پوسٹ تلاش کریں

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

1:ریاست عوام پر معیشت کا بوجھ ہے اور اس کا تدارک کس طرح ہوسکتاہے؟۔
2:جمہوریت لڑائیوں اور نفرتوں کی بنیادہے؟۔ اس کا تدارک کیسے ہوسکتا ہے۔
3:صحافت نے سیاسی وکالت کا ٹھیکہ اٹھایاہے۔اسکو لگام کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
ماں انسان ہو یا جانور، بچوں کو روزی دیتی ہے۔ ریاست ماں گدھی ہو تو لاتیں نہیں مارتی، گھاس کھاکر بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ گدھیڑے بچے بھی ماں سے پیار کرتے ہیں۔ ریاست دودھ نہ دے اور لاتیں مارے تو گدھی سے بدتر ہے۔ جنرل ضیاء کے بعد بینظیر بھٹو نے اقتدار سنبھال لیااور پھرIMFسے پاکستان نے تاریخ میںپہلی مرتبہ قرضہ لیا تھا۔جس پر حبیب جالب نے کہا تھا
ہربلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ” بی بی یہ آپ کی تعریف ہے”۔ وکیل کا کام سیاہ کو سفیداور سفید کو سیاہ کرنا ہے۔ جالب نے ضیا ء الحق کے مقابلے میں بینظیر بھٹو کی تعریف میں اشعار کہے کہ ” ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے ” ۔
جنرل مشرف نے غیرت کو بالائے طاق رکھ کرامریکہ سے20ارب ڈالر لئے ۔پاکستان کوIMFسے2004سے2008تک آزاد کردیا۔ یوسف رمزی اور ایمل کانسی پہلے امریکہ کو دئیے ۔ ریمند ڈیوس، عافیہ اور ملا ضعیف بھی ۔ افغانستان نے غیرت دکھائی اور بن لادن کو حوالے نہیں کیا۔ قوم مہاجر بنے اور اغیار قبضہ کریںتو عورتوں اور مردوں کی عزتیں بری طرح پامال کی جاتی ہیں۔
پرویزمشرف نے پھر6ارب ڈالر کاIMFسے قرضہ لیا۔ جوزرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا،نوازشریف نے30ارب ڈالر تک ، عمران خان نے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچایا۔ زرداری نے پرویزمشرف سے 4 ارب ڈالر کا زیادہ قرضہ لیا۔6+4=10اور نوازشریف نے زرداری سے4ارب ڈالرزیادہ قرضہ لیا۔10+4=14اورعمران خان نے نوازشریف سے4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لیا۔14+4=18۔ سب ایک دوسرے سے بد سے بدتر ہیں۔ قرضہ سے مہنگائی کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے اور موجودہ حکومت بھی4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لے تو18+4=22۔ قرضہ70ارب ڈالر تک پہنچے گا تو پھر ایٹمی اثاثہ جات کیا ہماری جانیں اور عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔
معیشت طوفانِ نوح اور کرپشن چندافراد کیلئے کشتی نوح ہے جو بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کو آباد کررہے ہیں، عوام اور تمام اداروں کا بیڑہ غرق ہے۔ پہلے جس سول بیوروکریٹ، فوجی جرنیل، جج ،سیاستدان ، صحافی کے بچے بیرون ملک ہوں کو فارغ کیا جائے۔ مزدور و تاجر بیرون ملک پیسہ کماکر پاکستان بھیجتاہے تو خوشحالی آتی ہے اور یہ یہاں سے کماکر باہر بھیجتے ہیں تو بدحالی آتی ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔ اشتہارقومی رقم سے چلے ۔صحافی سیاسی پارٹی، چینل اور حکومت یاا پوزیشن کی وکالت میں توازن کھو کرقوم کادماغ خراب کرے۔
صحافی بیرون ملک خطرناک ہیں۔ عوام کی ذہن سازی سچ سے ہوتی ہے۔ سچ کڑوا مگر زہر نہیں تریاق ہے۔ سچ سے جھوٹ دفن ہوتے ہیں مگر سچ آتے آتے جھوٹ قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ احمد رفیق نورانی نے فوج اور طاقتور طبقے کا مقابلہ کرکے مشکل زندگی گزاری اور اب بیرون ملک ہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ اور اسکے خاندان پرFBRکے ریکارڈ کی خبر لگائی تو اسحاق ڈار نے میڈیا پر بتایا کہ تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ خبر کس نے لیک کردی ہے؟۔ جس سے الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبربریگیڈ کی زبان پر بھی ڈھول بجنا شروع ہوگئے۔ اچھی بات یہی ہے کہ احمد نورانی نے کسی صحافی کے پوچھنے پر بتایا کہ ” جنرل قمر جاوید باجوہ پر بلجیم کی پراپرٹی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی پرآسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کا الزام جھوٹا ہے”۔ لوگFBRمیں جنرل باجوہ کے خاندان کی12یا13ارب کے اضافے کو بہت زیادہ اور انوکھا سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مفتی محمد نعیم کے بھی5ارب34کروڑ کی رقم اکاونٹ سے نکلنے کی خبر تھی تو آرمی چیف ایک طاقتور عہدہ ہے ، اس کا خاندان پہلے بھی اثاثے رکھتا ہوگا۔ جھونپڑی کے خاندان سے تو وہ اس منصب تک نہیں پہنچا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جھونپڑی اور عام گھر کی قیمت کہاں سے کہاں6سالوں میں پہنچی ہے؟۔اگر مہنگائی میں کئی سو فیصد تک اضافہ ہوا تو کیا جنرل باجوہ کے خاندان کی پراپرٹی کی قیمت نہیں بڑھی ہوگی؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب اس پر چھپی ہوئی بلجیم کی دولت کے الزامات جھوٹے نکلے اور جس دولت کوFBRمیں درج کیا ہے تو کیا یہ قابلِ تعریف نہیں ہے؟۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اگر آسڑیلیا کے جزیرے اور بلجیم کی دولت کی طرح یہ خبر بھی جھوٹ نکلے تو پھر کیا ہوگا؟۔ پانچویں بات یہ ہے کہ باجوہ کو لگایا نوازشریف نے اور ایکسٹینشن عمران خان اور سب نے ساتھ مل کر دی۔ اب ان دونوں نے اس کو اپنے مفاد کیلئے گرانے کیلئے جاتے جاتے دونوں ٹانگوں سے پکڑ لیا ہے اور وہ گالی گلوچ کررہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ پہلے دونوں طرف سے جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن کی بات ہورہی تھی لیکن جب جنرل باجوہ نے انکار کردیا تو سب پیچھے پڑگئے۔ کوئی شرم بھی ہوتی ہے ، کوئی حیاء بھی ہوتی ہے، کوئی غیرت بھی ہوتی ہے اور کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ کچھ اخلاقیات اورکچھ اقدار بھی ہوتے ہیں۔
کرپشن پر بینظیر کا اقتدار ختم ہوا۔ اسلامی جمہوری اتحاد ملٹی پارٹی کمپنی کوISIنے پیسہ دیکر اقتدار میں لائی۔نوازشریف کو95لاکھ دئیے گئے، میرا ماموں جنوبی وزیرستان سے پونے دو کروڑ روپے خرچ کرکے قومی اسمبلی کی نشست ہارا تھا۔ نوازشریف ایون فیلڈ اور رائیونڈمحل کا مالک ہے اور میرے ماموں زادکی رہائش پرائے گھر میں ہے۔ آئی جے آئی کا انتخابی نشانہ سائیکل تھا ۔ ایک پہیہ جمہوری ، دوسرا اسلامی تھا۔ جماعت اسلامی چین اورISIکمان تھی۔ سپاہ صحابہ و دیگر جماعتیں کل پرزے تھے۔ریاست، جمہوریت اور صحافت ایک پیج پر تھے۔ جنرل حمیدگل نے قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق شہید اور سپاہ صحابہ واہل تشیع مذہبی عناصر کی وجہ سے اسلام کا نام دیا ۔MRDسے پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئیIJIکے صدر تھے۔ مولانا سمیع الحق اتحاد کے صوبائی صدرنوازشریف کے حق میں دستبردار ہوا۔ سائیکل کا جمہوری پہیہ پنکچرہوا تو غیر جمہوری اور غیر اسلامی نواز شریف کو بٹھادیا۔ کرپشن کی بنیاد پر تخت سے اتار ا گیا تو جمہوریت رہی اور نہ اسلام ۔قوم پرستی کا نعرہ لگایا: جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گئی آگ۔
زرداری پر گھوڑوں کو مربہ کھلانے ،سرے محل، سوئس اکاؤنٹ کاالزام لگا۔ نوازشریف پر ایون فیلڈ لندن فلیٹ کے ثبوت مل گئے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدارمیں آئے توIMFکا قرضہ بڑھا۔ جب نوازشریف نے پرویز مشرف کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنادیاتو فوج نے ری ایکشن کیا اور خواجہ ضیاء کو گرفتار کرکے نوازشریف کا اقتدار ختم کیا۔ فوج کی پہلی لڑائی اپنے سہولت کارسکندر مرزا سے ہوئی جو ڈپٹی کمشنر سے گورنر جنرل بنا تھا اور پھر پہلے لے پالک ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی جو مجیب کے مقابلے میں اقلیتی جماعت کا قائد تھا۔ پھر دوسرے لے پالک نواز شریف سے ہوئی۔ اب تیسرے لے پالک عمران خان سے ہوئی۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔
مولانا فضل الرحمن کی تقریر ” آذانِ انقلاب ”کے نام سے چھپی۔ جس میں جمعیت علماء اسلام پر احادیث فٹ کی گئیں جو خلافت کے حوالے سے ہیں۔ میرا بھائی پیر نثار احمد کہتا تھا کہ میرے15سال اسلامی کتب کا مطالعہ ایک طرف اور مولانا فضل الرحمن کی یہ تقریر دوسری طرف ہو تو تقریر کا پلڑا بھاری ہے۔ مجھے اس پر مسکان آتی مگر بھائی کی دل شکنی اور اس جہالت سے پردہ نہیںہٹانا چاہتا تھا اسلئے کہ حرکت میں برکت ہے۔ حرکت کو دھچکا پہنچتا تو یہ فکر مٹ جاتی۔ علماء نے مولانا فضل الرحمن کو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے بعدMRDمیں شمولیت پر اسلام سے خارج قرار دیا۔ خلق پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی سے اتحاد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔پھر نیشنل پیپلزپارٹی جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد ہوا۔ وہی شخص،اسی پارٹی و منشور کیساتھ انہی نکٹوں کی قیادت کررہا تھا جس کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن کودائرہ اسلام سے خارج کافر قرار دیا گیا تھا۔جب قحط الرجال کا دور آیا تو فتویٰ لگانے والے علامہ زاہدالراشدی کو جمعیت کی طرف سے مولانا فضل الرحمن نے شیلڈ پیش کردی۔ کیا یہ اس فتوے پر انعام دیا گیا؟۔
جب1997ء میں دوسری بار مولانا فضل الرحمن اسمبلی سے باہر ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کااجلاس ڈیرہ اسماعیل خان میں بلایا۔ مولانا محمدمراد نے جمہوریت کے حق اور مولانا محمد خان شیرانی نے مخالفت اور انقلاب کے حق میں دلائل دئیے۔ انقلابی سیاست کا فیصلہ ہوا۔ اعلان کیلئے مینارِ پاکستان لاہور میں جلسۂ عام رکھا تو فوج نے مولانا فضل الرحمن پر دباؤ ڈالاتو انقلاب کا اعلان مؤخر کیا۔ پھرنوازشریف کی حکومت جنرل مشرف نے ختم کردی ۔ پھرARDمیں نواز شریف، محمود اچکزئی، عمران خان، قاضی حسین احمد اور دوسری پارٹیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور نوازشریف نےARDسے2008کے الیکشن میں دھوکہ کرکے شرکت کرلی۔ پھر ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب کا شوشہ چھوڑا۔ دوسری مرتبہ عمران خان بھی ساتھ تھا۔ اب جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ نے عمران خان کیساتھ انقلاب کا اعلان کررکھا ہے۔
عمران خان کیساتھ پنجاب ، پختونخواہ ، گلگت بلتستان اور کشمیر حکومت ہے ۔ متحدہ حکومتی اتحاد سے ضمنی الیکشن میں پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ جبPDMمیں مولانا فضل الرحمن ، ن لیگ وغیرہ نے اپنا بیانیہ بنایا تھا کہ عمران خان کٹھ پتلی ہے ، ہمارا اصل ہدف فوج ہے تو آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اتنا بڑا رسک لینے کیلئے ضروری ہے کہ نوازشریف بھی لندن سے واپس آجائے۔ جس پر ن لیگ نے آصف علی زرداری کو خوب باتیں سنائی تھیں۔ پھر پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے باہر پھینک دیا تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا مخالف بیانیہ عمران خان اور مولانا محمد خان شیرانی کے ہاتھ میںآیا۔جمعیت علماء اسلام کے کارل مارکس مولانا محمد خان شیرانی، جذبات کے ترجمان پختونخواہ کے امیر مولانا گل نصیب خان اور جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں پیش پیش اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔
بلوچستان میں مسنگ پرسن اور پختونخواہ میں طالبان کا رونا ہے۔ اسلام پاکستانی عوام کیلئے اتحادنہیں انتشار کا باعث بنادیا گیاہے۔ قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ریاست عوام کی جان ، مال اور عزت کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ پاکستان، نظام مصطفی، اسلامی جمہوری اتحاد اور ریاست مدینہ کے نام پر لوگوں کو نسل در نسل دھوکادیاگیا۔اگر اسلام کے اصلی ونسلی لوگ میدان میں آگئے تو پھر دیکھنا پاکستان کی تقدیر بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔انشاء اللہ العزیز
امام زین العابدین بن حسین نے فرمایا: انما العلم ما عُرِف وتواطأت علیہ الأ لسن ”علم وہ ہے جو پہچانا جائے ،بسہولت زبان پرجاری ہو”۔ (سیر اعلام النبلاء وابن عساکر19/13) ۔ نبی ۖ نے مہدی کافرمایا: یؤاطی اسمہ اسمی”اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا” ۔ لفظی موافقت مراد نہیں بلکہ وہ شخصیت جو آپۖ کے بعد لوگوں کو فطری راہ پر چلائے۔ درمیانہ زمانے تک دین اجنبی بن جائیگا ۔ مہدی اس کو معروف وآسان بنادیگا۔اقبال نے کہا:
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت ہے جس کی نگاہ زلزلہ ٔ عالم افکار
ہماری ریاست، حکومت، سیاست ، صحافت ،عدالت اور معاشرے کو اسلام کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اسلام خود فرقہ واریت اور دہشت گردی کے حصار میں ہے۔ ارشد شریف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز اس میں ملوث ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سگے نوازشریف ، عمران خان اور ارشد شریف کا اپنا اپنا دائرۂ کار تھا۔ ایک وسیع دنیا میں سازش کو پکڑنا آسان نہیں لیکن اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ وزیرستان کا ایک بچہ ذبح ہوا ہے۔ قاتل اور مقتول کا قریبی رشتہ ہے۔ قتل سے پہلے پولیس کو رپورٹ کرکے ملزم کو پکڑ وایا بھی تھا اور اس کے باوجود حقائق اور انصاف تک پہنچنا معمہ بنا ہواہے۔ ایک عورت کو زبردستی سے زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور وہ ظالم کے خلاف گواہی دے مگر اسکے پاس3 سے زیادہ چشم دیدگواہ نہ ہوں تو الٹا اس پر حدقذف جاری کی جائے۔ پھر دنیا کے کس قانون سے کون، کس کو انصاف دے سکتا ہے؟۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اسلام کو غلط فقہی موشگافیوں سے نکال کر فطری دین کی طرف رجوع کیا گیا تو ہمارے سیاسی، معاشی، معاشرتی، ریاستی ، عدالتی اور قانونی مسائل بہت جلد حل ہوجائیں گے اور اس سے امت مسلمہ اور دنیا موجودہ دلدل سے نکل جائے گی۔ صرف جرنیلوں کے بٹ مین صحافیوں کی زبانوں سے انقلاب نہیں آسکتا ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

شہباز شریف اور مریم نواز شریف فتنہ راشد مراد کو لندن سے پکڑ کر لائیں!
اُردو اور پنجابی میں فوج پر آرمی پبلک سکول کی سازش کا بہت ہی بڑا الزام!

لندنRMTVکے راشد مراد کی ارود اور پنجابی میں ویڈیوز سے یوٹیوب بھر ا ہے۔ جو نوازشریف کواقتدار میں لانے کیلئے فوج پر انتہائی غلیظ زبان سے گھناؤنے الزامات لگاتا ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ اسکے ویلاگ اور ٹوئیٹ نوازشریف کیلئے دیکھ لیں ۔ طالبان نے مہران ائیربیس کراچی،GHQپر قبضہ،ISIملتان دفترپر دھماکہ اور بہت بڑے بڑے واقعات کئے ۔ جب پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوا تو عمران خان کی صوبے میں نوازشریف کی مرکز میں حکومت تھی۔ راشد مراد نے اردو ، پنجابی میں عمران خان کی سیاسی مخالفت اور نوازشریف کی حمایت میں اس واقعہ کو جب منظم سازش قرار دیاتو پورے پاکستان پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں یہ پاک فوج سے سخت ترین نفرت کرنے والوں کیلئے اصل بنیاد ہے۔ جب نوازشریف کا خاص آدمی راشد مراد کہے گا کہ147بچے آرمی پبلک سکول میںDGISIجنرل ظہیرالاسلام نے شہید کئے تاکہ عمران خان کو دھرنے سے باعزت نکلنے کا راستہ مل جائے تو پھر پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کیاسوچیںگے؟۔ پاک فوج کور کمانڈر کانفرنس میں وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کرے کہ وہ راشد مراد کو پاکستان بلائیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو لندن میں نوازشریف اور مریم نواز کے درمیانTVسکرین پر بٹھا کر حقائق پوچھ لیں۔PDMمیں شامل جماعتیں، پیپلزپارٹی،ANP، عمران خان، منظور پشتین،پشتون اور بلوچ قوم پرست بھی سب ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ انصار عباسی ، جیواور ن لیگ کیلئے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کام کرنے والے صحافیوں کو بھی شامل کریں تاکہ ملک وقوم سے بدگمانی و انتشار کی فضاء ختم ہو۔ عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے اور غلط افواہیں اُڑانے والوں کے بارے میں اللہ نے فرمایا :ملعونین اینما ثقفوا اخذواو قتلوا تقتیلاً ”یہ مدینہ میں نہ رہیںگے مگر کم وقت، لعنتی ہیں،یہ جہاں پائے گئے پکڑکر قتل کئے گئے، یہی اللہ کی سنت ہے جوامتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں بھی”۔ (سورۂ الاحزاب آیت61) پاکستان کا آئین صرف قرآن وسنت کاپابندہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔ ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

ہمارے فقہاء اور علماء نے یہ واضح کیا ہے کہ مرتد سے قاضی یا جج پوری تفتیش کرے گا۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید
یہ کسی فرد کا کام نہیں کہ مرتد کوخود قتل کردے۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کاقتل ہے
سعودی عرب کیساتھ شامل اسلامی ممالک کا اتحاد کسی اسلامی ملک کیخلاف نہیں خوش آئند ہے

سلیم صافی: شیخ صاحب! پاکستانیوں کو آپ کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں بات بات پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ تو اس پر رہنمائی کی جائے کہ شرعی لحاظ سے ایک مسلمان کس وقت مرتد یا کافر قرار پاتا ہے اور کسی مسلمان کو کافر، مرتد یا واجب القتل قرار دینے کا اختیار وہ صرف ریاست کے پاس ہے یا کہیں افراد کو بھی وہ حق دیا جاسکتا ہے یا علماء کو بھی؟۔
امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید: یہ معاملہ تو علماء اور فقہاء کے نزدیک بڑا واضح ہے اوراُمت مسلمہ اس کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان بھی کرچکی ہے۔ ارتداد اور کفر سے متعلق جتنے بھی معاملات ہیں یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی ایک فرد اٹھے اور کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دے دے۔ اور وہ کافر یا مرتد یا واجب القتل سمجھا جائے۔ جس پر بھی اس قسم کا کوئی الزام لگے گا وہ معاملہ عدالت میں جائے گا۔ حکومتی جو ذمہ داران ہیں، جو قاضی ہے، جو جج ہے وہ اس معاملے کے متعلق ثبوت اور گواہیاں اکھٹی کرے گا۔ اور استفسار کرے گا پھر جس شخص پر یہ الزام لگایا اس سے گہرے سوالات کئے جائیں گے کہ آیا جس نے اس پر یہ الزام لگایا وہ اس کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔ اپنا کوئی بھی مؤقف جو وہ بیان کرتا ہے اس کیلئے وہ کوئی تاویل بیان کرتا ہے یا وضاحت کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کچھ باتیں تو کررہا ہو لیکن ذہنی طور پر ٹھیک نہ ہو۔ یا اس کی ذہنی حالت ایسی نہ ہو جس میں اس کو اپنی گفتگو کی سنجیدگی کا انداز ہو۔ تو اس حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چاہے کفر کا معاملہ ہو چاہے کسی کو مرتد قرار دینے کا یا قتل کرنے کا معاملہ ہو یہ صرف اور صرف اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے کہ جس نے ایک بھی جان کو ناحق قتل کیا تو ا س نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔
سلیم صافی: سعودی عرب کی قیادت میں جو اسلامی اتحاد کی فوج بن گئی ہے عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایک اور اسلامی ملک کیخلاف یا ایک فقہ کیخلاف بنایا جارہا ہے اس اتحادی فوج کا اصل مقصداور مدعا کیا ہے؟۔ اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟۔
امام کعبہ: میرے خیال میں تو اسلامی کسی بھی قسم کا کوئی اتحاد ہو وہ ایک خوشی کی بات ہے۔ میرے پاس زیادہ تفصیلات تو نہیں کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں لیکن بہرحال اگر یہ کسی اور مسلمان ممالک کی طرف سے بھی ہوتا تب بھی اس کو خوشی کی نظر سے دیکھا جاتا۔ اور اس طرح کے اگر مزید اتحاد بھی بنتے ہیں جو اسلامی ممالک کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں تو اسکے بارے میں خوش گمانی رکھنی چاہیے۔ اسمیں سب مسلمان ممالک شامل ہوسکتے ہیں کسی کا نام نہیں کہ شامل نہیں ہوسکتا۔
مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

کیا وجہ تھی کہ اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجودبھی آپ پاکستان سے باہر نہیں گئے؟،رؤف کلاسرا

ہرکوئی ہماری طرح اپنے اور اپنی فیملی کومشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، مجبوراً جاتاہے توغلط نہیں حامد

حامدمیر:پابندی کے دوران میں بیرون ملک گیا تو وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھے اور بینظیر بھٹو کو کیا بڑی آفر کی؟ بینظیر نے عین موقع پر مجھے کیسے بچایا، حامد میر نے دھمکیوںکے باوجود ملک نہ چھوڑنے کی سنسنی خیز وجہ بتادی۔
رؤف کلاسرا: میں آج ارشد شریف کے گھر گیا ۔ ان کی مسز، والدہ اور بچوں سے بڑی دیر تک بات ہوئی اور انکے گھر آنا جانا بہت تھا ہر ہفتے جانا ہوتا تھا۔ تو جو سوالات آپ بتارہے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے ۔میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو بھی بہت ساری تھریٹس مسلسل رہی ہیں، اب تک آپ نے بڑا بھگتا اور ان کا سامنا کیا ۔ کیا وجہ تھی اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجود آپ پاکستان سے باہرنہیں گئے ارشد بھی نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ میرا بھی یہی خیال تھا میرے دوست ہیں سب کو پتہ ہے کہ ارشد کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ پاکستان میں دوسری جگہ کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ جبکہ انکے پاسUKاورUSAکے ویزے نہیں تھے ۔ میں بھی کئی دفعہ ان کو کہہ چکا تھا۔ ہم سب دوستوں نے کہا وہ انٹرسٹڈ نہیں تھے۔ تو آپ سمجھتے ہیں ارشد کو باہر جانا چاہیے تھا ان حالات میں؟۔ اور آپ خود کیوں نہیں گئے تھے سر؟۔
حامد میر: رؤف کلاسرا صاحب ! آپ نے ایسا سوال مجھسے پوچھاہے، بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو میں نے آج تک کسی کو تفصیل سے جواب نہیں دیا تو اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا تفصیل سے جواب دیتا ہوں۔ (جی سر۔ میرا خیال ہے لوگ سننا چاہیں گے آپ سے : رؤف کلاسرا)۔ پہلی دفعہ2007میں مجھ پر پابندی لگی تھی پرویز مشرف کا دور تھا تو میں5،6دن کیلئے پاکستان سے باہر ایک کانفرنس کیلئے گیا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیااور وہ چھوٹے موٹے لوگ نہ تھے بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ مثلاً ایک بہت بڑی بین الاقوامی شخصیت نے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑا ٹی وی چینل لانچ کررہے ہیں آپ جوائن کرلیں تو میں بڑا حیران ہوا کہ یار یہ ایک ملک کا سربراہ ہے یہ مجھے ٹی وی چینل جوائن کرنے کیلئے آفر مار رہا ہے تو یہ کیا چکر ہے؟۔ یہ دیکھا کہ میں زیادہ مائل نہیں تو اس نے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ہمارا ٹی وی چینل جوائن کررہی ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا کریں گی ٹی وی چینل میں؟۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہر ہفتے ایک لیکچر دیا کریں گی۔ وہ جو تھا ساؤتھ ایشین چینل تھا بہت بڑا اور گلف کی ایک کنٹری میں اس کا ہیڈ کوارٹر بننا تھا۔ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے پاس گیا ۔ کہا جی اس اس طرح پیشکش ہوئی تو بتائیں کیا کرنا ہے؟۔ تو بینظیر صاحبہ بڑی محتاط تھیں وہ مجھے اپنے لان میں لے گئیں اور کہا کہ موبائل فون وغیرہ اندر رکھ کر آؤ۔ لان میں انہوں نے کہا کہ بالکل جوائن نہیں کرنا اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کا اینٹی پاکستان ایجنڈہ ہے۔ یہ آپ اور مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی اسٹیٹ کے اداروں سے لڑ رہے ہیں اور میرا بھی پھڈہ ہے ۔تو میں تو بات چیت کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہوں۔ انشاء اللہ اس کا راستہ نکل آئیگا ، انکے ہاتھ نہ چڑھنا یہ پاکستان کیخلاف استعمال کریں گے۔تو جناب میں اگلے دن کی فلائٹ لیکر فوراً پاکستان آگیا۔ اسکے بعد میں ذرا ہوگیا محتاط۔2012میں میری گاڑی کے نیچے بم لگا تو ایک دفعہ پھر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پاکستان سے باہر چلے جاؤ۔ میں نے انکار کردیا۔ پھر2014میں حملہ ہوا، اسکے بعد یہاں تک ہوگیا کہ میں آغا خان ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو ایئر ایمبولینس مجھے اٹھانے کیلئے کراچی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ تو میں نے کہا کہ آپ مجھے پاکستان سے باہر نہ ہی لیکر جائیں۔ انہوں نے کہا کیوں؟۔ میں نے ان کو بتائی تو نہیں وہ بات لیکن میرے ذہن میں2007والی بات تھی کہ باہر جاکر بندہ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ ہوا کہ میں پاکستان میں ہی رہا لیکن دو گولیاں میرے جسم کے اندر تھیں۔ ان کو نکلوانے کیلئے ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے ایک ہسپتال میں جہاں ان کی اپنی ٹریٹمنٹ ہوئی تھی تو وہاں پر انہوں نے میرا انتظام کیا۔ تو جب میںUKگیا تو کلاسرا صاحب وہاں پر بھی میرے پیچھے لوگ لگ گئے۔ انہوں نے کہا جی کہ آپ نے صرف ایک کتاب لکھنی ہے اور وہ کتاب ایسی ہٹ ہوگی پوری دنیا میں آپ اس کا ایڈوانس بھی لے لیں۔ آپ کو پاکستان جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میری فیملی کے سامنے ہورہا تھا یہ کام۔ تو میں نے جناب جان چھڑائی اپنی اور میں پاکستان واپس آگیا۔ ابھی پچھلے سال بھی یہی صورتحال تھی۔ پچھلے سال یہ ہوا کہ مجھے6مہینے کیFellowshipمل رہی تھی اور پھر کتاب ہی لکھنی تھی۔ میں بالکل جانے کیلئے تیار تھا اور پچھلے واقعات بھی میرے ذہن میں تھے لیکن میں نے کہا کہ چلیں اب اتنا ٹائم گزر چکا، میں اتنا تو سمجھدار ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر میرے ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ کریمہ بلوچ کیساتھ کینیڈا میں کیا ہوا؟۔ آپ کو نہیں پتہ کہ ایک اور صحافی کیساتھ ناروے میں کیا ہوا ہے؟۔ باہر مت جائیں آپ (vulnerable)کمزور ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہیے لیکن میں نے تو پاکستان سے باہر ایک دفعہ2007میں جاکر دیکھ لیا کہ ایک تو پاکستان کے اندر آپ کے دشمن آپ کو جینے نہیں دیتے۔ پھر پاکستان سے باہر جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں وہ بھی آپ کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔ لیکن ارشد شریف جن حالات میں گئے وہ ذرا مختلف حالات ہیں۔ کیونکہ مجھے ذاتی طور پر پتہ ہے کہ ارشد شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھا بہت سے دوست یہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اگر ان کو بھیجا گیا تو شاید ان کا یہ خیال ہوگا کہ میں کچھ دن میں واپس آجاؤں گا لیکن وہ واپس نہیں آئے ۔ان کے پاس ویزہ بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے پاس تو ویزے تھے لیکن انکے پاس ویزہ نہیں تھا وہ نہUKجاسکے نہUSA۔ سارے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان حالات میں پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے تو غلط نہیں ۔ ہر کوئی بندہ ہماری طرح اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ تو اگر کوئی چلا جاتا ہے تو بہت مجبوری میں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی خوشی سے پاکستان نہیں چھوڑتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

جنرل ندیم انجم اور جنرل بابر افتخار کیا خوبصورت ہیں اور کس نرم لہجے میں بات کرتے ہیں!

ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں ہے ان کواسٹیج شو چاہیے اور عمران خان کورنگ رچانا آتا ہے!

عمران خان کیا جانے کہ ایک بہادر جرنیل کیا ہوتا ہے ۔ اثر الاسلام سید
DGISPRصاحب میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے آپ پلیز
do not feel tense
مت سمجھئے کہ آپ یکہ و تنہا ہیں پوری قوم آپ کیساتھ ہے اسلئے کہ قوم جانتی ہے کہ پاک فوج کیا ہے اور پاک فوج کا جرنیل کیا چیز ہوتا ہے۔ کتنے پراسیس سے گزر کر جرنیل بنتا ہے۔ میں کیڈٹ کالج حسن ابدال کا پراڈکٹ ہوں۔ میں نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ حب الوطنی میں نے وہاں سے سیکھی اور میرے ساتھی جو ہیں میں جانتا ہوں کہ ان میں سے جوجو جرنیل بنے کیسے کیسے چنیدہ قسم کے وہ نوجوان تھے۔ میرے کلاس فیلوز میں سے چار جرنیل ہیں۔ تو یہ جو ہمارے جرنیل ہیں جن کی تضحیک کی گئی اور ان کو ایسے ایسے یعنی ایک آدمی انکے خلاف بولنا توہین آمیز لفظ یعنی ان کو کبھی اندازہ نہیں ہے عمران خان کو یا اسکے چو چوں کو کبھی زندگی میں ایک دن بنکر میں بارڈرپر بیٹھ کر دیکھو !۔میں نے1971کی وار میں ایک دن گزارا تھا فاضلکا کے بارڈر کے بینکر میں۔ میرے باپ نے کہا تھا کہ یہاں رہ تاکہ تجھے پتہ لگے یہ زندگی کیا ہے۔ اس وقت میں میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا۔ جنگ کا زمانہ تھا ادھر سامنے انڈین آرمی اور یہ سارا کچھ، تو ایک دن میں ایسا تھا کہ سپاہی مجھے کہہ رہا ہے کہ سر نیچا کرو سر نیچا کرواور میں نے کہا کہ یہ کیا حکم دے رہا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ادھر سامنے ایک گن موو کررہی ہے اور پچاس گز کا بھی فاصلہ نہیں۔ ذرا سا یہاں سے سر کوئی اٹھے تو ہم اس پر فائر کریں۔ وہاں تو71کی وار کے بعد جو صورتحال تھی ۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں، ہمارے سپاہی جوان روٹی کئی کئی دن وہاں نہیں کھائی ہوتی ان کو اندازہ نہیں کہ ان کی عزت کیسے کرنی ہے۔ ہمارے بزرگ غلام احمد پرویز نے ایک بات لکھی ہے کہ65کی وار میں وہ بارڈ ر کے اوپر گئے تو انہوں نے دیکھا ایسے ہی جیسے میں گیا تو71میں ، کہتے ہیں سپاہی میں نے دیکھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کچھ کھاندے پیندے وی ہو تو سپاہی نے آگے سے جواب دیا کھاڑاں کھانا تو ویلوں دے کم ہیں۔ یعنی یہ سپاہی جو خالی پیٹ بینکروں میں بیٹھتا ہے آپ کبھی اس کا راشن دیکھیں وہ جو دال کی مٹھیاں کھا رہا ہے اس کی زندگی دیکھیں۔ کس طریقے سے وہ پاکستان کا پہرہ دے رہا ہے اور یہ چند لفنگے گپتے بے شرم لوگ جن کو اپنی ماں باپ کی عزت بھی نہ آئی یہ جو یوتھیا مخلوق ہے یہ جو سڑک پر اس کو پتا ہے ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں۔ ان کو ایک شو اسٹیج چاہیے ایک اسٹیج پر آنے کیلئے خان صاحب کو یہ رنگ رچانا آتا تھا، اس کیساتھ پورا ٹولہ سب سے بڑی بات یہ ہے
He has million of Dollars, He has money
اور آپ مجھے صرف اس کے پیسوں کا بتادیں جس کا نام سلمان اقبال ہے۔
He is Elon Musk of Pakistan
اتنی دولت والا آدمی ہے یہ جوARYچینل والا۔ ان لوگوں نے ایک مقصد کے تحت یہ مہم چلائی
Because the goal is to weaken Pakistan
پاکستان کو اس پوائنٹ پر لے آؤ کہ جب یہ لوگ ڈکٹیٹ کریں کہ ہمیں یہ چاہیے ہمیں وہ چاہیے یہ پاکستان آرمی کو بلیک میل کرسکیں ڈکٹیٹ کریں۔ جس بات کا بڑے ہی خوبصورت حسین انداز میں جنرل ندیم احمد انجم، اُف اتنے خوبصورت انسان ہیں اور اتنا شستہ اور اتنا حسین لب و لہجہ ہے ان کا یعنی مجھے اتنی خوشی ہوئی اور ان کے ساتھ جنرل بابر افتخار صاحب اتنی خوبصورتی سے انہوں نے ، اور میں کہتا ہوں عجز و انکساری کے ساتھ اللہ کی قسم یہاں پر اس جگہ کوئی تگڑا اس قسم کی پرسنیلٹی والے جرنیل بیٹھے ہوتے ناں جو بولنے نہیں دیتے تھے یہ تو انہوں نے ڈیلے کردی ، ڈیلے اسلئے کی کہ طول دینا ہے کہ دیکھتے ہیں کہ شاید اس انسان کو ہوش آجائے ، شاید اس کے اندر کوبھی کوئی حب الوطنی کا مادہ جاگے کہ دیکھو آرمی ہی نے تجھے چانس دیا تھا تو بڑا پھڑک رہا تھا اتنے سالوں سے کہ میں وزیر اعظم بن کر یہ کردوں گا وہ کردوں گا۔ آرمی اس کو لے کر آئی۔ انہوںنے خود کہا ہے کہ اس بارے میں تو شک کسی کو ہونا نہیں چاہیے ، اور اس کا تو میں خود ذاتی طور پر شاہد ہوں آپ کو یاد ہوگا اور جو لوگ میرے سننے والے ہیں کہ آرمی کے خلاف جتنا زیادہ میں بولا ہوں اس دور میں اتنا کوئی نہیں بولا۔ میری دیکھا دیکھی لوگوں نے بولنا شروع کیا۔ اسلئے کہ میں پرسنلی افیکٹڈ تھا۔ کیوں؟ کیونکہ میں نے ایک پیٹریاٹ حب الوطن انسان کی حیثیت سے جنت پاکستان پارٹی بنائی رجسٹرڈ کرائی۔ کینڈیڈیٹس کو فائی نینس کیا کہ جو جو ان کو تھوڑی بہت چیزیں چاہئیں انہوں نے آرمی کے لوگوں نے جو کنٹرول کررہے ہیں الیکشن کو میرا نام و نشان نہیں اٹھنے دیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی پیرالل پارٹی اٹھے اور عمران خان کے سوا لیڈر شپ آسکے۔ نام و نشان جنت پاکستان تحریک کا کس طریقے سے مٹایا گیا وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو نہیں جانتے وہ دیکھ لیں جاکر فیس بک پر پیجز، ویب سائٹ ، جب پارٹی لانچ کی گئی تو ہزاروں لائک تھے دس دن میں۔ اور اسکے بعد کیا ہوا؟ اسکے بعد ٹوٹل بلاک سینسر شپ کردی گئی۔ آرمی ہماری بڑے خلوص کیساتھ یہthoughtکہ
Imran Khan is the best
انہوں نے عمران خان کو لایا اب اس کا اقرار بھی کیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں مولے نوں مولا ہی ماردا ہے۔ مجھے گلہ ہے آج جو بات ہورہی ہے کہ سارا کا سارا بیانیہ لفافہ امریکہ کا کاغذہلارہا تھا وہ سب ایک جھوٹ ایک ڈرامہ تھا۔ آج آرمی کے چیف نے یہ بات علی الاعلان کی ہے کاش اسی وقت اس کتے کا منہ توڑا جاتا۔ اسی وقت اس کتے کے منہ پر چنڈ ماری جاتی کہ سٹ ڈاؤن شٹ اپ۔ اس کو شٹ اپ کال دی جاتی کہ
You are a liar
تو جھوٹ بول رہا ہے۔

ڈاکٹر اثر الاسلام سید کے بیان پر تجزیہ
ڈاکٹر صاحب نے فوج کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ حسن ابدال کیڈٹ کالج پاکستان کا قابلیت کے اعتبار سے پہلے نمبر کا ادارہ ہے۔ ایک اور بیان میں ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ مراسلہ کا مطلب رسالت ہے۔ امریکہ نے ایک مراسلہ بھیج دیا اور پورا سیاسی نظام بدل دیا۔ عمران خان کو کیا معلوم کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے۔ جنرل ایوب نے زبردست کام کیا کہ امریکہ سے پاکستان کو جوڑ دیا۔
فوج کا بیانیہ اس قسم کے لوگ پیش کریں تو لوگوں پر کیا اثر پڑیگا؟۔ جنرل ایوب کے دور میں فاطمہ جناح ، مسلم لیگ فوج سے بدظن ہوگئی تو سرکارنے نئی نئی ناجائز مسلم لیگیںجنم دینی شروع کیں۔ جو پاکستان کے بانی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اللہ کرے ن لیگ اور ق لیگ آخری ہوں۔ عمران خان کو بھی اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

50، 60سال سے اوپر والے سر ہتھیلی پر رکھ کر احتجاج کرنے نکلو۔ ارشد شریف کی خدائی ماں

50، 60سال سے اوپر والے سر ہتھیلی پر رکھ کر احتجاج کرنے نکلو۔ ارشد شریف کی خدائی ماں

وہ حکومت جس نے ارشد شریف کو قتل کروایا، گیند سمیع اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سمیع اللہ ہونے لگی

ارشدشریف کی شہادت پر ماحول سے جذباتی ارشد شریف کی خدائی ماں کا لقب پانے والی خاتون کی ویڈیو

السلام علیکم ! انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پاکستانیو! انہوں نے بہت ظلم کردیا۔ یہ بپھرے ہوئے سفید ہاتھیوں نے، یہ بپھرے ہوئے ریچھوں نے ، جو اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہیں، جو کرپٹ حکومت میں بیٹھے ہیں، یہ ارشد شریف کو شہید کروانے والے ٹارگٹ کلنگ میں مروانے والے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں حکومت کا حصہ ہیں۔ جن کے بزنس ہیں کینیا میں اور ارشد شریف کے قاتل وردیوں میں ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہیں۔ میںISPRکو جواب دینا چاہتی ہوں۔ آپ اپنی بکواسات میڈیا پر آکر مت کریں۔ عوام کو اتنا غصہ مت دلائیں اب آپ کو وردیوں سے نکال کر آپ کی لاشوں کو چوراہوں پر لٹکایا جائے گا۔ آپ نے جس وردی کو گالی خود بنادیا ہے6لاکھ فوج جب اندھی ہوگئی ہے یہ ادارہ فوج کا جب گالی بن گیا ہے ہم سے کوئی توقع نہ رکھو ہم نے اختیار دیا تھا اس کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں ڈراتے ہو ڈنڈے سے؟ ۔ پاکستانیو! انویسٹی گیشن میں جو تماشہ کررہے ہیں کہ حکومت کمیشن بنائے گی عدلیہ ہمیشہ کی طرح غدارانہ کردار ادا کرتی ہے کہ حکومت وہ حکومت جس نے اس کو قتل کروایا ہے۔ گیند سمیع اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سمیع اللہ ہونے لگی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ اس کی ہائی لیول انوسٹی گیشن ہونی چاہیے۔ پھر تمہیں وردی اتاردینی چاہیے۔ اتنے لمبے پروسیجر سے کیوں گزرتے ہو۔ تم صرف آئینہ لو ۔آئینہ دیکھو تمہیں ارشد شریف کا قاتل سمجھ میں آجائے گا۔ انویسٹی گیشن سے پاکستانیو ں انہیں گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں آئینہ لگادیا جائے شیشہ لگادیا جائے اور اسی طرح اسٹیبلشمنٹ میں آئینہ لگادیا جائے تو ہر گزرنے والوں کو آئینہ دکھاؤ ہر گلی ہر چوراہے ملک کے ہر شہر کے داخلے میں بڑے بڑے شیشے لگاؤ جہاں سے ان کا گزر ہو۔ انہیں بتاؤ ارشد شریف کے قاتل کو پہنچان لیں تاکہ یہ آسانی سے۔ پاکستانیو! انوسٹی گیشن ہونی ہے تو یہاں سے ہو۔ پاکستان میں کس نے اس کو رہنے نہیں دیا۔ کس نے پاکستان میں اسکا جینا محال کردیا۔ کون گھر میں چھاپے مارتا تھا۔ کون اس کے گھر میں جاکر اسکے گھر کے باہر گاڑیوں کو کھڑا کرتا تھا اس کو اریسٹ کرنے کی دھمکی دیتا تھا؟۔ کون ہے وہ خبیث، خنزیر، سور جس نے اسے نوکری سے نکلوایا؟۔ جس نے اس چینل کو عبرت کا نشانہ بنوایا۔ پاکستانیو! کون ہے وہ؟۔ ان سے پوچھو جس نے اسے ملک میں رہنے نہ دیا۔ کون ہے وہ جس نے اسے دوبئی میں بیچارہ رہ رہا تھا اسے دوبئی سے نکلنے پر مجبور کیا ۔ حکومت سے حکومت کیوں؟۔ فیفا فٹبال میں جنہوںنے سیکورٹی کا وعدہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ ہماری جو آپ سے ڈیل ہے اس کا تقاضہ ہے کہ اسے یہاں سے نکلنے دے۔ ہماری پینٹیں اتار رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کرپشن کو بے نقاب کررہا ہے۔ پاکستانیو! کس نے دوبئی میں خط لکھا؟۔ وہ کونسا حرام النسل ہے ؟ کون سی اپنی ماں کی غلطی کا نتیجہ ہے؟۔ جس نے وہ خط لکھا اور اسے دوبئی میں نہ رہنے دیا۔ کون حرام النسل ہے جن کے بزنس ہیں کینیا میں؟۔ وہ کون تھا جو گاڑی میں اس کا بھائی بن کر بیٹھا ہوا تھا؟۔ کہ اسے پکڑا جائے۔ کیا بات ہے9گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی ایک گولی نہ ڈرائیور کو لگی نہ اس نام نہادی بھائی کو لگی اور ارشد شریف کو بہیمانہ بزدلانہ طریقے سے شہید کیا گیا۔ اگر ارشد شریف کے پاس ایک رائفل ہوتی تو مزا تو تب تھا مقابلے کا۔ میں اپنی اسٹیبلشمنٹ کو کہتی ہوں کہ چوڑیاں پہن لو تم بے شرموں نے ایک معصوم محب الوطن کو کافر ٹارگٹ کلروں سے پیسے دے کر تم نے اسے مروایا ہے۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے تمہیں شرم آنی چاہیے دنیا والے تمہارے منہ پر جوتے مار رہے ہیں۔ دنیا والے تمہیں بے نقاب کررہے ہیں۔ کینیا کے صحافی بول رہے ہیں دنیا کی باقی انویسٹی گیشن کھلیں گی۔ پاکستانیو! ارشد شریف کے قاتل تمہارے میں ہیں۔ ارشد شریف شہید ہوا ہے اور شہید زندہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم سے تقاضہ کررہا ہے کہ میری قربانی کو ضائع مت ہونے دینا۔ یہاں سے میرا مشن نامکمل رہ گیا ہے اس مشن کو اب مکمل کرنے کیلئے نکلو۔ ہم سے پہلے غلطی ہوئی اسے ہمیں باہر نہیں جانے دینا چاہیے تھا ۔ اسے انڈر گراؤنڈ کردیتے۔ جئیں گے تو مل کر مریں گے تو مل کر۔ اب سارے پاکستانی مل کر ارشد شریف کا بدلہ لیں گے۔ ہر فرد ارشد شریف بن کر ہر گلی سے ہر چوراہے سے نکلے۔ اور اس کے قاتلوں سے اس کا بدلہ لے۔ پاکستان کو جو غلامی میں ڈالنا چاہتے ہیں پاکستانی قوم کو جو غلام بنانا چاہتے ہیں اس مشن کے خلاف کام کررہا تھا ارشد شریف۔ یہ جو پاکستان کو لوٹ لوٹ کر پاکستان کے خزانے باہر لے کر جاتے ہیں اور اس کو اپنی طاقت بناکر پاکستانیوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں اپنا غلام بناتے ہیں ارشد شریف اس مشن پر کام کررہا تھا کہ وہ انہیں اس ظلم سے روکے گا۔ پاکستانیو! ارشد شریف کی قربانی تم سے تقاضہ کرتی ہے۔ شہید زندہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں شہید زندہ ہے تمہیں ادراک نہیں اس کی زندگی کا۔ وہ ہم سے رزق لیتا ہے ۔ پاکستانیو! ارشد شریف دیکھ رہا ہے۔ اب کس نے اسے دوبئی سے کینیا تک بھیجا اور کس نے اس کا پیچھا کیا؟۔ کس نے اس کے فون ریکارڈ کئے؟۔ اس کا فون کہاں ہے؟۔ وہ نام نہاد بھائی کہاں ہے انویسٹی گیشن تو پاکستان سے بنتی ہے۔ پاکستان میں اس کے قاتل ہیں اور اب یہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ انویسٹی گیشن حکومت کرے گی؟۔ مگر مچھ کے آنسو بہاکر ہمارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کرپٹ حکومت کو کرپٹ وزیر اعظم وزیر خارجہ کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم تمہاری لاشوں کو بھی ٹانگیں گے۔ ہم جنرلوں کی لاشوں کو چوراہوں پر ٹانگیں گے۔ ان بپھرے ہوئے سفید ہاتھیوں کو جو ہم نے وردی اور ہتھیار دئیے ہم ان سے چھیننا جانتے ہیں۔ پاکستانیو! سارے پاکستانی مل کر ارشد شریف کی قبر پر اس کے جنازے پر قسم اٹھاؤ کہ تم سب لوگ ارشد شریف کا بدلہ لینے کیلئے ایک ساتھ احتجاج کیلئے باہر نکلو گے۔ ان لوگوں کو مستعفی ہونے کیلئے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردو گے۔ انہیں پکڑ کر لٹکاؤ گے۔ پاکستانیو! ارشد شریف کے اس نامکمل مشن کو تم لوگ مکمل کروگے اور احتجاج کیلئے میں اپنے بزرگوں سے التماس کرتی ہوں کہ آپ لوگوں کو فرنٹ لائن پر ہونا ہے۔ جن کی عمر50سے اوپر ہے60سال سے اوپر ہے۔ اب اور کتنا جینا ہے۔ اپنے جوانوں کو اپنی کمر پر رکھ کر اپنی کمر بناؤ۔ فرنٹ لائن پر آؤ۔ دیکھتے ہیں بپھرے ہاتھیوں کو ۔ اپنی ماؤں سے التماس کروں گی اور کتنا جئیں۔ اپنے جوانوں کو اپنی کمر بناؤ۔ انہیں پیچھے رکھو یہ سوچ کر کہ یہ ملک و قوم کی بقاء سنبھالیں گے۔ اور ہم ان بپھرے ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ کی لعنت ہے سفید بپھرے ہاتھیوں پر قرآن میں بھی۔ ان کا انجام وہی کریں گے جو اللہ نے ان کا قرآن میں کیا ہے۔ نکلو پاکستانیو! اور میرے بزرگو!۔ اور میں صحافی برادری سے کہوں گی یہ ایک ارشد شریف نہیں ہے۔ یہ مت سمجھنا تم لوگ کہ اپنوں میں جو تفریق تم نے پیدا کر رکھی ہے خدا کا خوف کھاؤ اسے ختم کرو۔ ظالم کی فطرت نہیں بدلتی۔ وقت سے اس کا مکار طریقہ بدل جاتا ہے اس کے مفادات بدل جاتے ہیں اس کی فطرت نہیں بدلتی۔ آج ارشد شریف ہے تو کل کوئی اور ہوگا۔ میرا خیال ہے سب کو ایک پیج پر ہوکر اس ظلم کا بدلہ لینا چاہیے اس ظالم کی عقل کو ٹھکانے لگانا چاہیے۔ اس ظالم کو مٹانا چاہیے اوران کے بھی بچوں کی تصویریں ڈالو۔ اگر ٹارگٹ کلر کو یہ پیسے دے سکتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان کو فالو کریں۔ ان کا جینا بھی اسی طرح حرام کریں جو اپنے بچوں کو باہر بھیجتے ہیں کیا ٹارگٹ کلروں کو ان کے ساتھ کونسی ہمدردی ہوگی۔ ان کو بھی تو پیسے کا ہی لالچ ہوگا۔ یہی ہمیں طریقہ سکھاتے جائیں۔ پاکستانیو! ان کو ان کی اولادوں کا جینا حرام کردو۔ پاکستان کی بقاء کیلئے اپنی نسلوں کی بقاء کیلئے اس کرپٹ مافیا سے ان غداروں سے پاکستان کو آزاد کرانا ہے۔ پاکستانیو! زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کی ریاست اور سیاست جی ٹی روڈ لاہور سے اسلام آباد تک کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستان کی ریاست اور سیاست جی ٹی روڈ لاہور سے اسلام آباد تک کے گرد گھومتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کی ٹرین میںPDMکی جماعتوں کو شامل کیا تھا اور پھر پیپلز پارٹی اورANPکو الزام لگاکر نکال دیا تھا

عمران خان نے حقیقی آزادی کا سفر شروع کیا تو ضمنی الیکشن میں حکومتی اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر ریاست سے بھی زبردست ٹکر لی ہے۔

مولانا فضل الرحمن چند سیٹوں کیساتھ آزادی مارچ کرکے عمران خان کو اس جمہوری ایوان سے باہر پھینکنے کی بات کررہا تھا اور پھرPDMکی جماعتیں بھی اس ٹرین کے ڈبے بن گئیں۔ پھر پیپلزپارٹی اور اے این پی کوPDMسے اس بنیاد پر باہر کیا کہ تمہارے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطے ہیں۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ زرداری نے باپ پارٹی کو اپنا باپ بنالیا ہے۔ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اورDGISIجنرل فیض حمید کا نام لیکر تمام خرابی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔PDMکا اعلان تھا کہ کٹھ پتلی عمران خان سے نہیں فوج سے ہمارا مقابلہ ہے۔ اب وہی ہتھیار عمران خان نے اٹھالیا ہے۔ جس جرأت کے ساتھ عمران خان بات کرتا ہے، یہ جرأت نوازشریف اور مریم نواز میں نہیں ہے۔ اور جب رانا ثناء اللہ پر16کلو ہیروئن کا الزام لگا تھا اور جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ کے جوڑ توڑ میںISIکو ملوث قرار دیا تھا تو شریف خاندان کی منافقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب جب حکومت میں آگئے ہیں تو اپنے عزائم کا اظہار تک نہیں کرتے۔ عمران خان فوج کے گڑھ لاہور سے پنڈی تک جی ٹی روڈ پر جو کچھ بھی کررہے ہیں اس سے کسی کو اختلاف ہو یا اتفاق؟ لیکن اس سیاسی میدان اور پنجاب وپاکستان کے بہت سارے عوام کا دل جیت چکے ہیں اور اتحادی حکومت بالکل زمین میں گڑھ گئی ہے اور منافقت کا شکار نظر آتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا پاکستان میں سودی قرضوں کے طوفان نوح سے بچنے کیلئے کرپشن کشتی نوح ہے؟

کیا پاکستان میں سودی قرضوں کے طوفان نوح سے بچنے کیلئے کرپشن کشتی نوح ہے؟

مشرف نےIMFسے6ارب ڈالر قرضہ لیا ، زرداری نے مزید10ارب ڈالر قرضہ لیا اور نواز شریف نے30ارب ڈالر تک قرضہ پہنچادیا تھا

ریاست اور عوام نے مفت کینسر ہسپتال کے بانی اور چندوں کے اُستاد عمران خان کو منتخب کیا تو ساڑھے3سال میں48ارب ڈالر تک پہنچادیا

جنرل ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں لوگ اسلئے یاد کرتے تھے کہ انکے دور میں مہنگائی کم تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد پہلی مرتبہ بنیظیر بھٹو نے اقتدار سنبھال لیا تو پاکستان نے پہلی مرتبہIMFسے قرضہ لیا۔ زرداری کے گھوڑوں کا خرچہ، سوئس اکاونٹ ، سرے محل اور دوبئی کی رہائش گاہ وغیرہ بعد کی جائیدادیں ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے اس کی حکومت ختم ہوئی۔ پھر نوازشریف نے اقتدار سنبھال لیا تو لندن فلیٹ سے لیکر دنیا بھر میں اپنی دولت بنائی۔ کرپشن ہی کے الزام اس کی حکومت گئی۔ ان دونوں کی دو دوبار کی حکومتوں میںIMFکے سودی قرضے بڑھ گئے۔ پرویزمشرف نے2004میںIMFسے پاکستان کو چھڑا دیا لیکن2008میں پھر6ارب ڈالرکا قرضہIMFسے لیا۔ زرداری اگر معیشت ٹھیک کرسکتا تھا تو یہ قرض ختم یا کم کردیتا لیکن اس نے10ارب ڈالر مزید لیکر پاکستان کو16ارب ڈالر کا مقروض کردیا۔ نوازشریف آیا تو اس نے مزید14ارب ڈالر لیکر پاکستان کوIMFکے سودی گردشی قرضے کے شکنجے میں30ارب ڈالر تک پھنسادیا۔ ہم نے اس وقت لکھ دیا تھا کہ دفاعی بجٹ سے بھی ڈیڑھ گنا سودی گردشی کا قرضہ بڑھ گیا ہے اور پاکستان دیوالیہ بن جائیگا۔ عمران خان نے چندوں سے کینسر ہسپتال کی طرح ملک چلانے کا وعدہ کیا تو اس نے کم مدت میں48ارب ڈالر تک قرضہ پہنچادیا تھا۔موجودہ حکومت نے عوام کے سامنے مہنگائی مارچ کئے اور حکومت پر خوب گولے برسائے ۔ اپنے زرخرید صحافی بھی پیچھے لگائے لیکن جب خود ساڑھے تین ماہ میں اتنی مہنگائی کرلی کہ لوگ عمران خان کے ساڑھے چار سال بھی بھول گئے۔ سیلاب زدگان کے فنڈز بھی لگتا ہے کہ بالکل کھا گئے ہیں۔ ایک مریم نواز تھی جو عمران خان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی تھی لیکن پنجاب کے ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد دل شکستہ ہوکر قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن سے باہر بھاگ گئی۔ موجودہ حکومت نےIMFکا قرضہ مزید تیز رفتاری سے بہت بڑھا دیا ہے۔ احمقوں کی جنت میں رہنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ معیشت بہتر کرلیںگے۔ پالیسی شاید یہ ہے کہ پیٹرول وڈیزل کی قیمت بڑے پیمانے پر بڑھا کر پھر معمولی کم کیا جائے اور جیو ٹی وی چینل میں خبریں لگائی جائیں کہ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا دھماکہ۔ ڈالر میں بارود پھٹ گیا اور پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں نیچے آگیا۔ لوگ ابھی ان جھوٹی کہانیوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ صحافی کبھی جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی تھوڑی صلاحیت رکھتے تھے ، اب عوام کو یہ بالکل ایک کھلا مذاق لگتا ہے۔
سودی گردشی قرضہ بڑھے گا تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی اور مہنگائی پر قابو پانا کیسے ممکن ہوگا؟پرویزمشرف کے بعد6ارب ڈالر سے60ارب ڈالر تک سود پہنچے گا تو کتنے پیسے ادا کرنے پڑیںگے؟۔ نوازشریف نے30ارب ڈالر تک پہنچادیا تھا تو دفاع سے ڈیڑھ گنا صرف سودکی مد میں ادا کرنے والی رقم تھی اب تو دفاع سے تین گنا بڑھ گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایکس ٹینشن بھی اسلئے نہیں لے رہاہے کہ اس معاشی گھمبیر صورتحال میں کوئی دیوانہ ذمہ داریوں کو قبول کرے گا۔ جو سیاسی جماعتیں اقتدار کیلئے مررہی ہیں ان میں شرم نہیں۔
ریاست اور حکومت کا حجم اتنا بڑھ گیا کہ جب تک بھاری بھرکم سودی قرضہ نہ لیاجائے توہیرونچی کی طرح ہاتھ پھیلائے بغیر اس کا خرچہ بھی نہیں چلتا ہے۔ سب سے پہلے معاشی اور سیاسی استحکام ضروری ہے لیکن جب ریاست کی چولیںPDMکے بعد اب عمران خان نے ڈھیلی کردی ہیں تو ریاستی استحکام کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ جب اکیلا مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ کر کے اسلام آباد پہنچ گیا تھا تو فوج کو زبردست دھمکیاں دیں اور لعن طعن کی ۔ جس پرDGISPRنے کہا تھا کہ ”آئندہ الیکشن میں ہم نہیں آئیںگے”۔ پہلے سیاسی جماعتوں کیلئے فوج کا نام لینا بھی ممکن نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اوریامقبول جان وغیرہ کی موجودگی میں لطیفہ سنایا کہ ایک عورت کے شوہر کا نام ”رحمت اللہ” تھا جس کو وہ ”منے کا ابا” کہتی تھی جب نماز پڑھتی تھی تو سلام پھیرتے وقت بھی کہتی تھی کہ ”السلام علیکم منے داابا”۔ جہاں سے نام لینا شروع ہوگیا تھا اور اس سے پہلے بھی خلائی مخلوق کا نام لینے سے بھی بلاول بھٹو ڈرتا تھا۔ پھر سلیکٹڈ کہنا شروع کردیا۔
ہم نے صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے شہہ سرخی میںلکھا تھا” خلائی مخلوق لیٹرین کے گٹر سے لوٹے بھر بھر کر قومی اسمبلی میں پہنچارہی ہے”۔ISIنے مجھے بھی وارننگ دی تھی کہ ہمارے خلاف مت لکھو، ورنہ اخبار وغیرہ بند ہوجائے گا۔ پہلے بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔ میں نے جواب دیا تھا کہ میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ آپ سے لڑ سکوں لیکن اگر اخبار بند کردوگے تو ہم اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہوکر غم نہیں کھائیںگے اسلئے کہ جتنا ہم کرسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں کریںگے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھاگ کر جان بچائی تھی اور اب ریاست کی اجازت کے بغیر کوئی باہر بھی نہیں جاسکتا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ مجھے ریاست بہت کمزور نظر آتی ہے اور یہ مفاد پرستی ہے کہ اپنے مفاد کیلئے اس پر تنقید کرنا چھوڑ دو۔ اس پر تنقید سے ہی اس کو فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شرعی مسائل تک خود کو محدود رکھو اور ہم بھی آپ سے تعاون کریںگے۔ میں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ اگر ریاست نے ساتھ دیا تو لوگ امام ابوحنیفہ اور بڑے بڑوں کو بھول جائیںگے اور مجھے بہت بڑا فقہی امام مان لیںگے لیکن یہ مفاد پرستی ہے اور اس کا مرتکب ہونا میرے ضمیر کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی تنقید کسی میڈیا میں نہیں ہے جتنی آپ کرتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ بتاؤ کہاں کیا بات غلط لکھی ہے؟۔ کہنے لگا کہ لکھتے تو بہت زبردست ہو۔ آخر میں پوچھا کہ ہماری طرف سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچی ہے۔ میں نے کہا کہ فون آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی کا آئے تو ہمیں بتانا اور پھر کبھی ایسا فون نہیں آیا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ غریدہ فاروقی کو مردوں میں نہیں جانا چاہیے اور جب وہ اپنی عزت کا خود خیال نہیں رکھتی ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟۔ عورتوں نے اس کا بالکل بجا طور پر بہت برا منایا لیکن عمران خان اپنی بات درست طریقے سے نہیں کہہ سکا تھا۔ عمران خان کا مطلب یہ تھا کہ غریدہ فاروقی تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو ان کو ہمارے جذباتی کارکنوں میں نہیں آنا چاہیے۔ کاش وہ اس بات کا بھی سوچ لیتے کہ فوج کے خلاف بات کرنے سے صحافیوں کو دور ہونا چاہیے ،اگر وہ فریق بنیںگے تو جذباتی لوگوں کی طرف سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ جس طرح کیپٹن صفدر اورمریم نواز کے مسئلے پر ایک فوجی افسر نے جذباتی ہوکر سندھ پولیس کے افسر کی بے عزتی کی تھی جس پر سندھ پولیس نے ایکشن لیا تو جنرل قمر جاویدباجوہ نے اس کو ہٹادیا۔
اگر شہباز گل اور اعظم سواتی پر درست انداز میں شکایت لگائی جاتی تو شاید اس کا ازالہ بھی کردیا جاتا لیکن صحافیوں نے ماحول میں ایسا بگاڑ پیدا کیا کہ عمران خان اور فوجی قیادت کو بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ کیسے معاملات بگڑ گئے ؟۔ نجم سیٹھی مسلسل ایک طرف عمران خان کا گراف گرانے کیلئے ن لیگ سے گٹھ جوڑ کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف عمران خان کو منصوبہ بندی سے اوپر چڑھانے کا الزام بھی لگاتا ہے ، جو صورتحال بھی ہوگی تو اپنے سابقہ کلپ دکھائے گا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو پہنچاہے۔ جھوٹ کی مدد سے الٹا نقصان پہنچتا ہے اور وہ بہت سے دوسرے صحافی بھی پہنچارہے ہیں۔
اعظم سواتی نے پٹھان غریب خاندان کیساتھ جو سلوک روا رکھا تھا یہ اس کی بد دعائیں ہیں کہ سچا یا جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے خود کو زندہ لاش کہہ رہاہے۔ بلوچ و پشتون قوم پرستوں کو فوج کو ذلیل کرنے یا بچانے کی خاطر نہیں اپنے لئے واضح کرنا ہوگا کہ ان کے ساتھ تو جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے؟۔ اگر نہیں ہوئی ہے تو پھر اعظم سواتی اور شہباز گل کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔ عمران ریاض اور سمیع ابراہیم نے مطیع اللہ جان پر جنسی تشدد کا الزام لگایا تھا لیکن اب وہ خود خوار ہیں۔
وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ عمران خان کہتا ہے کہ فوج نے مجھے بحال کردیا تو لڑائی ختم ہے لیکن یہ مسائل کا حل تو پھر بھی نہیں ہے۔ معاشی استحکام کی بنیاد عوام کو بھوک پیاس سے نجات دلانی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے ،ا سلامی تعلیمات کے مطابق مزارعین کو مفت زمینیں دی جائیں تو حکومت کو عشر سے بڑا کچھ ملے گا۔ جس سے کامریڈ اور مذہبی طبقہ دونوں ریاست کی تائید میں سرگرم نظر آئے گا۔ روس بھی اتنی بڑی پیش رفت دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہوگا۔ چند جاگیرداروں کی ناراضگی کے عوض بڑے پیمانے پر عوام خوشحال ہوجائے گی۔ ہم کوئی مزارع نہیں بلکہ اس کا اثر ہمارے گھر اور خاندان پر بھی پڑے گا۔ ابتداء تو اپنی ذات سے کرنی ہوتی ہے۔ عمران خان اس کا اعلان کردے تو پتہ چلے گاکہ ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہے یا نہیں؟۔ معراج محمد خان نے مجھے کہا تھا کہ تحریک انصاف کو بھی میں نے منشور بناکر دیا تھا آپ کو بھی بناکر دیتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ قرآن وسنت بذات خود بڑا منشور ہے اور ہمارا آئین بھی اس کا تقاضہ کررہا ہے۔ صرف عمل کرنے کی بات ہے۔ جاگیردار مزارعین کے ووٹ سے جیت کر آتے ہیں جب مزارعین آزاد ہونگے تو حقیقی آزادی کا سفر اس وقت شروع ہوگا اور ہم عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں کیخلاف نہیں ۔ دس ماہ تک احتجاج جاری رکھنا ہے تو عوام کیلئے ٹینٹ لگادیں۔بیرون ملک سے چندے آئیں گے اور کافی لوگ اتنے عرصہ تک روٹی روزی کھائیں گے اور دیہاڑیاں لیںگے تو معیشت کا بوجھ کم ہوجائے گا۔ سیلاب زدگان کو بھی اپنے پاس بلالیں تاکہ سیاسی شعور کا دائرہ اندورن سندھ تک بھی پہنچ جائے۔ حکومت اور ریاست ستو پی کے سوئے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

عوام کو فوج کی سکیورٹی کا ذمہ دار قرار دینا غلط ہے قومی جرگہ عالمزیب محسود

امن عوام کی ذمہ داری نہیں: ناخوشگوار واقعات پر عوام کو تنگ کرنا، چیک پوسٹوں پرظالمانہ رویہ اورعوام کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنا غیرقانونی ہے

عالم زیب خان محسود نے کہا کہ آج یہاں پر جنتہ تحصیل سراروغہ جنوبی وزیرستان میں ہم موجود ہیں۔ یہاں ہماری قوم کا جرگہ ہوا ہے اور یہ جرگہ اس حوالے سے تھا کہ چند دن پہلے یہاں پر ایک ناخوشگوار واقعہ سامنے آیا کہ یہاں پر آرمی اہلکاروں کے اوپر حملہ ہوا۔ تو پھر آرمی نے ان لوگوں کو بلا کر ان کو یہ کہا ہے کہ بھئی یہ تو آپ لوگ ہمارے ذمہ دار ہیں۔ آپ لوگوں نے یہ خیانت کی ہے آپ اس کا جواب ہمیں دیں۔ اس طرح کے واقعات اور بھی جگہوں پر سامنے آرہے ہیں۔ جس طرح کہ یہ ساری صورتحال مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اور اس پر ہمارے قومی جرگے ہوئے ہیں اور اس پر ہمارا قومی بیانیہ بنا ہے۔ اور وہ قومی بیانیہ ہم نے یہاں پر بھی پیش کیا ہے یہی بیانیہ یہاں پر ان کے جتنے بھی آرمی یونٹس ہیں اور ہمGHQتک بھی اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر لوگوں کے اوپر اس طرح کا تشدد کرنا یا یہ اجتماعی ذمہ داری ان کے اوپر ڈالنا یہ قطعاً غیر انسانی اور غیر قانونی ہے۔ سیکورٹی کی ذمہ داری یہاں پر آرمی کی ہے وہ اپنی ذمہ داری کو خود ہی انجام دے۔ یہاں پر لوگ اس کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ یہاں پر ان کو یہ کہا جارہا ہے کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں تو لوگوں کو اس طرح کی بات کہنا ، یہاں پر دنیا کو کیا سمجھایا جاتا ہے یہاں پر یہ ہمارے قبائلی عوام ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور دوسری طرف یہاں پر لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں۔ یا یہاں پر یہ کہنا کہ آپ لوگ ہمارے لئے بندوق اٹھائیں لوگوں کیساتھ لڑیں۔ دنیا میں کہاں پر ایسا ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو اس طرح کی ذمہ داری دے کر ان کو یہ کہنا کہ بھئی آپ لوگ ذمہ دار ہو آپ لوگ ہماری سیکورٹی کریں۔ سیکورٹی ادارے اسلئے ہوتے ہیں ان کو تنخواہ ہی اسلئے دی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کا زمین کا تحفظ کریں۔ باقی یہ لوگ آپ کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ ان کے گھر بار بازار سب کچھ تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور یہ اب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو تو تنخواہ بھی ملتی ہے آپ کو تو بجٹ بھی ملتے ہیں۔ہماری اتنی تباہی کرنے کے باوجود بھی یہاں پر اگر آپ امن قائم نہیں کرسکے تو یہ نااہلی تو آپ کی ہے۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا آخر قصور کیا ہے؟۔ کب تک ہم اس طرح کی جہنم کی صورتحال میں رہیں گے۔ ہم نہ کوئی نیا کاروبار یہاں شروع کرسکتے ہیں۔ یہاں ہماری زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ تو آخر کب تک یہ سب کچھ چلے گا؟۔ سوال تو آپ سے بنتا ہے۔ یہاں پر اگر ایک فائر بھی ہوتا ہے اسکے ذمہ دار آپ ہیں۔ آپ جواب دیں گے نا کہ آپ ہمیں جوابدہ اس کیلئے ٹھہراتے ہیں۔ اسکے بعد یہاں پر لوگوں کو یہ بھی کہا گیا کہ آپ کایہ جو علاقہ ہے پھر ہمارے لئے خالی کردیں۔ یہ قوم کا اجتماعی فیصلہ ہے اور دیگر جرگوں میں بھی یہ سامنے آیا ہے کہ اگر ہم سے یہاں اس طرح کا مطالبہ ہوتا ہے تو غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔ اس کیلئے اگر واقعی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی ایک گاؤں یا ایک علاقے کو خالی کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے تو پھر ہمیں لکھ کر دیا جائے کہ انہوں نے جتنے بھی ملٹری آپریشن کئے ہیں اس میں یہ ناکام یا نااہل رہے ہیں۔ ہمیں لکھ کر دیں گے اسکے بعد ہم صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ پورا وزیرستان آپ کیلئے خالی کردیں گے۔ تاکہ جو بھی آپ لوگ کرسکتے ہیں پھر آپ کریں۔ لیکن آپ ہمیں لکھ کر دیں گے جو دنیا کو آپ نے بتایا تھا کہ یہاں پر آپ کو ایک کارتوس تک نہیں مل سکتا تو پھر یہ سارے حالات کس طرح خراب ہورہے ہیں۔ یہ تو آپ کی نااہلی ہے پھر آپ ہمیں لکھ کر دیں کہ آپ جو کچھ ہمیں ماضی میں کہتے رہے وہ سب جھوٹ تھا یہاں پر علاقے میں کوئی امن و امان نہیں اور آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ جو یہاں پر لوگوں کو اب تنگ کیا جارہا ہے یہاں پر جیسے ایک چیک پوسٹ ہے وہاں پر ان کو یہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اب تو یہ کیمرہ بھی انہوں نے لگادیا ہے کہ یہاں پر ایک ایک بندہ آئیگا اور اپنا اپنا شناختی کارڈ دکھائے گا اور انٹری کروائے گا اور ساتھ میں یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگر زنانہ بھی ہوگی تو ان کے پاؤں چیک کرکے ہمیں یہ بتائیں گے۔ پہلے تو یہ انتہائی بے غیرتی والی ان لوگوں کیلئے بات ہے کہ آپ اس طرح کے ان سے مطالبے کررہے ہیں۔ جو ان لوگوں کیلئے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ یہ بہت حساس معاملے کے اوپر آپ لوگ ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ اس کی حساسیت کو لیکر آپ لوگ پھر بھی یہاں پر امن و امان قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس طرح کا غیر انسانی سلوک بالکل بند کیا جانا چاہیے۔ یہاں کی چیک پوسٹوں پر کوئی دہشتگرد کوئی پاگل ہی ہوگا جو یہاں پر آکر انٹری کرکے دے گا۔ وہ جو طالب ہے یا جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے وہ کبھی بھی چیک پوسٹوں پر نہیں آتے، نا وہاں پر انٹری کرواتے ہیں۔ وہاں پر عام عوام بالکل نہتے لوگ آتے ہیں اور پھر آپ ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ ان کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ قانونی سسٹم میں آپ نے ان کو رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کے چیک پوسٹوں کا کوئی معنی بنتا نہیں ۔ تو اس طرح کے واقعات کے بعد اس طرح کی سختی لوگوں کے اوپر کرنا جنہوں نے کچھ کیا ہوتا ہے وہ تو کھلے عام یہاں پر گھومتے ہیں۔ آپ تو خود بھی یہ کہتے ہو کہ ان کا سب کچھ ہمیں پتہ ہے کہ کہاں پر جارہے ہیں اور کہاں پر ہیں لیکن عام عوام کیلئے پھر آپ نے چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں ان کے گھروں میں آپ گھستے ہیں ان کو آپ زدوکوب کرتے ہیں تو یہ چیزیں، ڈرون ان کے گھروں کے اوپر چادر اور چار دیواری ، پردے کے جو مسئلے ہیں سامنے آرہے ہیں یہ کبھی بھی ماننے والی چیزیں نہیں ہیں ۔ جو صاحب اقتدار لوگ ہیں ان کو سوچنا چاہیے لوگوں کو بے وجہ تنگ کرنا بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اوریہ یہاں پر آج ہمارا فیصلہ ہوا ہے۔
محسود علاقے کے مسائل اور ان کا حل
انسان اپنی کوتاہی تسلیم نہیں کرتا تو اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ۔ نماز پڑھنے سے پہلے وضو اور وضو میں پہلے استنجاء کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اپنا گند کوئی نہیں دھوئے تو نہ اس کی اپنی نماز ہوتی ہے اور نہ کسی اور کو نماز کی امامت کراسکتا ہے۔
غفار خان پر جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد نے کفر کا فتویٰ لگایا، جس پر ولی خان کی اخبارات میں سرخی چھپ گئی تھی کہ ” اگر تمہارے آباء کو ہمارے آباء مسلمان نہ کرتے تو آج تمہارا نام میاںطفیل محمد نہیں بلکہ طفیل سنگھ ہوتا”۔
پشتون قوم تعصبات پر اترتی ہے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا بجلی گھر، ایمل ولی خان، منظور پشتین، شاعر گلامن پنجابی تہبند کو بے غیرتی سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے سوتیلے بھائی مروت قوم کے بھانجے ہیں اور مروت قوم کا قومی لباس تہبند تھا۔ رسول اللہ ۖ نے زندگی بھر بچپن سے آخری لمحہ تک تہبند پہنا۔ بہت پیشین گوئیاں قرآن واحادیث میں ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی پنجابی تھے جو اس خطے کو کراچی سے کشمیر تک سندھ سمجھتے تھے جس میں دریا سندھ اور اس کی دوسری چار شاخیں پنجاب کے دریا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، سرحد، کشمیر اور افغانستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی۔ المقام المحمود
اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبرمیں پختون کا کردار نمایاں ہے، تعصبات کا عنصر خطرناک اور حساس ہے۔ رسول اللہ ۖ کی طرف سے حج وعمرے کیلئے آنے والوں کو اپنی اپنی شلواریں اُتار کر کعبہ میں تہبند پہنا پڑتا ہے ۔احرام اتنا مقدس ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاسپورٹ چھین لیا گیا تو مولانا نے70کلفٹن بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔میں بنوری ٹاؤن میں پڑھتا تھا۔ یہ بات پھیلائی جارہی تھی کہ مولانا نے احرام کی توہین کردی ۔ میں نے کہا کہ ” یہ کیا کم عقلی ہے۔ جب مردوں نے احرام پہنے ہوتے ہیں تو عمرے و حج میںخواتین نہیں ہوتی ہیں؟”۔
پنجاب کے لوگ سندھی، بلوچ اور پشتون سے زیادہ مظلوم ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ والے مہاجر میں پھنس گئے تو پھر نام اور کام بدلنے کے باوجود دلدل سے نہیں نکل سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی قوم پرستی کے دلدل میں پھنس گئی تو بہت محدود ہوگئی۔ حبیب جالب ،غوث بخش بزنجو اور بنگال کے مولانا بھاشانی اسمیں شامل تھے۔اب حال اسلام اور قوم پرستی کے تعصب کا طبل بجانے کے باوجود بھی اے این پی اور جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کی ان تینوں سیٹوں سے مل کر بھی عمران خان نیازی سے ہار گئے جس نے اسمبلی میں جانا بھی نہیں تھا۔
وزیرستان کا محسود علاقہ پہلے بھی ایک مرتبہ دہشت گردی کا گڑھ تھا۔ عالم زیب خان شمل خیل ہے اور میرا ایک دوست مولانا محمد امیربھی شمل خیل ہے۔ جنتہ کا غالباً رہائشی ہے۔ افغانستان جانے والوں میں ایک وہ بھی تھا۔ مجھے اس نے طالبان کا پہلا تحریری منشور دکھایا تھا جس پر میں نے اختلاف بھی کیا تھا۔ تحریک طالبان سے پہلے اس نے پیشکش کی تھی وہ میرے مشن پردوسرے علماء سے مناظرے کرے گا۔ بیت اللہ محسود سے ملاقات کا پروگرام تھامگر پھر مجھ پر حملہ ہوا۔ وہ مولانا عبدالرحیم کے چچازاد ہیں۔ طالبان میں مختلف عناصر ہیں۔ جب ہمارا واقعہ ہوا تھا تو بیت اللہ محسود کی اجازت کے بغیر یہ کام کیا گیا تھا۔
میرے بھائی طالبان کے حامی تھے۔ مجھ پر حملہ کے بعد بھی انہی کو سپورٹ کرتے تھے۔ ہم پر حملہ ہوا تو اسکے بعدISIنے طالبان کی گاڑی میرے ماموں کے گھر سے پکڑ کر بارود سے اڑادی تھی۔ ہم سے کچھ فاصلے پر ہمارے عزیز ہیں۔ پیرکریم کے بیٹے طالبان ہیں اور بھتیجا مولانا آصف طالبان کے سامنے جہاد کے فضائل بیان کرتا ہے۔ اس کا داماد میرا ماموں زاد منظور پشتین کو اپنا مہدی کہتا ہے۔ فوج کو یہ پتہ نہیں کہ کس کی کس سے کیا رشتہ داری اور ہمدردی ہے؟۔ کریم کے بیٹے نے ہمیں بتایا تھا کہ حملہ عزیزپیر عبدالرزاق کے بیٹوں نے کرایا ہے۔ طالبان بھی جاسوسی کرنے کے نام پر ہمارے شہداء کے بدلے ان کو مارنا چاہتے تھے لیکن ہم نے نہیں مانا اسلئے کہ کمزور اور طاقتور میں تفریق غیرت کیخلاف تھا۔ طالبان نے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر قاری نے گاؤں والوں سے کہا کہ ہم کمزور ہیں، آپ ساتھ کھڑے ہوجائیں تو ہمیں نشانہ نہیں بناسکتے ۔ پھر اپنامدعا پیش کیا کہ ملک خاندان اور اس کو فیملی کو ہم نے بیت اللہ محسود کے حکم پر قتل کیا تھا۔ اگر ہم بے گناہ کے قتل میں قصاص ہوں تو بیت اللہ محسود بھی تیار ہوجائے۔ جس کے بعد طالبان نے اپنا پینترا بدل دیا۔13افراد کے بدلے11افراد قتل کرنے کی پیشکش کی۔ اسلئے کہ 2 افراد حملہ کے موقع پر قتل ہوچکے تھے۔ ہماری دانست میں زیادہ تھے لیکن کچھ لوگ اپنی شناخت چھپارہے تھے۔11انہوں نے غریب غرباء پکڑ کر قتل کردینے تھے۔ پیرعبدالرزاق کی دوسری بیگم سے بیٹے ہمارے ساتھ تھے۔اب افغانستان سے طالبان آئے تو پیرکریم کے بیٹوں نے طالبان کی کانیگرم میں دعوت رکھی تھی ۔ میرے ماموں نے کہا تھا کہ ”میں دوافراد کا بدلہ لوں گا۔ ایک اپنے شہیدبھتیجے اور دوسرے بھانجے میرے شہید بھا ئی کا”۔ باقی رہتے ہیں9افراد۔ تو نامعلوم میں ایک ضرور شامل ہے۔ باقی بچے8افراد۔ میرے اپنے8بیٹے ہیں۔ بدلے تک نوبت پہنچی تو میرے بیٹے انشاء اللہ ضروربدلہ لیں گے۔
ٹانک میں ہمارے رشتہ دار ہیں جس کے ہاں ہمارے عزیز پیر عبدالرزاق کی ایک بیٹی بیاہی ہے۔ جب اسکے بیٹے نے شرانگیزی شروع کردی تو اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ماردیا۔ اگر وہ نہ مارتے تو اپنے لوگوں سے اور فوج سے بھی دشمنی ، روز روز گھروں میں کودنے اور بے عزتی کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں اپنے عزیزوں کوجانتاہوں تو مجھے فوج پر الزام تراشی کی ضرورت نہیں اور ان سے خود ہی نمٹ لوں گا۔ انشاء اللہ ۔اس طرح تمام محسود اپنا اپنا ملبہ جانتا ہے ۔ اگر کوئی مقامی اور بین الاقومی سازش ہے تو پہلے اپنا گند صاف کرو اور جن پر الزام تراشی ہے ان سے مطالبات کرنا ویسے بھی قرینِ قیاس نہیں ہے۔ فوج معاملہ حل نہیں کرسکتی یا کرنا نہیں چاہتی ہے تو دونوں صورتوں میں نقصان تو بہر حال اپنا ہے۔
محسود کی ایک رسم ہے کہ عورت کی عزت پر قتل کا بدلہ نہیں لیتے اور نامعلوم کو بھی نہیں مارتے۔ میرے پرناناکے قتل کو عورت کی عزت سے جوڑ دیا گیا تھا اور ماموں محمودشاہ بھی نامعلوم کے ہاتھوںقتل ہوا تھا۔محسود عام ا علان کریں کہ
1:جن طالبان نے قتل کیا تھا اور وہ کسی کے ہاتھ سے بھی قتل ہوئے ہیں تو حساب بالکل برابر ہے۔ نامعلوم قاتل نامعلوم کے کھاتے میں چلے گئے ہیں۔
2: جو پہلے کمزور تھے اور اپنے قتل یا عزت خراب کرنے کا بدلہ نہیں لے سکتے تھے اور طالبان کی شکل میں ان کے پاس طاقت آئی اور بدلہ لے لیا تو اچھا ہوا۔
3:جن طالبان نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے وہ کھلے دل سے مقتول کے لواحقین سے معافی مانگ لیں اور جو چاہے تو معاف کردے یا بدلہ لے لے۔
4: طالبان دہشت گردوں کی صورت میں جنہوں نے کسی سے قتل کا بدلہ لیا ہے یا اپنی عزتوں کا بدلہ لیا ہے تو اس پر طالبان کے سر پر عزت کی پگڑی نہیں ۔
5: جنہوں نے اپنی عزت لٹنے کا نام لئے بغیر بدلہ لیا ہے تو ان کی غیرت کا مسئلہ تھا اسلئے وہ طالبان اور دہشت گرد اپنے جرم میں بالکل معذور تھے۔
عالم زیب خان اور منظور پشتین وغیرہ تو میرے بیٹوں کے ہم عمر ہیں۔ ان کو سیاست اور قوم کی خیرخواہی کا الف ب بھی پتہ نہیں ۔ فوج پر بگاڑ کے الزام لگاؤگے تو ان سے مطالبات کرکے شر سے کیسے نکلوگے؟۔ ان کو نااہل کہنے کی جگہ اپنی اہلیت ثابت کرکے اپنی قوم اور فوج دونوں کو اس شر سے بچاؤ تو بات ہے۔
پاکستان میں کسی وقت محسود علاقہ پوری دنیا کا سب سے بڑا پُر امن علاقہ تھا اور مہمان اپنے آپ کو ہر طرح سے محفوظ پاتا تھا۔ آج اس کو پھر اپنے اقدار کے مطابق مثالی امن قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شخصیات اور جماعتوں کی لڑائیوں سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نا پاکستان اور وزیرستان میں۔ ہر علاقے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے اور بروں کی تمیز کیلئے دنیا میں عدل و انصاف کے پیمانے بھی ہیں۔ دو فریق ایک دوسرے کیخلاف اپنی حد سے تجاوز کرسکتے ہیں لیکن جن کو فیصلے کیلئے کردار دیا جائے وہ دونوں کو اعتدال پر لاسکتے ہیں۔ صحافت کا کام حقائق بیان کرنا اور معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیاد پر امن و امان کا قیام ہے۔ حال ہی میں عمران خان کے اوپر حملہ ہوا تو اس پر بھی جیو نیوز کی طرف سے ایسی رپورٹنگ کہ لوگ بھاگ رہے ہیں مناسب نہیں تھی۔ عمران خان کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں انصاف کیلئے پر امن جدوجہد کو یقینی بنائیں اور کسی قسم کی افراتفری پھیلانا خود انکے اور سب کے مفاد میں نہیں۔ حکومت اپنا دل بڑا کرے اور سیاسی اعتدال کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہادر ارشد شریف شہید

پاکستان میں افراتفری پیدا کرنے کا بڑا نقصان ہوگا ، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور صحافی ملک و قوم کی رہنمائی کیلئے مثبت کردار ادا کریں ورنہ تو حالات خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے

عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے کو قرار واقعی سزا دی جائے اور پس پردہ حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور قاتل کو پکڑنے والے بہادر جوان کو خراج تحسین اور انعام سے نوازا جائے

شہید ارشد شریف پہلے صحافی ہیں جن کو اپنی شہادت کی وجہ سے ملکی ، قومی، حکومتی، عوامی، صحافتی، ریاستی اور بین الاقوامی سطح پر اتنی بڑی عزت ملی ہے جس سے صحافیوں کا حوصلہ بلند ہوا

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابرافتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے پریس کانفرنس کرکے ارشد شریف کی شہادت کوARYکے مالک کے کھاتے میں ڈالا جس میں وہ مخلص یا جوابی الزام تراشی ہوسکتی ہے اسلئے کہ یہ ماحول بن گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کایہ کہنا کہDGISIنے مجھ سے اجازت لیکر پریس کانفرنس کی ہے تو اس پر ہا ہاہاہا ہا……. ہی ہوسکتا ہے۔ اس کو یہ اعتراف جرم کرنا چاہیے تھا کہ نالائق اور نااہل حکومت نے ترجمانی کا حق ادا نہیں کیا اسلئے بے چاروں کو خود میدان میں اترنا پڑا ہے جس پر ہم شرمندہ ہیں۔
فوج سیاست کیلئے نہیں دشمن سے دفاع کیلئے ہوتی ہے۔ الزام تراشی کی وجہ سے تفتیشی ٹیم سےISIکا نمائندہ نکال دیاگیا۔ عمران ریاض، سمیع ابراہیم، صابر شاکر ، چوہدری غلام حسین بھی منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ کی طرح اب محبانِ فوج نہیں تھے لیکن وہ قتل نہیںہوئے۔البتہ حامد میر اورابصار عالم کو گولیاں لگیں۔عمرشہزادشہیدہوا ،مطیع اللہ جان اغواء اور پٹ چکا، اسد علی طور پٹ چکا۔ ایاز امیر پٹے۔ ارشد شریف کی شہادت نے بڑی جگہ بنالی اور اس پر یقینا بہت تشویش، رنج ، غم و غصہ کی لہر بنتی ہے اسلئے کہ آلودہ فضاؤں میں معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے۔ارشد شریف شہید کے قاتلوں کا سراغ لگانا ضروری ہے لیکن اندھا دھن ایسی الزام تراشی کرنا جس سے ملک وقوم کو نقصان پہنچے اور کوئی بے گناہ زد میں آئے تو یہ انتہائی غلط ہے۔ صحافتی ، ریاستی، حکومتی اور اپوزیشن کی فضا آلودہ ہے ۔ کس کے گلے کی یہ ہڈی اور کس کا یہ فالودہ ہے؟۔ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹواورفاروق لغاری نے مرتضیٰ بھٹو کا قاتل آصف علی زرداری کو سمجھاتھا۔ زرد صحافت یا ریاست مکافاتِ عمل کا شکارہے؟ ،جائزہ لیں! ۔
صحافی وسعت اللہ خان نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا اصل جھگڑا فوج سے نظریاتی نہیں بلکہ گھر یلو اور خاندانی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں فوج سے کہتی ہیں کہ جب ہم دو بیویاں تھیں تو تحریک انصاف کو کیوں لے آئے؟۔ مطیع اللہ جان نے نواز شریف کو فوج کے مقابلے میں نظریاتی کردار ایک بھٹو کے طور پر پیش کرنے کے سوال پریہ جواب وسعت اللہ خان نے دیا تھا۔
ارشد شریف پرGEOاورARYمیں سوکناہٹ کا مسئلہ ہے۔ اگریہ کہا جائے کہGEOکا کردار جمائماخان اورARYکا ریحام خان کی طرح بن گیا ہے تو بات زیادہ آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔اب فوجی حکام نے24نیوز کو اپنی پریس کانفرنس کیلئے مدعو کرکے بی بی بشریٰ کا درجہ دیا ہے اور اس میں شبہ نہیں ہے کہ24نیوز نے زیادہ آزادانہ صحافت کا کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا چلانے والے انواع واقسام کے لوگ صرف طوائف کی طرح یوٹیوب پرپیسے کمانے کیلئے ہرقسم کے بے وسروپا جتن کرتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ ان کے پرکشش اورانتہائی سنسنی خیز عنوانات سے گناہ بے لذت حاصل کرنے کے بجائے ان لوگوں کو سنیں جو معتبر صحافی ہیں جیسے رؤف کلاسرا۔ رؤف کلاسرا کا تعلق لیہ شہر پنجاب سے ہے اور وہاں میں نے ابھرتی ہوئی جوانی کے کچھ سال گزارے ہیں۔ اس وقت پرائیوٹ سکول کا رواج نہیں تھا اور وہ ہم سے سینئر بھی تھے اور گورنمنٹ ہائی سکول بھی الگ الگ تھے۔ ارشد شریف کا نام رؤف کلاسرا کی وجہ سے پہلی مرتبہ ان لوگوں کی فہرست میں آیا جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اچھے ہی ہوں گے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ارشد شریفARYپر فوجی حکام کی تعریفوں میں سر گرم رہتے ہیں اور روف کلاسرا کو مین اسٹریم میڈیا سے کیوں غائب کردیا گیا ہے؟۔ لیکن نیک گمان اپنی جگہ تھا۔
محمد مالک سے ایک ملاقات ہوئی ہے ۔ رؤف کلاسرا اپنے سوشل میڈیا کے چینل پر محمد مالک کو لیتے رہتے ہیں۔ رؤف کلاسرا کیساتھ محمدمالک کے شو کو معتبر سمجھ کر دیکھا تو اس میں تین قسم کے امکانات کا ذکر کیا گیا جن پر مسلسل الزامات لگ رہے ہیں۔ ایک ہماری اسٹیبلشمنٹ، دوسرےARYوالے اور تیسرے کینیا پولیس اور اس کی حکومت۔ جتنی بات کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے تو اس میں قتل کرنے والوں تک پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ارشد شریف کی اہلیہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ کینیا میں ارشد شریف کے میزبان وقارلوگوں کو تنگ نہیں کیا جائے۔ وقار نے کہا ہے کہ اگر ہمیں یہ کام کرنا ہوتا تو اس کے اور ہزاروں طریقے ہوسکتے تھے ، اس طرح کیوں کرتے؟۔ کینیا پولیس بدنام ہے ۔ اس کا اپنی ذمہ داری کو قبول کرنا بھی عجیب ہے۔ ہماری ریاست کیوں کسی کو قتل کرنے کی حد تک سازش میں ملوث ہوگی؟۔ کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں لیکن تحقیقات کے ذریعے جو اصل مجرم ہیں ان تک پہنچا جائے جو مشکل ہے۔
محمد مالک نے یہ سوال اٹھایا کہDGISIکا یہ کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کہ ارشد شریف کو خطرہ نہیں تھا۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ کینیا میں اب ویزے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ ارشد شریف کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے کینیا مدعو کیا گیا تھا۔ محمد مالک نے کہا کہ کاشف عباسی کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ اس کو دبئی حکام کی طرف سے جانے پر مجبور کیا گیا تھا؟۔ سوالات اٹھانا اور جوابات دیناکسی پر الزام تراشی کیلئے نہیں بلکہ اصل حقائق تک پہنچنے کیلئے ہونا چاہیے۔
خاتون کے جذبات اور کیڈٹ کالج کے فاضل ڈاکٹر کے جذبات بھی غلط وکالت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کا ایک آئینہ ہیں۔
یہ تو ممکن ہے کہ ارشد شریف کی شہادت کسی گہری سازش کا نتیجہ ہو اور اس میں بین الاقوامی سے لیکر مقامی مافیاز سازش تک کچھ بھی بعیداز امکان نہیں ہے لیکن بڑے معروضی حقائق کو نظرانداز کرنا بھی صحافت کیساتھ بڑی زیادتی ہے۔
ہمیں شوق نہیں کہ پاکستان کے طاقتور ادارے فوج کی وکالت کا کردار ادا کریں لیکن حق بات کہنے میں عوامی جذبات کی جگہ فکر وشعور کی افزائش اور مشکلات میں پھنسے لوگوں کی درست مدد کرنا ضروری ہے۔ جن کو پاک فوج نے اپنے کاندھے پر چڑھاکر میڈیا میں آنے کی کلیرنس دی ہو تو ان کی طرف سے سیاسی جماعت کی طرح فریق بن کر فوج کے خلاف بیانیہ بنانا قابلِ غور ہے؟۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کو قتل کرنا جرم نہیں ہے لیکن اتنی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے کہ جن طوطوں کی اپنے ہاتھوں سے آبیاری کی ہو ،اگر وہ اپنے محسن کو ایسے چوراہے پر گالیاں بکنا شروع کردیں تو جتنا ان کا بس چلے گا اتنا وہ اپنا زور بازو استعمال کرکے اس کو خاموش یا رویہ تبدیل کرنے پرمجبور کریں گے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جہاں کہیں اس کو حادثہ ہوجائے تو اس کو اسی کھاتے میں ڈالا جائے۔ پاکستان میں کیس الگ بات ہے اور باہر الگ معاملہ ہے۔ دونوں کو ایسا جوڑ دینا کہ اس پر فیصلہ کیا جائے بہت بڑی زیادتی ہے۔
یہ ماحول کیوں بنا ہے؟۔ حامد میر نے جنرل رانی سے لیکر ارشد شریف کے قتل سے ایک دن پہلے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں یہاں تک کہا کہ منظور پشتین کو میڈیا پر کیوں نہیں آنے دیا جاتا ہے؟۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو پھر ہم سب دہشت گرد ہیں۔ ایک بلوچ شاعر سمیت کچھ افراد کی ضمانت وزیرقانون اعظم تارڑ ، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور ایڈوکیٹ مرتضیٰ نے دی تھی کہ ان کی لاش کو نہیں پھینکا جائے گا۔ اور اس وجہ سے بلوچ خواتین نے مسنگ پرسن کا50دنوں سے دھرنا ختم کیا تھا۔ جن کا مطالبہ تھا کہ ان قیدیوں کو رہا بھی مت کرو، عدالت میں بھی پیش مت کرو، بس صرف ان کی لاشیں مت گراؤ، لیکن ایک شاعر کی لاش کو پھینک کر ان سب لوگوں کے منہ پر تھپڑ مارا گیا ہے۔ بلوچ شاعر اور ارشدشریف میں یہ فرق ضرور تھا کہ بلوچ اپنے قوم کے حقوق کیلئے لڑرہاتھا اور ارشد شریف کی لڑائی نہ صرف عمران خان کیلئے تھی بلکہ رجیم چینج آپریشن میں عمران خان نے ہی امریکہ کیلئے جب میرجعفر اور میر صادق کسی کو قرار دیا تھا تو اگلے دن ہی وضاحت کردی تھی کہ نوازشریف اور زردای مراد ہیں۔ ارشد شریف نے ”وہ کون تھا؟” کے ایک پروگرام سے میرجعفر اور میر صادق جنرل قمر جاوید باجوہ اورجنرل ندیم انجم کو ثابت کرنے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ اس پر بھی انکے خلاف مقدمات نہیں بنے۔ البتہ شہبازگل اور مطیع اللہ جان کی طرف سے مجبور کرنے کے بعد جو سوالات کے جوابات دئیے تھے تو اس پر مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ شہباز گل کیساتھ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا لیکن قتل تو نہیں کیا گیا، پھر ارشد شریف کو کیوں قتل کیا جاتا؟۔ مطیع اللہ جان کیساتھ بھی جو ہونا تھا وہ ہوا مگر قتل نہیں کیا گیا۔ پھر ارشدکے قتل کی سازش کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا مگر قتل ہوا اسلئے سوال پیدا ہوگیا۔
مشورہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کی امامت میں کور کمانڈر ز دو رکعت نمازشکرانہ ادا کریں کہ عمران ریاض، سمیع ابراہیم، صابر شاکراور چوہدری غلام حسین وغیرہ مخالف کیمپ میں ہیں اسلئے کہ سب اپنے اپنے طرز پر نہ صرف ارشد شریف کے قتل کو جائز قرار دیتے بلکہ دنیا کے دوسرے کونے میں اس کو نمبر ون کا کارنامہ بھی کہتے۔ پاک فوج کو انہی لوگوں نے اپنے غلط ماحول کی وجہ سے اس حدکو پہنچادیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان سے سخت بدظن ہے اور ان کو صفائی دینی پڑرہی ہیں اور یہ لوگ بھی شکر ادا کریں کہ تھوڑے بہت عتاب میں آگئے اور گناہ دھل گئے۔
شمالی وزیرستان میں ایک چیک پوسٹ پر پاک فوج کے جذباتی سپاہیوں نے فائرنگ کرکے16افراد شہید اور45افراد کو شدید زخمی کردیا تھا جن کو بعد میں معاوضے بھی دئیے گئے۔ ارشد شریف شہید نےARYنیوز پر خبردی کہ دو پارلیمنٹ کے ممبر علی وزیر اور محسن داوڑ نے چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں5سکیورٹی اہلکار زخمی اور کچھ حملہ آور مارے گئے۔ کیا ان لوگوں کے والدین نہ تھے؟ اور بیوی بچے ، خاندان اور دوست احباب نہیں تھے؟۔ ارشد شریف کے والد کی طبعی موت ہوئی تھی اور بھائی فوج میں ڈاکٹر تھے اور حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ ایک گھر سے دو جنازے اُٹھانے والوں کا احساس بڑا احساس ہے ؟۔ ہمارے گھر پر حملہ ہوا تو13افراد کی شہادت ہوئی تھی۔ الجزیرہ کے علاوہ کوئی پاکستانی میڈیا چینل موقع پر نہیں آیا۔ اسلئے نہیں بتارہاہوں کہ کوئی گلہ شکوہ ہے کیونکہ
جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
مجھ پر اس سے ایک سال پہلے 2006ء میں فائرنگ ہوئی جس جگہ پولیس کا ناکہ ہوتا تھا اور اس دن پولیس موقع سے غائب تھی۔ ڈارئیور والا دروازہ ایسا کٹ گیا تھا جیسے کلہاڑی سے چیر دیا ہو لیکن ہم تینوں افراد معجزانہ طور پر بچ گئے۔ ساتھ میں بیٹھے ہوئے فرنٹ پر میرے بھتیجے کے سرکے کچھ بال اڑ گئے تھے اور پچھلی نشت پر بیٹھے ہوئے عزیز کو تین گولیاں لگی تھیں لیکن بالکل ہلکے نشان تھے۔2007میں گھر پر حملہ ہوا تو بھتیجے ارشد کے سر کا بھیجا درخت پر چپک گیا تھا۔
کینیا پولیس پر سوالات اٹھانے سے پہلے ماڈل ٹاؤن لاہور میں14افراد کی شہادت پر کیا نتائج نکالے ہیں؟۔ کیا وہ انسان نہیں تھے؟۔ ہماری صحافت کا معیار وکالت اور دلالی نہیں ہونا چاہیے۔ ارشد شریف کی شہادت ایک بڑا سانحہ ہے۔ جنازے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے اور اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان سے بڑا جنازہ علامہ خادم حسین رضوی کا تھا۔جنکے ساتھ صحافی برادری ، فوجی حکام کے دستے اور تحریک انصاف کا جنون بھی نہیں تھا۔تاہم یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اپنے پرائے سبھی ان کے اخلاق اور کردار کے معترف تھے۔ اتنی عزت کسی کسی نصیب والے کو موت کے بعد ملتی ہے جومریم نواز کی طرح قابل عبرت نہیں بلکہ بہت قابلِ رشک ہے۔
میں رؤف کلاسرا کو صحافت کا دماغ اور ارشد شریف کو صحافت کا دل سمجھ رہا ہوں۔ دل سے کبھی عشق وجنون کی غلطی سرزد ہوتی ہے جو قابلِ گرفت نہیں بلکہ قابلِ درگزر ہوتی ہے۔ ارشد شریف کو پاک فوج سے عشق تھا اور ہمارے گھر کو طالبان سے عشق تھا۔ ارشد شریف کی شہادت نے فوج کے مورال کو خراب کردیا اور ہمارے گھر کے واقعے نے طالبان کو عوام کی نظروں سے گرادیا تھا۔ ہمارے واقعہ کو طالبان مان گئے تھے لیکن ان کے ہاتھ سے شریعت اور پشتو دونوں ہی نکل گئے اور میرا غالب یقین ہے کہ ارشد شریف کی شہادت میں پاک فوج کا بالکل بھی ایسا کردار نہیں ہے جس میں ان کو ملوث کرنے کی زبردست کوشش ہے۔
جب کسی بھی بے گناہ پر قتل کا غلط الزام لگ جائے تو مقتول سے ہمدردی کا رواج عام ہے لیکن بے گناہ پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔2006میں جب مجھ پر حملہ ہوا تو مجھے پولیس افسر نے کہا کہ کس کیخلاف آپFIRدرج کروگے؟۔ میں نے کہا کہ ریاست کیخلاف ریاست کے تھانے میںFIRدرج کرنا کم عقلی کے سوا کیا ہے؟۔ اس نے وضاحت مانگی تو میں نے پوچھا کہ اسلحہ بردار نقاب پوش گھومتے ہیں تو ان پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں؟ ان کو ریاست نے اجازت نہیں دی ؟۔ تو اس نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں، اپنے پہنچ رہے ہیں۔میرے بھائی ، ماموں ، ماموں زاد اور ایک پڑوسی تھوڑی دیر میں پہنچ گئے۔ پھر میں چند دن آنے والوں کیلئے بیٹھ گیا اور پھر دوبئی دوست کے ہاں گیا۔ پھر واپس آکر اپنے اخبار کا کام شروع کیا۔ جب2007میں واقعہ ہوا تو دوبئی گیا۔ طالبان کے اس حملے کے بعد میری خواہش تھی کہ بیرون ملک کسی جگہ سیاسی پناہ لے لوں۔ جرمنی ، فرانس، ناروے اور سویڈن جانے کا موقع بھی ملا لیکن مجھے یہ خوف تھا کہ کہیں میری تگ ودو سے تحریک طالبان اور پاکستان کو نقصان نہ پہنچے اسلئے کہ نیٹو کی افواج نے نہ صرف افغانستان بلکہ عراق اور لیبیا کو بھی تباہ کردیا تھا۔ حالانکہ میری دانست میں فرانس وغیرہ کے خبرنامے پر ہمارے واقعہ کی خبر پڑی ہوئی تھی لیکن مجھے اس طرح پناہ نہیں لینی تھی کہ جان بچے اور اغیار اپنے فوائد اٹھائیں۔ پاکستان میں پاک فوج کے جرائم میں نواز شریف اور عمران خان کو بھی ڈال دیں تو اس کو ڈوب مرنا چاہیے لیکن تاہم یہ چندا فراد کی خواہش اور کم عقلی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور قوم کے اجتماعی مفاد کیلئے پاک فوج کا بڑا رول ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہماری پولیس، عدالتیں ،سیاستیں اور زندگی میں ایک ریاست کے مزے ان کی مرہون منت ہیں۔ ریاست تومشرکینِ مکہ کی جیسی تیسی تھی لیکن رسول اللہ ۖ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ ان سے بھی کیا تھا۔ آج سعودی عرب کی ریاست نے جس طرح انسانی حقوق کو پامال کیا ہے تو وہ مشرکینِ مکہ کے دور سے بھی زیادہ بدتر ہے جس میں جان ،مال اور عزت کے علاوہ آزادی کو تحفظ نہیں دیا گیاہے۔ پاکستان میں آزادی کا جتنا تصور ہے وہ ہمارے صحافی اپنی دلالی اور وکالت کے ذریعے زیادہ خراب کرتے ہیں ورنہ اچھے اچھے صحافیوں کا کھل کر بولنا بہت بڑی غنیمت ہے۔ اگر سب کو اپنی وکالت اور چینل مالکان کی پالیسیوں کے مطابق بکنے دیا جائے تو بہت خرابی پیدا ہوگی۔ قرآن میں دو بڑے جرائم ہیں ۔ایک عورت پر ہاتھ ڈالنا اور دوسرا افواہ سازی سے معاشرے میں انتشار پیدا کرنا۔ دونوں کی سزا قتل ہے۔ کسی فرد پر بہتان سے زیادہ ریاست پر بہتان تراشی کا نقصان ہے لیکن ہمارے ہاں یہ تو ادنیٰ درجے کی بات بلکہ دلیری سمجھی جاتی ہے۔
ارشد شریف پہلے جس اعتماد کیساتھ فوج کی حمایت کررہے تھے آخر میں اس اعتماد کیساتھ مخالفت کررہے تھے۔ پہلے دل فوج کو دیا ہوا تھا اور پھر عمران خان کو دل دے دیا تھا۔ ان کی فکرسے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا جذبہ سچا تھا۔ اگر دوست احباب یہ مشورہ دیتے کہ ایاز امیر ، ابصار عالم اور مشتاق منہاس نے جب ن لیگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو صحافت کو خیرباد کہہ دیا۔ آپ بھی اگر سیاسی ڈگر اختیار کرنا چاہتے ہیں تو پھر صحافت چھوڑ دیں۔ صحافی کیلئے کسی سیاسی جماعت کی وکالت کرنا قانونی، اخلاقی اور شرعی اعتبار سے منع ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عرفان صدیقی جیسے صحافی ن لیگ کو سپورٹ کرتے ہیں تو جانبداری میں اس حد تک کہتے ہیں کہ رفیق تارڑ نے پانچ جرنیلوں کے سامنے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا جس پر حامد میر نے صرف اتنا کہا تھا کہ” تارڑ نے”۔جب مظہر عباس سے ن لیگی جھرمٹ صحافیوں نے کہلوانا چاہاکہ بھٹو، نوازشریف اور عمران خان تینوں کرکٹرکو فوج سیاسی میدان میں لائی ہے تو مظہر عباس نے کہا کہ ” بھٹو صاحب کا بھی سیاست میں آنے سے پہلے ایک بیک گراؤنڈ تھا۔ عمران خان کا بھی ایک بیک گراؤنڈ تھا لیکن نوازشریف کو گورنر ہاؤس جنرل جیلانی کے پاس لایا گیا تو اس نے جم کے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے۔ پوچھا کہ کام کیا کرتے ہو؟۔ اور پھر اس کووزیر خزانہ بنادیا۔نوازشریف اور اس کے خاندان کو سیاست میں لانا اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا ہے”۔ عمران خان کی کامیابی یا بگاڑ کا ایک بنیادی سبب شریف خاندان کی عجیب وغریب طرز سیاست بھی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv