پوسٹ تلاش کریں

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

غلام علی کو گورنر پختونخواہ لگانے پر مولانا عصام الدین کا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑنے کا اعلان

ہمارا جمعیت علماء اسلام نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔

جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ ہے کہ وہ جو کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی آگے لیکر آیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے

جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کے معروف رہنما عالم دین مولانا عصام الدین محسود نے کثیر تعداد میں قومی مشیران کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو خیر باد کہہ دیا ہے ۔ جن میں نامور شخصیات ملک محمد ہاشم خان، ملک سیف الرحمن، حاجی کرامت خان، ملک نعیم جان، ملک گل کرام خان، ملک عبد الحمید خان، ملک رحمت اللہ (رام تل)،ملک سلطان خان، حاجی محمد اقبال خان، نور محمد برکی، ملک بہرام خان، دارو خان، حاجی شاہ محمود خان، ملک فیض اللہ خان اور ڈاکٹر عبد المجید خان وغیرہ شامل ہیں۔ قوم شمن خیل ، لاتعداد عبدالائی، منزائی وغیرہ محسود قوم کی اکثریت نے مولانا عصام الدین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مولانا عصام الدین محسودنے دکھ بھرے لہجے میں40سالہ رفاقت کو چھوڑنے کی مجبوری پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا:

ٹانک شہر میں مولانا عبد الحق ، قاضی عطاء اللہ اور مولانا فتح خان جمعیت علماء اسلام کی خدمت کررہے تھے۔ جب1983میں مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کی خدمت کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ مولانا عبید اللہ انور، مولانا عبد اللہ درخواستی پیچھے ہٹے ۔ مولانا فضل الرحمن آگے آئے تو چونکہ ہماری جوانی تھی ۔ ہم نے ساتھ دیا ، ہر محاذ پر بہت قربانیاں بھی دیں۔ اس نے ہمارا ذہن یہ بنایا تھا کہ لنخرج العباد من عبادة العباد الیٰ عبادة رب العباد ہمارا جمعیت نے یہ ذہن بنایا تھا کہ بندوں کی غلامی چھوڑ کر اللہ کی غلامی کرنی ہے۔ آج ہمارے ذہن کو اس طرف مائل کیا جارہا ہے کہ ہم غلاموں کی غلامی کریں۔ ان لوگوں کی غلامی جن کا اپنا ذہنی میلان غلامی کا ہے ۔ مجھے جو دکھ درد پہنچا، اس کا میں مکمل اظہار نہیں کرسکتا اسلئے کہ میرا دل بہت کمزور ہے۔ آج جب میں جمعیت کو چھوڑ رہا ہوں تو میرے لئے کوئی خوشی کی بات اور اچھا دن نہیں۔ آج جیسا میں مرچکا اور ختم ہوچکا ہوں۔ پارٹی کی آپ40سال خدمت کرو اور اس کو خیر باد کہو تو یہ بہت بڑی بات ہے۔KPKکی لیڈر شپ اوراختیارات مولانا نے ایک ایسے آدمی کو دئیے جو میری موجودگی میں تین مرتبہ مجلس عمومی کے اجلاس سے کرپشن اور بدنامی کی بنیاد پر نکالا گیا۔ اس کو میٹنگ میں آنے سے منع کرتے تھے۔ آج اس کو خیبر پختونخواہ کا گورنر لگایا۔KPKمیں جتنے پرانے علماء کرام اور قربانیوں کے لوگ ہیں سب کو چھوڑ دیا۔ رشتے دار بیٹی کے سسر کو گورنری دی۔ میں جمعیت علماء اسلام کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ مجھ پر بھاری، تکلیف دہ ہے اسلئے کہ یہ جھنڈا میرے باپ نے بھی گھمایا ۔ مفتی محمود کے وقت میں میرے والد قبائل کی ساتوں ایجنسی کے صدر تھے۔ اس جمعیت کی بنیاد وزیرستان میں میں نے رکھی ۔ سراروغہ میں انصار الاسلام سے جمعیت کو منتقل کیا پھر کل قبائل جمعیت بھی الحمد للہ میری کوششوں سے وجود میں آئی تھی۔ بڑے جلسوںاور پروگرام کا اہتمام میرے گھر سے ہوتا تھا۔ وہ نظریہ جو مولانا نے متعارف کرایا تھا اسکے خلاف مولانا خود چل پڑے۔ اسلئے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں اور مستقبل کیلئے میں اپنی قوم اور عوام کی رائے سے قدم اٹھاؤں گا۔ میرا گلہ ہے کہ مولانا صاحب بہت سارے علماء نے آپ کیساتھ بڑی قربانیاں دیں ۔ جنکے باپ دادا جمعیت میں بوڑھے اور فوت ہوگئے۔DIخان کو دیکھیں! مولانا علاؤ الدین ، مفتی عبد القدوس اور کلاچی کے قاضی عبد الکریم یہ جتنے علمی گھرانے تھے مولانا فضل الرحمن کی کوشش سے جمعیت کی قیادت سے نکلے بلکہ انکے نام کو مٹانے کی کوشش کی۔ ٹانک میں مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا عبد الحق مولانا فتح خان، مولانا عبد الرؤف کی جماعت کیلئے قربانیاں تھیں۔ ان کی اولاد کو کسی شمار و قطار میں نہیں سمجھتا بلکہ ان کی بے عزتی کی کوشش کرتا ہے۔ میں ڈرتا تھا کہ میری بے عزتی نہ ہوجائے۔KPKمیںمولانا جمعیت کو وراثت میں تبدیل کرچکا ۔ ڈی آئی خان میں اس کی خاندانی ، بنوں میں اکرم درانی اور پشاور میں غلام علی کی بالادستی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ آج اٹھ جائیں اور اپنے آپ کا خود پوچھ لیں اگر وہ پوچھیں نہ تو ان کیلئے یہ وقت نقصان دہ ہوگا۔ اللہ کرے کہ جمعیت علماء اسلام کے اکابرین اس طرح سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ وہ کس طرف جارہے ہیں؟۔ کس کیساتھ جارہے ہیں؟ اور کس لئے جارہے ہیں؟۔
صوبے کے علماء سے مطالبہ ہے کہ اٹھ جاؤ اور اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں لو ۔ آج جمعیت سرمایہ داروں کے ہاتھ میں گئی۔ میں نے اس دن استعفیٰ دیا تھا جس پر امیر اور جنرل سیکریٹری گواہ ہیں کہ جس دن ساؤتھ وزیرستان محسود ایریا سروکئی تحصیل اور لدھا تحصیل کے میئر کے نام آگئے تو اس دن میں نے دستخط کردئیے اور کہا کہ اسکے بعد مولانا صاحب میں کابینہ میں ساتھ نہیں ہوں گا۔ اس نے کہا کہ کیوں؟ ۔ میں نے کہا اسلئے کہ محسود ایریا کے لوگ جمعیت علماء اسلام کو مفت میں ووٹ دیتے تھے۔ آپ نے سرمایہ داروں کوآ گے کردیا اور ان کو ٹکٹ دیا۔ مولانا صاحب نہیں چاہتا کہ کوئی غریب عالم بھی آگے آئے۔ حالانکہ علماء کی اکثریت ہے اور اب بھی پوچھ سکتے ہیں کہ میئر کیلئے اکثریت علماء کے حق میں تھی کہ ٹکٹ علماء کو ملیں لیکن جب بات مولانا تک پہنچی تو مولانا سرمایہ دار کے حق میں فیصلہ کرتا تھا۔ اس طرح مولانا صالح شاہ کے بیٹے کو ٹکٹ دیا۔ اس دن بھی آپ لوگوں نے مجھے داد دی تھی اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے۔ اس کے علاوہ کی باتیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے دوستوں کے ساتھ مشورہ کروں گا۔ اگر سیاست کیلئے دل چاہا تو جماعتیں بہت ہیںاور اگر نہیں چاہا تو بھی اپنے لئے لائحہ عمل بناؤں گا۔ جمعیت موروثی جماعت بن گئی، علماء کی جماعت نہیں ، ان پڑھ لوگوں میں بھی صرف مالداروں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ میں جماعت کیلئے یہ گناہ سمجھتا ہوں اور اسکے بعد میں شامل نہ ہوں گا، و آخر دعوانا ان الحمد للہ ۔
سوال: مولانا صاحب یہ بتاؤ کہ گورنری کیلئے جمعیت علماء اسلام سے کوئی مشاورت ہوئی تھی؟۔ یا ایسے ہی نامزد کردیا؟۔ اور لوگوں نے اتفاق کرلیا؟۔
جواب: مولانا ہر بات میں مشاورت کرتا ہے لیکن پہلے کارکنوں کا یہ ایسا ذہن بناتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایک رسمی مشاورت ہوتی ہے۔
سائل: مطلب ہے کہ پہلے سے کسی ایک کیلئے ذہن بنایا ہوتا ہے۔
جواب: ہاں بالکل! جس کیلئے مولانا چاہتے ہیں اسی کو لاتے ہیں۔
سوال: کیا یہ بات جماعت کی مرکزی اور صوبائی سطح پر پہلے بھی آپ نے کبھی اٹھائی ہے کہ ہمیں یہ شکایات ہیں؟ یا پہلی مرتبہ یہاں بیان کررہے ہیں؟ ۔
جواب: میں نے بالکل پہلے بھی کی ہے لیکن جو لوگ ان کے گھر سے باہر کے تھے تو وہ کہتے تھے کہ اگر ہم نے یہ بات کی تو ہمیں عہدوں سے ہٹادے گا۔ عصام الدین صاحب یہ مہربانی کرو کہ چند سال مجھے اس عہدے پر رہنے دو۔ اگر آپ مخالفت کرو تو پھر آپ کی جگہ جماعت میں نہیں ہے۔
سوال: جس طرح پاکستان میں گرما گرمی بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے ایسے میں بنیادی رکنیت سے آپ کا مستعفی ہونا تو کیا کسی سیاسی جماعت میں کوئی جانے کا فیصلہ کیا ہے؟۔ یا پھر آپ خاموش رہیں گے؟۔
جواب: اگر میرے مفاد کی بات ہوتی تو غلام علی کو میں بہت عرصہ سے جانتا ہوں جب وہ کونسلر بھی نہ تھا پھر میں استعفیٰ نہ دیتا بلکہ گورنر سے مفادات اٹھاتا۔ لیکن الحمد للہ کہ میں نے پہلے بھی کبھی جماعت میں مفادات نہیں اٹھائے ہیں۔ اور نہ آئندہ کسی اور پارٹی سے میرے مفادات کا خیال ہے۔ ہر بندے کا حق ہے کہ سیاست کرے لیکن وہ اپنے لئے اس پارٹی کو چنے گا کہ جس میں میرے دوستوں ، میری قوم کے لوگوں اور میرے علاقے کے لوگوں کو پسند ہواور اس میں میری عزت ہو، بے عزتی نہ ہو۔ میں جمعیت فضل الرحمن کو چھوڑ رہا ہوں تو مجھے اپنی عزت کا خطرہ ہے۔ یہ تین چار سال سے جو ہورہا ہے کہ انہوں نے مجھے اپنا سرپرست بنایا ہے تو میں نے جو کچھ بھی دیکھا، اس کو سر عام بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے40سال گزارے اسلئے میں وہ باتیں نہیں کرسکتا کہ کیوں جماعت کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکنKPKکے گورنر سے مجھے یقینی طور پربہت تکلیف پہنچی۔ اسلئے میں نے آج نو دس بجے ہنگامی فیصلہ کیا کہ آج تمام علماء ، پرانے دوستوں کو نظر انداز کرکے سسرالی رشتہ دار کو گورنری دی تو کیا کوئی اس کی اہلیت نہیں رکھتا تھا؟۔ میں نے بتایا کہ ہمارے وقت میں اس کو تین دفعہ اجلاس سے نکال دیا گیا تھا۔ بس یہ میرے لئے برداشت کے قابل بات نہیں تھی۔
سوال: اس نے تو ایم پی اے کا ٹکٹ بھی بغیر داڑھی والے کودیا ہے جو جماعتی فرد نہ تھا۔ اسی طرح گلستان بھی ایساتھا اور… بیٹنی بھی ۔
جواب: ہاں اسکا رویہ یہی ہے جوMPAاسکےMNAکا خرچہ برداشت کرتا ہے اسی کو ٹکٹ دیتا تھا۔ جو علماء ، کارکن خرچہ نہیں اٹھاسکتے تو ٹکٹ نہیں دیتا تھا۔ گلستان اور جس کو ابھی ٹکٹ دیا ہے وہ صرف اسلئے دیا کہ وہ خرچہ اٹھاتا ہے۔
سائل: یعنی جو مالی طور پر مولانا کے خرچے کو اٹھاسکتا ہے جماعتی طور پر نہیں!
جواب: ہاں بالکل۔ جماعت برائے نام معاملہ ہے ۔ آپ کا جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو ٹکٹ بھی مل جائیگا جب دولت ہو تو۔ اگر دولت نہ ہو تو پھر آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے گھر مولانا فضل الرحمن اورمولانا عطاء الرحمن نے بہت راتیںگزاری ہیں۔ جماعت کا کوئی لیڈر نہیں جس نے اس بیٹھک میں رات نہ گزاری ہو۔ یہ جماعت اولیاء اللہ کی جماعت تھی اور اچھے لوگوں کی جماعت تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا احمد علی لاہوری اور یہ مفتی محمود کی جماعت ہے۔ اس جماعت کو اس طرف نہ لے جاؤ جس میں علماء کی بے قدری ہو اور سرمایہ دار کی عزت ہو۔ اللہ ہم پر رحم کرے اور ہماری جمعیت علماء کے پرانے ساتھیوں کو یہ فکر دے کہ آخر ہم کس طرف جارہے ہیں۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان سرمایہ داروں کو بھی جماعت میں شامل کریں گے اور ٹکٹ دیں گے تو پھر ؟ ۔
جواب: سرمایہ دارں میں جو لوگ جماعت کیلئے قربانی دیتے ہیں ان کو بھی ٹکٹ دینے کا حق پہنچتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی سرمایہ دار ہے اور وہ جماعت میں نہیں آسکتا ہے۔ جماعت میں بہت سرمایہ دار لوگ ہیں ان کی قربانیاں ہیں۔ وہ بچپن سے جماعت کیلئے قربانیاں دیتے آئے ہیںاور ان کی داڑھیاں نہیں ہیں لیکن ان کا نظریہ جمعیت علماء اسلام کا ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا ہے کہ جسکا تعلق جماعت سے ہے لیکن کردار جماعت کیخلاف ہے تو اس کی مخالفت ہم کرتے تھے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ سرمایہ دار کو ٹکٹ نہ دیا جائے مگر اقرباء پروری نہ ہو جس کو گورنر شپ دی اس میں اور کوئی کمال نہیں ، صرف یہ کمال ہے کہ وہ جو بھی کماتا ہے اس میں مولانا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اپنی بیٹی دی اور آگے لیکر آگیا حالانکہ پشاور کے علماء مخالف تھے اور یہ غلام علی پشاور نہیں دیر کا ہے ۔
سوال: جب جمعیت علماء اسلام سے مولانا محمد خان شیرانی اور مولانا گل نصیب خان وغیرہ کو نکال دیا گیا کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے لگے ہوئے ہیں تو کیا اس وقت آپ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت کے فیصلے سے متفق تھے؟۔
جواب: مجھ پر کوئی یہ ثابت نہیں کرے گا کہ میں نے کبھی مولانا شیرانی اور مولانا گل نصیب خان کی مخالفت کی ہو۔ بلکہ میں کسی بھی عالم کی مخالفت کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ شیرانی صاحب کی جو قربانیاں جماعت کیلئے ہیں وہ مولانا فضل الرحمن نے آنکھوں سے بھی نہیں دیکھی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جو کیا ،اپنی لیڈر شپ کیلئے کیا اور مولانا شیرانی نے جو قربانیاں دیں وہ جماعت کیلئے دی ہیں کسی اور کیلئے نہیں دی ہیں۔ اس نے ہر موقع پر مولانا شیرانی کے خلاف جماعت کو استعمال کیا ہے اور میں اس میں بھی اس کے ساتھ متفق نہیں تھا۔ اگر میری کوئی آئی ڈ ی دیکھ لے تو میرا اس میں اس وقت بھی بیان موجود ہے کہ جو جماعت نے ان لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے یہ بہت دلخراش ہے۔ اس کو آپ دیکھ لیں میرا مؤقف اس وقت بھی یہ تھا کہ ان علماء کو جماعت سے نکالنا درست نہیں ۔ یہ اختیار بھی غلط ہے کہ اتنے بڑے بڑے علماء کو جماعت سے نکالو۔ مجھے آج کے اس احتجاج سے یہ امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں علماء اپنے لئے کچھ سوچیں گے۔

__تبصرہ__

سوسالہ تاریخ میں جمعیت علماء اسلام کو چند خاندانوں تک محدود کرنے کی کوششوں اور اکابر کی جانب سے مختلف ادوار میں اصلاح کی طویل جدوجہدکے
نشیب وفراز
حالات وواقعات کے زبانی اندرونی حقائق پہلی مرتبہ کارکنوں کے لئے منظر عام پرلانے والی کتاب ، جس کو پڑھنے کے بعد ہر کارکن جمعیت علماء اسلام کی دوبارہ احیاء کی مخلصانہ مساعی کا دست وبازو بننے کا آرزو مند ہوگا۔
مصنف :محمد اسماعیل الحسنی (بلوچ)
ناشر: دارالبصیرة کوئٹہ۔ تاریخ اشاعت2022صفحات720
فون :03217888483تعداد:1100قیمت850
انتساب : جمعےة علماء اسلام کے ان بے لوث اکابرین اور بے غرض کارکنوں کے نام جو مختلف ادوار میں اپنی ہی جماعت میں مظلوم اور معتوب ٹھہریں۔
مختصر تبصرہ:ازنوشتۂ دیوار:کتاب پر مولانا گل نصیب خان کی تقریظ ہے۔ مولانا محمد اسماعیل الحسنی نے دار العلوم دیوبند کا ایک انقلابی نظریہ اور دوسرا سرمایہ دارانہ استحصالی نظریہ پر بہت گرانقدر موادپیش کیا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی و مولانا فضل الرحمن ، مولانا غلام غوث ہزاروی و مفتی محمود کی چپقلش پر تحقیق ہے۔
محمد اسماعیل الحسنی ”لیفٹیننٹ گورنر سر جیمس کی دار العلوم آمد اور مہتمم کو اعزاز” کے عنوان سے لکھتے ہیں : شمس العلماء مولانا محمد احمد (مہتمم دار العلوم دیوبند) انگریز کے وفادار اور بہی خواہ تھے۔ اسکے بدلے میں انہیں خصوصی سند ، زمین، وظیفہ اور حیدر آباد دکن میں ایک عالیشان ملازمت بطور احسان عنایت کئے گئے بحکم ھل جزاء الاحسان الا الاحسان شمس العلماء نے بھی انکے احسان کا نقد بدلہ مولانا عبید اللہ سندھی کے دیوبند سے اخراج اور شیخ الہند کو گرفتار کرواکر ادا کیا تھا بانیان دیوبند کی اولاد غیرت دینی و حمیت ملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انگریز گورنر کو سپاسنامہ پیش کرکے دار العلوم کی لائبریری میں خوشامدانہ جذبات کا اظہار کررہے تھے۔ گورنر انکے چہروں پر نظر حقارت ڈال رہے تھے۔ صفحہ81

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

اللہ پاک اپنے قرآن پاک کی برکت سے اس اسلامی انقلاب کااب آغاز کردے جس سے آسمانوں اور زمین والے دونوں خوش ہوں اور اسلام کو اجنبیت کی دَلدَل سے نکال دے!

اللہ نے جنت باپ کے مونچھ نہیں ماںکے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ محمود خان اچکزئی

میں طالبان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ نبیۖ نے حضرت عائشہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ہزاروں احادیث آپ سے نقل ہیں،جب شیرخداعلی سے اختلاف ہوا تو لشکر کی قیادت کی تھی

محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ ایوب اسٹیڈیم میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم اور خطے کیلئے اہم نکات پیش کئے

افغانستان سے امن وامان کے حوالے سے بات کرنے پر سب سیاسی قائد خاموش ہیں، محمود خان اچکزئی نے اپنی جماعت کے کچھ بڑے بڑوں کی قربانی کارسک بھی لیا اور یہ بھی کہا کہ مقامی سطح سے بین الاقومی سطح تک مثبت بات کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے ۔ اب حنا ربانی کھر نے افغانستان کا دورہ کیا تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ پراستقبال کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ اللہ کے آخری پیغمبر اور رحمت للعالمینۖ ہیں۔ میں عالم انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر حضرت محمدۖ کو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلئے مانتا ہوں کہ آپ ۖ پڑھے لکھے نہ تھے اور صرف23سال میںپوری دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کردیا۔ عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ، لونڈیوں کے لشکر لوگ پال کر رکھتے تھے۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیگم کی حیثیت سے عزت دی تو انقلاب برپا ہوا۔ عورت کو تعلیم، فن سپاہ گری، نرسنگ اور ہر شعبے میں صلاحیت منوانے کا حق دیا۔ طالبان کو کہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے اور تم حقوق سے محروم کرکے کیا اسلام نافذ کرسکتے ہو؟۔ عورت کے بغیر معاشرے کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔…..
محمود خان اچکزئی نے خطے کے امن وامان، پشتونوں کے حقوق، قانون کی بالادستی کے لائحۂ عمل اور آئین کی تابعداری کرتے ہوئے سب کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گول میزکانفرنس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
مولوی کہتا ہے کہ اسلام۔ مذہبی جماعتیں و تنظیمیں کہتی ہیں کہ اسلام۔ قوم پرست اور قومی سیاست کا کھیل کھیلنے والے کہتے ہیں کہ اسلام۔ ریاست کہتی ہے کہ اسلام۔ آئین کہتا ہے کہ اسلام۔مجاہد اور دہشتگرد کہتا ہے کہ اسلام۔ افسانہ نگار کہتا ہے کہ اسلام۔ ڈرامہ باز کہتا ہے کہ اسلام۔ امام حرم کہتا ہے کہ اسلام۔ سعودی عرب، ترکی ، ایران اور افغانستان کا حکمران کہتا ہے کہ اسلام۔ ٹک ٹاکرز کہتے ہیں کہ اسلام۔ اسلام اسلام اسلام مگرپھرہم کیوں ہیں اس میں ناکام ؟۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود نے عورت کے حقوق یہ رکھے کہ حق مہر برائے نام تھا۔ بات بات پر طلاق کا حق مرد کو حاصل تھا۔ عیسائی مذہب میں شادی کے بعد عورت کو مرد تاحیات طلاق نہیں دے سکتا تھا ۔ افراط وتفریط نے عورت کی حیثیت مسخ کردی تھی۔ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب مشرکین نے جہالت کی حد کردی تھی۔ نکاح کے مختلف اقسام اور طلاق کے مختلف اقسام کے علاوہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے لیکر بہت کچھ ہوتا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہلانے والے ہندؤوں نے عورت کیلئے بیوہ ہونے کے بعد ستی کی رسم جاری کی تھی ، شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیگم کو بھی نذرِ آتش کردیا جاتا تھا۔
اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے دورِ جاہلیت اور اپنے مذاہب کی رسوم اور مسائل سے جان چھڑاکر جمہوری بنیادوں پر بیگم اور شوہر کیلئے نکاح وطلاق پر قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آزاد و ترقی یافتہ، خوشحال وخود مختار اور جدید ترین تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھ دی اور مذہب کو کھڈے لائن لگادیا گیا تو ہمارے معاشرے میں بھی اس بنیاد پر ترقی پسند تحریکوں، سیاسی جماعتوں اور ممالک نے آغاز کیا۔ ایران، ترکی ، افغانستان، لبنان، مصر ، دوبئی اورکئی مسلم ممالک کا حلیہ تبدیل ہوگیاتھا۔ اب سعودی عرب بھی اس پر گامزن ہے۔ ایران میں احتجاج شروع ہے۔ طالبان ہی دنیا میں تنہاء رہ گئے ۔جس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی ، مصر ، ایران اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے اسلام سے پہلے خواتین کیلئے غلط مذہبی رسوم ورواج اور اسلامی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ اللہ نے ایک ایک مسئلے کا حل پیش کیامگر کم بخت مذہبی طبقہ سننے پر آمادہ نہیں بلکہ کمزوری سے آگاہی پر جانور کی طرح اپنی دُم سے اپنی پچھاڑی چھپارہاہے۔
نمبر1:دنیا میں عورت کے خلاف انتہائی خطرناک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ جب اس کا شوہر کچھ الفاظ کہتا تھا تو ان میں صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ۔عورت شوہر سے محروم بے سہارا بن جائے تومعاشرے پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ خدا کے نام پر کھیلاجارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کی ابتداء میں اس کی مذہبی حساسیت اور اس کی تردید کا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔
سورۂ البقرہ میں آیت224میں واضح کیا کہ اللہ کو اپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں رکاوٹ بنو۔ یہ آیت طلاق کے مسائل کیلئے ایک مقدمہ ہے۔ جس کی زبردست طریقے سے آئندہ کی آنے والی آیات میں225سے232تک وضاحتیں ہیں۔
نمبر2:خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ بھول بھلیوں کی طرح طلاقِ صریح وکنایہ کے بہت الفاظ تھے جن کی وجہ سے میاں بیوی کو شیطان وسوسہ ڈالتا تھا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ مذہبی اتھارٹی سے پوچھا جاتا تھا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ نے ان تمام الفاظ کا تدارک کردیا اور آیت225البقرہ میںہے کہ اللہ لغو الفاظ پر نہیںپکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یعنی صلح کرنے اور کرانے کے حوالے سے طلاق میں اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ نیت وعزم اور طرزِ عمل کی ہے۔
نمبر3:ایک بڑا خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ جب تک زبانی طلاق نہ دی جاتی عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی ۔ اسکا حق اور نہ عدت تھی۔ نکاح کا یہ طوق عورت سے بڑا ظلم تھا۔ قرآن نے عورت کی جان اس ظلم سے چھڑائی ۔ آیت226البقرہ میں ناراضگی کی عدت کو واضح کردیا کہ طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو عورت پر4ماہ عدت کا انتظار ہے۔ باہمی رضامندی کیساتھ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور4مہینے کی عدت کے بعدعورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ بیوہ کی عدت4ماہ دس دن اورطلاق شدہ کی عدت3ماہ ہے۔
آیت نمبر227البقرہ میں اللہ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر شوہر کا طلاق کا عزم تھا تو پھر اللہ سمیع علیم ہے۔ جو عزم کو سنتا اور جانتا ہے ۔ یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اسکااظہار کردیتا تو عورت4ماہ تک انتظار کرنے کے بجائے3ماہ کی عدت میں فارغ ہوجاتی۔ ایک مہینے اضافی عدت کا انتظار کرانا ہی دل کا گناہ ہے جس پر آیت225البقرہ میں پکڑ کی بات ہے۔
نمبر4:ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا انتہائی ظالمانہ مسئلہ یہ تھا کہ عورت کو ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بار رجوع و طلاق کا سلسلہ شوہر جاری رکھ سکتا تھا۔یہ دونوں مسئلے عورت اور معاشرے کے استحصال کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
اللہ نے آیت228البقرہ میں ایک تیرسے دوشکار کردئیے، ایک ساتھ 3 طلاق پر حلالے کی لعنت کا خاتمہ کیا اور صلح کے بغیر بار بار رجوع کا حق ختم کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ”اورانکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ،اگر اصلاح چاہتے ہوں”۔ حیض وپاکی کے 3مراحل تک عورت کوانتظار کا حکم ہے اورعدت میں اصلاح کی شرط پر باہمی رضامندی اور صلح کرکے شوہر عورت کو لوٹاسکتاہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا فتویٰ باطل کردیا گیا اور عورت کی اجازت کے بغیر باربار طلاق کی غلط رسم بھی ختم کردی گئی لیکن قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔
نمبر5:آیت نمبر228میں طلاق کی عدت کے تین مراحل ہیں ۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہی سے ہے اور ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں سے عورتوں کو محروم کیا جاتا۔ آیت229البقرہ میں واضح ہے کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے۔پھر معروف طریقے سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہی عدت کے تین مراحل سے ہے۔ ( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔ نبی ۖ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق آیت229میں تسریح باحسان ہے”۔
جب آیت228میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت ہے تو آیت229میں یہ تضاد نہیں ہوسکتا کہ دو مرتبہ غیرمشروط رجوع کی اجازت ہو اور تین مرتبہ کے بعد عدت میں بھی رجوع کی اجازت نہ ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے معروف رجوع کی اجازت دی اور فقہاء نے منکر رجوع کی بنیادیں کھڑی کردیں۔ عورت کے حق صلح کی شرط کوغائب کردیا تو حنفی فقہاء نے لکھ دیا کہ ” نیت نہ ہو اور غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی یا نیند میں ہاتھ لگا تو رجوع ہے”۔ اور شافعی فقہاء نے لکھ دیا کہ ”نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہیں ہوگا”۔ قرآن کے معروف رجوع کے مقابلے میں فقہاء کا منکررجوع واضح ہے۔
آیت229میں یہ واضح ہے کہ جب پہلے دومرحلے میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا تو دی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں ۔ مگر جب دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کے حدودوں کو توڑنے کا خوف رکھتے ہوں۔ اس کاواضح مطلب تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی چیز کی نشاندہی ہے جو شوہر نے دی ہے اور وہ واپس کرنا حلال نہیں لیکن اگرخوف ہے کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں طلاق شدگان ناجائز جنسی تعلق کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اور فیصلہ کرنے والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اگر وہ دی ہوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو بڑاکھڑاک ہوگا اور دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو شوہر کی طرف سے دی ہوئی اس چیز کوعورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے اور بال کی کھال اتارنے والے صحافی، وکیل، سیاستدان، جج، مولوی، تعلیم یافتہ لوگ اور بالکل ان پڑھ عوام قرآن کی اس بھرپور وضاحت کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ قرآن میں معمول کے بالکل واضح جملے ہیں مگر بڑے بڑوں نے الجھادیا ہے اور اس کے نتیجے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی اور جایداحمد غامدی جیسے لوگوں نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور علماء وجدید اسکالروں نے اس سے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے اللہ کے کلام قرآن سے اپنے اکابر کی غلط تفسیر سے توبہ کرکے اپنا معاملہ سلجھاؤ اور پھر دوسروں سے گلے شکوے کرو۔ آیت229کے پہلے حصے میں3مرتبہ طلاق اور دوسرے حصے میں عورت کو مالی تحفظ دینے کی بھرپوروضاحت ہے۔
نمبر6:عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جب شوہر ایسی طلاق دیتا تھا کہ اس کو دوبارہ بسانے کا خیال بھی دل سے نکال دیتا تھا یا عورت خلع اور طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی تھی تو شوہر اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتا تھا، اس پر قدغن لگاتا تھا، اپنی مرضی سے کسی اور سے اس کو نکاح نہیں کرنے دیتا تھا۔ آج بھی جانور، چرندوں، پرندوں اور درندوں تک کی اکثریت میں اپنی مادہ سے کسی اور نر کیلئے جنسی تعلق پر غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسانوں کی اکثریت میں بھی یہ غیرت کا مادہ پایا جاتاہے۔ لیڈی ڈیانا کے قتل میں بھی اس غیرت کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمہ چلا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا14سوسال پہلے قرآن میں اللہ نے جو علاج کیا ہے ،اگر آیت کا حکم سمجھ میں آگیا تو پورے عالم کے انسانوں کیلئے اس کی حکمت وہدایت کافی ہے۔
اللہ نے آیت230البقرہ میں فرمایا ہے کہ ” پھر اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دی تو دونوں پر حرج نہیں کہ اگر وہ رجوع کرلیں بشرط یہ کہ وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے”۔
آیت230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق حنفی مسلک کے مطابق آیت229کے دوسرے حصے فدیہ دینے کی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس پرعلامہ تمنا عمادی نے اپنی مشہور کتاب ” الطلاق مرتان” میں لکھ دیا ہے کہ ”خلع سے آیت230کی طلاق کا تعلق ہے، جس میں جرم بھی عورت کرتی ہے اور اس کی سزا بھی حلالہ کی صورت میں عورت کو ملتی ہے”۔ لیکن یہ سزا نہیں ہے ۔ ایک غلط رسم کا خاتمہ ہے۔ عورت جب کسی بھی طلاق کے صلح اور معروف طریقے سے رجوع پرراضی نہ ہو تو پھر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے جس سے بھی نکاح کرنا چاہے تو وہ بالکل آزاد ہے۔ شوہر نے ایک طلاق دی ہو تب بھی، دومرتبہ طلاق دی ہو تب بھی اور تین مرتبہ طلاق دی ہو تب بھی۔ عورت نے خلع لیا ہو تب بھی اور شوہر نے طلاق دینے کی جگہ صرف ناراضگی سے چھوڑا ہو تب بھی۔یہ عورت کی مرضی کیلئے بہت بڑی بنیاد اور اس کی غلط مردانہ غیرت سے جان چھڑانے کا زبردست ذریعہ ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش بالکل واضح الفاظ میں کی گئی ہے تو مذہبی طبقہ کیسے صلح میں رکاوٹ بن سکتا تھا؟۔ کچھ لوگ باہمی اعتماد کی وجہ سے نادانی میں بہہ گئے اور کچھ دیدہ دانستہ بااثر طبقے اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوگئے۔ عوام تو عوام ، بڑے بڑے معروف مدارس کے علماء ومفتیان، مدرسین اور اصحابِ علم وکردار بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح پہلے اکابر علماء کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا گیا ۔ پھر وہ مرگئے یا مار دئیے گئے تو علماء حضرات بے شرموں کی طرح سیمینار میں شریک ہو گئے؟۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں عدت کے اندر اوطر عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور کافی عرصہ بعد رجوع کا دروازہ بالکل کھلا رکھا گیا ہے ۔ علماء ومفتیان نے لکھا ہے کہ ” اگر عورت نے آدھے سے زیادہ بچہ جن لیا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم بچہ نکلا ہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ کوئی پوچھ لے کہ اگر تیری ماں کو تیرے حمل کے دوران طلاق ہوتی اور جب نصف جننے کے بعد رجوع ہوتا تو کیا رجوع درست ہوتا یا غلط؟۔ تو علماء اپنا کیا جواب دیتے؟۔ قرآنی تعلیمات کو مسخ کرنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے والوں کے دن بہت قریب لگتے ہیں۔
سورۂ طلاق میں بھی عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے۔ جب حضرت رکانہ کے والد نے ام رکانہ کو سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وارتین طلاقیں دیں۔پھر کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ اس نے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے اس دوسری خاتون کو طلاق دینے کا فرمایا اور ابورکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنے کا حکم ہے اور دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ جو اللہ سے ڈرا اس کیلئے آئندہ بھی اللہ راستہ کھول دے گا۔ سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ ہے۔ اتنی تفصیل کے باوجود بھی علماء ومفتیان قرآن کی طرف رجوع کرنا اپنے فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی موت سمجھتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا خاندان لکھا پڑھا گھرانہ ہے۔ پشتونستان کا نعرہ بلند کرنے کیساتھ ساتھ پشتون مذہبی قیادت کے ذریعے سے پشتون قوم کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔PDMکی قیادت ، جماعت اسلامی اور عمران خان کے علماء کو بھی دعوت دیں۔ محمود خان اچکزئی کو میں اپنے بڑے بھائی کا کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کا درجہ دیتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی بنیاد پر جو معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اس کیلئے پہل کرنے سے ایک اچھی فضاء قائم ہوجائے گی۔ اگر اتفاق رائے کے بعد مدارس، سکول، کالج ، یونیورسٹی اور مذہبی جماعتوں میں خواتین کے حقوق واضح کئے گئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف ان مسائل پر علماء ومفتیان کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے بھائی حامد خان اچکزئی نے ایک تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دور میں جو غلامی بلوچستان پر مسلط تھی اور عبد الصمد خان اچکزئی نے جس طرح کی آزادی کیلئے محنت کی تھی اس کی ایک تاریخ ہے۔ جب انہوں نے سندھ ،پنجاب وغیرہ کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ لوگ آزادانہ تقاریر کرتے ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آزادی کی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے مسجد میں قرآن کا ترجمہ شروع کردیا۔ انگریز افسرنے کہا کہ مجھے اوپر سے آرڈر ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے آپ کو روکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا مذہب ہے اور اپنے مذہب سے روکنا تمہارا کام نہیں ہے۔ انگریز نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے میں بھی آپ کی جگہ ہوتا تو یہی سوچتا لیکن مجھے روکنے کا ہی حکم ہے۔ مساجد میں قرآن کا ترجمہ کرنا مولوی اور مذہبی طبقے کا کام ہے۔ مذہبی طبقہ بھی انہی کے حکم سے چلتا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہم نے ووٹ کا حق مانگا اور اس پر ہمیں کافر قرار دیا گیا۔ آج مسلم لیگ اور جمعیت علماء ہم پر غداری و کفر کے فتوے نہیں لگاتے اور ہماری راہ پر آئے ہیں تو ہم نے ٹھیک اتحاد کیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

روسی صدر پیوٹن نے امریکہ کو شیطان قرار دیا تو عالم اسلام کو اب کھڑا ہونا چاہیے؟

صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کے بعد خواتین کی عزتوں کو تحفظ دیا ۔اسلام کی نشاة ثانیہ میں عقیدے،جان، مال اور عزت سبھی کوتحفظ ملے گا

ایک طرف ساری دنیا کو سودی قرض سے چھٹکارا دلایا جائے اوردوسری طرف مزارعت کو فری کیا جائے تو انسان شیطانی کھیل سے بچ سکتے ہیں

رسول ۖ کے دورِنبوت ورحمت میں تمام اقدامات پر تائید یا تردید کیلئے وحی سے رہنمائی ملتی تھی۔ قرآنی تلاوت، صحابہ کرام کا تزکیہ ، کتاب و حکمت کی تعلیم جاری تھی۔ جسکا سورۂ جمعہ میں ذکر ہے اور آخرین کابھی ذکر ہے جو اسلام کی نشاة ثانیہ کاقیام کرینگے۔ نبیۖ سے فرمایا: اگر دین ثریا پر پہنچے تو بھی سلمان فارسی کی قوم کا فرد یا چندافراد اس تک پہنچیںگے ۔ بعض روایات میں علم و ایمان کا ذکر ہے۔ دین، علم اور ایمان الفاظ بظاہر مختلف لیکن حقیقت میں ایک ہیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے ویڈیو کلپ میں کہا کہ ”رسول اللہ ۖ کی آخری سانسیں تھیں اور دنیا سے رخصتی پرآپۖ کے آخری الفاظ یہ تھے الصلوٰة و ماملکت ایمانکم (نماز کا خیال رکھو اور دوسرے جو آپ کے نوکر ہیں، ان کا خاص خیال رکھو)۔ ملکت ایمانکم میں نوکر آتے ہیں اور بیوی بچے بھی”۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بچے شامل کرکے جہالت کی انتہاء کردی۔ سعودی عرب کا موجودہ قانون مسیار قرآن ماملکت ایمانکم کے مطابق درست ہے۔ جس میںمزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کہاں ابوبکر کی طرف مانعین زکوٰة کیخلاف جہاد اور کہاں جنرل ضیاء دور سے سود کا زکوٰة کے نام پر کٹوتی سے زکوٰة کے وجود کے خاتمے کی تحریف ؟ ۔پھر بینک کے سودی نظام کو حلال کرنے کا اسلام ؟۔
جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان دیوبندی بریلوی کا کام سرکاری سطح پر پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف تحریک نظام مصطفی ۖ چلی تو اس میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور سیدابولاعلیٰ مودودی کے علاوہ پختون وبلوچ ، پنجابی وسندھی کی قوم پرست اور نظریاتی جماعتیں بھی حصہ دار تھیں۔ بھٹو عالم اسلام کی قیادت کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نظام مصطفیۖ کے بغیر دنیا کی قیادت نہیں کرسکتاتھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی گود میں بیٹھ گئی اور مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کیساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرنڈم لڑا کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ مقصد اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ اپنے آپ کوصدر اور مارشل لاء چیف کیساتھ امیرالمؤمنین بناناتھا۔ حادثے میں نہ مرتا تو نوازشریف، جماعت اسلامی ، علماء اور مجاہدین اس کے درباری ہوتے۔
علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی میں دین کی سمجھ ہوتی تو ضیاء ریفرینڈم کی کبھی حمایت نہ کرتے اسلئے کہ جب خواجہ سرا کو یہ اختیار دینا اسلام کے خلاف اور بہت بڑا کفر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مرد خواجہ سراہے یا عورت خواجہ سرا ہے؟۔ حالانکہ میڈیکل آلات نہیں جس سے پتہ چلے کہ خواجہ سرا 51%مرد یا عورت ہے؟۔ جب خواجہ سرا کو اپنے جنس کے تعین کی اجازت اسلام کے خلاف سازش ہے تو پھر عوام کو کیسے اختیار دیا جاسکتا ہے کہ تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟۔ جبکہ پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا اور آئین پاکستان میں بھی اسلام طے تھا؟۔
جنہوں نے ہندوستان ، روس ،امریکہ اورنیٹو کیخلاف جہاد کرکے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تو وہ اللہ کے ہاں پہنچ چکے ۔ اگر مال ودولت یا شہرت کیلئے اپنی شہادت پیش کی تو الگ بات ہے ،اگر اللہ کیلئے قربانی تو اجر اللہ پر ہے۔ جہاد کے نتائج کیوں اچھے نہ نکلے؟۔ بڑا سوال ہے روس کو شکست ہوئی اور پھر مجاہدین نے کیا لڑکوں سے نکاح کیا یا یہ محض امریکی سازش تھی؟۔ بینظیر بھٹو اور نصیراللہ بابر خلافت قائم کرنے کیلئے طالبان کو لایا؟۔ یہ دیکھ لیا کہ افغانستان، عراق، لیبیا ، شام اور یمن تباہ وبرباد ہوگئے اور پاکستان کو بھی بہت نقصان پہنچ گیا۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”زکوٰة فرض امر بالمعروف ہے۔ سُود خود غرضی کا قرض حرام اور نہی عن المنکر ہے”
”مفتی شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں نماز و زکوٰة پر قتل اور مولانا طارق جمیل کی تقریر نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم کیا یہی عقیدہ دہشتگردی کا باعث بنا تھا؟۔ ”
”مفتی شفیع کی غلط تفسیر اور مولانا طارق جمیل کی غلط تقریر کا صحیح جواب”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

ریاست، جمہوریت اور صحافت کے حقائق4+ارب ڈالر قرض

1:ریاست عوام پر معیشت کا بوجھ ہے اور اس کا تدارک کس طرح ہوسکتاہے؟۔
2:جمہوریت لڑائیوں اور نفرتوں کی بنیادہے؟۔ اس کا تدارک کیسے ہوسکتا ہے۔
3:صحافت نے سیاسی وکالت کا ٹھیکہ اٹھایاہے۔اسکو لگام کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
ماں انسان ہو یا جانور، بچوں کو روزی دیتی ہے۔ ریاست ماں گدھی ہو تو لاتیں نہیں مارتی، گھاس کھاکر بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ گدھیڑے بچے بھی ماں سے پیار کرتے ہیں۔ ریاست دودھ نہ دے اور لاتیں مارے تو گدھی سے بدتر ہے۔ جنرل ضیاء کے بعد بینظیر بھٹو نے اقتدار سنبھال لیااور پھرIMFسے پاکستان نے تاریخ میںپہلی مرتبہ قرضہ لیا تھا۔جس پر حبیب جالب نے کہا تھا
ہربلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ” بی بی یہ آپ کی تعریف ہے”۔ وکیل کا کام سیاہ کو سفیداور سفید کو سیاہ کرنا ہے۔ جالب نے ضیا ء الحق کے مقابلے میں بینظیر بھٹو کی تعریف میں اشعار کہے کہ ” ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے ” ۔
جنرل مشرف نے غیرت کو بالائے طاق رکھ کرامریکہ سے20ارب ڈالر لئے ۔پاکستان کوIMFسے2004سے2008تک آزاد کردیا۔ یوسف رمزی اور ایمل کانسی پہلے امریکہ کو دئیے ۔ ریمند ڈیوس، عافیہ اور ملا ضعیف بھی ۔ افغانستان نے غیرت دکھائی اور بن لادن کو حوالے نہیں کیا۔ قوم مہاجر بنے اور اغیار قبضہ کریںتو عورتوں اور مردوں کی عزتیں بری طرح پامال کی جاتی ہیں۔
پرویزمشرف نے پھر6ارب ڈالر کاIMFسے قرضہ لیا۔ جوزرداری نے16ارب ڈالر تک پہنچادیا،نوازشریف نے30ارب ڈالر تک ، عمران خان نے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچایا۔ زرداری نے پرویزمشرف سے 4 ارب ڈالر کا زیادہ قرضہ لیا۔6+4=10اور نوازشریف نے زرداری سے4ارب ڈالرزیادہ قرضہ لیا۔10+4=14اورعمران خان نے نوازشریف سے4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لیا۔14+4=18۔ سب ایک دوسرے سے بد سے بدتر ہیں۔ قرضہ سے مہنگائی کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے اور موجودہ حکومت بھی4ارب ڈالر زیادہ قرضہ لے تو18+4=22۔ قرضہ70ارب ڈالر تک پہنچے گا تو پھر ایٹمی اثاثہ جات کیا ہماری جانیں اور عزتیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔
معیشت طوفانِ نوح اور کرپشن چندافراد کیلئے کشتی نوح ہے جو بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کو آباد کررہے ہیں، عوام اور تمام اداروں کا بیڑہ غرق ہے۔ پہلے جس سول بیوروکریٹ، فوجی جرنیل، جج ،سیاستدان ، صحافی کے بچے بیرون ملک ہوں کو فارغ کیا جائے۔ مزدور و تاجر بیرون ملک پیسہ کماکر پاکستان بھیجتاہے تو خوشحالی آتی ہے اور یہ یہاں سے کماکر باہر بھیجتے ہیں تو بدحالی آتی ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔ اشتہارقومی رقم سے چلے ۔صحافی سیاسی پارٹی، چینل اور حکومت یاا پوزیشن کی وکالت میں توازن کھو کرقوم کادماغ خراب کرے۔
صحافی بیرون ملک خطرناک ہیں۔ عوام کی ذہن سازی سچ سے ہوتی ہے۔ سچ کڑوا مگر زہر نہیں تریاق ہے۔ سچ سے جھوٹ دفن ہوتے ہیں مگر سچ آتے آتے جھوٹ قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ احمد رفیق نورانی نے فوج اور طاقتور طبقے کا مقابلہ کرکے مشکل زندگی گزاری اور اب بیرون ملک ہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ اور اسکے خاندان پرFBRکے ریکارڈ کی خبر لگائی تو اسحاق ڈار نے میڈیا پر بتایا کہ تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ خبر کس نے لیک کردی ہے؟۔ جس سے الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوبربریگیڈ کی زبان پر بھی ڈھول بجنا شروع ہوگئے۔ اچھی بات یہی ہے کہ احمد نورانی نے کسی صحافی کے پوچھنے پر بتایا کہ ” جنرل قمر جاوید باجوہ پر بلجیم کی پراپرٹی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی پرآسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کا الزام جھوٹا ہے”۔ لوگFBRمیں جنرل باجوہ کے خاندان کی12یا13ارب کے اضافے کو بہت زیادہ اور انوکھا سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مفتی محمد نعیم کے بھی5ارب34کروڑ کی رقم اکاونٹ سے نکلنے کی خبر تھی تو آرمی چیف ایک طاقتور عہدہ ہے ، اس کا خاندان پہلے بھی اثاثے رکھتا ہوگا۔ جھونپڑی کے خاندان سے تو وہ اس منصب تک نہیں پہنچا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جھونپڑی اور عام گھر کی قیمت کہاں سے کہاں6سالوں میں پہنچی ہے؟۔اگر مہنگائی میں کئی سو فیصد تک اضافہ ہوا تو کیا جنرل باجوہ کے خاندان کی پراپرٹی کی قیمت نہیں بڑھی ہوگی؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب اس پر چھپی ہوئی بلجیم کی دولت کے الزامات جھوٹے نکلے اور جس دولت کوFBRمیں درج کیا ہے تو کیا یہ قابلِ تعریف نہیں ہے؟۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اگر آسڑیلیا کے جزیرے اور بلجیم کی دولت کی طرح یہ خبر بھی جھوٹ نکلے تو پھر کیا ہوگا؟۔ پانچویں بات یہ ہے کہ باجوہ کو لگایا نوازشریف نے اور ایکسٹینشن عمران خان اور سب نے ساتھ مل کر دی۔ اب ان دونوں نے اس کو اپنے مفاد کیلئے گرانے کیلئے جاتے جاتے دونوں ٹانگوں سے پکڑ لیا ہے اور وہ گالی گلوچ کررہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ پہلے دونوں طرف سے جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن کی بات ہورہی تھی لیکن جب جنرل باجوہ نے انکار کردیا تو سب پیچھے پڑگئے۔ کوئی شرم بھی ہوتی ہے ، کوئی حیاء بھی ہوتی ہے، کوئی غیرت بھی ہوتی ہے اور کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ کچھ اخلاقیات اورکچھ اقدار بھی ہوتے ہیں۔
کرپشن پر بینظیر کا اقتدار ختم ہوا۔ اسلامی جمہوری اتحاد ملٹی پارٹی کمپنی کوISIنے پیسہ دیکر اقتدار میں لائی۔نوازشریف کو95لاکھ دئیے گئے، میرا ماموں جنوبی وزیرستان سے پونے دو کروڑ روپے خرچ کرکے قومی اسمبلی کی نشست ہارا تھا۔ نوازشریف ایون فیلڈ اور رائیونڈمحل کا مالک ہے اور میرے ماموں زادکی رہائش پرائے گھر میں ہے۔ آئی جے آئی کا انتخابی نشانہ سائیکل تھا ۔ ایک پہیہ جمہوری ، دوسرا اسلامی تھا۔ جماعت اسلامی چین اورISIکمان تھی۔ سپاہ صحابہ و دیگر جماعتیں کل پرزے تھے۔ریاست، جمہوریت اور صحافت ایک پیج پر تھے۔ جنرل حمیدگل نے قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق شہید اور سپاہ صحابہ واہل تشیع مذہبی عناصر کی وجہ سے اسلام کا نام دیا ۔MRDسے پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئیIJIکے صدر تھے۔ مولانا سمیع الحق اتحاد کے صوبائی صدرنوازشریف کے حق میں دستبردار ہوا۔ سائیکل کا جمہوری پہیہ پنکچرہوا تو غیر جمہوری اور غیر اسلامی نواز شریف کو بٹھادیا۔ کرپشن کی بنیاد پر تخت سے اتار ا گیا تو جمہوریت رہی اور نہ اسلام ۔قوم پرستی کا نعرہ لگایا: جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گئی آگ۔
زرداری پر گھوڑوں کو مربہ کھلانے ،سرے محل، سوئس اکاؤنٹ کاالزام لگا۔ نوازشریف پر ایون فیلڈ لندن فلیٹ کے ثبوت مل گئے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدارمیں آئے توIMFکا قرضہ بڑھا۔ جب نوازشریف نے پرویز مشرف کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ،خواجہ ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنادیاتو فوج نے ری ایکشن کیا اور خواجہ ضیاء کو گرفتار کرکے نوازشریف کا اقتدار ختم کیا۔ فوج کی پہلی لڑائی اپنے سہولت کارسکندر مرزا سے ہوئی جو ڈپٹی کمشنر سے گورنر جنرل بنا تھا اور پھر پہلے لے پالک ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی جو مجیب کے مقابلے میں اقلیتی جماعت کا قائد تھا۔ پھر دوسرے لے پالک نواز شریف سے ہوئی۔ اب تیسرے لے پالک عمران خان سے ہوئی۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔
مولانا فضل الرحمن کی تقریر ” آذانِ انقلاب ”کے نام سے چھپی۔ جس میں جمعیت علماء اسلام پر احادیث فٹ کی گئیں جو خلافت کے حوالے سے ہیں۔ میرا بھائی پیر نثار احمد کہتا تھا کہ میرے15سال اسلامی کتب کا مطالعہ ایک طرف اور مولانا فضل الرحمن کی یہ تقریر دوسری طرف ہو تو تقریر کا پلڑا بھاری ہے۔ مجھے اس پر مسکان آتی مگر بھائی کی دل شکنی اور اس جہالت سے پردہ نہیںہٹانا چاہتا تھا اسلئے کہ حرکت میں برکت ہے۔ حرکت کو دھچکا پہنچتا تو یہ فکر مٹ جاتی۔ علماء نے مولانا فضل الرحمن کو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم کے بعدMRDمیں شمولیت پر اسلام سے خارج قرار دیا۔ خلق پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی سے اتحاد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔پھر نیشنل پیپلزپارٹی جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد ہوا۔ وہی شخص،اسی پارٹی و منشور کیساتھ انہی نکٹوں کی قیادت کررہا تھا جس کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن کودائرہ اسلام سے خارج کافر قرار دیا گیا تھا۔جب قحط الرجال کا دور آیا تو فتویٰ لگانے والے علامہ زاہدالراشدی کو جمعیت کی طرف سے مولانا فضل الرحمن نے شیلڈ پیش کردی۔ کیا یہ اس فتوے پر انعام دیا گیا؟۔
جب1997ء میں دوسری بار مولانا فضل الرحمن اسمبلی سے باہر ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کااجلاس ڈیرہ اسماعیل خان میں بلایا۔ مولانا محمدمراد نے جمہوریت کے حق اور مولانا محمد خان شیرانی نے مخالفت اور انقلاب کے حق میں دلائل دئیے۔ انقلابی سیاست کا فیصلہ ہوا۔ اعلان کیلئے مینارِ پاکستان لاہور میں جلسۂ عام رکھا تو فوج نے مولانا فضل الرحمن پر دباؤ ڈالاتو انقلاب کا اعلان مؤخر کیا۔ پھرنوازشریف کی حکومت جنرل مشرف نے ختم کردی ۔ پھرARDمیں نواز شریف، محمود اچکزئی، عمران خان، قاضی حسین احمد اور دوسری پارٹیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور نوازشریف نےARDسے2008کے الیکشن میں دھوکہ کرکے شرکت کرلی۔ پھر ڈاکٹر طاہرالقادری نے انقلاب کا شوشہ چھوڑا۔ دوسری مرتبہ عمران خان بھی ساتھ تھا۔ اب جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ نے عمران خان کیساتھ انقلاب کا اعلان کررکھا ہے۔
عمران خان کیساتھ پنجاب ، پختونخواہ ، گلگت بلتستان اور کشمیر حکومت ہے ۔ متحدہ حکومتی اتحاد سے ضمنی الیکشن میں پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ جبPDMمیں مولانا فضل الرحمن ، ن لیگ وغیرہ نے اپنا بیانیہ بنایا تھا کہ عمران خان کٹھ پتلی ہے ، ہمارا اصل ہدف فوج ہے تو آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اتنا بڑا رسک لینے کیلئے ضروری ہے کہ نوازشریف بھی لندن سے واپس آجائے۔ جس پر ن لیگ نے آصف علی زرداری کو خوب باتیں سنائی تھیں۔ پھر پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے باہر پھینک دیا تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ کا مخالف بیانیہ عمران خان اور مولانا محمد خان شیرانی کے ہاتھ میںآیا۔جمعیت علماء اسلام کے کارل مارکس مولانا محمد خان شیرانی، جذبات کے ترجمان پختونخواہ کے امیر مولانا گل نصیب خان اور جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں پیش پیش اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔
بلوچستان میں مسنگ پرسن اور پختونخواہ میں طالبان کا رونا ہے۔ اسلام پاکستانی عوام کیلئے اتحادنہیں انتشار کا باعث بنادیا گیاہے۔ قوم پرستی کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ریاست عوام کی جان ، مال اور عزت کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ پاکستان، نظام مصطفی، اسلامی جمہوری اتحاد اور ریاست مدینہ کے نام پر لوگوں کو نسل در نسل دھوکادیاگیا۔اگر اسلام کے اصلی ونسلی لوگ میدان میں آگئے تو پھر دیکھنا پاکستان کی تقدیر بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔انشاء اللہ العزیز
امام زین العابدین بن حسین نے فرمایا: انما العلم ما عُرِف وتواطأت علیہ الأ لسن ”علم وہ ہے جو پہچانا جائے ،بسہولت زبان پرجاری ہو”۔ (سیر اعلام النبلاء وابن عساکر19/13) ۔ نبی ۖ نے مہدی کافرمایا: یؤاطی اسمہ اسمی”اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا” ۔ لفظی موافقت مراد نہیں بلکہ وہ شخصیت جو آپۖ کے بعد لوگوں کو فطری راہ پر چلائے۔ درمیانہ زمانے تک دین اجنبی بن جائیگا ۔ مہدی اس کو معروف وآسان بنادیگا۔اقبال نے کہا:
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت ہے جس کی نگاہ زلزلہ ٔ عالم افکار
ہماری ریاست، حکومت، سیاست ، صحافت ،عدالت اور معاشرے کو اسلام کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اسلام خود فرقہ واریت اور دہشت گردی کے حصار میں ہے۔ ارشد شریف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز اس میں ملوث ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سگے نوازشریف ، عمران خان اور ارشد شریف کا اپنا اپنا دائرۂ کار تھا۔ ایک وسیع دنیا میں سازش کو پکڑنا آسان نہیں لیکن اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ وزیرستان کا ایک بچہ ذبح ہوا ہے۔ قاتل اور مقتول کا قریبی رشتہ ہے۔ قتل سے پہلے پولیس کو رپورٹ کرکے ملزم کو پکڑ وایا بھی تھا اور اس کے باوجود حقائق اور انصاف تک پہنچنا معمہ بنا ہواہے۔ ایک عورت کو زبردستی سے زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور وہ ظالم کے خلاف گواہی دے مگر اسکے پاس3 سے زیادہ چشم دیدگواہ نہ ہوں تو الٹا اس پر حدقذف جاری کی جائے۔ پھر دنیا کے کس قانون سے کون، کس کو انصاف دے سکتا ہے؟۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اسلام کو غلط فقہی موشگافیوں سے نکال کر فطری دین کی طرف رجوع کیا گیا تو ہمارے سیاسی، معاشی، معاشرتی، ریاستی ، عدالتی اور قانونی مسائل بہت جلد حل ہوجائیں گے اور اس سے امت مسلمہ اور دنیا موجودہ دلدل سے نکل جائے گی۔ صرف جرنیلوں کے بٹ مین صحافیوں کی زبانوں سے انقلاب نہیں آسکتا ہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنے درمیان بدترین نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا! ”
”کیا پاکستان، ایران اور افغانستان میں اسلامی نظام سے استحکام آئے گا؟”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

پاک فوج پر انتہائی درجے گھناؤنے الزامات

شہباز شریف اور مریم نواز شریف فتنہ راشد مراد کو لندن سے پکڑ کر لائیں!
اُردو اور پنجابی میں فوج پر آرمی پبلک سکول کی سازش کا بہت ہی بڑا الزام!

لندنRMTVکے راشد مراد کی ارود اور پنجابی میں ویڈیوز سے یوٹیوب بھر ا ہے۔ جو نوازشریف کواقتدار میں لانے کیلئے فوج پر انتہائی غلیظ زبان سے گھناؤنے الزامات لگاتا ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ اسکے ویلاگ اور ٹوئیٹ نوازشریف کیلئے دیکھ لیں ۔ طالبان نے مہران ائیربیس کراچی،GHQپر قبضہ،ISIملتان دفترپر دھماکہ اور بہت بڑے بڑے واقعات کئے ۔ جب پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوا تو عمران خان کی صوبے میں نوازشریف کی مرکز میں حکومت تھی۔ راشد مراد نے اردو ، پنجابی میں عمران خان کی سیاسی مخالفت اور نوازشریف کی حمایت میں اس واقعہ کو جب منظم سازش قرار دیاتو پورے پاکستان پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان ، سندھ اور کراچی میں یہ پاک فوج سے سخت ترین نفرت کرنے والوں کیلئے اصل بنیاد ہے۔ جب نوازشریف کا خاص آدمی راشد مراد کہے گا کہ147بچے آرمی پبلک سکول میںDGISIجنرل ظہیرالاسلام نے شہید کئے تاکہ عمران خان کو دھرنے سے باعزت نکلنے کا راستہ مل جائے تو پھر پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کیاسوچیںگے؟۔ پاک فوج کور کمانڈر کانفرنس میں وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کرے کہ وہ راشد مراد کو پاکستان بلائیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو لندن میں نوازشریف اور مریم نواز کے درمیانTVسکرین پر بٹھا کر حقائق پوچھ لیں۔PDMمیں شامل جماعتیں، پیپلزپارٹی،ANP، عمران خان، منظور پشتین،پشتون اور بلوچ قوم پرست بھی سب ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔ انصار عباسی ، جیواور ن لیگ کیلئے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کام کرنے والے صحافیوں کو بھی شامل کریں تاکہ ملک وقوم سے بدگمانی و انتشار کی فضاء ختم ہو۔ عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے اور غلط افواہیں اُڑانے والوں کے بارے میں اللہ نے فرمایا :ملعونین اینما ثقفوا اخذواو قتلوا تقتیلاً ”یہ مدینہ میں نہ رہیںگے مگر کم وقت، لعنتی ہیں،یہ جہاں پائے گئے پکڑکر قتل کئے گئے، یہی اللہ کی سنت ہے جوامتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں بھی”۔ (سورۂ الاحزاب آیت61) پاکستان کا آئین صرف قرآن وسنت کاپابندہے۔

مزید تفصیلات درج ذیل عنوان کے تحت دیکھیں۔
”آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید اسفند خان کی والدہ نے کیا کہا؟۔ ”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

مرتد کو قتل کا فیصلہ صرف اسلامی حکومت کرسکتی ہے!امام کعبہ

ہمارے فقہاء اور علماء نے یہ واضح کیا ہے کہ مرتد سے قاضی یا جج پوری تفتیش کرے گا۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید
یہ کسی فرد کا کام نہیں کہ مرتد کوخود قتل کردے۔ایک انسان کا بے گناہ قتل تمام انسانیت کاقتل ہے
سعودی عرب کیساتھ شامل اسلامی ممالک کا اتحاد کسی اسلامی ملک کیخلاف نہیں خوش آئند ہے

سلیم صافی: شیخ صاحب! پاکستانیوں کو آپ کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں بات بات پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ تو اس پر رہنمائی کی جائے کہ شرعی لحاظ سے ایک مسلمان کس وقت مرتد یا کافر قرار پاتا ہے اور کسی مسلمان کو کافر، مرتد یا واجب القتل قرار دینے کا اختیار وہ صرف ریاست کے پاس ہے یا کہیں افراد کو بھی وہ حق دیا جاسکتا ہے یا علماء کو بھی؟۔
امام کعبہ ڈاکٹر شیخ صالح عبد اللہ بن حمید: یہ معاملہ تو علماء اور فقہاء کے نزدیک بڑا واضح ہے اوراُمت مسلمہ اس کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان بھی کرچکی ہے۔ ارتداد اور کفر سے متعلق جتنے بھی معاملات ہیں یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی ایک فرد اٹھے اور کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دے دے۔ اور وہ کافر یا مرتد یا واجب القتل سمجھا جائے۔ جس پر بھی اس قسم کا کوئی الزام لگے گا وہ معاملہ عدالت میں جائے گا۔ حکومتی جو ذمہ داران ہیں، جو قاضی ہے، جو جج ہے وہ اس معاملے کے متعلق ثبوت اور گواہیاں اکھٹی کرے گا۔ اور استفسار کرے گا پھر جس شخص پر یہ الزام لگایا اس سے گہرے سوالات کئے جائیں گے کہ آیا جس نے اس پر یہ الزام لگایا وہ اس کو تسلیم کرتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔ اپنا کوئی بھی مؤقف جو وہ بیان کرتا ہے اس کیلئے وہ کوئی تاویل بیان کرتا ہے یا وضاحت کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کچھ باتیں تو کررہا ہو لیکن ذہنی طور پر ٹھیک نہ ہو۔ یا اس کی ذہنی حالت ایسی نہ ہو جس میں اس کو اپنی گفتگو کی سنجیدگی کا انداز ہو۔ تو اس حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چاہے کفر کا معاملہ ہو چاہے کسی کو مرتد قرار دینے کا یا قتل کرنے کا معاملہ ہو یہ صرف اور صرف اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے کہ جس نے ایک بھی جان کو ناحق قتل کیا تو ا س نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔
سلیم صافی: سعودی عرب کی قیادت میں جو اسلامی اتحاد کی فوج بن گئی ہے عام تاثر یہ ہے کہ وہ ایک اور اسلامی ملک کیخلاف یا ایک فقہ کیخلاف بنایا جارہا ہے اس اتحادی فوج کا اصل مقصداور مدعا کیا ہے؟۔ اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟۔
امام کعبہ: میرے خیال میں تو اسلامی کسی بھی قسم کا کوئی اتحاد ہو وہ ایک خوشی کی بات ہے۔ میرے پاس زیادہ تفصیلات تو نہیں کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں لیکن بہرحال اگر یہ کسی اور مسلمان ممالک کی طرف سے بھی ہوتا تب بھی اس کو خوشی کی نظر سے دیکھا جاتا۔ اور اس طرح کے اگر مزید اتحاد بھی بنتے ہیں جو اسلامی ممالک کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں تو اسکے بارے میں خوش گمانی رکھنی چاہیے۔ اسمیں سب مسلمان ممالک شامل ہوسکتے ہیں کسی کا نام نہیں کہ شامل نہیں ہوسکتا۔
مزید تفصیلات درج ذیل عنوانات کے تحت دیکھیں۔
”کوئی نبوت کا دعویٰ کرے میں قتل کروں گا۔ سید عطا ء اللہ شاہ بخاری”
”جو اللہ کے نازل کردہ پر فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں یا ظالم ہیں اور یا فاسق ہیں مگر کیوں؟۔”

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

کیا وجہ تھی کہ اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجودبھی آپ پاکستان سے باہر نہیں گئے؟،رؤف کلاسرا

ہرکوئی ہماری طرح اپنے اور اپنی فیملی کومشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، مجبوراً جاتاہے توغلط نہیں حامد

حامدمیر:پابندی کے دوران میں بیرون ملک گیا تو وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھے اور بینظیر بھٹو کو کیا بڑی آفر کی؟ بینظیر نے عین موقع پر مجھے کیسے بچایا، حامد میر نے دھمکیوںکے باوجود ملک نہ چھوڑنے کی سنسنی خیز وجہ بتادی۔
رؤف کلاسرا: میں آج ارشد شریف کے گھر گیا ۔ ان کی مسز، والدہ اور بچوں سے بڑی دیر تک بات ہوئی اور انکے گھر آنا جانا بہت تھا ہر ہفتے جانا ہوتا تھا۔ تو جو سوالات آپ بتارہے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے ۔میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو بھی بہت ساری تھریٹس مسلسل رہی ہیں، اب تک آپ نے بڑا بھگتا اور ان کا سامنا کیا ۔ کیا وجہ تھی اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجود آپ پاکستان سے باہرنہیں گئے ارشد بھی نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ میرا بھی یہی خیال تھا میرے دوست ہیں سب کو پتہ ہے کہ ارشد کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ پاکستان میں دوسری جگہ کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ جبکہ انکے پاسUKاورUSAکے ویزے نہیں تھے ۔ میں بھی کئی دفعہ ان کو کہہ چکا تھا۔ ہم سب دوستوں نے کہا وہ انٹرسٹڈ نہیں تھے۔ تو آپ سمجھتے ہیں ارشد کو باہر جانا چاہیے تھا ان حالات میں؟۔ اور آپ خود کیوں نہیں گئے تھے سر؟۔
حامد میر: رؤف کلاسرا صاحب ! آپ نے ایسا سوال مجھسے پوچھاہے، بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو میں نے آج تک کسی کو تفصیل سے جواب نہیں دیا تو اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا تفصیل سے جواب دیتا ہوں۔ (جی سر۔ میرا خیال ہے لوگ سننا چاہیں گے آپ سے : رؤف کلاسرا)۔ پہلی دفعہ2007میں مجھ پر پابندی لگی تھی پرویز مشرف کا دور تھا تو میں5،6دن کیلئے پاکستان سے باہر ایک کانفرنس کیلئے گیا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیااور وہ چھوٹے موٹے لوگ نہ تھے بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ مثلاً ایک بہت بڑی بین الاقوامی شخصیت نے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑا ٹی وی چینل لانچ کررہے ہیں آپ جوائن کرلیں تو میں بڑا حیران ہوا کہ یار یہ ایک ملک کا سربراہ ہے یہ مجھے ٹی وی چینل جوائن کرنے کیلئے آفر مار رہا ہے تو یہ کیا چکر ہے؟۔ یہ دیکھا کہ میں زیادہ مائل نہیں تو اس نے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ہمارا ٹی وی چینل جوائن کررہی ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا کریں گی ٹی وی چینل میں؟۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہر ہفتے ایک لیکچر دیا کریں گی۔ وہ جو تھا ساؤتھ ایشین چینل تھا بہت بڑا اور گلف کی ایک کنٹری میں اس کا ہیڈ کوارٹر بننا تھا۔ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے پاس گیا ۔ کہا جی اس اس طرح پیشکش ہوئی تو بتائیں کیا کرنا ہے؟۔ تو بینظیر صاحبہ بڑی محتاط تھیں وہ مجھے اپنے لان میں لے گئیں اور کہا کہ موبائل فون وغیرہ اندر رکھ کر آؤ۔ لان میں انہوں نے کہا کہ بالکل جوائن نہیں کرنا اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کا اینٹی پاکستان ایجنڈہ ہے۔ یہ آپ اور مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی اسٹیٹ کے اداروں سے لڑ رہے ہیں اور میرا بھی پھڈہ ہے ۔تو میں تو بات چیت کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہوں۔ انشاء اللہ اس کا راستہ نکل آئیگا ، انکے ہاتھ نہ چڑھنا یہ پاکستان کیخلاف استعمال کریں گے۔تو جناب میں اگلے دن کی فلائٹ لیکر فوراً پاکستان آگیا۔ اسکے بعد میں ذرا ہوگیا محتاط۔2012میں میری گاڑی کے نیچے بم لگا تو ایک دفعہ پھر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پاکستان سے باہر چلے جاؤ۔ میں نے انکار کردیا۔ پھر2014میں حملہ ہوا، اسکے بعد یہاں تک ہوگیا کہ میں آغا خان ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو ایئر ایمبولینس مجھے اٹھانے کیلئے کراچی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ تو میں نے کہا کہ آپ مجھے پاکستان سے باہر نہ ہی لیکر جائیں۔ انہوں نے کہا کیوں؟۔ میں نے ان کو بتائی تو نہیں وہ بات لیکن میرے ذہن میں2007والی بات تھی کہ باہر جاکر بندہ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ ہوا کہ میں پاکستان میں ہی رہا لیکن دو گولیاں میرے جسم کے اندر تھیں۔ ان کو نکلوانے کیلئے ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے ایک ہسپتال میں جہاں ان کی اپنی ٹریٹمنٹ ہوئی تھی تو وہاں پر انہوں نے میرا انتظام کیا۔ تو جب میںUKگیا تو کلاسرا صاحب وہاں پر بھی میرے پیچھے لوگ لگ گئے۔ انہوں نے کہا جی کہ آپ نے صرف ایک کتاب لکھنی ہے اور وہ کتاب ایسی ہٹ ہوگی پوری دنیا میں آپ اس کا ایڈوانس بھی لے لیں۔ آپ کو پاکستان جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میری فیملی کے سامنے ہورہا تھا یہ کام۔ تو میں نے جناب جان چھڑائی اپنی اور میں پاکستان واپس آگیا۔ ابھی پچھلے سال بھی یہی صورتحال تھی۔ پچھلے سال یہ ہوا کہ مجھے6مہینے کیFellowshipمل رہی تھی اور پھر کتاب ہی لکھنی تھی۔ میں بالکل جانے کیلئے تیار تھا اور پچھلے واقعات بھی میرے ذہن میں تھے لیکن میں نے کہا کہ چلیں اب اتنا ٹائم گزر چکا، میں اتنا تو سمجھدار ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر میرے ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ کریمہ بلوچ کیساتھ کینیڈا میں کیا ہوا؟۔ آپ کو نہیں پتہ کہ ایک اور صحافی کیساتھ ناروے میں کیا ہوا ہے؟۔ باہر مت جائیں آپ (vulnerable)کمزور ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہیے لیکن میں نے تو پاکستان سے باہر ایک دفعہ2007میں جاکر دیکھ لیا کہ ایک تو پاکستان کے اندر آپ کے دشمن آپ کو جینے نہیں دیتے۔ پھر پاکستان سے باہر جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں وہ بھی آپ کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔ لیکن ارشد شریف جن حالات میں گئے وہ ذرا مختلف حالات ہیں۔ کیونکہ مجھے ذاتی طور پر پتہ ہے کہ ارشد شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھا بہت سے دوست یہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اگر ان کو بھیجا گیا تو شاید ان کا یہ خیال ہوگا کہ میں کچھ دن میں واپس آجاؤں گا لیکن وہ واپس نہیں آئے ۔ان کے پاس ویزہ بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے پاس تو ویزے تھے لیکن انکے پاس ویزہ نہیں تھا وہ نہUKجاسکے نہUSA۔ سارے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان حالات میں پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے تو غلط نہیں ۔ ہر کوئی بندہ ہماری طرح اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ تو اگر کوئی چلا جاتا ہے تو بہت مجبوری میں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی خوشی سے پاکستان نہیں چھوڑتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

قوم جانتی ہے کہ پاک فوج اور اس کا جرنیل کیا چیز ہے؟ ڈاکٹر اثر الاسلام سید

جنرل ندیم انجم اور جنرل بابر افتخار کیا خوبصورت ہیں اور کس نرم لہجے میں بات کرتے ہیں!

ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں ہے ان کواسٹیج شو چاہیے اور عمران خان کورنگ رچانا آتا ہے!

عمران خان کیا جانے کہ ایک بہادر جرنیل کیا ہوتا ہے ۔ اثر الاسلام سید
DGISPRصاحب میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے آپ پلیز
do not feel tense
مت سمجھئے کہ آپ یکہ و تنہا ہیں پوری قوم آپ کیساتھ ہے اسلئے کہ قوم جانتی ہے کہ پاک فوج کیا ہے اور پاک فوج کا جرنیل کیا چیز ہوتا ہے۔ کتنے پراسیس سے گزر کر جرنیل بنتا ہے۔ میں کیڈٹ کالج حسن ابدال کا پراڈکٹ ہوں۔ میں نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ حب الوطنی میں نے وہاں سے سیکھی اور میرے ساتھی جو ہیں میں جانتا ہوں کہ ان میں سے جوجو جرنیل بنے کیسے کیسے چنیدہ قسم کے وہ نوجوان تھے۔ میرے کلاس فیلوز میں سے چار جرنیل ہیں۔ تو یہ جو ہمارے جرنیل ہیں جن کی تضحیک کی گئی اور ان کو ایسے ایسے یعنی ایک آدمی انکے خلاف بولنا توہین آمیز لفظ یعنی ان کو کبھی اندازہ نہیں ہے عمران خان کو یا اسکے چو چوں کو کبھی زندگی میں ایک دن بنکر میں بارڈرپر بیٹھ کر دیکھو !۔میں نے1971کی وار میں ایک دن گزارا تھا فاضلکا کے بارڈر کے بینکر میں۔ میرے باپ نے کہا تھا کہ یہاں رہ تاکہ تجھے پتہ لگے یہ زندگی کیا ہے۔ اس وقت میں میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا۔ جنگ کا زمانہ تھا ادھر سامنے انڈین آرمی اور یہ سارا کچھ، تو ایک دن میں ایسا تھا کہ سپاہی مجھے کہہ رہا ہے کہ سر نیچا کرو سر نیچا کرواور میں نے کہا کہ یہ کیا حکم دے رہا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ادھر سامنے ایک گن موو کررہی ہے اور پچاس گز کا بھی فاصلہ نہیں۔ ذرا سا یہاں سے سر کوئی اٹھے تو ہم اس پر فائر کریں۔ وہاں تو71کی وار کے بعد جو صورتحال تھی ۔ ان لوگوں کو اندازہ نہیں، ہمارے سپاہی جوان روٹی کئی کئی دن وہاں نہیں کھائی ہوتی ان کو اندازہ نہیں کہ ان کی عزت کیسے کرنی ہے۔ ہمارے بزرگ غلام احمد پرویز نے ایک بات لکھی ہے کہ65کی وار میں وہ بارڈ ر کے اوپر گئے تو انہوں نے دیکھا ایسے ہی جیسے میں گیا تو71میں ، کہتے ہیں سپاہی میں نے دیکھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کچھ کھاندے پیندے وی ہو تو سپاہی نے آگے سے جواب دیا کھاڑاں کھانا تو ویلوں دے کم ہیں۔ یعنی یہ سپاہی جو خالی پیٹ بینکروں میں بیٹھتا ہے آپ کبھی اس کا راشن دیکھیں وہ جو دال کی مٹھیاں کھا رہا ہے اس کی زندگی دیکھیں۔ کس طریقے سے وہ پاکستان کا پہرہ دے رہا ہے اور یہ چند لفنگے گپتے بے شرم لوگ جن کو اپنی ماں باپ کی عزت بھی نہ آئی یہ جو یوتھیا مخلوق ہے یہ جو سڑک پر اس کو پتا ہے ان بیچاری لڑکیوں کا قصور نہیں۔ ان کو ایک شو اسٹیج چاہیے ایک اسٹیج پر آنے کیلئے خان صاحب کو یہ رنگ رچانا آتا تھا، اس کیساتھ پورا ٹولہ سب سے بڑی بات یہ ہے
He has million of Dollars, He has money
اور آپ مجھے صرف اس کے پیسوں کا بتادیں جس کا نام سلمان اقبال ہے۔
He is Elon Musk of Pakistan
اتنی دولت والا آدمی ہے یہ جوARYچینل والا۔ ان لوگوں نے ایک مقصد کے تحت یہ مہم چلائی
Because the goal is to weaken Pakistan
پاکستان کو اس پوائنٹ پر لے آؤ کہ جب یہ لوگ ڈکٹیٹ کریں کہ ہمیں یہ چاہیے ہمیں وہ چاہیے یہ پاکستان آرمی کو بلیک میل کرسکیں ڈکٹیٹ کریں۔ جس بات کا بڑے ہی خوبصورت حسین انداز میں جنرل ندیم احمد انجم، اُف اتنے خوبصورت انسان ہیں اور اتنا شستہ اور اتنا حسین لب و لہجہ ہے ان کا یعنی مجھے اتنی خوشی ہوئی اور ان کے ساتھ جنرل بابر افتخار صاحب اتنی خوبصورتی سے انہوں نے ، اور میں کہتا ہوں عجز و انکساری کے ساتھ اللہ کی قسم یہاں پر اس جگہ کوئی تگڑا اس قسم کی پرسنیلٹی والے جرنیل بیٹھے ہوتے ناں جو بولنے نہیں دیتے تھے یہ تو انہوں نے ڈیلے کردی ، ڈیلے اسلئے کی کہ طول دینا ہے کہ دیکھتے ہیں کہ شاید اس انسان کو ہوش آجائے ، شاید اس کے اندر کوبھی کوئی حب الوطنی کا مادہ جاگے کہ دیکھو آرمی ہی نے تجھے چانس دیا تھا تو بڑا پھڑک رہا تھا اتنے سالوں سے کہ میں وزیر اعظم بن کر یہ کردوں گا وہ کردوں گا۔ آرمی اس کو لے کر آئی۔ انہوںنے خود کہا ہے کہ اس بارے میں تو شک کسی کو ہونا نہیں چاہیے ، اور اس کا تو میں خود ذاتی طور پر شاہد ہوں آپ کو یاد ہوگا اور جو لوگ میرے سننے والے ہیں کہ آرمی کے خلاف جتنا زیادہ میں بولا ہوں اس دور میں اتنا کوئی نہیں بولا۔ میری دیکھا دیکھی لوگوں نے بولنا شروع کیا۔ اسلئے کہ میں پرسنلی افیکٹڈ تھا۔ کیوں؟ کیونکہ میں نے ایک پیٹریاٹ حب الوطن انسان کی حیثیت سے جنت پاکستان پارٹی بنائی رجسٹرڈ کرائی۔ کینڈیڈیٹس کو فائی نینس کیا کہ جو جو ان کو تھوڑی بہت چیزیں چاہئیں انہوں نے آرمی کے لوگوں نے جو کنٹرول کررہے ہیں الیکشن کو میرا نام و نشان نہیں اٹھنے دیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی پیرالل پارٹی اٹھے اور عمران خان کے سوا لیڈر شپ آسکے۔ نام و نشان جنت پاکستان تحریک کا کس طریقے سے مٹایا گیا وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو نہیں جانتے وہ دیکھ لیں جاکر فیس بک پر پیجز، ویب سائٹ ، جب پارٹی لانچ کی گئی تو ہزاروں لائک تھے دس دن میں۔ اور اسکے بعد کیا ہوا؟ اسکے بعد ٹوٹل بلاک سینسر شپ کردی گئی۔ آرمی ہماری بڑے خلوص کیساتھ یہthoughtکہ
Imran Khan is the best
انہوں نے عمران خان کو لایا اب اس کا اقرار بھی کیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں مولے نوں مولا ہی ماردا ہے۔ مجھے گلہ ہے آج جو بات ہورہی ہے کہ سارا کا سارا بیانیہ لفافہ امریکہ کا کاغذہلارہا تھا وہ سب ایک جھوٹ ایک ڈرامہ تھا۔ آج آرمی کے چیف نے یہ بات علی الاعلان کی ہے کاش اسی وقت اس کتے کا منہ توڑا جاتا۔ اسی وقت اس کتے کے منہ پر چنڈ ماری جاتی کہ سٹ ڈاؤن شٹ اپ۔ اس کو شٹ اپ کال دی جاتی کہ
You are a liar
تو جھوٹ بول رہا ہے۔

ڈاکٹر اثر الاسلام سید کے بیان پر تجزیہ
ڈاکٹر صاحب نے فوج کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ حسن ابدال کیڈٹ کالج پاکستان کا قابلیت کے اعتبار سے پہلے نمبر کا ادارہ ہے۔ ایک اور بیان میں ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ مراسلہ کا مطلب رسالت ہے۔ امریکہ نے ایک مراسلہ بھیج دیا اور پورا سیاسی نظام بدل دیا۔ عمران خان کو کیا معلوم کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے۔ جنرل ایوب نے زبردست کام کیا کہ امریکہ سے پاکستان کو جوڑ دیا۔
فوج کا بیانیہ اس قسم کے لوگ پیش کریں تو لوگوں پر کیا اثر پڑیگا؟۔ جنرل ایوب کے دور میں فاطمہ جناح ، مسلم لیگ فوج سے بدظن ہوگئی تو سرکارنے نئی نئی ناجائز مسلم لیگیںجنم دینی شروع کیں۔ جو پاکستان کے بانی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اللہ کرے ن لیگ اور ق لیگ آخری ہوں۔ عمران خان کو بھی اللہ ہدایت دے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

50، 60سال سے اوپر والے سر ہتھیلی پر رکھ کر احتجاج کرنے نکلو۔ ارشد شریف کی خدائی ماں

50، 60سال سے اوپر والے سر ہتھیلی پر رکھ کر احتجاج کرنے نکلو۔ ارشد شریف کی خدائی ماں

وہ حکومت جس نے ارشد شریف کو قتل کروایا، گیند سمیع اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سمیع اللہ ہونے لگی

ارشدشریف کی شہادت پر ماحول سے جذباتی ارشد شریف کی خدائی ماں کا لقب پانے والی خاتون کی ویڈیو

السلام علیکم ! انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پاکستانیو! انہوں نے بہت ظلم کردیا۔ یہ بپھرے ہوئے سفید ہاتھیوں نے، یہ بپھرے ہوئے ریچھوں نے ، جو اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہیں، جو کرپٹ حکومت میں بیٹھے ہیں، یہ ارشد شریف کو شہید کروانے والے ٹارگٹ کلنگ میں مروانے والے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں حکومت کا حصہ ہیں۔ جن کے بزنس ہیں کینیا میں اور ارشد شریف کے قاتل وردیوں میں ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہیں۔ میںISPRکو جواب دینا چاہتی ہوں۔ آپ اپنی بکواسات میڈیا پر آکر مت کریں۔ عوام کو اتنا غصہ مت دلائیں اب آپ کو وردیوں سے نکال کر آپ کی لاشوں کو چوراہوں پر لٹکایا جائے گا۔ آپ نے جس وردی کو گالی خود بنادیا ہے6لاکھ فوج جب اندھی ہوگئی ہے یہ ادارہ فوج کا جب گالی بن گیا ہے ہم سے کوئی توقع نہ رکھو ہم نے اختیار دیا تھا اس کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں ڈراتے ہو ڈنڈے سے؟ ۔ پاکستانیو! انویسٹی گیشن میں جو تماشہ کررہے ہیں کہ حکومت کمیشن بنائے گی عدلیہ ہمیشہ کی طرح غدارانہ کردار ادا کرتی ہے کہ حکومت وہ حکومت جس نے اس کو قتل کروایا ہے۔ گیند سمیع اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سمیع اللہ ہونے لگی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ اس کی ہائی لیول انوسٹی گیشن ہونی چاہیے۔ پھر تمہیں وردی اتاردینی چاہیے۔ اتنے لمبے پروسیجر سے کیوں گزرتے ہو۔ تم صرف آئینہ لو ۔آئینہ دیکھو تمہیں ارشد شریف کا قاتل سمجھ میں آجائے گا۔ انویسٹی گیشن سے پاکستانیو ں انہیں گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں آئینہ لگادیا جائے شیشہ لگادیا جائے اور اسی طرح اسٹیبلشمنٹ میں آئینہ لگادیا جائے تو ہر گزرنے والوں کو آئینہ دکھاؤ ہر گلی ہر چوراہے ملک کے ہر شہر کے داخلے میں بڑے بڑے شیشے لگاؤ جہاں سے ان کا گزر ہو۔ انہیں بتاؤ ارشد شریف کے قاتل کو پہنچان لیں تاکہ یہ آسانی سے۔ پاکستانیو! انوسٹی گیشن ہونی ہے تو یہاں سے ہو۔ پاکستان میں کس نے اس کو رہنے نہیں دیا۔ کس نے پاکستان میں اسکا جینا محال کردیا۔ کون گھر میں چھاپے مارتا تھا۔ کون اس کے گھر میں جاکر اسکے گھر کے باہر گاڑیوں کو کھڑا کرتا تھا اس کو اریسٹ کرنے کی دھمکی دیتا تھا؟۔ کون ہے وہ خبیث، خنزیر، سور جس نے اسے نوکری سے نکلوایا؟۔ جس نے اس چینل کو عبرت کا نشانہ بنوایا۔ پاکستانیو! کون ہے وہ؟۔ ان سے پوچھو جس نے اسے ملک میں رہنے نہ دیا۔ کون ہے وہ جس نے اسے دوبئی میں بیچارہ رہ رہا تھا اسے دوبئی سے نکلنے پر مجبور کیا ۔ حکومت سے حکومت کیوں؟۔ فیفا فٹبال میں جنہوںنے سیکورٹی کا وعدہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ ہماری جو آپ سے ڈیل ہے اس کا تقاضہ ہے کہ اسے یہاں سے نکلنے دے۔ ہماری پینٹیں اتار رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کرپشن کو بے نقاب کررہا ہے۔ پاکستانیو! کس نے دوبئی میں خط لکھا؟۔ وہ کونسا حرام النسل ہے ؟ کون سی اپنی ماں کی غلطی کا نتیجہ ہے؟۔ جس نے وہ خط لکھا اور اسے دوبئی میں نہ رہنے دیا۔ کون حرام النسل ہے جن کے بزنس ہیں کینیا میں؟۔ وہ کون تھا جو گاڑی میں اس کا بھائی بن کر بیٹھا ہوا تھا؟۔ کہ اسے پکڑا جائے۔ کیا بات ہے9گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی ایک گولی نہ ڈرائیور کو لگی نہ اس نام نہادی بھائی کو لگی اور ارشد شریف کو بہیمانہ بزدلانہ طریقے سے شہید کیا گیا۔ اگر ارشد شریف کے پاس ایک رائفل ہوتی تو مزا تو تب تھا مقابلے کا۔ میں اپنی اسٹیبلشمنٹ کو کہتی ہوں کہ چوڑیاں پہن لو تم بے شرموں نے ایک معصوم محب الوطن کو کافر ٹارگٹ کلروں سے پیسے دے کر تم نے اسے مروایا ہے۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے تمہیں شرم آنی چاہیے دنیا والے تمہارے منہ پر جوتے مار رہے ہیں۔ دنیا والے تمہیں بے نقاب کررہے ہیں۔ کینیا کے صحافی بول رہے ہیں دنیا کی باقی انویسٹی گیشن کھلیں گی۔ پاکستانیو! ارشد شریف کے قاتل تمہارے میں ہیں۔ ارشد شریف شہید ہوا ہے اور شہید زندہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم سے تقاضہ کررہا ہے کہ میری قربانی کو ضائع مت ہونے دینا۔ یہاں سے میرا مشن نامکمل رہ گیا ہے اس مشن کو اب مکمل کرنے کیلئے نکلو۔ ہم سے پہلے غلطی ہوئی اسے ہمیں باہر نہیں جانے دینا چاہیے تھا ۔ اسے انڈر گراؤنڈ کردیتے۔ جئیں گے تو مل کر مریں گے تو مل کر۔ اب سارے پاکستانی مل کر ارشد شریف کا بدلہ لیں گے۔ ہر فرد ارشد شریف بن کر ہر گلی سے ہر چوراہے سے نکلے۔ اور اس کے قاتلوں سے اس کا بدلہ لے۔ پاکستان کو جو غلامی میں ڈالنا چاہتے ہیں پاکستانی قوم کو جو غلام بنانا چاہتے ہیں اس مشن کے خلاف کام کررہا تھا ارشد شریف۔ یہ جو پاکستان کو لوٹ لوٹ کر پاکستان کے خزانے باہر لے کر جاتے ہیں اور اس کو اپنی طاقت بناکر پاکستانیوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں اپنا غلام بناتے ہیں ارشد شریف اس مشن پر کام کررہا تھا کہ وہ انہیں اس ظلم سے روکے گا۔ پاکستانیو! ارشد شریف کی قربانی تم سے تقاضہ کرتی ہے۔ شہید زندہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں شہید زندہ ہے تمہیں ادراک نہیں اس کی زندگی کا۔ وہ ہم سے رزق لیتا ہے ۔ پاکستانیو! ارشد شریف دیکھ رہا ہے۔ اب کس نے اسے دوبئی سے کینیا تک بھیجا اور کس نے اس کا پیچھا کیا؟۔ کس نے اس کے فون ریکارڈ کئے؟۔ اس کا فون کہاں ہے؟۔ وہ نام نہاد بھائی کہاں ہے انویسٹی گیشن تو پاکستان سے بنتی ہے۔ پاکستان میں اس کے قاتل ہیں اور اب یہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ انویسٹی گیشن حکومت کرے گی؟۔ مگر مچھ کے آنسو بہاکر ہمارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کرپٹ حکومت کو کرپٹ وزیر اعظم وزیر خارجہ کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم تمہاری لاشوں کو بھی ٹانگیں گے۔ ہم جنرلوں کی لاشوں کو چوراہوں پر ٹانگیں گے۔ ان بپھرے ہوئے سفید ہاتھیوں کو جو ہم نے وردی اور ہتھیار دئیے ہم ان سے چھیننا جانتے ہیں۔ پاکستانیو! سارے پاکستانی مل کر ارشد شریف کی قبر پر اس کے جنازے پر قسم اٹھاؤ کہ تم سب لوگ ارشد شریف کا بدلہ لینے کیلئے ایک ساتھ احتجاج کیلئے باہر نکلو گے۔ ان لوگوں کو مستعفی ہونے کیلئے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردو گے۔ انہیں پکڑ کر لٹکاؤ گے۔ پاکستانیو! ارشد شریف کے اس نامکمل مشن کو تم لوگ مکمل کروگے اور احتجاج کیلئے میں اپنے بزرگوں سے التماس کرتی ہوں کہ آپ لوگوں کو فرنٹ لائن پر ہونا ہے۔ جن کی عمر50سے اوپر ہے60سال سے اوپر ہے۔ اب اور کتنا جینا ہے۔ اپنے جوانوں کو اپنی کمر پر رکھ کر اپنی کمر بناؤ۔ فرنٹ لائن پر آؤ۔ دیکھتے ہیں بپھرے ہاتھیوں کو ۔ اپنی ماؤں سے التماس کروں گی اور کتنا جئیں۔ اپنے جوانوں کو اپنی کمر بناؤ۔ انہیں پیچھے رکھو یہ سوچ کر کہ یہ ملک و قوم کی بقاء سنبھالیں گے۔ اور ہم ان بپھرے ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ کی لعنت ہے سفید بپھرے ہاتھیوں پر قرآن میں بھی۔ ان کا انجام وہی کریں گے جو اللہ نے ان کا قرآن میں کیا ہے۔ نکلو پاکستانیو! اور میرے بزرگو!۔ اور میں صحافی برادری سے کہوں گی یہ ایک ارشد شریف نہیں ہے۔ یہ مت سمجھنا تم لوگ کہ اپنوں میں جو تفریق تم نے پیدا کر رکھی ہے خدا کا خوف کھاؤ اسے ختم کرو۔ ظالم کی فطرت نہیں بدلتی۔ وقت سے اس کا مکار طریقہ بدل جاتا ہے اس کے مفادات بدل جاتے ہیں اس کی فطرت نہیں بدلتی۔ آج ارشد شریف ہے تو کل کوئی اور ہوگا۔ میرا خیال ہے سب کو ایک پیج پر ہوکر اس ظلم کا بدلہ لینا چاہیے اس ظالم کی عقل کو ٹھکانے لگانا چاہیے۔ اس ظالم کو مٹانا چاہیے اوران کے بھی بچوں کی تصویریں ڈالو۔ اگر ٹارگٹ کلر کو یہ پیسے دے سکتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان کو فالو کریں۔ ان کا جینا بھی اسی طرح حرام کریں جو اپنے بچوں کو باہر بھیجتے ہیں کیا ٹارگٹ کلروں کو ان کے ساتھ کونسی ہمدردی ہوگی۔ ان کو بھی تو پیسے کا ہی لالچ ہوگا۔ یہی ہمیں طریقہ سکھاتے جائیں۔ پاکستانیو! ان کو ان کی اولادوں کا جینا حرام کردو۔ پاکستان کی بقاء کیلئے اپنی نسلوں کی بقاء کیلئے اس کرپٹ مافیا سے ان غداروں سے پاکستان کو آزاد کرانا ہے۔ پاکستانیو! زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کی ریاست اور سیاست جی ٹی روڈ لاہور سے اسلام آباد تک کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستان کی ریاست اور سیاست جی ٹی روڈ لاہور سے اسلام آباد تک کے گرد گھومتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کی ٹرین میںPDMکی جماعتوں کو شامل کیا تھا اور پھر پیپلز پارٹی اورANPکو الزام لگاکر نکال دیا تھا

عمران خان نے حقیقی آزادی کا سفر شروع کیا تو ضمنی الیکشن میں حکومتی اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر ریاست سے بھی زبردست ٹکر لی ہے۔

مولانا فضل الرحمن چند سیٹوں کیساتھ آزادی مارچ کرکے عمران خان کو اس جمہوری ایوان سے باہر پھینکنے کی بات کررہا تھا اور پھرPDMکی جماعتیں بھی اس ٹرین کے ڈبے بن گئیں۔ پھر پیپلزپارٹی اور اے این پی کوPDMسے اس بنیاد پر باہر کیا کہ تمہارے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطے ہیں۔ مریم نواز نے کہا تھا کہ زرداری نے باپ پارٹی کو اپنا باپ بنالیا ہے۔ نوازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اورDGISIجنرل فیض حمید کا نام لیکر تمام خرابی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔PDMکا اعلان تھا کہ کٹھ پتلی عمران خان سے نہیں فوج سے ہمارا مقابلہ ہے۔ اب وہی ہتھیار عمران خان نے اٹھالیا ہے۔ جس جرأت کے ساتھ عمران خان بات کرتا ہے، یہ جرأت نوازشریف اور مریم نواز میں نہیں ہے۔ اور جب رانا ثناء اللہ پر16کلو ہیروئن کا الزام لگا تھا اور جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ کے جوڑ توڑ میںISIکو ملوث قرار دیا تھا تو شریف خاندان کی منافقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب جب حکومت میں آگئے ہیں تو اپنے عزائم کا اظہار تک نہیں کرتے۔ عمران خان فوج کے گڑھ لاہور سے پنڈی تک جی ٹی روڈ پر جو کچھ بھی کررہے ہیں اس سے کسی کو اختلاف ہو یا اتفاق؟ لیکن اس سیاسی میدان اور پنجاب وپاکستان کے بہت سارے عوام کا دل جیت چکے ہیں اور اتحادی حکومت بالکل زمین میں گڑھ گئی ہے اور منافقت کا شکار نظر آتی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv