پوسٹ تلاش کریں

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

پاک فوج کے ترجمانDGISPRکا عہدہ بہت اہم ہے۔جنر ل آصف غفور جب اس عہدے پر تھا تو اس نے الزام لگایا تھا کہ منظور پشتین اورPTMکو انڈیا اور افغانستان کے جاسوسی ادارے کی طرف سے بھاری رقم مل گئی ہیں۔ منظور پشتین نے بار بار چیلنج کیا کہ ثبوت پیش کئے جائیں۔
فوج کو دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار بنایاگیا تھا تو بندوق اوربارود کے مقابلے میں آواز اٹھانے کی حدتک بات زیادہ قابل برداشت تھی طالبان کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی اسلئے نرمی تھی کہ پوری قوم طالبان کے ساتھ تھی اور امریکہ کا ساتھ مجبوری میں دیا گیا تھا۔ پھرPDMنے بھی فوج پر اپنے ہاتھ صاف کردئیے اور آخر کار تحریک انصاف نے بھی بڑھ چڑھ کر حملے کرنا شروع کئے۔75سالہ تاریخ میں پاک فوج بھی کوئی معصوم نہیں تھی ، جنرل ایوب خان سے پہلے جتنے گورنر جنرل اور وزیراعظم آئے قائداعظم اور قائد ملت سے سکندر مرزا تک کوئی ایک بھی پاکستان کے کسی ایک حلقے سے بھی منتخب نمائندہ نہیں تھا۔ جنرل ایوب خان نے عوامی اقتدار پر شب خون نہیں مارا تھا بلکہ سول بیوروکریسی میں اسسٹنٹ کمشنر سے ترقی کرکے گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر بن جانے والے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا تھا۔ جمہوریت کی تاریخ جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوتی ہے ،جب فاطمہ جناح کو مولانا مودودی نے سپورٹ کیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی گود میں بیٹھا تھا۔ ن لیگ کے وفاقی وزیر کے والد نے فاطمہ جناح لکھ کر کتیا کے گلے میں پٹی ڈالی تھی اور فاطمہ جناح کے خلاف جلوس نکالا تھا۔اب یہ جمہوریت کے علمبردار بن گئے۔
بلاول بھٹو پیدا نہیں ہوا تھا لیکن اس کو تاریخ کی درست رہنمائی کوئی کیوں نہیں کرتا ہے کہ1988کے الیکشن میں اس کی ماما بینظیر بھٹو الیکشن لڑرہی تھی تو مولانا فضل الرحمن کیساتھMRDکی سطح پر الیکشن کا انتخابی اتحاد اس حد تک تھا کہ مرکزی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے اتحاد سے کامیاب ہوا تھا اور بینظیر بھٹو کے مقابلے میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ جمعیت علماء اسلام نے اس کو ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن اور جماعت کے اکابرین ڈاکٹر خالد محمود سومرو سے سخت ناراض ہوگئے تھے۔
جب پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالی تو صدارت کیلئے نوابزادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو اپنے ووٹ دیدئیے۔ جمہوریت کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے بیوروکریٹ ساتھی کو پیپلزپارٹی نے جتوایا تھا اور مولا بخش چانڈیو جیسے لوگوں سے بلاول بھٹو کچھ سیکھے تو اس پر سیاسی نابالغ ہونے کا دورہ نہیں پڑے گا۔ اس وقت جماعت اسلامی اور ن لیگ والے جب مولانا فضل الرحمن کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے تو جواب میں مادر ملت فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کا حوالہ جماعت اسلامی کا اعتراض اٹھانے کیلئے دیتے تھے۔
اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ جمعیت علماء اسلام یا جماعت اسلامی کی ڈیل ہوگئی تو پھر مریم نواز کو وزیراعظم بنانے میں اپنے تاریخی کردار کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو کیلئے تیسری جنس کے شبے کا مسئلہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ انتخابی دنگل میں ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے بلوچ بینظیر بھٹو سے بہت محبت رکھتے تھے لیکن اب بلاول کو باجی بلاول کہنے والے بھی بہت ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کی زبان کو کون لگام دے سکتا ہے۔ سیاسی قائدین اخلاقیات کو تباہ وبرباد کرنے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر شکوے کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کی سیاسی خوف کی وجہ سے13پارٹیوں کی حکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے۔ الیکشن سے حکومت بھاگ رہی ہے لیکن الزام اسٹیبلیشمنٹ پر بھی لگ رہاہے۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا تو متعدد بار سوال کو دہرایا گیا۔ بڑی مشکل سے اس سوال کا جواب دیا کہ ہم نے وزارت دفاع میں اپنا مؤقف پیش کیا لیکن اگر حکومت ہمیں بلالیتی تو الیکشن کیلئے آتے اسلئے کہ الیکشن کے اصل اسٹیک ہولڈر الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں اور حکومت ہیں اور ہم صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ باقی ان کے پابند ہیں۔ سوال یہ بھی تھا کہ چیف جسٹس پر الیکشن کے حوالہ سے دباؤ کی خبروں میں کتنی صداقت تھی؟۔
سپریم کورٹ کے سامنے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز نے چیف جسٹس پر حکومت میں ہوتے ہوئے دفعہ144کے سائے میں جو پریشر ڈالا تھا وہ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا احتجاج تھا۔ جسکے سامنے سپریم کورٹ کی عزت نہیں وہ فوج کی کیا عزت کریگا؟۔ عمران خان اور طاہرالقادری کو پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپر قبضہ کرنے کی پاداش میں سزا ئیں دی جاتیں تو9مئی کے واقعات نہ ہوتے۔
DGISPRنے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں بہت پہلے سے قائم ہیں اور اپنا کام مختلف ادوار میں تسلسل کیساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جھوٹ کے ذریعے حقائق کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ جنگ اور جیو نیوز نے خود کو بڑا بدنام کردیا ہے، اب ان کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں ہے ، انکے سچ کو بھی جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ ہارون الرشید سمیت صحافیوں کا جوطبقہ پاک فوج کی حمایت کرتا تھا وہ اب دوسرے بلاک کا حصہ بن چکا ہے۔ عمران ریاض خان کے بارے میں افغانستان تک پہنچنے کی خبریں تشویشناک تھیں۔ اب تک لاپتہ ہے اور بہت سارے وہ لوگ بھی لاپتہ ہیں جو فوج کے خلاف بولتے ہیں۔ ایک طرف بلوچ خواتین کی طرف سے بھی خود کش حملوں کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف طالبان بھی اپنی کاروائیاں کررہے ہیں۔بھارت کی طرف سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی خوف کی فضا پیدا کررکھی ہے تو فوج کی کسی معقول بات کو بھی ایسے ماحول میں لوگ غیرمعقول قرار دیتے رہتے ہیں۔
فوجی کوئی صحافی یا خطیب نہیں ہوتے ہیں کہ اپنی صفائی پیش کرنے کا درست گر سمجھتے ہوں۔ جب تسلسل کیساتھ مخالفانہ ماحول پیدا کرنے سے تنگ آجاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جب وہ اپنا ایکشن دکھاتے ہیں تو انکو زیبرا کہنے والے گدھے کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہوتی ہے”۔ فوج کی ٹریننگ کا حصہ ہے کہ جب وہ کاروائی کرتے ہیں تو اپنی فوج کے خلاف بھی وہی کرتے ہیں جو عوام پر کرتے ہیں۔ اب سب سے پہلے اپنے فوجیوں کا احتساب کیا ہے جن میں بڑے رینک کے افسران بھی شامل ہیں اور ان کا قصور غفلت کا برتنا یا درست طریقے سے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔ اس پر بھی صحافیوں نے بار بار سوالات کئے کہ جب تمہارا پروگرام یہ تھا کہ تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے تو پھر فوجیوں کو سزا کیوں دی ہے؟۔
DGISPRکی بات میں تضاد نہیں تھا بلکہ سانحہ9مئی کے واقعات کے کئی پہلو تھے۔ ایک طرف مسلسل فوج کے خلاف الزامات اور نفرت کی فضا تھی۔ دوسری طرف عوام مشتعل ہوگئی تو خلاف توقع جناح ہاوس اورGHQمیں بھی لوگ داخل ہوگئے۔ پھر خواتین کو آگے کیا ہوا تھا۔ اگر بڑے پیمانے پر رد عمل دیا جاتا تو انتشار کی فضا مزید پھیل سکتی تھی۔ یہ بات بالکل درست تھی۔ یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے زیادہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا یا غفلت برتی تو ان کے خلاف ایکشن بنتا ہے۔ یہ بھی درست تھا کہ یہ واقعہ مسلسل فوج کے خلاف بولنے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن صحافی ان سوالوں میںDGISPRکو الجھاتے تھے۔
ایک فوج کو یہ مہارت ہوتی ہے کہ کمانڈوایکشن کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرے لیکن صحافیوں کی طرف سے الجھا ؤ پیدا کرنے سے اس میں صرف اشتعال آسکتا ہے۔ جس کا تھوڑا بہت احساس سامعین کو ہورہا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سانحہ9مئی کے مجرموں کو چھوڑ دیا گیا تو کل دوسری سیاسی جاعتوں کی طرف سے بھی یہ روز روز کا تماشا بن سکتا ہے۔
فوج کا ان کو سزا دلوانے کیلئے پر عزم ہونا اس کا حق ہے۔ البتہ فوجی عدالتوں سے خوفزدہ لوگ جب تحریک انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کو کلین چٹ ملتا ہے تو اس سے یہ تأثر ابھرتا ہے کہ اصل معاملہ مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی قوت کو توڑنا ہے۔ پرویز الٰہی تحریک انصاف کا صدر ضرور ہے لیکن اس کے گھر کو اس طرح نشانہ بنانے سے ایک غلط فہمی جنم لے رہی ہے اور اس پرDGISPRکا جواب بالکل ٹھیک ہے کہ حکومت اگر غلط فائدہ اٹھاکر ایسا کر رہی ہے تو یہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس کی وجہ سے اصل مجرموں کو چھوڑنا بھی غلط ہے اور اس سے پاک فوج کا بھرپور طریقے سے پر عزم ہونے کا اظہارہوتا ہے۔
DGISPRسے منصوبہ ساز کا نام پوچھا گیا تو اس نے بات ٹال دی ہے اور اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اگر عمران خان کا نام لے لیا اور پھر بوجوہ چھوڑ دیا تو ایک لکیر کھچ جائے گی کہ اصل مجرم کو کیسے چھوڑ دیا اور اگر کٹہرے میں لایا تو پھر اس کو پہلے سے بری الذمہ قرار دینے سے بھی معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
اگر ملک میں اچھی حکومت یا اچھی اپوزیشن ہوتی تو پاک فوج کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جب ایک مقبول لیڈر شپ تھی اور لوگوں کو فوج سے محبت تھی تو بھارت کی قید سے آنے والے فوجیوں کابھی شاندار استقبال کیا گیا تھا اور ان کو نوکریوں پر بھی بحال رکھا گیا تھا۔ اب حالات مختلف ہیں۔ تسلسل کیساتھ سیاسی جماعتوں اور صحافیوں نے ون پوائنٹ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے فوج کی وہ مخالفت کی کہ ایسے پروپیگنڈے کی دنیا کی تاریخ میںکوئی مثال نہیں ملتی۔ سب سے زیادہ ہم نے مخالفت میں اپنا کردار ادا کیا لیکن دجال کی طرح صرف ایک نظر سے نہیں دیکھا بلکہ جہاں ان کی طرف سے خیر کا پہلو اور دفاع ہوتا تھا تو اس کو بھی اجاگر کرتے رہے ہیں۔ اگر فوج پر خود کش حملے ہوں اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے تو ردعمل میں مسنگ پرسن ایک معمولی بات ہے۔ جب ایک طرف مسنگ پرسن کا تذکرہ ہو اور دوسری طرف فوج پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف بات نہ کی جائے تو توازن اور اعتدال کی فضا قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ جب فوج کے خلاف حملوں اور فوج کی طرف سے ظالمانہ کاروائی دونوں کا تذکرہ کیا جائے تو پھر اس سے صحافت کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور صلح واصلاح اور اعتدال کی فضا بھی بنتی ہے۔ ارشد شریف شہید اور عمران ریاض خان سمیت صحافیوں کا بڑا ٹولہ صابر شاکر ، سمیع ابراہیم اور ہارون الرشید وغیرہ نے اتنا اللہ کا ذکر کیا ہوتا جتنا وہ پاک فوج کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے تو آج اپنے کئے کا ازالہ کرنے کیلئے ضمیر ضمیر کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہماری چاہت ہے کہ کسی سے بھی زیادتی نہ ہو لیکن جس فوج نے میڈیا میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے ، اگر اس کی مخالفت کروگے تو الٹی گنتی شروع ہونا یقینی ہے۔ ہم بھی اس مقام پر بیٹھ کر بہت شہرت اور دولت حاصل کرسکتے تھے لیکن اپنی اوقات میں رہنا اچھا لگتا تھا۔
آج بھی ہماری ایماندارانہ رائے یہی ہے کہ تحریک انصاف کے مجرموں کو بھی فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا دینا فوج کے ایک پر کو توڑنے کی طرح ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں فوج کے دو بازو اور پرواز والے پر ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ناکارہ ہوگیا تو فوج کی پرواز بالکل ختم ہوجائے گی، اسلئے کہ پاک فوج نے ہی ان کو ڈیزائن کیا ہوا ہے۔ پہلے نوازشریف نے تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر عمران خان نے بنایا ۔ نوازشریف اپنے پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کو بھی فوج کے کھاتے میں ڈال کر کہہ رہاتھا کہ مجھے کیوں نکالا ؟۔ حالانکہ فوج نے اس کو کوئی سزا نہیں دی تھی لیکن پنجاب کا آدھا حصہ فوج کا مخالف بن گیا۔ باقی ماندہ تحریک انصاف کی وجہ سے فوج کا حامی تھا اور اب وہ بھی گیا۔ بازو زخمی ہوجائے تو ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن کٹ جائے تو دوبارہ لگ نہیں سکتا ہے۔
پہلے جن سول لوگوں کو فوجی عدالتوں نے سزائیں دی ہیں وہ کسی سیاسی پارٹی کے کارکن نہیں تھے۔ اب معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو ایسی حالت میں فوجی کورٹ سے سزا دینا جب عدالت پر بھی پریشر ہوکہ آئین کے مطابق انتخابات نہ کرائے تو اس کا بہت زیادہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
فوجیوں کا دماغ زیبرے کی طرح ہوتا ہے اور سیاسی جنگ میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ اگر گدھا ہو اور وہ بھی جنگلی تو اس کو سیاست کا کیا پتہ ہے؟۔ عمران خان کے ورغلاوے میں بھی آگئے تھے اور نواز شریف کے ورغلاوے میں بھی آسکتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی ہے کہ عمران خان کیساتھ عید کے بعد بہت کچھ ہوسکتا ہے۔یہ اکسانے کا ایک حربہ بھی ہوسکتا ہے لیکن پاک فوج کو اس کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ بعد میں حامد نے کسی کو آنکھ مار کر کہنا ہے کہ اس طرح سے کام نکالے جاتے ہیں۔ جب حامد میر چاہتا ہے تو مولانا فضل الرحمن کو بہت بڑا کریڈٹ دیتا ہے کہ رقم سے بھرا ہوا بریف کیس نہیں لیا اور جب چاہتا ہے کہ اس کی ایسی کی تیسی کردے تو انصار عباسی کو بٹھا کرGHQسے ملنے والی زمینوں کے دستاویزی ثبوت میڈیا پر علامہ راشد محمود سومرو کے سامنے دکھاتا ہے۔
جن سیاسی کارکن کا تعلق فوجی خاندانوں سے ہے ان کا ٹرائیل فوجی عدالت اور جن کا فوجی خاندان سے تعلق نہیں انکا ٹرائیل دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوجائے تب بھی زیادہ برا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر پوری پارٹی کو فوج کے سامنے کھڑا کیا گیا تو فوج کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ حامد میر کہتا تھا کہ نوازشریف یہاں قدم بھی رکھ سکتا ہے لیکن عمران خان کو عبرتناک سزا دی گئی تو نوازشریف کیلئے بھی سزا کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اگر عدالت نے کہہ دیا کہ فوج کے خلاف زبان کھولنے والوں کو فوجی عدالتیں نمٹ لیں تو عدالت کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟۔
بیانات کی حد تک تو عمران خان سے زیادہ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن پر مقدمات قائم ہوسکتے ہیں۔ ہم بھی انقلاب چاہتے ہیں لیکن ایسے انقلاب میں مزہ بھی نہیں آئے گا کہ اسٹیک ہولڈرز کو سزائیں دی جائیں اور ہمارے لئے راہ ہموار ہوجائے۔ اسلام کے اندر ایسی صلاحیت ہے کہ مشرکین عرب کے جاہلوں کو جب ایمان کی دولت سے مالامال کیا تو سپر طاقتوں کو انہوں نے شکست دی تھی۔ آج اسلام اور مسلمانوں میں زیادہ صلاحیت ہے کہ اسلام کے عظیم دین کو استعمال کرکے دنیا میں ایسی خلافت کا نظام قائم کردیں جس سے زمین والے بھی خوش ہوں اور آسمان والے بھی۔ سیاسی پارٹی کا خلاء استحکام پاکستان پارٹی کے ذریعے پورا نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو قوم پرستی اور فرقہ پرستی سے بالاتر اس قوم کے بچوں کو الو بنانے کے بجائے شاہین بنادے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے قوی امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری کمزوریوں کو نہیں اپنے فضل کو سامنے رکھ کرپاکستان کے بہترین مستقبل کیلئے اچھائی کے راستے پیدا کردیگا اور پاکستان کی وجہ سے عالم اسلام اور عالم انسانیت کو ایک نئے سورج کا انقلاب دیکھنے کو ملے گا۔ اسلام کے فطری قوانین کے ذریعے یورپ اور مغرب بھی بہت اعتدال پر آسکتے ہیں لیکن جب تک نمونہ نہیں دیکھیںگے تووہ کیسے آسکتے ہیں؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس کی بیگم کی افغانی کے ہاتھوں توہین کا مسئلہ کیا تھا؟ حقائق جان لیجئے گا

جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس کی بیگم کی افغانی کے ہاتھوں توہین کا مسئلہ کیا تھا؟ حقائق جان لیجئے گا

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو جب ایک افغانی نے فرانس میں گالیاں دیں تو اس نے کہا کہ میں پاکستان کی آرمی کا سربراہ نہیں ہوں۔ لیکن افغانی مسلسل گالیاں دے رہاتھا اور کہہ رہا تھا کہ اگر پولیس نہ ہوتی تو میں تمہارے ساتھ بہت کچھ کرتا۔ تم نے چالیس سال سے افغانستان میں جہاد جاری رکھا ہواہے اور یہاں اپنی بیوی کیساتھ گھوم رہے ہو۔ وہ قارئین کو بتارہاتھا کہ اس کی بہو نیکر میں گھوم رہی تھی اور ہم پر اسلام نافذ کرنے کیلئے جہاد کا حکم جاری کررکھاتھا۔یہ ویڈیو دنیا بھر میں بہت وائرل ہوگئی۔
یوٹیوب پر پیسہ کمانے کے چکر میں بھی لوگ انواع واقسام کی بہت بیہودہ قسم کی ویڈیوزپھیلاتے ہیں۔ افغانستان کے جہاد کا فتویٰ جن علماء ومفتیان نے جاری کیا تھا وہ بھی دنیا بھر میں گھومتے ہیں۔ شیعہ پر جنہوں نے فتوے جاری کئے تھے وہ مفتی عبدالرحیم وغیرہ بھی اپنے مدرسہ میں شیعوں کا استقبال کررہاہے،جس پر سپاہ صحابہ کے رہنماؤں نے بہت برا بھی منایا ہے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے بیگم عابدہ حسین کے خلاف الیکشن لڑا تھا تو اعلان کیا تھا کہ کوئی شیعہ مجھے ووٹ نہ دے۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ مجھے قتل کیا گیا تو ذمہ داروں میں بیگم عابدہ حسین بھی ہوگی۔ بیگم عابدہ حسین نے جھنگ کی دونوں سیٹوں سے الیکشن جیت لیا تو مولانا حق نواز جھنگوی کو جس نشست سے شکست دی تھی وہ اپنے پاس رکھ لی۔ یہ1988کا الیکشن تھا جب مولانا حق نواز جھنگوی نے جمعیت علماء اسلام ف سے کتاب کے نشان پر الیکشن میں حصہ لیا۔پھر ان کو شہید کردیا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے قتل کا الزام بیگم عابدہ حسین اور نوازشریف پر لگایا تھا۔ شاعر جمعیت سیدامین گیلانی بھی بیگم عابدہ حسین اور تہمینہ کا نام لیکر جلسوں کو اشعار سے گرماتا تھا کہ یہ بیہودہ عورتیں ہیں ۔1990ایثارالحق قاسمی نے بیگم عابدہ حسین کیساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم پہلی مرتبہ نشست جیت لی تھی۔
جب مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل میں ایک ووٹ سے وزیراعظم کا الیکشن ہار گئے تھے تو اس وقت مولانا اعظم طارق نے اپنا وہی ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا تھا۔ دوسری طرف عمران خان نے اپنا ایک ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا۔ جمہوریت کفر وغداری کے سب داغ مٹادیتی ہے اور نسل در نسل جن خصائل اور شمائل کاپتہ نہ چل سکے جمہوریت چند سال میں انسان کے رگ رگ کا پتا دیتی ہے۔ خلافت کے قیام کا وقت قریب لگتاہے لیکن اس سے پہلے مختلف لوگوں کے چہروں سے نقاب کا اترنا بھی اللہ کی سنت رہی ہے۔ اگر شیطان جنت تک پہنچ کر فرشتوں کا استاذ اور بہت زیادہ عبادت گزار نہ بنتا تو کیسے ابلیس کا پتہ چل سکتا تھا؟۔
افغانستان میں روس وامریکہ کے خلاف جہاد کے فتوے پاک فوج نہیں علماء ومفتیان نے دئیے ہیں مگر کیا اس افغانی کی طیش کے حقدار علماء ومفتیان تھے یا پاکستان کی فوج ؟۔ یا پھردونوں ذمہ دار تھے؟۔سینیٹر مشتاق احمد خان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور وہ قوم پرستوں سے مل کر پاک فوج کو بہت برا بھلا کہتا ہے۔ فوج سے بہت لوگوں کو نفرت ہے اور اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اگر سوات یا وزیرستان میں طالبان نے قبضہ کیا تو پاک فوج ذمہ دار ہوگی یا علماء ومفتیان؟۔ کیا فوج نکل جائے تو طالبان سے عوام اپنی حفاظت کرسکتے ہیں؟۔ عمران خان نے کہا کہISPRپاک فوج کے ترجمان نے مجھے دوغلا کہہ دیا لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاک فوج نے دوغلا کردار اداکیا۔ میں نے دنیا بھر میں پاک فوج کا دفاع کیا۔ جب عمران خان نے طالبان اور پاک فوج دونوں کا دفاع کیا تو اس وقت کتنے دوغلے پن کی مشقیں کی ہوں گی؟۔
ہر طرف سے بے ایمانی ، بے غیرتی، بدفطرتی اور انسانیت سوز معاملات کا غلغلہ ہے۔ عمران خان نے کوئی اچھا کردار ادا نہیں کیا ہے تودوسرے بھی دودھ کے دھلے نہیں ہیں اسلئے قوم کو حق وسچ بتانا چاہیے ۔
رؤف کلاسرا کے کالم کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں، اس میں فوجی سپاہیوں کی قربانی کا بھی ذکر ہے اور طالبان کیلئے دوغلی پالیسیاں رکھنے والے ماڈرن پاکستانی خواتین کا بھی ذکر ہے۔سچ لکھنے پربڑی مشکلات کا بھی ذکر ہے اور حق گوئی کے دعویدار صحافیوں کے چہروں سے اس وقت نقاب اتر سکتی ہے کہ جب حقائق کی بھرپور نشاندہی عوام کے سامنے کی جائے۔ حکومت، ریاست ، عدالت اور صحافت سب کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر اس دور کے درست معاملات عوام کے سامنے لائیں۔ ایک فوج پر سارا بوجھ مسلط کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ جب ہمارے خاندان کے غیر فوجی اور غیرمذہبی لوگ طالبان کو سپورٹ کررہے تھے جن کو یہ معلوم تھا کہ1948کے کشمیری محسودمجاہدکی بیوی پیرآف وانہ نے چھین لی تھی تو کرایہ کے ٹٹو کس طرح قابلِ اعتماد ہوسکتے ہیں؟۔ پھر جاہل محسود وں کا کیا قصور تھا کہ وہ بارود اپنے دبر میں بھر کر مساجد، علمائ، بازاروں اور گھروں پر دھماکے کرتے تھے۔ علی وزیر کو گرفتار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ قوم کو یہ کہنا کہ” ہم مورچہ سنبھالیں گے اور آپ کو پیچھے رکھیں گے”۔ بالکل بے تکی بات تھی۔ بلوچ چھاپہ مار جنگ لڑرہے ہیں۔ بلوچ خاتون تک نے خود کش حملہ کردیا۔ علی وزیر قومی اسمبلی میں کہتا ہے کہ ”میرے خاندان نے پاک فوج کی وجہ سے قربانیاں دیں”۔ مضبوط فوج کے خلاف بغاوت کیلئے بڑی ہمت چاہیے۔ مرد پہاڑپرلڑیں اور خواتین احتجاجی دھرنے دیں تو مشکل بات ہے۔PTMایک طرف طالبان کو فوج کے کھاتے میں ڈالتی ہے اور دوسری طرف طالبان کے مسنگ پرسن کیلئے آواز اٹھاتی ہے۔ لوگ ان کواس ٹرائیکاکا حصہ سمجھتے ہیں ۔اگر فوج طالبان کے پیچھے ہے اور طالبان کو مسنگ کردیتی ہے اور یہ طبقہ ان مسنگ کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو یہ تینوں آپس میں مربوط ہیں اور سپیرے کا ساز سانپ کو پکڑنے کیلئے ہے۔یہ روزی روٹی چلانے کااچھا دھندہ لگتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میںمساجد، مدارس، امام بارگاہوں ، خانقاہوں سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا!

پاکستان میںمساجد، مدارس، امام بارگاہوں ، خانقاہوں سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا!

پاکستان کا آئین قرآن وسنت کا پابند علماء ومشائخ اور ذاکرین کی وجہ سے ہے لیکن کیا مدارس خود قرآن وسنت کے پابند ہیں ؟ اوراگر نہیں توپھرکیانشاندہی یہودونصاریٰ کریں گے؟

پارلیمنٹ میں تحفظ وصحابہ اہلبیت بل کی حمایت پر تمام اہل سنت اور اہل تشیع متفق ہوں گے اور پاکستان نہیں ایران سمیت دنیا بھر میں اس پر عمل بھی کریںگے مگر صحابہ واہل بیت کون ہیں؟

پاکستان کا آئین علماء ومشائخ اور شیعہ ذاکرین کی وجہ سے قرآن وسنت کا پابند ہے لیکن کیا مدارس قرآن وسنت کے پابند ہیں؟۔ مدارس کا نصاب تعلیم قرآن میں تحریف ،فقہی کتابیں قرآن کی توہین کا سبق دے تو کیا پارلیمنٹ میں اس پر بل پیش نہیں ہونا چاہیے ؟۔ قرآن میں متواتر اور غیرمتواتر آیات کا عقیدہ تحریف قرآن نہیں ؟۔سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا جاتا ہو تو پھر اس سے بڑھ کر قرآن کی کوئی توہین ہے؟۔مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی دوکتابوں سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کے اوراق ایسے غائب کردئیے جیسے کہ اس نے اپنے سامنے کے دو بدنما دانت اڑادئیے۔ مگر اسکے بعد عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعیدخان نے اپنی کتاب ” ریزہ الماس” میں فقہ حنفی کی فتاویٰ قاضی خان کی بھرپور تائید کردی ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنے کا جواز بنتا ہے جیسے خنزیرکا گوشت ضرورت کے وقت جائز بن جاتا ہے۔
میرے آباء واجداد ایسے توحید پرست تھے کہ دیوبند کے اکابر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ میری اپنی تعلیم وتربیت جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور مرشد حاجی عثمان کے ہاں ہوئی ہے۔جن کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا اور شریعت کے پابند اللہ والے تھے۔ اگر کرامات کو ماننا شرک ہے تو قرآن میں حضرت عیسیٰ کے جو معجزات ذکر کئے گئے ہیں تو اس سے بڑا شرک نعوذ باللہ اور کیا ہوسکتاہے؟۔ علماء دیوبند کی کرامات سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور اللہ نے حاجی محمد عثمان سے دیوبند کے ماحول میں کام لینا تھا تاکہ خلقِ خدا گمراہی سے بچ جائے۔ البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو دیکھنے والے عیسائی جاہل مشرک بن گئے تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے ہاں بغیر باپ کے بیٹا پیدا کیا تو اس پر حضرت مریم علیہا السلام خوش نہیں بلکہ بڑی پریشان تھی اور فرمایا کہ ”اے کاش! میں لوگوں کے ذہن سے نکل کر بھولی بسری بن جاتی ”۔ اللہ نے اس کرامت کے ذریعے بد عقیدہ یہود کو درست کرنا تھالیکن بعض ہٹ دھرم یہود اپنی خباثت پر ڈٹے رہے اور اکثریت مسیحی بن گئی ہے۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی تأویل کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ” علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہو گا تو پھر لکھنا جائز ہے لیکن یقین کا حاصل ہونا وحی کے بغیر ممکن نہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ اسلئے فقہ حنفی میں اس بات کا ثبوت ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے”۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھ دیا کہ ”علامہ شامی کے دل میں قرآن کی بہت بہت توقیر اور تعظیم تھی لیکن فقہاء نے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں یہاں ایک غلطی کردی۔ اگر سورج کی طرح یقین ہوجائے تو بھی پیشاب سے سورۂ فاتحہ کو لکھنے سے مرجانا بہتر ہے”۔
مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ” حنفی فقہاء نے سورہ ٔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کو یقین سے مشروط کردیا ہے لیکن میں نے امام ابویوسف کی کتابوں کو چھان مارا اور مجھے یقین کی شرط کہیں نہیں ملی”۔ یعنی یقین نہ ہو تب بھی علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھناجائز ہے”۔ اور مفتی سعیدخان نے لکھ دیا کہ ” سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں حرج نہیں ہے اسلئے کہ یہ علاج پیٹ میں نہیں جاتا ہے اور خنزیر کا گوشت تو پیٹ میں بھی جاتا ہے اسلئے وہ زیادہ خطرناک مگر جائز ہے”۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے فتویٰ لیا تو انہوں نے لکھ دیا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا تصور بے دینی اور گمراہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس کیلئے اگرچہ فقہ کی کتابوں میں کوئی حوالہ نہیں ملا اسلئے نوروز میں تعویذ اپنے دروازے پر لٹکانے کی عبارت لکھ دی جس میں مشرکوں کی مشابہت ہے۔
اگر حنفی اس وجہ سے حدیث کو نہیں مانتے کہ قرآن سے متصادم ہے تو ہدایت کا یہی راستہ ہے۔ حنفی مسلک کا سب سے بڑا اعزاز یہی ہے کہ قرآن کے تحفظ کیلئے تن تنہاء اس اصول کے تحت بہت بڑا بند باندھ دیا۔جس کو تمام مسالک بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امت مسلمہ کی بہت بڑی اکثریت نے قبول بھی کرلیا۔ دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ماحول کی بنیاد پر اپنے مسلک اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ نبیۖ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ” اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں جو لوگ سونا چاندی تانبا ، پیتل اور کوئلہ کی طرح تھے تو وہ اسلام کے بعد بھی ویسے ہی ہیں۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے مگر انسان اپنی فطرت نہیں بدل سکتا ہے”۔یہ زبردست فطری حقیقت ہے۔ابن صائد، مروان بن حکم اور ذوالخویصرہ جیسے لوگ دورِ جاہلیت میں بھی کوئلہ کی طرح تھے اور اسلام کے بعد بھی اپنی فطرت سے نہیں ہٹ سکے تھے۔ آج بھی بہت لوگ فطری طور پر اچھے اور بہت لوگ بدخلق اور بدکردار ہیں۔ جو ہر ماحول ومذہب میں ملتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” بیشک جو لوگ مسلمان ہیں، جو یہودی ہیں ، جو عیسائی ہیں اور جو صائبین ہیں ،جوبھی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور صالح عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگیں ہو ں گے۔ (البقرہ :62)
عمل صالح کا تعلق عبادات نماز، روزہ اور حج سے نہیں بلکہ حقوق العباد سے ہے۔ عبادات اور اللہ کے ذکر میں سب کا منہاج الگ الگ ہے مگر حقوق العباد میں سب کیلئے ایک طرح کے اصول ومعاملات ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہماری ایک بہت نیک، صالح، قابل عزت وقدر اور مظلوم بہن ہوسکتی ہے لیکن اس پر ظلم اس امریکہ نے کیا جس نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور پاکستان کو بھی تباہ کردیا ہے۔ گوانتا ناموبے میں انسانی مظالم کی آخری حدیں پار کردیں ۔ ہوسکتا ہے کہ9/11کے حادثے کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سب کچھ دنیا کو ٹھیک بھی لگتا ہو لیکن اسلام کے نام پر خواتین کیساتھ کیا ہورہاہے؟۔
ایک برمی یا بنگالی پاگل خاتون”چری” ٹانک کے بازار میں گھومتی تھی اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی اسلئے کہ وانا بازار میں بھی ایک پاگل خاتون گھومتی تھی۔ البتہ ٹانک برمی یا بنگالی خاتون کیسے پہنچی؟۔ اس طرح کتنی خواتین اذیتوں کا شکار ہوں گی؟۔ ہمارے ایک شخص نے چند بچوں سمیت خاتون خرید لی تھی۔ ابراہم لنکن نے امریکہ میں غلاموں کی خرید وفروخت اور سپلائی پر پابندی لگادی تو اللہ نے امریکہ کو سپر طاقت بنادیا۔ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں کے انسانی حقوق بحال کرکے دنیا میں انقلاب برپا کیا تو خلافت راشدہ کے دور میں دنیا کی دونوں سپر طاقتوں مشرق میں پارس اور مغرب میں روم کو شکست دی اور پھر1924تک مسلمانوں کی خلافت کا ڈنکا بج رہاتھا۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی سوات میں خواتین کی منڈی لگتی تھی اور وزیرستان کانیگرم میں بھی ایسی خواتین تھیں لیکن شادی بیاہ کی وجہ سے ان کی حیثیت لونڈی نہیں بلکہ آزاد خواتین کی ہی تھی۔
پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کی پابندی ہے لیکن قرآن وسنت کیا چیز ہیں؟، اس کا پارلیمنٹ تو دور کی بات ہے مدارس والوں کو بھی پتہ نہیں ہے۔ نبیۖ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑکرفرمایا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ” میں جس کا مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے”۔ مولا کے ساتھ ”نا” لگایا جائے تو مولانا بنتا ہے جس کا مطلب ”ہمارامولا” ہے۔ آج ہر مدرسہ کے فارغ التحصیل عالم دین کو مولانا کہا جاتا ہے لیکن جب مولانا طارق جمیل نے کہا کہ حدیث کی وجہ سے میں آج کے بعد علی کیلئے بھی مولا کا لفظ استعمال کروں گا تو یارلوگ بہت برا مان گئے اور مولانا طارق جمیل کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ ۖ کی ذات سے زیادہ مدارس کی سند کو ہمارے ہاں اہمیت حاصل ہے؟۔ بالکل! یہی بات ہے۔ مدارس میں پڑھاتے ہیں کہ نبی ۖ نے فرمایا ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے ”۔ ساری امت اس حدیث کو مانتی ہے لیکن حنفی کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے متصادم ہے اسلئے قابلِ قبول نہیں ہے ۔ یہ بہت خوب واقعی قرآن سے متصادم حدیث کو نہیں ماننا چاہیے لیکن جب کسی فقیہ کی عبارت آتی ہے کہ نسلی اعتبار سے عجم کی حیثیت نہیں ہے اور جعلی عربی کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے تو پھر مفتی قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے اور مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الاسلام اس حد سے بھی گزر جاتا ہے کہ ”اگر عجم نسل کی بالغ عورت کو اغواء کرکے ڈرادھمکا کرنکاح کرلیا تو بھی اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو واحد طریقہ یہ ہے کہ لڑکے سے طلاق لی جائے”۔ اگر مفتی تقی عثمانی سے فتویٰ طلب کرنے والے آرائیں میں غیرت و طاقت ہوتی اور اس فتوے پر مکا رسید کرکے مفتی تقی عثمانی کی چونچ توڑ دیتا جس میں ناک اور آگے دونوں دانت شامل تھے تو پھر اس قسم کی بکواس کو ” فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں شائع کرنے کی جرأت نہ کرتا اور اپنی حدود میں رہتا۔ عورت اور نسل کیساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے؟۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: قلم اور کاغذ لاؤ، میں ایسی چیز لکھ کر دیتاہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ کچھ نے حضرت عمر کی تائید کی اور کچھ نے نبی ۖ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کیا نبیۖ ہذیان بول رہے ہیں؟۔ جب شوراُٹھاتونبی ۖ نے فرمایا کہ میرے پاس سے نکل جاؤ۔ ( صحیح بخاری ) اگر نبیۖ کی بات مان لیتے تو پھر نبی ۖ کے بعد خلافت کے مسئلے پر انصار ومہاجرین اور قریش واہل بیت میں کوئی دراڑ نہ پڑتی۔ حضرت عمر نے بھی فرمایا تھا کہ کاش ہم نبی ۖ سے پوچھتے کہ آپ کے بعد خلفاء کس کس کو مقرر کیا جائے اور زکوٰة نہ دینے والوں کا حکم بھی پوچھ لیتے۔ یہودی نے حضرت علی سے کہا کہ نبی ۖ کی تجہیزوتکفین اور تدفین سے پہلے تم خلافت پر لڑرہے تھے؟۔ تو حضرت علی نے جواب دیا کہ تمہارے ابھی دریائے نیل سے پیر خشک نہیں ہوئے تھے کہ بچھڑے کو اپنا معبودبنا لیا تھا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ حدیث قرطاس کے نقصانات اپنی جگہ پر مسلمہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں ہے کہ حضرت عمر نے کسی کفرو گمراہی کا ارتکاب کیا بلکہ منشاء الٰہی یہ تھی۔ حضرت عمر کے ذریعے اللہ نے یہ سبق سکھایا کہ پیپلزپارٹی کا بینظیر بھٹو کی وصیت کے ذریعے ایک جمہوری پارٹی کا چیئرمین بنانا، نوازشریف کا مریم نواز کو نامزد کرنا اور مولانا فضل الرحمن کا اپنے بیٹے اسد محمود کو نامزد کرناغلط ہے۔ مفتی محمد شفیع کا اپنے بیٹوں کا نہ صرف نامزد کرنا بلکہ مدرسے کی وقف زمین کا خریدنا اور اس کے خلاف فتویٰ دینے پر مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا پیٹنا سب غلط تھا۔ چندوں اور وقف کے مال وجائیدادکو موروثی بناناشریعت اور اخلاقی اقدار کے بالکل منافی ہے۔ایران بھی امام خمینی کی اولاد اور کسی صدر کو نامزد کرنے کے بجائے عوامی رائے سے اپنا سربراہ منتخب کرتا ہے۔حضرت عمر کے اقدام نے بھی اسلام کے حوالے سے نامزدگی اور موروثیت کا راستہ روکا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت سے خلافت کے اسلامی نظام کو زندہ کیا جائے تو دنیا بھرکے مسلم و غیرمسلم ممالک اسلام کامعاشرتی، معاشی ، اخلاقی اور عدالتی نظام قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ عورت ماں ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے لیکن جب ماں کیلئے دنیا جہنم بنادی جائے تو پھر اس کے بچوں کیلئے دنیا کیسے جنت نظیر بن سکتی ہے؟۔ قرآن وسنت نے ہرنوع کی عورت کو جس طرح کا انسانی حق دیا ہے اس کو دنیا قبول کریگی مگر مذہبی طبقے نے جس طرح کا بگاڑ پیدا کیا ہے تو اسے غیرمسلم تو بہت دور کی بات ہے کوئی مسلمان بھی قبول نہیں کرسکتا ہے۔ چلتی کا نام گاڑی ہوسکتا ہے لیکن اگاڑی کا نام پچھاڑی نہیں ہوسکتا ۔علماء اور مفتیان نے سود کے عالمی نظام کو اسلامی جواز بخش کر جو خود کش حملہ قرآن وسنت اور اسلام پر کردیا ہے۔ اب اس نظام کو نئے سرے سے اپنے اصل کی طرف لانا پڑے گا۔ ہمارے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر نسپل جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نے ہمیں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے لیٹر پیڈ پر لکھ دیا کہ ” حضرت امام مالک کا یہ قول سامنے رکھنا چاہیے کہ اس امت کی اصلاح کبھی نہیں مگر جس چیز سے اس کی امت کی پہلے اصلاح ہوئی تھی ”۔آج مفتی تقی عثمانی اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس پاکستان اور میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صدر وفاق المدارس پاکستان سے منحرف ہوا ہے ،پھر بھی علماء نے پتہ نہیں کس لالچ میں اس کو وفاق المدارس کا صدربھی بنادیاہے ؟۔
زوال وپستی کی ایک حد ہوتی ہے جب کوئی قوم اس کو پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ اٹھانے کی سبیل پیدا کردیتا ہے۔ عرب ممالک کا پیسہ مغرب کے بینکوں میں پڑا رہتا تھا اور وہ اپنا سود نہیں لیتے تھے۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے ان کو جواز کا حیلہ پیش کردیا ۔ جب انہوں نے سود کو جائز سمجھ کر کھانا شروع کردیا تو پھر اس کے اثرات بھی سعودی عرب پر پڑ گئے۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ جب مدینہ منورہ میں سینما گھر کھولنے کا فیصلہ ہوا تو مفتی تقی عثمانی نے اس پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا۔حالانکہ یہ کافی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی فوج کو چاہیے کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے ان خرافات کو دور کرنے کیلئے میدان میں اترے اور بزور بازو مسلمانوں کے مقدس مقامات کاخرافات سے تحفظ کرے۔
علماء و مشائخ اور ذاکرین نے مجھے تنہا اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے چھوڑ دیا ہے جو میرے بس کی بات نہیں ۔اللہ کے فضل سے اس کی مدد شاملِ حال ہے اور اب شیطان کے بچھائے مکڑی کے جالوں سے اس جدید دور میں جان چھڑانا مشکل نہیں ۔اور کیا واقعی عمران خان سیاسی جماعتوں اور نظام کے خلاف کھڑا ہے؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

قال نبی ۖ:اسلام و اقتدار جڑواں بھائی ایک دوسرے کے بغیرصحیح نہیں ،اسلام بنیاد اوراقتداراسکا محافظ!

نبی ۖ نے اسلام کی نشاة ثانیہ پر فرمایا کہ
پھر اسلام زمین میں جڑ پکڑے گا اور اسکی گہرائی اور گھیرائی بھی زیادہ ہوگی۔ جن لوگوں کے ہاتھ ہوگی ان کو50صحابہجتنا اجر ملے گا۔

نبیۖنے فرمایا: نبوت و رحمة پھر خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کا دور ہوگا، پھر طرزنبوت کی خلافت قائم ہو گی جس سے زمین وآسمان والے خوش ہونگے۔ اگر اسلام کو علماء نے مسخ نہ کیا ہوتا تو اس کی خوشنما عمارت اپنی بنیاد پر سیدھی کھڑی رہتی مگر اسکا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ جب قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائیگا پھر اسلام ، مسلمانوں اورانسانوں کو معاشی، اخلاقی،سیاسی، سائنسی، معاشرتی اور قانونی بڑا زبردست عروج ملے گااور اہل زمیں بہت خوش ہوں گے
جب اسلام نازل ہوا تو حضرت ابراہیم کے ماننے والے عیسائی ، یہودی اور مشرکینِ مکہ تین ادیان میں تقسیم تھے۔حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کے بعد حجاز مقدس میں عربوں کے ہاں کوئی پیغمبر دورِ جاہلیت کے انتہاء تک نہیں آئے ۔یہاں تک کہ ابوجہل کے دور میں نبی ۖ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔دوسری طرف حضرت اسحاق ، یعقوب، یوسف کے بعد نبوت کا سلسلہ بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء کرام کی بعثت حضرت موسیٰ و عیسیٰ تک جاری رہاتھا۔ اور نبی ۖ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوا۔ ہندو اور بدھ مت کے پیروکار برصغیر پاک وہند میں پہلے سے تھے۔ بدھ مت چین، جاپان ، شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دنیا میں آج لوگوں کا مذاہب سے رشتہ برائے نام رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کا دین قرآن وسنت کی شکل میں موجود ہے۔اسلام کی نشاة اول کے وقت مشرکینِ مکہ نے اسلام قبول کرکے پوری دنیا میں پہلے اسلام اور مسلمانوں کا اقتدار قائم کیا۔ پھر تاتاری ترکوں نے اسلامی امارت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پھراسلام قبول کرلیا اور دنیا بھر میں عظیم سلطنت عثمانیہ قائم کردی۔ ترک اگر اپنی حکومت کو اسلامی ٹچ نہ دیتے تو زمین کے ایک بہت بڑے ٹکڑے پر اپنی سلطنت قائم کرنے کا خواب پورا نہیں کرسکتے تھے۔ جب1924میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ہندؤں نے بھی مسلمانوں کیساتھ مل کر تحریک احیاء خلافت میں بھرپور حصہ لیا۔
آج مسلمان صرف پاکستان میں نہیں بلکہ56سے زیادہ اسلامی ممالک کے مالک ہیں۔ ہندوستان کے ہندو اور پاکستان کے مسلمانوں نے اگر اسلام کے درست معاشی اور معاشرتی نظام کی بنیاد پر اتحاد واتفاق اور وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودةً فی القربیٰ سے کام لیا تو برصغیر پاک وہند سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہندوکے بنائے مٹی اور تراشے پتھر کے بتوں، گائے ماتااور بندرکی پوجا سے زیادہ خطرناک مسلمانوں کے علماء ومشائخ ہیں جو پیٹ و نفس پرستی ، بیوی بچے ،بہن بھائی ، والدین ،برادری اور لسانی بنیادوں پر قوم پرستی کے جذبے سے بدحال ہیں۔حق اور انسانیت کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ اسلام کے آفاقی نظام سے اپنے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حالات ٹھیک کرنے کی راہ دیکھنے کے باوجود بھی حقائق کیلئے کچھ بھی محنت نہیں کرتے ہیں۔ بے حسی، خود غرضی اور لایعنی کے امراض میں انتہاء درجہ تک مبتلاء ہیں لیکن اللہ مردہ زمین کی طرح انسانوں کو زندہ کرتا ہے۔قرآن کا فطری انقلاب سر پر کھڑا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

See more:
https://zarbehaq.com/mufti-taqi-usmani-ka-islami-muasshi-nizam-par-khudkush-hamla/

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

دیکھو!اسلامی انسانی انقلاب کا آغاز ہوا چاہتاہے! قرآن کا وہ ترجمہ جو تمام مسلمانوں کیلئے قبول ہے! حدیث وہی جوقرآن کیخلاف نہ ہو،یہ حنفی فقہ ہے! دیوبندی ،بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ متفق ہونگے!

پاکستان اسلام اور انسانیت کے نام پر بنا تھا اسلام اور انسانیت ایکدوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں

مساجد ، مدارس ، امام بارگاہوں اور خانقاہوں سے اس تحریک اسلامی میں اتحاد ، اتفاق اور وحدت کا آغاز ہوگا۔جس کا اثر گھروں،بازاروں اور سرکاری اداروں تک پہنچے گا

___ پاکستان سے اتحاد اُمت مسلمہ کا آغازہوگیاہے؟___
اتحاد کا موضوع بہت بلند پایہ ہے۔ قرآن نے اہل کتاب کو دعوت دی کہ ” کہہ دو،اے اہل کتاب ! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور آپ کے درمیان برابرہے”۔ سیاسی جماعتوں کی ابتداء برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سے ہوئی تھی۔ کانگریس کی بنیاد انسانیت اور مسلم لیگ کی بنیاد مسلمانوں پر رکھی گئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد بھی پاکستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کے تصورات موجود تھے۔ پھر کانگریس کی سیاست مشرقی ومغربی پاکستان سے سمٹ کر پختونخواہ اور بلوچستان تک محدود ہوگئی۔ بعد از آں بلوچوں اور پختونوں میں بٹ گئی۔ مسلم لیگ کی کوکھ سے مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اورذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی نے جنم لیا جن کی وجہ سے یہ ملک دو لخت ہوگیا۔ مسلم لیگ نے ابن الوقت کی طرح بہت سارے بچے ہردور میں پیدا کئے۔ پھر پیپلزپارٹی سندھ تک محدود اورمسلم لیگ پنجاب تک ہے۔آج ایک انتشار کی کیفیت ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف ہے اور دوسری طرف 13 جماعتوں کا اتحاد الیکشن سے بھاگ رہا ہے۔ عمران خان کو اکیلا کردیا گیا۔ جہانگیر ترین اور علیم خان وہ دو پر تھے جن سے عمران خان نے پرواز کرنا شروع کردی تھی۔
لوگوں کی فوج سے محبت تھی مگر نفرتوں کی آگ اگلنے لگے۔ جنرل ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف سے زیادہ جنرل راحیل، قمر باجوہ اور حافظ سید عاصم منیر محبت کے قابل اورپاکستان کو بکھرنے سے بچانے کا وسیلہ ہیں۔ چیف جسٹس منیر، قیوم، افتخار چوہدری تک سے زیادہ چیف جسٹس ظہیر جمالی، آصف سعید کھوسہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال تک کا عدلیہ لائق احترام ہے مگر سیاسی منڈے مولانا فضل الرحمن اورسیاسی کڑی مریم نواز نے اپنے اقتدار میں سپریم کورٹ کے سامنے دھما چوکڑی مچاکر بدتمیزی کی انتہاکردی تھی۔

___اتحاد سے اتفاق تک کی منزل کیسے حاصل ہوگی؟__ _
اپنے عقیدے ، مسلک اور سیاسی نظرئیے پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کی حد کا خیال رکھنا اتحاد ہے۔ قرآن نے بقاء باہمی کی بنیاد پر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا فرمایا۔ جن سیاسی جماعتوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نہ صرف ایکس ٹینشن دی بلکہ پارلیمنٹ میں اس کیلئے آئینی ترمیم بھی کی ہے تو آج اس کے جانے کے بعد جنر ل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بکواس کرنا بنتا نہیں۔ جس سپریم کورٹ نے ایکسٹینشن کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کی کورٹ پارلیمنٹ میں ڈالا، اسی سپریم کورٹ کے خلاف پہلے عمران خان اور پھر موجودہ حکومت اورPDMکی جماعتوں نے بدتمیزی کا بازار گرم کرکے بہت گھٹیا پن کا ثبوت دیا ہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا” سلطان زمین پر اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو بیشک اس نے اللہ کی توہین کی ”۔خطبہ جمعہ۔ ملکی سرکاری اداروں کا احترام نہیں تو پھر حکومت میں آنا نہیں بنتا ہے ۔ اخلاقیات کی دھجیاں اُڑادی گئیں۔حکومت میں فوج کی پاسداری والا اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے کی بات کرنے لگا اور اپوزیشن میں فوج کی غلامی سے جان چھڑانے والاPDMپلس پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آکر فوج کی غلامی اور اپوزیشن کو فارغ کرنے کی سیاست یامنافقت شروع کردی ہے؟۔
ہم نے سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھااور کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے ہوم ورک بھی کیا۔ ملک معاشی، سیاسی ، آئینی، عدالتی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے۔اگر حریم شاہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون اچھا اور کون برا ہے تو پھر اس ملک اور اس کی قیادت کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ریاست مدینہ نے اس کو لوگوں کی عزتوں پر چھوڑنے کے بجائے اس کے اپنے گھر میںنظر بند کردینا تھا یہاں تک کہ اس کی شادی ہوجاتی۔

___وحدت کی منزل کیلئے حکمت عملی بنانی پڑے گی___
جس پر متفق ہوا جائے وہ اتفاق ہے ۔ کانگریس اور مسلم لیگ کا اتفاق تھا کہ ” ہندوستان دولخت ہوگا”۔ آج ہندوستان مودی کے ہاتھ میں گیا۔نہرو، اندرا گاندھی،واجپائی ، من موہن سنگھ سے دوستی کرلیتے تو بھارت مسلم ہندو فساد اور تنگ نظری کی نذر نہ ہوتا۔ پاک وہند میں روایتی دشمنی کو روایتی دوستی میں بدلنا ہوگا۔ جب دونوں ملکوں میں نفرتوں کا خاتمہ ہوگا تو پاکستان اور ہندوستان کے اندرونی معاملات پر اثر پڑے گا۔
مدینہ منورہ میں یہود اور منافقین تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن یہود ، منافقین اور مشرکینِ مکہ تھے۔ ابن صائد نے نبی ۖ سے کہا تھا کہ ” آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں عالمین کا نبی ہوں”۔ وہ دجال کہتا تھا کہ میں دجال نہیں اسلئے کہ دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں لیکن اس کوپھر بھی مکمل تحفظ حاصل تھا۔
نبی کریم ۖ نے یہود سے” میثاق مدینہ” اور مشرکین مکہ سے ” صلح حدیبیہ ” کا معاہدہ کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جس کو حکمت دی گئی تو اس کو خیر کثیر دیاگیا ”۔ صحابہ نے رسول اللہ ۖ سے حکمت سیکھی تھی۔ نبی ۖ نے فرمایا ” جس کیساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے”۔ دین کی سمجھ کا تعلق اسلام کے احکام اور حکمت کا تعلق ان کو عملی جامہ پہنانے سے ہے۔ حضرت داؤد اور سلیمان میں فہم کا فرق تھا اور حضرت سلیمان کے فیصلوں کو اتفا ق رائے سے دل وجان کیساتھ قبول کیا گیا تو اسی کا نام وحدت تھا۔اب ہم نے وحدت کی منزل حاصل کرنی ہے۔مذہبی اتحاد،اتفاق اور وحدت سے مسلمانوں اور تمام انسانوں کی مشکلات کو حل کرنا ہے۔ ہمارا اللہ رب العالمین اورنبی خاتم الانبیاء والمر سلین ۖ رحمة للعالمین ہیں۔ پاکستان کو عالم کیلئے رحمت بنانا ہمارا نصب العین ہے۔ کوئی مسلم وغیرمسلم بدحال نہ ہوگا بلکہ سبھی کوبہت مثالی خوشی ملے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

فوج نے پالے دو بٹیر…عمران ٹائیگر نواز شیر…دوسرے کو سزا ہوگی تربوز…گرپہلے کوڈالی گئی بیر؟

ایک بادشاہ نے ایک شخص کو پیچھے سے بیر ڈالنے کی سزا دی تو وہ پہلے رویا اور پھر ہنسا۔ پوچھنے پر بتایا کہ بیر ڈالنے پر تکلیف ہوئی مگر پیچھے والے کے پاس تربوز ہے ،سزا پر اس کا کیا بنے گا؟

خاتون صحافی ثمینہ پاشا کی بہادری پاکستان کیلئے قابل فخر ہے۔ مجاہد بریلوی نے کہا کہ اب میں عمران خان کے خلاف نہیں بولوں گا۔ عمران ریاض کو سزا دینا آزادی پر دھبہ ہے

سیاستدان جمہوری لڑائی جاری رکھیں لیکن ملک وقوم کو نقصان نہ پہنچائیں!۔علماء کی جعلی شریعت کو درست کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں بحث اور قانون سازی ہوگی تو بہت بڑا انقلاب آئے گا !

ایک بادشاہ اپنی اکلوتی شہزادی کے رشتہ کے پیغامات سے تنگ تھا۔ وزیر نے مشورہ دیا کہ” کوئی ایسی چیز لائے جو بادشاہ نے نہ کھائی ہو تو رشتہ ملے گا۔ اگر کھائی ہو توپھر پیچھے سے ڈالی جائے گی”۔ لوگوں نے آزمایا۔ چیز پیچھے ڈال دی جاتی توبہت شرمندگی محسوس کرتے۔ لوگوں کی بے عزتی ہوئی تو رشتہ آنا بند ہوگیا۔ پھر تماشا دکھانے کیلئے دوافراد کو تیار کرلیا۔ ایک بیوقوف اور دوسرا سادہ تھا۔ بیوقوف کو تربوز تھمادیا اور سادہ کو بیر دی گئی۔ دونوں ریس میں پہنچ گئے اور چرچا ہوا کہ اب ان میں کوئی داماد، ولی عہد اورپھر بادشاہ بن جائے گا؟۔
بادشاہ نے کہا کہ ”یہ بیر فلاں جگہ سے لائے؟” اور ذائقہ بھی بتادیا۔ پھر اپنے نوکر چاکروں کو حکم دیا کہ ”اس کو پیچھے سے بیر ڈال دو”۔ وہ بہت چیخا چلایا ، رویا دھویا اور آنسو بہائے ۔ پھر بہت قہقہ مارکر ہنسنے لگا۔ لوگوں نے کہا کہ رونا سمجھ میں آتا ہے کہ بہت تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوئی ہوگئی لیکن یہ بتاؤ کہ” قہقہ کیوں لگایا؟”۔ اس نے کہا کہ” میرے پیچھے والے کے پاس بڑے سائز کا تربوز ہے ۔ اس کو سزا ملے گی تو کیا بنے گا؟”۔چودھری افتخار کو جنرل پرویزمشرف نے بالوں سے گھسیٹا تھا تو اس وقت ہم نے یہی لطیفہ لکھ دیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ چودھری افتخار سے زیادہ پرویزمشرف کو وقار سیٹھ نے عبرتناک سزا کاحکم سنادیا۔ اگر عمران ریاض خان جانبدار صحافی ہیں اسلئے سزا کے مستحق ہیں تو پھر دوسری جانب بڑی لمبی فہرست میں جیو کا بڑا طبقہ، اسدطور،بلال غوری، عمران شفقت ، مطیع اللہ جان، افتخاراحمداورکئی سارے مشکل میں پڑیںگے۔
عمران خان پر توشہ خانہ ، عدت میں نکاح ، بیٹی کو تسلیم نہ کرنے اور القادر ٹرسٹ کے کیس چلے اور آخر میں اس کے ساتھیوں پر فوجی عدالتوں میں سزا کی تجویز ہے جس کا عمران خان کو بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اس طرح کے کیس دوسروں پر کھلے۔ جنہوں نے توشہ خانہ سے گاڑیاں بیچ کھائی ہیں جس کی آئین میں اجازت بھی نہیں تھی۔ رنگیلا وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں کتاب مارکیٹ میں آئی تھی۔ پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا کہ الحمدللہ میرے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ پھر قطری خط سے جھوٹ کھلا۔ ارشد شریف نے اس پر مکمل ڈاکو مینٹری فلم بنائی ہے۔ اگر یہ سب نوازشریف کے خلاف کھل گیا اور پھر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دوسرے لوگوں کے خلاف کرپشن اور دوسری چیزوں کے معاملات کھل گئے تو بہت کچھ ہوجائے گا۔
انگریز کے نظام کی غلامی سے جان چھڑانے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ غداری کا مقدمہ، پولیس، عدالت اور سیاسی حکومت کا رویہ برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل جلسہ عام میں کہتا تھا کہ ” ہماری شلواریں اتارکر ہرزاویہ سے تصویریں لی گئیں، کیا میں اور اعظم سواتی اب شلوار پہن لیں؟”۔ ہیرہ منڈی کی رنڈی بھی ایسی سرِ عام عصمت دری برداشت نہیں کرے گی۔ تحریک انصاف کوچھوڑ نے والی اکثریت پر عمران خان کوافسوس نہیں ہو ااسلئے کہ ہواؤں کے رُخ پر اڑنے والے موسمی پرندوں سے یہی توقع تھی۔ ایک عامر کیانی پر افسوس کا اظہار کیا جس نے کہا کہ میرے دادا نے جنگ عظیم اول میں انگریزی فوج میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل کیا ۔حالانکہ یہ غزوہ بدر اور غزوہ ہند کا معرکہ تو نہیں تھا؟۔ جنگ عظیم دوم میں میرے دادا سیدمحمد امیرشاہ کا بھانجا پیر کرم حیدر شاہ شریک ہوا تھا تواس کے زندہ سلامت واپسی کیلئے بڑا بیل نذر میں ماناتھا تاکہ مردار نہ ہوجائے۔ سلیم صافی نے امیر جماعت اسلامی کے منور حسن سے امریکیوں کے اتحادی پاک فوج کے خلاف فتویٰ پوچھا ۔پھراس کو امارت سے ہٹاکرتابعدارسراج الحق کو بنادیاگیا۔
موجودہPDMمیں ن لیگ خوش ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو پاک فوج سے لڑا دیا اور تحریک انصاف کے رہنما دھڑا دھڑ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن اس سے عمران خان مزید مضبوط ہوتا جارہاہے اور کہہ رہا ہے کہ جس کو میں ٹکٹ دوں گا ،اسی کو لوگ ووٹ دیں گے۔ فوج کے خلاف شف شف کرنے والے شفتالو نہیں بول رہے تھے اور عمران خان کے چہیتوں نےGHQ، جناح ہاؤ س لاہور اور قلعہ بالا حصار پشاور میں کاروائی کر ڈالی۔ ہماری قوم بہادروں اور مظلوموں کو بہت پسند کرتے ہیں اور چوہے سے زیادہ کمزور حافظہ رکھتے ہیں۔ پہلے تحریک انصاف کے کارکنوں ، رہنماؤں اور قیادت کو بہادری پر داد کے قابل سمجھا اور جب وہ تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلانات کرنا شروع ہوگئے تو مظلوم سمجھ کر پذیرائی بخشنا شروع ہوگئے۔ انور مقصود کی زبان قوم کی نبض پر رہتی ہے۔ اگر پہلے کسی پروگرام میں مدعو ہوتے تو یہ کہہ کرسامعین کو محظوظ کرتے کہ بلوچ، پشتون، اہل کراچی ، عوام اور سیاستدان ہمیشہ مار کھاتے ہیں ،ابھی تو فوج نے بھی اس کا مزہ چکھ لیا ہے۔ ابPTIچھوڑنے والوں کی مجبوریوں کی عکاسی کرتے ہوئے قوم کے حسِ مزاح کو جگارہے ہیں۔
قوم قائدین کی کتی نہیںکہ فوج سے بنے تو اچھی اور نہ بنے تو بھڑے۔ عوام مہنگائی سے تنگ ہے۔ حکومت کے متضاد کردار کارومانوی پیار دیکھ کر بھڑک جاتی ہے ۔ طالبان تو مذہب کے نام پر خود کش کرتے ہیں اور فوج ملک کیلئے قربانی پیش کرتی ہے۔اگر قوم کرپشن اور بھیک سے نکلے تو حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔
اسد عمر اور زبیر عمر جیسے سیاست میں آئے توARYنیوز نے دونوں کا ایک ساتھ انٹرویو دکھایا۔ ظلے شاہ تحریک انصاف کا سرمایہ تھا مگر ایک طرف عمران خان سے ملاقات کا شرف نہیں ملتا۔ دوسری طرف موت کی وادی میں دھکیل کر مقدمہ عمران خان پر بنادیاگیا۔ تحریک انصاف میں واحد اور بے گناہ زبردست سیاسی رہنما شیریں مزاری کا سیاست کو چھوڑدینا افسوسناک ہے لیکن اس نے رہائی کے بعد وکٹری کا نشان بنایا اور ایمان مزاری نے اس کا ہاتھ زبردستی سے نیچے کردیا، پھر شیریں مزاری نے دوبارہ وکٹری کا نشان بنایا۔ حکومت نہیں ایمان مزاری نے شیریں مزاری کو سیاست چھوڑنے پر مجبور کیا۔فواد چوہدری نے اپنی بچیوں کیساتھ رہائی کے بعد ویڈیو بنائی۔عمران خان کے ایسے بیوی بچے نہیں۔ البتہ جس طرح مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہونے والا کارکن اور رہنما پاک صاف ہوجاتا تھا ،اسی طرح تحریک انصاف چھوڑنے پر رہائی ملے تو اس سے یہ تأثر جاتا ہے کہ اصل جرم عمران خان سے وابستگی ہے ۔
عمران خان سے والہانہ محبت رکھنے والے طالبان کی طرح ہیں، ایک عورت نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہا کہ میرے چار بیٹے ہیں اور چاروں کو طالبان کی طرح عمران خان پر قربان کردوں گی۔شاید حکومت نے عمران خان کو اسلئے چھوڑ دیا کہ لندن میں نوازشریف بھی غیر محفوظ ہوگا۔ عام جذباتی لوگوں پر تشدد کیا جائے تو بلوچوں میں قوم پرستی، پختونوں میں طالبان پرستی کے بعدپھر پنجابیوں میں عمران پرستی اور نظریات پرستی کی بنیاد پر تشدد کا نیا راستہ کھل سکتا ہے اور اب حکومت اور ریاست پر عالمی قوتوں کا دباؤ بھی آ سکتا ہے۔
نہتے لوگوں نے کس طرح فوجی تنصیبات پر حملہ کرکے نذر آتش کیا؟۔اور جن کو گولیاں ماری گئی ہیں،ان کی حیثیت کیا ہے؟۔ غلطی اور سازش کہاں ہوئی ہے؟۔ قوم، سیاسی جماعتیں ، ریاستی ادارے اور حکومت اعتماد کھوچکے ہیں۔ اگر بروقت کسی اور طرف رُخ نہیں موڑا گیا تو نتائج بہت خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔
شیریں مزاری نے بیٹی کی خاطر سیاست چھوڑ دی۔ عمران خان کے ہزاروں کارکن خواتین و حضرات جیل میں ہیں۔ کچھ زخمی، کچھ قتل اور کچھ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلنے کا اندیشہ ہے۔10افراد کی کمیٹی بناکر عمران خان کی پیشکش قابلِ غور ہے ۔ عمران خان کو سیاست سے الگ کرنے کا نقصان ملک وقوم اور جمہوریت، ریاست اور سیاسی جماعتوں سب کو ہوگا۔ اگر فوج در گزر سے کام لے تو الزام آئیگا کہ خود ملوث تھے اور عمران خان کو راستے سے ہٹاکر دم لیا اور حکومت الیکشن کے خوف سے عدالت کو بھی معاف نہیں کرتی جس نے اس حکومت کا راستہ ہموارکیاتھا تو عمران خان کو کہاں معاف کرے گی جس سے موروثی سیاسی کاروبار ختم ہوگا اور اگرعمران خان نے فوجی عدالت یا رضاکارانہ طورپر سیاست چھوڑ دی تو سب کچھ ماند ہو گا۔ ریاست ، عدالت قوم ، حکومت اور اپوزیشن نازک موڑ پر آگئے لیکن اس کا بہت فائدہ بھی ہواہے کہ شعور کی منزل مل گئی۔
فتاویٰ عثمانی سے چند نمونے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کے نام پر انسانیت کیساتھ کتنا بڑا ظلم ہے؟۔ لوگ اتنے جذباتی ہیں کہ کاٹلنگ مردان میں ایک مولوی کو کس طرح جذباتی انداز میں قتل کیا گیا اور پھر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس قتل کی حمایت کررہے تھے۔ حالانکہ علماء حدیث بیان کرتے ہیں کہ ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہے”۔پھر تمام علماء کرام کو منبر ومحراب میں قتل کردیا جائے گا؟۔ نبیۖ کی طرف گناہوں کی نسبت اور علماء کو معصوم سمجھنے کا عقیدہ بلکہ قرآن کے مطابق رب بنانے کا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ گستاخی کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے جذباتی لوگ مشتعل ہوتے ہیں۔
قرآن کی آیت229البقرہ میں خلع کا تصور نہیں بلکہ صلح نہ کرنے کی صورت ہے۔ اس کے بعد نہ صرف آیت230البقرہ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ حلالے کا کوئی تصور نہیں بلکہ دوسری آیات بھی سمجھ میں آتی ہیں کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد صلح کی شرط پر رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ جس سے طلاق و رجوع کے حوالے سے تمام لایعنی تضادات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔کاش علماء حق اس طرف بھی توجہ دے دیں ۔عدالتی اور مقامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک بچیوں کے حقوق کا معاملہ ہر فورم پر اٹھانا چاہیے کہ اگر کم عمری میں باپ یا دادا نکاح کردے تو بلوغت کے بعد بچی کو فسخ نکاح کا حق نہ ہو اور اگر دلال کردے تو بلوغت پر اس کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہو۔ مفتی تقی عثمانی کے دار العلوم کے پیچھے برمی بنگالی عورتوں کی منڈی لگتی تھی۔
علماء ایک طرف عورت کی مرضی ، ان کے سرپرستوں کی مرضی اور عدالتی فیصلے کے باوجود عورت کا نکاح سے جان نہیں چھوڑتے، اگرچہ دوسری جگہ اس کی شادی بھی ہوجائے ۔ دوسری طرف میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں اور علماء صلح کرنے نہیں دیتے ہیں۔ ان دونوں اور غیرفطری فتوؤں کی وجہ سے مسلمان تباہ ہیں اور یہ دونوں صورتحال قرآن کی تفسیر کو غلط رنگ دینے اور ناقابل تأویل آیات کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ سورہ النساء آیت19میں خلع کا قانون ہے لیکن علماء نے صاف اور واضح ترجمہ اور مفہوم کے برعکس غلط مفہوم پیش کیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عورت کو بالکل غیر فطری انداز میں حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عورت حرام کاری پر مجبور کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، درخواستی ، سندھی، لاہوری اور دیگر عجمی عوام کی بالغ لڑکیوں کو کوئی زبردستی اغواء کرلے ، ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو پھر عدالت میں اس لڑکی اور اسکے ورثاء کو خلع کا حق نہیں ہوگا اور اسکا ایک ہی راستہ ہوگا کہ اغواء کار سے طلاق لی جائے۔
مفتی تقی عثمانی کے بارے میں مصدقہ اطلاع تھی کہ اس کی بیٹی نے ٹیوشن پڑھانے والے سے نکاح کرنا چاہا تھا لیکن پھر اس کو مجبور کرکے دوسری جگہ شادی کرائی۔ جس طرح سندھ کے وڈیرے اور عرب بادشاہ اپنی بیٹیوں کا نکاح جائیداد کی وجہ سے مشکل سے کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی ایک بڑے وقف جائیداد کے مالک بن گئے ۔ ایک بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کو بھگت رہے ہیں جس کو مفتی شفیع نے گھر داماد بنالیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی نے کمپیوٹر کی تصویر کو جائز قرار دیا تھا اور مفتی عبدالرؤف سکھروی نے اپنا تقویٰ ثابت کرنے کیلئے مریدوں سے کہنا شروع کیا کہ ”شادی بیاہ میں تصاویر کی ویڈیوز بہت خطرناک گناہ ہے۔ اس طرح لفافے کی لین دین بھی سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے”۔ پھر بینک کے سودی نظام کو بھی مفتی تقی عثمانی نے معاوضہ لیکر جواز بخش دیا ۔ ان کا فتویٰ عیاری ، ان کا تقویٰ عیاری۔ ان کی طریقت عیاری اور ان کی شریعت عیاری۔ اگر پنجابی، سرائیکی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر لڑکی کو کوئی زبردستی اغواء کرلے اور ڈرا دھمکاکر نکاح کرے تو یہ نکاح صحیح ہو اور مفتی تقی عثمانی کی اجازت کے بغیر اسکے خاندان کی لڑکی کا نکاح دوسرے مہاجر سے غیر شرعی ہو اور یہ قوم اتنی بے غیرت بن جائے کہ اس فتوے کو قبول کرے تو ایسے بے غیرت غلامی سے نہیں نکل سکتے ۔ عربی میں غلامی بندگی کو کہتے ہیں۔ ان علماء کے یہ بندے و غلام ہیں۔ جب کمزور طبقہ سے جان نہیں چھڑاسکتے تو عالمی قوتوں سے کیسے جان چھڑائیں گے؟۔ سیاسی جلسے جلوس کیلئے جو سڑک بند کرنا جائز نہیں سمجھتے مگر دارالعلوم کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو سڑکوں پر طلبہ کو نکال دیا ۔ تقی عثمانی بھی اپنی فیس وصول کرکے طلبہ کو جلوسوں میں بھیج سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جلوسوں کیلئے بھاڑہ دیتی ہیں۔PDMاور حکومت کو مولوی طبقہ احتجاج کیلئے ملتا ہے۔مدارس کو اس کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ بنوں اور تربت میںغریب امامِ مسجد کی ماہانہ تنخواہ3ہزارہے جبکہ احتجاج میں دیہاڑی3ہزاردی جاتی ہے۔
آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر بڑی میٹنگ کا اہتمام کریں اور ملک وقوم کو مشکل حالات سے نکالیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

قرآن پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عذاب اورکورکمانڈر ز کے گھر نذرِ آتش اورGHQپر حملہ؟

مفتی تقی عثمانی نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا جس سے اللہ اور اسکے رسول ۖ سے جنگ کو جواز بخشا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے امت کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کیلئے ہمارا شرح صدر کردیا ۔ دیوبندی بریلوی علماء ومفتیان کی سمجھ میں بات آگئی لیکن مقتدر طبقہ عوام کی عزتوں کو بچانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف تو بہانہ ہے لیکن اصل میں یہ قدرت کا نشانہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے صحافیوں نے اردو اور پنجابی زبان میں فوج کو بدنام کرنے کیلئے آخری حدیں عبور کرلیں۔ راشد مراد نے کھریاں کھریاں میں کہا کہ ” فوج نے عمران خان کو دھرنے سے باعزت اٹھانے کیلئے پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ کرایا۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کا واقعہ عمران خان اور جرنیلوں کی باہمی رضا مندی سے کتا اور کتی کے جنسی ملاپ کا تماشا ہوا،پھر لوگ پتھر مارتے ہیں”۔
جنرل عاصم منیر قرآن کے پہلے سید حافظ آرمی چیف ہیں اور حدیث میں اس حافظ کی فضلیت ہے کہ جو قرآن کے حلال و حرام کو سمجھ لے اور اس پر عمل کرے۔ آج اُمت عذاب میں مبتلاء ہے ۔ شوہر تین طلاق دیتا ہے تو جاہل مفتی فتویٰ دیتا ہے کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حلالہ لعنت ہے ۔کچھ ساری زندگی جدائی گوارہ کرلیتے ہیں مگر حلالہ نہیں کرتے۔ کبچھ حرام سمجھ کر بغیر حلالہ رجوع کرلیتے ہیں اور کچھ کسی اہلحدیث یا شیعہ سے فتویٰ لیتے ہیں اور پھر رجوع کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر جاہل مفتی سے فتویٰ لیکر حلالہ کی لعنت کا شکار بنتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا: وقل انی انا النذیر المبینOکماانزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینOعما کانوا یعملونO” اور کہہ دیجئے کہ بیشک مَیں کھل کر ڈرانے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اس کو بٹوارے کرنے والوں پر نازل کیا ۔ جنہوں نے اس قرآن کو ٹکڑے کرڈالا۔ سو قسم ہے تیرے رب کی ہم ان سب سے ضرور پوچھیںگے۔ وہ جو یہ عمل کرتے تھے۔ (الحجر: آیات89سے93)
اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ قرآن کے ٹکڑے کرنے والے حلالہ کیلئے قرآنی آیات کیساتھ کیا سلوک کریںگے؟۔ آیت229کے پہلے حصے کے بعدآخری حصے کو نکال کر کیسے بالکل بلاجواز آیت230کے ساتھ جوڑ دیں گے؟۔ تاکہ حلالہ کی لعنت اور امت مسلمہ کی خواتین کی عزتیں لوٹنے کیلئے راستہ ہموار ہوجائے!۔
آرمی جنرل حافظ سید عاصم منیر اور تمام کور کمانڈرز سے استدعا ہے کہ مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور ہمارے درمیان ملاقات کا اہتمام کرائیں۔ ہم حلالہ و سود کی لعنت سے معاشرتی اور معاشی عذاب کا شکارہیں۔ہماری معیشت اور معاشرت دونوں میں قرآن وسنت کی بنیاد پر انقلابی تبدیلی آجائے گی۔
جب اللہ اور اسکے رسول ۖ کے نام پر شادی شدہ خواتین کو عزت لٹانے پر مجبور کیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے؟۔ بلوچستان، پختونخواہ، پنجاب ، اندرون سندھ اور کراچی میں قرآنی آیات ، احادیث صحیحہ، اصول فقہ اور حنفی مسلک کی درست تشریح وتعبیر سے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگوں کے دل دماغ کھولیں جائیں تو پاکستان کی عظیم قوم پوری دنیا کی امامت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیرکن کانگریس نے تفسیر آخری پارہ المقام المحمود میں سورہ القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر ، فرنٹیئر اور افغانستان میں جتنی قومیں بستی ہیںیہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ پوری دنیا میں اس علاقہ سے ہوگی۔ ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ بہت سارے اہل بیت کے شاگرد تھے”۔
افسوس یہ ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے جس مسلک حنفی کی بنیاد پر قرآن کی طرف رجوع کی دعوت دی تھی تو اس پر ذرہ برابر علماء دیوبند بھی عمل نہ کرسکے اور قرآن واسلام کا حیلہ وحلالہ کے ذریعے بیڑہ غرق کرنے والے مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ آخرکار سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے میں کامیاب ہوگئے۔
اگر سورہ بقرہ آیات222سے232اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ان کا خلاصہ سمجھ لیا جائے تو دماغ روشن ہوگا۔ جس کمالِ ہنر سے دورِ جاہلیت کے سارے مسائل کا زبردست حل نکالا ہے اس کے بالکل برعکس فقہاء ومشائخ نے دورِ جاہلیت سے بھی زیادہ تین طلاق اور حلالہ کے عجیب وغریب مسائل نکال کر امت مسلمہ کو جاہلیت میں دھکیل دیا ہے۔ اسلام نے آخرت سنوارنے کا راستہ بتایا تھا اور علماء ومشائخ نے اسلام کو اپنی دنیا سنوارنے کا ذریعہ بنالیا ہے۔
تبلیغی جماعت کا کام مولانا محمد الیاس نے بہت خلوص سے شروع کیا تھا مگر بستی نظام الدین ہندوستان اور رائیونڈ کے تبلیغی مراکز بھی تقسیم ہوگئے ۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ایک کام ” قرآن کی طرف رجوع” کا بیڑہ مولانا عبیداللہ سندھی نے اٹھایا تھا۔ دوسرے کام ”اتحادِاُمت اور فرقہ واریت کے خاتمہ” کا بیڑہ مولانا محمد الیاس نے اٹھایا تھا۔ مولانا محمدالیاس کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کی وفات سے 3دن پہلے کی تقریر امت کے اتحاد پر تھی۔ حاجی محمد عثمان نے حضرت شیخ الہند کے اتحاد کا مشن مولانا محمد الیاس اور مولانا یوسف کے توسل سے اٹھایا تھا۔ مسجد الٰہیہ، مدرسہ محمدیہ ، خانقاہ چشتیہ، خدمت گاہ قادریہ، یتیم خانہ سیدنا اصغر بن حسین کے ناموں سے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے درمیان توڑ کی جگہ جوڑاتحادواتفاق اور وحدت پیدا کرنے کا پروگرام تھا۔
مولانا عبیداللہ سندھی کے قرآنی انقلاب کی تعلیم بفضل تعالیٰ ہم نے خانقاہ سے شروع کردی تھی۔ شیخ الہند کی تحریک کے اصل وارث حاجی محمد عثمان تھے۔ ہم نے دیوبندیت کا نام استعمال کرنے کو اتحاد امت کے منافی سمجھا تھا۔ تقلید کے خلاف حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے جو کتاب لکھ دی تھی تو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کے فتوے نے علماء دیوبند کو مجبور کیا تھا کہ وہ تقلید کا اعتراف کریں۔ حالانکہ یہ ایک مجبوری میں لکھی جانے والی کتاب تھی جس میں عبدالوہاب نجدی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور جب سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں نے حجاز مقدس پر قبضہ کیا تو دیوبندی اکابر نے اپنامؤقف بدل دیا کہ عبدالوہاب نجدی مقدس ہستی تھے۔ ہم نے غلط فہمی میں مخالفت کی۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” میں جہالت کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ بہت کم علم اور کم عقل انسان بھی ایسی جہالت کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے ” تقلید کو بدعت ” قرار دینے کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن وہ بھی ” تقلید کے متعلق ” یہ بے سروپا بکواس دیکھ لیتا تو پکار اٹھتا کہ ” یہ کیا گمراہ کن باتیں لکھ ڈالی ہیں”۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” جو احادیث موجودہ دور کے بارے میں درج ہیں وہ مفتی تقی عثمانی نے ائمہ مجتہدین کے دور کے بارے میں بطور دلیل پیش کی ہیں۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ” علم آسمان پر نہیں اٹھایا جائیگا بلکہ علماء ایک ایک کرکے اٹھتے جائیں گے، جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیںگے ۔ وہ ان سے فتویٰ پوچھیں گے تو وہ بغیر علم کے جواب دیں گے اور وہ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے”۔ (متفق علیہ)
مفتی تقی عثمانی نے اس حدیث پر یہ بات لکھ دی ہے کہ” ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ چکاہے۔ اگر ان کے بعد کوئی اجتہاد کرے گا تو وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور جو اس کی بات پر عمل کریںگے تو وہ خود بھی گمراہ ہوںگے”۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی یہ بات مان لی جائے تو سود کو جواز بخشنے پرمفتی تقی اور اس کو ماننے والے گمراہ ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے دوسری بات یہ لکھ دی ہے کہ ” عوام کا کام تقلید کرنا ہے اور اگر علماء غلط فتویٰ بھی دیں گے تو علماء کو غلطی پر ثواب ملے گا اور عوام کو نقصان نہیں پہنچے گا”۔ حالانکہ حدیث میں تو واضح ہے کہ جو ان کی مانے گا وہ بھی گمراہ ہوگا۔
مفتی تقی عثمانی نے قرآنی آیت اطیعواللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والی الرسول ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولی الامر ہیں ۔ اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو” کے حوالہ سے لکھ دیا ہے کہ ”اس میں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے علاوہ بعض لوگوں کے نزدیک حکمرانوں اور بعض کے نزدیک علماء کی اطاعت کا حکم ہے۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ علماء ومفتیان کی اطاعت مراد ہے اور علماء ومفتیان سے عوام کو اختلاف کا حق بھی نہیں ہے ، ان کا کام صرف اطاعت ہے۔ آیت میں تنازع سے مراد علماء کے آپس کا اختلاف ہے”۔ تقلید کی شرعی حیثیت میں قرآنی آیت و احادیث کے بارے میں مفتی تقی عثمانی نے جو انتہائی غلط ، خود غرضی اور نفس پرستی پر مبنی باتیں لکھ دی ہیں وہ عوام اور علماء ومفتیان کے سامنے آجائیں تو اس کو گدھا گاڑی چلانے کے علاوہ کسی بھی علمی خدمت کے قابل ہر گز نہیں سمجھیں گے۔
قرآن میں یہودی مذہبی طبقہ کے بارے میں گدھے کی مثال اسلئے دی گئی ہے جن پر کتابیں لاد رکھی ہوں۔جب قرآن کی واضح آیات کو چھوڑ کر تقلیدی مسائل کی جستجو میں اپنا وقت ضائع کیا جائے تو مولانا انور شاہ کشمیری جیسے بڑے مخلص علماء کہیں گے کہ ہم نے قرآن وسنت کی جگہ فقہ کی وکالت میں عمر ضائع کی ہے۔ لیکن مفتی محمد شفیع جیسے لوگ اپنی اولاد کیلئے وقف مال خرید کر دین کی خدمت کو منافع بخش تجارت قرار دیں گے اور ان کی اولاد بھی اسی راستے پر چلے گی۔
مفتی شفیع و مفتی تقی عثمانی نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ جب تک حکومت ، علماء اور عوام بڑے پیمانے پر اُٹھ کھڑے نہ ہوں تو یہ اپنی غلطیاں اعلانیہ مان کر اپنی کتابوں سے نہیں نکالیں گے۔ہم نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے والی بات کو نکالنے پر مجبور کیا تو ” فتاویٰ عثمانی ” میں فتویٰ ڈال دیا ہے لیکن اس فتوے کی پوری داستان ہے اور اس کے پیچھے بڑے حقائق ہیں۔ جس دن واشگاف انداز میں حقائق سامنے آگئے تو انشاء اللہ دنیا میں مجرم کٹہرے میں الگ نظر آئیںگے۔نبی ۖ نے مختلف ادوار کا ذکر فرمایا:نبوت و رحمت کا دور، خلافت راشدہ کا دور، امارت کا دور ، بادشاہت کا دور، جبری حکومتوں کا دور اورپھر دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت کا دور جس سے آسمان وزمین والے دونوں خوش ہوں گے۔ مولانا آزاد، مولانا مودودی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید نے شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان” مولانامحمد یوسف لدھیانوی شہید، ڈاکٹر اسرار احمد نے خلافت کے قائم ہونے کی پیش گوئی کی ۔
نبی ۖ سے پوچھا گیا ”ہمارے پاس یہ خیر آئی۔کیا اس کے بعد شر ہوگا؟۔ فرمایا: ہاں ۔ عرض ہوا کہ اس شر کے بعد خیر ہوگی؟۔ فرمایا: ہاں مگر اس میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ ہوں گے اور اس میں دھواں ہوگا۔ (یعنی اسلام پر اجنبیت کے آثار نمایاں ہوں گے)۔ عرض ہوا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ فرمایا: جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر دعوت دیں گے جو ہماری زبان اور لبادہ میں ہوں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ عرض کیا : ان سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ۔ عرض کیا کہ اگر نہ مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ امام تو پھر؟ فرمایا: سب فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، خواہ درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑجائے”۔
شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ” بدعت کی حقیقت ” میں لکھ دیا کہ ” تقلید چوتھی صدی ہجری کی بدعت ہے اور پہلے تین صدیاں خیر القرون کی ہیں ۔اسلئے تقلید کو چھوڑنا ہوگا”۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے لکھ دیا کہ ” خیرالقرون نبیۖ، حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان کے دور تک تھا۔ حضرت علی کے دور میں فتنہ و فساد کا شر پیدا ہوگیا تھا، وہ بھی پہلے تین ادوار میں شامل نہ تھا”۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ” میں نبی ۖ کے مطابق عمل کا پابند ہوں۔ حضرت ابوبکر وعمر کے نقشِ قدم پر نہیں چلوں گا”۔ حضرت عثمان نے کہا کہ ” میں نبی ۖ ، حضرت ابوبکر وعمر کے مطابق چلوں گا”۔ حضرت عثمان اسلئے شوریٰ کی طرف سے منتخب ہوگئے۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد خلافت راشدہ میں آپس کی لڑائی سے شر پیدا ہوا تھا جس نے خلافت راشدہ سے امارت تک قتل وغارت گری حضرت علی اورحضرت حسین کی شہادت تک دیکھ لی۔ پھر حکمرانوں اور عوام میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ائمہ اہل بیت وائمہ مجتہدین جیسے اچھے لوگ بھی تھے۔ یزید اور امام ابویوسف جیسے برے لوگ بھی تھے۔ جس کا سلسلہ امارت کے دور سے جبری حکومتوں کے آخری دور تک بدستور قائم رہاہے۔ اب ایک طرف مذہبی لبادے میں فرقہ واریت اور جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر بلانے والوں کا حال ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی جماعت اور امام کے قیام کی ضرورت ہے۔
مفتی تقی ورفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق حاجی محمدعثمان کے مرید وخلیفہ تھے۔ خانقاہ میں واقعہ بتایا کہ پیر نے مریدوں کو ہاتھی کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ جنگل میں راشن ختم ہوا۔ کچھ نے ہاتھی کا بچہ ذبح کیا اور پکاکر گوشت کھایا۔ کچھ نے نہیں کھایا۔ رات کو سب سوگئے توہتھنی نے سوتے میں ایک ایک کا منہ سونگھا۔ جنہوں نے گوشت کھایا ، گردن پر پاؤں رکھ کر ماردیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا تو ان کو چھوڑ دیا”۔ مولانا خانقاہ چھوڑ کر گئے تو ”ہاتھی کا گوشت” نام پڑا تھا۔فوجیوں میں سینئر خواجہ ضیاء الدین بٹ تھا جس کو آرمی چیف بنایا گیا لیکن انتہائی ذلت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔اسلئے کہ اللہ والے کو دھوکا دیا تھا۔
حکمرانوں کی سختیاںپہنچیں گی مگر جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اس کیلئے زبان ،ہاتھ اور دل سے جہاد کیااور جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر زبان سے تصدیق کی اور جس نے اللہ کا دین پہچانا ،اللہ کیلئے کسی سے دل میں محبت رکھی اور کسی سے بغض رکھا ،اس کے تمام چھپانے کے باوجود وہ نجات پاگیا، اس کے علاوہ کسی میں رائی کے برابر ایمان نہیں”۔( حدیث :عصر حاضر) ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ جنت کے دروازے پر حسن وحسین ہیں اور صرف حاجی عثمان کی حمایت کرنے والوں کو چھوڑ رہے ہیں، مولانا فقیرمحمد کو بتایا تومولانا فقیرمحمد نے کہا کہ ” علماء کے فتوے کو چھوڑ دو۔ اپنا تعلق حاجی محمد عثمان سے قائم رکھو”۔
نبی ۖ نے ام ہانی سے مشرک شوہر کے تعلق کو حرام کاری نہیں قرار دیا تھا مگر ریورس گیر والے مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی چند ٹکوں کی خاطر علماء دیوبند کی اکثریت پر کیا فتویٰ لگارہے ہیں؟۔ یہ قادیانیوںاوراسرائیل کے ایجنٹ میرشکیل الرحمن ، ڈاکٹر انوارالحق اور جنرل قمر باجوہ پر فتویٰ کیوں نہیں لگارہے ہیں؟۔
ایک گمراہ لوگ ہوتے ہیں جن کو ہدایت مل سکتی ہے اور دوسرے جن پر اللہ کا غضب ہے۔ سوئے کو نیند سے جگایا جائے توجاگ جاتا ہے لیکن جاگا ہوا جب خود کو سویا ہوا ظاہر کرے تواس کو جگانا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ ایک مذہبی طبقہ گمراہ ہوتا ہے جب اس کو ہدایت کا پتہ چلتا ہے تو راستے پر آجاتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہوتا ہے جو جان بوجھ کر حق سے منحرف ہوتا ہے۔ مفتی عبدالرحیم اور مفتی تقی عثمانی کا تعلق اس طبقہ سے ہے جس نے جان بوجھ کر حق سے انحراف کیا۔ کوئی ان سے نام لیکر فتویٰ لے کہ جن فوجی افسران یا میڈیا پرسن کی بیویاں قادیانی ہیں تو کیا ان کا تعلق حرام کاری ہے؟۔ انہوں نے ہمیں کمزور سمجھ کر فتوے دئیے لیکن اللہ تعالیٰ کا بہت شکرہے کہ ہمارا مخالف طبقہ ان کو مان کرخود پر فتویٰ لگارہا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

زرد صحافت، زرد لباس، زرد رومال مہنگائی نے کردیااب قوم کوبدحال

موجودہ حکومت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ازخود نوٹس کی رہین منت ہے۔ عدلیہ کے خلاف طوفان بدتمیزی افسوسناک ہے
آرمی چیف کو بے غیرت بولنا نہیں بنتاہے۔ فرح گوگی کی سہیلی بشریٰ ملک ریاض سے رشوت پر ٹرسٹی نا بنتی تو مسئلہ نہیں تھا

نمرود کی آگ بجھانے والی چڑیا اور بھڑکانے والی چھپکلی بڑا سبق ہے کہ جہاں آگ لگے تو شریف اور کمینے کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے

ایک صحافی نے لکھا تھا کہ” فوج اور نوازشریف کے درمیان اختلاف کی بنیاد مفتی رشیداحمد لدھیانوی( ضرب مؤمن کراچی ) کے خلاف کاروائی تھی۔ مولانا مسعود اظہر تہاڑ جیل ہندوستان سے لکھتاتھا یا ضرب مؤمن میں اس کے نام پر لکھا جاتا تھا؟۔مولانا مسعود اظہر کی یہ فریاد لکھی گئی تھی کہ ”نوازشریف کی ظالم حکومت نے مجاہدین کے گڑھ دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ”۔مفتی رشیداحمد لدھیانوی کا مرید قمر امریکن ایمبسی میں کام کرتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ ”مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور امریکہ کے درمیان جو کردار ادا کیا وہ اُمید نہیں رکھتا کہ اللہ اس کو بخشے گا”۔
نوازشریف بینظیر بھٹو کوامریکی ایجنٹ اور بینظیر بھٹو اس کو اسرائیلی ایجنٹ کہتی تھی۔ جمعیت علماء اسلام قادری کے صدر مولانا اجمل قادری کو نواز شریف نے اسرائیل بھیجا تھا۔ حامد میر نے کہاکہ بینظیر کے ذریعے امریکہ نے طالبان بنائے اورISIبعد میں شامل ہوگئی۔ اسامہ بن لادن نے بینظیر بھٹو کے خلاف نوازشریف کی مدد کی تھی۔ نوازشریف نے ضرب مؤمن کے خلاف اقدام اٹھایا تو فوج سے تعلق بگڑگیا۔ اگر موٹے موٹے یہ تاریخی ڈاٹ ملانا شروع کردئیے تو بہت سارے سربستہ رازوں سے عوام کے سامنے سے پردہ اُٹھ جائے گا۔
مفتی عبدالرحیم کے پاس کرایہ نہ تھا تو شیخ نذیراحمد سے رقم لی؟۔ جوکہتا ہے کہ” میں واحد مولوی ہوں جو فوجی افسران کوہدیہ دیتا ہوںکسی سے لیتا نہیں ”۔ یہ دولت کہاں سے ملتی ہے؟۔ قیدی ڈاکو کی تبلیغ سے اس کاباپ تبلیغی جماعت میں گیا۔ مفتی احمد ممتاز مفتی رشید لدھیانوی کا خلیفہ سودکی لعنت کا مخالف ہے۔
نوازشریف نے پہلے دورِاقتدارمیںکہا کہ” اگر ہم نے قادیانیت کی آئینی ترمیم ختم کی تو پاکستان کا قرضہ اور ساری مشکلات حل ہوجائیں گی”۔ قادیانیوں کے ذریعے اسرائیل اپنے اہداف تک پہنچے گا۔ تنسیخ جہاد، مہدی ومسیح موعود، وفات عیسیٰ اور اسکے باپ کا وجود اسلام اور عیسائیت کیلئے تباہ کن ہے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ فوت ہیں۔ قرآنی دلائل علماء سے لئے۔کہتے ہیں کہ جب عیسیٰ کی آمد سے ختم نبوت پر اثر نہیں پڑتا تو ہم سمجھتے ہیں” ہرفرعون کیلئے موسیٰ ہے” ۔ عیسیٰ جیساکوئی آئیگا ۔ مہدی و عیسیٰ کو ایک شخص ہے۔ قادیانی عیسیٰ کے باپ کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہود سمجھتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی عقیدہ ختم ہوگا۔ مرزا دجال کی سازش سے جہاد منسوخ نہ ہوا مگر سود کو اسلامی کہنے کی سازش مفتی تقی عثمانی اورمفتی عبدالرحیم نے کامیاب کردی۔قادیانی شیعہ سنی فرقہ واریت بھڑکاتے ہیں۔جہاد کا نقصان بتاتے ہیں۔ مفتی عبدالرحیم نے جہاد کے خلاف حدیث بیان کی۔مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نہیں کام کی اہمیت ہے اور وہ ہے اسلامی معاشی، معاشرتی، سیاسی نظام کی منسوخی۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبدالرحیم اس مشن پر لگ گئے۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاست جن علماء کے مذہبی معاملات کے خلاف تھی ،اب وہ نہیں رہی ہے۔ سیاست کو مجنون لیلیٰ کا کھیل بنادیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے دورِ حکومت میں جج نے سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اسکے خلاف اپیل دائر کی۔ نوازشریف کو دوسرے دورِ اقتدار میں دہشتگردی کے گڑھ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے خلاف قدم اٹھانے پر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔ جنرل پرویز مشرف کی جگہ خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تھا تووہ حاجی عثمان کا مرید تھا۔ کورکمانڈر جنرل نصیر اختر سمیت فوجی افسران حاجی عثمان سے بیعت تھے۔ پیپلزپارٹی کے شفیع جاموٹ نے حاجی شفیع بلوچ سے کہا تھا کہ قادیانی خانقاہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بینک کے سود سے زکوٰة کی جگہ سود ی رقم کاٹنی شروع کی تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مخالفت کی لیکن مفتی تقی عثمانی کے پان اور مفتی رفیع عثمانی کے دورۂ قلب کی خاص گولی نے شہادت کی منزل پر پہنچا دیا ۔ مولانا فضل الرحمن اس زکوٰة کو شراب پر” آبِ زم زم کا لیبل ”قرار دیتا تھا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرینڈم کرایا تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا۔ حاجی محمد عثمان نے ریفرینڈم کے فتویٰ کی مخالفت میں رائے دی تھی۔
روزنامہ جنگ میں ” آپ کے سوال اور ان کا حل” کے عنوان سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال ہوا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کتنے چچا اور پھوپھیاں تھیں؟۔ جواب میں لکھ دیا کہ ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چچا نہیں تھے لیکن دو پھوپھیاں (باپ کی بہنیں)تھیں”۔ اس پر احتجاج ہواتھا تو مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے وضاحت کردی کہ ”یہ جواب میں نے نہیں لکھا ہے”۔
جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کی بیوی مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کی پوتی ہے۔ اس نے میر شکیل الرحمن کو ہدف بنایا۔ اس نے کہا کہ میں مسلمان بنتی ہوں، مجھے قادیانیت کے کفر پر مطمئن کرو۔ مولانا یوسف بنوری، مفتی ولی حسن اور مولانا یوسف لدھیانوی کے دلائل سے وہ مطمئن نہ ہوئی تو مولانا لعل حسین اختر کو پنجاب سے بلایا گیا۔ مولانا لعل حسین سے لاجواب ہوگئی تو قادیانیت سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ اصل حال اللہ جانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پھوپھیوں کی خبرسے پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
صحافی ابصار عالم نے صحافت چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور پھر اس کو گولیاں بھی لگیں اور بیٹا بھی مارنے سے معذور ہوگیا ۔ اس نے بتایا کہ ”جنرل راحیل شریف اورDGISIجنرل رضوان اختر نے جنرل قمر باجوہ کا جینا اس کے قادیانی سسر جنرل امجد کی وجہ سے دوبھرکیاتھا۔ اس نے نوازشریف کو جنرل قمر باجوہ کی مظلومیت وبے بسی سے آگاہ کیا تو اس کو آرمی چیف لگایا”۔ پھر جنرل رضوان اختر کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا۔ نوازشریف نے جنرل باجوہ کو خوش کرنے کیلئے قادیانیت کے حق میں ترمیم کی سازش کی۔ جس کا جمعیت علماء اسلام، تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے ساتھ دیا۔ پہلے حافظ حمداللہ اورپھرشیخ رشید احمد نے آواز اٹھائی۔ البتہ ظفراللہ جمالی بلوچ نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دیا ۔
جب تحریک لبیک نے فیض آباد میں دھرنا دیا تو جسٹس فائز عیسیٰ نے اس کو فوج کی سازش قرار دیا تھا۔حالانکہ یہ سارا کھیل جنرل باجوہ کے سسرال کو خوش کرنے کیلئے تھا تو جنرل باجوہ کیسے اسکے خلاف سازش کرتا؟۔ پھر عمران خان بھی ن لیگ کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی کیساتھ کھڑا ہوا۔ اگر قادیانی لابی اور اس کے مخالفین میں گروپ بندی ہے جس پر کیپٹن صفدرذوالفقارعلی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہے۔ ن لیگ جنرل قمر جاویدہ باجوہ کی حمایت اورجنرل فیض حمید کی مخالفت کس بنیاد پر کررہی ہے؟۔عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کیا جارہاتھا تو علی وزیر نے کہا تھا کہ ” کسی اور کی لڑائی ہے جوپارلیمنٹ میں لڑی جارہی ہے”۔ فوجی افسران میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی رشتہ داریاں ہیںلیکن ان رشتوں سے پیدا ہونے والی اولاد پر کیا فتویٰ لگے گا؟۔ حاجی عثمان نے اپنے مرید اصغر علی قریشی سے اس کی قادیانی بیوی چھڑا دی تھی تو آپ کو یہ سزا مل گئی کہ معتقد سے نکاح بھی حرامکاری اور اولادالزنا قرار دیا گیااور مفتی تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی کے ذریعے معروف قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح پڑھایا تو اسکے ذریعے علماء حق کو شکست دے کر شیخ الاسلام کے نام نہاد منصب پر فائز کردیا گیا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے قادیانیوں کو زندیق قرار دیا تھا۔ جو توبہ کرے تو بھی واجب القتل ہے۔ جب مقتدر طبقات میں تقسیم اور ان کی وجہ سے اہم ملکی معاملات اور سیاست میں دخل اندازی ہوگی تو پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی نے ” فتاویٰ عثمانی” میں ایسے فوجی افسران کا بھی ذکر کیا ہے جن کی بیگمات ان کی غیرموجودگی میں حرامکاری میں مگن رہتی تھیں۔ ان کی اولاد کی تعلیم وتربیت اور زندگی پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوںگے؟۔
سودی معیشت کو اسلامی قرار دیا جائے تو اس سے بڑی بدبختی کیا ہے؟۔ اگر اسلام میں نکاح وطلاق اور عورت کے حقوق کا مسئلہ قرآن وسنت سے اجاگر کیا جائے تو قادیانی سچے دل سے مسلمان بن جائیں گے اور یہ یقین کرلیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا اور دجال تھا۔ مہدی اور نبی ہونا توبہت دُور کی بات وہ ایک اچھا عالم دین بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اسلامی معاشی نظام کا خاکہ علامہ سید محمد یوسف بنورینے پیش کیا۔ آپ کے داماد مولانا طاسین نے دلائل سے مزین کرکے مرتب کیا تھا۔ہماری معیشت کا حل یہی ہے۔ جب ہمارا معاشرتی نظام درست ہوگا تو علم وشعور کی بلندی پر یہ قوم پہنچے گی۔ نکاح وطلاق کے مسائل نے عوام کو نہیں علماء ومفتیان کے علم وعمل کا بھی کباڑہ کیا ہے۔
فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، عبوری حکومتوں نے کردار ادا نہیں کیا۔ حکومت نے رینجرزسے عدالت کے شیشے تڑوائے ۔ عدالت پر مولانا و مریم نے چڑھائی کردی حالانکہ حکومت کا کام احتجاج کرنا نہیں عدلیہ کو تحفظ دینا ہے۔ ملکی نظام نالائقوں نے تباہ کیا ۔ تباہی وبربادی سے بچنے کیلئے اسلام کے معاشی ومعاشرتی نظام کی طرف آنا ضروری ہے۔ حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہے ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دینا غلط ہوگا۔
عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا،PTVپر قبضہ کیا، پنجاب پولیس نے منہاج القرآن لاہور میں خواتین سمیت14افراد قتل اور بہت کو زخمی کیا تھا۔برطانیہ نے ملک ریاض سے60ارب پاکستان کو واپس کیا، عمران خان نے ملک ریاض پر مہربانی کی۔ عدالت نے چپ کا روزہ رکھا۔ میڈیا، ریاستی ادارے اور سیاسی خانوادے خاموش تھے۔ملک ریاض کو زرداری نے سندھ کی زمین دی تھی اور ملک ریاض نے لاہورمیںبلاول ہاوس بناکر دیا۔
مریم نواز اور نوازشریف کو ہلکی سزا دیکر جیل میں ڈالا گیا تھا اور پھر نہیں چھوڑوں گا کے بے تاج بادشاہ عمران خان نے پکڑے ہوئے افراد کو چھوڑ دیا۔PDMنے مہنگائی کا رونا رویا اور جب اقتدار میں آگئی تو مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا۔ ہمارا دفاعی بجٹ15سوارب اور سودکا بجٹ5ہزار4سو ہے توپھریہ ملک کیسے چلے گا؟۔ پہلے ملک کے تمام محصولات کے مقابلہ میں دگنا بجٹ تھا اور اب پورے محصولات صرف سودکی نذرہورہے ہیں۔ ملک قرضہ سے چلتا ہے۔ سیاستدان، فوجی ، بیوروکریسی اور میڈیا مالکان وعلماء ومفتیان نے جتنی ناجائز دولت بیرون ملک اورضرورت سے زیادہ اندورون ملک جمع کررکھی ہے ، ان سے قرضے چکائے جائیں اور اسلامی معاشی نظام نافذ کیا جائے تو پھراپنی قوم اداروں ، سیاستدانوں ، صحافیوں اور علماء ومفتیان کی عزتیں بحال ہوں گی۔
کھیتی باڑی کیلئے کسانوں کو مفت زمینیں، باغات کیلئے پہاڑ، رہائش کیلئے بغیرکرایہ مکانات دئیے جائیں۔مزدور، محنت کش ، تاجر، نوکر پیشہ افراد ناجائز ٹیکسوں کے بوجھ سے نکل جائیں۔ ایرانی سستاتیل و گیس ،بھارت کو راہداری دیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ فوج کیخلاف بنی بنائی فضا عمران خان کی قسمت میں آگئی ۔ پنجاب میں نفرت آخری حد کو پہنچ گئی ۔عثمان ڈار کی خواتین کے خلاف پولیس کی روش پر خواجہ آصف نے معافی مانگ لی ۔
صحافی امتیاز گل کے پروگرام میں ممریز خان نے پاکستان سٹیل ملز کو اُٹھانے کیلئے کہا کہIMFسے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں۔ تمام حکومتوں کے کرتے دھرتے کرپشن میں ملوث تھے۔ مافیاز سے جان چھڑائیں۔ منافع بخش ادارے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔قطرہ قطرہ دریا ہے۔ سیاستدان اور ادارے اپنا اُلو سیدھا کرنے کیلئے نہ لڑیں۔ مقتدر طبقہ ہوش کے ناخن لے۔PIA، واپڈا، ریلوے اورتمام اداروں کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ ظالم، جابراورخائن نہیںمضبوط ادارے پاکستان کی ضرورت ہیں۔ فوج و قوم کو لڑانا غلط ہے۔ سیاسی پارٹیاں صلح کریں۔تشدداور الزام نہیں تحمل ودانشمندی کا مظاہرہ کریں ۔ علماء حق ذمہ داریاں پوری کریں۔ انقلاب کا تیارپھل قوم کی گودمیں کرے گا۔انشاء اللہ
عمران خان کو اپنی غیرت کا توازن برقرار رکھنا چاہیے، بیوی تو بیوی ہوتی ہے۔بشریٰ کسی کی بیگم تھی۔جمائما و ریحام پر غیرت کھانا تھی۔رشوت کے پیسوں پر گوگی کی سہیلی کو ٹرسٹی بنایا ہے تو یہ بھگتنا پڑے گا۔ گھریلو خواتین کی کوئی عزت نہیں جو سڑکوں پر احتجاج اور مارکھاتی ہیں ،پولیس کے ہاتھوں گھروں میں بے عزت ہوجاتی ہیں اور جیل جاتی ہیں، حالانکہ انہوں نے کچھ کھایا نہ کمایا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

عدالتی فیصلہ2/3نہیں3/4کا ہے تو پھر اس حکومت نے مختلف قراردادیں پیش کرنے کی منافقت کیوں کی ہے؟

مذاکراتی ٹیموں کو صلیب پر چڑھانے والی لیڈر شپ تثلیث کھل کر خود سامنے کیوں نہیں آتی ہے؟۔ کوئی خفیہ وفیہ ہاتھ نہیں بلکہ سوار ، سواری اور ہنکانے والی قیادت کا آئینہ سامنے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی قیادت مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفی کے نام سے کی تھی۔ مارشل لاء لگنے کے بعد جمعیت علماء اسلام نے بھی رجعت پسند قوتوں کے ساتھ کچھ وزارتیں ہتھیا لی تھیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے بینظیر بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کی تحریک چلائی۔ کیا عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی تو مولانا اسعد محمود ٹیرن وائٹ کے ساتھ تحریک چلائے گا؟۔ جتنی نفرت آج عمران خان سے ہورہی ہے اس سے زیادہ ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف پیدا کی گئی تھی۔ نیولے اور سانپ کی لڑائی میں چڑیوں کاکام نہیں ۔ عوام چڑیوں کی طرح ہیں ۔نیولے اور سانپ میں لڑائی بھڑائی ہو، مار کٹائی ہو، چھیڑ چھڑائی ہو،کھیل تماشائی ہو لیکن خیرچڑیوں کی بھی نہیں ہوتی۔
مولانا فضل الرحمن پر جس طرح کے کارٹون ہیں۔ مذہبی طبقہ بھی سیاسی طبقے کیساتھ شانہ بشانہ مخالفت میں لگا ہوا ہے۔ پشاور اور چارسدہ میں تمام پارٹیوں اورمذہبی و لسانی تعصبات اُبھارنے کے باوجود عمران خان سے بدترین شکست کھائی تو الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اسی وقت سے شروع کیا۔ جمہوریت رائے عامہ ہموار کرنے کا نام ہے ۔13پارٹیوں کا متحد ہوکر الیکشن اور آئین سے جنگلی گدھوں کی طرح بدکنا اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ حکومت الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ہم پہلے سے کہتے تھے کہ جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جنم لیا ہے اور ساری زندگی فوج کی ٹانگوں میں گھس کرگزاری ہے تو کیا70سالوں تک فوجی پتلونوں کے اندر اپنے سروں کے بال گھسانے والے انقلابی بن سکتے ہیں؟۔ کھریاں کھریاں کے راشد مراد نوازشریف کے مخالفین کو جرنیلی سیاست ہزار بار کہے لیکن کینگرو کے بچے کا سب کو پتہ ہے کہ کون ہے؟۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے نظریاتی ساتھیوں کو سائیڈ لائن لگادیا ہے جن کے خلاف لڑنا تھا ،ان کی پیٹھ پر سوار ہیں۔ نواز شریف نے علامہ طاہرالقادری کو غارِ حرا پیٹھ پر لاد کر چڑھایا تھا لیکن پھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں اسکے14بندے مار دئیے اور بہت سارے زخمی کردئیے۔ مولانا سمیع الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد میں سود کے خلاف آواز اٹھانے پر میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا شکار کردیا۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”نوازشریف نے میرے ساتھ وعدے پورے نہیں کئے تو مجھے کب سے اتنا سادا سمجھ لیا ہے کہ نوازشریف پر اعتبار کروں؟۔ جب لوگ جمعیت علماء اسلام کو بڑے پیمانے پر اسمبلی میں بھیجیں گے تب ہی اسلام نافذہوسکے گا”۔ جو نظر آرہاہے وہ آئینہ مولانا کو دکھارہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری اور اسحاق ڈار کی سودی بینکاری میں کیا فرق ہے؟۔مولانا کو ایسی جعلی سیاست، جعلی جمہوریت، جعلی اسلام کے گدھے سے اترنا پڑے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

حسنہ بیگم کی قومی تعلیم کی خاطر امریکہ سے آمد

اسلامیہ کالج کراچی کی بلڈنگ اس کے مالک قریشی صاحب نے تعلیم کیلئے وقف کررکھی تھی!

مالک کی پوتی حسنہ بیگم غاصبوں کیخلاف جنگ لڑرہی ہیں ،انکا ساتھ دینا سب کابڑا فرض ہے

اسلامیہ کالج سے اس شہر کے لاکھوں طلباء نے تعلیم حاصل کی ہے۔ایڈیٹر نوشتہ دیوار ملک محمد اجمل اور نمائندہ نوشتہ دیوار اور ماہر معیشت شاہد علی اسلامیہ کالج کے مالک قریشی صاحب کی پوتی حسنہ بیگم کیساتھ بیٹھے ہیں۔ حسنہ بیگم آج کل امریکہ سے پاکستان آکر ان غاصب قوتوں سے لڑ رہی ہیں جو اسلامیہ کالج میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو بند کر کے اسے فروخت کرنا چاہ رہی ہیں۔
اسلامیہ کالج کراچی شہر کے اہم ترین مقام پر واقع ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی اہم ترین تاریخ وابستہ ہے۔ حسنہ بیگم کے جد امجد قریشی صاحب نے یہ جگہ اسلامیہ کالج کیلئے وقف کی تھی۔ جب حسنہ بیگم کو امریکہ میں پتہ چلا کہ یہاں کراچی میں اسلامیہ کالج کو ایک ساز ش کے تحت عدالتی حکم کے ذریعے طلباء سے خالی کیا گیا ہے تو وہ دستاویزات لے کر پاکستان تشریف لائی ہیں۔
ایک صحافی نے حسنہ بیگم سے10لاکھ روپے کوریج کیلئے مانگ کر صحافیوں کی ناک کٹادی لیکن ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل نے اس کو جھڑک دیا کہ یہ کیا کررہے ہو؟۔ اسلامیہ کالج کراچی کے متوسط طبقے کیلئے وہ علمی درسگاہ ہے جس سے ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ اس سے طلبہ اور تعلیمی سلسلے کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے اندر موجود باضمیر ججوں کو مفاد پرستی سے آزاد عدلیہ کے ذریعے سے ہی عزت وتوقیر مل سکتی ہے۔
ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ سیاستدانوں کو بھی اپنی غلطی دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں بیان جاری کیا کہ لندن ایون فیلڈ کے فلیٹ2005میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی مل بیچ کر2006میں خریدے۔ جس میں کچھ اور دوستوں نے بھی مدد کی اور پھر قطری خط عدالت میں لیکر آگئے اور پھر اس سے بھی مکر گئے۔ مریم نواز نے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرلیا لیکن عدالتوں کے خلاف مسلسل بلیک میلنگ کا بیانیہ جاری ہے۔ عدالتوں نے جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کو تحفظ دینا ہے تو یہ ان کی مرضی ہے یا مجبوری لیکن قوم، ملک اور سلطنت کروٹ بدل رہاہے اور سب تاریخ میں یاد رکھے جائیںگے۔ عدالت کو آزادانہ فیصلے نہیں کرنے دئیے گئے۔ آئین کا قلع قمع کیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں فوج کو بھی نکیل ڈال دی جائے گی۔
ہمیں ایسے اشرافیہ سے کوئی ہمدردی نہیں جو ایکدوسرے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوں لیکن پاکستان میں جتنے بھی ریاستی ادارے ہیں ان کا ایک آزاد اور مثبت کردار ملک وقوم کی سخت ضرورت ہے۔ جمہوری سیاسی جماعتیں آئین، عدالت اور الیکشن سے بھاگ رہی ہیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ عمران خان ایک بے سدھ اور بے اعتبار انسان ہے ۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو جتنی گالیاں عمران خان اور شیخ رشید نے دی ہیں وہ تاریخ میں ایک بہت بڑی مثال ہیں لیکن آج اپنے تھوکے ہوئے کو چاٹنے پر مجبور ہیں اور یہی تو جمہوریت کی خوبی ہے۔ تحریک انصاف کا سارا سوشل میڈیا چوہدری پرویز الٰہی کو گالیاں دیتا تھا لیکن کسی میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ عمران خان کو بول سکے کہ تم نے چوہدری کیساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اسلئے کہ جب اس کوPDMنے وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا تہیہ کرلیا تو آپ نے اس پر ہلہ بول دیا۔ پھر اس کو اسمبلی توڑنے پر بھی مجبور کردیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو برا بھلا کہنا تھا تو اپنے ساتھ بٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟۔ یہ چوہدری پرویز الٰہی کی شرافت تھی کہ اس نے پنجاب میں اپنی حکومت کو عمران خان کی امانت قرار دیا۔ حالانکہ یہ عمران خان کی خیانت تھی کہ چوہدریوں کے درمیان بھی دراڑ ڈال دی اور حکومت کو بھی ختم کرادیا۔
چوہدریوں کے گھر کی بے عزتی کے پیچھے اگر مریم نواز اور نوازشریف نہیں تھے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی؟۔ ہماری قوم اس قدر بے حس بن چکی ہے کہ ایک کھلاڑی کو سب سے مقبول سیاستدان بنادیا لیکن اس میں ایک طرف موجودہ سیاسی جماعتوں کا منافقانہ کردار ہے تو دوسری طرف کرکٹ کے چھکے اور چوکے پر لوگ دورۂ قلب سے موت کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں لیکن کسی عزتدار عورت کی عزت لٹ جانے سے ان بے غیرتوں اور بے ضمیروں کو دورے نہیں پڑتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت کے نام پر بھی عزتیں لٹتی ہیں اور شیخ الاسلام سود کو اپنی اماں سے زنا کے برابر گناہ کہہ کر بھی عالمی سودی نظام کو چند ٹکوں کی خاطر جواز فراہم کردیتا ہے۔ نبی ۖ نے دجال سے زیادہ خطرناک ایسے قائدین اور حکمرانوں کو قرار دیا ۔ جس کا حوالہ مفتی رفیع عثمانی کی کتاب ” علامات قیامت اور نزول مسیح ”میں موجود ہے۔ ہمارا مقصد زور دار طریقے سے دستک دینا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv