پوسٹ تلاش کریں

Comparison of Maulana Rashid Mahmood Soomro and his ancestors with Dr. Farooq Sattar

مولانا راشد محمود سومرو اور اسکے باپ اور دادا کے ساتھ ڈاکٹر فاروق ستار کا تقابلی جائزہ۔

جب کراچی میں لسانی فسادات شروع ہوئے تو میں مہاجروں کے اکثر علاقوں میں گھومتا پھرتا تھا لیکن کبھی کسی نے تعصبات کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ مخصوص شرپسندہرجگہ ہوتے ہیں۔ جب ایم کیوایم کیخلاف جناح پور اور غداری کے مقدمات چل رہے تھے،الطاف بھائی (MQM)سے دستبردار ہواتھا لیکن ڈاکٹر فاروق ستار(doctor farooq sattar) نے بڑی قربانیاں دیں۔ امت اخبار و ہفت روز ہ تکبیر کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار کی تعریف ہوتی تھی کہ والدین بھی بہت نیک اور اچھے ہیں۔ ایم کیوایم کے اتارچڑھامیں ڈاکٹر صاحب نے بہترین اور اہم کردار ادا کیا۔ الطاف بھائی جو مشکلات کھڑی کرتا تھا تو ڈاکٹر فاروق ستار کو بھگتنا پڑتے تھے۔ الطاف بھائی کو چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب اور ایم کیوایم کے دیگر رہنماں سے دل کی گہرائیوں کیساتھ معافی تلافی کریں اور پاکستانی ادارے بھی الطاف بھائی کو معاف کرکے پاکستان میں اہم کردار کا موقع دیں۔ ہم نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پرمفتی تقی عثمانی(mufti taqqi usmani) کیخلاف آواز اٹھائی تو( MQM)نے ساتھ دیا۔
رینجرز اہل کار(rengers) نے اپنی ڈیوٹی انجام دیکر مولانا راشد سومرو(rashid soomro) کے کلاشکوف کا لائنسس چیک کیا اور ضابطے کی کاروائی کرکے گاڑی کے نمبر پلیٹ کی پیچھے سے تصویر اتاری، جس پر مولانا راشد سومرو نے روڈ بلاک کرکے بڑا شور مچایا۔ جب ڈاکٹر فاروق ستار کے عروج کا دور تھا تو ائیرپورٹ پر ٹکٹ ایشو کرنے والی لڑکی نے پوچھا کہ شناختی کارڈ ہے؟۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں ، کوئی کارڈ وغیرہ مل جائے تو؟، لڑکی نے کہا کہ صرف شناختی کارڈ ہی چلے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے بیگ ٹٹولا اور پوچھا کہ پاسپورٹ چلے گا؟۔ اتنے میں ائیرپورٹ کابڑا افسر پہنچ گیا اور ڈاکٹر فاروق ستار سے معذرت کرلی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ” کوئی بات نہیں، ضابطے کی کاروائی ضروری ہے”۔ اس سے شاہین ائیرلائن اور ائیرپورٹ کے عملے میں ڈاکٹر فاروق ستار کا قد بڑھ گیا۔بالکل غیرمعروف (MNAاورMPA )خواتین بھی چلاتی ہیں کہ ہمیں نہیں پہچانا۔
مولانا عبدالکریم بیرشریف مرکزی امیر(JUIF) نے ہماری حمایت کی تھی۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے اسلام کی نشا ثانیہ کیلئے تائید میں تحریرلکھی لیکن ڈاکٹر خالد سومرو کے باپ نے ہمارے ساتھیوں سے کہا کہ”( 40)سال سے چوتڑ ہم رگڑرہے ہیں اور امام تم بنوگے؟”۔ ہمارے ساتھی مختارسائیں نے کہا کہ ”آپ نے چوتڑ کیوں رگڑی؟، نہ رگڑتے!”۔ شکار پورمدرسہ جلسہ کے اشتہارمیں میرا نام تھا تو ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا کہ ہم ہونگے یا یہ ہوگا؟۔ وڈیرے نے کہا کہ معزز شاہ صاحب کو اس بھان فروش کے بیٹے کی وجہ سے ہم روکیں گے؟۔
(MRD)کی تحریک کی پارٹیوں نے فیصلہ کیا کہ قائدین کے مقابلے میںکوئی پارٹی کسی کو کھڑا نہیں کریگی تو ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے جمعیت علما کی ناک کاٹ دی اور بینظیر بھٹو (benazir bhutto)کے مقابلے میں کھڑا ہوا۔مذہبی جذبات اور قومی تعصبات کے معاملے میں ڈاکٹر فاروق ستار جیسے عالی ظرف کے مقابلے میں ان لوگوں کا راج چل رہاہے جن کو حدیث میں ” روبیضہ” نکمے قسم کے لوگ قرار دیا گیا۔ ان کا کوئی ضمیر نہیں ورنہ راشد سو مرو مولانا سے( GHQ)کی زمین کی وضاحت مانگ لیتا۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Tragedy of Dr. Abdul Razzaq Sikandar:Maulana Talha Rahmani,Jamia Uloom Al Islamia Allama Banuri Town Karachi.

ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرکا سانحۂ ارتحال : مولانا طلحہ رحمانی ، جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

الوداع الوداع. اے شیخ سکندر الوداع.یاد گار اسلاف،آفتاب علم ماہتاب عمل،نابغہ روزگارہستی،محبوب العلما و الاتقیائ،شیخ المحدثین،محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے گلشن کے باغباں اور مسند نشیں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ رحم واسع کے سانحہ رحلت نے امت مسلمہ کی دنیائے علم کو سوگوار کردیا،آج اس باغیچہ بنوری کے درودیوار ماتم کناں ہیں۔علم و دانش کی اس عظیم درسگاہ کی مسندیں ایک مرد درویش کی تلاش میں مغموم اور افسردہ افسردہ سی ہیںلیکن انوارات سے منور اور روح پروری سے لبریز ایک ”گوشہ ” آباد ہے ۔تصورات کی دنیا میں کئی خوشگوار احساسات کا منظر دماغ میں آ رہا ہے تو یادوں کا اک جہاں بھی معطر معطر سا ہورہا ہے۔اس ”گوشہ” کے چاروں مکین نئے آنے والے مہمان کی آمد پہ کس طرح نہال ہورہے ہونگے۔ گزشتہ تین دنوں سے جو محفل سجی ہوگی اور اس دلبر ماحول میں گزرے دنوں کی کتنی یادوں کا ذکر چل رہا ہوگا۔چلیں دل کا یہ پھپھولا پھر کبھی ان شااللہ۔ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی حیات کے درخشندہ وتابندہ پہلوں میں ایک بہت بڑا پہلو ان کی عالی و ارفع نسبتیں ہیں۔ کئی نسبتوں کے امین اس عظیم المرتبت شخصیت پہ بہت کچھ تحریر و تقریر کی شکل میںآرہا ہے اور اس مرد قلندر کیلئے کروڑوں دلوں میں لاکھوں عشق و عقیدت کے جذبات کا سیل رواں بھی آج اشکوں کی صورت ہر طرف بہہ رہا ہے۔پیکر علم و حلم لازوال محبتوں کے مرجع ایک حسین اور وجیہہ شبیہ کی صورت کا سراپا سب کی نظروں میں گھوم رہا ہے۔ سردست تو مسنون تعزیت کے تیسرے دن کا اختتام ہوااور ان تین دنوں میں ”ان”کے بارے بہت کچھ لکھنا ضروری تھا۔ لیکن کچھ غم واندوہ کے پرکیف ماحول اور ملک بھر سے مسلسل مہمانوں کی کثیر تعداد میں آمد کی مصروفیت کیوجہ سے باوجود کوشش کے نہ لکھ سکا۔ ان تین دنوں میں مختصرا بعض احباب کی مختلف انداز میں خراج عقیدت کی تحریریں نظم ونثر کی شکل میں نظر سے گزریں۔کچھ درد میں ڈوبی صدائیں بھی سماعت سے ٹکرائیںلیکن مکمل انہماک سے نہ سن پایا۔ آج پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں برخوردار حافظ ابوبکر سلمہ اللہ تعزیت کیلئے جامعہ آئے تو انکے پاس دو تین شعرا کے کلام تھے۔انہوں نے سنائے تو نہیں لیکن پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس میں ایک کلام محترم آفتاب احمد (جن کا تعلق سانگھڑ سے )کا تھا۔اس منظوم خراج عقیدت کو حافظ صاحب سلمہ اللہ نے فوری طور پہ اسٹوڈیو جاکر ریکارڈ کروایا۔ابھی کچھ دیر قبل شاعر موصوف کے کلام کو حافظ صاحب کی زباں ملی تو سن کر دل حضرت ڈاکٹر صاحب نوراللہ مرقدہ کی فرقت پہ مزید مغموم ہوگیا ۔بہرحال وہ کلام اپنے برخوردار حافظ ابوبکر کی خوبصورت آواز میں آپ حضرات کیلئے شئیر کررہا ہوں۔سنیںاورحضرت رحمہ اللہ کے رفعت درجات کی بلندی کیلئے ضرور اہتمام سے دعا فرمائیں۔وہ ہماری دعاں کے شاید اتنے محتاج نہیں جتنے ہم جیسے سیاہ کاروں کو ضرورت ہے۔ لاکھوں افراد نے ان کو جس عقیدت بھرے احساسات اور والہانہ جذبات کیساتھ الوداع کیا۔ جنازہ کا وہ منظر کراچی جیسے شہر نے شاید اس سے قبل کبھی نہ دیکھا ہو۔الوداع الوداع۔ اے شیخ اسکندر الوداع ،اس صدی کے اے قلندر اے سکندر الوداع۔ علم احمد مجتبی کے اے سکندر الوداع ۔الوداع الوداع، اے شیخ اسکندر الوداع۔ مولانا طلحہ رحمانی صاحب ……جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان کراچی۔
الوداع الوداع اے شیخ سکندر…تیری گردِ پا کو بھی نہ پہنچے کوئی قلندر
لالچ تھی نہ شہرت کی کوئی طلب…. تحمل کے سمندر،علم نبویۖ کے البدر
اے عربی لغت کے شبِ قدر ….. طلوع ہو گی تیرے فیض سے الفجر
ازماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Maulana Syed Muhammad Banuri was martyred and charged with suicide. After finding evidence of murder, it was decided to accuse Dr. Abdul Razzaq.

مولانا سید محمد بنوری کو شہید کرکے خود کشی کا الزام لگایا گیا پھر قتل کا ثبوت ملنے پر ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے متعلق
رئیس و شیخ الحدیث جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹان کراچی، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،مرکزی امیرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت!
………………پیدائش اور بچپن:(1935 )میں ایبٹ آباد کے گاں کوکل کے دینی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔آپ بچپن سے سلیم الفطرت تھے ۔ معاصرین گواہی دیتے ہیں کہ آپ میں جو نیکی و صلاح پیرانہ سالی میں نظر آتی ہے ، جوانی میں اسی طرح دکھائی دیتی تھی۔ گویا آپ کا بچپن، جوانی، اور بڑھاپا نیکی و تقوی کے لحاظ سے ایک جیسے تھے ۔
…………..آپ کے والد گرامی:سکندر خان بن زمان خان(sikandar khan bin zaman) اپنے حلقہ میں بڑے باوجاہت تھے۔ خاندان اور گاں کے تنازعات میں ان سے رجوع کیا جاتا تھا ، جنہیں وہ خوش اسلوبی سے نمٹادیا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے علما و صلحا سے گہرا تعلق تھا ، جس کا اثر ان کی زندگی پر ایسا نمایاں تھا کہ دینی معلومات آپ کو خوب مستحضر تھیں ، جس کی بنا پر بہت سے علما بھی آپ سے محتاط انداز میں گفتگو کرتے تھے، کیوں کہ غلط بات پر آپ ٹوک دیا کرتے تھے۔ نماز باجماعت کی پابندی ، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الہی، صلہ رحمی ، اصلاح ذات البین، رفت و شفقت، اور ضعفا کی خبرگیری؛ان کے خصوصی اوصاف تھے۔ مسجد کی خدمت و تعمیر سے بہت شغف تھا۔
………….تعلیم:قرآن کریم کی تعلیم اور میٹرک تک دنیاوی فنون گاں میں حاصل کیے۔ اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں دو سال، اور احمد المدارس سکندر پور میں دو سال پڑھا۔ 1952) (میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالی کے مدرسہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی ۔ درجہ سابعہ و دورہ حدیث کیلئے محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحم اللہ علیہ کے مدرسہ جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان(binoritown) میں داخلہ لیا، اور (1956) میں فاتحِہ فراغ پڑھا ۔ (واضح رہے کہ اس مدرسہ میں درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم آپ ہی تھے۔) اسکے بعد آپنے (1962) میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ(جسکے قیام کو ابھی دوسرا سال تھا) میں داخلہ لیکر چار سال علومِ نبویہ حاصل کیے۔ بعد ازاں جامعہ ازہر مصر (jamia azhar misar)میں( 1972) میں داخلہ لیا اور چار سال میں دکتورہ مکمل کیا؛ جس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی کے عنوان سے مقالہ سپردِ قلم فرمایا۔
………….آپ کے اساتذہ کرام:
(1)۔۔۔: علامہ سید محمد یوسف بنوری (تلمیذ:محدث علامہ کشمیری )
(2)۔۔۔: مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل (تلمیذ:حضرت شیخ الہند )
(3)۔۔۔: مولانا عبدالرشید نعمانی
(4)۔۔۔:مولانا لطف اللہ پشاوری۔
(5)۔۔۔: مولانا سحبان محمود۔( سبحان محمود شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی)
(6)۔۔: مفتی ولی حسن ٹونکی۔(رئیس دارالافتا وشیخ الحدیث بنوری ٹان)
(7)۔۔۔: شیخ التفسیرحضرت مولانا بدیع الزمان۔ (رحمہم اللہ تعالی اجمعین )
………….درس و تدریس:دارالعلوم نانک واڑہ میں دورانِ تعلیم ہی عمدہ استعداد و صلاحیت کی بنا پر، کراچی میں لیبیا و مصر حکومتوں کے تعاون سے،عربی زبان سکھانے کیلئے مختلف مقامات پر ہونے والی تربیتی نشستوں میں پڑھانے کا موقع ملا، اس سے آپ کو تدریس کا کافی تجربہ حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں بنوری ٹان میں درسِ نظامی کی تکمیل سے پہلے ہی حضرت بنوری نے آپ کی صلاحیتوں کو جانچتے ہوئے اپنے مدرسہ کا استاذ مقرر فرمایا۔آپ کا زمانِ تدریس( 1955) سے تاحال جاری تھا۔
………بیعت و خلافت:ظاہری علوم کی تکمیل کے علاوہ آپ کی باطنی تربیت میں شیخ بنوری کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ علاوہ ازیں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی نور اللہ مرقدہما کی صحبت سے مستفید ہوئے اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہما اللہ تعالی سے اجازتِ بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان سے تعلق(1955 )میں اس مدرسہ کے درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم کی حیثیت سے یہ تعلق استوار ہوا، دورانِ طالبِ علمی میں حضرت بنوری نے آپ کی عمدہ استعداد دیکھتے ہوئے آپ کو استاذ مقرر فرما کر یہ تعلق مضبوط کردیا۔ (1977 )میں انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں ناظمِ تعلیمات مقرر ہوئے۔ (1997) میں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی شہادت کے بعد رئیس الجامعہ کیلئے آپ کا انتخاب ہوا اور (2004 )میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی شہادت کے بعد شیخ الحدیث کے مسند نشین بنے؛ یہ دونوں ذمہ داریاں آپ تاحال بحسن و خوبی نبھارہے تھے۔
………عالمی مجلس تحفط ختم نبوت سے تعلق
عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ ، فتنہِ قادیانیت کے تعاقب کیلئے یہ جماعت قیامِ پاکستان کے بعد امیر شریعت سید عطااللہ شاہ بخاری کی زیرِ امارت قائم ہوئی۔( 1974) میں شیخ بنوری کی زیرِ امارت چلائی جانے والی تحریک کے نتیجہ میں آئینِ پاکستان میں عقیدہِ ختمِ نبوت کا تحفظ ممکن ہوا،( 1984) میں اسی جماعت کے تحت چلائی جانے والی تحریک کے نتیجہ میں امتناعِ قادیانیت آرڈیننس آیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی اور (2010) میں ناموسِ رسالت کے قانون کے تحفظ کیلئے چلائی جانے والی تحریک میں اس جماعت کا بنیادی و کلیدی کردار رہا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب( 1981) میں جماعت کی شوری کے رکن منتخب ہوئے۔ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کے وصال(2008 )کے بعد آپ نائب امیر مرکزیہ بنائے گئے۔ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے انتقال (2015) کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ منتخب ہوئے۔ آپ نے مجلس کی کئی اردو مطبوعات کا عربی میں ترجمہ کرکے عرب ممالک میں اِنہیں عام فرمایا۔
……اقرا روض الاطفال ٹرسٹ پاکستان سے تعلق:
اکابر و اسلاف کی دعاں میں قائم کردہ پاکستان کے پہلے دینی علوم و دنیاوی فنون کا امتزاج رکھنے والے ادارہ کے سرپرست اور صدرمفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت سید نفیس الحسینی، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہم اللہ تعالی ایسے اکابر رہے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب اس ادارہ کے پہلے سرپرست رہے ہیں اور اب صدر بن گئے تھے۔بقیہ صفحہ 3نمبر1
……………..وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے تعلق:
قیامِ پاکستان کے بعد مسلمانانِ پاکستان کے اسلامی تشخص، مملکتِ خدا داد پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ و استحکام، باہمی ربط کو مضبوط اور مدارس کو منظم کرنے کیلئے اکابر علمائے اہلِ سنت دیوبند کی زیرِ قیادت( 1379ھ /1959) میں اس ادارہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت یہ ملک کا سب سے بڑا دینی مدارس کا بورڈ ہے،جس سے تقریبا بیس ہزار مدارس ملحق ہیں۔ ان مدارس میں تقریبا چودہ لاکھ طلبہ و آٹھ لاکھ طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ جبکہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ علما و پونے دو لاکھ عالمات فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔آٹھ لاکھ سے زائد حفاظ و دو لاکھ سے زائد حافظات بھی اسی وفاق سے ملحق مدارس کے فیض یافتہ ہیں۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کے شیخ محدث بنوری کا اس ادارہ کے قیام میں دیگر اکابر کے ساتھ بنیادی کردار رہا ہے۔ (1997) میں حضرت ڈاکٹر صاحب وفاق کی مجلسِ عاملہ کے رکن بنائے گئے۔ (2001) میں نائب صدر مقرر ہوئے، اس دوران آپ صدرِ وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان (molana saleemullah khan)کی بیماری و ضعف کے باعث کئی بار ان کی نیابت کرتے رہے، اور ان کی وفات کے بعد تقریبا 9 ماہ قائم مقام صدر رہے۔ (14 محرم الحرام 1439ھ05 اکتوبر 2017 )کو آپ متفقہ طور پر مستقل صدر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ وفاق کی نصاب کمیٹی اور امتحان کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔
……….تصانیف و تالیفات:(1)…: الطریق العصری۔(2)….: کیف تعلم اللغ العربی لغیر الناطقین بھا۔(3)…: القاموس الصغیر۔(4)…: مقف الام الاسلامی من القادیانی۔(5)…: تدوین الحدیث۔(6)….: اختلاف الام والصراط المستقیم۔(7)…: جماع التبلیغ و منھجہا فی الدعو۔(….: ھل الذکری مسلمون؟۔(9)….: الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار۔(10)…: الاسلام و اعداد الشباب۔ (11)….: تبلیغی جماعت اور اس کا طریقِ کار۔(12)….: چند اہم اسلامی آداب۔(13)….: محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔(14)….: حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین۔
آپ کی زیادہ تر تصانیف اردو سے عربی، اور کچھ عربی سے اردو میں مترجم ہیں۔ جبکہ مشہور کتاب الطریق العصری عرصہ دراز سے وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے۔علاوہ ازیں آپ نے عربی و اردو میں بیشمار مقالات و مضامین سپردِ قلم فرمائے ہیں، جو عربی و اردو مجلات، رسائل و جرائد، اور اخبارات کی زینت بنے اور مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے ہیں۔ اِن میں سے اردو مضامین تین مجموعوں کی شکل میں مرتب ہوچکے ہیں:
(1)۔۔: مشاہدات و تاثرات۔(2)۔۔۔: اصلاحی گزارشات۔(3)۔۔۔: تحفظِ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں۔اس کے علاوہ آپ روزنامہ جنگ کے مقبولِ عام سلسلہ آپ کے مسائل اور ان کا حل کے مستقل کالم نگار ہیں، جبکہ ماہ نامہ بینات کے مدیر مسل اور مجلہ البینات کے المشرف العام بھی ہیں۔
شیخ بنوری کی نسبتوں کے امین اور مرجع الخلائق شخصیت:شیخ بنوری سے آپکا تعلق اس وقت قائم ہوا جب آپ جامع مسجد نیو ٹان میں عربی کلاس پڑھانے کیلئے تشریف لایا کرتے تھے، کلاس پڑھانے کے بعد کچھ دیر حضرت بنوری کی خدمت میں حاضر رہتے، اگلے سال اسی مدرسہ میں داخلہ لیکر آپ نے یہ رسمی تعلق دائمی کرلیا، سفروحضر میں خادم کی حیثیت سے ہمیشہ ساتھ رہتے۔ حضرت کو بھی آپ سے ایسی محبت تھی کہ اپنے مدرسہ میں استاذ مقرر فرمایا، مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے کیلئے چار سال کی رخصت دی، جامعہ ازہر(jamia azhar) میں داخلہ کیلئے خود ساتھ لے گئے، (1961 )میں حج پر ساتھ لے گئے تو حج کے تمام مناسک اپنی نگرانی میں کروائے، کیونکہ یہ ڈاکٹر صاحب کا پہلا حج تھا۔
انہی محبتوں و شفقتوں نے آپ کو اپنے شیخ کا ایسا گرویدہ بنایا کہ زندگی بھر کیلئے انکے ہوکر رہ گئے۔ شیخ کے وصال کے بعد کچھ عرصہ تک یہ کیفیت رہی کہ جہاں شیخ کا تذکرہ چھڑتا تو آپ کی آنکھیں ضبط نہ کرپاتیں۔ پھر بڑے والہانہ انداز میں شیخ کے واقعات سناتے۔ آپ اپنے شیخ کی تمام نسبتوں کے امین اور انکے مسند نشین و جانشین تھے۔ شیخ بنوری بیک وقت صدرِ وفاق، امیرِ مجلس تحفظ ختم نبوت، رئیس و شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹان تھے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب (doctorabdulrazaqsikandar)بھی ان تمام مناصب پر اپنے شیخ کی یادگار تھے۔ آپ فنا فی الشیخ کی تصویر اور شیخ کی نسبتِ اتحادی کا مظہر اتم ہیں۔ اپنے شیخ ہی کی نسبت سے آپ اس وقت پورے ملک کے مشائخ و اہل اللہ کے معتمد، مرجع الخلائق اور ایسی غیرمتنازع شخصیت تھے کہ سب کی عقیدت و احترام آپ کو حاصل تھی اور آپ کی مجلس و صحبت سے استفادہ کرنا ہر کوئی اپنی سعادت سمجھتا تھا۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست
یہ معلومات جامعہ بنوری ٹان کراچی کے فیس بک اکاونٹ پر درج ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نوراللہ مرقدہ
ازقلم : شاگرد سید عتیق الرحمن گیلانی
شاگرد کیلئے استاذ کی نسبت زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ تبلیغی جماعت، تصوف کے پیرومرشد اور مدارس کے فیض میں کیا فرق ہے؟۔ طالب علمی کے زمانے میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کو چراغ سے اور تصوف وسلوک کو ہاتھ کی بجلی(ٹارچ) سے اور مدارس کو الیکٹرک سے تشبیہ دی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ تبلیغی جماعت کے لوگ اپنے اندر مٹی کا تیل جلاکر چراغ سے چراغ روشن کرتے ہیں۔ ایک جاہل کے پلے مٹی کے تیل کی طرح ایک خطرناک اور بدبودار جہالت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا یہ کمال ہوتا ہے کہ دنیا کی اندھیر نگری میں اپنی جان، اپنا مال اور اپنا وقت لگاکر تسلسل کیساتھ قربانیاں دیتا ہے۔ چھ باتوں کی تبلیغ ، چند گھنٹے کی تعلیم، شبِ جمعہ کا بیان ، سہ روزہ، چلہ اور چارماہ سے نہ صرف خود ایک تبلیغی کارکن چراغِ راہ بنتا ہے بلکہ دنیا میں چراغوں کا ایک زبردست سلسلہ شروع کردیتا ہے۔ اس کے پاس علم وعمل کا کوئی بڑاخزانہ نہیں ہوتا ہے۔ زندگی بھر جاہل ہی رہتا ہے لیکن ایمان کے نور سے چراغ جلادیتا ہے اور ایمان کے نور کے چراغوں کا سلسلہ اپنی بساط کے مطابق جاری رکھتا ہے اور یہ عمل بہت آسان ہے۔گویا موم بتی سے موم بتی جلانے میں مشکل نہیں۔
دوسری چیز سلوک وتصوف ہے۔ جس کی مثال سیلوں سے چلنے والی ہاتھ کی بیٹری ہے۔ اس میں مٹی کا تیل نہیں ہوتا بلکہ انتہائی خوبصورت سیل ہوتے ہیں۔ اس کی اتنی تیز روشنی ہوتی ہے کہ اگر الیکٹرک کے بلب پر اسے مرکوز کردیا جائے تو روشن بلب کا سایہ بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ تصوف کاایک پیرطریقت جب اپنے مرید عالم پر اپنی باطنی توجہ مرکوز کردیتا ہے تو اس کو تڑپنے پر مجبور کردیتا ہے۔ مولانا روم کو شمس تبریز اور شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو خواجہ باقی باللہ اور مولانا نانوتوی، مولانا گنگوہی، مولانا تھانوی جیسے علما کو حاجی امداد اللہ (hajiimdadullah)کی مریدی پر مجبور کردیتا ہے۔ نبیۖ سے ایمان، اسلام ، احسان کا پوچھا گیا تو تینوں کے الگ الگ جواب عطا فرمائے تھے۔ تبلیغی جماعت عوام پر ایمان کی محنت کرتی ہے ، اہل تصوف احسان کی محنت اور مدارس اسلام کی محنت کرتے ہیں۔ تینوں شعبوں کی اپنی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے لیکن مدارس کا درجہ سب سے اعلی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ بعث معلما ” مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے”۔
مدارس کی مثال الیکٹرک کی ہے۔ اگر کہیں پر بجلی لگانی ہو تو اس کیلئے دور دراز سے بجلی کے پاور اسٹیشن سے بڑی لائنوں سے بڑے بڑے کھمبوں پر بجلی کی سپلائی لانی ہوگی۔ شہروں میں گرڈ سٹیشن اور فیڈر بنانے ہونگے۔ وہاں سے پھر کھمبوں اور (PMT)اور میٹروں کے ذریعے بجلی کی سپلائی لائن لینی ہوگی۔ اس محنت میں سالوں کا عرصہ لگتا ہے لیکن اس کی وجہ سے گھروں میں ہیٹر، فریج، پنکھے،بلب، واشنگ مشین، پانی کی موٹرسے لیکر بڑے بڑے کارخانے، فیکٹریاں اور مل سب کچھ چلتے ہیں۔ ناظرہ قرآن ، ترجمہ قرآن، حفظ قرآن، استنباط مسائل ، فقہا کے درجات، احادیث وتفسیر، فتوے کا شعبہ، قاضی کا نظام، سیاست شریعہ، ملک کا نظام ، فتنوں کی روک تھام اور تمام شعبے ان مدارس کے مرہون منت ہیں۔
جامعہ بنوری ٹان کراچی میںزمانہ طالب علمی سے ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی شخصیت کو مختلف معاملات میں بہت اچھے انداز میں دیکھا ہے۔شاعر حبیب جالب کا تعلق ولی خان کی پارٹی سے تھا۔ ولی خان کے ہم عصر اور مخالفین بھی تھے اور ولی خان(wali khan) کیلئے حبیب جالب (habibjalib)نے کچھ اشعار لکھے تھے۔
ولی خان
مرے کارواں میں شامل کوئی کم نظر نہیں ہے
جو نہ مٹ سکے وطن پر میرا ہم سفر نہیں ہے
درِ غیر پر ہمیشہ تمہیں سر جھکائے دیکھا
کوئی ایسا داغِ سجدہ مرے نام پر نہیں ہے
کسی سنگ دل کے در پر مرا سر نہ جھک سکے گا
مرا سر نہیں رہے گا مجھے اس کا ڈر نہیں ہے
مجھے لگتا ہے کہ اپنے استاذ محترم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر(abdulrazaq sikandar) سے متعلق جوبڑے قریبی معلومات رکھتے ہیں وہ ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ حبیب جالب کی طرف سے اپنے سیاسی لیڈر کیلئے یہ اشعار لکھنا کارکن اور لیڈر کے جس ذوق کی عکاسی کرتا ہے ،اس کی ڈاکٹر صاحب جیسے شریف النفس انسان سے کسی طرح کی کوئی بھی مناسبت نہیں لگتی ہے لیکن ایک شاگرد کا کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے استاذ کی ان خفیہ صفات کو عوام وخواص کے سامنے لائے جن کی کسی دوسرے کو ہوا بھی نہیں لگی ہو۔ جی ہاں! میں انہی گوشوں کو بہت اچھے انداز میں سامنے لارہا ہوں۔
(1): پہلا مرحلہ یہ تھا کہ سواداعظم اہلسنت کے نام پر جن لوگوں نے اہل تشیع (shia)کی مخالفت اور ان پر کفر کا فتوی لگایا تھا، اس کی ڈاکٹر صاحب نے شروع سے بہت سخت مخالفت کی تھی۔ پھر وہ دن دنیا نے دیکھ لیا کہ ہندوستان کے مولانا محمد منظور نعمانی(manzoor nomani) کے استفتا کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی نے فتوی لکھ دیا ۔جس پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بڑے مدارس کے علما اور مفتی صاحبان نے دستخط کئے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ شیعوں کے خلاف جنہوں نے قادیانیت سے زیادہ بڑے کفر کا فتوی لگایا وہ اپنے فتوں سے الٹے پاں مڑ کے بھاگے ہیں۔ مولانامحمد منظورنعمانی کے صاحبزادے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اپنے باپ کے فتوں سے (180)ڈگری کے زوایہ پر پلٹ گئے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹان کراچی کے اکابر علما میں کچھ بدھو تھے اور کچھ مفادپرستی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب پر کوئی ایسا داغ نہیں ہے۔
(2): الائنس موٹرز سے کراچی کے اکابر علما ومفتیان نے گاڑیاں اور مراعات حاصل کیں۔ الائنس موٹرز مالکان کے مرشد حاجی عثمان کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے اکابرین تک پر بھی فتوے لگائے جن میں دارالعلوم کراچی ، جامع الرشید کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی شامل تھے۔ لیکن پھر جب الائنس موٹرز کے مالکان نے حاجی عثمانکے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا تو بڑے اکابر کہلانے والوں کا بڑا شرمناک کردار سامنے آگیا۔ فتوں کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے لیکن مولانا بدیع الزمان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، قاری عبدالحق، مفتی عبدالسلام چاٹگامی وغیرہ نے اس میں پہلے اور بعد میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا اور مولانا یوسف لدھیانوی نے حاجی عثمان سے عقیدت کا اظہار کرنے کے باوجود بھی اپنی طرف منسوب فتوے کی تردید سے معذوری کا اظہار کردیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی نے جامعہ فاروقیہ کے دور میں حاجی عثمان کی تائید میں فتوی دیا تھا حالانکہ مولانا سلیم اللہ خان نے مخالفت میں فتوں پر دستخط کئے تھے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے نام پر ایسا کوئی داغ نہیں ہے جس سے آپ کی اولاد کو قیامت تک خفت کا سامنا ہو۔ میری تحریروں میں بہت چیزیں واضح ہیں۔ طوالت کے خوف سے تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔
(3): ڈاکٹر صاحب خود ختم نبوت کے امرا اور اقرا روض الاطفال کے بڑے سرپرستوں سے زیادہ علمی شخصیت کے مالک تھے مگرظلم یہ ہوا کہ مفتی نظام الدین شامزئی کے بعد آپ کو شیخ الحدیث کے درجے پر رکھاگیا۔ اگر مدارس اور اقرا کے ارباب حل وعقد اخلاص رکھتے تو ڈاکٹر صاحب میں دیسی اور برائے نام اس نصابِ تعلیم کے مقابلے میں جدید اور جاندار نصاب بنانے کی صلاحیت تھی لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ شخصیات کی زندگی سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ قبر پرستی کا مزہ لیتے ہیں یا جب پیرانہ سالی میں دل ودماغ کا ضعف انسان کو آخری نکمی عمرتک پہنچادیتا ہے تو تبرک کیلئے عہدے ومناصب ان کی گردنوں کا طوق بنادیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید انورشاہ کشمیری کو آخری میں اپنی زندگی درسِ نظامی میں تباہ کرنے کا خیال آجاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بلند قامت شخصیت اپنی شرافت کے علاوہ اپنے علمی استعداد کی وجہ سے تھے لیکن ان کی ذات سے استفادہ نہیں لیا گیا۔
(4): میری تحریک کے بارے میں مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوے کو بہت جلی حروف کیساتھ ہم نے شائع کیا تھا جس میں ان کی غلطی اور نالائقی کو بھی بہت نمایاں کردیا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے جو تحریری رہنمائی فرمائی تھی وہ ہماری تحریک کی جان تھی۔ میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” کے بالکل آخری جملے میں اس تحریر کو تمام مکاتبِ فکر کی تائیدات سے بھاری قرار دیا۔ اپنے استاذ کی خدمت میں اپنے بیٹے ابوبکر کیساتھ حاضری دی تو ملاقاتیوں کا تانتا بندھا تھا۔
(5): جب مولانا سید محمد بنوری کو مدرسہ میں شہید کرکے پہلے خود کشی کا الزام لگایا گیا اور پھر قتل کا ثبوت ملا تو ڈاکٹر صاحب کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے کرائے کے قاتل کالعدم سپاہ صحابہ اور مفتی جمیل خان کی روزنامہ جنگ میں خود کشی کے بہتان کی سخت مذمت کی اور لکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی مکھی بھی نہیں ماری ہوگی۔ مولانا یوسف بنوری کے صاحبزادے سید محمد بنوری کے قتل کا الزام انتہائی گھنانا فعل ہے۔ مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے استاذ تھے اور ان کی وفات سے قبل متعدد بار خدمت میں حاضر ہوا لیکن جب پتہ چل گیا کہ وہ بنوری ٹان کراچی پر قبضہ کرنے کے موڈ میں تھے تو دکھ ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان پر لکھی جانے والی کتاب میں مجھے تاثرات لکھنے کا کہا گیا لیکن میں نے نہیں لکھے اور نہ لکھنے پرخوش ہوا۔ انکا داماد مولوی امین مارا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے جامعہ ، اردگرد ،اندرونِ ملک اور بین الاقومی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ڈینگیں نہیں ماریں لیکن اللہ نے ہرسازش سے آپ کو محفوظ رکھا۔کہاجاتا ہے کہ اللہ کے ولی ایسے ہی محفوظ ہوتے ہیں کہ سمندر میں بھی پاں کو نہ لگے پانی۔ اگر مجھے تھوڑا سا ملاقات کا موقع دیا جاتا تو میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے نہ صرف طلاق کے حوالے سے بلکہ اسلام کی نشا ثانیہ اور قرآن واحادیث کی تشریحات کے حوالے سے بھی مجھے اپنی زبردست تائید سے مفتی محمد حسام اللہ شریفی اور دیگر حضرات کی طرح بالکل نوازنا تھا۔ بس ملاقات کے دوران میں نے اپنی بات کا آغاز کیاہی تھا کہ ملاقات کے مالک کے صبر کا پیمانہ بہت ہی لبریز ہوگیاتھا اور مجھے وہاں سے جانے پر مجبور کردیاتھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے مجھے دوسرے ملاقاتیوں کے برعکس اپنی طرف سے عطر کی شیشی کا بھی تحفہ عنایت فرمایاتھا۔
(6):قرآن کادرست ترجمہ آئیگا توڈاکٹر صاحب کی شخصیت، اہمیت، افادیت نورانیت،علمیت،انقلابیت، مجددیت، سیادت، قیادت امامت کا لگ پتہ جائیگا ایک ساتھی سے فرمایا کہ” میرا شاگردہے میری بہت عزت کرتا ہے ”۔ جسے سن کر دل تڑپ اٹھا۔استاذمحترم شریف النفس تھے،اگر آپ کی سیرت و اخلاق کو اپنانے کی توفیق ملتی تو دنیا بدل دیتے مگر نصیب اپنا اپنا۔سید عتیق الرحمن گیلانی
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

USA & Israel planted Taliban & Al-Qaeda as a conspiracy against Muslim community. The Quran already revealed severity of conspiracies designed by Jewish and Christ that even rocks could get demolished.

rustam shah mohmand
dr afia siddiqui
rauf klasra
asad toor journalist
osama bin laden
usman kakar
majeed achakzai

اللہ نے فرمایا : اے ایمان والو! کہو سیدھی بات ، تمہارے اعمال کی اصلاح اور گناہوں کی مغفر ت کردیگا۔ القرآن: آؤ سیدھی بات کریں

طالبان اور القاعدہ کے نام پر امریکہ اور اسرائیل نے اُمت مسلمہ کیخلاف سازش کی ۔قرآن میں یہودونصاریٰ کی اس سازش کا ذکر ہے کہ جس سے پہاڑ بھی ہل جائیں

تحریر : سید عتیق الرحمان گیلانی
وزیراعظم کی تقریر کو خوش آئند کہا گیامگر یہ جنگ کی کوئی نئی سازش نہ ہو۔ رؤف کلاسرا نے کہاکہ” القاعدہ و طالبان نے پولیس،فوج، عوامی مقامات، کھیل کے میدانوں، مساجد، گھروں ، بازاروں، ہوٹلوں اور کچہریوں کو نشانہ بنایا۔ دجالی لشکر کے ظلم کی انتہاء ہوگئی تو فوج نے انکا قلع قمع کیا۔ وزیراعظم کا ان کو مظلوم اور فوج کو ظالم کہنا قابلِ مذمت ہے۔ پرویزمشرف(parvaiz musharraf) نے امریکہ کو ہاں کی تو اسکے ریفرینڈم کی حمایت کیا ایوبیہ کے بندروں نے کی تھی؟۔ دھرنے سے پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان (taliban)کے سپرد کرنے کا اعلان کس نے کیا؟”۔ رؤف کلاسرا (rauf clasra)نے طالبان کے کرتوت کی تفصیل اور باقی بے گناہ افراد کی فہرست کا ذکر نہیں کیا مگر طالبان کے مظالم کوخالی فوج کی شہادت تک محدود کرنا غلط ہے۔
افغانستان کو خونریزی کا سامنا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ریاست، حکومت ،عوام کا ترجمان ہوتا ہے۔ کسی میں اشرف غنی اور اس کی حکومت سے ہمدردی ہے۔توزیادہ تر اشرف غنی(ashraf ghani) اور اس کی ٹیم کو کچلنے کے خواب دیکھتے ہیں۔کچھ طالبان کو کچلنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت ، ریاست اور عوام کو چاہیے کہ بڑھ چڑھ کر امریکی انخلاء سے پہلے اس خانہ جنگی کو روکنے میں اپنا کردارادا کرے۔ امریکہ نے پیسہ دیا تو ہم نے افغان وار لڑی۔ امریکہ نے مجبور کیا تو طالبان کی حکومت کو گرانے میں کردار ادا کیا اور اب کچھ نہیں مل رہاہے تو افغانیوں کی صلح کیلئے کلمات تک ادا کرنے سے قاصر ہیں؟۔ خونریزی کے عزائم بیان کرتے ہیں؟۔ اوریا مقبول جان() کو پیراشوٹ سے طالبان کے ہاں اتارا جائے تاکہ انسانی شکل میں شیطان کا پتہ چل جائے۔ کیا اوریامقبول جان اپنی اس آخری عمر میں بھی شوقِ شہادت نہیں رکھتا ہے؟۔
صحافی صا بر شاکر(sabir shakir) نے کہا ”امریکہ کے نکلنے کے بعد چھ ماہ میں اشرف غنی کی حکومت گرے گی (30)ہزار امریکن فوجیوں نے(9/11)کے بعد خود کشیاں کیں۔ اگر طالبان کابل پر قبضہ کریں تو امریکہ طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کریگا”۔

Rustam Shah Mohmand disclosed that he himself heard the cries of a girl being tortured sexually and physically at Bagram Air base, later, She was known as Dr. Aafia Siddiqui.


رستم شاہ مہمندنے بتایا کہ بگرام ائیر بیس پر ایک لڑکی پر جنسی اور جسمانی تشدد ہورہاتھا میں چیخوں کی آوازیں اپنے کانوں سے سن رہاتھا بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھیں۔

رستم شاہ مہمند(rustam shah mumand)نے افغان رفیوجز کے ڈٹ کر پیسے کھائے۔ پھر افغانستان کا سفیر بن گیا اور بعد میں میڈیا پر اپنی زبان سے داستان سنائی کہ” بگرام ائیر بیس پر ایک لڑکی پر جنسی اور جسمانی تشدد ہورہاتھا وہ چیخوں کی آوازیں اپنے کانوں سے سن رہاتھااور بتایا گیا کہ کوئی پاکستانی خاتون ہیں اور بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھیں”۔ ہم نے لکھا تھا کہ پرویزمشرف کے بعد یہ داستانیں سنانے کے بجائے اسی وقت چاہیے تھا کہ اپنی کرسی سے چمٹے رہنے کے بجائے رسم شاہ مہمنداستعفیٰ دیتا۔( 30ہزار) امریکن فوجیوں نے خود کشی کی یا نہیں لیکن ہمارے ہاں تو کوئی ایک بھی ایسا غیرتمند نہیں ہے جس نے خود کشی کی ہو۔
طالبان اپنی پیش قدمی جاری رکھ کر اپنی اور اپنے افغان (afghan)بھائیوں کی تباہی کا سامان نہ کریں۔ جو کسی ایک کی طرفداری کرکے ان کو آپس میں لڑارہے ہیں یہ شیاطین الانس ہیں۔ جن خناسوں کے وسوسوں سے آخری سورة الناس میں اللہ نے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ عثمان کاکڑ پاکستان اور پشتون قوم کا بڑا سرمایہ تھا وہ کہتا تھا کہ ہم پاکستان میں آئینی حقوق مانگتے ہیں، افغانستان میں مداخلت نہیں چاہتے۔ عثمان کاکڑ کھل کر نظرئیے کی بات کرتاتھا، اپنے مفادات کیلئے بلیک میلنگ نہیں کرتا تھا۔( PDM)کے قائدین نے سیاست کو بلیک میلنگ بنایا ہے۔ عثمان کاکڑ(usman kakar) ان سے بالکل الگ تھلگ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ (establishment)پر پریشر ڈال کر سیاسی مفاد حاصل کرنا نظریاتی سیاست نہیں بلکہ بدترین قسم کی بلیک میلنگ ہے۔ عثمان کاکڑ اس وقت شہید کیا گیا کہ جب پاکستان، پشتون قوم اور انسانیت کو اس مردمجاہد کی سخت ضرورت تھی۔ گلبدین سے ملاقات پر مفاد پرستوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آج عثمان کاکڑ نے افغانستان میںعدم مداخلت سے زیادہ صلح پر زور ڈالنا تھا۔
جب (PDM)کے قائدین بکاؤ مال اور گمنام صحافی اسد طور کی پٹائی پر پہنچ سکتے تھے تو عثمان کاکڑ کیلئے ان کا متحدہوکر نہ پہنچنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟۔ کیا عثمان کاکڑ شہید کی حیثیت اسد طور سے بھی کم درجہ کی تھی؟۔ مولانا عطاء الرحمن کا یہ کہنا کہ قاتل معلوم ہیں ان کو پکڑا نہیں جارہا ہے اور محمود خان اچکزئی کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان میں کوئی ادارے ہیں تو میرے پاس آجائیں میں قاتلوں کے ثبوت دوں گا۔ عثمان کاکڑ کے بیٹے کا یہ کہنا کہ ہم نے قتل کا سیاسی انتقام لینا ہے اور اگر مجید اچکزئی(majeed achakzai) کو ہمارے ادارے سزا نہیں دے سکتے تھے تو عثمان کاکڑ کے قاتل کو کونسے ادارے سے سزا دلوانا چاہتے ہیں؟۔ محمود اچکزئی تو ان پشتونوں کو بڑا بے غیرت کہتا تھا جو اپنا بدلہ لینے کے بجائے درگزر پر گزارہ کررہا ہو؟۔
طالبان قرآن و سنت کے احکام پر سب کو متفق کردیں اور پھر افغانستان کے الیکشن میں حصہ لیکر اقتدار کی دہلیز تک پہنچیں۔ سیاسی ایجنڈے اور عوام کی تائیدسے طالبان کو افغانستان کا اقتدار مل جائے تو سب سے بڑا نقصان شیطان کا ہوگا۔ مسلمان اور افغان کی خونریزی طالبان کیلئے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ نبیۖ نے مکہ فتح کیا تو دشمن ابوسفیان کوعزت بخش دی۔ صدر نجیب کی شہادت کا قرض ابھی افغان طالبان کی گردن پر ہے۔ اگرافغان نہیں لڑیں تودنیا کی کوئی طاقت ان کو نہیں لڑاسکتی مگرانسانی شکل میں شیطان کی انگل کا خیال رکھنا ہوگا۔ اوریامقبول جان پاکستان میں سکون چاہتا ہے تو افغانستان میں کیوں نہیں؟۔
پرویزمشرف سے زیادہ بڑا ضمیر فروش اور مجرم ڈاکٹر نجیب اللہ بھی نہیں تھے لیکن پرویزمشرف کو جج نے قدرے سخت سزا سنادی تو میجر جنرل آصف غفور کا سخت ردِ عمل سامنے آیا لیکن ڈاکٹر نجیب اللہ(doctor najeebullah) کو پھانسی دیکر کابل کے چوک میں لٹکا کر ناک میں سگریٹ ٹھونسے گئے تو خوشیوں کے شادیانے بجتے تھے۔
افغانیوں کی قتل وغارتگری پر خوشی کا شادیانہ ؟، حامد میر کہتاہے کہ ”ا شرف غنی کے گاؤں سرخاب میں آبائی گھرپر طالبان نے جھنڈا لگادیا” تو خدا نخواستہ پاکستان کیساتھ ایسا نہ ہو۔ اگر افغانی افغانیوں کے نہیں تو پاکستانیوں کے ہیں؟۔ بھارت میں مودی بیٹھا ہے۔ عمران خان کہتا ہے کہ مودی نہ ہوتا تو بھارت سے دوستی ہوتی ،یہ بھی کہے کہ امریکہ میں ٹرمپ ہوتا تو دوستی ہوتی۔ ایران اور عرب سے بھی ہمارے اعتماد کے دوستانہ تعلقات نہیں ۔چین وہ واحد ملک ہے جس میں مسلمانوں کیساتھ اسرائیل سے زیادہ انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
گوگلی نیوز نے معاشی ایمپائر فوج کا بتایا کہ اسکے تجارتی اداروںنے کاروبار پر قبضہ کیا جو خسارے میں چلتے ہیں، ہر حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہے، سودی قرضہ اسی میں کھپ جاتا ہے۔ گوگلی نیوز ن لیگ کے مشن پر ہے جبکہ نوازشریف، مریم اور شہباز شریف کہتے ہیں کہ حکومت نے دفاعی بجٹ میں خسارہ کردیا اور ہم پورا کرینگے۔ فوج نے معاشی خسارے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ نہیں لیا تو ن لیگ دم اٹھاکر کہہ رہی ہے کہ ہم نوازیں گے جو فوج کو کھلم کھلا رشوت دینے کے زمرے میں ہی آتا ہے یہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاستدانوں کے سرغنوں کا وہ بیانیہ ہے، جس پر PDMکی مذہبی اور قوم پرست جماعتیں فخر کرتی ہیں؟۔
راشد مراد RMٹی وی لندن نے عثمان کاکڑ کی شہادت پر زہر اگل دیا مگر یہ نہ بتایا پھر نوازشریف، مریم نواز اور شہباز شریف ن لیگ کی سیاسی غیرت کہاں مرگئی ہے؟۔اور حضرت مولانا فضل الرحمن کہاں کھڑا ہے؟۔ صفحہ 3نمبر1بقیہ… اللہ نے فرمایا : اے ایمان والو! کہو سیدھی بات
پاکستان میں جمہوریت اور انصاف پیسوں کا کھیل ہے ۔ اگر اسلامی اقتدار کیلئے قریش کا ہونا ضروری تھا تو افغانستان پر حکومت کیلئے افغانی ہونا لازم ہونا چاہیے اور اس کی بڑی حکمت یہ ہے کہ بیرونی قوتوں کی سازش سے مقامی لوگ محفوظ ہونگے۔ جب رسول اللہ ۖ نے مکہ کو فتح کیا تو مدینہ کے مجاہدین کو واپس جانے کا حکم دیا اور مقامی شخص کو مکہ کا گورنر بنادیا، جو حضرت بلال کی آذان پر کہہ رہا تھا کہ ”ہم بے غیرت ہیں کہ خانہ کعبہ کی چھت پر یہ کالا گدھا ڈھینچو ڈھینچو کر رہا ہے اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو اس کو قتل کردیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ جن لوگوں کے گھروں پر قبضہ ہوچکا ہے وہ مسلمان اپنے گھر اہل مکہ سے واپس نہ لیں اسلئے کہ اللہ ان کو آخرت میں ان گھروں سے بہتر گھر عطاء فرمائے گا۔
جب پاکستان اور افغانستان کے اقتدار سے اپنے حامی اور مخالف سب عوام خوش ہوں تو پوری دنیا میں اسلامی جمہوری بنیادوں پر انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ لڑنے مرنے، الزام تراشیوں، تہمتوں اور دشمنیوں کا بہت ہوگیا ہے اور اب امن وسکون کی زندگی اسلامی ممالک نے اپنی عوام کو دینی ہوگی۔ پشتون عوام بالخصوص اور باقی لوگ بالعموم جنگ وجدل اور لڑائی و جھگڑوں سے باہر نکل جائیں۔ میڈیا ان نکات کو اٹھائے جن سے طالبان اور اشرف غنی میں کوئی ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوجائے۔ بڑے پیمانے پر قتل وغارتگری کیلئے افغانوں کو مزید بھڑکانا ابلیس اور اس کی انسانی ذریت کا بہت بڑا دھندہ ہے۔ جو بھی جنگ برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے تو اس کو یہاں بک بک کرنے کے بجائے اپنا عملی کردار ادا کرنے کیلئے طالبان یا اشرف غنی کی حمایت میں پہنچ جانا چاہیے۔ یہ شیطان کا کردار ہے کہ دوسروں کو جنگ میں جھونک کر خود اپنی دُم دباکر بیٹھ جائے۔
سلیم صافی نے کہا کہ” امریکہ نے جان بوجھ کر قتل وغارتگری کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پرامن افغانستان ہے لیکن اس کا بس نہیں چلتا ہے کہ اس کیلئے کیا اقدامات اٹھائے اسلئے پاکستان کے حق میں بھی یہی ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی اور بڑے پیمانے پرجنگ نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو اس کے بہت برے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے”۔
رمضان میں بڑے بڑے شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی شیاطین الانس اور چھوٹے شیطان اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں، اگر آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید(dgisi faiz hameed) اور بڑے کورکمانڈرز بھلائی کے فیصلے پر متفق ہوجائیں تو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے شیاطین انکے نام پر شرارتوں کا سلسلہ جاری رکھیںگے۔ پاک فوج کو چاہیے کہ ان کو شٹ اپ کی کال دیں۔
رؤف کلاسرا نے اپنے ویلاگ میں ایک مثبت خبر لانے میں اپنا تجزیہ مارکھپایا ہے کہ” جوبائیڈن ایک کال کا تکلف کیوں گوارا نہیں کررہاہے؟۔ اگر چہ ہم اس کیلئے مر نہیں رہے ہیں لیکن امریکی صدرنے یہ رویہ کیوں اختیار کیا ہوا ہے؟۔ کیا یہ وجہ ہے کہ طالبان کو ہم نے بات کیلئے راضی کیا توحسبِ معمول امریکہ کو ہماری ضرورت نہیں رہی؟۔کیا بھارت کو زیادہ اہمیت دینا چاہتاہے اسلئے ہمیں گھاس ڈالنا مناسب نہیں سمجھتا؟۔کیا اڈے دینے کیلئے دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے؟۔ جب ہم اڈے دیں گے تو تھینک یو کی کال کرلے گا؟۔کوشش کے باوجود کسی نتیجے پر پہنچنے میں کا میابی نہیں ہوئی ہے لیکن عمران نے برابری کی سطح پر ان سے بات کرنے کا واضح اعلان کیا ہے اور یہ اعلان ملٹری اسٹیبلیشمنٹ ہی کے کہنے پر کیا ہے۔ ماضی میں جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے امریکہ سے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کیلئے اڈے دئیے تھے اور ان کی خدمت کی تھی لیکن اس مرتبہ ہمارے رویے میں تبدیلی آئی ہے”۔
صابر شاکر نے کہا کہ” طالبان نے ضلعوں میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ صوبائی دارالحکومتوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ وائٹ ہاوس کے مہمان بن گئے ۔ اپنے مقاصد میں اسلئے کامیاب ہوگئے کہ امریکہ کیلئے اپنی خدمات انجام دی تھیں اسلئے امریکہ بھی ان کو جاسوسی کے بدلے نوازنے کا حقدار سمجھ رہاہے۔ عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا ۔ اس مرتبہ ہم استعمال نہیں ہونگے۔ عمران خان نے طالبان کو واضح پیغام بھیج دیا ہے کہ میرا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا یہ مشترکہ فیصلہ ہے کہ نہ تو ہم افغان طالبان کی مدد کریں گے اور نہ افغان حکومت کی۔ اگر طالبان طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کرلیں تو ہم ان کی حکومت کو نہیں مانیں گے بلکہ افغانستان کیساتھ اپنی سرحد مکمل سیل کریں گے۔ ہم افغانستان میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کریں گے”۔
وزیرستان (waziristan)کی کہاوت ہے کہ زڑہ مے شئی سوڑہ مے شئی” میرا دل بھی کرتا ہے مگر سردی بھی لگ رہی ہے”۔ دل چائے پینے کو کرے، مہمان وہ بہانہ تراشے کہ میزبان بول دے کہ یہ تو بہانہ نہیں ہے۔ پاکستان کی بار بار اپنی اس بات کو دہرانے کی وجہ سمجھ میں آرہی ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی لیکن ہم کوئی کردار ادا نہیں کرینگے تاکہ امریکہ بہادر کہہ دے کہ شاباش،آؤ ہم تمہارے کردار کے منتظر ہیں لیکن امریکہ گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان دوغلی پالیسی کی وجہ سے اپنے ملک میں بھی گرے لسٹ میں پڑا ہواہے۔ ہم آج تک اپنی قوم اور دنیا کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ” ہمیں امریکہ کا ساتھ دینے پر فخر ہے یا طالبان کی خدمت پر؟”۔ ظاہر ہے کہ دونوں کام کئے بھی ہیں۔ہماری اس میں مجبوری بھی تھی اور اس میں ہم نقصان اٹھانے کیساتھ ساتھ فائدے میں بھی رہے۔ عراق، لیبیا اور شام جتنا تباہ ہوا،ہم پڑوس میں رہ کر بچ گئے۔ بخاری کی حدیث ہے کہ الحرب خدعة ” جنگ دھوکے کا نام ہے”۔
حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ امریکہ کی طرف سے کچھ بولنے کی فکر کے بجائے بہت آگے بڑھ کر افغانستان کی خانہ جنگی روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ صرف خواہش رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا کہ ”دل تو چاہتا ہے مگر سردی لگ رہی ہے”۔ امریکی امداد، شاباشی اور کسی قسم کی کوئی لالچ کو بھول جاؤ۔ اگرطالبان اور اشرف غنی میں غیرجانبدار بنتے تو بھی اچھی بات ہے لیکن یہ کونسی دانشمندی ، غیرت ، ضمیر، ایمان، انسانیت، رسم وروایت اور اخلاقی قدر ہے کہ خود کہہ رہے ہو کہ ہم ٹشوپیپر کی طرح استعمال ہوئے ہیں اور پھر اشرف غنی کو طعنہ بھی دیتے ہو؟۔ اشرف غنی کو تو افغانستان کی بھلائی کیلئے بہت بعد میں عوام نے بلایا ہے اور تم نے طالبان کو تباہ کرنے کیلئے کس حد کو پار نہیں کیا ہے؟۔
عثمان کاکڑ نے سینٹ میں کہاتھا کہ” تمہاری کٹھ پتلی حکومت نے وہ کرناہے جس کا اس کو حکم مل جائے۔ میں کبھی پرسنل نہیں ہواہوں لیکن جب تم پرسنل اٹیک کروگے تو جواب دوں گا۔ محمود خان اچکزئی نے ٹھیک کہا کہ پشتون کی قومی زبان پشتو، پنجابیوں کی پنجابی، سرائیکیوں کی سرائیکی، بلوچوں کی بلوچی اور سندھیوں کی پانچ ہزار سال سے سندھی قومی زبان ہے۔ تمہارے مخدوم کے خاندان نے انگریزوں کی خدمت کی ہے اور ہمارے خان شہیدعبدالصمد اچکزئی نے انگریز کے خلاف قربانی دی، تیس سال جیل میں گزارے ہیں۔ ہماری پارٹی نے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاؤں میں کوڑے کھائے ہیں اور پرویزمشرف کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔ تمہارا وزیراعظم ایک کرنل کے حکم پر چلتا ہے اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے”۔
عثمان کاکڑ نے یہ بھی کہا تھاکہ” قومی ایکشن پلان پختونوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے ”۔مگر قومی ایکشن پلان پرصرف پیپلزپارٹی کے رضاربانی نے روتے ہوئے پارٹی کی امانت سمجھ کر دستخط کئے اور تمام جمہوری پارٹیوں بشمول ( pdm)کی موجودہ پارٹیوں کے سب نے نہ صرف دستخط کئے بلکہ مولانا فضل الرحمن، نوازشریف،سراج الحق، اسفندیار ولی اور تحریک انصاف سب اسکا کریڈٹ بھی لے رہے تھے۔ محمود خان اچکزئی (mehmood khan achakzai)کا توشروع سے مطالبہ تھا کہ ”ہماری ایجنسیا ں چاہیں تودہشت گردوں کو ختم کرسکتی ہیں اور امریکی (CIAدے ہماری ISI)زیادہ ہوشیار ہے۔ اس کھیل کو یہاں سے ختم کیا جائے”۔ جب وزیرستان کی عوام کو ایکشن پلان کی وجہ سے مہاجر کیمپوں میں ڈالا گیا تو مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی ، اسفندیار ولی وغیرہ نے اسلام آباد میں ایک جرگہ بلایا تھا ۔ کامران مرتضیٰ نے بادشاہی خان محسود کو 3منٹ کا ٹائم دیکر اپنی بات مکمل کرنے کا کہا تھا اور بادشاہی خان(badshahi khan) کی وہ تقریر سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ اس نے عبدالصمد خان اچکزئی، خان عبدالغفار خان اور مفتی محمود کے وارثوں سے گلہ کیا کہ” کراچی سے مہاجر ہماری مدد کرنے کو آگئے لیکن ہمیں کسی پشتون قوم پرست اور مذہبی قیادت نے پوچھا تک بھی نہیں”۔ لیکن اس کو اپنا مختصر وقت بھی پورا نہیں کرنے دیا گیا۔ بادشاہی خان برملا کہتا تھا کہ” حکومت ہمارے لوگوں کو بھکاری بنارہی ہے اور یہ تذلیل ہمیں برداشت نہیں”۔ لاہور ہائیکورٹ نے عوام کو حکومت کی طرف سے چینی دینے کیلئے برہمی کا اظہار کیا تھا لیکن پشتون قوم کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ البتہ اس میں پشتونوں کا اپنا بھی قصور تھا اسلئے کہ خود کش حملہ آوروں کے ذریعے مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد ، اسفندیار ولی اور آفتاب شیرپاؤ کسی کو نہیں چھوڑا گیا۔البتہ محمود خان اچکزئی پر کوئی حملہ نہیں ہوا ۔اگر ہوتا تو عثمان کاکڑ شہید قومی ایکشن پلان کی مخالفت بھی شاید پھر کبھی نہ کرتے۔ قومی ایکشن پلان سے ہی خیبر پختونخواہ کے لوگوں کی زندگی بحال ہوئی تھی۔ پختونوں کو اپنے صوبے میں مشکلات کا سامنا تھا اور دیگر صوبوں میں بھی ان کو دہشتگرد سمجھا جاتاتھا۔
پاک آرمی کو اگر کٹھ پتلی ، بھاڑے و کرائے پر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کے بجائے مقتدر طبقے نے صحیح استعمال کیا تو افغان خونریزی رُک جائیگی بلکہ اسلام، انسانیت اور پاکستان کی بچت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ پرویزمشرف اور جنرل محمود(genral mehmood) نے بھاڑہ لیا تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید نے اگر اپنا مثبت اور بہت مؤثر کردار ادا کیا تو رہتی دنیا تک کیلئے وہ امر ہونگے،پاک آرمی اور پاکستان کو بھی امر کردینگے۔انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم۔ اچکزئی عثمان کاکڑ کی شہادت کا معمہ حل نہیں کرسکتا تو پشتونخواہ کا کیسے کریگا؟۔
ایک طرف اوریا مقبول جان جیسے طالبان کی قوتِ ایمانی پر رشک کریں اور دوسری طرف قوم پرست اپنا مسئلہ حل نہ کرسکیں اور پشتونوں کو آرمی و پنجابیوں سے لڑائیں تو پشتون قوم کا مستقبل کبھی نہیں سدھر سکتا ہے۔ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن فوج اور اسکے کٹھ پتلی پنجابی سیاسی لیڈر شپ کے کھیل میں پشتونوں اور مذہبی لوگوں کو فٹ بال نہ بنائیں۔ جب لاہور میں( PDM)کا جلسہ تھا تب بھی لاہوریوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں نے نکالنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ اگر پشتونوں کی قوم پرست اور مذہبی لیڈرشپ اپنے لوگوں کو چوکیداروں اور رینٹ کار وں کی طرح استعمال کریںگے تو پشتون قوم کبھی اچھا دن نہیں دیکھ سکے گی۔ عام پنجابی کی حالت پشتون اور بلوچ سے بدتر ہے۔ افغانستان و ایران سمگلنگ سے فائدہ اٹھانے والوں کی طرح پنجابی بھی فائدہ اٹھائیں تو انکے منہ بھی دُھلے ہوئے نظر آئیں۔ پسماندہ پنجابیوں کے خلاف نفرت کے بیج بونا اور اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹوں کی دلالی کرنا کونسی سیاست کا تقاضہ اور دانشمندی کی بات ہے؟۔
نفرتوں کے بیج بونے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تربت ، گوادر اور بلوچستان کے دُور دراز علاقوں سے محنت مزدوری اور بچوں کا پیٹ پالنے والے غریب پنجابیوں کی لاشیں آتی ہیں۔ پنجاب خوشحال ہوتا تویہ لوگ موت کے کنویں میں کودتے؟ یا یہ لکی ایرانی سرکس ہے؟۔ بلوچ پنجابیوں کو مارتے ہیں تو کوئی بلوچ پنجاب میں محنت مزدوری کرنے نہیں جاتا۔ اگر پشتون نے نسلی لڑائی شروع کردی تو پنجاب سے ایسی خونریزی کا آغاز ہوگا کہ لوگ پشتونوں کو دوزخی سمجھ کر قتل کرینگے اور دریائے سندھ کو انکے خون سے بھر دینگے۔ شاہ نعمت ولی کی پیش گوئیاں بھی ان پر فٹ کرینگے کہ پنجاب کے قلب سے دوزخی خارج اور دریائے اٹک انسانی خون سے بھر جائیگا۔ اگر احمد شاہ ابدالی اور شیرشاہ سوری نے ہندوستان فتح کیا ہے تو وہ مغل سلطنت کا دور تھا مگر راجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب اور تختِ لاہور کا اقتدار سنبھالا تو جب تک انگریز نے ہماری جان نہیں چھڑائی ،کسی مائی کے لعل پٹھان نے سکھ دھرم کے اس پنجاب کا مقابلہ نہیں کیا اور جب شاہ اسماعیل شہید اور سیداحمد بریلوی نے خلافت کا آغاز کرنا چاہاتھا تو پختون حکمران راجہ رنجیت سنگھ کے اتحادی تھے۔ آج افغانستان میں طالبان کی طاقت قوم پرست پشتونوں کے نہیں پنجابی اسٹیبلیشمنٹ کی حامی ہے۔ وہ وقت گیا جب ہندو کو زبردستی سے کلمہ پڑھایا جاتاتھا ۔اب تو محسود جیسی بہادر قوم نے پنجابی فوج سے دُم دبا رکھی ہے۔
اس معرکے میں پشتونوں کولے جاناغلط ہے جہاں طالبان حوروں کو بھول کر افغانستان میں پناہ لئے بیٹھ گئے۔ گلبدین کی ہارون الرشید جیسے صحافی امریکائی جہاد کے وقت تعریف کرتے تھے تو پوچھا گیا کہ اسکے دوست کون ہیں؟۔ جواب ملا کہ جماعت اسلامی !(jamat e islami) اس پر کہاگیا کہ دوسرے گاؤں کے بے غیرت کو پہچاننے کا یہ طریقہ ہے کہ اس کی آپ کے گاؤں کے بے غیرتوں سے دوستی ہو۔ میجر مست گل کی کہانیاں قوم کو سنانے والی جماعت اسلامی آج کہاں کھڑی ہے؟۔
یہاں طالبان کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد تھی تو یہ بہادر تھے اور فوج نے ایکشن لیا تو لمبے بالوں والے صابرشاہ(sabir shah) جیسی حوروں کو لیکر ایسے بھاگے کہ ہماری قوم نے برطانیہ کے سامنے بھی ایسا سرنڈر نہیں کیا جس کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج جن کو قوم کا چیف، خان اور ملک کہا جاتا ہے یہ سب برٹش سرکار کے جاسوس تھے۔ یہ دلیل ہے کہ نیٹو کی اشیر باد طالبان کو حاصل نہ ہوتی تو وہاں سے بھاگ کر یہاں آتے۔ پرویزمشرف دور میں جن کو امریکہ کے سپرد کیا جا رہا تھا تو وہ افغانستان میں امریکہ سے لڑنے کے بجائے پاکستان میں پناہ لینے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ غیرت بھی کوئی چیز ہے جہانِ تگ ودو میں۔ہم یہاں کی طالبان مافیا سے وہاں کی طالبان مافیا کے کردار اور بہادری کو سمجھ سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی مذہب اور قوم پرستی کے کارڈ پر اچھا کام کریں۔ طالبان اور اشرف غنی کو جنگ وجدل سے بچانے اور اسلامی جمہوری حکومت تشکیل دینے پر راغب کردیں۔ اگر افغانستان میں اسلام کا درست نظام نافذ ہوا تودنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔ اگر نبیۖ نے کفارِمکہ سے دس سال کیلئے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا اور اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیا تو کیا طالبان مسلمان افغانی بھائیوں سے یہ صلح نہیں کرسکتے ہیں؟۔
وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف نے جب یہ واضح کردیا ہے کہ ” اگر طالبان نے طاقت کے زور سے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کیا تو ہم ان کی حکومت نہیں مانیںگے اور اپنی سرحداتْ بھی سیل کردیںگے”۔ تواس کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن صلح کیلئے یہ ایک بہت بڑی بنیاد ہے۔ ایک پٹھان نے طالبان(taliban) کو دعوت دی کہ” آؤ ہم افغانی مل کر امریکہ اور اسکے ایجنٹ پاکستان کیخلاف متحد ہوکر ہتھیار اُٹھائیں ، پنجابیوں کیخلاف جہاد کریں۔ ملامنصور کو کس نے قتل کیا، ملابرادر کو کس نے پکڑا تھا؟…. وغیرہ”۔ مگریہ نہیں سوچا کہ طالبان اور اشرف غنی کے حامی دونوں ایکدوسرے پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں۔
صحافی عمران خان جیسے لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہے جس نے پہلے آرمی چیف پر کرپشن کا الزام لگایا پھر معافی مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کھلے عام جھوٹا بہتان لگادیا۔ لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ اندورنِ خانہ آرمی چیف کو قادیانی اور اسرائیل کا ایجنٹ کہا جارہاہو ۔ اگر مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان اور آرمی چیف کی کھلم کھلاتحقیقات ہوجائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائیگا۔ صحافی عمران خان نے اسرائیل میں پاکستانی قادیانی فوج پر ویلاگ کیا تھا ،اب یہودیوں کے داماد عمران خان کے دامادزلفی بخاری پر اسرائیل کے دورے میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف باجوہ کی طرف سے اسرائیل کی حکومت اور موساد کو خفیہ پیغامات پہنچانے کی باتیں خاص طور پر ن لیگ کی میڈیا سیل سے چل رہی ہیں۔ پہلے بھی نوازشریف نے بینظیر بھٹو پر امریکہ کے اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف پر اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایاتھا۔ بینظیر بھٹو (benazir bhutto)نے طالبان بنائے تھے اور نوازشریف نے اسامہ بن لادن(usama bin ladin) سے پیسے لئے تھے۔ طالبان اور القاعدہ کے نام پر اگر امریکہ اور اسرائیل نے ہمارے ہاں اپنے کرتوت دکھائے ہوں تو یہ ممکن ہے اسلئے کہ قرآن میں یہودونصاریٰ کی اس سازش کا ذکر ہے کہ جس سے پہاڑ بھی ہل جائیں۔ مشتری ہوشیار باش؟۔

what measures should be taken to protect Forests of Waziristan? Suggestions from Shafqat Ali Mahsud

shafqat ali mehsud
badar velly
mehsud tribe
waziristan forests
plant for pakistan
green pakistan
pakistan independence day

وزیرستانی جنگلات کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟ چند تجاویز: تحریر: شفقت علی محسود

وزیرستان (waziristan)کے جنگلات کے تحفظ کیلئے سینٹ اور اسمبلیوں میں آواز اٹھنے کے بعد وزیراعظم کا خود اس سلسلے میں ایم این ایز سے ملاقات کرنا خوش آئند ہے لیکن کیا انتظامیہ اکیلے ہی بزور بازو ان جنگلات کی روک تھام کر پائے گی؟ کیا مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہ لیکر یہ کام ممکن ہو سکتا ہے؟۔
کچھ تجویزات ہیں امید ہے کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو موجودہ جنگلات کے تحفظ کیساتھ ساتھ نئے پودے کے اگانے میں بھی آسانی ہوگی اور انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کم وسائل استعمال کر کے اپنے مقصد کا حصول یقینی بنا سکتے ہیں۔
1۔ انتظامیہ کا جنگلات کے بارے میں حکومتی پالیسی کا واضح کرنا:قبائل بالخصوص شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ حکومت جنگلات پر قابض ہوکر انکے جنگلات چھیننا چاہتی ہے یا ساتھ دیکر تحفظ فراہم کریگی؟۔
حکومتی قبضے کے ڈر کیوجہ سے گزشتہ سال سے کافی جنگلات کاٹے جا چکے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ یہ واضح کر دے یہ جنگلات ان مقامی لوگوں ہی کی ملکیت ہیں۔ جنگلات سے حاصل ہونے والی ہر قسم کی آمدنی اور فوائد کے حقدار یہاں کے مقامی لوگ ہی ہونگے۔ تب جاکر ان جنگلات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
2۔جنگلات آگاہی مہم:کسی کو فوائد اور نقصانات بتائے بغیر قائل کرنا مشکل کام ہے جب تک جنگلات کے فوائد اور کاٹنے کے نقصانات سے لوگوں کوآگاہ نہیں کیا جائیگا تب تک تحفظ کی ہر کوشش رائیگاں جائے گی۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ ان علاقوں میں اس سلسلے میں سیمینار کا انعقاد کروائے، سوشل میڈیا کمپین سے لوگوں میں شعور اُجاگر کیا جائے۔ گلوبل وارمنگ ,بارش کا برسنا، آکسیجن کی فراہمی، زمینی کٹاو کی روک تھام کے علاوہ جنگلات کے ہر قسم کے فوائد اور جنگلات کے خاتمے کے سارے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو شعور دینا چاہئے۔
3۔ قومی کمیٹی برائے جنگلات تحفظ کا قیام:حکومت و محکمہ جنگلات ان جنگلات کا تحفظ تب تک ممکن نہیں بنا سکتی جبتک مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیکر جنگلات کے تحفظ کیلئے کمیٹیاں نہ بنائی جائیں۔صدیوں سے جولوگ جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں اب بھی ان جنگلات کا تحفظ ان ہی کی مدد سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ مقامی مالکان کے تعاون سے مشترکہ جرگے کا انعقاد کرے، لوگوں کو اپنی جنگلات دوست پالیسی سے آگاہ کرے۔اس سلسلے میں حکومت کو فارسٹ گارڈ کیلئے مقامی افراد کو بھرتی کرنا چاہئے تاکہ جنگلات میں موجود ہر درخت کے تحفظ کیساتھ ساتھ ان جنگلات کے اصل مالکان کو ہی فائدہ حاصل ہو سکے۔
4۔ سوکھی اور گھروں کی تعمیر میں استعمال کی لکڑی:چونکہ قبائل گیس، بجلی سے محروم ہیں۔ جلانے کیلئے لکڑیوں کا استعمال ہے۔ جنگلات کی سوکھی لکڑی کو جلانے کیلئے لیجانے پرپابندی نہ ہو ۔ اگر کوئی گھر کی تعمیر میں لکڑی استعمال چاہتا ہے تو متعلقہ کمیٹی کی اجازت سے ضرورت کے مطابق درخت کی کٹائی کی اجازت ہو۔
5۔پرانے گھنے جنگلات:وزیرستان کے جنگلات سینکڑوں سال پرانے ہیں اور ان میں ایسے درخت ہیں جن کا تنا اندر سے گھل چکا اور باقی درختوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ ہیں ان درختوں کو شمار کر کے کاٹا جائے تاکہ جنگلات میں چھوٹے درخت جلد نشوونما پا سکیں اوروہ جنگلات جو کافی گھنے ہیں، درختوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ ہیں ان کو کاٹ کر ہلکا کیا جائے، کاٹی جانیوالی لکڑیوں کو کسی میدان میں لاکر، ملک بھر سے بڑے سوداگروں کو بلاکربولی لگائی جائے، فروخت ہونے کے بعد وصول ہونیوالی رقم کو مقامی اصل مالکان میں تقسیم کیا جائے۔
6۔سرکاری نرسریوں کا قیام: جن علاقوں میں جنگلات کاٹے جا چکے ہیں یا جنکو پرانے یا گھنے ہونے کیوجہ سے کاٹا جائیگا ان میں باقاعدہ بقیہ صفحہ 3نمبر3بقیہ…وزیرستانی جنگلات کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟
درخت اُگانے کیلئے سرکاری نرسریوں کا قیام ضروری ہے۔ جن میں علاقے کے موسم کے مطابق پودے دستیاب ہوں۔ نرسریوں سے پودوں تک رسائی میں آسانی ہوگی اور لوگوں میں درخت لگانے کا رجحان بھی بڑھتا جائے گا۔
7۔ الیکٹرک آراپر مکمل پابندی:پہاڑی علاقوں میں جاری موجودہ کٹائی میں سب سے اہم کردار الیکٹرک آرے کا ہے۔ اس آرا کی مدد سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں درخت کاٹے جارہے ہیں۔ اس کے استعمال پر نہ صرف پابندی عائد کی جائے بلکہ برآمد ہونے پر ضبط کرنے کیساتھ ساتھ سزا بھی دینی چاہئے۔
8۔ سمگلنگ کی روک تھام :درج بالا تجاویز پر عمل ہوا تو سمگلنگ کا امکان پیدا نہیں ہو سکتا مگر احتیاطاً ہر علاقے کے داخلی ، خارجی راستوں اورچور راستوں پربنائی گئی کمیٹی کے افراد کوپہرا دینا چاہئے، کمیٹی کو ضلعی انتظامیہ کا براہ راست تعاون حاصل ہو۔یہ میری ذاتی تجاویز ہیں ان سے کوئی بھی اختلاف کر سکتا ہے۔
اگر آپ لوگوں کی بھی کوئی تجویز ہو تو ضرور شیئر کریں
تبصرۂ نوشتۂ دیوار: تیز وتند عبدالقدوس بلوچ
ایک جوان صحافی کی اچھی سوچ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس قوم میں ایک بیداری کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔ اچھی سوچ کی حوصلہ افزائی اور پروان چڑھانے سے پوری قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ اگر علماء یہ کہیں کہ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کے کردار سے علماء کو بدنام کیا گیا یا پشتون قوم پرست کہیں کہ پشتون قوم کو بدنام کیا گیا ہے تو اس سے مدارس اور پشتون قوم کا تحفظ نہیں ہوسکتا ہے ۔ پشتون قوم اسلام کی درست خدمت کیلئے صحیح بنیادوں پر آگے بڑھیں۔ مار دھاڑ کی جگہ امن وامان ہو تو بلوچ، پنجابی، سندھی، مہاجر، کشمیری سب ساتھ دینگے۔
رقیب اللہ محسود اور شفقت علی محسود کا اپنی قوم کے غریب افراد اور جنگلات کی فکر وہ انقلاب ہے جس سے دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر بچوں کو شروع سے ایسی تربیت اور ذہنیت دی جائے کہ اپنے باپ دادا کے غلط نقشِ قدم پر چل کر تم نے دنیا میں سیاست، سول وملٹری بیوروکریسی، استحصالی نظام کے ذریعے کیسے اپنا مفاد حاصل کرنا ہے اور کس طرح لوٹ مار کرنی ہے تو پھر دنیا کا اللہ حافظ ہے!
(syed atiq ur rehman gillani shafqat ali mehsood_waziristan k janglat ka tahaffuz _zarbehaq.com_navishta e dewar _afghanistan June=Special-2–page-4-navishta e diwar_smugling)

Review of Few shariah problems selected from familiar books Fiqa e Hanfia. Zandan Maseed

(کی ورڈ: فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامی، فتاویٰ عالمگیری ، Zandan Maseed)

حنفی فقہ کی مشہور کتابوں سے چند شرعی مسئلے ملاحظہ کریں۔
مولویوں کی جہالت ملاحظہ فرمائیں: زانڈان ماسید( محسود)فیس بک آئی ڈی

ہم مسلمانوں پر فقہاء کرام کے بیش بہا خدمات و احسانات ہیں جو بھلانے کے قابل نہیں ۔ دن رات دنیاوی مشاغل کو ترک کرکے قرآن و حدیث سے جو استنباط ان لوگوں نے کیا انکی نظیر نہیں ملتی یہاں تک آتا ہے کہ رات کو علمی مجلس لگتی مسئلے پر بحث ہوتی صبح کی اذان ہوتی یہاں تک مسئلے کا صحیح استنباط کیا جاتا ۔
ذیل میں حنفی مذہب کی مشہور کتابوں سے چند مسئلے بطور مثال سطور میں رقم کرتا ہوں تاکہ آپ لوگوں کو فقہائے کرام کی ان عظیم خدمات اور انمول کاوشوں کا پتہ لگ جائے کہ قرآن و حدیث سے لاکھوں مسائل کیسے نکالے جاتے ہیں ۔ بظاہر تو قرآن و حدیث چند کتابیں ہیں پر مولوی صاحب جو کروڑوں کے بجٹ کے کتب بتا رہا ہے اسکا پتہ لگ جائے کہ یہ مکتبے اور لائبریریاں خالی نہیں ان میں کیسے کیسے نوادرات ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ انجانے مولوی صاحب کے سچ کو جھوٹ کہہ کر گناہ کے مرتکب ہوجا ۔
1: جس نے کسی دوسرے شخص کی بیوی کو پیچھے سے استعمال یعنی دبر میں جماع کیا یا لڑکا استعمال کیا تو اس پر حد نہیں ۔ فتاوی قاضی خان
( جلد 3 صفحہ369 )
2 :اگر کوئی بادشاہ زنا کرے ، شراب پئے یا قتل کرے اس پر کوئی حد نہیں ۔ عالمگیری 2/151( ۔قاضی خان 3/478 ۔ھدایہ کتاب الحدود 2 /448 )
3: عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک تھوک جیسی ہے ۔( شامی جلد1صفحہ 236)
4: اگر چھوٹی بچی ، جانور یا مردہ عورت سے کوئی جماع / ہمبستری کرے دخول ہوجانے پر پانی نہ نکلے تو غسل واجب نہیں ۔
( فتاوی عالمگیری 1/15)
5:جس نے اپنے ساتھ زنا کیا یعنی اپنے پچھواڑے میں اپنا شتر مرغ داخل کیا اور انزال نہیں ہوا تو غسل واجب نہیں ۔
(درمختار 1/31 )
6:نماز کی امامت وہ کرے جس کی بیوی خوبصورت ہو اس کے بعد اس کا سر بڑا ہو اسکے بعد اسکا شتر مرغ یعنی اندام مخصوصہ چھوٹا ہو۔ (طحطاوی و درمختار 1/82 )
7:جس نے کسی چھوٹی بچی سے جماع کیا اور قابل جماع نہ تھی اور اندام مخصوصہ پھٹ گئی تو اس پر حد نہیں ۔
(فتاوی قاضی خان 3/469)
8: اگر کوئی تشہد کے آخر میں سلام سے پہلے پاد مارے اور ہوا خارج کرے تو اسکی نماز کامل ہے ۔
(منیہ المصلی ۔صفحہ 123 )
9:اگر کسی نے عورت کو کرایہ پر لیا اور اسکے ساتھ زنا کیا تو حد نہیں ۔( 3/468)
10:اگر کسی نے عورت سے زنا کیا اور بعد میں کہا کہ یہ میں نے خریدی ہے تو اس پر حد نہیں۔( فتاوی عالمگیری 1/151)
اوپر ذکر کئے گئے مسائل میں اگر کوئی مسئلہ غلط ہے اور مذکورہ کتابوں میں نہیں ہے تو نشاندہی کرنے پر ڈلیٹ کردینگے ۔قاری الطاف ادیزئی
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01 syed ateq ur rehman gillani _zarbehaq.com_zandan maseed)

The broadcasting institutions BBC &VOA, are part and parcel of war against terror policies: Akhtar khan.

(کی ورڈ:بی بی سی، وائس آف امریکہ،مولانا سلیم اللہ خان، Zandan Maseed)


مریکہ اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور وائس آف امریکہ، جنگی پالیسی کا حصہ ہیں: اختر خان

گزشتہ دس گیارہ سالوں سے( BBCاورVOA)ڈیوہ مشعل کو بہت قریب سے دیکھ اور سن رہے ہیں انکا کاروبار،رپورٹنگ جنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ جنگ جاری رہے گی انکا کاروبار چلتا رہے گااور جنگ بندتو انکا حساب بند ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ امریکہ اوربرطانیہ کا دہائیوںسے سب سے بڑا کاروبار رہا ہے اسلحہ بیچنے میں آج بھی امریکہ پہلے نمبرپر37% ہے۔ انکو یہ اسلحہ بیچنے کیلئے دوسرے ممالک میں جنگیںبرپا کرنی پڑتی ہیں۔ جنگوں کیلئے ماحول سازگار بنانے عوامی ذہن سازی کیلئے انہوں نے اپنے مخصوص پروپیگنڈہ ریڈیوز رکھے ہیں۔ جو ان ممالک کے اندرونی بدترحالات پر بات نہیں کر سکتے لیکن پاکستان اور افغانستان کیلئے دن رات ایک کیے ہوتے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں زہر گھولنا انکا صبح سے شام تک وطیرہ رہتا ہے۔
اپنے ان دوستوں جو ان ریڈیو سٹیشن کیساتھ منسلک ہیں معذرت کیساتھ کہ ہمارا اختلاف آپکے ساتھ نہیں، بلکہ آپکے ادارے کے ملک اور انکی جنگی پالیسی کو آپکے ادارے کے اور آپکے زریعے جس طرح پھیلایا جاتا ہے ھمارا اختلاف اس سے ہے۔ ہر اس رپورٹ کی قیمت دونوں اداروں کے رپورٹرز کو زیادہ ملتی ہے جس میں زہریلا پن زیادہ ہو، جس میں جنگ و جدل یا نفرتوں کا پرچار زیادہ ہو۔ جس سے ملکوں میں انارکی پھیلے وہ رپورٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔
خطے (افغانستان+پاکستان)کیلئے دونوں ممالک کی مستقبل کی پالیسی انکے چینلز کی منافقت سے خود اخذ کریں۔ یہ ایک طرف پشتون قوم پرستوں کی تحریکوں کو بڑھاوہ دیکر جنگی(Conflict)والی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان و پاکستان میں طالبان کے حملوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ عوام میں ایک جنگی صورت حال اور افراتفری والی سوچ قائم ہو۔اور جنگ کا ماحول ہر حال میں بنا رہے۔
لہٰذا ان چینلز کا بائیکاٹ کرکے جنگ کے اصل کرتا دھرتاؤں امریکہ اور برطانیہ کی انسان دشمنی اورپشتون دشمنی کو پہچانیں۔ انکو ایکسپوز کریں۔درمرجان وزیر
زانڈن ماسید(Zandan Maseed)اور اخترخان کی تائید
دنیا کو فتح کے طالب، مجاہد اور مولوی کو اپنی کتابوں سے خرافات نکالنے کی توفیق کیوں نہیں ؟۔ علماء اپنی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑائیں۔ فوج کی قیادت کا امریکہ کوہاں کرناغلط تھا لیکن عالمی بینکنگ کے سودی نظام کو جواز فراہم کرنا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کیلئے کیسے جائز تھا؟۔ صدر وفاق المدارس مفتی محمود، مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کی مگرسبھی ناکام تھے۔وائس آف امریکہ کے شمیم شاہد(shamim shahid) نے جیوچینل کی طرح ہمارا پروگرام نشرنہیں کیا۔ اختر خان نے ٹھیک لکھا کہ چینلوں کے ملازموں سے گلہ نہیں مالکان جنگ کی فضاء پیدا کرنے میں بہت مگن ہیں۔
اگر مذہبی اورقوم پرست طبقات برطانیہ اور امریکہ کے نشریاتی دجالی میڈیا کو سمجھ جائیں اور آپس میں لڑنے مرنے کے بجائے صلح ، انسان دوستی ، خدا پرستی اور عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام تشکیل دیں تو دجالی میڈیا کا کردار بالکل یہاں سے ختم ہوجائے گا۔ خوبصورت کالے تیتروں کا مقابلہ فقط آوازوں سے ہوتا ہے اور ہم بھی کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں اور کردار ہوتا بھی ہے تو شیطانی۔سید عتیق الرحمان گیلانی
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01 syed atiq ur rehman gillani akhtar khan)

Hafiz Hussain Ahmed of JUI states that Molana Fazal-ur-Rehman handed over JUI rented out to PML N.

چھوٹے سے دارالخلافہ کوئٹہ میں تبدیلی کے اثرات خطے پر پڑیں گے
جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ ن کو رینٹ پر دی ہوئی ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
کوئٹہ(quetta) میںبلوچ(baloch)، پختون (pakhtoon)اور ایک چھوٹی آبادی ہزارہ برادری(hazarabradri) کی ہے۔ کوئٹہ میں سب سے زیادہ ہمارے اخبار کا کام ہوا ہے۔ بلوچستان (balochistan)کے دینداروں اور قوم پرستوں میں تقسیم کی بنیاد اس وقت پڑگئی جب اکثریت نے جمعیت علما اسلام کو جمہوری بنیادوں پر بڑے پیمانے پر ووٹ دیا ۔ مفتی محمود
(mufti mehmood) اور ولی خان(wali khan) نے دینداروں، جمہوریت پسندوں اور قوم پرستوں کو دھوکہ دیا۔ جہاں جمعیت علما اسلام کی اقلیت تھی وہاں صوبہ سرحد میں مفتی محمود نے وزیر اعلی کا منصب سنبھال لیا جہاں جمعیت علما اسلام کی اکثریت تھی وہاں بلوچستان میں سردار کا درجہ نیچے اور نواب کا اوپر ہوتا ہے۔ غوث بخش بزنجو (ghuos bakhsh bizanjo)بابائے جمہوریت کی موجودگی میں نواب خیر بخش مری (nawab khairbakhsh marri)کو بھی وزیرارعلی بنانا درست نہ تھا لیکن سردار عطا اللہ مینگل (attaullah mengle)کو نوازا گیا۔ بلوچ فطری طور پربہت اچھے لوگ ہیں اسلئے جمعیت علما اسلام کے حق پر نواب، سردار اور جمہوریت پسندوں کے درمیان وزیر اعلی کیلئے کوئی لڑائی نہیں ہوئی پھر ذوالفقار علی بھٹو(zulfaqar ali bhutto) نے شبِ خون مارکر بلوچستان میں گورنر راج قائم کرکے جمہوری حکومت کا خاتمہ کردیا۔ نواب اکبر بگٹی (nawab akbar bugti)گورنر بنادئیے گئے اور جعلی جمہوریت کا خاتمہ کردیا گیا۔آج بلوچستان اسلام اورجمہوریت سے محروم ہے اور قوم پرستی کے نام پر قسمت بھی خراب ہے۔ مفتی محمود(mufti mehmood) صوبہ سرحد کے وزیراعلی تھے تو خیبر پختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی جمہوریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی۔ علما اکثریت سے محروم ہونے کے باجود اقتدار کا خواب دیکھنے لگے تو دہشتگردی کی جڑیں پڑ گئیں ۔ پھر مولانا فضل الرحمن (fazal rehman)بندوق اٹھانے کی بات کرتے تھے۔ پختونخواہ میں اپنی سیٹ ایک دفعہ ہارتے اور دوسری مرتبہ جیتے مگر بلوچستان کی جمعیت علما اسلام ہمیشہ حکومتوں میں شریک اقتدار ہوتی تھی جہاں سے بڑی نفری اور کرپشن کے مزوں نے علما کی عادت بہت خراب کردی تھی۔
جے یو آئی کے قدآوررہنما حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ ”مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علما اسلام مسلم لیگ ن کو رینٹ پر دی ہوئی ہے”۔ بلوچستان کی عوام میں نوابی اور سرداری نظام بھی بڑی حد تک مضبوط ہے۔ بدقسمت عوام نے اپنے دین کو علما ومفتیان کے سپرد کردیا ہے۔ مسلک حنفی میں تقلید کی کوئی گنجائش نہیں۔ فقہ حنفی (fiqqa e hanfi)میں اصولِ فقہ میں احادیث کے مقابلے میں قرآنی آیات پڑھائی جارہی ہیں جن سے احادیث صحیحہ کو رد کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ اس کا بہت بڑا فائدہ بھی اس امت کو اسلئے پہنچا ہے کہ احادیث کے ذخائر میں قرآن کے خلاف سازش اور بڑا بیہودہ موادہے۔ قرآنی آیات کا بکری کے کھا نے سے ضائع ہونے کی احادیث اورحضرت عائشہ (hazrat ayesha)پر صحیح بخاری میں یہ تہمت کہ بڑے آدمیوں کو اپنا محرم بنانے کیلئے اپنی بہن کادودھ پلا دیتی تھیں۔ حالانکہ دودھ پلانے کا مخصوص وقت ہر وقت نہیں ہوتا کہ بچہ ہو یا نہ ہو مگر عورت میں دود ھ ہو۔ جب یہ تک لکھا گیا ہے کہ بڑے آدمی کو دودھ پلانے اور رجم کی آیات بکری کے کھا نے کی وجہ سے ضائع ہوگئیں تو حضرت عائشہ پر بہن کا دودھ پلانے کے حوالہ سے بہتان میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟۔ مسلک حنفی کی تقلید اسلئے بہت بہترین رہی ہے۔
اب جدید تعلیم کا سلسلہ بڑھ گیا ۔ علما کی بڑی تعداد بھی مدارس سے فضیلت کی دستاریں باندھ رہے ہیں۔ عربی کی سمجھ بوجھ میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ قرآن واحادیث کے تراجم بھی موجود ہیں۔ ایسے میں علما کرام اور لکھی پڑھی عوام کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اسلام کی بنیادی تعلیمات کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں رہی ہے۔ مولانا طارق مسعود، علامہ امین شہیدی اور مفتی شاہ حسین گردیزی دیوبندی،شیعہ اور بریلوی علما نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کی ہے۔ اہل تشیع بار بار چیلنج اور واضح کرچکے ہیں کہ ہماری کسی کتاب میں قرآن کے چالیس پارے اور بکری کے کھاجانے سے آیات ضائع ہونے کی کوئی روایت نہیں۔ مفتی طارق مسعود نے کہا کہ” علامہ امین شہیدی کے کہنے پر معلوم ہوا کہ شیعہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کے پارے بکری کے کھانے کا عقیدہ نہیں رکھتے ”۔ سعودی عرب میں ہم نے ابن ماجہ کی روایت کتب خانے میں موجود علما کو دکھائی جو شیعہ پر قرآن نہ ماننے کا الزام لگارہے تھے تو وہ حیران ہوگئے کہ سنیوں کی یہ احادیث ہیں؟۔
کوئٹہ میں بڑے علما ، سرکاری افسران اور تعلیم یافتہ طبقات کی مدد سے فرقہ واریت اور شدت پسندی پر قابو پانے کیلئے مرکزی سطح سے علاقائی سطح تک ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جس سے فرقہ واریت اور شدت پسندی کے ناسور کا خاتمہ ہوجائے تو اس کے اثرات افغانستان(afghanistan) اور ایران (iran)پر بھی پڑجائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن،مولانا محمد خان شیرانی(molana sherani) اورحافظ حسین احمد(hafiz hussain ahmed)، سپاہ صحابہ (sipah e sahaba)اور شیعہ(shia) ، بریلوی(barailvi) اور اہلحدیث (ahlehadic)علما سے ایک مثبت گفتگو کیلئے وقت لیا جاسکتا ہے۔ حکومت اور ہماری ریاست بھی بھرپور تعاون کرے گی۔ مدارس کے نصاب(madaris ka nisab e taleem) تعلیم کے حوالے سے مولانا محمد خان شیرانی(molana khan sherani) نے مجھ پر( 2004) میں بھی اعتماد کا اظہار کیا تھا جس کو میں نے اپنی کتاب” آتش فشاں” (aatish fishan)کے سرورق پر اندر کی طرف سے جلی حروف میں واضح کردیا تھا۔ بڑے عرصہ سے فقہی لایعنی مسائل کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر علما اور عوام کو حقیقت کا پتہ چل جائے تو انقلاب بھی آجائے گا۔ غسل کے تین فرائض بتائے جاتے ہیں ۔ منہ بھر کر کلی کرنا، ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا۔ یہ فرائض مسلک حنفی کے ہیں۔ شافعی مسلک والے پہلے دوفرائض کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں سنت سمجھتے ہیں۔ تین میں سے دو فرائض پر اتفاق نہیں ہے اور تیسرے فرض پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانے سے مالکی مسلک میں فرض ادا نہیں ہوگا جب تک کہ مل مل کر جسم کو نہ دھویا جائے۔ گویا کسی فرض پر بھی اتفاق نہیں اور جوفرائض رسول کریم ۖ اورخلفا راشدین کے ادوار میں نہیں تھے ان کو ایجاد کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں ہے کہ لا تقربوا الصلو وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون Oوالا جنبا الا عابری سبیل حتی تغتسلوا” اور نماز کے قریب مت جا، جب تم نشے کی حالت میںہو یہاں تک کہ تم سمجھو جو کچھ تم کہتے ہو اور نہ حالت جنابت میں مگر جب کوئی مسافر ہو، یہاں تک کہ نہالو”۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ مسافر پر غسل فرض ہو تو بھی اس کیلئے تیمم سے نماز کی گنجائش ہے۔ نماز پڑھنے کاحکم اوراجازت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ حضرت عمر (hazrat umer)نے گنجائش سے فائدہ اٹھایا اور نماز نہ پڑھی اور حضرت عمار(hazrat ammar) نے تیمم (tayammum)سے نماز پڑھ لی ۔ نبیۖ (nabi pak)نے دونوں کی تصدیق فرمائی جو قرآن کی تفسیر ہے۔ پھر بھی حضرت عبداللہ بن مسعود(abdullah bin masood) اور حضرت ابوموسی اشعری(hazrat abu mussa ashra) کے درمیان اس مسئلے پر صحیح بخاری(sahi bukhari) میں اختلاف وتضاد(ikhtilaf o tazad)اور مناظرہ(manazra) نقل کیا گیا۔
اللہ نے فرمایا کہ” جب تم نماز پڑھنے کیلئے اٹھو تودھو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور پیروں کو ٹخنوں تک اور اگر تم جنابت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ فقہا نے اس پر اختلاف کیا کہ خوب پاکی سے کیا مراد ہے؟۔ حالانکہ وضو کے مقابلے میں نہانا ہی خوب پاکی ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے اوراق مانگے تو بہن نے کہا کہ پہلے غسل کرلو ۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ نہانا سب کو آتا تھا، عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں۔
بریلوی عالم علامہ شاہ تراب الحق قادری نے فقہی مسئلہ نکالا کہ” رمضان کے روزے میں جب پاخانہ کرو تو اپنے پاس کپڑا رکھو۔ استنجا کے بعد مقعد سے جو آنت نکلتی ہے جو پھول کی طرح ہوتی ہے ،اس کو اندر جانے سے روکو اور پہلے کپڑے سے سکھا، پھر اندر جانے دو۔ اگرایسا نہیں کیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
ہم نے اپنے اخبار ضرب حق کراچی (zarbehaq)میں اس کو تنقید کا نشانہ بنایا تو بریلوی علما نے بھی ساتھ دیا لیکن دعوتِ سلامی والے کسی کی سنتے نہیں ہیں اسلئے ان کے مفتی صاحبان بعد میں بھی لگے ہوئے تھے کہ ” استنجا کرتے وقت سانس بھی نہیں لینا۔ اگر پانی کا قطرہ گیا تو آنت سے معدے تک پہنچ جائیگا اور روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
پہلے فقہا نے جہالت پر مبنی مسائل بنانے کیلئے خرافات گھڑنے کی کوششوں میں اپنی عمریں ضائع کردی تھیں اور اب جاہل اس پر عمل کیلئے بھی آمادہ ہوگئے۔ کوئٹہ میں اگر بلوچ، پشتون اور ہزارہ برادری نے مل کر شعور بیدار کیا تو اس کے اثرات کابل وقندھار(qandahar)،تہران وقم ، اسلام آباد(islamabad) ولاہور (lahor)، ملتان(multan) وپشاور (peshawar)اور حیدر آباد(hedrabad) و کراچی (karachi)کے علاوہ دنیا بھر پر پڑجائیںگے۔
(syed atiq ur rehman gillani)(zarbehaq)(navishta e diwar)

Pakistan’s most courageous politician Usman Kakar and party leader of Pashtunkhwa Milli Awami Party passed away.

پاکستان کے بے پناہ جرأت کے مالک سیاستدان پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ رحلت فرماگئے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پاکستان کے (pakistan)مایہ ناز ہردلعزیز ، بے پناہ جرأت کے مالک سیاستدان پختونخواہ ملی عوامی پارٹی(pmap) کے منفرد، اپنی ذات میں یکتا رہنما عثمان کاکڑ(usman kakar)اس دارِ فانی سے رحلت کرگئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور اپنی جوارِ رحمت میں عظیم مقام عطا فرمائے۔ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ پاکستان کے تمام سیاسی کارکنوں کیلئے عظیم رہنما کی وفات بڑا خلا ہے جو پورا نہ ہوسکے گا۔ انا للہ و انا الیہ راجعونO
محترم عثمان کاکڑ کی تصاویر چند دن پہلے فیس بک پر دیکھی تھیں ۔ معلومات کی کوشش بھی نہیں کی۔ مندرجہ بالا کلمات وفات کی خبر کے بعد لکھے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ گھر میں چوٹ لگی تھی ۔ پھر پتہ چلا کہ سوشل میڈیا(social media)پرافواہ پھیلائی جارہی ہے کہ ان کو سازش سے قتل کیا گیا ہے۔ اسلئے کوئٹہ(koita) میںاپنے ذرائع سے معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ کل میری پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اہم کارکن سے بات ہوئی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ یہ گھر کا معاملہ ہے۔ محمود خان اچکزئی(mehmood khan achakzai) ایک بہادر شخصیت ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی پارٹی کا اہم ترین رہنما سازش کی بنیاد پر قتل کیا جائے اور وہ خاموش رہیں۔ اگر کوئی سازش تھی تو پہلے سے (FIR )درج ہونی چاہئے تھی۔ عثمان کاکڑ کھل کر بولتے تھے اور عاصمہ جہانگیر(aasma jhangir) بھی بہت کھل کر بولتی تھیں۔ خواہ مخواہ کسی معاملے کو سازش کا نام دینا ملک و قوم کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں ہے۔ پاکستان کے ریاستی نظام پر تنقید اور اصلاح کی کوشش درست ہے لیکن غلط افواہوں کے ذریعے اپنی قوم میں بدظنی کی فضاء پیدا کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ محمود خان اچکزئی اس سلسلے میں کردار ادا کریں اور درست کو درست غلط کو غلط کہنے کی روایت سے انقلاب پیدا کریں۔
میری ایک مرتبہ محترم محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ سے اسلام آباد(islamabad) میں اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب جمعیت علماء اسلام نے دھرنا دیا تھا۔ہمارا گروپ فوٹو بھی کسی کے پاس ہوسکتا ہے۔ اگر اچکزئی صاحب مولانا فضل الرحمن(molana fazalrehman) سے وہ باتیں کردیتے تو شاید انقلاب(inqilab) کیلئے (PDM)بنانے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔
(syed atiq ur rehman gillani)(zarbehaq)(navishta e diwar)

Through the source of king of kohsar, Waziristan, reforms are expected in Afghanistan, pashtoon nation, Pakistan and the entire world.

بادشاہ کوہسار وزیرستان سے افغانستان ، پختون قوم، پاکستان اور دنیا کی اصلاح ہوسکتی ہے؟

تحریر :سید عتیق الرحمان گیلانی
صحافی انوار ہاشمی (anwaar hashmi)نے وزیرستان (waziristan)پر اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ” جب انگریز پر حملہ کرنے کا افغانستان نے اعلان کیا تو وزیرستان کے لوگ بھاگتے ہوئے انگریز اور اس کی مقامی فوج کو بہت جانی نقصان پہنچاسکتے تھے لیکن مقامی قبائل نے صرف مال ہتھیانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تھی”۔ یہ اصول ہے کہ انسان میں شر کم اور خیر کا مادہ زیادہ ہے۔ امریکہ سے تختِ لاہور تک دنیا اس دوڑ میں لگی ہے کہ انسانوں کے خون بہانے کے بجائے اپنے مالی مفادات ہی حاصل کئے جائیں۔ غزوۂ بدر کی بنیاد بھی قافلہ لینے سے شروع ہوئی تھی اور مشرکینِ مکہ نے خانہ کعبہ کو پوجا پاٹ سے زیادہ اپنا مرکز تجارت بنالیا تھا۔ اللہ کی طرف سے بھی حج و عمرے میں مالی منافع اُٹھانے کی بات بالکل واضح ہے۔
طالبان دہشتگردوں سے مسلمانوں اور دنیا کو اسلئے نفرت ہوگئی کہ خونی کھیل کا آغاز کردیا گیا۔ امریکہ سے بھی نفرت اسلئے دنیا کررہی ہے کہ عراق اور لیبیا (lebya)کو تیل پر قبضہ کی وجہ سے ہی تباہ کرکے امت مسلمہ کو خون میں نہلا دیا گیا ۔ امریکہ (america)کے افغانستان سے نکلنے کے بعد افغانی اپنے اقتدار کی خاطر خون کی ہولی کھیلنے لگے ہیں جس سے ملحقہ علاقے زیادہ متأثر ہوںگے اور یہ آگ پورے خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سوات سے وزیرستان، بلوچستان اور افغانستان تک کے پختون اس کھیل سے بہت زیادہ متأثر ہوں گے۔
دہشتگردوں سے مسلمانوں اور دنیاکو اسلئے نفرت ہوگئی کہ خونی کھیل کا آغاز کردیا گیا۔ امریکہ سے دنیا نفرت اسلئے کررہی ہے کہ عراق(iraq) اور لیبیا کو تیل کی وجہ سے تباہ کرکے امت مسلمہ کو خون میں نہلادیا گیا۔ امریکہ کے افغانستان (afghanistan)سے نکلنے کے بعدافغانی اپنے اقتدار کی خاطر خون کی ہولی کھیلنے لگے ہیں۔ جس سے ملحقہ علاقے متأثرہونگے اور اب یہ آگ پورے خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے
امریکہ نے یہودی کمپنیوں کیلئے اسلحہ کے کاروبار کو فروغ دیناہے اور امریکن فوج نے منشیات (munshiat)کی فیکٹریاں بناکر دنیا میں ہیروئن کا منافع بخش کاروبار کرنا ہے۔
پاکستان کو حکمرانوں نے اپنی اپنی تجوریاں بھرکر کاسہ لیسی پر مجبور کیا ہے۔ بھاری بھرکم سودی قرضے اور بیرون ملک اشرافیہ کی جائیدادیں اس بات کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں کہ ملک قوم سلطنت کو کہاں سے کہاں پہنچایا جارہا ہے؟۔ قومی ترانے گانے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ جس کو ملک سے ہمدردی کا ہی دعویٰ ہو تو وہ اپنے بیرون ملک اثاثہ جات اور بال بچوں کو یہاں پر بلائے۔ ان لوگوں کو عدالتی (court)، سیاسی اور دفاعی وانتظامی عہدوں پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، جن کی آل اولاد اور جائیدادیں باہر ہوں۔جنرل کیانی(genral kiani)، جسٹس فائز عیسیٰ (julstice faiz essa)، نوازشریف(nawaz sharif)، شہباز شریف(shehbaz sharif) ، عمران خان (imran khan)بھائی، بیوی، بیٹے اور بیٹی سبھی کو پاکستان لے آئیں۔ سارے پختون یہ فیصلہ کرلیں کہ جن کی باہر جائیدادیں ، کاروبار اور آل واولاد ہیں تو ان کو اپنی سیاست سے بے دخل کرنا ہے۔ اسکے اثرات پاکستان بلکہ اس خطے ایران، افغانستان اور ہندوستان پر بھرپور طریقے سے پڑیں گے۔
پختونوں کی تاریخ میں پیرروشان(pir roshan) بایزید انصاری(ba yazeed ansari) کا بڑا نام ہے۔ ہمارے وزیرستان کے سب سے اونچے پہاڑ کا نام ”پیر غر”(pir ghar) یعنی پیر پہاڑ ہے۔ پیروں کیسیاست کا مقام افغانستان سے ہندوستان تک موجود تھا۔ میرے داد سید امیر شاہ(syed ameer shah) کو محسود قبائل(mehsood qabail) نے افغانستان میں وفد کا سربراہ بناکر بھیجا تھا کہ انگریز کے خلاف ہم ایکدوسرے سے تعان کرینگے۔ جسکا ذکر (Emperial Frontiar) کتاب میں کسی انگریز ی جاسوس نے لکھ دیا۔پھر بیٹنی قبائل کا وفد میرے دادا کے بڑے بھائی سیداحمد شاہ (syed ahmed shah)کی قیادت میں کابل پہنچ گیا تھا، جن کو افغانستان کے بادشاہ نے بہت سارے تحائف اورنقدی پیسوں سے بھی نواز دیا تھا۔
محسود قبائل کا وفد عظیم مقصد کی خاطر میرے دادا سیدامیرشاہ کی قیادت میں گیا تھا جس میں انگریز کے خلاف صرف باہمی تعاون تھا۔ پہلے لوگ اقدار کے بڑے پابند ہوتے تھے۔ سید احمد شاہ کے بیٹے سیدا یوب شاہ افغانستان میں اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے اور فقیر اے پی(faqeer ap) مرزا علی خان (mirza ali khan)کے خطوط بھی آپ نے لکھے تھے جس کے بڑے سیاسی لوگ بھی جھوٹے دعویدار بن گئے تھے ۔
پیر بوڑھا، پیر طریقت ، سید ۔ مری ملکہ کوہسار تووزیرستان کوہسار کا شاہ ہے، رنجیت سنگھ(ranjeet singh) سے ابتک یہ ملک تباہ ہوا۔
کسی رافضی نے گدھوں کا نام ابوبکر و عمر رکھا ۔ گدھے نے لات سے ماردیاتو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ جسکا نام عمر رکھا تھا اسی نے ماراہوگا،یہ نام کااثر تھا۔(مفتی زرولی خان)(mufti zarwali khan) پریغال(preghal) کے معنی کٹا ہوا چور۔پیر غر کا معنی سردار پہاڑہے۔ پیر غرچوروں کا بسیرا نہیں ہے بلکہ دنیا(world) کی سیادت (tourism)کیلئے ہے
پرے کٹے ہوئے اور غال چور کو کہتے ہیں۔ پیر غر کے نام کو پریغال میں تبدیل کرنے کا محرک زبان کے تلفظ میں غلطی کا نتیجہ ہے۔ نام کا اثر ہوتا ہے۔ کسی رافضی نے اپنے گدھوں کے نام ابوبکر وعمر رکھے تھے۔ جب ایک گدھے نے رافضی کو لات مار کرڈھیر کردیا تو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ جس گدھے کا نام عمر رکھا ہوگا اسی نے قتل کیا ہوگا، پھرپتہ چلاکہ بات وہی تھی۔(مفتی زرولی خان)
انگریز دور اور بعدتک پیر غر کے سائے میں بسنے والے محسود ایریا دنیا کاسب سے پر امن علاقہ ہوتا تھا، جہاں پر لوگوں کو چوری، ڈکیتی اور قتل وغارت کا کوئی اندیشہ نہیں تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت بدلتی گئی۔ چوری اور پھر ڈکیتی کے ادوار نے علاقے کا امن وامان کافی خراب کردیا۔ آخر کار محسود قوم نے لشکر تیار کرکے چور اور ڈکیت کے گھروں کو مسمار کردیا۔
محسود ایریا دنیا کا سب سے پرامن علاقہ ہوتا تھاجہاں پر لوگوں کو چوری،ڈکیتی اور قتل وغارت کاکوئی اندیشہ نہ ہوتا تھا، پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت بدلتی گئی،چوروں، ڈکیتوں نے امن وامان کافی خراب کردیا تو قومی لشکر کے ذریعے چور اور ڈکیت کے گھروں کو مسمار کردیا۔امریکہ وپاکستان نے اپنے لئے طالبان بنالئے تو لوگوں نے بھی اپنے بچاؤ کیلئے اپنے طالبان بنائے لیکن اب حالات بدلے ہیں۔
وزیرایریا شمالی وزیرستان میں طالبان نے بڑے بڑے ڈکیتوں کا خاتمہ کردیا اور پھر آخر کار محسود ایریا میں بھی طالبان نے بسیرے ڈال دئیے۔ اس وقت دنیا کے مسلمانوں اور پاکستان کے لوگوں کو طالبان سے بڑا پیار تھا مگر چور اور ڈکیتوں نے طالبان کا روپ دھار لیا اورانہوں نے اپنی کاروائیاں شروع کردیں۔ لوگوں نے اپنے بچاؤ کی خاطر اپنوں کوبھی طالبان بنایا۔ امریکہ اور پاکستان سے لیکر گھروں ، خاندانوں تک ہی اپنے مفادات کی خاطر طالبان بنانے اور سپورٹ کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو اس جنگ میں شیطان کو بڑا فائدہ ہوا مگراسلام ، مسلمان، انسانیت اور علاقائی رسم ورواج کا ستیاناس کردیا گیا۔ کچھ لوگ اپنے بچاؤ کی خاطر طالبان کے سپوٹر بن گئے اور کچھ چوروں اور بدمعاشوں نے طالبان کے نام پر بڑے پیمانے پر بھتہ خوری کی مہم چلانی شروع کردی۔ آج بھی ایسے بے غیرت لوگ طالبان کے نام پر ہیں جو بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ سیٹل ایریا کے بہت لوگ علاقہ گومل کو چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی ، پنجاب، پشاور ، اسلام آباد اور بلوچستان تک نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔ پاک فوج کو اس بات کے خطرات رہتے ہیں کہ جن بھتہخوروں کی ماؤں کے شناختی کارڈ ہیں اور باپوں کے کارڈ نہیں ہیں ، ان کی تصاویر تک بھی نہیں۔ تو اگر فوج انکے خلاف کوئی کاروائی کرے تو (PTM)والے اٹھتے ہیں کہ مسنگ پرسن کو عدالت کے حوالے کرو۔ (CTD )پولیس چھاپہ مارتی ہے تو بھتہ خور دھمکیاں دیتے ہیں کہ شکایت سے ہمارے گھروں کی بے عزتی کردی۔ اگرکوئی بہادر سامنا کرنے لگتا ہے تو بھتہ خور معافی مانگنے کیلئے بھی آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ایسے بھتہ خور اپنی عورتوں کو چلارہے ہوں تو بھی بعیدازقیاس نہیں ہے۔
محسود قوم قابل اعتماد ہے اگر ان پر بھروسہ کرکے اسلحہ دیا تو اپنے علاقہ کے امن وامان کی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر رسک نہیں لے سکتے اسلئے ان کے ہاں جنگ اور آپریشن کا کوئی معاملہ نہیں ہے جبکہ محسود کسی بڑے مقصد کی خاطر رسک لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت وریاست محسود ایریا کے امن وامان کیلئے محسود قوم پر بھرسہ کرکے اسلحہ دینے میں دیر نہ لگائے!
قوم کو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ فوج کی طرف سے بھتہ خوروں کو کھلی چھوٹ ہے یا فوج واقعی (PTM)کے احتجاج اور عوامی دھرنوں سے ڈرتی ہے یا پھر دونوں آپس میں مل بیٹھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کا ملی بھگت سے ڈرامہ کررہے ہیں؟۔ وزیرستان کے قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبرز اور سینٹرز بھی صرف فوج اور عوام کے اعتماد کیلئے کچھ مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں لیکن اصل مسائل کا حل کوئی پیش کرنے کو تیار نہیں ہے یا اس کی اہلیت نہیں رکھتا ہے؟۔ محسود قوم سب سے زیادہ مسائل کا شکار اسلئے ہے کہ ان میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دہشت گردوں ،فوج اور سیاستدانوں کے سامنے سرنڈر نہیں۔ مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے تو حالات کی خرابی کے ذمہ دار بھی وہ خود ہیں۔ جنوبی وزیرستان وزیرایریا میں آپریشن ہوا اور نہ لوگوں کا ماحول ڈسٹرب ہوا۔ فوج اور طالبان کے سامنے وزیرقوم سرنڈر ہے۔ محسودقوم کی خوبی ہے کہ اجتماعی فیصلے کے ذریعے برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس دن محسود قوم کی طرف سے اجتماعی فیصلہ کیا گیا کہ بھتہ خوروں، دہشت گردوں اور امن ومان کی صورتحال کو خراب کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنی ہے تو فساد کو جڑوں سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ محسود قوم مختلف تنظیموں ، جماعتوں اور گروہ بندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ جس دن محسود قوم نے اپنی روایت پر عمل کیا تو ان کی دنیا بدل جائے گی۔ محسود قوم کی فطرت میں دھوکہ اور فراڈ نہیں۔ اگر پاکستان کی حکومت اور فوج نے ان کو اسلحہ کی اجازت دیکر علاقے کا امن انکے سپرد کردیا تو وہ اپنے لئے سب سے پہلے قربانی دیں گے۔ البتہ وزیر قوم کا تعلیمی ادارہ واوا زندہ باد اور محسودقوم کا ادارہ ماوا مردہ برباد ہے۔ وزیر قوم کی یہ خامی ہے کہ مولانا نور محمدشہید کو بھٹو دور میں جیل کے اندر ڈال دیا گیا تو ان کے خلاف پروپیگنڈہ کامیاب ہوا۔ محسود قوم کی یہ خامی ہے کہ اگر وہ اپنے چور یا ڈکیٹ کا ذکر کرتے ہیں تو بھی بہت اہمیت دیکر پیش کرتے ہیں۔
تمام پختونوں کے مسائل کا حل یہ ہے کہ علماء اور دانشور طبقہ باہمی طور پر مل بیٹھ کراسلام کے سادہ اور عام فہم مسائل پر ایکدوسرے کا دل ودماغ کھولنے میں مدد کرے۔اسلام کے نام پرقتل ان کابہت بڑا مسئلہ ہے۔ علماء ومفتیان شدت پسندی کے جذبات سے بالکل عاری تھے۔ تصویرسے لیکر گانے بجانے، عورتوں کے شرعی پردے اور داڑھی منڈانے تک منکرات کا کوئی اثر ان پر نہیں پڑتا تھا۔ ملالہ یوسفزئی کہتی ہے کہ دوپٹہ ہمارے پختون کلچر کا حصہ ہے اور(16)سالہ ارفع کریم فخرِ پاکستان مسلمان کی بیٹی تھیں۔ پنجابن پنجابی نہیں بول سکتی تھی مگر امریکن انگلش اچھی بول سکتی تھی۔ ملالہ کو طالبان کی گولی لگ گئی تو نوبل انعام کے باوجود بھی ہمیشہ گالیوں کا شکار تھی ۔اگر وہ ارفع کریم کی طرح ایک فیصل آباد کے فوجی کی بیٹی ہوتی تو شاید اتنی گالیاں نہ کھاتی۔ پشتون قوم کیلئے یہ بہت بڑا اعزاز ہوگا کہ اگر وہ اسلام کی بنیاد پر اپنی زمینوں کو مفت میں مزارعین کو کاشت کیلئے دیں اور جب اپنے مالک کو زمین کی ضرورت ہو تو مالکان خود کاشت کریں یا کسی اورکو دیدیں۔ یہ خوشحالی اور اسلام کی اولین بنیادہے
۔ملالہ بھی مسلمان ہے اور (16)سال کی عمر میں فوت ہونے والی ارفع کریم بھی تھی پنجابی نہیں مگر امریکن انگلش بڑی مہارت سے بولتی تھی ۔جو فیصل آباد کی پنجابن اور کرنل کی بیٹی تھی،دونوں فخرِ پاکستان ہیں لیکن ملالہ کو اسلئے گالیاں کھانا پڑرہی ہیں کہ وہ پنجابی اور کسی فوجی کی بیٹی نہیں ہے! سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں اسلام کے بہت بڑے اور مغرور کھلاڑیوں کو قوم کیساتھ اپنا کھلواڑ بند کرنا پڑے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کی طرح اسلامی سوشلزم کی بنیاد پر ایک نظام کا اعلان کیا تو پختونخواہ کے باشعور علاقوں میں مزارعین نے مالکان کی زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ جس کی وجہ سے مالکان اور مزارعین میں جنگ وجدل کی فضاء شروع ہوگئی۔ آج تک ان ناچاقیوں کو دور نہیں کیا جاسکا۔ غنی خان کا فرزند بھی اس فضاء کی وجہ سے ایک مزارع کے ہاتھوں شہید ہوا۔ اگر اسلام کا قانون ہوتا تو جن خانوں، نوابوں اور اربابوں کی بڑی بڑی زمینیں تھیں ان کو خود ہی کاشت کرنی پڑتیں اور بچی کچی بڑی بڑی زمینیں مزارعین کومفت دینی پڑتیں تو پختون ایک دوسرے کیساتھ اس اعلیٰ قانون کی وجہ سے بہت شیر وشکر ہوجاتے۔
اگر پختون عورت کو اس کا شوہر اسلام کے مطابق اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دیتا اور اس حق مہر کی مالکن پشتون عورت خود ہوتی تو پھر ظلم وجبر اور معاشرے کی غلط رسوم ورواج کا خاتمہ کرنے میں دیر نہیں لگتی ۔ غلام اورلونڈی کا نظام تو دورِ جاہلیت اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے رائج تھا۔ جنگوں میں لڑاکو مردوں کو پکڑ کر غلام بنانا ممکن نہیں ہوتا ہے اور نہ دشمن پر کوئی اتنا اعتماد کرسکتا ہے کہ گھر کے فرد کی طرح اس کو غلام بناکر رکھا جائے۔ اسلام نے لونڈی اور غلاموں کا نکاح کرانے کا حکم دیا تھا۔ نکاح میں عورتوں کو نان نفقہ سے لیکر انصاف فراہم کرنے تک سب چیزوں کی ذمہ داری مردوں پر رکھی ہے۔ دو دو، تین تین، چار چار تک عورتوں سے قرآن میں نکاح کی اجازت ہے لیکن اگر عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک عورت یا جنکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔ قرآن و سنت کی تفصیلات میں یہ بات طے ہے کہ جہاں لونڈیوں اور غلاموں کو معاہدے کی ملکیت کا تصور دیا تھا وہاں آزاد عورتوں سے بھی معاہدے کی ملکیت کا تصور دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک نے باہمی تحفظ کی خاطر ایک طرف قانونی نکاح کی سخت شرائط رکھی ہیں تو دوسری طرف گرل وبوائے فرینڈز کی اجازت دی۔ اگر مسلمان قوم اسلام پر عمل کرکے اپنے معاشرے کو اُجاگر کرتی تو پھر مغربی معاشرہ اس قدر بے راہروی کا شکار نہ ہوتاکیونکہ اسلام نے حق مہر کی صورت میں عورت کو تحفظ دیا ہے۔
ہم مغرب سے جنسی بے راہروی کی بنیاد پربہت نفرت کرتے ہیں جبکہ ہمارا معاشرہ ان کو جنسی بے راہروی کی وجہ سے قابلِ رحم نظر آتا ہے۔ چھوٹے چھوٹیبچوں پر بہت سی ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔ کچرہ اُٹھانے والے اور کم عمری میں محنت مزدوری کرنے والے،مدارس ، جہادی تنظیموںاور یتیم خانوں میں بھی جنسی زیادتیوں کی شکایات عام ہیں۔حال ہی میں لاہور کے ملا نے کھلبلی مچائی ہے۔
اسلام بڑا جامع اور مانع معاشرتی نظام دیتا ہے لیکن اسلام کی طرف دنیا نے مذہبی طبقات سمیت کبھی رجوع تک بھی نہیں کیا ہے۔ حضرت آدم و حوا سے اللہ نے کہا تھا کہ ” اس شجر کے قریب مت جاؤ”۔ اس شجر سے مرادشجرہ نسب جنسی تعلق تھا، عربی میں اکل کھانے کو بھی اور گنگھی کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں جس طرح باشراور لامستم کا لفظ جنسی تعلق کیلئے استعمال ہوا ہے جو براہ راست اور چھولینے کوبھی کہتے ہیں۔اسی طرح اکل کے معنی جنسی تعلق کیلئے ہی استعمال ہوا ہے۔ اللہ نے بنی آدم کو مخاطب کیا کہ” شیطان تمہیں ننگا نہ کردے جس طرح تمہارے والدین کو ننگا کرکے جنت سے نکلوادیا تھا”۔(القرآن)
دنیا کو یہ خوف ہے کہ اگر مسلمانوں نے دوبارہ خلافت قائم کرلی تو لوگوں کے ماں ، بہن ، بیٹیوں اور بیگمات کو لونڈیاں بنادیںگے ۔اسلئے پاکستان ، افغانستان اورکشمیر کونشان عبرت بنانے کے چکر میں ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لائیں تو بھی اس سے دستبردار نہیں ہونگے، اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز یہی ہے”۔ افغانستان وکشمیر کے درمیان پاکستان کو کچلنے کی تیاری ہے اور اگر ہم نے بر وقت ہوش کے ناخن نہیں لئے تو نہ صرف پختون بلکہ دوسری قومیں بھی تباہ وبرباد کردی جائیں گی۔ اسلام مردہ ضمیرقوموں کو زندہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر پختونوں نے اپنی ضرورت سے زیادہ زمینیں کاشت کیلئے غریب مزارعین (formers)کو مفت میں دینا شروع کیں تو اس سے پختون بھائی چارے کی بنیاد پڑے گی اورمسلمانوں کی سربلندی میں دیر نہیں لگے گی اور ملحدوں کے تلخ لہجے کا بھی علاج ہوگا۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو اسلامی سوشلزم (socialism)کا اپنا نظریہ خیبر پختونخواہ کی جگہ سندھ میں نافذ کرتا بلکہ سندھ پر اسلام نافذ کرتا تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب پورا ہوجاتا!
سودی نظام کے ثمرات یہ ہیں کہ لوگ بھوک وافلاس سے آخری حد کو پہنچیں گے تو عزت نفس سے لیکر ہر چیز بیچنے پر مجبور ہوجائیںگے۔ اگر ہم نے پہاڑوں اور میدانوں میں محنت کشوں کو باغات اُگانے کی اجازت دیدی تو بھی ہمارے پہاڑی اور میدانی علاقے جنت نظیر بن جائیں گے اورغریب امیر اور امیر امیر تر بن جائیں گے۔ فقہ کی کتابوں میں کتاب الطہارت سے لیکر آخری کتابوں تک سادہ فہم اسلام کو جس طرح فقہاء نے غلط انداز میں گنجلک بنادیا ہے اگر ہم نے معاملہ فہم انداز میں ان کو پیش کردیا تو دنیا بھر سے طلب علم کیلئے لوگ ہمارے ہی پاس تشریف لائیںگے۔ غسل کے تین فرائض اور تین مرتبہ طلاق کی حقیقت سمجھ میں آگئی تو مذہبی طبقات کے ہوش ٹھکانے آجائیںگے کہ علم کے نام پر کس طرح کی بدترین جہالتوں کا شکار ہیں؟۔ جب علمی بنیادوں پر شکست کا اعتراف ہوگا تو معاملات کو آسانی کیساتھ سمجھنے اور سمجھانے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔
ہم وثوق کیساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوام وخواص ، مذہبی و کامریڈ طبقہ ،جدید اور قدیم تعلیم یافتہ طبقہ سب کے سب ایک پلیٹ فارم پر د ل وجان سے اکٹھے ہونگے اور استحصالی طبقات کو نچلی سطح سے عالمی سطح تک زبردست شکست کا سامنا کرنے کے بعد ہماری امامت بھی دنیا بھر میں قبول کرنی ہوگی۔ اسلام نے دورِ جاہلیت کو شکست دی تھی تو موجودہ باشعور دور میں اس کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے لیکن ہم نے اسلام کو خود فطرت کیخلاف بنانے میں اپناکردار ادا کیا ہے۔
جانی خیل (jani khail)بنوں (bannu)میں ایک ماہ سے زیادہ وقت ہوا کہ ملک نصیب خان کی میت کا دھرنا جاری ہے۔ حکومت کا کام ریاست اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کام ہوتا ہے لیکن موجودہ حکومت اپوزیشن کو ریاست سے لڑائی کی فکر میں رہتی ہے۔ سلیم صافی (saleem safi)نے سوشل میڈیا پر اپنا دردمندانہ فکر اور تجزیہ پیش کردیا ہے۔صحافیوں کا کام اپنی تشہیر نہیں بلکہ قوم، ملک ، سلطنت ، علاقائی اورخطے کے مسائل کا حل ہو
معروف صحافی سلیم صافی نے جانی خیل بنوں وزیرقبائل کے دھرنے کی بھی شکایت کردی ہے کہ انہوں نے ایک مہینے سے ایک ملک نصیب خان(malik naseeb khan) کی لاش کو رکھا ہوا ہے اور وہ پہلے دھرنے میں دفن کرنے والے بچوں کی لاشوں کو بھی قبروں سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایمل ولی خان(aimel wali khan)، منظور پشتین(manzoor pashteen)، محسن داوڑ (mohsin dawar)جانی خیل دھرنے میں اظہارِ یکجہتی کیلئے پہنچ چکے ہیں لیکن حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں نہیں جاسکا ہے۔ حکومت ریاست اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے لیکن عمران خا ن کی حکومت اپوزیشن کو فوج سے لڑانے میں اپنی عافیت سمجھ رہی ہے۔ پنجاب، پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بٹھائے ہوئے ہیں۔اپوزیشن درست کہتی ہے کہ جعلی حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔
سلیم صافی نے افغانستان کی داخلی صورتحال اور امریکہ کے کردارپر خوب روشنی ڈالی ہے اور افغانستان کی بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کے اثرات پاکستان(pakistan) پر بھی پڑنے کا نہ صرف اپنی طرف سے اظہار کیا ہے بلکہ ملٹری لیڈرشپ (militry leadership)کو بھی اس میں سنجیدہ مگر بے بس قرار دیا ہے۔ باجوڑ (bajaur)سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی (jamateislami)کے رکن قومی اسمبلی کی طرف سے بھی گڈ و بیڈ طالبان پر رونے کاحوالہ دیا ہے۔
جب سندھی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا تو سندھیوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ سندھ کے حریت پسندوں نے انگریز کے خلاف بھی لڑائی لڑی اور پاکستان کے حق میں بھی سب سے پہلے قرارداد منظور کی تھی۔ پورے سندھ میں سندھی زبان کو بولنے اور لکھنے پڑھنے کو بہت لوگ سمجھ رہے ہیں۔ سرکاری اور لازمی زبان سندھی بھی ہے۔ اگر پختونوں نے قرآن کے موٹے موٹے احکام کو آیات کی مدد سے سیکھ اور سمجھ لیا تو پختونوں کی تقدیر بدلنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ بڑے بڑے معتبر علماء کرام نے فرمایا ہے کہ پختونوں کو عورتوں کا حق نہ دینے کی دنیا میں سزا مل رہی ہے۔ مدارس کی تعلیم میں عورتوں کے حقوق کا دور تک بھی کوئی تصور نہیں۔ معروف ٹک ٹاک پرسن حریم شاہ کی ویڈیوز نے بڑا تہلکہ مچادیا تھا۔ اس نے کسی مولوی مثلاًمولانا طارق جمیل سے شادی کی خواہش ظاہر کردی ہے۔ وہ بھی مدرسے کی تعلیم وتربیت یافتہ ہے۔ صابرشاہ اور اس جیسے بہت زیادہ بدکردار اور بگڑے ہوئے طلباء کی مدارس میں کوئی کمی نہیں ہے۔مولانا صاحبان میں بھی بگڑے ہوئے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہوسکتی ہے۔
جب شاہ ولی اللہ (shah waliullah)نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان کو دوسال تک روپوش رہنا پڑا تھا اسلئے کہ ان پر قرآن کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے کفر اور واجب القتل کا فتویٰ لگادیا گیا تھا۔ پھر جب ساری زبانوں میں قرآن کے تراجم ہوگئے تو آخر میں غرشتو سے کسی عالم دین نے پشتو میں بھی قرآن کا ترجمہ کردیا جس پر پختون علماء نے اس پر کفر کے فتوے لگادئیے تھے۔ مدارس میں زیادہ تعداد پہلے پختون طلبہ کی ہوتی تھی مگراب مدارس ایک منافع بخش کاروبار بھی بن گیا ہے اسلئے سب طرح کے لوگ بڑے پیمانے پر مدارس کے نام سے بڑی بڑی بلڈنگیں کھڑی کی جاری ہیں۔ جس میں دین کی خدمت سے زیادہ دنیاوی مفادات اور کاروبار کے معاملات کارفرما ہیں۔ پختون گھبرائے اور شرمائے نہیں بلکہ اپنانصاب درست کرکے دنیا بھر کے لوگوں کیلئے ادارے کھول کر دین اوردنیا کی دولت کمائیں۔ (syed atiq ur rehman gillani)