پوسٹ تلاش کریں

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

مذاکراتی ٹیموں کو صلیب پر چڑھانے والی لیڈر شپ تثلیث کھل کر خود سامنے کیوں نہیں آتی ہے؟۔ کوئی خفیہ وفیہ ہاتھ نہیں بلکہ سوار ، سواری اور ہنکانے والی قیادت کا آئینہ سامنے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی قیادت مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفی کے نام سے کی تھی۔ مارشل لاء لگنے کے بعد جمعیت علماء اسلام نے بھی رجعت پسند قوتوں کے ساتھ کچھ وزارتیں ہتھیا لی تھیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے بینظیر بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کی تحریک چلائی۔ کیا عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی تو مولانا اسعد محمود ٹیرن وائٹ کے ساتھ تحریک چلائے گا؟۔ جتنی نفرت آج عمران خان سے ہورہی ہے اس سے زیادہ ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف پیدا کی گئی تھی۔ نیولے اور سانپ کی لڑائی میں چڑیوں کاکام نہیں ۔ عوام چڑیوں کی طرح ہیں ۔نیولے اور سانپ میں لڑائی بھڑائی ہو، مار کٹائی ہو، چھیڑ چھڑائی ہو،کھیل تماشائی ہو لیکن خیرچڑیوں کی بھی نہیں ہوتی۔
مولانا فضل الرحمن پر جس طرح کے کارٹون ہیں۔ مذہبی طبقہ بھی سیاسی طبقے کیساتھ شانہ بشانہ مخالفت میں لگا ہوا ہے۔ پشاور اور چارسدہ میں تمام پارٹیوں اورمذہبی و لسانی تعصبات اُبھارنے کے باوجود عمران خان سے بدترین شکست کھائی تو الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اسی وقت سے شروع کیا۔ جمہوریت رائے عامہ ہموار کرنے کا نام ہے ۔13پارٹیوں کا متحد ہوکر الیکشن اور آئین سے جنگلی گدھوں کی طرح بدکنا اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ حکومت الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ہم پہلے سے کہتے تھے کہ جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جنم لیا ہے اور ساری زندگی فوج کی ٹانگوں میں گھس کرگزاری ہے تو کیا70سالوں تک فوجی پتلونوں کے اندر اپنے سروں کے بال گھسانے والے انقلابی بن سکتے ہیں؟۔ کھریاں کھریاں کے راشد مراد نوازشریف کے مخالفین کو جرنیلی سیاست ہزار بار کہے لیکن کینگرو کے بچے کا سب کو پتہ ہے کہ کون ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے نظریاتی ساتھیوں کو سائیڈ لائن لگادیا ہے جن کے خلاف لڑنا تھا ،ان کی پیٹھ پر سوار ہیں۔ نواز شریف نے علامہ طاہرالقادری کو غارِ حرا پیٹھ پر لاد کر چڑھایا تھا لیکن پھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں اسکے14بندے مار دئیے اور بہت سارے زخمی کردئیے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں سود کے خلاف آواز اٹھانے پر میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا شکار کردیا۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”نوازشریف نے میرے ساتھ وعدے پورے نہیں کئے تو مجھے کب سے اتنا سادا سمجھ لیا ہے کہ نوازشریف پر اعتبار کروں؟۔ جب لوگ جمعیت علماء اسلام کو بڑے پیمانے پر اسمبلی میں بھیجیں گے تب ہی اسلام نافذہوسکے گا”۔ جو نظر آرہاہے وہ آئینہ مولانا کو دکھارہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری اور اسحاق ڈار کی سودی بینکاری میں کیا فرق ہے؟۔مولانا کو ایسی جعلی سیاست، جعلی جمہوریت، جعلی اسلام کے گدھے سے اترنا پڑے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

اسلامیہ کالج کراچی کی بلڈنگ اس کے مالک قریشی صاحب نے تعلیم کیلئے وقف کررکھی تھی!

مالک کی پوتی حسنہ بیگم غاصبوں کیخلاف جنگ لڑرہی ہیں ،انکا ساتھ دینا سب کابڑا فرض ہے

اسلامیہ کالج سے اس شہر کے لاکھوں طلباء نے تعلیم حاصل کی ہے۔ایڈیٹر نوشتہ دیوار ملک محمد اجمل اور نمائندہ نوشتہ دیوار اور ماہر معیشت شاہد علی اسلامیہ کالج کے مالک قریشی صاحب کی پوتی حسنہ بیگم کیساتھ بیٹھے ہیں۔ حسنہ بیگم آج کل امریکہ سے پاکستان آکر ان غاصب قوتوں سے لڑ رہی ہیں جو اسلامیہ کالج میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو بند کر کے اسے فروخت کرنا چاہ رہی ہیں۔
اسلامیہ کالج کراچی شہر کے اہم ترین مقام پر واقع ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی اہم ترین تاریخ وابستہ ہے۔ حسنہ بیگم کے جد امجد قریشی صاحب نے یہ جگہ اسلامیہ کالج کیلئے وقف کی تھی۔ جب حسنہ بیگم کو امریکہ میں پتہ چلا کہ یہاں کراچی میں اسلامیہ کالج کو ایک ساز ش کے تحت عدالتی حکم کے ذریعے طلباء سے خالی کیا گیا ہے تو وہ دستاویزات لے کر پاکستان تشریف لائی ہیں۔
ایک صحافی نے حسنہ بیگم سے10لاکھ روپے کوریج کیلئے مانگ کر صحافیوں کی ناک کٹادی لیکن ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل نے اس کو جھڑک دیا کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ اسلامیہ کالج کراچی کے متوسط طبقے کیلئے وہ علمی درسگاہ ہے جس سے ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ اس سے طلبہ اور تعلیمی سلسلے کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے اندر موجود باضمیر ججوں کو مفاد پرستی سے آزاد عدلیہ کے ذریعے سے ہی عزت وتوقیر مل سکتی ہے۔
ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنی غلطی دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں بیان جاری کیا کہ لندن ایون فیلڈ کے فلیٹ2005میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006میں خریدے۔ جس میں کچھ اور دوستوں نے بھی مدد کی اور پھر قطری خط عدالت میں لیکر آگئے اور پھر اس سے بھی مکر گئے۔ مریم نواز نے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرلیا لیکن عدالتوں کے خلاف مسلسل بلیک میلنگ کا بیانیہ جاری ہے۔ عدالتوں نے جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کو تحفظ دینا ہے تو یہ ان کی مرضی ہے یا مجبوری لیکن قوم، ملک اور سلطنت کروٹ بدل رہاہے اور سب تاریخ میں یاد رکھے جائیںگے۔ عدالت کو آزادانہ فیصلے نہیں کرنے دئیے گئے۔ آئین کا قلع قمع کیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں فوج کو بھی نکیل ڈال دی جائے گی۔
ہمیں ایسے اشرافیہ سے کوئی ہمدردی نہیں جو ایکدوسرے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوں لیکن پاکستان میں جتنے بھی ریاستی ادارے ہیں ان کا ایک آزاد اور مثبت کردار ملک وقوم کی سخت ضرورت ہے۔ جمہوری سیاسی جماعتیں آئین، عدالت اور الیکشن سے بھاگ رہی ہیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ عمران خان ایک بے سدھ اور بے اعتبار انسان ہے ۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو جتنی گالیاں عمران خان اور شیخ رشید نے دی ہیں وہ تاریخ میں ایک بہت بڑی مثال ہیں لیکن آج اپنے تھوکے ہوئے کو چاٹنے پر مجبور ہیں اور یہی تو جمہوریت کی خوبی ہے۔ تحریک انصاف کا سارا سوشل میڈیا چوہدری پرویز الٰہی کو گالیاں دیتا تھا لیکن کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ عمران خان کو بول سکے کہ تم نے چوہدری کیساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اسلئے کہ جب اس کوPDMنے وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا تہیہ کرلیا تو آپ نے اس پر ہلہ بول دیا۔ پھر اس کو اسمبلی توڑنے پر بھی مجبور کردیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو برا بھلا کہنا تھا تو اپنے ساتھ بٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ یہ چوہدری پرویز الٰہی کی شرافت تھی کہ اس نے پنجاب میں اپنی حکومت کو عمران خان کی امانت قرار دیا۔ حالانکہ یہ عمران خان کی خیانت تھی کہ چوہدریوں کے درمیان بھی دراڑ ڈال دی اور حکومت کو بھی ختم کرادیا۔
چوہدریوں کے گھر کی بے عزتی کے پیچھے اگر مریم نواز اور نوازشریف نہیں تھے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟۔ ہماری قوم اس قدر بے حس بن چکی ہے کہ ایک کھلاڑی کو سب سے مقبول سیاستدان بنادیا لیکن اس میں ایک طرف موجودہ سیاسی جماعتوں کا منافقانہ کردار ہے تو دوسری طرف کرکٹ کے چھکے اور چوکے پر لوگ دورۂ قلب سے موت کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن کسی عزتدار عورت کی عزت لٹ جانے سے ان بے غیرتوں اور بے ضمیروں کو دورے نہیں پڑتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت کے نام پر بھی عزتیں لٹتی ہیں اور شیخ الاسلام سود کو اپنی اماں سے زنا کے برابر گناہ کہہ کر بھی عالمی سودی نظام کو چند ٹکوں کی خاطر جواز فراہم کردیتا ہے۔ نبی ۖ نے دجال سے زیادہ خطرناک ایسے قائدین اور حکمرانوں کو قرار دیا ۔ جس کا حوالہ مفتی رفیع عثمانی کی کتاب ” علامات قیامت اور نزول مسیح ”میں موجود ہے۔ ہمارا مقصد زور دار طریقے سے دستک دینا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

یہاںکیاالٹی گنگا بہہ رہی ہے،جماعت اسلامی شگاگو کے شہیدو!سرخ سلام کہہ رہی ہے

جماعت اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظام ، امریکہ اور جنرل ضیاء الحق کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا تھا۔ مولانا مودودی مزدوروں کے یوم یکم مئی کے مقابلے میں شہدائے بدر کا دن منانے کا کھیل کھیلتے تھے۔ جب سراج الحق نے پہلی مرتبہ سرخ ٹوپی پہن کر یومِ مزدور میں ریلوے کے ملازمین کے ساتھ شرکت کی تھی تو ہم نے ٹوپی ڈرامے کو علامات قیامت کی ایک نشانی قرار دیا تھا۔ آج جماعت اسلامی شکا گو کے شہیدو کو سلام پیش کررہی ہے۔
اب اشارہ مل جائے تو جماعت اسلامی سقوط افغانستان اور یوم فتح افغانستان منانا شروع کردے لیکن انجینئرگلبدین حکمت یاراپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکاتھا۔ جماعت اسلامی افغانستان میں بالکل دفن ہوگئی ہے۔ جہادِ کشمیر، جہاد افغانستان، جہاد فلسطین اور جہاد اسلام سب کچھ بھول بھال کر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اب قوم پرستی کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ محسن داوڑپر ایک مہمان کی حیثیت سے جوکرسیاں چلائی گئی تھیں ،اس پر پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان نے بہت شرمندگی سے معافی مانگی تھی اور ساری جماعتوں کی طرف سے جماعت اسلامی کے معافی مانگنے تک بائیکاٹ اور اپنے اتحاد سے خارج کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ صاحبزادہ ہارون الرشید آج بھی جماعت اسلامی کا اثاثہ ہیں جس نے یہ گھناؤنی حرکت کی تھی۔
جب پرویزمشرف کے دور میں وکلاء تحریک نے سپریم کورٹ کے ججوں کی بحالی کیلئے قربانی دینا شروع کی تھی تو سیاستدان بھی میدان میں نکلے تھے۔ عمران خان کو وکلاء تحریک کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ نے یرغمال بنایا تھا اور جماعت اسلامی لاہور کے امیرالعظیم کی طرف سے اپیلیں کرنے اور انتہائی شرمندگی کے اظہار کے باوجود بھی جمعیت کے طلبہ عمران خان کو نہیں چھوڑ رہے تھے، جماعت اسلامی کا سب سے بڑا کمال بھی یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ان کو قیادت مل رہی ہے لیکن سب سے بڑا زوال بھی یہ ہے کہ طلبہ تنظیم کے وقت سے جو تشدد ، فریب، ڈکٹیٹر شپ اور غیر جمہوری رویہ دل ودماغ میں بیٹھا ہوتا ہے تو وہ سیاست کے میدان میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔ جاوید ہاشمی ایک اچھی طبیعت کی قابلِ قدر شخصیت ہیں مگر جن ڈرامہ بازیوںکو طلبہ کے وقت میں جماعت اسلامی سے سیکھا تھا وہ بڑھاپے میں ان میں لوٹ رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں جانے سے بہت روکا تھا لیکن پھر بھی وہ گئے تھے۔ پھر تحریک انصاف سے یہ کہہ کر جاوید ہاشمی نکلا تھا کہ ” اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کی توقع پر عمران خان کو نہیں رہنا چاہیے۔ مجھے ان کے مزاج کا پتہ ہے وہ کوئی مدد نہیں کریںگے۔ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن کوئی دوسرا استعفیٰ نہیں دے گا۔ میری بات یاد رکھیں”۔ پھر جاوید ہاشمی کہتا تھا کہ جو میں نے کہا تھا ، عمران خان کے ساتھ آخر وہی ہوا ہے۔ آج جاوید ہاشمی کہتا ہے کہ ” عمران خان کو میں نے روکا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کا سہارا مت لینا ، یہ بہت نقصان دہ ہے”۔ حالانکہ ہوا یہی تھا کہ جب عمران خان کو توقع تھی تو اسٹیبلشمنٹ نے مدد نہیں کی اور اس کی وجہ سے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف چھوڑ دی۔ جب تحریک انصاف کو مقبولیت مل گئی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی ساتھ دیا لیکن پھر جاوید ہاشمی ساتھ نہیں رہے تھے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کی اصلاح کے بغیر جماعت اسلامی کے کسی قول ، فعل، جمہوریت، اسلام، جہاد اور قوم پرستی پر یقین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں بہت باصلاحیت لوگ اپنی زندگی کا اصل مقصد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں گنوا بیٹھے ہیں۔ ابن الوقتی ، بدمعاشی، منافقت اور درجن بھر ایسی صفات جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے پیدا ہوجاتی ہیں جن کو اسلام اور جمہوری سیاست کا نام دیا جاتا ہے لیکن وہ اسلام اور جمہوریت سے بالکل عاری ہوتی ہیں۔ مولانا مودودی نے تعلیم وتربیت کیلئے مدارس اور خانقاہوں کو ایک اضافی چیز قرار دیا تھا لیکن مدارس اور خانقاہیں اسلام کیلئے زبردست تربیت گاہیں تھیں اور اپنی جماعت اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت کو پھر بدعت نہیں سنت قرار دیا تھا لیکن ان میں علم وعمل ، اخلاص وتربیت اور ایمان واسلام کی جگہ دوسری چیزیں ڈالی جاتی ہیںجن میں ایک سیاسی قوت کا حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ جب غلط طریقے سے قوت حاصل کی جائے تو اسلام وایمان کے علاوہ اس کو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سرشست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور قوم پرستوں کی سخت مخالفت ہے لیکن فضاؤں کا رُخ دیکھ کرجماعت اسلامی بھی اپنا مذہب تبدیل کررہی ہے۔
مدارس کے علماء کرام اور خانقاہوں کے مشائخ عظام نے ہمیشہ عوام و خواص کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا ہے۔ جو دیوبندی بریلوی مدارس میں بہت احترام کیساتھ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک پڑھاتے ہیں اب ان میں فرقہ واریت میں مبتلاء جاہل طبقہ آپس کے معمولی معمولی اختلافات کو بھی پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان جس طرح اختلافات سے دونوں میں تفریق ہوئی تھی تو اس سے زیادہ علماء ومشائخ میں بھی نہیں ہے اور دیوبندی بریلوی ایکدوسرے کو اعتدال پر لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں اطراف میں جہالت کے باعث شدت پسندی بھی ہے اور دونوں اطراف میں اعتدال پسند بھی ہیں۔ اگر دونوں اسلام کی نشاة ثانیہ کی طرف متوجہ ہوں اور اہل حدیث واہل تشیع کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں تو بہت سارے معاملات میں ایک پرامن جمہوری انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اختلافات اور اجتہادی غلطیاں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان نے اسلامی جمہوری محاذ کے نام سے اتحاد کیا تھا جس میں مولانا فضل الرحمن اور علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں خاطر خواہ نتائج اسلئے برآمد نہیں ہوسکے کہ ان کے پیچھے علمی اور عملی طاقت نہیں تھی۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ان اغلاط کو سلیس انداز میں ”تفہیم القرآن” کے ترجمہ وتفسیر میں پیش کیا ہے جو علماء ومشائخ سے اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں۔ علماء ومشائخ کیلئے اجتہادی غلطیوں سے اعلانیہ توبہ کرنے میں کوئی عار نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی اجتہادی غلط تفسیر اور ترجمہ سے بھی توبہ نہیں کرنا ہے اسلئے کہ جماعت اسلامی کے علماء کی حیثیت ملازمین کی ہے اور باقی جماعت اسلامی مولانا مودودی کی پوجا کرتی ہے۔ جس شخصیت مولانا مودودی نے یہ سکھایا تھا کہ قرآن اور سنت کے مقابلے میں کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اس کی اپنی جماعت کا اس طرح شخصیت پرستی کا شکار ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام پر1970میں فتوے لگے تھے تو اس میں جماعت اسلامی ، دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مسلم لیگی قیادت سرِ فہرست تھی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کی طرح ان قوتوںکے آلۂ کار بن گئے ہیں۔ مفتی محمود نے توبہ کرکے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت شروع کردی تھی لیکن زکوٰة کے مسئلہ پر مفتی تقی عثمانی کے جبری پان اور مفتی رفیع عثمانی کی طرف سے لائی ہوئی دورۂ قلب کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دینے والا مولانا فضل الرحمن اب اس کی سودی بینکاری کو بھی مشرف بہ اسلام قرار دے رہاہے۔ جب اسلام دین اکبری والا ہو اورنواز شریف کی مغل سلطنت کیلئے مولانا فضل الرحمن اپنا سیاسی کردار ادا کررہے ہوں تو انصار الاسلام کے نام سے جھنڈے اٹھانے والوں کو خبردار ہونا چاہیے۔ میں نے کبھی جمعیت علماء اسلام و طلباء اسلام کی رکن سازی کا فارم نہیں بھرا ہے مگر جب مولانا پر فتوے لگ رہے تھے تو انکا دفاع کیا ہے اور جمعیت کا زیبرائی جھنڈا لے کر ایک مرتبہ تمام انصار الاسلام کا کردار بھی ادا کیا ، جب مولانا لیبیا سے آئے تھے اور مدارس کے علماء و طلبہ نے استقبال کیا تھا۔ مولانا نے مجھے رات کو اپنے ہاں عبدالخیل میں رُکنے کا کہا تھا کہ ” ذکر اور مراقبہ کراؤ”۔ میں نے کہا تھا کہ ”صوفی نہیں سیاسی مراقبے کراؤں گا”۔ پیر ذوالفقار اچھا مگر کم عقل آدمی ہے اسلئے سیاست اور فرقہ واریت کی تبلیغ کرتا پھر رہاہے اور یہ تصوف کا بہت بڑازوال ہے جو روحانیت نہیں دولت کی چمک ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

عمران خان سے حکومت میں شامل13جماعتیں اور مقتدر طبقات کیوں اتنا زیادہ خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں لوگ کرکٹ میچ کے اندر چوکے چھکے کی وجہ سے تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر کبھی ریپ ، قتل و غارت ، دنگا فساد اور باقی کرتوت سے نہیں مرتے

چلو کسی بھی بہانے سے ملک و قوم میں ایک سیاسی بیداری کی فضاء پیدا ہوئی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے عوام چاول کی پلیٹوں پر ووٹ دیتے ہیں۔

شہباز شریف اور تمام سیاستدان غریبوں کو ورغلانے کیلئے حبیب جالب کے اشعار پڑھتے اور ذوالفقار علی بھٹو کی نقلیں اتارتے تھے۔ الیکشن کے دوران چاول کی پلیٹوں پر غریبوں کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ اب لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ اتنی مہنگائی ہماری اشرافیہ کی وجہ سے ہے جو باہر سے بڑے پیمانے پر سودی قرضے لیکر عوام پر اس کا سارا بوجھ ڈالتے ہیں۔ شہباز شریف بھی زرداری کا پیٹ چاک کرنے ، بازاروں میں گھمانے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریریں کرتا تھا۔ اب وہ سب ایک پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں تو عوام کو حقائق کا پتہ چل رہا ہے۔ عمران خان ایک ایسے موقع پر عوام کے دکھ درد کا فائدہ اٹھارہا ہے کہ جب حکمران اور مقتدر طبقات ناکامی کے آخری کنارے پر کھڑے ہیں۔ اگر سازش کے تحت یہ کھیل کھیلا گیا کہ اگلی باری بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی تو نظام کے ساتھ عوام کا بھی ستیاناس ہوسکتا ہے۔ مریم نواز کو ایک جمہوری سیاستدان کا کردار ادا کرنا ہے تو عمران خان کی راہ میں کسی رکاوٹ اور سازش کا حصہ نہ بنے۔ جمہوریت میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ آج عمران خان کیلئے بچے ، نوجوان اور بچیاں انقلابی گیت گارہے ہیں تو آنے والے کل اسی عمران خان پر تھو تھو کریں گے اور مریم نواز کے گن گائیں گے۔ جمہوریت میں جب تک قوم کی آنکھ نہ کھلے سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہماری قوم فی الحال کرکٹ کی عاشق ہے۔ چوکے اور چھکوں سے عوام کو دل کے دورے پڑتے ہیں۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا ہے اور آج تک قوم کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔10کلو آٹے کیلئے لوگ شہید ہوئے۔ بچیوں کے ساتھ ریپ ہوئے۔ ملک میں ڈرون حملوں سے آبادیوں کو برباد کیا گیا۔ افغانستان ، عراق، شام، فلسطین، سوڈان اور لیبیا میں بڑے مظالم کا عوام کو سامنا کرنا پڑا لیکن کسی پر دل کا دورہ نہیں پڑا۔ جب قوم کا مزاج بدلے گا تو امریکی صدر بل کلنٹن اسلام آباد میں بچوں کیساتھ کرکٹ کھیلنے کے بجائے ان غریبوں کا دورہ کرے گا جن کی موت10کلو آٹے کی طلب کیلئے ہوئی اور شاید اسلامی بینکاری والے تو رحم نہ کریں مگر دیگر بینک سود کو بھی معاف کردیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

20ارب سے زیادہ کی کرپشن ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی۔ کیا21ارب الیکشن کیلئے نہیں ہیں؟۔

ابھی84ارب روپے آٹے کی تقسیم ہوئی ہے۔ میں معذرت سے کہوں گا کہ اس میں20ارب سے زیادہ چوری ہوئی ہے۔ آپ کسی طرح سے بھی دیکھ لیں۔ کیا ملا ہے اس غریب کو جس کیلئے آپ نے84ارب روپیہ خرچ کیا ہے؟۔ آپ اس نظام کے اندر ڈیلوری نہیں کرسکتے آپ کو اس کو پوری طرح ری ڈیفائن کرنا ہوگا ۔ اتنا کرپٹ ہوچکا ہے اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ یہ آج ڈیلور نہیں کرسکتا۔ چاہے وفاق میں ہو چاہے صوبے میں۔ یہ بات سمجھ لیں کہ اس نظام میں نہ پالیٹیشن کے پاس کپیسٹی ہے اور نہ بیوروکریسی کے پاس۔
پھر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر کسی کو میرے اس بیان سے تکلیف پہنچی ہو تو میں اس پر معذرت کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے نیک نیتی سے غریب کیلئے فنڈ جاری کیا لیکن اس میں چوری ہوئی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا صوبائی۔ میں نے نظام کا کہا ہے کہ یہ نظام کرپٹ ہوچکا ہے۔
تبصرہ نوشتہ دیوار: سیاستدان سچ بولنا شروع کریں تو ملک کے مسائل حل ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اگر دوسروں پر تنقید کے نشتر برسانے کے بجائے اپنی اصلاح اور نظام کی اصلاح کی طرف آئیں تو بہتر ہوگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟

کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ
کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے؟
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پاکستان لاالہ الااللہ کے نام پر بنا لیکن یہاں جھوٹ، بہتان، جبر، ظلم، فسق اور کفرکا راج ہے

جن سیاستدانوں کے سروں پر حکمرانی، عدالتوں پر عدل اور فوجیوں پر طاقت کا تاج ہے وہ عوام کی لاج نہیں رکھ سکے ۔دنیا بھر میں پاکستان آج اناج کی بھیک مانگ رہاہے؟

متحدہ ہندوستان میں ہندو بن کر رہتے اور گائے ماتا کا پیشاب پیتے تو بھی اس رسوائی سے بہتر تھا جو آج ہم دنیا کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کراپنی مراعات کیلئے کشکول لے کر گھومتے ہیں

اسماعیل نے ایڑیاں رگڑیں تو آب زم زم نکلا، کربلا میں یزیدکے لشکر نے حسین پر پانی بند کیا تو سپہ سالار حر نے کمزور حق کا ساتھ دیا یہاں تو ولایزید الظالمین الا خسارا کا مظاہرہ ہے

قرآن اللہ کی نعمت ہے ۔پاکستان بھی اللہ کی نعمت ہے۔ دونوں نعمتوں کے ساتھ سیاستدانوں، عدالتوں، سول وملٹری بیوروکریسی اور ہمارے مذہبی طبقات نے جو سلوک کیا اور عوام نے ان کے بہکاؤے پر جس طرح لبیک کہا ۔ہم اسی عذاب ، لعنت ، ظلم ، جبر ، تنگدستی اور بے بسی کے مستحق ہیں جہاں کھڑے ہیں۔
نام حسین کا لیتے ہیں اور کردار یزید کا ادا کرتے ہیں،نام آزادی کا لیتے ہیں اور کردار جبر کا ادا کرتے ہیں ، نام عدل کا لیتے ہیں اور کردار ظلم کا ادا کرتے ہیں۔ نام قرآن کا لیتے ہیں اور کردار فرعون، قارون اور ہامان کا ادا کرتے ہیں۔
ہندو بتوں کی پوجا کر رہے ہیںاور ہمIMFاور دنیا کے آگے ایڑیاں رگڑ کر بھیک مانگتے ہیں۔ عمران خان نے ٹھیک کہا تھا کہ سولی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFمیں نہیں جاؤں گااور پھر مجبوری میں جانا پڑا تھا۔ طالبان خان بننے کیلئے ایاک نعبد وایاک نستعینکا نعرہ لگایا اور پھر پیرنی کا زن مرید بن کر پاکپتن کی راہداری پر سجدہ ریز ہوا تھا۔حالانکہ مولانا شاہ احمد نورانی نے فرمایا کہ ”قبر کے سامنے سجدہ کرنا، جھکنا اور اس کو چومنا جائز نہیں حرام ہے اور عبادت کی نیت سے سجدہ کفر ہے”۔ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر نے بھارت کے مقابلے میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ ” کتنی بار چھوٹی نفری غالب آتی ہے بڑی نفری پر اللہ کی اجازت سے”۔ بے شک بدر میں مسلمانوں نے کم تعداد کے باوجود فتح پائی اور اُحد میں شکست کھائی ۔ حدیبیہ میں صلح کی اور مکہ میں فتح پائی ۔ کم تعداد اور زیادہ تعداد معیار نہیں، فتح وشکست اہل حق ہوتی رہتی ہے لیکن اپنے کردار پر نظر کرنی چاہیے۔ منافقت، ظلم، جبر، جھوٹ ، خیانت، مفاد پرستی ، فریب، دھوکہ دہی بری صفات کا وہ کونساکالا، لال، سفید ، لاہوری ، سمندری، سندھی پنجابی پختون نمک ہے جو ہمارے آٹے ، سالن اور تمام اشیاء خور د ونوش میں شامل نہیں؟۔
سندھ میں پہلی مرتبہ اسلام آیا تو اہل بیت نے بنی امیہ سے ہجرت کی تھی۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی تو حجاج بن یوسف جیسے فرعون کا دور تھا۔ پھر بھارت میں اسلام تین سوسال بعد داخل ہوا جب اسلام کا فرقہ واریت اور مسلکوں میں بٹوارہ ہوچکا تھا۔پاک وہند سے رسول اللہ ۖ کو جس اسلام کی خوشبو آئی تھی اس اسلام کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ آئیے ہم اس کا آغاز کردیتے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان نہ صرف عالم اسلام کیلئے بلکہ پوری دنیا کیلئے اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ بنے گا لیکن ریاست کو بھی ساتھ دینا پڑے گا سب سے پہلے علماء کرام ، مفتیان عظام اور مذہبی طبقات کی چھوٹی بڑی غلطیوں کو قرآن و سنت کے مطابق درست کرنا ہوگا۔ آج تک سیاسی پلیٹ فارموں سے لیکر مساجد کے ممبر و محراب تک اور مذہبی اسٹیجوں سے پارلیمنٹ کے ایوانوں تک کسی نے یہ نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں کیا کیا احکام نازل کئے؟۔
جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگا جو اُمت مسلمہ کی ماں ، رسول اللہ ۖ کی زوجہ محترمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی دختر نیک اختر تھیں تو قرآن میں بہتان لگانے والوں پر80،80کوڑوں کی سزا کا حکم ہوا۔ بہتان لگانے والوں میں حضرت ابوبکر کے قریبی عزیز حضرت مسطح ، حضرت حمنہ نبی ۖ کی سالی اور مشہور نعت خوان حضرت حسان شامل تھے۔ اگر ایک غریب اور کمزور خاتون پر بہتان لگایا جائے تو بھی قرآن میں اس کی یہی سزا ہے۔ دنیا کو اگر معلوم ہوجائے کہ اسلام میں اتنی مساوات ہے تو اسلام قبول کرلے۔
آج جمہوریت کے دور میں بھی ہم اسلام کا پیغام گلی کوچوں سے لیکر بین الاقوامی دنیا تک عام نہیں کرسکے ہیں۔ دنیا میں اسٹیٹس کو کے خاتمے کیلئے اسلام ایک واحد ذریعہ ہے۔ غریب کی بیٹی بھوک سے مرسکتی ہے لیکن کروڑوں روپے کے عوض مردوں کے سامنے اسٹیج پر چڑھ کر نخروں سے تقریر نہیں کرسکتی۔ غریب کی ہتک عزت پر عدالت میں اتنا پیسہ بھی نہیں مل سکتا جس سے وکیل اور عدالت کی فیس بھری جاسکے۔ امیر کی ہتک عزت اربوں میں ہوتی ہے۔ پھر غریب کیلئے یہ بھی بڑی سزا ہے کہ وہ چند ہزار کا جرمانہ بھرے۔ اور امیر کیلئے لاکھوں کی فیس بھی کوئی سزا نہیں ہے۔ کوڑوں کی سزا امیر غریب سب کیلئے یکساں ہے۔
اللہ نے فرمایا ہے کہ ”ہم قرآن میں سے نازل کرتے ہیں جو لوگوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے میں”۔ پاکستان خسارے کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ظلم سے رک نہیں رہا ہے۔ پہلی مرتبہ آرمی چیف حافظ بھی ہیں اور سید بھی۔ کرپشن کے بھی ان پر کوئی الزامات نہیں۔ لیکن ملکی حالات سیاسی اور عدالتی حساب سے انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ پاک فوج ایک بڑا ادارہ ہے جس میں کور کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد ہے اور بہت بڑے پیمانے پر اس میں جفاکش سپاہی اور افسران ہیں۔ اگر مشاورتی عمل سے اپنے اندر پہلے اصلاح کا کام شروع کریں اور پھر اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلائیں تو یہ صورت ملک و قوم کو اس مخدوش حالات سے نکالنے کا سبب بن سکتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

سیاست میں اعتدال نہیں رہاہے تو مذہبی بے اعتدالی کا راستہ کون روکے گا؟ اللہ نے قرآن میں ہمیں امت وسط معتدل مزاج امت قرار دیا ہے

جس دن صحافیوں نے مذہب کی طرف توجہ کی تو پاکستانی قوم میں بہت بڑا فطری، نظریاتی اور انسانی انقلاب برپاہوجائیگا ذرا توجہ کریں تو سہی!

شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور جماعت اسلامی وتبلیغی مرکز میں اختلافات ہیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی کا تعلق پہلے جماعت اسلامی سے تھا اور پھر مولانا مودودی کے خلاف کتاب لکھ کر تبلیغی جماعت کے اکابر بن گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی ”فتنہ مودودیت” کتاب لکھ ڈالی تھی۔ مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف استفتاء لکھ کر پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علماء ومفتیان سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگوایا تھا، جن کے فرزند مولانا سجاد نعمانی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد کے بہت بڑے داعی اور علمبردار بن گئے ہیں۔
علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی نے جماعت اسلامی انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر عبارات کے حوالہ جات دئیے بغیر دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ انہو ں نے مولانا مودودی وغیرہ کی عبارات سمجھ کر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے تھے۔حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی کتابوں سے عبارات لئے گئے تھے۔جس پر شیخ الحدیث مولانا زکریا نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی کہ ہم اپنے اکابرین اور دوسرے کے درمیان کیوں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں؟۔ جس کا صاف الفاظ میں خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ”اپنے کریں تو چمت کار اور دوسرے کریں تو بلت کار ”۔ دوسروں کو مطمئن کرنے کی جگہ اپنوں کو اطمینان دلاتے ہیںتو ہمارا مذہب صرف کمزور لوگوں میں خوش فہمی کا باعث بنتاہے۔
اللہ نے فرمایا: کل حزب بمالدیھم فرحون ” ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ”۔ دیوبندی بریلوی اپنی کتابوں میں اپنے بزرگوں کے کرامات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا کمالات حاصل کئے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک ماموں کا قصہ بڑا عجیب ہے ۔ ملامتی صوفی اور بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ماموں نے سب کو ماموں بنادیا تھا۔ جب بات غلو تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو بیان کیا جائے تو ناقابل یقین بن جاتا ہے۔
مدارس اور مساجد میں ظلم وتشدد اور جبر واکراہ کا وہ سسٹم نہیں ہوتا ہے جس کو جماعت اسلامی نے کالج اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھایا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ نے جس انداز میں مشعال خان کو شہید کیا تھا تو اس کاسارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے بانی ومہتم مفتی محمد نعیم نے مشعال خان کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پشاور میںطلبہ کو شاباش دینے کیلئے جلسہ رکھا تھا۔ مدارس کی تعلیم میںشافعی حنفی مالکی حنبلی مسالک پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں علم وشعور اور اختلاف برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے مگر جماعتی بہت جاہل اور ظالم ہوتے ہیں۔وہ اس تشدد پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ کسی عالم دین کو اپنا امیر بناکر جاہلوں سے تشدد کا عنصر بالکل نکال دیں۔
مظہر عباس ، وسعت اللہ خان اینڈ کمپنی،محمد مالک، روف کلاسرا ، سلیم صافی اور حامد میر وغیرہ کبھی مدارس ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھاکر کچھ مسائل پر افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ مثلاً دعوت اسلامی کے مفتیوں نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ ” روزے کی حالت میں ٹٹی کرنے کے بعد اپنے پاخانہ کی جگہ دھویں تو اس کو فوراً کپڑے سے سکھالیں، اگر ایسا نہیں کیا تو آنت کا ٹکڑا واپس اندر چلاجائے گااور روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
آنت کا نکلنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن گئے ہوں گے۔ جب یہ مسئلہ الیکٹرانک میڈیا پر اکابر ین کے سامنے زیر بحث لایا جائے گا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اکابر کی بات درست ہوگی تو بہت لوگوں کے روزے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور اگر ان کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اس مسئلے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسلئے کہ آنت بہت لمبی ہوتی ہے اور اس میں مقعد کے راستے سے معدے تک پانی کا اس طرح سے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی دور میں پچکاری کے حوالے سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہوگی کہ پریشر سے پانی معدے تک نہ پہنچ جائے لیکن الٹراساونڈ کی ایجاد سے مسئلہ سمجھنے میں مشکل نہیں اور بہت اکابر بھی اس بے جا مشقت سے بچ جائیں گے۔
مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ ” غسل کے تین فرائض ہیں۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا”۔ یہ حنفی کے نزدیک ہیں اور شافعی کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں وضو کی طرح سنت ہے۔ مالکی کے نزدیک جب تک جسم کو مَل مَل کر نہ دھویا جائے توفرض پورا نہیں ہوگا۔ گویا ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں وضو کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وان کنتم جنبًا فطھّروا ” اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ حنفی کہتا ہے کہ وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں ہے لیکن اس آیت میں پاکی کے اندر مبالغہ ہے اسلئے جنابت سے نکلنے کیلئے یہ فرض ہے۔ مالکی کہتا ہے کہ مَل مَل کر دھونا بھی مبالغہ کی وجہ سے فرض ہے۔ یہ فرائض اور ان پر اختلافات قرآن وحدیث ، خلفاء راشدین ، صحابہ اور تابعین کے 7فقہاء مدینہ کے ہاں بھی نہیں تھے لیکن پھر وجود میں آگئے۔
اس مشکل سے نکلنے کیلئے قرآن میں ہے کہ جنابت سے نکلنے کیلئے غسل یعنی نہانا ہے۔ بس وضو کے مقابلے میں نہانے کے اندر جو مبالغہ ہے وہی کافی ہے۔ نہانا یہود، نصاریٰ ، مشرکین مکہ ، ہندو اور سبھی کو آتا ہے۔ حتی کہ جانور اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاورمیں پوزیشن ہولڈر میرا ایک کزن اس کی وجہ سے کہ غسل ہوا یا نہیں ہوا ؟ اپنی زندگی کی خوشیوں سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

پارلیمنٹ میں بل آسکتا ہے کہ ایک پیر کی جوتی چیف جسٹس ،دوسرے کی آرمی چیف ہو؟

جیواورحامد میر نے سفید جھوٹ کہا کہ فوج نے عدلیہ کیخلاف فیصلہ دیا ۔ اتوار کا پورا دن گزار دیا اور کوئی فیصلہ اس خوف سے نہیں کیا کہ عدلیہ نا اہل کردے گی۔ یہ ثبوت ہے کہ فوج نے یقین نہیں دلایا

جسٹس اطہر کے اختلافی نوٹ میں سیاست سے دور رہنے کی بات تھی لیکن اس کا ساتھی جسٹس فائز عیسیٰ حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ پہنچ گیا۔ یہ اس نظام کے خاتمے کی نوید لگتی ہے۔

عدلیہ اور پارلیمنٹ نے آئین کو توڑنے کی گولڈن جوبلی منائی ہے۔ پاک فوج کو سیاست سے دور رہ کر اپنے معاملات درست کرنے چاہئیںتاکہ وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد عوام میں بحال کرسکیں

پاک فوج واحد ادارہ ہے جس سے پاکستانی ریاست کا استحکام وابستہ ہے۔ اس کے جوان بے لوث قربانی دیکر شہادت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسکے قابل ترین افسروں نے ملک کو مذہبی ، لسانی ، سیاسی اور نظریاتی جنگ وجدل سے محفوظ رکھنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحافی ، سیاستدان ، حکومت ، اپوزیشن اور سبھی ان کو دعوت دیکر اپنے مخالف کے خلاف اکسانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ آج چیف جسٹس عمرعطابندیال سے پارلیمنٹ ٹکرانے کی ناجائز کوشش کرتی ہے تو قانون کی بالادستی کیلئے طاقت کا استعمال بہت ضروری ہے۔پہلے بھی ایک مرتبہ نوازشریف نے سپریم کورٹ پر اپنے ججوں اور پھر کارکنوں کے ذریعے سے ہلہ بول دیا تھا۔ اگر اس وقت مارشل لاء بھی لگادیا جاتا تو لوگ اس کو احسن قدم کہتے ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ نے جن صحافیوں کو لفافوں کی قیمت پر لگایا ہے ،ان کو کٹہرے میں لانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر نے عدالت کے خلاف گرین سگنل دے دیا ہے ، دوسرا اپنی طرف سے ریڈ سگنل کی بات کرتا ہے۔ان کا مقصد آرمی چیف کی حمایت اور مخالفت سے پاک فوج کی مٹی پلید کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
پہلی فرصت میں پنجاب کی45ہزار ایکڑ اراضی پنجاب کی حکومت کو نہیں غریب مزارعین کسانوں میں بانٹ دیں۔ ایسا نہ ہوکہ مزارعین کے لبادے میں جاگیردار اور سیاستدان بھی اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے پہنچ جائیں۔ جب اکرم خان درانی اور مولانا فضل الرحمنGHQسے زمین لیتے ہیں تو شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور ملک بھر کے دوسرے جاگیردار اور سرمایہ دار بھی ان سے زیادہ بھوکے ہیں۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر قرآن کے حفظ اور سادات کی لاج رکھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ملک میں کمزور طبقے میں عزت بڑھ جائے۔ ان سیاسی جماعتوں کے زر خرید میڈیا ٹولز سے ہرگز نہیں گھبرائیں۔ انہوں نے عزت نہیں دینی ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اللہ نے عزت دینی ہے۔ عمران خانیوں کا جوش جنون واقعی خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن اس کا مقابلہ طاقت نہیں شعور سے کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے لوگوں میں شعور کی بہت کمی ہے اور جن لوگوں میں تھوڑا بہت شعور ہے وہی عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں۔ اس باشعور طبقے کو مزید شعور دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب پاک فوج اعلان کرے گی کہ ملک کی خاطر ہم اپنے پر تعیش علاقوں کو اپنے ہم وطنوں پر بیچ رہے ہیں اور خود جنگل میں منگل بنارہے ہیں تو پاکستانی ہی اپنا پرائیوٹ پیسہ باہر سے لاکر انویسٹ کردیںگے۔ ملک کے قرضے بھی تمہاری اس قربانی کی وجہ سے اتر جائیںگے اور قوم میں ایسی عزت بحال ہوگی کہ اللہ تمہیں امر کردے گا۔ سیاستدانوں ، کرپٹ ججوں ، جرنیلوں اور صحافیوں نے مل بیٹھ کر پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ معاشی استحکام کی جنگ جب تک فوج خود ہمت نہیں کرے گی تو سیاستدانوں نے کچھ بھی نہیں کرنا اور نہ ان کو کچھ کرنا آتا ہے۔ انہوں نے مال کمانے کے طریقے سیکھ لئے ہیں۔ جرنیلوں اور ججوں میں گنتی کے چند افراد کرپٹ ہوں گے ،انہوں نے تو ٹبر کے ٹبر تیار کر رکھے ہیں۔
زرداری جب الطاف حسین سے بات کرتاہے تو اپنی بیٹی آصفہ اور الطاف کی بیٹی فضا اور ان کی نسلوں تک سلسلہ جاری رکھنے کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کو جمہوری ملک بنانے کے بجائے مغل سلطنت کے دور میں راجے مہا راجے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ عوام بیچاروں کو اقتدار اور اس کے فوائد کی معلومات تک نہیں ہوتی ہیں لیکن سیاستدان فوج کیساتھ مال منڈی کے دلالوں کی طرح انگلیوں کے اشاروں سے عوام اور مال بیچنے والوں کے درمیان سودا طے کرکے اپنے مالی فوائد اٹھاتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان حکومت دلالی کرنے کے بجائے اپنے اصل کردار کو ادا کرے گی تو یہاں سیاستدان کے کپڑے اتریں گے اور نہ فوج کے کوئی کپڑے اتار سکے گا۔ پاکستان سب کا مشترکہ گھر ہے اور یہ قیامت تک اس وقت باقی رہ سکتا ہے کہ جب اس کے مکین عوام ہوں اور عوام ہی سے اُٹھ کر لوگ سیاست اور ریاست کی خدمت کررہے ہوں۔ عوام مرگئے ہیں یا مارے گئے ہیں؟۔اسلئے کہ یہاں کوئی اہل قیادت نہیں ہے۔ فوج میں آرمی چیف تو چند افسران میں سے قسمت پر سلیکٹ ہوجاتا ہے اور اس کی ساری زندگی اس ملازمت میں گزری ہوتی ہے جس میں اپنے افسران بالا کے حکم کی بجا آوری میں اس کے دماغ کی رگیں بہت کمزور ہوجاتی ہیں۔ جب اس کو اچانک بہت بڑا اختیار مل جاتا ہے تو رہی سہی عقل بھی کام نہیں کرتی ہے اسلئے کہ ادارے نے اپنا پریشر ڈالنا ہوتا ہے۔ بیرون واندرون ملک کے مسائل اپنی جگہ ہوتے ہیں اور سیاسی ومذہبی دباؤ کا سامنا الگ ہوتا ہے ۔اس عاشقی میں لیلائے سیاست کی کئی دلہنیں سج دھج کر کھڑی ہوتی ہیں اور بندہ ناچیز کو بھگوان سمجھ کر دیوی کا کردار کی پیشکش کرتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ شطرنج کے مہرے کی طرح اس کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور بھگوان سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح ڈائن کے مقام ومرتبہ پر کھڑا کرکے کھایا پیا سب ہضم لیکن بلغم اس کے منہ پر پھینکا جاتا ہے اور ساری برائیوں کی جڑ ریٹائرڈ آرمی افسر بن جاتا ہے اور مغویہ حاملہ اور جبری زیادتی کا شکار نئے الیکشن کی تیاری کرنے والی لیلائے سیاست بن جاتی ہے۔
پاکستانی دو چیزوں کو پسند کرتے ہیں ۔ایک بہادری اور دوسری مظلومیت۔ مولانا عبدالغفور حیدری بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنے کیلئے کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جنرل باجوہ نے گھر پر بلواکر بہت فحش گالیاں بکیں اور آخر کار میرا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو جنرل باجوہ کو شٹ اپ کی کال دی۔ اکرم شیخ ، ابصار عالم اور سارے صحافی اور سیاستدان اپنی کہانیاں بتاتے ہوئے بہادری اور مظلومیت کی داستانیں بتاتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی کہ شہباز گل کو ننگا کرکے مارا گیا لیکن احمد نورانی نے اس خبر کو جھوٹ قرار دے دیا۔ حامد میر نے کپڑے اتارنے کے بعد اپنی چڈی تک بات پہنچادی تھی لیکن یہ ایک واقعہ ہوگا اور اس میدان کا وسیع تجربہ ہوگا یا مظلومیت اور بہادری کے قصوں کا محض شوق؟۔فوجی سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹی بہادری بھی ایک کمال تو ہے؟۔ اگر قرآن وسنت کے ٹھوس احکام کو عوام میں عام نہیں کریںگے تو پاکستان ہاتھ سے ایسا نکل جائیگا جیسا کہ جنگلی درندہ!۔ جو نکلتے وقت زخمی بھی کرسکتا ہے اور جان سے مار بھی سکتا ہے۔
اگر پاکستانی قوم کی حالت دیکھ لی جائے تو ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے ؟، کس کی شامت ہے ؟، کس کی تذلیل ہے؟، کون اچھا ہے؟، کون برا ہے؟، حکومت جائے یا اپوزیشن آئے عوام کی اکثریت اس سے بالکل لا تعلق ہے اور یہ لاتعلقی بہت خطرناک ہے۔ یہ بھی بڑی غنیمت ہے کہ عمران خان کو کچھ چاہنے والے مل گئے ہیں۔ جو میڈیا کو سیاسی سرگرمیاں فراہم کررہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ شہباز شریف نے جتنی نفرت آصف زرداری سے قوم کو دلائی ہے وہ اتنی آسانی سے نکلنے والی نہیں ہے۔ ہر برائی کی جڑ آصف زرداری کو سمجھا جاتا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ کھمبوں سے لٹکانے کی دھمکی دینے والے شہباز شریف کو جاتا ہے۔ اب ان کی دوستی پر دنیا پریشان ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کیس بھی کئے، عدالتوں سے فیصلے بھی لئے اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خود کو معصوم سمجھنے کی اُمید بھی عوام سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو عقل کریں۔ عمران خان بڑا دبنگ انسان ہے لیکن جب وزیر اعظم بن گیا تو اس کی ساری دھمکیاں اس وقت ڈھبر ڈوس ہوئیں جب عبوری حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا نواز شریف اس کی اجازت سے نکل گیا۔ مریم نواز تیمارداری کے غرض سے ضمانت پر رہا ہوئی تھی لیکن بیمار لندن پہنچ گیا اور تیمار دار مریم نواز عمران خان کو ترکی بہ ترکی زبردست جواب دیتی رہتی تھی۔ میلا اب صرف ایک عمران خان نے گرم کرکے رکھا ہے اور دوسری مریم نواز ہے۔ دونوں کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔ لیکن ایک دوسرے پر جملے زبردست کس کر مارسکتے ہیں۔
عوام بھوکی ہے، ننگی ہے ، بیروزگار ہے، جملوں سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے اور مریم نواز اور عمران خان جملے بازیوں سے میاں مٹھو کی طرح بولنے والے غریب عوام کو کچھ نہیں دے سکتے تو اب ان کی آواز بھی نہیں نکل رہی ہے۔ میدان ہے اور اس میں عمران خان اور مریم نواز ایک دوسرے کیخلاف میچ کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی جیتے یا ہارے لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔
عوام کو جگانے کیلئے ایک ہی طریقہ کار باقی رہ گیا ہے کہ قرآن کی طرف ان کو راغب کیا جائے۔ اور علماء و مفتیان نے دین کا جس طرح سے کباڑہ کرکے رکھا ہے اس سے ہٹ کر واقعی پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کیا جائے اور فرقوں ، جماعتوں ، گروہوں، تنظیموں اور پارٹیوں سے ہٹ کر موٹے موٹے احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرکے زندگی کے نئے رخ پر انکو ڈالا جائے۔ پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا اور آئین پاکستان میں بھی قرآن و سنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے ہاں مذہب کا استعمال بھی بلیک میلنگ کیلئے کیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی آج کل اپنے ماضی کے دشمن قوم پرستوں کو خوش کرنے میں لگی ہے۔ جب جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے آرمی کے خلاف کچھ کہا تھا تو جماعت اسلامی نے اسے ہٹا کر سراج الحق کو امیر بنادیا۔ جو بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار رہی ہو یا اس کی پیداوار ہو جب تک ان پر پابندی نہ لگائی جائے پاکستان کا ماحول درست نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ سینیٹر مشتاق احمد خان کا مطالبہ ہونا چاہیے۔ اشرافیہ کا تعلق جس جماعت ، جس پارٹی اور جس تنظیم سے ہو اس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بل بھی انگریزی زباں میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مدارس کے نصاب ، قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں اتنی بڑی بڑی غلطیاں ہیں۔ حلالے کے نام پر عزت دار خواتین کی عزتیں لٹ رہی ہیں لیکن نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ جب کل اس پر کوئی بازار گرم ہوگا تو خطابت کے جوش دکھانے والے میدان میں اتریں گے اور لوگوں کو سمجھ میں آئے گا کہ یہ بیچارہ پتہ نہیں کب سے اس ایشو کیلئے مرا جا رہا تھا؟۔ تقریریں ان کے دل کی گہرائیوں سے نہیں نکلتیں بلکہ یہ انہوں نے اس طرح سے مشق کی ہوئی ہوتی ہے جیسے سکول کی بچیاں تقریریں کرتی ہیں اور کسی اُستاد کی لکھی ہوئی تقریر سے آسمان اور زمین کی قلابیں ملائی جاتی ہیں۔
سنجیدہ بات یہ ہے کہ جب ختم نبوت کے خلاف پارلیمنٹ میں بل پاس ہورہا تھا تو ایک ظفر اللہ جمالی تھا جس نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا کہ میں ایسی اسمبلی کا رکن نہیں رہ سکتا جس میں خاتم الانبیاء رحمت للعالمین ۖ کے خلاف یہ سازش ہو۔ اس ظفر اللہ جمالی پر پوری جماعت اسلامی ، پوری جمعیت علماء اسلام اور پوری مسلم لیگ و پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی پارٹیوں کے قائدین ، رہنما اور کارکن قربان ہوں۔ یہ سارے بکواسیہ موقع ملنے پر بک بک کرتے ہیں لیکن کسی نے بھی ناموس رسالت کیلئے اسمبلی اور اپنی جماعت سے استعفیٰ دینے کی جرأت نہیں کی ہے۔ ظفر اللہ جمالی آزاد حیثیت سے رکن پارلیمنٹ بنے تھے اور پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور جب ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی تو وہ اسمبلی سے مستعفی ہوگئے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے گھرائیں تھے وہ بتائیں گے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر استعفیٰ دیا تھا یا اپنے ضمیر کے مطابق ایمان کا مظاہرہ کیا تھا؟۔ حافظ سعد حسین رضوی بھی اپنے باپ کی عزت و ناموس کیلئے عدالت میں پیش ہوں اور جسٹس فائز عیسیٰ سے معلومات حاصل کریں کہ کس طرح اس کے باپ نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر لوگوں کو قربانی دینے پر اکسایا تھا؟ ۔ اگر وہ ثابت کردیں تو تحریک لبیک کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنے فیصلے کی جوابداری کرنی چاہیے۔ نواز شریف نے بڑے بڑوں کو شیشوں میں اتارا ہے ۔ اللہ خیر کرے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور فوج کی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

اسٹیبلیشمنٹ کے دو چیلوں کی لڑائی کو سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ تک لیجانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ پنجاب کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے اسلئے اپنا دائرہ کارپنجاب تک آپ ضرور بڑھائیں !

عمران خان کے زندہ دلانِ لاہور کی حوصلہ شکنی نہ کریں،صحت مند سیاست میں جان جذبے اور جنون سے آتی ہے مگر لڑائی بھڑائی سے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے!

پہلے مرکز کی سیاست کبھی پنجاب اور کبھی سندھ میں پیپلزپارٹی کی وجہ سے منتقل ہوتی رہتی تھی۔ مسلم لیگ ف، ج، ق ، ن ، ع سبھی اسٹیبلشمنٹ کی سگی ہیں۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کوئی مسلم لیگ پنپ نہیں سکتی ہے ۔ پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے بانی کو قتل کیا گیا تھا اسلئے پیپلزپارٹی کااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کمزور ہوگیا تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے چاہا کہ اپنے گھر کے اندر ہی دو بٹیر پالے جائیں اور باریاں بھی پنجاب میں اپنوں میں رہ جائیں۔ مسلم لیگ ن اور عمران خان دونوں کو پنجاب سے ہمیشہ کیلئے بڑی جماعتوں کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ دونوں نے ان کے کہنے پر اپنی ٹائی ، شرٹ، قمیص، شلوار اور چڈی اتارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔ دوسرے لوگ گناہ بے لذت میں خوامخواہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی اور اس کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو اتنا بھوکا رکھا گیا ہے کہ20کلو زکوٰة کے آٹے کیلئے بھی مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سیلاب سندھ میں آیا تھا اور حامد میر سے پنجاب کے کسان اسلام آباد میں کہہ رہے تھے کہ سندھ کی وجہ سے بحران آیا ہے۔ جس پر حامد میر نے ہنس کر کہہ دیاتھا کہ تمہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔
آخر میں عمران خان اور نوازشریف نے بھائی بھائی بن جاناہے۔ زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے کاندھوں پر گند کی ٹوکری لادی جائے گی۔ پنجاب میں شعور لانے کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کیلئے لاہوریوں کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ماڈل ٹاؤن اور زمان پارک لاہور کی لڑائی لاہور ، جی ٹی روڈ ، گجرانوالہ، گجرات، جہلم ، گوجرہ ، پنڈی اور اسلام آباد تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا مگر کبھی اس نے بارود اپنے جسم کیساتھ باندھ کر دھماکے کی ترغیب نہیں دی۔ پختون اور بلوچ انتہاپسند ہیں۔ اپنی قوموں کو بھی ریاست کیساتھ بارود سے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں تشدد نہیں نظریاتی جذبہ ہوتا ہے۔ نظریاتی جذبہ صحت مند سیاست ہے۔ پنجاب میں بھٹو کے بعد عمران خان نے زندہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری میں صلاحیت تھی ۔ماڈل ٹاؤن میں اس کے کارکن شہیدکئے گئے ۔ قمرزمان کائرہ نے مذاق اور نقل اتارنے سے اس کا جذبہ ختم کیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کے بندے مارکر عمران خان کی سیاست کو زندہ کردیا۔ نوازشریف نے تو کاندھے پر اٹھاکر طاہرالقادری کوغارِ حراء پر چڑھایا تھا، حالانکہ لنگڑے اور اندھے ایسا کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ پنجاب کی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اورنگزیب جیسے قابل لوگ اس میں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے

پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے جن کی پرورش بطخوں کے ساتھ ہوئی ہو۔ بطخوں کا کام کویک کویک کرنا ہوتا ہے جبکہ شاہین خاموش رہتا ہے۔ جب شاہین کا بچہ بطخوں کے ساتھ پلا بڑھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی اڑان نہیں بھرسکتا اوران بطخوں کے ساتھ گھومتا رہتا تھا۔ جن کا سارا دن صرف یہی کویک کویک کرنا ہوتا تھا۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے سارے قائدین اور رہنما بطخوں کی طرح سارا دن کویک کویک کرتے رہتے ہیں۔ شاہین صفت بچے ان کا تماشہ دیکھتے رہتے ہیں اور انکے ساتھ گھوم پھر کر خود کو بطخ سمجھتے ہیں۔ جب شاہین نے اپنا بچہ بطخوں کے ساتھ دیکھا تو اس کو اٹھا کر پہاڑ پر لے گیا اور اوپر سے چھوڑ دیا۔ شاہین کے بچے نے پر کھولے اور اڑان بھرنی شروع کی تو اس کو پتہ چلا کہ وہ بطخ کا نہیں شاہین کا بچہ ہے۔ قدرت پاکستانیوں کی دستگیری کررہی ہے اور بطخوں کی کویک کویک سے اس کی جان چھڑا کر اس کو پہاڑ سے گرا نہیں رہا ہے بلکہ اڑان سکھا رہا ہے۔ اب اچھے دن آنے کو ہیں۔
پاکستانیو! غم مت کھاؤ۔ یہ نظام جو ٹوٹ رہا ہے اس میں بھلائی ہے۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا لیکن تمہیں بھی اُڑان بھرنی ہوگی۔ قرآن کی طرف جس دن تم نے توجہ کی تو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کو بھی تم نے سود سے نجات دلانی ہے۔ سُودی بینکاری اسلامی نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام بھی علماء کے ہاتھ تباہ ہے۔
پاکستان ، افغانستان، ایران ، سعودی عرب کیساتھ ہندوستان ، یورپ ، امریکہ ، روس اور چین میں بھی اسلام کا درست پیغام پہنچانا بہت ضروری ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام تمام دنیا کے سارے مسائل کا حل ہے

(نوٹ: اس آرٹیکل سے پہلے ”حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے ” عنوان کے تحت آرٹیکل ضرور پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv