پوسٹ تلاش کریں

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

حکومت کاالیکشن سے فرار اور آئین کو سبوتاژکرنا افسوسناک مگر خلافت کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے

پاکستان شاہین کی طرح اب اپنے پَر، ناخن اور چونچ توڑ کرایک نئی زندگی کا آغاز کر رہاہے؟

1973کی50سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ کی طرف سے بھی آئین شکنی کی قرارداد منظور ہوئی ہے جو آئین کے مطابق90دن میں الیکشن سے فرارکا راستہ ہے

کبھی جنرل ضیاء الحق نے آئین کو ایک کتاب قرار دیکر جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی عدالت نے3سال تک جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کی اجازت دی،اب پارلیمنٹ نے…

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے اسلامی دفعات کے نفاذ کی توقع رکھوں؟۔ یہ تو عوام کا قصور ہے کہ ہمارے چندافراد اسمبلی بھیجتے ہیں”

اب سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے
اہل کشتی ناخداؤں کے طوفانوں سے مر گئے
پاکستان میں عوام الناس اور باشعور طبقات کو یہ شکایت بجا رہتی تھی کہ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے ، پہلے اس کی لگام انگریز کی باقیات سول بیروکریسی اور ان کے نامزد گورنر جنرل اور وزیراعظم کے ہاتھوں میں تھی پھر سول اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کے ہاتھوں یہ ملک دو لخت ہوا۔ معجزے میںچاند دو ٹکڑے ہونے کے بعدجڑ گیا مگر پاکستان پھر نہیں جڑ سکا۔1947کے25سال بعد سرزمین بے آئین کو1973میں متفقہ آئین مل گیا، جو دس سال میں اسلامی سانچے میں ڈھل جانا تھا۔1974میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا،پھر الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیۖ چلی۔ پھر11سال تک مارشل لاء نے ڈیرے ڈال دئیے۔ جس کے خلافMRDتحریک بحالی جمہوریت چلی ۔دوسری طرف جنرل ضیاء کی تخلیق کردہ مسلم لیگ جونیجو سندھی اور نوازشریف پنجابی اور جماعت اسلامی نے غیر جماعتی جمہوریت اور اسلام کے نام پر ریفرینڈم کو فتوؤں سے سپورٹ کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے جونیجو لیگ کی حکومت کو ختم کردیا تو نوازشریف نے پھر جونیجو سے بے وفائی کردی۔MRDکے اتحاد سے پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے۔سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے۔ جتوئی کی ناکامی پر نوازشریف کو سمیع الحق نے سائیکل تھما دی۔ عدالت نے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا تو نوازشریف نے اپیل کردی۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل بنادیا۔ نوازشریف کاافیئر طاہرہ سید سے تھا۔ میڈیا نے رنگیلا وزیراعظم کتاب سے کچھ بھی عوام کو نہیں بتایا۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصویریں جہاز سے گرانے والے شریفوں سے قدرت کیا انتقام لیتی ہے؟۔ کیپٹن صفدر نے کہاکہ ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”۔ مشرف کو عدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو آئین کی پاسداری پر سزا دی جارہی ہے؟۔ قدرت نے سب کا چہرہ دکھایا۔ریاست خلافت کا اعلان کردے اسلئے کہ الیکشن سے جمہوریت کے اپنے پاسدار بھاگ رہے ہیں۔اسلام کا چہرہ جس دن میڈیا پر دکھادیا تو پاکستان میں اسلام کو ووٹ ملے گااور ملک سے مشکلات ختم ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے صحافی نے پوچھ لیا کہ ”مسلم لیگ ن نے آپ سے اسلامی دفعات کو نافذ کرنے کا وعدہ پورا کیا؟”۔ جس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ” مجھے آپ نے کب سے اتنا سادہ سمجھ لیا ہے کہ میں مسلم لیگ ن سے یہ توقع رکھوں کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گی؟۔1973کے آئین میں یہ شامل ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی ہوگی ۔عوام جب تک ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں نہیں بھیجے گی تو اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوسکے گا۔ چندافراد سے اسمبلی میں اسلامی قانون سازی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ جب عوام ہمیں بڑی تعداد میں اسمبلی میں بھیج دیں گے اور ہمارے اپنے ہاتھ میں اقتدارآجائے گا تو پھر اسلام کا نفاذ ہوسکے گا”۔
ایک طرف تحریک انصاف کے زمان پارک میں کارکنوں پر الزامات لگتے ہیں کہ رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں اور دوسری طرف عمران خان پر بیٹی چھپانے اور عدت میں نکاح کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں۔تیسری طرف سوشل میڈیا پر ننگ دھڑنگ ویڈیوز کی بھرمار چل رہی ہے اور چوتھی طرف مریم نواز کا حمزہ شہباز سے سینہ سے سینہ ملاکر معانقہ کا چرچا ہے۔ پس دیوار کیا کیا چل رہاہے؟۔ لیکن نوشتۂ دیوار علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہے۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہوجائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز وساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہوجائے گی
دیکھ لوگے سطوت رفتار دریا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہوجائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
مولانا فضل الرحمن خود بھی اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔افغانستان میں ملا عمر نے جب امارت اسلامی قائم کردی تو لوگوں کو زبردستی سے داڑھی بھی رکھوانا شروع کردی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کررہے ہیں۔ جب پختونخواہ میں بھاری اکثریت سے علماء کرام و مفتیان عظام، شیخ الحدیث و شیخ القرآن ، مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ اسمبلی میں پہنچے تو اکرم خان درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنادیا اسلئے کہ جماعت اسلامی کو اس وقت داڑھی منڈا قابلِ قبول نہیں تھا۔ حالانکہ مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی بھی پہلے خود ڈاڑھی منڈے تھے، پھر چھوٹی داڑھی رکھ لی اور پھر علماء کے مطالبے اور اصرار پر ریش دراز رکھ لی لیکن جماعت اسلامی نے کبھی عالم دین کو اپنا امیر نہیں بنایا ہے۔
اگر مدارس اور مساجد کے علماء ومفتیان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوجائیں تو پاکستان میں اس سے زیادہ مضبوط مذہبی اور سیاسی پارٹی نہیں ہوگی۔ عوام سب سے زیادہ ووٹ بھی اسی پارٹی کو دیںگے۔ پاکستان میں حنفی مسلک کے بریلوی اور دیوبندی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ حنفی مسلک کا کمال یہ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ کو بھی اپنی تعلیمات کے ذریعے بالکل رد کردیتا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے اللہ نے یہی تربیت صحابہ کرام اور خلفاء راشدینکے دلوں میں بھی اتاری تھی۔ حدیث قرطاس اور فضائل اہل بیت کی احادیث صحیحہ کے مقابلے میںقرآنی آیات وشاورھم فی الامراور وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان سے خاص امر میں مشورہ کریں۔ اور ان کا امر آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے” پر خلفاء راشدین نے عمل کر کے خلافت راشدہ قائم کی تھی۔
رسول اللہ ۖ نے حدیث قرطاس کے ذریعے قرآن کے مقابلے میں کوئی اپنی منشاء مسلط نہیں کی تھی۔ نبی ۖ نے بدری قیدیوں کا فیصلہ صحابہ کے مشورے سے کیا تھا۔ حضرت عمر اور حضرت سعد کی رائے تھی کہ ”جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے ،وہ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے”۔ نبیۖ کے جانثار صحابہ نے مشورہ دیا کہ ” یہ اپنے لوگ ہیں۔ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ کل یہ مسلمان بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر دوبارہ مقابلہ میں آئے تو اُن کو نمٹ سکتے ہیں”۔ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور حضرت علی و دیگر صحابہ کرام کی رائے یہی تھی۔جس کی نمائندگی حضرت ابوبکر نے کی تھی۔ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” عمر کی رائے کافروں کیلئے حضرت نوح کی دعا ہے کہ کوئی کافر دنیا میں عذاب سے نہ بچے اور ابوبکر کی رائے ابراہیم کی دعا سے ملتی ہے جس میں اللہ سے رحم کی اپیل تھی، مجھے حضرت ابراہیم کی دعا بہتر لگتی ہے اسلئے حضرت ابوبکر کی رائے پر فیصلہ کردیتاہوں۔
اللہ نے فرمایا: وماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الآخرة ….
ترجمہ :” اور نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خون بہادیتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔
اللہ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ” اگر اللہ پہلے سے نہ لکھ چکا ہوتا تو تمہیں بہت سخت عذاب دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا اور اس سے عمر وسعد کے علاوہ آج کوئی نہ بچتا۔ صحابہ کرام کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے اسلئے کہ عام مؤمنین سے بھی حسنِ ظن رکھنے کا حکم ہے۔ علی، عثماناور ابوبکر پر کیسے یہ بدگمانی کی جاسکتی ہے کہ اکابر صحابہ دنیا کے طلبگارتھے؟ ، لیکن اللہ نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ بھی فرشتوں سے نہیں صحابہ کے بارے میں فرمایا۔ نبی ۖ نے پھر حضرت عمر وسعد کے علاوہ باقی صحابہ کرام کے بارے میں قرآن کی تفسیر بھی کردی۔ اگر یہاں علی وعمار کے بارے میں استثناء ہوتا تو اہل تشیع پھر ان قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کو خوب اُچھالتے مگریہاں سانپ سونگھتا ہے۔
بدری قیدیوں میں نبی ۖ کے چچا عباس اور داماد بھی تھے اسلئے صحابہ نے اپنے رشتہ داروں کا نہیں مگر نبی ۖ کے رشتہ داروں کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا کہ ان سے فدیہ لیکر درگزر کیا جائے، اللہ نے اس کو بھی دنیا کی چاہت قرار دیا اور نبی کے فیصلے کو بھی واضح الفاظ میں نامناسب قرار دیدیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ آیات اور احادیث صحیحہ کا سہارا لیکر گستاخانہ لہجوں سے فرقہ پرستی کا بازار گرم کرکے تعصبات کی ہواؤں سے مخالفین کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
اہل سنت والجماعت قرآن وسنت اور عظمت صحابہ کرام کے قائل ہیںلیکن جس قرآن میں اللہ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کے ذریعے رہنمائی کی ہے اس میں نبی ۖ کی تضحیک وتوہین مقصد نہیں ہے کہ عورت نے جھگڑا کیا تھا اور اسی کے حق میں فیصلہ آیا تھا اور اللہ نے نبی ۖ سے فرمایا: وتخشی الناس و اللہ احق ان تخشٰہ ”آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈریں” (سورۂ الاحزاب ) ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اگر اللہ کے نبی ۖ قرآن کی کسی آیت کو چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے” (صحیح بخاری )۔
یہ قرآن امت مسلمہ کیلئے رہنمائی کا سبب ہے کہ اسلام میں ڈکٹیٹر شپ کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اللہ نے قرآن میں سچ فرمایا ہے کہ ” انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے”۔ تکبر وغرور شیطان کا وظیفہ ہے اور جو لوگ اپنی پارسائی بیان کرتے ہیں تو اللہ نے قرآن میں واضح تنبیہ کردی کہ فلا تزکوا انفسکم ” پس اپنی پارسائی بیان مت کرو”۔ جب قرآن وسنت کی سمجھ آجائے گی تو ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے اور اپنی پارسائی بیان کرنے کے بجائے اللہ اور خلق خدا سے اپنے گناہوں اور حق تلفیوں کی معافی تلافی میں لگ جائیں گے۔ اقتدار کی خاطر لڑنے کے بجائے ”پہلے آپ پہلے آپ” کی دل وجان سے پیشکش کریں گے۔
جب آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اقتدار حاصل کیا تو نوازشریف کو پیشکش کردی کہ ” پہلے آپ” ۔ زرداری نے پنجاب کی حکومت ق لیگ اور پرویز الٰہی کی پیشکش کو مسترد کردیا اور شہباز شریف کو پنجاب کا اقتدار سپرد کردیا۔ شہباز شریف اور نوازشریف نے پھر بھی ق لیگ کا فارورڈ بلاک بنایا اور سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے نااہل قرار دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ حالانکہ یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ ” آئین میں صدر کو استثناء حاصل ہے اور میں نے آئین کا حلف اٹھایا ہے تو کس طرح خلاف ورزی کرسکتا ہوں”۔ لیکن عین غین کی طرح عدلیہ کے ترازو میں فرق رکھنے والے چوہدری افتخار نے اس کو نااہل قرار دیدیا اور شریف برادران نے اس بھنگڑے ڈال کر ناچنا شروع کیا۔
شہباز شریف نے زرداری کو چور، ڈاکو اور دنیا بھر کی گالیوں سے نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی حلف برداریاں عوامی جلسوں اور میڈیا میں روز کا معمول تھیں۔ ایک دن زرداری نے کہہ دیا کہ نوازشریف کی کھوپڑی میں ایک سیاستدان نہیں لوہار کا دماغ ہے تو مسلم لیگیوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ”ہم اس حد تک نہیں گرسکتے جس حد تک زرداری گرگیا”۔
نوازشریف اور شہباز شریف کے دل گوشت نہیں زنگ آلود لوہے سے بنے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر بھی دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور انگریز وںکے کتے نہلانے کے الزامات لگاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف نے اپنے نئے گھر رائیونڈ میں ایک میٹنگ کی ہے کہ ”20سال تک ملک کی سیاسی اور معاشی قوت کوسوہارتو کی طرح اپنے پاس رکھنا ہے”۔ سوہارتو کے خاندان نے اپنے ملک کو کس طرح سے لوٹ کر اپنے خاندان کو نوازاتھا۔ اس نے جنرل ضیاء الحق کی طرح11سال تک قبضہ کرنے کی بات نہیں کی۔ اس نے کہا کہ ہمارے راستے میں پانچ رکاوٹیں آسکتی ہیں ، ان کو پہلے دور کرنا ہے۔
نمبر1:اپوزیشن پیپلزپارٹی کو ختم کرنا ہے جو مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے۔
نمبر2:ہمیں خطرہ صدر سے ہوسکتا ہے اسلئے کہ اس دور میں آٹھویں ترمیم تھی۔
نمبر3:فوج کو راستے سے ہٹانا ہے،اسلئے کہ اس کا مختلف دور میں کرداررہا ہے۔
نمبر4:عدلیہ کو راستے سے ہٹاناہے اسلئے کہ یہ راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نمبر5:پریس ۔انہوں یہ پانچ نکاتی ایجنڈہ بنایا تاکہ قائداعظم کاخواب دفن ہو۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم نوازشریف کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کتنے کیس بنائے۔ الیکشن کمیشن سے کہا کہ صرف وہی کیس قبول کرنا ہے جو سیف الرحمن نے پیش کیا ہو۔ مجھ پر اور میری ماں پر، زارداری صاحب پر، اس کے باپ پر ، اس کی بہن پر ، اس کے برادر ان لاء پر، ہمارے تمام سیکرٹریوں پر، چوکیداروں پر سب پر اس نے کیس بنائے ہیں”۔
پھر جب بینظیر اقتدار میں آئی تو اس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے فاروق خان لغاری کو بھی استعمال کیا۔ اس کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ اس کی حکومت ختم کرکے آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے خاندانی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیا۔ زرداری پر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی لگا ہے۔ مرتضی بھٹو کا بیٹا بھی بلاول بھٹو سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے لیکن زرداریوں نے وراثت پر قبضہ کرلیا ہے اور اصل بھٹو ذوالفقار علی جونیئر کی جگہ بلاول زرداری نے لے لی ہے۔
قرآن نے یہ سبق دیا ہے کہ اقلیت اور اکثریت سے بلاخوف وخطر حق کیلئے آواز اٹھانی ہے۔ اگر صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ کیا تو بھی ان کی سرزنش ہوئی تھی۔ دوسری طرف اللہ نے اپنی حکمت بالغہ سے مشرکین مکہ کے دلوں میں یہ رعب بٹھانا تھا کہ اس دفعہ رحمت للعالمین ۖ نے مشاورت سے چھوڑ دیا ہے لیکن اللہ نے نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا اور اکثریت کے مشورے کو بھی قابل ستائش قرار نہیں دیا بلکہ اس پر گرفت فرمائی ہے۔ قرآن نے ایک طرف دشمن کے دل میں رعب ڈالا کہ آئندہ فدیہ کی توقع پر گرفتاری دینے کی غلطی نہ کرنا ، اگر میدان میں آؤگے تو مارے جاؤگے اور دوسری طرف مسلمانوں کو تنبیہ کردی کہ اکثریت اور نبیۖ کے فیصلے کا بھی اللہ نے لحاظ نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کی اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعدامیرالمؤمنین حضرت علی اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ کے درمیان بھی تلوار اٹھانے تک بات پہنچ گئی تھی جہاںدونوں طرف عشرہ مبشرہ کے صحابہزبیرو طلحہ اور علی برسرپیکار تھے۔ ایک طرف قرآن میں حضرت عثمان کی شہادت کے حوالہ سے بیعت رضوان کا معاملہ تھاتو دوسری طرف نبی ۖ کی احادیث تھیں ۔
حضرت علی نے قاتلین عثمان کے بدلے سے انکار نہیں کیا تھا لیکن مجبوری تھی۔ دوسری طرف بہت ساری احادیث حضرت علی کی تائید اور مخالفین کا راستہ روکنے کیلئے موجود تھیں۔ حضرت عمار کی شہادت تو بعد میں ہوئی تھی اور اس سے پہلے نبیۖ نے ازواج مطہرات سے فرمایا تھا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ اور حضرت عائشہ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا کہ جب حواہب کے کتے آپ پر بھونکیںگے۔ حضرت عائشہ نے کتوں کی آواز سن کر لوٹنا بھی چاہا مگر مشورہ دینے والوں نے خیر کے کام کیلئے اس کو مفید قرار دیا۔ نبی ۖ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ” وہ لشکر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے جس کی قیادت عورت کررہی ہو”۔صحیح بخاری کی اس روایت میں حضرت عائشہ کے لشکر کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت ابوبکرہ نے اس موقع پر اس کو بیان کیا تھا۔
اگر صحابہ کرام اور خاص طور پر عشرہ مبشرہ کے درمیان جنگ وجدل ہوسکتا تھا تو موجودہ دور کے مسلمانوں میں کیوں نہیں؟۔ اکثریت اور اقلیت معیارِ حق نہیں ہے۔ موجودہ دور میں چیف جسٹس اور اس سے اختلاف کرنے والے جج اور سیاستدانوں میں حق پر کون ہے؟۔ ایک طرف آئین کی پاسداری ہے لیکن دوسری طرف ٹیکنیکل بنیادپر آئین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش محض بہانہ ہے۔جو لوگ چیف جسٹس کا آئینی فیصلہ نہیں مانتے وہ ازخود اختلافی نوٹ کو فیصلہ قرار دینے کی جسارت کرنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ اکابر صحابہ کرام کی موجودگی میں یزید کی مسند نشینی کا کوئی جواز نہیں تھا اور امام حسین نے حق کا علم بلند کیا تھا مگر حسینیت اور یزیدیت کی تقدیر لکھی جاچکی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی یزید کے طرف دار ہیں اور وہ بھی اپنے حس کی وجہ سے معذور ہیں۔ جب تک باغ کے پھولوں میں خوشبو کی مہک کا پتہ نہ چلے تو گٹر کی بدبو میں عادی لوگوں کو کس طرح خوشبو کا ادراک ہوسکتا ہے؟۔ تاریخ کے ادوار مظالم اور جبر سے بھرے پڑے ہیں۔ جن میں یزید تو بہت آئے ہیں لیکن حسین کی یاد اگرچہ اس کے اپنے پوتے زید بن علی بن حسین نے بھی شہادت کی مہک سے یاد تازہ کردی ۔ البتہ حسین کے ماننے والا طبقہ کوفی جس طرح غدار نکلے، اس طرح ان کے بڑے بھائی امام باقرنے بھی ساتھ دینے کے بجائے معذوری سے کام لیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کی سخت نگرانی نہیں تھی اسلئے امام ابوحنیفہ نے امام زید کی شہادت کو بڑا اُونچا رتبہ دیا تھا۔امام باقر و امام جعفر کی سخت نگرانی جاری تھی اسلئے امام زید کے حق میں وہ آواز نہیں اٹھاسکتے تھے۔ جب تحریک طالبان پاکستان نے جبر وتشدد اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا تو ان کے خلاف نصیحت وخیر خواہی سے آواز اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں تھی ۔ البتہ پارہ چنار کے اہل تشیع نے ان کا ایسا حال کردیا تھا کہ بھنگ کا نشہ پی کر بھی اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ اعتزاز حسین شہید نے خود کش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر بڑی خلق خدا کو بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔
ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جب پیپلزپارٹی کے دور میں خبردار کیا تھا کہ طالبا ن مارگلہ کے پہاڑ کے قریب اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں تو ن لیگ کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ اس دور میں ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں طالبان کی آنکھوں کے تارے تھے۔ کلثوم نواز مرحومہ کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے تھا اس نے پہلی بار طالبان کے خلاف زبان کھولی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا تھا کہ طالبان کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے کہ بعض سیاستدانوں کو قتل کریں اور بعض کو دوست بنائیں۔ عرفان صدیقی کا تعلق لال کرتی سے ہے۔ حافظ سیدعاصم منیرپر اس کا جھوٹ اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان سے زیادہ عرفان صدیقی خود طالبان کا حامی رہاہے۔

(نوٹ: اس آرٹیکل کے بعد ”پاکستانیوں کی مثال ان شاہینوں کی طرح ہے” عنوان کے تحت آرٹیکل پڑھیں۔)

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

دوسری آیت میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر ظالم کہا گیا ہے اور اس سے مراد حکمران ہیں!

تیسری آیت میں اہل انجیل عوام الناس کا ذکر ہے۔ عوام اللہ کے حکم پرفیصلہ نہ کریں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ جتنی جس کی ذمہ داری اور کارکردگی ہے تو اسکے مطابق فتویٰ بھی لگایا ہے ۔

___پہلا طبقہ علماء و مشائخ کا ہے____
سورۂ مائدہ کی آیات میں واضح طور پر تین طبقات کا ذکر اور وضاحت ہے۔ پہلا طبقہ علما ء مشائخ کا ہے جس کی ذمہ داری قرآنی احکام کا تحفظ ہے اور ان کو تلقین ہے کہ وہ اپنے دل سے عوام وخواص کا خوف نکال کر اللہ سے ڈریں اور تھوڑے سے فائدے کیلئے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنا فیصلہ نہیں کیا تو ان پر بالکل واضح انداز میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ یہ وضاحت ہم اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ” میں کرچکے ہیں ، جس کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے1994میں بھی تائیدات کی تھیں۔ ہمارا مقصد مذہبی طبقات کا تسلط نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے البقرہ آیت224میں تینوں چیزوں کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ نیکی کرنا،تقویٰ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ آج مولوی میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ ہے۔ فرقوں کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ ممالک اور قوم کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم ۖ نے بیت اللہ خانہ کعبہ میں360بت رکھنے والوں سے بھی10سالوں تک صلح کا معاہدہ کیا جس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش تھی۔ نبیۖ نے اس کے بعد دنیا میں چار سال تک رہنا تھا۔ گویا یہ تادم حیات معاہدہ تھا۔ اگر مشرک اس کو نہ توڑتے تو قائم رہتا۔ حضرت ابوبکر کا پورا دور اور حضرت عمر کا آدھا دور بھی اسی میں گزر جاتا۔ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے۔ تلوار بھی نیام سے نہ نکالتے۔ اگر مشرک کا کوئی فرد مسلمان بن جاتا تو اس کو مسلمان واپس کرنے کے پابند تھے اور کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر جاتا تو مشرک اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے کی آزادی تھی۔
آج مسلمانوں کو سعودی عرب میں زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمرہ اور حج کا خرچہ زیادہ ہے۔ شکرہے ایران سے سعودی عرب کی صلح ہوگئی تو جامعة الرشید میں ایرانی وفد بھی آگیا۔ جس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم اور اس کے مرشد نے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ایران کیلئے پڑوسی کا خیال رکھنے کی حدیث سے دلیل دے رہاہے کہ نبی ۖ نے تکرار کرکے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔ پڑوسی تو ہمارا بھارت بھی ہے ؟۔ یہ مفتی عبدالرحیم کسی سے پوچھ کر بتائے گا کہ وہ پڑوسی ہے یا نہیں؟۔ اس نے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نانی اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں سگی بہنیں تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے طالبانائزیشن کی شدت کو ختم کرنے کیلئےPTM(پشتون تحفظ موومنٹ)کو بھی مکمل آزادی دے دی۔جنرل آصف غفور جبDGISPRتھے تو ازراہ تفننPTMپر انڈیا کی فنڈنگ کا الزام لگادیا تھا۔ جب فوج کسی کی مخالفت کا ٹھان لیتی ہے تو اعظم سواتی اور شہباز گل الزام لگاتے ہیں کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ شہباز گل کہتا ہے کہ اب میں اور اعظم سواتی شلوار پہن لیں۔ پھر کہتا ہے کہ میں اپنے اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ جنسی زیادتی کی خبر غلط ہے اور حامد میر نے جنسی زیادتی کی خبر دی تھی۔ دونوں میں زیادہ بااعتماد صحافی احمد نورانی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اثاثے بھی احمد نورانی نے لیک کردئیے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ بلجیم میں اس کی جائیداد اور اشفاق پرویز کیانی کی آسٹریلیا میں جزیرے کی خبر غلط ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان کے باپ کا سسر ، جنگ کے میر شکیل الرحمن اور جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا سسر جنرل رحیم الدین قادیانی تھا۔ ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا تھا۔ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کا شوہر مشرک تھا۔ نبیۖ کا سسر ابوسفیان پہلے مشرک تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سسر پارسی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسر ہندو تھا۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مریدوں و عقیدتمندوں پر مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ لگایا تھا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟ ، عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جب ہماری طاقت ہوگی تو مفتی عبدالرحیم کو اعزازات بھی بخش دیں گے کہ یہ بھی نبیۖ کی سنت ہے کہ اپنے دشمن ابوسفیان کو عزت سے نواز دیا تھا۔ البتہ غلط سلط فتوؤں سے نکلنا وقت کی ضرورت ہوگی۔ فلیضحکوا قلیلًا ولیبکوا کثیرًا ”پس ہنسو کم اور رؤو زیادہ”۔

___دوسرا طبقہ حکمرانوں کا ہے___
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۂ مائدہ میں دوسرا طبقہ حکمرانوں کا بیان کیا ہے ،اسلئے جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کا فیصلہ حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ ایک آدمی کو قتل کردیا، یا کسی کی ناک کاٹ دی، یا پھر کان، دانت اور ہاتھ کو ضائع کردیا تو اس کا بدلہ حکومت اور عدالت نے لینا ہے۔ حکومت اور عدالت سب کو انصاف دیتی ہے لیکن جن جن کو انصاف نہیں ملتا ہے تو ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ پہلے ٹیکس بھی امیر دیتا تھا اور اقتدار بھی ان کیلئے ہوتا تھا۔ اب ٹیکس مہنگائی کی شکل میں عوام پر پڑ رہاہے اور چوری حکمران طبقہ کرتا ہے اسلئے عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے نیب کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر جن افراد نے پارلیمنٹ لاجز میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کرنی تھی تو ان کو پولیس نے اٹھایا تو پورے پاکستان میں اہم شاہراؤں کو بند کردیا اور بندے چھڑالئے تھے۔ مریم نواز نے بھی نیب پر سنگِ باری کرنے کیلئے اپنی گاڑیاں پتھر سے بھر دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن ہمارے وزیرستان کا انقلابی بادشاہ ملا پیوندہ ہے۔ جو ایک طرف انگریز ریاست سے مراعات لیتا تھا اور دوسری طرف تحریک آزادی کی قیادت بھی کررہاتھا۔ مریم نواز بھی گوجرانوالہ کے پہلوان خاندان کی نواسی ہے۔ ن لیگ میں یہ پہلی خاتون ہے جس نے واقعی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے۔ نوازشریف اور شہبازشریف تو بہت زیادہ ہی شریف لوگ تھے جن کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں سے بھیڑ کی طرح اٹھاکر لے گئے اور یہ چپ چاپ ساتھ ہولئے۔ رانا ثناء اللہ کی حیثیت بھی ایک پہاڑی بکرے سے زیادہ اسلئے نہیں ہے کہ ایک دفعہ بیچارے کو اٹھاکر لے گئے تو مونچھ ، سرکے بال اور بھنویں تک مونڈ دئیے گئے۔ دوسری مرتبہ20کلو ہیروئن رنگے ہاتھ پکڑا دی گئی ۔ فوجی وردی میں ملبوس اینٹی نارکوٹیکس افسر کے ساتھ بیٹھ کر شہریار آفریدی قرآن اٹھاکر اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ، رانا ثناء اللہ کے پاس ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اگر ہیروئن کے دھندے کی سمگلنگ میں کوئی پٹھان وزیر ملوث ہوسکتا ہے تو پنجابی وزیرداخلہ بھی ہوسکتا تھا اسلئے کہ لاہور سے کئی مرتبہ ڈرگز پکڑی گئی۔ حنیف عباسی پر بھی کیس تھا۔ لاہور میں ڈرگز پہنچتی ہیں اور ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب رانا ثناء اللہ کو ریکی کرکے پکڑا گیا تو موقع کی ویڈیو بھی ہونی چاہیے تھی۔حقائق تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عمران خان نیازی نے کمال کردیا کہ بھیڑ بکری کی طرح خود کو حکمرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا۔ جب پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا تب بھی دہشت گردی کی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی کچھ کم نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں اس سے بڑھ کر ہے اور عمران خان آواز بھی اٹھا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف حکومت پر بلکہ ریاست پر بھی بہت بری طرح پڑ رہے ہیں۔
ہندوستان کی ایک ہندو اینکر نے مولانا علیم الدین اور مذہبی اسکالر فیروز بخت کو ٹی وی پر بٹھا کر کتے کے بارے میں پوچھا کہ مسلمان اس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟۔ دونوں حضرات پسپائی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ قرآن میں اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے اور شکاری کتے کے ذریعے سے شکار کی گنجائش بھی ہے۔ عالم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور اپنے علم کے ذریعے رفعت کی جگہ پستی اختیار کرلی تو اس کو کتے سے تشبیہ بھی دی۔ ایک مرتد نے کہا کہ قرآن میں مشرکوں کو نجس کہا ہے انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھٰذا اس آیت میں مشرکوں کو عقیدے کی وجہ سے نجس نہیں کہا گیا ہے۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عیسائی عورت سے شادی اور اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانا جائز ہے۔ لتا حیاء نے مساجد کے خلاف تحریک چلانے پر ہندوؤں کو کہا تھا کہ تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو۔ جو مسلمان نہاتے نہیں ان کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جنابت اور حیض کی حالت میں مسلمانوں کو نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک نچلی ذات والوں کا لعاب دہن نجس ہوتا ہے مسلمانوں کے نزدیک بنی آدم کا لعاب پاک ہے۔ اللہ نے تمام بنی آدم کو قرآن میں عزت و تکریم سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آٹے کو ذخیرہ کرکے غریبوں میں بانٹنے کا تماشہ کرکے دجال کا کردار ادا کررہی ہے۔ مہدی کا کام مال کی مساوی تقسیم ہوگی۔ جس دن اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہوجائیں تو عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔

___تیسرے طبقے سے عوام الناس مراد ہیں___
تیسرا طبقہ قرآن کی سورہ مائدہ میں اہل الانجیل کا بیان کیا گیا ہے جس سے عوام الناس مراد ہیں ۔ جن کا فیصلہ نہ علماء ومشائخ کی طرح دین کو بدلتا ہے اور نہ حکمرانوں کے عدل وظلم کے پیمانے کو بدلتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ فاسق ہیں”۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے آج کسی بھی عام شخص کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسی پارٹی ”اسلامی انسانی انقلاب” کے نام سے تشکیل دیدی ہے جس میں نظریات اور منشور کی بنیاد پر عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے اور پھر منتخب نمائندوں میں جسے بھی اکثریت سے منتخب کیا جائے وہی وزیراعظم بنے گا۔ پارٹی کی سینٹرل کمان کسی کو وزیراعظم نامزد نہ کرے گی۔ مثلاً عوام نے313افراد کو منتخب کرلیا۔ پہلے ان313افراد کو اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔ پھر جن دو افراد کی پوزیشن پہلے اور دوسرے نمبر پر ہوگی تو ان میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سے ایک وزیراعظم اور دوسرا سینئر وزیر منتخب ہوگا۔ وزارتوں کیلئے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور جن جن سیاسی اور فوجی قیادت پر الزامات ہوں تو ان کو صفائی کا قوم کے سامنے لائیو ٹی وی چینلوں پر موقع دیا جائے گا۔ جس کیساتھ بھی ناجائز اور زیادتی ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اس سے درخواست کی جائے گی کہ اپنے حق حلال کی کمائی میں سے ملک کے سودی قرضوں کا خاتمہ کریں۔ انور مقصود نے ٹھیک کہا ہے کہ ” اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو سب کو معاف کردیںگے اسلئے کہ20کروڑ میں سے19کروڑ انسانوں کے ہاتھ کاٹنے پڑیںگے۔ عدلیہ اور ججوں پر بھی کیسوں کا دباؤ کم ہوجائے گا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ بارش کے پانی میں عدالت کاغذ کی کشتی ہوتی ہے جو طوفان میں بہہ جاتی ہے۔ جب شعور کی روشنی پھیل جائے گی تو اندھیروں میں ٹکریں کھانے کی مجبوریاں بھی نہیں ہوں گی۔
جب حضرت عمر کے دور میں دولت کی فراوانی ہوئی تو اصحاب بدر، فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں وظائف کے اندر فرق رکھا گیا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے گورنر تھے تو ان کے خلاف چار افراد نے ام جمیل سے بدکاری کی گواہی دیدی۔ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ پر سنگساری کی حد جاری کرنے کے بجائے تین افرادکو80،80کوڑے لگائے، جن میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ تھے۔ اگر سورہ نور کے عین مطابق بدکاری کی سزا100کوڑے ہوتے تو عوام کو سزا دینے کے بجائے گورنر کو سزا دی جاتی۔ یہ واقعہ بڑا عجیب ہے اور اس پر صحیح بخاری وغیرہ میں احناف اور جمہور کی قانون سازی اس سے بھی بڑی عجیب ہے۔
تین افراد کی گواہی مکمل ہوگئی تو حضرت عمر نے چوتھے گواہ زیاد کو آتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اللہ ایک صحابی کو اس ذلت سے بچائے گا اور پھر زور سے دھاڑ ماری کہ تیرے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا کہ یہ اس قدر زور کی دھاڑ تھی کہ قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ زیاد نے کہا کہ مغیرہ کے کاندھے پر ام جمیل کے پیر ایسے پڑے تھے جیسے گدھے کے کان ۔ میں نے ان کی سرین دیکھ لی اور ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینا سن لیا۔ عوام کو خلفاء راشدین کے دور میں بھی جنگیں لڑنی پڑی ہیں اسلئے اب عوام میں سے ایک حکمران بنانا چاہیے۔ بہادروں، قابل اورقربانی دینے والوں سب کی مہربانی۔ اس دفعہ عوام کو اپنی باری کی حکومت کرنے دیں۔
غریبوں تک اپنی زکوٰة ، خیرات اور صدقات پہنچائیں۔ غیرمسلم اقلیتوں پر بھی رحم کریں۔ حکومت پہلے بینکوں سے زکوٰة نہیں کاٹتی تھی تو لوگ فرض سمجھ کر غریبوں کا احساس کرتے تھے۔ علماء نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا فتویٰ جاری کرکے حکومت اور مالداروں میں بے حسی کو پروان چڑھادیا۔ مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ”یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے جس کو دوسرا کوئی منسوخ نہیںکرسکتا ہے”۔ اگر زکوٰة صحیح جگہوں پر پہنچ جائے تو بھی اس امت کے عوام وخواص پر رحمت اور انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سودی قرضوں کی سزا عوام کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی کمائی خاکستر ہوگئی ہے اور یہ لوگ پھر بھی عوام اور غریبوں کا خیال رکھنے کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں موج مستیاں کررہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے اس وقت تبدیلی لاسکتے ہیں جب انقلابی پروگرام عوام کو دیں۔ باتوں سے تبدیلی یا انقلاب کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںاپنے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو 2 یا 3 پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

پختونیم کفرنہیں،عورت سے جبری زیادتی ہو تو2یا3پختون چیخ وپکار پر رُوکیںگے نہیں؟

ملا کا اسلام یہ ہے کہ عورت سے جبری زیادتی ہو تو4گواہ ضروری ہیں،دو یاتین گواہ ہوئے تو عورت کو چپ رہنا ہوگا ، اگر شکایت کی تو پھراس پر بہتان لگانے کے80کوڑے لگیں گے

یہ اسلام پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی ، سرائیکی اور مہاجر سب کلچر کے خلاف ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کا مدرسہ تقوےة الایمان مردان میں نمازیوں اور علماء کرام سے پشتو زبان میں خطاب

مردان ( نمائندہ خصوصی شاہ وزیر ) مردان سپین جماعت (جامع مسجد سفید کے امام وخطیب پیر علامہ شکیل احمد قادری ، رہنما جمعیت علماء اسلام ف کی دعوت پر پیر صاحب کے دارالعلوم تقوےة الایمان کی مسجد میں بعد از نماز مغرب بروز پیر22مارچ2023کو نمازیوں اور علماء سے خطاب کیا جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ افسوس کہ بیان کو ریکارڈ نہیں کیا جاسکا،ورنہ سوشل میڈیا پر سننے کو مل جاتا)
نحمد ونصلی علی رسولہ الکریم : ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ پشتو نیم کفر ہے لیکن اسلام کیا ہے؟۔ اگر یہاں مسجد میں لوگ اپنے بال بچوں کیساتھ آتے ہوں۔ ہماری خواتین مائیں، بہنیں ، بیگمات اور بیٹیاں مسجد میں نماز پڑھتی ہوں ۔ فجر کی نماز کے وقت کوئی شخص کسی عورت کیساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرے تو کیا اس کی چیخ وپکار سن کر لوگ تماشا دیکھیںگے یا اس کو روکیںگے؟۔ پشتون کلچر کیا کہتا ہے؟۔ (مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اس کو روکیںگے) اس کو روکنا ہی اسلام ہے اور یہی پشتو ن کلچر کا بھی تقاضا ہے۔ پنجابی ، سندھی ، سرائیکی، مہاجر اور بلوچی کلچر کا بھی یہ تقاضاہے۔ لیکن ملا کے اسلام میں یہ ہے کہ چار گواہ ہوں گے تو عدالت اس کو سزا دے گی اور چار سے کم ہوں گے تو عورت چپ رہے گی اور اگر اس نے گواہی دی تو اس پر حد قذف کے80کوڑے بھی لگیں گے۔
جنرل پرویزمشرف کے دور میں جب قومی اسمبلی میں یہ قانون بنانے کی کوشش ہوئی کہ زنا بالجبر میں قانونِ شہادت ختم کرکے تعزیرات کے تحت مجرم کو سزا دی جاسکے لیکن اس کے خلاف شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے فتوی لکھ دیا جو جماعت اسلامی نے کراچی میں شائع کرکے اس کی خوب تشہیر کردی۔ جس کا ہم نے مدلل جواب لکھ کرشائع کردیا۔ اس جواب کی وجہ سے جماعت اسلامی کو پھر یہ ہمت نہیں ہوئی کہ جب پیپلزپارٹی کے دور میں تعزیرات کے تحت زنابالجبر کے مجرم کیلئے سزا کا قانون پاس ہوا کہ جماعت شور کرتی یا مفتی محمد تقی عثمانی پھر اس پر آوازا ٹھانے کی ہمت کرتے۔ حالانکہ صحافیوں کے پوچھنے پر جماعت اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن نے کہا تھا کہ ” اگر عورت کیساتھ جبری جنسی زیادتی ہوئی ہے اور اس کے پاس چار مرد گواہ نہیں ہیں تو اس کو خاموش رہنا چاہیے۔ اگر وہ اپنے اوپر زیادتی کی آواز اٹھائے گی تو اس کو سزا ملے گی”۔
ہماری مزاحمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جبF9پارک اسلام آباد میں عورت سے زیادتی ہوئی تو جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اس کو انصاف فراہم کرنے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ1992میں جیتاتھا اورمجھے تحریک چلانے کی وجہ سے1991میں ایک سال کی سزا دی گئی تھی۔ جب عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا تو میں تحریک چلا رہاتھا۔ پاکستان میں آئین کو قرآن وسنت کا پابند بنایا گیا ہے لیکن قرآن اور سنت کے مطابق کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میںVIPکلچر کا تصور ہے۔ ایک عورت نے حرام کی کمائی سے دولت بنائی ہے ،اگر وہ اپنی عزت کے ہتک کا دعویٰ کرے تو عدالت میں اربوں روپے کا مقدمہ کرتی ہے اور جب غریب عورت کی عزت کامعاملہ ہو تو اس کو اتنی رقم بھی نہیں ملتی ہے جتنی سے کیس میں وکیل اور عدالت کی فیس ادا ہوسکے۔ حالانکہ ایک غریب آدمی کو کروڑوں کی رقم ملے تو بھی اس کی عورت اجنبیوں میں اس طرح جلسے نہ کرے۔ کیا یہی انصاف ہے؟۔ کیا عزت میں یہ تفریق اسلام کا تصور ہوسکتا ہے؟۔
قرآن وسنت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان لگایا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول کی صاحبزادی، رسول اللہ ۖ کی گھر والی اہل بیت اور قیامت تک تمام مؤمنوں کی ماں۔ اس سے بڑا مقام ومرتبہ کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن آپ پر بہتان لگانے والوں کو بھی80،80کوڑوں کی سزا قرآن میں نازل ہوئی اور کسی عام غریب خاتون پر بھی بہتان لگانے کی سزا80،80کوڑے ہیں۔ اس سے بڑا مساوات دنیا کے کس نظام میں ہوسکتا ہے؟۔ کیا دنیا کیلئے یہ اسلام اور قرآن کا نظام انصاف قبول ہوگا یا نہیں ہوگا؟۔ ( سامعین نے کہا کہ دنیا کیلئے اسلام اور قرآن کا یہ نظام بالکل بھی قبول ہوگا)۔کیا آج تک علماء سے یہ اسلام سنا ہے؟۔ سیاستدانوں سے سنا ہے؟۔ (سامعین نے نفی میں سر ہلایاتھا)
علماء اور سیاستدان جب اسمبلی میں جاتے ہیں تو خود بھی اسVIPکلچر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک غریب آدمی عوام کے ووٹوں کی طاقت سے اسمبلی میں پہنچتا ہے لیکن جب اسمبلی میں جاتا ہے تو پھر غریب نہیں رہتا بلکہ امیر بن جاتا ہے ۔ پھر وہ غریب کیلئے کیوں قانون سازی کرے گا۔ ووٹ کی طاقت دنیا بدل سکتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ اہل غرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ اس سے مغرب کی جمہوریت کی تائید ہوتی ہے ۔ خون خرابے کے بغیر عوام کی مرضی سے حکومت کی تبدیلی بہت اچھی بات ہے۔ اسلام میں عام لوگوں کو بدکاری پر جوسزا ہے وہ امہات المؤمنین کیلئے ڈبل ہے۔ نچلے طبقے کی خواتین کیلئے عوام کے مقابلہ میں آدھی سزا ہے۔ جب اسمبلی میں یہ قانون سازی ہوگی کہVVIPکی سزا جرم میں زیادہ ہو۔ عام آدمی کے مقابلے میں ڈبل ہو اور نچلے طبقے کی کم ہوتو عوام ایسی پارٹی کو ووٹ دیںگے یا نہیں؟۔ عزت میں طاقتور اور کمزور برابر ہو اور جرم میں طاقتور کوسزا زیادہ ہو تو یہ فطرت کا بھی تقاضہ ہے۔ لیکن یہاں طاقتور کو سزا دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے پہاڑی علاقہ میں گاؤں والوں سے کہا کہ ایک مہینے تک مجھے میری مرضی کے کھانے کھلاؤ اور پھر میں یہاں سے اس پہاڑ کو کہیں دور لے جاؤں گا۔ گاؤں والوں نے ایک ماہ تک فرمائشی کھانے کھلائے۔ جب مہینہ پورا ہوگیا تو سب جمع ہوگئے کہ صاحب بہادر پہاڑ یہاں سے اٹھاکر لے جائے گا۔ اس چالاک آدمی نے پہاڑ کے ایک طرف بیٹھ کر سیدھے سادے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ میں پہاڑ یہاں سے دور لے جانے کیلئے بیٹھا ہوں۔ بس تم سارے مل کر مجھے پیٹھ پر لدوادینا۔ لوگوں نے پہاڑ پر زور لگاکر لدوانے کی کوشش کی اور آخر کار تھک کر کہا کہ آپ تو تیار تھے پہاڑ لے جانے کیلئے لیکن ہم نہیں لدواسکے۔
سیاسی قیادت عوام کیساتھ یہی سیاست کھیل رہی ہے۔ پہلے کہتے ہیں کہ ہم انقلاب لائیںگے۔ اقتدار دلاؤ۔ جب عوام اس کو اقتدار کی دہلیز پر پہنچاتی ہے تو پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اختیار بھی دلادو۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے ہمارا ساتھ دو۔ عوام سمجھ رہی ہوتی ہے کہ واقعی یہ تبدیلی اور انقلاب چاہتا تھا مگر اسکے پاس اختیار نہیں تھا۔ پہاڑ والے کی طرح اس کو بھی بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔
علماء ومفتیان نے سیاسی اقتدار کے حوالے سے اسلام کی روح کے مطابق آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی ۔ بہت سارے معاملات میں علماء ومفتیان نے اسلام کے احکام کو درست بیان بھی نہیں کیا ہے اور ان میں وہ احکام شامل ہیں جن کا اقتدار سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔ جب معاذ بن جبل کو نبیۖ نے یمن کا حاکم مقرر کیا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں میں فیصلہ کس چیز پر کروگے؟۔ تو اس نے کہا کہ قرآن سے۔ پوچھا کہ قرآن میں نہ ملے تو؟۔ عرض ہوا کہ سنت سے۔ فرمایا کہ سنت میں نہ ملے تو؟۔ عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔
عربی میں کوشش کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھادیا گیا ہے کہ اجتہاد کوئی مستقل مساوی نظام کا نام ہے۔ مثلًا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تو مجھ پر حرام ہے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری نے اس پر علماء سے اجتہاد نقل کیا ہے کہ یہ تیسری طلاق ہے۔ کھانے پینے کو حرام کہا جائے تو کفارہ ادا کرکے کھانا پینا جائز ہے لیکن بیوی کو حرام کہا جائے تو تیسری طلاق کی وجہ سے حلالہ کے بغیر وہ حلال نہ ہوگی۔ ایک روایت چھوڑ کر اگلی روایت میں ابن عباس نے فرمایا کہ حرام کے لفظ سے کچھ بھی واقع نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم ۔ دونوں کا اتنا بڑا اختلاف اور تضاد؟۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لفظ حرام پر20اجتہادت نقل کئے ہیں جن میں خلفاء راشدین اور دیگر حضرات کے اجہتاد شامل ہیں۔ حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق، حضرت علی کے نزدیک3طلاق اور حضرت عثمان کے نزدیک ظہار۔ ابن عباس کے نزدیک کچھ بھی نہیںوغیرہ۔
قرآن میں سورۂ تحریم ہے اور تحریم کا معنی حرام قرار دینا ہے۔ نبیۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے لئے ”حرام” کہہ دیا تو سورۂ تحریم نازل ہوئی ۔ قرآن کی طرف دیکھنے کے بجائے20اجتہادات اور تضادات کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہمارا فرض بنتا تھا کہ دیکھ لیتے کہ حضرت علی اور حضرت عمر میں حلال وحرام کا یہ اختلاف ہوسکتا ہے؟۔ قرآن کی موجودگی میں ایسا متضاد اجتہاد کرسکتے تھے؟۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا” اور انکے شوہر عدت میں صلح کی شرط پر ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں”۔(البقرہ228)
حضرت علی سے پوچھا گیا کہ بیوی کو لفظ حرام کہہ دیا ہے ۔ حضرت علی کو تحقیق سے پتہ چل گیا کہ اس کی بیوی صلح کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی نے تیسری طلاق اور کسی نے تین طلاق کا نام دے دیا۔ حضرت عمر نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بیوی رجوع پر آمادہ ہے اسلئے رجوع کا فتویٰ دے دیا۔ اس کو لوگوں نے ایک طلاق رجعی کا نام دے دیا۔ دونوں کے فتوے میں کوئی تضاد نہیں تھا بلکہ قرآنی آیت کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت تھی اور فتوے بھی دونوں نے اسکے مطابق دئیے۔ علماء میں سمجھ نہیں ہے۔
جب مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ ایک طرف واضح آیت ہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے، اگر اسکے مقابلے میں صحیح حدیث ہو جس میں رجوع نہ کرنے اور حلالہ کا واضح فتویٰ موجود ہو تو کیا آیت کے مقابلے میں حدیث پر فتویٰ دیا جائیگا ؟ مولانا شیرانی نے مان لیا کہ آیت پر فتویٰ دیا جائیگا۔ قبلہ ایاز موجودہ دور میں چیئرمین ہیں ، انہوں نے خط لکھا اور طلاق کے حوالے سے مسائل کے حل کو سمجھا مگر انہوں نے کہا کہ مولوی شاہ دولہ کے چوہے ہیں ان تک نہیں پہنچ سکتا ہوں۔
آیات میں زبردست وضاحتوں کے باوجود علماء نے مسائل کو الجھادیا ۔ اللہ کہتا ہے کہ ”ہم نے کتاب کو ہر چیز کے واضح کرنے کیلئے نازل کی ”۔ عدت عورت کی ہوتی ہے۔ مرد کیلئے بہت معیوب ہے کہ جب عدت کو بھی اپنا ہی قرار دے۔ آیت226میں اللہ نے4ماہ کی عدت کا ذکر کیا ہے۔ جمہور فقہاء کے نزدیک4ماہ کے بعد بھی طلاق نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک طلا ق ہوگی اور دونوں میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے طلاق ہوگی اور دوسراطبقہ کہتا ہے کہ مرد نے اپنا حق استعمال نہیں کیا جب تک زبان سے طلاق نہیں دے گا تو عورت طلاق نہیں ہوگی۔ حالانکہ اصل مسئلہ عورت کے حق کا ہے۔ چار ماہ کی عدت اس نے گزاری ہے۔ اب اس نے فیصلہ کرنا ہے لیکن عورت سے اس کی عدت کی اذیت بھی چھین لی گئی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ بیوہ4ماہ10دن کے بعد اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ اپنے فوت شدہ شوہر سے تعلق باقی رکھنا چاہتی ہے تو قیامت اور جنت تک اس کا نکاح باقی رہے گا۔ نشان حیدر اور فوجی وسول ملازمین کی بیواؤں کو پینش اور مراعات اس وقت ملتی ہیں کہ جب عورت نے دوسری شادی نہیں کی ہو۔ اس بات کو سرکاری لوگ بھی سمجھتے ہیں لیکن میرے رشتہ داروں میں تربت کے بلوچ، شکارپور کے سندھی ، کراچی کے مہاجر اور کشمیر کے کشمیری شامل ہیں اور پشتو رسم کا بھی پتہ ہے کہ مولوی نے خود ساختہ شریعت بنارکھی ہے کہ میاں بیوی میں سے ایک فوت ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت فاطمہ کی میت کو علی نے غسل دیا تھا ۔ حضرت ابوبکر کی میت کو اس کی زوجہ نے غسل دیا تھا۔ کسی مولانا نے کہا کہ (یہ بوقت ضرورت ہے) تو اس کے جواب میں کہا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ مولوی قبر پر تختی لگاتا ہے کہ زوجہ مفتی محمود، زوجہ مفتی شفیع، زوجہ مولانا محمد طاہر پنج پیر۔ جب نکاح باقی نہیں رہاہے تو زوجہ کہاں سے لکھ سکتے ہیں؟۔ ایک مولانا نے کہا: قرآن وحدیث سے دلیل دو کہ فوت ہونے کے بعد نکاح باقی رہتا ہے۔ توکہہ دیا کہ ”اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے کہ جنت میں وہ اور ان کی ازواج ساتھ ہوں گی”۔ مولانا نے کہا :اگر بیوی یاشوہرنیک نہ ہو تو؟۔ جواب دیا: یوم یفر المر ء من اخیہ وامہ وبیہ وصاحبتہ وبنیہ میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ بیوی نیک یا بد ہوگی۔جب مولانا کو پھر بھی تشفی نہیں ہورہی تھی تو اس کو کہہ دیا کہ ”مولانا کو یہ اختیار کس نے دیا کہ گم شدہ شوہرکا نکاح80سال تک برقرار رہتاہے اور جب انگریز کے دور میں عورت مرتد ہوگئی تو پھر یہ مدت4سال کردی؟۔ یہ کتنی بڑی حماقت تھی کہ ہر عمر والے کیلئے80سال کا انتظار تھا۔ جس دن بچی پیدا ہو اور اس کا شوہر گم ہوجائے۔80سال بعد عورت ازدواجی تعلق کے قابل رہے گی؟۔ یہ کونسا نکاح ہے کہ جب شوہر3طلاق دے اور پھر مکر جائے۔ عدالت میں قسم اٹھالے تو عورت خلع لے اور خلع نہ ملے تو پھر وہ حرام کاری پر مجبور ہو؟۔جب دو مرتبہ طلاق دی اور حدیث میں آتاہے کہ اس جملے میں تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے تو اس کے بعد خلع کا تصور کہاں سے آسکتا ہے؟۔ جب تیسری طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے تو پھر اس کے بغیر حلالے کا فتویٰ کیوں دیا جاتا ہے؟۔ آخر میں مولانا نے کہا کہ اللہ کے ذکر سے اطمینان نہیں ملتا؟۔توکہہ دیا کہ جہاں اطمینان کا ذکر ہے وہاں ذکر سے قرآن مراد ہے باقی جب جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت اختیار کریںتو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف اور غم مت کھاؤ۔ نماز میں بھی ذکر ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

پاکستان معاشی، سیاسی ، آئینی ، عدالتی، اخلاقی، صحافتی ، ادارتی اور مذہبی بحرانوں کا شکار ہے!

رمضان میں بڑے شیطان قید ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں انسانوں نے شیطانوں کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ لوگ بھوک وافلاس سے مررہے ہیں اور بڑے حکمرانی کیلئے لڑرہے ہیں!

رمضان کے روزے پر بھی مولوی فرقہ واریت اور نااہلیت کی وجہ سے لڑنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ہیں،نااہلی اور اپنی اہلیت کو غلط استعمال کرنے کا طوفانِ بدتمیزی ہر طرف برپاہے

پاکستان سودی قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کے دلدل میں مسلسل پھنستا جارہا ہے۔ پرویزمشرف نےIMFسے6ارب ڈالر قرضہ لیا تھا۔ زرداری نے10ارب مزید لیکرIMFکا قرضہ16ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ نوازشریف نے14ارب ڈالر لیکرIMFکا قرضہ30ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ سی پیک کیلئے چین کی طرف سے دو پراجیکٹ ایک19ارب ڈالر اور دوسرا35ارب ڈالر پر بھی کام شروع کیا۔ سی پیک کے مغربی روٹ کا رُخ کوئٹہ اور پشاور سے لاہور کی طرف موڑ دیا جس کی وجہ سے سی پیک کا منصوبہ بہت التواء میں پڑگیا اور سودی قرضے کا حجم بھی بہت بڑھ گیا۔ عمران خان کہتا تھا کہ پھانسی پر لٹک جاؤں گا لیکنIMFکے پاس نہیں جاؤں گا۔ پھرIMFکے پاس بھی جانا پڑگیا اور18ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا جس کی وجہ سے48ارب ڈالر تکIMFکا قرضہ پہنچ گیا اور چین و سعودی عرب اور دیگر ممالک اور اپنے بینکوں سے قرضہ الگ تھا۔ ساری سیاسی جماعتوں نے کٹھ پتلی کی طرح پاکستان کو استعمال کرکے بحرانوں میں دھکیل دیا۔ اگر نوازشریف مغربی روٹ کو چھوڑ کر سی پیک کا روٹ لاہور کی طرف منتقل نہ کرتا تو مغربی روٹ سے پاکستان کو بڑی آمدن بھی شروع ہوجاتی۔ پختونخواہ اور بلوچستان میں روزگار کے مواقع فراہم ہوجاتے تو طالبانائزیشن کا خاتمہ ہوجاتا۔ پانامہ لیکس نے نوازشریف کی دولت کو بے نقاب کیا ۔ پارلیمنٹ کاجھوٹا بیانیہ اور قطری خط سے اخلاقی ، قانونی اور سیاسی دیوالیہ بن گیا تو مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگانا شروع کردی۔ سارا الزام فوج پر ڈال دیا۔ زرخرید جج اور بیوروکریٹ کے سہارے سے وہ سزا نہ ملی جس کا حقدار تھا اسلئے اقامہ کی سزاپربھی شور مچادیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوازشریف جب اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہواتو پاک فوج نے بھی کھل کر عمران خان کا ساتھ دیا لیکن عوام میں عمران خان کی مقبولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ عمران خان کی آمد سے قبل ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ کرونا نے سہارا بھی دیا،جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے1200ارب یعنی12کھرب کے فنڈز میں کرپشن کی خبر بریک کی تھی۔ ملک ریاض کو500ارب روپے کی رعایت بھی نشر ہوئی۔ نوازشریف کے دور میںجنرل باجوہ نے کہا تھا کہ سی پیک کیلئے20ارب ڈالر میں سے10ارب ڈالر فیلڈ میں نہیں لگے تھے۔ جنرل قمر باجوہ کو نوازشریف ،عمران خان، زرداری سبھی نے ایکسٹینشن دی تھی۔ جنرل قمر باجوہ عمران خان کی نالائقی کی وجہ سے نیوٹرل ہوا تو عمران خان کی حکومت نے گرنا ہی تھااسلئے کہ بیساکھی پرکھڑی تھی۔PDMنے اس کے بعد مزید جو گل کھلائے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے ہیں۔ آئین، سپریم کورٹ، الیکشن،سیاست، اخلاق اور مذہب سب کچھ سے بھاگ رہے ہیں لیکن آخر کب تک؟۔سپریم کورٹ اور پاک فوج کی بے توقیری بھی ہوچکی ۔
سیاسی اورمذہبی قیادت میں سے بھی کسی پر قوم کا اتفاق نہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ آئین کے مطابق پنجاب اور پختونخواہ میں انتخابات کراؤ لیکن پارلیمنٹ کو اپنی عزت کا بھی احساس نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر بھی راجہ ریاض کو بنارکھا ہے۔ اگر تحریک انصاف کے ارکان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے دیا جاتا توپارلیمنٹ اس قابل ہوتی کہ مسئلے پر بات کی جاتی۔ پہلے عمران خان کے خلاف انتخابات کیلئے دھرنے ، جلسے جلوس اور سیاسی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ پھر عمران خان کو اتار دیا گیا۔ پھر عمران خان نے سیاسی تحریک کا آغاز کیا تو اس کو اکسایا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ دو۔ جب اسمبلیاں توڑ دیں تو عدالت سے اس کو بچانے کی کوشش ہوئی۔ اس میں ناکامی ہوئی تو پھر اب عدالت اور آئین کے خلاف سازش ہورہی ہے لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟۔
فوج کو پہلےPDMکے قائدین اور ان کے سوشل اور الیکڑانک میڈیانے آخری حد تک پہنچادیاتھا۔ جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گھر پر بلاکر مولانا فضل الرحمن کو ننگی گالیاں دیں تھیں مگر یہ نہیں بتایا کہ کیوں دی تھیں؟۔ جس پر مولانا عبدالغفور حیدری کو شٹ اپ کی کال دینی پڑی۔ مولانا فضل الرحمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو حشر مولانا سمیع الحق کا میڈم طاہرہ کے ذریعے نوازشریف نے کیاتھا وہ مریم نواز بھی مریم طاہرہ اورنگزیب کے ذریعے کرسکتی ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے مولانا سمیع الحق کایہ قصور تھا کہ نوازشریف کو اقتدار میں لانے کیلئے اسلام اور جمہوریت کو استعمال کیا تھااور اسی ڈگر اب مولانا فضل الرحمن بھی چل رہے ہیں۔ مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک اب عمران خان کیلئے مولانا فضل الرحمن کے خلاف میدان میں ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھرنے میں کہا تھا کہ ” عمران خان اور ملالہ یوسف زئی اس ملک وقوم کو ننگا کرنا چاہتے ہیں”۔ اب عمران خان کو قوم کا مسیحا بھی یہی لوگ کہتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو اسرائیل کا ایجنٹ کہتے ہیں۔
جب صحافی عمران ریاض خان نے مولانا فضل الرحمن پر بے بنیاد اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایا تھا تو اس وقت پاک فوج اور عمران خان ایک پیج پر تھے۔ اب حامد میر کہتا ہے کہ عمران خان سچ بتائے کہ اسرائیل کااصل ایجنٹ کون تھا؟۔ حالانکہ اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام پہلے بینظیر بھٹو نوازشریف پر لگاتی تھی۔ اس دوران اسامہ بن لادن پر بھی نوازشریف کو امداد فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ اسامہ بن لادن جس کی وجہ سے افغانستان ، پاکستان، عراق، لیبیا اور شام سب تباہ ہوگئے ۔ پشتون قوم کا دیوالیہ ہوگیا مگر اس کا بیٹا اور بہو پیرس فرانس میں رہتے ہیں اور مزے کررہے ہیں۔ کیا پتہ کہ اسامہ بن لادن بھی زندہ سلامت نکلے۔
طالبان کی جیت پر پاکستان نے سب سے زیادہ خوشی منائی تھی لیکن اب
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
کانیگرم جنوبی وزیرستان کے بریگیڈئیر مصطفی کمال کی شہادت ایک سانحہ ہے جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ رحمان بونیری نے وائس آف امریکہ سے سوال اٹھایا کہ اس کا تعلق جنرل فیض حمید سے تھا۔ کہیں فوج کی اندورنی چپلقش کا نتیجہ تو نہیں ہے؟۔ جو سوشل میڈیا میں بہت گردش کررہاہے؟۔ اس کا جواب ایک پشتون ریٹائرڈ بریگیڈئیر نے بڑا اچھا دیا کہ22سال تک کے عمر والے کچی ذہنیت کے ہوتے ہیں اور وہ اس قسم کا ذہن رکھتے ہیں اور اس کو پروموٹ کرتے ہیںلیکن اصل معاملہ ن لیگ کے راشد مراد کھریاں کھریاں لندن، اسد علی طور، شا ہ زیب خانزادہ ،سید شفقت وغیرہ نے ایک طرف سے خراب کیا ہے تو دوسری طرف حیدر مہدی ،میجر عادل ، ملک وقار وغیرہ نے بگاڑ دیا ہے۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا عوام کے ذہنوں پر سوار ہے۔ مغرب میں بھی باقاعدہ لابنگ کیلئے فرم ہائر کئے جاتے ہیں اور یہاں بھی یہی کام ہورہاہے۔ امریکہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے لیکن پاکستان میں اتنا دم خم باقی نہیں ہے کہ جھوٹ کے بازارمیں مزید اپنے قدم جماسکے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ومن یشتری لھوالحدیث لیضل عن سبیل اللہ ”اور جو لہو بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے ان کو گمراہ کردیں”۔ موجودہ دور میں ان سوشل اورالیکڑانک میڈیا کی ٹیموں پر آیت کا اطلاق ہوتاہے۔ ہروہ بات جس سے غلط فہمیاں جنم لیں، دوسروں کی خوامخواہ کی تذلیل ہو اور سیاسی مقاصد اور منافرت کیلئے قومی بحران کھڑا کرنے کیلئے کیا جائے تو یہ شیطان کی مشین ہے۔ اس سے جان چھڑانے کا نسخہ بھی نبیۖ نے زبردست تجویز فرمایا کہ ” جو شخص منہ پر تعریف کرے تو اسکے منہ پرمٹی ڈال دو”۔ اگرسیاسی ومذہبی جماعتیں اپنی تعریف کیلئے دوسرے کی بے جا مخالفت پر شاباش دینے کے بجائے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کردیںگے تو یہ فتنہ ختم ہوجائے گا۔ اس خوشامد کا فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ عمران خان نے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے حامیوں کی طرف سے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہونے کا احساس ہورہاہے۔ عمران خان کو درست رہنمائی مل جائے تو اپنے حامیوں کے منہ میںمٹی ڈالنے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ نوازشریف نے جب سمجھ لیا تھا کہ بیرون ملک سے معاہدے کی پاسداری توڑتے ہوئے آمد کسی مصیبت کا ذریعہ بن سکتی ہے تو ”نوازشریف زندہ باد” کا نعرہ لگانے پر کارکنوں کو ڈانٹ دیا تھا کہ” چپ کرو۔تم کہتے تھے کہ نوازشریف قدم بڑھاؤ ،ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب مجھے پکڑکر لے جایا جارہاتھا تو پیچھے میں نے مڑ کر دیکھا تھا اور کوئی بھی نہیں تھا”۔ اپنے مفاد کی خاطر کارکنوں کے منہ میں مٹی ڈالی تھی تو وسیع تر قومی مفاد کی خاطر بھی بکریوں اور بھیڑوںکی طرح میں میں اور بھیں بھیںکرنے والوں کو لگام ڈال سکتے ہیں۔ میڈیا کا افراتفری پھیلانے میں بڑا کردار ہے۔
مصطفی کمال شہید کے خاندان کیلئے یہ پہلا سانحہ نہیں ہے۔ پہلے بھی اس خاندان کےISIکے بریگیڈئیر کے بھائی گلشاہ عالم برکی کو زندہ غائب کیا تھا جس کی ذمہ داری بھی کسی نے قبول نہیں کی اور آج تک اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ گلشاہ عالم برکی کی قوم نے بیت اللہ محسود کے ہاں لشکر کی صورت میں جاکر پوچھا تھا اور بیت اللہ محسود نے اپنی لاعلمی اور لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کا طالب آج کے طالب سے زیادہ مضبوط تھا۔ لیکن طالبان کو پتہ تھا کہ اگر وزیر کی طرح ایک قبیلہ بھی کھڑا ہوگیا تو پھر وزیر کے ایریا سے ازبک کی طرح طالبان کو بھی علاقہ سے پوری قوم نکال دے گی۔ طالبان میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ وہ قتل کی ذمہ داری کو قبول کریں اسلئے کہ کانیگرم اور وزیرستان کے لوگ جس دن طالبان کے خلاف کھڑے ہوگئے تو ان کی پوری تحریک کے باقیات کا خاتمہ ہوگا اور پھر فوج اور پاکستان کے ریاستی اداروں پولیس وغیرہ سے نہیں لڑسکیںگے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے لیکن اسلام کے حوالے سے مذہبی طبقات پر عوام کا کوئی اعتماد نہیں رہاہے۔ مدارس کے نصاب پر علماء ومفتیان کا اعتماد بالکل ختم ہوچکا ہے۔ طالبان بھی علماء ومفتیان پر اعتماد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بے روزگاری سے بھی لوگ دہشت گرد بن رہے ہیں۔ امریکہ نے انسانیت سوز مظالم کے ذریعے سے لاکھوں افراد لقمہ ٔ اجل بنائے اور گوانتاناموبے کے اندر درندگی سے زیادہ بدترین ذہنی وجسمانی تشددکا مظاہرہ کیاہے جس سے اب انسانیت انسانوں میں دفن ہوچکی ہے۔پاک فوج کو مذہبی دہشتگردوں اور بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے تشدد کا سامنا کرنا پڑاہے اور پاک فوج نے بھی بہت بے رحمی سے ان کو نشانہ بنایاہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنی کتاب” آخر کیوں ” میں اپنے اخباری کالم (جو2008کے درمیان سے2009کے جون تک ) شائع کئے ہیں۔ جس سے موجودہ دور میں سب کو اپنا عکس بخوبی نظر آتاہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلامی انسانی انقلاب کا تصور

___اسلامی انسانی انقلاب کا تصور ___
قرآن کی بہت ساری آیات اور خاتم الانبیاء ۖ کی بہت سی احادیث صحیحہ میںعالمی اسلامی انسانی انقلاب کا تصور موجود ہے۔ سورۂ واقعہ ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمد، سورہ ٔ الدھر اور بہت ساری سورتوں میں اسلامی انسانی انقلاب کا نقشہ موجود ہے۔ احادیث صحیحہ میں بڑی وضاحت کیساتھ طرزنبوت کی خلافت کا ذکرہے ۔ جس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔ بین الاقوامی سودی نظام سے صرف پاکستان تنگ نہیں بلکہ پوری دنیا کے چھوٹے بڑے ملک اور ان کی عوام اس کی وجہ سے بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ لوگوں کی آزادی سلب ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں حوالہ کا کاروبار اسلئے چل رہاہے کہ بینکنگ کاسودی نظام لوگوں کو جائز رقم منتقل کرنے پر بھی تنگ کررہاہے اور ٹیکس بھی بہت زیادہ ہیں۔
اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کی حیثیت کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی ہے۔ دو مرتبہ امریکہ کے صدر بننے والے بارک حسین اوبامہ نے آٹھ سال تک اقتدار میں وائٹ ہاوس کے مزے لئے جو بڑی خوش آئند بات تھی لیکن جب وہ صدر کیلئے حلف دے رہا تھا تو امریکہ کے چیف جسٹس نے اس کا پورا نام لینا تک گوارا نہیں کیا ۔ اگرچہ بارک حسین اوبامہ نے پھر بھی ہمت سے اپنا نام لیاتھا اور اس سے عدلیہ اور اقتدار کے درمیان عدم اعتماد کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
جب امریکہ کا یہ حال ہے تو دوسرے ممالک میں غلامی کا تصور محسوس کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر ملاعمر کے سرقیمت رکھی تھی اور پھر طالبان سے مذاکرات کرکے افغانستان سے نکل گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دینا امریکی عدالت انصاف کے منہ پر طمانچہ تھا۔ گوانتا ناموبے میں قیدیوں کیساتھ غیرانسانی سلوک اور عراق کو تباہ و برباد کرنے کے بعد یہ کہنا کہ غلط اطلاعات پر ہم نے غلط فہمی میں یہ حرام پنا کیا ہے۔ آخرت میں نہیں دنیا میں ایک عدالت انصاف کی سخت ضرورت ہے لیکن جب ہمارے ہاں اپنے گھروں، معاشرہ، ریاستی ، سیاسی اور عدالتی نظام میں انصاف نہیں ہوگا ۔ تو دنیا سے کیا انصاف طلب کریں گے؟۔ میڈیا نے 17سالہ بلوچ لڑکی کو بہت ہائی لائٹ کیا لیکن آخر کار دھرنا والے بھی اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا اس کی اور اس کے گھروالوں کی حالت ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ارشد شریف اور دیگر مظلوموں سے کم ہے؟۔ کتنے لوگوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں؟۔ اس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مہنگائی سے کتنے لوگوں کی حالت خراب ہے؟۔ سیلاب زدگان کیساتھ بھی وہ بھلائی نہیں ہوسکی ہے جس کی توقع تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں سیلاب زدگان کے ٹینٹ بڑی تعداد میں بچھائے گئے تھے۔
پہلے فقہاء نے یہ مسائل مشہور کئے کہ اگر کسی کی چار بیویاں ہوں اور ایک کو طلاق دے اور یہ پتہ نہ چلے کہ کس کو طلاق دی ہے تو پھر چاروں کے ساتھ باری باری مباشرت کرے ، جس میں زیادہ لذت ہو ، اس کو حلالہ کیلئے پیش کرے۔ اسلئے کہ حرام میں زیادہ لذت ہوتی ہے۔ اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کسی خاتون نے ہمارے ساتھی سے طلاق کے بعد رجوع کیلئے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ میں کس طرح سے بتاؤں کہ مجھ سے ایک مفتی نے حلالہ کیلئے کیا بات کی۔ شرم آتی ہے، اس نے کہا کہ تمہارا حلالہ بھی ہوجائے گا اور جماع بھی نہیں ہوگا۔ وہ اس طرح کہ ہمارے آدمی کے ساتھ آپ کو ایک کمرے میں بند کردیں گے۔ کپڑے بھی اتار دیں گے اور ننگا کرنے کے بعدتمہاری شرم گاہ پر صرف ہمارا آدمی اپنی شرمگاہ ٹچ کرے گا، داخل نہیں کرے گا۔ اس طرح سے حلالہ ہوجائے گا اور تمہیں اس کیلئے بس صرف ہماری فیس10ہزار روپے دینے پڑیں گے۔

___علماء دیوبند کے اکابر نے اعتراف کیا___
نبی کریم ۖ نے معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنایا تو پوچھا: فیصلہ کیسے کروگے؟۔حضرت معاذ نے عرض کیا کہ قرآن سے!۔ نبی ۖ نے پوچھا : اگر قرآن میں نہ ملے تو؟۔ معاذ نے عرض کیا: نبی ۖ کی سنت سے!۔نبی ۖ نے پوچھا: قرآن وسنت میں نہ ملے تو؟۔ معاذ نے عرض کیا : پھر میں خود کوشش کروں گا۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول ۖکے رسول کووہی توقیق بخش دی جس سے میں پسند کرتا ہوں”۔ عربی میں کوشش کو اجتہاد کہتے ہیں اور پیغام رساں کو رسول کہتے ہیں۔ بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ ” اجتہاد” کو نہ صرف مستقل شعبہ سمجھ لیا بلکہ اجتہادات میں اختلاف و تضادات وبدعات کو دین کا حصہ بنادیا۔ غسل ، وضو کے فرائض سے لے کر نکاح وطلاق جیسے اہم معاشرتی معاملے کے علاوہ معاشی مسائل تک اختلاف اور تضادات کے مستقل فقہی مسالک اجتہاد کے نام پر کھڑے کردئیے گئے۔ جس کے نتیجے میں عبادات، معاشرت اور معاشیات میں اجتہاد کے نام پر بالکل جدا جدا الگ تھلگ مذاہب بھی گھڑ لئے گئے ۔ بس ان کو صرف الگ الگ رسول کا نام دینا باقی رہ گیا تھا۔قرآن نے یہ نسخہ تجویز کیا ہے کہ ” حق آیا تو باطل بھاگ گیا، بیشک باطل تو تھابھاگنے کیلئے ”۔ایک دن پارلیمنٹ کے حال میں سب کو جمع کیا جائے اور سب سے کچھ معاملات پر ان کا مؤقف پوچھ لیا جائے اور قوم کو لائیو دکھایا جائے تو معاملہ حل ہوجائے گا۔ہم یہ گارنٹی دیتے ہیں کہ اگر تمام مسالک کے مخلص لوگ اکٹھے ہوجائیں تو دین کے اندر تضادات کا خاتمہ ہوجائے گا اسلئے کہ قرآن اور نبی ۖ ایک ہیں اور ایمان بھی ایک ہے اور قرآن نے ہر چیز کو الجھایا نہیں ہے بلکہ واضح کیا ہے اور اس میں تضاد بھی نہیں ہے۔
ان اجتہادات کیخلاف عام لوگوں نے نہیں بلکہ علماء دیوبند کے اکابر نے اعتراف کیا کہ قرآن وسنت کی خدمت کی ضرورت ہے اور انہوں نے دین کی کوئی خدمت نہیں کی۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے40سال تک درس نظامی کا نصاب پڑھایا تھا ۔جب شریف مکہ نے گرفتار کرکے آپ کو انگریز کے حوالے کیا تو مالٹا کی قید میں دماغ کی شریانیں کھل گئیں کہ ”امت کے زوال کے دوسبب ہیں۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت” ۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اس پر لکھتے ہیں کہ ”فرقہ واریت بھی دراصل قرآن سے دوری کی وجہ سے ہے اسلئے امت کے زوال کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے قرآن سے دوری”۔ شیخ الہند کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسیرمالٹا کو جیل میں خدا کا یاد آنا فطری بات تھی لیکن عملی طور پر کسی مولوی نے فرقہ واریت سے توبہ اور قرآن کی طرف رجوع نہیں کرنا تھا۔ حالانکہ شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے یکسوئی سے اس مشن کو اپنایا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بھی انوکھی خبر ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشیداحمد گنگوہی کے شاگرد شیخ الہند نے تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا لیکن مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے ساری زندگی درسِ نظامی کی تدریس میں گزار دی اور پھر آخر میں فرمایا کہ ” میں نے اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔ مفتی محمد شفیع نے عرض کیا کہ ” حضرت آپ نے ساری زندگی قرآن وحدیث کی خدمت کی ہے اور آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ زندگی ضائع کردی؟”۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے فرمایا:” میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی ہے ”۔( وحدت اُمت: مفتی شفیع)۔رسول اللہ ۖ نے حضرت معاذ بن جبل سے پوچھا کہ کوئی مسئلہ پیش ہو تو اس کا حل کہاں تلاش کرو گے؟۔ حضرت معاذ نے عرض کیا تھا کہ قرآن میں !۔ حدیث وفقہ اور مذہبی کتابوں میں بیوی کو ”لفظ حرام” کیلئے سات سمندروں میں غوطہ زنی کے مرتکب مذہبی ناسور طبقے نے قرآن کی طرف کیوں دیکھنے کی زحمت نہیں کی؟۔ یہ مسئلہ تو سورۂ تحریم میں اللہ نے اپنے رسول ۖ کی سیرت کے ذریعے سے حل فرمادیا ۔

___القائے شیطانی کا درست اور غلط تصور___
حاجی محمد عثمان جب تبلیغی جماعت کے منبر پر وعظ فرماتے تو عوام بڑی متأثر ہوتی تھی ۔ جب دوسرے اکابر تقریر کرتے توحاجی عثمان پنڈال میں عوام کیساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ رائیونڈ مرکز میں حاجی محمد عثمان کا یہی معمول ہوتا تھا اور کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں عوام وخواص کے درمیان الگ الگ دسترخوان کی مخالفت کرتے تھے۔ جب یہ اختلاف بعض اکابراور ان کے ٹاؤٹ کو برداشت نہیں ہوا تو حاجی محمد عثمان کے خلاف یہ الزامات لگانے شروع کردئیے کہ ان کی وجہ سے جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے مرکزی امیر کیلئے مولانا سعد کا نام حاجی عبدالوہاب نے پیش کیا تھا۔ مولانا سعد مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت کے پڑپوتے ہیں۔ جب مولانا سعد نے تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز بستی نظام الدین میں عوام وخواص کے اندر الگ الگ دسترخوان کا سلسلہ ختم کیا اور جن لوگوں نے بیرونی ممالک تبلیغ کے نام سے اپنی قوم کے افراد کو آباد کرنا شروع کیا تھا ،ان کا نیٹ ورک توڑ دیا تو بغاوت ہوگئی۔ اگر حاجی محمد عثمان کی بات اس وقت مان لی جاتی تو نہ صرف آج تبلیغی جماعت کے مراکز رائیونڈ اور بستی نظام الدین متحد رہتے بلکہ بریلوی اور اہلحدیث کو بھی اپنی اپنی جماعتیں بنانے کے بجائے اسی کام سے منسلک ہوکر اصلاح کا کام کرتے۔
مولانا طارق جمیل نے ایسے رنگ میں پیش کیا جیسا اللہ نے حضرت خولہ کے جذبات سے متأثر ہوکر آسمان سے نبیۖ کے خلاف اپنا فتویٰ بدل دیا ہو۔ حالانکہ ظہار کا مسئلہ شیطان نے مذہبی اجتہاد کے سبب بگاڑ دیا تھا تو جب عورت کو مسئلہ پیش آیا اور نبیۖ نے ماحول کے مطابق غلط فتویٰ دیا تو اللہ نے اپنی آیات کے ذریعے اس شیطانی فتوے کو بہت واضح الفاظ میں غلط قرار دیاہے۔
وماارسلنامن قبلک من رسولٍ ولانبیٍ اِلّآ اذا تمنّٰی القی شیطٰن فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطٰن ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمOترجمہ :” اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول اور نبی کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان اپنی بات اس کی تمنا میں ڈال دیتاتھا۔ پس اللہ منسوخ کردیتاتھا جو شیطان نے ڈالا ہوتاتھا ، پھر اپنی آیات کو محکم بنادیتا تھا اور اللہ بہت علم اور بہت حکمت والا ہے۔ (سورہ الحج آیت52)
نبی کریم ۖ نے مذہبی ماحول سے فتویٰ دیا کہ ” ظہار کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے” تو اصل میں یہی غلط مذہبی ماحول ہی القائے شیطانی تھا جس پراللہ نے محکم آیت نازل کی۔ پہلے بھی انبیاء کرام و رسل عظام متاثر ہوئے۔ اللہ نے حضرت آدم وحواء سے فرمایا: ” اس درخت کے قریب نہ جانا” ۔ پھر شیطان نے ان کو شجرة الخلد کا وسوسہ ڈال کر بہکایا ۔ فعصٰی آدم وغویٰ ” پس آدم نے نافرمان ہواتو سرکشی کی”۔ (القرآن)۔ اللہ نے زمین کا خلیفہ بنانے سے پہلے حضرت آدم وحواء کے واقعہ سے یہ عبرتناک سبق سکھایا کہ کس طرح شیطان ورغلاتا ہے؟۔ انبیاء کی رہنمائی اللہ اپنی وحی سے کرتا ہے لیکن غیرانبیاء اس شرف سے محروم ہوتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امتی نبی کا دعویٰ کرکے دجال ہونے کا ثبوت دیا۔ نبیۖ کے دور میں ابن صیاد ایک طرف کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور دوسری طرف نبی ۖ کو امیوں کا نبی اور خود کو تمام دنیا کا نبی کہتا تھا۔ دونوں ملعونوںمیں بڑی مماثلت بھی تھی۔ایک کو نبی کریم ۖ سے جان کی امان ملی اور دوسرے کو اکابر نے جانی نقصان نہیں پہنچایاتھا۔ ابن عباس کے باپ نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا اسلئے شیطانی آیات کے حوالہ سے ابن عباس کی روایت سنداً صحیح ہے مگرمشرکین مکہ کے غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے۔

___ حرام کو حلال کرنے کے غلط تصورات___
نبی کریم ۖ نے ظہار کے مسئلے پر شیطان کے بچھائے جال پر فتویٰ دیا تو اللہ تعالیٰ نے محکم آیات سے تدارک کردیا تھا۔ یہ صرف رسول اللہ ۖ کی سیرت طیبہ کا اعلیٰ نمونہ ہے تاکہ قیامت تک آنے والے علماء حق اس بات پر پہچانے جائیںکہ جب حق واضح ہوجائے تووہ شیطانی وسوسے پر ڈٹنے کی غلطی نہیں کرتے۔ اللہ نے سورہ مجادلہ میں ماحول کی نزاکت کے مطابق یہ بھی فرمایا ہے کہ ” مائیں صرف وہی ہیں جنہوں نے اس کو جنا ہے” لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ منطق بنائی جائے کہ سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے ۔ جیسا کہ اسلام سے پہلے مذہبی شیاطین الانس و الجن نے اپنے وسوسوں اور فتوؤں سے یہ کارنامہ انجام دیاتھا اور پھر اللہ نے محرمات کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھ کر اس کی تردید کی اور فرمایا کہ ” نکاح مت کرو،جن عورتوںسے تمہارے آبا ء نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے گزر چکاہے۔ بیشک یہ فاحشہ وناگوار ہے اور بہت برا راستہ ہے ”۔ (النساء آیت22)
امام ابوحنیفہ اسلئے امام اعظم کہلائے کہ درباری بننے اور قاضی القضاة (چیف جسٹس ) کا عہدہ کو قبول کرنے کے بجائے جیل میں زہر سے شہادت کی موت کو ترجیح دی۔ ابویوسف نے قاضی القضاة کا عہدہ قبول کرکے درباری امام کا درجہ حاصل کرلیاتھا۔ امام بوحنیفہ نے دین کی سمجھ میں اپنی کوشش کا سکہ رائج کیا تھاجبکہ امام ابویوسف کے فتوے صرف دربار کی حد تک ہوتے تھے۔
اہل سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں غلطی اور ٹھیک بات پر پہنچ سکتا ہے۔ اجتہاد کی بھی شرائط ہیں کہ کون اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس پر بھی اختلاف ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہواہے یا بند ہوچکا ہے؟۔ سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینا بھی اجتہادی مسئلہ سمجھاجاتا ہے کہ اس میں اجتہاد کرنے والا ٹھیک ہے یا غلط ہے؟۔ جو لوگ اجتہاد کے دروازے کو بند سمجھتے تھے تو انہوں نے اجتہاد کے نام پر سودی نظام کو حلال قرار دینے کا بڑے معاوضہ کے تحت ٹھیکہ اٹھالیا ۔ اس کا اتنا طوطی بولتا ہے کہ اگر وہ کہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قلیل معاوضہ لینے کو منع کردیا ہے اور میں زیادہ معاوضہ لے رہاہوں۔ مدارس سے اپنے بچوں کو نکال کر بینکوں میں بڑی بڑی پوسٹوں پر بٹھادیا تو اس کے معتقدین کی ایک بڑی تعداد اپنے ہاتھوں سے چوتڑ بجاکر کہے گی کہ واہ زبردست ،کیا دلیل دی ہے شیخ الاسلام نے ؟۔گذشتہ شمارہ میں ہم نے انجینئر مرزا محمد علی کواسلئے اہلحدیث قرار دیا کہ وہ شیخ زبیر علی زئی سے عقیدت رکھتے ہیں اور مفتی محمد انس مدنی نے مرزا کو بے پیندے کا کتابی قرار دیا ۔ محمد علی مرزا خود کو اہلحدیث نہیں کہتا اسلئے ہماری طرف سے دونوں کا دل دکھنے پر بہت بہت معذرت۔ شیخ زبیر علی زئی ایک ساتھ تین طلاق کے قائل تھے ، ہمیں نہیں پتہ کہ وہ بھی…۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت ” میں لکھ دیا ہے کہ ”ائمہ کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ ایسا وقت آئیگا اور علم آسمان پر اٹھالینے سے نہیں اٹھے گا بلکہ علماء کے اُٹھ جانے سے اٹھے گا۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تولوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیںگے۔ لوگ ان سے فتویٰ پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے”۔ (بخاری ومسلم ) ائمہ مجتہدین میں اجتہاد کی صلاحیت تھی اور ان کے بعد علم اٹھ گیا ہے اور اس کے بعد جنہوں نے تقلید نہیں کی اور اجتہاد کیا تو وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کررہے ہیں”۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی یہ کتاب ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے غائب کردی جائے ۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ” عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں” اس حدیث اور دیگر احادیث کو موجودہ دور پر فٹ کیا تھا اور وہ مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہے۔ جس میں معاشی، سیاسی، معاشرتی ، علمی ، حکمرانی اور تہذیبی ہرطرف سے زوال انحطاط کے ماحول کی زبردست نشاندہی کی گئی ہے۔

___حضرت عمراور ذو الخویصرہ میں فرق___
جب پانی نہ ملے تو چاہے وضو کی ضرورت ہو یا غسل کی قرآن میں تیمم کا حکم ہے۔قرآن میں دوسری جگہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے اور حالت جنابت میں بھی لیکن مسافر کو اجازت ہے یہاں تک کہ غسل کیا جائے۔ قرآن کے احکام میں کوئی ابہام نہیں کہ وضو اور غسل کیلئے تیمم کا ایک ہی حکم ہے۔ جب حضرت عمار نے غسل کیلئے تیمم میں لوٹ پوٹ ہونے کا عمل کیا تو نبی ۖ نے فرمایا: ” وضو کی طرح غسل میں بھی چہرے اور ہاتھ کا تیمم کافی ہے”۔ حضرت عمر نے نبیۖ سے عرض کیا کہ ” سفر میں جنابت سے تیمم نہیں کیا، نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی ”۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ ”آپ نے اچھا کیا”۔
حضرت عمر کا عمل قرآن کے مطابق بالکل درست تھا اور نبیۖ نے اس کی تصدیق بھی کردی ،اسلئے کہ اللہ نے جنابت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا ہے لیکن مسافر کو غسل کے بغیر نماز پڑھنے کی تیمم سے صرف اجازت دی ہے لیکن اگر کوئی نماز نہیں پڑھے تو اس کی گنجائش ہے۔ نبیۖ کو معلوم تھا کہ ذوالخویصرہ کے شدت پسند پیروکار صحابہ کرام سے بھی زیادہ نماز کی پابندی کا اہتمام کریںگے جس کا امت کو بہت نقصان پہنچے گا۔ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذرالرحمن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر نے آنکھوں کاآپریشن کرنے کے بعد منع کیا ہے کہ سجدہ مت کریں۔ ذوالخویصرہ کی ذریت اس کو اعزاز سمجھ کر سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے پھیلارہے ہیں۔ نبیۖ نے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا کہ بنوقریضہ پہنچ کر نمازِ عصر پڑھو! تو بعض نے راستے میں نماز پڑھ لی اور بعض نے پہنچ کرمغرب کیساتھ قضاپڑھ لی۔ نبیۖ نے اس پر گرفت نہیں کی اور نہ یہ فرمایا کہ نماز کیوں قضا کی؟۔اور نہ یہ فرمایا کہ آئندہ نماز قضا مت کرو۔ نبیۖ کا مقصد اندھیرے سے پہلے پہنچنا اور کسی ناگہانی خوف سے بچانا تھا۔ جب وہ صحیح سلامت پہنچ گئے تو یہ بھی نہیں فرمایا کہ ”میرے حکم کے مطابق وقت پر وہاں کیوں نہیں پہنچے؟”۔
اللہ نے طلاق ، رجوع اور عدت کے مسائل میں نماز خوف کا ذکرکیا :حٰفظوا علی الصلوٰت و الصلوٰة الوسطٰی و قوموا للہ قٰنتینOفان خفتم فرجالًا او رکبانًا فاذآ اٰمنتم فاذکروا اللہ کما علّمکم مالم تکونوا تعلمونOترجمہ :” نمازقائم کرو، خاص کر بیچ کے نماز کی اور اللہ کیلئے عاجزی سے قیام کرو۔پس اگر تم ڈرو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری کرتے ہوئے ( نماز پڑھو) پس جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو ایسا ذکرکرو( نماز پڑھو) جیسے تمہیں سکھایا گیا ہے”۔(البقرہ آیت238،239)۔ یہ حالت جنگ کی بات نہیں بلکہ خوف کی کوئی بھی ایسی صورت ہوسکتی ہے۔
حالت جنگ میں نما ز کی تلقین نہیں ۔ یہ بیت بازی شاعرانہ بکواس ہے کہ
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ روہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
حالت جنگ میں سر بسجود ہونے کے بعد ایک ساتھ محمود اور ایاز کا سر اور گردن کدو اور توری کی طرح کاٹ دیا جاتا۔ یہ بھی جھوٹ لگتا ہے کہ امام حسین نے حالت جنگ میں سجدہ کرتے ہوئے دشمن کو جان دی تھی البتہ دشمن نے دھوکہ دیا ہو تو الگ بات ہے۔ میدان جنگ میں لڑنے والوں کو اس بات کا پتہ ہے کہ رکوع وسجود اور معمولات کے مطابق نماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اقبال نے کبھی سیاسی قید نہیں کاٹی ہے جب مولانا محمد علی جوہر نے کہا کہ آپ بھی قربانی دیں تو علامہ اقبال نے کہا کہ اگر قوال وجد میں آیا تو پھر قوالی کون گائے گا؟۔

___جنگ نہیںسفر کی نماز میں خوف کا حکم___
نماز سفر میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ نبیۖ موجود ہوں تو سفر میں نماز کی ترتیب بتائی ہے۔نبیۖ کو خطرات کا سامنا تھا اسلئے یہ بھی واضح فرمادیا کہ اگر آپ ۖ نماز باجماعت کا اہتمام کریں تو جانثار صحابہ کیلئے یہ احکام ہیں۔
واذا ضربتم فی الارض فلیس جناح علیکم ان تقصروا من الصلوٰة ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ان الکٰفرین کانوا لکم عدو مبینًاO”اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ نماز میں سے کچھ کم کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ تمہیں آزمائش میں ڈال دیںگے ، بیشک کافر تمہارے لئے کھلے دشمن ہیں”۔ (النساء آیت101)
اس آیت میں ایک تو نماز سفر کی یہ وضاحت ہے کہ قصر کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اگر امام صاحب مسافر ہیں اور مقتدی مقیم ہیں اور مقتدیوں کی بڑی تعداد ہے تو مسافر امام پوری نماز پڑھائے۔ تاکہ مقتدیوں کو خلفشار کا سامنا نہیں کرنا پڑے کہ فاتحہ پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ اگر کوئی امام ہٹ دھرمی کرے تو اس کو نماز نہیں پڑھانی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ وغیرہ خواتین جب عوامی مقامات پر نماز پڑھتی ہیں تو یہ بھی بڑا فتنہ ہے کہ جب وہ سجدے میں جاتی ہیں تو پیچھے کھڑے ہوکر کافر اس کا مذاق اڑارہے ہوتے ہیں۔ ایسے فتنے اور آزمائش میں پڑھنے کے بجائے اپنی نماز اسی جگہ ختم کرکے قصر یعنی مختصر کریں اسلئے کہ جب اللہ نے پیدل چلتے اور سواری میں بیٹھتے ہوئے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو تماشا اور فتنہ بننے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جس کا حکم اللہ نے سورہ بقرہ کی آیات238اور239میں واضح فرمادیا ۔ ایک طرف نماز کے اہتمام کا حکم ہے اور دوسری طرف اس میں کسی طرح کے خوف کی شکل میں پیدل اور سواری کرتے ہوئے سہولت کا حکم ہے اور یہ اعتدال ہی اسلام کا تقاضہ ہے۔
واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوٰة فلتقم طائفة منھم معک ولیأخذوا اسلحتھم فاذا ……………… ”اور جب آپ (اے نبیۖ) خود ان میں موجود ہوں اور نمازکیلئے پڑھانے لگیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کیساتھ اسلحہ لیکر کھڑے رہیں۔ جب وہ سجدہ کریں تو پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرا گروہ آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور اپنے ہوش وحواس کے ساتھ اور اپنے اسلحے کیساتھ بیدار رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اگر آپ غافل ہوجائیں اپنے سامان اور اپنے اسلحہ سے تو یہ یک بارگی تم پر دھاوا بول دیں۔ اور کوئی گناہ نہیں کہ اگر تہیں کوئی تکلیف ہو بارش یا بیماری کے سبب کہ اپنے اسلحہ کو رکھ لو۔ مگر اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے ذلت کا عذاب تیار کررکھاہے”۔ (النساء :102)
اس آیت میں جنگ نہیں بلکہ سفر کا ذکر ہے۔ نبی کریم ۖ کی ذات کو خاص طور پراور مسلمانوں کو عام طور پر خطرات کا سامنا رہتا تھا۔ اس کا احوال سمجھنے کیلئے موجودہ دور میںVIPشخصیات کیلئے پروٹوکول کا اہتمام ہے۔ خصوصاً جب سے دہشتگردی کا معاملہ شروع ہوا ہے تو حفاظت پر مأمور دستوں کو اپنے فرائض کی سمجھ ان آیات سے سمجھ میں آئے گی۔ قرآن تمام ادوار اور حالات کی رہنمائی کرتا ہے اور نبیۖ کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے کہ جس کے پیچھے نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے لوگ ترس رہے ہوں۔
واذا قضیتم الصلوٰة فالذکروا اللہ ……” اور جب تم نماز پوری کرچکے ہو تو اللہ کا ذکر کرو۔ کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر۔ پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مؤمنوں پر فرض کی گئی ہے اوقات پر”۔ (النسائ: 103)یہ نماز خوف کا بیان ہے جس میں نماز بالکل ختم کرکے پوزیشن بدل سکتی ہے اور پھر اٹھتے ، بیٹھتے اور کروٹیں بدلتے ہوئے اللہ کو یاد کرنے کی بات ہے۔ یہ بہت بیوقوفی کی بات ہے کہ خطرات سے بڑھ کر حملہ ہوجائے اور مسلمان پھر بھی ستو پی کر نماز کی تکمیل پر لگے ہوئے ہوں۔

___اہل حق اور اہل باطل کو مشکل کا سامنا___
ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تأ لمون ……. ” اور سستی سے کام مت لو اس قوم کی تلاش میں۔اگر تم ان کی وجہ سے درد میں مبتلاء ہو تووہ بھی اسی طرح سے درد میں مبتلاء ہیں جیسے تم ہو۔ اور تم اللہ سے جو امید رکھتے ہو وہ ایسی امید نہیں رکھتے ہیں۔ اور بیشک اللہ بہت جاننے والا حکمت والا ہے”۔ (النساء آیت:104)آج افغانستان کو داعش اور پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جن مشکلات کا سامنا ہے اس میں دونوں طرف مسلمان ہیں اور دونوں طرف سے اپنے اپنے حق میں دلیل پکڑتے ہیں۔ جب تک قرآن کے احکام واضح نہیں ہوںگے تو مشکلات سے ہم نکل نہیں سکیںگے۔ قرآن وسنت کی طرف درست توجہ کرنے کے بعد ہماری قوم کسی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کی میڈیا پر ریاست کے افسران اور طالبان کی طرف سے بڑے پیمانے پر بھتہ خوری کے عجیب وغریب الزامات سامنے آرہے ہیں۔
انآ انزلنا الیک الکتٰب بالحق لتحکم بین الناس بما ارٰی ک اللہ ولا تکن للخآئنین خصیمًاO”بیشک ہم نے تیری طرف کتاب اتاری ہے حق کیساتھ تاکہ آپ فیصلہ کریں لوگوں کے درمیان جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے۔ اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے کبھی جھگڑالو مت بنو”۔ (النساء آیت:105) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے خائن شخص کا ساتھ دیا تو دوسرے دن پھر وہ خیانت کا مرتکب کھڑا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ مشکل میں پڑگئے تھے۔
واستغفراللہ ان اللہ کان…..O……….” اور اللہ سے بخشش مانگنا، بیشک اللہ بخشنے والا رحم والا ہے۔اور جو لوگ اپنی جانوں کیساتھ خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے مت جھگڑنا۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا ہے جو خائن گناہگار ہو۔یہ لوگ اللہ سے چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے۔ اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی بات کرتے ہیں جس سے اللہ راضی نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ تم ہی ہو وہی لوگ جو ان کی طرف سے بحث کرتے ہو تو کون ان کی طرف سے اللہ کیساتھ بحث کرے گا؟۔ یا کون ان کا وکیل مقرر ہوگا؟۔ اور جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر وہ اللہ سے معافی مانگے تو پائے گا اللہ کو غفور رحیم ۔ اور جو گناہ کماتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے کماتا ہے۔ اور بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو کوئی غلطی کمائے یا کوئی گناہ ۔ پھر اس کا الزام کسی بے گناہ پر لگادے تو اس نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر رکھا۔ اور اگر آپ پراللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ نے قصد کیا تھا کہ آپ کو راستے سے ہٹادے۔ لیکن یہ راستے سے نہیں ہٹاسکتے ہیں مگر اپنی جانوں کو۔ اور آپ کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ اور اللہ نے آپ پر کتاب نازل کی اورحکمت اور سکھایا وہ جو آپ نہیں جانتے تھے۔ اور اللہ کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے ۔اور بہت ساری سرگوشیوں میں خیر نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی صدقے کا حکم دے،یا معروف کایا لوگوں کے درمیان صلح کا۔ جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے ایسا کرے گا تو اس کو ہم اجر عظیم دیں گے۔ اور جو ہدایت کا راستہ واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کی راہ کے علاوہ چلے تو ہم اس کو ادھر پھیر دیںگے اور جہنم میں پہنچادیںگے اور بہت برا ٹھکانہ ہے۔ بیشک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کیساتھ شریک کیا جائے اور اسکے علاوہ جس کیلئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جو اللہ کیساتھ شرک کرے تو وہ دور کی گمراہی میں جاپڑا ”۔ (النساء آیات:106 سے 116)

___اللہ نے اہل کتاب کو غلو سے منع کیا___
نظام بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ کے احکام سمجھنے کے بعد ان میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ فقہاء کا اختلاف ہے کہ عورت کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟۔ جب نبیۖ نماز پڑھتے تھے تو کبھی حضرت عائشہ کے پاؤں کو ہٹانے کی ضرورت پڑتی تھی جب نیند میں سامنے آجاتے تھے۔ اگر نبیۖ نے یہ فرمایا کہ عورت کو مس کرنے کے بعد وضو کرو تو اس سے مراد کیا ہے؟۔ حدیث ہے کہ انزال کے بغیر نبیۖ غسل نہیں کرتے تھے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ جماع کی ایک صورت میں غسل اور دوسری صورت میں وضو کا عمل تھا۔ جن احادیث میں عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو کا حکم دیا گیا تو مراد صرف ہاتھ لگانا نہیں ہے بلکہ جماع کا وہ عمل ہے جس میں انزال نہ ہوا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے ہاتھ لگانے سے جماع کا عمل مراد لیا اور بعض نے عورت پر ہاتھ لگنے سے بھی وضو کا معاملہ بنالیا تھا۔ بہر حال یہ معاملات بھی خوش اسلوبی سے حل ہوسکتے ہیں۔
امام ابوحنیفہ نے ہاتھ لگنے پر حرمت مصاہرت کا حکم نہیں لگایا تھا بلکہ ہاتھ لگنے سے مراد جماع تھا۔ بیوقوف فقہاء نے معاملہ کہاں پہنچادیا تھا۔ درسِ نظامی میں ہے کہ ”ساس کی شرمگاہ کوباہر سے شہوت کیساتھ دیکھنے میں عذرہے اور شرگاہ کے اندر شہوت سے نظر پڑگئی تو اپنی بیوی حرام ہوجائے گی”۔ اور جب اللہ نے واضح کیا: وامّھٰتُ نساء کم وربآئبکم الّٰتی فی حجورکم من نساء کم الّٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم ”اور تمہاری بیگمات کی مائیں اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں، تمہاری ان بیویوں سے جن میں تم نے داخل کیا ہے اور اگر تم نے ان میں داخل نہیں کیا ہے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ”۔ (النسائ:23)
اس آیت میں فقہی کتابوں میں حرمت مصاہرت کے انتہائی گھناؤنے مسائل کا جڑ سے خاتمہ ہے۔ ایک طرف جس عورت سے کوئی شادی کرتا ہے تو اس کی ماں معلوم ہوتی ہے اور اس کی ماں سے نکاح کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے اسلئے اتنا بھی کافی تھا کہ حرمت کی فہرست میں وہ داخل ہیں۔ دوسری طرف ہوس پرست انسان سے بعید نہیں ہوتا ہے کہ اپنی بیوی کی دوسرے شوہر سے جوان بیٹی کو دیکھ کر اس کی نیت خراب ہوجائے اسلئے واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ جو تمہارے حجروں میں پلی ہیں اور جن کی ماؤں میں تم نے داخل کیا ہے تو ان کے بارے میں نیت کی خرابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کھڑی کرکے ان کو محرمات کی فہرست میں ڈال دیا۔ تیسری طرف القائے شیطانی کے وہ اجتہادات تھے جن سے مذہبی ماحول کے آلودہ کرنے کے خطرات تھے کہ کہاں سے کہاں پہنچاکر مذہبی طبقات دم لیںگے؟۔ ان تمام لغو ولایعنی ، بیہودہ ، گھناؤنے مسائل کی توڑکیلئے آیت کے الفاظ کافی ہیں کہ بیوی میں دخول بھی شرط ہے تاکہ انقلاب آئے تو علماء حرف غلط کی طرح ان کو مٹادیں۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ جس حنفی مسلک میں حرمت مصاہرت کا مسئلہ بہت واضح تھا لیکن امام ابویوسف نے معاوضہ لے کر جب بادشاہ کو فتویٰ دیا کہ اپنے باپ کی لونڈی سے جماع کرنے کی شریعت میںاجازت ہے تو اس کے خلاف امام ابوحنیفہ کے دوسرے شاگرد حضرت عبداللہ بن مبارک نے آواز بلند کی جو ایک بڑے فقیہ، محدث ، مجاہد اور صوفی تھے۔ درباریوں نے عبداللہ بن مبارک کی مقبولیت سے گھبرا کر فقہ کے نصابِ تعلیم سے اس کا نام خارج کردیا۔ آمریت کے دور میں بہت اہل حق کا خون ہوا ہے۔
امام ابویوسف کی تاریخ دہرائی گئی۔ حرمت مصاہرت میں انتہائی غلو اور باپ کی لونڈی کوبیٹے کیلئے جائز قرار دیاگیا۔ دارالعلوم کراچی نے شادی بیاہ کے موقع پر لفافوں کی لین دین کو بھی سود اور70سے زیادہ گناہوں، وعیدوں اور وبالوں میں سب سے کم درجے کاگناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کو قرار دیا تھا۔ دوسری طرف پھر عالمی سودی بینکاری کا اسلام کے نام پر جواز پیش کردیا ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان نے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟، اب بھی تقدیر بدل سکتی ہے

پاکستان نے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کیوں فائدہ نہیں اٹھایا؟، اب بھی تقدیر بدل سکتی ہے

سعودی عرب کے پاس تیل کی دولت تھی اور اس کی وجہ سے وہ ہمیں زکوٰة ، خیرات دیتے تھے لیکن اگر ہم ایران سے تیل خریدتے تو جونقصان سودکی مد میں ہم نے اٹھالیا،وہ بہت زیادہ ہے

ہمارے پاس پانی کے بہاؤ کی دولت موجود تھی، جس سے بڑے پیمانے پر بجلی بناسکتے تھے اور اس سے پانی کی دولت میں کمی نہیں بلکہ اتنا اضافہ ہوتا کہ پورے پاکستان کی بنجر زمین آباد ہوتی

جن فوجی جرنیلوں ، سول بیوروکریٹ ،عدلیہ ججوں اور سیاستدانوں کے خاندان اور ان کی دولت ملک سے باہر ہے ،ان کو فوری طور پر ہٹایا جائے اورپینشن ختم کی جائے تو انقلاب آجائیگا!

پاکستان کے پاس پانی کے بہاؤ کی دولت تھی جس سے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرکے پوری دنیا میں اس ملک کو بہت طاقتور ملک بنایا جاسکتا تھا۔ تیل وگیس اور سونے چاندی کے ذخائر ختم ہوسکتے ہیں لیکن پانی سے بجلی بنانے کی ترتیب وہ دولت ہے جس سے ایک قطرہ پانی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ ذخائر سے سمندر میں فالتو پانی گرنے سے بچتا ہے۔ زمین جب زرخیز بنتی ہے تو بارش زیادہ برستی ہے اور جب پانی زیادہ برستا ہے تو سمندر میں گرانے کی گنجائش بھی بڑے پیمانے پر پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم پانی سے بڑے پیمانے پر بجلی بناتے تو آج دریائے سندھ کا پانی سمندر میں ایسا گرتا کہ سورۂ رحمان کا وہ منظر دکھائی دیتا کہ
مرج البحرین یلتقےٰنoبینھما برزخ لا یبغےٰنoفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOیخرج منھما اللؤ لؤ والمرجانOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOولہ الجوار المنشئٰت فی البحر کالاعلامOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنOکل من علیھا فانOویبقٰی وجہ ذوالجلٰل و الاکرامOفای اٰلآ ء ربکماتکذبٰنO
ترجمہ :” اسی نے دو دریا رواں کئے ہیں جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں میں آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔دونوں دریاؤں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑ کی طرح کھڑے ہیں۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟۔ اور ان میں سے ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور تمہارے رب کی وجاہت باقی رہے گی جو عظمت و جلال کا مالک ہے۔ تو تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟”۔
مسلمان آنکھ کے نہیں دل کے اندھے بن چکے ہیں۔ سورۂ رحمان میں ان تمام نعمتوں کا ذکر ہے جس کا تعلق جنت سے نہیں بلکہ دنیا سے ہے اور فنا ہونے والی ہیں۔ صحابہ کرام کے دور میں سمندر کے اندر پہاڑ جیسے بحری جہازوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ حجاز مقدس کو اللہ نے دو ایسے دریاؤں سے نہیں نوازا ہے جیسے برصغیر پاک وہند میں گنگا وجمنا اور پنجاب کے پانچ دریا ہیں۔ اگر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا تو کراچی میں لیاری اور ملیر ندی خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ قرآن کی ان آیات کا منظر پیش کریںگی۔ اب تو کراچی کے ڈیفنس میں دو دریا کے نام سے بہت زبردست رات کے ہوٹل آباد ہیں لیکن لوگوں میں غربت کی وجہ سے وہاں کھانے کا رحجان کم ہوتا جارہاہے۔ جب یہ ملک ترقی کرے گا تو یہی دو دریا سورۂ رحمان کا منظر پیش کررہاہوگا۔ سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز کھڑے نظر آئیںگے۔ لیاری اور ملیر ندی نہ صرف دو دریا کا منظر پیش کررہی ہوں گی بلکہ اس میں ہیرے اور مرجان بھی ملیںگے۔ البتہ یہ سب کچھ فانی ہوگا۔ نوازشریف اور بھٹو کے خاندان نے پنجاب اور سندھ پر ہمیشہ قیامت تک کیلئے اپنے اقتدار کا غلط خواب دیکھا ہے ، ہمیشہ قائم رہنے والی ایک ذات خدا کی ہے۔ کراچی کے مہاجروں نے اسلام کی خاطر پاکستان ہجرت کی تھی اور خواب کی تعبیرملے گی۔
ڈاکٹر تیمور رحمن کے سوشل میڈیا پر بیان کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ پاکستان کی ریاست کو کمزور کرنے کیلئے بینظیر بھٹو کو تیل سے بجلی بنانے کا منصوبہ دیاگیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام پاکستان کو دیا اور سندھ کیلئے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم کرنے کو مفید سمجھ لیا لیکن اس سے پاکستان کی معیشت بیٹھ گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو بھی سرکاری تحویل میں لیا تھا اور بینظیر بھٹو نے سرکاری املاک کو بھی پرائیوٹ کردیا۔ باپ بیٹی میں تضاد کیوں تھا؟۔ نیم ملا خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کی طرح اسلامی سوشلزم بھی کسی کام کا نہیں تھا بلکہ زیادہ خطرناک تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھا تو پہلی مرتبہ بلوچ وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو ایک ساتھی سمیت اغواء کرکے شہید کیا گیاتھا۔ بلوچ رہنماخیربخش مری سے وسعت اللہ خان نے انٹرویو لیا تھا اور خیربخش مری نے ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کا جن الفاظ میں تذکرہ کیا ہے وہ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ پھر یہ پالیسی نوازشریف اور عمران خان تک جاری وساری رہی ہے جس سے ہمارے اداروں کی ساکھ بھی خراب ہوئی اور قوم بھی تباہ وبرباد ہوگئی۔ پرویزمشرف کیساتھ کون کون کھڑے تھے اس کو اس وقت کے گروپ فوٹوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جب ولی خان کو صدارت کی پیشکش کی گئی تو اس نے کہا تھا کہ ” یہ ایسی کرسی ہے کہ جو بھی اس پر بیٹھا اس کی شلوار ادھر ہی رہ جاتی ہے۔ آخری عمرمیں اپنی عزت نہیں کھونا چاہتا ہوں”۔
سلیم صافی نے جناح سینٹر اسلام آباد میں غفار خان اور ولی خان کی یادگار کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر پر اپنا تجزیہ دیا تھا کہ ” جب مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنادئیے گئے تو اب پختونخواہ کی گورنری بھی میاں افتخارحسین سے چھین کر حاجی غلام علی کو دیدی گئی”۔ سلیم صافی کا بنیادی تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور یہ لوگ مولانا مودودی کے بعد حاجی میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق تک کبھی کسی عالم دین کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ مولانا مودودی بھی پہلے داڑھی منڈا تھا۔ دارالعلوم دیوبندماہنامہ کے ایڈیٹر نے علماء کو دیکھا کہ اسلام جیسے دین کو نکاح ، طلاق، حلالہ ، میت کو غسل دینے اورسودی کاروبار کیلئے حیلے تراشنے تک محدود کررکھا ہے ۔ اسلئے ایک اپنی جماعت بناڈالی اور بڑی چوٹی کے علماء بھی ساتھ میں رکھے جنہوں نے بعد میں اختلاف کے باعث علیحدگی اختیار کرلی اور اس میں علماء ہی نہیں باقی دانشور بھی ان سے جدا ہوگئے۔ جماعت اسلامی نے اسلام کی خاطر اقتدار تو حاصل نہیں کیا مگر ڈکٹیٹر کی صلیب پر لٹک گئی۔ جنرل ضیاء کا ریفرینڈم ، اسلامی جمہوری اتحاد اور پھر ظالمو! قاضی آرہاہے!۔ تک اپنا سب کچھ کھو دیا ۔اب بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کا لبادہ اوڑھ کر ڈرامے کی آخری قسط ختم ہونے کے قریب لگ رہی ہے اور اس سے پہلے گرگٹ کی طرح بڑے رنگ بدلے ۔ کبھی یکم یوم مئی کے مقابلے میں ”یوم بدر” منانے کی کوشش کی اور پھر وہ وقت آیا کہ سراج الحق امیر جماعت اسلامی نے لال ٹوپی پہن کر یوم مئی مزدروں کے ساتھ منایا مگر حاصل کیا ہوا؟۔
زیادہ عرصہ کی بات نہیں کہPDMنے آرمی چیف ،DGISIاور فوج سے آزادی کا طبل بجایا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک کیلئے پھر نوازشریف کو بھی میدان میں آنا چاہیے۔ مریم نواز کو یہ بات اتنی بری لگی کہ اس پر پیپلزپارٹی کوPDMسے باہر پھینک دیا۔ حالانکہ اسی پیپلزپارٹی نے مریم نواز کی گستاخی کرنے پر فوج کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ جبPDMکا بیانیہ مہنگائی ، فوج کی مداخلت اور نئے الیکشن کا تھا تو وہ موقع بھی ان کے ہاتھ میں آگیا۔ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن سب نے مل کر دی تھی اور عمران خان اتناکہتا تھا کہ ہم ایک پیج پر ہیں کہDGISPRجنرل آصف غفور کو اس وقت وضاحت کرنا پڑی جب نوازشریف اڈیالہ جیل میں تھے اور مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دیا تھا کہ” فوج ہر اس سیاسی جماعت کیساتھ ہے جو جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے”۔ تاکہ فوج پر ایک پیج کا دھبہ ختم ہوجائے لیکن پھر سوشل میڈیا کی زرخرید ٹیموں نے معاملات میں مزید غلط فہمیاں پیداکرنے میں کردار ادا کیا اور جب عمران خان کے پاؤں سے آصف زرداری نے زمین نکالی تو اس کو اپنے بندوق کے نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا۔ پھر امریکہ مخالف بیانیہ اور اسٹبیلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنایا۔PDMپھر اپنی تینوں منزلوں کی مہم جوئی سے پیچھے ہٹ گئی اور آئین اور انتخابات سے بھی بھاگ رہی ہے۔ ضمنی الیکشن میں شکست کھائی تو آئندہ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے بھی انکار کیا اور جب گئی تو شکست ہوئی ۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین، رہنما اور کارکن قوم کا عظیم سرمایہ ہیں لیکن وہ اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اعلانیہ توبہ کریں۔ اگر زرداری معصوم تھا تو شہباز شریف اپنی الزام تراشیوں پر مرغا بن جائے اور اگر نوازشریف پر پیپلزپارٹی نے ایون فیلڈ کے غلط کیس بنانے تھے تو مریم نواز خالی اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ قوم میں بڑا غصہ ہے۔ عمران خان کی مقبولیت نہیںPDMاور جماعت اسلامی سے نفرت کا نتیجہ ہے کہ لوگPTIکو سپورٹ کررہے ہیں۔ عمران خان اس سے پہلے زیادہ بڑی بڑھکیاں مارتا تھا لیکن کچھ نہیں کرسکا۔ اب کونساتیر مارے گا سب کو پتہ ہے لیکنPDMکے قائدین کی شکلوں سے لوگوں کو نفرت ہوگئی ہے۔
ہم نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان بہت مجبوری میں کیا ہے۔ منشور ایسا ہونا چاہیے کہ اقتدار کے بغیر بھی مسئلے حل ہوں۔ نبی کریم ۖ نے اقتدار کے بغیر بھی اسلام کے مسائل حل کردئیے تھے اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کو طویل اقتدار مل گیا۔ حجاز مقدس میںاسلام سے پہلے جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ، حضرت عمر فاروق اعظم اپنے کردار کی بدولت خلیفہ بن گئے۔ ورنہ پہلے اونٹ چرانے پر بھی مار پڑتی تھی۔ پھر اسلامی منشور کی وجہ سے ان کے سامنے مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ بیت المقدس کی چابی حوالے کی گئی تھی۔
ہم نے جنت جیسے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنی عوام کیلئے جہنم بنادیا ہے۔ حجاز میں مکہ سے مدینہ تک پانی کا نالہ بھی نہیں تھا لیکن حجازی دنیا میں سب طرف بہترین ممالک کو فتح کرکے جنت کے مالک بن گئے تھے۔خاندانی یزید کے اقتدار کی ہوس یزید کے بیٹے معاویہ میں بھی نہیں تھی اور حضرت معاویہ کے بھائی یزید نے بھی اسلام کی خاطر زبردست کردار ادا کیا۔ دنیائے اسلام اب دونوں یزید اور معاویہ سے بے خبر ہیں جن کو اہل تشیع بھی مان سکتے ہیں۔
بنوا میہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسا ہیرہ بھی نکل آیا تھا جو بنی مروان سے تعلق رکھتا تھا۔ یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حضرت حر علیہ السلام کا کرداربہت زبردست تھا۔ سیاسی جماعتوں میں اچھے اچھے قائدین اور رہنماؤں کے کردار کو اپنی قوم کا بہت بڑا اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ سب مل جل کر پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالیں۔ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر اپنے ادارے اور سیاسی جماعتوں کو معروف پر جمع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ احسان نہ سمجھیں کہ آرمی چیف انہوں نے بنائے اور وہ نمک حرام نکلے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آرمی چیف کے عہدے تک پہنچنے کیلئے ایک طویل محنت ہوتی ہے ۔ کوئی نامزد کرکے پاتال سے آسمان تک نہیں پہنچاتا ہے بلکہ جس جس میں ایک طرح کی اہلیت ہوتی ہے ان میں سے ایک کو نامزد کرنا پڑتا ہے۔چوہدری نثار اور پھر شاہد خاقان عباسی سے بھی برداشت نہیں ہوا کہ مریم نوازکے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں لیکن آرمی چیف کو سیلیوٹ کرنا پڑتا ہے اسلئے کہ اسکی ساری زندگی اسی ڈسپلن میں گزری ہوتی ہے۔ ظفراللہ جمالی کو ایک ووٹ کی برتری پر مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں وزیراعظم بنایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کی اپنی ذیلی جماعت سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے اپنا اکلوتا ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا تھا اور عمران خان نے اپنا اکلوتا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا۔ پھر دشمنی کی کیا اوقات ہے؟۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے اتحادی جمعیت علماء اسلام س کی بجائے ٹانک کے دفتر مرکزی مسجد جامع مسجد سفید (سپین جماعت) مولانا فتح خان کو تحریک انصاف کے ایوب خان بیٹنی کیلئے وقف کیا تھا۔ جو مولانا شیخ محمد شفیع ضلعی امیرجمعیت علماء اسلام س امیدوار برائےMPAکا الیکشن لڑرہے تھے۔ جب جنرل ظہیرالاسلام عباسی نے ہمارے سامنے ایوب بیٹنی سے کہا تھا کہ یہودی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تو ہم نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا مرکز سپین جماعت (سفید جامع مسجد) اس کا دفتر تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے پشاور اورچارسدہ میں غلام احمد بلور اور اپنے مولانا قاسم کو ہارتے دیکھا ہے اسلئے وہ خود اسمبلی میں جانے کیلئے بھی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ حالانکہ اب تو کوئی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی نہیں ہے۔ ہم مولانا فضل الرحمن کو مشورہ دیتے ہیں کہ جن ایشوز کو ہم نے اٹھایا ہے وہ ان کو اپنے منشور میں داخل کردیں اور حلالہ کی لعنت سے اپنے لوگوں کی جان چھڑائیں تو اپنا کھویا ہوا وقار واپس مل سکتا ہے۔ ہندوستان میں پرسنل لاء کے اندر مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا اسلئے ہے کہ علماء نے قرآن وسنت کے درست احکام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور مولانا اس میں اپنا زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں جس سے افغان طالبان کو بھی دنیا تسلیم کرے گی اور پاکستان میں بھی اسلام کے مخالف ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

ڈاکٹر تیمور رحمان کا ٹریڈ یونین سے خطاب :دوستو! پاکستان میں اس وقت40فیصد مہنگائی ہے۔IMFسے قرضہ لے کرڈالر، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے سے تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔40فیصد مہنگائی کا مطلب ہے کہ مہینے میں جو30ہزار روپے کمارہا ہے اس کی40فیصد آمدنی ختم ہوگی۔ نتیجے میں لوگ غربت کی سطح سے بھی نیچے گریں گے۔22مرتبہ حکومتIMFکے پاس گئی۔1950سے اب تک چند ادوار کے علاوہ معاشی پالیسیIMFکے اپروول کے بعد بنی ۔ تین بڑے پہلو ہیں۔پہلی لبرالائزیشن یعنی ٹریڈ بیرئرز ختم کئے جائیں جس کا مطلب ہے کہ درآمدات اور برآمدات پر ڈیوٹی ختم کی جائے (جس سے حکومت وریاست کی طاقت ختم ہوگی)۔ دوسری ڈی لبرالائزیشن یعنی کمرشل بینکنگ پر تمام کنٹرول ختم کردیا جائے ( یہ بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہے)اور تیسری سب سے اہم نجکاری کی پالیسی ہے۔ (اس سے بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہوگا)1990کی دہائی سے یہ سبق سکھایا جارہا تھا کہ حکومتی ادارہ میں مزدور کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے خسارہ ہوتا ہے اسلئے نجکاری کی جائے۔1990میں حکومت کے پاس250سے زائد صنعتی اور کمرشل ادارے منڈی میں بیچے جانے والی چیزیں تھیں۔172اداروں کی نجکاری کی گئی اور کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا خسارہ پورا نہیں ہورہا۔ اب85حکومتی انڈسٹریاں بچ گئی ہیں۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ دو تہائی انڈسٹریاں منافع کماتی ہیں اور باقی بچتی ہیں ان میں90فیصد جو خسارہ حکومت کو ہورہا ہے وہ صرف10مختلف انٹرپرائزز سے ہورہا ہے۔ ان10میں سے5ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں جیسے الیکٹرک سپلائی کی کمپنی ہے۔ باقی5میں ایک نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے۔ کمرشل اور ریگولیٹری ادارہ ہونے کی وجہ سے اس کی نجکاری نہیں ہوسکتی ۔ زرعی ترقیاتی بینک منافع کی طرف جارہا ہے، اس کی نجکاری بیوقوفی ہوگی۔ اسکے علاوہ پاکستان اسٹیل، ریلوے اورPIA۔ یہ نجکاری کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ادارے جن میں ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں جس میں کوئٹہ، پشاور، سرگودھا کے بجلی فراہم کرنے کے ادارے ہیں جو یا تو واپڈا یا پھرIPPسے بجلی خریدتے ہیں۔1994سے پہلے صرف واپڈا بجلی سپلائی کرتی تھی۔ پھر یہ بجلی بڑھانے کیلئے آزاد پاور پالیسی لیکر آئے جس کے تحتIPP(انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسر) نے کہا کہ ہم پلانٹ لگائیں گے مگر جو فیول خریدیں گے وہ آپ مقررہ ریٹ پر خرید کر دیں گے اور جو بجلی آپ لیں گے وہ بھی مقررہ ریٹ پر ہوگی اور یہ دونوں ریٹ ڈالر کیساتھ منسلک ہیں۔ تو یہ خسارہ1994کیIPPپالیسی کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے اور یہ بڑا پیسہ کمارہے ہیں ۔ جب یہ پلانٹ آپریشنل کردیں اور حکومت بجلی نہ خریدے تب بھی حکومت کو پیسے دینے پڑتے ہیںاور اس کا حکومت نے حل یہ نکالا ہے کہ جس طرح الیکٹرک کی نجکاری کی اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کردی جائے، واپڈا کی نجکاری کردی جائے۔ نتیجے میں بجلی اور مہنگی ہو گی۔85فیصد بجلی واپڈا نہیں آئی پی پیز بنارہے ہیں۔ پہلے زیادہ تر مال ریلویز لیکر جاتے پھر سڑکوں پر ٹرک چلائے تاکہ ریلوے کی یونین کمزور ہو۔ واپڈا کو کمزور کرنے کیلئے آئی پی پیز بنائے تاکہ بشیر بختیاراور خورشید احمد کی جدوجہد کو کمزور کردیا جائے یہ دو سب سے بڑی یونین ہیں پاکستان کے جن کے ارد گر د ساری یونین اکھٹے رہی ہیںایک ریلوے کی ایک واپڈہ کی۔ اگر یہ دونوں اکھٹے ہوتے تو پورا پاکستان جام کردیتے ان کو توڑنے کیلئے یہ پالیسی بنائی۔ نتیجے میں ملک تباہ و برباد ہوگیا۔ یونین کو تباہ و برباد کرنے کیلئے معیشت تباہ و بربادکردی اور بجلی اب اتنی مہنگی ہونے جارہی ہے کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن جو کہ مالکوں کی ایسوسی ایشن ہے وہ روزانہ اخبار میں اپنی ملیں بند کرنے کا اشتہار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا سرمایہ دارانہ نظام خود تباہ کیا۔ حل یہ ہے کہ واپڈا کی نجکاری ہم بالکل بھی نہیں ہونے دیں ورنہ بجلی اور مہنگی ہوگی اور تمام چیزیں مہنگی ہوں گی۔ ریلوے اورPIAپر انوسٹمنٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پسنجر کا مسئلہ نہیں، مال آگے پیچھے ریلوے پر جائیگا تو ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوگی۔ ریلوے اور ٹرکوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ریلوے وہی چیز آدھی قیمت پر پہنچاتی ہے جو ٹرک ڈبل پر پہنچاتے ہیں۔ ٹرک کی اپنی قیمت کو چھوڑ کر انفرااسٹرکچر پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ علیحدہ ہے۔ چین اپنی ریلوے کی بنیاد پرہی ترقی کررہا ہے۔ ریلوے ، واپڈا ،PIA، زرعی ترقیاتی بینک میں انوسٹمنٹ کریں ، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ٹھیک کریں۔بہترین مینجمنٹ لیکر آئیں، مزدوروں کا کوئی قصور نہیں دن رات ایک کرتے ہیں کھمبوں پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کرتے ہیں اور انہی بیچاروں کو سیفٹی اکوپمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ لگ جاتا ہے۔ ریلوے میں لوگ کس طرح کام کرتے ہیں کیا کیا حادثات نہیں ہوتے، اس حکومت کو نہ صرف مزدوروں کی بلکہ اپنی معیشت اور ملک کی کوئی پرواہ نہیں۔ کیونکہ ان کے سارے تانے بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں آپ کے ساتھ ان کا تعلق کمزور اور بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہے۔ کون بچاسکتا ہے اس پاکستان کو (نعرہ مزدور پاکستان)، یہ جو اس کمرے میں ٹریڈ یونین کی قیادت ہے بشمول میری پارٹی بشمول بائیں بازو کی پارٹی کے ہل نہیں سکتی جب تک کہ ٹریڈ یونین اور مزدور طبقہ نہ ساتھ ہو۔ کیونکہ یہ ایک اور طبقے کی، ایک اور نکتہ نظر ایک اور سیاست ، ایک اور ثقافت ، ایک اور سماج اور ایک نئے سویرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کل ، مستقبل اور اس سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ مساوات قائم کرسکے۔ قدم بڑھائیں، اتحاد بڑھائیں، آپ کی ضرورت ہے میدان عمل میں۔
فرمایا” خدا کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا اندیشہ نہیں لیکن یہ خطرہ ضرورہے کہ مال ودولت کی فراوانی تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے تم سے پہلے لوگوں میں ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس میں تم بھی منہمک ہوجاؤگے، جیسے وہ ہوئے وہ تمہیں بھی تباہ وبرباد کرے گی جیسے وہ تباہ وبرباد ہوگئے۔ (بخاری،کتاب الجہاد)مال کی فراوانی بہت سی گمراہیوں کی جڑ ہے لیکن اسلام نے مال حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل بتایا، صحیح ذرائع سے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ عین حج بیت اللہ کے موقع پر بھی تجارت پر پابندی نہیں لگائی کیونکہ سعی وکسب کے بغیر کوئی مسلمان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ، لیکن اسلام اور قرآن کی رو سے جو شخص جتنا زیادہ کمائے گا ، اتنا ہی زیادہ انفاق پر بھی مأمور ہوگا،اسلئے افراد کی کمائی جتنی بڑھتی جائے گی ، اتنی ہی زیادہ جماعت کی اجتماعی خوشحالی ہوتی جائے گی۔ بہرحال اسلامی قانون سے جتنا زیادہ مالدار ہوگا ،اتنے اس پر زیادہ حقوق ہوں گے، اتنی ہی اس کی مشغولیت بڑھ جائے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دیوبندی، بریلوی اور انسانی بنیادوں پر نئی پارٹی کی تشکیل کرنا ہوگی!

دیوبندی، بریلوی اور انسانی بنیادوں پر نئی پارٹی کی تشکیل کرنا ہوگی!

اسیرمالٹا شیخ الہند مولانا محمود الحسن،اسیرکالا پانی مولانا فضل الحق خیرآبادی دونوں حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے بڑے عقید ت مند تھے

سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا یوسف بنوری ، مولانا ابوالحسنات قادری ، مولانا عبدالستار نیازی اور خورشید وارثی سب اتحاد کے علمبردار تھے

آج امت ، پاکستان کے مسلمان اور دنیا بھر کے انسان بڑی مشکل کا سامنا کررہے ہیں اوراس کا واحد حل قرآن وسنت کی طرف رجوع ہے

ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے جو اسلامی انسانی انقلاب برپا کردے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن کبھی کسی مذہبی سیاسی جماعت کوکچھ وجوہات کی بناپر اقتدار میں نہیں آنے دیا گیا۔ 1:مذہبی سیاسی پارٹیوں کا فرقہ وارانہ رنگ ہے ۔2: علماء کے تضادات ہیں۔
3:مسلکی اسلام کا انسانی حقوق سے تصادم ہے۔
4:مدارس کا نصاب علماء کو قانون سازی کے قابل نہیں بناتا۔
5:مذہبی و سیاسی علماء نے کبھی قرآن کی بنیاد پر قانون سازی کی زحمت نہیں کی۔
6 :فقہی مسالک کایہ رحجان تھاکہ قرآن سے احادیث متصادم ہیں۔
7:قرآن و سنت کی ہم آہنگی مدارس میں بھی متعارف نہیں ہوئی ۔
8: علاقائی رسوم ورواج کے آگے قرآن وسنت کی معاشرتی طور پر ملاؤں نے اہمیت اجاگر نہیں کی۔
9: اسلام عالمگیر دین کو علاقائی رسوم ورواج کے پیمانے میں تولااور ناپا گیا۔ 10:اسلامی معاشی نظام کی جگہ سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کے درمیان لٹکنا تھا۔
جمعیت علماء اسلام نے اشتراکیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اسلام کے قریب قرار دیا تو1970میں کفر کا فتویٰ لگ گیا۔ فتویٰ لگانے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی، دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد شفیع اور صاحبزادگان مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی، دارالعلوم کراچی کے اساتذہ ومنشی صاحبان نے مفتی کی حیثیت سے دستخط کئے۔ جامعة الرشید کے بانی مفتی رشیداحمد لدھیانوی اور مولانا سلیم اللہ خان بھی دارالعلوم کراچی کے مفتی اور استاذ تھے۔ مشرقی و مغربی پاکستان اورہند وستان کے بہت معروف مدارس کے علماء ومفتیان نے بھی اس پر دستخط کئے تھے۔ فتوے کا نشانہ بننے والے مولانا مفتی محمود، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا عبیداللہ انور ابن مولانا احمد علی لاہوری اور اس وقت کی ترقی پسند اشتراکیت کے حامی جمعیت علماء اسلام تھی اور فتویٰ لگانے والے علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا احتشام الحق تھانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا رسول خانکی اصلی جمعیت علماء اسلام تھی۔مولانا احمد علی لاہوری، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود کی ترقی پسند اشتراکیت کی حامی جمعیت علماء اسلام نے اس نام پر قبضہ کرلیا اور یہ لوگ پہلے جمعیت علماء اسلام کے مخالف جمعیت علماء ہند سے تعلق رکھتے تھے۔
مولانا غلام غوث ہزاروی جمعیت علماء ہند کے وارث اور اشتراکی جمعیت علماء اسلام کے امیر تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ، تحریک استقلال اور جمعیت علماء پاکستان نے قومی اتحاد کے9ستاروں کو تحریک نظام مصطفی ۖ کا نام دیکر مفتی محمودکی قیادت میں الیکشن لڑا۔ مولانا ہزاروی نے بھٹو کاساتھ دیا۔جماعت اسلامی کے جنرل ضیاء کی چھتری تلے پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا تو مولانا فضل الرحمن اور قوم پرستوں کو احسا س ہوا کہ غلط استعمال ہوگئے اورپھرMRDمیں پیپلزپارٹی سے مل کر تحریک چلائی۔ جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام درخواستی، سمیع الحق، اجمل قادری اور سپاہ صحابہ نے مسلم لیگ سے مل کر اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں تحریک چلائی ۔ جس مولانا فضل الرحمن پر پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد کرنے پر ہی معروف مدارس کے علماء ومفتیان نے متفقہ کے عنوان سے کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا تو وہ بے شرم اسی پیپلزپارٹی کے منشور کیساتھ غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد کا الیکشن سائیکل کے نشان پر لڑرہے تھے۔
پاکستان بن رہاتھا تو مسلم لیگ کے غنڈے مرزائیوں کو مسلمان کہتے تھے اور جمعیت علماء ہند کے مولانا حسین احمد مدنی ، کانگریس کے مولانا ابوالکلام آزاد اور احراری علماء سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا داؤد غزنویوغیرہ پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے اور جہاں موقع ملتا تھا تو ان کو پتھروں اور ڈنڈوں سے مارنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ مولانا حسین احمد مدنی کی اہلیہ تدفین کے موقع پر بھی مسلم لیگیوں کی توہین اورغیظ وغضب کا نشانہ بنی تھی۔جو مسلم لیگی پہلے ہندوستان میں سیاست کے نام پر جمعیت علماء ہند کی توہین کرتے تھے انہوں نے بعد میں اشتراکیت کا لبادہ اوڑھ کر ان علماء کو غیظ وغضب کا نشانہ بنایا تھا۔
برصغیر پاک وہند میں اشتراکیت بھی جعل سازی تھی، مسلم لیگ بھی جعلی تھی اور اسلام بھی جعلی تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی جاہلانہ سبق دیا تھا کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
کافر ہے تو تسخیر پہ کرتا ہے بھروسہ مؤمن ہے تو غلامی پہ بھی کرتا ہے گزارہ
واعدوا لھم مااستطعتم من قوة ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ وعدوکم ”اور ان کیلئے تیاری کروجتنی تم سے ہوسکے ،قوت سے اور گھوڑوں کے اصطبل سے تاکہ تم اللہ کے اور اپنے دشمن پررعب ڈال سکو”۔
امریکہ نے نہرو کو دعوت دی تو لیاقت علی خان نے روس سے کہا کہ مجھے دعوت نامہ بھیجو، روس نے دعوت دی تو امریکہ نے بھی دعوت دی ۔ قائدملت نے روس کو چھوڑ کر امریکی دعوت قبول کی۔ امریکہ نے جہاز بھیجا۔ قائدملت نے14دن امریکہ میں مکمل کرنے کے بعد کہا کہ15دن مزید جہاز میں امریکہ کی سیر کروں۔ پھر15دن کینیڈا کیلئے مانگ لئے۔ پھر برطانیہ کی اجازت مانگ لی۔ ڈھائی ماہ بعد وطن واپس پہنچا تو ایوب خان کو چند دِنوں میںمیجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آرمی چیف لگادیا۔ہماری سیاسی قیادت، فوجی قیادت،مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں کے کرتوت کی لمبی فہرست پہلے کتابوں میں تھی اور اب ویڈیو ز کے ذریعے ان پڑھ لوگ بھی سمجھ سکتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن اسلامی بینکاری کے نام پراپنے نظرئیے سے منحرف ہوگئے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالستار خان نیازی، خورشید وارثی اور ڈاکٹر طاہرالقادری، ملی یکجہتی کونسل ”اتحادِ امت” کے فارمولے پیش کرتے رہے ہیں لیکن امت کوانتشار سے نہیں بچایا جاسکا اور آخر میں مولانا اسعد نے مولانا الیاس گھمن کے پاس چل کر اتحادکی کوشش کی تھی لیکن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیصلہ ہفت مسئلہ سے بھی دیوبندی فرارکے راستے پر گامزن رہے ۔ اب ہم انشاء اللہ ایک جماعتی شکل میں تمام مسائل کے حل کا آغاز کریں گے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

__اتحاد، اتفاق اور وحدت ملت اسلامیہ__

جب یہ ہمارے پیش نظر ہو کہ ہم نے پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلاف اور شدت کو کم کرنا ہے تو اس کیلئے افغانستان، ایران ،سعودی عرب اور ترکی کے

 

علاوہ تمام اسلامی ممالک کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اور غیر مسلم ممالک ہندوستان، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے مسلمانوں کو بھی مدِ نظر رکھنا

 

ہوگا بلکہ تمام دنیا کی انسانیت بھی ہم نظ

 

ر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی بنیاد پر تعصبات کو زندہ کریںگے تو مقابلے میں ہندو، سکھ، بدھ مت ، عیسائی، یہودی اور پارسی سب مذاہب کے جذبات کواپنے خلاف بھڑکائیںگے، اسلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے باطل معبودوں کو بھی برا بھلا نہیں کہیںاور نہیںتو ہمارے معبودبرحق کو بھی برا بھلا کہا جائے گا۔
قرآن کریم اور رسول اللہ ۖ سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی رہبر اور رہنما نہیں ہوسکتا ہے۔ غزوہ بدر بڑا معرکہ تھا جس میں313مسلمانوں نے1000دشمنوں کو شکست دی۔ آج یونین کونسل، ضلع کونسل، تحصیل، ضلع، ڈویژن ، صوبہ اور پاکستان کی سطح پر313باکردار اور اچھے لوگوں کے ذریعے ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کتاب ” اک عالم ہے ثناء خواں آپ کا” میں غیرمسلموں کے تأثرات دئیے گئے جس میں نبیۖ کو ایسی خراج عقیدت پیش کی گئی کہ اس تعریف سے ہی اس دنیا میںایک بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔ جب افہام وتفہیم کی فضاء پیدا ہوجائے گی تو حق وباطل ، روشنی و اندھیرے ، علم وجہالت، بینا واندھے اور حق کیلئے کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے والے میں خود بخود فرق وامتیاز قائم ہوگا۔ اندھیرے کو لاٹھی سے نہیں روشنی سے شکست دینے کی سخت ضرورت ہے۔ غزوہ بدر ایک حادثہ تھا جو قدرت کی طرف سے اللہ نے مسلمانوں کے ارادے کے بغیر تشکیل دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے کہا جاتا ہے کہ ”آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا لیکن اپنی مظلوم قوم کے نامراد شخص کی شکایت پر حزب مخالف کے ایک شخص کو مکا رسید کردیا جس سے وہ قتل ہوا۔ پھر اپنی قوم کے اس نامراد شخص کے شرارتی ہونے کا بھی ادراک ہوگیا اور مخالف قوم کے ایک اچھے شخص نے انتقام سے بچنے میں اطلاع کے ذریعے مدد بھی فراہم کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مذہب، قوم، کردار اور کسی بھی طرح سے شناخت کئے بغیر دو خواتین کو دیکھا کہ اپنے جانور کو پانی پلانے کیلئے انتظار میں کھڑی ہیں۔ آپ نے ان کی مدد کرتے ہوئے ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر انہوں نے اپنے نبی والد کو خبر کردی اور انہوں نے ایک بیٹی سے شادی کے عوض کچھ سالوں تک خدمت لینے کا معاملہ طے کیا۔ یہ اس دور کی روایات تھیں اور ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پناہ کی بھی ضرورت تھی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی گود میں پالا اور اس میں فرعون کی بیگم کا بنیادی کردار تھا۔ دوسری مرتبہ ایک پیغمبر کی بیٹی کا بنیادی کردار تھا۔ پھر اللہ نے فرعون کے سامنے کھڑا کیا تو اپنے بھائی ہارون کو بھی مددگار بنانے کا عرض کیا۔ جب اللہ نے فرعون سے بنی اسرائیل کو نجات دیدی تو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی سامری کے ورغلانے سے بچھڑے کو پوجنے لگے۔ پھر اس معاملہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں اور داڑھی سے بھی پکڑ لیا تھا۔
آج ہماری حیثیت اور ہمارا کردار کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر حضرت موسیٰ و ہارون علیھماالسلام کی طرح ایک کے ہاتھ دوسرے کے سرکے بالوں اور داڑھی میں الجھے ہوئے ہیں اور ہندو قوم نے کسی نبی کی صحبت بھی نہیں پائی ہے اور وہ شرک میں مبتلاء ہے تو ہمیں اپنی حالت پر اور ہندوؤں پر غصہ کھانے کی جگہ رحم کرنا چاہیے۔ قرآن ہماری زبان میں نہیں ہے۔ جب شاہ ولی اللہ نے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو آپ کو اپنے عقیدتمندوں کے ہاتھوں برسوں روپوش رہنا پڑا،اسلئے کہ وہ اس جرم کی پاداش میں قتل کرنا چاہتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ شاہ ولی اللہ سے پہلے حضرت ملاجیون کی کتاب ” نورالانوار” درس نظامی کا حصہ تھی۔ جس میں یہ پڑھایا جاتاہے کہ ”امام ابوحنیفہ کے نزدیک فارسی میں نماز پڑھنا صرف جائز نہیں بلکہ بہتر بھی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ قرآن کی قرأت میں جو سجاوٹ ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب ہے”۔
حالانکہ امام ابوحنیفہ کے قول کی اس سے بہتر توجیہ یہ تھی کہ ” اللہ نے قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا یہاں تک کہ تم سمجھو کہ جو کہہ رہے ہو۔ توپھر عربی میں نماز کو سمجھے بغیر پڑھنا نشے کی طرح نہ سمجھنے کے مترادف ہے”۔ ہماری مذہبی زباںعربی، سرکاری انگریزی اور قومی اردو ہے جس کی وجہ سے مہاجر،پشتون،بلوچ، پنجابی، سرائیکی اور سندھی عوام کی اکثریت سمجھ بوجھ ، علم وشعور اور معروضی حالات اور بین الاقوامی حقائق سے محروم ہیں ۔ تعصبات کی وکالت نے اندھیروں پر اندھیرے میں اضافہ کردیا ہے۔

__ قرآن وسنت کے منشورکے چیدہ نکات__


1: سچ اور سیدھی بات کرنا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان ولو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کیساتھ ہوجاؤ”۔ اور فرمایا ”اور کہو سیدھی بات ،تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے”۔ معاشرے میں کسی بات پر اچھائی اور برائی کا اجتماعی تجزیہ کیا جائے گا اور اتفاق رائے سے اس پر فیصلہ کرکے عوام میں تشہیر کی جائے گی ۔تاکہ شہر اور علاقہ سے لیکر ملکی اوربین الاقوامی سطح تک اچھا ماحول بن جائے۔
2: پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی واضح ہے لیکن معاشرے میں اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ جب قرآن کے احکام کی ایسی تشریح وتفسیر کی جائے کہ سب کیلئے قابلِ قبول ہو تو اس کو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بھی بنایا جائے گا تاکہ ہمارے ریاستی ادارے اور عوام علم و عمل کا پاکستان کو گہوارہ بنائیں۔
3: سورة العصر میں ایمان و عمل صالح کے بعد تلقین حق کیساتھ خسارے سے بچنے کیلئے تلقین صبر کابھی ذکر ہے۔ حق گوئی کا علم بلند کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈوں کا جواب جھوٹ سے نہیں دیں بلکہ صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں۔ اگر غلطی کا احساس ہو تو ڈھیٹ نہ بنیں بلکہ حق کیلئے رجوع کریں۔
4: اپنا مؤقف احسن طریقے سے پیش کریں مگر کسی پر مسلط نہ ہوں۔ جبر وزبردستی، جہالت وہٹ دھرمی، تعصبات ورنجش اورغیرمعیاری اخلاق واقدار کے ماحول کو دلیل وبرہان سے شکست دیں۔ توقع رکھیں کہ یہ منشور ایسا ہو کہ جانی دشمن بھی گرم جوش دوست بن جائے۔ رسول اللہ ۖ کے قتل کیلئے تلوار لیکر آنے والے حضرت عمر نے اعلانیہ آذان دی اور ہجرت کے وقت دشمن سرداروں کے دروازوں پر دستک دی تھی۔
5: کسی اختلافی مسئلے کا حل پہلے قرآن میں تلاش کریں اسلئے کہ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ جب امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع ہوجائے گا تو بہت سارے قدیم اور جدید مسائل کا حل مختلف فرقوں کے عوام وخواص کے سامنے آجائے گا اور اختلافات کی فضاء ختم ہونے میں دیر نہ لگے گی۔
6:احادیث اور سنت پر امت کے مختلف فرقوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سب اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے نظرثانی کی گنجائش رکھیں۔ جب دوسرے کیلئے ڈھٹائی اور اپنے اندر لچک کی گنجائش رکھیں گے تو ماحول میں بہتری آئے گی۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے امام ابوحنیفہ سے رفع الیدین کے مسئلے پر اپنے اختلاف کی گنجائش رکھی لیکن دونوں کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے سرحد پر جہاد کرنے کا فرض اداکیا ۔امام ابوحنیفہ نے جابر سلطانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا افضل جہاد کیا ۔اور فضیل بن عیاض نے ڈکیتی سے توبہ کرکے اپنے نفس کے ساتھ جہاد اکبر سے اپنی اصلاح کا فرض ادا کیا۔
7:حضرت مولانا محمد الیاس نے تبلیغی جماعت سے امت مسلمہ میں ایک چلتا پھرتامدرسہ، خانقاہ اور دعوت واصلاح کا عظیم کام شروع کیا تھا جس نے پوری دنیا میں اسلام کے کلمۂ توحید ورسالت اور ختم نبوت کا پیغام پھیلانے میں سب سے زیادہ ممتاز خدمات انجام دیں۔ پھر اس جماعت پر دیوبندی مسلک کی چھاپ لگ گئی ۔ اب بریلوی مسلک نے دعوت اسلامی اور اہلحدیث نے بھی اس طرز پر اپنی اپنی جماعتیں بنائی ہیں اور اتفاق سے بریلوی مسلک کے بانی کا نام مولانا الیاس قادری اور اہلحدیث کا نام مولانا الیاس سلفی ہے۔ تبلیغی جماعت اپنے مرکز بستی نظام الدین اور رائے ونڈ میں امارت اور شوریٰ کے نام پر تقسیم ہوچکی ہے۔
8: کانیگرم اور ٹانک کے مشہور تبلیغی سیدعالم شاہ سے میں نے پوچھا کہ ”تبلیغی جماعت والے لاالہ الا اللہ کا یہ مفہوم بتاتے ہیں کہ ” اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین….اگر کوئی شخص بیوی کو تین طلاق دے تواس کیلئے ایک راستہ حلالہ کرنا ہے اور دوسرا بیوی کو چھوڑ دیناہے دونوں میں سے اللہ کے کس حکم میں کامیابی ہے”۔ اس نے جواب دیا کہ ”دونوں صورت میں کامیابی نہیں ہے”۔ میں نے کہا کہ” یہ اللہ کا حکم نہیں غلط فتویٰ ہے”۔
9: اللہ نے عورت کو قرآن میں خلع کا حق دیا لیکن مولوی یہ نہیں مانتا۔ عدالت بھی عورت کو خلع کا حق دیتی ہے لیکن مولوی نہیں مانتا۔ جب مولوی کی شریعت اللہ کے قرآن اور عدالت کے انسانی حقو ق کے منافی ہو تو پوری دنیا میں کیسے چل سکتی ہے؟۔ جو پاکستان میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ قرآن وسنت میں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے احکام میں فرق ہے لیکن مولوی اس کو نہیں مانتا اسلئے پاکستان میں بھی مولوی ناکام ہے۔……
10: اسلام فطری دین ہے لیکن مولوی نے غیرفطری مسائل ایجاد کررکھے ہیں۔ جب علماء ومفتیان اپنی غلطی مان جائیںگے تومعاشرے، حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے آگے لوگ سرتسلیم خم کریںگے اور اس پر ہم نے بہت کام کیا ہے جس کی چند نظیریں ملاحظہ فرمائیں اور ہمارا ممبر بن کر ہماراساتھ دیں۔

__معاشرے سے حلالہ کی لعنت کا خاتمہ __
اللہ کے فضل سے ایک اسرائیل کو چھوڑ کر باقی دنیا کے سارے مشہور ممالک سے ہمارے پاس حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے فتوے آئے ہیں اور ہمارے ان فتوؤں کی وجہ سے ان کی جان ایک عذاب ، لعنت اور شرمندگی کے بڑے طوفان سے چھوٹ گئی ہے۔ فتوے کی تائید ہفت روزہ اخبارِ جہاں کراچی جنگ گروپ میں40سال تک حلالہ کے فتوے جاری کرنے والے مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی نے کی جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی کے شاگرد اور مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے مجاز ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان شریعت بینچ اورپاکستان شریعت کورٹ کے مشیر ہیں۔
بریلوی مکتب کے حضرت مولانا مفتی خالد حسن مجددی مدظلہ العالی گجرانوالہ نے بھی بھرپور کھلم کھلا تائید سے نوازا ہے اور درپردہ معروف مدارس کی تائیدات بیشمار ہیں جن میںجامعہ دارالعلوم کراچی کے بعض مفتیان عظام بھی شامل ہیں۔ اب رائے عامہ ہموار ہوگی تو شف شف کرنے والے شفتالو بھی بول دیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی تحریری تائید مل چکی ہے اور مثبت دو نشستیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس سے قبل مولانا محمد خان شیرانی جب چیئرمین تھے تو ان سے بھی بھرپور انداز میں بات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے ہتھیار بھی ڈال دئیے تھے کہ مجھے اس موضوع پر مہارت حاصل نہیں ہے۔
قرآن کی سورہ بقرہ آیات222سے232تک میں عورت کے حقوق کی زبردست وضاحت ہے لیکن علماء ومفتیان نے عورت کے حقوق غصب کئے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے تراجم اور تفاسیر میں بے بنیاد اورلامتناہی تضادات ہیں۔ قرآن نے اپنے اس مؤقف کی بھرپور وضاحت کی ہے کہ میاں بیوی کی صلح میں کسی صورت بھی اللہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ناراضگی اور طلاق کے بعد شوہر کو صلح واصلاح کے معروف طریقے کے بغیر رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جس سے تمام مذہبی طبقات کی غلطیاں آشکارا ہوتی ہیں کہ کوئی شوہر طلاق رجعی دے یا اس کی نیت کچھ ہو تویکطرفہ رجوع کا حق حاصل ہے۔ جس سے بہت سارے اختلافات اورگھمبیر تضادات نے جنم لیا ہے۔ مثلاً بہشتی زیور میں مسئلہ لکھا ہے کہ” اگر شوہر بیوی سے کہے کہ طلاق طلاق طلاق تو یہ تین طلاقیں ہیں اور اگر شوہر کی نیت ایک طلاقِ رجعی کی ہے تو پھر یہ ایک طلاق ہے، لیکن بیوی پھر بھی سمجھے کہ اس کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں”۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کا خاندان مولانا اشرف علی تھانوی کے علم کی بوسیدہ ہڈیوں کو نئی شکل دیکر بیچ رہاہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”طلاق طلاق طلاق” تو بہشتی زیور کے مطابق یہ ایک طلاقِ رجعی ہے اور اس کی بیوی سمجھے کہ یہ تین طلاق ہیں اور حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی تو اس کا حل کیا ہوگا؟۔ اسلئے کہ اصلاً بیگم صاحبہ محترمہ کو طلاق نہیں ہوئی ہے اور وہ کہیں سے حلالہ کروالے تو مفتی تقی عثمانی اور اس کی مذہبی ذرّیت پر کیا گزرے گی؟۔ مسلمانوں میں2020کے اندر مفتی محمد تقی عثمانی کا نمبر طاقتور شخصیات میں پہلے نمبر پر تھا اور2022میں پانچویں نمبر پر آگیا۔2023میں فہرست سے نکل جائے گا انشاء اللہ کیونکہ حلالے کی لگام ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی بیگم کا نام دینا مسئلہ پوچھنے کی حد تک بھی برا لگتا ہو تو مسلمان بہنوں ، بیٹیوں ، بیگمات اور ماؤں پر کیا گزرتی ہوگی؟۔ جب وہ حلالہ کی لعنت سے گزرتی ہوں گی؟۔
ہم مسلمان بہنوں کی عزتیں بچانے نکلے ہیں ۔ آؤ ہمارے ساتھ چلو۔

__قرآن وسنت سے حلالے کا غلط تصور__
آیت230البقرہ میں مروجہ حلالے کاکوئی تصور نہیں ہے۔ جب آیات228اور229البقرہ میں عدت کے اندر صلح واصلاح کے معروف طریقے سے اللہ نے رجوع کی بھرپور وضاحت کردی اور آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے معروف رجوع کی بھرپور وضاحت کردی تونعوذ باللہ کیا درمیان میں اللہ پر کوئی جن یا جنون طاری ہوگیا تھا ؟کہ اس طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔آیت230البقرہ۔ اس پر علماء ومفتیان نے کبھی غور نہیں کیا؟۔
وہ کونسی طلاق ہے جسکے بعد عورت سے اس کا سابقہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے؟۔ حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، اہل حدیث، جعفری اور پرویزی فرقوں نے اپنی اپنی فقہ وسمجھ کے مطابق اس کی کوئی نہ کوئی تشریح کی ہے لیکن کسی ایک صورت پر بھی امت کا آج تک اجماع نہ ہوسکا ہے اور نبیۖ کا فرمان سچ ہے کہ امت کا اجماع کسی گمراہی پر نہیںہوسکتاہے۔
مجھے یقین ہے کہ قرآن وسنت پر عنقریب نہ صرف امت کا اجماع ہوگا بلکہ پوری دنیا میں تمام مذاہب اور ممالک کے لوگ بھی ایک مضبوط معاشرتی خاندانی تعلقات کی بحالی کیلئے اپنے معاشرے اور ممالک میں اسکے نفاذ کیلئے نکلیں گے۔
قرآن نے عورت کاکوئی استحصال نہیں کیا بلکہ اس کو بھرپور تحفظ دیا ہے اور اس تحفظ میں سب سے بڑا بنیادی مسئلہ اس کو حلالے سے تحفظ دینا تھا۔ اس کو اپنے شوہر سے رجوع کیلئے تحفظ دینا تھا ۔ اس کو شوہر کے جبری رجوع سے تحفظ اور نجات فراہم کرنا تھا اور اسکے مالی حقوق کے تحفظ کی بھرپور ضمانت دینی تھی۔
قرآن نے سب کچھ عورت کو دے دیا لیکن مولوی نے پھر اس کو مذہبی فتویٰ دیکر اپنے اور معاشرتی مظالم کا شکار بنایا ہے۔ عورت نے نبیۖ سے مجادلہ کیا کہ میری پیٹھ کو میرے شوہر نے اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیکر ظہار کیا ہے جو دورِ جاہلیت کی سب سے سخت طلاق تھی۔ جس میں حلالہ سے بھی عورت حلال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ نبیۖ نے مروجہ مذہبی ماحول کے مطابق فتویٰ دیا تو اللہ نے اس عورت کی بات سن لی اور سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب میں رسم جاہلیت کی سخت ترید نازل کردی۔ ایک عورت مدرسہ سے فتویٰ طلب کرتی ہے کہ شوہر نے اکٹھی یا پہلے طہر پاکی کے ایام میں پہلی، دوسرے میں دوسری اور تیسرے مرحلہ میں تیسری مرتبہ طلاق دی ہے تو کیا وہ بغیر حلالہ کے رجوع کرسکتی ہے؟۔ جس کا جواب یہی ہونا چاہیے تھا کہ اللہ نے قرآن کی آیت228البقرہ میں فرمایا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوااصلاحًا ” اور ان کے شوہر اس مدت میں صلح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔یہ سوال مولوی سے پوچھنے کا نہیں ہے بلکہ قرآن فتویٰ دیتا ہے کہ عدت میں شوہر رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی فتویٰ سورہ طلاق آیت1اور سورہ بقرہ آیت229میں بھی ہے۔ لیکن اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور شوہر نے تین مرتبہ نہیں ایک مرتبہ بھی طلاق دی ہو اور شوہر فتویٰ پوچھنے کیلئے جائے کہ وہ رجوع کرسکتا ہے؟۔ تو قرآن کا فتویٰ یہ ہے کہ ” اس کو رجوع کا کوئی حق اب حاصل نہیں ہے۔ عورت عدت کی تکمیل کے بعد جہاں چاہے اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے”۔
جب قرآن کی واضح آیات کا فتویٰ فقہاء ومحدثین نے بالکل نظر انداز کردیا تو گمراہی میں اس طرح گردش کرنے لگے جیسے جھاڑی کاباریک ریشہ نما ایک پھول فضاء میں ہواؤں کے دوش پر اٹھتا ہے۔ جو ہمارے ہاں ”شیطان کا خصیہ” کہلاتاہے۔ ارشد شریف اور عمران خان کی میڈیاپر ”سپاری ” کی گردش ہے ،یہ وہ رقم ہے جو دہشت گرد تنظیم کو کسی شخص کے قتل کیلئے دی جائے۔ سپاری حشفہ یعنی ذکر کے ختنے کی جگہ سے باہر والے حصہ کو بھی کہتے ہیں ۔ سودی بینکاری ، حلالے کی لعنت اور سپاری وصول کرنے والے دہشت گردمیں وہی فرق ہے جوہماری بڑی کرپٹ اشرافیہ اور موبائل چھیننے کیلئے جان لیوا حملے کرنے والوں میں ہے۔

__ عورت کا اختیار چھین لینے کے نقصانات__
عورت معاشرے میں صنف نازک اور کمزور مخلوق ہے اور اللہ نے اس کی اس کمزوری کا فائدہ دیتے ہوئے اس کو وہ تحفظ فراہم کیا ہے جو عورت کے اپنے وہم وگمان ، سوچ وبچار اور فکر ودانش میں بھی ممکن نہیں ہے۔ جو عورت مرد کیساتھ برابری کا دعویٰ کرتی ہے تو اس کو مرد کی نظر یں گاڑنے، ہلکا پھلکا ہاتھ مارنے اور دبوچ کر زیادتی کا نشانہ بنانے پر کیوں غصہ آتا ہے ،جب برابری ہے تو بدلے میں عورت بھی وہی کچھ کرتی؟۔ عورت کو تحفظ دینے کی سخت ضرورت ہے۔
عورت شوہر کے نکاح میں جاتی ہے تو اس کو اللہ نے نہ صرف خلع کا اختیار دیا ہے بلکہ ساتھ میں مالی تحفظ کی ضمانت بھی دی ۔ جہاںالنساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق اورآیات20،21النساء میں شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے وہاں دونوں صورتوں میں عورت کو مالی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ خلع میں شوہر کی طرف سے ان دی ہوئی چیزوں کی ملکیت برقرار رکھنے کی وضاحت کی جو عورت اپنے ساتھ منتقل کرکے لے جاسکتی ہو یعنی منقولہ جائیداد۔ کپڑے، زیور، نقدی ، گاڑی وغیرہ۔ جب وزیرستان، افغانستان ، پشتونستان، پختونخواہ اوربلوچستان کی پشتون عورت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جتنا حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق طے ہوجائے اور جو شوہر نے اس کو اس کے علاوہ اضافی چیزیں دلائی ہوں توپھر جب عورت چاہے تو اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہو اور یہ آزادی قرآن وسنت میں خلع ہے تو پھر پشتون اور طالبان نہ صرف دنیا کے قہروغضب سے نکل جائیں گے بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں ہتھیار اُٹھائے بغیر بھی اسلام کی فتوحات کا جھنڈا بیت المقدس، ہندوستان کے لال قلعہ ، امریکہ کے وہائٹ ہاؤس، فرانس کے ایفل ٹاور ، دیوار چین و بیجنگ ،روس کے ماسکو اور دنیا بھر کے تمام معروف جگہوں پر لگادیںگے لیکن جب اپنی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو اسلامی حقوق اور آزادی دینے سے محروم ہوں گے تو پھر مختلف شکل میں مذہب، زبان، علاقہ، کلچر اور قومیت کے نام پر آزادی کی جنگ نہیں اغیار کی دلالی کریںگے۔
میرا ایک کزن تھا، پاگل خانے میں فوت ہوگیا، اس کی بیگم سوات کی تھی اور اس کا چھوٹا بچہ بھی تھا۔ بچہ جوان ہوا تو اس کی ماں اور ماموںکو لوگوں نے بتایا کہ تمہارے باپ کا مختصر خاندان تھا، حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے ختم ہوگیالیکن اس جوان نے کہا کہ اگر مجھے اپنے خاندان کا اتہ پتہ نہیں بتاؤ گے تو میں خود کشی کرلوں گا۔ پھر وہ پہنچ گیا۔ کانیگرم میں ہم اپنے گھر بیچ چکے ہیں۔ جوان نے شوق کی وجہ سے کانیگرم دیکھنے کیلئے وزیرستان کا سفر کیا۔ نابلد ہونے کی وجہ سے شام کو مکین کے شہر میں پھنس گیا۔ ایک محسود نے پوچھا اور اپنی دکان کھول کر اس میں سلادیا۔ جوان نے دوسرے دن شوال دیکھنے کی بھی ٹھان لی۔ راستے میں واپسی پر گاڑی خراب ہوئی۔ پھر کانیگرم پہنچا۔ ایک دن ایک محسود مہمان کو موٹر سائیکل پر پہنچانے گیا۔ راستے میں واپسی پر موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوا۔ طالبان بھی نظر آئے جو پملفٹ پھینک رہے تھے کہ ”اگر عورت کی قیمت اتنی رقم سے زیادہ لی تو اس پر ہم ایکشن لیں گے”۔ طالبان بیچارے اخلاص کیساتھ محسود قوم کو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اسلام اور پشتو کی طرف کھینچ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں اسلام تو بہت دور کی بات ہے اخلاقی اور قبائلی اقدار بھی کھورہے ہیں۔
منظور پشتین نے بھی اعلان کیا تھا کہ اپنی بہن بیٹیوں پر قیمت وصول مت کرو لیکن جب تک قرآن و سنت کے احکام کو تفصیل سے سمجھ کر معاشرے کے سامنے علماء کرام متفقہ طور پر نہیں رکھیں گے تو غلط رسم و رواج سے نہیں نکل سکتے۔ قرآن کے احکام ایسی روشنی ہے جو گھپ اندھیروں کو خود بخود ختم کردیتا ہے۔

__این جی اوز بھی طالبا ن کی حامی ہیں؟__
وزیرستان محسود ایریا میں جو طالبان افغانستان سے واپس آئے ہوئے ہیں وہ اپنے علاقہ میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کیلئے کچھ ایسے اقدامات کرنے پر لگے ہوئے تھے کہ عوام میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرلیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا صالح قریشی نے بھی کہا کہ ”یہ وطن کے بچے ہیں اور ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ امن وامان کی ذمہ داری ریاست کی ہے”۔PTMکے رہنما شہزاد وزیر نے بھی شوال میں تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ” یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنوں کے جنازے نہیں اٹھا چکا ہو۔ ہمارے طالبان نے افغانستان کیلئے قربانی دی مگر کسی نے وہاں ان کو چوکیداری کی نوکری بھی نہیں دی۔ پنجاب بھی ہمارے ان بھائیوں کو قبول نہیں کرتا ہے۔ ہماری اتنی گزارش ہے کہ پھر ہمارے ہی خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی غلطی نہیں کریں۔ عوام سے اپیل ہے کہ اگر تمہیں فوج یا طالبان اٹھاکر لے جائیں تو ہم تمہارے آگے کھڑے ہوںگے۔ جس نے جرم کیا ہوگا تو ہم کہیںگے کہ اس کو ڈبل سزادو۔جرم نہیں کیا ہوگا تو دھرنہ دے کر ہم تمہارے ساتھ اس وقت تک بیٹھ جائیںگے جب تک اس کو چھوڑ نہ دیں”۔
شمالی وزیرستان میں ایک وزیر44سال بعد اپنے وطن لوٹ آیا ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر مجھے یہاں عورت شادی کیلئے کوئی دے تو میں واپس نہیں جاؤں گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بہت سارے پختون جوان ہیں جو اسلئے شادی سے محروم ہیں کہ لڑکیوں کے باپ بہت زیادہ پیسے مانگتے ہیں۔10سے20لاکھ تک رقم حق مہر کے نام پر لی جاتی ہے جو اس عورت کی اپنی قیمت ہوتی ہے اورحق مہر اس کا باپ اور بھائی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان خواتین کو اس ظلم وجبر سے چھڑانے کیلئے کم حق مہر کے مطالبے کا اعلان کریں تو علماء اور این جی اوزکو طالبان کی حمایت کرنا پڑے گی۔ جس پشتون معاشرے میں سسر اپنی بیٹی اور اپنے داماد کے درمیان شادی کی راہ میں اسلئے رکاوٹ ہو کہ اس کو لاکھوں کابھتہ چاہیے تو اس کو انگریز ، پنجاب کی فوج اور طالبان کی غلامی سے چھڑانے کے بجائے پہلے اپنی بے غیرتی کے خلاف ہی جنگ کرنا چاہیے۔ ہمارا عالم منبر پر بیٹھ کر خوشی سے نہال ہے کہ ملائشیاء کے تعلیمی نصاب میں خان عبدالغفار خان کو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کا عظیم لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریز اور اس کی باقیات کے خلاف خان عبدالغفار خان اور خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی ان کو آزادی کا عظیم ہیرو سمجھتے ہیں مگر پشتونوں کواپنی بے غیرتی کے دلدل سے نکالنے میں ان کا کیا کردار ہے؟۔
علماء ومفتیان کا کیا کردار ہے؟۔0+0=0۔اسلئے پشتون نوجوان اپنی اپنی مذہبی اور قوم پرست قیادت سے بغاوت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ منظور احمدپشتین ایک اچھا ، مخلص اور مضبوط اعصاب کا مالک نوجوان ہے۔ محسود قوم کی خوبیاں اس میں بالکل موجود ہیں۔ محسود قوم کی خوبیاں دنیا بھر میں کسی دوسری قوم میں موجود ہوتیں تو مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ اللہ نے اسی قوم میں مجھے پیدا کرنا تھا۔ میں علامہ اقبال کی طرح اپنی کم بختی کا اظہار نہیں کروں گا کہ ”اس قوم میں مجھے پیدا کیا ہے جس قوم کے ا فراد غلامی پر رضامند ہیں”۔ دنیا کی نمبر1ہماری ایجنسیISIبھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے غلاموں کا سہارا لیتی ہے۔
منظور پشتین حصار تنگ محسوس کرکے کہتا ہے کہ ہم پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے حقوق مانگتے ہیں اور جوش وخروش کا جم غفیر دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ ”ہم اپنی عدالتیں لگائیںگے اور میں فوجیوں کو سزا دوں گا”۔ جب طالبان نے وزیرستان میں اپنی عدالتیں لگائی تھیں تو اس وقت ریاست پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ طالبان کے آگے محسود قوم نے ہتھیار ڈال دئیے۔ اگر مسلح فوج ان کی جان نہ چھڑاتی تو ازبک ومحسود طالبان کیا سلوک کرتے؟۔ جس دن ہماری قوم نے جاہلیت کے خلاف شعور کا علم بلند کرنا شروع کیا تو انقلاب آئے گا۔

__قرآن کے نام پر ریکارڈدھوکہ بازی __
خیرالمدارس ملتان میں ایک ایرانی بلوچ طالب علم پڑھتا تھا اور اس کا ایک پٹھان دوست مولانا اجمل موسیٰ خیل کا تعلق جمعیت علماء اسلام ملتان سے تھا اور حسین آگاہی ملتان میں ہمارا اور جمعیت علماء اسلام کا دفتر قریب قریب تھے۔ جب ہمارے ہاں مولانا فضل الرحمن کا جلسہ تھا اور قاضی فضل اللہMNAساتھ آئے تھے جو اب امریکہ میں ہیں۔ مولوی اجمل اور ایرانی بلوچ میرے ساتھ گومل ٹانک گئے اور وہاں سے میں ان کو وانا جنوبی وزیرستان کی سیر کرانے بھی لے گیا۔ مولانا نور محمد صاحب شہید سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائل40ایف سی آر کی وجہ سے بدترین غلام ہیں۔ آپ لوگ بلوچستان سے انقلاب کا آغاز کریں وہاں سے کامیابی بھی ملے گی۔ پھر منظور پشتین کے علاقہ میں مولانا نور محمدMNAاور مولانا اکرم اعوان کیساتھ مجھے سردار امان الدین شہید نے عزت بخشی تھی۔ مولانا اکرم اعوان نے کہا تھا کہ ”انقلاب کیلئے وزیرستان کی سرزمین اور لوگوں کو خدا نے ایسا رکھا ہے جیسے کسان اچھی نسل کیلئے بہترین گندم محفوظ رکھتے ہیں”۔ میرا مدعا یہ تھا کہ” اسلام کا آغاز اپنی ذات، اپنے ماحول اور اپنے غلط قانون ورواج کے خلاف آواز اٹھانے اورعمل کرنے سے ہوگا”۔
1991ء میں کانیگرم شہر کے مولوی محمد زمان نے مجھ سے پہلی مرتبہ بات کی اور شریعت کے نفاذ کیلئے حدود کے اجراء پر اتفاق کیا تو میں نے کہا کہ” اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ بیٹی کی قیمت3لاکھ ہو یا70ہزار۔ جتنی بھی ہومگر یہ عورت کا اپنا حق ہوگا۔ باپ اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا ہے”۔ اس نے کہا کہ” یہ تو بہت مشکل ہے”۔ میں نے کہا کہ اپنی بیٹی کو اس کا اپنا شرعی حق دینا مشکل ہے تو دوسروں پر سنگسار کرنے ،ہاتھ کاٹنے اور کوڑے کی سزائیں دینے کا جواز کس طرح بن سکتا ہے؟۔ آج پھر طالبان وہاں پر کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایرانی بلوچ بعد میں دارالعلوم کراچی سے دستار فضلیت باندھ کر اپنے وطن گیا۔ میری خواہش تھی کہ کسی طرح ان سے رابطہ ہوجائے۔ اخبار پر میرا نام دیکھ کر رابطہ کیا۔ دوسرے دن میں کراچی پہنچ گیا۔ اس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک امام مسجد نے کسی عورت کا حلالہ کیا۔ پھر کچھ دن بعد اس عورت سے سامنا ہو ا اور پوچھا کہ مزہ آیا تھا ؟، عورت نے کہا کہ نہیں!۔ اس نے کہا کہ پھر حلال نہیں ہوئی اور دوبارہ مباشرت کی اور پوچھا کہ اب مزہ آیا تو عورت نے کہا ہاں!۔ اس نے کہا کہ اب حلال ہوگئی۔ وہ ایرانی بلوچ پھر ہماری کتابوں کو ایران بھی لے گیا۔
جب مولوی کہتا ہے کہ جب تک اپنی بیگم کا حلالہ نہیں کروالوگے تواس کے قریب نہیں جاسکتے ہو اور مولوی کا فتویٰ معاشرہ مان لیتا ہے تو پھر اسلام کے نام پر مسلمان قوم سے کیا نہیں منوایا جاسکتا ہے؟۔ اسلام کے نام پر مسلمان قوم کو بے غیرت بنادیا گیا عورت کے حقوق سلب کردئیے گئے ہیں۔ عورت کا اختیارسلب کیا گیا ہے۔ عورت وہ ماں ہے جس کے پیروں کے نیچے جنت ہے جب انسان اپنے وطن سے زیادہ محبت کرتا ہے تو دھرتی کو اپنی ماں قرار دیتا ہے حالانکہ جس دھرتی کو ہند کا ہندو اپنی ماںقرار دیتا ہے تو اس دھرتی سے ہمارا مہاجر مسلمان بھائی ہجرت کرکے ہمارے وطن میں آیا ہے۔ اس ماں دھرتی کو قائداعظم محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی خان دونوں نے چھوڑ دیا تھا اور پھر اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں ان لوگوں کو کافر اور غدار قرار دیا جو دھرتی کیلئے سرحدی گاندھی اور بلوچی گاندھی بن کر انگریز سے لڑے۔ جو ہندؤوں سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے تو پنجابیوں سے کیوں کرتے؟۔ لیکن مولوی اسلامی نظام کو بھول گئے اور قوم پرست خاندان اپنے آباء واجداد کی سیاست بھول گئے ۔

__ قوم پرستی، طالبان پرستی ، نفرت پرستی__
جبPTMنے قوم پرستوں کو یقین دلایا کہ الیکشن میں حصہ نہیں لیںگے تو جن کی الیکشن لڑنے کی اوقات تھی تو انہوں نے الیکشن لڑا اور 3لیڈروں میں سے وزیرستان کے محسن داوڑ اور علی وزیرMNAبن گئے۔ ان کوPTMسے باہر کردیا جاتا تو تثلیث کا حامل منظور پشتین صلیب پر نہیں چڑھتا۔محسن داوڑ نے الگ پارٹی بنالی اور علی وزیر آزاد حیثیت سے اب تکPTMکاMNAہے۔ اور محمودخان اچکزئی سے اس نتیجے میں اپنے کارکنوں نے الگ پارٹی بنالی ہے۔
ہماری کوشش ہوگی کہ پارلیمنٹ میں313افراد ہمارے منشور کے ہوں اور قومی اسمبلی کی باقی نشستوں پر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں لائیں تاکہ باہمی مشاورت کی قانون سازی سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔ مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی ، حافظ سعد رضوی، نوازشریف، مریم نواز ، عمران خان، شیخ رشید ، اعجاز الحق، محسن داوڑ، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق ، شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، مولابخش چانڈیو ، اختر مینگل، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اورجماعت اسلامی کے سراج الحق چاروں صوبوں کی تمام جماعتوں کے نامور سیاستدان پارلیمنٹ میں تشریف فرماہوں اور دنیا بھر سے تمام مکاتبِ فکر سے قرآن وسنت کے ماہرین کو تشریف آوری کا موقع دیں اور اسلامی قانون سازی سے انقلاب کا آغاز کردیں۔
اسلام نے مذہب اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرت کی گنجائش نہیں رکھی ہے لیکن علماء قرآن کی طرف دیکھتے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مجوسی، یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کی مساجد کو ایک آیت میں بیان کرکے نہ صرف ان کا تحفظ یقینی بنانے کا عندیہ دیا ہے بلکہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے یاد کرنے کا بھی ذکر واضح کیا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدترین گستاخ تھے لیکن اللہ نے یہودی خاتون سے شادی کرکے اپنے بچوں کی ماں بنانے کی عزت کا مستحق قرار دیا ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تین خداؤں میں سے ایک تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیںاور عیسائی خاتون سے بھی اسلام نے شادی کی اجازت دیکر اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانے کا شرف بخشا ہے۔ یہود ونصاریٰ اسلام دشمنی میں سب سے آگے تھے لیکن اسلام نے اہل کتاب کی اپنائیت سے نواز دیا ۔ قرآن کہتا ہے۔ ان الذین اٰمنوا والذین ہٰدوا والنصٰریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون O” بیشک جو لوگ ایمان والے ہیںاور جو یہودی ونصاریٰ اور صابئین ہیں۔ جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔
سورہ بقرہ آیت62میں اللہ نے مسلمان کوفراخ دل، روشن دماغ اوروسیع الظرف بنایا ہے تو کیا کسی اورمذہب میں اس کی مثال ملتی ہے؟۔مسلمان نے اپنی یہودی وعیسائی بیگم اور اپنے بچوں کے درمیان عقیدے کی بنیادپر نفرت کا ماحول پیدا نہیں کرنا ہے۔ قرآن نے کوئی ایسی تعلیم نہیں دی ہے کہ مسلمانوں کے اندر عقائد کی بنیاد پر تعصبات کا ماحول پیدا کیا جائے اور یہ امید دلائی جائے کہ وہ کچھ بھی اچھا نہ کریں تو جنت میں جائیںگے اور دوسرے کتنے بھی اچھا کریں تو جہنم میں جائیں گے۔ یہودونصاریٰ اور علم سے عاری لوگوں کے ایسے تعصبات کو قرآن میںمحض خوش گمانیاں قرار دیا گیا ہے۔ افسوس کہ آج مسلمان بھی ان کی راہوں پر چل نکلے ہیں۔اسلام نسل، رنگ، قومیت، زبان اور علاقائیت کی بنیاد پر تفریق اور نفرت کا روادار نہیں بلکہ صرف کردار کو اہم ترین معیار قرار دیتا ہے۔
پختون ، بلوچ، سندھی اور مہاجر سے زیادہ قابل رحم حالت اس مظلوم پنجابی قوم کی ہے جس کے پاس عدالت، سمگلنگ، تعلیم، صحت، پنچائیت، روزگار، علم و شعور، سیاست، آزادی اور دنیا کی کوئی نعمت نہیں ہے۔ پسماندہ ، مظلوم، بے بس، بے توقیر، پساہوا ، غریب اور انتہائی بدترین حالات میں زندگی گزارتا ہے۔

__ احمق ملاؤں کی کچھ غیر معیاری حماقتیں__
فقہی مسئلہ ہے جس کو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب”حیلہ ناجزہ” میں نقل کیا ہے کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں اور پھر مکر گیا تو بیوی دو گواہ پیش کرے۔ اگر دو گواہ نہیں اور شوہر قسم کھالے تو عورت ہر قیمت پر خلع لے لیکن اگر شوہر خلع نہ دے تو پھروہ نکاح میں رہنے اور حرامکاری پر مجبور ہوگی”۔
آج یہ فتویٰ بریلوی دیوبندی مدارس میں رائج ہے۔ پشتون، پنجابی، سندھی، مہاجر اور بلوچ کا باپ آزادی حاصل نہیں کرسکتا، جب تک مولوی کا فتویٰ مسترد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔PDMمیں جمعیت علماء اسلام کے رہنما اسلم رئیسانی اور مسلم لیگ ن کے رہنما لشکری رئیسانی نیشنل ڈائیلاگ میں مصطفی نواز کھوکھر، شاہد خاقان عباسی اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطاء الرحمن سے پوچھ لیں۔ محترمہ مریم نواز اور محترم مولانا فضل الرحمن کو بھی مدعو کریں تاکہ عوام الناس جان سکیںکہ آئین پاکستان اب تک اسلامی دفعات سے کیوں محروم ہے؟۔
سورہ ٔ النساء آیت19میں عورت کو خلع اور مالی تحفظ کا حق ہے لیکن احمق علماء نے واضح الفاظ اور ترجمہ کے منافی اس کی غلط تفسیر کی ہے اورآیت229البقرہ سے خلع مراد لیا ہے جو انتہائی درجے کا گدھا پن ہے۔ اللہ نے مرحلہ وار تیسری مرتبہ طلاق کے بعد واضح کیاہے کہ ”تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہیںرہ سکیںگے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو پھر وہ دی ہوئی چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں”۔ آیت229البقرہ۔ اس سے خلع مراد لینا بہت بڑی حماقت ہے اسلئے اللہ نے دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری فیصلہ کن طلاق کے بعد فرمایا ہے کہ عورت کو جو چیزیں دی ہیں ان میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ البتہ آپس میں رابطے کا خدشہ ہو جس سے وہ جنسی تعلقات کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں تو پھر وہ چیز واپس فدیہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ نے طلاق میں عورت کو مالی تحفظ دیاہے اور احمق سیدمودودی نے خلع سے بلیک میلنگ کا ذریعہ قرار دیا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس آیت کے مفہوم اور ترجمہ کو مشکل ترین قرار دیا ہے لیکن مولانا مودوی نے ترجمہ میں خلع کی بات ڈال دی اور جماعت اسلامی نے بھی اصلاح کی بجائے ہٹ دھری کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔ اس میں طلاق کی وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی آئندہ رابطے کیلئے بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑ نا چاہتے ہوں اور اس میں اس رسم بد کا خاتمہ ہے کہ بیوی کو طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ منگنی توڑنے کے بعد بھی غیرت کا مسئلہ آج تک موجود ہے لیکن جب اللہ نے آیت230البقرہ سے پہلے آیات228،229میں عدت کے اندر اور اسکے بعد آیات231،232میں عدت کی تکمیل کے بعد صلح واصلاح اور معروف طریقے سے باہمی رضامندی کیساتھ رجوع کی اجازت دی ہے تو مروجہ حلالہ کی لعنت کو قرآن وسنت کے سر تھوپنا بھی نہ صرف بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ بہت بڑا گدھا پن اور ڈھینچو ڈھینچو بھی ہے۔
اللہ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں آدھا حق مہر فرض کردیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ عورت بھی رعایت کرسکتی ہے اور مرد بھی زیادہ دے سکتا ہے لیکن چونکہ طلاق کا قدم مرد اٹھارہاہے اسلئے جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے اسی کو رعایت لینی نہیں دینی چاہیے۔ ان الفاظ سے بات کا بتنگڑ بناکر مسئلہ نکالا گیا ہے کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کو خلع کا حق نہیں۔اور نسبت توعورت کی طرف بھی ہے ۔واخذن منکم میثاقًا غلیظًا ” اور انہوں نے تم سے پختہ عہدلیا”۔

__علماء ومفتیان سے دست بستہ اپیل__
ہمیں اس شیعہ سے بھی محبت ہے جو نماز، روزہ ، حج اور اسلام کے احکام سے ناواقف مولا علی کا نعرہ لگاتاہے۔ اپنے دادا کا نام ہندو اور سکھ کی زبان سے سنتے ہیں تو بھی ان سے محبت فطری ہے پھر آپ حضرات نے قرآن کے تلفظ ، عربی کی خدمت، اسلام کے احکام کو زندہ اور اس کیلئے نسل درنسل اتنی قربانیاں دی ہیں کہ اگرہندو، عیسائی، یہودی ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکاریہ قربانی دیتے تو آج اسلام سے زیادہ ان کا مذہب رائج ہوتا۔ اگر ہم اسلام کو چھوڑ کر نسل درنسل غیرمسلم کی فہرست بنیں تو بھی ہمارے نانا حضرت محمد خاتم الانبیاء و المرسلین ۖ کا کلمہ بلند کرنے کی وجہ سے آپ سے دلی محبت رکھنا ہماری فطرت کا تقاضہ ہے۔ تمہارا جو مسلک، فرقہ ، گروہ ، رنگ وروپ ہے ہم آپ سے دل و جان سے محبت رکھتے ہیں۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے کہاکہ اگر سید زنا کرے اور حد جاری کرنا پڑے تو یہ کہنا کہ ” پاؤں میں چبھا کانٹا نکال رہا ہوں”۔
البتہ اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے نہ صرف اسلام اور مسلمان بدنام ہیں بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل ہورہی ہے۔ جب کوئی مذہب اتنا مسخ ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ اصلاح کیلئے کسی نئے نبی کو مبعوث کردیتا تھا۔ نبیۖ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے حال میں ایک خاتون کی شکایت پر اعتراف کرلیا کہ ہم عورت کا حق بیان نہیں کرتے۔ حدیث میں واضح طور پر اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کی مخالفت ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی تبلیغ وترغیب نہیں ہوتی ہے۔
جب چھوٹی بچی کا نکاح جائز ہو اور اس پر فقہ میں بحث ہو کہ بالغ ہونے کے بعد وہ اختیار کی مالک بنتی ہے یا نہیں، تو یہ کتنی شرمناک بات ہے؟۔ اگرحضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت6سال اور رخصتی کے وقت9سال تھی تو پھر پاکستان میں16اور18سال سے کم عمر کی بچی پر کیوں پابندی ہے؟۔ کیا سنت پر پابندی لگانا آئین پاکستان میں جائز ہے؟۔ حضرت عائشہ سے نکاح کی تجویز خاتون نے پیش کی تھی اور اس وقت آپ کی بہن حضرت اسماء گھر میں موجودآپ سے 10سال عمر میں بڑی تھیں۔ کیا16سالہ کنواری بہن کی موجودگی میں6سالہ بچی کو ایک خاتون شادی کیلئے موزوں قرار دے سکتی تھی؟۔ اگر دوسری خاتون کی طرف سے رشتہ کی دعوت قبول نہ ہوتی تو حضرت عائشہ کیلئے اسی وقت رخصتی کا بھی فیصلہ ہونا تھا اسلئے کہ فوری ضرورت تھی۔ مارکیٹ میں کئی بڑے علماء ودانشور کتابیں لکھ کر ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمرنکاح کے وقت16سال اوررخصتی کے وقت19سال تھی جس پر زبردست دلائل دئیے ہیں مگر مذہبی طبقہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے ۔عورتوں اور بچیوں کو بیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپ و مغرب اس کی بڑی مارکیٹ ہے جس پرBBCکی رپورٹ بھی آچکی ہے۔ اس سے زیادہ بے غیرتی ، بھڑوا گیری اور دلالی کیا ہوسکتی ہے کہ اپنی بیٹی ، بہن کو نکاح کے نام پر پیسوں کے عوض بیچا جائے؟ اور اس سے زیادتی بے غیرتی یہ ہے کہ عورت سے نکاح کے نام پر جہیز بھی وصول کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک نے مذہب کے مسخ شدہ غلط افراط وتفریط سے تنگ آکر جمہوری بنیادوں پر نکاح و طلاق کیلئے قانون سازی کی ہے۔ اگر اسلام کے اصل احکام کو سامنے لایاجائے تووہ اسلام کے احکام قبول کرکے قانون سازی کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ ہماری پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بچپن کی شادی پر پابندی لگائی ہے اور اس کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا ہے اور عدالت نے مولوی کافتویٰ ردی کی ٹوکری میں ڈال کر عورت کو خلع کا حق دیا ہے تو حلالہ کی لعنت کو بھی ایک جرم قرار دیا جائے۔ بھوس اور پاپڑ سے بھرے ہوئے ہمارے سیاستدانوں اور ارباب اقتدار کے دماغ ودلوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ معاملہ سمجھ اور اس کا احساس کرسکیں اسلئے کہ معیشت بھی ڈبو دی ہے اور وسائل سے مالامال پاکستان کو موالیوں کی طرح بھکاری بنایا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میں انقلاب آئے گا! مولانا طارق جمیل اور مولانا فضل الرحمن دنیا میں کیسے ”حور” بن سکتے ہیں؟۔

پاکستان میں انقلاب آئے گا! مولانا طارق جمیل اور مولانا فضل الرحمن دنیا میں کیسے ”حور” بن سکتے ہیں؟۔

کرپٹ اشرافیہ سیاستدان، جرنیل، جج،صحافی، مفتی اور تمام خوشحال طبقہ بدحال ہوکر دنیا ہی میں ”حور” بن سکتا ہے؟

پاکستان میں تمام کرپٹ خانوادے انشاء اللہ عنقریب ”حور” بن جائیںگے اسلئے انہوں نے بڑے بڑے ہاتھ مارے اور غرباء کا خیال نہ رکھااور ملک وقوم کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا ہے

قرآن میں خوشحال لوگوں کے” حور”یعنی بدحال بننے کی نشاندہی ہے اور نبیۖ نے کور بننے کے بعد ”حور” بننے سے اللہ کی پناہ مانگی ۔ سورۂ رحمان، سورۂ واقعہ اور دیگر سورتوں میں ذکرہے!

فکرِشیخ الہند مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی ، تبلیغی جماعت اور دیوبند ی مدارس کرتے مگر یہ خود گروہ بندی کا شکار ہیں ۔ اپنے مفاد کا تحفظ نہیں بلکہ رجوع الی القرآن مسائل کاحل ہے۔

پاکستان کی اشرافیہ نےIMFاور جنگوں کے نام پر قرضوں اور امداد سے اپنا اُلو سیدھا کیا لیکن مزارعین، بھٹہ خشت مزدوروںاور غریب لوگوں کا کچھ خیال نہیں رکھا۔ ان کی زکوٰة ، خیرات اور صدقات بھی مذہبی طبقہ اور کئی سارے رفاعی اداروں کے مالکان کھا گئے۔ آنے والے رمضان میں سب لوگ اپنے اکاؤنٹ سے زکوٰة نکال کر غریبوں کے ہاتھ میں پہنچائیں جو بھوکے ننگے مررہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوںاور مذہبی مدارس کو بھی رحم نہیں آرہاہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو سیلاب متأثرین کی امداد میں کردار ادا کرنے پر ہم نے اپنے اخبار کے صفحہ اول میں بڑی جگہ دی تھی۔ کوئٹہ جلسہ میں اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجے گئے ٹینٹ سیلاب زدگان کو دینے کے بجائے چوتڑوں کے نیچے بچھائے گئے تھے”۔ حضرت عمر نے نبی ۖ سے کہا کہ ” ہمیں وصیت کی ضرورت نہیں ، ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔ حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ ” باغ فدک کی وصیت نہیں چلے گی اسلئے کہ انبیاء درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑتے”۔ ایک عام صحابی نے حضرت عمر سے کہا کہ ” پہلے یہ واضح کردو کہ آپ کا کرتہ کیسے بنا؟، جبکہ ہم اپنے حصے کے کپڑے سے کرتہ نہیں بناسکتے ہیں”۔ عوام کے پاس کرتہ نہیں ہوتا تھا تو اسلام نے حج وعمرے میں احرام کا حکم دیا تاکہ لوگ کرتہ وشلوار بنانے کی استعداد نہیں رکھتے ہوں تو امیر غریب کا ایک لباس ہو۔
مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام تمام مذہبی جماعتوں سے زیادہ تحمل اور برداشت رکھتی ہے لیکن کوئی اُٹھ کر سوال اٹھاتا کہ سیلاب زدگان کے ٹینٹ کا جلسہ گاہ میں کیا حق بنتا ہے؟۔ تو غریب کو ڈنڈوں سے مار کر شہید کرنے کا خطرہ ہوتا۔ پرویزمشرف ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کیلئے پاکستان کا صدر مملکت تھا۔ بے تاج بادشاہ نے طالبان کا خون کرکے پاکستان کو ڈالروں سے مالا مال کردیا تھا۔ کراچی سے چترال ، لاہور سے تربت وگوادر تک ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کئے تھے لیکن اس کا بیٹا سیدبلال فیکٹریوں، ملوں اوراداروں میں ملازمت کررہاہے۔ بیٹی آرکیٹیکٹ ملازمت کررہی ہے۔ جبکہ ہمارے مذہبی سیاسی خانوادوں کے صاحبزدگان اپنے ہاتھ کے کام اورکسی ملازمت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کے بچوں کی کمپنیوں کے ان کے باپ بھی جعلی ملازم بنتے ہیں۔ اقامہ پر نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا تو یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اسلئے نکال دیا۔” مجھے کیوں نکالا؟ ووٹ کو عزت دو”۔ جس نے نکال دیا تھا تو اسی کو بیرون ملک لندن میں بیٹھ کر کیو ں ایکسٹینشن دی تھی؟۔ جس پر کیپٹن صفدر نے بھی کہہ دیا کہ ”ہمیں اب ووٹ کو عزت دو ،کا کوئی حق نہیں ”۔
حامد میر نے انکشاف کیا کہ ”جنرل قمر جاوید باجوہ نے آخری وقت تک یہ کوشش کی کہ عمران خان کی حکومت قائم رہے ” اور جاوید چوہدری نے اس کے بالکل برعکس انکشاف کیا ہے تو پھر ان دونوں میں سے سچا اور جھوٹا کون ہے؟۔
مذہب ، فرقہ واریت اور سیاسی نفرتوں سے فائدہ کرپٹ عناصر ہی اٹھاتے ہیں اور صحافی بھی کسی نہ کسی کی وکالت کرکے اپنا دانہ حاصل کرتے ہیں مگر غریبوں کا پاکستان میں بیڑہ غرق ہے۔ مذہبی اور سیاسی نفرت کی جگہ محبت وشفقت سے افہام وتفہیم کی فضاء پیدا کرکے فکرو شعور اور احتساب کی سخت ضرورت ہے۔
فوج کے جرنیلوں اور ججوں کا آئین میں احتساب نہیں ۔ سیاسی لوگوں نے پارلیمنٹ کے ذریعے نیب کے قوانین ختم کردئیے ۔ پہلے بھی مولانا فضل الرحمن نے نیب کی طاقت کو چیلنج کرکے اپنے پاس اور پھر مریم نواز کے پاس بھی نہیں آنے دیا تھا۔ احتساب، کیس اور جیل صرف کمزوروں اور غریبوں کا مقدر ہے اور جنہوں نے ملک کو لوٹ کر کھالیا ہے وہ احتساب سے بالکل بالاتر ہیں۔
قرآن کی سورۂ رحمن میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں کیلئے دو جنت کا ذکر ہے۔ یہ دنیا کی دو جنتیں ہیں اسلئے کہ آخرت میں سب کیلئے ایک ہی جنت ہوگی ۔ بڑی جنت الفردوس یا چھوٹی جنت۔پھر اللہ نے فرمایا کہ ومن دونھما جنتان ” اور دو کے علاوہ دو جنت اور ہوںگے”۔ یہ بھی دنیا کے دو باغات ہوں گے۔ ایک طرح کے باغات سبقت لے جانے والوں کیلئے اور دوسری طرح کے باغات اصحاب الیمین کیلئے ہوں گے اور تیسری طرح والے مجرم ہوں گے جن کو اصحاب الشمال کہا گیا ہے۔ دو سمندروں کے بیچ میں برزخ یعنی آڑ کا ذکر ہے ،اسی طرح قرآن میں دنیا کے اندر جہنم کی سزا کا ذکر ہے۔ سورہ ٔ رحمن میں دنیاوی جہنم کا ذکر ہے کہ مجرموں کو سزا ملے گی۔ سورۂ واقعہ میں ہے کہ ”یہ گرم ہواؤں و گرمی میں ہوں گے اور سائے میں جو گرمی پہنچائے گا۔ جونہ ٹھنڈاہوگا اور نہ عزت والا ۔بیشک اس سے پہلے یہ خوشحال ہوں گے ۔ بیشک اس سے پہلے یہ بڑے بڑے ہاتھ مارنے (کروڑوں اوراربوں کی کرپشن پر) اصرار کرتے ہوں گے اور ان کا یہ ایمان نہ ہوگا کہ آخرت ہوگی اور سابقہ آباء سے ملاقات پر ان کو بڑا تعجب ہوگا ”۔ (سورہ واقعہ)
جب پاکستان غریبوں اور اچھے لوگوں کیلئے جنت بن جائے گا اور کرپشن کا راستہ رُک جائے گا تو کرپشن میں نہال خاندان انڈسٹریل ایریاکے فیکٹریوں اور ملوں میں اپنا پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کریںگے۔جب تک پاکستان میں یہ کرپشن کیلئے بڑے بڑے ہاتھ نہ ماریں تو بیرون ملک ان کا گزارہ نہیں ہوسکتا ۔ مریم نواز نے سچ کہا کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں لیکن جب دوبارہ اقتدار کی یاترا کرلی تو پھر بہت مال بنالیا اسلئے پاکستان آج لڑکھڑا رہاہے۔ان کے پاس2008سے2013تک پنجاب کی حکومت رہی۔مرکز میںIMFاور دنیا بھرسے2013تا2018تک اتنے قرضے لئے کہ عمران خان کوIMFمیں خودکشی کرنے کیلئے مجبوراً جانا پڑگیا تھا۔ ا ب حکومت نے بہت کم مدت میں پھر خزانہ ختم کرکے ملک کو تیزی سے دیوالیہ بنانے کی طرف پہنچادیا ہے۔
اللہ نے فرمایا : انہ ظن ان لن یحور ” بیشک وہ سمجھتا ہے کہ وہ حور نہیں بن سکتاہے”۔ اللہ نے خوشحال سے بدحال بنادیتاہے ۔ نبیۖ نے دعا مانگی تھی کہ ”اللہ کور کے بعد حور نہ بنائے”۔ بنوامیہ، بنوعباس، سلطنت عثمانیہ اور مغلوں کے خاندانوں کیساتھ تاریخ میں کیا ہوا تھا؟۔ یہ کم عبرت ہے؟۔
آج ہمارے سیاسی خانوادے، بعض کرپٹ جج اور جرنیل اور علماء ومفتیان سمجھتے ہیں کہ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ تنزلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت حاجی محمد عثمان کے خلفاء اور الائنس موٹرز کے مالدار مالکان پہلے غریب تھے اور پھر بہت دولت مند بن گئے اور پھر ان کے دن ایسے بدلے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ مولانا طارق جمیل ایک غریب مولوی تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں کبھی کبھی مسجد میں بیان کرنے آجاتا تھا۔ مولانا فضل الرحمن بسوں میں سفر کرتے تو بلانے والے کرایہ دیا کرتے تھے۔مولانا مفتی محمود کے ٹین کا دروازہ اور کچا مکان مشہور تھا کہ وزیراعلیٰ رہنے کے باوجود فقیرانہ زندگی کا شعار اپنائے ہوئے ہیں۔ جن نوابوں ، خانوں اور سرمایہ داروں کے مقابلے میں مفتی محمود اور پھر مولانا فضل الرحمن الیکشن لڑتے تھے آج وہ مولانا کے ساتھی ہیں اور مولانا ان سے زیادہ بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار کا روپ دھار چکے ہیں۔
عمران خان نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا لیکن جونہی پرانے حکمرانوں کی شکلیں اور کارکردگی دیکھ لی تو لوگوں میں نفرت کی آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ جاوید چوہدری جیسے صحافی نوازشریف کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔
جاوید چوہدری نے اپنے ایک تازہ ویلاگ میں کہا ہے کہ” اسلام آبادF9پارک کے واقعہ میں پشتو اسپیکنگ ملوث ہیں۔افغانستان اور پختونخواہ سے آنے والوں کی بڑی تعداد اسلام آباد کسی ایڈریس کے بغیر رہتے ہیں۔ اگر ان کو جیل میں ڈالا جائے تو وہ خوش ہوں گے کہ کھانا، رہائش اور پنکھا بھی مفت کا ملے گا۔ رپورٹ یہ ہے کہ5،6ماہ بعد ان لوگوں کے ہاتھوں اسلام آباد میں جینا دوبھر ہوجائے گا۔ کسی بھی معاشرے میں جرائم اس وقت ہوتے ہیں کہ جب ان کو سزا نہیں ملتی ۔ قصور کے زینب کیس میں مجرم کو پھانسی کی سزا مل گئی تو جرائم بہت عرصہ تک رُک گئے تھے۔ اسی طرح موٹر وے پر واقعہ ہواتو جب ریاست نے پکڑنے کی کوشش کی تو مجرموں کو پکڑ لیا اور اس کے بعد پھر آج تک موٹر وے پر واقعہ نہیں ہوا ”۔
جاوید چوہدری نے اپنے ویلاگ میں بتایا کہ اس کا پروڈیوسر کوئی اور ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ جاوید چوہدری اپنے ذہن سے پروگرام تشکیل دیتاہے لیکن جب اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی ہے تو یہ قوم پر واضح ہونا چاہیے کہ طوطے نے اپنی نہیں کسی اور کی زباں بولنی ہے۔ یہ اور کون ہے؟۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور سب کیخلاف کسی نہ کسی ایشو پر بات کرنے دیتا ہے مگر ن لیگ کیخلاف نہیں ۔
عمران خان کے لونڈوں اور لپاڑوں کی کوئی زیادہ حیثیت بھی نہیں ہے لیکن نوازشریف نے سارے اچھے لکھاری اور گفتار کے غازی بھرتی کرلئے ہیں۔ ہم سیاست سے زیادہ دینی معاملات کی اصلاح کے درپے ہیں لیکن دین بھی سیاسی معاملے سے زیادہ جدا نہیں ہے۔ قرآن وسنت کے احکام دین ہیں ۔ اولی الامر کی اطاعت بھی قرآن کا حکم ہے لیکن تنازعہ ہوجائے تواس کو اللہ اور رسولۖ کی طرف لوٹانے کا حکم ہے۔ اولی الامر کی حیثیت سے خلفاء راشدین بلکہ رسول پاک ۖ سے بھی قرآن وسنت میں اختلاف کی گنجائش تھی۔ سورۂ مجادلہ، غزوۂ بدرکے قیدیوں پر فدیہ،حدیث قرطاس، صلح حدیبیہ میں حضرت علی کارسول اللہ کے لفظ کونہ کاٹنا وغیرہ بہت سارے معاملات کی مثالیں موجود ہیں۔ قرآنی احکام بھی مسخ کئے گئے ہیں، سیاست کا توآوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔
جاوید چوہدری نے اپنے پروڈیوسر کاانکشاف اسلئے کیا کہ زینب کے واقعے کے بعد بھی بہت سارے واقعات کا تسلسل رہاہے۔ بس کے ائیر ہوسٹس کیساتھ تو کنڈیکٹر اور ڈرائیور نے زیادتی کی ہے جو پختونخواہ اور جنوبی پنجاب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ شمالی پنجاب میں کس کس قسم کے مظالم نہیں ہوتے ہیں؟۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے لیکن جرائم کے رُخ کو کسی ایک جانب سے موڑ کر دوسری جانب کردینا انصاف کا تقاضا نہیں ۔ پختونخواہ اور بلوچستان میں پولیس سے زیادہ پاک فوج کا عمل دخل ہے۔ جب وزیرستان اور سوات سے نقل مکانی کروائی گئی تو نوازشریف کے دور میںAPSکاواقعہ ہوا تھا۔ عمران خان نے بھی دھرنا چھوڑ دیا تھا۔ نوازشریف کی جان صحافی راشد مراد کھریاں کھریاںMRTVلندن نے اردو اور پنجابی میں ویلاگ کیا کہ ” پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ پاک فوج نے اسلئے کروایا کہ عمران خان کی ضرورت پوری کی جائے اور دھرنے کی شرمندگی سے بچنے کیلئے فیس سیو ایگزٹ مل جائے”۔ اب پشاور پولیس کا واقعہ ہوا تو عمران خانی کہتے ہیں کہ الیکشن کو التوا میں ڈالنے کیلئے پھر قتل کی سنچری پوری کی گئی ہے۔ نوازشریف کے دور میںقومی ایکشن پلان بن گیا اور پھرAPSکے واقعہ میں جن لوگوں کو پھانسی کے پھندہ پر لٹکایا گیا ،ان میں منظور پشتین نے اپنا ایک بے گناہ ذاتی دوست بھی بتایا تھا کہ چند سال قبل اس کو لاپتہ کیا گیا تھا اور پھر اس کوAPSکے واقعہ میں ملوث قرار دیا گیا۔ سوات سے مولانا فضل اللہ بھاگ گئے ۔ مسلم خان، محمود خان گرفتار تھے اورتین تین مرتبہ پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی مگر نوازشریف نے یہ ترکہ عمران خان کیلئے چھوڑ دیا تھا اور پھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چھوڑ دیا ۔
بیوورکریسی تو ویسے بھی تباہ ہے۔ عدالت مُنّی بھی شروع سے بدنام ہے اور فوج کا بھرکس بھی نکل گیا ہے۔ سیاستدان اور مولوی سے بھی اعتماد اُٹھ چکا ہے اور انقلاب کیلئے کوئی منظم جماعت بھی تیار نہیں۔ دہشت گردی بھی سر پر منڈلا رہی ہے۔مفتی اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا مفتی زرولی خاننے کہا تھا کہ ”علامہ سید محمد یوسف بنوری نے الاستاذ مودودی لکھی تو جماعت اسلامی نے ان کا سامان ضبط کرانے کا سرکاری بندوبست کرلیا کیونکہ سعودی عرب میں ان کے اچھے تعلقات تھے لیکن حرم کے امام کیساتھ مولانا بنوری کی ذاتی دوستی تھی اسلئے وہ تفتیش اور تلاشی ختم کی گئی۔ علامہ بنوری اپنی کتاب پہنچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن عرب سید قطب اور سید مودودی سے بہت متأثر تھے۔ مولانا بنوری نے کہا تھا کہ کتاب کا نام یہ رکھوں گا کہ صنمان یعبدان فی الجزیرة ” دو بت جن کو جزیرة العرب میں پوجا جاتا ہے”۔ لیکن وہ یہ کتاب نہیں لکھ سکے۔ بنوری نے فرمایاتھا کہ سید قطب اور سید مودودی دونوں ناصبیت کی جدید شکل ہیں۔ جن کے مضر اثرات سے عرب بالکل بے خبر ہیں”۔
آج جدیدناصبیت کے اثرات نے خوارج جدید کی طرح دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ بھی اس سے متاثر ہیں۔ اس کا علاج تعصبات کو ہوا دینا نہیں ہے۔ اگر رسول اللہ ۖ فتح مکہ کے بعد سب کو معاف کرسکتے ہیں اور حضرت علی نے حضرت ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو خلافت سے اتارنے کیلئے تحریک کا آغاز نہیں کیا تو ہمیں بھی حضرت نبیۖ اور علی کی سنت پر چلتے ہوئے تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ وہ وقت دور نہیں کہ حضرت ابوطالب کے خلاف سنیوں کے دل صاف ہوں گے اور حضرت عمر کے خلاف شیعوں کے دل صاف ہوں گے۔ اسلام کیلئے اولین مسلمانوں نے جو خدمات انجام دیں ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کی درست تفسیر کیلئے باہمی اعتماد کا رشتہ قائم کرنا ضروری ہے۔
عربی کا ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے موصوف اور پھر صفات کا ذکر ہوتا ہے۔ سورۂ رحمان میں باغات اور ان کی صفات کا ذکر ہے۔ مردان میں ہمارے ایک مہربان پیر شکیل صاحب کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے اور جمعیت علماء اسلام میں بھی انہوں نے شرکت کا اعلان کیا تھا۔ سفید جامع مسجد کے امام ہیں۔ پشاور اور ٹانک کی طرح مردان میں بھی سفید مسجد کی تاریخی حیثیت ہے۔ پیر شکیل صاحب نے ہمارے لئے نیک تمناؤں اور ہر طرح سے تعاون کا اظہار کیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ”حور کی تفسیر سے وہ متفق نہیں ہیں”۔ سچی بات ہے کہ مجھے اس بات سے اتنی خوشی نہ ہوتی کہ وہ اتفاق کا اظہار کرتے جتنی خوشی اس بات سے ہوئی ہے کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں”۔
ولمن خاف مقام ربہ جنتان،ذواتا افنان، فیھا عینان تجرےٰن ، فیھا من کل فاکھة زوجٰن، متکئین علی فرشٍ بطائنھا من استبرقٍ و جنا الجنتین دان ، فیھن قٰصٰرت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان ، ھل الجزاء الاحسان الا الاحسان ” اور اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے دو باغات ہوں گے۔ جس میں دوچشمے جاری ہوںگے۔ اس میں ہر پھل کی دوقسمیں ہوں گی۔وہ بیٹھے ہوں گے تکیہ لگائے جنکے استراطلس کے ہوںگے۔ اور دونوں باغ کے پھل قریب لٹک رہے ہوںگے۔ ان کے اطراف چھوٹے قامت کے ہوںگے۔ اس سے پہلے ان کوانسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جیسے وہ یاقوت اور مرجان ہوں۔ کیا اچھائی کا بدلا اس کے سوا کیا ہے کہ اچھائی ہو؟”۔
ان آیا ت میں صرف مردوں کیلئے خوشخبری نہیں بلکہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں دو باغات کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جن میں دوچشمے بہتے ہوںگے ۔ ہرقسم کے پھل کی دودو قسمیں ہوں گی۔ ایک شوگر والی اور دوسری شوگر فری ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان میں فنکاری کا خوب استعمال ہوگا۔ آج کل ویڈیوز پر باغات کی نئی اقسام دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے باغات کا پہلے تصور بھی نہیں تھا جن کے پھلوں کے رنگ یاقوت اور مرجان کی طرح خوش منظر ہوتے ہیں۔ اسلئے فرمایا گیا کہ” اس سے پہلے انسان اور جن نے ان کو چھوا نہیں ہوگا”۔ جنتی خواتین اور مردوں کو اللہ نے ویسے بھی الطیبون اور الطیبات کہا ہے۔اگر حوروں کو انسانوں اور جنات نے نہیں چھوا ہے تو جنت کی خواتین بھی چکلوں سے تو نہیں نکالی گئیں ہیں؟۔ اس طرح تو انسان نیک طینت خواتین کی توہین واہانت ہوجاتی ہے۔ جب انقلاب آئے گا تو نیک لوگوں کو ایسے دوباغات انعام میں مل جائیںگے جو ترقی یافتہ دور کی وجہ سے پہلے دنیا میں ایسے پھل اور باغات کا وجود نہیں ہوگا۔ اسلئے جن وانس نے ان کو اس سے پہلے چھوا نہیں ہوگا لیکن جب وجود میں آئیں گے تو چھوا بھی ہوگا اور کھایا بھی ہوگا۔ پہلے چھونے کی نفی ہے اوربعد میں چھونے کی خبر ہے۔
ان آیات میں باغات اور پھل موصوف اور ان کی صفات ہیں۔ اور اللہ سے ڈرنے والے موصوف ہیں اور اطلس کے غلاف والے تکیہ پر ٹیک لگاکر بیٹھنے کی حالت ہے اور پھر دونوں باغات اور پھل موصوف اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تمام مکاتبِ فکر والے قرآن کا درست ترجمہ کریں۔ وزیرمذہبی امورمولانا عبدالشکور بیٹنی اور وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے اعلان بھی کیا ہے۔ہماری قوم کو رہنمائی کایہ سب سے بہترین تحفہ مل جائے گا۔
ومن دونھما جنتٰن، مدھآمتٰن،فیھا عینان نضاحتٰن ، فیھمافاکھة و نخل ورمان ، فیھن خیرٰت حسان ، حور مقصورٰت فی الخیام ، لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان ، متکین رفرف خضرٍ و عبقریٍ ”اور ان دونوں کے علاوہ دوباغ اور ہوں گے۔ جو گہرے سیاہ مائل سبز رنگ کے ہوں گے۔ ان میں دو اُبلتے چشمے( فوارے) ہوںگے۔ ان میں پھل ہوں گے، کھجور اور انار ہوں گے۔ جو بہترین ذائقے اور خوشنما شکل والے ہوں گے۔ ( یہ پھلوں کی صفات ہیں اور جب عورتوں کا تذکرہ نہیں توان کی صفات کہاں سے آئیںگی؟) جدت والے پودے خیموں میں بند ہوں گے۔ ان کو پہلے انسان نے چھوا ہوگا اور نہ جن نے ۔ (اللہ سے ڈرنے والا دوسرا طبقہ اصحاب الیمین والے) سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے”۔ سورہ رحمن کی آیات کا انشاء اللہ عنقریب دنیا مشاہدہ کرے گی۔
سورہ رحمن کے بعد سورہ واقعہ میں بھی ان کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ صحابہ کرام میں السابقون السابقوں اور مقربوں کی بڑی جماعت تھی لیکن دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو یہ بہت چھوٹی جماعت ہوگی۔ البتہ اصحاب الیمین میں پہلوں کی بھی بہت بڑی جماعت تھی اور آخر میں بھی بہت بڑی جماعت ہوگی ۔ تیسرے مجرموں کی جماعت ہوگی جن کو اصحاب الشمال قرار دیا گیا ہے۔
حجاز مقدس میں مکہ سے مدینہ تک کوئی نہر ،پانی کا نالا اور چشمہ نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مشرق کی سپر طاقت فارس اور مغرب کی سپر طاقت روم کو شکست سے دوچار کرکے صحابہ کرام کیلئے دنیا میں باغات کے انبار لگادئیے تھے۔ دنیا ہی میں ان کو جنت بھی مل گئی تھی۔ دنیا کے تخت وتاج ان کے قدموں میں تھے۔
جب دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو دنیا میں جتنی جدت سے ترقی ہوئی ہے تو آخری دور والوں کو اس طرح کے باغات ملیںگے۔ ایک انقلاب عظیم کی خبر آخری دور کیلئے ہے جو درمیانہ زمانے سے شروع ہوگا۔ سورہ الحدید میں امت کے دو حصوں کا ذکر ہے ۔ کفلین میں نصف اول گزر چکاہے اور نصف آخر ابھی شروع ہونے والا ہے۔ دجال اکبر، مہدی آخری امیر امت سے قبل بھی قرآن کی بنیاد پر انقلابات آئیں گے اور دنیا قرآن سے مستفید ہوگی۔
یاایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ واٰمنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورًا تمشون بہ ویغفرلکم واللہ غفور رحیم O”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ۔ وہ تمہیں رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا،اپنی رحمت سے۔اور تمہارے لئے نور بنادے گا ، جس سے تم چل سکوگے اور تمہاری مغفرت کرے گا اور اللہ غفور رحیم ہے”۔
پہلا حصہ نبوت ورحمت سے اللہ نے شروع کیا تھا۔ خلافت راشدہ، امارت اور سلطنت عثمانیہ کی بادشاہت تک اقتدار تھا۔ پھر دوسرے حصے میں دوبارہ طرزنبوت کی خلافت سے معاملہ شروع ہوگا اور بارہ ائمہ کے آخری امام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک چلے گا۔ آج یہودونصاریٰ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا اقتدار اب کبھی ختم نہیں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے خبردار کردیا ہے کہ
لئلا یعلم اھل الکتٰب الا یقدرون علی شئٍ من فضل اللہ وان فضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم O ” اسلئے تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے جب تک اللہ کا فضل میسر نہ ہو۔ اور یہ بھی جان لیں کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے۔اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے”۔ سورہ الحدید سورہ رحمن اور سورہ واقعہ کے بعد ہے اور یہ اس کی آخری آیات ہیں۔ اس سورہ میں اللہ نے حدید کا ذکرکیا ہے جس میں نفع بخش چیزیں ہیں اور جنگ کے سخت الآت بھی۔ کافروں نے اس کو دنیا میں فسادات پھیلانے کیلئے استعمال کیا اورمسلمانوں کا مشن یہ ہوگا کہ اس کو صرف ترقی وعروج اور نفع بخش معاملات کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان میں حنفی مسلک کی ایک شاخ دیوبندی مکتب ہے ۔دوسری بریلوی ہے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حاجی محمد عثمان کے علاوہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اللہ نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے، مفتی محمود، علامہ یوسف بنوری اور خواجہ خان محمدتک خدمت لی اور دوسری طرف مولانا ابوالحسنات احمد قادری، مولاناشاہ احمد نورانی ،مولانا مفتی خالد حسن مجددی اور علامہ خادم حسین رضوی تک سب نے قربانیاں دی ہیں۔ہماری تحریک میں بھی دیوبندی اکابر، بریلوی اکابر، اہلحدیث اکابر ، جماعت اسلامی اکابر ، ڈاکٹر اسراراور اہل تشیع اکابر سب کا بھرپور حصہ ہے۔ تائیدی بیانات سامنے آئیںگے تو نئی نسل حیران ہوگی ۔
سورہ واقعہ میں دنیا کے اندر مجرموں کا الگ سے ذکر ہے اور آخرت میں ان کا الگ سے ذکر ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا جرم کرپشن کے ذریعے عیش کرنے کا معاملہ بیان ہوا ہے اور محنت کش انہی کی وجہ سے خوار اور پریشان ہیں۔ آج کا ماحول بھی ایسا ہے کہ سب سے بڑا گناہ کرپشن کو سمجھا جاتا ہے۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ عمران خان کی نجی زندگی پر بات کرنا میری غلطی ہے ،اس سے دوسرے بھی محفوظ نہیں ہوں گے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔
خلع کی عدت شریعت میں ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ عمران خان نے جب بشری بی بی سے نکاح کیا تھا تو عدت پوری ہوچکی تھی لیکن شاید انہوں نے تاریخ کا حساب کتاب نکال کر وزیراعظم بننے کیلئے اس غلطی کا ارتکاب کر ڈالا کہ عدت سمجھتے ہوئے بھی نکاح کیا۔ اسلام سے پہلے راجہ داہر کی حکومت تھی۔ نوازشریف اور بینظیر بھٹو نے بھی ننگے بابا سے ڈنڈیاں کھاکر اقتدار حاصل کرنے کی عقیدت رکھی تھی۔ راجا داہرکی ایک سوتیلی بہن تھی اور نجومیوں سے اس کو معلوم ہواتھا کہ اس کا شوہر سندھ کا راجہ بنے گا۔ وزیر نے کہا کہ لوگ بادشاہ بننے کیلئے بھائیوں کو قتل کرتے ہیں،آپ بہن سے نکاح کرلوگے تو کونسی بڑی بات ہے؟۔ راجہ داہر نے کہا کہ بہت بدنامی ہوجائے گی۔ بہر حال راجہ داہر نے آخر کار اس کے ساتھ ہندوانہ رسم کے مطابق نکاح کرلیا۔ اس سے ملے بغیر اس کو گھر بھیج دیا اور دل میں خوش تھا کہ اب سندھ کا راجہ کوئی اور نہیں بنے گا۔
راجہ داہر، نوازشریف ، بینظیر بھٹو، کالے بکرے صدقے کرنیوالا زرداری تک سب ایک ہی طرح کے توہمات میں مبتلاء تھے اور عمران خان نے بھی بشریٰ بی بی کے عملیات کے مطابق بابا فرید کے مزار کی راہداری کو بوسہ دیا اور خاص قسم کے کلمات ہدایات کے مطابق پڑھے، جس کے ویڈیوز دکھائے گئے تھے۔
سعودی عرب کے بادشاہ کو اگر پنجابی میں بہن کی خاص گالی دی ہے تو اس سے زیادہ بڑا معاملہ بابا فرید کے مزار کو سجدہ کرنا تھا۔ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء اسلام کے صدر مولانا حسین احمد مدنی نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کو کچھ اولیاء بنانا چاہتے تھے اور کچھ اس کا نقشہ مٹانا چاہتے تھے۔ آخر میں بنانے والے کامیاب ہوگئے۔ قاری محمد طیب کے بیٹے کودارالعلوم دیوبندکا مہتمم نہیں بننے دیا گیا تو وہ نعت پڑھی جس میں بریلوی دیوبند ی میں فرق نہیں رہتا ہے اور اب دونوں کو قرآن وسنت کے احکام کی طرف توجہ کرکے انقلاب لانا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv