پوسٹ تلاش کریں

بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے ”میزان عمر عائشہ ” کتاب لکھ کر اُمت کے علماء کا کفارہ ادا کیا۔ مولانا قاضی یونس انور ۔ خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور۔

بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے ”میزان عمر عائشہ ” کتاب لکھ کر اُمت کے علماء کا کفارہ ادا کیا۔ مولانا قاضی یونس انور ۔ خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہور۔

بخاری کی روایت رسول اللہ ۖ کی ناموس، حضرت عائشہ ، حضرت ابوبکر کے گھرانے اور اسلام پر حملہ ہے،جو کھلے حقائق کے بھی منافی ہے

بخاری کی احادیث رفع یدین کو گائے کی دُم اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دینے کے منکرینِ حدیث کا منہ توڑ جواب بھی نوشتۂ دیوار کے تبصرے میں پیش کیا گیا

قاضی محمد یونس انور خطیب جامع مسجد شہداء مال روڈ لاہورنے ”سیدہ عائشہ کی نکاح کے وقت عمر”کے موضوع پر نماز جمعہ کے خطاب میں کہا کہ نبی کریم ۖ کی زوجیت میں حضرت عائشہ صدیقہ کتنی عمر میں آئیں ؟یہ ہے اصل سوال۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ جب کوئی بڑا آدمی غلطی کر بیٹھتا ہے یا اس کی طرف سے کوئی منسوب چیز آجاتی ہے تو ہم تقلیدی ذہنیت رکھتے ہوئے اتنا جمود اختیار کرلیتے ہیں کہ اس سے باہر نکل نہیں سکتے۔ بدقسمتی سے حضرت عائشہ صدیقہ کی6سال میں نکاح کرنے والی روایت بخاری اور مسلم میں آگئی اور یہ دونوں ہی درجہ اول کی کتابیں ہیں۔ پوری اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ بخاری و مسلم دونوں کو صحیحین کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ اس میں ایک بات بھی کمزور نہیں لیکن بالکل غلط بات ہے۔ صحیحین کا معنی تغلیباً ہے کہ غالب اکثریت ان روایات کی صحیح ہے لیکن یہ کہ ہر ہر بات ان کی سو فیصد صحیح ہے قرآن کی طرح، بالکل غلط بات ہے یہ۔اللہ تعالیٰ علامہ جلال الدین سیوطی کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے انہوں نے کتاب ”تدریب الراوی” حدیث کے اصولوں پر لکھی ہے اس میں لکھا ہے کہ” مسلم شیعت سے بھری پڑی ہے”۔ بخاری میں تلسانی کتاب التوحید کے اندر ایک راوی ہے عباد بن یعقوب الرواجنی جو بڑے محدث ہیں۔ حدیث پڑھانے والے زیادہ جانتے ہیں لیکن میرے جیسا طالب علم بھی تھوڑی سی کوشش کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی بات مل جاتی ہے۔ اسکے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ”صدوق رافضی حدیث فی البخاری” وہ رافضی ہے بخاری میں اس کی روایت موجود ہے۔ فلے بن سلیمان ایک راوی ہے عبد الملک اس کا اصل نام ہے لیکن اس کی کنیت فلے بن سلیمان ہے۔ بخاری کے ہر دوسرے تیسرے صفحے پر موجود ہے نہایت کمزور راوی ہے۔ اس سے بھی قطع نظر پچھلے جمعے عرض کرچکا ہوں اس روایت کا راوی ہے ہشام۔ محدثین جانتے ہیں کہ شروع زمانے میں بڑا معتبر راوی تھا۔ وہ بات کررہا ہوں جو عام آدمی کے ذہن میں آسکے۔ سارے محدثین نے اس سے روایتیں لی ہیں۔ بدقسمتی سے آخیر زمانے میں ان کا حافظہ بہت خراب ہوگیا تھا۔ اور یہ روایت6اور9سال والی اسی زمانے کی ہے۔ ان سے نقل کرنے والے جتنے مدنی شاگرد ہیں کوئی ایک مدینے والا شاگرد اس روایت کو نقل نہیں کرتا۔ جتنے بھی شاگرد اس کو نقل کرنے والے ہیں وہ سب کے سب عراقی ہیں۔ جس آدمی نے اس پر ایک ایک چیز تحقیق کی چونکہ رسول اللہ ۖ کی آبرو، عائشہ صدیقہ کی ناموس کا مسئلہ تھا ۔ دنیائے کفر نے اس روایت کو لے کر بڑا طوفان بد تمیزی کیا ہے۔ مغرب میں جو خاکے شائع ہوئے وہ اسی روایت کی بناء پر ہوئے۔ مثال کے طور پر نقل کفر کفر نہ باشد یہ لفظ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ مسلمانوں کا پیغمبر اتنا ہوس پرست تھا معاذ اللہ معاذ اللہ کہ اپنے ایک مرید کو اقتدار کا لالچ دیکر اسکے ساتھ اقتدار کا وعدہ کرکے کہ میرے بعد آپ نے ہی اقتدار لینا ہے اس کی چھوٹی سی نابالغ6برس کی بچی کو نکاح میں لے لیا۔ میں اور آپ جتنی تاویلیں بھی کریں میرے دوستو! جتنا بھی بچائیں بخاری کی روایت کو ۔ یا بخاری کی روایت کو بچالیں یا رسول اللہ ۖ کی ناموس کو بچالیں۔ بخاری کی روایت کے مجروح ہونے سے ہمارا کفر لازم نہیں آتا۔ لیکن نبی ۖ کی ذات مجروح ہوجائے تو ہمارا ایمان باقی نہیں رہتا۔ یہ راوی کا بیان ہے رسول اللہ ۖ کافرمان نہیںہے۔ اس روایت کے ذریعے سے دشمن نے کئی شکار کئے ۔ نبی کی ذات پر بھی حملہ کیا عائشہ صدیقہ کی شخصیت کو مجروح کیا۔ ابوبکر صدیق کے گھرانے کو مجروح کیا بلکہ پورے اسلام کو مجروح کیا ہے۔ جبکہ حقائق اسکے برعکس ہیں۔ اس کا منفی اثر یہ نکلا کہ جتنے بھی خاکے رسول اللہ ۖ کے خلاف یورپ کے اندر مغربی دنیا میں شائع ہوئے ہیں ان روایات کا سہارہ لیکر انہوں نے رسول اللہ ۖ کی ذات پر کیچڑ اچھالا ہے۔ اس کے بعد پھر ہنگامے ہوئے مظاہرے ہوئے مردہ باد کہیں یا کچھ بھی کہیں لیکن دشمن کو جب ہم ہتھیار خود دیں گے تو اس ہتھیار کو وہ ہمارے خلاف استعمال کرے گا تو کیسے ہم اس کا توڑ کرسکتے ہیں؟۔ قرآن کی آیت کا انکار کرنا کفر ہے کسی راوی کی روایت کا انکار کرنا کفر نہیں ہے۔

اس روایت کو ایک طرف رکھئے اب میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ پچھلے جمعے میں عرض کرچکا ہوں طبری قدیم مورخ ہے۔ کتابیں میرے پاس ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ بات کررہا ہوں۔ اس نے کہا کہ صدیق اکبر نے زمانہ جاہلیت میں یعنی اسلام آنے سے پہلے دو عورتوں کے ساتھ نکاح کیا تھا ایک کا نام قتیلہ، ایک کا اُم رومان تھا۔ قتیلہ سے صدیق اکبر کے دو بچے تھے، بیٹی کا نام اسمائ تھا۔ بیٹے کا نام عبد اللہ تھا۔ دوسری خاتون اُم رومان سے بھی دو بچے ہوئے۔ ایک کانام عبد الرحمن تھا اور بیٹی کا نام عائشہ تھا۔ یہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوچکے تھے۔ یعنی ابھی اسلام آیا نہیں تھا اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ پیدا ہوچکی تھیں۔ اب اسلام جب آیا تو پیغمبر اسلام ۖ کی عمر کتنی تھی؟40سال۔ آپ ۖ نے مکہ معظمہ میں کتنے عرصے زندگی گزاری؟۔13سال۔ اس سے پہلے جو بچی پیدا ہوگئی ہے اس کو2سال کی3سال کی بھی تسلیم کرلیں تب بھی حضرت عائشہ صدیقہ14،15،16سال کی بوقت نکاح ہر صورت میں ثابت ہیں۔ دوسری بات، حضور ۖ نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ پر ایمان لانے والے ابتدائی40آدمی ان میں عائشہ صدیقہ کا نام بھی ہے۔ آپ سیرت ابن ہشام پڑھ کر دیکھ لیں اسکے ترجمے میں لکھا ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بچہ جب ایمان لاتا ہے تو ایمانیات کے اصولوں کو سمجھنے کیلئے اس کا ہوش مند ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟۔ اور1،2سال کے بچے کے ایمان کا کوئی اعتبار ہوتا ہے؟۔ کم از کم6،7سال کا بچہ ہو تب وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو عائشہ صدیقہ اس فہرست میں شامل ہیں جو ابتداء میں رسول اللہ ۖ پر ایمان لانے والے لوگ تھے۔ کم از کم5،6سال کی عائشہ صدیقہ کو تسلیم کریں تو تب ان کے ایمان کا اعتبار ہوتا ہے۔ اگر وہ5سال کو پہنچ چکی تھیں تو ایمان لائیں تو13سالہ مکی زندگی ہے پھر رخصتی کا زمانہ کتنا بنتا ہے؟ میں پچھلے جمعے ایک بات عرض کرچکا ہوں حساب کتاب کے ماہرین فوراً سمجھیں گے اس کو ان کی بڑی ہمشیرہ دوسری ماں سے جن کا نام حضرت اسمائ بنت ابی بکر ہے مشہور صحابیہ ہیں۔ان کا تذکرہ سب نے لکھا ہے۔ حتیٰ کہ صاحب مشکوٰة نے ، مشکوٰة ہماری احادیث کی کتابوں میں سب سے پہلے پڑھائی جاتی ہے اس کے آخر میں راویوں کی ایک لمبی فہرست ہے اس کا نام ہے ”الاکمال فی اسماء الرجال”۔ اس میں حضرت اسمائ کا تذکرہ ہے۔ اس میں لکھا ہے وہ100سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ کب فوت ہوئیں؟۔ سن73ہجری میں ۔ سب نے لکھا ہے یہ مسلمات میں سے ہیں اختلاف کسی کا نہیں۔ یہ اپنی چھوٹی بہن عائشہ سے10سال عمر میں بڑی تھیں۔ ان تینوں چیزوں کو سامنے رکھ کر ذرا حساب لگائیں۔ اس بات کو محدثین نے بھی لکھا ہے مورخین نے بھی لکھا ہے۔ اسماء بنت ابی بکر اپنی چھوٹی بہن سے کتنی بڑی تھیں؟10سال۔ فوت کب ہوئیں؟۔73ہجری میں۔ کتنی عمر میں فوت ہوئیں؟۔100سال کی عمر میں ۔ جو خاتون100سال کی تھیں73ہجری میں وہ یکم ہجری کو کتنے سال کی ہوںگی؟27سال کی۔ اور یکم ہجری کو27سال کی تھیں تو ان سے10سال عمر میں جو چھوٹی ہمشیرہ وہ یکم ہجری کو کتنے سال کی ہوئیں؟۔ کوئی بھی پہلو لے لیں یا کسی صورت کے اندر حضرت عائشہ صدیقہ6سال کی عمر کی نہیں تھیں بوقت نکاح۔ یہ تو میں نے سمپل دو چار باتیں کی ہیں۔ آپ کو دسیوں دلائل اور دئیے جاسکتے ہیں۔بخاری شریف کی پہلی حدیث کتاب الایمان میں نزول وحی والی۔ اس کا عنوان ”سب سے پہلے رسول اللہ ۖپر جو وحی نازل ہوئی اس کی کیفیت ”اس کی راوی حضرت عائشہ ہیں حضرت خدیجة الکبریٰ نہیں۔40کی عمر میں رسول اللہ ۖ پر وحی آئی تو وحی کی کیفیت کون بیان کر رہا ہے؟ ۔حضرت عائشہ بیان کررہی ہیں۔ دوسری زوجہ حتیٰ کہ حضرت خدیجہ بھی بیان نہیں فرمارہیں۔27ویں پارے میں ایک سورت ہے سورہ قمر یہ قرآنی ترتیب کے حساب سے54نمبر کی سورت ہے اورنزولی ترتیب سے37ویں نمبر کی ہے۔ اس کی46ویںنمبر کی آیت ہے والساعة ادھٰی و امر قیامت کا منظر پیش کیا گیا ہے قیامت بڑی خوفناک ہوگی بڑی تلخ حقیقت ہوگی۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں جب یہ سورہ مبارک نازل ہوئی تو ہمارے گھروں کے اندر تلاوت ہوتی تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ سورہ مبارکہ سن4نبوی میں نازل ہوئی۔ نبوت کا چوتھا سال تھا۔ تو جو بچی یہ کہتی ہیں کہ میں بڑی ہوشیار تھی کھیلتی کودتی تھی اور یہ سورت نازل ہوئی اور اس کی آیت مجھے اچھی طرح یاد ہے تو کب پیدا ہوچکی تھیں؟۔ رسول اللہ ۖ کی ابتدائے نبوت سے پہلے پیدا ہوچکی تھیں۔ جو پہلو بھی لے لیا جائے میرے دوستو! سوائے بخاری اور مسلم کی ان دو روایتوں کو چھوڑ کر جتنے بھی حقائق ہیں وہ سب کے سب ثابت کررہے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ جب رسول اللہ ۖ کے نکاح میں آئیں تو وہ بالغ ہوچکی تھیں۔ یہاں ایک اور بات۔ جب صدیق اکبر کو یہ پیغام پہنچایا اس خاتون نے کہ رسول اللہ ۖ کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کردیں۔ اور انہوں نے یہ فرمایا کہ حضور تو میرے بھائی ہیں۔ جو اشکال ظاہر کیا وہ بھائی ہونے کاکیا۔ اگر عائشہ صدیقہ6سال کی ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ کیونکر ممکن ہے وہ تو بچی ہیں ابھی۔ اگر کسی چھوٹی سی بچی کے ساتھ نکاح کا پیغام دیں تو ہر ماں باپ کہتا ہے کہ وہ تو ابھی بچی ہے۔ صدیق اکبر نے اور حضرت اُم رومان نے یہ اشکال پیدا نہیں کیا کہ وہ ابھی بچی ہے بلکہ یہ کہا کہ حضور ۖ صدیق اکبر کو بھائی قرار دے چکے ہیں۔ اچھا کہا جاتا ہے کہ6سال کی عمر میں حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور ۖ کیساتھ ہوگیا۔ مولویوں کی تاویلیں۔ عرب معاشرہ بڑا گرم تھا۔ گرم معاشرے میں لڑکیاں جلدی جوان ہوجاتی ہیں۔ ان خرافات کی بھی حد ہوگئی خدا کی قسم۔ بس اس گرم معاشرے میں ایک عائشہ صدیقہ جوان ہوئیں، ہزاروں لاکھوں انسانوں میں سے کوئی اور بچی جوان نہیں ہوئی؟۔ انہوں نے عقیدت میں یہ بات تو کہہ دی لیکن میں پوچھتا ہوں ان مولوی صاحبان سے جو اس روایت کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ تم اپنے کسی پیر و مرشد کو جو50سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، تمہارے پیر و مرشد تمہارے استادکو6سال کی بچی اسکے نکاح میں دے دو۔ تیار ہو؟۔ آپ دوستوں سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ کا کوئی پیر ومرشد ہو جس کیساتھ آپ کو بے انتہا محبت ہے وہ اگر آپ کی6سال کی بچی کی پیشکش کرے کہ میرے نکاح میں دیدو تو آپ کو تعجب نہیں ہوگا کہ ہمارے حضرت صاحب اتنے نیک انسان ہیں اللہ کے ولی بزرگ ہیں کیسی باتیں کررہے ہیں؟۔ عقل مانتی ہے اس بات کو؟۔ میرے دوستو! اس روایت کو بچاتے بچاتے صرف اتنی تاویل کی جاسکتی ہے کہ راوی سے غلطی ہوگئی16سال کہنا تھا وہ6سال کہہ گیا19سال کہنا تھا وہ9سال کہہ گیا۔ بس اتنی سی بات ہے۔ بریگیڈئیر حامد سعید اختر اللہ انہیں سلامت رکھے انہوں نے ایک بڑا خوبصورت شعر اور ایک مضمون لکھا جو ایک کتاب کی شکل میں چھپ گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں اس نے لکھا ہے دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ بہت خوبصورت شعر کہا ہے شاعر بھی ہیں وہ انہوں نے مجھے وہ شاعرانہ کلام دکھایا جو انہوں نے لندن میں ہائڈ پارک کے کنارے پر بیٹھ کر لکھا تھا بڑا زبردست ہے ان کی کمال کی شاعری دلیل ہے۔ یہ دنیوی پڑھے لکھے لوگ سارے ڈفر نہیں ہوتے، بڑے سلیم الفطرت بھی ہوتے ہیں ۔ بریگیڈئیر حامد سعید کے گھر میں گیا ہوں ایک سے زائد مرتبہ بہت اچھے انسان ہیں ۔ ڈیفنس میں رہتے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کے جذبات کو قبول فرمائے۔ انہوں نے یہ کتاب کمال کی لکھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا کے مسلمان علماء کا کفارہ ادا کیا انہوں نے۔ کہتے ہیں کہ دن رات6مہینے تک میں سویا نہیں۔ اس قدر تکلیف ہوئی مجھے ان خاکوں سے۔ اور پھر میں نے پورا تجسس کرنے کے بعد اس روایت کا پورا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد وہ کتاب لکھی۔ بہت شاندار کتاب ہے ”میزان عمر عائشہ”۔ اور لکھا ہے کہ

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
ان سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کے بعد

رسول اللہ ۖ کی ذات سب سے پہلے ہے۔ دنیا کی کوئی کتاب کوئی روایت جس سے رسول اللہ ۖ کی شخصیت مجروح ہوتی ہو ، آپ کی ذات مجروح ہوتی ہو، آپ کی بے ادبی نکلتی ہو آپ کا گھرانہ مجروح ہوتا ہو ۔ سب کو ہم دیوار پر دے ماریں گے نبی کی ذات کو نہیں چھوڑیں گے۔ آخر میں ایک بات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، قرآن کی تو روزانہ تلاوت کرتے ہوں گے نا آپ لوگ؟۔ کرتے ہیں نا؟ ۔ کمزور سر نہ ہلائیں مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ میں یہ بات اسلئے کررہا ہوں کہ اللہ پاک نے مجھے توفیق دی ہے کہ صبح کی اذان سے پہلے میں تلاوت کرچکا ہوتا ہوں۔ ہم عہد کریں کہ ہم قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرینگے۔ انشاء اللہ ، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور میں کوشش کررہا ہوں کہ جو قرآن کریم میں شائع کروں آپ کو ایک ایک نسخہ دوں اس شرط کے ساتھ کہ آپ تلاوت کریں۔ انشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ قرآن کریم سورہ نساء اس کے چھٹے نمبر کی آیت ہے توجہ کریں۔ وابتلو الیتامٰی حتیٰ اذا بلغو النکاح کہ کسی کی بچیاں بچہ یتیم رہ جائیں تو ان کے مال کی حفاظت کرو وہ مال تمہارا نہیں ان بچوں ہی کا ہے، ان کو وقتاً فوقتاً آزماتے رہو کہ وہ مال کا تحفظ کرسکیں گے کہ نہیں کرسکیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ سب مفسرین میں نے دیکھا اذا بلغو حد البلوغ نکاح کا معنی کیا حد البلوغ بلوغت کو پہنچ جائیں۔ قرآن کریم میں اللہ کیلئے مشکل نہیں تھا کہ یوں فرماتا کہ حتیٰ اذا بلغو حد النکاح اس کے بجائے اللہ نے فرمایا حتیٰ اذا بلغو النکاح تو لفظ نکاح بول کر بلوغت مراد لی ہے۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ منشائے الٰہی یہ ہے نکاح کی عمر وہی ہے جو بلوغت والی ہے۔ حتیٰ اذا بلغو النکاح ۔ اچھا یہ بتائیں گرمی پہلے تھی اب نہیں ہے؟۔ آپ کے لاہور پنجاب میں گرمی نہیں ہوتی؟۔ سبی اور جیکب آباد کا علاقہ سب سے زیادہ گرم ہے پاکستان میں۔ عرب ممالک میں گرمی ہوتی ہے آج سے14سو سال پہلے عرب ممالک کی گرمی اور اب گرمی میں کوئی فرق پڑا ہے؟۔ کوئی فرق نہیں پڑا۔ بلکہ اب کچھ زیادہ ہے۔ الیکٹرانک آلات زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے گرمی زیادہ ہے۔ اچھا یہ بتائیں کہ اس زمانے میں لوگوں کی معیشت والی حالت زیادہ اعلیٰ تھی یا اب اعلیٰ ہے؟۔ تو اب جو بچیاں وہاں رہتی ہیں وہ کھانے پینے کی اشیاء اعلیٰ سے اعلیٰ اس زمانے کے مقابلے میں استعمال نہیں کرتیں؟۔ کرتی ہیں۔ تو اس زمانے میں کتنی6سال کی بچیاں بالغ ہوتی ہیں جو نکاح ہوتے ہیں۔ عجیب تماشہ ہے خدا کی قسم کہ د.شمنان اسلام نے حملہ بھی کیاتو پیغمبر کی ذات پر۔ نبی کے گھرانے کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس میں ہمارا کردار ہے ہم مولویوں کا کہ ہم نے سوچے سمجھے بغیر ان روایات کو سہارا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ اس سے نبی کی ذات مجروح ہورہی ہے۔ بھئی اگر ترمذی ، ابن ماجہ، حدیث کی دوسری کتابوں کی بہت ساری روایات کو تم چھوڑ دیتے ہو ضعیف اور موضوع ہونے کی بناء پر اس کے باوجود بھی امام ترمذی کا ادب و احترام بدستور قائم ہے ابن ماجہ کا احترام موجود ہے دیگر محدثین کا، امام احمد کی مسند کا احترام موجود ہے، باوجود یہ کہ بے شمار روایتیں اس کے اندر کمزور ہیں۔ اگر بخاری و مسلم کی کسی ایک روایت کو کمزور کہہ دیا گیا تو اس سے امام بخاری کی نہ شخصیت مجروح ہوتی ہے نا ان کی توہین ہوتی ہے نا اسلام کا کوئی ستون گرتا ہے۔ البتہ یہ کہ ان روایتوں کے انکار کرنے کے سبب سے رسول اللہ ۖ کی ذات بچتی ہے عائشہ صدیقہ کی شخصیت بچتی ہے صدیق اکبر کا گھرانہ بچتا ہے۔ ہمارے لئے روایتوں کو بچانے کے بجائے نبی کا احترام اور اس کو قائم رکھا جائے زیادہ اہم ہے۔ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ رسول اللہ ۖ کی ذات کا ادب و احترام یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اگر نبی کی ذات مجروح ہوتی ہے اور ہم اس کوبرداشت کرلیتے ہیں تو ہمارے اندر ایمان باقی نہیں رہتا۔

تبصرۂ نوشتۂ دیوار اللہ نے حقائق کو چھپانے کی تعلیم نہیں دی۔ جب نبیۖ نے خواہش رکھی کہ ”اگر زیدنے کسی صورت بھی اپنی بیوی کو اپنے پاس نہیں رکھا تو اس کی دل جوئی کیلئے نبیۖ شادی کریں اور خوف تھا کہ لوگ کہیں گے کہ لے پالک بیٹے کی بیوی سے نکاح کا۔ وحی نازل ہوئی وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ ”اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے اور اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرو”۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عائشہ نے کہا کہ ” اگر نبیۖ کسی بات کو چھپانا چاہتے تو وحی کی ان آیات کو چھپاتے”۔ (صحیح بخاری)

یہ غیرمسلموں کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں کہ کسی بات کا انکار اسلئے ہو کہ اس سے نبیۖ کی ناموس پر اثر پڑتا ہے۔ البتہ یہ واضح حقیقت ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر16سال اور رخصتی کے وقت19سال تھی اور مسلمانوں کا فرض بنتاہے کہ لوگوں کے سامنے حقائق لائے جائیں۔ قرآن کی جس آیت میں ایسی عورتوں کا ذکر ہے جن کو حیض نہیں آتا ہے تو اس سے مراد عمر کی زیادتی، بیماری اور بانجھ ہونا ہے۔ بچیاں مراد نہیں ہیں۔ بچیوں پر نساء کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ بچی کو حیض آتا ہے اور نہ اس کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ قرآن میں یتیم بچوں کیلئے نکاح کی عمر تک پہنچنے کی بات ہے اور اس سے جنسی بالغ ہونا مراد نہیں کیونکہ انسانوں میں صلاحیت مختلف ہوتی ہے جس عمر میں یتیم مال سنبھالنے کے قابل بن جائیں وہ عمر مراد ہے ۔ بسا اوقات بالغ ہونے کے باوجود کوئی کاروبار کے قابل بھی نہیں ہوتاہے بلکہ اس کو زیادہ عمر تک تجربہ درکار ہوتا ہے۔

صحیح بخاری میں ابنة الجون کے بارے میں مختصر ذکر ہے کہ نبی ۖ کے پاس لایا گیا۔ نبی ۖ نے اس کو دعوت دی کہ خود کو مجھے ہبہ کردو۔ اس نے کہا کہ کیا ملکہ خود کو بازارو کے حوالے کرسکتی ہے؟۔ نبیۖ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا کہ اعوذباللہ منک میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔نبی ۖ نے فرمایا فقد عذت بمعاذ ”جس کی پناہ مانگی جاتی ہے اس کی آپ نے پناہ مانگ لی اور اس کو دوچادریں دیکر اسکے گھر پہنچانے کا حکم دے دیا۔(صحیح بخاری)

صحیح بخاری کی اس روایت کی تشریح میں علامہ غلام رسول سعیدی اور مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں علامہ ابن حجر کی وضاحت نقل کی ہے کہ ” سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبیۖ کا اس سے نکاح نہیں ہواتھا تو اسے خلوت میں کیسے لیا؟، ہبہ ہونے کی دعوت دی؟ اور ہاتھ کیسے بڑھایا؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبیۖ کا صرف اس کو طلب کرنا نکاح کیلئے کافی تھا ،چاہے وہ خود راضی ہو یا نہیں ہو اور اس کا ولی راضی ہو یا نہیں ہو۔ نبیۖ نے محض تطیب خاطر کیلئے پوچھا ورنہ تو اس کی ضرورت نہیں تھی”۔(کشف الباری ، نعم الباری)

جس نبی ۖ نے فرمایا کہ جس عورت کا نکاح ولی اس کی اجازت کے بغیر کردے تو اس کا نکاح نہیں ہوا۔ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اس نبیۖ پر اتنا بڑا بہتان لگانا کتنا گھناؤنا جرم ہے؟۔ جب اس کی پوری تفصیل بھی موجود ہے کہ الجون نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا اور اپنی بیٹی کا عرض کیا کہ عرب کی خوبصورت ترین عورت سے آپ کا نکاح کردوں؟ اور نبیۖ نے حامی بھرلی۔ حق مہر طے ہوا۔ ازواج مطہرات نے بناؤ سنگھار کیا اور اس کو سمجھایا کہ اس طرح کا رویہ رکھو اور یہ جواب دو۔ ان کو معلوم تھا کہ نبیۖ پہلے حسب معمول پوچھتے ہیں تاکہ عورت کی رضامندی معلوم ہو جائے ۔ اس عورت ابنت الجون نے سادگی سے ازواج مطہرات کی باتیں مان لیں اور جب گھر لوٹ گئی تو گھر والوں نے کہا کہ آپ بدنصیب ہیں کہ اس شرف سے محروم ہوگئیں اور جب نبیۖ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ ”سوکنوں نے سوکناہٹ کا معاملہ دکھا دیا”۔

اس واقعہ کی تمام تفصیلات سامنے آجائیں تو سورۂ یوسف کے احسن القصص سے بھی نبی ۖ کی اعلیٰ سیرت قابل اتباع بنتی ہے اور یہ ازل سے ابدتک معاشرتی مسائل کا بڑا حل ہے لیکن بخاری کی حدیث کی مختصر روایت پر کتنا بے تکا تبصرہ کیا گیاہے اور اس کو کتنی بے شرمی سے نقل کیا گیا ہے؟۔

بخاری کی کتنی احادیث میں نمازوں کے اندر رفع یدین کا ذکر ہے لیکن مولوی کہتے ہیں کہ ”یہ العیاذ باللہ گائے کی دُم کو ہلانے کی طرح ہے۔ حالانکہ عیدین میں تین تین بار ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں لیکن ان کو گائے کی دُم نہیں کہا جاتاہے۔ اور جب نبیۖ نے ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے نکاح کو باطل قرار دیا تو کتنی ڈھٹائی کیساتھ اس حدیث کو رد کردیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں بخاری کے اندر تضادات موجود ہیںمگر ان تضادات کی طرف علماء میں متوجہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ بیوی کو حرام کہنے سے تیسری طلاق واقع ہوجاتی ہے اور ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ہے کہ حرام کہنے سے کچھ بھی واقع نہیں ہوتا کیونکہ یہ نبی ۖ کی ا سوہ ٔ حسنہ (سورہ تحریم) سے ثابت ہے۔

مفتی منیر شاکر نے بھی پشتو زبان میں اپنی تقریر میں یہ کہا کہ لوگ ہندو عورت کے پیچھے پڑگئے لیکن6سال اور9سال والی روایت تو بخاری میں ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے تو اسکا کچھ کرو”۔ اس پر پشتو میں شیخ ابو حسان اسحق السواتی نے کہا کہ” اس حدیث کا انکار قرآن کا انکار ہے اسلئے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ رسول ۖ کی اطاعت کرو۔ مفتی منیر شاکر قرآن کی بات کرتا ہے ،وہ اس حدیث کا انکار کرکے قرآن کا منکر ہے”۔

حکیم نیاز احمد فاضل دیوبند نے ایک بڑی ضخیم کتاب کشف الغمة عن عمر ام الامة یعنی تحقیق عمر عائشہ صدیقہبہت پہلے لکھی ہے اور اس موضوع پر کئی دوسری کتابیں بھی آچکی ہیں۔ فن حدیث ،مختلف روایتوںاور راویوںکوتحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ اہل علم کو چاہیے کہ تحقیقی انداز کو اپنائیں اور اپنی عاقبت خراب ہونے سے بچاہیں۔ فقہ حنفی میں بہت ساری احادیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا جاتا ہیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ لیکن حنفی فقہ اس کی مخالف ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نکاح کیلئے دوصالح گواہ ضروری ہیں۔ حنفی کہتے ہیں کہ دو فاسق بھی کافی ہیں۔ اور نبی ۖ نے فرمایا کہ دف بجاکر نکاح کا عام اعلان کرو، مگر حنفی کہتے ہیں کہ دوفاسق گواہ کا خفیہ نکاح اعلان ہے۔اگر حدیث کا انکار قرآن کا انکار ہے تو پھر شیعہ ٹھیک کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے حدیث قرطاس کا انکار کیا تو قرآن کا بھی انکار کردیا؟۔ علماء ومفتیان سے گزارش ہے کہ تعصبات کی جگہ علم سیکھ اور سمجھ کر قرآن واحادیث کی درست خدمت کریں۔حنفی مسلک کا کمال ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث کو رد کیا لیکن قرآن میں پہلے شوہر سے آزادی دلانے کیلئے طلاق کے بعد عورت کونکاح ثانی کا حکم ہے۔ حدیث میں ولی کی اجازت سے مراد کنواری ہے اور قرآن نے بیوہ کو بھی عدت کے بعد آزاد قرار دیا۔ لیکن جمہور حدیث کے خلاف آیت کی تصریح بھی نہیں مانتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا عبدالواحد قریشی نے کہا کہ ”قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں اسلئے علماء کی نگرانی میں قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے”۔ جواب میں مولانا سراج الدین نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ ” شاہ ولی اللہ اور انکے بیٹوں نے قرآن کا ترجمہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کیا؟۔دیوبند کے اکابر شیخ الہند محمود الحسن، مولانا اشرف علی تھانوی، علامہ شبیر احمد عثمانی اور دیگر اکابر نے کیا عوام کو گمراہ کرنے کیلئے قرآن کا ترجمہ کیا تھا؟۔ یہ کیسی جہالت کی باتیں ہورہی ہیں”۔

ان دونوں علماء کرام کا تعلق علماء دیوبند اور فقہ حنفی سے ہے اور اتنے بنیادی اختلاف میں بھی دونوں کی باتوں میں بڑا وزن ہے۔ میں نے مدارس کی خاک چھانی تھی اور ایک قابل طالب علم سمجھاجاتا تھا لیکن مدارس کی سرپرستی میں قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے طلاق کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ پھر طلاق کا مسئلہ سمجھنے کیلئے قرآن کی طرف رجوع کیا تو میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ آج کی دنیا میں صرف اسرا.ئیل کو چھوڑ کر کوئی ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں کی عوام نے حلالے کے خلاف ہم سے فتویٰ نہیں لیا ہو۔ اگر قریشی قرآن سے عوام کو منع کرتاہے تو اس میں وزن ہے اور مولانا سراج الدین کی بات میں بھی وزن ہے۔

بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے متعہ کے حوالے سے فرمایا لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبٰت ”جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اس کوحرام مت کرو”۔ اور بخاری میں ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پرنبیۖ نے متعہ اور گھریلو گدھوں کو حرام کیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب میں گدھے کھانے کا رواج تھا؟۔ پہلے کھایا بھی جاتا تھا ؟۔ اس کا جواب نفی میں ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے خیل یعنی گھوڑے، خچر اور گدھے کو زینت اور سواری کی چیز بتایا ہے اور اگر لوگ ان کو کھاتے تو سواری کی جگہ کھانے کا ذکر ہوتا۔ اگر نبی ۖ نے متعہ کو فتح خیبر کے موقع پر حرام کردیا تھا تو پھر فتح مکہ کے موقع پر دوبارہ کیسے حلال کردیتے؟۔ علماء ومفتیان کا فرض بنتا ہے کہ تحقیقات کرکے اسلام کا روشن چہرہ واضح کریں اور صرف کھانے پینے اور عیش اڑانے تک محدود نہ ہوں۔

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اہم لوگ غیر ملکی ا یجنسی نے قتل کردئیے

اگر غیرملکی ایجنسی کے آلہ کار اہم شخصیات کو قتل کررہے ہیں تونوٹس کیوں نہیں لیا جاتا ہے؟
اگر حامد میر عمران خان کو ڈرانے کیلئے ڈرامہ کررہے ہیں تو اس جھوٹ کا نوٹس لیا جائے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حامد میر نے کہا تھا کہ جنرل رانی اور کس فوجی کی بیگم نے کسے گولی ماری ؟۔ باصلاحیت انسان قوم کا قیمتی اثاثہ ہے ۔ اختلاف رائے پر دشمنی ریاست کو زیب نہیں دیتی ۔ مخالفت سے حکومت وریاست کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ صحافی اگر ریاست وحکومت کی ڈھال بنے تو وہ کسی نکڑ پر فضول بھونکنے والا فالتو کتاہے جس پر کوئی توجہ نہیں دیتا مگر جب سخت ترین ناقدصحافی کرائسس میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو رکھ کرساتھ دیتا ہے تو اس کا اعتماد قوم میں اعتبار دلاتا ہے۔ تنقید سے خامیاں بروقت نظر آتی ہیں اور ازالے کی کامیاب کوشش ہوسکتی ہے۔جبپانی سر سے گزر جائے تو پھرتنقید کا کوئی فائدہ بھی نہیں ۔
حامد میر نے کہا کہ” ان کو غیر ملکی ایجنسی نیٹ ورک کا شخص مارنا چاہتا تھا مسجد میں نماز پڑھتے وقت جوتے میں کیمیکل لگاکر۔ پتہ نہیں چلتا، بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے اور اٹیک سے بندہ مرجاتا ہے۔ طبی رپورٹ طبعی موت کی آتی ہے ۔ دوسال میں عدلیہ وغیرہ کی جتنی اہم شخصیات کی اچانک موت واقع ہوئی ہے، تفصیل بتانا خطرناک ہے ”۔سوال یہ ہے کہ اپنی ایجنسیاں قاتلوں کو کیوں نہیں پکڑتی ہیں؟۔ کیا اس میں نیشنل انٹرسٹ ہے؟۔ اور اگر حامد میر نے عمران خان کے شر سے بچنے کیلئے کسی کے کہنے پر افواہ چھوڑی تو وضاحت کریں اسلئے کہ ملک وقوم میں ویسے بھی اعتماد کا فقدان ہے۔ افواہ سازی کے ذرائع کم نہیں کہ اور اضافہ ہو۔ جیونیوز رپورٹ کارڈ میں ، وسعت اللہ خان ذرا ہٹ کے میں اور پارلیمنٹ میں بھی اس پر بحث ہونی چاہیے اور سینٹ میں بھی اور کور کمانڈر کانفرنس میں بھی۔
اتنی ساری اہم شخصیات کے اچانک بے گناہ قتل پر خاموشی بڑاالمیہ ہے۔ حامدمیر بتائیں کہ کس جرم میں قتل کرنا چاہتے تھے اور کس خوبی کی وجہ سے چھوڑ دیا؟۔ یہ بڑی دہشتگردی نہیں ؟۔ اسرائیل کے آلۂ کاروں کا کھیل ہوسکتاہے لیکن حامدمیر فلسطین گئے ۔اگراس دہشتگردی کے پیچھے غیرملکی گردی یا افواہ گردی ہے تو کھلی بات کی جائے۔ حامد میر اور میجرجنرل R شاہدعزیز چیئرمین نیب کی ویڈیو کلپ ہے کہ” امریکہ میں دودفعہ دورانِ ٹریننگ یہ پیشکش ہوئی کہ ہماری نوکری کرو، پاک فوج میں رہ کر فری میسن کیلئے کام کرو۔ برطانیہ وامریکہ میں فری میسن مضبوط ہے وہیں سے ڈیل کیا جاتاہے”۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان اور انکے حامیوں پر یہود کے آلۂ کار اور عمران خان نے نوزشریف پر غیرملکی ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ Xسروس فوجی افسران نے حاضر سروس پرلگادیا ۔قبائلی علاقوں میں کھل کر دہشتگردی کا کھیل جاری ہے ۔پاکستان میں اعتمادکی بحالی، کردار سازی اورایثاروقربانی کی سخت ضرورت ہے۔انسانیت کابڑا ولولہ ہمیں بچاسکتا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

مولانا اجمل قادری کا دورۂ اسرائیل
مفتی محمود کی وفات کے بعد مولانا اجمل قادری اور مولانا فضل الرحمن کا راستہ جداہوگیا تھا
مولانا فضل الرحمن پر منافقت اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام بڑا گھناؤنا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
مین سٹریم وسوشل پر میڈیا سید علی حیدر اوردیگر افواہ پھیلارہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اعلیٰ کا دورۂ اسرائیل منافقت ہے۔ایک طرف اسرائیل کیخلاف جلوس اور دوسری طرف درپردہ تسلیم کرنے کی کوشش۔ مولانا اجمل کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہے اور مولانا احمد علی لاہوری کے پوتے اور مولانا عبیداللہ انور کے بیٹے ہیں۔ مفتی محمود وفات پاگئے توپھر جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری پر اختلاف ہوا۔امیر درخواستی صاحب نے مولانا عبیداللہ انورکی تجویز پیش کی اور جماعت کی شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کو مفتی محمود کے بعد جنرل سیکرٹری منتخب کرلیا۔ جس کے بعد جماعت تقسیم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن MRDکیساتھ کھڑے ہوگئے اور مولانا اجمل قادری ضیاء الحق کیساتھ تھے۔ نوازشریف کیساتھ اسلامی جمہوری اتحاد میں تھے۔ 1988ء میں پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو جمعیت علماء اسلام ف ن لیگ کے ہی خلاف تھی۔ پھرآئی جے آئی کی حکومت آئی تو بھی مولانا فضل الرحمن انکے خلاف تھے۔ پھر دوبارہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی کے اتحادی بن گئے اور جب ن لیگ کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن اسمبلی میں بھی نہیں تھے لیکن ن لیگ کے سخت خلاف تھے۔ مولانا اجمل قادری نے سب کچھ بتادیا ہے، البتہ تضاد بیانی بھی کی ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن کو موردِ الزام ٹھہرانا انتہائی حماقت ہے۔ علی حیدر کو چاہیے کہ اتنا تو دیکھ لیتا کہ ایک بالکل غیرمعروف شخصیت جمعیت علماء اسلام کی سرپرست اعلیٰ کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرکزی جمعیت علماء اسلام کا کہیں نہ کہیں کوئی لنک بنتا ہے تو بھی یہ غلط ہے۔ شیعہ سنی روایتی فرقہ واریت کی ٹچ اس میں داخل کرنا صحافت اور شیعہ دونوں کیلئے نیک شگون نہیں ہوسکتے ہیں۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی نے ببانگِ دہل اسرائیل سے تعلقات کی بات کی اور اگر مولانا فضل الرحمن کی سمجھ میں بات آگئی تو وہ بھی مولانا اجمل قادری اور شیرانی کی طرح بلکہ ان سے زیادہ کھل کر بات کرنا چاہیںگے۔ مصر، ترکی ، عرب امارات، بحرین اور اردن وغیرہ ہمارے لئے کوئی ناقابلِ نفرت نہیں ہیں تو نوازشریف کی نیت پر بھی شک نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ بتاناضروری ہے کہ اس وقت نوازشریف پر بینظیر بھٹو نے بھی اسرائیلی ایجنٹ کا الزام لگایا تھا اور نوازشریف اسٹیبلیشمنٹ کا متفقہ نمائندہ اور کارندہ تھا۔ اپنے ضمیر کے مطابق تما م ایشوز پر جذبات اور بلیک میلنگ کی جگہ حقائق پر بات کرنا یقینا سب کے مفاد میں ہے۔بلوچ اور قبائل میں بھی فلسطین جیسے حالات سے گزرے ۔اب حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے خلاف فلسطینیوں اور یہودیوں کی طرح محاذ جنگ کھول دیا جس میں سیاسی پارٹیوں کا بڑا عمل دخل ہے اور مذہبی طبقے کا کردار زیادہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کبھی 100بچوں کو قتل کرکے کیمیکل میں سڑانے کی خبر آتی ہے، کبھی قصور بچوں اور بچیوں کے ریپ کی کہانی میڈیا پر آتی ہے ،اچھے خاصے غیرتمند پنجاب کو کیا ہوا ہے؟۔یالیڈروں کا قصور ہے؟
پشتون، بلوچ ،سندھی اور مہاجروں کی تبلیغی جماعت ودعوت اسلامی کی طرز پرمگر ذرا ہٹ کے ٹیمیں تشکیل دیکر مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں تو بے غیرتی کے وبائی مرض سے بچیں!
دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ اور سندھ حکومت نے بڑا کچھ کیا ، ریاست نے کام دکھایامگر آخر میں والدین کو ملاقات کیلئے زیادہ وقت اور موقع ملنا چاہیے تھا وہ ابھی تک شکوہ کررہے ہیں۔
مئی کے آخر میں BBCاردو کی رپورٹ کہ پنجاب سے40 ہزار بیٹیاں 2017ء سے2022ء تک اغواء ہوئیں، 37ہزار بازیاب اور ساڑھے تین ہزار ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایک بیٹی کے والدین کاانٹرویو دیا ۔ ماں باپ نے دو سال سے لاپتہ بیٹی کو بازیاب کرانے کی کوشش میں گھر بیچ دیا اور کنگال ہوگئے۔ ملزمان معلوم ہیں لیکن بااثر ہیں ۔پولیس اور عدالتوں کے چکر لگائے لیکن بیٹی نہ ملی۔ کھانا پینا ، سونا اور دن رات کا سکون غارت ہے۔ والدین نے BBCکے نمائندے سے کہا کہ زندہ یا مردہ حالت میں مل جائے، جینامشکل ہوا۔ یہ ایک بیٹی کے والدین کی کہانی نہیں اسی طرح ساڑھے تین ہزار بیٹیاں تاحال لاپتہ ہیں ۔ اگر پنجاب میں ہزاروں بیٹیوں کی داستانیں ہیں تو پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کو اپنے مسنگ پرسن کا غم ایک طرف رکھ کر گوادر و تربت سے ڈیرہ بگٹی تک، حب چوکی سے کوئٹہ تک بلوچوں کی جماعتیںاور کراچی سے کشمور تک سندھی اور مہاجروں کی جماعتیں اور کوئٹہ سے سوات تک پشتون جوانوں کی جماعتیں تشکیل دینی ہوں گی جو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے طرزپر مگر ذرا ہٹ کے اپنے مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں اور ان کو برہمن واچھوت جیسے بدترین کلچر سے نکالیں۔ بے غیرتی وبائی مرض سے زیادہ خطرناک ہے جس پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ہمارا پنجابی بھائی اپنی غیرت میں کسی سے پیچھے نہیں تھا لیکن جب سیاسی قیادت نے بدمعاشوں کی سرپرستی کرکے ظلم کی آبیاری کی تو بے غیرتی کی بیماری نے گھر کرلیا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ کبھی سو بچے کو قتل کرکے کیمیکل میں گلانے کی کہانی سامنے آتی ہے ، کبھی قصور میں ان گنت بچے اور بچیوں کے ریپ کی میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے اور اب 40ہزار سے زائد بیٹیوں کے اغواء کی خبر نے دنیا کو حیران کیا۔ پنجاب میں ہندوستان کی طرح خواتین پر بہت مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کا تدارک کرنا حکومت، ریاست اور دانشوروں کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ بسا اوقات جھوٹی کہانیاں بھی گھڑی جاتی ہیں جو بہت خطرناک ہیں۔ چیچہ وطنی میں ایک مرتبہ ن لیگ کے رہنما کے مشورے پر جھوٹی کہانی میڈیا پر آئی اور افسوس کہ ہم نے بھی چھاپ دی ۔ جھوٹے قصے کہانیوں کے افواہ سازسوشل میڈیا سینٹرز سیاستدانوں کے نیٹ ورک ہیں۔ ان کو مین اسٹریم میڈیا پر پکڑکر سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
اگر دعا زہرہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے تب بھی اس کے والدین کے حقوق سلب نہیں ہوتے ہیں۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ بچی ان کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئی تھی لیکن ایک مونچھوں والے سادہ کپڑے میں ملبوس پولیس اہلکار نے بچی کا بازو پکڑا اور یہ کہہ کر لے گیا کہ میں اس کا باپ ہوں۔ پھر جج کے پاس گئے تو جج نے منع کیاکہ بار بار اسٹیٹ منٹ نہیں لی جاتی۔ ہمارے ملک میں عورت کواسلامی حقوق حاصل نہیں ہیں اور اگر ان کو اس طرح اپنے والدین کے آسرے سے دور رکھا گیا تو ان کا مستقبل بھیانک ہوسکتا ہے۔ اگر بچی نے مرضی سے شادی کی ہے تو بھی والدین سے رابطہ نہ کاٹا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یتیم عورتوں کا اسپیشل خیال رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر اس کے والدین زندہ ہوں اور پھر اس کو عدالتی حکم کے ذریعے سے والدین کے سائے سے محروم کیا جائے تو یہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ سندھ میں 16سال سے کم عمر کی لڑکی کیلئے قانون بہت پہلے بدل چکا تھا۔ جس میں عمر کی کم از کم حد 18سال کی گئی اور پھر پورے پاکستان میں بھی 18سال کی عمر لازمی کرنے کا قانون میڈیا میں آیاجو غالباً پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔ یہ ان لڑکیوں کیلئے ہونا چاہیے جن کے والدین راضی ہوں۔ لیکن جب والدین راضی نہ ہوں تو حدیث میں آتا ہے کہ جس نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کی فقہ میں جمہور فقہاء مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ اور اہل حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح ناجائز اور حرامکاری ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر میری کوئی بات صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو۔ امام ابو حنیفہ نے چیف جسٹس بننے کی پیشکش مسترد کردی تو ان کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ 85فی صد فقہی مسائل امام ابو حنیفہ کی مخالفت میں ان کے فقہ کے نام پر دئیے جاتے ہیں۔ تاہم فقہ حنفی کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر لڑکی کا خاندان لڑکے کے خاندان سے دنیاوی وجاہت میں اعلیٰ درجے کا ہو تو پھر ولی کے مسترد کرنے سے نکاح شرعاً مسترد ہوجائے گا۔ امریکہ اور مغرب میں نکاح کے بعد عورت آدھی جائیداد کی مالک بن جاتی ہے اور جب چاہے شوہر سے اپنی جان بھی چھڑاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں بچے جنوانے کے بعد بھی جب چاہیں تو لڑکی کو گھر سے نکال سکتے ہیں اور وہ خلع لینا چاہے تو مولوی کی شریعت میں خلع کا تصور نہیں۔ الا یہ کہ عورت کو بلیک میل کرکے اس کی تمام آباء و اجداد کی جائیداد کو اپنے نام کرواکر خلع دینے پر شوہر راضی ہوجائے۔ یہ جہالت ابو الاعلیٰ مودودی اور جاوید غامدی تک نے بھی قرآن کے من گھڑت ترجموں میں لکھی ہے۔ ججوں سے اتنی استدعا ہے کہ شریف والدین کے دل کی بدعاؤں سے بچیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

مردِ آہن وزیر اعظم شہباز شریف کپڑے بیچنے کے بجائے اسٹیل مل کو بحال کرکے ہزاروں ملازمین کو روزگار فراہم کریں اورپاکستان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑا کرنے کا آغاز فرمائیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر مطالبہ کیا ہوتا کہ پیٹرول اور بجلی مہنگاکرو اور ملک بچاؤ توآج وہ بالکل سرخرو ہوتے مگر مہنگائی کیخلاف نعرے لگانے والوں نے مہنگائی کردی ؟

پوری قوم اور دنیا کے سامنے اللہ نے منافق سیاسی ٹولے اور اسکے زرخرید صحافیوںکوننگا کرکے رکھنا تھااسلئے کہ بے انتہاء مہنگائی کرکے ثابت کردیا کہ اصل مقصد اقتدار میں آنا تھا

وزیراعظم شہبازنے کہا ” میں اس بات پر قائم ہوں کہ اگر پختونخواہ کی حکومت نے آٹا سستا نہ کیا تو کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا”۔ پہلے اپنے کپڑوں کا کہا اور پھر بات بدلی۔مرد آہن کو کپڑے کا نہیں لوہے کا تجربہ ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کریں۔ہزاروں کا روزگار اور اربوں منافع سے معیشت بحال ہوگی۔ اسٹیل ملز کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسٹیل کے پراسیس میں ایک عنصر بلوچستان سے نکلتا ہے جوچین خریدتا ہے پھر مہنگے دام امپورٹ کیا جاتاہے اگر اسکا کارخانہ لگ جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کماسکتا ہے۔چین نے انڈسٹریوں سے ترقی کی اور ہمارے انڈسٹریلسٹ سیاستدان قرضے لیکر خودکو دیوالیہ شو کرکے قرضہ معاف کرانے میں ایکسپرٹ ہیں۔ چین سے سی پیک کی مد میں پہلی قسط 19ارب ڈالر ملی تھی پھر کتنے پیسے ہتھیا لئے تھے؟۔ IMF کاقرضہ اُتارتے مگر لزرداری نے6سے16تک IMFکا قرضہ پہنچایا، نوازشریف نے 14 ارب ڈالر لیکر30تک پہنچادیا۔ بے دریغ سودی قرضہ ملک کو ڈبونے کیلئے کافی تھا ۔ ہم نے اسی وقت نشاندہی کی تھی کہ دفاعی بجٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم سود کی مد میں رقم دی جاتی ہے۔ سود ی قرضوں سے نکلنا چیلنج تھا ۔ قوم گرداب میں پہلے پھنسا دی ۔ زرداری کو روڈ پر گھسیٹنے، پیٹ چاک کرکے پیسے نکالنے اور چوکوں پر لٹکانے کی باتیں لندن بیماری کا علاج کرنے گئیں؟۔ جب پختونخواہ کی بجلی، تیل اور گیس پنجاب وپاکستان میں برابر کی قیمت پر جارہی ہے تو پنجاب کا آٹا اسی قیمت پرآنا چاہیے۔ اگر شوبازی کرنی ہے تو اپنا انگریزی ہیٹ امیر مقام کو دو،وہ سلیمانی ٹوپی پہن کر پنجاب سے پختونخواہ آٹااسمگلنگ کریگا اور سستا ہوجائیگا؟۔ قوم مسخروں کی متحمل نہیں۔ پہلے مہنگائی مکاؤ کا شور مچایا اور جعلی کی جگہ اصلی الیکشن کا مطالبہ تھا۔ ملک کو بچاؤ، پیٹرول وبجلی بڑھاؤ مطالبہ ہوتا تو آج سرخرو ہوتے۔ نعرہ لگایا مہنگائی کیخلاف اورمہنگائی آسمانوں تک پہنچادی۔ نعرہ لگایا الیکشن کا؟ ملکربھی الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔ منافق ٹولے کیساتھ لفافہ مافیا صحافی ننگے تھے تو تڑنگے بھی بن گئے۔ اللہ نے جھوٹی شرافت و اصول پسندی کا نقاب اُتارنا تھا۔ عمران خان صوبوں وغیرہ سے کٹوتی کرکے پیٹرول کی قیمت کو کنٹرول کررہاتھا۔ کھاؤ پیو عیش اُڑاؤمافیا نے اقتدارلیکر مہنگائی کی جگہ غریب عوام مکاؤ کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر لال خان کہتاتھا: مجموعی ٹیکس کا85 فیصد بالواسطہ عوام سے لیا جاتا ہے جو حکمرانوں کے کمیشن اور ٹھیکوںاور سامراجی سود کی ادائیگی میںاُڑادیا جاتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

معاشی نظام کیلئے قومی حکومت بنائی جائے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ

معاشی نظام کیلئے قومی حکومت بنائی جائے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ

ڈیرہ اسماعیل خان سینئر ایڈوکیٹ جہانگیر خان سے عتیق گیلانی نے یہ استفسار کیا کہ موجودہ مشکل صورتحال میں پاکستان بچانے کیلئے آپ کیا تجویز پیش کریں گے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ سینئر ایڈوکیٹ کے علاوہ مذہب، تاریخ، سیاست اورریاست کے حوالے سے زبردست بصیرت کے مالک ہیں ۔پاکستان کی تحریکوں اور شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،جن کی فکرو بصیرت سے رہنمائی ملتی رہتی ہے۔ جہانگیر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا شخص، پارٹی یا ادارہ نظر نہیں آتا ، جو موجودہ حالات پر ملک وقوم کو بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہی کی وجہ سے تو یہ حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ چند خسرے، لونڈے ، لونڈیاں اور بھانڈ ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے کیلئے دن رات ٹی وی اور سوشل میڈیا پر پھلجھڑیاں چھوڑنے میں مصروف ہیں۔ مریم نواز ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟۔ بلاول بھٹو قوم کی تقدیر بدلے گا؟۔ عمران خان کی ذاتی ایمانداری مسئلے کا حل نہیں ہے اس کی ٹیم نے بھی اس ملک کو ویسا ہی لوٹ لیا جس طرح دوسروں نے لوٹا ہے۔ سیاست چلتی رہے گی لیکن معاشی صورتحال کو بہتر بنانا سب سے زیادہ ضروری ہے اور اب اس ملک کاایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے مضبوط معیشت کا۔ اگر پاک فوج سیاسی پارٹیوں کی ایک قومی حکومت بنانے میں کامیاب بقیہ صفحہ 2نمبر2پر

بقیہ نمبر2 … جہانگیر خان ایڈوکیٹ
ہوجاتی ہے جس کی معاشی ٹیم ملک کی معیشت کو سہارا دیدے اور معاشی حالت ٹھیک ہوجاتی ہے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ مذہب، غیرت اور مختلف نعروں کو آزمایا جاچکا ہے اور اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام اور جمہوریت کے نام پرتحریک چلانے اور جذبات ابھارنے سے اب لوگ بیزار ہیں اور معیشت اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جمہوریت اسلئے ہوتی ہے کہ عوام کے حقوق ، مالی خوشحالی اور ان کی آزادی کاتحفظ کیا جاسکے۔ یہاں جمہوریت کے نام پرعوام کو قید ، حقوق سے محروم اور مالی طور بدحال کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں ٹاؤٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جھگڑا عوام کے مفادات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پارٹیوں کے مفادات کا مسئلہ ہے۔ مال خرچ کرکے اور عوام کے جذبات بھڑکاکر پارٹیوں سے پارٹیاں کھیل رہی ہوتی ہیں۔ اگر قومی حکومت کی تشکیل میں ہمارے اصحاب حل وعقد کا میاب ہوگئے اور معاشی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا گیا اور ملک کی معیشت بچالی گئی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور پھر سیاست اور جمہوریت بھی چلے گی اور اختلافات بھی چلتے رہیں گے لیکن اب ہم نے ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچادیا ہے۔ پاکستان میں محب وطن اور وطن کی دشمن دوقسم کی قوتیں سرگرم عمل ہیں۔ کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جہاں پر اس طرح کی قوتیں کھل کر اور چھپ کر کام کرتی ہوں۔ بیرون ملک ہماری دشمن قوتوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ کوئی ایسا ماحول بن جائے اور ملک نیست ونابود ہوجائے۔ ریاست نے اپنی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں دشمنوں کو تقویت پہنچائی ہے اور جن کو پالا ہے انہوں نے دشمن سے بھی زیادہ ملک کو خطرے کی حالت تک پہنچادیا ہے۔ کوئی سیاسی لیڈر بنتا ہے تو وہ تین سوکتابیں پڑھتا ہے، ملک اور قوم کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور بین الاقوامی حالات کو سمجھتا ہے لیکن ہم کھلاڑیوں اور کاروباریوں کو اپنے ملک پر مسلط کرکے مسیحا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔باہمی مشاورت سے ماہرین کی چندسالوں تک حکومت مسائل کا حل ہے اور یہ بات دنیا جانتی ہے کہ ریاستیں اور حکومتیں چلانے کیلئے مختلف شعبوں کے تھنک ٹینک ہوتے ہیں۔ غل غپاڑے،ڈرامے،مفادپرستی اور مداری تماشے سے ملک نہیںچلتے۔ ریاست وحکومت کی بنیادی ضروریات کو ماہرین کے تھنک ٹینک کی مشاورت سے چلایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں سیاسی اُفق پر جتنی پارٹیاں نمودار ہوتی ہیں وہ دوست یار اور اپنے وفادار کو نوازنے کیلئے ہوتی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

افغانستان، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام تباہ کرنے والا اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکہ دوست لیکن اسرائیل بلیک میلنگ کا ذریعہ؟۔

افغانستان، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام تباہ کرنے والا اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکہ دوست لیکن اسرائیل بلیک میلنگ کا ذریعہ؟۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریک انصاف کی رہنما سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے پاک فوج کو اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے جب اپنا بیان جاری کیا تو میڈیا پر اس سے بھونچال آیا اور تہلکہ مچ گیا۔

جیو نیوز ”آپس کی بات” کے میزبان منیب فاروق نے پاکستانی نژاد امریکنNGOکے وفد اور صحافی احمد قریشی سے پوچھا کہ اسرائیل جانے اور اسرائیلی صدر وغیرہ سے ملاقات کے کیا مقاصد تھے؟

ARYنیوزٹائپ کے صحافی احمد قریشی نے بتایا کہ75سالہ تاریخ میں پاکستان میں پہلی بار کسی یہودی کو پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے جس کا کریڈٹ ریاست اور تحریک انصاف کو جاتا ہے

تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسرائیل کے حوالے سےISPRپاک فوج کے ترجمان کو دھمکی دی تو عدالت نے باغی ارکان کے ووٹ کاؤنٹ نہ کرنے کا فیصلہ دیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف ریاست کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جیو نیوز اور صحافیوں کے ایک ٹولے کی طرف سے عمران خان کی حکومت اور پاک فوج پرایک دباؤ اور ن لیگ کو ریلیف اور وکالت کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب پانسہ پلٹ گیا ہے تو پاک فوج کو عمران خان کے دباؤ سے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اگر شیریں مزاری یہ اعلان کردیتی کہ پاک فوج نے درپردہ اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا جس کے پیچھے امریکہ تھا اور ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت امریکہ کی ایماء پر ختم کردی گئی تو پاک فوج سے محبت کرنے والے جلاؤ گھیراؤ پر اتر آتے جو کسی طاقت سے پھر سنبھالے نہیں جاسکتے تھے۔ عمران خان نے خوف کے مارے یہ رسک لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج پر عمران خان بھی قربان ہو۔
اسرائیل جانے والے پاکستانی نژاد امریکن وفد میںARYنیوز کے صابر شاکر ٹائپ کے صحافی احمد قریشی نے انکشاف کیا کہ75سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک یہودی کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا جسکا کریڈٹ ریاست اور عمران خان کی حکومت کو جاتا ہے۔ وفد کا مقصد پاکستان کی نمائندگی کرنا نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی تھا۔ اسرائیلی حکومت کے نمائندوں نے بتایا کہ جس طرح ہم اپنے سخت گیر لوگوں کو سامنا کررہے ہیں جو مسلمانوں اور فلسطینیوں سے تعلق کی بحالی نہیں چاہتے۔ اسی طرح تم لوگوں کو بھی ان شدت پسندوں کا سامنا ہے۔ جب آپ کی طرف سے پیش رفت ہوگی تو ہم بھی اپنے لوگوں کو مطمئن کرسکیں گے۔ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے بعد سب سے زیادہ تعداد ترکیوں کی تھی جن کا50سال سے اسرائیل سے دوستانہ تعلق ہے۔ مصر، عرب امارات، بحرین اور دوسرے مسلم ممالک نے اسرائیل سے تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ منیب فاروق نے پوچھا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری جو تاثر دے رہی ہے کہ ہماری حکومت کی رخصتی کے بعد امریکہ سے پاکستانیوں کا وفد اسرائیل گیا تو کیا اس کے پیچھے عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت قائم ہونے کا کوئی تعلق ہے؟۔ جس کے جواب میں احمد قریشی نے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں اورصحافت کا تعلق خبر سے ہوتا ہے۔پرویز مشرف کے دور میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بھی اسرائیلی سفیر سے خفیہ ملاقاتوں کی خبریں میڈیا پر آئی تھیں۔ عمران خان کے دور میں اسرائیلی جہاز کی آمد کے حوالے سے بھی مذہبی و سیاسی رہنماؤں میں خبر گردش کررہی تھی ۔پاکستان کی ریاست اور عوام کے درمیان گیس بھرے غبارے کا تعلق ہے۔ فضاؤں میں اڑنے والا غبارہ کب پھٹ جائے یا پھر کب گیس خارج ہوجائے؟ یہ ریاست ، سیاست اور صحافت کی بساط پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کے بائیں ہاتھ کا ایک کھیل ہے۔ جب مقتدر طبقات، سیاستدانوں اور صحافیوں میں شعور نام کی کوئی چیز نہ ہو تو بے خبر عوام سے کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟ ذرا سوچئے تو سہی3بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کا بھائی کئی بار کا تجربہ کار وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کررہا ہے؟۔
عوام الناس کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کے مخصوص طبقے کو بھی شعور دینا بہت ضروری ہے۔ پنجاب کی عوام کا حال بھارت کے پسماندہ طبقات سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ جن کو گلی، محلے، علاقے اور سیاسی بدمعاشوں کے علاوہ پولیس، عدالت کچہری اور معاشرتی چوہدریوں کی چودھراہٹ کا سامنا ہے۔ پختونخواہ، سندھ، بلوچستان اور کراچی کے غریب عوام کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تھوڑا سا خوشحال طبقہ برگر کلاس فارمی اور فینسی مرغیاں اور پرندے ہیں۔ بقیہ صفحہ2نمبر3

بقیہ نمبر3…اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بلیک میلنگ
جن کا سیاست ، نظرئیے اور انسانی ہمدردیوں سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ عمران خان جتنے لوگوں کو نظرئیے کے نام پر اکھٹا کرتے ہیں اگر وہ اپنی بیٹی ٹیرن وائٹ کو میدان میں لائیں تو ان سے زیادہ بڑا اجتماع ہوگا۔ جب قوم کو شعور نہیں ملتا تونظریاتی بننے کے بجائے لوگ اُلو بنتے ہیں۔ جمہوریت نے باشعور لوگوں کو عمران خان اور سب جماعتوں کی کارکردگی زبردست طریقے سے دکھادی ہے۔
امریکہ نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی تباہ کردیا اور پھر عراق، لیبیا اور شام کو بھی تباہ کردیا اور یوکرین روس کے ہاتھوں امریکہ نے ہی تباہ کیا۔ عمران خان کہتا ہے کہ میں غیرت پر جیتا اور مرتا ہوں لیکن جب اس کو خوف تھا کہ اپوزیشن حکومت کیلئے مشکلات پیدا کریگی اور قرار داد لانے پر فرانس کے سفیر کو باہر نکالے گی تو پھر وعدے کے باوجود توہین رسالت کے مرتکب فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا۔ عوام نے نہ صرف پولیس والوں اور عوام کو قتل اور زدوکوب کیا بلکہ سری لنکن شہری کو سرِ عام بہیمانہ تشدد سے قتل کرکے جلا ڈالا۔ یہ وہی جذبہ تھا جو عمران خان نے ن لیگ کی حکومت کیخلاف مشکلات کھڑی کرنے کیلئے عوام میں پیدا کیا تھا۔ جس کی پھر عمران حکومت شکار ہوئی۔ اگر امریکہ نے عمران خان کو حکومت سے نکالا اور عمران خان امریکی سفیر کو نہیں نکال سکا تو ایسی بہادری پر پوری قوم نے عمران خان کو مسیحا ماننا ہے کیا؟۔
ہماری ریاست اور متحدہ حکومت کو اصل ڈر عوام کی اس جہالت سے ہے جو انہوں نے اسرائیل وامریکہ کیخلاف اور مذہب کے نام پر خود کاشت کی ہے۔ عمران خان کی ایک خاتونMNAنے اپنے دورِ حکومت میں مرکزی خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ تبلیغ بھی شروع کردی تھی کہ ہم نماز میں یہودیوں پر درود بھیجتے ہیں۔ اسلئے کہ یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ، چور مچائے شور کی بہت ساری کہاوتیں مشہور ہیں۔
جب صدر مملکت عارف علوی نے عدالت کو ریفرنس بھیجا کہ باغی ارکان کی پوزیشن واضح کی جائے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں بھی مخمصے کا شکار ہوگئی تھیں کہ اگر اتنے ارکان کی بغاوت ہے تو حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔ لیکن عدالت نے اتنی دیر کردی کہ تحریک انصاف کے اتحادیوں نے راہیں جدا کرلیں۔ جب منظر نامہ بدل گیا تو عدالت کا فیصلہ آگیا۔ اگر عمران خان نے راتوں رات عدالت لگانے پر درست اعتراض کیا تھا تو اس کو چاہیے تھا کہ اعلان کرتا کہ جج صاحبان اس کو رول کرکے اپنی کرسی کے اوپر رکھ لیں ہوسکتا ہے کہ انکے کام آجائے۔ بزدار سے تو ویسے استعفیٰ لیا تھا اور پرویز الٰہی کی بھی مٹی پلید ہوچکی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کا بیٹا وفاقی وزیر ہے۔ پنجاب کی حکومت کا دانہ چگنا ممکن نہیں ۔علیم خان اور جہانگیر ترین بھی مخالف جانب ہیں تو اس گناہ بے لذت حکومت کی بحالی پر عدالت کو خوش آمدید کہنا عقل کی بات نہیں۔
ہندوستان سے علیحدگی کی بنیاد مسلمانوں کا الگ وطن پاکستان تھا۔ اسلام کا نظام اتنا بہترین ہے کہ غریب، امیر اور متوسط طبقات کے علاوہ مسلم اور غیر مسلم سب کیلئے قابل قبول ہے۔ لیکن مذہبی طبقات نے اسلام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر اسلامی مزارعت کی بنیاد پر سُودی نظام کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے اور محنت کشوں کو اپنی محنت کا پورا پورا صلہ ملے تو دنیا بھر کے کامریڈ اسلامی نظام کیلئے کھڑے ہوجائیں گے اور روس وغیرہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
14سالہ چھوٹی بچی دعا زہرا کو والدین سے الگ کرکے شریعت کے نام پر نکاح کرنے کی گنجائش مولوی کے خود ساختہ مذہب میں ہے۔ قرآن و سنت میں نہیں ہے۔ میاں بیوی کی ناراضگی کے بعد باہمی صلح کیلئے حلالے اور بے غیرتی کی بنیاد قرآن و سنت نے نہیں ملاؤں نے رکھی ہے۔ جب لوگوں میں غلط فرسودہ حلالے کی روایت کو توڑنے کی غیرت نہیں ہے تو ان سے اور کیا غیرت کی توقع رکھی جاسکتی ہے؟۔ قرآن نے سورۂ نساء آیت19میں عورت کو خلع اور شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے۔ آج اگر ڈاکٹر عامر لیاقت اعلان کردے کہ میں نے دانیہ سمیت کسی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے تو مولوی کے مذہب کے مطابق عدالت کو خلع دینے کا حق نہیں۔ حالانکہ جس طرح شوہر کو طلاق کا حق ہے اسی طرح سے بیوی کو قرآن و سنت نے خلع کا حق دیا ہے۔ جس کیلئے عدالت میں جانے کی بھی ضرورت نہیںہے ۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے شوہر بیوی کو طلاق دے تو پھر بھی مالدار اور غریب کو اپنی وسعت کے مطابق آدھا حق مہر دینا فرض ہے لیکن جب خواتین سے کئی بچے جنوائے جائیں اور پھر ان کو طلاق دے کر نہ صرف گھروں سے باہر بھگایا جائے بلکہ ان کے بچے بھی چھین لئے جائیں تو ایسا ظلم اسرائیل و امریکہ اور کسی بھی غیر مسلم ملک میں نہیں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ملاؤں کا بگڑا ہوا اسلام درست کرنا ہوگا پھر معاشرہ خود بخود مثالی بنے گا اور ترقی کرے گا۔
قرآن میں معاشرتی مسائل کی زبردست وضاحت ہے جس کی طرف ملاؤں کا دھیان نہیں گیا۔ قرآن میں تسخیر کائنات ہے۔ مسلمان سائنسدانوں نے مختلف شعبوں میں سائنسی ترقی کے حوالے سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اگر اس روش پر مسلمان قائم رہتے تو آج سائنسی ترقی میں مسلمانوں کا بہت بڑا حصہ ہوتا۔ قرآن نے بادلوں اور بجلی کی تسخیر کابتایا۔غیر مسلموں نے الیکٹرک اور الیکٹرانک سے دنیا کو روشن کردیا لیکن فقہاء غسل کے فرائض کی تسخیر میں لگے ہوئے تھے۔ مولانا شاہ تراب الحق قادری اور دعوت اسلامی کے مفتیوں نے عوام کو ان فقہی مسائل سے آگاہ کیا کہ ”روزے کی حالت میں پاخانہ کرنے کے بعد زور دے کر اپنے مقعد سے نکلنے والی آنت کو باہر رہنے پر مجبور کرو اور دھو کر اس کو کپڑے سے سکھادو نہیں تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور استنجا کرتے وقت اپنی سانس کو بند رکھیں اسلئے کہ مقعد میں پانی چڑھ جائے گا اور روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
اللہ تعالیٰ مذہبی طبقات سمیت ہمیں اور سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین ہمیں معلوم ہے کہ بعض قادیانیوں نے شیعوں کے خلاف آگ بھڑکانے میں بڑا کردار ادا کیا اور قادیانی جتنے قابلِ نفرت ہیں تو ان کی اپنی روش اس میں شامل ہے۔ تاہم قادیانی کو صرف اسلئے کہ وہ قادیانی ہے قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔ جو اس کو جائز سمجھتا ہے تو بڑے علماء ومفتیان بسم اللہ کریں۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کے وال بھی قادیانی ڈاکٹر مبشر نے بدلے تھے۔ اوکاڑہ میں ایک قادیانی کو قتل اور اسکے تین سالہ بچے کو زخمی کرنا ایک مدرسے کے نئے فاضل علی رضا کی طرف سے بہت قابلِ غور معاملہ ہے۔ زندیق کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اور قادیانیوں کو زندیق قرار دیا گیا ہے۔ پھر جنگ گروپ کے مالک نے قادیانی لڑکی کو توبہ کرواکر کیسے شادی کی ؟۔ نبی ۖ نے نبوت کے دعویدار ابن صائد دجال کو قتل نہیں کیا اور نہ اکابر علماء نے مرزاغلام احمد قادیانی کو قتل کیا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

پاکستان میں مخدوش سیاسی صورتحال کا تجزیہ اور اس کے حل کیلئے کچھ بنیادی تجاویز

پاکستان میں مخدوش سیاسی صورتحال کا تجزیہ اور اس کے حل کیلئے کچھ بنیادی تجاویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” فساد ظاہر ہوگیا بحروبر میں بسبب اس کے جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے”۔ سورہ ٔ نور میں اللہ تعالیٰ نے افواہ کی بہت سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جب صحابہ کرام اور نبی رحمتۖ کے دور میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے خلاف بہتان کی افواہ اُڑی تھی تو اللہ نے اچھے اچھے عقلمندوں اور نیکوکاروں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم یہ کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین اینکر، سیاستدانوں کی بیٹیوں اور عورتوں کے خلاف کیا سے کیا بیہودہ بہتان طرازیاں نہیں ہورہی ہیں لیکن ہماری ریاستی مشنری کبھی میدان میں نہیں اتری ہے اسلئے کہ وہ پاک فوج زندہ باد کا نعرہ بھی لگا دیتے ہیں۔ اگر ان پر بروقت گرفت کی جاتی تو آج پاک فوج کے خلاف بھی یہ افواہیں پھیلانے کا سلسلہ کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ اگر یہ قانون بنایا جاتا کہ سورۂ نور کے مطابق غریب وامیر اور طاقتور اور کمزور کیلئے ایک قانون ہے تو بھی یہ بد سے بدترین سلسلہ رُک سکتا تھا۔ آج بھی اگر پارلیمنٹ میں برابری کا قانون لایا جائے تو پارلیمنٹ کے نظام کو لاحق خطرات ٹل سکتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے نام پر اقتدار کرنے والے عمران خان اس قانون کو لاتا تو لوگ تبدیلی سرکار کو سلام پیش کرتے۔مولانا فضل الرحمن حکومت کے روح رواں ہیں۔ مذہبی امور کے وزیرمفتی عبدالشکور بیٹنی قرآن وسنت کا واضح خاکہ پارلیمنٹ میں پیش کریںگے تو کام بنے گا۔ جمہوری انداز میں مشاورت کا بہترین موقع ملتا ہے۔ قرآن کے ہتک عزت کے قانون کی حمایت پارلیمنٹ، اشرافیہ، جرنیلوں ، ججوں اور تمام عوام کی طرف سے ہوگی اور یہ جمود کو توڑنے میں ہوا کاپہلا جھونکا ہوگا۔
کسی کی عزت اربوں میں اور کسی کی عزت اتنی بھی نہ ہو کہ وہ عدالت میں وکیل کی فیس کا خرچہ ادا کرنے کے قابل ہو۔ امیر کیلئے10کروڑبھی کوئی سزا نہیں اور غریب کیلئے10لاکھ بھی بڑی سزا ہے لیکن80،80کوڑوں کی سزا سب کیلئے برابر ہے۔ انگریز نے نوابوں ،پیروں، خانوں کو جائیدادیںدی تھیں اور کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ بحق سرکار سب زمینیں ضبط کی جائیں گی لیکن مسلم لیگ کو خانوں، نوابوں اور پیروں نے اپنے باطل مقاصد جائیداد کو ضبط ہونے سے بچانے کیلئے سپورٹ کیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلمانوں کی خیر نہ ہوگی اور پاکستان میں اسلام کی خیر نہ ہوگی ” اور ان کی بات بالکل سچ ثابت ہوئی ہے۔ اسلام کا پہلے بھی بہت کباڑہ کیا گیا اور اسلام کی نشاة ثانیہ والوں کو حکومت، عوام اور خواص نے سپورٹ نہیں کیا تھا ۔
نبی ۖ کے زمانے میں یہود ونصاریٰ کے علماء ومفتیان کی اجارہ داری تھی۔ انہوں نے اپنے احبار ورھبان کو اللہ کے علاوہ اپنا ارباب بنالیا تھا۔ اہل کتاب کے مذہبی طبقات نے دین میں تحریف کر ڈالی تھی اور عوام ان کے حلال وحرام کو حلال وحرام سمجھتے تھے اور یہی ارباب بنانا تھا۔ اللہ نے نبیۖ سے فرمایا تھا کہ لن ترضی عنک الیہود والنصاریٰ حتی تتبع ملتھم ”یہود ونصاریٰ آپ(ۖ)سے کبھی راضی نہیں ہونگے یہاں تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ دینِ خالص کے مقابلے میں تحریف شدہ دین کو یہودونصاریٰ کے مذہبی طبقات بھی قائم رکھنا چاہتے تھے۔ فارس وروم دو بڑی سپر طاقتیں تھیں اور مسلمانوں کی ہمدردیاں فارس کے مقابلے میں روم سے تھیں اسلئے کہ آگ کی پوجا کرنے والے ایرانیوں کے مقابلے میں روم کے اہل کتاب عیسائی زیادہ مسلمانوں کے قریب تھے۔ خلافت راشدہ نے دونوں سپر طاقتوں کو شکست دی اور ایرانی سب مسلمان ہوگئے لیکن اٹلی سے اسپین تک مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے باوجود گورے عیسائی من حیث القوم مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
ہندوستان کی قوم حضرت نوح علیہ السلام کے امتی تھے۔ اہل کتاب و شرک کے درمیان کھڑے ہندوستانیوں میں کافی تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر بھی بڑی تعداد نے اسلام قبول نہیں کیا کیونکہ ان پر بھی اہل کتاب کے کچھ نہ کچھ اثرات تھے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کے دور میں تمام ہندو وسکھ قوم نے اسلام کو قبول کرنا ہے۔ اسلام کی بگڑی ہوئی شکل کی وجہ سے گرونانک نے ہندو و مسلمان کے درمیان ایک تیسرے مذہب کی بنیاد رکھ دی تھی۔ اگر اسلام کی صحیح شکل پیش کی جائے تو ہندوستان پورے کا پورا ہندوانہ رسم ورواج کو چھوڑ کر مسلمان بنے گا اور اس کی خوشخبری ہندؤوں کی اپنی کتابوں میں موجود ہے۔
ڈاکٹر شہناز خان اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر لکھتی ہیں کہ ”حکومت مہنگائی کے جن پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس جن کو قابو کرنے کیلئے پہلے کچھ اور جنوں کو جنہوں نے 70سال سے عوام کو مختلف طریقوں سے قابو کیا ہے بند کرنا پڑے گا۔ لیکن کسی میں ہمت ہے کہ یہ بات بھی کرے۔ یہ وہی کرسکتا ہے جس کا ان جنوں سے کوئی رشتہ نہ ہو”۔ سوشلسٹ پاکستان کے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ”شخصیت پرست قوموں کا زوال ان میں عدم برداشت کے عروج پر پہنچنے سے ہوتا ہے”۔ مزید لکھا ہے کہ ”فسادی ایجنڈہ ؟ عوام کو جذبانی بناؤ ، حقیقی مسائل سے انکی توجہ ہٹاؤ ، انہیں تعمیری کے بجائے تخریبی سرگرمیوں میں الجھاؤ”۔ مزید لکھتے ہیں ”ہر وہ شخص بوڑھا ہوچکا ہے جس کے پاس زندگی کا کوئی مقصد نہیں اس کی عمر چاہے20سال ہے اور چاہے70اور80۔ لیکن جس کے پاس مقصد موجود ہے وہ جوان ہے اگر مقصد بڑا ہو تو جوانی بھی اتنی تروتازہ ہوگی”۔ پاکستان انقلابی پارٹی۔ مزید لکھتے ہیں ”اگر فسادی نے 4سالہ دورِ حکومت میں فساد کے بجائے درخت ہی لگائے ہوتے تو اس سال گرمیوں نے یوں شعلے نہ بھڑکائے ہوتے”۔ شفیق خنباطی نے فیس بک پر لکھا ہے ”میں نے پوچھا سنی ہو یا شیعہ؟ ۔ بھیانک ترین جواب ملا ، صاحب بھوکا ہوں۔ اگر آپ کا پڑوسی دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ یا کچھ اور ہے تو اس کا حساب وہ خود دے گا لیکن اگر وہ بھوکا مرگیا تو حساب آپ کو دینا ہوگا”۔ ”واجب القتل” کے عنوان سے فیاض صالح حسین لکھتے ہیں کہ ”دیکھو اس کند ذہن دنیا میں آنکھوں پر پٹی باندھ لو اور کولہو کے بیل کی مانند بس ایک ہی دائرے میں چلتے رہو کیونکہ تم اگر سوچو گے تو صاحب عقل ہوجاؤ گے اور واجب القتل ہوجاؤ گے”۔ فوجی وردی میں ملبوس خاتون کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے ”اگر بلوچ ماؤں بیٹیوں نے بلوچ جہد آزادی کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھالی تو بلوچ سرزمینوں پر دشمنوں کے نشان تک ڈھونڈنے سے نہیں ملیں گے”۔ فدائی شاری بلوچ۔
فیصل آباد کے علامہ حامد رضا کی تقریر ہے کہ ”فوج ہمیں بتاتی رہی کہ رانا ثناء اللہ بیشمار لوگوں کا قاتل ہے تو آج اس کو قوم پر مسلط کردیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسی کے اہلکار ہمیں یہ بتاتے تھے کہ ماڈل ٹاؤن میں رانا ثناء اللہ نے شہباز شریف کے کہنے پر14بندوں کو شہید کیا ہے۔ داتا دربار اور دیگر بم دھماکوں میں جو بینڈ آرگنائزیشن ہیں اس کا پروموٹر رانا ثناء اللہ ہے۔ آپ ہمیں یہ بھی بتاتے تھے کہ کوئٹہ میں بم دھماکوں میں ملوث کونسے لوگ افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ہمیں ڈاکو منٹس دیتے ہیں۔ میرے والد پرویز مشرف کے خلاف اور نواز شریف کے حامی تھے تو نواز شریف نے حرم کے سامنے بیٹھ کر قرآن کا حلف لیا کہ میں نے کوئی ایگریمنٹ نہیں کیا ہے۔ مجھے وہ ایگریمنٹ آپ نے دے دیا۔ توپھر میرا یہ سوال نہیں بنتا کہ جن لشکرنواز لوگوں کیخلاف جن طالبان کے حامیوں کیخلاف، جن کالعدم تنظیموں کے سرپرستوں کے خلاف ، جن ریاست دشمن عناصر کیخلاف ہمیں ثبوت دئیے گئے آج ان کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ آپ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ یہ پاکستان کے غدار ہیں۔ اگر یہ پاکستان آگئے تو مودی کا ایجنڈا لیکر آئیں گے۔ تو آج جب وہ یہاں پر آگئے ہیں تو آپ ان کو سیلوٹ کس منہ سے کررہے ہیں؟۔ پھر اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے اندر غیر ملکی طاقتوں اور سامراج کا ایجنٹ بن کر آپ اپنی عزت بھی کرواسکتے ہیں آپ ایوان اقتدار میں بھی پہنچ سکتے ہیں………۔
جنرلز آف پاکستان آرمی کے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ
وردی میں بہتا خون ہی ہے
اس وردی میں پشتون بھی ہے
ہے قوم و ملک کی رکھوالی
وردی میں جوش و جنون بھی ہے
اقبال کا شاہیں وردی میں
سر سید کا مضمون بھی ہے
پنجابی ، سندھی، بلوچی جواں
اس وردی میں مدفون بھی ہے
اس وردی کو گالی نہ دو
اس پر شہداء کا خون بھی ہے
وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ پر اسلام آباد میں دھرنے والے افغان مہاجرین کا احتجاج ”ہمیں ماردو ” جاری ہے۔ عبد الستار ایدھی نے کہا تھا کہ حمید گل اور عمران خان میرے پاس آئے تھے اور میرے کندھے پر بینظیر بھٹو کی حکومت گرانا چاہتے تھے جس کا میں نے انکار کیا اور لندن راتوں رات منتقل ہوگیا تھا۔ سوشل میڈیا پر ”انصاف اور اُصول کی جنگ لڑنے والی اُم رباب کے قصے اور عزائم کا اظہار ہے”۔ فضل اکبر نے فیسبک اکاؤنٹ پر ”اپیل ” کے نام سے لکھا ہے کہ ”اگرIMFسے قرض لینا مجبوری ہے اور ملکی مفاد میں ہے تو ضرور لیں لیکن کیوں نہ اس بار اس قرض کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکس لگانے کے بجائے یہ کیا جائے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینٹ کے تمام ممبران اور صوبائی و وفاقی وزراء اور وزیر اعظم و صدر ، آرمی چیف اور تمام جج صاحبان اور تمام افسر شاہی سے سوائے اپنی تنخواہ کے علاوہ تمام تر مراعات واپس لے لی جائیں۔ ان کا ہاؤس رینٹ ، بجلی و گیس بل ، ڈیزل و پٹرول خرچ ، ماہانہ لاکھوں الاؤنس اور ریفریشمنٹ خرچ ، گاڑیاں، پروٹوکول، سب کچھ اپنی جیب سے برداشت کریں۔ پھر دیکھتے ہیں مہنگائی کم ہوتی ہے یا بڑھتی ہے۔ ملکی خسارہ کم ہوتا ہے یا بڑھتا ہے۔ ملک پر قرض کا بوجھ کب تک رہتا ہے؟؟؟؟ ”۔
ماہنامہ نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا کہ جب تنگی کا زمانہ آتا ہے تو سب سے پہلے ہم اپنے اضافی خرچوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور دال روٹی پر گزارہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ملک میں بڑے بڑے خرچوں کو چھوڑ کر چند سال فیصلہ کرلیں کہ اپنی ضروریات سے زیادہ عوامی اور حکومتی سطح پر خرچوں کو چھوڑ کر ملک کے قرضوں کو چکائیں گے تو بہت جلد سُودی قرضوں سے نجات ملے گی۔
یکم مئی یوم مزدور پر یاور عظیم کا علامہ اقبال کی نظم ”خضر راہ ” سے اقتباس
بندۂ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ہے یہ پیغام کائنات
اے کہ تجھ کو کھاگیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تک تیری برات
دست دولت آفریں کو مزدیوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰة
ساحر الموط نے تجھ کو گیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات
نسل ، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات
کٹ مرا نادان خیالی دیوتاؤں کے لئے
سکر کی لذت میں تو لٹواگیا نقد حیات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھاگیا مزدور مات
سید محمد علی ایڈوکیٹ فیس بک اکاؤنٹ پر لکھتے ہیں ”عمران خان صاحب اور شہباز شریف صاحب جلسوں پر اربوں روپیہ خرچ نہ کریں بلکہIMFکا قرضہ اتارنے کیلئے اپنے اپنے بینکوں سے پیسہ نکالیں اور جو کم پڑے اپنے اپنے ووٹروں سے فی کس1000روپیہ جمع کریں اورIMFکے منہ پر مار کر قوم کو آزاد کرائیں دونوں حضرات کے 2کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں۔ دیکھتے ہیں دونوں میں سے کونIMFکا قرضہ اتار کر عوام کا دل جیت لیتا ہے۔ میں اس سلسلے میں10ہزار روپے دینے کیلئے تیار ہوں۔ صرف اسلئے کہ ہمارے ملک کا قرضہ اترے۔ اور ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں”۔
نواز شریف نے کلچر و تہذیب کو بدلنے کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیا ہے مگر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور ان کی وفات کے بعد جو گالی گلوچ ذو الفقار علی بھٹو کو نواز شریف دیتا تھا اور پھر سعودیہ سے جلاوطنی کے بعد شہباز شریف نے جو کلچر بنایا تھا اور اس کے درمیان جو کچھ بھی شریف برادران کا کردار رہا ہے وہ کسی طرح سے بھی عمران خان سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ حیران ہوگی کہ کونسے پتر کے کرتوت پر فخر کرسکتی ہوں؟۔ دونوں نے اسلامی جمہوری اتحاد سے لے کر ریاست مدینہ تک خوب گل کھلائے ہیں۔ ایک نے مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کے اسکینڈل کا الزام اسلئے لگایا کہ سودی نظام کیخلاف مولانا نے اپنا مطالبہ رکھا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے انقلابی شاعر سید امین گیلانی نے عابدہ حسین اور تہمینہ کے خلاف جس دور میں اشعار گائے تھے اس تہذیب کی ادنیٰ جھلک بھی تحریک انصاف میں نظر نہیں آتی۔ عمران خان نے بلاول بھٹو سے لے کر ن لیگ اور اے این پی کے رہنماؤں تک مولانا ڈیزل کہہ کر جرم کیا ؟۔
شیخ رشید کو جس طرح پارلیمنٹ جاتے ہوئے گریبان سے پکڑا جاتا تھا اور جو الفاظ حنیف عباسی شیخ رشید کیخلاف استعمال کرتا ہے کہ50ہزار انعام دوں گا جو اس کی وگ اتار کر لائے۔ گھسیٹنے ، پیٹ چاک کرنے اور چوکوں پر لٹکانے کی بات شہباز شریف کرتا تھا۔ ماڈل ٹاؤن میں پر امن لوگوں کو جس طرح پولیس کے ذریعے شوٹ کیا گیا اتنا تو پاک فوج نے قبائل میں دہشت گردوں کیخلاف کسی آپریشن میں بھی نہیں کیا ہے۔ پنجاب میں جس طرح کی بدمعاشی کا کلچر ہے اور اس کی سرپرستی ن لیگ کرتی ہے اس کی ادنیٰ مثالISIکے ایک افسر کو پیٹ ڈالنا ہے۔ گاؤں دیہاتوں سے لیکر شہروں تک بدمعاشی کا سلسلہ ہے۔
ڈکیٹیٹر شپ کی پیداوار اور تربیت یافتہ سے جمہوری طرز کی اُمید لگانا اندھے کو کسی آئینے میں منہ دکھانے کی طرح جھوٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ پاکستان کے اصحاب حل و عقد کو فی الفور اسلامی قوانین کی طرف توجہ کرکے اپنے معاشرے کا رُخ درست سمت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بلا ٹل گئی تو پھر اس سے زیادہ بھیانک صورت میں دوبارہ سر اٹھائے گی اور پھر اس پر قابو پانے میں بھی کامیابی کی کوئی گارنٹی مشکل سے دی جاسکے گی۔
ہمارے مرحوم محمد حنیف عباسی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں7نومبر2021کولکھا تھا ” مغربی ممالک میں امیروں کے ٹیکس سے غریبوں کی کفالت ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں غریبوں کے ٹیکس سے امیروں کی کفالت ہوتی ہے”۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف

اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کروں گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مریم نوازشریف کو چاہیے کہ چچا کو کپڑے اتارکر بیچنے کے بعد اپنا دوپٹہ لپیٹ دے!

رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ شہبازشریف نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھنے کے باوجود بھی اپنی شوبازیاں نہ چھوڑیں!

پنجاب میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں لیکن جنرل جیلانی، جنرل ضیاء الحق ، جنرل حمید گل، جنرل پاشا…… کوشریف برداران اور عمران خان کے علاوہ کوئی نہیںمل سکا؟تاحال یہ سلسلہ جاری ہے اور آئندہ جلد انشاء اللہ بند ہوگا اور اچھے لوگ آئیںگے، آنے دئیے جائیں گے اور لائے جائیں گے۔ اسلئے کہ وقت کیساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے ہیں اور شعور بھی بدلتا ہے۔نوازشریف اور شہباز شریف کا کردار کھلی کتاب کی طرح ہے۔ آصف علی زرداری نے مغربی کوری ڈور کا افتتاح کردیا تھا جسے کم خرچ اور کم مدت میں مکمل کرکے کوئٹہ اور پشاور کی تقدیر بدل سکتی تھی لیکن گوادر کے سی پیک کو بھی تختِ لاہور کیلئے شریف برادران نے چھین لیا۔ ایران کی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھ چکی تھی لیکن اس پر عمل روکا گیااور قطر سے مہنگی گیس خریدی گئی۔ سی پیک سے ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگایا گیا جوساہیوال کیلئے بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث تھا اور گوادر میں ایران سے بجلی سپلائی ہوتی ہے۔ سی پیک سے نہیں۔ کرک سے تیل کو چھین لینے کی بھرپور کوشش کی اور اس کا نام بھی اٹک رکھ دیا۔ سوات میں محمود خان اچکزئی کے بقول بہت سستی اور وافر مقدار میں اتنی بجلی پیدا ہوسکتی ہے کہ پورے پاکستان کو روشن کیا جاسکتا ہے لیکن وزیراعظم شہبازشریف پختون عوام کو بیوقوف سمجھ کر دھائی دے رہاہے کہ اگر پختونخواہ کی حکومت نے آٹا سستا نہیں کیا تومیں اپنے کپڑے بیچ کر تمہارے لئے آٹا سستا کروں گا۔ اگر مراد سعید، مولانا فضل الرحمن،ANPاور منظور پشتین نے قوم کو شعور دیا ہوتا اور ان میں غیرت اجاگر کی ہوتی تو عوام شہباز شریف کی شوبازی پر نعرے بازی کرنے کے بجائے احتجاج کرتے کہ ہمارے ہاں تمہیں کپڑے اتارنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے اور اگر پنجاب میں اتارکر بیچ دئیے تو مریم نوازشریف سے گزارش کریںگے کہ اپنے دوپٹے سے اپنے چچا چھوٹے میاں سبحان اللہ کو لپیٹ دینا۔ دوسری طرف عمران خان کا بھی وہی حال ہے۔ پشتوکہاوت ہے کہ گدھے کی سانس نہیں نکل رہی تھی اور کتے کی لالچ نہیں جارہی تھی تاکہ گدھا مرجائے اور اس کو کھا جائے۔ بڑے عرصہ سے شاہ محمود قریشی انتظار میں تھا کہ عمران خان کو نااہل قرار دیکر ہٹایاجائے اور وہ خود وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ لیکن نہ رہی بھینس اور نہ بجی بانسری۔ عوام اور مقتدر طبقات کو چاہیے کہ ان دونوں کے بیچ میں فٹ بال نہ بنے اور ایک ایسا انقلاب برپا کردیں جو صحیح معنوں میں اس قوم اور ملک کی تقدیر بدل دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

وزیر اعظم قوم کا باپ ہوتا ہے۔ عمران خان

وزیر اعظم قوم کا باپ ہوتا ہے۔ عمران خان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کیا عمران خان نے خودبھی کسی وزیراعظم کو اپنے باپ کا درجہ کبھی دیا ہے؟

دو انتہاؤں کے بیچ میںکھڑے عمران خان کو ایک طبقہ عالم اسلام کا واحد ہیرو اور دوسرا طبقہ یہودی ایجنٹ سمجھتا ہے

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں سرگرم کرائے کے صحافیوں کیلئے واشروم کے ٹب میں چھپ کر ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ پاک فوج میں تعینات افسروں کی نوکری ، عزت اور زندگی کو خوامخواہ امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جب مدتِ ملازمت ختم ہورہی تھی تو آئین میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے عمران خان، مسلم لیگ ن کے نوازشریف اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری کے علاوہ ڈھیر سارے سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے آئین میں تبدیلی کرکے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ توسیع کیوں دی تھی؟۔ آرمی چیف کی قیادت میں جنرل فیض حمیدDGISIنے فیض آباد دھرنے کا اہتمام کیا تھا؟۔ کھل کر سیاسی مداخلت کی تھی ؟ اور نوازشریف کے کیسوں کو عدالت میں مداخلت کرکے سزا دلوائی تھی؟۔ عمران خان کو ملک وقوم پر مسلط کیا تھا؟۔ پاکستان کو سیاست اور اخلاقیات کے بدترین ادوار میں لاکھڑا کیا تھا؟۔ اس نالائق آرمی چیف کے دور میں تحریک لبیک،PTM، بلوچ دہشتگرد اور پتہ نہیں کیا کیا ہوا تھا ، جسٹس شوکت عزیز، جسٹس ملک، جسٹس فائز عیسیٰ اور بہت سارے معاملات میں فوج نے مداخلت کرکے ن لیگ کیساتھ برا کیا تھا؟۔ نوازشریف کو دباؤ ڈال کر باہر بھجوادیا تھااور عمران خان کے مشن کہ میںNROنہیں دوں گا، پر بھی پانی پھیر دیا تھا۔ امریکہ کو اڈے دینے سے انکار پر قوم کے سیاسی بھگوان عمران خان کو بہت پہلے سے پتہ چل چکا تھا کہ امریکہ کا یہ غلام اب امریکہ کے حکم پر الشیطان الرجیم چینج کرے گا۔ ایسے میں ہزاروں لعنتیں ایسی کہ ہر لعنت پر دَم نکلے کے مستحق آرمی چیف کو عمران خان نے برطرف کیوں نہیں کیا تھا؟۔ نوازشریف نے لندن میں بیٹھ کر توسیع دینے کی حمایت کیوں کی تھی؟۔
مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی وکالت کرنے والے بے شرم صحافیوں میں تھوڑی سی بھی حیاء ، غیرت، ضمیر ، اخلاقی قدر اور عزت ہوتی تو ان جماعتوں کی وکالت کبھی نہ کرتے۔ جب آرمی چیف کی مدت ملازمت ختم ہورہی تھی تو یہ لوگ اپنی دُم اٹھاکر توسیع کررہے تھے اور جب مدت ملازمت باقی ہے تو اس پر تنقید کے نشتر برسارہے ہیں۔ عمران خان نے کبھی اپوزیشن کو اپنا نہیں سمجھا لیکن جب رخصت ہوگئے تو وزیراعظم کو قوم کا باپ قرار دیدیا۔ پہلے یا بعد والوں کواپنا باپ یا اپوزیشن کو بچہ سمجھا ہو تو کوئی بات ہوتی۔سیتاوائٹ، جمائما، ریحام خان اور بشریٰ بی بی کیطرح اولاد بنناپی ٹی آئی کے کارکنوں کیلئے بھی قابل قبول نہ ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv