پوسٹ تلاش کریں

پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ ایلن کیسر

السلام علیکم، میرا نام ایلن کیسلرAllenKeislerامریکہ میں بیٹھ کر ہمیشہ… پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب انصاف، سچائی، اخلاق، رحمت، معافی، ہمیشہ اللہ پاک کو یاد کرنا اور ذکر کرتے ہی رہنا۔ مجھے اور سب کو بتا دیا آج وہی دن ہے جس کاانتظار ہم ہزاروں سالوں سے کر رہے ہیں۔ جب انصاف اور سچائی قائم ہو جائے گی پوری دنیا میں، صرف اس سیارے پہ نہیں بلکہ کائنات میں۔ یہ وہی دن ہے۔ تو کتنی خوشی کی بات ہے۔ مسیحا کا مطلب مہدی حقیقت میں۔ مسیحا صرف یسوع مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام نہیں، بہت سارے مہدی ہیں ہماری استادنی نے یہی بتایا۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں ایک ہی مہدی ہو سکتا ہے۔ ، نہیں بہت سارے۔
ویڈیومیں تفصیلات ہیں اور قارئین خودبھی دیکھ سکتے ہیں۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔

مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار!
ڈاکٹر اکمل سومرو

پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔

ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔

السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔

یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔

سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔

انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔

بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔

جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔

یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔

برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔

1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔

1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔

اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔

پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔

1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔

مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔

برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔

ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔

یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔

یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آدم کا قصہ اور نظریہ ارتقاء

مرد عورت کا ارتقاء
عظمیٰ رومی

عظمیٰ رومی کا سائنسی پروگرام اچھا۔ سائنس منڈے چڑھی مگر علماء قرآنی کائناتی ماڈل نہیں سمجھتے۔اسرائیلیات کا نبیۖ نے فرمایا کہ ہم نہ تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔انسان ایک جان سے پیدا ہیں۔سائنس الحاد کو روکے گی۔ لباس نشانی تاکہ شرم گاہوںکو چھپائیں ۔ ریش پنک زینت اور موسم سے بچاؤ۔ فطری لباس کو جنسی تعلق نے اتارا ۔ پتوں سے موجودہ دور تک۔ اسی جوڑے سے نسل کی بقاء اور نہ ختم ہونے والا ملک ملا ۔ ابوالعلاء معری نے شادی نہ کی۔ قبرپر کتبہ:ہذا جناہ أبی علیّ وما جنیت علی احد”یہ میرے باپ کا گناہ ہے جو اس نے مجھ پر کیا،میں نے یہ گناہ کسی پر نہیں کیا”۔سلیمان و قاسم اور وائٹ ٹیرن کا فرق ؟ ہابیل مقتول خوش توقابیل قاتل پریشان! قرآن کو سائنس سے دیکھا جائے توپہلے جوڑے کا قدرتی لباس ثابت ہوگا اور اس کی ایک نشانی لڑکی کا پردہ بکارت موجود ہے!
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تقریرعلامہ ساجد نقوی کے قائم مقام علامہ عارف واحدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین والصلو والسلام علی سید الانبیا والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد فقد قال اللہ الحکیم ‘‘الذین یبلغون رسالات اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ” وقال فی مقام آخر ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم وکنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منہا” وقال فی مقام آخر ”ولا تنازعوا فتفشلوا وتذہب ریحکم”

میں انتہائی شکر گزار ہوں حضرت قبلہ علامہ مفتی عبدالرحیم صاحب کا، ان کی پوری ٹیم کا۔ عرصہ سے آرزو تھی۔ جامعہ الرشید کے بارے میں سنتا ہوں جا کر نزدیک سے دیکھوں۔ آ کر دیکھا کیا خوبصورت یہ پھول آپ نے کاشت کئے، ان کو بڑا کریں، تربیت کریں، پرورش کریں اور آج جو خوبصورت گلدستہ سجایا ہے، یقینا یہ لائقِ تحسین ہے میں الفاظ میں اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتا۔ سوچتا تھا کہ وہ وقت آئے گا کہ جامعہ الرشید میں اپنے ان بچوں سے خطاب کروں گا۔ بہت سی غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ یہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی بنائی اور اس کو پورے ملک میں آٹھ نو مہینے سے ہم متحرک ہیں ہر جگہ جا رہے ہیں بڑے بڑے اداروں میں، بڑے بڑے مراکز میں اور اللہ کا شکر ہے بڑی کامیابی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں آج جیسے مفتی صاحب نے فرمایا آج سب سے بڑا دن ہے، حدیثِ مبارکہ حضور اکرم کی العلم نور یقیفہ اللہ فی قلب من یشا من عبادہ آپ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اللہ نے وہ نورِ علم آپ کے دل میں ڈالا ہے اور انشا اللہ اس میں بہتری ہوگی اور مزید آگے بڑھیں گے۔

دینِ مکمل اسلام ہے ”ان الدین عند اللہ الاسلام” فتی صاحب نے کہا۔ خوشی ہے کہ مفتی طارق مسعود بیٹھے ہیں، اسلام مکمل ضابطہ، قرآن کہتا ہے، قرآن میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ حضور کی23سالہ زندگی میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ بلکہ خلفاء راشدین، میں چیلنج کرتا ہوں جو حضرت ابوبکر، حضرت علی کے درمیان اختلاف کی بات کرتے ہیں میں پوچھتا ہوں بتا حضور کے دور میں کیا سب ایک مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے؟ کیا خلفاء راشدین کے دور میں اکٹھے نمازیں نہیں پڑھتے تھے؟ اور میں آگے لے جاتا ہوں،61ہجری میں کربلا میں نواسہ رسول شہید ہوئے، ان کے خطبے کتابی شکل میں ہیں کہیں کسی مسلک کی بات نہیں ،بات ہے تو اللہ کی توحید ، اسلام ، قرآن کی ہے۔ آئیں اسی اصول کو لیکر چلیں، مشترکات کو لے کر چلیں۔

خدا گواہ ہے ہمارے بزرگان کا فتوی، سعودیہ، مصر کے علما ء نے آیت اللہ خامنہ ای کو لکھا انہوں نے فتوی دیا آیت اللہ سیستانی کا فتوی ہے کہ صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار، ازواجِ مطہرات کی توہین حرام ہے شرعاً۔ میں یہ دعوی کر رہا ہوں ،میں علامہ ساجد نقوی کا نمائندہ اور وائس پریذیڈنٹ ہوں، اعلان کرتا ہوں جو توہین کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہے، وہ توہین امت میں انتشار کا سبب ہے اور ہم نے قرآن کے اس حکم پہ عمل کرنا ہے ”ان ہذہ امتکم ام واحد وانا ربکم فاعبدون” باتیں بہت ساری ہیں۔ میں صرف ایک جملے میں عرض کرتا ہوں ہمارے سر کا تاج ہیں، ہماری آنکھوں کا نور ہیں اہل بیتِ اطہار، صحابہ کرام، ازواجِ مطہرات، خدا کی قسم ہمارے دل میں کوئی کدورت نہیں ہے، اگر کوئی جذباتی آ کر صحابہ کرام اور اہل بیت کے نام پہ ہمیں لڑاتا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔

میں ہاتھ دے رہا ہوں آپ کو آئیں، مل کر چلیں جناب عثمان بھائی کو کہوں گا کسی وقت یہاں نشست رکھیں، ہم آ جائیں گے ۔ بیشک ساری کمیٹی آئے نہ آئے میں آنے کیلئے تیار ہوں ان اپنے بچوں کیساتھ بیٹھوں گا۔ جو سوال بہت ساری غلط فہمیاں ہیں، یہ ماتم پتہ نہیں کیا ہے یہ فلاں، بہت سی چیزیں ہیں میں آپ کیساتھ بیٹھ کر گفتگو کروں گا انشا اللہ ہم توحید کے موضوع پہ، رسالت کے موضوع پہ، قرآن کے موضوع پہ، قیامت کے موضوع پہ، اہل بیت اور صحابہ کے موضوع پہ ہم اکٹھے ہیں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے یہ ہمارا مشترکہ عقیدہ ہے۔ آئیں دلوں سے کدورتیں اور انتشار و اختلاف نکالیں اور کامیابی کیساتھ آگے بڑھیں، اسی میں اسلام کی قوت ہے۔ قرآن جو مکمل ضابطہ حیاتِ انسانی ہے، بشری زندگی کیلئے مکمل ترین قانون ہے اور آئین ہے آئیں اس کو سامنے رکھیں، اس کے مطابق چلیں۔

مفتی صاحب ہمارے بڑے ہیں جس طرح یہاں آج خوبصورت گلدستہ سجایا ہے اور خوشبو انشا اللہ اس کی پوری دنیا میں اور پورے پاکستان میں بکھرے گی۔ میں سمجھتا ہوں اس کو لیکر ہم آگے بڑھیں گے بھرپور قوت کیساتھ۔ دل سے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میرے عزیز بچوں، میرے اپنے شاگرد ہیں بیرون ملک بھی پڑھ رہے ہیں پاکستان میں بھی ہیں۔ جیسے مجھے وہ عزیز ہیں میں آپ کے مبارک چہروں کو دیکھ کے اسی طرح خوشی کا اظہار کر رہا ہوں۔ ہماری جان ہیں، ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں۔ آگے بڑھیں اسلام کو پڑھیں اور اسلام کو پھیلائیں جو اسلام کا اصل پیغام ہے۔ انشا اللہ ایک جملہ اقبال کا علامہ صاحب مجھے کہہ رہے ہیں، آپ فرماتے ہیں ”اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہوشیار باش” وہ اہل بیت ہیں وہ صحابہ کرام ہیں اور جملہ یہ کہوں گا کہ حضور کے دو بازو تھے، ایک اہل بیت تھے ایک صحابہ کرام تھے اگر ان میں ایک بھی نہ ہوتا اسلام آج نہ ہوتا۔ اسلام ہے تو اہل بیتِ اطہار اور صحابہ کرام کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ انشا اللہ اس مشن کو لے کے آگے بڑھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

مولانا طاہر اشرفی صدر متحدہ علماء کونسل کا بیان

آپ ذرا اسے دیکھئے تو سہی ۔ پچھلے ایک ہفتے کے اندر آپ کوئی عرب اسلامی ملک، ایران اور پاکستان کس طرح خون بہہ رہا ہے اور کیا ہم یہ خون بہتا دیکھتے رہیں؟ بچے قتل ہوتے رہیں، ماؤں کے سامنے ڈرون آئیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ان کی گود میں شہید ہو جائیں اور ہم کہیں نہیں نہیں ابھی مصلحتیں ابھی تو یہ ہوگا ۔علماء حق کے نام جنہوں نے حق کوببانگ دہل تسلیم کیا،

مصلحتوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ آپ کا فیلڈ مارشل ایک ایسے شخص کا بیٹا ہے کہ جو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتا ہے، جو اسکول ٹیچر تھا۔ اور یہ لوگ آج57اسلامی ملکوں میں ایک بادشاہ ہے جو حافظِ قرآن ہے اور ایک سپہ سالار ہے جو حافظِ قرآن ہے، زندگی کے36سال مولانا سمیع الحق شہید کے ساتھ گزارے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ آئین پاکستان پر پوری پوری رات، ایک ایک لائن پہ بحث ہوتی تھی۔ مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی جعفر حسین، یہ لوگ، مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، واللہ العظیم یہ جو ہمارے اکابر تھے ان کی تقوی کی قسمیں فرشتے بھی کھاتے ہیں ۔ صرف اتنا بتا دوں کہ میرے پیر و مرشد حضرت دین پوری ، میں نے آخری ملاقات میں پوچھا کہ حضرت ہم یہ سنتے ہیں کہ آپ کو مولانا عبیداللہ سندھی نے کہا تھا کہ انگریزی تعلیم حاصل کریں، علی گڑھ جائیں، کہا نہیں کہا نہیں تھا میری انگلی پکڑ کر لیکر گئے تھے اور کہا تھا انگلش نہیں سیکھو گے تو انگریز کا مقابلہ کیسے کرو گے؟ تو جامعہ الرشید وہی کام کر رہی ہے جو مولانا عبیداللہ سندھی کا کام ہے، جو ہمارے اکابر کا کام ہے، جو شیخ الہند کا کام ہے اور حضرت مفتی صاحب ہمیں آپ پر فخر ہے، ہمیں آپ پر ناز ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”

اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
قرآن میں یہ شجرہ کیا ہے؟

والشجرة ملعونة فی القراٰن ”اور قرآن میں ملعونہ درخت”

زوج منگیتراور جس کیساتھ نکاح ہو اس کو بھی کہتے ہیں اور ”بعل” ازدواجی تعلقات والا شوہر ہے

وہ سمجھتے ہیں علی خلیفہ نہیں؟،بنی مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا، سفینہ رضی اللہ عنہ ابوداؤد4646

و یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا ھذہ الشجرة…… الم انھکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبینO(الاعراف:19تا22)

” اور اے آدم رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور کھاؤ جیسے چاہو اور قریب مت جاؤ اس شجرہ کے تو ظالم ٹھہرجاؤ گے ۔ پھر شیطان نے دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ دکھادے دونوں کو جس کو ان سے چھپایا گیا دونوں کی شرم گاہوں میں سے اور کہا کہ تمہارے رب نے نہیں روکا مگر اسلئے کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا تم دوام پانے والے نہ ہوجاؤ۔اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کررہاہوں۔ تو دھوکہ سے دونوں کونشاندہی کردی جب دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھا دونوں کی شرم گاہیں کھل گئیںاور وہ جنت کے پتوں سے خود کو ڈھانکنے لگے اور دونوں کو ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تمہیں تمہارے دونوں کے شجرہ(اعضائے مخصوصہ) سے منع نہیں کیا تھا؟اور تمہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے”۔

عربی الفاظ ”الم انھکما عن تلکما الشجرة” واضح ہیں کہ دونوں کے شجرہ سے شرمگاہ مراد ہے خارجی درخت نہیں۔ یہ شجرہ نسب جو ہمیشہ کی بقاء نسل اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت ہے۔ نظریہ ارتقاء ہوتوتب بھی عورت کی پردہ بکارت کی طرح یہ پہلے جوڑے کا قدرتی لباس ہے جس کی چھیڑ خانی سے دونوں کا بے لباس ہونا اور پتے سے شرمگاہ کو چھپانا بالکل واضح ہے۔

یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواٰتکم وریشاولباس التقویٰ ذٰلک خیر ذٰلک من اٰیٰت اللہ …… انا جعلنا الشیا طین اولیاء للذین لا یؤمنونO (سورة الاعراف:آیت26،27)

”اے بنی آدم !ہم نے تم پر لباس اتارا ، تاکہ تمہاری شر م گاہوں کو چھپائے اور خوبصورتی سردی گرمی کیلئے۔ اور تقوی کا لباس بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ہوسکتا ہے تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے اور اس کا قبیلہ بھی اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو متولی بنادیا ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے”۔

قرآن میں حضرت آدم و حواء کا قصہ حفظ ما تقدم کے طور پر مذہبی حلالہ کی لعنت کو روکنے کیلئے بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔

مروان ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حلالہ کی لعنت کوبدترین جھوٹ اور حجاج بن یوسف نے جبراًمسلط کیا۔

واذا فعلوا فاحشة ً قالوا وجدنا علیھا اٰبآء نا واللہ امرنا بھا قل ان اللہ لایأمر بالفحشاء اتقولون علی اللہ مالا تعلمونO( سورہ الاعراف:آیت:28)

”اور جب وہ فحاشی (حلالہ ) کریںتو کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر اپنے اجداد کو پایا اور اللہ نے ہمیںاس کا حکم دیا کہہ دو کہ اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ، کیا اللہ پر کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ”۔

اس آیت سے بنی آدم میں حلالہ کی لعنت مراد ہے ۔ فحاشی حلالہ مشرکین مکہ و یہود میں اللہ کا حکم بتاکرنسل در نسل چالورہا۔ یہود پرحضرت داؤد اور عیسٰی کی زبان سے قرآن میںلعنت ہے اور امت میں حلالہ کی لعنت جاری کرنے والے مروان بن حکم اور حلالہ کی لعنت چالو کرنے والی اس کی اولاد پر نبی کریمۖ کی زبان سے اللہ کی لعنت کی گئی ۔ تفصیلات بھی سمجھ لیجئے گا۔

مروان کی دادی زرقاء (نیلی آنکھوں والی) بدچلن تھی ۔ مروان نے منبر نبوی ۖ پر کہا :یزید کی نامزدگی ابوبکر و عمر کی سنت ہے تو عبدالرحمن بن ابی بکر نے کہا : بلکہ قیصرو کسریٰ کی۔ مروان : عبدالرحمن کے خلاف آیت اتری،اماں عائشہ نے فرمایا: ”کذب مروان واللہ مانزلت فیہ” مروان نے جھوٹ بولا ،میرے بھائی کے متعلق یہ نازل نہیں ہوئی۔ ہماری شان میں صرف آیت برأت آئی لیکن نبی ۖ نے مروان کے ابا پر لعنت کی جس میں مروان تھا۔ (صحیح بخاری ) ۔ مروان اور اس کی اولاد نے حلالہ کو حضرت عمراور قرآن کے نام پرمسلط کیاتھا:

حدثنا احمد بن حنبل حدثنا سفیان بن عیینة عن سعید بن جمھان عن سفینة قال :قال رسول اللہ ۖ خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم یوتی اللہ الملک او ملکہ من یشاء قال سعید:قال لی سفینة: امسک : خلافة ابی بکر سنتین ،و عمر عشر سنین و عثماناثنی عشرة سنة و علی کذا۔ قال سعید: قلت لسفینة : ان ھو لاء یزعمون ان علیا علیہ السلام لم یکن بخلیفة: قال :کذبت استاہ بنی الزرقاء ،یعنی بنومروان ۔ (حدیث نمبر4646ابوداؤد)

30خلافت نبوت ہے نبیۖ۔ سعید نے حضرت سفینہ سے کہا کہ یہ لوگ گمان رکھتے ہیں کہ علی خلیفہ نہ تھے تو سفینہ نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنو مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا ۔ ابوداؤد نے علی کی خلافت ثابت کی ۔علی حلالہ کیخلاف تھے ۔ بنی مروان نے حلالہ کو مسلط کیا۔ حلالہ کیلئے علی کی خلافت کا انکار کیا۔ کبھی جاویداحمد غامدی کی بیوی یا بیٹی حلالہ کیلئے ملتی تو میں بھی لعنت جماع کرلیتا ۔

الذین یجتنبوں کبٰئرالاثم والفواحش الا اللمم ان ربک واسع المغفرة…… فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی

”جو بڑے گناہ اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر…. اللہ کی مغفرت وسیع ہے۔.. اپنی جان کو پاک نہ بناؤ ،اللہ جانتا ہے کون متقی؟”(سورہ نجم آیت32)۔

فقلنا یآ دم ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنة …..فاکلا منھافبدت لھما سواٰتھما……و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیا مة اعمٰی O

”پس ہم نے کہا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو تمہیں جنت سے نہ نکلوادے تو مشکل میں پڑیگا۔ تجھے اس میں بھوک لگے گی، نہ ننگا ہوگااور نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ۔ پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہاکہ اے آدم میں تجھے ہمیشہ رہنے والا شجرہ اور دائمی بادشاہی بتاؤں۔ پس دونوں نے کنگھی کی اور انکی شرمگاہیں ان کو دکھ گئیںاور جن پرجنت کے پتے چپکائے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور پھر بھٹکا۔ (سورہ طہ117تا121)

اللہ نے یہاں آدم کو مخاطب کیا اور تھوڑا سخت لفظ کنگھا کرنا استعمال کیا۔ لامستم النساء چھونا جماع ۔ اکل کنگھا کرنا،کیل ٹھونکنا، جماع۔ یونیورسٹی یا جامعہ کو عربی میں”کلیہ” کہتے ہیں۔ کل جمع ۔1جمع1کا کل:2ہے۔

جیسا نکاح کے بعد رخصتی سے قبل لڑکا لڑکی کو کنگھاکرلے ۔ نبیۖ نے فرمایا: بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، حوا نہ ہوتی تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ۔( بخاری)

مصرنے اہرام تک ریکارڈ ترقی کی ،بنی اسرائیل کی تباہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا ترقی نہ کرسکی ورنہ گوشت نہ سڑتا۔ عورت کا چھپ کر حلالہ کرنا خیانت تھی۔زلیخاکویوسف سے حلالہ کرناتھا۔ اگر اللہ نہ بچاتا تو دونوں ھم کرچکے تھے ۔یہی تو اللمم… ہے۔

واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنةً للناس و الشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فما یزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO (سورہ بنی اسرائیل:آیت:60)

”اور جب تیرے رب نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب کو جو تجھے دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں ملعونہ شجرہ کو اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ نہیں بڑھتے مگربڑی سرکشی میں”۔

یہ عالمی اسلامی غلبے کاوہ خواب ہے جو نبیۖ کو دکھایا گیا اور شجرہ ملعونہ حلالہ میں مسلمان اور یہودی مبتلا ہیں۔قرآن سابقہ کتابوں کیلئے درست تعبیر ” مہیمن ” ہے۔

اسرائیلیات میں زلیخا کا شوہر عزیز مصر نامرد؟ مگر3طلاق اور حلالہ کیلئے یوسف علیہ السلام کے پیچھے پڑی ہوگی پھر حضرت یوسف سے عقد ہوگا۔ اوریا کی3طلاق حضرت داؤد پر زبور کے احکام اور99دنبیاں اور ایک دنبی پر تنبیہ مسئلہ حلالہ ہوگا۔ حضرت زید کی3طلاق پرنبیۖ نے چاہا ہو کہ وہ آپس میں جدا نہ ہوں بھلے حلالہ کا معاملہ کرنا پڑے۔

عن انس بن مالک قال: زید بن حارثة یشکوفجعل النبی ۖ یقول ”اتق اللہ وامسک علیک زوجک” قال انس لو کان رسول اللہ ۖ کاتمًا شیئًا لکتم ھذہ ،قال کانت زینب تفخر علی ازواج النبیۖ تقول زوجوکن اھلیکن وزوجنی اللہ تعالی من فوق سبع السموات و عن ثابت۔ ”وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ و تخشی الناس” سورہ الاحزاب37(صحیح بخاری7420)

انس بن مالک نے کہا کہ زید بن حارثہ شکایت کرنے لگے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ”اللہ سے ڈرو ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔حضرت انس نے کہا کہ اگر رسول اللہ ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت زینب جبکہ تمام ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کرائی اور میری اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ جس چیز کو چھپار ہے تھے جس سے اللہ نے ظاہر کرنا ہے ، آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں”۔ حضرت عائشہ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”اگرنبی ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس کو ہی چھپاتے”۔ ازواج مطہرات میں سوکناہٹ تھی اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں کہ یعنی تمہارے لئے کوئی فخر کی بات نہیں۔

ڈاکٹر شبیرا حمد کی کتاب” اسلام کے مجرم ” میں داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری سے مولانا اشرف علی تھانوی تک کا اس واقعہ کے حوالے سے اور داؤد علیہ السلام کے واقعہ کے حوالہ سے بڑا خطرناک مواد ہے اورعلامہ سید کمال حیدری نے شیعہ حدیث کو بھی شرمناک قرار دیا ہے۔ اصل میں حرمت مصاہرت کا من گھڑت مسئلہ فرقوں کے درمیان روایات گھڑنے سے بھی کسی حدتک تمام متضاد اقسام کی حدود پھلانگ چکا ہے۔

یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدًا و مبشرًا و نذیرًاOوداعیًا الی اللہ باذنہ و سراجًا منیرًاOو بشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلًا کبیرًاOولا تطع الکافرین والمنافقین ودع اذاھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلًاOیا ایھا الذین اٰمنوا اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدةٍ تعتدونھا فمتّعوھن و سرحوھن سراحًا جمیلًاO

”اے پیارے نبی! بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بناکر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اللہ کی طرف بلانے والا اس کی اجازت سے اور چراغ روشن۔اور مؤمنوں کو بشارت دو کہ اللہ کا ان پر بڑافضل ہے اور تم کافروں اورمنافقوں کا کہنا نہ مانو۔ اور ان کی اذیت کو چھوڑ دیںاور اللہ پر توکل کریںاوراللہ کی وکالت کافی ہے۔ اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دو ،اس سے پہلے کہ تم نے انہیں چھولیا ہو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرو پس ان کو خرچہ دو اور انہیں اچھے انداز میں رخصت کرو”۔

سورہ الاحزاب کی یہ آیات:45تا49کیا بتاتی ہیں کہ کوئی جاہلیت کا مارا ہوا شکار پھنس جائے تو اس کو حلالہ کی بیڈ نیوز سے آگاہ کریں؟۔ رسول اللہ ۖ نے حلالہ کرنے والے اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جب صرف نکاح ہو تب عربی میں شوہر کو زوج کہا جاتا ہے لیکن بعل نہیں کہا جاتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ صرف نکاح میں عورت پر تمہاری کوئی عدت نہیں ہے اور تمہیں انہیں خرچہ دینا پڑے گا اور چھوڑنا بھی خوبصورتی کیساتھ اچھے انداز میںتاکہ دنیا اسلام کو مانے۔

ایک حلالہ کا گند کیا جائے اور دوسرا اس پر معاوضہ بھی لینے سے بدبخت شرم نہ کریں۔ یہاں پریہ کیسی الٹی گنگا بہتی ہے؟۔

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ (البقرہ:230)

اگر چہ اس آیت کا سیاق وسباق بالکل واضح ہے کہ شروع کی دو آیات228،229البقرہ میں عدت کے اندر معروف یعنی باہمی صلح کی شرط پر شوہر ہی کو رجوع کا حق ہے اور اس کے بعد کی دو آیات231اور232البقرہ میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے فوراً بعدبھی اور عدت کی تکمیل کے بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی میاں بیوی میں کوئی حلالہ و غیر ہ کی رکاوٹ اللہ نے کھڑی کرنے سے منع کیا ہے۔

اور ان تمام آیات میں رجوع کیلئے بیوی کی رضامندی شرط ہے اور کچھ نہیں اور آیت230سے پہلے آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد ایک مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے جس کی بنیاد عورت کے مالی حق کا تحفظ ہے کہ شوہر کی طرف دی گئی کوئی چیز واپس لینا قطعی حرام ہے جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے ۔لیکن اگر کوئی ایسی چیز شوہر نے دی ہو جو طلاق کے بعد رابطے اور اللہ کی حدود توڑنے یعنی جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر عورت کی عزت بچانے کیلئے عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ یعنی قربان کرنا غلط نہیں ہے اور جب عورت فدیہ دے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ رجوع نہیں چاہتی اور اس کیساتھ آیت230کا حکم منسلک ہے اسلئے کہ عورت راضی نہ ہو تو پھر یہ حکم آیت228میں بھی سرایت کرجاتا ہے اور آیت229میں بھی اورآیات231اور232میں بھی اور قرآنی آیات کی علت رجوع کیلئے عورت کی رضامندی ہے اور یہ اتنی واضح ہے کہ خردماغ لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں بشرط یہ کہ اس پر تھوڑاتدبر کریں۔لیکن بالفرض تمام آیات کو سیاق وسباق سے ہٹا بھی دیں تو بھی آیت230میں صرف نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی آگے پیچھے بھی نہیں دیکھتا ہے اور اس آیت پر اس کی سوئی اٹک جاتی ہے تو بھی ”بعل” بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ نکاح سے صرف زوج بنانا کافی ہے۔ یہ اللہ نے بہت خاص پرو ٹیکشن رکھی ہے۔

حضرت سعید بن جبیر نے جب دیکھا کہ بنو زرقاء بنو مروان حلالہ کی لعنت پر زور ڈال رہے ہیں تو قرآن سے استدلال کیا کہ آیت230البقرہ میں صرف نکاح کی بات ہے جماع کی نہیں ہے۔ حجاج بن یوسف نے شہید کرنے سے پہلے مکالمہ کیا۔ حضرت علی پر جہنمی کا فتویٰ لگانے کیلئے حجاج بن یوسف زور ڈال رہاتھا۔ جلاد سر کو تن سے جدا کرنے کیلئے تیار کھڑا رکھا ہوا تھا۔ اصل معاملہ حلالہ کی لعنت کو مسلط کرنا تھا۔ عربی میں بھی بعل اور زوج کا فرق واضح ہے اور قرآن میں بھی اور دونوں کا حکم بھی بالکل مختلف ہے اور احکام میں بھی بہت فرق ہے۔

سلام علی موسی و ہارونOانا کذٰلک نجزی المحسنینOانھما من عبادنا المؤمنینOوان الیاس لمن المرسلینOاذقال لقومہ الا تتقونOاتدعون بعلًا و تذرون احسن الخالقینOاللہ ربکم و رب اٰبائکم الاولینOفکذبوہ فانھم لمحضرونOالا عباد اللہ المخلصینO

سلام ہو موسیٰ و ہارون پر ،بیشک ہم محسنوں کو ایساہی بدلا دیتے ہیں، بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں تھے اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بعل کو بلاتے ہو اور احسن خالق کو چھوڑ تے ہو، اللہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آبا کا پس انہوں نے اسے جھٹلایا بیشک وہ حاضر کئے جائیں گے مگر اللہ کے مخلص بندے۔(سورہ الصافات:120تا128)

یہود عرصہ دراز سے اللہ کے احکام کو چھوڑ کر حلالے کا بعل بلاتے ہیں ۔

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذٰلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لا یتنا ھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون O

”لعن کی گئی ہے کفار میں سے بنی اسرائیل میں سے (یہود) پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے۔ وہ منکر (حلالہ ) سے نہیں رکتے تھے جس سے منع کیا گیا تھا اور وہ کرتے تھے۔ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں” ۔(سور المائدہ آیت78،79)

لتجدن اشد الناس عداوة للذین اٰمنوا الیھود والذین اشرکوا و لتجدن اقربھم مودةً للذین امنوا الذین قالوا انا نصارٰی ذٰلک بان منھم قسّیسین و رھبانًا و انھم لا یستکبرونO

”آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی میں یہود اور مشرکوں کو پاؤگے۔اور محبت میں سب سے زیادہ قریب نصاری کو پاؤگے اسلئے کہ ان میں علماء اور صوفی ہیں اوروہ تکبر نہیں کرتے ”۔ (سورہ المائدہ آیت:82)

یہود اور مشرکین مکہ میں حلالہ کی لعنت بھی تھی اور جب کسی اور کی بیوی کے ممنوعہ ”بعل” بنتے ہوں توپھر تکبر بھی آئے گا۔

یہود حضرت موسیٰ وہارون کو مانتے ہیں اور قرآن نے ان پر سلام بھیجا ہے۔ حضرت علی اور ائمہ اہل بیت اطہار کے ساتھ صحیح بخاری اور پرانی ادب کی کتب میں علیہ السلام اور علیہا السلام لکھاہے اوریہ کشتی نوح کی طرح حلالہ کے گند سے بچے تھے۔ مسجد نبویۖ پر بارہ ائمہ اہل بیت کے نام آج لکھے ہیں اور مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہنے ان کو تصوف کیلئے اصل قرار دیا۔

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بڑی قربانی دی تھی والدہ ہند کے والد، چچااور بھائی کو غزوہ بدر میں امیرحمزہ اور علی نے قتل کیا تو ہند نے غزوہ احد میں حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ ام حبیبہ کی قربانی سے خاندان کو ہدایت ملی۔ امام حسن امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ امیر معاویہ نے مروان کو معزول اور اپنے بھتیجے ولید کو گورنر بنادیا۔ امام حسین سے جبری بیعت نہیں لی تو مروان بن حکم نے کہا کہ اس کو قتل کردیتے ۔ جس پر امام حسین نے کہا کہ ”زرقاء کے بیٹے تمہاری یہ اوقات نہیں ہے”۔ مروان بن حکم کو پہلے امام حسن نے بدتمیزی پر زرقاء کا بیٹا کہا تھا۔

شیعہ نے امام حسین سے دغا کیا اور لشکر یزید نے شہید لیکن یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حرنے امام حسین کا ساتھ دیا۔یزید کے بیٹے معاویہ نے امام زین العابدین کومستند خلافت پیش کی جبکہ عبداللہ بن زبیر نے مروان کی بیعت کو بھی قبول نہ کیا اور اس کو بیٹے عبدالملک سمیت مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔

بنوامیہ میں حضرت عثمان اور ابوسفیان اور مروان تینوں کے کردار کو ایک کھاتے میں ڈالنا غلط ہے۔ مروان اور عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں سے بھی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ قرآن سے دوری کے نتیجے میں حلالہ کی لعنت نے امت مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ ایران کے شیعہ بادشاہ اسماعیل صفوی کے دادا کا نام بھی اسماعیل صفوی تھا جو جدید ایران کا بانی سنی تھا، حلالہ سے بچنے کیلئے پوتا شیعہ بن گیا۔ اسلئے ایرانی اور ہندوستانی شیعوں میں بڑا فرق ہے۔ علامہ عارف واحدی کا جامعة الرشید میں خطاب خوش آئند ہے۔

جاویداحمد غامدی نرا بکواسی ہے۔اس کا یہ کہنا کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہوئی ۔ نبی ۖ نے اجتہاد کیا تھا ۔ رکانہ نے اپنی بیوی کو 3 طلاق دی تو نبیۖ نے ان کو پوچھا کہ نیت کیا تھی؟۔اس نے کہا کہ ایک طلاق کی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ حلف اٹھاؤ۔ اس نے قسم اٹھائی تو ایک قرار دی۔ (ابوداؤد )

جاویدغامدی نے کہا کہ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایسے معاملے میں قابل قبول ہے۔ اور یہ نبیۖ کا اجتہاد تھا ۔ جس سے اختلاف کی گنجائش تھی ۔حضرت عمر نے اسکے برعکس اجتہاد کیا اور تین کو تین قرار دیا اور ایک کا اعتبار ختم کیا۔ امت نے حضرت عمر کے اجتہاد کو قبولیت بخش دی۔ گنجائش دونوں پر عمل کرنے کی ہے لیکن نبیۖ کی طرف لوٹانا زیادہ بہتر ہے۔

جاوید احمد غامدی نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ایک عالم دین بھی تھے لیکن اپنی طلاق کا مسئلہ خود حل نہیں کیا بلکہ رسول اللہۖ کی خدمت میں پیش کردیا اور آپ نے سمجھادیا کہ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق اور عدت کا معاملہ ہے۔ علماء کے پاس اپنا معاملہ لیکر جانا چاہیے اور وہ جو بھی فتویٰ دید یں۔

جاویدغامدی نے ایک طرف میڈیا پر عوام کو شعور دینے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے اور دوسری طرف اپنا ٹھیہ بھی لگایا ہواہے تاکہ لوگ سب کو مان کر اس کا ٹھیہ منافع بخش کاروبار بنائے۔

کل حزب بما لدیھم فرحون” ہر گروہ اپنی کمائی پرخوش ہے ۔یہ جتھے اور جماعتیں منافع بخش کاروبار ہیں۔

ولاتکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوة انکاثًا تتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون امة ھی اربٰی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبینن لکم یوم القیامة ماکنتم فیہ تختلفونO

” اس جماعت کی طرح مت بن جاؤ ، جو اپنا سوت قوت کے بعد توڑ ڈالے۔ تم آپس میں عہد منشور کو بناتے ہو تا کہ ایک جماعت دوسری سے زیادہ منافع بخش بن جائے بیشک اللہ تمہیں اس

سے آزماتا ہے تاکہ قیامت کے دن تمہیں پتہ چل جائے کہ تم کس بات پر آپس میں اختلاف کررہے تھے”۔ (سورہ نحل :92)

جاوید غامدی نے جمع پونجی کی قوت طلاق اوربکواس کی نذر کردی۔ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کا واقعہ دیکھتے تو مسئلہ طلاق پر بک بک نہ کرتے۔ رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار عدت میں تین طلاقیں دیں۔ تکمیل عدت پر معروف کی شرط یعنی رضامندی سے رجوع کی بجائے معروف طریقے سے الگ کیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کیا۔ اس نے بعد میں نامرد ہونے کی شکایت کی اور حضرت رکانہ کے والد عبد بن یزید نے اس کو طلاق دی ۔ پھر رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا مجھے علم ہے اور پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ ابوداؤد

ان دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ سورہ طلاق کی تفسیر اور تین طلاق سے حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ابوداؤد کی حدیث سے زیادہ بڑی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک رکانہ سے قسم کھلانے کا تعلق ہے تو جس طرح عبداللہ بن عمر پر نبیۖ بہت غضبناک ہوگئے تھے تو والدین کے واقعہ کے بعد رکانہ کی ٹھیک طرح سے خبر لی جاتی کہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے لیکن جب قسم کھائی تو یہ نبیۖ کے دربار میں طیش سے بچ نکلے۔

یہ تو انتہائی گھناؤنی بات ہے کہ عوام کی عزتوں کو مذہبی طبقہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور بیوی کے حسن و جمال کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔ واہ غامدی واہ۔ تجھ سے عیسائی خنزیر بھی نہ چرائیں کہ کیا اٹکل پچھو کرلے گا؟۔

قرآن وسنت میں معاملہ اتنا واضح ہے کہ آج دنیا ساری کی ساری قرآنی انقلاب کا ثمرہ ہے۔ عیسائی طلاق نہیں مانتے اور آج قرآن وسنت کے مطابق طلاق بھی دنیا میں رائج ہے اور روس جیسے ملک کا بھی عدت اور اس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا قانون ہے۔ حضرت عمر اورحضرت علی نے کوئی اجتہاد نہیں کیا تھا بلکہ اکٹھی تین طلاق اور حرام کے لفظ پر جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

جیسے یہ کہنا غلط ہوگا کہ رکانہ کے والد نے کسی اور عورت سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دینے کے بعد پہلی کیلئے حلال ہوگئے تو ویسے یہ غلط کہ حسین نے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق کے بعد نکاح کرکے حلالہ کیا۔اس اتفاق سے شیعہ غلط فہمی میں پڑا۔ زید بن باقربن زین العابدین بن امام حسین نے اپنی کتاب ”المجموع” میں لکھا کہ ”عربی عورت کفو کے بغیر نکاح کرے تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر، ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر اور تین کے بعد تحلیل کے بغیر پہلے شوہر سے نکاح جائز ہوگایا نہیں ”۔ حالانکہ یہ تحلیل بکواس ہے۔ اس سے زیادہ مسلک حنفی قرآن کے عین مطابق تھا۔

عائلی قوانین1964ء پاکستان میں طلاق کی عدت اور آپس کی اصلاح سے رجوع کا قانون اور طلاق رجعی ومغلظ کا خاتمہ عالم اسلام ہی نہیں اسرائیل کے کٹر یہود کو بھی ہزاروں سال بعد پہلی مرتبہ حلالہ کی لعنت سے نکال دے گا اور وہ اسلام کی عالمی خلافت کو اپنی عورتوں کی عزت کے بچاؤ کیلئے بخوشی قبول کریں گے اور بیت المقدس بھی مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے۔

گورنر بصرہ مغیرہ بن شعبہ کے خلاف تین افراد نے زناکی گواہی دی اور زیاد نے کہا : ورأیت استہ یضرب استہاو رجلاھا کاذنی الحمار ”میں نے دیکھا کہ مغیرہ کی سرین ام جمیل کی سرین سے ملی ہوئی ہے اورام جمیل کی دونوں ٹانگیں گویا گدھے کے کان کی طرح کھڑی ہیں”۔تین گواہ ابوبکرہ، نافع ، شبل کے نام صحیح بخاری میں ہیں۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد آل مروان نے حلالہ کی لعنت کو تسکین کا ذریعہ بنایاتھا۔ نبیۖنے سمندر کی طغیانی کے مانند فتنے کا ذکر کیا تھا۔ قرآن کی سورہ بنی اسرائیل آیت60میں رسول اللہ ۖ کے خواب کا پوری دنیا پر غلبہ اور قرآن میں شجر ملعونہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پہلے یہود خدا کے غضب کا شکار تھے اور آج ان کی اتباع میں مسلمان بھی بن گئے ہیں۔

ماحول میں مسئلے کا پتہ نہیں ہو تو یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کے دور میں ظہار کا منکر قول اور جھوٹ رائج تھا تو ایک عورت کے مجادلہ پر سورہ مجالہ نازل ہوئی ۔ جب نبیۖ ماریہ قبطیہ سے حرمت کا مروجہ معاملہ کیا تو سورہ تحریم نازل ہوئی اور جب حضرت زید نے بیوی کو تین طلاق دی اور نبیۖ نے چاہا کہ وہ اپنے پاس روکے رکھے تو حضرت زینب پہلے بھی ایک شوہر سے نکاح کرچکی تھیں اور38سال عمر تھی پھر حضرت زید سے بھی شادی ہوئی اوراس کے ذریعے جاہلیت کا ایک مسئلہ حل کرنا تھا جو بے غیرت سوتیلی ماں سے شادی کرتے تھے لیکن منہ بولے بیٹے کی بیوی کو طلاق کے بعد حقیقی بہو سمجھتے تھے۔

حضرت زینب سے پہلے حضرت زید کی شادی حضرت ام ایمن سے ہوچکی تھی جس سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے تھے اور اس کے علاوہ مکی دور میں ایک اور نکاح حضرت ابوبکر کی بہن حضرت شمامہ بنت قحافہ اور پھر مدینہ میں حضرت ہند بنت لبید انصاری خاتون سے ہواتھاپھر3یا4ھ میں حضرت زینب سے نکاح ہوا اور خود ان کی چاہت تھی کہ نہیں رکھے۔ ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ شادی کا دروانیہ رہا ۔ حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب کی طلاق کے بعد معزز قریشی خاتون ام کلثوم بنت عقبہ سے نکاح کیا جن سے زیداور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے۔ دوسرا نکاح رسول اللہ ۖ کی چچازاد درہ بنت ابی لہب سے ہوا۔ پھر ہند بن عوام سے ہوا جو رسول اللہ ۖ کی پھوپھی حضرت صفیہ کی بیٹی اور زبیر بن عوام کی بہن تھیں۔

اللہ نے سورہ حج میں مذہبی تعصبات کا خاتمہ ، خلافت کے قیام اور مختلف انبیاء کرام اور اقوام میں اچھے بروں کی نشاندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال ایک دن کے برابر ہے۔ گویا اسلام کی نشاة اول کے بعد سے موجودہ دور تک ڈیڑھ دن بھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور پھر خلافت کا راستہ پوری دنیا میں ہموار ہوجائے گا اور حق پر عمل کرنا پڑے گا۔

وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO

”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کردیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ” ۔ (سورہ حج آیت52)

اگلی دوآیات53اور54میںاہل باطل اور اہل حق کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیات میں انقلاب کی آمد تک اہل باطل کو قرآن سے شک میں پڑے رہنے کی اور انقلاب کی وضاحت ہے۔

صحابہ کرام اسلام سے قبل مردہ زمین کی طرح تھے لیکن پھر نبیۖ کی صحبت اور قرآن کے احکام سے نہ صرف خود زندہ ہوگئے بلکہ پورے عالم بھی زندگی کا زبردست غلغلہ مچادیا تھا۔

خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا

قرآن کا شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت سے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں حضرات انبیاء کرام کے بعد شیطانی القاؤں سے زندہ ہے اوراس کی تاریخ جنت سے نکالنے کیلئے شروع ہوئی ہے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم کو حضرت حواء کا زوجہ بنادیا لیکن بعل بننے سے روک دیا تھا۔ قابیل نے بھی غلط بعل بننے کیلئے ہابیل کو قتل کردیا تھا۔ امت مسلمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی نیک نیتی کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ ۖ کی تمنا میں شیطان نے اپنی کاروائی کی اور آج تک امت مسلمہ ایک بہت بڑے عذاب کا شکار ہے۔

عبداللہ بن عمر نے بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی تو حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو خبر دی کہ بہو نے گھر میں رونا دھونا مچا رکھا ہے جو ایک فطری بات تھی۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو تو حضرت عمر نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں؟۔

نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم دیا تو اسلئے تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی تھی لیکن عبداللہ نے اس سے طلاق رجعی کا غلط تصور لیا اور کہا: ”اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔(بخاری) یوں بنی زرقاء کو موقع ملا کہ اکٹھی تین طلاق کو مغلظ قرار دیں اورحضرت عمر کا سہارا بنائیں ، حضرت علی نے عورت راضی نہ تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ علی کو سورہ تحریم سے انکار اور کافر و جہنمی قرار دے دیا۔ بخاری ، مسلم ،ابوداؤد ، نسائی اور تاریخ میں سب واضح ہے لیکن ہٹ دھرم نہیں مانتے۔

لعنت حلالہ سے بچنے کیلئے قرآن میں ایک آیت بھی کافی تھی لیکن اللہ نے بہت ساری آیات کی ڈیفنس لائن لگادی ۔

1: حلالہ کیخلاف پہلی دفاعی دیوار

ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرینO

”اور تجھ سے حیض کی حالت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ اذیت ہے ،پس حیض کی حالت میں عورتوں کو چھوڑ دو اور انکے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جیسا تمہیں اللہ نے امر کیا ، بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی والوں کو پسند کرتا ہے”۔ (البقرہ آیت222 )

یہاں حیض کی حالت کو اذیت قرار دیا گیا۔اس میں عورتوں سے فاصلہ رکھنے کا حکم ہے اور جب پاک ہوجائیں تو اللہ نے جیسا حکم دیا ویسے آئیں اور اذیت سے توبہ اور ناپاکی سے پاکی اختیار کرنے والوں کو اللہ نے پسندیدہ قرار دیا ہے۔

الا لہ الخلق والامر” خبردار اسی کیلئے تخلیق اور امر ہے۔ عورت کو حیض آتا ہے تو یہ اذیت اس کی تخلیق ہے اور مردوں کو اس میں دور رہنے اور جب پاک ہوجائیں تو امر کے مطابق ہی ان کے پا س آنے کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں پر اللہ نے تخلیق میں امر کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کیا تھا۔ فرمایا:

ولوط اذقال لقومہ انکم لتاتون الفاحشة ما سبقکم بھا من احدٍ من العالمینOائنکم لتاتون الرجال و تقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقینOقال رب انصرنی علی القوم المفسدینO

”اورلوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم فحاشی کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ تم آدمیوں کے پاس آتے ہو اور جائز راستہ منقع کرتے ہو اور پھر اعلانیہ معروف کی جگہ منکر کرتے ہو۔تو قوم کا جواب نہیں تھا مگر یہ کہ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ کہا کہ اے میرے رب میری مدد فرما قوم فساد کرنے والوں پر ” ۔(عنکبوت:28تا30)

قرآن میں واضح ہے کہ عورت کی تخلیق اور اس کے پاس امر کا حکم کیا ہے؟۔ دونوں راستوں میں سے کونسا راستہ ہے؟۔ جہاں سے حیض آتا ہے معروف راستہ ؟ یا جو مردوں عورتوں میں یکساں ہوتا ہے منکر اور فحاشی کا راستہ؟۔ غلط تو اگر مرد بھی بنتے ہیں تو ٹھنڈے نہیں ہوتے۔لیہ کے حافظ حاشر نے بدمعاش بدکار کیلئے اپنے باپ کا قتل کیا اسلئے کہ پیاس نہیں بجھ رہی تھی۔

علماء نے قوم لوط کی تفسیر کی وہ راستے میں ڈکیتی کرتے تھے لیکن اصل راستہ کو بھول گئے کہ جرم کیا تھا جو بالکل واضح ہے۔ عورت کی عدت میں اضافہ بھی اذیت ہے اور جس طہر میں اس کو طلاق دی جائے تو اس سے پہلے حیض بھی اس عدت کا حصہ خود بخود بن جاتا ہے۔ علماء غلط پڑھاتے ہیں کہ عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت منع ہے۔ حضرت عائشہ نے بھی تین اطہار قرار دیا۔ نبیۖ نے بھی عدت اور طلاق کو تین اطہار کے ساتھ واضح فرمایا لیکن حنفی مسلک میںریاضی کے فہم عقل اور قرآن وسنت سے عاری احمقوں نے اصول فقہ میں یہ شامل کیا کہ ”قرآن کے خاص پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 3عدد خاص ہے جس طہر میں طلاق دی جائے تو اسکا کچھ حصہ شمار ہوگا تو تین کی جگہ ڈھائی بن جائیگا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے اسلئے کہ پھر وہ طہر بھی شمار ہوگا اور تین کی جگہ ساڑھے تین بن جائیگا۔ روزہ میں کچھ کھائے بغیر سورج نکلنے کے بعد بھی روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا ہے اور جس طہر میں مباشرت نہ کی ہو تو وہ طہر بھی پورا شمار ہوگا۔ علماء لکھتے ہیں کہ عدت الرجال طہر اور عدت النساء حیض ہے۔ مگر کرکٹ میں یہ ممکن ہے کہ دن میں بال کی جائے اور رات کو شارٹ مارا جائے؟ اور یہ بہت بڑی حماقت ہے۔ نبی ۖ نے عدت و طلاق کے متعلق تین طہروں کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ نے فرمایا:

یا ایھا لنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن

”اے نبی جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کیلئے دو”۔ (سورہ الطلاق ) جس کامولویانہ ترجمہ یہ بنے گا کہ جب تم لوگ طلاق دو تو حیض کیلئے طلاق دو۔ حالانکہ حیض میں ویسے بھی مقاربت منع ہے اسلئے مولوی ترجمہ وتفسیر نہیں جانتا۔

ان ساری چیزوں کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت کیلئے سب سے بڑی اذیت حلالہ کی لعنت ہے جس کو علماء نے باقاعدہ سزا قرار دیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ عورت کو ایسی اذیت اور سزا دے سکتا ہے جس میں حلالہ کی فحاشی والی لعنت ہو؟۔ جب چھوٹی چھوٹی اذیتوں کا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کا عادی بنادیا جاتا ہے تو پھر وہ گدھی کی طرح حلالہ بھی گدھے سے کرواتی ہے۔

عربی کی کسی لغت میں اذًی کا معنی گند نہیں ہے لیکن علماء نے اس کو گند قرار دیا ہے۔ عربی میں گند کو ”قذر” کہتے ہیں۔ آیت کے آخرمیں توبہ اور طہارت کا ذکر ہے۔ توبہ اذیت سے ہوتی ہے اور طہارت گند سے دور رہنے کی وجہ سے ہے۔ آیت میں دونوں چیزوں کا ذکر ہے اسلئے کہ حیض کی حالت کو ”قذر” کہنا عورت کی توہین اور الفاظ کا چناؤ غلط ہوتا لیکن ساتھ میں اذیت سے مقصود عورت کو تخلیقی و شرعی امور میں اذیت سے بچانا ہے۔

ولونزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبینO

”اور اگر ہم آپ پر کتاب کو کاغذ میںلکھا ہوا اتارتے تو اس کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے تو ضرور کفر کرنے والے لوگ کہتے کہ بیشک یہ تو کھلا جادو ہے”۔ (سورہ الانعام آیت:7)

مولوی بنتے وقت اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن لکھائی میں اللہ کا کلام نہیں صحف تو نقش ہے۔ حالانکہ مکتوب فی المصاحف جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔ یہ فقہی مسئلہ کہ قرآن کے مصحف پر حلف بھی نہیں ہوتا ہے۔زبانی قرآن کی قسم کھائی جائے تو حلف اور کفارہ بنتا ہے۔ ایک طرف دلا اور دلال کہتا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں اور دوسری طرف فتاویٰ قاضی خان سے فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی، مفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان اور مولانا الیاس گھمن تک کی بکواس کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ سے توبہ کی اور مدارس میں وہی پڑھا رہاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم و حواء دونوں کو نیچے اترنے کا حکم دیا اور حواء کے پیٹ میں قابیل بھی تھا تو سب بعض بعض کے دشمن بننے کا کیا مطلب ہے؟۔ حضرت آدم و حواء نے توبہ کی اور قابیل کم بخت نے ہابیل کو قتل کرکے ہدایت پر عمل نہیں کیا ۔ امریکہ عرب ممالک وایران ، اسرائیل وفلسطین اور دنیا بھر میں ایکدوسرے سے دشمنی بالکل قرآن کی واضح تفسیر ہے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذرو ھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمOانما اموالکم و اولادکم فتنة واللہ عند ہ اجر عظیمOفاتقواللہ ما استطعتم واسمعوا وا طیعوا وا نفقوا خیرًا لانفسکم و من یوق شخ نفسہ فاولٰئک ھم المفلحونO

”اے ایمان والو! بے شک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے لئے دشمن ہیں پس ان سے بچتے رہواور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بھی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ پس اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہوسکے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ، یہ تمہاری اپنی جانوں کیلئے بہتر ہے۔جس نے اپنی جان کو لالچ سے بچایا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔(التغابن14تا16)

اللہ نے بتایا کہ شیطان نے کس طرح آدم کو اولاد اور ہمیشہ کی بادشاہت کا لالچ دیکر ورغلایا؟۔ حوا ء زوجہ تھیں مگر ازدواجی تعلق سے اللہ نے منع کیا تھا۔ بنوامیہ وبنو عباس نے اولاد کیلئے ہمیشہ کی بادشاہت کی لالچ میں حلالہ کی لعنت کو رواج دیا تھااور خلفاء راشدین نے خود کو اس لالچ اور فتنے سے محفوظ رکھا تھا۔

حضرت علی کی اولاد نے حلالہ کی لعنت نہیں قرآن کی طرف دعوت دی مگر ان پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کو جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا تھا۔ شیطان نے بھی حکمران اور مذہبی طبقات کو روغلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔

2: حلالہ کیخلاف دوسری دفاعی لائن

نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انیٰ شئتم و قدموا لانفسکم واتقوا اللہ واعلموا انکم ملاقوہ و بشرالمؤمنینO

تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں پس اپنے اثاثہ کے پاس جیسے چاہو آؤ اور نیکیاں اپنے لئے آگے بھیجو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم نے اس سے ملنا ہے اور مؤمنوں کو بشارت دو”۔ (سورہ بقرہ آیت:223)

جیسا کہ انگریزی اور اردو میں بھی جو بیٹا یاشاگرد زیاہ اچھا لگتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ میرا اثاثہ ہے۔ قرآن میں اثاثہ کھیتی کیلئے بھی آتا ہے اور اثاثہ جات کیلئے بھی۔ جیسے جو دنیا کا اثاثہ چاہتا ہے اور جو آخرت کا اثاثہ چاہتا ہے۔ تو اس کیلئے بھی حرث استعمال ہوا ہے۔ کیمسٹری میں عناصر Properties اثاثہ جات۔ مالیکیول عناصر کا گچھا ۔عنصر آزاد حالت میں نہیں ہوتا ہے اور ان کو آپس میں جدا کرنے کیلئے جدید سائنس کا استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”میں نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کی ہیں”۔ نکاح کے خطبے میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی ہے۔ عورت کو کھیتی قرار دینا عورت کی توہین ہے کھیتی سے بلی اور کتے کے زیادہ حقوق ہیں۔

اگر مولوی کھیتی کا حق دے تو بھی صحیح لیکن عورت کی حالت تو حلالہ کی لعنت پر کھیتی سے بھی بدتر بنتی ہے۔ اذیت اور تذلیل کی انتہا اور پھر اللہ کے نام پر؟۔ جیسا ایک قیمتی اثاثہ کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے اس طرح شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان الفاظ کے گورکھ دھندے سے رکاوٹ کھڑی کرنا انتہائی غلط بات ہے جس کیلئے اللہ نے بڑی واضح آیات نازل کی ہیں جو بالکل محکمات ہیں اور ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتی ہیں لیکن شیطان کھلا دشمن ہے اسلئے زیادہ مضبوط بند باندھ دیا۔

3: حلالہ کیخلاف تیسری دفاعی لائن

ولا تجعلواللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس و اللہ سمیع علیم

”اور اپنے عہدوں کو ڈھال مت بناؤ کہ نیکی کرو اورتقویٰ اختیار کرو اور لوگوں میں صلح کراؤاللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (البقرہ224)

یہ حلالہ کی لعنت کے خلاف آہنی دیوار ہے۔میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ سے زیادہ بڑا غلط معاملہ کیا ہوسکتا ہے؟۔ یہی نیکی اور تقویٰ ہے کہ دونوں میں تفریق نہیں ہونے دی جائے اور حلالہ تو انتہائی درجہ جرم ہے۔ حکمران، شیطان اور آدم کی اولاد نے حلالہ کیلئے راستہ بنانا تھا لیکن وہ دفاعی دیوار تھی کہ خود کش حملوں اور ایٹم بم بھی اس پر اثر نہیں کرسکتا تھا۔

یہاں یمین سے مراد حلف نہیں ہے بلکہ جن الفاظ سے شوہر اور بیوی کو یہود اور یہود نما مذہبی طبقات نے آپس میں صلح سے روکنا تھا اور نیکی اور تقویٰ میں رکاوٹ ڈالنی تھی اس مسئلے کا حفظ ما تقدم کے طور پر حل ہے۔ اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان صلح کو ناممکن قرار دیا جائے اور حلالہ جیسی فحاشی کے حکم کا توکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہاں اللہ نے فیصلہ کردیا کہ صلح میں رکاوٹ کھڑی کرنا اللہ کے نام پر فتویٰ نہیں بلکہ بالکل واضح فراڈ ہے۔

قرآن کی آیات ایک دوسرے سے فصل بھی ہیں اور مربوط اور ایک دوسرے کی تفسیر بھی۔ سورہ مائدہ میں واضح ہے کہ وہاں یمین سے مراد طلاق نہیں حلف ہے۔

ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم

”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو” ۔ (سورہ المائدہ آیت:89)

جہاں تک طلاق سے متعلق حلف کی بات ہے تو نبیۖ کا حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالے سے حرمت کی بات طلاق والی یمین تھی۔ علامہ فریدالدین دہلوی کی تالیف”فتاویٰ تاتار خنہ” پر مدرسہ شاہی مراد آباد ہندکے مفتی محدث شبیراحمد قاسمی نے بھی لکھا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اگر تمہاری شرمگاہ سے میری شرمگاہ خوبصورت نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے ۔میری لونڈی آزاد ہے ۔ کھڑے تھے تو مرد سے زیادہ عورت کی خوبصورت ہے اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی خوبصورت ہے اور ایک کھڑا اور دوسری بیٹھی ہو تو مجھے بھی پتہ نہیں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل ۔فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ دونوں کا یمین واقع ہونا چاہیے۔ (مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)

یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم واللہ مولاکم و ھو العلیم الحکیمO

"اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے اپنی بیویوں کی خوشنودی کیلئے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ نے تمہاری حرمت کے ایمان کو حلال کرنا فرض کردیا ہے وہ تمہارا مولی ہے اور علیم حکیم ہے”۔ سورہ تحریم

صحیح بخاری میں بیوی کو حرام کہنے پر اختلافی ١قوال ہیں اور حسن بصری نے بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے کہ حرام کہہ دیا تو حلالہ کرنا ہوگا اور بعض نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام کی طرف منسوب کیا ہے کہ حرام تین طلاق ہیں۔ بے غیرت قرآن کو نہیں دیکھتے؟۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام اس طرح کے جاہل نہیں تھے انہوں نے قرآن کے عین مطابق ہی فیصلہ کیا لیکن سبھی فرقے والے اپنے مذہب پر ڈرتے ہیں۔

یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فراز اپنی جگر کاویوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاع ہنر بھی صدا کسی کی نہیں

4: حلالہ کیخلاف چوتھی دفاعی لائن

لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفورحلیمO

”اللہ تمہیں تمہارے لغو یمین سے نہیں پکڑتا مگر تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا اور غفور حلیم ہے”۔ (البقرہ225)

لغو یمین سے یہاں مراد طلاق والی لغو یمین ہے اور وہ پھر کیا ہے؟۔ جو سورہ تحریم میں حرام کے لفظ میں واضح ہے۔ اسکے بھی علاوہ جتنے الفاظ طلاق صریح اور کنایہ کے نام پر مذہبی طبقے نے یہود کے نقش قدم پر رائج کئے ہیں وہ سبھی لغویات ہیںاسلئے کہ اس سے پیشتر آیت میں ملاؤں کو خدا نے تنبیہ کی ہے کہ یہود کی پیروی میں میاں بیوی کے درمیان صلح میں کوئی رکاوٹ اللہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح تمام لوگوں صلح ہوسکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دل کا گناہ کیا ہے؟۔ اس کی اگلی آیات میں تفسیر ہے کہ طلاق کا اظہار کیا تو تین ماہ اور اظہار نہ کیا تو عدت چار ماہ لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ اس پر پکڑ ہے۔

5: حلالہ کیخلاف پانچویں دفاعی لائن

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO

”جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں ان کیلئے چار ماہ ہیں پس اگر وہ آپس میں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر ان کا طلاق کا عزم تھا تو سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ226،227)

رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر رجوع کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورت کو تکلیف نہیں دے سکیں۔ نبیۖ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ والدین سے خواب مشورہ کرکے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ یہ میرا کام ہے والدین کی ضرورت نہیں ، میں رہتا چاہتی ہوں ۔

ناراض ہونا مرد کا حق ہے لیکن راضی ہونا عورت کا حق ہے اور اگر عورت کا حق چھین کر مرد ناراض ہوتا رہے تو خدا بھی اس تکلیف میں ذمہ دار ہوتا جس کی وجہ سے عرب و عجم عورتوں میں الحاد کا بازار گرم ہے اور مذہبی طبقہ حقائق نہیں جانتا اور کانوں کو نیچے کرکے تماشائی بنا ہوا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر جواب دیں۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO

”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کیا اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ان پر ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔ اللہ عزیز حکیم ہے”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)

یہ آیت طلاق ، عدت ، رجوع اور بیوی و شوہر کے درمیان برابری کے حقوق کیلئے سنگ میل ہے۔ عائلی قوانین1964ء آئین پاکستان میں یہ آیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلاق اور اس سے رجوع کا تعلق باہمی رضامندی کیساتھ عدت کے ساتھ ہے۔ عدت میں شوہر کو رجوع اور بیوی کو انکار کا پورا پورا حق ہے۔ اس نے حلالہ کو دریا مردار میں غرق کردیا ہے۔ دنیا کی اسلام کی نشاة ثایہ کیلئے پہلی عظیم ریاست پاکستان ہے جس میں قرآن وسنت کے مطابق آئیں سازی کی گئی ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ حلالہ کیلئے نہیں دیا بلکہ قرآن نے انکار کا حق دیا اسلئے کہ خلع میں عورت کے کم حقوق اور طلاق میں زیادہ ہیں۔

سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت20میں طلاق کے حقوق بالکل واضح ہیں۔ بڑے علماء نجی مجالس میں مانتے ہیں لیکن عوامی سطح پر مفتی تقی عثمانی سے خوف کھاتے ہیں کہ مدرسہ کے بورڈ وفاق المدارس پاکستان سے نکلوا دیں گے۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کی زندگی میں ان کا بیان شائع کیا تھا۔

قرآن کا مرکزی نقطہ تمام آیات میں باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن فقہ کی کتابوں میں قرآن کی بنیادی شرط کو فقہاء نے کرائے کے بکروں کی طرح کھالیا ۔

6: حلالہ کیخلاف چھٹی دفاعی لائن

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسانٍ ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے ان تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق والی عورتوں سے کچھ بھی واپس لو ۔ (احسان کیساتھ رخصت کا مطلب اپنے حق سے زیادہ دو ، جو نہیں دیا وہ بھی دو اور جو ان کو دیا ہے وہ واپس لینا خنزیر کے گوشت کی طرح حرام ہے) مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگر اس میں کوئی خاص چیز نہیں دی اوراے فیصلہ کرنے والو!تمہیں بھی یہ خوف ہو کہ واقعی دونوں اس دی ہوئی چیز کو واپس کئے بغیر اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے عورت کی عزت بچانے سے زیادہ اہم نہیں اسلئے فدائی حملے کی طرح قربان کی جائے تو دونوں پر حرج نہیں اور یہ سب اللہ کی واضح حدود ہیں جو بھی ان سے تجاوز کرے تو حقیقت میں وہی لوگ ظالم ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت229)

تین طلاق کے بعد سورہ طلاق میں بھی عورت کی صلح لازمی ہے اور یہاں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے اور سورہ النساء آیت35میں بھی دونوں طرف سے حکم مقرر کرنے کی بات واضح ہے۔ سورہ النساء آیت20،21میں بھی طلاق کے مالی حقوق واضح ہیں لیکن یہاں ایک ااستثناء ہے کہ بعد میں رابطے کا ذریعہ کوئی چیز بنتی ہو جس سے دونوں میں جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر وہ چیز واپس کی جائے اور یہاں یہ کنفرم ہے کہ عورت فدیہ دینے کے بعد رجوع نہیں چاہتی تو اس کے بعد یہ حکم ہے:

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعاان ظنا ان یقیما حدوداللہ وتلک حدود اللہ یبینھا لقومٍ یعلمونO

”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پس اگر اس نے طلاق دیدی تو دونوں پر رجوع کرنے میں حرج نہیں اگر وہ گمان رکھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو سمجھ والوں کیلئے بیان کرتا ہے”۔ (البقرہ230)

یہ طلاق حلالہ کیلئے نہیں ہے بلکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو اس کی مکمل آزادی کیلئے ہے تاکہ شوہر اس پر کہیں بھی شادی کرنے میں کوئی قدغن نہ لگائے۔ اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ اگلی پچھلی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کی بالکل واضح الفاظ میں وضاحت ہے اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی درسگاہ میں مولانا بدیع الزمان صاحب نے نورلانوار ملا جیون میں یہی پڑھایا تھا اور اس کو احادیث کے خلاف لانے پر میری تائید کی فرمائی تھی۔ دوسری آیت نے پہلی کی توثیق کردی جیسا کہ دوبھائی ایک مدرسہ میں رہتے ہوں۔ تقی نے مرحلہ وار تین طلاقیں حکم کی موجودگی میںدیں۔ کوئی چیز گھر بار وغیرہ واپس نہیں لی مگر موبائل کی سم کا خطرہ ہے کہ اگر وہ نہیں دی تو یہ قریب میں دوسرے بھائی کے پاس رہتی ہے اور رابطہ ہوگا اور حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اسلئے وہ سم واپس کردی۔فیصلہ ہوگیا اور وہ عورت اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے بالکل آزادی کیساتھ دوسرے بھائی رفیع سے نکاح کیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ان میں ناچاقی ہوگئی ،اس نے بھی طلاق دی اور اب اس شرط پرپہلے سے رجوع کی اجازت ہوگی کہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اگر تقی کو گمان ہو کہ وہ نامرد طرح کا ہے اور جنسی تسکین نہ کرسکے گا اور عورت کو بھی گمان ہو کہ رفیع کی مردانہ قوت زیادہ ہے اور تقی سے دوبارہ نکاح کیا تو رفیع کے ساتھ جنسی تعلق کا خدشہ رہے گا تو پھر رجوع جائز نہیں ہوگا۔ قرآن کے واضح الفاظ میں ابہام نہیں ہے۔ احادیث میں نامردوں کے ذریعے حلالہ کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا لیکن بنادئیے گئے۔ صحابیات اور صحابہ کرام کے بارے میں نامرد کی باتیں تو وزیرستان کے محسود کہتے ہیں کہ ” شریعت میں شرم نہیں ہے”۔ لوگوں کو آیات واضح سمجھانا مقصد ہونا چاہیے۔

7: حلالہ کیخلاف ساتویں دفاعی لائن

واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ و لا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و ماانزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیمOواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر و اللہ یعلم وانتم لاتعلمونO(سورہ البقرہ 231،232)

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکے اور وہ عدت پوری کرچکیں تو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور ان کو ضرر کیلئے مت روکو تاکہ حدود کو پھلانگ جاؤ۔ اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ تم لوگ مت بناؤ اللہ کی آیات کو مذاق کا ذریعہ ۔ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے کتاب میں احکام کی آیات کی نعمت کو نازل کیا ہے اس کو یاد کرو اور جو تمہیں حکمت دی ہے اس سے کام لو جس کے ذریعے تمہیں وعظ کیا جاتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو ان کو مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ یہ نصیحت صرف ان کیلئے ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔

ان آیات میں عدت کی تکمیل کے بعد اور تاحیات میاں بیوی جب بھی رجوع کرنا چاہیں تو حلالہ کی لعنت کو رکاوٹ بنانا تزکیہ اور طہارت کی جگہ بہت بڑا گند ا دھندہ ہے لیکن مفتی دلا خود بھی آیات نہیں سمجھتا اور جس کو اللہ نے سمجھ دی ہے اس کی بھی نہیں مانتا اسلئے کہ ان کا ریاستی ڈھانچہ ختم ہوگا۔ جب لوگ ان کے کہنے پر بیویاں حلالہ کے نام پر چدھوا سکتے ہیں تو خود کش اور جان کی بازی دینا کونسی بڑی بات ہے؟۔ پہلی کڑی اسلام کی میاں بیوی کے درمیان حکم کے بعد جدائی کا فیصلہ زرقاء کے بیٹے مروان بن حکم نے ختم کیا ۔جاوید غامدی اور مفتی تقی عثمانی کو اسلام نہیں زرقاء کے بیٹے کی پشت سے نکالا ہوا جھوٹ چاہیے حکم نہ ماننے کی وجہ سے خوارج پیدا ہوگئے ،یہ انکا دین ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی ماحول میں بھی دورہ حدیث اور شیخ الحدیث کا تصور نہیں تھا۔ ختم بخاری کا دلہا حلالہ کیلئے تیار ہوتا ہے حالانکہ بخاری میں طلاق کے حوالے سے سبھی احادیث کو بے بنیاد جگہ جوڑ دیا گیاہے لیکن رفع الیدین کی حدیث نہیں مانتے اور حلالہ کی غلط روایت جس کا کوئی جواز نہیں مانتے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حافظ ؟جنس پر ستی پر والد کا قتل :

کروڑ لعل عیسن لیہ کا واقعہ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔

واللاتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاOواللذٰن یاتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا و اصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًا رحیمًاOسورہ النساء

”اگرتمہاری عورت فحاشی کرے تو اپنوں میں چار سے گواہی مانگو ،وہ گواہی دیں تو انہیں گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد بدکاری کریں تو دونوں کو اذیت دو اور اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو انہیں طعنے مت دو۔ بیشک توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے”۔(15،16)

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع اور مفتی ولی حسن ٹونکی نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا۔ آیت15کو سنگساری کی دلیل بنا دیا ۔کچھ نے سورہ نور کی آیت کو متبادل لکھا جہاں کوڑوں کی سزا ہے۔ محکم آیات کی غلط تفسیر تو متشابہات ؟۔ پرائی نہیں اپنی عورتوں کو فحاشی پر گھروں میں نظر بندکرنے کا حکم ہے تاکہ ماحول کو خراب نہ کریں اور مریں یا شادی ہوجائے۔ مردوں کیلئے اذیت ہے۔ تھپڑ ، لاٹھی اور سرمہ دانی جلانے کا معاملہ ہو تو بھی ٹھیک اذیت ہے اسلئے کہ عورت کا توعلاج شوہر مگر مرد تو ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ جیسے حافظ حاشر کیلئے جنسی پیاس کیلئے واحد ذریعہ بدمعاش تھا جس کو پہلے بگاڑ دیا گیا اور بعد میں ایک ہی شخص ملتا ہوگا جس کیلئے باپ کو مار ڈالا۔ حضرت علی نے زندہ نہیں جلایا بلکہ سرمادانی جلادی۔ بے ضمیر مضر ہوتے ہیں اسلئے ان کا ہرممکن اذیت سے علاج ضروری تھا۔ مفتی عزیز الرحمن و شیخ الحدیث نذیر احمد کے علاوہ بے ضمیر لوگوں کو حلالہ سے چھٹکارا ملے تو بھی عزتیں بچانے کیلئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

3 طلاق پر حلالہ

3 طلاق پر حلالہ
پیر نصیر الدین گیلانی

مولاناپیرنصیرالدین: محترمہ کون صاحبہ بات کر رہی ہیں؟
ایک خاتون: جی میں اپنا نام نہیں بتانا چاہتی ہوں۔ مجھے پیر صاحب سے بات کرنی ہے۔مولانا صاحب: جی ضرور کیجیے۔ جی جی فرمائیں، میں سن رہا ہوں۔
خاتون: ہیلو اسلام علیکم جی۔

مولانا: وعلیکم اسلام۔
خاتون: جی مجھے طلاق کے بارے میں ایک بات پوچھنی ہے اگر اجازت ہو تو؟ ۔
مولانا: جی جی۔

خاتوں: ایسا ہے کہ مجھے میرے خاوند نے کتنی دفعہ ہی کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ تو ایک دن اس نے مجھے بہت مارا ہے اور اس نے مجھے کہا ہے اوپر نیچے کوئی چھ سات دفعہ۔پھر میں نے اس کا گھر چھوڑ دیا لیکن کچھ مولانا سے پوچھا تو کچھ کہتے ہیں کی طلاق ہو گئی لیکن کچھ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ کوئی آپ کے پاس کوئی اور گواہ نہیں تھا۔

مولانا: بی بی طلاق کے سلسلے میں یہ جو غیر مقلد حضرات ہیں جو کسی امام کو نہیں مانتے نہ امام ابوحنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ شافعی کو، نہ حنبل کو۔ وہ اجتہاد کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے حدیثیں ہی کافی ہیں بس۔ ہم بحمداللہ امام ابوحنیفہ مانتے ہیں اور ان کے ہم کوئی رشتہ دار نہیں نہ ماموں یا چچا لگتے ہیں۔ ہم انکے علم سے متاثر پوری امت ان کی اقتدا کرتی ہے سمجھ آئی ناں؟۔ انکے خلوص ، محبت اور ان کا جو تفقہ کا مقام تھا تو انکے نزدیک اور میرے دادا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی لکھا فتاوی مہریہ میں کہ تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں۔ پھر حلالہ کے بغیر عورت پہلے خاوند پر جائز نہیں۔ رہا یہ سوال جو غیر مقلد حضرات کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت کہ تین طلاق ایک ہوتی ہے۔ اگر قابل قبول ہوتی تو ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ، امام محمد ، امام یوسف جیسے لوگ ،آج کل کے یہ حضرات ان کے جوتوں کی دھول کے برابر بھی نہیں تو یہ ضرور اس روایت پر فتوی دیتے کہ تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے فقہا ء احناف کے نزدیک تین دینے والا تین واقع ہوتی ہیں۔ لہٰذا آپ ان کی باتوں پر نہ جائیں اگر آپ غیر مقلدہ ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ پھر اس کی سند پر کوئی اعتبار نہیں۔ یہ نہ ہو کہ میل ملاپ میں فعل حرام ہو اور حرام کاری ہوتی رہے۔ احتیاط کریں ،مستند جید احناف اور اہل علم سے رجوع کریں تا کہ صحیح مسئلہ بتائیں۔ میں نے مسئلہ آپ کو بتا دیا کہ طلاق ہو گئی ہے کیونکہ تین الفاظ سے تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔

تبصرہ :عتیق گیلانی:

یہ اجتہادی مسئلہ نہیں کہ حلالہ ہو یا نہیں؟۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ درس نظامی کی اصول فقہ ”نورالانور: ملاجیون” میں ہے کہ حلالہ کی طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے ۔ عورت ، شوہراور فیصلہ کرنے والے سبھی فدیہ کا متفقہ فیصلہ کریں، کنفرم ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو حضرت عمر نے تین طلاق، حضرت علی نے حرام پر فیصلہ دیا۔ نبیۖ کے ایلاء پر بھی اللہ نے فرمایاکہ تمام ازواج کو علیحدگی کا اختیار دیں لیکن عورت راضی ہو تو طلاق مغلظ کا تصور اہلحدیث کے امام بخاری نے غلط تراشاہے۔ائمہ مجتہدین کا مطلب یہ نہ تھا کہ قرآن میں صلح کا حکم منسوخ ہے۔اسلام اجنبی بن گیا تو ظہار کا حکم بھی سورہ مجادلہ میں واضح ہوا۔ علماء حق کو اجنبی اسلام ملا تھا۔ نبیۖ سے عورت کا مجادلہ ہوا :”وہ قول منکراورجھوٹ ہے” ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دورحاضر اور گزشتہ ادوار کے علماء حق کے نام جنہوں حق کوببانگ دہل تسلیم کیا

حضرت مولانا اکرم سعیدی روڈ ایکسیڈنٹ میں مرتبہ شہادت کو پہنچ گئے۔ ڈاکٹر فداء خلیفہ مولانا اشرف سلیمانی نے اپنے ایک ڈاکٹر کا حادثے میں شہادت کا لکھا ہے۔

علماء حق کے قلم کی سیاہی کو شہداء کے خون سے اسلئے ہی افضل قرار دیا ہے کہ ان کا درجہ مصدقین اور صدیقین کا ہوتا ہے۔ مکذبین حق کی تکذیب کرنے والے کافر ہوتے ہیں اور مصدقین حق کی تصدیق کرنے والے صدیقین ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ کو اجنبی اسلام ملا تھا اسلئے سورہ مجادلہ نازل ہوئی۔ جاہلیت کی طلاقیں عورتوں کیلئے اذیت تھیں۔ ظہار کے بعد ناممکن تھا۔حرام پر مغلظہ، اکٹھی تین طلاق پر حلالہ اور طلاق بائن سے تعلق ختم ، رجعی میں عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع ہوتا تھا لیکن افسوس کہ پھر قرآن چھوڑ کر جاہلیت مسلط کی گئی۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیااور چھوڑ دیا۔ علماء حق کا تعلق صرف مسلمان فرقوں یا جماعتوں سے نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے بھی ہے اور علماء سو کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا بلکہ ہرفرقے اور مذہب میں علماء سو ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام علماء حق اور عیسائی یہودی پادری اور ہندو پنڈتوں سے بھی حق سمجھنے کی ایک اپیل کرتا ہوں۔

قرآن میں علماء سو کی مثال گدھوں اور کتے سے دی گئی۔

پنجابی کہتے ہیں کہ ”جتھے دی کھوتی اوتے ان کھلوتی”۔ علامہ محمد اسد یہودی سے مسلمان بن گیاتھا۔ پاکستان کا پہلا پاسپورٹ نمبر000001پندرہ ستمبر1947ء کو جاری ہوا تھااور اس نے اسلام اسلئے قبول کیا تھا کہ قدیم یہودی اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ،قرآن و احادیث میں حلالہ کی لعنت بھی ایک تھی۔ اس بیچارے کویہ پتہ نہیں تھا کہ یہود کے نقش قدم پر ہم مسلمان بھی اپنے دین میں معنوی تحریف کا ارتکاب کرچکے۔ جس کا علامہ انورشاہ کشمیری نے کھل کر تحریری اور زبانی اقرار کیا تھا لیکن حالات کو سدھانے کیلئے موقع نہیں ملا کیونکہ آخری دور1920میں شیخ الہند اور33ء مولانا کشمیری سے کیا ہونا تھا؟۔

سوشل میڈیا اور مواصلات کے ذرائع، لکھنے اور چھاپنے کی آسانی اور پہنچانے میں عدم دشواری اور پڑھے لکھے لوگوں کی بھی اکثریت لیکن19سال ہوگئے اور بہت ساروں کی تائید کے باوجود بھی تاحال تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی لیکن جب آئے گی تو

واذالسماء شقت واذنت لربھا و حقت

چھت پھاڑ کر آئے گی ، انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم المتعال

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ طلاق بہت حساس موضوع ہے

اور نایاب اور حساس کی طرف اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے اور میں بھی نہ دیتا لیکن کئی بار پھنس گیا تو پھرآخر میں قرآن سے دماغ کھل گیا اوراحادیث بھی قرآن کے خلاف نہیں تھیں ۔ علم کی درست بنیادوں پر اچھے علماء کی حوصلہ افزائی بھی دیکھی تھی۔

قرآن میں طلاق کا پہلا ذکر آیت227البقرہ میں ہے۔ جبکہ اس سے پہلے 222،223،224،225،226کی5آیات میں طلاق کے مقدمات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد228،229،230،231اور232کی5آیات میں پھر طلاق کی تمام تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن میں کوئی ابہام نہیں ۔ لیکن قرآن کے سادہ متن کو سمجھنے کے بجائے اس کی بوٹی بوٹی کرکے سمجھنے کی کوشش کریں گے اور کٹے ہوئے بکرے یا بکری کو سمجھنے کیلئے بوٹی بوٹی اور عضو سے سمجھیں گے تو مشکل ہوگی؟۔

علماء حق اور قارئین کے سامنے گر کی بات رکھ دیتا ہوں کہ

وان عزم الطلاق فان اللہ سمیع علیمO البقرہ:227

”اور اگر اس کا عزم تھا طلاق کا تو اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

عزم دل میں ہوتا ہے اور اللہ وہ بھی سنتا اور جانتا ہے لیکن یہ کیوں فرمایاہے؟۔ سیاق وسباق آگے پیچھے کو کہتے ہیں۔ اس سے پہلے آیت226میں

تربص اربعة اشھر

کا ذکر ہے۔ چار مہینے کا انتظار ہے۔ آیت228میں

یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء

کا ذکر ہے۔تین ادوار یا تین مہینے کا انتظارہے۔

اگر طلاق کا اظہار کیا تو عدت تین ماہ اور اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو چار مہینے کا انتظار ہے۔

دونوں عدتوں میں ایک ماہ کا فرق ہے۔ اگر طلاق کا عزم تھا اور اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ کی پکڑہے۔ کیونکہ ایک مہینے عورت کاعدت کو بڑھانا خوامخواہ میں یہ بہت بڑا جرم ہے۔ طلاق دینے کا عزم نہیںتھاتو ایک مہینے زیادہ انتظار کا موقع بھی مل جائے گا لیکن اگر عورت راضی نہیں ہوئی تو چار ماہ کے بعد عدت پوری ہے اور وہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ میں رجوع فرمایا ۔اللہ نے حکم دیا کہ ان پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورتیں مسائل کا شکار نہیں ہوں۔ عورت سے اس کا اختیار چھین لینا بہت بڑی زیادتی ہے ۔ جاہلیت میں عورتیں انہی اذیتوں کا شکار تھیںاور سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ماہ عدت بڑھانا دل کا گناہ تھا تو زیادہ عدت بڑھانے کاسوال پیدا ہوتا ہے؟۔ جاہلیت میں شوہر طلاق کا اظہار نہ کرتاتھا تو بیوی بڑی رلتی تھی۔

”اللہ تمہیں لغوایمان پر نہیں پکڑتا مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا” ۔البقرہ آیت225۔شیاطین نے ہر جانب سے اللہ کا حکم بوٹی بوٹی بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ ایک طرف عدت کی مدت بڑھانا، دوسری طرف لغو طلاقیں حرام، مغلظ ، بتہ وغیرہ کی جعل ساز شریعت جس میں الفاظ منہ سے نکلتے تو بیوی سے جدا ہونا پڑتا تھا۔ اللہ نے واضح کردیا کہ ان لغویات سے خدا تمہیں نہیںپکڑتا ہے مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔

قرآن کی آیات کو عربی اور اپنی اپنی زبانوں میں دل نشین کرلو اور پھر احادیث صحیحہ کا درست تجزیہ کرکے خلفاء راشدین کے فیصلوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھ لو اور پھر ائمہ مجتہدین کے مسالک کو سمجھ لو تو اسلام روح، ذہن اور دل کی غذا بن جائے گا مگر قرآن وحدیث کو سمجھے بغیر فقہاء بھی سمجھ میں نہیں آسکتے ۔
میں اسلئے نہیں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک سے مجھے تربیت ملی ہے کہ امام ابوحنیفہ امام اعظم کہلانے کے مستحق تھے بلکہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے بعد امام ابوحنیفہ کے مسلک حق کو سمجھنے میں زبردست مدد ملی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شافعی، مالکی، حنبلی، اہلحدیث اور شیعہ بھی امام ابوحنیفہ کے مسلک کو اپنے دل اور دماغ کیساتھ قبول کر کے اسلام کا پرچم بلند کریں گے۔

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فائوا فان اللہ غفور رحیمO (سورہ بقرہ آیت226)

”ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اپنی عورتوں سے ایلاء کیا ہے چار مہینے کا انتظار ہے پس اگر وہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔

باقی لوگ علامہ ابن قیم شاگرد امام ابن تیمیہ وغیرہ اور سب جمہور کے نزدیک یہ آیت طلاق سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ واحد فقیہ ہیں جو اس کو طلاق قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ طلاق کا ذکر اگلی آیت227میں پہلی بار ہواہے لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ آیت227کا تعلق آیت226اور225سے بھی ہے ۔224،223،222تک اس کی جڑیں بہت مضبوطی سے پھیلی ہوئی ہیں۔قرآن کی مثال اس پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے ہر وقت پر اپنا پھل دینے کا سلسلہ رکھتا ہے۔

آیت227البقرہ میں طلاق کے ساتھ گناہ کو باندھ دیا۔ اسلئے کہ آیت226کے ایلاء میں4مہینے کا انتظار ہے اور پھر228میں تین مہینے کا انتظار ہے اور طلاق دونوں میں ہے جبکہ عربی میں طلاق صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ عورت چھوڑنے اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے کو ہی طلاق کہتے ہیں۔

قرآن میں طلاق کے ترازو میں اگرآیت227سے پہلے اور بعد کی آیات کو انصاف کیساتھ وزن کیا جائے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ آیت226میں چار ماہ کی عدت اور228میں طلاق کا اظہار کرنے کے بعد تین ماہ کی عدت واضح ہے۔

مثلاً زاہد نے اپنی بیوی سلمہ سے ایلاء کیا اور طلاق کا اظہار نہیں کیا۔ سلمہ نے4مہینے تک انتظار کیا اور پھر کسی اور شوہر سے نکاح کرلیا۔ سلمہ کو 4مہینے کی عدت میں کتنی اذیت ہوگی؟۔

یاپھر زاہد نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق اور سلمہ نے تین مہینے تک اس کا انتظار کیا تو سلمہ کو کتنی اذیت ہوگی؟۔

دونوں صورتوں میں سلمہ کی ذہنی اذیت کا اندازہ لگا یاجائے تو پہلی صورت میں رجوع کی زیادہ توقع ہوگی اور دوسری میں رجوع کی کم توقع ہوگی اسلئے اذیت میں کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا۔

جمہورشیعہ، شافعی، مالکی، حنبلی، اہل حدیث، ابن قیم ، ابن تیمیہ اور داؤد ظاہر ی وغیرہ کے ہاں تو قرآن میں چار ماہ کے بیان کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔ ساری زندگی ہی عورت نے اپنے شوہر کا انتظار کرنا ہے جب تک کہ وہ زبان سے طلاق کا اظہار نہیں کرتا ہے۔ قرآن کے واضح الفاظ چار مہینے کے انتظار کو ہی ان لوگوں نے شیطانی دماغ سے بالکل لغو بنادیا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ مسلک حنفی میں15فیصد امام ابوحنیفہ کے مسلک پر عمل ہوتا ہے لیکن باقی85فیصد شاگردوں کے مسلک پر عمل ہورہاہے۔

یعنی امام ابوحنیفہ سے امام ابویوسف وغیرہ سب منحرف ہوگئے تھے۔

یہ امام ابوحنیفہ سے انحراف کا نتیجہ ہے کہ قرآن کی درست تعلیمات سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایلاء کی عدت چار ماہ ہے اسلئے کہ قرآن بالکل واضح ہے مگر شاگردوں نے جمہوری کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ چار ماہ کے بعد طلاق ہوگی اور پھر عورت کی عدت شروع ہوگی اور یوں چار مہینے کیساتھ تین مہینے مزید ملائے جائیں تو عورت کو جعل ساز حنفی مسلک میں7مہینے کی عدت گزارنی ہوگی۔

اس کے بعد پھر ایک بہت بڑا معرکہ شروع ہوگیا۔ مسلک حنفی والوں نے کہا کہ چار مہینے کے بعد نکاح ختم ہوگیا اور باقی کہتے ہیں کہ نکاح برقرار ہے۔ دیکھو یہ دلے کیسے ظالم قصائی بن گئے ہیں۔ قرآن کی آیات کے احکام کو کتوں کی طرح اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔جمہور کہتے ہیں کہ پہلے شوہر کا نکاح باقی ہے اور وہ عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے لیکن حنفی کہتے ہیں کہ عورت پہلے شوہر کے نکاح سے نکل چکی ہے اور عدت کے دن گزار رہی ہے۔ عورت کو چار مہینے پہلے سے شوہر نے ہاتھ نہیں لگایا اور تین مہینے ابھی مزید انتظار کی عدت ہے۔

علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ” مرد کو چار بیویوں کی اجازت اسلئے ہے کہ اگر ہوسکتا ہے کہ دو اور تین عورتوں کے حیض کا وقت ایک ہو اور پھر شوہر کی شہوت کیلئے چوتھی بھی ہونی چاہیے کیونکہ یہ مشکل ہے کہ چار کو ایک ساتھ حیض آجائے”۔

خدا مرد پر اتنا مہربان ہے اور عورت کا اتنا دشمن ہے کہ چار ماہ تک انتظار کیا اور اب تین ماہ مزید عدت گزارنی پڑے گی؟۔ یہ تو حنفی مسلک والے ہیں جن کے ہاں7مہینے بعد تو عدت ختم ہوجائے گی لیکن جمہور کے نزدیک تو7سال میں بھی عدت ختم نہیں ہوگی۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لکھ دیا ہے کہ ” جمہور کا مسلک درست ہے ، احناف کا غلط ہے اسلئے کہ آیت226کے بعد227میں فان عزموا الطلاقہے ۔ ف کو متصل لانے سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی عزم کی گنجائش بھی باقی ہے تو طلاق کہاں ہوئی ہے؟۔ ف تعقیب بلا مہلت ہے۔

ایک آدمی یہ نہیں سمجھتا ہے کہ آخر ف تعقیب بلامہلت میں کونسی گیدڑ سنگی ہے؟۔ بریلوی مکتبہ فکر کے بہت قابل عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” آیت230میں

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

(اور اگر اس کے بعد اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ) میں اگر ”ف” تعقیب بلا مہلت کا مسئلہ نہیں ہوتا تو پھر قرآن و احادیث بالکل تقاضہ یہی تھا کہ الگ الگ تین طلاقیں دی جاتیں”۔

جس کا مطلب یہی ہے کہ آیت229میں الطلاق مرتان کو کھینچ کر لانے اور تیسری طلاق سے متصل کرکے یکجا کرنے میں ف تعقیب بلا مہلت کا ہی زبردست کردار ہے۔

حالانکہ نور الانوار میں ملا جیون نے اسکے بالکل برعکس لکھ دیا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک دو مرتبہ کی طلاق کے بعد فدیہ کو جملہ معترضہ مانا جائے اسلئے کہ دو مرتبہ کی طلاق کے بعد خلع کو متصل مان لیا تو پھر آیت230کی تیسری طلاق چوتھی طلاق بن جائے گی اور چوتھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے جبکہ حنفی کہتے ہیں کہ ف تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے اسلئے آیت230کی طلاق کا تعلق اپنے سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ چوتھی طلاق بن جائے گی تو فدیہ کو مقدمہ بناکر شامل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر تیسری طلاق واقع ہوگی۔ پاکستان کے ایک نام حنفی عالم علامہ تمنا عمادی نے اس کو بنیاد بناکر کتاب لکھی جس کا نام ”الطلاق مرتان” رکھ دیا اور خلع والی طلاق سے ہی حلالہ کو منسلک کردیا ۔ اور کہا کہ قرآن میں صرف دو طلاق ہیں اور تیسری طلا ق کا وجود قرآن میں اللہ نے ختم کردیا اور حلالہ کو عورت کے خلع کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ کوئی عورت خلع لے گی تو پھر سزا کی بھی مستحق ہوگی ۔ مرد کی وجہ سے عورت کو سزا کا تصور اللہ تعالیٰ نے بالکل ختم کردیا ہے۔

امام ابوحنیفہ کے مسلک کا اصل ہدف قرآن چھوڑ دیا گیا تو علامہ تمنا عمادی اور علامہ غلام رسول سعیدی نے آپس میں کتنا بڑا اختلاف کیا اور دونوں حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں؟۔

امام ابوحنیفہ کے مسلک کی صحیح ترجمانی کرنے کیلئے آیت230فان طلقہا کی طلاق کو آیت229میں متصل فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ اگر عام شخص قرآن کی آیت کو دیکھے گا تو کیا نتیجہ نکالے گا؟۔ احادیث کے آئینہ میں اس کا کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے؟۔ اگر یہ سب ہی بات میل کھاتے ہوں تو پھر قرآن کو بھی مانیں۔ احادیث کو بھی مانیں اور انسانی فطرت میں رکھی ہوئی انسانی عقل کو بھی مانیں اور یہ نتائج اخذ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سورس سے بھی اس مسلک کو زبردست تقویت پہنچتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قیم امام ابن تمیہ کے شاگرد نے بھی زاد المعاد میں حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے اسی مسلک حنفی کی تائید کردی ہے۔ وہ خلع کے باب میں لکھتے ہیں کہ ”عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس کو رسول اللہ ۖ نے قرآن فہمی کی دعا دی تھی اور یہ دعا ان کے حق میں قبول ہوگئی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ حلالہ کی طلاق آیت230کا حکم سیاق وسباق کے بغیر نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ آیت229میں جتنے مرحلے بیان کئے گئے ہیں ، ایک یہ کہ الگ الگ مرتبہ طلاقیں اور دوسرا یہ کہ فدیہ کی صورت حال ان سب کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے بغیر حلالہ کا حکم لگانا اور تیسری طلاق کو جاری کرنے کا فتویٰ دینا غلط ہے۔

اس کا مطلب یہی ہوا کہ علامہ ابن قیم کے نزدیک عبداللہ ابن عباس نے بھی وہی موقف اختیار کیا تھا جس کو حنفی کتابوں میں مسلک حنفی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ مختلف ہے۔

جب تک قرآن کا متن اور احادیث کی شرح نہیں دیکھیں گے تو یہی رٹ لگائیں گے کہ دونوں اجتہادی مسالک ہیں اور کوئی بھی صحیح ہوسکتاہے۔ اجتہاد تو اس وقت آئے گا کہ جب یہ مسئلہ قرآن نے حل نہ کیا ہو۔ حدیث میں واضح نہ ہوا ہو۔

آیت230کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آیت229اور231کو سمجھ لیںاور آیت229کو سمجھنے کیلئے آیت228اور230کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی آیت کو سیاق و سباق سے الگ قصائی کی طرح بوٹی بوٹی کرکے سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ٍ ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة اللہ عزیز حکیم(228)

اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین ادوار (تین ماہ) تک اپنے آپ کو روکیں۔اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے ارحام میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور یوم آخرپر یقین رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں اصلاح کی شرط پران کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیںاور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو شوہر وں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور آدمیوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غالب اور بہت حکمت رکھنے والا ہے”۔

مردوں کا ایک درجہ کیا ہے؟۔

عورتوں کو حیض آتا ہے لیکن مردوں کو نہیں آتا ہے یہ ہوا ایک درجہ اور حقوق دونوں کے برابر ہیں معروف کیساتھ۔ایلاء میں عدت چار مہینے یہاں تین ادوار یا تین مہینے اور بچہ ہو تو اس کو چھپایا حلال نہیں اور عدت میں ان کے شوہر اصلاح کی شرط پر زیادہ حقدار ہیں اور عورت عدت کی پابند ہے رجوع کی نہیں اسلئے وہی معروف حق اس کا بھی ہے۔

سب بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ رجوع میں صلح کی شرط اور عورت کے معروف حق رجوع سے انکار کا حق اپنی پچھاڑی کے اندر چھپاتے ہیں۔ عورت کیلئے جیسے رحم مادر میں بچے کا چھپانا حلال نہیں اس طرح مذہبی طبقے کو صلح اور معروف کی واضح شرط کو چھپانا جائز نہیں ہے۔ علماء اور عوام خاص طورپر نوٹ کرلیں۔

الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان و لا یحل لکم ان تاخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاولیٰئک ھم الظالمونO (سورہ البقرہ آیت229)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں کچھ بھی واپس لومگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہوکہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ دی ہوئی چیزقربان کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو پھر وہی لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں”۔

یہ آیت228کی مزید وضاحت ہے۔ عدت کے تیسرے مرحلے میں دو مرتبہ طلاق کے معروف کی شرط پر صلح یا احسان کے ساتھ چھوڑنا ہے۔ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے آیت229میں ۔دیوبندی وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور بریلوی تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں حدیث لکھ دی۔

بخاری میں متعدد مرتبہ عبداللہ بن عمر کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ سمجھایا اور فرمایا قرآن میں یہی عدت و طلاق واضح ہے۔

عورت کی مرضی اور معروف طریقے کے بغیر طلاق رجعی کا حق منکر ہے ۔ شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے بھی رجوع نہ ہوگا اورحنفی مسلک میںنیت نہ ہو تو شہوت کی نظر پڑنے سے بھی رجوع ہوجائے گا۔ دونوں صورت میں مرد کو اختیار دیکر عورت کو اذیت پہنچانے کا سامان کیا گیا ہے اور عبداللہ بن عمر اور امام مالک کے نزدیک بیوی کی گانڈ مارنے کا بھی حق ہے حالانکہ قرآن نے حیض اور اذیت کو واضح کیا تھا۔

عورت کا اختیار ختم کرنے سے اس کی مدت آیت228کی واضح ہدایت تین ماہ کے خلاف جتنی مرضی بڑھاسکتے ہیں۔ پھر آیت229میں احسان کیساتھ تیسری مرتبہ میں طلاق نے واضح کیا ہے کہ عورت کو اسکے حق سے زیادہ مالی حقوق دیدو۔ اور پھر پابند کیا ہے کہ ”جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لینا حلال نہیں ہے”۔ یہ حقوق کیلئے واضح عنوان ہونا چاہیے تھا جس کا ذکر سورہ النساء آیت20میں بھی ہے۔ سورہ النسائ:35میں جدائی کے خدشہ پر دو نوں کے خاندان سے حکم مقرر کرنے کا حکم ہے ،اگر وہ معروف صلح و اصلاح پر راضی ہوں تو اللہ موافقت پیدا کردے گا لیکن اہل سنت نے خوارج سے متاثر ہوکر حکم کے قرآنی تصور کو ختم کردیا ہے۔ حالانکہ آیت229میں بھی حکم کی وضاحت ہے۔ دونوں کو خوف ہو کہ اگر شوہر نے کوئی ایسی چیز دی جو اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں اور حکموں کو ڈر ہو کہ دونوں گتھم گتھا ہوکر جنسی اسکینڈل کا شکار ہوں گے تو پھر عورت کی عزت کے تحفظ کی خاطر شوہر کی طرف سے دی گئی وہ چیز واپس کی جائے جس پر دونوں کیلئے کوئی حرج نہیں ہے اسلئے کہ عورت کی عزت کا تحفظ دئیے ہوئے مال سے زیادہ ضروری ہے۔ جو دیا ہوا مال واپس لینا حلال نہیں تھا تو اس کو بھی عزت بچانے اور اللہ کے حدود توڑنے سے بچنے کیلئے سب کی مشترکہ صلاح سے واپس کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرے تو پھر وہ لوگ ظالم ہیں۔

مذہبی طبقات بشمول کالیا جاویداحمد غامدی نے اللہ کی بیان کردہ ساری حدود کو توڑ دیاہے۔ اللہ نے تیسری مرتبہ طلاق کی وضاحت کرنے کے بعد عورت کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اور یہ دلے اور بے غیرت شرم و حیا سے عاری انسانیت اور قرآن وسنت کے بدترین دشمن الٹی گنگا بہاتے ہیں ۔ عورت کے مالی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔یہ اللہ کے حدود سے تجاوز اور عورت کے حقوق کو پامال کرنے والے یہی ظالم ہیں۔

تیسری طلاق کے بعد دونوںاور حکموں کے کردار کو واضح کیا اور اس میں مجبوری کی حالت میں شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز فدیہ کرنا جس کا اصل کے اعتبار سے واپس لینا غلط تھا لیکن عورت کی عزت اور اللہ کے حدود کا تحفظ ضروری تھا۔ ایسا کہ جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن بقدر مجبوری جائز ہے اور اس صورتحال سے عزیز حکیم خدا نے قیامت تک مخلوق خدا کے پاس پیغمبر نہیں بھیجناتھا اسلئے بھرپور طریقے سے وضاحت کردی کہ یہ وہ شکل ہے جس میں آیت229کے مطابق معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی نہیں ہے اور جب یہ کنفرم ہو پھر بھیڑئیے سے زیادہ بڑے ظالم معاشرے سے بچانے کیلئے پھر آیت230البقرہ کی زبردست وضاحت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کو تو چھوڑ دیں قبائلی معاشرہ ہے۔ سندھی، پنجابی، بلوچ اور پختون معاشرے میں اقدار کا مسئلہ ہے لیکن برطانیہ میں تو اقدار کا مسئلہ نہیں ہے لیکن طلاق کے بعد پھر بھی لیڈی ڈیانا کسی اور سے جنسی تعلق قائم کرنے پر قتل کردی جاتی ہے۔

فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبنھا لقومٍ یعلمون O

”پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پھر اگر وہ طلاق دے تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ دونوں گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم کر سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو اللہ واضح کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت230)
تقی جان نے اپنی بیوی کو آیت229کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں، اس کی بیوی مرجانہ نے اس خوف سے کہ آئندہ سابقہ پڑے گا تو اس کے دئیے ہوئے ایک کمرہ کو بھی واپس کردیا اسلئے کہ فیصلہ کرنیوالوں نے کہا کہ تقی مرجان یہ کمرہ خریدنے کی استعداد نہیں رکھتا ہے۔ اور کمرے میں آنا جانا رہا تو سابقہ شوہر ہونے کے ناطے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا ڈر ہے۔

پھر مرجانہ نے اس کے بھائی رفیع سے شادی کرلی اور کچھ عرصہ کے بعد رفیع نے بھی طلاق دی۔ اب تقی اور رفیع دونوں آپس میں سگے بھائی بھی ہیں اور پڑوسی بھی ہیں لیکن معاملہ یہ بھی ہے کہ رفیع کے پاس مضبوط جنسی طاقت ہے اور تقی مردانہ کمزوری کا بدترین شکار ہے۔ اگر تقی اس کی سابقہ بیگم مرجانہ کو دوبارہ آپس میں رجوع کرنا ہے تو اس وقت کرسکتے ہیں کہ ان دونوں کو یہ گمان ہو کہ اللہ کی حدود پر دونوں قائم رہ سکیں گے مگر یہ یقین نہیں ہو بلکہ مرجانہ کا اس طلاق کے بعد رفیع کیساتھ پھر بھی ناجائز جنسی تعلقات میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو تو دونوں کو رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی حدود کو ڈبر ڈوس کرتے رہے ہیں گے اور یہ حالات دیکھ کر آیت229اور230میں فیصلہ کرنے والے فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس وقت دونوں میں یہ خوف ہوگا کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیںگے۔ رہایہ کہ آیات میں تو واضح ہے کہ تقی اور مرجانہ جنسی تعلق سے اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے لیکن دوسری آیات میں تو رجوع پر تقی اور مرجانہ کے اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خوف ہے؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب مرجانہ اور رفیع جنسی تعلق استوار کریںگے تو تقی مرجان دونوں کو قتل بھی کرسکتا ہے اور سورہ نور میں لعان کا حکم ہے قتل کی اجازت نہیں ہے۔مرجانہ جنسی لذت میں اسکینڈل کا شکار ہوگی اور تقی مرجان قتل بھی کرسکتا ہے۔

اب امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کو سمجھنے میں آسانی ہے کہ نورالانوارمیں ملاجیون نے آیت230کی طلاق کو فدیہ سے آیت229کے عین مطابق کیوں منسلک کردیا ہے؟۔

جواب بالکل واضح ہے کہ میاں بیوی اورفیصلہ کرنے والے تیسری طلاق کے بعد ایک متفقہ فیصلہ کردیتے ہیں کہ حلال نہ ہونے کے باوجود عورت کی طرف سے خنزیر کے گوشت کی طرح شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز کو قربان کرنے کا مطلب واضح ہے کہ عورت اب رجو ع کیلئے راضی نہیں اور جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں اور یہ بات پہلے بھی تمام آیات میں واضح ہے لیکن مذہبی طبقات کو سمجھ میں نہیں آرہی تھی اسلئے آیت230میں زبردست قسم کی وضاحت کردی کہ جب تک کسی اور کیساتھ نکاح نہ کرلے تو وہ پہلے شوہر کیلئے حلال قطعی طور پر بالکل بھی نہیں ہے۔

جب عورت راضی نہ ہو تو آیت226کے مطابق ایلاء کی صورت میں بھی رجوع جائز نہیں ہے جس میں طلاق کا سرے سے اظہار بھی نہیں ہے۔ آیت تتخیر اور بخاری کی روایات میں یہ بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تو اللہ عورتوں کو علیحدگی کے اختیار کو واضح کرنے کا فرمایا اور یہ کوئی تنگ کرنے اور تفریح لینے کیلئے نہیں تھا بلکہ عورت کے حق کو واضح کرنے کیلئے تھا۔ اگر یہ واضح نہیں ہو تو شوہر بیوی کو چار ماہ کیلئے ناراض ہوکر چھوڑ دے گا اور وقت سے پہلے رجوع کرلے گا اور شوہر کو طاقتور ہونے کے باوجود ایک غلط بالادستی کا شرعی قانون ہاتھ میں آئے گا لیکن یہ ظلم خدا نے نہیں کیا ہے بلکہ اللہ کی حدود کو عبور کرنے والے ظالم مذہبی طبقات کا یہ کام ہے۔

امام ابوحنیفہ نے زبردست کمال کردیا کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھنے کیلئے علت نکال لی کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہوگی تو آیت230کے مطابق حلال نہ ہونے کا حکم لاگو ہوگا۔ جو صرف آیت230میں ہی واضح نہیں ہے بلکہ آیت228میں بھی واضح ہے اور آیت229میں بھی معروف کی شرط پر واضح ہے اور آیت230کے بعد آیات231اور232میں بھی معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر واضح ہے۔

لیکن جب عورت راضی ہوگی تو آیات228،229میں عدت کے اندر اور آیات231،232البقرہ میں عدت مکمل ہونے کے بعد بھی اللہ نے رجوع کو بالکل حلال قرار دیاہے۔ اور ان سب کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ نے یہ درست مؤقف ائمہ اہل بیت امام باقر اور امام جعفر صادق سے سیکھ کر اختیار کیا تھا۔ امام زید کا مسلک بھی اس سے ہٹ کر تھا۔ ان کی کتاب المجموع میں یہ ہے کہ الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن امام زید کا یہ مسلک عبداللہ بن عمر کے ہی مطابق تھا۔ جس کو بعد میں فاطمی خلافت نے فقہ جعفریہ کے طور پر پھیلادیا تھا ۔ علامہ شمس الدین حسن شگری نے درست کہا کہ شیعہ نے اہل سنت سے اصول فقہ اور دوسری تعلیمات حاصل کیں اور اہل سنت نے شیعہ سے حضرت عمر کا دن منانا سیکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ علامہ شمس الدین شگری کا مقصد کسی طرح سے اپنے ہم مذہب کو اس بات سے فائدہ پہنچانا ہے اور سب کا یہ حق اور دل کی تمنا ہے کہ جو حق یا اپنے ماحول کے مطابق کوئی بات لگے تو اس کو تقویت دی جائے۔ آیوش ملک جب محمد علی بن گیا تو ایک ہندو پنڈت کی باتیں بہت عمدہ تھیں لیکن وہ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہاہے کہ ایوش ملک گائے کو بچانے گیا ہے۔

امام ابوحنیفہ اور ائمہ اہل بیت کے مسلک کو بنوامیہ ،بنوعباس اور تمام فقہاء ، محدثین ، معتزلہ اور اہل ظواہر وغیرہ قبول کرتے تو قرآن سے امت دور نہیں ہوتی اور قرآن سے امت کے دور ہونے کا قرآن میں ذکر ہے جب عالمی اسلامی خلافت قائم ہو تو اس کیلئے اصل بنیاد یہی ہوگی کہ امت مسلمہ نے قرآن کو بڑا ذبح کردیا ہے۔پتہ نہیں کیا کیا بکواسات مسلسل بول رہی ہے اور نت نئے فتنے پیدا ہورہے ہیں ۔لیکن قرآن کا سادہ ترجمہ تک بھی نہیں آتا ہے ورنہ تو جو ترجمہ کیا جارہاہے ایک آیت کی دوسری آیت سے تردید ہورہی ہے معانی الٹ دئیے گئے ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جو قرآن کے منافی ہو۔

صحاح ستہ کے مصنفین ائمہ مجتہدین کے بعد کی پیدوار ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس پر ائمہ کا تفاق ہو کہ اس میں اکٹھی تین طلاقیں ہیں اور اس حدیث پر سب کا اتفاق ہے لیکن صحاح ستہ میں جمہور کے عنوان سے احادیث کا مجموعہ نقل کیا گیا ہے جس میں اکٹھی تین طلاق کے واقع ہونے کے دلائل بتائے گئے ہیں۔ درس نظامی میں اسلئے پہلے فقہ میں پختہ کردیا جاتا ہے اور آخر میں دورہ احادیث پڑھاتے ہیں۔

مولانا سلیم اللہ خان فقیہ نہیں محدث العصر تھے اور ان کا بڑا کمال ہے کہ سمجھ میں غلطی کھانے کے باوجود اپنی بخاری کی شرح ”کشف الباری ” میں بہت سارا مواد بہت بہترین انداز میں جمع کیا ہے اور علامہ غلام رسول سعیدی نے تو بخاری ومسلم کی شرح کے علاوہ تبیان القرآن میں بڑا مواد جمع کردیاہے۔

امام ابوحنیفہ و امام مالک کے ہاں اکٹھی تین طلاق بدعت ہے ،دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ”ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو تین طلاق دی نبیۖ اس پر غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟”۔(سنن نسائی)

امام شافعی ان دونوں کے شاگرد اور شاگرد کے شاگرد تھے لیکن ان کا موقف تھا کہ اکٹھی تین طلاق دینا سنت ہیں اور اس کی دلیل عویمرعجلانی کی لعان والی روایت ہے۔ جبکہ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے اور ان کے دونوں طرف پر ایک ایک قول ہے کہ سنت بھی ہے اور مباح بھی ہے اسلئے ان کو فقہاء کی فہر ست سے زیادہ محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ صحاح ستہ والے ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد ہیں۔

اب قضیہ کھڑا ہے صرف دو احادیث پر اور دونوں پر اتفاق نہیں ہے اور امام احمد بن حنبل نے ڈھیر ساری احادیث لکھیں لیکن اپنا کوئی مضبوط قول یا یکطرفہ موقف پیش نہیں کرسکے۔

اما شافعی نے الگ دکان نہیں بنانی تھی بلکہ ان کو علم ہوا کہ یہ محمود بن لبید کی روایت میں اشخاص کا ذکر نہیں۔ وہ خود چھوٹے صحابی تھے۔ اور بعض روایات میں تصریح ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر کا واقعہ ہے تو اس کو اکٹھی تین طلاق کیلئے بدعت کی دلیل بنانا غلط ہے جبکہ نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم بھی دیا تھا۔ جبکہ عمریمر عجلانی کی روایت مضبوط ہے جہاں نبی ۖ کی موجودگی میں لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں۔

حنفیہ و مالکیہ کی طرف سے جواب یہ ہے کہ شافعی کے ہاں لعان خود طلاق ہے تو اس کے بعد تین طلاق سنت قرار دینا غلط ہے۔ جبکہ لعان کی صورت اور عام حالات میں طلاق دینے کا معاملہ مختلف ہے۔ جب نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کے معاملہ پر غصہ فرمایا اور رجوع کا حکم دیا تو پھر اس عمل کی ترویج سنت نہیں بدعت ہے۔ یہ ہے فقہ و مجتہدین کے اختلاف کا پس منظر۔

اسکے بعدیہ معاملہ کہ تمام فقہاء کا اس پراتفاق تھا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں؟۔ اس کا ایک حکومتی پس منظر ہے کہ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر پھر بھی کہا جائے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور مرد کا حق رجوع بھی عورت کے راضی نہ ہونے کے باوجود بھی باقی ہے تو یہ قرآن کی جملہ آیات کے بالکل خلاف ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو قرآن و حدیث میں واضح ہے کہ ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر رجوع کا حق دیا جائے تو سال میں شوہر اپنی بیوی کے پاس تین مرتبہ جائے گا تو بھی یہ حق حاصل ہوگا؟۔ خدا نے ظلم نہیں کیالیکن یہود کے پیروکاروں نے خود پر یہ ظلم کیاہے۔

اسلئے اجماع کا یہ مؤقف درست ہے کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ، حرام ، تین طلاق ، ایک طلاق اور ایلاء کسی صورت میں بھی عورت راضی نہیں تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن اگر میاں بیوی راضی ہوں تو پھر الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی رجوع ہوسکتا ہے اور قرآن سے بھی یہ ثابت ہے اور حدیث بھی ثابت ہے۔

قرآن کی تو ایک ایک آیت میں طلاق سے رجوع کو عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد سورہ بقرہ کی آیات اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں معروف کی شرط واضح ہے اور منکر رجوع کی ایک ہی جگہ آیت230البقرہ میں واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اس کا تعلق عورت کی طرف سے یہ کنفرم ہونے کے بعد ہے کہ وہ فدیہ سے رجوع نہیں چاہتی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ ،ائمہ اہل بیت اور مجتہدین کا موقف تھا۔

امام بخاری اور امام ابوداؤد کے بارے میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے اور ابوداؤد ان کے مسلک حنبلی پر بھی تھے۔ جس نے یہ واقعہ نقل کیا کہ جب رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔پھر گواہ بنالئے اور خدا کا خوف کیا اور اسکو اسکے گھر سے قرآن کے مطابق نہیں نکالا۔ دوسری شادی کی اور دوسرا گھر بنایا تو جب اس کو طلاق دی تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی تلاوت کرتے ہوئے ام رکانہ سے رجوع کا فرمایا اور ممکن ہے کہ ام رکانہ کیلئے یہ ایک طرح کی سفارش ہو تاکہ رضامند ہو اور پھر جب رکانہ نے خود تین طلاق اکٹھی دیں تو نبیۖ نے اسلئے قسم نہیں کھلائی کہ فیصلہ قسم پر کرنا تھا بلکہ غلط حرکت پر ڈانٹ سے بچنے کا یہ طریقہ تھا ورنہ تو حضرت عمر نے قتل کی پیشکش کی تھی اور نبیۖ کو علم تھا کہ پہلے جس طرح کی بے غیرتی کا ماحول تھا کہ ایک عورت10افراد سے بھی نکاح کرتی اور لاتعداد کیلئے بھی جھنڈا لگاتی اور کمزور خاندان والے اپنی بیگمات بھی طاقتور خاندان کو حاملہ بنانے کیلئے سپرد کریتے اور حجاج بن یوسف کی طرح کم ذات لوگوں نے اسلام کو پھر اجنبی بنانا تھا لیکن جاوید غامدی الٹی گنگامیں سرکے بل ننگا کھڑے ہوکر قرآن ، احادیث اور فقہاء ومجتہدین کے خلاف رکانہ کی اس روایت سے دلیل پکڑ رہاہے۔ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اسلئے انہوں نے تین طلاق سے رجعی کا حضرت عمر کے خلاف غلط تصور پیش کیا تھااور باپ بیٹے کو پتہ ہوتا کہ بعد میں کیا معاملہ بن جائے گا تو اسی وقت اجتماعی دماغ کو بلاکر فیصلہ کیا جاتا کہ عبداللہ بن عمر کی بیگم نے غل غپاڑہ مچایا ہوا تھا کہ مجھے طلاق دی اسلئے رجوع کا حکم دیا گیا اگر وہ رجوع نہ کرنا چاہتی تو نبیۖ وہی فیصلہ بھی اس وقت دیتے جو حضرت عمر نے بہت بعد میں دیا۔ عبداللہ بن عمر کی طرف بہت کچھ منسوب ہے لیکن اصل بخاری میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ فرماتے” ۔اور اسی سے طلاق رجعی کا غلط مفہوم بعد میں رائج کردیا گیا ہے۔ نبیۖ واقعی دو مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کا حکم نہیں دیتے لیکن اگر تین مرتبہ طلاق بھی دیتے اور آپس کی رضامندی سے رجوع کرتے تو نبیۖ کبھی منع نہیں کرتے جیسے رکانہ کے والدین کا واقعہ ہے۔

عبداللہ بن عباس کے فتوے اور عمل میں تضاد نہیں تھا بلکہ جب تین طلاق کے بعد عورت راضی نہیں ہوتی تھی تو رجوع کا حکم نہیں دیتے تھے اور جب عورت راضی ہوتی تھی تو رجوع کا حکم دیتے تھے۔ احادیث میں تطبیق ہے لیکن کاروباری طبقات نے مدارس کو تجارت بنایا ہوا ہے۔ میرے استاذ مفتی محمد نعیم کو مفتی تقی عثمانی نے وفاق سے نکلوانے کی دھمکی دیکر روکا تھا اور اب بھی علماء حق پر گوپالوں کا قبضہ ہے اورجلد انشاء اللہ ختم ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وجعلواالقرآن عضین اور قرآن کو بوٹی بوٹی کیاانّ قومی اتخذوا ھٰذا قراٰن مھجورا بیشک میری قوم نے یہ قرآن کو چھوڑ رکھاہے۔ (القرآن)

وفدیناہ بذبحٍ عظیمٍO
اورہم نے اس پر قربان کیا ذبح عظیم کو(الصافات:107)

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
دین قائم حمزہ کے کلیجے ہند کی معافی سے
صحابہ کی استقامت ہے رسول کا صبر جمیل

قرآن کو اقتدار، تجارت، اثر ورسوخ ، مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔ خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ وبنوعباس نے قرآن کواپنے مفادات کیلئے ذبح کیا۔ امام حسین کی شہادت نہ ہوتی تو حلالہ کی لعنت کا امت میں لنڈا بازار نہیں لگ سکتا تھا۔

رسول اللہ ۖ نے حضرت عمر کے بعد طوفان سمندر کی مانند موجزن فتنے کا بتایا اور بند دروازہ توڑنے کی وضاحت کی

علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی پیدائش1848وفات1888نے تین طلاق کو ایک قرار دینے کا فتویٰ دیا اور مولانا رشیداحمد گنگوہی وفات1905نے فتاوی رشیدیہ میں نقل کیا اور مفتی کفایت اللہ نے غیرتمندوں کیلئے یہی موزوں قرار دے دیا۔

2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز پر ”جوہری دھماکہ” کتاب کوقبول عام کا درجہ ملا، پھر آتش فشاں بھی مقبول ہوئی ۔2007ء میں حلالہ کی لعنت کے خلاف دلائل شائع کئے تو ہم پر دہشت گردانہ حملہ کروایا گیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور اس وقت اس ذبح عظیم کی قربانی کے بعد حلالہ کی لعنت سے ہم مسلک لوگوں کی جان چھڑائی جاتی تو بھی بہتر تھا مگر دجال سے بدتر علماء سوء نے ہٹ دھرمی اور علماء حق نے حمایت کی۔ عائلی قوانین1964ء پر بھی جسٹس عائشہ ملک کا فیصلہ آیا۔الحمدللہ

1982تا1988تک کراچی کی مقدس گائیوں مفتی اکابر کی ہلال احمر سے بدرتک زوال ،عروج اور گٹھیا پن دیکھ لیا۔ مولانا محمد بنوری شہید حاجی عثمان کے ہاں مولانا عبدالمجید ندیم و دیگر علماء کو لاتاتھا جو1998ء میں انتہائی بے شرمی، بے غیرتی سے قتل ہوا ۔ پروفیسر علی محمد ماہی نے1947سے قرآن کی47نمبر سورہ محمد کو جوڑا تھا ۔1987تا1991ء سورہ اعلیٰ تا الفجر کی مناسبت ۔ یوم الفصل عظیم انقلاب کیلئے1999اور99ویں سورة زلزال کا بتا یا کہ خیر وشر کا ذرہ ذرہ دنیا دیکھے گی۔

قرآن کے ذبح عظیم کا منظر

المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبة (قرآن کی تعریف)

” جو رسول ۖ پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہواہے جو ان سے نقل ہوا ہے تواتر کیساتھ بغیر کسی شبہ کے”۔ مصاحف میں لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ، مصحف پر حلف نہیں ہوتا۔ علاج کیلئے ضرورت پڑنے پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے۔نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئی ہیں مگر شافعی کا یہ مسلک ہے حنفی کے نزدیک غیر متواتر بھی قرآن ہے اور حنفی کے نزدیک جوحدیث صحیحہ ناقابل قبول ہیں وہ شافعی کے ہاں قابل قبول ہیں۔ یعنی قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ پر اتفاق نہیں ہے۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اور صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے اور کسی آیت کا منکر کافر ہے لیکن بسم اللہ میں شبہ زیادہ قوی ہے اسلئے اس کے انکار سے کافر نہیں بنتا۔

مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے ،یا تو مغالطہ سے یہ کیا یا جان بوجھ کر ۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)

ناکام وکیل شمس العلماء شبلی نعمانی،خلافت عثمانیہ کے خلاف سازش میں ملوث حمیدالدین فراہی، امین حسن اصلاحی، جاوید غامدی کا شجرہ معلونہ دور جدید کا سازشی معتزلہ طبقہ ہے۔ قرآن کی تحریف لفظی و معنوی کیلئے دم اٹھائے گھومتا ہے۔ طلاق سے رجوع کیخلاف قرآن میں معنوی سازش کا ارتکاب بنومروان دور میں ہوا تھا جسکے بارے میں ابوداؤد کی روایت ہے کہ وہ جھوٹ بھی اپنے ہواخارج کرنے کی جگہ چوتڑ سے نکالتے ہیں اس کو جاویدغامدی پدو مار نے پھر تحفظ دینے کی کوشش کی ہے۔

بعل:

ازدواجی تعلق والا شوہرہے۔ البقرہ آیت228میں طلاق کا روڈ میپ یہ کہ عدت تک عورت انتظار کی پابند ہے اور بعل اصلاح و معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدارہے۔ آیت229میں معروف کی شرط پر تین مراحل میں رجوع کی اجازت پر عمل ہو یا احسان کیساتھ چھوڑنے کا عمل ہو تو تفصیل کیساتھ عورت کی طرف سے فدیہ دینے تک بات پہنچے تو آیت230میں بعل نہیں بلکہ نکاح ہے۔ حجاج نے سعید بن جبیر فقیہ کو95ھ میں اسلئے شہید کردیا کہ وہ کہتاتھا بعل بنانے کی ضرورت نہیںہے۔قرآن میںبعل نہیں تومحلل و محلل لہ دونوں لعنتی ”بعل ”سے عزت خراب کرنا انتہائی بھیانک ہے ۔

علماء حق اور غامدی میں فرق

جاویداحمد غامدی قرآن کے لفظی تحریف کا بھی قائل ہے اور معنوی تحریف کیلئے تو اس کے شب و روز کا دھندہ لگاہوا ہے۔

جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہے اور حدیث میں رسول اللہ ۖ نے اپنے اجتہاد سے طلاق کا مسئلہ حل کیا اور اجتہاد میں غلطی اور اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ رسول اللہ ۖ نے اجتہاد کیا کہ کوئی تین طلاق کہے تو اس کی نیت پوچھی جائے اور وہ ایک طلاق کا بتائے تو ایک پر فتویٰ دیا جائے لیکن حضرت عمر نے اس اجتہاد سے اختلاف کیا اور اس کی گنجائش تھی اور تین کو ایک قرار دیا جس کی طرف امت مسلمہ گئی اور میں سمجھتاہوں کہ نبیۖ کا اجتہاد درست تھا۔

علماء حق اور جاوید غامدی میں الٹی گنگا بہانے کا ہی فرق ہے جس کی آسان مثال یہ ہے کہ علماء حق منہ سے کھاتے ہیں، پھر گلے سے معدہ اور آخر میں پچھاڑی سے فضلہ نکالتے ہیں جبکہ جاوید غامدی پچھاڑی سے معدہ اور حلق کی راہ منہ سے نکالتاہے کیونکہ بنیاد قرآن و حدیث کی جگہ عقل و قیاس کو بنارہاہے۔

فتاویٰ رشیدیہ میں مولانا رشیداحمد گنگوہی اور شیخ الہند نے شاگرد مفتی عزیز الرحمن عثمانی کا فتویٰ اپنے کے خلاف مان لیا۔ مفتی عزیز الرحمن کے بیٹے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کو شرح صدر40سال پہلے ہوتا تو انکے والد حق کا اعلان کرتے۔ احمد آباد ہندوستان میں حلالہ پرسیمینار1972ء میں علماء دیوبند اور جماعت اسلامی نے مقالے پڑھے اور پیرکرم شاہ الازہری کے رسالے کو بھی اسکے ساتھ لاہور سے شائع کیا ہے۔

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
نظر نہیں تو میرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
تیر لیے ہے میرا شعلۂ نوا قندیل
آؤ میرے ساتھ میراث علم کی پاسبانی کیلئے
حملہ آور ہیں کمینے بے غیرت اوربڑے رذیل

حضرت داؤد کے نام لیوا یہود

یہودی حضرت داؤد موسٰی ،حضر ت الیاسانبیاء کے سلسلے کو مانتے ہیں اور حلالہ کی لعنت میں بھی مبتلا ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے۔

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لایتناھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلونO(المائدہ78،79)

”بنی اسرائیل میں جو کافر ہوئے لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے اسلئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ وہ منکر سے نہیں منع ہوتے تھے جو وہ کررہے تھے کیسا برا کام ہے اور جو وہ (شہوانی لذت کا چسکا تھا) کرتے تھے”۔

بنی اسرائیل کے کچھ لوگ حلالہ کی لعنت کی وجہ سے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے لعنت کے مستحق ٹھہرے تھے اور یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر حلالہ کی لعنت اور کرنے اور کروانے والے رسول اللہۖ کی زبان مبارک سے حلالہ کی لعنت کے مستحق ٹھہر گئے ہیں۔ لعنت حلالہ کے پیشواؤں نے ابھی سودی نظام کو بھی حیلے سے اسلامی قرار دیا ہے۔ عوام کے سامنے بالکل اب کھل کر آگئے ہیں۔ الحمدللہ

ترٰی کثیرًا منھم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لھم انفسھم ان سخط اللہ علیھم وفی العذاب ھم خالدونOلو کانوا یؤمنون باللہ والنبی و ما انزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولکن کثیرًا منھم فاسقونO( المائدہ:80،81)

” آپ دیکھتے ہو ان میں بہت جو متولی بنتے ہیں کافروں کے تو برا ہے جو انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجا وہ یہ کہ ان پر اللہ کا غضب ہو اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں اور اگر وہ اللہ اور نبی پر ایمان لاتے اور جو اس کی طرف نازل ہوا، اس پر تو ان کافروں کو متولی نہیں بناتے۔ لیکن بہت سارے ان میں فاسق ہیں”۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن ابھی یہودی نظام کے بینکوں کے متولی بن گئے ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی مکتب کے علماء حق کو انہوں اپنے دباؤ میں رکھا ہواہے۔ ایک دن وہ آئے گا کہ جب عوام سمجھ جائیں گے کہ کوئی حلالہ شلالہ نہیں ہے بلکہ پہلے علماء حق کا دھیان اس طرف نہیں گیا لیکن اب جب سب طرح دلائل بالکل سامنے آگئے ہیںاور پھربھی ہت دھرمی پر قائم رہنے کا مطلب علماء حق نہیں بلکہ بدترین علماء سو بن گئے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے

”عنقا مغرب” آج کا عنوان : ”ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے”۔ دوستو! دوسری قسط میں منظر نامے کی گہرائیوں میں اتریں گے جس کا سامنا ہے۔ کمزوری، نفاق اور ٹیکسوں/ جزیہ وصولی پر بات کرنے کے بعد، عظیم اصلاح کار پر غور کرتے ہیں جن کی وہ صفات ابن عربی نے بیان کی ہیں کہ عقلیں حیران ہیں۔

مہدی اس طرح نہیں جیسا کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ تلوار اور جبر سے آئے گا، بلکہ مطلق عدل اور ایسے علم سے حکومت کرے گا جس کا ثانی نہ ہو۔
ابن عربی نے ”عصائے موسی کا حامل” قرار دیاہے۔ یہ وصف صرف قیادت کی علامت نہیں بلکہ یہ مضبوط حجت اور باطل کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت کی علامت ہے۔

پہلی صفت ”عدل”سے مراد انتخابی یا متبادل عدل نہیں بلکہ وہ عدل جو چیزوں کو صحیح مقام پر رکھتا ہے، جیسے انبیاء کرتے تھے نہ وہ خواہشات کی طرف جھکتا ہے اور نہ ملامت سے ڈرتا ہے۔

ان کا علم جسے ”علمِ لدنی”یا ”علمِ کتاب”کہتے ہیں۔ جسکے پاس کائناتی قوانین کی چابیاں ہوں، وہ جادوگر نہیں وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے کا منظر دیکھتا اور بڑی طاقتوں کی چالوں کو سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی وسائنسی منصوبے یا شیطانی سحر جسکے ذریعے تاریک قوتیں بڑے فتنوں کی تیاری کر رہی ہیں، انکے پیچھے کیا مقصد ہے؟۔

انکے پاس مکڑی کے جالوں کو دیکھنے کی بصیرت ہوگی جو دنیا کے گرد بنے گئے اور وہ خاموشی سے ان جالوں کو توڑ دیں گے۔

وہ” محمدِ عمل” ہیں، یعنی حقیقت کو بدلنے کیلئے آسمان سے معجزات کے نازل ہونے کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ ظاہری اسباب ، مشورہ، منصوبہ اور انتہائی ذہانت کے ساتھ معاملات کو چلائیں گے بالکل جیسے ہمارے نبی حضرت محمد ۖ کرتے تھے، جنہوں نے سکھایا کہ اسباب کو اختیار کرنا توکل کی روح ہے۔

لیکن ”محمدِ عمل”ہونے کیساتھ وہ ”عیسی روح”بھی ہیں۔ اس کا مطلب مکمل الٰہی تائید و نصرت کیساتھ جی رہا ہوگا، گویا وہ زمین پر چلتا پھرتا زندہ شہید ہے۔ وہ دنیا کی خواہشات یا ذاتی فکروں میں غرق نہ ہوگا، بلکہ اس کی روح الگ ہی ملکوت میں پرواز کر رہی ہوگی، جس کی وجہ سے ایسی ثابت قدمی حاصل ہوگی جو طاقتور ترین فوجوں کے سامنے بھی نہیں ڈگمگائے گی۔

ابن عربی نے بتایا کہ وہ ”موسی الساحر”ہیںمطلب روایتی جادو نہیں، بلکہ وہ اس دور کے حقیقی جادوگروں کی چالوں کو فاش کرنے والے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اندھیرے کمروں میں طے پانے والے شیطانی منصوبوں کو کیسے ناکام بنانا ہے۔

وہ انبیا کی صفات کے جامع ہیں:حضرت سلیمان سے وہ مخفی قوتوں سے نمٹنے کی حکمت لیتے ہیں۔حضرت داؤد سے اپنے ہاتھ سے کام اور خود انحصاری اور حضرت یوسف سے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی گہرائی کو سمجھنے کی صلاحیت لیتے ہیں۔

یہ اصلاح کار ”صاحبِ مصر”انتہائی عاجزانہ و لطیف پرورش والے ہوں گے، وہ متکبر یا اقتدار کے بھوکے نہیں ہوں گے۔ وہ ہمارے درمیان موجود لیکن انہیں صرف چند نایاب لوگ ہی دیکھ پائیں گے وہ لوگ جنہیں اللہ نے خاص بصیرت عطا کی ہو۔ تصور کریں کہ روزانہ کتنے ہی لوگ اس شخص کے پاس سے گزرتے ہوں گے اور ان کی طرف توجہ بھی نہیں دیتے ہوں گے، کیونکہ اللہ نے انہیں عام نگاہوں سے چھپا رکھا ہے۔

جب تک دھماکے کا لمحہ نہیں آ جاتا وہ چھپے رہیں گے۔

اس مبارک زمین پر دشمنوں کے چڑھ آنے کا وقت۔ اور جب دنیا تنگ ہو جائے گی، فتنے شدید ہو جائیں گے اور تمام اقوام امڈ آئیں گی، تب یہ شخص ظاہر ہو کر تمام توازن کو پلٹ دے گا۔

یہ ظہور مصر کی عوام پر بڑے فتنے کے بعد ہوگا اور یہ فتنہ دلوں کو پرکھے گا، سچے کو جھوٹے سے الگ کر دے گا۔ اور تب صرف تبھی ان کا فضل و مقام ظاہر ہوگا۔آغاز میں لشکریا فوج کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ ایسا رعب ہوگاجو بغیر کسی محنت کے دلوں اور عقول کو اپنی طرف کھینچ لے ۔ کائنات ان کیلئے سمیٹ دی جائے گی، یعنی معاملات اتنے آسان ہو جائیں گے جو عقلوں کو دنگ کر دے ۔شدید ترین دشمن بھی ان کے عدل کے سامنے حیران رہ جائیں گے۔ابن عربی کی مسلمان اور عیسائی کی مثال کو یاد کریں جن میں تنازع تھا۔ اصلاح کار نے حق کے مطابق عیسائی کے حق میں فیصلہ سنایا، تو مسلمان دوست کے پاس یہ کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا: ”خدا کی قسم!اس فیصلے کے بعد آپ میرے نزدیک پہلے سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ہیں”۔

اس عدل کی امت کو ضرورت ہے جو عدل جو مذہب، رنگ یا نسل نہیں پوچھتا، بلکہ صرف اور صرف محض حق پر مبنی ہوتا ہے۔

ابن عربی نے بتایا: وہ ”روم(مغربی طاقتوں)کو آسان و معمولی دشمن بنا دیں گے”۔ فوجی اڈے، طیارہ بردار جہاز، دور تک مار کرنے والے میزائل ،جدید ٹیکنالوجی جو بڑی طاقتیں چلا رہی ہیںاس شخص اور ساتھیوں کی نظر میں خوف کے قابل ہی نہیں رہیں گی۔ اس کا مطلب طاقت کو نظر انداز کرنا نہیں ہے، بلکہ ایسا علم اور تدبیر ہوگی جو ہتھیاروں کوبے اثر بنا دے گی۔ وہ جانتے ہیں کہ ظلم اور کمزوری پر قائم طاقتیں حق کا سامنا کریں گی تو سارا مصنوعی رعب و دبدبہ ڈھے جائے گا۔ یہ یقین گہرے ایمان سے پھوٹتا ہے، اسی سبق کی ضرورت ہے۔ہم خالی اور بے روح طاقت کی آوازوں سے نہ ڈریں، کیونکہ ٹیکنالوجی کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑھ جائے، جب حق اپنے سچے حاملین کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔

ابن عربی نے کہا کہ ”انکے خادم میں فرشتے ہوں گے”۔

دوستو!تعجب نہ کرو، جو اللہ کیساتھ ہو، اللہ تمام کائنات کو اسکے تابع کر دیتا ہے۔ یہ خادم صرف نمائش کیلئے نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس نظام کا حصہ ہوں گے جو بڑے انقلاب کو چلا رہا ہوگا۔

وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں، ظہور سے پہلے جدوجہد کے سال ہو سکتے ہیں، جہاں بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹال رہے ہوں، امن قائم کر تے ہوں جن کا ہمیں کچھ علم نہیںاور یہ محسوس کیے بغیر ہو رہا ہوگا۔ ہم اس کردار کی وسعت اور تفصیلات صرف تب ہی جان پائیں گے جب وہ ظاہر ہوں گے اور پردہ اٹھے گا۔

”عصائے موسی کا حامل”جو ظالموں کاسر توڑے گاسحر نہیں بلکہ حق اور حکمت سے جس کو سمجھنے سے ان کی عقلیں قاصر ہیں۔ سب سے زیادہ خوبصورت ان کا ”عدل”ہے جو وہ قائم کرتے ہیں۔ وہ دوسروں پر حدنافذ کرنے سے پہلے خود اپنے آپ پر حد نافذ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون سے بالاتر نہیں ہوتے اور نہ ہی خود کو عام انسانوں سے برتر سمجھتے ہیں۔

ابن عربی نے کہا: تمام علم، ہیبت، طاقت کے باوجود ” اپنے گھر والوں کو اپنے اقتدار یا حکومت میں شریک نہیں کرتے”۔ یہ بنیادی اور اہم ترین نقطہ ہے طرفداری ہوگی نہ اقرباء پروری، اور نہ ہی رشتہ داروں اور منظورِ نظر لوگوں کو نوازنا ہوگا جیسا کہ ہم اکثر نظامِ حکومت میں دیکھتے ہیں۔ تمام تر معاملہ اللہ کیلئے ہوگا اور عدل سب کیلئے یکساں ہوگا۔یہ منصوبہ صرف ایک حکمران کا نہیں یہ فوجی طاقت سے پہلے الٰہی اخلاقیات پر قائم ہے۔ لہٰذا دلوں کو تیار رکھیں اوراہل بصیرت میں شامل ہو جائیں جو شور و غل کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھتے ہیں، وقت قریب حق جلد ہی ظاہر ہوگاشاید اتنا دور نہیں جتنا کچھ لوگ سوچتے ہیں۔انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv