پوسٹ تلاش کریں

دیوبندی، بریلوی اور انسانی بنیادوں پر نئی پارٹی کی تشکیل کرنا ہوگی!

دیوبندی، بریلوی اور انسانی بنیادوں پر نئی پارٹی کی تشکیل کرنا ہوگی!

اسیرمالٹا شیخ الہند مولانا محمود الحسن،اسیرکالا پانی مولانا فضل الحق خیرآبادی دونوں حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے بڑے عقید ت مند تھے

سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا یوسف بنوری ، مولانا ابوالحسنات قادری ، مولانا عبدالستار نیازی اور خورشید وارثی سب اتحاد کے علمبردار تھے

آج امت ، پاکستان کے مسلمان اور دنیا بھر کے انسان بڑی مشکل کا سامنا کررہے ہیں اوراس کا واحد حل قرآن وسنت کی طرف رجوع ہے

ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے جو اسلامی انسانی انقلاب برپا کردے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن کبھی کسی مذہبی سیاسی جماعت کوکچھ وجوہات کی بناپر اقتدار میں نہیں آنے دیا گیا۔ 1:مذہبی سیاسی پارٹیوں کا فرقہ وارانہ رنگ ہے ۔2: علماء کے تضادات ہیں۔
3:مسلکی اسلام کا انسانی حقوق سے تصادم ہے۔
4:مدارس کا نصاب علماء کو قانون سازی کے قابل نہیں بناتا۔
5:مذہبی و سیاسی علماء نے کبھی قرآن کی بنیاد پر قانون سازی کی زحمت نہیں کی۔
6 :فقہی مسالک کایہ رحجان تھاکہ قرآن سے احادیث متصادم ہیں۔
7:قرآن و سنت کی ہم آہنگی مدارس میں بھی متعارف نہیں ہوئی ۔
8: علاقائی رسوم ورواج کے آگے قرآن وسنت کی معاشرتی طور پر ملاؤں نے اہمیت اجاگر نہیں کی۔
9: اسلام عالمگیر دین کو علاقائی رسوم ورواج کے پیمانے میں تولااور ناپا گیا۔ 10:اسلامی معاشی نظام کی جگہ سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کے درمیان لٹکنا تھا۔
جمعیت علماء اسلام نے اشتراکیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اسلام کے قریب قرار دیا تو1970میں کفر کا فتویٰ لگ گیا۔ فتویٰ لگانے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی، دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد شفیع اور صاحبزادگان مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی، دارالعلوم کراچی کے اساتذہ ومنشی صاحبان نے مفتی کی حیثیت سے دستخط کئے۔ جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مولانا سلیم اللہ خان بھی دارالعلوم کراچی کے مفتی اور استاذ تھے۔ مشرقی و مغربی پاکستان اورہند وستان کے بہت معروف مدارس کے علماء ومفتیان نے بھی اس پر دستخط کئے تھے۔ فتوے کا نشانہ بننے والے مولانا مفتی محمود، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا عبیداللہ انور ابن مولانا احمد علی لاہوری اور اس وقت کی ترقی پسند اشتراکیت کے حامی جمعیت علماء اسلام تھی اور فتویٰ لگانے والے علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا احتشام الحق تھانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا رسول خانکی اصلی جمعیت علماء اسلام تھی۔مولانا احمد علی لاہوری، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود کی ترقی پسند اشتراکیت کی حامی جمعیت علماء اسلام نے اس نام پر قبضہ کرلیا اور یہ لوگ پہلے جمعیت علماء اسلام کے مخالف جمعیت علماء ہند سے تعلق رکھتے تھے۔
مولانا غلام غوث ہزاروی جمعیت علماء ہند کے وارث اور اشتراکی جمعیت علماء اسلام کے امیر تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ، تحریک استقلال اور جمعیت علماء پاکستان نے قومی اتحاد کے9ستاروں کو تحریک نظام مصطفی ۖ کا نام دیکر مفتی محمودکی قیادت میں الیکشن لڑا۔ مولانا ہزاروی نے بھٹو کاساتھ دیا۔جماعت اسلامی کے جنرل ضیاء کی چھتری تلے پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا تو مولانا فضل الرحمن اور قوم پرستوں کو احسا س ہوا کہ غلط استعمال ہوگئے اورپھرMRDمیں پیپلزپارٹی سے مل کر تحریک چلائی۔ جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام درخواستی، سمیع الحق، اجمل قادری اور سپاہ صحابہ نے مسلم لیگ سے مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں تحریک چلائی ۔ جس مولانا فضل الرحمن پر پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد کرنے پر ہی معروف مدارس کے علماء ومفتیان نے متفقہ کے عنوان سے کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا تو وہ بے شرم اسی پیپلزپارٹی کے منشور کیساتھ غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد کا الیکشن سائیکل کے نشان پر لڑرہے تھے۔
پاکستان بن رہاتھا تو مسلم لیگ کے غنڈے مرزائیوں کو مسلمان کہتے تھے اور جمعیت علماء ہند کے مولانا حسین احمد مدنی ، کانگریس کے مولانا ابوالکلام آزاد اور احراری علماء سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا داؤد غزنویوغیرہ پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے اور جہاں موقع ملتا تھا تو ان کو پتھروں اور ڈنڈوں سے مارنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ مولانا حسین احمد مدنی کی اہلیہ تدفین کے موقع پر بھی مسلم لیگیوں کی توہین اورغیظ وغضب کا نشانہ بنی تھی۔جو مسلم لیگی پہلے ہندوستان میں سیاست کے نام پر جمعیت علماء ہند کی توہین کرتے تھے انہوں نے بعد میں اشتراکیت کا لبادہ اوڑھ کر ان علماء کو غیظ وغضب کا نشانہ بنایا تھا۔
برصغیر پاک وہند میں اشتراکیت بھی جعل سازی تھی، مسلم لیگ بھی جعلی تھی اور اسلام بھی جعلی تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی جاہلانہ سبق دیا تھا کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
کافر ہے تو تسخیر پہ کرتا ہے بھروسہ مؤمن ہے تو غلامی پہ بھی کرتا ہے گزارہ
واعدوا لھم مااستطعتم من قوة ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ وعدوکم ”اور ان کیلئے تیاری کروجتنی تم سے ہوسکے ،قوت سے اور گھوڑوں کے اصطبل سے تاکہ تم اللہ کے اور اپنے دشمن پررعب ڈال سکو”۔
امریکہ نے نہرو کو دعوت دی تو لیاقت علی خان نے روس سے کہا کہ مجھے دعوت نامہ بھیجو، روس نے دعوت دی تو امریکہ نے بھی دعوت دی ۔ قائدملت نے روس کو چھوڑ کر امریکی دعوت قبول کی۔ امریکہ نے جہاز بھیجا۔ قائدملت نے14دن امریکہ میں مکمل کرنے کے بعد کہا کہ15دن مزید جہاز میں امریکہ کی سیر کروں۔ پھر15دن کینیڈا کیلئے مانگ لئے۔ پھر برطانیہ کی اجازت مانگ لی۔ ڈھائی ماہ بعد وطن واپس پہنچا تو ایوب خان کو چند دِنوں میںمیجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آرمی چیف لگادیا۔ہماری سیاسی قیادت، فوجی قیادت،مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کے کرتوت کی لمبی فہرست پہلے کتابوں میں تھی اور اب ویڈیو ز کے ذریعے ان پڑھ لوگ بھی سمجھ سکتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن اسلامی بینکاری کے نام پراپنے نظرئیے سے منحرف ہوگئے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالستار خان نیازی، خورشید وارثی اور ڈاکٹر طاہرالقادری، ملی یکجہتی کونسل ”اتحادِ امت” کے فارمولے پیش کرتے رہے ہیں لیکن امت کوانتشار سے نہیں بچایا جاسکا اور آخر میں مولانا اسعد نے مولانا الیاس گھمن کے پاس چل کر اتحادکی کوشش کی تھی لیکن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیصلہ ہفت مسئلہ سے بھی دیوبندی فرارکے راستے پر گامزن رہے ۔ اب ہم انشاء اللہ ایک جماعتی شکل میں تمام مسائل کے حل کا آغاز کریں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

__اتحاد، اتفاق اور وحدت ملت اسلامیہ__

جب یہ ہمارے پیش نظر ہو کہ ہم نے پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلاف اور شدت کو کم کرنا ہے تو اس کیلئے افغانستان، ایران ،سعودی عرب اور ترکی کے

 

علاوہ تمام اسلامی ممالک کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اور غیر مسلم ممالک ہندوستان، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے مسلمانوں کو بھی مدِ نظر رکھنا

 

ہوگا بلکہ تمام دنیا کی انسانیت بھی ہم نظ

 

ر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی بنیاد پر تعصبات کو زندہ کریںگے تو مقابلے میں ہندو، سکھ، بدھ مت ، عیسائی، یہودی اور پارسی سب مذاہب کے جذبات کواپنے خلاف بھڑکائیںگے، اسلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے باطل معبودوں کو بھی برا بھلا نہیں کہیںاور نہیںتو ہمارے معبودبرحق کو بھی برا بھلا کہا جائے گا۔
قرآن کریم اور رسول اللہ ۖ سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی رہبر اور رہنما نہیں ہوسکتا ہے۔ غزوہ بدر بڑا معرکہ تھا جس میں313مسلمانوں نے1000دشمنوں کو شکست دی۔ آج یونین کونسل، ضلع کونسل، تحصیل، ضلع، ڈویژن ، صوبہ اور پاکستان کی سطح پر313باکردار اور اچھے لوگوں کے ذریعے ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کتاب ” اک عالم ہے ثناء خواں آپ کا” میں غیرمسلموں کے تأثرات دئیے گئے جس میں نبیۖ کو ایسی خراج عقیدت پیش کی گئی کہ اس تعریف سے ہی اس دنیا میںایک بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔ جب افہام وتفہیم کی فضاء پیدا ہوجائے گی تو حق وباطل ، روشنی و اندھیرے ، علم وجہالت، بینا واندھے اور حق کیلئے کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے والے میں خود بخود فرق وامتیاز قائم ہوگا۔ اندھیرے کو لاٹھی سے نہیں روشنی سے شکست دینے کی سخت ضرورت ہے۔ غزوہ بدر ایک حادثہ تھا جو قدرت کی طرف سے اللہ نے مسلمانوں کے ارادے کے بغیر تشکیل دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے کہا جاتا ہے کہ ”آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا لیکن اپنی مظلوم قوم کے نامراد شخص کی شکایت پر حزب مخالف کے ایک شخص کو مکا رسید کردیا جس سے وہ قتل ہوا۔ پھر اپنی قوم کے اس نامراد شخص کے شرارتی ہونے کا بھی ادراک ہوگیا اور مخالف قوم کے ایک اچھے شخص نے انتقام سے بچنے میں اطلاع کے ذریعے مدد بھی فراہم کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مذہب، قوم، کردار اور کسی بھی طرح سے شناخت کئے بغیر دو خواتین کو دیکھا کہ اپنے جانور کو پانی پلانے کیلئے انتظار میں کھڑی ہیں۔ آپ نے ان کی مدد کرتے ہوئے ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر انہوں نے اپنے نبی والد کو خبر کردی اور انہوں نے ایک بیٹی سے شادی کے عوض کچھ سالوں تک خدمت لینے کا معاملہ طے کیا۔ یہ اس دور کی روایات تھیں اور ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پناہ کی بھی ضرورت تھی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی گود میں پالا اور اس میں فرعون کی بیگم کا بنیادی کردار تھا۔ دوسری مرتبہ ایک پیغمبر کی بیٹی کا بنیادی کردار تھا۔ پھر اللہ نے فرعون کے سامنے کھڑا کیا تو اپنے بھائی ہارون کو بھی مددگار بنانے کا عرض کیا۔ جب اللہ نے فرعون سے بنی اسرائیل کو نجات دیدی تو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی سامری کے ورغلانے سے بچھڑے کو پوجنے لگے۔ پھر اس معاملہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں اور داڑھی سے بھی پکڑ لیا تھا۔
آج ہماری حیثیت اور ہمارا کردار کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر حضرت موسیٰ و ہارون علیھماالسلام کی طرح ایک کے ہاتھ دوسرے کے سرکے بالوں اور داڑھی میں الجھے ہوئے ہیں اور ہندو قوم نے کسی نبی کی صحبت بھی نہیں پائی ہے اور وہ شرک میں مبتلاء ہے تو ہمیں اپنی حالت پر اور ہندوؤں پر غصہ کھانے کی جگہ رحم کرنا چاہیے۔ قرآن ہماری زبان میں نہیں ہے۔ جب شاہ ولی اللہ نے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو آپ کو اپنے عقیدتمندوں کے ہاتھوں برسوں روپوش رہنا پڑا،اسلئے کہ وہ اس جرم کی پاداش میں قتل کرنا چاہتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ شاہ ولی اللہ سے پہلے حضرت ملاجیون کی کتاب ” نورالانوار” درس نظامی کا حصہ تھی۔ جس میں یہ پڑھایا جاتاہے کہ ”امام ابوحنیفہ کے نزدیک فارسی میں نماز پڑھنا صرف جائز نہیں بلکہ بہتر بھی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ قرآن کی قرأت میں جو سجاوٹ ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب ہے”۔
حالانکہ امام ابوحنیفہ کے قول کی اس سے بہتر توجیہ یہ تھی کہ ” اللہ نے قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا یہاں تک کہ تم سمجھو کہ جو کہہ رہے ہو۔ توپھر عربی میں نماز کو سمجھے بغیر پڑھنا نشے کی طرح نہ سمجھنے کے مترادف ہے”۔ ہماری مذہبی زباںعربی، سرکاری انگریزی اور قومی اردو ہے جس کی وجہ سے مہاجر،پشتون،بلوچ، پنجابی، سرائیکی اور سندھی عوام کی اکثریت سمجھ بوجھ ، علم وشعور اور معروضی حالات اور بین الاقوامی حقائق سے محروم ہیں ۔ تعصبات کی وکالت نے اندھیروں پر اندھیرے میں اضافہ کردیا ہے۔

__ قرآن وسنت کے منشورکے چیدہ نکات__


1: سچ اور سیدھی بات کرنا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان ولو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کیساتھ ہوجاؤ”۔ اور فرمایا ”اور کہو سیدھی بات ،تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے”۔ معاشرے میں کسی بات پر اچھائی اور برائی کا اجتماعی تجزیہ کیا جائے گا اور اتفاق رائے سے اس پر فیصلہ کرکے عوام میں تشہیر کی جائے گی ۔تاکہ شہر اور علاقہ سے لیکر ملکی اوربین الاقوامی سطح تک اچھا ماحول بن جائے۔
2: پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی واضح ہے لیکن معاشرے میں اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ جب قرآن کے احکام کی ایسی تشریح وتفسیر کی جائے کہ سب کیلئے قابلِ قبول ہو تو اس کو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بھی بنایا جائے گا تاکہ ہمارے ریاستی ادارے اور عوام علم و عمل کا پاکستان کو گہوارہ بنائیں۔
3: سورة العصر میں ایمان و عمل صالح کے بعد تلقین حق کیساتھ خسارے سے بچنے کیلئے تلقین صبر کابھی ذکر ہے۔ حق گوئی کا علم بلند کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈوں کا جواب جھوٹ سے نہیں دیں بلکہ صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں۔ اگر غلطی کا احساس ہو تو ڈھیٹ نہ بنیں بلکہ حق کیلئے رجوع کریں۔
4: اپنا مؤقف احسن طریقے سے پیش کریں مگر کسی پر مسلط نہ ہوں۔ جبر وزبردستی، جہالت وہٹ دھرمی، تعصبات ورنجش اورغیرمعیاری اخلاق واقدار کے ماحول کو دلیل وبرہان سے شکست دیں۔ توقع رکھیں کہ یہ منشور ایسا ہو کہ جانی دشمن بھی گرم جوش دوست بن جائے۔ رسول اللہ ۖ کے قتل کیلئے تلوار لیکر آنے والے حضرت عمر نے اعلانیہ آذان دی اور ہجرت کے وقت دشمن سرداروں کے دروازوں پر دستک دی تھی۔
5: کسی اختلافی مسئلے کا حل پہلے قرآن میں تلاش کریں اسلئے کہ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ جب امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع ہوجائے گا تو بہت سارے قدیم اور جدید مسائل کا حل مختلف فرقوں کے عوام وخواص کے سامنے آجائے گا اور اختلافات کی فضاء ختم ہونے میں دیر نہ لگے گی۔
6:احادیث اور سنت پر امت کے مختلف فرقوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سب اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے نظرثانی کی گنجائش رکھیں۔ جب دوسرے کیلئے ڈھٹائی اور اپنے اندر لچک کی گنجائش رکھیں گے تو ماحول میں بہتری آئے گی۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے امام ابوحنیفہ سے رفع الیدین کے مسئلے پر اپنے اختلاف کی گنجائش رکھی لیکن دونوں کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے سرحد پر جہاد کرنے کا فرض اداکیا ۔امام ابوحنیفہ نے جابر سلطانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا افضل جہاد کیا ۔اور فضیل بن عیاض نے ڈکیتی سے توبہ کرکے اپنے نفس کے ساتھ جہاد اکبر سے اپنی اصلاح کا فرض ادا کیا۔
7:حضرت مولانا محمد الیاس نے تبلیغی جماعت سے امت مسلمہ میں ایک چلتا پھرتامدرسہ، خانقاہ اور دعوت واصلاح کا عظیم کام شروع کیا تھا جس نے پوری دنیا میں اسلام کے کلمۂ توحید ورسالت اور ختم نبوت کا پیغام پھیلانے میں سب سے زیادہ ممتاز خدمات انجام دیں۔ پھر اس جماعت پر دیوبندی مسلک کی چھاپ لگ گئی ۔ اب بریلوی مسلک نے دعوت اسلامی اور اہلحدیث نے بھی اس طرز پر اپنی اپنی جماعتیں بنائی ہیں اور اتفاق سے بریلوی مسلک کے بانی کا نام مولانا الیاس قادری اور اہلحدیث کا نام مولانا الیاس سلفی ہے۔ تبلیغی جماعت اپنے مرکز بستی نظام الدین اور رائے ونڈ میں امارت اور شوریٰ کے نام پر تقسیم ہوچکی ہے۔
8: کانیگرم اور ٹانک کے مشہور تبلیغی سیدعالم شاہ سے میں نے پوچھا کہ ”تبلیغی جماعت والے لاالہ الا اللہ کا یہ مفہوم بتاتے ہیں کہ ” اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین….اگر کوئی شخص بیوی کو تین طلاق دے تواس کیلئے ایک راستہ حلالہ کرنا ہے اور دوسرا بیوی کو چھوڑ دیناہے دونوں میں سے اللہ کے کس حکم میں کامیابی ہے”۔ اس نے جواب دیا کہ ”دونوں صورت میں کامیابی نہیں ہے”۔ میں نے کہا کہ” یہ اللہ کا حکم نہیں غلط فتویٰ ہے”۔
9: اللہ نے عورت کو قرآن میں خلع کا حق دیا لیکن مولوی یہ نہیں مانتا۔ عدالت بھی عورت کو خلع کا حق دیتی ہے لیکن مولوی نہیں مانتا۔ جب مولوی کی شریعت اللہ کے قرآن اور عدالت کے انسانی حقو ق کے منافی ہو تو پوری دنیا میں کیسے چل سکتی ہے؟۔ جو پاکستان میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ قرآن وسنت میں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے احکام میں فرق ہے لیکن مولوی اس کو نہیں مانتا اسلئے پاکستان میں بھی مولوی ناکام ہے۔……
10: اسلام فطری دین ہے لیکن مولوی نے غیرفطری مسائل ایجاد کررکھے ہیں۔ جب علماء ومفتیان اپنی غلطی مان جائیںگے تومعاشرے، حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے آگے لوگ سرتسلیم خم کریںگے اور اس پر ہم نے بہت کام کیا ہے جس کی چند نظیریں ملاحظہ فرمائیں اور ہمارا ممبر بن کر ہماراساتھ دیں۔

__معاشرے سے حلالہ کی لعنت کا خاتمہ __
اللہ کے فضل سے ایک اسرائیل کو چھوڑ کر باقی دنیا کے سارے مشہور ممالک سے ہمارے پاس حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے فتوے آئے ہیں اور ہمارے ان فتوؤں کی وجہ سے ان کی جان ایک عذاب ، لعنت اور شرمندگی کے بڑے طوفان سے چھوٹ گئی ہے۔ فتوے کی تائید ہفت روزہ اخبارِ جہاں کراچی جنگ گروپ میں40سال تک حلالہ کے فتوے جاری کرنے والے مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی نے کی جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی کے شاگرد اور مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے مجاز ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان شریعت بینچ اورپاکستان شریعت کورٹ کے مشیر ہیں۔
بریلوی مکتب کے حضرت مولانا مفتی خالد حسن مجددی مدظلہ العالی گجرانوالہ نے بھی بھرپور کھلم کھلا تائید سے نوازا ہے اور درپردہ معروف مدارس کی تائیدات بیشمار ہیں جن میںجامعہ دارالعلوم کراچی کے بعض مفتیان عظام بھی شامل ہیں۔ اب رائے عامہ ہموار ہوگی تو شف شف کرنے والے شفتالو بھی بول دیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی تحریری تائید مل چکی ہے اور مثبت دو نشستیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس سے قبل مولانا محمد خان شیرانی جب چیئرمین تھے تو ان سے بھی بھرپور انداز میں بات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے ہتھیار بھی ڈال دئیے تھے کہ مجھے اس موضوع پر مہارت حاصل نہیں ہے۔
قرآن کی سورہ بقرہ آیات222سے232تک میں عورت کے حقوق کی زبردست وضاحت ہے لیکن علماء ومفتیان نے عورت کے حقوق غصب کئے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے تراجم اور تفاسیر میں بے بنیاد اورلامتناہی تضادات ہیں۔ قرآن نے اپنے اس مؤقف کی بھرپور وضاحت کی ہے کہ میاں بیوی کی صلح میں کسی صورت بھی اللہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ناراضگی اور طلاق کے بعد شوہر کو صلح واصلاح کے معروف طریقے کے بغیر رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جس سے تمام مذہبی طبقات کی غلطیاں آشکارا ہوتی ہیں کہ کوئی شوہر طلاق رجعی دے یا اس کی نیت کچھ ہو تویکطرفہ رجوع کا حق حاصل ہے۔ جس سے بہت سارے اختلافات اورگھمبیر تضادات نے جنم لیا ہے۔ مثلاً بہشتی زیور میں مسئلہ لکھا ہے کہ” اگر شوہر بیوی سے کہے کہ طلاق طلاق طلاق تو یہ تین طلاقیں ہیں اور اگر شوہر کی نیت ایک طلاقِ رجعی کی ہے تو پھر یہ ایک طلاق ہے، لیکن بیوی پھر بھی سمجھے کہ اس کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں”۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کا خاندان مولانا اشرف علی تھانوی کے علم کی بوسیدہ ہڈیوں کو نئی شکل دیکر بیچ رہاہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”طلاق طلاق طلاق” تو بہشتی زیور کے مطابق یہ ایک طلاقِ رجعی ہے اور اس کی بیوی سمجھے کہ یہ تین طلاق ہیں اور حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی تو اس کا حل کیا ہوگا؟۔ اسلئے کہ اصلاً بیگم صاحبہ محترمہ کو طلاق نہیں ہوئی ہے اور وہ کہیں سے حلالہ کروالے تو مفتی تقی عثمانی اور اس کی مذہبی ذرّیت پر کیا گزرے گی؟۔ مسلمانوں میں2020کے اندر مفتی محمد تقی عثمانی کا نمبر طاقتور شخصیات میں پہلے نمبر پر تھا اور2022میں پانچویں نمبر پر آگیا۔2023میں فہرست سے نکل جائے گا انشاء اللہ کیونکہ حلالے کی لگام ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی بیگم کا نام دینا مسئلہ پوچھنے کی حد تک بھی برا لگتا ہو تو مسلمان بہنوں ، بیٹیوں ، بیگمات اور ماؤں پر کیا گزرتی ہوگی؟۔ جب وہ حلالہ کی لعنت سے گزرتی ہوں گی؟۔
ہم مسلمان بہنوں کی عزتیں بچانے نکلے ہیں ۔ آؤ ہمارے ساتھ چلو۔

__قرآن وسنت سے حلالے کا غلط تصور__
آیت230البقرہ میں مروجہ حلالے کاکوئی تصور نہیں ہے۔ جب آیات228اور229البقرہ میں عدت کے اندر صلح واصلاح کے معروف طریقے سے اللہ نے رجوع کی بھرپور وضاحت کردی اور آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے معروف رجوع کی بھرپور وضاحت کردی تونعوذ باللہ کیا درمیان میں اللہ پر کوئی جن یا جنون طاری ہوگیا تھا ؟کہ اس طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔آیت230البقرہ۔ اس پر علماء ومفتیان نے کبھی غور نہیں کیا؟۔
وہ کونسی طلاق ہے جسکے بعد عورت سے اس کا سابقہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے؟۔ حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، اہل حدیث، جعفری اور پرویزی فرقوں نے اپنی اپنی فقہ وسمجھ کے مطابق اس کی کوئی نہ کوئی تشریح کی ہے لیکن کسی ایک صورت پر بھی امت کا آج تک اجماع نہ ہوسکا ہے اور نبیۖ کا فرمان سچ ہے کہ امت کا اجماع کسی گمراہی پر نہیںہوسکتاہے۔
مجھے یقین ہے کہ قرآن وسنت پر عنقریب نہ صرف امت کا اجماع ہوگا بلکہ پوری دنیا میں تمام مذاہب اور ممالک کے لوگ بھی ایک مضبوط معاشرتی خاندانی تعلقات کی بحالی کیلئے اپنے معاشرے اور ممالک میں اسکے نفاذ کیلئے نکلیں گے۔
قرآن نے عورت کاکوئی استحصال نہیں کیا بلکہ اس کو بھرپور تحفظ دیا ہے اور اس تحفظ میں سب سے بڑا بنیادی مسئلہ اس کو حلالے سے تحفظ دینا تھا۔ اس کو اپنے شوہر سے رجوع کیلئے تحفظ دینا تھا ۔ اس کو شوہر کے جبری رجوع سے تحفظ اور نجات فراہم کرنا تھا اور اسکے مالی حقوق کے تحفظ کی بھرپور ضمانت دینی تھی۔
قرآن نے سب کچھ عورت کو دے دیا لیکن مولوی نے پھر اس کو مذہبی فتویٰ دیکر اپنے اور معاشرتی مظالم کا شکار بنایا ہے۔ عورت نے نبیۖ سے مجادلہ کیا کہ میری پیٹھ کو میرے شوہر نے اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیکر ظہار کیا ہے جو دورِ جاہلیت کی سب سے سخت طلاق تھی۔ جس میں حلالہ سے بھی عورت حلال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ نبیۖ نے مروجہ مذہبی ماحول کے مطابق فتویٰ دیا تو اللہ نے اس عورت کی بات سن لی اور سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب میں رسم جاہلیت کی سخت ترید نازل کردی۔ ایک عورت مدرسہ سے فتویٰ طلب کرتی ہے کہ شوہر نے اکٹھی یا پہلے طہر پاکی کے ایام میں پہلی، دوسرے میں دوسری اور تیسرے مرحلہ میں تیسری مرتبہ طلاق دی ہے تو کیا وہ بغیر حلالہ کے رجوع کرسکتی ہے؟۔ جس کا جواب یہی ہونا چاہیے تھا کہ اللہ نے قرآن کی آیت228البقرہ میں فرمایا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوااصلاحًا ” اور ان کے شوہر اس مدت میں صلح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔یہ سوال مولوی سے پوچھنے کا نہیں ہے بلکہ قرآن فتویٰ دیتا ہے کہ عدت میں شوہر رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی فتویٰ سورہ طلاق آیت1اور سورہ بقرہ آیت229میں بھی ہے۔ لیکن اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور شوہر نے تین مرتبہ نہیں ایک مرتبہ بھی طلاق دی ہو اور شوہر فتویٰ پوچھنے کیلئے جائے کہ وہ رجوع کرسکتا ہے؟۔ تو قرآن کا فتویٰ یہ ہے کہ ” اس کو رجوع کا کوئی حق اب حاصل نہیں ہے۔ عورت عدت کی تکمیل کے بعد جہاں چاہے اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے”۔
جب قرآن کی واضح آیات کا فتویٰ فقہاء ومحدثین نے بالکل نظر انداز کردیا تو گمراہی میں اس طرح گردش کرنے لگے جیسے جھاڑی کاباریک ریشہ نما ایک پھول فضاء میں ہواؤں کے دوش پر اٹھتا ہے۔ جو ہمارے ہاں ”شیطان کا خصیہ” کہلاتاہے۔ ارشد شریف اور عمران خان کی میڈیاپر ”سپاری ” کی گردش ہے ،یہ وہ رقم ہے جو دہشت گرد تنظیم کو کسی شخص کے قتل کیلئے دی جائے۔ سپاری حشفہ یعنی ذکر کے ختنے کی جگہ سے باہر والے حصہ کو بھی کہتے ہیں ۔ سودی بینکاری ، حلالے کی لعنت اور سپاری وصول کرنے والے دہشت گردمیں وہی فرق ہے جوہماری بڑی کرپٹ اشرافیہ اور موبائل چھیننے کیلئے جان لیوا حملے کرنے والوں میں ہے۔

__ عورت کا اختیار چھین لینے کے نقصانات__
عورت معاشرے میں صنف نازک اور کمزور مخلوق ہے اور اللہ نے اس کی اس کمزوری کا فائدہ دیتے ہوئے اس کو وہ تحفظ فراہم کیا ہے جو عورت کے اپنے وہم وگمان ، سوچ وبچار اور فکر ودانش میں بھی ممکن نہیں ہے۔ جو عورت مرد کیساتھ برابری کا دعویٰ کرتی ہے تو اس کو مرد کی نظر یں گاڑنے، ہلکا پھلکا ہاتھ مارنے اور دبوچ کر زیادتی کا نشانہ بنانے پر کیوں غصہ آتا ہے ،جب برابری ہے تو بدلے میں عورت بھی وہی کچھ کرتی؟۔ عورت کو تحفظ دینے کی سخت ضرورت ہے۔
عورت شوہر کے نکاح میں جاتی ہے تو اس کو اللہ نے نہ صرف خلع کا اختیار دیا ہے بلکہ ساتھ میں مالی تحفظ کی ضمانت بھی دی ۔ جہاںالنساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق اورآیات20،21النساء میں شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے وہاں دونوں صورتوں میں عورت کو مالی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ خلع میں شوہر کی طرف سے ان دی ہوئی چیزوں کی ملکیت برقرار رکھنے کی وضاحت کی جو عورت اپنے ساتھ منتقل کرکے لے جاسکتی ہو یعنی منقولہ جائیداد۔ کپڑے، زیور، نقدی ، گاڑی وغیرہ۔ جب وزیرستان، افغانستان ، پشتونستان، پختونخواہ اوربلوچستان کی پشتون عورت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جتنا حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق طے ہوجائے اور جو شوہر نے اس کو اس کے علاوہ اضافی چیزیں دلائی ہوں توپھر جب عورت چاہے تو اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہو اور یہ آزادی قرآن وسنت میں خلع ہے تو پھر پشتون اور طالبان نہ صرف دنیا کے قہروغضب سے نکل جائیں گے بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں ہتھیار اُٹھائے بغیر بھی اسلام کی فتوحات کا جھنڈا بیت المقدس، ہندوستان کے لال قلعہ ، امریکہ کے وہائٹ ہاؤس، فرانس کے ایفل ٹاور ، دیوار چین و بیجنگ ،روس کے ماسکو اور دنیا بھر کے تمام معروف جگہوں پر لگادیںگے لیکن جب اپنی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو اسلامی حقوق اور آزادی دینے سے محروم ہوں گے تو پھر مختلف شکل میں مذہب، زبان، علاقہ، کلچر اور قومیت کے نام پر آزادی کی جنگ نہیں اغیار کی دلالی کریںگے۔
میرا ایک کزن تھا، پاگل خانے میں فوت ہوگیا، اس کی بیگم سوات کی تھی اور اس کا چھوٹا بچہ بھی تھا۔ بچہ جوان ہوا تو اس کی ماں اور ماموںکو لوگوں نے بتایا کہ تمہارے باپ کا مختصر خاندان تھا، حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے ختم ہوگیالیکن اس جوان نے کہا کہ اگر مجھے اپنے خاندان کا اتہ پتہ نہیں بتاؤ گے تو میں خود کشی کرلوں گا۔ پھر وہ پہنچ گیا۔ کانیگرم میں ہم اپنے گھر بیچ چکے ہیں۔ جوان نے شوق کی وجہ سے کانیگرم دیکھنے کیلئے وزیرستان کا سفر کیا۔ نابلد ہونے کی وجہ سے شام کو مکین کے شہر میں پھنس گیا۔ ایک محسود نے پوچھا اور اپنی دکان کھول کر اس میں سلادیا۔ جوان نے دوسرے دن شوال دیکھنے کی بھی ٹھان لی۔ راستے میں واپسی پر گاڑی خراب ہوئی۔ پھر کانیگرم پہنچا۔ ایک دن ایک محسود مہمان کو موٹر سائیکل پر پہنچانے گیا۔ راستے میں واپسی پر موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوا۔ طالبان بھی نظر آئے جو پملفٹ پھینک رہے تھے کہ ”اگر عورت کی قیمت اتنی رقم سے زیادہ لی تو اس پر ہم ایکشن لیں گے”۔ طالبان بیچارے اخلاص کیساتھ محسود قوم کو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اسلام اور پشتو کی طرف کھینچ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں اسلام تو بہت دور کی بات ہے اخلاقی اور قبائلی اقدار بھی کھورہے ہیں۔
منظور پشتین نے بھی اعلان کیا تھا کہ اپنی بہن بیٹیوں پر قیمت وصول مت کرو لیکن جب تک قرآن و سنت کے احکام کو تفصیل سے سمجھ کر معاشرے کے سامنے علماء کرام متفقہ طور پر نہیں رکھیں گے تو غلط رسم و رواج سے نہیں نکل سکتے۔ قرآن کے احکام ایسی روشنی ہے جو گھپ اندھیروں کو خود بخود ختم کردیتا ہے۔

__این جی اوز بھی طالبا ن کی حامی ہیں؟__
وزیرستان محسود ایریا میں جو طالبان افغانستان سے واپس آئے ہوئے ہیں وہ اپنے علاقہ میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کیلئے کچھ ایسے اقدامات کرنے پر لگے ہوئے تھے کہ عوام میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرلیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا صالح قریشی نے بھی کہا کہ ”یہ وطن کے بچے ہیں اور ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ امن وامان کی ذمہ داری ریاست کی ہے”۔PTMکے رہنما شہزاد وزیر نے بھی شوال میں تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ” یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنوں کے جنازے نہیں اٹھا چکا ہو۔ ہمارے طالبان نے افغانستان کیلئے قربانی دی مگر کسی نے وہاں ان کو چوکیداری کی نوکری بھی نہیں دی۔ پنجاب بھی ہمارے ان بھائیوں کو قبول نہیں کرتا ہے۔ ہماری اتنی گزارش ہے کہ پھر ہمارے ہی خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی غلطی نہیں کریں۔ عوام سے اپیل ہے کہ اگر تمہیں فوج یا طالبان اٹھاکر لے جائیں تو ہم تمہارے آگے کھڑے ہوںگے۔ جس نے جرم کیا ہوگا تو ہم کہیںگے کہ اس کو ڈبل سزادو۔جرم نہیں کیا ہوگا تو دھرنہ دے کر ہم تمہارے ساتھ اس وقت تک بیٹھ جائیںگے جب تک اس کو چھوڑ نہ دیں”۔
شمالی وزیرستان میں ایک وزیر44سال بعد اپنے وطن لوٹ آیا ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر مجھے یہاں عورت شادی کیلئے کوئی دے تو میں واپس نہیں جاؤں گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بہت سارے پختون جوان ہیں جو اسلئے شادی سے محروم ہیں کہ لڑکیوں کے باپ بہت زیادہ پیسے مانگتے ہیں۔10سے20لاکھ تک رقم حق مہر کے نام پر لی جاتی ہے جو اس عورت کی اپنی قیمت ہوتی ہے اورحق مہر اس کا باپ اور بھائی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان خواتین کو اس ظلم وجبر سے چھڑانے کیلئے کم حق مہر کے مطالبے کا اعلان کریں تو علماء اور این جی اوزکو طالبان کی حمایت کرنا پڑے گی۔ جس پشتون معاشرے میں سسر اپنی بیٹی اور اپنے داماد کے درمیان شادی کی راہ میں اسلئے رکاوٹ ہو کہ اس کو لاکھوں کابھتہ چاہیے تو اس کو انگریز ، پنجاب کی فوج اور طالبان کی غلامی سے چھڑانے کے بجائے پہلے اپنی بے غیرتی کے خلاف ہی جنگ کرنا چاہیے۔ ہمارا عالم منبر پر بیٹھ کر خوشی سے نہال ہے کہ ملائشیاء کے تعلیمی نصاب میں خان عبدالغفار خان کو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کا عظیم لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریز اور اس کی باقیات کے خلاف خان عبدالغفار خان اور خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی ان کو آزادی کا عظیم ہیرو سمجھتے ہیں مگر پشتونوں کواپنی بے غیرتی کے دلدل سے نکالنے میں ان کا کیا کردار ہے؟۔
علماء ومفتیان کا کیا کردار ہے؟۔0+0=0۔اسلئے پشتون نوجوان اپنی اپنی مذہبی اور قوم پرست قیادت سے بغاوت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ منظور احمدپشتین ایک اچھا ، مخلص اور مضبوط اعصاب کا مالک نوجوان ہے۔ محسود قوم کی خوبیاں اس میں بالکل موجود ہیں۔ محسود قوم کی خوبیاں دنیا بھر میں کسی دوسری قوم میں موجود ہوتیں تو مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ اللہ نے اسی قوم میں مجھے پیدا کرنا تھا۔ میں علامہ اقبال کی طرح اپنی کم بختی کا اظہار نہیں کروں گا کہ ”اس قوم میں مجھے پیدا کیا ہے جس قوم کے ا فراد غلامی پر رضامند ہیں”۔ دنیا کی نمبر1ہماری ایجنسیISIبھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے غلاموں کا سہارا لیتی ہے۔
منظور پشتین حصار تنگ محسوس کرکے کہتا ہے کہ ہم پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے حقوق مانگتے ہیں اور جوش وخروش کا جم غفیر دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ ”ہم اپنی عدالتیں لگائیںگے اور میں فوجیوں کو سزا دوں گا”۔ جب طالبان نے وزیرستان میں اپنی عدالتیں لگائی تھیں تو اس وقت ریاست پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ طالبان کے آگے محسود قوم نے ہتھیار ڈال دئیے۔ اگر مسلح فوج ان کی جان نہ چھڑاتی تو ازبک ومحسود طالبان کیا سلوک کرتے؟۔ جس دن ہماری قوم نے جاہلیت کے خلاف شعور کا علم بلند کرنا شروع کیا تو انقلاب آئے گا۔

__قرآن کے نام پر ریکارڈدھوکہ بازی __
خیرالمدارس ملتان میں ایک ایرانی بلوچ طالب علم پڑھتا تھا اور اس کا ایک پٹھان دوست مولانا اجمل موسیٰ خیل کا تعلق جمعیت علماء اسلام ملتان سے تھا اور حسین آگاہی ملتان میں ہمارا اور جمعیت علماء اسلام کا دفتر قریب قریب تھے۔ جب ہمارے ہاں مولانا فضل الرحمن کا جلسہ تھا اور قاضی فضل اللہMNAساتھ آئے تھے جو اب امریکہ میں ہیں۔ مولوی اجمل اور ایرانی بلوچ میرے ساتھ گومل ٹانک گئے اور وہاں سے میں ان کو وانا جنوبی وزیرستان کی سیر کرانے بھی لے گیا۔ مولانا نور محمد صاحب شہید سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائل40ایف سی آر کی وجہ سے بدترین غلام ہیں۔ آپ لوگ بلوچستان سے انقلاب کا آغاز کریں وہاں سے کامیابی بھی ملے گی۔ پھر منظور پشتین کے علاقہ میں مولانا نور محمدMNAاور مولانا اکرم اعوان کیساتھ مجھے سردار امان الدین شہید نے عزت بخشی تھی۔ مولانا اکرم اعوان نے کہا تھا کہ ”انقلاب کیلئے وزیرستان کی سرزمین اور لوگوں کو خدا نے ایسا رکھا ہے جیسے کسان اچھی نسل کیلئے بہترین گندم محفوظ رکھتے ہیں”۔ میرا مدعا یہ تھا کہ” اسلام کا آغاز اپنی ذات، اپنے ماحول اور اپنے غلط قانون ورواج کے خلاف آواز اٹھانے اورعمل کرنے سے ہوگا”۔
1991ء میں کانیگرم شہر کے مولوی محمد زمان نے مجھ سے پہلی مرتبہ بات کی اور شریعت کے نفاذ کیلئے حدود کے اجراء پر اتفاق کیا تو میں نے کہا کہ” اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ بیٹی کی قیمت3لاکھ ہو یا70ہزار۔ جتنی بھی ہومگر یہ عورت کا اپنا حق ہوگا۔ باپ اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا ہے”۔ اس نے کہا کہ” یہ تو بہت مشکل ہے”۔ میں نے کہا کہ اپنی بیٹی کو اس کا اپنا شرعی حق دینا مشکل ہے تو دوسروں پر سنگسار کرنے ،ہاتھ کاٹنے اور کوڑے کی سزائیں دینے کا جواز کس طرح بن سکتا ہے؟۔ آج پھر طالبان وہاں پر کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایرانی بلوچ بعد میں دارالعلوم کراچی سے دستار فضلیت باندھ کر اپنے وطن گیا۔ میری خواہش تھی کہ کسی طرح ان سے رابطہ ہوجائے۔ اخبار پر میرا نام دیکھ کر رابطہ کیا۔ دوسرے دن میں کراچی پہنچ گیا۔ اس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک امام مسجد نے کسی عورت کا حلالہ کیا۔ پھر کچھ دن بعد اس عورت سے سامنا ہو ا اور پوچھا کہ مزہ آیا تھا ؟، عورت نے کہا کہ نہیں!۔ اس نے کہا کہ پھر حلال نہیں ہوئی اور دوبارہ مباشرت کی اور پوچھا کہ اب مزہ آیا تو عورت نے کہا ہاں!۔ اس نے کہا کہ اب حلال ہوگئی۔ وہ ایرانی بلوچ پھر ہماری کتابوں کو ایران بھی لے گیا۔
جب مولوی کہتا ہے کہ جب تک اپنی بیگم کا حلالہ نہیں کروالوگے تواس کے قریب نہیں جاسکتے ہو اور مولوی کا فتویٰ معاشرہ مان لیتا ہے تو پھر اسلام کے نام پر مسلمان قوم سے کیا نہیں منوایا جاسکتا ہے؟۔ اسلام کے نام پر مسلمان قوم کو بے غیرت بنادیا گیا عورت کے حقوق سلب کردئیے گئے ہیں۔ عورت کا اختیارسلب کیا گیا ہے۔ عورت وہ ماں ہے جس کے پیروں کے نیچے جنت ہے جب انسان اپنے وطن سے زیادہ محبت کرتا ہے تو دھرتی کو اپنی ماں قرار دیتا ہے حالانکہ جس دھرتی کو ہند کا ہندو اپنی ماںقرار دیتا ہے تو اس دھرتی سے ہمارا مہاجر مسلمان بھائی ہجرت کرکے ہمارے وطن میں آیا ہے۔ اس ماں دھرتی کو قائداعظم محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی خان دونوں نے چھوڑ دیا تھا اور پھر اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں ان لوگوں کو کافر اور غدار قرار دیا جو دھرتی کیلئے سرحدی گاندھی اور بلوچی گاندھی بن کر انگریز سے لڑے۔ جو ہندؤوں سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے تو پنجابیوں سے کیوں کرتے؟۔ لیکن مولوی اسلامی نظام کو بھول گئے اور قوم پرست خاندان اپنے آباء واجداد کی سیاست بھول گئے ۔

__ قوم پرستی، طالبان پرستی ، نفرت پرستی__
جبPTMنے قوم پرستوں کو یقین دلایا کہ الیکشن میں حصہ نہیں لیںگے تو جن کی الیکشن لڑنے کی اوقات تھی تو انہوں نے الیکشن لڑا اور 3لیڈروں میں سے وزیرستان کے محسن داوڑ اور علی وزیرMNAبن گئے۔ ان کوPTMسے باہر کردیا جاتا تو تثلیث کا حامل منظور پشتین صلیب پر نہیں چڑھتا۔محسن داوڑ نے الگ پارٹی بنالی اور علی وزیر آزاد حیثیت سے اب تکPTMکاMNAہے۔ اور محمودخان اچکزئی سے اس نتیجے میں اپنے کارکنوں نے الگ پارٹی بنالی ہے۔
ہماری کوشش ہوگی کہ پارلیمنٹ میں313افراد ہمارے منشور کے ہوں اور قومی اسمبلی کی باقی نشستوں پر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں لائیں تاکہ باہمی مشاورت کی قانون سازی سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔ مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی ، حافظ سعد رضوی، نوازشریف، مریم نواز ، عمران خان، شیخ رشید ، اعجاز الحق، محسن داوڑ، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق ، شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، مولابخش چانڈیو ، اختر مینگل، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اورجماعت اسلامی کے سراج الحق چاروں صوبوں کی تمام جماعتوں کے نامور سیاستدان پارلیمنٹ میں تشریف فرماہوں اور دنیا بھر سے تمام مکاتبِ فکر سے قرآن وسنت کے ماہرین کو تشریف آوری کا موقع دیں اور اسلامی قانون سازی سے انقلاب کا آغاز کردیں۔
اسلام نے مذہب اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرت کی گنجائش نہیں رکھی ہے لیکن علماء قرآن کی طرف دیکھتے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مجوسی، یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کی مساجد کو ایک آیت میں بیان کرکے نہ صرف ان کا تحفظ یقینی بنانے کا عندیہ دیا ہے بلکہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے یاد کرنے کا بھی ذکر واضح کیا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدترین گستاخ تھے لیکن اللہ نے یہودی خاتون سے شادی کرکے اپنے بچوں کی ماں بنانے کی عزت کا مستحق قرار دیا ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تین خداؤں میں سے ایک تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیںاور عیسائی خاتون سے بھی اسلام نے شادی کی اجازت دیکر اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانے کا شرف بخشا ہے۔ یہود ونصاریٰ اسلام دشمنی میں سب سے آگے تھے لیکن اسلام نے اہل کتاب کی اپنائیت سے نواز دیا ۔ قرآن کہتا ہے۔ ان الذین اٰمنوا والذین ہٰدوا والنصٰریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون O” بیشک جو لوگ ایمان والے ہیںاور جو یہودی ونصاریٰ اور صابئین ہیں۔ جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔
سورہ بقرہ آیت62میں اللہ نے مسلمان کوفراخ دل، روشن دماغ اوروسیع الظرف بنایا ہے تو کیا کسی اورمذہب میں اس کی مثال ملتی ہے؟۔مسلمان نے اپنی یہودی وعیسائی بیگم اور اپنے بچوں کے درمیان عقیدے کی بنیادپر نفرت کا ماحول پیدا نہیں کرنا ہے۔ قرآن نے کوئی ایسی تعلیم نہیں دی ہے کہ مسلمانوں کے اندر عقائد کی بنیاد پر تعصبات کا ماحول پیدا کیا جائے اور یہ امید دلائی جائے کہ وہ کچھ بھی اچھا نہ کریں تو جنت میں جائیںگے اور دوسرے کتنے بھی اچھا کریں تو جہنم میں جائیں گے۔ یہودونصاریٰ اور علم سے عاری لوگوں کے ایسے تعصبات کو قرآن میںمحض خوش گمانیاں قرار دیا گیا ہے۔ افسوس کہ آج مسلمان بھی ان کی راہوں پر چل نکلے ہیں۔اسلام نسل، رنگ، قومیت، زبان اور علاقائیت کی بنیاد پر تفریق اور نفرت کا روادار نہیں بلکہ صرف کردار کو اہم ترین معیار قرار دیتا ہے۔
پختون ، بلوچ، سندھی اور مہاجر سے زیادہ قابل رحم حالت اس مظلوم پنجابی قوم کی ہے جس کے پاس عدالت، سمگلنگ، تعلیم، صحت، پنچائیت، روزگار، علم و شعور، سیاست، آزادی اور دنیا کی کوئی نعمت نہیں ہے۔ پسماندہ ، مظلوم، بے بس، بے توقیر، پساہوا ، غریب اور انتہائی بدترین حالات میں زندگی گزارتا ہے۔

__ احمق ملاؤں کی کچھ غیر معیاری حماقتیں__
فقہی مسئلہ ہے جس کو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب”حیلہ ناجزہ” میں نقل کیا ہے کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں اور پھر مکر گیا تو بیوی دو گواہ پیش کرے۔ اگر دو گواہ نہیں اور شوہر قسم کھالے تو عورت ہر قیمت پر خلع لے لیکن اگر شوہر خلع نہ دے تو پھروہ نکاح میں رہنے اور حرامکاری پر مجبور ہوگی”۔
آج یہ فتویٰ بریلوی دیوبندی مدارس میں رائج ہے۔ پشتون، پنجابی، سندھی، مہاجر اور بلوچ کا باپ آزادی حاصل نہیں کرسکتا، جب تک مولوی کا فتویٰ مسترد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔PDMمیں جمعیت علماء اسلام کے رہنما اسلم رئیسانی اور مسلم لیگ ن کے رہنما لشکری رئیسانی نیشنل ڈائیلاگ میں مصطفی نواز کھوکھر، شاہد خاقان عباسی اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطاء الرحمن سے پوچھ لیں۔ محترمہ مریم نواز اور محترم مولانا فضل الرحمن کو بھی مدعو کریں تاکہ عوام الناس جان سکیںکہ آئین پاکستان اب تک اسلامی دفعات سے کیوں محروم ہے؟۔
سورہ ٔ النساء آیت19میں عورت کو خلع اور مالی تحفظ کا حق ہے لیکن احمق علماء نے واضح الفاظ اور ترجمہ کے منافی اس کی غلط تفسیر کی ہے اورآیت229البقرہ سے خلع مراد لیا ہے جو انتہائی درجے کا گدھا پن ہے۔ اللہ نے مرحلہ وار تیسری مرتبہ طلاق کے بعد واضح کیاہے کہ ”تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہیںرہ سکیںگے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو پھر وہ دی ہوئی چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں”۔ آیت229البقرہ۔ اس سے خلع مراد لینا بہت بڑی حماقت ہے اسلئے اللہ نے دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری فیصلہ کن طلاق کے بعد فرمایا ہے کہ عورت کو جو چیزیں دی ہیں ان میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ البتہ آپس میں رابطے کا خدشہ ہو جس سے وہ جنسی تعلقات کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں تو پھر وہ چیز واپس فدیہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ نے طلاق میں عورت کو مالی تحفظ دیاہے اور احمق سیدمودودی نے خلع سے بلیک میلنگ کا ذریعہ قرار دیا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس آیت کے مفہوم اور ترجمہ کو مشکل ترین قرار دیا ہے لیکن مولانا مودوی نے ترجمہ میں خلع کی بات ڈال دی اور جماعت اسلامی نے بھی اصلاح کی بجائے ہٹ دھری کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔ اس میں طلاق کی وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی آئندہ رابطے کیلئے بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑ نا چاہتے ہوں اور اس میں اس رسم بد کا خاتمہ ہے کہ بیوی کو طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ منگنی توڑنے کے بعد بھی غیرت کا مسئلہ آج تک موجود ہے لیکن جب اللہ نے آیت230البقرہ سے پہلے آیات228،229میں عدت کے اندر اور اسکے بعد آیات231،232میں عدت کی تکمیل کے بعد صلح واصلاح اور معروف طریقے سے باہمی رضامندی کیساتھ رجوع کی اجازت دی ہے تو مروجہ حلالہ کی لعنت کو قرآن وسنت کے سر تھوپنا بھی نہ صرف بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ بہت بڑا گدھا پن اور ڈھینچو ڈھینچو بھی ہے۔
اللہ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں آدھا حق مہر فرض کردیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ عورت بھی رعایت کرسکتی ہے اور مرد بھی زیادہ دے سکتا ہے لیکن چونکہ طلاق کا قدم مرد اٹھارہاہے اسلئے جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے اسی کو رعایت لینی نہیں دینی چاہیے۔ ان الفاظ سے بات کا بتنگڑ بناکر مسئلہ نکالا گیا ہے کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کو خلع کا حق نہیں۔اور نسبت توعورت کی طرف بھی ہے ۔واخذن منکم میثاقًا غلیظًا ” اور انہوں نے تم سے پختہ عہدلیا”۔

__علماء ومفتیان سے دست بستہ اپیل__
ہمیں اس شیعہ سے بھی محبت ہے جو نماز، روزہ ، حج اور اسلام کے احکام سے ناواقف مولا علی کا نعرہ لگاتاہے۔ اپنے دادا کا نام ہندو اور سکھ کی زبان سے سنتے ہیں تو بھی ان سے محبت فطری ہے پھر آپ حضرات نے قرآن کے تلفظ ، عربی کی خدمت، اسلام کے احکام کو زندہ اور اس کیلئے نسل درنسل اتنی قربانیاں دی ہیں کہ اگرہندو، عیسائی، یہودی ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکاریہ قربانی دیتے تو آج اسلام سے زیادہ ان کا مذہب رائج ہوتا۔ اگر ہم اسلام کو چھوڑ کر نسل درنسل غیرمسلم کی فہرست بنیں تو بھی ہمارے نانا حضرت محمد خاتم الانبیاء و المرسلین ۖ کا کلمہ بلند کرنے کی وجہ سے آپ سے دلی محبت رکھنا ہماری فطرت کا تقاضہ ہے۔ تمہارا جو مسلک، فرقہ ، گروہ ، رنگ وروپ ہے ہم آپ سے دل و جان سے محبت رکھتے ہیں۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے کہاکہ اگر سید زنا کرے اور حد جاری کرنا پڑے تو یہ کہنا کہ ” پاؤں میں چبھا کانٹا نکال رہا ہوں”۔
البتہ اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے نہ صرف اسلام اور مسلمان بدنام ہیں بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل ہورہی ہے۔ جب کوئی مذہب اتنا مسخ ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ اصلاح کیلئے کسی نئے نبی کو مبعوث کردیتا تھا۔ نبیۖ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے حال میں ایک خاتون کی شکایت پر اعتراف کرلیا کہ ہم عورت کا حق بیان نہیں کرتے۔ حدیث میں واضح طور پر اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کی مخالفت ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی تبلیغ وترغیب نہیں ہوتی ہے۔
جب چھوٹی بچی کا نکاح جائز ہو اور اس پر فقہ میں بحث ہو کہ بالغ ہونے کے بعد وہ اختیار کی مالک بنتی ہے یا نہیں، تو یہ کتنی شرمناک بات ہے؟۔ اگرحضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت6سال اور رخصتی کے وقت9سال تھی تو پھر پاکستان میں16اور18سال سے کم عمر کی بچی پر کیوں پابندی ہے؟۔ کیا سنت پر پابندی لگانا آئین پاکستان میں جائز ہے؟۔ حضرت عائشہ سے نکاح کی تجویز خاتون نے پیش کی تھی اور اس وقت آپ کی بہن حضرت اسماء گھر میں موجودآپ سے 10سال عمر میں بڑی تھیں۔ کیا16سالہ کنواری بہن کی موجودگی میں6سالہ بچی کو ایک خاتون شادی کیلئے موزوں قرار دے سکتی تھی؟۔ اگر دوسری خاتون کی طرف سے رشتہ کی دعوت قبول نہ ہوتی تو حضرت عائشہ کیلئے اسی وقت رخصتی کا بھی فیصلہ ہونا تھا اسلئے کہ فوری ضرورت تھی۔ مارکیٹ میں کئی بڑے علماء ودانشور کتابیں لکھ کر ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمرنکاح کے وقت16سال اوررخصتی کے وقت19سال تھی جس پر زبردست دلائل دئیے ہیں مگر مذہبی طبقہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے ۔عورتوں اور بچیوں کو بیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپ و مغرب اس کی بڑی مارکیٹ ہے جس پرBBCکی رپورٹ بھی آچکی ہے۔ اس سے زیادہ بے غیرتی ، بھڑوا گیری اور دلالی کیا ہوسکتی ہے کہ اپنی بیٹی ، بہن کو نکاح کے نام پر پیسوں کے عوض بیچا جائے؟ اور اس سے زیادتی بے غیرتی یہ ہے کہ عورت سے نکاح کے نام پر جہیز بھی وصول کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک نے مذہب کے مسخ شدہ غلط افراط وتفریط سے تنگ آکر جمہوری بنیادوں پر نکاح و طلاق کیلئے قانون سازی کی ہے۔ اگر اسلام کے اصل احکام کو سامنے لایاجائے تووہ اسلام کے احکام قبول کرکے قانون سازی کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ ہماری پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بچپن کی شادی پر پابندی لگائی ہے اور اس کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا ہے اور عدالت نے مولوی کافتویٰ ردی کی ٹوکری میں ڈال کر عورت کو خلع کا حق دیا ہے تو حلالہ کی لعنت کو بھی ایک جرم قرار دیا جائے۔ بھوس اور پاپڑ سے بھرے ہوئے ہمارے سیاستدانوں اور ارباب اقتدار کے دماغ ودلوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ معاملہ سمجھ اور اس کا احساس کرسکیں اسلئے کہ معیشت بھی ڈبو دی ہے اور وسائل سے مالامال پاکستان کو موالیوں کی طرح بھکاری بنایا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میں انقلاب آئے گا! مولانا طارق جمیل اور مولانا فضل الرحمن دنیا میں کیسے ”حور” بن سکتے ہیں؟۔

پاکستان میں انقلاب آئے گا! مولانا طارق جمیل اور مولانا فضل الرحمن دنیا میں کیسے ”حور” بن سکتے ہیں؟۔

کرپٹ اشرافیہ سیاستدان، جرنیل، جج،صحافی، مفتی اور تمام خوشحال طبقہ بدحال ہوکر دنیا ہی میں ”حور” بن سکتا ہے؟

پاکستان میں تمام کرپٹ خانوادے انشاء اللہ عنقریب ”حور” بن جائیںگے اسلئے انہوں نے بڑے بڑے ہاتھ مارے اور غرباء کا خیال نہ رکھااور ملک وقوم کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے

قرآن میں خوشحال لوگوں کے” حور”یعنی بدحال بننے کی نشاندہی ہے اور نبیۖ نے کور بننے کے بعد ”حور” بننے سے اللہ کی پناہ مانگی ۔ سورۂ رحمان، سورۂ واقعہ اور دیگر سورتوں میں ذکرہے!

فکرِشیخ الہند مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی ، تبلیغی جماعت اور دیوبند ی مدارس کرتے مگر یہ خود گروہ بندی کا شکار ہیں ۔ اپنے مفاد کا تحفظ نہیں بلکہ رجوع الی القرآن مسائل کاحل ہے۔

پاکستان کی اشرافیہ نےIMFاور جنگوں کے نام پر قرضوں اور امداد سے اپنا اُلو سیدھا کیا لیکن مزارعین، بھٹہ خشت مزدوروںاور غریب لوگوں کا کچھ خیال نہیں رکھا۔ ان کی زکوٰة ، خیرات اور صدقات بھی مذہبی طبقہ اور کئی سارے رفاعی اداروں کے مالکان کھا گئے۔ آنے والے رمضان میں سب لوگ اپنے اکاؤنٹ سے زکوٰة نکال کر غریبوں کے ہاتھ میں پہنچائیں جو بھوکے ننگے مررہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوںاور مذہبی مدارس کو بھی رحم نہیں آرہاہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو سیلاب متأثرین کی امداد میں کردار ادا کرنے پر ہم نے اپنے اخبار کے صفحہ اول میں بڑی جگہ دی تھی۔ کوئٹہ جلسہ میں اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجے گئے ٹینٹ سیلاب زدگان کو دینے کے بجائے چوتڑوں کے نیچے بچھائے گئے تھے”۔ حضرت عمر نے نبی ۖ سے کہا کہ ” ہمیں وصیت کی ضرورت نہیں ، ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔ حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ ” باغ فدک کی وصیت نہیں چلے گی اسلئے کہ انبیاء درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑتے”۔ ایک عام صحابی نے حضرت عمر سے کہا کہ ” پہلے یہ واضح کردو کہ آپ کا کرتہ کیسے بنا؟، جبکہ ہم اپنے حصے کے کپڑے سے کرتہ نہیں بناسکتے ہیں”۔ عوام کے پاس کرتہ نہیں ہوتا تھا تو اسلام نے حج وعمرے میں احرام کا حکم دیا تاکہ لوگ کرتہ وشلوار بنانے کی استعداد نہیں رکھتے ہوں تو امیر غریب کا ایک لباس ہو۔
مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام تمام مذہبی جماعتوں سے زیادہ تحمل اور برداشت رکھتی ہے لیکن کوئی اُٹھ کر سوال اٹھاتا کہ سیلاب زدگان کے ٹینٹ کا جلسہ گاہ میں کیا حق بنتا ہے؟۔ تو غریب کو ڈنڈوں سے مار کر شہید کرنے کا خطرہ ہوتا۔ پرویزمشرف ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کیلئے پاکستان کا صدر مملکت تھا۔ بے تاج بادشاہ نے طالبان کا خون کرکے پاکستان کو ڈالروں سے مالا مال کردیا تھا۔ کراچی سے چترال ، لاہور سے تربت وگوادر تک ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کئے تھے لیکن اس کا بیٹا سیدبلال فیکٹریوں، ملوں اوراداروں میں ملازمت کررہاہے۔ بیٹی آرکیٹیکٹ ملازمت کررہی ہے۔ جبکہ ہمارے مذہبی سیاسی خانوادوں کے صاحبزدگان اپنے ہاتھ کے کام اورکسی ملازمت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کے بچوں کی کمپنیوں کے ان کے باپ بھی جعلی ملازم بنتے ہیں۔ اقامہ پر نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا تو یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اسلئے نکال دیا۔” مجھے کیوں نکالا؟ ووٹ کو عزت دو”۔ جس نے نکال دیا تھا تو اسی کو بیرون ملک لندن میں بیٹھ کر کیو ں ایکسٹینشن دی تھی؟۔ جس پر کیپٹن صفدر نے بھی کہہ دیا کہ ”ہمیں اب ووٹ کو عزت دو ،کا کوئی حق نہیں ”۔
حامد میر نے انکشاف کیا کہ ”جنرل قمر جاوید باجوہ نے آخری وقت تک یہ کوشش کی کہ عمران خان کی حکومت قائم رہے ” اور جاوید چوہدری نے اس کے بالکل برعکس انکشاف کیا ہے تو پھر ان دونوں میں سے سچا اور جھوٹا کون ہے؟۔
مذہب ، فرقہ واریت اور سیاسی نفرتوں سے فائدہ کرپٹ عناصر ہی اٹھاتے ہیں اور صحافی بھی کسی نہ کسی کی وکالت کرکے اپنا دانہ حاصل کرتے ہیں مگر غریبوں کا پاکستان میں بیڑہ غرق ہے۔ مذہبی اور سیاسی نفرت کی جگہ محبت وشفقت سے افہام وتفہیم کی فضاء پیدا کرکے فکرو شعور اور احتساب کی سخت ضرورت ہے۔
فوج کے جرنیلوں اور ججوں کا آئین میں احتساب نہیں ۔ سیاسی لوگوں نے پارلیمنٹ کے ذریعے نیب کے قوانین ختم کردئیے ۔ پہلے بھی مولانا فضل الرحمن نے نیب کی طاقت کو چیلنج کرکے اپنے پاس اور پھر مریم نواز کے پاس بھی نہیں آنے دیا تھا۔ احتساب، کیس اور جیل صرف کمزوروں اور غریبوں کا مقدر ہے اور جنہوں نے ملک کو لوٹ کر کھالیا ہے وہ احتساب سے بالکل بالاتر ہیں۔
قرآن کی سورۂ رحمن میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں کیلئے دو جنت کا ذکر ہے۔ یہ دنیا کی دو جنتیں ہیں اسلئے کہ آخرت میں سب کیلئے ایک ہی جنت ہوگی ۔ بڑی جنت الفردوس یا چھوٹی جنت۔پھر اللہ نے فرمایا کہ ومن دونھما جنتان ” اور دو کے علاوہ دو جنت اور ہوںگے”۔ یہ بھی دنیا کے دو باغات ہوں گے۔ ایک طرح کے باغات سبقت لے جانے والوں کیلئے اور دوسری طرح کے باغات اصحاب الیمین کیلئے ہوں گے اور تیسری طرح والے مجرم ہوں گے جن کو اصحاب الشمال کہا گیا ہے۔ دو سمندروں کے بیچ میں برزخ یعنی آڑ کا ذکر ہے ،اسی طرح قرآن میں دنیا کے اندر جہنم کی سزا کا ذکر ہے۔ سورہ ٔ رحمن میں دنیاوی جہنم کا ذکر ہے کہ مجرموں کو سزا ملے گی۔ سورۂ واقعہ میں ہے کہ ”یہ گرم ہواؤں و گرمی میں ہوں گے اور سائے میں جو گرمی پہنچائے گا۔ جونہ ٹھنڈاہوگا اور نہ عزت والا ۔بیشک اس سے پہلے یہ خوشحال ہوں گے ۔ بیشک اس سے پہلے یہ بڑے بڑے ہاتھ مارنے (کروڑوں اوراربوں کی کرپشن پر) اصرار کرتے ہوں گے اور ان کا یہ ایمان نہ ہوگا کہ آخرت ہوگی اور سابقہ آباء سے ملاقات پر ان کو بڑا تعجب ہوگا ”۔ (سورہ واقعہ)
جب پاکستان غریبوں اور اچھے لوگوں کیلئے جنت بن جائے گا اور کرپشن کا راستہ رُک جائے گا تو کرپشن میں نہال خاندان انڈسٹریل ایریاکے فیکٹریوں اور ملوں میں اپنا پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کریںگے۔جب تک پاکستان میں یہ کرپشن کیلئے بڑے بڑے ہاتھ نہ ماریں تو بیرون ملک ان کا گزارہ نہیں ہوسکتا ۔ مریم نواز نے سچ کہا کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں لیکن جب دوبارہ اقتدار کی یاترا کرلی تو پھر بہت مال بنالیا اسلئے پاکستان آج لڑکھڑا رہاہے۔ان کے پاس2008سے2013تک پنجاب کی حکومت رہی۔مرکز میںIMFاور دنیا بھرسے2013تا2018تک اتنے قرضے لئے کہ عمران خان کوIMFمیں خودکشی کرنے کیلئے مجبوراً جانا پڑگیا تھا۔ ا ب حکومت نے بہت کم مدت میں پھر خزانہ ختم کرکے ملک کو تیزی سے دیوالیہ بنانے کی طرف پہنچادیا ہے۔
اللہ نے فرمایا : انہ ظن ان لن یحور ” بیشک وہ سمجھتا ہے کہ وہ حور نہیں بن سکتاہے”۔ اللہ نے خوشحال سے بدحال بنادیتاہے ۔ نبیۖ نے دعا مانگی تھی کہ ”اللہ کور کے بعد حور نہ بنائے”۔ بنوامیہ، بنوعباس، سلطنت عثمانیہ اور مغلوں کے خاندانوں کیساتھ تاریخ میں کیا ہوا تھا؟۔ یہ کم عبرت ہے؟۔
آج ہمارے سیاسی خانوادے، بعض کرپٹ جج اور جرنیل اور علماء ومفتیان سمجھتے ہیں کہ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ تنزلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت حاجی محمد عثمان کے خلفاء اور الائنس موٹرز کے مالدار مالکان پہلے غریب تھے اور پھر بہت دولت مند بن گئے اور پھر ان کے دن ایسے بدلے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ مولانا طارق جمیل ایک غریب مولوی تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں کبھی کبھی مسجد میں بیان کرنے آجاتا تھا۔ مولانا فضل الرحمن بسوں میں سفر کرتے تو بلانے والے کرایہ دیا کرتے تھے۔مولانا مفتی محمود کے ٹین کا دروازہ اور کچا مکان مشہور تھا کہ وزیراعلیٰ رہنے کے باوجود فقیرانہ زندگی کا شعار اپنائے ہوئے ہیں۔ جن نوابوں ، خانوں اور سرمایہ داروں کے مقابلے میں مفتی محمود اور پھر مولانا فضل الرحمن الیکشن لڑتے تھے آج وہ مولانا کے ساتھی ہیں اور مولانا ان سے زیادہ بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار کا روپ دھار چکے ہیں۔
عمران خان نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا لیکن جونہی پرانے حکمرانوں کی شکلیں اور کارکردگی دیکھ لی تو لوگوں میں نفرت کی آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ جاوید چوہدری جیسے صحافی نوازشریف کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔
جاوید چوہدری نے اپنے ایک تازہ ویلاگ میں کہا ہے کہ” اسلام آبادF9پارک کے واقعہ میں پشتو اسپیکنگ ملوث ہیں۔افغانستان اور پختونخواہ سے آنے والوں کی بڑی تعداد اسلام آباد کسی ایڈریس کے بغیر رہتے ہیں۔ اگر ان کو جیل میں ڈالا جائے تو وہ خوش ہوں گے کہ کھانا، رہائش اور پنکھا بھی مفت کا ملے گا۔ رپورٹ یہ ہے کہ5،6ماہ بعد ان لوگوں کے ہاتھوں اسلام آباد میں جینا دوبھر ہوجائے گا۔ کسی بھی معاشرے میں جرائم اس وقت ہوتے ہیں کہ جب ان کو سزا نہیں ملتی ۔ قصور کے زینب کیس میں مجرم کو پھانسی کی سزا مل گئی تو جرائم بہت عرصہ تک رُک گئے تھے۔ اسی طرح موٹر وے پر واقعہ ہواتو جب ریاست نے پکڑنے کی کوشش کی تو مجرموں کو پکڑ لیا اور اس کے بعد پھر آج تک موٹر وے پر واقعہ نہیں ہوا ”۔
جاوید چوہدری نے اپنے ویلاگ میں بتایا کہ اس کا پروڈیوسر کوئی اور ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ جاوید چوہدری اپنے ذہن سے پروگرام تشکیل دیتاہے لیکن جب اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی ہے تو یہ قوم پر واضح ہونا چاہیے کہ طوطے نے اپنی نہیں کسی اور کی زباں بولنی ہے۔ یہ اور کون ہے؟۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور سب کیخلاف کسی نہ کسی ایشو پر بات کرنے دیتا ہے مگر ن لیگ کیخلاف نہیں ۔
عمران خان کے لونڈوں اور لپاڑوں کی کوئی زیادہ حیثیت بھی نہیں ہے لیکن نوازشریف نے سارے اچھے لکھاری اور گفتار کے غازی بھرتی کرلئے ہیں۔ ہم سیاست سے زیادہ دینی معاملات کی اصلاح کے درپے ہیں لیکن دین بھی سیاسی معاملے سے زیادہ جدا نہیں ہے۔ قرآن وسنت کے احکام دین ہیں ۔ اولی الامر کی اطاعت بھی قرآن کا حکم ہے لیکن تنازعہ ہوجائے تواس کو اللہ اور رسولۖ کی طرف لوٹانے کا حکم ہے۔ اولی الامر کی حیثیت سے خلفاء راشدین بلکہ رسول پاک ۖ سے بھی قرآن وسنت میں اختلاف کی گنجائش تھی۔ سورۂ مجادلہ، غزوۂ بدرکے قیدیوں پر فدیہ،حدیث قرطاس، صلح حدیبیہ میں حضرت علی کارسول اللہ کے لفظ کونہ کاٹنا وغیرہ بہت سارے معاملات کی مثالیں موجود ہیں۔ قرآنی احکام بھی مسخ کئے گئے ہیں، سیاست کا توآوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔
جاوید چوہدری نے اپنے پروڈیوسر کاانکشاف اسلئے کیا کہ زینب کے واقعے کے بعد بھی بہت سارے واقعات کا تسلسل رہاہے۔ بس کے ائیر ہوسٹس کیساتھ تو کنڈیکٹر اور ڈرائیور نے زیادتی کی ہے جو پختونخواہ اور جنوبی پنجاب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ شمالی پنجاب میں کس کس قسم کے مظالم نہیں ہوتے ہیں؟۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے لیکن جرائم کے رُخ کو کسی ایک جانب سے موڑ کر دوسری جانب کردینا انصاف کا تقاضا نہیں ۔ پختونخواہ اور بلوچستان میں پولیس سے زیادہ پاک فوج کا عمل دخل ہے۔ جب وزیرستان اور سوات سے نقل مکانی کروائی گئی تو نوازشریف کے دور میںAPSکاواقعہ ہوا تھا۔ عمران خان نے بھی دھرنا چھوڑ دیا تھا۔ نوازشریف کی جان صحافی راشد مراد کھریاں کھریاںMRTVلندن نے اردو اور پنجابی میں ویلاگ کیا کہ ” پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ پاک فوج نے اسلئے کروایا کہ عمران خان کی ضرورت پوری کی جائے اور دھرنے کی شرمندگی سے بچنے کیلئے فیس سیو ایگزٹ مل جائے”۔ اب پشاور پولیس کا واقعہ ہوا تو عمران خانی کہتے ہیں کہ الیکشن کو التوا میں ڈالنے کیلئے پھر قتل کی سنچری پوری کی گئی ہے۔ نوازشریف کے دور میںقومی ایکشن پلان بن گیا اور پھرAPSکے واقعہ میں جن لوگوں کو پھانسی کے پھندہ پر لٹکایا گیا ،ان میں منظور پشتین نے اپنا ایک بے گناہ ذاتی دوست بھی بتایا تھا کہ چند سال قبل اس کو لاپتہ کیا گیا تھا اور پھر اس کوAPSکے واقعہ میں ملوث قرار دیا گیا۔ سوات سے مولانا فضل اللہ بھاگ گئے ۔ مسلم خان، محمود خان گرفتار تھے اورتین تین مرتبہ پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی مگر نوازشریف نے یہ ترکہ عمران خان کیلئے چھوڑ دیا تھا اور پھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چھوڑ دیا ۔
بیوورکریسی تو ویسے بھی تباہ ہے۔ عدالت مُنّی بھی شروع سے بدنام ہے اور فوج کا بھرکس بھی نکل گیا ہے۔ سیاستدان اور مولوی سے بھی اعتماد اُٹھ چکا ہے اور انقلاب کیلئے کوئی منظم جماعت بھی تیار نہیں۔ دہشت گردی بھی سر پر منڈلا رہی ہے۔مفتی اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا مفتی زرولی خاننے کہا تھا کہ ”علامہ سید محمد یوسف بنوری نے الاستاذ مودودی لکھی تو جماعت اسلامی نے ان کا سامان ضبط کرانے کا سرکاری بندوبست کرلیا کیونکہ سعودی عرب میں ان کے اچھے تعلقات تھے لیکن حرم کے امام کیساتھ مولانا بنوری کی ذاتی دوستی تھی اسلئے وہ تفتیش اور تلاشی ختم کی گئی۔ علامہ بنوری اپنی کتاب پہنچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن عرب سید قطب اور سید مودودی سے بہت متأثر تھے۔ مولانا بنوری نے کہا تھا کہ کتاب کا نام یہ رکھوں گا کہ صنمان یعبدان فی الجزیرة ” دو بت جن کو جزیرة العرب میں پوجا جاتا ہے”۔ لیکن وہ یہ کتاب نہیں لکھ سکے۔ بنوری نے فرمایاتھا کہ سید قطب اور سید مودودی دونوں ناصبیت کی جدید شکل ہیں۔ جن کے مضر اثرات سے عرب بالکل بے خبر ہیں”۔
آج جدیدناصبیت کے اثرات نے خوارج جدید کی طرح دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ بھی اس سے متاثر ہیں۔ اس کا علاج تعصبات کو ہوا دینا نہیں ہے۔ اگر رسول اللہ ۖ فتح مکہ کے بعد سب کو معاف کرسکتے ہیں اور حضرت علی نے حضرت ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو خلافت سے اتارنے کیلئے تحریک کا آغاز نہیں کیا تو ہمیں بھی حضرت نبیۖ اور علی کی سنت پر چلتے ہوئے تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ وہ وقت دور نہیں کہ حضرت ابوطالب کے خلاف سنیوں کے دل صاف ہوں گے اور حضرت عمر کے خلاف شیعوں کے دل صاف ہوں گے۔ اسلام کیلئے اولین مسلمانوں نے جو خدمات انجام دیں ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کی درست تفسیر کیلئے باہمی اعتماد کا رشتہ قائم کرنا ضروری ہے۔
عربی کا ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے موصوف اور پھر صفات کا ذکر ہوتا ہے۔ سورۂ رحمان میں باغات اور ان کی صفات کا ذکر ہے۔ مردان میں ہمارے ایک مہربان پیر شکیل صاحب کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے اور جمعیت علماء اسلام میں بھی انہوں نے شرکت کا اعلان کیا تھا۔ سفید جامع مسجد کے امام ہیں۔ پشاور اور ٹانک کی طرح مردان میں بھی سفید مسجد کی تاریخی حیثیت ہے۔ پیر شکیل صاحب نے ہمارے لئے نیک تمناؤں اور ہر طرح سے تعاون کا اظہار کیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ”حور کی تفسیر سے وہ متفق نہیں ہیں”۔ سچی بات ہے کہ مجھے اس بات سے اتنی خوشی نہ ہوتی کہ وہ اتفاق کا اظہار کرتے جتنی خوشی اس بات سے ہوئی ہے کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں”۔
ولمن خاف مقام ربہ جنتان،ذواتا افنان، فیھا عینان تجرےٰن ، فیھا من کل فاکھة زوجٰن، متکئین علی فرشٍ بطائنھا من استبرقٍ و جنا الجنتین دان ، فیھن قٰصٰرت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان ، ھل الجزاء الاحسان الا الاحسان ” اور اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے دو باغات ہوں گے۔ جس میں دوچشمے جاری ہوںگے۔ اس میں ہر پھل کی دوقسمیں ہوں گی۔وہ بیٹھے ہوں گے تکیہ لگائے جنکے استراطلس کے ہوںگے۔ اور دونوں باغ کے پھل قریب لٹک رہے ہوںگے۔ ان کے اطراف چھوٹے قامت کے ہوںگے۔ اس سے پہلے ان کوانسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جیسے وہ یاقوت اور مرجان ہوں۔ کیا اچھائی کا بدلا اس کے سوا کیا ہے کہ اچھائی ہو؟”۔
ان آیا ت میں صرف مردوں کیلئے خوشخبری نہیں بلکہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں دو باغات کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جن میں دوچشمے بہتے ہوںگے ۔ ہرقسم کے پھل کی دودو قسمیں ہوں گی۔ ایک شوگر والی اور دوسری شوگر فری ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان میں فنکاری کا خوب استعمال ہوگا۔ آج کل ویڈیوز پر باغات کی نئی اقسام دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے باغات کا پہلے تصور بھی نہیں تھا جن کے پھلوں کے رنگ یاقوت اور مرجان کی طرح خوش منظر ہوتے ہیں۔ اسلئے فرمایا گیا کہ” اس سے پہلے انسان اور جن نے ان کو چھوا نہیں ہوگا”۔ جنتی خواتین اور مردوں کو اللہ نے ویسے بھی الطیبون اور الطیبات کہا ہے۔اگر حوروں کو انسانوں اور جنات نے نہیں چھوا ہے تو جنت کی خواتین بھی چکلوں سے تو نہیں نکالی گئیں ہیں؟۔ اس طرح تو انسان نیک طینت خواتین کی توہین واہانت ہوجاتی ہے۔ جب انقلاب آئے گا تو نیک لوگوں کو ایسے دوباغات انعام میں مل جائیںگے جو ترقی یافتہ دور کی وجہ سے پہلے دنیا میں ایسے پھل اور باغات کا وجود نہیں ہوگا۔ اسلئے جن وانس نے ان کو اس سے پہلے چھوا نہیں ہوگا لیکن جب وجود میں آئیں گے تو چھوا بھی ہوگا اور کھایا بھی ہوگا۔ پہلے چھونے کی نفی ہے اوربعد میں چھونے کی خبر ہے۔
ان آیات میں باغات اور پھل موصوف اور ان کی صفات ہیں۔ اور اللہ سے ڈرنے والے موصوف ہیں اور اطلس کے غلاف والے تکیہ پر ٹیک لگاکر بیٹھنے کی حالت ہے اور پھر دونوں باغات اور پھل موصوف اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تمام مکاتبِ فکر والے قرآن کا درست ترجمہ کریں۔ وزیرمذہبی امورمولانا عبدالشکور بیٹنی اور وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے اعلان بھی کیا ہے۔ہماری قوم کو رہنمائی کایہ سب سے بہترین تحفہ مل جائے گا۔
ومن دونھما جنتٰن، مدھآمتٰن،فیھا عینان نضاحتٰن ، فیھمافاکھة و نخل ورمان ، فیھن خیرٰت حسان ، حور مقصورٰت فی الخیام ، لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان ، متکین رفرف خضرٍ و عبقریٍ ”اور ان دونوں کے علاوہ دوباغ اور ہوں گے۔ جو گہرے سیاہ مائل سبز رنگ کے ہوں گے۔ ان میں دو اُبلتے چشمے( فوارے) ہوںگے۔ ان میں پھل ہوں گے، کھجور اور انار ہوں گے۔ جو بہترین ذائقے اور خوشنما شکل والے ہوں گے۔ ( یہ پھلوں کی صفات ہیں اور جب عورتوں کا تذکرہ نہیں توان کی صفات کہاں سے آئیںگی؟) جدت والے پودے خیموں میں بند ہوں گے۔ ان کو پہلے انسان نے چھوا ہوگا اور نہ جن نے ۔ (اللہ سے ڈرنے والا دوسرا طبقہ اصحاب الیمین والے) سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے”۔ سورہ رحمن کی آیات کا انشاء اللہ عنقریب دنیا مشاہدہ کرے گی۔
سورہ رحمن کے بعد سورہ واقعہ میں بھی ان کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ صحابہ کرام میں السابقون السابقوں اور مقربوں کی بڑی جماعت تھی لیکن دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو یہ بہت چھوٹی جماعت ہوگی۔ البتہ اصحاب الیمین میں پہلوں کی بھی بہت بڑی جماعت تھی اور آخر میں بھی بہت بڑی جماعت ہوگی ۔ تیسرے مجرموں کی جماعت ہوگی جن کو اصحاب الشمال قرار دیا گیا ہے۔
حجاز مقدس میں مکہ سے مدینہ تک کوئی نہر ،پانی کا نالا اور چشمہ نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مشرق کی سپر طاقت فارس اور مغرب کی سپر طاقت روم کو شکست سے دوچار کرکے صحابہ کرام کیلئے دنیا میں باغات کے انبار لگادئیے تھے۔ دنیا ہی میں ان کو جنت بھی مل گئی تھی۔ دنیا کے تخت وتاج ان کے قدموں میں تھے۔
جب دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو دنیا میں جتنی جدت سے ترقی ہوئی ہے تو آخری دور والوں کو اس طرح کے باغات ملیںگے۔ ایک انقلاب عظیم کی خبر آخری دور کیلئے ہے جو درمیانہ زمانے سے شروع ہوگا۔ سورہ الحدید میں امت کے دو حصوں کا ذکر ہے ۔ کفلین میں نصف اول گزر چکاہے اور نصف آخر ابھی شروع ہونے والا ہے۔ دجال اکبر، مہدی آخری امیر امت سے قبل بھی قرآن کی بنیاد پر انقلابات آئیں گے اور دنیا قرآن سے مستفید ہوگی۔
یاایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ واٰمنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورًا تمشون بہ ویغفرلکم واللہ غفور رحیم O”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ۔ وہ تمہیں رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا،اپنی رحمت سے۔اور تمہارے لئے نور بنادے گا ، جس سے تم چل سکوگے اور تمہاری مغفرت کرے گا اور اللہ غفور رحیم ہے”۔
پہلا حصہ نبوت ورحمت سے اللہ نے شروع کیا تھا۔ خلافت راشدہ، امارت اور سلطنت عثمانیہ کی بادشاہت تک اقتدار تھا۔ پھر دوسرے حصے میں دوبارہ طرزنبوت کی خلافت سے معاملہ شروع ہوگا اور بارہ ائمہ کے آخری امام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک چلے گا۔ آج یہودونصاریٰ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا اقتدار اب کبھی ختم نہیں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے خبردار کردیا ہے کہ
لئلا یعلم اھل الکتٰب الا یقدرون علی شئٍ من فضل اللہ وان فضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم O ” اسلئے تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے جب تک اللہ کا فضل میسر نہ ہو۔ اور یہ بھی جان لیں کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے۔اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے”۔ سورہ الحدید سورہ رحمن اور سورہ واقعہ کے بعد ہے اور یہ اس کی آخری آیات ہیں۔ اس سورہ میں اللہ نے حدید کا ذکرکیا ہے جس میں نفع بخش چیزیں ہیں اور جنگ کے سخت الآت بھی۔ کافروں نے اس کو دنیا میں فسادات پھیلانے کیلئے استعمال کیا اورمسلمانوں کا مشن یہ ہوگا کہ اس کو صرف ترقی وعروج اور نفع بخش معاملات کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان میں حنفی مسلک کی ایک شاخ دیوبندی مکتب ہے ۔دوسری بریلوی ہے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حاجی محمد عثمان کے علاوہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اللہ نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے، مفتی محمود، علامہ یوسف بنوری اور خواجہ خان محمدتک خدمت لی اور دوسری طرف مولانا ابوالحسنات احمد قادری، مولاناشاہ احمد نورانی ،مولانا مفتی خالد حسن مجددی اور علامہ خادم حسین رضوی تک سب نے قربانیاں دی ہیں۔ہماری تحریک میں بھی دیوبندی اکابر، بریلوی اکابر، اہلحدیث اکابر ، جماعت اسلامی اکابر ، ڈاکٹر اسراراور اہل تشیع اکابر سب کا بھرپور حصہ ہے۔ تائیدی بیانات سامنے آئیںگے تو نئی نسل حیران ہوگی ۔
سورہ واقعہ میں دنیا کے اندر مجرموں کا الگ سے ذکر ہے اور آخرت میں ان کا الگ سے ذکر ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا جرم کرپشن کے ذریعے عیش کرنے کا معاملہ بیان ہوا ہے اور محنت کش انہی کی وجہ سے خوار اور پریشان ہیں۔ آج کا ماحول بھی ایسا ہے کہ سب سے بڑا گناہ کرپشن کو سمجھا جاتا ہے۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ عمران خان کی نجی زندگی پر بات کرنا میری غلطی ہے ،اس سے دوسرے بھی محفوظ نہیں ہوں گے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔
خلع کی عدت شریعت میں ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ عمران خان نے جب بشری بی بی سے نکاح کیا تھا تو عدت پوری ہوچکی تھی لیکن شاید انہوں نے تاریخ کا حساب کتاب نکال کر وزیراعظم بننے کیلئے اس غلطی کا ارتکاب کر ڈالا کہ عدت سمجھتے ہوئے بھی نکاح کیا۔ اسلام سے پہلے راجہ داہر کی حکومت تھی۔ نوازشریف اور بینظیر بھٹو نے بھی ننگے بابا سے ڈنڈیاں کھاکر اقتدار حاصل کرنے کی عقیدت رکھی تھی۔ راجا داہرکی ایک سوتیلی بہن تھی اور نجومیوں سے اس کو معلوم ہواتھا کہ اس کا شوہر سندھ کا راجہ بنے گا۔ وزیر نے کہا کہ لوگ بادشاہ بننے کیلئے بھائیوں کو قتل کرتے ہیں،آپ بہن سے نکاح کرلوگے تو کونسی بڑی بات ہے؟۔ راجہ داہر نے کہا کہ بہت بدنامی ہوجائے گی۔ بہر حال راجہ داہر نے آخر کار اس کے ساتھ ہندوانہ رسم کے مطابق نکاح کرلیا۔ اس سے ملے بغیر اس کو گھر بھیج دیا اور دل میں خوش تھا کہ اب سندھ کا راجہ کوئی اور نہیں بنے گا۔
راجہ داہر، نوازشریف ، بینظیر بھٹو، کالے بکرے صدقے کرنیوالا زرداری تک سب ایک ہی طرح کے توہمات میں مبتلاء تھے اور عمران خان نے بھی بشریٰ بی بی کے عملیات کے مطابق بابا فرید کے مزار کی راہداری کو بوسہ دیا اور خاص قسم کے کلمات ہدایات کے مطابق پڑھے، جس کے ویڈیوز دکھائے گئے تھے۔
سعودی عرب کے بادشاہ کو اگر پنجابی میں بہن کی خاص گالی دی ہے تو اس سے زیادہ بڑا معاملہ بابا فرید کے مزار کو سجدہ کرنا تھا۔ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء اسلام کے صدر مولانا حسین احمد مدنی نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کو کچھ اولیاء بنانا چاہتے تھے اور کچھ اس کا نقشہ مٹانا چاہتے تھے۔ آخر میں بنانے والے کامیاب ہوگئے۔ قاری محمد طیب کے بیٹے کودارالعلوم دیوبندکا مہتمم نہیں بننے دیا گیا تو وہ نعت پڑھی جس میں بریلوی دیوبند ی میں فرق نہیں رہتا ہے اور اب دونوں کو قرآن وسنت کے احکام کی طرف توجہ کرکے انقلاب لانا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان وافغانستان کی جنگ پر غضب کہانی : وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی بدترین زہر افشانی

پاکستان وافغانستان کی جنگ پر غضب کہانی : وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی بدترین زہر افشانی

پاکستان اور افغانستان میں جنگ سے فائدہ اور نقصان کس کس کا ہوگا؟۔ یہ بات واضح ہے کہ روس افغانیوں کی وجہ سے آیا تو جنگ میں امریکہ ، یورپ ، چین اور دنیا بھر کی قوتیں کود گئیں۔ پاکستان ، ایران ، سعودی عرب اور دنیا بھر کے مسلم اور غیرمسلم ممالک جنگ کا حصہ بن گئے۔ جہاد کو زندہ کرنے والے سب منافقین اور کفار بھی تھے جو مخلص مسلمانوں کو شہادت کے تمغے کیلئے استعمال کررہے تھے۔ مال غنیمت کہیں اوربٹ رہا تھا اور آگ کا ایندھن کوئی اور تھا۔ جنرل ضیاء الحق آرمی چیف صدر پاکستان اور خاموش مجاہدISIچیف جنرل اختر عبدالرحمان اور کئی بڑے فوجی افسر امریکی سفیر سمیت حادثے کا شکار ہوگئے۔ اعجازالحق کو بھی میڈیا میں یہ شکایت رہی ہے کہ” اس کے باپ کیساتھ تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ نے انصاف نہیں کیا ہے”۔شہیدملت لیاقت علی خان کی بیوہ کو بھی شکایت تھی کہ اسکے خاوند کو قتل کرنے میں بڑے بڑے ملوث تھے مگر انصاف نہیں ملا۔ بیگم راعنا لیاقت علی خان کیلئے5ہزار ماہانہ وظیفہ رکھا گیا اور پھر اس کو جرمنی میں سفیر بھی بنایا گیا۔ اپنے سٹاف کے ملازم سے کہا کہ ” عصر کے بعد چھٹی کے اوقات میں بھی یہ تیری سرکاری ڈیوٹی ہے کہ میرے ساتھ بیٹھ کروقت گزارو” اور پھر شراب کے نشے میں دھت ہوکر اپنے شوہر قائدملت کی شہادت کا ذمہ دار تمام سول اور فوجی حکمرانوں کو قرار یتی تھی۔ قائد ملت کی زوجہ محترمہ کو مادرِ ملت کا خطاب نہ مل سکا۔
خاموش مجاہدISIچیف جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادگان کبھی اپنے باپ کے قتل کی شکایت زبان پر نہیں لائے لیکن جب دوسری بار پانامہ کی طرح خفیہ رقم کے مالک کا قصہ میڈیا پر آیا تو ان کی بہت دولت نکلی۔ مشہور تھا کہ موصوفان پاکستان میںسب سے زیادہ دولت مند ہیں اور تھے بھی اسلئے کہ نوازشریف اینڈکمپنی کو اسلامی جمہوری اتحاد کیلئےISIنے لاکھوں کے حساب سے روپیہ دیا اور ہارون اختروہمایوں اختر کی دولت اس وقت اربوں میں تھی۔ اگر نوازشریف کروڑ پتی ہوتے تو لاکھوں روپےISIسے لینے کی کیا ضرورت تھی؟۔
زرداری اور بینظیر بھٹو کی شادی کے اخراجات عزیز میمن اور بلاول ہاؤس کو ایک پنجابی بلڈر نے موصوفان کو گفٹ کیا تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد دولت کی لوٹ مار سے سرے محل اور سوئیس اکاؤنٹ کے قصے شہباز شریف اور میڈیاکا نمایاں کردار تھا۔ بابائے اسٹیبلشمنٹ غلام اسحاق خان کو بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں بینظیر بھٹو اور نوازشریف نے مل کر جتوایا تھا ۔ پھر دونوں کی حکومتوں کو کرپشن کی بنیاد پر ہی غلام اسحاق خان نے ختم کردیا تھا۔
نوازشریف کو اقتدار میں لانے اور بینظیر بھٹو کو پچھاڑنے میں افغان مجاہدین اور اسامہ بن لادن کا بھی بڑا کردار تھا۔ نوازشریف کے خلاف بینظیر بھٹو بھی لندن اے ون فیلڈ کے مہنگے فلیٹوں کی کہانی میڈیا پر سامنے لائی۔ جس کے سارے ثبوتARYنیوز پر ارشد شریف نے اپنے لیپ ٹاپ سے چلادئیے۔ نوازشریف نے بینظیر بھٹو پر امریکہ کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف پر اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا۔ بہت بعد میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مولانا احمد لاہوری کے صاحبزادے جمعیت علماء اسلام میں اپنے گروپ کی معروف شخصیت مولانا اجمل قادری کو نوازشریف نے تعلقات بنانے کیلئے اس دور میں اسرائیل بھیج دیا تھا اورحامد میر نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب زرداری کے پیچھے شہبازشریف، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے تھے توATVچینل (PTV) پر بتایا تھا کہ ” امریکہ ہی بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے طالبان کو اقتدار میں لایا تھا”۔
صاحبزادہ حامد رضا نے جنرل فیض کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے بعد یہ انکشاف کیا کہ حامد میر، سلیم صافی وغیرہ جو فوج کی مخالفت کرتے ہیں تو ہرتیسرے دنGHQکے گیٹ پر ملتے ہیں اور وہاں سے ہدایت ہوتی ہے کہ کچھ ہمارے خلاف بھی بولیں تاکہ عوام کے اندر معتبر ٹھہر جائیں۔باقی وہاں سے جو بریفنگ ملتی ہے وہی میڈیا پر پھیلاتے ہیں۔ بینظیر بھٹونے افغان کمانڈروں کے خلاف طالبان کو منظم کرکے امیرالمؤمنین ملاعمر کی حکومت بناڈالی۔ نوازشریف پر اسامہ اور اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ افغان جہاد کی ایک آنکھ اسامہ اور دوسری ملاعمرتھے۔9/11ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا امریکہ میں واقعہ ہوا تو اسامہ نے ذمہ داری کو قبول نہیں کیا لیکن اس کو خوش آئند قرار دے دیا۔ امریکہ نے ملا عمر سے اسامہ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور ملاعمر نے جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت مانگا۔
پرویزمشرف پاکستان کی معیشت کیلئے پریشان تھا، بینظیر بھٹو اورنوازشریف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ باری باری اقتدار میںIMFسے بڑے سود کا قرضہ لیا تھا۔ بجلی بنانے کو فرنس آئیل اور کوئلہ سے مشروط کرکے پانی سے بجلی بنانے کا راستہ روکا تھا۔ جب امریکہ نے20ارب ڈالر کی پیشکش کردی تو پھر پرویزمشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کرنا سب سے پہلے پاکستان کیلئے ضروری سمجھ لیا۔IMFکا قرضہ بھی اتار دیا اور اس ملک میں پہلی مرتبہ متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ پہلی اور دوسری پوزیشن پر آئے تھے اور نوازشریف اور بینظیر بھٹو سائیڈ لائن پر کر دئیے گئے۔ دہشت گردوں نے جو بینظیر بھٹو کو راستے سے ہٹایا تھا تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو اقتدار کی شکل میں مل گیا۔ عمران کہتا تھا کہ سولی پر چڑھ جاؤں گا لیکنIMFکے پاس نہیں جاؤں گا۔ تحریک طالبان پاکستان نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے مذاکرات کیلئے عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کردیا تھا۔ جب نوازشریف نے پنجاب میں ق لیگ کو ساتھ ملایا تو مرکزمیں حکومت سے الگ ہوگئے تھے اور پھر پنجاب سے پیپلزپارٹی کو بھی نکال باہر کیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ شریف پر قتل کے الزام کا مقدمہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور سلیمان تاثیر پر بنناتھا لیکن پولیس کے ایک سپاہی نے سچ بولا اور یہ کہانی ناکام ہوگئی تھی۔ رؤف کلاسرا نے اس پر ایک کتاب ” ایک قتل جو ہو نہ سکا” لکھ ڈالی تھی۔ نوازشریف کے حامی جیو کے بزرگ صحافی نے اس دور میں انصار عباسی کوTVپر کتے کا بچہ کہا تھا۔
جنگ کراچی نے شہہ سرخی لگائی تھی کہ ”وزیرمذہبی امور مولانا حامد سعیدکاظمی نے حج میں کرپشن کا اعتراف کرلیا ہے”۔ جس کی اسی روز شام کو مولاناکاظمی نے حلفیہ تردید کردی تھی۔ ان دنوں اعظم سواتی اور جیو ٹی وی ایک پیج پر تھے۔پھر وہ وقت آیا کہ ڈاکٹر خالد سومرو کے بیٹے مولانا فضل الرحمن کے تقدس کی قسم کھانے کی جرأت کررہے تھے ۔ انصار عباسی نے حامد میر کے پروگرام میں دستاویز ات دکھانے شروع کردئیے کہ مولانا فضل الرحمن ، اس کے بھائی اور اکرم درانی کے فرنٹ مین، سیکرٹری اورفلاں کے نام پر اتنی اتنی فوجی زمینیں الاٹ ہوئی ہیں۔
جب دہشت گردوں نے پختونخواہ میں خاص اور پاکستان میں عام طور پر خون خرابے کا بازار گرم کررکھاتھا تو انصار عباسی ان کی اس طرح تائید کرتا تھا کہ گویا نذیر ناجی نے اس کے خلاف100%سچی گالی بکی تھی۔صاحبزادہ حامد رضا نے جنرل فیض حمید کے بیٹے کی شادی کے بعد حالیہ انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ ” فضل الرحمن خلیل کے مدرسہ میں خود کش حملہ آور پکڑے گئے تھے جس میں ان مدرسہ کے اساتذہ بھی ملوث تھے اور ڈان نیوز میں یہ رپورٹ چھپ گئی تھی لیکن ہرجگہ خاص میٹنگوں میں اداروں کے افراد کیساتھ یہ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ محمود خان اچکزئی کی وجہ سے ہمارے لوگ مارے گئے لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہورہاہے؟”۔
جب انصار عباسی کے سامنے کہا جاتا تھا کہ ” آئین میں صدر زرداری کو تحفظ حاصل ہے تو کہتا تھا کہ اسلام میں یہ جائز نہیں ہے کہ صدر کو آئین میں تحفظ ملے اور جب پاک فوج پر تنقیدکا کہا جاتا تھا تو انصار عباسی کہتا تھا کہ آئین میں ان پر تنقید کی اجازت نہیں ہے”۔ یہ منافقت والا اسلام انصار عباسی کے مفادات میں یوں ہچکولے کھارہاتھا کہ جب پیپلزپارٹی اور اسٹیبلیمشنٹ کی لڑائی سامنے آتی تھی تو موصوف کا ایمان پاک فوج کی طرف جھک جاتا تھا اور جب نوازشریف کے خلاف پاک فوج کا کردار نظر آتا تھا تو اس کا ایمان شریف خاندان کی طرف جھک جاتا تھا۔ پہلی مرتبہ پرویزمشرف کے سب سے جھوٹے وزیر محمد علی درانی نے میڈیا پر انصار عباسی کو واحد ایماندار صحافی قرار دیا تھا۔
جب نوازشریف کے خلاف عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کی دوسری مرتبہ سیاست کھیلی تھی تو انصار عباسی کہتا تھا کہISIچیف اب آرمی چیف سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ حامد میر پر حملہ ہوا تو جیو ٹی وی نےISIچیف کا چہرہ اسکرین پر دکھایا کہ یہ دہشت گرد ہے۔ فوج پر حملہ کرنے کا کریڈٹ نواز شریف اور اس کے حواریوں کو سب سے پہلے جاتا ہے اور اب عمران خان کو بھی فوج سے لڑانے میں ان کا زبردست کردار ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے پہلے تین سال آرمی کے کھاتے میں جاتے ہیں اور آخری تین سال پارلیمنٹ کے مرہونِ منت ہیں جس میں نوازشریف ، عمران خان اور زرداری سب شامل ہیں لیکن اس کی وجہ سے فوج کو بدنام کرنے کی مہم جوئی بہت طریقے سے جاری ہے اور اس کے نتائج ملک وقوم کیلئے اچھے نہیں نکلیںگے۔ انصار عباسی کو مری کے گھر کیلئے شہبازشریف نے کروڑوں روپے کا سرکاری روڈ بناکر دیا تھا۔ مری کے بازاروں میں یورپ کا منظر تھا لیکن طالبان خود کش نہیں کرتے تھے اور پختونخواہ کے گھر، مساجد، مدارس ، بازار، چوک اور سیاستدان کچھ بھی محفوظ نہیں تھا۔
پشتو کہاوت ہے کہ ”جب سچ کا پتہ چلتا ہے تو جھوٹ گاؤں بہا کر لے جاچکا ہوتا ہے”۔ پاک فوج ضرب عضب آپریشن میں مشغول تھی اور عمران خان نے دھرنے کے اسٹیج سے پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کردی تھیں۔ جنرل راحیل شریف نے دو کام کئے تھے ایک دہشت گردوں کے خلاف راست آپریشن اور دوسرا فوج سے کرپشن کا خاتمہ۔ نوازشریف کے خلاف پانامہ کا اعمالنامہ جیو کے صحافی عمر چیمہ نے نکالاتھا لیکن نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کو دھائی دینی شروع کردی کہ مجھے بچاؤ۔ پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو لایا لیکن پارلیمنٹ میں جھوٹے بیان اور قطری خط کے حوالے سے عدالت میں کاروائی چل رہی تھی اور نوازشریف بوکھلاہٹ میں اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں مارنے کے وار کر چکا تھا ۔ نااہل ہوا تو مجھے کیوں نکالا کی رٹ شروع ہوگئی۔ صحافی حضرات کی مشکل یہ ہے کہ کرائے پر چلتے ہیں اسلئے پورا سچ کبھی بتانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے ہیں۔ دودھ کے دھلے ہوئے کون ہیں؟۔
جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف سعودی عرب کو جھوٹی کہانی گئی یا یونہی یہ بنادی گئی ہے ؟ مگر جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے پہلے ن لیگ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم اس کو ایکسٹینشن نہیں دیںگے۔ جب بھی کہا یہی بولا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایکسٹینشن نہیں لینا چاہتے ہیں۔ نجم سیٹھی قلابازی کھاکھا کر کھا کھاکر ایک طرف عوامی مقبولیت کیلئے یہ بیانیہ پیش کررہاتھا کہ نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے، دوسری طرف کہتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نوازشریف سے ملی ہوئی ہے اور تیسری طرف بیان دیتا تھا کہ عمران خان کیساتھ گٹھ جوڑ ہے اور چوتھی طرف مارشل لاء کی افواہیں چھوڑتا تھا۔ جس طرف چاہتا تھا تو اپنا کلپ نکالنے کا حکم دیتا تھا کہ میں نے فلاں دن یہی بات کی تھی۔ اب حکومت کا حصہ بن گیا۔
ایک دفعہ ٹینشن پیدا ہوئی تو ن لیگ کے قریبی آدمی نے دعویٰ کردیا کہ ارشد شریف کو نوازشریف اور مریم نواز نے مروادیا ہے۔ میڈیا میں لوگوں نے تبصرہ شروع کردیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کے خلاف اپنا مہرہ کھڑا کردیا ہے ۔ اب اسٹیبلشمنٹ منظر سے غائب ہے اور وہ شخص اپنی جگہ کھڑا ہے۔ ارشد شریف کی شہادت میں کینیا پولیس اور اس وقت موجود بلیک واٹر کے کارندوں کا کھیل قابلِ ذکر ہے۔ جب بڑے پیمانے پر پاکستان میں بلیک واٹر کے کارندوں کا کھیل جاری تھا تو اس وقت شہبازشریف طالبان کیساتھ کھڑاہوا کرتا تھا۔
القاعدہ ایک نمبر بھی تھا اور دونمبر بھی تھا، طالبان امریکہ کیلئے بھی گڈ اور بیڈ تھے اور پاکستان کیلئے بھی گڈ اور بیڈ تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کا کھیل ایک بھی تھا اور الگ الگ بھی۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کردار میں بھی الگ الگ معاملہ ہوتا تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم باجوہMIاورISIدونوںکے چیف رہے ہیں اور بھروسہ کرنا چاہیے کہ اچھا آدمی ہوگا۔ جنرل جاوید اقبال کو امریکہ کی جاسوسی کے الزام میں پہلے14سال کی ناجائزسزاسنائی گئی اور پھرکم کرکے7سال کردی اب اس کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ امید ہے کہ فوجی اور عام عدالتوں سے اس کو بالکل بے گناہ ثابت کرکے مراعات بھی بحال کی جائیں گی۔ اس کی سزا کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جنرل حمیدگل وغیرہ کے کلپ کو بطور دلیل پیش کیا جاتا تھا کہ فوج میں ترقی اور بڑی تعیناتی امریکہ کی ڈکٹیشن پر ہوتی ہے اور اس جھوٹ کا بھانڈہ کھل گیا۔
جب مولانا فضل الرحمن و زرداری کی حکومت تھی تو سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح ہوگیا تھا۔ پھر نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن اقتدار میں آئے تو اس روٹ کو پنجاب کی طرف موڑ دیا جس میں راستے لمبے ہونے کے علاوہ فوگ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان مغربی روٹ کو بحال کردے تو ٹول ٹیکس چین کی گاڑیوں سے زیادہ وصول کرکے قرضہ ادا کیا جاسکتا ہے اسلئے کہ اس میں پٹرول اور وقت کیساتھ بہت معاملات کی بچت ہوگی اور فوگ کی تکلیف بھی نہیں ہوگی۔ ناراض بلوچ اور پسماندہ پشتونوں کو کوئٹہ اور پشاور سے کاروبارکا فائدہ ملے گا۔
اوریا مقبول جان اور حمیدگل جیسے لوگوں کی زندگیاں جہاد اور جنت پانے کی تمنا میں گزرگئی مگر خود اور اپنے بچوں کواس سعادت سے محروم رکھا۔ اوریا مقبول جان نے اپنے نئے ویلاگ میں پھر کہا ہے کہ ” جہاد ہند شروع ہونے والا ہے اور پاکستان کا پتہ چل جائے گا کہ کس جانب کھڑا ہے؟”۔ جب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم افغانستان میں دہشت گردوں کو گھس کر ماریںگے تو طالبان نے اس کے سخت جواب کو مناسب اور اپنا حق سمجھ لیا کہ ” ہم یہاں برطانیہ، روس اور امریکہ کی سپر طاقتوں کو پہلے بھی دفن کرچکے ہیں ایسی غلطی دہرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے”۔ اس پر میڈیا میں بحث مباحثہ تھا کہ افغانستان میں کاروائی کی خبر آئی۔ پاکستان نے اس کی تردید کردی اور افغانستان کے میڈیا نے اس کو اجاگر کردیا۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کام خارجہ امور پر بیان دینا نہیں تھا کیونکہ یہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور اس حناربانی کھر کا کام تھا جس نے کابل کا دورہ بھی کرلیاہے۔
رانا ثناء اللہ نے اسکے بعد زہریلا اور خطرناک چھکا یہ ماردیا۔ صحافی نے پوچھا کہ امریکہ نے ڈرون کے ذریعے تحریک طالبان کو افغانستان میں نشانہ بناکر پاکستان کی مدد کی ہے؟۔ جس پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ” فی الحال میں اس پر بات کرنا ملک کے مفاد کے خلاف سمجھتا ہوں اسلئے بات نہیں کرنا چاہتا ہوں”۔
TTPنے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ پختون دہشتگردی کیخلاف مظاہروں میں کھڑے ہیں ۔TTPکے امیر نور ولی محسود نے علماء سے اپیل کی کہ بندوق رکھنے کا راستہ بتائیں۔ مثبت اقدامات کے بغیرپاکستان اور افغانستان لیبیا اور عراق بننے سے نہیں بچ سکیں گے۔ مل جل کر گریٹ گیم سے نکلنے میں ایکدوسرے کی مدد کریںگے تو معاملہ حل ہوجائیگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

صحافی جمہوریت کو ربڑ بینڈ سے باندھ کر سیاستدانوں کا گند ریٹائرڈ جنرل پر ڈال رہے ہیں ۔

نوازشریف نے پانامہ لیکس کے بعد پارلیمنٹ میں تحریری جھوٹ بولا، پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا ، پھر اس سے مکر گیا، ایون فیلڈ لندن کے فلیٹ پرتو بے شرم کو سزا تک ہوچکی تھی

دھمکی خط میں مداخلت کا اعتراف اور سازش کا انکار تھا۔ توشہ خانہ کے مجرم صرف عمران خان نہیں بلکہ ایک لمبی فہرست ہے ،لاہور ہائیکوٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت نے اپیل کردی

1: پانامہ کا انکشاف ہوا تو نوازشریف نے جھوٹ بولا کہ2005میں سعودی اور دبئی مل بیچ کر 2006ء میں ایون فیلڈ کے فلیٹ خریدے۔2:حالانکہ ان فلیٹ پر پیپلزپارٹی نے1994میں کیس بنایا۔ پھر عدالت میں قطری خط پیش کیا گیا اور اس سے پھر لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔
نوازشریف کے سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مسلسل پروپیگنڈہ کرتی نظرآتی ہے جس میںسارا ملبہ فوج پر گراتے ہیں، کیا ISIنے پارلیمنٹ میں سفید جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر مجبور کیا تھا؟۔ یہ وضاحت کریں!۔
1:پہلے کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ ”ہم بلیک میل نہیں ہوںگے، جس کے پاس جو ویڈیو ہے وہ جاری کرے، ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے”۔
2: عمران خان کے حامی سوشل میڈیا پر کہتے ہیں مریم نواز کی جنرل قمر باجوہ کیساتھ ویڈیو ہے جس کی وجہ سے جنرل باجوہ بلیک میل ہورہاہے۔
عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا ریکارڈ عام کرنے کا حکم دیا تو وفاقی حکومت نے مخالف اپیل دائر کردی۔تحائف کو بیچنے اور استعمال کرنے کی قانون میں اجازت نہیں بلکہ عجائب گھر کی طرح رکھنا ہوتا ہے۔اس حمام میںسب ہی ننگے ہیں۔

___انقلابِ نوازشات دھوبی گھاٹ___
جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس فائز عیسیٰ نے نوازشریف کے خلاف فوج اورISIکے دباؤ کا ذکر کیاتھا لیکن پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے کیوں ایکسٹینشن دی تھی؟، کیا جاوید چوہدری یہ بتائیگا کہ اڈیالہ جیل میں شیو کا بلیڈ دکھا کر منے نوازشریف کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ” اگر ایکسٹینشن نہیں دی تو تجھے ذبح کردینگے؟”۔ کیا جنرل راحیل شریف نے زبردستی سے پارلیمنٹ کے جھوٹے بیان پر مجبور کیا تھا؟۔کیا جنرل باجوہ نے مجبور کیا تھا کہ جھوٹاقطری خط لکھو اور پھر اس کا انکار کردو؟۔ عدالت نے اتنے بڑے بڑے جھوٹ پکڑنے کی جگہ اقامہ پر سزا دی تو اس سے بڑی اور کیا رعایت ہوسکتی تھی ؟۔ لیکن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تسلسل کیساتھ صحافیوں کی ایک بہت بڑی اور انتہائی جھوٹی ٹیم نوازشریف اور اسکے ٹبر کے کپڑے دھو دھو کر دھودھو کر دھو دھوکر اسکا سارا گند فوج اور جنرل باجوہ پر ڈال رہی ہے۔ کیا ان تمام صحافیوں نے کبھی نوازشریف اور اسکے ٹبر سے پوچھا ہے کہ پارلیمنٹ میں اتنا بڑا جھوٹ بولنے اور قطری خط لکھنے پر فوج نے مجبور کیا تھا؟۔ بکاؤ مال کا تسلسل کیساتھ ایک ہی بیانیہ قوم کے ذہن میں ڈالاجا رہا ہے کہ نوازشریف کیساتھ فوج نے بہت بڑا ظلم کیا اور اس کا یہ کہنا درست تھا کہ ”مجھے کیوں نکالا اور ووٹ کو عزت دو”۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہیے!۔

___انقلاب ِعمرانیات دھوبی گھاٹ___
جو صحافی فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماموں، چچا اوربھتیجے بنے تھے اورعمران خان بیساکھی جہانگیر ترین اور علیم خان سے محروم ہوا ۔لوٹے کھوٹے ہو گئے ۔PDMبھی زرداری کیساتھ مل کر حکومت گرانے پر آمادہ ہوگئی تو عمران خان نے فوج کو کہاکہ مجھے کیوں گرایا یا پھر بچایا کیوں نہیں؟۔ جنرل باجوہ کو سب نے مل کر ایکسٹینشن دی ۔ جنرل آصف غفور نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے دوران کہا کہ فوج ہر حکومت کو سپورٹ کریگی جو جمہوری بنیاد پر اقتدار میں آئے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام تنگ تھی ۔ نوازشریف نے جنرلوں کے نام لیکر خوب تذلیل کی اور پیپلزپارٹی،ANPکو بہانہ بناکرPDMسے نکالا حالانکہPDMکا پہلا اجلاس پیپلزپارٹی نے بلایاتھا،جہاں مولانا فضل الرحمن نے غلط پرچی پڑھ کر سنانا شروع کی،ارشد شریف فوج کے پیچھے لگ کرانقلابی بن گئے، مولانا حق نواز جھنگوی نے عابدہ حسین کو نامزدکیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا جھنگوی کا قاتل نواز شریف اورعابدہ حسین کو قرار دیاپھر نوازشریف اور سپاہ صحابہ نے ملکر بیگم عابدہ حسین ،مولانا ایثارالحق کو جھنگ سے مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں جتوایا تھا۔مولانا جھنگوی کے بیٹے کی پراسرار موت ہوئی ، اب دوسرے بیٹے کو جھنگ سے ٹکٹ بھی نہیں دیا جاتا اور اپنوں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

ٹیرین وائٹ عمران خان کی جائز بیٹی ہے ؟بالکل جائزہے

امریکہ، برطانیہ،اسرائیل ،آسٹریلیا کو فتح کیا جائے توجہاز میں لونڈیاں بھر لانا جائز ہوگا؟

نکاح کے نام پر عورتیں پسِ پردہ بیچ دو ؟،انہیں اجنبی اٹھالیجائیں؟ ۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ نے سعودیہ، ایران پھر افغانستان میںانقلاب کے نام پراسلام کیخلاف سازش مسلط کی ہے؟

افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی اسلام اور افغانی غیرت کاتقاضہ ہے تو کیا حلالہ کی لعنت اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضہ ہے؟،علماء کو اسلام کا پتہ نہیں توطالبان بالکل ہی معذورہیں

قرآن وسنت میں نکاح وطلاق ،وضوونمازکے لایعنی مسائل ، لغو اجتہادات کی گنجائش نہیں بلکہ تسخیرِ کائنات کیلئے جدید علوم پر زور ہے۔ ام عمارہکے پورے جسم پر تیروتلوار کے نشان تھے

افغان طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، علماء ومفتیان اور اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا سے سخت ردِ عمل آیا۔ اگر طالبان کو دینی علوم کے پیرائے میں نہ سمجھایا جائے تو وہ مجبور ہونگے ۔ عمران خان اور ٹیرن وائٹ کی کہانی کا پتہ تھا مگر اقتدار میں لایا گیا۔ گیلے کا کچھ گیلا نہیں ہوتا۔ دختر قائداعظم دینا جناح، بیگم راعناقائد ملت لیاقت اورجنرل رانی سے لیکر میڈم طاہرہ مولانا سمیع الحق ، رنگیلاوزیرِ اعظم نواز شریف اور صابر شاہ و مفتی عزیزالرحمن تک داستانیں ہیں۔ منفی پروپیگنڈے اور سیاست بہت ہوچکی ، قوم کو مثبت اقدام کی طرف لائیں۔ طالبان سے اپیل ہے کہ پہلے قوم امریکہ کے مقابلے میں ساتھ کھڑی تھی لیکن اب دنیا بدل چکی ۔ ہم نے آواز لگائی تھی کہ جاندارکی تصویر جائز نہیںجاندار کی تصویر کو مٹادو۔ پردہ کرنا فرض ہے، شریعت کے مطابق پردہ کرو۔ داڑھی منڈانا جائز نہیں ،شریعت کے مطابق داڑھی رکھو۔ اب ہم نے بھی قرآن وسنت اور علماء حق کی تحقیقات کے مطابق اپنی رائے بالکل بدل دی۔تصویر اور داڑھی پر تم نے بھی اپنی رائے بدلی ہے لیکن خواتین کی تعلیم سے جن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے وہ بالکل حقیقت پر مبنی ہیں۔ حضرت آدم و حوا نے ممنوع ہونے کے باوجود شجر کا ذائقہ چکھ لیا جس سے بے لباس ہوگئے۔ بنی آدم کو قرآن نے اپنے ماں باپ کی طرح بے لباس ہونے سے بچنے کا حکم دیاہے۔ اسلام میں باجماعت نماز کی صفوں میں خواتین کا بھی حق ہے۔طواف، صفا ومروہ کی سعی میں شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ جدید تعلیم اسلام کا تقاضا اور عروج کا ذریعہ ہے۔ ان پڑھ معاشرے میں اسلامی لحاظ سے جتنی عورت مظالم کا شکار ہے ،پڑھی لکھی خواتین کو اسکے مقابلے میں بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے،مدارس کا نصاب درست کرو۔
فقہ کی کتابوں میں ہے کہ ” باجماعت نماز کی صف میں پہلے مرد، بچے، پھر بچیاں اور عورتیں کھڑی ہوں گی”۔ جب لوگ پانچوں وقت گلی ،محلے، گاؤں دیہات اور شہروں میں مساجد کے اندر لوگ فیملی کیساتھ نماز باجماعت میں شرکت کریں ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” اپنی عورتوں کو نماز باجماعت اور مساجد میں آنے سے مت روکو”۔ یہ واضح ہے کہ اگر مسلمانوں کی بیگمات یہودونصاریٰ ہوں تو ان کو بھی اپنی عبادتگاہ میں جانے سے مت روکو۔ اگر افغان طالبان اپنی امارت اسلامی افغانستان میں ان اسلامی احکام پر عمل کریںگے تو پھر وہ خود بخود خواتین کو فیملی پارک، شاپنگ مال اور تعلیمی اداروں میں جانے سے نہیں روکیں گے۔ نماز کی طرح طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں مردوں اور خواتین میں صفوں کی ترتیب بھی نہیں ۔ قرآن نے ہمیں ملت ابراہیم پر قرار دیا تو حضرت حاجر ہ اور چھوٹے بچے حضرت اسماعیل کو وادیٔ غیرآباد مکہ میں چھوڑنا کیسا تھا؟۔کوئی محرم مرد پاس تھا؟۔ پھر ان کی سنت صفا ومروہ کی سعی کا فریضہ کیوں ادا ہوتا ہے؟۔ اگر کسی کی بیوی ، بہن، بیٹی اور ماں گھر سے باہر جائے تو اس کو پولیس والے اُٹھاکر لے جائیں؟، یہ کونسی عربی، ایرانی اور افغانی غیرت کا تقاضا ہوسکتا ہے؟۔
طالبان جنگجو ہیں۔ حضرت نُسیبہ( ام عمارہ) بہادر انصاری صحابیہ وہ تھیں، جب بہت مرد احد میںبھاگ چکے تھے تو نبی ۖ نے فرمایا کہ ” جب میں دائیں دیکھتا تھا تو نُسیبہ ہے، بائیں دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے، سامنے دیکھتا تھا تو نسیبہ ہے”۔پانی لانے کی خدمت پر مأمور تھیں۔ جب دشمن کے حملوں کا زور دیکھا تو نبیۖ کا ہر طرف سے دفاع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں بھی بہت سی جنگوں میں حصہ لیا اور جب فوت ہوگئیں تو غسل دینے والی خاتون نے کہا کہ ”جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر تیر یاتلوارکے زخم کا نشان نہ ہو”۔
اگر افغان طالبان اپنی غیرت کو پسِ پشت ڈال کر ملاعمر کے دور میں بھی افغان لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف جدید تعلیم سے آراستہ کرتے بلکہ بہترین قسم کی جدید فوجی ٹریننگ بھی دیتے تو امریکہ اور نیٹو کے ناجائز حملوں کے بعدبہت ساری تعداد میں حضرت ام عمارہ کی جانشین خواتین نہ صرف شانہ بشانہ لڑنے کی پوزیشن میں ہوتیں بلکہ جن خواتین کی عصمت دری کی گئی اور جن جوانوں کو سزا کیلئے گوانتاناموبے کی ابوغریب جیل میں پہنچایا گیا تو اس کی بھی نوبت نہ آتی۔ اور مذاکرات کی بجائے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے ایسے بھاگتے کہ عراق و لیبیا کا رخ بھی نہ کرتے۔ دنیا کے دل ودماغ میں یہ تھا کہ افغان خواتین کو یرغمال بنایا گیا اور اس میں امریکہ ، پیپلزپارٹی اورISIکا بھی عمل دخل ہے۔ کیونکہ نصیراللہ بابر کی کہانی منظر عام پر ہے۔ پاکستانیISIسے محبت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کو ہم نے افغانستان میں لاکر شکست دی ۔ امریکیCIAسے خطرہ محسوس کرنیوالے اس کو پاکستان کے خلاف کامیاب سازش سمجھتے ہیں۔ طالبان کس جگہ کھڑے ہیں؟۔ کیا ان کو پھر سب مل کر قربانی کا بکرا بنائیں گے؟۔ ہم نے یہ لکھا تھا کہ ” تحریک طالبان پاکستان کو پرامن راستہ دیا جائے” ۔ نظام کی تبدیلی صرف جنگ سے نہیں بلکہ ایک صالح معاشرہ قائم کرنے سے ممکن ہے۔
جب روس آیا تو افغانستان سے آنے والے خاندانوں نے بڑے شہروں میں پاکستانیوں کا حال مزید خراب کردیا تھا۔ اب طالبان کے ہاتھوں جو افغانی خاندان دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں کیا یہ اسلام اور افغانی غیرت کا تقاضا ہے؟۔ روس افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آیا اور امریکہ ونیٹو بھی افغانیوں کی وجہ سے خطے میں آئے۔ پاکستان کو کوئلے کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرنے کے سواکچھ نہیں ملا۔ اگراب پھر دنیا نے افغانستان کے اہم مراکز پرB52طیاروں سے بمباری کرکے قلع قمع کیا توپاکستان خفیہ مدد کی ہمت نہ کریگا۔ افغان جانے اور طالبان جانے کی پالیسی اپنائے گا۔ ایران، ازبکستان اور تاجکستان بھی محتاط رہیںگے۔ قوم پرست افغانیوں کے ہاتھ میں بڑا زبردست موقع ہاتھ آئیگااور افغانی اپنے دشمنوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں؟۔ وہ سب جانتے ہیں۔
مولانا منظور مینگل کی ویڈیو احمد رفاعی کے نام سے سوشل میڈیا پر ہے جس میں یہ بھی بتایاہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی شہید اچھا مطالعہ رکھتے تھے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ہدایہ سمیت فقہ کی معتبر کتابوں میں امام ابوحنیفہ وامام شافعی کی طرف منسوب باتیں بالکل بعد والوں نے فروعات گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی ہیں۔ جو اصولی طور پر غلط اور فروعات ہیں۔
فقہ حنفی میں نماز کے چودہ فرائض میں آخری فرض یہ ہے کہ ” اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنا”۔ بھلے اپنی ریح خارج کرکے نکلے۔ طالب علمی کے دور میں اساتذہ اور مفتی اعظم پاکستان تک سے مسائل پوچھے مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ سلام سے نماز کی تکمیل واجب اور ارادے سے تکمیل فرض ہے تو ریح خارج کرکے ایسے نماز کے فرض کی ضرورت کیوں آئی کہ جو واجب الاعادہ بن جائے؟۔ پھر علامہ ابن رشد کی کتاب میں دلیل دیکھی کہ عبداللہ مغربی نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ” جو نماز کے آخری قعدے میں ہو اور اس نے ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی”۔ عربی الفاظ میں خارج ہونے کی جگہ خارج کرنے سے یہ مسئلہ اخذ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص انتقال کرگیا اور یہ بھی کہ فلا ں فوت ہوگیا یا اس کاانتقال ہوگیا۔ ریح خارج ہونا یا کرنا ایسی بات نہیں کہ اس کی بنیاد پر اتنا بڑا مسئلہ ایجاد کیا جاتا۔ آخری قاعدے تک محنت کی ہو اور پھر ریح خارج ہوجائے تو حدیث کی بنیاد پر ازسرِ نو مشقت اٹھانے سے بچنے کے علاوہ شرمندگی سے بھی بچا جاسکتا ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ کوئی جانتا ہو کہ کون پاس سے رفو چکر ہوا ہے۔ تربت میں میری گھر والی کے چچا نے بتایا کہ نماز میں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ساتھ میں ایک خاتون کھڑی ہوگئی۔ جب سلام پھیرا تو پتہ چل گیا کہ کوئی مرد غلطی سے اپنی بیگم کی شلوار پہن کر آیا تھا۔
غسل اور وضو میں بھی بالکل لایعنی اور لغو فرائض پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر قرآنی آیات کو دیکھا جائے تو جنابت سے غسل، نہانے کا حکم ہے اور وضو کے مقابلے میں نہانے میں مبالغہ ہے۔ اسلئے مبالغے پر فقہی مسالک کے اختلافات بالکل لغو اور لایعنی ہیں، اسی طرح وضو میں سر پر مسح کے حوالے سے جس بنیاد پر اختلاف ہے تو اللہ نے اختلافات والوں کا منہ کالا کرنے کیلئے تیمم میں بھی انہی الفاظ کیساتھ چہرے پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس میں اختلافات ممکن نہیں تھے۔ اسلئے سر کے مسح میں فرائض کی طرح تیمم کے مسح میں اختلاف نہیں ۔
اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ قاضی اور جج کا فیصلہ ہے۔ قرآن و حدیث میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے اجتہادات کی مثالیں موجود ہیں۔ فصل اور مویشی کا فیصلہ قرآن میں اور بچے کو بھیڑیا کے کھانے بعد دوسرے بچے پر دوعورتوں کے جھگڑنے کا فیصلہ حدیث میں ہے۔اجتہاد کی تقلید نہیں اسلئے کہ بچے کو ایک مرتبہ جس حکمت عملی سے اپنی حقیقی ماں کے حوالے کیا گیا تو دوسری مرتبہ لوگ اجتہاد کے حقائق سمجھ کر یہ فیصلہ نہ کراتے۔ حضرت سلیمان نے مویشی اور فصل میں دونوں کے معاشی صورتحال کا لحاظ رکھ کر فیصلہ دیا تھا مگر قرآن و حدیث کی حکمتوں اور معاشی ومعاشرتی معاملات سے ہمارے علماء بہت دور ہیں۔
نکاح وطلاق کے حوالے سے اتنے مضحکہ خیز مسائل گھڑے گئے کہ اگر ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو علماء کو شریف بھی سمجھنے سے قاصر ہونگے۔ اصول ِ فقہ کی کتاب ”نورالانوار” میں ساس کی شرمگاہ پر اندر سے شہوت کی نظر پڑنے کو نکاح قرار دیا گیااور باہر سے عذر قرار دیا گیا ۔ عدت میں عورت پر نظر پڑنے کو نیت کے بغیر بھی رجوع قرار دیا ۔ اگر ہاتھ کا لگنا اور شہوت کی نظر کا پڑنا واقعی نکاح ہے جس طرح کہ حنفی اصول فقہ میں ہے تو تعلیمی اداروں اور بازاروں کا واقعی جو فیصلہ طالبان نے خواتین کے بارے میں کیا وہ درست ہے اسلئے کہ ٹچ اور نظر کی شہوت سے تباہی کے مسائل پیدا ہونگے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تصنیف شدہ کتاب ” تین طلاق کے مسائل ” میں بھی بکواسات کو شرعی مسائل کا نام دیا گیا۔ مدارس کے نصاب کے کفریات کا اندازہ عوام کیلئے مشکل ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے ایک مولوی نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ” ایک شخص نے اپنی بیٹی کے بدلے ایک بیوی خرید لی، عورت نے خدمت کی لیکن وہ بیمار تھا اور مباشرت نہیں کرسکااور فوت ہوگیا۔ اب اس کا بیٹا اپنی اس سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟۔ ایک طرف قرآن میں اپنے آباء کی منکوحہ عورتوں سے نکاح کو منع کیا گیا ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اگر ان عورتوں میں دخول کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے اور اگر دخول نہیں کیا ہے تو اس کا حکم جدا ہے؟”۔
میں نے جواب دیا کہ ” عرب میں باپ کی منکوحہ کو وراثت کا مال سمجھ کر جو نکاح کیا جاتا تھا، یہ بھی وہی صورت ہے۔ اسلام تو دور کی بات ہے انسانیت کے بھی یہ منافی ہے کہ عورت کو جانور کی طرح خریدا اور بیچا جائے۔ اللہ نے باپ کی منکوحہ اور بہو کو حرام قرار دیا ہے اور ساس کو حرام قرار دیا ہے اور سوتیلی بیٹی سے بدکاری کے خدشے سے روکنے کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی جوان بیٹی کو چھوڑ کر زیادہ عمر والی ساس سے نکاح کرے اسلئے کافی تھا کہ تمہاری بیگمات کی مائیں۔ حلائل ابناء کم تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔ لیکن جن عورتوں سے شادی کی اور ان کی پہلے شوہر سے بیٹیاں ہوں تو کم بخت انسان ان لڑکیوں کو شکار کرسکتا تھا اسلئے اللہ نے واضح فرمایا کہ” جن سوتیلی بیٹیوں کو تم نے اپنے حجروں میں پالا ہے اور جن کی ماؤں میں تم نے ڈالا ہے ،اگر نہیں ڈالا تو پھر ٹھیک ہے”۔ قرآن کی اس وضاحت سے بدبختوں کو شرم دلائی گئی کہ یہ سوچ غلط ہے۔ قرآن نے جنسی تعلق کا ذکران الفاظ میں کیا ہے کہ ” جب اس نے ڈھانپ لیا اور پھر اس کو خفیف حمل ٹھہر گیا، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے صالح (سلامت) اولاد کی دعامانگی اور جب اللہ نے بیٹا دیا تو پھر اللہ سے شرک کرنے لگے”۔ قرآن نے سخت الفاظ سختی سے منع کرنے کیلئے ارشاد فرمائے۔
محرمات کی آیات سے جو چوتھے پارے کے آخر میں ہیں، جہاں پر محرمات اورحرمت مصاہرت کی بھرپوروضاحت ہے وہاں پر سخت الفاظ سے یہ بھی واضح کردیا گیاہے کہ فقہ حنفی میں حرمت مصاہرت کے نام پر جو گالیاں اوربکواسات لکھے گئے ہیں ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ جب ان بکواسات کو علماء اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کریںگے تو ان کے شاگرد طالبان کی بھی اسلام کے حوالے سے آنکھیں کھل جائیں گی۔ کیونکہ مخلوط فضاء میں کس کا ہاتھ کس کا چھوا ہے اور کس کی نظر کس پر شہوت سے پڑی ہے، سب ایکدوسرے کیلئے حرمت مصاہرت کی وجہ سے محرمات اور عجوبہ روزگار بن جائیںگے۔
قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی اصولی تعلیم میں باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور حلالہ اسلامی اور افغانی غیرت کے منافی ہے لیکن اس کے خاتمے کا اعلان بھی پہلے علماء کو کرنا پڑے گا۔ یہ قرآن کے لعان کے قانون سے زیادہ سندھی، بلوچی، افغانی اور پنجابی غیرت کے منافی ہے لیکن افسوس کہ قرآن کے لعان والے قانون کو نہیں مانتے اور فقہ کی لعنت حلالے کے قانون کو اپنے کلچر کا حصہ بہت منافقت سے بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی ماننے سے انکار کردیا تھالیکن منافقت نہیں کی تھی۔ اکبر بگٹی نے ماننے سے انکار کیا تھا لیکن منافقت نہیں کی تھی۔ علماء ومفتیان اور طالبان تو صحابہ کرام کی طرح نہیں ہیں بلکہ غیرت سے عاری منافقین کا کردار ادا کررہے ہیں۔
اگر داعش خراسان نے افغانستان پر قبضہ کرکے عالمی خلافت کا اعلان کردیا اور پھر امریکہ، روس، اسرائیل، فرانس ، برطانیہ، جرمنی ، آسٹریلیا اور چین وغیرہ کو فتح کرلیا تو کیا جہازوں میں لونڈیاں بھر بھر کر لانا جائز ہوگا کہ نہیں ہوگا؟۔ محرم کو ساتھ میں لایا جائے گا کہ نہیں؟۔ کیا اس طرح کا اسلام دنیا نافذ کرنے دے گی؟ یا پھر مسلمانوں کی خواتین کوبھی سہولت کاری فراہم کرکے لیجائیں گے؟۔ عثمانی خلیفہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں اپنے پاس رکھی تھیں۔ کیا قرآن وسنت سے اس کی اجازت ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تم نکاح کرو، جن عورتوں کو تم چاہتے ہو دو دو، تین تین ، چار چاراور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کرسکوتو پھر ایک یا جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ان سے لونڈیاں مراد نہیں اسلئے کہ لونڈیوں کابھی نکاح کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ان سے مراد ایگریمنٹ والی ہیں جس کو شیعہ متعہ اور سعودی عرب والے مسیار اور اہل مغرب گرل فرینڈز، اہل مشرق رکھیل اور داشتہ کہتے ہیں۔قرآن وسنت میں متعہ کا تصور موجود ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ ” اگر اس پر پابندی نہ لگائی جائے تو قیامت تک کوئی زنا نہیں کریگا مگر بدبخت”۔ عبداللہ ابن مسعود نے قرآن کی تفسیر میں متعہ کو جائز قرار دیا تھا۔ ان پر اضافی قرآن کا بہتان قرآن اور ابن مسعود کے خلاف سازش ہے۔ جبکہ بخاری میں ابن مسعود سے حدیث منقول ہے۔افغانی اصطلاح میں آشنا رکھنا جائز نہیں ۔ قوم لوط پر عورتوں کی جگہ مردوں سے بدفعلی کرنے پر تباہی آئی تھی۔ یہ جو کچھ افغانستان میں تباہی ہورہی ہے یہ عذاب کی ایک زبردست شکل ہے۔
اگر عمران خان نے سیتاوائٹ کیساتھ ایگریمنٹ کیا تو باقی داستان اس کی اپنی ہے، قانونی جرائم کیا ہیں اور کیا نہیں ؟۔ اس سے ہماری کوئی غرض نہیں البتہ ٹیرن وائٹ بالکل جائز بیٹی ہے۔ اسلام نے لونڈی کیساتھ نکاح کا حکم دیا تھا تو ایگریمنٹ سے لونڈی مراد نہیں ہوسکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ لونڈی اور غلام کو بھی ایگریمنٹ کا درجہ دیا گیا۔ کیونکہ انسان کسی انسان کی ملکیت نہیں ہوسکتا اور نہ اسلام نے عبدیت کا جواز چھوڑا۔ صحابہ کہتے تھے کہ ہمارا کام بندوں کو بندوں کی بندگی (غلامی) سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی کی طرف لانا ہے۔ عبدیت اور غلامی ایک بات ہے ۔ اسلام غلام اور لونڈی بنانے کیلئے نہیں آیا بلکہ آزادی دلانے کیلئے آیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کوقتل اور عورتوں کی حیاء (عصمت) لوٹتے تھے”۔ جنگی قیدی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے، کلبھوشن اور ابھی نندن سے گھر کی خدمت نہیں لی جاسکتی ۔ عزت کے درپے ہوجاتے۔ بدر میں70قیدی بنائے گئے ،کسی کو غلام نہیں بنایا گیا اور نہ ممکن تھا۔ غلام بنانے کا اصل ادارہ مزارعت کا نظام تھا۔ جاگیردارانہ نظام سے غلام اور لونڈیاں بن کربازاروں میں منڈیاں لگتی تھیں۔ نبیۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ معاشرے میں دو طبقات ہوتے تھے، ایک زمیندار ، وڈیرے، جاگیردار، خان، نواب اور دوسرے مزارعین۔ مزارعین کی حیثیت غلاموں کی طرح تھی۔ وہ اپنا پیٹ نہیں پال سکتے تھے مگر جاگیرداروں کو پورے خاندان سمیت زمین میں اپنی محنت کی آدھی کمائی دیتے تھے۔ ہمیشہ جاگیرداروں کے مقروض اور غمی شادی ، بیماری میں محتاج ہوتے تھے۔ جوانکے خوبصورت بچوں اور بچیوں کو خرید کر منڈیوں میں بیچ ڈالتے تھے۔ جوئے اور سود میں بھی لوگ اپنے بچے ، بچیاں اور بیویاں کسی کے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔آج سودی نظام کی وجہ سے خاندان نہیں پورے ملک غلام بنائے جارہے ہیں۔پاکستان کوبھی بنادیا گیا۔غلامی کے اس نظام سے ادیان نجات دلانے کیلئے آتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اہل فرعون سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ یوسف علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی یہی خدمات تھیں۔ قرآن میں اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے” اسلام عوام کو آزادی دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بت پرستی غلام رہنے اور بنانے میں مذہبی جذبے کے تحت تسکین دیتی تھی کہ جیسے وہ کررہے ہیں اور جیسے وہ ہیں اسی طرح سے رہنے میں عافیت ہے۔ دین کا کام اس جمود کو توڑنا ہوتا تھا۔ جب کوئی بھی نبی اپنے وقت میں اللہ مبعوث کردیتا تھا تو ملاء قوم یعنی قوم کے سردار انبیاء کرام کی سخت مخالفت کرتے تھے اسلئے کہ حالت بدلنے میں ان کو اپنی آسائشوں کی موت نظر آتی تھی، خوشحال لوگ جمود توڑنے کا ہمیشہ مخالف طبقہ ہوتا تھا۔ غریب غرباء حضرات انبیاء کرام کی حمایت کرتے تھے اور جن اچھے لوگوں کی فطرت سلامت ہوتی تھی تو وہ امیر اور سردار ہوکر بھی وقت کے نبی کی حمایت میں پیش پیش ہوتے تھے۔
معروف صحابی حضرت اسود بہت سخت کالے رنگت کے غلام تھے۔ دور دراز سے سفر طے کرکے نبیۖ کی آغوش میں اسلئے پہنچے کہ غلاموں کو عزت ملتی تھی۔ جیسا سنا تھا ویسا بلکہ اس سے بڑھ کر پایا۔ ایک دن نبی ۖ کی خدمت میں عرض کیا کہ ساری مرادیں اور خواہشات پوری ہوگئیں، ایک آرزو ہے کہ شادی بھی ہوجائے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” بنو کلب کے سردار کے پاس جاؤ، اور کہو کہ مجھے نبی نے آپ سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنے کیلئے بھیجا ہے”۔ حضرت اسود نے اتنی ہمت صرف حکم کی تعمیل کیلئے کردی ۔ سردار نے اعزاز واکرام کیساتھ استقبال کیا کہ نبی ۖ نے اپنا نمائندہ بھیجا ہے ۔ پیغام سن لیا تو ہکا بکا ہوگئے اور تعمیل حکم سے معذرت کرلی۔ حضرت اسود جانے لگے تو سردار کی بیٹی نے نبیۖ کا پیغام سن لیا تھا اور اپنے باپ کو بلایا اور کہا کہ میرا رشتہ مانگا ہے، میں تیار ہوں۔ باپ نے بیٹی کی رضامندی کا سن کر حضرت اسود سے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرلیا۔ حضرت اسود نے تیاری کیلئے بازار کا رخ کیا تو جہاد کی منادی سنی۔ان پیسوں سے جہاد کا سامان خریدا ۔ قافلے سے تھوڑے فاصلے پر چلے تاکہ پہچان کر واپس نہ کیا جائے اور چہرے پر نقاب ڈال کرجہاد میں بہادری سے لڑکرشہید ہوئے تو نقاب اٹھانے کے بعد پتہ چلا کہ دولہا اسود ہیں اور نبیۖ کی آنکھیں آنسو ؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ اشکبار آنکھوں سے صحابہ نے لحد میں بہت عزت سے اتارا تھا۔
نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب حضرت زید سے بیاہ دی ۔ حضرت زید غلام نہیں تھے بلکہ بردہ فروشوں نے چوری کرکے بیچ ڈالا تھا۔ چچا وغیرہ آئے اور نبیۖ کو منہ مانگی قیمت کی پیشکش کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی پیسہ نہ دو مگر زبردستی نہ لے جاؤ ۔ حضرت زید نے جانے سے انکار کردیا تو چچا نے طعنہ دیا کہ آزادی پر غلامی کو ترجیح دی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ غلام نہیں میرا بیٹا ہے۔ منہ بولے بیٹے کی بیگم اپنے شوہر سے غلامی کے دھبے کی وجہ سے خوش نہ تھی تو حضرت زید نے اس کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔ نبیۖ نے بہت منع کیا کہ ایک طرف پہلے اس خاتون نے قربانی دی اور پھر طلاق دی جائے تو اس کی حیثیت مجروح ہوگی اسلئے کہ طلاق شدہ اور وہ بھی غلامی کا دھبہ والے شخص کی طرف سے؟۔اس لئے دل میں سوچا کہ یہ روگ کو ختم کرنے کیلئے خود شادی کرلیتے تو ازالہ ہوجاتا مگر خوف تھا کہ لوگ اس کو حقیقی بہو کی طرح نکاح حرام سمجھتے تھے۔ سورۂ احزاب میں بہت بہترین انداز میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر نبیۖ کسی آیت کو چھپاتے تو اس کو چھپاتے۔ (صحیح بخاری)
حضرت داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری اور مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی اپنی کتابوں میں حنفی مسلک کے عین مطابق غلط فہمی کی بنیاد پر لکھ دیا ہے کہ جب نبی ۖ کی نظر حضرت زینب کے جسم پر کپڑے بدلتے ہوئے شہوت سے لگ گئی تو وہ حضرت زید کے نکاح سے نکل کر نبیۖ کے نکاح میں آگئیں۔ جیسے داؤد کی نظر مجاہد اوریا کی بیوی پر پڑگئی تو وہ اوریا پر حرام اور حضرت داؤد کی بیگم بن گئی۔ ان خرافات کیخلاف سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے علماء ومفتیان کی طرف سے مذمت میں کتاب ”اسلام کے مجرم” پر تائیدی تأثرات آئے ہیں۔
نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ” اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہواہے اور یہ پھرعنقریب اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا۔ پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔
امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے۔ مدینہ منورہ کی معاشی ترقی کیلئے مزارعت کا خاتمہ بنیاد بن گیا۔ جب محنت کشوں میں قوت خرید کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو بازاروں میں تاجر وں کو خاطر خواہ کامیابی مل گئی۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے تھے کہ ”مٹی بھی سونا بن جاتا ہے”۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ، مولانا محمد یوسف بنوری اور دوسرے اکابر ین اپنی بیگمات کو ایکساتھ رکھ کر ان کی خدمت پر حاجی محمد عثمان کی ڈیوٹی لگاتے تھے کہ یہ بے نفس انسان اللہ والے ہیں۔ مولانا غلام اللہ خان حاجی عثمان کیلئے کہتے تھے کہ ”یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی طرح ہیں”۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ، مفتی احمدالرحمن اور ختم نبوت نمائش کا دفتر اپنی اپنی گاڑیوں کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر حاجی محمد عثمان کے مریدوں نے الائنس موٹرز کے کاروبار سے سب کو گاڑیوں سے نواز دیا تھا۔ پھر تصوف کی الف ب سے ناواقف علماء ومفتیان نے بھی پیری مریدی کا لبادہ اُوڑھ لیا اور مذہب کے نام پر تجارت اور کاروبار پیشہ بن گیا۔
پاکستان ،افغانستان، ایران ، ہندوستان، روس ، امریکہ، چین اور دنیا بھر کی ترقی وعروج کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ مزارعت کیلئے لوگوں کو مفت میں اور باغات کیلئے آسان لیز پر زمینیں دی جائیں۔ انسانی بھوک وافلاس کا خاتمہ ہوگا اور چرندے، درندے اور پرندے بھی انسانوں سے محبت کرنے لگیں گے۔
اگر اسلام کی بنیاد پر مزارعت دنیا سے ختم ہوجاتی تو کارل مارکس کو نیانظام بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ” کارل مارکس پیغمبر نہیں تھا مگر صاحبِ کتاب تھا”۔ ائمہ اربعہ کا تعلق عباسی دور سے تھا۔ بنی امیہ کے بعد بھی امام ابوحنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی کا مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دینا اہل حق کی نشانی تھی۔ ویسے تو شہید کربلا حضرت حسین کے دور میں خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی۔ بے گناہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے خون سے حکمرانوں کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے۔ حجاج بن یوسف جیسے لوگوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرکے کئی دنوں تک اس کی لاش کو لٹکا دیا تھا۔ حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق کو پتہ چلا توسوسالہ نابینا ماںبیٹے کی لاش کے پاس آئی اور فرمایا کہ ”شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا ہے؟۔ حجاج نے اس حوصلے کو دیکھ کر بڑا غصہ کیا اور کہا کہ میں نے تیرے بیٹے کی زندگی تباہ کردی۔ حضرت اسماء نے فرمایا کہ ”سودا بہت سستا ہے۔ میرے بیٹے نے تمہاری آخرت تباہ کردی ہے”۔
عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو حضرت علی نے کہا کہ ”آپ خود بھی متعہ کی پیدوار ہیں” (زادالمعاد۔ علامہ ابن قیم)۔ ابو طالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ دینے سے منع کیا، فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے شوہر کو قتل کرنا چاہا، نبی ۖ نے اسکے شوہر کو پناہ دی۔ مگر وہ عیسائی بن کر نجران گیا۔ نبیۖ نے ام ہانی کورشتے کی پیشکش کردی تو امام ہانی نے منع کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے وہ چچا کی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے آپکے ساتھ”۔ پھر آئندہ شادی سے قرآن میں ہمیشہ کیلئے روک دیا لیکن ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے ام ہانی کو ازواج مطہرات میں شمار کیا ہے حالانکہ ان سے نبی ۖکا نکاح نہیں متعہ ہوسکتا تھا۔
حضرت اسمائ73ھ میں فوت ہوگئیں جوحضرت عائشہ سے عمر میں15سال بڑی تھیں ۔ ناممکن تھا کہ21سالہ اسمائ کے ہوتے ہوئے نبیۖ6سالہ عائشہ حضرت ابوبکر سے مانگتے۔ اس وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال تھی جبکہ حضرت اسماء کی عمر31سال تھی اور ایسی عمر تک پہنچنے کے بعدکسی عورت سے نکاح کی رغبت نہیں رہتی ۔نبی ۖ نے40سالہ حضرت خدیجہ سے بھی پچیس سال کی عمر میں نکاح کرلیا تھا اور جب تک وہ زندہ رہیں تو دوسرا نکاح نہیں کیا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ خواب میں حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ آپ کی بیگم ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہو تو پورا ہوگا ۔ شیطان کی طرف سے ہو تو پورا نہیں ہوگا”۔( صحیح بخاری) چونکہ مسلمانوں کی سخت ترین مخالفت کا دور تھا اور حضرت عائشہ کی منگنی مشرک سے ہوچکی تھی جو مظالم کے پہاڑ بھی توڑسکتا تھا۔ اللہ نے اس سے حضرت عائشہ کی نجات کیلئے یہ خواب دکھایا ۔
16سال کی جگہ غلطی سے6سال کی روایت نقل کی گئی تو اس پر فقہ کے یہ مسائل گھڑلئے گئے کہ ” اگر باپ اپنی نابالغ بچی کو اس کی مرضی کے بغیر کسی کے نکاح میں دیدے تو یہ جائز ہے”۔ مثلاً حنفی طالب یا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی بیٹی کا نکاح نابالغ ہونے کے باوجودبار بار کرتا ہے، دس بار طلاق ہو تو جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ یہ سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ جب بالغ ہوتو لڑکی جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرسکتی ہے جس میں ولی کی اجازت کا دخل نہ ہوگا۔ ایسے میں افغانستان میں نابالغ بچیوں کیلئے یہ قانون بنانا پڑے گا کہ انکے باپ ان کو کسی کے نکاح میں دیدیں اور بالغ لڑکیاں اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہیں بلکہ شہوت سے ان کا کسی لڑکے سے بوس وکنار بھی حرمت مصاہرت کی وجہ سے حنفی نکاح ہوگا۔
علماء ومفتیان پہلے اپنے درسِ نظامی کے نصاب کو درست کرلیںاور اسلام کو نافذ کرنے کی بات بعد میں کریں۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کا کوئی قانون نہیں بنا ہے لیکن جس سود کو علماء ومفتیان اپنی سگی ماں سے زنا کے برابر گناہ قرار دیتے تھے اس کو اسلام اور حیلے کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جس میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، تنظیم اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان اور اب وہ مدارس بھی شامل ہیں جنہوں نے مخالفت میں فتوے اور کتابیں لکھی تھیں۔ اسلام کو جس طرح پہلے چٹنی اور اچار بنایا گیا تھا اس کا خلاصہ اب پھر سامنے آیا۔ جب سود اور حیلے کی بنیاد پر اس کا جواز اور اپنی ماں سے زنا تک بات پہنچادی گئی ہے تو اس سے زیادہ کہاں تک اسلام ثریا کے پیچھے ان کم بختوں سے چھپے گا؟۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ علینے فرمایا کہ ” رسول اللہۖ نے دوجلد (دو گتوں)میں قرآن کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے”۔ (بخاری) وفاق المدارس کے صدرمولانا سلیم اللہ خان نے اس کی تشریح میں کہا ہے یا پھر مولانا نورالبشر برمی نے خود خیانت کرکے لکھ دیا کہ ” حضرت علی کے اس قول کو صحیح میں امام اسماعیل بخاری نے اسلئے نقل کیا ہے کہ شیعوں پر رد ہو کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو لیکن تمہارے علی اور ابن عباساس تحریف کے قائل نہ تھے۔ اصل میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی اور امام بخاری قرآن کی تحریف کے قائل تھے ، جب حضرت عثمان نے قرآن کو جمع کیا تو عبداللہ بن مسعود کے پاس مصحف تھا لیکن ان کو حضرت عثمان نے جمع قرآن کے معاملے میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جب عبداللہ ابن مسعود کیلئے حضرت عثمان نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی پیشکش کردی تو بھی اس نے ناراضگی کی وجہ سے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ (کشف الباری شرح صحیح البخاری مولانا سلیم اللہ خان مرتب : مولانا نورالبشر)
مولانا سلیم اللہ خان نے پہلے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے نہیں لگایا۔ پھر مولانا سلیم اللہ خان نے شیعہ پر کفر کا فتوے سے رجوع کرلیا تھا۔ مولانا نورالبشر برمی کو چاہیے تھا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے اگر بات کی تھی تو بھی اس کو لکھنا نہیں چاہیے تھا۔ جب دارالعلوم کراچی سے مولانا انورشاہ کشمیری کی فیض الباری شرح صحیح البخاری کی عبارت پر علامہ غلام رسول سعیدی نے حوالہ دئیے بغیر فتویٰ لیا ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا ہے”۔ تو اس پردارالعلوم کراچی کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔فیض الباری کی اس عبارت کا قاضی عبدالکریم کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک کو خط لکھا تو یہ جواب دیا کہ ”یہ مولانا انور شاہ کشمیری کی تحریر نہیں ۔ کسی نے ان کی تقریر کو نوٹ کرکے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے”۔ میں نے مفتی زرولی خان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا انورشاہ کشمیری کی طرف اس عبارت کو منسوب کرنا غلط ہے۔ اب مولانا سلیم اللہ خان کی بات تو اس سے بھی بہت زیادہ خطرناک ہے۔ جب میں نے پشاور کی ایک مجلس میں اکابر علماء کے سامنے اس کا حوالہ دیا تو درویش مسجد کے خچر نے کہا کہ ” مولانا سلیم اللہ خان کی تحقیق کو یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف میں علماء ومفتیان تحریف قرآن کا عقیدہ پڑھاتے ہیں۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں ، جو آپ سے نقل کیا گیا ہے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ تشریح میں لکھ دیا کہ ” لکھے سے مراد لکھا نہیں کیونکہ لکھا ہوا نقش کلام ہے اور یہ نہ لفظ ہے نہ معنی۔ قرآن لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ متواتر کی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں جیسے خبر احاد اور مشہور ۔ بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے ”۔
قرآن کی اس غلط تعریف کی وجہ سے فقہ کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔ جب تحریر لفظ ہے اور نہ معنی ہے تو پھر کلام اللہ نہیں ہوا ۔ جب کلام اللہ نہیں ہے تو پھر اس کو پیشاب سے لکھنے کا جواز بھی بنتا ہے؟۔ پیشاب سے لکھنے کی زیادتی بھی اپنی جگہ ہے لیکن قرآن کی لکھی ہوئی شکل کا انکار کرنا اس کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ پھر اس میں مزید اضافی آیات کا عقیدہ رکھنا اور بسم اللہ کو مشکوک قرار دینا بہت بڑی بکواس ہے۔
افغان طالبان پہلے اس نصاب کو دیکھ لیں جس کو وہ پڑھ کر عالم بنتے ہیں اور جن علماء ومفتیان کی صلاحیت پر وہ بھروسہ کرتے ہیں ان کی حقیقت کو سمجھیں۔ پھر ان کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کفریہ تعلیم پر پابندی لگائیں اور دوسرا کام یہ ہوگا کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے ادارے طلبہ وطالبات کیلئے کھول کر ان سے یہ مطالبہ بھی کردیں کہ ہمارے عقائد اور مسالک کو درست کرنے کیلئے آپ ہمارا ساتھ دیں۔ طالبان اسلامی نظام اور جہاد کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا تھا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا”۔ نبیۖ نے آیت میں جن پانچ چیزوں کو غیب کی چابیاں قرار دیا ہے اس کی تفسیر زمانے نے کردی ہے۔ الساعة سے مراد وقت ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ملائکہ اور روح چڑھتے ہیں تو ان کے ایک دن کی مقدار50ہزار سال کے برابر ہے۔ نبیۖ نے معراج میں اس کا مشاہدہ کیا تھا اور آئن سٹائن نے ریاضی سے اس کا ثبوت دیا کہ نظریہ اضافیت میں وقت کی مقدار کا تعین تیز رفتاری کی بنیاد پر کافی مختلف ہوتا ہے مثلاً یہاں کے چند لمحات وہاں کے کئی سال بارش کے ذریعے سے بجلی کا مشاہدہ تھا اور اب بجلی کی تسخیر سے دنیا تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ علم غیب کی دوسری چابی تھی۔ تیسری جب ارحام کا علم ہے۔ جو ایٹم بم کو توڑنے، ایٹمی صلاحیت ، الیکٹرانک کی دنیا سے لیکر فارمی مرغیاں، پرندے اور جانوروں تک بہت ساری چیزوں کا اہم ذریعہ ہے۔ قرآن میں دین کی بھرپور وضاحت ہے۔ فقہ کے نام پر ناسمجھ طبقے کی فضولیات اور بکواسات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں اس کا اہم کردار ہے اور جدید سائنسی تعلیم تسخیرکائنات کے ذریعے سے ہی ہوسکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے قوموں کو عروج اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے قوموں کو زوال ملے گا۔ مغرب نے قرآن کے نظریہ تسخیرکائنات پر عمل کر کے جو عروج حاصل کیا ،آج اس کا نتیجہ ہے کہ طالبان امریکہ سے معاہدہ کرکے اپنے ملک میں داخل ہوسکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے اندر یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ مدارس سے جو فضاء بن رہی ہے یہ دین کا تقاضا ہے۔ میرے سکول کا افتتاح مولانا فضل الرحمن نے کیا اور ٹانک کے تمام اکابر علماء نے تائید کی تھی۔ بیت اللہ محسود نے میری کتاب ”آتش فشاں ”دیکھ کر کہا کہ ” ہماری یہ علمی حیثیت نہیں کہ اس پر تبصرہ کریں”۔ کچھ عزیز وں نے طالبان کو ورغلایا کہ ” یہ ایسا گھرانہ ہے جو کسی کی بیوی بھگا کر کسی سے شادی کرائی۔ کسی کو بیوی بچے نہیں دیتے”۔ طالبان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بدکاری کروائی تھی اور ایسے لوگ اپنی پشت میں بارود بھر کر یامزید مظالم کرکے اپنے ان گناہوں کاازالہ چاہتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سراج الحق، سعد رضوی، مولانا فضل الرحمن بمقابلہ زرداری، نواز شریف، عمران خان: اوریا مقبول جان

سیاسی جماعتیں بمقابلہ مذہبی جماعتیں کس نے بدترین گالی بریگیڈ پالا ہے؟ اوریا مقبول جان اور عرفان صدیقی

پاکستان کی سیاسی زندگی گذشتہ50سال سے اس قدر تلخ ہو چکی کہ یہاں اپنا نقطہ نظر بیان کرنا خود کو خوفناک جنگل میں اتارنا ہے۔ طعن و تشنیع، گالی گلوچ، ذاتیات ، اہلِ خانہ تک کی کردار کشی جیسی بلائوں کا سامنا کرنا پڑیگا، عرفان صدیقی جیسے صاحبِ علم اور حسنِ کردار سے آراستہ شخص کو سراج الحق کے بیان پر مخالفانہ تبصرہ کرنا پڑا، تو انہوں نے کالم کے آغاز میں ہی سراج الحق کی تعریف و توصیف کر کے خوبصورت پیش بندی کی، انیس کے شعر کو نثری قالب میں ڈھالا۔
خیالِ خاطر احباب چاہئے ہر دم انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
سراج الحق کی درویشی اور قلندری کا تذکرہ کرکے انہیں ”عالی مقام”کے منصب پر سرفراز کرنے کے بعد ہی اپنے لئے ان سے اختلاف کی گنجائش نکالی۔ عرفان صدیقی کیساتھ میرا احترام و محبت کا رشتہ ہے،ان کی نفاستِ طبع کا مداح ہوں۔مجھے مکمل ادراک ہے کہ سراج الحق خود نہ بھی چاہیں، مگر انکے بیان سے اگر کوئی اختلاف کی جرات کرے تو پھر جماعتِ اسلامی کی ”جدید سوشل میڈیائی ذریت”اس ”ناہنجار”کے ساتھ ”ہولناک”سلوک کرتی ہے۔جماعتِ اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم تو ایک ”لفظ ”بھی زبان سے نکالنے کی معافی نہیں دیتی۔ آپ نے خواہ انکے حق میں لکھتے ہوئے ایک عمر گزاری ہو مگر وہ ایکدم آپ کے گذشتہ کئی دہائیوں کے تعلق پر پانی پھیرتے ہوئے، سیدھا سیدھا ”منافق”، بِکائو اور گمراہ کے القابات سے نواز دینگے۔ ان کی دشنام طرازی کی ”لغت”میں جو فصاحت و بلاغت ہے پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اورن لیگ کے جدید”لونڈوں”کو یہ ”دولتِ علم” میسر ہی نہیں ۔ عبداللہ بن ابی کے نقشِ جدید تک یہ سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔یہ المیہ صرف جماعتِ اسلامی کو درپیش نہیں بلکہ ہر وہ مذہبی سیاسی جماعت درجہ بدرجہ اس مرض کا شکار ہے جو انتخابی سیاست کی ”غلاظت نگری” میں اتر چکی۔ سب سے کم عمر جماعت تحریکِ لبیک پاکستان ہے۔ آپ انکے سوشل میڈیا پر نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو آپ کو اور کچھ نیا ملے نہ ملے، مگر آپ کی گالیوں کے ذخیرہ الفاظ میں خاطر خواہ اضافہ ضرور ہوگا۔
یہی عالم مولانا فضل الرحمن کے عقیدت مندوں کا ہے۔ ان ”علما ء و فضلائ” کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ تو عربی و فارسی لغت سے ”مرصع” ہے۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی والوں کو ایسی ”علمی بصیرت”واقعی میسر نہیں جس میں یہ تمام مذہبی جماعتیں بدرجہ اتم کمال رکھتی ہیں۔ یہ”مذہبی سیاسی میڈیا ماہرین” انتہائی آسانی سے کسی پر کافر، قادیانی، یہودیوں کا ایجنٹ، کے فتوے لگا سکتے ہیں۔اس طرح کے فتوے پی ٹی آئی، ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے ”کارندے” لگانے کی جرات نہیں کر پاتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر ایسا فتوی لگایا تو مقابلے میں ان تمام مذہبی جماعتوں کے دارالافتاء کھل جائیں گے، جسکے نتیجے میں کئی”سرفروش” اگر جوش میں آ کر ان کی جانب بندوقیں تان لیں، تو پھر موت یقینی ہے۔
عرفان صدیقی کے کالم کا پہلا پیرا انکے اسی خوف کی عملی تصویر نظر آتا ہے۔ میں نے منور حسن امیر جماعتِ اسلامی سے دست بستہ کہا تھا کہ جماعتِ اسلامی کو کم از کم 5سال کیلئے تمام تر سیاسی سرگرمیاں ترک کر کے صرف اپنے اراکین کے تزکیہ پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے تاکہ جماعتِ اسلامی کا سنہرادور لوٹ آئے کہ جب خلقِ خدا کہتی تھی کہ ہم جماعتِ اسلامی والوں کو ووٹ دیں یا نہ دیں ہم ان کے اخلاق، حسنِ سیرت، کردار اور ایمانداری کی گواہی ضرور دے سکتے ہیں۔
مذہبی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا جنگجوئوں کا عالم اس قدر غضب ناک ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن، سراج الحق یا سعد رضوی کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالیں، ان کی پالیسیوں پر بھی تنقید نہ کریں، بالکل خاموش رہیں، مگر ایک غلطی سرزد ہو جائے کہ آپ ان کے انتخابی مخالف مثلا ”عمران خان”کے ہی کسی موقف کے حق میں کوئی بات کہہ دیں تو پھر دیکھیں”میڈیا کے مذہبی جرنیل” فوراً آپ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دینگے، کردار کشی شروع کر دینگے اور پھر ان کا ہر کارکن ثواب سمجھ کر اس میں شریک ہو جائیگا۔ان سے پوچھو کہ میں نے کیا آپ کے اکابرین کو کچھ کہا، کیا آپ کی کسی پالیسی پر تنقید کی تو یہ ایک دم آگ بگولا ہو کر بولیں گے تم نے”فلاں ابن فلاں”کا ساتھ دیا، اس لئے اب ہمارے نزدیک تم بھی ”فلاں ابن فلاں”ہو۔ کاش!یہ تمام مذہبی جماعتیں اپنے تمام سوشل میڈیا محبان کو اپنے ”پیجز”اور اکائونٹس پر رسول اکرم ۖ کی یہ حدیث اور قرآنِ پاک کی یہ آیت لکھنے کا حکم دیں تو عین ممکن ہے یہ سدھر جائیں۔
رسول اکرم ۖ نے فرمایا،”مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے”(صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اس کے ساتھ ہی اگر قرآنِ پاک کی یہ آیت بھی تحریر ہو جائے، ”بے شک اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا”(المنافقون:6)۔ یعنی آپ گالی دینے سے فاسق ہو جاتے ہیں تو پھر آپ ہدایت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے لئے یہ آیت اور حدیث کافی ہے۔
اس موضوع پر بہت کچھ ہے جو ضبطِ تحریر میں لانا لازمی ہے۔ فساد خلق سے ڈر کر اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی نسلوں کی غلطیوں کی طرف اشارہ نہ کیا تو روزِ حشر ہم سب لکھنے والے جواب دہ ہونگے، یہ وبا زہر کی طرح تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں میں سرایت کر چکی ہے۔ لیکن اس دفعہ میری مشکل بہت آسان ہے کیونکہ مجھے سراج الحق کے بیان اور اسکے جواب میں عرفان صدیقی کے کالم دونوں میں سے مجھے سراج الحق کے بیان کا دفاع کرنا ہے، اس لئے عین ممکن ہے اس دفعہ میں جماعتِ اسلامی کی گولہ باری سے بچ جائوں گا۔
رہا عرفان صدیقی کا معاملہ تو انکے نہ تو پروانے اور فروزانے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی سوشل میڈیا سیل ہے، جسکا ”گالی بریگیڈ” ان کے دفاع پر مامور ہو۔ اسلئے مجھے کوئی خوف نہیں۔ ویسے بھی ان جیسے وسیع القب اور عالی ظرف لوگ تو پاکستانی معاشرے کا جھومر ہیں۔ شریف خاندان سے تمام محبتوں اور وابستگیوں کے باوجود ان کی مجھ سے محبت میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ عین ان ایام میں جب میں شہباز شریف کے زیرِ عتاب تھا تو ان کے حج کے سفر نامے کی کتاب شائع ہوئی، جس پر پاکستان ٹیلی ویژن نے ان سے انٹرویو کا اہتمام کرنا تھا۔عرفان صدیقی نے ٹیلی ویژن والوں کو ہدایات دیں کہ اس کتاب پر صرف اوریا مقبول جان کو انٹرویو دوں گا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ارباب حل و عقد مشکل میں پڑ گئے کہ مجھے کیسے بلائیں؟، تو انہوں نے کہاکہ اوپر والوں کی ناراضگی کی فکر مت کرو، میں سنبھال لوں گا۔ اس رشتے اور تعلق کی نزاکت اور عرفان صدیقی کی محبتوں کے احترام کیساتھ میں ان سے اختلاف اور سراج الحق کے بیان کی حمایت کی جسارت کر رہا ہوں، جو خالصتاً علمی، تاریخی اور نظریاتی ہے۔
سراج الحق نے ایک اساسی اور بنیادی نوعیت کا مشورہ دیا، جس میں مملکتِ خداداد پاکستان کی لاتعداد سیاسی و انتظامی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آرمی چیف کی تقرری کیلئے وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ختم ہونا چاہئے اور یہ تقرری چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح (سنیارٹی کی بنیاد)پر ہونی چاہئے۔میں نے آغاز میں ہی سراج الحق کے اس بیان کی مکمل حمایت کر دی تاکہ کالم میں دلائل کی یکسوئی قائم رہے۔ مکمل حمایت کے باوجود مجھے اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ سراج الحق کی یہ خواہش کم از کم موجودہ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں پوری نہیں ہو سکتی مگر اچھی خواہش امید کو سینوں میں پروان چڑھانے میں کیا حرج ہے۔75سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ”قانوناً” پاکستانی فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کا اختیار بظاہر گورنر جنرل، صدر یا وزیر اعظم کو حاصل رہا ہے لیکن یہ اختیار کچھ ”ناقابلِ بیان” عوامل کی رسیوں میں ہمیشہ جکڑا رہا۔
لیاقت علی خان26مئی کو امریکہ کے ڈھائی ماہ کے دورے سے واپس لوٹے تو ان کی”زنبیل” میں لاتعداد وعدوں کے کھلونے تھے، جن کی قیمت ملک نے آہستہ آہستہ ادا کرنا تھی۔ امریکی اس دوران منظورِ نظر کا انتخاب کر چکے تھے جس نے آئندہ حقیقت میں(De’-fecto) سربراہ بننا تھا۔ ”حقیقت میں حکمران” اسلئے لکھا کہ تمام امریکی صدور خفیہ خط و کتابت میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو ہی اصل حکمران لکھتے رہے اور اب تو یہ تمام خط و کتابت امریکی سکیورٹی آرکائیوز نے طشت ازبام کر دی ہے۔ اس بڑے عالمی کردار کے علاوہ گزشتہ کافی عرصے سے کچھ دوست و مربی ممالک کا کردار بھی اب ڈھکا چھپا نہیں رہ گیا۔ ان ممالک سے ہم مصیبت کی گھڑی میں مدد حاصل کرتے ہیں۔
ویسے بھی جدید سیاسیات میں ریاست کا اہم ترین جزو”اقتدارِ اعلی” ہوتا ہے اور دنیا متفق ہے کہ کمزور ریاستوں کا کوئی”اقتدارِ اعلی” نہیں ہوتا،پاکستان ان میں ایک ہے۔ اسی لئے جو بھی مقتدر یا ”حقیقت میں حکمران”ہوتا ہے، اسے مسند پر بٹھانے اور اتارنے دونوں صورتوں میں عالمی طاقتیں خصوصا امریکہ ضرور شریک ہوتا ہے۔اس عالمی جکڑ بندیوں کے اندر رہتے ہوئے اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کی فوج کا سربراہ ان کی ”رینک اینڈ فائل” سے ویسے ہی آئے گا، جیسے تمام لیفٹیننٹ جنرل ترقی کرتے ہوئے پہنچتے ہیں اور ان ترقیوں کا کسی سیاسی سربراہ کو علم تک نہیں ہوتا، تو پھر شاید یہ مسئلہ عمر بھر کیلئے حل ہو جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ایسی ہی شفاف تعیناتی خود سپریم کورٹ نے اپنے مشہور” ججز سنیارٹی کیس”کے فیصلے سے حاصل کر لی۔ الجہاد ٹرسٹ کیس والا یہ فیصلہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ، اجمل میاں، فضل الٰہی خان، منظور حسین سیال اور جسٹس میر ہزار خان کھوسہ نے دیا۔ جس میں یہ اصول طے کر دیا کہ جو جج سینئر ہوگا، وہی چیف جسٹس بننے کا حق دار ہوگا۔ بینچ کے سربراہ خود سجاد علی شاہ کو بینظیر بھٹو نے جونیئر ہونے کے باوجود اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس لگایا تھا۔ بہت معرکہ خیز دور تھا۔ اسی سجاد علی شاہ کے خلاف نواز شریف کی مسلم لیگ سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑی تھی اور ججوں کو جان بچانے کیلئے چیمبرز میں گھسنا پڑا تھا۔ ججز سنیارٹی کیس کو بنیاد بنا کر کوئٹہ میں سپریم کورٹ رجسٹری کے تین ججوں ناصر اسلم زاہد، خلیل الرحمن اور ارشاد حسن نے اپنے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو سنیارٹی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا۔ اسی دوران ناراض نواز شریف نے فاروق لغاری سے سجاد علی شاہ کو برطرف کر کے قائمقام چیف جسٹس لگانے کیلئے کہا لیکن شریف النفس فاروق لغاری عزت سمیٹے مستعفی ہو گئے۔ رفیق تارڑ صدر منتخب کر لئے گئے جنہوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کوئٹہ کے فیصلے کے مطابق سجاد علی شاہ کو23دسمبر1997کو برطرف کر کے اجمل میاں کو چیف جسٹس لگا دیا۔آج پچیس سال گزرنے کے بعد قوم کم از کم دوبارہ کبھی اس بحران سے نہیں گزری کہ آئندہ چیف جسٹس کون ہوگا اور وہ کس کا منظورِ نظر ہوگا۔ عرفان صدیقی نے عدلیہ کے متنازعہ فیصلوں کو جواز بنایا ہے۔ کاش وہ ان تمام ججوں کے کیریئر پر ایک نظر دوڑائیں اور پھر ان کو ہائی کورٹ کا جج لگانے والے ایسے تمام وزرائے اعظم کے دستخط ملاحظہ فرمائیں تو انہیں اپنے ممدوح نواز شریف کے دستخط سب سے زیادہ ملیں گے۔
تمام وزرائے اعظم نے اپنی پارٹیوں سے سیاسی وابستگی رکھنے والے وکلا کو جج لگایا اور پھر ان سے جیسی توقعات وابستہ کی تھیں، اگر انہوں نے اسکے برعکس کام کیا تو انہی کو مطعون کر دیا جیسے کوئی غلام حکم عدولی کرے تو بہت غصہ آتا ہے۔ ججوں کی تقرری کی خشتِ اول اقربا پروری، سفارش اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہ رکھی جاتی تو آج آپ یہ گلہ کبھی نہ کرتے۔ آج بھی اگر ججوں کی تعیناتی کا نظام سول سروس کی طرح براہِ راست میرٹ پر ہو اور اعلی عدالتوں میں وکلا کا کوٹہ مکمل ختم کر دیا جائے تو پاکستان کی عدلیہ میں ایک سنہرا دور لایا جا سکتا ہے۔
سیاسی مداخلت اور وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیار نے ملک کے سب سے قابل ادارے سول سروس کو جس طرح تباہ و برباد کیا، اس کی کہانی المناک ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر1973تک ملک پر جو بھی سیاسی افتاد آئی، حکومتیں بدلیں مارشل لاء آئے لیکن سول سروس کے مضبوط ڈھانچے نے ملک کو جو1947میں پسماندہ اور بے یار و مددگار تھا، دنیا میں ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ انگلینڈ کی گریجویشن میں ترقیاتی معاشیات (Development Economics)کے کورس کی کتاب میں پاکستان صنعتی اور زرعی ترقی کو مثال کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ چودہ اگست1947کو سول سرونٹ جو کامن پن نہ ہونے کی وجہ سے جھاڑیوں سے کانٹے چن کر فائلیں مرتب کیا کرتے تھے انہی کی شبانہ روز محنتوں نے صرف25سال میں پاکستان کو دنیا بھر میں صنعتی، زرعی اور اقتصادی شعبے میں روشن مثال بنا دیا اور پاکستان پر کل قرضہ صرف3.5ارب ڈالر تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے1973میں جو متفقہ آئین دیا اس میں وہ تمام آئینی ضمانتیں ( Guarantees)ختم کر دیں جو ایک سول سرونٹ کو حاصل تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ایمانداری کو برقرار رکھ سکتا تھا۔ ۔بھٹو کے آئین نے سول سرونٹس کو سیاسی آقائوں کے رحم و کرم پر ڈال کر انہیں ان کا غلام بنا دیا ۔ آج ادارے کی تباہی بربادی سب کے سامنے واضح ہے۔ ناکام، ناکارہ، سیاسی آقائوں کے اشارے پر چلنے والی سول سروس جس میں نہ ایمانداری ہے اور نہ اخلاق، نہ خود پر یقین ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل پر بھروسہ۔پاکستان کی افواج ابھی تک صرف ایک آرمی چیف کی تعیناتی کے علاوہ باقی ہر معاملے میں کسی بھی قسم کے تنازعے سے پاک ہیں۔ یہ عہدہ بھی اس لئے متنازعہ ہوا کیونکہ طالع آزما جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے متنازعہ بنایا۔75 سال انکی نرسری میں سیاستدان دانا دنکا چگتے رہے۔ یہ خود برسراقتدار نہیں ہوتے تو جسکے سر پر انکا ”ہما”بیٹھ جاتا وہ اقتدار میں آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں گزشتہ50سالوں میں ایک ایسی تباہی پھیلی، ایسا زوال آیا کہ اب چاروں اور ماتم برپا ہے۔
جب تک سیاستدان اس مرکز طاقت کو رام کرنے کے چکر میں رہیں گے، یہ وہ خواہ اس کا سربراہ لگا کر کریں یا ان سے مدد کی بھیک مانگ کر، اور جب تک سول بیوروکریسی کبھی سیاستدانوں اور کبھی فوجی سربراہوں کی دستِ نگر، زیرِ سایہ اور محتاجِ محض رہے گی یہ ملک نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی پرامن رہ سکتا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ کی تعیناتی ویسا معمول کا عمل ہونا چاہئے جیسے چیف جسٹس کی تعیناتی ہے ورنہ ہر تین سال بعد رونق تو خوب لگتی رہے گی۔

__اوریا مقبول جان کی تحریر پر تبصرہ__
پہلے تو اوریا مقبول جان سے معذرت کہ صاحب کا لفظ اور کچھ جملے کو مختصر کرنے کی وجہ سے کاٹنا پڑگیا۔ دوسرا یہ کہ جب تحریر یا تقریر سے جان جاتی ہو توپھر خود کش اور بندوق وپستول کے حملوں سے کتنی جان جاتی ہوگی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اوریامقبول جان طالبان ، تحریک لبیک، تحریک ختم نبوت، ناموس رسالت اور مذہب کے نام پر چلنے والی جماعتوں کے واقعی بڑے ہمدرد بلکہ نجأت کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اب معلوم ہواکہ معاملہ کچھ اور ہے۔ آرمی چیف کے معاملے کو متنازعہ بنانے کا دکھ اچھی بات ہے لیکن اس میں اوریا مقبول جان اور ان چہیتی سیاسی جماعتوں نے کتنا کردار ادا کیا اور مذہبی جماعتوں کا کتنا کردار تھا؟۔ جبکہ عمران خان نے سب سے پہلے سینئر موسٹ کو لگانے کی بات کی تھی ۔نوازشریف نے کسی خاص کی نفی کرتے ہوئے سب کو یکساں قرار دیا مگرتماشا تو اوریامقبول جان جیسے لوگوں نے ہی لگایا تھا۔ آرمی چیف کی تقدیر کا فیصلہ وزیراعظم کا اختیار ہے لیکن کوئی آرمی چیف اس بنیاد پر کسی کا داماد تو نہیں بن جاتا ہے۔ اس کی ایک سروس ہوتی ہے اور اپنا ادارہ اور اس کی خیرخواہی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
پہلے اوریامقبول جان نے ایک بہت سنسنی پھیلائی تھی کہ حافظ سید عاصم منیر شاہ کسی صورت بھی آرمی چیف نہیں بن سکتے۔ اب جب بن گئے تو سراج الحق کو ٹوپی سے پکڑلیا کہ ” سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے” تاکہ یہ تأثر پھیل جائے کہ موجودہ سینارٹی لسٹ کے مطابق تعیناتی پر اور یا مقبول بھی بہت خوش اور متفق ہیں۔ عرفان صدیقی کے دامن کو پیچھے سے پکڑلیا کیونکہ اب آرمی چیف ن لیگ کی خواہش کے مطابق تعینات ہوا ہے اور عرفان صدیقی بھی اس ٹیم کا ایک حصہ ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ عرفان صدیقی کی تجویز پر منتخب کیا گیا تھا لیکن عرفان صدیقی کو اسی کے دور میں جیل کی ہوا کھانی پڑگئی تھی اور جنرل باجوہ کی تائید میں اوریا مقبول جان نے ایک خواب بھی میڈیا پر بتایا تھا۔ لوگوں کو اس کے مشرف دور کے پروگرام یاد ہیں کہ فوج کے حق میں کہتا تھا کہ” بڑے معصوم فوجی جرنیل ہمیشہ اچھے رہے اور سول بیوروکریسی تمام خرابیوں کی جڑ رہی ہے”۔ اب فوج بری لگ رہی ہے اور بیوروکریسی کا کردار زبردست ہوگیا؟۔
عرفان صدیقی اپنے لہجے میں مٹھاس اور نزاکت خیزی کی جگہ حق کی خاطر بہت کڑوے بلکہ گالی برگیڈ بن جائیں لیکن معاشرے میں زہر گھولنے کیلئے کوئی جھوٹ مت بولیں۔ جب عرفان صدیقی نے کہا کہ ”رفیق تارڑ پر پانچ جرنیلوں نے بندوق تان کر دباؤ ڈالا کہ استعفیٰ دو لیکن رفیق تارڑ ڈٹ گئے ”۔ جس پر حامد میر نے بڑے مذاحیہ لہجے میں کہا کہ ” رفیق تارڑ نے ”۔ محترم قاری اللہ داد صاحب سے کہا کہ ” قرآن نے زانیوں پر لعنت نہیں بھیجی لیکن جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجی ہے”۔ عرفان صدیقی لال کرتی کے بدنام مکانات میں جاتے مگر نواز شریف کیلئے جھوٹ نہ بولتے ۔ ن لیگ جماعت اسلامی ،سپاہ صحابہ، مولانا سمیع الحق اورطالبان کیساتھ کھڑی ہوتی تھی اور اب مولانا فضل الرحمن کیساتھ کھڑی ہوگئی لیکن جونہی پیپلزپارٹی سے اتحاد ناگزیر ہوگیا اور تحریک لبیک سے خطرہ پیدا ہوگیا تو عرفان صدیقی نے بہت باریکی سے مذہبی طبقے پر وار کیا۔ اوریا مقبول جان کو مذہبی اسٹیج پر بولنے کا موقع ملتاتھا لیکن مرد کے بچے نے نصیحت نہیںکی؟۔
آخرت کو سنوارنے کیلئے اسلام کے بنیادی معاشرتی معاملات پر علمی گفتگو کرنی چاہیے تاکہ حلالہ کی لعنت اور عورت کی حق تلفی کے مسائل کا خاتمہ ہو۔ اگر مذہبی طبقہ طاقت میں آتا تواوریا مقبول اور عرفان صدیقی کو طالبان بنتے دیکھا ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

ہمارا جمعیت علماء اسلام نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔

جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ ہے کہ وہ جو کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی آگے لیکر آیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے

جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کے معروف رہنما عالم دین مولانا عصام الدین محسود نے کثیر تعداد میں قومی مشیران کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو خیر باد کہہ دیا ہے ۔ جن میں نامور شخصیات ملک محمد ہاشم خان، ملک سیف الرحمن، حاجی کرامت خان، ملک نعیم جان، ملک گل کرام خان، ملک عبد الحمید خان، ملک رحمت اللہ (رام تل)،ملک سلطان خان، حاجی محمد اقبال خان، نور محمد برکی، ملک بہرام خان، دارو خان، حاجی شاہ محمود خان، ملک فیض اللہ خان اور ڈاکٹر عبد المجید خان وغیرہ شامل ہیں۔ قوم شمن خیل ، لاتعداد عبدالائی، منزائی وغیرہ محسود قوم کی اکثریت نے مولانا عصام الدین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مولانا عصام الدین محسودنے دکھ بھرے لہجے میں40سالہ رفاقت کو چھوڑنے کی مجبوری پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا:

ٹانک شہر میں مولانا عبد الحق ، قاضی عطاء اللہ اور مولانا فتح خان جمعیت علماء اسلام کی خدمت کررہے تھے۔ جب1983میں مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کی خدمت کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ مولانا عبید اللہ انور، مولانا عبد اللہ درخواستی پیچھے ہٹے ۔ مولانا فضل الرحمن آگے آئے تو چونکہ ہماری جوانی تھی ۔ ہم نے ساتھ دیا ، ہر محاذ پر بہت قربانیاں بھی دیں۔ اس نے ہمارا ذہن یہ بنایا تھا کہ لنخرج العباد من عبادة العباد الیٰ عبادة رب العباد ہمارا جمعیت نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔ ان لوگوں کی غلامی جن کا اپنا ذہنی میلان غلامی کا ہے ۔ مجھے جو دکھ درد پہنچا، اس کا میں مکمل اظہار نہیں کرسکتا اسلئے کہ میرا دل بہت کمزور ہے۔ آج جب میں جمعیت کو چھوڑ رہا ہوں تو میرے لئے کوئی خوشی کی بات اور اچھا دن نہیں۔ آج جیسا میں مرچکا اور ختم ہوچکا ہوں۔ پارٹی کی آپ40سال خدمت کرو اور اس کو خیر باد کہو تو یہ بہت بڑی بات ہے۔KPKکی لیڈر شپ اوراختیارات مولانا نے ایک ایسے آدمی کو دئیے جو میری موجودگی میں تین مرتبہ مجلس عمومی کے اجلاس سے کرپشن اور بدنامی کی بنیاد پر نکالا گیا۔ اس کو میٹنگ میں آنے سے منع کرتے تھے۔ آج اس کو خیبر پختونخواہ کا گورنر لگایا۔KPKمیں جتنے پرانے علماء کرام اور قربانیوں کے لوگ ہیں سب کو چھوڑ دیا۔ رشتے دار بیٹی کے سسر کو گورنری دی۔ میں جمعیت علماء اسلام کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ مجھ پر بھاری، تکلیف دہ ہے اسلئے کہ یہ جھنڈا میرے باپ نے بھی گھمایا ۔ مفتی محمود کے وقت میں میرے والد قبائل کی ساتوں ایجنسی کے صدر تھے۔ اس جمعیت کی بنیاد وزیرستان میں میں نے رکھی ۔ سراروغہ میں انصار الاسلام سے جمعیت کو منتقل کیا پھر کل قبائل جمعیت بھی الحمد للہ میری کوششوں سے وجود میں آئی تھی۔ بڑے جلسوںاور پروگرام کا اہتمام میرے گھر سے ہوتا تھا۔ وہ نظریہ جو مولانا نے متعارف کرایا تھا اسکے خلاف مولانا خود چل پڑے۔ اسلئے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں اور مستقبل کیلئے میں اپنی قوم اور عوام کی رائے سے قدم اٹھاؤں گا۔ میرا گلہ ہے کہ مولانا صاحب بہت سارے علماء نے آپ کیساتھ بڑی قربانیاں دیں ۔ جنکے باپ دادا جمعیت میں بوڑھے اور فوت ہوگئے۔DIخان کو دیکھیں! مولانا علاؤ الدین ، مفتی عبد القدوس اور کلاچی کے قاضی عبد الکریم یہ جتنے علمی گھرانے تھے مولانا فضل الرحمن کی کوشش سے جمعیت کی قیادت سے نکلے بلکہ انکے نام کو مٹانے کی کوشش کی۔ ٹانک میں مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا عبد الحق مولانا فتح خان، مولانا عبد الرؤف کی جماعت کیلئے قربانیاں تھیں۔ ان کی اولاد کو کسی شمار و قطار میں نہیں سمجھتا بلکہ ان کی بے عزتی کی کوشش کرتا ہے۔ میں ڈرتا تھا کہ میری بے عزتی نہ ہوجائے۔KPKمیںمولانا جمعیت کو وراثت میں تبدیل کرچکا ۔ ڈی آئی خان میں اس کی خاندانی ، بنوں میں اکرم درانی اور پشاور میں غلام علی کی بالادستی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ آج اٹھ جائیں اور اپنے آپ کا خود پوچھ لیں اگر وہ پوچھیں نہ تو ان کیلئے یہ وقت نقصان دہ ہوگا۔ اللہ کرے کہ جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اس طرح سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ وہ کس طرف جارہے ہیں؟۔ کس کیساتھ جارہے ہیں؟ اور کس لئے جارہے ہیں؟۔
صوبے کے علماء سے مطالبہ ہے کہ اٹھ جاؤ اور اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں لو ۔ آج جمعیت سرمایہ داروں کے ہاتھ میں گئی۔ میں نے اس دن استعفیٰ دیا تھا جس پر امیر اور جنرل سیکریٹری گواہ ہیں کہ جس دن ساؤتھ وزیرستان محسود ایریا سروکئی تحصیل اور لدھا تحصیل کے میئر کے نام آگئے تو اس دن میں نے دستخط کردئیے اور کہا کہ اسکے بعد مولانا صاحب میں کابینہ میں ساتھ نہیں ہوں گا۔ اس نے کہا کہ کیوں؟ ۔ میں نے کہا اسلئے کہ محسود ایریا کے لوگ جمعیت علماء اسلام کو مفت میں ووٹ دیتے تھے۔ آپ نے سرمایہ داروں کوآ گے کردیا اور ان کو ٹکٹ دیا۔ مولانا صاحب نہیں چاہتا کہ کوئی غریب عالم بھی آگے آئے۔ حالانکہ علماء کی اکثریت ہے اور اب بھی پوچھ سکتے ہیں کہ میئر کیلئے اکثریت علماء کے حق میں تھی کہ ٹکٹ علماء کو ملیں لیکن جب بات مولانا تک پہنچی تو مولانا سرمایہ دار کے حق میں فیصلہ کرتا تھا۔ اس طرح مولانا صالح شاہ کے بیٹے کو ٹکٹ دیا۔ اس دن بھی آپ لوگوں نے مجھے داد دی تھی اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے۔ اس کے علاوہ کی باتیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے دوستوں کے ساتھ مشورہ کروں گا۔ اگر سیاست کیلئے دل چاہا تو جماعتیں بہت ہیںاور اگر نہیں چاہا تو بھی اپنے لئے لائحہ عمل بناؤں گا۔ جمعیت موروثی جماعت بن گئی، علماء کی جماعت نہیں ، ان پڑھ لوگوں میں بھی صرف مالداروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ میں جماعت کیلئے یہ گناہ سمجھتا ہوں اور اسکے بعد میں شامل نہ ہوں گا، و آخر دعوانا ان الحمد للہ ۔
سوال: مولانا صاحب یہ بتاؤ کہ گورنری کیلئے جمعیت علماء اسلام سے کوئی مشاورت ہوئی تھی؟۔ یا ایسے ہی نامزد کردیا؟۔ اور لوگوں نے اتفاق کرلیا؟۔
جواب: مولانا ہر بات میں مشاورت کرتا ہے لیکن پہلے کارکنوں کا یہ ایسا ذہن بناتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایک رسمی مشاورت ہوتی ہے۔
سائل: مطلب ہے کہ پہلے سے کسی ایک کیلئے ذہن بنایا ہوتا ہے۔
جواب: ہاں بالکل! جس کیلئے مولانا چاہتے ہیں اسی کو لاتے ہیں۔
سوال: کیا یہ بات جماعت کی مرکزی اور صوبائی سطح پر پہلے بھی آپ نے کبھی اٹھائی ہے کہ ہمیں یہ شکایات ہیں؟ یا پہلی مرتبہ یہاں بیان کررہے ہیں؟ ۔
جواب: میں نے بالکل پہلے بھی کی ہے لیکن جو لوگ ان کے گھر سے باہر کے تھے تو وہ کہتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کی تو ہمیں عہدوں سے ہٹادے گا۔ عصام الدین صاحب یہ مہربانی کرو کہ چند سال مجھے اس عہدے پر رہنے دو۔ اگر آپ مخالفت کرو تو پھر آپ کی جگہ جماعت میں نہیں ہے۔
سوال: جس طرح پاکستان میں گرما گرمی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ایسے میں بنیادی رکنیت سے آپ کا مستعفی ہونا تو کیا کسی سیاسی جماعت میں کوئی جانے کا فیصلہ کیا ہے؟۔ یا پھر آپ خاموش رہیں گے؟۔
جواب: اگر میرے مفاد کی بات ہوتی تو غلام علی کو میں بہت عرصہ سے جانتا ہوں جب وہ کونسلر بھی نہ تھا پھر میں استعفیٰ نہ دیتا بلکہ گورنر سے مفادات اٹھاتا۔ لیکن الحمد للہ کہ میں نے پہلے بھی کبھی جماعت میں مفادات نہیں اٹھائے ہیں۔ اور نہ آئندہ کسی اور پارٹی سے میرے مفادات کا خیال ہے۔ ہر بندے کا حق ہے کہ سیاست کرے لیکن وہ اپنے لئے اس پارٹی کو چنے گا کہ جس میں میرے دوستوں ، میری قوم کے لوگوں اور میرے علاقے کے لوگوں کو پسند ہواور اس میں میری عزت ہو، بے عزتی نہ ہو۔ میں جمعیت فضل الرحمن کو چھوڑ رہا ہوں تو مجھے اپنی عزت کا خطرہ ہے۔ یہ تین چار سال سے جو ہورہا ہے کہ انہوں نے مجھے اپنا سرپرست بنایا ہے تو میں نے جو کچھ بھی دیکھا، اس کو سر عام بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے40سال گزارے اسلئے میں وہ باتیں نہیں کرسکتا کہ کیوں جماعت کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکنKPKکے گورنر سے مجھے یقینی طور پربہت تکلیف پہنچی۔ اسلئے میں نے آج نو دس بجے ہنگامی فیصلہ کیا کہ آج تمام علماء ، پرانے دوستوں کو نظر انداز کرکے سسرالی رشتہ دار کو گورنری دی تو کیا کوئی اس کی اہلیت نہیں رکھتا تھا؟۔ میں نے بتایا کہ ہمارے وقت میں اس کو تین دفعہ اجلاس سے نکال دیا گیا تھا۔ بس یہ میرے لئے برداشت کے قابل بات نہیں تھی۔
سوال: اس نے تو ایم پی اے کا ٹکٹ بھی بغیر داڑھی والے کودیا ہے جو جماعتی فرد نہ تھا۔ اسی طرح گلستان بھی ایساتھا اور… بیٹنی بھی ۔
جواب: ہاں اسکا رویہ یہی ہے جوMPAاسکےMNAکا خرچہ برداشت کرتا ہے اسی کو ٹکٹ دیتا تھا۔ جو علماء ، کارکن خرچہ نہیں اٹھاسکتے تو ٹکٹ نہیں دیتا تھا۔ گلستان اور جس کو ابھی ٹکٹ دیا ہے وہ صرف اسلئے دیا کہ وہ خرچہ اٹھاتا ہے۔
سائل: یعنی جو مالی طور پر مولانا کے خرچے کو اٹھاسکتا ہے جماعتی طور پر نہیں!
جواب: ہاں بالکل۔ جماعت برائے نام معاملہ ہے ۔ آپ کا جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو ٹکٹ بھی مل جائیگا جب دولت ہو تو۔ اگر دولت نہ ہو تو پھر آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے گھر مولانا فضل الرحمن اورمولانا عطاء الرحمن نے بہت راتیںگزاری ہیں۔ جماعت کا کوئی لیڈر نہیں جس نے اس بیٹھک میں رات نہ گزاری ہو۔ یہ جماعت اولیاء اللہ کی جماعت تھی اور اچھے لوگوں کی جماعت تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا احمد علی لاہوری اور یہ مفتی محمود کی جماعت ہے۔ اس جماعت کو اس طرف نہ لے جاؤ جس میں علماء کی بے قدری ہو اور سرمایہ دار کی عزت ہو۔ اللہ ہم پر رحم کرے اور ہماری جمعیت علماء کے پرانے ساتھیوں کو یہ فکر دے کہ آخر ہم کس طرف جارہے ہیں۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان سرمایہ داروں کو بھی جماعت میں شامل کریں گے اور ٹکٹ دیں گے تو پھر ؟ ۔
جواب: سرمایہ دارں میں جو لوگ جماعت کیلئے قربانی دیتے ہیں ان کو بھی ٹکٹ دینے کا حق پہنچتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی سرمایہ دار ہے اور وہ جماعت میں نہیں آسکتا ہے۔ جماعت میں بہت سرمایہ دار لوگ ہیں ان کی قربانیاں ہیں۔ وہ بچپن سے جماعت کیلئے قربانیاں دیتے آئے ہیںاور ان کی داڑھیاں نہیں ہیں لیکن ان کا نظریہ جمعیت علماء اسلام کا ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا ہے کہ جسکا تعلق جماعت سے ہے لیکن کردار جماعت کیخلاف ہے تو اس کی مخالفت ہم کرتے تھے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ سرمایہ دار کو ٹکٹ نہ دیا جائے مگر اقرباء پروری نہ ہو جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ کمال ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی اور آگے لیکر آگیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے اور یہ غلام علی پشاور نہیں دیر کا ہے ۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام سے مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا گل نصیب خان وغیرہ کو نکال دیا گیا کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے لگے ہوئے ہیں تو کیا اس وقت آپ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت کے فیصلے سے متفق تھے؟۔
جواب: مجھ پر کوئی یہ ثابت نہیں کرے گا کہ میں نے کبھی مولانا شیرانی اور مولانا گل نصیب خان کی مخالفت کی ہو۔ بلکہ میں کسی بھی عالم کی مخالفت کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ شیرانی صاحب کی جو قربانیاں جماعت کیلئے ہیں وہ مولانا فضل الرحمن نے آنکھوں سے بھی نہیں دیکھی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جو کیا ،اپنی لیڈر شپ کیلئے کیا اور مولانا شیرانی نے جو قربانیاں دیں وہ جماعت کیلئے دی ہیں کسی اور کیلئے نہیں دی ہیں۔ اس نے ہر موقع پر مولانا شیرانی کے خلاف جماعت کو استعمال کیا ہے اور میں اس میں بھی اس کے ساتھ متفق نہیں تھا۔ اگر میری کوئی آئی ڈ ی دیکھ لے تو میرا اس میں اس وقت بھی بیان موجود ہے کہ جو جماعت نے ان لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے یہ بہت دلخراش ہے۔ اس کو آپ دیکھ لیں میرا مؤقف اس وقت بھی یہ تھا کہ ان علماء کو جماعت سے نکالنا درست نہیں ۔ یہ اختیار بھی غلط ہے کہ اتنے بڑے بڑے علماء کو جماعت سے نکالو۔ مجھے آج کے اس احتجاج سے یہ امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں علماء اپنے لئے کچھ سوچیں گے۔

__تبصرہ__

سوسالہ تاریخ میں جمعیت علماء اسلام کو چند خاندانوں تک محدود کرنے کی کوششوں اور اکابر کی جانب سے مختلف ادوار میں اصلاح کی طویل جدوجہدکے
نشیب وفراز
حالات وواقعات کے زبانی اندرونی حقائق پہلی مرتبہ کارکنوں کے لئے منظر عام پرلانے والی کتاب ، جس کو پڑھنے کے بعد ہر کارکن جمعیت علماء اسلام کی دوبارہ احیاء کی مخلصانہ مساعی کا دست وبازو بننے کا آرزو مند ہوگا۔
مصنف :محمد اسماعیل الحسنی (بلوچ)
ناشر: دارالبصیرة کوئٹہ۔ تاریخ اشاعت2022صفحات720
فون :03217888483تعداد:1100قیمت850
انتساب : جمعےة علماء اسلام کے ان بے لوث اکابرین اور بے غرض کارکنوں کے نام جو مختلف ادوار میں اپنی ہی جماعت میں مظلوم اور معتوب ٹھہریں۔
مختصر تبصرہ:ازنوشتۂ دیوار:کتاب پر مولانا گل نصیب خان کی تقریظ ہے۔ مولانا محمد اسماعیل الحسنی نے دار العلوم دیوبند کا ایک انقلابی نظریہ اور دوسرا سرمایہ دارانہ استحصالی نظریہ پر بہت گرانقدر موادپیش کیا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی و مولانا فضل الرحمن ، مولانا غلام غوث ہزاروی و مفتی محمود کی چپقلش پر تحقیق ہے۔
محمد اسماعیل الحسنی ”لیفٹیننٹ گورنر سر جیمس کی دار العلوم آمد اور مہتمم کو اعزاز” کے عنوان سے لکھتے ہیں : شمس العلماء مولانا محمد احمد (مہتمم دار العلوم دیوبند) انگریز کے وفادار اور بہی خواہ تھے۔ اسکے بدلے میں انہیں خصوصی سند ، زمین، وظیفہ اور حیدر آباد دکن میں ایک عالیشان ملازمت بطور احسان عنایت کئے گئے بحکم ھل جزاء الاحسان الا الاحسان شمس العلماء نے بھی انکے احسان کا نقد بدلہ مولانا عبید اللہ سندھی کے دیوبند سے اخراج اور شیخ الہند کو گرفتار کرواکر ادا کیا تھا بانیان دیوبند کی اولاد غیرت دینی و حمیت ملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انگریز گورنر کو سپاسنامہ پیش کرکے دار العلوم کی لائبریری میں خوشامدانہ جذبات کا اظہار کررہے تھے۔ گورنر انکے چہروں پر نظر حقارت ڈال رہے تھے۔ صفحہ81

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

اللہ پاک اپنے قرآن پاک کی برکت سے اس اسلامی انقلاب کااب آغاز کردے جس سے آسمانوں اور زمین والے دونوں خوش ہوں اور اسلام کو اجنبیت کی دَلدَل سے نکال دے!

اللہ نے جنت باپ کے مونچھ نہیں ماںکے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ محمود خان اچکزئی

میں طالبان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ نبیۖ نے حضرت عائشہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ہزاروں احادیث آپ سے نقل ہیں،جب شیرخداعلی سے اختلاف ہوا تو لشکر کی قیادت کی تھی

محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ ایوب اسٹیڈیم میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم اور خطے کیلئے اہم نکات پیش کئے

افغانستان سے امن وامان کے حوالے سے بات کرنے پر سب سیاسی قائد خاموش ہیں، محمود خان اچکزئی نے اپنی جماعت کے کچھ بڑے بڑوں کی قربانی کارسک بھی لیا اور یہ بھی کہا کہ مقامی سطح سے بین الاقومی سطح تک مثبت بات کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے ۔ اب حنا ربانی کھر نے افغانستان کا دورہ کیا تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ پراستقبال کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ اللہ کے آخری پیغمبر اور رحمت للعالمینۖ ہیں۔ میں عالم انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر حضرت محمدۖ کو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلئے مانتا ہوں کہ آپ ۖ پڑھے لکھے نہ تھے اور صرف23سال میںپوری دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کردیا۔ عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ، لونڈیوں کے لشکر لوگ پال کر رکھتے تھے۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیگم کی حیثیت سے عزت دی تو انقلاب برپا ہوا۔ عورت کو تعلیم، فن سپاہ گری، نرسنگ اور ہر شعبے میں صلاحیت منوانے کا حق دیا۔ طالبان کو کہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے اور تم حقوق سے محروم کرکے کیا اسلام نافذ کرسکتے ہو؟۔ عورت کے بغیر معاشرے کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔…..
محمود خان اچکزئی نے خطے کے امن وامان، پشتونوں کے حقوق، قانون کی بالادستی کے لائحۂ عمل اور آئین کی تابعداری کرتے ہوئے سب کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گول میزکانفرنس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
مولوی کہتا ہے کہ اسلام۔ مذہبی جماعتیں و تنظیمیں کہتی ہیں کہ اسلام۔ قوم پرست اور قومی سیاست کا کھیل کھیلنے والے کہتے ہیں کہ اسلام۔ ریاست کہتی ہے کہ اسلام۔ آئین کہتا ہے کہ اسلام۔مجاہد اور دہشتگرد کہتا ہے کہ اسلام۔ افسانہ نگار کہتا ہے کہ اسلام۔ ڈرامہ باز کہتا ہے کہ اسلام۔ امام حرم کہتا ہے کہ اسلام۔ سعودی عرب، ترکی ، ایران اور افغانستان کا حکمران کہتا ہے کہ اسلام۔ ٹک ٹاکرز کہتے ہیں کہ اسلام۔ اسلام اسلام اسلام مگرپھرہم کیوں ہیں اس میں ناکام ؟۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود نے عورت کے حقوق یہ رکھے کہ حق مہر برائے نام تھا۔ بات بات پر طلاق کا حق مرد کو حاصل تھا۔ عیسائی مذہب میں شادی کے بعد عورت کو مرد تاحیات طلاق نہیں دے سکتا تھا ۔ افراط وتفریط نے عورت کی حیثیت مسخ کردی تھی۔ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب مشرکین نے جہالت کی حد کردی تھی۔ نکاح کے مختلف اقسام اور طلاق کے مختلف اقسام کے علاوہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے لیکر بہت کچھ ہوتا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہلانے والے ہندؤوں نے عورت کیلئے بیوہ ہونے کے بعد ستی کی رسم جاری کی تھی ، شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیگم کو بھی نذرِ آتش کردیا جاتا تھا۔
اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے دورِ جاہلیت اور اپنے مذاہب کی رسوم اور مسائل سے جان چھڑاکر جمہوری بنیادوں پر بیگم اور شوہر کیلئے نکاح وطلاق پر قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آزاد و ترقی یافتہ، خوشحال وخود مختار اور جدید ترین تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھ دی اور مذہب کو کھڈے لائن لگادیا گیا تو ہمارے معاشرے میں بھی اس بنیاد پر ترقی پسند تحریکوں، سیاسی جماعتوں اور ممالک نے آغاز کیا۔ ایران، ترکی ، افغانستان، لبنان، مصر ، دوبئی اورکئی مسلم ممالک کا حلیہ تبدیل ہوگیاتھا۔ اب سعودی عرب بھی اس پر گامزن ہے۔ ایران میں احتجاج شروع ہے۔ طالبان ہی دنیا میں تنہاء رہ گئے ۔جس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی ، مصر ، ایران اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے اسلام سے پہلے خواتین کیلئے غلط مذہبی رسوم ورواج اور اسلامی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ اللہ نے ایک ایک مسئلے کا حل پیش کیامگر کم بخت مذہبی طبقہ سننے پر آمادہ نہیں بلکہ کمزوری سے آگاہی پر جانور کی طرح اپنی دُم سے اپنی پچھاڑی چھپارہاہے۔
نمبر1:دنیا میں عورت کے خلاف انتہائی خطرناک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ جب اس کا شوہر کچھ الفاظ کہتا تھا تو ان میں صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ۔عورت شوہر سے محروم بے سہارا بن جائے تومعاشرے پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ خدا کے نام پر کھیلاجارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کی ابتداء میں اس کی مذہبی حساسیت اور اس کی تردید کا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔
سورۂ البقرہ میں آیت224میں واضح کیا کہ اللہ کو اپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں رکاوٹ بنو۔ یہ آیت طلاق کے مسائل کیلئے ایک مقدمہ ہے۔ جس کی زبردست طریقے سے آئندہ کی آنے والی آیات میں225سے232تک وضاحتیں ہیں۔
نمبر2:خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ بھول بھلیوں کی طرح طلاقِ صریح وکنایہ کے بہت الفاظ تھے جن کی وجہ سے میاں بیوی کو شیطان وسوسہ ڈالتا تھا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ مذہبی اتھارٹی سے پوچھا جاتا تھا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ نے ان تمام الفاظ کا تدارک کردیا اور آیت225البقرہ میںہے کہ اللہ لغو الفاظ پر نہیںپکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یعنی صلح کرنے اور کرانے کے حوالے سے طلاق میں اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ نیت وعزم اور طرزِ عمل کی ہے۔
نمبر3:ایک بڑا خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ جب تک زبانی طلاق نہ دی جاتی عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی ۔ اسکا حق اور نہ عدت تھی۔ نکاح کا یہ طوق عورت سے بڑا ظلم تھا۔ قرآن نے عورت کی جان اس ظلم سے چھڑائی ۔ آیت226البقرہ میں ناراضگی کی عدت کو واضح کردیا کہ طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو عورت پر4ماہ عدت کا انتظار ہے۔ باہمی رضامندی کیساتھ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور4مہینے کی عدت کے بعدعورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ بیوہ کی عدت4ماہ دس دن اورطلاق شدہ کی عدت3ماہ ہے۔
آیت نمبر227البقرہ میں اللہ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر شوہر کا طلاق کا عزم تھا تو پھر اللہ سمیع علیم ہے۔ جو عزم کو سنتا اور جانتا ہے ۔ یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اسکااظہار کردیتا تو عورت4ماہ تک انتظار کرنے کے بجائے3ماہ کی عدت میں فارغ ہوجاتی۔ ایک مہینے اضافی عدت کا انتظار کرانا ہی دل کا گناہ ہے جس پر آیت225البقرہ میں پکڑ کی بات ہے۔
نمبر4:ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا انتہائی ظالمانہ مسئلہ یہ تھا کہ عورت کو ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بار رجوع و طلاق کا سلسلہ شوہر جاری رکھ سکتا تھا۔یہ دونوں مسئلے عورت اور معاشرے کے استحصال کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
اللہ نے آیت228البقرہ میں ایک تیرسے دوشکار کردئیے، ایک ساتھ 3 طلاق پر حلالے کی لعنت کا خاتمہ کیا اور صلح کے بغیر بار بار رجوع کا حق ختم کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ”اورانکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ،اگر اصلاح چاہتے ہوں”۔ حیض وپاکی کے 3مراحل تک عورت کوانتظار کا حکم ہے اورعدت میں اصلاح کی شرط پر باہمی رضامندی اور صلح کرکے شوہر عورت کو لوٹاسکتاہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا فتویٰ باطل کردیا گیا اور عورت کی اجازت کے بغیر باربار طلاق کی غلط رسم بھی ختم کردی گئی لیکن قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔
نمبر5:آیت نمبر228میں طلاق کی عدت کے تین مراحل ہیں ۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہی سے ہے اور ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں سے عورتوں کو محروم کیا جاتا۔ آیت229البقرہ میں واضح ہے کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے۔پھر معروف طریقے سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہی عدت کے تین مراحل سے ہے۔ ( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔ نبی ۖ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق آیت229میں تسریح باحسان ہے”۔
جب آیت228میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت ہے تو آیت229میں یہ تضاد نہیں ہوسکتا کہ دو مرتبہ غیرمشروط رجوع کی اجازت ہو اور تین مرتبہ کے بعد عدت میں بھی رجوع کی اجازت نہ ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے معروف رجوع کی اجازت دی اور فقہاء نے منکر رجوع کی بنیادیں کھڑی کردیں۔ عورت کے حق صلح کی شرط کوغائب کردیا تو حنفی فقہاء نے لکھ دیا کہ ” نیت نہ ہو اور غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی یا نیند میں ہاتھ لگا تو رجوع ہے”۔ اور شافعی فقہاء نے لکھ دیا کہ ”نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہیں ہوگا”۔ قرآن کے معروف رجوع کے مقابلے میں فقہاء کا منکررجوع واضح ہے۔
آیت229میں یہ واضح ہے کہ جب پہلے دومرحلے میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا تو دی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں ۔ مگر جب دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کے حدودوں کو توڑنے کا خوف رکھتے ہوں۔ اس کاواضح مطلب تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی چیز کی نشاندہی ہے جو شوہر نے دی ہے اور وہ واپس کرنا حلال نہیں لیکن اگرخوف ہے کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں طلاق شدگان ناجائز جنسی تعلق کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اور فیصلہ کرنے والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اگر وہ دی ہوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو بڑاکھڑاک ہوگا اور دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو شوہر کی طرف سے دی ہوئی اس چیز کوعورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے اور بال کی کھال اتارنے والے صحافی، وکیل، سیاستدان، جج، مولوی، تعلیم یافتہ لوگ اور بالکل ان پڑھ عوام قرآن کی اس بھرپور وضاحت کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ قرآن میں معمول کے بالکل واضح جملے ہیں مگر بڑے بڑوں نے الجھادیا ہے اور اس کے نتیجے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی اور جایداحمد غامدی جیسے لوگوں نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور علماء وجدید اسکالروں نے اس سے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے اللہ کے کلام قرآن سے اپنے اکابر کی غلط تفسیر سے توبہ کرکے اپنا معاملہ سلجھاؤ اور پھر دوسروں سے گلے شکوے کرو۔ آیت229کے پہلے حصے میں3مرتبہ طلاق اور دوسرے حصے میں عورت کو مالی تحفظ دینے کی بھرپوروضاحت ہے۔
نمبر6:عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جب شوہر ایسی طلاق دیتا تھا کہ اس کو دوبارہ بسانے کا خیال بھی دل سے نکال دیتا تھا یا عورت خلع اور طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی تھی تو شوہر اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتا تھا، اس پر قدغن لگاتا تھا، اپنی مرضی سے کسی اور سے اس کو نکاح نہیں کرنے دیتا تھا۔ آج بھی جانور، چرندوں، پرندوں اور درندوں تک کی اکثریت میں اپنی مادہ سے کسی اور نر کیلئے جنسی تعلق پر غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسانوں کی اکثریت میں بھی یہ غیرت کا مادہ پایا جاتاہے۔ لیڈی ڈیانا کے قتل میں بھی اس غیرت کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمہ چلا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا14سوسال پہلے قرآن میں اللہ نے جو علاج کیا ہے ،اگر آیت کا حکم سمجھ میں آگیا تو پورے عالم کے انسانوں کیلئے اس کی حکمت وہدایت کافی ہے۔
اللہ نے آیت230البقرہ میں فرمایا ہے کہ ” پھر اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دی تو دونوں پر حرج نہیں کہ اگر وہ رجوع کرلیں بشرط یہ کہ وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے”۔
آیت230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق حنفی مسلک کے مطابق آیت229کے دوسرے حصے فدیہ دینے کی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس پرعلامہ تمنا عمادی نے اپنی مشہور کتاب ” الطلاق مرتان” میں لکھ دیا ہے کہ ”خلع سے آیت230کی طلاق کا تعلق ہے، جس میں جرم بھی عورت کرتی ہے اور اس کی سزا بھی حلالہ کی صورت میں عورت کو ملتی ہے”۔ لیکن یہ سزا نہیں ہے ۔ ایک غلط رسم کا خاتمہ ہے۔ عورت جب کسی بھی طلاق کے صلح اور معروف طریقے سے رجوع پرراضی نہ ہو تو پھر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے جس سے بھی نکاح کرنا چاہے تو وہ بالکل آزاد ہے۔ شوہر نے ایک طلاق دی ہو تب بھی، دومرتبہ طلاق دی ہو تب بھی اور تین مرتبہ طلاق دی ہو تب بھی۔ عورت نے خلع لیا ہو تب بھی اور شوہر نے طلاق دینے کی جگہ صرف ناراضگی سے چھوڑا ہو تب بھی۔یہ عورت کی مرضی کیلئے بہت بڑی بنیاد اور اس کی غلط مردانہ غیرت سے جان چھڑانے کا زبردست ذریعہ ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش بالکل واضح الفاظ میں کی گئی ہے تو مذہبی طبقہ کیسے صلح میں رکاوٹ بن سکتا تھا؟۔ کچھ لوگ باہمی اعتماد کی وجہ سے نادانی میں بہہ گئے اور کچھ دیدہ دانستہ بااثر طبقے اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوگئے۔ عوام تو عوام ، بڑے بڑے معروف مدارس کے علماء ومفتیان، مدرسین اور اصحابِ علم وکردار بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح پہلے اکابر علماء کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا گیا ۔ پھر وہ مرگئے یا مار دئیے گئے تو علماء حضرات بے شرموں کی طرح سیمینار میں شریک ہو گئے؟۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں عدت کے اندر اوطر عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور کافی عرصہ بعد رجوع کا دروازہ بالکل کھلا رکھا گیا ہے ۔ علماء ومفتیان نے لکھا ہے کہ ” اگر عورت نے آدھے سے زیادہ بچہ جن لیا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم بچہ نکلا ہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ کوئی پوچھ لے کہ اگر تیری ماں کو تیرے حمل کے دوران طلاق ہوتی اور جب نصف جننے کے بعد رجوع ہوتا تو کیا رجوع درست ہوتا یا غلط؟۔ تو علماء اپنا کیا جواب دیتے؟۔ قرآنی تعلیمات کو مسخ کرنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے والوں کے دن بہت قریب لگتے ہیں۔
سورۂ طلاق میں بھی عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے۔ جب حضرت رکانہ کے والد نے ام رکانہ کو سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وارتین طلاقیں دیں۔پھر کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ اس نے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے اس دوسری خاتون کو طلاق دینے کا فرمایا اور ابورکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنے کا حکم ہے اور دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ جو اللہ سے ڈرا اس کیلئے آئندہ بھی اللہ راستہ کھول دے گا۔ سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ ہے۔ اتنی تفصیل کے باوجود بھی علماء ومفتیان قرآن کی طرف رجوع کرنا اپنے فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی موت سمجھتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا خاندان لکھا پڑھا گھرانہ ہے۔ پشتونستان کا نعرہ بلند کرنے کیساتھ ساتھ پشتون مذہبی قیادت کے ذریعے سے پشتون قوم کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔PDMکی قیادت ، جماعت اسلامی اور عمران خان کے علماء کو بھی دعوت دیں۔ محمود خان اچکزئی کو میں اپنے بڑے بھائی کا کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کا درجہ دیتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی بنیاد پر جو معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اس کیلئے پہل کرنے سے ایک اچھی فضاء قائم ہوجائے گی۔ اگر اتفاق رائے کے بعد مدارس، سکول، کالج ، یونیورسٹی اور مذہبی جماعتوں میں خواتین کے حقوق واضح کئے گئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف ان مسائل پر علماء ومفتیان کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے بھائی حامد خان اچکزئی نے ایک تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دور میں جو غلامی بلوچستان پر مسلط تھی اور عبد الصمد خان اچکزئی نے جس طرح کی آزادی کیلئے محنت کی تھی اس کی ایک تاریخ ہے۔ جب انہوں نے سندھ ،پنجاب وغیرہ کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ لوگ آزادانہ تقاریر کرتے ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آزادی کی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے مسجد میں قرآن کا ترجمہ شروع کردیا۔ انگریز افسرنے کہا کہ مجھے اوپر سے آرڈر ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے آپ کو روکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا مذہب ہے اور اپنے مذہب سے روکنا تمہارا کام نہیں ہے۔ انگریز نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے میں بھی آپ کی جگہ ہوتا تو یہی سوچتا لیکن مجھے روکنے کا ہی حکم ہے۔ مساجد میں قرآن کا ترجمہ کرنا مولوی اور مذہبی طبقے کا کام ہے۔ مذہبی طبقہ بھی انہی کے حکم سے چلتا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہم نے ووٹ کا حق مانگا اور اس پر ہمیں کافر قرار دیا گیا۔ آج مسلم لیگ اور جمعیت علماء ہم پر غداری و کفر کے فتوے نہیں لگاتے اور ہماری راہ پر آئے ہیں تو ہم نے ٹھیک اتحاد کیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کے بعد خواتین کی عزتوں کو تحفظ دیا ۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں عقیدے،جان، مال اور عزت سبھی کوتحفظ ملے گا

ایک طرف ساری دنیا کو سودی قرض سے چھٹکارا دلایا جائے اوردوسری طرف مزارعت کو فری کیا جائے تو انسان شیطانی کھیل سے بچ سکتے ہیں

رسول ۖ کے دورِنبوت ورحمت میں تمام اقدامات پر تائید یا تردید کیلئے وحی سے رہنمائی ملتی تھی۔ قرآنی تلاوت، صحابہ کرام کا تزکیہ ، کتاب و حکمت کی تعلیم جاری تھی۔ جسکا سورۂ جمعہ میں ذکر ہے اور آخرین کابھی ذکر ہے جو اسلام کی نشاة ثانیہ کاقیام کرینگے۔ نبیۖ سے فرمایا: اگر دین ثریا پر پہنچے تو بھی سلمان فارسی کی قوم کا فرد یا چندافراد اس تک پہنچیںگے ۔ بعض روایات میں علم و ایمان کا ذکر ہے۔ دین، علم اور ایمان الفاظ بظاہر مختلف لیکن حقیقت میں ایک ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے ویڈیو کلپ میں کہا کہ ”رسول اللہ ۖ کی آخری سانسیں تھیں اور دنیا سے رخصتی پرآپۖ کے آخری الفاظ یہ تھے الصلوٰة و ماملکت ایمانکم (نماز کا خیال رکھو اور دوسرے جو آپ کے نوکر ہیں، ان کا خاص خیال رکھو)۔ ملکت ایمانکم میں نوکر آتے ہیں اور بیوی بچے بھی”۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بچے شامل کرکے جہالت کی انتہاء کردی۔ سعودی عرب کا موجودہ قانون مسیار قرآن ماملکت ایمانکم کے مطابق درست ہے۔ جس میںمزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کہاں ابوبکر کی طرف مانعین زکوٰة کیخلاف جہاد اور کہاں جنرل ضیاء دور سے سود کا زکوٰة کے نام پر کٹوتی سے زکوٰة کے وجود کے خاتمے کی تحریف ؟ ۔پھر بینک کے سودی نظام کو حلال کرنے کا اسلام ؟۔
جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان دیوبندی بریلوی کا کام سرکاری سطح پر پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف تحریک نظام مصطفی ۖ چلی تو اس میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور سیدابولاعلیٰ مودودی کے علاوہ پختون وبلوچ ، پنجابی وسندھی کی قوم پرست اور نظریاتی جماعتیں بھی حصہ دار تھیں۔ بھٹو عالم اسلام کی قیادت کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نظام مصطفیۖ کے بغیر دنیا کی قیادت نہیں کرسکتاتھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی گود میں بیٹھ گئی اور مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کیساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرنڈم لڑا کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ مقصد اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ اپنے آپ کوصدر اور مارشل لاء چیف کیساتھ امیرالمؤمنین بناناتھا۔ حادثے میں نہ مرتا تو نوازشریف، جماعت اسلامی ، علماء اور مجاہدین اس کے درباری ہوتے۔
علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی میں دین کی سمجھ ہوتی تو ضیاء ریفرینڈم کی کبھی حمایت نہ کرتے اسلئے کہ جب خواجہ سرا کو یہ اختیار دینا اسلام کے خلاف اور بہت بڑا کفر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مرد خواجہ سراہے یا عورت خواجہ سرا ہے؟۔ حالانکہ میڈیکل آلات نہیں جس سے پتہ چلے کہ خواجہ سرا 51%مرد یا عورت ہے؟۔ جب خواجہ سرا کو اپنے جنس کے تعین کی اجازت اسلام کے خلاف سازش ہے تو پھر عوام کو کیسے اختیار دیا جاسکتا ہے کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ جبکہ پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا اور آئین پاکستان میں بھی اسلام طے تھا؟۔
جنہوں نے ہندوستان ، روس ،امریکہ اورنیٹو کیخلاف جہاد کرکے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تو وہ اللہ کے ہاں پہنچ چکے ۔ اگر مال ودولت یا شہرت کیلئے اپنی شہادت پیش کی تو الگ بات ہے ،اگر اللہ کیلئے قربانی تو اجر اللہ پر ہے۔ جہاد کے نتائج کیوں اچھے نہ نکلے؟۔ بڑا سوال ہے روس کو شکست ہوئی اور پھر مجاہدین نے کیا لڑکوں سے نکاح کیا یا یہ محض امریکی سازش تھی؟۔ بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر خلافت قائم کرنے کیلئے طالبان کو لایا؟۔ یہ دیکھ لیا کہ افغانستان، عراق، لیبیا ، شام اور یمن تباہ وبرباد ہوگئے اور پاکستان کو بھی بہت نقصان پہنچ گیا۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv