امریکہ مار بھگاؤ گے
بریلوی رہے نہ روزگارِ جہالت
موالی مجاور کو ریس کراؤ گے
رہے نہ اہل حدیث سعودی فیس
ان نسبتوں سے جان چھڑھاؤ گے
ابراہیم نے رکھا نام مسلم تمہارا
اُمت مسلمہ سے چھا جاؤ گے
اُمةً وسطاً کی گواہی ہوگی ضرور
پھل دار ٹہنی جیسے نفس جھک جاؤ گے
دوستو! گیلانی کی مجالس میں بیٹھو
ان فتنوں کے نشان مٹاؤ گے
قوت یکجا کرو مانند قرونِ اولیٰ
اسلام دنیا میں غالب پاؤ گے
لڑنے سے اکھڑے گی ریح تمہاری
انتشار کی خاطر کافر بلاؤ گے
خانہ جنگی کی کیفیت ہوگی یہاں
در اقوام متحدہ کھٹ کھٹاؤ گے
دہشت گرد را موساد ، کھاتہ تمہارا
گر لگی آگ کدھر جاؤ گے
بھڑکے فرقہ پرستی کے شعلے قاسمی
وحدت کی برسات کب برساؤ گے
مولانا نور محمد قاسمی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ، مدیر مدرسہ ابوبکر صدیق، مسجد نبوی نورانی بستی کورنگی کراچی کے یہ اشعار ”وحدت کی برسات” ماہنامہ ضرب حق کراچی میں شائع ہوئے تھے ۔ آج پل کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار اور اس کا گروپ، ایم اکیو ایم بہادر آباد، ایم کیوا یم حقیقی، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن، پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، سندھ کی تمام مقامی پارٹیاں اور مہاجر،پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، ہزارے وال،کشمیری اور پاکستان کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد کراچی میں پرامن طریقے سے اپنے روزگار کیلئے رہتی ہے۔ اگر یہاں اخوت اوربھائی چارے کا ماحول پیدا کیا گیا تو مقتدر قوتوں کو بھی عوام کے مفاد میں اپنی مفادپرستی سے ہاتھ اُٹھانے پڑیں گے۔ یہاں بجلی، گیس، پانی ، ٹوٹی ہوئی سڑکوں، تعلیم اور علاج کے علاوہ قبضہ مافیا ز کے بہت سارے مسائل ہیں۔ ہلڑ بازی اور لڑائی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں لیکن کم نہیں ہوسکتے ہیں۔ کون کس کو ماموں بنارہاہے؟ ۔ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی سے کامیاب معاہدہ کیا لیکن گیم سندھ پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے جس پرمعاہدہ کرنے والے عمل در آمد نہیں کراسکتے ہیں۔ اب عدالت نے ایم کیو ایم کی درخواست پر سندھ حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ شہری حکومت میں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔
ڈکٹیٹر شپ نے بھی روشنی اور امن وامان کے شہر کراچی کو ہتھوڑا گروپ سے لیکر بیت الحمزہ کے نام سے ٹارچر سیل بنانے اور گرانے تک پتہ نہیں کیا کیا دیا؟۔ اب پھر عوام کے اندر تعصبات کا کیڑا جگانے کی ناکام کوشش ہورہی ہے لیکن اب عوام کا کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے کیونکہ عوام کیلئے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار، حافظ نعیم الرحمن، ایم کیوایم متحدہ اور ایم کیوایم حقیقی کے اصحاب حل وعقد کے علاوہ تمام پارٹیوں اور قومیتوں کے سرکردہ لوگ بیٹھ جائیں۔ ماؤں ،بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کی عزتوں کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے کراچی شہر سے حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے بڑے بڑے مدارس میں میٹنگ رکھ کر فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ اسلام، مذہب اور معاشرے کی سمت درست ہوجائے گی تو پھر دوسرے مسائل کی طرف بھی توجہ جائے گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے دفتر فیڈرل بی ایریا میں اتحادالعلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف سے ملاقات کیلئے حاضری دی تھی تو ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے بھی سرسری دعا سلام ہوئی تھی۔ مولانا عبدالرؤف کے داماد مفتی محمود شاہ نے پیشکش کی تھی کہ حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ایک مدرسہ قائم کرلیتے ہیں لیکن مجھے گروہی کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور سواداعظم کے نام سے لوگوں نے اپنے چہرے سیاہ کئے ہیں لیکن ایسا کام نہیں کیا کہ اس کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی جماعت عوام کا رُخ درست جانب موڑ سکے۔ ویسے اعظم کے معنی اکثر کے نہیں ہیں اسلئے کہ عربی میں اکثر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور قرآن نے اکثریت کو معیار بنانے کی مخالفت کی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ سب پر غالب ہونگے”۔
جس کو اہل حق ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ صلح حدیبیہ کی شرائط پر بھی صلح کرتا ہے اور فاتح مکہ بن کر بھی اپنے دشمنوں کو عزت بخش دیتا ہے لیکن جو اندرسے بڑا کمزور ہوتا ہے وہ گروہ پرستی اور طبقات پرستی کے تعصبات کو ہوا دینے میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ انگریز نے لڑاؤ اور حکومت کی پالیسی بنائی اور آج بھی اس کی باقیات اپنی سوچ سے تائب ہونے کیلئے تیار نہیں ہے لیکن اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے چند جنرلوں امجد شعیب ، اعجاز اعوان اور اسد خٹک کی بیٹھک کرائی اور تینوں نے اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ۔ امجد شعیب نے فوج کے خلاف سخت پروپیگنڈے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس بات کی طرف نہیں دیکھا کہ جب سروس روڈ ، پبلک پارک اور سرکاری تعلیمی اداروں پر فوج کے ادارے قبضہ کریں تو عام آدمی کی زبان پر بھی حقائق آئیں گے اور جو غلط وکالت کریگا وہ بھی مسترد ہوگا۔ اعجاز اعوان نے بہت اچھی باتیں کیں کہ اشرافیہ کا تعلق جس طبقے سے بھی ہو اسکی بے تحاشاہوس زر نے قوم کو اس حد تک پہنچادیا ہے۔ اسد خٹک نے عام آدمی کے نام سے سیاسی پارٹی بنانے کی خبر دی ہے۔
قرآن کی سورۂ واقعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار میں مگن ہوں اور ان کا دنیا میں حشر نشر بھی بتایا ہے۔ سورہ دھر میں ایک انقلاب عظیم اور ملک عظیم کی خبر ہے اور ایک بدنما بیماری کا ذکر بھی ہے۔ کرونا کے حوالے سے مولانا سلیم اللہ خان نے صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر کیا ہے۔ اب قرآنی اور اسلامی انقلاب کی راہ میں عوام اور سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ مذہبی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔ جمعیت علماء اسلام ایک بڑی مذہبی جماعت ہے اور بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ اور اہلحدیث بڑے بڑے فرقے ہیں۔ سب اسلام چاہتے ہیں لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv