پوسٹ تلاش کریں

Leadership of PTM Mohsin Dawar and Ali Wazir, Taliban Leader Hakimullah Mehsud and statement of Molana Modudi party Jamat-e-islami, Universal Islamic Banking System are based on Interest and may also refer time tenure of Imam Mehdi.

Keywords: PTM, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Ali Wazir, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Jamat-e-islami, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Hakimullah Mehsud, molana fazal rehman, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen,


فیس بک پر( PTM)نے حکیم اللہ محسود(Hakimullah Mehsud) کی دوتقریریں لگائی ہیں۔ جماعت اسلامی (Jamat e Islami)کو قوم پرست قرار دیکر اسکی کسی مذہبی. بات پر اعتماد نہ کرنے کی قسم کھائی ہے اور پاکستان کیلئے اپنے سابقہ اکابرین کے طرزپر قربانی دینے کا اعلان بھی کیا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلان
ہماری دانست کے مطابق( PTM)اور تحریک طالبان (TTP)میں ایکدوسرے کے بہت ہم خیال اورایکدوسرے. سے بڑے تضادات رکھنے والے دونوں قسم کے لوگ بڑی تعداد میں موجودہیں
جن علما نے (PTM)کی تائید کی تھی وہ سردار عارف شہیدso کی قبر پر موم بتی کیوجہ سے ناراض ہوگئے اور محسن داوڑ (mohsin
dawar)نے بھی اپنا الگ راستہ اپنایا۔ محسود(Mehsud)، وزیر(Wazir) اور داوڑ کے حالات بڑے مختلف ہیں

SUBHEADING

ہم نے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ. بننے کی soکبھی کوشش نہیں کی ۔ جب بھی کسی پر مشکل وقت آیا تو ہم نے بفضل تعالی تعاونوا علیso البر کی. بنیادso پر ساتھ دینے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی۔ جب افغانستان میں روس کے خلاف جہاد (Afghan Jihad)ہورہا تھا تو مجاہدین کی صفوںso میں پہنچ گیا. لیکن جب پتہ چل گیا کہ ایک طرف روس ہے اور دوسری طرف امریکہ تو قبائلی علاقہ جات میں خلافتso کا مرکز قائم کرنے کے حوالے سے مجاہدین کو راضی بھی کرلیا ۔ پھر دیکھا کہ مرشدحاجی عثمان پر فتوی لگایا گیا ہے تو اس میدان میں کام کیا۔ اس سے پہلے اور بعد میں جمعیت ف (molana fazal rehman JUI)کو ہمیشہ سپورٹ. بھی کیا اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔( PTM)وجود میں آئی تو اس کو بھیso سہارا دیا۔ عورت مارچ میں مظلوم عورتوں کو بھی سپورٹ کیا۔ اگر( PTM)تحریک ہے تو

SUBHEADING

اس کا نام پشتون تحفظ موومنٹ سے زیادہ مظلوم تحفظ موومنٹ موزوں تھا۔ ہماری بات مان لی جاتی تو اس کے تین قائد منظور پشتین(Manzoor Pashteen)، علی وزیر (Ali Wazir)، محسن داوڑ (mohsin dawar)بھی ذاتی اختلافات اور چپقلشso کا شکار نہ ہوتے۔ تحریک کی بنیاد منظور پشتین(Manzoor Pashteen) نے محسود تحفظ موومنٹ سے رکھی تھی اسلئے کہ محسود. قوم کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔

SUBHEADING

سوات سے. وزیرستان اور ژوب سے کوئٹہ پشین تک پشتون قوم نے بھرپور ساتھ دیا لیکن (PTM)کی قیادت نے صرف فوج soوپنجابی قوم اور پشتون قوم کے درمیان منافرت پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اگریہی مسئلے کا حل ہوتا توپھر (PTM)کی مرکزی قیادتso خود کیوں بکھر گئی ہے؟۔ تحریک کے نام پرکچھ مشکلات برداشت کرنے بعد شہرت اور آسائشوں کا شکار ہونا ایک فطری بات ہے۔ پہلے بھی اس بات پر اختلاف تھا کہ (PTM )قائد علی وزیر یا منظور پشین (Manzoor Pashteen)کو ہونا چاہیے؟ اور پھرso محسن داوڑ (Mohsin Dawar)نے اپنی طرف سے ہلہ بول دیا کہ میں نے (PTM)بنائی ہے۔ علی وزیر(Ali Wazir)کو اپنے خاندانی بیک گراؤنڈso کی وجہ سے .وزیروں نےso قیادت کیلئے زیادہ موزوں قرار دیا لیکن علی وزیر نے اس چھوٹی بات کو مسترد کردیا تھا۔

SUBHEADING

محسن داوڑ نے اے این پیso کی خاص. ونگ کی کمان پہلے بھی سنبھالی تھی اور زیادہ بڑا سیاسی ورکر ہونے کی وجہ سے اپنے اندر اہلیت بھی دیکھتا تھا مگرso وزیرستان میں. وزیر ومحسود قوم کے غلبے کی وجہ سے اس کی خواہش قبائل میں نہیں پنپ سکتی تھی اسلئے ایک سیاسی. جماعت کا اعلان کردیا۔ جب علی وزیر (Ali Wazir)اور محسن داوڑ نے الیکشنso میںآزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرلیso تو منظور پشتین نے. اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جس کی ہم نے تھوڑی بہت گوشمالی بھی کی تھی۔ (MNA)بننے کے باوجود قائدین نے( PTM)سے وابستگی جاری رکھی تو اس نظریاتی اختلاف نے ایک دن نظر آتا بننا ہی تھا۔

Imam Mehdi

میرانشاہ اور وانا میں جتنے بڑے جلسے (PTM)نے کئے تھے وہ. محسود ایریا (Mehsud Area)میں اس کا تصور بھیso نہیں کرسکتے تھے۔ جب. منظور پشتین،علی وزیراور محسن داوڑ ارمان لونی شہید (professor arman loni) کا جنازہ پڑھ کربلوچستانso سے لوٹ آئے تو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک وزیر. شہید کی برسی ہورہی تھی۔ علی وزیر کیساتھ محسن داوڑ(Mohsin Dawar) soنے شرکت کی مگر منظور پشتین کو شرکت کی بھی اجازت نہ مل سکی تھی۔ ہم نے ان معاملات پر. متنبہ کیا لیکن ہماری گزارشات کو دشمنی پر محمول تصور کیا گیاتھا۔ واناso میں وزیر وں کے علاقے میں ایک بھی فوجی آپریشن نہیں. ہوا ۔ وزیروں کو کبھی ہجرت پر مجبور نہیں کیا گیا ہے تو وہ پاک فوج کے soخلاف نعرے کیوں لگائیںگے؟۔ علی وزیر جوزبان کراچی میں. فوج کے خلاف استعمال کرتا ہے وہ وانا میں کامیاب نہیں ہے۔

Imam Mehdi

وزیر اپنے کاروبار، امن وامان اور ڈسپلن کو کبھی بھی خراب نہیں ہونے دیں گے۔ جبکہ محسودوں (Mehsud Tribe)کا بیڑہ غرق اورso تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔ وزیر وں میں جن کا تعلق (PTM )سے ہے وہ کبھی soاپنے ایسے مجاہد کی تقریر اور کردار پر. فخر کی کوشش بھی نہیں کرتے جو. کبھی بھی وزیرقوم کیلئے مسئلہ نہیں بنے ہیں۔ لیکن محسودوں میں جنکا تعلق (PTM )سے ہے وہso حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud)کی تقاریر پر بھی فخر کرتے ہیں۔

Imam Mehdi
Keywords: PTM, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Ali Wazir, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Jamat-e-islami, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Imam Mehdi, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Mohsin Dawar, Hakimullah Mehsud, Hakimullah Mehsud, molana fazal rehman, molana fazal rehman, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen, Manzoor Pashteen,

یہ وہی حکیم اللہ محسود(Hakimullah Mehsud) ہے جوپرائی گاڑیوں کی کنڈیکٹر ی کرکے. ڈرائیور بن گیا تھا اور اس کا باپ دیہاڑی دار مزدور ہے۔ اپنے گاں کوٹکئی میں. شریف فیملی کے سربراہ خاندان ملک کو اس دن شہید کیا تھا جس دن علی وزیر کے والد محترم میرزا عالم وزیرکو شہید کیا گیا تھا۔وزیر اسلئے طالبان ہیروز کو اپنے ہیروز نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث رہے ہیں اور حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud)نے پھر اس خاندان ملک کی پوری فیملی کو. شہید کردیا تھا جن میں ایک حافظہ بچی بھی شامل تھی۔ بچے. کچے کے انتقام سے بچنے کیلئے کچھ افراد کو بطور ضمانت تحریک طالبان میں رکھاتھا تاکہ وہ انتقامی کاروائی سے اپنے خاندان. کو بچا سکے جب ہمارا واقعہ ہوا تھا تو نعرہ تکبیر کیساتھ آنے والوں نے اپنے مردے بھی چوروں اور ڈکیتوں کی طرح رات کی تاریکی میں دفن کئے تھے۔

Imam Mehdi

ہمارے خاندانso میں جو کچرہ اور کچرے ٹائپ کے لوگ ہیں وہی طالبان بن گئے تھے۔ کسی کے اصیل اور کم اصل ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے soکہ جب اس کو طاقت. مل جاتی ہے تو پھر اپنی اوقات دکھاتا ہے۔ خاندان ملک محسود کے خاندانی خاندان کو موقع مل جائے تو وہ حکیم اللہ محسود (Hakimullah Mehsud) کے غریب باپso سے انتقام بھی نہیں لے. گا اور یہی حال ہمارا اپنے خاندان کے لوگوں سے انشا اللہ ہوگا۔ جب(1991) میں مجھے( 40FCR)کے تحت ڈیرہso اسماعیل خان جیل میں. سزا کاٹنی پڑ رہی تھی تو مجھے پہلے احاطہ نمبر(3)میں رکھا گیا تھا جہاں محسودوں (Mehsud Tribe)نے میری مہمان soنوازی کی۔ وہ قرآن کا .ترجمہ دوسروں کو پڑھا رہے تھے اورso پھر پتہ چلا کہ چوری اور ڈکیتی میں. پکڑے گئے ہیں اور بچپن میں غربت کی وجہ سے والدین نے مدرسہ میں داخل کیا تھا جہاں تھوڑا بہت قرآن کا ترجمہ سیکھ لیا تھا۔ جب جیل کے سرکاری قاری کو پتہ چل گیا کہ میری تھوڑی بہت دینی اور دنیاوی تعلیم ہے تو مجھے احاطہ نمبرایک میں منتقل کردیا گیا۔

Imam Mehdi

کچھ عرصہ پہلے بھی جب (PTM)کے کراچی میں جلسےso ہوئے تھے اور بڑی سخت. زبان استعمال کی گئی تھی تو ہم نے شہہ سرخی میں منظور پشتین (Manzoor Pashteen)کو اپنی طرف سےso بچانے کی بھرپور کی کوشش کی تھی۔ اس نے گلہ بھی کیا تھا کہ اب آپ ہمیں کوریج نہیں دیتے ہیں۔ ساتھیوں کو بلانے کی دعوت پر( PTM)کے ایک پروگرام میںso بھی میں نے شرکت کی تھی. اور خطاب بھی کیا تھا جو آرمی پبلک سکول کے شہدا کے حوالے سے تھا۔ اگر میں چاہوں تو (PTM)سے زیادہ بڑیso تعداد میں محسودقوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاso کرکے بفضل تعالی دکھا سکتا ہوں۔ وقتی تحریکیں جھاگ کی طرح ابال کھاکر بیٹھ جاتی ہیں اور میں کسی جھاگ کا حصہ نہیں بنناso چاہتا ہوں۔ اگر میں چاہتا تو بڑی سیاسی. اور مذہبی جماعتوں. میں ہی شامل ہوکر اپنے لئے بڑی جگہ بناسکتا تھا لیکن میں بھی دوسروں کی طرح آخر کار ان میں تنکے کی طرح بہہ جاتا۔

SUBHEADING

اگر میں تدریس soاور فتوے کی راہ اختیار. کرتا تو بھی ایک بڑا مقام بناسکتا تھا لیکن مجھے ایسا مقام نہیں چاہیے۔ میں کسی ایک فرقے کا مناظر بنso کر سامنے آتا تو بھی سستی شہرت اور دولت کماسکتا تھا۔ ادب و صحافت کے میدان میں اپنا نام بناسکتا تھا ۔ لڑکپن سے ادھیڑso عمر تک اپنی عمر کی( 40)بہاریں. گزار دیں اور اپنی نااہلی ونالائقی کیساتھ کچھ نہ کچھ تجربات بھی حاصل کرلئے مگر جب قرآن soکی آیات کی طرف دیکھتا ہوں. تو سمجھتا ہوں کہ عمر رائیگاں گزار دی۔ قرآن کی آیات میں وہ فصاحت وبلاغت ہے جس کو انسان soآخری حدتک اگر گدھا بھی بن جائے .تب بھی سمجھ سکتا ہے اور دنیا میں زیادہ تر انسانی فطرت کی وجہ سے ان پر عمل بھی ہورہاہے ۔ البتہ مذہبی گدھوں نے زبردستی سے خودکو اندھا بنالیا ہے۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ ” بیشک اندھا وہی ہے جو دل کا اندھا ہے”۔

SUBHEADING

مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman JUI)سے لیکر چھوٹے بڑےso علما تک سب کیساتھ میرے اچھے ہی مراسم رہے ہیں۔ مدارس میں. جو نصابِ .تعلیم پڑھایا جاتا ہے. وہ کوئی حتمی چیز نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman)نے کہا ہے کہ اکابر نے صرف انگریز کے. وقت میں دین کو زندہ رکھنے کیلئے یہ تشکیل دیا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن (sheikh ul hind malta)جب مالٹا کی جیل سے رہا ہوگئے تو سب سے پہلے. امت کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے پر زور دیا تھا اور مولانا عبیداللہ سندھی (maulana ubaidullah sindhi)نے اس کو. مشن کے طور. پر اپنایا تھا لیکن مولانا اشرف علی تھانوی (molana ashraf ali thanvi)نے شیخ الہند کے قول. سے استدلال لیا تھا کہ ”اب امت. کی اصلاح نہیں ہوگی۔ ہر آنے والی تحریک میں فساد. مزید بڑھے گا ، یہاں تک کہ اس طرف سے امام مہدی(Imam Mehdi) کا ظہور ہوجائے”۔ خراسان (khorasan)کی طرف اشارہ کرکے یہ بات کہی تھی۔

SUBHEADING

شیخ الہند (sheikh ul hind malta) کے شاگرد مولانا انورشاہ کشمیری (molana anwar shah kashmiri) .جو علامہ یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان مفتی. محمد شفیع ، مولانا سید محمد میاں ، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا عبدالحق اور بہت بڑے بڑے علما کے استاذ تھے وہ شروع میں. مولانا سندھی سے متفق نہ تھے لیکن آخر میں اقرار کیا کہ میں نے ساری زندگی فقہی مسالک کی خدمت میں ضائع کردی اور قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی۔

SUBHEADING

قرآن وحدیث کی. خدمت کیلئے فقہ حنفی مشعلِ راہ ہے جس میں تقلیدکی کوئی گنجائش اسلئے نہیں ہے کہ اصولِ فقہ کی ساری کتابوں. میں احادیث صحیحہ کو قرآن کی آیات سے ٹکراکر ناقابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ بعض علما کرام نے ملاعمر (mula muhammad umar)کو بھی مہدی قرار. دیا ہے جن میں ایک علامہ یوسف بنوری کے نالائق شاگرد بھی شامل ہیں اور اس کی کتاب کو پڑھ کر علما کی کم عقلی کا .بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ پرانی روایت ملاجیون کے لطیفوں سے مسلسل چلی آرہی ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman)نے تحریک طالبان پر خراسان سے نکلنے والے دجال (Dajjal)کی بھی حدیث فٹ کردی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر شاہد مسعود ()نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف بہت کچھ بکا تھا لیکن حامد میر نے بھی مولانا کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

SUBHEADING

عمران. خان، شہباز شریف ، نوازشریف اور دیگر عناصر کو طالبان اپنا نمائندہ نامزد کررہے تھے اور مولانا فضل الرحمن (mula muhammad umar)پر خود کش حملے. ہورہے تھے۔ (2023 )کے انتخابات کی لالچ میں مولانا فضل الرحمن ن لیگ سے دھوکہ کھائیں گے لیکن اگر اپنے اکابر کی خواہش کے مطابق عوام کو قرآن. وسنت کی طرف مائل کرنے پر آگئے تو یہ دیکھو انقلاب بالکل سامنے آیا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست، حکومت اور عالمی قوت اس میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی ہے۔ وزیرستان کے حالات پہلے کتنے قابلِ رشک تھے اور اب وزیرستان کا کیا حال ہوگیا ہے؟۔ دھماکوں، غربت اور جبری نظام. سے تنگ عوام پھر ایک ایسی راہ پر نکل کھڑے ہوسکتے ہیں جو پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوںگے۔

SUBHEADING

اگر مولانا انورشاہ کشمیری (molana anwar shah kashmiri)نے اپنی زندگی اسلئے .ضائع کرنے پر افسوس کاا ظہار کیا تھا کہ تعلیمی نصاب کاقرآن وسنت. سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو اس بیہودہ نظام کو مزید عملی طور پر زندہ رکھنے کے بجائے حضرت شاہ ولی اللہ (shah waliullah)کے الہام فک النظام پر انقلاب نہیں لانا چاہیے؟۔ عالمی سودی بینکنگ کے نظام کواسلامی (Islamic Banking)بنانے کیلئے ہمارے. اکابر سرپر پاں رکھ کر دوڑ. رہے ہیں لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنے کیلئے امام مہدی کا انتظار کررہے ہیں؟۔
ہم نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔ بہت سارا سفر طے کرکے. منزل بھی پالی ہے اور قرآن سے عوام وخواص کے ایک بڑے طبقے کو بھی متعارف کردیا ہے۔ باقی ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہم اپنی اور امت کی اصلاح کے منتظر ہیں۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

CIA Team had a secret visit of Pakistan? Comments on Googly News, Asad Toor, Hamid Mir, President of ANP Khan Abdul Wali Khan, Habib Jalib, Shah Ahmed Noorani and Prof. Abdul Ghafoor.

Keywords: Googly News, Asad Toor, Hamid Mir, ANP, Khan Abdul Wali Khan, Habib Jalib, Jamat e Islami, Imran khan


سوشل میڈیا پر یہ خبر دیکھ کر دل باغ باغ ہوا کہ امریکی (CIA)کے چیف نے پاکستان کا خفیہ دور ہ کیا، آرمی چیف اور (DGISI)سے ملاقاتیں کیں مگر وزیراعظم نے ملنے سے انکار کیا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پھرGoogly News سوشل میڈیا پر دوسری خبر اس حوالے سے دیکھ لی کہ امریکی (CIA)کے چیف نے آرمی چیف اور(DGISI)سے ملاقات کی مگروزیراعظم کو ایک عارضی مہرہ سمجھ کر ملنے سے انکار کیا

ایک خبر میں وزیراعظم کے بلند مورال کو پیش کرکے آرمی (Pak Army)کی حیثیت کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور وزیراعظم کو بہادر ثابت. کیا گیا اور دوسری خبر میں وزیراعظم کو بے حیثیت بنایا گیا

جب گوگلی نیوز (Googly News)سوشل میڈیا پر خبر سنی کہ ” امریکی سی آئی اے کے چیف نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا اور اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور (ISI )کے چیف سے خفیہ ملاقاتیںso کیں اور. وزیراعظم عمران خان نے( CIA)کے چیف سے ملاقات کو اپنے پروٹوکول کے خلاف قرار دیا کہ ایک وزیراعظم کیلئے یہ Googly News ممکن نہیں ہے کہ کسی غیر ملکی ادارے اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کرے تو بہت ہی زیادہ خوشی ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان so(Imran Khan)نے کریڈٹ کا حق ادا کردیا کہ واقعی بڑا بہادر ہے اور اسso کو بہادر کہنے والوں کا ایک اچھے اور ضرورت کے وقت اس نے حق بھی ادا کردیا ہے۔

Asad Toor

میں نے پروگرام بنایا کہ اسپیشل شمارہso شائع کرکے اپنے اخبار کے ذریعے پوری قوم کو خبردار کیا جائے کہ ایک بہادر وزیراعظم عمران خان (Imran Khan)کو سب کی. طرف سے خراج تحسین Khan Abdul Wali Khan پیش کی جائے۔ حکمرانوں کے قصیدےso لکھنا ہمارے مزاج کے خلاف ہے۔ حضرت عمر (Hazrat Umar)نے رسول اللہ ۖ کی تعلیم وتربیت اورso اللہ تعالی کی. طرف سے وحی کے ذریعے جو مزاج پایا تھا وہ نبیۖ کے دور میںso بھی اپوزیشن کا بہترین کردار Googly News تھا۔ حضرت عمر نے کفر کی حالت میں بھی تلوار لیکر نبیۖ کو سرِ عام قتل کرنے کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا۔ جس کی بدولت اللہ تعالی نے Khan Abdul Wali Khan ہدایت سے بھی نواز دیا تھا۔ اللہ تعالی کو منافقت کفر سے زیادہ بدتر لگتی ہے اسلئے فرمایا کہ ”منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے”۔

Asad Toor


مجھے صحابہ کرام میں حضرت عمر ہی کا مزاج سب سے زیادہ پسند ہے جب اپوزیشن کی تو سرِ عام قتل کرنے کی راہ پر چل نکلے اور جب پتہ چلاکہ معاملہ اپنے گھر سے ہی خراب Khan Abdul Wali Khan ہے تو پہلے اپنی بہن اور بہنوئی. کا رخ کیا۔ جب اسلام کو. قبول کیا تو پھر اعلانیہ آذان اور اعلانیہ ہجرت کرکے فاروق اعظم کے لقب سے Googly News نوازا گیا۔ ہیکل نے نبیۖ کو پہلی پوزیشن پر اپنی کتاب میں رکھا اور. مسلمانوں میں دوسرا نام صرف اور صرف حضرت عمر ہی کا شامل کیاتھا۔ سوبڑے انسان: ہیکل(The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History)

پھر سوشل میڈیا پر اسدطور (Asad Toor)کا ویلاگ سن لیا ،اس نے کہا ہے کہ ”اپریل کے آخری ہفتے میں امریکی (CIA )کاچیف آیا اور اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ (Qamar Javed Bajwa) .اور( DGISI)سے ملاقاتیں. کیں لیکن وزیراعظم عمران خان (Prime Minister Imran Khan)سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ اس کو اپنے. ذرائع سے معلوم ہوا ہوگا کہ وزیراعظم کے دن تھوڑے ہیں اسلئے طویل المدت معاہدے کیلئے اس کی کوئی حیثیت نہیں ”۔

TEST


گوگلی نیوز(Googly News) اور اسد طور(Asad Toor) کیso خبروں میں بہت بڑا تضاد ہے اوریہ نہیں پتہ Khan Abdul Wali Khan چلتا کہ. کس کی بات درست اور کس کی غلط ہے۔ البتہ ایک میں وزیراعظم عمران خان (Prime Minister Imran Khan) کی بہادری اور دوسری خبر میں اس کوبہتso بے وقعت بنایا گیا ہے۔ دونوں خبروں میں اس تضاد سے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟۔ پہلی خبر میں وزیراعظم کی تعریف ، سول قیادت کی اہمیت اور فوج(Pak Army) کی بے بسی اور بے توقیری soکا اظہار کیا گیا ہے. اور دوسری خبر میں وزیراعظم کی حیثیت کا ستیاناس کردیا گیا ہے۔

دونوں خبروں کیso تشہیر کے الگ الگ مقاصد ہیں۔ پہلی خبر میں اس بیانیہ کا اظہار ہے کہ سول قیادت ہی اس ملک کو خفیہ سازشوں سے Googly News بچانے میں اپنا بنیادی کردارso ادا کر رہی ہے اور دوسری خبر میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آرمی قیادت ایک جزو لاینفک ہے لیکن اسکے ساتھ عمران خان(Imran Khan) .کی جگہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML-N)اور شہباز شریف(Shahbaz Sharif) کا جوڑ بنتا ہے،عمران خان (Imran Khan)کا نہیں۔ یہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML-N) کا مقدمہ ہے soتاکہ جمہوریت کے نام پر صحافی مافیہ بھاڑا لے کر اپنا نمک اور کھایا پیا حلال .Habib Jalib کرے۔

Asad Toor


اسد علی طور (Asad Toor) وہ صحافی ہے جس کو حال ہی میں مار پڑی تھی اور Habib Jalib مارنے والوں نے اس کو بتایا تھا کہ ہمارا تعلق پاک فوج (Pak Army)کی خفیہ ایجنسی (ISI)کیساتھ ہے۔ جس پر حامد میر .(Hamid Mir)نے وائس آف امریکہ (voice of america)کو انٹرویو دیا تھا کہ ”پاک فوج کی ایجنسیاں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں اور گھروں میں گھس کر مارنا شروع کیا تو پھر ہم بھی انکے گھروں میں گھسیںگے۔

یہ بے غیرت سامنے Habib Jalib نہیں آتے ہیں بلکہ چھپکے وار کرتے ہیں، اگر ان میں. اتنی جرات ہو تو ہمارے سامنے آجائیں ۔ یہ بزدل ہیں، کبھی سامنے نہیں آئیںگے۔ ان کے پاس بندوقیں ہیں،ہمارے پاس بندوق نہیں ہے مگر یہ ہمارے گھروں میں گھسیںگے تو ہم بھی ان کے گھروںمیں گھس. جائیں گے اور بتائیںگے کہ کس جنرل کی بیوی نے کس جنرل کو اپنے گھر میں گولی ماری تھی”۔

Asad Toor

سوشل میڈیا پر حامد میر (Hamid Mir)کو مخالف اور حامی طبقات کی طرف Habib Jalib سے بڑی پذیرائی مل گئی۔ جیو نیوز پر اس کو کیپٹل ٹاک (geo news capital talk)کرنے سے روک دیا گیاہے۔ (PDM )کے قائدین مولانا فضل الرحمن (molana fazal rehman JUI)اور ن لیگ وغیرہ کے رہنما بھی اسد طور کے. پاس اظہار یکجہتی کی غرض سے گئے اور ساتھ ساتھ ابصار عالم کے پاس بھی پہنچے ،جس نے صحافت چھوڑنے اور ن لیگ میں Googly News شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ کچھso سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ابصار عالم ن لیگ میں شامل ہوچکا تھا جس کو گولی لگی تھی لیکن (PDM)اور ن لیگ کی قیادت ان تک Habib Jalib پہلے کیوں. نہیں پہنچی تھی؟۔ اسدطور (Asad Toor)کو زدوکوب کیا گیا تھا اور اس پر معاملہ اتنا اٹھایا گیا ہے؟۔

Asad Toor

Googly News حامد میر(Hamid Mir) نے ایک بچے سچل پر بھی ویڈیو بنائی ہے جس کے صحافی باپ…………………. کواغوا کیا گیا تھا اور اس وقت اس کی عمر صرف چھ ماہ تھی۔ اب اس کی. تیس سالہ ماں بھی فوت ہوچکی ہے جس نے اقوام متحدہ میں اپنے شوہر کیلئے سوال اٹھانا تھا۔ جس Habib Jalib پر سازش کے تحت مارنے کے خدشے کا اظہار. بھی کیا گیا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیاہے۔

اسد طور (Asad Toor)نے اپنی ایک وڈیو میں جنرل باجوہ (Qamar Javed Bajwa)کا یہ بیان بالکل مسترد کردیا تھا کہ نوازشریف اپنے ہی بوجھ سے گرے تھے۔ حالانکہ پارلیمنٹ کے .بیان، قطری خط لکھنے اور پھر اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے بعد غیر جانبدار اور بھاڑہ لینے سے پاک صحافی یہ کبھی نہیں کہہ سکتا ہے۔

TEST

لیکن خدشہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے خاموش مفاہمت ہی کے نتیجے میں اسد طور(Asad Toor) اور حامد میر (Hamid Mir)کا ایک ڈرامہ ترتیب دیا گیا ہواور اس اسکرپٹ میں عمران خان .(Imran Khan)کے طیش و غضب سے بچنےso اور جعلی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے (PDM)کو موقع فراہم کیا گیا ہو؟۔ اسلئے کہ( PDM )کےso قائدین نے ابصار عالم (Senior journalist Absar Alam)کو نہیں پوچھامگر اب کیسے بہادر بن گئے ہیں؟۔

جب (PDM)نے مفاہمت کی راہ اپنائی تھی تو مولانا فضل الرحمن .(molana fazal rehman JUI)نے کافی عرصہ بعد ظفراللہ خان جمالی (Zafarullah Khan Jamali)کی تعزیت کی تھی اور soاب احتجاجی جلسے جلوسوں اور تحریک انصاف کی. حکومت کو گرانے کے بجائے بات اسد طور (Asad Toor)سے لیکر ابصار عالم (Senior journalist Absar Alam)پر ختم ہوگئی ہے۔ یہ soٹھنڈی ٹھار پالیسیاں علامتی اور مفاہمتی عمل ہے جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

TEST

حامد میر (Hamid Mir)نے پیپلزپارٹی (PPP)کو مشورہ دیاکہ بھٹو (Bhutto)کی وہ کتاب چھاپ لیں جس. میں سردار عطا اللہ مینگل (sardar attaullah mengal)کے بیٹے پر مجرمانہ خاموشی کاso اعتراف ہے۔ کسی بھی. سیاستدان اور صحافی کا سچ سچ نہیں بلکہ ایک کہانی ہے جو ایک. طویل عرصہ ضائع ہونے کے بعد منظر عام پر آئے۔صدر سکندر مرزا(sikandar mirza president pakistan)اور ذوالفقار علی بھٹو (zulfiqar ali bhutto)نے قوم کو جن کہانیوں سے لوگوں کو آگاہ کیا ہے. وہ معتبر تب ٹھہرتیں جب اپنے وقت پر اس کا اظہار ہوتا۔ کربلا میں حضرتso حسین یزید. کی بیعت کرنیکے بعد کسی جیل میں کوئی کہانی لکھتے تو یہ. بکواس کے علاوہ کچھ ہوتا حبیب جالب (Habib Jalib)نے وقتso کے حکمرانوں کے خلاف جب بولنا شروع کیا تو ہردور جیل میں گزارا تھا۔

آج سچ کیلئے مشکلات نہیں بلکہ خریدے گئے صحافیوں کی کھلی یلغار کا معاملہ ہے۔حامد میر (Hamid Mir)جس باپ کا بیٹا ہے تو اسکا بھائی عامر میر (Amir Mir)بھی اسی باپ کا بیٹا ہے۔ وہ نوازشریف (Nawaz Sharif PML N)پر پیپلزپارٹی (PPP)کے پلیٹ فارم سے سخت تنقید کیوں کرتا ہے؟۔ جس کو جنگ گروپ وجیو جمہوریت کا بہت بڑا معصوم چیمپئین بناکر پیش کررہا ہے؟ یہ رائے اور تجزئیے کا اختلاف نہیں ہے بلکہso سہیل وڑائچ اگر اپنی غیرجانبدارانہ. صحافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تو اس کو کھلا تضاد قرار دیتے۔
عوامی نیشنل پارٹی (ANP)کے صدر خان عبدالولی خان (Khan Abdul Wali Khan)کیso جماعت میں حبیب جالب (Habib Jalib)شامل تھے۔

TEST

افغان امریکی جہاد (Afghan Jihad)کیلئے چندہ مانگنے والےso مولوی نے جب مردان کے خان کی. شادی میں شرکت کی تو جہاد کیلئے چندہ مانگنے کی نیت سےso اس خان کو تنگ کرنا شروع کیا کہ .دین کی زندگی میں کوئی خدمت نہیں کی۔ خود جہاد میں گئے اورنہ کسی اور کو بھیجا تیری قبرتباہ ہے اور آخرت کا عذاب یقینی ہے۔ اسلام کی کوئی علامت تجھ میں نہیں ہے اور نہ اسلام کی جانی مالی خدمت کی ہے۔

ولی خان (Wali Khan)نے انگریزی میں اس خان سے کہا کہ مولوی(Molvi) کوso میرے پاس بھیج دو۔ جب ولی خان (Wali Khan) کو اس نے دیکھا تو اس کا رنگ پھیکا پڑگیا اور کہنے لگا کہ ولی خان (Wali Khan) تو بہت عالم آدمی ہیں۔اس کی داڑھی ہے اور نہ. مونچھ لیکن پارلیمنٹ میں مولانا مفتی محمود(Mufti Mehmood JUI)، مولانا شاہ. احمد نورانی(Moulana Shah Ahmed Noorani) ، پروفیسر غفور( Prof. Abdul Ghafoor Jamat e Islami) سب سیاسی مذہبی جماعتوں کے امام ہیں۔

TEST

خوشامد کرکے کوشش کی کہ کسی طرح جان کی خلاصی پالے۔ ولی خان (Wali Khan)نے کہا کہ آج تک کسی مولوی نے پہلی مرتبہ. سچ بولا ہے مگر یہ تو بتا کہ رسول اللہۖ نے خود جہاد کیا یا چندہ کیا تھا؟۔ مولوی نے کہا کہ آپۖ جاتے تھے۔ولی خان (Wali Khan)نے کہاکہ آپ کبھی گئے ہو یا صرف چندےso پر اکتفا کرتے ہو؟۔ اس نے کہا کہ گیا نہیں مگر آئندہ دیکھتا ہوں۔ ولی خان نے اس خان سے کہا کہ کل اس کو اسلحہ. گولیاں خرید کر دیدو اور لنڈی کوتل افغان سرحد پر جہاد کیلئے چھوڑ آ۔ تو مولوی (Molvi)آئیں بائیں اور شائیں کرتا ہوا رفوچکر ہوا۔ اس خان نے کہاکہ مولوی نے کھانا بھی چھوڑ دیا؟۔

ولی خان (Wali Khan)نے کہاso کہ کھانا کیا وہ میری. باتوں کا سامنا کرے تو جنت کو بھی چھوڑ دے گا۔ ولی خان (Wali Khan)کہتا تھا کہ نبیۖ کے دور میں جہادso ہوتا تو مالِ غنیمت سب میں برابر تقسیم ہوتا تھا لیکن یہ کونسا جہاد ہے جو افغانستان میں ہورہا ہے اور مالِ غنیمت منصورہ لاہور میں بٹ رہاہے۔

TEST

جب ولی خان (Wali Khan)کا انتقال ہوا تو حامد میر (Hamid Mir)نے جیو (Geo TV)میں کرائے کے جہاد کی فیکٹریوںso کو. مقبول بنانے کا ٹھیکہ اٹھارکھا تھا۔ مفتی نظام الدین شامزئی (mufti nizamuddin shamzai)سے بھی کہاتھا کہ اگر یہ لوگ واشنگٹن. سےso براستہ رابطہ عالم اسلامی (rabita alam e islami )مکہ مکرمہ ڈالر (Dollar)لینے اور علما کو خریدنے سے باز نہیں آئے.

تو انso کا بھانڈہ بیچ چوراہےso پھوڑ دینا مگر ولی خان کی وفات پرپروگرام میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد ( Prof. Abdul Ghafoor Jamat e Islami) ، ایم کیوایم ڈاکٹر فاروق ستار (Muhammad Farooq Sattar MQM)اور کسی soمسلم لیگی (PML N)کو دعوت دی تاکہ ولی. خان کو وفات کے بعد بھی معاف نہ. کیاso جائے لیکن حیرت انگیز طور پر جب سب مخالف مہمانوں نے اعلی ظرفی کا بہت بڑا مظاہرہ کرتے ہوئے ولی خان کی خوبیوں کو بیان کیا تو حامد میر(Hamid Mir) کا رنگ ایسا فق ہوگیا تھا جیسے کسیso اغوا شدہ دلہن کو زبردستی سے نکاح پڑھایا جائے۔

حامد میر (Hamid Mir)اچھے انسان اور صحافی. ہیں لیکن وہ جسso ماحول کے پروردہ ہیں اس میں اچھائی اور برائی کے احساسات کا شاید پتہ نہیں چلتا ہے۔ اگر واقعی اپنے گزشتہ نامہ اعمال سے توبہ کرکے سچائی کی راہ چلے ہیں تو ہم اپنی طرف سے شاندار الفاظ میں خیر مقدم بھی کریںگے۔ صحافت اور شرارت میں فرق ہے۔ البتہ وہ شریف آدمی ہیں اور اغیار کے ایجنٹ نہیں ۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Reaction of PTI Senator Dost Muhammad Mehsud, PTM leader Alamzeb Mehsud and Hayat Preghal on existence of land mines within Mehsud area of Waziristan.

Keywords: waziristan, ptm, ttp, dost muhammad mehsud, mehsud tribe, landmine blast in south waziristan, ptm

پی ٹی آئی کے سینیٹر دوست محمد محسود، پی ٹی ایم کے رہنما عالم زیب محسود اور حیات پریغال کا جنوبی وزیرستان میں لینڈ مائنز کے خلاف احتجاج۔and

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جنوبی وزیرستان محسودعلاقہ (South Waziristan Mehsud Tribe)کے صدر مقام مکین میں لینڈ مائنزand کا ایک اور واقعہ۔ اب تک لینڈ مائنز کے( 174)واقعات ہوچکے ہیں اور ان dost muhammad mehsudواقعات میں معذور افراد کی تعداد (235)ہے۔
یہ شام کشمیرand یا فلسطین کا بچہ نہیں ہے یہ اسلام کے نام پر بننے والے خونخوار ریاست کفرستان کے علاقے وزیرستان (Waziristan)میں پیدا ہونے کی سزا کاٹ رہا ہے اور اس سب کی وجہ بننے والے دہشت گرد اور محترمand ادارے فرشتہ صفت ہے ہاں اس بچے کو خاموش رہنا ہے یہ آہ بھی کریگا تو غدار اور وطن فروش ٹھہرایا جائیگا۔

dost muhammad mehsud

وزیرستان(South Waziristan Mehsud Tribe)کے محسود علاقےso میںبچھائی گئیdost muhammad mehsud باروردی سرنگوںand لینڈ مائنزسے آئے روز دھماکے ہوتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے کانیگرم ( Kaniguram South Waziristan)میںso متعدد ایف سی اہلکار شہید(Soldier martyred in landmine blast near kani gram area of South Waziristan) ہوگئے اور مکین میں تینand بچےso شہید اور چند معذور ہوگئے۔ مکین میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ مکین بریگیڈ کے سامنےand کیا گیا اورزبردست دھرنا دیا گیا۔ جبso سول انتظامیہ نے چاروں مطالبات تسلیم کرلئے تو مظاہرین منتشر ہوگئے۔

dost muhammad mehsud

شہدا کو دفنانے. کے بعد قبائلیand مشران اور عوامی نمائندوں نے سخت غمso وغصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روز روز اس طرح مرنے سے اچھا ہے کہ ایک ہی مرتبہ میں ہم سب مرجائیں۔ صبر کا پیمانہ سب کا لبریز ہوچکا ہے اور اپنی آواز مقتدر طبقات تک پہنچانے کیساتھ ساتھ کسی. وقتso حالات بے قابو بھیso ہوسکتے ہیں۔ جب قریبی فوجی چوکی سے سول وردی میںdost muhammad mehsud کچھ افراد نے شہدا کے قبروں کی ویڈیو بنانی شروع کردی تو مشتعل لوگوں نے ان پر ہلہ بول دیا مگر( PTM)کے رہنماں عالم زیبso محسود، حیات پریغال اور دیگر نے کوئی ناخوشگوارso حادثہ نہیں ہونے دیا۔ ایک جوان شدت جذبات کے بعد مشکلوںso سے روکنے پر بیہوش بھی ہوگیا۔ حکام بالا محسود ایریا کو امن دینے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

TEST

تحریک انصاف کے سینیٹر دوست محمد محسود(Dost Muhammad Mehsud)،( PTM)کے قائدین، رہنما، کارکن اورso آزاد. صحافت کے نام سے بہت مثبت کام کرنیوالے .نوجوان سب کے سب حالات سے بہت زیادہ نالاں اورso معاملات کو سلجھانے میں سنجیدہ نظرآتے ہیں لیکن حالات بدستور خرابی کی طرف. جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ اب تو پختونخواہ کے سیٹل ایریا میں مرج ہوچکا ہے۔ فوجی آپریشنوں اور طالبان گردی (TTP)کے مسلسل زد میں ہونے کی وجہ سے. بہت لوگ سختand soگرمیوں کے باوجود بھی اپنے آبائی علاقے خوشگوار موسم جنت نظیروادیوںso میں جانے سے گریزاں ہیں اور جو وہاں جانے پر مجبور ہوتے ہیں تو ان کے بچے بارودی سرنگوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ جب کوئی دھماکہ، ٹارگٹ کلنگ یا. سیکیورٹیand اہلکاروں پرso حملہ ہوتا ہے تو soعلاقے میں رہنے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟۔

TEST


مقتدر طبقات اور عوامی نمائندے soاس کا حل نکالنے میں مکملso طور پر ناکام ہیں. اور اشتعال انگیزی بھی مسائل کا حل نہیں بلکہ محسود(Mehsud)قوم کومزید مشکلات کی طرفso دھکیلنے کے مترادف ہے. اور خاموشی کیساتھdost muhammad mehsud سہنے کی حدیں بھی ختم ہوچکی ہیں ۔اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کیلئے ایسی قیادتso کی ضرورت ہے جس میں علاقہ کے عوام کی. محبت، اصلاح کاجذبہ اور دلدل سے نکالنے کی زبردست صلاحیت ہو۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

In Gwadar a person violenced badly beaten slapped Wapda personnel Hafeezullah Baloch and SHO he was than identified as Saeed Baloch who belongs to Sirajul Haq Party Jamat e Islami.

Keywords: Gwadar, jamat e islami, siraj ul haq, siraj ul haq, siraj ul haq molana modudi, Mansoora, Gwadar, Gwadar, Gwadar, Gwadar, Molana Modudi, Mansoora, Mansoora, Mansoora, Mansoora


گوادر میں واپڈا اہلکار پر بہیمانہ تشدد کے بعد SHOکو تھپڑ مارنے والے بدمعاش کا تعلق جماعت andاسلامی سے ہے لیکن اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا تماشہ لگارکھا ہے۔

Jamat E Islami

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جماعت اسلامی کے غنڈے سعید بلوچ نے واپڈا کے اہلکار حفیظ اللہ بلوچ (Hafeezullah Baloch)کو بجلی کاٹنے. پر اپنے soچار ساتھیوں سمیت شدید زدو کوب کرکے بہتand سخت زخمی کیا اور پھر جبso اس نے اپنی دکھ بھری فریاد. عوام تک پہنچائی تو جماعت اسلامی (molana modudi party jamat e islami)کے غنڈوں نے ایک ایب کے ذریعے اس کاand بہت سخت. مذاقso بھی اڑایا ۔ جب پولیس سعید بلوچ کے گھر پہنچی تو اس نے ایس ایچ او کو تھپڑ بھیand ماردیا۔ پھرso کپڑے بدلنے کے بہانے اپنے گھر میں داخل. ہوا لیکن اندر سے عورتوںso کے ذریعے پتھر پھینکنے اور چیخ. وپکار سے مزاحمت کی۔ دوسرے دن پولیس کو گرفتاری کا حکم ہوا تو یہ بہادر چارپائی کے نیچے گھس گیا، جب نظر آیا تو بھاگ کرغسل خانے میں گھس گیا اورand اندر سے. دروازہ لاکso کردیا۔ پولیس لاک توڑ کر گرفتار کرکے لے گئی تو شام کو عدالت سے ضمانت کروائی گئی۔

Jamat E Islami

صدر جماعت اسلامی (Molana Modudi/Sirajul Haq Party Jamat e Islami)بلوچستان عبدالحق ہاشمی اور. دیگر رہنماؤں نےand اسکے حق میں گوادر پہنچ کر ایک بڑی پریس کانفرنسand کی اور اس نے. کہا کہ ”میں پولیس، فوج ، ایجنسیوں اور کسی سے بھی نہیں ڈرتا ہوں”۔بتایا گیا کہ پہلے بھی ایجنسیاں اس کو اٹھاکر لے گئی تھیں اورکئی مہینوں تک غائب تھا۔

Jamat E Islami

جماعت اسلامی (Jamat e Islami)نے کراچی اور پنجاب کے کالجوں اور یونیورسٹیوںand میں غنڈہ گردی کاso ناسوربھر دیا تھا۔ باجوڑ خیبر پختونخواہ میں پختون روایات واقدار کے منافی محسن داوڑ (mohsin dawar)سے بھی ایک تقریب میں andبہت .بدتمیزیso کی تھی۔
باجوڑ میں پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان (akhunzada chattan) نے جماعت اسلامی(jamat e islami) کی طرف سےso ایک مہمان کیand ایسی بے عزتی کرنے پر جماعت اسلامی (jamat e islami)سے اپنے اتحاد. کو ختم کرنےand کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا مرکز سے بھی ہم یہ گزارش کرینگے کہ جماعت اسلامی (jamat e islami)جب تک. اس اقدام پر معافیand نہ مانگے توso اسکے خلاف بائیکاٹ کیا جائے۔ اس وقت PDMکا اتحاد بننے کا. سلسلہ جاری تھا اور ساری جماعتوں نے اپنا دباؤ جماعت اسلامی (jamat e islami)پر ڈالا تھا۔ ہمso نے بھی andاپنے اداریہ میں نہ صرفand جماعت اسلامی کی مذمت کی تھی بلکہ یہ بھی لکھ دیا کہ اخونزادہ چٹان (akhunzada chattan) نے جو شرمندگی. اُٹھائی ہے ، ہم اپنی طرف سے ان کو بھی ہمدردی کے قابل سمجھتے ہیں۔

TEST

جماعت اسلامی (jamat e islami) نے اس ردِ عمل پر اس. واقعہso کو رفع دفع کرنے پر بھی اس دباؤ کی وجہ سے زور دیا تھا مگر PDMمیں شمولیت سے محروم ہوگئی۔
لوگوں کا خیال تھا کہ محسن داوڑ کا تعلق PTM .سے ہے اور جماعت اسلامی (jamat e islami)اپنا نمک حلال کرنے کے چکرso میں ایسے اوچھے ہتھکنڈے. پر اتر آئی ہے مگر ہم نے لکھا تھا کہ یہ جماعت اسلامی (jamat e islami) کی سرشست. میں شامل ہےso اور وہ اپنی عادت سےso مجبور ہے۔ گوادر میں واپڈا کے اہلکار کو پٹوانے میں ایجنسی کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟۔ جماعت اسلامی (jamat e islami) نے غنڈہ گردی بھی کی اور پھر چیف آف گوادر (Gwader)کے نام سے سعید بلوچ (Saeed Baloch)کے حق میں. جلوس بھی soنکالا ہے۔ فلسطین وکشمیر میں مظالم کےso خلاف آواز اُٹھانے والے جب یہاں پر ظلم ، تضحیک ، جبر ، غنڈہ گردی اور سینہ زوری کی انتہاء کرتے ہیں تو اس سے ان کا منافقانہ چہرہ بھی عوام کے سامنے آتا ہے۔

انتہائی منظم و جمہوری جماعتso ہونے کے باوجود اس کا گراف اسلئے آئے روز گرتا جارہاہے. کہ شریف لوگوں کو صرف ٹائٹل کے طور پر ہیso رکھا جاتا ہے اور خفیہ طور. پر غلط سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔ جب جماعت اسلامی بلوچستان (jamat e islami) کے امیر مولانا عبدالحق بلوچ (Molana Abdul Haq Baloch)نے ہماری تحریک کی تائید کیso تھی جن کا تعلق تربت سے تھا اور علماء کرام میں مقبولیت بھی اپنے علم وعمل کی وجہ سے رکھتے تھے تو ان کو اپنے منصب سے بھی ہٹادیا گیا تھا۔

TEST

جماعت اسلامی (jamat e islami) نے پنجابیوں اور کراچی کے مہاجروں سے شرافت کا. معیار چھین لینے کے بعد پختون اور بلوچ کلچر کی یلغار شروع کردی ہے۔ یہso لوگ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں وی سی آر. منکرات کے نام پردوسروں سے چھین لینے کے بعد خود دیکھنا شروع ہو جاتے تھے۔ افغانستان (Afghan Jihad)میں جہاد لڑنے کی جگہso کلاشکوف کلچر تعلیمی اداروں میں. مسلط کیا تھا۔ ان کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہے۔ بلوچ. غیرتمند قوم ہے اور اب یہ بدمعاشی کرکے پہلے گھروں سے اپنی خواتین کو پولیس کے سامنے استعمال کرتے ہیں اور پھر عوام کو گمراہ کرتے. ہیں کہ چادر اورچار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ اگر گوادر کے غیور عوام نے ان کے ہتھکنڈوں کو. سمجھنے اور روکنے کی بھرپور کوشش نہیں کی تو پھر ان کے اخلاقیات کا جنازہ نکلے گا۔

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Reaction of PTI Senator Dost Muhammad Mehsud PTM Leader Alamzeb Mehsud and Masood Hayat Preghal on existence of land mines within mehsud area of Waziristan

KEY WORDS: PTM, SSP Rao Anwar, SENATOR PTI Dost Muhammad Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Mehsud Tribe,Mehsud Tribe, Mehsud Tribe, Waziristan,

کاش میں پشتون نہ ہوتا فلسطینی یا کشمیری ہوتا تو کوئی میرے لئے دو آنسو تو بہاتا۔ سینیٹر پی ٹی آئی (PTI)دوست محمد محسود(Dost Muhammad Mehsud) کا سینیٹ سے خطاب

آئل ٹینکر الٹ جاتا ہے (240)افراد پیٹرول چوری کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے تو( 40، 40 )لاکھ دئیے
کیماڑی میں گیس سے ہلاک ہونیوالوں کو( 25،25)لاکھ اور ہزارہ برادری کو (15،15)لاکھ روپے دئیے
ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ یہاں سینکڑوں لوگ لینڈ مائنز میں شہید ہوچکے ہیں یہ جوپی ٹی ایم(PTM) اینٹی پاکستان تو ٹھیک ہے مگر یہ ظلم اور نا انصافی کو دیکھ کر بنی ہے۔ فورا چیف منسٹر چلاجائے اور مرج ایریا میں انکو (40، 40)لاکھ اور ایک ایک نوکری دی جائے

TEST

رپورٹ: رقیب اللہ محسود، فیس بک، ویڈیو پی ٹی وی
تحریک انصافso کے سینیٹر دوست محمد محسود (Dost Muhammad Mehsud) نے سینٹ سے خطاب کرتےso ہوئے کہا میرا علاقہ جل رہا ہے میرا علاقہ تباہ ہورہا ہے۔ پرسوں لینڈ مائن کی وجہ سے ہمارے پھول جیسے تین بچے شہید ہوئے۔ سر جی! میرا کیا قصور because ہے کہ میں اس پاکستان مین پشتون ہوں ۔ میرے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے، کاش میں فلسطین PTM میں ہوتا، کاش میں کشمیر میں ہوتا تاکہ لوگ میرے لئے دو آنسو بہاتے۔ آج SSP Rao Anwar

میرے سینکڑوں لوگ لینڈ مائن کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں لوگ ٹانگوں سے معذور ہوچکے ہیں۔ کوئی ان کا پوچھنے والا نہیں ہے and، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملتان میں ایک آئل ٹینکر (multan oil tanker accident)الٹ جاتا ہے وہاں کے (240) افراد پیٹرول چوری کرتے ہوئے ہلاک because ہوجاتے ہیں۔ ان کو حکومتand کتنی کمپنسیشن دیتی ہے؟۔ اسپیکر چیئر and مین صاحب(40,40)لاکھ روپے ایک ایک کے لواحقین کو دیا ہےso ۔ اسپیکر چیئر مین صاحب! ڈیڑھ سال پہلے کراچی میں ایک شپ تھیand اس سے گیس (keamari gas incident) خارج ہوئی۔ کوئی دس بیس because آدمی فوت ہوگئے تھے۔ اس کو حکومت نے( 25، 25 )لاکھ روپے دیا ہے۔

TEST

کوئٹہ میں جو ہمارے اہل تشیع شہید (quetta hazara killing)ہوئے تھے تینand چار and مہینے میں ان کے لئے. because پرائم منسٹرخاص طور پر گیا۔ ان کو ایک ایک. نوکری دی اور ساتھ میں( 15، 15)لاکھ روپے Dost Muhammad Mehsud کے چیک دئیے۔ ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہمارے and سینکڑوں لوگ لینڈ مائن میں so شہید ہوچکے ہیں۔ یہ پی ٹی. ایم (PTM)پشتون تحفظ موومنٹ اینٹی because پاکستان تو ٹھیک ہے لیکن and

یہ ظلم اور بے انصافی کو دیکھ کر بنی ہے۔ and نقیب. اللہ محسود (Naqeeb Ullah Masood)کا قتل ہوتا ہے،( 450)محسودوں and کو ایس ایس پی را ؤانوار (SSP Rao Anwar)نے قتل کیا. تھا اور زرداری(Asif Zardari) نے کہاandand تھا کہ یہ and سندھ کا بہادر بیٹا ہے۔ وہ بھی ابھی تک دندناتا ہوا پھر رہا ہے اس کا and بھی کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ دہشت so گردی کے خلاف جنگ (War on Terror) so پر جو ہماری آرمی نے قربانی دی ہے ان so پر آفرین ہے. اور میں شاباش دیتا ہوں کہ جہاں پر بھی کہیں بھی کسی قوم میں so تکلیف آتی ہے آرمی لبیک کرکے آجاتی ہے۔

لیکن میں اپنے علاقے کی بات کررہا ہوں ساتھ so وزیرستان so کا محسود ایریا کہ so PTM میں and وہاں چاقو بھی نہیں رکھ Dost Muhammad Mehsud سکتا۔ وہ چاقو بھی دیکھتے ہیں کہ. کہیں چاقو تونہیں لیکر جارہا ہے۔ وہاں پر میںسر کلہاڑا لیکر گھومتا ہوں۔ آئن سٹائن (Albert Einstein)سے کسی نے پوچھا کہ because تھرڈ ورلڈ وار(Third World War) کی کیا پوزیشن ہوگی؟ so ۔ تو اس ن.ے کہا کہ تھرڈ Mehsud Tribe ورلڈ وار کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے لیکن فورتھ ورلڈ because وار کلہاڑیوں اور پتھر سے لڑی PTM میں جائے گی۔ میرے گھر تباہ. و برباد ہیں۔ سروے کے نام پر ہمیں ورغلایا جارہا ہے ، because میری قوم and کو پیسہ نہیں دیا جارہا ہے۔

Dost Muhammad Mehsud

قربانیاں ہم نے دیں ہمارے آبا و اجداد نے اس because پاکستان کے لئے قربانیاں. دی ہیں۔ لینڈ مائن (Landmines killing people in Pakistan’s South Waziristan)کے سلسلے میں اگر حکومت نے نوٹس نہیں لیا ، میں حکومت کو یہ مشورہ دے رہا ہوں آرمی کو because یہ مشورہ دے رہا ہوں کہ خدا کے واسطے فورا کمپنسیشن. کا اعلان کردیں۔ فورا چیف منسٹر چلاجائے مرج ایریا میں اور (25، 25)لاکھ یا (40، 40)لاکھ فورا ان کو دے دیا جائے۔ اور باقی and سینکڑوں لوگ. جو شہید ہوئے ہیں یا Dost Muhammad Mehsud معذور ہوئے ہیں ان کیلئے ایک ایک نوکری کا بندوبست بھی کریں۔

دوسری میری آرمی سے اور پاکستان سے and یہ درخواست ہے کہ اس بلا کو جس and کو ایڈن اینمی کہا جاتا ہے اس سے نمٹنے. کیلئے چار پانچ سو ہمارے محسود نوجوانوں کو تین Dost Muhammad Mehsud چار سال کیلئے کنٹریکٹ پر بھرتی کرالیں ان کو چار چھ مہینے کی ٹریننگ دیں اینٹی مائن and کی کہ کس طرح کلیئر کئے جاتے ہیں اور ان کو تربیت یافتہ کتے دئیے جائیں۔ انشا اللہ یہ علاقہ پاک ہوجائے گا۔ یہ انتہائی and ضروری ہے اورحکومت پاکستان کو اس کا ترجیحی طور پر نوٹس لینا چاہئے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Dost Muhammad Mehsud

Dost Muhammad Mehsud

ایسی تحریک کی ضرورت جو مذہبی اور کامریڈ طبقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے خطے کو بحران سے نکال دے

Comrade, Leftist, Khilafat, Khilafat e Usmania, PTM

ایسی تحریک کی ضرورت جو مذہبی اور کامریڈ طبقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے خطے کو بحران سے نکال دے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خطے کے طالبان ہتھیار رکھ کر اسلام کے عظیم مشن کیلئے جمہوری بنیاد پر اپنا مشن منوائیں!

قرآنی آیات اور سنت سے پوری دنیا کی انسانیت پر ہونے والے مظالم کا راستہ روکیں

کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے علاوہ گھروں سے لیکر ریاستی ظلم وستم کو ختم کریں

اسلام نے دورِ جاہلیت میں علم کی روشنی سے دنیا میں اجالا کیا مگر مسلمان جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی کی تلاش میں لگے ہیں۔ جاہلوں کابڑا سردار علامہ اقبال تھا جو اپنی شاعری اور اسلام کے اجتہادی فکر میں نہ خوابیدہ تھا اور نہ بیدار تھا۔ اسلام کے واضح احکام میں دنیا کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکالنے کی صلاحیت ہے ۔ ان پڑھ قوم نے منصبِ امامت پر بیٹھ کر قیصرو کسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست دی تو اس لکھے پڑھے دور میں قرآن کی آفاقی تعلیم ہمیں جبر وظلم کے نظام سے خلاصی کیوں نہیں دے سکتی ؟۔
کامریڈوں کو پتہ چل گیا ہے کہ روس، چین اور دنیا میں مارکس کا نظریہ فیل ہوچکا ہے اور سودی نظام ہی دنیا میں ظلم وجبر کا حربہ ہے۔ جب قرآن میں سود کی حرمت والی آیات نازل ہوئی تو نبیۖ نے زمین کو بھی مزارعت پر دینا سود قرار دے دیا۔ زمین کو مزارعت پر دینے سے جاگیرادارنہ نظام بنتا ہے اور اس سے عوام کو غلام بنانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ سودی نظام سے بھی معاشرے کے اندرعوام کی انفرادی اوراجتماعی زندگی اجیرن بنتی ہے اور عالمی بینک اور سودی نظام سے دنیا کے غریب ممالک کو غلام بنایا جاتا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان سے لیکر مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سب اس شیطانی نظام کے کارندے ہیں۔ احادیث صحیحہ میں مزارعت کو سود قرار دیا گیا ہے اور امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی متفق تھے کہ مزارعت سود، ناجائز اور حرام ہے۔ لیکن حیلہ ساز علماء ومفتیان اور درباری مولویوں نے اسلام کو بدل دیا تھا۔ جس طرح یہود کے مہرے سودی نظام کواسلامی بینک کا نام دیتے ہیں یہ شروع سے ہی درباری علماء کابڑا دھندہ رہاہے۔
اسلام کے معاشرتی اور اقتصادی نظام کو مذہبی طبقات نے تباہ کیا ہے ۔اگر درست اسلامی نظام سامنے لانے کی کوشش کی گئی تو یہ طالبان اور کامریڈوں کا متفقہ ایجنڈہ ہوگا اور جب پشتون تحفظ موومنٹ کو ہم نے مظلوم تحفظ موومنٹ بنانے کا مطالبہ کیا تھا تو ہماری بات نہیں مانی۔ ہم نے لکھا کہ (PDM) ا ور (PTM) اور جماعت اسلامی سب زوال کی ا نتہاء پر ہیں۔ پی ڈی ایم (PDM) اور ن لیگ کے ایجنڈے کا حشر سب کے سامنے ہے ۔ پی ٹی ایم (PTM) کے محسن داوڑ نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا۔ جے یو آئی کی بنیاد بلوچستان و پختونخواہ میں ہل گئی۔لیفٹ اور رائٹ کے نام پر قوم کو دائیں بائیں تقسیم کرنے والے چالاک وعیار لوگ کئی جماعتوں میں جماعتیں او ر پارٹیوں میں پارٹیوں کی تقسیم کے ایجنڈے پر لگ جاتے ہیں۔ نظرئیے اور عوام کیلئے کوئی مثبت کام کرنے کے بجائے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں ،حالانکہ ان کے پاس کوئی نظریہ ہوتا ہے اور نہ عوام کے مفاد کا کوئی ایجنڈہ۔ ایک ایسی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا جس کا ایک ایسا واضح ایجنڈہ ہو جو اقتدار تک پہنچنے کا وسیلہ بھی ہو اور اقتدار تک پہنچنے سے پہلے بھی عوام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا زبردست ذریعہ بن جائے۔
اسلام نے عورتوں، مزدوروں ، غلاموں، لونڈیوں اور قیدیوں کو جو حقوق دئیے تھے اور جس طرح سے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کیساتھ ساتھ اپنوں کا زبردست تزکیہ کردیا۔اپنوں کو حکمت اور معاشرت کی تعلیم دی اور کتاب کا دستور العمل دیا تواس نے پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپاکردیا۔ قرآن وسنت کی تعلیم کا ایک آئینہ پیش کیا جائے تو دنیا حیران ہوگی کہ چودہ سو سال پہلے عورتوں کو یہ حقوق دئیے؟۔ کسانوں کو یہ حقوق دیدئیے؟ مزدوروں کو یہ حقوق دیدئیے؟۔ غلاموں اور لونڈیوں کی حیثیت بدل کر ان کو بھی نکاح کے حقوق دیدئیے ؟۔ جن غلاموں کی کوئی شناخت نہیں تھی ان کو اسلامی بھائی قرار دیدیا۔جن لونڈیوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو اللہ نے فرمایا کہ ”یہ تمہارے ہی جیسی ہیں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے” النساء ۔ مذہبی طبقے اور کامریڈوں کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کرکے پاکستان سے دنیا بھر کیلئے بہت بڑے انقلاب کا آغاز کیا جائے۔

افغانستان و پاکستان گڈ اوربیڈ طالبان کو علمی تربیت گاہ سے اعتدال کی راہ پر لاکر مشکل سے نکالا جاسکتا ہے؟

9/11, 9/11, 9/11 Altaf Hussain, Jamat e Islami, Afghan Taliban, Molana Fazl ur Rehman

افغانستان و پاکستان گڈ اوربیڈ طالبان کو علمی تربیت گاہ سے اعتدال کی راہ پر لاکر مشکل سے نکالا جاسکتا ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ایک ایسی فضاء آئی تھی کہ بہت سارے لوگ اپنے دینی جذبات سے طالبان بن گئے!

عام انسانی معاشرے کی طرح طالبان میں بھی اچھے برے ہرطرح کے افراد شامل تھے

جب اچھے طالبان کو زبردست راستہ دیا جائیگا تو بروں سے اس خطے کو چھٹکارا مل جائے گا

نبیۖ نے فرمایا کہ ” لوگوں کی مثال معدنیات کی ہے جو جاہلیت میں سونا،چاندی تھے وہ اسلام میں بھی سونا چاندی تھے اور جو جاہلیت میں کوئلہ تھے وہ اسلام میں بھی کوئلہ کی طرح ہیں”۔( مفہوم حدیث)
جب نائن الیون (9/11) کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیاتو پوری دنیا کے مسلمانوں کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ امریکہ کے خلاف تھیں۔البتہ کچھ لوگ طالبان کے سخت گیر رویے کی وجہ سے انکے ذاتی مخالف تھے۔ آج امریکہ وطالبان کی دشمنی دوستی میں بدل گئی ہے اور طالبان کا رویہ بھی سخت گیر نہیں رہاہے۔ جب طالبان نے امریکہ کے سامنے سرنڈر ہونے کے بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا تو کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں تھا جو دل سے امریکہ کیساتھ اور طالبان کے خلاف ہوتا مگر کچھ لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوسکتی تھیں۔ جن کی مجبوریاں تھیں ان کاتعلق پاکستان اور افغانستان سے تھا۔ کچھ لوگ طالبان کے نظریہ ، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر خلاف تھے اور یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی نظروں میں طالبان کے گڈ وبیڈ ہونے کا اپنا اپنا معیار تھا۔ ان تضادات کی وجہ سے سب نے اپنے مفادات بھی اُٹھائے اور نقصا نات بھی اُٹھائے۔
کون ہارا؟ کون جیتا؟۔ انسان ہارا! شیطان جیتا!۔ اگر اسلام کی درست تعلیمات ہوتیں تو امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا ، شام اور پاکستان کو اس حال پر کبھی نہیں پہنچانا تھا جس طرح کی تباہی وبربادی سے ہم مسلمان گزرے ہیں۔ ستر (70) ہزار سے زیادہ لوگ دہشتگردوں کے ہاتھوں کام آئے ہیں اور دہشتگردی کے نام پر کتنے لوگ کام آئے ہیں شاید ان کا شمار بھی نہیں ہوسکا ہے۔ جب ایمان والے طالبان عام لوگوں کی زباں میں دہشت گرد بن گئے تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جس طرح تبلیغی جماعت میں بہت سے اچھے لوگ بھی اپنا وقت لگاتے ہیں تو بہت سے بدکرداروں کو بھی ٹھیک کرنے کیلئے تبلیغ میں بھیج دیا جاتا ہے، اسی طرح طالبان کو بھی بہت اچھے لوگوں نے بھی سپورٹ کیا اور اس میں شامل ہوگئے اوربہت بدکردار ، مکار اور بدمعاشوں نے بھی اس کواپنی پناہ گاہ بنایا۔ جن میں بہت اچھوں کے علاوہ ملوثی، ہم جنس پرست اور بھتہ خور سب شامل تھے۔
طالبان جسکے بھی وفادار ہیں وہ اپنا مخصوص حلیہ ، ٹائٹل اور شاخت کی نشانی رکھنے پر مجبور ہیں۔کہاوت ہے کہ ” میں کمبل کو چھوڑ رہا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہاہے”۔ ایک شخص نے دریا میں کمبل دیکھ کر چھلانگ لگا دی مگر جب ساتھیوں نے اس کی کشمکش کو دیکھا تو کہنے لگے کہ کمبل کو چھوڑ دو، کہیں اس چکر میں اپنی جان سے بھی نہ چلے جاؤ۔ اس نے جواب میں کہا ہے کہ میں کمبل کو چھوڑ رہا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہاہے۔اصل میں وہ کمبل نہیں ریچھ تھا۔ جس سے یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ طالبان نے اسلام سمجھ کر جس کمبل کو پکڑنا چاہا تھا تو اس سے اب انکی جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان میں بہت اچھے اچھے لوگ ایک لہر کی وجہ سے شکار ہوگئے تھے۔ اگر طالبان کی بانی پیپلزپارٹی اور حامی ن لیگ اور تحریک انصاف کو باری باری پاکستانی اقتدار میں لایاجاسکتا تھا تو طالبان کو بھی ایک مؤثر تعلیمی تربیتی نظام سے معاشرے میں موقع دینا انسانیت، اسلام اور پاکستانیت کا تقاضہ ہے۔ ملا عمر اور افغانستان کے طالبان نے وہی کیا تھا جو انہوں نے اپنی شریعت کی کتابوں میں پڑھا تھا۔ پاکستان کی سرزمین میں صرف ہمارے ریاستی ادارے ، عدلیہ،سول وملٹری بیوروکریسی،سیاسی حکمرانوں نے کفر ونفاق اور بدعملی کا لبادہ نہیں اوڑھ رکھا تھا بلکہ علماء اور مذہبی طبقات بھی اسکا شکار تھے۔
پہلے جب طالبان کے جنازے ہوتے تھے تو بہت سے لوگ ان کی خوشبو بھی سونگھ لیتے تھے ۔ لیکن پھر جب لوگوں میں شعور بڑھ گیا تو لوگوں کو خوشبو آنا بھی بند ہوگئی ۔ الطاف بھائی کی تصاویر بھی درختوں کے پتوں پر عوام کو نظر آتی تھیں اور گوہر شاہی بھی عقیدتمندوں کو چاند میں دکھتا تھا جو دراصل چاند کی کالک ہوتی تھی۔

مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

Molana Fazl ur Rehman, Mufti Muneeb Ur Rehman, Jamat e Islami, Molana Modudi, Surah An-Nisa, Surah Al-Baqarah

مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ بقرہ کی آیت(229)اور سورۂ النساء کی آیت(19) کی وضاحت کئی مسائل کا بڑاحل ہے

افغانستان، فلسطین اور کشمیر کی فکر کرنے والوں نے مسلمانوں کو کس حال پر پہنچادیا ہے؟

عورتوںکو قرآن نے کیا حقوق دئیے ہیں اور مذہبی طبقات نے اس کا کیا حشر کردیا ہے؟

سورۂ بقرہ کی آیات (222) سے (232) تک میں عورتوں کے حقوق اور طلاق کے مسائل کی زبردست تفصیل ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ وانزلنا الکتٰب تبیانًا لکل شئی اور ہم نے کتاب ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کی۔ ایک ایک آیت میں حیران کن عالمِ انسانیت کی تقدیر کی کایا پلٹ دی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ مذہبی طبقے نے یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ کی طرح انسانی فطرت کے عین مطابق دین کو اپنی جانور صفت جگالی سے چبا چبا کرکھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنادیا ۔ یہ شکر ہے کہ قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے دادا پیرمولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ” حیلہ ٔ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے کہ ” اگر شوہر بیوی کو تین طلاق دیدے تو بیوی اس پر حرام ہے۔ پھر اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہوں کی ضرورت ہوگی اور اگر اسکے پاس دو گواہ نہ تھے اور شوہر نے قسم کھالی تو عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر شوہر خلع پر بھی راضی نہ ہو تو پھر عورت حرام کاری پر مجبور ہوگی”۔ یہ مسئلہ فقہ کی کتابوں کا ہے ۔ اگر قرآن کا درست ترجمہ وتفسیر سمجھ میں آجاتا تو اس قسم کی واہی تباہی کے مسائل گھڑنے کی کبھی نوبت نہیں آسکتی تھی۔
خلع و طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ خلع میں غیر منقولہ جائیداد شوہر کو واپس کرنی ہوگی جبکہ منقولہ اشیاء اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے اور طلاق میں منقولہ وغیرمنقولہ تمام اشیاء عورت کا اپنا حق ہیں۔شوہر نے بہت سارے خزانے دئیے ہوں تب بھی واپس لینے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ سورہ النساء کی (آیت19،20،21) میں یہ معاملات بالکل واضح ہیں۔ سورۂ بقرہ آیت (229) میں بھی طلاق کا معاملہ ہے جس میں تمام دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا حلال نہ ہونا واضح ہے مگر ایسی صورت میں جب دونوں اور فیصلہ کرنے والے اس بات پر متفق ہوں کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں علیحدگی کے بعد ایسا رابطہ بن سکتا ہے کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں تو ایسی صورت میں صرف وہی دی ہوئی چیز کے فدیہ کرنے میں ان دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے”۔
آیت میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد اس صورتحال کی وضاحت ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ”شوہر کی طرف سے دی گئی چیزوں میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں ہے لیکن جب دونوں ایک مجبوری پر متفق ہوں کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو ایسی صورت وہ چیز جس کو واپس نہ کرنے کی وضاحت ہے اور ایک مجبوری کے تحت فدیہ کرنے میں واپس کرنے کی گنجائش نکالی گئی ہے تو اس کو خلع کیلئے معاوضہ قرار دینا بہت بدترین قسم کی جہالت ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدمودودی نے اپنے ترجمہ وتفسیر ” تفہیم القرآن” میں اس جہالت کا بہت واضح الفاظ میں مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا تنخواہ دار مولوی طبقہ بھی سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود اپنی نوکری کی خاطر اس جہالت سے پردہ نہیں اٹھاتا ہے۔
جب ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تومقرر نصف حق مہر اور وسعت کے مطابق آدھا حق مہر ضروری ہے۔ ہاتھ لگانے اور بچے پیدا کرنے کے بعد باقی نصف حق مہر کی کیا حیثیت رہتی ہے؟۔ حق مہر شوہر کی طرف سے عورت کو راضی رکھنے کی سیکورٹی ہوتی ہے ۔جب عورت خلع یا طلاق کے مرحلے سے گزرتی ہے تو قرآن نے اسکے اختیار اور حقوق کو پورا پورا تحفظ دیا ہے لیکن ہمارا مذہبی طبقہ اتنا بے ایمان ہوچکا ہے کہ اللہ کے واضح احکام کو سمجھنے کے باوجود بھی اپنے مفاد کیلئے قبول نہیں کرتا۔جب مولوی نے عورت کے حقوق کو غصب کردیا ہے تو پھر مولوی پنجابی ہو تو جہیز کی لعنت کا خاتمہ اس کیلئے ممکن نہیں اور پختون ہو تو حق مہر کے نام پر بیٹی اور بہن کو بیچنے کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتا۔ قرآن وسنت سے لوگ بیگانہ اور مولوی اسپیئر وہیل ہے۔

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

American troops withdraw from Pakistan, Afghan Taliban, Molana Fazl Ur Rehman, 9/11,

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اب القاعدہ کے نام پر امریکی فوج کو افغانستان میں کھیلنے کی اجازت پاکستان سے نہیں دے سکتے۔ مولانا فضل الرحمن

پارلیمنٹ نے” پرویزمشرف کی امریکی فوج کو اجازت منسوخ کردی تھی” جنرل کیانی راضی تھے۔سینیٹر مشاہد حسین سید

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا” لیکن پہلے اڈوں کااب کیا بنے گا؟

یکم مئی کو افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہونا تھا پھر ستمبر(2021) تک نئی ڈیڈ لائن ہے۔ میڈیا نے معید یوسف کو امریکی امور کاماہر پیش کیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری معاملات اس کو ہی سونپ دئیے ہیں۔ جنیوا میں امریکن ذمہ دار نے معید یوسف سے ملاقات میں کیا بات طے کی ؟ امریکہ کا بیان آیاکہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ قطر اور ازبکستان میں امریکہ کے پاس فوجی اڈے ہیں لیکن وہ سی پیک اور چین اور بھارت کے تنازعہ میں بھارت کا ساتھ دینے کیلئے پاکستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے اسلئے کہ جنگ ہوتو چین سے امریکہ کے اڈے بھارت میں محفوظ نہ ہونگے اور پاکستان میں امریکہ کی حفاظت پاکستان پر ہوگی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ’ ‘ نائن الیون (9/11)کے بعد پرویزمشرف نے (2001) میں اڈے دئیے۔ سلالہ کا واقعہ ہوا تو پیپلزپارٹی دور میں رضا ربانی کی زیرِصدارت پارلیمانی کمیٹی نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا کہ امریکہ سمیت کسی غیرملکی فوج کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی متفق تھے۔ ستمبر(2021) کو امریکی فوج افغانستان سے نکلے تو معاہدہ ختم تصور ہوگا جونائن الیون (9/11)کیلئے ہوا تھا”۔پچاس (50) ہزار سے زیادہ فضائی حملے کئے تو امریکہ نے(2004) میں یہاں سے آپریشن بند کیا اسلئے کہ ضرورت نہ تھی اور پہلے سے بند آپریشن کیلئے یہ جھوٹا تیر مارا گیا تھا جو فخر سے بتایا جارہاہے؟۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں کہا: ” عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا ”۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اڈے بنارکھے تھے تو اس کو پاکستانی اڈوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اگر افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانی اڈوں کو دوبارہ آباد کریگا تو پاکستان کیخلاف جہاد ہو گا۔ امریکی کیمپوں سے پشت پناہی ہوگی ،پاکستان مکافات عمل کا شکار ہوگا۔ امریکہ کی کرپٹ فوج کو اُمت مسلمہ کے خلاف کاروائی میں بڑے ٹھیکے ملتے ہیں۔ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار ہوتا ہے۔افغانستان اور پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی فوج کو بھی کچھ مفاد ملتا ہے۔ جنگل کے طاقتور جانوروں کی طرح گوشت کا وافر حصہ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی فوجیں کھا جاتی ہیں اور پسماندہ ممالک کی فوجوں کو لگڑ بگڑ کی طرح بچی کھچی ریزگاری پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے مؤقف پیش کیا کہ” پاکستان سے افغان طالبان کیخلاف امریکہ کو سازش نہیں کرنے دینگے۔ اب القاعدہ کے نام پر دوبارہ ڈرامہ نہیں چلے گا”۔ پی ڈی ایم (PDM)کے اجلاس پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔
اوریا مقبول جان نے کہا کہ امریکہ میںنائن الیون (9/11)کے وقت آئی ایس آئی (ISI) کا چیف جنرل محمود بھیک مانگنے کیلئے گیا تھا لیکن امریکی حکام نے بھیک دینے سے صاف انکار کیا تھا، دوسرے دن نائن الیون (9/11) کا واقعہ ہوا توامریکی سی آئی اے کے چیف نے جنرل محمود کو روتے ہوئے گلے لگایااور امریکی امداد کے عوض پاکستان نے اڈے دینے اور بھرپور مدد کرنے کو اپنے لئے غنیمت سمجھ لیا تھا۔ دھمکی سے بات منوانے کا افسانہ غلط تراشا گیا ہے۔ یہ تو ازراہ تفنن ایک اضافی جملہ تھا اور کچھ نہیں۔
اوریا مقبول جان نے بتایا کہ ہمارا فیصلہ غیرت یا خوف نہیں مالی ضرورت پر ہوتا ہے۔ ملٹری وسول اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ، سیاستدان ، میڈیا اپنی اپنی منڈیوں کے ہیرے ہیں لیکن ہیرہ منڈی خوامخواہ بدنام ہے۔ امریکی سینیٹر نے کہا تھا کہ ”پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچتے ہیں”۔ جنرل محمود نے دھرتی ماں کو بیچا تو تبلیغی جماعت میں گناہوں کی تلافی کرالی۔ کوئی مزاروں اور زیارتوں سے گناہوں کی تلافی کراتا ہے ۔بلا سو چوہے کھاکر حاجی بنتاہے۔ بھلے شاہ نے کہا: تسبیح پڑھی مکاراں والی تے داڑھی کیتی چھٹی۔ اے ملا تیرے کولوں ککڑ چنگا۔
جج، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹ ، ملااور صحافی کسی کا ایسا کردار نہیں جو حبیب جالب کی روح کو زندہ کرے۔ کوئی کہتاہے کہ پاکستان برائے فروخت ہے ،کوئی کہتا ہے کہ انصاف برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ فتویٰ برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ جہاد برائے فروخت ہے، کوئی کہتاہے کہ سیاست برائے فروخت ہے ۔ اب ہمارا معیار یہ ہوگیا کہ عامر لیاقت، مراد سعیداور فیاض الحسن چوہان جیسے بھانڈلیڈر بن گئے۔ لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ کنجروں کو کمی پہلے بھی نہیں تھی مگر اب عمران خان کی شکل میں ان کو اپنا لیڈر بھی مل گیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کاا یجنٹ کہا گیا کہ اس نے صرف عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی بات کیوں کی؟ ، ظالم اسرائیل کی مذمت نہیں کی تو دوسری طرف چالیس اسلامی ممالک کے فوج کے سپاہ سالار کو عربوں کیساتھ تلوار اٹھاکر ناچتے ہوئے دکھایاگیا کہ اسرائیلی حملوں پر جشن منارہا ہے۔

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!
محسود وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان میں بڑی تعداد میں ہیں لیکن متحد نہیں ہوتے۔حیات پریغال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رقیب اللہ محسود نے سوال کا جواب مانگا اور یہ سوال اٹھا کیوں ہے؟ اور اس کا تسلی بخش تو نہیں مگر سرسری جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہے، ہمارا مقصد شعور کی منزل کو آگے بڑھانا ہے!

حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اھکار خٹک کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد میں دھرنے سے خطاب کیا جو حق بجانب ہیں لیکن اپنی قوم سے جو گلہ کیا ہے، اس پر توجہ دلائی ہے !

محترم رقیب اللہ محسود اپنے فیس بک میں لکھتے ہیں جسکا خلاصہ ہے کہ ”پشتون اور ترک قوم نے اسلام قبول کیا، ہندوستان کے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا لیکن یورپ نے اسلام کو قبول نہیں کیا؟۔ حالانکہ مسلمانوں نے سپین پر چھ (6) سو برس حکومت کی ہے۔ کیا پشتون کا کوئی مذہب نہیں تھا اور یورپ میں لوگوں کے پاس اپنا مذہب تھا؟۔ میں بھی اس پر لکھ سکتا ہوں لیکن میرے پاس علم کی کمی ہے اسلئے میری چاہت ہے کہ آپ اس موضوع پر کچھ لکھیں”۔
جواب : میرا خیال یہ ہے کہ پشتون لکھے پڑھے جوانوں کو احساس ہوا ہے کہ طالبان نے ہمارا کلچر تباہ کیا ،اسلام کے نام پر قتلِ عام کیا، پشتو نوں کی نیک نامی کو پاکستان اور دنیا بھر میں بدنام کیا تو یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ ایسے مذہب کو آخر ہمارے آباء واجداد نے قبول کیوں کیا ؟۔ مصیبت سے ہماری جان ایک عرصہ سے نہیں چھوٹ رہی ہے۔ حوروں کی تلاش میں خود کش حملے آوربے گناہ لوگوں میں دھماکے کرکے کئی افراد شہید کرتے، جس کی وجہ سے گھر، خاندان اور علاقے میں صف ماتم بچھ جاتا تھا اور کسی کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کس گناہ کی پاداش میں وہ مارا گیا، اس کا گھر اجڑ گیا؟۔ بس اسلام پسندوں کی کاروائی کے علاوہ مجرم کا بھی کوئی پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ گڈ طالبان اور انکے ماموں سے جان نہیں چھٹتی ہے اور یہ ایک دومہینے اور سال کی بات نہیں بلکہ بہت عرصہ سہتے سہتے گزر گیا ہے۔
اگر آپ کے احساسات کو کچھ غلط رنگ دیا ہو تو پیشگی بہت معذرت۔ آج جو حال اسلام کے نام پر مسلمان شدت پسندوں نے اختیار کیا ہے ،کبھی اس سے ملتا جلتا حال یورپ کا بھی تھا۔ کوئی خواہ کتنا ہی اسلام سے تنگ ہو لیکن اسلام کے چھوڑنے پر اس کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ پورے افغانستان کی امریکہ اور نیٹو نے اینٹ سے اینٹ بجادی مگر عام افغانیوں میں اشتعال نہ پھیلا لیکن جب ایک افغانی کے مرتد ہونے کی خبر افغانستان میں پھیل گئی تو پورا ملک کئی دنوں تک احتجاجی مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ سے بند رہا تھا۔
یورپ مذہبی تعصبات کا شکار تھا تو وہ اسلام کو قبول نہیں کرسکتا تھا؟۔ جس طرح آج ہم مذہبی تعصبات کا شکار ہیں اور اپنا مذہب بدلنے کا سوچ نہیں سکتے۔ جب یہود حضرت عیسیٰ کو والدالزنا اور حضرت مریم کوزانیہ کہتے تھے اور عیسائی ان کو خدا اور خداکی بیوی کہتے تھے تو اسلام نے مشرکانہ اور گستاخانہ عقائد کی خواتین سے نکاح کی اجازت دیدی۔ اہل کتاب مسلمانوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ یورپ میںنسلی امتیاز نہ تھا۔ افریقہ میںنسلی امتیاز تھا تو وہاں اسلام کو تیزی کیساتھ قبول کیا گیا۔ امریکہ میں نسلی امتیاز کی وجہ سے کالے گوروں کے مقابلے میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی نسلی امتیاز تھا ،یہاں زیادہ تر اچھوت، دلت اور نچلی ذات کی وجہ سے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا ہے۔ بہت قصائی قریش بن گئے، تیلی عثمانی بن گئے ، میراثی درانی بن گئے۔آج برصغیر میں مسلمان ہونے والوں میں سے کوئی اچھوت اور دلت دکھائی نہیں دیتا۔ جب چنگیز اور ہلاکو نے خلافت عباسیہ کے مرگز بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو درندہ صفت قوم نے مفتوح قوم کے اخلاقیات سے بھی کچھ سیکھا اور اسلام قبول کرکے ہی وہ دنیا میں کامیاب خلافت عثمانیہ کے نام پر اقتدار کرسکتے تھے،اسلئے ترک قوم نے اپنے وسیع ترمفاد میں اسلام قبول کیا تھا۔ جس طرح شیعہ سنی اور دیگر مسالک کے علماء اپنی دنیا کے وسیع ترمفاد میں اپنا مذہب تبدیل کرلیتے ہیں۔ سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیاں تھیں جن میں ہررنگ ونسل اور عمر کی حوریں شامل تھیں۔ اگر وہ چنگیزی رہتے تو شاید اس کی قوم اتنی بڑی تعداد میں حرام سراؤں کو بھرنے کی اجازت نہ دیتے۔
پشتونوں کی یہ روایت اور فطرت رہی ہے کہ جب کوئی اس کو اپنی مدد کیلئے پکارتا ہے تو بہت فراخ دلی سے اس کی مدد کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔ جب حضرت خالدبن ولید نے پشتونوں سے مسلمانوں کیلئے کفار کیخلاف مدد مانگی تو پشتون لشکر کی شکل میں مدد کو پہنچ گئے۔ فتح کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے لیکن وہ شخصیت پرستی کا دور تھا۔ نبیۖ کی شخصیت پر ایمان لائے۔کلمہ، نماز، ختنہ ، پردہ ودیگراحکام تبلیغی جماعت نے سکھادئیے۔ تبلیغ والوں نے لطیفہ مشہور کیا کہ مولوی نے فضائل بیان کئے کہ ایک ہندو کو کلمہ پڑھانے کا یہ اجر ملے گا۔ پٹھان نے کہا کہ یہ تو بہت سستا سودا ہے اور تلوار لیکر نکلا ، راستے میں ہندو مل گیا تو اس کو زمین پر پٹخ دیا کہ خو کلمہ پڑھو۔ ہندو نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنے کی نیت سے نکلا تھا، کلمہ پڑھادو تو میں پڑھ لوں۔ پٹھان کو خود بھی کلمہ نہیں آتا تھا تو کہا کہ جاؤ منحوس مجھ سے بھلادیا۔ پاکستان بھی کلمہ کے نام پر بناتھا مگر پٹھان کی طرح کلمہ خود بھی نہیں آتا تھا۔ کشمیر میں لڑائی کی ضرورت پڑی تو پٹھانوں نے قائداعظم کی دعوت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھ لیا۔ جب افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا نے القاعدہ اور طالبان کو کچلنے کا فیصلہ کیا تو پٹھانوں نے ازبک، چیچن، عرب اور سب کو پناہ دینا اپنا اعزاز سمجھ لیا۔ مسلم لیگ کے سینٹر مشاہداللہ خان نے ہمارے اخبار کو بیان دیا کہ ”حلالہ اسلام میں نہیں ہے، یہ لوگ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں، ورنہ کہیں بھی حلالہ نہیں ہے”۔ باچا خان گاندھی کیساتھ متحدہ قومیت پر متفق تھے ، علامہ اقبال نے متحدہ قومیت کی وجہ سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی پر ابولہب کا فتویٰ لگایا تھا۔ جب باچا خان ہندوستان گئے تھے تو جنگ اخبار میں میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا ۔ولی خان نے جواب دیا کہ ” اگر ہمارے آبا واجدا د تمہارے اجداد کو مسلمان نہ کرتے تو تمہارا نام طفیل محمد کی جگہ طفیل سنگھ ہوتا۔ امید ہے کہ اس مختصر تبصرے سے خوش ہونگے ۔ محسود قوم کا خاص طور پر اور پختون قوم کا عام طور شعور اجاگر کرنا ہوگا۔صحابہ نے مشکلات برداشت کرکے دنیا کی امامت کی تو محسود قوم کا بھی انتخاب ہواہے۔
معروف شخصیت حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید نوجوانوں کے دھرنے سے خطاب میں کہا جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ” محسود قوم نے خاص طور پر، پشتون قوم نے عام طور پر خوشی کی خبر کافی عرصہ سے نہیں سنی ہے۔ موت کی خبرہے اور لاشوں کا مسئلہ ہے، ٹارگٹ کلنگ ہے ۔ ایک خاتون کو گھر میں قتل کیا گیا تھا، ایک شخص دوبئی سے آیا تھا اس کو قتل کیا گیا، ایک شخص اپنی بیوی کے کٹے ہوئے بال لفافے میں لیکر آیا تھا۔ اب یہ دو جوانوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ انکے والدین نے محسود قوم کو اپنے بچوں کی لاشیں دیدیں لیکن لوگ اکٹھے نہیں ہوئے۔ محسود قوم کا ننگ وناموس خراب ہورہاہے، سب مشکلات میں ہیںلیکن کوئی کھیل رہے ہیں اور کوئی بازاروں اور دکانوں میں لگے ہیں۔ یہاں بہت کم لوگ آئے ہیں۔ پھر بات کرتے ہیں کہ نقیب کے والد نے بیٹے کی قیمت وصول کرلی۔ جب قوم حال تک پوچھنے کیلئے تیار نہ ہو اور طعنے دینے میں پیش پیش ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟۔
وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور پورے پاکستان میں محسود قوم کی بڑی تعداد ہے لیکن ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ بیس (20) سے پچیس (25) ہزار افراد قتل ہوگئے اور جس طرح مکین بازار میں پنجروں سے مرغیاں کٹ رہی ہیں اسی طرح ہم بھی مارے جائیںگے اگر متحد نہیں ہوئے۔ ہم نہیں کہتے کہ آئین کو چھوڑ کربغاوت کا قدم اُٹھاؤ لیکن اپنے قتل پر کوئی مؤثر احتجاج تو کرو۔ متحد ہوجاؤ، کب تک ہم ان مشکلات کو برداشت کرتے رہیںگے؟۔جب تک اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر متحد نہیں ہونگے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ایک بچے کو ماں پیٹ میں رکھ کر پیدا کرتی ہے، بچپن سے اس کو بڑی مشکلوں سے بڑا کرتی ہے۔ باپ دھوپ کے اندرمحنت مزدوری کرکے اس کو جوان کرتا ہے لیکن ان جوانوں کو ماردیا جاتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ ان جوانوں کی لاشوں کو والدین نے قوم کے حوالے کیا لیکن قوم کے افراد یہاں نہیں پہنچے۔ ہم ہر جگہ ہر کسی کے پاس ہر واقعہ پر پہنچ جاتے ہیں اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری طرف سے کوئی کمی کوتاہی نہیں ہے۔ جب قوم کے سپرد لاشیں کی جائیں اور قوم ننگ کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر باتیں بنائے کہ پیسے لے لئے ہیں تو یہ بہت افسوس کی بات ہے”۔
قابلِ صد احترام حیات پریغال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بالکل سوفیصد درست ہیں۔ محسود قوم کیساتھ جتنی زیادتی ہوئی ہے اور جتنی ہورہی ہے تو اس پر اہل وزیرستان، پشتون قوم ، پاکستان اور عالمِ انسانیت کی طرف سے بجا طور پر بہت ہمددردی کی مستحق ہے۔ریاستِ پاکستان کی طرف سے اب بھی یہ مسئلہ ہے کہ وزیرستان کے شناختی کارڈ پر ریاستی اہلکاروں کے تیور بدلتے ہیں۔
میرا تعلق وزیرستان سے تھا، کراچی سے معروف اخبار نکالتا تھا اور طالبان کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اسکے باجود حکومتی اہلکاروں نے بھی میرے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔ اپنی ذات کے اعتبار سے گلہ کرنا میرا شیوہ نہیں۔
فطرت کے مقاصد کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
جو فقیر ہوا تلخئی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب مجھ جیسے معروف انسان کیساتھ ریاستی اہلکاروں کا سلوک ایسا تھا جس کو دہشتگردوں نے حملے کرکے عوام سے لاتعلق ہونے پر مجبور کیا تھا تو محسود قوم پر کتنے مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہونگے؟۔ چونکہ حیات پریغال نے قوم سے گلہ کیا ہے اسلئے کچھ گر کی باتیں بتاتا ہوں۔ ہمارے عزیز ٹانک میں رہتے ہیں ۔ ان کا جوان بیٹا ناجائز سرگرمیوں میں پڑگیا تو والدین نے خود گولی سے اُڑا دیا۔ اگر وہ اپنے ہاتھ سے اس فتنے کو ختم نہ کرتے تو ایک نہیں کئی بیٹے کھودیتے۔ محرومی کا گلہ الگ کرتے، بے عزت الگ ہوتے، عوام اور ریاست دونوں کی طرف سے نفرت کا شکار بنتے۔ یہ طعنے دینے کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ہم پر حملہ ہوا تو اس کی پلاننگ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہمارے عزیزوں کے ہاں ہوئی۔ حملے کے باجود قریبی عزیز کے پاس دہشتگردوں کا آنا جانا تھا اور جب آئی ایس آئی نے چھاپا مارکر طالبان کی پک اپ کو اڑادیا، طالبان کے سپوٹر کو لیکر گئے تو ہم نے ان کی جان چھڑائی۔ جب تک اپنے اندر کی خرابی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیںاس وقت تک ریاست بھی ہماراپیچھا نہیں چھوڑے گی اور لوگوں کی ہمدردی اور متحد ہونے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔ ہم سے محسودقوم کو ساتھ لاکر طالبان نے معافی مانگی تھی لیکن جس دن میرا بس چلے گا تو پوری قوم سے عرض کروں گا کہ طالبان نے ہمارے ساتھ جو کیا تھا اگر اس پر ہمیں معافی دیدو تو یہ تمہاری مہربانی ہوگی اور اگر کچھ قرض سمجھتے ہو تو اس کیلئے بھی ہم تہہ دل سے تیار ہیں اسلئے کہ طالبان کی سپورٹ ہمارا مجرمانہ کردار تھا اور یہ اسلئے نہیں کہ میں گمراہ تھا کیونکہ ٹانک اور پاکستان کے مشہور علماء نے مجھے تحریراور تقریر سے سپوٹ کیا تھا تو چند بدکرداروں کا اسلام پر اجارہ نہیں تھا مگر مجھے اپنے ذاتی کردار اور غلطیوں کی وجہ سے اللہ نے مشکلات سے گزارا تو اس نے ٹھیک کیا ۔ اگر قوم نے مشکلات سے جان چھڑانی ہے تو اپنے سرنڈر اور کلنڈر دہشت گردوں کو خود سنبھالنا ہوگا۔اور اگر ہماری طرح تم لوگ بھی دہشتگردوںاور ان کی حمایت کرنے والوں سے اچھا تعلق رکھوگے تو پھر گلہ خود سے کرنا۔ غالب نے کہا کہ
غالب خوش ہوا مسجد ویراں کو دیکھ کر
کہ میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
ہم پر جو گزری سو گزری ، قوم کازیادہ برا ہوا۔گدھا کنویں سے نہ نکالا جائے تو پانی صاف نہ ہوگا۔ پیغلے یعنی کنواری لڑکیوں کی طرح جوانوں کے شوقیہ بال ہیں، خدا کرے کہ لمبے ناخن بھی رکھیں لیکن قوم کی فکرہے تولاشوں پر گلے سے کام نہیں بنے گا بلکہ اپنی حالت بدلنی ہوگی اور محسود قوم میں یہ صلاحیت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat