پوسٹ تلاش کریں

ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی امریکی لیکن دجالی کردار بالکل واضح

امریکہ نے ہر دور میں منافقت، چالبازی، ڈکٹیٹر شپ ، دوغلہ پن اور دجال کا کردار ادا کیا۔ اسرائیل کو اپنا ازلی دشمن سمجھنے والے عرب اور پاکستان نے بھی اسرائیل کے سرپرست بلکہ گماشتہ امریکہ کو سرپرست بنایا۔ جہادِ افغان کے وقت سوشلسٹ شعراء ، ادیب ، دانشور، اور سیاستدان اسرائیل کیخلاف جہاد کا روتے روتے ذکر کرکے مرگئے لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔ امریکی صدر اور جرنیلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہادری کا مظاہرہ کرنیوالا گلبدین حکمتیار نے حکمتِ عملی کو تبدیل کرکے شاید پھر افغانستان میں بہادری کے جوہر دکھائے مگر وہ کل بھی امریکہ کیساتھ تھا اور آج بھی ہے۔ اب سوشلسٹ لیڈر حبیب جالب، فیض وغیرہ بھی آج کے ہیرو بن گئے ، جوکل کے زیرو تھے اورآج گلبدین زیرو ہے۔
امریکہ نے بار بار ایران وسعودیہ کو ڈبونے اور بچانے کا ڈرامہ رچاکر مقاصد حاصل کئے، پاکستان کیساتھ یہی کرتا ہے، منافقت کا ہار گلے میں ڈالنے کی دہائی دیتا ہے پھر ہمارے خلوص، وفاداری، بہادری کا جواب سن کرچپکے سے مسکراکر اطمینان کی سانس لیتا ہے کہ ابھی تک وفا برقرار ہے۔ کوئی یہ جسارت نہیں کرتا کہ ہم پر الزام لگاتے ہو، افغانستان میں حامد کرزئی امریکہ کو دہشتگردی کامنبع کہتا ہے اوراسامہ بن لادن کا پتہ نہیں کہ دوشیزہ کا لباس پہن کرٹیرن سیتا وائٹ کیساتھ امریکی ہوٹلوں میں گھوم رہا ہواور اسرائیلی طیارے میں یہاں ملکر بھی گیا ہو۔
یہ نہیں کہ فوج میں کوئی دانشور نہیں، سب زید حامد ہیں۔ فیض بھی فوجی تھامگر عسکری طبع دانشمندی کے تقاضے سے عاری ہے اسلئے سیاسی قیادت انکے ہاتھوں میں نہیں دی جاتی اوریہی حال صوفیوں کا ہے اسلئے خضر کو ویرانے کی عادت تھی۔ صحابہؓ کے صوفی ابوذر غفاریؓ تھے۔ ابوذرؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ مجھے حاکم بنادیجئے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ جو اقتدار مانگے اسے ہم نہیں دیتے‘‘۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ جیسی اہلیت والے کو آپﷺ اقتدار دیتے۔ ابوذر غفاریؓ نے ویرانے میں ہی آخری زندگی گزار دی۔ خالد بن ولیدؓ بہترین سپاہ سالار تھے لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو عہدے سے اس انداز میں برطرف کیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ خالد بن ولیدؓ جمعہ کے دن خطبہ کیلئے منبر پر چڑھ گئے تو حضرت عمرؓ کے نمائندے نے طے شدہ پروگرام کے تحت اٹھ کر پوچھا کہ شاعر کو آپ نے انعام جیب یا حکومت کے فنڈز سے دیا؟، دونوں صورتوں میں آپ برطرف ہیں۔ اگر حکومت کا فنڈز استعمال کیا تو تم کون ہودینے والے؟ اگر جیب سے دیا تو فضول خرچی کی بنیاد پر اس قابل نہیں ہو کہ مزید اقتدار کی کرسی پر بیٹھ سکو۔ خالد بن ولیدؓ نے بلا چوں چرا حکم کی تعمیل کی، منبر سے اترکر عام سپاہی بنکے لڑنے کوترجیح دی۔ ہماری فوج کا یہ شعار تھا کہ جونئیر کو آرمی چیف بنایا جاتا تو سینئر استعفیٰ دیتا۔ پہلی مرتبہ ایک جنرل نے سینئر ہونے کے باوجودجوائنٹ چیف کا عہدہ اسلئے قبول نہ کیا کہ خالد بن ولیدؓ کی روایت کو دھراناتھا بلکہ انکے دو بھائی بڑے فوجی افسر تھے ہمارا نظام منافقانہ ہے۔ بری، بحری اور فضائیہ کے مشترکہ چیف کو ہی طاقت کامنبع ہونا چاہیے تھامگر ہمارے ہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے۔ وزیراعظم کی بجائے صدرکی طاقت زیادہ ہونی چاہیے تھی مگر اس قوم کااپنا کوئی دماغ نہیں، انقلابی اقدام کیلئے آرمی چیف کی جگہ جوائنٹ چیف اور وزیراعظم کی جگہ صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم ایک وزیر اور صدراصل امیر ہوتاہے۔
سوشل میڈیا پر خبر ہے کہ سینیٹر علامہ ساجد میرنے کہا کہ جنرل جاوید قمر باجوہ قادیانی ہے تو علامہ زاہدالراشدی نے کہا کہ آرمی چیف ہمارا پڑوسی ہے ۔ پورا خاندان قادیانی نہیں، یہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے ۔ پھر تحریک لبیک کے رہنما پیر افضل قادری نے علامہ خادم حسین رضوی کی موجودگی میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو کافر کہا تو اوریا مقبول جان نے کہا کہ میرے پڑوسی پیر افضل قادری نے غلط بہتان لگایا، میں قیامت کے دن گواہی نہ دینے کے جرم سے بچنے کیلئے حقیقت بتارہا ہوں۔ جب جنرل باجوہ کیلئے آرمی چیف کا کوئی چانس نہ تھا تب کراچی کے پروفیسر نے خواب دیکھا کہ حضور ﷺ نے جنرل باجوہ کو ایک تحفہ دیا،یہ تحفہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے لینا چاہ رہا تھا مگرمیں نے کہا کہ بائیں نہیں دائیں ہاتھ سے لو۔ پھر وہ شخص جنرل باجوہ کے پاس آیا توشکل سے پہچان لیا۔ جنرل باجوہ کو اس کی تعبیر یہ بتادی کہ آرمی چیف بنوگے۔ انکا جواب تھا کہ یہ ممکن نہیں، مجھ سے کافی سینئر ہیں، جنکا اثر رسوخ اور صلاحیت بھی زیادہ ہے لیکن پھر اس خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔
یہ خواب سچا ہوتو اللہ کرے کہ جنرل باجوہ بائیں ہاتھ سے جو تحفہ لے رہا تھا وہ اب دائیں ہاتھ سے لے۔ طالبان کے مقابلے میں صوفی ازم کے حامیوں علامہ خادم حسین رضوی اوربشریٰ مانیکا کے چیلے عمران خان کو پاکپتن کے مزار پر یوٹرن کی عظیم تقریب کے بعد وزیراعظم کی کرسی پر براجمان کرنے کی حرکت تحفہ بائیں ہاتھ سے لینے کے مترادف تھا۔ساجد میر کے قائد نوازشریف نے جنرل باجوہ کو اسی لئے آرمی چیف بنایا ہوگا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نوید مختار اسکے رشتہ دار تھے اور آئی ایس آئی ذرائع نے بتایا ہوگا کہ جنرل باجوہ پرقادیانی کا داغ تھا ۔ پہلے فوج پر قادیانیوں کا اثر ورسوخ تھا اور جو قادیانی نہ تھے تو بھی خود کو احمدی بنا کر نااہل ہونے کے باجود بھرتی ہوتے ۔ اللہ کرے کہ جنرل باجوہ سیدھے ہاتھ سے فرقہ واریت ، ملک دشمنوں اور نااہل سیاستدانوں کو سہارا دینے کے بجائے خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ساجد میر کو بتاناچاہیے کہ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے ہی ختم نبوت کیخلاف حرکت کی تھی جوبہت مہنگی پڑ گئی۔
داؤد علیہ السلام کے دور میں اوریا مجاہد تھا جسکی بیگم بادشاہ داؤد ؑ لیتے توبھی وہ حق کی آواز نہ اٹھاتا مگر اللہ نے ’’میرے پاس ایک دنبی ہے اور اسکے پاس 99 دنبیاں ہیں‘‘ کی بات سے وہ بچالی، ورنہ مجاہد وفاداری کا ثبوت دیتا تو اوریا جیسے بیوروکریٹ تائید کرتے۔ حق کی گواہی پرجن مشکلات کاسامنا ہوتاہے انکا اوریا مقبول جان نے کبھی خواب تک بھی نہ دیکھا۔ایسے خواب تو بریلوی دیوبندی اور قادیانی بھی دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟۔ گیارہویں خلیفہ کا دعویدار خواب سے پھر کیوں پکڑا؟۔ یوسف رضاگیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کے علاوہ کتنے اغوا ہوکر افغانستان پہنچے مگر اس کو لسانی تعصبات کا نام دینا درست نہیں۔ منظور پشتین کا دادا بھی کشمیر کا مجاہد تھا اور کشمیرکے ایک مجاہد سے قیادت کرنیوالے پیر آف وانا نے اپنی مقبوضہ بیوی چھین لی تھی۔ نہیں پتہ کہ وہ منظور پشتین کے دادا تھے یا اس کا کوئی اور ہم قبیلہ۔ فوج، پیر وں اور مجاہدین کو تثلیث سے نکل کر حقائق کی طرف آنا ہوگا۔ جس دن علماء نے اپنا کردار درست کیا تو سب کچھ درست ہوجائیگا ورنہ کھلاڑی اور شکاری بھیس بدل بدل کرآئیں گے ۔عوام کو بے روزگار، بے گھر کیاجارہاہے ۔پانی کیلئے ترسایا جارہاہے جسکا حل ضروری ہے۔اسلام تمام قسم کے معاشی ، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا حل ہے۔ اسلام کے خول میں رہ کر اپنے بنیادی مسائل حل کرنے ہونگے اور پاکستان کے خول میں رہ کر ملکی و بین الاقوامی مسائل کے حل کیلئے سرکاری اور سماجی سطح پر عمدگی سے چلنا ہوگا۔ سیدعتیق گیلانی

طالبان فوج پر خودکش کر رہے تھے تو عمران خان اور فیصل واوڈا نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی

خصوصی مدیر ارشاد نقوی نے کہا کہ یہ بڑا عجیب تماشہ ہے کہ پولیس خاتون افسر بے خوف و خطر موقع پر پہنچ گئیں اور اس کا کہنا تھا یہ ہماری ٹریننگ ہے۔ کوئی پولیس والا بھی مشکوک افراد کی مشکوک اشیاء کو چیک کرتے ہوئے جان پر کھیلنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا نے سستی شہرت کیلئے باڈی گارڈ کیساتھ پہنچ کر کوئی عزت نہیں کمائی ۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ اب تو جیکٹ اتار دے جس پر کمانڈو نے جیکٹ اتاری، طالبان فوج پر خودکش کر رہے تھے تو عمران خان اور فیصل واوڈا نے دُم گھسیڑی ہوئی تھی۔ بینظیر بھٹو شہید نے کہا تھا کہ طالبان کو ماہانہ دو سو ڈالر ملتے ہیں اور پھر ان کو شہید کردیا۔ مخدوش فضاء ختم ہوئی تو عمران خان اور فیصل واوڈا کی طرف سے ماشاء اللہ چشم بد دور بہادری کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ملک لوٹنے والوں نے ڈیم کیلئے چندہ نہیں دیا۔ ہم ان سے پیسہ واپس لیکر ڈیم بنائیں گے‘‘۔ حضور والا ! آپ نے نواز شریف کو نیب کے حوالے کیا اور نیب نے سزا دی ، آپ نے چھوڑ دیا اگر پکڑ کر لوٹی دولت واپس لیتے تو اپنا کام کرتے، چندوں کی ضرورت نہ پڑتی۔ جب چندہ لے رہے ہو تو مشکل ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزا وار… کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟

پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر علماء کرام اسلام کی روح ہی نکال چکے تھے۔ علامہ اقبال کی دعوت اسلام کی نشاۃ ثانیہ بیت اللہ محسود نے ’’وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو ہو جس کی رگ وپے میں فقط مستئ کردار‘‘ زندہ کردی۔پاکستان کی سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جہادِ افغانستان سے روس کے مقابلہ کیلئے جو کھایاپیا، اسکی ایک سبیل پھر اس وقت نکل آئی جب امریکہ نے 9/11کے بعد افغانستان میں اپنے مجاہدین کو مار بھگانے کا پروگرام بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر ڈومور کا مطالبہ کیا تو آرمی چیف باجوہ نے ’’نومور‘‘ کی صدا بلند کردی ۔
اسلام کی بیخ کنی کیلئے فرقہ واریت ،ملک کی بیخ کنی کیلئے لسانیت کافی ہے۔ قائداعظم کی بڑی خوبی لسانیت و فرقہ واریت سے ماوراء ہونے کی تھی۔ پاکستانی وزیر اعظم،صدر مملکت ،آرمی چیف، چیف جسٹس تمام ذمہ دار عہدوں پر تعینات شخصیات میں یہی قدرِ مشترک ہی معیار ہے۔پاکستان کی تمام لسانی اکائیاں قدر ومنزلت کے لائق ہیں، سب پھولوں کا الگ الگ رنگ اور جدا جدا خوشبو ہیں۔ قادیانیوں کو فرقہ واریت نے نگلا ،شیعہ فرقہ واریت کا خمیازہ بھگت چکے۔ سپاہِ صحابہ کو فرقہ واریت نے ختم کرڈالا۔ سنی تحریک کو فرقہ واریت نے انجام کو پہنچایا ۔ تحریک طالبان فرقہ واریت سے نابودہوئی۔ ولی خان اور محمود اچکزئی لسانیت کی وجہ سے وہ مقام حاصل نہ کرسکے جسکے وہ مستحق تھے۔ بلوچوں کی قیادت لسانیت کی وجہ سے ناپید ہوگئی۔ کراچی سے راولپنڈی تک ریاست کو ہلا ڈالنے والے وزیرستانی مشکلات سے نکلے مگر بلوچ خواتین اور معصوم بچے تاایں دَم مشکلات کے گرداب میں ہیں۔ کبھی پختون و بلوچ کا پلیٹ فارم ایک تھا، اب بلوچ الگ ہیں پھر وہ وقت بھی آئیگا کہ بلوچ اور بروہی بھی بالکل الگ الگ ہونگے۔
اپنی قوم وزبان سے محبت ایمان اور تعصب کفر ہے، جن میں فرق باریک مگر بہت واضح ہے۔ جس طرح کان کے پردے آواز سے بھی پھٹتے ہیں پھر انسان موٹی اور باریک آواز سننے سے عاری ہوتا ہے ،اسی طرح اپنی قوم سے محبت و تعصب کے درمیان پردے کو نعروں سے پھاڑا جاسکتا ہے۔ جسکے بعد بہری قوم کو کچھ سجھائی نہیں دیتا، جس طرح زور دار تھپڑوں سے بہرے کا علاج ممکن نہیں، اسی طرح کسی قوم کو تعصب کی پٹری سے اتارنا مشکل ہے۔ کون بہروں کو سمجھائے کہ اگر طالبان اور بلوچ قوم لڑنے میں قانون کا سہارا لیتے تو مجرموں سے قانونی برتاؤ کیا جاتا۔اگر وہ اپنا راستہ طاقت سے ڈھونڈیں تو طاقت سے ہی انکا قلع قمع کیا جانا ہے۔ طاقتور طاقت استعمال کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے اور کمزور اس کو یہ موقع فراہم کردے تو اس میں کمزور ہی کا نقصان ہوتا ہے۔ فاروق اعظمؓ وامیر حمزہؓ کی طاقت ابوجہل وابولہب سے کم نہیں تھی لیکن مسلمانوں کی حالت کمزور تھی تو اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں اپنے دفاع کیلئے بھی جہاد کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں نے کفار سے جہاد کا کوئی پروگرام نہیں بنایا تھا بلکہ یہ تو شام کامال بردار قافلہ لوٹنے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے قتال میں بدل ڈالا۔ غزوات کی قیادت رسول اللہ ﷺ نے بنفس نفیس کی تھی ۔ غزوۂ اُحد میں صحابہ کرامؓ کے پیر میدان سے اُکھڑ گئے تو نبی ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا تھا کہ
انا نبی لا کذب انا ابن ابن عبدالمطلب
’’میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں اور ابن عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں‘‘۔ اللہ نے فرمایا تھا کہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اور محمد (ﷺ) کیا ہیں؟ مگر رسول ، بیشک آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے تو کیا اگر آپ فوت ہوں یا قتل کردئیے جائیں تو آپ لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ بہترین نمونہ ہے جو قرآن کی رہنمائی سے بھرپور ہے۔ صحابہؓ کے قدم میدان سے اکھڑ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے نبوت اور حضرت عبدالمطلبؓ کی اولاد ہونے پر فخر کا اظہار فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے پیرائے سے رہنمائی کا حق ادا کردیا۔ انبیاءؓ کی ایک بڑی فہرست تاریخ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں لیکن ان کے فوت ہوجانے یا قتل ہوجانے سے کیا تم اُلٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوگے؟۔ اللہ تعالیٰ نے سیرت طیبہ کو اعلیٰ ترین رہنمائی کا ذریعہ اسلئے قرار دیا ہے کہ قدم قدم اور لمحہ بہ لمحہ رہنمائی کا سلسلہ موجود رہتا تھا۔غزوہ بدر میں عبدالمطلب کا ایک بیٹا ابولہب قتل اور دوسرا عباس گرفتار ہوا۔ خاندانی عصبیت و فوقیت کی اللہ نے تائید نہ کی۔
ہماری قوم پاکستانیوں کیلئے بہترین جمہوری روایات ،لکھنے بولنے کی آزادی کے مواقع ہیں لیکن ہمارے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی حیثیت دولہوں کی طرح، سیاسی رہنماؤں کا برتاؤ میراثیوں اور سیاسی کارکنوں کی حیثیت باراتیوں کی طرح ہوتی ہے۔ قائد وزیراعظم بنتا ہے تو ریاست کواپنی دلہن سمجھنے لگتاہے۔ نوازشریف اور بینظیر بھٹو کے بعد آج عمران خان وزیراعظم بن گئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ایک کھدڑے کی ریاست سے بے لذت شادی ہوئی ہے۔ جس کا نہ کوئی تول ہے اور نہ کوئی بول۔ قانون کی پاسداری تو دور کی بات ہے اخلاقیات بھی تباہ کردئیے۔
نابینا صحابی ابن مکتومؓ کی آمد نبیﷺ پر ناگوارگذری تو وحی نازل ہوئی۔نبی ﷺفرما تے کہ اس صحابی کی وجہ سے مجھے اللہ نے ڈانٹا ۔ نبیﷺ ظاہری و باطنی خلافت کے سزاوار تھے لیکن جب تک سیرت کے ان پوشیدہ گوشوں کو نمایاں نہ کیا جائے جن سے یہ مسلم قوم ظاہروباطن کی خلافت کا سزاوار بنی، ہم من حیث القوم خلافت کے حقدار نہیں بن سکتے ۔ پھر ہم خود خس وخاشاک کی طرح اپنے شعلہ کی نذر ہونگے۔تحریک طالبان پاکستان نے GHQپر قبضہ، مہران ایربیس اور آئی ایس آئی ملتان کے ہیڈ کواٹر سمیت شعلہ بن کر بازاروں عبادت گاہوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ڈالروں کو پرویزمشرف نے انفراسٹرکچر پر خرچ کیا اور بعض مفاد پرست عناصر کو بیرون ملک اپنے اثاثے بنانے کا موقع ملا ،فوجی جرنیلوں کی سیاستدانوں کے اثاثہ جات پر نظر پڑگئی تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جنرل راحیل شریف نے بنیادی کام یہ کیا کہ فوجیوں کوبھی کرپشن پر لگام دی تھی۔
فوج ایم کیوایم اور طالبان کی پشت پناہی یا نرم گوشے کا مظاہرہ کررہی تھی تو سیاستدانوں کے ذریعے قابو کرنے میں مدد ملی اور اب عمران خان کو فوج کھلم کھلا استعمال کررہی ہے اور اس بیماری کا علاج ناممکن نہیں ہو تو مشکل ضرور ہوگا۔ملک و قوم کو چندوں سے زندہ نہیں رکھا جاسکتا، اپنا اشرافیہ چندوں میں لگ گیا۔ امریکہ پہلے مذہبی چینل کو افراتفری کیلئے استعمال کرتا تھا، اب لسانی قوتوں کو کررہاہے مگر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاست وحکومت اس بیماری کو پروموٹ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے طاہر داوڑ کی شہادت کی مذمت سوئم گزرنے کے بعد کی۔ اگر اس آگ نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کسی کیلئے بھی خیر نہیں ہوگی۔ پاکستان مسلم قومیت سے بناتھا اور اسی میں بچت ہے۔

عمران خان نے خود چھپ کر عدلیہ اور فوج کو مذہبی طبقے کے آگے کردیا: اشرف میمن


کراچی ( نمائندہ خصوصی) اشرف میمن پبلشر نوشتۂ دیوار نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی بہادری کو لوگ داد دیتے ہیں۔ طالبان کی دہشت تھی تو عمران خان نیازی اداروں کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ساتھی بن گئے تھے۔ نوازشریف کے خلاف تحریک لبیک کی تحریک چلی تو تحریک لبیک کیساتھ کھڑے ہوگئے۔ تحریک لبیک اور مولانا سمیع الحق نے عمران خان کا پول بھی کھولا، گالیاں بھی دیں لیکن وہ اداروں کے پیچھے چھپ گئے۔ یہ کوئی سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی تو نہیں کہ گستاخانہ خاکوں کی تقریب ختم کرنیوالے وزیراعظم عمران نیازی کے دورِ اقتدار میں یہ المیہ پیش آیا کہ ذیلی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والی گستاخ کو سپریم کورٹ سے بری کروایا گیا۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ممتاز قادری کی طرح عمران نیازی کو بھی اپنا گارڈ بن کر سلمان تاثیر کی طرح قتل کرڈالے اور پھر عمران خان کے بیٹوں کو اقتدار سونپ دیا جائے۔ جس طرح ملک کا زبردست پرائیوٹ ادارہ شاہین ائر لائن بیٹھ گیا اور بحران کا شکار ہوا ہے۔ ہماری قوم سازش کو سمجھنے میں دیر لگادیتی ہے۔

پاکستان کی بقاء ، خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا راستہ


معروف صحافی مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’ جنگ و جیو اور دیگر میڈیا چینلوں میں یہ فرق ہے کہ جنگ اور جیو کسی بات کو سچ اور جھوٹ اسلئے نہیں کہتا کہ کوئی اسے کہلواتا ہے بلکہ خود جس کو جھوٹ اور سچ سمجھتا ہے، اپنی بنیاد پر کہتا ہے‘‘۔ سیاست کی طرح مذہبی جذبہ بسا اوقات کوئی کسی کے کہنے پر استعمال کرتا ہے اور اپنے طور پر بھی مذہبی جذبہ استعمال ہوتا ہے، بالفاظِ دیگر جو بات مظہر عباس کہہ رہا تھا،وہی بات مولانا فضل الرحمن بھی علامہ خادم رضوی کیلئے کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جنگ وجیو اپنے مفادات کیلئے مہم جوئی کا کردار ادا کرنے کے بجائے حق اور حقیقت کیلئے کام کرتے تو بھی تھوڑے دنوں میں ایک مثبت انقلاب آسکتا تھا۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن اسلام کے معاشرتی، سیاسی اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیتے اور اسکا برملا اظہار کرتے تو خواہ مخواہ میں سیاسی ومذہبی قوتوں اور قائدین کے درمیاں نکاح خواں سے گرکر اب میراثی کا کردار ادا نہ کرنا پڑتا۔ حقیقی اسلام کے ذریعے زر،زن اور زمین کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر غیرشرعی جاگیردارانہ اور غیر اسلامی بینکاری نظام ہو اور معاشرے پر غیر اسلامی معاشرتی نظام ہو تو پاکستان کی بقاء ممکن ہے اور نہ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا قیام ممکن ہے۔ یرغمال شریعت مدارس اور اسٹیبلشمنٹ سے آزاد کرنے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔ صرف ہمت مرداں کی ضرورت ہے تو مدد خدا بھی ہو گی۔
لوگ تہائی،چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کراتے تھے، پس نبیﷺ نے فرمایاکہ جس کی زمین ہو،وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دیدے،اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین اپنے پاس یونہی رکھ لے۔ (صحیح بخاری) جابرؓ سے نقل ہے کہ جب تحریم ربوٰ کی حرمت نازل ہوئی الذین ےأکلون الربوٰ لایقومن الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس لآیہ (جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہونگے مگر جسطرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو جنات نے اپنی گرفت میں لیکر پاگل بنایا ہو) جو شخص مزارعت کو نہ چھوڑے اس سے آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور اسکے رسولؐ کیساتھ جنگ میں مصروف ہے‘‘۔ المستدرک۔ اسلامی اقتصاد کے پوشدہ گوشے
نمونہ کے طور پر دو احادیث پیش کردی ہیں ، تفصیلات کیلئے علامہ طاسینؒ کی کتاب میں مواد موجود ہے۔ ان احادیث کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان کی سرزمین میں استحکام آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں بھی ایک ایسا انقلاب آسکتا ہے جو پوری دنیا کے تیور کو بدل ڈالے۔ عرب ممالک کے پاس تیل کی طاقت تھی لیکن انہوں نے خود کو اسرائیل اور امریکہ کی گرفت میں دیدیا ہے۔عرب کی بقاء بھی برصغیرپاک وہند، ایران وافغانستان، روس وچین اور ترکی کے علاوہ مشرقی ممالک کے اتحاد میں ہے۔ مغرب نے امامت کے مقام سے انصاف نہیں کیا۔ علامہ طاسینؒ سے ایک سہو ہوگئی کہ ایک طرف قطعی طور پر حرام ہونے کی بات کہی اور پھر مشتبہ قرار دیا، اسی طرح مضاربہ کو بھی سود قرار دینے کی کوشش فرمائی ہے۔

گستاخ آسیہ مسیح اور مذہبی وسیاسی قیادت کا شاخسانہ


پاکستان میں یہ قانون آئین کا حصہ ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی شان میں اگر کوئی گستاخی کریگا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ریمنڈ ڈیوس نے اپنا نام مولانا تاج محمد ظاہر کرکے سی آئی اے کیلئے اپنی خدمات انجام دیں، جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو قتل کے بدلے قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ سزا سے بچنے کیلئے دیت کے اسلامی قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آسیہ مسیح کو سیشن اور ہائیکورٹ سے سزائے موت سنائی گئی۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا کہ اس پر یہ کیس بنتا ہی نہیں ، جس کو قومی اخبارات میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا گیا۔ وجہ اس کی یہی ہوسکتی تھی کہ اس کیلئے عالمی دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد دیت کا کوئی قانون بھی لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا، اگر سپریم کورٹ عمر قید کی سزا دیتی تو بھی اس پر زیادہ سخت ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ تحریک لبیک کے قائدین نے عدالت کیساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا سمیع الحق نے عدلیہ کے جج حضرات پر توہین رسالت کا مقدمہ چلانے اور ان کو لٹکانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے پہلے حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اپوزیشن کی جماعتوں نے ساتھ نہیں دیا۔ پھر صدارتی امیدوار کے طور پر ایک کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اب حکومت کے خلاف آسیہ مسیح کیس کو آخری حربہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اس میں بھی کامیابی مشکل ہے۔ جب شخ رشید نے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے خلاف سازش کا انکشاف کیا تھا تو وہ اس میں تنہاء تھے، پھر قافلے ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ آخر کار اسلام آباد دھرنے کے ذریعے اور ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کا حربہ کامیاب ہوا۔ اس وقت تو اے آر وائی کے سمیع ابراہیم، صابر شاکر اور حمید بھٹی اور شیخ رشیدو عمران خان اس جذبے کو اسلام کی تعلیمات قرار دے رہے تھے لیکن اس دفعہ جب حکومت نہیں اسٹیبلیشمنٹ نشانہ بن گئی تو پھر معاملے کو دوسرا رنگ دیا جانے لگا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے زرداری کے بعد نوازشریف کی بھی خوب خدمت کی لیکن جمہوری میدان میں اپنے ساتھ اس بارجماعت اسلامی کو بھی لے ڈوبے۔ خلافِ معمول جماعت اسلامی کی بدقسمتی تھی کہ تحریک انصاف کی صفوں سے نکل کر مولانا فضل الرحمن کے بغل میں بیٹھ گئی۔ اب دونوں کی سیاست کیساتھ ساتھ مذہب کی ٹھیکہ داری کا بھی سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ بن کر دھوکہ کیا۔ نوازشریف نے ایک میڈ اِن پاکستانی اسلام کے نام پر عوام کو دھوکے میں رکھا اور اب عمران خان نے ریاست مدینہ کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کے تیسرے ایجنٹ کے طورپر عوامی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے،پاکستان کی بقاء اسلامی نظام میں ہے اور جھوٹ کے اسلامی نظام سے کفر کا عادلانہ نظام بہتر ہے۔ کمیونزم اور کیپٹل ازم کے درمیان اسلام کا نظام ہی حقیقی اعتدال اور درست معنوں میں عدل ونصاف کا نظام ہے۔ دھوکے بازی کا سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہ سکتا ہے ، حقیقی انقلاب ناگزیر ہے۔

نادان دوست نادان دوستوں کے ہاتھوں مارا گیا؟

مولانا سمیع الحق پاکستان میں دوسرے دار العلوم دیوبند جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولانا عبد الحق صاحبؒ کے بڑے صاحبزادے اور جامعہ حقانیہ کے مہتمم تھے، انتہائی سادہ لوح عالم دین تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شریعت بل پیش کیا۔ روزنامہ جنگ کراچی میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔ جس میں مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شریعت بل میں کچھ منافقین رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ پوچھا گیا کہ ان منافقین کے ساتھ آپ کیا کریں گے؟۔ مولانا نے کہا کہ ہم انکے خلاف جہاد کریں گے۔ پوچھا گیا کہ یہ منافقین کون ہیں؟۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ دور میں منافقین نہیں ، منافقین صرف رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھے۔
مولانا کی وفات کے بعد سلیم صافی نے ان کے انٹرویوز کی مختلف جھلکیاں دکھائیں جس میں پل پل سادہ لوحی جھلک رہی تھی۔ جب تحریک لبیک کے کارکن آسیہ مسیح کے حوالے سے احتجاج کررہے تھے تو پشاور اور اسکے گردو نواح میں صرف تحریک لبیک کے محدود چند کارکنوں نے یہ سہرا اٹھایا تھا۔ جمعیت علماء اسلام (س) اور (ف) کے علاوہ جماعت اسلامی کے کارکن بھی نظر نہیں آتے تھے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی مسجد میں جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے خطیب نے کہا کہ پنجاب کے لوگ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبت رکھتے ہیں اسلئے وہاں نعتوں کی محفلیں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور اب وہاں احتجاج بھی زیادہ ہورہا ہے۔ اگر حکومت آسیہ مسیح کو پھانسی پر چڑھانے میں دباؤ کا شکار تھی تو جج حضرات عمرقید کی سزا سنا دیتے۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی ویڈیو پیغام پر احتجاج کی کال دی تھی لیکن جب اس کے کارکنوں نے قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کیخلاف احتجاج کیا تھا تو پولیس نے ان پر بے تحاشا لاٹھی چارج کیا تھا۔ اسلئے وہ خوف کے مارے اس احتجاج میں شرکت کا رسک نہیں لے رہے تھے۔ مولانا سمیع الحق سیاسی کم اور مذہبی زیادہ تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد پر خود کش حملے ہوچکے تھے لیکن مولانا سمیع الحق کو شاید کبھی سیکورٹی کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ایک چینل سے یہ واضح خبر آرہی ہے کہ ایک 19سالہ لڑکا کسی دوسرے بڑے ساتھی کے ساتھ تنہائی میں ملاقات کرنے آیا۔ انہوں نے مہارت سے مولانا سمیع الحق کو شہید کیا۔ یہ را کے تربیت یافتہ اسلئے تھے کہ خون سپلائی کرنے والی نسوں سے بخوبی واقف تھے۔ مولانا کے اکلوتے باڈی گارڈ ان کے رحم و کرم پر مولانا کو چھوڑ گئے تھے ۔ واپسی پر باڈی گارڈ نے تالا کھولا اور اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ کافی دیر گزرنے کے بعد مولانا کو خون میں لت پت پایا۔ قاتل باورچی خانے کے راستے بھاگ نکلے تھے۔ مولانا کے وارثوں نے وعدہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ قاتلوں تک پہنچنے کیلئے مطلوبہ افراد گرفتاری دیں گے۔ بینظیر بھٹو کیلئے اقوام متحدہ کی ٹیم بلائی گئی تھی لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ بینظیر کو قتل کس نے کیا۔ دھماکے سے ہوئی ، گولی سے ہوئی یا جیپ کا ہینڈل لگنے سے ہوئی ؟۔
مولانا سمیع الحق نے ضرب حق کو بہت پہلے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ درس نظامی کے نصاب میں خامیاں ہوسکتی ہیں یہ کوئی وحی کا نصاب نہیں ان کو درست کیا جاسکتا ہے۔ کاش! مولانا صاحب درس نظامی کے نصاب میں اصلاحات پر توجہ دیتے۔ دنیا آنی جانی ہے اور اللہ نے دین حق کے ذریعے سے دنیا میں ظلم کا نظام ختم کیا تھا۔ جب حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تھا تو بھی صحابہ کرامؓ نے اشتعال کی آگ بھڑکا کر ان افراد کو قتل نہیں کروایا تھا۔ سورہ نور میں بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان کا سلسلہ بھی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

حضرت داؤدؑ کی خلافت اور حضرت سلیمانؑ کی عدالت

حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے زمین میں خلافت کا موقع ، خطابت کا ملکہ اور نبوت ورسالت سے سرفراز فرمایا۔ پاکستان قربانیوں کے بعد نہیں بناتھابلکہ پاکستان بننے کے بعد لوگوں کو تعصب، مفادپرستی اور منافرت کی وجہ سے قربان کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے انگریز ریاست کے خلاف کبھی ایک سکینڈ کی جیل نہیں کاٹی اور نہ ہی انگریز حکمران کے خلاف لڑنے والوں کا کوئی مقدمہ لڑا ، جب انگریز نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا اور ووٹ کی طاقت سے برصغیر پاک وہند میں تقسیم ہونے کا فیصلہ ہوا پھر لوگوں کو قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور آج بدقسمتی سے ملک وقوم کیلئے قربانیاں دینے کی غلط رٹ لگائی جارہی ہے۔
علامہ اقبال نے پنجاب اسمبلی میں کہاتھا کہ ’’ حکومت کا لباس صرف انگریز پر چست آتا ہے، مسلمان اور ہندو دونوں حکمرانی کے قابل نہیں ‘‘۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ للکار للکار کر پکار پکارکر کہتا کہ ’’ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ بنگلہ دیش کو الگ مملکت بننے دو، پورا پنجاب لے لو۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرو، انگریز نے تفریق ڈالو اور حکومت کرو کی جس پالیسی کے تحت یہاں حکومت کی تھی مسئلہ کشمیر پر پھر دونوں ملکوں پاکستان وبھارت میں تفریق ڈال کر دوبارہ حکومت کرنے کیلئے راستہ ہموار کریگا‘‘۔ قلندر ہر چہ گوئید دیدہ گوئید آج وہ نقشہ سامنے آرہا ہے جس کو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کھینچا تھا، جن کی زندگی کا بڑا سفر انگریز کیخلاف جدوجہد میں گزرا۔ آدھی زندگی جیل، آدھی ریل میں گزاری۔ جو بہترین خطیب تھے، قوم انکی بات سمجھ لیتی تھی۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: ’’ ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان سے تاکہ انکے سامنے حقیقت واضح کردے‘‘۔آج بھی قوم کوانگریزی سمجھ نہیں آتی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور انکے ساتھیوں کیساتھ انگریز نے بھی اتنی زیادتی نہیں کی جتنی ہماری ریاست نے کی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے پر پابندی نہیں تھی مگر پاکستان بن گیا تو ختم نبوت کے نعرے پر پابندی لگ گئی۔ ریاستی ٹاؤٹ طبقے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے ،قادیانیوں کی مخالفت پاکستان اور اسلام کی مخالفت سمجھتے تھے۔ عمران خان کے جعلی کزن ڈاکٹر طاہر القادری نہیں حقیقی کزن مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے تحریک ختم نبوت میں شمولیت کی وجہ سے ریاستی مظالم کے خوف سے اپنی داڑھی بھی مونڈ ڈالی تھی۔ آج تک بہت سے لوگ عدل وانصاف، سیاست ،اسلام اور انسانیت کی جنگ لڑرہے ہیں۔
حضرت داؤد علیہ السلام نے دو قوموں کے درمیان فیصلہ کیا۔ ایک قوم کے جانوروں نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔ دونوں کی قیمت برابرہی تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے انصاف کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کو فصل والوں کے حوالہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے، اس طرح ایک قوم بالکل محروم ہوجائے گی۔ پھر یہ اپنا گزر بسر کس طرح کرینگے؟۔ چوریاں، ڈکیتیاں اور بے ایمانیاں کرینگے ، ملک کا امن وامان غارت ہوجائیگا۔ انکے بچے بھوک سے مرینگے تویہ معاشرے سے بھی اسکا انتقام لیں گے!۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی سمجھ میں بات آگئی، یہ نہیں دیکھا کہ مجھ سے چھوٹے ہیں بلکہ بات مان لی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ جب تک فصل اپنی جگہ پر نہیں آتی ہے جانور والے اس کھیت میں محنت مزدوری کریں اور جانور فصل والوں کے حوالے ہونگے، جس کے دودھ، اون اور گوبر کا وہ فائدہ اٹھائیں گے۔ پھر جب فصل اپنی جگہ پر آجائے تو فصل اپنے مالکوں اور جانوروں کو انکے اپنے مالکوں کے حوالے کیا جائیگا۔ اس فیصلے کیوجہ سے قرآن میں اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو زیادہ سمجھدار قرار دیا ہے۔
قوم قائداعظم کی کوئی بات نہ سمجھ سکی سوائے اسکے کہ’’ مصیبت میں ہیں اور مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے‘‘۔ یہ مصیبت بھی تقسیم کی وجہ سے ہی دیکھنے کو ملی تھی۔ جسکے ذمہ دار بھی قائداعظم خود ہی تھے۔ قرآن میں ہی اللہ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف 99بیویاں ہونے کے باوجود ایک مجاہد حضرت اوریا کی بیگم سے شادی کی خواہش رکھنے پر تنبیہ فرمائی تھی۔ لی نعجۃ ولہ تسع وتسعوں نعجۃ ’’ میرے پاس ایک دنبی ہے اور اسکے پاس 99دنبیاں ہیں‘‘۔ جس پر تنبیہ کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو بات سمجھ میں آگئی اور اللہ سے توبہ کی اور اللہ نے معاف کردیا۔ قرآن میں الفاظ ہیں فغفرلہ مولوی حضرات کو حلالہ پر اس وقت اللہ تعالیٰ معاف کریگا جب وہ تنبیہ کے بعد توبہ کرینگے ورنہ تو غفرلہ کا کوئی تک نہیں بنے گا۔ ہمارے حکمران طبقے نے انگریز کی وراثت سے یہ بیماری لی تھی کہ مثبت اور جائز تنقید بھی بغاوت سمجھتے تھے، پھر اصلاح کیسے ہوتی؟۔ بھٹو کی طرف سے سرمایہ داروں کے خلاف راتوں رات کریک ڈاؤن ہوا تھا اور سب کو ملک چھوڑنے اور بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ متبادل روزگار بھی نہیں دیا گیا اور پھر حکمرانوں نے اپنا سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل کرنے میں عافیت محسوس کی۔ کوٹہ سسٹم کیوجہ سے نالائق لوگ نظام کا حصہ بن گئے اور میرٹ والے لوگوں کا روز گار چھن گیا۔ جس سے ملک اور قوم کا بیڑا قائدِ عوام نے غرق کردیا تھا۔
مؤمن ایک سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاسکتا۔ فوج نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو بار بار مواقع دئیے اور اب عمران خان کی شکل میں ڈرامہ جاری ہے۔ عمران خان 1991ء میں کرکٹ کھیل رہا تھا تو مجھے قبائلی FCR کے تحت ایک سال قیدبامشقت کی سزا اسلئے دی گئی تھی کہ نظام بدلنے کی بات کر رہا تھا ۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو خواتین نے ایک بچے پر اپنا مقدمہ پیش کیا، دونوں کی بات سن کر ایک کے حق میں آپؑ نے فیصلہ دیا۔ حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ میں ان کا فیصلہ کروں گا۔ دونوں کی بات سن کر حکم جاری کیا کہ میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا ہوں اسلئے بچے کو دوٹکڑے کرکے آدھا ایک کو اور آدھا دوسری کو دیا جائے۔ جس کو بچہ پہلے مل چکا تھا، وہ کہہ رہی تھی کہ مجھے یہ فیصلہ منظورہے۔ دوسری نے چیخ کرکہا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا۔ میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوں یہ بچہ اسی کا ہے۔ حضرت سلیمانؑ نے پھر بچہ اسی کے حوالے کیا ۔ نوازشریف سے پارلیمنٹ کی تقریر کی وضاحت طلب کی جاتی تو بھڑکیاں مارنے کی صلاحیت بھی نہ رہتی ، عدلیہ کو توہین عدالت کے کیس بھی نہ کرنے پڑتے اور عوام کو حقائق کا بھی پتہ چل جاتا۔ نظام انصاف سے بھی دیر اور بے راہ روی کی شکایت نہ رہتی۔
ایک سکھ کڑک سنگھ نے اپنے سردار سے کہا کہ مجھے جج لگواؤ، سردار نے کہا کہ تمہاری تعلیم نہیں ، اس نے کہا کہ تعلیم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سردار نے اس کو جج لگوادیا۔ قتل کا ایک مقدمہ سامنے آیا، قاتلوں نے کہا کہ چھرے سے مارنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔،کڑک سنگھ نے کہا کہ تم نے کیسے قتل کیا، اس سے بحث نہیں ۔ چاروں کو اسی وقت لٹکانے کا حکم دیا اور پوچھا کہ یہ پانچواں کون ہے تو بتایاگیا کہ یہ ان کا وکیل ہے، کڑک سنگھ نے کہا کہ یہ بھی ان کے ساتھ ہے، اس کو بھی ٹانگو۔
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا لوآج میں بھی صاحب اولاد ہوگیا

3 مہرے ذ والفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان؟

پاکستان بن گیا تو قائداعظم محمد علی جناح، قائدملت لیاقت علی، بیگم راعنا لیاقت علی اور فاطمہ جناح کل مبلغ سیاسی قیادت تھی۔ قائداعظم طبعی موت مرے اور نوابزادہ لیاقت علی خان کو گولی ماردی گئی۔ بیگم راعنا لیاقت علی اور فاطمہ جناح کی آپس میں بھی نہیں بنتی تھی بلکہ شدید اختلافات تھے۔ جب سیاسی قیادت میں گھریلو خواتین کا بھی حصہ بن جائے۔ بیگم نسیم ولی اور بیگم نصرت بھٹو نے بھی اپنے اپنے شوہر کی جگہ سیاست کی۔ قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمیعہ راحیل قاضی اور مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسد محمود بھی سیاسی عمل کا حصہ بنے۔
مادرملت فاطمہ جناح کی شادی نہ تھی اسلئے اولاد کا سوال نہیں، اس کی اکلوتی بھتیجی دینا جناح بھی کسی کیساتھ بھاگ گئی تھی لیکن اسکے باوجود بھی وہ دوبہترین مرسیڈیز کاروں کی مالکن تھیں۔ سیاست میں اچھی بود وباش، شان اور موروثیت کا تصور شروع سے موجود ہو تو بعد کی پیداوار کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ مہاتماگاندھی سفر وحضر ، بود وباش اور سادگی میں معروف تھے تو ہمارے کالم نگار ، صحافی اور دانشور انکے مقابلے میں قائداعظم محمد علی جناح کے لباس واطوار، شان وشوکت اور اعلیٰ معیار کی زندگی کو وجہ ترجیح قرار دیتے تھے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اگر چہ اصلی ، نقلی، عطائی اور کسی قسم کے ڈاکٹر نہیں لیکن نام کیساتھ یہ لاحقہ لگ گیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قائداعظم کے کپڑے استری کیلئے لندن جاتے تھے۔ قیمتی سگریٹ، سفر کیلئے جہاز اورچھٹیوں کیلئے زیارت کی رہائش قومی قیادتوں کیلئے مثالیں تھیں۔ پہلے پاکستان سول بیوروکریسی کے ہاتھوں میں تھا اور پھر جنرل ایوب خان نے قبضہ کرکے فوجی بیوروکریسی کی بادلادستی قائم کردی۔ جنرل ایوب نے عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی قائد بناڈالا تھا۔ جو انتہائی چالاک و عیار شخص تھا۔ اس سے جان چھڑانی مشکل ہوگئی تھی تو اس کو پھانسی پر چڑھایا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف کو میدان میں اتار دیا۔ نواز شریف نے پنجے گاڑھ دئیے تو ایک اور کم عقل اور بیوقوف عمران خان اب میدان میں اتارا گیا ۔ پاکستان کی آخری منزل اچھی ہوگی لیکن عوام کے شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ ہمیں حقائق کی طرف رہنمائی کا حقیقی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔
جنرل ایوب سے فاطمہ جناح کا مقابلہ تھا تو جماعت اسلامی کے امیر و بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کہا کہ ’’ایوب خان میں ایک خوبی ہے کہ وہ مرد ہے باقی سب خامیاں ہیں۔ فاطمہ جناح میں ایک خامی ہے کہ وہ عورت ہے باقی خوبیاں ہیں اسلئے ملک کی صدارت کیلئے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کو ترجیح کا فتویٰ دیاتھا‘‘۔ایوب خان نے کوئی ذاتی کرپشن نہیں کی تھی، ایوب خان موروثی بنیاد پر اپنے مقام تک ٹوچین ہوکر نہ پہنچے تھے، ایوب خان نے ملک میں پہلی مرتبہ بنیادی جمہوریت بحال کی تھی ۔ جنرل ایوب خان نے بنگالیوں سے زیادتی کا تصور ختم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر مغربی پاکستان میں نوکریاں دیں، پہلی مرتبہ سیاستدانوں کو نہ صرف مکمل آزادی دی بلکہ سیاسی شعور بیدار کرنے کے بھرپور مواقع پیدا کردئیے لیکن یہ اقدامات ہی انکے زوال کا سبب بن گئے۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے کوٹہ سسٹم کے ذریعے میرٹ کا خاتمہ کردیا۔ پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو نیشنلائز کرکے ترقی پذیر ملک کو زوال کی طرف دھکیل دیا۔یہ دونوں کام پاکستان کیلئے تباہ کن ثابت ہوئے۔ جماعت اسلامی کے بانی نے جو ایوب کے مقابلے میں فاطمہ جناح کو سپورٹ کیا تو ساری زندگی ڈکٹیر کی حمایت کرتے ہوئے اپنے باقیات کیساتھ سجدہ سہو میں گزاردی۔مفتی محمودؒ شروع سے ہی بین بین تھے۔ یہی خواری انکے جانشین مولانا فضل الرحمن کی قسمت میں آئی۔ بینظیر بھٹو نے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ کے مقابلے میں صدارت کیلئے غلام اسحاق خان کو سپورٹ کرکے نظریہ کی سیاست کو شکست دی تھی۔ پھر جب پرویزمشرف نے پیپلزپارٹی کے دس ارکان توڑ کر پیٹریاٹ بنائی تو بھی بینظیر بھٹو کے پاس یہ طاقت تھی کہ ق لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمن کو جتواتے ، جس کو نوازشریف اور عمران خان نے بھی سپورٹ کیا تھا۔
پیپلزپارٹی کے خمیر میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالف نہیں۔ جس کا مشاہدہ تاریخ کی تلخ ترین حقیقت ہے۔زرداری نہیں بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے اپنے ادوار میں پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا۔ جس فوج کیلئے بلوچستان کی جمہوری حکومت کاتختہ اُلٹ دیا تھا ،اسی فوج نے اس کا تختہ اُلٹ دیا۔ بہت لوگوں کو یتیم و بیوہ اور بے سہارا بنایا اور قدرت نے مکافات عمل کے نتیجے میں اسکے خاندان کو تباہ اور دربدر کردیا ۔ آج مرتضی جونئیر ڈانس کرتا پھر رہا ہے اور بھٹو کے ڈیرے پر بلاول زردای اور فریال تالپور کی بادشاہت چل رہی ہے۔ حاکم علی زرداری کی بھٹو سے مخالفت اور آصف علی زرداری کی یاری جنرل ضیاء الحق سے تھی۔
نوازشریف نے تو قید سے چند ہی دن پہلے کہا کہ ’’ اب محمود اچکزئی کی طرح میں بھی 100% نظریاتی بن گیا ہوں‘‘۔ پہلے نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کہتی تھیں کہ ’’ نوازشریف شیر ہے ، شیر کسی سے نہیں ڈرتا ‘‘۔ مگراب تو شیر نے دُم ایسی گھسیڑی ہوئی ہے کہ صاحبزادی نکالنا چاہے تب بھی نہیں نکال سکتی ہے۔ جب نوازشریف جلاوطنی کے بعد واپس آنے میں کامیاب ہوگئے تو کارکنوں نے نعرے لگائے کہ ’’ نوازشریف زندہ باد‘‘۔ نوازشریف نے غصہ سے کہہ دیا تھاکہ ’’چپ کرو، پہلے کہتے تھے کہ نوازشریف قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن جب مجھے ہتھکڑی پہناکر لے جایا جارہا تھا تو میں نے مڑ کر دیکھا ، کوئی بھی نہ تھا۔ اب یہ نعرے مت لگاؤ‘‘۔ کارکن اس وقت بہت شرمندہ تھے۔ پھر نوازشریف کی طرف سے مہم جوئی شروع ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے پنجابی میں نِکے نِکے ہاتھ ہلاہلا کر تیار ہو ؟ تیار ہو؟ کے نعرے بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں میں لگوائے لیکن جب جیل سے رہائی مل گئی اور کارکن تیار تھے لیکن قائد نوازشریف اور اسکی بیٹی کی ہمت نہ ہوسکی کہ احتجاج کی قیادت کرنے کیلئے کوئی شنوائی کرتے۔
عمران خان نے ریحام سے شادی رچائی ہوئی تھی، کنٹینر میں رنگ رلیوں کا سماں ہوتا تھا اور لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ مغرب میں جانوروں کو جو حقوق ہیں وہ یہاں کے انسانوں کو حاصل نہیں ۔عمران خان اپنے کتے کو جس جرنیٹرکے پاس نہیں سلا سکتا تھا ، اس میں کارکن سلادئیے تھے جو مرتے مرتے رہ گئے تھے۔ عوام نہیں جانتی تھی کہ عمران خان کس قسم کے حقوق کی بات کرتا ہے؟۔ جانوروں کو جنسی بے راہ روی کی آزادی ہوتی ہے اور دھرنے کے شرکاء بھی اسی آزادی ہی کے متمنی نظر آتے تھے۔ خواتین کو بھمبھوڑنے کیلئے متعدد حملے بھی ہوئے تھے۔ اب غربت، مشکلات، مصائب کا جو طوفان آرہاہے ، عمران خان نے اس کی تمام تر ذمہ داری بھی قبول کرنی ہے۔ خاتون اول کی شادی اور عمران خان کے کتے کے آنسو کی کہانیاں ہماری تہذیب وتمدن کو کس طرف لے جائیں گی؟۔ آنیوالا وقت بتائیگا۔خاتون اول چف، عوام تف ، ریاست اُف کریگی۔ لگتاہے کہ قدرت نے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کیلئے مودی، ٹرمپ اور عمران نیازی کا انتخاب کیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی تقریر اور عدالت کی صورتحال

 

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور اسکے ججوں سے جوگلے شکوے کئے ، پاکستان کی آزادی کیلئے قربانیوں اور اسلام کے حوالے دئیے ، جلد انصاف کے تقاضوں پر عمل کیلئے بھارت، چین اور برطانیہ کے اصلاحات کا ذکر کیااور قوم کو اچھے کی اُمید بھی دلادی۔ یہ سب ایک اچھے خطیب کی تقریر تھی جسکے جوہر ماننے کے قابل تھے لیکن اس سے قوم کی تقدیرقطعاً بدلنے والی نہیں ہے ۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر کرکے واضح کیا تھا کہ ’’ 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی کے اثاثے بیچ کر 2006ء میں لندن کے فلیٹ خریدے، جسکے تمام دستاویزی ثبوت اللہ کے فضل سے موجود ہیں اور بلاخوف تردیدعدالت ، میڈیا اور قوم کے سامنے پیش کرسکتا ہوں‘‘۔ عدالت نے ایک بہت بڑا وقت نوازشریف کیخلاف ثبوت مانگتے ہوئے گزار دیا مگر پارلیمنٹ میں تحریری تقریر اور اسکا جواب نوازشریف سے طلب نہ کیا، صادق اور امین نہ ہونے کیلئے بھی اقامہ کا سہارا لیا۔ چیف جسٹس خود نواز شریف کے وکیل رہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ نوازشریف کی یہ تقریرسیاسی تھی‘‘۔ بس نوازشریف کی طرح چیف جسٹس نے ایک سیاسی تقریر کرڈالی۔ ہمنوا خوش ہوگئے اور ناقدین نے کہا ہوگا کہ یہ اصل موضوع سے رُخ موڑنے ایک چال ہے۔

نیب کے قانون اور عدلیہ کے قانون میں بہت بڑا فرق ہے۔ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ ’’ عورت کا شوہر نہ ہو اور اس کو حمل ہوجائے تو وہ عورت زانیہ ہے اور اس پر حد جاری ہوگی‘‘۔ جمہور ائمہؒ کے نزدیک حضرت عمرؓ نے درست قانون بنایا اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ غلط قانون تھا، جب تک گواہی یا اقرار نہ ہو تو اس پر شرعی حد جاری نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں دونوں متضاد قوانین رائج ہیں۔ نیب کی طرف سے نوازشریف کو سزا دی گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا کو معطل کیا۔ شہبازشریف کو نیب نے پکڑلیا اور عدالت ان کو چھوڑ دے گی۔

میاں ثاقب نثار کو شریف برادران کے جلد انصاف کی فراہمی نہ ہونے کا غم کھا رہاہے۔ حمزہ شہباز کا بھی کہا تھا کہ ’’ مجھے حمزہ شہباز کی بے عزتی برداشت نہیں ‘‘اسلئے اپنے چیمبر میں اس کو اور عائشہ احد کو بلاکر نہ صرف صلح کرادی بلکہ میڈیا پر پابندی لگادی کہ اس حوالہ سے کوئی خبر شائع نہ ہو۔ ایسا توفوجی عدالتوں کے حکموں میں بھی نہیں ہوتا۔
قرآن وسنت کے قوانین میں کسی قسم کا تضاد نہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں واضح فرق ہے۔ حضرت عمرؓ اور جمہور ائمہؒ کے مقابلے میں امام ابوحنیفہؒ کے بعض قوانین قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں۔ عورت کو حمل پرسزا ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر حضرت مریم علیہ السلام کو سزا دی جاتی؟۔اللہ تعالیٰ نے حد جاری کرنے کیلئے چارگواہ یا اقرار کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ حد جاری کرنے سے انسان کو اسکا حق نہیں ملتا بلکہ اس سے اللہ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ مثلاً کسی نے زنا کیا یا چوری کی ہے تو اس پر زنا کی حد جاری کرنے سے یا چوری کی حد ہاتھ کاٹنے سے انسانی حق کا کوئی تعلق نہیں۔ ایک آدمی کے مال کو چوری کیا گیا ہے تو اس کا حق اپنامال ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنے سے اسکا تعلق نہیں ۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسے لوگ آتے تھے جنہوں نے زنا کیا ہوتا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی کوشش ہوتی تھی کہ ان پر حد جاری نہ ہو۔ حقوق اللہ کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کے اندر بہت جذبہ ہوتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ دنیا سے پاک صاف ہوکر اٹھیں۔ دہشت گرد صحابہ کرامؓ کے پیروکار نہیں بلکہ دجال کالشکر ہیں۔ جتنے خود کش حملوں کے ذریعے وہ خود پھٹتے اور دوسرے لوگوں کو شہید کرتے تھے ،اگر وہ ایسا ماحول بناتے کہ اپنے آپ کو خود ہی شرعی حد کیلئے پیش کرنے کی جسارت کرتے تو دنیا میں اسلام بدنام نہیں نیک نام ہوتا۔ علماء ومفتیان نے ان کی درست رہنمائی کی ہوتی تو پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں تباہی نہ مچتی اور بہت سے مخلص لوگ بھی دجالی لشکر کا حصہ نہ بنتے۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے اپنے خلاف زنا کی گواہی دی ۔پھر نماز کا وقت ہوا، نبیﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد اس شخص سے کہا کہ نماز کی وجہ سے تمہاراگناہ دھل گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ اس کی گواہی مکمل ہوچکی ہے، نبیﷺ نے فرمایا ’’ عمر جانے دو، اس نے توبہ کی ہے‘‘۔ ایک خاتون نے نبیﷺ سے شکایت کی کہ انکے ساتھ فلاں شخص نے زبردستی زنا کیا ہے۔ نبیﷺ نے حکم جاری فرمایا کہ اس کو پکڑ کر لاؤ۔ وہ لایا گیا تو نبیﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ اس کو پتھر مار مار کر ہی مار دیا گیا۔
زنا پر حد جاری کرنا جب حقوق اللہ کا معاملہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے در گزر فرمایا لیکن جب حقوق العباد کا معاملہ آیا تو اس پر کسی قسم کا کوئی ایک گواہ طلب نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت آپﷺ کا اجتہاد نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا جو اللہ کی کتاب قرآن مجید میں موجود تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زنا کاری پر چار گواہ لانے کا حکم دیا ہے جبکہ زبردستی سے خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والوں کی پہلے سے اللہ کی سنت کی خبردی ہے کہ جہاں پائے گئے ان کو قتل کردیا گیا۔ پاکستان کی عدالت، پولیس اور حکومتوں کو اسلامی تعلیمات قرآن وسنت کا ادراک نہیں تھا تو جو خواتین اپنے خلاف زبردستی کی شکایت کرتی تھیں تو ان سے گواہ کامطالبہ ہوتا تھا اور پھر چار گواہ نہ ہونے پران کو جیل بھیج دیا جاتا اور اس کو اسلام سمجھا جاتا تھا۔
اسلام کے علمبردار طالبان خود حد کیلئے پیش کرنے کے بجائے دوسروں کوہی گناہوں کی سزا دینے کے درپے رہتے تھے۔ علماء ومفتیان ، شیوخ الاسلام اور مذہبی جماعتیں وقائدین مسخ شدہ اسلامی تعلیم کیلئے احتجاج ریکارڈ کراتے تھے اور حکمران طبقے حقائق سے بے خبر اور جاہل تھے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کو تعزیرات میں شامل کرنے اور جماعت اسلامی کی طرف سے اس کے خلاف مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کی اشاعت ایک عجوبہ تھا۔ جس پر ہم نے ایک تحریر لکھ کر شائع کردی اور پھر جب پیپلزپارٹی کے دور میں قانون تبدیل ہوا تو احتجاج کی جرأت نہ ہوسکی۔ جس کی وجہ سے شکایت کنندہ خواتین کو رہائی مل سکی تھی۔لیکن زنا بالجبر کرنے والوں کیلئے آج تک شریعت کے مطابق سزا ممکن نہیں ہوسکی ۔
معصوم بچی زینب شہید اور دیگر معصوم شہداء بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مرتکب مجرم کو سنگسار کیا جاتا اور میڈیا اسے کوریج دیتی تو دنیا کا ہر ملک اس سزا کی بنیاد پر اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنے کی تحریک میں مدد گار ثابت ہوتا۔ سعودیہ اور ایران میں اسلامی سزائیں اتنی مؤثر اسلئے نہیں ہیں کہ وہاں مجرم کے جرائم کو اتنی کوریج نہیں ملتی اور دوسرے معاملات پر بھی قتل کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اوپن ٹرائیل سے حق وناحق تک پہنچنے کیلئے حقائق سامنے نہیں آتے۔
مدینہ کی ریاست کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا کہ جب ایک انتہائی سفاک مجرم کو سنگسار کرکے نشانِ عبرت بنایا جائے۔روز روز اغواء ہونے والی بچیوں بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو سیاستدان، جج اور جرنیل کھا پی کر موجیں اُڑائیں لیکن طوطا مینا کی کہانیاں سنا سنا کر قوم کومزید سن کرنے سے سخت پرہیز کریں۔