پوسٹ تلاش کریں

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

American troops withdraw from Pakistan, Afghan Taliban, Molana Fazl Ur Rehman, 9/11,

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اب القاعدہ کے نام پر امریکی فوج کو افغانستان میں کھیلنے کی اجازت پاکستان سے نہیں دے سکتے۔ مولانا فضل الرحمن

پارلیمنٹ نے” پرویزمشرف کی امریکی فوج کو اجازت منسوخ کردی تھی” جنرل کیانی راضی تھے۔سینیٹر مشاہد حسین سید

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا” لیکن پہلے اڈوں کااب کیا بنے گا؟

یکم مئی کو افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہونا تھا پھر ستمبر(2021) تک نئی ڈیڈ لائن ہے۔ میڈیا نے معید یوسف کو امریکی امور کاماہر پیش کیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری معاملات اس کو ہی سونپ دئیے ہیں۔ جنیوا میں امریکن ذمہ دار نے معید یوسف سے ملاقات میں کیا بات طے کی ؟ امریکہ کا بیان آیاکہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ قطر اور ازبکستان میں امریکہ کے پاس فوجی اڈے ہیں لیکن وہ سی پیک اور چین اور بھارت کے تنازعہ میں بھارت کا ساتھ دینے کیلئے پاکستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے اسلئے کہ جنگ ہوتو چین سے امریکہ کے اڈے بھارت میں محفوظ نہ ہونگے اور پاکستان میں امریکہ کی حفاظت پاکستان پر ہوگی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ’ ‘ نائن الیون (9/11)کے بعد پرویزمشرف نے (2001) میں اڈے دئیے۔ سلالہ کا واقعہ ہوا تو پیپلزپارٹی دور میں رضا ربانی کی زیرِصدارت پارلیمانی کمیٹی نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا کہ امریکہ سمیت کسی غیرملکی فوج کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی متفق تھے۔ ستمبر(2021) کو امریکی فوج افغانستان سے نکلے تو معاہدہ ختم تصور ہوگا جونائن الیون (9/11)کیلئے ہوا تھا”۔پچاس (50) ہزار سے زیادہ فضائی حملے کئے تو امریکہ نے(2004) میں یہاں سے آپریشن بند کیا اسلئے کہ ضرورت نہ تھی اور پہلے سے بند آپریشن کیلئے یہ جھوٹا تیر مارا گیا تھا جو فخر سے بتایا جارہاہے؟۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں کہا: ” عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا ”۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اڈے بنارکھے تھے تو اس کو پاکستانی اڈوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اگر افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانی اڈوں کو دوبارہ آباد کریگا تو پاکستان کیخلاف جہاد ہو گا۔ امریکی کیمپوں سے پشت پناہی ہوگی ،پاکستان مکافات عمل کا شکار ہوگا۔ امریکہ کی کرپٹ فوج کو اُمت مسلمہ کے خلاف کاروائی میں بڑے ٹھیکے ملتے ہیں۔ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار ہوتا ہے۔افغانستان اور پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی فوج کو بھی کچھ مفاد ملتا ہے۔ جنگل کے طاقتور جانوروں کی طرح گوشت کا وافر حصہ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی فوجیں کھا جاتی ہیں اور پسماندہ ممالک کی فوجوں کو لگڑ بگڑ کی طرح بچی کھچی ریزگاری پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے مؤقف پیش کیا کہ” پاکستان سے افغان طالبان کیخلاف امریکہ کو سازش نہیں کرنے دینگے۔ اب القاعدہ کے نام پر دوبارہ ڈرامہ نہیں چلے گا”۔ پی ڈی ایم (PDM)کے اجلاس پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔
اوریا مقبول جان نے کہا کہ امریکہ میںنائن الیون (9/11)کے وقت آئی ایس آئی (ISI) کا چیف جنرل محمود بھیک مانگنے کیلئے گیا تھا لیکن امریکی حکام نے بھیک دینے سے صاف انکار کیا تھا، دوسرے دن نائن الیون (9/11) کا واقعہ ہوا توامریکی سی آئی اے کے چیف نے جنرل محمود کو روتے ہوئے گلے لگایااور امریکی امداد کے عوض پاکستان نے اڈے دینے اور بھرپور مدد کرنے کو اپنے لئے غنیمت سمجھ لیا تھا۔ دھمکی سے بات منوانے کا افسانہ غلط تراشا گیا ہے۔ یہ تو ازراہ تفنن ایک اضافی جملہ تھا اور کچھ نہیں۔
اوریا مقبول جان نے بتایا کہ ہمارا فیصلہ غیرت یا خوف نہیں مالی ضرورت پر ہوتا ہے۔ ملٹری وسول اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ، سیاستدان ، میڈیا اپنی اپنی منڈیوں کے ہیرے ہیں لیکن ہیرہ منڈی خوامخواہ بدنام ہے۔ امریکی سینیٹر نے کہا تھا کہ ”پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچتے ہیں”۔ جنرل محمود نے دھرتی ماں کو بیچا تو تبلیغی جماعت میں گناہوں کی تلافی کرالی۔ کوئی مزاروں اور زیارتوں سے گناہوں کی تلافی کراتا ہے ۔بلا سو چوہے کھاکر حاجی بنتاہے۔ بھلے شاہ نے کہا: تسبیح پڑھی مکاراں والی تے داڑھی کیتی چھٹی۔ اے ملا تیرے کولوں ککڑ چنگا۔
جج، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹ ، ملااور صحافی کسی کا ایسا کردار نہیں جو حبیب جالب کی روح کو زندہ کرے۔ کوئی کہتاہے کہ پاکستان برائے فروخت ہے ،کوئی کہتا ہے کہ انصاف برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ فتویٰ برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ جہاد برائے فروخت ہے، کوئی کہتاہے کہ سیاست برائے فروخت ہے ۔ اب ہمارا معیار یہ ہوگیا کہ عامر لیاقت، مراد سعیداور فیاض الحسن چوہان جیسے بھانڈلیڈر بن گئے۔ لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ کنجروں کو کمی پہلے بھی نہیں تھی مگر اب عمران خان کی شکل میں ان کو اپنا لیڈر بھی مل گیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کاا یجنٹ کہا گیا کہ اس نے صرف عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی بات کیوں کی؟ ، ظالم اسرائیل کی مذمت نہیں کی تو دوسری طرف چالیس اسلامی ممالک کے فوج کے سپاہ سالار کو عربوں کیساتھ تلوار اٹھاکر ناچتے ہوئے دکھایاگیا کہ اسرائیلی حملوں پر جشن منارہا ہے۔

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!
محسود وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان میں بڑی تعداد میں ہیں لیکن متحد نہیں ہوتے۔حیات پریغال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رقیب اللہ محسود نے سوال کا جواب مانگا اور یہ سوال اٹھا کیوں ہے؟ اور اس کا تسلی بخش تو نہیں مگر سرسری جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہے، ہمارا مقصد شعور کی منزل کو آگے بڑھانا ہے!

حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اھکار خٹک کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد میں دھرنے سے خطاب کیا جو حق بجانب ہیں لیکن اپنی قوم سے جو گلہ کیا ہے، اس پر توجہ دلائی ہے !

محترم رقیب اللہ محسود اپنے فیس بک میں لکھتے ہیں جسکا خلاصہ ہے کہ ”پشتون اور ترک قوم نے اسلام قبول کیا، ہندوستان کے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا لیکن یورپ نے اسلام کو قبول نہیں کیا؟۔ حالانکہ مسلمانوں نے سپین پر چھ (6) سو برس حکومت کی ہے۔ کیا پشتون کا کوئی مذہب نہیں تھا اور یورپ میں لوگوں کے پاس اپنا مذہب تھا؟۔ میں بھی اس پر لکھ سکتا ہوں لیکن میرے پاس علم کی کمی ہے اسلئے میری چاہت ہے کہ آپ اس موضوع پر کچھ لکھیں”۔
جواب : میرا خیال یہ ہے کہ پشتون لکھے پڑھے جوانوں کو احساس ہوا ہے کہ طالبان نے ہمارا کلچر تباہ کیا ،اسلام کے نام پر قتلِ عام کیا، پشتو نوں کی نیک نامی کو پاکستان اور دنیا بھر میں بدنام کیا تو یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ ایسے مذہب کو آخر ہمارے آباء واجداد نے قبول کیوں کیا ؟۔ مصیبت سے ہماری جان ایک عرصہ سے نہیں چھوٹ رہی ہے۔ حوروں کی تلاش میں خود کش حملے آوربے گناہ لوگوں میں دھماکے کرکے کئی افراد شہید کرتے، جس کی وجہ سے گھر، خاندان اور علاقے میں صف ماتم بچھ جاتا تھا اور کسی کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کس گناہ کی پاداش میں وہ مارا گیا، اس کا گھر اجڑ گیا؟۔ بس اسلام پسندوں کی کاروائی کے علاوہ مجرم کا بھی کوئی پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ گڈ طالبان اور انکے ماموں سے جان نہیں چھٹتی ہے اور یہ ایک دومہینے اور سال کی بات نہیں بلکہ بہت عرصہ سہتے سہتے گزر گیا ہے۔
اگر آپ کے احساسات کو کچھ غلط رنگ دیا ہو تو پیشگی بہت معذرت۔ آج جو حال اسلام کے نام پر مسلمان شدت پسندوں نے اختیار کیا ہے ،کبھی اس سے ملتا جلتا حال یورپ کا بھی تھا۔ کوئی خواہ کتنا ہی اسلام سے تنگ ہو لیکن اسلام کے چھوڑنے پر اس کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ پورے افغانستان کی امریکہ اور نیٹو نے اینٹ سے اینٹ بجادی مگر عام افغانیوں میں اشتعال نہ پھیلا لیکن جب ایک افغانی کے مرتد ہونے کی خبر افغانستان میں پھیل گئی تو پورا ملک کئی دنوں تک احتجاجی مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ سے بند رہا تھا۔
یورپ مذہبی تعصبات کا شکار تھا تو وہ اسلام کو قبول نہیں کرسکتا تھا؟۔ جس طرح آج ہم مذہبی تعصبات کا شکار ہیں اور اپنا مذہب بدلنے کا سوچ نہیں سکتے۔ جب یہود حضرت عیسیٰ کو والدالزنا اور حضرت مریم کوزانیہ کہتے تھے اور عیسائی ان کو خدا اور خداکی بیوی کہتے تھے تو اسلام نے مشرکانہ اور گستاخانہ عقائد کی خواتین سے نکاح کی اجازت دیدی۔ اہل کتاب مسلمانوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ یورپ میںنسلی امتیاز نہ تھا۔ افریقہ میںنسلی امتیاز تھا تو وہاں اسلام کو تیزی کیساتھ قبول کیا گیا۔ امریکہ میں نسلی امتیاز کی وجہ سے کالے گوروں کے مقابلے میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی نسلی امتیاز تھا ،یہاں زیادہ تر اچھوت، دلت اور نچلی ذات کی وجہ سے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا ہے۔ بہت قصائی قریش بن گئے، تیلی عثمانی بن گئے ، میراثی درانی بن گئے۔آج برصغیر میں مسلمان ہونے والوں میں سے کوئی اچھوت اور دلت دکھائی نہیں دیتا۔ جب چنگیز اور ہلاکو نے خلافت عباسیہ کے مرگز بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو درندہ صفت قوم نے مفتوح قوم کے اخلاقیات سے بھی کچھ سیکھا اور اسلام قبول کرکے ہی وہ دنیا میں کامیاب خلافت عثمانیہ کے نام پر اقتدار کرسکتے تھے،اسلئے ترک قوم نے اپنے وسیع ترمفاد میں اسلام قبول کیا تھا۔ جس طرح شیعہ سنی اور دیگر مسالک کے علماء اپنی دنیا کے وسیع ترمفاد میں اپنا مذہب تبدیل کرلیتے ہیں۔ سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیاں تھیں جن میں ہررنگ ونسل اور عمر کی حوریں شامل تھیں۔ اگر وہ چنگیزی رہتے تو شاید اس کی قوم اتنی بڑی تعداد میں حرام سراؤں کو بھرنے کی اجازت نہ دیتے۔
پشتونوں کی یہ روایت اور فطرت رہی ہے کہ جب کوئی اس کو اپنی مدد کیلئے پکارتا ہے تو بہت فراخ دلی سے اس کی مدد کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔ جب حضرت خالدبن ولید نے پشتونوں سے مسلمانوں کیلئے کفار کیخلاف مدد مانگی تو پشتون لشکر کی شکل میں مدد کو پہنچ گئے۔ فتح کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے لیکن وہ شخصیت پرستی کا دور تھا۔ نبیۖ کی شخصیت پر ایمان لائے۔کلمہ، نماز، ختنہ ، پردہ ودیگراحکام تبلیغی جماعت نے سکھادئیے۔ تبلیغ والوں نے لطیفہ مشہور کیا کہ مولوی نے فضائل بیان کئے کہ ایک ہندو کو کلمہ پڑھانے کا یہ اجر ملے گا۔ پٹھان نے کہا کہ یہ تو بہت سستا سودا ہے اور تلوار لیکر نکلا ، راستے میں ہندو مل گیا تو اس کو زمین پر پٹخ دیا کہ خو کلمہ پڑھو۔ ہندو نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنے کی نیت سے نکلا تھا، کلمہ پڑھادو تو میں پڑھ لوں۔ پٹھان کو خود بھی کلمہ نہیں آتا تھا تو کہا کہ جاؤ منحوس مجھ سے بھلادیا۔ پاکستان بھی کلمہ کے نام پر بناتھا مگر پٹھان کی طرح کلمہ خود بھی نہیں آتا تھا۔ کشمیر میں لڑائی کی ضرورت پڑی تو پٹھانوں نے قائداعظم کی دعوت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھ لیا۔ جب افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا نے القاعدہ اور طالبان کو کچلنے کا فیصلہ کیا تو پٹھانوں نے ازبک، چیچن، عرب اور سب کو پناہ دینا اپنا اعزاز سمجھ لیا۔ مسلم لیگ کے سینٹر مشاہداللہ خان نے ہمارے اخبار کو بیان دیا کہ ”حلالہ اسلام میں نہیں ہے، یہ لوگ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں، ورنہ کہیں بھی حلالہ نہیں ہے”۔ باچا خان گاندھی کیساتھ متحدہ قومیت پر متفق تھے ، علامہ اقبال نے متحدہ قومیت کی وجہ سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی پر ابولہب کا فتویٰ لگایا تھا۔ جب باچا خان ہندوستان گئے تھے تو جنگ اخبار میں میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا ۔ولی خان نے جواب دیا کہ ” اگر ہمارے آبا واجدا د تمہارے اجداد کو مسلمان نہ کرتے تو تمہارا نام طفیل محمد کی جگہ طفیل سنگھ ہوتا۔ امید ہے کہ اس مختصر تبصرے سے خوش ہونگے ۔ محسود قوم کا خاص طور پر اور پختون قوم کا عام طور شعور اجاگر کرنا ہوگا۔صحابہ نے مشکلات برداشت کرکے دنیا کی امامت کی تو محسود قوم کا بھی انتخاب ہواہے۔
معروف شخصیت حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید نوجوانوں کے دھرنے سے خطاب میں کہا جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ” محسود قوم نے خاص طور پر، پشتون قوم نے عام طور پر خوشی کی خبر کافی عرصہ سے نہیں سنی ہے۔ موت کی خبرہے اور لاشوں کا مسئلہ ہے، ٹارگٹ کلنگ ہے ۔ ایک خاتون کو گھر میں قتل کیا گیا تھا، ایک شخص دوبئی سے آیا تھا اس کو قتل کیا گیا، ایک شخص اپنی بیوی کے کٹے ہوئے بال لفافے میں لیکر آیا تھا۔ اب یہ دو جوانوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ انکے والدین نے محسود قوم کو اپنے بچوں کی لاشیں دیدیں لیکن لوگ اکٹھے نہیں ہوئے۔ محسود قوم کا ننگ وناموس خراب ہورہاہے، سب مشکلات میں ہیںلیکن کوئی کھیل رہے ہیں اور کوئی بازاروں اور دکانوں میں لگے ہیں۔ یہاں بہت کم لوگ آئے ہیں۔ پھر بات کرتے ہیں کہ نقیب کے والد نے بیٹے کی قیمت وصول کرلی۔ جب قوم حال تک پوچھنے کیلئے تیار نہ ہو اور طعنے دینے میں پیش پیش ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟۔
وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور پورے پاکستان میں محسود قوم کی بڑی تعداد ہے لیکن ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ بیس (20) سے پچیس (25) ہزار افراد قتل ہوگئے اور جس طرح مکین بازار میں پنجروں سے مرغیاں کٹ رہی ہیں اسی طرح ہم بھی مارے جائیںگے اگر متحد نہیں ہوئے۔ ہم نہیں کہتے کہ آئین کو چھوڑ کربغاوت کا قدم اُٹھاؤ لیکن اپنے قتل پر کوئی مؤثر احتجاج تو کرو۔ متحد ہوجاؤ، کب تک ہم ان مشکلات کو برداشت کرتے رہیںگے؟۔جب تک اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر متحد نہیں ہونگے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ایک بچے کو ماں پیٹ میں رکھ کر پیدا کرتی ہے، بچپن سے اس کو بڑی مشکلوں سے بڑا کرتی ہے۔ باپ دھوپ کے اندرمحنت مزدوری کرکے اس کو جوان کرتا ہے لیکن ان جوانوں کو ماردیا جاتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ ان جوانوں کی لاشوں کو والدین نے قوم کے حوالے کیا لیکن قوم کے افراد یہاں نہیں پہنچے۔ ہم ہر جگہ ہر کسی کے پاس ہر واقعہ پر پہنچ جاتے ہیں اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری طرف سے کوئی کمی کوتاہی نہیں ہے۔ جب قوم کے سپرد لاشیں کی جائیں اور قوم ننگ کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر باتیں بنائے کہ پیسے لے لئے ہیں تو یہ بہت افسوس کی بات ہے”۔
قابلِ صد احترام حیات پریغال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بالکل سوفیصد درست ہیں۔ محسود قوم کیساتھ جتنی زیادتی ہوئی ہے اور جتنی ہورہی ہے تو اس پر اہل وزیرستان، پشتون قوم ، پاکستان اور عالمِ انسانیت کی طرف سے بجا طور پر بہت ہمددردی کی مستحق ہے۔ریاستِ پاکستان کی طرف سے اب بھی یہ مسئلہ ہے کہ وزیرستان کے شناختی کارڈ پر ریاستی اہلکاروں کے تیور بدلتے ہیں۔
میرا تعلق وزیرستان سے تھا، کراچی سے معروف اخبار نکالتا تھا اور طالبان کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اسکے باجود حکومتی اہلکاروں نے بھی میرے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔ اپنی ذات کے اعتبار سے گلہ کرنا میرا شیوہ نہیں۔
فطرت کے مقاصد کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
جو فقیر ہوا تلخئی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب مجھ جیسے معروف انسان کیساتھ ریاستی اہلکاروں کا سلوک ایسا تھا جس کو دہشتگردوں نے حملے کرکے عوام سے لاتعلق ہونے پر مجبور کیا تھا تو محسود قوم پر کتنے مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہونگے؟۔ چونکہ حیات پریغال نے قوم سے گلہ کیا ہے اسلئے کچھ گر کی باتیں بتاتا ہوں۔ ہمارے عزیز ٹانک میں رہتے ہیں ۔ ان کا جوان بیٹا ناجائز سرگرمیوں میں پڑگیا تو والدین نے خود گولی سے اُڑا دیا۔ اگر وہ اپنے ہاتھ سے اس فتنے کو ختم نہ کرتے تو ایک نہیں کئی بیٹے کھودیتے۔ محرومی کا گلہ الگ کرتے، بے عزت الگ ہوتے، عوام اور ریاست دونوں کی طرف سے نفرت کا شکار بنتے۔ یہ طعنے دینے کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ہم پر حملہ ہوا تو اس کی پلاننگ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہمارے عزیزوں کے ہاں ہوئی۔ حملے کے باجود قریبی عزیز کے پاس دہشتگردوں کا آنا جانا تھا اور جب آئی ایس آئی نے چھاپا مارکر طالبان کی پک اپ کو اڑادیا، طالبان کے سپوٹر کو لیکر گئے تو ہم نے ان کی جان چھڑائی۔ جب تک اپنے اندر کی خرابی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیںاس وقت تک ریاست بھی ہماراپیچھا نہیں چھوڑے گی اور لوگوں کی ہمدردی اور متحد ہونے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔ ہم سے محسودقوم کو ساتھ لاکر طالبان نے معافی مانگی تھی لیکن جس دن میرا بس چلے گا تو پوری قوم سے عرض کروں گا کہ طالبان نے ہمارے ساتھ جو کیا تھا اگر اس پر ہمیں معافی دیدو تو یہ تمہاری مہربانی ہوگی اور اگر کچھ قرض سمجھتے ہو تو اس کیلئے بھی ہم تہہ دل سے تیار ہیں اسلئے کہ طالبان کی سپورٹ ہمارا مجرمانہ کردار تھا اور یہ اسلئے نہیں کہ میں گمراہ تھا کیونکہ ٹانک اور پاکستان کے مشہور علماء نے مجھے تحریراور تقریر سے سپوٹ کیا تھا تو چند بدکرداروں کا اسلام پر اجارہ نہیں تھا مگر مجھے اپنے ذاتی کردار اور غلطیوں کی وجہ سے اللہ نے مشکلات سے گزارا تو اس نے ٹھیک کیا ۔ اگر قوم نے مشکلات سے جان چھڑانی ہے تو اپنے سرنڈر اور کلنڈر دہشت گردوں کو خود سنبھالنا ہوگا۔اور اگر ہماری طرح تم لوگ بھی دہشتگردوںاور ان کی حمایت کرنے والوں سے اچھا تعلق رکھوگے تو پھر گلہ خود سے کرنا۔ غالب نے کہا کہ
غالب خوش ہوا مسجد ویراں کو دیکھ کر
کہ میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
ہم پر جو گزری سو گزری ، قوم کازیادہ برا ہوا۔گدھا کنویں سے نہ نکالا جائے تو پانی صاف نہ ہوگا۔ پیغلے یعنی کنواری لڑکیوں کی طرح جوانوں کے شوقیہ بال ہیں، خدا کرے کہ لمبے ناخن بھی رکھیں لیکن قوم کی فکرہے تولاشوں پر گلے سے کام نہیں بنے گا بلکہ اپنی حالت بدلنی ہوگی اور محسود قوم میں یہ صلاحیت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو

ایک وقت تھا جب روز روز دھماکے ہوتے تھے، کچھ مخصوص طبقے محفوظ تھے لیکن اب فسادات برپاہونے کا ایسا خدشہ ہے کہ یہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کون کس کو کیوں مار رہاہے؟، پاکستان اور پوری دنیا میں خون خرابے کے خطرات ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کرونا (COVID-19)نے غریبوں کو بے حال اور امیروں کا کاروبار تباہ کیا ، ہمیں باہر سے زیادہ اندر کے معاملات سے بڑاخطرہ ہے ، سیاسی جماعتیں سکیورٹی رسک کا کام کررہی ہیں!

قرآن کے بڑے بڑے اور واضح احکام کی طرف رجوع کرنے میں سب مسلمانوں اور عالمِ انسانیت کی بھلائی ہے لیکن مسلمان قوم اس آسان فطری راستے کی طرف نہیں دیکھ رہی ہے

نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو
آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو
دریائے دہشت سے پیر نہ سوکھ پائے
کر گیا میرا وطن پھر کوئی لہو لہو
عالمگیر فتنوں کا ہے یہ علاج
قرآن جو کہے وہی کرو تم ہُو بہُو
دل رکھتے ہیں نہ دماغ، جگر اور نہ روح
جس میں نہ ہو انقلاب وہ سر نہیں ٹوٹے کدو
عشق مصطفی سے انکار نہیں اے سرکار
نظام مصطفی سے فرار ہے تجھے رو برو
اہل سیاست و صحافت کا یہ کردار
لڑتا ہے روز سرِ شام بدخو سے بدخو
سفیر نکالنا تھا تو نکال چکے ہوتے
خون خرابے کی فضاء بنائی کو بہ کو
جو وعدے کا پاسدار نہیں وہ دین دار نہیں
عاشقوں کے چرچے ہیں اب چار سُو
پان کھاؤ یا چقندر، اے باتوں کے سکندر!
منہ کو خون لگا، آئی درندے کی بدبو
یہ پارلیمنٹ ہے یا کوئی بکرا منڈی؟
اسپیکر، سابق وزیراعظم بھی ہیں دوبدو
امن کا دامن چھوڑا، سلامتی کا بھگوڑا
قتل و غارت کی لگ رہی ہے جستجو
کلاسرا کی کتاب ”ایک قتل جو ہو نہ سکا”
دیکھ لو مگرمچھ کے چند آنسو
سلمان تاثیر قتل ہوا شہباز تاثیر اغوائ
بکتا رہا جوں مارنے کا بازار میں شیمپو
شرم ہے نہ غیرت، حیاء نہ انسانیت
گونج رہی ہے بس، بھانڈوں کی گفتگو
مذہبی ہو یا سیاسی، فوجی ہو یا صحافی
قریہ قریہ چپہ چپہ نکٹو نکٹو
گیدڑ بھبکی مارے لومڑی کا بچہ
شیرو ویرو کوئی نہیں یہ خرو گیدڑو
ناموس رسالت کے نام پر بھی سیاست؟
بھونکو نہیں، کرو ڈھینچو ڈھینچو
عتیق کس پر کرے عوام بھروسہ؟
بس نام باقی رہ گیا اللہ ھو اللہ ھو
پاکستان اوردنیاکی یہ فضاء نہ بن جائے کہ مذہبی، نسلی، لسانی، طبقاتی، نظریاتی بنیاد پر عوام کو پتہ نہ چلے کہ کون کس کو کیوں مار رہا ہے؟۔ پختونخواہ بلوچستان،کراچی کے بعد پنجاب کو خطرات لاحق ہیں۔ COVID-19 نے دنیا کا کاروبار تباہ کردیا ۔ غربت وافلاس اور نفرتوں کی ہرجانب دھوم مچی ہے۔ جسکا جتنا بس چلتا ہے وہ اپنی محرومی اور جہالت کا اتنا ہی دوسروں سے انتقام لیتا ہے۔شرافت کی زباں صرف مجبوری کی حد تک ہے اور تھوڑا بہت موقع ملتا ہے تو فرعون، ہامان اور قارون کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
احتجاج کرنا مغربی طرز عمل ہے اور احتجاج اسی وقت کیا جاتا ہے جب عوام کے جذبات مشتعل ہوں۔ اوریا مقبول جان نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کیلئے تین ماہ کے بعد پر معاملہ ڈال کرثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ یہ حکومت اور تحریک لبیک کا ذاتی معاملہ ہے ،پاکستان کی عوام اور دوسری پارٹیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں پھر تین ماہ بعد دو ماہ مزید وقت دیدیا۔ پانچ ماہ بعد اگر فرانس کا سفیر نکال بھی دیا جاتا تو یہ وہ تھپڑ ہوتا جو لڑائی ختم ہونے کے بعد یاد آتا ہے۔
پنجاب پولیس اور لبیک کے کارکنوں کا خون بہانے کے بعد یہ قرار داد پیش کرنی تھی تو لبیک کے قائد ین کا مواخذہ کرنا چاہیے۔ عشق رسولۖ کسی نے اپنی سیاسی مقبولیت کیلئے استعمال کرکے مخلص کارکنوں کے خون سے بے وفائی کا مظاہرہ کیا ہو تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو یہ کہتا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالے بغیر ہم لاشیں دفن نہیں کرینگے اس نے اس حقیر سی قرارداد پرمعاملہ طے کرلیا؟۔
اگر کارکنوں کو فرانس کے سفیر کو نکالنے سے کام نہیں تھا بلکہ اپنے قائدین کا حکم ماننا تھا تو پھر یہ عشق رسول نہیں ان قائدین سے وفاداری ہے جنہوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ سے اپنا نام بدل کر تحریک لبیک پاکستان رکھ دیا ہے۔
جب کئی دنوں تک فتنہ وفساد کا بازار گرم تھا تو اوریامقبول جان بلے کی طرح مگرچوہے کے بل میں دودھ پی کے سویا رہا۔ پھر جب قتل وغارت کے بعد اس تحریک پر پابندی لگ گئی تو سوشل میڈیا پر بیان داغ دیا کہ ”پاکستان کو سازش کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ سیکولر فوج اور سول بیروکریسی اسلام کے نام پر پہلی مرتبہ بننے والی تحریک لبیک پر پابندی لگائے۔ طالبان کو عالمی قوتوں نے ختم کردیا”۔ اوریا مقبول جان کو سو چوہے کھا کر حاجی بننا تھا؟۔ نوکری چھوڑکر طالبان کے پاس جاتے۔طالبان کے جہاداور تحریک لبیک کے عشق پر مفت میں پھوسیاں مارکر کریڈٹ لیتاہے؟۔ بیشک طالبان نے امریکہ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور امریکہ سے دوستی پر پاکستان اور افغانستان میں جو جہاد یا فساد کرسکتے تھے وہ کیا لیکن تم جیسے لوگوں نے کیا کیا ؟۔ باتوں کے سکندر کھانے کے چقندر تمہیں کیا پتہ ہے کہ پختون قوم ، پاک فوج، افغانستان اور پاکستان کے لوگوں نے اس کی کیا قیمت چکائی ہے؟۔ نوازشریف اور عمران خان بھی طالبان طالبان کرتے تھے لیکن انکے اصل چہرے بے نقاب ہوگئے۔ کٹھ پتلی کی آذان مرغی کی آذان ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ جب مرغی آذان دے تو اس کو ذبح کردو۔ مولانا فضل الرحمن اورمسلم لیگ ن نے جس بیانیہ کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم (PDM) سے نکالا تھا وہ بیانیہ نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان بھی کھلے عام موجود تھا۔
مریم نواز نے کھل کر کہا کہ عمران خان کو ہم مدت پوری کرنے دینگے۔ جس کے جواب میں پیپلزپارٹی کے چوہدری منظور نے کہا ہے کہ ” اب ہمیں سمجھ میں بات آئی ہے کہ پی ڈی ایم (PDM) کو کیوں توڑا تھا؟ لیکن ن لیگ یہ واضح کرے کہ جب حکومت کو نہیں گرانا تھا تو لانگ مارچ کا ڈرامہ کیوں کیا ؟”۔
پہلے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز ٹو چین رہتے تھے لیکن اب فاصلہ نظر آتا ہے اسلئے کہ مریم بی بی حمزہ شہباز کیساتھ ٹو چین ہوگئی ۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہ بیانیہ کہاں گیا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا تھا؟۔
شہباز شریف نے کہا کہ ”سترسالہ بوڑھا ہوں۔ضمانت پر رہا، علاج کیلئے بیرون ملک جانے دیا جائے ،پہلے بھی واپس آگیا” تو یہ نوازشریف کے منہ پر زوردار طمانچہ تھا کہ اسٹیبلیشمنٹ کی گدھاگاڑی میں دونوں کھوتوں کی طرح زندگی بھر جتے رہے ہیں۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ کارڈ میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟۔ شاہ زیب خانزادہ نے سوالات اٹھانے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کی؟۔
حکومت و تحریک لبیک نے اپنی دُموں کو باندھ کر زوردارپدو مارا، تو فضاء میں بدبو پھیل گئی۔ ن لیگ ، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی لاوڈ اسپیکر لگاکر اس کی گونج سے دنیا کو آگاہ کررہی ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر واقعی اتنے عاشق رسول ہیں اور ناموس رسالت پر ایمان ہے تو ن لیگ دور میں ختم نبوت پر کیوں حملہ کیا؟۔ جب فرانس نے گستاخی کرلی تو تم نے اپنا احتجاج اس وقت کیوں تحریک لبیک کیساتھ شامل نہیں کیا؟۔ حکومت کو شکست دینے کیلئے جو اندازاپنایا جا رہا ہے ،اس سے ملک وقوم میں پھر قتل وغارتگری کی فضا ء ہموار ہورہی ہے۔
تحریک لبیک کے قائد حافظ سعد رضوی کو گرفتار کرکے حکومت نے اشتعال پھیلایا لیکن پنجاب پولیس کیساتھ جو تحریک لبیک کے کارکنوں نے کیا وہ انتہائی قابلِ مذمت تھا اور اگر تھانہ پر حملہ کرکے پولیس ورینجرز کے اغواء پر بھی راست اقدام نہ اٹھایا جاتا تو بھیگی بلی بننے والی تحریک لبیک کی شوریٰ اپنی حدوں کوپار کر دیتی۔ احتجاج نبیۖ کی سنت یا قرآن کا حکم نہیں ۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگاتو رئیس المنافقین عبدللہ بن ابی کو شہر بدر نہیں کیا گیا۔ بیشک خون کی ہولی کھیلنے کا سارا کریڈٹ نااہل اور جاہل حکمرانوں اور وزیروں کے سر ہی جاتا ہے لیکن اتنا پتہ چل گیاہے کہ جان لڑانے والے جان کی امان پاکر کیسے بیٹھ گئے ہیں؟۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

کالعدم تحریک لبیک کا دھرنا ختم!۔۔۔۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو نے پنجابی پختون فسادات کیلئے لاشیں گرائیں تھیں،ماڈل ٹاؤن لاہورنوازشریف اور شہباز شریف نے اپنے اقتدار کیلئے لاشیں گرائیں۔طاہر القادری اور عمران خان نے پولیس افسر کی پٹائی، پی ٹی وی (PTV) پر قبضہ اورپارلیمنٹ پر حملہ کیا ، تحریک لبیک و عمران اتحادی تھے مگر دشمن بن گئے۔
فرانس کے سفیر کو نکالنے کیلئے 3ماہ کا معاہدہ دلّوں نے کیاپھر2ماہ کا معاہدہ دلّوں کے دلّوں نے کیا۔امجدخان نیازی نے پارلیمنٹ میں جو قرار داد پیش کی وہ جنرل نیازی کا بنگلہ دیش میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے اور مولانا عبدالستار نیازی کی تحریک ختم نبوت میں داڑھی منڈانے کی تضحیک سے بھی زیادہ جمہوری پارلیمنٹ کا مضحکہ خیز منظر تھا۔ مذہبی اور فوجی حلقے کو ہمیشہ تضحیک وتوہین ، طعن وتشنیع اور تنقید وتردید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب پارلیمنٹ میں حکومت واپوزیشن کے اس روئیے نے جمہوریت کی دُم کے نیچے سے گوبرکو فوارے کی طرح پوری قوم اور دنیا کے سامنے خارج کرکے رکھ دیا، جو انقلاب کے بغیر صاف نہ ہوگا۔
سیاست میںمنافقت کی انتہاء اور مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اس سے زیادہ بھیانک منظر شایدہی تاریخ نے کبھی دیکھا ہو۔ جے یو آئی اور ن لیگ اس بات پر سیخ پا تھیں کہ تحریک لبیک سے معاہدہ کیوں ہوگیا؟۔ حالانکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور مولانا اسعد محمود کو اس بات کا خیرمقدم کرنا چاہیے تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک کا معاہدہ ہوگیا کہ ” فرانس کے سفیر کو نکالنے پر بحث کی جائے”۔ اور تحریک لبیک نے مان لیا کہ یہ قرار داد آزاد رکن کی حیثیت سے پیش ہوگی۔ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی؟۔ مظاہرین پر امن منتشر ہوگئے تو ن لیگ اور جے یو آئی کو کیا تکلیف ہے؟۔ منافق صحافیوں نے مؤکلوں کی فیس کا حق نمک ادا کیا اور یہ نہیں کہا کہ” فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کرنے والے پر امن طور پر منتشر ہوگئے تو ہمیں کیا پریشانی ہے؟”۔جب جے یو آئی اور ن لیگ نے بڑاپریشربنالیا توپیپلزپارٹی بھی کود گئی مگریہ نہ دیکھا کہ اس سیاست کا انجام آخر کار وہ قتل وغارت ہوگی جس کا تصوربھی نہیں ہوسکتا۔
قتل وغارت کے بعد ریت کی ناک بنائی گئی۔ دونوں سرکے بل مرغے بن کر دُم سے دُم باندھ کرگو خارج کرگئے۔ اگر ن لیگ یا جے یو آئی کا مسئلہ ہوتا تو وہ پہلے فریق بن جاتے۔ پرائے گو برپر پدو مارکر مزید گوبر خارج کیا۔جب پولیس اور سادہ لوح کارکنوں کا خون بہایا گیا تو جے یوآئی اور ن لیگ جنازوں میں شرکت کرتے مگر پارلیمنٹ میںفساد برپا کرنے کی غرض سے مشاورت کے بعد پہنچے۔ اسپیکر اسد قیصر کا اپوزیشن کیساتھ ایسا رویہ ہوتا ہے کہ اگر پٹائی بھی لگے تو شاید لوگوں کو تعجب نہ ہوگا ، مہذب ممالک میں ایسی فضاء بنتی ہے لیکن شاہد خاقان عباسی کا اس مرتبہ اسپیکر اسد قیصر کو جوتا مارنے کی دھمکی دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر اسد قیصر غیرتمند پختون ہوتا تو کم ازکم مائک اسکے سر پر مارتا کہ یہ کیا بکواس کرتے ہو؟۔ یا اسمبلی سے باہر نکالتا اور نہیں تو اسپیکر کی کرسی اور اسمبلی کو لات مار کر چھوڑ دیتا کہ جہاں عزت نہیں وہاں اس کرسی پر وزیرداخلہ شیخ رشید کی زبان میں لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں ، لعنت بھیجتا ہوں۔
پیپلزپارٹی ، ن لیگ ، جے یو آئی نے اظہار یکجہتی کیااور لبیک کی شوریٰ نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ تحریک لبیک کے رہنماکارکنوں کے ہاتھوں مار کھائیں گے۔ قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیرنکالنے کا پلے کارڈ مسلم لیگ ن نے اٹھایا اور نعرہ لگایا کہ تاجدار ختم نبوت زندہ باد ۔ حکومت نے وعدہ خلافی کی، پنجاب پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنوں کا خون بہانے کے بعد پسپائی اختیار کی گئی تو پنجاب میں بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوسکتاتھا ۔ ن لیگ کو انتقام لینے کا موقع ہاتھ آگیا۔ دلیل کی بنیاد پر عوام کو قائل نہ کیا تو مذہبی سیلاب بہت کچھ بہا سکتا ہے۔ ن لیگ کی حکومت آئی تو لیڈر نشانہ بنیںگے کہ تمہاراضمیر جاگ گیا؟ اوریا مقبول جان نے معاہدہ کرواکر کہا کہ” پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ایمان کا پتہ چل جائیگا”۔ حکومت نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مخالفت کے باوجود فوج کے تحفظ کا بل پاس کیا تو کیا فرانس کا سفیر نہیں نکال سکتی تھی؟۔عوام کا جذبہ ٹھنڈا ہونے تک معاہدہ کیوں کیا؟ دوسروں کو دلّے کہنے والوں نے دلّا گیری کی کیا کسر باقی چھوڑی؟۔ ن لیگ کے ایم این اے (MNA) پرویز کو ڈاکٹر نعیم باجوہ نے غلطی سے امتحان میں دوسرا بندہ بٹھانے پر پکڑا تو اسکا عابد شیرعلی نے کیا حشر کیا؟۔سوچئے!

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اگر دنیا دیکھے کہ سورۂ نور میں حضرت عائشہ پر بہتان کی وہی سزا ہے جو عام خاتون کی ہے تو گنبد خضراء کو سجدہ اسلئے نہیں کرینگے کہ نبیۖ نے فرمایا” اے اللہ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا” عمران خان بھی پاکپتن کی طرح کلٹی ہوجاتا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کے عادلانہ نظام کیلئے اقتدار میں آنا ضروری نہیں ہے ، مولانا عبدالشکور بیٹنی قومی اسمبلی میں کسی من گھرٹ یا ضعیف حدیث کو قرآن کہنے کے بجائے سورۂ نور کی آیات پیش کریں

نبیۖ نے نبوت کے دعویدار گستاخ ابن صائد دجال کے قتل کی اجازت نہ دی جبکہ یہاں اسلام کو جاہل بلیک میلنگ کیلئے استعمال کرتے ہیںاورارباب اختیاربھی پشت پناہی کرتے ہیں

علامہ اقبال نے اپناکہا تھاکہ ” مجموعۂ اضداد ہوں اقبال نہیںہوں”۔ ہمارا حال بھی ” مجموعۂ اضداد” سے مختلف نہیں ۔” فرقہ بندی ہے اور کئی ذاتیں ہیں”۔ سنجیدگی سے مسائل کا حل نہ نکالا تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ جس قائدا عظم کے پاکستان کی بات وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف و جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالشکور بیٹنی کے مقابلے میں کی تو اس کا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی ، وزیر قانون ہندو، پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے جو اپنے وقت پر ریٹائرڈ ہوگئے ، پہلا مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا جس نے صدر پاکستان سکندر مرزا سے اقتدار چھین کر پاکستان پر قبضہ کیا، مادرملت فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہراکر غدار قرار دیا اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرخارجہ بناکر سیاست کی پہلی نئی جنم بھومی کا آغاز کیا اور پھرجنرل یحییٰ خان قزلباش جیسا عیاش آرمی چیف آیا۔ قائداعظم کا پاکستان دولخت ہوا، حقیقی جمہوریت میں شیخ مجیب نے اقتدار سنبھالنا تھا لیکن بھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم سے یہ پاکستان دولخت کردیا اور فوج نے ہتھیار ڈال کر مشرقی پاکستان بھارت کے حوالہ کردیا۔ پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جمہوری اسلامی آئین (1973) ء میں بن گیا لیکن بھٹو مارشل لاء کا پالتو تھا اسلئے بدترین قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی ذہنیت بھی رکھتا تھا۔ لاڑکانہ میں اپنے خلاف الیکشن لڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی، حالانکہ اس کی جیت یقینی تھی، کراچی سے جماعت اسلامی کے رہنما نے الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرانے چاہے تو کمشنر کے ذریعے اغواء کیا۔ جمہوری قیادت کو جیل میں ڈال کر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دیدیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء وقتی طور پر قبول کیا مگر سیاسی جماعتوں نے ایم آر ڈی (MRD)کے نام پر جدوجہد شروع کی ۔ نوازشریف کو تحریک استقلال سے اٹھاکر ضیاء الحق نے گودی بچہ ، الطاف بھائی کو قوم پرست بچہ، جماعت اسلامی کو جہادی بچہ بنایا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر جنرل ضیاء کے باقیات کو (1990) میں حکومت دلائی گئی تو جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمدتک سے معاملہ خفیہ رہا۔ (93) الیکشن میںجماعت اسلامی نے ”قاضی آرہا ہے” کی مہم چلائی مگربینظیراقتدار میں آگئی اور مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے۔ نواز شریف پرلندن فلیٹ کا مقدمہ بن گیا۔ مرتضیٰ بھٹو کو مارنے کے بعد بینظیر کی حکومت ختم کی گئی اورنوازشریف کو اقتدار دیا گیا توسیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر رکھا گیا۔ نوازشریف نے فوج کے آرمی چیف پرویز مشرف پر پیٹھ پیچھے وار کیا لیکن فوج نے اس کو ناکام بناکر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل ایوب کی ڈکٹیٹر شپ سے ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ سے نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ سے عمران خان پروان چڑھا ۔ جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کی حمایت عمران خان کررہاتھا تو تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالفت کررہا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ اقتدار اور اپوزیشن میں تھے۔ پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں میں مولانا فضل الرحمن بھی شریکِ اقتدار تھا۔ نوازشریف دور میں ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو قومی اسمبلی نے بل پاس کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مجھے خوف تھا کہ کہیں میری صدارت میں بل سینیٹ سے پاس نہ ہوجائے۔ چیئرمین سینیٹ کی غیر حاضری میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے مجھے مرزائی نواز بل پر دستخط کرنے پڑتے، یہ شکر ہے کہ بل پاس نہیں ہوا۔ پھر حکومت نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کیا تو شیخ رشید نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کو پکارا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تم جواب کیا دوگے؟۔ شیخ رشید نے قائداعظم کا نام نہیں لیا بلکہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہی نے ختم نبوت کیلئے قربانی دی تھی۔ پھر تحریک لبیک والوں نے فیض آباد چوک پر قربانی دی توعمران خان نے بھی ان کا ساتھ دیا، مسلم لیگ ن کو اپنے ذمہ دار وزیر کو فارغ کرنا پڑگیاتھا۔
آئین پاکستان میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے لیکن قرآن کے جو احکام نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پوری دنیا کو بھی اندھیر نگری سے نکال سکتے ہیں تو ان پر کوئی سیاسی ، مذہبی جماعت یاشخصیت اور صحافی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے شاگرد مفتی زبیر نے بول نیوز پر کہا کہ اسلام نے تمام انبیاء کی گستاخی پر سزائے موت رکھی، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور جہالت ہے۔ یہود عیسیٰ علیہ السلام پرولد الزنا اور حضرت مریم پرزنا کا بہتان لگاتے تھے ۔جب گستاخانہ اعتقاد رکھنے والی یہودن سے اسلام نے نکاح کی اجازت دیدی تو قتل وغارت ، تشدد اور شدت پسندی کے خاتمے کا اصل سبب دنیا میں اسلام بنا تھا۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگا۔ حضرت حسانبن ثابت، حضرت حمنا بنت جحش اور حضرت مسطح شامل تھے تو ان کو قتل کا حکم نہیں دیا بلکہ جو سزا ایک عام خاتون پر بہتان لگانے کی اسّی (80) کوڑے ہیں وہی سزا ان کیلئے بھی تھی۔ گستاخ کفار کوپتہ چلے تو گنبد خضراء کو سجدہ کرینگے لیکن ہمارے نبیۖ نے فرمایا کہ ” اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہیں بنانا”۔یہ دعا نہ ہوتی تو وزیراعظم عمران خان بشریٰ بی بی کی ہدایت پربابافریدپاکپتن کی راہداری کی طرح گنبدخضراء پر کلٹی ہوسکتاتھا۔
ڈرامہ باز وںکی بیگمات پر زنا کا بہتان لگے تو قتل یا اربوں کی ہتکِ عزت کا دعویٰ کرینگے مگر نبیۖ کی توہین پر جھوٹ بولیں گے کہ ناموس پرہم قربان لیکن فرانس کا سفیر نہیں نکال سکتے۔ حکومت وریاست اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں کو بروقت سچ بولنے کی ضرورت ہے ورنہ فتنہ وفساد سے سب تباہ ہوسکتے ہیں۔ آج عاشق رسول اپنے قیدی چھڑانے کی فکر میں ہیں اور سیاستدان حالات سے فائدہ اٹھاکر عشق رسول کے جذبات کا دورہ پڑنے کی ڈرامہ بازی کررہے ہیں۔
جنرل باجوہ کی صحافیوں سے ملاقات مسائل کا حل نہیں۔ صحافیوں نے جنکا کھانا ہے انکا گن گانا ہے۔ ریاست مدینہ کیلئے سورۂ نور کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اندھیرے کو لاٹھی گولی کی سرکار نہیں روشنی ہی بھگاسکتی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ستائیس (27) رمضان کوسورۂ نور قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اسلام کے عروج وزوال کے بعد عروج شروع اور اب پودوں پر پھول، درختوں پر پھل نظر آئیں گے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آج اُمت مسلمہ زوال وپستی کی انتہاء تک پہنچ چکی ہے لیکن عنقریب عروج کے آفتاب کا منظر پیش ہوگا۔بیت المقدس فتح ، پوری دنیا پر اسلامی خلافت قائم ہوگی اور دنیا کے ہر بنگلے و جھونپڑی میں اسلام پہنچ جائیگا

ہم نے دیکھنا ہوگا کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟، قرآن میں لعان کی آیت سے زوال کی ابتداء ہوئی اور حلالہ کی لعنت پر اس کی انتہاء ہوئی اب ہم عروج کی انتہاء تک پہنچیں گے انشاء اللہ

سورۂ نور کی آیات سے آئین کے دفعہ(62، 63) پر عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مساوات کے اعلیٰ ترین قوانین سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں اندھیر نگری و شدت پسندی کا خاتمہ کرناہوگا

ہماری تحریک کا جو بیج ہم نے لگایا تھا،اب انشاء اللہ گلاب کے کانٹے دار پودوں پر پھول اور کھجور کے نوکدار درختوں پر پھل نظر آنا شروع ہوجائیںگے تو لوگ مایوسی سے بھی نکل جائیں گے !

حکومت اورریاست فوری طور پر قرآن وسنت کے مطابق حلالہ کی لعنت کا خاتمہ کرنے کیلئے علماء کا نمائندہ اجلاس بلائے۔ سورہ ٔ حج کی آیات (52، 53) اور (54)کی روشنی میں حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔تاکہ علماء سوء اور علماء حق میںفرق واضح ہوجائے۔ سورۂ بنی اسرائیل آیت(60) کے مطابق نبیۖ کے خواب اسلام کے غلبے اور قرآن میں شجرملعونہ پر لوگوں کے درمیان آزمائش شروع ہو اور اہل حق کامیاب اور اہل باطل مغلوب ہوکر منہ کی کھائیں۔
سورۂ نور میں زنا کار مرد اور زنا کار عورت کیلئے (100،100) کوڑے کی سزا ہے۔ سب سے پہلے عیاش لیڈر شپ کو اسمبلی کے اندر خود کو پیش کرکے سورۂ نور کی ابتدائی آیت پر عمل کرنے کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی جائے۔ صحابہ نے اپنے اوپر حد نافذ کرنے کیلئے خود کو پیش کیا تھا جبکہ ہم دوسروں کو سزا دیتے ہیں۔
سورۂ نور میں بے گناہ عورت پر بہتان کی سزا(80)کوڑے ہیں۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگا تھا تو بہتان لگانے والوں کو (80، 80)کوڑے لگائے گئے۔ آج کسی کی بیگم پر بہتان لگ جائے تو جس کا بس چلے تو اس کو قتل کردے لیکن رسول ۖ نے دسترس رکھنے کے باجود بہتان لگانے والوں کو قتل نہیں کروایا تھا۔ اسلام میں امیر وغریب کی عزت وناموس میں فرق نہیں۔پاکستان کا عدالتی نظام آئین کے مطابق نہیں ہے۔ کرپٹ حکمران اپنی ہتک عزت کا دعویٰ اربوں اور کروڑوں میں کرتے ہیں جبکہ غریب کو ہتک عزت میں وکیل اور کورٹ کی فیس بھی نہیں مل سکتی ہے۔ غریب کیلئے تھوڑے پیسوں کی سزا بہت اور امیر کیلئے زیادہ پیسوں کی سزا بھی کچھ نہیں ہوتی لیکن(80،80)کوڑے کی سزا برابر ہے۔ہمارا حکمران طبقہ پارلیمنٹ میں سورۂ نور پر بحث بھی نہیں کرسکتا ہے اسلئے کہ ان کے مشہوراسکینڈل ہیں۔ میڈم طاہرہ، طاہرہ سیداور سیتاوائٹ۔ بازار میں دودھ ملتا ہو تو بھینس رکھنے کی کیاضرورت ؟۔ پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتاب۔
آئین کے دفعہ(62، 63) کے معیارپر بڑے بڑے پارلیمنٹ میں پورا نہیں اترتے۔ پارلیمنٹ کے بیان، معروضی حقائق، قطری خط اور اس سے مکر جانے کی کہانیاں صادق وامین کی اہلیت پر پورا نہیں اُترسکتے ہیں۔ سورۂ نورسے شدت پسندی کا مکمل خاتمہ اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آجائے گا۔
عورت کو غیرت کی بنیاد پر قتل کرنے سے سورۂ نور میں لعان کے حکم سے روکا گیا مگر مسلمانوں نے اللہ کی بات نہیں مانی اور مولوی کی مان کرحلالہ کی لعنت کو فتویٰ بنایا۔ ہندو شوہر کے پیچھے بیوہ کو زندہ جلا ڈالتے تھے۔ اس رسم کو ”ستی” کہا جاتا تھا۔ نئے دین کے بانی اکبرمغل،عیاش محمد شاہ رنگیلا، بھائیوں کے قاتل اورنگزیب عالمگیر جس نے (5)سوعلماء سے فتاویٰ عالمگیریہ میں لکھوادیا کہ ” بادشاہ چوری، زنا، قتل کرے تو اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی” ۔تاکہ بدلے میں قتل نہ ہو ۔
یہ مغل بادشاہ ہندوستانی ریاستوں پر آپس میں لڑتے رہے ۔ پنجاب میں سکھ راجہ رنجیت سنگھ نے حکومت بنائی تھی جو پختونخواہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب انگریز آیا تو موجودہ پاکستان کی عوام خوش تھی کہ ظالم رنجیت سنگھ سے چھٹکارا مل گیا ہے جس کا کام مغل بادشاہوں کی طرح صرف ٹیکس وصول کرنا تھا۔ انگریز نے عوام کو ریلوے کا نظام دیا، پکی سڑکیں تعمیر کیں، ٹریفک کا نظام لائے ۔ نہریں، بجلی ،جدید تعلیم، عدالت، پولیس، فوج وسول بیوروکریسی کا نظام دیا۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ایک مجذوب نے کہا کہ افغانستان کا بزرگ کہتا ہے کہ انگریز یہاں سے نکلے اور داتا گنج بخش کی چاہت ہے کہ کچھ عرصہ مزید رہے تو پیر مہر علی شاہ نے کہا کہ دلّے بڑوں کی بات بڑے جانیں تو اپنے کام سے کام رکھ ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے نے نظام کے حوالہ سے آخری حد پار کردی۔
اقبال نے ”محراب گل افغان” کے عنوان سے محسود اور وزیر کا ذکر کرتے ہوئے خانزادگانِ کبیر سے توقع کا اظہار کیا کہ لاکھوں میں ایک صاحبِ یقین پیدا ہو تو انقلاب آجائے گا۔ انگریز برصغیر میںاپنی نالائق باقیات چھوڑ کر گیا۔ رنجیت سنگھ اور مغل بادشاہوں کی باقیات عوام اور مولوی کمزور تھے ۔ سیاستدانوں نے بھی نالائقی کی انتہاء کردی۔ میرے کلاس فیلو مفتی اعظم امریکہ منیراحمد اخون نے حضرت خضر سے ملنے اور نبیۖ کا مشاہدہ بیان کیا ہے۔پاکستان کو قرآن کے ظاہری احکام کی طرف رجوع کرنے سے ہی اب بچایا جاسکتا ہے۔
لعان کا حکم انگریز نے ہندوستان میں مسترد کردیا۔ کیا یہی وہ خوشبو تھی جو میر عربۖ کو اسلام کی نشاة ثانیہ کے حوالے سے آئی تھی؟۔ ہندوستان کے برہمن اورپختون کی غیرت بہت مثالی تھی۔ انڈیا کی فحش فلموں نے ہندی برہمن کو غیرت سے محروم کردیا۔ طالبان جنگ نے پختون کی غیرت کو پامال کردیا۔ وزیرستان سے سوات تک جو لوگ معمولی بات پر خون خرابے کیلئے تیارہوجاتے تھے وہ طالبان کی دہشت سے غیرت کھو بیٹھے۔ پنجابی زبان والی فوج کے معمولی سپاہیوں نے اچھے عزتدار پختونوں کی غیرت کوملیامیٹ کردیا۔لاہور ہائیکورٹ نے (15) روپے فی کلوچینی سستی دینے کیلئے عوام کی قطاریں لگانے کو توہین اور آئین کیخلاف قرار دیا۔ قبائل سالوں سال راشن کیلئے سحری کے وقت سے دوپہر تک لائن لگاتے اور فوجی سپاہی ڈسپلن کے نام پرتشدد کرتے مگر کسی کو آئین میں پختونوںکی تذلیل دکھائی نہیں دی۔ کاش ہماری عدالتوں کو عدالتی رویے میں عوام کی تذلیل وخواری کا بھی احساس ہوجائے اورہمارابھی ریاست سے نشئی شاعر ساغر صدیقی کی طرح عشق ہوجائے کہ محبوبہ کے نام پر غزلیں گائیں اور محبوبہ تک پہنچنے کو بھی اپنی دسترس سے باہر سمجھیں تو پھرباغی نہیں بنیں گے۔
جارج فلائیڈ قتل عدالتی فیصلے پرامریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ منظم نسل پرستی ہماری قوم پر دھبہ ہے۔ حالانکہ امریکہ ظلم اور منافقانہ پالیسی سے داغ داغ ہے۔ امریکی فوج نے افغانستان میں مردوں کو بھی تذلیل کیلئے ریپ کیا ہے۔ کاش ہمارامیڈیا بھی بی بی سی کی طرح جرأت کرکے اسکے کرتوت سامنے لائے۔
جس دن ہماری ریاست، حکومت، اپوزیشن، مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین ، کارکن اور میڈیا نے حلالہ کی بے غیرتی اور سورۂ نور سے اندھیر نگری کے خاتمے کا اعلان کردیا تو برصغیر پاک وہند سے جو خوشبو نبی پاک ۖ کو آئی تھی وہ سامنے آئے گی اور پوری دنیا میں اسلام کی نشاة ثانیہ کا ڈنکا بجے گا۔قرآن کے نظام سے انقلاب آئیگا اور عرب قرآن کو چھوڑ کر مہدی کے خواب دیکھتے ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قبائلی علاقوں میں گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور کب ختم ہوگا؟

قبائلی علاقوں میں گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور کب ختم ہوگا؟، پاک فوج کی کیا مجبوری ہے کہ گڈ طالبان کو سپورٹ دیکر معاشرے میں بدترین بے چینی کی فضاء پیدا کئے ہوئے ہیں؟،ہم اپنی سمجھ اور معروضی حقائق کے مطابق بتاتے ہیں!

جب تک ہماری قوم طالبان بننے کی صلاحیت رکھے گی تو ان میں گڈ اور بیڈ پیدا ہوتے رہیںگے اور دونوں طرف سے استعمال بھی ہونگے اورآسمان سے کوئی بجلی نہیں گرے گی کہ روکے

جب تک اس علاقے میں پراکسی جنگ ختم نہ ہوگی اسوقت تک یہ خطہ اور اس میں بسنے والی پشتون قوم اس عذاب سے نہیں نکل سکتی مگر ہمت کرنے سے بہت کچھ کرنا بھی بالکل آسان ہوگا!

سوشل میڈیا میں نوازشریف کے تنخواہ دارآر ایم ٹی وی (RMTV) کے راشد مراد کھریاں کھریاں میں کہتا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں جنرل راحیل شریف ملوث تھا، اس وقت کا وزیراعظم نوازشریف تھا جس نے جنرل راحیل کیخلاف سب کو متحد کردیا تو کیا ایسے بزدل وزیراعظم کو دوبارہ ہم اپنے ملک پر مسلط ہونے دیں اور جمعیت علماء اسلام کا حافظ حمدللہ اور مولانا غفور حیدری کہتے ہیں کہ مولوی ڈرتا نہیں ہے تو پھر مفتی کفایت اللہ کیا مولوی نہیں ہے؟۔ جھوٹ سے داڑھی رکھ کر مفتی اور مولانا کا اعزاز حاصل کیا ہے اور ڈرتے نہیں تو چھپ کیوں گئے ہیں؟۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔ پہلے طالبان کے بڑے حامی اور فوج کے خلاف تھے مگر پھر کہا کہ طالبان فوج نے مسلط کئے ہیں۔ پھر قوم کا دانشور اور نوجوان طبقہ عمران خان پر جان نچھاور کرتا تھا کہ تبدیلی سرکار بڑا انقلاب لے آئیگا مگر جب عوام نے دیکھا کہ تبدیلی سرکار گدھے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر قلابازی کھارہاہے تو کہتے ہیں کہ فوج نے اس کو ہم پر مسلط کیا۔ جب بڑے دانشور اور سول بیوروکریسی کے بڑے عہدوں پر فائز رہنے والوں نے عمران خان کی سچائی اور دیانت سے مسلسل دھوکے کھائے تو کیا پاک فوج آسمان سے اترے ہوئے فرشتے ہیں کہ کوئی دھوکہ نہیں کھائیںگے؟۔ حضرت ابوبکر کے دور میں زکوٰة نہیں دینے پر ریاست نے اپنی رعایا کے خلاف طاقت کا استعمال کیالیکن حضرت عمر نے جاتے جاتے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ہم رسول اللہۖ سے پوچھ لیتے کہ زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال جائز ہے یا نہیں؟۔ ائمہ اربعہ نے قرار دیا کہ زکوٰة کے مانعین کے خلاف قتال جائز نہیں ہے لیکن نماز نہ پڑھنے والوں کا قتل ، زدو کوب اور قید کرنا ضروری ہے۔
طالبان نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کیلئے جہاد اور قتال کرنا فرض ہے اور جب اعتماد کی فضاء موجود نہیں تھی تو عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام حضرت طلحہ وزبیر نے بھی خلیفہ راشد حضرت علی سے جنگ لڑی ہے۔ پھر اس وقت کے خوارج جو حضرت علی کے پہلے اپنے ساتھی تھے انہوں نے بھی حضرت علی سے جنگ لڑی ہے۔ ہم اپنے دور والوں کا کیا رونا روئیں؟۔ لوگوں کو اسلئے مذہب سے نفرت ہوگئی ہے۔
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دال میں کیا کالا کالا ہے کہ جانی خیل بنوں میں کئی دنوں تک شمالی وزیرستان کی وزیر قوم کے چار بچوں کو بہیمانہ انداز میں قتل کرکے لاشوں کو مٹی کے نیچے دبایا گیا اور پھر کتوں اور جانوروں نے ان کو نکالا اور نوچ کھایا۔ لواحقین اور علاقہ کے مکینوں نے کئی دنوں تک احتجاج کیا اور ان لاشوں کو اسلام آباد لے جانے کی کوشش کی۔ ساری مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بشمول پی ٹی ایم (PTM) کے احتجاج کرنے والوں سے اظہار یکجہتی کیا ۔ مفتی عبدالشکور بیٹنی اگر احتجاج والوں کیساتھ شریک نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ یہ پی ڈی ایم (PDM) کا مسئلہ نہ تھا تو قومی اسمبلی میں ضرور چند آنسو بہاتے ہوئے رونے کی حسرت پوری کرتا۔
جب کوئٹہ کے ہزارہ برادری کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج ملے اور پشتونوں پر پابندی ہو تو کنٹرول میڈیا کا تأثر اور پشتون قوم کی مظلومیت کا جواز بنتا ہے۔ اورجب قومی میڈیا پر کوئی بات نہیں آتی ہے تو سوشل میڈیا پر ہرقسم کی باتوں میں بڑا وزن لگتا ہے ،چاہے وہ پروپیگنڈہ کتنا ہی جھوٹ پر مبنی کیوں نہ ہو۔یہ صورتحال پشتون قوم کو مزید اندھیرے میں جینے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ معصوم لڑکوں کا قتل بھی غلط ہے اور اگر یہ لوگ واقعی دہشت گرد تھے تو بھی قانون کی گرفت میں لیکر ان کی ذہن سازی کی ضرورت تھی لیکن فوج اور پولیس نے کس کی تربیت کرنی ہے۔ طالبان گڈ ہوں یا بیڈ معاشرے کیلئے ناسور سے کم نہیں ہیں۔ جب سرکار کی سرپرستی میں گڈ طالبان نہ صرف پرورش پارہے ہوں بلکہ اُلٹے سیدھے کاموں میں بھی ملوث ہوں تو پھر لوگوں کیلئے گڈ اور بیڈ ایک ہی ہوتے ہیں۔
سب سے بڑا بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ ہماری ریاست نے گڈ طالبان کو کیوں رکھا ہے؟ وزیرستان کاایک محسود اور وزیر یہ جانتا ہے کہ ہمارے علاقے کا یہ شخص کون ہے؟، کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور کیا کام کرتا ہے؟۔ اگر کوئی یہ ظاہر نہ بھی کرے کہ وہ دوبئی ، اسلام آباد، کراچی یا لاہور میں کچھ عرصہ سے رہ رہا ہے تب بھی وہاں کے باشندوں کو پتہ چلتا ہے کہ اس پر آثار کیا بتا رہے ہیں کہ وہ کہاں رہ کر آیا ہے اور کس کام سے وابستہ ہے۔ جس طرح کراچی کے رہائشیوں میں پتہ چلتا ہے کہ یہ کورنگی کا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی جوانی،ادھیڑ عمر اوراپنا بڑھاپا یورپ میں گزارا ہوتا تب بھی کراچی والوں کو پتہ چلتا تھا کہ یہ کورنگی کے رہائشی ہیں۔ پہلے نانک واڑہ اور اب برمی پاڑہ کے قریب رہائش ہے تو مفتی تقی عثمانی پر اپنے اپنے علاقے کی فضاؤں کے اثرات بھی ضرور مرتب ہوتے۔ اور مفتی زرولی خان ایک عرصہ سے گلشن اقبال میں رہے تھے تو ان کی شکل وصورت پر گلشن اقبال کے اثرات نمایاں تھے۔ لالوکھیت لیاقت آباد ایک علاقہ کے دو نام ہیں۔ ایک بدمعاشی سے کہتے ہیں کہ میں لالو کھیتی ہوں ، پاکستان کی حکومتوں کی تبدیلی میں ہمارا بہت کردار تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ میں لیاقت آباد کا رہنے والا ہوں اور وہ لالوکھیت کے نام پر شرم محسوس کرتا ہے۔ کراچی کے باسی جانتے ہیں کہ کون لالو کھیتی ہے اور کون لیاقت آبادی ہے۔ لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے رہائشی کو کراچی کے باشندوں میں یہ تمیز نہیں ہوسکتی ہے کہ شاہ فیصل کالونی، کورنگی، ملیر، لانڈھی، ڈیفنس، لیاری، اورنگی ٹاؤن اور کراچی کے باسیوں میں کیا فرق ہے؟۔
جب حاجی عثمان پر آزمائش کا دور آیا تو مرید فوجی اپنی گاڑیوں میں ہمارے ساتھیوں کو پکڑ پکڑ کر تھانے لے جاتے تھے۔ شفیع بلوچ کو فوجی افسر نے دھمکی دی تو اس نے کہا کہ جو رات قبر میں ہو وہ باہر نہیں بسر ہوسکتی ہے جو کرنا ہو کرڈالو۔ اور جب عبدالقدوس بلوچ نے بدمعاشی کرنے والوں سے پنجہ آزمائی کی تو حضرت حاجی عثمان نے غصے میں فرمایا کہ ”اوہ لیاری تم کیا کررہے ہو؟”۔
وزیرستان میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ طالبان کو ختم کرنے کیلئے جب تک اسی قوم کے افراد نہیں رکھے جائیں تب تک پنجاب، سندھ، بلوچستان سے آئے ہوئے فوجی تو بہت دور کی بات ہے خیبر پختونخواہ کے سیٹل علاقہ سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی دہشت گردوں اور شریفوں کی پہچان نہیں رکھتے ہیں اور اس مجبوری کو قومی سیاسی ومذہبی جماعتوں اور پارٹیوں کے علاوہ امریکہ اور نیٹو کی افواج بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بھی افغانستان میں اسی طرح جنگ لڑی تھی اور اب تک نہ ان کی جان چھوٹ سکی ہے ، نہ افغانوں کی اور نہ ہماری جانیںآج تک محفوظ ہیں۔ اس جنگ سے نکلنے کیلئے مذہبی طبقات اور سیاسی جماعتوں نے بہت اہم کردار ادا کرنا تھا لیکن دونوں نے کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے گریز کیا اور اپنی جانوں کو مشکلات میں ڈالنا بہت مشکل ہے۔
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی طرف سے گھر ٹھیک کرنے کی بات درست ہے۔ اگر نوازشریف اور آر ایم ٹی وی (RMTV)کے راشد مراد سمجھتے ہیں کہ جنرل راحیل نے آرمی پبلک سکول کا واقعہ کروایا ہے تو کھلم کھلا اعلان کردیں ۔ وہ لندن میں بیٹھ کر اپنی اس جان کو بچائیں جو بچپن سے بڑھاپے تک فوج کی ٹانگوں میں گزری ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کے فیڈر اور نپل پر زندگی بھر گزارہ کیا ہے اور ہم مقابلہ کریں گے لیکن اگر یہ بات نہیں ہے تو راشد مراد جیسے کتوں کو بھونکنے سے منع کردیں۔ اس قوم کی سب سے بڑی کم بختی بد اعتمادی ہے۔ پاکستان جیسی قوم دنیا بھر میں نہیں ہے۔ لیکن چند اشرافیہ نے اس کو تباہ کردیا ہے۔ ہماری فوج، ہمارے سیاستدان ، ہمارے صحافی، ہمارے دانشور، ہمارے تاجر، ہماری عوام ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ حقائق سمجھنے سے قاصر عوام کو معروضی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
جب طالبان شروع میں آئے تو شمالی وزیرستان میں حکیم خان اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے عوام کا جینا دوبھر کیا تھا۔ پولیٹیکل انتظامیہ اور قبائلی ملکان ان کے سامنے بے بس تھے۔ طالبان نے ان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا تو دوبئی میں بھی لوگ ان ویڈیوز کو بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ طالبان کی وجہ سے نامی گرامی بدمعاش بھی توبہ تائب ہوکر طالبان کا حصہ بن گئے۔ ابوجہل وابولہب کو مسلمان بننے سے کون روک سکتا تھا لیکن وہ خود مسلمان نہیں ہوئے ، فتح مکہ کے بعد ابوسفیان نے اسلام قبول کیا تو اس کو عزت بھی بخشی گئی اور یہ وہ قیامت کا منظر تھا کہ جب کافر کہتے تھے کہ کاش ہم اس سے پہلے مٹی میں مل چکے ہوتے۔
یہ ضمیر ضمیر کی بات ہوتی ہے، پہلے ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان نے اسلام اور نبی رحمتۖ کے خلاف جنگ کو اپنے مشرکانہ ایمان اور جاہلانہ غیرت ہی کا تقاضہ سمجھ لیا تھا مگر فتح مکہ کے بعد ابوسفیان کے پاس اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔پہلے بھی اس میں صداقت تھی، قیصرروم سے نبیۖ کا حال بالکل درست بیان کیا تھا۔ جبکہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کا بھی پیچھا کیا گیا تھا۔ اگر کوئی غلیظ قسم کی ذہنیت رکھنے والا شخص ہوتا تو ابوسفیان نے قیصر روم کو درست حال بتانے کے بجائے گمراہ کرنا تھا۔ سورۂ نجم کے حوالے سے تفاسیر کی کتابوں میں شیطانی آیات اس غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ تھے جو پہلے غلیظ مشرکوں نے کیا تھا۔ جس کی وجہ سے حبشہ کے لوگ بھی ہجرت سے واپس آگئے تھے۔ آج کے دور میں غلط پروپیگنڈے کا بڑا زور ہے جو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہے۔ جب تک اپنے حالات کو نہیں سدھاریںگے تو کوئی آسمانی فرشتہ نہیں آئے گا۔
جب طالبان سے پہلے وزیرستان میں حالات خراب تھے تو لوگوں کے ہاں ایک بدمعاش گو خان کی وہ حیثیت اور عزت تھی جو سرکاری قبائلی عمائدین کی نہیں تھی۔ پھر بدمعاشوں کی جگہ طالبان نے لے لی تو عوام میں مقبولیت کے معیار پر بدمعاش طالبان لیڈر پہنچے۔ سرکاری ملکان کی انگریز کے وقت سے طالبان تک ایک کٹھ پتلی جاسوس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں تھی۔ مجھ سے لنگر خیل قوم کے خان نے پوچھا کہ ممتاز بدمعاش کے خلاف ہم نے صاف کاغذ پر پولیٹیکل انتظامیہ کو دستخط کرکے دئیے تھے تو ہم سے حلف اُٹھانے کا کہہ رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ آپ کو زبردستی سے قرآن کا حلف اُٹھانے پر مجبور کرے تو اس نے کہا کہ وہ طالبان بن گیا ہے۔ میں نے کہا کہ پھر تم بھی طالبان بن جاؤ۔ پھر وہ لوگ طالبان میں شامل ہوگئے۔ بہت لوگ اس طرح مجبوری میں طالبان بن گئے۔ لیکن پاک فوج کو یہ پتہ نہیں تھا کہ سرکاری ملکان کے ذریعے طالبان کو راہِ راست پر لانے کیلئے کتنا مؤثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے؟۔ پرویزمشرف نے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے سے قبائل میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالی تھی لیکن اس وقت طالبان اور سرکاری ملکان کے ہاتھوں معاملات خراب ہوچکے تھے۔
قاری حسین کو اپنے علاقہ کے نامور علماء کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نہیں جانتے تھے لیکن ہمارے طالبان عزیزوں سے اسکے اچھے تعلقات تھے۔ پاک فوج نے جن مجبوریوں کی وجہ سے گڈ یا سرنڈرطالبان کو رکھا ہے ان کے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ دہشت گردی سے بچاؤ کا یہ واحد راستہ تھا ۔اگر قبائل میں درست عوامی نمائندوں کا تصور ہوتا تو پھر گڈ طالبان کو رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ کٹھ پتلی سرکاری جاسوس ملکان عوامی نمائندے نہیں تھے ،انگریز کی طرف سے قوم کو یہ ناسور موروثی انداز میں ملا تھا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ وہاں لوگ خانوں ، سرداروں اور نوابوں کو مانتے ہیں اور ہمارے سیٹل ایریا میں بھی نوابوں کی حیثیت تھی لیکن قبائل میں تو انگریزوں کی جاسوسی کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں تھا۔ ہمارا قریبی پڑوسی مثل خان بھی سرکاری ملک تھاجس پر کسی طرح سے بھی نمائندگی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔
جب تک عوام کے سامنے دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل کے معاملے کو اچھی طرح سے واضح نہیں کیا جائیگا تو لوگ معروضی حقائق سے بے خبر ہونگے اور ہر قسم کے دیدہ ونادیدہ افواہوں کے ذریعے سے وزیرستان کے محسود اور وزیر قوموں کو بدنام کیا جائیگا۔ میرے والد صاحب مرحوم سرکاری ملک نہیں تھے لیکن عوام کے بہت نمایاں نمائندے تھے۔ میرے دادا انگریز سے بہت نفرت کرتے تھے لیکن محسود قوم کا ان پر ایک اعتماد تھا۔ طالبان اور سرکاری ملکان قومی نمائندے بن گئے اور اصل نمائندوں کو قتل کیا گیا تو منظور پشتین جیسے لوگوں نے خلاء کو پورا کردیا۔ اگر باہمی اعتماد کیساتھ اچھے لوگوں کو منتخب کرکے قیادت سپرد کردی جائے تو پھر گڈ اور بیڈ طالبان سے جان چھوٹ جائے گی اور اس کیلئے اسلام کا درست تصور اجاگر کرنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی جان لیں کہ خٹک بچی کے قاتل 72 گھنٹوں میں گرفتار نہیں ہوئے تو انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے

آرمی چیف جنرل باجوہ ، دی جی آئی ایس آئی (DGISI) سن لیں کہ اگر (72) گھنٹوں میں خٹک بچی کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا تو انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے، یہ گوجرانوالہ، فیصل آباد ،گجرات نہیں کہ برداشت کریں،مولانا شاہ عبدالعزیزکی تقریر

نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ ہم تمام مظلوموں کیساتھ ساتھی ہیں،جمہوریت نہیں ہے اسلئے جانی خیل بنوں میں لاشوں کیساتھ احتجاج کرنے پر لواحقین مجبور ہیں۔سوشل میڈیاکاخطاب

ایک آدمی نے دوستوں سے کہا کہ گپ شپ نہیں کرنی مگر جب غیبت ہوتو ضرور نیند سے اُٹھالو کیونکہ اس میں مزہ آتاہے۔ مہاتما گاندھی نے انگریز سے کہا تھا کہ تم کب ملک چھوڑوگے؟

پشتون چیف نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ پہلے آپس کا جھگڑا ہوتا یا بلوچ سے لڑائی ہوتی تو فیصلہ آرام سے ہوجاتا، جمہوری نظام نہیں اسلئے شر وفساد کا سلسلہ ختم نہیں ہورہاہے۔ ہم تمام مظلوم اقوام کیساتھ ہیں۔ جانی خیل بنوں میں سوشل میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواب صاحب نے اچھی باتیں کہیں ۔ جبکہ کم سن خٹک بچی کا جنازہ پڑھانے سے پہلے سابق ایم ایم اے (MMA) کے سابق ایم این اے (MNA) نے کہا کہ ہم خٹک پرامن لوگ ہیں ، ہمیں بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اگر(72) گھنٹوں میں قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا تو ہم راست اقدام اٹھائیںگے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی (ISI) چیف فیض حمید سن لیں یہ خٹک کلچر ہے یہ کوئی قصور، گوجرانوالہ، فیصل آبادگجرات نہیں کہ برداشت کریں۔ ولولہ انگیز خطاب
انگریز نے مسلمانوں اور ہندؤوں کے قائدین کی میٹنگ بلائی ہوئی تھی ، جب انگریز اور مقامی قائدین نے اپنی اپنی باتیں کرلیں تومہاتما گاندھی سے کہا گیا کہ کچھ تو آپ بھی بولو! اس نے کاغذ پر لکھا کہ” میں نے نہ بولنے کا روزہ رکھا ہے ، آپ یہ بتاؤ کہ آپ ہمارا ملک ہندوستان کب چھوڑوگے؟”۔ اس وقت کسی نے گاندھی کی بات کو اتنی اہمیت نہیں دی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ بہت بڑی اہمیت کی بات یہی تھی۔ جب عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو کردوں کو عراق کے خلاف اٹھایاگیا، پھر نتیجہ یہ نکلا کہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرکے اسرائیل منتقل کرنا شروع کیا۔ روس سے مسلم ریاستوں کو آزاد کرنے کے بعد یہودی تیل کمپنیوں کا تیل کے ذخائر پر قبضہ ہوااور پھر طالبان اور القاعدہ کے نام اس خطے میں جنگ مسلط کی اور یہ ان کے مفادات کی تکمیل تک جاری اور ساری رہے گی۔
جمعیت علماء اسلام کے کارکن ریاض محسود نے بالکل درست کہا ہے کہ جب چھوٹے چھوٹے بچوں بلکہ لڑکوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ، موٹر سائیکل اور مہنگے موبائل فون ہونگے اور والدین ان سے نہیں پوچھیں گے کہ کہاں سے لائے ہو؟ اور پھر جب مارے جائیںگے تو واویلا کریںگے کہ چھوٹے بچے قتل ہوگئے۔
جب عوام کی مرضی سے متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی تو بھی امن وامان نہیں تھا، اے این پی (ANP) اور پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو بھی حال برا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت میں بھی آخر کار پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوگیا۔ جاوید چوہدری اور عرفان صدیقی سمیت بڑے صحافیوں کے اس وقت کے کالم نکالے جائیں جب روز کئی کئی دھماکے ہوتے تھے، پھر جب جنرل راحیل نے راست اقدام اُٹھایا تو یہ سلسلہ ختم ہونا شروع ہوا، ضربِ عضب کے وقت بھی عمران خان پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کرنیکی دھمکیاں دیتا تھا اور طالبان نے نواز شریف اور عمران خان کو اپنا نمائندہ اور ترجمان نامزد کیا تھا۔ آج پی ٹی ایم (PTM) میں بڑا نام ڈاکٹر گل عالم وزیر کا ہے جو شمالی وزیرستان کا بڑا ہے اور اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے علی وزیر کے خاندان کی جنوبی وزیرستان کے وزیروں میں ہے۔
جب میرا ایک عزیزڈاکٹر طالبان اور القاعدہ سے عقیدت رکھتا تھا اور ان کا علاج کرتا تھا پھرجب خاندان کیساتھ بڑا واقعہ پیش آیا تو اس کو طالبان سے نفرت ہوگئی لیکن ڈاکٹر گل عالم وزیر پھر بھی اسکے پاس آیا کہ طالبان کا امیر بیمار ہے ، علاج کیلئے ساتھ چلو۔ اس وقت انکار بھی بڑا مسئلہ تھا لیکن غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، ہمارے خانوں اورانگریز کے مقرر کردہ ایجنٹوں کی غیرت کا حال یہ تھا کہ جس خاندان کیساتھ طالبان نے زیادتی کی ہو،ڈاکٹر گل عالم وزیر کیسے یہ جرأت کررہا تھا کہ اس خاندان کے فرد کو علاج کیلئے بھی لے جاتا؟۔
وہ وقت ابھی لوگ بھول گئے ہیں کہ جب دن میں کئی کئی دھماکے ہوتے اور پھر ہفتوںاور مہینوں کے وقفے سے دھماکے ہوتے تھے۔ ردالفساد سے جنرل باجوہ نے امن وامان کی زبردست صورتحال پیدا کردی ہے لیکن پختون قوم کا اعتماد بحال کرنے کیلئے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پی ٹی ایم (PTM) کا وجود بھی بہتر اسلئے ہے کہ قوم میں خود اعتمادی کی فضاء پیدا ہوگئی ہے ورنہ ایک طویل جنگ کے نتیجے میں بچے، جوان ، بوڑھے اور مرد عورتیں سب بہت خوف اور مایوسی کے شکار تھے۔ سردار بابک کے بھائی شمیم شاہد نے وائس آف امریکہ کیلئے میرا ایک انٹرویو لیا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ یہ نشر نہیں ہوگا اسلئے کہ اگر میں پختون قوم کو پاک فوج کے خلاف لڑانے اور اکسانے کی کوئی بات کرتا تو پھر یہ انٹرویو نشر ہوتا۔
تحریک انصاف کے علی امین گنڈاپور اور سابق ایم این اے (MNA) داور خان کنڈی آپس میں کزن بھی ہیں۔ جب ایک لڑکی کو ننگا کرکے موٹر سائیکل پر ڈیرہ اسمٰعیل خان کے نواحی علاقے میں گھمایا گیا تو دونوں رہنماؤں میں اس واقعہ پر جھگڑا تھا لیکن پی ٹی ایم (PTM)نے اس میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ جمعیت علماء اسلام و دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس میں کوئی کردار ادا نہیںکیا۔ جب لوگ مخصوص مقاصد میں تقسیم ہوں تو معاشرہ مضبوط کردار کا حامل نہیں بنتا ہے۔ وہ بھی وقت تھا کہ جب تحریک طالبان کراچی میں بھتہ مانگتی تھی تو ہماری نمبرون ایجنسی کی طرف سے بھی شکایت پر یہ جواب ملتا تھا کہ ان کے ساتھ خود ہی نمٹ لو، یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ اب ایک اچھا موقع ہے کہ امن وامان کی اس فضاء میں ہم ایک مخصوص ماحول میں ریاست کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے تیاری سے پہلے کچھ تو اپنے آپ کو بھی سدھار لیں۔اگر ہمارا یہ رویہ رہا کہ مخصوص ایجنڈے پر لوگوں کو اُکساتے رہے تو پھر نیند خراب کرکے غیبت کا مزہ لینے کے سوا کچھ نہ ملے گا۔
ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس فتنہ وفساد اور قومی دلدل سے ہم کس طرح نکل سکتے ہیں؟۔ مولانا شاہ عبدالعزیز نے پاک فوج سے توقع اور نفرت کا اعلان کیا ہے۔
فوج کے سپاہی اور کیپٹن بھرتی ہونے کے بعد افسر اور ماتحت کے چنگل میں زندگی گزارتے ہیں۔ سول سروس سے یہ رشوت یا چوری کے سوا کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟۔ میری ریٹائرڈ جنرل ظہیر الاسلام عباسی سے ملاقات رہی ہے جو انقلابی ذہنیت کے اچھے انسان تھے ۔ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو ادب کی زبان میں انتہائی سادہ اور بے تکلفی میں انتہائی بیوقوف کہلاسکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کا قرآن میں ذکر ہے کہ یہ جماعت غالب ہوگی اسلئے میں نے اپنی جماعت کا یہ نام رکھا ہے۔ میں نے سمجھایا کہ کراچی میں ایک جماعت اس نام سے ہے اور قرآن میں جماعت کے نام سے نہیںکام سے اس جماعت کی پہچان ہے۔ کئی معاملات میں انتہائی بیوقوفانہ ذہنیت رکھتے تھے جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان لوگوں میں صلاحیت بالکل بھی نہیںہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور نوازشریف جیسے بیوقوفوں پر بھروسہ کرتے ہیں اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں کہ اگر ہم نے خود کو نہیں بدلا تو پھر سب کچھ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اسلام سے دل ودماغ روشن ہوتا مگر مولوی نے تاریک کردیا۔ اگرحکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ پلان تیار کیا تو ہماری خواہش ہوگی کہ اسلام کے بنیادی اور اہم معاملات کی طرف توجہ کریں اور اپنے معاشی اور معاشرتی نظام کو بدلنے میں اب دیر نہیں لگائیں۔ یہ وقت کھویا تو خدانخواستہ بہت رونا نہ پڑجائے۔
اسلام سلامتی ایمان امن دیتا ہے اور پاکستان کی تقدیر میں دنیا بھر کا امن اور انسانوں کی سلامتی لکھ دی گئی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

لولی، لنگڑی، اندھی، بہری سیاست کو چھوڑ کر اس قرآن کی طرف آؤ جومردہ قوم میں زندگی کی روح دوڑادے گا

لولی، لنگڑی، اندھی، بہری اور دل ودماغ سے عاری سیاست کو چھوڑ کر اس قرآن کی طرف آؤ جومردہ قوم میں زندگی کی روح دوڑادے گا، جس سے ریاست، عدالت، سیاست اورصحافت میں چلتی پھرتی لاشیں دردِ دل والے انسان بنیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

معصوم بچیوں کو بدکاری کے بعد قتل پرکسی مردہ لاش کے ہاں کوئی حرکت نظر نہیں آتی جو روز کا معمول بن چکا ہے، ایک دن کوہاٹ سے کرک کا جنازہ اٹھتا ہے دوسرے دن فیصل آباد سے!

مستونگ بلوچستان دھماکے میں دو سو (200)سے زائد افراد شہید ہوگئے مگر میڈیا نوازشریف کی آمد دکھا رہاتھا کہ شہباز شریف احتجاجی استقبالیہ جلوس گلیوں میں گھماتا رہامگر ائرپورٹ نہیں پہنچا

ہماری سیاست اور صحافت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب نوازشریف کو عدالت سے سزا ملی تو میڈیا میں یہ تأثر پھیلایا گیا کہ عدالت کی سزا کے خلاف اپیل کیلئے نوازشریف کا ملک میں موجود ہونا ضروری ہے اور اگر نوازشریف نہیں آیا تو سزا بھی پکی ہوجائے گی اور اس کی سیاست بھی ختم ہوجائے گی۔
نوازشریف اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے تو شہباز شریف نے اپنا احتجاجی جلوس لاہور ائرپورٹ پہنچانا تھا۔ پوری رات گزرگئی لیکن شہباز شریف کو ائرپورٹ پہنچنے کی بجائے جلوس کو بھول بھلیوں میں گھمانا تھا اور مبصرین پہلے سے اپنا یہ تجزیہ بھی دے چکے تھے کہ شہباز شریف نے پہنچنا نہیں ہے۔ اس دوران پھر مستونگ میں دھماکہ ہوا اور پاکستان کے جھنڈے کیلئے قربانی دینے والے اسلم رئیسانی(پیپلزپارٹی) لشکری رئیسانی (ن لیگ) کے بھائی سراج رئیسانی نشانہ بن گئے اور اس میں دو سو (200)سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ میڈیانے اس بڑی خبر کو بھی کوریج نہیں دی اور نوازشریف کی آمد اور شہباز شریف کا ائرپورٹ پہنچنے کا تماشہ دکھاتا رہا۔ میڈیا کی اس بے غیرتی پر ہم نے شہ سرخی کیساتھ احتجاج کیا تھا لیکن زید حامد کی بیوقوفی پر کارٹون کا اثر پڑسکتا تھا مگر میڈیا کو پرواہ نہ تھی۔
نوازشریف کو سپورٹ کرنے والا میڈیا بھی کیا میڈیا ہے کہ جب کلثوم نواز بیمار تھیں تو خدمت کیلئے حسن نواز اور حسین نواز تھے جو اپنی ماں کی لاش کیساتھ بھی پاکستان عدالت کے خوف سے نہ آئے اور جب نوازشریف بیمار تھا تو تیمارداری کیلئے بیٹے حسن و حسین کی جگہ بیٹی مریم نواز کی ضرورت تھی۔ عمران خان کی بک بک میں اسٹیبلیشمنٹ کی مخالفت کی جھلکیاں منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔ ریاستِ مدینہ بھی بھول گیا، جنہوں نے حفیظ شیخ کی جگہ یوسف گیلانی کو ووٹ بیچا ان کی بھی خبر لینے کے بجائے اعتماد کا ووٹ لیکر بے غیرت بیٹھ گیا۔ زرداری جس ق لیگ کو بینظیر بھٹو کا قاتل لیگ کہتا تھا ،اپنی حکومت بچانے کیلئے چوہدری پرویز الٰہی کو راجہ پرویز اشرف کیساتھ نائب وزیراعظم بنادیا۔ شہبازوں اور نوازشات کی سیاست کا حال بھی کسی سے ہرگزڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی اور اسفندیار خان وغیرہ کی سیاست تو لے پالکوں کی گود میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ اگر اسٹیبلیشمنٹ کی اہلحدیث یا سکھ کی طرح بہت لمبی داڑھی ہوتی تو بڑی بڑی پارٹیوں کے لیڈر گود میں بچوں کی طرح نظر آتے اور ان بچوں کے ہاتھوں یہ چھوٹی پارٹیاں کھلونے کی طرح کھیلتے دکھائی دیتیں۔ گودی بچے اور ان کے کھلونے کبھی داڑھی پر لٹکتے کہ انقلاب لاتے ہیں تو کبھی اس کے پیچھے چھپ جاتے کہ عوام کیساتھ کھیل رہے ہیں۔ باپ یا بزرگ کی داڑھی نوچی جائے اور وہ بھی اپنے بچے کے ہاتھوں تو تکلیف تو ہوگی نا؟۔
اگر مولانا فضل الرحمن چاہتے کہ پی ڈی ایم (PDM) میں اتحاد برقرار رہے اور عمران خان پر پریشر اور دباؤ مزید بڑھے تو منی مریم کو سمجھا سکتے تھے کہ پیپلزپارٹی نے سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کو شکست دیکر عمران خان کے پاؤں سے زمین اور چوتڑ سے قالین نکال دی ہے،سینیٹر اور سینیٹ چیئرمین کیلئے یوسف رضا گیلانی کی نامزد گی پر ن لیگ اورپی ڈی ایم (PDM)کی جماعتوں نے کوئی قربانی نہیں دی بلکہ پیپلزپارٹی نے چیلنج قبول کرکے عمران خان کو چت کردیا ہے ، اگر چیئرمین سینیٹ کیلئے ہماری جماعتوں نے اپنے ووٹ ضائع کرکے وفا نہیں کی تو صادق سنجرانی نے بھی اپنی حیثیت کھو دی ۔ عددی اقلیت کے باوجود صادق سنجرانی کا چیئرمین بنے رہنا اس جمہوری سرکس کابڑاتماشہ ہے جس کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ پھر جنہوں نے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے میں پی ڈی ایم (PDM)کے قائد کی جماعت کے نمائندے مولانا عبدالغفور حیدری کو شرمناک شکست سے دوچار کردیا تو اخلاقی قدروں کا تقاضہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم (PDM)کی قیادت پیپلزپارٹی ہی کو دی جائے۔ جو سینیٹر ڈپٹی چیئرمین کیلئے ووٹ نہیں دے سکتے ہیں وہ استعفیٰ کیا دیں گے؟۔ جب عمران خان دُم اُٹھائے اُٹھائے گھومتا تھاکہ ارکان استعفیٰ دیں گے تو جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن دوسرا کوئی بھی اب استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہوگا اور پھر وہی ہوا تھا، اسپیکر قانون کے مطابق ارکان کو علیحدہ علیحدہ استعفیٰ دینے کیلئے طلب کررہاتھا اور وہ کہتے تھے کہ ہم اجتماعی طور پر ایک قبر میں دفن ہوں گے۔ آخر کار عمران خان سمیت سب پارلیمنٹ میں پہنچے اور کوئی شرم بھی ہوتی ہے، کوئی حیا بھی ہوتی ہے اور کوئی غیرت بھی ہوتی ہے والی طعنہ خیزتقریر سننے کو مل گئی۔ جس کی گونج سے آج بھی لوگوں کے کان لبریز ہیں۔
جس طرح سندھ کے تھرپارکر اور پنجاب کے ڈسکہ میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایکدوسرے کی اکثریت کا احترام کیا ،اسی طرح سے سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کیلئے اکثریتی پارٹی پیپلزپارٹی کی تھی لیکن جس طرح اے این پی (ANP) کے خلاف نوشہرہ میں پی ڈی ایم (PDM)کے نام پر جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ غلط تھا لیکن ن لیگ جیت گئی تو اسی طرح پیپلزپارٹی اوراے این پی (ANP)کے خلاف سینیٹ میں جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ غلط تھا جس میں پیپلزپارٹی جیت گئی ہے۔ یہ اتحاد اپنے منہ کا نوالہ ایکدوسرے کو دینے کیلئے نہ تھا بلکہ تحریک انصاف کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے تھا۔ جب پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں اکثریت تھی پھر بھی اپوزیشن کی جماعتوں نے اسکے ساتھ ہاتھ کیا اور اس سے بڑا ہاتھ مولانا کی جماعت کے ڈپٹی چیئرمین کیساتھ ہوا تو ن لیگ کسی اور وجہ سے شور مچارہی ہے۔ ن لیگ کو خوف لاحق ہوگیا کہ پنجاب، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت نے اپنی اکثریت کھودی ہے اور لانگ مارچ سے اس کی رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی تو استعفوں کے ایشو کو جان بوجھ کر اٹھایا کیونکہ اس نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ مرکز میں عمران خان، پنجاب میں عثمان بزدار اور سینیٹ میں صادق سنجرانی بہتر ہیں اور اگر تبدیلی آگئی تو پھر پیپلزپارٹی بھی ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ تحریک انصاف سے زیادہ ن لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی گود میں پیدا ہوئی ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپا گزارا ہے۔ جلاوطنی کے بعد بھی یوسف رضا گیلانی کے مقابل کالا کوٹ پہن کر نوازشریف کس طرح عدالت میں حاضر ہوا تھا؟۔ شہباز شریف سے بڑا مہرہ عمران خان بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر زرداری نے اسٹیبلیشمنٹ سے لڑائی لڑنے کیلئے نوازشریف کو وطن واپسی کی دعوت دی ہے تو اس میں کیا براتھا؟ اور جب مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کو جان کا خطرہ ہے تو پول کھل گیا کہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ بزدلی ہے۔ مریم نواز کو یہ تونظر آتا ہے کہ مشرف عدالت سے بھاگا ہوا ہے لیکن اپنا ٹبر نظر نہیں آتا ہے کہ بزدل نوازشریف اسکے بیٹے حسن ،حسین، صمدی اسحاق ڈاراور بہادر بھانجا عابد شیرعلی سب بھاگے ہیں۔
اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف جیل بھرو تحریک کیلئے جیل سے بھاگے ہوئے قیادت کریںگے؟۔ مریم نواز کو ابھی اپنے چھوٹے سے آپریشن کے بہانے جانا تھا مگر سیاسی فضاء کا انتظار ہے۔ جو گیدڑ کی طرح کبھی معاہدہ کرکے سعودیہ بھاگ لیں اور کبھی بیماری کا ڈرامہ کرکے لندن بھاگ لیں ان جعلی شیروں اور ان کی اولاد کو مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ راستہ دینے کی دیر ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی صلاحیت ان لوگوں پر ضائع نہ کریں جن کی ہڈیوں کے گودے میں بھی انقلاب کا کوئی تصور نہیں۔ مسلم لیگیوں کا ڈی این اے (DNA) انقلابی اور جمہوری نہیں ۔ ڈرائینگ روم کی سیاست میں جنم لینے والے مردِمیدان نہیں ہوسکتے ہیں۔ مولانا نے پہلے بھی ایک نہتی لڑکی بینظیر کے پیچھے اپنی جماعت کے بزرگوں کو بخرے کرکے رکھ دیا تھا لیکن جب غلام اسحاق خان کے مقابلے میں نوابزادہ نصراللہ خان صدارت کیلئے کھڑے ہوگئے تو نوازشریف اور بینظیر بھٹو دونوں نے غلام اسحاق خان کو سپورٹ کیا تھا،اپنے دائیں بائیںبلاول بھٹو اورمریم نواز کو دیکھ کرخوش ہونے کی ضرورت اس وقت ٹھیک ہوتی جب یہ لوگ واقعی انقلابی ہوتے۔ بلاول بھٹو نے تو پھر بھی اپنے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کی قربانی دیکھی ہے ، پھانسی سے بچنے کیلئے ڈیل کرتا تو بچ سکتا تھا اور پھر بینظیر بھٹو نے جان پر کھیل کر قربانی دی، سرائیکستان کا غیرتمند صحافی رؤف کلاسرا بھی کہتا ہے کہ زرداری نے بینظیر کے قتل کی تفتیش میں سازش یا خوف کا مظاہرہ کیا ہے اور رانا ثناء اللہ بھی کہتا ہے کہ زرداری نے کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ سے میں ڈرتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ اور ن لیگی مافیا یہ مہربانی کرے کہ مریم نواز کے قتل کا جعلی ڈرامہ نہ رچائیں۔ نوازشریف اور اس کی بیٹی میں غباروں کی طرح ہوا بھرکر کم از کم جعلی شیر اور شیرنی بنانے کا ڈرامہ نہ کریں۔
مولانا فضل الرحمن دونوں کو ساتھ ملائیں یا دونوں کو خیرباد کہیں۔ ن لیگ کا ایک ہی شہید ہے وہ بھی نوازشریف کے قافلے کے نیچے کچلاجانیوالا معصوم شہر ی تھا جو کچلا گیا مگر قافلہ بھی نہ رکا اور عدالت تک جس کا ہاتھ اسٹیبلیشمنٹ کی وجہ سے نہیں پہنچ سکتا تھا تو مجھے کیوں نکالا ؟ کی رٹ لگاکر نکلا تھا۔ جنہوں نے عدالت پر حملہ کیا تھا تو مکافات عمل کے نتیجے میں ان ن لیگی کا بس چلے تو جی ایچ کیو (GHQ) پر بھی ہلہ بول دینے سے گریز نہیں کرینگے لیکن اس کیلئے ان کو مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے کارکن چاہئیں۔ کرایہ کے گلوبٹ کمزوروں کو دبا سکتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر طاہر القادری سے دھرنے کا خطرہ ہو تو پولیس کے ذریعے مرواسکتے ہیں اور جب وہی طاہر القادری پیپلزپارٹی کے خلاف دھرنا دینے گیا تھا تو اس کو کھلی چھوٹ دیدی تھی۔ زرداری کا خوف بجا ہے کہ پیپلزپارٹی والے پھانسی پر چڑھتے ہیں، کوڑے کھاتے ہیں اورکارساز دھماکوں کی نذر ہوجاتے ہیں اور لیاقت باغ میں بینظیر کی شہادت سمیت کارکنوں کی قربانی دیتے ہیں اور پھر بھی اپنے ایک ہی اکلوتے بیٹے کو میدان میں اتارتے ہیں جبکہ نوازشریف اپنے بیٹوں کے نام حسن اور حسین رکھ کر بھی رفو چکر ہوجانے کے عادی بناتے ہیں۔ میڈیا سے کہتے ہیں کہ عدالتوں کو جواب دیںگے اور عدالتوں سے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اس ٹبر کو چھوڑ دیں اور مولانا محمد خان شیرانی ، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اور مولانا شجاع الملک کو اپنے ساتھ ملائیں، اطمینان بخش الیکشن کروائیں تاکہ نظریاتی لوگوں کے بخرے نہ ہوں۔ مولانا حق نوازجھنگوی کی شہادت کے بعد سپاہ صحابہ کے قائد مولانا ایثار الحق قاسمی نے آئی جے آئی کی ٹکٹ پر جھنگ سے الیکشن لڑا تھا، جس کی حمایت یافتہ اس سیٹ پر پہلے مولانا حق نوازجھنگوی کو شکست دینے والی شیعہ عابدہ حسین تھی جو جھنگ کی دوسری سیٹ پر آئی جے آئی کی ٹکٹ پر لڑرہی تھی۔ اگر مولانا محمد خان شیرانی کی بات اس وقت مان لیتے کہ مولانا حق نوازجھنگوی کی انجمن سپاہ صحابہ ختم کرکے جمعیت میں ضم کی جائے تو سپاہ صحابہ کی شکل میں دل کا اتنا بڑا ٹکڑا جے یو آئی سے جدا نہ ہوتا اور اب اس مریم نواز کی حمایت میں جنون کی حد تک جانا ان بزرگوں کو کھونے کا باعث بن رہاہے جو جمعیت علماء اسلام کا دماغ ہیں۔ یہ وہی ہیں جو وعدے کے باوجود بھی لاہور میں استقبال تو بہت دور کی بات ہے ملاقات کیلئے بھی آمادہ نہیں تھے۔
جمعیت علماء اسلام کے گروپوں ، جمعیت علماء پاکستان، جماعت اسلامی اور تمام مذہبی جماعتوں کو لیکر سب سے پہلے اسلام کے واضح احکام کو اجنبیت سے نکالا جائے۔ قرآن کے واضح احکام کی فہرست پیش کی جائے۔ ریاست کی نعمت موجود ہے۔ انتخابات ہوسکتے ہیں، عوام کے ذہن پلٹ سکتے ہیں۔ غریبوں نے اسلام کیلئے بہت کچھ قربانیاں دی ہیں۔ قرآن وحدیث اور جہاد کیلئے امیروں اور جرنیلوں کے بچوں نے کبھی قربانی نہیں دی ہے۔ فوجی چھاؤنیوں کیساتھ لال کرتیوں کے باسیوں اور فوجی پیرول پر چلنے والی سیاسی پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مدارس کے بچوں کو فضول کی سیاست کی نذر کرنے کا فائدہ نہیں ۔
نبیۖ نے فرمایا کہ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا ، یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا ،پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے۔
جرنیل بدلتے رہتے ہیں اور سیاستدان وہی رہتے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جرنیل غلط اور غلیظ ہوں اور ان کی پیداوار سیاستدان پاک اور پاکیزہ ہوں؟ اورجنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق پر لعنت کی جائے اورپھربھٹو اور نوازشریف کو شاباش دی جائے۔ اس مخمصے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علماء ومفتیان اور مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ خلفاء راشدین کے بعد دورِ آمریت سے جبری حکومتوں کے موجودہ دور تک جس طرح اسلام اجنبیت کی منازل طے کرتا آیا ہے اس کو اجنبیت سے نکالا جائے۔ آمریت کی ٹانگوں میں جننے اور پلنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ہی بہترین راستہ ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

نوازشریف کی سیاست کتے کی دُم کی طرح کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی, تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے DNA بالکل ایک ہے

نوازشریف کی سیاست کتے کی دُم کی طرح کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی، پرویزمشرف سے معاہدہ، لندن فلیٹ کے دستاویزی ثبوت اوراسٹیبلیشمنٹ کے خلاف کھلم کھلا جنگ سب فراڈ تھا،میڈیا اورمولانا فضل الرحمن بھی اس پر خول چڑھانے کے بدترین مجرم ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ن لیگ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ حفیظ شیخ کوسید یوسف رضا گیلانی سے شکست ہوگی، چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ن لیگ نے دغا کیا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میں دغا بازی کی حدیں پار کیں

حفیظ شیخ کو آصف زرداری نے رکھا تھا، جب تحریکِ انصاف نے اس کو رکھا تو بلاول بھٹو زرداری نے اس کو اپنی کامیابی قرار دیا اور اب اس کو ہٹایا توبھی اپنی پی ڈی ایم (PDM)کی کامیابی قرار دیا

تعبیر الرویاابن سرین کی مشہور کتاب ہے جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم ہے۔ خواب میں کتے کو دیکھنا وہ دشمن ہے جو بعد میں فرمانبردار ہوسکتا ہے۔ جب کتا کسی انسان پر بھونکتا ہے تو بعد میں اسکے ساتھ عہدِ وفاداری بھی نبھاتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک خواب وہ ہوتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور ایک خواب وہ ہوتا ہے جو جیتے جاگتے کسی انسان کا نصب العین ہوتا ہے اور دونوں پر اردو اور عربی اصطلاحات میں خوابوں ہی کا اطلاق ہوتا ہے۔
جب نوازشریف نے پی ڈی ایم (PDM) کے جلسوںگوجرانوالہ اور کوئٹہ میں پاک فوج پر بہت بڑے پیمانے پر بھونکنا شروع کردیا تو پاکستان کی عوام میں ملا جلا ردِ عمل تھا کہ ایک وفادار کتے کا اس طرح بھونکنا کیسا ہے؟۔ آرمی چیف ، آئی ایس آئی کا نام اس طرح سے لیا کہ پی ڈی ایم (PDM) میں موجود جماعتیں بھی ہوئیں پریشان اے قائد مریم تیرا احسان ہے تیرا احسان ۔ پطرس بخاری نے لکھا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو کتا بھونکتا ہے وہ کاٹتا نہیں ہے ، لیکن کچھ پتہ نہیں کہ کب بھونکنا بند کردے اور کاٹنا شروع کردے۔ اور کوئی کتا تو بہت ہی کتا ہوتا ہے۔
نوازشریف کے بھونکنے نے ایک کمال کردیا کہ پنجابی لوگ صرف پنجاب کی مٹی کو ریاست اور وطن کا وفادار سمجھتے تھے، چوں فضل الٰہی میسر شودخواندہ و ناخواندہ برابر شود۔مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی اس سیاست کو ماننا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی کو مؤمن نہیں منافقت کی سیاست سے بدنام کیا گیا ہے اور سیاست میں منافرت کی منافقت ہوتی ہے۔ جس طرح کی منافرت دکھائی جاتی ہے ویسی منافرت ہوتی نہیں ہے اور جس طرح کی وفاداری دکھائی جاتی ہے تو ویسی وفاداری ہوتی نہیں ہے۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ دوستی اوردشمنی بدلنے سے عوامی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک بالکل پروفیشنل سیاسی تجزیہ نگار صحافی مظہرعباس نے بالکل سچ کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا ڈی این اے (DNA) الگ الگ ہے۔ تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے (DNA) ملتا ہے۔ یہ دونوں اسٹیبلیشمنٹ کیساتھ سازباز کرکے چل سکتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا یہ ڈی این اے (DNA) بالکل نہیں۔ پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف کو نکالنے کیلئے یہ قربانی دی تھی کہ پرویز الٰہی کیساتھ پنجاب میں مل کر پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں بنائی بلکہ ن لیگ کیساتھ مل کر مرکز اور پنجاب میںحکومت بنائی۔ جب ن لیگ نے پنجاب اور مرکز میں دھوکہ دیا تو پھر مجبوری میں ق لیگ کا مرکز میں سہارا لیا تھا۔ آج اگر پرویزالٰہی کیساتھ مل کر پنجاب اور مرکز میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے تو اس کیلئے ن لیگ تیار نہیں ہے۔صحافی حامد میر سیاست کے بھی پیچ وخم نہ صرف جانتے ہیں بلکہ کسی حدتک استعمال بھی کرتے ہیں اسلئے کہا کہ اصل لڑائی پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اس بات سے شروع ہوئی ہے کہ پرویز الٰہی کو عثمان بزدار کی جگہ لانا اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش ہے اور نواز شریف اس کیلئے تیار نہیں۔حالانکہ جس طرح یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف نے پنج سالہ مدت پوری نہیں کی اسی طرح عمران خان کو بھی ہٹایا جاسکتا ہے لیکن نوازشریف کا سمجھوتہ ہوا ہے کہ عمران خان کو مدت پوری کرنے دینی ہے۔ عثمان بزدار کو بھی ن لیگ پرویز الٰہی کے مقابلے میں اپنے حق میں بہتر سمجھ رہی ہے۔
تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے (DNA) بالکل ایک ہے۔ پیپلزپارٹی کبھی تو سنجرانی کی حمایت کرکے اس ڈی این اے (DNA) میں دراڑ ڈالتی ہے ، کبھی ن لیگ کو ساتھ ملاکر پرویزمشرف اور ق لیگ کو شکست دیتی ہے اور کبھی ق لیگ کو ساتھ ملاکر اسٹیبلیشمنٹ اور ن لیگ کا مقابلہ کرتی ہے۔ اب ن لیگ اور ق لیگ کو ساتھ ملاکر تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے لیکن ن لیگ منہ میں دُم دبائے گول گول ناچ رہی ہے۔ ن لیگی ریلے میں پی ڈی ایم (PDM)کے ہرنوع اور ہرقسم کے سیاسی بل ڈاگ موجود ہیں اور انکو لانگ مارچ اور دھرنوں کی بھی ضرورت نہیں پڑیگی لیکن ن لیگ یہ کھل کر کہہ رہی ہے کہ ایک ریلے میں دس گیارہ کتے تو ہوسکتے ہیں لیکن دو کتیا نہیں ہوسکتی ہیں۔ ق لیگ کی رقابت کسی طرح بھی ن لیگ کو برداشت نہیں ہے۔ کتوں کے بھونکنے پرنہ جاؤ بلکہ ان کی دُم کے انداز سے حقیقت کا پتہ لگاؤ۔
نوازشریف نے پورے پاکستان میں موٹروے اور کوہاٹ میں ٹنل بنائے تھے۔ شہباز شریف کے مقابلے میں بہتر ہیں ،اس سے پہلے پہلے کہ عمران خان، شہباز شریف، پیپلزپارٹی ، ق لیگ، ایم کیوایم ، باپ کے ہاتھوں سیاسی شہید ہوجائیں تو ن لیگ کھل کر اعلان کردے کہ مرکز اور پنجاب میں ہم نے عمران خان کو پورا پورا سپورٹ کرنا ہے تاکہ بقیہ مدت کسی سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ کے بغیر پوری کرلے۔ ایم کیوایم ق لیگ کو بلیک میل کرتی تھی تو اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت سے کہا تھا کہ اسمبلیوں اور حکومت کو ہم نہیں گرنے دیںگے ۔ کسی سے بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارا اصل ہدف موجودہ سیاسی سیٹ اپ نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ہے اور نظام کی تبدیلی کیلئے نصابِ تعلیم کی تبدیلی ضروری ہے۔ میاں نوازشریف بہت کم عقل انسان ہے۔پہلے محمود خان اچکزئی، عمران خان اور قاضی حسین احمد سے اے آر ڈی (ARD) کے نام پر اتحاد کرکے (2008) کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پھر پیپلز پارٹی کیساتھ مل کر اپنے اتحادیوں پر پدو مار کر چھوڑ دیا۔ اب بھی وہ مولانا فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی ، اے این پی (ANP) ، اختر مینگل اورپی ٹی ایم (PTM) کی مزاحمتی سیاست چھوڑ کر درحقیقت پیپلزپارٹی کی مفاہمتی سیاست پر گامزن ہوچکے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہتا تھا کہ بلوچستان کی عوام کیساتھ سوئی گیس کے معاملے میں ظلم ہوا ہے ۔ ڈیرہ بگٹی کی عوام سے مکران تک پورا بلوچستان پسماندہ ہے انکو گیس تک سے بھی محروم رکھا گیا ہے لیکن جب سی پیک کا معاملہ آیا تو زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے گوادر سے چین تک کے راستے کیلئے مغربی روٹ کا تعین کیا جو چین کیلئے بھی فائدہ مند تھا اور پاکستان کیلئے بھی اور بلوچستان کیلئے بھی لیکن نوازشریف نے وہ روٹ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور سے چھین کر پنجاب کے دارالحکومت لاہور منتقل کردیا۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے باغی علاقے آواران سے موٹر وے گزارنے کیلئے گاؤں کے گاؤں مسمار کردئیے اور مزاحمت والوں یا مزاحمت کاروں کے بدلے میں پرامن لوگوں کو اجتماعی قبروں میں ڈال دیا گیا۔ میڈیا کی وہاں رسائی نہ تھی ،پھر اجتماعی قبریں نکل آئی تھیں۔ یہ سب نوازشریف کی منافقانہ ، احمقانہ اور مفاد پرستانہ سیاست کا شاخسانہ تھا۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی چاہیں تو نوازشریف کے ٹٹوں کو بھی مالش کریں لیکن پاکستان کی عوام کو مزید بیوقوف بنانے سے پرہیز کریں۔ ہمارا مقصد تحریک انصاف اور عمران خان کو سپورٹ کرنا ہرگز نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر انقلابی حکومت ہوتی تو سریا گرم کرکے عمران خان کے چوتڑوں کو داغا جاتا کہ بتاؤ ، جب تیل سستا تھا اور پاکستان میں پٹرول پمپوں پر پٹرول غائب تھاتو اس وقت کوکین کا نشہ کیا ہواتھا یا پٹرول کے غبن میں عوام اور پاکستان کی ریاست کا بیڑہ غرق کررہے تھے؟۔
اس وقت بھارت نے سستا تیل خرید کر اپنے تیل کے ذخائر بھردئیے اور ہمارے والے گدھے کے بچے بھیک مانگنے ، عوام کو لوٹنے اور اپنی ریاست کوبڑا نقصان پہنچانے کے پیچھے پڑے تھے۔ اگر اس وقت خلوص سے کام لیا جاتا توپھر آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی اور گیس کی قیمت اتنی مہنگی کرکے عوام پر بوجھ ڈالنے کی نوبت بھی نہیں آسکتی تھی۔ سائیکل اور بھینس چور وں سے بڑا ریمانڈ حکومت ، اپوزیشن، ججوں ، بیوروکریٹوںاور جرنیلوں کا لینا چاہیے۔پولیس کے ادنیٰ سپاہی سے لیکر وزیراعظم تک سب کرپشن میں مبتلا ہوں تو بڑے بڑوں پر ہاتھ ڈالنا زیادہ ضروری ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر اصرار کرتے ہیں۔ عمران خان تو صرف یہی بھونکتا چلا جارہاہے کہ ” میں چھوڑوں گا نہیں سب کو جیل میں ڈالوں گا” لیکن نوازشریف اور مریم نواز پہلے سے جیل میں ڈالے جاچکے تھے ان کو بھی چھوڑ دیا اور ابھی تک جیلوں میں ڈالوں گا کی بھونک بھی بند نہیں کی ہے۔ ایک اچھے ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے پہلے وزیراعظم عمران خان کا بہتر علاج کروایا جائے ،پھر اس کو بقیہ مدت وزیراعظم کے طور پر نوازوشہباز شریف کی مہربانیوں سے پوری کرنے دی جائے۔ قومی میڈیا کے بکاؤ مال صحافی بھی اپنا وقت اور قوم کا وقت ضائع کرنے کے بجائے کسی مثبت کام پر لگائیں اور چھوٹی بچیوں کا ریپ کرکے قتل کرنے کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی زبردست قسم کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ ایک تاریک مستقبل کی طرف گئے تو پھر کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ اسٹیبلیشمنٹ انگریز کے زمانے سے یہی ہے لیکن ہمارا سیاسی طبقہ نااہل ہے اور اس نااہلی کی وجہ سے ہماری حالت بد سے بدتر ہے۔
عوام چڑھتے سورج کی پچاری ہے۔ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کے پجاری اب سمجھ گئے ہیں کہ سارا سونا کھوٹہ نکل چکا اور تو اور جماعت اسلامی کے سراج الحق بھی سمجھ گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے سراج الحق نے کہا کہ ”اگر پاکستان میں شریعت کا نفاذ نہ ہو تو پھر متحدہ ہندوستان ہی بہتر تھا۔73سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا کہ ہم انگریز کے نظام کو بچارہے ہیں”۔ سراج الحق نے بجا فرمایا ہے اور اسی وجہ سے حکومت اور مولانا فضل الرحمن کی قیادت والی پی ڈی ایم (PDM) کی جگہ پیپلزپارٹی اور اے این پی (ANP) کو سینیٹ میں اپنا ووٹ دیا ہے۔ لیکن سراج الحق کو دیکھنا چاہیے کہ قرآن اور سنت کی جو تعبیر مذہبی طبقات نے کی ہے جس کی مولانا مودودی نے بھی اپنی تفسیر ”تفہیم القرآن” میں ترجمانی کی ہے وہ درست ہے یا غلط؟۔
اگر وہ غلط ہے اور اس قدر غلط ہے کہ انگریز کا نظام بھی اس سے بہتر ہے تو پھر پاکستانی قوم اس شریعت کو کس طرح قبول کریگی اور پاکستان کا ریاستی نظام اس کو کس طرح سے نافذ کرنے کی کوشش میں پیش پیش ہوسکتا ہے؟۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مفتی محمود پر الزام تھا کہ وہ صدر ایوب خان کیساتھ پاکستان کے عائلی قوانین میں شریکِ جرم تھے۔ پیسوں کے لین دین کا الزام بھی تھا لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ خلع اور طلاق میں مذہبی طبقے کا اسلام قرآن وسنت کے مطابق ہے یا ریاست کے عائلی قوانین قرآن وسنت کے مطابق ہیں؟۔ اگر مذہبی طبقات کے عقائد اور مسالک قرآن وسنت کے بالکل منافی ہوں تو پھر یہ فرض بنتا ہے کہ سب سے پہلے مذہبی طبقات مل بیٹھ کر اپنی اصلاح کریں۔ سراج الحق جماعت کے امیر ہیں وہ منصورہ میں سب سے پہلے اپنی جماعت کاایک اجلاس بلالیں۔ مجھے بھی طلب کرلیں تو اصلاح کی طرف پیش رفت ہوگی اور بڑا انقلاب بھی آجائیگا۔ کشمیر کی آزادی تو دور کی بات کہیں بھارت اٹھ کر یہ فیصلہ نہ کرلے کہ بنگلہ دیش کی طرح سے اب مغربی پاکستان کو بھی اس ریاستی اور سیاسی مافیا سے آزاد کرانا ہے جو اپنی بھی دشمن ہے، اس قوم کی بھی دشمن ہے، اسلام کی بھی دشمن ہے، اس خطے کی بھی دشمن ہے اور پوری دنیا کی بھی دشمن ہے اور بنگالیوں سے زیادہ پنجابی، سندھی ، پختون اور بلوچ اسکا خیرمقدم نہ کریں۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں دواہم باتیں ہیں ایک یہ کہ پنجاب کے دل سے دوزخی نکال دئیے جائیں گے۔ اس سے مراد پنجابی اسٹیبلیشمنٹ ہے یا قادیانی ہیں یا دونوں ہیں یا ان کے کٹھ پتلی ہیں۔ بہر حال سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے اور تعبیر کا معاملہ ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اٹک کا دریا خون سے بھریگا اور اس میں یہ واضح ہے کہ دریائے سندھ مراد ہے۔ گنگا اور جمنا نہیں۔ سندھی ، بلوچ ،پختون اور مہاجر کے دل ودماغ میں جو آبلے پڑے ہیں وہ پنجاب اور اس کی فوج کے خلاف ہیں تختِ لاہور کے خلاف ہیں۔ روس کی جنگ اسلام کے نام پر لڑی گئی اور امریکہ سے ڈالر وصول کرکے افغانستان کا تیاپانچہ کردیا گیا اور پھر بھی پاک ،پاکیزہ ،شہباز اور پاکباز بنے پھرتے ہیں۔ہارون الرشید اور اوریا مقبول جان کے اسلام کو کون مانتا ہے؟ پنجاب کو بھروسہ تھا توسن پینسٹھ(65)کی جنگ جیت لی تھی، اب سن اڑتالیس (48) میں لڑنے والے پٹھان بھی نہیں رہے۔ ذرا سوچئے تو سہی!

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat