پوسٹ تلاش کریں

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

سیاست کاتقاضہ اور دستور کابڑا بنیادی نکتہ!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

معراج محمد خان مرحوم تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری تھے تو عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت اور معراج محمد خان مخالفت کررہے تھے اور اس دوران یا اس سے پہلے یا بعد میں میری ان سے ایک نشست ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان ؟۔ یہ عجیب اتفاق نہیں ؟۔ جس پر انہوں نے گردش دوران کی اس مجبوری پر اپنا سر سرور سے دھنا تھا۔ پھر وہ تحریک انصاف چھوڑ چکے تھے تو ایک بار پھر ان سے ملاقات کا شرف ملا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری اماں پٹھان تھیں اور میں علماء حق کے پیروں کا غبار اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں لیکن علماء سو سے میری نہیں بنتی ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں آپ کی پارٹی کیلئے ایک دستور (آئین) لکھ دیتا ہوں۔ تحریک انصاف کا دستور بھی میں نے لکھا ہے اور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کو میں نے بہت کارکن اور رہنما دئیے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی مہربانی لیکن عمران خان نے بھی شاید اس دستور کو پڑھا اور سمجھا تک بھی نہ ہو۔ میرے پاس قرآن وسنت ہی کے ایسے آئینی نکات ہیں جس کو پڑھ اور سمجھ کر بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔
جب لوگوں اور لوٹوںکو پیسوں سے خریدا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر چلنا دشوار ہو تو پھر پنجہ آزمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کافی عرصہ سے میرے ذہن میں تمام پارٹیوں کیلئے قرآن وسنت کے مشترکہ نکات اٹھانے پر اتفاق رائے کی خواہش تھی لیکن کسی پارٹی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔
عمران خان نے پارٹی اور ادارے بنانے کی بات کی تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ واقعی وہ پاکستان کو پولیس اسٹیٹ اور ایجنسی اسٹیٹس سے نکال کر ایک بہت بڑا صاف شفاف نظام بنائیں گے۔ لیکن پہلے اس نے معراج محمد خان ، جاویدہاشمی، بڑے وکیل رہنما اورجسٹس وجیہہ الدین وغیرہ کو کھودیا اور پھر اپنی نئی ٹیم سے بھی محروم ہوتے گئے۔ اب فوج کو نیوٹرل ہونے کے بعد خصی جانور کہنے کے چرچے ہیں۔ اتحادیوں سے بے نیاز اب اتنے نیاز مند ہوگئے ہیں کہ اتحادیوں کی خاک چاٹ رہے ہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام کیساتھ ساتھ تزکیہ نفس کابھی بہت بڑا چارہ بن گیا ہے۔ اسلئے جمہوریت زندہ باد اور اسے برباد کرنے والے مردہ باد۔
جب مولانا فضل الرحمن نے جنرل سیکریٹری کی جگہ جمعیت علماء اسلام کا امیر بننا چاہا تو پہلے امیر کی جماعت میں کوئی زیادہ حیثیت نہیں تھی۔اسلئے کہ جماعت کاقائد جنرل سیکریٹری کہلاتا تھا۔ جیسے پاکستان میں وزیراعظم کی حیثیت ہے اور صدر کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور جب صدر مضبوط ہوتا تھا تو پھر وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔ جیسے پرویزمشرف اور جنرل ضیاء الحق دور میں۔
قرآن وسنت اور سیرت وتاریخ کی کتابوں کا معالعہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے نبیۖ کے حوالے سے کئی باتوں میں اپوزیشن جیسا کردار ادا کیا اور نبیۖ نے ان کی حوصلہ شکنی نہیں حوصلہ افزائی فرمائی تھی اور اللہ نے بھی قرآن میں حوصلہ افزائی کی آیات نازل کیں۔ نبیۖ اگر اپنے باصلاحیت ساتھیوں کو کنارے لگادیتے تو قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ جب قائد اپنا بیٹا، بیٹی، بھائی ، بہن اور اپنے قریبی عزیز کوکھڑا کردے یا پھر اپنا وزن کسی ایک کٹھ پتلی کے پلڑے میں ڈال دے تو کارکنوں کا برین واش کرنا بھی جمہوریت کی نفی ہے۔ مشاورت کا وسیع میدان ہو اور جس کی اکثریت ثابت ہو، اس میں خفیہ رائے شماری بھی اسلئے ہوتی ہے تاکہ کوئی کسی کا لحاظ رکھنے کے بجائے اپنی مخلصانہ رائے سے کسی کا انتخاب کرے۔
مختلف پارٹیوں میں بہت مخلص سیاسی رہنما اور کارکن ہیں لیکن ان کی کوئی بات چلتی نہیں ہے۔ اگر ایک ایسی پارٹی تشکیل دی جائے جس میں انتخابات کی روح کے مطابق کارکنوں میں الیکشن ہوجائے اور پھر مختلف سطح پر قیادتیں ابھر کر آجائیں تو ایک مضبوط پارٹی وجود میں آسکتی ہے اور اس کے مقابلے میں مختلف پارٹیاں بھی اپنے رویوں کو درست کرکے میدان میں کھیل سکتی ہیں۔ عوام کو کس قسم کی تکالیف کا سامنا ہے؟۔ روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ لگانے اور اسٹیبلشمنٹ کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور حمایت کرنے سے بات ابھی کافی آگے نکل چکی ہے اور عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے ان کے ضمیر خریدکر تسلیاں دینے سے کام بالکل بھی نہیں چلے گا۔ پارٹی بنانے کا طریقۂ کار اور ایک ایسے منشور کی ضرورت ہے کہ جس سے عوام کو حکومت میں آنے سے پہلے بھی بہت زیادہ ریلیف مل جائے۔
حضرت عمر نے جب یہ قانون بنایا کہ عورت کا حق مہر کم ہوگا تو ایک عورت نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تم کون ہوتے ہو۔ ہمارے لئے قانون بنانے والے؟۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ حسن نثار معروف صحافی نے کہا کہ” الماس بوبی ( لاہور میںہجڑوں کی معروف شخصیت) کے پیٹ میں رسولی ہوسکتی ہے لیکن بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد کیا ہوگا؟۔ اگر کامیاب ہوجائے تو اپوزیشن کے آزمائے ہوئے قائدین سے کیا انقلاب کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ سب ایک چیز ہیں۔ جب امریکہ سے واشروم کی سینٹری کا سامان آیا تھا تو بنگال مشرقی پاکستان نے کہا کہ کچھ ہمیں بھی دینا ۔ جس پر ہمارے والے ہنستے تھے کہ تم نے واشروم کی سینٹری کو کیا کرنا ہے؟۔ باتھ روم کی ضرورت صرف ہمیں ہے۔ تمہارے ہاں کھیتی اور جنگلات ہیں وہاں فارغ ہونے کیلئے چلے جایا کرو۔ آج وہ کہاں کھڑے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟۔ بہت زیادہ وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے پاس ایک فوج کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ہماری فوج کو دنیا میں نمبر ایک مانا جاتا ہے۔ باقی ہر چیز میں تنزلی ہورہی ہے۔ فوج کو بالکل بھی غیرجانبدار نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ابھی ہم اس قابل نہیں ہیں۔ جب ہم اس قابل بن جائیں گے تو پھر اس کو غیرجانبدار بننا چاہیے”۔
حسن نثار ایک جذباتی اور فلاسفر ٹائپ کے اچھے صحافی ہیں۔ کسی دور میں وہ الطاف حسین، آصف علی زردای کی بھی تعریف کرتے تھے۔ پیپلزپارٹی کیلئے اس نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیل بھی کاٹی ہے۔ عمران خان کی بہت تعریف اور بڑی مذمت بھی کرچکے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی جان اس فوج سے چھڑائی ہے تبھی تو اس نے ترقی کی ہے۔ اگر وہ اپنی کمزور فوج سے ترقی کرسکتے ہیں تو ہم ایک مضبوط فوج کے سائے میں محرومیاں کیوں دیکھتے رہ جائیں۔ بلوچستان، پختونخواہ اور سندھ میں پہلے بھی شعور تھا اور اب تو پنجا ب بھی جاگ چکاہے۔ ایسے صحافیوں کے بارے میں اب لوگوں کی رائے یہ بن رہی ہے کہ الماس بوبی بچہ نہیں جن سکتی ہے لیکن بعض لوگوں کو ان کی ماؤں نے پیچھے کے راستے سے جن لیا ہے۔ یکطرفہ بولنے پر وہ صحافی نہیں رہتا ۔مظہر عباس معروف صحافی نے کہا کہ ” صحافی نظر آنا چاہیے کہ وہ غیرجانبدار ہے”۔
نبیۖ نے سود کے حرام ہونے کی آیات کے نزول کے بعد کاشتکاروں کو بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر زمین دینے کو سود قرار دے دیا۔ فرمایا کہ مفت زمین دو، یا پھر اپنے پاس فارغ رکھ لو۔ اس سے مدینہ میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوگیا ،جس نے مشرق ومغرب کی سپرطاقتوں ایران وروم کو فتح کرنے میں بھرپور کردارا دا کیا تھا۔ مدینہ کے محنت کش غریب لوگوں میں قوت خرید پیدا ہوگئی تو مدینہ کے بازار عالمی منڈی کا سماں پیش کررہے تھے۔ تاجر کہتے تھے کہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو سونا بن جاتا ہے۔ غزوہ بدر میں 70دشمن قیدی بنائے گئے لیکن کسی نے بھی ان کو غلام بنانے کی تجویز پیش نہیں کی۔ اور نہ ہی دشمنوں سے غلام کا کام لیا جاسکتا تھا۔ کلبھوشن اور ابھی نندن کو کون اپنے گھرمیں غلام کی طرح رکھ سکتا تھا؟۔
مزارعت ہی غلام اور لونڈیاں بنانے کا واحد نظام تھا۔ جس کی جڑ ہی اسلام نے کاٹ دی تھی۔ چاروں فقہ کے امام حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل اس بات پر متفق تھے کہ مزارعت سود اور حرام ہے لیکن اپنے اپنے دور کے بعض مفتی اعظم اور شیخ الاسلام نے جس طرح آج سودی نظام کو جائز قرار دیا ہے جس سے کارخانے، فیکٹریاں، ملیں اور کمپنیاں غلام بنائے جاتے ہیں بلکہ پورے پورے ملک بھی غلام بنائے جاتے ہیں اور قرآنی آیات اور دوسرے علماء ومفتیان کے فتوؤں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے وقت کیساتھ ساتھ مزارعت کو بھی جوازفراہم کیا گیا تھا۔ اگر قرآن واحادیث اور ائمہ کے متفقہ فتوؤں سے انحراف نہ برتا جاتا تو غلامی کے نظام کو ختم کرنے کاکریڈٹ اسلام کو جاتا۔ آج روس اس پر ہمارے ساتھ کھڑا ہوجائے گا۔جاگیردار اگر کاشتکاروں اور مزارعین کو مفت زمین نہیں دیں تو ان کا ووٹ بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ مجبور اور غلام کی اپنی کوئی رائے بھی نہیں ہوتی ہے۔ جب لوگ خوشحال ہوکر زمینوں کی کاشت کو چھوڑ رہے تھے تو یہ المیہ بن رہاتھا کہ پھر اناج کا کیا بنے گا۔ آخر کار غیر مسلموں کو یہ کام سپرد کردیا گیا تھا۔ مسلمان زکوٰة وعشر کے نام پر حکومت کو کچھ حصہ دیتے تھے اور غیرمسلم ٹیکس وجزیہ کے نام سے وہی کچھ دیتے تھے۔ جاگیردار آج اپنی زمینیں خود کاشت کرنا شروع کریں تو اللہ کے ولی اور حبیب بن جائیں گے۔ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ الکاسب حبیب اللہ ”محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے”۔بہت لوگوں کیلئے کاشتکاری کے ذریعے سے نہ صرف روزی کے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ دنیا کی تقدیر بھی بدلی جاسکتی ہے۔ امیر اور سرمایہ دار تو کام کریں گے نہیں۔
حضرت عمر نے اپنے دور میں پابندی لگائی تھی کہ کوئی اپنا پیشہ نہیں چھوڑے گا تاکہ معاشرے میں کسی چیز کی کمی نہ ہو اور ترقی کا سفر جاری رہے۔ حضرت داؤد بھی زرے بنانے کی صنعت سے وابستہ تھے۔ اگر نوازشریف اور شہبازشریف کو جرنیل سیاست میں لانے کے بجائے اتفاق ٹریکٹر بنانے دیتے تو آج وہ ترقی کرکے پورے ملک میں ریل گاڑی اور جہاز بنانے کے کارخانے بھی بناتے اور ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں زبردست کردار ادا کرتے۔ اسی طرح آصف زرداری ، عمران خان اور مختلف محکموں سے ریٹائرڈ ہونے والے حضرات بھی سیاست میں آنے کی جگہ اپنی اپنی فیلڈ میں کام کرتے۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنے باصلاحیت کارکنوں کو کنارے لگاکر نالائقوں کیلئے دروازہ کھولنے میں اپنا کردار اداکیا اور طلبہ تنظیموں کی سیاست پر پابندی لگائی گئی۔
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگادو کاخِ امراء کے درو دیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلادو
مفت میں زمینیں کاشت کیلئے مل جائیں گی تو بڑے بڑے جاگیرداروں کی ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ پانی پر اپنا ناجائز قبضہ جمائیں۔ عدل وانصاف سے پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوگا۔ پھر اتنے باغات اُگائے جائیں گے کہ پاکستان کی تمام زمینیں باغ ہی باغ اور جنت کا منظر پیش کریں گی اور اس میں محنت مزدوری کرنے والوں کو بھی روز گار ملے گا۔ جب کھیت میں پوری پوری محنت کا پوراپورا صلہ مل جائے گا تو مزدور کی دیہاڑی بھی خود بخود دگنی ہوجائے گی۔ پھر سب سے پہلے سودی قرضوں کا خاتمہ ضروری ہوگا کیونکہ ہماری ریاست کی آمدن سے بھی زیادہ پیسے سودکی ادائیگی میں جارہے ہیں۔ جب محنت کشوں کو درست معاوضہ ملے گا تو وہ تعلیم وتربیت کیلئے اپنے بچے بھیجنا شروع کریں گے جن سے بہت ہی لائق قسم کے ڈاکٹر، فوجی، سائنسدان اور ہر شعبے میں مہارت رکھنے والے پیدا ہوںگے۔ نالائق سیاستدانوں ، ججوں، جرنیلوں اور افسروں کے نالائق بچوں کو کھیتی باڑی اور محنت مزدوری میں مزہ بھی آئے گا اور صحت بھی اچھی رہے گی۔
سفارش کی جگہ میرٹ اور افراتفری کی جگہ ڈسپلن اس قوم کا پھر شعار بن سکتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ ” جو قومیں اپنے ان افراد کو محنت مزدروی کے کام پر لگاتی ہیں جن میں ذہنی صلاحیت ہوتی ہے اور جن میں ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی ہے ان کو دماغی کام پر لگادیتی ہیں تو وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور جو لوگ ذہنی صلاحیتوں سے مالامال لوگوں کو ذہنی صلاحیتوں کی ذمہ داریوں پر لگادیتی ہیں اور ہاتھ پیر کی صلاحیت رکھنے والوں کو مزدوری اور ہاتھ پیروں کے کام پرلگایا جائے تو وہ قوم بہت ترقی کرتی ہے”۔ جب تک قوم کو مواقع فراہم نہ کئے جائیں تو ایسا کرنا اگرچہ ناممکن نہیں ہے مگر بہت ہی مشکل ضرور ہے۔ جب زمینداری کے مسئلے میں اسلام کے اصل حکم کو عملی جامہ پہنایا جائے تو پھر بہت ہی تیزی کیساتھ معاشرے میں محنت کشوں کی کایا پلٹ جائے گی۔ معیشت کیلئے یہ ایک بہت بڑا بنیادی فلسفہ ہے اور پاکستان میں اس پر عمل کرنابڑا آسان ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عربی میں عبد غلام کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوکسی دوسرے کی غلامی کیلئے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے۔ زمین میں انسانوں کی خلافت کیا ہے؟۔ بیوی بچوں ، جانور، پرندے اور درخت کھیتی وغیرہ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھاناروئے زمین میںاسلامی خلافت کا ایک چھوٹا ساآئینہ ہے۔ حضرت عمرفاروق اعظم نے فرمایا کہ ” اگر دریا کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مرجائے تو اس گناہ کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے”۔ حضرت ابوبکر صدیق اکبر نے ایک چڑیا کو دیکھ کر فرمایا کہ ” یہ کتنی خوش قسمت ہے کہ جوابدہی کے غم سے آزاد ایک جگہ سے دوسری جگہ اُڑتی پھرتی ہے”۔ اپنے بال بچوں کی ذمہ داری اٹھانا کتنا مشکل ہے لیکن پورے ملک وقوم کی ذمہ داری اٹھانا پھر کتنا مشکل کام ہے؟۔
اگر موجودہ جمہوری سیاست میں اسلام کی روح ہوتی تو کیا اقتدار کے حصول کیلئے قائدین اس طرح اپنی الٹی سیدھی حرکتیں کرکے مررہے ہوتے؟۔ حضرت سعد بن عبادہ انصار کے سردارنے خلیفہ بننا چاہا تو حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے بہت خطرناک رحجان کو دیکھ کرثقیفہ بنی سعدمیں یہ اقدام اٹھانے سے روک دیاتھا اورہنگامی بنیاد پر حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر حضرت عمر نے بیعت کرلی۔ جس کے بعد انصار و مہاجرین کی اکثریت بھی ان کی خلافت پر متفق ہوگئی۔ حضرت سعد بن عبادہ نے آخری عمر تک نہیں مانا اور حضرت علی وابن عباس اور اہل بیت کے افراد کو بھی اس اقدام پرایک عرصہ تک بہت سخت قسم کے تحفظات تھے۔
پھر حضرت عمر نامزدہوئے اور حضرت عثمان کا انتخاب چند برگزیدہ ہستیوں نے کثرت رائے سے کردیا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علیکا فیصلہ بھی ہنگامی صورتحال میں کیاگیا تھا۔ چاروں خلفاء راشدین کی نامزدگی جمہوری نظام کے تحت نہیں ہوئی تھی لیکن ان کے فیصلے مشاورت سے ہواکرتے تھے۔پھر اس کے بعد خلافت کا نظام خاندانی اقتدار میں بدل گیا۔ پھربنوامیہ کی حکومت جبر سے ختم کی گئی اور ان کے افراد کو عبرتناک انجام تک پہنچایا گیا۔ پھر بنوعباس کا بھی کافی عرصہ بعد حشر نشر کیا گیا اور پھرسلطنت عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا اور پھر اس کا بھی خاتمہ 1924ء میں کردیا گیا۔ برطانیہ وامریکہ اور مغرب نے جمہوری نظام کا آغاز کیا جس میں خون خرابے کے بغیر انتقالِ اقتدار کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
کیا جمہوری نظام غیراسلامی ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے ، یہاں تک کہ قیامت آجائے”۔ (صحیح مسلم )
مغرب نے دنیا کو جس طرح کا جمہوری نظام دیا ،اگرجمہوری روح کے مطابق اسلامی دنیا میں اس پر عمل ہوجائے تو یہی اسلام کا تقاضہ ہے۔ جب دنیا میں پرامن انتقال اقتدار کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا تو انقلابی جدوجہد میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوجاتی تھی۔ ایرانی بادشاہت خونریزی سے ختم ہوئی اور عرب و دیگر بادشاہتوں کو تصادم اور خونریزی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں انتقال اقتدار کیلئے جمہوریت ہے اور ڈکٹیٹروں نے ریفرینڈم بھی کرائے ہیں۔ مکہ خونی تصادم کے بغیرفتح ہوا تھا اور اس سے پہلے صلح حدیبیہ کا زبردست معاہدہ ہوا تھا۔
خلافت راشدہ کے دور میں جمہوری نظام نہیں تھا لیکن جمہوریت کی روح موجود تھی ۔ حضرت عثمان اورحضرت علی کی شہادت کے بعدآخری خلیفۂ راشد امام حسن نے حضرت امیرمعاویہ کے حق میں دستبردار ی اختیار کرلی اور پھر امارت کا دور شروع ہوا۔ جس کے بعد جب تک خاندانوں کو نیست ونابود کرکے نہیں رکھ دیا جاتا تھا اس وقت تک خاندانی بادشاہتوں کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تھا۔
آج پاکستان میں جمہوریت ہے مگر جماعتوں میں جمہوریت کی روح نہیں ہے۔ ڈکٹیٹروں کی پیداوار قیادتوں سے جمہوری مزاج اور جمہوری نظام کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟۔ خاندانوں اور خانوادوں کی سیاست ہے اور اس سے بدتر حالت قائدین اور قیادتوں کی ہے۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم گورنر جنرل بن گئے اور قائدملت وزیراعظم بن گئے اور اپنی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو اعزازی فوجی جرنیل کا عہدہ دے دیا۔ پھر کون کون اور کس طرح وزیراعظم بن گیا؟۔ اس کی ایک بہت بھیانک اور مخدوش تاریخ ہے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی کا اقتدار پر قبضہ تھا۔ آخر کار جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ عوام پہلے انگریز کے جس نظام اور جن لوگوں کی غلام تھی تو انگریز سرکار کے تشریف لے جانے کے بعد اس کی باقیات کا قبضہ جوں کا توں تھا۔
جنرل ایوب خان کے مقابلے میں مادرملت فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا تھا تو مشرقی ومغربی پاکستان کی زیادہ تر سیاسی و قومی جماعتوں نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کو دھاندلی سے شکست دے دی گئی تھی۔ جنرل ایوب خان کی کوکھ سے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا تھا۔ پھر جب جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کرایا تو مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی لیکن بھٹو نے جرنیلوں کیساتھ مل کر مجیب الرحمن کو جمہوری بنیاد پر قتدارسپرد نہیں کیا جس کی وجہ سے سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کا سانحہ پیش آیا تھا۔ پھر بھٹو نے پاکستان میں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھال لیا ۔ بنگلہ دیش میں پاک فوج سے ہتھیار ڈالوانے سے پہلے اقوام متحدہ کی فوج بھی تعینات ہوسکتی تھی لیکن بھٹو نے پاک فوج کو ذلیل کرکے اقتدار پر اکیلا مسلط ہونے کیلئے اقوام متحدہ کی اسمبلی میںاس قراردادکے کاغذ پھاڑ دئیے تھے۔ جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جگہ بھارت نے بنگلہ دیش پر قبضہ کرکے پاک فوج اور سول بیوروکریسی کے 93ہزار قیدی بنالئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تمام پارٹیوں کی مدد سے ایک اسلامی جمہوری آئین تشکیل دیا تھا لیکن اس کوخود معطل کرکے بھی رکھ دیا تھا۔ لاڑکانہ سے کوئی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ بھٹو کے مقابلے میںاپنے کاغذات بھی کوئی داخل کراتا۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی نے انتخابی دنگل میں لاڑکانہ سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس کو بھٹو نے کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کیا تھا۔ یہ وہ خالد کھرل تھا جس کے دادا نے برصغیر پاک وہند کے سب سے بڑے انگریز مخالف انقلابی قائد احمد خان کھرل کی مخبری کرکے نقدی اور سرکاری اراضی کا انعام کمایا تھا۔
بھٹو نے پنجاب وسندھ کو قابو کیا ۔ پہلے پنجاب اور ہندوستان کے مہاجروں کا عوام پر راج ہوتا تھا۔ بھٹو نے ہندوستانی مہاجروں کی سول بیوروکریسی کی ایک بڑی تعداد کو جبری ریٹائرڈ کرکے سندھ اور پنجاب کے اقتدار کی بنیاد رکھ دی تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے صوبوں میں اپنااقتدار حاصل کیا تھا۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام نے زیادہ بڑی اکثریت حاصل کرلی تھی اور خیبرپختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ جس میں خان عبدالولی خان، محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی ، بلوچ قیادت نواب خیربخش مری، سردارعطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجوتمام قوم پرست تھے۔ لیکن قوم پرستوں نے جمہوریت کے سر کے بال اور جمعیت علماء اسلام نے اسلام کی داڑھی مونڈھ دی تھی اسلئے کہ جہاں بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کو اسلام کے نام پر عوام نے بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے سردار عطاء اللہ مینگل کو وزیرااعلیٰ بنادیا گیا تھا اور جہاں سرحد(خیبرپختونخواہ )میں نیشنل عوامی پارٹی کو قوم پرستی کے نام پر بھاری اکثریت سے جتوایا تھا وہاں اقلیت والے مولانا مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا تھا۔جس سے اسلام اور جمہوریت دونوں کی بیخ کنی کی گئی تھی۔اگر وزیراعلیٰ بلوچستان جمعیت علماء اسلام سے بنادیا جاتا تو بلوچستان ہمیشہ کیلئے اسلام اور جمعیت علماء کا قلعہ بن جاتالیکن جعل سازی اور سودابازی کے ذریعے بلوچ قوم پرست سردارعطاء اللہ مینگل کو بنایا گیا تو آج تک بلوچستان کی سیاست ، حکومت اور بلوچ عوام اس کے مضراثرات کے متأثرین ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ سرحد(خیبر پختونخواہ) اس وقت مفتی محمود کی جگہ کسی قوم پرست کو بنادیا جاتا تو خیبر پختونخواہ سازشی علماء اور دہشت گردوں کی جگہ قوم پرستوں کا مرکز بن جاتا۔
پنجاب مسلم لیگ بلکہ موسم لیگ اور سندھ پیپلزپارٹی کا قلعہ ہوسکتا ہے تو پھر بلوچستان اسلام اور جمعیت علماء اسلام اور خیبر پختونخواہ قوم پرستوں کا مرکز کیوں نہیں بن سکتا تھا؟۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ اپوزیشن کی سیاست کا مرکز تھے ۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی نام نہاد جھوٹی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو قوم پرستوں کے سہارے کھڑے وزیراعلیٰ مفتی محمود کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ پھر بھٹو کے مقابلے میں قومی اتحاد کے نو ستاروں کی تحریک چلی تھی جس میں جعلی قوم پرست اورجعلی اسلام پرست شامل تھے اور اس کوتحریکِ نظام مصطفی کا نام دیا گیاتھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی پہلے جمعیت علماء اسلام کے قائد کی حیثیت سے ایک مودودی سو یہودی کے نعرے لگواتے تھے لیکن پھر اس کی توپوں کا رُخ مفتی محمود کی طرف ہوگیا تھااور ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دے رہے تھے۔بعض علماء اس 9قومی ستاروں کے اتحادکو ان 9افراد کا ٹولہ قرار دے رہے تھے جن کا قرآن میں ذکر ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلارہے تھے۔
پھر جب اس قومی تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء لگا تو کچھ عرصے تک جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا گیا لیکن پھر جماعت اسلامی مارشل لائی بن گئی اور کچھ دیگر جماعتوں نےMRDکے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی ۔ جمعیت علماء اسلام کا فضل الرحمن گروپ اسکا حصہ بن گیا اور درخواستی گروپ مخالف بن گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا غلام غوث ہزاروی کی قبر پر اپنے باپ کے رویے پر معافی مانگی تھی کہ بھٹو کیخلاف جماعت اسلامی کیساتھ ہم غلط استعمال ہوگئے تھے۔ پھر جب جنرل ضیاء الحق حادثے کا شکار ہوگئے تو MRD میں شامل جماعتوں نے1988ء کے الیکشن میں فیصلہ کیا کہ قائدین کو اسمبلی تک پہنچانے کیلئے کسی کو بھی کھڑا نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن ، ولی خان وغیرہ کوسب نے مل کر جتوایا تھا لیکن بینظیر بھٹو کیخلاف ڈاکٹر خالد محمود سومرونے جمہوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الیکشن لڑا تھا،جس سے مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹ گئی تھی۔ ڈاکٹر خالد سومرو ایک طرف جے یوآئی کا نمائندہ تھا تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی اشیرباد پر پیپلزپارٹی کیخلاف قوم پرستوں کا مہرہ تھا۔ مفتی محمود اور ولی خان بھائی بھائی تھے تو ڈاکٹر خالد سومرو اور سندھی قوم پرست بھائی بھائی کیوں نہیں بن سکتے تھے؟۔پھر بینظیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو مسلم لیگ سے وزیراعظم عمران خان کے موجودہ سسر کے باپ غلام محمد مانیکا وغیر ہ بک گئے تھے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نیشنل پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور جمعیت علماء اسلام درخواستی گروپ وسپاہ صحابہ وغیرہ نے حصہ لیا اور جب اگلی باری پھر پیپلزپارٹی کی آئی تو مولانا فضل الرحمن بھی حکومت کا حصہ بن گئے تھے۔
PDMمیں پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام ساتھ تھے تو بھی گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں مریم نواز سمیت PDMکے تمام قائدین نے شرکت کی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن نے علامہ راشد محمود سومرو کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ایک طرف جمعیت کے سومرو برادران لاڑکانہ میں تحریک انصاف کے اتحادی تھے تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں باپ کی اتحادی تھی۔ پیپلزپارٹی کی چاہت تھی کہ شہبازشریف کو وزیراعظم اور پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے لیکن ن لیگ نے اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کیلئے اسمبلیوں سے استعفیٰ اوراسلام آباد لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے کا بہانہ بناکرپیپلزپارٹی اور اے این پی کو PDMسے آوٹ کردیا تھا۔
پھر جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ نے اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنے کی ایک لمبی مدت کے بعد23مارچ کی تاریخ دیدی۔ جس میں PDM نے لانگ مارچ کیساتھ دھرنا بھی دینا تھا اور اسمبلیوں سے استعفے بھی دینے تھے۔ جب مارچ آگیا تو پھرPDMنے اپنے وعدوں سے مکر جانے کیلئے جھوٹا شوشہ چھوڑ دیا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے ہمارے نمبر پورے ہیں۔پیپلزپارٹی سے بھی رابطہ کرلیااور چوہدری برادران سے بھی رابطے کرلئے لیکن اصل مقصد لانگ مارچ، اسلام آباد دھرنے اور استعفیٰ دینے کے وعدوں سے توجہ ہٹانی تھی۔ مسلم لیگ ن نے میڈیا ٹیم کے ذریعے سے یہ افواہیں چھوڑ دیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو 3طلاق دیدئیے ہیں اور ن لیگ سے درپردہ حلالہ بھی ہوگیا ہے اسلئے مریم نواز خاموشی سے اپنی حکومت آنے کا انتظار کررہی ہیں۔دوسری طرف تحریک عدم اعتماد سے گھبرا کر عمران خان نے اول فول بکنا شروع کردیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کی بات پر حسن نثار جیسے صحافیوں نے کہا کہ فوج بالکل غیرجا نبدار نہ رہے، ہماری جمہوریت اس کی متحمل نہیں یہاں خریدوفروخت کی چھانگا مانگا میں منڈیاں لگتی ہیں۔ وزیراعظم عمران نے کہا کہ ”غیر جانبدار تو جانور ہوتا ہے”۔ پہلے کہاتھا کہ ایمپائر کی انگلی اٹھے گی ، پھر کہا کہ ایمپائر سے مراد اللہ تھا۔ اب کہہ سکتے ہیں کہ ”غیر جانبدار جانور سے آرمی چیف نہیں ڈائنوسار مراد تھا”۔
قائداعظم گورنر جنرل تو آرمی چیف انگریز ، وزیرقانون ہندو اوروزیر خارجہ قادیانی اور پاکستان کا آئین اسلامی اور جمہوری نہیں تھا۔ پھر جنرل ایوبی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو قائدعوام اور محمد خان جونیجو قائدِ جمہوریت کہلایا ۔ جنرل ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لینے والا نوازشریف جمہوری قائد بن گیا ۔عمران خان کو ٹی وی کے اسکرین پر مرغا بن کر اعلان کرنا چاہیے کہ اپنے بچوں کی ماں جمائما خان کو چھوڑ کر پرائے بچوں کی ماں بشریٰ بی بی کو اپنی بیگم بنایااور یہ جائز تھا لیکن اپنے ٹائیگروں کو چھوڑ کر دوسرے کے بھگوڑوں کو ٹکٹ دینا بہت بڑی غلطی تھی۔ معافی مانگتا ہوں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

شیخ رشید وزیر داخلہ ، عمران خان وزیر اعظم ہو تو پھر ملک کا یہ حال ہوگا۔ آرمی چیف کو مولانا فضل الرحمن کا فون

شیخ رشید وزیر داخلہ ، عمران خان وزیر اعظم ہو تو پھر ملک کا یہ حال ہوگا۔ آرمی چیف کو مولانا فضل الرحمن کا فون

پارلیمنٹ ، PTVپر حملہ کرنے والوں کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا کردیا ہے جن میں صدر مملکت بھی شامل تھے اوراب کیا سندھ ہاؤس پر دھاوا بولنے والوں نے بھی ہمت پکڑ لی ؟

مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں اہم کردار ادا کررہے ہیں جس کے فوائد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور کیایہ اس خواب کی تعبیربھی ہوسکتی ہے؟

رسول اللہ ۖ کا خواب مولانا فضل الرحمن کی شکل وصورت میں آمد اور بیٹھ کرروئی سے گند صاف کرنے کی کیا تعبیر ہے؟۔ پچھلی بار مولانا فضل غفور نے کسی عالم دین کا خواب بیان کیا، جس پر موافق ومخالف علماء نے کہرام برپا کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے حضرت آدم علیہ السلام سے ٹیلی فونک گفتگو کا خواب بھی بیان کیا۔ آدم نے پوچھا کہ چاہتے کیا ہو؟۔ مولانا نے جواب دیا کہ ”امن ”۔
وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن نے تیل میں ڈنڈے بھگو کر رکھے ہیں، ایک عالم دین ہیں، ماؤزے تنگ نہیں۔ مولا جٹ نہ بنیں”۔ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے اور پتھر کا جواب پتھر سے دینے پر قرآن نے کہا ہے کہ ”جتنی انتقامی کاروائی کا نشانہ تمہیں مخالف بنائیں تم بھی اتنا کرسکتے ہو”۔
مولانا فضل الرحمن حلیہ وزبان سے نبی کریم ۖ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اُمت پر موت کی کیفیت ہے اور میت کا گند روئی سے صاف کیا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے مخالفین کہتے ہیں کہ ملا کا کام میت کو غسل دینا اور عبادات ہیں تو سیاست میں یہ کیوں آئے ہیں؟۔ مولانا کے حامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا سہرا مولانا فضل الرحمن کے سر پر سج گیا ہے۔ میرے بھائی پیر نثار احمد شاہ پہلے مولانا فضل الرحمن کے عقیدتمند اور کارکن تھے اور اب عمران خان سے خیر کی اُمید رکھتے ہیں۔ کسی کا اپنے مفاد کیلئے ساتھ دیا اور نہ کسی کے کہنے پر چلتے ہیں۔
اگر اس وقت عمران خان کا میں کارکن ہوتا تو مولانا فضل الرحمن کیلئے مجھے گریبان سے پکڑتے کیونکہ جب عمران خان سیاست میں نہیں تھے تو اخبار میں اسلام کے حوالے عمران خان کے اچھے مضامین دیکھ کراس نے پیشگوئی کی تھی کہ ”یہودی لابی اس کو سیاست میں لاکر اقتدار پر مسلط کرے گی”۔ لیکن آج اگر عمران خان کیخلاف مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو ممکن ہے کہ میرے گریبان میں ہاتھ ڈال دے۔ جلیل القدر پیغمبر موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو داڑھی اور سرکے بالوں سے پکڑاتھا تو ہماری کیا اوقات ہے؟۔ نبی کریم ۖ نے انصار کے اوس وخزرج اور انصار ومہاجرین کو بھائی بھائی بنادیا۔ مؤمنین ومنافقین کو بھی لڑنے نہ دیا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے مخلص صحابہ تھے۔ تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے مشرک عیسائی اور حضرت عیسیٰ و مریم کیخلاف گستاخانہ عقائد رکھنے والے یہود کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی۔ تزکیہ ،کتاب و حکمت کی تعلیم، بدرو احد، حنین وخیبر ، صلح حدیبیہ وفتح مکہ اور میثاق مدینہ سے دنیا کو وہ پیغام پہنچایا کہ مشرق ومغرب کی سپر طاقتیں اس قوم کے سامنے سر نگوں ہوگئیں جو پہلے ان پڑھ اور جہالتوں سے مالامال تھی۔آج ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ پڑھے لکھے طبقے کو بھی جہالت وہٹ دھرمی کی طرف دھکیل کر اپنی مشکلات کا خیال رکھے بغیر اپنے تھوڑے سے وقتی اور غیر یقینی مفادات کی بھینٹ چڑھارہے ہیں۔
خان حکومت اتحادیوں اور لوٹوں سے بنی تھی۔ پارلیمنٹ کے اندر، باہرندیم افضل چن اور ترین گروپ کے علاوہ حفیظ شیخ کا سینیٹ الیکشن ہارنا بھی حکومت کا اخلاقی جواز ختم کرنے کیلئے کافی تھا۔ اپنوں کی وفاداری بدلیں اور اتحادیوں کے پاس جانے کی سبکی بھی اٹھانی پڑی۔ اگر عمران خان نے پھر بھی ہتھکنڈے استعمال کرنا نہیں چھوڑے تو ٹائیگروں میں اس کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوجائے گی۔ دودھ کے دھلے دوسرے سیاستدان بھی نہیں البتہ اس حکومت کی مخالفت پر کمر کس لینا جس کی پشت پناہی ہو۔ مولانا فضل الرحمن کو بڑا کریڈٹ جاتا ہے۔
نیوٹرل کوجانور کہنا بزدلی اور بدمعاشی سے اقتدارپر جمے رہنا حماقت ہے۔ مولانا کیوجہ سے خانی توپوں کا نشانہ اسٹیبلشمنت کے بجائے سیاستدان بن گئے۔ استحکامِ پاکستان نبیۖ کا فیضان اور فیضان کے مظہرمولانا فضل الرحمن ہیں؟۔

عقیدت مندعلماء کی طرف سے ویڈیوپیغام
خواب دیکھا کہ نبی کریم ۖ مولانا فضل الرحمن کی شکل میں موجود ہیں
میں تو اس کو چھپارہا تھا لیکن ساتھیوں کے اصرارپر بیان کررہا ہوںتاکہ دوسرے بھی مطلع ہوں۔ دودن پہلے رات ساڑھے چار بجے کے وقت یہ خواب دیکھا کہ نبی کریم ۖ مولانا فضل الرحمن قائدJUIکی شکل و صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ میں یہ محسوس کررہا ہوں کہ آپ ۖ کھڑے ہیں لیکن شکل و صورت کپڑے لباس سب مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ پھر وہ نیچے بیٹھ جاتے ہیں انکے ہاتھ میں بہت ساری روئی ہے اور نیچے زمین پر کوئی گند پڑا ہوا ہے اس روئی سے اس گند کو صاف کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں اس گند کو صاف کرونگا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

Imran Khan and his allies are wives of Nika’s father and we have now got three divorces from Nika’s father, PDM

اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

خانہ بدوش ایک پارٹی چھوڑکر دوسری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں، موسم کی تبدیلی سے سیاستدان اپنے ٹھکانے بدل لیتے ہیں۔ عوام کے اندر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی عزت خاکستر ہوگئی مگر یہ اپنی دنیا میں خوش ہیں کہ عزت، شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے سیاسی منافقت آسان اور بہترین راستہ ہے۔ پارٹیاں جن سیاسی رہنماؤں کی بیساکھیوں پر اقتدار میں آتی ہیں وہ بیساکھیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ حلالہ کے سانڈوں کے اعضاء مخصوصہ ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، جمعیت علماء اسلام اور تمام پارٹیاں اپنے نئے نئے سانڈوں کوبہت بد دلی کیساتھ قبول کرتی ہیں کیونکہ حلالہ والوں کا کرائے کے سانڈوں سے حقیقی رشتہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تین طلاقیں لینے کے بعداپنے اپنے حلقۂ احباب میں حیلے کی سزا کھا تی ہیں۔
نوازشریف، زرداری ،مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، محمود اچکزئی ، اویس نورانی، علامہ ساجد میر اورPDMمیں شامل جماعتوں نے برملا کہاتھا کہ عمران خان اور اسکے اتحادی نکا کے اباکی بیگمات ہیں اور ہم نے اب نکاکے ابا سے تین طلاق لی ہیں لیکن پھر ایسی فضاء کرائے کے بھڑوے صحافی بنارہے ہیں کہ منکوحات کو طلاق دی جارہی ہے اور جنہوں نے تین طلاق کا شور مچایا ہوا تھا وہ پارٹیاں پسِ پردہ حلالے کروانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔لوگ اب ہالی ووڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کے ان اداکاروں کا کردار دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں لیکن نرگسی مزاج کے سیاستدان، جج، جرنیل، صحافی اور علماء اپنی اپنی ذات کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ اسلام میں شخصیت سازی اور شخصیت سوزی نہیںبلکہ انسانوں کو مشکلات سے نکالنے کا فارمولہ ہے۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کابیٹا اور خدا بنادیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہالسلام کو گالیوں اور توہین سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ہماری سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی شخصیت سازی اور شخصیت سوزی کا مرہون منت ہے اور اس کے علاوہ ان کا کوئی اپنا ایجنڈہ نہیں۔
ایک شیعہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جنگ میں شہ سرخی لگی کہ”میں دس ہزار طالبان لیکر اسلام آباد پر چڑھائی کروںگا”۔ میں نے کہا کہ” یہ سراسرجھوٹ ہے ”۔ جھوٹوں پر لعنت ہے، ایسا جھوٹ فساد فی الارض ہے ۔ غیبت ہماری خوراک ہے جس کو قرآن نے اپنے مردے بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا۔ جن شیعہ سنی افراد نے شخصیت سوزی اور شخصیت سازی کو اپناہدف بنایا وہی دہشتگردی کی بنیاد ہیں۔ سنی بھی شیعہ کے متعلق جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں اور بعض شیعہ بھی لگے رہتے ہیں جس کی پھر بہت بھاری قیمت ہی چکاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی اور انگریز کیلئے بڑا دردِ سر رنجیت سنگھ تھا۔ خیبر پختونخواہ پنجاب کا حصہ تھا۔ سیداحمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے خلافت کا خواب دیکھا تو انگریز نے اس کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ اسلئے کہ خراسان کے مہدی کی خلافت قائم کرنے میںوہ کامیاب ہوتے یا نہیں لیکن راجہ رنجیت سنگھ کو نقصان پہنچاسکتے تھے۔ رنجیت سنگھ نے یہ خواہش بالاکوٹ کی سرزمین میں دفن کردی اور یہ نظریہ ٔپاکستان کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ ہندوستان سے خلافت کیلئے ہجرت کرنے والوں نے اپنی بیگمات و بچے سندھ میں چھوڑے تھے اور کیا پتہ کہ کراچی رنچھوڑ لائن کا علاقہ اسی لئے مشہور ہو کہ لوگ اپنی رن یعنی بیگم چھوڑ کر اطمینان سے جہاد پر جاتے ہوں۔ ایم کیوایم کی تحریک زوروں پر تھی تو رنچھوڑ لائن والوں نے کافی عرصے تک اپنے علاقے میں گھسنے نہیں دیا تھا۔
پختون قوم پرستوں میں غفار خان اور عبدالصمد خان نمایاں ہیں، دونوںکا تعلق کانگریس سے تھا۔ تحریک بالاکوٹ سے تعمیر پاکستان اورروس سے امریکہ تک کے مجاہدین کے خلاف رہے۔ انگریز دور میں علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور جو ہجرت نہ کرے گا ،اس پر بیوی حرام ہوجائے گی تو غفار خان نے کہا کہ اس فتوے کی وجہ نہ صرف ہم نے افغانستان ہجرت کی بلکہ ہماری بیویاں بھی ہم سے آگے آگے بھاگ رہی تھیں۔ افغانستان کی ہجرت ناکام ہوگئی تو علماء کے فتوے بھی ناکام ہوگئے۔ ملاعمر کے اسلام سے آج طالبان منحرف ہیں لیکن ملاعمر کا اسلام پہلے بھی متضاد تھا اور آج بھی قابلِ عمل نہیں ۔
پاک فوج راجہ رنجیت سنگھ کی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔ طالبان کا یہ گھمنڈ ہے کہ نیٹو جیسی طاقت کو شکست دی تو پاکستان کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔ انگریز نے دی پٹھان میں لکھا ہے کہ” وزیرستان پر کبھی بھی کسی نے حکومت نہیں کی ہے اسلئے کہ حکومت کا کام ٹیکس وصول کرنا ہوتا ہے اور وزیرستان کے لوگوں نے کبھی کسی حکومت کو ٹیکس نہیں دیا ہے”۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیرستان میں اتنے بڑے پیمانے پر اناج اور وسائل نہیں تھے کہ کوئی حکومت قبضہ کرکے ٹیکس کا حصول یقینی بنانے کی تگ ودو میں اپنا وقت اور فوجیوں کو ضائع کردیتی۔
ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان بعد میں ہواتھا۔ پہلے ایک طرف قبائل نے انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور دوسری طرف وہ خود کو افغانستان کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ افغانستان کی حکومت نے قبائل سے مدد ضرور لی ہے لیکن قبائل کو افغانستان کا باقاعدہ حصہ کبھی نہیں سمجھا ہے۔ انگریزی سرکاری رپورٹ اور ہمارے خاندانی ذرائع سے یہ معلومات کہ ”میرے دادا سیدامیرشاہ اوردومحسود قومی نمائندے گئے اور افغانستان کے بادشاہ امیر شیرعلی سے انگریز کے خلاف ایکدوسرے کیساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا اور افغانستان کے بادشاہ نے کانیگرم میں آسمانہ منجہ کے مقام پردفاعی قلعہ کی بھی اجازت مانگی تھی”۔ کسی ایک ملک کے افراد میں اس طرح باہمی تعاون کا معاہدہ نہیں ہوتا۔ پھر میرے دادا کے بڑے بھائی سیداحمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کاوفد بھی افغانستان گیا اور وہاں سے تحائف، نقدی بھی دئیے گئے۔ جب امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت ہوگئی اور بچہ سقہ نے حکومت پر قبضہ کیا اور پھر وزیرستان کے قبائل نے بچہ سقہ کے خلاف لشکر بھیجا جس پر انگریز نے بمباری بھی کی اور1937کے زمیندار اخبار میں اس پر تبصرے ہوئے۔ امیرامان اللہ خان کی جگہ اس کے کزن نادر خان نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور حکومت پر قبضہ کرلیا جو ظاہرشاہ کا باپ تھا۔ جب امیر امان اللہ خان کے بھائیوں کی طرف سے نادرشاہ خان کاتختہ الٹنے کی سازش کا انکشاف ہواتو سیدایوب شاہ عرف آغا ولد سیداحمد شاہ کو توپ سے اُڑانے کاحکم سنایاگیا اور بعد از آں افغانستان سے ہمیشہ کیلئے جلاوطن کردیا گیا،جو افغانستان میں پہلے اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے۔
سرحدکے گاندھی اور بلوچستان کے گاندھی متحدہ ہندوستان کا حصہ رہنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو پھر افغانستان سے ملنے کی دھمکی ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ ناراض بلوچوں سے ناراض پختونوں کے قائدین بھی پہلے سے موجود تھے لیکن بلوچ بندوق اٹھانے میں جلد بازی کا مظاہرہ روایتی طور پر کرتے ہیں۔ پختون طالبان بھی بنتے ہیں تو ایک طرف قطر میں مذاکرات اور دوسری طرف نیٹو سے افغانستان میں لڑائی کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ کوہِ سلیمان میں سلمان تخت کے قریب قیس عبدالرشید کی قبر ہے اور اس پہاڑ کا نام بھی ”قیسے غر” یعنی قیس کا پہاڑ ہے۔ فتح مکہ میں پختون قبائل نے اہم کردار ادا کیاتھا ۔ خالد بن ولید کا تعلق در اصل بنی اسرائیل سے تھا اور پختون بھی بنی اسرائیل تھے۔ سلیمان تحت کے ارد گرد شیرانی قبیلہ آباد ہے اور مولانا محمد خان شیرانی اورشیرانی قبیلے نے تحریک طالبان کو اپنے ہاں گھسنے نہ دیا ۔ مولانا شیرانی کہتے تھے کہ اغیار کی اس جنگ کا مقصد مسلمانوں ، پشتون اور خطے کا کباڑہ ہے۔ پاکستان کرائے کا وہ چوک ہے جس میں سیاستدان بھی کرائے پر ملتا ہے، مجاہد اور صحافی اور مفتی بھی کرائے پر ملتا ہے اور فوج اور حکومت بھی کرائے پر ملتی ہے۔ جیسے مزدور اپنے اوزار لیکر چوک پر موجود ہوتے ہیں۔
جب امریکہ افغانستان میں اترنے کیلئے شمالی اتحاد سے مدد لے رہاتھا تو مولانا معراج الدین قریشی محسود قبائلی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے افغانستان پہنچا تھا۔ وہاں سے واپسی پر وہ طالبان اور افغانیوں سے سخت ناراض تھے اور اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ یہ بڑی گیم ہے جس کا طالبان بھی حصہ ہیں۔ جب مجھ پر فائرنگ ہوئی تو اس سے پہلے بھی مولانا معراج الدینMNAاور مولانا صالح شاہ سینیٹر نے طالبان کو سازش قراردیا اور پھر مولانا معراج الدین نے مجھ پر فائرنگ کے بعد کہا تھا کہ مولانا شیرانی صاحب نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا تھا کہ ”یہ معلوم کیا جائے کہ امریکہ کی آخری منزل کیا ہے؟”۔ آج صورتحال تبدیل ہوگئی ہے ۔ امریکہ اور طالبان کی ڈیل ہوگئی ہے۔ جب قبائل خود مختار تھے توپھر افغانستان تو بہت دور کی بات ہے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کی حدود پر قبضہ اور جرائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن اب عوام بھی بے اختیار ہوگئے ہیںاور حکومت بھی اپنی رٹ وہاں قائم نہیں کرسکی ہے۔ نیازی نسلاً پٹھان اور سرائیکی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے سب کیلئے درمیانی حیثیت رکھتے ہیں۔ عمران خان نیازی اپنے والد سے زیادہ اپنی والدہ شوکت خانم برکی پر نازکرتا ہے لیکن اس کی والدہ جالندھر بھارتی پنجاب سے تعلق رکھتی تھی اسلئے عمران خان کبھی خود کو قبائل کانیگرم جنوبی وزیرستان کے برکی قبیلے کا بھانجا کہتا تھا اور کبھی خود کو ماں کی وجہ سے آدھا مہاجر کہتا تھا۔ کرکٹ میں بینٹنگ اور بالنگ کے علاوہ آوارہ گردی اور شوکت خانم کے نام پر چندوں کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ سیتاوائٹ، جمائماخان، ریحام خان کے ناکام تجربات کے بعد بی بی بشریٰ سے شادی رچائی ہے۔ عوام نے اس کی شہرت اوربونگی مارنے پر اعتماد کرکے ووٹ دئیے لیکن جسٹس وجیہ الدین، جاوید ہاشمی، جہانگیر ترین، افضل چن سے لیکر حفیظ شیخ اور شہزاد اکبر تک پتہ نہیںکہ لباس مکمل ہے یا اس حمام میںچڈی اُترچکی ہے؟۔ پیرنی کا گھر اُجاڑ دیا اورمدینہ کی ریاست کے نام پر ملک کو تباہ کردیا۔
میاں نوازشریف کا پارلیمنٹ میں بیان اور قطری خط تک کی داستان سامنے ہے۔ پیپلزپارٹی بھی حقیقی بھٹوز اور نظریاتی لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر زرداری آپاؤں کی چنگل میں ہے۔ میڈیا کاروباری ہے۔ اگر منظور پشتین محسن داوڑ اور علی وزیر کو الیکشن میں حصہ لیتے ہی پارٹی قیادت سے ہٹادیتے اور خان زمان کاکڑ کو متوازی حیثیت دیدیتے تو پھر خیبر پختونخواہ اور بولان میںPTMایک مضبوط قوت بن کر ابھرتی۔ اب کالے تیتر کی طرح دوسروں کا شکار ہونے کیلئے ”سبحان تیری قدرت” کہہ سکتے ہیں لیکن کالے عقاب کی طرح کالی چٹانوں پر بیٹھ کر شکار نہیںکھیل سکتے ۔ ہماری حکومت وریاست کوTTPسے خطرہ لگتا ہے لیکن ابPTMسے خطرہ نہیں۔ جب لوگ طالبان کوانبیاء کی طرح مقدس اور فرعون کی طرح طاقتور سمجھتے تھے تو بھی ہم نے ان کے غلط تقدس اور غلط خوف کو بڑے اچھے انداز میں پامال کرکے رکھ دیا تھا۔ آج تو انقلاب آچکاہے کہ وہی لوگ ان سے خوف بھی نہیں رکھتے اور تقدس کا درجہ بھی نہیں دیتے ۔ اگر پاکستان کاقومی ترانہ زبردستی سے گانے اور مخصوص لباس پہننے پر انہیں سرنڈر کرکے مجبور کیا جائے تو ان کا دل ودماغ جبر سے نہیں بدل سکتا ہے لیکن جب اسلام کی حقیقت اور پشتو روایت کی حقیقت سمجھائی جائے تو ان کا ذہن بدل سکتا ہے۔PTMنے بہت کام اس طرح سے کیا کہ عوام کو اپنی رسم وروایت کی طرف راغب کرکے تشدد سے نکال دیا لیکن تعصبات پھیلانے والے خود شکار ہوگئے اور اب محسن داوڑ اور عبداللہ ننگیال مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایسی تحریک کی ضرورت ہے جہاںعوام کے دل ودماغ میں مذہب کا غلط بھوسہ یاغلط فہمی پیداکی گئی ہے اس کی جگہ اسلام کی لہلہاتی ہوئی کھیتی سامنے لائی جائے۔ جس سے پاکستان بلکہ افغانستان وایران میں بھی پھلوں اور پھولوں کی بہار آئے۔ پھر عرب بھی اس بہار سے فائدہ اٹھائیں گے، پوری دنیا بھی اسلامی بہار سے استفادہ کرے گی۔ اسلامی خلافت کسی سے اختیار چھین لینے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنا اختیار درست استعمال کرنااور اپنا فریضہ پورا کرنا حقیقی خلافت ہے۔ رسول اللہ ۖ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھے تھے تو ان میں دھمکی نہیں دعوت تھی۔ اگر حق کو قبول کرکے ظالمانہ نظام کو ختم کرتے تو نبیۖ نے ان سے اقتدار چھین کر اپنے ساتھیوں کے حوالے نہیں کرنا تھا۔
آج دنیا میں حقیقی جمہوریت نہیں بلکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے اقتدار میں لوگ اپنے مفاد کیلئے آتے ہیں۔ عمران خان اتنا کم عقل تھا کہ جب فوج ضرب عضب کے نام سے طالبان کے خلاف آپریشن کررہی تھی تو وہ پنجاب پولیس کو اسلام آباد دھرنے سے طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری دی تو راہ گیروں کے پیروں کی جگہ راہداری کو بوسہ دے دیا۔ کھلاڑی کو تصوف، سیاست، جہاد اور کسی چیز کا بھی کبھی ڈھنگ نہیں آیا۔ البتہ لوگ پھر بھی خوش اسلئے ہیں کہ سیاسی ڈھونگ رچانے والی جماعتوں کا پول کھول دیا۔ اللہ نے کوئی مکھی بھی بے فائدہ پیدا نہیں کی ہے تو ایک اہم ملک پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے قائد اور وزیراعظم سے کوئی نہ کوئی خدمت تو ضرور لینی تھی۔ بے شرموں کا مقابلہ بے شرمی سے کیا جاسکتا تھا۔
پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہندوستان، اسرائیل، امریکہ، ایران اور افغانستان سے اسکے خلاف محاذ کھڑا ہوجائے تو نیست ونابود ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یمن میں حوثی باغیوں کے پیچھے ایران ہے اور اسلامی ممالک کے نیٹو کا سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں۔ یمن میں عوام تباہ ہیں۔ یوکرین پر روس قبضہ کے چکر میں ہے۔ دوسری طرف امریکہ و نیٹو روس کے خلاف کھڑے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی علامات پوری ہیں۔کردوں اور داعش کے درمیان پھرقتل وغارت کیلئے بین الاقوامی ایکٹرز سرگرم ہیں ۔ پاکستان کے خلاف بھی اندرونی اور بیرونی سازشیں اپنا کام دکھا سکتی ہیں۔ اپنی تباہی کیلئے ہمارا اپنا ہوم ورک بھی کافی ہے۔ دنیا میں قتل وغارتگری شروع ہونے سے پہلے پاکستانی ریاست کو بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب کی طرح مدارس ومساجد، فوجی بیرکوں، قلعوں اور کینٹ ایریاز میںپھر بے بسی کے عالم میں اس قسم کی نعت پڑھنے کی محفلیں سجانے لگ جائیں اور پھر اس کا کوئی فائدہ بھی دکھائی نہیں دے۔
باچا خان سے گاندھی جی نے کہا تھاکہ اپنی پختون قوم پر محنت کریں ۔جس کے جواب میں باچا خان نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بازار چلیںاور ایک ہندو موچی کے کیلوں کا برتن ٹھوکر سے بکھیر دیں۔ گاندھی نے ٹھوکر ماری تو ہندو غصہ ہوا لیکن جب اس کو تعارف کرایا کہ گاندھی جی ہے تو ہاتھ جوڑ کر گستاخی پر معافی بھی مانگ لی۔ پھر آگے چل کر باچا خان نے پختون موچی کے کیلوں کوٹھوکر مار کر گرایا تو پختون موچی نے کہا کہ ایسا کیوں کیا؟۔ باچا خان نے کہا فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کیلئے ہے ،آپ کے ٹھئے لگانے کیلئے نہیں۔ غلطی سے پیر لگ گیا تو کیا ہوا؟۔ میںپختونوں کا اتنا بڑا لیڈر باچا خان ہوں۔ پٹھان موچی نے کہا کہ فٹ پاتھ پر سب ٹھئے لگاتے ہیں اور آپ جو بھی ہیں، اپنی غلطی کا ازالہ کریں اور کیلیں اکٹھی کرکے دیدیں۔ باچا خان نے گاندھی سے کہا کہ یہ ہماری قوم کا حال ہے۔ باچا خان اور گاندھی دونوں نے قوم کے جوہر آزادی کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ ایسی قوم اور اس کے جذبات سے دنیا کو فتح کیا جاسکتا ہے لیکن غلامی کے خوگر ہندو اور آزادی کے پاسبان پختون قوم کے جوہر کو سمجھا نہیں گیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پٹھان موچی معروف شاعر حبیب جالب کے والد ہوںجو میانی پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے گومل میں میانی قوم کے افراد بھی سفید نہیں سانولے رنگ کے ہیں اور شکلیں بھی حبیب جالب سے ملتی ہیں۔ ہمارے ایک پڑوسی شاعر حبیب آباد نے بھی پشتو میں آزادی کی بڑی زبردست غزلیں گائی ہیں۔ اس کے کچھ اشعارارود ترجمہ کیساتھ ہم نے شائع بھی کئے تھے۔
جالب نے جنرل ایوب ، جنرل ضیاء الحق سب کیخلاف آواز اٹھائی اور آخر میں نوازشریف، شہباز شریف اور بینظیر بھٹو کو بھی نہیں چھوڑا لیکن اعتزاز احسن نے جھوٹی وکالت کرکے روایتی پنجابی ہونیکا ثبوت دیا کہ ”بی بی جالب نے آپ کی تعریف کی ہے”۔ قابل خوشامدی ٹولہ ہمیشہ قومی قیادت کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔ پختونوں سے اس وقت دھوکہ ہوا تھا جب بلوچستان میں سردار مینگل اور سرحد میں مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ جو اسلام ، جمہوریت اور پشتو کے لحاظ سے غلط تھا۔ قائداعظم اور قائدملت کی طرح باچاخان و اچکزئی خاندان کا بھی غریب عوام سے فاصلہ تھااور مولانا فضل الرحمن نے بھی اڑان بھری ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے طبقاتی تقسیم کے بجائے نظام کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر 2001 میں شائع اشعار

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر2001میں شائع اشعار

کب تلک شکم کی آگ بجھاؤ گے؟
چھوڑ دو مفادات تو فلاح پاؤ گے
اختلاف بھڑکانا ڈیوٹی نہیں للہ
خفیہ اشارے پر ہمیں لڑاؤ گے
قرآں میں ممنوع آپس کی لڑائی
طاغوتی جال میں سادے پھنساؤ گے
مساجد میں غارت گری کے مقاصد
دین داغدار ، جنازے بھی اٹھاؤ گے
آستیں چڑھائے رکھنا دسترخواں پر
قربانی کے بکرے کارکن مکاؤ گے
فرقہ وارانہ ہڈی کتوں کا راشن
مالک چھیڑے تو بھی غراؤ گے
اغیار تھامے ہیں گلے کی رسی
بغاوت سے دار چڑھ جاؤ گے
ذلت کی زندگی سے مرگ بہتر
شہادت سے ملت کو بچاؤ گے
مفاد پرستی میں سرمست ، عمل میں بدمست
دائم خرمست ! اُمت کو ستاؤ گے
اظہار حق سے بڑوں کو خوف
انہیں موت کی نیند سلاؤ گے
پیارے باز آؤ جانب منزل ورنہ
معاشرے میں رہی ساکھ گھٹاؤ گے
ادھر کے رہو گے نہ اُدھر کے
بیچ رہبر و سپاہ لٹک جاؤ گے
انتشار راس نہ آیا تو ہوا ڈر
راہِ حق میں بھی بھٹک جاؤ گے
کرلو توبہ دروازہ بند نہیں ہوا
جہنم میں کیا راکھ اڑاؤ گے
لا تفرقوا فرض ، نہیں مروڑِ پیٹ
وحدت کی راہ سے سدھر جاؤ گے
ضرب حق سے ہوجائے شرح صدر
میری غزل گا گا کے سناؤ گے
نعرہ بدلے ہوا کے ساتھ ساتھ
”عتیق ہے ہمارا” کبھی جتلاؤ گے
بہر صورت کسی قیادت پر کرو اتفاق
ورنہ جہالت کی موت مرجاؤ گے
اتفاق سے قائم کرو نظام خلافت
بفضل ربی تقدیرِ قوم جگاؤ گے
دیوبندی رہے نہ پھندے میں بند
سی آئی اے امریکہ مار بھگاؤ گے
بریلوی رہے نہ روزگارِ جہالت
موالی مجاور کو ریس کراؤ گے
رہے نہ اہل حدیث سعودی فیس
ان نسبتوں سے جان چھڑھاؤ گے
ابراہیم نے رکھا نام مسلم تمہارا
اُمت مسلمہ سے چھا جاؤ گے
اُمةً وسطاً کی گواہی ہوگی ضرور
پھل دار ٹہنی جیسے نفس جھک جاؤ گے
دوستو! گیلانی کی مجالس میں بیٹھو
ان فتنوں کے نشان مٹاؤ گے
قوت یکجا کرو مانند قرونِ اولیٰ
اسلام دنیا میں غالب پاؤ گے
لڑنے سے اکھڑے گی ریح تمہاری
انتشار کی خاطر کافر بلاؤ گے
خانہ جنگی کی کیفیت ہوگی یہاں
در اقوام متحدہ کھٹ کھٹاؤ گے
دہشت گرد را موساد ، کھاتہ تمہارا
گر لگی آگ کدھر جاؤ گے
بھڑکے فرقہ پرستی کے شعلے قاسمی
وحدت کی برسات کب برساؤ گے
مولانا نور محمد قاسمی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ، مدیر مدرسہ ابوبکر صدیق، مسجد نبوی نورانی بستی کورنگی کراچی کے یہ اشعار ”وحدت کی برسات” ماہنامہ ضرب حق کراچی میں شائع ہوئے تھے ۔ آج پل کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار اور اس کا گروپ، ایم اکیو ایم بہادر آباد، ایم کیوا یم حقیقی، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن، پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، سندھ کی تمام مقامی پارٹیاں اور مہاجر،پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، ہزارے وال،کشمیری اور پاکستان کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد کراچی میں پرامن طریقے سے اپنے روزگار کیلئے رہتی ہے۔ اگر یہاں اخوت اوربھائی چارے کا ماحول پیدا کیا گیا تو مقتدر قوتوں کو بھی عوام کے مفاد میں اپنی مفادپرستی سے ہاتھ اُٹھانے پڑیں گے۔ یہاں بجلی، گیس، پانی ، ٹوٹی ہوئی سڑکوں، تعلیم اور علاج کے علاوہ قبضہ مافیا ز کے بہت سارے مسائل ہیں۔ ہلڑ بازی اور لڑائی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں لیکن کم نہیں ہوسکتے ہیں۔ کون کس کو ماموں بنارہاہے؟ ۔ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی سے کامیاب معاہدہ کیا لیکن گیم سندھ پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے جس پرمعاہدہ کرنے والے عمل در آمد نہیں کراسکتے ہیں۔ اب عدالت نے ایم کیو ایم کی درخواست پر سندھ حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ شہری حکومت میں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔
ڈکٹیٹر شپ نے بھی روشنی اور امن وامان کے شہر کراچی کو ہتھوڑا گروپ سے لیکر بیت الحمزہ کے نام سے ٹارچر سیل بنانے اور گرانے تک پتہ نہیں کیا کیا دیا؟۔ اب پھر عوام کے اندر تعصبات کا کیڑا جگانے کی ناکام کوشش ہورہی ہے لیکن اب عوام کا کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے کیونکہ عوام کیلئے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار، حافظ نعیم الرحمن، ایم کیوایم متحدہ اور ایم کیوایم حقیقی کے اصحاب حل وعقد کے علاوہ تمام پارٹیوں اور قومیتوں کے سرکردہ لوگ بیٹھ جائیں۔ ماؤں ،بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کی عزتوں کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے کراچی شہر سے حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے بڑے بڑے مدارس میں میٹنگ رکھ کر فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ اسلام، مذہب اور معاشرے کی سمت درست ہوجائے گی تو پھر دوسرے مسائل کی طرف بھی توجہ جائے گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے دفتر فیڈرل بی ایریا میں اتحادالعلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف سے ملاقات کیلئے حاضری دی تھی تو ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے بھی سرسری دعا سلام ہوئی تھی۔ مولانا عبدالرؤف کے داماد مفتی محمود شاہ نے پیشکش کی تھی کہ حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ایک مدرسہ قائم کرلیتے ہیں لیکن مجھے گروہی کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور سواداعظم کے نام سے لوگوں نے اپنے چہرے سیاہ کئے ہیں لیکن ایسا کام نہیں کیا کہ اس کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی جماعت عوام کا رُخ درست جانب موڑ سکے۔ ویسے اعظم کے معنی اکثر کے نہیں ہیں اسلئے کہ عربی میں اکثر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور قرآن نے اکثریت کو معیار بنانے کی مخالفت کی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ سب پر غالب ہونگے”۔
جس کو اہل حق ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ صلح حدیبیہ کی شرائط پر بھی صلح کرتا ہے اور فاتح مکہ بن کر بھی اپنے دشمنوں کو عزت بخش دیتا ہے لیکن جو اندرسے بڑا کمزور ہوتا ہے وہ گروہ پرستی اور طبقات پرستی کے تعصبات کو ہوا دینے میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ انگریز نے لڑاؤ اور حکومت کی پالیسی بنائی اور آج بھی اس کی باقیات اپنی سوچ سے تائب ہونے کیلئے تیار نہیں ہے لیکن اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے چند جنرلوں امجد شعیب ، اعجاز اعوان اور اسد خٹک کی بیٹھک کرائی اور تینوں نے اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ۔ امجد شعیب نے فوج کے خلاف سخت پروپیگنڈے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس بات کی طرف نہیں دیکھا کہ جب سروس روڈ ، پبلک پارک اور سرکاری تعلیمی اداروں پر فوج کے ادارے قبضہ کریں تو عام آدمی کی زبان پر بھی حقائق آئیں گے اور جو غلط وکالت کریگا وہ بھی مسترد ہوگا۔ اعجاز اعوان نے بہت اچھی باتیں کیں کہ اشرافیہ کا تعلق جس طبقے سے بھی ہو اسکی بے تحاشاہوس زر نے قوم کو اس حد تک پہنچادیا ہے۔ اسد خٹک نے عام آدمی کے نام سے سیاسی پارٹی بنانے کی خبر دی ہے۔
قرآن کی سورۂ واقعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار میں مگن ہوں اور ان کا دنیا میں حشر نشر بھی بتایا ہے۔ سورہ دھر میں ایک انقلاب عظیم اور ملک عظیم کی خبر ہے اور ایک بدنما بیماری کا ذکر بھی ہے۔ کرونا کے حوالے سے مولانا سلیم اللہ خان نے صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر کیا ہے۔ اب قرآنی اور اسلامی انقلاب کی راہ میں عوام اور سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ مذہبی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔ جمعیت علماء اسلام ایک بڑی مذہبی جماعت ہے اور بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ اور اہلحدیث بڑے بڑے فرقے ہیں۔ سب اسلام چاہتے ہیں لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی

پچھلے شمارے میں اتفاق سے ہم نے ملک میں صدارتی نظام کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا میں صدارتی نظام کی بحث چھڑ گئی اور اب اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی کردیتے ہیں۔ جب تک اسلام کا معاشرتی اور معاشی نظام رائج نہیں ہوجاتا تو پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہوگا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کے نام پر جمہوریت سے بنا۔ مملکت کانام اور آئین بھی اسلامی جمہوری ہے ۔ جمہوریت سکہ رائج الوقت ہے۔ لیکن آج تک ملک کو جمہوری اسلامی پاکستان ہمارے اصحاب حل وعقد نہیں بناسکے ۔ قائداعظم نے منتخب صدر کی جگہ نامزد گورنر اور قائدملت لیاقت علی خان نے غیرمنتخب وزیراعظم بننا قبول کیا۔ مسلم لیگ کے نظریاتی رہنماؤں نے چاہا کہ پارٹی صدارت اور سرکاری عہدے جدا جدا ہوں لیکن لیاقت علی خان کا کوئی حلقہ انتخاب بھی نہیں تھا اسلئے وہ مسلم لیگ کی صدارت اور وزیراعظم کا عہدہ دونوں اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کا قائدملت سے یہ پھڈہ تھا کہ وہ کیوں اپنا حلقہ انتخاب بنانے کیلئے ہندوستان کے مخصوص مہاجرین کو کراچی میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ لسانی پھڈہ اسلئے شروع ہوا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے لوگ بنگالی کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے لیکن بابائے قوم قائداعظم نے خود ارود نہ بولنے کے باوجود اردو کو مسلط کردیا۔ ہندوستان کی ہندی اور اردو زبان میں معمولی فرق ہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کوایک قومی رابطے کی زبان پر متحدکرنے کیلئے اردو کے علاوہ دوسرا چارہ نہ تھا۔ پاکستان کی بنیاد بنگال اور سندھ سے پڑی اور سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص،سکھر اور نوب شاہ وغیرہ میں ہندوستان سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجرین دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن سندھی زبان لکھائی اور پڑھائی میں مضبوط ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک واحد زبان ہے جواردو کے مقابلے میں مضبوط چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ پنجابی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی کے مقابلے میںاردو نے اپنا زیادہ اثر اسلئے دکھایا کہ مقامی زبان میں لکھائی پڑھائی کا سلسلہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جتنے بھی لکھے پڑھے لوگ تھے وہ مقامی زبان سے زیادہ دوسری زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی مہارت رکھتے تھے۔ خان عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید کے خاندان اردو اور انگریزی زبانوں میں زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ اردو زبان کو پختونخواہ، پنجاب، اور بلوچستان سے بہت زیادہ ادیب اور شاعر بھی مل گئے ۔سندھی زبان کا یہ اعزاز تھا کہ فارسی واردو سے پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ اگرشاہ عنایت شہید کا مشن کامیاب ہوجاتا جو اس نے اسلامی نظام کیلئے شروع کیا تھا کہ ”جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا” تو کارل مارکس اور اس کے نظرئیے کیمونزم اور سوشلزم کی پوری دنیا میں پذیرائی نہیں ہوسکتی تھی۔ اسلئے کہ سندھ سے اُٹھنے والے اسلامی نظام نے پوری دنیا میں عدل واعتدال کا جھنڈا بلند کرنا تھا۔ یہ وہی شاہ عنایت شہید کی روح اوراس کے ہزاروںساتھیوں کی قربانی تھی جس نے آنے والی نسل کوپاکستان بنانے میں پہل پر آمادہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کو اسلامی آئین دیا، مرزائیوں کو کافر قراردیا اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا لیکن جب اس کوپھانسی دی گئی تو اس کو ہندو ثابت کرنے کیلئے اس کے ختنے کی تصویرلی گئی۔
جنرل ایوب خان نے فوجی وردی میں الیکشن لڑا تو مقابلے میں مادر ملت فاطمہ جناح تھی۔ جوقائداعظم کی بہن تھی لیکن اگر قائداعظم کی غیرمسلم بیگم رتن بائی زندہ ہوتی یا اس کی بیٹی دینا جناح اپنے غیرمسلم کزن سے شادی نہ کرتی تو قائداعظم کے ولی وارث بیوی اور بیٹی بنتے۔ ایک طرف فوجی ڈکٹیٹر الیکشن لڑرہاتھا تو دوسری طرف مادر ملت نے پاکستان مخالف جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی وغیرہ کی قیادت کرتے ہوئے الیکشن لڑا۔ مخالفین الیکشن میں الزام لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسلئے فاطمہ جناح پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا ۔
پاکستان کاایک بہت بڑا نمایاں سانحہ یہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرینڈم سے منتخب ہونے کیلئے لوگوں سے پوچھا تھا کہ ”تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟”۔ اسلام چاہنے کا مطلب اسلام نہیں بلکہ جنرل ضیاء کا وردی میں صدر منتخب ہونا تھا اور اسلام نہ چاہنے کا مطلب کافر بن جانا تھا۔گویا امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کوسراپا مجسمۂ اسلام ماننا تھا۔ جماعت اسلامی اور کراچی کے اکابر مفتیان نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کو اسلام اور کفر کا محاذ قرار دیا۔ جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے لیکن اس کا اپنا طرزِ عمل ڈکٹیٹر شپ اور ڈکٹیٹروں کی لونڈی والارہاہے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد میں غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں آئی ایس آئی کی مدد سے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو جماعت کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفوراحمد کوبہت بعدمیںخبر ہوئی کہ جماعت اسلامی استعمال ہوگئی ۔ کیا اسلامی اور جمہوری پارٹی کا یہ کردار ہوسکتا ہے؟۔ مدارس کے علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی کی اپنی سب سے بڑی کمزوری اسلام اور جمہوریت دونوں سے جہالت ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان دونوں نے ریفرینڈم اور اس کے حق میں دئیے جانے والے فتوؤں کی مخالفت کی تھی اور پاکستان بھر سے علماء نے پہلا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگایا تھا جس کے خلاف بائیس بہترین اشعار لکھ کر میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا اور پھرکراچی کے اکابرنے حاجی محمد عثمان پربھی بھونڈے فتوے لگائے اس کو بھی میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا۔
میں عربی کی درجہ ثانیہ میں تھا تو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم پر طلبہ میں تقریر کی کہ عربی میں اعراب کی16اقسام ہیں۔ زیدُ’،زیداً،زیدٍ۔ ابو، ابا، ابی اور موسیٰ، موسیٰ ، موسیٰ…….۔ضیاء الحق کے ریفرینڈم کیلئے اعراب کی نئی17ویں قسم ایجاد کرنی پڑے گی۔ جو اس کی مدت کوکھینچنے پر دلالت کرے۔ اعراب ضیاء پر آتا ہے ۔ جب ضیاء کے ہمزہ کو کھینچ لیا جائے تو ضیاء الحق سے ضیاع الحق بن جائے گا۔ مدارس کے مفتیوں کا کام سیاسی فتوے نہیں۔ سیاسی میدان کا آدمی مولانا فضل الرحمن ہے ، ہرفن کا اپنا آدمی ہوتاہے۔ شریعت، تصوف اور سیاست کااپنا اپنا میدان ہے۔ فتوے کا کام فقہ کے مسائل کا حل ہے۔ علماء ومفتیان نے اس وقت سیاست اور تصوف دونوں اعتبار سے انتہائی غلط فتوے دئیے۔پھر پتہ چلا کہ یہ فقہی میدان کے گدھے ہیں۔ قرآن نے عقل وسمجھ کے اعتبار سے بعض کو گدھا قرار دیا لیکن لالچ کے لحاظ سے (عالم باعورائ) کو کتا قرار دیا، جس نے دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھکاؤ اختیارکرلیا تھا۔مفتی ولی حسن سیدھے سادے تھے اورمفتی تقی عثمانی چالاک ہیں۔
پنجاب کے پانچ دریا سندھ کی شاخیں ہیں۔پانی سے پاکی ہے۔ پاک دریا کو ناپاک کرنے کیلئے فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کے علاوہ گٹر کے گند سے دریا کے پانی کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ زیرِ زمین ذخائر بھی آلودگی سے بھر دئیے گئے ۔ پاکستان کا ظاہر اور باطن دونوں گندے کردئیے گئے تو اس کو پاکستان کی جگہ ناپاکستان کہا جاسکتا ہے۔ کیا فوج، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف نے کبھی پاکستان کو اس گند سے پاک رکھنے کی کوشش کی؟۔ علماء ومفتیان نے فتویٰ جاری کیاہے کہ دریا میں گند ڈالنا جائز نہیں؟۔ فوج تو ادارہ ہے جسکے سربراہ بدلتے رہتے ہیں لیکن پارٹیوں میں کیا جمہوریت کا تصور ہے؟ جہاں قیادت کی تبدیلی ممکن ہو؟۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ زمین ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا۔ بلاول بھٹوزرداری، نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن ، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور سب چھوٹی بڑی پارٹیوں کے سربراہ اپنی پارٹیوں کے گل محمد ہیں۔ جماعت اسلامی کوحقیقی جمہوری پارٹی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ بد چلن رہی ہے ۔ جب سید منور حسن سے سلیم صافی نے بیان اگلوایا تھا کہ ”طالبان کے مقابلے میں امریکی فوجی شہید نہیں ہیں تو پاک آرمی بھی شہید نہیں ”۔ جسکے بعد امیر جماعت سیدمنور حسن کو جانا پڑا تھا اورچالاک سراج الحق کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا پڑا تھا ۔
جمہوری پارٹیاںاپنا بااختیار صدر چاہتی ہیں لیکن پارلیمانی نظام کیلئے صدارتی نظام کے بجائے کٹھ پتلی وزیراعظم کا نظام اسلئے چاہتی ہیں کہ اس میں ان کو ہر حکومت میں حصہ بقدر جثہ ملتا ہے۔وہ ہمہ وقت اقتدار میں رہتی ہیں۔ مسلم لیگ ق کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکاری محکموں کے آفیسر کی تعیناتی مولانا کے اختیار میں ہوتی تھی اور انکے بھائی پیسوں کے لین دین پر تبادلے کرتے تھے۔ لوگ اگر علماء کو چندے دیتے تو دوسرے علماء کرام مولانا کے مقابلے میں زیادہ دولتمند نظر آتے۔ سیاست مفادات کا ایک پیشہ بن چکا ہے۔اگر نوازشریف اور شہباز شریف سیاسی مصروفیت کے باوجود اتنے کا میاب موروثی طور پر کاروباری بن سکتے ہیں تو دوسرے بھائی اور کزنوں کو زیادہ امیر ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ وہ خالص کاروبار کررہے تھے۔ کیپٹن صفدر کو اپنی چہیتی بیٹی مریم نواز دینے والے اور جنرل ضیاء الحق کو شہید اور امیرالمؤمنین کہنے والے نوازشریف کیابدل گئے ؟۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
پنجاب، پاک فوج اور کٹھ پتلی جمہوریت میں چولی دامن کا ساتھ تھا لیکن نواز شریف کے بعد عمران خان کی صورت میں نیا مہرہ تلاش کیا گیا تو نوازشریف نے پنجاب میں فوج کے خلاف آگ لگائی۔ پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی نے اقلیت ہونے کے ناطے نظریۂ ضرورت کے تحت اپنا ذاتی مفادحاصل کرنا ہوتاہے اورپیپلز پارٹی سندھ میں واحد وفاق کی حامی پارٹی ہے جس کی پنجاب و دیگر صوبوں میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں۔ پہلے مشرقی پاکستان کی کہانی ختم ہوگئی اور اب سندھ، پختونخواہ، بلوچستان ، کراچی اور پنجاب تعصبات کی زد میں ہیں۔ عمران خان کی بھڑکیوں نے باشعور، پڑھے لکھے طبقے اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کیساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی متأثر کیا لیکن اب اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں نکل کھڑا ہوا تو عوام کسی بھی اشارے کے بغیر وہ خالی کرسیاں اسکے سرپر ماریں گی جو میڈیا اس کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات دکھاتا رہتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہے اور سیاسی پارٹیوں میں بھی دَم نہیں رہا بلکہ گھوڑوں، لوٹوں اور گدھوں سے بات آگے نکل چکی ہے۔ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی حکومت اور ریاست بھی نہیں چل سکتی ہے۔اگر ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر مسند سے اتار دئیے جاتے اور علی کو بٹھادیا جاتا تو خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں فتنے کھڑے ہوجاتے اور حدیث قرطاس لکھوائی جاتی تو مدارس اور مساجد سے لیکر پارٹیوں ، جماعتوں اور اقتدار کے ایوانوں تک وصیت پر کام چلتا۔
اسلام کے قلعے مدارس گمراہی کے مراکز بن گئے ۔ ان گمراہیوں کے قلعوں کا حدیث میں ذکرہے۔ معیشت کی اہمیت کا اندازہ قرآن کی سورۂ جمعہ سے لگائیں۔ عبادا ت میں اہم ترین نماز اورنمازِ جمعہ کی سب زیادہ اہمیت ہے لیکن جمعہ کی آذان پر تجارت چھوڑ نے اور نماز پوری ہونے کے بعد اللہ کے فضل کیلئے نکلنے کے حکم سے معیشت کی اہمیت کا زبردست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علماء ومفتیان دنیا کی بے رغبتی دلاکر چندہ مانگتے ہیں تو ان کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف راغب ہونگے؟۔
قرآن وسنت کے تحفظ میں علماء کرام کی خدمات سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں بھی سب سے بڑا گھناؤنا کردار انہی کا ہے۔ جب حامدمیر کو افغانستان میں طالبان کارکنوں نے پکڑلیا کہ تمہاری داڑھی نہیں اور کیمرہ ساتھ ہے تو اپنے بڑوں کے کہنے پر چھوڑدیا تھا۔ اُسامہ بن لادن اورالجزیرہ ٹی وی کو اس وقت بھی افغانستان میں تصاویر کی اجازت تھی ۔ اگر حامد میر جیو ٹی وی پر اس وقت ان تضادات کو اجاگر کرتا تو افغانستان اور پاکستان کی عوام کو شعور ملتا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی دور میں طالبان کی مخالفت کا بیڑہ اٹھایا تو حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ” طالبان امریکہ نے بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنوائے تھے”۔ صحافت کا مشن قوم کو بروقت دیانتدارانہ شعور دینا ہے۔
پاکستان میں اسلامی جمہوری بنیاد پر انقلاب برپا ہو تو ملک وقوم میں خوشحالی کا طوفان آجائے،مایوسی کے شکار عوام اور مملکت کے ریاستی اداروں میں نئی روح پیدا ہوجائے۔ زن، زمین ،زر فتنہ اور آزمائش ہیں اور خوشحالی یا بدحالی کا اہم ذریعہ بھی۔ عورت کے اسلامی حقوق بحال ہوں تو اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ اسلامی مزارعت سے پاکستان دنیا میںبہت بڑا زرعی ملک بن جائیگا۔ سود کا مکمل خاتمہ ہو تو معیشت کی ترقی میں اتنی تیزی آئے گی کہ پوری دنیا سود کے خاتمے پر متحد ومتفق ہوجائے گی۔
پاکستان کو جنت بنانے میں بالکل دیر نہیں لگے گی۔ جن لوگوں میں ڈاکٹر اور انجینئربننے کی صلاحیت ہو ،ان کو تعلیم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کیلئے تیار کیا جائے اورجن لوگوں کے دماغ موٹے ہوں ان سے محنت مزدوری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت اور طبیعت دونوں ٹھیک رہیں گے۔ دریاکے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ،ایک کھانے پینے اوردوسرے کھیتی باڑی کیلئے ۔ گٹر لائن سے جنگلات آباد کئے جاسکتے ہیں۔ گومل ڈیم کے نیچے پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقوں کو بڑے پائپوں کے ذریعے پینے کا شفاف ، تازہ اور صحت بخش پانی پہنچایا جاسکتا ہے۔اسی طرح دریائے کرم، دریائے کابل، تربیلہ ڈیم، دریائے جہلم وچناب اور دریائے راوی کو نہ صرف آلودگی سے پاک رکھا جاسکتا ہے بلکہ کھانے پینے اور کھیتی باڑی کیلئے الگ الگ معیاری پانی کا بھی بندوبست ہوسکتا ہے ۔ پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے ملک وقوم کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے اور کارخانوں، فیکٹریوں ، ملوں کو پابند بنایا جاسکتا ہے کہ آلودگی صاف کرنے والی مشینریاں بھی لگانی ہوںگی۔
ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر انتخابات جیت کر ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پرویز مشرف کوعدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی۔ ریاستی اداروں کا کسی سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرنا مجرمانہ فعل ہے مگرحق کی آواز بلند کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا آئینی فریضہ ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں غنڈہ گردی سے ہرکسی کا جینا دوبھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم نے حلالہ کا مسئلہ اٹھایا، علماء نے حمایت شروع کی، پھر اخبار بندکرنے کا سرکاری حکم جاری ہوا اور دہشتگردوں نے گھر پر حملہ کرکے13شہداء کی سوغات دی۔صحافی محمد مالک نے ہم ٹی وی پر اس مسئلے پر پروگرام کاوعدہ کیا لیکن بہادری کا ایسا مظاہرہ نہیں کرسکاجس کا ہمارے سامنے اظہار کیا تھا۔اسلئے ریاست تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان74سالوں میں پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام،مارشل لاء اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذریعے چہرے بدلتا رہاہے لیکن برطانیہ کی کالونی سے تاحال نکل نہیں سکے ہیں۔ خلیفہ المسلین کیلئے صدارتی نظام کا تجربہ ناگزیر ہے تاکہ دنیا کے دل سے اسلام کا خوف جمہوری انداز میں نکلے اور بادشاہت بھی قائم نہ ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان احیائے اسلام کا مرکز ہے اور یہاں بسنے والی قومیں قیادت کی حقدار ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی

اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز اور یہاں بسنے والی قومیں امامت کی حقدار
مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود کی سورة القدر کی تفسیرمیں بہت بڑاانکشاف کردیا تھا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا عبیداللہ سندھی نے کراچی کو اسلامی تحریک کا مرکز بنانے کا مشورہ دیا اور اگر کراچی میں یہ ممکن نہ ہو تو شکارپور سندھ کو مرکز بنانے کی تجویز رکھی تھی۔ آپ کا مشن اپنے استاذ اسیرمالٹا شیخ الہندمحمود الحسن کی تلقین پر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ تھا۔ قرآن کے آخری پارہ عم کی تفسیر المقام المحمود میں سورة القدر کی تفسیر میں مولانا عبیداللہ سندھی نے زبردست انکشاف کیا ہے کہ
”سندھ، بلوچستان، کشمیر، پنجاب، فرنٹیئراور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب کی سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ یہیں سے ہوگی ۔ اگر پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلے پر ہندو لے آئیں تو اس خطے سے ہم دستبردار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اب اسلام کی نشاة ثانیہ عرب نہیں عجم سے ہوگی اور عجم کا مرکزی حصہ یہی ہے۔ سندھ کا احادیث میں ذکر ہے اور پنجاب کے پانچوں دریا اور دریائے کابل وغیرہ اس کا حصہ ہیں۔ حنفی مسلک کی بنیاد قرآنی تعلیمات ہیں اور امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اسلئے ایران بھی یہاں کی قیادت کو قبول کرلے گا”۔(المقام المحمود)
مولانا عبیداللہ سندھی نے جلاوطنی کی زندگی گزاری ،تحریک ریشمی رومال کا آپ حصہ تھے جس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور آپ کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عزیر گل مالٹا جیل پہنچائے گئے تھے۔1920میں شیخ الہند مالٹا جیل سے رہاہوکر ہندوستان واپس آگئے اور جیل میں قرآن کی طرف رجوع کا احساس پیدا ہوا تھا۔ دارالعلوم دیوبند اور مدارس نے آپ کی نصیحت اور وصیت کو نظرانداز کردیا کہ درسِ نظامی کو چھوڑ کر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جائے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ الہند کے مشن کیلئے سکول وکالج کے طلبہ پر توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔ شیخ الہند نے1920میں حکیم اجمل خان کی یونیورسٹی کا افتتاح کیا، اسی سن میں وفات پاگئے۔ جمعیت علماء ہند سیاسی ڈگر پر کانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کیساتھ ہوگئی اور مولانا انور شاہ کشمیری نے دارالعلوم دیوبند کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔مولانا الیاسنے تبلیغ شروع کردی۔ مدارس اور تبلیغی جماعت کے کارکنوں نے اپنے اپنے حساب سے دین کی خدمت اور فرقہ واریت کے بیج بونے میں بھی زبردست کردار ادا کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی تحریک دھری کی دھری رہ گئی۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے عمرکے آخری حصہ میں مولانا سندھی سے معافی مانگ لی اور یہ بھی واضح فرمایا کہ”میں نے مدرسے کی تدریس میں ساری عمر ضائع کردی، کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی فضول وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔
مولانا محمدالیاس نے عوام کے اندر دین کے فضائل کے ذریعے زبردست تحریک چلائی لیکن مدارس اور خانقاہوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے رجوع کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ اسلئے نہیں نکل سکا کہ قرآن کی طرف رجوع کے بجائے مولانا انور شاہ کشمیری کے طرز پر زندگی ضائع کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ علامہ سید محمدیوسف بنوری نے اپنے مدرسے کی بنیاد تقوے پر رکھی لیکن نصاب کی تبدیلی کا انقلاب برپا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حضرت حاجی محمد عثمان نے فرقہ وارنہ تشخص کے خاتمے کیلئے مسجد کانام الٰہیہ رکھا۔ مدرسے کانام محمدیہ رکھا، خانقاہ کانام چشتیہ ، یتیم خانہ کا نام سیدنا اصغر بن حسین رکھا اور خدمت گاہ کا نام قادریہ رکھا۔ ہزاروں مکاشفے دیکھنے والوں میں علماء کرام، تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگانے والے اور اہلحدیث حضرات بھی شامل تھے۔
ایک مکاشفہ یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت شیخ الہندمحمود الحسن نے مولاناالیاس کے ہاتھ سے حاجی محمد عثمان کی تاج پوشی کردی۔ مولاناسید محمد یوسف بنوری کی حاجی محمد عثمان سے دوستی تھی۔ مفتی احمدالرحمن ، مفتی ولی حسن ٹونکیحاجی عثمان کے ہاں آتے تھے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر اور میرے استاذمولاناشیرمحمد کہتے تھے کہ ”مفتی ولی حسن میرے استاذہیں لیکن اپنے دشمن مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی اور مفتی رشید لدھیانوی کے ہاتھوں اپنے دوست حاجی محمد عثمان کے خلاف استعمال ہوگئے”۔ بڑے معروف مدارس کے علماء و مفتیان حاجی محمدعثمان سے بیعت تھے اور8بریگڈئیر،ایک کور کمانڈر نصیر اختر اورمیجر جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ بھی بیعت تھے۔ جس کو پھر بھاگنے کے بعد پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف بننے پرانتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگر دارالعلوم کراچی1970میں جمعیت علماء اسلام کے خلاف سازش نہ کرتی تو جمعیت علماء پاکستان کیساتھ مل کر اقتدار میں بھی آسکتی تھی۔ اس فتوے کا اثر آج بھی جمعیت علماء اسلام کے خلاف مذہبی حلقوں میں موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اسلامی سوشلزم کے مقابلے میں مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبیداللہ انور اور مولانا عبداللہ درخواستی کی جماعت امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں پاکستان کو اسلامی نظام دے سکتی تھی۔کیونکہ یہ لوگ مولانا عبیداللہ سندھی سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ جماعت اسلامی نے امریکہ ہی کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ آخر کار مذہبی سیاسی قیادت سے بدظن مدارس نے جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ امریکی جہاد کا بیڑہ بھی اٹھالیا ۔ جماعت اسلامی کرائے کے مجاہد کی ماں اور جنرل ضیاء الحق اس کا باپ تھا اور امریکہ اس کا دادا تھا۔ جب امریکہ نے عاق کردیا ۔ جنرل ضیاء فوت ہوگیاتو مولانا فضل الرحمن سوتیلا باپ بن گیا۔ جماعت اسلامی کچھ عرصہ متحدہ مجلس عمل میں جمعیت علماء اسلام کیساتھ رہی اورپھر اپنے سارے ڈھانچے کے باوجود ایک کونے میں سمٹ گئی۔ ابMQMکے ساتھ ملکر کراچی میں بلدیاتی نظام کے نام پر توانائی حاصل کرنے میں لگی ہے۔
ملی یکجہتی کونسل میں اسکے پارٹنر جمعیت علماء اسلام س کا وجود محدود ہوگیا ہے اور اسلامی جمہوری اتحادمیں اسکے پارٹنر مسلم لیگ ن پر جمعیت علماء اسلام نے اپنا اثر جمالیا ہے۔متحدہ مجلس عمل کو چھوڑ کر تحریک انصاف کیلئے بھی جماعت اسلامی نے بیساکھی کا کردار ادا کیا تھا لیکن اب وہ آخری حربے کے طور پر الطاف حسین کے دریتیم کوکسی اشارے پر استعمال کرنا چا ہے گی۔ پہلے احتجاجی دھرنے کے بڑے بڑے بینروں پر جماعت اسلامی نے نام تک بھی نیک نامی کی وجہ سے درج نہیں کیا تھا لیکن جب پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے بڑا طعنہ دیا تو پھر جماعت اسلامی لکھ دیا گیا۔ بہروپ بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا ،اصلیت اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ مشعال خان کے بہیمانہ قتل پر سراج الحق کا اسلام کچھ اور تھا اور سری لنکن شہری کے قتل پر کچھ اور تھا۔ سلیم صافی جیو گروپ کے ناطے نوازشریف سے تعلق اور مولانا فضل الرحمن سے ہمدردی کے باوجود سخت سوالات کرلیتا ہے لیکن جب سراج الحق نے سری لنکن شہری پر اپنا مؤقف دیا تو سلیم صافی نے صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے مشعال خان کے بارے میں رویہ کا سوال نہیں اٹھایا۔ جو صحافت، اسلام اور پشتو غیرت کا کوئی تقاضہ نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی سے پرانی یاری کا حق ادا ہورہاہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دار العلوم دیوبند کے ماننے والوں نے جب سود کو جائز قرار دیا ہے تو پھر لڑائی کس بات پر ہے؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت
قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

نبی اکرم شفیع اعظم ۖدُکھے دِلوں کا پیام لے لو!
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو!
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا، نظر سے روپوش ہے کنارہ
نہیں کوئی نا خدا ہمارا ، خبر تو عالی مقامۖ لے لو!
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا ۖ تمام اپنے غلام لے لو!
عجب مشکل میں کارواں ہے نہ کوئی جأ نہ پاسباں ہے
بہ شکل رہبر چھپے ہیں رہزن ، اٹھو ذرا انتقام لے لو!
کبھی تقاضہ وفا کا ہم سے کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے تمہی محبت سے کام لے لو!
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن خبر تو خیرالانام لے لو!
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزار اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کو میں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو!

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv