پوسٹ تلاش کریں

ہندوستان کے عالم کی تقریر

اس ویڈیو میںہندوستان کا ایک عالم اپنی تقریر میں کہ رہا ہے کہ ابھی ایک مولانا صاحب کا میں واقعہ پڑھ رہا تھا،

مفتی تقی عثمانی صاحب یا کوئی اور بڑے عالم ہیں

انہوں نے شاید ”تراشے” یا کسی اور کتاب میں، مجھے نام یاد نہیں آ رہا، لکھتے ہیں کہ میں روز سوچتا تھا کہ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا۔ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا، کاش میں بھی نبی علیہ السلام کے ساتھ ہوتا، ہمیں بھی یہ موقع ملتا۔ کہتے ہیں میں روز یہی سوچتا رہتا تھا، دعا بھی کرتا تھا یا اللہ کاش ہم بھی اس دور میں پیدا ہوتے۔ ایک رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ نبی علیہ الصلو والسلام ایک گاڑی میں تشریف فرما ہیں اور تمام صحابہ ہیں۔ ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)چلا رہے ہیں، میں سب سے پیچھے بیٹھا ہوں، تو ایک چڑھائی چڑھ رہے ہیں تو اچانک کیا ہوا گاڑی خراب ہوئی تو بریک نہیں لگ رہے، گاڑی پیچھے کو جا رہی ہے۔ تو سب سے پچھلا دروازہ کھول کر کہتے ہیں کہ میں بھاگا، میں جوان آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ دس بیس کلو کا کوئی پتھر اٹھا کر لاتا ہوں، گاڑی کے ٹائر کے نیچے دوں گا تاکہ گاڑی رک جائے، نبی علیہ السلام کی حفاظت ہو۔

کہنے لگے میں گیا، جب پتھر اٹھایاخواب بتا رہا اپناکہ جب پتھر اٹھایا، دوڑ کے جب واپس پہنچا، دیکھا گاڑی تو پیچھے آ ہی نہیں رہی، گاڑی تو اپنی جگہ ہی کھڑی ہے۔ تو میں بڑا حیران ہوا کیا گاڑی کو بریک لگ گئے؟ تو جب میں نے دیکھا اندر بھی کوئی نہیں، تو کہتے ہیں جب میں نیچے دیکھتا ہوں، تو جتنے صحابہ گاڑی میں تھے انہوں نے اپنے سر گاڑی کے ٹائروں کے نیچے رکھے ہوئے تھے کہ مبادا یہ گاڑی پیچھے نہیں جانی چاہیے۔تو وہ مولانا فرماتے ہیں میں نے اٹھ کر دو نفل توبہ پڑھے، استغفار کی کہ عشق کے جس مقام پر جن کو رضی اللہ عنہم کا لقب دیا گیا، وہ جس مقام پر ہیں عشق کے، جس انداز سے عشق کرتے تھے، وہ جس انداز سے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ چلتے تھے، سوچتے تھے، ہم تو ابھی اس کا ایک رتی کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتے۔

تبصرہ:امین اللہ کوئٹہ

سید عتیق الرحمن گیلانی نے بھی ایک خواب دیکھا تھا اور اس میں ایسی جدید قسم کی گاڑی تھی جو پہاڑوں میں چڑھ رہی تھی اور سڑک میں بہت بڑے بڑے گیپ تھے۔اللہ کی قدرت سے وہ گیپ بھی بھر رہی تھی،اس کو پریس بھی کررہی تھی ،اس پر سڑک کی تعمیر کے سارے کام یہاں تک کارپٹ بھی کررہی تھی۔

ہمارے ساتھیوں نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح کا کام کیا ہے تو اس پر اللہ کا شکرہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دوریٔ منزل میں ہے
شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہاہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے دل میں ہے
مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے
مانع اظہار تم کو ہے حیا ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسمل میں ہے

صحابہ کرام صدیقین کی جماعت تھے اور واقعی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ علماء کرام کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مکذبین نہیں ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال

کراچی پریس کلب:18مئی کو میٹ دا پریس پروگرام کے بعد چائے کی ٹیبل پر ایڈیٹر نوشتہ دیوار نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا کہ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ اکٹھی 3 طلاق واقع نہیں ہو تیں۔ آپ اس پرکیا کہتے ہیں؟۔ مولانا نے پہلے ٹالتے ہوئے کہا کہ یہی پاکستان میں چل رہا ہے اور خوب قہقہ لگایااور ساتھ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ہنسں پڑے لیکن پیچھے سے ایک دو آدمیوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر بات کریں تو پھر مولانانے کہا کہ یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت ہے۔کچھ لوگ اپنی ذات میںاہلحدیث ہوتے ہیں۔ مولانا نے ایک سابق چیف جسٹس کا قصہ سنایا کہ وہ کس طرح شریعت سے ناواقف تھاانہوںنے کہاکہ چیف جسٹس کو اس حوالے سے علما سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نے کہا کہ سورہ طلاق کی آیات ہی دیکھیں تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیق کر رہی ہیں تو مولانا نے کہا کہ اس ملک میں اکثریت حنفیوں کی ہے لہٰذاآپ یہ دیکھیں کہ حنفی مسلک کیا کہتاہے اورآ پ احادیث کو دیکھیں۔

تبصرہ : نوشتۂ دیوار: فیروز علمدار

مولانا فضل الرحمن کے لگائے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے3سالہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور6سالہ قبلہ ایاز صاحب نے بالمشافہہ ملاقاتوں میں حنفی مسلک کا مؤقف سمجھ لیا اور قبلہ ایاز صاحب نے تو لیٹر بھی لکھ دیا تھا اور ایک بڑی تعداد میں حنفی علماء کے تائیدی بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جان بوجھ کر حق سے پہلو تہی برت رہے ہیں لیکن اللہ سب دیکھ رہاہے۔ عائلی قوانین1964ء مفتی محمود کی تائید سے آئین کا حصہ بن گئے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے الزام لگایا ہے کہ مفتی محمود پہلا سیاستدان تھا جس نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ حالانکہ عائلی قوانین میں قرآن وسنت کے مطابق عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع کا حق دیا گیا ہے۔ زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل قرار دینے والے نے سودی نظام کو ہی اسلامی قرار دیا ہے اور اس کے بعد مزید اسلام کیساتھ اور کیا ہوگا؟۔ حنفی مسلک تو قرآن و سنت کے مطابق ہے لیکن حنفی مسلک ہی بگاڑ دیا گیا ۔ یہی حال سودی نظام کیساتھ اب چند سالوں میں ہوا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بنوری ٹاؤن کا فتویٰ مفتی شفیع کے احکام القرآن کا حوالہ:ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ، مسلمان خواتین، اورمفتی تقی عثمانی کا گھرانہ زد میں۔دوسرے فتوے کی زد میں مدارس کے بے ریش طلبہ بھی آتے ہیں

پردہ اور مسئلہ طلاق غلط پیش کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کو مذہبی طبقہ مجروح کردیتا ہے

بنوری ٹاؤن کراچی کافتویٰ

کیا فلسطین میں ظلم کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں،جلوسوں میں خواتین کی شرکت جائز ہے؟
سوال : فلسطین کیلئے جو احتجاجی جلوس ہورہے ہیں ،ان میں عورتوں کا جانا جائز ہے اگر پردے کی پابندی کیساتھ جائیں تو؟
جواب : فلسطین کے مسلمانوں پر جو مظالم ہورہے ہیں ،اس پر یقینا ہر مسلمان کا دل غمگین اور افسردہ ہے …
تاہم اس مقصد کیلئے جو احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں ، وہ خواتین کیلئے شرعی یا طبعی ضروریات میں سے نہیں، اسلئے ان میں مسلمان خواتین کا شریک ہونا (خواہ پردے کیساتھ ہی کیوں نہ ہو ) جائز نہیں ہے، خواتین کو چاہیے کہ وہ گھر …

قرآن کریم میں ہے:وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی واقمن الصلاة واتین الزکاة واطعن اللہ و رسولہ (الاحزاب:33)
ترجمہ:اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہواور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیا کرو اوراللہ اور اسکے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو۔بیان القرآن

احکام القرآن للفقیہ المفسرالعلامہ محمد شفیع میں ہے:

”:قولہ تعالی: }وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی{۔ فدلت لآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت و القرار بھا ولکن یستثنی منہ مواضع الضرورة فیکتفی فیھا الحجاب بالبراقع …فعلم أن الحکم الآیة قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورة الدینیة کا لحج والعمرة بالنص أو الدنیویة… فلا یجوز لھن الخروج من بیوتھن الا عند الضرورة بقدر ضرورة مع اہتمام التستر والاحتجاب کا لاھتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع ”

حدیث شریف میں ہے:

” النبی ، قال: المرأة عورة ، فاذا خرجت استتشرفھا الشیطان ۔ھذا حدیث صحیح غریب ۔”

فتاوی شامی میں ہے:

و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة فی الکل و تغیر الھئة الی ما لا یکون داعیة الی نظر الرجال استمالتھم ( کتاب النکاح ، باب المھر ) فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر:144504100616
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

تبصرہ : سید عتیق گیلانی

اس فتویٰ میں عورت کو گھر سے نہ نکلنے کیلئے جو دلائل دئیے ہیں تو اس سے زیادہ دلائل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے بے ریش لڑکوں کیلئے دئیے ہیں:

” ابوہرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا: کسی امرد پر نظر مت جماؤ۔ حضرت عمر نے فرمایا ”میں کسی عالم پر درندے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا امرد سے ڈرتاہوں”۔ حضرت ابوسہل نے فرمایا : عنقریب امت میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو (بدفعلی کی وجہ سے) لوطی کہا جائے گا اور وہ تین قسم کے ہوں گے۔ ایک جو صرف امرد کو دیکھیںگے۔ دوسری :جو باقاعدہ ہاتھ ملائیںگے۔اور تیسری: جو (العیاذ باللہ)اس کام کو کریں گے۔ اور علامہ شامی فرماتے ہیں کہ عورت کی طرف بد نظری شدید گناہ ہے لیکن امرد کی طرف نظر شہوت اشد گناہ ہے اور ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ امرد کی طرف دیکھنا حرام ہے ، خواہ فتنے سے مامون اور محفوظ ہی کیوں نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

الغلام اذا بلغ الرجال و لم یکن صبیحا فحکمہ حکم الرجال وان کان صبیحا فحکمہ حکم النساء و ھو عورة من فوقہ الی قدمہ .. أقول:وھذا شامل لم من نبت عذارہ،بل بعض الفسقة یفضلہ علی الأمرد خالی العذار…أ حرمة النظر الیہ بشہوة أعظم اثما لأن خشیة الفتنة بہ أعظم منھا ولأنہ لایحل بحال ،بخلاف المرأة کما قالوا فی الزنی و اللواطة ، و لذا بالغ السلف فی الننفیر منھم و سموھم الأنتان لاستقدارھم شرعا

فتویٰ:144501101254دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن

ڈاکٹر فیض احمد چشتی بریلوی مکتب نے بہت لکھا:

کسی نوجوان لڑکی یا بے ریش لڑکے کو شہوت کیساتھ دیکھنا یا ہاتھ ملانا ناجائز و حرام ہے بلکہ اگر شہوت کا گمان یا شک ہو تو بھی دیکھنا جائز نہیں اور احتیاط یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل نہ دیکھا جائے۔ ہاتھ ملانا اور چھونا تو بہر حال نا جائز ہے۔ وہ حضرات جو بے ریش خوبصورت بچوں کے نام پر تکتے اور نوٹ نچاور کرتے ہیں یا پھر کسی کا گدی نشین بناکر بٹھاتے اور چوما چاٹی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ ” مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ”۔( النور:30)

عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : ایک دفعہ سفیان ثوری حمام میںداخل ہوئے تو ساتھ میں خوبصورت لڑکا داخل ہوا حضرت سفیان نے فرمایا : اسے نکالو! میں ہر عورت کیساتھ ایک شیطان اورہر لڑکے کیساتھ10سے زیادہ شیاطین کودیکھتا ہوں۔ (شعب الایمان:5014ذم الہویٰ لابن جوزی)

بہت واقعات اور احکام نقل کئے مگر یہ بھی نقل کیا کہ … الا من اجنبیة فلایحل مس وجہا و کفہا وان امن الشہوة لانہ اغلظ و لذا ثبت بہ حرمة المصاہرة وھذا فی شابة…اھ۔
”مگر یہ اجنبی عورت سے تو حلال نہیں اس کا چہرہ چھونا اور ہاتھ چھونا ،اگر چہ شہوت سے مامون ہو بیشک وہ زیادہ سخت ہے اسلئے کہ اس سے حرمة مصاہرت ہوتی ہے مگر جوان لڑکی ہو”۔(چشتی)

بنوری ٹاؤن نے فتاویٰ شامی سے لڑکے کو لڑکی سے زیادہ خطرناک قرار دیا مگر چشتی نے جوان لڑکی کو حرمت مصاہرت کی وجہ سے زیادہ خطرناک قرار دیاکیونکہ بچی کیساتھ شہوت پر حرمت مصاہرت قائم نہیں اور نہ حد جاری ہوتی مگر نکاح ہوجاتا ہے۔ مصاہرت کے مسائل سے ہوش اڑ جائیں مگر علماء ومفتیان کو فرق نہیں پڑتا ۔ جب لڑکوں کا حکم عورتوں کا ہے تو پھر ان کے درمیان فرق کیوں ہے؟۔ اللہ نے عورتوں کو حکم دیا ہے اور لڑکوں کو نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟۔مولانا احمد رضا خان1856ء کو پید ا،1869ء کو13سال کی عمر میںعالم بن گئے اور والد نے فتویٰ نویسی کا کام سپرد کیا۔ انکے ابتداء شباب میں والد کا انتقال ہوگیا ۔ فتاویٰ کی کتب میں لڑکے کی عمر بلوغت کیلئے کم ازکم12سال ہے جس میں عورتوں سے پردہ نہیں اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے بچپن کا مشہور واقعہ ہے کہ عورتیں نظر آئیں تو شلوار نہیں پہنی ہوئی تھی اور قمیص سے اپنا منہ چھپالیا جس سے نیچے کے اوزار دکھ گئے اور عورتیں یہ دیکھ بہت ہنسیں تھیں۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کے سارے گھر کی خواتین نے دنیا بھر کی سیر کی ہے تو مفتی شفیع کے احکام القرآن کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟۔ دین کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا ہے؟۔

وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیة الاولی و اقمن الصلوٰة و اٰتین الزکوٰة…الاحزاب33

”اورگھروں میں سکون سے رہو اور اپنے سینے کی نمائش نہ کرو پہلی جاہلیت کی طرح۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو”۔

رسول اللہ ۖ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ادوار میں اور بعد میں بھی اس وقت خواتین مسجدوں میں نماز باجماعت ادا کرتی تھیں۔ آج بھی مسلمانوں کے سب سے بڑے مرکز مکہ میں خواتین پنج وقتہ نماز ، طواف اور صفا و مروہ کی سعی ایک ساتھ مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ ادا کرتے ہیں۔ جس سے یہ مراد لینا کہ عورتیں گھروں میں رہیں ایک بڑی جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جبکہ دوسری آیت میں مخصوص عورتوں کیلئے کپڑے اتارنے کے ساتھ غیر متبرجات بزینة سے کوئی ابہام بھی نہیں رہتا کہ جاہلیت کے تبرج سے قرآن میں کیا مراد ہے۔

مدارس میں بے ریش طلبہ کی کثرت ہے۔ ابن جوزی نے اسلاف کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کو نیٹ پر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کی تحریر میں مکمل طور پر دیکھ لیں۔ لڑکوں کے زیادہ خطرناک ہونے کے باوجود مدارس میں کیوں رکھتے ہیں؟۔

فتاوی شامی میں ہے:

” و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة ” اور نے عورت کو اجازت دی ہے عدم زینت کے اظہار کی شرط پر”۔ حالانکہ مفتی محمد شفیع نے تو اسکے برعکس لکھا: فدلت الآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت والقرار بھا ” پس آیت دلالت کرتی ہے عورتوں کے حق میں کہ اصل گھر کے اندر حجاب اورقرار پکڑنا ہے”۔

جس آیت سے علامہ شامی نے استدلال لیا ہے تو اس میں عدم زینت کی قید

فلیس علھین جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ

” توان پر کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اتاریں زینت کی نمائش کے بغیر”۔ جس سے حسن النساء مراد ہیں۔ اور جس سے مفتی شفیع نے استدلال لیا ہے تو اس میں تو واضح طورپر حسن النساء کی نمائش کو منع کیا گیا ہے۔

قال شامی ابحنالہا و قلت لقد نبحتم

” شامی کہتا ہے کہ ہم نے اس کیلئے مباح کردیا ہے اور میں کہتاہوں کہ بیشک تم نے بھونکا ہے”۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں واضح طور پر واضح کرتا ہے کہ عدت کے اندر بھی معروف کی شرط پر طلاق سے رجوع کی اجازت ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی اور اسلام کا ستیاناس کرکے یہ بکواس کرتے ہیں کہ اگر آدھے سے زیادہ بچے مولوی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی پھدی سے نکل گیا تو پھررجوع جائز نہیں اور آدھے سے کم نکلا ہو تو پھر جائز ہے اور آدھے آدھ ہو تو پھر ایک اور علامہ شامی اور قاضی خان بناؤ جو مسئلہ حل کردے۔ فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے کہ

٧٩١٢:و فی الخانیة قال رجل لامرتہ : ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق ، وقالت المرأة: وان لم یکن فرج احسن من فرجک فجاریتی حرة ، قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن فضل: ان کانا قائمین عندالمقالة برت المرأة و حنث الزوج ، ولون کان قائدین برالزوج و حنث المرأة لان فرجھا احسن من فرج زوج ، والامر علیالعکس فی حالة القعود ، وان کان رجل قائما والمرأة قاعدة قال الفقیہ ابوجعفر : لا اعلم ماھذا…

فتاویٰ خانیہ میں ہے کہ۔۔۔۔

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ہے۔اور عورت نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے کہا کہ اگر دونوں بات کرتے وقت کھڑے ہوں تو پھر مرد حانث ہوگیا اور طلاق پڑگئی۔ اور اگر دونوں بیٹھے ہوں تو مرد بری ہوا طلاق نہیں پڑی اور عورت حانث ہوگئی اس کی لونڈی آزاد ہوگئی۔ اسلئے کہ کھڑے ہونے کی صورت میں عورت کی دہلی زیادہ خوبصورت ہے مرد کے کابل خان سے۔ اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کا الٹا بانس بریلوی زیادہ خوبصورت ہے عورت کی دیوبند سے۔ اور اگر مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہوئی ہو تو فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ پھر کیا ہوگا؟۔

الفتاوی تاتارخانیہ : شائع کردہ : مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ

دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی نے کراچی اور حیدر آباد کے کوؤں کو حلال قرار دیا ۔ پنجاب میں کچھ دیوبندی علماء کو پتہ چلا کہ کوا حلال ہے تو سرعام کھانے لگے اور طالبان مجاہد بن گئے ۔اگر شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود قرار دیا تھا اور70سے زائد گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زناکے برابر قرار دیا تھا اور پھر اس نے عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ اگر اسی جذبہ ایمانی کے تحت آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف مفتی تقی عثمانی اور اس کی بیگم سے کہیں کہ کھڑے ہونے اور بیٹھنے کی حالت میں اپنی ٹانگوں کے درمیان عالم برزخ کا نظارہ دکھائیں تو اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ فتاویٰ میں ان فقہاء نے بکواس لکھ دیا ہے یا واقعی خوبصورتی پر فرق پڑتا ہے؟۔

ایران ، امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب جنگ میں بہت محنت کرنی پڑی اور کامیابی بھی مل گئی لیکن افغانستان سے جنگ بندی میں بہت صبر آزما مشکلات کے باوجود بھی کامیابی نہیں ملی اور اگر اس طرح کے مسائل کو اجاگر کیا گیا تو افغان طالبان کی ہوا بھی خارج ہوجائے گی اور قیامت تک افغانی قوم پاکستان کے بھی شکر گزار ہوں گے اور فتنہ ہندوستان بریلوی دیوبندی کو بھارت میں بھی ہدایت مل جائے گی اور فرقہ واریت سے باز آجائیں گے۔ جب عمران خان لاڈلہ تھا اور اس وقت اس کی بیوی ریحام خان تھی تو ہم نے کتاب میں دونوں کی تصویر کے ساتھ یہ مسئلہ واضح کیا تھا اور سوچا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان جرأت کرکے اس کو ہائی لائٹ کرے لیکن یہ مفتی تقی عثمانی کے ذریعے دنیا تک پہنچے تو شاید امت مسلمہ کی جان چھوٹے۔

اگر مسلمان کو یہ پتہ چل جائے گا کہ قرآن میں آیات سے مراد یہ نہیں ہے جو سعودی عرب، ایران اور افغانستان نے لیا تھا تو پوری دنیا کے مسلمانوں ہی میں نہیں غیر مسلموں میں بھی بڑی خوشی کی لہر دوڑے گی۔
ــــــــــ

سعودیہ نار مع یمنی حار کلام یجعلک نفقد شعورک تانجو لایف موضہ
یوتیوب :(@DID4848RI)

سعودیہ، دوبئی عرب برقعہ پوش برہنہ چھاتی پھرتی ہیں، یوٹیوب پراپنیDNAکے مطابق تبرج الجاہلیة اولیٰ کی لت میںپڑیں۔ آیت سے کیا مرادہے ؟۔ جاہلیت میں10شوہر اور بیشمار سے جنسی تعلق والی تھیں اسلئے قیصر روم نے ابوسفیان سے نبیۖ کی خاندانی شرافت کا پوچھا۔ دشمن کافر نے جھوٹ نہیں بولا تو ہدایت ملی۔ جھوٹ اور حلالہ کا اسلام نے خاتمہ کیا۔ حنفی اصول فقہ میں حلالہ کا جواز نہیں ۔ میری وضاحتوں کے بعد حنفی مفتی مان گئے مگرکچھ مفاد پرست ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”مفتی محمود کی خواہش پر عالم نہیں بن سکا”۔اسلام کو چھوڑ کر تبرج الجاہلیہ اور حلالہ کی لت کو پھر زندہ کردیا ۔العیاذ باللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فتنہ الدھیماء اور جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کے آخر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

جامعہ العلوم السلاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ :

سوال:فتنہ الدھیماء سے کیا مراد ہے ؟کیا حدیث میں ایسے فتنے کے مصداق کا ذکر ہے؟۔
جواب:رسول اللہ ۖ نے جن چند بڑے فتنوں کی پیشین گوئی فرمائی ہے ان سے ایک فتنہ ”الدھیمائ” بھی ہے۔ اس کی تفصیل ایک طویل حدیث میں مذکور ہے۔ وہ یہ ہے۔

” عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ۖ کی مبارک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ۖ نے آخرزمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر شروع فرمایا، بہت سارے فتنوں کو بیان فرمایا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ فتنہ احلاس کا فتنہ کیا ہے؟۔( اس فتنے کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کس صورتحا ل میں ظاہر ہوگا؟) آپ ۖ نے فرمایا: وہ بھاگنا اور مال کا ناحق لیناہے۔ (یعنی اس فتنے کی صورت یہ ہوگی کہ لوگ آپس میں سخت بغض و عداوت رکھنے اورباہمی نفرت ودشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے سے بھاگیں گے، کوئی کسی کی صورت دیکھنے اور کسی کیساتھ نباہ کرنے کا روادار نہیں ہوگا۔ایک دوسرے کے مال کو چھین لینے اور ایک دوسر ے کو ہڑپ کرلینے کا بازار گرم ہوگا)۔

پھر ”فتنہ سراء ”ہے۔اس فتنہ کی تاریکی اور تباہی اس شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گی (یعنی اس فتنے کا بانی وہ شخص ہوگا ) جو میرے اہل بیت سے ہوگا ،اس شخص کا گمان تو یہ ہوگا کہ وہ فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اہل بیت میں سے ہے لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ وہ خواہ نسب کے اعتبار سے بھلے میرے اہل بیت ہی ہو مگر فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اپنوں میں سے ہرگز نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دوست اور میرے اپنے تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پرہیز گا ر ہوں۔

پھر اس فتنہ کے بعد ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کریں گے جو پسلی کے اوپر کولہے کے مانند ہوگا۔پھر دھیماء کا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ فتنہ امت میں ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس پر اس کا طمانچہ ، طمانچے کے طور پر نہ لگے۔(یعنی وہ فتنہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہوگا کہ امت کے ہر شخص تک اس کے برے اثرات پہنچیں گے اور ہر مسلمان اس کے ضرر اور نقصان میں مبتلا ہوگا) اور جب کہا جائے کہ یہ فتنہ ختم ہوگیا ہے تو اس کی مدت کچھ اور بڑھ جائے گی۔ یعنی لوگ یہ گمان کریں گے کہ فتنہ ختم ہوگیا ہے مگر حقیقت میں وہ ختم کی حدتک پہنچاہوا ہی نہیں ہوگا بلکہ کچھ اور طویل ہوگیا ہوگایہ اور بات ہے کہ کسی وقت اس کا اثر کچھ کم ہوجائے، جس سے لوگ اس کے ختم ہونے کا گمان کرنے لگیں لیکن بعد میں پھر بڑھ جائے گا۔اس وقت صبح کو آدمی ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا۔ (یعنی فتنہ کے اثرات لوگوں کے دل ودماغ کی حالت کیفیت اس قدر تیزی سے تبدیلی پیدا ہوتی رہے گی کہ مثلاً ایک شخص صبح کو اٹھے گا تو اس کا ایمان وعقیدہ صحیح ہوگا اور اس پختہ اعتقاد کا حامل ہوگا کہ کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا یا اس کی آبروریزی کرنا اور یا اس کے مال واسباب کو ہڑپ کرنا و نقصان پہنچانا مطلقاً حلال نہیں ہے مگر شام ہوتے ہوتے اس کے ایمان وعقیدے میں تبدیلی آجائے گی اور وہ اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرنے لگے گا کہ گویا اس کے نزدیک کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا اس کی آبروریزی کرنا اور اسکے مال وجائیداد کو ہڑپ کرنا نقصان پہنچانا جائز وحلال ہے) اس طرح جو صبح کو مؤمن تھا تو اس عقیدے کی تبدیلی کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اوریہ صورتحال جاری رہے گی یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا ہوگا اور اس میں کوئی نفاق نہیں ہوگا اور ایک خیمہ نفاق کا ہوگا کہ اس میں کوئی ایمان نہیں ہوگا۔ جب یہ بات ظہور میں آجائے تو پھر اس دن یا اس کے اگلے دن دجال کے ظاہر ہونے کا انتظار کرو۔ (ابوداؤد)

”عن عمیر بن ہانی العنسی ،قال : سمعت عبداللہ بن عمر یقول: کنا قعودًا عند رسول اللہ فذکر الفتن فاکثر ذکرہا حتی ذکر فتنہ الاحلاس۔ فقال قائل یا رسول اللہ ومافتنہ الاحلاس؟۔قال: ھی ھرب و حرب ثم فتنة السراء دخنھا من تحت قدمی رجل من اھل بیتی یزعم انہ منی و لیس منی وانما اولیائی المتقون ثم یصطلح الناس علی رجلٍ کورکٍ علی ضلعٍ ثم فتنة الدھیماء لا تدع احد من ھذہ الامة الا لطمتہ لعطمةً فاذا انقضت تمادت یصبح الر جل فیھا مؤمنًا و یمسی کافرًا حتی یسیر الناس الی فسطاطین فساط ایمانٍ لا نفاق فیہ و فسطان نفاقٍ لا ایمان فیہ فاذا کان ذاکم فانتظروا الدجال من یومہ او من غدہ ”۔

” فتنہ الدھیماء کے مصداق سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں : اس سے چھٹی صدی ہجری میں بغداد پر تاتا ریوں کے حملہ اور عام خونریزی کا فتنہ مراد ہے ، جنہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ انتہائی سخت فتنہ تھا۔جس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے، حجة اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ نے لکھا:

والفتنة الدھیماء تغلب الجنکیزیة علی المسلمین و نھبھم بلاد الاسلام …..الفتن العظیمة التی اخبر ھا النبی ۖ اربع:الأولی: فتنہ امارة علی أقذاء ، وذلک بمشاجرات الصحابة بعد مقتل عثمان رضی اللہ عنہ الی ان استقرت خلافة معاویة، وھی أشیر الییھا بقولہ ”ھدنة علی دخن” و ھو الذی یعرف أمرہ وینکر لانہ کان علی سیرة ملوک لا علی سیرة الخلفاء قبلہ الثانیة : فتنة الاحلاس وفتنة الدعاة الی ابواب جھنم و ذلک صادق باختلاف الناس و خروجھم طالبین الخلافة بعد موت معاویة الی ان استقرت خلافة عبدالملک الثالة: فنتہ السراء والجبریة والعتو وذلک صادق بخروج بنی العباسیة علی بنوامیة الی ان استقرت خلافة العباسیة و مھدھا علی رسوم الاکاسرة وأخذوا بجبریة و عتو الرابعة: فتنة تلطم جمیع الناس اذا قیل : انقضت تمادت حتی رجع الناس الی فسطاطتین و ذلک صادق بخروج الاتراک الجنکیزیة وابطالھم خلافة بنی العباس ومزقھم علی وجھھا الفتن ”

” حضرت سہارنپوری فرماتے ہیں کہ : ” یہ فتنہ امام مہدی کے ظہور سے کچھ پہلے پایا جائے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک چلتا رہے گا۔ حدیث کے آخری لفظ سے بھی اسی کی طرف شارہ مل رہاہے۔ بذل المجھود فی حل سنن ابی داؤد فتویٰ نمبر:144110201255

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

الائنس موٹرز کیلئے اطلاعی مدت ایک ماہ کی جگہ3ماہ اور پھر6ماہ کا فتویٰ مفتی عبدالرحیم نے دیا اور لوگوں کا مال ہڑپ کیا۔ مولانا سیدمحمد بنوری کی شہادت وغیرہ درست آئینہ دکھایا ہے۔
ھرب و حرب کا معنی غلط لکھا ۔ ھرب بھاگنا ۔ حرب جنگ ۔

ترجمہ حدیث: ”عبداللہ بن عمر نے کہا: ہم رسول اللہۖ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ ۖ نے فتنوں کاذکر کیا تو کثرت سے کیا اور فرمایا: پھر فتنہ احلاس ہوگا۔ کسی نے کہا: وہ کیا ہے؟۔ فرمایا: یہ بھاگنا اور جنگ کرنا ہے۔ پھر فتنہ السراء ہے جس کا دھواں میرے قدموں کے نیچے سے ہوگا جو میرا اہل بیت سے ہوگا اور سمجھتا ہوگا کہ مجھ سے ہے لیکن وہ مجھ سے نہیں اور بیشک میرے اولیاء پرہیز گار ہیں۔ پھرلوگ ایک شخص پر اصطلاح کریں گے جو پسلی پر چوتڑ جیسا ہوگا پھر فتنہ الدھیماء ہوگا ۔اس امت میں کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر کوئی تھپڑ تو لگائے گا۔ جب کہا جائے کہ ختم ہواتو بڑھے گا ، صبح آدمی مؤمن ہوگا اور شام کوکا فر ،یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہونگے۔ایک میں ایمان ہوگا نفاق نہیںاور ایک میں نفاق ہوگا ایمان نہیں ۔ جب یہ ہو تو دجال کا انتظار کرو ۔ اس دن یا کل”۔

مولانا یوسف لدھیانوی نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ نبیۖ سے خیر کا پوچھتے تھے اور میں شر کا معلوم کرتا تھا کہ مبادا مجھے شر نہیں پہنچ جائے۔

حذیفہ یارسول اللہ!ہمیں یہ خیر (اسلام) پہنچنے کے بعد کوئی شر پہنچے گا؟۔ فرمایا:ہاں!۔ حذیفہ : کیا اس شرکے بعد خیر پہنچے گی؟ فرمایا: ہاں لیکن اس میں دھواں ہوگا۔ اچھے لوگ ہوں گے اور برے بھی۔ حذیفہ : پھرکوئی شر ہو گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ہاں ! جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ہماری زبان میں بات کریں گے اور لبادے میں ہوں گے جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔اگر مسلمانوں کی جماعت اور ان کا امام ہو تو اس کیساتھ مل جاؤ ورنہ ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ چاہے درخت کی جڑیں چوس کر بھی گزارہ کرنا پڑے۔ (عصر حاضر)

اس حدیث سے فرقہ ”جماعت المسلمین ” نے جنم لیا ۔اس فرقے کے امام رسول اللہۖ ہیںاور خود سرکٹی لاش ہے۔

شاہ ولی اللہ نے دھوئیں کا آغاز معاویہ کی ملوکیت سے کیا ہے اور ہم نے نقش انقلاب میں امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار میں دھوئیں کو تسلسل کیساتھ گہرا کرکے دکھایا ہے۔ الدھیماء کا فتنہ اصولی طور پر جبری حکومتوں کے آخری دور پر ہونا چاہیے۔ لیکن اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ روایات میں70سے زیادہ دجالوں کا ذکر ہے جس میں30نبوت کا دعویٰ بھی کریںگے۔ دجالوں کی طرح مہدیوں کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین سب مہدی تھے اور عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدد کی تھی وہ بھی مہدی تھے۔

جاویداحمد غامدی اور اس کے شاگرد ڈاکٹر عرفان شہزاد کے سامنے شاہ ولی اللہ کی بات آئے گی تو اس نے کہنا ہے کہ فتنہ السراء میں حضرت علی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے حضرت عثمان شہید ہوگئے اورفتنہ کے طور پر ایک گروہ کی قیادت کی اور اس کا زعم بھی غلط تھا۔ اقذاء ابوبکر و عمر اور عثمان ہیں جن کی اس طرح خاندانی حیثیت نہیں تھی جو ابوسفیان اور اس کے خاندان اور مران بن حکم کی شخصیت اور ان کے بیٹوں کی تھی۔ اس نے واضح کیا کہ حضرت ابوبکر وعمر اور عثمان ، معاویہ سے زیادہ یزید کی خلافت شرعی تھی اور حضرت علی کو وہ خلیفہ مانتا نہیں ہے۔ پھر پسلی پر چوتڑ کے فتنہ کا مصداق حضرت حسن ہے جس نے300طلاقیں دیں،لالچ کی خاطر صلح کی اور ایک بڑا حصہ مال کا ذاتی اغراض کیلئے حکومت سے طے کیا۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد عبداللہ بن زبیر پربھی اس کا اطلاق کرسکتا ہے جس کو پھر الدھیماء اور مختار ثقفی کو ایک دجال قرار دے۔ جبکہ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں تک کوہی وہ اسلام کا نظام مانتا ہے۔

دوسری طرف بیانیہ یہ ہوسکتا ہے کہ امیرمعاویہ کے بعد یزید سے فتنہ احلاس شروع کیا جائے۔ جس میں ھرب و حرب اسلئے تھا کہ یزید کے خلاف امام حسین نے کربلا کا سفر کوفہ والوں کے خطوط پر کیا اور پھر وہ جنگ سے بھی بھاگ گئے اور واقعہ کربلا سے پہلے امام حسین نے تین مطالبات پیش کئے۔ مدینہ واپسی، سرحد کی طرف جانا اور یزید سے براہ راست بات ۔لیکن تینوں باتیں نہیں مانیں اور واقعہ کربلا کی جنگ مسلط کردی۔ مدینہ پر چڑھائی کردی اور سانحہ حرہ پیش آیا جس میں اہل مدینہ کیساتھ بہت زیادتی ہوئی۔ پھر مکہ کے محاصرے کے دوران یزید مرگیا اورلشکر کے نمائندے نے عبداللہ بن زبیر کے سامنے بیعت کی تجویز رکھی۔ معاویہ بن یزید نے امام زین العابدین کو خلیفہ بننے کی پیشکش کی اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ لیکن انہوں نے نہیں مانا اور پھر مران بن حکم نے اپنے بیٹے عبدالملک کیساتھ شام کی طرف بھاگنے کے بعد جنگ شروع کردی۔ یہی فتنہ احلاس تھا۔ احلاس چٹائی کو کہتے ہیں۔ فقیہ مدینہ سعید بن المسیب نے کسی کی بھی بیعت نہیں کی اورگھر میں بیٹھ گئے۔ اہل فارس نے امام زین العابدین کو امام بننے کی خفیہ پیشکش کردی جو انہوں نے مسترد کردی۔ پھر محمد بن حنفیہ کی خفیہ بیعت کی گئی اور یہی اصل فتنہ السراء تھا۔ جو اہل بیت کے نام پر چھپ کر کھڑا ہوا اور اس میں نبیۖ کی سنت قائم نہیں کی بلکہ امت کا بیڑاغرق کیا۔

مروان بن حکم پسلی پر چوتڑ اور عبدالملک بن مروان کے دور پر فتنہ الدھیماء اور حجاج بن یوسف پر دجال کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدید کرکے مجدد کا کام کیا۔

شاہ ولی اللہ نے منہاج النبوة کی خلافت کے بعد معاویہ کی بادشاہت کو د ھواں قرار دیا تو دھوئیں کا سبب امام حسن تھے۔ حضرت علی کے فضائل پر مستند احادیث ہیں اور حضرت حسین کیلئے فرمایا کہ ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں”۔ تو حسین کی مزاحمت کو دنیا مانتی ہے۔ حضرت حسن کی صلح نے خلافت سے معاملہ ملوکیت میں بدل دیا تو پھر حضرت علی کی جگہ امام حسن پر فتنہ السراء کی حدیث کو فٹ کرنا چاہیے؟۔

نبیۖ نے فرمایا کہ ” میں وحی کیلئے قوم سے لڑا ہوں اور علی وحی کی تاویل کیلئے مسلمانوں سے لڑے گا”۔ علی کے خلاف پہلے اماں عائشہ اور عشرہ مبشرہ کے صحابہ نے قتال کیا اور علی نے شکست دینے کے بعد احترام کیا۔ پھر خلافت کے باغیوں کے خلاف قتال کیا تو یہ فطری شریعت ہے ۔ پھر خوارج کے خلاف جہاد کیا جو قرآن کی غلط تاویل کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ” خلافت کا وعدہ ابوبکر وعمر اور عثمان کیساتھ پورا ہوا مگر علی کیساتھ پورا نہ ہوا کیونکہ خلافت غیر منتظمہ تھی لیکن پھر قیامت تک کیلئے حضرت علی کی خلافت انقلاب کا ذریعہ ہے ۔ قرآن میں خلافت کا وعدہ جمع کے صیغہ کیساتھ ہے جس کا کم ازکم تین افراد پر اطلاق ہوتا ہے وہ اللہ نے تین خلفاء سے پورا کردیا”۔

لاکھ سے زیادہ صحابہ سے وعدہ اور تین سے پورا ہوا؟۔ یہ تو وعدہ خلافی ہے؟۔ خلافت کا وعدہ مسلمانوں سے تھا۔ خلافت راشدہ ،بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کیساتھ1924ء تک سب پر اطلاق ہوتاہے۔ امریکہ سپر طاقت چاہے پاگل ٹرمپ کو اپنا حکمران بنائیں یا بارک حسین اوبامہ اور کلنٹن کو۔ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ فتنہ اقذاء ممالیک خاندان غلاماں پھر فتنہ السراء کا مصداق شریف مکہ ، پسلی پر چوتڑ غلام احمد قادیانی کی نئی اصطلاح بروزی نبوت ومھدویت اورفتنہ الدھیماء بلیک واٹر۔

جاویداحمد غامدی کو ایک طرف بنوامیہ سے محبت اور بنوہاشم سے جلن ہے تو دوسری طرف شیعہ مخالف ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے گھناؤنی ذہنیت ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بیان دیا۔ لیکن غامدی کے بغل بچے حسن الیاس کی تو حالت ایسے تھی کہ جس طرح بشری بی بی کے بچے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ماں کی شادی پر خوش تھے۔ حسن الیاس کا گویاخون بھی بہت بڑھ گیا تھا۔

فتنہ اقذاء کسے کہتے ہیں؟۔ عرب میں ایک قسم کا نکاح یہ تھا کہ10یا10سے کم افراد ایک عورت سے نکاح کرلیتے ۔ دوسرا یہ کہ عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے۔ تیسرا یہ تھا کہ ادنیٰ نسل والااعلیٰ نسل والے کو بیوی حمل کیلئے سپر د کردیتا تھا۔ فتنہ اقذاء کی آخری قسم غامدیہ نے ایک شخص سے ناجائز مراسم کے ذریعے ایک بچہ جنم دیا تھا۔

قذیٰ آنکھ میں پڑجانے والے تنکے اور گند کو کہتے ہیں۔اور بیکار نسل والوں کو اقذاء کہا جاتا تھا۔ ضرورت پڑنے پر یہ لوگ بھی ذمہ دار عہدوں پر آگئے۔ حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص ، ابوہریرہ ،مغیرہ بن شعبہ، خالد بن ولیدجیسے صحابہ کو بھی منصبوں سے سبکدوش کیا۔ نبیۖ نے مروان بن حکم اور اسکے باپ کو جلاوطن کردیا تھا۔ حضرت عمر کے بعد نبیۖ نے سمندر کے مانند طلاطم خیز موجوں والے فتنے کا ذکر فرمایا۔ یہ فتنہ اقذاء تھا۔ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کیلئے بھی فرمایا کہ ”یہ منصب کیلئے نااہل ہے”۔ حضرت عثمان دور میں عہدوں پر فتنہ اقذاء کا طوفان آیا۔ حضرت علی نے حضرت عثمان کو آگاہ کیا لیکن فتنہ اقذاء نے شکار کیا۔ حضرت عثمان کے ہاتھ میں سب کچھ تھا لیکن عبیداللہ بن عمر سے قصاص نہیں لیا جس نے طیش میں چندا فراد کو قتل کیااور پھر اپنے اقتدار میں مسائل کے شکار ہوگئے تو حضرت علی پر ذمہ داری ڈالنا بالکل غلط ہے۔ حضرت علی سے اچھے بھلے لوگ لڑرہے تھے تو قصاص لینے کے بجائے خود بھی شہید کردئیے جاتے لیکن علی تو پھر علی تھا۔ جس نے کفار اور مسلمانوں سے کبھی شکست نہیں کھائی۔تینوں خلفاء راشدین کے ساتھ تعاون کیا اور مشکل ترین دور میں امت کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت علی کے حامی اور مخالف کے کرداروں کا کما ل اور زوال حقائق کے آئینہ میں دیکھ سکیں گے۔ انشاء اللہ

حضرت عمر نے تین طلاق پر عورت کے حق میں ٹھیک فیصلہ دیا تھا لیکن عبداللہ بن عمر نے اس وجہ سے اختلاف کیا کہ جب اس نے تین طلاق دی تو نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا اور اس پر مامور کردیا کہ مرحلہ وار اس طرح طلاق دینی ہے لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھتا تھا کہ اس کی بیوی طلاق پر راضی نہیں تھی جبکہ حضرت عمر نے اس عورت کا فیصلہ کیا جو رجوع نہیں چاہتی تھی۔

فتنہ اقذاء والوں نے حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظہ اور حلالہ کی لعنت میں ملوث کرکے امت کی ناک کاٹ ڈالی لیکن ان کاDNAہی ایسا تھا کہ حلالہ کی لعنت اور عزتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ جب گورنر بصرہ مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف چار افراد گواہی دینے آئے تو ایک زیاد نے ایسی گواہی دی کہ جس سے اسلامی تاریخ ، فقہ اور احادیث کی کتابوں کے علاوہ سب مسالک بھی شرمندہ ہیں لیکن خود سزا سے بچ گیا اور باقی تینوں کو80،80کوڑے لگوادئیے۔کون ابن زیاد؟۔ جس کو معاویہ نے کہا کہ جاہلیت میں تمہاری ماں مرجانہ کیساتھ میرے والد ابوسفیان نے ناجائز جنسی تعلقات رکھے تھے اسلئے تم میرے بھائی ہو۔ صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، انصاری اور انواع واقسام کی نسبتیں ہیں مگر جاوید احمد غامدی کا ذوق دیکھو؟۔ کوئی اچھی فطرت والا غلط نسبت غامدی اسلئے نہیں رکھتا کہ غامدیہ کے ایک بچے نے احادیث کی کتابوں میں بڑی شہرت پائی ہے۔ چاروں ائمہ اہل سنت امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے لوگ تھے لیکن ان کے متبعین نے طلاق مغلظ پر غلط اجماع کیا جس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت پر امت کو مجبور کیا جارہاہے۔ یہ فتنہ اقذاء کا تحفہ تھا اور ان سےDNAکی ایک نسبت کی وجہ سے جاویداحمد غامدی بھی قرآن ، احادیث اور حضرت عمر کے فیصلے کو غلط رنگ دے رہاہے۔

ایک طرف غلام احمد پرویز کے مؤقف کو ٹھیک سمجھتا ہے اور دوسری طرف پھر ایک ضعیف حدیث کی بنیاد پر ایک غلط مسئلہ کھڑا کررہاہے اور پسلی پر چوتڑ اور دجال کا مظاہرہ کررہاہے۔

فتنہ ھرب و ضرب افغان جہاد میں امریکی سی آئی اے کے کردار کو فراموش نہ کرنا۔ افغانی تنظیموں، بھاگے ہوئے لوگوں نے حرب میں حصہ لیا۔ خمینی فتنہ السراء یا ابوبکر البغدادی ؟۔ اسامہ بن لادن پسلی پر چوتڑ تھا یا ملاعمر؟۔فتنہ الدھیماء امریکہ کا بلیک واٹر؟۔

کوئی تھپڑ سے محفوظ نہیں رہا۔2007ء میں مولانا فضل الرحمن نے دہشتگردوں کو ابن ماجہ کی حدیث سے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل شہید، مرزاغلام احمد قادیانی،مولانا احمد رضا بریلوی، شریف مکہ ، حسن البنائ، سید مودودی،مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت، مولانا الیاس قادری،میرے مرشد حاجی عثمان اور مجھ سید عتیق الرحمن گیلانی جس پر بھی کوئی چاہے تو فتنہ السراء اور پسلی پر چوتڑ کا فتویٰ فٹ کرے۔ مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة پھر بینکاری کے سودی نظام کو اسلامی قرار دیا۔ پسلی پر چوتڑ کا مصداق مفتی تقی عثمانی کے مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام کی اصطلاح پر لوگوں کا اتفاق ؟۔ جماعت پرستی کے داعی جہنم میں جھونکنے کے مصداق اور مسلمانوں کی جماعت اور امام ؟۔قرآنی احکام واضح ہوں تو کوئی رات اصلاح کی ہوگی اورتقدیر الٰہی سے دنیا بدلے گی۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدۖ اس کے بدن سے نکال دو!

علامہ یوسف بنوری کے شاگرد نے ملاعمر کو خراسان کا مہدی قراردیا اور پاکستان میں ڈنڈے والی سرکار کا ذکر کیا۔ شیعہ عالم نے امام خمینی کو مہدی قرار دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران، ہندوستان ،افغانستان سے جنگ اور ڈنڈے والی سرکار قائم کی۔ اسرائیل و امریکہ سے کہاکہ ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا لے جائیں گے اور عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ حافظ کو قرآن کا درست ترجمہ سمجھ میں آیا تو بہت بڑا انقلاب ہے۔
ــــــــــ
جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے امین رسول، ہمارے سردار محمد ۖ اور ان کی تمام آل و اصحاب پر درود و سلام ہو۔ آج ہمارے پاس امام مہدی کے بارے میں نیاخواب ہے۔ دیکھنے والے کا گمان ہے کہ یہ خواب امام مہدی سے متعلق اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصلاح کا وقت قریب ہے، وہ جان چکے کہ کون ہیں اور انہیں اپنے مہدیِ منتظرہونے کا پختہ یقین ہے۔

خواب کے الفاظ:

”میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر کھڑا تھا، مرد و خواتین علماء باہر نکل رہے تھے۔ امام مہدی جامعہ کے دروازے پر لگی ہوئی پودوں کی باڑھ سے سیب توڑ رہے تھے۔ کیاریوں سے جو سیب چن رہے تھے ان کا سائز تقریباً25سینٹی میٹر (کافی بڑا)تھا اور رنگ سرخ تھا میں نے ان کیساتھ سیب چکھے،وہ میری زندگی کے لذیذ ترین سیب تھے۔ پھر علم رکھنے والی خواتین میں ایک نے امام مہدی سے کہا کہ وہ اپنے خاص رویے (سلوک)کو تبدیل کر لیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔ یہ سن کر وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ آخری سیب توڑ رہے تھے، انہوں نے وہ سیب اس عالمہ خاتون کو دیا۔خاتون نے چکھا تو اسکے شاندار ذائقے پر دنگ رہ گئی، خواب یہیں ختم ہو ا میں جو کہہ رہا ہوں اس پر اللہ گواہ ہے۔

تعبیر:

خواب دیکھنے والے نے سچ کہا اور یہ اللہ عزوجل کی طرف سے سچی نوید دلیل ہے کہ امام مہدی کو اپنی حقیقت کا پورا یقین ہو چکا ،انکے ارد گرد لوگوں کی بڑی تعداد جان چکی ہے کہ وہ کون ہیں؟ ثبوت یہ ہے کہ علم رکھنے والی خاتون نے ان سے کہا کہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔

جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر امام مہدی کا کھڑا ہونا اور علما ء کاباہر نکلنا اللہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ علامت ہے کہ ان کے پاس علوم جمع ہو چکے ہیں۔ تقوی اور صلاح کا ثمر انکے قلب پر جاری ہو چکا اور ان کا سینہ اللہ کی طرف سے ”علمِ ربانی”سے بھر چکا، بالخصوص اسلامی علوم کی تمام شاخوں جیسے فقہ، زبان، بلاغت اور ان سے جڑے دیگر علوم علمِ اصول، علمِ کلام، متکلمین کو جواب دینا، بحث و مباحثہ اور مکالمے کے فنون، اسلام کے قواعد و اصول، علمِ حدیث جڑے دیگر علوم ، تخریجِ حدیث وغیرہ میں انہیں مہارت حاصل ہو چکی ہے۔ ان علوم کا بڑا حصہ انہوں نے کتب اور شاید خطبات سے حاصل کیا لیکن ان کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے انہیں اپنے ”علومِ لدنی” الہام کیے ہیں اور ان پر الٰہی مدد کا فیضان ہوا ہے، جس کی بدولت وہ ان علوم کو بالکل مختلف اور نئے انداز میں سمجھتے ہیں۔

جامعہ کے دروازے سے ان کا سیب توڑناشاید”ثمرِ علم” (علم کے پھل)کی طرف اشارہ ہے، انہوںنے اس علم کا جوہر حاصل کر لیا اور وہ عملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان پر فیوضات اور علم کا ثمر عام لوگوں سے مختلف ہے۔یعنی اگرچہ یہ علوم بظاہر روایتی معلوم ہوتے ہیںمگر امام مہدی کے پاس ان کی جو سمجھ بوجھ ہے وہ بالکل نئی اور ربانی ہے، جو موجودہ حالات اور وقت کی اصلاح کیلئے موزوں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سیب کا سائز بہت بڑا (25سینٹی میٹر)تھا، جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

علم رکھنے والی خاتون کا یہ کہنا کہ وہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور پھر ان کا حیرت زدہ ہونا غالباً یہ اشارہ ہے کہ امام مہدی آس پاس کے کچھ لوگوں کیلئے معلوم ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی اپنے معاملے میں یقین کامل رکھتے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اس خاتون کو سیب دیا اور اس نے چکھا تو لاجواب ذائقے پر دنگ رہ گئی۔ یہ ثبوت ہے کہ اس مردِ مومن کے پاس وہ ذوق روحانی لذت و معرفت ہے جس سے خاتون واقف نہیں تھی۔ شاید وہ رویہ جو اس خاتون کو منصبِ خلافت اور ولی اللہ کے مقام کے لائق نہیں لگ رہا تھا، امام مہدی بتانا چاہتے تھے کہ یہ تقدیرِ الٰہی سے ہے اور کچھ معاملات وہ ہیں جنہیں وہ خود تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جب تک مقررہ وقت نہ آ جائے اور یہ کہ وہ خود ان علومِ ربانی کا ذائقہ چکھ چکے ہیں اور انہیں کامل یقین ہے۔ اسی لیے جب انہوں نے وہ سیب (علم و معرفت کا ثمر) اس خاتون کو دیا اور اس نے چکھا، تو وہ بھی حیران رہ گئی۔

اس خواب کی تعبیر کے بارے میں یہ ہمارا گمان ہے اور اصل علم اللہ ہی کے پاس ہے۔والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

المھدی وعلوم آخر زمان

امور لایغیرھا المھدی من نفسہ ولا یستطیع متیقن من ھذ.
المھدیوعلومآخرزمان@ABMONZER and
25اپریل2026ء کو یہ ویڈیو اپ لوڈ ہوئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

غیرمتبرجٰتٍ بزینةٍ : تفسیربا تصویراورغامدی کی تقدیر

امریکہ نوازسمگلر اشرف پہلوی پر بلال غوری کا پروگرام۔2سو عاشقوں اور ذوالفقار علی بھٹو سے ناجائز تعلق۔3شادی میں ناکامی اور بیک وقت کئی افراد سے جنسی تعلق تھا ۔ جمائما کے بوائے فرینڈ زاور پھر شادی کا اشرف پہلوی کیساتھ موازنہ ہوتو فرق ہے ۔بیک وقت زیادہ افراد سے تعلق خطرناک ہے۔ قرآن ھدی للناس سبھی کیلئے ہدایت ہے اور ہدایت جبری نہیں ہے بلکہ آزادی کیساتھ دل ودماغ و کردار کی ہدایت ہے۔ اسلام ایکسپائرہوچکا ہے یا پھر تحریف کے بغیرچل سکتا ہے؟۔

شدت پسندی کو روکنے کیلئے اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کی تصاویر چھاپ دیں تو سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا ”ٹانگوںمیں بڑی جاذبیت ہے”۔گاڑی کی لائٹ جیسے ڈم اور تیز ہوسکتی ہے۔اللہ نے نظریں ڈم رکھنے کا حکم فرمایا۔

4سوسال پہلے مغرب سیکولر ازم بنی آدم کو ننگا کرنے کا ابلیسی نظام لایا تھا تو عرب وعجم ، مشرق ومغرب محفوظ نہیں رہ سکے ۔

اوزاعی نے نکاح سے پہلے عورت کا پورا جسم شرم گاہ کو چھوڑ کر دیکھنا جائز قرار دیا۔ ابن حزم نے شرمگاہ کوبھی جائز قراردیا۔

یایھا النبی قل لازواجک و بنٰتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین

”اے نبی اپنی ازواج، اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں یہ معمولی ہے تاکہ پہنچانی جائیں اور ستایا نہ جائے”۔

تاکہ گاہک تلاش کرنے والیوں سے امتیازی پہچان رہے۔

وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زنیتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن

” اور مؤمنات سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے حسن النساء کو نہیں دکھائیں مگر جتنے دکھ جائیںاور اپنے سینوں پراپنے دوپٹوں کو لپیٹ لیں”۔

جاویدغامدی نے کہا کہ ”شرمگاہ کی حفاظت نیم برہنہ لباس ہے۔ پردہ کی احادیث من گھڑت اور ہندوستانی کلچر ہے” ۔دوپٹے کا حکم نہیں دکھتا شرمگاہ کی حفاظت سے برہنہ کرنے پرپٹہ لگانے کی ضرورت ہے۔

بیوہ و طلاق شدہ بیگمات ایگریمنٹ والی اوروقتی متعہ والی۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم… فما استمتعتم بہ منھن

”اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو …جن سے تم فائدہ اٹھالو ”۔ ( النسائ)

بیواؤں اور بگڑی لڑکیوں کاجائز حل بگاڑ کا بڑھتا ہوا رحجان ختم کرسکتاہے۔ معاہدے کے بغیر چھپی یاری اور کھلی فحاشی کے بھیانک انجام کو سوشل میڈیا روز دکھارہاہے۔

مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ” قرآن معنوی تحریفات کا شکارہے”۔ ایرانی متعہ والی کنواریوں سے سعودیہ کی مسیار والی طلاق شدہ وبیوہ بیگمات نکاح کیلئے بہت زیادہ بہترہیں۔

ومن لم یستطع منکم طولًا ان ینکح المحصنات المؤمنات فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المؤمنات واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعضٍ فانکحوھن باذن اہلھن واٰتوھن اجورھن بالمعروف محصناتٍ غیر مسافحاتٍ ولا متخذات اخدان فاذااحصن فان اتین بفاحشةٍ فعلیھن نصف ما علی المحصنات من العذاب ذٰلک لمن خشی العنت منکم وان تصبرواخیرلکم واللہ غفور رحیمO

”اورجو بیگمات سے نکاح کو نہیں پہنچتا تومؤمنات معاہدہ والی لڑکیاں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے ۔تم آپس میں ایک ہو۔ پس نکاح کرو انکے سرپرستوں کی اجازت سے اور ان کو انکا حق مہر دو معروف طریقے سے نکاحی بندھن میں لاکر نہ شہوت رانی اور نہ چھپی یاری ۔پس جب نکاح میں لاؤ تو اگر وہ فحش کریں تو ان کی عام شادی شدہ کے مقابلے میں آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں مشکل سے ڈرے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے ” ۔ سورہ النسائ:آیت:25)

متعہ والی دوشیزہ سے مجبوری میں نکاح مگر کمتر نہیں سمجھیں اور سزا عام عورت سے نصف اورمشکل نہ ہوتو معافی ہی بہترہے۔

ایرانی سعودی متعہ ومسیار سے افغانی بکنے والی بچیاں زیادہ خطرناک ہیں۔ پاکستانی جسم فروشی ، جبری اڈے بدترین ہیں۔ ہم جنس پرستی میں لڑکوں کو رکھنا لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہے۔ مردہ ضمیروں کی کثرت سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

لڑکے کو لونڈابازی کی جگہ اس کی بہن کو رکھنا بہتر اسلئے تھا کہ مرد کو بدفعلی کی علت ہو تو معاشرہ ضمیر چھوڑ مشین بن جاتا ہے اور ضمیر نہیں رہتا تو ظلم کی ہرحد پارکرنے میں بیباک بنتاہے۔

قرآن،لغت، حدیث ،فقہ کی تطبیق نہیں آتی ۔ عورت کو سینے پر دوپٹے کاحکم آیا تو برصغیرعمل پیرا تھا مگر جاویدغامدی اسلام دشمنی میںپہلے جلتارہا، بھڑاس نکالی تو ننگا ہوا۔

ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکی لایعلم بعد علمٍ شیئًا

”اور تم میں سے وہ بھی ہے جو رذیل ترین عمر کو پہنچا،تاکہ علم کے بعد کوئی چیز نہ سمجھ سکے”۔

This is Javed Ghamdiaa

عیسی بغیر والد معزز ، غامدیہ سنگسار۔ ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر وہ بے اصل ” ۔ولید بن مغیرہ بنی اسرائیل جعلی قریشی بنا۔

حرم میں حبشی گریبان سے بریسٹ نکالے دودھ پلاتی ہیں مگر دھیان نہیں جاتا تو بڈھی میں کیا؟۔ حسن نساء برہنہ کرنا منع، گھر میں قمیص اور اجنبی سے دوپٹہ لپیٹنا۔ غیر مسلم مخاطب نہیں ۔ مقامات الحریری میں دوسیب، عربی لٹریچر میں فتونھااسکے فتنے اور نبیۖ نے فتنہ النساء سے پناہ مانگی تو وہ یہی فتنہ ہے۔ باقی فتنوں میںمرد عورت برابرہیں۔

ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

واضح مگر ترجمہ معنوی تحریف ہوئی۔ لڑکے لڑکی کے درمیان یہی فرق ہے۔ لڑکے کیساتھ10شیطان اور لڑکی کیساتھ ایک شیطان کا ذکر ہے لیکن یہی چیز بڑا فتنہ ہے۔

عورت نے کہا:تمہیں چارشادی اورہمیں؟۔ مفتی محمود نے کہا:”تم20کرلو، حکم قرآن ماننے والوں کیلئے ہے ”۔ اجتہاد کے نام پر تحریف کفر ہے۔ قرآنی تعلیم مذہبی طبقے، عوام ، حکمران طبقہ اور دنیا تک پہنچانا فرض ہے۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ کی بنیاد علامہ بنوری نے تقویٰ پر رکھی۔ حضرت ابراہیم واسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر پر دعارحمة للعالمینۖ کی بعثت کیلئے فرمائی۔

قرآن مشرقی نہ مغربی اور نہ تہذیبوں کا تصادم بلکہ اعلیٰ و ادنیٰ معیارات کے ذریعے دنیا میں مثالی توازن کو یقینی بناتا ہے۔پھر سب سے بڑھ کراصلاح معاشرہ کیلئے ہمہ وقت رو بہ عمل ہے۔ تہذبوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ بڑا اعتدال و توازن ہے۔
ــــــــــ

وزیرستانی مورچے اور آیات کی زبردست تفسیر

کانیگرم میں ہمارے گھر کے بالا خانے کی چھت پر دوپکے مورچے اس کابڑا حسن بھی تھے۔

تبارک الذی جعل فی السماء بروجًا

”برکت والا جس نے آسمان میں بروج بنائے” مجاہد نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مورچے جس میں حفاظت کرنے والے رہتے ہیں”۔

اینما تکونوا یدرککم اللہ الموت ولوکنتم فی بروج مشیدة

ٍ ”جہاں بھی تم ہو،موت تمہیں پالے گی ،اگرچہ تم بلند وبالا پختہ مورچوں میں ہو”۔ (سورہ النساء آیت78)

دوبئی میں برج العرب ہوٹل ہے۔ عورت کے برج ”حسن النساء ” ہیں۔ جاہلیت میں زیادہ تعداد میں شوہروں کی تلاش میں عورت اپنے حسن النساء کو کھلا رکھتی تھی۔ جس کی جاذبیت میں اس کے گاہک بڑھ جاتے تھے۔ قرآن کایہ حکم صدرٹرمپ وغیرہ کو آج بھی بالکل قابل قبول ہوگا۔

ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی

”اور حسن النساء کی نمائش نہ کروپہلی جاہلیت کی نمائش ”
اسلام میں عورتوں کیلئے دو طرح کا لباس ہے۔ ایک میں مکمل کپڑے اور سینے پر اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ لپیٹنا اور دوسرا لونڈی ، متعہ اور مسیار والی عورت کا لباس ہے جو نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں ،وہ مردوں کی طرح ٹانگیں ،کاندھے، پیٹھ ، پیٹ ننگے لیکن حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر ۔

والقواعد من النساء الّٰتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO

”اور قواعدعورتوں کے حوالہ سے جو نکاح کی امید نہ رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتاریں اپنے حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر اور اگروہ پاکدامن رہیں تو ان کیلئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ سنتا جانتاہے”۔

1948ء میں اقوام متحدہ نے غلامی کو ختم کیا۔ غلامی کی فیکٹری جاگیرداری اورمارکیٹنگ سود کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ۔متعہ ومسیار کا اسٹیٹس لونڈی و غلام والا نہیں معاہدے والا بنایامگر نکاحی حقوق نہیں۔ ام ہانی سمیت بدر الدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکر کیا، متعہ ومسیار والی امہات المؤمنین نہیں۔ ” ہدایہ” میں مالکی و حنفی مسلک میں وقتی نکاح کا اختلاف ہے ۔ قرآن نے نکاح اور معاہدے کے قوانین کو واضح کیا۔تین افرادکی گرل فرینڈماہ نور کا ایک کوقتل کرنا المیہ ہے۔ حملہ آورشیطانی تہذیب کا مداوا اسلام ہے۔جاویداحمد غامدی نے قرآن سے من گھڑت طاغوت کا حکم اخذ کیا ۔تحریف کفر ہے ۔ احکام کی وضاحت سے مسلکی اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا اور پوری دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کوجبر کے بغیر دل وجان سے قبول کرے گی۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ہندو کی آنکھ سے بڑے انقلاب کی تصویردیکھ!

ہندوستان کی مشہور شخصیت ڈاکٹربربیل کے انکشافات:
ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی اور بدبو آ رہی ہوگی۔ پیاس لگی ہے، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے پڑے ہیں، کیا آپ ایسا پانی پی پائیں گے؟یہ سونامی تو کچھ بھی نہیں۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ آنیوالا وقت، میں نے پچھلی بار کہا تھا،2026سے شروع ہوگا۔ شروعات دیکھ چکے ،2028تک یہ زور پکڑے گا۔ جب میں نے پہلے بولا تھا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا تھا۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر ہے، لوگ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے قیمت بتائی ہے۔ اب اوپر والوں کی پلاننگ سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ہے، جس کا نام ٹرمپ ہے، بنیادی طور پر اس کا تعلق خلائی مخلوق (ایلینز)سے ہے۔

مرد:روس، یورپ اور امریکہ کے جو حالات ہیں، انہیں دیکھ کریہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ عالمی جنگ (ورلڈ وار) چھڑ سکتی ہے۔ آپ نے پہلے بھی بتایا تھا کہ آنے والا وقت صحیح نہیں ہے، گھر میں کچھ راشن رکھ لو، پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ میم، کیا آپ اس موضوع پر ہمیں کچھ مزید بتانا چاہیں گی؟ ۔

خاتون:ہاں، تو کیا آپ لوگوں نے پوجا پاٹ (عبادت)کرنی ہے؟ مجھے کئی لوگوں کے بڑے مضحکہ خیز سوالات ملتے ہیں کہ میم، کیا ہم کچھ دان صدقہ کر کے اپنے گناہ معاف کرا سکتے ہیں؟، میرا ایک کلائنٹ جسے بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں، تو وہ کہتا ہے کہ جی ہم ان سے معافی مانگ لیں گے۔ میں نے کہا اچھا!کسی کے بچے کو تم قتل کر دو، کسی کی بہن بیٹی کی عصمت دری کر دو اور کہو کہ معافی مانگ لیں گے، تو ٹکڑے تو میں ہی کر دوں گی اس کو پکڑ کر۔ یہ جو آپ کی سوچ ہے نا کہ گناہ کر کے معافی مانگ لیں گے، ایسا نہیں ہے۔ سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وقت طاقتور ہے؟ نہیں، بلکہ تقدیر اور آپ کے اعمال طاقتور ہیں۔ اور اعمال کے حساب سے۔

جو ابھی آپ نے سوال پوچھا تو مجھے یہ بتائیں کہ امریکہ نے دنیا کو اب تک دیا کیا؟ ،پوچھنا چاہتی ہوں۔ بھارت میں تھوڑے سے پیسے بڑھے تو بھاگو امریکہ، بھاگو کینیڈا۔ انکے بلائے ہوئے نوکر ہی تو ہیں آپ لوگ؟۔ پہلی بار2008میں گئی تھی تو حیران رہ گئی کہ یہ کیا ہے؟ ۔ جتنے بھی آپ امیر کہتے ہو، وہاں سب نوکری کرتے ہو۔ آپ ان کے ملازم ہو کیونکہ پہلے ایک ڈالر یہاں50کا ملتا تھا اب90روپے کا ہو گیا ہے۔ اسکے گناہگار کون ؟ ہم لوگ؟ ہماری حکومت؟ جتنا پیسہ بھارت میں لوگوں کی تعلیم پر لگا دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں، ہمیں باہر نہ جانا پڑے۔جتنے بھارتی باہر ہیں وہ واپس آ جائیں تو ان ممالک کا بھٹہ بیٹھ جائے، ورکر نہیں رہیں گے۔ فیکٹریوں میں کام کون کرتا ہے؟ کیب کون چلاتا ہے؟ آپ لوگ۔ تو آنے والے وقت کا میں نے بولا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا۔ کچھ نے ایسی بات کی کہ میں ہنس پڑی کہ کوئی بات نہیں یار، ان کی عقل اتنی ہی ہے ۔

مجھے سب سے پہلے یہ بتائیں امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ میں امریکہ سے شروع کر رہی ہوں۔ کیا دیا؟ بندوقیں؟ لڑائیاں؟ میزائل؟ ایک ملک کو دوسرے سے لڑایا۔ اب اوپر والوں کی گیم دیکھ لو۔ یہ تو یہاں کی باتیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں، لیکن اصل تصویر کسی کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی؟ اصل کہانی کہاں ہے؟ روحانی علم (آدھیاتمک گیان)آپ کو کتابی علم میں نہیں ملے گا۔ جو کتابیں پڑھتے ہو، ڈگریاں لیتے ہو، پی ایچ ڈی کرتے ہو، وہ صرف آپ کی نوکری کیلئے ہیں۔ کہتے ہیں ”جب آنکھ کھلے تبھی سویرا” یہ کہاوت سنی ہو گی؟۔ تو جن کی تیسری آنکھ کھلی ہے یا جنہیں وجدان ہوتا ہے، آنے والے وقت کا احساس ہو جاتا ہے۔ بہت لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ میم! ایسا خواب آ رہا تھا، یہ ہو رہا تھا، اور وہ سب آنے والے وقت کے بارے میں ہے۔ یہ جو امریکہ میں ابھی بندہ بیٹھا ہوا ہے جسے آپ پاگل کہتے ہو، ٹرمپ۔ ٹرمپ تاش کے کھیل کا لفظ بھی ہے۔ دوسری بار کیوںبنایا گیا؟ یوٹیوب بھرا پڑا ہے کہ پاگل ہے، حرکتیں اور ایکشن بھی پاگلوں والے ہیں، ہے نا؟ سچی بات گہرائی تک کوئی نہ جائے گا، میں بتاتی ہوں۔ امریکہ نے پوری دنیا کو لڑایا اور نفرت پھیلائی۔

اب اوپر والوں کی منصوبہ بندی سن لو، انہوں نے ٹرمپ کو بھیجا ۔ اس کا خلائی مخلوق سے تعلق ہے، یہ کم لوگوں کو معلوم ہے۔ خلائی مخلوق نے کچھ لوگ قبضے میں رکھے ہیں،ان کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اسے ڈیوٹی دے دی گئی کہ ”چل امریکہ کو تو ختم کر”۔ یہ اوپر والے کھیل رہے ہیں۔امریکہ نے دنیا کو کیا دیا؟ وہ کہتا ہے ”چل اب ٹرمپ کو بھیجو بنا کر”اور اس کا مقصد اسے خود ابھی نہیں معلوم کیونکہ وہ انسانی جسم میں آیا ہوا ہے۔ وہ اپنا پورا کام کر کے جائے گا تو شاید شاباش مل جائے، اگر نہیں کرے گا تو وہ انجام جیسے ایبسٹین فائل کی کہانی سنی ہے نا؟ پھر تمہاری کہانی پوری ہو جائے گی تو قربانی کا بکرا بنے گا۔ ایران کیوں نہیں ڈر رہا؟ آپ ”مسلم مسلم”کرتے ہو لیکن یہ بھول جاتے ہو کہ سب کا مالک ایک ہے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے، اس کی نظر سے کوئی بچا ہوا نہیں۔

آنے والا وقت کا پچھلی بار کہا تھا2026سے شروع ہوگا۔2028تک یہ زور پکڑے گا، کوئلے والی ٹرین چھک چھک کر کے آہستہ چلتی تھی پھر رفتار پکڑتی تھی۔ رفتار2028کے بعد پکڑے گی اور یہ2032تک مسلسل بڑھتی جائے گی۔ میرے پاس جو معلومات ہیں میں اسی کی بات کر رہی ہوں، میرے پاس علمِ نجوم یا علمِ اعداد جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔2032کے بعد سے2038تک آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہوگا۔ وہ بدترین دور ہو گا، تباہی تو2032تک ہو گی لیکن32سے38تک کا وقت ناقابلِ برداشت ہے۔ ہر جگہ لاشیں پڑی ہوں گی، بدبو آ رہی ہوگی۔ آپ کو پیاس لگی، پانی موجود لیکن اس میں لاشیں تیر رہی ہیں، جانور مرے ہوئے ہیں۔ کیا آپ وہ پانی پی پائیں گے؟28سے32کے درمیان یہ سبھی ہونے والا ہے۔

سونامی تو کچھ بھی نہیں ۔90فٹ اونچی لہریں آئیں گی۔ پچھلی بار کہا تھا کہ خلائی مخلوق وہاں کام کر رہی ہے، پوری منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ یہ تو ہمارے لیے الگ الگ ممالک ہیںلیکن انکے حساب سے یہ ممالک نہیں بلکہ زمین کے حصے ہیں۔ کس کو تقسیم کرنا ہے، مارنا ہے؟ اور وہ حکم کے پابند ہیں، ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ لاکھ کوشش کر لیں، کچھ نہیں کر پائیں گے۔ بہت سے لوگوں نے پوچھا کہ”بچیں گے کیسے؟”تو ان سے میری بات ہوئی تھی، وہ کہتے ہیں وہی جو میں نے پچھلی بار بھی کہا تھا پھر کہہ رہی ہوں، بار بار ہاتھ جوڑ کر عرض کر رہی ہوں کہ اسے سمجھو۔ جو روحانی علم میں بے غرض خدمت کر رہے ہیں۔

آپ نے چھ مہینے کا راشن پانی جمع کر لیا، لیکن آپ کے نوکر کے گھر میں کھانے کو نہیں تو کیا ان سے پوچھا ؟ گیس کی مثال لیں، قلت ہوئی تو ورکرز کے گھروں میں، میرے ہاں کام کرتے ہیں، کئی کے پاس سلنڈر نہیں تھے۔ دو ہزار، ڈھائی ہزار روپے کا ایک سلنڈر وہ کہاں سے لائیں گے؟ لوگوں نے چار چار ہزار روپے مانگے ہیں۔ بتائیں یہ کل یگ نہیں تو اور کیا ہے؟ اعمال تو یہاں بن رہے ہیں۔ ایک ہزار روپے کا سلنڈر چار ہزار میں دے رہے ہیں، دو ہزار سے کم پر تو آپ بات ہی نہیں کر رہے۔ چار ہزار کی بات تو مجھے ہضم نہیں ہوئی، وہ کہنے لگا چار ہزار روپے لے آ، تین ہزار کادوں گا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے پاس ہے؟ میں نے کہا پڑا ہے لے جا۔ میرے پاس تو الیکٹرک چولہا بھی ہے، اس پر کام کر لوں گی، ابھی آدھا سلنڈر ہے، کام چل جائے گا۔

آپ اعمال کہاں کرتے ہیں؟ جو بے غرض خدمت کر رہا ہے اس کا حساب کتاب اوپر لکھا جا رہا ہے اور وہ اعمال کے بدلے کٹ جائے گا۔ پوجا پاٹ یا مندر میں چڑھاوا چڑھانے سے اعمال کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ ہون کروانے سے بھی برے اعمال نہیں کٹیں گے، چاہے جو مرضی کوشش کر لیں۔ اگر کسی ذاتی مقصد کے بغیر خاموشی سے صدقہ و خیرات کر دی، ادھر ادھر نہ دیکھا، تو یہ ہوتا ہے اصل صدقہ۔ اگر دیکر بتا ؤگے تو کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں، لوگوں کے سوال آئے کہ میم !پھر کیا کریں؟ مرنے سے کیوں ڈرتے ہو بھائی؟ روح تو امر ہے آج نہیں تو کل جانا ہی ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ چلو اسے تکلیف نہیں اٹھانی پڑی۔ لیکن مجھ سے پوچھ کر دیکھو ان روحوں کے بارے میں جو ہوا میں بھٹک رہی ہیں جنہیں تانترک نے اپنے بس میں کر رکھا ہے۔ وہ چھٹکارا چاہتی ہیں لیکن نہیں مل رہا کیونکہ ان کے پچھلے اعمال ہی ایسے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا کیا تھا تو نے؟ وہ کہتی ہے کہ میرے بھائی کا قتل کیا تھا۔سیشن کر رہی ہوں وہاں سے وہ ہستی بول رہی ہے جو ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ پوچھا کہ کب کی بات ہے؟ تو جواب ملتا ہے1406۔ میں آپ کو کس کس کی کہانیاں سناں؟ سب گندگی سے بھرے پڑے ہیں اور یہ اعمال کی گندگی ہے۔

ارے صبح اٹھو نہ، رات کو سونے سے پہلے اپنا آئینہ دیکھو کہ سارا کیا کیا؟ اس قابل ہوں کہ خدا مجھے گلے لگا لے؟ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیار نہیں کرتا۔ سوچیے خود اپنی نفرتوں کے سبب اکیلے رہ گئے۔ ایک کیس میرے پاس آیا، پوچھا کہ کتنی گرل فرینڈز ہیں؟ بولا ابھی ایک ہے، پہلے چار تھیں۔ تو جب اس کا سیشن کیا تو پتہ چلا کہ پچھلے جنم میں وہ کسی کا بھائی تھا، کبھی باپ، کبھی نوکر، کبھی ڈرائیور۔ جو ہسٹری نکلی چاروں لڑکیاں جو اسے چھوڑ کر گئی تھیں، یہ وہی تھیں جن کیساتھ پچھلے جنم میں کچھ کیا تھا، اگلی ویڈیو اس پر بناؤں گی۔ تب تک کیلئے اپنا آئینہ دیکھیں نمسکار،شری رام…
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گھر سے بھاگ کر شادی

بھاگ کر شادی کرنے والی بیٹی سامنے آئی تو باپ نے کیا کیا؟۔

پاکستان کایہ کلچر مذہبی طبقات کا قرآن وحدیث اور اصول فقہ میں تضادات کا نتیجہ اور فطرت سے انحرافات کا آئینہ ہے۔ معاشرے سے خرابی کو دور کرنے کیلئے درس نظامی کی تعلیمات کو درست کرناہوگا ورنہ تو یہ سانحات پھر اسی طرح جاری رہیں گے بلکہ بڑے پیمانے پر بڑھ سکتے ہیں۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا ۔استاذ العلماء حضرت مولانا بدیع الزمان اصول فقہ پڑھارہے تھے۔

حتی تنکح زوجًا غیرہ

آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے جبکہ حدیث ہے کہ ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے باطل ہے”۔ حنفی اصول فقہ میں ضعیف حدیث کی بھی تطبیق ہوسکے تو قابل عمل ہے۔ حدیث ہے جس نے نمازکے آخری قاعدے میں ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔ احناف نے اس وجہ سے سلام کیساتھ نماز سے نکلنے کو واجب اور اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنے کو فرض قرار دیا ہے۔

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو حدیث میں باطل قرار دیا تو قرآن کی آیت سے ٹکرانے کی وجہ سے ناقابل عمل ہے ۔ جب میں نے مولانا بدیع الزمان سے عرض کیا کہ قرآن میں طلاق کی صورتحال کے بعد کا ذکر ہے اور حدیث کو کنواری کیساتھ خاص کردیں تو حنفی مسلک کا یہی تقاضا ہے۔ جس پر استاذ کا نورانی چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور فرمایا کہ تمہاری بات میں بڑاوزن ہے اور دوسری کتابیں پڑھ کر اس کا حل ڈھونڈ نکالوگے۔

اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ اس آیت میں فان طلقہا کا تعلق متصل فدیہ سے ہے اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا تعلق حلالہ سے نہیںبلکہ فدیہ کی صورت کی وجہ سے سابقہ شوہر سے آزادی کیلئے ہے۔امام ابوحنیفہ کی جیل میں المناک شہادت کا سانحہ ہوا تو شاگرد اور حکمرانوں نے امام ابوحنیفہ کے فقہ سے بھی کھلواڑ کیا جیسے قرآن اور احادیث صحیحہ سے کیا ہے۔

اصول فقہ کی کتابوں میں دیگر چیزوں پراعتراض کیا۔ مولانا بدیع الزمان بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے زحمت نہیں دی لیکن قاری مفتاح اللہ سے جب باتیں ہوئیں تو انہوں نے ملاجیون کی سادگی سے متعلق بہت سارے لطیفے سنائے۔ اور بڑا حوصلہ دیا کہ ان سارے مسائل کو آپ خود ہی حل کرلیں گے۔

BBC رپورٹ سے امریکن بچی کا واقعہ لکھاجو مختلف ریاستوں میں بچیوں کیلئے الگ قوانین تھے۔ زیادہ بھیانک جبری جنسی زیادتی کا شکار بچی محافظ سے حاملہ ہوگئی لیکن اس سے زیادہ مدارس کاغلط نصاب ماحول میں وہ بگاڑ پیدا کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ بدترین مثال دنیا کے کسی ملک ومذہب میں بھی نہیں ملتی ہے۔ مولانا بدیع الزمان و اساتذہ نے تائید کی تھی اورآج اللہ مجھ سے دین کا کام لے رہاہے۔ مجھے مدارس سے محبت ہے مگرمدارس میں بیٹھے لوگ ناسمجھ یا مفاد پرست ہیں ۔

اگر قرآن کی ایسی تعبیر اور تفسیر ہو کہ کٹر سے کٹر رافضی شیعہ کو اعتراف کرنا پڑجائے کہ حضرت عمر فاروق اعظم اور سنیوں کے چاروں ائمہ امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا فیصلہ قرآن کے مطابق تھا اور فقہ جعفریہ انتہائی غلط اور گمراہی پر مبنی قرآن وحدیث اور علی و ائمہ اہلیبت سے بہت دور ہیں تو فرقہ واریت میں کتنی زبردست اور مثالی کمی آئے گی؟۔

پھر اہل سنت اعتراف کرلیں کہ اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت کی بات اس وقت مان لیتے تو ہم آپس میں بھی منتشر نہ ہوتے تو شیعہ کے ہاں ماتم کی جگہ محرم الحرام میں ڈھول کی تھاپ پر وہ خوشیوں کے شادیانے بج جائیں گے کہ سنی علماء ومفتیان ناچنا شروع ہوجائیں گے۔ صرف امت مسلمہ کے سنجیدہ طبقات کی توجہ چاہیے پھر اسی محرام الحرام میں یہ مناظر دیکھنے کو مل جائیں گے اور انقلاب کا سفر شروع ہوجائے گا۔ انشاء اللہ العزیز

ایران ، عراق ، پاکستان اور دنیا بھر میں بدلتے ہوئے منظر کی خوشیوں پر دشمن اور شیطان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی ۔
مشہور ہے کہ ”پیر نہیں اڑتا ہے مرید اس کو اڑاتے ہیں”۔ امام ابوحنیفہ و امام شافعی میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد کے لوگوں نے اختلاف رائے کو انتہائی بھیانک شکل دیکر کفر سے بھی آگے بدفطرتی کے طوفان میں عجیب و غریب رنگ دیدیا۔
ائمہ اہل حق نے اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر رکھی تھیں۔

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہوا

لیکن بعد کے لوگوں نے پیٹ پوجا کیلئے دین کو بگاڑ دیا ۔

سچ تو یہ ہے کہ بات کچھ بھی نہ تھی
بیڑہ غرق پھر بھی پیٹ پوجا نہ ہوا

کہاں امام ابوحنیفہ جو جیل میں زہر دیکر شہید کئے گئے اور کہاں قاضی القضاة (چیف جسٹس) امام ابویوسف نے بادشاہ کیلئے اس کے باپ کی لونڈی معاوضہ لیکر حلال قرار دیدی؟۔

تصویر کے معاملہ میں ابوالکلام آزاد اور علامہ سلیمان ندوی نے ایک منشی مفتی محمدشفیع کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے مگرجب میں نے کتاب ”جوہری دھماکہ ” میں جاندار کی تصویر کو جواز بخشا تو چڑیا گھر سے تمام بند جانور کھل کر میدان میں آگئے۔

شبلی نعمانی وکالت میں ناکام ہوگئے تو علی گڑھ میں فارسی کے ٹیچر لگے۔ الفاروق کتاب لکھی تو علماء سے کہا کہ ”حدیث قرطاس کا انکار کردیتے ہیں لیکن علماء نے حدیث کے انکار اور جھوٹ کو منع کردیا”۔ پھر اسکے ہاتھ حمیدالدین فراہی لگا جس کو خلافت عثمانیہ سے عربوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر الگ کرنے کیلئے انگریز اور عربوں میں ترجمان کا کام سونپ دیا تاکہ کچھ معاوضہ مل جائے۔ انگریز نے ایڈوکیٹ شبلی نعمانی کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔ اسی سلسلے سے جاویداحمد غامدی بھی وابستہ ہے۔

عن ابن ابی سعید الخدری قال: صلی بنا رسول اللہ ۖ صلاة العصر نھارًا ثم خطب ان غابت الشمس فلم یدع شیئًا ھو کائن الی یوم القیامة الا حدثنا بہ حفظہ من حفظہ ع نسیہ من نسیہ ۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ ۖ ان اللہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا و ما ھو کائن فیھا الی یوم القیامة کما انظر الی کفی ھذہ جیلان من اللہ جلاہ لنبیہ کما جلاہ للنبین قبلہ ۔ ( الفتن : نعیم بن حماد استاذ مصنف صحیح البخاری)

رسول اللہ ۖ نے ہمیں دن کو عصر کی نماز پڑھائی ،غروب آفتاب تک خطاب فرمایا۔ تو کوئی چیز نہیں چھوڑی قیامت تک پیش آنے والی مگرہمارے لئے بیان فرمایا ، جس نے یاد رکھا تو اس نے یاد رکھا اور جو بھول کیا تو وہ بھول گیا۔ فرمایا: بیشک اللہ نے میرے لئے دنیا کو اٹھایا تو میںنے اس کو دیکھا اور اس میں قیامت تک پیش آنے والی ہر چیز کو دیکھا جیسا کہ اپنی اس ہتھیلی میں ادوار کو دیکھتا ہوں۔ اپنے نبی کیلئے جیسے پہلے انبیاء کیلئے اللہ نے روشن کرد دیا تھا۔ ( حدیث نمبر1اور حدیث نمبر2)

قرآن میں لوگوں نے اپنا کردار خود منتخب کیا۔عہد الست کو واضح کیا۔ وقت کا الگ پیمانہ ثابت ہوا۔ نبی ۖ نے جٹ قوم کا بتایا کہ مجھے پوری رات اذیت دی مگر خوش تھے اسلئے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جٹ قوم نے کردار ادا کرنا تھا۔ نبیۖ نے نسل کا تعارف تبدیل کرنا غلط قرار دیا۔ اسلام سے پہلے اعلیٰ نسل کے پاس ادنیٰ نسل والے نسل کی تبدیلی کیلئے غلیظ کام کرواتے تھے۔ بدکاری کی سزا ، رخ قبلہ اور جو احکام قرآن میں نازل نہیں تھے تو اہل کتاب کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ جٹ کے ہاں نسل و تعارف تبدیل نہ تھی ،پدو مارتے۔ عرب نسل کی تبدیلی کو بے غیرتی نہیں سمجھتے تھے مگر پدو مارنے پر شرم کھاتے تھے۔

قرآن نے غلط چیزوں کو بدلا۔نبیۖنے غامدی،فراہی اور عثمانی کو دیکھا کہ نسل اور دین کو بدل دیا؟ اور نبیۖ نے ذوالخویصرہ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کی طرح خوارج مختلف ادوار میں پیدا ہوتے رہیںگے۔ قرآن آئینہ ہے جس میں بڑا کچھ ہے لیکن اس پر تدبر کرنے کی بجائے امت نے چھوڑ دیا۔

قرآن کا آئینہ :غامدی اور سومیا

اللہ نے فرمایا :فذرھم فی غمرتھم حتی حین …
ترجمہ :” اور انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وقت آئے۔ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ انہیں ہم نے مال اور بچوں کیساتھ کھینچا(امریکہ پہنچا دیا،75سالہ سالگرہ داماد اور بچوں کیساتھ منارہاہے)ہم لگے ہیں ان کو خیر پہنچانے میں؟ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے۔ بیشک جو لوگ اپنے رب کے خشوع سے شفقت کرتے ہیںاور جو اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور جو اپنے رب کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جو دیتے ہیں جو ان کودیا گیا۔ اور ان کے دل کانپتے ہیںکہ اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ لوگ اچھائی میں جلدی کرتے ہیں اور اس کیلئے سبقت لے چکے۔ ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے۔ اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کیساتھ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا بلکہ انکے دل اس (کتاب) سے غفلت میں ہیں اور ان کے اعمال ہیں اسکے علاوہ جس کیلئے (بیرونی آقا) یہ عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک جب ہم انکے خوشحال لوگوں کو پکڑیں گے تویہ حق کو جاری کرینگے۔ آج اجراء نہ کرو بیشک تم نے ہماری مدد نہ کی۔ جب تمہارے سامنے میری آیات پڑھی جاتیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاتے تھے۔ (المؤمنوں:آیت54تا66)

آیات کی بڑی زبردست تفسیر

قرآن میں ہر چیز کا ذکر ہے بلکہ اس کی وضاحت کردی ہے۔ سائنسی علوم کو سائنسدان قرآن کے آئینہ میں سمجھ سکتا ہے لیکن ابن تیمیہ سے متاثر ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں قرآن سے قرآن کی تفسیر کرنے کی جگہ اسرائیلیات کو درج کردیاہے۔

عبداللہ بن عباس نے فرمایا:” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا” تو سائنسی ترقی کا تعلق بھی زمانے کیساتھ ہی ہے۔ قرآن کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر درست کیسے ہوسکے گی؟۔اللہ نے فرمایا : وانزلنا الحدید ” اور ہم نے لوہے کو اتارا”۔ ترجمہ کیا جائے کہ” ہم نے لوہے کے کان بنائے” اور پھر سائنس بتائے کہ لوہا مختلف اوقات میں زمین کے اندر باہر سے آیا ہے تو غلط ترجمے کا قصوربھی غلط ترجمہ کرنے والے کے کھاتے میں ڈالیں گے۔

سورہ مؤمنون کی آیت

لانکلف اللہ نفسًا الا وسعھا

”ہم کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے”۔ کا ترجمہ جاویداحمد غامدی یہ کریگاکہ ” حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے”۔ تو نتیجہ کا نکلے گا؟۔

جاویداحمد غامد کہتا ہے کہ اسرائیل کو خدا نے موقع دیا ہے اور غزہ والوں پر مظالم کی انتہا ان کی طاقت سے زیادہ نہیں۔ شہداء کربلا کیساتھ ٹھیک ہوا ، حسین کو سبق سکھانے کیلئے اللہ نے یزید کو مسلط کردیا تھا۔اللہ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ طاقت سے زیادہ کسی پر بوجھ ڈالتا ہے۔ خدا نے ابھی فیصلہ کیا ہے کہ نوح کے بیٹے یافث کے پاس قیامت تک اقتدار رہے گا۔ مسلمان اپنی باری گزار چکے ہیں”۔ جاوید غامدی نے جیسے گیس ویلڈر کی طرح زبان میں کٹر اٹھایا ہو اور سب چیزوں کو کاٹتا ہے لیکن جب حقائق سمجھ میں آجائیں گے تو بات سمجھ میں آئے گی کہ غلط جگہ پنگا لیا ہے۔ پھر اس کو بدبودار پھوسی اور گیس سلنڈر کے کلر کی آگ اپنے نیچے کی طرح سے دماغ میں اٹھتی نظر آئے گی۔

جب قرآن کے الفاظ کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر کہاں سے پھر درست ہوسکتی ہے۔ جب ترجمہ درست ہوگا تو سومیا ہندو کے کردار کو جاویداحمد غامدی کے مقابلے میں ساری دنیا سراہے گی کہ اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے سے انسانیت پکڑسے بچے گی۔ ملا جیون اپنی بیوی سے لڑا تو اورنگزیب بادشاہ سے مدد کیلئے ایک پلاٹون فوج طلب کرلی۔ جب اپنے گھر، اپنی جان کی دسترس اور اپنے عہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ ہوگی۔ سومیا ہندو لڑکی نے قرآن کو نہیں پڑھا لیکن اس کی فطرت کو مذہبی طبقات نے مسخ نہیں کیا ہے جیسے رسول اللہ ۖ نے یہودونصاریٰ کے بارے میں فرمایا اور آج مسلمانوں کی اکثریت انکے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ ایمان کا تعلق کسی خاص مذہب سے نہیں ہے۔

فرعون کی قوم کے مؤمن نے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ غامدی قرآن کی معنوی تحریف اور اپنی فطرت مسخ کر چکاہے۔

ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و النصارٰی و الصابئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون

” بیشک جو لوگ مسلمان ہیں ، جو یہودی اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں۔ جو اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کرے تو اس کیلئے اجر ہے انکے رب کے پاس اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے”۔ البقرہ62

مسلمان، یہودی اور عیسائی میں ابراہم اکارڈ کے طبقات کو شامل کیا گیا ہے۔ صابئین میں ہندو اور تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ رسول اللہ ۖ پر مشرکین عرب نے صابی کا الزام لگایا اور وہ بد فطرت لوگ سلیم الفطرت ہندؤوں سے نفرت کے شکار تھے۔ غامدی عرب قبیلہ ہے اور جاوید غامدی جھوٹ سے غامدی ہے لیکن ہندو کو جزیرہ عرب سے نکال رہاہے۔ یہ یونہی نہیں ہے بلکہ ایک بڑے ایجنڈے میں ملوث لگ رہاہے۔ اور شیعہ وایران سے نفرت اور قادیانیوں سے محبت کرتا ہے۔ جس میں صرف مذہبی طبقات کے اندر اپنی کوئی جگہ بنانا ہے۔

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکلٍ جعلنا منکم شرعة و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً و لٰکن لیبلوکم فی مااٰتاکم فاستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفونO(المائدہ:48)

”اورہم تیری طرف کتاب اتاری حق کیساتھ تصدیق کرتی ہے جو اسکے ہاتھ میں ہے کتاب میں سے اور اس پر نگہبان۔ پس فیصلہ کرو جو آپکے پاس حق آیا ۔ ہر ایک کیلئے الگ الگ شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک امت بنادیتا۔لیکن اللہ تمہیں آزماتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے۔پس نیکیوںمیں ایکدوسرے سے سبقت لے جاؤ۔ تم سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہارے اختلاف تمہیں تنبیہ کرتا ہے” ۔

جب روس نے غریبوں کا خیال رکھا تو سپر طاقت بن گیا اور جب امریکہ نے غلامی پر پابندی لگائی تو امریکہ سپر طاقت بن گیا۔ قوم یا افراد کی حیثیت سے بلکہ تفریق مذاہب جو انسانیت کیلئے سبقت لے جائیگا تو امامت کے منصب پر فائز ہوگا۔

سبق پھر پڑھ شجاعت کا صداقت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

غامدی سمجھتا ہے کہ طاقتور کی گانڈ میں گھس جانا اللہ کا حکم ہے اور سومیا نے فطرت کی بہترین شاہکار کا کردار ادا کردیا ہے اور مسلمان ہر نیکی میں تعاون ، برائی میں عدم تعاون کریں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قاضی شریح کا بڑاکردار؟10مئی ماؤں کادن عورت مارچ شیما کرمانی

شیما کرمانی کو پولیس نے گرفتار چند گھنٹے بعد رہا کیا۔ کراچی پریس کلب میںسندھ حکومت کوذمہ دار قرار دیا جومائیں بچوں سے محروم کی گئیں اگر خواجہ سراؤں کی جگہ ان کو بلایا جاتا تو یہ نمائش نہیں تحریک کو سندھ اور پاکستان سے زبردست پذیرائی ملتی۔اصل ذمہ دار قاضی شریح تھا

قاضی شریح نبیۖ کی حیات میں مشہور تھا مگر آیا نہیں پھر حضرت عمر کے دور سے عبدالملک بن مروان تک عدالت میں اپنی موت80ھ سے ایک سال پہلے تک قاضی القضاة رہا۔

ساس اور بہو کے درمیان قاضی شریح کا ایک فیصلہ یہ ہے:
پہلے ساس اپنا مقدمہ اشعار میں پیش کرکے کہتی ہے کہ

أبا امیة أتیناک وانت المرء نأتیہ
أتاک ابنی واماہ و کلتانا نفدیہ
ثم تزوجت فھاتیہ و لایذہب بک التیہ
فلو کنت تأیمت لما نازعتکم فیہ
الا ایھا القاضی فھذہ قصتی فیہ
ابوامیہ! ہم تیرے پا س لائے ،آپ آدمی ہو ہم لاتے ہیں میرا لڑکا(پوتا) اور اسکی ماں تیرے پاس آئے ۔ ہم دونوں اس پر فداء ہیں۔ (بہوسے ) پھر جب تم نے دوسری شادی کرلی تو لڑکا مجھے دیدو۔ زبردستی مت کرو بیوہ ہوجانے کے بعد ،تم اس کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑا کرتی ہو۔(قاضی سے ) قاضی صاحب لڑکے کے بارے میں دونوں کا قصہ یہ ہے”۔

پھر بہو نے اپنا مقدمہ جواب میں یوں پیش کیا۔

یا ایھا القاضی قد قالت لک الجدہ
مقالًا فاستمع منی ولا تنظر فی ردہ
أعزی النفس عن ابنی وکبدی حملت کبدہ
فلما کان فی حجری یتیمًا ضائعًًا وحدہ
تزوجت رجاء الخیر من یکفینی فقدہ
ومن یکفل لی رفدہ ومن یظھر لی وحدہ
اے قاضی !دادی نے جو کہاوہ آپ نے سنا ،اب آپ مجھ سے سن لو،اسے ٹھکراؤ نہیں۔ میں تسلی دیتی ہوں دل کو اپنے بیٹے سے۔میں نے اسے ہمیشہ اپنے کلیجے سے لگائے رکھا پھر مجھے تنہائی کی وجہ سے یتیم کو ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔اسلئے میں نے اس کی بھلائی اور نگہداشت کی خاطر ایسے شخص سے شادی کی جو اس کو ضائع نہیں ہونے دے اور اس کی کفالت کرسکے”۔

قاضی شریح نے بھی نظم میں اس کا فیصلہ دیا۔

قد فھم القاضی ما قلتما وقضا ثم فصل
بقضاء بین بینکما وعلی القاضی جھدًا ان عقل
قال للجدہ بینی بالصبی وخذ ی ابنک من ذات العلل
انھا لو صبت کان لہاقبل دعواھا تبغیھا البدل
ترجمہ:” تم دونوں نے جو کہا ،قاضی نے وہ سمجھا اور دونوں میں ایک واضح فیصلہ کر دیا، اگر قاضی سمجھدار ہے تو اس پر کوشش کرنا فرض ہے پھر دادی سے کہا کہ لڑکے کو اس حیلہ ساز سے لیکر الگ ہوجا،اگروہ نکاح نہ کرتی تو پھربچہ اسکے پاس رہتا” ۔

پھول بچے چھن کر کلی کھلنے سے پہلے ماؤں کے گود اجڑ تے ہیں۔ ممتا اور بچے کے درمیان برزخ کا جہنم کھڑا کردیا جاتا ہے ان ساری معاشرتی محرومیوں کا گناہ قاضی شریح کے سر ہے۔ خطبۂ جمعہ: تم پر میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے۔ ابوبکر کی وفات پر علی نے بیوہ سے شادی کرلی اور چھوٹا بچہ محمد بن ابی بکر خاتون نے اپنے ساتھ رکھا اور علی نے پرورش کردی۔

قرآن نے غلام کا اسٹیٹس تبدیل کیا اور انسان کو اللہ کا عبد (غلام) قرار دیا، جانور کی سی ملکیت ختم کردی اور یہ واضح کیا:

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن ارادان یتم الرضاعة وعلی المولودلہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف لا تکلف نفس الا وسعھا لاتضار والدة بولدہا ولا مولود لہ بولدہ و علی الوارث مثل ذٰلک فان ارادافصالًا عن تراضٍ منھما و تشاورٍ فلا جناح علیھما و ان اردتم ان تسترضعوااولادکم فلا جناح علیکم اذا سلّمتم ما اتیتم بالمعروف واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیرO (سورہ البقرة:آیت:233)

ترجمہ:” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔یہ حکم اس کیلئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑے معروف طریقے سے بچے کے باپ پر فرض ہے۔ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔نہ ماں کو اسکے بچے کی بنیاد پر ضرر پہنچائی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب۔ اور ان کے وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوتا ہے۔ پھر اگر آپس کی مرضی سے دونوں اور مشاورت سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر اگر تم اپنی اولاد کو کسی رضائت کا دودھ پلانا چاہتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم معروف طریقے سے جو معاوضہ دینا چاہو وہ طے کرلو۔ اور اللہ سے ڈرو اور بیشک جان لو کہ جو تم کرتے ہو ،اللہ تمہیں دیکھتا ہے”۔

ابوامیہ قاضی شریح نے معاشرتی، عدالتی اوراخلاقیات کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ امت کو سامری کے سازو سوز کے پیچھے لگادیا۔

والمطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO(سورہ البقرہ:آیت:228)

” اورطلاق والی عورتیں تین ادوارتک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔ اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہیں۔اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں معروف طریقے سے جیسا کہ ان پر ان کے شوہروں کے ہیں۔ مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غلبے والا بہت حکمت والا ہے”۔

آج پاکستان ، امریکہ، روس، چین، بھارت اور دنیا بھر کی عدالتوں کا قانون ہے کہ میاں بیوی میں جدائی کیلئے ایک مدت تک صلح و صفائی کا موقع دینا ضروری ہے لیکن قاضی شریح نے یہودیت اور جاہلیت کی کوکھ سے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے مذہبی اصطلاحات نکال کر قرآن و سنت کے بالکل منافی صلح کی گنجائش ختم کردی اور آج تک یہودکی طرح ہمارا معاشرتی نظام تباہ اور عورتیں حلالہ کے نام پر چدھ رہی ہیں۔اللہ معذور بچہ اور ذہنی مریض نہیں کہ ایک آیت میں کچھ دوسری میں کچھ بکے!۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیمتوھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاو لٰئک ھم الظالمونO(سورہ البقرہ:آیت:229)

ترجمہ: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لوجو کچھ بھی ان کو دیا ہے مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی گناہ نہیںہے عورت کی طرف سے وہ چیز فدا کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

آیت228البقرہ عدت کے تین ادوار اور معروف کی شرط پر صلح واضح ہے۔ اس آیت میں دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری میں معروف کی شرط یعنی دونوں کی رضامندی سے صلح کا فیصلہ ہوگا تو بھی ٹھیک ہے اور اگر جدائی کا فیصلہ کیا تو اس کی پوری تفصیل ہے ۔ جس میں عورت کے مالی حقوق کا تحفظ ہے ۔اور شوہر کی طرف دی ہوئی چیز واپس کرنے کا جواز اس وقت ہے کہ جب وہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے سمجھیں کہ دونوں حدود کو توڑ سکتے ہیں تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں ان دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو آیت230کا حکم ہے جس کا اطلاق بہر صورت ہوتا ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو لیکن اگر عورت رجوع پر راضی ہو تو معروف رجوع کی اجازت تو آیت231اور232البقرہ اور سورہ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے۔

قاضح شریح نے عورت کے حقوق کابیڑہ غرق کیا۔ پاکستان میں عائلی عدالت ایکٹ1964ء نافذ ہے۔ مگر پہلی بار جسٹس عائشہ ملک نے تاریخ ساز فیصلہ دیااور حلالہ کی لعنت کو خلاف قانون و خلاف شریعت قرار دیا۔ ہندوستان احمد آباد میں مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی زیر صدارت1972ء میں آل انڈیامسلم مجلس مشاروت کے زیر اہتمام سیمنار میں دیوبندی ، جماعت اسلامی ، بریلوی اور اہل حدیث کے علماء نے حلالہ کی لعنت ختم کرنے کیلئے مقالے پیش کئے۔ جو لاہور سے کتابی صورت میں شائع بھی ہے اور اس میں پیر کرم شاہ الازہری کا رسالہ دعوت فکر بھی شامل کیا گیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے بندہ قتل کیا۔ شادی کی، وحی ، معجزہ، خضر اورفرعون کا معاملہ دیکھا اور اعتدال آیا۔ غزالی علم کے بعد صوفی بنا اوراعتدال کھوبیٹھا۔ ابن تیمیہ فاطر العقل تھا۔شیخ الہندگنگوہی سے علم اور ناناتوی سے تصوف میں بیعت ہوتا تو یہ احساس نہ ہوتا کہ فرقہ پرستی اور قرآن سے دوری ہے۔ میں نے جوانی صحیح کھپائی ہے قرآن ، حدیث، فقہ ، اصول فقہ ، تصوف ، عربی میں:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن وا حصوا العدة و اتقواللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشةٍ مبینةٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بعروفٍ واشھدوا ذوی عدلٍ منکم واقیموا الشہادة للہ ذٰلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًاO

ترجمہ ” اے نبی! جب تم لوگ عورت کو طلاق دو تو پھر ان کی عدت تک کیلئے طلاق دو۔ اور عدت کو شمار کرکے پورا کرو۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور ان سے تجاوز مت کرو اور جس نے اس کی حدود سے تجاوز کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ آپ کو خبر نہیں کہ اللہ ان میں کوئی نئی بات پیدا کردے۔ پس جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی بنادو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کرو۔یہ تمہیں اس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔اور جو اللہ سے ڈرا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ بنادے گا”۔ (سورہ الطلاق )

رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ عدت کے اختتام پر رجوع کے بجائے معروف کیساتھ الگ کردیا ۔ دو عادل گواہ بھی بنادئیے۔ پھر دوسری عورت سے شادی کرلی۔ دوسری نے کہا کہ نامرد ہے جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ اس کے بچے کس قدر اسکے مشابہ ہیں؟۔ اور اس عورت کیلئے طلاق کا فیصلہ کیا۔پھر فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرلیتا؟۔ انہوں نے کہاکہ وہ تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اورسورہ طلاق کی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)

ابوداؤد کی اس حدیث میں سورہ طلاق کی ان آیات کی بہت بہترین تفسیر ہے۔ ابوداؤد اور بخاری دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل کے مسلک کو بھی قبول کیا تھا اور امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والاحکمران معتزلی تھا۔ پھر اس کے بعد والا بنوعباس کا حکمران معتزلی کے خلاف ہوا اور امام شافعی کے مسلک کو سرکاری سطح پر نافذ کردیا۔

اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب میں باب من اجاز الطلاق الثلاث میں اکٹھی تین طلاق کے مسئلے میں نہ صرف یہ کہ امام شافعی کے مسلک کو سپورٹ کیا ہے بلکہ مدعی سست گواہ چست اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے اور قرآن کی آیت بھی ایک معذور بچے اور عقل سے پیدل شخص کی طرح سیاق وسباق کے بالکل منافی نقل کردیا ہے۔

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے ایک ہی حدیث ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی اور اس کے علاوہ نہ کوئی آیت ہے اور نہ ہی کوئی حدیث ہے۔ محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری اور مفسر العصر علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری میں بالکل واضح ہے۔

سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں لعان کے بعد عویمر عجلانی کا تین طلاق دینا متوقع تھا اور اس کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق کو مباح، جائز اور سنت قرار دینا حنفی اور شافعی مسلک میں بنتا نہیں لیکن رافضیت کے فتویٰ سے بچنے کیلئے شاید امام شافعی نے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ کشمیری نے فیض الباری میں لکھا کہ شاید یہ طلاق بھی الگ الگ مرتبہ میں دی ہو ۔

جبکہ بخاری میں اکٹھی تین طلاق کے ضمن میں رفاعة القرظی کی بیوی والی روایت بخاری کی اپنی روایات کے خلاف ہے۔ اور اس میں اتنی جان نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فتویٰ دیا جائے کہ قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر جو گنجائش ہے وہ سب ختم ہوجاتی ہیں۔ بلکہ یہ شافعی مسلک کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی ہے اور جو عویمر عجلانی کے لعان والی روایت پوری اترتی ہے تو اس سے قرآن کی آیات پر بلڈوزر پھیرنا بہت بڑی حماقت ہے۔

جہاں تک حضرت عمر کی طرف تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے یا پھر حضرت علی کی طرف سے لفظ حرام پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے تو وہ قرآن کے عین مطابق ہے اسلئے کہ عورت طلاق یا طلاق کے کسی لفظ کے بعد رجوع پر راضی نہ ہو تو قرآن نے معروف کی شرط پر ہی شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو رجوع کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔ حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظ قرار دینا اور حضرت علی کے فیصلے کو طلاق بائن قرار دینا یہودیت کے نقش قدم پر چلنا ہے جو قاضی شریح جیسے لوگوں نے کردار ادا کیا اور آج تک امت مسلمہ اس کی سخت ترین سزا بھگت رہی ہے۔

جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر ایلاء سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمام ازواج مطہرات پر واضح کردو کہ اگر وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں تو ان کی مرضی ہے۔ یہ سارا واقعہ صحیح بخاری اور قرآن کی آیت میں موجود ہے تاکہ عورت کا ناراضگی کے بعد اختیار واضح ہوجائے۔ افسوس یہ ہے کہ طلاق کی آیات میں معروف اور اصلاح کی شرط کے باوجود بھی مذہبی طبقات نے قاضی شریح جیسے یہودیت کے پروردہ لوگوں کے بہکاوے میں عورت کا اختیار چھین لیا ہے جس سے قرآن کی ساری آیات کی بوٹیاں بن جاتی ہیں اور تضادات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حضرت عمر اور حضرت علی میں طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی تفریق ڈال کر بڑی باریک واردات کی ہے۔

قاضی شریح جیسے لوگوں نے اپنی شیطانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرکے حضرت عمر کے نام پر حضرت علی کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا کہ حضرت عمر کے موقف کو نہیں مانتا۔ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے۔ حالانکہ حضر ت عمر اور حضرت علی کے موقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔ شیعہ اس بنیاد پر قرآن سے ہٹ گئے کہ عورت کا اختیار بہت وضاحتوں پر بھی قبول نہیں کیا کہ یہ حضرت عمر کا مؤقف ہے اور سنی اسلئے قرآن سے دور ہوگئے کہ صلح کے باوجود بھی صلح کے منکر بن گئے ہیں۔

حجاج بن یوسف دجال نے سعید بن جبیر کی شہادت سے پہلے جو مکالمہ کیا ہے وہ دیکھ لیں۔95ھ میں شہید کردیا۔ جب99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹادی تو حضرت علی کے شاگرد حسن بصری نے سچ بول دیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی ، جو مسائل کا حل تھا۔ لیکن پھر یزید اور ہشام اقتدار میں آگئے تو معاملہ بگڑ گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ولی رحمانی انسانیت کا ہیرو

ولی رحمانی عمر27سال ہے۔ اسٹینڈر کا سکول ہندوستان کے بنگالی مسلمان غریب بچوں کیلئے بنایا ہے۔جس میں700طلبہ وطالبات ہیں۔ ولی کامل کا سنا ہوگا تو مسلمان کامل کو اگر سننا ہے تو ارفع خانم خاکوانی کے چینل پر ولی رحمانی کو سن لیں۔ اقلیتی برادری مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیساتھ ہندو کیلئے بھی مثبت انسانی سوچ بہت ہی اعلیٰ درجے کمال کی بات ہے۔ ان کی باتیں پیرکامل کی طرح سن لیں ۔پھریہ سوچ ہندوستان ، پاکستان، افغانستان ، ایران، عرب، عالم اسلام ،عالم انسانیت میں پھیلائیں۔ ولی بھائی نے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ دنیا میں انسانوں کی شکل میں جانور ہیں ۔ مسلمانوں کو قرآن وسنت اور غیر مسلموں کو قرآن کے بغیر اچھا انسان بنانا ضرورت ہے۔ غریبوں سے غریبوں کیلئے10دن میں10کروڑکا چندہ کیا۔ ٹرمپ، مودی اور غامدی میں جانور وںکی جھلکیاں نظرآتی ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv