پوسٹ تلاش کریں

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی

سانحہ جٹہ قلعہ گومل ٹانک کی19ویں برسی
31مئی2007ئ:خبریکم جون کو نشر ہوئی

اسلام میں نسل نہیں کردار اہم ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا :”تم سب ایک آدم کی اولاد ہو ۔ عرب عجم، کالے گورے کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں فضلیت کا معیار تقویٰ ہے”۔

مرشد حاجی محمد عثمان نے فرمایا” میرے والد ، والدہ دونوں سید ہیں”۔ کانیگرم وزیرستان ،گومل کے لوگ والدہ کے خاندان کوسید نہیں مانتے تھے ۔دونوں خاندان مرج البحرین تھے۔ ان کے درمیان برزخ ہے جو ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے۔

کانیگرم شہر دو ندیوں کے درمیان ہے۔ ایک مردوڑ لگاڈ ”ناپاک ندی”سے مشہورلیکن ناپاک نہیں ہے ۔

ھذا عذب فرات و ھذا ملح اجاج

”یہ میٹھا خوشگواراور یہ کھارا کڑوا پانی ہے لیکن کانیگرم کے ندیوں میں نام کا یہ فرق کیوں ہے؟۔ اس میں ایک بہت بڑے زبردست راز کی بات ہوسکتی ہے۔

میرے ننھیال اور دھدیال کے خاندانوں میں ہم نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اور دو مختلف وجود کے باوجود ایک قالب تھے لیکن جب2007ء کا سانحہ ہوا تو ابھی اس کی آگ نہیں بجھ سکی تھی کہ یہ وار بھی سرد جنگ کی طرح شروع ہوگئی۔ نانا سلطان اکبر نے جٹہ قلعہ گومل سکندر مرزا کو افغان پیر شیرآغا کو کرایہ پر دینے سے انکار کیا تھا۔ جو انگریز افغان قتل کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ میرے بھائی پیرامیرالدین شاہ ایکس کمشنر بنوں نے خواب دیکھا تھا کہ جٹہ قلعہ کی مسجد میں نبی ۖ تشریف لائے ہیں اور اس میں نانا خان کو سلام دینے کا بھی فرمایا تھا۔

ڈاکٹر آفتاب نے بتایا:مولانا اشرف خلیفہ سید سلیمان ندوی نے کہا کہ ” قائداعظم محمد علی جناح1940ء سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن اس کے بعد ایک سچے پکے مسلمان تھے”۔ صحابہ کرام پہلے جوبھی تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعدعکرمہ بن جہل، ابوسفیان، ہند سچے پکے مسلمان تھے۔ میرے ننھیال والے بھی کانیگرم کی آمد سے پہلے جو کچھ بھی تھے لیکن پھر اچھے بن گئے۔

جب2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی اور میں دوبئی منتقل ہوا تو اس کے بعد پھر سانحہ2007ء ہوگیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور ان میں مہمان بھی شامل تھے اور یہ پہلا سانحہ تھا جس پر طالبان نے معافی مانگی اور مجرموں کو کیفر کردار تک بھی پہنچانے کا کہا لیکن پھر آپریشن کی وجہ سے وہ افغانستان گئے۔

مجھے واقعہ کی صبح بتایا کہ یوسف شاہ کی بہن نے کہا کہ ”اگر گھر میں چھپایا ہے تونکالیں ورنہ گھر میں گھس کر تمہیں بھی نقصان پہنچادیں گے اور پھر یہ بھی کہا کہ” ہمارا یہ راز فاش نہ ہو ورنہ تو ہمیں اٹھالیں گے”۔پھر شہر یار نے خیبر ہاؤس پشاور میں بتایا:”طالبان کی میٹنگ کے ذریعے ذہن سازی کی گئی تھی کہ یہ گھرانہ بڑا ظالم ہے ۔ لوگوں کی بیویاں ،بچے چھینے ہیں”۔

میں نے17سال تک بہت باتیں سن لیں۔مجھے اصل چیز کی تلاش دو بنیادی نکات کی تھی۔ خاتون کیسے آئی اور میٹنگ کہاں اور کیسے ہوئی؟۔ لیکن دونوں چیزوں کا تذکرہ نہیں آیا۔

فیس بک پر گالیاں لکھ سکتے ہیں لیکن معقول سوال کا جواب نہیں دے سکتے؟۔ سب سے پہلے ممکنہ طور پر ڈاکٹر عبدالجباراور پیر عبدالغفار ایڈوکیٹ اور پیر حاجی عبداللطیف تینوںبھائیوں کو ملوث قرار دینے کا خدشہ سامنے آیا جس کو میں نے مسترد کردیا۔

پھر ان کے سوتیلے بھائیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے ٹھوس شواہد اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی مہم جوئی سامنے آئی لیکن وہ بھی میں نے اللہ کے فضل سے ناکام بنادی۔ کیونکہ ان کے ساتھ غیرت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں وجوہات سامنے رکھتا تھا کہ ہم سے انتقام لینے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے اسلئے کہ میٹنگ کا سراغ لگانا تھا۔ جب تک یہ کنفرم نہیں ہوجاتا کہ حقائق کیا ہیں؟ تو جن لوگوں کیساتھ ممکنہ مسائل ہوسکتے تھے تو ان سے بھی نفرت اور الزام قبول کرنے کی نوبت نہیں آئی اسلئے کہ ملزم مجرم نہیں۔ الزامات کی دنیا میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگااور بہت پاکیزہ ماحول والے صحابہ و صحابیات بھی ملوث ہوگئے۔ عاشق رسول نعت خواں حضرت حسان، حضرت ابوبکر کے رشتہ دار اور بدری صحابی حضرت مسطح، نبیۖ کی سالی حمنا تو بہتان لگانے والوں میں شامل تھے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔صحابہ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی تلقین کی گئی کہ افواہ سازی کا کام اور اسے پھیلانے سے اجتناب کرو۔

ہمارے آپس کے زمینوں کے بھی کچھ معاملات تھے اور اس پر تصفیہ کرنے اور حق داروں کو اپنا حق واپس کرنے کا بھی تہیہ کیا ہوا تھا۔پھر بیچ میں میرے بھائی پیر نثار اور کزن پیر ریاض شاہ ایکس انکم ٹیکس کمشنر کے درمیان زبانی تلخ کلامی ہوئی تو میرا بیچ میں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا پروگرام تھا کہ زبانی معاملات کا تصفیہ بھی اچھے انداز سے ہوجائے لیکن پھر محسوس کیا کہ معاملے کو جب تک تحریری طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جائے تو یہ داستان ستم کے بادلوں کے ڈیرے بڑھتے چلے جائیں گے۔

امیرالدین بھائی نے بہت ہلکا سا لیا تھا اور کہتے تھے کہ جلدی کرو لیکن مجھے پتہ تھا کہ کتے کی دم نے سیدھا نہیں ہونا ہے اور جب کوئی اتنا بے ایمان ہو کہ ایک مجلس میں اپنی لکھوائی ہوئی بات سے بھی نہ صرف مکر جائے بلکہ الٹی مہم چلائے تو اس کا ایک علاج تحریر اور اس کی تشہیر ہے اور دوسرا ویڈیو ریکاڑ د ہے۔
مجھے اصل خوف اس بات کا تھا کہ واقعہ کے پیچھے میٹنگ اور اس خاتون کی خبر کا ادارک اپنی جگہ پر رہ جائے گا اور ہم کسی بھی زبانی جمع خرچ میں الجھ جائیں گے۔ منہاج نے مجھے کانیگرم میں کہا کہ اپنے پردادا کی قبر تلاش کررہے ہو؟۔ میں نے اپنے اعصاب پر قابو پایا اور یہ نہیں کہا کہ تمہارے پردادا کی قبر لدھا میں روڈ کے کنارے نظر آتی تھی لیکن تم لوگوں نے خود کو لا تعلق کردیا ہے تو ہمیں بھی اپنا جیسا سمجھ رکھا ہے کیا؟۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دوسروں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی۔ ہیں وہ کم عقل کہ یہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کی اکثریت نے مٹھی بھر کرایہ کی خاطر استعما ل والے طبقے کی مخالفت کی تھی لیکن جس کو دیکھو اس کو بس بارود سے اڑادولیکن جو پال رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں؟۔

منہاج کبھی کہتا تھا کہ ”سبحان کا گھر بیچا ہے” اور کبھی کہتاتھا ”تمہارے اجداد ہمارے اجداد کے پیچھے کمبل گھماتے تھے”۔

میرے والد نے کانیگرم کے دوست کے انکار کے بعدجس زمین کاکہا تھا کہ بیچنے اور منافع کمانے کی چیز نہیں اور کانیگرم کے لوگوں کو پلاٹننگ کرکے دیتے تو دشمن نے جس راہ سے حملہ کیا تو اس راستے سے آنے جانے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ مذہبی جذبہ سے طالبان پالتے تو ہماری روح خوش ہوتی کہ چلو بے دین لوگ بھی دیندار بن گئے لیکن جس نے ساری زندگی اجداد سے علماء ، مساجد اور مذہبی معاملات سے منافرت رکھی ہو اور وہ ایسے موقع پر طالبان کے سہولت کار بن جائیں کہ جب مجھ پر2006ء میں فائرنگ ہوئی ،میرے بچوں اور ساتھیوں کیلئے سخت خطرات تھے تو مجھے غصہ تو آتا ہوگا؟۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نانا سلطان اکبر ، اس کے بھائی سید حسین شاہ اور سیدمحمد امین شاہ اور ماموں غیاث الدین شاہ اپنی قبروں میں بھی اس بہت بڑی بے غیرتی پر انتہائی غصہ ہوں گے کہ اتنا بڑا واقعہ2007ء میں ہوگیا اور یہ بے شرم ، بے حیا اور دلے پھر بھی پالتے ہیں؟۔

ایک مجرم ہوتا ہے اور دوسرا سہولت کار۔ سہولت کار بھی جرم میں برابر شریک ہوتا ہے ۔ ایک اصل محرک ہوتا ہے اور دوسرا صرف کرائے پر استعمال ہونے والا۔ میری دلچسپی اس میٹنگ میں تھی جنہوں نے طالبان کا ایک جتھہ ورغلا کر استعمال کیا اور کچھ لوگ خوش ہوں گے کہ ہم نے اپنی بے غیرتی کا بدلہ لیا ہے تومجھے اس پر فخر بھی ہے کہ کھل کر سامنے آنے کی جرأت نہیں کی اوریہ اعزاز کی بات ہے کہ کوئی بے غیرت پھر مزید بھی بے غیرت بن گیا۔ کوئی چھپ کر واردات کرتا ہے تو یہ اس کی بزدلی، بے غیرتی ، کمینہ پن اور بے ضمیری کے علاوہ ایک امکان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے لحاظ رکھا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ کسی بات میں100احتمال کفر کے اور ایک اسلام کا ہو تو ایک اسلام والا احتمال لو اور کفر کے احتمالات کو رد کردو۔

اے این پی کے1200افرادقتل ہوئے پھر میاں افتخار حسین کے بیٹے اور تمام خاندان کے اکلوتے وارث کو بھی شہید کیا گیالیکن میاں افتخار حسین نے پکڑے ہوئے قاتل کیخلاف بھی خود مقدمہ چلانے سے انکار کردیا۔ ذاتی دشمنی بہت ہی مشکل کام ہے۔ پھر اپنے قریبی رشتہ دار کیساتھ۔ پھر کسی ثبوت کے بغیر؟۔ لیکن جس طرح مہک ملک ایک طرف منبر پربیٹھ کر تبلیغ کرتی تھی اور دوسری طرف ڈانس کرتی ہوئی اس کا نیکر بھی نظر آتا تھا ۔ اسی طرح دو دھاری تلوار کی طرح کچھ لوگوں نے اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کا فلیٹ میں نے اسلئے اس داستان کیساتھ چھوڑ دیا تھا کہ اکبر علی کو جہانزیب کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اگر اکبر علی کو کہانی کا تھوڑا پتہ چلتا تو وہ کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ توہین کا انتقام آدمی توہین سے لیتا ہے لیکن کاروباری لین دین میں اونچ نیچ پر تلخ کلامی کوئی توہین نہیں ہوتی ہے۔ اگر میرے بھتیجے نعمان سے کسی کو قتل کروادیتے تو یہ2007ء کا حادثہ سے بھی زیادہ مشکل ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمٰی انما یتذکراولو الالبابOالذین یوفون بعھداللہ ولا ینقضون المیثاقOوالذین یصلون ما امراللہ بہ ان یوصل ویخشون ربھم و یخافون سوء الحسابOوالذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم و اقاموا الصلٰوة و انفقوا مما رزقناھم سرًا و علانیة ً و یدرء ون بالحسنة السیئة اؤلٰئک لھم عقبی الدارOجنات عدنٍ یدخلونھا و من صلح من اٰبائھم وازواجھم و ذرّیاتھم والملائکة یدخلون علیھم من کل بابٍOسلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارOوالذین ینقضون عھداللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امراللہ بہ ان یوصل و یفسدون فی الارض اولٰئک لھم اللعنة و لھم سوء الدار O

ترجمہ :” پس کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ تیرے رب کی طرف سے جو تیری طرف نازل ہوا ہے وہ حق ہے اس کی طرح ہوسکتا ہے کہ جو اندھا ہے؟ سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں ۔ وہی لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو نہیں توڑتے اور جو لوگ ملاتے ہیںجس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضامندی کیلئے اور نماز کو قائم کیا اور خرچ کیا جو اللہ نے انہیں دیا تھا چھپ کر اور اعلانیہ اور برائی کے بدلے میں اچھائی کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کیلئے پیچھے کا گھر ہے۔ہمیشہ کیلئے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور جو ان کے اجداد میں اچھے ہوں گے اور ان کی ازواج اور اولاد بھی اور ملائکہ ہر دروازے پر ان کے ہاں داخل ہوں گے۔ (کہیں گے) تم پر سلام ہو جو تم نے صبر کیا اور کیا اچھا پچھلا گھر ہے۔ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کے بندھن کے بعد اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کیلئے برا گھرہے”۔

سورہ الرعد کی ان آیات19سے25تک میں دو قسم کے افراد کا ذکر ہے۔ ایک وہ ہیں جو اللہ کے احکام کو حق سمجھتے ہیں ۔ دوسرے وہ جس کو کھلے عام اندھا قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ ہیں جو صلہ رحمی کے پابند اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو صلح رحمی کو توڑتے ہیں۔ ایک طبقے کو حساب کی فکر ہے اور دوسرے طبقے کو حساب کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

یہ خوشخبری صرف آخرت کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ہے۔ عمران بن حصین نے فرمایا کہ” پہلے ہم سنت پر عمل کرتے تھے تو فرشتے راستوں میں ہم سے مصافحہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے قرآن کے نازل کردہ احکام اور سنت کی جب مخالفت دیکھی تو سب کچھ ہم سے چھن گیا۔(صحیح مسلم) حضرت عمران بن حصین نے دنیاوی کامیابیوں کو کایابی نہیں سمجھا بلکہ قرآن کے احکام اور سنت کی مخالفت کے غم میں زندگی گزار رہے تھے۔

حال ہی میں ایک پختون11سالہ بچی کا واقعہ ہوا تو اس پر ایک طرف بلوچستان کے پختون مردوں کیساتھ عورتوں نے بھی بندوق اٹھائی تو دوسری طرف پشاور کے صحافی حضرات کی آراء مختلف تھیں۔ ایک ہائی پروفائل کیس پر اتنے تضادات کی وجہ یہ تھی کہ پختونخواہ کے اس ایریا میں پرانی ویڈیوز بھی بنی ہیں جہاں پولیس نے بے غیرت مردوں اور عورتوں کو اقبال جرم بھی کروادیا تو دوسری طرف بلوچستان کے لوگوں کو اصل کرتوت کا پتہ نہیں ہے۔ ٹانک میں بھی بیٹنی قبائل کے سردار کا بڑاشاندار استقبال لوگوں نے کیا لیکن اگر ایک طرف یہ الزامات لگانے والے ہیں کہ حروم سعید کے والدین دوسری لڑکیوں کے بیچنے کا فراڈ کرتے تھے اور خود پھنس گئے اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا یقین ہے کہ بچی اغواء ہوئی تھی اور بازیاب کرنے پر اکثریت خوش ہے اور مظلوم والدین پر گھٹیا الزامات کے خلاف ہیں۔

جن لوگوں نے ایک طرف جھوٹ بولا یا سچ؟کہ فلاں لوگ ملوث ہیں اور پھر قتل کروانے کی کوشش کی اور پھر طعنے دئیے مگر پھر ان کے ساتھ مل کر لکھا کہ ”ہماری وحدت میں دراڑ پیدا نہیں ہوسکتی اور انگریزی میں بے نامی خط لکھا دیا”۔میرا دل کوہ سفید کا برفانی پہاڑ بن جاتا تب بھی اتنا ٹھنڈا نہیں ہوسکتا تھا جتنا اس بات پر ہوا کہ کون کس کو کس کے خلاف استعمال کررہاہے؟۔

نبیۖ نے سود کو70سے زیادہ گناہوں میں سے کم از کم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیا۔ دارالعلوم کراچی کا مؤقف چھپا ہوا موجود ہے کہ شادی بیاہ کے لین دین میں لفافہ سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور پھر علماء دیوبند کے متفقہ فتوے کے باوجود بھی عالمی سودی بینکاری کو زیادہ سود کیساتھ اسلام کے نام پر جواز فراہم کیا۔ ہمارے نکاح پر حرامکاری اور اولادالزنا کے فتوے لکھنے والوں کو اللہ نے کس درجہ تذلیل کی پستیوں میں پہنچایا ؟۔ ہم تواس کا تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ اللہ اتنا مہرباں؟پھر کیا رکھوں اپنا گماں؟۔

دشمن میرے بہت ہیں کوئی ایک نہیں ہے
میں برا تو ان میں بھی کوئی نیک نہیں ہے
تیرہ افراد مہمانوں کے ساتھ ہوگئے شہید
کھاپی کے بھول جاؤ کوئی کیک نہیں ہے

جب رسول اللہ ۖ کی بعثت ہوئی تو ایرانیوں اور عربوں کی پہلی جنگ”ذی قار” ہوئی جس میں عربوں نے اتحاد کا بڑا مظاہرہ کرکے ایرانیوں کو شکست دی تھی۔ رسول اللہ ۖ کا اس میں دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن عربوں نے نبیۖ کی شہرت سن کر ”یا محمد یا منصور” کے نعرے لگائے تھے اور نبیۖ نے اس جنگ کو جیتنے کا کریڈٹ بھی لیا تھا کہ عربوں کی نبوت کی برکت سے فتح نصیب ہوئی اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ تعصبات کا نام نہیں تھا مگردنیا کی سپر طاقتوں کو مسلمانوں نے شکست دی۔

وزیرستان میں محسود اور وزیر کے علاوہ داوڑ اور برکی ہیں ۔ وزیروں کا قانون یہ ہے کہ دشمنی میں فیصلہ کرنے کے بعد پھر انتقام نہیں لیتے۔محسود وں کا قانون یہ ہے کہ کمزور طاقتور کے ساتھ وقتی طور پر صلح کرکے دیت لیتا ہے اور جب وقت آتا ہے تو پھر بدلہ اتارکر دیت واپس کردیتا ہے۔ ہمارا کانیگرم محسود قوم کیساتھ شامل ہے۔ کمزور نے طاقتور کیساتھ پریشر ڈالنے کے باوجود بھی صلح نہیں کی تو یہ کریڈٹ لوگ ہمیں دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے بدلتی ہوئی فضاؤں کو دیکھ کر طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ تیسرا یہ کہ بہت بعد میں مجھے یہ پتہ چلا کہ …

مفتی تقی عثمانی نے اس واقعہ کے بعد ہمارے خلاف اپنا فتویٰ فتاوی عثمانی جلد دوم2007ء میں چھاپ دیا تھا

اور پھر جب2022ء کو اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس کا پھر مجھے پتہ چلا۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مفتی تقی عثمانی اس درجہ بھی گرا ہوا ہوسکتا ہے ۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ غلیظ نے اپنی غلاظت کو اس طرح شائع کیا ہے تو طالبان کو دجال کا لشکر قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن سے کہتا کہ دجال سے بڑا دجال تو یہ دلا ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن خود بھی کم نہیں ہے اور جب ڈیرہ اسماعیل خان میںہمارے ساتھیوں کے پیچھے کسی اور کو آگے کیا تو مجھے الف سے ی تک سب پتہ تھا۔ نثار بھائی نے کہا کہ مولانا کے پاس جاتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ وہ سمجھے گا کہ مشکل میں سہارا لیا۔ پھر خلیفہ عبدالقیوم کے پاس گئے ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا کہ اصل مولانا فضل الرحمن ہے اور ٹانک میں میری حمایت کرنے والے علماء کو ان کے بیانات دکھا کر دباؤ بھی ڈالا تھا اور پھر خلیفہ عبدالقیوم نے بھی اشارہ دیا۔

ضلع ٹانک کے تمام مذہبی جماعتوں کی قیادت سے تائیدملی تھی۔ اقبالنے ابلیس کا اپنی مجلس شوریٰ سے خطاب لکھ دیا:

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مرگیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق حق سے جدا یا عین ذات
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلمان کیلئے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات ومنات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تابساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے تا قیامت رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعرو تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپادے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتاہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے

ہمارا مقصد ذاتیات نہیں بلکہ درست اقدار کا قیام ہے اور درست اقدار کے قیام کیلئے معروضی اور زمینی حقائق کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی کو سگی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا اور باپ کی منکوحہ بیویوں سے شادی کرنا غیرت کا تقاضا سمجھا جاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ مگر پہلے جو ہوچکا بیشک یہ فحاشی، غضب کاکام ،برا راستہ تھا”۔ قرآنی آیات اور نبیۖ کی سیرت طیبہ اس پر شاہد عدل ہیں۔ نبی ۖ نے جاہلیت کے سود اور قتل کا بدلہ لینے کو ختم کرنے کا آغاز اپنے خاندان سے کیا ۔ چھوٹی بڑی سطح کی اقدارغلط تو جرم مذاق اور مفاد پرستی بے غیرتی کی جگہ کمال بن جاتی ہے اوراس قسم کاDNAبہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس وائرس کے علاج کا آسان طریقہ ایک بہت بڑا اخلاقی آپریشن ہوتا ہے جس میں اس معاشرے کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد صحابہ کرام اور عربوں کی تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔

حاجی محمد عثمان پر آزمائش کے پہاڑ ٹوٹے تو منبر پر بیٹھ کر فرمایاکہ ایک مجذوب نے مجھ سے کہا کہ تیری صفائی ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ

وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ و اقمن الصلاة و اٰتین الزکوة و اطعن اللہ و رسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرًا O (سورہ احزاب آیت33)
”اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو اورپہلی جاہلیت کی طرح سے تبرج مت کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم سے گند کو دور کردے اور تمہاری اچھی طرح سے تطہیر کرے”۔

عورتیں پنج وقتہ نمازمسجد میں، لکڑیاں ، پانی ، رفع حاجت اورگند پھینکنے کیلئے روزانہ کی معمولات کے مطابق گھروں سے باہر نکلتی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں طواف اور سعی خواتین و حضرات شانہ بشانہ کرتے تھے اور تبرج جاہلیة کا مطلب واضح تھا کہ10اور بیشمار شوہروں اور اپنے کمزور شوہر کے مقابلے میں طاقتور خاندان یا اعلیٰ نسل کے لوگوں حمل کروانے ، خواہش پوری کرنے اور سکون کی تلاش میں گھروں سے نکلنا معمول تھا اور قرآن اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ لاترین ثدیکن اپنی حسن نساء مت دکھاؤ کی جگہ تبرج کے الفاظ کو استعمال کیا اور مخاطب عرب کی دوسری خواتین کی جگہ امہات المؤمنین ہی کو کیا ،جس طرح نبیۖ کو مخاطب کرکے اللہ نے جگہ جگہ وعیدوں کا ذکر کیا لیکن اصل مخاطب قیامت تک آنے والے ہیں۔

حضرت مریم علیہا السلام کی عزت پر بات آئی تو قرآن نے

والتی احصنت فرجھا فنفخنا من روحنا و جعلنٰھا وابنھا اٰیة للعٰلمین O

” اور وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس بیٹے کو تمام جہانوں کیلئے نشانہ بنایا ” (الانبیائ:91) میں اسی انداز میں صاف صاف الفاظ کے اندر بچایا بھی ہے۔

یہ آیت نازل ہوئی تو نبیۖ نے فاطمہ، حسن، حسین،علی پر چادر تھان لی اور پھر فرمایا: اللھم ھولاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیرًا۔ ” اے انکے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،پس ان سے گند کو دور کردے ۔اور ان کو اچھی طرح سے پاک کردے”۔ ام سلمہ نے عرض کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ (یعنی اس دعا میں شامل ہوں) نبیۖ نے فرمایا کہ انت علی مکانتک وانت الی خیر۔ تیرا مرتبہ اپنی جگہ پر ہے ۔تیری میری طرف نسبت زیادہ بہتر ہے”۔

میرے بھتیجے پیر عبدالصمد شاہ کا آدھا مجذوب بیٹا محسن جب چھوٹا تھا تو میں نے جٹہ قلعہ کے اڈے پر ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ساتھ لایا۔ اس کے دماغ میں ہوگا کہ کبوتر، خرگوش یا مرغی دے رہا ہوگا لیکن جب سکول کے گیٹ کی طرف احساس ہوا تو پوچھا کہ کہاں لے جارہے ہو؟۔ میں نے کہا کہ سکول میں تو فوراً وہ رونا شروع ہوا ،میں نے بھی فوراً چھوڑ دیا کہ جاؤ۔

ام المؤمنین حضرت سلمہ یہ جان بھی لیتی کہ اہل بیت کیلئے کیا آزمائش کی دعا مانگی جارہی ہے تو آپ نے انکار نہیں کرنا تھا لیکن نبیۖ کے ساتھ جن سختیوں سے وہ گزری تھیں تو مزید آزمائشوں کی ضرورت نہیں تھی اسلئے نبیۖ نے فرمایا کہ اس آیت کی پہلی مصداق تو آپ خود بہتر جگہ پر ہیں۔ شیعہ سنی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی حلوہ بٹ رہاتھا کہ کس اہل بیت کو ملے ؟۔

ماں عائشہ نے پہلے بھی آزمائش کا سامنا کیا اور بعد میں بھی لیکن حضرت فاطمہ، حسن ، حسیناور علی کو دعا نے شامل کردیا۔

ہراساں ہراساں جو ہیں اندھیروں کی شدتیں
پھلوں کو مٹھاس بخش دیں روشنیوں کی حدتیں
قرآن کی ٹھوس آیات خلفاء راشدین کے فیصلے
حلالہ کی لعنت رہے گی اور نہ کوئی بدعتیں
ظلم کی حکمرانی رہے نہ فرقہ پرستی کی فراوانی
کافر و مرتد کے فتوے رہیں گے نہ کوئی ردتیں

میرے ننھیال والے آزمائش کے شکار ہوئے بلکہ کچھ زیادہ اسلئے کہ حسینی ہیں؟۔ مجھے اپنی والدہ اپنے والد سے زیادہ پیاری تھی لیکن سوالات کے جوابات بنتے ہیں۔ یہ سب انکے اپنے ہاتھوں کی کمائی ثابت کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز ۔ لالچ و عزت دونوں کشتی کا ایک سوار ہو تو ایک کشتی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ تھانہ پولیس،عدالت اور پشتو خالوت جرگہ سے بہتر صفائی کے طریقہ کار دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہے۔ الزام کی تردید اور اٹھنے والے معقول سوال کا تسلی بخش جواب ہے۔خدا کی لاٹھی بے آواز اور پکڑ سخت ہے،آزمائش اعزاز اور ذلت وبال ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شمس الدین شگری:فراز صدیقی-قرآن کی سائنسی تفسیر اور الحاد

ڈاکٹر فراز صدیقی کہتا ہے کہ قرآن عرب کے دیہات کے ماحول کے مطابق تھا موجودہ سائنسی دور میں اس کی تعلیمات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب نالائق لگتاہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”مستقبل میں ہم تمہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور تمہاری جانوں میں بھی ”۔امریکہ بعد میں دریافت ہوا ہے جہاں دو سمندوں کے ملنے کا دنیا میں سب بڑا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی جان میں دو بحروں کے ملنے کا کیا مظاہرہ ہے؟۔ ڈاکٹر کو جنم دینے کیلئے اس کے والدین نے کشتی شروع کردی تو یہ مرج البحرین کا مظاہرہ تھا۔قابل ڈاکٹر سمجھ سکتا ہے کہ لاتعداد سپرم کے درمیان یلتقیان جو جھگڑا ہوتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سب زندگی کے سمندر میں اپنی بقاء کی جدوجہد کرتے ہیں اور آخرکار ڈاکٹر کی جان والدین کے نطفہ امشاج میں آگئی۔

بینھما برزخ لایبغیان

اس میں برزخ کی ایسی پروٹکشن ہوتی ہے جو ایک دوسرے پر تجاوز نہیں کرسکتے۔ نہ عر ب نے دنیا کے بڑے سمندردیکھے تھے اور نہ ان کو اپنے اندر نطفہ امشاج کے اس طوفافی بحروں کا پتہ تھا۔

قرآن نے واضح کیا : خلق الانسان من علق

”انسان کو لٹکی ہوئی چیز سے پیدا کیا”۔ ایک بالکل جاہل کہہ سکتا ہے کہ والد کے عضو تناسل کی پیداوار ہے۔ جرمن کا ایک ڈاکٹر صرف اسلئے مسلمان ہوا کہ عربی میں جونک کو علق کہتے ہیں کہ انسان کو رحم مادر سے جونک کی طرح چمٹا دیا جاتا ہے کہ اتنے عرصہ پہلے قرآن کو اس کا کیسے پتہ چلا؟۔ جبکہ یہ تو بالکل جدید تحقیق ہے۔

ڈاکٹر صاحب اپنے فن میں کوئی کمال دکھا کر شہرت حاصل کریں، اگر شلوار سرپر باندھ کر بھرے بازار میں پوٹی کرنے کا شوق شہرت کیلئے پورا کرنا ہے تو پچھاڑی میں سیٹی بھی لگائیں جو خوب بجے گی اور زبردست تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسلام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکتے تو پہلے اپنے فن میں کمال حاصل کرو اور پھر اپنے فن میں کمال حاصل کرنے والوں کی رائے قرآن کی کسی آیات اور معلومات کے بارے میں پہلے دیکھ لو پھر اس کے بعد تنقید کرنے کا کوئی معیار بھی بن جائے گا۔

سورہ فرقان میں بشر کو پانی سے پیدا کرنے اور نسب اور صہر دونوں رشتوں کی بات ہے۔ اگر اپنے فن میں کمال حاصل ہوگا اور پھر قرآن کی طرف آؤگے تو اپنا فن بھی زیادہ سمجھ میں آئے گا اور قرآن بھی۔ لیہ پنجاب میں ہمارے بیالوجی کے استاذ حضور بخش تھے۔ بیالوجی میں زندگی شروع ہونے کا تضاد تھا اور میں نے اعتراض کیا تو بعد میں نصاب سے وہ سبق ہی نکال دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مغوی بچی حورم پٹھان کی حالت بہت خراب تھی۔

مغوی بچی حورم پٹھان کی حالت بہت خراب تھی۔
کافی بچیاں اور خواتین قید میں تھیں۔
ڈاکوؤں کی قید سے بازیاب جینیفر کا انکشاف

ویڈیو میں عیسائی بچی جینیفر مسیح نے انکشاف کیا کہ مغوی بچی حورم پٹھان بھی سختیوں میں تھی اور بہت ساری بچیاں وہاں پر موجود ہیں جن کا مختلف علاقوں اور قوموں سے تعلق ہے۔ جب مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہوگا کہ نابالغ بچی کا نکاح اس کا والد کرسکتا ہے۔ بیچنے والے بھی موجود اور خریدار بھی اور اغواء کار بھی توہم سمجھتے ہیں کہ دلائل اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کی ضرورت ہے۔افغان طالبان نے9سالہ بچی کو بالغ قرار دیا تو اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ مفتی تقی عثمانی کہتا ہے کہ اگر وہ بالغ نہیں تو اس کے باپ کو جبر کا حق ہے۔ یہ تو بڑی معمولی بات ہے فتاوی عثمانی جلد دوم کے خطرناک حوالہ جات ہم کئی بار دے چکے ہیں۔ علماء کرام دین کے محافظ ہیں لیکن دین کو ہی بگاڑ دیا جائے تو پھر کس کے محافظ ہونگے؟سودی بینکاری کے ؟۔ یہ تاریخ کے ہرموڑ پر یوٹرن لیتے لیتے بھول بھلیوں میں پھنس چکے ہیں۔ طالبان تصویر ، داڑھی اور پردے پر اپنا رویہ کتنا تبدیل کرچکے ہیں؟۔ لشکر بلوچستان اور سندھ پولیس اور رینجرزکے ایکشن کو دونوں ہاتھوں سے سلام ۔شکار پور کے پولیس افسرSSPمحمد کلیم کو اسپیشل سلام۔ جس نے نہ صرف مغوی حورم پٹھان کو بازیاب کیا بلکہ متعدد بچیاں بھی بازیاب کیں اور ملا عبدالوحید آرائیں کو بھی موقع پر مار ڈالا۔ اس سے پہلے ایک اور دلال غلام یاسین بنگالی کو موت کے گھاٹ اتارنے کی خبر بھی آئی تھی لیکن پھراس کا تذکرہ دوبارہ نہیں ہوا۔

حضرت مولانا ولی اللہ معروف نے بہت سارے پرانے کیس کور کئے ہیں جن میں مختلف اقوام کی عورتیں بچپن سے ہی کسی اور قوم میں بوڑھی ہوگئیں۔ ہمارے کانیگرم میں بھی ایسی دو خواتین تھیں ۔ایک ہماری رشتہ دار اور دوسری مزارع کی بیوی جو سوات سے لائی گئی تھیں۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا کہ عورت کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا ہے ۔ فقہاء نے یہ مجبوری میں جائز قرار دیا۔ عورت تو خیر عورت ہے لیکن بچی کیساتھ یہ معاملہ اسلام کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ دور ملوکیت میں اس طرح کی روایات گھڑی گئی ہیں۔

حضرت عائشہ کے حوالے سے جو حدیث گھڑی گئی ہے تو اس سے زیادہ مضبوط روایات قرآن کی تحریف کے حوالہ سے بھی ہیں اور جن احادیث کو احناف نے رد کیا ہے تو وہ حضرت عائشہ کے6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی سے زیادہ مضبوط ہیں۔ علماء کرام اور مفتیان عظام حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی سے سبق سیکھ لیں۔1933ء میں وفات کی دہلیز پر پہنچے تو فرمایا کہ ”میں نے زندگی ضائع کردی۔ قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنا وقت ضائع کیا ”۔ علامہ انورشاہ کشمیری نے اپنے شوق سے وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ درس نظامی کی کتابوں میں اتنا الجھاؤ تھا کہ بقول مولانا ابوالکلام آزاد کے ایک ذہین آدمی بھی اس کو پڑھ کر کوڑھ دماغ بن جاتا ہے۔ مفتی سید عدنان کا کا خیل اور مفتی ولی مظفر اور دیگر مخلص اور قابل علماء کو نصاب کی تبدیلی کیلئے میدان میں لایا جائے اور بڑی بڑی چیزوں کی نشاندہی کی جائے تو بڑا انقلاب آسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انشاء اللہ ضرور آئے گا۔
ــــــــــ

9سالہ بچی کا واضح انکار

”میں زبردستی شادی نہیں کروں گی” پنو عاقل میں کمسن بچی کی فریاد، جرگہ نما فیصلے پر شدید تشویش۔سندھ پنو عاقل میں ایک کمسن بچی کی دل دہلا دینے والی فریاد سامنے آئی ہے، جس میں وہ واضح طور پر کہتی سنائی دیتی ہے ”میں وڈیرے کی بیوی نہیں بنوں گی۔بچی کی یہ آواز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کسی جوان لڑکی کی عزت بھی جبراً لوٹی گئی مگر ضمیر سوئے پڑے ہیں۔
ــــــــــ

بیوی کو غیر فطری سیکس سے قتل کر ڈالا۔ شوہر ہے یا جانور

News Dailyکے صحافی نے خانیوال کے المناک واقعہ پرBBCکی رپورٹ افسوسناک تبصروں پر ولاگ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مزید بے حسی اور بے ضمیری کی انتہاء ہے۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب غیر فطری جنسی عمل سے پیدا ہونے والی بے ضمیری کی انتہا تھی جس کی ایک جھلک یہاں بھی سنائی دیتی ہے۔ پروفیسر اورنگزیب حافی پراؤڈ آف پاکستان نے مقناطیسی کشش سے نئے سائنسی فارمولے دریافت کئے۔

جائز فطری جنسی عمل کے سامنے ناجائز غیر فطری جنسی عمل بہت بڑی تباہی ہے جس میں دو طرفہ فوائد کی جگہ ایک خواہش کا پجاری دوسرے پر جبراً مسلط ہوتا ہے اور یہ کام تجارت ، حکومت اور بین لاقوامی تعلقات تک سب کچھ کو ملیامیٹ کررہاہے جس سے دنیا کو واپس لانے کیلئے ہر سطح پر کوشش کی ضرورت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قابل تعریف فیصلہ

ایک غیر مسلم جج نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی یاد تازہ کرا دی اور اسلام کا اصل انصاف کر دکھایا اور ہمارے ”اسلامی”ججوں نے آج تک صرف ہتھوڑا مارنا سیکھا ہے۔ یہ کہانی پڑھ کے آپکو احساس ہوگا اصل انصاف کیا ہوتا ہے ۔

امریکہ میںCheckFraudیعنی جعلی چیک لکھنا ایک سنگین وفاقی جرم ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ایسا چیک لکھے جس کے پیچھے اکانٹ میں رقم نہ ہو، یا دستخط جعلی ہوں، یا چیک کسی اور کے نام پر ہو۔ اس نوجوان نے بھی یہی کیا اس نے ایک جعلی چیک لکھا۔ مگر یہ چیک کسی لالچ کیلئے نہ تھا۔ اس کی ماں بیمار تھی، دوا مہنگی تھی، انشورنس کمپنی نے انکار کر دیا تھا، اور اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ اس نے فارمیسی کے کاونٹر پر وہ چیک دیا جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا تھا صرف اسلئے کہ اس کی ماں زندہ رہے۔امریکہ میں جب چیک بینک میں جمع ہوتا ہے اور رقم دستیاب نہ ہو تو بینک فوری طور پر

Non-Sufficient Funds (NSF)

کا نوٹس جاری کرتا ہے۔ فارمیسی کو جب پتہ چلا کہ چیک باونس ہو گیا تو انہوں نے مقامی پولیس کو رپورٹ کی۔ امریکہ میں چیک فراڈ کی تحقیقات بہت تیز ہوتی ہیں بینک ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اور چیک پر لکھے نام سے چند ہی دنوں میں اس نوجوان تک پہنچ گئے۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا، ہتھکڑی لگائی، اور نارنجی جیل یونیفارم پہنا دیا۔ وہ لمحہ جب اسے گھر سے لے جایا گیا اس کی بیمار ماں نے دیکھا ہوگا۔ عدالت میں کیا ہوا؟

جب وہ جج کارلا جے اولڈز کی عدالت میں پیش ہوا تو اس پرجعلی چیک کے الزامات تھے جس کی سزا امریکہ میں ایک سے پانچ سال قید تک ہو سکتی ہے۔ وہ کٹہرے میں کھڑا تھا ،سر جھکا ہوا، آنکھوں میں آنسو، اور دل میں صرف ایک فکر کہ اگر جیل گیا تو ماں کا کیا ہوگا۔ جج نے جب اس کی پوری کہانی سنی جرم کی وجہ، ماں کی بیماری، معاشی مجبوری تو انہوں نے وہ کیا جو بہت کم جج کرتے ہیں۔ وہ اپنی اونچی کرسی سے اٹھیں، آگے جھکیں، اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی۔ پورا کمرہ عدالت خاموش ہو گیا۔

امریکی قانون میں عدالتی صوابدیدکا اختیار ہوتا ہے جج کو حق ہے کہ وہ ملزم کے حالات، ارادہ اور پس منظر دیکھ کر سزا کم یا معاف کر سکے۔ جج کارلا جے اولڈز نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تمام الزامات ختم کر دیے۔ مگر یہ صرف رحم نہیں تھا ۔یہ ذمہ داری بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”گھر جاؤ، ماں کی دیکھ بھال کرو، اور اس موقع کو ضائع مت کرو”۔قانون کہتا ہے جرم ہوا مگر جج نے دیکھا کہ اس جرم کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا انسان تھا، کوئی مجرم ذہنیت نہیں۔ یہی فرق ہے انصاف اور سزا میں۔یہ کہانی صرف عدالت کی نہیں یہ ہر اس معاشرے کا آئینہ ہے جہاں غریب کی مجبوری جرم بنتی ہے اور امیر کا جرم معافی پاتا ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں آج بھی ہزاروں لوگ اسلئے جیلوں میں سڑ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بھوک، بیماری یا مجبوری میں کوئی چھوٹا جرم کیا اور ان کی پوری کہانی کسی نے نہ سنی۔ اسلام کا نظامِ عدل کہتا ہے الضرورات تبیح المحظورات ضرورت حرام کو بھی جائز بنا دیتی ہے۔ امریکی جج نے وہ کیا جو اسلامی عدل کا تقاضا تھا۔ سوال یہ ہے کیا ہم اپنے نظاموں میں کیوںپوچھنا سیکھیں گے، یا صرف "کیا” دیکھتے رہیں گے؟
ــــــــــ

ملیر انویسٹی گیشن پولیس کی بڑی کاروائی۔ خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ گرفتار

پولیس کی بڑی کارروائی، خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ3ساتھیوں سمیت گرفتارSSPانویسٹی گیشن ملیر ماجدہ پروین ہالیپوٹو کی سربراہی میں ملیر کینٹ پولیس نے کارروائی کرکے مرکزی ملزم عامر علی کو گرفتار کیا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش17سے18لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے بھی اہم شواہد حاصل ہوئے۔ مزید کارروائی میں محمد زین، نعمان خان اور سعید کو بھی گرفتار کر لیا متاثرہ لڑکی نے شناخت پریڈ میں مرکزی ملزم کو شناخت کر لیا۔
ــــــــــ

قابل توجہ بڑا مسئلہ

تہمینہ شیخ نے سیالکوٹ کی رہنے والی اس پڑھی لکھی خاتون کا قصہ بتایا جو کسی ریٹائرڈ فوجی کی بیٹی تھی۔ بہن اور اکلوتا بھائی بھی تعلیم یافتہ تھے۔ ہوٹل منیجر کی نوکری میں ویٹر سے محبت کی شادی کرلی اور پھر دو بچے پیدا کرنے کے بعد مارپیٹ اور خرچہ مانگنے سے تنگ آکر علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر کسی شادی شدہ سے ایک شادی کی لیکن اس نے بچے قبول نہیں کئے۔ پھر دونوں آئیس کا نشہ کرنے لگے۔ آخرکار شوہر نے قتل کرکے گھر میں دفن کردیا اور پھر والدین کی آمد اور پولیس کی دھمکی پر بتاکر بھاگ گیا۔

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور احادیث صحیحہ کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کردیا جاتا تو پھر معاشرے کو مذہبی طبقے کی اس معاشرتی آفت کا سامنا روز روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہم بار بار ان باتوں کو دھراتے ہیں لیکن مذہبی طبقات کو مساجد اور مدارس میں درست تفسیر اور تشریح کی بہت سخت ضرور ت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

انمول انور محسود – انمول پنکی کوئین

انمول انور محسود

وزیرستان اور ٹانک کیلئے قابل فخر بیٹی انمول انور محسود نے سیشن جج، فوج میں کیپٹن اور اسسٹنٹ کمشنر تینوں عہدے کیلئے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ترجیح انتظامی عہدے کو دیدی۔ جب حضرت عمر نے حضرت شفاء بنت عبداللہ العدویہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ کے بازار کا انتظامی نگران مقرر کیا تھا اور حضرت صمرا بنت نہیک الاسدیہ رضی اللہ عنہا کو مکہ مکرمہ کا۔ ان کا بنیادی کام بازار میں خرید وفروخت،ناپ تول،اور تجارتی معاملات اور نظم و ضبط قائم کرنا تھا وہ بازاروں میں باقاعدہ گشت کرتی تھیں ۔ علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات میں شدت پسندی کے رحجانات پیدا کرنے میں بھی ہمارا کردار تھا اور ختم کرنیکی کوشش بھی ہمارافرض بنتا ہے۔ علماء کے فقہ وتفسیر کی الجھنوں کو دور کیا تو آسانی ہوگی۔
ــــــــــ

انمول پنکی کوئین

انمول پنکی کی ماں پنجابی اور باپ بلوچ ہے ۔حضرت اسحق کی والدہ ان کی خاندان سے اور حضرت اسماعیل کی والدہ غیر خاندان سے تھیں۔ حضرت یعقوب اور یوسف سمیت خاندان کو ہزاروں انبیاء اور بادشاہ سے نوازا گیا لیکن قریش انبیاء کے تسلسل سے محرومی کے باوجود بھی رسول اللہۖ کے دادا، والد ، چاچوں اور دیگر بعض صحابہ کرام کی قبل ازاسلام بھی عیسائیوں اور یہودیوں سے بہتر پوزیشن تھی۔ دور کے خاندانوں کے مکسچر میں اکثر اوقات صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ جب خاص لوگ کوکین سے مرگئے تو پنکی پر ہاتھ ڈال دیا لیکن جو شیشہ، آئیس، ہیروئن اور دیگر منشیات سے تباہ ہورہے ہیں۔ گھریلو تشدد اور دشمنی سے لیکر دہشت گردی تک منشیات کا بڑا عمل دخل ہے اور سرپر ست اعلیٰ صاحبان کا پتہ نہیں کہاں چرتے ہیں؟۔ قوم پر رحم کریں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے

قرآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے

حلالہ کے خاتمے کیلئے ٹھوس دلائل جسکے بعد اس لعنت کا باب بند ہوگا۔انشاء اللہ العزیز

قرآن میں سورہ الطلاق کی پہلی دو آیات میں طلاق کے حوالے بھرپور رہنمائی ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق واضح ہے۔ عورتوں کو اس کے گھر سے نکلنے اور نکالنے کی اجازت نہیںہے مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔کیونکہ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اللہ کی حدود کو پار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان عدت میں موافقت کی کوئی راہ نکال دیں۔پھر جب عدت مکمل ہو تو پھر معروف طریقے سے روکنے یا معروف طریقے سے عورت کو چھوڑنے کا حکم ہے۔ جس پراپنے میں سے دو عادل گواہ بنانے کی بھی ہدایت ہے جو اللہ کیلئے گواہی کو قائم کریں۔ پھر جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکال دے گا۔

سورہ طلاق کا یہ بنیادی نصاب ہے جس نے جاہلیت کے سارے دروازے بند کردئیے۔ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے ۔امام شافعی امام مالک کے شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد کے بھی امام شافعی شاگرد تھے۔

امام بخاری اورامام ابوداؤد دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ امام احمد بن حنبل کے دور میں عباسی خلفاء بہت متعصب قسم کے معتزلہ بن چکے تھے۔مامون الرشید، معتصم باللہ ، واثق باللہ نے امام احمد بن حنبل پر بہت تشدد کیا اور قید و بند میں رکھا۔ پھر جعفر متوکل علی اللہ نے232ھ میں خلافت عباسیہ کے99سال بعد خلافت سنبھالی تو اس نے امام شافعی کے مسلک کو اختیار کیا۔ اور معتزلہ کا جڑ سے خاتمہ کردیا۔99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ کو لوٹا دیا تھا۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کو رائج کیا مگر امت مسلمہ کا رحجان قرآن کی طرف کمزور اور احادیث کی طرف بڑھ گیا۔ امام ابوحنیفہ امام باقر، جعفر صادق اور امام زید کے بھی شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ نے اپنے رحجان میں قرآن کو ہی مقدم رکھا تھا۔اگر امام ابوحنیفہ کی طرف امت مسلمہ کارخ موڑ دیا گیا تو ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا”۔ (مقام محمود تفسیر پارہ عم۔ سورہ القدر )

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح ، جائز ہیں اور دلیل صرف ایک حدیث ہے۔عویمر عجلانی نے لعان کیا تو بیوی کو تین طلاق دی۔ قارئین غور کریں کہ کیا اس سے حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز ثابت ہوتا ہے؟۔ امام شافعی کے نزدیک لعان طلاق بائن ہے جسکے بعد طلاق واقع بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں عدت کا لحاظ رکھے بغیر چھوڑنے کی تفسیر ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری شافعی مسلک کے عباسی خلیفہ جعفر متوکل علی اللہ کے دور میں رائج ہوئی ہے۔ جس میں شافعی مسلک کو امام شافعی سے بھی زیادہ احادیث کے اندراج کا کمال انجام دیا ہے۔ علامہ اقبال نے لکھا ہے کہ
کمال جوش جنوں میں رہا گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

ا قبال خانہ کعبہ نہیں گئے مگر شاعرانہ تخیل میں غلافِ کعبہ کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کردیا۔ امام بخاری نے فقہ سے نابلد ہونے کے سبب امام شافعی کی تائید اور امام ابوحنیفہ کی تردید میں وہ آیت اور حدیث درج کردی جس نے امت کے روشن دن کو رات کی تاریکی میں ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا۔

باب: من اجاز الطلاق الثلاث کے تحت لکھا کہ
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان (سورہ بقرہ آیت229)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے”۔

رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی پھر اس نے کسی اور شخص سے شادی کی اور نبیۖ کو اپنے دوپٹے کا پلو دکھایا کہ اسکے پاس ایسا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: کیا رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو ، نہیں لوٹ سکتی یہاں تک کہ تم اس کا شہد نہ چکھو جیسا کہ پہلے کا چکھا اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے”۔ (صحیح بخاری)

امام بخاری نے قرآن کی آیت کو بھی اپنی کج فہمی کی وجہ سے درج کیا اور حدیث کو بھی۔ یہ تو امام شافعی کا استدلال بھی نہیں تھا۔ ہمارا ایک دوست عبدالمنان کنڈی عرف بانٹی کہتا تھا کہ ”نابلد چوروں نے مسجد کو توڑ ا تھا”۔ پہلے مسجد کا تقدس ہوتا تھا اور اس میں چوری کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دروازہ بھی کھلا رہتا تھا۔ ایک طرف سے چوروں نے مشکل سے سوراخ کیا ہوگا اور پھر پتہ چلا کہ یہ تو مسجدہے۔

قرآن کی جو آیت الگ الگ طلاق دینے کی دلیل تھی تو یہ بخاری میاں اس کو امام شافعی کی دلیل میں لائے۔ پھر حدیث بھی وہ لائے جو صحاح ستہ میں کسی اور نے یہ حرکت نہیں کی اور عقلاً و نقلاً کسی طرح کسی کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ جبکہ بخاری کی اپنی دیگر روایات میں بھی اس کی بالکل نفی ہے لیکن جو علماء ومفتیا ن اس کو نقل کرکے لوگوں کی عزتوں کو تار تار کرتے ہیں وہ شرم، حیا، ایمان، انسانیت اور غیرت سے عاری ہیں۔

بخاری کے استاذ احمد بن حنبل نے اپنے استاذ امام شافعی کا مسلک اختیار نہیںکیا اور اکٹھی تین طلاق کو سنت یا بدعت میں متذبذب تھے۔ان کا ایک قول سنت اور دوسرا بدعت کاہے۔

امام ابوداؤد اپنے استاذ امام احمد بن حنبل کے مسلک پر تھے اور اس نے وہ حدیث درج کی جس نے محدثین کرام پر اس افادیت کو واضح کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ ”کسی ضعیف حدیث کو بھی مسترد مت کرو،اگر اس کی تطبیق ہوسکتی ہو اور قرآن کے خلاف کسی صحیح حدیث کو بھی مت مانو”۔ چنانچہ ابوداؤد نے حضرت رکانہ کے والدین کا واقعہ نقل کیا ہے جب ابورکانہ نے اپنی بیوی ام رکانہ سے سورہ طلاق کے مطابق علیحدگی اختیار کی اور اس پر گواہ بھی بنالئے۔ پھر کسی اور عورت سے شادی کی پھر اس نے نامرد کا الزام لگایا اور اس کو طلاق دی تو پھرنبیۖ نے فرمایا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟” انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا۔ نبیۖ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات کی تلاوت فرمائی۔

ابوداؤد کی یہ روایت قرآنی تعلیمات کا زبردست آئینہ ہے لیکن امام بخاری اپنے دور کے عباسی خلیفہ متوکل کا ہم مسلک تھا اسلئے حکمران نے چار چاند لگادئیے۔ جیسے آج مفتی عبدالرحیم پاسدارانِ اقتدار کامنظور نظر ہے ۔ جاوید چوہدری ،سلیم صافی اور میڈیا نے مقبولیت و شہرت کے بڑے درجے پر پہنچایا ہے۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ افراد کا قتل بھی شریعت قرار دیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ کتا کچھ مالک کیلئے بھونکتا ہے اور کچھ اپنے لئے۔ حنفی علماء بھی کچھ صحیح بخاری کا تقدس سمجھتے ہیں اور کچھ حلالہ کے چکر کاہے۔پھر رفع الیدین کی احادیث کیوں نہیں مانتے ؟۔ میٹھا میٹھا ہپ ،کڑوا کڑوا تھوتھو؟۔

سورہ الطلاق اور سورہ بقرہ میں تضاد نہیں۔ سورہ طلاق میں حلالہ کی لعنت ختم تو سورہ بقرہ نے گنجائش نہیں چھوڑی۔ فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد آیت230البقرہ کا تعلق البقرہ229کے فدیہ اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا عورت کی آزادی سے ہے(اصول فقہ)۔ امام ابوحنیفہ کے پیشرو سعید بن جبیر سے محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان و شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان تک ایمان کی شمع جلانے کاایک تسلسل رہا۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ والد کورسول اللہۖ کی قبرسے آواز آئی۔ ہم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر پر گئے تھے توسید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی قبر سے بزبانِ حال شیخ سعدی کے اس شعر کو پڑھ کر اپنے تأثرات کا اظہار فرمایا تھا۔

سورہ الطلاق میں حکم تھا کہ ”اے نبی ! جب تم لوگ النساء کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور عدت کو گن کر اس کا احاطہ کرو…”

دلے ودلال عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کیلئے بھی حیلے تراش لیتے ہیں تو حلالہ کیلئے بھی حیلہ تراش سکتے تھے کہ اللہ نے سورہ الطلاق میں جس طرح کا حکم دیا ہے تو اس کی کوئی خلاف ورزی کرے تو ہوسکتی ہے اور اکٹھے تین طلاق بھی دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ چوری اور زنا منع ہے لیکن کوئی کرے تو منع ہونے کے باوجود بھی چوری اور زنا کرسکتا ہے۔

امام مالک کے سوفٹ وئیر کو جب اپڈیٹ کردیا گیا تو موطأ امام مالک میں روایت درج کردی کہ عبداللہ بن عباس سے کسی نے اکٹھی تین طلاق پر فتویٰ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پہلے تم طلاق دیتے ہو اور پھر فتویٰ پوچھتے ہو؟۔ تم نے اللہ کا خوف نہیں کھایا اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ”جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے راستہ کھول دے گا”۔ امام مالک کو ہشام بن عبدالملک نے موطا کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی پیشکش کی لیکن انکار کردیاتھا۔

جب ایک عورت کو اس کا شوہر اکٹھی تین طلاق دے ۔پھر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو یہ بھی درست ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرا اور اگر وہ عدت کے مطابق مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دیتا تو پھر یہ اللہ کا خوف بھی تھا اور عورت بھی رجوع کیلئے راضی ہوسکتی تھی۔ امام مالک نے اپنے طور پر یہ بالکل درست نقل کیا لیکن ان پر حکمرانوں کا بہت سخت دباؤ بھی تھا۔ اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں تھی کہ عبداللہ بن عباس کے فیصلے اور فتوے میں فرق تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصلہ تنازعہ کی صورت میں ہوتا ہے لیکن فتویٰ تنازعہ کی صورت میں نہیں ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے یہ استفتاء لیا کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دئیے تو فتویٰ کیا ہونا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نمبر1:رجوع ہوسکتا ہے۔ اس پر قرآن کی کئی آیات کی وضاحت موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سمجھتے تھے۔
نمبر2:رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جب عورت راضی نہ ہو۔

فیصلہ تنازع کی صورت میں ہوتا ہے اور تنازع میں عورت راضی نہیں ہوتی ہے اور جب عورت راضی نہیں ہو تو رجوع بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عبداللہ بن عباس کے قول اور عمل میں تضاد کے اندر عمل کو ترجیح دینے والے جاہل یا حلالہ کے رسیا ہیں۔

حضرت عمر کے دور میں تنازعہ کا معاملہ تھا اسلئے تین طلاق پر عورت کے حق میں فتویٰ دے دیا گیا۔ امام شافعی نے اور بہت سارے معاملات کی طرح اس میں بھی حضرت عمر کے حق میں مہم جوئی کی ہے کہ تین طلاق نہ صرف واقع ہوتی ہیں بلکہ سنت بھی ہیں اسلئے کہ انہوں نے روافض کا داغ بھی مٹانا تھا اور اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ اس حدیث سے زیادہ فاطمہ بن قیس کی طلاق کا عمل تھا جس میں ان کو عدت عبداللہ بن مکتوم کے گھر میں گزارنے کا حکم دیا گیا ۔حالانکہ ان کے شوہر نے مرحلہ وار تین طلاق کا نصاب بھی پورا کیا جو امام شافعی کیلئے دلیل نہیں مگر لعان کی روایت سے طلاق کا یہ عمل زیادہ حضرت عمر کے فیصلے کو تقویت بخشتا ہے۔ جبکہ حضرت علی کا حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دینا مزید اس موقف کی تائید ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو رجوع کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔

رسول اللہ ۖ کیلئے ایلاء کے موقع پر تمام ازاوج مطہرات کو طلاق کا اختیار دینے کے حکم سے حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس کے فیصلوں کی زبردست توثیق ہے۔

اصل مسئلہ اس وقت بگڑ گیا کہ جب عبدالملک بن مروان نے اپنی بیوی ام بنین کو طلاق دی اور وہ طلاق پر خوش تھی۔ ام بنین حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بہن اور عبدالملک بن مروان کے چچا عبدالعزیز کی صاحبزادی تھی۔ عبدالملک بن مروان کو خادم کے ذریعے پتہ چلا کہ ام بنین نے عدت میں بھی معذرت کرنے کا یامعافی مانگنے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا ہے۔ پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان نے خود رجوع کرلیا ،جس پر اس کا درباری مذہبی طبقہ اس بات پر متفق ہوا کہ طلاق رجعی شوہروں کا حق ہے۔ اس سے پہلے ہشام بن عبدالملک نے چوتھی بیوی کو طلاق دی اور اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں عورت سے شادی کی تو حضرت سعید بن مسیب نے فتویٰ دیا کہ یہ غلط ہے۔ جس طرح شوہر کو عدت میں رجوع کا حق ہے تو عورت جس کیلئے عدت گزارنے پر مجبور ہے تو مرد کا نکاح باقی ہے اور جب تک عدت پوری نہیں ہوتی تو پانچوں نکاح جائز نہیں ہے۔ اس پر سعید بن مسیب پر تشدد کے پہاڑ توڑدئیے گئے لیکن وہ ڈٹ گئے۔ یہاں تک کہ پھانسی کے پھندے تک پہنچایا اور اس نے ستر کھلنے کے خوف سے چھڈہ بھی پہن لیا۔

امام ابوحنیفہ نے سعید بن مسیب کے مسلک کو اپنایا تھا کہ عدت میں نکاح باقی رہتا ہے۔ جب دوسری طرف ایک مزید درباری مؤقف سامنے آیا کہ طلاق بائن سے نکاح ختم ہوجاتا ہے اسلئے عدت عورت پر باقی رہتی ہے لیکن مرد پر نہیں رہتی ہے اور اس سے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ بیوی مرنے کے بعد طلاق ہوجاتی ہے تو اس کو دیکھنا جائز ہے کہ نہیں۔ مفتی زر ولی خان نے کہا کہ ” علامہ شامی نے جزیہ لکھا ہے کہ ولہ ان یری وجھا ”اور شوہر کیلئے اجازت ہے کہ اس کا چہرہ دیکھے”۔

حضرت ابوبکر صدیق کی بیوی نے ان کی میت کو غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ حضرت عائشہ سے نبیۖ نے فرمایا کہ آپ پہلے فوت ہوگئیں تو میں خود غسل دوں گا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ”میں غم میں بھول گئی تھی ورنہ نبیۖ کو میں نے غسل دینا تھا”۔ فقہاء نے میت کے غسل کو ایک کمائی کا شعبہ بھی بنارکھا تھا اور حکمرانوں کیساتھ انہوں نے فقہی مسائل کی ترتیب بھی مختلف مرتب کی تھی۔

عراق کے ایک گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی بہت زیادہ خوبصورت تھی۔

امیر معاویہ کے بھائی یا یزید کو پسند آگئی اور اس کے ساتھ عشق ہوگیا۔ امیرمعاویہ نے اس کو بلایا اور کہا کہ میری بیٹی آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ گورنر کو امیرالمؤمنین امیر معاویہ کی دامادی کا شرف مل جاتا تھا تو اور کیا تھا۔ جب ہاں کردی تو امیر معاویہ نے کہا کہ تم شادی شدہ ہو اوربیٹی شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اسے سوکن برداشت نہیں۔ اس کا علاج بھی یہ دریافت کیا کہ وہ اکٹھی تین طلاق دے ۔جب اس نے تین طلاق دی تو کچھ لوگ بھی گواہ بنادئیے۔ بیٹی کو بلایا تو اس نے کہا کہ ہائے، ہائے یہ تم نے کیا کیا؟۔ تمہاری اتنی اچھی بیوی ہے اور تم نے لالچ میں طلاق دے دی۔ میں تمہارے اوپر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ میرا اس شادی سے صاف انکار ہے۔

پھر جب یزید نے اس عورت کیلئے رشتہ بھیج دیا۔ جو رشتہ لیکر جا رہا تھا تو اس نے امام حسن یا امام حسین سے بات کی۔ جس پر اس نے کہا کہ میری طرف سے بھی رشتہ کی پیشکش کردو۔ اس عورت نے نواسہ رسول کا رشتہ قبول کیا تو یہ بڑی رنجش بن گئی۔ ایک دن عبداللہ بن سلام پہنچا تو اس نے کہا کہ میں بہت غریب ہوگیا ہوں ۔ میری کچھ امانت میری سابقہ بیوی کے پاس پڑی ہے تو اگر مجھے وہ مل جائے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے دونوں کا آمنا سامنا کروایا تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر اس سے کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں اور وہ دونوں میاں بیوی آپس میں خوش ہوکر مل گئے۔ امام حسن کا کہتے ہیں کہ 3سو عورتوں کو طلاق دی تھی تو شاید یہ ایک طلاق بھی300کے برابر ہی شمار کی ہوگی۔ اور اگر یہ حضرت امام حسین نے کیا تھا تو ممکن ہے کہ اس کا بدلہ اتارنے کیلئے یزید نے کوفیوں سے خط لکھوائے ہوں۔

حکمرانوں کی چال چلن سے واقعات مسخ کردئیے جاتے ہیں لیکن واقعات سے زیادہ مسائل کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کوئی اس واقعہ سے ثبوت پکڑے گا کہ حلالہ کروایا ہے تو بھی برا ہے لیکن اس سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ تین طلاق کو سیاسی و مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہاتھا۔ لوگوں سے حکومت کے ساتھ وفاداری قائم کرنے کیلئے بھی اکٹھی تین طلاق کو ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جب حجاج بن یوسف نے لاکھوں افراد کو بے گناہ شہید کیا تو جبری طلاق اور جبری طور پر بیویاں چھین لینے کے واقعات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔

دوسروں نے تو اپنے شرم وحیا کے مارے اپنی عزتوں کی یہ داستانیں نہیں سنائی ہیں لیکن حجاج بن یوسف نے جب ایک لڑکی ہند بنت نعمان سے جبری شادی رچائی اور ایک دن چھپ کر اس نے کان لگاکر سنا تو یہ شعر گارہی تھی کہ میں اصل عربی گھوڑی ہوں ۔جس پر خچر چڑھتا ہے۔ اگر اچھا بچہ جن لیا تو یہ میری وجہ سے مناسب ہے اور اگر خچر بچے کو جنم دیا تو خچر سے خچر ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر مروان بن عبدالملک نے نہ صرف اس کی یہ بیوی چھین لی بلکہ اس کو حکم دیا کہ خود ہی اونٹ کی رسی پکڑ کر ہی میرے پاس پہنچاؤ۔ ہند بن نعمان راستے میں اس کو ذلیل اور خوب رسوا کرنے کیلئے جملے کستے ہوئے محظوظ ہوتی رہی اور جب عبدالملک بن مروان کے حوالے کیا تو پھر ہند بن نعمان نے اس کو ذلیل کرنے کیلئے کہا کہ ایک ہیرے جیسی عورت کو یہ بہت کم قیمت میں ہی تیرے حوالے کررہاہے۔

رسول اللہۖ کے دور میں ایک عربی خاتون ہند بن نعمان سے فارس کا بادشاہ زبردستی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔
لیکن اس کا باپ قید ہوکر قتل کردیا گیا۔ اس کی بادشاہت تہس نہس ہوگئی اور دوسرے قبائل نے ہند بن نعمان کو پناہ دی اور عربوں نے مل کر معرکہ ذی قار لڑا اور جیت گئے۔ پھر اسلام نے قرآن وسنت کے ذریعے زبردست انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین دنیا کو دئیے لیکن یہی سفر پھراس ہند بنت نعمان تک پہنچ گیا جس کی زندگی کو پہلے حجاج بن یوسف اور پھر عبدالملک بن مروان نے کھلواڑ بنادیا تھا۔ دونوں ناموں میں ہند بنت نعمان بن بشیر اور ہند بنت نعمان بن منذر کا فرق تھا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ”۔ دور آمریت میں سارا کھیل جاہلیت کا بنادیا گیا۔

امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک اکٹھی تین طلاق بدعت ہیں اور اس کیلئے دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے جس میں ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس پر نبی ۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟ ۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟”۔ (نسائی)

محمود بن لبید ایک صحابی تھے اور97ھ میں فوت ہوگئے اور ممکن ہے بلکہ لازم ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام مالک سے ملاقات بھی رہی ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اشخاص کے نام پھر کیوں نہیں لئے؟۔ اس کا سید ھا جواب یہ ہے کہ حضرت عمران بن حصین کی وفات بصرہ میں52ھ کو ہوئی اور صحیح مسلم میں ان کی احادیث ہیں کہ جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے روایت بیان مت کرو۔ اللہ کی نازل کردہ آیات کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی سنت کو اپنی رائے سے بدل کر جبراً مسلط کردیا گیا ہے۔حضرت ابوہریرہ کا وصال59ھ کو ہوا۔ انہوں نے کہا جو بعض باتیں رسول اللہ ۖ سے محفوظ کی ہیں اگر میں نے بیان کیں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔ (صحیح بخاری )

حضرت سعد بن ابی وقاص کے سامنے ایک جاہل دمشق کا گورنر بکتا ہے کہ جو حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے تو وہ جاہل ہے۔۔۔۔
حضرت سعدبن ابی وقاص نے فرمایا کہ یہ مت کہو! میں نے نبیۖ کو دونوں احرام ایک ساتھ باندھتے خود دیکھا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص پھر آخر میں گوشہ نشین ہوگئے۔ یہ تو امیر معاویہ کے دور کی بات ہے۔ پھر بعد میں کیا ہوا کہ جب یزید مسلط ہوگیا پھر عبداللہ بن زبیر کے خلاف اس مروان بن حکم نے متوازی حکومت قائم کی جس کی بیعت بھی عبداللہ بن زبیر نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ جب99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر بیٹھ گئے اور101ھ میں زہر سے شہید کردئیے گئے تواس دور کو خلافت راشدہ اور مہدی کا دور قرار دیا جانے لگا۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے نکاح کاذکر ہے جماع کی ضرورت نہیں ہے تو95ھ میں شہید کیا گیا۔ حسن بصری نے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں آزادی کا سانس لیا تو واضح کردیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور یہ سب کو معلوم تھا کہ نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا تھا اور محمود بن لبید کی روایت میں جن شخصیات کے نام نہیں ہیں تو وہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر تھے۔لیکن پھر یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک اقتدار میں آگئے اور حسن بصری نے نہ صرف اس سے رجوع کیا جو صحیح مسلم میں واضح ہے بلکہ حرام کے لفظ پر بھی حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیا جس کا ذکر بخاری میں ہے۔

امام ابو حنیفہ وامام مالک کے نزدیک رسول اللہۖ محمود بن لبید کی روایت میں غضبناک ہوگئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے لیکن چونکہ نبیۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا اسلئے اس پر عمل نہیں ہوسکا تو اگر بعد میں کوئی عمل کرتا ہے تو یہ بدعت ہے لیکن جہاں تک رجوع کا تعلق ہے تو قرآن اور سنت اور فطرت سب میں رجوع کی گنجائش ہے۔ اگر پھر بھی کوئی خارش اور خار کھاتا ہے اسلئے کہ شیطان نے انگلی دی ہوتی ہے تو وہ مولوی کے پاس جاتا ہے اس نے بھی شیطان کی بنیاد پر حیلے تراش کر اپنا کام نکالنا ہوتا ہے اور قرآن چھوڑنے کی سزا مل جاتی ہے۔

امام بخارینے الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان غلط جگہ درج کی ہے
لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس سے بھی بڑی جہالت کی ہے کہ جب قرآن میں دو طلاق واقع ہوسکتی ہیں تو تین بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ حالانکہ قرآن میں دو مرتبہ سے دو کی بھی نفی ہے لیکن جب عورت راضی نہ ہو تو پھر آیت228میں بھی واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا اور229میں بھی معروف کی شرط پر ہی رجوع ہے اور معروف کی شرط پر تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی آیات231اور232البقرہ میں واضح ہے۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس سے بڑی حماقت کی ہے کہ دو تو ایک ساتھ واقع ہوسکتی ہیں مگر تیسری مغلظ ہے اسلئے نہیں واقع ہوسکتی ہے ۔ یہ وہ کم عقل فقہاء ہیں جنہوں نے دو طلاق جیب میں ہوں تب بھی تیسری طلاق کے واقع ہونے کا فتویٰ دیا ہے ۔ حالانکہ آیت230البقرہ میںتیسری طلاق نہیں بلکہ فدیہ کی صورت میں ہے کہ جب یہ کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی اور جب اس بات کو کنفرم کیا جائے تو پھر ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ

علامہ شامی، مفتی شفیع نے غلط فقہ و تفسیر لکھ دی اور مدارس پھلاتے ہیں تو درست پیغام کیسے پہنچے گا؟۔ پاکستانی آئین کے مطابق اعلیٰ عدلیہ جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ دیا اور2007ء سے2026ء تک میں نے چار کتابوں ، کئی سارے اخباری مضامین ، ویڈیوز اور بالمشافہہ ملاقاتوں کے ذریعے طلاق کے واضح مسائل کو بہت وضاحتوں کیساتھ سمجھایا لیکن پھر بھی حلالہ کی لعنت سے باز نہیں آتے ہیں۔

معاشرے میں اسلام کو اتنا اجنبی بنادیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث اور مسلک حنفی کے اصول فقہ کے مطابق دلائل اور اکابر علماء کی حمایت کے باوجود بھی لوگ حلالہ کے نام پر عزتیں لٹوائے جارہے ہیں۔

ایک جگہ فرمایا:

وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی

اور سکون سے رہو اپنے گھروں میں اور جاہلیت اولیٰ کی طرح اپنے حسن النسا ء کی نمائش کرتے ہوئے مت پھرو۔

دوسری جگہ فرمایا:

فلیس علیھن ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ

پس ان کیلئے کوئی گناہ نہیںکہ اپنے کپڑے اتاردیں بغیر دکھائے زینت کے۔

دورجاہلیت میں ایک عورت کے دس دس شوہر بھی ہوتے تھے اور بیشمار لوگوں سے جنسی تعلقات کو بھی جائز سمجھا جاتا تھااور اعلیٰ خاندانوں سے حمل کی تلاش میں بھی کم نسل رہتے تھے اسلئے عورتیں اپنی حسن النساء کی نمائش کرتی تھیں۔جب بازاروں، پارکوںاور مختلف مقامات پر نکلنے والی عورتوں کیلئے تصور ہوگا کہ قرآن کی خلاف ورزی کررہی ہیں تو لوگ اسلام کے نفاذ نہیں قیامت کا انتظار کریںگے اور کہا جائے گا کہ قرآن میں اجتہاد کا راستہ کھلا ہے اور یہ احکام بدل کر اجتہاد کے نام پر تحریف کر ڈالو اور پتھر کے زمانے میں عوام کو مت دھکیلو۔ لیکن یہ پتہ نہیں کہ پتھروں کا زمانہ موجودہ دور سے بہت بدتر تھا۔ آج یہ ایڈوانس دور کہلاتا ہے لیکن جب اس ویڈیو میںلڑکی کا شرٹ کاٹا تو اس کو خدشہ ہوا کہ حسن النساء ننگے ہوجائیں گے تو اس نے پریشان ہوکر ہاتھ رکھ لیا۔یہ قرآن کے حکم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے لیکن علماء نے قرآن کے حکم کا مطلب بدل دیا۔

امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غیر فطری جنسی عمل کے سخت خلاف ہے۔ جب امریکہ میں جرائم پیشہ عورتوں کو ننگے لباس میں پولیس پکڑتی تھی تو پھر ان سے بعض پولیس والوں نے زیادتی بھی کی اور شکایت پر عدالت میں ان کو سزائیں بھی دی گئیں ۔ عورت مارچ والے جبری جنسی زیادتیوں کیخلاف امریکہ میں بہت انوکھا فحش احتجاج کرتی ہیں۔ اسلام نے عورتوں کیلئے دو اقسام کے لباس واضح کئے ہیں۔ ایک کو تو غیرمسلم اور مغرب آسانی سے قبول کرلیںگے اور ان پر جبر نہیں ہے اور دوسرے سے معاشرے میں شرافت کا توازن قائم ہوتا ہے۔ جبر و زبردستی سے نہیں۔ عورت اپنی عزت کا احساس کرتی ہے۔ اگر ایک خوشحال معاشرہ ہوگا تو پھر کسی غریب کی بچی کی عزت برائے فروخت نہیں ہوگی۔ اب تو جبری اڈے چلانے کا انکشاف ہواہے۔

عورتوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی نہیں تھی بلکہ حسن النساء جاہلیت کی طرح دکھاتی پھرنے سے منع کیا گیا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے جنگ کی قیادت کی ۔ حضرت زینب بنت علی نے کربلا کے بعد قافلے کی قیادت کی۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کیلئے ابوسفیان حضرت فاطمہ کے پاس گئے۔

مدارس کے طلبہ لڑکوں کے پاس حسن النساء ہیں اور نہ ان کا پردہ ہے ۔ شہوت سے تومفتی عزیز کو بھی دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے ۔ اگرعلماء قرآن کی صحیح تفسیر کو نہ مانیں توپھر حکومت کریک ڈاؤن بھی کرسکتی ہے۔خاتون نے مجادلہ کیا تو سوہ مجادلہ نازل ہوئی اور جب عورت مفتی سے کہے گی کہ میرا حلالہ کردو توکیا بدکردار اور گمراہ لوگ چھوڑدیں گے؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال ھٰولآء بناتی ان کنتم فاعلین سورہ الحجر71

(لوط )کہا: یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرنے والے ہو!

اللہ نے فرمایا:
” اور شہر والے ایکدوسرے کو خوش خبری دیتے ہوئے آئے… (حضرت لوط ) نے کہا… یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھے ذلیل نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو… انہوں نے کہا کہ ہم نے کیا تجھے پہلے پوری دنیا کا ٹھیکہ لینے سے منع نہیں کیا تھا؟ کہا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کرنے والے ہو! (اے نبی ۖ)تیری جان کی قسم کے وہ اپنی مستی میں اندھے ہورہے تھے… پھر دن نکلتے ہی انہیں چیخ نے آلیا پھر ہم نے بستیوں کو زیر و زبر کردیا اور ان پر لکھے پتھر برسائے… بیشک اس میں نشانیاں ہیں بصیرت رکھنے والوں کیلئے اور بیشک یہ سیدھی راہ پر واقع ہیں… بیشک اس میں نشانی ہے مؤمنوں کیلئے اور اصحاب الایکہ بھی ظالم تھے پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اوروہ بستیاں کھلے راستے پر واقع ہیں اور بیشک عقل والوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں نشانیاں دیں اور وہ اس سے روگردانی کررہے تھے اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کرگھر بناتے تھے… پھر انہیں صبح کے وقت چیخ نے پکڑلیا پھر انہوں نے جو کمایا تھا وہ انکے کام نہیں آیا اور ہم نے آسمانوں اور زمین کواور ان کی درمیانی چیزوں کو نہیں بنایا مگر حق کیساتھ بیشک انقلابی گھڑی آئے گی تو بہت ہی اچھے درگزر سے کام لو”۔( الحجر:67تا85)

بچہ باز بے ضمیر سفاک بناتا ہے۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن و صابر شاہ سے بڑا سکینڈل جامعہ امداد العلوم فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد کا تھا۔ بعدنمازفجر کئی طلبہ نے جنسی زیادتی کا بتایا ۔ مفتی تقی عثمانی کا دوست تھااور بیٹوں نے اس سے کہاتھا کہ” لڑکیوں سے شادی کرلو”مگرشیخ نے کہا ”لڑکوں کا مزہ لڑکیوں میں نہیں ہے ”۔ شیخ کو لڑکے خود پر بھی چڑھاتے ہوں گے جو لڑکیاں نہیں کرسکتیں۔ حیات پریغال کا خواتین نے شکریہ ادا کیا کہ” ان کا حق مار جارہاہے”۔ جبکہ قرآن کے تراجم میں ڈکیتی مراد لی گئی ہے اور جب ترجمہ غلط ہوگا تو ہدایت کہاں سے ملے گی؟۔

قوم بدفعلی کرنے بیویوں سمیت آئی حضرت لوط نے کہا:”یہ( تمہاری بیویاں) میری بیٹیاں ہیں، ان سے حاجت پوری کرو اگر تم نے کرنا ہے”۔لیکن عورتیں وہی چیز تھیں

یقطعون السبیل

یہی ہے۔ پچھواڑہ اکھاڑہ بنے تومعاشرتی اقدار ختم ہوں گی۔

بے ضمیرنے جاپان پر ایٹم بم گرادئیے۔علماء نے لڑکوں کو عورت کی طرح سرتا پیر عورة قرار دیاہے تو مدارس میںکیوں رکھے؟۔ اور لڑکیوں سے زیادہ خطرناک ہیں تو بچیوں پر پابندی اور بچوں کو اپنے پاس رکھنے کا نتیجہ کیا ہوسکتاہے ؟۔ جنکے بچے اپنی جنس بیچتے ہیں تویہ کام اپنی بچیوں سے کروائیں۔

ایرانی نژاد امریکن نے عورت کے اسلامی حقوق پر کتاب میں واقعہ لکھاکہ”شوہر کو لواطت کی لت تھی توبیوی کو خلع کیلئے حق مہر سے زیادہ رقم دینی پڑی”۔ علی وابوحنیفہ نے بیوی سے لواط حرام اور ابن عمر و مالک نے جائزقراردیا ۔ لوط کی پیشکش کو مسلکی ٹچ نہ دیں اسلئے کہ قوم لوط تباہ ہوگئی ۔ غیر فطری جنسی عمل کا مخالف ٹرمپ ملوثی ہوتا تو پھرحرمین شریفین پر بھی بمباری کردیتا ۔جبری لوطی مرد سے نجات کیلئے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ صحیح ہے۔ توازن قائم کریں۔

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ وبر پیدا
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رحمت کے دو حصوں پر ایمان

یاایھاالذین اٰمنوا اتقوااللہ واٰمنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ

”اے ایمان والو! اللہ سے خوف کھاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،اس نے اپنی رحمت سے تمہیں دو حصے عطا کردئیے ہیں”۔ (سورہ الحدیدآیت:29)

علامامت قیامت کا پہلا حصہ اول سے درمیان تک اور دوسرا حصہ درمیان سے آخر تک واضح ہے:

پہلا:رسول اللہ ۖ کا ظہور، شق قمر، پتھروں کا کلمہ پڑھنا، قرآن کا نزول ، صحابہ کرام کی فتوحات ، بنوامیہ و بنوعباس، خاندان غلاماں کا اقتدار ،چنگیز کی اولادکاقبول اسلام اورعرب کی جگہ اقتدار قائم کرنا یہ ساری قیامت کی چھوٹی علامات تھیں۔ نبیۖ کی بعثت، خلافت راشدہ کا سپر طاقتوں کو شکست، بنوامیہ وبنو عباس اور غلاموں کا اقتدار بڑی بات تھی اوررضیہ سلطانہ کا ہندوستان میں اقتدار بڑی بات تھی لیکن دور ہونے کی وجہ سے چھوٹی علامت ہیں۔

چھوٹی علامت کے بعد درمیانہ علامات ہیں۔ استاذمولانا محمد جامعہ بنوری ٹاؤن سے کوئی وہ سوال پوچھتا جو کتاب میں آرہا ہوتا تو کہتے ”کیماڑی ابھی آئی نہیں اور تین ہٹی پر شلوار اتار دی”۔ درمیانہ علامات پوری نہیں مگر دجال ، مہدی آخرزمان اور عیسیٰ کی پیشگوئی والے علماء ومشائخ، ستارہ شناش کیماڑی سے پہلے تین ہٹی پر شلواراتار رہے ہیں۔

امام احمد بن حنبل کو بنوعباس نے کوڑے مارے اور امام رضا مامون الرشید کے داماد و جانشین تھے۔
تاریخی کتب چھوڑ دو، پنکی کھلاڑ یوں کی فٹ بال ہے۔اگرسعد بن عبادہ پہلے خلیفہ بنتے توکئی نمبر1کہہ دیتے۔ علامہ شہر یار رضاعابدی اتحاد کی بات پر علامہ جواد نقوی کو گالیاں دیتا ہے لیکن اتحاد کی بنیاد تو امام خمینی نے رکھی تو انکے آگے دم اٹھاتاہے؟۔

مہدی غائب کا نائب عثمان عمری اور دوسرا محمد بن عثمان عمری تھا۔ فاطمی خلافت پر ائمہ اہلبیت نے سنی خلفاء کو ترجیح دی۔ فاطمی رافضی نہیں سنی کے پیچھے نماز پڑھتے۔ امامت پر ان کا اختلاف مسلمانوں اور قادیانیوں جیساتھا لیکن سنی ان میں برج تھے۔ جو نہ اسماعیلی کے دشمن تھے اور نہ اثنا عشریہ کے لیکن جب امام خمینی نے امام کا لفظ استعمال کیا تو اختلاف بالکل ختم ہونا چاہیے مگرپھر بھی کیوں نہیں ہوا؟۔

پنجاب بڑا صوبہ اور لاہور تبدیلیوں کا مرکز ہے۔ علماء کرام مینار پاکستان منٹو پارک میں بڑے فخر سے خطاب کرتے ہوئے سریلی آواز میں کہتے ہیں کہ ”لاہور عروس البلاد ہے”۔ مسند احمد میں ہے کہ

” عن انس بن مالک: قال رسول اللہ ۖ عسقلان احد العروسین ، یبعث منھا یوم القیامة سبعون الفا، لاحساب علیھم،و یبعث منھا خمسون الفا شہداء ،وفود الی اللہ ،وبہا صفوف الشہداء رؤوسھم مقطة فی ایدیھم تئج أوداجھم دمایقولون : ربنا آتنا ما وعدتنا علی رسلک انک لا تخلف المیعاد ، فیقول: صدق عبیدی اغسلوھم بنھر البیض ،فیخروجون منہ نقاء بیضا، فیسرحون فی الجنة حیث شاء وا ”۔

نبیۖ نے عسقلان کو عروس البلاد میں ایک قرار دیا۔ ۔ ۔ ۔

جس میں70ہزار کا حساب نہیں ہوگا۔50ہزار شہداء ہونگے اوراللہ کی طرف آئیں گے۔ شہداء نے اپنے سروں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوگا اور جسموں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ کہیں گے اے اللہ جو رسولوں کیساتھ وعدہ کیا تھا یعنی شہداء جنت میں جائیں گے تو ہمارے ساتھ وعدہ پورا کریں بیشک آپ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ پس کہے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ،اس کو سفید نہر میں غسل دو تو وہ وہاں سے بالکل صاف ستھرے نکل آئیں گے پھر جنت میں گھومیں گے جیسے چاہیں” ۔

غزہ کے غازی اور شہداء اسرائیل نے مارے۔ وزیرستان میں مسلمان مسلمان، پختون پختون اور جان سے عزیز مہمان کو مارہاہے۔لوگ متنفر ہیں۔ کراچی میں لسانی جنگ تھی لیکن قبائل اور پختونخواہ میں تو نہ روسی ہے، نہ امریکی، نہ یہودی، نہ ہندو ۔

ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس

”لوگوں میں فساد برپا ہوگیا خشکی اور پانی میں بسبب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے”۔نبی اکرم ۖ نے فرمایاکہ
” اس الامر کا پہلا معاملہ نبوت و رحمت ہے۔ پھر خلافت و رحمت ہے۔ پھر بادشاہت و رحمت ہے ۔ پھر امارت و رحمت ہے۔ پھر چال چلیں گے گدھوں کی چال۔ پس تم پر جہاد فرض ہے اور افضل جہاد الرباط ہے اور تمہارا افضل رباط عسقلان ہے”۔

اس حدیث سے مختلف ادوار کیساتھ رحمت کا ذکر ہے اور آخر میں گدھوں کی چال کا ذکر ہے اور ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہے”۔ حکمرانوں اور باثرطبقات کے اقدامات اگر خلوص پر مبنی ہوتے ہیں تب بھی نقصان پہنچتا ہے اور گدھوں کے اقدام سے بالکل معاملہ واضح ہے۔
دوسرا: اول سے درمیان تک قیامت کا سلسلہ نبیۖ سے موجودہ دور تک خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار ہیں اور پھر طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی اور اس کا تعلق درمیانہ زمانے سے ہوگا۔ پھر اسکے بعد قیامت تک یہ سلسلہ چلے گا اور بالکل آخر میں امت محمدیہ کا آخری امیرہوگا اور حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اوردجال اکبر کو قتل کریں گے۔ اور یاجوج ماجوج نکل آئیں گے۔ جب ہم کسی کے کہنے پر خلائی مخلوق کو اترتے ہوئے مان سکتے ہیں تو یاجوج ماجوج کی خبر میں کیا حرج ہے؟۔

جاویداحمد غامدی نے قرآن و احادیث کی واضح پیشگوئیوں کو رد کرتے ہوئے قرآن کے نام پر نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے کہ مسلمان پھر قیامت تک اقتدار میں نہیں آسکتے۔ امریکہ ، چین ، یورپ اور ہندوستان کے کچھ حضرت نوح کی وہ اولاد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو اقتدار تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ حالانکہ نسل اور دین الگ الگ چیزیں ہیں۔ عرب مسلمان تھے اور نسل میں ترک چنگیز و ہلاکو خان نے شکست دی اور پھر اللہ نے چنگیز کی اولاد کو مسلمان کردیا تھا۔ جاوید احمد غامدی کو اصل مسئلہ اسلام سے ہے۔ مثلاً اگر حضرت غامدیہ کا ناجائز بچہ یزید کا ساتھ دیتا اور کہتا کہ ہماری ماں نبیۖ نے اسلام کی بنیاد پر سنگسار کردی ہے تو اپنی ماں کا انتقام نبیۖ کی اولاد سے لینا ہے تو کوئی بات ہوتی مگر غامدی شیطان کی طرح اسلام سے انتقام لینے میں لگاہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ بیچارے پر رحم فرمائے۔

مفتی رفیع عثمانی نے اپنی کتاب ”علامات قیامت اور نزول مسیح” میں تین قسم کی علامات کا ذکر کیااور لکھا نبیۖ نے فرمایا کہ ” دجال سے زیادہ بدتر حکمران اور لیڈر ہوں گے”۔ ظاہر ہے کہ دجال درمیانہ زمانے میں نہیں آخرمیں ہوگا۔ طالبان کو حکمران اور لیڈرکیخلاف خود کش حملوں کے فتوے دئیے گئے۔ جس کی وجہ سے فساد اور قتل وغارت کا سلسلہ ا بھی جاری ہے۔ لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا پہلے ملاؤں کے فتوے پر جہاد شروع کیا گیا اور پھر یوٹرن لیا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” کے اندر علماء ،ائمہ مساجد اور دنیا اور حکمرانوں کیساتھ ملنے والے علماء کی نشاندہی ہے۔ شیعہ امام مہدی غائب کے انتظار میں ہیں۔ امریکہ ایران کو ملیامیٹ کرتا لیکن حافظ سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ سے بچانے میں کردار ادا کیا جس پر ایرانی قوم نے پاکستان کا دل سے شکریہ ادا کیا۔

محسن داوڑ سابقMNAشمالی وزیرستان قائدPTMکہتا ہے کہ حافظ گل بہادر اور حافظ عاصم منیر ایک ہیں؟۔حالانکہ اگر موقع ملے تو ایک دوسرے کو قتل کریں۔پہلے طالبان نے شمالی وزیرستان سے ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا تو دوبئی میں بھی شوق سے وہ ویڈیوز دیکھے جارہے تھے۔ اگر بدر وحنین کے صحابہ کرام میں بھی جنگ ہوسکتی ہے توموجودہ دور کے لوگوں کی کیاحیثیت ہے؟۔

نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جسکے اول میں میں ہوں ، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیان میں کج رو لوگ ہونگے۔ مہدی کے بعد11مہدی ہیں جن میں پہلے5افراد امام حسن کی اولاد سے ہونگے پھر5افراد امام حسین کی اولاد سے ہونگے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ (مظاہر حق شرح مشکوٰة ) سنی شیعہ کتب میں ان بارہ کا ذکر ہے لیکن عوام کے سامنے نہیں لایا جارہاہے۔

اللہ نے امت کے دونوں حصوں میں رحمت کا ذکر واضح فرمایا:

” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ جس نے تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دئیے ہیں اور اس نے تمہارے لئے نور بنایا جسکے ذریعے تم چلتے ہو اور تمہاری مغفرت کردے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔ اور فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دیدے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔

سورہ الحدید کی یہ آخری آیات جاوید غامدی کے منہ پر تھپڑ ہیں۔ الحدید آیت10میں صحابہ فتح مکہ سے پہلے و بعد والے۔ پہلوں کا زیادہ بڑا درجہ اور دونوں کیساتھ نیک جزا کا وعدہ ہے۔ تاکہ غلیظ لوگ فرقہ پرستی نہ کریں ۔ ۔ ۔

پھردرمیانہ زمانہ مخاطب کیاکہ

”کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں کہ انکے دل اللہ کے ذکر اور جو اللہ نے حق نازل کیا کیلئے جھکیں؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو کتاب دی گئی اور پھر ان پر بہت سارا وقت گزر گیا۔تو انکے دل سخت ہوگئے اور ان میں اکثریت فاسقوں کی تھی اور جان لو کہ بیشک اللہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے تمہارے لئے اپنی آیات کو واضح کردیا تاکہ تم عقل سے کام لو۔اوربیشک جو تصدیق کرنے والے مردہیں اورتصدیق کرنے والی عورتیں ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا تو اللہ دگنا کرے گا ان کیلئے اور عزت والا بدلہ ہے اور جولوگ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائے تو یہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اور ان کیلئے اپنے رب کے پاس ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو تو یہ جحیم والے ہیں۔ (سورہ الحدید:آیت16تا19)

شیخ الہندنے فرمایا

” زوال امت کے دو اسباب: قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی”۔قرآن کی طرف متوجہ کرنے میں ان کے اصل جانشین مولانا عبیداللہ سندھیاور اتحادامت میں اصل جانشین مولانا محمدالیاس بانی تبلیغ اور حاجی محمد عثمان تھے۔ مولانا سیدمحمد یوسف بنوری، مفتی محمود اور دیگر مکاتب فکر کے علماء حق کے انتقال سے علم ، اخلاص اورجرأت کی بیخ کنی ہوگئی۔ حاجی عثمان کے بعد اکابرعلماء ومفتیان کی بدلتی ہوئی حالت دیکھی۔
ــــــــــ

تنبؤات ابن مسعود

عربی چینل :ا بن مسعود سے مہدی کی منقول پیشگوئیاں:
” عبداللہ بن مسعود اولین صحابہ میں جن سے ظہور مہدی سے متعلق معرفت میں گہری دلچسپی ثابت ہے۔ احادیث مہدی اور اشراطِ الساعةکی کتب میں آپ معتبر حوالہ ہیں۔فرمایا کہ مہدی (نبی ۖ) کی ذریت سے ہوں گے، ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب فتنے کثرت سے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق ضائع ہو چکا ہوگا۔ مہدی تب تک ظاہر نہ ہوں گے جب تک افراتفری عام نہ ہو اور ذاتی مفادات معاشرتی مفادات پر غالب نہ آ جائیں۔ وہ ابتدا ء میں مظلوم اورممکن ہے کہ لوگ ان کی دعوت کا انکار کریں اور ان کی شخصیت پر شک و شبہ کا اظہار کریں یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ مہدی کسی ایسے زمانے میں ظاہر نہ ہوں گے جہاں امن و انصاف ہو، بلکہ تب آئیں گے جب حق (پر چلنا) بوجھ ہو گا اور دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی آغاز تنہا کریں گے اور ابتدا میں حامیوں کی تعداد بہت کم ہوگی یہاں تک کہ حق خود کو ثابت کر دے گا اور دھیرے دھیرے لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لے گا۔ حامیوں کی کم تعداد اور انکے اثر و رسوخ کی وسعت کے درمیان یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مہدی کی اصل قوت تعداد میں نہیںبلکہ اس ”حق” میں ہے جو وہ تھامے ہوئے ہوں گے۔

ابن مسعود نے بیان کیا کہ مہدی عادل، کسی کو قانون سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے، چاہے اس کا مرتبہ بلندیا قوت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ عدل انکے دورِ حکومت کا پیمانہ ہوگا، حقداروں کو حقوق واپس دلائیں گے اور طویل راستے پر صبر کرنے والوں کو نوازیں گے، مہدی کو ہر طرف سے دشمنوں کا سامناہو گا، جو دشمنی کا اعلان کریں گے اور پوشیدہ دشمن جو اندھیروں میں سازشیں کریں گے۔ مہدی اللہ کی پناہ میں ایمان کے مالک اور دنیا سے بے رغبت (زاہد) ہوں گے۔ وہ دنیا کو اپنی طرف مائل نہیں کریں گے بلکہ حق کو ہی اپنا واحد مرجع (Reference)بنائیں گے۔ ان کا ظہور ذاتی مفادات یا اقتدار کیلئے نہیں ہوگا بلکہ جامع اصلاحی منصوبہ ہوگا جو دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ فتنوں سے بھرا زمانہ ہوگا۔ جنگیں، تصادم، امت کی کمزوری ، قیادتوں میں بگاڑ ہوگا۔ لوگ عدل سے غافل حقیقت پر مفاد کو ترجیح دیں گے۔ اس تاریکی میں مہدی لوگوں کیلئے راستے کو روشن کریں گے ،ان کا کردار کھوئی ہوئی اقدار کی بحالی اور مظلوم سے ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔

یہ بھی ذکر کیا کہ انسانیت کی مجموعی عمر کے مقابلے میں مہدی کی حکومت کا دورانیہ نسبتاً مختصر ہوگا، لیکن وہ دنیا پر دائمی اثرات چھوڑیں گے جو اقدار بوئیں گے وہ باقی رہیں گی اور جو عدل وہ قائم کریں گے وہ انسانی تاریخ کا ناقابلِ فراموش معیار بن جائے گا۔ ان کا ظہور فساد کے دور کے خاتمے اور ایک نئے عہد کی ابتدا کی علامت ہوگا جس میں حق کا بول بالا ہوگا۔

یہ بھی واضح کیا کہ لوگ ابتدا میں انکے ظہور کی اہمیت کو نہیں سمجھ پائیں گے، کچھ شک ، کچھ مسترد اور کچھ مذاق اڑائیں گے۔ یہ اس آزمائش کا حصہ ہے جس سے مہدی اوروہ لوگ یکساں طور پر گزریں گے۔ آزمائش اور رد کیا جانا ”تمکین” (اقتدار و غلبہ) کی راہ کا حصہ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو حق کے علمبردار کے راستے کو آسان اور آرام دہ راستوں سے ممتاز کرتی ہے اور مہدی مافوق الفطرت (Supernatural)ہیر و نہیں ہوں گے اور نہ بہت بڑی مادی قوت کے مالک ، بلکہ ان کی اصل طاقت عدل، ثبات اور ایمان میں ہوگی۔ ان کی طاقت بکھرے ہوئے معاشرے میں توازن پیدا کرنے اور وقت کیساتھ مٹ جانے والی اقدار کو بحال کرنے میں ہوگی۔ یہ اللہ کی حکمت کی عکاسی ہے کہ اس نے مہدی کو مناسب وقت اور حالات میں بھیجنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شروع میں حامیوں کی کمی کے باوجود حق ایسی قوت بن جائے جس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔

ابن مسعود نے کہا: مہدی صابر ، تکلیفیں برداشت کرنے اور سختیوں کے سامنے ڈٹنے والے ہوں گے۔ چیلنجز اور دباؤ کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے، حق سے انحراف نہیں کریں گے۔ یہ صبر نصرت کی کنجی اور دعوت کے تسلسل کا سبب ہوگا، جو ثابت کرے گا کہ حق کو باقی رہنے کیلئے انسانی سہارے کی ضرورت نہیں بلکہ حق کیساتھ سچے دلوں کی ثابت قدمی درکار ہے۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت کریں گے اور کسی فیصلے میں اللہ کی شریعت سے انحراف نہیں کریں گے، خواہ حالات کتنے کٹھن اور دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔ یہی ظالموں کی مخالفت میں اضافے کا سبب ہوگا کیونکہ مہدی سمجھوتہ کریں گے اور نہ باطل پر راضی ہوں گے۔ اسی سے مہدی کا لوگوں پر گہرا روحانی اثر ہوگا، وہ دلوں کو حق کی طرف موڑ دیں گے اور سخت خطرات کے وقت بھی نفوس میں اطمینان اور عدل کی روح پھونک دیں گے۔ یہ روحانی تاثیر حامیوں کی قلت کے باوجود حق کو استحکام بخشے گی اور حق کی قوت کے سامنے فساد اور کج روی زیادہ دیر نہیں ٹھہر پائے گی۔ اوریہ بھی واضح کیا کہ مہدی اصلاحی اقدامات کا آغاز چھوٹی چیزوں سے کریں گے پھر بڑی چیزوں تک لے جائیں گے۔ ہر حقدار کو اس کا حق دیں گے، تاکہ عدل کا تسلسل اور معاشرے کا استحکام یقینی ہو۔

انکے پاس اصلاح اور اقدار کی نئی ترتیب کا واضح وژن ہوگا، یہی چیز ان کی قیادت کو ماضی کی تمام قیادتوں سے ممتاز کرے گی۔ مہدی طاقت نہیں بلکہ حکمت کے ذریعے حکومت کرنے آئیں گے۔ وہ اپنی مرضی جبر سے نہیں بلکہ عدل اور اچھی نصیحت سے نافذ کریں گے اور دباؤ کے بغیر لوگوں کو حق پر قائل کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ یہ عکاسی ہے کہ مہدی کی طاقت خود حق اور ان کی دعوت کی سچائی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اسلحے یا تعداد میں۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی کا ظہور فساد و ظلم کے خاتمے اور عدل و مستحکم اقدار کی ابتدا کی علامت ہوگامگر یہ راستہ آسان نہیں بلکہ چیلنجز اور آزمائشوںکا ہوگااور انکے دور میں رہنے والے کیلئے نفسیاتی و روحانی تیاری ضروری ہے۔ مہدی صالح قائد کا نمونہ ،ہر عمل عدل واصلاح کا ہوگا۔ لوگوں کو اقتدار اور قیادت کا وہ تصور لوٹائیں گے جیسا اللہ چاہتا ہے۔

مہدیِ محض تاریخی یا افسانوی نہیں ،حقیقی اصلاحی منصوبہ ہیں جو حق، صبر اور عدل سے دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ انکے بارے میں وہی فہم رکھنا چاہیے جو صحابہ سے مروی ہے۔ نصوص سے ہٹ کر اضافہ یا مفروضہ شامل نہیں کرنا چاہیے ۔ابن مسعود نے تاکید کی کہ مہدی انبیاء کی طرح معصوم نہیں لیکن وہ حق میں سچے، دباؤ کے سامنے ثابت قدم اور اللہ کے احکامات کے پابند ہوں گے۔ شروع میں انہیں شک اور انکار کا سامناہو گاکیونکہ حق اکثر ان کیلئے اجنبی ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کے عادی ہو ں۔ آپ نے یہ کہا کہ مہدی عدل کو ایسا معیار بنا دیں گے جس سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور وہ حق کے قیام اور ظلم کے خاتمے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کریں گے، چاہے قربانیاں اور نقصانات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کیونکہ حتمی مقصد زمین پر اللہ کا ترازو (انصاف)قائم کرنا ہے”۔
ــــــــــ

اُمہ الشریفة

مہدی کی ماں شریفہ اور ان کا عزم کمزور ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ نبی کریم ۖ سے آثارہیں کہ مہدی حسن بن علی بن ابی طالب کی نسل سے ہونگے اور ان کی والدہ حسین کی نسل سے ہوں گی۔ ہم یہ معاملہ دو جہتوں پر محمول کر سکتے ہیں۔

پہلی جہت:

شاید عبداللہ محض کی نسل سے ہو، جن کی زوجہ فاطمہ بنت الحسین ۔اسی وجہ سے شاید کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ ادریس بن عبداللہ المحض بن حسن المثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب نے مراکش کا سفر کیا اور خروج المغرب سے ہوگا۔

دوسرا احتمال:

اپنی سگی والدہ جنہوں نے انہیں جنم دیا بطن میں اٹھایا، وہ سادات اشراف میں سے ہوں، چاہے اس بات کو جانتے ہوں یا نہیںکہ حسین بن علی بن ابی طالب کی نسل سے شریف خاتون ہیں۔کچھ وجوہات سے بعض سادات نے اپنے شجرے بدل دئیے اسلئے کہ کہیں سادات کو عزت ملتی تھی تو کہیں ان کیلئے یہ نسبت موت کا ذریعہ بنتی تھی۔والسلام علیکم

تبصرہ:

اقبال شاہ نے بتایاتھا کہ خاتون کو شجرہ یاد تھا ۔ ممکنہ حسینی سادات ہیں۔ شجرہ بدلنے کی2وجوہات تھیں۔ ایک انگریز کیلئے7افراد کا کرائے پر شہید کرنا جس میں2خاص شامل تھے۔ پھر بدلے میں اپنے دو بھائی اور ایک سسر کوشہید کروانا مجرمانہ فعل تھا جس کے بعد دشمنی جاری رہنے کا ڈر تھا۔ دوسرا وزیرستان کے ڈومیسائل کے بغیر خان کی نوکری پر ناجائز قبضہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسلئے بادین زئی محسود یوسف خیل کے کزن سفیان خیل بننے کی ساز باز کی۔کرائے کے قاتل اور کسی اپنے کو قتل کیلئے آگے کرنا کل بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے اور آئندہ بھی غلط ہوگا۔

فقال ربنا بٰعد اسفارنا و ظلموا انفسھم فجعلنٰھم احادیث ومزّقنٰھم کل ممزقٍ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لکل صبارٍ شکورٍO

”پس کہا کہ ہمارے رب ہماری دستاویز میں دوری ڈال اور خودپر ظلم کیا تو ہم نے ان کو قصے بنا دیا اور انہیں پھاڑدیا ہرطرح سے اور اس میں ہر زیادہ صابر شاکر کیلئے بڑی نشانیاں ہیں”۔ (سورہ سبا:19)

سورہ سبا کے متشابہات کی نظیر ملی۔ اسفار کی دوری متشابہ اورشجرہ یا ڈومیسائل کی تبدیلی نظیر ۔خالد بن ولید کے والد ولید بن مغیرہ قریش نہ تھا ، تبدیلی نسل پر سورہ قلم میں ”زنیم” کہا گیا۔ انگریز کیلئےUSEسیدکرائے پرقتل چھپی سازش قبائلی غیرت نہیںہے ۔ اوچھے ہتھکنڈے اورمجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب ہونگی۔ انشاء اللہ ۔DNAکی وجہ سےUSELESSمافیا کو حس نہیں؟۔ سوال اٹھانے پر کہا کہ ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا۔

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
زبان چلنے لگی لب کشائی کرنے لگے
نصیب بگڑا تو گونگے برائی کرنے لگے
ہمارے قد کے برابر نہ آسکے جو لوگ
ہمارے پاؤں کے نیچے کھدائی کرنے لگے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندوستان اور خلیجی ممالک پر برطانوی راج تھا

و ما قدراللہ حق قدرہ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیساکہ قدر کا حق تھا”۔

روپیہ اور سماجی اقدار کی ویلیو ہے ۔ سورہ نور میں غیرت پر قتل نہیں ، اللہ نے حلالہ کو ختم کیا، مگر اللہ کی قدر نہ کئی گئی۔علماء بچی کو ڈانس نہ کروائیں اور شیخ بیوی کو حلالہ ۔ اگرحلالہ کروادیاتو غیرتمند اور نہیں توپھربے دین ؟۔

وماھو بقول شیطٰن الرجیمOفائن تذہبونO

”اوروہ شیطان کا قول نہیں تو تم کدھر جارہے ہو؟”۔ قرآن کی طرف تمام مسائل کا حل ہے

عورت مارچ پر نعمان ولاگ نے بتایا:1963ء میں امریکی عورت نے کتاب میں مردسے مزاحمت کا درس دیاپھر8عورت مارچ2016ء میں تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی۔برطانوی ہند میں اپنے اہل خانہ سے دور رہنے والے فوجیوں کیلئے پہلی بار مقامی لوگوں کے جنس فروشی کے اڈے بنائے گئے۔

ایک عربی نے ولاگ میں کہاکہ60سال پہلے عورت کے مختصر لباس اور فحاشی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مذہب اوراقدار تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لوگ مرگئے اور عورتیں بے سہارا ہوئیں تو ماحول بدل گیا اوربیوہ عورتوں نے کاروبار کیلئے1925میں بازار کا رخ کیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد عورتیں جنسی تسکین اور جنس فروشی کیلئے نکلیں، لباس مختصر اور فحاشی کے اڈے کھلے۔ پھر برائی کو برائی نہیں سمجھتے تھے۔

بیگم ثریاکا جدیدلباس افغانی لڑکیوںپرپاکستانی ماحول کو بدلنے میں1980ء کے اندر نمایاں تھا۔1978ء میں چیچہ وطنی کا ایک واپڈا اہلکار جو سعودی عرب میںمیٹر ریڈر بھرتی ہوکر آیا تھا تو اس نے سعودی گھروں میں فحش لباس کاانکشاف کیا تھا۔

https://zarbehaq.com/hindustan-aur-khaleej-mamalik-par-bartanvi-raj-tha

 

 

 

 

 

 

جبکہ1991رزمک وزیرستان پبلک ٹرانسپورٹ کے اندر ایک معمر شخص کو شکوہ کرتے ہوئے سنا کہ ہم پر کیا زمانہ آیا ہے کہ روایتی لباس چھوڑ کر عورتیں ڈنڈا بن کر گھروں میں گھومتی ہیں ،روک ٹوک نہیں ہے۔

وزیرستان سوشل میڈیا ”دلگاری غوڑہ” میں بچہ بازی سے متعلق بتایا کہ مروت و بنوں میں تو یہ بہت پہلے تھا اور اب وزیرستان میں بھی کم نہیں جو معیوب بھی نہیں رہا۔ چھوٹے بچوں سے زیادتی قانوناً جرم ہے اور اسلام نے بہت پہلے اسکے خلاف تعلیم دی۔PTMکے عالم زیب خان نے پوسٹ لگائی کہTTPیہ عمل کو ختم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

سورہ عنکبوت28تا30میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” اور لوط کو(بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی فحاشی کے مرتکب ہو کہ تم سے پہلے کسی نے بھی جہانوں میں یہ نہیں کیا۔ بیشک تم مردوں سے برائی کرتے ہو اور تم راستے کو منقطع کررہے ہو؟اور منکر فحاشی کیلئے اعلانیہ بلاتے ہو۔ پس قوم کے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ توہم پراللہ کاعذاب لاؤ، اگرآپ سچوں میں سے ہو۔ کہا: اے میرے رب ! میری مدد فرما ، فسادی قوم پر”۔

روس کے خلاف جہاد میں امریکہ نے پیسہ لگایا تھا اور مجاہدین قوم لوط کے عمل میں ملوث تھے۔ روس کو شکست کے بعد افغانستان قوم لوط کا مرکز بنا اور پھر طالبان آئے اور پھر بھی یہ عمل نہیں رکا تو نیٹو کے عذاب نے آلیا اب پختونخواہ میں قوم لوط کی اعلانیہ رپوٹنگ ہورہی ہے مگرقوم کو کوئی پروا نہیں ہے؟۔
حضرت لوط و حضرت ابراہیم حالات کی وجہ سے فرشتوں سے ڈر رہے تھے۔فرمایا: ” اور ابراہیم کے فرشتوں نے داخل ہوکر سلام کیا تو کہا کہ بیشک ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ ڈرو مت بیشک ہم تمہیں عالم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ کہا کہ مجھے بشارت دیتے ہو بڑھاپے میں تو کس چیز کی بشارت دیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم حق کی بشارت دیتے ہیں، پس ناامید نہ ہونا۔ کہا کہ اپنے رب کی رحمت سے کون مایوس ہوتا ہے مگر گمراہ لوگ ! کہا کہ اے بھیجے ہوئے تو تمہارا کیا مقصد ہے؟۔ کہا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں مگر لوط کی آل ان سب کو نجات دیں گے مگر اس کی بیوی کو۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔ جب آل لوط کے پاس فرشتے آئے ۔ کہا کہ تم منکر قوم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیرے پاس وہ لائے ہیں جس میں یہ جھگڑتے ہیں اور ہم تیرے پاس حق لیکر آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں پس اپنے گھر والوں کو رات کے کسی پہر لیکر نکلواور آپ ان کے پیچھے چلو اور کو ئی بھی تم سے پیچھے متوجہ نہ ہو اور چلے جاؤ جیسے کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے فیصلہ کردیا اس کی طرف کہ صبح ہوتے ہی ان کی چوتڑ کاٹ دی جائے گی”۔(سورہ الحجر آیات:52تا66)

ولاینال عہدی الظالمین

دو فرزنداسحاق و اسماعیل سورہ حجر میں غلام علیم کون؟۔قوم لوط کا عمل اور مایوسی بڑھ جائے تویہ بشارت بہت مفید ہے۔

برصغیر پاک وہند ، وزیرستان کے کلچر اور اسلام کو مربوط کریں تو جانوروں سے بدتر حالات ٹھیک ہوں۔ قرآن کی واضح تعلیم کو عام فہم بنانا لازم ہے۔ موٹی موٹی باتیں ذہن نشین ہوں توپھر جلد اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی ۔انشاء اللہ العزیز ۔

اسلام کی نشاة ثانیہ کا واضح خاکہ پہلے بھی مختلف سورتوں سے واضح کیا ہے۔مکمل سورہ ”ص” کو سمجھ کرچودہ طبق روشن کریں:

”ص اور قرآن نصیحت والا،بلکہ منکر عزت اور کم بختی میں ہیں… ہم نے ان سے پہلے زمانے میںکتنوں کو ہلاک کیاپھر اس وقت انہوں نے پکارا جب خلاصی کا وقت گزر چکا تھا… اور انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں کوئی ڈرانے والا آیااور کافروں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے… کیا اس نے معبودوں کو ایک کردیا ہے بیشک یہ بہت عجیب بات ہے۔ پس ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے الگ ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بیشک اس کے پس پردہ کوئی ایجنڈا ہے… ہم نے پچھلوں سے یہ نہیں سنا اور بیشک یہ کوئی بنائی ہوئی بات ہے… کیا ہم میں سے اس پر نصیحت اتاری گئی بلکہ ان کو تو میری نصیحت میں بھی شک ہے۔ بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا… یا انکے پاس تیرے زبردست دینے والے رب کی رحمت کے خزانے ہیں۔ یا انکے پاس آسمانوں ، زمین اور انکے درمیان کی حکومت ہے…تو اسباب کے ذریعے چڑھ جائیں گے… وہاں پرلشکرہے جس سے سارے گروہ شکست خوردہ ہیں… اس سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور عاد اور بساط دنیا پر لنگر انداز فرعون نے… اور ثمود اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ اور یہ وہ گروہ ہیں… ان میں ہرایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور عذاب تک جاپہنچے… یہ لوگ نہیں انتظار میں مگر ایک چیخ کے جس سے دیر نہیں لگے گی… اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں کاٹ ڈال یوم حساب سے پہلے انکی باتوں پر صبر کراور یاد کرو ہمارے بندے داؤد کو بیشک وہ ہاتھ والا تھا اور رجوع کرنے والا تھا… بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کیا جو صبح و شام تسبیح کرتے تھے اور پرندے جمع ہوتے اور ہر ایک اس سے رجوع کرتااور ہم نے اسکے ملک کو مضبوط کیا اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن تقریر کی صلاحیت دی… تو کیا تمہیں خبر ہے جھگڑے والے کی جب محراب کو پھاند آئے… جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو ان سے گھبرا یا…انہوں نے کہا کہ ڈرو مت ، ہم دوجھگڑنے والے ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی …پس ہمارے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کر اور التواء مت ڈالو اور ہمیں سیدھی راہ کی رہنمائی کیجئے … یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس99دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہے تو اس نے کہا کہ یہ بھی مجھے دیںاور وہ مجھ سے گفتگو میں تگڑا ہے… کہا کہ تحقیق اس نے آپ پر ظلم کیا تمہاری دنبی کو اپنے دنبیوں کے ساتھ ملانے کا سوال کرکے …اور بیشک بہت سارے مشترک مالکان ایک دوسرے کیساتھ زیادتی کرتے ہیں بجز جوایمان اور درست اعمال والے ہیں اور وہ بہت کم ہیں… بس داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اس کو فتنے میں ڈالا اور اپنے رب سے معافی مانگ لی اور جھک کر گرپڑا اور توبہ کرلی…پس ہم نے اس کو وہ چیز معاف کردی اور اس کیلئے ہمارے پاس مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ،پس لوگوں میں حق کیساتھ فیصلہ کرو…پس خواہش کے پیچھے مت چلو تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردے گی… بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے گمراہ ہوئے تو ان کیلئے سخت عذاب ہے جو حساب کے دن کو بھول گئے… اور ہم نے آسمان و زمین اور انکے درمیان میں جو پیدا کیا، باطل نہیں ہے… یہ کافر لوگوں کا گمان ہے تو ہلاکت ہے کافروں کیلئے آگ سے…کیا ہم نے ایمان اوردرست اعمال والے زمین میں فسادیوں کی طرح بنائے یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح بنایا… کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی مبارک تاکہ اس کی آیات پر غور کریں اور تاکہ عقلمند نصیحت لیں اور ہم نے داؤد کو سلمان عطا کیا ، اچھا بندہ تھا…بیشک وہ رجوع کرنے والا تھا… جب اسکے سامنے تیزرو گھوڑے پیش کئے گئے تواس نے کہا کہ بیشک میں نے مال کی محبت کو میرے رب کے ذکر پر ترجیح دی یہاں تک کہ حجاب کا شکار ہوگیا…ان کو میرے پاس لوٹاؤ اور اس کی ٹانگوں اور گردن کو چھوتا رہا…اور ہم نے سلیمان کو فتنے میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا… کہا کہ میرے رب مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کو نہیں ملے…بیشک تو بہت دینے والا ہے… پھر نے اس کیلئے ہوا کو مسخر کیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی نرم جہاں بھی پہنچنا ہوتا تھااور شیاطین کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے…اور دوسروں کو بڑی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا…پس یہ ہماری عطا ہے پس احسان کرو یا اپنے پاس رکھو حساب کے بغیر… اور ان کا ہمارے پاس بڑا مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اور ایوب کویاد کرو جب اس نے رب کو پکارا کہ شیطان نے چھوکر لگایا اور عذاب میں ڈالا…اپنے پاؤں مار اور یہ ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کا ہے… اور ہم نے ان کے اہل کو دیا اور ان جیسے اور بھی ساتھ کردئیے… ہماری طرف سے رحمت اور عقلمندوں کیلئے نشاندہی ہے… اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے پس اس کو مار اور قسم کو مت توڑ … بیشک ہم نے اس کو صابر پایا… بہت اچھاوہ بندہ…وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا تھااور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو یاد کروجوہاتھ اور آنکھوں والے تھے… بیشک ہم نے انہیں گھر کی یاد کیلئے خالص کردیا تھا… اور بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے… اور یاد کرو اسماعیل، یسع اور ذی الکفل کو وہ سب اچھے لوگ تھے… یہ قرآن یادہانی ہے اور بیشک پرہیز گاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے…دائمی باغات ہوں گے…سینسر سے ان کیلئے دروازے کھلیں گے… تکیہ لگائے بیٹھے طلب کریں گے بہت سارے پھل اور مشروبات… اور انکے پاس چھوٹے طیارے ہوں گے پیک قد کے برابر… یہ ہے وہ جس کا حساب کے دن کیلئے تمہارے ساتھ وعدہ ہے… بیشک یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے… یہی ہے اور بیشک سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے… جہنم ہے جس میں وہ پہنچیں گے… پس وہ برا جھولا ہے… یہی ہے پس اس کو چکھو سخت گرمی اور گھپ اندھیرے اور اس کی دیگر قسم کی مشکلات بھی ہوں گی … یہ لشکر ہے جس کو تمہارے ساتھ ٹھونس دیا گیا…ان کی خوش آمدید نہیں ہے وہ بھی دوزخ میں آرہے ہیں… وہ کہیں گے کہ تمیں خوش آمدید نہیں…تم نے یہ بلا ہم پر مسلط کردی ہے… جو بہت برا ٹھکانہ ہے… وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے تو اس کیلئے عذاب کو دوزخ میںڈبل کر… اور کہیں گے کہ ہمیں کیا ہوا ہے کہ جن کوہم سزا دیتے تھے جو اشرار میں سے تھے کہ ان کو نہیں دیکھتے…ہم نے انہیں تمسخر کے ساتھ پکڑا تھا یا ان سے ہم نے آنکھیں پھیر لی تھیں… بیشک یہ دوزخیوں کے آپس کا جھگڑا حق ہے… کہہ دو کہ بیشک میں ایک ڈرانے والا ہوں…اور اللہ کے سواکوئی معبود نہیں جو ایک قہار ہے… رب ہے آسمانوں اور زمین اور جواس کے درمیان میں ہے زبردست مغفرت والا… کہہ دو کہ یہ عظیم انقلاب کی خبر ہے، تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو… مجھے ملاء اعلیٰ کے بارے میں علم نہیں تھاجب وہ جھگڑ رہے تھے مگر جو مجھے وحی کیا گیا مگر میں کھلا ڈرانے والا ہوں… جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں…پس جب اس کو برابر کردوںاور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کیلئے سجدے میں گر پڑو… تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں… اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا… کہا کہ اے ابلیس کس چیز نے تمہیں سجدہ سے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایاتو نے تکبر کیا یا تو بڑوں میں سے تھا… کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں… مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا کہا کہ نکل تم بیشک مردود ہو… تم پر لعنت ہو جزا ء کے دن تک… کہاکہ مجھے بعثت کے دن تک مہلت دے… کہا کہ تمہیں ایک معلوم وقت تک مہلت ہے…کہا کہ تمہاری عزت کی قسم کہ ان سب کو بہکادوں گامگر تمہارے مخلص بندوں کے… کہا کہ حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں … میں جہنم کو بھردوں گا تجھ سے اور جس نے تمہاری پیروی کی سب سے… کہہ دو کہ میں تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں… یہ قرآن نہیں ہے مگر تمہام جہاں والوں کیلئے نشاندہی… اور تم ضرور جان لوگے کچھ مدت کے بعد کہ اس نے جو بڑے انقلاب کی خبر دی ہے”۔

سورہ ص پر تبصرہ : عتیق گیلانی

انبیاء کے کچھ معاملات کا ذکر تاکہ معصوم اور مافوق الفطرت افرادکے انتظار میں مسلمان نہ بیٹھ جائیں، اللہ نے واضح کیا کہ یہ لوگ انبیاء کے منکر ہی نہیں ہیں بلکہ اللہ کی وحی کے منکر تھے۔ نبوت کا دروازہ بند اور قرآن محفوظ ہے بقول مولانا انور شاہ کشمیری اس میں معنوی تحریفات ہیں ۔ مفتی زرولی خان نے کہا ” مولانا انور شاہ کشمیری سید نہیں وزیرستان کے پٹھان تھے”۔ جس نے دیوبند میں پڑھا ، پڑھایا اور آخر میں کہا کہ” میں نے زندگی ضائع کردی”۔ کانیگرم اور دنیا بھر کے بے گناہوں کو سزا دی گئی اور دنیا کے یوم حساب میں جزا مل جائے گی۔ انشاء اللہ

جن کا تمسخر اڑایا گیااور اشرار سمجھا گیا تو مجرم ان کو اپنے ہاں نہ پائیںگے۔کچھ کے خلوص کا غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے جوخود ایک عذاب اور آزمائش سے گزرتے ہیں۔ دنیا میں اصل مجرم الگ کردئیے جائیں گے اورتوبہ نہیںکی تو آخرت الگ ہے۔

سورہ ص میں یوم الدین اور یوم البعث الگ الگ ہیں۔

قاصرات الطرف اتراب

کا تعلق بھی یوم الدین یوم حساب یعنی دنیا سے ہے۔ دائمی باغات کا معنی یہ ہے کہ لیز پر نہیں ہوں گی۔ متشابہ آیات اپنی نظیر وںسے سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کھلی ہوئی عربی زبان میں ہے۔ گاڑی ، جہاز، دروازہ کھلنے کا جدید نظام نہیں تھا تو ہرچیز سے حورمراد لی گئی اور مولوی خود گمراہ ہوگیاتھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv