پوسٹ تلاش کریں

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

جب عمران خان کے منہ سے بات نکلتی ہے تو میڈیا اس کو ایسی یلغار دکھاتا ہے کہ جیسے انتہائی باعزت پاکیزہ کنواری کو آنکھ ماری ہو بلکہ جبری جنسی زیادتی کرکے اسکی بکارت ختم کی ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان کی مقبولیت زرداری اور نوازشریف سے عوام کی مایوسی اور عربی کہاوت کل جدید لذیذ ” ہر نئی چیز لذیذ ہوتی ہے” اسٹیبلیشمنٹ نے نئی نویلی دلہن بناکر پیش کیا۔ تبدیلی نہ آئی اور نالائقی کا ریکارڈ توڑا گیا تو مایوسی پھیل گئی۔ عمران خان کھل کر کہتا تھا کہ ” میں اور باجوہ ایک پیج پر ہیں اور فوج کیلئے ڈھال کا کردار ادا کروں گا”۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت سنھبالتے ہی فیصلہ کیا تھاکہ باجوہ کو ایکس ٹینشن دینی ہے۔ایوب، ضیاء ،مشرف اورکیانیX10ہوتے رہے اوریہX10”یاد ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا” تھا۔ عمران خان نے رومانس کا اظہار کیا تو عدالت نے سیاسی قیادت کو امتحان میں ڈالا، عمران خان کی چوتڑ پر فوج کی مہر لگی تھی۔ نوازشریف اور زرداری نے آرمی چیف کیX10کا فیصلہ کیا تو فیصل واوڈا نے میز پر بوٹ رکھا کہ یہ چاٹو۔ سیاسی رہنما کو اپنی بے عزتی کا احساس ہوا تو واوڈا نے کہا کہ ” بے عزتی تو ہوئے گا”۔
پھرPDMکی گدھا گاڑی پر پیپلزپارٹی سمیت کئی پارٹیوں کے نام تھے۔ نوازشریف نے پہلے جلسے میں فوج کیخلاف ڈھینچو ڈھینچو کرنا شروع کیا تو زرداری نے کہا کہ ہماری یہ مجال نہیں، لاڈ پیار والا طبقہ جو بولے تو یہ آپس کی بات ہے۔ مریم نواز کا دروازہ توڑا گیا تو سندھ پولیس کے احتجاج سے آرمی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بلاول مریم کی دوستی گڑھی خدابخش تک جاپہنچی۔ قریب تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی کووزیراعلیٰ اور شہبازشریف کو وزیراعظم بنادیا جاتا مگرمریم نوازکو یہ قبول نہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے دونوں ایجنٹ پنجاب اور مرکز پر قبضہ کریں۔مولانا فضل الرحمن کو پرویزالٰہی اور زرداری کے پیچھے لگادیا ۔ پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے نکالا ۔ مولانا اور مریم نواز نے اسمبلی سے استعفیٰ دلانا تھا۔ زرداری اورANPپر اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ جیو ، جنگ اور سوشل میڈیا پر تماشہ لگادیا کہ اصل جنگ کٹھ پتلی عمران خان سے نہیں فوج سے آزادی لینی ہے۔ پھر زرداری نے کایا پلٹی کہ اصل کو چھوڑ دو، کٹھ پتلی سے جان چھڑاؤ۔ اقلیت کو جوڑ کر حکومت بنائی ، جعلی اپوزیشن لیڈر چن لیا ، جو بیانیہ فوج سے آزادی کا بنایا وہ ہتھیار عمران خان کے ہاتھ میں آیا۔ کل تک جو نکھٹو ایکدوسرے کو چور، غدار اور مودی کا یار کہتے تھے توآج مجموعہ اضداد مذاق بن گئے ۔ مہنگائی کا شور مگرساڑھے3سال میں اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی گدھیڑوں نے4ماہ میں کردی۔ ایک آنکھ کام نہ کرے تو دجالی بیلنس خراب ہوگا۔حکومت و اپوزیشن کی دو آنکھوں سے بیلنس قائم ہوتا ہے۔ مشاورت میں مختلف رائے سامنے نہ ہوں تویہ مشورہ نہیں ہے۔ نزول وحی کے دور میں مشاورت کا عمل تھا اور وحی بند ہوئی تو مشورہ وحی کا نعم البدل ہے لیکن حکومت کوچلنے نہیں دیا جاتا اور اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا جاتا ہے۔پہلی مرتبہ جنرل باجوہ کی قیادت میں فوج نے فیصلہ کیا کہ سیاسی مداخلت نہیں کرنی لیکن اب کمبل ان کو نہیں چھوڑ رہاہے۔کسی نے دریا میں ریچھ کو کمبل سمجھ کر پکڑنا چاہا تھا تو ریچھ نے اس کو پکڑلیا ۔یہاں تو75سال گزرنے کے بعدفیصلہ کیا گیاہے۔ اگر پاک فوج نے بہت زیادہ حکمت عملی سے کام نہ لیا تو مشرقی پاکستان سے بھی زیادہ برا حشر ہوگا اسلئے کہ اندر باہر سبھی کواپنا دشمن بنایاہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب نے جنم دیا، جب سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو کو بقیہ پاکستان کا اقتدار مل گیا تو آئین بنا لیکن آئین پر عمل نہ ہوا۔ بلوچستان کی جمہوری حکومت کاخاتمہ کرکے گورنر راج لگایا۔سردار عطاء اللہ مینگل کے19سالہ بیٹے اور اسکے دوست کو اغواء کرکے قتل کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر بغاوت کے مقدمات قائم کرکے پھانسی گھاٹ میں رکھا۔ لاڑکانہ میں بھٹو نے جماعت اسلامی کے رہنما کو الیکشن کے کاغذات جمع کرانے پر اغواء کیا تھا۔ پھر جنرل ضیاء نے جماعت اسلامی کو کڑک مرغی کے انڈوں کی طرح رکھا لیکن نواز شریف کو جنم دیا۔ جنرل ضیاء الحق ساتھیوں سمیت حادثے کا شکار ہوا توMRDکی مدد سے بینظیر بھٹو اقتدار میں آئی لیکن بینظیر بھٹو نے صدارت کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے جانشین غلام اسحاق خان کو صدر بنوایا۔ پھر جب اس کی حکومت ختم کی گئی تواسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نوازشریف کو اقتدار میں لایا گیا۔پھراس کو کرپشن کی بنیاد پر اقتدار سے باہر کیا گیا۔ بینظیر اقتدار میں آئی تو پھر اسکے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتارا گیا اور حکومت بھی ختم کی گئی۔ پیپلزپارٹی کا جیالا صدر فاروق لغاری بھی ن لیگ سے مل گیا۔ پھر انتہائی بے شرمی اور بے غیرتی کیساتھ نہ صرف نوازشریف اقتدار میں آیا بلکہ اپوزیشن کی زیادہ ترسیاسی قیادت پارلیمنٹ سے باہر کی گئی۔
پرویزمشرف نے نوازشریف کاتختہ الٹا تو سپریم کورٹ نے اس کو تین سال تک قانون سازی کی اجازت دیدی۔ جب متحدہ مجلس عمل نے صوبہ سرحد میں سرکاری زبان اردو کو نافذکردیا تو سپریم کورٹ رکاوٹ بن گئی۔ صحافی عمران ریاض نے عید قربان کی وجہ سے چند دن کی داڑھی رکھی تو جج نے کہا کہ ” آپ کیساتھ داڑھی اچھی نہیں لگتی ”۔ عمران ریاض نے الزام لگایا تھا کہ مطیع اللہ جان کو فوجیوں نے ریپ کیا اور پھر عمران خان نے الزام لگایا کہ ” شہزاد گل سے جنسی زیادتی ہوئی ”۔ حامد میر کی طرف سے جنرل رانی کے طعنہ سے لیکر نواز شریف کی طرف سے تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہونے تک کیا کیا الزامات فوج پر کس نے نہیں لگائے ہیں لیکن سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے۔
اس سے پہلے کہ ضابطہ اخلاق کی تمام رسیاں ٹوٹ جائیں تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ مخرب الاخلاق الزامات کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور یہ کون لگاتا ہے؟۔ جب نوازشریف فوج کے کیمپ میں خرکار تھا تو بھٹو کے باپ پر انگریزوں کے کتے نہلانے کا الزام لگاتا تھا۔ زیادہ دور کی بات نہیں ، جب پنجاب میں زرداری کی مدد سے شہبازشریف پنجاب میں اقتدار میں آیا تب بھی لغت میں ایسی گالی نہیں تھی جس کی پریکٹس جلسوں میں شہبازشریف نے نہ کی ہو۔ پاک فوج زندہ باد کے نام سے چینل دوسروں کی خواتین پر بہتان سے دریغ نہیں کرتے۔ARYاور بول نیوز کے صحافی دم ہلا کر فوج کو سلام کرتے تھے ۔ پھر اپنی دم پیشاب میں ڈبولی تو فوج کے منہ پر مارنا شروع کردی۔ نوازشریف اور عمران خان کو بھی جس لاڈ سے پالا تھا اسی لاڈ سے پیشاب میں دُم بھگو کر فوج کے منہ پر ماری۔
نوازشریف کی زرخرید میڈیا جیو، جنگ گروپ اور سوشل میڈیا کے صحافیوں نے یکطرفہ طور پر عمران خان کا چہرہ بھیانک دکھانا شروع کیا جس کی وجہ سے فوج کے ترجمان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب نوازشریف اور دوسرے رہنماؤں کے کلپ دکھائے تو پھر عمران خان کے الفاظ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ جنرل ضیاء کو ذوالفقار علی بھٹو نے عاجز اور کمزور سمجھ کر منتخب کیا تھا لیکن فوج کی طاقت نے اس کو مضبوط کردیا ۔ جب آئینی شق نہ تھی تب بھی آرمی چیف اپنی مدت میں خود توسیع کرتا تھا،جو جرنیلوں کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا اظہاریا مفادپرستی تھی؟۔ پارلیمنٹ نے صدر اور وزیراعظم کی توسیع کیلئے قانون نہ بنایا تو آرمی چیف کیلئے بھی نہیں بنانا چاہیے تھا جہاں ایک کی جگہ پانچ پانچ چھ چھ اہلیت رکھتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کی وجہ سے عمران خان اور ن لیگ نے یہ عہدہ بے شرمی کیساتھ متنازع بنادیا۔ فوجی جرنیل نیچ لوگوںکو مفاد کیلئے قوم کی تقدیر کا مالک بنائیں گے تویہی ہوگا۔احسان فراموشی اور احسان کے بدلے برائی کمینہ پن ہے جس کو کم نسل کامیاب سیاست سمجھتے ہیں جو ایکدوسرے کیساتھ بھی جاری رکھتے ہیں۔
پرویزمشرف نے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی ،افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کردیا۔ عدالت نے سزا سنائی تھی توISPRنے فیصلے پر افواج پاکستان کو ایک فیملی قرار دیتے ہوئے غم وغصے کا اظہار کیا۔ کیا ریاست یہ ہوتی ہے کہ فوج اور عدالت جو کرے ٹھیک ہے، سب کچھ برداشت کیا جائے؟۔ ایسی ریاست پر آسمان و زمین والے دونوں صبح وشام لعنت بھیجتے ہیں جو عوام کو اپنا مالک سمجھنے کے بجائے اپنا غلام سمجھے۔ ریاستی کسٹڈی میں ریپ برداشت ؟۔ اپنے خلاف گیدڑ بھبکی پر معذرت قبول نہ ہو؟۔ ریٹارئرڈ غیرسیاسی جج اقبال کی بہو کا دروازہ رات کی تاریکی میں توڑ کر ہراساں ہو تو ٹھیک اور مجرم فیملی کی فرد مریم نواز کے ہوٹل کا دروازہ توڑنے پر سندھ پولیس فوج کو جھکنے پر مجبور کرے؟۔ عمران خان مرغا بنتا تو بھی اس سے زیادہ معذرت نہ ہوتی جو اس نے عدالت میںرویہ اختیار کیا۔ اچھا تھا کہ غیرمشروط معافی مانگ لیتا۔ علی وزیر کو رہائی بہت مبارک ہو۔ اسکے وکیل نے پشتو کی تقریر کا غیرپشتون کی مدد سے غلط ترجمہ کرنے کی بات کرکے بہت اچھا پینترا بدل دیا ہے لیکن ایسی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جس پر بندہ کھڑا رہنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔
افغانستان میںامریکہ جیسا حشر کرنے کی دھمکی پر دُم دبائی جائے۔ تگڑے آرمی چیف کی بات پر ناراضگی ظاہر کی جائے؟۔ جوISIاور آرمی چیف کا نام لیکر تمام خرابیوں کی جڑ کہے تو ٹھیک ؟۔ عمران خان نے کہا کہ نیب کا مجرموں کو پکڑنے اور چھوڑنے کا سلسلہ تھا تو مجھے پتہ نہ تھا کہ یہ مال بنانے کا ذریعہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے نیب سوالنامے پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پر شدید الزامات لگاکر دیگر جرنیلوں اور عمران خان کے کیسوں کا جواب مانگا اور کہا کہ نیشنل احتساب بیورو کی جگہ سیاسی یا اپوزیشن احتساب بیورو نام رکھاجائے۔
لمبی فہرست ہے جس میں تضادات، نالائقی، مفاد پرستی اور انتہائی گھناؤنے صفات ، کرتوت اور نظام کی ناکامی کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ میڈیا کا سب سے زیادہ گھناؤناکردار ہے جو ابلیس بن کر تماشۂ حیات اچھے اچھوں کی نظروں سے چھپا دیتا ہے۔ لائق اور نالائق صحافیوں کی اکثریت جس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کررہی ہے لگتا ہے کہ قیامت سے پہلے قیامت آجائے گی لیکن کچھ اچھے صحافی بھی ہیں جن کی زبان میں معیاری صحافت ہے دلالی کا ڈھول نہیں بج رہاہے۔
پاکستان میں سندھی، پختون، بلوچ، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، گلگت و بلتی، کوہستانی،ہزارہ اورمہاجر کے علاوہ ایک ایک قوم میں بھی انواع واقسام کے قبائل ہیں۔ جیسے افغانستان میں پختون، ہزارہ، تاجک اور ازبک ہیں ۔ حال ہی میں جب پاکستانی نے افغانی کرکٹ ٹیم کو ہرایا تو کوئٹہ کے پختون افغانیوں پر ہوٹنگ کررہے تھے جس پر ہمارے کوئٹہ کے ساتھی عبدالعزیز نے ان کو روکا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ گھر، محلہ ، علاقہ ، ضلع ، صوبہ اور ملک ٹھیک نہیں کرتے، بین الاقوامی حالات پر لگے رہتے ہیں۔ جب ہمارا معاملہ درست ہوگا توبین الاقوامی اور خطے کے حالات بھی ٹھیک ہونگے۔ اسلام نے عورت کے حقوق سے انسانیت کے تمام حالات ایسے درست کرنے کی بنیاد ڈالی ہے کہ ابلیس بھی اسی سے ڈرتا ہے۔ علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں سب مشیروں کے بعد ابلیس کا لکھ دیا:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفریں
پاکستان دنیا میں واحد ایسا ملک ہے کہ جہاں عورت کیساتھ بہت زیادہ بڑی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ ان کے حقوق پامال ہیں۔ عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ معاشرے میں انکو حقوق میسر نہیں۔ علماء ومفتیان نے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔چوکیدار ، بدمعاش ، بااثرطبقات سبھی کی طرف سے ان پر مظالم ہوتے ہیں اور سکول، کالج، بسوں، راستوں، سڑکوں، بازاروں، گلی کوچوں، گاؤں دیہات اور شہروں میں ، دفاتر میں اور گھروں میں ان کے ساتھ ہرقسم کے مظالم ہیں لیکن پاکستانی قوم پھر بھی عورت کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ سندھی، پنجابی اور پشتون ،بلوچ کے علاوہ ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجروں کے کلچر میں بھی یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور عورت کی ناموس پر لوگ جان تک قربان کرتے ہیں۔
بہت لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ طلاق اور حلالہ کے علاوہ کوئی دوسرا موضوع نہیں ملتا؟۔ یہ دیکھ دیکھ آنکھیں جام ہوگئی ہیں اور سن سن کر کان پک گئے ہیں اور ان کی اس بات میں بڑا وزن بھی ہے لیکن جن خواتین، خاندانوں اور علماء حق کو اس حساس معاملے کا سامنا ہوتا ہے اور پھر وہ بیباک ہوکر اس لعنت سے چھوٹ جاتے ہیں تو عزت بچانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات سے اور احادیث صحیحہ سے اور فقہ حنفی کے دلائل سے جس طرح آج لوگوں کی عزتیں لُٹنے سے بچ رہی ہیں وہ بہت بڑا سرمایہ اسلئے ہیں کہ بنام اسلام جن کی عزتیں نیلام ہورہی تھیں،آج بنام اسلام ان کی عزتوں کو تحفظ مل رہاہے۔ اگر دنیا میں ہمارے چند ساتھی کوئی دوسرا کام نہ بھی کرسکیں تو یہ بھی بہت ہے۔
حنفی مسلک کی بنیاد کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ابن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع نے کہاتھا کہ ” حنفی مسلک میں85فیصد مسائل امام ابوحنیفہ کے خلاف اور15فیصد انکے مطابق ہیں”۔ یہ بھی علماء کرام ، مفتیان عظام اور عوام قابل احترام کی اکثریت کو پتہ نہیں کہ امام مالک اورامام شافعیکی طرح احناف کے نزدیک امام ابوحنیفہ کے شاگرد بھی اپنی اپنی جگہ مستقل امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اصول میں اختلاف کی وجہ سے اصحابِ تخریج ایک دوسرے سے متضاد مسائل نکالتے ہیں۔ فقہاء کے7طبقے ہیں۔حنفی فقہاء کا ایک طبقہ اصحاب تخریج ہے جن کا کام اماموں کے اصولوں سے مسائل نکالنا ہے۔ مثلاً ”نورالانوار” میں حرف” ف” تعقیب بلامہلت کے عنوان سے لکھاہے کہ ” اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے توجملے میں فاء کے حرف کے استعمال سے کس امام کے نزدیک کون کونسی طلاق واقع ہوگی؟۔ اور پھر اصولوں کے اعتبار سے مختلف مسالک لکھے ہیں۔ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف کے اپنے اپنے اصولوں کے مطابق کیا مسائل بن جائیںگے؟۔ کسی کے نزدیک پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور کسی کے نزدیک دوسری ہوگی پہلی اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور عجیب و غریب قسم کے لایعنی بکواسات ہیں جو پڑھائے جارہے ہیں ۔ ایک ہی کتاب بیس بیس سالوں تک پڑھانے کے باوجود اساتذہ کو خود بھی سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ کیا پڑھ اور پڑھارہے ہیں؟۔مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ” اگر کسی عقل والے کی نظر ان پر پڑگئی تو اصول فقہ کی کتابیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور سب کم عقلی اور بے اصولی کے راز فاش ہوجائیں گے”۔
سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ” جو15فیصد فقہ حنفی کے مسائل امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہیں وہ بھی دوسروں نے نکال کر ان کی طرف منسوب کئے ہیں”۔ علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی مکتب اور فقہ حنفی کی معتبر شخصیت تھے ۔ کئی بڑی جلدوں پر مشتمل شرح صحیح مسلم اور شرح صحیح بخاری لکھی اور کئی جلدوں میں قرآن کی تفسیر ”تبیان القرآن” بھی لکھ دی ۔جب وہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع پر تنقید کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ مفتی محمد شفیع فقہ حنفی سے بالکل نابلد تھے۔ لیکن علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ ” اگر سورۂ بقرہ کی آیت230میں ف تعقیب بلامہلت کی بات نہ ہوتی تو پھر شریعت میں اکٹھی تین طلاق کا جواز نہ ہوتا”۔ حالانکہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں دومرتبہ طلاق سے اس طلاق کو جدا کرکے فدیہ سے تعقیب بلامہلت کی وجہ سے جوڑ ا ہے۔ حدیث، تفسیر اور فقہ کے مسائل کا بیڑہ غرق کیا گیا ۔ اتنے متضاد مسائل ومعاملات بنائے گئے کہ تفسیر، حدیث اور فقہ کی شرح بھی آپس میں کوئی جوڑ نہیں رکھتے ۔ علماء کے فکری انتشار کی وجہ سے ڈاکٹر اسرار احمدMBBS، جاوید احمد غامدی، سابق کلین شیو صحافی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور انجینئر محمد علی مرزا جاہلوں پر راج کررہے ہیں۔
علماء کی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں حنفی دیوبندی بریلوی علماء شامل ہوں، میری خدمات حاضر ہیں۔ کچھ عرصہ میں جامع نصاب سے انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ میں نے اطلاع دیکر محمد علی مرزا علمی کتابی کی مجلس میں شرکت کی تھی۔اس نے ساتھ تصویر کھینچوانے کیلئے آواز لگائی جس کی میں نے ضرورت نہ سمجھی ، شاید اس وجہ سے اس کی آنکھوں میں ذرا بھینگا پن آیا۔ میرے سوال کا جواب نہ دیا اور سوالات نہیں کرنے دئیے۔ مجھے ان سے مسئلہ نہیں، جس طرح بھی عوام میں دین کا شعور بڑھ جائے تو میں اس رحجان کے حق میں ہوں لیکن دین کو اجنبیت سے نکالنا ہوگا۔ جب علماء واضح نقشہ پیش کریںتو معاشرے میں اس پر عمل کی رغبت پیدا ہوگی اور پھراسکا راستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ جب گھروں اور معاشرے میں دین کا معاملہ مضبوط ہوگا تو اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔پھر منبر ومحراب کا بھی عوام میں بہت مؤثر کردار ہوگا۔
ایک طرف شیعہ صحابہ کرام کی ایسی گھناؤنی تصویر پیش کرتے ہیں کہ علی ، حسن ،امام حسین اور زین العابدین کے کردار پر بھی سوالات اُٹھ جاتے ہیں اور دوسری طرف اہل بیت کی مخالفت پر کمربستہ ایسے لوگ ہیں کہ عربی سوشل میڈیا پر ایک ویلاگ دیکھا جس میں علیکو ایک فرضی اور افسانوی کردار قراردیا گیا ہے۔
قرآن میں اللہ اور اسکے رسول ۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ۖ اولی الامر تھے تو بھی خواتین سے لیکر بڑے صحابہ ، ذوالخویصرہ سے لیکر رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی اور نبوت کے دعویدار دجال ابن صاید تک سب کیلئے نبیۖ سے اختلاف کا دروازہ کھلا تھا۔ پاکستان کی دھرتی میں ریاست مدینہ کی یاد تازہ ہوسکتی ہے اسلئے کہ پاکستان میں اگرچہ جمہوریت نہیں لیکن جمہوری روح عوام وخواص ، سرکاری سطح پر اور مذہبی حوالوں سے یہاں موجود ہے۔جس کا ہم نے بالکل فائدہ نہیں اٹھایا ۔ کسی بھی مذہبی وسیاسی جماعت کے پاس اپنا پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں لیکن دوسروں کی مخالفت پر کمربستہ رہنے کی کوشش میں اپنی زندگی کا مقصدسمجھتے ہیں۔ شیعہ ایک حسین کو چھوڑ کر باقی ائمہ اہل بیت کو ایسا پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے لوگ ان ائمہ سے کہیں بہتر ہیں؟۔ معذور ومجبور اور انتہائی بے بس، مظلومیت کی تصویر اور بالکل ہی معاشرے میں بے توقیر؟۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن شیعان علی نے اپنی صلاحیتین ائمہ اہل بیت کی رفعت وعظمت کی جگہ صحابہ کرام کی مخالفت اور دشمنی پر مرکوز کردی ہیں اور دشمنی بھی ایسی کہ خود ائمہ اہل بیت کے فضائل ومناقب پر بھی ایمان نہیں رہتا ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کی ایک ویڈیو سن کر بڑا مزہ آیا۔ امام حسن نے اپنی وفات سے قبل وصیت کی کہ اگر اماں عائشہ اجازت دیں تو مجھے روضہ رسول میں دفن کردیں اور اگر کوئی رکاوٹ کھڑی کرے تو جھگڑا نہ کریں ،جنت البقیع میں دفن کردیں۔ حضرت عائشہ نے اجازت دی اور جب مروان بن حکم نے رکاوٹ ڈالی تو جھگڑا نہ ہونے دیا۔ یہ وفات سے پہلے بصیرت کا فیصلہ تھا۔ مروان بن حکم کو پتہ تھا کہ اگر امام حسن کی تدفین روضہ رسول میں ہوئی تو بنوامیہ کے مقابلے میں اہلبیت مضبوط ہونگے۔ پروفیسر احمد رفیق اخترصاحب اپنے اعتدال کی وجہ سے بڑارتبہ اور مقام رکھتے ہیں۔
اصحاب شرع و طریقت زیغ وضلالت سے ہٹ کر کردار ادا کریں۔ صوفی یہ نہیں کہ سرمایہ دار مریدمل گئے تو مسلک کی وکالت شروع کی، یہ ایمان نہیں پیسہ بولتا ہے۔ اگر تمام قومیتوں و مسالک کو شعور و کردار کا درس ملا تو شعور کے نور سے ظلمت کا اندھیرا ختم ہوگا۔زمین کا اصل سورج اور آدمی کا اصل نور ہے اور سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کانور پیدا کیا۔سورۂ تین میں ہے کہ احسن تقویم سے انسان کی تخلیق ہوئی پھراسفل السافلین کی مٹی ہوا مگرایمان وعمل صالح والے!۔
انسان ماں باپ کے سفلی جذبات اور نطفۂ امشاج سے پیدا ہواہے تو اپنی شخصیت کیلئے ایمان اور عمل صالح کے علاوہ علوالمرتبت کا کوئی راستہ نہیں دیکھتا ۔ نجات اسی میںہے۔ تواضع کیلئے اپنی تخلیق کی یاد دہانی بہت زیادہ کافی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سب سے پہلے ہمارے بڑے محمود خان اچکزئی ،یہاں بیٹھے دوسرے بڑے ، ہمارے بھائی اور ہماری بہنیں جو بیٹھی ہیں۔ سب کو السلام علیکم کہتی ہوں۔ میں آج اپنے بڑوں اور بھائیوں کے سامنے کھڑی ہوں تو مجھے بہت فخر محسوس ہورہا ہے۔ بہت خوش ہوں کہ ہمارے پختون بھائی سب جرگہ میں شامل ہیں اور اپنی رائے پیش کررہے ہیں۔ اپنے بڑوں اور بھائیوں کی تقاریر سن رہی تھی تو میں معذرت کیساتھ ہم ان لوگوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو اچھی تقریر کرسکتا ہو، بلند آواز کیساتھ جذباتی باتیں کرسکتا ہو ، اس طرح کہ اسٹیج ہلے۔ ہم اس کو بہت زیادہ داد دیتے ہیں۔ ابھی تک جو ہم برباد ہوئے اور پسماندہ رہ گئے،ان تقاریر اور جذباتی باتوں سے ہم برباد ہوئے ۔ اگر چھوٹے بچے کو یہاں کھڑا کردو تو وہ بڑی اچھی اچھی باتیں کرلے گا مشکلات کو بھی بہت اچھے اندار میں بیان کریگا۔ ہماری مشکلات کا دنیا اور ہر ایک کو پتہ ہے لیکن عملی اقدامات نہیں۔ ہمارے جو بڑے اور بھائی بیٹھے ہیں اگر ان میں آدھے بھی گراؤنڈ پر صحیح کام کرلیں تو بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔ یہاں ہمارے علماء بیٹھے ہونگے آج میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ قبائلی علاقے کے لوگ دنیاوی تعلیم زیادہ پسند نہیں کرتے وہ دینی تعلیم پسند کرتے ہیں۔ ہمارے بچے زیادہ تر دینی مدارس میں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہم امریکہ کو فتح کرینگے بڑی باتیں کرینگے مگر ہماری بہنیں جدید تعلیم سے بھی محروم ہونگی اور ٹیکنالوجی سے بھی محروم ہونگی ۔وہ دنیا کیساتھ چل نہیں سکیں گی۔ جب تک ہم اپنی فکر تبدیل نہ کرلیں اور حقیقت تسلیم نہ کرلیں کہ ہمیں صرف باتیں نہیں کرنی چاہیے ، باتیں بہت کرلیں اور باتیں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ہمیں عملی اقدامات چاہئیں۔ زنانہ کے حوالے سے بات کروں گی۔یہاں اگر ہم دیکھ لیں تو کس تعداد میں ہمارے بڑے اور بھائی موجود ہیں اور کتنی تعداد میں خواتین ہیں؟۔6،7افراد ہیں۔ اس سے بھی اندازہ لگتا ہے کہ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کتنا محروم رکھا ہے۔ ہم نے ان کو حقوق نہیں دئیے ۔ یہاں پر ایسے بڑے بیٹھے ہیں جن کو میں جانتی ہوں جن کے گھر میں ان کی بیٹیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کی اتنی ہمت نہیں کہ گھر کے پاس نزدیک لڑکیوں کا سکول فعال بنادے، ہم اس پر کبھی نہیں سوچتے۔ ہمارے ہاں بڑوں میں علماء بہت زیادہ ہیں مفتی بہت زیادہ ہیں اور ایسے لوگ بھی بہت زیادہ ہیں جو عبادات میں بہت آگے ہیں ۔ لیکن اگر انکے معاملات کی طرف دیکھیں تو ہم بہت پیچھے رہ گئے ۔ ہم بیٹیوں ، بہنوں کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اسلام نے دئیے ۔ اس میں تعلیم شامل ہے۔ اسلام نے کہا ہے کہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دو۔ جائیداد کا حق ہم قبائلی علاقے میں بہنوں اور بیٹیوں کو نہیں دیتے ۔ جب اس پر کوئی بات کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری روایات نہیں۔ رسم و رواج میں یہ بات نہیں، کس پختون نے بیٹیوں اور بہنوں کو حق دیا ہے؟۔ افسوس ہے کہ مفاد کی بات آتی ہے تو پھر ہم اسلام کو آگے لاتے ہیں۔ جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر اپنی بہن بیٹی کو حق دیا تو یہ ہمیں نقصان ہے کیونکہ وہ بہن بیٹی کسی اور گھر میں جارہی ہے۔ اگرچہ وہ نقصان نہیں لیکن اپنے مفاد کیلئے ہم رسم و رواج کو پیش کرتے ہیں۔ بڑا افسوس ہے کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں اور جہاں گراؤنڈ پر دیکھتی ہوں تو عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ یہ جو جذباتی تقریریں ہیں یہ جو داد ہم وصول کرتے ہیں جس پر واہ واہ لوگ کررہے ہوتے ہیں لیکن جب اس شخص کے عمل کو دیکھیں تو اس میں وہ خود کو شمار نہیں کرے گا۔ ہم کس سے گلہ کریں گے؟۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں اردو میں کہتے ہیں کہ ایک بار آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی ہے۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کون ہمارے ساتھ کررہا ہے اور کس طریقے سے کررہا ہے۔ ہم پھر بھی ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے ترقیاتی کام کریں گے؟ وہ ہمیں حقوق دیں گے؟۔ ہم کبھی بھی اس طرح گلے شکوے سے اپنی پسماندگیوں کو ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے حالات خود نہیں بدلیں اور اپنے آپ کو نہ پہچان لیں۔ پہلے خود کو پہچانو کہ ہم میں کونسی ایسی خصوصیات ہیں کس طرح سے ہم اپنے لوگوں کو اپنے علاقے کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟۔ ہم اس پر کام کریں۔ ہم تعلیم پر کام کریں کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دیں۔ میں نے بہت دیکھا کہ قبائلی علاقے میں جب کوئی اِکا دُکا کیس ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ موبائل کا نتیجہ ہے جب موبائل بیٹیوں اور بہنوں کو دیا تو یہ ہوگا۔ ہم ٹیکنالوجی کو الزام دیتے ہیں۔ جب سیاحت کی بات ہوتی ہے کہ باہر سے لوگ آئیں گے جو وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں کی خوبصورتی دیکھیں تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیں نہیں چاہئیں۔ اسلئے کہ خوف ہے کہ اگر یہ آگئے تو ہماری خواتین راستے سے ہٹ جائیں گی۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اپنی خواتین کو تعلیم اور تعلیم کیساتھ ان کو ایک پختہ فکر دیں، پختہ فکر اچھی تربیت سے ملے گی۔ وہ خالی گھر کے کاموں تک محدود نہ ہوں بلکہ ایک ایسی سوچ دی گئی ہو کہ وہ جس طرح کے حالات بھی ہوں تو اس پر اثر انداز نہ ہوں۔ کب تک ڈریں کہ وہ آگئے اور ہماری خواتین کو راستے سے ہٹادیا۔ ہم ٹیکنالوجی پر الزام لگاتے ہیں۔ چیخ کر چھلانگیں لگائیں گے کہ انٹر نیٹ نہیں چاہئے اسلئے کہ اس کی وجہ سے ہماری عورتیں یا کوئی اور ایسا کام ہوگا جس کی وجہ سے بدنامی ہوگی۔ یہ موبائل یہ انٹرنیٹ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جیسے استعمال کرنا چاہیں اگر ہماری سوچ مثبت ہو تو نیٹ سے ہم علاقے کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ہم اچھے نہ ہوں اور ہماری سوچ اچھی نہ ہو تو پھر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ مجھے موقع ملا ہے کہ اپیل کروں کہ تم اپنی بہنوں ، بیٹیوں پر اعتماد کرلو۔ ان کو تعلیم دو ان کیساتھ کھڑے ہوجاؤ یہی بہنیں بیٹیاں تمہاری طاقت بنیں گی۔ ہمیں شرم آتی ہے کہ اپنی بہنوں ،بیٹیوں کیساتھ جائیں کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ اس کی بیوی یہ بیٹی ہے کہ لوگ کیا باتیں کریں گے۔ اسی نے ہمیں پسماندہ رکھا ہواہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟۔ یہاں بیٹھے لوگ ایک بھی گراؤنڈ پر کام کرے تو وہ تبدیلی لاسکتا ہے۔ میں اس حق میں نہیںکہ ہم شور کریں، چلائیں اور گلے کریں۔ ہمیں شعور چاہئے۔ ہمارے پاس ڈگری والے بہت ہیں لیکن ہمیں نہیں چاہئیں۔ ہمیں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ چاہئیں۔ قبائلی علاقوں کے بڑے جن کا تعلق حکومت سے ہو جنکے پاس پاور ہو۔ ان سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے اسکولوں کو عورتوں اور بچیوں کیلئے فعال کریں ۔ اگر ہسپتالوں کو دیکھیں تو ہم جنگوں میں اتنے نہیں مرے، جتنے غیر فعال ہسپتالوں کی وجہ سے خواتین وبچے فوت ہوتے ہیں، ہمیں عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ علماء سے خاص درخواست ہے کہ دینی مدارس میں بچیوں کودینی تعلیم کیساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو۔ جدید ٹیکنالوجی سکھاؤ تاکہ ہر پہلو میں مکمل تربیت یافتہ ہوں۔ بیت الاسلام تلہ گنگ مدرسہ میں دینی تعلیم کیساتھ جدیدتعلیم اور ٹیکنالوجی پر کام ہوتا ہے ،ایسے مدرسہ سے بچیاں فارغ ہوں تو وہ ہماری طاقت ہونگی۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور بہنوں کوتعلیم دینی ہوگی۔ ہمیں ان کی طاقت بننا چاہیے اور ان کا سہارا بننا چاہیے۔ پھر وہ طاقتور مائیں بنیں گی اور طاقتور قوت بنیں گی اگر تمہاری سپورٹ ہو اور محبت ہو اور تمہاری ہر طرح سے ان پر نظر ہو اور ان کو ایک پختہ سوچ دو اور اچھی تربیت کرو ۔ میں بہت شکریہ ادا کرتی ہوں میں زیادہ وقت بھی نہیں لیتی بس یہ میری ایک سوچ تھی اور میں نے سمجھا کہ تمہارے ساتھ شیئر کروں اور میں اُمید رکھتی ہوں کہ یہ جو ہمارے بڑے ہیں اور جو ہمارے بھائی ہیں تو وہ ہماری بہنوں کیلئے کچھ سوچیں گے اور ان کیلئے کچھ راستہ ہموار کریں گے۔ بہت بہت شکریہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

عمار :یہاں جو ہیرو بنائے جاتے ہیں ۔سعدیہ بلوچ : چھوٹا سا ہی آنسر دونگی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
منظور پشتین :ہمارے وطن پر خود کو طاقتور سمجھنے والے آئے لیکن آج وہ نہیں ہیں اور ہم ہیں۔ چنگیز سے انگریز تک اور فرنگ سے اورنگ تک سب واپس گئے۔

پروگرام کا تعارف صحافی منیزے جہانگیر: ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے ان لوگوں کو لیکر آئیں جن کی آواز آپ نے مین اسٹریم میڈیا پر کبھی نہیں سنی۔ عمار جان آپ کا بہت بہت شکریہ اور اپنا پروگرام اب شروع کریں۔ عمار جان نے کہا کہ اس وقت یوتھ کا سوال صرف ایج سے نہیں جڑا ہے بلکہ وہ اس سے بھی جڑا ہے کہ کیا مستقبل ہے برصغیر کا؟ اور اوور آل ساؤتھ ایشیاء کا؟۔ کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ انکے جو آج سے15،20سال پہلے بہت سارے خواب تھے ۔نوجوان کیا سوچ رہے ہیں، ایک لہر ہے جو ہراول دستہ ہے وہ چاہے آپ سری لنکا میں چلے جائیں ، چاہے آپ نیپال میں چلے جائیں یا آپ ہمارے یہاں فاٹا میں چلے جائیں، بلوچستان میں چلے جائیں تو وہ نوجوان ہی ہیں جو اس وقت مزاحمت کررہے ہیں۔ میں پہلے سعدیہ بلوچ کو دعوت دوں گا جو کہ ایکٹی وسٹ ہیں اور خاص طور پر مسنگ پرسنز کے حوالے سے انکا بہت کام ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹ رائٹس کے حوالے سے۔ یہاں پر لاہور میں صحیح طرح پتہ نہیں چلتا یہاں پر بجلی کا مسئلہ یا مہنگائی کا مسئلہ ہوتا ہے ، بلوچ خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو سیاست میں ایکٹو ہیں ۔
سعدیہ بلوچ: میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور مسنگ پرسن کیلئے کام کرتی ہوں۔ مسنگ پرسن میں90فیصد سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان اور طالب علم ہیں جو ٹارچر سیلوںمیں ہیں ، زندانوں میں ہیں اور غائب ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے پاس ڈگریاں ہوتیں تو ہمیں استحکام ملتا۔لیکن جونہی ہمیں ڈگریاں ملتی ہیں تو ہماری مائیں فکر مند ہوتی ہیں کہ میرے بیٹے کو کہیں لاپتہ نہ کردیں یا اسکی لاش نہ گرادیں۔ ہمارے یہاں یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اب میں بلوچ خواتین کی بات کرتی ہوں جو اس وقت سیاسی طور پر ایکٹو ہیں۔ میں ابھی50دنوں کے دھرنے سے اُٹھ کر آئی ہوں ، فلڈ کی وجہ سے بھی ہمارے لئے مشکلات ہیں۔ بلوچ عورتیں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ اسٹیٹ کا ٹارچر برداشت کرتی ہیں ، دھمکیاں اور خوف و ہراس بھی۔ اگر آج میرا بھائی لاپتہ ہے تو اس کو بچانے کیلئے میں نہیں آؤں گی تو کون آئیگا۔ اگر سمی نکلتی ہے تو پیچھے سیما آئیگی اور سب کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیںکہ اگر ایک جدوجہد ہورہی ہے تو سب کا حصہ ہوتا ہے ۔
عمار جان: آپکا شکریہ ۔ آپ لوگوں کو آئیڈیا ہوگیا ہوگا کہ کس قسم کے مسائل کا یہ لوگ سامنا کررہے ہیں۔ جبری گمشدگی کی تحریک کی خاصیت یہی ہے کہ اس میں خواتین لیڈنگ رول ادا کررہی ہیں۔ چاہے وہ آمنہ جنجوعہ پنجاب میں ہوں یا بلوچستان میں سعدیہ، سمی اور ماہ رنگ ہیں۔ اس طرح بہت ساری خواتین ہیں۔ پھر منظور کو دعوت دی اور کہا کہ امید ہے کہ آپ منظور احمد پشتین کو جانتے ہوں گے اور اگر نہیں جانتے تو پھرARYنیوز پر کافی ساری معلومات ان کے متعلق مل جائیں گی۔ قہقہہ۔جب منظور احمد نے تحریک شروع کی2018میں تو اس وقت ملک میں قبرستان جیسی خاموشی تھی۔ اور اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں پر شہری آزادی پر بات کرنا مشکل ہوجائے گا اور ان کا نام لینا مشکل ہوجائیگا جو ہمارے اصل حکمران ہیں۔ اس تحریک نے نہ صرف اس ادارے کو بے نقاب کیا جو75سال سے حکمرانی کررہا ہے اور ایک طرح سے ہم پر انہوں نے ذلت نافذ کی ہوئی ہے اس کیخلاف یہ بغاوت تھی ۔ لاہورمیں بھی جلسے ہوئے، کراچی میں بھی ہوئے اور جہاں جہاں منظور گئے ہزاروں لوگوں نے انکا استقبال کیا۔ آپ سے سوال ہے کہ نوجوانوں کا اس تحریک میں کیا کردار تھا سوشل میڈیا کا کیا کردار تھاBOLاورARYآپ کو کوریج دیتے تھے اسکے علاوہ کوئی نہیں دیتے تھے۔ اور وہ کس قسم کی دیتے تھے آپ کو معلوم ہے۔ اور علی وزیر کے بارے میں بھی کچھ بات کریں جو اس وقت جیل میں ہیں۔
منظور پشتین: میں یوتھ کی بات کروں گا ،یوتھ کا مطلب میل اور فی میل دونوں۔ فی میل پر تو پہلے ہی روایات اور دوسرے ناموں سے ایک قسم کی پابندی ہے اور جرنل سیاست کی بات کروں گا،اس پر بھی پابندی ہے۔ ریاست نے ایک فریم بنایا ہے اسکے اندر اگر کوئی سیاست کرنا چاہے تو ایک حد تک اجازت ہے کہ یہاں تک جاسکتے ہیں اور یہاں تک نہیں جاسکتے۔ ایک آئین ہے اور باقی انکے اپنے ریڈ لائنز ہیں۔آئین کی بات تو نہیں، بات ہے اصل میںانکے ریڈ لائنز کی۔اس ریڈ لائن کے اندر فریم بنادیا گیا۔ اس ریڈ لائن سے باہر اگر کسی نے بھی سیاست کرنا چاہا تو پھر تشدد ہے، مسنگ پرنسز ہے اور لاپتہ کردیا جاتا ہے یا اسکو مار دیا جاتاہے۔ میں کس کی مثال دوں؟، آپ کی مثال دوں گا کہ جبPTMنے بالکل آئینی حقوق مانگے آپ نے ساتھ دیاتو آپکے اوپر چھاپے اورFIRکاٹی گئی آپ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ نہ آپ نے کسی کو تھپڑ مارا تھا اور نہ کوئی غیر قانونی کام کیا تھا۔ انسانی حقوق مانگے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ ایک قوم کے اوپر سیاست ہوتی ہے اور ایک قوم کیلئے سیاست ہوتی ہے۔ قوم کے مفادات اور انکی زندگی کیلئے سیاست کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ یہاں پر اسٹوڈنٹس ہونگے ان کو پتہ ہے کہ جو قوانین بنتے ہیں اور برٹش دور میں جو قوانین بنائے گئے تھے وہ اپنی کالونیاں بنانے کیلئے انہوں نے بنائے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو سیاسی آزادی تو یہ بلاسٹ ہوجائیں گے۔ آپ نے بات کی کہ وہی علاقے جن کی آواز ممنوع ہے وہاں پر تویہ بہت مشکل ہے ۔پہلے تو تعلیم نہیں، سیاست کو سمجھنے کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے۔ پھر نہ کالج ہیں نہ یونیورسٹیاں ہیں، تعلیم نہیں ہے تو ایک جو دوکاندار ہے ، جو ریڑھی والا ہے ، ایک نوجوان ہے وہ اس کو اس سیاست اور اپنے لیول میں بہت فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری تعلیم نہیں میں سیاست کو کیا کروں گا۔ جب میں نے تحریک شروع کی تو میری عمر23سال تھی۔ آج میری27سال ہے شناختی کارڈ بلاک ہے، پاسپورٹ بلاکFIRبہت سارے۔ECLمیں نام ہے۔اور ایک سم کارڈ رہ گیا تھا وہ بھی چند مہینے پہلے بند ہوگیا۔ یہ یہاں پر سیاست میں حصہ لینے کے ثمرات ملتے ہیں۔ آپ نے یہاں ”ساؤتھ ایشیاء میں پارٹی سپیشن ”کے موضوع پر بات رکھی ، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ میرے بلوچستان جانے پر پابندی ہے، کشمیر جانے پر پابندی ہے۔گلگت بلتستان پر پابندی ہے۔ آپ لوگوں نے نوٹیفکیشن دیکھیں ہوں گے سوشل میڈیا پر۔ بونیر سے لیکر کرم ضلع تک پابندی ہے۔ یہ جو آپ لوگ ساؤتھ ایشیاء کی بات کررہے ہیں اس میں کسی بھی ملک کا نام بھی لیا تو آپ غدار ہیں۔ نہیں لیا تو بھی آپ کواسکے ساتھ جوڑ کر غدار بنادیں گے۔ اتنی مشکل سچویشن میں جو آپ نے عنوان رکھا اس کا نام لینا بھی جرم ہے۔ یہاں تو بلوچ کا نام نہیں لے سکتے ، اگر پاکستان کے اندر کے کشمیر میں یوتھ سے آپ نے بات کی تو آپ کو انداز ہ لگ جائیگا۔میرا مطلب سیاست سے اگر آپ اس سے ہٹ کر بات کررہے ہو تو وہ غداری ہے وہ ایک ایسی ناروا حرکت ہے جس کا معاشرے میں کوئی تصور نہ کرے۔ اور پھر ایسی سزائیں دی جاتی ہیں کہ لوگوں کیلئے مثال بن جائے۔ مجھے یقین ہے کہ لاہور میں کافی نوجوان ہونگے جوPTMکو چاہتے ہونگے مگرPTMکیساتھ اپنے کو ایفی لیٹ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اس کیلئے مثال بنادی گئی عمار علی جان کی طرح نوکری چلی جائے گی اورFIRہونگے وغیرہ وغیرہ۔ بیروزگاری میں رکھ کر بے تعلیم معاشرہ رکھ کر تشدد کے ذریعے یہ جو نظام چلایا جارہا ہے اس میں اگر کوئی عوام کیلئے حقیقی سیاست کرنا چاہے جو صرف سیٹ جیتنے کی بات نہیں کررہے بلکہ عوام کو کچھ دینے کی کوشش کررہے ہیںتو ان میں کافی مشکلات ہوتی ہیں لوگ مسنگ پرسن بن جاتے ہیں۔ سعدیہ بلوچ بیٹھی ہیں۔ کافی سارے بلوچ ایکٹیوسٹ ڈاکٹر ہیں ابھی وہ کیا کرے کونسے پیشنٹ کی بات کرے معاشرہ ابھی ایک مریض بن چکا ہے اور پورے معاشرے کی بات کرنا انتہائی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
عمار علی جان: ہندوستان پنجاب میں کسانوں کی بڑی مشہور تحریک نے دلی جاکر دھرنا دیا۔ نئی بڑی عام آدمی پارٹی وجود میں آئی۔ چیف منسٹر کا جو کینڈیڈیٹ تھا اسکے خلاف صفائی کرنیوالے کا بیٹا موبائل شاپ پر کام کرتا تھا چند ہزار روپے لگا کر الیکشن جیت گیا۔ یہ بڑی کامیابی تھی۔ سعدیہ بلوچ یہ بتائیں کہ بلوچستان میں سیلاب سے کیا تباہی آئی ہے؟ اور کل پرائم منسٹر گئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم مسنگ پرسن پر کوئی کاروائی کریں گے۔ اس سے کیا آپ کو کوئی امید ملی ہے اور بلوچ موومنٹ کے کیا تاثرات ہیں؟۔
سعدیہ بلوچ: ماضی میں بھی بہت سارے پرائم منسٹر اور کمیٹیاں ہمارے پاس آئی ہیں ، کمیشن بنے ہیں ، ری کنسی لیشن تک بات پہنچی ہے۔ قرآن پر بھی ہاتھ رکھا ہے بہت کچھ ہوا ہے لیکن جب بلوچ کی بات ہوتی ہے تو جو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے وہ چاہتی نہیں کہ مسئلہ حل ہو یا اس پر کام کیا جائے۔ جب تک اُن کی مرضی نہ ہوگی میرا نہیں خیال کہ کوئی پرائم منسٹر ، کمیٹی، جوڈیشل کمیٹی یا کوئی بھی ادارہ کچھ کرسکتا ہے جب بات بلوچ مسنگ پرسن کی ہو۔ بلوچ مسنگ پرسن کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہمیں دکھتا ہے ، مسنگ پرسن کے ٹیک ٹکس کو بلوچ یوتھ میں خوف پھیلانے، ایک ٹریلر دینے کیلئے استعمال کیا گیا۔ جو ٹیک ٹکس اسٹیٹ نے اپنایا وہ اتنی آسانی سے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ بلوچ نوجوان آج سے نہیں سالوں سے سیاست کررہے ہیں،ریڈیکل نیشنلسٹ پالیٹکس بھی کررہے ہیں۔ اسٹیٹ نے ہر پالیسی اپنائی کہ یوتھ کو خوفزدہ کریں۔ میں اس جنریشن سے ہوں جوایک جنریشن کی ماس کلنگ کے بعد آئی ۔ ہمارے رہنما ذاکر بلوچ ، زاہد بلوچ لاپتہ ہیں۔ بہت سارے رہنماؤں کو مارا گیا، لاپتہ کیا گیا۔ ہم شاید اسی لئے بچ گئے کہ تب ہم بچے تھے۔ بڑے ہوئے تو دیکھا کہ ہمارے پاس گراؤنڈ میں کچھ نہیں بچا ۔ ہمارے دانشور ، اسٹوڈنٹس لیڈر ، رہنما سب کی ماس کلنگ ہوئی صرف اسلئے کہ وہ بلوچ قوم کیلئے سیاست و بات کررہے تھے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ ریاست کے اندر ریاست کبھی چاہے گی کہ بلوچ مسنگ پرسن یا بلوچ مسئلے پر بات یا کام ہو، تب تک پرائم منسٹر کچھ نہیں کرسکتے۔ خیر پرائم منسٹر کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم بلوچ ہیں بلوچی نہیں۔ سیلاب پر بات ہوتو بلوچستان میں نقل و حرکت اسلئے زیرو ہوئی کہ برٹش کا انفرااسٹرکچر چلا گیا۔ ہم کنگ کا انتظار کریں کوئن تو چلی گئی ۔ ہر10سال بعد سیلاب آتا ہے یہ نئی بات نہیں لیکن جہاں ریاست ہمیں مار رہی ہے وہاں کلائمیٹ چینج ہمارے لئے اسی طرح خطرناک ہے۔ میرا تعلق جھل مگسی سے ہے، ہیٹ ویو ہر سال بڑھتی ہے۔ نہیں لگتا کہ ریاست کچھ کام کریگی۔ جو ریاست سیدھا روڈ بناتی ہے وہ پانی لیجاتا ہے تو کلائمیٹ چینج پر کیا کام کریگی؟۔ بلوچستان کے گرین بیلٹ جہاں پر سیلاب نے زیادہ متاثر کیا وہاں پر اسٹیٹ کے تعاون سے قبائلی اشرافیہ پیدا کیاگیا، اشرافیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ وہاں کے عام کسان ، عام بلوچ تک کچھ پہنچے۔ قبائلی اشرافیہ اپنا اسٹاک جمع کررہی ہے، پی ڈی ایم اے انہیں دے رہی ہے۔ انکے ویئر ہاؤسز تو ابھی تک بھرگئے، لوگوں تک تو خیر ریلیف نہیں پہنچا مگر سوشل میڈیا کی مدد سے ہم ڈونیشن وصول کررہے ہیںہم رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیںاور اس پر بھی کل گورنمنٹ نے پابندی لگادی ہے کہNOCکے بغیر کوئی بھی رضاکارانہ طور پر کام نہیں کرسکتا۔
عمار علی جان: بالکل ٹھیک بات کی کہ ریاست ایکٹو ہونے کی علامت ملتی ہے وہviolenceکے ذریعے سے لیکن جب لوگوں کے خیال رکھنے کا ٹائم آتا ہے تو کافی عرصے سے ریاست غائب ہے بلکہ آپ کو بتاتے چلیں کہ جولائی میں یہ فلڈ شروع ہوچکے تھے۔ میڈیا ، سوشل میڈیا پر ماسوائے حمزہ شہبازبمقابلہ چوہدری پرویز الٰہی ، شہباز شریف بمقابلہ عمران خان جی ٹی روڈ کی جو سیاست تھی اسکے علاوہ کوئی بات نہ ہوئی۔23اگست کو پہلی دفعہ ایک ٹی وی چینل پرفلڈ کے حوالے سے ہیڈ لائن آتی ہے تب تک ڈھائی کروڑ لوگ متاثر ہوچکے تھے۔ اس لیول کی سنسر شپ ہے میڈیا پر کہ بہت بڑا سیلاب آیا مگر توجہ نہ دی گئی، جی ٹی روڈ کی سیاست ہی چلتی رہی۔ اب میں منظور پشتین کی طرف آؤں گا۔PTMپہلی موومنٹ دیکھی ہے پاکستان میں جس میں کوئی خان ، سردار، وڈیرہ اس کو لیڈ نہیں کررہا۔ آپ کے والد صاحب ایک ٹیچر ہیں۔ اور آپکے ارد گرد کے لوگ بھی کچھ مڈل کلاس، کچھ ورکنگ کلاس سے ہیں۔ اتنی جلدی یوتھ کو آرگنائز کیسے کرلیا۔ ایک تو ہمارے پاسARYکا بیانیہ ہے کہ کوئی سازش چل رہی تھی۔ علی وزیر کیلئے ہم ادھر کیا کرسکتے ہیں اورPTMکو کس طرح سپورٹ کرسکتے ہیں؟۔
منظور پشتین: لوگ تنگ تھے ان کو ایک آواز چاہیے تھی ۔ ایک دن بحث تھیKPKمیں کہ فلانی پارٹی طالبان کو بھتہ دیتی ہے۔ فلانی پارٹی کے لیڈرز کو کال آتی ہیں مگر بھتہ نہیں دیتے۔ موقع نہیں ملا مگر میں یہ بات کرناچاہتا تھا کہ ہمارے کسی لیڈر یا ورکر کو کال نہیں آتی۔ وہ یہ چار آنے ہم پر ضائع نہیں کرنا چاہتے کہ انکے پاس کیا ہے جو ہمیں دیں گے۔ انتہائی غریب طبقہ ہے۔PTMکے پاس وسائل نہیں اگرچہ افرادی قوت انتہائی زیادہ ہے۔ انتہائی قابل، ایم فل، پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ ہیں۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ آواز اٹھائی تو مار دئیے جائیں گے مگر انہوں نے اتنا مارا کہ لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اگر آواز نہ اٹھائی تو مار دیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگ اینٹی اسٹیٹ ہو۔ بھائی کوئی اسٹیٹ کو کنٹرول کرے وہ ہمیں مار رہے ہیں ہم ان کو نہیں مار رہے۔ کس اسٹیٹ کے ہم اینٹی ہیں یہاں تو اسٹیٹ اور نظام نہیں سچ پوچھو تو مکمل غنڈہ گردی ہے۔ آج بات کرو آپ کے پیچھے ویگو ڈالا آئیگا ، قانون حرکت میں آجائیگا ، آئین وغیرہ یہ نہیں بتایا جائیگا۔ یہ غنڈہ گردی ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ کونسا نظام؟ نظام ہے ہی نہیں۔ ابھی تو ہمیں فوج کے علاوہ باقی سارے نان اسٹک ایکٹرز لگتے ہیں۔ جیسا چاہیں وہ ان سے کام لیں۔ علی وزیر پارلیمان کو مان رہا تھا۔ سیاسی پارٹیاں پارلیمان کو نہیں کسی اور کو مان رہی ہیں۔ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ؟ ریاست پارلیمنٹ کو نہیں مان رہی۔ ابھی وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ میں مسنگ پرسنز کو رہا کردوں گا۔ بھائی آپ علی وزیر کے پراڈکشن آرڈر نہیں جاری کرسکتے ہو تو مسنگ پرسنز کو کیسے رہا کرو گے؟۔ اختلاف نہیں مگر یہ حقیقت ہے مخصوص لوگ ہیں ، مخصوص مائنڈ سیٹ ہے۔ وہی برطانیہ کی غلامی، جہاں سے جیسے ہو آج تک ان کو مراعات مل رہی ہیں۔ آج تک وہی خان، وہی سردار، وہی وڈیرے ہیں۔ انکے بچے کوئی جرنیل ہے تو کوئی سیاستدان۔ لیکن ملک کے بڑے وہی ہیں۔ عام عوام کی بات کیا کہیں۔ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ اگر فلانا کرسی سے ہٹ گیا اور فلانا آگیا تو پھر حقوق ملیں گے ۔ سب آگئے سب چلے گئے کچھ نہیں ملا ہمیں تو۔اگر پاکستان کی عدالتوں کے نظام کو اسٹڈی کرنا ہو تو پھر علی وزیر کے کیس کو اسٹڈی کریں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ130نمبر پر عدالتوں کی جو بات ہورہی ہے تو اتنا اچھا گریڈ کیسے ملا ان کو؟۔ وہ تو بیٹھے ہیں کہ کب اشارہ ملنا ہے اسلئے تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں۔ یہ جو محکوم و مظلوم لوگ ہیں انکے ساتھ جو مذاق سیاسی طور پر کیا گیا وہ تاریخی ہے۔ انتہائی بے اختیار لوگوں سے ہم سن رہے ہیں کہ مسائل حل کریں گے۔ سچ میں اگر ان کو الگ سے بٹھا کر پوچھیں کہ آپ کے کیا کیا مسائل ہیں تو ہم سے زیادہ انکے اپنے مسائل ہونگے۔ تو آرگنائزڈ ہونے کے سوا ہمارے پاس راستہ نہیں۔ مسائل حد سے زیادہ غنڈہ گردی انتہاء پر ہے مگر ایک بات سنیں شاید یہ بات آپ کو جھوٹی لگ رہی ہو ہمیں مکمل یقین ہے انقلاب کا، ہم لائیں گے ضرور لائیں گے۔ ابھی جدوجہد کا وقت ہے مصائب تو آتے ہیں ہمیں جلدی نہیں جو لوگ ظلم جبر بربریت کررہے ہیں یا کروڑوں کی تعداد میں جو لوگ ہم کو کمزور اور خود کو طاقتور سمجھ رہے ہیں ہم ان کو اتنا کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین پر دنیا کی ہر طاقت آئی ہے چنگیز سے لیکر انگریز تک، اورنگ سے لیکر فرنگ تک، ہم کو کمزور سمجھتے تھے اپنے کو طاقتور۔ آج ہم اپنی سرزمین پر رہ رہے ہیں وہ نہیں ۔ ٹرائی کرلیں جتنا ظلم کریں اتنا ری ایکشن ہوگا۔ ری ایکشن ان آرگنائز اور غنڈہ گردی پر مبنی نہ ہوگا انسانی حقوق کا لحاظ رکھا جائیگا۔ علی وزیر کو جیل میں رکھا اگر وہ کمزورتھا اب اتنا (طاقتور) ہوگیا۔ اس کو تقویت ملی ہے۔ ایک بارمظلوم اُٹھ گیا، صدا بلند کی اسکے بعد ظالم کا ہر طریقہ کار اسکی ناکامی کی طرف لیکر جائیگا۔ وہ ہمیں محدود کرنا چاہتا تھا، ہم نے اسکی سوچ کو محدود کیا۔ ہمارا سوچ پھیلا، مزید پھیلے گا۔ عوامی، سیاسی نظرئے کو طاقت سے کوئی نہیں دبا سکتا۔
سوال نمبر1:میں لاء کا اسٹوڈنٹ ہوں۔ سعدیہ بہن نے کہا کہ بلوچستان میں ہر دس سال بعد فلڈ آتا ہے ،بھائی نے کہا کہ انتشار بہت گندی سیاست ہے پاکستان میں۔ اگر ہم نے اسٹینڈ نہ لیا تو یہ آگے بھی چلتا رہے گا۔ تو آپ کالاباغ ڈیم بنانے پر بات کیوں نہیں کرتے جس سے تینوں صوبوں کو فائدہ ملے گا؟۔
سوال نمبر2:میرا نام عباس علی، ڈیجیٹل میڈیا کا اسٹوڈنٹ ہوں پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں۔ آپ نے مسنگ پرسن کی بات کی تو آپ کیلئے کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے وطن پاکستان کے محافظوں کیخلاف آپ کو لڑنا پڑتا ہے۔ جنکے ہم ترانے سنتے ہیں23مارچ کو۔ دوسرا سوال منظور سے ہے کہ آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ کو فارن فنڈنگ خصوصاً انڈیا کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ اورKPKاور بلوچستان کی جتنی بھی آرگنائزیشن ہیں ان پر را سے فنڈنگ کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ تو یہ فارن فنڈنگ ہے یا ویسے ہی الزام لگایا جاتا ہے؟۔
منظور پشتین کا جواب: اب ”را” والے اتنے پاگل ہیں کہ پاکستان کے آئین کو مضبوط کرنے کیلئے ، حقوق مانگنے کیلئے کسی کو پیسے دیں گے کہ آپ وہاں امن کی بات کریں ، آپ لینڈ مائنز کو نکالنے کی بات کریں، مسنگ پرسنز کی بحالی کی بات کریں، پاکستان میں کوئی ایکسٹرا جوڈیشنل کلنگ نہ ہو اس کیلئے پیسے دیں کسی کو، یہ کونسی بات ہے۔ اگر پاکستان کے اداروں کو واقعی یہ لگ رہا ہے کہ یہاں پر آئین کی بالادستی کیلئے سب سے زیادہ کام انڈیا کی ایجنسی ”را” کررہی ہے۔ تو پھر وہ ڈائریکٹ ججز کو پیسے دیں باقی جو اسٹیٹ چلانے والے ہیں انکو پیسے دیں کیونکہ وہ زیادہ انوال ہیں۔ فارن فنڈنگ والی بات میرے خیال میں یہ33بلین ڈالر لینے والے لوگ کررہے ہیں۔ آج تک انہوں نے پیسے لئے ۔ ایک بادشاہ کی بیٹی بھوکی تھی تو بادشاہ نے کہا بیٹی کیا حال ہے اس نے کہا کہ پورا شہر بھوکا ہے۔ اس کو کھلایا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے تواس نے کہا کہ شہر کو اب بھوک نہیں۔ یہ جو خود کھارہے ہیں ان کو لگ رہا ہے کہ سب کھا رہے ہیں۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ ہم پر ثابت کردیں جو بھی سزا مجرم کی ہو وہ ہمیں دیں مگر ہم ثابت کرینگے اس پر فارن فنڈنگ دنیا کے ہر ملک سے لیا۔
عمار جان: مختصر سا جواب دے دیجئے کہ کیا یہاں پر جو ہیروز بنائے جاتے ہیں وہ وہاں پر اس طرح کی ایکٹی ویٹیزکرتے ہیں۔
سعدیہ بلوچ: چھوٹا سا ہی آنسر دوں گی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
عمار : سوال جو کالاباغ ڈیم پر کیا تو کوئی ایکسپرٹ اس پر بات نہیں کررہا۔ چھوٹے ڈیم کیساتھ جو آپکا ریئل اسٹیٹ ہے اس کو ریور بیلٹ سے دور کیسے کرنا ہے۔ کالاباغ ڈیم سے پاکستان کے تمام مسائل کیا حل ہو جائینگے ۔ ایک نے سوال کیا کہ ٹائم لگے گامگر انقلاب آئیگا۔ ہم نے دیکھا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہو تو ناکام ہوئے، کووڈ آیا تو ایکسپوز ہوئے۔ تخت سلیمان کے جنگلات میں آگ لگی تو ایران سے جہاز آئے آگ بجھانے کیلئے۔ ریاست ایکسپوز ہوئی۔ فلڈ آیا تو ریاست ایکسپوز ہوئی سسٹم ایکسپوز ہوا کام نہیں کررہا۔ تو سر وہ کونسا ٹائم ہے کہ عوام اس حد تک بھر جائے گی کہ پھر انقلاب آئیگا۔ یہ منظور سر سے سوال ہے۔
سعدیہ بلوچ: جب تک جوڈیشری کو آزاد نہیں کیا جائے گا مجھے نہیں لگتا ہے مسنگ پرسنز کا معاملہ حل ہوسکے۔ ایک اور بات ہمیں ضرور کرنی چاہئے چاہے جتنی خطرناک ہو مگر حقیقت ہے کہ بلوچستان میں تنازعہ ا ور شورش ہے جب تک اس پر بات نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
منظور پشتین: سوال تھا کہ کب آئیگا چینج؟ دیکھو! جب تک عوامی شعور نہ ہو ، جب تک قومیں بیدار نہ ہوں، تب تک اگر انقلاب آئے بھی تو انقلاب کے ثمرات پر ایکدوسرے کیساتھ لڑیں گے۔ اس کیلئے باشعور طبقہ چاہیے۔ ہم پہلے دن سے ایک ہی سوچ میں ہیں کہ ہم وہ مورچے نہیں لے سکتے ہیں ہم نے یہی مورچے لینے ہیں(دماغ کی طرف اشارہ کرکے کہا)۔ یہاں اگر سوچ مضبوط ہو، تقویت ہو، شعور ہو عوام میں پھر انقلاب آسانی سے آسکتا ہے۔ ظالم لوگوں کیلئے5،10بندوقیں کنٹرول کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا مگر قومیں بیدار ہوجائیں باشعور ہوجائیں اس کو کنٹرول کرنا ان کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ جدید فلاسفی بھی یہی کہتی ہے کہ انقلاب عوام کی فکر ی تبدیلیوں میں آتا ہے۔ تو ہم نے کوشش کرنی ہوگی کہ عوامی سطح پر شعور زیادہ ہوجائے اور پڑھے لکھے لوگ ہوں۔ اور ہمارے دوست زیادہ ہوجائیں۔ ہماری تعداد بڑھ جائے۔ دوسرا سوال یہاں پر پی ٹی ایم غیر سیاسی ہے۔ ایک توPTMغیر سیاسی نہیں۔ میرے خیال میں اس وقت بہترین سیاستPTMہی کررہی ہے۔ عوام کو شعور دلانا ہوگا، اگر اسٹیبلشمنٹ کو پریشرائز رکھنا ہو، اگر اس کو کوئی سیاست کہتا ہے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ، عوام کو اجتماعی کام میں لگا کر اجتماعیت کیساتھ محبت پیدا کردینا۔ لوگوں کو لیڈر شپ کا احساس دلانا کہ جہاں بھی مسئلہ ہو آپ انکے ساتھ ہو۔ اگر یہی سیاست ہے تو میرے خیال میںPTMبہترین سیاست کررہی ہے۔PTMغیر سیاسی نہیں غیر پارلیمانی ہے۔PTMکے غیر پارلیمانی رہنے کے کچھ اُصول ہیں۔ عوام میں نفاق پارلیمانی سیاست کی وجہ سے ہے۔ اس وجہ سے وہ ایکدوسرے کیساتھ لڑتے ہیں۔ ہم نے وہ عنصر سائڈ پر کردیا۔ پی ٹی ایم سیاسی ہم آہنگی قائم کرتی ہے۔ اتحاد و اتفاق میں لوگوں کو زیادہ لانا یہ کام بھی اس سے ہوجاتا ہے۔ البتہ میں گرینڈ الائنس کا جو اتحاد ہے اسکے حق میں ہوں۔ جتنی بھی محکوم قومیں ہیں ان کا ایک ساتھ چلنااور ایک ساتھ جدوجہد کرنا انتہائی فائدہ مند سمجھتا ہوں۔
سوال: میرا آپ سے سوال ہے کہ جتنے بھی لاہور یں لیفٹ ونگ کی تنظیمیں ہیں، مارکسسٹ ہیں، بائیں بازو کی تنظیمیں ہیں وہ آپ کا ساتھ دینے کیلئے بالکل تیار ہیں آپ لاہور میں ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔ اگر آپ کو براہ راست یا کھلے عام ایکٹی ویٹیز کرنے میں مسئلہ ہے تو آن لائن ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔
منظور پشتین: پنجاب کے جو دوست کہہ رہے تھے کہ ہم بھی ساتھ ہیں۔ پورے پنجاب نے اٹھنا ہوگا سب نے ساتھ دینا ہوگا۔ محکوم لوگوں کے جو مسائل ہیں اس سے کم از کم لوگوں کو آگاہ کریں۔ لوگوں کا مائنڈ بنادیںتاکہ عوامی سطح پر یکجہتی پیدا ہوجائے۔ڈیرہ اسماعیل خان پولیس سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ میں ماری جارہی ہے۔ سرائیکی بیلٹ سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔ آپ خود سرائیکی ہو آپ بتاسکتے ہیں یہاں شرکاء کو کہ مدینہ کالونی میں جو طالبان رہ رہے تھے کیا وہ فوج کے انڈر نہیں تھے؟۔ سچ بتائیں یار(قہقہے)۔ دہشتگردی کو اگر اسٹڈی کرنا ہو تو ڈی آئی خان کا چکر لگائیں اگر میں نے ان کو نہیں بتایا کہ یہ جو کالے شیشوں میں گاڑی کینٹ سے آرہی ہے اس میں نوکنگ کرو اندر کون بیٹھا ہے پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ جو ہم باتیں کررہے ہیں کیوں کررہے ہیں اسکی وجوہات ہیں؟۔ ڈی آئی خان کے شہری اٹھیں کیوں اپنے نوجوانوں پر خاموش ہیں؟۔ ڈی آئی خان اور دوسرے شہروں میں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر مختلف گروپس بنادئیے گئے جو لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ہم آواز اٹھائیں گے اور ڈی آئی خان والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے۔
سعدیہ: اگرآپ بڑے لیول پرہمارے لئے کچھ نہیں کرسکتے توکم از کم احساس رکھیں درد کا۔یہ بھی بہت بڑا رشتہ ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
عمار جان: بہت بہت شکریہ۔ اسکے ساتھ ہم پروگرام کا اختتام کرتے ہیں اس امید کیساتھ کہ جو منظورکی جدوجہد ہے، سعدیہ صاحبہ کی، پرابودھا(سری لنکا) کی، سدھو صاحب کی ، ہمارے پنجاب کے لیبر لیڈر بابا لطیف، یہ تمام لوگ جو یہاں پر موجود ہیں وہ ایک بہتر ساؤتھ ایشیاء کی بنیاد بھی رکھیں گے اورپاکستان کو مضبوط کریں گے اور جس طرح سعدیہ نے بہت خوبصورت بات کی کہ دکھوں کا رشتہ ہے اگر دکھ ملیں گے تو یہ مزاحمتیں بھی انقلاب میں بھی تبدیل ہوں گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان زیرو ہے، برٹش کا انفرا اسٹرکچر چلا گیا، کنگ کا انتظار کریں کوئین چلی گئی۔ سعدیہ بلوچ

بلوچستان زیرو ہے، برٹش کا انفرا اسٹرکچر چلا گیا، کنگ کا انتظار کریں کوئین چلی گئی۔ سعدیہ بلوچ

حجاج بن یوسف ظالم نے لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا مگر اسکے خلاف مسلح جہاد کاکوئی فتویٰ کسی نے نہ دیا۔ مفتی عبدالرحیم

جو زبان عمران خان، نوازشریف فوج کے خلاف بولتے ہیں وہ ہم نےPTMاور بلوچ بہن بھائیوں کی زبان سے نہیں سنی :اصغر خان اچکزئی

پختونخواہ میں نہتے عوام کی مسلح طالبان آمدکیخلاف احتجاج،خوف وہراس اور نفرت ومایوسی کا اظہار جاری ہے۔ چین امریکہ گریٹ گیم میں پختونوں کی تباہی پر میڈیا خاموش ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

دور نبوی ۖ میں6قسم کے لوگ :مؤمن، مسلم، کافر ،مکذبین ، منافق اور جن کو پیغام نہ پہنچاتھا۔ وماکنا معذبین حتی نبعث رسولًا ” اور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو مبعوث نہ کردیں” ۔ ویل یوم اذن للمکذّبین ”تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے”۔یہ انقلاب کے دن کی دھمکی تھی۔ قل عسٰی ان یکون قریبًا ” کہہ دو ہوسکتا ہے کہ قریب ہو”۔ اس سے قیامت مراد نہیں۔ انبیاء کو جھٹلانے پر دنیاوی عذاب تھا۔ شاہ اسماعیل شہید نے لکھا کہ ” رسول اتمام حجت ہے اور امام کا جھٹلانا عذاب کا ذریعہ ”۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ امام کی بعثت اللہ کرتاہے مگرامام نبی نہیں ہوتا۔ مرزا غلام ملعون کو قادیانی نبی مانتے ہیں۔ رسول ۖ کی تکذیب پر مشرکین مکہ و یہود مدینہ پر عذاب آیا۔ سپہ سالارحر نے حسین کیلئے وہ قربانی دی جو زین العابدین نہ دے سکے۔ حسین کے بعد سے مہدی غائب تک کسی امام نے قیام کیا اور نہ قیام جائز سمجھا ۔ عظمت اہل بیت کے قائل شیعہ اور صحابہ کی تکفیر والے رافضی ہیں۔پشتون حقوق اور امن مانگتے ہیں اور کچھ بلوچ نے ہتھیاراُٹھائے ہیں ۔بیرسٹراعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں کہاتھاکہ” تھانے میں بدمعاش کو خوب مارا تو اس نے پکارا، اماں اماں۔ ماں نے تھانیدار سے کہا کہ شکریہ کہ میرے بیٹے کو ما ںیاد دلادی۔ عمران خان کا شکریہ کہ نوازشریف کو پارلیمنٹ یاد دلادی”۔ ریاستی مظالم نے سعدیہ بلوچ کوملکہ برطانیہ یاد دلادی۔ پہلے خوارج لڑے تھے ۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا: حجاج نے لاکھوں قتل کئے لیکن اسکے خلاف مسلح جہادجائز نہ تھا ۔جب ضرورت میں عضوء کاٹنا ، خنزیر کھانا جائز ہے تو اجتماعی مفاد کیلئے ریاست کچھ بہت کرسکتی ہے، یعنی پٹھان مٹھان بلوچ ملوچ مفادکیلئے قربان کرسکتی ہے۔
جامعة الرشید کے مفتی عبدالرحیم کو اس انداز میں سلیم صافی نے پیش کیا جو دین اور صحافتی تحقیق پر سوالیہ نشان ہے؟۔یہ کس کا جانشین ہے؟۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی بدنامِ زمانہ تھا ۔ مولانا یوسف بنوری سے مفتی محمود تک ، تبلیغی جماعت سے حاجی عثمان اور حکیم اختر تک، مفتی شفیع سے مفتی احمد ممتازاور مولانا مسعود اظہر تک کون شر سے محفوظ رہا؟۔ مفتی عبدالرحیم کے جھوٹ اور کرتوت کے ثبوت ہمارے پاس ہیں۔سودی نظام کو جائز قرار دیا تو مولانا احتشام آسیاآبادی ومفتی احمد ممتاز نے بھی اسلامی بینکاری کی مخالفت کی جو مفتی رشید لدھیانوی کے خلفاء اور مفتی عبدالرحیم کے سینئر تھے۔ یہ شخص مذہب اورریاست کا اثاثہ نہیں بلکہ کلنک کا ٹیکہ ہے۔ جیو نے عمران خان کے بغض میں اسکے مکروہ چہرے سے عوام کو دھوکہ دینا شروع کیا ہے۔ عوام غلط کام کرتی ہے تو وہ بھی غلط ہے اور اگر ریاست غلط کام کرتی ہے تو اس کو جواز نہیں بخشا جاتا بلکہ اس پر ڈبل گرفت ہوتی ہے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ علی کی موجودگی میں ابوبکر ، عمر اور عثمان کو اقتدار کا حق نہ تھا۔ اگر علی نے ان تینوں کے مقابلے میں خود کو زیادہ حقدار سمجھاتھا توصحابہ جنگ تک بھی پہنچے ہیں اور سنی ان کی کماحقہ تأویل کرتے ہیں۔ نہج البلاغہ کو مصر کے سنی عالم علامہ عبدہ نے مرتب کیا اور عبارات کی تصحیح وتحقیق کی جس کا شیعہ عالم نے ترجمہ کیا۔ علامہ سید جواد نقوی نے اس پر اچھی گفتگو کی ہے۔ پہلی اور آخری مرتبہ ایک ہی دفعہ علی نے اپنے استحقاق خلافت کیلئے دلائل دینے شروع کئے تو کسی نادان نے غیرمتعلقہ سوال کیا، جس کے بعد علی نے بحث چھوڑ دی۔ ابن عباس نے کہا کہ اپنی بات مکمل کریں لیکن علی نے کہا کہ نہیں۔ بس دل میں جو ابھار آیا تھا ،اب وہ نہیں رہا۔ اس سے پہلے اور اسکے بعد پھر کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی تھی۔ شیعوں کی تمنا ہم پوری کردیںگے کیونکہ علی کے بیٹے میں اللہ نے صلاحیت پیدا کی ہے لیکن شیعہ انتشار کو چھوڑ کر اتحاداور وحدت کی طرف اب آجائیں۔
سنی کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کیلئے اچھا جذبہ رکھتے ہیں جو ابوبکر و عمر کے پیچھے نمازتک نہ پڑھتے تھے ۔جنّات یا نامعلوم خلائی مخلوق نے قتل کیا ؟۔ خلافت راشدہ دور میں ایک جلیل القدر صحابی کو انتشار پھیلانے پر عدالت میں پیشی کے بجائے قتل کیا گیا؟تویہ گناہگار ریاست کرسکتی ہے؟۔ سعد بن عبادہ نے منظم حملے نہیں کئے۔ بلوچ سرماچارفوج کو دشمن کہیں اور حملہ آوروں کی مذمت نہ کریں؟۔ تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے چینی خواتین اساتذہ پر خود کش کیا۔ اگرچہ کئی بلوچوں اور شاری بلوچ کی فیملی نے مذمت کی لیکن کئی اس کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ ایک طرف مہمان اساتذہ پر خود کش اور دوسری طرف واویلا کہ ریاست بلوچ دشمن ہے تعلیمی اداروں میں پڑھنے نہیں دیتی ؟۔ یہ دوغلاپن غیرتمند بلوچ پر دھبہ ہے۔ انصار عباسی، ہارون الرشید،اوریا مقبول افغانستان کیلئے طالبان کا نظام اور پاکستان کیلئے نسل در نسل انگریز کے غلام جرنیل، انکے بنائے گئے سیاستدان اور خاندانی غلام پیروں اور چوہدریوںکے خانوادوں کے غلامانہ نظام کو بہترین قرار دیں تو جیسا دیس ویسا بھیس اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس میں یہی چل سکتا ہے۔
سعد بن عبادہ کے قتل کو جواز بخشناغلط ہے۔ بے گناہ صحابی کے قتل کی سزا پوری خلافت کو مل گئی۔انصارمدینہ اقتدار سے باہر تھے توحضرت عثمان چالیس دن محاصرے کے بعد شہید کئے گئے۔ علی نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو دارالخلافہ بنایا۔ بنو امیہ نے دارالخلافہ شام میںدمشق کو بنایا۔ بنوعباس نے عراق میں بغداد کو دارالخلافہ بنایا۔چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد کو تہس نہس کردیا۔ پھر ترکیوں نے دارالخلافہ استنبول منتقل کیا ۔ حجاج دورمیں ہمت ہوتی تو بنوامیہ کا خاتمہ جائز تھالیکن بعد میں ہمت کی گئی۔اگر حسین کیساتھ لوگ کھڑے ہوجاتے تو یزیدی خاندانی نظام اور عباسی خاندانی نظام مسلمانوں پر مسلط نہ ہوتا۔ آج بھی انکے اثرات سے مسلمان نکل نہ سکے ۔ مولوی لمبی سایڈ کی جیب میں ہدیہ وصول کرکے منبر رسول پر خطبہ دیتا ہے کہ ظالم بادشاہ زمین پر خدا کا سایہ ہے ۔ اگر کافر عادل بادشاہ کو زمین میں خدا کا سایہ کہا جائے تو مسئلہ نہیں۔ حدیث میں مسلم کی قید نہیں۔حبشہ کے بادشاہ نجاشی صحابہ کے سائبان بنے تو سایہ خدا کہنے میں حرج نہ تھا۔ مگر ظالم ، جابر اور بربریت والے حکمران کو اللہ کا سایہ قرار دینا گھٹیا پن ہے۔ اسد طور نے مولانا طارق جمیل پر پروگرام کیا ہے، مفتی عبدالرحیم پر بھی تحقیق کرکے لوگوں کو آگاہ کردے۔ مفتی عبدالرحیم کا تعلق اس مذہبی ٹبر سے ہے جو ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم کو بھی ضرور سپورٹ کرتا۔ الطاف حسین نے کہا کہ ” نوازشریف دور میں آئی ایس آئی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کے متعلق ڈان میں کامران خان کی رپورٹ شائع ہوئی کہ اس نے حکیم سعید کو شہید کروایا تھا اور پھر نوازشریف کو پرچی تھمادی تھی کہ ایم کیوایم کارکنوں کا نام لو۔
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہما کیا لکھنا
ایک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
ایک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ور! اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری ،کی ہم نے ہی انہی کی غمخواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیںگے درباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
حق بات پہ کوڑے اور زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیںخونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم وستم کو لطف وکرم ،اس دکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
ہر شام یہاں شام ویراں،آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں
صحرا کو چمن بن کو گلشن بادل کوردا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
اے میرے وطن کے فن کارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراوں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو!
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا،اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیائ، صر صر کو صبا ،بندے کو خدا کیا لکھنا
فتح مکہ سے قبل اور بعد والے صحابہ میں فرق تھا۔ ابوسفیان، امیر معاویہ اور یزید سیدنا بلال کے پیروں کی خاک کو نہیں پہنچتے تھے۔ جبر سے خلافت کو خاندانی لونڈی نہ بناتے تو بلال میں زیادہ قابلیت تھی۔ سعد بن ابی وقاص عشرہ مبشرہ کے ہوتے ہوئے ظالم جابر وں کا اقتدار غلط تھا۔ البتہ حر اور یزید کے بیٹے معاویہ نے جو قربانی دی، مفاد پرست شیعہ انکو نہیں پہنچ سکتا۔ان میں لیلیٰ کیلئے قربانی کا جذبہ رکھنے والے بھی بہت ہیں لیکن جو نمایاں ہیں وہ دودھ پینے والے مجنون ہیں۔
بلال حبشیسیدنا تھے۔ شیدی بلال کی وجہ سے سیدی تھے۔ س کو ش بنادیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” عرب میں عجم غلام تھے۔ اسلام نے ہم وطن چار خواتین سے شادی کی اجازت دی اورغیر ملکی لونڈیوں سے شادی کی تعداد متعین نہیںکی ”۔ مولانا سندھی سے اتفاق نہیں لیکن مغربی پاکستان نے بنگالیوں کو دل سے قبول نہ کیا۔ گو وزیراعظم محمد علی بوگرہ، حسین شہید سہروردی بنگالی تھے اور صدر سکندرمرزا بھی بنگال کے غدار میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔جن گٹرصاف کرنے والے پنجابیوں کو کراچی والے چوہدری کہتے ہیں، عزت کی بنیاد پر نہیں کہتے ہیں۔ اسلام نے سیدنا بلال اور حبشیوںکو واقعی بہت عزت بخشی تھی۔
شیعہ ائمہ اہل بیت اور پشتون قوم پرست باچا خان وصمد خان شہید اچکزئی کے خاندانوں کو امام مانتے ہیں۔ جب یزید کا لشکر حسین کے کٹے سر اور قافلہ اہل بیت کو قید کرکے دمشق شہر لایا تو سپاہی کھانے پینے کی خریداری میں لگ گئے۔ ایک حبشی خاتون فضاء نے یہ منظر دیکھا تو قیدیوں کیلئے کھانے پینے کا سامان اور دوپٹے ، چپل، سامان ضرورت تحفہ میں دئیے۔ مشکل وقت میں خواتین آگے آتی ہیں۔ عثمان کے بدلے کا مطالبہ اماں عائشہ نے کیا۔ یہاں سالارکا کردار زینب نے ادا کیا۔ زینب نے پوچھا : یہ مدد کیوں کی؟۔ پورے راستے میں کسی نے ہمیں نہیں پوچھا ؟۔ فضاء بولی: فاطمہ کی خادمہ تھی، رخصتی لیکر شام آرہی تھی تو نصیحت کی کہ جب قیدیوں کو دیکھو تو خوراک ، پوشاک اور ہرممکن خدمت کرنا۔ مجھے پہلی مرتبہ ان کی نصیحت پر عمل کا موقع ملا ”۔ زینب بولی: بدلہ دینا ممکن نہیں مگر ہم دعا کرسکتے ہیں۔ بتاؤ کیا دعا کریں؟۔ فضاء بولی: فاطمہ کے تین بچے حسن، حسین اور زینب کی زیارت کا بڑاشوق ہے۔ جب دیکھا تھا تو چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ میرے لئے ان کی زیارت کی دعا کرنا۔ زنیب بولی: تمہاری تمنا پوری ہوگئی یہ کٹا ہوا سر حسین کا ہے ، میں زینب ہوں۔ یزید نے دربار میں قافلہ اہل بیت سے بدتمیزی شروع کردی کہ بدر کا بدلہ ہم نے لیا ۔ تو فضاء نے یزید کو سخت جواب دیا کہ ” شرم نہیں آتی کہ اسلام کے نام پر خلیفہ بن بیٹھے ہو، نبیۖ کی اولاد سے یہ کہتے ہو؟۔ یزید نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ گستاخ عورت کو عبرت کا نشان بنادو۔ کچھ سپاہی لپکے تویزیدی لشکر میں حبشی سپاہیوں نے بپھر کر دھمکی دی کہ خبردار ! یہ خاتون ہماری ناموس ہے ۔ اگر تم نے تکلیف پہنچائی تو تمہاراتیاپانچا کریں گے۔ مشتعل حبشیوں کو دیکھ کر یزیدنے پینترا بدلا۔ زینب نے کہا کہ ” کیا رسول ۖ کیلئے کوئی قربانی دینے والا نہیں؟”۔ تنخواہ دار سپاہی قوم پرستی کیلئے سب کچھ کرنا اپنی قومی غیرت سمجھتے تھے لیکن ریاست اور حکومت نے دین کا جذبہ مٹادیا تھا۔
جب طالبان نے ٹانک سے ایک پشتون لیڈی ڈاکٹر کو اغواء کیا اور مظالم کا سلسلہ جاری رکھا تھا اگر فوجی آپریشن سے پہلے محسود قوم غیرت کرتی تو ذلت کے انتہائی دن دیکھنے نہ پڑتے۔ حبشیوں نے عورت پر غیرت کی توسیدی بن گئے۔
پختونوں کے بارے میں ہے کہ رسول اللہ ۖ کے دور میں مکہ کو فتح کیا تھا اور بلوچوں کے بارے میں ہے کہ اسلامی لشکر کا حصہ بعد میں بن گئے لیکن جب امام حسین کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تو انہوں نے دوبارہ اپنے وطن مکران کا رخ کیا تھا۔ محمد بن قاسم سے پہلے بلوچ اورکافی سندھی پہلے سے مسلمان تھے۔
راشدمراد کھریاں کھریاں نے جرنیلی نظم پڑھی:اک آمر تخت پر بیٹھا تھا
میرے دریا جب نیلام ہوئے اور بنجر میرے کھیت ہوئے اک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
میرے لشکر کو جب مات ہوئی اور دیس میرا تقسیم ہوا، اک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
جب مذہب اک ہتھیار بنا اور کلمہ گو ہی قتل ہوئے ۔ایک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
سچ بولنے والے لوگوں کو جب کوڑے مارے جاتے تھے،ایک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
ایک ظالم لشکر کے ہاتھوں ایک سورج جب مصلوب ہوا،اک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
جب ایک بہادر عورت پر اپنوں نے چھپ کر وار کیا،اک آمر تخت پہ بیٹھا تھا
جب گلیوں میں بارود بچھا گھر گھر میں قتل عام ہوا،ایک آمرتخت پہ بیٹھا تھا،پھر بھی سادہ لوگوں کوآمر اچھے لگتے ہیں جھوٹوں سے بڑھ کر یہ جھوٹے اب بھی سچے لگتے ہیں
راشد مراد نے نوازشریف کے ایما پر جنر ل قمر باجوہ کو دبانے کیلئے نظم پڑھی مگر باجوہ کو ایکس ٹینشن کس نے دی ؟۔ کیا سیاسی طرم خانوں کیلئے عوام فوج سے لڑے؟۔اقتدار ہوتو فوج سے محبت اور اقتدار چھن جائے تو خرابیوں کی جڑ ؟۔ آرمی، قومی ، سیاسی و مذہبی قیادت جلد ازجلد مثبت فیصلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ورنہTTPاورپشتون ریاست کیلئے وہ مشکل کھڑی کرسکتے ہیں جس کا تصور بھیانک ہے۔افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہیں۔ بلوچ، مہاجر ، سندھی اور پنجابی سبھی میں خوبیاں ہیں لیکن بیکار کرداروں نے ان کی شکل مسخ کی ہے۔
اللہ نے فرمایا؛” بیشک جولوگ مسلمان، یہودی ، نصاریٰ اور صائبین ہیں۔ جس نے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اچھا عمل کیا تو ان کیلئے اجر ہے، ان پر خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے”۔ (البقرہ آیت62) اسلام واحد دین اور نظام ہے جو دنیا کو قبول ہے لیکن مذہبی وحکمران طبقے نے مسخ کردیا۔
اعرابیوں سے کہا ” یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ کہو! ہم اسلام لائے اسلئے کہ ابھی ایمان دلوں میں داخل نہیں ہوا”۔یہ مسلمان اور صحابہ سچے مؤمن تھے۔ کچھ منافق اور کافر تھے۔ صرف کچھ جھٹلانیوالے دشمن تھے۔ کافی دنیا تک اسلام نہ پہنچاتھا۔ مقابلہ جھٹلانے والوں سے تھا۔ جھوٹی نبوت کے دعویدارابن صائد اور رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی اور ذوالخویصرہ گستاخ سے بھی جنگ نہیں تھی۔
وزیرستان محسود ایریا میں طالبان کی رٹ ہے۔ ننگے سر کعبہ کا طواف ہوسکتا ہے مگرکوئی وزیرستان میںٹوپی نہیں اتارسکتا ۔دنیا بھر کی طرح امریکیCIAکے بلیک واٹر نے پنجابی لڑکیوں کو شام میں داعش کیلئے بھرتی کیا۔ فوج نےTTP،PTMاور عوام کو ایکدوسرے کے رحم وکرم پر چھوڑ اہے۔ قوم جب تک دین کی درست تشریح کی طرف نہ آئے، مظالم سے بچنے کا راستہ نہیں۔ مرکزمیں شہبازشریف وزرداری اور پنجاب میں عمران خان و پرویزالٰہی کاا قتدار ہے۔ اگر طالبان کو بھارت کی سرحد پر گھر بناکر دیدئیے اور شیڈول فور میں رکھاتو فتنے پر قابو پانا آسان ہوگا۔ پنجاب ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا پختون قوم پر نہ صرف احسان ہوگا بلکہ گزشتہ غلطیوں کا ازالہ بھی ہوگا۔افغانستان اور پاکستان کو فتنے وفساد سے نہیں بچایا تو کشت وخون ہوگا اسلئے کہ طالبان کے ہمدرد بھی اس مرتبہ زبردست طریقے سے بہت بے دردی کیساتھ نشانہ بنائے جاسکتے ہیں۔
موٹے مولوی نے طالبان سے کہا کہ جہاد کی بڑی فضیلت ہے لیکن میری ٹانگیں کام نہیں کررہی ہیں۔ حالانکہ اس کی ڈگی میں طالبان بارود بھر کر خود کش کرواسکتے ہیں۔ جب تک سہولت کاری کے نتائج نہ بھگتنے پڑیں ظالم اورسہولت کار بے گناہوں کو نشانہ بنائیںگے۔ فوج اچھے اور بروں کے علاوہ وفادار آلۂ کار اور اغیار کے آلۂ کارمیں تمیز نہیں کرسکتی اسلئے کچھ لوگ رکھنے پڑتے ہیں۔ جب عوام کی طرف سے فیصلہ ہوگا کہ گندے کرداروں کو ہم نے نہیں چھوڑنا ہے تو ریاست بھی کسی آلۂ کار کو ٹھکانے دینے کی مجبوری سے باز آجائے گی۔ رضیہ محسود صحافی نے سکولوں اور ہسپتالوں کی بحالی کیلئے آواز اٹھائی تو قوم پرست بہت برا مان گئے۔ ان کی تقریر کو بھی نشر نہیں کیا۔ قدرت نیوز مختلف قسم کا موادنشر کرنے میں دیر نہیں لگاتی ہے لیکن خاتون صحافی کی مثبت باتوں کو بھی سنسر کردیا ہے۔
شہبازگل اور علی وزیر کی بات میںفرق تھا۔ منظور پشتین اور علی وزیر کی تقریر میں بھی تضاد ہے۔ تضادات کو دور کئے بغیر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانا سب سے آسان کام ہے۔ خطرناک یہ ہے کہ ریاست ظلم کرے اور مفتی جواز فراہم کرے لیکن اسکے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے اور اس سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ جب مولوی حضرات ریاست کی سپورٹ کے بغیر اسلام کی غلط تشریح سے معاشرے کے اندر کمزورعورت کو کمزور تر کردیں اور طاقتورمرد کو مزید ناجائز طاقتور بنادیں اور اس پر خاموشی ہو تو کوئی تنظیم اپنے نام ونمود اور اللے تللے کیلئے کام کرے تو کرے لیکن یہ دعویٰ کرنے کا حق نہیں کہ وہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی خدمت کررہی ہے۔ کامیابی کادعویٰ تو دور کی بات، خدشہ یہ ہے کہ آج بلوچ خواتین اور لڑکیاں مسنگ پرسن کیلئے پنجابی اور پختونوں کیساتھ کھڑی ہیں کلPTMکے رہنماؤں کیلئے ان کی خواتین اور لڑکیاں مسنگ پرسن کیلئے کھڑی ہوں گی۔ پشتو فلموں کی فحاشی کے سین پنجاب میں بھی مشہور تھے۔ بلوچ سینما کو بلوچی فلم چلانے پر آگ لگاتے تھے۔ بلوچ قوم پرست وطن کو آزاد نہ کراسکے لیکن لڑکیوں کو دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا ۔ بلوچ پہاڑوں میں لڑ یں تولڑکیوں کی مجبوری ہے کہ مسنگ پرسن کیلئے نکلیں ۔ علی وزیر نے صرف ایک بار دھمکی دی کہ میں بندوق اٹھاؤں گا لیکن پھر ا س کے وکیل نے کہا کہ تقریر کا ترجمہ غلط کیا ۔ غلط بیانی سے معافی مانگنا بہتر ہے۔ اسلام کی درست تشریح سے ریاست، مولوی، دہشتگرد،قوم پرست اور سب نمونے اپنی اپنی جگہ پر درست ہوسکتے ہیں۔ عمار علی جان جیسے قابل اور غیرمتعصب لوگ اپنا قبلہ درست کرکے اچھا کردار اداکرسکتے ہیں۔ عمار جان کی یہ بات غلط ہے کہ ”ریاست نے میڈیا پرسنسر شپ لگایا کہ سیلاب کے معاملات کی جگہ جی ٹی روڈ کی سیاست میں عمران خان، شہباز گل ، نوازشریف اور مریم نواز کے گرد خبروں کا فوکس رکھا جائے”۔ عوام سندھ کے سیلاب متأثرین ، پختونوں اور بلوچوں کے دھرنوں سے زیادہ اداکارہ ایان علی کی عدالت میں کیٹ واک کو دیکھنا چاہتی تھی تو ریٹنگ سے میڈیا کو اشتہارات کے ریٹ ملتے ہیں اور دنیا پیٹ اور جنسی خواہش پر جی رہی ہے۔باقی قبروں کی طرح دنیا میں بھی سب کا اپنا اپنا معاملہ ہے۔حقیقی اسلام کیلئے لوگ اپنے مفاد کیلئے اٹھیں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بینظیر بھٹو صاحبہ سے کہا عرب افغان عورتوں کو لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ خان عبد الولی خان

بینظیر بھٹو صاحبہ سے کہا عرب افغان عورتوں کو لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ خان عبد الولی خان

عبدالولی خان قائدANPکی تقریر نیٹ پر ہے جس میں قومی قائدین، منٹو صاحب اور محمودخان اچکزئی وغیرہ سے خطاب کیا کہ جنرل ضیاء الحق سے میں نے کہا کہ ” تم لوگوں کی اس ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اپنے باپ دادا کے ملک کو چھوڑ آئے ہو اور باہر جائیدادیں بنائی ہیں، جب تم پر مشکل پڑے گی ، بات نہیں بنے گی تو آپ اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔مرنا اور جینا توہم نے ہے ، ہمارے بچوں نے یہاں پررہنا ہے اسلئے جن کا ملک ہے ،انہوں نے اس کا سوچنا ہے۔میں نے وزیراعظم صاحبہ (بینظیر بھٹو) سے پو چھا کہ ہمارے ملک کے اتنے مسائل ہیں۔ روٹی نہیں،کپڑا نہیں، تعلیم نہیں ، صحت نہیں۔ میں نے کہا کہ پینے کا پانی نہیں ہے۔اسلام آباد شہر میں لوگ قمقموں کے نیچے اور غاروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ شرم آنی چاہیے ہم کو اپنے مسائل کی فکر نہیں ہے اور ا.فغانستان کی فکر پڑگئی ہے۔ میں نے ادب سے پوچھا کہ حضور ! کیا افغانستا.ن ہمارا پانچواں صوبہ ہے؟۔ایک خود مختار حکومت ہے۔ تو کہنے لگے کہ ہم تو اس میں انوال نہیں ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا: اس دن میں اسلام آباد گیا تو پتہ لگا کہ اسلام آباد میں دو پارلیمنٹیرین بیٹھے ہوئے تھے ۔ تومیں نے پوچھا کہ میں کونسی پارلیمنٹ میں کھڑا ہوں ۔ دوسرا پارلیمنٹ کہاں ہے؟۔ تو کہنے لگے کہ جی بھول جائیے،وہ تو کابل کا پارلیمنٹ بیٹھا ہے اسلام آباد میں۔ کبھی ایسی چیز دیکھی کہ کابل کا پارلیمنٹ اسلام آباد میں بیٹھے؟۔ اگر یہ بات آپ چلائیںاس کیلئے جواز ڈھونڈیں تو کل اگر کابل میں پاکستان کا پارلیمنٹ بیٹھے۔ اگرکل آپ کا پارلیمنٹ ایران میں بیٹھے اور سب سے خطرناک بات ہے کہ کل آپ کا پارلیمنٹ دلی میں بیٹھے تو آپ کی کیا حالت ہوگی؟۔
اس نے کہا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟۔ میں نے کہا کہ ان باتوں کا آپ کو سنجیدگی سے نوٹس لینا پڑے گا۔یہ جو ہم نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں پارلیمنٹ میں میں نے کہاکہ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ جب گدھے کا سامنا شیر سے ہوتا ہے تو گدھا اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اور سمجھتاہے کہ اگر گدھا شیر کو نہیں دیکھتا تو شیر بھی اس کو نہیں دیکھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ جو ہوگا وہ ظاہر ہے۔
آج اس ملک میں دو واضح مسلک قوم کے سامنے آئے ہیں۔آپ نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ ضیاء الحق نے اسلام آئیزیشن کے سلسلے میں اور امریکہ کے کہنے پر اپنی خارجہ پالیسی کو صرف اور صرف انقلاب روس اور انقلاب ا.فغانستان کے خلاف یعنی انقلاب روس اور انقلاب افغانستا.ن کے خلاف ایک ہی اسلحہ ہے انکے پاس اور وہ اسلام کا اسلحہ ہے اوریہ اسلامی نہیں ہے کیونکہ میں نے پہلے پوچھا تھا ۔جنرل ضیاء نے مجھ سے کہا کہ میں سچا پکا متقی پرہیزگار مؤمن ہوں۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بناکر روس کا خاتمہ کروں گا۔ میں نے کہا کہ حضور ! آپ روس کے خلاف ہیں یا اس کے نظرئیے کے؟۔ اس نے کہا کہ میں اس کے نظرئیے کا مخالف ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر چین کا نظریہ بھی وہی ہے لیکن چین کے اعلیٰ وفد آتے ہیں تو تم انکے سامنے دخترانِ اسلام کو نچواتے ہو؟۔تمہیں امریکہ نے جو حکم دینا ہے اسی پر عمل کرنا ہے۔ اب توروس بھی افغا.نستان سے گیا اور چین وروس کی دوستی ہورہی ہے اب تمہارا کیا بنے گا؟ اور روس کے خلاف کیا لڑوگے ، بھارت سے پہلے پنجہ آزماچکے ہو۔ دس ہزارکے سامنے ایک لاکھ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور تمہاری پتلونیں وہیں رہ گئیں، اب قوم واضح لکیر میں تقسیم ہے ۔ ایک وہ ہیں دلی کے لال قلعے پرجھنڈا لہرانے کی بات کرتے ہیں اور دوسر ے جو ہندوستان سے صلح کی بات کررہے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ” ولی خان کو غلط فہمی ہوئی ہے، ہم ا.فغانستان کے جہا.د نہیں اسلام کے جہاد کی بات کررہے ہیں اور تاشقند بھی فتح کریںگے”۔ یہ جو فاتح کا جشن منارہے ہیں، ان سے اب کمانڈرز نہیں سنبھل رہے ہیں۔اسلئے کہ امریکہ اب براہ راست کمانڈروں کو اسلحہ دے رہاہے۔ اب یہ لوگ جہاد بھی نہیں کریںگے اسلئے کہ مال ملنا بند ہوگیا تو جہاد کو کیا کرنا ہے؟۔ عالمی سامراجی قوتیں کسی پر بکتی نہیں ہیں بلکہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کے ساتھیوں کو استعمال کیا اور جب ضرورت نہیں رہی تو ان کو ساتھیوں سمیت راستے سے ہٹادیا۔ استعمال ہونے والوں کیساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ تاریخ کے ہر دور میں عبرت کا نشان بنتے ہیں۔پاکستان کو اسلئے نہیں بنایا گیا کہ انگریز کو اسلام اور مسلمانوں سے ہمدردی تھی بلکہ سوشلزم کے نظرئیے کا راستہ روکنے کیلئے بنایا گیاہے۔
ایک معتبر اخبار دی مسلم (انگریزی) میں یہ خبر چھپی ہے کہ ا.فغانستان میں آئے ہوئے عربوںنے فتویٰ دیا ہے کہ ا.فغانستان کے جو لوگ جہاد نہیں کرتے وہ کا.فر ہیں ،ان کی جائیداد مال غنیمت ہے ۔ ان کی خواتین بھی مالِ غنیمت ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ نے اس خبر کی تصدیق بھی کی ہے۔ وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو سے میں نے کہا کہ ”آپ خود بھی ایک خاتون ہیں۔ ہماری بہو بیٹیوں کیلئے جس قسم کے منصوبے بن رہے ہیں آپ ان کو کیوں سپورٹ کررہی ہیں؟”۔
مجھے کسی نے کہاکہ ”یہ عرب اسرائیل میں کیوں نہیں لڑتے؟”۔ میں نے کہا کہ ” یہ ہم پشتونوں کومسلمان بنانے آئے ہیں۔ ان کی شلواریں اسرائیل میں رہ گئی ہیں اور ازاربند اپنے سروں پر باندھ کر ہمیں مشرف بہ اسلام کرنے کیلئے آئے ہیں۔ چلے جاؤ پہلے اپنی شلواروں کا پتہ کرو ، پھر ازار بند سروں پر باندھ کر ہمارے پاس آجاؤ”۔ہم پشتونوں سے زیادہ اچھے مسلمان کون ہوسکتے ہیں؟۔
قاضی حسین احمد اور اس طرح کے لوگ تاشقند اور دلی فتح کرنے کی باتیں کررہے ہیں ۔ اپنے بچے بھوک سے مررہے ہیں۔ بجلی جن لوگوں کو دی ہوئی تھی ان کو بھی پوری نہیں ہورہی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی فکر نہیں اور دئیے جارہے ہیں۔ داخلی اور خارجہ امور دونوں کا پتہ نہیں ہے۔ ملک وقوم کو کس طرف لے جارہے ہیں؟۔ ہندوستان سے جنگ کی بات صرف اسلئے ہورہی ہے کہ فوج کو زیادہ سے زیادہ اسلحہ ملے گا ۔ مراعات ملیں گی اور وہ خوشحال ہوںگے لیکن قوم کا کیا بنے گا ؟۔ اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ایکF16طیارے کی قیمت پرپورے بلوچستان میں زرعی انقلاب آسکتا ہے جس سے بلوچستان کے عوام کی غربت ختم ہوجائے گی۔ ترقی پسند پارٹیوں کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے ،اسلئے کہ ملک وقوم کی بربادی کیلئے بیرونی قوتوں نے یلغار شروع کردی ہے اور بروقت قوم کو بیدار کرنا ہوگا۔ پشتون قوم آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں جب بیرون سے خطرات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اپنی چھوٹی موٹی لڑائی پر پتھر رکھ دیتے ہیں۔ یہ اپنے اختلافات پر پتھر رکھنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر ہم بادشاہ خان کے سچے پیروکار ہیں تو پھر امن کیلئے کام کرنا پڑے گا۔ امن کے ایوارڈ کیلئے روس کے صدر گورباچوف کا انتخاب ایک اچھا اقدام ہے۔ میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اپنی ضلعی انتظامیہ کو کہ ملکی وقومی سطح پر ایک بہترین کانفرنس کا اہتمام کردیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

خلافت کی اب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ

ہم نے جہادکے نام پر بہت بڑے طبقے کو انتہا پسند بنادیا، انہیں اسلحہ اورسیاسی طاقت دیکر مضبوط کیا،انہیں ہم ایسے نہیں چھوڑ سکتے، ہم نے 40سال میں جو بویااب کاٹ رہے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل قمر جاوید باجوہ کو انتہاپسندی کیخلاف جنگ لڑنے پر دنیا میں اعزازی تمغوں سے نوازا جارہاہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف،عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی انتہاپسندی کے خاتمے میں برابر کی شریک ہیں۔APSپشاور واقعہ کے بعد ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں نے مل کر قومی ایکشن پلان بنایا۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ نے دہشتگردانہ ماحول کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن خلافت کی روک تھام پر جنرل باجوہ کو بیان دینا اسکے اپنے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ایک فوجی کی تعلیم و تربیت کا مخصوص ماحول ہوتا ہے وہ اپنے ماحول کے مطابق بات کرنے میں مخلص ہے لیکن جہالت قوم کی کشتی کو ڈبوسکتی ہے۔40سال تک امریکہ کے کہنے پر دہشت گردی کی فصل تیار کرنا غلط تھا اور 40سال تک اسکے کہنے پر فصل کاٹنا بھی غلط ہے۔ آزادی ہند کی تقدیر کا فیصلہ خدا نے کیا اور تدبیر کا فیصلہ سیاسی قائدین نے۔ فوج کا اس میں کوئی کردار نہ تھا۔ وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ بھیک مانگنے والا ملنگ کہتا ہے کہ ” تمہاری خیرات سے ہماری توبہ ہے لیکن اپنے کتوں کو روک لو”۔ جنرل باجوہ اپنے پالے ہوئے دہشتگردوں کو روک لے جو ان کیساتھ مل کر بھتہ خوری اور فکری آزادی کو دبانے پر لگے ہیں۔ یہ پالیسی بہت ہی خطرناک ہے عوام اور سیاستدانوں کیلئے ہر گز قابلِ قبول نہیں۔
پشاور سے مشہور صحافی وادیب خالد خان کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر آیا کہ اسکے پاس میجررستم بٹ کے نام پرایک کروڑ روپیہ بھتہ کیلئے فون آیا اور اس نے اس کو جوک سمجھا۔ پھر ٹھیک ٹائم پر کالی گاڑی میں لوگ آئے۔ جس میں ایک وہی میجر اور دوسرا ایک پٹھان تھا۔ جس کا مخصوص حلیہ تھا۔ اسکے پاس30بور کی پسٹل تھی اور مجھے تھپڑ مارے کہ اگر یہ رقم نہیں دی تو بال بچوں سمیت مار دیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے پاس اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟۔ ایک قلم کار ہوں اور مشکل سے گزارہ ہوتاہے۔ میرے ساتھ پولیس اور ملٹری انٹیلی جینس نے بہت خوش اسلوبی کیساتھ تعاون کیا اور یہ پیشکش بھی ہوئی کہ حفاظت کیلئے پولیس دیدیتے ہیں۔ یہ تلقین بھی ہوئی کہ اپنے گھر کی چاردیواری بلند کرکے اس پر خار دار تار لگادو۔ مگر میں اپنی حفاظت کیلئے اتنے خرچے نہیں کرسکتا اور ایک شریف آدمی ہوں ،اسلئے اپنے ساتھ گارڈز بھی نہیں گھماسکتا ہوں۔ اور نہ ا نکے کھانے پینے کے خرچے اٹھاسکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا کہ آفتاب خان شیرپاؤ اور شیخ الحدیث مولاناادریس کو بھی بھتے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ مجھے دشمن کا پتہ نہیں بتایا گیا ہے ، حالانکہ ٹیلی فون نمبر اور گاڑی کی تصاویر بھیCCTVکیمروں کی مدد سے پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ خالد خان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے دشمن نہیں بتائے گئے جو بہت افسوسناک بات ہے۔
جب عمران ریاض خان کہتا ہے کہ ” میری ماہانہ آمدن کروڑوں میں ہے تو پھر بھتہ خور صحافیوں کا تعاقب کریں گے”۔ جب مولویوں نے زکوٰة خیرات کے علاوہ سودی بینکاری سے بھی کمانا شروع کردیا ہے تو بھتہ خور بھی اپنا حصہ وصول کریں گے۔ بھتہ خور کس کس سے بھتہ وصول کریںگے؟۔ اور وہ کن کن طاقتور لوگوں کے مرہون منت ہوں گے ؟۔ یہ بھی ایک مشترکہ کاروبار ہوسکتا ہے؟۔ اگر ان کو40سال تک اپنا پٹھو بناکر ہتھیار اور طاقت سے نوازا گیا اور اب ان کو40سال تک کسی دوسرے دھندے پر لگاکر بدنام کیا گیا کہ بھتہ خور معاشرے میں اخلاقی طاقت کھو بیٹھیں تو یہ ان کو تنہا نہ چھوڑنے اور اپنے انجام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوسکتا ہے اور یہ وسائل پر قبضہ کرنے کی اچھی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے مگرکیا قوم یہ بوجھ برداشت کرسکتی ہے؟۔ یہ بھی ایک سوال ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھتہ خوروں کو کھلم کھلی آزادی ملنے اور شکایت لگانے کی جگہ عوام ٹھکانے بھی لگانا شروع کردیں۔ جب ایک مرتبہ قومی سطح پر لوگ اُٹھ جائیں تو مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بھی بالکل صلاحیت سے محروم ہے۔ قومی ایکشن پلان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اتنا تعمیری کام بھی نہیں کیا جتنا پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے چندنوجوانوں نے قیام امن کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کیا۔ لیکن اس کا کوئی زیادہ فائدہ اسلئے نہیں ہوا کہ تعصبات کے رنگ میں نعرے لگائے گئے۔ پشتون قوم پرست اور مذہب پرست کے نام سے آج آمنے سامنے ہیںاگر پھر ان میں قتل وغارتگری کا سلسلہ جاری ہوا جس کے شدید خطرات ہیں تو بھی قوم وملک کا نقصان ہے اوراگر متحد ہوکر ریاست کے خلاف کھڑے ہوگئے تو بھی ملک وقوم کا نقصان ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جس کو آئین کے تحت توسیع مل گئی اور پونے دو سال تک مزید توسیع کی بھی گنجائش ہے۔ ملک جس سیاسی دہرائے پر کھڑا ہے ،اس کو کٹھ پتلی سیاستدانوں کے رحم وکرم پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور کسی نئے نظام کا نیا تجربہ بھاری پڑنے کا اندیشہ ہے۔ پرانے نظام کو چلانا بھی ممکن نہیں رہاہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ حکومت واپوزیشن جنرل قمر باجوہ کو ایک مزیدتوسیع دینے کا فیصلہ کریں تو بھی برا نہیں۔ اوریا مقبول جان نے یہ خواب بیان کیا تھا کہ پہلے نبیۖ کی طرف سے تحفہ ملتا ہے تو جنرل قمر باجوہ اس کو بائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور پھر حضرت عمر کے سمجھانے پر دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی احکام کو معاشرے تک پہنچایا جائے تو ہمارے ملک وقوم کا بھلا ہوسکتاہے۔خلافت کی تشریح جنرل باجوہ اور دہشتگردوں کو سمجھ میں آئے تو دنیا میں خلافت کے نفاذ کا راستہ بھی ہموار کرینگے اور لوگ بھی خوش ہونگے۔

www.zarbehaq.comا
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tvCaliphate has no place in society anymore. General Qamar Javed Bajwa

خلافت یا امامت

خلافت یا امامت

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی شیعہ شدید اختلاف کو کم کرنیکی ادنیٰ کوشش علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کی۔ اے کہ نشناسی خفی را ازجلی ہشیار باش اے گرفتار ابوبکر وعلی ہوشیار!

مملکت خدادادپاکستان اگرواقعی اغیار کی سازش تھی تب بھی یہ اللہ کا منصوبہ ہی تھا۔ انہم یکیدون کیدًا واکید کیدًا”وہ اپنا جال بچھاتے ہیں اور میں اپناجال بچھاتا ہوں”۔فرقوں اور مفاد پرستی سے بالاتر ہوکر اسلام کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت کرنا ہوگی!

فرقہ پرستی سے بالاتر اسلام کا آئینہ دکھائیں جس سے دنیا پرہمارا غلبہ تھا۔ سنی کے نزدیک خلیفہ کاا نتخاب عوام پر فرض ہے، شیعہ کے نزدیک امام کو اللہ منتخب کرتا ہے۔ سنی کے نزدیک ابوبکر، عمر، عثمان ، علی اور حسن کو عوام نے منتخب کیا۔30سال خلافت راشدہ رہی۔ شیعہ کے ہاں پہلا امام نبیۖ کا خلیفہ بلا فصل علی، دوسرا حسن، تیسرا حسین ، چوتھا زین العابدین اور…… بارواں مہدی ٔغائب محمد بن حسن عسکریموجودہ دور تک امامت کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیوں کے ہاں خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ و بنوعباس کی امارت اور سلطنت عثمانیہ کی باشاہت تک خلافت کا سلسلہ جاری رہا۔1924میں سقوطِ.خلافت کے بعد مسلمانوں نے تحریک سے خلافت کا احیاء کرنا چاہا لیکن اس میں ناکام رہے۔ پاکستان تحریک.خلافت کا تسلسل ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” آسانی پیدا کرو، تنگی نہ کرو، خوشخبریاں سناؤ، آپس میں نفرت پیدا مت کرو”۔ (صحیح بخاری) پاکستان کو مملکتِ خداداد کہنا ٹھیک ہے یا یہ کفر وگمراہی ہے؟۔ پاکستان کی نعمت پاکستان کے مسلمانوں کو مل گئی لیکن اس نعمت کا شکر ہم نے ادا کیاہے یا نہیں؟۔
75سالہ سرکاری تقریب میں قوم کی بچیوں کو بیہودہ ڈانس سے وزیراعظم اور حکومت کے وزیرومشیر محظوظ ہوئے تو کچھ نے خاصا اعتراض کیا اور صفِ ماتم بچھادیا۔ مریم نواز اور مولانا طارق جمیل جن شادیوں میں شرکت کرتے ہیں تو ان میں کیا یہ سب کچھ نہیں ہوتا؟۔ گزارش ہے کہ دوسرے کی بچیوں کو نچوانے کی جگہ اپنی بیگمات ، بہو اور بیٹیوں کیساتھ ہی شرکت کرتے۔ غم اور خوشی منانے کا جب ایک کلچر کسی معاشرے میں انسانی جبلت کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر وہ اپنی عادت سے مجبور ہوجاتا ہے۔ تیسری جنس خواجہ سراؤں کو جب تالی بجانے کی عادت پڑتی ہے تو حج میں ٹھوکر لگنے پر بھی تالی بجادیتے ہیں۔
اگر مہدی غائب کی حکومت ہواور عاشورہ کے جلوس سے منع کریں تو خطرہ ہے کہ شیعہ امامت سے انکار کردیںگے۔اسلئے کہ امام کی بات ماننے سے زیادہ اب ان بیچاروں کو عاشورہ ماتم منانا دین کی پہلی حداور آخری سرحد لگتی ہے۔
جن صحافیوں اور علماء ومفتیان میں تقویٰ نہیں بلکہ تقوے کا حیض ہے وہ بھی سرکاری تقریب میں ناچ گانے پراسلئے ناپسندیگی کا اظہارنہیں کرتے کہ وہ متقی و پرہیزگارہیں، ورنہ خانہ کعبہ کے طواف میں حجر اسود پر جس طرح جنونی مرد اور غیر محرم عورتیںآپس میں رگڑ کھاتے ہیں وہ سرکاری تقریب میں ناچ گانے سے کئی درجے زیادہ بدتر ہے جس پر انہوں نے کبھی بھی آواز نہیں اٹھائی ہے اور سود کو اسلام کے نام پر جواز بخشنا زیادہ خطرناک اور تقویٰ کے انتہائی منافی ہے۔
جب پبلک سروس کمیشن کا امتحان ہوتا ہے تو پاکستان میں بہت سے غریب اور بے سہارا ملازمین کو قابلیت کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ کوئی بچپن ، لڑکپن اور جوانی میں تعلیمی جدوجہد کا حق ادا کرتاہے تو پاکستان کی سطح پر منتخب ہوکر اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچتا ہے اور بعض لوگ اعلیٰ عہدوں پر منتخب ہونے کے بعد اپنی نااہلی اور خود غرضی کی وجہ سے معزول کردئیے جاتے ہیں۔ دنیا کے نظام سے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں بھی انتخاب کیلئے جدوجہد کا حق ادا کرنا پڑتا ہے اور پھر نااہلی کے سبب لوگ اپنے منصب سے معزول ہوتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملت ابیکم ابراہیم ھو سمٰکم المسلمین من قبل وفی ھٰذا لیکون الرسول شہیدًا علیکم وتکونوا شہداء علی الناس ” اور اللہ کے احکام میں جدوجہد کا حق ادا کرو، اس نے تمہیں منتخب کرلیا اور تمہارے لئے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور اس میں بھی۔ تاکہ تمہارے اوپر رسول خدا گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ”۔
صحابہ کرام نے رسول اللہ ۖ کی قیادت میں جدوجہد کا حق ادا کردیا۔ اپنے وطن سے ہجرت کی۔ کلمة الحق بلند کرنے میں قربانیاں دیں۔ مالی اور جانی قربانیوں کے علاوہ کوئی ایسی قربانی نہیں تھی جن کا ان کو سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور انہوں نے اس قربانی سے دریغ کیا ہو۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلسل ہر چیز میں مکمل رہنمائی وحی کے ذریعے سے فراہم کررہا تھا۔
فرمایا: قل ان کان اٰبآء کم وابناء کم واخوانکم و ازواجکم وعشیرتکم واموالکم اقترفتموھا وتجارة تخشونہ کسادہا ومساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجہاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یأتی اللہ بامرہ ان اللہ لا یھدالقوم الفاسقین ”فرمادیجئے کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان ، تمہاراوہ مال جو تم نے اکٹھا کررکھا ہے، تمہاری وہ تجارت جس کے خسارے سے تم ڈرتے ہو اور وہ ٹھکانے جن میں رہنا تم پسند کرتے ہو۔ تمہارے لئے زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ اور اسکے رسول اور اس کی راہ میں جدوجہد کرنے سے تو پھر تم انتظار کرو ،یہاں تک کہ اللہ اپنے حکم کے ساتھ آجائے اور بیشک اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے”۔ (القرآن)۔
صحابہ معیار پر پورا اترے تو لوگوں کے دلوں میں کھٹک پیدا ہوئی کہ ساری دنیا کے لوگ ان کو عزت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرینگے۔ اس خوف سے ان کے خلاف افواہیں پھیلا نے اور ہرطرح کی مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ یہ لوگ زمین میں کمزور پڑجائیں لیکن اللہ نے ان کو منصب امامت کے عہدے پر فائز کیا اور دشمن کی خواہش اور مزاحمت کی تمام کوششیں بالکل رائیگاں گئیں۔
ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجلھم الائمہ ونجلعلھم الوارثین ”ہمارا ارادہ ہے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنایاجارہا ہے کہ ان کو امام بنائیں اور انہیں زمین کا مالک بنائیں”۔ (القرآن) صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعیناور مسلمان پوری دنیا میں سپر طاقتوں کو شکست دیکرصدیوں منصبِ امامت اور زمین کی وراثت کے مالک رہے ہیں۔
حجاز کے باسی یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایسے خطوں پر ہماری حکمرانی ہوگی کہ جہاں دنیا میں جنت کے وعدے پورے ہونگے۔عربی میں جنت باغ کی جمع جنات ہے اور ایسے باغات جنکے نیچے نہریں بہہ رہی تھیںاسکا وعدہ اللہ نے دنیا کی دوسپر طاقتوں کو شکست دیکر پورا کیا تھا۔
شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب”منصبِ امامت ” میں امام کیلئے اللہ کے انتخاب کی وضاحت کی۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو باطن میں اولیاء کرام کے دو گروہوں میں کشمکش دیکھنے والے مولانا حسین احمدمدنی نے فرمایا کہ ” حامی گروپ غالب آگیا اسلئے پاکستان بنے گا لیکن میری بصیرت ہے کہ تقسیم ہند پر خون ریزی اور عزت دریوں کی مخالفت جاری رکھی جائے”۔ اگر پاکستان کا مخالف طبقہ پاکستان کو اولیاء کرام کی تائید قرار دیتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے لیکن اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ شیاطین الانس والجن نے یہ منصوبہ تیار کیا تھا تو بھی اس کو مملکتِ خداداد کہنے میں کوئی حرج اسلئے نہیں کہ اللہ نے فرمایا : انھم یکیدون کیدًا واکید کیدًا ”بیشک وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں”۔ (القرآن) شاہ اسماعیل شہید نے” منصب امامت” میں قرآنی آیت کے حوالے سے ملاء اعلیٰ کے فرشتوں میں جھگڑے کی بات لکھ دی کہ ”اللہ کبھی ایک گروہ کے حق میں فیصلہ کرتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں”۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ہیں”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ میرا اہل بیت ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔ حضرت محمد بن عبداللہ ۖکے بعددرمیانے زمانے کا مہدی پہلا شخص ہوگا جو نبیۖ کے بعد پہلی مرتبہ طرز نبوت کی خلافت قائم کریگا جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہوں گے۔ یواطئی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی ”اس کا نام میرے نام کیساتھ اور اسکے باپ کا نام میرے باپ کے نام کیساتھ جڑے گا”۔ اور مطلب یہ نہیں کہ اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔دنیا میں پہلے نمبر پر نبیۖ کا نام ہوگا اور جب وہ عدل وانصاف قائم کریگا تو دنیا میں دوسرانام اسکا نام ہوگا۔
اگر مرزاغلام احمد قادیانی دجال نبوت کا دعویٰ نہ کرتا تو علماء دیوبند اس کا پیچھا کرنے کی جگہ فقہی مسائل اور تصوف کی اصلاح کرتے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے ماموں کا قصہ لکھا کہ وہ کہتا تھا کہ میں ننگا ہوکر مجمع عام میں ایک ہاتھ سے اپنا آلہ تناسل پکڑ لوں گا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اپنے مقعد میں ڈالوں گا اور تم لوگ مجھے بھڑوے بھڑوے کہہ پکارو۔ یہ نیٹ پر بھی مل جائے گا لیکن اس کی زیادہ ضرورت اسلئے نہیں ہے کہ حیلہ ناجزہ میں عورت کو جس طرح حرامکاری پر مجبور ہونے کا فتویٰ جاری کیا گیا وہ اس بھڑوے سے ہزار گنازیادہ بدتر ہے۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی اگر علماء دیوبند کو اپنے فتوے ” حسام الحرمین” سے نہ ڈراتے تو اکابر دیوبند نے فقہ چھوڑ کر قرآن وسنت کی طرف متوجہ ہونا تھا۔ مولانا مودودی اسلئے فتنہ تھا کہ فقہی احکام کو سدھارنے کی جگہ قرآن وسنت کے گمراہانہ مفہوم سے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کردیا۔ ڈاڑھی منڈھے صحافی نے داڑھی رکھ کر مولویوں کو اپنے پیچھے لگایا اور غلط گمراہانہ اسلام کو سلیس انداز دیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس گمراہانہ اسلام سے متحدہ ہندوستان کا سیکولر نظام بہتر تھا تو جمعیت علماء ہند کے اکابر نے اس کو سپورٹ کیا اور قائداعظم کا اسلام بہتر تھا ،اس وجہ سے جمعیت علماء اسلام کے علامہ شبیراحمد عثمانی نے اس کو سپورٹ کیا۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے کہاکہ” اپنی ساری زندگی فقہ کی وکالت سے ضائع کردی”۔ جب دارالعلوم کا شیخ الحدیث اور مفتی محمد شفیع ، مولانا سید یوسف بنوری ، مولانا عبدالحقا کوڑہ خٹک اور مفتی محمود کے استاذ مولانا انورشاہ کشمیری نے زندگی ضائع کرنے کی بات کردی تو پھر شاگردوں نے اسی تعلیم وتعلم سے طلبہ کی زندگی کیوں تباہ وبرباد کردی؟۔ ظاہر ہے کہ مدرسہ دین کی خدمت سے زیادہ روزگار کا مسئلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا یوسف بنوری نے تقویٰ پر مدرسے کی بنیاد رکھی اور ختم نبوت کا مسئلہ جب ریاست پاکستان نے حل کرنا چاہا تو علامہ بنوری کی قیادت میں حل بھی ہوگیا لیکن جس سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ختم نبوت پر اپنا سب کچھ قربان کیا وہ ان سے زیادہ اہلیت اور قربانی کا جذبہ رکھتاتھا۔جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کا یونیورسٹی میں ایک قادیانی لڑکی سے معاشقہ ہوا تو اس نے مفتی ولی حسن ٹونکی سے فتویٰ مانگا کہ قادیانی لڑکی سے مسلمان کا نکاح ہوسکتا ہے؟۔ مفتی ولی حسن نے کہا کہ قطعی طور پر نہیں۔ اگر مفتی محمدتقی عثمانی ہوتا تو جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق سے قادیانی مبلغ جنرل رحیم الدین کی بیٹی کا نکاح پڑھانے کی طرح میرشکیل الرحمن کا نکاح پڑھانے سے دریغ نہ کرتا۔
میر شکیل الرحمن کی عاشقہ ومعشوقہ قادیانی لڑکی مرزا غلام قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کی نسل سے تھی اور اس نے کہا کہ مجھے قائل کرو، میں قادیانیت چھوڑ نے کوتیار ہوں۔ مولانا یوسف بنوری، مفتی ولی حسن ٹونکی ، مولانا عبدالرشید نعمانی تینوں نے بہت زور لگایا لیکن ایک قادیانی لڑکی کو قائل نہ کرسکے اور پھر ملتان سے مناظر ختم نبوت مولانا لعل حسین اختر کو بلوایا اور اس نے منٹوں میں قائل کردیا۔پھر وہ قادیانیت چھوڑ کر مسلمان ہوگئی۔ قادیانی ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں اور دوسرے ان کے باپ کے بھی قائل ہیں۔ قادیانیوں کا سخت مخالف طبقہ غلام احمد پرویز اور اسکے پیروکار بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ جنگ اخبار میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا جواب چھپ گیا کہ ” عیسیٰ علیہ السلام کے چچا نہیں تھے لیکن دو پھوپھیاں تھیں”۔ جس پر بڑا شور مچ گیا تو مولانا یوسف لدھیانوی نے لکھاکہ ” یہ میں نے نہیں لکھاہے”۔
لوگ قادیانی اسلئے بن رہے ہیں کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ مفتی محمد شفیع نے لکھا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہ تھا، مزرا غلام احمد قادیانی کا باپ تھا۔ حضرت عیسیٰ کی ماں کا نام مریم اور قادیانی کی ماں فلانہ تھی” اور پھر قادیانی کہتے ہیں کہ ہم جب عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت کے قائل ہیں تو کیسے عیسیٰ علیہ السلام کا خود دعویٰ کرسکتے ہیں؟۔ یہاں مسلمان متزلزل ہوتے ہیں۔ پھر جب بڑے معتبر ناموں کو دیکھتے کہ ابن خلدون اور جمال الدین افغانی ، مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر حیات عیسیٰ کے قائل نہ تھے ۔ احادیث کی کتابوں میں اسرائیلیات سے یہ روایات آئی ہیں تو ان کو بڑا جھٹکا لگتا ہے۔ پھر جب قادیانی کہتے ہیں کہ تم بھی عیسیٰ کی آمد کے قائل ہواور ہم بھی ہیں۔ لیکن ہم قرآنی آیات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب عیسیٰ سے خدا پوچھے گا کہ کیا آپ نے اپنے پیروکاروں کو گمراہ کیا تھا کہ آپ کو اور آپ کی ماں کو دومعبود بنالیں؟۔ تو عیسیٰ جواب دیں گے کہ جب تک میں انکے درمیان رہا تو میں نے یہ نہیں کہا اور جب آپ نے مجھے وفات دی تو میں نگران نہیں تھا۔ قادیانی جب قرآن میں حضرت عیسیٰ کے اٹھالینے کو موت سے تعبیر کرتے ہیں تو بھی اس میں وہ اکیلے نہیں ۔ بڑے بڑے لوگوں نے یہ باتیں لکھ دی ہیں اور جب نظر آتا ہے کہ ختم نبوت کے مفہوم پر اتفاق رائے موجود ہے لیکن ایک عیسیٰ کی ذات سے دوبارہ آنے کی امید رکھتے ہیں اور دوسرے یہ عقیدہ بتاتے ہیں کہ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون کیلئے موسی ہوتا ہے تو اس کا معنی یہ نہیں ہوتا کہ دوبارہ فرعون اور حضرت موسیٰ کی آمد متوقع ہے بلکہ یہ عام محاورے کی زبان ہے تو لوگ قائل ہوجاتے ہیں اور قادیانیوں کی طرف سے ان کو مراعات ملتی ہیں تو مولوی بھی اپنی مراعات کو دیکھ کرچلتا ہے۔
جس دن قرآن وسنت کے مقابلے میں فقہ کے گمراہانہ مسائل کا خاتمہ ہوا تو قادیانی بالکل ملیامیٹ ہوجائیںگے اسلئے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں دوسروں کی تحقیقات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہودی اسی وجہ سے ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ بنوری ٹاؤن سے چھپنے والی کتاب میں شیعہ کو قادیانیوں سے تین وجوہات کی بنیاد پر بدتر کا.فر قرار دیا گیا تھا۔ قرآن میں تحریف، صحابہ کی تکفیر اور عقیدۂ امامت۔ لیکن پھر شیعہ کیساتھ متحدہ مجلس عمل اور اتحاد تنظیمات المدارس کی سطح پر سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اکٹھے بیٹھ گئے۔
مولانا حق نواز جھنگوی نے کہا تھا کہ شیعوں سے ہمارا اختلاف قرآن اور صحابہ پر نہیں بلکہ عقیدۂ امامت پر ہے۔ ماموں کے جس تصوف کی مولانا اشرف علی تھانوی نے بات کی ہے اور جس طرح کے فقہی مسائل لکھ دئیے ہیں وہ قرآن وسنت اور صحابہ کے بالکل منافی ہیں۔ دیوبند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے سنت نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا تھا لیکن افغانستان، پختونخواہ ، بلوچستان اور اندرون سندھ کے دیوبندی مراکز نے یہ فتویٰ قبول نہیں کیا تھا۔ علماء دیوبند، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع نہ صرف ایک دوسرے سے بلکہ آپس میں بھی بدترین فرقہ واریت کے شکار ہیں۔ سب اپنی اصلاح، اسلام کی حقیقت اور ہدایت کی طرف آجائیں۔ عورت کے حقوق ہونگے تو جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علماء پاکستان مذہبی جماعتوں کو ووٹ ملیں گے لیکن جب اپنے چوتڑ پر پوٹی کی پپڑیاں جمی ہوں اور دوسروں کے ریح خارج ہونے پر اعتراض کریںتو امت کی اصلاح نہیں ہوسکے گی۔
عمران خان نے کہا کہ ”جب ایک سردار نے ایک غلام کو تھپڑ مارا تو نبیۖ نے بدلہ لینے کا حکم دیا”۔ مفتی سعید خان نے عمران خان کے نئے استاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حضرت عمر کے دور کا واقعہ ہے۔ جب وہ سردار مرتد ہوگیا تو حضرت عمر نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کو بدلے میں تھپڑ نہ مارتے اور جب حسان بن ثابت نے کہا کہ اچھا ہوا کہ اس کو تھپڑ مارا ہے تو حضرت عمر نے حضرت حسان ہی کو درہ مارا ”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ حضرت عمر کے دور میں امت طبقاتی تقسیم کا شکار کی گئی۔ نبیۖ سے صحابی نے کہا تھا کہ مجھے آپ سے انتقام لینا ہے اور پھر مہر نبوت کو چوم لیا تھا۔ نبیۖ کے بعد خلافت راشدہ میں بھی جبری ماحول مسلط ہوگیا تھا۔ اگر آزاد عدلیہ ہوتی تو حضرت عمر کو بھی حضرت حسان کے بدلے میں درہ مارا جاتا۔ صحابہ کرام کے مجموعی تقدس کے عقیدے کو معمولی معمولی واقعات کی وجہ سے پامال نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ایک رسول ۖ کی ذات ایسی تھی کہ درہ مارنا تو بہت دور کی بات تھی جب عبداللہ ابن مکتوم کی آمد پر پیشانی پر ناگوار ی کے اثرات مرتب ہوئے تو اللہ نے سورہ عبس نازل فرمائی۔ حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان وعلی پر وحی بھی نازل نہیں ہوسکتی تھی اور ان کی شخصیتوں کو نبیۖ سے بالاتر بھی نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔
شیخ الہند نے مالٹا سے رہائی کے بعد قرآن کی طرف توجہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہیں کی۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنے استاذ کی بات مان کر قرآن کی طرف توجہ کی لیکن اپنے علماء نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اب قرآن کی عام فہم آیات اور پڑھے لکھے دور سے انقلاب آسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نا اہل حکومت و ریاست

influencer social media, government of pakistan, government of pakistan, government of pakistan, qamar javed bajwa, sindh government, pakistan army, pakistan army, pakistan army

نا اہل حکومت و ریاست

بہت سے لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی sindh governmentکردار میں انتہائی خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ہیں جن پرفرداً فرداً سوشل میڈیا میں تجزئیے بھی ہیں

عدلیہ ، سولand و ملٹری بیوروکریسیsindh government اور سیاسی قیادت جیسے عام influencer social media لوگوں کو انصاف دینے اور ظلم و ستم سے بچانے میں ناکام ہیں مشکل وقت میں بہت سی جانیں بچ سکتی تھیںمگر نااہلی چھاگئی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ نےand فرمایا : ”جس نے ایک جان کو بغیر کسی جان یا فساد کےinfluencer social media قتل کیا تو گویا اس نے Qamar javed bajwaتمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نےsindh government ایک کوزندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں Qamar javed bajwaکو زندہ کردیا”۔ حکمران کیلئے موقع تھا کہ Pakistani Politiciansمشینری کو متحرک کرکے غریبوںand کی جانوں کو .بچانےPakistani Politicians میں بھرپور کردار ادا کرتےpakistan army تو گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہوجاتا۔


حکمرانوں کی شہ خرچیاں قرضوں pakistan armyپر چلتیand ہیں ۔ قرضوںso Qamar javed bajwaکا سود عوام پر مہنگائی کی شکل میں پڑتا ہے۔ جب عوامPakistani Politicians کو ضرورتinfluencer social media ہوتو ان کو بے. حسی soکا دورہ پڑجاتا ہے۔ نظام کو بدلنےsindh government کی جتنیso ضرورت اب ہے اس سے پہلے اتنی sindh governmentشدت soسےPakistani Politicians عوام میں کبھی احساسQamar javed bajwa پیدا نہ .ہوا تھا۔ جو سیاسی andقیادت شکایتand کرتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹso ان کی sindh governmentراہ میں رکاوٹ ہےso تو یہ بھی معلوم influencer social mediaہے sindh governmentکہ یہ سیاسیPakistani Politiciansso قیادتand اسٹیبلشمنٹand ہی Qamar javed bajwaکی پیداوار ہے۔ ان کا آپس soمیں تعلق مرغی اور انڈےPakistani Politicians کا ہے۔

government of pakistan

جو قائد sindh governmentاسٹیبلشمنٹ pakistan armyکے سانچے Pakistani Politiciansمیںso بن کر یا ڈھل Qamar javed bajwaکر نکلا ہواور پھر اسٹیبلشمنٹ پر اجارہPakistani Politicians داری قائم Qamar javed bajwaکرنے کی. کوشش کرتا ہوsindh government اس کی Pakistani Politiciansمثال مرغی کے بالغ چوزے کیPakistani Politicians ہے andجو اپنی. ماں کا خیال نہ Pakistani Politicians رکھے۔ پیپلز پارٹی، ن soلیگsindh government اورPTIسب andآزمائی ہوئیso وہ مرغیاں ہیں جن میں انقلابinfluencer social media Qamar javed bajwa اور آذان soسحر کیPakistani Politicians صلاحیت نہیں۔ بارش سے پہلے اطلاعات sindh governmentملتی ہیں ، سیلابیso sindh government ریلہ جب آتا ہے تو پہلے پتہ چلتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ذریعے Pakistani Politiciansمتاثرین کو .بروقت منتقل کیاand جاسکتا ہے۔

TEST

بے حسی کا یہ عالم ہے توinfluencer social media بیرونی دنیا کی طرف سے so اچانک حملوں کا دفاعinfluencer social media کیسےsindh government کیا جائیگا؟۔حکمرانوں Qamar javed bajwa کو. شرمand سے ڈوب soمرنا چاہیے۔مالی گوشوارےinfluencer social media چیک کرکے. اشرافیہ سے Pakistani Politiciansلوٹی ہوئی دولت چھینQamar javed bajwa کر متاثرین. کیPakistani Politicians بحالی کا کام .ہوسکتا ہے۔ متاثرینinfluencer social media کے اکاونٹsindh government کھول کر براہِ راست ان کوامدادیsindh government رقوم منتقل کی جائیں۔ اشرافیہ .کا پیٹ soبھرنے andکا نام نہیں لیتا ہے۔.

TEST

بے حسی کا یہ عالم ہے توinfluencer social media بیرونی دنیا کیsindh government طرف سے. soاچانک حملوں andکا دفاع کیسےsindh government کیا جائیگا؟۔حکمرانوں Qamar javed bajwa کو. شرم .سے ڈوبso مرنا چاہیے۔مالیand گوشوارےinfluencer social media چیک کرکے اشرافیہ سے Pakistani Politiciansلوٹی andہوئی دولت چھینQamar javed bajwa کر متاثرین .کیPakistani Politicians بحالی influencer social mediaکا کام ہوسکتا ہے۔ andمتاثرین کے اکاونٹ کھولsindh government کر براہِ راستso ان کوامدادیsindh government رقوم منتقل کی جائیں۔ اشرافیہ کاinfluencer social media پیٹ بھرنے کا نام نہیں لیتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

zarbehaq.com/blogs

جمہوریت یا خلافت

جمہوریت یا خلافت
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکیCIAہیروئن کی ا سمگلراورIMFسودکا دونمبرہے۔پاکستان اورافغا.نستان کو بلیک میل کرکے لڑائے گا اوربیش بہا خزانوں پر قبضہ کریگا؟
خلافت بیعت کے ذریعے جمہوریت ووٹ کے ذریعے آسکتی ہے۔خلیفہ ایک ہی ہوسکتا ہے اور جمہوری اقتدار مختلف لوگوں کے ذریعے مختلف ممالک اورصوبے میں ہوسکتا ہے!

پاکستان و افغا.نستان کے خزانوں سے لوگوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ پوری دنیا میں اس خطے کی قوم بہت عظیم ہے ۔ سندھی، بلوچ،پنجابی، پشتون، افغانی اور کشمیری دنیا کی امامت کے قابل لوگ ہیں۔ پشتونوں کی غیرت بہت مثالی ہے اور پشتون قوم میں بہت قبائل ہیں۔ محسود قوم نے بہت ہی تکالیف اُٹھائے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں محسود اور وزیر دونوں قبائل اپنی الگ الگ روایات اور اقدار کے حامل ہیں۔تحریک طا.لبان پاکستان میں بیت اللہ محسود سے مفتی نور ولی محسود تک طا.لبان لیڈر شپ کا نمایاں کردارتھا۔ اگرچہ نیک محمد وزیرسے مولوی نذیر یا موجودہ قیادت کا بھی نمایاں حصہ تھا۔ محسود طا.لبان نے ہمیشہ پاک فوج سے بھی ٹکرلی ہے اور وزیر طا.لبان کے تعلقات پاک فوج سے اچھے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے وزیر ایریا میں کبھی آپریشن کیلئے نقل مکانی کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ محسود قوم نے طا.لبان اور پاک فوج دونوں کے ہاتھوں تاریخی مار کھائی ہے۔ بے عزتی برداشت کی ہے۔ تکالیف اٹھائی ہیں لیکن جنگ نے ان کو خالص سونا اور کندن بنادیا ہے۔حکومت نے بارہا پیش کش کی ہے کہ تم اسلحہ اُٹھاؤ اور اپنی حفاظت کرو مگرمحسود قوم نے اجتماعی طور پر اس کو مسترد کیاہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں بھلے ماردیا جائے لیکن ہم اپنے علاقے اور قوم کی فضاء میں جنگ کا ماحول نہیں بنائیں گے۔ اگر پاکستان اور افغا.نستان نے محسود قوم کی عظیم فطرت اوروسیع تجربات سے کچھ سیکھ لیا تو بیرونی قوتیں ہمیںلڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔ نبی کریم ۖ نے ہجرت کرلی لیکن اپنی قوم سے مکہ میں لڑائی کی فضاء نہیں بنائی۔ حالانکہ امیر حمزہ، عمرفاروق اعظم، علی، ابوبکر اور ابوطالب ایک سے ایک بہادر طاقتور شخصیت وبنوہاشم کی قوت تھی۔

محسود قوم نے اپنے وسیع تجربے اور بہت نقصانات اٹھانے کے بعد فطرت کے تقاضوں سے جو کچھ سیکھا ہے وہ عرب کے ابتدائی مسلمانوں نے اللہ کی وحی اور پیغمبر اسلام ۖ کی حکمت سے شروع میں حاصل کرلیا تھا۔ اگر اسلام کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ آپس میں لڑمر کر کھپ جاتے تو پھر اسلام کا چراغ پوری دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست سے دوچار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب حضرت بلال اسلام کی وجہ سے مصائب جھیل رہے تھے۔ حضرت سمیہ کو دواونٹوں سے باندھ کر مشرکینِ مکہ نے دو ٹکڑے کردئیے تھے ۔ صحابہ مشکلات کی وجہ سے پہلے بھی حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پہنچ کر شکایت کردی تھی۔ جب رسول اللہ ۖ کا اجتماعی سوشل بائیکاٹ کرکے شعب ابی طالب میں تین سالوں تک مسلمان سخت ترین مشکلات کا شکار بنائے گئے۔جب رسول اللہ ۖ کو ابوجہل نے برا بھلا کہا تو امیرحمزہ نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ سیدھا کعبے پہنچے اور ابوجہل کو کمان مار کر کہا کہ ” اے چوتڑ پر خوشبو لگانے والے! میدان میں آجاؤ، میں نے اسلام قبول کیا ہے اور دیکھتا ہوں کہ تمہارے اندر کیا ہمت ہے کہ اسلام قبول کرنے پر کسی کو کچھ بول سکو!”۔ یہ کاروائی کرکے نبیۖ کو بتایا تو آپۖ نے فرمایا کہ مجھے اس پر کوئی خوشی نہیں ہے۔ مجھے اس وقت خوشی ہوگی کہ جب تم اسلام قبول کرلو۔ پھر امیر حمزہ نے اسلام قبول کرلیا۔ دوسری طرف ابوجہل سے ساتھ والوں نے کہا کہ ” امیر حمزہ نے اتنی غلیظ گالی بکی اور تم نے جواب تک نہیں دیا”۔ ابوجہل (جو ابولحکم کہلاتا تھا) نے کہا کہ ” اس وقت وہ اسلام کی وجہ سے نہیں آیا تھا بلکہ میں نے اس کے بھتیجے کی سخت بے عزتی کی تھی وہ اپنے بھتیجے محمد(ۖ) کا بدلہ لینے آیا تھا، اگر میں بحث وتکرار میں لگتا تو پھر یہ لڑائی عقیدے کی نہیں قبائل کے درمیان بن جاتی اور محمد مضبوط ہوجاتا”۔

مشرکینِ مکہ دشمن تھے لیکن اہل مدینہ اور اعرابیوں کی طرح ان میں منافقت نہیں تھی۔ نبیۖ نے ان کیساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا۔ بنوبکر مشرکینِ مکہ کا حلیف قبیلہ تھااور بنوخزاع مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا، بنوخزاع مسلمان نہیں تھا۔ معاہدے میں یہ طے تھا کہ حلیف قبائل کے درمیان جنگ ہوگی توان کی مدد نہیں کریںگے لیکن پھر مشرکینِ مکہ کے بعض لوگوں نے بنوخزاع کے خلاف بنو بکر کی مدد کی تھی،جس پر ان کو یہ توقع نہ تھی کہ مسلمان کا.فر حلیف قبیلے کی وجہ سے معاہدہ توڑ دیں گے۔ نبی ۖ نے کا.فر قبیلے بنوخزاع کیساتھ زیادتی پر بھی معاہدہ توڑ دیا تو مشرکین مکہ کے سردارابوسفیان نے مدینہ جاکر معاہدے کو قائم رکھنے کی بڑی منت سماجت کی۔ ابوبکر، عمر ، علی اور فاطمہسے بھی سفارش کی درخواست کی لیکن نبیۖ نے بات نہ مانی ۔ یہ بنوخزاع کا.فر کے حق کی خلاف ورزی کا معاملہ تھا۔

مضبوط اور اچھے اقدار معاشرے کے ماضی ،حال اور مستقبل کی عکاس ہوتی ہیں۔ نبیۖ کی بعثت سے پہلے اہل مکہ نے حلف الفضول میں غریبوں اور مظلوموں کی مدد کا معاہدہ کیا تھا اسلئے کہ جب حالات بگڑتے جا رہے تھے تو ان میں اپنے ماضی کے اقدار کو باقی رکھنے کا زبردست احساس پیدا ہوا تھا۔ جب اسلام کی شکل میں نئے دین نے کعبہ سے بھرے ہوئے بتوں کے خلاف آواز بلند کی تو مشرکینِ مکہ کو انتہائی ناگوار لگاتھا لیکن مضبوط اقدار کی وجہ سے مسلمانوں پر ایک دَم ہلہ بول دینے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ نبیۖ سے سخت نفرت ہوگئی تھی ۔اللہ نے فرمایا: قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ”کہہ دیجئے! میں تم سے اپنے مشن کا معاوضہ نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت”۔یہ قرابتداری،ایک قوم، ایک زبان، ایک شہر اور آپس کی رشتہ داریوں کی محبت کے بارے میں تلقین تھی کہ اور کچھ نہیں مانگتا لیکن اس فطری محبت کا خیال رکھ لو۔ اگر مشرکینِ مکہ میں کچھ شرپسند عناصر نہ ہوتے تو نبیۖ مکہ سے ہجرت نہ کرتے۔ ان شرپسندوں اور دہشت گردوں نے نبیۖ کی ذات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ہجرت کی رات جب علی نے نبیۖ کے بستر پر رات گزاری تو نبیۖ کو پتہ تھا کہ علی سے ان کی کوئی غرض نہیں ہے۔ جب فاروق اعظم نے ان بزدلوں کو چیلنج کیا کہ میں اعلانیہ ہجرت کررہاہوں، ہے کوئی جو اپنے بچوں کو یتیم اور بیگم کو بیوہ بنائے؟۔ ابوجہل جیسوں کے دروازوں تک پر دستک دی تھی۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ وماقدروا اللہ حق قدرہ ” اورا نہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق تھا”۔ بنی اسرائیل پر بیشمار نعمتیں اللہ کی طرف سے کی گئیں لیکن وہ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرسکے۔ انبیاء کرام کی بعثت سے فرعونوں کے ظلم سے بچایا۔ معاشرے میں امن وامان کی نعمت سب سے بڑی دولت ہے۔ مشرکینِ مکہ میں جب اپنی فطری اقدار کا توازن بگڑ گیا تو سب سے پہلے حلف الفضول کے ذریعے ان کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ پھر نبیۖ کے ذریعے پہلے آزمائش کا شکار کیا اور پھر خوف کے بعد امن کا تحفہ دے دیا تھا۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ظلم کی حکومت میں اللہ نے حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے ذریعے نمرود اور فرعون کا مقابلہ کیا۔اور حضرت یوسف کے ذریعے مصر کے بادشاہ اور عزیز مصر کی اصلاح فرمائی۔رسول اللہۖ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔

ہماری ریاست پہلے بھی امریکہ کی بادل ناخواستہ حمایت اور دہشتگردی کے ماحول کا سامنا کرچکی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے پرویزمشرف کی طرف سےIMFسے جان چھڑانے کے بعد پھر اس دلدل میں خود کو آہستہ آہستہ پھنسادیا۔ پرویزمشرف نے6ارب ڈالر کا سودی قرضہ لیا تھا۔ زرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ نوازشریف نے چین کے سی پیک کی مد میں اتنا پیسہ لیا تھا کہ اگر وہ چاہتا توIMFکا قرضہ مزید بڑھنے نہیں دیتا لیکن چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ شہبازشریف اور میاں نوازشریف نے پنجاب حکومت اور پاکستان کی مرکزی حکومت کو سودی قرضوں میں غرق کردیا۔IMFکے قرضے کو بھی30ارب ڈالرتک پہنچایا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ مرجاؤنگامگرIMFسے قرضہ نہیں لوں گا۔ پھر موت کے کنویں میںموٹر سائیکل پر چکر لگاکر ساڑھے تین سالوں میں قرضہ48ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ اتنی بڑی دلدل میں پھنسنے کے بعدیہ کہنا کہ ”ہمیں غلامی قبول نہیں ہے” اس سے بڑی حماقت کیا ہوسکتی ہے؟۔
امریکہ نے افغا.نستان اُسامہ کی تلاش میں تباہ کیا تھا، پھر عراق پر جھوٹے الزامات لگاکر حملہ کیا اور عراق کی مقامی عدالت کے مقامی جج سے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا۔ لیبیا پر بھی اٹیک کیا اور عراق ولیبیا کا تیل لوٹ کر لے گیا۔ خیبر پختونخواہ کی زمین میں بہت ذخائر ہیں۔ اگر پختونخواہ ہی میں ایسے مل لگ جائیں کہ چین خام مال منتقل نہیں کرنا پڑے تو پورا پاکستان اس کے ذریعے خوشحال ہوسکتا ہے اور خیبر پختونخواہ بھی جنت کی نظیر بن سکتا ہے۔ مولوی اور فوجی طبقہ جتنی زیادہ مشقت بھی اٹھاتا ہے لیکن ان کی قربانیاں ان کی کم عقلی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہی رائیگاں جاتی ہیں۔

افغا.نستان کے طا.لبان اور پاکستان کے حکمران مشترکہ طور پر ایک خلیفہ کی بیعت اور نامزدگی کا اعلان کردیں جو کھلے عام خلافت کا فریضہ اور شریعت کے نفاذ کیلئے لوگوں میں تبلیغ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس سے معاشرے کی فضاء اسلامی حوالے سے بہت بہتر ہوجائے گی۔ اگر امریکہ ڈرون سے اس کو نشانہ بھی بنالے تو مسئلہ نہیں دوسرا نامزد کردیں۔ اس طرح بیس افراد کی قربانی ہوجائے تو اکیسواں فرد خلافت کے قیام اور فریضے میں کامیاب بھی ہوسکتا ہے۔ بیعت کیلئے بہت لوگ بھی تیار ہوجائیں گے۔ جب میدان جنگ میں سپہ سالار جھنڈے بھی گرنے نہیں دیتے تھے تو مسلمان خلیفہ کی نامزدگی کے فریضے کیلئے قربانی کیوں نہ دیںگے؟۔ خلیفہ اعلان کرے کہ ہم مکی دور میں ہیں، ہم نے مزاحمت نہیں کرنی ہے توامریکہ کتنے ڈرون مار کر کتنوں کو شہادت کے منصب پر سرفراز کرے گا؟۔
شہادت ہے مطلوب ومقصود مؤمن
اقتدار کی خرمستیاں اور نہ کشورکشائی

پاک فوج کے اعلیٰ افسران شہید ہوگئے لیکن قوم کو کچھ نہیں ہوا۔ غم میں برابر کی شرکت ضروری تھی،اگر مریم نواز کو حادثہ پیش آتا تو قوم میں بھونچال پیدا کیا جاتا؟۔ بینظیر بھٹو کی شہادت پر سندھ کھپے کا نعرہ لگانا واقعی بہت ضروری تھا۔ ہم تو کرایہ کے بھاڑے سے اب لیڈر شپ پیدا کرنے اور ختم کرنے کے چکر میں ہی رہتے ہیں، پنجاب میں میت پر بین بجانے کیلئے کرائے کی عورتیں دستیاب ہوا کرتی تھیں اور اب ہماری بعض سیاسی پارٹیوں نے بھاڑے کے صحافیوں کو کردار سونپ دیا ہے۔ بدمعاشی اور زبردستی مسلط ہونے کے جذبات الگ ہیں۔

خلیفہ کی بیعت کے بعد خلیفہ قوم میں حقیقی جمہوری اقدار کیلئے راستہ ہموار کرے۔ کوئی بھی مسجد کا امام یا کوئی اچھے لوگ اپنی بیٹھک سے ابتداء کریں اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں کہ ہم جھوٹ نہیں بولیںگے۔ اقتدار کیلئے اپناعہدہ طلب نہیں کریںگے۔ طاقت اور مال کمانے کے چکر میں اس بیعت سے نہیں پھریںگے۔ کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے۔ گالیاں نہیں دیں گے۔ حرام خوری نہیں کریںگے۔ اچھائی پر تعاون اور برائی سے عدم تعاون کے پابند ہوں گے۔ اسی کی باتوں پر بیعت لینے کے بعد کثرت رائے اور ووٹ سے کسی کو امیر مقرر کریں گے۔ پھر یہ سلسلہ یونین کونسل، ڈسٹرکٹ کونسل ، صوبائی اور قومی اسمبلی کی حدوں تک بڑھائیں اور عوام کے اندر سے قیادتوں کو ابھار کر مضبوط بنائیںگے تو حقیقی جمہوریت کا راستہ بھی ہموار ہوجائے گا اور اقتدار کے مروجہ طریقے پر بھی کوئی اثر نہیں آئے گا لیکن عوام کی حقیقی رائے سے نہ صرف اصل قیادت سامنے آئے گی بلکہ لیڈر شپ کی غلط وکالت اور اخلاق باختہ رویوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔

آسمان سے اصلاح کیلئے فرشتہ نہیں آئے گا۔ قوم کے اچھے لوگوں نے ہی اس سیلاب کا راستہ روکنا ہے جسکے عوام وخواص ، غریب وامیر اور کمزوروطاقتور سبھی شکار ہورہے ہیں۔ ورنہCIAاورIMFخطے کو جنگ وجدل کا میدان پھر سے بنادیں گے اور اس مرتبہ پنجاب اور سندھ کے علاوہ ریاست اور حکمرانوں کا بھی پتہ صاف ہوجائے گا۔ حضرت یوسف نے انتہائی حکمت عملی کیساتھ مصر کی حکومت کو قحط سالی اور غریبوں کو ظلم سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آج ہم ریاست اور امریکہ سے لڑے بغیر اس خطے کو معاشی مشکلات سے نکال لیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ محسود جیسی عظیم قوم پوری دنیا میں کہیں بھی آج نہیں ہے اسکے اقدار کو طا.لبان اور ہماری ریاست نے تباہ کردیا لیکن اس میں ان کی اپنی غلطیوں کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ ان غلطیوں کو نہ دوہرانے کا عزم ہی انقلاب اور ہمارے معاشرے کی اصلاح کیلئے عظمت کی بہترین بنیادیں فراہم کرتا ہے۔

ایک طرف خلیفہ کی بیعت اور دوسری طرف دنیا کے جمہوری نظام سے وابستگی اور جمہوری طریقے سے اقتدار کا قیام امت مسلمہ کے ممکنہ مفادات میں سب سے بڑا مفاد نظر آتا ہے۔ شرعی خلیفہ کی تقرری کے بعد دہشت .گردی کی بنیاد پر انقلاب کا راستہ نہیں اپنایا جائے گااور جمہوریت سے مطلق العنان بادشاہت کا تصور ختم ہوگا۔ خلافت عثمانیہ بھی خاندانی لیڈر شپ تھی اور اس کے زیر سایہ مغلیہ سلطنت بھی خونی ڈکٹیٹر شپ تھی۔ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کیا اور فتاویٰ عالمگیری میں یہ دستور لکھوادیا تھاکہ ”بادشاہ پر قتل، چوری ، زنا وغیرہ کی حد نہیں لگے گی”۔جبری حکومتیں خلافت کیلئے مقدمہ ہیں ۔ خلافت راشدہ کے بعد امارت وبادشاہت کے ادوار تھے۔ جبابرہ عربی میں ہڈی جوڑنے کی پٹی کو کہتے ہیں۔ جمہوریت اور جبری حکومتوں میں بھی عدالت کے ذریعہ انصاف نہیں ملتا ہے لیکن مرہم پٹی کردی جاتی ہے۔ احادیث میں جبری حکومتوں کے آخر میں ایک خلیفہ کو جابر کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور یہ اس کا لقب بھی ہوسکتا ہے اور اس لقب کی وجہ جبری طرز عمل کی جگہ مرہم پٹی کے کام والا لگتا ہے۔ جس کے بعد دوسرے کئی ناموں کا ذکر ہے۔ عربی میں ایک سوشل میڈیا کا چینل اسلام ایچ ڈی (ISLAM HD)کے نام سے ہے اس میں مہدی آخری امیر سے قبل کئی خلفاء اور ادوار اور درمیان میں مختلف فتنوں کا ذکر ہے۔

آخر میں محسود قوم کیلئے وزیرستان کی پشتو زبان میں کچھ اشعار ہدیہ ہیں۔
اوال خالقے ویل چے ماسید قوم ڈیر لابا غڑائی دائی
ویس ویائی چے نن ماسید قوم ڈیر بے غڑائی دائی
پہ ژواندی کشے دائی ژوان دائی او پہ مڑکشے دائی مڑائی دائی
پارین پہ دنیا کشے لاکا غاٹ مانگور او نن دائی پڑائی دائی
ڈیر ہشیور دی دے غیرت نہ ڈاک یونیم سرغنڑائی دائی
شہ خلق او عالمون یے مڑہ کڑل چہ بے غیریاتا چھنڑائی دائی
1: پہلے لوگ کہتے تھے کہ محسود قوم بہت جلد باز اور ایمرجنسی والی ہے۔
2: اب لوگ کہتے ہیں کہ محسود قوم کے اعصاب بہت ڈھیلے ہوگئے ہیں۔
3: زندوں میں اب یہ زندہ ہیں اور مردوں میں اب یہ مرے ہوئے ہیں۔
4: کل دنیا میں ان کی حیثیت بڑے سانپ کی اور آج یہ رسی بنے ہیں۔
5: بہت ہوشیار ہیں اور غیرت سے بھرپور لیکن ایک آدھ بے ننگ ہے۔
6: اچھے لوگوں کو اور علماء کو قتل کردیا یہ کیسے بے غیرت طا.لبان ہیں۔
امریکہ نے ایک نمبر القا.عدہ اور دو نمبر القا.عدہ ، گڈ طا.لبان اور بیڈ طا.لبان کے درمیان اپنی پالیسیاں چلائیں۔ پاکستان میں سرنڈر طا.لبان اور باغی طا.لبان کا بڑا کردار رہا۔ جب لوگوں کو دبانے کیلئے سرنڈر طا.لبان نے بھی اپنا کردار ادا کیا تو باغی طا.لبان کا ان پر کتنا خوف ہوگا؟۔ مٹہ سوات میں بھی طا.لبان کی رٹ قائم ہونے کی خبریں ہیں اوراب وزیرستان میں بھی مہمان طا.لبان کو ٹھہرانے کی اجازت ملنے کی اطلاعات ہیں۔طا.لبان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہوںنے بہت خلوص کے ساتھ امریکہ کے خلاف جہا.د کرکے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے طا.لبان کے لبادے میں جرائم پیشہ عناصر کا بڑا کردار ادا کیا ہے۔ عوام کو دونوں کے درمیان فرق و امتیاز کا کوئی پتہ نہیں ۔ اسلئے بہتر ہے کہ اچھے اور باکردار طا.لبان اپنے سے بیکار اور بدکردار طا.لبان کو الگ کردیں۔ جب خشک لکڑیوں کو آگ لگتی ہے تو گیلے درخت بھی اس کے ساتھ جل جاتے ہیں۔ موت تک اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ جو لوگ مظالم کے مرتکب رہ چکے ہیں وہ خود ہی اپنے جرموں کی سزا کیلئے قوم و ملک کے سامنے خود کو پیش کریں۔ پاکستانی قوم اور پاکستانی ریاست ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے جدا اور الگ تھلگ نہیں ہیں۔ جب اسلامی احکام کی اصلاحات قوم و ملک کے سامنے پیش ہوں گی تو نہ صرف پاکستان کی ریاست بلکہ پوری دنیا کے تمام ممالک اس کا استقبال کریں گے۔ شیطانی قوتوں کی سب سے بڑی چاہت یہ تھی کہ اس خطے میں رہنے والی تمام قوموں کو اس حال پر پہنچایا جائے کہ کسی میں سر اٹھاکر جینے کی ہمت نہ ہو اور اس کیلئے سب سے زیادہ جانے یا انجانے میں طا.لبان دہشت گرد استعمال ہوئے ہیں۔ آج لوگوں کو ان سے کئی طرح کی نفرتیں ہیں لیکن اچھے کردار سے یہ محبت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔

 

آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے جاؤ لیتے جاؤ اور ملک و قوم کو ڈبوتے جاؤ ڈبوتے جاؤ!

آئی ایم ایف (IMF) سے قرضہ لیتے جاؤ لیتے جاؤ اور ملک و قوم کو ڈبوتے جاؤ ڈبوتے جاؤ!

سعودیہ و عرب امارات میں دریا نہیں، سمندر کے پانی کو میٹھا اور جدید سائنسی طریقے استعمال کرکے بڑے پیمانے پر ہریالی اور گندم اگائی گئی ،اپنی ڈفر ریاست نے تباہی مچادی!

ایک روپیہ پٹرول بڑھتاہے تو نوازشریف کے دل میں درد اٹھتاہے۔ مریم نواز۔ جب شہباز شریف نے پٹرول84روپے بڑھایا تو نواز شریف کو2014کے جنرل کا دورہ پڑا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہماری معیشت پر سودی نظام کے ذریعے قبضہ کیا گیا ۔1989میں پہلی باربینظیر بھٹو دور میںIMFسے قرضہ لیا گیا۔ پھر نام نہاداسلامی جمہوری اتحاد کے نوازشریف نے مزید قرضہ لیا۔ باری باری دونوں جماعتوں نےIMFسے نہ صرف قرضے لئے بلکہ کرپشن میں ایک دوسرے سے آگے نکل گئے۔ مشرف کی حکومت آئی تو2004سے2007تکIMFسے جان چھڑائی گئی۔ مگر پھر2008میں جنرل مشرف نے6ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ زرداری نے اس کو16ارب ڈالر تک پہنچایا اور نوازشریف نے30ارب ڈالر تک پہنچایا۔ عمران خان نے48ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ اب مفتاح اسماعیل سب کے ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے۔ عوام پرمہنگائی کا بوجھ اسلئے پڑ رہاہے کہ سودکی مد میں دی جانے والی رقم اب دفاعی بجٹ سے دگنی ہوچکی ہے۔ عوام دفاعی بجٹ کا رونا روتے تھے اور سودی رقم دفاعی بجٹ کے دگنی سے بھی بڑھ جائے تو ہمارا دفاع کن کے ہاتھ میں ہوگا؟۔ جب قومی اثاثے گروی رکھے جائیں گے تو ایسٹ انڈین کمپنی کی طرح ایک دن ہماری قوم، ملک اور سلطنت پھر اغیار کے ہاتھوں میں ہوگی۔

اب 20سال بعد پھر شریعت کورٹ نے سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں بدلنے کا جو فراڈ فیصلہ کیا ہے وہ بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ وفاق المدارس عربیہ پاکستان کے سابق صدرشیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان استاذ مفتی محمد تقی عثمانی اورسابق صدر ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے بہت کھل کر اسلامی بینکاری کے نام پر خالص سودی نظام کی شدید الفاظ میں مذمت اور دلائل سے تردید کی ہے لیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ پورے پاکستان کے تمام مدارس کے علماء کرام و مفتیانِ عظام نے سودی بینکاری کو اسلام کے نام پر جواز بخشنے کی مخالفت کی تھی لیکن دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید کراچی نے سودی نظام کو حیلے کے ذریعے اسلام کے نام پر جواز بخشا تھا اور اب وفاق المدارس پاکستان سے الگ بورڈ بھی بن گیا ہے تو ایک کا سربراہ مفتی محمد تقی عثمانی اور دوسرے کی سربراہی جامعة الرشید والے کر رہے ہیں ۔ گویا چت بھی حیلہ بازوں کی اور پٹ بھی حیلہ سازوں کی۔اسلامی سودی بینکاری کے ساز باز میں اب شریعت کورٹ بھی شامل ہوگئی ہے۔

سعودیہ اور عرب امارات میں کوئی دریا، نہر،ندی اور نالہ نہیں لیکن وہاں پر سمندر سے کھارا پانی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیتوں کو آباد اور بڑی مقدار میں گندم اگائی گئی ہے۔ہمارے ہاںقدرت کے عظیم نظام سے دریاؤں اور نالوں کا سلسلہ موجود ہے ۔ انگریز دور سے نہروں کا بھی سلسلہ ہے لیکن بہت طریقے سے جنگلات کو کاٹا گیا ہے۔ وزیرستان کے صحافی شفت علی محسود نے جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر آواز اٹھائی لیکن ہماری ڈفر ریاست اور حکمران طبقے نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس کی وجہ سے ایسا حال ہوگیا کہ کانیگرم بدر کی ندی تک میں پانی ناپید ہوگیا تھا جس کے خشک ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہم نے تصاویر شائع کی تھیں کہ کس طرح لکڑیاں جلانے کیلئے بٹے بنائے گئے ہیں جس کا کوئلہ بناکر ا.فغا.نستان کے راستے روس سے نوآزاد ممالک میں سمگلنگ کیا جارہاہے؟۔

حال میں تخت سلیمان پختونخواہ سے بلوچستان تک بڑے پیمانے پر جنگل کو آگ لگنا ،بونیر، سوات اور کشمیر کے جنگلات میں آگ لگنا اسی ہوس پرستی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اب ہمارے مقتدر طبقات کوئلے کی اسمگلنگ کرکے چلغوزے اور دیگر جنگلات پر اپنی ذاتی جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جب اس ملک سے ہریالی و جنگلات کا خاتمہ ہوگا تو قدرتی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سازش میں کوئی اور نہیں ملک کے محافظ حکمران طبقات کی ہوس اور نااہلی کی قیمت ہماری نسلیں چکائیں گی۔ جب جنرل ظہیرالاسلام سابقDGISIریٹائرڈ ہوگئے ہیں تو مریم نواز کا پاپا میاں نوازشریف کہتا ہے کہ مجھے2014کے دھرنے میں آدھی رات کو اس نے فون کیا تھا کہ اقتدار چھوڑ کر استعفیٰ دیدو۔ میں نوازشریف کسی کی غلامی نہیں مان سکتا۔ حالانکہ جب وزیراعظم بن کر تمہارا یہ حال تھا تو کیا غلام نیلے پیلے رنگ رنگیلے انڈے دیدتے ہیں؟۔ یہ سیاسی مرغیاں ہمیشہ کڑک رہتی ہیں جب بھی ان کو انڈوں پر بٹھاؤ تو خوش رہتی ہیں لیکن ان کو قومی مفادات سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے۔ چین نے پاکستان کو اہم کانفرنس میں اسلئے نہیں بلایا کہ زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے سی پیک کے مغربی روڈ کا افتتاح کیا تھا اور پھر کوئٹہ وپشاور کے مختصر راستے کو چھوڑ کر تحتِ لاہور کو نوازنے کیلئے سی پیک سے شیطان کی آنت بناڈالی۔19ارب ڈالر کی پہلی قسط میں10ارب ڈالربندر بانٹ کی نذر ہوئے اور9ارب ڈالر لگے تھے۔ سی پیک سے ہمIMFسے بھی جان چھڑاسکتے تھے۔ اب اگر دریاؤں میں جگہ جگہ بند بناکر پانی کو ذخیرہ کرنے کا کام کیا جائے اور پھر کالاباغ اور دیگر ڈیم بنائے جائیں جس کے فائدے متعلقہ و متاثرہ عوام کو دئیے جائیں اور اسلامی مزارعت شروع کی جائے تو بعید نہیں ہے کہ سستی بجلی اور سستی اناج سے ملک وقوم کی غربت ختم ہوجائے۔