پوسٹ تلاش کریں

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

رسول اللہ ۖ نے آخری خطبے میں سب سے پہلے اپنے چچاکا سود قتل معاف کرنے کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب آگیا جسکے اثرات1924خلافت عثمانیہ تک موجود تھے

امریکہ سودی نظام کی وجہ سے بالکل کھوکھلا ہے ، یورپ اور آسٹریلیا سمیت پوری دنیا سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر کھڑی ہوگئی ہے ۔حالانکہ سارے مذاہب نے سود کو حرام قراردیا ہے

صرف پاکستان سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑا نہیں ہے بلکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی ، آسٹریلیا ، بھارت اورپوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان اور سسٹم ناکام ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی کتابیں ”تربیت اولاد” وغیرہ عربی اور ان کا اردو ترجمہ مارکیٹ میں دستیاب ہے لیکن ان کی ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” عربی اور اس کا اردو ترجمہ کافی عرصہ ہواہے کہ مارکیٹ سے غائب کردیا گیا ہے۔ جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے شہید کردئیے گئے تھے اور اس میں عالمی معاشی ماہرین کی رائے لکھی گئی تھی کہ معیشت کیلئے سودی نظام ایک ناکام نظام ہے۔ دوسری طرف مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کے ذریعے سودی نظام کو جواز بخش دیا گیا اوردونوں کے مکروہ چہروں کو دیوبندی اور بریلوی وفاق المدارس پاکستان اور تنظیم المدارس پاکستان کا صدر بنایا گیا ہے۔ حالانکہ دونوںہی سب سے بڑے جرم کے مرتکب ہیں۔عالمی شیطانی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دے دیاہے۔
دنیا کے تمام مذاہب یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور پارسی سبھی کے ہاں سود حرام ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کی آواز پر دنیا کے تمام مذاہب سود کے خاتمے کیلئے زبردست کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ مزارعت کے ذریعے مزارعین کے خاندانوں کو غلامی میں جکڑا جارہا تھا اور سودی نظام کے ذریعے سے دنیا کے ملکوں اور قوموں کو غلامی میں جکڑا جارہاہے۔ امریکہ اور دنیا میں شرح سود پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ہمارے تیل، گیس ، سونے و دیگر معدنیات کے خزانوں پر قبضہ مارنے کا خواب دیکھنے والے ہماری عوام اور حکمرانوں کو آخری حدتک پہنچانے کے درپے ہیں۔ قانون، اخلاقیات، مذہب، اقدار، روایات اور انسانیت کو ہمارے ہاں سے ملک بدر کیا جارہاہے لیکن ان کی تمام چالوں کو اللہ کی مدد سے ہم ناکام بناسکتے ہیں۔
ہمارے پاس وافر مقدار میں پانی کے بہاؤ کا نظام ہے۔ جس سے ہم سستی بجلی، کھیتی باڑی، باغات اور جنگلات اُگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری زمینیں معدنی ذخائر سے بہت مالامال ہیں۔ ہمارے پاس صحراؤں اور پہاڑوں کا بڑا سلسلہ ہے۔ ہمارے پاس محنت کش عوام ہیں اور ہمارے پاس دنیا کی بہترین صلاحیتوں والے دماغ ہیں۔ ہمارے پاس ایک اچھی خاصی افرادی صلاحیت ہے۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان سے ہی بڑا کام لیا جاسکتا ہے۔ جب لوگ معاشی اعتبار سے مجبور ہوتے ہیں تو ہر غیراخلاقی کام پر کم معاوضے اور جان پر کھیل کر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جب ملک وقوم پر سودی قرضوں کا بوجھ زیادہ سے زیادہ ہوگا تو ملک کے ادارے بھی کرپٹ بننے پر ہی مجبور ہوںگے۔ بے روزگار افراد بھی ڈکیتی کا راستہ اختیار کریںگے اور اچھے سے اچھے لوگ بھی برے سے برا بننے پر مجبور ہونگے۔
اگر بے کار لوگوں کو اچھا معاوضہ ملنے لگے تو وہ سب کارآمد بن جائیں گے۔ جب انسانوں کے دماغ اور ہاتھ پیر استعمال ہونا شروع ہوجائیں گے تو ملک وقوم میں دولت کی بہتات بھی ہوجائے گی۔ لوگوں کو دولتمند بنانے کیلئے چند کام کرنے ہیں۔
1:ایرانی تیل کی سمگلنگ کو رشوت کے بغیر قانونی جواز دینا ہوگا۔ پیٹرول سستا ہوگا تو بجلی کی پیداوار اور آمدورفت میں عوام وخواص کو فوری ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔ مل، فیکٹری اور دیگر معاملات سستے چلنا شروع ہوں گے تو بیرون ملک کی مارکیٹوں میں ہمارا مال بکنا شروع ہوجائے گا اور ڈالروں سے ملک مالامال ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک بہت بڑے طبقے کو روزگار ملے گا۔ چین اور ہندوستان کو بھی سستا پیٹرول ہم دیں گے تو ان سے دوستی بھی مضبوط ہوجائے گی۔ جب لوگوں کے پاس کمائی ہوگی تو ریاست کو چلانے کیلئے عوام خود ٹیکس دے گی اور بیرون ملک کشکول لیکر نہیں گھومنا پڑے گا۔سودی قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی اور ملک پر بوجھ کم ہوجائے گا۔
2:ملک میں زمینوں کو مزارعت پر نہیں بالکل فری دینا شروع کریں گے تو ایک بہت بڑا محنت کش طبقہ خط غربت سے اوپر آجائے گا۔ بہت بڑے پیمانے پر وہ سبزی ، اناج اور گنے وغیرہ اُگانا شروع کردیں گے۔ باغات اور جنگلات اگانے کی طرف بہت لوگ مائل ہوجائیں گے اور پاکستان جنت نظیر بن جائے گا۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان ایک اچھے شہری کی زندگی گزاریں گے اور بدمعاشوں سے شریف لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ جنگلات اور باغات اگائیں گے اور دنیا بھر میں مزے سے سیر سپاٹے بھی کرسکیں گے۔ ان کے بچوں کو تعلیم وتربیت کی زندگیاں نصیب ہوں گی۔ کسی طاقتور طبقے کے پھر کبھی ٹاؤٹ کا کردار بھی ادا نہیں کریں گے۔ اسلام و انسانیت سے محبت کریں گے اور غلطیوں کی لوگوں سے معافی مانگیں گے اور ملک میں بیرون ملک سیاح بھی آسکیں گے۔
3:بہاولپور میں ایک بہت بڑا ہوائی اڈہ قائم کریں گے جو سستے پیٹرول کیلئے ایک مثالی مرکز ہوگا۔ دوبئی اور بھارت سے زیادہ بڑا کاروبار ہمارے ہاں چلے گا۔ دنیا کا بہترین بحری بندر گاہ گوادر اور بہترین ہوائی اڈہ بہاولپور کا ہے۔ صرف اس کو چالو کرنے کی ضرورت ہے۔ درآمدات وبرآمدات کیلئے پاکستان سے بہتر دنیا میں کوئی ملک نہیں ہے۔ بحری اور ہوائی راستوں کا معاملہ بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور بری راستے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ہندوستان ، برما ، بنگلہ دیش ، بھوٹان، تھائی لینڈ ، نیپال وغیرہ کو ٹرین اور سڑک کے ذریعے عرب اور یورپ کو ملایا جاسکتا ہے۔ دوبئی نے سمندری سرنگ کے ذریعے بھارت کیساتھ ملنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن جب پاکستان کے ذریعے بائی روڈ و ٹرین راہداری قائم ہوگی تو ایک بہت بڑا کاروبار ہمیں ملے گا اور پاکستانیوں کوپوری دنیا عزت کی نظر سے دیکھے گی۔ صرف راہداری کے ٹیکس سے بھی ریاست اورحکومت کے تمام اداروں کو چلانے میں مشکل نہیں ہوگی۔
4:ہندوستان ، افغانستان اور ایران کے اشیاء کی خرید اور فروخت کا کاروبار شروع ہوجائے تو پاکستان کے اندر اور باہر ہمارے لوگ بہت بڑے پیمانے پر تجارت کرسکتے ہیں۔ مہنگائی اس وقت مسئلہ ہوتا ہے جب لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن جب پیسہ آتا ہے تو 5ہزار روپے کلو دودھ بھی لوگ خوشی سے لیں گے۔ بھینسوں کا پیشاب اور گوبر صاف کرنے، چارہ کھلانے اور نہلانے دھلانے اور دودھ نکالنے والوں کو بہت اچھا معاوضہ ملنا چاہیے۔ لوگوں کے پاس پیسہ ہوگا تو مہنگائی کے رونے والے نہیں ملیں گے ۔ روزگار کے مواقع ہوں گے تو پھر بدمعاشی ، چوری چکاری اور ڈکیٹی کی جگہ شرافت والی زندگی ہی گزاریں گے۔ پھر لوگوں کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی فرصت بھی نہیں ہوگی ۔ ان کے اخلاق اور کردار بھی شرافت سے مالامال ہوجائیں گے۔
5:سولر بنانے کے کارخانے پاکستان میں آجائیں گے۔ اور دنیا بھر کو یہاں سے آسانی کیساتھ سپلائی ہوسکے گی۔ ساتھ دریاؤں پر ڈویژن ، ضلع اور تحصیل کی سطح پر بجلی بنانے کے ایسے ٹربائن لگائیں گے جس میں بڑے پیمانے پر سستی بجلی کی سپلائی ممکن ہوسکے۔ دور دراز سے کھمبوں اور تاروں کی ضرورت بھی نہ پڑے اور واپڈا کے محکموں کے ملازمین کو مقامی سطح پر تنخواہیں بھی دی جائیں۔ جس سے درآمدات کا سلسلہ کم اور برآمدات کا سلسلہ خود بخود بہت بڑھ جائے گا۔ یہ صرف مثال پیش کررہا ہوں ، باقی مشاروت سے ماہرین بہت زبردست تجاویز پیش کرسکتے ہیں اور نت نئے معاملات بھی سامنے آجائیں گے اور ڈیموں میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کا کاروبار بھی ہوسکتا ہے۔ دریاؤں کو مغلظات پھینکنے سے بھی صاف کرنے کا بندوست کرنا ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کو نہروں سے بھی مالامال کرنا ہوگا۔
پانی کو صاف کرنے کیلئے ریت کے ٹیلوں سے گزارنے کا طریقہ کار بھی بنانا ہوگا۔ قدرتی بارشوں اور ماحولیات کیلئے بھی بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہوگی اور اس میں کافی لوگ بھی روزگار حاصل کریںگے۔
6:قرآن وسنت کے معاشرتی ، معاشی اور سائنسی آیات کیلئے بہترین تعلیمی ادارے بنانے پڑیں گے۔حضرت مولانا انور بدخشانی فرماتے تھے کہ ”مدارس میں فقہ نہیں فقہ کی تاریخ پڑھائی جارہی ہے”۔تسخیرکائنات کیلئے قرآنی آیات میں بڑا زور دیا گیا ہے، ہمارے تعلیمی اداروںمیں تسخیر استنجاء اور فرائض و آداب گھڑنے اور اختلافات پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پسماندہ علاقوں میں بچوں کی وہ پود ہوتی ہے جن میں کافی صلاحتیں ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں وہ قیمتی ہیرے مزارعت کی دنیا میں دفن ہوجاتے ہیں۔ڈکیت ، بدمعاش اور طالبان بن جاتے ہیں۔ جب اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آئے گا اور قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے یہ دنیا آگاہ ہوگی تو پھر پاکستان امامت کرے گا اور اسلامی ممالک اور باقی دنیا اس کے اقتداء میں کام کرنا شروع کریں گے۔
آج بھی پاکستان کی عوام اور خواص میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کچے کے ڈاکوؤں اور طالبان دہشت گردوں کی کتنی اچھی منجمنٹ ہے؟۔ لڑائی اور بدکرداری کی بدولت بہت کچھ ضائع ہوگیا ہے اور آئندہ بھی ضائع ہوتا رہے گا اسلئے آج ہمیں اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی۔ تیار مدارس اور سکول وکالج کا نظام بھی درست کرلیں تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
7:کچے کے ڈاکو اور طالبان سے زیادہ بدتر ہمارے اپنے وہ مستحکم ادارے ہیں جہاں سے مدارس کے نام پر تعلیم دی جاتی ہے، جہاں عدالتوں میں انصاف کا ستیاناس ہوتا ہے۔ جہاں پولیس کے تھانوں میں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے ۔ جہاں پر تعلیمی اداروں میں باصلاحیت افراد کو ضائع کیا جارہاہے ۔ اور جہاں فوج اور اس کے اداروں کے حالات دگرگوں ہیں۔ کوئی بھی ایسی قابل سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے ذریعے کوئی کردار سازی کی جائے۔ ہر پرائیوٹ اور سرکاری ادارے میں چلتی کا نام گاڑی ہے مگر اب گاڑیوں کی مدت بھی ختم ہوگئی ہے اور اگر بروقت اچھے اقدامات نہیں اٹھائے تو بہت بگاڑ آسکتا ہے۔ صرف اگر اسلامی نظریاتی کونسل درست کردار ادا کرے تو بھی ایک انقلابی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے لیکن ہرکسی کو اپنی نوکری کی فکر ہے۔ اگر مجھے اس ادارے میں خدمت کا موقع دیاگیا تو قوم کے رحجات بدلتے ہوئے دکھائی دیں گے،مجھے کوئی عہدہ بھی نہیں چاہیے لیکن میری مفت خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔

اسلامی انسانی انقلاب
اسلامی خلافت کا قیام عمل میںآئے تو دنیا سے سودی نظام کا خاتمہ کریگا جس کی تائید تمام مذاہب کے مخلص طبقات بہت ایمانی غیرت کیساتھ کریں گے۔ امریکہ بھی سودی نظام میں بڑا ڈوبا ہواہے وہ تائید کرے گا۔ یورپی ممالک اور بھارت کا بھی قرضوں سے برا حال ہے وہ بھی تائید کریں گے۔ روس اس کی سب سے پہلے تائید کرے گا اسلئے کہ کمیونزم اور سوشلزم مذہب کے خلاف ہیں لیکن سودی نظام کے خاتمے کو خوش آئند قرار دینا اس کا نظریاتی مسئلہ ہے ۔ چین کی بھی اصل بنیاد وہی ہے۔
یہود کا مذہبی طبقہ بھی شیطان اور صہیونی سودی نظام سے دنیا کی جان چھڑانے کیلئے پیش پیش ہوگا۔ اسرائیل بھی فلسطین پر مظالم بند کردے گا۔ مسلمانوں کو دنیا میں دشمن نہیں سب سے اچھا دوست اور انسان تصور کیا جانے لگے گا۔ مزارعت پوری دنیا میں فری ہوگی۔ سودی نظام نابود ہوجائے گا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کوتکلیف ضرور ہوگی کہ اچھا خاصا سودی بینک کا معاوضہ مل رہاتھا اور اب محنت مزدوری کرکے بچوں کی پرورش کرنی پڑے گی۔ پاکستان میں حشر کی عدالت لگے گی اور دنیا میں حساب کتاب ہوگا۔ علماء ، جرنیل، جج ، بیوروکریٹ، صحافی اور سیاستدان کے علاوہ تمام طبقات سے ناجائز دولت کا پوچھا جائے گا۔ اچھے لوگوں کیساتھ آسان حساب ہوگا لیکن بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار کرنے والوں کا محاسبہ ہوگا۔ عدالتوں میں مہنگے وکیل ان کی سہولت کاری نہیں کرسکیں گے ۔
قرآن میں اس بڑے انقلاب کا جا بجا تفصیل اور اجمال کیساتھ ذکر موجود ہے۔ جب دنیا میں معاشرتی، تعلیمی ، عدالتی اور حکمرانی کا طرزعمل درست ہوگا اور اقتصادی نظام کی درستگی کیلئے سود اور مزارعت کا نظام ختم ہوگا۔ سمگلنگ اور رشوت کے نظام کا خاتمہ ہوجائے گا تو تمام دنیا کے لوگ اس مثالی خوشی میں شریک ہوں گے اور پاکستان سے اپنے اپنے ممالک کیلئے ایسی منجمنٹ مانگیں گے جو ان کے ہاں بھی نظام کو درست کریں۔
عالمی اسلامی خلافت کے قیام میں دنیا بھر کے لوگ ہمارا ساتھ دیں گے۔ روس کا نظام بھی ناکام ہواہے اور امریکہ نے بھی مظالم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ۔ اسلام کا انسانی انقلاب نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ تمام انسانیت کیلئے ہی ہوگا اور باقی مخلوقات جانور وںاور پرندوں کو بھی تحفظ دے گا۔ اجارہ داری نہیں ہوگی بلکہ ہرشعبہ میں بلاتفریق اہلیت کو ترجیح دی جائے گی۔ عدل اور اہلیت اس کی اصل بنیاد ہوگی ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور احمد پشتین صرف محسود اور پشتون قوم کا اثاثہ نہیں بلکہ بلوچ ، سندھی اور سرائیکی مظلوم قوموں کے علاوہ مظلوم پنجابی قوم کیلئے بھی ایک بڑا اثاثہ ہیں۔ اس طرح سیدعالم محسود ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ منظور پشتین نے کہا ہے کہ پشتون قوم اس وقت ایک قوم ہوگی کہ جب چمن کے پشتونوں کی تکلیف تمام پشتون قوم کو محسوس ہو۔ ایک پشتون کے دکھ درد اور تکلیف کے احساس کو تمام پشتون محسوس کریں۔ اب کہیں کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور ایک بڑے واقعہ کی وجہ سے وہاں احتجاج ہوتا ہے توکسی اور علاقے کے لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ کیا ہواہے؟۔
منظور احمد پشتین نے کہا کہ دہشت گردوں کے گروپ اور قائدین بدل جاتے ہیں اور جرنیل بھی بدل گئے مگر پالیسیاں اب بھی وہی ہیں۔ عالمی قوتیں اپنی پروکسی کے ذریعے لڑائی ہمارے وطن میں لڑتے ہیں۔ ایک گروپ کو امریکہ فنڈ دیتا ہے اور دوسرے گروپ کو چین فنڈ دیتا ہے لیکن خون ہماری قوم کے لوگوں کا بہتا ہے۔ وسائل ہمارے لوٹ لئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں قوم کی تنظیم سازی بہت ضروری ہے۔ انقلاب کو بڑے لوگ نہیں لاتے بلکہ عام عوام میں جب شعور آجاتا ہے تو بڑے بڑے انقلاب یہی عام لوگ برپا کرتے ہیں۔
سیدعالم محسود بھی پشتونوں اور ان کے وطن میں ہونے والی سازشوں کی بہت کھل کر بات کرتا ہے۔ غلام قوموں کی مثالیں دیتا ہے اور مشہور دانشوروں کے اقوال زریں سے اپنی قوم میں تعلیم وشعور اور بیداری کی فضاء ہموار کرتا ہے۔ جب کسی قوم کو دوسری اقوام کی کتابوں اور انقلابیوں سے آگاہ کیا جائے تو اس پر اپنی قوم کو قیاس کرنے سے پہلے اپنی قوم کی اصلی حالت بھی ملحوظِ خاطر رکھی جائے اور ان سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
حجاز مقدس صحرائے عرب کی وہ سرزمین تھی جس پر کسی بھی بڑی طالع آزما حکمران کی حکمرانی نہیں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قبائل تہذیب وتمدن سے محروم ، جنگ وجدل کی آماجگاہ ، ظلم و جبر کی چراگاہ اور جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے منتشر لوگوں کی بستیاں تھیں۔ مکہ اور یثرب بھی اس وقت اس وطن کا حصہ تھے۔ البتہ مکہ مکرمہ کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل تھا۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ گھوڑا آگے بڑھانے پر سالوں لڑائی کرتے تھے۔ جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن بڑی اچھی صفات اور خوبیوں کے بھی یہ مالک تھے۔
رسول اللہ ۖ نے بعثت سے پہلے بھی اتفاق واتحاد کے درس سے اپنی قوم کو نوازا تھا۔ جب تعمیر کعبہ پر حجر اسود رکھنے کا مسئلہ پیش آیا تو سارے قبائل کو نمائندگی کے شرف سے نوازاتھا اور جب اللہ نے وحی نازل کی تو بھی مشاورت کا اہم حکم دیا ۔
وزیرستان کے لوگوں میں عرب سے بڑی مشابہت ہے۔ دی پٹھان میں انگریز نے لکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو حکمرانوں کی دسترس سے ہمیشہ باہر رہاہے۔ کیونکہ حکمرانوں کی دلچسپی خراج سے ہوتی ہے اور وزیرستان کے لوگوں کے پاس یہ وسائل نہ تھے کہ حکمران ان پر حکومت کرنے میں دلچسپی لیتے۔ انگریز دور میں بھی بڑا ہوشیار اور بہادر آدمی وہی شمار ہوتا تھا جو افغانستان اور انگریز دونوں سے مراعات لیتا تھا۔ غریب چور کو ماں لوریاں دیتی ہوئی کہتی تھی کہ غال شہ خدائے دے مال شہ ”چور بن جاؤ اور اللہ تمہارا مدد گار بن جائے”۔تاہم وزیرستان کے لوگوں میں خوبیاں بھی بہت تھیں۔ ظالم کے خلاف اتحاد اور مشاورت سے فیصلے ان کا وہ حلف الفضول تھا جو بعثت سے قبل تھا اور نبی ۖ نے خطبہ حجة الوداع میں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب قرار دیا تھا۔ رسول اللہ ۖ نے صحابہ کی تربیت کی تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کا اچھا خاصہ دور کامیابی سے چل گیا۔ حالانکہ ابوبکر کی خلافت کو ہنگامی اور عمر کی خلافت کو نامزدگی اور عثمان کی خلافت کو بہت محدود مشاورت کا درجہ حاصل تھا۔ جن میں انصار شامل نہ تھے۔
وزیرستان کے لوگوں کا سب سے بڑا کمال مشاورت کے عمل کا تھا جس میں وحی کی سمجھ نہیں بلکہ فطرت کی رہنمائی تھی۔
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اسلام نے عربوں کو جہالت سے نکال دیا تھا لیکن محسودقوم اپنی فطرت کی اچھائی پر قائم تھی۔ البتہ اس کی برائیوں کا خاتمہ علماء ومشائخ اسلئے نہیں کرسکے کہ اسلام خود بھی اجنبیت کا شکار تھا تو اس قوم کی اصلاح کہاں سے ہوتی؟۔ تبلیغی جماعت نے اسلام کی تبلیغ کردی لیکن جب اس کے جاہل افراد حلالہ سے اپنی غیرت کا بیڑہ غرق کرنے لگے تو محسود قوم کے غیرتمند وں نے کہا کہ اچھا خاصا غیرتمند انسان ہوگا مگر جب جماعت میں وقت لگاتا ہے تو غیرت بالکل کھو دیتا ہے۔ حلالہ کا واحد حکم ہوتا تھا جس پر تبلیغی عمل کرتے تھے باقی قرآنی احکام سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ پھربعد میںطالبان آگئے۔
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جہاد کرنا شروع کیا تو اس وقت پاکستان کی ڈبل پالیسی تھی۔ایک طرف مجبوری میں اس نے امریکہ کا ساتھ دیا اور دوسری طرف طالبان کی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد نبی ۖ نے ابوجندل کو حوالے کردیا اور ابوجندل نے اپنے جیسے لوگوں سے مجاہدین کا لشکر بنایا تو کفار کے ناک میں دم کردیا۔ طالبان نے امریکہ سے لڑائی کا آغاز کیا تو پاکستانی فوج اور اپنی عوام کے خلاف بھی بھتہ سے لیکر لیڈی ڈاکٹر کے اغواء برائے تاوان تک سب کچھ کردیا۔
جب بڑے پیمانے پر پیسہ ملنے لگا تو خود کش بھی کاروبار بن گیا۔ جس قوم کی لڑکیاں برائے فروخت ہوں تو لڑکوں کے بک جانے پر کیا تعجب ہوسکتا ہے؟۔ دینداری سے زیادہ لالچ کے پروانوں نے اپنا کام دکھانا شروع کیا۔ ہمارے عزیزوں کے بارے میں مشہور تھا کہ ” رات کو کھمبے چوری کرکے نکالتے اور دن کو عوام کے سامنے توبہ کرتے ہیں”۔ وہ بھی طالبان بن گئے۔ ہمارے عزیز پیر کریم کے اپنے بیٹے بھی ملوث تھے مگر اس کے بیٹے نے اپنے قریبی عزیز اور پڑوسی پرہمارے واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگادیا۔ پیر کریم میرے بھائی کی تعزیت پر آتا تھا لیکن اپنی بھابھی کی تعزیت کیلئے پہلے دن بھی نہیں بیٹھا۔ حالانکہ اس کے بھتیجوں نے کہا تھا کہ چاچو کریم وہاں بیٹھا ہے۔
ہماے خلاف ایک مہم چلائی گئی کہ لوگوں کی بیویاں اغواء کرتے ہیں۔ کسی کی بیوی بچوں کو چھین لیا ہے وغیرہ۔ طالبان کو غلط معلومات دیکر اکسایا گیا اور طالبان ان کو سزا دینے پر بھی تیار تھے لیکن ہماری غیرت نے گوارا نہیں کیاکہ جاسوسی کے نام پر طالبان ہمارے قریبی عزیزوں اور دوسرے خوار غریب کو قتل کریں۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تو یہ معاملات چلتے رہیںگے۔ میں چاہوں گا کہ پیر کریم سے کچھ معلومات لیکر شائع کردوں تاکہ غلط فہمیوں کے ازالہ میں ایک بنیادی کردار ادا ہو۔ غلط رسموں کی اصلاح کیلئے منظور نے بھی بیان دیا تھا لیکن یہ بہت کمزور بات ہے۔ جب تک مضبوط اور حقائق کی بنیاد پر پوری پشتون اور پاکستانی قوم کو تباہی وبربادی سے نہ نکالا جائے تو خریدنے اور بکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

اسرائیل سودی نظام کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کو اپنے ہاتھوں میں نچارہاہے اور فلسطین وعرب کو تباہ وبرباد کررہاہے ۔برما کے مسلمانوں پر بھی شدید مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں!

برما میں اراکانی مسلمانوں کو مذہبی طبقے نے تعصبات سے بھر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں ان غریبوں پرکوئی بھی توجہ نہیں دیتا،ان کو مشکلات سے نکالنا ایک اہم فریضہ ہے

نریندرمودی سے تعصبات کو ہوا مل گئی۔ ہم اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان کا علاقہ شامل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان نے ہندوستان کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کیاتھا، جس میں لاکھوں جانیں گئیں اور عزتیں پامال ہوگئیں۔ مشرقی ومغربی بنگال ، پنجاب، کشمیراور ہندوستان کی تقسیم سے ہم نے بھارت میں مسلمانوں کو ہندؤوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان تک کا علاقہ پھر گریٹر بھارت میں ضم کردیا گیا تو ایک طرف قرضوں اور دہشتگردی سے جان چھوٹ جائے گی اور دوسری طرف مجاہد متعصب ہندؤوں کو سبق سکھا دیں گے۔ لتاحیاء جیسی شاعرہ کی بات بالکل درست ہے کہ ”اسلام وہی تو ہے جو حضرت نوح پر اترا تھا اور جو ویدوں میں موجود ہے”۔ جس طرح ہندؤوں نے اپنے دین کو مسخ کردیا ہے اسی طرح مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا۔ بھارتی مسلمان دھڑلے سے کہتا ہے کہ
میں اللہ کے نبی کا باغی نہیں ہوں
میں ہندو تو ہوں وہابی نہیں ہوں
جنرل ضیاء الحق وانہ جنوبی وزیرستان میں آئے تھے تو نامور عالم دین مولانااحمد حسن لسوندی سے پوچھا کہ”یہ لوگ پگڑیاں سروں پر ہلاتے ہیں تو میری بات سمجھ بھی آتی ہے یا نہیں؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا: ایک پٹھان نے فارسی بان عورت سے شادی کی تھی تو اس خاتون نے اپنا یہ دکھڑا سنایا تھا کہ
یارمو افغان شد من نہ دانم چہ کنم
او بگوید دلتہ راشہ من نہ دانم چہ کنم
”میرا شوہر افغان ہے۔ میں نہیں جانتی ہوں کہ میں کروں کیا؟۔ وہ کہتا ہے یہاں آؤ اور میں نہیں جانتی کہ کیا کروں”۔
جس پر جنرل ضیاء الحق اپنے پروٹول کو نظرانداز کرتے ہوئے خوب کھلکھلاکر ہنس پڑے تھے۔ یہی حال ہمارے عجم کے مسلمانوں کا بھی ہے کہ قرآن وحدیث کی زبان عربی ہے اور ہمارا مذہبی طبقہ کچھ کا کچھ مفہوم لیتا ہے لیکن سمجھتا نہیںہے۔
جنرل ضیاء الحق نے قبائلی عمائدین سے پوچھا کہ روس آپ کے پڑوس میں آیا، تمہیں پریشانی تو نہیں ؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا کہ ”ہم بہت خوش ہیں”۔ یہ خلافِ توقع جواب سن کر جنرل صاحب نے پریشانی سے پوچھا کہ کیوں؟۔ مولانا احمد حسن نے جواب دیا کہ ”قبائل بہادر قوم ہے۔ اسکے پاس اسلحہ نہیں ہے لیکن ہم روسی ہتھیار چھین کر یہاں سے مار بھگائیںگے”۔ جس پر جنرل ضیاء الحق بہت زیادہ خوش ہوگئے۔ بھارت اگر توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور افغانستان تک اس نے قبضہ کرنا ہے تو نیٹو سے اس نے سبق سیکھ لیا ہے۔ اس کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے لیکن ہم اپنی فوج کی خوشنودی کیلئے یہ نہیں کہتے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کو جب اس فوج سے آزاد کردیا تو بنگال سے نکل گیا۔ فوج کو چاہیے کہ اس قوم کو اس حد تک نہ لے جائے کہ لوگ اپنی جان چھڑانے کیلئے لڑیں اور پھر باہر کی افواج عوام کی مدد کو پہنچ جائیں۔ غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارا کوئی بھی ایسا ریاستی ادارہ اور سیاسی پارٹی نہیں جس پر عوام کو اعتماد ہو اور ملک وقوم کو مشکل صورتحال سے نکال سکے۔ سراج الحق دوفیصد سودی اضافے کو اسلامی بینکاری قرار دیتا تھا اور لوگوں میں سود کے خلاف وہ مذہبی جذبہ بھی ابھارتا تھا جس کو گالی کہہ سکتے ہیں مگر باشعورعوام نے بالکل مسترد کردیا تھا۔
جب برما کے مسلمان بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش پہنچ گئے تو حامد میر سے ن لیگی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جہاز تیار کھڑے ہیں صرف اجازت دیں تو پاکستان لے آئیں۔ یہ میاں محمد شریف کے نام لیوا ہیں جس نے بوسینیا کے مسلمانوں کی مدد کی لیکن آج یہ کچے کے ڈاکو کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

شوہر بیوی کو3طلاق دے تو عدت و حلالہ کے بعد دوبارہ پہلے شوہر کے پاس آسکتی ہے۔ مطیع اللہ جان نے وسعت اللہ خان سے کہا تھا کہ نوازشریف بھٹو ثانی نہیں؟۔وسعت نے کہا کہ کس کو کس سے ملارہے ہو؟۔ ن لیگی اور پیپلزپارٹی قیادتیں کہتی ہیں کہ جب ہم دو بیویاں پہلے سے موجود تھیں تو تیسری کو کیوں لائے ہو؟۔PDMمولانا فضل الرحمن کا کارنامہ تھا۔ اب مولانا نے دھیمے، میٹھے اور بڑے تیکھے لہجے میں میڈیا کے بعد پارلیمنٹ اجلاس میں پورے پاکستان کی توجہ کا میلہ لوٹ لیا ہے۔2مئی کو کراچی اور9مئی کو پشاور میں جلسہ عام سے ایک بھونچال برپا کردیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مفتی محمود نے اپوزیشن کی قیادت کی تھی تو ضیاء مارشل لاء میں بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کا سب سے زیادہ مولانا نے ساتھ دیاتھا۔ مولوی صاحبان نے ان پر کفر تک کے فتوے لگادئیے لیکن مولانا ڈرا نہیںاور جھکا نہیں اسلئے کہ1970میں جمعیت علماء اسلام پر بھٹو کی حمایت کی وجہ سے فتوے لگ چکے تھے۔ پھر مولانا نے اسلامی جمہوری اتحاد کے فتوؤں کا بھی مقابلہ کیا جس میں شیعہ و سپاہ صحابہ والے جماعت اسلامی کیساتھ اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر جب ن لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی کھلاڑی بن گئی تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِحکومت میں مولانا نے کھل کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ پھر جب ن لیگ کو2تہائی اکثریت سے1997میں لایا گیا تو مولانا نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کردیا۔ پھر جب فوج نے نوازشریف کو ہٹایا تو مولانا نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔ پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا تو سب سے جاندار مخالفت کی آواز مولانا کی تھی۔ عمران خان نے ریفرینڈم میں ساتھ دیا جیسے جماعت اسلامی نے ضیاء کا ساتھ دیا تھا۔ جنرل مشرف نے ق لیگ کو کھڑا کیا تو اپوزیشن مولانا نے کی۔پیپلزپارٹی نےNROکیا۔ پھر بے نظیر شہید کی گئی تو زرداری کہتا تھا کہ میری لاش جائے گی مگر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ مولانا نے ساتھ دیا۔ پھر نوازشریف پر طاہرالقادری اور عمران خان نے لشکر چڑھادیا تو مولانا نے کہا کہ میرا لشکر آیا تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔جب تحریک انصاف سے نکاح ہوا ، پھر طلاق ہوگئی تو عدت گزرنے کے بعد مولانا پھر حلالہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔مولانا کا حلالہ حکومت اور اپوزیشن کو ماننا پڑے گا۔
5ماہ قبل قیدی نمبر804کے چہیتےISIکے فیض حمید کے خلاف بڑی کہانی سامنے آئی،اب فوجی ٹرائیل کی بازگشت تازہ ہوگئی ۔ اگر اسلام آباد ٹاپ سٹی کا ثابت ہو کہ اصل مالکن پاکستانی برطانوی شہری تھی ۔ کاروبارMQMکے غنڈوں نے چھین لیا اور معیز خان ایک ملازم تھا۔ پھر12مئی2017کوISIکےGDCجنرل فیض حمید نے معیز خان سے کاروبار چھیننے کیلئے بھیانک ریڈکیاتھاتوپھر پاکستان صحیح سمت چلنا شروع ہوگا۔
س: مریم نواز نے پولیس کی وردی کیوں پہنی ؟ سائرہ بانو نے جواب دیا کہ ” پولیس کو یہ دکھانے کیلئے کہ بہاولنگر کے واقعہ میں جتنے تم مجبور ہو، اتنے ہم مجبور ہیں”۔ پولیس نے کہا کہ ”ہم نے دو ڈاکو پکڑ لئے تو یہ سزا مل گئی کہ تھانوں میں مارپیٹ ہوئی، ہسپتالوں میں بھی نہیں چھوڑا، ننگاکیا گیا ”۔ پولیس نے پاک فوج زندہ باد اور فوج نے پنجاب پولیس زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر حقائق سامنے نہ آسکے ۔ مریم نواز نے بے نظیر بھٹو کی نقالی کی تھی جس نے اپنے باپ کی سیاست کیلئے قربانیاں دی تھیں ۔ اسی طرح شہر بانو نے جب اچھرہ لاہور میں خاتون کی جان بچانے میں بہت کردار ادا کیا تو پنجاب پولیس کو عزت مل گئی۔
جنرل فیض حمید نے رینجرز اہلکاروں کے ذریعے اتنی بڑی وارادات کی تھی اور عمران خان نے بشری بی بی کی رپورٹ پر جنرل عاصم منیر کوDGISIکے عہدے سے فارغ کیاتھا تو یہ انتقامی کاروائی نہیں بلکہ اس میں بڑا دم خم ہے۔ اگر ٹاپ سٹی میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں تو لوگوں کو اپنی زمینیں مل جائیں۔ خاتون مالکن مظلوم کو انصاف مل جائے۔ جنرل فیض حمیدکو سزا ملے تو پاکستان بھر میں ہر جگہ ظالم ظلم سے توبہ کریں گے۔ پاکستان میں یہ بھی ممکن ہے کہ جنرل فیض حمید کو ٹرائیل کرنے کیلئے فوجی ملازمت پر بحال کیا جائے۔ عمران خان وزیراعظم بن جائے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹاکر پھر جنرل فیض حمید ہی کو آرمی چیف بنادیا جائے۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے پہلے سارے جنرلوں کو اسی قانون ہی کے تحت مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی کہ نہیں؟۔
جب طالبان منظم اور ٹرینڈ نہیں تھے توGHQتک پر قبضہ کرلیا تھا۔ISIدفترملتان ، مہران ائیربیس، کراچی ائیر پورٹ اور پشاور ائیرپورٹ سے لیکر کیا کچھ نہیں کیا؟۔سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو ملتان اور سلمان تاثیر کے بیٹے کو لاہور سے اغواء کرکے افغانستان پہنچادیا گیا تھا۔ پاکستان پر ڈالروں کی برسات جاری تھی لیکن اب طالبان ٹرینڈ ہیں اور پاکستان کی معاشی حالت ابتر ہے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کہہ رہاہے کہ طالبان سے مذاکرات کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ لیکن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں یہ خبر کسی نے بھی شائع نہیں کی ۔ ایک مرتبہ حامد میر نے بھی مولانا فضل الرحمن کو دھمکی دی تھی کہ اسامہ بن لادن نے کہا کہ ”میں مولانافضل الرحمن کو نہیں چھوڑوں گا”۔ پھر اب جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مقبولیت تھی تو حامد میر نے کہا تھا کہ بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے مانگی ۔ میں نے50ایسے بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ دیدی جن میں صحافی ، طلبہ اور ادیب تھے تو فوج نے ان سب کو قتل کرکے پھینک دیا۔ رانا ثناء اللہ نے اس وقت تو جواب نہیں دیا لیکن الیکشن کے بعد حامد میر کی اس بات کو جھوٹ قرار دے دیا اور چیلنج کیا کہ اپنے جیو چینل کے صحافیوں کو تحقیقات کیلئے مقرر کردیں۔
سچ اور جھوٹ کے مخلوط نظام صحافت وریاست نے سب کا بیڑق غرق کیا۔ قرآنی اور فطری احکام کے ٹھوس شواہد کی روشنی میں پاکستان کی بچت ہوسکتی ہے ورنہ اب عوام ہی نہیں اپنے مقتدر طبقات کی بھی خیر نہیں ہے۔ مسلسل گرداب میں پھنسنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اب خدانخواستہ بھارت پاکستان سے لڑنے اور لڑانے کیلئے ٹریننگ دینے بھی میدان میں اترے گا اور اس اندھی جنگ میں بنگلہ دیش کی طرح ریاست کا برا حشر ہوگا؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

موٹی موٹی باتوں سے مسلمان اپنے مشکل ترین مسائل سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

موٹی موٹی باتوں سے مسلمان اپنے مشکل ترین مسائل سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

اسلام کا معاشی نظام ایک طرف مفت کی مزارعت اور دوسری طرف سود سے پاک تجارت، تیسری طرف اپنے وسائل کا صحیح استعمال، چوتھی طرف مٹی کو سونا بنانے کے طرز پر منصوبہ سازی!

جدید تعلیم سے تسخیر کائنات کا قرآنی فلسفہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ سورج، ہوا ، پانی اور ایٹمی پلانٹ سے بجلی پیدا کرنے کے سستے ترین منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں جس سے انقلاب آئیگا

شاہد خاقان عباسی ، مصطفی نواز کھوکھر، لشکر رئیسانی ، محمود خان اچکزئی ، ڈاکٹر مالک بلوچ اور لطیف ایاز پلیجو اور تمام کے تمام سندھی ، بلوچ، سرائیکی ، پنجابی اور پشتون قیادت سے اہم لوگوں کو لیا جائے۔ ایک بڑی اور ایسی نظریاتی پارٹی بنائی جائے جس سے نظام کا پہیہ درست سمت چلنے لگے۔
پارٹی ایسے جمہوری اصولوں پر ہو ،جس میں عوام کے حق انتخاب کو درست نمائندگی دی جائے۔ جو پہلے لوگوں کو حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کرنے کے آداب سکھائے اگر پنڈی اسلام آباد کے ریجن سے عوامی الیکشن ہو اور کوئی نئی قیادت عوام نے منتخب کی ہو تو شاہد خاقان عباسی اور مصطفی نواز کھوکھر منصبوں کا چکر چھوڑ کر صحت مند اپوزیشن کے ذریعے نئے لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ جب لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ایک ایک ووٹ سے ہارنے والے بھی نہ صرف ایمانداری سے اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں بلکہ اپنے مدمقابل کو ایک ایسے قائد کی طرح عزت دیتے ہیں جیسے سیاسی پارٹیاں اپنے بانی قائدین کو دیتی ہیں تو ہماری سیاست کی روش پر ا سکا اچھا اثر پڑے گا۔
ایک ایسی فضاء بن جائے کہ کارکن قیادت کریں اور قائد کارکن کی طرح کام کرے تولوگوں میں جمہوریت کی اصلی اور حقیقی روح بیدا ہوگی۔ حضرت خالد بن ولید نے قیادت کا بھی حق ادا کیا اور جب قیادت سے اتارا گیا تو کارکن بن کر بھی وہ کام کیا جو ایک اچھا کارکن کرسکتا ہے۔ قوم اسی سے قوم بنے گی اور ہمیں اپنی قوم کو بنانے کیلئے ایک زبردست کردار ادا کرنا ہوگا۔ امریکہ کے صدر جب اپنے منصب سے ہٹ جاتے ہیں تو بازار میں پھل کی ریڑھی لگانے پر بھی نہیں شرماتے ہیں۔
اگر ٹریفک کا نظام ٹھیک ہوجائے تو بڑے لوگ بھی عوامی بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنے سے نہیں کترائیں گے۔ اب تو پاکستان کی سڑکیں موت کے کنویں کی ٹریننگ کراتی ہیں اور یہ خوف لگارہتا ہے کہ کب ٹریفک کی گاڑیاں ایک دوسرے پر خود کش کرتی ہیں اور انسانوں اور مسافروں کا خون بہتا ہے؟۔
پاک فوج کے اہلکاروں کو ایک دفعہ ٹریفک کے نظام کیلئے استعمال کرنا پڑے گا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور جب بگڑے لوگ سدھر جائیں گے تو ٹریفک کا نظام بہت زبردست ہوجائے گا۔ سب سے پہلےNLCکے ڈرائیوروں کو انسان کا بچہ بنانا ہوگا جن سے لوگ اتنے خوف کھاتے ہیں کہ گویا وہ موت کے شکار کیلئے سڑکوں پر نکل کھڑے ہیں۔ امید ہے کہ پاک فوج اپنے ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئےNLCکودرست ہدایات جاری کرکے ایک بنیاد فراہم کرے گی۔
سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقہ میں دریائے سندھ کا بڑا ڈیم اور پانی کا ذخیرہ بناکر اس میں بڑے پیمانے پر مچھلیاں چھوڑ دیں تو لوگوں کو اتنا روزگار مل جائیگا کہ اغواء برائے تاوان کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو تعلیم وہنر پر لگادیں گے۔ پنجاب اور سندھ کے یہ پسماندہ ترین علاقے ہیں اور پسماندہ لوگوں میں بہت صلاحیتیں ہوتی ہیں اور اقدار کے بھی پابند ہوتے ہیں۔
علماء ، ومشائخ اور دعوت اسلامی وتبلیغی جماعت کو وہاں پر تعلیم بالغاں کی خدمات سپرد کی جائے تو یہاں سے ڈکیٹ نہیں اولیاء اللہ اور علماء کرام پیدا ہوں گے۔ اگر ریاست بھی لاتعلق ہو اور لوگ بھی ان سے نفرت کریں گے تو ان کی حالت کبھی بھی نہیں بدلے گی۔ اگر زکوٰة وخیرات میں ان کو بھی ان کا حصہ دیا جاتا تو ڈکیٹ کی جگہ وہاں اچھے کاروباری انسان دوست لوگ بستے۔ اب یہ لوگوں کو سستی گاڑیوں، مرغوں اور لڑکیوں کا روپ دھار کر بلاتے ہیں اور پھر کئی کئی مہینوں تک یرغمال بناتے ہیں۔ غریب ،متوسط طبقے اور امیر لوگوں سے مال کھینچتے ہیں۔
اسی طرح طالبان کو بھی باعزت روزگار دیا جائے اور ان کو لوگوں پر چھوڑنے اور ریاست کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشنا س کرایا جائے۔اسی طرح بلوچ شدت پسندوں کو بھی اس خطے کی تعمیر وترقی کیلئے وہ اطمینان بخش مقام دیا جائے کہ بلوچ عوام کوخود اسٹیک ہولڈر سمجھ لیں اور مثبت سرگرمیوں میں لگ جائیں۔ جب پورا بلوچستان ہم نے سمگلستان بنادیا ہے تو وہاں ایک طرف سمگلر ہوں گے اور دوسری طرف پسماندہ نظریاتی کارکن اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اسمگلنگ سے وہ عزت نہیں مل سکتی ہے جو نظریاتی کارکن ، رہنما اور قائد کی حیثیت سے مل گئی ہے۔ ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی باعزت نوکری پر سیاسی کارکن اور مشکل حالات میں سیاسی قیادت کو اسلئے ترجیح دیتی ہے کہ وہ اپنی قوم کی مشکلات کو حل کرنا چاہتی ہے۔ آج بلوچستان کا حال ٹھیک نہیں ہے تو کل سندھ کے حالات اس سے بدتر ہوں گے اور پھر پنجاب میں بھی یہ ساری بیماریاں پھیل جائیں گی۔
محمود خان اچکزئی نے درست کہا ہے کہ ہمیں اپنے بلوچ بھائیوں سے ، سندھی بھائیوں سے ، سرائیکی بھائیوں سے اور پنجابی بھائیوں سے شکوہ ہے کہ ہم پشتون چالیس سالوں سے بارود ، جلاوطنی، ڈرون اور جیٹ جہازوں کی بمباری کے اندر مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن انہوں نے ہمارے لئے کبھی احتجاج نہیں کیا ہے۔ لیکن وہ بیچارے تو احتجاج کیا کرتے وہ تو پشتون قوم پر رشک کررہے تھے کہ عالمی قوتوں کو شکست دے رہے ہیں۔ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ پشتون امریکی غداروں کو ٹھکانے لگارہے ہیں۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ پشتون کو جب موقع ملتا ہے تو وہ اپنے پشتون بھائیوں کو مارنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
محسود قوم نے طالبان کی شکل میں بیٹنی قوم کو مارا اور پھر بیٹنی قوم نے طالبان کی شکل میں محسود قوم کو مارا۔ عزیزواقارب بھی ایک دوسرے کو ماررہے تھے۔دشمن اور عزیز اقارب کے حوالے سے پختون قوم کا ماحول کیسے اچھائی میں بدل سکتے ہیں جب خواتین کے حوالے سے اسلام اور پشتو کے نام پر عورت کو انسانیت اور بنیادی حقوق سے محروم رکھاجائے؟۔ افغانستان کے طالبان سے دنیا اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتی ہے بلکہ وہ افغان خواتین کیلئے حقوق کا مطالبہ کرتی ہے لیکن طالبان جس اسلام اور جس پشتون ولی کے ماحول میں رہتے ہیں وہ حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔ ایک اعلیٰ نسل یا ادنیٰ نسل کے کتے اور جانور کو بھی جب تک ایک خاص تعلیم وتربیت نہیں ملتی ہے تو وہ اچھے چال چلن سے محروم ہوتا ہے اور انسان جب اچھی تعلیم وتربیت سے محروم ہوتا ہے تو وہ جانور سے بدتر ہوتا ہے۔ قرآن نے اس کی نشاندہی بھی کردی ہے۔
پاکستان میں بلوچ، سندھی اور پشتون کے مقابلے میں ہمارے پنجابی بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم وتربیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور پاک فوج اور پنجاب پولیس کو بڑا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔
حال ہی میں بہاولنگر پولیس اور پاک فوج کے درمیان جو تنازعہ اور جھگڑا ہوا ہے اس سے معاشرے کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ پولیس نے عوام الناس کیساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھنے کا وطیرہ بنایا ہوا تھا، پھرSSGفوجی کمانڈو کے گھر کے ساتھ بھی وہی کیا تو پاک فوج نے بہاولنگر تھانوں کی پولیس کیساتھ وہ کیا جس کی تاریخ میں شاید کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔
مارکٹائی کیساتھ ساتھ ان کی ویڈیوز بھی وائرل کردی گئیں تاکہ پنجاب اور ملک بھر کی پولیس اور عوام یاد رکھے کہ ایسا بھی ہوتا ہے؟۔ لگتا یہ ہے کہ9مئی کو جناح ہاؤس لاہورکور کمانڈر کے گھر ، میانوالی ،GHQاور کرنل شیر خان شہید سمیت ملک بھر میںPTIکے کارکنوں نے جس طرح کا ردِ عمل دیا تھا اور پاک فوج نے باقاعدہ اظہار بھی کیا تھا کہ آئندہ اس قسم کوئی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پاک فوج نے اس کا بدلہ پنجاب پولیس سے بہاولنگر میں لے لیا ہے۔ پنجاب پولیس کی شاید اس میں غلطی بھی نہ ہو لیکن پنجاب پولیس نے بھی بہت سارے بے گناہوں کو ایسا رگڑادیا تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہمیں آگ کو بڑھاوا دینے کے بجائے حقائق کے تناظر میں معاملات کو حل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
جناح ہاؤس لاہور کے ایک قیدی کی ویڈیو واٹس ایپ پر وائرل کی گئی تھی جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ ” میری شلوار نکال کر پیچھے سے ٹیوب ڈالی گئی جس سے بہت شدید جلن ہوئی”۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر1سیاسی کارکن سے بہت لوگوں کو انسانی ہمدردی ہوسکتی ہے لیکن جب کورکمانڈر ہاؤس پر دھاوا بول دیا گیا تھا تو اس کی سزا بھی بنتی تھی۔ اگر لوگوں کو اجازت دی جائے تو پھر یہ حقیقت ہے کہ شرپسند عناصر سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
گناہگاروں کیساتھ جو ہونا تھا وہ ٹھیک ہوا لیکن بے گناہ کیوں رگڑے میں آگئے؟۔ اس کی بھی ایک وجہ تھی کہPTIکا رہنما، کارکن اور ہمدرد پہلے پاک فوج سے جتنی محبت رکھتاتھا تو بھی مثالی تھی اور جب معاملہ الٹ ہوگیا تو بغض بھی مثالی تھا۔ جب مریم نواز کے ہوٹل کا دروازہ توڑا گیا تھا تو سندھ پولیس نے استعفیٰ دینا شروع کردیا۔PTIکے ہمدرد کہہ رہے تھے کہ پاک فوج کو چاہیے کہ سندھ پولیس ہی نہیں پورے پاکستان کی پولیس کی چھٹی کرکے تھانوں میں خود بیٹھ جائے۔ پولیس ظالم ہے اور پاک فوج خود انصاف فراہم کرسکتی ہے۔ پولیس کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا ہے لیکنPTIکے کارکنوں کی پاک فوج سے لازوال محبت دیدنی ہوا کرتی تھی۔ پھر جب اس محبت کا پانسہ پلٹ گیا تو پاک فوج کی ساری اچھائیاں برائیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ عمران خان نے میرجعفر اور میر صادق کا نام لیا اور پھر کہا کہ میری مراد پاک فوج کی قیادت نہیں تھی بلکہ سیاسی قیادت زرداری اور شہباز شریف کو یہ القاب دے رہا تھا لیکن ارشد شریف شہید نے عمران خان کی محبت میں ملک کے کونے کونے سے16مقدمات کا سامنا کیا۔ آخر کار دیار غیر میں وہ جان کی بازی بھی ہارگئے مگر اپنے مؤقف سے باز نہیں آئے ۔
عمران ریاض خان کا پیمانہ بھی الٹ گیا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے بھی معافی مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا جھوٹا الزام لگایا تھا تو مولانا سے بھی معافی طلب کرنی چاہیے۔ جب اسد علی طور نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے انٹرویو لیا تو مسلم لیگ ن کی ہمدردیاں ختم ہوگئیں کہ بلو چ باغی کو اہمیت کیوں دی ؟۔ پھر اسدطور کھڈے لائن لگا دیا ہے۔
محلہ داری سے لیکر قوموں ،قبیلوں اور ملکی سطح پر ایسا ہلا بول دیا جاتا ہے جس طرح پاک فوج کے اہلکاروں نے بہاولنگر میں پنجاب پولیس کیساتھ کیا ہے لیکن اصل معاملہ نظر انداز کرنے کے لائق نہیں ہے۔ صحافی عمر چیمہ نے بتایا کہ پولیس نے ناکہ لگایا تھا اور ایک موٹر سائیکل سوار کو ڈاکو کے خطرناک علاقہ سے پکڑلیا جس سے اسلحہ پکڑا گیا اور دوسرا موٹر سائیکل والافرار ہونے میں کامیاب ہوا جس کا پیچھا کیا تو وہ فوجی افسر کا گھر تھا اور وہاں پولیس کو یرغمال بنالیا گیا۔ پھر پولیس نے اپنا سخت رد عمل دکھایا اور فوجی اہلکاروں کو تھانے میں بند کردیا۔ پھر فوج کی طرف سے ردعمل میں پولیس پر تشدد کیا گیا۔ پولیس کے خلاف پرچہ کٹ گیا لیکن فوجی اہلکاروں کے خلاف پرچہ نہیں کٹا۔
پولیس کی طرف سے یہ آڈیو وائرل ہورہی ہے کہ دو فوجی ڈاکو کیساتھ برا سلوک کرنے پر ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے اور اس بات کی تحقیقات بہت ضروری ہیں۔ جب سکیورٹی اہلکار پولیس اور فوجی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تو پھر اس ملک کو بچانا بہت مشکل ہے۔ عوام سے لیکر خواص تک ، سپاہیوں سے لیکر افسران تک اور اداروں سے لیکر سیاسی پارٹیوں تک کا ضمیر جب مرجائے تو ایک بڑے انقلاب کی ضرورت پیش آتی ہے اور پاکستان ہی نہیں پوری دنیا اس دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
ہماری مین اسٹریم میڈیا تک رسائی نہیں ہے۔ پولیس اور فوج سے لیکر سرکار کے تمام اداروں میں بہت اچھے لوگ موجود ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں ، رہنماؤں اور قائدین میں اچھے لوگ ہیں۔ سب کی خوبیاں اب خامیوں میں اسلئے بدل رہی ہیں کہ اس نظام میں بہت زیادہ خرابیاں ہیں۔ چاپلوسی کی انتہاء کرنیوالے صحافتی اداروں کو نوازا جائے گا تو اخلاقیات کی تباہی نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ سارے میڈیا کو ببانگ دہل اس بات کی ضرورت تھی کہ بہاولنگر واقعہ کے حقائق کو عوام الناس کے سامنے لایا جائے اور اصل مجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ مٹی پاؤ کی پالیسی سے یہ ملک تباہی کی طرف جائیگا۔
مذہبی شخصیات ، مسالک اور فرقوں کو ایک دوسرے سے قریب لایا جائے۔ سیاسی پارٹیوں میں دوری کی فضاء ختم کردی جائے۔ غلطیوں کو برملا مانا جائے اور سرعام توبہ کی جائے۔ اس ملک وقوم میں جزا وسزا کا یکساں قانون بنایا جائے۔ رسم رواج اور طاقتوروں کا لحاظ کرنے کے بجائے جس کی زیادہ ذمہ داری ہو تو اس کو زیادہ بڑی سزا دی جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن اسلام کے رکھوالوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے۔
اگر بیداری کی لہر نہیں دوڑائی گئی تو پھر ملک وقوم کی موت واقع ہوجائے گی۔ اب مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے جب بھی ملک کو قرضہ ملتا ہے تو اشرافیہ کے اللے تللے بڑھ جاتے ہیں اور عوام پر مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ اگر عوام آپے سے باہر ہوگئی تو پھر کوئی سیاسی قیادت، ادارہ اور مذہب اس کو سہارا نہیں دے سکے گا اسلئے ہمیں اصلاحِ احوال کی طرف آنا پڑے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

اسرائیل کے وجود سے بہت پہلے جب بیت المقدس عیسائیوں کا مرکز تھا تو اللہ اپنے بندے رسول اللہ ۖ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جہاں کا ماحول بڑابابرکت تھا

اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھاجس کا معنی اللہ کا بندہ۔ آج اسرائیل بیت المقدس کو اپنے مذہبی رنگ میں رنگ رہا ہے اور سعودی عرب اپنی حکومت کو مغرب سے رنگ رہا ہے

آج دنیا میں بڑا مسئلہ فلسطین ہے۔ دوسرا شیعہ سنی تنازعہ ہے۔ تیسرا مذہبی و سیکولر طبقات کے درمیان چپقلش ہے۔ چوتھا مسالک کے درمیان قرآن وسنت پر لڑائی ہے۔ ……….
جب برصغیر پاک وہند میں ہندو مذہب اپنے ویدوں اور مسلمان قرآن سے ہٹ گئے تو بابا گروہ نانک نے نئے الہامی مذہب کی بنیاد ڈالی ،پھر30لاکھ سکھوں نے7کروڑ لوگوں پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ جن میں مسلمان اور ہندو شامل تھے۔
آج اسرائیل فلسطین پر مظالم کے پہاڑ ڈال رہاہے لیکن مسلمان بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بھی مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے اسلئے کہ اسرائیل کی پشت پر امریکہ اور مغربی ممالک کھڑے ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا گیا تو بھی مسلم ممالک مغربی ممالک کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تھے۔
فلس عربی میں پیسے و کرنسی کو کہتے ہیں جس کی جمع فلوس ہے اورطین مٹی کو کہتے ہیں۔ فلسطین کے معنی کرنسی کی مٹی ہے۔ جب مسلمان اپنی زمینیں فلسطین میں یہودیوں کو بیچ رہے تھے تو یہود اپنے مذہب کیلئے قربانی دے کر زمینیں بہت مہنگی قیمت میں ہی خرید رہے تھے اور مسلمان مہنگی قیمت وصول کرکے اپنی زمینوں کو بیچ رہے تھے۔ یہود محنت کرکے زمینوں کو آباد کررہے تھے مگر مسلمان امام مہدی کی توقع پرہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے تھے۔ عبدالغفار خان نے فلسطینیوں کو پٹھانوں کی طرح قرار دیا تھا۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو جگانے کیلئے بہت نصیحت کی کہ ”تو خود تقدیر یزداں ہے” مگر کسی نے کان نہیں دھرے، ہم نے اسلام کے نام پر ہندوستان کو تقسیم کردیا،پھرآدھا پاکستان بھی ہاتھ سے نکل گیامگر کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملہ کیا تو پاکستان اور ایران نے کیا کردار ادا کیا؟۔ سنی اور شیعہ دونوں امریکہ ہی کیلئے استعمال ہوگئے۔ پاکستان اور ایران سے فلسطین کیلئے کسی قسم کی کوئی توقع رکھنا دل بہلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پاک فوج کی چھاؤنیوں کے پاس انگریز دور میں لال کرتیاں بنائی گئی تھیں جن میں غریب نائی، دھوبی، موچی وغیرہ رہائش پذیر ہوتے تھے اور فوج کے افسروں و سپاہیوں کو خدمات مہیا کرتے تھے۔ جیسے بڑے شہروں میں غریبوں کی کچی آبادیاں ہوتی ہیں اور وہاں سے امیر طبقے کومزدور، چوکیدار اور ماسیاں ملتی ہیں۔
فلسطین دو حصوں میں تقسیم ہے۔ بیت المقدس کے پاس فلسطین کا بڑا حصہ ہے اور غزہ کی پٹی فلسطین کا چھوٹا حصہ ہے۔ جب1948میں عسقلان شہر میں مسلمان اپنا گھر بار، زمینیں اور کاروبار بیچ باچ کر مکمل طور پر چلے گئے تو اسرائیل نے اس کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا ۔اس سے پہلے بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت اس شہر میں موجود تھی ،عسقلان غزہ کی پٹی کے بالکل قریب ہے،عسقلان میں شراب وکباب اور فحاشی کی سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں نے وہاں سے جانا پسند کیا تھا۔
غزہ کی پٹی سے مسلمانوں نے ایک طرف یہودیوں کے ہاں کلاس فور ٹائپ کی نوکریاں تلاش کرنی شروع کیں اور پھر دوسری طرف اچانک بڑے پیمانے پر حملہ کر کے اسرائیل کے یہودیوں کو موقع فراہم کردیا کہ اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے عالم انسانیت اور مسلمانوں کا ضمیر چیلنج کردے۔ عیسائی ممالک میں طاقت ہے لیکن وہ اسرائیل کیساتھ کھڑے ہیں اور مسلمانوں کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر طاقت نہیں رکھتے۔
آج اگر اسرائیل اعلان کردے کہ مفتی محمد تقی عثمانی وغیرہ کو جہاد کیلئے ہم غزہ جانے کی اجازت دیتے ہیں یا خود ہی پہنچا دیتے ہیں تو صورتحال بہت واضح ہوجائے گی لیکن ایک طرف سودی بینکاری سے اسلامی بینکاری کے نام پر مسلمانوں کو مکمل غلامی کی طرف دھکیلا جارہاہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا خون بہا کر انسانیت کے ضمیر کو مارا جارہا ہے۔ آج عیسائیوں کو اپنے بیت المقدس اور حضرت عیسیٰ و حضرت مریم کے خلاف یہود کے گھناؤنے عزائم پر غیرت نہیں آرہی ہے تو کل جب وہ مدینہ اور مکہ پر قبضہ کرلیں گے تو مسلمانوں کیلئے کیوں غیرت آئے گی؟۔ عالمی اسلامی خلافت کے قیام کا خوف اہل مغرب کے دلوں میں چھایا ہواہے اسلئے وہ مسلمانوں کو انکے مراکز مکہ ومدینہ سے محروم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں۔
وزیرستان میں ایک ایسی قوم یا قبیلہ یا شاخ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ”وہ کسی کی بھی زمین پر اپنی حق ملکیت کا دعویٰ کرنے کیلئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہاں ہمارے اجداد کی بیٹھک رہی ہے”۔ ایک طرف مسلمانوں کی روایات میں ہے کہ کچھ عرصہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ رہاہے اور پھر انہوں نے اپنا رخ اللہ کے حکم سے کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا۔اس بنیاد پروہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ اول قرار دیکر اس پر اپناہی حق سمجھتے ہیں۔پھر بات یہاں تک محدود نہیں رہتی ہے بلکہ وہ تمام غیر مسلم افراد کی بیگمات کو بھی چھین لینے اور ان کو اپنی لونڈیاں بنانے کا شرعی حق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حال یہ ہے کہ افغانستان و دیگر ممالک میں مسلمان اپنی خواتین کی عزتیں نہیں بچاسکے ہیں اور اگر معاملات بگڑگئے تو بہت خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
شیعہ سنی تنازعہ اس حد تک ہوتا کہ انصار وقریش میں جب مسئلہ خلافت پر اختلاف جائز تھا اور پھر خاندانی بنیادوں پر یزید اور بنوامیہ وبنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کا قبضہ رہا تھا تو حضرت علی اور آپ کے خانوادے کا خلفاء راشدین ابوبکر، عمر اور عثمان سے بھی زیادہ حق تھا تو بات بالکل جائز اور قابل فہم ہے اسلئے کہ جب انصار خلافت سے اس بنیاد پر محروم ہوگئے کہ قریش نہیں تھے تو باقی قریش کے مقابلے میں علی کے حق کی بات بھی اسلامی تعلیمات اور صحابہ کرام کی ذہنیت کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ جب مسلمانوں کے اقتدار کی نفی کردی جائے کہ علی کی جگہ کفار نے خلافت پر قبضہ کرلیا تو پھر اللہ نے جو اہل ایمان سے وعدہ کیا تھا اور اہل ایمان صرف اہل بیت اور چند صحابہ تھے اور میرے نصیب کی بارش کسی اورکے چھت پر برس گئی تو اس سے قرآن اور اسلام کی بالکل نفی ہوجاتی ہے جس میں اہل بیت نہ صرف مظلوم بلکہ شریک جرم بھی جاتے ہیں۔ حسن اللہ یاری کا اپنا شجرہ معلوم نہیں اور دوسروں سے تعارف کو ضروری سمجھتا ہے لیکن اس کو شیعہ بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ قرآن سے دُوری ہے اور قرآن سے دوری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عام مسلمان اس کے مجرم اور قصور وار ہیں۔ غلام احمد پرویز اور مولانا طاہر پنج پیری کے شاگرد لوگوں کو قرآن کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی امت مسلمہ راہِ ہدایت کی طرف نہیں آسکتی ہے اسلئے کہ اصل معاملہ قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھاہے کہ ” قرآن کی معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا مغالطہ سے ”۔ اس پر قاضی عبدالکریم کلاچی نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک سے سوال پوچھا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
قرآن میں لفظی تحریف کی مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ نے زانیہ اور زانی کیلئے100،100کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ آیت رجم الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما ”جب بوڑھا اور بوڑھی زنا کریں تو دونوں کوسنگسار کرو”سورہ احزاب میں تھی اورسورہ بقرہ جتنی سورہ احزاب بھی تھی۔ پھر کم ہوتے ہوتے آدھی رہ گئی۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آیت رجم اور بڑے شخص کا کسی عورت کا دودھ پینے پر رضاعت ثابت ہونے کی آیات نبی ۖ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے پڑی تھیں اور بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ (کتاب رضاعت کبیرابن ماجہ)
علامہ غلام رسول سعیدی نے نعم الباری شرح صحیح البخاری کتاب الخلع میں یہ بھی لکھا ہے کہ ” شافعی مسلک کے معروف عالم کے نزدیک آیت خلع سورہ بقرہ:229منسوخ ہوگئی ہے سورہ النساء آیت:20آیت طلاق کی وجہ سے ”۔
مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان اور مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان نے لکھا ہے کہ ” سورہ النساء میں اللہ نے عورتوں پر فحاشی کے ارتکاب میں چار گواہوں کے بعد گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا ہے تو اسی سے سنگساری کا حکم ثابت ہوتا ہے”۔
قرآن کے تراجم اور تفاسیر ایسے کئے گئے ہیں کہ علماء کرام کو خود بھی ان سے راہ ہدایت نہیں ملتی ہے اسلئے وہ امام مہدی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئیں گے تو ہدایت نصیب ہوگی۔

شریعت اور بربریت
جب تک قرآن کی درست تعلیمات کو فروغ نہیں بخشیں گے اس وقت تک مسلمانوں کے اپنے حالات بھی نہیں سدھر سکیں گے اور غیر مسلم بھی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہیں گے اسلئے بہت ضروری ہے کہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہمارا باشعور طبقہ قرآن وسنت کو سمجھ کر جاہلیت سے نکال باہر کرے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چند وضاحتیں کردی ہیں۔
1: وانزلنا الکتاب تبیانًا لکل شئی ” اور ہم نے کتاب کو نازل کیا ہے ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے”۔
2:ولوکان من عندغیراللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت سارا اختلاف (تضادات) پاتے”۔
3: وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہٰذا القراٰن مھجورًا ” اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ”۔
4:قل انی انا النذیرالمبینOکما انزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOلنسئلنھم اجمعینO” کہہ دو کہ میں کھلا ڈارنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے بٹوارہ کرنے والوں پر۔ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا ۔ہم ضرور ان سب سے پوچھ لیں گے”۔
ہمارے ہاں کی فرقہ واریت اور مسلک سازی کے نام پر تباہ کاری اور ہلاکت خیزی کی مِلیں اور فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ شیعہ سنی، حنفی شافعی ، مقلدو غیر مقلد اور اہل حدیث واہل قرآن کے نام پر بہت سارے فرقے اور مسالک نے اسلام کا بیڑہ غرق کردیا ہے اس کی ایک ادنیٰ مثال سمجھنے کی کوشش کریں!

نکاح وطلاق میں کھلواڑ
اللہ تعالیٰ نے نکاح اور طلاق کے مسائل قرآن میں واضح انداز میں بیان کئے ہیں لیکن نکاح وطلاق کے حوالے سے ہمارا مسلمان عورت کیساتھ اسلام کے نام پر جتنے مظالم روا رکھتا ہے اور جس طرح کے ظالمانہ وجابرانہ مسائل ایجاد کئے ہوئے ہیں ان کا تصور بھی بہت بھیانک ہے۔ جب ایک پٹھان اپنی بساط سے بڑھ کر20،25لاکھ میں ایک بیوی خرید لیتا ہے تو پھر اس کیلئے ناممکن بن جاتا ہے کہ وہ یہ تصور بھی رکھے کہ اس کو خلع کا حق دے۔ اگر ایسا ہوگا تو پھر لوگ عورت کو کاروبار بناکر پیسے بٹوریںگے اور نکاح وخلع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اسلئے وہ ایک ہی بار میں سودا کرلیتے ہیں۔ ابھی بعض لوگوں نے یہ بھی سلسلہ شروع کردیا ہے کہ لڑکی کو بیچ کر کئی کئی بار واپس لینے کیلئے اور بار بار بیچنے کو دھندہ بنالیا ہے۔ پنجاب میں جہیز بھی دیا جاتا ہے اور حق مہر بھی برائے نام ہوتا ہے لیکن عورت کو پھر بھی خلع کا حق حاصل نہیں ہوتا ہے۔ ایک شوہر جب چاہتا ہے تو زندگی بھر کیلئے عورت کو بسانے اور طلاق دینے سے محروم رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ عورت کیساتھ اسلام کے نام پر وہ ظلم وجبر ہوتا ہے جو فلسطین اور کشمیر کے مسلمان یہود اور ہندو سے اس طرح کا ظلم وجبر روا رکھنے کا چتصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جب میاں بیوی راضی ہوتے ہیں تو پھر پٹھان اور پنجابی کے غلط رسومات خاطر میں نہیں لائے جاتے ہیں لیکن جب معاملہ لڑائی جھگڑے اور طلاق تک پہنچ جاتا ہے تو پھر ان ظالمانہ وجابرانہ مسائل کا تصور سامنے آتا ہے کہ دنیا کے کسی ملک اور مذہب میں اس کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ عورت کو بلیک میل کرکے خلع کے نام پر اس سے منہ مانگی رقم بٹوری جاسکتی ہے۔ اس کو طلاق نہ دینے کی صورت میں زندگی بھر رلایا جاسکتا ہے۔ باپ اپنی کم سن لڑکی کا نکاح کرے تو بلوغت کے بعد بھی اس کی مرضی سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے۔ باپ کے علاوہ کوئی کم سن لڑکی کا نکاح کردے تو بلوغت کے فورًا بعد اس کو اختیار مل جاتا ہے لیکن بر وقت اس کو معلوم نہ ہو اور اپنے اختیار کا استعمال نہ کرے تو زندگی بھر وہ حق سے محروم ہوجاتی ہے۔ اگر زبردستی سے اس کا نکاح کیا جائے اور اس کا کوئی عربی خاندان نہ ہو تو اس کیلئے شوہر سے طلاق لئے بغیر چارہ نہیں ہے ۔اگر شوہر3طلاق دے اور مکر جائے تو عورت کیلئے2گواہ لانا لازم ہیں۔ اگر گواہ نہ ہوئے تو عورت کو خلع لینا لازم ہے لیکن شوہر خلع نہ دے تو عورت حرام کاری پر مجبورہے ۔پھر وہ مباشرت میں لذت نہ اٹھائے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان کی سرزمین پر روس اور امریکہ کے بعد چین نے بڑ ے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا ہے تو کیا اب روس و امریکہ کے بعد تیسری عالمی طاقت چین کیخلاف جنگ ہوگی؟

پاکستان کا پلیٹ فارم افغانستان میں تیسری بار چین کے خلاف استعمال ہوگا تو افغان طالبان اور پاکستان کی فوج کو شدید خطرات کا سامنا ہوگا اسلئے باہمی صلح و اصلاح کا ماحول قائم کرنا ہوگا

جب امریکہ نے روس کے خلاف جہاد کے نام پر پاکستان کو استعمال کیا تو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ہمارا مقدر ٹھہر گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس وقت افغان جہاد کو پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کو افغان جہاد کا مخالف اور مولانا سمیع الحق شہید ومولانا عبداللہ درخواستی کو حامی سمجھاجاتا تھا۔ خاموش مجاہدISIچیف جنرل اخترعبدالرحمان نے اپنے بیٹوں کے نام پر اس وقت آف شور کمپنیوں کے نام پر کروڑوں ڈالر بیرون ملک رکھے ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کو جہاد کی وجہ سے واحد ایماندار اور جمہوری پارٹی قرار دیا گیا۔ حالانکہ میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے اس کواپنا ماموں بنایا تھا۔
گلبدین حکمت یار کو ہمیشہ پروامریکہ اور پرو پاکستان پیش کیا گیا اور باقی مجاہدین لیڈر شپ کو میدان میں لڑایا گیا لیکن ان پر کبھی اعتماد نہیں کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کے فوت ہونے کے بعد سے ہمیشہ یہ کہتا رہاہے کہ پاک فوج ہماری آنکھوں کی پلکیںہیں جو زینت اور حفاظت کا واحد ذریعہ ہیں لیکن پلکوں کا ایک بال بھی آنکھیں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتیں تو ساری پلکیں آنکھوں میں کیسے برداشت ہوسکتی ہیں؟۔ مولانا نے ہمیشہ پاک فوج کے خلاف جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔MRD،MMAاورPDMتک ہمیشہ اس کے خلاف سیاسی جدوجہد کی جو سیاسی جماعت پاک فوج کیلئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو آج کہیں سے وزیراعظم کی پیشکش آجائے تو قبول نہیں کریں گے۔ آج وہ عمران خان کیساتھ تلخ مخالفت کی یاد گار کو بھلاکر اپوزیشن بھی کرسکتے ہیں لیکن عمران خان کے نام جب قرعہ نکلے گا تو اس پر یہ اعتماد کرنا مشکل ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گا۔
عمران خان اور مولانا فضل الرحمن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جنرل پرویزمشرف کی طرح امریکہ کا آلہ کار بن کرہم کوئی کردار ادا نہیں کریں۔ حالانکہ دونوں پرویزمشرف کیساتھ ظاہروباطن میں اچھے تعلقات کیلئے بھی بدنام تھے لیکن ق لیگ کے خلاف دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے۔ اپوزیشن و حکومت آج اگر دونوں مل جائیں تو بھی استحکام نہیں آسکتا ہے اسلئے کہ سیاسی استحکام کیلئے معاشی استحکام ضروری ہے اور معاشی استحکام کیلئے پڑوسی ممالک چین، افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب بھی اس طرف قدم اٹھنے کو ہوتا ہے تو ہمارے اندر کسی نہ کسی طرح کوئی غیرت کے نام پر بے غیرتی کو جگاتا ہے۔ بھارت کیساتھ بھی اچھے تعلقات ضروری ہیں۔ دوبئی بھارت کیساتھ سمندر میں جو بہت بڑی قیمت پر سرنگ بنارہاہے اور ہم ایک کلچر وپڑوسی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے تو کشمیر کے نام پر ہمیں امریکہ ہی لڑاتا ہے۔ ہندوستان کی چین ، ایران ،دوبئی اور سعودی عرب کیساتھ بڑی تجارت ہے مگر پاکستان سے نہیں۔ ایران و سعودیہ کے تعلقات درست ہوگئے لیکن ہم ایران سے تیل وگیس نہیں لے سکتے۔ بھارت افغان طالبان سے اچھے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ چین افغان طالبان سے اچھا تعلق رکھ سکتا ہے لیکن صرف پاکستان چین، افغانستان اور ایران سے اچھے تعلقات نہیں رکھ سکتا ہے؟۔ امریکی صدر فلسطین پر رحم نہیں کھاتا لیکن پاکستان کا ماما بنتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کو اسلئے حکومت سے باہر کیا گیا کہ امریکی مفادات کیلئے پاکستان استعمال نہیں ہوسکتا تھا۔ پنجاب اور سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں سے جب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری لڑنے کو تیار نہیں ہیں تو امریکی جنگ کیلئے کس طرح دونوں نے لنگوٹ باندھ لی ہے؟ جو اترسکتی ہے۔ طالبان بھی کھلم کھلا اعلان کریں کہ ہم نے کسی صورت بھی نہیں لڑنا ہے ورنہ پاک فوج اور افغان طالبان کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امریکہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ایٹمی پاور ہے، چین سے قریبی تعلق ہے اس کی فوج پریشان کرسکتی ہے۔ اس کو ترقی اور مسلم ممالک کی قیادت نہیں کرنے دینی!

امریکہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ایٹمی پاور ہے، چین سے قریبی تعلق ہے اس کی فوج پریشان کرسکتی ہے۔ اس کو ترقی اور مسلم ممالک کی قیادت نہیں کرنے دینی!

امریکی مصنف نے پاکستان کو تباہ وبرباد رکھنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔معاشی وسیاسی عدم استحکام کیساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی دنیا اور اپنی عوام کی نظروں سے گرانے کی منصوبہ بندی ہوئی تھی

پاک فوج ایسی کمزور منّی نہیں ہے جس کو دوسرے بدنام کرسکیں مگر اپنے کردار کی بدولت اس کو بدنام کیا گیا۔ امریکہ شمالی اتحاد کے علاقہ میں اپنے اڈے بناسکتا تھا مگر پاکستان کو بدنام کرنا تھا!

امریکی مصنف ڈینیل مارکی اپنی کتاب نو ایگزٹ فرام پاکستان میں لکھتے ہیں کہ ہم امریکن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے اس کی تین بڑی وجوہات ہیں پہلی وجہ پاکستان کا نیوکلیئر میزائل پروگرام اتنا بڑا اور ایکس ٹینسو ہے کہ اس پر نظر رکھنے کے لیے ہمیں مسلسل پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا پڑے گا۔ دوسری وجہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے چین کی سول وملٹری قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں چین پر بھی نظر رکھنے کیلئے پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج ہے کہ نہ صرف ریجن کو بلکہ پوری دنیا کو ڈی سٹیبلائز کر سکتی ہے۔ پاک فوج پر نظر رکھنے کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے وہ مزید لکھتا ہے کہ ہم نے72سال پہلے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ڈیویلپ ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پاکستان کو اسلامک دنیا کو بھی لیڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کیلئے ہم نے کچھ طریقے اپنائے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اتنا ڈی سٹیبلائز کرو کہ ہم اسے مینج کر سکیں جس طرح اس وقت وہ وہاں پہ بیٹھ کے مبینہ طور پر پاکستان کو مینج کر رہے ہیں اور ڈی سٹیبلائز اس طرح کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی لیڈرز کو خرید لیتے ہیں جن میں پولیٹیکل لیڈرز سول بیوروکریسی کے لیڈرز اور افسران اور اس کے علاوہ جرنلسٹ بھی شامل ہیں اور میڈیا ہاؤسز بھی اس میں شامل ہیں ڈینیل مارکی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پاکستان کے لیڈرز اپنے آپ کو بہت تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں اتنی تھوڑی قیمت کہ انہیں امریکہ جانے کا ویزہ مل جائے یا امریکہ میں ان کے بچوں کو سکالرشپ مل جائے اور اتنی چھوٹی چیز پر وہ پاکستان کے مفادات بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں دوستو یہ تھے کچھ پوائنٹ ڈینیل مارکی کی کتاب ”نو ایگزیکٹ فرام پاکستان” کے کچھ پوائنٹس جس سے آپ کو پتہ چلا کہ امریکہ مبینہ طور پر پاکستان کو کن تین وجوہات کی بنا پر نہیں چھوڑ سکتا ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے

جمعیت علماء اسلام ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے ، مذہبی کاز کیلئے اقدامات اٹھانے میں ہی اس کی مقبولیت ہے

حضرت ابوبکر نے مانعین زکوٰة کے خلاف اقدام اٹھایا تھا تو یہ اسلامی خلافت کا پہلا جبر تھا جس کا سامنا رسول اللہ ۖکی وفات کے بعد عوام نے کیا تھا۔ حضرت عمر نے آخری وقت اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش ! ہم نبی ۖ سے تین چیزوں کا پوچھتے۔ ایک آپ کے بعد خلفاء کی فہرست۔ دوسری زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال اور تیسری کلالہ کی میراث۔
اہل سنت کے چاروں امام متفق ہیں کہ مانعین زکوٰة کے خلاف قتال نہیں ہے۔ البتہ دیگر مسالک میں بے نمازی کے قتل کا حکم ہے اور انہوں نے زکوٰة کے مانعین کے خلاف قتال کو دلیل بنایا ہے۔ جس کی تردید حنفی مسلک والوں نے یہ کہہ کر کردی ہے کہ جب تمہارے ہاں حضرت ابوبکر کے فیصلے سے اتفاق نہیں ہے تو اس پر نماز کو کیسے قیاس کرسکتے ہو؟۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں زکوٰة اور نماز پر قتال کا حکم جاری کیا گیا ہے جس کی تردید میں علامہ غلام رسول سعیدی نے ” تبیان القرآن” میں لکھا ہے اور اگر مولانا فضل الرحمن مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن و مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی کو بٹھاکر فیصلہ کریں تو اس کے زبردست نتائج نکل سکتے ہیں۔ داعش اور طالبان خود کش حملے اسلئے کرتے ہیں کہ غلط تفاسیر سے مغالطہ کھاتے ہیں۔
جب صحافیوں سے کہا جاتا ہے کہ افغانستان،پاکستان اور ایران میں الگ الگ شریعت کی گنجائش ہے تو لوگوں کویہ بات ہضم نہیں ہوتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی شریعت میں کیا فرق ہے؟۔ کیا بندوق کے زور کی شریعت الگ اور جمہوریت کی شریعت الگ ہوسکتی ہے؟۔ نہیں بالکل نہیں ۔ہرگز نہیں۔
جنرل ضیاء الحق نے زکوٰة کا آردنینس نافذ کیا تھا جس کی مفتی محمود نے سخت مخالفت کی تھی۔ اگر بینک میں10لاکھ ہوں اور اس پر سال میں ایک لاکھ روپے بینک کی طرف سے سود مل جائے۔ اور بینک زکوٰة کے نام پر25ہزار روپے کاٹ لے ۔ جب اصل رقم10لاکھ بھی محفوظ ہوں اور75ہزار سود کے بھی مل جائیں تو زکوٰة کیسے ادا ہوگی؟۔ اسلئے مولانا فضل الرحمن کہا کرتے تھے کہ ”مدارس اس زکوٰة سے اجتناب کریں۔ یہ زکوٰة نہیں سود ہے اور شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے”۔
جب پاکستانی قوم سے زکوٰة کا مسئلہ چھڑادیا گیا ہے تو پھر ہماری معیشت کیسے تباہ وبرباد نہیں ہوگی؟۔ کہاں حضرت ابوبکر کا مانعین زکوٰة کیخلاف قتال اور کہاں ہمارے ملک میں سودی نظام کے ذریعے زکوٰة کا بہت بڑا خاتمہ ؟۔ ذرا سوچو تو سہی!۔
مولانا سید محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے جو مزارعت پر تحقیق کی ہے۔اس کی مولانا فضل الرحمن تائید کرچکے ہیں۔ اگر بھول گئے ہیں تو دوبارہ دیکھ لیں۔ اگر زمین کو جاگیردار طبقہ مزارعین کومفت میں دے تو ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ جب محنت کش کسانوں میں حوصلہ پیدا ہوگا تو پاکستان کی ساری بنجر زمین کو خود آباد کردیں گے ۔ جس سے لکڑی ، اناج اور پھل کی پیدوار میں اچھا خاصا اضافہ ہوگا اور محنت کشوں کے ذہنی طور پر تندرست بچے سکول کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بن جائیں گے اور ملک کو چلانے کیلئے باصلاحیت طبقہ میسر آجائیگا۔ اندرون وبیرون ملک یہی طبقہ پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ سودی گردشی قرضوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا مل جائے گا۔ پاکستان کے اداروں سے بھی اسمگلر طبقے کا خاتمہ ہوجائے گا اور اچھے لوگ آجائیں گے۔
ہرشعبے اور میدان میں صحت مند اور توانا لوگوں کی آمد ممکن ہوسکے گی۔ رسول ۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا اور اس پالیسی کی وجہ سے پھر وہ یثرب گاؤںدنیا کا ترقی یافتہ شہر ”مدینہ ” بن گیا۔ جہاں سے یہ انقلاب پھر پوری دنیا میں پھیل گیا تھا لیکن خلافت کی جگہ جب آمریت نے لے لی تو پھر دین کی ہر تعبیر کا بیڑا غرق کردیاگیا۔
آج جب سودی بینکاری کا نام اسلامی بینکاری رکھ دیا ہے تو پھر آخر غیر اسلامی کیا ہے؟۔ جب سود بھی اسلامی بن گیا؟۔ اسلامی بینکاری کانفرنس میں اسحاق ڈار نے خوب کہا تھا کہ جب تم عام سودی بینکاری سے اسلام کے نام پر2فیصد زیادہ سود لو گے تو کون اس کی طرف آئے گا؟۔ حالانکہ اسلام کے نام سے کالے دھن کو سفید کرنے کا طریقہ ایجاد کرلیا گیا ہے۔ جس میں ایک طرف سودی بینکاری کو مکمل تحفظ مل جاتا ہے اور دوسری طرف کالے دھن کا بھی کوئی حساب کتاب نہیں لے سکتا ہے۔
جب کوئی کالے دھن کی پراپرٹی اسلامی بینک کے نام پر منتقل کی جاتی ہے تو اس کا مالک بینک بن جاتا ہے اور پھر اس کو فرضی کرایا کی صورت میں سود کیساتھ ایڈ جسٹ کردیا جاتا ہے۔ اگر کوئی احتساب کا ادارہ تفتیش کرلے کہ یہ پراپرٹی کس کی ہے؟ تو وہ بینک کے نام ہوتی ہے اور اس کا محاسبہ نہیں ہوسکتا ہے اور جب کوئی شخص دیوالیہ ہوجائے تو پراپرٹی بینک کے نام ہوگی اور بینک کو نقصان بھی نہیں ہوگا۔ کراچی ائیر پورٹ سے لیکر کیا کیا پراپرٹیاں فرضی کرائے کی مدد میں ہم بیچ چکے ہیں؟۔ اگر کوئی بحران کھڑا ہوگیا تو سب کچھ اغیار کی تحویل میں دیا جائیگا۔
اسلام کے معاشرتی نظام کو بھی مذہبی طبقے نے بہت بگاڑا ہے اور اگر ایک ایک بات کو صحیح معنوں میں اجاگر کیا جائے تو پھر لوگوں میں اسلام کی سمجھ پیدا ہوگی اور مذہب سے بیزار طبقہ اسلام کی خدمت کرنے لگ جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے قرآن وسنت کی صحیح تعلیمات کا معاملہ پھیلے گا تو جمعیت والوں میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوجائے گا۔
مولوی طبقے نے ہمیشہ اسلام کے نام پر اپنی اجارہ داری کا نفاذ قائم کیا ہے لیکن اب لوگ مذہب بیزار ہوگئے ہیں ۔ پہلے سے زیادہ آج علماء ومفتیان کی عزت وتوقیر میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے ہٹ دھرمی نہیں اسلام کی اصل تعلیمات کو پیش کرنا ہوگا۔ مفتی منیر شاکر ایک باصلاحیت اور بہادر آدمی ہے اور ان کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کی ایک ٹیم تشکیل دے کر پورے پختونخواہ ، بلوچستان اور افغانستان میں ایک تحریک شروع کردی جائے تو بہت جلد اس کے بہترین نتائج نکل سکتے ہیں۔ کامریڈ اور لامذہب طبقہ بھی اسلام کی حمایت میں بالکل پیش پیش ہوگا لیکن جب ہم سودی نظام کو اسلامی قرار دیں اور ماں بہنوں کی عزتیں حلالہ کی لعنت سے لٹوائیں اور توقع رکھیں کہ عوام ہمیں اقتدار کی دہلیز تک پہنچائے گی تو اس خام خیالی کا ادراک ہونا چاہیے کہ اگر دنیا میں اقتدار اور دولت مل بھی گئی مگر آخرت میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اسلام کی درست تعلیم کا نتیجہ ہندوستان اور اسرائیل پر بھی مرتب ہوجائے گا۔ پورپ و امریکہ میں بھی اسلام کا ڈنکا بج جائے گا۔ مشرق ومغرب اور شمال وجنوب میں اسلام کی فطرتی تعلیم سے منزل مل سکتی ہے ۔
مولانا فضل الرحمن نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں جو تقریر فلسطین کے حق میں کی وہ بھی بہت اچھی بات ہے لیکن یہ سعودی عرب کے شاہ سلیمان کیلئے سپاس نامہ زیادہ تھا اور عالم اسلام کیلئے رابطے کی اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ جب ہم اسلام کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو پیش کریں گے تو عالم اسلام کے تمام حکمران اس کی طرف بن بلائے بھی توجہ دیں گے۔ اسلام کے اندر یہ کمال ہے کہ مردہ قوموں میں اس کے ذریعے زندگی کی روح دوڑانے کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے۔ امید کرسکتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس کیلئے اپنی اور اپنی جماعت کی خدمات پیش کریں گے۔ ان کی شخصیت کو حکومت،ریاست اور اپوزیشن میں قبولیت کا جودرجہ حاصل ہوا ہے اس موقع پر وہ دین کی درست خدمات انجام دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا احساس کریں گے۔ انشاء اللہ العزیز

(نوٹ: اس پوسٹ کے ساتھ عنوان ”ہر استحکام کیلئے ایک انہدام ضروری ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ” کے تحت پوسٹ ضرور پڑھیں۔)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ مارچ2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے

حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے

پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ نوازشریف ،زرداری ، فائز عیسیٰ، جنرل قمر جاوید باجوہ اور تمام سیاستدان ، صحافی، جرنیل، جج اورسول بیوروکریٹ اپنے بیرون ملک کے اثاثوں کو قربان کردیں

پختونخواہ وبلوچستان سے اسمگلنگ کے بجائے سستی اشیاء اور گیس وپیٹرول کا فائدہ عوام تک براہ راست پہنچائیں تو لوگوں کو روزگار ملے گا اور کاروبارِحکومت بھی اچھی طرح سے چل جائیگا

سندھ حکومت دریائے سندھ ضلع و ڈویژن کی سطح پر مناسب بند تعمیر کرے جس میں سیلاب کے پانی کو بڑے پیمانے پرذخیرہ کرکے رکھا جاسکے۔ اس پر لوکل پن بجلی بنانے کا انتظام کرے تو سندھ جنت نظیر بن جائے گا۔ ہاریوں کو مفت میں زمینیں دینے سے سندھ پاکستان میں اس انقلاب کا سب سے بنیادی ذریعہ بن جائے گا جو پاکستان سے پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔
بلوچستان مرکز سے فنڈز لینے کے بجائے ایرانی پیٹرول کا کاروبار اپنے ہاتھ میں رکھ لے۔ پورے ملک کو سستے پیٹرول کی سپلائی بھی کرے ۔ خود بھی کمائے ،لوگوں کو بھی سہولت کی فراہمی یقینی بنائے۔ بلوچستان سے اسمگلر اور مافیاز کا خاتمہ ہوجائے گا تو امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری آجائے گی۔ ایران اور افغانستان سے سمگلنگ نے معاملات کو بہت بگاڑا ہے۔
پنجاب اور سندھ ہندوستان سے گائے اور گوشت درآمد کرنا شروع کریں اور دوسری سستی اشیاء دالیں، چاول،ادویات اور ہندوستان میں بننے والی چیزوں کی درآمد شروع کریں اور اپنی چیزیں ان کو برآمد کریں تو لوگوں میں خوشحالی کا دور آجائے گا۔ پنجاب اور سندھ کے عام لوگ بھی کم پسماندہ نہیںہیں۔ سندھ کی طرح پنجاب میں بند بنائے جائیں اور بجلی پیدا کی جائے۔
میانوالی سے ملتان موٹر وے بنے تو اسلام آباد،پشاور اور پنجاب وپختونخواہ کا زیادہ ٹریفک سکھر تک موٹر وے پر آجائیگا۔ میانوالی و ڈیرہ اسماعیل خان عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے حلقے ہیں۔ مریم نواز اور شہبازشریف اس تھوڑے خرچہ پر بہت لوگوں کے دل جیت سکتے ہیں جس میں جنوبی پنجاب کا بڑا حصہ بھی آجائیگا۔ کراچی آنے جانے والوں کو سہولت ہوگی۔
خیبر پختونخواہ میں پن بجلی لگائے جائیں تو وفاق سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ماربل اور کاپر کیلئے انڈسٹری لگائی جائے ۔خام مال کو بیرون ملک سستا بیچنے والے پاگل کے بچے تھوڑی شرم وحیاء بھی نہیں رکھتے۔اگر وطن سے ہمدردی ہوتی تو آج مقروض نہ ہوتے اور نہ ملک وقوم کو ان مشکلات کی دہلیز پر پہنچاتے۔ مقتدر طبقہ لوٹا ہوامال واپس کرکے قرضہ چکائے۔

(نوٹ: اس پوسٹ کے ساتھ عنوان ”ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟ ” کے تحت پوسٹ ضرور پڑھیں۔)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ مارچ2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv