پوسٹ تلاش کریں

Review of Few shariah problems selected from familiar books Fiqa e Hanfia. Zandan Maseed

(کی ورڈ: فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامی، فتاویٰ عالمگیری ، Zandan Maseed)

حنفی فقہ کی مشہور کتابوں سے چند شرعی مسئلے ملاحظہ کریں۔
مولویوں کی جہالت ملاحظہ فرمائیں: زانڈان ماسید( محسود)فیس بک آئی ڈی

ہم مسلمانوں پر فقہاء کرام کے بیش بہا خدمات و احسانات ہیں جو بھلانے کے قابل نہیں ۔ دن رات دنیاوی مشاغل کو ترک کرکے قرآن و حدیث سے جو استنباط ان لوگوں نے کیا انکی نظیر نہیں ملتی یہاں تک آتا ہے کہ رات کو علمی مجلس لگتی مسئلے پر بحث ہوتی صبح کی اذان ہوتی یہاں تک مسئلے کا صحیح استنباط کیا جاتا ۔
ذیل میں حنفی مذہب کی مشہور کتابوں سے چند مسئلے بطور مثال سطور میں رقم کرتا ہوں تاکہ آپ لوگوں کو فقہائے کرام کی ان عظیم خدمات اور انمول کاوشوں کا پتہ لگ جائے کہ قرآن و حدیث سے لاکھوں مسائل کیسے نکالے جاتے ہیں ۔ بظاہر تو قرآن و حدیث چند کتابیں ہیں پر مولوی صاحب جو کروڑوں کے بجٹ کے کتب بتا رہا ہے اسکا پتہ لگ جائے کہ یہ مکتبے اور لائبریریاں خالی نہیں ان میں کیسے کیسے نوادرات ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ انجانے مولوی صاحب کے سچ کو جھوٹ کہہ کر گناہ کے مرتکب ہوجا ۔
1: جس نے کسی دوسرے شخص کی بیوی کو پیچھے سے استعمال یعنی دبر میں جماع کیا یا لڑکا استعمال کیا تو اس پر حد نہیں ۔ فتاوی قاضی خان
( جلد 3 صفحہ369 )
2 :اگر کوئی بادشاہ زنا کرے ، شراب پئے یا قتل کرے اس پر کوئی حد نہیں ۔ عالمگیری 2/151( ۔قاضی خان 3/478 ۔ھدایہ کتاب الحدود 2 /448 )
3: عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک تھوک جیسی ہے ۔( شامی جلد1صفحہ 236)
4: اگر چھوٹی بچی ، جانور یا مردہ عورت سے کوئی جماع / ہمبستری کرے دخول ہوجانے پر پانی نہ نکلے تو غسل واجب نہیں ۔
( فتاوی عالمگیری 1/15)
5:جس نے اپنے ساتھ زنا کیا یعنی اپنے پچھواڑے میں اپنا شتر مرغ داخل کیا اور انزال نہیں ہوا تو غسل واجب نہیں ۔
(درمختار 1/31 )
6:نماز کی امامت وہ کرے جس کی بیوی خوبصورت ہو اس کے بعد اس کا سر بڑا ہو اسکے بعد اسکا شتر مرغ یعنی اندام مخصوصہ چھوٹا ہو۔ (طحطاوی و درمختار 1/82 )
7:جس نے کسی چھوٹی بچی سے جماع کیا اور قابل جماع نہ تھی اور اندام مخصوصہ پھٹ گئی تو اس پر حد نہیں ۔
(فتاوی قاضی خان 3/469)
8: اگر کوئی تشہد کے آخر میں سلام سے پہلے پاد مارے اور ہوا خارج کرے تو اسکی نماز کامل ہے ۔
(منیہ المصلی ۔صفحہ 123 )
9:اگر کسی نے عورت کو کرایہ پر لیا اور اسکے ساتھ زنا کیا تو حد نہیں ۔( 3/468)
10:اگر کسی نے عورت سے زنا کیا اور بعد میں کہا کہ یہ میں نے خریدی ہے تو اس پر حد نہیں۔( فتاوی عالمگیری 1/151)
اوپر ذکر کئے گئے مسائل میں اگر کوئی مسئلہ غلط ہے اور مذکورہ کتابوں میں نہیں ہے تو نشاندہی کرنے پر ڈلیٹ کردینگے ۔قاری الطاف ادیزئی
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01 syed ateq ur rehman gillani _zarbehaq.com_zandan maseed)

The broadcasting institutions BBC &VOA, are part and parcel of war against terror policies: Akhtar khan.

(کی ورڈ:بی بی سی، وائس آف امریکہ،مولانا سلیم اللہ خان، Zandan Maseed)


مریکہ اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور وائس آف امریکہ، جنگی پالیسی کا حصہ ہیں: اختر خان

گزشتہ دس گیارہ سالوں سے( BBCاورVOA)ڈیوہ مشعل کو بہت قریب سے دیکھ اور سن رہے ہیں انکا کاروبار،رپورٹنگ جنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ جنگ جاری رہے گی انکا کاروبار چلتا رہے گااور جنگ بندتو انکا حساب بند ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ امریکہ اوربرطانیہ کا دہائیوںسے سب سے بڑا کاروبار رہا ہے اسلحہ بیچنے میں آج بھی امریکہ پہلے نمبرپر37% ہے۔ انکو یہ اسلحہ بیچنے کیلئے دوسرے ممالک میں جنگیںبرپا کرنی پڑتی ہیں۔ جنگوں کیلئے ماحول سازگار بنانے عوامی ذہن سازی کیلئے انہوں نے اپنے مخصوص پروپیگنڈہ ریڈیوز رکھے ہیں۔ جو ان ممالک کے اندرونی بدترحالات پر بات نہیں کر سکتے لیکن پاکستان اور افغانستان کیلئے دن رات ایک کیے ہوتے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں زہر گھولنا انکا صبح سے شام تک وطیرہ رہتا ہے۔
اپنے ان دوستوں جو ان ریڈیو سٹیشن کیساتھ منسلک ہیں معذرت کیساتھ کہ ہمارا اختلاف آپکے ساتھ نہیں، بلکہ آپکے ادارے کے ملک اور انکی جنگی پالیسی کو آپکے ادارے کے اور آپکے زریعے جس طرح پھیلایا جاتا ہے ھمارا اختلاف اس سے ہے۔ ہر اس رپورٹ کی قیمت دونوں اداروں کے رپورٹرز کو زیادہ ملتی ہے جس میں زہریلا پن زیادہ ہو، جس میں جنگ و جدل یا نفرتوں کا پرچار زیادہ ہو۔ جس سے ملکوں میں انارکی پھیلے وہ رپورٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔
خطے (افغانستان+پاکستان)کیلئے دونوں ممالک کی مستقبل کی پالیسی انکے چینلز کی منافقت سے خود اخذ کریں۔ یہ ایک طرف پشتون قوم پرستوں کی تحریکوں کو بڑھاوہ دیکر جنگی(Conflict)والی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان و پاکستان میں طالبان کے حملوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ عوام میں ایک جنگی صورت حال اور افراتفری والی سوچ قائم ہو۔اور جنگ کا ماحول ہر حال میں بنا رہے۔
لہٰذا ان چینلز کا بائیکاٹ کرکے جنگ کے اصل کرتا دھرتاؤں امریکہ اور برطانیہ کی انسان دشمنی اورپشتون دشمنی کو پہچانیں۔ انکو ایکسپوز کریں۔درمرجان وزیر
زانڈن ماسید(Zandan Maseed)اور اخترخان کی تائید
دنیا کو فتح کے طالب، مجاہد اور مولوی کو اپنی کتابوں سے خرافات نکالنے کی توفیق کیوں نہیں ؟۔ علماء اپنی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑائیں۔ فوج کی قیادت کا امریکہ کوہاں کرناغلط تھا لیکن عالمی بینکنگ کے سودی نظام کو جواز فراہم کرنا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کیلئے کیسے جائز تھا؟۔ صدر وفاق المدارس مفتی محمود، مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کی مگرسبھی ناکام تھے۔وائس آف امریکہ کے شمیم شاہد(shamim shahid) نے جیوچینل کی طرح ہمارا پروگرام نشرنہیں کیا۔ اختر خان نے ٹھیک لکھا کہ چینلوں کے ملازموں سے گلہ نہیں مالکان جنگ کی فضاء پیدا کرنے میں بہت مگن ہیں۔
اگر مذہبی اورقوم پرست طبقات برطانیہ اور امریکہ کے نشریاتی دجالی میڈیا کو سمجھ جائیں اور آپس میں لڑنے مرنے کے بجائے صلح ، انسان دوستی ، خدا پرستی اور عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام تشکیل دیں تو دجالی میڈیا کا کردار بالکل یہاں سے ختم ہوجائے گا۔ خوبصورت کالے تیتروں کا مقابلہ فقط آوازوں سے ہوتا ہے اور ہم بھی کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں اور کردار ہوتا بھی ہے تو شیطانی۔سید عتیق الرحمان گیلانی
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01 syed atiq ur rehman gillani akhtar khan)

Hafiz Hussain Ahmed of JUI states that Molana Fazal-ur-Rehman handed over JUI rented out to PML N.

چھوٹے سے دارالخلافہ کوئٹہ میں تبدیلی کے اثرات خطے پر پڑیں گے
جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ ن کو رینٹ پر دی ہوئی ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
کوئٹہ(quetta) میںبلوچ(baloch)، پختون (pakhtoon)اور ایک چھوٹی آبادی ہزارہ برادری(hazarabradri) کی ہے۔ کوئٹہ میں سب سے زیادہ ہمارے اخبار کا کام ہوا ہے۔ بلوچستان (balochistan)کے دینداروں اور قوم پرستوں میں تقسیم کی بنیاد اس وقت پڑگئی جب اکثریت نے جمعیت علما اسلام کو جمہوری بنیادوں پر بڑے پیمانے پر ووٹ دیا ۔ مفتی محمود
(mufti mehmood) اور ولی خان(wali khan) نے دینداروں، جمہوریت پسندوں اور قوم پرستوں کو دھوکہ دیا۔ جہاں جمعیت علما اسلام کی اقلیت تھی وہاں صوبہ سرحد میں مفتی محمود نے وزیر اعلی کا منصب سنبھال لیا جہاں جمعیت علما اسلام کی اکثریت تھی وہاں بلوچستان میں سردار کا درجہ نیچے اور نواب کا اوپر ہوتا ہے۔ غوث بخش بزنجو (ghuos bakhsh bizanjo)بابائے جمہوریت کی موجودگی میں نواب خیر بخش مری (nawab khairbakhsh marri)کو بھی وزیرارعلی بنانا درست نہ تھا لیکن سردار عطا اللہ مینگل (attaullah mengle)کو نوازا گیا۔ بلوچ فطری طور پربہت اچھے لوگ ہیں اسلئے جمعیت علما اسلام کے حق پر نواب، سردار اور جمہوریت پسندوں کے درمیان وزیر اعلی کیلئے کوئی لڑائی نہیں ہوئی پھر ذوالفقار علی بھٹو(zulfaqar ali bhutto) نے شبِ خون مارکر بلوچستان میں گورنر راج قائم کرکے جمہوری حکومت کا خاتمہ کردیا۔ نواب اکبر بگٹی (nawab akbar bugti)گورنر بنادئیے گئے اور جعلی جمہوریت کا خاتمہ کردیا گیا۔آج بلوچستان اسلام اورجمہوریت سے محروم ہے اور قوم پرستی کے نام پر قسمت بھی خراب ہے۔ مفتی محمود(mufti mehmood) صوبہ سرحد کے وزیراعلی تھے تو خیبر پختونخواہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی جمہوریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی۔ علما اکثریت سے محروم ہونے کے باجود اقتدار کا خواب دیکھنے لگے تو دہشتگردی کی جڑیں پڑ گئیں ۔ پھر مولانا فضل الرحمن (fazal rehman)بندوق اٹھانے کی بات کرتے تھے۔ پختونخواہ میں اپنی سیٹ ایک دفعہ ہارتے اور دوسری مرتبہ جیتے مگر بلوچستان کی جمعیت علما اسلام ہمیشہ حکومتوں میں شریک اقتدار ہوتی تھی جہاں سے بڑی نفری اور کرپشن کے مزوں نے علما کی عادت بہت خراب کردی تھی۔
جے یو آئی کے قدآوررہنما حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ ”مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علما اسلام مسلم لیگ ن کو رینٹ پر دی ہوئی ہے”۔ بلوچستان کی عوام میں نوابی اور سرداری نظام بھی بڑی حد تک مضبوط ہے۔ بدقسمت عوام نے اپنے دین کو علما ومفتیان کے سپرد کردیا ہے۔ مسلک حنفی میں تقلید کی کوئی گنجائش نہیں۔ فقہ حنفی (fiqqa e hanfi)میں اصولِ فقہ میں احادیث کے مقابلے میں قرآنی آیات پڑھائی جارہی ہیں جن سے احادیث صحیحہ کو رد کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ اس کا بہت بڑا فائدہ بھی اس امت کو اسلئے پہنچا ہے کہ احادیث کے ذخائر میں قرآن کے خلاف سازش اور بڑا بیہودہ موادہے۔ قرآنی آیات کا بکری کے کھا نے سے ضائع ہونے کی احادیث اورحضرت عائشہ (hazrat ayesha)پر صحیح بخاری میں یہ تہمت کہ بڑے آدمیوں کو اپنا محرم بنانے کیلئے اپنی بہن کادودھ پلا دیتی تھیں۔ حالانکہ دودھ پلانے کا مخصوص وقت ہر وقت نہیں ہوتا کہ بچہ ہو یا نہ ہو مگر عورت میں دود ھ ہو۔ جب یہ تک لکھا گیا ہے کہ بڑے آدمی کو دودھ پلانے اور رجم کی آیات بکری کے کھا نے کی وجہ سے ضائع ہوگئیں تو حضرت عائشہ پر بہن کا دودھ پلانے کے حوالہ سے بہتان میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟۔ مسلک حنفی کی تقلید اسلئے بہت بہترین رہی ہے۔
اب جدید تعلیم کا سلسلہ بڑھ گیا ۔ علما کی بڑی تعداد بھی مدارس سے فضیلت کی دستاریں باندھ رہے ہیں۔ عربی کی سمجھ بوجھ میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ قرآن واحادیث کے تراجم بھی موجود ہیں۔ ایسے میں علما کرام اور لکھی پڑھی عوام کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اسلام کی بنیادی تعلیمات کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں رہی ہے۔ مولانا طارق مسعود، علامہ امین شہیدی اور مفتی شاہ حسین گردیزی دیوبندی،شیعہ اور بریلوی علما نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کی ہے۔ اہل تشیع بار بار چیلنج اور واضح کرچکے ہیں کہ ہماری کسی کتاب میں قرآن کے چالیس پارے اور بکری کے کھاجانے سے آیات ضائع ہونے کی کوئی روایت نہیں۔ مفتی طارق مسعود نے کہا کہ” علامہ امین شہیدی کے کہنے پر معلوم ہوا کہ شیعہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کے پارے بکری کے کھانے کا عقیدہ نہیں رکھتے ”۔ سعودی عرب میں ہم نے ابن ماجہ کی روایت کتب خانے میں موجود علما کو دکھائی جو شیعہ پر قرآن نہ ماننے کا الزام لگارہے تھے تو وہ حیران ہوگئے کہ سنیوں کی یہ احادیث ہیں؟۔
کوئٹہ میں بڑے علما ، سرکاری افسران اور تعلیم یافتہ طبقات کی مدد سے فرقہ واریت اور شدت پسندی پر قابو پانے کیلئے مرکزی سطح سے علاقائی سطح تک ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جس سے فرقہ واریت اور شدت پسندی کے ناسور کا خاتمہ ہوجائے تو اس کے اثرات افغانستان(afghanistan) اور ایران (iran)پر بھی پڑجائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن،مولانا محمد خان شیرانی(molana sherani) اورحافظ حسین احمد(hafiz hussain ahmed)، سپاہ صحابہ (sipah e sahaba)اور شیعہ(shia) ، بریلوی(barailvi) اور اہلحدیث (ahlehadic)علما سے ایک مثبت گفتگو کیلئے وقت لیا جاسکتا ہے۔ حکومت اور ہماری ریاست بھی بھرپور تعاون کرے گی۔ مدارس کے نصاب(madaris ka nisab e taleem) تعلیم کے حوالے سے مولانا محمد خان شیرانی(molana khan sherani) نے مجھ پر( 2004) میں بھی اعتماد کا اظہار کیا تھا جس کو میں نے اپنی کتاب” آتش فشاں” (aatish fishan)کے سرورق پر اندر کی طرف سے جلی حروف میں واضح کردیا تھا۔ بڑے عرصہ سے فقہی لایعنی مسائل کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر علما اور عوام کو حقیقت کا پتہ چل جائے تو انقلاب بھی آجائے گا۔ غسل کے تین فرائض بتائے جاتے ہیں ۔ منہ بھر کر کلی کرنا، ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا۔ یہ فرائض مسلک حنفی کے ہیں۔ شافعی مسلک والے پہلے دوفرائض کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں سنت سمجھتے ہیں۔ تین میں سے دو فرائض پر اتفاق نہیں ہے اور تیسرے فرض پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانے سے مالکی مسلک میں فرض ادا نہیں ہوگا جب تک کہ مل مل کر جسم کو نہ دھویا جائے۔ گویا کسی فرض پر بھی اتفاق نہیں اور جوفرائض رسول کریم ۖ اورخلفا راشدین کے ادوار میں نہیں تھے ان کو ایجاد کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں ہے کہ لا تقربوا الصلو وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون Oوالا جنبا الا عابری سبیل حتی تغتسلوا” اور نماز کے قریب مت جا، جب تم نشے کی حالت میںہو یہاں تک کہ تم سمجھو جو کچھ تم کہتے ہو اور نہ حالت جنابت میں مگر جب کوئی مسافر ہو، یہاں تک کہ نہالو”۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ مسافر پر غسل فرض ہو تو بھی اس کیلئے تیمم سے نماز کی گنجائش ہے۔ نماز پڑھنے کاحکم اوراجازت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ حضرت عمر (hazrat umer)نے گنجائش سے فائدہ اٹھایا اور نماز نہ پڑھی اور حضرت عمار(hazrat ammar) نے تیمم (tayammum)سے نماز پڑھ لی ۔ نبیۖ (nabi pak)نے دونوں کی تصدیق فرمائی جو قرآن کی تفسیر ہے۔ پھر بھی حضرت عبداللہ بن مسعود(abdullah bin masood) اور حضرت ابوموسی اشعری(hazrat abu mussa ashra) کے درمیان اس مسئلے پر صحیح بخاری(sahi bukhari) میں اختلاف وتضاد(ikhtilaf o tazad)اور مناظرہ(manazra) نقل کیا گیا۔
اللہ نے فرمایا کہ” جب تم نماز پڑھنے کیلئے اٹھو تودھو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور پیروں کو ٹخنوں تک اور اگر تم جنابت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ فقہا نے اس پر اختلاف کیا کہ خوب پاکی سے کیا مراد ہے؟۔ حالانکہ وضو کے مقابلے میں نہانا ہی خوب پاکی ہے۔ حضرت عمر نے قرآن کے اوراق مانگے تو بہن نے کہا کہ پہلے غسل کرلو ۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ نہانا سب کو آتا تھا، عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں۔
بریلوی عالم علامہ شاہ تراب الحق قادری نے فقہی مسئلہ نکالا کہ” رمضان کے روزے میں جب پاخانہ کرو تو اپنے پاس کپڑا رکھو۔ استنجا کے بعد مقعد سے جو آنت نکلتی ہے جو پھول کی طرح ہوتی ہے ،اس کو اندر جانے سے روکو اور پہلے کپڑے سے سکھا، پھر اندر جانے دو۔ اگرایسا نہیں کیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
ہم نے اپنے اخبار ضرب حق کراچی (zarbehaq)میں اس کو تنقید کا نشانہ بنایا تو بریلوی علما نے بھی ساتھ دیا لیکن دعوتِ سلامی والے کسی کی سنتے نہیں ہیں اسلئے ان کے مفتی صاحبان بعد میں بھی لگے ہوئے تھے کہ ” استنجا کرتے وقت سانس بھی نہیں لینا۔ اگر پانی کا قطرہ گیا تو آنت سے معدے تک پہنچ جائیگا اور روزہ ٹوٹ جائیگا”۔
پہلے فقہا نے جہالت پر مبنی مسائل بنانے کیلئے خرافات گھڑنے کی کوششوں میں اپنی عمریں ضائع کردی تھیں اور اب جاہل اس پر عمل کیلئے بھی آمادہ ہوگئے۔ کوئٹہ میں اگر بلوچ، پشتون اور ہزارہ برادری نے مل کر شعور بیدار کیا تو اس کے اثرات کابل وقندھار(qandahar)،تہران وقم ، اسلام آباد(islamabad) ولاہور (lahor)، ملتان(multan) وپشاور (peshawar)اور حیدر آباد(hedrabad) و کراچی (karachi)کے علاوہ دنیا بھر پر پڑجائیںگے۔
(syed atiq ur rehman gillani)(zarbehaq)(navishta e diwar)

Pakistan’s most courageous politician Usman Kakar and party leader of Pashtunkhwa Milli Awami Party passed away.

پاکستان کے بے پناہ جرأت کے مالک سیاستدان پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ رحلت فرماگئے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
پاکستان کے (pakistan)مایہ ناز ہردلعزیز ، بے پناہ جرأت کے مالک سیاستدان پختونخواہ ملی عوامی پارٹی(pmap) کے منفرد، اپنی ذات میں یکتا رہنما عثمان کاکڑ(usman kakar)اس دارِ فانی سے رحلت کرگئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور اپنی جوارِ رحمت میں عظیم مقام عطا فرمائے۔ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ پاکستان کے تمام سیاسی کارکنوں کیلئے عظیم رہنما کی وفات بڑا خلا ہے جو پورا نہ ہوسکے گا۔ انا للہ و انا الیہ راجعونO
محترم عثمان کاکڑ کی تصاویر چند دن پہلے فیس بک پر دیکھی تھیں ۔ معلومات کی کوشش بھی نہیں کی۔ مندرجہ بالا کلمات وفات کی خبر کے بعد لکھے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ گھر میں چوٹ لگی تھی ۔ پھر پتہ چلا کہ سوشل میڈیا(social media)پرافواہ پھیلائی جارہی ہے کہ ان کو سازش سے قتل کیا گیا ہے۔ اسلئے کوئٹہ(koita) میںاپنے ذرائع سے معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ کل میری پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اہم کارکن سے بات ہوئی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ یہ گھر کا معاملہ ہے۔ محمود خان اچکزئی(mehmood khan achakzai) ایک بہادر شخصیت ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی پارٹی کا اہم ترین رہنما سازش کی بنیاد پر قتل کیا جائے اور وہ خاموش رہیں۔ اگر کوئی سازش تھی تو پہلے سے (FIR )درج ہونی چاہئے تھی۔ عثمان کاکڑ کھل کر بولتے تھے اور عاصمہ جہانگیر(aasma jhangir) بھی بہت کھل کر بولتی تھیں۔ خواہ مخواہ کسی معاملے کو سازش کا نام دینا ملک و قوم کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں ہے۔ پاکستان کے ریاستی نظام پر تنقید اور اصلاح کی کوشش درست ہے لیکن غلط افواہوں کے ذریعے اپنی قوم میں بدظنی کی فضاء پیدا کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ محمود خان اچکزئی اس سلسلے میں کردار ادا کریں اور درست کو درست غلط کو غلط کہنے کی روایت سے انقلاب پیدا کریں۔
میری ایک مرتبہ محترم محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ سے اسلام آباد(islamabad) میں اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب جمعیت علماء اسلام نے دھرنا دیا تھا۔ہمارا گروپ فوٹو بھی کسی کے پاس ہوسکتا ہے۔ اگر اچکزئی صاحب مولانا فضل الرحمن(molana fazalrehman) سے وہ باتیں کردیتے تو شاید انقلاب(inqilab) کیلئے (PDM)بنانے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔
(syed atiq ur rehman gillani)(zarbehaq)(navishta e diwar)

Through the source of king of kohsar, Waziristan, reforms are expected in Afghanistan, pashtoon nation, Pakistan and the entire world.

بادشاہ کوہسار وزیرستان سے افغانستان ، پختون قوم، پاکستان اور دنیا کی اصلاح ہوسکتی ہے؟

تحریر :سید عتیق الرحمان گیلانی
صحافی انوار ہاشمی (anwaar hashmi)نے وزیرستان (waziristan)پر اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ” جب انگریز پر حملہ کرنے کا افغانستان نے اعلان کیا تو وزیرستان کے لوگ بھاگتے ہوئے انگریز اور اس کی مقامی فوج کو بہت جانی نقصان پہنچاسکتے تھے لیکن مقامی قبائل نے صرف مال ہتھیانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تھی”۔ یہ اصول ہے کہ انسان میں شر کم اور خیر کا مادہ زیادہ ہے۔ امریکہ سے تختِ لاہور تک دنیا اس دوڑ میں لگی ہے کہ انسانوں کے خون بہانے کے بجائے اپنے مالی مفادات ہی حاصل کئے جائیں۔ غزوۂ بدر کی بنیاد بھی قافلہ لینے سے شروع ہوئی تھی اور مشرکینِ مکہ نے خانہ کعبہ کو پوجا پاٹ سے زیادہ اپنا مرکز تجارت بنالیا تھا۔ اللہ کی طرف سے بھی حج و عمرے میں مالی منافع اُٹھانے کی بات بالکل واضح ہے۔
طالبان دہشتگردوں سے مسلمانوں اور دنیا کو اسلئے نفرت ہوگئی کہ خونی کھیل کا آغاز کردیا گیا۔ امریکہ سے بھی نفرت اسلئے دنیا کررہی ہے کہ عراق اور لیبیا (lebya)کو تیل پر قبضہ کی وجہ سے ہی تباہ کرکے امت مسلمہ کو خون میں نہلا دیا گیا ۔ امریکہ (america)کے افغانستان سے نکلنے کے بعد افغانی اپنے اقتدار کی خاطر خون کی ہولی کھیلنے لگے ہیں جس سے ملحقہ علاقے زیادہ متأثر ہوںگے اور یہ آگ پورے خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سوات سے وزیرستان، بلوچستان اور افغانستان تک کے پختون اس کھیل سے بہت زیادہ متأثر ہوں گے۔
دہشتگردوں سے مسلمانوں اور دنیاکو اسلئے نفرت ہوگئی کہ خونی کھیل کا آغاز کردیا گیا۔ امریکہ سے دنیا نفرت اسلئے کررہی ہے کہ عراق(iraq) اور لیبیا کو تیل کی وجہ سے تباہ کرکے امت مسلمہ کو خون میں نہلادیا گیا۔ امریکہ کے افغانستان (afghanistan)سے نکلنے کے بعدافغانی اپنے اقتدار کی خاطر خون کی ہولی کھیلنے لگے ہیں۔ جس سے ملحقہ علاقے متأثرہونگے اور اب یہ آگ پورے خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے
امریکہ نے یہودی کمپنیوں کیلئے اسلحہ کے کاروبار کو فروغ دیناہے اور امریکن فوج نے منشیات (munshiat)کی فیکٹریاں بناکر دنیا میں ہیروئن کا منافع بخش کاروبار کرنا ہے۔
پاکستان کو حکمرانوں نے اپنی اپنی تجوریاں بھرکر کاسہ لیسی پر مجبور کیا ہے۔ بھاری بھرکم سودی قرضے اور بیرون ملک اشرافیہ کی جائیدادیں اس بات کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں کہ ملک قوم سلطنت کو کہاں سے کہاں پہنچایا جارہا ہے؟۔ قومی ترانے گانے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ جس کو ملک سے ہمدردی کا ہی دعویٰ ہو تو وہ اپنے بیرون ملک اثاثہ جات اور بال بچوں کو یہاں پر بلائے۔ ان لوگوں کو عدالتی (court)، سیاسی اور دفاعی وانتظامی عہدوں پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، جن کی آل اولاد اور جائیدادیں باہر ہوں۔جنرل کیانی(genral kiani)، جسٹس فائز عیسیٰ (julstice faiz essa)، نوازشریف(nawaz sharif)، شہباز شریف(shehbaz sharif) ، عمران خان (imran khan)بھائی، بیوی، بیٹے اور بیٹی سبھی کو پاکستان لے آئیں۔ سارے پختون یہ فیصلہ کرلیں کہ جن کی باہر جائیدادیں ، کاروبار اور آل واولاد ہیں تو ان کو اپنی سیاست سے بے دخل کرنا ہے۔ اسکے اثرات پاکستان بلکہ اس خطے ایران، افغانستان اور ہندوستان پر بھرپور طریقے سے پڑیں گے۔
پختونوں کی تاریخ میں پیرروشان(pir roshan) بایزید انصاری(ba yazeed ansari) کا بڑا نام ہے۔ ہمارے وزیرستان کے سب سے اونچے پہاڑ کا نام ”پیر غر”(pir ghar) یعنی پیر پہاڑ ہے۔ پیروں کیسیاست کا مقام افغانستان سے ہندوستان تک موجود تھا۔ میرے داد سید امیر شاہ(syed ameer shah) کو محسود قبائل(mehsood qabail) نے افغانستان میں وفد کا سربراہ بناکر بھیجا تھا کہ انگریز کے خلاف ہم ایکدوسرے سے تعان کرینگے۔ جسکا ذکر (Emperial Frontiar) کتاب میں کسی انگریز ی جاسوس نے لکھ دیا۔پھر بیٹنی قبائل کا وفد میرے دادا کے بڑے بھائی سیداحمد شاہ (syed ahmed shah)کی قیادت میں کابل پہنچ گیا تھا، جن کو افغانستان کے بادشاہ نے بہت سارے تحائف اورنقدی پیسوں سے بھی نواز دیا تھا۔
محسود قبائل کا وفد عظیم مقصد کی خاطر میرے دادا سیدامیرشاہ کی قیادت میں گیا تھا جس میں انگریز کے خلاف صرف باہمی تعاون تھا۔ پہلے لوگ اقدار کے بڑے پابند ہوتے تھے۔ سید احمد شاہ کے بیٹے سیدا یوب شاہ افغانستان میں اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے اور فقیر اے پی(faqeer ap) مرزا علی خان (mirza ali khan)کے خطوط بھی آپ نے لکھے تھے جس کے بڑے سیاسی لوگ بھی جھوٹے دعویدار بن گئے تھے ۔
پیر بوڑھا، پیر طریقت ، سید ۔ مری ملکہ کوہسار تووزیرستان کوہسار کا شاہ ہے، رنجیت سنگھ(ranjeet singh) سے ابتک یہ ملک تباہ ہوا۔
کسی رافضی نے گدھوں کا نام ابوبکر و عمر رکھا ۔ گدھے نے لات سے ماردیاتو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ جسکا نام عمر رکھا تھا اسی نے ماراہوگا،یہ نام کااثر تھا۔(مفتی زرولی خان)(mufti zarwali khan) پریغال(preghal) کے معنی کٹا ہوا چور۔پیر غر کا معنی سردار پہاڑہے۔ پیر غرچوروں کا بسیرا نہیں ہے بلکہ دنیا(world) کی سیادت (tourism)کیلئے ہے
پرے کٹے ہوئے اور غال چور کو کہتے ہیں۔ پیر غر کے نام کو پریغال میں تبدیل کرنے کا محرک زبان کے تلفظ میں غلطی کا نتیجہ ہے۔ نام کا اثر ہوتا ہے۔ کسی رافضی نے اپنے گدھوں کے نام ابوبکر وعمر رکھے تھے۔ جب ایک گدھے نے رافضی کو لات مار کرڈھیر کردیا تو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ جس گدھے کا نام عمر رکھا ہوگا اسی نے قتل کیا ہوگا، پھرپتہ چلاکہ بات وہی تھی۔(مفتی زرولی خان)
انگریز دور اور بعدتک پیر غر کے سائے میں بسنے والے محسود ایریا دنیا کاسب سے پر امن علاقہ ہوتا تھا، جہاں پر لوگوں کو چوری، ڈکیتی اور قتل وغارت کا کوئی اندیشہ نہیں تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت بدلتی گئی۔ چوری اور پھر ڈکیتی کے ادوار نے علاقے کا امن وامان کافی خراب کردیا۔ آخر کار محسود قوم نے لشکر تیار کرکے چور اور ڈکیت کے گھروں کو مسمار کردیا۔
محسود ایریا دنیا کا سب سے پرامن علاقہ ہوتا تھاجہاں پر لوگوں کو چوری،ڈکیتی اور قتل وغارت کاکوئی اندیشہ نہ ہوتا تھا، پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت بدلتی گئی،چوروں، ڈکیتوں نے امن وامان کافی خراب کردیا تو قومی لشکر کے ذریعے چور اور ڈکیت کے گھروں کو مسمار کردیا۔امریکہ وپاکستان نے اپنے لئے طالبان بنالئے تو لوگوں نے بھی اپنے بچاؤ کیلئے اپنے طالبان بنائے لیکن اب حالات بدلے ہیں۔
وزیرایریا شمالی وزیرستان میں طالبان نے بڑے بڑے ڈکیتوں کا خاتمہ کردیا اور پھر آخر کار محسود ایریا میں بھی طالبان نے بسیرے ڈال دئیے۔ اس وقت دنیا کے مسلمانوں اور پاکستان کے لوگوں کو طالبان سے بڑا پیار تھا مگر چور اور ڈکیتوں نے طالبان کا روپ دھار لیا اورانہوں نے اپنی کاروائیاں شروع کردیں۔ لوگوں نے اپنے بچاؤ کی خاطر اپنوں کوبھی طالبان بنایا۔ امریکہ اور پاکستان سے لیکر گھروں ، خاندانوں تک ہی اپنے مفادات کی خاطر طالبان بنانے اور سپورٹ کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو اس جنگ میں شیطان کو بڑا فائدہ ہوا مگراسلام ، مسلمان، انسانیت اور علاقائی رسم ورواج کا ستیاناس کردیا گیا۔ کچھ لوگ اپنے بچاؤ کی خاطر طالبان کے سپوٹر بن گئے اور کچھ چوروں اور بدمعاشوں نے طالبان کے نام پر بڑے پیمانے پر بھتہ خوری کی مہم چلانی شروع کردی۔ آج بھی ایسے بے غیرت لوگ طالبان کے نام پر ہیں جو بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ سیٹل ایریا کے بہت لوگ علاقہ گومل کو چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی ، پنجاب، پشاور ، اسلام آباد اور بلوچستان تک نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔ پاک فوج کو اس بات کے خطرات رہتے ہیں کہ جن بھتہخوروں کی ماؤں کے شناختی کارڈ ہیں اور باپوں کے کارڈ نہیں ہیں ، ان کی تصاویر تک بھی نہیں۔ تو اگر فوج انکے خلاف کوئی کاروائی کرے تو (PTM)والے اٹھتے ہیں کہ مسنگ پرسن کو عدالت کے حوالے کرو۔ (CTD )پولیس چھاپہ مارتی ہے تو بھتہ خور دھمکیاں دیتے ہیں کہ شکایت سے ہمارے گھروں کی بے عزتی کردی۔ اگرکوئی بہادر سامنا کرنے لگتا ہے تو بھتہ خور معافی مانگنے کیلئے بھی آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ایسے بھتہ خور اپنی عورتوں کو چلارہے ہوں تو بھی بعیدازقیاس نہیں ہے۔
محسود قوم قابل اعتماد ہے اگر ان پر بھروسہ کرکے اسلحہ دیا تو اپنے علاقہ کے امن وامان کی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر رسک نہیں لے سکتے اسلئے ان کے ہاں جنگ اور آپریشن کا کوئی معاملہ نہیں ہے جبکہ محسود کسی بڑے مقصد کی خاطر رسک لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت وریاست محسود ایریا کے امن وامان کیلئے محسود قوم پر بھرسہ کرکے اسلحہ دینے میں دیر نہ لگائے!
قوم کو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ فوج کی طرف سے بھتہ خوروں کو کھلی چھوٹ ہے یا فوج واقعی (PTM)کے احتجاج اور عوامی دھرنوں سے ڈرتی ہے یا پھر دونوں آپس میں مل بیٹھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کا ملی بھگت سے ڈرامہ کررہے ہیں؟۔ وزیرستان کے قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبرز اور سینٹرز بھی صرف فوج اور عوام کے اعتماد کیلئے کچھ مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں لیکن اصل مسائل کا حل کوئی پیش کرنے کو تیار نہیں ہے یا اس کی اہلیت نہیں رکھتا ہے؟۔ محسود قوم سب سے زیادہ مسائل کا شکار اسلئے ہے کہ ان میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دہشت گردوں ،فوج اور سیاستدانوں کے سامنے سرنڈر نہیں۔ مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے تو حالات کی خرابی کے ذمہ دار بھی وہ خود ہیں۔ جنوبی وزیرستان وزیرایریا میں آپریشن ہوا اور نہ لوگوں کا ماحول ڈسٹرب ہوا۔ فوج اور طالبان کے سامنے وزیرقوم سرنڈر ہے۔ محسودقوم کی خوبی ہے کہ اجتماعی فیصلے کے ذریعے برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس دن محسود قوم کی طرف سے اجتماعی فیصلہ کیا گیا کہ بھتہ خوروں، دہشت گردوں اور امن ومان کی صورتحال کو خراب کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنی ہے تو فساد کو جڑوں سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ محسود قوم مختلف تنظیموں ، جماعتوں اور گروہ بندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ جس دن محسود قوم نے اپنی روایت پر عمل کیا تو ان کی دنیا بدل جائے گی۔ محسود قوم کی فطرت میں دھوکہ اور فراڈ نہیں۔ اگر پاکستان کی حکومت اور فوج نے ان کو اسلحہ کی اجازت دیکر علاقے کا امن انکے سپرد کردیا تو وہ اپنے لئے سب سے پہلے قربانی دیں گے۔ البتہ وزیر قوم کا تعلیمی ادارہ واوا زندہ باد اور محسودقوم کا ادارہ ماوا مردہ برباد ہے۔ وزیر قوم کی یہ خامی ہے کہ مولانا نور محمدشہید کو بھٹو دور میں جیل کے اندر ڈال دیا گیا تو ان کے خلاف پروپیگنڈہ کامیاب ہوا۔ محسود قوم کی یہ خامی ہے کہ اگر وہ اپنے چور یا ڈکیٹ کا ذکر کرتے ہیں تو بھی بہت اہمیت دیکر پیش کرتے ہیں۔
تمام پختونوں کے مسائل کا حل یہ ہے کہ علماء اور دانشور طبقہ باہمی طور پر مل بیٹھ کراسلام کے سادہ اور عام فہم مسائل پر ایکدوسرے کا دل ودماغ کھولنے میں مدد کرے۔اسلام کے نام پرقتل ان کابہت بڑا مسئلہ ہے۔ علماء ومفتیان شدت پسندی کے جذبات سے بالکل عاری تھے۔ تصویرسے لیکر گانے بجانے، عورتوں کے شرعی پردے اور داڑھی منڈانے تک منکرات کا کوئی اثر ان پر نہیں پڑتا تھا۔ ملالہ یوسفزئی کہتی ہے کہ دوپٹہ ہمارے پختون کلچر کا حصہ ہے اور(16)سالہ ارفع کریم فخرِ پاکستان مسلمان کی بیٹی تھیں۔ پنجابن پنجابی نہیں بول سکتی تھی مگر امریکن انگلش اچھی بول سکتی تھی۔ ملالہ کو طالبان کی گولی لگ گئی تو نوبل انعام کے باوجود بھی ہمیشہ گالیوں کا شکار تھی ۔اگر وہ ارفع کریم کی طرح ایک فیصل آباد کے فوجی کی بیٹی ہوتی تو شاید اتنی گالیاں نہ کھاتی۔ پشتون قوم کیلئے یہ بہت بڑا اعزاز ہوگا کہ اگر وہ اسلام کی بنیاد پر اپنی زمینوں کو مفت میں مزارعین کو کاشت کیلئے دیں اور جب اپنے مالک کو زمین کی ضرورت ہو تو مالکان خود کاشت کریں یا کسی اورکو دیدیں۔ یہ خوشحالی اور اسلام کی اولین بنیادہے
۔ملالہ بھی مسلمان ہے اور (16)سال کی عمر میں فوت ہونے والی ارفع کریم بھی تھی پنجابی نہیں مگر امریکن انگلش بڑی مہارت سے بولتی تھی ۔جو فیصل آباد کی پنجابن اور کرنل کی بیٹی تھی،دونوں فخرِ پاکستان ہیں لیکن ملالہ کو اسلئے گالیاں کھانا پڑرہی ہیں کہ وہ پنجابی اور کسی فوجی کی بیٹی نہیں ہے! سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں اسلام کے بہت بڑے اور مغرور کھلاڑیوں کو قوم کیساتھ اپنا کھلواڑ بند کرنا پڑے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کی طرح اسلامی سوشلزم کی بنیاد پر ایک نظام کا اعلان کیا تو پختونخواہ کے باشعور علاقوں میں مزارعین نے مالکان کی زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ جس کی وجہ سے مالکان اور مزارعین میں جنگ وجدل کی فضاء شروع ہوگئی۔ آج تک ان ناچاقیوں کو دور نہیں کیا جاسکا۔ غنی خان کا فرزند بھی اس فضاء کی وجہ سے ایک مزارع کے ہاتھوں شہید ہوا۔ اگر اسلام کا قانون ہوتا تو جن خانوں، نوابوں اور اربابوں کی بڑی بڑی زمینیں تھیں ان کو خود ہی کاشت کرنی پڑتیں اور بچی کچی بڑی بڑی زمینیں مزارعین کومفت دینی پڑتیں تو پختون ایک دوسرے کیساتھ اس اعلیٰ قانون کی وجہ سے بہت شیر وشکر ہوجاتے۔
اگر پختون عورت کو اس کا شوہر اسلام کے مطابق اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دیتا اور اس حق مہر کی مالکن پشتون عورت خود ہوتی تو پھر ظلم وجبر اور معاشرے کی غلط رسوم ورواج کا خاتمہ کرنے میں دیر نہیں لگتی ۔ غلام اورلونڈی کا نظام تو دورِ جاہلیت اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے رائج تھا۔ جنگوں میں لڑاکو مردوں کو پکڑ کر غلام بنانا ممکن نہیں ہوتا ہے اور نہ دشمن پر کوئی اتنا اعتماد کرسکتا ہے کہ گھر کے فرد کی طرح اس کو غلام بناکر رکھا جائے۔ اسلام نے لونڈی اور غلاموں کا نکاح کرانے کا حکم دیا تھا۔ نکاح میں عورتوں کو نان نفقہ سے لیکر انصاف فراہم کرنے تک سب چیزوں کی ذمہ داری مردوں پر رکھی ہے۔ دو دو، تین تین، چار چار تک عورتوں سے قرآن میں نکاح کی اجازت ہے لیکن اگر عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک عورت یا جنکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔ قرآن و سنت کی تفصیلات میں یہ بات طے ہے کہ جہاں لونڈیوں اور غلاموں کو معاہدے کی ملکیت کا تصور دیا تھا وہاں آزاد عورتوں سے بھی معاہدے کی ملکیت کا تصور دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک نے باہمی تحفظ کی خاطر ایک طرف قانونی نکاح کی سخت شرائط رکھی ہیں تو دوسری طرف گرل وبوائے فرینڈز کی اجازت دی۔ اگر مسلمان قوم اسلام پر عمل کرکے اپنے معاشرے کو اُجاگر کرتی تو پھر مغربی معاشرہ اس قدر بے راہروی کا شکار نہ ہوتاکیونکہ اسلام نے حق مہر کی صورت میں عورت کو تحفظ دیا ہے۔
ہم مغرب سے جنسی بے راہروی کی بنیاد پربہت نفرت کرتے ہیں جبکہ ہمارا معاشرہ ان کو جنسی بے راہروی کی وجہ سے قابلِ رحم نظر آتا ہے۔ چھوٹے چھوٹیبچوں پر بہت سی ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔ کچرہ اُٹھانے والے اور کم عمری میں محنت مزدوری کرنے والے،مدارس ، جہادی تنظیموںاور یتیم خانوں میں بھی جنسی زیادتیوں کی شکایات عام ہیں۔حال ہی میں لاہور کے ملا نے کھلبلی مچائی ہے۔
اسلام بڑا جامع اور مانع معاشرتی نظام دیتا ہے لیکن اسلام کی طرف دنیا نے مذہبی طبقات سمیت کبھی رجوع تک بھی نہیں کیا ہے۔ حضرت آدم و حوا سے اللہ نے کہا تھا کہ ” اس شجر کے قریب مت جاؤ”۔ اس شجر سے مرادشجرہ نسب جنسی تعلق تھا، عربی میں اکل کھانے کو بھی اور گنگھی کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں جس طرح باشراور لامستم کا لفظ جنسی تعلق کیلئے استعمال ہوا ہے جو براہ راست اور چھولینے کوبھی کہتے ہیں۔اسی طرح اکل کے معنی جنسی تعلق کیلئے ہی استعمال ہوا ہے۔ اللہ نے بنی آدم کو مخاطب کیا کہ” شیطان تمہیں ننگا نہ کردے جس طرح تمہارے والدین کو ننگا کرکے جنت سے نکلوادیا تھا”۔(القرآن)
دنیا کو یہ خوف ہے کہ اگر مسلمانوں نے دوبارہ خلافت قائم کرلی تو لوگوں کے ماں ، بہن ، بیٹیوں اور بیگمات کو لونڈیاں بنادیںگے ۔اسلئے پاکستان ، افغانستان اورکشمیر کونشان عبرت بنانے کے چکر میں ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لائیں تو بھی اس سے دستبردار نہیں ہونگے، اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز یہی ہے”۔ افغانستان وکشمیر کے درمیان پاکستان کو کچلنے کی تیاری ہے اور اگر ہم نے بر وقت ہوش کے ناخن نہیں لئے تو نہ صرف پختون بلکہ دوسری قومیں بھی تباہ وبرباد کردی جائیں گی۔ اسلام مردہ ضمیرقوموں کو زندہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر پختونوں نے اپنی ضرورت سے زیادہ زمینیں کاشت کیلئے غریب مزارعین (formers)کو مفت میں دینا شروع کیں تو اس سے پختون بھائی چارے کی بنیاد پڑے گی اورمسلمانوں کی سربلندی میں دیر نہیں لگے گی اور ملحدوں کے تلخ لہجے کا بھی علاج ہوگا۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو اسلامی سوشلزم (socialism)کا اپنا نظریہ خیبر پختونخواہ کی جگہ سندھ میں نافذ کرتا بلکہ سندھ پر اسلام نافذ کرتا تو اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب پورا ہوجاتا!
سودی نظام کے ثمرات یہ ہیں کہ لوگ بھوک وافلاس سے آخری حد کو پہنچیں گے تو عزت نفس سے لیکر ہر چیز بیچنے پر مجبور ہوجائیںگے۔ اگر ہم نے پہاڑوں اور میدانوں میں محنت کشوں کو باغات اُگانے کی اجازت دیدی تو بھی ہمارے پہاڑی اور میدانی علاقے جنت نظیر بن جائیں گے اورغریب امیر اور امیر امیر تر بن جائیں گے۔ فقہ کی کتابوں میں کتاب الطہارت سے لیکر آخری کتابوں تک سادہ فہم اسلام کو جس طرح فقہاء نے غلط انداز میں گنجلک بنادیا ہے اگر ہم نے معاملہ فہم انداز میں ان کو پیش کردیا تو دنیا بھر سے طلب علم کیلئے لوگ ہمارے ہی پاس تشریف لائیںگے۔ غسل کے تین فرائض اور تین مرتبہ طلاق کی حقیقت سمجھ میں آگئی تو مذہبی طبقات کے ہوش ٹھکانے آجائیںگے کہ علم کے نام پر کس طرح کی بدترین جہالتوں کا شکار ہیں؟۔ جب علمی بنیادوں پر شکست کا اعتراف ہوگا تو معاملات کو آسانی کیساتھ سمجھنے اور سمجھانے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔
ہم وثوق کیساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوام وخواص ، مذہبی و کامریڈ طبقہ ،جدید اور قدیم تعلیم یافتہ طبقہ سب کے سب ایک پلیٹ فارم پر د ل وجان سے اکٹھے ہونگے اور استحصالی طبقات کو نچلی سطح سے عالمی سطح تک زبردست شکست کا سامنا کرنے کے بعد ہماری امامت بھی دنیا بھر میں قبول کرنی ہوگی۔ اسلام نے دورِ جاہلیت کو شکست دی تھی تو موجودہ باشعور دور میں اس کی طاقت بہت بڑھ گئی ہے لیکن ہم نے اسلام کو خود فطرت کیخلاف بنانے میں اپناکردار ادا کیا ہے۔
جانی خیل (jani khail)بنوں (bannu)میں ایک ماہ سے زیادہ وقت ہوا کہ ملک نصیب خان کی میت کا دھرنا جاری ہے۔ حکومت کا کام ریاست اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کام ہوتا ہے لیکن موجودہ حکومت اپوزیشن کو ریاست سے لڑائی کی فکر میں رہتی ہے۔ سلیم صافی (saleem safi)نے سوشل میڈیا پر اپنا دردمندانہ فکر اور تجزیہ پیش کردیا ہے۔صحافیوں کا کام اپنی تشہیر نہیں بلکہ قوم، ملک ، سلطنت ، علاقائی اورخطے کے مسائل کا حل ہو
معروف صحافی سلیم صافی نے جانی خیل بنوں وزیرقبائل کے دھرنے کی بھی شکایت کردی ہے کہ انہوں نے ایک مہینے سے ایک ملک نصیب خان(malik naseeb khan) کی لاش کو رکھا ہوا ہے اور وہ پہلے دھرنے میں دفن کرنے والے بچوں کی لاشوں کو بھی قبروں سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایمل ولی خان(aimel wali khan)، منظور پشتین(manzoor pashteen)، محسن داوڑ (mohsin dawar)جانی خیل دھرنے میں اظہارِ یکجہتی کیلئے پہنچ چکے ہیں لیکن حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں نہیں جاسکا ہے۔ حکومت ریاست اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے لیکن عمران خا ن کی حکومت اپوزیشن کو فوج سے لڑانے میں اپنی عافیت سمجھ رہی ہے۔ پنجاب، پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بٹھائے ہوئے ہیں۔اپوزیشن درست کہتی ہے کہ جعلی حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔
سلیم صافی نے افغانستان کی داخلی صورتحال اور امریکہ کے کردارپر خوب روشنی ڈالی ہے اور افغانستان کی بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کے اثرات پاکستان(pakistan) پر بھی پڑنے کا نہ صرف اپنی طرف سے اظہار کیا ہے بلکہ ملٹری لیڈرشپ (militry leadership)کو بھی اس میں سنجیدہ مگر بے بس قرار دیا ہے۔ باجوڑ (bajaur)سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی (jamateislami)کے رکن قومی اسمبلی کی طرف سے بھی گڈ و بیڈ طالبان پر رونے کاحوالہ دیا ہے۔
جب سندھی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا تو سندھیوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ سندھ کے حریت پسندوں نے انگریز کے خلاف بھی لڑائی لڑی اور پاکستان کے حق میں بھی سب سے پہلے قرارداد منظور کی تھی۔ پورے سندھ میں سندھی زبان کو بولنے اور لکھنے پڑھنے کو بہت لوگ سمجھ رہے ہیں۔ سرکاری اور لازمی زبان سندھی بھی ہے۔ اگر پختونوں نے قرآن کے موٹے موٹے احکام کو آیات کی مدد سے سیکھ اور سمجھ لیا تو پختونوں کی تقدیر بدلنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ بڑے بڑے معتبر علماء کرام نے فرمایا ہے کہ پختونوں کو عورتوں کا حق نہ دینے کی دنیا میں سزا مل رہی ہے۔ مدارس کی تعلیم میں عورتوں کے حقوق کا دور تک بھی کوئی تصور نہیں۔ معروف ٹک ٹاک پرسن حریم شاہ کی ویڈیوز نے بڑا تہلکہ مچادیا تھا۔ اس نے کسی مولوی مثلاًمولانا طارق جمیل سے شادی کی خواہش ظاہر کردی ہے۔ وہ بھی مدرسے کی تعلیم وتربیت یافتہ ہے۔ صابرشاہ اور اس جیسے بہت زیادہ بدکردار اور بگڑے ہوئے طلباء کی مدارس میں کوئی کمی نہیں ہے۔مولانا صاحبان میں بھی بگڑے ہوئے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہوسکتی ہے۔
جب شاہ ولی اللہ (shah waliullah)نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان کو دوسال تک روپوش رہنا پڑا تھا اسلئے کہ ان پر قرآن کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے کفر اور واجب القتل کا فتویٰ لگادیا گیا تھا۔ پھر جب ساری زبانوں میں قرآن کے تراجم ہوگئے تو آخر میں غرشتو سے کسی عالم دین نے پشتو میں بھی قرآن کا ترجمہ کردیا جس پر پختون علماء نے اس پر کفر کے فتوے لگادئیے تھے۔ مدارس میں زیادہ تعداد پہلے پختون طلبہ کی ہوتی تھی مگراب مدارس ایک منافع بخش کاروبار بھی بن گیا ہے اسلئے سب طرح کے لوگ بڑے پیمانے پر مدارس کے نام سے بڑی بڑی بلڈنگیں کھڑی کی جاری ہیں۔ جس میں دین کی خدمت سے زیادہ دنیاوی مفادات اور کاروبار کے معاملات کارفرما ہیں۔ پختون گھبرائے اور شرمائے نہیں بلکہ اپنانصاب درست کرکے دنیا بھر کے لوگوں کیلئے ادارے کھول کر دین اوردنیا کی دولت کمائیں۔ (syed atiq ur rehman gillani)

Why I was expelled? Pay respect to vote! Nawaz Shareef. Why I was expelled? Pay respect to Mufti. Mufti Aziz-ur-Rehman.


Mufti Aziz-ur-Rehman, Mufti, Nawaz Shareef, Pay respect to vote, Mujhe q nikala, Nawaz Shareef, Nawaz Shareef, Pay respect to vote, Mujhe q nikala..

مجھے کیوں نکالا؟ ۔ ووٹ کو عزت دو: نواز شریف
مجھے کیوں نکالا؟۔ مفتی کو عزت دو: مفتی عزیز الرحمن

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوازشریف نے پارلیمنٹ میں ایون فیلڈ کااعتراف کیا مگر عدالت میں مکر گیا، مفتی عزیز Mufti Aziz-ur-Rehman الرحمن نے اعترافِ جرم کیا اب دیکھنایہ ہے کہ مفتی عزیز بھی یہ واویلا کرتا ہے کہ نہیں کہ
مجھے کیوں نکالا؟ داڑھی کو عزت دو

ویڈیوکے بعد یہ حکم دیا گیا:پس نکل جا !جامعہ منظور ال so اسلامیہ، جمعیت علماء اسلام، وفاق المدارس سے، بیشک تو مردود ہے۔ استاذ ملائکہ ابلیس سے کہا گیا تھاکہ فاخرج انک رجیم

so ابلیس جنت میں فرشتوں کیساتھ تھا ۔ اللہ کی نافرمانی پر شیطان سے کہا گیا کہ فاخرج انک رجیم ”پس نکل جا! بیشک تو مردود ہے”۔ نافرمانی پر اللہ نے آدم و حواء کو بھی جنت سے نکالا۔ قرآن نے حکم so کو اتنی رازداری سے بیان کیا ہے کہ لوگوں کو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ درخت گندم کا تھا یا کسی اور چیز کا؟۔ مفتی عزیز الرحمن so اگر گناہ سے باز آتااورمدرسہ چھوڑ دیتا تو مدارس و داڑھی والوں کو بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن یہ ضد کہ ”مجھے so عہدے پربحال رہنا ہے” نے اس کو بدنام کردیا اور پھر وفاق المدارس پاکستان ،جمعیت علماء اسلام اور جامعہ منظورالاسلامیہ لاہور کینٹ نے اس کو نکال دیا۔

Mufti Aziz-ur-Rehman

ابلیس کی وجہ سے فرشتوں کو بدنام کرنا غلط ہے اور حضرت آدم و حوا so سے نافرمانی ہوئی تھی۔ البتہ انہوں نے جنت سے نکالنے پر جھوٹ نہیں بولا بلکہ اپنے گناہوں so پر اللہ سے معافی مانگی تھی۔ مدارس مذہبی تعلیم ہی Mufti Aziz-ur-Rehman کا نہیں بلکہ پاکستان اور دنیا میں خواندگی اورناداروں کی کفالت کی لاجواب (NGO,S)ہیں۔ کسی شخص یا چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کرنے کی روایت غلط ہے ۔ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔ so حامد میر نے جنرل رانی کا ذکر کیا تو الیکٹرانک میڈیا میں اس پر پابندی لگ گئی ۔

Mufti Aziz-ur-Rehman

سوشل میڈیا پر so جنرل رانی کی کہانی عرصہ سے چل رہی تھی۔مولانا سمیع الحق کو Mufti Aziz-ur-Rehman سبزی کی چھریوں سے شہید کیاگیا لیکن ان کو اتنی اہمیت نہ ملی۔ مذہبی طبقے سمیت چند افراد کی وجہ سے کسی بھی طبقے کو نشانہ بنانا غلط ہے ۔ تنقید سے کوئی so بالاتر نہیں اور جس کا جتنا بڑا درجہ اور عہدہ اس کی نالائقی پر اسکے Mufti Aziz-ur-Rehman خلاف نفرت کا اظہار معمول کی بات ہے۔ عزازیل کی ڈھٹائی نے ابلیس کو

test

لعین so بنادیا اور آدم کی توبہ نے شرافت کے اعزاز کودوچند کردیا۔ صفحہ Mufti Aziz-ur-Rehman نمبر2اور دیگر صفحات پر حقائق دیکھ لیں۔
میرے وطن میرے بس so میں ہو، تو وزیر کو تختہ دار کردوں
میں کھینچ کر حاکموں so کو در در شہر شہر سنگسار کردوں
میرے وطن میرے بس میں ہو، گر میری ریاست کی سربراہی
پولیس کو جیلوں میں لاکے رکھوں عدالتیں مسمار کردوں
یہاں پہ قانون بک رہا ہے یہاں پہ مظلوم جھک رہا ہے
لگائے انصاف کی نہ بولی، میں بند یہ کاروبار کردوں
میری حکومت کو موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
کرپٹ لیڈر کے قلب میں خنجروں کا لشکر سوار کردوں
یہاں درندوں کی بھوک کلیوں کو لمحہ لمحہ مسل رہی ہے
میں ان سبھی وحشی ظالموں قاتلوں کے ٹکڑے ہزار کردوں
جو آج مظلومیت پہ احسن فقط سیاست رچا رہے ہیں
میں ان پلیدوں پہ ان غلیظوں پہ لعنتیں بے شمار کردوں

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

In Bathroom, all remains nude but in swimming pool ML (N) absolutely becomes nude.

کسی بھی حمام میں تو سبھی ننگے ہوتے ہیں لیکن اس سوئمنگ پول میں مسلم لیگ ن بالکل ننگی تڑنگی ہے۔ ملک کی سیاست کا جائزہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میڈاِن اسٹیبلشمنٹ نواز لیگیوں کا (PTI)کو سلیکٹڈ کہنانری بلیک میلنگ کے سوا اور ہو بھی کیاسکتاہے؟
شہبازشریف وزیراعظم اور حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ بن سکتے تھے لیکن مریم کی راجدھانی کوخطرہ تھا

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے کہا تھا کہ اگر میڈیا آزاد ہوتا اور مشرقی پاکستان کی شکایات سے فوج کوآ گاہ کرتا تو یہ ملک نہ ٹوٹتا۔ حامد میر نے کہا کہ پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتاہوں اور پھر یہ پوچھتا ہوں کہ (PTM) کو یہ شکایت ہے کہ ہمیں میڈیا پر کیوں نہیں آنے دیا جاتا ہے؟۔ آپ نے الزام لگایا ہے کہ اس کو را فنڈنگ کرتی ہے۔ میں بھی اسلام آباد کے دھرنے میں گیا تھا ، وزیراعظم عمران خان بھی (PTM) کے دھرنے میں شریک ہوا تھا۔ پھر (PTM) کو کھلم کھلا میڈیا پر دعوت کیوں نہیں دیتے؟۔ آصف غفور نے لمبا جواب دیا تھا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کو اور وزیراعظم کو پتہ ہوتا کہ رانے فنڈنگ کی ہے تو آپ نہ جاتے۔ میڈیا پر اگر یہ نعرہ لگانے دیا جائے کہ ”یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے” تو پھر ان شہداء کے لواحقین کے کیا تأثرات ہونگے جنہوں نے جانوں کے نذرانوں کی قربانیاں دی ہیں؟۔ تفصیل یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا را کی فنڈنگ کے ثبوت کو میڈیا پر سب کے سامنے واضح طور پر لانا ممکن نہیں ؟۔
آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا کہ علی وزیر کو بس سٹینڈ پر قبضہ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ پولیس نے پھر سندھ پولیس کے حوالے کیوں کیا تھا؟۔ جبکہ بس سٹینڈ پر سندھ میں قبضہ نہیں کیا تھا؟۔ اس کا جواب یہ ہوگا کہ” سندھ میںاپنے غصے کا اظہارجرم بن گیا ہے”۔
کھریاں کھریاںکا ریموٹ نوازشریف ہے، وہ جوالزام لگاتا ہے تو کیا آرمی چیف اور (DGISI)کو بلیک میل کرکے نوازشریف پر پارلیمنٹ، میڈیا اور عدالت میں ثابت شدہ جرائم کوکلین چٹ دینے پر مجبور کر رہا ہے؟۔سیاسی مسئلے کا نچوڑ یہی ہے لیکن اس مسئلے کا حل بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
سب سے پہلے پارلیمانی سیاست کو بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ جب شاہد خاقان عباسی کا نام (ECL)سے نکال کر بیرونِ ملک جانے دیا گیا تھا تو اس وقت سوشل میڈیا پرنوازشریف کے ذاتی حجام لگنے والے سیدعمران شفقت نے کہا تھا کہ ”ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوگئی ہے۔ اب عمران خان کو مدت پوری کرنے دی جائے گی۔ کبھی عمران خان اور کبھی اسٹیبلشمنٹ پرحملے ہونگے مگر یہ سیاست چلتی رہے گی”۔ مولانا فضل الرحمن کے قریبی صحافی شاکر سولنگی نے خبر دی تھی کہ اب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کا نام لیکر مخالفت نہیں کرینگے اور وہی ہوا۔
مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو لگادیا تھا کہ حکومت گرانے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ مولانا نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف بیان داغ دیا اور پھر پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اور مرکز میں اپنے پتے شو کریں۔
ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ ایک عام تأثر یہی تھا کہ یوسف رضا گیلانی کو حفیظ شیخ کے مقابلے میں جیتنا ممکن نہیں لیکن جب گیلانی جیت گیا تو ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی روحیں پریشان ہوگئیں۔ مریم نواز نے کھل کر کہا کہ پنجاب میں ہم عثمان بزدار کی حکومت نہیں گرائیںگے۔ مرکز میں بھی وہ عمران خان کی حکومت کو نہیں گرانا چاہتی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کھلم کھلا شہباز شریف کو وزیراعظم اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی پیشکش کردی لیکن مریم نواز کو اپنی راجدھانی کی فکر پڑگئی۔ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے پر ہرادیا ۔پیپلز پارٹی کو (PDM) سے باہر دھکیل دیا گیا کیونکہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو بھی اقتدار کی دہلیز پر پہنچانے سے روکنے کیلئے یہ نوازشریف اور مریم نواز کیلئے ضروری تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ”میں70سال کا بوڑھا ہوں۔ پہلے بھی علاج کی غرض سے لندن جانے کے بعد واپس آیا ہوں”۔ اور یہ بیان دراصل نوازشریف کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ تھا لیکن میڈیانے اس کوبالکل اہمیت نہیں دی تھی۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی ن لیگ کو جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے اور اس کی مثال اس بچے کی ہے جو دوسرے بچے سے کہتا ہے کہ تمہارے منہ میں لالی پاپ بہت خراب ہے ۔ جب وہ بچہ لالی پاپ کو پھینک دیتا ہے تو وہ خود مٹی سے اٹھاکر اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ ن لیگ خود اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے لیکن تحریک انصاف کو سلیکٹڈ کہہ کر اپنی راہ ہموار کررہی ہے اور دوسری طرف پاک فوج پر الزامات لگاکر اس پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ اگر (RMtv)لندن کھریاں کھریاں میں راشد مراد یہاں تک کہتا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو بھی پاک فوج نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے شہید کروایا تھا تو پھر پختون، سندھی، بلوچ، مہاجر، پنجابی اور سرائیکی پاک فوج کے بارے میں کیا سوچیں گے؟۔ جب نوازشریف کے دور میں عمران خان کا دھرنا ختم کرنے کیلئے راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول کے پختون بچوں کو قتل کرنے کی سازش کی ہو توپھر لوگوں کا دماغ پنجابیوں، پاک فوج اور تختِ لاہور کے خلاف نہیں بھڑکے گا؟۔ فوج مخالف عناصر کو یہ کون سمجھائے کہ پاک فوج ایک طرف عمران خان کا دھرنا کروائے؟ اور دوسری طرف دھرنے کو ختم کرانے کیلئے معصوم بچوں کا بے گناہ خون کیوں بہائے ؟ ۔پھر تو وزیراعظم نوازشریف پر بھی لعنت ہو۔ لیکن میڈیا لوگوں کا شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا ہے۔
فوج میں ہزار خامیاں ہیں لیکن قومی سلامتی کا یہ واحد ادارہ ہے۔ہماری قوم تعلیم وتربیت اور حکمت وشعور سے بالکل عاری ہے۔ ہم کسی بڑے حادثے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ نوازشریف کا فوج سے ان خامیوں پر کوئی اختلاف نہیں ہے جو قابلِ اصلاح ہیں بلکہ وہ اپنے جرائم پر پاک فوج کو پردہ نہ ڈالنے کی سزا دینا چاہتا ہے کہ ” مجھے کیوں نکالا؟”۔حالانکہ گیلانی کو بھی نکال دیا گیا تھا۔
اگر(1993عیسوی) میں کرپشن کے ذریعے لندن فلیٹ لینے پر فوج نے مجبور کیا اور (2013عیسوی) میں منتخب وزیراعظم بننے کے بعد فوج نے پارلیمنٹ میں جھوٹا تحریری بیان پڑھنے اور پھر قطری خط لکھنے اور اس سے لاتعلقی پر مجبور کیا تھا تو نوازشریف خالی لندن سے بیان جاری کردے اور فوج سے نمٹنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے لیکن اپنے جھوٹ، لوٹ اور کھسوٹ کی سزا افواجِ پاکستان کو دینا ملک ، قوم اور سلطنت کی کیا خدمت ہے؟۔ جنرل راحیل شریف کو خود لائے تھے اور اس دور میں فوج کے اہلکاروں کو کرپشن پر سخت سزائیں دی گئیں تو آپ کو کرپشن سے بچانے کا ٹھیکہ اس نے کیوں لینا تھا؟۔ پھر جنرل باجوہ کو میرٹ کی خلاف ورزی کرکے آرمی چیف بنالیا۔ اس پر بقول انصار عباسی کے شبہ تھا کہ قادیانی ہے تو اس کی وجہ سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں شرمناک بل پاس کرنے کی کوشش کی ۔ جب اس بل کے خلاف تحریک لبیک والے کھڑے ہوگئے تو اس کا الزام بھی پاک فوج پر ہی لگادیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیوی کے نام سے جو جائیداد لی تھی تو اسکا حقِ نمک بھی فائز عیسیٰ نے ادا کردیا؟۔
ن لیگ کی سیاست کا محور یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ(2023عیسوی) کے الیکشن میں اس کو حکومت میں آنے کا موقع دے۔ اس نے پیپلزپارٹی کو (PDM)سے باہر کیا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ کردیا ۔ الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے کئی صحافیوں کو بھی خرید لیا۔ حکومت اس کی تجارت و بادشاہت کے خواب ہیں۔ عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو ہی غلط نہیں قرار دیا بلکہ خصوصی عدالتوں کے وجود کو بھی انصاف کے منافی قرار دیا۔ پھر وہ وقت بھی دور نہیں کہ نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی فیصلوں کو عدالت کالعدم قرار دے دے گی۔ ساری برائیاں فوج کے کھاتے میں اس طرح ڈال دی جائیںگی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کے یہ کرتوت تھے۔ قوم خوش ہوگی کہ پنجابی قیادت نے فوج سے جان چھڑائی ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کہتے تھے کہ مجھے ان لوگوں سے بھی پیار ہے جنکے کتے انگریز کو بھونکتے ہیں۔ فوج مخالف سیاستدانوں اور مذہبی وقوم پرست پارٹیوں کو کتے راشد مراد سے بھی پیار ہوگاجو تہمینہ دولتانہ قسم کی عورت کی اولاد ہے جو جوانی سے بڑھاپے تک نواز شریف پر قربان ہیں۔
نظریاتی اختلاف کی جنگ رحمت ہے اور مفادپرستی اور تکبر کی جنگ زحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت انسان کی پیدائش پر فرشتوں نے اختلاف کیا تھا اور شیطان نے اس کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ ایک اختلاف محمود اور دوسرا مذموم تھا۔ پاک فوج سول حکومت کے ہرکاروبار میں شریک ہے جس نے پوری قوم کو فوج سے بدظن کردیا ہے۔ روڈ بنانے اور پانی سپلائی سے ٹول ٹیکس کا ٹھیکہ لینے تک ہر چیز پر قبضہ کرنے کے تأثرات نے بہت خراب فضاء بنائی ہوئی ہے۔
جب پرویزمشرف نے ن لیگ کی حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو قوم جشن منارہی تھی لیکن ہم نے اپنے اخبار کے اداریہ میں لکھ دیا تھا کہ فوج کی تعلیم و تربیت اپنے لوگوں پر حکومت کیلئے نہیں بلکہ دشمن سے انتقام کیلئے ہوتی ہے اور یہ فوج اور قوم کے مفاد میں ہرگز بھی نہیں کہ پاکستان پر فوجی اقتدار قائم ہوجائے۔ پرویزمشرف کے بعد پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف باری باری اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن بقول شاعر افکار علوی کے ” مقاصد تو حل ہوئے مسائل نہیں ہوئے”۔ پاکستان جس طرح چل رہاہے ہماری قوم اس کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمارا اسلام، ایمان، قومی غیرت، اقدار اور سب کچھ جعلی بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کے بعد ن لیگ کو لانے کیلئے گٹھ جوڑ کا یہ ملک ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ حکومتوں کو لانے اور حکمرانوں کو ہنکانے کیلئے لوٹوں کی فوج ظفر موج ہر وقت تیار رہتی ہے۔ طوفانوں میں ہواؤں کے دوش پر چلنے کے قائدین ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوتے ہیں جو آبادیوں کو سہارا نہیں دے سکتے ہیں بلکہ کھیتوں اور کھلیانوں ،جانوروں اور انسانوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ ایسے وقت میں چٹانوں سے زیادہ مضبوط انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ندی نالے بہاکر نہیں لائے ہوں بلکہ قدرت کے عظیم شاہکار ہوں۔
عام انسانوں کیلئے کاروبار، تعلیم اور مزدوری کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔ سود اور ٹیکسوں کے ذریعے سے ریاست اپنی عوام پر وہ بوجھ بنتی جارہی ہے کہ اب سایہ دار درخت بننے کے بجائے عوام کی کمر توڑ رہی ہے۔ سیاسی اشرافیہ کو اپنی حکومت، تجارت اور بادشاہت کی فکر پڑی ہے۔ فوج سے جنگ اپنے مفادات کیلئے ہے مگر عوام کی خاطر کسی کے اندر کوئی سوچ نہیں ہے۔ علامہ اقبال کے اشعار کی گونج” آوازِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو”اب بنتی جارہی ہے کہ
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے در ودیوار ہلادو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو
پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا لیکن سود کے بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کو بھی اسلامی بینکاری کے نام پر جائز قرار دیا گیا ۔ مذہبی طبقے مذہبی لبادے میں سراپا شیاطین ہیں۔ اسلام کی ایک ایک بات کو مٹانے میں ان کا بہت بنیادی کردار ہمیشہ سے رہاہے۔ اگر سود کو اسلامی قرار دیا جائے تو پھر زنا، چوری، ڈکیتی اور کونسی ایسی چیز ہوگی جو غیر اسلامی ہوگی؟۔ رسول اللہۖ نے زنا بالجبر پر ہی سنگساری کی سزا دی تھی۔ علماء ومفتیان نے زنا بالجبر کیلئے بھی چار عینی گواہوں کی شرط رکھ کر اس پر اسلام کے اندر زنا کے اطلاق سے انکار کردیا۔ حالانکہ نبیۖ نے ایک عورت کی گواہی کو قبول کیا اور یہ نہیں دیکھا کہ زنا بالجبر کرنے والا شادی شدہ ہے یا کنوارا ہے؟۔ خواجہ محمد اسلام کی کتاب ”موت کا منظر” میںبھی زنا بالجبر کی سزا لکھی ہوئی ہے مگرکہیں اس کو کتب خانوں سے غائب نہ کردیا جائے۔
قرآن میں تورات کے حوالے سے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” جان کے بدلے میں جان ہے، دانت کے بدلے میں دانت ہے،کان کے بدلے میں کان ہے، ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ ہے اور زخموں کا بدلہ ہے اور جو اللہ کے حکم پر عمل نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔ پاکستان میں سرمایہ دارنہ اور جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے آج تک قرآن وسنت کے مطابق آئینِ پاکستان کے تحت قانون سازی نہیں کی گئی۔ کیونکہ یہاں ہمیشہ عدالتوں میں انصاف بٹ نہیں بک رہا ہے۔
مولوی کو زکوٰة خیرات اور سیاستدانوں کی کاسہ لیسی سے فرصت ملے تو اسلام کیلئے قانون سازی کی بات کریں؟۔ ریاستِ مدینہ میں یہود اور دشمن منافق طبقے کو اسلام کے معاشرتی اور اقتصادی نظام نے شکست سے دوچار کردیا تھا مگر ہمارے ہاں شیطان نے ایسی پود تیار کررکھی ہے جن کو دیکھ کر شرمائے یہود۔
جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہۖ نے زمین مفت میں کاشت کیلئے دینے کا حکم دیدیا۔ زمین کا اصل مالک اللہ ہے اور اس پر اختیار بھی اسکے حکم سے چلتا ہے۔ اسلام نے زمین کی ملکیت سے محروم نہیں کیا بلکہ زمین کو مزارعت ، کرایہ ، بٹائی پر دینے سے روکا تھا۔ امام ابوحنیفہ ، مالک اور شافعی سب متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا حرام ہے۔ اگرمسلمان اصل اسلام پر چلتے تو دنیا میں جاگیردارانہ نظام کیوجہ سے غلام اور لونڈی کا نظام بھی کب کا ختم ہوجاتا۔ مارکس کو بھی کوئی نظریہ گھڑنے کی ضرورت پیش نہ آتی جس کیلئے علامہ اقبال نے بھی شاعری کی اور چین وروس میں یہ نظام عروج پر پہنچنے کے بعد ختم بھی ہوگیا۔
جب مدینہ کے لوگوں کو مفت میں زمینیں مل گئیں تو ان محنت کشوں میں قوت خرید بہت بڑھ گئی جس کی وجہ سے مدینہ کے تاجر وں نے دن دگنی رات چگنی ترقی کی۔ کسی شیعہ نے شکایت کی کہ آپ فقہ جعفریہ کا نام نہیں لیتے تو میں نے کہا کہ شیعہ کی تقلید کا یہ حال ہے کہ مجھ سے ایک شیعہ نے کہا کہ سمندر کی جن مچھلیوں کو ہم نہیں کھاتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان ہیں جن کو مسخ کیا گیا ہے اور یہ حضرت علی کا فرمان ہے۔ دوسری طرف شیعہ کے اجتہاد کا یہ عالم ہے کہ یہاں تک لکھ دیا ہے کہ سؤر کے گوشت کو قرآن میں جس وجہ سے حرام کیا گیا ہے اگر وہ چیز نکال لی جائے تو پھر سؤر بھی حلال ہے۔ ہم اپنے فقہاء سے ہی جان چھڑا رہے ہیں جنہوں نے بعد میں اسلام کو مسخ کیا ہے تو اگر مزارعت کے مسئلے میں احادیث کو لیا جائے پھر شیعہ باغ فدک کی کئی گھڑی کہانیاں بھول جائیں گے۔
پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا تعلق مسخ شدہ مسائل نہیں بلکہ امام ابوحنیفہ ہی کا مسلک ہے۔اگر زمینوں کو محنت کش مزارعین کو مفت میں صرف فصل اُگانے کیلئے دی جائے تو ہوس پرست اور حرام خور طبقہ حرام سے بڑی بڑی جائیدادیں بھی نہیں خریدے گا اور زمین سستی ہوجائے گی اور محنت کش طبقے کو اپنی پوری پوری اُجرت مل جائے گی تو یہ انقلاب کا وہ آغازہوگا جس سے مدینہ کی بہت چھوٹی سی ریاست پوری دنیا پر چھا گئی تھی۔ پاکستان بھی اس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اور ہمیں اسی کی طرف جلد یا دیر سے آنا ہی پڑے گا۔
مولانا فضل الرحمن مریم اور حمزہ کے گلے لگانے ،مولانا عزیز الرحمن کی مذموم حرکت کو بھی اسلام اور مشرقی اقدار کا لبادہ پہنادے تو یہ اسلامی سیاست ہوگی؟۔

خاص خاص باتیں:
بلاول بھٹو نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی پیشکش کردی مگر یہ طے ہوگیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو مدت پوری کرنی دینی ہے اور اس کا اظہار شاہد خاقان عباسی کا نام (ECL) سے نکال کر لندن جانے کی اجازت دیتے ہوئے نوازشریف کے ذاتی حجام لگنے والے سوشل میڈیا صحافی سید عمران شفقت اور شاکر سولنگی نے بہت پہلے کردیا تھا جس پر عمل ہورہاہے

راشد مراد(MRtv)لندن نے کھریاں کھریاں میںالزام لگایا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو فوج نے شہید کیا،اگر عمران خان کا دھرنے کو ختم کرنے کیلئے قدم اٹھایا گیا تھا تو وزیراعظم نوازشریف اور فوج کے بارے میں پنجابی، بلوچ، پختون، سندھی اور مہاجرکیا سوچیںگے؟۔ نوازشریف ذاتی مفاد کیلئے کتے کو لگاکر قوم کا بیڑا غرق کر رہا ہے۔ کیا ہمارا اپنا میڈیا اب اپنی قوم کو شعور دے رہاہے؟
قرآن میں جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے بدلے کا حکم ہے مگر مولوی کو زکوٰة خیرات ، سیاستدانوں کی کاسہ لیسی سے فرصت ملے تو اسلام کیلئے قانون سازی کی بات کرے ؟ ریاستِ مدینہ کے معاشی اور معاشرتی نظام نے یہود اور منافق طبقے کو انکے عروج کے دور میں شکست سے دوچار کیا،مولوی نے اب سود کے عالمی نظام کو بھی جائز قرار دیا
جب سود کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہۖ نے زمین کو مزارعت، کرایہ اور بٹائی پر دینے کو سود قرار دیا اور امام ابوحنیفہ، مالک اور شافعی سب متفق تھے کہ زمین کو بٹائی پر دینا ناجائز ہے۔ مولانا فضل الرحمن مریم و حمزہ کے گلے ملنے اور مولانا عزیز الرحمن کی بیہودہ حرکت کو بھی اب ناجائز قرار دینے کی بجائے سازش قرار دے تو یہ اسلامی اور مشرقی اقدار ہیں تو یہ بعید از قیاس بالکل بھی نہیں ہے!

Nature of problem of Baitul Muqaddas one who is companion of USA, Israel and Saudia he is considered believed to be traitor. Huda Bhurgri speech.

Keywords: Huda Bhurgri , Baitul Muqaddas, Afghan War, Afghan Jihad, Taliban, Women Rights

فلسطین میں ہونے والے ظلم کے خلاف بات کریں افغانستان میں ہونے والے ظلم……. ہدیٰ بھرگڑی

جب کسی گورے کا قتل ہو اگر کوئی گوری ماں کا بچہ مرے تو وہ قتل ہے کیا فلسطینی عورت کے بچے بچے نہیں ہوتے۔ کیا فلسطینیوں کے گھر گھر نہیں ہوتے۔ کیا فلسطینیوں کے لوگ انسان نہیں ہوتے۔ یہ جو پورے کا پورا بحران ہے یہ جو ایمپیریلسٹ نظام ہے اس نظام کا خاتمہ صرف اور صرف تب ہوگا جب ہم صرف فلسطین کے مسئلے پر نہیں بلکہ افغانستان میں ہونے والے اس ظلم کے خلاف بھی بات کریں۔ ہم برما میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھی بات کریں۔ ہم کشمیر میں بھی ہونے والے ظلم کے خلاف بات کریں۔ ہم ان تمام مظالم کی بات کریں جوکہ شام میں ہوئے جو کہ عراق میں ہوئے جو کہ یمن میں ہورہے ہیں۔ جب گھر ٹوٹتا ہے جب گھروں سے جنازے اٹھتے ہیں جب عیدوں کے دن عید کی نماز کے بجائے جنازہ کی نمازیں پڑھنی ہوتی ہیں تب دلوں سے یہ آواز نہیں نکلتی کس کا کیا مذہب تھا۔ تب صرف یہ آواز نکلتی ہے کہ کیا یہ انسان تھے کہ نہیں تھے۔ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے خصوصا پاکستان کی عورت آج کھڑی ہے آج فلسطینی بہنوں کے ساتھ شامی بہنوں کے ساتھ عراقی بہنوں کے ساتھ۔ افغانستانی بہنوں کے ساتھ کشمیری بھائیوں کے ساتھ کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم عورتوں کے جسموں کو استعمال کیا جاتا ہے ایک (collateral damage) سمجھ کر عورتوں کو استعمال کیا جاتا ہے ایک ڈیموکریٹک تھریٹ سمجھ کر۔ کئی عورتیں آج بھی اسرائیل میں ایسی ہیں جن کے مس کیرج ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کو پانی نہیں ملتا کیونکہ ان کو میڈیکل کی سہولتیں نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو لیبر کے دوران اسرائیلی چیک پوسٹوں کے پاس کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے تاکہ ان کی نسلیں تباہ ہوجائیں۔ ہم اس اشو کو ایک فیمنسٹ اشو سمجھتے ہیں اور ہم اس جدوجہد کو ایک فیمنسٹ جدوجہد سمجھتے ہیں۔ آپ سب میرے ساتھ اس نعرے کا جواب دیں گے۔ ہمیں اس دور کے اندر یہ یاد رکھنا ہوگا کہ غداری کس نے کی ہمارے ساتھ۔ کون ہے جو ہمارے ساتھ نہیں کھڑا۔ ہم آج بات کریں کہ ان غداروں کی۔ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ اسرائیل کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ سعودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Ten Question from Mubashir Ali Zaidi raised by Atheist and reply thereof by Syed Atiq Ur Rehman Gilani, Is it-true that Abdul Muttalib was Mushrik? The solution regarding establishment of Shia Sunni Block be also studied here.

Keywords: Shia Sunni Block, Sipa e Sahaba, Mubashir Ali Zaidi, Atheist, Londi, Halala, Nikah, Women Rights in Islam, Talaq, Divorce, Khula, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Shia Sunni Block, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Sipa e Sahaba, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Halala, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam, Women Rights in Islam

ملحدین کے ایک گروپ کے چند سوالات کا ترجمہ رقیب اللہ محسود کی تجویز پر مفصل جواب دیا گیا ہے

معروف صحافی امریکہ میں مقیم جنگ گروپ کے مبشر علی زیدی (Mubashir Ali Zaidi)کی طرف سے چند سوالات۔
کوئی بتاسکتا ہے کہ دین ابراہیمی کیا تھا؟
کیا یہ توریت، زبور اور انجیل آنے کے باوجود برقرار رہا؟
پچھلی شریعت کو اگلی منسوخ کردیتی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟
درست ہے تو دین ابراہیمی کیسے برقرار رہا؟
تاریخ طبری کے مطابق رسول کے دادا عبدالمطلب مشرک تھے؟
تاریخ طبری غلط ہے تو کیا عبدالمطلب دین ابراہیمی پر تھے؟
عبدالمطلب دین ابراہیمی پر تھے تو ان کی زندگی میں ان کا بیٹا ابولہب کیسے مشرک ہوگیا؟
عبدالمطلب کے کون کون سے بیٹے دین ابراہیمی پر تھے اور کون کون مشرک ہوا؟

Mubashir Ali Zaidi


کیا رسول پاک ولادت کے دن سے نبی تھے یا نبوت کے اعلان کے دن یہ اعزاز ملا؟
نبوت کے اعلان والے دن نبی بنے تو وجہ تخلیق کائنات کیوں کہا جاتا ہے؟
ولادت کے دن سےso نبی تھے تو نبی کا نکاح کافر یا مسیحی نے کیسے پڑھایا؟
بی بی خدیجہ کلمہ پڑھ کے مسلمانso ہوئی تھیں۔ وہ دین ابراہیمی پر یا مشرک تھیں؟
کیا دین ابراہیمی والوں کو مسلمان ہونے کے لیے کلمہ پڑھنا پڑتا تھا؟اگر اسلام دین ابراہیمی کا تسلسل ہے تو کلمہ کیوں پڑھنا پڑتا تھا؟
اگر دین ابراہیمی دوسرے مذاہب جیسا تھا تو اس. کے ماننے والوں نے soمشرکوں، کافروں اور یہودیوں کی طرح اسلام کی مزاحمت کیوں نہیں کی؟

test


نوٹ: وزیرستان کے صحافی. رقیب اللہ محسود کی تجویزso پر جواب لکھا گیا ہے اور نئی نسل کو باطل مذہبی انتہا پسندی اور باطل الحاد پسندی کے رحجانات سے بچانا اور. اسلام کیso درست تصویر کو پیش کرنا ایک فریضہ ہے۔ آج ہمیں پھر جنگ کی طرف دھکیلاجارہاہے جس میں پختون مورچہ اورپاکستان میدان بنے گا، خدانخواستہ۔
الجواب۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

Mubashir Ali Zaidi


سوال کرنے والا دین وشریعت کی بنیادی تعلیمات سے نابلد ہے۔
دین اور شریعت میں بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ حضرت آدم. سے لیکرپیغمبر آخر زمان حضرت محمدۖ سب انبیا کرام کا دین ایک ہی ہے اور اس کی قرآنی آیات میں متعددso مرتبہ بہت زبردست. وضاحت ہوئی ہے۔ البتہ ہر ایک نبی کی شریعت اور منہاج میں فرق ہے۔ پاکستان کا آئین ایک ہے لیکن اقتدار. کیso دہلیز تک پہنچنے والی مختلف پارٹیوں کا منشور اور طریقہ کار اپنا اپنا ہوتا ہے۔ جب ایک آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک وقت میں مختلف پارٹیوں کی گنجائش ہے تو ایک ہی دین میں مختلف ادوار کے انبیا کرام کیلئے مختلف شریعتوں اور طریقہ کار کی گنجائش کیوں. نہیں ہوسکتی ہے؟۔ اگر کوئی اس بات پر اعتراض کرے گا کہ ایک آئین کے تحت مختلف منشور رکھنے والی پارٹیوں کو. باری باری کیسے برسراقتدار میں آنے کی گنجائش ہوسکتی ہے

test


تو اس کو جدید دور کے جدید. ماحولso سے بالکل جاہل ہی تصور کیا جائے گا لیکن جب ایک دین میں مختلف شریعتوں کی گنجائش کا مسئلہ آتا ہے تو جس کو بات سمجھنے. کی بجائے انکار کی عادت ہو تو وہ حقیقت نہ مانے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں جو شریعت تھی،اسکے منہاج میںso تعظیم کیلئے سجدے کی گنجائش تھی لیکن رسول اللہۖ نے اپنی شریعت میں اس کی گنجائش ختم کردی۔ امریکہ میں پہلے غلاموں لونڈیوں کی خرید وفروخت کی گنجائش تھی اورابراہم لنکن نے اس قانون کا خاتمہ کردیا۔ تورات میں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار پر پابندی تھی اور قرآن میں نہیں۔

Mubashir Ali Zaidi

اگر کوئی قانون کسی قوم کے .مخصوصso حالات کے پیشِ نظر تشکیل دیا جاتا ہے اور پھر دوسرے نبی کے دور میں حکم بدل جاتا ہے تو اس کی وجہ سے انسانوں پر اچھے اثراتso ہی مرتب ہوئے ہیں۔ اس مختصر تمہید کے بعد ایک ایک بات کا جواب دیکھ لیں۔دین ابراہیمی وہی تھا جو آدم سےso محمدۖ تک سب کا تھا۔توریت، زبور، انجیل اور قرآن تک بالکل بھی دینِ ابراہیمی برقرار تھا اور ہے۔ البتہ شرعی احکام اور منہاج میں وقت کیساتھ ساتھ ہر دور میں فرق آیا ہے۔

Mubashir Ali Zaidi


قرآن میں بھی واضح ہےso کہ .یہود ونصاری اور مشرکین سب کا دعوی ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں لیکن اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم یہودی، نصرانی اور مشرکso نہ. تھا بلکہ دین حنیف کا پیروکار تھا۔ جس طرح آج مختلف فرقوں کے لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہلحدیث سب. مسلمان ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہوسکتا ہے کہ نبیۖ کا تعلق ان فرقوں سے نہیں تھا۔
یہودی، عیسائی اور مشرک سبھی خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے۔

test

انفرادی اور اجتماعی طور پر. ان سب میں ایسے لوگso بھی تھے جن کا عقیدہ اور ایمان بالکل سلامت اور ٹھیک تھا اور ایسے لوگوں کی بھی بڑی اکثریت تھی .جن کے عقیدے اور ایمان soبگاڑ کا شکار ہوچکے تھے اور اس کی تفصیل قرآن میں بہت وضاحت کیساتھ موجود ہے۔ آج کے غالی .فرقہ پرستوں اور سلامتso ایمان وعمل والے مسلمانوں میں بھی دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں اور قرآن وسنت میں یہ واضح ہے .کہ کچھ عرصہ کے بعد پہلے soبھی لوگ بگڑتے رہے ہیں اور اس میں اچھے لوگوں اور بروں کے نمونے اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

test


تاریخ طبری عقیدے کی کتابso نہیں ہے لیکن. جس طرح ابلیس فرشتوں کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا، حالانکہ وہ جنات میں سے تھا۔ اسی طرح مشرکین کی اکثریت کیso وجہ. سے تاریخ طبری. میں حضرت عبدالمطلب کو soمشرکین سے منسوب کیا گیا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عبدالمطلبso کا عقیدہ بھی بگڑ چکا تھا۔ اگر آذر کا بیٹا حضرت ابراہیمso موحد ہوسکتے تھے، حضرت آدم کا بیٹا قابیل بے عمل اور حضرت نوح کا بیٹاso کافر ہوسکتا .تھا تو عبدالمطلب کے بیٹے کا مشرک ہونا کونسی بڑی بات ہے؟۔ ایک پارسی کا بیٹا پونجا جناح ہوسکتا ہے. اور قائد اعظم .محمد علی جناح کی. بیٹی دینا جناح پارسی کیساتھ مذہب چھوڑ کر شادی کرسکتی تھی تو ابولہب کیلئے کیسے سوالso ذہنوں میں اٹھ گیا ہے؟۔ لادینوں کے بیٹے دیندار اور دینداروں کے بیٹے کیا موجودہ دور میں لادین نہیں ہیں؟۔

Mubashir Ali Zaidi

قرآن میں اللہ نے واضح کیا: وما کنا معذبینso حتی نبعث رسولا ”اور ہم عذاب. نہیں دیتے یہاں تک کہ کسی رسول کو مبعوث نہ کردیں”۔ القرآن حضرت عبدالمطلب، حضرت عبداللہ، حضرت آمنہ اور نبیۖکی بعثت سے. جو بھی پہلے فوت ہوگئے ، ان پر اتمامِ حجت نہیں ہوئی تھی۔ اگر ان کا عقیدہ soاور عمل اچھا تھا تو وہ دینِ ابراہیمی پر ہی تھے۔ صحابہ کرام میں حضرت ابوبکر اور کچھ دیگر لوگ بھی شروع سے بتوں کے پجاری نہ تھے اسلئے کسی تامل کے بغیر ہی انہوں نے رسول اللہۖ کے دین کی تصدیق کی۔ آج بھی مختلف فرقوں اور ہندوں تک میں بھی ایسے لوگ ملیں گے جن کے شرکیہ عقائد نہیں ہیں۔

test


ابولہب مشرک تھا یا نہیں لیکنso کافر ضرور تھا اسلئے کہ رسول اللہۖ کی دعوت کا انکار کردیا۔ حضرت عباس کی نبیۖسے مکمل ہمدردی تھی لیکن بظاہر مشرکوںso کا شروع میں اس .وقت ساتھ دیا جب غزوہ بدر ہوا تھا۔ ابوطالب نے نبیۖ کا کھل کر ساتھ دیا اور مشہور یہ ہے کہ آخر میں soدینِ ابراہیمی پر ہونے کا اقرار .کیا تھا اور اللہ نے مسلمانوں کے بھی دینِ ابراہیمی پر قرآن میں ہونے کی وضاحت ہے۔ حضرت علی کے خلاف بغض رکھنے والوں نے حضرت ابوطالب کی بھی زبردست مخالفت کی تھی۔

Mubashir Ali Zaidi


نبیۖ ولادت سے پہلے نبی تھے، دو مرتبہso آپ کا شق صدر ہوا تھا۔ جب تک نبوت کیلئے وحی کے نزول اور تبلیغ کرنے کا حکم نہیں ملا تھا تو نبوت جس مقصد کیلئے ہوتیso ہے اس. کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ کائنات کی ترقی وعروج کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی پرائمری سکول میں soداخلہ لیتا ہے، مڈل اور ہائی. سکول کے بعد کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے فرائض منصبی کے ادائیگی شروع کرتا ہے تو کہا جاسکتا ہے. کہ جس بچہ یا بچی کا داخلہ جس نصب العین کیلئے پہلے دن سکول میں داخلے کے وقت تھا اس کا مقصد اس وقت سے شروع ہوا۔

Mubashir Ali Zaidi


کائنات کی پہلے بھیso اہمیت اپنی جگہ پر. تھی لیکن حضرت ابراہیم سے پہلے اور بعد میں جتنے مراحل سے یہ دنیا گزری ہے اور پھر نبیۖ کی بعثت اور قرآن کےso نزول سے آج تک اور آج ک.ے بعد قیامت تک جس فرائض منصبی سے آشنا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر ہم نے قرآن اور فطرت سے درستso آگہی لے لی تو پھر ہمارے. لئے نبی ۖ کا وجہہ کائنات ہونا زیادہ مشکل نہیں لگے گا۔ جب پاکستان اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے درست ہوگا تو پاکستان. کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھی ضم ہونے میں انشا اللہ دیر نہیں لگائے گا۔

test


بی بی خدیجہ دین ابراہیمیso پر ہوں یا مسیحی ہوں مگر عقیدہ سلامت تھا جب ہی تو نبیۖ کا انتخاب کیا۔ جو تثلیث کے قائل اورنہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ نکاح پڑھانے کا soمروجہ طریقہ تو نبوت کی بعثت کے بعدبھی نہیں تھا۔ اسلام. کی بنیادی تعلیم میں یہی بات ہے کہ جب میاں بیوی بننے کیلئے ایجاب. و قبول ہوجائے اور کچھ لوگوں کو اعلانیہ پتہ چل جائے کہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ہیں تو یہ نکاح ہے۔ نکاح مولوی سے پڑھانsoے کا مروجہ طریقہ بہت بعد میں رائج ہوا ہے۔ وزیرستان کا ایک جدیدتعلیم یافتہ پاگل تھا۔ وہ ایسی حالت میں کسی گاں میں پہنچا کہso داڑھی بڑھ چکی تھی تو گاں والوں نے مولوی سمجھ کر کہا کہ ایک نکاح پڑھانا تھا اور شکر ہے کہ آپ آگئے۔

test

اس کو نکاح پڑھانا نہیں آتا تھاso اور لڑکی اور لڑکے .کو آمنے سامنے بٹھاکر لڑکی سے پوچھا کہ تم نکاح کیلئے راضی ہو؟ اور پھر لڑکے سے کہا کہ. تمہیں قبول ہے۔ رضامندیso کے اظہار اور قبول کرنے کے بعد لڑکے سے کہا کہ تم اس کیساتھ .یہ کام کروگے اور لڑکی سے کہا کہ تمہیں بھی اس طرح یہ کام کرناso پڑے گا۔ پھر دعا کرائی۔ لڑکی کے .باپ کو غصہ آیا اور کہا کہ تم لال کتاب سے مسئلے نہ بتاتے تو اس کے قابل ہوتے کہ تمہیں مار مارso کر تمہاری پسلیاں توڑ دی جاتیں۔ یہ لطیفہ نہیں حقیقی واقعہ ہے، جس کو پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

test


وزیرستان کے جاہلوں کو بھی نکاح ک.ے بنیادی چیزوں کا پتہ ہے لیکن مولوی نے جو ماحول بنایا ہے تو وہ مذہبی جہالتوں کو نہیں سمجھتا ہے۔ امام حسن کے نزدیک نکاح کیلئے. دوگواہ بھی ضروری نہیں ہیں اگر پہلےso باہمی رضامندی سے نکاح ہو اور بعد میں اس کا اعلان ہوجائے تو بھی ٹھیک ہے۔ اہل تشیع. کا جاہل مذہبی طبقہ یہ سوال اٹھاتا ہے soکہ اگر ابوطالب مسلمان نہیں تھے تو پھر نکاح پڑھایا تھا وہ کیسے درست ہوا تھا؟۔ حالانکہ. جس مذہب میں متعہ اور لونڈی کا تعلق بھی درست ہو تو اس میں اس قسم کے سوالات اٹھانا جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

Mubashir Ali Zaidi

اسلام میں تمام مذاہب. اور انسانوںso کی طرف سے جو بھی شریعت و قانون میں نکاح ہو وہ جائز ہے اور ملحدین مذہب کو نہیں مانتے لیکن ان کا بھی نکاح جائز ہوتا ہے۔ اسلام میںso داخل ہونے سے پہلے جو دین ابراہیمی پر نہیں بھی تھے تو ان کا نکاح جائز ہے۔ اگر اسلام یہ تصور رکھتا کہ نکاح کیلئے. کوئی دوسرا soمذہب قابلِ قبول نہیں تو کوئی اسلام میں داخل ہونے کی کوشش بھی نہ کرتا اسلئے کہ وہ ناجائز آبا واجداد کی اولاد کہلاتا۔

Mubashir Ali Zaidi

ایک قادیانی مذہب ایسا ہے جس. میںso یہ مشکل موجود ہے اسلئے مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ جو مجھے نہیں مانتا ہے وہ رنڈیوں کی اولاد ہیں۔ جن کےso باپ دادوں. نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانا تھا اور پھر وہ قادیانی بن گئے تو اپنے مذہب کے مطابق ان کے باپ دادا کے soنکاح پر اس کا بہت. برا مذہبی اثر پڑے گا۔ ملحدین قادیانیوں کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے مذہبی عقائد اور شریعتوں کے بارے میں نئے افکار کے مالک بن رہے ہیں۔

test

کلمہ پڑھنے کیلئے تو ہمارے. مسلمانوںso کو بھی سکھانا پڑھتا ہے لیکنso عربوں کی زبان میں بتوں اور دوسرے معبودوں کا انکار اور اللہ کے معبود ہونے کا اقرار. کلمہ تھا۔ عربیso جملہ آج زبانوں پر نہیں چڑھتا۔ وزیراعظم عمران خان کیلئے حلف کے الفاظ تک پڑھنے مشکل تھے۔ یہ جہالت والی باتیں ہیں۔
آج بھی بہت سے .لوگوں کے عقائدso مشرکوں، یہود ونصاری اور مجوسیوں سے بھی زیادہ بگڑے ہوئے ہیں لیکن کلمہ گو بھی ہیں۔دین ابراہیمی کا تسلسل. بھی یہودso ونصاری اور مشرکین کے ہاں موجود تھا لیکن غالی لوگوں نے عقائد اور ماحول کو بگاڑنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اگر تسلی ہوگئی تو فبہا ورنہ پھر دیکھیں گے۔


www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

On occurrence of Bahria Town Karachi Incident the agitation of Sindhi Nationalist was not against Muhajir Community but in fact it was against Asif Ali Zardari and Malik Riaz: Huda Bhurgri Speech.

Keywords: Sindhi Nationalist, Bahria Town Karachi, Asif Ali Zardari, MQM, Muhajir, Malik Riaz, Huda Bhurgri

بحریہ ٹاؤن کے خلاف میڈیا آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ آگ اندر سے کسی اور نے لگائی ہے ۔ہدیٰ بھرگڑی

کل کراچی بحریہ ٹاون (Bahria Town Karachi)کے باہر سندھی قومی (Sindhi Nationalist) جماعتوں ، دوسری پروگریسو پولیٹیکل پارٹیز کے رہنماں نے اور انکے فالورز نے بھر پور احتجاج کیا اور پورے سندھ کے لوگ منظم نظر آئے اس مسئلے پر کہ کراچی اور بحریہ ٹاؤن انٹرنل جس طرح لینڈ گریبنگ کر رہا ہے جس طرح غریبوں کی زمینیں ہڑپ کررہا ہے کیونکہ اسے سیاسی استثنی (Politica Impunity) حاصل ہے اسے سیاسی سرپرستی (political patronage)حاصل ہے پیپلز پارٹی کی۔ کل سندھ کی عوام سراپا احتجاج تھی اور انہوں نے بھرپور طریقے سے مذمت کی بلکہ وہ فرنٹ پر آئے اور انہوں نے کہا کہ جو آبائی (Native)ہیںسندھ کے وہ انکے ساتھ یہ سراسر زیادتی ہے کہ انکا گھر اجاڑا جائے انکے اپنوں کی قبریں اجاڑی جائیں ،انکے مال مویشیوں کا جو پورا فلور آٹ آنس ہے جو بھی انکا تعلق ہے وہ تمام کا تمام ختم کر کے کسی کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پھینک دیا جائے اور پھر ان سے امید کی جائے کہ یہ مزاحمت بھی نہ کریں یہ سراسر نا انصافی ہے ۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پہلے یہ خاموشی کیوں، اب اتنا زیادہ مذمت ہے پروٹیسٹرز کی وہ کیوں ؟ اور پروٹیسٹرز کو یہ کہا جارہا ہے کہ یہ جاہل ہیں یہ دہشت گرد ہیں یہ لوٹ مار والے لوگ ہیں اور اس طرح کے القابات سے ان کو نوازا جا رہا ہے جو کہ ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ آخر ہم یہ کیوں سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب آپ کشمیر میں ہونے والے جرم کی بات کرتے ہیں جب آپ فلسطین میں ہونے والے جرم کی بات کرتے ہیں ۔….
کس طرح سے وہ لوگ جنکے پاس لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے سوا کچھ نہیں تھا وہ آگ لگانے میں کیسے کامیاب ہوئے کس طرح سے سٹرکچر جو اتنا بڑا ہے بہریہ ٹاون کا اس میں آگ لگ گئی آگ لگنے کے بعد وہ سارا کا سارا تباہ ہو گیا اس طرح کے کیمیکلز وہاں پر پروٹیسٹرز نہیں لائے ہوئے تھے ۔آپ کو یہ لگتا ہے کہ غریب کی زمینوں پر امیر کے عیاشی کے پارک بنیں عیاشی کے لیے بڑے بڑے روڈ بنیں مانیومینٹس بنیں اور آپ لوگوں کی جگہ ایک چرائی ہوئی زمین پر بنانی چاہیے اور اگر اسطرح کی ڈیویلپمنٹ کو آپ سمجھتے ہیں کہ کراچی اور پاکستان کے لیے ایک پروگریسو سٹیپ ہے اور اس سے پاکستان اور کراچی کی ترقی ہوگی تو آپ کو شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیے تو آپ کو فلسطینیوں کے حق میں بھی بات نہیں کرنی چاہیے تو آپ کو کشمیریوں کے حق میں بھی بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ کسی بھی غریب کی زمین کے ٹکڑے کے اوپر جہاں پر اس نے اپنی پوری زندگی گزاری ہو جہاں پر اسکے پیاروں کی قبریں ہوں جہاں پر اسکا مال مویشی چرتا ہو جہاں پر وہ اپنے کمانے کا اپنے روزگار کا انتظام کئی سالوں سے کرتا آرہا ہو وہاں سے آپ اسکا سب کچھ اکھاڑ کر ایک زبردست قسم کی گیٹڈ کمیونٹی بنا دی۔…….. کراچی کے بیچوں بیچ کہیں بھی رہ سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس جگہ کو اسلیے خریدا کہ اس میں سیکیورٹی اسکا انفرا سٹرکچر اور خوبصورتی اس میں پھول لگے ہوئے ہیں اس میں پارک بنے ہوئے ہیں یہ ایک وہ آئیڈیا ہے جو سرمایہ داروں نے اپنے لئے ایجاد کیا ہے ۔
مجھے پتہ ہے اور کئی لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ آگ ان احتجاج کرنے والوں نے نہیں لگائی وہ مار پیٹ پروٹیسٹرز نے نہیں کی وہ ان لوگوں نے کی ہے جن کے پاس ایکسز تھا گیٹ کے اس پار کا کیونکہ پوراگیٹ سیل تھا خاردار تاریں تھیں تو پولیس کی موجودگی میں لوگ کس طرح وہاں جا سکتے ہیں پھر آخر میں جیسے ہی یہ احتجاج ختم ہوا تمام پولیٹیکل پارٹیز جو کہ کل احتجاج میں موجود تھے اور انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا ان لوگوں کے ساتھ جو وہاں موجود تھے اسکے باوجود بھی وہ پولیٹیکل ریپریزنٹیٹیوزجو کہ کل کے مارچ اور احتجاج میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف بھی جھوٹی ایف آئی آردرج کی گئی ہیںانکو گرفتار کیا گیا ہے اس وقت صنعان خان قریشی گرفتاری میں ہیں اسکے علاوہ ایاز لطیف پلیجو کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے اسطرح کی جو سیاست کی گئی ہے اور آگ لگانے کا جو ڈرامہ بنایا گیا سیاسی تو یہ بالکل تھا۔
نوٹ: احتجاج میں شریک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اندر کوئی شخص مظاہرین میں سے نہ گیا ہے اور نہ جاسکتا تھا ۔ اس کی اعلی سطح پر تحقیقات کروانے کی ضرورت ہے کہ ایسے مذموم مقاصد کس کے ہوسکتے تھے؟۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv