پوسٹ تلاش کریں

مولانا فضل الرحمن کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قرآن کے خلاف سازش کرنے پرچیلنج

مولانا فضل الرحمن کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قرآن کے خلاف سازش کرنے پرچیلنج اورچندچشم کشا حقائق جن سے یہ پتہ چل رہاہے کہ چور اُلٹا کوتوال کو ڈانٹ رہاہے،قرآن کیخلاف حقیقی سازش مذہبی طبقات کررہے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہماری ریاست ، حکومت اور صحافت اپنے منافقانہ روئیے کی وجہ سے ہی اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔ مریم نواز کیخلاف نیب کی بدترین پسپائی سے آغاز ہے خدا جانے اب انجام کیاہوگا؟

جنرل قمر جاوید باجوہ کا اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی خواہش کا اظہار بہت خوش آئند ہے لیکن اس کیلئے انتہائی ایمانداری اور دیانتداری سے اقدامات اُٹھانے کی بروقت سخت ضرورت ہے

مولانا فضل الرحمن کی آڈیو تقریر یوٹیوب پر ہے جس میں قرآن کے خلاف سازش کرنے پر جنرل قمر باجوہ کو سخت تنبیہ ہے کہ 65ء میں قوم فوج کیساتھ تھی تو جنگ جیت لی اور (1971) میں فوج اپنی قوم سے لڑرہی تھی تو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ فوج اسلئے نہیں رکھی جاتی ہے کہ وہ اغیار کے ایجنڈے پر عمل کرے ۔مذہبی طبقات کیخلاف اغیار کے ایجنڈے کے تحت اقدامات سے باز نہیں آئے اور قرآن کیخلاف سازش کی گئی تو پھر مذہبی طبقہ میدان میں اُتریگا۔

مولانا فضل الرحمن نے نیب کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا، ہم بھی نیب کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری سے پی ڈی ایم (PDM)کی تمام جماعتوں کے سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا والیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے ہوئے صحافیوں کا جم غفیر وہی انداز اختیار کرتا جوپی ٹی ایم (PTM)نے کیا تھا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی قوم کیساتھ جو کچھ ہوا تھا وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی آخری حد سے گزر چکے اسلئے رعایت کے مستحق تھے اور ان کیساتھ بہت رعایت والا معاملہ ہوا بھی اور پھر حد سے تجاوز کرنے پر روکنے اور کچلنے کی کامیاب کوشش بھی ہوئی۔ پیپلزپارٹی ، محمود اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی، اختر مینگل ، آفتاب شیرپاؤ اوردیگر پی ڈی ایم (PDM) میں شامل جماعتوں اور شخصیات کی خواہش کے برعکس ن لیگ اورمولانا فضل الرحمن نے پی ٹی ایم (PTM) کو آٹے سے بال کی طرح الگ کردیا۔ اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف پی ٹی ایم (PTM) نے جو طوفان کھڑا کیا تھا تو زرداری نے پی ڈی ایم (PDM) کی تشکیل میں ان کو بھی ساتھ ملایا تھا۔ لیکن جب ن لیگ نے گجرانوالہ میں پی ڈی ایم (PDM) کا پہلا جلسہ کیا تھا تو پی ٹی ایم (PTM)کو دعوت نہیں دی تھی۔ گویا وہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف برپا ہونے والے طوفان سے اپنی بہت بڑی اونچی چھت یا منیار پر چڑھ گئی تھی۔

جس طرح کی زبان پی ٹی ایم (PTM) فوج اور لسانی تعصبات کی بنیاد پر پنجاب کے خلاف استعمال کرتی تھی تو اس کی متحمل ن لیگ جیسی اسٹیبلیشمنٹ کی پروردہ اور پنجاب کی نمائندگی کرنے والی جماعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ جب ن لیگ نے پی ٹی ایم (PTM)کو نہیں بلایا تھا تو پی ٹی ایم (PTM) میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی کہ پنجاب نے پختونوں کیساتھ تعصبات کی انتہاء دکھا دی کہ ہمیں پی ڈی ایم (PDM) میں شمولیت کے باجود بھی جلسے میں نہیں بلایا ۔ یہ ن لیگ کی طرف سے اسٹیبلیشمنٹ اورپارٹی ورکروں کیلئے اطمینان کا باعث تھا۔ اگر پی ٹی ایم (PTM) اپنے ایک بیانیہ اسٹیبلیشمنٹ کی مخالفت پر کھڑی رہتی اور پنجاب کی مخالفت چھوڑدیتی تو یہ بڑا بریک تھرو ہوتا۔ اسلئے کہ پی ٹی ایم (PTM)کی بنیاد پشتون قومیت ہے تو یہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف صرف اسلئے ہوسکتی ہے کہ جب پاک فوج سے پشتون قوم کو نقصان پہنچ رہا ہو لیکن اگر پاک فوج سے پشتون قوم کو فائدہ پہنچ رہا ہو تو پھر پی ٹی ایم (PTM)نے پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانا ہے لیکن پنجاب سے دشمنی بین الاقوامی بھی ہوسکتی ہے۔

پنجاب کیخلاف سندھ ، بلوچستان، پختونخواہ اور سرائیکی تک میں بہت بڑی فضاء موجود ہے۔ جمہوریت اور اسٹیبلیشمنٹ دونوں میں پنجاب کی اکثریت ہے اسلئے مقتدر طبقے سے رعایا کے سارے گلے شکوے کامرکز تختِ لاہور بنتاہے۔ ہرقوم میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں، پاک ذات صرف رب کی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں اور اس کے ناپاک بدبودار پیشاب کو بھی پاک سمجھتے ہیں۔ جب کوئی قوم کسی مخلوق کو معبود کا درجہ دیتی ہے تو وہ اس کے پیشاب کو بھی پاک سمجھنا شروع کردیتی ہے اور اس کے گند کو بھی بہت مقدس ماننا شروع ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ شاید مولانا فضل الرحمن، نوازشریف، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری ، آصف زرداری ، ذوالفقار علی بھٹو، عمران خان اور دیگر سیاستدانوں اور پاک فوج کو معبود کی حد تک پاک مانتے ہوں اور انکے گند کو بھی تقدس کا درجہ دیکر پوجاپاٹ کرتے ہوں اسلئے کہ ہماری قوم بھی اپنے اصل کے اعتبار سے گاؤ ماتا کی پجاری تھی اور دیوتا اور دیوی کی تصاویر سے اپنی بے انتہاء عقیدت رکھتے ہوئے تصاویر اور مورتیوںکی پوجاپاٹ کرتی تھی اور یہ نہیں دیکھتی تھی کہ جس کو ہم نے بنایا ہے وہ پوجا پاٹ کے لائق کیسے ہوسکتے ہیں؟ جس کا اظہار علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں کیا کہ اپنے اصل کے اعتبار سے میں سومناتی ہوں۔ اس پوجا پاٹ کی جھلکیاں آج موجود ہیں۔سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر کوئی احتجاج نہیں ،یہ مذہبی طبقات میں منافقت کی آخری انتہاء ہے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا تو لوگوں نے اس کی خاطر اپنے آپ کو جلانا شروع کردیا تھا۔ طالبان کے دہشت گرد اپنے امیر کے حکم پر خود کش کرتے تھے۔ جب جنون کی حد تک کسی سے عقیدت ہوجائے تو پھر بندے کی پوجا پاٹ شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارے مرشد حضرت حاجی عثمان سے جب مریدوں کا تعلق عقیدت والا تھا تو وہ ان کی خاطر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے تھے لیکن جب فتوؤں اور اپنوں کی بغاوت سے عقیدت کا رشتہ ٹوٹ گیا تو پھر حاجی عثمان کو گمراہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ انسان کیلئے دونوں جانب کی شدت مفید نہیں ہوتی ہے۔ کبھی تو ایسی عقیدت کہ اپنے بیوی بچوں اور والدین ،اپنی جان تک اسلئے قربان کرنے کو تیار ہوں کہ حاجی عثمان اس وقت بھی ہمارے حالات سے واقف ہوتے ہیں کہ جب ہم بیوی کیساتھ ہمبستری کرتے ہوں اور پھر جب عقیدت کا غبارہ پھٹ جاتا ہے تو مریدی ہی نہیں شریعت کے دامن سے بھی بھاگ کر جان چھڑا رہے تھے۔ جب مجھے حاجی عثمان کے مریدوں سے پہلی مرتبہ ایک خطاب کا موقع مل گیا تو میں نے کہا تھا کہ ”جو کچھ ہوا ہے بہت اچھا ہواہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا عقیدہ خراب ہوگیا تھا،جو لوگ بھاگ گئے ہیں اب ان کا عقیدہ درست ہوگیا ہے اسلئے کہ انکو پتہ چل گیا ہے کہ حاجی عثمان کے خلاف جن لوگوں نے اتنی بڑی سازش تیار کرلی تو ان کو اس کا بھی پتہ نہیں چلا ہے ۔ اور جہاں تک فتوے کا تعلق ہے تو اس میں ایک خلیفہ اول کے مشاہدے سے انکار کی بنیاد پر فتویٰ ہے۔ جب انکے علاوہ ہزاروں نے مشاہدات دیکھے تو اس شخص پر زبردستی کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اور وہ بھی اتنے مضحکہ خیز طریقے سے”۔

آج ان لوگوں کی عقیدت بھی تہس نہس ہوگئی ہے کہ جن کا پاک فوج پر بڑا نیک گمان تھا۔ براڈ شیٹ میں نااہل جنرلوں کی نااہلی سامنے آگئی ہے اور پرویز مشرف نے جس طرح آفتاب شیرپاؤ کو پکڑنے کے باوجود نہ صرف چھوڑ دیا تھا بلکہ وزیرداخلہ بھی لگادیا تھا۔ آصف زرداری و نوازشریف کی کرپشن کے سامنے آفتاب شیرپاؤ کی کرپشن کیا ہوگی؟ مگر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر؟۔ پی ٹی ایم (PTM) والوں سے کہا جائے کہ بیچارے پٹھانوں پر توبعض پٹھان خوش ہونگے کہ واقعی میڈیا صرف آفتاب شیرپاؤ کا نام کیوں لیتا ہے؟ بڑے بڑے مگر مچھ تو نوازشریف، زرداری اور جنرل کیانی ہیں؟۔ پھر جب ان سے کہا جائے کہ آفتاب شیرپاؤ کو نہ صرف چھوڑ دیا گیا بلکہ وزیرداخلہ بھی بنادیا گیا تو یہ برق تو نہیں گری بلکہ دوسروں کے نصیب کی بارش انکی چھت پر برس گئی توبہت ڈھیلے پڑجائیںگے البتہ ڈھیٹ بن کر کہیں گے کہ دوسرے کرپٹ لوگ ہمیشہ حکومت کرتے رہے ہیں تو آفتاب شیر پاؤ کا تو بھائی حیات شیر پاؤبھی شہید ہوا تھا۔

یہ ابھی بہت اچھی فضاء ہے کہ عوام الناس اور سیاسی کارکنوں میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ سیاسی کارکن اور کرائے کے گلوبٹوں میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اپنے اثاثوں سے متعلق تحریرپڑھ کر تقریر کرتے ہوئے جھوٹ کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ پھر قطری خط لکھ کر اور اس سے انکار کرکے اپنے تابوت میں بھی آخری کیل ٹھونک دی۔ جب پی ٹی ایم (PTM) کو چھوڑ کر گجرانوالہ میںپی ڈی ایم (PDM)کی بہت بڑی اور اُونچی چھت پر چڑھ گئے تو آرمی چیف اورISI چیف کے خلاف تقریر کرکے بہت بڑی چھلانگ بھی لگادی۔ اگر کچھ عرصہ پہلے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع میں نوازشریف نے مکمل حمایت نہ کی ہوتی تو وہ بہت بڑے تیراک لگتے کہ کسی طوفان سے بچنے کیلئے چھت پر نہیں چڑھے بلکہ بہت بڑے مینار سے چھلانگ لگاکر بہت اچھے سیاسی کرتب دکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

جب لاہور میں ن لیگ نے جلسے کی میزبانی کی تو محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل نے پی ٹی ایم (PTM)کی کمی پوری کردی۔ انگریزوں سے پاک فوج تک کے سفر کو عوام کے سامنے رکھا لیکن اس جلسے کو باہر سے آئی ہوئی عوام نے رونق بخشی لیکن لاہوریوں نے گریز کیا۔ جب مریم نواز نے مہنگااور گرم کوٹ پہن کر بھی کہا تھا کہ میری قلفی جم گئی ہے تو پھٹے پرانے کپڑے والے پنجابی اس سرکس کے دیکھنے کو کیوں نکلتے جن کیلئے مریم نواز کے علاوہ کوئی پرکشش شخصیت نہیں تھی اور وہ اس کو پہلے ہی گلی گلی کوچہ کوچہ دیکھ چکے تھے۔ عوام اسلئے نہیں نکلی تھی کہ انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ کل شہبازشریف جس زرداری کاپیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے کے بعد چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا تھا اور ان طالبان کا حامی تھا جو چوکوں پر ہی لوگوں کو لٹکاتے تھے تو پھر وہ منظر پنجاب میں بھی دیکھنے کو مل سکتا تھا۔ جب اس کے برعکس مریم اور بلاول بہن بھائی بن کر مخاطب کررہے تھے تو شہباشریف اور حمزہ شہباز نے اپنے کان اور چوتڑ کھجانا شروع کردئیے تھے کہ لاہوریوں کو ہم کیا منہ دکھائیںگے؟۔ نوازشریف اور مریم نواز تو سیاست نہیں عقل سے بھی پیدل ہیں۔ ایک دن مینار پر چڑھتے ہیں اور دوسرے دن مینار سے زیادہ گہری کھائی میں چھپ رہے ہوتے ہیں۔ ایک بیانیہ یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان چھوٹا آدمی ہے ، ہماری بڑوں سے بات ہوگی اور اب بیانیہ میں اسٹیبلشمنٹ کو چھوڑ کر صرف عمران خان کو بڑابنایا ہوا ہے۔ عوام اس جھوٹ لوٹ کھسوٹ سے تنگ ہے۔ یہ تضادات کی انتہاؤں میں اپنی ٹانگیں کھول کر جمناسٹک کی کونسی حد تک اپنے کرتب دکھا پائیں گے؟ پھٹنا نہیں تو کوئی شرم حیاء وغیرت بھی ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن قادیانی ڈاکٹر مبشر سے دل کا آپریشن کروائیں اور مولانا عبدالغفور حیدری کہے کہ جب ن لیگ کیساتھ اقتدار میں شامل تھے تو قادیانیوں کے حق میں قومی اسمبلی سے بل پاس ہوچکا تھا۔ سینیٹ سے پاس ہوتا تو مجھے چیئرمین کی جگہ اس پر دستخط کرنے پڑتے۔ شیخ رشید اپوزیشن میں تھا بلکہ جب اقتدار میں آیا تب بھی کہتا تھا کہ مولویوں نے قادیانیوں کی حمایت میں سازش میں حصہ لیا تھا اور دو مرتبہ مجھے مار نے کو دوڑے تھے۔ اب وزیرداخلہ کی پوزیشن پر آگئے تو سیاسی مفاہمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مولوی اتنے سادہ اور پاگل نہیں ہیں جتنے دِکھتے ہیں۔ جب مولاناغفورحیدری نے کہا کہ ہم اسمبلیوں میں اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں اور پھر اپنا ماجراء سنایا کہ وہ بال بال بچ گئے ورنہ تو ختم نبوت کیخلاف سازش میں نمایاں دستخط کرنے پر مجبور ہوجاتے تو اپنی نمایاں کارکردگی بھی دکھادی۔ مولانا فضل الرحمن کو ایسا کم عقل اور فرمانبردار آدمی چاہیے تھا جس طرح مولانا غفور حیدری ہیں لیکن وہی اس کی کشتی میں سوراخ بھی کرچکے ہیں۔ جب لوگ اٹھیںگے تو جمعیت علماء اسلام منہ چھپاتی پھرے گی۔

آرمی چیف جنرل باجوہ کو ایک خوف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر جنرل ضیاء الحق کی طرح ان پر قادیانی کے فتوے لگادئیے گئے تو مشکل میں پڑجائیںگے۔ اس وجہ سے نوازشریف نے ان کو ترجیح دی تھی کہ کسی وقت میں جنرل باجوہ پر الزام لگاکر کنارے لگانے میں بھی آسانی ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی حیثیت تو پی ڈی ایم (PDM)میں ڈھول بجانے والے ہمارے کانیگرم شہر جنوبی وزیرستان کے اس میراثی کی طرح ہے جس کی آواز پر قوم نکلتی ہے اور قوم نے اس کو جرنیل کا نام دیا ہے لیکن اپنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر میلے کا سماں ختم ہوجائے تو مولانا فضل الرحمن کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی لیکن ن لیگ نے ان کو ساتھ رکھ لیا تو یہ بھی اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔ لاہور میں بھی ن لیگ کا رویہ دیکھ لیا تھا اور جب پیپلزپارٹی نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو ن لیگ نے بھی کیا اور جب پیپلزپارٹی نے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا تو ن لیگ نے بھی کہا کہ اگر پیپلزپارٹی نے استعفیٰ نہیں دیا تو ہم بھی نہیں دینگے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں۔ سب جماعتوں کا گراف بہت گرچکا ہے۔ عمران خان نے نوازشریف و مریم نواز کو جیل سے آزاد کردیا تو اب سرکس کے بندر پرکیا ڈگڈگی بجاتے رہیںگے؟۔ انقلاب آیا چاہتا ہے۔ ن لیگ نے پی ڈی ایم (PDM)کی مشاورت کے بغیر رمضان کے بعد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور استعفے بھی نہیں دینے ہیں لیکن یہ سب سیاسی ڈرامے بازیاں ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

مولانا فضل الرحمن نے پتہ نہیں ن لیگ میں کونسی لیلیٰ دیکھی ہے جس نے دل مجنون بنادیا ہے

سیاست کا رہنمادماغ اور عشق کا بادشاہ دل ہوتا ہے، مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ دماغ سے سیاست کی ہے لیکن اب پتہ نہیں ن لیگ میں کونسی لیلیٰ دیکھی ہے جس نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو دماغ سے نکال کر دل کا مجنون بنایا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلان

جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے بعد نوازشریف کے دل ودماغ پر کونسا جادو چڑھا کہ اچانک پی ڈی ایم (PDM) گوجرانوالہ کے جلسے میں بھونکنا شروع کیا، یہ آدمی ہے یا پاجا مہ؟ اب رُخ مڑ گیا!

صحافیوں کا مضبوط ٹولہ ن لیگ اور ش لیگ کی کمزوریوں پر مسلسل پردہ ڈال کر مجرمامہ کردار ادا کررہا ہے،شہباز شریف نے تازہ بیان میں نوازشریف اور مریم نوازکے منہ پر زوردارطمانچہ مارا

درست ہے کہ ” بہترین ڈکٹیٹر شپ سے بدترین جمہوریت بہتر ہے”۔ قبائلی علاقہ میںفوجی ڈکٹیٹر شپ کے مقابلے میں سیٹل علاقہ میں جمہوریت بہت بڑی غنیمت ہے۔سیاستدان کے بچوں کو بھی فوج میں بھرتی کرنا ہوگا،تاکہ وہ بھی دہشتگردی کے مقابلے میں پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کوئی قربانی دے سکیں۔ بیوروکریٹ اور صحافی کے بچوں کو بھی میدان میں لانا ہوگا تاکہ ڈنگ اورڈینگ مارنے والے منافقوں کے چہروں سے بالکل اچھی طرح نقاب اُترجائے۔
آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف کو وطن آکرپی ڈی ایم (PDM) کی تحریک میں عملی طور پر شریک ہونا چاہیے تو مریم نواز باجی نے کہا کہ میرے ابا نوازشریف نے سب سے زیادہ جیل کاٹی ہے، جس نے بات کرنی ہے مجھ سے کرے۔ حالانکہ آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمن وغیرہ نے نوازشریف سے زیادہ جیل کاٹی ہے۔مریم باجی نے نانی بننے کے بعد سیاست میں قدم رکھا جبکہ نوازشریف نے ساری زندگی ڈکٹیٹر شپ کی خدمت میں گزاردی۔ اب تو اس کا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ (90)کی دہائی کی سیاست ختم ہونے کی بات کرنے والے نواز شریف کو (2010) کی دہائی والی سیاست بھی یاد نہ رہی ، جب سعودیہ سے جلاوطنی کے بعد سید یوسف رضاگیلانی کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے میں کردار ادا کیا اور زرداری کی لاش کو بازار میں گھسیٹنے اور چوک پر لٹکانے کی بات ہوتی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن اور مولانا غفور حیدری ن لیگ کے دودھ پیتے بچے بننے کے بجائے بالغ حق رائے دہی کا استعمال کرتے کہ زرداری نے درست کہا ہے کہ نوازشریف، اسکے بیٹوں اور اسحاق ڈار کو وطن واپس آکر حکومت کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور لگانا چاہیے ، استعفوں سے زیادہ موثر جھٹکا یہ ثابت ہوگا تو اس سے پی ڈی ایم (PDM)کی قیادت میں مولانا کا پلہ بھاری ہوجانا تھا۔
مولانا فضل الرحمن جب تنِ تنہاء وزیراعظم عمران سے استعفیٰ لینے گیا تھا تو بھی ساری ڈیڈ لائن عبور کرکے واپس آگیا تھا اور اس وقت محمود خان اچکزئی نے بہت کہا کہ فیصل مسجد تک چلو ،مگر مولانا نے اپنے کارکنوں کو قمیض کی پچھاڑی جھاڑ کر واپس ہونے کا حکم دیا تھا، پیپلزپارٹی نے اس وقت بھی کہا تھا کہ لانگ مارچ کی ہم حمایت کرتے ہیں لیکن دھرنے میں ساتھ نہیں۔ مریم باجی کیلئے ایک کنٹینر کا اسٹیج تیار تھا مگر وہاں نہیں پہنچی تھی۔ اس وقت پیپلزپارٹی کا کردار ن لیگ سے بہتر تھا ،اسلئے کہ نوازشریف ، مریم باجی اور شہباز شریف نے لاہور میں مولانا کو ملاقات کا وقت تک بھی نہ دیا اور جب شہباز شریف بڑی مشکلوں سے اسٹیج پر خطاب کرنے آگیا تو مولانا ہٹ گئے تھے اور شہبازشریف نے اسی اسٹیج سے پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جتنی سپورٹ عمران خان کو ہے اس کی دس فیصد بھی ہمیں مل جائے تو بہتر نتائج دکھاؤں گا۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن پہلے نواز و شہباز کوایک کشتی کا سوار بنائیں۔ اگر نوازشریف نے انقلابی ناؤ میں قدم رکھا ہے اور شہباز شریف نے اپنا قدم انقلابی کشتی سے باہر رکھا ہے تو عوام اور کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے کہ ن لیگ کا ایک چوتڑ ننگا اور دوسرا ڈھکا ہوا ہے۔ زر خریدمیڈیا کے صحافی سمندر کی طرف سے کیمرہ لگاکر دکھا رہے ہیں کہ نوازشریف نے انقلاب کیلئے ازار بند سے پانچے تک ایک سائڈ کی شلوار اتار دی ہے لیکن عوام کو شہبازشریف کا سائڈ نظر آرہاہے جس نے پوری ٹانگ اوپر سے نیچے تک چوتڑ سمیت ابھی تک ڈھک کے رکھی ہے۔
شہباز شریف نے حال میں بیان دیا کہ میں (70) سال کا بوڑھا ہوں،پہلے بھی علاج کیلئے بیرون ملک گیا اور واپس آگیا، حمزہ شہباز کی طرح مجھے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ شہباز شریف نے نوازشریف کے منہ پر طمانچہ مارا ہے کہ بیماری کا جھوٹا بہانہ کرکے واپسی سے مکر جانے والا بڈھا دغا باز نہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم (PDM)کی تمام جماعتیں ن لیگ کی دورنگی ختم کرکے یا تو پوری طرح ننگا کریں یا پھر پوری طرح سے ڈھک دیں۔ ن لیگپی ڈی ایم (PDM)کا دھڑ اوردل ہے اور مولانا اس کا سراور دماغ ہے۔ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتیں اس کے دو پر ہیں اور مولانا اویس نورانی اس کی دم ہے ۔ جب دماغ دل کے تابع ہوجائے تو عاشقی ہوسکتی ہے سیاست نہیں۔ سیاست میں دل کو دماغ کے تابع کرنا پڑتا ہے جس کا پی ڈی ایم (PDM)کی سیاست میں فقدان ہے۔مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اپنے دماغ سے بہترین سیاست کھیلی ہے لیکن اب ن لیگ میں پتہ نہیں کہ کس لیلیٰ کی چمک دیکھی ہے جس نے جمعیت کو مجنوں بناکر رکھ دیا ہے؟۔ اس کو ولایتی بلی کے خوبصورت ملائم جسم میں مختلف رنگوں کا بدنما آئینہ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ن لیگ اور ش لیگ ایک ہیں جس کی واضح تصویر حمزہ شہباز و مریم باجی کا آپس میں بغل گیر ہونا تھا جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ عاشق نامراد ہمیشہ اندھا اور عقل سے پیدل ہوتا ہے۔ شعراء کی طرح سیاسی کارکن بھی ہر وادی میں مارے مارے پھرتے ہوں تو سیاست پر اس سے زیادہ زوال نہیں آسکتا ۔
صحافیوں کا بہت بڑا اور مؤثر ٹولہ ن لیگ کو بالکل ناجائز سپورٹ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا میں ن لیگ کے صحافی سید عمران شفقت نے یہ انکشاف کیاتھا کہ ”نوازشریف نے عمران خان کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا خفیہ معاہدہ کرلیا ہے، اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کیخلاف سیاست کی حد تک تھوڑی بہت ڈرامہ بازی چلتی رہے گی۔ پنجاب میں پرویز الٰہی کیساتھ مل کر عثمان بزدار کی حکومت گرانا ن لیگ کے مفاد میں نہیں ہے”۔صحافی شاکر سولنگی نے بھی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ”آئندہ نوازشریف نے جنرل باجوہ اورآئی ایس آئی کا نام نہیں لیناہے”۔ مریم نواز نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی توپوں کا رُخ پاک فوج سے پیپلزپارٹی کی طرف موڑ دیا ۔ یوسف گیلانی اور حفیظ شیخ میں نمبروں کا واضح فرق تھا۔اگر ن لیگ کو یقین ہوتا کہ حفیظ شیخ ہا رجائیگا تو پھر اسی کا ساتھ دینا تھا۔ استعفیٰ دینے کا فیصلہ سینیٹ الیکشن روکنے کیلئے ہوا تھا اور اس کیلئے پیپلزپارٹی نے سندھ حکومت کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا مگرجب پتہ چلا کہ سینیٹ الیکشن نہیں رُک سکتا تو استعفیٰ کا آپشن متفقہ طور پر چھوڑ دیا۔ یہ کریڈٹ پیپلزپارٹی کے جمہوری دماغ کو جاتا ہے۔ آرمی چیف کیلئے قانون سازی کی بات آئی تو بھی پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے آرمی چیف کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ۔جب پی ڈی ایم (PDM) کے پلیٹ فارم سے ن لیگ نے گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ کیا تو ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کیلئے پی ٹی ایم (PTM) کو نہیں بلایا جو پی ڈی ایم (PDM) کا حصہ تھی اور دوسری طرف جنرل باجوہ کے خلاف بھونکنا شروع کردیاجس کو توسیع دئیے ہوئے کچھ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا۔ جیو ٹی وی اور ن لیگی صحافیوں میں ہمت ہوتی تو نوازشریف کاکہتے کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ کو خوش کرنے کیلئے پی ٹی ایم (PTM) کو پی ڈی ایم (PDM) سے فارغ کیا اگر پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنادیا جاتا تو مرکز میں بھی عمران خان کی حکومت فارغ ہوجاتی لیکن مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ کی وجہ سے پرویزالٰہی اور پیپلزپارٹی دونوں سے پھڈہ کیا۔ اگر دھرنے سے حکومت ختم ہوگئی تو پھر آئندہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکے گا۔ پیپلزپارٹی نے آپشن کی حد تک استعفوں کا درست معاملہ رکھا ہے اور کوئی صورتحال ایسی ہوبھی جائے کہ حکومت کمزور ہو اور استعفیٰ سے حکومت چلی جائے تو یہ غیر قانونی اقدام نہ ہوگا۔ پی ڈی ایم (PDM) نے سیاسی انتخاب کیا ہوتاتو اے این پی (ANP) بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہ ہوتی اور مولانا عطاء الرحمن بھی اے این پی (ANP) کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نوشہرہ میں حمایت نہ کرتے۔ پی ڈی ایم (PDM) نے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑنے کیلئے نامزد کردیا تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا غفور حیدری کو تحریک انصاف نے ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش کردی اور پھرجمعیت نے از خود اپوزیشن کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا جس کی بعد میں پی ڈی ایم (PDM) نے حمایت کردی لیکن لگتا ہے کہ ن لیگ نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں کچھ نہ کچھ ووٹ دئیے اور کچھ نہ کچھ ضائع کئے مگر مولانا عبدالغفور حیدری کو کچھ نہ کچھ ووٹ بھی نہیں دئیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اپنے زخم چاٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو پی ڈی ایم (PDM) میں مریم نواز کی طرف جھکاؤ اورجانبداری بھی غلط ہے۔
مریم نواز کی پیشی کے موقع پر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے کارکنوں کے پیش ہونے کا اعلان پی ڈی ایم (PDM)کی مشاورت کے بغیر غلط تھا، ن لیگ و پیپلزپارٹی نے سیاسی مخاصمت کے عروج کے بعد مفاہمت کا راستہ اپناکر دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔اگر اپوزیشن کے نمائندے مشترکہ لائحہ عمل کا فیصلہ کریں کہ وہ کاشف عباسی کے شو میں نہیں جائیں گے، جہاں وہ دوسروں کو اپنی بات نہیں کرنے دیتا ہے بلکہ اپنی باتیں ٹھونستا ہے تو زرد صحافت کو عبرتناک سبق مل جائیگا اور کاشف عباسی کی بیگم مہر بخاری بھی اپنے شوہر کے نامناسب روئیے پر افسوس کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ اچھی صحافت کا فروغ ہماری قوم کی تقدیر بدلے گا اور بے غیرت اور بے ضمیر قسم کے صحافیوں کو مسترد کرنا بہت ضروری ہے۔
ملک کے اچھے صحافی اور مخلص سیاسی کارکن ، رہنما اور قائدین سب سے بڑا اثاثہ ہیں لیکن جب تک ایک اچھے ماحول کی فضاء نہیں بنے گی ان جوہرِ نایاب قسم کے لوگوں کو عوام سرِ عام دیکھنے کے بجائے لفافوں میں ملفوف موتیوں کی طرح پہچاننے سے محروم رہے گی۔ جب اچھے مواقع پیدا ہوجائیںگے تو پھر پتہ چل جائیگا کہ یہ وہ چھپے ہوئے موتی تھے جو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہے ہیں جن کی مثال پوری دنیا کے کسی ملک میں بھی نہیں ہے۔ جب بولنے کیلئے کچھ نہیں ملتا ہو تو پھر رؤف کلاسرا کو بھی بینظیر بھٹو کے قتل میں زرداری اور رحمن ملک کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے اور یہ نظروں سے پوشیدہ ہوجاتا ہے کہ ایان علی کو پکڑوانے والے اہلکار مروائے جاسکتے تھے تو بینظیر کے قاتلوں میں طاقتور حلقوں کو شامل کرنے کے کیا نتائج نکل سکتے تھے؟۔اب گھر کو ہرسطح پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر پی ڈی ایم (PDM) کے یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ اور غفور حیدری اسکے ڈپٹی بن جاتے تو سینیٹ میںاپوزیشن لیڈر ن لیگ اورپی ڈی ایم (PDM) کا کیسے بن سکتا تھا؟۔ پھر تو تحریک انصاف اپوزیشن میں ہوتی؟۔ ن لیگ نے سینیٹ میں عمران خان کی مدد سے اپوزیشن لیڈر بن کر مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کو استحکام بخشنے کا پروگرام بنایا تھا؟ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ اور شہبازشریف وزیراعظم ہوں پھر بھی مریم بی بی اور نوازشریف کو قبول نہیں اسلئے کہ ان کو آریا پار میں صرف اپناہی کٹھ پتلی بننا قبول ہے یا پھر عمران خان۔ اپنا بھائی اورکزن بھی قبول نہیں ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت آرمی چیف کے بیان کوغلط انداز دیا جارہا ہے لیکن درست بات بالکل کچھ اور ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے معاشرتی، معاشی، ریاستی اور سیاسی نظام کاقرآن وسنت سے کوئی دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ قرآن کے تراجم میں قرآن کے برعکس معاملات پیش ہیں۔ علماء اور مذہبی جماعتوں کو اسلام سے نہیں اپنا مفادپیارا ہے۔ مذہبی رنگ وروپ میں شیطان کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کو ریاست سپورٹ کرتی تھی تو ان کی تائید درباری علماء ومشائخ اور جاگیردار طبقات کرتے تھے۔ کانگریس کا منشور یہ تھا کہ انگریز سرکار کی طرف سے خانوں اور نوابوں کو دی ہوئی جائیدادآزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط ہونگی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور میں یہ نہیں تھا۔ آزادی کے متوالے قائدین ، رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں کانگریس کے ساتھی بن گئے اور غدار بنگالی نواب میر جعفر کے متوالوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ بھارت کے بانی مہاتما گاندھی نے لباس و اطوار میں عوامی رنگ وروپ دھارلیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگیوں نے ڈرائنگ روم کی سیاست کرتے ہوئے انگریزی لباس کو ترجیح دی تھی۔
جب مشرقی اور مغربی پاکستان میں سول بیوروکریسی کے ملازم میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا نے اقتدارکی صدارت پر قبضہ کیا جس کا تعلق بنگال سے تھا تو آرمی چیف صدر ایوب خان نے اس کے چوتڑ پر لات مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خان نے جمہوریت کی کوئی داغ بیل نہیں ڈالی تھی۔ جب برطانیہ کی انگریزسرکار نے پاکستان کو آزاد کردیا تو عوام کی تقدیر کے فیصلے سول وملٹری ملازمین اور انگریزوں کے ایجنٹ نواب،سردار اور پیروں فقیروں کے ہاتھ میں آگئے۔ پہلے مارشل لاء چیف صدر ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کی بنیاد ڈالی مگردھاندلی اور غلط الزام کے ذریعے فاطمہ جناح کو شکست دی۔ پھر فیئر الیکشن میں شیخ مجیب نے واضح اکثریت حاصل کرلی لیکن مارشل لاء کے پالتو ذوالفقار علی بھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم کی پالیسی اپنائی تھی۔
سول وملٹری ملازمین اور سیاستدانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش الگ ہوا اور ہمیں تاریخ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان کے ادھورے مغربی حصے میں شکستہ دلوں کیساتھ سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ مل کر (1973) کے آئین کی بنیاد ڈال دی۔ پھر (1977) میں ڈیڈی جنرل ایوب کے نقش قدم پر چل کر ذوالفقار علی بھٹو نے آخری حد تک دھاندلی اور ڈکٹیٹر شپ کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ مخالف کو کاغذاتِ نامزدگی تک داخل نہیں کرانے دئیے ،بلکہ کراچی سے لاڑکانہ میں آئے ہوئے جماعت اسلامی کے امیدوار کو اغواء کرلیا۔ بلاول بھٹو حقائق سے آگاہی رکھتا ،یا اس میں ضمیرہوتا تو اپنے ڈی این اے (DNA) پر فخر نہیں کرسکتا تھا اسلئے کہ ننھیالی و ددھیالی تاریخ کوئی سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہرگز بھی نہیں ہے۔
جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف اور جماعت اسلامی کی جس طرح آبیاری کی تھی ،اس کی ایک جھلک اسلامی جمہوری اتحاد میں جنرل ضیاء الحق کے بعد بھی عدالتی فیصلے کی شکل میں موجود ہے مگراب مفادپرست لوٹوں نے جماعتیںبدل بدل کر جماعتوں کی نظریاتی ساکھ بھی ختم کردی ہے جن کی قیادتوں کا تو پہلے سے مزا نہیں تھا لیکن مخلص مریدوں کی مانندسیاسی کارکنوں کو بھی مخمصے میں ڈال دیا ہے اور اب بھانڈ فیاض الحسن چوہان اور مراد سعید سیاسی رہنما بن گئے ۔ ایم کیو ایم (MQM) قائد الطاف حسین کو ٹی وی ٹاک شو میں ن لیگی رہنما زعیم قادری نے بھینس کہا تو جواب میں مصطفی کمال نے کہا تھا کہ تم نے عورتوں کو استعمال کرکے سعودیہ کا ریلیف حاصل کیا تھا۔ پھر وہی الزام مراد سعید پر بہنوں کے استعمال کے حوالے سے میاں جاویدلطیف نے بنی گالہ پر لگایا۔ حبیب جالب کے اشعار ابھی بھی گونج رہے ہیں کہ” لاڑکانہ چلو ورنہ تھانے چلو”۔سب اس حمام میں ننگے ہیں۔
آرمی چیف کی بات کو وسیع تناظر میں لینے کی ضرورت ہے ۔ سول وملٹری بیوروکریسی، مذہبی وسیاسی جماعتوں ،اپنے تعلیمی ، معاشی، معاشرتی نظام اور تہذیب وتمدن کا بیڑہ غرق ہے اورپھر نہ صرف ایک دوسرے کی پینٹ، شلواراور تہبند کھینچ رہے ہیں بلکہ الزامات کا سارا ملبہ بیرونی ایجنڈے کے سر ڈالتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہماری صحافت اور سیاست بڑی منافقت کا شکار ہے کیونکہ مریم نواز کا سینیٹ اپوزیشن لیڈر کیلئے اس قدر مشتعل ہونا اور پسِ پردہ حقائق مثال ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

پاکستان کے اہل اقتدار کوخوش فہمی اور خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اسلامی مزارعت کا آغاز کرنا چاہیے

اگر برصغیرپاک وہند کے علماء ومفتیان نے قرآن وسنت میں موجود طلاق وخلع اور حلالہ کی لعنت کے بغیر رجوع کی طرف توجہ نہیں دی تو ہندوستانی فوج پاکستان کو فتح کرکے غزوہ ہند کا خواب پورا کرکے اسلام کوبھی نافذ کرسکتی ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پنجاب کے دل سے جہنمیوں کو نکالنے اور دریائے اٹک کو خون سے بھرنے کی شاہ نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی افغانی،ایرانی اورہندو برہمن پوری کرینگے یامذہبی طبقے کو منافقت چھوڑنا ہوگی؟

پاکستان کے اہل اقتدار کوخوش فہمی اور خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اسلامی مزارعت کا آغاز کرنا چاہیے اور قرآن وسنت کے مسائل نافذ کرکے پاکستان کوپوری دنیا کیلئے پاکستان بنانا چاہیے

امریکی ٹرمپ نے جاتے جاتے فساد پھیلانا چاہا تھا مگر امریکی قوم بچ گئی۔ نوازشریف کے گلوبٹ ،عمران خان کے غنڈے، جماعت اسلامی کے ٹھاہ اور مولانا فضل الرحمن کے طالبان صف بندی سے ریاست کو بلیک میل کرسکتے ہیں، عربی شاعر نے کہاکہ من لایظلم الناس یظلم ”جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ،اس پر ظلم ہوتا ہے”۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو ہابیل نے کہا کہ میں بھی قدرت رکھتا ہوں مگر میں اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا تو قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا۔ اگر ہابیل کہتے کہ میں تجھے اپنے قتل سے پہلے جہنم رسید کردوں گا تو قابیل کو قتل کرنے کی ہمت بہت سوچ سمجھ کر مشکل سے ہوتی۔
یہود نے تاریخ کے ہرموڑ پر مظالم کا بازار گرم کیا پھر ظلم کا شکار بھی بنے۔ نصاریٰ نے ہابیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں مظالم کو برداشت کرنے کا درس دیا لیکن پھر اس پر قائم نہیں رہ سکے۔ اسلام نے اعتدال کا درس دیا۔ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا رسول اللہۖ نے فرمایا۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنے کا ہمیں علم ہے لیکن ظالم کی کس طرح سے مدد کریں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا ہی اسکی مدد کرنا ہے۔ سیاستدان اور فوج کے متحارب صحافیوں نے اپنے ظالم مؤکلوں کی وکالت جس طرح سے کی یہ انکی مدد نہیں بلکہ ان کو مزید اندھیرنگری کی طرف دھکیل دیا ہے۔
رسول ۖ نے فرمایاکہ : خوشامد کرنیوالے کے منہ میںمٹی ڈال دو۔ ہمارا بڑا المیہ ہے کہ کرایہ کے خوشامدیوں نے عوامی قیادت کو بھی فرعونیت کا شکار کیا۔ جب اپنے اوپر تنقید کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں تو اصلاح کی اُمید نہیں ہوسکتی ہے۔ رسول ۖ سے غزوہ بدرکے قیدیوں پر فدیہ لینے، غزوہ اُحد شہر سے باہر لڑنے، صلح حدیبیہ کے معاملے اور سورۂ مجادلہ میں ظہارپر اختلاف کیا گیااور اللہ نے ہرمعاملے میںرسول ۖ کو وحی سے رہنمائی فراہم کی تھی۔ اُسوۂ رسولۖ میں جمہوریت اور حریت کی روح انسانیت کیلئے قابلِ فخر اعزاز ہے۔حدیث قرطاس میں حضرت عمر کا نبیۖ سے یہ عرض کردینا کہ ہمارے لئے وصیت کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ کی کتاب کافی ہے اُسوۂ حسنہ کا روشن پہلو ہے۔
ذوالخویصرہ کاکہنا کہ آپۖ نے انصاف نہیں کیا اور نبیۖ کافرمانا کہ اگر میں انصاف نہیں کرتا تو کون کریگا؟۔ اُسوۂ حسنہ کا روشن ترین پہلو ہے۔ اپنے ساتھیوں اور خیر خواہوں کے علاوہ دشمنوں کو بھی اختلافِ رائے کا حق دینا اُسوۂ حسنہ کا سب سے زیادہ وہ روشن ترین پہلو ہے جس سے دنیا میں اسلامی اورانسانی انقلاب کی توقع ہے۔ مشہور ہے کہ ہندو برہمن اورپٹھان بنی اسرائیلی قبیلے ہیں۔پٹھانوں نے اسلام کو قبول کیا لیکن پٹھان اور سکھ دو ایسی قومیں ہیں جو پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر سوچتے ہیں ۔ بنی اسرائیل میں پٹھان قبیلہ نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا لیکن پھر پتہ چلا کہ اسلام میں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہے بلکہ لعان کرنے کا حکم ہے اور یہ پٹھانوں نے قبول نہیں کیا اسلئے کہا جاتا ہے کہ پشتو ن کلچر آدھا کفر ہے اور یہی معاملہ بنی اسرائیل کا بھی تھا ،اللہ نے فرمایا: أفتؤمنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض الکتاب ”کیا تم بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو”۔ برصغیرپر انگریز کا قبضہ ہوا تب بھی تعزیرات ہند میں عوام کو غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دی گئی۔ برصغیر میں برہمن یہود کی طرح نسلی امتیاز کا شکار تھے ،وہ خود کو ابراہیمی سمجھ کر دوسروں کو اچھوت سمجھتے تھے۔ اچھوت نے نسلی امتیاز کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ مذہبی طبقے نے یہ مسئلہ بتایا کہ تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں تو اچھوت نسل کے لوگوں نے حلالہ کی لعنت کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ شرم محسوس نہیں کی ۔ پٹھانوں کو بے غیرتی میں اپنا مفاد لگا تو انہوں نے بھی حلالہ کی لعنت کو چوری چھپے قبول کرلیا کہ ساری زندگی بچے خوار ہونے یا بیوی چھوٹ جانے سے اچھوت کی طرح بے غیرت بننا بھی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں۔ اچھوت نسل کے لوگ بھی بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی ، سول وملٹری بیوروکریسی کی لیڈر شپ میں موجود ہیں۔
پاکستان اپنے بنیادی نظرئیے اورجمہوری، نسلی، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پراس قابل ہے کہ سندھی، بلوچ، پشتون ، پنجابی ، سرائیکی،کشمیری اور ہندوستانی مہاجر یہاں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عملی جامہ پہنائیں۔ غیرت کے نام پر جس اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا ،اب حلالہ کی بے غیرتی سے جان نہ چھڑائی گئی تو ایرانی ، افغانی اور ہندوستانی دریائے سندھ کو خون سے بھرسکتے ہیں۔ دنیا کی طاقتیں پاکستان کو مٹانے میں بڑی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہندوستان کے برہمن بھی حلالہ کی بے غیرتی کو سمجھ چکے ہیں ۔ لتا حیا جیسی شاعرہ مسلمانوں کو تحفظ دیتی ہیں اوراچھوت ہندو بھارت میں مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ ہماری فوج کو اپنے ہاں سیاستدانوں کی مخالفت اور سرپرستی سے فرصت نہیں ملتی ہے تو اسلام کو نافذکرنے میں کیا دلچسپی لے گی؟۔ پھر ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کیلئے کوئی اقدام کرنا مشکل نہیںبلکہ ناممکن لگتا ہے۔ اگر ہمارے اپنے ہاں اسلام نافذ ہوگا تو پھر بھارت اور دوسرے ممالک میں بھی اسلام کو پذیرائی مل سکے گی۔
مذہبی طبقہ قرآن وسنت میں بہت ساری آیات اوراحادیث کو رجوع کیلئے نہیں مان رہا مگر شیطانی القا کی وجہ سے باعزت لوگوں کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر لوٹ رہاہے۔ مغرب میں کم سود کو غیر اسلامی اور اپنے ہاں زیادہ سود کو اسلامی قرار دینے کی منافقت سے اسلام نہیں کھلم کھلا کفر پھیلا رہاہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں سود اور ریاستِ مدینہ میں شراب خانہ مذہبی ، سیاسی اور صحافتی طبقات میں منافقت کی انتہاء ہے۔اگر اسلام نافذ نہ کیا توبرہمن اسلام قبول کرکے معرکہ ہند لڑنے والی حدیث پر عمل کرینگے۔ شاہ نعمت اللہ ولی نے پنجاب کے دل سے دوزخی خارج ہونے اور اٹک کے دریا کے خون آلود ہونے کی پیش گوئی کی ہے جمنا،گنگا کی نہیں۔ غلط اعداد وشمارکا تخمینہ لگانے کے بجائے ن لیگ کیلئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ٹانگ اُٹھاکر ٹیٹ ماریں۔ پورا ملک سول وملٹری بیوروکریسی کیساتھ مل کر سیاستدانوں نے دیوالیہ بنادیا ہے مگر اب تک پیٹ نہیں بھرتا ۔ اس کا علاج اسلامی معیشت اور مزارعین کومفت کی زمینیں دینے کی شریعت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

تحریک انصاف کی اتحادی حکومت،PDM، جماعت اسلامی اور PTM کے زوال کی بالکل انتہاء

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے ،اندرونی وبیرونی دفاعی معاملے میں بھی زیادہ خطرات کا اعتراف کیامگر مولانا فضل الرحمن، نوازشریف ،رؤف کلاسرا کے علاوہ سارے سیاستدانوں اور صحافیوں نے اعتراف کو غلط رنگ دیا

آرمی چیف کا مقصد پاکستان کی نظریاتی اساس ”اسلام” اور آئین کی روح ” قرآن وسنت” کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہندو برہمن سے توقع ہے مگرعلماء اور مذہبی جماعتوں سے نہیں ہے

وفاق المدارس کے قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ عدالت میں عورت کے حقِ خلع کے خلاف ہم تحریک چلائیں گے ، حالانکہ علماء ومفتیان نے قرآن وسنت کیخلاف مسلک بنارکھا ہے

مولانا غفور حیدری نے کہا کہ مرزائیوں کے حق میں قومی اسمبلی سے قانون پاس ہوچکا تھا ۔ مجھے خوف تھا کہ چیئرمین سینیٹ کی غیر حاضری میں مجھے بل پاس ہونے پر دستخط کرنے پڑینگے !

پاکستان اسلام یا مسلمانوں کے نام پر بنا۔ اسلام اور مسلمان ایکدوسرے سے الگ نہیں، جو اسلام کو مانتا ہے وہ مسلمان اور جو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ اسلام احکامِ خدا کے آگے سرِ تسلیم خم کرناہے جو اللہ کی کتاب اور خاتم الانبیائۖ کی سنت میں ہیں۔ آئینِ پاکستان میں قرآن وسنت کی بنیادی حیثیت ہے۔
یہودونصاریٰ کے افراط وتفریط میں مسلمان اعتدال پر ہے۔یہودکا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گستاخانہ اور عیسائی کا مشرکانہ عقیدہ تھا۔اسلام نے ان کی خواتین کیساتھ نکاح کو حلال قرار دیا ہے۔حضرت عائشہ کے حوالے سے روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہۖ سے پہلے مشرک سے رشتہ طے تھا اور پھر اس نے اسلام کی وجہ سے رشتہ ختم کیا۔ تب حضرت ابوبکر نے رسول اللہۖکا حضرت عائشہ کیلئے پیغام قبول کیا، اسوقت ایک اور خاتون نے بھی اُم المؤمنین بننے کا پیغام قبول کرلیا تھا اسلئے پہلے ان کی رخصتی ہوئی اور حضرت عائشہ کی رخصتی تین سال بعد ہوئی۔ منگنی و نکاح کا اسلام میں فرق نہیں کیونکہ ایجاب وقبول ہی نکاح ہے۔ نکاح کے فوراً بعد رخصتی اور ازدواجی تعلقات قائم ہوں تو پھردو گواہ کی ضرورت ہے۔ اعلانیہ منگنی کے بعد دو گواہوں کی حیثیت محض قانونی ہے۔
رسولۖ کے وصال کی مشہورتاریخ بارہ (12) ربیع الاوّل ہے۔ یومِ وصال نہیں یوم ولادت منایا جاتا ہے اور یومِ ولادت پر اختلاف کو اجاگر کیا جاتا ہے اوریومِ وصال میں بھی اختلاف ہے، شیعہ کے ہاں یومِ ولادت اٹھارہ (18) ربیع الاوّل اور یومِ وصال اٹھائیس (28) صفر ہے۔ جب رسول اللہۖ کے یومِ وصال میں تاریخ کا نہیں بلکہ مہینوں کا فرق ہے تو اس سے تاریخی یاد داشت کی کمزور ی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن وسنت اورا سماء الرجال سے یہ ثابت ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمرسولہ (16)سال اور رخصتی کے وقت اُنیس (19) سال تھی۔ علماء حق کو کھلے عام جشن کی ضرورت تھی کہ رسول اللہۖ نے اس عمر میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی جو موجودہ پاکستان کے قانون سے بھی ایک سال زائد تھی۔ ایک طرف علماء کی ہٹ دھرمی اور دوسری طرف اسلام دشمن ایجنڈا رکھنے والوں کا گستاخانہ رویہ دنیا کو ایک نئے تصادم کی طرف لے جارہاہے۔
قرآن وسنت اور اصولِ فقہ کے درست قواعد کی روح سے حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز نہیں لیکن اس بے غیرتی کو مذہبی طبقے نے مسلط کررکھا ہے۔ قرآن وسنت میں مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کا حق ہے لیکن مذہبی طبقے نے عورت سے خلع کا حق چھین رکھا ہے اور عدالت کے خلاف بھی اپنے احتجاج کے حق کو محفوظ سمجھتے ہیں۔وفاق المدارس کے قاری محمد حنیف جالندھری نے عدالتی خلع کے خلاف احتجاج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیوں کی حمایت میں بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا تھا اور سینیٹ سے منظور ہوجاتا تو مجھے دستخط کرنے پڑتے اسلئے کہ چیئرمین کی جگہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو یہ ڈیوٹی دینی پڑتی ہے لیکن الحمدللہ بل سینیٹ میں ناکام ہوا، پھر حکومت نے اس کو پاس کرنے کیلئے قومی اسمبلی وسینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ۔اس وقت نوازشریف کی حکومت تھی اور مولانا لوگ اسکے اتحادی تھے۔ یہ مولانا حیدری نے اپنی حسنِ کارکردگی پیش کی تھی جو اپنے مذہبی طبقے کو سمجھا رہے تھے کہ جمعیت علما ء اسلام اپنے فرضِ منصبی سے غافل نہیں ۔
مذہبی اور سیاسی طبقے کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف شیخ رشید نے آواز اٹھائی۔ آج شیخ رشید وزیرداخلہ ہے جس نے کہا کہ مولویوں نے مجھ پر اس وجہ سے حملہ کیا تھا۔عمران خان کی ناکامی سامنے ہے اور سیاسی رہنماؤں کیساتھ آئندہ کچھ ہو یا نہ ہو لیکن پاک فوج کے کرتے دھرتوں کی خیر نہیں۔ براڈ شیٹ سے تین فوجی جرنیلوں کی نالائقی کے علاوہ پرویزمشرف کا آفتاب شیرپاؤ کو معاف کرکے وزیرداخلہ بنانا فوج کے کردار کو ناپاک کرنے کیلئے کافی ہے۔ عدالتی نظام نے سیاستدانوں کا کچھ نہیں بگاڑنا۔ عمران خان نے حکومت کے خاتمے تک اپوزیشن کی زبان میں بک بک کے سوا کچھ نہیں کرنا ۔ اسٹیٹ بینک کے بعد پاک فوج اور ہمارے ریاستی اداروں کو عالمی اداروں کی تحویل میں دینے کا ایجنڈا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر اس بکرے کی طرح چیخنا ہے جس نے عید کے دن قصائی کے ہاتھوں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کٹ مرنے کا بس انتظار کرنا ہے۔ اگر پاک فوج کی طاقت کا خوف نہیں رہا تو غیظ وغضب سے بھری ہوئی عوام جہاں فوجی جرنیلوں کا بنگلہ دیش سے برا حشر نشر کردینگے وہاں عدلیہ، پولیس، سول بیوروکریسی اور سیاستدانوں اور انکے ٹاؤٹ لوگوں کو بھی انقلابِ فرانس سے زیادہ سبق سکھائیں گے، مذہبی طبقے اور تاجر وں کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف جارہے ہیں اور صحافیوں نے تجوریاں بھریں یا بھنگ کے نشے کاہدف حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ نوازشریف نے جیل سے جھوٹ کی بنیاد پر رہائی حاصل ہونے اور نظریاتی بننے کے بعد بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دیدی اور باپ بیٹی پھر نظریاتی بن گئے اور حسن نثار عمران خان کی ساری نالائقی کو سپورٹ کرنے کے بعد آج پھر بچکانہ باتوں کی ٹرٹر کرنے سے اپنے سامعین کو لوریاں دے رہاہے۔ جب تک کم بخت لوگوں کا منہ سرِ عام کالا کرکے ان کی تذلیل نہیں کی جائے کہ تم بیوقوف نہیں بلکہ بیوقوف بنانے کے جرم میں برابر کے شریک ہو۔ اب اس عمر میں لاہوریوں کے دماغ کی رگیں صرف اس وقت کھلیںگی جب وہ میڈیا پر ٹانگ اٹھاکر ٹیٹ مار کر دکھائیںگے۔ مریم نواز بتائے کہ اسکا باپ بزدلی کی وجہ سے نہیں آرہاہے یا کوئی بیماری ہے؟۔ سہیل وڑائچ ، حامدمیر ، سلیم صافی ، شاہ زیب خانزادہ اور دیگر اینکر پرسن اپنی نوکری کا نمک حلال کرنے کیلئے کچھ کریںگے یا پھرہم بتائیں؟۔
جانی خیل بنوں میں گڈ طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے چار بچوں کی لاشوں کا احتجاج اسلام آباد کی طرف جانے سے بڑی مشکلوں کے بعد روکا جاسکا۔ الیکٹرانک میڈیا نے کوریج نہیںدی ورنہ ہزارہ برداری کوئٹہ سے بھی ان لاشوں کا احتجاج خطرناک تھا اسلئے کہ شمالی وزیرستان کے لوگ بھی بہت تھک چکے ہیں۔ پاکستان بھر میں بچیوں کا ریپ ہوتا ہے مگر خٹک بچی پر سابق ایم این اے (MNA) مولانا شاہ عبدالعزیز نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو دھمکی دی کہ ہمیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے، یہ قصور، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، گجرات نہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

سیاسی ،لسانی اور فرقہ پرستی کے تعصبات عروج پر ہیں کارکن اپنے بڑوں کو ہی اب لڑنے دیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قال اللہ تعالٰی جدہ: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلٰم دینًا
وقال رسول اللہ خاتم الانبیاء ۖ : ایھا الناس اقرأ وامنی السلام من تبعنی من امتی الا یوم القیامة

بلندشان والے خدا نے فرمایا: ” آج میںنے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پراپنی نعمت کو پورا کردیا اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے”۔

اور خاتم الانبیاء رسول خدا ۖ نے ارشاد فرمایاکہ:”اے لوگو! میری طرف سلام پڑھو جو میری اتباع کرے میری اُمت میں سے قیامت کے دن تک”۔ رسول اللہۖ کا آخری پیغام

وزیراعظم کا ذہنی توازن چیک کرنے سے پہلے اس کوکنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، کہیں تمام ریاستی و حکومتی اداروں اور انکے سربراہوں کو فارغ کرکے پوری دنیا میںتماشہ نہ بن جائیں

بلند شان والے خدا نے فرمایاکہ ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیااور اپنی نعمت کوتمہارے اُوپر پورا کردیااور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیاہے”۔ (القرآن المجید)جد کا معنی دادایا نانا نہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ سورج،چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ پھر اس خواب کی تعبیر اس وقت پوری ہوئی کہ جب دس ستارے بھائیوں نے آپ کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔ پھر ایک ویران کنویں میں پھینک دیا۔ پھر قافلے نے اٹھایا اور مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے گھر میں جوان ہوئے۔ پھر بے گناہ جیل کی سلاخوں میں بند ہوئے۔ جس گناہ کی طرف بلایا جارہاتھا تو آپ نے فرمایا کہ السجن احب الیی مما تدعوننی الیہ ” جیل مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ جس کی مجھے آپ دعوت دے رہی ہو”۔
وزیراعظم عمران خان کو کرکٹ کے میدان اور شوکت خانم پر چندوں کے باران سے اللہ تعالیٰ ، اس قوم اور ہماری ریاستی اداروں نے وزیراعظم کے ایوان تک پہنچادیا۔ کتنے وعدے کس سے پورے کئے اور کس کے سامنے سرخروہوا؟۔ یہ بات چھوڑئیے،اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں لگتا ہے۔ سینیٹرز کے الیکشن میں ووٹ خریدنے اور الیکشن کمیشن سے کوئی معجزہ دکھانے کی استدعا ٹھیک تھی یا نہیں مگر کہنے کی حد تک ایک بات تھی لیکن جب سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت تھی تو بھی یہ شخص کہہ رہا تھا کہ زرداری ہمارے ووٹ خرید کر ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ نظام قدرت کو پتہ تھا کہ اگر صادق سنجرانی پھر ہار گیا تو یہ شخص پارلیمنٹ کو توڑ دے گا جس کی ہوائیاں بھی اسکے چہرے پر اُڑرہی تھیں۔ بشریٰ بی بی نے پتہ نہیں کیا وظائف پڑھ کر اس شخص کو سنبھالنے میں اپنا کردار ادا کیا؟۔ ہمارے ہاں تو پہلے بھی نوازشریف اور بینظیر بھٹو کو اقتدار کیلئے ڈنڈی والی سرکار سے جتنے ڈنڈے پڑتے تھے اتنے سال کی مدت تک وزیراعظم بنتے تھے۔ ایک پیر پینچرسرکار بھی لکھ پڑھ کر کچھ پیش گوئیاں سنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
کچھ باکمال لوگ لاجواب سروس والے صحافیوں نے بھی وزیراعظم کے حوالے سے بڑی مثبت خبروں کی رہنمائی کی کہ عمران خان میں بڑا حوصلہ ہے اور وہ اپوزشن کی بینچوں پر بھی بیٹھ سکتا ہے لیکن اس سے پہلے پہلے کہ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی ، چیف جسٹس ، صدرمملکت ، چیف الیکشن کمشنر اور سارے گورنرز اور سینیٹ وقومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بیک وقت فارغ کردے اس شخص کا دماغی توازن صرف چیک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی جگہ پر لانا چاہیے۔
انصار و قریشاور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلے پر چپقلش ہورہی تھی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد تو صف بندی کرکے لڑائی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اُمت کے اختلاف کو بھی رحمت سے تعبیر فرمایا تھا لیکن اختلاف میں اعتدال کی حد سے بڑھ کر انتقام تک اعتدال سے ہٹ جانا رحمت نہیں عذابِ خداوندی ہے۔ اللہ نے امت مسلمہ پر سابقہ امتوں کی طرح کوئی اجتماعی عذاب نازل نہیں کرنا ہے لیکن آپس کی لڑائی کے عذاب سے بچنے کیلئے رسولِ خداۖ نے فرمایا کہ اللہ کا کوئی وعدہ نہیں ۔
جب بھی کسی قوم پر عذا ب کا وقت آیا ہے تو اللہ نے عذاب کو نہیں ٹالا ہے مگر قومِ یونس سے ۔اسلئے کہ انہوں نے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ جس طرح کا عذاب خدا نے ہم پر نازل کرنا ہو ،ہم نہیں ڈرتے مگر آپس کی لڑائی کا نہیں۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس قوم سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ آپس کی لڑائی اللہ کا واقعی بڑا عذاب ہے لیکن یہ عذاب انسانوں کے اپنے ہاتھوں میں بھی ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنی پرامن حالت بدلنے کیلئے بدامنی کا راستہ اختیار نہیں کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حالت کو نہیں بدلتا ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی قوم خراب حالت کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتی ہے تو اللہ تعالی بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔
آج افغانستان، عراق ، شام اوریمن کی قومیں آپس میں فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے اپنی حالت بدلنی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو نہیں لڑا سکتی ہے۔ ہم پاکستانی بھی اپنے دشمن آپ ہیں اور پشتون بھی ایک دوسرے کے دشمن خود ہیں لیکن اگر ہم آپس کی دشمنی ختم کرنے کے بجائے ”یہ جرنل کرنل دہشت گرد” کے نعرے لگائینگے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کیلئے کوئی کوشش نہیں کرینگے تو پھر مزید تباہی اور بربادی کا خدانخواستہ سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی قوتوں نے ہمیں کمزور کرنے کیلئے آپس میں لڑانے کی سازشیں کیں ہیںمگر جب تک ہم خود ان قوتوں کے آلۂ کار بننے کا کردار ادا نہ کرتے تو بات نہ بنتی۔
رسول اللہ ۖ نے آخری وعظ میں امت کو بڑی دعائیں دینے کے بعد اپنا آخری پیغام قیامت کے دن تک آنیوالے رسول ۖ کا اتباع کرنے والوں کو اپنی طرف سے سلام پہنچانے کا حکم فرمایا تھا، مسجد کے علماء کواپنے نمازیوں کا حال بھی معلوم ہے اور اپنا حال بھی معلوم ہے اسلئے رسول اللہ ۖ کے پیغام اور سلام کو پہنچانے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں۔ رسول اللہۖ نے سلام پھیلانے کا حکم دیا تھا اور اپنے آخری پیغام سے بھی امت میں سلام کو عام فرمایا ہے۔
پاکستان میں سیاسی جھگڑے بھی عروج پر ہیں۔ لسانیت اور فرقہ پرسی کے تعصبات بھی عروج پر ہیں۔سیاسی، لسانی اور فرقہ پرستی کے بیوقوف کارکن آپس میں لڑنے کے بجائے بڑے بڑوں کو آپس میںلڑائی کا شوق پورا کرنے دیں۔ ہزارہ میں منظور پشتین کے خلاف اشتعال انگیزی اور انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہیں۔ گالی گلوچ، بدتمیزی اور اخلاق باختگی کا مقابلہ دلائل سے کیا جاسکتا ہے لیکن چاقو اور پتھروں سے حملوں کا مقابلہ دلائل سے نہیں ہوسکتا۔ مذہبی اور لسانی ماحول کی خرابی پاکستان کو عراق کی طرح تباہ وبرباد کرسکتی ہے۔
اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے لڑائی جھگڑے کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ پاکستان میں چند سیاسی رہنماؤں کے سوا باقی سب موروثی اور پیسہ کی بنیاد پر سیاست کررہے ہیں۔ لوٹوں سمیت ان سب سیاسی رہنماؤں اور قائدین سے خیرکی کوئی توقع نہیں جنہوں نے عوام اور سیاسی حالات دیکھے بغیر مفادات کیلئے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ یہ لوگ عوام کی خیرخواہی کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں کرینگے۔ ان کو گدھوں کی طرح رسی نہیں روپیہ سے باندھا جاتا ہے ۔

NAWISHTA E DIWAR March 2021 – Ilmi Edition Number#2
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

مولانا مفتی محمود نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے

مولانا مفتی محمود نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے، اگرحضرت ابوسفیانبھی کہتے کہ شکر ہے کہ ہم اسلام کے گناہ میں شریک نہیں تھے جس کی وجہ سے عرب کلچر کی پامالی سے عالمی دہشتگردی تک بات پہنچ گئی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہندوستان میں تبلیغی جماعت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور پاکستان میںتبلیغی جماعت اور دہشتگرد ایک جسم دو قالب کی طرح تھے ، مولانا طارق جمیل نے کہا:راستے دو ہیںمگر منزل ایک ہے!

جب شیعہ کے بقول چار صحابہ کے علاوہ سب مرتد ہوگئے تو پھر جنگوں میں تباہی اورقربانی سے لیکر بنوامیہ وبنوعباس کا ملیا میٹ اور موجودہ سعودی حکمرانوں تک اسلام کا کیا فائدہ ہوا ہے؟

سنی شیعہ اور امن پسند ودہشتگردوں کے اسلام میں کیا فرق ہے؟۔ تبلیغی جماعت کا نظم ونسق اور امن پسندی مثالی ہوا کرتی تھی۔ اب حال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے عالمی مرکزبستی نظام الدین ہندوستان میں مولانامحمد الیاسکے پڑپوتے کی تبلیغی جماعت اور ان سے الگ ہونے والی شوریٰ کی تبلیغی جماعت دوالگ الگ حصوں میں تقسیم ہیں۔ لڑائی اورمارکٹائی کا سلسلہ ہے۔ ایک مسجد سے الگ الگ دونوں جماعتوں کی تعلیم ، جماعتیں نکالنے کی ترتیب اور حدود میں رہنے کی ترکیب کیلئے جمعیت علماء ہند دہلوی کا مفاہمتی کردار بھی دارالعلوم دیوبند کے ترجمان مولانا فضیل احمد صاحب کی دردناک آواز میں سامنے آچکا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا ہے کہ جب تبلیغی جماعت کے آخری امیر مولانا انعام الحسن کو مشورہ دیا گیا کہ حضرت ابوبکر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بعد کیلئے ایک امیر منتخب کرلیں تو ان کے صاحبزدے مولانا زبیراور مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد میں سے کسی کو امیر بنانے پر خدشہ ہوا کہ جماعت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ حاجی عبدالوہاب اور چند دوسروںکی رائے یہ تھی کہ مولانا سعد کو امیر نامزد کیا جائے اور کچھ کی رائے یہ تھی کہ مولانا زبیرکو امیر نامزد کیا جائے۔ پھر تین شخصیات کی ایک نظم بنائی گئی تاکہ جماعت تقسیم نہ ہوجائے۔ مولانا طارق جمیل نے ایک بیان میں کہا کہ مولانا زبیراور مولاناسعد کے حامیوں نے ایکدوسرے پر بندوقیں تک تان لی تھیں۔ قتل وغارت کے خدشہ سے ہی جماعت کیلئے امیر کے بجائے نظم کا فیصلہ کیا گیا۔ پھرنظم کے دو ارکان مولانا زبیر اور دوسرے کا انتقال ہوا تو مولانا سعد نے کہا کہ اب میں ہی امیر رہ گیا ہوں اور حاجی عبدالوہاب نے مرکزی شوریٰ کے ارکان بڑھانے کا فیصلہ کرلیا لیکن مولانا سعد نے شوریٰ کے ارکان بڑھانے کا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر مسترد کردیا۔ اب تبلیغی جماعت کا سر کٹی لاش ہے۔ مولانا سعد اور مولانا احمد لارڈ کی الگ الگ جماعتیں ہندوستان اور بنگلہ دیش میں کام کررہی ہیں۔
جب پاکستان میں طالبان کی دہشتگردی عروج پر تھی تو ریاست نے علماء کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا۔ صحافی سلیم صافی نے مولانا طارق جمیل کو پروگرام میں بلایا تاکہ ہشتگردی کی روک تھام کیلئے کچھ ارشاد فرمائے لیکن مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ہماری منزل ایک ہے، طریقۂ کار میں فرق ہے۔ جب دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی تبلیغی جماعت اور طالبان ایک جان دوقالب تھے۔ تبلیغی جماعت کا اجتماع ہوتا تو دہشت گرد جنگ بندی کا اعلان کردیتے تھے۔ بدمعاش دہشتگردوں پرمذہبی رنگ وروغن چڑھانے کیلئے ان کو تبلیغی جماعت میں وقت لگانا پڑتا تھا۔ کوڑ علاقہ گومل میں دہشت گرد بمبار کو پولیس والے نے مار دیا تھا تو وہ تبلیغی جماعت سے تازہ تازہ آیا تھا۔ ہمارے عزیزوں نے کیوں اور کس کیلئے رکھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں وہ کس کی تلاش میں تھے؟۔ کریم پیر کا ایک بیٹا کچھ معلومات دینے پشاور آیاتھا اور تفصیل کا درست تفتیش پر پتہ چل سکے گا۔
مجھے بچپن سے دین وایمان کی چاہت تھی۔ جب نویں جماعت کوٹ ادو لیہ میں تھا تو علامہ دوست محمد قریشی کے بیٹے مولانا عمر قریشی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیرتعلیم تھے۔ ان کے مسجد ومدرسہ کا انتظام اللہ وسایا نے سنبھال رکھا تھا۔ ایک مرتبہ اچانک مولانا عمرکے بہنوئی نے اللہ وسایا کے سر پر بہت زور دار طریقے سے بہت موٹا ڈنڈا مار دیا لیکن بچت ہوگئی اس کے دماغ کا بھیجا باہر نہیں آیا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون جان سے مار سکتا ہے۔ مولانا سید محمد بنوری کو مدرسہ میں شہید کرکے خود کشی کا جھوٹا الزام لگایا گیاتھا۔ وزیرستان کے مولانا نور محمد وزیر اور مولانا معراج الدین قریشی محسود جنوبی وزیرستان کے ایم این اے (MNA) اور مسلمہ مذہبی شخصیات تھیں لیکن دونوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیاتھا۔
مفتی محمود نے کہا تھا کہ ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے” ۔ اسلے کہ برصغیر میں بڑے پیمانے پر جانیں گئیں، عزتیں لٹ گئیں، خاندان کے خاندان بچھڑ گئے اور لوگوںکو اپنے مستقل گھروں، زمینوں، جائیدادوں، نقد رقوم، زیورات وغیرہ کی قربانی کیساتھ اپنے اپنے وطن وعلاقہ کو چھوڑنا پڑگیاتھا۔ جس کا حاصل انگریز کی باقیات عدلیہ، پولیس ، فوج اور بیوروکریسی تھی اور 22خاندانوں کی سیاست تھی۔ عوام کو کالے انگریز کی شکل میں غلاموں اور نااہلوںکے اقتدارپر قبضہ کرنے کے بعد غلامی سے زیادہ یہ آزادی بھی ایک سزا لگ رہی تھی جس کی بھیانک شکل میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا۔
انیس سو اڑتالیس (1948) بابڑہ میں پختونوں کے قتل عام سے لیاقت باغ راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے فیصل آباد جیل سے بدمعاش رہاکرکے پختونوں کاخون بہایاگیا تھا۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی تقاریر میں انگریز وں کے نکالنے اور مرزائیت کی مخالفت کا معاملہ ہوتا تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد سرکار نے ختم نبوت کا نعرہ لگانے پر بھی گولی مارنے اور پھانسی پر چڑھانے کی سزاؤں سے انگریز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ حبیب جالب کی شاعری ایوب خان کے ایسے دستورکو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا، بھٹو کے لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانے چلو اور ضیاء کے دور میں ظلمت کو ضیاء کیا لکھنا ، بادل کو ردا ء کیا لکھنا بھی ظالمانہ تاریخ کی عکاسی تھی لیکن پرویزمشرف نے پاکستان کو قصاب خانہ بنادیا تھا۔ جس کی بھرپور تائیدنوازشریف، شہبازشریف اور عمران کی طرف سے بھی ہورہی تھی۔
مفتی محمودکی طرح ممکن تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت یہ ابوسفیان نے بھی کہہ دیا ہو کہ ”ہم اسلام کے گناہ میں شریک نہیں تھے” اسلئے کہ سرزمین حجاز میں حضرت سمیہ کی ٹانگیں اونٹوں سے باندھ کر چیر نے، بلال کے سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گرم ریت پر لٹانے اور شعب ابی طالب تک مظالم تھے؟۔ بدرواحداور دوسری جنگوں میں کتنے مشرکینِ مکہ ومسلما ن قتل ہوئے؟۔ رسول اللہۖ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار ومہاجرین میں خلافت کے مسئلے پر قتل وغارت برپا ہوجاتی اور پھر ارتداد اور زکوٰة دینے سے انکار اور نبوت کا دعویٰ کرنیوالے کے خلاف جہاد سے کتنے قتل کئے گئے۔ جب قریشِ مکہ نے نبوت کے دعویدار حضرت محمدۖ کے خلاف اقدام اٹھایا تو وہ ناجائز تھا لیکن مسلیمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کو ساتھیوں سمیت تہہ تیغ کیا گیا تھا؟۔
رسول اللہۖ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی صفت بیان کی تھی کہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں مگر پھر عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت طلحہ و حضرت زبیر اور حضرت علی تک نے ایکدوسرے کے مقابلے میں جہاد کیا اور ستّر (70) ہزار ایک جنگ کی نذر ہوگئے جو پاکستان میں اس وقت بھی مشکل سے ہوئے کہ جب ریاست کی رٹ ختم ہوچکی تھی اور پاکستان بالکل قصاب خانہ بن چکا تھا۔ اتنے افراد سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کی شیعہ سنی شدت پسند تنظیموں نے بھی ایکدوسرے کے قتل نہیں کئے۔ پھر بنی امیہ کے دور میں کربلا کا واقعہ پیش آیا۔ مسجد نبوی اورمدینہ شہر کی حرمت بھی پامال کی گئی اور عبداللہ بن زبیر سے جنگ کرنے کے دوران خانہ کعبہ کا مطاف پتھروں سے بھر دیا گیا اور ابن زبیر کے قتل کے بعد انکی نعش کئی دنوں تک لٹکائی گئی۔ اس کی سو (100) سالہ بوڑھی ماں حضرت اسماء بنت ابی بکرکے حال پر بھی رحم نہیں کھایا گیا۔ پھر بنوامیہ کے خاندان کو بنوعباس نے بہت بے دردی سے کچل دیا اور بنوعباس کو ہلاکو خان چنگیزی نے ہی تخت وتاراج کیا ۔ انسانی سروں سے مینار تعمیر کئے گئے۔ جب اہل تشیع کے نزدیک صرف چار صحابہ مسلمان باقی بچے تھے باقی سب مرتد ہوگئے تھے تو کیا ابوسفیان کی طرف سے بات بنتی نہیں ہے کہ جس اسلام نے عرب کے اقدار کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا تھا ،اچھا ہوا کہ یزید نے رسول اللہۖ کے کنبے کو پہلے بھی کربلا میں قتل کردیا تھا اور طالبا ن اور تبلیغی جماعت کی مشترکہ کاروائی اور حکمت عملی کے نتیجے میں سن د وہزار سات (2007) میں سیدعتیق الرحمن گیلانی کو قتل کرنے کی غرض سے آنے والوں نے بہن ،بھائی، بھتیجے ،بھانجی ،خالہ زاد ،ماموں زاد ، مسجد کے امام اور گھر کے خادم کے علاوہ آنے والے مہمانوں آفریدی، مروت، جٹ اور محسود سب کو قتل کیا تھا اور اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھنے والے عتیق گیلانی کو قتل کرنے کے بعد تیزاب کے بڑے بڑے کین لاکر عبرت کا نشان بھی بنانا تھا لیکن اللہ کے فضل سے وہ بچ نکلا تھا۔
ایک طرف شیعہ ہزارہ کے ذبح کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تو دوسری طرف عراق وشام میں مسلمان ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے بعد یہ سلسلہ پاکستان میں گرم کرنا چاہتے ہیں۔ شیعہ سنی اور دیوبندی بریلوی کے علاوہ حنفی واہلحدیث اور ایک ایک فرقے والے بھی ایکدوسرے کے خلاف رندے تیز کررہے ہیں۔ اگر بس چل گیا تو قادیانی صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں۔ اگر بس چلا تو وہابی گستاخ صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں اور اگر بس چلا تو بریلوی مشرک بھی صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں۔ حجاز مقدس پر جن عرب حکمرانوں کا قبضہ ہے وہاں کفیلوں کے ذریعے غیر ملکیوں کو تمام انسانی اور تجارتی حقوق سے محروم کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ اگر وہ پیسے دیں تو اچھے ورنہ پھر ہمارے اہلحدیث بھی بریلوی کیا ہندو بننے کیلئے بھی آمادہ ہیں۔
جب سنی مسلمانوں کو پتہ چل گیا کہ قرآن وسنت میں حلالہ کی لعنت کا کوئی تصور نہیں تھا تو گمراہی کے قلعوں مدارس کو چاہیے تھا کہ قرآن کی تعریف میں تحریف کا عقیدہ پڑھانے اور حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 6سال اور رخصتی کے وقت 9سال کی بجائے سولہ (16)سال اور(19)کی درست تحقیق پر جشن منانے سے لیکر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز تک ہر معاملہ پر علاقائی سطح سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک جلسے جلوس کرتے ۔ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرتے۔ اپنے غلط عقائد ونظریات اور نصاب سے توبہ تائب ہوجاتے ۔ اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے کہ رسول اللہۖ کی آل اولاد میں ایک شخص نے زبردست طریقے سے جہالتوں کی نشاندہی کردی ہے۔ تمام فرقوں کے مسائل کا حل قرآن وسنت سے حل کرنے کی زبردست کوشش نے اسلام کی نشاة ثانیہ کے خواب کی تعبیر کو قریب تر کردیاہے ۔ حلالہ کے نام پر خاندانوں کو تباہ اورعزتیں لٹوانے سے بچانے کا راستہ نکال دیا ہے۔ اسلام کی درست نشاندہی کردی ہے۔ اسلام کے نام پر مفادات کی سیاست اور سودکے جواز میں مذہبی رنگ سازی کے دانت کھٹے کردئیے ہیں۔ اہل تشیع کے گیارہ ائمہ نے بہت کچھ کیا ہوگا مگرمنصبِ خلافت پر براجمان ہونے یا نہ ہونے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں مل سکا ہے اور بارہواں امام مہدیٔ غائب ہزار (1000)سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ اہل تشیع کا ان سے رابطہ نہیں ہے۔ جب آئیں گے تو آئیںگے لیکن قرآن میں ایسے اولی الامر کی اطاعت کا ذکر ہے جس سے اختلاف کرنے اور بات اللہ اور اسکے رسول ۖ کی طرف لوٹانے کی گنجائش بھی ہو۔ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی اچھے ذاکر اور خطیب ہیں لیکن اس کی یہ بات شاید کسی شیعہ کی معتبر کتاب میں بھی نہیں ہوگی کہ رسول اللہۖ قیامت کے دن اپنی قوم سے قرآن کو چھوڑنے کی شکایت کریںگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو علی کے بغیر چھوڑ دیا ہے اور یہ ممکن ہے کہ ان کی کسی تفسیر میں ہو بھی سہی، کیونکہ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے معتبر اکابر شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب”منصبِ امامت” میں حضرت علی کے بارے میں ایسی احادیث لکھ دی ہیں۔ اگر رسول اللہۖ کو یہ شکایت صحابہ سے ہوگی تو ہمارا قصور تو نہیں ہوگا۔ البتہ یہ سمجھا جائے گا کہ جب تک مہدی غائب کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہوگا اسلئے کہ حضرت علی اپنے وقت کاامام اور موجودہ دور کا امام زمانہ مہدی ٔ غائب ہیں۔ ایران اور عراق کی حکومت بھی اہل تشیع کے پاس ہے لیکن جب تک مہدی ٔ غائب کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو شیعہ کے روحانی پیشواء کی طرح ایک ایسا اولی الامر عالمِ اسلام کو تشکیل دینا ہوگا جس سے دنیا کی سپر طاقتیں بھی اسلام کا نظام قبول کرنے کیلئے بخوشی تیارہوجائیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکرکام کرسکتے ہیں

مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکروہ کام کرسکتے ہیں کہ پاکستان اور سب سنی شیعہ اور تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مسجد نہیں بلکہ دنیا کی امامت کریں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی منیر شاکر پختونخواہ میں اپنے سنی ، دیوبندی اور پنج پیریوں کیلئے بھی ایک انتہائی متنازع شخصیت ہیں لیکن یہ شخص اچھے انداز میں سب کیلئے قابلِ قبول اور بہت زبردست ہوسکتے ہیں

علامہ جواد حسین نقوی اہل پاکستان میں اپنے اہل تشیع کیلئے متازعہ ہیں لیکن اہلحدیث ، دیوبندی اور بریلوی مکتبۂ فکر میں بہت تیزی کیساتھ قابلِ قبول اور انتہائی عروج پر پہنچ رہے ہیں

سنی اور شیعہ اپنے اپنے مؤقف پر مضبوطی سے ڈٹنے کا حق رکھتے ہیں اسلئے کہ نسل در نسل ہندو، سکھ اور عیسائی کو اپنے آبائی مذہب سے بدلنا آسان نہیں ہے اور جہاں شدت پسندی آتی ہے تواللہ نے ملائکہ کے استاذ عزازیل علیہ الصلوٰة والسلام کو بھی اپنے مقام ومرتبہ سے اُتار کرابلیس لعین الی یوم الدین ہمیشہ کیلئے لعنت اللہ علیہ والملائکہ اجمعین بنادیاہے۔ نورانی ملائکہ نے بھی اعتراض کیا کہ حضرت آدم کو خلیفہ بنانیکی کیا ضرورت ہے جو زمین پرخون بہائے اور فساد پھیلائے ؟ لیکن اللہ نے کہا کہ ”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔ فرشتوں کا لاعلمی میں سوال اُٹھانا اخلاص کی دلیل ہے ، گستاخانہ لہجے کی نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا جہالت ہے لیکن معصومانہ سوالات کا اظہار کوئی گناہ نہیں ہے۔ جبکہ شیطان اسلئے راندۂ درگاہ ہوا کہ اس نے شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ، تمہارے حکم پر میں اسکے آگے سجدہ نہیں کروں گا۔سب ملائکہ نے سجدہ کیا تھامگر ابلیس نے نہیں کیا۔
آج ہم نے بنی آدم کو فساد پھیلانے اور خون بہانے کے شیطانی عمل سے روکنے کیلئے عدل واعتدال اور صراط مستقیم کا راستہ اپنانا ہے۔ رسول اللہۖ نے حضرت عثمان کے نا حق قتل کی خبر پر صحابہ کرام سے احرام کی حالت میں جہاد کیلئے بیعت لی تھی لیکن جب پتہ چلا کہ خبر جھوٹی ہے تو صلح حدیبیہ کی شرائط پردستخط کئے اور اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ پر مخالف فریق مشرکینِ مکہ کا اقتدار تسلیم کرلیا ہے۔ اولی الامر کی حیثیت سے مشرکینِ مکہ نے یہ شرائط رکھی تھیں کہ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لاؤگے۔ تین دن سے زیادہ قیام نہ کروگے اور جب بھی نکلنے کیلئے کہا جائے تو نکلوگے۔ ایکدوسرے کیساتھ خفیہ اور اعلانیہ دشمنی نہیں کرینگے۔ اگر قریش کا کوئی فرد مسلمانوں کے پاس آجائے تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی فرد قریش کے پاس آجائے تو اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
آج جوغیرملکی مسلمان سعودی عرب میں رہتے ہیں ،ان کو عیسائی ممالک کی نسبت بہت کم انسانی حقوق حاصل ہیں۔ رسول اللہۖ نے اسلام کے بدترین دشمنوں یہود اور مشرکینِ مکہ کیساتھ بھی میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ کے معاہدے ریاستِ مدینہ کے داخلی اور خارجی محاذ پرفرمائے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام سلامتی اور ایمان امن کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ہمیں فرقہ وارانہ مسائل کی دلدل سے فرصت مل جائے تو اسلام کی ایک ایک بات سے پوری دنیا میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اسلام میں آزادیٔ رائے کا بھرپور حق ہے اور اس حق سے معاشرے میں امن وسلامتی اور آزادیٔ رائے کی اعلیٰ مثال نظر آسکتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں حضرت عائشہ پر بہتان طرازی کے مرتکب حضرت حسان، حضرت مسطح اور حضرت حمنہ بنت جحش نے اسّی اسّی (80،80) حدِ قذف کے کوڑے کھائے اگر اسلام نے برائی کو ہاتھ اور زبان سے روکنے کا حکم دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں ہے کہ اگر قانونی چارہ جوئی کیلئے کسی کے خلاف حق کی گواہی دی جائے تو اس پر اسّی (80)کوڑے حدِ قذف کی سزا بھی مسلط کی جائے۔
خلیفہ ٔ دوم حضرت عمرنے بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ کے خلاف گواہی دینے پر تین افراد کو کوڑے مارے تھے اور چوتھے فرد کی گواہی ناقص قرار دی تھی۔ اسلام کے چہرے سے جب تک اجنبیت کی یہ اُلجھنیں دور نہ کی جائیں اس وقت تک مسلمانوں کا کسی عقیدے اور نظام پر اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔
اگر دنیائے کفر کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے کہ مسلمان چوری اور سینہ زوری کے مرتکب ہیں تو وہ مسلمانوں کو امامت کے قابل سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے بلکہ اپنے اسلامی اقدار کیمطابق زندہ رہنے کا حق دینا بھی ان کیلئے مشکل ہوگا۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے علامہ سعد رضوی نہیں بلکہ وہ چھوٹے بیٹے جو بہت سیدھے سادے لگتے ہیں۔ اس کی رہائش فرانس یا کسی دوسرے مغربی ملک میں ہو۔ ایک بیگم اسلامی تعلیمات کے مطابق عیسائی یا یہودن ہو۔ اگر تین افراد اس پر چشم دید گواہ بن جائیں کہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب پائی گئی ہے لیکن وہ اعتراف جرم سے انکاری ہوجائے تو کیا اسلامی تعلیمات کا تقاضہ یہی ہوگا کہ ان گواہوں پر اسّی اسّی (80،80)کوڑے برسانے کا قانون بھی نافذ کیا جائے؟۔
دنیا میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسلام کا تقدس بالکل مصنوعی ،چوری اور سینہ زوری پر مبنی ہے لیکن ہم نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقت کو واضح کرنا ہوگا کہ مغیرہ ابن شعبہ پر الزام لگنے اور گواہوں پر کوڑے برسانے اور ام المؤمنین حضرت اماںعائشہ صدیقہپر بہتان لگانے والوں میں بڑا اور بنیادی فرق تھا۔ دونوں معاملات کو خلط ملط کرنے سے دنیا میں اسلام کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔ اسلام میں برائی کو روکنے اور آزادیٔ اظہار رائے کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کیخلاف پوری قوت اور شدومد سے آواز اٹھائی گئی۔ اگر واقعی جرم کی مرتکب ہوتیں تو قرآن نے امہات المؤمنین کیلئے فحاشی پر دوہری سزا کی وضاحت کردی ہے ۔عام عورت کو سو( 100)کوڑے کی سزا تو ان پردو سو (200)کوڑے کی سزا نافذ ہوتی۔ دوسری بات یہ ہوتی کہ ان کا نکاح بدکار یا کسی مشرک سے کردیا جاتا۔ کیونکہ طیب طیبہ اور خبیث خبیثہ ایک ساتھ ہوسکتے ہیں مگر بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کو مؤمنین پر حرام کردیا گیا ہے۔ اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہر مشرک مرداور مشرکہ عورت بدکار ہوتے ہیں لیکن ان کا قانون یہ تھا کہ مشرکین کے ہاں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے ایسے جوڑوں کی کھلی چھوٹ تھی۔ ویسے تو حضرت ام ہانی کے شوہر بھی مشرک تھے اور صحابہ جب مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے تو تب بھی بہت سے لوگ اچھے کردار کے مالک تھے۔
جب حضرت یوسف علیہ االسلام پر زلیخا نے بہتان لگایا تھا تو ایک بچے نے شواہد کے ذریعے سے غلطی اور جبر کی مرتکب حضرت زلیخا کو مجرم ثابت کیا تھا کہ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹ گئی ہے تو یوسف علیہ السلام مجرم ہیں اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹ گئی ہے تو حضرت یوسف پاک اور وہ زلیخا مجرم ہے۔ جب کسی کوبات کرنیکی اجازت نہ ہو تو پتہ نہیں کیا کیا قیامت ڈھائی جائے گی؟ اور جب نبی اور انکے حرم پر بات کی گنجائش ہو تو ان سے بڑا پھنے خان کوئی نہیں۔
حضرت عائشہ کی پاکدامنی کی گواہی بہتان لگانے والی حمنہ بن جحش کی سگی بہن ام المؤمنین حضرت زینب نے بھی دی جو مقابلہ رکھنے والی سوکن بھی تھیں۔ ایک ایک گوشے سے نبیۖ نے تسلی فرمالی توپھر وحی اُتری تھی۔ اسلام بڑا زبردست دین اسلئے ہے کہ ایک تو رائے کی آزادی ہے تاکہ برائی کہیں بھی پنپ نہ سکے اور دوسرا یہ کہ ام المؤمنین اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا بالکل یکساں ہے تاکہ کوئی مذہبی اور طاقتور شخصیت اسلام کے دامن میں جھوٹی پناہ نہ لے سکے۔ معاشرے میں بے لاگ اظہار رائے کی آزادی سے پاکدامن اور خبیث کے درمیان تفریق قائم کرنے میں بالکل بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔جب بلاخوف ماحول کا جائزہ لیا جائے توپاک اور پلید کی نشاندہی بہت آسان ہے۔
اسلام وحی کے ذریعے سے معاشرے کی اصلاح کے اصول بتاتا ہے لیکن معاشرے کی اصلاح صرف عقائد، نظریات اور الفاظ سے نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کیلئے صالح اعمال کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے صالح اعمال کا تعلق انفرادی اور اجتماعی معاملات سے ہوتا ہے۔ ایمان، صالح اعمال ، تلقینِ حق اور تلقینِ صبر انسان کو خسارے سے بچانے کیلئے ضروری ہیں۔ (سورۂ عصر) غلط گواہی دینے پر قرآن نے انسان کے دل کو گناہگار قرار دیا ہے۔ جب کوئی درست گواہی دیتا ہے تو معاشرہ اس کی سچائی کا قدر شناس ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے عصر کی نما ز دو رکعت پڑھائی تو کچھ لوگوں نے سمجھا کہ چار رکعت سے نماز کم ہوگئی ہے، کچھ لوگوں نے نبیۖ کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کی لیکن ایک شخص نے نبیۖ کے سامنے کہا کہ دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ شروع میں اس شخص کی بات پر نبیۖ نے یقین نہیں کیا لیکن جب تفتیش کرنے کے بعد بتایا گیا تو نبیۖ نے دو رکعت مزید پڑھائے اور فرمایا کہ ذی الیدین نے سچ کہاہے۔ انسانوں میں بعض اوقات سچ کہنے اور بے باکی میں فرق ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کی کلپ مشہور ہے کہ رسول اللہۖ کو میں اسلئے نہیں مانتا ہوں کہ میرے چچازاد یا خالہ زاد بھائی ہیںبلکہ اللہ کے حکم کی وجہ سے آپۖ کو مانتا ہوں۔ آپۖ کے والد عبداللہ، والدہ آمنہ، دادا عبدالمطلب ، چچاابوطالب کو میں نہیں مانتا ہوں۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی نے کہا ہو کہ آمنہ نے یہ فرمایا ہے۔ نبیۖ اللہ کے رسول ہیں اسلئے ہم آپۖ کو مانتے ہیں۔
مفتی منیر شاکر کی اس بات سے بہت سے لوگوں نے زبردست اختلاف کیا ہے اور کچھ لوگ اسکے حق میں بھی ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ ہمارے لئے صرف قرآن وحدیث معتبر ہے۔ مفتی صاحب مولانا حسین علی کی جماعت اشاعت التوحید والسنة کے قائل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مولانا طاہر پنچ پیری کے بیٹے مولانا طیب طاہری نے حق کے مشن سے انحراف کیا ہے اسلئے وہ مخالف پیر سیف الرحمن اور مولانا طیب طاہری میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔
جب لعان کی آیات نازل ہوئی تھیں تو انصارکے سردار سعد بن عبادہ نے کہا کہ میں قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے لعان نہیں کروں گا بلکہ بیوی اور اس کیساتھ ملوث شخص کو قتل کردوں گا۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز نے ہندوؤں کی رسم ستی کو ختم کردیا کہ جب وہ خاوند کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو جلاڈالتے تھے۔ بلوچوں کی رسم تھی کہ چور کو اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے آگ کے انگاروں سے گزرنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں میں یہ رسم تھی کہ بیوی کو فحاشی میں مبتلا دیکھ موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا، انگریز نے بھی تعزیراتِ ہند میں غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیدی تھی اور اب بھی یہ رسم موجود ہے۔
مفتی منیرشاکر ایک غیرتمند پختون اور مسلمان خود کو سمجھتا ہے لیکن اگر قرآن میں اللہ نے اور سنت میں رسول ۖ نے حلالہ کی لعنت پر عمل کرنیکا حکم نہ دیا ہو بلکہ اس رسمِ جاہلیت کو بالکل بنیاد سے ختم کردیا ہو توپھر نام نہاد اکابرعلماء و مفتیان کو احبار ورہبان کی طرح اپنا ارباب بنانا کیاجائز ہوگا کہ لوگوں کو رسم جاہلیت کے حلالے پر مجبور کیا جائے؟۔ مشرکینِ مکہ میں حلالہ کی رسمِ جاہلیت بے غیرتی کے لحاظ سے ہندوؤں کی رسم ستی سے بدرجہا بدترین تھی۔ آج بھی غیرتمند عورتیں ہندوؤں کی رسم ستی کو قبول کرلیںگی مگر حلالہ کی لعنت کو قبول نہیں کریں گی۔
پچھلے سال اسلام آباد میں پورا الیکٹرانک میڈیا، مذہبی وسیاسی لیڈر شپ ، حکمران اور اپوزیشن اورعمران خان ، مولانا فضل الرحمن، ن لیگی رہبران اور سبھی آٹھ (8)آزادی عورت مارچ کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔روڈکے ایک طرف کپڑے پیچھے کے خواتین تھیں اور دوسری طرف پر جوش مذہبی طبقہ تھا۔ خون آلود ہونے کی خبر خواتین نے اپنے کیمپ کے حوالے سے دی لیکن ایف آئی آر ایک بے غیرت کاکڑ مولوی نے اپنے زخمی ہونے کی کٹوائی تھی ۔ ان کو کاٹو تو ایک قطرہ ٔ خون بھی غیرت کا نہیں نکلے گا۔ قرآن نے طلاق سے رجوع کیلئے شرط عدت اور اصلاح کی رکھی ہے مگر یہ قرآن کے فطری حکم کا انکار کرکے نہ صرف کفر کے مرتکب بلکہ انتہائی بے غیرتی، بے شرمی، بے حیائی، بے مروتی، بے حسی، بے ضمیری اور بے تکے الفاظ ومعانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر میری کتابوں کا مطالعہ کرکے دلائل سے مطمئن ہوکر قرآن کی آیات سے لوگوں کو آگاہ کرسکتے ہیں۔
علامہ عابد شاکری کہہ سکتے ہیں کہ مفتی صاحب ! اگر آپ نے یزید کو ماننے کی بجائے ابوطالب کو مانا ہوتا تو حلالہ سے خواتین کی عزتیں تارتار نہ ہوتیں۔ ہوسکتا ہے کہ ابوطالب نے اسلام کو بھی قبول نہیں کیا ہو کہ سجدوں میں چوتڑ ہم سے نہیں اٹھائے جاتے ہے مگر غیرت پاسبان رہتی تو حلالہ کی بے غیرتی اور یزید کے مظالم تک کم ازکم بات نہ پہنچتی۔علامہ ساجدنقوی ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جب سعد بن عبادہ نے ان کی خلافت کو نہ مانا، تب بھی سعد بن عبادہ کی صحابیت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ اگر جن نے ان کو شہید کیا اور وہ جن زندہ ہے تو جنات سے اسکو سزائے موت دی جائے۔ علامہ ساجدنقوی کہتے ہیںکہ توحیدورسالت کی گواہی کوفہ ،عراق اور کربلا میں ہے مگر شہادت ثالثہ ”علیاً ولی اللہ وخلیفہ بلا فصل” وہاں نہیں جو پشت درپشت ائمہ اہلبیت سے منسلک ہیں اسلئے برصغیر پاک وہند کے شیعہ بھی اپنی اس بدعت سے باز آجائیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا.

پنجاب میں سینٹ الیکشن کا کریڈٹ چوہدری پرویز الٰہی اور مرکز میں پی ڈی ایم (PDM)کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمن کو جاتا ہے۔ جمہوریت سرخرو ہوئی مگر نظام کے منہ پر انتخابات نے کالک مل دی

(کالم تیز و تند)  تحریر: قدوس بلوچ

بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا لیکن یہ پتہ کیسے چل سکتا ہے کہ خفیہ بیلٹ میں ضمیر کی آزادی کا معاملہ ہے یا بے دریغ پیسہ اس میں ملوث ہے؟

جہاں قلم اور اسکی سطروں کا تقدس بکتا ہو،جہاں اینکر پرسن اور میڈیا ہاؤس اپنی عزت کا بھرم کسی کی وکالت کرتے ہوئے گٹروں میں ڈبکیاں کھاتادکھائی دے وہاں ضمیر کا کیا سوال ہے؟

پہلے زمانوں میں جب معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ کسی نبی یا رسول کی بعثت سے اصلاح وہدایت کے راستے کھول دیتا تھا۔ یقین وایمان والے اپنے اعمال کی پوری اصلاح کرکے سرخرو ہوجایا کرتے تھے۔ اور کافر ومنافق اپنے حربوں کے ذریعے عتاب وعذاب تک پہنچ جاتے تھے۔ جب سے نبوت کا سلسلہ ختم ہوا ہے تو امت کی اصلاح کیلئے قرآن کی رہنمائی موجود ہے اور علماء کرام و اولیاء عظام نے ہردور میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جب انگریز نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تھا تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے ایک طرف مجاہدین کی قیادت کرنے کی کوشش فرمائی ، دوسری طرف سیاسی محاذ پر اپنی جدوجہد کو تیز کرنے کی مہم کی سرپرستی فرمائی اور تیسری طرف فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنیکے محاذ پر کام کیا۔ فیصلہ ہفت مسئلہ دیوبندی بریلوی اختلافات کا حل تھا۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے حیدر آباد دکنی ماموں نے فرقہ واریت ہی سے توجہ ہٹانے کیلئے وہ بیہودہ حرکت کی ہو جس کی وجہ سے علماء دیوبند نے شیعہ اور بریلوی مکتب کا پیچھاچھوڑا ہو کہ ” اپنے مسلک کو چھوڑو مت اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑومت”۔
مولانا فضل الرحمن میرے بڑے بھائی عبدالقیوم کے ہم جماعت تھے ، ملتان میں ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ میرے والد مولانا عبدالمالک کے مرید تھے۔ علماء دیوبند سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ مذہبی جلسے جلوسوں میں ایک روحانیت ملتی تھی ۔ ہمارا تعلق حضرت حاجی محمد عثمان سے تھا۔ مفتی محمد تقی و مفتی محمد رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق صاحب نے حاجی عثمان سے بیعت کی تھی اور وہ بڑے خلیفہ بھی تھے۔ پھر وقت آیا اور آزمائش کی وجہ سے علماء سمیت بڑے فوجی افسران اور دنیا دار لوگ سب بھاگ گئے۔ جلسوں اور الیکشن میں ہم نے مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرتے ہوئے سید عتیق الرحمن گیلانی کی بھرپور حمایت بھی دیکھی ہے ۔ جب نیب کی طرف سے مولانا کی گرفتاری کا شدید خطرہ تھا تو شہہ سرخی کیساتھ مولانا کی ایسی حمایت کردی کہ دنیا حیران اور پریشان ہوگئی لیکن جونہی خطرہ ٹل گیا تو پھر ہمیں خبر لینے کی بھرپور اجازت بھی مل گئی ۔
ہم نے بہت پہلے کارٹون شائع کیا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں مولانا فضل الرحمن اتحاد کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیں اس کوشش سے کوئی اختلاف بھی نہیں اور صحافت میں اپوزیشن ہی کو سپورٹ کرنا ایک صحتمند صحافت کا تقاضہ ہوتاہے۔ اگر بالفرض مولانا فضل الرحمن کو نیب گرفتار بھی کرلیتی تو جمعیت کے کارکن بھی پی ٹی ایم (PTM)کی طرح جذباتی بن جاتے ۔ن لیگ و پیپلزپارٹی کے قائدین، رہنما اور کارکن بھی اپنے مقاصد کیلئے مولانا کی حمایت اور حکومت وریاست کی مخالفت کرتے۔ ہمارا مقصد مولانا فضل الرحمن کو سیاست کی طرح مذہبی معاملات میں بھی سردمہری کا شکار ہوجانے کے بجائے فعال کردار ادا کرنیکی طرف متوجہ کرنا ہے۔ جو ان کا اصل منصب اور ہدف بھی ہے۔
ہم نے لکھ دیا تھا کہ مشہور ہے کہ اونٹ اور اونٹنی کا ملاپ انسان کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں جانوروں کے چھوٹے جراح ہوتے تھے جن کو سلوتری کہا جاتا تھا۔ ان کا کام جانوروں کے پیٹ میں مرے ہوئے بچوں کو بھی ہاتھ سے ہی نکالنا ہوتا تھا۔ اونٹوں کے معاملے میں بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ پہلے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو ملانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب شاید بلکہ یقینا چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں تحریک انصاف اور ن لیگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پنجاب میں ن لیگ بھی متفق ہوجاتی تو تحریک انصاف کی حکومت کو پنجاب سے چلتا کرنے میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور ق لیگ کیلئے کوئی مشکل نہ تھی لیکن ن لیگ کی چاہت نہیں تھی اسلئے مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ نے پیپلزپارٹی کیساتھ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ہم نے حقائق سے پردہ اُٹھانے میں دیر نہیں لگائی اسلئے ن لیگ اور جمعیت والے دبک کر بیٹھ گئے۔ پھر پیپلزپارٹی کی مدد سے ق لیگ نے سینٹ الیکشن کو پنجاب کے اندر بلامقابلہ انتخابات میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔ایک اچھی اور جاندار صحافت کے بہت ہی زبردست نتائج نکل سکتے ہیں۔ مریم نواز سے پنجاب کے متفقہ سینٹ پر سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ ”میں اس پر تبصرہ نہ ہی کروں تو اچھاہے”۔ سلوتری کے کردار پر راضی ہوتی توتبصرہ بھی کرتی۔
پیپلزپارٹی سے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے تحریکِ عدم اعتماد پر اعداد وشمارمانگ کر پنجاب اور مرکز میں یہ امکان ن لیگ کی وجہ سے مسترد کیا تھا وہ بالکل ہی غلط تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کو بھی مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز کی ایماء پر ڈانٹ دیا تھا۔ جس کا چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہاہے کہ مولانا مجھ پر کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں؟۔
پنجاب اور مرکز میں ق لیگ کیساتھ مل کر ن لیگ کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہوجائے تو مریم نواز کا کہنا بنتا ہے کہ لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ نے وعدہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی مدت پوری ہونے دیگی تو پھر اپوزیشن کا شوشہ چھوڑ کر عوام اور صحافیوں کا وقت بھی ضائع نہ کیا جائے۔ البتہ اگر پی ڈی ایم (PDM) لانگ مارچ کے ذریعے سے حکومت گرانا چاہتی ہے تو بھی اچھی بات ہے۔ نظام میں تبدیلی کیلئے ہل چل کے حق میں ہم بھی ہیں۔ اگر اس ہل چل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نوازشریف کی طرح مریم نواز بھی علاج کی غرض سے چھوٹے سے آپریشن کیلئے باہر چلی جائے تو جتنا خرچہ مولانا فضل الرحمن پر کیا گیا ہے وہ بھی وصول ہوجائیگا۔
ہماری چاہت ہے کہ اہم اسلامی معاملات کو اُٹھاکر بحث کا آغاز کیاجائے تاکہ میثاق مدینہ سے یہود کی سازشوں کیلئے زبردست بند باندھا جاسکے۔ اسلامی مزارعت سے سود خوروں اور مفاد پرستوں کے قلع قمع میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت، معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے.

چہرے نہیں اب نظام کی تبدیلی
پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت،
معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن ایک متفقہ بل پیش کریں۔ جس پر پاک فوج، عدلیہ ،صحافیوں ، علماء ومفتیان اور دانشوروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے ۔
(1) حدیث صحیحہ،امام ابوحنیفہ اور جمہور ائمہ کے نزدیک زمین کو مزارعت ، کرایہ اور کسی بھی طرح کا نفع اٹھانے کیلئے دینے کو ممنوع قرار دیا جائے۔ جب کسانوں کو مفت میں زمین مل جائے گی تو کاشتکار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے قابل ہونگے۔ ضرورت کی چیز خرید سکیںگے تو ہمارے تاجروں کے کارخانے، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے اور بازاروں اور دکانوں میں ریل پیل ہوگی۔ کاروبارِ زندگی رواں دواں ہوگا۔ جب سود حرام ہونیکی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ مدینہ کی جس ریاست نے دنیا کی سپر طاقت کو شکست دی تھی تو اس کی وجہ کاشتکاروں اور تاجروں کی ہی خوشحالی تھی۔اگر وہ خود بھوکے مرتے یا قرض پر چلتے تو دنیا کو مظالم سے چھٹکارا دلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تھے۔ ملک میں محنت کشوں کی خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا تو پھر ریاست، حکومت اور عوام الناس سب خوشحال ہونگے۔ جاگیردار اپنے لئے مہنگی گاڑی، بیرون ملک سفر اور عیش وعشرت کا سامان کرتا ہے تو ایک طرف کاشتکار بھوکا مرتا ہے تو دوسری طرف مقامی تاجروں کا کاروبار نہیں چلتا ہے۔
(2) ریاست اور حکومت سے عوام الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے یہ ختم کی جائیں۔ ٹریفک اور عام پولیس سے لیکر نچلی سطح سے اعلیٰ عدالت تک لوگوں کو جس غضب سے گزرنا پڑتا ہے اس کا احساس وہی کرسکتا ہے جس کو ان سے واسطہ پڑجائے۔ پیٹ کے چکر میں ریاست کے اہلکار عوام سے وہ سلوک کرتے ہیں جو اپنے جانوروں سے بھی کوئی نہ کرے۔ ہماری چھبیس (26) خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ دن دیہاڑے زمینوں، دکانوں اور پلاٹوں پر قبضے ہوجاتے ہیں۔ جعلی کاغذات کے چکر چلائے جاتے ہیں۔ پیسہ اور طاقتور طبقہ کی وجہ سے مظلوم سالوں اپنے حق کیلئے رُلتا ہے مگر اس کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی نے کہا کہ اُوپر انصاف کا جھنڈا ، تلے انصاف بکتا ہے ایسی عدالتوں کو بمع عملہ ڈھادو۔
(3) ریاست، حکومت اور سیاسی پارٹیوں نے پرائیوٹ بدمعاش رکھے ہیں۔ظالموں کا خاتمہ کرنے کیلئے پورے معاشرے میں گلوبٹوں کو ہرقیمت پر تاریخی سبق سکھانا ہوگا اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور بالکل ختم کرنا ہوگا۔ شریف عوام کے ٹیکس کی رقم سے اور شریف شہری پر بدمعاشوں کو مسلط کرنے والوں کو بھی سخت سے سخت سزا دینی ہوگی۔ البتہ یہ بھی نہیں ہوگا کہ کسی علاقہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہو اور عوام حملہ آوروں کو چھپائیں کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ریاست جانے اور اس کا کام جانے۔ خطرناک باغیوں کو پھانسی سے لیکر اصلاحی سینٹروں تک منتقل کرنے کی ایسی قانون سازی کی جائے کہ کوئی خاتون اپنے بے غیرت شوہر، بیٹے اور بھائی کیلئے کبھی احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔
(4) آرمی چیف اور دیگر عہدوں میں مدت کی توسیع کا قانون ختم کیا جائے اسلئے کہ پھر پرویز مشرف کی طرح وردی کو کھال قرار دینے والے پاک فوج کے پروفیشنل افسروں کے حقوق معطل کریںگے۔ ایسے نالائق لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی نہیں دی جائے جو اس اہم عہدے کو سنبھالنے کی صلاحیت سے عاری ہوں۔ اس کی وجہ سے پاک فوج میں بھی بد دلی پھیلتی ہے۔ سینئر جرنیلوں میں سے ٹاس پر نام نکالا جائے تاکہ کسی جرنیل کو منتخب کرنے کا سہرا کسی وزیراعظم یا آرمی چیف وغیرہ کے بھی مرہونِ منت نہ ہو۔
(5) مجرم کی غلط پشت پناہی اور کسی کیساتھ ناجائز کرنے پر وکیل، جج اور پولیس والے کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ کسی بھی سرکاری محکمہ میں رشوت پر پھانسی کی سزا مقرر کی جائے۔ ووٹ خریدنے اور بیچنے والی پارٹیوں اور ارکان اسمبلی کو تختہ دار پر لٹکانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ وردی یا وردی کے نام پر لوگوں کو تنگ کرنے والوں کو چوکوں پر لٹکایا جائے۔ ام المؤمنین اور عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن اب کرپٹ سیاستدان کی ہتک عزت اور عام آدمی کی سزا میں بہت فرق ہے۔ پاکستان کے آئین کو اسلامی بنانے کیلئے حلالہ کی لعنت میں ملوث علماء نے بھی کوئی کردارادا نہیں کیا ہے اور خواتین کے شرعی، معاشی، معاشرتی ،اخلاقی اور سیاسی حقوق بھی غصب کررکھے ہیں۔ یہ چند نمونے ہیں اور اگر اخلاص کا مظاہرہ ہوا تو ملک کی بچت ہوگی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat