واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO
”اور جب نے ہم نے آپ سے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کو گھیرا ہے اور آپ کا خواب نہ بنایا مگر لوگوں کی آزمائش اور قرآن میں شجرہ ملعونہ اور انہیں ڈراتے تو ان کو نہیں بڑھاتا مگر بڑی طغیانی میں”۔ (بنی اسرائیل:60) شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت ہے۔
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہO(المائدہ آیت:48)
”اور ہم نے تیری طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی جو اسکے ہاتھ میں کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پر محافظ ہے”۔
یہود نوح کی بیوی بدکار، عیسائی پاکدامن کافرہ اور ابن عباس ، جمہور کے نزدیک پاکدامن، حسن بصری اور مجاہد کے نزدیک بدکار ۔ (تفسیر قرطبی) قرآن تصدیق بھی کرتا ہے اور غلطی کی درستگی بھی؟۔
امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتًا فی الجنة ونجنی من فرعون و عملہ و نجنی من القوم الظالمینO
”فرعون کی بیوی نے جب کہا کہ اے میرے رب ! میرے لئے جنت میں گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ”۔ (سورہ التحریم آیت:11)
3 طلاق اور حرمت پر جبری حلالہ کیا جاتا تھا اور اسلئے فرعون کی بیوی نے حلالہ سے پناہ مانگی تھی۔
نوح نے بتایا کہ حلالہ نہیں ،3طلاق دی مگر اس نے مجنون کہا۔ چھپاکر حلالہ کیا تو پھروہ لڑکا جم گیا ۔
قال یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالحٍ فلا تسألن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجاھلینO(سورہ ھود:آیت:46)
” فرمایا: اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ یہ نادرست عمل ہے۔ پس مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں ،میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنو! ”۔
یہ نہیں کہا: ان عملہ غیر صالح اس کا عمل صالح نہیں بلکہ انہ عمل غیر صالح ”بیشک وہ غیر صالح عمل ہے”۔ غیر صالح ”حلالہ کی پیدوار” اور حلالہ زنا تو نہیں لیکن جب نوح نے واضح کیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع ہے ۔ اس نے نہیں مانا تو کافرہ ہوگئی اور شوہر سے خیانت کرکے چھپا کرحلالہ کیا ۔
امرات نوحٍ و امرات لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا ھما
”نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو میرے صالح بندوں کے نیچے تھیں اور پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ”۔ (سورہ تحریم:10)
قال النبیۖ لولا بنوا سرائیل لم یخنز اللحلم و لولا حواء لم تخن انثی زوجھا صحیح بخاری نمبر 3330۔
”نبی ۖ نے فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ”۔
اہرام مصر کی ترقی میں پیش رفت بنی اسرائیل نے نافرمانی سے روکی ،ورنہ گوشت نہیں سڑسکتا تھا۔ اگر حوا حضرت آدم کے ساتھ شریک نہ ہوتی توکوئی عورت اپنے شوہر سے چھپ کر حلالہ نہ کرتی۔
اناجیل میں ہے کہ حضرت مریم یوسف نجار کی منگیتر تھی لیکن جبرائیل نے یوسف نجار کی شکل میں خدا کی روح پھونک دی ۔یوسف نجار نے توراة کے مطابق سزا سے بچانے کیلئے مریم کو تحفظ دیا۔
مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمات ربھا و کتبہ
”مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اسمیں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اوراسکی کتابوں کی تصدیق کردی”۔ (سورہ التحریم:12)
عیسائی3سوسال پہلے طلاق کے قائل ہوگئے۔ یہود حلالہ چھوڑیں گے ۔ سورہ نور میں لعان کا حکم اور زنا پرسوکوڑوں کی سزا ہے۔ شوہررنگے ہاتھ پکڑلے اور عورت جھوٹ بولے توبھی کوئی سزانہیں ہے ۔
قرآن سے توراة وانجیل کو سمجھاتو عیسائی مذہبی طلاق کومانیںاور یہود حلالہ چھوڑدیں۔نبیۖ کی نرینہ اولاد کو اللہ نے بچپن میں اٹھایا۔ عیسیٰ کی آمد تو نبیۖ کا مقدمہ تھادادا نہیںنانا کے وارث تھے۔ میرے اجداد نے یتیم نواسوں کو ذاتی و قومی جائیداد میں حصہ دیا۔ ”میراث آدھا علم ہے”۔نبیۖ۔ داؤود کا وارث سلیمان ذاتی و قومی جائیداد، خاندانی املاک ، حجرات اور باغ فدک میں فرق ۔ ازواج مطہرات کے اخراجات تھے مگر اولاد نہ تھی تواولاد فاطمہ کو ملنا تھا۔ طلاق اور مسائل کا فضول حجم ختم تو میراث اور باقی علم کا توازن برابر !۔ مفتی تقی عثمانی وارث تومولانا ولی رازی کیوں نہیں؟۔ زکی کیفی کے یتیم بچوں کو داداکی میراث کا حق کتنا مل سکا؟۔ ــــــــــ
جاویداحمد غامدی نے کہا کہ”3طلاق کہہ دیا تو قرآن واضح نہیں۔نبی ہۖ نے اجتہاد سے رکانہ کی 3طلاق پر قسم اٹھوائی تو ایک قرار دی۔ ابوداؤد کی حدیث ضعیف مگرایسے معاملے میں ٹھیک ۔سیدنا عمر نے اجہتاد سے3قرار دیا، یہ بھی درست تھا۔جیسے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی تو فیصلہ خود نہیں کرسکتے ویسے ہی مفتی عذر قبول کرے یا سزا دے۔
مثلاً جاویداحمد غامدی کے والد نے3طلاق دی اور اسکے حلف پر ایک قرار دی مگر بیوی نے اعتبار نہ کیا اور چھپ کر حلالہ کیا اور جاوید غامدی کو جنم دیا ۔
جاوید غامدی کے داماد حسن الیاس نے3طلاق دی تو بیٹی کوحلالہ کی سزا دیدی۔ یہ کونسا اسلام اپنے نواسیوں اور مسلمانوں کیلئے پھیلا رہاہے دلا؟۔
ابوداؤد میں رکانہ کے والدین سے سورہ طلاق کی تفسیر دیکھتا اور سیدنا عمر و علی کا فیصلہ دیکھتا تو پھر گانڈ میںجماہوا ناصبی ڈانبر بلبلے کی طرح اُڑجاتا۔
حلالہ فحاشی کا لنڈابازارلگانے والے بنو زرقاء کو گالی وادی مہران کے اصحاب صفہ کے صحابی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے تخلیق کی تھی جو جاوید غامدی کا کلچر تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے پدو مارنے والی جاٹ قوم کاحدیث میں واضح تذکرہ کیاہے ۔
برصغیر پاک وہند اور ایران میں حلالہ ومتعہ کلچر نہیں تھا۔حلالہ بنوزقاء کا تحفہ ہے ۔ عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے توحضرت علی نے کہا: ”تم بھی متعہ ہی کی پیدوار ہو”۔ جدید ایران کا بانی اسماعیل صفوی سنی تھا مگر اس کا پوتا اسماعیل صفوی شیعہ بن گیا کہ حلالہ کی دلاگیری سے مرضی کا متعہ اچھاہے۔
رسولۖ نے ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی توسورہ تحریم دنیا بھر کیلئے ہدایت کا سبب بن گئی
لقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم
” بیشک اللہ نے تمہاری طلاق کی مغلظات کو حلال کردیا”۔
سورہ مجادلہ میں ظہار کی سخت ترین طلاق کابالکل جڑ سے خاتمہ کردیا کہ ”یہ قول منکر اور جھوٹ ہے”۔ سورہ تحریم میں نہ صرف یہ کہ لفظ حرام کو لغو اور بالکل بے معنی اور بے وقعت قرار دیا بلکہ جتنے بھی الفاظ وہ تھے جو میاں بیوی کے درمیان مذہبی رکاوٹ بننے کی کچھ بھی صلاحیت رکھتے تھے سب کا خاتمہ کردیا اور ہرقسم کی طلاق کے ایمان کو حلال قرار دینے کا اعلان کردیا۔ حجاج بن یوسف اگر جان بوجھ کر حرامی پن کا مظاہر ہ نہیں کرتا تھا تو علی کو جہنمی قرار دینے پر زور ڈال کر حضرت سعید بن جبیر کی شہادت پر بھی بہت بڑا اجر مل گیا ہوگا۔ اسلئے کہ حضرت عمر کی تین طلاق ہی کیا کم تھے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کی فحاشی کیلئے نیا میلہ بھی لگ جاتا۔ اور جن لوگوں نے حلالہ کروائے تھے اور انہوں نے اس کو شرعی مجبوری سمجھ لیا تھا تو ان کو بھی توبہ واصلاح کرنے پربہت بڑا اجر ملے گا۔
والذین لایدعون مع اللہ الھًا اٰخر ولایقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق و یزنون ومن یفعل ذٰلک یلق اثامًاOیضاعف لہ العذاب یوم القیامة و یخلد فیہ مھانًاOالا من تاب واٰمن و عمل عملاً صالحًا فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات وکان اللہ غفورًا رحیمًاO
”اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی او ر آقا کو نہیں پکارتے اور نہ قتل کرتے ہیں کوئی جان مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے تو بڑے گناہ میں پڑگیا اور اس کیلئے قیامت کے دن ڈبل عذاب ہوگا اور اس میں ہمیشہ ذلیل رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو انکے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ بدلے گااور اللہ غفور رحیم ہے”۔ فرقان:68تا70
اللہ کے بندوںکی صفات کو آگے پیچھے واضح کیا
والذین لایشھدون الزور واذا مروا با للغو مروا کرامًاOوالذین اذا ذکروا باٰیٰت ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًاO وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیتوں سے سمجھایا جائے تو ان پر اندھے بہرے نہیں گرپڑتے”۔ فرقان:72،73
یہ نہیں کہ آیت230البقرہ کا حوالہ دیا اور حلالہ کی لعنت سے لوگوں کی عزتیں خراب کرنے کیلئے وہ اندھے بہرے ہوکر نفسانی لذات کیلئے گر پڑیں۔
سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کی وضاحتوں کے بعد سورہ البقرہ224سے دیکھ لیں تو پتہ چلے کہ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ تو چھوڑ دیں لوگوں کے درمیان بھی صلح میں رکاوٹ بننے کا تصور ہی اللہ نے بالکل ختم کردیا ہے۔ یہ طلاق کا مقدمہ ہے۔پھر البقرہ225میں واضح کردیاکہ لغو ایمان یعنی طلاق کے صریح و کنایہ کے لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا ہے البتہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ پھر آیت226میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے منع کردیا کہ پہلے عورتوں پر واضح کردو کہ اب بال کی ان کی کورٹ میں ہے جس پرحضرت عمر کے کانوں سے سنسنی خیز دھواں نکلنا شروع ہوگیا کہ یہ ماجرا آخر کیا ہے؟۔ کیونکہ جب سورہ تحریم نازل ہوئی تھی تو امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے بڑی ڈانٹ کھائی تھی۔ ماریہ قبطیہ سے حرام کا سخت ترین لفظ استعمال کیا لیکن اللہ نے واضح کردیا کہ یہ کچھ نہیں ہے ،اللہ نے اَیمان(طلاقوں) کو حلال کردیا ہے۔
اب نبی اکرم ۖ نے ایک لفظ حرام، طلاق اور کچھ بھی منہ مبارک سے ادا نہیں کیا ہے تو ساری ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کردیا؟۔ یہ ساتوں آسمانوں کی حدود میں رہنے والی مخلوقات کا آرڈر قطعاً نہیں ہوسکتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے صدیق اکبر کی بیٹی کا ثبوت فراہم کردیا کہ مجھے کسی طرح والدین سے مشاورت نہیں کرنی ہے۔ مجھے نبیۖ کیساتھ ہی رہنا ہے۔ حضرت حفصہ فاروق اعظم کی بیٹی سے خدا نے کچھ اور کام لینا تھا۔ ورنہ بات وضاحتوں کے ساتھ پھر سامنے نہیں آسکتی تھی۔ حضرت عمرفاروق اعظم کی روح میں قرآنی آیات کی تاثیر مسیحائی کچھ اس طرح سے اتر گئی کہ رہتی دنیا کیلئے فاروق اعظم بین الحق و الباطل ایک امتیاز بن گئے۔ ایک طرف قرآن نے طلاق کے الفاظ سے رکاوٹوں کی دھجیاں بکھیر دیں تو دوسری جانب ایلاء میں بھی عورت کے اس اختیار کا ایک اعلیٰ ترین اسوۂ حسنہ کا قانون بنادیا کہ طلاق کے اظہار کے بغیر بھی عورت سے کوئی شوہر ناراض ہوجائے تو پھر بال عورت کی کورٹ میں جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شوہر ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ، انتقام لیتے اور اس کو تکلیف پہنچاکر مزے کرتے؟۔
یہی وہ چیز تھی جس نے حضرت عمر کے ذریعے پہلی مرتبہ اللہ نے عورت کے حق کو زبردست تحفظ دے دیا۔
حضرت عمر کے دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور قرآن کی آیات عرب پر زبان کی وجہ سے اور عجم پر سادہ سے مفہوم کی وجہ سے بالکل واضح تھیں۔ ایک شخص نے تین طلاق دی اور اس کی بیوی نے رجوع سے انکار کردیا۔ آیات میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ عورت راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن حضرت عمر فاروق اعظم کی روح کا تو معاملہ ہی بالکل جدا تھا۔ چنانچہ قرآن وسنت کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ دیا اور لوگوں نے اسلئے ٹھیک سمجھا کہ قرآن میں ابہام نہیں تھا۔
لیکن دراڑ عبداللہ بن عمر کے اختلاف نے ڈال دی کیونکہ وہ بھی فاروق اعظم ہی کا بیٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ یہ مرد کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ مجھے رسول اللہۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر کے سامنے بیٹی حفصہ نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا اور حضرت عمر کے سامنے بہو نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا ۔ بیٹی کے قصہ سے عورت کے حق کی وضاحت تھی اور بہو نے اپنا رونا دھونا مچایا ہوا تھااسلئے کہ وہ رہنا چاہتی تھی۔حضرت عمر نے بہو کا قصہ نبی ۖ کو سنایا تو رجوع کا حکم فرمایا۔ لیکن بیٹی کا قصہ واضح کرتا تھا کہ عورت راضی نہیں ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
حضرت عمر نے طلاق میں عورت کا حق نہ سمجھنے کے پیش نظر عبداللہ بن عمر کے خلاف خلافت کی نااہلی کی ڈگری جاری کی۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے باپ کی بات پر نبیۖ کی رہنمائی کو ترجیح دینے کا معاملہ زندگی کی آخری سانس تک برقرار رکھا تھا۔ کوئی کہتا کہ اپنے باپ کو نہیں مانتے؟ تو جواب دیتے تھے کہ میں نبیۖ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں اپنے باپ پر نہیں !۔
حضرت حسین کی ایرانی بیوہ حضرت زین العابدین کی والدہ ماجدہ حضرت عبداللہ بن عمر کی سالی تھیں۔ زین العابدین نے حضرت عمر کے خلاف انکے بیٹے عبداللہ بن عمر کی گواہی کو سچ جانا کہ قرآن وسنت کے خلاف ایک بدعت کو رائج کردیا۔ پھر حسینی سادات کی عقیدت ومحبت نے روافض کو جنم دیا ۔ حضرت عمر پر گولہ باری کرنے کو ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور غلطی بھی نہیں کہ ایک بدعت جاری کرنے کی بدظنی دل میں بیٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے حلالہ کے نام پر بے حیائی اور گھر ٹوٹ رہے ہیں۔
لیکن حسن کے بیٹے حسن مثنی جانتے تھے کہ حضرت عمر نے تو بالکل ٹھیک کیا ہے
اور حضرت علی نے حرام کے الفاظ عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ایک طرف حضرت عمر کے دشمن بن گئے اور دوسری طرف حضرت علی کے دشمن بن گئے لیکن حق یہ ہے کہ دونوں نے بالکل ہی اعتدال سے ہٹ کر کردار ادکیا۔ امام حسن مثنی کی کسی نے سنی نہیں۔ عبداللہ محض کو قید میں شہید کیا۔
وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنا القی الشیطٰن فی امنیتہ…
”اور ہم نے کسی رسول اور نبی کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا۔(سورہ حج:آیت52)
جب عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے کہ قرآن کی وضاحتوں کے باوجود کیوں اس طرح کی حرکت کردی اور رجوع کا حکم فرمایا تو شیطان نے اس میں القا کردیا کہ غضبناک ہونے کا مطلب ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتاہے؟۔ حالانکہ معروف رجوع اور باہمی رضا مندی کی بنیاد پر رجوع بالکل واضح کیا ہے قرآن نے ۔
لیجعل ما یلقی الشیطٰن فتنة للذین فی…
”تاکہ شیطانی القا کو ہم آزمائش بنادیں جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں”۔ (سورہ الحج آیت53)
جب مسجد کے امام کا پتہ چل جاتا ہے کہ بچیوں کیساتھ فحاشی کا مرتکب ہے توپھر برداشت نہیں کیا جاتا۔ جب عوام الناس کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے نام پر ان کی عزتیں مفت میں لوٹی جا رہی تھیں تو ایسے مذہبی پیشواؤں کے خلاف انقلاب آتا ہے۔
ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الی صراط مستقیمO(سورہ الحج:آیت54)
”اور تاکہ وہ لوگ جان لیں جن کو علم دیا گیا کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ سو وہ اس پر ایمان لائیں۔ اور انکے دل اس حق کیلئے جھک جائیں۔بیشک اللہ ایمان والے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت فرمانے والا ہے”۔
جس دن شیعہ سنی فرقہ واریت سے ہٹ کر قرآن، ایمان، علم و حق کی طرف رجوع کرینگے تو دنیا میں بھی اسلامی انقلاب آجائے گا اور افغانستان ، ایران، پاکستان اور عرب کے علاوہ عالم انسانیت پر قرآن کے انسانی اخلاقیات کا بہت عظیم اثر ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ وقت بدلنے میں زیادہ دیر نہیں۔ انشاء اللہ ــــــــــ
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ، الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت اور ان دونوں سے مو دبانہ گزارشات :سید عتیق الرحمن گیلانی
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف حضرت مولانا اشرف صاحب سلیمانی کا واقعہ (ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم)
پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے کہا کہ سالِ اول کے طالب علم سرفراز چند دن میڈیکل کالج میں گزارنے کے بعد ہمارے شیخ و مربی مولانا محمد اشرف (سابق پروفیسر و صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی) سے ملنے کیلئے آیا۔ برخوردار تبلیغی دینی لحاظ سے فکر مند تھا، ملتے ہی کہا، ”حضرت میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑنا چاہتا ہوں یہاں کا مخلوط ماحول اور بے دین فضا مجھے بالکل پسند نہیں”۔ فرمایا ”بھلے آدمی!لڑکیاں تو نہیں بھاگ رہیں تو مرد ہو کر ہتھیار ڈال رہا ہے۔ یہ تعلیم چھوڑ کر کرو گے کیا؟”اس نے کہاکہ دینی مدرسے جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا دیکھو علما ء بہت ہیں علما ء کے خادم کم ہیں۔ تم ڈاکٹر بن کر علما ء کا خادم بنو۔ ڈاکٹر بنا، حضرت کی صحبت کا نتیجہ کہ عملی لحاظ سے کئی علما ء کیلئے قابلِ رشک بنا اور واقعی علماء کا ایسا خادم بنا کہ جہاں بھی رہا وہاں کے علماء کی خوب خدمت کی۔ ایک حادثے میں شہادت ہوگئی لیکن آج تک ان کی خدمات دوست احباب اور علمائے کرام کے حلقوں میں یادگار ہیں۔ ہمارے حضرت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے مریدوں کو دنیا کے کاموں میں ایسا چلاتے تھے کہ اس دنیا کو دین اور عبادت بنا دیتے تھے۔
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
مسلک صاحبِ فتاوی
صاحبِ فتاوی مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر طعن نہیں کرتے احقر العباد بندہ رشید احمد گنگوہی عفا اللہ تعالی عنہ بخدمت اربابِ فہم و دیانت عرض کرتا ہے کہ بندہ کا مذہب حسب مسلکِ حق جملہ حق و دین یہ ہے کہ جس مسئلہ میں صحابہ و مجتہدین علیہم الرحمة کا اختلاف ہو تو اس میں جس جانب کو اپنی تحقیق سے یا تقلید کسی مجتہد اہل حق سے راجح سمجھے اس پر عمل درآمد رکھے اور دوسری جانب پربھی بے جا کوئی طعن و تشنیع نہ کرے۔ عند الضرورت اس پر بھی عمل کر لے۔ اسی وجہ سے یہ بندہ عاجز حنفی المذہب ہے کسی اہل مذہب پر طعن نہیں کرتا اور نہ اپنے مذہب کی خواہ مخواہ ترجیح کے درپے ہوتا ہے مگر عندالضرورت جہاں کچھ رفعِ فساد یا اصلاح متصور ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں کچھ لکھ دیتا ہے۔فقط کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
تبصرہ: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب1982میں رائیونڈ کے اندر حاجی عبدالوہاب سے میں نے مشورے کا کہا تو فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ نہیں لینا”۔ کانیگرم کے مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ جماعت میں تشکیل کریں ۔ مولانا شاہ حسین محسود نے کہا کہ نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ لیں۔ دارالعلوم کراچی میں انڈسڑیل ایریا کی وجہ سے داخلہ لیا جہاں کام بھی ملا لیکن جب میں نے کہا کہ زکوٰة میرے لئے جائز نہیں اور بلا معاوضہ دین کی خدمت کروں گا تو داخلے سے انکار کردیا۔ پھر مولانا یوسف لدھیانوی شہید سے کہا کہ والدین کی اجازت نہ ہو جبکہ میری خدمت کی ان کو ضرورت نہیں تو کیامیرے لئے علم حاصل کرنا جائز ہے ؟۔فرمایا: مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔ میں نے کہا کہ مشورہ نہیں فتویٰ مانگ رہاہوں تو فرمایا کہ ”پھر پڑھ سکتے ہو”۔ ایک سال مدرسہ میں پڑھا تو بہت فضول لگا اسلئے کہ سارے معاملات الٹ تھے اور اپنے مرشد حاجی عثمان سے کہا کہ علم چھوڑ کر حفظ کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا : میں عالم نہیں ہو ں ،کسی استاذ سے مشورہ لو۔ میں مولانا عبدالیقوم چترالی کے پاس گیا تو فرمایا کہ ”حفظ کی ایسی حیثیت نہیں علم حاصل کرو”۔ آج اگر مولانا چترالی کا مشورہ نہیں ہوتا تو میں علم کی یہ خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ رحمان بابا نے فرمایا:
” جب تم علم کے بغیر پیری فقیری کروگے تو اپنی کھوپڑی کو آگ لگادوگے”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی اور عمر ضائع کردی”۔ اسلئے مولانا بنوری نے علماء کو قرآن، حدیث اور عربی سکھانے کیلئے مدرسہ کھول دیا لیکن جب دارالعلوم کراچی شہر سے کورنگی منتقل ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت آگئی اور درس نظامی کی تکمیل کیلئے پھر جت گئے۔ الحمدللہ مولانا بنوری کے اخلاص کی برکت سے اساتذہ کرام سے تعلیم کی درست رہنمائی مل گئی۔ ــــــــــ
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
” ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک مکان و زمان کی قید سے آزاد و مطلق ہے ۔ روح مطلق ہوتواسکے نزدیک ماضی، مستقبل، حال، ظاہر باطن سب برابر ہیں ۔ روح کے نزدیک ہر چیز ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہمارے آقا نبی کریم ۖ اگر آپ عقل یا دل سے سوچیں تو آقا نبی کریم ۖسنتے ہیں۔
فتحِ مکہ کے دن، جب ہمارے آقا نبی کریم ۖ کعبہ کے پاس تھے، تو ایک شخص آیا، اس نے اپنے دل میںکہا: ‘آج میں محمد (ۖ)کو قتل کر دوں گا عربوں کو ان سے نجات دلاؤں گا۔ ”ہمارے آقا نبی کریم ۖ وفود کا استقبال کر رہے تھے اور فتح کا موقع تھا، جبکہ وہ کہہ رہا تھا: ”آج میں محمد(ۖ)کو قتل کر کے عربوں کو ان سے راحت دلاؤں گا۔اس نے ایک خنجر (چھری)لیا اور ہمارے آقا نبی کریم ۖ کے قریب آنے لگا، اور اپنے دل میں کہہ رہا تھاوہ کیا کہہ رہا تھا؟ ”آج میں محمد (ۖ) کو قتل کر کے مخلوق کو ان سے آرام دلاؤں گا۔”
ہمارے آقا نبی کریمۖ دیکھ رہے تھے۔ وہ شخص رسول اللہ ۖ کے پاس کہہ رہا تھا، چاہے وہ زبان سے کہتا یا دل میں سوچتا، ایک ہی بات تھی، ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اس سے فرمایا:تم نے کیا کہا؟۔
اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول!میں تو اللہ سے استغفار کر رہا تھا، میں تو استغفار کر رہا تھا۔آپ ۖ نے فرمایا: نہیں، سچ بتا تم نے کیا کہا تھا، کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ آج میں محمد کو قتل کر کے اس سے خلقت کونجات دلاؤں گا؟۔اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں! پھر ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اسے اپنے پاس کیا، اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ وہ شخص کہتا ہے: رسول اللہ ۖنے مجھے اس حال میں چھوڑا کہ آپ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو چکے تھے۔
شایدیہ ہے کہ ہمارے آقا نبی کریم ۖکی روحِ مبارک مطلق (آزاد)ہے، اسلئے ان کے ہاں ظاہر باطن برابر ہیں۔ اور یہ چیز ہم نے اللہ کے ولیوں کے ہاں بھی دیکھی ہے۔ ولی کے پاس جب اس کی روح مطلق ہوتی ہے چاہے آپ اپنے دل میں سوچیں یا اپنی زبان سے بولیں، دونوں ایک ہی بات ہوتی ہے؛ چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ سوچ رہے ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عقل تسلیم نہیں کر سکتی، یہ روح کی دنیا ہے، اور روح کی دنیا کا جسمانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، روح کی دنیا میں ہر چیز (موجود)ہے۔
مثال کے طور پر، آپ اپنے شیخ سے ملتے ہیں، آپ اور شیخ کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے شیخ سے ملتے ہیں، تو وہ دوسرا شیخ آپ سے کہتا ہے: کیا آپ کے شیخ نے اس دن آپ سے یہ بات نہیں کہی تھی؟۔ روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر اولیاء کی روحوں کا یہ حال ہے تو ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک کا مقام کیا ہوگا؟ ہمارے یہ آقا نبی کریم ۖہر چیز کو دیکھتے ہیں، ہر چیز کو سنتے ہیں، ہر چیز میں اجازت دیتے ہیں اور ہر چیز میں تصرف فرماتے ہیں۔
یہ ہم ایسی باتیں کر سکتے ہیں جسے شاید (ظاہری)عقل قبول نہ کرے، لیکن روحِ محمدی ایسی روح ہے جس کی کوئی سرحد و حد نہیں۔ تمام کائناتیں رسول اللہ ۖکے نور سے پیدا کی گئیں، اور فرشتے رسول اللہ ۖکے نور سے تخلیق کیے گئے، اور آپ ۖ تمام موجودات کے سردار ہیں، اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کا اور اس کی مخلوق کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔
تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رحمة للعالمین ۖ سے یہ فرمایا کہ فلم تقتلوھم و لٰکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولیکن اللہ رمٰی ولیبلی المؤمنین منہ بلآئً حسنًا ان اللہ سمیع علیمO ”تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے وہ کنکر پھینکے تاکہ مسلمانوں کو اچھی آزمائش میں مبتلا ء کردے۔ بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (سورہ الانفال آیت:17)
پھر غزوہ ، احزاب اور غزوہ حنین میں مشکل کا اللہ نے شکار کیا۔ تاکہ صوفیا ء کرام تزکیہ نفس کو مشاہدات کے علاوہ آزمائش کے حقیقی میدانوں میں بھی جانچ سکیں۔ کبھی کمزور انسان کو اللہ بلا سے لڑادیتا ہے۔جیسے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام لڑے۔ ــــــــــ
مودبانہ گزارشات سید عتیق الرحمن گیلانی
ڈاکٹر فداء محمد ہمارے بچپن میں غالبًا کانیگرم تشریف لائے تھے اور مولانا اشرف ہمارے ہاں اللہ کے ولی مشہور تھے جن کی ہمارے مرشد حاجی عثمان نے بھی تعریف کی تھی۔
مولانا اللہ یار خان نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔1982ء میں اسٹیل مل میں ان کے مرید تھے اور ان کے رسالہ ”المرشد” کے مضامین مجھے بہت اچھے اور اعتدال والے لگے۔ خاص طور پر نبیۖ کے نور وبشریت پر ادنیٰ مثال کرنٹ والے بجلی کے تار اور عام تار میں فرق کا دیا تھا اور مجھے انہوں نے پیشکش کی تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہیں کریں ،براہ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت ہوگی لیکن میں نے پہلے سے منع کردیا تھا۔ امام مسجد مولانا بیعت تھے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نبیۖ کی زیارت کی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ میری ایسی قسمت کہاں ؟۔ پہلی بار آپ کیلئے یہ پیشکش سنی ہے۔ سردار امان الدین شہید نے انکے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اخوان تحریک ،MNAجنوبی وزیرستان مولانا نور محمد شہید اور مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی تھی۔ مشرق اخبار کی معروف کالم نگار مریم گیلانی نے امان الدین شہید کی طرف سے تحریک کو اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ جبکہ مولانا اکرم اعوان نے وزیرستان کے لوگوں کیلئے فرمایا تھا کہ ” اس بیچ کو اللہ نے انقلاب کیلئے رکھا ہے”۔ اگر تحریک طالبان و دیگر ہتھیار اٹھانے والی سب تنظیمیں ہتھیار رکھ دیں اور علماء و صوفیاء اور ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں قرآن کے احکام کی طرف آجائیں تو بغیر کسی مشکلات کے دنیا میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔ سب اس نظام سے تنگ اور مایوس ہوچکے ہیں۔
مشاہدات، خواب اور انقلابی جدو جہد کے نتائج دیکھنے کی حسرت اس وقت پوری ہوسکتی ہے کہ جب قرآن کے احکام کو معاشرے میں زندہ کریں گے اور مردہ لوگوں کی روح کو زندگی مل جائے گی۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور ہندوستان کے مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے زندہ و تابندہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹ لیں گے۔ جب اسلامی جمہوری محاذ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان میں ہوا تھا اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی زندہ تھے۔ قبر پر فاتحہ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے۔ عقائد میں سب ایک ہوسکتے ہیں۔ مولانا خان محمد شیرانی سے اس وقت جمعیت علماء اسلام کا ایک عالم دین الجھ رہاتھا تو میں نے اجازت مانگ کر مطمئن کیا تھا اور اس نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے بتادیا۔ اس نے کہا کہ مجھے پہلے گمان تھا کہ آپ ہوسکتے ہیں۔ آپ نے چھڑا دیا۔
ہمیں ہار جیت کیلئے نہیں اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے مسلمانوں کو ہی نہیں تمام مذاہب کو بھی قرآن کی درست تعبیرات سے وہ نشان منزل قائم کرنا چاہیے جس سے جلد منزل کو پہنچ جائیں۔ ــــــــــ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم!(خاتون کی آواز ہے) پارلیمنٹ میں بیٹھے بہت سے افراد پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک جن کے آبا اجداد ملک و ملت اور مذہب سے غداری اور برطانیہ سے وفاداری کے صلے میں اس مقام تک پہنچے ۔
سب سے پہلے بھٹو خاندان کا شجرہِ نسب یہ ہے: غلام مرتضی بھٹو، ان کا بیٹا شاہنواز بھٹو اور ان کا بیٹا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت اصفہانی ایرانی لڑکی دوسری بیوی تھی جن سے بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ خاندان کی کہانی یہ ہے کہ1843میں چارلس نیپئیر کی قیادت میں انگریز نے سندھ پر قبضہ کیا اور دولت کی لوٹ مار کیلئے انگریز نے خاص طبقہ پیدا کیا جسکے ذمے عوام سے لگان یعنی ٹیکس کی وصولی تھی۔ برصغیر کی غریب عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریز کی مہربانیوں سے بھٹو برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں غربت کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔
بہر حال خدابخش خان اور اسکے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور انکے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ باری باری وفات پا گئے۔ مگر انہی میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے صلح کر لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا گوارا نہ کیا اور یہاں سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انگریز نے شاہنواز بھٹو کو بہت نوازا اور یہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ شاہنواز بھٹو1888میں پیدا ہوا اور1957میں فوت ہوا۔ یہ ممبئی حکومت میں مشیرِ اعلی، جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان اور انگریز کی بمبئی پریذیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ اس کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلےCIEاور بعد میں برطانیہ نے”سر” کا خطاب دیا۔ خاندان کے ابتدائی افراد، جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریز کے خلاف مزاحمت کی بعد کی نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ نے ”سر”، ”نواب” اور ”بہادر”کے خطابات دئیے۔ خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بے شمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب ہاریوں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے۔ سکھر اور جیکب آباد عملاً ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ خود انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین (David Cheesman) نے اپنی کتاب Landlord Power and Rural Indebtedness in Colonial Sind کے مطابق سندھ میں یہ وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھیں مگر برطانیہ کے وفادار رہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان کے علاوہ انگریز کے وفادار میں وڈیرو غلام قدیر درخان، میر عبدالحسین خان تالپور موجودہ سیاستدان فریال تالپور کے اجداد ہیں، اس کے علاوہ غلام رسول جتوئی اور جتوئی خاندان انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے، شامل تھے۔
شاہ محمود قریشی جو مخدوم کہلواتا ہے سکھوں کے ابتدائی دور اسکے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود، درگاہ کے گدی نشین تھے۔1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو فتح کیا تو مخدوموں کو ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی جو بڑی رقم تھی۔1847میں سکھ کی قوت لڑکھڑانے لگی اور برطانیہ نے یونین جیک کا جھنڈا برصغیر پر گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے انگریز کو جو خفیہ خبریں دیں، جو مخدوموں کے نئے آقا کیلئے انتہائی مفید اور مددگار ثابت ہوئیں۔ انگریزنے ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تاحیات1700روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا۔1857کی جنگِ آزادی کے خونی ہنگاموں کے دوران اس یارِ وفادار نے سرکاری فوج میں20ہزار سوار اور کافی پیادے بھرتی کروائے اور25سواروں کی پلٹن بنا کر جب کرنل ہیملٹن، رائے احمد خان کھرل اور انکے مجاہدین کے خلاف خونی لڑائی لڑ رہا تھا تب مخدوم شاہ محمود نے خفیہ مخبر کے علاوہ انگریز کی قوت بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔
جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی رہنما انگریزوں کی امداد کر رہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہدِ آزادی پر بہت برا اثر پڑا۔ اور مخدوم شاہ محمود کو30ہزار روپے نقد کے علاوہ1800روپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوؤں پر مشتمل زمین برطانیہ نے دی۔ شاہ محمود قریشی کی1859میں وفات کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش سجادہ نشین بنا۔ اس کی دستار بندی انگریز ڈپٹی کمشنر نے بڑی شان و شوکت سے اپنے ہاتھوں سے کی۔ انگریز اور افغان کے درمیان جنگ ہوئی تو انگریز کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ جہاں مجاہدین پاکستان کے پہاڑوں میں انگریز کیخلاف لڑائی لڑ رہے تھے تو گدی نشین انگریز کا ساتھ دیکر امت سے غداری کے بدلے میں بھاری رقم وصول کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اجداد اور مرزا غلام احمد قادیانی خاندان کا انگریز کی ایجنٹی میں کردار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلم مزاحمت کو کچلنے اور انگریز کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کی۔ دوسرے خاندان سے کذاب نبی نے جنم لیا جس کی باقیات آج بھی ہم پر مرزائیوں کی صورت میں مسلط ہیں اور تفصیل سن لیں۔ وکیل انجم کی کتاب ”سیاست کے فرعون”
ویڈیو کی تفصیل دیکھ لیں ۔ یہاں کچھ اقتباس دیتے ہیں۔ میزبان: کراچی، لاہور، اسلام آباد، بہالپور ایسے شہروں میں حلالہ سینٹر ہیں۔ پیسے لے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔
تہمینہ شیخ : یہاں کیا کرتے ہیں؟ کہتے ہیں دو لاکھ روپیہ دو، حلالہ کرا دیں۔ بہالپور میں دو لاکھ کا باقاعدہ ہ ا شتہار۔
تہمینہ شیخ: بہت بہترین قسم کا یہ کیس ہے جس سے لوگوں کو سبق بھی مل سکتا ہے۔ ہر خبر میں سبق ضرور ہوتا ہے لیکن لوگ صرف خبر کا مزہ ضرور لیتے ہیں لیکن سبق نہیں حاصل کرتے۔ اس خبر میں جو ذکر ہے، جو سبق ہے وہ حلالہ ہے۔ وہ دین ہے، وہ دنیا ہے اور وہ آخرت ہے ایک عورت کی۔ لیکن پتہ نہیں مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ کیوں بربادی کی طرف چل پڑے ہیں، چل نہیں پڑے دوڑ پڑے ہیں سارے کے سارے۔ یہ کیس پشاور کا ہے اور ایک موضع ہے جسے کہتے ہیں متھرا۔ ہدایت اللہ نامی شخص ایک عورت کا شوہر۔ ہوتا کیا ہے؟2010میں والدین اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں ہدایت اللہ سے اور اس میں بیٹی جو ہے اس کا نام زینب ہے۔ یہ شادی15سال بڑی بہترین انداز میں چلی زینب کو شوہر بہت زیادہ مارتا پیٹتا تھا۔ ہر دفعہ برداشت کرتی تھی، ایک دن سامنے اکڑ کے کھڑی ہوگئی، خبردار جو اب ہاتھ لگایا۔ پتہ نہیں وہ طاقت، وہ حوصلہ، وہ ہمت کہاں سے اس کے اندر آیا۔ جس دن اس نے آواز اٹھائی فرسٹ ٹائم، میں 15سال بتا رہی ہوں کہ شادی رہی، اسی دن اس کو تین طلاقیں ہوئیںموقع پہ۔ میں غیرت مند آدمی ہوں اور میں کیسے برداشت کروں کہ میری عورت کی آواز مجھ سے بلند ہوئی۔ اوکے ڈن، طلاق ہوگئی۔
اب اکٹھی تین طلاقیں ہوئیں نا، تو یہاں پر کردار ہے ایک اسلامک سکالر کا، وہ بہت اچھے سے بتا سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہم نے سنا، غلطی بھول چوک معاف کہ اکٹھی تین طلاقیں ہوتی نہیں۔ دین تو یہ کہتا ہے۔ باقی اسلامک سکالر، مفتی حضرات جو ہیں ہم سے بہت بہتر علم بھی رکھتے ہیں اور وہ بتائیں گے اس حوالے سے۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں ہوتی ہیں۔
پھر بیٹھ گئے۔ مسئلے کا حل نکالتے ہیں، کسی کو بتایا تو نہیں؟ نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے ماں باپ کو؟ نہیں بتایا۔ اوکے۔ چلو پھر اس کا حل حلالہ ہے۔ میں تو نہیں مانتی یہ کیا ؟۔ میں مولوی کو لاتا ہوں، مولوی آگیا۔ میاں بیوی، مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ مسئلہ سننے کے بعد مولوی کہتے ہیں حل واقعی حلالہ ہے، اگر دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ بتا کون رہا ہے؟ مولوی صاحب۔۔ اچھا جی اب یہ طے پا گیا۔ اب کس کے ساتھ اس کا حلالہ کرواؤں؟ ایک اس کا بڑا بیسٹ بڈی ہے، دوست ہے اس کا، اس دوست کا نام ہے راجبری۔
میزبان: اگر حلالہ کی بات کریں تو دین ہمیں جو بتاتا ہے کہ اس مرد کی اب وہ سابقہ بیوی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو کسی اور مرد کیساتھ نکاح کرنا پڑے گا، ازدواجی تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد جو نیا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے گا تب جا کر جو بیوی ہے اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور وہ تب جا کر حلال ہوگی، یہ پورا ایک کنسیپٹ ہے۔ تہمینہ شیخ: شرعی حیثیت بالکل آپ نے جو کہا یہ ہے سچویشن۔ مگر شرعی حیثیت میں پری پلانڈ اگر کیا جائے تو ہوتا ہی نہیں ۔
میزبان: ہاں پیسے دیکر حلالہ کروا لیا جائے یا اس نیت سے کروایا جائے کہ طلاق دینی ہے پھر بیوی نے واپس جانا ہے۔ تہمینہ شیخ: بالکل۔ جیسے ہم کیس میں بات کر رہے ہیں اب شوہر دوست ڈھونڈ کے اس کیساتھ حلالے کیلئے بھیجے، واپس لے آئے، تو یہ ہوتا ہی نہیں ہے نا، دین تو ایسا نہیں کہتا۔ راجبری کو کہا کہ میرا جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے طلاق دے دی، حلالہ کرنا ہے تیرے ساتھ۔ وہ اس کا منہ دیکھ رہا ہے، کیا بول رہا ہے اپنی بیوی کے بارے میں؟ پانچ سے دس منٹ کی اس نے کونسلنگ، راجبری کو ایگری کر دیتا ہے نکاح کیلئے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے پھر کل نکاح کریں؟ کہتا ہے ہاں کریں۔ اب راجبری کے ساتھ نکاح کر دیا جاتا ہے باقاعدہ طور پر اور نکاح میں مولوی بیٹھا ہے اور اس نکاح میں کچھ گواہ بھی بیٹھے ہیں۔ رخصت ہو کر چلی گئی جو کوئی گھر یا فلیٹ ہوگا۔ صبح ہوئی، بڑا ہنسی خوشی جاتا ہے راجبری کے اسی فلیٹ پر جہاں پر اپنی بیوی کو رخصت کر کے آیا ہے یہ۔ حیران اور پریشان ہوں میں، مجھے سناتے ہوئے بعض اوقات شرم آتی ہے میں کیا بتاؤں عوام کو، لیکن جو صورتحال ہے وہ بتانی اتنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو کم سے کم اویئرنس تو آئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ نہ کھلے، پھر کھٹکھٹایا نہ کھلے۔ دھیان گیا سائیڈ پر چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے دروازے کو،، فون کیا، فون بند۔ چار دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے بعد فون آن ہوا اور رابطہ ہوا۔ راجبری تم کہاں چلے گئے یار؟ تمہارے ساتھ میرا طے ہوا تھا؟ تم کون بات کر رہے ہو؟ جواب آرہا ہے۔ شاک۔ میں کون بات کر رہا ہوں؟ یار میں نے حلالے کیلئے اپنی بیوی کا نکاح نہیں تم سے کرایا تھا؟ کہتا ہے اچھا اچھا۔ اپنی بیوی کا نہیں اب وہ میری بیوی ہے اور میں ہنی مون پیریڈ پر ہوں۔ کہتا ہے کیا مطلب ہے تم ہنی مون پہ ہو، میں نے واپس لینی تھی، تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا۔ کہتا ہے میری بات سنو، طے میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، لیکن میرا اب دل آگیا اس پہ، میں نے نہیں چھوڑنی بھائی میری بیوی ہے۔ زینب کی آوازیں آرہی ہیں پیچھے سے۔ کہتا ہے بیٹھ کر بات تو کر لو تم لوگ۔ ٹائم سیٹ کرتے ہیں۔یہ بیٹھ جاتے ہیں سیٹنگ میں، زینب، راجبری، اس کا وہ شوہر پچھلا۔ بیٹھ گئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے یار یہ میری بیوی ہے میں نے نہیں چھوڑنی۔
میزبان: زینب کا کیا موقف ہے؟ تہمینہ شیخ: زینب کا اتنا انٹرسٹنگ مؤقف ہے۔ یہ کہتا ہے میں نے بیوی نہیں چھوڑنی دل آگیا۔ وہ کہتا ہے زینب، چلو نا گھر، دیکھو یہ کیا فضول باتیں کر رہا ہے۔بچے انتظار کر رہے ہیں۔ زینب کیا کہتی ہے؟ کیا مطلب ہے چلو نا چلیں گھر؟ میرا گھر تو یہی ہے جس کے میں نکاح میں ہوں، تم چلو یہاں سے باہر، نکلو باہر کمرے سے۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا حلالہ، کیا تم بھول گئیں وہ15سال شادی کے، وہ تین بچے۔ زینب آگے سے کہتی ہے ہاں میں بھول گئی تھی تب جب تم نے مجھے کہا تھا تین مرتبہ طلاق اور جب ہر دفعہ تم مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ مارتے تھے، میں بدظن ہوگئی۔ اس نے مجھے ایک ہفتے میں اتنا کمفرٹیبل رکھا ہے کہ میں نے اب اس کو چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ یہی میرا حقیقی شوہر ہے، اسکے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس نے کیا کرنا تھا۔ اب یہ سارا جھگڑا ہوگیا بہت زیادہ۔ 3جنوری تاریخ ہے اور ایک لاش ملتی ہے، ہوتی ہے زینب کی۔ زینب کی جب لاش ملتی ہے، پولیس کو پتہ چلتا ہے، پرچہ درج ہوتا ہے، ٹریسنگ شروع ہوتی ہے، ملزم تک پہنچ جاتے ہیں، تو ملزمان میں جو گرفتاری ہے وہ آتی ہے ایک تیسرے بندے کی اور اس تیسرے بندے کا نام ہوتا ہے نقیب اللہ۔
میزبان: نقیب اللہ کون ہے؟ تہمینہ شیخ: زینب کا سگا بھائی۔ پولیس پوچھتی ہے کہ یہ معاملہ کیاہے، کہاں اس کا شوہر، کیا تم لوگوں کے چکر کیا ہیں؟ نقیب اللہ پولیس کو بتاتا ہے کہ ایک بندہ میرے پاس آیا اور کہتا ہے اس ڈالے میں چلنا ہے اور چل کے آگے یہ کام ہے، اتنے پیسے ہوں گے، اوکے ڈن۔ میں یہ کرتا تھا، میں چلا گیا۔ ڈالے میں بیٹھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت اللہ بھی ہے، زینب کا پچھلا شوہر۔ ڈالے کے فرش کو دیکھتا ہوں تو عورت کی لاش پڑی ہے۔ چہرہ دیکھنا چاہا، آگے بڑھا، چادر ہٹائی تو زینب کی لاش تھی۔بہن اس کی؟سگی بہن۔ پولیس نے کہا اچھا پھر؟ بڑی عجیب سٹوری ہے، ایسے میں نے بہت کم کیسز دیکھے۔ اب مجھے وہاں پر گن پوائنٹ پر بلیک میل کر کے یہ کہا جاتا ہے ہدایت اللہ کی جانب سے کہ اس لاش کو اٹھانا ہے ، وہاں پھینک کے آنا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تیری لاش بھی ہوگی۔ اب میرے پاس کوئی نہ وہاں پر موقع نہ کچھ مجھے کرنا پڑا مجبور ہو کے، میں نے اٹھایا اس کو پھینک دیا۔ اب وہ سی سی ٹی وی فوٹیج جو لاش پھینکنے کی ہے اس میں نظر آرہا ہے نقیب اللہ، تو پولیس کو اور سب کو تو لگے گا کہ قاتل نقیب اللہ ہے۔ اس پر جا کے پولیس نے کہا کہ کیا ٹائم تھا کال کا، کیا سلسلہ تھا سارا، پھر وہ کال کی ٹائمنگز، چیزیں میچ کرتے کرتے پتہ لگا کہ واقعی اصل گیمر اس میں ہدایت اللہ ہی ہے، سابقہ شوہر، کہ میری نہیں تو تیری بھی نہیں۔
تہمینہ شیخ: قیامت آنے والی نہیں ہے، قیامت آچکی ہے۔ مائیں بچے قتل کر رہی ہیں۔ شوہر بیویاں دے رہے ہیں حلالے کیلئے اپنے ہاتھوں سے بھائی زبانوں کو قابو کرو تاکہ نہ طلاق طلاق کہنا پڑے، نہ کل کو پچھتانا پڑے، نہ بیوی کسی غیر آدمی کے بستر پر چھوڑ کے آنی پڑے، کراچی، بہاولپور، اسلام آباد یہاں پر حلالہ سینٹر ہیں۔ یوٹیوبر بہن صحافی نے کال کی حلالہ سینٹر لائیو ریکارڈنگ ، یہ بہاولپور کا تھا، کتنا ریٹ؟ دو لاکھ۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالے کے نام پر سینٹرز کھول کے کمائی کر رہے ہیں، کس کی گردن پکڑیں؟ کدھر ہیں ہمارے ٹھیکے دار جو اس ملک کو سیاسی بنیادوں پر کسی نے آواز اٹھائی؟ کسی ہائر لیول پر آپ مجھے بتائیں، میں نے تو نہیں سنا۔ اٹھائی بھی ہوگی تو اسی طرح میں نے آپ نے اسی نے اسی نے کسی نے آواز اٹھا لی، بھائی جن کے ہاتھوں میں اختیارات ہیں، جن کی قلم میں پاور ہے، انہوں نے آواز اٹھائی؟ بالکل نہیں اٹھائی۔ آج یہ ہو رہا ہے تو کل اس سے اگلا اسٹیپ ہوگا۔
میزبان: کراچی کا ایک کیس مجھے یاد ہے۔ شوہر نے بیوی کو طلاق دی غصے میں ، احساس ہوا کہ نہیں غلطی ہوگئی، اس نے اپنے بھائی کیساتھ نکاح کروا دیا۔ وہ دونوں نکاح کے بعد گئے، بندہ برداشت نہیں کر سکا، ہارٹ اٹیک آگیا اور موت ہوگئی۔ تہمینہ شیخ: اب میری بات سے بہت غصہ آئے گا۔ وہ موت، وہ اٹیک جو ہے نا کاش وہ پہلے ہی ہو جاتا جب مار پیٹ رہا تھا بیوی کو یا جب طلاق دے رہا تھا بیوی کو۔ شاید دوسرے اٹیک کی تو امید ہوتی ہے نا ایک انسان تین اٹیک برداشت کر لیتا ہے، میں کہتی ہوں یہ اٹیک پہلے ہی ہو جاتا تاکہ نہ اس کی عزت تار تار ہوتی، نہ اس کا تماشہ بنتا، نہ ہم آج اس کو خبر کے طور پہ رپورٹ کر رہے ہوتے۔(مکمل ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیل دیکھیں)
السلام علیکم، میرا نام ایلن کیسلرAllenKeislerامریکہ میں بیٹھ کر ہمیشہ… پاکستان عام جگہ نہیں، بلکہ وہ خاص خطہ جہاں انشا اللہ ابھی ہی ”پاکستان امپائر” قائم ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب انصاف، سچائی، اخلاق، رحمت، معافی، ہمیشہ اللہ پاک کو یاد کرنا اور ذکر کرتے ہی رہنا۔ مجھے اور سب کو بتا دیا آج وہی دن ہے جس کاانتظار ہم ہزاروں سالوں سے کر رہے ہیں۔ جب انصاف اور سچائی قائم ہو جائے گی پوری دنیا میں، صرف اس سیارے پہ نہیں بلکہ کائنات میں۔ یہ وہی دن ہے۔ تو کتنی خوشی کی بات ہے۔ مسیحا کا مطلب مہدی حقیقت میں۔ مسیحا صرف یسوع مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام نہیں، بہت سارے مہدی ہیں ہماری استادنی نے یہی بتایا۔ لوگ عام طور پر سوچتے ہیں ایک ہی مہدی ہو سکتا ہے۔ ، نہیں بہت سارے۔ ویڈیومیں تفصیلات ہیں اور قارئین خودبھی دیکھ سکتے ہیں۔
مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار! ڈاکٹر اکمل سومرو
پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔
ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔
السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔
یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔
سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔
انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔
بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔
جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔
یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔
برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔
1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔
1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔
اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔
پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔
1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔
مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔
برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔
ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔
یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔
یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔
عظمیٰ رومی کا سائنسی پروگرام اچھا۔ سائنس منڈے چڑھی مگر علماء قرآنی کائناتی ماڈل نہیں سمجھتے۔اسرائیلیات کا نبیۖ نے فرمایا کہ ہم نہ تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔انسان ایک جان سے پیدا ہیں۔سائنس الحاد کو روکے گی۔ لباس نشانی تاکہ شرم گاہوںکو چھپائیں ۔ ریش پنک زینت اور موسم سے بچاؤ۔ فطری لباس کو جنسی تعلق نے اتارا ۔ پتوں سے موجودہ دور تک۔ اسی جوڑے سے نسل کی بقاء اور نہ ختم ہونے والا ملک ملا ۔ ابوالعلاء معری نے شادی نہ کی۔ قبرپر کتبہ:ہذا جناہ أبی علیّ وما جنیت علی احد”یہ میرے باپ کا گناہ ہے جو اس نے مجھ پر کیا،میں نے یہ گناہ کسی پر نہیں کیا”۔سلیمان و قاسم اور وائٹ ٹیرن کا فرق ؟ ہابیل مقتول خوش توقابیل قاتل پریشان! قرآن کو سائنس سے دیکھا جائے توپہلے جوڑے کا قدرتی لباس ثابت ہوگا اور اس کی ایک نشانی لڑکی کا پردہ بکارت موجود ہے! ــــــــــ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین والصلو والسلام علی سید الانبیا والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد فقد قال اللہ الحکیم ‘‘الذین یبلغون رسالات اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ” وقال فی مقام آخر ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم وکنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منہا” وقال فی مقام آخر ”ولا تنازعوا فتفشلوا وتذہب ریحکم”
میں انتہائی شکر گزار ہوں حضرت قبلہ علامہ مفتی عبدالرحیم صاحب کا، ان کی پوری ٹیم کا۔ عرصہ سے آرزو تھی۔ جامعہ الرشید کے بارے میں سنتا ہوں جا کر نزدیک سے دیکھوں۔ آ کر دیکھا کیا خوبصورت یہ پھول آپ نے کاشت کئے، ان کو بڑا کریں، تربیت کریں، پرورش کریں اور آج جو خوبصورت گلدستہ سجایا ہے، یقینا یہ لائقِ تحسین ہے میں الفاظ میں اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتا۔ سوچتا تھا کہ وہ وقت آئے گا کہ جامعہ الرشید میں اپنے ان بچوں سے خطاب کروں گا۔ بہت سی غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ یہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی بنائی اور اس کو پورے ملک میں آٹھ نو مہینے سے ہم متحرک ہیں ہر جگہ جا رہے ہیں بڑے بڑے اداروں میں، بڑے بڑے مراکز میں اور اللہ کا شکر ہے بڑی کامیابی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں آج جیسے مفتی صاحب نے فرمایا آج سب سے بڑا دن ہے، حدیثِ مبارکہ حضور اکرم کی العلم نور یقیفہ اللہ فی قلب من یشا من عبادہ آپ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اللہ نے وہ نورِ علم آپ کے دل میں ڈالا ہے اور انشا اللہ اس میں بہتری ہوگی اور مزید آگے بڑھیں گے۔
دینِ مکمل اسلام ہے ”ان الدین عند اللہ الاسلام” فتی صاحب نے کہا۔ خوشی ہے کہ مفتی طارق مسعود بیٹھے ہیں، اسلام مکمل ضابطہ، قرآن کہتا ہے، قرآن میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ حضور کی23سالہ زندگی میں کہیں فرقوں کی بات ہے؟ بلکہ خلفاء راشدین، میں چیلنج کرتا ہوں جو حضرت ابوبکر، حضرت علی کے درمیان اختلاف کی بات کرتے ہیں میں پوچھتا ہوں بتا حضور کے دور میں کیا سب ایک مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے؟ کیا خلفاء راشدین کے دور میں اکٹھے نمازیں نہیں پڑھتے تھے؟ اور میں آگے لے جاتا ہوں،61ہجری میں کربلا میں نواسہ رسول شہید ہوئے، ان کے خطبے کتابی شکل میں ہیں کہیں کسی مسلک کی بات نہیں ،بات ہے تو اللہ کی توحید ، اسلام ، قرآن کی ہے۔ آئیں اسی اصول کو لیکر چلیں، مشترکات کو لے کر چلیں۔
خدا گواہ ہے ہمارے بزرگان کا فتوی، سعودیہ، مصر کے علما ء نے آیت اللہ خامنہ ای کو لکھا انہوں نے فتوی دیا آیت اللہ سیستانی کا فتوی ہے کہ صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار، ازواجِ مطہرات کی توہین حرام ہے شرعاً۔ میں یہ دعوی کر رہا ہوں ،میں علامہ ساجد نقوی کا نمائندہ اور وائس پریذیڈنٹ ہوں، اعلان کرتا ہوں جو توہین کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہے، وہ توہین امت میں انتشار کا سبب ہے اور ہم نے قرآن کے اس حکم پہ عمل کرنا ہے ”ان ہذہ امتکم ام واحد وانا ربکم فاعبدون” باتیں بہت ساری ہیں۔ میں صرف ایک جملے میں عرض کرتا ہوں ہمارے سر کا تاج ہیں، ہماری آنکھوں کا نور ہیں اہل بیتِ اطہار، صحابہ کرام، ازواجِ مطہرات، خدا کی قسم ہمارے دل میں کوئی کدورت نہیں ہے، اگر کوئی جذباتی آ کر صحابہ کرام اور اہل بیت کے نام پہ ہمیں لڑاتا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔
میں ہاتھ دے رہا ہوں آپ کو آئیں، مل کر چلیں جناب عثمان بھائی کو کہوں گا کسی وقت یہاں نشست رکھیں، ہم آ جائیں گے ۔ بیشک ساری کمیٹی آئے نہ آئے میں آنے کیلئے تیار ہوں ان اپنے بچوں کیساتھ بیٹھوں گا۔ جو سوال بہت ساری غلط فہمیاں ہیں، یہ ماتم پتہ نہیں کیا ہے یہ فلاں، بہت سی چیزیں ہیں میں آپ کیساتھ بیٹھ کر گفتگو کروں گا انشا اللہ ہم توحید کے موضوع پہ، رسالت کے موضوع پہ، قرآن کے موضوع پہ، قیامت کے موضوع پہ، اہل بیت اور صحابہ کے موضوع پہ ہم اکٹھے ہیں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے یہ ہمارا مشترکہ عقیدہ ہے۔ آئیں دلوں سے کدورتیں اور انتشار و اختلاف نکالیں اور کامیابی کیساتھ آگے بڑھیں، اسی میں اسلام کی قوت ہے۔ قرآن جو مکمل ضابطہ حیاتِ انسانی ہے، بشری زندگی کیلئے مکمل ترین قانون ہے اور آئین ہے آئیں اس کو سامنے رکھیں، اس کے مطابق چلیں۔
مفتی صاحب ہمارے بڑے ہیں جس طرح یہاں آج خوبصورت گلدستہ سجایا ہے اور خوشبو انشا اللہ اس کی پوری دنیا میں اور پورے پاکستان میں بکھرے گی۔ میں سمجھتا ہوں اس کو لیکر ہم آگے بڑھیں گے بھرپور قوت کیساتھ۔ دل سے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میرے عزیز بچوں، میرے اپنے شاگرد ہیں بیرون ملک بھی پڑھ رہے ہیں پاکستان میں بھی ہیں۔ جیسے مجھے وہ عزیز ہیں میں آپ کے مبارک چہروں کو دیکھ کے اسی طرح خوشی کا اظہار کر رہا ہوں۔ ہماری جان ہیں، ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں۔ آگے بڑھیں اسلام کو پڑھیں اور اسلام کو پھیلائیں جو اسلام کا اصل پیغام ہے۔ انشا اللہ ایک جملہ اقبال کا علامہ صاحب مجھے کہہ رہے ہیں، آپ فرماتے ہیں ”اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہوشیار باش” وہ اہل بیت ہیں وہ صحابہ کرام ہیں اور جملہ یہ کہوں گا کہ حضور کے دو بازو تھے، ایک اہل بیت تھے ایک صحابہ کرام تھے اگر ان میں ایک بھی نہ ہوتا اسلام آج نہ ہوتا۔ اسلام ہے تو اہل بیتِ اطہار اور صحابہ کرام کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ انشا اللہ اس مشن کو لے کے آگے بڑھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مولانا طاہر اشرفی صدر متحدہ علماء کونسل کا بیان
آپ ذرا اسے دیکھئے تو سہی ۔ پچھلے ایک ہفتے کے اندر آپ کوئی عرب اسلامی ملک، ایران اور پاکستان کس طرح خون بہہ رہا ہے اور کیا ہم یہ خون بہتا دیکھتے رہیں؟ بچے قتل ہوتے رہیں، ماؤں کے سامنے ڈرون آئیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ان کی گود میں شہید ہو جائیں اور ہم کہیں نہیں نہیں ابھی مصلحتیں ابھی تو یہ ہوگا ۔علماء حق کے نام جنہوں نے حق کوببانگ دہل تسلیم کیا،
مصلحتوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ آپ کا فیلڈ مارشل ایک ایسے شخص کا بیٹا ہے کہ جو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتا ہے، جو اسکول ٹیچر تھا۔ اور یہ لوگ آج57اسلامی ملکوں میں ایک بادشاہ ہے جو حافظِ قرآن ہے اور ایک سپہ سالار ہے جو حافظِ قرآن ہے، زندگی کے36سال مولانا سمیع الحق شہید کے ساتھ گزارے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ آئین پاکستان پر پوری پوری رات، ایک ایک لائن پہ بحث ہوتی تھی۔ مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی جعفر حسین، یہ لوگ، مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، واللہ العظیم یہ جو ہمارے اکابر تھے ان کی تقوی کی قسمیں فرشتے بھی کھاتے ہیں ۔ صرف اتنا بتا دوں کہ میرے پیر و مرشد حضرت دین پوری ، میں نے آخری ملاقات میں پوچھا کہ حضرت ہم یہ سنتے ہیں کہ آپ کو مولانا عبیداللہ سندھی نے کہا تھا کہ انگریزی تعلیم حاصل کریں، علی گڑھ جائیں، کہا نہیں کہا نہیں تھا میری انگلی پکڑ کر لیکر گئے تھے اور کہا تھا انگلش نہیں سیکھو گے تو انگریز کا مقابلہ کیسے کرو گے؟ تو جامعہ الرشید وہی کام کر رہی ہے جو مولانا عبیداللہ سندھی کا کام ہے، جو ہمارے اکابر کا کام ہے، جو شیخ الہند کا کام ہے اور حضرت مفتی صاحب ہمیں آپ پر فخر ہے، ہمیں آپ پر ناز ہے۔ ــــــــــ