پوسٹ تلاش کریں

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

امریکہ، برطانیہ،اسرائیل ،آسٹریلیا کو فتح کیا جائے توجہاز میں لونڈیاں بھر لانا جائز ہوگا؟

نکاح کے نام پر عورتیں پسِ پردہ بیچ دو ؟،انہیں اجنبی اٹھالیجائیں؟ ۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ نے سعودیہ، ایران پھر افغانستان میںانقلاب کے نام پراسلام کیخلاف سازش مسلط کی ہے؟

افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی اسلام اور افغانی غیرت کاتقاضہ ہے تو کیا حلالہ کی لعنت اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضہ ہے؟،علماء کو اسلام کا پتہ نہیں توطالبان بالکل ہی معذورہیں

قرآن وسنت میں نکاح وطلاق ،وضوونمازکے لایعنی مسائل ، لغو اجتہادات کی گنجائش نہیں بلکہ تسخیرِ کائنات کیلئے جدید علوم پر زور ہے۔ ام عمارہکے پورے جسم پر تیروتلوار کے نشان تھے

افغان طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، علماء ومفتیان اور اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا سے سخت ردِ عمل آیا۔ اگر طالبان کو دینی علوم کے پیرائے میں نہ سمجھایا جائے تو وہ مجبور ہونگے ۔ عمران خان اور ٹیرن وائٹ کی کہانی کا پتہ تھا مگر اقتدار میں لایا گیا۔ گیلے کا کچھ گیلا نہیں ہوتا۔ دختر قائداعظم دینا جناح، بیگم راعناقائد ملت لیاقت اورجنرل رانی سے لیکر میڈم طاہرہ مولانا سمیع الحق ، رنگیلاوزیرِ اعظم نواز شریف اور صابر شاہ و مفتی عزیزالرحمن تک داستانیں ہیں۔ منفی پروپیگنڈے اور سیاست بہت ہوچکی ، قوم کو مثبت اقدام کی طرف لائیں۔ طالبان سے اپیل ہے کہ پہلے قوم امریکہ کے مقابلے میں ساتھ کھڑی تھی لیکن اب دنیا بدل چکی ۔ ہم نے آواز لگائی تھی کہ جاندارکی تصویر جائز نہیںجاندار کی تصویر کو مٹادو۔ پردہ کرنا فرض ہے، شریعت کے مطابق پردہ کرو۔ داڑھی منڈانا جائز نہیں ،شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔ اب ہم نے بھی قرآن وسنت اور علماء حق کی تحقیقات کے مطابق اپنی رائے بالکل بدل دی۔تصویر اور داڑھی پر تم نے بھی اپنی رائے بدلی ہے لیکن خواتین کی تعلیم سے جن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ حضرت آدم و حوا نے ممنوع ہونے کے باوجود شجر کا ذائقہ چکھ لیا جس سے بے لباس ہوگئے۔ بنی آدم کو قرآن نے اپنے ماں باپ کی طرح بے لباس ہونے سے بچنے کا حکم دیاہے۔ اسلام میں باجماعت نماز کی صفوں میں خواتین کا بھی حق ہے۔طواف، صفا ومروہ کی سعی میں شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ جدید تعلیم اسلام کا تقاضا اور عروج کا ذریعہ ہے۔ ان پڑھ معاشرے میں اسلامی لحاظ سے جتنی عورت مظالم کا شکار ہے ،پڑھی لکھی خواتین کو اسکے مقابلے میں بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے،مدارس کا نصاب درست کرو۔
فقہ کی کتابوں میں ہے کہ ” باجماعت نماز کی صف میں پہلے مرد، بچے، پھر بچیاں اور عورتیں کھڑی ہوں گی”۔ جب لوگ پانچوں وقت گلی ،محلے، گاؤں دیہات اور شہروں میں مساجد کے اندر لوگ فیملی کیساتھ نماز باجماعت میں شرکت کریں ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” اپنی عورتوں کو نماز باجماعت اور مساجد میں آنے سے مت روکو”۔ یہ واضح ہے کہ اگر مسلمانوں کی بیگمات یہودونصاریٰ ہوں تو ان کو بھی اپنی عبادتگاہ میں جانے سے مت روکو۔ اگر افغان طالبان اپنی امارت اسلامی افغانستان میں ان اسلامی احکام پر عمل کریںگے تو پھر وہ خود بخود خواتین کو فیملی پارک، شاپنگ مال اور تعلیمی اداروں میں جانے سے نہیں روکیں گے۔ نماز کی طرح طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں مردوں اور خواتین میں صفوں کی ترتیب بھی نہیں ۔ قرآن نے ہمیں ملت ابراہیم پر قرار دیا تو حضرت حاجر ہ اور چھوٹے بچے حضرت اسماعیل کو وادیٔ غیرآباد مکہ میں چھوڑنا کیسا تھا؟۔کوئی محرم مرد پاس تھا؟۔ پھر ان کی سنت صفا ومروہ کی سعی کا فریضہ کیوں ادا ہوتا ہے؟۔ اگر کسی کی بیوی ، بہن، بیٹی اور ماں گھر سے باہر جائے تو اس کو پولیس والے اُٹھاکر لے جائیں؟، یہ کونسی عربی، ایرانی اور افغانی غیرت کا تقاضا ہوسکتا ہے؟۔
طالبان جنگجو ہیں۔ حضرت نُسیبہ( ام عمارہ) بہادر انصاری صحابیہ وہ تھیں، جب بہت مرد احد میںبھاگ چکے تھے تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ” جب میں دائیں دیکھتا تھا تو نُسیبہ ہے، بائیں دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے، سامنے دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے”۔پانی لانے کی خدمت پر مأمور تھیں۔ جب دشمن کے حملوں کا زور دیکھا تو نبیۖ کا ہر طرف سے دفاع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں بھی بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور جب فوت ہوگئیں تو غسل دینے والی خاتون نے کہا کہ ”جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر تیر یاتلوارکے زخم کا نشان نہ ہو”۔
اگر افغان طالبان اپنی غیرت کو پسِ پشت ڈال کر ملاعمر کے دور میں بھی افغان لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ کرتے بلکہ بہترین قسم کی جدید فوجی ٹریننگ بھی دیتے تو امریکہ اور نیٹو کے ناجائز حملوں کے بعدبہت ساری تعداد میں حضرت ام عمارہ کی جانشین خواتین نہ صرف شانہ بشانہ لڑنے کی پوزیشن میں ہوتیں بلکہ جن خواتین کی عصمت دری کی گئی اور جن جوانوں کو سزا کیلئے گوانتاناموبے کی ابوغریب جیل میں پہنچایا گیا تو اس کی بھی نوبت نہ آتی۔ اور مذاکرات کی بجائے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے ایسے بھاگتے کہ عراق و لیبیا کا رخ بھی نہ کرتے۔ دنیا کے دل ودماغ میں یہ تھا کہ افغان خواتین کو یرغمال بنایا گیا اور اس میں امریکہ ، پیپلزپارٹی اورISIکا بھی عمل دخل ہے۔ کیونکہ نصیراللہ بابر کی کہانی منظر عام پر ہے۔ پاکستانیISIسے محبت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کو ہم نے افغانستان میں لاکر شکست دی ۔ امریکیCIAسے خطرہ محسوس کرنیوالے اس کو پاکستان کے خلاف کامیاب سازش سمجھتے ہیں۔ طالبان کس جگہ کھڑے ہیں؟۔ کیا ان کو پھر سب مل کر قربانی کا بکرا بنائیں گے؟۔ ہم نے یہ لکھا تھا کہ ” تحریک طالبان پاکستان کو پرامن راستہ دیا جائے” ۔ نظام کی تبدیلی صرف جنگ سے نہیں بلکہ ایک صالح معاشرہ قائم کرنے سے ممکن ہے۔
جب روس آیا تو افغانستان سے آنے والے خاندانوں نے بڑے شہروں میں پاکستانیوں کا حال مزید خراب کردیا تھا۔ اب طالبان کے ہاتھوں جو افغانی خاندان دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں کیا یہ اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضا ہے؟۔ روس افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آیا اور امریکہ ونیٹو بھی افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آئے۔ پاکستان کو کوئلے کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرنے کے سواکچھ نہیں ملا۔ اگراب پھر دنیا نے افغانستان کے اہم مراکز پرB52طیاروں سے بمباری کرکے قلع قمع کیا توپاکستان خفیہ مدد کی ہمت نہ کریگا۔ افغان جانے اور طالبان جانے کی پالیسی اپنائے گا۔ ایران، ازبکستان اور تاجکستان بھی محتاط رہیںگے۔ قوم پرست افغانیوں کے ہاتھ میں بڑا زبردست موقع ہاتھ آئیگااور افغانی اپنے دشمنوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں؟۔ وہ سب جانتے ہیں۔
مولانا منظور مینگل کی ویڈیو احمد رفاعی کے نام سے سوشل میڈیا پر ہے جس میں یہ بھی بتایاہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی شہید اچھا مطالعہ رکھتے تھے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ہدایہ سمیت فقہ کی معتبر کتابوں میں امام ابوحنیفہ وامام شافعی کی طرف منسوب باتیں بالکل بعد والوں نے فروعات گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی ہیں۔ جو اصولی طور پر غلط اور فروعات ہیں۔
فقہ حنفی میں نماز کے چودہ فرائض میں آخری فرض یہ ہے کہ ” اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنا”۔ بھلے اپنی ریح خارج کرکے نکلے۔ طالب علمی کے دور میں اساتذہ اور مفتی اعظم پاکستان تک سے مسائل پوچھے مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ سلام سے نماز کی تکمیل واجب اور ارادے سے تکمیل فرض ہے تو ریح خارج کرکے ایسے نماز کے فرض کی ضرورت کیوں آئی کہ جو واجب الاعادہ بن جائے؟۔ پھر علامہ ابن رشد کی کتاب میں دلیل دیکھی کہ عبداللہ مغربی نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ” جو نماز کے آخری قعدے میں ہو اور اس نے ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی”۔ عربی الفاظ میں خارج ہونے کی جگہ خارج کرنے سے یہ مسئلہ اخذ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص انتقال کرگیا اور یہ بھی کہ فلا ں فوت ہوگیا یا اس کاانتقال ہوگیا۔ ریح خارج ہونا یا کرنا ایسی بات نہیں کہ اس کی بنیاد پر اتنا بڑا مسئلہ ایجاد کیا جاتا۔ آخری قاعدے تک محنت کی ہو اور پھر ریح خارج ہوجائے تو حدیث کی بنیاد پر ازسرِ نو مشقت اٹھانے سے بچنے کے علاوہ شرمندگی سے بھی بچا جاسکتا ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ کوئی جانتا ہو کہ کون پاس سے رفو چکر ہوا ہے۔ تربت میں میری گھر والی کے چچا نے بتایا کہ نماز میں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ساتھ میں ایک خاتون کھڑی ہوگئی۔ جب سلام پھیرا تو پتہ چل گیا کہ کوئی مرد غلطی سے اپنی بیگم کی شلوار پہن کر آیا تھا۔
غسل اور وضو میں بھی بالکل لایعنی اور لغو فرائض پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر قرآنی آیات کو دیکھا جائے تو جنابت سے غسل، نہانے کا حکم ہے اور وضو کے مقابلے میں نہانے میں مبالغہ ہے۔ اسلئے مبالغے پر فقہی مسالک کے اختلافات بالکل لغو اور لایعنی ہیں، اسی طرح وضو میں سر پر مسح کے حوالے سے جس بنیاد پر اختلاف ہے تو اللہ نے اختلافات والوں کا منہ کالا کرنے کیلئے تیمم میں بھی انہی الفاظ کیساتھ چہرے پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں اختلافات ممکن نہیں تھے۔ اسلئے سر کے مسح میں فرائض کی طرح تیمم کے مسح میں اختلاف نہیں ۔
اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ قاضی اور جج کا فیصلہ ہے۔ قرآن و حدیث میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے اجتہادات کی مثالیں موجود ہیں۔ فصل اور مویشی کا فیصلہ قرآن میں اور بچے کو بھیڑیا کے کھانے بعد دوسرے بچے پر دوعورتوں کے جھگڑنے کا فیصلہ حدیث میں ہے۔اجتہاد کی تقلید نہیں اسلئے کہ بچے کو ایک مرتبہ جس حکمت عملی سے اپنی حقیقی ماں کے حوالے کیا گیا تو دوسری مرتبہ لوگ اجتہاد کے حقائق سمجھ کر یہ فیصلہ نہ کراتے۔ حضرت سلیمان نے مویشی اور فصل میں دونوں کے معاشی صورتحال کا لحاظ رکھ کر فیصلہ دیا تھا مگر قرآن و حدیث کی حکمتوں اور معاشی ومعاشرتی معاملات سے ہمارے علماء بہت دور ہیں۔
نکاح وطلاق کے حوالے سے اتنے مضحکہ خیز مسائل گھڑے گئے کہ اگر ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو علماء کو شریف بھی سمجھنے سے قاصر ہونگے۔ اصول ِ فقہ کی کتاب ”نورالانوار” میں ساس کی شرمگاہ پر اندر سے شہوت کی نظر پڑنے کو نکاح قرار دیا گیااور باہر سے عذر قرار دیا گیا ۔ عدت میں عورت پر نظر پڑنے کو نیت کے بغیر بھی رجوع قرار دیا ۔ اگر ہاتھ کا لگنا اور شہوت کی نظر کا پڑنا واقعی نکاح ہے جس طرح کہ حنفی اصول فقہ میں ہے تو تعلیمی اداروں اور بازاروں کا واقعی جو فیصلہ طالبان نے خواتین کے بارے میں کیا وہ درست ہے اسلئے کہ ٹچ اور نظر کی شہوت سے تباہی کے مسائل پیدا ہونگے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تصنیف شدہ کتاب ” تین طلاق کے مسائل ” میں بھی بکواسات کو شرعی مسائل کا نام دیا گیا۔ مدارس کے نصاب کے کفریات کا اندازہ عوام کیلئے مشکل ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے ایک مولوی نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ” ایک شخص نے اپنی بیٹی کے بدلے ایک بیوی خرید لی، عورت نے خدمت کی لیکن وہ بیمار تھا اور مباشرت نہیں کرسکااور فوت ہوگیا۔ اب اس کا بیٹا اپنی اس سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟۔ ایک طرف قرآن میں اپنے آباء کی منکوحہ عورتوں سے نکاح کو منع کیا گیا ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اگر ان عورتوں میں دخول کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے اور اگر دخول نہیں کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے؟”۔
میں نے جواب دیا کہ ” عرب میں باپ کی منکوحہ کو وراثت کا مال سمجھ کر جو نکاح کیا جاتا تھا، یہ بھی وہی صورت ہے۔ اسلام تو دور کی بات ہے انسانیت کے بھی یہ منافی ہے کہ عورت کو جانور کی طرح خریدا اور بیچا جائے۔ اللہ نے باپ کی منکوحہ اور بہو کو حرام قرار دیا ہے اور ساس کو حرام قرار دیا ہے اور سوتیلی بیٹی سے بدکاری کے خدشے سے روکنے کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی جوان بیٹی کو چھوڑ کر زیادہ عمر والی ساس سے نکاح کرے اسلئے کافی تھا کہ تمہاری بیگمات کی مائیں۔ حلائل ابناء کم تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔ لیکن جن عورتوں سے شادی کی اور ان کی پہلے شوہر سے بیٹیاں ہوں تو کم بخت انسان ان لڑکیوں کو شکار کرسکتا تھا اسلئے اللہ نے واضح فرمایا کہ” جن سوتیلی بیٹیوں کو تم نے اپنے حجروں میں پالا ہے اور جن کی ماؤں میں تم نے ڈالا ہے ،اگر نہیں ڈالا تو پھر ٹھیک ہے”۔ قرآن کی اس وضاحت سے بدبختوں کو شرم دلائی گئی کہ یہ سوچ غلط ہے۔ قرآن نے جنسی تعلق کا ذکران الفاظ میں کیا ہے کہ ” جب اس نے ڈھانپ لیا اور پھر اس کو خفیف حمل ٹھہر گیا، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے صالح (سلامت) اولاد کی دعامانگی اور جب اللہ نے بیٹا دیا تو پھر اللہ سے شرک کرنے لگے”۔ قرآن نے سخت الفاظ سختی سے منع کرنے کیلئے ارشاد فرمائے۔
محرمات کی آیات سے جو چوتھے پارے کے آخر میں ہیں، جہاں پر محرمات اورحرمت مصاہرت کی بھرپوروضاحت ہے وہاں پر سخت الفاظ سے یہ بھی واضح کردیا گیاہے کہ فقہ حنفی میں حرمت مصاہرت کے نام پر جو گالیاں اوربکواسات لکھے گئے ہیں ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ جب ان بکواسات کو علماء اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کریںگے تو ان کے شاگرد طالبان کی بھی اسلام کے حوالے سے آنکھیں کھل جائیں گی۔ کیونکہ مخلوط فضاء میں کس کا ہاتھ کس کا چھوا ہے اور کس کی نظر کس پر شہوت سے پڑی ہے، سب ایکدوسرے کیلئے حرمت مصاہرت کی وجہ سے محرمات اور عجوبہ روزگار بن جائیںگے۔
قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی اصولی تعلیم میں باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور حلالہ اسلامی اور افغانی غیرت کے منافی ہے لیکن اس کے خاتمے کا اعلان بھی پہلے علماء کو کرنا پڑے گا۔ یہ قرآن کے لعان کے قانون سے زیادہ سندھی، بلوچی، افغانی اور پنجابی غیرت کے منافی ہے لیکن افسوس کہ قرآن کے لعان والے قانون کو نہیں مانتے اور فقہ کی لعنت حلالے کے قانون کو اپنے کلچر کا حصہ بہت منافقت سے بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی ماننے سے انکار کردیا تھالیکن منافقت نہیں کی تھی۔ اکبر بگٹی نے ماننے سے انکار کیا تھا لیکن منافقت نہیں کی تھی۔ علماء ومفتیان اور طالبان تو صحابہ کرام کی طرح نہیں ہیں بلکہ غیرت سے عاری منافقین کا کردار ادا کررہے ہیں۔
اگر داعش خراسان نے افغانستان پر قبضہ کرکے عالمی خلافت کا اعلان کردیا اور پھر امریکہ، روس، اسرائیل، فرانس ، برطانیہ، جرمنی ، آسٹریلیا اور چین وغیرہ کو فتح کرلیا تو کیا جہازوں میں لونڈیاں بھر بھر کر لانا جائز ہوگا کہ نہیں ہوگا؟۔ محرم کو ساتھ میں لایا جائے گا کہ نہیں؟۔ کیا اس طرح کا اسلام دنیا نافذ کرنے دے گی؟ یا پھر مسلمانوں کی خواتین کوبھی سہولت کاری فراہم کرکے لیجائیں گے؟۔ عثمانی خلیفہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں اپنے پاس رکھی تھیں۔ کیا قرآن وسنت سے اس کی اجازت ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تم نکاح کرو، جن عورتوں کو تم چاہتے ہو دو دو، تین تین ، چار چاراور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کرسکوتو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ان سے لونڈیاں مراد نہیں اسلئے کہ لونڈیوں کابھی نکاح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ان سے مراد ایگریمنٹ والی ہیں جس کو شیعہ متعہ اور سعودی عرب والے مسیار اور اہل مغرب گرل فرینڈز، اہل مشرق رکھیل اور داشتہ کہتے ہیں۔قرآن وسنت میں متعہ کا تصور موجود ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ ” اگر اس پر پابندی نہ لگائی جائے تو قیامت تک کوئی زنا نہیں کریگا مگر بدبخت”۔ عبداللہ ابن مسعود نے قرآن کی تفسیر میں متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ ان پر اضافی قرآن کا بہتان قرآن اور ابن مسعود کے خلاف سازش ہے۔ جبکہ بخاری میں ابن مسعود سے حدیث منقول ہے۔افغانی اصطلاح میں آشنا رکھنا جائز نہیں ۔ قوم لوط پر عورتوں کی جگہ مردوں سے بدفعلی کرنے پر تباہی آئی تھی۔ یہ جو کچھ افغانستان میں تباہی ہورہی ہے یہ عذاب کی ایک زبردست شکل ہے۔
اگر عمران خان نے سیتاوائٹ کیساتھ ایگریمنٹ کیا تو باقی داستان اس کی اپنی ہے، قانونی جرائم کیا ہیں اور کیا نہیں ؟۔ اس سے ہماری کوئی غرض نہیں البتہ ٹیرن وائٹ بالکل جائز بیٹی ہے۔ اسلام نے لونڈی کیساتھ نکاح کا حکم دیا تھا تو ایگریمنٹ سے لونڈی مراد نہیں ہوسکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ لونڈی اور غلام کو بھی ایگریمنٹ کا درجہ دیا گیا۔ کیونکہ انسان کسی انسان کی ملکیت نہیں ہوسکتا اور نہ اسلام نے عبدیت کا جواز چھوڑا۔ صحابہ کہتے تھے کہ ہمارا کام بندوں کو بندوں کی بندگی (غلامی) سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی کی طرف لانا ہے۔ عبدیت اور غلامی ایک بات ہے ۔ اسلام غلام اور لونڈی بنانے کیلئے نہیں آیا بلکہ آزادی دلانے کیلئے آیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کوقتل اور عورتوں کی حیاء (عصمت) لوٹتے تھے”۔ جنگی قیدی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے، کلبھوشن اور ابھی نندن سے گھر کی خدمت نہیں لی جاسکتی ۔ عزت کے درپے ہوجاتے۔ بدر میں70قیدی بنائے گئے ،کسی کو غلام نہیں بنایا گیا اور نہ ممکن تھا۔ غلام بنانے کا اصل ادارہ مزارعت کا نظام تھا۔ جاگیردارانہ نظام سے غلام اور لونڈیاں بن کربازاروں میں منڈیاں لگتی تھیں۔ نبیۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ معاشرے میں دو طبقات ہوتے تھے، ایک زمیندار ، وڈیرے، جاگیردار، خان، نواب اور دوسرے مزارعین۔ مزارعین کی حیثیت غلاموں کی طرح تھی۔ وہ اپنا پیٹ نہیں پال سکتے تھے مگر جاگیرداروں کو پورے خاندان سمیت زمین میں اپنی محنت کی آدھی کمائی دیتے تھے۔ ہمیشہ جاگیرداروں کے مقروض اور غمی شادی ، بیماری میں محتاج ہوتے تھے۔ جوانکے خوبصورت بچوں اور بچیوں کو خرید کر منڈیوں میں بیچ ڈالتے تھے۔ جوئے اور سود میں بھی لوگ اپنے بچے ، بچیاں اور بیویاں کسی کے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔آج سودی نظام کی وجہ سے خاندان نہیں پورے ملک غلام بنائے جارہے ہیں۔پاکستان کوبھی بنادیا گیا۔غلامی کے اس نظام سے ادیان نجات دلانے کیلئے آتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اہل فرعون سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی یہی خدمات تھیں۔ قرآن میں اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے” اسلام عوام کو آزادی دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بت پرستی غلام رہنے اور بنانے میں مذہبی جذبے کے تحت تسکین دیتی تھی کہ جیسے وہ کررہے ہیں اور جیسے وہ ہیں اسی طرح سے رہنے میں عافیت ہے۔ دین کا کام اس جمود کو توڑنا ہوتا تھا۔ جب کوئی بھی نبی اپنے وقت میں اللہ مبعوث کردیتا تھا تو ملاء قوم یعنی قوم کے سردار انبیاء کرام کی سخت مخالفت کرتے تھے اسلئے کہ حالت بدلنے میں ان کو اپنی آسائشوں کی موت نظر آتی تھی، خوشحال لوگ جمود توڑنے کا ہمیشہ مخالف طبقہ ہوتا تھا۔ غریب غرباء حضرات انبیاء کرام کی حمایت کرتے تھے اور جن اچھے لوگوں کی فطرت سلامت ہوتی تھی تو وہ امیر اور سردار ہوکر بھی وقت کے نبی کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے۔
معروف صحابی حضرت اسود بہت سخت کالے رنگت کے غلام تھے۔ دور دراز سے سفر طے کرکے نبیۖ کی آغوش میں اسلئے پہنچے کہ غلاموں کو عزت ملتی تھی۔ جیسا سنا تھا ویسا بلکہ اس سے بڑھ کر پایا۔ ایک دن نبی ۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ ساری مرادیں اور خواہشات پوری ہوگئیں، ایک آرزو ہے کہ شادی بھی ہوجائے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” بنو کلب کے سردار کے پاس جاؤ، اور کہو کہ مجھے نبی نے آپ سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنے کیلئے بھیجا ہے”۔ حضرت اسود نے اتنی ہمت صرف حکم کی تعمیل کیلئے کردی ۔ سردار نے اعزاز واکرام کیساتھ استقبال کیا کہ نبی ۖ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے ۔ پیغام سن لیا تو ہکا بکا ہوگئے اور تعمیل حکم سے معذرت کرلی۔ حضرت اسود جانے لگے تو سردار کی بیٹی نے نبیۖ کا پیغام سن لیا تھا اور اپنے باپ کو بلایا اور کہا کہ میرا رشتہ مانگا ہے، میں تیار ہوں۔ باپ نے بیٹی کی رضامندی کا سن کر حضرت اسود سے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرلیا۔ حضرت اسود نے تیاری کیلئے بازار کا رخ کیا تو جہاد کی منادی سنی۔ان پیسوں سے جہاد کا سامان خریدا ۔ قافلے سے تھوڑے فاصلے پر چلے تاکہ پہچان کر واپس نہ کیا جائے اور چہرے پر نقاب ڈال کرجہاد میں بہادری سے لڑکرشہید ہوئے تو نقاب اٹھانے کے بعد پتہ چلا کہ دولہا اسود ہیں اور نبیۖ کی آنکھیں آنسو ؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ اشکبار آنکھوں سے صحابہ نے لحد میں بہت عزت سے اتارا تھا۔
نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب حضرت زید سے بیاہ دی ۔ حضرت زید غلام نہیں تھے بلکہ بردہ فروشوں نے چوری کرکے بیچ ڈالا تھا۔ چچا وغیرہ آئے اور نبیۖ کو منہ مانگی قیمت کی پیشکش کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی پیسہ نہ دو مگر زبردستی نہ لے جاؤ ۔ حضرت زید نے جانے سے انکار کردیا تو چچا نے طعنہ دیا کہ آزادی پر غلامی کو ترجیح دی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ غلام نہیں میرا بیٹا ہے۔ منہ بولے بیٹے کی بیگم اپنے شوہر سے غلامی کے دھبے کی وجہ سے خوش نہ تھی تو حضرت زید نے اس کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔ نبیۖ نے بہت منع کیا کہ ایک طرف پہلے اس خاتون نے قربانی دی اور پھر طلاق دی جائے تو اس کی حیثیت مجروح ہوگی اسلئے کہ طلاق شدہ اور وہ بھی غلامی کا دھبہ والے شخص کی طرف سے؟۔اس لئے دل میں سوچا کہ یہ روگ کو ختم کرنے کیلئے خود شادی کرلیتے تو ازالہ ہوجاتا مگر خوف تھا کہ لوگ اس کو حقیقی بہو کی طرح نکاح حرام سمجھتے تھے۔ سورۂ احزاب میں بہت بہترین انداز میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر نبیۖ کسی آیت کو چھپاتے تو اس کو چھپاتے۔ (صحیح بخاری)
حضرت داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری اور مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی اپنی کتابوں میں حنفی مسلک کے عین مطابق غلط فہمی کی بنیاد پر لکھ دیا ہے کہ جب نبی ۖ کی نظر حضرت زینب کے جسم پر کپڑے بدلتے ہوئے شہوت سے لگ گئی تو وہ حضرت زید کے نکاح سے نکل کر نبیۖ کے نکاح میں آگئیں۔ جیسے داؤد کی نظر مجاہد اوریا کی بیوی پر پڑگئی تو وہ اوریا پر حرام اور حضرت داؤد کی بیگم بن گئی۔ ان خرافات کیخلاف سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے علماء ومفتیان کی طرف سے مذمت میں کتاب ”اسلام کے مجرم” پر تائیدی تأثرات آئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ” اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہواہے اور یہ پھرعنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔
امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے۔ مدینہ منورہ کی معاشی ترقی کیلئے مزارعت کا خاتمہ بنیاد بن گیا۔ جب محنت کشوں میں قوت خرید کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو بازاروں میں تاجر وں کو خاطر خواہ کامیابی مل گئی۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے تھے کہ ”مٹی بھی سونا بن جاتا ہے”۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ، مولانا محمد یوسف بنوری اور دوسرے اکابر ین اپنی بیگمات کو ایکساتھ رکھ کر ان کی خدمت پر حاجی محمد عثمان کی ڈیوٹی لگاتے تھے کہ یہ بے نفس انسان اللہ والے ہیں۔ مولانا غلام اللہ خان حاجی عثمان کیلئے کہتے تھے کہ ”یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی طرح ہیں”۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، مفتی احمدالرحمن اور ختم نبوت نمائش کا دفتر اپنی اپنی گاڑیوں کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر حاجی محمد عثمان کے مریدوں نے الائنس موٹرز کے کاروبار سے سب کو گاڑیوں سے نواز دیا تھا۔ پھر تصوف کی الف ب سے ناواقف علماء ومفتیان نے بھی پیری مریدی کا لبادہ اُوڑھ لیا اور مذہب کے نام پر تجارت اور کاروبار پیشہ بن گیا۔
پاکستان ،افغانستان، ایران ، ہندوستان، روس ، امریکہ، چین اور دنیا بھر کی ترقی وعروج کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ مزارعت کیلئے لوگوں کو مفت میں اور باغات کیلئے آسان لیز پر زمینیں دی جائیں۔ انسانی بھوک وافلاس کا خاتمہ ہوگا اور چرندے، درندے اور پرندے بھی انسانوں سے محبت کرنے لگیں گے۔
اگر اسلام کی بنیاد پر مزارعت دنیا سے ختم ہوجاتی تو کارل مارکس کو نیانظام بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ” کارل مارکس پیغمبر نہیں تھا مگر صاحبِ کتاب تھا”۔ ائمہ اربعہ کا تعلق عباسی دور سے تھا۔ بنی امیہ کے بعد بھی امام ابوحنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی کا مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دینا اہل حق کی نشانی تھی۔ ویسے تو شہید کربلا حضرت حسین کے دور میں خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی۔ بے گناہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے خون سے حکمرانوں کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے۔ حجاج بن یوسف جیسے لوگوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرکے کئی دنوں تک اس کی لاش کو لٹکا دیا تھا۔ حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق کو پتہ چلا توسوسالہ نابینا ماںبیٹے کی لاش کے پاس آئی اور فرمایا کہ ”شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا ہے؟۔ حجاج نے اس حوصلے کو دیکھ کر بڑا غصہ کیا اور کہا کہ میں نے تیرے بیٹے کی زندگی تباہ کردی۔ حضرت اسماء نے فرمایا کہ ”سودا بہت سستا ہے۔ میرے بیٹے نے تمہاری آخرت تباہ کردی ہے”۔
عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے کہا کہ ”آپ خود بھی متعہ کی پیدوار ہیں” (زادالمعاد۔ علامہ ابن قیم)۔ ابو طالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ دینے سے منع کیا، فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے شوہر کو قتل کرنا چاہا، نبی ۖ نے اسکے شوہر کو پناہ دی۔ مگر وہ عیسائی بن کر نجران گیا۔ نبیۖ نے ام ہانی کورشتے کی پیشکش کردی تو امام ہانی نے منع کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے وہ چچا کی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے آپکے ساتھ”۔ پھر آئندہ شادی سے قرآن میں ہمیشہ کیلئے روک دیا لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے ام ہانی کو ازواج مطہرات میں شمار کیا ہے حالانکہ ان سے نبی ۖکا نکاح نہیں متعہ ہوسکتا تھا۔
حضرت اسمائ73ھ میں فوت ہوگئیں جوحضرت عائشہ سے عمر میں15سال بڑی تھیں ۔ ناممکن تھا کہ21سالہ اسمائ کے ہوتے ہوئے نبیۖ6سالہ عائشہ حضرت ابوبکر سے مانگتے۔ اس وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال تھی جبکہ حضرت اسماء کی عمر31سال تھی اور ایسی عمر تک پہنچنے کے بعدکسی عورت سے نکاح کی رغبت نہیں رہتی ۔نبی ۖ نے40سالہ حضرت خدیجہ سے بھی پچیس سال کی عمر میں نکاح کرلیا تھا اور جب تک وہ زندہ رہیں تو دوسرا نکاح نہیں کیا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ خواب میں حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ آپ کی بیگم ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہو تو پورا ہوگا ۔ شیطان کی طرف سے ہو تو پورا نہیں ہوگا”۔( صحیح بخاری) چونکہ مسلمانوں کی سخت ترین مخالفت کا دور تھا اور حضرت عائشہ کی منگنی مشرک سے ہوچکی تھی جو مظالم کے پہاڑ بھی توڑسکتا تھا۔ اللہ نے اس سے حضرت عائشہ کی نجات کیلئے یہ خواب دکھایا ۔
16سال کی جگہ غلطی سے6سال کی روایت نقل کی گئی تو اس پر فقہ کے یہ مسائل گھڑلئے گئے کہ ” اگر باپ اپنی نابالغ بچی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے نکاح میں دیدے تو یہ جائز ہے”۔ مثلاً حنفی طالب یا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی بیٹی کا نکاح نابالغ ہونے کے باوجودبار بار کرتا ہے، دس بار طلاق ہو تو جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ یہ سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ جب بالغ ہوتو لڑکی جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرسکتی ہے جس میں ولی کی اجازت کا دخل نہ ہوگا۔ ایسے میں افغانستان میں نابالغ بچیوں کیلئے یہ قانون بنانا پڑے گا کہ انکے باپ ان کو کسی کے نکاح میں دیدیں اور بالغ لڑکیاں اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہیں بلکہ شہوت سے ان کا کسی لڑکے سے بوس وکنار بھی حرمت مصاہرت کی وجہ سے حنفی نکاح ہوگا۔
علماء ومفتیان پہلے اپنے درسِ نظامی کے نصاب کو درست کرلیںاور اسلام کو نافذ کرنے کی بات بعد میں کریں۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کا کوئی قانون نہیں بنا ہے لیکن جس سود کو علماء ومفتیان اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر گناہ قرار دیتے تھے اس کو اسلام اور حیلے کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، تنظیم اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان اور اب وہ مدارس بھی شامل ہیں جنہوں نے مخالفت میں فتوے اور کتابیں لکھی تھیں۔ اسلام کو جس طرح پہلے چٹنی اور اچار بنایا گیا تھا اس کا خلاصہ اب پھر سامنے آیا۔ جب سود اور حیلے کی بنیاد پر اس کا جواز اور اپنی ماں سے زنا تک بات پہنچادی گئی ہے تو اس سے زیادہ کہاں تک اسلام ثریا کے پیچھے ان کم بختوں سے چھپے گا؟۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ علینے فرمایا کہ ” رسول اللہۖ نے دوجلد (دو گتوں)میں قرآن کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے”۔ (بخاری) وفاق المدارس کے صدرمولانا سلیم اللہ خان نے اس کی تشریح میں کہا ہے یا پھر مولانا نورالبشر برمی نے خود خیانت کرکے لکھ دیا کہ ” حضرت علی کے اس قول کو صحیح میں امام اسماعیل بخاری نے اسلئے نقل کیا ہے کہ شیعوں پر رد ہو کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو لیکن تمہارے علی اور ابن عباساس تحریف کے قائل نہ تھے۔ اصل میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی اور امام بخاری قرآن کی تحریف کے قائل تھے ، جب حضرت عثمان نے قرآن کو جمع کیا تو عبداللہ بن مسعود کے پاس مصحف تھا لیکن ان کو حضرت عثمان نے جمع قرآن کے معاملے میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جب عبداللہ ابن مسعود کیلئے حضرت عثمان نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی پیشکش کردی تو بھی اس نے ناراضگی کی وجہ سے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری مولانا سلیم اللہ خان مرتب : مولانا نورالبشر)
مولانا سلیم اللہ خان نے پہلے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے نہیں لگایا۔ پھر مولانا سلیم اللہ خان نے شیعہ پر کفر کا فتوے سے رجوع کرلیا تھا۔ مولانا نورالبشر برمی کو چاہیے تھا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے اگر بات کی تھی تو بھی اس کو لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ جب دارالعلوم کراچی سے مولانا انورشاہ کشمیری کی فیض الباری شرح صحیح البخاری کی عبارت پر علامہ غلام رسول سعیدی نے حوالہ دئیے بغیر فتویٰ لیا ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا ہے”۔ تو اس پردارالعلوم کراچی کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔فیض الباری کی اس عبارت کا قاضی عبدالکریم کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک کو خط لکھا تو یہ جواب دیا کہ ”یہ مولانا انور شاہ کشمیری کی تحریر نہیں ۔ کسی نے ان کی تقریر کو نوٹ کرکے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے”۔ میں نے مفتی زرولی خان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا انورشاہ کشمیری کی طرف اس عبارت کو منسوب کرنا غلط ہے۔ اب مولانا سلیم اللہ خان کی بات تو اس سے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے۔ جب میں نے پشاور کی ایک مجلس میں اکابر علماء کے سامنے اس کا حوالہ دیا تو درویش مسجد کے خچر نے کہا کہ ” مولانا سلیم اللہ خان کی تحقیق کو یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف میں علماء ومفتیان تحریف قرآن کا عقیدہ پڑھاتے ہیں۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں ، جو آپ سے نقل کیا گیا ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ تشریح میں لکھ دیا کہ ” لکھے سے مراد لکھا نہیں کیونکہ لکھا ہوا نقش کلام ہے اور یہ نہ لفظ ہے نہ معنی۔ قرآن لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے خبر احاد اور مشہور ۔ بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے ”۔
قرآن کی اس غلط تعریف کی وجہ سے فقہ کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔ جب تحریر لفظ ہے اور نہ معنی ہے تو پھر کلام اللہ نہیں ہوا ۔ جب کلام اللہ نہیں ہے تو پھر اس کو پیشاب سے لکھنے کا جواز بھی بنتا ہے؟۔ پیشاب سے لکھنے کی زیادتی بھی اپنی جگہ ہے لیکن قرآن کی لکھی ہوئی شکل کا انکار کرنا اس کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ پھر اس میں مزید اضافی آیات کا عقیدہ رکھنا اور بسم اللہ کو مشکوک قرار دینا بہت بڑی بکواس ہے۔
افغان طالبان پہلے اس نصاب کو دیکھ لیں جس کو وہ پڑھ کر عالم بنتے ہیں اور جن علماء ومفتیان کی صلاحیت پر وہ بھروسہ کرتے ہیں ان کی حقیقت کو سمجھیں۔ پھر ان کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کفریہ تعلیم پر پابندی لگائیں اور دوسرا کام یہ ہوگا کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے ادارے طلبہ وطالبات کیلئے کھول کر ان سے یہ مطالبہ بھی کردیں کہ ہمارے عقائد اور مسالک کو درست کرنے کیلئے آپ ہمارا ساتھ دیں۔ طالبان اسلامی نظام اور جہاد کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا تھا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ نبیۖ نے آیت میں جن پانچ چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا ہے اس کی تفسیر زمانے نے کردی ہے۔ الساعة سے مراد وقت ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ملائکہ اور روح چڑھتے ہیں تو ان کے ایک دن کی مقدار50ہزار سال کے برابر ہے۔ نبیۖ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا تھا اور آئن سٹائن نے ریاضی سے اس کا ثبوت دیا کہ نظریہ اضافیت میں وقت کی مقدار کا تعین تیز رفتاری کی بنیاد پر کافی مختلف ہوتا ہے مثلاً یہاں کے چند لمحات وہاں کے کئی سال بارش کے ذریعے سے بجلی کا مشاہدہ تھا اور اب بجلی کی تسخیر سے دنیا تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ علم غیب کی دوسری چابی تھی۔ تیسری جب ارحام کا علم ہے۔ جو ایٹم بم کو توڑنے، ایٹمی صلاحیت ، الیکٹرانک کی دنیا سے لیکر فارمی مرغیاں، پرندے اور جانوروں تک بہت ساری چیزوں کا اہم ذریعہ ہے۔ قرآن میں دین کی بھرپور وضاحت ہے۔ فقہ کے نام پر ناسمجھ طبقے کی فضولیات اور بکواسات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں اس کا اہم کردار ہے اور جدید سائنسی تعلیم تسخیرکائنات کے ذریعے سے ہی ہوسکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے قوموں کو عروج اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے قوموں کو زوال ملے گا۔ مغرب نے قرآن کے نظریہ تسخیرکائنات پر عمل کر کے جو عروج حاصل کیا ،آج اس کا نتیجہ ہے کہ طالبان امریکہ سے معاہدہ کرکے اپنے ملک میں داخل ہوسکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے اندر یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ مدارس سے جو فضاء بن رہی ہے یہ دین کا تقاضا ہے۔ میرے سکول کا افتتاح مولانا فضل الرحمن نے کیا اور ٹانک کے تمام اکابر علماء نے تائید کی تھی۔ بیت اللہ محسود نے میری کتاب ”آتش فشاں ”دیکھ کر کہا کہ ” ہماری یہ علمی حیثیت نہیں کہ اس پر تبصرہ کریں”۔ کچھ عزیز وں نے طالبان کو ورغلایا کہ ” یہ ایسا گھرانہ ہے جو کسی کی بیوی بھگا کر کسی سے شادی کرائی۔ کسی کو بیوی بچے نہیں دیتے”۔ طالبان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بدکاری کروائی تھی اور ایسے لوگ اپنی پشت میں بارود بھر کر یامزید مظالم کرکے اپنے ان گناہوں کاازالہ چاہتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سیاسی جماعتیں بمقابلہ مذہبی جماعتیں کس نے بدترین گالی بریگیڈ پالا ہے؟ اوریا مقبول جان اور عرفان صدیقی

پاکستان کی سیاسی زندگی گذشتہ50سال سے اس قدر تلخ ہو چکی کہ یہاں اپنا نقطہ نظر بیان کرنا خود کو خوفناک جنگل میں اتارنا ہے۔ طعن و تشنیع، گالی گلوچ، ذاتیات ، اہلِ خانہ تک کی کردار کشی جیسی بلائوں کا سامنا کرنا پڑیگا، عرفان صدیقی جیسے صاحبِ علم اور حسنِ کردار سے آراستہ شخص کو سراج الحق کے بیان پر مخالفانہ تبصرہ کرنا پڑا، تو انہوں نے کالم کے آغاز میں ہی سراج الحق کی تعریف و توصیف کر کے خوبصورت پیش بندی کی، انیس کے شعر کو نثری قالب میں ڈھالا۔
خیالِ خاطر احباب چاہئے ہر دم انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
سراج الحق کی درویشی اور قلندری کا تذکرہ کرکے انہیں ”عالی مقام”کے منصب پر سرفراز کرنے کے بعد ہی اپنے لئے ان سے اختلاف کی گنجائش نکالی۔ عرفان صدیقی کیساتھ میرا احترام و محبت کا رشتہ ہے،ان کی نفاستِ طبع کا مداح ہوں۔مجھے مکمل ادراک ہے کہ سراج الحق خود نہ بھی چاہیں، مگر انکے بیان سے اگر کوئی اختلاف کی جرات کرے تو پھر جماعتِ اسلامی کی ”جدید سوشل میڈیائی ذریت”اس ”ناہنجار”کے ساتھ ”ہولناک”سلوک کرتی ہے۔جماعتِ اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم تو ایک ”لفظ ”بھی زبان سے نکالنے کی معافی نہیں دیتی۔ آپ نے خواہ انکے حق میں لکھتے ہوئے ایک عمر گزاری ہو مگر وہ ایکدم آپ کے گذشتہ کئی دہائیوں کے تعلق پر پانی پھیرتے ہوئے، سیدھا سیدھا ”منافق”، بِکائو اور گمراہ کے القابات سے نواز دینگے۔ ان کی دشنام طرازی کی ”لغت”میں جو فصاحت و بلاغت ہے پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اورن لیگ کے جدید”لونڈوں”کو یہ ”دولتِ علم” میسر ہی نہیں ۔ عبداللہ بن ابی کے نقشِ جدید تک یہ سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔یہ المیہ صرف جماعتِ اسلامی کو درپیش نہیں بلکہ ہر وہ مذہبی سیاسی جماعت درجہ بدرجہ اس مرض کا شکار ہے جو انتخابی سیاست کی ”غلاظت نگری” میں اتر چکی۔ سب سے کم عمر جماعت تحریکِ لبیک پاکستان ہے۔ آپ انکے سوشل میڈیا پر نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو آپ کو اور کچھ نیا ملے نہ ملے، مگر آپ کی گالیوں کے ذخیرہ الفاظ میں خاطر خواہ اضافہ ضرور ہوگا۔
یہی عالم مولانا فضل الرحمن کے عقیدت مندوں کا ہے۔ ان ”علما ء و فضلائ” کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ تو عربی و فارسی لغت سے ”مرصع” ہے۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی والوں کو ایسی ”علمی بصیرت”واقعی میسر نہیں جس میں یہ تمام مذہبی جماعتیں بدرجہ اتم کمال رکھتی ہیں۔ یہ”مذہبی سیاسی میڈیا ماہرین” انتہائی آسانی سے کسی پر کافر، قادیانی، یہودیوں کا ایجنٹ، کے فتوے لگا سکتے ہیں۔اس طرح کے فتوے پی ٹی آئی، ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے ”کارندے” لگانے کی جرات نہیں کر پاتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا فتوی لگایا تو مقابلے میں ان تمام مذہبی جماعتوں کے دارالافتاء کھل جائیں گے، جسکے نتیجے میں کئی”سرفروش” اگر جوش میں آ کر ان کی جانب بندوقیں تان لیں، تو پھر موت یقینی ہے۔
عرفان صدیقی کے کالم کا پہلا پیرا انکے اسی خوف کی عملی تصویر نظر آتا ہے۔ میں نے منور حسن امیر جماعتِ اسلامی سے دست بستہ کہا تھا کہ جماعتِ اسلامی کو کم از کم 5سال کیلئے تمام تر سیاسی سرگرمیاں ترک کر کے صرف اپنے اراکین کے تزکیہ پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے تاکہ جماعتِ اسلامی کا سنہرادور لوٹ آئے کہ جب خلقِ خدا کہتی تھی کہ ہم جماعتِ اسلامی والوں کو ووٹ دیں یا نہ دیں ہم ان کے اخلاق، حسنِ سیرت، کردار اور ایمانداری کی گواہی ضرور دے سکتے ہیں۔
مذہبی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا جنگجوئوں کا عالم اس قدر غضب ناک ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن، سراج الحق یا سعد رضوی کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالیں، ان کی پالیسیوں پر بھی تنقید نہ کریں، بالکل خاموش رہیں، مگر ایک غلطی سرزد ہو جائے کہ آپ ان کے انتخابی مخالف مثلا ”عمران خان”کے ہی کسی موقف کے حق میں کوئی بات کہہ دیں تو پھر دیکھیں”میڈیا کے مذہبی جرنیل” فوراً آپ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دینگے، کردار کشی شروع کر دینگے اور پھر ان کا ہر کارکن ثواب سمجھ کر اس میں شریک ہو جائیگا۔ان سے پوچھو کہ میں نے کیا آپ کے اکابرین کو کچھ کہا، کیا آپ کی کسی پالیسی پر تنقید کی تو یہ ایک دم آگ بگولا ہو کر بولیں گے تم نے”فلاں ابن فلاں”کا ساتھ دیا، اس لئے اب ہمارے نزدیک تم بھی ”فلاں ابن فلاں”ہو۔ کاش!یہ تمام مذہبی جماعتیں اپنے تمام سوشل میڈیا محبان کو اپنے ”پیجز”اور اکائونٹس پر رسول اکرم ۖ کی یہ حدیث اور قرآنِ پاک کی یہ آیت لکھنے کا حکم دیں تو عین ممکن ہے یہ سدھر جائیں۔
رسول اکرم ۖ نے فرمایا،”مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اس کے ساتھ ہی اگر قرآنِ پاک کی یہ آیت بھی تحریر ہو جائے، ”بے شک اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا”(المنافقون:6)۔ یعنی آپ گالی دینے سے فاسق ہو جاتے ہیں تو پھر آپ ہدایت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے لئے یہ آیت اور حدیث کافی ہے۔
اس موضوع پر بہت کچھ ہے جو ضبطِ تحریر میں لانا لازمی ہے۔ فساد خلق سے ڈر کر اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی نسلوں کی غلطیوں کی طرف اشارہ نہ کیا تو روزِ حشر ہم سب لکھنے والے جواب دہ ہونگے، یہ وبا زہر کی طرح تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں میں سرایت کر چکی ہے۔ لیکن اس دفعہ میری مشکل بہت آسان ہے کیونکہ مجھے سراج الحق کے بیان اور اسکے جواب میں عرفان صدیقی کے کالم دونوں میں سے مجھے سراج الحق کے بیان کا دفاع کرنا ہے، اس لئے عین ممکن ہے اس دفعہ میں جماعتِ اسلامی کی گولہ باری سے بچ جائوں گا۔
رہا عرفان صدیقی کا معاملہ تو انکے نہ تو پروانے اور فروزانے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی سوشل میڈیا سیل ہے، جسکا ”گالی بریگیڈ” ان کے دفاع پر مامور ہو۔ اسلئے مجھے کوئی خوف نہیں۔ ویسے بھی ان جیسے وسیع القب اور عالی ظرف لوگ تو پاکستانی معاشرے کا جھومر ہیں۔ شریف خاندان سے تمام محبتوں اور وابستگیوں کے باوجود ان کی مجھ سے محبت میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ عین ان ایام میں جب میں شہباز شریف کے زیرِ عتاب تھا تو ان کے حج کے سفر نامے کی کتاب شائع ہوئی، جس پر پاکستان ٹیلی ویژن نے ان سے انٹرویو کا اہتمام کرنا تھا۔عرفان صدیقی نے ٹیلی ویژن والوں کو ہدایات دیں کہ اس کتاب پر صرف اوریا مقبول جان کو انٹرویو دوں گا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ارباب حل و عقد مشکل میں پڑ گئے کہ مجھے کیسے بلائیں؟، تو انہوں نے کہاکہ اوپر والوں کی ناراضگی کی فکر مت کرو، میں سنبھال لوں گا۔ اس رشتے اور تعلق کی نزاکت اور عرفان صدیقی کی محبتوں کے احترام کیساتھ میں ان سے اختلاف اور سراج الحق کے بیان کی حمایت کی جسارت کر رہا ہوں، جو خالصتاً علمی، تاریخی اور نظریاتی ہے۔
سراج الحق نے ایک اساسی اور بنیادی نوعیت کا مشورہ دیا، جس میں مملکتِ خداداد پاکستان کی لاتعداد سیاسی و انتظامی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آرمی چیف کی تقرری کیلئے وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ختم ہونا چاہئے اور یہ تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح (سنیارٹی کی بنیاد)پر ہونی چاہئے۔میں نے آغاز میں ہی سراج الحق کے اس بیان کی مکمل حمایت کر دی تاکہ کالم میں دلائل کی یکسوئی قائم رہے۔ مکمل حمایت کے باوجود مجھے اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ سراج الحق کی یہ خواہش کم از کم موجودہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں پوری نہیں ہو سکتی مگر اچھی خواہش امید کو سینوں میں پروان چڑھانے میں کیا حرج ہے۔75سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ”قانوناً” پاکستانی فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کا اختیار بظاہر گورنر جنرل، صدر یا وزیر اعظم کو حاصل رہا ہے لیکن یہ اختیار کچھ ”ناقابلِ بیان” عوامل کی رسیوں میں ہمیشہ جکڑا رہا۔
لیاقت علی خان26مئی کو امریکہ کے ڈھائی ماہ کے دورے سے واپس لوٹے تو ان کی”زنبیل” میں لاتعداد وعدوں کے کھلونے تھے، جن کی قیمت ملک نے آہستہ آہستہ ادا کرنا تھی۔ امریکی اس دوران منظورِ نظر کا انتخاب کر چکے تھے جس نے آئندہ حقیقت میں(De’-fecto) سربراہ بننا تھا۔ ”حقیقت میں حکمران” اسلئے لکھا کہ تمام امریکی صدور خفیہ خط و کتابت میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو ہی اصل حکمران لکھتے رہے اور اب تو یہ تمام خط و کتابت امریکی سکیورٹی آرکائیوز نے طشت ازبام کر دی ہے۔ اس بڑے عالمی کردار کے علاوہ گزشتہ کافی عرصے سے کچھ دوست و مربی ممالک کا کردار بھی اب ڈھکا چھپا نہیں رہ گیا۔ ان ممالک سے ہم مصیبت کی گھڑی میں مدد حاصل کرتے ہیں۔
ویسے بھی جدید سیاسیات میں ریاست کا اہم ترین جزو”اقتدارِ اعلی” ہوتا ہے اور دنیا متفق ہے کہ کمزور ریاستوں کا کوئی”اقتدارِ اعلی” نہیں ہوتا،پاکستان ان میں ایک ہے۔ اسی لئے جو بھی مقتدر یا ”حقیقت میں حکمران”ہوتا ہے، اسے مسند پر بٹھانے اور اتارنے دونوں صورتوں میں عالمی طاقتیں خصوصا امریکہ ضرور شریک ہوتا ہے۔اس عالمی جکڑ بندیوں کے اندر رہتے ہوئے اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کی فوج کا سربراہ ان کی ”رینک اینڈ فائل” سے ویسے ہی آئے گا، جیسے تمام لیفٹیننٹ جنرل ترقی کرتے ہوئے پہنچتے ہیں اور ان ترقیوں کا کسی سیاسی سربراہ کو علم تک نہیں ہوتا، تو پھر شاید یہ مسئلہ عمر بھر کیلئے حل ہو جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ایسی ہی شفاف تعیناتی خود سپریم کورٹ نے اپنے مشہور” ججز سنیارٹی کیس”کے فیصلے سے حاصل کر لی۔ الجہاد ٹرسٹ کیس والا یہ فیصلہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ، اجمل میاں، فضل الٰہی خان، منظور حسین سیال اور جسٹس میر ہزار خان کھوسہ نے دیا۔ جس میں یہ اصول طے کر دیا کہ جو جج سینئر ہوگا، وہی چیف جسٹس بننے کا حق دار ہوگا۔ بینچ کے سربراہ خود سجاد علی شاہ کو بینظیر بھٹو نے جونیئر ہونے کے باوجود اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس لگایا تھا۔ بہت معرکہ خیز دور تھا۔ اسی سجاد علی شاہ کے خلاف نواز شریف کی مسلم لیگ سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑی تھی اور ججوں کو جان بچانے کیلئے چیمبرز میں گھسنا پڑا تھا۔ ججز سنیارٹی کیس کو بنیاد بنا کر کوئٹہ میں سپریم کورٹ رجسٹری کے تین ججوں ناصر اسلم زاہد، خلیل الرحمن اور ارشاد حسن نے اپنے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو سنیارٹی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا۔ اسی دوران ناراض نواز شریف نے فاروق لغاری سے سجاد علی شاہ کو برطرف کر کے قائمقام چیف جسٹس لگانے کیلئے کہا لیکن شریف النفس فاروق لغاری عزت سمیٹے مستعفی ہو گئے۔ رفیق تارڑ صدر منتخب کر لئے گئے جنہوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کوئٹہ کے فیصلے کے مطابق سجاد علی شاہ کو23دسمبر1997کو برطرف کر کے اجمل میاں کو چیف جسٹس لگا دیا۔آج پچیس سال گزرنے کے بعد قوم کم از کم دوبارہ کبھی اس بحران سے نہیں گزری کہ آئندہ چیف جسٹس کون ہوگا اور وہ کس کا منظورِ نظر ہوگا۔ عرفان صدیقی نے عدلیہ کے متنازعہ فیصلوں کو جواز بنایا ہے۔ کاش وہ ان تمام ججوں کے کیریئر پر ایک نظر دوڑائیں اور پھر ان کو ہائی کورٹ کا جج لگانے والے ایسے تمام وزرائے اعظم کے دستخط ملاحظہ فرمائیں تو انہیں اپنے ممدوح نواز شریف کے دستخط سب سے زیادہ ملیں گے۔
تمام وزرائے اعظم نے اپنی پارٹیوں سے سیاسی وابستگی رکھنے والے وکلا کو جج لگایا اور پھر ان سے جیسی توقعات وابستہ کی تھیں، اگر انہوں نے اسکے برعکس کام کیا تو انہی کو مطعون کر دیا جیسے کوئی غلام حکم عدولی کرے تو بہت غصہ آتا ہے۔ ججوں کی تقرری کی خشتِ اول اقربا پروری، سفارش اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہ رکھی جاتی تو آج آپ یہ گلہ کبھی نہ کرتے۔ آج بھی اگر ججوں کی تعیناتی کا نظام سول سروس کی طرح براہِ راست میرٹ پر ہو اور اعلی عدالتوں میں وکلا کا کوٹہ مکمل ختم کر دیا جائے تو پاکستان کی عدلیہ میں ایک سنہرا دور لایا جا سکتا ہے۔
سیاسی مداخلت اور وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیار نے ملک کے سب سے قابل ادارے سول سروس کو جس طرح تباہ و برباد کیا، اس کی کہانی المناک ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر1973تک ملک پر جو بھی سیاسی افتاد آئی، حکومتیں بدلیں مارشل لاء آئے لیکن سول سروس کے مضبوط ڈھانچے نے ملک کو جو1947میں پسماندہ اور بے یار و مددگار تھا، دنیا میں ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ انگلینڈ کی گریجویشن میں ترقیاتی معاشیات (Development Economics)کے کورس کی کتاب میں پاکستان صنعتی اور زرعی ترقی کو مثال کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ چودہ اگست1947کو سول سرونٹ جو کامن پن نہ ہونے کی وجہ سے جھاڑیوں سے کانٹے چن کر فائلیں مرتب کیا کرتے تھے انہی کی شبانہ روز محنتوں نے صرف25سال میں پاکستان کو دنیا بھر میں صنعتی، زرعی اور اقتصادی شعبے میں روشن مثال بنا دیا اور پاکستان پر کل قرضہ صرف3.5ارب ڈالر تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے1973میں جو متفقہ آئین دیا اس میں وہ تمام آئینی ضمانتیں ( Guarantees)ختم کر دیں جو ایک سول سرونٹ کو حاصل تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ایمانداری کو برقرار رکھ سکتا تھا۔ ۔بھٹو کے آئین نے سول سرونٹس کو سیاسی آقائوں کے رحم و کرم پر ڈال کر انہیں ان کا غلام بنا دیا ۔ آج ادارے کی تباہی بربادی سب کے سامنے واضح ہے۔ ناکام، ناکارہ، سیاسی آقائوں کے اشارے پر چلنے والی سول سروس جس میں نہ ایمانداری ہے اور نہ اخلاق، نہ خود پر یقین ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل پر بھروسہ۔پاکستان کی افواج ابھی تک صرف ایک آرمی چیف کی تعیناتی کے علاوہ باقی ہر معاملے میں کسی بھی قسم کے تنازعے سے پاک ہیں۔ یہ عہدہ بھی اس لئے متنازعہ ہوا کیونکہ طالع آزما جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے متنازعہ بنایا۔75 سال انکی نرسری میں سیاستدان دانا دنکا چگتے رہے۔ یہ خود برسراقتدار نہیں ہوتے تو جسکے سر پر انکا ”ہما”بیٹھ جاتا وہ اقتدار میں آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں گزشتہ50سالوں میں ایک ایسی تباہی پھیلی، ایسا زوال آیا کہ اب چاروں اور ماتم برپا ہے۔
جب تک سیاستدان اس مرکز طاقت کو رام کرنے کے چکر میں رہیں گے، یہ وہ خواہ اس کا سربراہ لگا کر کریں یا ان سے مدد کی بھیک مانگ کر، اور جب تک سول بیوروکریسی کبھی سیاستدانوں اور کبھی فوجی سربراہوں کی دستِ نگر، زیرِ سایہ اور محتاجِ محض رہے گی یہ ملک نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی پرامن رہ سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ کی تعیناتی ویسا معمول کا عمل ہونا چاہئے جیسے چیف جسٹس کی تعیناتی ہے ورنہ ہر تین سال بعد رونق تو خوب لگتی رہے گی۔

__اوریا مقبول جان کی تحریر پر تبصرہ__
پہلے تو اوریا مقبول جان سے معذرت کہ صاحب کا لفظ اور کچھ جملے کو مختصر کرنے کی وجہ سے کاٹنا پڑگیا۔ دوسرا یہ کہ جب تحریر یا تقریر سے جان جاتی ہو توپھر خود کش اور بندوق وپستول کے حملوں سے کتنی جان جاتی ہوگی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اوریامقبول جان طالبان ، تحریک لبیک، تحریک ختم نبوت، ناموس رسالت اور مذہب کے نام پر چلنے والی جماعتوں کے واقعی بڑے ہمدرد بلکہ نجأت کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب معلوم ہواکہ معاملہ کچھ اور ہے۔ آرمی چیف کے معاملے کو متنازعہ بنانے کا دکھ اچھی بات ہے لیکن اس میں اوریا مقبول جان اور ان چہیتی سیاسی جماعتوں نے کتنا کردار ادا کیا اور مذہبی جماعتوں کا کتنا کردار تھا؟۔ جبکہ عمران خان نے سب سے پہلے سینئر موسٹ کو لگانے کی بات کی تھی ۔نوازشریف نے کسی خاص کی نفی کرتے ہوئے سب کو یکساں قرار دیا مگرتماشا تو اوریامقبول جان جیسے لوگوں نے ہی لگایا تھا۔ آرمی چیف کی تقدیر کا فیصلہ وزیراعظم کا اختیار ہے لیکن کوئی آرمی چیف اس بنیاد پر کسی کا داماد تو نہیں بن جاتا ہے۔ اس کی ایک سروس ہوتی ہے اور اپنا ادارہ اور اس کی خیرخواہی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
پہلے اوریامقبول جان نے ایک بہت سنسنی پھیلائی تھی کہ حافظ سید عاصم منیر شاہ کسی صورت بھی آرمی چیف نہیں بن سکتے۔ اب جب بن گئے تو سراج الحق کو ٹوپی سے پکڑلیا کہ ” سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے” تاکہ یہ تأثر پھیل جائے کہ موجودہ سینارٹی لسٹ کے مطابق تعیناتی پر اور یا مقبول بھی بہت خوش اور متفق ہیں۔ عرفان صدیقی کے دامن کو پیچھے سے پکڑلیا کیونکہ اب آرمی چیف ن لیگ کی خواہش کے مطابق تعینات ہوا ہے اور عرفان صدیقی بھی اس ٹیم کا ایک حصہ ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ عرفان صدیقی کی تجویز پر منتخب کیا گیا تھا لیکن عرفان صدیقی کو اسی کے دور میں جیل کی ہوا کھانی پڑگئی تھی اور جنرل باجوہ کی تائید میں اوریا مقبول جان نے ایک خواب بھی میڈیا پر بتایا تھا۔ لوگوں کو اس کے مشرف دور کے پروگرام یاد ہیں کہ فوج کے حق میں کہتا تھا کہ” بڑے معصوم فوجی جرنیل ہمیشہ اچھے رہے اور سول بیوروکریسی تمام خرابیوں کی جڑ رہی ہے”۔ اب فوج بری لگ رہی ہے اور بیوروکریسی کا کردار زبردست ہوگیا؟۔
عرفان صدیقی اپنے لہجے میں مٹھاس اور نزاکت خیزی کی جگہ حق کی خاطر بہت کڑوے بلکہ گالی برگیڈ بن جائیں لیکن معاشرے میں زہر گھولنے کیلئے کوئی جھوٹ مت بولیں۔ جب عرفان صدیقی نے کہا کہ ”رفیق تارڑ پر پانچ جرنیلوں نے بندوق تان کر دباؤ ڈالا کہ استعفیٰ دو لیکن رفیق تارڑ ڈٹ گئے ”۔ جس پر حامد میر نے بڑے مذاحیہ لہجے میں کہا کہ ” رفیق تارڑ نے ”۔ محترم قاری اللہ داد صاحب سے کہا کہ ” قرآن نے زانیوں پر لعنت نہیں بھیجی لیکن جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجی ہے”۔ عرفان صدیقی لال کرتی کے بدنام مکانات میں جاتے مگر نواز شریف کیلئے جھوٹ نہ بولتے ۔ ن لیگ جماعت اسلامی ،سپاہ صحابہ، مولانا سمیع الحق اورطالبان کیساتھ کھڑی ہوتی تھی اور اب مولانا فضل الرحمن کیساتھ کھڑی ہوگئی لیکن جونہی پیپلزپارٹی سے اتحاد ناگزیر ہوگیا اور تحریک لبیک سے خطرہ پیدا ہوگیا تو عرفان صدیقی نے بہت باریکی سے مذہبی طبقے پر وار کیا۔ اوریا مقبول جان کو مذہبی اسٹیج پر بولنے کا موقع ملتاتھا لیکن مرد کے بچے نے نصیحت نہیںکی؟۔
آخرت کو سنوارنے کیلئے اسلام کے بنیادی معاشرتی معاملات پر علمی گفتگو کرنی چاہیے تاکہ حلالہ کی لعنت اور عورت کی حق تلفی کے مسائل کا خاتمہ ہو۔ اگر مذہبی طبقہ طاقت میں آتا تواوریا مقبول اور عرفان صدیقی کو طالبان بنتے دیکھا ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

ہمارا جمعیت علماء اسلام نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔

جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ ہے کہ وہ جو کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی آگے لیکر آیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے

جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کے معروف رہنما عالم دین مولانا عصام الدین محسود نے کثیر تعداد میں قومی مشیران کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو خیر باد کہہ دیا ہے ۔ جن میں نامور شخصیات ملک محمد ہاشم خان، ملک سیف الرحمن، حاجی کرامت خان، ملک نعیم جان، ملک گل کرام خان، ملک عبد الحمید خان، ملک رحمت اللہ (رام تل)،ملک سلطان خان، حاجی محمد اقبال خان، نور محمد برکی، ملک بہرام خان، دارو خان، حاجی شاہ محمود خان، ملک فیض اللہ خان اور ڈاکٹر عبد المجید خان وغیرہ شامل ہیں۔ قوم شمن خیل ، لاتعداد عبدالائی، منزائی وغیرہ محسود قوم کی اکثریت نے مولانا عصام الدین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مولانا عصام الدین محسودنے دکھ بھرے لہجے میں40سالہ رفاقت کو چھوڑنے کی مجبوری پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا:

ٹانک شہر میں مولانا عبد الحق ، قاضی عطاء اللہ اور مولانا فتح خان جمعیت علماء اسلام کی خدمت کررہے تھے۔ جب1983میں مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کی خدمت کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ مولانا عبید اللہ انور، مولانا عبد اللہ درخواستی پیچھے ہٹے ۔ مولانا فضل الرحمن آگے آئے تو چونکہ ہماری جوانی تھی ۔ ہم نے ساتھ دیا ، ہر محاذ پر بہت قربانیاں بھی دیں۔ اس نے ہمارا ذہن یہ بنایا تھا کہ لنخرج العباد من عبادة العباد الیٰ عبادة رب العباد ہمارا جمعیت نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔ ان لوگوں کی غلامی جن کا اپنا ذہنی میلان غلامی کا ہے ۔ مجھے جو دکھ درد پہنچا، اس کا میں مکمل اظہار نہیں کرسکتا اسلئے کہ میرا دل بہت کمزور ہے۔ آج جب میں جمعیت کو چھوڑ رہا ہوں تو میرے لئے کوئی خوشی کی بات اور اچھا دن نہیں۔ آج جیسا میں مرچکا اور ختم ہوچکا ہوں۔ پارٹی کی آپ40سال خدمت کرو اور اس کو خیر باد کہو تو یہ بہت بڑی بات ہے۔KPKکی لیڈر شپ اوراختیارات مولانا نے ایک ایسے آدمی کو دئیے جو میری موجودگی میں تین مرتبہ مجلس عمومی کے اجلاس سے کرپشن اور بدنامی کی بنیاد پر نکالا گیا۔ اس کو میٹنگ میں آنے سے منع کرتے تھے۔ آج اس کو خیبر پختونخواہ کا گورنر لگایا۔KPKمیں جتنے پرانے علماء کرام اور قربانیوں کے لوگ ہیں سب کو چھوڑ دیا۔ رشتے دار بیٹی کے سسر کو گورنری دی۔ میں جمعیت علماء اسلام کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ مجھ پر بھاری، تکلیف دہ ہے اسلئے کہ یہ جھنڈا میرے باپ نے بھی گھمایا ۔ مفتی محمود کے وقت میں میرے والد قبائل کی ساتوں ایجنسی کے صدر تھے۔ اس جمعیت کی بنیاد وزیرستان میں میں نے رکھی ۔ سراروغہ میں انصار الاسلام سے جمعیت کو منتقل کیا پھر کل قبائل جمعیت بھی الحمد للہ میری کوششوں سے وجود میں آئی تھی۔ بڑے جلسوںاور پروگرام کا اہتمام میرے گھر سے ہوتا تھا۔ وہ نظریہ جو مولانا نے متعارف کرایا تھا اسکے خلاف مولانا خود چل پڑے۔ اسلئے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں اور مستقبل کیلئے میں اپنی قوم اور عوام کی رائے سے قدم اٹھاؤں گا۔ میرا گلہ ہے کہ مولانا صاحب بہت سارے علماء نے آپ کیساتھ بڑی قربانیاں دیں ۔ جنکے باپ دادا جمعیت میں بوڑھے اور فوت ہوگئے۔DIخان کو دیکھیں! مولانا علاؤ الدین ، مفتی عبد القدوس اور کلاچی کے قاضی عبد الکریم یہ جتنے علمی گھرانے تھے مولانا فضل الرحمن کی کوشش سے جمعیت کی قیادت سے نکلے بلکہ انکے نام کو مٹانے کی کوشش کی۔ ٹانک میں مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا عبد الحق مولانا فتح خان، مولانا عبد الرؤف کی جماعت کیلئے قربانیاں تھیں۔ ان کی اولاد کو کسی شمار و قطار میں نہیں سمجھتا بلکہ ان کی بے عزتی کی کوشش کرتا ہے۔ میں ڈرتا تھا کہ میری بے عزتی نہ ہوجائے۔KPKمیںمولانا جمعیت کو وراثت میں تبدیل کرچکا ۔ ڈی آئی خان میں اس کی خاندانی ، بنوں میں اکرم درانی اور پشاور میں غلام علی کی بالادستی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ آج اٹھ جائیں اور اپنے آپ کا خود پوچھ لیں اگر وہ پوچھیں نہ تو ان کیلئے یہ وقت نقصان دہ ہوگا۔ اللہ کرے کہ جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اس طرح سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ وہ کس طرف جارہے ہیں؟۔ کس کیساتھ جارہے ہیں؟ اور کس لئے جارہے ہیں؟۔
صوبے کے علماء سے مطالبہ ہے کہ اٹھ جاؤ اور اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں لو ۔ آج جمعیت سرمایہ داروں کے ہاتھ میں گئی۔ میں نے اس دن استعفیٰ دیا تھا جس پر امیر اور جنرل سیکریٹری گواہ ہیں کہ جس دن ساؤتھ وزیرستان محسود ایریا سروکئی تحصیل اور لدھا تحصیل کے میئر کے نام آگئے تو اس دن میں نے دستخط کردئیے اور کہا کہ اسکے بعد مولانا صاحب میں کابینہ میں ساتھ نہیں ہوں گا۔ اس نے کہا کہ کیوں؟ ۔ میں نے کہا اسلئے کہ محسود ایریا کے لوگ جمعیت علماء اسلام کو مفت میں ووٹ دیتے تھے۔ آپ نے سرمایہ داروں کوآ گے کردیا اور ان کو ٹکٹ دیا۔ مولانا صاحب نہیں چاہتا کہ کوئی غریب عالم بھی آگے آئے۔ حالانکہ علماء کی اکثریت ہے اور اب بھی پوچھ سکتے ہیں کہ میئر کیلئے اکثریت علماء کے حق میں تھی کہ ٹکٹ علماء کو ملیں لیکن جب بات مولانا تک پہنچی تو مولانا سرمایہ دار کے حق میں فیصلہ کرتا تھا۔ اس طرح مولانا صالح شاہ کے بیٹے کو ٹکٹ دیا۔ اس دن بھی آپ لوگوں نے مجھے داد دی تھی اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے۔ اس کے علاوہ کی باتیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے دوستوں کے ساتھ مشورہ کروں گا۔ اگر سیاست کیلئے دل چاہا تو جماعتیں بہت ہیںاور اگر نہیں چاہا تو بھی اپنے لئے لائحہ عمل بناؤں گا۔ جمعیت موروثی جماعت بن گئی، علماء کی جماعت نہیں ، ان پڑھ لوگوں میں بھی صرف مالداروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ میں جماعت کیلئے یہ گناہ سمجھتا ہوں اور اسکے بعد میں شامل نہ ہوں گا، و آخر دعوانا ان الحمد للہ ۔
سوال: مولانا صاحب یہ بتاؤ کہ گورنری کیلئے جمعیت علماء اسلام سے کوئی مشاورت ہوئی تھی؟۔ یا ایسے ہی نامزد کردیا؟۔ اور لوگوں نے اتفاق کرلیا؟۔
جواب: مولانا ہر بات میں مشاورت کرتا ہے لیکن پہلے کارکنوں کا یہ ایسا ذہن بناتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایک رسمی مشاورت ہوتی ہے۔
سائل: مطلب ہے کہ پہلے سے کسی ایک کیلئے ذہن بنایا ہوتا ہے۔
جواب: ہاں بالکل! جس کیلئے مولانا چاہتے ہیں اسی کو لاتے ہیں۔
سوال: کیا یہ بات جماعت کی مرکزی اور صوبائی سطح پر پہلے بھی آپ نے کبھی اٹھائی ہے کہ ہمیں یہ شکایات ہیں؟ یا پہلی مرتبہ یہاں بیان کررہے ہیں؟ ۔
جواب: میں نے بالکل پہلے بھی کی ہے لیکن جو لوگ ان کے گھر سے باہر کے تھے تو وہ کہتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کی تو ہمیں عہدوں سے ہٹادے گا۔ عصام الدین صاحب یہ مہربانی کرو کہ چند سال مجھے اس عہدے پر رہنے دو۔ اگر آپ مخالفت کرو تو پھر آپ کی جگہ جماعت میں نہیں ہے۔
سوال: جس طرح پاکستان میں گرما گرمی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ایسے میں بنیادی رکنیت سے آپ کا مستعفی ہونا تو کیا کسی سیاسی جماعت میں کوئی جانے کا فیصلہ کیا ہے؟۔ یا پھر آپ خاموش رہیں گے؟۔
جواب: اگر میرے مفاد کی بات ہوتی تو غلام علی کو میں بہت عرصہ سے جانتا ہوں جب وہ کونسلر بھی نہ تھا پھر میں استعفیٰ نہ دیتا بلکہ گورنر سے مفادات اٹھاتا۔ لیکن الحمد للہ کہ میں نے پہلے بھی کبھی جماعت میں مفادات نہیں اٹھائے ہیں۔ اور نہ آئندہ کسی اور پارٹی سے میرے مفادات کا خیال ہے۔ ہر بندے کا حق ہے کہ سیاست کرے لیکن وہ اپنے لئے اس پارٹی کو چنے گا کہ جس میں میرے دوستوں ، میری قوم کے لوگوں اور میرے علاقے کے لوگوں کو پسند ہواور اس میں میری عزت ہو، بے عزتی نہ ہو۔ میں جمعیت فضل الرحمن کو چھوڑ رہا ہوں تو مجھے اپنی عزت کا خطرہ ہے۔ یہ تین چار سال سے جو ہورہا ہے کہ انہوں نے مجھے اپنا سرپرست بنایا ہے تو میں نے جو کچھ بھی دیکھا، اس کو سر عام بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے40سال گزارے اسلئے میں وہ باتیں نہیں کرسکتا کہ کیوں جماعت کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکنKPKکے گورنر سے مجھے یقینی طور پربہت تکلیف پہنچی۔ اسلئے میں نے آج نو دس بجے ہنگامی فیصلہ کیا کہ آج تمام علماء ، پرانے دوستوں کو نظر انداز کرکے سسرالی رشتہ دار کو گورنری دی تو کیا کوئی اس کی اہلیت نہیں رکھتا تھا؟۔ میں نے بتایا کہ ہمارے وقت میں اس کو تین دفعہ اجلاس سے نکال دیا گیا تھا۔ بس یہ میرے لئے برداشت کے قابل بات نہیں تھی۔
سوال: اس نے تو ایم پی اے کا ٹکٹ بھی بغیر داڑھی والے کودیا ہے جو جماعتی فرد نہ تھا۔ اسی طرح گلستان بھی ایساتھا اور… بیٹنی بھی ۔
جواب: ہاں اسکا رویہ یہی ہے جوMPAاسکےMNAکا خرچہ برداشت کرتا ہے اسی کو ٹکٹ دیتا تھا۔ جو علماء ، کارکن خرچہ نہیں اٹھاسکتے تو ٹکٹ نہیں دیتا تھا۔ گلستان اور جس کو ابھی ٹکٹ دیا ہے وہ صرف اسلئے دیا کہ وہ خرچہ اٹھاتا ہے۔
سائل: یعنی جو مالی طور پر مولانا کے خرچے کو اٹھاسکتا ہے جماعتی طور پر نہیں!
جواب: ہاں بالکل۔ جماعت برائے نام معاملہ ہے ۔ آپ کا جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو ٹکٹ بھی مل جائیگا جب دولت ہو تو۔ اگر دولت نہ ہو تو پھر آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے گھر مولانا فضل الرحمن اورمولانا عطاء الرحمن نے بہت راتیںگزاری ہیں۔ جماعت کا کوئی لیڈر نہیں جس نے اس بیٹھک میں رات نہ گزاری ہو۔ یہ جماعت اولیاء اللہ کی جماعت تھی اور اچھے لوگوں کی جماعت تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا احمد علی لاہوری اور یہ مفتی محمود کی جماعت ہے۔ اس جماعت کو اس طرف نہ لے جاؤ جس میں علماء کی بے قدری ہو اور سرمایہ دار کی عزت ہو۔ اللہ ہم پر رحم کرے اور ہماری جمعیت علماء کے پرانے ساتھیوں کو یہ فکر دے کہ آخر ہم کس طرف جارہے ہیں۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان سرمایہ داروں کو بھی جماعت میں شامل کریں گے اور ٹکٹ دیں گے تو پھر ؟ ۔
جواب: سرمایہ دارں میں جو لوگ جماعت کیلئے قربانی دیتے ہیں ان کو بھی ٹکٹ دینے کا حق پہنچتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی سرمایہ دار ہے اور وہ جماعت میں نہیں آسکتا ہے۔ جماعت میں بہت سرمایہ دار لوگ ہیں ان کی قربانیاں ہیں۔ وہ بچپن سے جماعت کیلئے قربانیاں دیتے آئے ہیںاور ان کی داڑھیاں نہیں ہیں لیکن ان کا نظریہ جمعیت علماء اسلام کا ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا ہے کہ جسکا تعلق جماعت سے ہے لیکن کردار جماعت کیخلاف ہے تو اس کی مخالفت ہم کرتے تھے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ سرمایہ دار کو ٹکٹ نہ دیا جائے مگر اقرباء پروری نہ ہو جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ کمال ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی اور آگے لیکر آگیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے اور یہ غلام علی پشاور نہیں دیر کا ہے ۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام سے مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا گل نصیب خان وغیرہ کو نکال دیا گیا کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے لگے ہوئے ہیں تو کیا اس وقت آپ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت کے فیصلے سے متفق تھے؟۔
جواب: مجھ پر کوئی یہ ثابت نہیں کرے گا کہ میں نے کبھی مولانا شیرانی اور مولانا گل نصیب خان کی مخالفت کی ہو۔ بلکہ میں کسی بھی عالم کی مخالفت کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ شیرانی صاحب کی جو قربانیاں جماعت کیلئے ہیں وہ مولانا فضل الرحمن نے آنکھوں سے بھی نہیں دیکھی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جو کیا ،اپنی لیڈر شپ کیلئے کیا اور مولانا شیرانی نے جو قربانیاں دیں وہ جماعت کیلئے دی ہیں کسی اور کیلئے نہیں دی ہیں۔ اس نے ہر موقع پر مولانا شیرانی کے خلاف جماعت کو استعمال کیا ہے اور میں اس میں بھی اس کے ساتھ متفق نہیں تھا۔ اگر میری کوئی آئی ڈ ی دیکھ لے تو میرا اس میں اس وقت بھی بیان موجود ہے کہ جو جماعت نے ان لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے یہ بہت دلخراش ہے۔ اس کو آپ دیکھ لیں میرا مؤقف اس وقت بھی یہ تھا کہ ان علماء کو جماعت سے نکالنا درست نہیں ۔ یہ اختیار بھی غلط ہے کہ اتنے بڑے بڑے علماء کو جماعت سے نکالو۔ مجھے آج کے اس احتجاج سے یہ امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں علماء اپنے لئے کچھ سوچیں گے۔

__تبصرہ__

سوسالہ تاریخ میں جمعیت علماء اسلام کو چند خاندانوں تک محدود کرنے کی کوششوں اور اکابر کی جانب سے مختلف ادوار میں اصلاح کی طویل جدوجہدکے
نشیب وفراز
حالات وواقعات کے زبانی اندرونی حقائق پہلی مرتبہ کارکنوں کے لئے منظر عام پرلانے والی کتاب ، جس کو پڑھنے کے بعد ہر کارکن جمعیت علماء اسلام کی دوبارہ احیاء کی مخلصانہ مساعی کا دست وبازو بننے کا آرزو مند ہوگا۔
مصنف :محمد اسماعیل الحسنی (بلوچ)
ناشر: دارالبصیرة کوئٹہ۔ تاریخ اشاعت2022صفحات720
فون :03217888483تعداد:1100قیمت850
انتساب : جمعےة علماء اسلام کے ان بے لوث اکابرین اور بے غرض کارکنوں کے نام جو مختلف ادوار میں اپنی ہی جماعت میں مظلوم اور معتوب ٹھہریں۔
مختصر تبصرہ:ازنوشتۂ دیوار:کتاب پر مولانا گل نصیب خان کی تقریظ ہے۔ مولانا محمد اسماعیل الحسنی نے دار العلوم دیوبند کا ایک انقلابی نظریہ اور دوسرا سرمایہ دارانہ استحصالی نظریہ پر بہت گرانقدر موادپیش کیا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی و مولانا فضل الرحمن ، مولانا غلام غوث ہزاروی و مفتی محمود کی چپقلش پر تحقیق ہے۔
محمد اسماعیل الحسنی ”لیفٹیننٹ گورنر سر جیمس کی دار العلوم آمد اور مہتمم کو اعزاز” کے عنوان سے لکھتے ہیں : شمس العلماء مولانا محمد احمد (مہتمم دار العلوم دیوبند) انگریز کے وفادار اور بہی خواہ تھے۔ اسکے بدلے میں انہیں خصوصی سند ، زمین، وظیفہ اور حیدر آباد دکن میں ایک عالیشان ملازمت بطور احسان عنایت کئے گئے بحکم ھل جزاء الاحسان الا الاحسان شمس العلماء نے بھی انکے احسان کا نقد بدلہ مولانا عبید اللہ سندھی کے دیوبند سے اخراج اور شیخ الہند کو گرفتار کرواکر ادا کیا تھا بانیان دیوبند کی اولاد غیرت دینی و حمیت ملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انگریز گورنر کو سپاسنامہ پیش کرکے دار العلوم کی لائبریری میں خوشامدانہ جذبات کا اظہار کررہے تھے۔ گورنر انکے چہروں پر نظر حقارت ڈال رہے تھے۔ صفحہ81

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

اللہ پاک اپنے قرآن پاک کی برکت سے اس اسلامی انقلاب کااب آغاز کردے جس سے آسمانوں اور زمین والے دونوں خوش ہوں اور اسلام کو اجنبیت کی دَلدَل سے نکال دے!

اللہ نے جنت باپ کے مونچھ نہیں ماںکے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ محمود خان اچکزئی

میں طالبان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ نبیۖ نے حضرت عائشہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ہزاروں احادیث آپ سے نقل ہیں،جب شیرخداعلی سے اختلاف ہوا تو لشکر کی قیادت کی تھی

محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ ایوب اسٹیڈیم میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم اور خطے کیلئے اہم نکات پیش کئے

افغانستان سے امن وامان کے حوالے سے بات کرنے پر سب سیاسی قائد خاموش ہیں، محمود خان اچکزئی نے اپنی جماعت کے کچھ بڑے بڑوں کی قربانی کارسک بھی لیا اور یہ بھی کہا کہ مقامی سطح سے بین الاقومی سطح تک مثبت بات کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے ۔ اب حنا ربانی کھر نے افغانستان کا دورہ کیا تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ پراستقبال کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ اللہ کے آخری پیغمبر اور رحمت للعالمینۖ ہیں۔ میں عالم انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر حضرت محمدۖ کو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلئے مانتا ہوں کہ آپ ۖ پڑھے لکھے نہ تھے اور صرف23سال میںپوری دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کردیا۔ عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ، لونڈیوں کے لشکر لوگ پال کر رکھتے تھے۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیگم کی حیثیت سے عزت دی تو انقلاب برپا ہوا۔ عورت کو تعلیم، فن سپاہ گری، نرسنگ اور ہر شعبے میں صلاحیت منوانے کا حق دیا۔ طالبان کو کہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے اور تم حقوق سے محروم کرکے کیا اسلام نافذ کرسکتے ہو؟۔ عورت کے بغیر معاشرے کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔…..
محمود خان اچکزئی نے خطے کے امن وامان، پشتونوں کے حقوق، قانون کی بالادستی کے لائحۂ عمل اور آئین کی تابعداری کرتے ہوئے سب کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گول میزکانفرنس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
مولوی کہتا ہے کہ اسلام۔ مذہبی جماعتیں و تنظیمیں کہتی ہیں کہ اسلام۔ قوم پرست اور قومی سیاست کا کھیل کھیلنے والے کہتے ہیں کہ اسلام۔ ریاست کہتی ہے کہ اسلام۔ آئین کہتا ہے کہ اسلام۔مجاہد اور دہشتگرد کہتا ہے کہ اسلام۔ افسانہ نگار کہتا ہے کہ اسلام۔ ڈرامہ باز کہتا ہے کہ اسلام۔ امام حرم کہتا ہے کہ اسلام۔ سعودی عرب، ترکی ، ایران اور افغانستان کا حکمران کہتا ہے کہ اسلام۔ ٹک ٹاکرز کہتے ہیں کہ اسلام۔ اسلام اسلام اسلام مگرپھرہم کیوں ہیں اس میں ناکام ؟۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود نے عورت کے حقوق یہ رکھے کہ حق مہر برائے نام تھا۔ بات بات پر طلاق کا حق مرد کو حاصل تھا۔ عیسائی مذہب میں شادی کے بعد عورت کو مرد تاحیات طلاق نہیں دے سکتا تھا ۔ افراط وتفریط نے عورت کی حیثیت مسخ کردی تھی۔ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب مشرکین نے جہالت کی حد کردی تھی۔ نکاح کے مختلف اقسام اور طلاق کے مختلف اقسام کے علاوہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے لیکر بہت کچھ ہوتا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہلانے والے ہندؤوں نے عورت کیلئے بیوہ ہونے کے بعد ستی کی رسم جاری کی تھی ، شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیگم کو بھی نذرِ آتش کردیا جاتا تھا۔
اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے دورِ جاہلیت اور اپنے مذاہب کی رسوم اور مسائل سے جان چھڑاکر جمہوری بنیادوں پر بیگم اور شوہر کیلئے نکاح وطلاق پر قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آزاد و ترقی یافتہ، خوشحال وخود مختار اور جدید ترین تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھ دی اور مذہب کو کھڈے لائن لگادیا گیا تو ہمارے معاشرے میں بھی اس بنیاد پر ترقی پسند تحریکوں، سیاسی جماعتوں اور ممالک نے آغاز کیا۔ ایران، ترکی ، افغانستان، لبنان، مصر ، دوبئی اورکئی مسلم ممالک کا حلیہ تبدیل ہوگیاتھا۔ اب سعودی عرب بھی اس پر گامزن ہے۔ ایران میں احتجاج شروع ہے۔ طالبان ہی دنیا میں تنہاء رہ گئے ۔جس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی ، مصر ، ایران اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے اسلام سے پہلے خواتین کیلئے غلط مذہبی رسوم ورواج اور اسلامی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ اللہ نے ایک ایک مسئلے کا حل پیش کیامگر کم بخت مذہبی طبقہ سننے پر آمادہ نہیں بلکہ کمزوری سے آگاہی پر جانور کی طرح اپنی دُم سے اپنی پچھاڑی چھپارہاہے۔
نمبر1:دنیا میں عورت کے خلاف انتہائی خطرناک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ جب اس کا شوہر کچھ الفاظ کہتا تھا تو ان میں صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ۔عورت شوہر سے محروم بے سہارا بن جائے تومعاشرے پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ خدا کے نام پر کھیلاجارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کی ابتداء میں اس کی مذہبی حساسیت اور اس کی تردید کا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔
سورۂ البقرہ میں آیت224میں واضح کیا کہ اللہ کو اپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں رکاوٹ بنو۔ یہ آیت طلاق کے مسائل کیلئے ایک مقدمہ ہے۔ جس کی زبردست طریقے سے آئندہ کی آنے والی آیات میں225سے232تک وضاحتیں ہیں۔
نمبر2:خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ بھول بھلیوں کی طرح طلاقِ صریح وکنایہ کے بہت الفاظ تھے جن کی وجہ سے میاں بیوی کو شیطان وسوسہ ڈالتا تھا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ مذہبی اتھارٹی سے پوچھا جاتا تھا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ نے ان تمام الفاظ کا تدارک کردیا اور آیت225البقرہ میںہے کہ اللہ لغو الفاظ پر نہیںپکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یعنی صلح کرنے اور کرانے کے حوالے سے طلاق میں اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ نیت وعزم اور طرزِ عمل کی ہے۔
نمبر3:ایک بڑا خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ جب تک زبانی طلاق نہ دی جاتی عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی ۔ اسکا حق اور نہ عدت تھی۔ نکاح کا یہ طوق عورت سے بڑا ظلم تھا۔ قرآن نے عورت کی جان اس ظلم سے چھڑائی ۔ آیت226البقرہ میں ناراضگی کی عدت کو واضح کردیا کہ طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو عورت پر4ماہ عدت کا انتظار ہے۔ باہمی رضامندی کیساتھ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور4مہینے کی عدت کے بعدعورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ بیوہ کی عدت4ماہ دس دن اورطلاق شدہ کی عدت3ماہ ہے۔
آیت نمبر227البقرہ میں اللہ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر شوہر کا طلاق کا عزم تھا تو پھر اللہ سمیع علیم ہے۔ جو عزم کو سنتا اور جانتا ہے ۔ یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اسکااظہار کردیتا تو عورت4ماہ تک انتظار کرنے کے بجائے3ماہ کی عدت میں فارغ ہوجاتی۔ ایک مہینے اضافی عدت کا انتظار کرانا ہی دل کا گناہ ہے جس پر آیت225البقرہ میں پکڑ کی بات ہے۔
نمبر4:ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا انتہائی ظالمانہ مسئلہ یہ تھا کہ عورت کو ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بار رجوع و طلاق کا سلسلہ شوہر جاری رکھ سکتا تھا۔یہ دونوں مسئلے عورت اور معاشرے کے استحصال کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
اللہ نے آیت228البقرہ میں ایک تیرسے دوشکار کردئیے، ایک ساتھ 3 طلاق پر حلالے کی لعنت کا خاتمہ کیا اور صلح کے بغیر بار بار رجوع کا حق ختم کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ”اورانکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ،اگر اصلاح چاہتے ہوں”۔ حیض وپاکی کے 3مراحل تک عورت کوانتظار کا حکم ہے اورعدت میں اصلاح کی شرط پر باہمی رضامندی اور صلح کرکے شوہر عورت کو لوٹاسکتاہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا فتویٰ باطل کردیا گیا اور عورت کی اجازت کے بغیر باربار طلاق کی غلط رسم بھی ختم کردی گئی لیکن قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔
نمبر5:آیت نمبر228میں طلاق کی عدت کے تین مراحل ہیں ۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہی سے ہے اور ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں سے عورتوں کو محروم کیا جاتا۔ آیت229البقرہ میں واضح ہے کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے۔پھر معروف طریقے سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہی عدت کے تین مراحل سے ہے۔ ( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔ نبی ۖ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق آیت229میں تسریح باحسان ہے”۔
جب آیت228میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت ہے تو آیت229میں یہ تضاد نہیں ہوسکتا کہ دو مرتبہ غیرمشروط رجوع کی اجازت ہو اور تین مرتبہ کے بعد عدت میں بھی رجوع کی اجازت نہ ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے معروف رجوع کی اجازت دی اور فقہاء نے منکر رجوع کی بنیادیں کھڑی کردیں۔ عورت کے حق صلح کی شرط کوغائب کردیا تو حنفی فقہاء نے لکھ دیا کہ ” نیت نہ ہو اور غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی یا نیند میں ہاتھ لگا تو رجوع ہے”۔ اور شافعی فقہاء نے لکھ دیا کہ ”نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہیں ہوگا”۔ قرآن کے معروف رجوع کے مقابلے میں فقہاء کا منکررجوع واضح ہے۔
آیت229میں یہ واضح ہے کہ جب پہلے دومرحلے میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا تو دی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں ۔ مگر جب دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کے حدودوں کو توڑنے کا خوف رکھتے ہوں۔ اس کاواضح مطلب تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی چیز کی نشاندہی ہے جو شوہر نے دی ہے اور وہ واپس کرنا حلال نہیں لیکن اگرخوف ہے کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں طلاق شدگان ناجائز جنسی تعلق کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اور فیصلہ کرنے والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اگر وہ دی ہوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو بڑاکھڑاک ہوگا اور دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو شوہر کی طرف سے دی ہوئی اس چیز کوعورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے اور بال کی کھال اتارنے والے صحافی، وکیل، سیاستدان، جج، مولوی، تعلیم یافتہ لوگ اور بالکل ان پڑھ عوام قرآن کی اس بھرپور وضاحت کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ قرآن میں معمول کے بالکل واضح جملے ہیں مگر بڑے بڑوں نے الجھادیا ہے اور اس کے نتیجے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی اور جایداحمد غامدی جیسے لوگوں نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور علماء وجدید اسکالروں نے اس سے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے اللہ کے کلام قرآن سے اپنے اکابر کی غلط تفسیر سے توبہ کرکے اپنا معاملہ سلجھاؤ اور پھر دوسروں سے گلے شکوے کرو۔ آیت229کے پہلے حصے میں3مرتبہ طلاق اور دوسرے حصے میں عورت کو مالی تحفظ دینے کی بھرپوروضاحت ہے۔
نمبر6:عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جب شوہر ایسی طلاق دیتا تھا کہ اس کو دوبارہ بسانے کا خیال بھی دل سے نکال دیتا تھا یا عورت خلع اور طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی تھی تو شوہر اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتا تھا، اس پر قدغن لگاتا تھا، اپنی مرضی سے کسی اور سے اس کو نکاح نہیں کرنے دیتا تھا۔ آج بھی جانور، چرندوں، پرندوں اور درندوں تک کی اکثریت میں اپنی مادہ سے کسی اور نر کیلئے جنسی تعلق پر غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسانوں کی اکثریت میں بھی یہ غیرت کا مادہ پایا جاتاہے۔ لیڈی ڈیانا کے قتل میں بھی اس غیرت کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمہ چلا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا14سوسال پہلے قرآن میں اللہ نے جو علاج کیا ہے ،اگر آیت کا حکم سمجھ میں آگیا تو پورے عالم کے انسانوں کیلئے اس کی حکمت وہدایت کافی ہے۔
اللہ نے آیت230البقرہ میں فرمایا ہے کہ ” پھر اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دی تو دونوں پر حرج نہیں کہ اگر وہ رجوع کرلیں بشرط یہ کہ وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے”۔
آیت230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق حنفی مسلک کے مطابق آیت229کے دوسرے حصے فدیہ دینے کی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس پرعلامہ تمنا عمادی نے اپنی مشہور کتاب ” الطلاق مرتان” میں لکھ دیا ہے کہ ”خلع سے آیت230کی طلاق کا تعلق ہے، جس میں جرم بھی عورت کرتی ہے اور اس کی سزا بھی حلالہ کی صورت میں عورت کو ملتی ہے”۔ لیکن یہ سزا نہیں ہے ۔ ایک غلط رسم کا خاتمہ ہے۔ عورت جب کسی بھی طلاق کے صلح اور معروف طریقے سے رجوع پرراضی نہ ہو تو پھر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے جس سے بھی نکاح کرنا چاہے تو وہ بالکل آزاد ہے۔ شوہر نے ایک طلاق دی ہو تب بھی، دومرتبہ طلاق دی ہو تب بھی اور تین مرتبہ طلاق دی ہو تب بھی۔ عورت نے خلع لیا ہو تب بھی اور شوہر نے طلاق دینے کی جگہ صرف ناراضگی سے چھوڑا ہو تب بھی۔یہ عورت کی مرضی کیلئے بہت بڑی بنیاد اور اس کی غلط مردانہ غیرت سے جان چھڑانے کا زبردست ذریعہ ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش بالکل واضح الفاظ میں کی گئی ہے تو مذہبی طبقہ کیسے صلح میں رکاوٹ بن سکتا تھا؟۔ کچھ لوگ باہمی اعتماد کی وجہ سے نادانی میں بہہ گئے اور کچھ دیدہ دانستہ بااثر طبقے اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوگئے۔ عوام تو عوام ، بڑے بڑے معروف مدارس کے علماء ومفتیان، مدرسین اور اصحابِ علم وکردار بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح پہلے اکابر علماء کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا گیا ۔ پھر وہ مرگئے یا مار دئیے گئے تو علماء حضرات بے شرموں کی طرح سیمینار میں شریک ہو گئے؟۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں عدت کے اندر اوطر عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور کافی عرصہ بعد رجوع کا دروازہ بالکل کھلا رکھا گیا ہے ۔ علماء ومفتیان نے لکھا ہے کہ ” اگر عورت نے آدھے سے زیادہ بچہ جن لیا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم بچہ نکلا ہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ کوئی پوچھ لے کہ اگر تیری ماں کو تیرے حمل کے دوران طلاق ہوتی اور جب نصف جننے کے بعد رجوع ہوتا تو کیا رجوع درست ہوتا یا غلط؟۔ تو علماء اپنا کیا جواب دیتے؟۔ قرآنی تعلیمات کو مسخ کرنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے والوں کے دن بہت قریب لگتے ہیں۔
سورۂ طلاق میں بھی عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے۔ جب حضرت رکانہ کے والد نے ام رکانہ کو سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وارتین طلاقیں دیں۔پھر کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ اس نے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے اس دوسری خاتون کو طلاق دینے کا فرمایا اور ابورکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنے کا حکم ہے اور دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ جو اللہ سے ڈرا اس کیلئے آئندہ بھی اللہ راستہ کھول دے گا۔ سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ ہے۔ اتنی تفصیل کے باوجود بھی علماء ومفتیان قرآن کی طرف رجوع کرنا اپنے فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی موت سمجھتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا خاندان لکھا پڑھا گھرانہ ہے۔ پشتونستان کا نعرہ بلند کرنے کیساتھ ساتھ پشتون مذہبی قیادت کے ذریعے سے پشتون قوم کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔PDMکی قیادت ، جماعت اسلامی اور عمران خان کے علماء کو بھی دعوت دیں۔ محمود خان اچکزئی کو میں اپنے بڑے بھائی کا کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کا درجہ دیتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی بنیاد پر جو معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اس کیلئے پہل کرنے سے ایک اچھی فضاء قائم ہوجائے گی۔ اگر اتفاق رائے کے بعد مدارس، سکول، کالج ، یونیورسٹی اور مذہبی جماعتوں میں خواتین کے حقوق واضح کئے گئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف ان مسائل پر علماء ومفتیان کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے بھائی حامد خان اچکزئی نے ایک تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دور میں جو غلامی بلوچستان پر مسلط تھی اور عبد الصمد خان اچکزئی نے جس طرح کی آزادی کیلئے محنت کی تھی اس کی ایک تاریخ ہے۔ جب انہوں نے سندھ ،پنجاب وغیرہ کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ لوگ آزادانہ تقاریر کرتے ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آزادی کی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے مسجد میں قرآن کا ترجمہ شروع کردیا۔ انگریز افسرنے کہا کہ مجھے اوپر سے آرڈر ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے آپ کو روکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا مذہب ہے اور اپنے مذہب سے روکنا تمہارا کام نہیں ہے۔ انگریز نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے میں بھی آپ کی جگہ ہوتا تو یہی سوچتا لیکن مجھے روکنے کا ہی حکم ہے۔ مساجد میں قرآن کا ترجمہ کرنا مولوی اور مذہبی طبقے کا کام ہے۔ مذہبی طبقہ بھی انہی کے حکم سے چلتا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہم نے ووٹ کا حق مانگا اور اس پر ہمیں کافر قرار دیا گیا۔ آج مسلم لیگ اور جمعیت علماء ہم پر غداری و کفر کے فتوے نہیں لگاتے اور ہماری راہ پر آئے ہیں تو ہم نے ٹھیک اتحاد کیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کے بعد خواتین کی عزتوں کو تحفظ دیا ۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں عقیدے،جان، مال اور عزت سبھی کوتحفظ ملے گا

ایک طرف ساری دنیا کو سودی قرض سے چھٹکارا دلایا جائے اوردوسری طرف مزارعت کو فری کیا جائے تو انسان شیطانی کھیل سے بچ سکتے ہیں

رسول ۖ کے دورِنبوت ورحمت میں تمام اقدامات پر تائید یا تردید کیلئے وحی سے رہنمائی ملتی تھی۔ قرآنی تلاوت، صحابہ کرام کا تزکیہ ، کتاب و حکمت کی تعلیم جاری تھی۔ جسکا سورۂ جمعہ میں ذکر ہے اور آخرین کابھی ذکر ہے جو اسلام کی نشاة ثانیہ کاقیام کرینگے۔ نبیۖ سے فرمایا: اگر دین ثریا پر پہنچے تو بھی سلمان فارسی کی قوم کا فرد یا چندافراد اس تک پہنچیںگے ۔ بعض روایات میں علم و ایمان کا ذکر ہے۔ دین، علم اور ایمان الفاظ بظاہر مختلف لیکن حقیقت میں ایک ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے ویڈیو کلپ میں کہا کہ ”رسول اللہ ۖ کی آخری سانسیں تھیں اور دنیا سے رخصتی پرآپۖ کے آخری الفاظ یہ تھے الصلوٰة و ماملکت ایمانکم (نماز کا خیال رکھو اور دوسرے جو آپ کے نوکر ہیں، ان کا خاص خیال رکھو)۔ ملکت ایمانکم میں نوکر آتے ہیں اور بیوی بچے بھی”۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بچے شامل کرکے جہالت کی انتہاء کردی۔ سعودی عرب کا موجودہ قانون مسیار قرآن ماملکت ایمانکم کے مطابق درست ہے۔ جس میںمزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کہاں ابوبکر کی طرف مانعین زکوٰة کیخلاف جہاد اور کہاں جنرل ضیاء دور سے سود کا زکوٰة کے نام پر کٹوتی سے زکوٰة کے وجود کے خاتمے کی تحریف ؟ ۔پھر بینک کے سودی نظام کو حلال کرنے کا اسلام ؟۔
جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان دیوبندی بریلوی کا کام سرکاری سطح پر پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف تحریک نظام مصطفی ۖ چلی تو اس میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور سیدابولاعلیٰ مودودی کے علاوہ پختون وبلوچ ، پنجابی وسندھی کی قوم پرست اور نظریاتی جماعتیں بھی حصہ دار تھیں۔ بھٹو عالم اسلام کی قیادت کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نظام مصطفیۖ کے بغیر دنیا کی قیادت نہیں کرسکتاتھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی گود میں بیٹھ گئی اور مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کیساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرنڈم لڑا کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ مقصد اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ اپنے آپ کوصدر اور مارشل لاء چیف کیساتھ امیرالمؤمنین بناناتھا۔ حادثے میں نہ مرتا تو نوازشریف، جماعت اسلامی ، علماء اور مجاہدین اس کے درباری ہوتے۔
علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی میں دین کی سمجھ ہوتی تو ضیاء ریفرینڈم کی کبھی حمایت نہ کرتے اسلئے کہ جب خواجہ سرا کو یہ اختیار دینا اسلام کے خلاف اور بہت بڑا کفر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مرد خواجہ سراہے یا عورت خواجہ سرا ہے؟۔ حالانکہ میڈیکل آلات نہیں جس سے پتہ چلے کہ خواجہ سرا 51%مرد یا عورت ہے؟۔ جب خواجہ سرا کو اپنے جنس کے تعین کی اجازت اسلام کے خلاف سازش ہے تو پھر عوام کو کیسے اختیار دیا جاسکتا ہے کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ جبکہ پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا اور آئین پاکستان میں بھی اسلام طے تھا؟۔
جنہوں نے ہندوستان ، روس ،امریکہ اورنیٹو کیخلاف جہاد کرکے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تو وہ اللہ کے ہاں پہنچ چکے ۔ اگر مال ودولت یا شہرت کیلئے اپنی شہادت پیش کی تو الگ بات ہے ،اگر اللہ کیلئے قربانی تو اجر اللہ پر ہے۔ جہاد کے نتائج کیوں اچھے نہ نکلے؟۔ بڑا سوال ہے روس کو شکست ہوئی اور پھر مجاہدین نے کیا لڑکوں سے نکاح کیا یا یہ محض امریکی سازش تھی؟۔ بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر خلافت قائم کرنے کیلئے طالبان کو لایا؟۔ یہ دیکھ لیا کہ افغانستان، عراق، لیبیا ، شام اور یمن تباہ وبرباد ہوگئے اور پاکستان کو بھی بہت نقصان پہنچ گیا۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

1:ریاست عوام پر معیشت کا بوجھ ہے اور اس کا تدارک کس طرح ہوسکتاہے؟۔
2:جمہوریت لڑائیوں اور نفرتوں کی بنیادہے؟۔ اس کا تدارک کیسے ہوسکتا ہے۔
3:صحافت نے سیاسی وکالت کا ٹھیکہ اٹھایاہے۔اسکو لگام کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
ماں انسان ہو یا جانور، بچوں کو روزی دیتی ہے۔ ریاست ماں گدھی ہو تو لاتیں نہیں مارتی، گھاس کھاکر بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ گدھیڑے بچے بھی ماں سے پیار کرتے ہیں۔ ریاست دودھ نہ دے اور لاتیں مارے تو گدھی سے بدتر ہے۔ جنرل ضیاء کے بعد بینظیر بھٹو نے اقتدار سنبھال لیااور پھرIMFسے پاکستان نے تاریخ میںپہلی مرتبہ قرضہ لیا تھا۔جس پر حبیب جالب نے کہا تھا
ہربلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ” بی بی یہ آپ کی تعریف ہے”۔ وکیل کا کام سیاہ کو سفیداور سفید کو سیاہ کرنا ہے۔ جالب نے ضیا ء الحق کے مقابلے میں بینظیر بھٹو کی تعریف میں اشعار کہے کہ ” ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے ” ۔
جنرل مشرف نے غیرت کو بالائے طاق رکھ کرامریکہ سے20ارب ڈالر لئے ۔پاکستان کوIMFسے2004سے2008تک آزاد کردیا۔ یوسف رمزی اور ایمل کانسی پہلے امریکہ کو دئیے ۔ ریمند ڈیوس، عافیہ اور ملا ضعیف بھی ۔ افغانستان نے غیرت دکھائی اور بن لادن کو حوالے نہیں کیا۔ قوم مہاجر بنے اور اغیار قبضہ کریںتو عورتوں اور مردوں کی عزتیں بری طرح پامال کی جاتی ہیں۔
پرویزمشرف نے پھر6ارب ڈالر کاIMFسے قرضہ لیا۔ جوزرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا،نوازشریف نے30ارب ڈالر تک ، عمران خان نے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچایا۔ زرداری نے پرویزمشرف سے 4 ارب ڈالر کا زیادہ قرضہ لیا۔6+4=10اور نوازشریف نے زرداری سے4ارب ڈالرزیادہ قرضہ لیا۔10+4=14اورعمران خان نے نوازشریف سے4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لیا۔14+4=18۔ سب ایک دوسرے سے بد سے بدتر ہیں۔ قرضہ سے مہنگائی کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے اور موجودہ حکومت بھی4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لے تو18+4=22۔ قرضہ70ارب ڈالر تک پہنچے گا تو پھر ایٹمی اثاثہ جات کیا ہماری جانیں اور عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔
معیشت طوفانِ نوح اور کرپشن چندافراد کیلئے کشتی نوح ہے جو بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کو آباد کررہے ہیں، عوام اور تمام اداروں کا بیڑہ غرق ہے۔ پہلے جس سول بیوروکریٹ، فوجی جرنیل، جج ،سیاستدان ، صحافی کے بچے بیرون ملک ہوں کو فارغ کیا جائے۔ مزدور و تاجر بیرون ملک پیسہ کماکر پاکستان بھیجتاہے تو خوشحالی آتی ہے اور یہ یہاں سے کماکر باہر بھیجتے ہیں تو بدحالی آتی ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔ اشتہارقومی رقم سے چلے ۔صحافی سیاسی پارٹی، چینل اور حکومت یاا پوزیشن کی وکالت میں توازن کھو کرقوم کادماغ خراب کرے۔
صحافی بیرون ملک خطرناک ہیں۔ عوام کی ذہن سازی سچ سے ہوتی ہے۔ سچ کڑوا مگر زہر نہیں تریاق ہے۔ سچ سے جھوٹ دفن ہوتے ہیں مگر سچ آتے آتے جھوٹ قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ احمد رفیق نورانی نے فوج اور طاقتور طبقے کا مقابلہ کرکے مشکل زندگی گزاری اور اب بیرون ملک ہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ اور اسکے خاندان پرFBRکے ریکارڈ کی خبر لگائی تو اسحاق ڈار نے میڈیا پر بتایا کہ تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ خبر کس نے لیک کردی ہے؟۔ جس سے الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبربریگیڈ کی زبان پر بھی ڈھول بجنا شروع ہوگئے۔ اچھی بات یہی ہے کہ احمد نورانی نے کسی صحافی کے پوچھنے پر بتایا کہ ” جنرل قمر جاوید باجوہ پر بلجیم کی پراپرٹی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی پرآسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کا الزام جھوٹا ہے”۔ لوگFBRمیں جنرل باجوہ کے خاندان کی12یا13ارب کے اضافے کو بہت زیادہ اور انوکھا سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مفتی محمد نعیم کے بھی5ارب34کروڑ کی رقم اکاونٹ سے نکلنے کی خبر تھی تو آرمی چیف ایک طاقتور عہدہ ہے ، اس کا خاندان پہلے بھی اثاثے رکھتا ہوگا۔ جھونپڑی کے خاندان سے تو وہ اس منصب تک نہیں پہنچا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جھونپڑی اور عام گھر کی قیمت کہاں سے کہاں6سالوں میں پہنچی ہے؟۔اگر مہنگائی میں کئی سو فیصد تک اضافہ ہوا تو کیا جنرل باجوہ کے خاندان کی پراپرٹی کی قیمت نہیں بڑھی ہوگی؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب اس پر چھپی ہوئی بلجیم کی دولت کے الزامات جھوٹے نکلے اور جس دولت کوFBRمیں درج کیا ہے تو کیا یہ قابلِ تعریف نہیں ہے؟۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اگر آسڑیلیا کے جزیرے اور بلجیم کی دولت کی طرح یہ خبر بھی جھوٹ نکلے تو پھر کیا ہوگا؟۔ پانچویں بات یہ ہے کہ باجوہ کو لگایا نوازشریف نے اور ایکسٹینشن عمران خان اور سب نے ساتھ مل کر دی۔ اب ان دونوں نے اس کو اپنے مفاد کیلئے گرانے کیلئے جاتے جاتے دونوں ٹانگوں سے پکڑ لیا ہے اور وہ گالی گلوچ کررہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ پہلے دونوں طرف سے جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن کی بات ہورہی تھی لیکن جب جنرل باجوہ نے انکار کردیا تو سب پیچھے پڑگئے۔ کوئی شرم بھی ہوتی ہے ، کوئی حیاء بھی ہوتی ہے، کوئی غیرت بھی ہوتی ہے اور کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ کچھ اخلاقیات اورکچھ اقدار بھی ہوتے ہیں۔
کرپشن پر بینظیر کا اقتدار ختم ہوا۔ اسلامی جمہوری اتحاد ملٹی پارٹی کمپنی کوISIنے پیسہ دیکر اقتدار میں لائی۔نوازشریف کو95لاکھ دئیے گئے، میرا ماموں جنوبی وزیرستان سے پونے دو کروڑ روپے خرچ کرکے قومی اسمبلی کی نشست ہارا تھا۔ نوازشریف ایون فیلڈ اور رائیونڈمحل کا مالک ہے اور میرے ماموں زادکی رہائش پرائے گھر میں ہے۔ آئی جے آئی کا انتخابی نشانہ سائیکل تھا ۔ ایک پہیہ جمہوری ، دوسرا اسلامی تھا۔ جماعت اسلامی چین اورISIکمان تھی۔ سپاہ صحابہ و دیگر جماعتیں کل پرزے تھے۔ریاست، جمہوریت اور صحافت ایک پیج پر تھے۔ جنرل حمیدگل نے قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق شہید اور سپاہ صحابہ واہل تشیع مذہبی عناصر کی وجہ سے اسلام کا نام دیا ۔MRDسے پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئیIJIکے صدر تھے۔ مولانا سمیع الحق اتحاد کے صوبائی صدرنوازشریف کے حق میں دستبردار ہوا۔ سائیکل کا جمہوری پہیہ پنکچرہوا تو غیر جمہوری اور غیر اسلامی نواز شریف کو بٹھادیا۔ کرپشن کی بنیاد پر تخت سے اتار ا گیا تو جمہوریت رہی اور نہ اسلام ۔قوم پرستی کا نعرہ لگایا: جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گئی آگ۔
زرداری پر گھوڑوں کو مربہ کھلانے ،سرے محل، سوئس اکاؤنٹ کاالزام لگا۔ نوازشریف پر ایون فیلڈ لندن فلیٹ کے ثبوت مل گئے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدارمیں آئے توIMFکا قرضہ بڑھا۔ جب نوازشریف نے پرویز مشرف کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنادیاتو فوج نے ری ایکشن کیا اور خواجہ ضیاء کو گرفتار کرکے نوازشریف کا اقتدار ختم کیا۔ فوج کی پہلی لڑائی اپنے سہولت کارسکندر مرزا سے ہوئی جو ڈپٹی کمشنر سے گورنر جنرل بنا تھا اور پھر پہلے لے پالک ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی جو مجیب کے مقابلے میں اقلیتی جماعت کا قائد تھا۔ پھر دوسرے لے پالک نواز شریف سے ہوئی۔ اب تیسرے لے پالک عمران خان سے ہوئی۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔
مولانا فضل الرحمن کی تقریر ” آذانِ انقلاب ”کے نام سے چھپی۔ جس میں جمعیت علماء اسلام پر احادیث فٹ کی گئیں جو خلافت کے حوالے سے ہیں۔ میرا بھائی پیر نثار احمد کہتا تھا کہ میرے15سال اسلامی کتب کا مطالعہ ایک طرف اور مولانا فضل الرحمن کی یہ تقریر دوسری طرف ہو تو تقریر کا پلڑا بھاری ہے۔ مجھے اس پر مسکان آتی مگر بھائی کی دل شکنی اور اس جہالت سے پردہ نہیںہٹانا چاہتا تھا اسلئے کہ حرکت میں برکت ہے۔ حرکت کو دھچکا پہنچتا تو یہ فکر مٹ جاتی۔ علماء نے مولانا فضل الرحمن کو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے بعدMRDمیں شمولیت پر اسلام سے خارج قرار دیا۔ خلق پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی سے اتحاد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔پھر نیشنل پیپلزپارٹی جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد ہوا۔ وہی شخص،اسی پارٹی و منشور کیساتھ انہی نکٹوں کی قیادت کررہا تھا جس کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن کودائرہ اسلام سے خارج کافر قرار دیا گیا تھا۔جب قحط الرجال کا دور آیا تو فتویٰ لگانے والے علامہ زاہدالراشدی کو جمعیت کی طرف سے مولانا فضل الرحمن نے شیلڈ پیش کردی۔ کیا یہ اس فتوے پر انعام دیا گیا؟۔
جب1997ء میں دوسری بار مولانا فضل الرحمن اسمبلی سے باہر ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کااجلاس ڈیرہ اسماعیل خان میں بلایا۔ مولانا محمدمراد نے جمہوریت کے حق اور مولانا محمد خان شیرانی نے مخالفت اور انقلاب کے حق میں دلائل دئیے۔ انقلابی سیاست کا فیصلہ ہوا۔ اعلان کیلئے مینارِ پاکستان لاہور میں جلسۂ عام رکھا تو فوج نے مولانا فضل الرحمن پر دباؤ ڈالاتو انقلاب کا اعلان مؤخر کیا۔ پھرنوازشریف کی حکومت جنرل مشرف نے ختم کردی ۔ پھرARDمیں نواز شریف، محمود اچکزئی، عمران خان، قاضی حسین احمد اور دوسری پارٹیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور نوازشریف نےARDسے2008کے الیکشن میں دھوکہ کرکے شرکت کرلی۔ پھر ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب کا شوشہ چھوڑا۔ دوسری مرتبہ عمران خان بھی ساتھ تھا۔ اب جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ نے عمران خان کیساتھ انقلاب کا اعلان کررکھا ہے۔
عمران خان کیساتھ پنجاب ، پختونخواہ ، گلگت بلتستان اور کشمیر حکومت ہے ۔ متحدہ حکومتی اتحاد سے ضمنی الیکشن میں پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ جبPDMمیں مولانا فضل الرحمن ، ن لیگ وغیرہ نے اپنا بیانیہ بنایا تھا کہ عمران خان کٹھ پتلی ہے ، ہمارا اصل ہدف فوج ہے تو آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اتنا بڑا رسک لینے کیلئے ضروری ہے کہ نوازشریف بھی لندن سے واپس آجائے۔ جس پر ن لیگ نے آصف علی زرداری کو خوب باتیں سنائی تھیں۔ پھر پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے باہر پھینک دیا تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا مخالف بیانیہ عمران خان اور مولانا محمد خان شیرانی کے ہاتھ میںآیا۔جمعیت علماء اسلام کے کارل مارکس مولانا محمد خان شیرانی، جذبات کے ترجمان پختونخواہ کے امیر مولانا گل نصیب خان اور جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں پیش پیش اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔
بلوچستان میں مسنگ پرسن اور پختونخواہ میں طالبان کا رونا ہے۔ اسلام پاکستانی عوام کیلئے اتحادنہیں انتشار کا باعث بنادیا گیاہے۔ قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ریاست عوام کی جان ، مال اور عزت کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ پاکستان، نظام مصطفی، اسلامی جمہوری اتحاد اور ریاست مدینہ کے نام پر لوگوں کو نسل در نسل دھوکادیاگیا۔اگر اسلام کے اصلی ونسلی لوگ میدان میں آگئے تو پھر دیکھنا پاکستان کی تقدیر بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔انشاء اللہ العزیز
امام زین العابدین بن حسین نے فرمایا: انما العلم ما عُرِف وتواطأت علیہ الأ لسن ”علم وہ ہے جو پہچانا جائے ،بسہولت زبان پرجاری ہو”۔ (سیر اعلام النبلاء وابن عساکر19/13) ۔ نبی ۖ نے مہدی کافرمایا: یؤاطی اسمہ اسمی”اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا” ۔ لفظی موافقت مراد نہیں بلکہ وہ شخصیت جو آپۖ کے بعد لوگوں کو فطری راہ پر چلائے۔ درمیانہ زمانے تک دین اجنبی بن جائیگا ۔ مہدی اس کو معروف وآسان بنادیگا۔اقبال نے کہا:
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت ہے جس کی نگاہ زلزلہ ٔ عالم افکار
ہماری ریاست، حکومت، سیاست ، صحافت ،عدالت اور معاشرے کو اسلام کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اسلام خود فرقہ واریت اور دہشت گردی کے حصار میں ہے۔ ارشد شریف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز اس میں ملوث ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سگے نوازشریف ، عمران خان اور ارشد شریف کا اپنا اپنا دائرۂ کار تھا۔ ایک وسیع دنیا میں سازش کو پکڑنا آسان نہیں لیکن اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ وزیرستان کا ایک بچہ ذبح ہوا ہے۔ قاتل اور مقتول کا قریبی رشتہ ہے۔ قتل سے پہلے پولیس کو رپورٹ کرکے ملزم کو پکڑ وایا بھی تھا اور اس کے باوجود حقائق اور انصاف تک پہنچنا معمہ بنا ہواہے۔ ایک عورت کو زبردستی سے زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور وہ ظالم کے خلاف گواہی دے مگر اسکے پاس3 سے زیادہ چشم دیدگواہ نہ ہوں تو الٹا اس پر حدقذف جاری کی جائے۔ پھر دنیا کے کس قانون سے کون، کس کو انصاف دے سکتا ہے؟۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اسلام کو غلط فقہی موشگافیوں سے نکال کر فطری دین کی طرف رجوع کیا گیا تو ہمارے سیاسی، معاشی، معاشرتی، ریاستی ، عدالتی اور قانونی مسائل بہت جلد حل ہوجائیں گے اور اس سے امت مسلمہ اور دنیا موجودہ دلدل سے نکل جائے گی۔ صرف جرنیلوں کے بٹ مین صحافیوں کی زبانوں سے انقلاب نہیں آسکتا ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

شہباز شریف اور مریم نواز شریف فتنہ راشد مراد کو لندن سے پکڑ کر لائیں!
اُردو اور پنجابی میں فوج پر آرمی پبلک سکول کی سازش کا بہت ہی بڑا الزام!

لندنRMTVکے راشد مراد کی ارود اور پنجابی میں ویڈیوز سے یوٹیوب بھر ا ہے۔ جو نوازشریف کواقتدار میں لانے کیلئے فوج پر انتہائی غلیظ زبان سے گھناؤنے الزامات لگاتا ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ اسکے ویلاگ اور ٹوئیٹ نوازشریف کیلئے دیکھ لیں ۔ طالبان نے مہران ائیربیس کراچی،GHQپر قبضہ،ISIملتان دفترپر دھماکہ اور بہت بڑے بڑے واقعات کئے ۔ جب پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوا تو عمران خان کی صوبے میں نوازشریف کی مرکز میں حکومت تھی۔ راشد مراد نے اردو ، پنجابی میں عمران خان کی سیاسی مخالفت اور نوازشریف کی حمایت میں اس واقعہ کو جب منظم سازش قرار دیاتو پورے پاکستان پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں یہ پاک فوج سے سخت ترین نفرت کرنے والوں کیلئے اصل بنیاد ہے۔ جب نوازشریف کا خاص آدمی راشد مراد کہے گا کہ147بچے آرمی پبلک سکول میںDGISIجنرل ظہیرالاسلام نے شہید کئے تاکہ عمران خان کو دھرنے سے باعزت نکلنے کا راستہ مل جائے تو پھر پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کیاسوچیںگے؟۔ پاک فوج کور کمانڈر کانفرنس میں وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کرے کہ وہ راشد مراد کو پاکستان بلائیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو لندن میں نوازشریف اور مریم نواز کے درمیانTVسکرین پر بٹھا کر حقائق پوچھ لیں۔PDMمیں شامل جماعتیں، پیپلزپارٹی،ANP، عمران خان، منظور پشتین،پشتون اور بلوچ قوم پرست بھی سب ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ انصار عباسی ، جیواور ن لیگ کیلئے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کام کرنے والے صحافیوں کو بھی شامل کریں تاکہ ملک وقوم سے بدگمانی و انتشار کی فضاء ختم ہو۔ عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے اور غلط افواہیں اُڑانے والوں کے بارے میں اللہ نے فرمایا :ملعونین اینما ثقفوا اخذواو قتلوا تقتیلاً ”یہ مدینہ میں نہ رہیںگے مگر کم وقت، لعنتی ہیں،یہ جہاں پائے گئے پکڑکر قتل کئے گئے، یہی اللہ کی سنت ہے جوامتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں بھی”۔ (سورۂ الاحزاب آیت61) پاکستان کا آئین صرف قرآن وسنت کاپابندہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔ ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

ہمارے فقہاء اور علماء نے یہ واضح کیا ہے کہ مرتد سے قاضی یا جج پوری تفتیش کرے گا۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید
یہ کسی فرد کا کام نہیں کہ مرتد کوخود قتل کردے۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کاقتل ہے
سعودی عرب کیساتھ شامل اسلامی ممالک کا اتحاد کسی اسلامی ملک کیخلاف نہیں خوش آئند ہے

سلیم صافی: شیخ صاحب! پاکستانیوں کو آپ کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں بات بات پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ تو اس پر رہنمائی کی جائے کہ شرعی لحاظ سے ایک مسلمان کس وقت مرتد یا کافر قرار پاتا ہے اور کسی مسلمان کو کافر، مرتد یا واجب القتل قرار دینے کا اختیار وہ صرف ریاست کے پاس ہے یا کہیں افراد کو بھی وہ حق دیا جاسکتا ہے یا علماء کو بھی؟۔
امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید: یہ معاملہ تو علماء اور فقہاء کے نزدیک بڑا واضح ہے اوراُمت مسلمہ اس کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان بھی کرچکی ہے۔ ارتداد اور کفر سے متعلق جتنے بھی معاملات ہیں یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی ایک فرد اٹھے اور کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دے دے۔ اور وہ کافر یا مرتد یا واجب القتل سمجھا جائے۔ جس پر بھی اس قسم کا کوئی الزام لگے گا وہ معاملہ عدالت میں جائے گا۔ حکومتی جو ذمہ داران ہیں، جو قاضی ہے، جو جج ہے وہ اس معاملے کے متعلق ثبوت اور گواہیاں اکھٹی کرے گا۔ اور استفسار کرے گا پھر جس شخص پر یہ الزام لگایا اس سے گہرے سوالات کئے جائیں گے کہ آیا جس نے اس پر یہ الزام لگایا وہ اس کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔ اپنا کوئی بھی مؤقف جو وہ بیان کرتا ہے اس کیلئے وہ کوئی تاویل بیان کرتا ہے یا وضاحت کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کچھ باتیں تو کررہا ہو لیکن ذہنی طور پر ٹھیک نہ ہو۔ یا اس کی ذہنی حالت ایسی نہ ہو جس میں اس کو اپنی گفتگو کی سنجیدگی کا انداز ہو۔ تو اس حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چاہے کفر کا معاملہ ہو چاہے کسی کو مرتد قرار دینے کا یا قتل کرنے کا معاملہ ہو یہ صرف اور صرف اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے کہ جس نے ایک بھی جان کو ناحق قتل کیا تو ا س نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔
سلیم صافی: سعودی عرب کی قیادت میں جو اسلامی اتحاد کی فوج بن گئی ہے عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایک اور اسلامی ملک کیخلاف یا ایک فقہ کیخلاف بنایا جارہا ہے اس اتحادی فوج کا اصل مقصداور مدعا کیا ہے؟۔ اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟۔
امام کعبہ: میرے خیال میں تو اسلامی کسی بھی قسم کا کوئی اتحاد ہو وہ ایک خوشی کی بات ہے۔ میرے پاس زیادہ تفصیلات تو نہیں کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں لیکن بہرحال اگر یہ کسی اور مسلمان ممالک کی طرف سے بھی ہوتا تب بھی اس کو خوشی کی نظر سے دیکھا جاتا۔ اور اس طرح کے اگر مزید اتحاد بھی بنتے ہیں جو اسلامی ممالک کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں تو اسکے بارے میں خوش گمانی رکھنی چاہیے۔ اسمیں سب مسلمان ممالک شامل ہوسکتے ہیں کسی کا نام نہیں کہ شامل نہیں ہوسکتا۔
مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

کیا وجہ تھی کہ اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجودبھی آپ پاکستان سے باہر نہیں گئے؟،رؤف کلاسرا

ہرکوئی ہماری طرح اپنے اور اپنی فیملی کومشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، مجبوراً جاتاہے توغلط نہیں حامد

حامدمیر:پابندی کے دوران میں بیرون ملک گیا تو وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھے اور بینظیر بھٹو کو کیا بڑی آفر کی؟ بینظیر نے عین موقع پر مجھے کیسے بچایا، حامد میر نے دھمکیوںکے باوجود ملک نہ چھوڑنے کی سنسنی خیز وجہ بتادی۔
رؤف کلاسرا: میں آج ارشد شریف کے گھر گیا ۔ ان کی مسز، والدہ اور بچوں سے بڑی دیر تک بات ہوئی اور انکے گھر آنا جانا بہت تھا ہر ہفتے جانا ہوتا تھا۔ تو جو سوالات آپ بتارہے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے ۔میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو بھی بہت ساری تھریٹس مسلسل رہی ہیں، اب تک آپ نے بڑا بھگتا اور ان کا سامنا کیا ۔ کیا وجہ تھی اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجود آپ پاکستان سے باہرنہیں گئے ارشد بھی نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ میرا بھی یہی خیال تھا میرے دوست ہیں سب کو پتہ ہے کہ ارشد کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ پاکستان میں دوسری جگہ کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ جبکہ انکے پاسUKاورUSAکے ویزے نہیں تھے ۔ میں بھی کئی دفعہ ان کو کہہ چکا تھا۔ ہم سب دوستوں نے کہا وہ انٹرسٹڈ نہیں تھے۔ تو آپ سمجھتے ہیں ارشد کو باہر جانا چاہیے تھا ان حالات میں؟۔ اور آپ خود کیوں نہیں گئے تھے سر؟۔
حامد میر: رؤف کلاسرا صاحب ! آپ نے ایسا سوال مجھسے پوچھاہے، بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو میں نے آج تک کسی کو تفصیل سے جواب نہیں دیا تو اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا تفصیل سے جواب دیتا ہوں۔ (جی سر۔ میرا خیال ہے لوگ سننا چاہیں گے آپ سے : رؤف کلاسرا)۔ پہلی دفعہ2007میں مجھ پر پابندی لگی تھی پرویز مشرف کا دور تھا تو میں5،6دن کیلئے پاکستان سے باہر ایک کانفرنس کیلئے گیا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیااور وہ چھوٹے موٹے لوگ نہ تھے بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ مثلاً ایک بہت بڑی بین الاقوامی شخصیت نے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑا ٹی وی چینل لانچ کررہے ہیں آپ جوائن کرلیں تو میں بڑا حیران ہوا کہ یار یہ ایک ملک کا سربراہ ہے یہ مجھے ٹی وی چینل جوائن کرنے کیلئے آفر مار رہا ہے تو یہ کیا چکر ہے؟۔ یہ دیکھا کہ میں زیادہ مائل نہیں تو اس نے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ہمارا ٹی وی چینل جوائن کررہی ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا کریں گی ٹی وی چینل میں؟۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہر ہفتے ایک لیکچر دیا کریں گی۔ وہ جو تھا ساؤتھ ایشین چینل تھا بہت بڑا اور گلف کی ایک کنٹری میں اس کا ہیڈ کوارٹر بننا تھا۔ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے پاس گیا ۔ کہا جی اس اس طرح پیشکش ہوئی تو بتائیں کیا کرنا ہے؟۔ تو بینظیر صاحبہ بڑی محتاط تھیں وہ مجھے اپنے لان میں لے گئیں اور کہا کہ موبائل فون وغیرہ اندر رکھ کر آؤ۔ لان میں انہوں نے کہا کہ بالکل جوائن نہیں کرنا اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کا اینٹی پاکستان ایجنڈہ ہے۔ یہ آپ اور مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی اسٹیٹ کے اداروں سے لڑ رہے ہیں اور میرا بھی پھڈہ ہے ۔تو میں تو بات چیت کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہوں۔ انشاء اللہ اس کا راستہ نکل آئیگا ، انکے ہاتھ نہ چڑھنا یہ پاکستان کیخلاف استعمال کریں گے۔تو جناب میں اگلے دن کی فلائٹ لیکر فوراً پاکستان آگیا۔ اسکے بعد میں ذرا ہوگیا محتاط۔2012میں میری گاڑی کے نیچے بم لگا تو ایک دفعہ پھر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پاکستان سے باہر چلے جاؤ۔ میں نے انکار کردیا۔ پھر2014میں حملہ ہوا، اسکے بعد یہاں تک ہوگیا کہ میں آغا خان ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو ایئر ایمبولینس مجھے اٹھانے کیلئے کراچی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ تو میں نے کہا کہ آپ مجھے پاکستان سے باہر نہ ہی لیکر جائیں۔ انہوں نے کہا کیوں؟۔ میں نے ان کو بتائی تو نہیں وہ بات لیکن میرے ذہن میں2007والی بات تھی کہ باہر جاکر بندہ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ ہوا کہ میں پاکستان میں ہی رہا لیکن دو گولیاں میرے جسم کے اندر تھیں۔ ان کو نکلوانے کیلئے ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے ایک ہسپتال میں جہاں ان کی اپنی ٹریٹمنٹ ہوئی تھی تو وہاں پر انہوں نے میرا انتظام کیا۔ تو جب میںUKگیا تو کلاسرا صاحب وہاں پر بھی میرے پیچھے لوگ لگ گئے۔ انہوں نے کہا جی کہ آپ نے صرف ایک کتاب لکھنی ہے اور وہ کتاب ایسی ہٹ ہوگی پوری دنیا میں آپ اس کا ایڈوانس بھی لے لیں۔ آپ کو پاکستان جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میری فیملی کے سامنے ہورہا تھا یہ کام۔ تو میں نے جناب جان چھڑائی اپنی اور میں پاکستان واپس آگیا۔ ابھی پچھلے سال بھی یہی صورتحال تھی۔ پچھلے سال یہ ہوا کہ مجھے6مہینے کیFellowshipمل رہی تھی اور پھر کتاب ہی لکھنی تھی۔ میں بالکل جانے کیلئے تیار تھا اور پچھلے واقعات بھی میرے ذہن میں تھے لیکن میں نے کہا کہ چلیں اب اتنا ٹائم گزر چکا، میں اتنا تو سمجھدار ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر میرے ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ کریمہ بلوچ کیساتھ کینیڈا میں کیا ہوا؟۔ آپ کو نہیں پتہ کہ ایک اور صحافی کیساتھ ناروے میں کیا ہوا ہے؟۔ باہر مت جائیں آپ (vulnerable)کمزور ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہیے لیکن میں نے تو پاکستان سے باہر ایک دفعہ2007میں جاکر دیکھ لیا کہ ایک تو پاکستان کے اندر آپ کے دشمن آپ کو جینے نہیں دیتے۔ پھر پاکستان سے باہر جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں وہ بھی آپ کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔ لیکن ارشد شریف جن حالات میں گئے وہ ذرا مختلف حالات ہیں۔ کیونکہ مجھے ذاتی طور پر پتہ ہے کہ ارشد شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھا بہت سے دوست یہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اگر ان کو بھیجا گیا تو شاید ان کا یہ خیال ہوگا کہ میں کچھ دن میں واپس آجاؤں گا لیکن وہ واپس نہیں آئے ۔ان کے پاس ویزہ بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے پاس تو ویزے تھے لیکن انکے پاس ویزہ نہیں تھا وہ نہUKجاسکے نہUSA۔ سارے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان حالات میں پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے تو غلط نہیں ۔ ہر کوئی بندہ ہماری طرح اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ تو اگر کوئی چلا جاتا ہے تو بہت مجبوری میں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی خوشی سے پاکستان نہیں چھوڑتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

جنرل ندیم انجم اور جنرل بابر افتخار کیا خوبصورت ہیں اور کس نرم لہجے میں بات کرتے ہیں!

ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں ہے ان کواسٹیج شو چاہیے اور عمران خان کورنگ رچانا آتا ہے!

عمران خان کیا جانے کہ ایک بہادر جرنیل کیا ہوتا ہے ۔ اثر الاسلام سید
DGISPRصاحب میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے آپ پلیز
do not feel tense
مت سمجھئے کہ آپ یکہ و تنہا ہیں پوری قوم آپ کیساتھ ہے اسلئے کہ قوم جانتی ہے کہ پاک فوج کیا ہے اور پاک فوج کا جرنیل کیا چیز ہوتا ہے۔ کتنے پراسیس سے گزر کر جرنیل بنتا ہے۔ میں کیڈٹ کالج حسن ابدال کا پراڈکٹ ہوں۔ میں نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ حب الوطنی میں نے وہاں سے سیکھی اور میرے ساتھی جو ہیں میں جانتا ہوں کہ ان میں سے جوجو جرنیل بنے کیسے کیسے چنیدہ قسم کے وہ نوجوان تھے۔ میرے کلاس فیلوز میں سے چار جرنیل ہیں۔ تو یہ جو ہمارے جرنیل ہیں جن کی تضحیک کی گئی اور ان کو ایسے ایسے یعنی ایک آدمی انکے خلاف بولنا توہین آمیز لفظ یعنی ان کو کبھی اندازہ نہیں ہے عمران خان کو یا اسکے چو چوں کو کبھی زندگی میں ایک دن بنکر میں بارڈرپر بیٹھ کر دیکھو !۔میں نے1971کی وار میں ایک دن گزارا تھا فاضلکا کے بارڈر کے بینکر میں۔ میرے باپ نے کہا تھا کہ یہاں رہ تاکہ تجھے پتہ لگے یہ زندگی کیا ہے۔ اس وقت میں میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا۔ جنگ کا زمانہ تھا ادھر سامنے انڈین آرمی اور یہ سارا کچھ، تو ایک دن میں ایسا تھا کہ سپاہی مجھے کہہ رہا ہے کہ سر نیچا کرو سر نیچا کرواور میں نے کہا کہ یہ کیا حکم دے رہا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ادھر سامنے ایک گن موو کررہی ہے اور پچاس گز کا بھی فاصلہ نہیں۔ ذرا سا یہاں سے سر کوئی اٹھے تو ہم اس پر فائر کریں۔ وہاں تو71کی وار کے بعد جو صورتحال تھی ۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں، ہمارے سپاہی جوان روٹی کئی کئی دن وہاں نہیں کھائی ہوتی ان کو اندازہ نہیں کہ ان کی عزت کیسے کرنی ہے۔ ہمارے بزرگ غلام احمد پرویز نے ایک بات لکھی ہے کہ65کی وار میں وہ بارڈ ر کے اوپر گئے تو انہوں نے دیکھا ایسے ہی جیسے میں گیا تو71میں ، کہتے ہیں سپاہی میں نے دیکھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کچھ کھاندے پیندے وی ہو تو سپاہی نے آگے سے جواب دیا کھاڑاں کھانا تو ویلوں دے کم ہیں۔ یعنی یہ سپاہی جو خالی پیٹ بینکروں میں بیٹھتا ہے آپ کبھی اس کا راشن دیکھیں وہ جو دال کی مٹھیاں کھا رہا ہے اس کی زندگی دیکھیں۔ کس طریقے سے وہ پاکستان کا پہرہ دے رہا ہے اور یہ چند لفنگے گپتے بے شرم لوگ جن کو اپنی ماں باپ کی عزت بھی نہ آئی یہ جو یوتھیا مخلوق ہے یہ جو سڑک پر اس کو پتا ہے ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں۔ ان کو ایک شو اسٹیج چاہیے ایک اسٹیج پر آنے کیلئے خان صاحب کو یہ رنگ رچانا آتا تھا، اس کیساتھ پورا ٹولہ سب سے بڑی بات یہ ہے
He has million of Dollars, He has money
اور آپ مجھے صرف اس کے پیسوں کا بتادیں جس کا نام سلمان اقبال ہے۔
He is Elon Musk of Pakistan
اتنی دولت والا آدمی ہے یہ جوARYچینل والا۔ ان لوگوں نے ایک مقصد کے تحت یہ مہم چلائی
Because the goal is to weaken Pakistan
پاکستان کو اس پوائنٹ پر لے آؤ کہ جب یہ لوگ ڈکٹیٹ کریں کہ ہمیں یہ چاہیے ہمیں وہ چاہیے یہ پاکستان آرمی کو بلیک میل کرسکیں ڈکٹیٹ کریں۔ جس بات کا بڑے ہی خوبصورت حسین انداز میں جنرل ندیم احمد انجم، اُف اتنے خوبصورت انسان ہیں اور اتنا شستہ اور اتنا حسین لب و لہجہ ہے ان کا یعنی مجھے اتنی خوشی ہوئی اور ان کے ساتھ جنرل بابر افتخار صاحب اتنی خوبصورتی سے انہوں نے ، اور میں کہتا ہوں عجز و انکساری کے ساتھ اللہ کی قسم یہاں پر اس جگہ کوئی تگڑا اس قسم کی پرسنیلٹی والے جرنیل بیٹھے ہوتے ناں جو بولنے نہیں دیتے تھے یہ تو انہوں نے ڈیلے کردی ، ڈیلے اسلئے کی کہ طول دینا ہے کہ دیکھتے ہیں کہ شاید اس انسان کو ہوش آجائے ، شاید اس کے اندر کوبھی کوئی حب الوطنی کا مادہ جاگے کہ دیکھو آرمی ہی نے تجھے چانس دیا تھا تو بڑا پھڑک رہا تھا اتنے سالوں سے کہ میں وزیر اعظم بن کر یہ کردوں گا وہ کردوں گا۔ آرمی اس کو لے کر آئی۔ انہوںنے خود کہا ہے کہ اس بارے میں تو شک کسی کو ہونا نہیں چاہیے ، اور اس کا تو میں خود ذاتی طور پر شاہد ہوں آپ کو یاد ہوگا اور جو لوگ میرے سننے والے ہیں کہ آرمی کے خلاف جتنا زیادہ میں بولا ہوں اس دور میں اتنا کوئی نہیں بولا۔ میری دیکھا دیکھی لوگوں نے بولنا شروع کیا۔ اسلئے کہ میں پرسنلی افیکٹڈ تھا۔ کیوں؟ کیونکہ میں نے ایک پیٹریاٹ حب الوطن انسان کی حیثیت سے جنت پاکستان پارٹی بنائی رجسٹرڈ کرائی۔ کینڈیڈیٹس کو فائی نینس کیا کہ جو جو ان کو تھوڑی بہت چیزیں چاہئیں انہوں نے آرمی کے لوگوں نے جو کنٹرول کررہے ہیں الیکشن کو میرا نام و نشان نہیں اٹھنے دیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی پیرالل پارٹی اٹھے اور عمران خان کے سوا لیڈر شپ آسکے۔ نام و نشان جنت پاکستان تحریک کا کس طریقے سے مٹایا گیا وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو نہیں جانتے وہ دیکھ لیں جاکر فیس بک پر پیجز، ویب سائٹ ، جب پارٹی لانچ کی گئی تو ہزاروں لائک تھے دس دن میں۔ اور اسکے بعد کیا ہوا؟ اسکے بعد ٹوٹل بلاک سینسر شپ کردی گئی۔ آرمی ہماری بڑے خلوص کیساتھ یہthoughtکہ
Imran Khan is the best
انہوں نے عمران خان کو لایا اب اس کا اقرار بھی کیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں مولے نوں مولا ہی ماردا ہے۔ مجھے گلہ ہے آج جو بات ہورہی ہے کہ سارا کا سارا بیانیہ لفافہ امریکہ کا کاغذہلارہا تھا وہ سب ایک جھوٹ ایک ڈرامہ تھا۔ آج آرمی کے چیف نے یہ بات علی الاعلان کی ہے کاش اسی وقت اس کتے کا منہ توڑا جاتا۔ اسی وقت اس کتے کے منہ پر چنڈ ماری جاتی کہ سٹ ڈاؤن شٹ اپ۔ اس کو شٹ اپ کال دی جاتی کہ
You are a liar
تو جھوٹ بول رہا ہے۔

ڈاکٹر اثر الاسلام سید کے بیان پر تجزیہ
ڈاکٹر صاحب نے فوج کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ حسن ابدال کیڈٹ کالج پاکستان کا قابلیت کے اعتبار سے پہلے نمبر کا ادارہ ہے۔ ایک اور بیان میں ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ مراسلہ کا مطلب رسالت ہے۔ امریکہ نے ایک مراسلہ بھیج دیا اور پورا سیاسی نظام بدل دیا۔ عمران خان کو کیا معلوم کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے۔ جنرل ایوب نے زبردست کام کیا کہ امریکہ سے پاکستان کو جوڑ دیا۔
فوج کا بیانیہ اس قسم کے لوگ پیش کریں تو لوگوں پر کیا اثر پڑیگا؟۔ جنرل ایوب کے دور میں فاطمہ جناح ، مسلم لیگ فوج سے بدظن ہوگئی تو سرکارنے نئی نئی ناجائز مسلم لیگیںجنم دینی شروع کیں۔ جو پاکستان کے بانی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اللہ کرے ن لیگ اور ق لیگ آخری ہوں۔ عمران خان کو بھی اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv